آئینۂ قادیانیت

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

وفاق المدارس العربیہ پاکستان

سے ملحقہ مدارس کے درجہ سابعہ

سال اوّل کے نصاب میں منظورشدہ

نام کتاب: آئینہ قادیانیت
نظرثانی: حضرت مولانا عبدالمجیدصاحب شیخ الحدیث باب العلوم کہروڑ پکا
وامیر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
حضرت مولانا محمد عابد صاحب استاذالتفسیر جامعہ خیرالمدارس ملتان
حضرت مولانامفتی نظام الدین شامزئی ؒ شیخ الحدیث بنوری ٹائون کراچی
ترتیب: حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب مدظلہ
طباعت: دہم/ اکتوبر2011ء
صفحات: 216
قیمت: 00/- روپے
مطبع: اصغر پریس لاہور
ناشر: عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان فون:061-4783486

2

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

انتساب!

 

وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے پہلے صدر‘ خیر العلماء حضرت مولانا

خیرمحمد جالندھریؒ اور پہلے ناظم اعلیٰ‘ مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمودؒ اور اب

ان کے جانشین‘ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے صدر‘ شیخ الحدیث‘ یادگار

اسلاف‘ حضرت مولانا محمد سلیم اللہ خان صاحب مدظلہ اور ناظم اعلیٰ‘ فاضل اجل

حضرت مولانا قاری محمد حنیف صاحب جالندھری مدظلہ کے نام!

گر قبول افتد زہے عزو شرف

 

 

 

 

3

بسم اللہ الرحمن الرحیم

فہرست

  1. افتتاحیہ: page 6 پیش لفظ: page 7 تقریظ: page 10 مقدمہ: page 13

    ختم نبوت

    سوال نمبر:۱ page 22 سوال نمبر:۲ page 26 سوال نمبر:۳ page 36 سوال نمبر:۴ page 47 سوال نمبر:۵ page 51 سوال نمبر:۶ page 54 سوال نمبر:۷ page 62 سوال نمبر:۸ page 85 سوال نمبر:۹ page 91 سوال نمبر:۱۰ page 94

    حیات عیسیٰ علیہ السلام

    سوال نمبر:۱ page 112 سوال نمبر:۲ page 115 سوال نمبر:۳ page 126
4
  1. سوال نمبر:۴ page 127 سوال نمبر:۵ page 130 سوال نمبر:۶ page 136 سوال نمبر:۷ page 142 سوال نمبر:۸ page 149 سوال نمبر:۹ page 153 سوال نمبر:۱۰ page 158

    کذب مرزا قادیانی

    سوال نمبر:۱ page 164 سوال نمبر:۲ page 171 سوال نمبر:۳ page 178 سوال نمبر:۴ page 186 سوال نمبر:۵ page 190 سوال نمبر:۶ page 193 سوال نمبر:۷ page 194 سوال نمبر:۸ page 197 سوال نمبر:۹ page 202 سوال نمبر:۱۰ page 204 page 208 page 209 page 211 page 213
5

بسم اللہ الرحمن الرحیم

افتتاحیہ

از شیخ المشائخ حضرت اقدس مولانا خواجہ خان محمد صاحبؒ سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کندیاں

الحمدللہ رب العالمین والصلوٰۃ والسلام علی اشرف الانبیاء وخاتم المرسلین اما بعد!

نبی کریمﷺ کی محبت وعظمت ایمان کی بنیاد ہے۔ آپﷺ کی امت کو یہ شرف حاصل ہے کہ اس نے جہاں دین متین کی حفاظت کی، وہاں ﷺ کی ذات اقدس علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کی ناموس کے دفاع میں بڑی حساس اور غیرت مند رہی۔ آپﷺ کی حیات طیبہ ہی میں جھوٹے مدعیان نبوت کا فتنہ کھڑا ہوگیا تھا۔ مگر امت کے ہر اوّل دستے نے عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا۔ گزشتہ صدی میں مرزاغلام احمد قادیانی نے جب نبوت کا دعویٰ کیا تو الحمدﷲ! تمام مکاتب فکر کے علماء امت خصوصاً علماء دیوبند نے بھر پور طور پر اس کا رد کیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، الحمدﷲ! ہر سطح پر عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ اور دفاع کے لئے خدمت کر رہی ہے۔ حال ہی میں شاہین ختم نبوت عزیزم مولوی اللہ وسایا سلمہ نے وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے اکابرین کے حکم کی تعمیل میں بڑی عرق ریزی کے ساتھ تیس سوالات کے جوابات آئینہ قادیانیت کے نام سے مرتب کئے ہیں۔ فقیر دعاگو ہے کہ اللہ پاک ان کی اس کاوش کو قبول فرمائیں۔ آمین! انشاء اللہ! یہ محنت بارگاہ رسالت علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام میں ان کے قرب کا ذریعہ بنے گی۔ میں تمام اہل علم سے عموماً اپنے سے محبت رکھنے والوں سے خصوصاً گزارش کروں گا کہ وہ اس کتاب کا مطالعہ کریں۔ اللہ پاک مرتب اور تمام معاونین کو جزائے خیر نصیب فرمائیں۔

فقیر ابوالخلیل خان محمد

از خانقاہ سراجیہ کندیاں

6

بسم اللہ الرحمن الرحیم

پیش لفظ

از حضرت مولانا محمد عابد صاحب مدظلہ خلیفہ مجاز،پیرطریقت، شیخ کامل، حضرت مولانا محمد عبداللہ بہلویؒ

الحمد للہ رب العالمین۰ والصلوٰۃ والسلام علی خاتم النبیین۰ وعلیٰ آلہ واصحابہ اجمعین۰ قال النبیﷺ انا خاتم النبیین لا نبّی بعدی۰ اما بعد!

نبی کریمﷺ کا وجود مسعود پوری کائنات کے لئے بے شمار خیروبرکت کا ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جن انعامات سے آپﷺ کو نوازا ان کو شمار نہیں کیاجاسکتا۔ آپؐ نبی بھی ہیں۔ سید الرسل علیہم الصلوٰۃ والسلام بھی۔ مگر اس کے ساتھ آپﷺ کا خاص امتیاز واعزاز ختم نبوت کا تاج ہے۔ اسی کی بدولت آپﷺ کو ان مقامات ودرجات سے نوازا گیا کہ جن کو بیان نہیں کیا جاسکتا۔ امت محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام روزاوّل سے ناموس نبوت کے دفاع کے لئے ہر قسم کی قربانی کو سعادت سمجھتی رہی ہے۔ گزشتہ صدی میں متحدہ ہندوستان پر فرنگی کے تسلط کے بعد مرزاغلام احمد قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کر کے ایک بار پھر امت مسلمہ کی غیرت کو للکارا۔ حالات انتہائی کٹھن تھے۔ ملکی قانون غداروں کا محافظ تھا۔ لیکن غیرت وعشق بھی عجیب چیز ہے۔ اس کے دیوانے موت سے بھاگتے نہیں بلکہ موت ان سے دوڑتی ہے۔ چنانچہ تھوڑے ہی عرصہ میں صداقت نے طاقت کو پاش پاش کر دیا اور پورے ملک کے مسلمان اس دجل، فریب سے آگاہ ہوگئے۔ اس ذیل میں خاتم المحدثین حضرت مولانا محمد انور شاہ کشمیری قدس سرہ اور امیر شریعت حضرت مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری قدس سرہ کی گرانقدر خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ لیکن تقسیم کے بعد اس فتنہ نے نئے انداز میں سراٹھایا تو ایک بار پھر آقاﷺ کی ناموس کے دفاع کے لئے سرفروشان میدان میں اترے اور ۱۹۵۳ء میں ایسی تحریک چلائی کہ مرزائیت کی کمر ٹوٹ گئی۔ اس زمانہ میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے نام سے اس مقدس مقصد کے لئے جماعت کی تشکیل ہوچکی تھی۔ مجلس کے بانی مرحوم اور ان کے رفقاء کرام نے کام کے لئے مستحکم اصول وضع کئے۔ جن پر جماعت نے بڑی حکمت، حوصلے اور جرأت کے ساتھ ہر سطح پر اس فتنہ کے خلاف کام شروع کر دیا۔

7

جس کے اثرات پورے ملک وبیرون ملک میں ظاہر ہونے لگے۔ مگر کام میں الجھن اس وقت پیدا ہوجاتی جب ملک کا قانون غداران ختم نبوت کو تحفظ فراہم کرتا۔ اللہ کی شان دیکھئے کہ ۱۹۷۴ء میں چناب نگر اسٹیشن پر مرزائیوں کی غنڈہ گردی کے نتیجہ میں تحریک چلی۔ جس کے نتیجہ میں ان کو غیرمسلم اقلیت قرار دے دیا گیا۔

الحمدﷲ! آج بھی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اپنے اصولوں کے مطابق ہر سطح پر کام کر رہی ہے۔ اعلیٰ عدالتوں میں مرزائیوں کو مسلسل شکست فاش ہورہی ہے۔ تحریری حوالے سے اتنا کام ہوچکا ہے کہ اس موضوع پر پورا کتب خانہ مرتب ہوگیا ہے۔ تحریکی محنت سے آگاہی کے لئے ہفت روزہ ختم نبوت کراچی اور ماہنامہ لولاک ملتان مسلسل شائع ہورہے ہیں۔ فاالحمدﷲ علیٰ ذالک! لیکن اس کے ساتھ جماعت نے اس بات کی بھی شدت سے ضرورت محسوس کی کہ اہل علم کو اس موضوع کی طرف بطور خاص مزید متوجہ کیا جائے۔ جس کی مفید صورت یہ سامنے آئی کہ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے حضرات اکابر سے گزارش کی جائے کہ وہ عقیدہ تحفظ ختم نبوت کو داخل نصاب کریں۔ اس سے جہاں طلباء کرام کو اس موضوع کی اہمیت اور نزاکت کا علم ہوگا۔ وہاں اس لائن پر کام کرنے والوں کو راہنما اصول بھی حاصل ہوجائیں گے۔

الحمدﷲ! وفاق کے حضرات کرام نے حوصلہ افزائی فرمائی اور طے پایا کہ جدید اسلوب میں قدیم مواد کو مرتب کیا جائے۔ چنانچہ اس ذیل میں تیس سوالات مرتب کئے گئے ہیں۔

میرکارواں، حضرت اقدس مولانا خواجہ خان محمد صاحبؒ کے حکم پر شاہین ختم نبوت حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب مدظلہ نے بڑی محنت سے جوابات مرتب کئے جو آئینہ قادیانیت کے نام سے آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ اس موضوع پر کام کرنے والے حضرات جانتے ہیں کہ بنیادی طور پر تین موضوعات پر گفتگو کی جاتی ہے۔

۱… کذب مرزا: جس میں اصول تکفیر بھی آجاتے ہیں
۲… ختم نبوت
۳… حیات عیسیٰ علیہ السلام

الحمدﷲ! مولانا موصوف مدظلہ نے تینوں موضوعات پر دلنشین انداز سے حقائق ترتیب دئیے ہیں۔ جس کو کچھ علماء کرام نے ملاحظہ کیا۔ چنانچہ کتاب کا پہلا ایڈیشن اکتوبر ۲۰۰۱ء میں منظر عام پر آگیا۔ کتاب دوبارہ بعض اہل علم حضرات کی خدمت میں پیش کی گئی۔

8

وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے صدر، یادگار اسلاف، حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب مدظلہ نے بڑی شفقت فرمائی اور متعدد مقامات پر ہونے والی فروگزاشتوں کی طرف متوجہ فرمایا۔ حضرت موصوف مدظلہ کے شکریہ کے ساتھ مجلس نے تمام متعلقہ مقامات کی تصحیح کر دی۔ اس کے علاوہ جانشین حضرت لدھیانوی مرحوم، حضرت مولانا سعید احمد صاحب جلالپوریؒ، مرکزی راہنما مجلس تحفظ ختم نبوت نے ازاوّل تا آخر بغور کتاب کا مطالعہ کیا اور تصحیح کی۔ مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی صاحب جالندھریؒ کے فرزند اور مجلس تحفظ ختم نبوت کے ناظم اعلیٰ حضرت مولانا عزیزالرحمن جالندھری مدظلہ کے علاوہ، شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالمجید صاحب لدھیانوی دامت برکاتہم، شیخ الحدیث حضرت مولانا مفتی نظام الدین شامزئی صاحبؒ، مولانا محمد عبداللہ احمد پور شرقیہ، مولانا منظور احمد چنیوٹی، علامہ خالد محمود سیالکوٹی نے بھی ملاحظہ کیا۔ راقم الحروف محمد عابد نے بھی اپنی ہمت کے مطابق دیکھا۔ جن حضرات نے نظرثانی کی ان کی آراء کی روشنی میں حذف واضافہ بھی کیاگیا۔ بہرحال امکانی حد تک کوشش کی گئی کہ کوئی لفظی ومعنوی غلطی رہ نہ جائے۔ اب اس کی دوسری طباعت کا اہتمام کیاجارہا ہے تاکہ شعبان ورمضان کی تعطیلات میں ملک کے متعدد مقامات پر ختم نبوت کے موضوع پر منعقد کئے جانے والے دروس سے علماء وطلبہ اس کتاب سے مزید مستفید ہو سکیں۔بہرحال مدارس عربیہ کے علمائے کرام کو اس مبارک موضوع کی طرف متوجہ کرنے کی یہ ابتدائی سنجیدہ کوشش تو ضرور ہے۔ مگر حرف آخر نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے حضرات اکابر نوراللہ مرقدہ علمائے دیوبند کی اس ذیل میں جو گرانقدر خدمات ہیں موجودہ نسل اس سے بخوبی آگاہ نہیں۔ اگر اس وقت اس نزاکت کو نہ سمجھا گیا تو اندیشہ ہے کہ کہیں آنے والی نسل مزید ناواقفیت کا شکار نہ ہوجائے۔ اللہ پاک جزائے خیر نصیب فرمائے شہید ختم نبوت حضرت لدھیانویؒ کو، کہ جنہوں نے اس ضمن میں حضرات اکابر کی خدمات پر مشتمل دارالعلوم دیوبند اور تحفظ ختم نبوت نامی پمفلٹ میں بڑے جامع انداز میں تاریخ مرتب کردی ہے۔ یہ رسالہ تحفہ قادیانیت میں ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔ دعا ہے کہ اللہ پاک آئینہ قادیانیت کو عوام وخواص کے لئے مفید بنائے اور حضرت مؤلف مدظلہ کو اپنا قرب خاص نصیب فرمائے۔ آمین!

امیدوارشفاعت

محمدعابدغفرلہ…مدرس جامعہ خیرالمدارس

یکے از خدام حضرت بہلوی قدس سرہ

9

بسم اللہ الرحمن الرحیم

تقریظ

حضرت مولانا قاری محمد حنیف جالندھری مدظلہ ناظم اعلیٰ وفاق المدارس العربیہ پاکستان

الحمدللہ وسلام علیٰ عبادہ الذین اصطفیٰ!

قادیانیت کے دجل وفریب سے عامتہ المسلمین کو آگاہ کرنا اور قصرختم نبوت میں نقب لگانے والوں کی دسیسہ کاریوں سے مسلمانوں کی متاع ایمان کی حفاظت کرنا افضل ترین عبادت ہے۔

اس فریضہ کی انجام دہی کا سلسلہ آنحضرتﷺ کے زمانہ مبارک ہی سے شروع ہوگیا تھا۔ آنحضرتﷺ نے اپنی حیات طیبہ کے آخری ایام میں مسیلمہ کذاب کی سرکوبی کے لئے لشکر روانہ فرمانے کا حکم دیا تھا اور آپﷺ کے وصال کے بعد خلیفۃ الرسولؐ حضرت سیدنا صدیق اکبرؓ نے تمام صحابہ کرامؓ کے فیصلہ کے مطابق مرتدین ومنکرین ختم نبوت کے خلاف باقاعدہ جہاد فرمایا اور اس وقت تک تلوار نیام میں نہیں رکھی جب تک اس فتنہ کا مکمل استیصال نہیں ہوا۔ اس کے بعد بھی جس متنبی نے سر اٹھایا۔ اسلامی حکومتوں نے اپنا دینی فریضہ ادا کرتے ہوئے اس پر حد ارتداد جاری کرکے اسے جہنم واصل کیا۔ برصغیر میں نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرنے والوں میں مرزا غلام احمد قادیانی کا نام سرفہرست ہے۔ جسے ہندوستان میں برطانوی علمداری کی وجہ سے پھلنے پھولنے کا موقع ملا۔ مرزا قادیانی نے ۱۸۹۱ء میں مسیح موعود اور ۱۹۰۱ء میں نبی ہونے کا دعویٰ کیا۔ علمائے امت نے اس فتنہ کے تعاقب واستیصال کے لئے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کیا۔ مگر انگریزی سرپرستی کے باعث یہ فتنہ سرطان کی مانند بڑھتا گیا۔

تاہم علمائے کرام کے بروقت انتباہ اور جدوجہد کی برکت سے تمام مسلمان، قادیانی دجل وفریب کی حقیقت سمجھنے لگے اور امت کے اجتماعی ضمیر نے انہیں ملت کے غداروں کی صف میں شمار کیا۔ خود قادیانی بھی اپنے آپ کو مسلمانوں سے الگ فرقہ شمار کرتے تھے۔

10

چنانچہ مرزا غلام احمد قادیانی نے خود کو نہ ماننے والوں کو نہ صرف کافر قرار دیا بلکہ انہیں زانیہ کی اولاد، کتیوں کے بچے اور ولد الزنا تک کہا اور اپنے پیروکاروں کو ان کے بچوں، عورتوں اور معصوموں تک کی نماز جنازہ سے روک دیا۔

حقیقت یہ ہے کہ امت مسلمہ کی وحدت عقیدہ ختم نبوت پر استوار ہے۔ جو شخص ضروریات دین اور آنحضرتﷺ کی ختم نبوت پر غیر مشروط وغیر متزلزل ایمان رکھے وہ مومن ہے۔ خواہ کسی مسلک اور کسی فقہ کا پیروکار ہو۔ لیکن جو شخص اس وحدت کو توڑتا ہے اور ظلی اور بروزی وغیرہ کی آڑ میں ختم نبوت کا انکار کرتا ہے اس کا رشتہ امت محمدیہﷺ سے منقطع ہوجاتا ہے۔ قادیانیوں کے اسی ارتداد اور خروج عن الاسلام کی بناء پر اہل اسلام کی ۹۰؍سالہ جدوجہد اور عظیم الشان تحریک کے بعد ۱۹۷۴ء میں پاکستان کی قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر قادیانیوں اور لاہوری مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا۔

پاکستان کی قومی اسمبلی کا یہ فیصلہ کسی فرد واحد کی ذاتی رائے نہ تھی۔ بلکہ پوری قوم اور ملت اسلامیہ کا متفقہ موقف تھا۔ ساری دنیا کے مسلمان، آنحضرتﷺ کو اللہ تعالیٰ کا آخری نبی اور رسول تسلیم کرتے ہیں اور آپﷺ کی ذات کے بعد نبوت ورسالت کا دعویٰ کرنے والے کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتے ہیں۔ تاہم قادیانی شاطرین نے اس فیصلے کو قبول نہیں کیا اور وہ آج تک سادہ لوح مسلمانوں کو یہ دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ:

ہم کلمہ پڑھتے ہیں۔ پھر مسلمان کیوں نہیں؟۔

حالانکہ قادیانیوں کو یہ حقیقت بھی معلوم ہے کہ جب کوئی شخص دین کے اساسی وبنیادی عقیدے کا انکار کردے تو محض کلمہ پڑھنے سے مسلمان نہیں سمجھا جاسکتا۔

مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے پیروکاروں کے اسی نوع کے دجل وفریب سے آگاہ ہونا اور مسلمانوں کو بچانا از بس ضروری ہے۔ اس سلسلہ میں ایک عرصہ سے یہ ضرورت محسوس کی

11

جارہی تھی کہ دورہ حدیث شریف سے فارغ ہونے والے طلبہ کو قادیانیت کے خدوخال سے نہ صرف آگاہ ہونا چاہئے۔ بلکہ اس کی علمی تردید اور استیصال کے لئے ٹھوس دلائل وبراہین سے مسلح بھی ہونا چاہئے۔ تاکہ وہ بحیثیت عالم دین مرزا قادیانی کے دجل وفریب اور کفر والحاد کو برملا واضح کرسکیں اور عقیدۂ ختم نبوت کے بارے میں قادیانیوں کی پھیلائی ہوئی غلط فہمیوں کا مؤثر ومثبت جواب دے سکیں۔

چنانچہ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی درخواست پر خواجہ خواجگان مخدوم العلماء حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحبؒ کے حکم سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے مرکزی مبلغ حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب زیدمجدہم نے آئینہ قادیانیت تالیف فرمائی۔ اس کتاب کے مطالعہ کے بعد اس حقیقت کو سمجھنے میں کوئی ابہام باقی نہیں رہتا کہ اسلام کی ساری عمارت آنحضرتﷺکی ختم نبوت پر قائم ہے۔ جو فرد یا طبقہ اسے منہدم کرنے کی کوشش کرے گا۔ امت مسلمہ اسے کسی صورت میں برداشت نہ کرے گی۔

اسی طرح اس کتاب میں مرزا غلام احمد قادیانی کے دجل وفریب، کذب بیانیوں اور جھوٹی پیشگوئیوں کا پردہ بھی خوب چاک کیا گیا ہے۔ فتنہ قادیانیت کے استیصال وتعاقب کے سلسلہ میں یہ کتاب انشاء اللہ فضلاء وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے لئے کلیدی رہنما ثابت ہوگی۔

دعا ہے کہ حق تعالیٰ شانہ اسے مؤلف زیدمجدھم اور ناشرین وناظرین کے لئے دنیا وآخرت میں نافع بنائیں اور فتنہ قادیانیت کی بیخ کنی وسرکوبی کے لئے اہل اسلام کو اپنے اسلاف کی طرح مجاہدانہ اور سرفروشانہ کردار ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین!

(مولانا)محمدحنیف جالندھری

ناظم اعلیٰ وفاق المدارس العربیہ پاکستان

مہتمم جامعہ خیرالمدارس ملتان

۱۹؍۱۰؍۱۴۲۴ھ

12

مقدمہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الحمدللہ وکفیٰ وسلام علیٰ عبادہ الذین اصطفیٰ. اما بعد!

ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین وکان الله بکل شیٔ علیما (الاحزاب)

محمدﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں، لیکن اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے ختم پر ہیں اور اللہ تعالیٰ ہرچیز کو خوب جانتا ہے (ترجمہ حضرت تھانویؒ)

عن ثوبانؓ قال قال رسول اللہﷺ انہ سیکون فی امتی کذابون ثلاثون کلہم یزعم انہ نبی وانا خاتم النبیین لا نبی بعدی

(ابوداؤد ج۲ ص۲۲۸، واللفظ لہ، ترمذی ج۲ ص۴۵)

حضرت ثوبانؓ سے روایت ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا کہ میری امت میں تیس جھوٹے مدعی نبوت پیدا ہوں گے، ہر ایک یہی کہے گا کہ میں نبی ہوں۔ حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں، میرے بعد کوئی کسی قسم کا نبی نہیں

عن انس بن مالکؓ قال قال رسول اللہﷺ ان الرسالۃ والنبوۃ قد انقطعت فلا رسول بعدی ولا نبی

(ترمذی ج۲ ص۵۱)

حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ رسالت ونبوت ختم ہوچکی ہے، پس میرے بعد نہ کوئی رسول ہے اور نہ نبی۔

عن ابی ذرؓ قال قال رسول اللہﷺ یا ابا ذرؓ اوّل الرسل آدم وآخرہم محمد

(کنزالعمال ج۱۱ ص۴۸۰)

حضرت ابوذرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ابوذر! نبیوں میں سب سے پہلے نبی آدم (علیہ السلام) ہیں اور سب سے آخری نبی محمد(ﷺ) ہیں

13

قرآن کریم کی صریح آیات اور بے شمار احادیث متواترہ سے صراحتاً یہ بات ثابت ہے کہ حضورﷺ خاتم النبیین ہیں۔ جس سلسلہ نبوت کا حضرت آدم علیہ السلام سے آغاز ہوا تھا۔ حضورﷺ پر وہ سلسلہ ختم ہوگیا۔ آپﷺکی نبوت ورسالت قیامت تک وسیع اور محیط ہے۔ آپﷺ کے بعد کسی بھی انداز میں دعویٰ نبوت کی گنجائش نہیں۔ جس مسلمان کے قلب میں یہ بات اترجائے کہ آپﷺ کے بعد نبوت ورسالت میں سے کسی کی گنجائش ہے تو وہ دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے اور اس ارتداد کی بناء پر واجب القتل گردانا جائے گا۔ تاوقتیکہ توبہ کرے۔

اس بناء پر امام اعظم ابو حنیفہؒ نے جھوٹے مدعی نبوت سے دلیل طلب کرنے والے کے لئے بھی دائرہ اسلام سے خارج ہونے کا فتویٰ صادر فرمایا ہے۔ مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد شفیعؒ نے اپنی کتاب ختم نبوت کامل میں بے شمار آیات کریمہ کی صراحت ودلالت اور سینکڑوں احادیث مبارکہ سے ثابت کیا ہے کہ آپﷺ کے بعد کسی بھی قسم کی نبوت ورسالت کا امکان باقی نہیں رہتا۔

حضورﷺ نے اپنے آخری زمانہ میں جھوٹے مدعی نبوت اسود عنسی کے قتل کا حکم صادر فرماکر اس بات کی وضاحت کر دی تھی کہ شریعت اسلامیہ میں جھوٹے مدعی نبوت اور اس کے پیروکار واجب القتل ہیں۔ حضورﷺ کی اس دنیا سے تشریف بری کے بعد امت میں جس مسئلہ پر سب سے پہلا اجماع ہوا وہ صحابہ کرامؓ کے درمیان مسئلہ ختم نبوت پر تھا۔ خلیفہ اوّل وجانشین رسول اکرمﷺ، حضرت ابوبکر صدیقؓ نے مسیلمہ کذاب کے جھوٹے دعویٰ نبوت کو مسترد کرتے ہوئے جہاد کا اعلان کیا اور تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے نہ صرف اس کی تائید کی بلکہ عملی طور پر اس جہاد میں شرکت کی۔

اجماع امت کے حوالہ سے ہم تاریخ اسلامی کا مطالعہ کرتے ہیں تو تمام اکابر امت کی تصریح ملتی ہے کہ چودہ سو سالہ اسلامی دور میں کوئی دور ایسا نہیں گزار جس میں اس بات پر علمائے امت کا اجماع نہ ہو کہ آپﷺ کے بعد کوئی شخص منصب نبوت پر فائز نہیں ہوسکتا اور جو شخص آپﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرے وہ مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔

علامہ علی قاریؒ (شرح فقہ اکبر ص۲۰۲) میں صراحت کے ساتھ فرماتے ہیں کہ:

14

دعویٰ النبوۃ بعد نبیناﷺ کفر بالاجماع ہمارے نبیﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنا بالاجماع کفر ہے

حافظ ابن حزم اندلسیؒ اپنی کتاب (الفصل فی الملل والاہوا والنحل ج۱ ص۷۷) پررقمطراز ہیں کہ:

قد صح عن رسول اللہﷺ بنقل الکواف التی نقلت نبوتہ واعلامہ وکتابہ انہ اخبر انہ لا نبی بعدہ الاما جاء ت الاخبار الصحاح من نزول عیسیٰ علیہ السلام الذی بعث الی بنی اسرائیل وادعی الیہود قتلہ وصلبہ فوجب القرار بہذہ الجملہ وصح ان وجود النبوۃ بعدہ علیہ السلام باطل لا یکون البتۃجس کثیر تعداد جماعت اور جم غفیر نے آنحضرتﷺ کی نبوت اور نشانات اور قرآن مجید کو نقل کیا ہے۔ اسی کثیر التعداد جماعت اور جم غفیر کی نقل سے حضور اکرمﷺ کا یہ فرمان بھی ثابت ہوچکا ہے کہ آپﷺکے بعد کوئی نبی مبعوث نہیں ہوگا۔ البتہ صحیح احادیث میں یہ ضرور آیا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے۔ یہ وہی عیسیٰ علیہ السلام ہیں جو بنی اسرائیل میں مبعوث ہوئے تھے اور یہود نے جن کو قتل کرنے اور صلیب دینے کا دعویٰ کیاتھا۔ پس اس امر کا اقرار واجب ہے کہ حضورﷺ کے بعد نبوت کا وجود باطل ہے۔ ہرگز نہیں ہوسکتا۔

حافظ فضل اللہ تورپشتی (المعتمد فی المعتقد ص۹۴) پر فرماتے ہیں کہ:

وازاں جملہ آنست کہ تصدیق وی کند کہ بعد از وی ہیچ نبی نباشد، مرسل ونہ غیر مرسل، ومراد از خاتم النبیین آنست کہ نبوت رامہر کرد ونبوت بآمدن اوتمام شد یا بمعنی آنکہ خداتعالیٰ پیغمبری رابوی ختم کردو ختم خدای حکم است بد آنچہ ازاں نخواہد گردایندن منجملہ عقائد کے یہ ہے کہ اس بات کی تصدیق کرے کہ آپﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں۔ نہ رسول اور نہ غیررسول اور خاتم النبیین سے مراد یہ ہے کہ آپﷺ نے نبوت پر مہر لگادی اور نبوت آپﷺکی تشریف آوری سے حد تمام کو پہنچ گئی۔ یا یہ معنی ہیں کہ خداتعالیٰ نے پیغمبری پر آپﷺ کے ذریعہ مہر لگادی اور خداتعالیٰ کا مہر کرنا اس بات کا حکم ہے کہ آپﷺ کے بعد نبی نہیں بھیجے گا۔

15

فتاویٰ عالمگیری ج۲ ص۲۶۳) میں صراحت سے مذکور ہے کہ:

اذا لم یعرف الرجل ان محمداًﷺ آخر الانبیاء فلیس بمسلم او قال انا رسول اللہ اوقال بالفارسیۃ من پیغمبرم یرید بہ من پیغام می برم یکفرجب کسی شخص کو یہ معلوم نہ ہو کہ محمدﷺ آخری نبی ہیں تو وہ مسلمان نہیں اور اگر کہے کہ میں رسول ہوں یا فارسی میں کہے کہ میں پیغمبر ہوں اور مراد یہ ہو کہ میں پیغام پہنچاتا ہوں تب بھی کافر ہو جاتا ہے۔

فقہ شفعی کی مستند کتاب (مغنی المحتاج شرح منہاج ج۴ ص۱۳۵) میں صراحت سے مذکور ہے کہ:

(او) نفی (الرسل) بان قال لم یرسلہم اللہ او نفی النبوۃ نبی او ادعی نبوۃ بعد بیناﷺ صدق مدعیہا او قال للنبیﷺ اسود او امرد او غیر قریشی او قال النبوۃ مکتسبۃ او تنال رتبتہا بصفاء القلوب او اوحی الی ولم یدع نبوۃ (او کذب رسولا) او نبیا اوسبہ او استخف بہ او باسمہ او باسم اللہ (کفر)یا کوئی شخص رسولوں کی نفی کرے اور یوں کہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو نہیں بھیجا یا کسی خاص نبی کی نبوت کا انکار کرے یا ہمارے نبیﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرے یا مدعی نبوت کی تصدیق کرے یا یہ کہے کہ نبی کریمﷺ (نعوذ باللہ) کالے تھے یا بے ریش تھے۔ یا قریشی نہیں تھے۔ یا یہ کہے کہ نبوت حاصل ہوسکتی ہے یا قلب کی صفائی کے ذریعہ نبوت کے رتبے کو پہنچ سکتے ہیں۔ یا نبوت کا دعویٰ تو نہ کرے۔ مگر یہ کہے کہ مجھ پر وحی نازل ہوتی ہے یا کسی رسول ونبی کو جھوٹا کہے یا نبی کو برا بھلا کہے یا کسی نبی کی تحقیر کرے۔ یا اللہ تعالیٰ کے نام کی تحقیر کرے تو ان سب صورتوں میں کافر ہو جائے گا۔

حنبلی مسلک کے مشہور ومستند مجموعہ (فتاویٰ مغنی ابن قدامہ ج۱۰ ص۱۲۲) میں اس سلسلہ میں یہ حکم تحریر ہے کہ:

ومن ادعی النبوۃ او صدق من ادعاہا فقد ارتد لان مسیلمۃ لما ادعی النبوۃ

16

فصدقہ قومہ صاروا بذلک مرتدین وکذلک طلیحۃ الاسدی ومصدقوہ… وقال النبیﷺ لا تقوم الساعۃ حتی یخرج ثلاثون کذابون کلہم یزعم انہ رسول اللہ جو شخص نبوت کا دعویٰ کرے یا مدعی نبوت کی تصدیق کرے وہ مرتد ہے۔ کیونکہ مسیلمہ کذاب نے جب نبوت کا دعویٰ کیا اور اس کی قوم نے اس کی تصدیق کی تو وہ بھی اس کی وجہ سے مرتد قرار پائی۔ اس طرح طلیحہ اسدی اور اس کے تصدیق کنندگان بھی…… اور آنحضرتﷺ کا ارشاد ہے کہ قیامت قائم نہیں ہو گی۔ یہاں تک کہ تیس جھوٹے نکلیں گے۔ ان میں سے ہر ایک یہ دعویٰ کرے گا کہ وہ رسول اللہ ہے۔

قاضی عیاضؒ (الشفاء ج۲ ص۲۴۶) میں تحریر فرماتے ہیں کہ:

وکذلک من ادعی نبوۃ احد مع نبیناﷺ او بعدہ … او من ادعی النبوۃ لنفسہ او جوز اکتسابہا… وکذلک من ادعی منہم انہ یوحی الیہ وان لم یدع النبوۃ… وفھؤ لاء کلہم کفار مکذبون للنبیﷺ لانہ اخبرﷺ انہ خاتم النبیین لا نبی بعدہ واخبر عن اللہ تعالیٰ انہ خاتم النبیین وانہ ارسل کافۃ للناس واجمعت الامۃ علی حمل ہذا الکلام علی ظاہرہ وان مفہومہ المراد بہ دون تاویل ولا تخصیص فلاشک فی کفر ھؤلاء الطوائف کلہا قطعاً اجماعاً وسمعاً اسی طرح جو شخص ہمارے نبیﷺ کے ساتھ یا آپﷺ کے بعد کسی شخص کے نبی ہونے کا مدعی ہو… یا خواد اپنے لئے نبوت کا دعویٰ کرے یا نبوت کے حصول کو اور صفائے قلب کے ذریعہ مرتبہ نبوت تک پہنچنے کو جائز رکھے… اسی طرح جو شخص یہ دعویٰ کرے کہ اس پر وحی نازل ہوتی ہے۔ خواہ صراحتاً نبوت کا دعویٰ نہ کرے… تو یہ سب لوگ کافر ہیں۔ کیونکہ یہ آنحضرتﷺ کی تکذیب کرتے ہیں۔ کیونکہ آنحضرتﷺ نے یہ خبر دی ہے کہ آپﷺ خاتم النبیین ہیں اور یہ کہ آپﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں اور آنحضرتﷺ نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی خبر دی ہے کہ آپﷺ خاتم النبیین ہیں اور یہ کہ آپﷺ تمام انسانوں کے لئے مبعوث کئے گئے ہیں اور پوری امت کا اس پر اجماع ہے کہ یہ کلام ظاہر پر محمول ہے

17

اور یہ کہ بغیر کسی تاویل وتخصیص کے اس سے ظاہری مفہوم ہی مراد ہے۔ اس لئے ان تمام لوگوں کے کافر ہونے میں کوئی شک نہیں اور ان کا کفر کتاب وسنت اور اجماع کی رو سے قطعی ہے۔

ان تمام شواہد وبراہین کی بناء پر ہمارے مرشد شہید اسلام حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی نور اللہ مرقدہ نے اپنے رسالے عقیدۂ ختم نبوت (مشمولہ تحفہ قادیانیت جلد اوّل) میں قرآنی آیات، احادیث نبویہؐ اور اجماع امت کے تمام اقوال اور فقہائے کرام کی تصریحات تحریر فرمانے کے بعد خصوصی کلام کے طور پر تحریر فرمایا ہے کہ:

قرآن کریم، احادیث متواترہ، فقہائے امت کے فتاویٰ اور اجماع امت کی رو سے آنحضرتﷺ بلااستثناء تمام انبیائے کرام علیہم السلام کے علی الاطلاق خاتم ہیں۔ اس لئے آپﷺ کے بعد کوئی شخص کسی معنی ومفہوم میں بھی نبی نہیں کہلا سکتا۔ نہ منصب نبوت پر فائز ہو سکتا ہے اور جو شخص اس کا مدعی ہو وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔

اور یہ خاتمیت آنحضرتﷺ کے لئے اعلیٰ ترین شرف ومنزلت اور عظیم الشان اعزاز واکرام ہے اور آنحضرتﷺ کے بعد کسی شخص کا نبی بن کر آنا آنحضرتﷺ کی سخت توہین ہے۔ کیونکہ اگر آنحضرتﷺ کے بعد کسی نبی کی آمد فرض کی جائے تو سوال ہوگا کہ اس نئے نبی کو کچھ نئے علوم بھی دئیے گئے یا نہیں؟ اگر کہا جائے کہ اس نئے نبی کو نئے علوم نہیں دئیے گئے بلکہ وہی علوم اس پر دوبارہ نازل کئے گئے تھے تو قرآن مجید اور علوم نبویﷺ کے موجود ہوتے ہوئے دوبارہ انہی علوم کو نازل کرنا کار عبث ہوگا اور حق تعالیٰ شانہ عبث سے منزہ ہیں اور اگر یہ کہا جائے کہ بعد کے نبی کو ایسے علوم دئیے گئے جو آنحضرتﷺ کو نہیں دئیے گئے تو اس سے (نعوذ باللہ) آنحضرتﷺ کے علوم کا ناقص ہونا، قرآن کریم کا تمام دینی امور کے لئے واضح بیان (تبیاناً لکل شیٔ)نہ ہونا اور دین اسلام کا کامل نہ ہونا لازم آئے گا اور یہ آنحضرتﷺ کی قرآن کریم کی اور دین اسلام کی سخت توہین ہے۔

علاوہ ازیں اگر آنحضرتﷺ کے بعد کسی نبی کی آمد فرض کی جائے تو ظاہر ہے کہ اس پر ایمان لانا لازم ہوگا اور اس کا انکار کفر ہوگا۔ ورنہ نبوت کے کیا معنی؟ اور یہ آنحضرتﷺ کی ایک دوسرے انداز میں توہین وتنقیص ہے کہ ایک شخض آپﷺ پر اور آپﷺ کے پورے دین

18

پر ایمان رکھنے کے باوجود کافر رہے اور ہمیشہ کے لئے دوزخ کا مستحق ہو۔ جس کے معنی یہ ہوں گے کہ آنحضرتﷺ پر ایمان لانا بھی (نعوذ باللہ) کفر سے بچانے اور دوزخ سے نجات دلانے کے لئے کافی نہیں۔

جھوٹے مدعیان نبوت کے فتنہ کا آغاز اس وقت ہی ہوگیا تھا جب مسیلمہ کذاب نے اپنے قبیلہ بنو حنیفہ کے ساتھ آستانہ نبویﷺ پر حاضر ہوکر بیعت اسلام کی مگر ساتھ یہ درخواست بھی کر دی کہ مجھے اپنا جانشین یا خلیفہ مقرر کر دیں۔ اس وقت آنحضرتﷺ کے دست مبارک میں کھجور کی ایک ٹہنی تھی۔ آپﷺ نے اس کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ تم امر خلافت میں اگر مجھ سے یہ شاخ بھی طلب کرو تو میں دینے کو تیار نہیں۔ یہاں پر بھی مؤرخین کے مطابق اصل صورتحال یہ تھی کہ مسیلمہ کذاب نے بیعت کے لئے خلافت یا نبوت میں شراکت کی شرط رکھی تھی۔ جب آپﷺ نے قبول نہیں فرمائی تو اس نے بیعت اسلام ہی نہیں کی۔ آنحضرتﷺ کی رحلت کے بعد اس نے نبوت میں شراکت کا اعلان کر دیا۔ اس فتنہ کو خلیفہ اوّل سیدنا صدیق اکبرؓ نے جہاد کے ذریعہ ختم کیا اور مسیلمہ کذاب اپنے لشکر سمیت جہنم رسید ہوا۔

آنحضرتﷺ کی اس دنیا سے تشریف بری سے چند دن قبل اسود عنسی نے جھوٹا دعویٰ نبوت کیا اور اہل نجران کو شعبدہ بازی اور کہانت کے چکروں میں ڈال کر اپنا پیروکار بنالیا۔ بعد ازاں اس نے یمن پر چڑھائی کر کے پورے یمن پر قبضہ کر لیا۔ حضرت عمرو بن حزمؓ اور حضرت خالد بن سعیدؓ نے مدینہ منورہ پہنچ کر آنحضرتﷺ کو اس کی اطلاع پہنچائی۔ جس پر آپﷺ نے اہل یمن کے بعض سرداروں کو اہل نجران ویمن کے خلاف جہاد کے لئے خطوط تحریر فرمائے اور اسود عنسی کو قتل کرنے کا حکم صادر فرمایا۔ اسود عنسی نے یمن کے شہر صنعاء پر فتح پانے کے بعد اس کے مسلمان حاکم، شہر بن بازان کو شہید کر کے ان کی اہلیہ آزاد کو جبری طور پر اپنا محکوم بنالیا تھا۔ اس مسلمان عورت کے عم زاد حضرت فیروز دیلمیؓ کو جو شاہ حبشہ کے بھانجے تھے۔ ان واقعات کی اطلاع ملی تو وہ اپنی بہن کی مدد کو پہنچے اور ابھی بہن کی نجات کے لئے فکر مند تھے کہ آنحضرتﷺ کی طرف سے جہاد اور اسود عنسی کے قتل کا حکم ملا۔ اس پر انہوں نے اپنی بہن سے مل کر اسود عنسی کو اس کے محل کے اندر ہی قتل کرنے کی مہم تیار کی اور ایک رات موقع پاکر حضرت فیروز دیلمیؓ محل کے عقب سے نقب لگا کر اسود عنسی کے کمرے میں پہنچ گئے۔ جیسے ہی وہ کمرے میں داخل ہوئے اسود عنسی جاگ گیا۔ حضرت فیروز دیلمیؓ نے فوری طور پر جست لگاکر اسود عنسی کو پکڑ لیا اور اس کی گردن مروڑ دی۔

19

شور سن کر پہرہ دار آئے تو آزاد نے کہا کہ خاموش رہو۔ تمہارے نبی پر وحی نازل ہورہی ہے۔ اسود کے مرتے ہی حضرت فیروز دیلمیؓ نے اس کے قتل کا اعلان کیا اور مؤذن نے فجر کی اذان میں اشہد ان محمد رسول اللہبعد اشہد ان علیہلۃ کذاب کے الفاظ کے ساتھ اہل یمن کو اس سے نجات حاصل کرنے کی خوشخبری سنائی۔ آنحضرتﷺ کی خدمت میں حضرت جبرائیل امین علیہ السلام نے آکر خبر دی تو آپﷺ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو ان الفاظ کے ساتھ خوشخبری سنائی۔ فاز فیروزفیروز کامیاب ہوگیا۔

آپﷺ کی وفات کے بعد صحابہ کرامؓ کے پاس پہلے جھوٹے مدعی نبوت کے جہنم رسید ہونے کی اطلاع تفصیل کے ساتھ آئی۔ اس طرح آپﷺ کی یہ سنت جاری ہوئی کہ جھوٹا مدعی نبوت واجب القتل ہے۔ آنحضرتﷺ کی حدیث کے مطابق قیامت تک تیس کذاب دجال پیدا ہوں گے۔ ہم چودہ سو سالہ تاریخ اسلامی کا مطالعہ کرتے ہیں تو ابھی تک ایسے جھوٹے مدعیان نبوت کی تعداد ہزاروں سے تجاوز کرچکی ہے۔ جنہوں نے کسی نہ کسی انداز میں دعویٰ نبوت کیا۔ مگر بڑے جھوٹے مدعیان نبوت جن کی جھوٹی نبوت کو کسی نہ کسی حد تک کوئی حیثیت حاصل ہوئی یا جن کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ وہ کسی شمار میں ہوئے ان کی تعداد ابھی تک تیس کو نہیں پہنچی۔ اس بناء پر کہا جاسکتا ہے کہ ابھی قیامت تک ایسے کچھ اور فتنے بھی رونما ہوں گے جو ملت اسلامیہ کے لئے ناسور بنیں گے اور ان میں سب سے آخری دجال اعظم یعنی کانا دجال ہوگا۔ جس کے قتل کے لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے تشریف لائیں گے۔ چودہ سو سالہ تاریخ میں جتنے بھی جھوٹے مدعیان نبوت کے فتنوں کا ظہور ہوا۔ امت مسلمہ نے ان کا قلع قمع کرنے کے لئے بھرپور کردار ادا کیا۔ اس لئے ان فتنوں میں سے کوئی فتنہ باقی نہیں رہا۔ البتہ انیسویں صدی کے اختتام اور بیسویں صدی کے شروع میں انگریزی استبداد وغلامی میں مرزاغلام احمد قادیانی کی شکل میں جھوٹے مدعی نبوت کے برپا کردہ جس فتنہ قادیانیت نے سر اٹھایا۔ باوجود ایک صدی گزر جانے کے وہ اب تک ملت اسلامیہ کو ناسور کی شکل میں نقصان پہنچانے کے در پے ہے۔ فتنہ قادیانیت محدث العصر حضرت علامہ انور شاہ کشمیریؒ کے قول کے مطابق اتنا بڑا فتنہ تھا۔ جس کے آغاز کے وقت ایسا اندازہ ہوتا تھا کہ یہ ملت اسلامیہ کو اپنے بہاؤ میں بہا کر لے جائے گا۔ لیکن علماء نے اس کے آگے بند باندھ کر اس فتنہ کی شرانگیزیوں اور گمراہیوں سے امت کو محفوظ کر دیا۔

20

فتنہ قادیانیت کی سب سے بڑی خرابی اور اس برائی کی جڑ یہ ہے کہ اس فتنہ کو ہمیشہ عیسائیوں اور یہودیوں کی سرپرستی حاصل رہی اور اس نے اسلام کا لبادہ اوڑھ کر مسلمانوں کو گمراہ کرنے کا بیڑہ اٹھایا۔ زن، زر اور زمین اور مال ودولت اس کے سب سے بڑے ہتھیار رہے ہیں اور متفقہ مسائل وعقائد میں شکوک وشبہات اور بحث ومباحثہ کے ذریعہ مسلمانوں کے ایمان کو متزلزل کرنا اس کا طریقہ کار رہا ہے۔ اس لئے جب بھی ہم ان کے کسی مناظرہ یا مباحثہ کی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو وہ حیات ونزول عیسیٰ علیہ السلام، ختم نبوت کا مفہوم، اجرائے نبوت، امام مہدیؓ کی تشریف آوری جیسے علمی اور دقیق مسائل کے بارے میں گفتگو کرتے نظر آتے ہیں۔ جن کے بارے میں مسلمان عقیدہ کی مضبوطی کی حد تک تو واقفیت رکھتے ہیں۔ مگر ان امور پر علمی بحث عوام الناس تو کیا اکثر علمائے کرام کے دائرہ علم سے بھی باہر ہوتی ہے۔ اس لئے اس بات کی ضرورت محسوس کی گئی کہ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے منتہی طلباء کے لئے ایک ایسا نصاب تیار کیا جائے جس میں ان مباحث کا احاطہ کیا جائے اور اس کا باقاعدہ امتحان ہو۔ اس سلسلے میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے وفاق المدارس العربیہ پاکستان سے درخواست کی۔ جس کو وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے صدر حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب نے اپنی مجلس عاملہ سے منظور کراکر نصاب کی تیاری کی ذمہ داری عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے سپرد کی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحبؒ نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی مجلس شوریٰ کی منظوری سے شاہین ختم نبوت مولانا اللہ وسایا کے ذمہ یہ خدمت سپرد کی۔ انہوں نے بہت محنت اور دقت نظر سے یہ نصاب تیار کیا۔ جس کو شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالمجید صاحب مدظلہ کہروڑپکا، حضرت مولانا عزیزالرحمن جالندھری اور راقم الحروف کے علاوہ دیگر علمائے کرام نے نظر ثانی کے بعد مستند اور مفید قرار دیا۔ امید ہے کہ یہ نصاب نہ صرف اس ضرورت کو پورا کرے گا بلکہ اس کے پڑھنے والے ایک عظیم مبلغ اور مناظر ختم نبوت کے طور پر تیار ہوکر امت مسلمہ کو فتنہ قادیانیت کے ناسور سے بچانے کے لئے اہم کردار ادا کریں گے۔ اللہ تعالیٰ اس کو شرف قبولیت عطا فرمائے اور امت کے علمائے کرام اور اہل علم کے لئے نافع بنائے۔ وما توفیقی الا باللہ!

وصلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ محمد وآلہ واصحابہ اجمعین

ڈاکٹر مفتی نظام الدین شامزی

استاذ الحدیث جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی

21

ختم نبوت

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

ختم نبوت

سوال۱ … ختم نبوت کا معنی اور مطلب اور اس کی اہمیت اور آپﷺ کی ذات اطہر کے ساتھ اس منصب کی خصوصیات کو واضح طور پر بیان کریں؟

جواب…

ختم نبوت کا معنی اور مطلب

اللہ رب العزت نے سلسلۂ نبوت کی ابتداء سیدنا آدم علیہ السلام سے فرمائی اور اس کی انتہا محمد عربیﷺ کی ذات اقدس پر فرمائی۔ آنحضرتﷺ پر نبوت ختم ہوگئی۔ آپﷺ آخرالانبیاء ہیں۔ آپﷺ کے بعد کسی کو نبی نہ بنایا جائے گا۔ اس عقیدہ کو شریعت کی اصطلاح میں عقیدۂ ختم نبوت کہا جاتا ہے۔

عقیدۂ ختم نبوت کی اہمیت

ختم نبوت کا عقیدہ ان اجماعی عقائد میں سے ہے۔ جو اسلام کے اصول اور ضروریات دین میں شمار کئے گئے ہیں اور عہد نبوت سے لے کر اس وقت تک ہر مسلمان اس پر ایمان رکھتا آیا ہے کہ آنحضرتﷺ بلا کسی تاویل اور تخصیص کے خاتم النبیین ہیں۔

الف … قرآن مجید کی ایک سو آیات کریمہ
ب… رحمت عالمﷺ کی احادیث متواترہ (دو سو دس احادیث مبارکہ) سے یہ مسئلہ ثابت ہے
ج … آنحضرتﷺ کی امت کا سب سے پہلا اجماع اسی مسئلہ پر منعقد ہوا۔ چنانچہ امام العصر حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیری ؒ اپنی آخری کتاب خاتم النبیین میں تحریر فرماتے ہیں:

و اوّل اجماعے کہ دریں امت منعقد شدہ اجماع بر قتل مسیلمہ کذاب بودہ کہ بسبب دعوئ نبوت بود، شنائع دگروے صحابہؓ رابعد قتل وے معلوم شدہ، چنانکہ ابن خلدون آوردہ سپس اجماع بلا فصل قرناً بعد قرنٍ برکفر و ارتداد و قتل مدعی نبوت ماندہ و ہیچ تفصیلے از بحث نبوت تشریعیہ و غیر تشریعیہ نبودہ۔

22

ترجمہ: اور سب سے پہلا اجماع جو اس امت میں منعقد ہوا۔ وہ مسیلمہ کذاب کے قتل پر اجماع تھا۔ جس کا سبب صرف اس کا دعویٰ نبوت تھا۔ اس کی دیگر گھنائونی حرکات کا علم صحابہ کرامؓ کو اس کے قتل کے بعد ہوا تھا۔ جیسا کہ ابن خلدونؒ نے نقل کیا ہے۔ اس کے بعد قرناً بعد قرنٍ مدعی نبوت کے کفر و ارتداد اور قتل پر ہمیشہ اجماع بلافصل رہا ہے اور نبوت تشریعیہ یا غیر تشریعیہ کی کوئی تفصیل کبھی زیر بحث نہیں آئی۔

(خاتم النبیین ص۶۷، ترجمہ ص۱۹۷)

حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ نے اپنی تصنیف مسک الختام فی ختم نبوۃ سیدالانامﷺ میں تحریر فرمایا ہے کہ:

امت محمدیہﷺ میں سب سے پہلا اجماع جو ہوا۔ وہ اسی مسئلہ پر ہوا کہ مدعی نبوت کو قتل کیا جائے۔

(احتساب قادیانیت ج۲ ص۱۰)

آنحضرتﷺ کے زمانہ حیات میں اسلام کے تحفظ و دفاع کے لئے جتنی جنگیں لڑی گئیں۔ ان میں شہید ہونے والے صحابہ کرامؓ کی کل تعداد ۲۵۹ ہے۔ (رحمتہ للعالمین ج ۲ ص۲۱۳ قاضی سلمان منصور پوریؒ) اور عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ و دفاع کے لئے اسلام کی تاریخ میں پہلی جنگ جو سیدنا صدیق اکبرؓ کے عہد خلافت میں مسیلمہ کذاب کے خلاف یمامہ کے میدان میں لڑی گئی۔ اس ایک جنگ میں شہید ہونے والے صحابہؓ اور تابعینؒ کی تعداد بارہ سو ہے (جن میں سے سات سو قرآن مجید کے حافظ اور عالم تھے)

آنحضرتﷺ کے زمانہ حیات میں اسلام کے تحفظ و دفاع کے لئے جتنی جنگیں لڑی گئیں۔ ان میں شہید ہونے والے صحابہ کرامؓ کی کل تعداد ۲۵۹ ہے۔ (رحمتہ للعالمین ج ۲ ص۲۱۳ قاضی سلمان منصور پوریؒ) اور عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ و دفاع کے لئے اسلام کی تاریخ میں پہلی جنگ جو سیدنا صدیق اکبرؓ کے عہد خلافت میں مسیلمہ کذاب کے خلاف یمامہ کے میدان میں لڑی گئی۔ اس ایک جنگ میں شہید ہونے والے صحابہؓ اور تابعینؒ کی تعداد بارہ سو ہے (جن میں سے سات سو قرآن مجید کے حافظ اور عالم تھے)

(ختم نبوت کامل ص ۳۰۴ حصہ سوم از مفتی محمد شفیع ؒو مرقاۃ المفاتیح ج ۵ ص ۲۴)

رحمت عالمﷺ کی زندگی کی کل کمائی اور گراں قدر اثاثہ حضرات صحابہ کرامؓ ہیں۔ جن کی بڑی تعداد اس عقیدہ کے تحفظ کے لئے جام شہادت نوش کرگئی۔ اس سے ختم نبوت کے عقیدہ کی عظمت کا اندازہ ہوسکتا ہے۔ انہی حضرات صحابہ کرامؓ میں سے ایک صحابی حضرت حبیب بن زید انصاری خزرجیؓ کی شہادت کا واقعہ ملاحظہ ہو:

حبیب بن زید … الانصاری الخزرجی … ھوالذی ارسلہ رسول اللہﷺ الی مسیلمۃ الکذاب الحنفی صاحب الیمامہ فکان مسیلمۃ اذا قال لہ اتشھد ان محمد ا رسول اللہ قال نعم واذا قال اتشھد انی رسول اللہ قال انا اصم لا اسمع ففعل ذلک مرارا فقطعہ مسیلمۃ عضوا عضوا فمات شہیدا

(اسدالغابہ فی معرفۃ الصحابہ ج۱ص۴۲۱ طبع بیروت)

23

ترجمہ: حضرت حبیب بن زید انصاریؓ کو آنحضرتﷺ نے یمامہ کے قبیلہ بنو حنیفہ کے مسیلمہ کذاب کی طرف بھیجا۔ مسیلمہ کذاب نے حضرت حبیبؓ سے کہا کہ کیا تم گواہی دیتے ہو کہ محمد اللہ کے رسول ہیں؟ حضرت حبیبؓ نے فرمایا ہاں۔ مسیلمہ نے کہا کہ کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ میں (مسیلمہ) بھی اللہ کا رسول ہوں؟ حضرت حبیبؓ نے جواب میں فرمایا کہ میں بہرا ہوں۔ تیری یہ بات نہیں سن سکتا۔ مسیلمہ بار بار سوال کرتا رہا۔ وہ یہی جواب دیتے رہے اور مسیلمہ ان کا ایک ایک عضو کاٹتا رہا۔ حتیٰ کہ حبیبؓ بن زید کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے ان کو شہید کردیا گیا۔

اس سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ حضرات صحابہ کرامؓ مسئلہ ختم نبوت کی عظمت و اہمیت سے کس طرح والہانہ تعلق رکھتے تھے۔ اب حضرات تابعینؒ میں سے ایک تابعیؒ کا واقعہ بھی ملاحظہ ہو: حضرت ابو مسلم خولانی ؒ جن کا نام عبداللہ بن ثوبؒ ہے اور یہ امت محمدیہ (علیٰ صاحبہا السلام) کے وہ جلیل القدر بزرگ ہیں۔ جن کے لئے اللہ تعالیٰ نے آگ کو اسی طرح بے اثر فرمادیا۔ جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لئے آتش نمرود کو گلزار بنادیا تھا۔ یہ یمن میں پیدا ہوئے تھے اور سرکار دوعالمﷺ کے عہد مبارک ہی میں اسلام لاچکے تھے۔ لیکن سرکاردو عالمﷺ کی خدمت میں حاضری کا موقع نہیں ملا تھا۔ آنحضرتﷺ کی حیات طیبہ کے آخری دور میں یمن میں نبوت کا جھوٹا دعویدار اسود عنسی پیدا ہوا۔ جو لوگوں کو اپنی جھوٹی نبوت پر ایمان لانے کے لئے مجبور کیا کرتا تھا۔ اسی دوران اس نے حضرت ابو مسلم خولانی ؒکو پیغام بھیج کر اپنے پاس بلایا اور اپنی نبوت پر ایمان لانے کی دعوت دی۔ حضرت ابو مسلمؒ نے انکار کیا۔ پھر اس نے پوچھا کہ کیا تم محمدﷺ کی رسالت پر ایمان رکھتے ہو؟ حضرت ابو مسلمؒ نے فرمایا ہاں۔ اس پر اسود عنسی نے ایک خوفناک آگ دہکائی اور حضرت ابومسلمؒ کو اس آگ میں ڈال دیا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے آگ کو بے اثر فرمادیا اور وہ اس سے صحیح سلامت نکل آئے۔ یہ واقعہ اتنا عجیب تھا کہ اسود عنسی اور اس کے رفقاء پر ہیبت سی طاری ہوگئی اور اسود کے ساتھیوں نے اسے مشورہ دیا کہ ان کو جلاوطن کردو۔ ورنہ خطرہ ہے کہ ان کی وجہ سے تمہارے پیروئوں کے ایمان میں تزلزل آجائے۔ چنانچہ انہیں یمن سے جلاوطن کردیا گیا۔ یمن سے نکل کر ایک ہی جائے پناہ تھی۔ یعنی مدینہ منورہ۔ چنانچہ یہ سرکاردوعالمﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے کے لئے چلے۔ لیکن جب مدینہ منورہ پہنچے تو معلوم ہوا کہ آفتاب رسالتﷺ روپوش

24

ہوچکا ہے۔ آنحضرتﷺ وصال فرماچکے تھے اور حضرت صدیق اکبرؓ خلیفہ بن چکے تھے۔

انہوں نے اپنی اونٹنی مسجد نبویﷺ کے دروازے کے پاس بٹھائی اور اندر آکر ایک ستون کے پیچھے نماز پڑھنی شروع کردی۔ وہاں حضرت عمرؓ موجود تھے ۔ انہوں نے ایک اجنبی مسافر کو نماز پڑھتے دیکھا تو ان کے پاس آئے اور جب وہ نماز سے فارغ ہوگئے تو ان سے پوچھا کہ آپ کہاں سے آئے ہیں؟ یمن سے! حضرت ابومسلمؒ نے جواب دیا۔ حضرت عمرؓ نے فوراً پوچھا کہ اللہ کے دشمن (اسود عنسی) نے ہمارے ایک دوست کو آگ میں ڈال دیا تھا اور آگ نے ان پر کوئی اثر نہیں کیا تھا۔ بعد میں ان صاحب کے ساتھ اسود نے کیا معاملہ کیا؟ حضرت ابو مسلمؒ نے فرمایاکہ ان کا نام عبداللہ بن ثوب ہے۔ اتنی دیر میں حضرت عمرؓ کی فراست اپنا کام کرچکی تھی۔ انہوں نے فوراً فرمایاکہ میں آپ کو قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا آپ ہی وہ صاحب ہیں؟ حضرت ابو مسلم خولانی ؒ نے جواب دیاکہ جی ہاں! حضرت عمرؓ نے یہ سن کر فرطِ مسرت و محبت سے ان کی پیشانی کو بوسہ دیا اور انہیں لے کر حضرت صدیق اکبرؓ کی خدمت میں پہنچے۔ انہیں صدیق اکبرؓ کے اور اپنے درمیان بٹھایا اور فرمایاکہ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے مجھے موت سے پہلے امت محمدیہﷺ کے اس شخص کی زیارت کرادی جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام جیسا معاملہ فرمایا تھا۔

(حلیۃ الاولیاء ص ۱۲۹، ج۲، تہذیب ج ۶ ص ۴۵۸، تاریخ ابن عساکر ص۳۱۵، ج۷، جہاں دیدہ ص ۲۹۳ و ترجمان السنۃ ص ۳۴۱ ج ۴)

منصب ختم نبوت کا اعزاز

قرآن مجید میں ذات باری تعالیٰ کے متعلق رب العالمینآنحضرتﷺ کی ذات اقدس کے لئے رحمۃ للعالمینقرآن مجید کے لئے ذکر للعالمین اور بیت اللہ شریف کے لئے ھدی للعالمین فرمایا گیا ہے۔ اس سے جہاں آنحضرتﷺ کی نبوت ورسالت کی آفاقیت و عالمگیریت ثابت ہوتی ہے۔ وہاں آپﷺ کے وصف ختم نبوت کا اختصاص بھی آپﷺ کی ذات اقدس کے لئے ثابت ہوتا ہے۔ اس لئے کہ پہلے تمام انبیاء علیہم السلام اپنے اپنے علاقہ، مخصوص قوم اور مخصوص وقت کے لئے تشریف لائے۔ جب آپﷺ تشریف لائے تو حق تعالیٰ نے کل کائنات کو آپ کی نبوت و رسالت کے لئے ایک اکائی (ون یونٹ) بنادیا۔

جس طرح کل کائنات کے لئے اللہ تعالیٰ رب ہیں۔ اسی طرح کل کائنات کے

25

لئے آنحضرتﷺ نبی ہیں۔ یہ صرف اور صرف آپﷺ کا اعزاز و اختصاص ہے۔ آنحضرتﷺ نے اپنے لئے جن چھ خصوصیات کا ذکر فرمایا ان میں سے ایک یہ بھی ہے:

ارسلت الی الخلق کافۃ وختم بی النبیون

ترجمہ: میں تمام مخلوق کے لئے نبی بناکر بھیجا گیا اور مجھ پر نبوت کا سلسلہ ختم کردیا گیا۔

آنحضرتﷺ آخری نبی ہیں۔ آپﷺ کی امت آخری امت ہے۔ آپﷺ کا قبلہ آخری قبلہ (بیت اللہ شریف) ہے۔ آپﷺ پر نازل شدہ کتاب آخری آسمانی کتاب ہے۔ یہ سب آپﷺ کی ذات کے ساتھ منصب ختم نبوت کے اختصاص کے تقاضے ہیںجو اللہ تعالیٰ نے پورے کردیئے۔ چنانچہ قرآن مجید کو ذکر للعالمین اور بیت اللہ شریف کو ھدی للعالمین کا اعزاز بھی آپﷺ کی ختم نبوت کے صدقے میں ملا۔ آپﷺ کی امت آخری امت قرار پائی۔ جیسا کہ ارشاد نبوی ہے: انا آخر الانبیاء وانتم آخرالامم

(ابن ماجہ ص ۲۹۷)

حضرت علامہ جلال الدین سیوطیؒ نے اپنی شہرۂ آفاق کتاب خصائص الکبریٰ میں آنحضرتﷺ کا خاتم النبیین ہونا۔ آپﷺ ہی کی خصوصیت قرار دیا ہے۔

(دیکھئے ج۲ ص۱۹۳،۱۹۷،۲۸۴)

اسی طرح امام العصر علامہ سید محمد انور شاہ کشمیریؒ فرماتے ہیں:

وخاتم بودن آنحضرت ﷺ از میان انبیاء از بعض خصائص و کمالات مخصوصہ کمال ذاتی خود است

(خاتم النبیین فارسی ص ۶۰)

ترجمہ: اور انبیاء میں آنحضرتﷺ کا خاتم ہونا۔ آپﷺ کے مخصوص فضائل وکمالات میں سے خود آپﷺ کا اپنا ذاتی کمال ہے۔

(خاتم النبیین اردو ص۱۸۷)

سوال ۲… قال اللہ تعالی:ما کان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین اس آیت کی توضیح و تشریح ایسے طور سے کریں کہ مسئلہ ختم نبوت نکھرکر سامنے آجائے اور اس موضوع پر لکھی جانے والی کتابوں میں سے پانچ کتابوں کے نام تحریر کریں؟

26

جواب…

آیت خاتم النبیین کی تفسیر

ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین وکان اللہ بکل شئی علیما (احزاب:۴۰)

ترجمہ: محمدؐ باپ نہیں کسی کا تمہارے مردوں میں سے۔ لیکن رسول ہے اللہ کا اور مہر سب نبیوں پر اور ہے اللہ سب چیزوں کو جاننے والا۔

شان نزول

اس آیت شریفہ کا شان نزول یہ ہے کہ آفتاب نبوتﷺ کے طلوع ہونے سے پہلے تمام عرب جن رسومات میں مبتلا تھے۔ ان میں سے ایک رسم یہ بھی تھی کہ متبنیٰ یعنی لے پالک بیٹے کو تمام احکام واحوال میں حقیقی اور نسبی بیٹا سمجھتے تھے۔ اس کو بیٹا کہہ کر پکارتے تھے اور مرنے کے بعد شریک وراثت ہونے میں اور رشتے ناتے اور حلت و حرمت کے تمام احکام میں حقیقی بیٹا قرار دیتے تھے۔ جس طرح نسبی بیٹے کے مرجانے یا طلاق دینے کے بعد باپ کے لئے بیٹے کی بیوی سے نکاح حرام ہے۔ اسی طرح وہ لے پالک کی بیوی سے بھی اس کے مرنے اور طلاق دینے کے بعد نکاح کو حرام سمجھتے تھے۔

یہ رسم بہت سے مفاسد پر مشتمل تھی۔ اختلاط نسب، غیر وارث شرعی کو اپنی طرف سے وارث بنانا۔ ایک شرعی حلال کو اپنی طرف سے حرام قرار دینا وغیرہ وغیرہ۔

اسلام جو کہ دنیا میں اسی لئے آیا ہے کہ کفر و ضلالت کی بے ہودہ رسوم سے عالم کو پاک کردے۔ اس کا فرض تھا کہ وہ اس رسم کے استیصال (جڑ سے اکھاڑنے) کی فکر کرتا۔ چنانچہ اس نے اس کے لئے دو طریق اختیار کئے۔ ایک قولی اور دوسرا عملی۔ ایک طرف تو یہ اعلان فرمادیا:

و ما جعل ادعیاء کم ابناء کم ذلکم قولکم بافواھکم و اللہ یقول الحق و ھو یھدی السبیل ادعوھم لاباء ھم ھو اقسط عند اللہ(احزاب:۴،۵)

ترجمہ: اور نہیں کیا تمہارے لے پالکوں کو تمہارے بیٹے۔ یہ تمہاری بات ہے اپنے منہ کی اور اللہ کہتا ہے ٹھیک بات اور وہی سمجھاتا ہے راہ۔ پکارولے پالکوں کو ان کے باپ کی طرف نسبت کرکے۔ یہی پورا انصاف ہے اللہ کے یہاں۔

27

اصل مدعا تو یہ تھا کہ شرکت نسب اور شرکت وراثت اور احکام حلت و حرمت وغیرہ میں اس کو بیٹا نہ سمجھا جائے۔ لیکن اس خیال کو بالکل باطل کرنے کے لئے یہ حکم دیا کہ متبنیٰ یعنی لے پالک بنانے کی رسم ہی توڑ دی جائے۔ چنانچہ اس آیت میں ارشاد ہوگیا کہ لے پالک کو اس کے باپ کے نام سے پکارو۔ نزول وحی سے پہلے آنحضرتﷺ نے حضرت زید بن حارثہؓ کو (جو کہ آپﷺ کے غلام تھے) آزاد فرماکر متبنیٰ (لے پالک بیٹا) بنالیا تھا اور تمام لوگ یہاں تک کہ صحابہ کرامؓ بھی عرب کی قدیم رسم کے مطابق ان کو زید بن محمدؐ کہہ کر پکارتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں کہ جب آیت مذکورہ نازل ہوئی۔ اس وقت سے ہم نے اس طریق کو چھوڑ کر ان کو زید بن حارثہ ؓ کہنا شروع کیا۔ صحابہ کرامؓ اس آیت کے نازل ہوتے ہی اس رسم قدیم کو خیرباد کہہ چکے تھے۔ لیکن چونکہ کسی رائج شدہ رسم کے خلاف کرنے میں اعزہ و اقارب اور اپنی قوم و قبیلہ کے ہزاروں طعن و تشنیع کا نشانہ بننا پڑتا ہے۔ جس کا تحمل ہر شخص کو دشوار ہے۔ اس لئے خداوند عالم نے چاہا کہ اس عقیدہ کو اپنے رسول ہی کے ہاتھوں عملاً توڑا جائے۔ چنانچہ جب حضرت زیدؓ نے اپنی بی بی زینبؓ کو باہمی ناچاقی کی وجہ سے طلاق دے دی تو خداوند عالم نے اپنے رسولa کا نکاح ان سے کردیا۔زوجنکھا۔تاکہ اس رسم و عقیدہ کا کلیتاً استیصال ہوجائے۔ چنانچہ ارشاد ہوا:

فلما قضیٰ زید منھا وطراً زوجنکھا لکی لا یکون علی المؤمنین حرج فی ازواج ادعیاء ھم … (احزاب :۳۷)

ترجمہ: پس جبکہ زیدؓ زینبؓ سے طلاق دے کر فارغ ہوگئے تو ہم نے ان کا نکاح آپﷺ سے کردیا۔ تاکہ مسلمانوں پر اپنے لے پالک کی بیبیوں کے بارے میں کوئی تنگی واقع نہ ہو۔

ادھر آپﷺ کا نکاح حضرت زینبؓ سے ہوا۔ ادھر جیسا کہ پہلے ہی خیال تھا۔ تمام کفار عرب میں شور مچاکہ لو۔ اس نبی کو دیکھو کہ اپنے بیٹے کی بیوی سے نکاح کربیٹھے۔ ان لوگوں کے طعنوں اور اعتراضات کے جواب میں آسمان سے یہ آیت نازل ہوئی۔ یعنی:

ماکان محمد ابا احدمن رجالکم ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین (احزاب: ۴۰)

28

ترجمہ: محمد ؐ باپ نہیں کسی کا تمہارے مردوں میں سے لیکن رسول ہے اللہ کا اور مہر سب نبیوں پر۔

اس آیت میں یہ بتلادیا گیا کہ آنحضرتﷺ کسی مرد کے نسبی باپ نہیں تو حضرت زیدؓ کے نسبی باپ بھی نہ ہوئے۔ لہٰذا آپﷺ کا ان کی سابقہ بی بی سے نکاح کرلینا بلاشبہ جائز اور مستحسن ہے اور اس بارے میں آپﷺ کو مطعون کرنا سراسر نادانی اور حماقت ہے۔ ان کے دعوے کے رد کے لئے اتنا کہہ دینا کافی تھا کہ آپﷺ حضرت زیدؓ کے باپ نہیں۔ لیکن خداوند عالم نے ان کے مطاعن کو مبالغہ کے ساتھ رد کرنے اور بے اصل ثابت کرنے کے لئے اس مضمون کو اس طرح بیان فرمایا۔ یہی نہیں کہ آپﷺ زیدؓ کے باپ نہیں بلکہ آپﷺ تو کسی مرد کے بھی باپ نہیں۔ پس ایک ایسی ذات پر جس کا کوئی بیٹا ہی موجود نہیں۔ یہ الزام لگانا کہ اس نے اپنے بیٹے کی بی بی سے نکاح کرلیا کس قدر ظلم اور کجروی ہے۔ آپﷺ کے تمام فرزند بچپن ہی میں وفات پاگئے تھے۔ ان کو مرد کہے جانے کی نوبت ہی نہیں آئی۔ آیت میں رجالکم کی قید اسی لئے بڑھائی گئی ہے۔ بالجملہ اس آیت کے نزول کی غرض آنحضرتﷺ سے کفار و منافقین کے اعتراضات کا جواب دینا اور آپﷺ کی برأت اور عظمت شان بیان فرمانا ہے اور یہی آیت کا شان نزول ہے۔

اس کے بعد ارشاد ہوتا ہے: ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین(لیکن رسول ہے اللہ کا اور مہر سب نبیوں پر)

خاتم النبیین کی قرآنی تفسیر

اب سب سے پہلے قرآن مجید کی رو سے اس کا ترجمہ و تفسیر کیا جانا چاہئے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ لفظ ختمکے مادہ کا قرآن مجید میں سات مقامات پر استعمال ہوا ہے:

۱… ختم اللہ علی قلوبھم(بقرہ:۷) (مہر کردی اللہ نے ان کے دلوں پر)
۲… ختم علی قلوبکم (انعام:۴۶) (مہر کردی تمہارے دلوں پر)
۳… ختم علی سمعہ وقلبہ (جاثیہ:۲۳) (مہر کردی ان کے کان پر اور دل پر)
۴… الیوم نختم علی افواہہم (یٰسین:۶۵) (آج ہم مہر لگادیں گے ان کے منہ پر)
29
۵… فان یشاء اللہ یختم علی قلبک (شوریٰ:۲۴) (سو اگر اللہ چاہے مہر کردے تیرے دل پر)
۶… رحیق مختوم ( مطففین:۲۵) (مہر لگی ہوئی خالص شراب)
۷… ختامہ مسک ( مطففین:۲۶) (جس کی مہر جمتی ہے مشک پر)

ان ساتوں مقامات کے اول و آخر، سیاق و سباق کو دیکھ لیں ختم کے مادہ کا لفظ جہاں کہیں استعمال ہوا ہے۔ ان تمام مقامات پر قدر مشترک یہ ہے کہ کسی چیز کو ایسے طور پر بند کرنا۔ اس کی ایسی بندش کرنا کہ باہر سے کوئی چیز اس میں داخل نہ ہوسکے اور اندر سے کوئی چیز اس سے باہر نہ نکالی جاسکے۔ وہاں پر ختم کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ مثلاً پہلی آیت کو دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کافروں کے دلوں پر مہر کردی۔ کیا معنی؟ کہ کفر ان کے دلوں سے باہر نہیں نکل سکتا اور باہر سے ایمان ان کے دلوں کے اندر داخل نہیں ہوسکتا۔ فرمایا: ختم اللہ علی قلوبھماب زیر بحث آیت خاتم النبیین کا اس قرآنی تفسیر کے اعتبار سے ترجمہ کریں۔ تو اس کا معنی ہوگا کہ رحمت دوعالمﷺ کی آمد پر حق تعالیٰ نے انبیاء علیہم السلام کے سلسلہ پر ایسے طور پر بندش کردی۔ بند کردیا۔ مہر لگادی۔ اب کسی نبی کو نہ اس سلسلہ سے نکالا جاسکتا ہے اور نہ کسی نئے شخص کو سلسلہ نبوت میں داخل کیا جاسکتا ہے۔ فھو المقصود۔لیکن قادیانی اس ترجمہ کو نہیں مانتے۔

خاتم النبیین کی نبوی تفسیر

عن ثوبانؓ قال : قال رسول اللہﷺ انہ سیکون فی امتی کذابون ثلاثون کلھم یزعم انہ نبی و انا خاتم النبیین لا نبی بعدی

(ابو دائود ص ۱۲۷ ج ۲ کتاب الفتن واللفظ لہ، ترمذی ص ۴۵ ج ۲)

ترجمہ: حضرت ثوبانؓ سے روایت ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا کہ میری امت میں تیس جھوٹے پیدا ہوں گے۔ ہر ایک یہی کہے گا کہ میں نبی ہوں۔ حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی کسی قسم کا نبی نہیں۔

اس حدیث شریف میں آنحضرتﷺ نے لفظ خاتم النبیین کی تفسیر لانبی بعدی کے ساتھ خود فرمادی ہے۔

اسی لئے حافظ ابن کثیرؒ اپنی تفسیر میں اس آیت کے تحت چند احادیث نقل کرنے کے

30

بعد آٹھ سطر پر مشتمل ایک نہایت ایمان افروز ارشاد فرماتے ہیں۔ چند جملے آپ بھی پڑھ لیجئے:

و قد اخبر اللہ تبارک و تعالیٰ فی کتابہ و رسولہﷺ فی السنۃ المتواترۃ عنہ انہ لا نبی بعدہ‘ لیعلموا ان کل من ادعیٰ ھذا المقام بعدہ فھو کذاب افاک دجال ضال مضل‘ و لو تخرق و شعبذ واتٰی بانواع السحر و الطلا سم

(تفسیر ابن کثیرؒ ج ۳ ص ۴۹۴)

ترجمہ: اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اور رسول اکرمﷺ نے حدیث متواتر کے ذریعہ خبر دی کہ آپﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ تاکہ لوگوں کو معلوم رہے کہ آپﷺ کے بعد جس نے بھی اس مقام (یعنی نبوت) کا دعویٰ کیا۔ وہ بہت جھوٹا۔ بہت بڑا افترا پرداز۔ بڑا ہی مکار اور فریبی۔ خود گمراہ اور دوسروں کو گمراہ کرنے والا ہوگا۔ اگرچہ وہ خوارق عادات اور شعبدہ بازی دکھائے اور مختلف قسم کے جادو اور طلسماتی کرشموں کا مظاہرہ کرے۔

خاتم النبیین کی تفسیر صحابہ کرامؓ سے

حضرات صحابہ کرامؓ و تابعینؒ کا مسئلہ ختم نبوت سے متعلق کیا مؤقف تھا۔ خاتم النبیین کا ان کے نزدیک کیا ترجمہ تھا؟۔ اس کے لئے حضرت مفتی محمد شفیع صاحبؒ کی کتاب ختم نبوت کامل کے تیسرے حصہ کا مطالعہ فرمائیں۔ یہاں پر صرف دو تابعین کرامؒ کی آرأ مبارکہ درج کی جاتی ہیں۔ امام ابو جعفر ابن جریر طبریؒ اپنی عظیم الشان تفسیر میں حضرت قتادہؒ سے خاتم النبیین کی تفسیر میں روایت فرماتے ہیں:

عن قتادۃ ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین ای آخرھم

(ابن جریر ص ۱۶ ج ۲۲)

ترجمہ: حضرت قتادہؒ سے روایت ہے کہ انہوں نے آیت کی تفسیر میں فرمایا اور لیکن آپﷺ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین یعنی آخرالنبیین ہیں۔

حضرت قتادہؒ کا یہ قول شیخ جلال الدین سیوطیؒ نے تفسیر درمنثور میں عبدالرزاق اور عبدبن حمید اور ابن منذر اور ابن ابی حاتم سے بھی نقل کیا ہے۔ (در منثور ص ۲۰۴ ج ۵)

اس قول نے بھی صاف وہی بتلادیا جو ہم اوپر قرآن عزیز اور احادیث سے نقل کرچکے ہیں کہ خاتم النبیین کے معنی آخر النبیین ہیں۔ کیا اس میں کہیں تشریعی غیر تشریعی اور بروزی و ظلی

31

وغیرہ کی کوئی تفصیل ہے؟ نیز حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی قرأت ہی آیت مذکور میں : ولکن نبینا خاتم النبیینہے۔ جو خود اسی معنی کی طرف ہدایت کرتی ہے جو بیان کئے گئے اور سیوطیؒ نے درمنثور میں بحوالہ عبدبن حمید حضرت حسنؒ سے نقل کیا ہے:

عن الحسن فی قولہ و خاتم النبیین قال ختم اللہ النبیین بمحمدﷺ و کان آخر من بعث

(درمنثور ص ۲۰۴ ج ۵)

ترجمہ: حضرت حسنؒ سے آیت خاتم النبیین کے بارہ میں یہ تفسیر نقل کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء کو محمدﷺ پر ختم کردیا اور آپﷺ ان رسولوں میں سے جو اللہ کی طرف سے مبعوث ہوئے آخری ٹھہرے۔

کیا اس جیسی صراحتوں کے بعد بھی کسی شک یا تاویل کی گنجائش ہے؟ اور بروزی یا ظلی کی تاویل چل سکتی ہے؟

خاتم النبیین اور اصحاب لغت

خاتم النبیین ت کی زبریازیر سے ہو۔ قرآن و حدیث کی تصریحات اور صحابہؓ وتابعینؒ کی تفاسیر اور ائمہ سلفؒ کی شہادتوں سے بھی قطع نظر کرلی جائے اور فیصلہ صرف لغت عرب پر رکھ دیا جائے۔ تب بھی لغت عرب یہ فیصلہ دیتی ہے کہ آیت مذکورہ کی پہلی قرأت پر دو معنی ہوسکتے ہیں۔ آخرالنبیین اور نبیوں کے ختم کرنے والے اور دوسری قرأت پر ایک معنی ہوسکتے ہیں۔ یعنی آخر النبیین۔ لیکن اگر حاصل معنی پر غور کیا جائے تو دونوں کا خلاصہ صرف ایک ہی نکلتا ہے اور بہ لحاظ مراد کہا جاسکتا ہے کہ دونوں قرأتوں پر آیت کے معنی لغتاً یہی ہیں کہ آپﷺ سب انبیاء علیہم السلام کے آخر ہیں۔ آپﷺ کے بعدکوئی نبی پیدا نہیں ہوسکتا۔ جیسا کہ تفسیر روح المعانی میں تبصریح موجود ہے:

و الخاتم اسم آلۃ لما یختم بہ کالطابع لما یطبع بہ فمعنی خاتم النبیین الذی ختم النبیّون بہ و مآ لہ آخرالنبیین

(روح المعانی ص ۳۲ ج ۲۲)

ترجمہ: اور خاتم بالفتح اس آلہ کا نام ہے جس سے مہر لگائی جائے۔ پس خاتم النبیین کے معنی یہ ہوں گے: وہ شخص جس پر انبیاء ختم کئے گئے اور اس معنی کا نتیجہ بھی یہی آخرالنبیین ہے۔

32

اور علامہ احمد معروف بہ ملاجیون صاحبؒ نے اپنی تفسیر احمدی میں اسی لفظ کے معنی کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا ہے:

و المآل علیٰ کل توجیہ ھو المعنی الآخر و لذلک فسر صاحب المدارک قرأۃ عاصم بالآخر و صاحب البیضاوی کل القرأتین بالآخر

ترجمہ: اور نتیجہ دونوں صورتوں (بالفتح وبالکسر) میں وہ صرف معنی آخر ہی ہیں اور اسی لئے صاحب تفسیر مدارک نے قرأت عاصم یعنی بالفتح کی تفسیر آخر کے ساتھ کی ہے اور بیضاویؒ نے دونوں قرأتوں کی یہی تفسیر کی ہے۔

روح المعانی اور تفسیر احمدی کی ان عبارتوں سے یہ بات بالکل روشن ہوگئی کہ لفظ خاتم کے دو معنی آیت میں بن سکتے ہیں اور ان دونوں کا خلاصہ اور نتیجہ صرف ایک ہی ہے۔ یعنی آخرالنبیین اور اسی بناء پر بیضاویؒ نے دونوں قرأتوں کے ترجمہ میں کوئی فرق نہیں کیا۔ بلکہ دونوں صورتوں میں آخرالنبیین تفسیر کی ہے۔ خداوند عالم ائمہ لغت کو جزائے خیر عطا فرمائے کہ انہوں نے صرف اسی پر بس نہیںکی کہ لفظ خاتم کے معنی کو جمع کردیا۔ بلکہ تصریحاً اس آیت شریفہ کے متعلق جس سے اس وقت ہماری بحث ہے۔ صاف طور پر بتلادیا کہ تمام معانی میں سے جو لفظ خاتم میں لغتاً محتمل ہیں۔ اس آیت میں صرف یہی معنی ہوسکتے ہیں کہ آپﷺ سب انبیاء کے ختم کرنے والے اور آخری نبی ہیں۔

خدائے علیم و خبیر ہی کو معلوم ہے کہ لغت عرب پر آج تک کتنی کتابیں چھوٹی بڑی اور معتبر وغیر معتبر لکھی گئیں اور کہاں کہاں اور کس کس صورت میں موجود ہیں۔ ہمیں نہ ان سب کے جمع کرنے کی ضرورت ہے اور نہ یہ کسی بشر کی طاقت ہے۔ بلکہ صرف ان چند کتابوں سے جو عرب وعجم میں مسلم الثبوت اور قابل استدلال سمجھی جاتی ہیں مشتے نمونہ از خروارے ہدیہ ناظرین کرکے یہ دکھلانا چاہتے ہیں کہ لفظ خاتم بالفتح اور بالکسر کے معنی ائمہ لغت نے آیت مذکورہ میں کون سے معنی تحریر کئے ہیں۔

۱…مفردات القرآن

یہ کتاب امام راغب اصفہانیؒ کی وہ عجیب تصنیف ہے کہ اپنی نظیر نہیں رکھتی۔ خاص قرآن کے لغات کو نہایت عجیب انداز سے بیان فرمایا ہے۔ شیخ جلال الدین سیوطیؒ نے اتقان میں

33

فرمایا ہے کہ لغات قرآن میں اس سے بہتر کتاب آج تک تصنیف نہیں ہوئی۔ آیت مذکورہ کے متعلق اس کے الفاظ یہ ہیں:

وخاتم النبیین لانہ ختم النبوۃ ای تممھا بمجیئہ

(مفردات راغب ص ۱۴۲)

ترجمہ: آنحضرتﷺ کو خاتم النبیین اس لئے کہا جاتا ہے کہ آپﷺ نے نبوت کو ختم کردیا۔ یعنی آپﷺ نے تشریف لاکر نبوت کو تمام فرمادیا۔

۲… المحکم لابن السیدہ

لغت عرب کی وہ معتمد علیہ کتاب ہے۔ جس کو علامہ سیوطیؒ نے ان معتبرات میں سے شمار کیا ہے کہ جن پر قرآن کے بارے میں اعتماد کیا جاسکے۔ اس میں لکھا ہے:

وخاتم کل شئی وخاتمتہ عاقبتہ وآخرہ از لسان العرب

ترجمہ: اور خاتم اور خاتمہ ہر شے کے انجام اور آخر کو کہا جاتا ہے۔

۳… لسان العرب

لغت کی مقبول کتاب ہے۔ عرب و عجم میں مستند مانی جاتی ہے۔ اس کی عبارت یہ ہے:

خاتمھم و خاتمھم : آخرھم عن اللحیانی و محمدﷺ خاتم الانبیاء علیہ و علیھم الصلوٰۃ و السلام

(لسان العرب ص ۲۵ ج ۴ طبع بیروت)

ترجمہ: خاتم القوم بالکسر اور خاتم القوم بالفتح کے معنی آخرالقوم ہیں اورانہی معانی پر لحیانی سے نقل کیا جاتا ہے۔ محمدﷺ خاتم الانبیاء (یعنی آخر الانبیاء)ہیں۔

اس میں بھی بوضاحت بتلایا گیا کہ بالکسر کی قرأت پڑھی جائے یا بالفتح کی صورت میں خاتم النبیین اور خاتم الانبیاء کے معنی آخر النبیین اور آخر الانبیاء ہوں گے۔ لسان العرب کی اس عبارت سے ایک قاعدہ بھی مستفاد (دال) ہوتا ہے کہ اگرچہ لفظ خاتم بالفتح اور بالکسر دونوں کے بحیثیت نفس لغت بہت سے معانی ہوسکتے ہیں۔ لیکن جب قوم یا جماعت کی طرف سے اس کی اضافت کی جاتی ہے تو اس کے معنی صرف آخر اور ختم کرنے والے کے ہوتے ہیں۔ غالباً اسی قاعدہ کی طرف اشارہ کرنے کے لئے لفظ خاتم تنہا ذکر نہیں کیا۔ بلکہ قوم اور جماعت کی ضمیر کی طرف اضافت کے ساتھ بیان کیا ہے۔

34

لغت عرب کے تتبع (تلاش کرنے) سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ لفظ خاتم بالکسر یا بالفتح جب کسی قوم یا جماعت کی طرف مضاف ہوتا ہے تو اس کے معنی آخر ہی کے ہوتے ہیں۔ آیت مذکورہ میں بھی خاتم کی اضافت جماعت نبیینکی طرف ہے۔ اس لئے اس کے معنی آخرالنبیین اور نبیوں کے ختم کرنے والے کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوسکتے۔ اس قاعدہ کی تائید تاج العروس شرح قاموس سے بھی ہوتی ہے۔ وھوھذا:

۴…تاج العروس

شرح قاموس للعلامۃ الزبیدی میں لحیانی سے نقل کیا ہے:

ومن اسمائہ علیہ السلام الخاتم والخاتم وھوالذی ختم النبوۃ بمجیئہ

ترجمہ: اور آنحضرتﷺ کے اسماء مبارکہ میں سے خاتم بالکسراور خاتم بالفتح بھی ہے اور خاتم وہ شخص ہے جس نے اپنے تشریف لانے سے نبوت کو ختم کردیا۔

۵…قاموس

والخاتم آخر القوم کالخاتم ومنہ قولہ تعالیٰ وخاتم النبیین ای آخرھم

ترجمہ: اور خاتم بالکسر اور بالفتح، قوم میں سب سے آخر کو کہا جاتا ہے اور اسی معنی میں ہے اللہ تعالیٰ کا ارشاد خاتم النبیین۔ یعنی آخر النبیین۔

اس میں بھی لفظ قوم بڑھا کر قاعدہ مذکورہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ نیز مسئلہ زیر بحث کا بھی نہایت وضاحت کے ساتھ فیصلہ کردیا ہے۔

لغت عرب کے غیر محدود دفتر میں سے یہ چند اقوال ائمہ لغت بطور مشتے نمونہ از خروارے پیش کئے گئے ہیں۔ جن سے انشاء اللہ تعالیٰ ناظرین کو یقین ہوگیا ہوگا کہ ازروئے لغت عرب۔ آیت مذکورہ میں خاتم النبیین کے معنی آخرالنبیین کے سوا اور کچھ نہیں ہوسکتے اور لفظ خاتم کے معنی آیت میں آخر اور ختم کرنے والے کے علاوہ ہرگز مراد نہیں بن سکتے۔

خلاصہ

اس آیت مبارکہ میں آپﷺ کے لئے خاتم النبیین کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔

35

قرآن وسنت، صحابہ کرامؓ، تابعینؒ کی تفسیرات کی رو سے اس کا معنی آخری نبی کا ہے اور اصحاب لغت کی تصنیفات نے ثابت کردیا ہے کہ خاتم کا لفظ جب جمع کی طرف مضاف ہے تو اس کا معنی سوائے آخری کے اور کوئی ہو ہی نہیں سکتے۔ چنانچہ مرزا قادیانی نے بھی خاتم کو جمع کی طرف مضاف کیا ہے۔ وہاں بھی اس کے معنی آخری کے ہی ہیں۔ ملاحظہ فرمایئے:

میرے بعد میرے والدین کے گھرمیں اور کوئی لڑکی یا لڑکا نہیں ہوا، اور میں ان کے لئے خاتم الاولاد تھا۔

(تریاق القلوب ص ۱۵۷ خزائن ص ۴۷۹ ج۱۵)

ختم نبوت کے موضوع پر کتابوں کے نام

اس مقدس موضوع پر اکابرین امت نے بیسیوں کتابیں لکھی ہیں۔ ان میں سے دس کتابوں کے نام یہ ہیں:

۱… ختم نبوت کامل (مؤلفہ :مفتی محمد شفیع صاحبؒ)
۲… مسک الختام فی ختم نبوت سید الانامﷺ (مؤلفہ: مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ مشمولہ احتساب قادیانیت جلد دوم)
۳… عقیدۃ الامۃ فی معنی ختم نبوۃ (مؤلفہ: علامہ خالد محمود)
۴… ختم نبوت قرآن و سنت کی روشنی میں (مؤلفہ: مولانا سرفراز خان صفدر)
۵… فلسفہ ختم نبوت (مؤلفہ: مولانا حفظ الرحمن سیوہارویؒ)
۶… مسئلہ ختم نبوت علم و عقل کی روشنی میں (مؤلفہ: مولانا محمد اسحق سندیلوی)
۷… ختم نبوت (مؤلفہ: پروفیسر یوسف سلیم چشتیؒ)
۸… خاتم النبیین (مؤلفہ: مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ ترجمہ: مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ)
۹… عالمگیر نبوت (مؤلفہ: مولانا شمس الحق افغانی ؒ)
۱۰… عقیدئہ ختم نبوت (مؤلفہ: مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ ، مندرجہ تحفہ قادیانیت جلد اول)

سوال۳… مسئلہ ختم نبوت جن آیات مبارکہ اور احادیث صحیحہ سے ثابت ہوتا ہے۔ ان میں سے تین تین آیات مبارکہ اور احادیث نقل کرکے ان کی تشریح قلم بند کریں؟

36

جواب …

ختم نبوت سے متعلق آیات

سورئہ احزاب کی آیت ۴۰ آیت خاتم النبیین کی تشریح و توضیح پہلے گزر چکی ہے۔ اب دوسری آیات ملاحظہ ہوں:

۱ … ھو الذی ارسل رسولہ بالھدیٰ و دین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ

(توبہ: ۳۳، صف :۹)

ترجمہ: ’ ’اور وہ ذات وہ ہے کہ جس نے اپنے رسول محمدﷺ کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا ہے۔ تاکہ تمام ادیان پر بلند اور غالب کرے۔

نوٹ: غلبہ اور بلند کرنے کی یہ صورت ہے کہ حضور ہی کی نبوت اور وحی پر مستقل طور پر ایمان لانے اور اس پر عمل کرنے کو فرض کیا ہے اور تمام انبیاء علیہم السلام کی نبوتوں اور وحیوں پر ایمان لانے کو اس کے تابع کردیا ہے اور یہ جب ہی ہوسکتا ہے کہ آپﷺ کی بعثت سب انبیاء کرام علیہم السلام سے آخر ہو اور آپﷺ کی نبوت پر ایمان لانا سب نبیوں پر ایمان لانے کو مشتمل ہو۔ بالفرض اگر آپﷺ کے بعد کوئی نبی باعتبار نبوت مبعوث ہو تو اس کی نبوت پر اور اس کی وحی پر ایمان لانا فرض ہوگا جو دین کا اعلیٰ رکن ہوگا۔ تو اس صورت میں تمام ادیان پر غلبہ مقصود نہیں ہوسکتا۔ بلکہ حضور علیہ السلام کی نبوت پر ایمان لانا اور آپﷺ کی وحی پر ایمان لانا مغلوب ہوگا۔ کیونکہ آنحضرتﷺ پر اور آپ کی وحی پر ایمان رکھتے ہوئے بھی اگر اس نبی اور اس کی وحی پر ایمان نہ لایا تو نجات نہ ہوگی۔ کافروں میں شمار ہوگا۔ کیونکہ صاحب الزمان رسول یہی ہوگا۔ حضور علیہ السلام صاحب الزماں رسول نہ رہیں گے۔(معاذاللہ)

۲… و اذ اخذ اللہ میثاق النبیین لما اتیتکم من کتاب وحکمۃ ثم جاء کم رسول مصدق لما معکم لتؤمنن بہ و لتنصرنہ

(آل عمران: ۸۱)

ترجمہ: جب اللہ تعالیٰ نے سب نبیوں سے عہد لیا کہ جب کبھی میں تم کو کتاب اور نبوت دوں۔ پھر تمہارے پاس ایک وہ رسول آجائے جو تمہاری کتابوں اوروحیوں کی تصدیق کرنے والا ہوگا (یعنی اگر تم اس کا زمانہ پائو) تو تم سب ضرور ضرور اس رسولa پر ایمان لانا اور ان کی مدد فرض سمجھنا۔

37

اس سے بکمال وضاحت ظاہر ہے کہ اس رسولa مصدق کی بعثت سب نبیوں کے آخر میں ہوگی۔ وہ آنحضرتﷺ ہیں۔اس آیت کریمہ میں دو لفظ غور طلب ہیں۔ ایک تو میثاق النبیین جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرتﷺ کے بارے میں یہ عہد تمام دیگر انبیاء علیہم السلام سے لیا گیا تھا۔ دوسرا ثم جاء کم۔ لفظ ثم تراخی کے لئے آتا ہے۔ یعنی اس کے بعد جو بات مذکور ہے۔ وہ بعد میں ہوگی اور درمیان میں زمانی فاصلہ ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ آنحضرتﷺ کی بعثت سب سے آخر میں اور کچھ عرصہ کے وقفہ سے ہوگی۔ اس لئے آپﷺ کی آمد سے پہلے کا زمانہ۔ زمانۂ فترت کہلاتا ہے: قد جاء کم رسولنا یبین لکم علی فترۃ من الرسل (مائدہ: ۱۹)

۳… و ما ارسلنک الا کافۃ للناس بشیراًو نذیراً

(سبا: ۲۸)

ترجمہ: ہم نے تم کو تمام دنیا کے انسانوں کے لئے بشیر اور نذیر بناکر بھیجا ہے۔

۴… قل یٰایھا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعا

( اعراف: ۱۵۸)

ترجمہ: فرمادیجئے کہ اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں۔

نوٹ: یہ دونوں آیتیں صاف اعلان کررہی ہیں کہ حضور علیہ السلام بغیر استثناء تمام انسانوں کی طرف رسول ہوکر تشریف لائے ہیں جیسا کہ خود آپﷺ نے فرمایا ہے:

انا رسول من ادرکت حیا و من یولد بعدی

(کنز العمال ج ۱۱ ص ۴۰۴ حدیث ۳۱۸۸۵، خصائص کبریٰ ص ۸۸ ج۲)

ترجمہ: میں اس کے لئے بھی اللہ کا رسول ہوں جس کو اس کی زندگی میں پالوں اور اس کے لئے بھی جو میرے بعد پیدا ہو۔

پس ان آیتوں سے واضح ہے کہ آپﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوسکتا۔ قیامت تک آپﷺ ہی صاحب الزماں رسول ہیں۔ بالفرض اگر آپﷺ کے بعد کوئی نبی مبعوث ہو تو حضور علیہ السلام کا فۃ الناس کی طرف اللہ تعالیٰ کے صاحب الزماں رسول نہیں ہوسکتے۔ بلکہ براہ راست مستقل طور پر اسی نبی پر اور اس کی وحی پر ایمان لانا اور اس کو اپنی طرف اللہ کا بھیجا ہوا اعتقاد کرنا فرض ہوگا۔ ورنہ نجات ممکن نہیں اور حضور علیہ السلام کی نبوت اور وحی پر ایمان لانا اس کے ضمن میں داخل ہوگا۔ (معاذ اللہ)

38

۵… و ما ارسلنک الا رحمۃ للعلمین(انبیاء: ۱۰۷)

ترجمہ: میں نے تم کو تمام جہان والوں کے لئے رحمت بناکر بھیجا ہے۔

نوٹ: یعنی حضور علیہ السلام پر ایمان لانا تمام جہان والوں کو نجات کے لئے کافی ہے۔ پس اگر بالفرض آپﷺ کے بعد کوئی نبی مبعوث ہو تو آپﷺ کی امت کو اس پر اور اس کی وحی پر ایمان لانا فرض ہوگا اور اگر آنحضرتﷺ پر ایمان کامل رکھتے ہوئے بھی اس کی نبوت اور اس کی وحی پر ایمان نہ لاوے تو نجات نہ ہوگی۔ یہ رحمۃ للعالمینی کے منافی ہے کہ اب آپﷺ پر مستقلاً ایمان لانا کافی نہیں۔ آپﷺ صاحب الزمان رسول نہیں رہے؟ (معاذ اللہ)

۶… الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا ( مائدہ: ۳)

ترجمہ: آج میں پورا کرچکا تمہارے لئے دین تمہارا اور پورا کیا تم پر میں نے احسان اپنا اور پسند کیا میں نے تمہارے واسطے اسلام کو دین۔

نوٹ: یوں تو ہر نبی اپنے اپنے زمانہ کے مطابق دینی احکام لاتے رہے۔ مگر آنحضرتﷺ کی تشریف آوری سے قبل زمانہ کے حالات اور تقاضے تغیرپذیر تھے۔ اس لئے تمام نبی اپنے بعد آنے والے نبی کی خوشخبری دیتے رہے۔ یہاں تک کہ آپﷺ مبعوث ہوئے۔ آپﷺ پر نزول وحی کے اختتام سے دین پایۂ تکمیل کو پہنچ گیا تو آپﷺ کی نبوت اور وحی پر ایمان لانا تمام نبیوں کی نبوتوں اور ان کی وحیوں پر ایمان لانے پر مشتمل ہے۔ اسی لئے اس کے بعد واتممت علیکم نعمتی فرمایا۔ علیکم ۔یعنی نعمت نبوت کو میں نے تم پر تمام کردیا۔ لہٰذا دین کے اکمال اور نعمت نبوت کے اتمام کے بعد نہ تو کوئی نیا نبی آسکتا ہے اور نہ سلسلۂ وحی جاری رہ سکتا ہے۔ اسی وجہ سے ایک یہودی نے حضرت عمرؓسے کہا تھا کہ اے امیر المومنین : قرآن کی یہ آیت اگر ہم پر نازل ہوتی ہم اس دن کو عید مناتے۔ (رواہ البخاری) اور حضور علیہ السلام اس آیت کے نازل ہونے کے بعد اکیاسی دن زندہ رہے۔ (معارف القرآن ص ۴۱ ج ۳) اور اس کے نزول کے بعد کوئی حکم حلال و حرام نازل نہیں ہوا۔ آپﷺ آخری نبی اور آپﷺ پر نازل شدہ کتاب کامل و مکمل۔آخری کتاب ہے۔

۷… یٰایھا الذین آمنوا اٰمنوا باللہ و رسولہ و الکتاب الذی نزل علی رسولہ و الکتاب الذی انزل من قبل(النساء: ۱۳۶)

39

ترجمہ: اے ایمان والو! ایمان لائو اللہ پر اور اس کے رسول محمدﷺ پر اور اس کتاب پر جس کو اپنے رسول پر نازل کیا ہے اور ان کتابوں پر جو ان سے پہلے نازل کی گئیں۔

نوٹ: یہ آیت بڑی وضاحت سے ثابت کررہی ہے کہ ہم کو صرف حضور علیہ السلام کی نبوت اور آپﷺ کی وحی اور آپﷺ سے پہلے انبیاء اور ان کی وحیوں پر ایمان لانے کا حکم ہے۔ اگر بالفرض حضور علیہ السلام کے بعد کوئی بعہدئہ نبوت مشرف کیا جاتا تو ضرور تھا کہ قرآن کریم اس کی نبوت اور وحی پر ایمان لانے کی بھی تاکید فرماتا۔ معلوم ہوا کہ آپﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں بنایا جائے گا۔

۸… و الذین یؤمنون بما انزل الیک و ما انزل من قبلک و بالآخرۃ ھم یوقنون اولئک علی ھدی من ربھم و اولئک ھم المفلحون (بقرہ: ۴،۵)

ترجمہ: جو ایمان لاتے ہیں۔ اس وحی پر جو آپﷺ پر نازل کی گئی اور اس وحی پر جو آپﷺ سے پہلے نازل کی گئی اور یومِ آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔ یہی لوگ خدا کی ہدایت پر ہیں اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔

۹… لٰکن الراسخون فی العلم منھم والمؤمنون یؤمنون بما انزل الیک وما انزل من قبلک

( نساء: ۱۶۲)

ترجمہ: لیکن ان میں سے راسخ فی العلم اور ایمان لانے والے لوگ ایمان لاتے ہیں اس وحی پر جو آپﷺ پر نازل ہوئی اور جو آپﷺ سے پہلے انبیاء علیہم السلام پر نازل ہوئی۔

نوٹ: یہ دونوں آیتیں ختم نبوت پر صاف طور سے اعلان کررہی ہیں۔ بلکہ قرآن شریف میں سینکڑوں جگہ اس قسم کی آیتیں ہیں۔ جن میں آنحضرتﷺ کی نبوت اور آپﷺ پر نازل شدہ وحی کے ساتھ آپﷺ سے پہلے کے نبیوں کی نبوت اور ان کی وحی پر ایمان رکھنے کے لئے حکم فرمایا گیا۔ لیکن بعد کے نبیوں کا ذکر کہیں نہیں آتا۔ ان دو آیتوں میں صرف حضور علیہ السلام کی وحی اور حضور علیہ السلام سے پہلے انبیاء علیہم السلام کی وحی پر ایمان لانے کو کافی اور مدار نجات فرمایا گیا ہے۔

۱۰… انا نحن نزلنا الذکر و انا لہ لحٰفظون ( حجر: ۹)

ترجمہ: تحقیق ہم نے قرآن کو نازل فرمایا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کریں گے۔

نوٹ: خداوندعالم نے اس آیت میں وعدہ فرمایا ہے کہ ہم خود قرآن کریم کی حفاظت

40

فرمائیں گے۔ یعنی محرفین کی تحریف سے اس کو بچائے رکھیں گے۔ قیامت تک کوئی شخص اس میں ایک حرف اور ایک نقطہ کی بھی کمی زیادتی نہیں کرسکتا اور نیز اس کے احکام کو بھی قائم اور برقرار رکھیں گے۔ اس کے بعد کوئی شریعت نہیں جو اس کو منسوخ کردے۔ غرض قرآن کے الفاظ اور معانی دونوں کی حفاظت کا وعدہ فرمایا گیا ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ حضور علیہ السلام کے بعد کسی قسم کا نبی نہیں ہوسکتا۔

تنبیہ: یہ آیتیں بطور اختصار کے ختم نبوت کے ثبوت اور تائید میں پیش کردی گئیں۔ ورنہ قرآن کریم میں سو آیتیں ختم نبوت پر واضح طور پر دلالت کرنے والی موجود ہیں۔ (مزید تفصیل کیلئے دیکھئے ختم نبوت کامل از حضرت مولانا مفتی محمد شفیع ؒ)

ختم نبوت سے متعلق احادیث مبارکہ

نوٹ: یہاں پر ہم اتنا عرض کردیں کہ آئندہ صفحات میں ہم زیادہ تر احادیث کے الفاظ نقل کرنے پر اکتفا کریں گے۔ شارحین حدیث کے تشریحی اقوال نقل کرنے سے اجتناب کیا ہے۔ تاکہ کتاب کا حجم زیادہ نہ ہوجائے۔

حدیث ۱…

عن ابی ہریرۃ ؓ أن رسول اللہﷺ قال مثلی و مثل الأنبیاء من قبلی کمثل رجل بنی بنیانا فأحسنہ و أجملہ الا موضع لبنۃ من زاویۃ من زوایاہ فجعل الناس یطوفون بہ و یعجبون لہ و یقولون ھلا وضعت ھذہ اللبنۃ قال فأنا اللبنۃ و أنا خاتم النبیین

(صحیح بخاری کتاب المناقب ص ۵۰۱ ج ۱، صحیح مسلم ص ۲۴۸ ج ۲ واللفظ لہ)

ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میری اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال ایسی ہے کہ ایک شخص نے بہت ہی حسین و جمیل محل بنایا۔ مگر اس کے کسی کونے میںا یک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی۔ لوگ اس کے گرد گھومنے اور اس پر عش عش کرنے لگے اور یہ کہنے لگے کہ یہ ایک اینٹ کیوں نہ لگادی گئی؟۔ آپﷺ نے فرمایا میں وہی (کونے کی آخری) اینٹ ہوں اور میں نبیوں کو ختم کرنے والا ہوں۔

حدیث۲…

عن أبی ھریرۃؓ ان رسول اللہﷺ قال فضلت علی الانبیاء بست

41

اعطیت جوامع الکلم و نصرت بالرعب و أحلت لیٰ الغنائم و جعلت لی الارض طھورا و مسجداً و أرسلت الی الخلق کافۃ و ختم بی النبیون

(صحیح مسلم ص ۱۹۹ ج ۱، مشکوٰۃ ص ۵۱۲)

ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ مجھے چھ چیزوں میں انبیاء کرام علیہم السلام پر فضیلت دی گئی ہے: (۱) مجھے جامع کلمات عطا کئے گئے۔(۲) رعب کے ساتھ میری مدد کی گئی۔ (۳)مال غنیمت میرے لئے حلال کردیا گیا ہے۔ (۴)روئے زمین کو میرے لئے مسجد اور پاک کرنے والی چیز بنادیا گیا ہے۔ (۵) مجھے تمام مخلوق کی طرف مبعوث کیا گیا ہے۔ (۶) اورمجھ پرنبیوں کا سلسلہ ختم کردیا گیا ہے۔

اس مضمون کی ایک حدیث صحیحین میں حضرت جابرؓ سے بھی مروی ہے کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ مجھے پانچ چیزیں ایسی دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں۔ اس کے آخر میں ہے:

وکان النبی یبعث الی قومہ خاصۃ و بعثت الی الناس عامۃ

(مشکوٰۃ ص ۵۱۲)

ترجمہ: پہلے انبیاء کو خاص ان کی قوم کی طرف مبعوث کیا جاتا تھا اور مجھے تمام انسانوں کی طرف مبعوث کیا گیا۔

حدیث۳…

عن سعد بن ابی وقاصؓ قال قال رسول اللہﷺ لعلیؓ انت منی بمنزلۃ ھرون من موسی الا انہ لا نبی بعدی

(بخاری ص ۶۳۳ ج ۲)

و فی روایۃ المسلم أنہ لا نبوۃ بعدی

(صحیح مسلم ص ۲۷۸ ج ۲)

ترجمہ: سعد بن ابی وقاصؓ سے روایت ہے کہ آنحضرتﷺ نے حضرت علیؓ سے فرمایا تم مجھ سے وہی نسبت رکھتے ہو جو ہارون کو موسیٰ (علیہما السلام) سے تھی۔ مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ اور مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ: میرے بعد نبوت نہیں۔

حضرت شا ہ ولی اللہ محدث دہلویؒ اپنی تصنیف ازا لۃ الخفاء میں مآثر علیؓ کے تحت لکھتے ہیں:

42

فمن المتواتر: أنت منی بمنزلۃ ھارون من موسیٰ

(ازالۃ الخفاء مترجم ص ۴۴۴ ج ۴)

ترجمہ: متواتر احادیث میں سے ایک حدیث یہ ہے کہ آنحضرتﷺ نے حضرت علیؓ سے فرمایاکہ تم مجھ سے وہی نسبت رکھتے ہو جو ہارون کو موسیٰ (علیہما السلام) سے تھی۔

حدیث۴…

عن ابی ھریرۃؓ یحدث عن النبیﷺ قال کانت بنو اسرائیل تسوسھم الانبیاء کلما ھلک نبی خلفہ نبی وانہ لا نبی بعدی وسیکون خلفاء فیکثرون

(صحیح بخاری ص ۴۹۱ ج ۱، واللفظ لہ، صحیح مسلم ص ۱۲۶ ج۲، مسند احمد ص ۲۹۷ ج ۲)

ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ رسول اکرمﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ حضورﷺ نے فرمایا کہ بنی اسرائیل کی قیادت خود ان کے انبیاء کیا کرتے تھے۔ جب کسی نبی کی وفات ہوتی تھی تو اس کی جگہ دوسرا نبی آتا تھا۔ لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ البتہ خلفاء ہوں گے اور بہت ہوں گے۔

نوٹ: بنی اسرائیل میں غیر تشریعی انبیاء آتے تھے۔ جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت کی تجدید کرتے تھے۔ مگر آنحضرتﷺ کے بعد ایسے انبیاء کی آمد بھی بند ہے۔

حدیث۵…

عن ثوبانؓ قال قال رسول اللہﷺ انہ سیکون فی أمتی کذابون ثلاثون کلھم یزعم انہ نبی وأ نا خاتم النبیین لا نبی بعدی

(ابودائود ص ۱۲۷ ج ۲ کتاب الفتن واللفظ لہ، ترمذی ص ۴۵ ج ۲)

ترجمہ: حضرت ثوبانؓ سے روایت ہے کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ میری امت میں تیس جھوٹے پیدا ہوں گے۔ ہر ایک یہی کہے گا کہ میں نبی ہوں۔ حالانکہ میںخاتم النبیین ہوں۔ میرے بعد کسی قسم کا کوئی نبی نہیں۔

حدیث۶…

عن أنس بن مالکؓ قال قال رسول اللہﷺ ان الرسالۃ و النبوۃ قد انقطعت فلا رسول بعدی و لا نبی

(ترمذی ص ۵۱ ج ۲ ابواب الرؤیا، مسند احمد ص ۲۶۷ ج۳)

43

ترجمہ: حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ رسالت و نبوت ختم ہوچکی ہے۔ پس میرے بعد نہ کوئی رسول ہے اور نہ نبی۔

حدیث۷…

عن ابی ھریرۃؓ أنہ سمع رسول اللہﷺ یقول نحن الآخرون السابقون یوم القیامۃ بید أنھم أوتوا الکتاب من قبلنا

(صحیح بخاری ص ۱۲۰ ج ۱ واللفظ لہ، صحیح مسلم ص ۲۸۲ ج ۱)

ترجمہ: حضرت ابو ہریرہؓ کو رسول اللہﷺ نے فرمایاکہ ہم سب کے بعد آئے اور قیامت کے دن سب سے آگے ہوں گے۔ صرف اتنا ہوا کہ ان کو کتاب ہم سے پہلے دی گئی۔

حدیث۸…

عن عقبۃ بن عامرؓ قال قال رسول اللہﷺ لو کان نبی بعدی لکان عمر بن الخطابؓ

(ترمذی ص ۲۰۹ ج ۲ ابواب المناقب)

ترجمہ: حضرت عقبہ بن عامرؓ سے روایت ہے کہ حضورﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر بن خطابؓ ہوتے۔

حدیث ۹…

عن جبیر بن مطعمؓ قال سمعت النبیﷺ یقول أن لی أسماء۰أنا محمد۰ و أنا أحمد۰ و أنا الماحی الذی یمحواللہ بی الکفر۰ و أنا الحاشر الذی یحشر الناس علی قدمی۰ و أنا العاقب۰ و العاقب الذی لیس بعدہ نبی

(متفق علیہ، مشکوۃص ۵۱۵)

ترجمہ: حضرت جبیربن مطعمؓ سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریمﷺ کو یہ فرماتے ہوئے خود سنا ہے کہ میرے چند نام ہیں۔ میں محمد ہوں۔ میں احمد ہوں۔ میں ماحی (مٹانے والا) ہوں کہ میرے ذریعے اللہ تعالیٰ کفر کو مٹائیں گے اور میں حاشر (جمع کرنے والا) ہوں کہ لوگ میرے قدموں پر اٹھائے جائیں گے اور میں عاقب (سب کے بعد آنے والا) ہوں کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

44

اس حدیث میں آنحضرتﷺ کے دو اسمائے گرامی آپﷺ کے خاتم النبیین ہونے پر دلالت کرتے ہیں۔

اوّل الحاشر حافظ ابن حجرؒ فتح الباری میں اس کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

اشارۃ الی انہ لیس بعدہ نبی ولا شریعۃ … فلما کان لا أمۃ بعد امتہ لأنہ لا نبی بعدہ، نسب الحشر الیہ، لأنہ یقع عقبہ

(فتح الباری ص ۴۰۶ ج ۶)

ترجمہ: یہ اس طرف اشارہ ہے کہ آپﷺ کے بعد کوئی نبی اور کوئی شریعت نہیں۔ سو چونکہ آپﷺ کی امت کے بعد کوئی امت نہیں اور چونکہ آپﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں۔ اس لئے حشر کو آپﷺ کی طرف منسوب کردیا گیا۔ کیونکہ آپﷺ کی تشریف آوری کے بعد حشر ہوگا۔

دوسرا اسم گرامی: العاقب جس کی تفسیر خود حدیث میں موجود ہے۔ یعنی کہ:

الذی لیس بعدہ نبی

(آپﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں)

حدیث۱۰…

متعدد احادیث میں یہ مضمون آیا ہے کہ آنحضرتﷺ نے انگشت شہادت اور درمیانی انگلی کی طرف اشارہ کرکے فرمایا:

بعثت أنا والساعۃ کھاتین

(مسلم ص ۴۰۶ ج ۲)

مجھے اور قیامت کو ان دو انگلیوں کی طرح بھیجا گیا ہے

ان احادیث میں آنحضرتﷺ کی بعثت کے درمیان اتصال کا ذکر کیا گیا ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ آنحضرتﷺ کی تشریف آوری قرب قیامت کی علامت ہے اور اب قیامت تک آپﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں۔ چنانچہ امام قرطبی تذکرہ میں لکھتے ہیں:

وأما قولہ بعثت أنا والساعۃ کھاتین فمعناہ أنا النبی الاخیر فلا یلینی نبی آخر، وانما تلینی القیامۃ کما تلی السبابۃ الوسطی ولیس بینھما اصبع أخری … ولیس بینی وبین القیامۃ نبی

(التذکرۃ فی أحوال الموتی وأمور الآخرۃ ص ۷۱۱)

45

ترجمہ: اور آنحضرتﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ مجھے اور قیامت کو ان دو انگلیوں کی طرح بھیجا گیا ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ میں آخری نبی ہوں۔ میرے بعد اور کوئی نبی نہیں۔ میرے بعد بس قیامت ہے۔ جیسا کہ انگشت شہادت درمیانی انگلی کے متصل واقع ہے۔ دونوں کے درمیان اور کوئی انگلی نہیں۔ اسی طرح میرے اور قیامت کے درمیان کوئی نبی نہیں۔

علامہ سندھیؒ حاشیہ نسائی میں لکھتے ہیں:

التشبیہ فی المقارنۃ بینھما۰ أی لیس بینھما اصبع اخری کما أنہ لا نبی بینہﷺ وبین الساعۃ

(حاشیہ علامہ سندھیؒ برنسائی ص ۲۳۴ ج۱)

ترجمہ: تشبیہ دونوں کے درمیان اتصال میں ہے (یعنی دونوں کے باہم ملے ہوئے ہونے میں ہے) یعنی جس طرح ان دونوں کے درمیان کوئی اور انگلی نہیں۔ اسی طرح آنحضرتﷺ کے درمیان اور قیامت کے درمیان اور کوئی نبی نہیں۔

ختم نبوت پر اجماع امت

حجۃ الاسلام امام غزالی ؒ الاقتصاد میں فرماتے ہیں:

ان الأمۃ فھمت بالاجماع من ھذا اللفظ و من قرائن أحوالہ أنہ أفھم عدم نبی بعدہ أبدا … و أنہ لیس فیہ تأویل و لا تخصیص فمنکر ھذا لا یکون الا منکر الاجماع

(الاقتصاد فی الاعتقاد ص ۱۲۳)

ترجمہ: بے شک امت نے بالاجماع اس لفظ (خاتم النبیین) سے یہ سمجھا ہے کہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ آپﷺ کے بعد نہ کوئی نبی ہوگا اور نہ رسول اور اس پر اجماع ہے کہ اس لفظ میں کوئی تاویل و تخصیص نہیں اور اس کا منکر اجماع کا منکر ہوگا۔

حضرت ملا علی قاریؒ شرح فقہ اکبر میں فرماتے ہیں:

و دعوی النبوۃ بعد نبینا ﷺ کفر بالاجماع

(شرح فقہ اکبر ص ۲۰۲)

علامہ ابن نجیم مصریؒ جن کو ابو حنیفہ ثانی کہا جاتا ہے۔ فرماتے ہیں:

اذا لم یعرف ان محمداًa اخر الانبیأ فلیس بمسلم لانہ من الضروریات

(الاشباہ والنظائر مطبوعہ کراچی ج ۲ ص ۹۱)

46

ختم نبوت پر تواتر

حافظ ابن کثیرؒ آیت خاتم النبیین کے تحت لکھتے ہیں:

وبذلک وردت الأحادیث المتواترۃ عن رسول اللہﷺ من حدیث جماعۃ من الصحابۃ رضی اللہ عنہم

(تفسیر ابن کثیر ص ۴۹۳ ج۳)

ترجمہ: اور ختم نبوت پر آنحضرتﷺ سے احادیث متواترہ وارد ہوئی ہیں۔ جن کو صحابہؓ کی ایک بڑی جماعت نے بیان فرمایا۔

اور علامہ سید محمود آلوسی تفسیر روح المعانی میں زیر آیت خاتم النبیین لکھتے ہیں:

و کونہﷺ خاتم النبیین مما نطق بہ الکتاب و صدعت بہ السنۃ و أجمعت علیہ الأمۃ فیکفر مدعی خلافہ و یقتل ان اصر

(روح المعانی ص ۳۹ ج۲۲)

ترجمہ: اور آنحضرتﷺ کا خاتم النبیین ہونا ایسی حقیقت ہے جس پر قرآن ناطق ہے۔ احادیث نبویہ نے جس کو واشگاف طور پر بیان فرمایا ہے اور امت نے جس پر اجماع کیا ہے۔ پس جو شخص اس کے خلاف کا مدعی ہو اس کو کافر قرار دیا جائے گا اور اگر وہ اس پر اصرار کرے تو اس کو قتل کیا جائے گا۔

پس عقیدئہ ختم نبوت جس طرح قرآن کریم کے نصوص قطعیہ سے ثابت ہے۔ اسی طرح آنحضرتﷺ کی احادیث متواترہ سے بھی ثابت ہے اور ہر دور میں امت کا اس پر اجماع واتفاق چلا آیا ہے۔

سوال۴… مرزائی ختم نبوت کے معنی میں کیا تحریف کرتے ہیں؟۔ قادیانی مؤقف مختصر مگر جامع طور پر تحریر فرمائیں، ساتھ ہی اس کا مختصر اور جامع جواب بھی دیں۔

جواب …

خاتم النبیین اور قادیانی جماعت

قرآن و سنت، صحابہ کرامؓ اور اصحاب لغت کی طرف سے لفظ خاتم النبیین کی وضاحت کے بعد اب قادیانی جماعت کے مؤقف کو دیکھئے۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ:

47

خاتم النبیین کا معنی نبیوں کی مہر یعنی پہلے اللہ تعالیٰ نبوت عنایت فرماتے تھے۔ اب آپﷺ کی اتباع سے نبوت ملے گی۔ جو شخص رحمت دوعالمﷺ کی اتباع کرے گا۔ آپﷺ اس پر مہر لگادیں گے۔ تو وہ نبی بن جائے گا۔

(حقیقت الوحی ص ۹۷ حاشیہ ص ۲۸‘ خزائن ج۲۲ ص ۱۰۰، ۳۰)

ہمارے نزدیک قادیانی جماعت کا یہ مؤقف سراسر غلط، فاسد، باطل، بے دینی، تحریف دجل و افتراء، کذب و جعل سازی پر مبنی ہے۔ حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحبؒ نے اس موقع پر کیا خوب چیلنج کیا۔ آپ فرماتے ہیں:

اگر مرزا صاحب اور ان کی امت کوئی صداقت رکھتے ہیں تو لغت عرب اور قواعد عربیت سے ثابت کریں کہ خاتم النبیین کے معنی یہ ہیں کہآپﷺ کی مہر سے انبیاء بنتے ہیں۔ لغت عرب کے طویل و عریض دفتر میں سے زائد نہیں صرف ایک نظیر اس کی پیش کردیں یا کسی ایک لغوی اہل عربیت کے قول میں یہ معنی دکھلادیں اور مجھے یقین ہے کہ ساری مرزائی جماعت مع اپنے نبی اور ابن نبی کے اس کی ایک نظیر کلام عرب یا اقوال لغویین میں نہ دکھلاسکیں گے۔ خود مرزا صاحب نے جو (برکات الدعا ص ۱۴،۱۵،خزائن ص ۱۷، ۱۸ ج۶) میں تفسیر قرآن کے معیار میں سب سے پہلا نمبر قرآن مجید سے اور دوسرا احادیث نبی کریمﷺ سے اور تیسرا قوال صحابہ کرامؓ سے رکھا ہے۔ اگر یہ صرف ہاتھی کے دکھلانے کے دانت نہیں تو خدارا خاتم النبیین کی اس تفسیر کو قرآن کی کسی ایک آیت میں دکھلائیں اور اگر یہ نہیں ہوسکتا تو احادیث نبویہؐ کے اتنے وسیع و عریض دفتر میں ہی کسی ایک حدیث میں یہ تفسیر دکھلائیں۔ پھر ہم یہ بھی نہیں کہتے ہیں کہ صحیحین کی حدیث ہو یا صحاح ستہ کی۔ بلکہ کسی ضعیف سے ضعیف میں دکھلادو کہ نبی کریمﷺ نے خاتم النبیین کے یہ معنی بتلائے ہوں کہ آپﷺ کی مہر سے انبیاء بنتے ہیں اور اگر یہ بھی نہیں ہوسکتا (اور ہرگز نہ ہوسکے گا) تو کم از کم کسی صحابیؓ، کسی تابعیؒ کا قول ہی پیش کرو۔ جس میں خاتم النبیین کے یہ معنی بیان کئے ہوں۔ لیکن مجھے معلوم ہے کہ:

چیلنج

اے مرزائی جماعت اور اس کے مقتدر ارکان! اگر تمہارے دعویٰ میں کوئی صداقت کی

48

بو اور قلوب میں کوئی غیرت ہے تو اپنی ایجاد کردہ تفسیر کا کوئی شاہد پیش کرو اور اگر ساری جماعت مل کر قرآن کے تیس پاروں میں سے کسی ایک آیت میں۔ احادیث کے غیر محصور دفتر میں سے کوئی ایک حدیث میں اگرچہ ضعیف ہی ہو۔ صحابہ کرامؓ و تابعینؒ کے بے شمار آثار میں سے کسی ایک قول میں یہ دکھلادے کہ خاتم النبیین کے معنی یہ ہیں کہ آپﷺ کی مہر سے انبیاء بنتے ہیں۔ تو وہ نقد انعام وصول کرسکتے ہیں۔ صلائے عام ہے یاران نکتہ داں کے لئے۔ لیکن میں بحول اللہ و قوّتہ اعلاناً کہہ سکتا ہوں کہ اگر مرزا قادیانی اور ان کی ساری امت مل کر ایڑی چوٹی کا زور لگائیں گے۔ تب بھی ان میں سے کوئی ایک چیز پیش نہ کرسکیں گے:و لوکان بعضھم لبعض ظھیرابلکہ اگر کوئی دیکھنے والی آنکھیں اور سننے والے کان رکھتا ہے تو قرآن عزیز کی نصوص اور احادیث نبویہﷺ کی تصریحات اور صحابہ کرامؓ و تابعینؒ کے صاف صاف آثار، سلف صالحینؒ اور ائمہ تفسیرؒ کے کھلے کھلے بیانات اور لغت عرب اور قواعد عربیت کا واضح فیصلہ سب کے سب اس تحریف کی تردید کرتے ہیں اور اعلان کرتے ہیں کہ آیت خاتم النبیین کے وہ معنی جو مرزائی فرقہ نے گھڑے ہیں باطل ہیں۔

(ختم نبوت کامل)

قادیانی ترجمہ کے وجوہِ ابطال

۱… اوّل اس لئے کہ یہ معنی محاورات عرب کے بالکل خلاف ہیں۔ ورنہ لازم آئے گا کہ خاتم القوم اور آخرالقوم کے بھی یہی معنی ہوں کہ اس کی مہر سے قوم بنتی ہے اور خاتم المہاجرین کے یہ معنی ہوں گے۔ اس کی مہر سے مہاجرین بنتے ہیں۔

۲… مرزا غلام احمد قادیانی نے خود اپنی کتاب (ازالہ اوہام ص ۶۱۴، خزائن ص۴۳۱ ج۳) پر خاتم النیین کا معنی: اور ختم کرنے والا نبیوں کا کیا ہے۔

۳… مرزا غلام احمد قادیانی نے لفظ خاتم کو جمع کی طرف کئی جگہ مضاف کیا ہے۔ یہاں صرف ایک مقام کی نشاندہی کی جاتی ہے۔ مرزا نے اپنی کتاب تریاق القلوب ص ۱۵۷، خزائن ص ۴۷۹ ج ۱۵ پر اپنے متعلق تحریر کیا ہے:

میرے ساتھ ایک لڑکی پیدا ہوئی تھی، جس کا نام جنت تھا اور پہلے وہ لڑکی پیٹ میں سے نکلی تھی اور بعد اس کے میں نکلا تھااور میرے بعد میرے والدین کے گھر میں اور کوئی لڑکی یا لڑکا نہیں ہوااور میں ان کے لئے خاتم الاولادتھا۔

49

اگر خاتم الاولاد کا ترجمہ ہے کہ مرزا قادیانی اپنے ماں باپ کے ہاں آخری ولد تھا۔ مرزا کے بعد اس کے ماں باپ کے ہاں کوئی لڑکی یا لڑکا۔ صحیح یا بیمار۔ چھوٹا یا بڑا۔ کسی قسم کا کوئی پیدا نہیں ہوا تو خاتم النبیین کا بھی یہی ترجمہ ہوگا کہ رحمت دوعالمﷺ کے بعد کسی قسم کا کوئی ظلی، بروزی، مستقل، غیر مستقل کسی قسم کا کوئی نبی نہیں بنایا جائے گا۔

اور اگر خاتم النبیین کا معنی ہے کہ حضورﷺ کی مہر سے نبی بنیں گے تو خاتم الاولاد کا بھی یہی ترجمہ مرزائیوں کو کرنا ہوگا کہ مرزا کی مہر سے مرزا کے والدین کے ہاں بچے پیدا ہوں گے۔ اس صورت میں اب مرزا قادیانی مہر لگاتے جائیں گے اور مرزا قادیانی کی ماں بچے جنتی چلی جائے گی۔ ہے ہمت تو کریں مرزائی یہ ترجمہ:

الجھا ہے پائوں یار کا زلف دراز میں

۴… پھر قادیانی جماعت کا مؤقف یہ ہے کہ رحمت دوعالمﷺ سے لے کر مرزا قادیانی تک کوئی نبی نہیں بنا، خود مرزا نے لکھا ہے:

غرض اس حصہ کثیر وحی الٰہی اور امور غیبیہ میں اس امت میں سے میں ہی ایک فرد مخصوص ہوں اور جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء اور ابدال اور اقطاب اس امت میں سے گزرچکے ہیں۔ ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا۔پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں۔

(حقیقت الوحی ص ۳۹۱ ،خزائن ص ۴۰۶ ج۲۲)

اس عبارت سے یہ ثابت ہوا کہ چودہ سو سال میں صرف مرزا کو ہی نبوت ملی اور پھر مرزا کے بعد قادیانیوں میں خلافت (نام نہاد) ہے۔ نبوت نہیں۔ اس لحاظ سے بقول قادیانیوں کے حضورﷺ کی مہر سے صرف مرزا ہی نبی بنا۔ تو گویا حضورﷺ خاتم النبی ہوئے۔ خاتم النبیین نہ ہوئے۔ مرزا محمود نے لکھا ہے:

ایک بروز محمدی جمیع کمالات محمدیہ کے ساتھ آخری زمانہ کے لئے مقدر تھا، سو وہ ظاہرہوگیا۔

(ضمیمہ نمبر ۱ حقیقت النبوۃ ص ۲۶۸)

۵… خاتم النبیین کا معنی اگر نبیوں کی مہر لیا جائے اور حضورﷺ کی مہر سے نبی

50

بننے مراد لئے جائیں۔ تو آپﷺ آئندہ کے نبیوں کے لئے خاتم ہوئے۔ سیدنا آدم علیہ السلام سے لے کر سیدنا عیسیٰ علیہ السلام تک کے لئے آپﷺ خاتم النبیین نہ ہوئے۔ اس اعتبار سے یہ بات قرآنی منشاء کے صاف خلاف ہے۔

۶… مرزا غلام احمد قادیانی نے رحمت دوعالمﷺ کی اتباع کی تو نبی بن گئے۔ (یہ ہے خاتم النبیین کا قادیانی معنی) یہ اس لحاظ سے بھی غلط ہے کہ خود مرزا غلام احمد قادیانی لکھتا ہے:

اب میں بموجب آیت کریمہ :واما بنعمۃ ربک فحدث اپنی نسبت بیان کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے مجھے اس تیسرے درجہ میں داخل کرکے وہ نعمت بخشی ہے کہ جو میری کوشش سے نہیں بلکہ شکم مادر میں ہی مجھے عطا کی گئی ہے۔

(حقیقت الوحی ص ۶۷ خزائن ص۷۰ ج ۲۲)

لیجئے! خاتم النبیین کا معنی نبیوں کی مہر۔ وہ لگے گی اتباع کرنے سے۔ وہ صرف مرزا قادیانی پر لگی۔ اس لئے آپ خاتم النبی ہوئے۔ اب اس حوالہ میں مرزا نے کہہ دیا کہ جناب اتباع سے نہیں بلکہ شکم مادر میں مجھے یہ نعمت ملی۔ تو گویا خاتم النبیین کی مہر سے آج تک کوئی نبی نہیں بنا تو خاتم النبیین کا معنی نبیوں کی مہر کرنے کا کیا فائدہ ہوا؟

سوال۵… ظلی بروزی نبی کی من گھڑت قادیانی اصطلاحات پر جامع نوٹ تحریر کرتے ہوئے اس کا مسکت جواب تحریر کریں؟

جواب…

ظلّی اور بروزی

ظل، سایہ کو کہتے ہیں۔ جیسے کوئی کہے کہ مرزا قادیانی شیطان کی تصویر (ظل) تھا۔ بروز، کا معنی ہے کہ کسی شخصیت کی جگہ کوئی اور ظاہر ہوجائے۔ جیسے کوئی کہے کہ مرزا قادیانی نے شیطان کی شکل اختیار کرلی۔ اس کی جگہ ظاہر ہوگیا۔ حلول، کا مطلب یہ ہے کہ کسی کی روح دوسرے میں داخل ہوگئی۔ جیسے کوئی کہے کہ مرزا قادیانی میں شیطان کی روح سرایت (حلول) کرگئی۔ تناسخ، کا معنی یہ ہے کہ ایک شخص مرجائے اور اس کی شخصیت دوسرے جنم میںدوسرے شخص کی ہوبہو شکل اختیار کرجائے۔ جیسے کوئی کہے کہ مرزا قادیانی اس زمانہ میں شیطانِ مجسم تھا۔

51

قادیانی جماعت کا عقیدہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی ظلّی نبی تھا۔ یعنی آنحضرتﷺ کے اتباع کی وجہ سے وہ آنحضرتﷺ کا ظل ہوگیا۔ اس اعتبار سے اس کا یہ مطلب ہے کہ آنحضرتﷺ کے ساتھ اتحاد ہوگیا اور آپﷺ کا وجود مرزا قادیانی کا وجود ہے۔ جیسا کہ اس نے لکھا ہے:صار وجودی وجودہ

(خطبہ الہامیہ ص ۱۷۷، خزائن ص ۲۵۸ ج ۱۶)

یعنی مسیح موعود (مرزا قادیانی) نبی کریم سے الگ کوئی چیز نہیں۔ بلکہ وہی ہے جو بروزی رنگ میں دوبارہ دنیا میں آئے گا۔ تو اس صورت میں کیا اس بات میں کوئی شک رہ جاتا ہے کہ قادیان میں اللہ نے پھر محمد صلعم (مرزا) کو اتارا۔

(کلمتہ الفصل ص ۱۰۵ مصنفہ مرزا بشیر احمد پسر مرزا قادیانی)

مرزاقادیانی کے محمد رسول اللہ (معاذاللہ) ہونے کی وجہ یہ ہے کہ قادیانی عقیدے کے مطابق حضرت خاتم النبیین محمدﷺ کا دوبار دنیا میں آنا مقدر تھا۔ پہلی بار آپﷺ مکہ مکرمہ میں محمدﷺ کی شکل میں آئے اور دوسری بار قادیان میں مرزا غلام احمد قادیانی کی بروزی شکل میں آئے۔ یعنی مرزاکی بروزی شکل میں محمدﷺ کی روحانیت مع اپنے تمام کمالاتِ نبوت کے دوبارہ جلوہ گر ہوئی ہے۔ چنانچہ ملاحظہ ہو:

……اور جان کہ ہمارے نبی کریمﷺ جیسا کہ پانچویں ہزار میں مبعوث ہوئے (یعنی چھٹی صدی مسیحی میں) ایسا ہی مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی بروزی صورت اختیار کرکے چھٹے ہزار (یعنی تیرھویں صدی ہجری) کے آخر میں مبعوث ہوئے۔

(خطبہ الہامیہ خزائن ص ۲۷۰ ج ۱۶)

آنحضرتﷺ کے دوبعث ہیں یا بہ تبدیل الفاظ یوں کہہ سکتے ہیں کہ ایک بروزی رنگ میں آنحضرتﷺ کا دوبارہ آنا دنیا میں وعدہ دیا گیا تھا۔ جو مسیح موعود اور مہدی معہود (مرزا قادیانی) کے ظہور سے پورا ہوا۔

(تحفہ گولڑویہ ۱۶۳ حاشیہ ،خزائن ص ۲۴۹ ج ۱۷)

قادیانی مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت کے لئے ظلّی اور بروزی کی اصطلاح استعمال کرکے مسلمانوں کو دھوکہ دیتے ہیں۔ ان الفاظ کی آڑ میں بھی وہ دراصل رحمت دوعالمﷺ کی ذات اقدس کی توہین کے مرتکب ہوتے ہیں۔ چنانچہ مرزا غلام احمد قادیانی لکھتا ہے:

خدا ایک اور محمدﷺ اس کا نبی ہے اور وہ خاتم الانبیاء ہے اور سب سے بڑھ کر ہے۔ اب بعد اس کے کوئی نبی نہیں۔ مگر وہی جس پر بروزی طور پر محمدیت کی چادر پہنائی گئی…

52

جیسا کہ تم جب آئینہ میں اپنی شکل دیکھو تو تم دو نہیں ہوسکتے۔ بلکہ ایک ہی ہو۔ اگرچہ بظاہر دو نظر آتے ہیں۔ صرف ظل اور اصل کا فرق ہے۔

(کشتی نوح ص ۱۵ خزائن ص ۱۶ ج ۱۹)

قارئین محترم! مرزا غلام احمد قادیانی کا کفر یہاں ننگا ناچ رہا ہے۔ اس کا کہنا کہ میں ظلّی بروزی محمدؐ ہوں۔ کیا معنی؟ کہ جب آئینہ میں حضورﷺ کی شکل دیکھنا چاہو تو وہ غلام احمد ہے۔ دونوں ایک ہیں۔ قطع نظر اس خبث و بدطینتی کے مجھے یہاں صرف یہ عرض کرنا ہے کہ ظلی و بروزی کہہ کر مرزا غلام احمد قادیانی کی جھوٹی نبوت کو قادیانی جو فریب کا چولا پہناتے ہیں۔ وہ اصولی طور پر غلط ہے۔ اس لئے کہ:

۱… نقطئہ محمد یہ … ایسا ہی ظل الوہیت ہونے کی وجہ سے مرتبہ الٰہیہ سے اس کو ایسی مشابہت ہے۔ جیسے آئینہ کے عکس کو اپنی اصل سے ہوتی ہے اور امہات صفات الٰہیہ یعنی حیات، علم، ارادہ، قدرت، سمع ، بصر، کلام مع اپنے جمیع فروع کے اتم اور اکمل طور پر اس (آنحضرتﷺ) میں انعکاس پذیر ہیں۔

(سرمہ چشم آریہ ص ۲۷۱،۲۷۲ ،حاشیہ خزائن ج۲ ص ۲۲۴)

۲… حضرت عمر کا وجود ظلی طور پر گویا آنجنابa کا وجود ہی تھا۔

(ایام الصلح ص ۳۹،خزائن ص ۲۶۵ ج۱۴)

۳… خلیفہ درحقیقت رسول کا ظل ہوتا ہے۔

(شہادۃ القران ص ۵۷،خزائن ص ۳۵۳ ج۶)

اگر اب کسی قادیانی کی ہمت ہے کہ وہ کہہ دے کہ آنحضرتﷺ خدا ہیں اور حضرت عمرؓ اور خلفاء نبی اور رسول ہیں۔ نعوذباللہ۔ مثلاً بقول مرزا قادیانی آنحضرتﷺ ظلی خدا ہوکر صحیح اور حقیقی اور سچے اور واقعی خدا بن جائیں گے؟ یا محمود قادیانی کے باپ مرزا قادیانی کے اقرار سے خلفاء آنحضرتﷺ کے ظل ہوتے ہیں اور صحابہ کرامؓ میں بھی حضرت عمرؓ آنحضرتﷺ کے ظل ہیں۔ تو کیا خلفاء اور حضرت عمرؓ بھی ظلی نبی ہوکر واقعی اور سچے اور صحیح اور حقیقی نبی قرار پائیں گے؟ اس کا جواب یقینا نفی میں ہوگا تو مرزا قادیانی بزعم خود اگر ظلّی نبی (خاکم بدہن) ثابت بھی ہوجائے تو پھر بھی وہ سچا اور حقیقی اور واقعی اور صحیح نبی نہیں ہوگا۔ بلکہ محض نقلی نبی ہی ہوگا۔

۴… حدیث شریف میں ہے:السلطان (المسلم) ظل اللہ فی الارض

53

کیا سلطان (بادشاہ) خدا بن جاتا ہے یا اس کا وجود خدا کا وجود بن جاتا ہے؟ غرض ظلی و بروزی خالص قادیانی ڈھکوسلہ ہے۔

سوال۶… وحی الہام اور کشف کا شرعی معنی اور حیثیت واضح کرتے ہوئے بتائیں کہ قادیانی ان اصطلاحات میں کیا تحریفات کرتے ہیں اور اس کا کیا جواب ہے؟

جواب …

وحی

اصطلاح شریعت میں وحی اس کلامِ الٰہی کو کہتے ہیں کہ جو اللہ کی طرف سے بذریعہ فرشتہ نبی کو بھیجا ہو۔ اس کو وحی نبوت بھی کہتے ہیں جو انبیاء علیہم السلام کے ساتھ مخصوص ہے اوراگر بذریعہ القاء فی القلب ہو تو اس کو وحی الہام کہتے ہیں (فرشتہ کا واسطہ ہونا ضروری نہیں ہے) جو اولیاء پر ہوتی ہے اور اگر بذریعہ خواب ہو تو اصطلاح شریعت میں اس کو رویائے صالحہ کہتے ہیں۔ جو عام مؤمنین اور صالحین کو ہوتا ہے۔ کشف اور الہام اور رویائے صالحہ پر لغتاً وحی کا اطلاق ہوسکتا ہے۔ قرآن مجید میں آیا ہے: و اوحینا الٰی ام موسیٰمگر عرف شرع میں جب لفظ وحی کا بولا جاتا ہے تو اس سے وحی نبوت ہی مراد ہوتی ہے۔ یہ ایسا ہے کہ جیسے قرآن کریم میں باعتبار لغت کے شیطانی وسوسوں پر بھی وحی کا اطلاق آیا ہے:

کما قال تعالیٰ وان الشیٰطین لیوحون الی اولیائھم (انعام: ۱۲۱)

وکذلک جعلنا لکل نبی عدوا شیٰطین الانس والجن یوحی بعضھم الی بعض زخرف القول غرورا (انعام: ۱۱۲)

لیکن عرف میں شیطانی وسوسوں پر وحی کا اطلاق نہیں ہوتا۔

الہام

کسی خیر اور اچھی بات کا بلانظر و فکر اور بلاکسی سبب ظاہری کے من جانب اللہ قلب میں القاء ہونے کا نام الہام ہے۔ جو علم بطریق حواس حاصل ہو وہ ادر اک حسی ہے اور جو علم بغیر حس اور عقل۔ من جانب اللہ بلاکسی سبب کے دل میں ڈالا جائے وہ الہام ہے۔ الہام محض موہبت ربانی ہے اور فراست ایمانی۔ جس کا حدیث میں ذکر آیا ہے۔ وہ من وجہ کسب ہے اور من وجہ وہب ہے۔

54

کشف اگرچہ اپنے مفہوم کے اعتبار سے الہام سے عام۔ لیکن کشف کا زیادہ تعلق امور حسیہ سے ہے اور الہام کا تعلق امور قلبیہ سے ہے۔

کشف

عالم غیب کی کسی چیز سے پردہ اٹھاکر دکھلادینے کا نام کشف ہے۔ کشف سے پہلے جو چیز مستور تھی۔ اب وہ مکشوف یعنی ظاہر اور آشکارا ہوگئی۔ قاضی محمد اعلیٰ تھانویؒ کشاف اصطلاحات الفنون ص ۱۲۵۴ پر لکھتے ہیں:

الکشف عنداہل السلوک ہوا المکاشفہ ومکاشفہ رفع حجاب راگویند کہ میاں روحانی جسمانی است کہ ادراک آن بحواس ظاہری نتواں کرد الخ

اس کے بعد فرماتے ہیں کہ: حجابات کا مرتفع ہونا قلب کی صفائی اور نورانیت پر موقوف ہے۔ جس قدر قلب صاف اور منور ہوگا۔ اسی قدر حجابات مرتفع ہوں گے۔ جاننا چاہئے کہ حجابات کا مرتفع ہونا قلب کی نورانیت پر موقوف تو ہے۔ مگر لازم نہیں۔

وحی اور الہام میں فرق

وحی نبوت قطعی ہوتی ہے اور معصوم عن الخطاء ہوتی ہے اور نبی پر اس کی تبلیغ فرض ہوتی ہے اور امت پر اس کا اتباع لازم ہوتا ہے اور الہام ظنی ہوتا ہے اور معصوم عن الخطاء نہیں ہوتا۔ اولیاء معصوم نہیں۔ اسی وجہ سے اولیاء کا الہام دوسروں پر حجت نہیں اور نہ الہام سے کوئی حکم شرعی ثابت ہوسکتا ہے۔ حتیٰ کہ استحباب بھی الہام سے ثابت نہیں ہوسکتا۔ نیز علم احکام شرعیہ بذریعہ وحی انبیاء کرام علیہم السلام کے ساتھ مخصوص ہے اور غیر انبیاء پر جو الہام ہوتا ہے۔ سو وہ از قسم بشارت یا از قسم تفہیم ہوتا ہے۔ احکام پر مشتمل نہیں ہوتا۔ جیسے حضرت مریم علیہا السلام کو جو وحی الہام ہوئی وہ از قسم بشارت تھی نہ کہ ازقسم احکام اور بعض مرتبہ وحی الہام کسی حکم شرعی کی تفہیم اور افہام کے لئے ہوتی ہے۔ جو نسبت رویائے صالحہ کو الہام سے ہے۔ وہی نسبت الہام کو وحی نبوت سے ہے۔ یعنی جس طرح رویائے صالحہ الہام سے درجہ میں کمتر ہے۔ اسی طرح الہام درجہ میں وحی نبوت سے فروتر ہے اور جس طرح رویائے صالحہ میں ایک درجہ کا ابہام اور اخفاء ہوتا ہے اور الہام اس سے زیادہ واضح

55

ہوتا ہے۔ اسی طرح الہام بھی باعتبار وحی کے خفی اور مبہم ہوتا ہے اور وحی صاف اور واضح ہوتی ہے۔ تفصیل کے لئے دیکھئے الاعلام بمعنی الکشف والوحی والالہام مندرجہ احتساب قادیانیت جلد دوم از حضرت کاندہلویؒ۔

انقطاعِ وحی نبوت

حضور سرور کائناتﷺ کے بعد وحی نبوت کا دروازہ بندہوگیا۔ اس سلسلے میں اکابرین امت کی تصریحات ملاحظہ ہوں:

۱… حضرت ابوبکر صدیقؓ نے آنحضرتﷺ کی وفات کے وقت فرمایا:

الیوم فقدنا الوحی و من عنداللہ عز و جل الکلام، رواہ ابواسمٰعیل الھروی فی دلائل التوحید

(کنز العمال ص ۲۳۵ ج ۷ حدیث نمبر ۱۸۷۶۰)

ترجمہ: آج ہمارے پاس وحی نہیں ہے اور نہ ہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی فرمان ہے۔

۲… نیز حضرت صدیق اکبرؓنے ایک طویل کلام کے ذیل میں فرمایا:

قد انقطع الوحی وتم الدین او ینقص وانا حی۰ رواہ النسائی بھذا اللفظ معناہ فی الصحیحین

(الریاض النضرۃ ص ۹۸ ج ۱ وتاریخ الخلفاء للسیوطی ص ۹۴)

ترجمہ: اب وحی منقطع ہوچکی اور دین الٰہی تمام ہوچکا۔ کیا میری زندگی ہی میں اس کا نقصان شروع ہوجائے گا؟۔

۳… صحیح بخاری ص ۳۶۰ ج ۱ میں اسی مضمون کا کلام حضرت صدیق اکبرؓ اور حضرت فاروق اعظمؓ دونوں حضرات سے منقول ہے۔

۴… حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ جب آنحضرتﷺ کی وفات ہوئی تو ایک روز حضرت صدیق اکبرؓ نے حضرت عمرؓ سے فرمایا کہ چلو حضرت ام ایمنؓ کی زیارت کر آئیں۔ کیونکہ آنحضرتﷺ بھی ان کی زیارت کے لئے تشریف لے جایا کرتے تھے۔ حضرت انسؓ کا بیان ہے کہ ہم تینوں وہاں گئے۔ حضرت ام ایمنؓ ہمیں دیکھ کر رونے لگیں۔ ان دونوں حضرات نے فرمایا کہ دیکھو ام ایمن! رسول اللہﷺ کے لئے وہی بہتر ہے جو اللہ کے نزدیک آپﷺ کے واسطے مقدر ہے۔ انہوں نے کہا:

56

قد علمت ما عند اللہ خیرلرسول اللہﷺ و لکن ابکی علی خبر السماء انقطع عنا

(ابو عوانہ و کنزالعمال ص ۲۲۵ ج ۷ حدیث نمبر ۱۸۷۳۴ و مسلم ج ۲ ص ۲۹۱)

ترجمہ: یہ تومیں بھی جانتی ہوں کہ آپﷺ کے لئے وہی بہتر ہے جو اللہ کے نزدیک ہے۔ لیکن میں اس پر روتی ہوںکہ آسمانی خبریں ہم سے منقطع ہوگئیں۔

اسی طرح مسلم شریف میں ہے:ولکن ابکی ان الوحی قد انقطع من السماء

۵… علامہ قرطبیؒ فرماتے ہیں:لان بموت النبیﷺ انقطع الوحی

(مواہب لدینہ ص ۲۵۹)

ترجمہ: اس لئے کہ نبی اکرمﷺ کی وفات کے بعد وحی منقطع ہوچکی ہے۔

۶… ایسے مدعی کے بارے میں علامہ ابن حجر مکیؒ نے اپنے فتاویٰ میں تحریر فرمایا ہے: و من اعتقد وحیا بعد محمدﷺ کفر باجماع المسلمین

(بحوالہ ختم نبوت ص ۳۲۲ از حضرت مفتی محمد شفیعؒ)(بحوالہ ختم نبوت ص ۳۲۲ از حضرت مفتی محمد شفیعؒ)

ترجمہ: اور جو شخص آنحضرتﷺ کے بعد کسی وحی کا معتقد ہو۔ وہ باجماع مسلمین کافر ہے۔

قادیانی گروہ کشف و الہام اور وحی میں تحریف نہیں کرتے۔ بلکہ تلبیس کرتے ہیں کہ نہ صرف کشف و الہام۔ بلکہ وحی نبوت کو مرزا غلام احمد قادیانی کے لئے جاری مانتے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے مرزا غلام احمد قادیانی کی نام نہاد وحی کو ایک مستقل کتاب کی شکل میں شائع کیا ہے اور اس کا نام انہوں نے تذکرہ رکھا ہے۔ حالانکہ تذکرہ قرآن مجید کا نام ہے۔ جیسا کہ آیت مبارکہ ہے:

کلا انھا تذکرۃ فمن شاء ذکرہ فی صحف مکرمۃ مرفوعۃ مطھرۃ (عبس ۱۱،۱۴)

ان آیات میں تذکرہ قرآن مجید کو قرار دیا گیا ہے۔ قادیانی اگر مرزا غلام احمد قادیانی کی وحی کے مجموعہ کا نام قرآن رکھتے تو مسلمانوں میں اشتعال پھیلتا۔ انہوں نے قرآن مجید کا غیر عرفی نام چرا کر مرزا کی وحی پر چسپاں کردیا اور اسی تذکرہ کے پہلے صفحہ پر عنوان قائم کیا: تذکرہ یعنی وحی مقدس و رویاء و کشوف حضرت مسیح موعود

57

قادیانی مرزا غلام احمد قادیانی کے لئے وحی نبوت کو جاری مانتے ہیں۔ اس تذکرہ کا حجم ۸۱۸ صفحات ہے۔ اس میں مرزا قادیانی کی نام نہاد وحی (خرافات) کو جمع کیا گیا ہے۔ غرض قادیانی جماعت مرزا قادیانی کے لئے وحی نبوت کو جاری مانتی ہے۔ حالانکہ اوپر گزرچکا کہ آنحضرتﷺ کے بعد وحی کا مدعی۔ مدعی نبوت ہے اور یہ بجائے خود مستقل کفرہے۔ اب مرزا قادیانی کی ہزارہا عبارتوں میں سے چند عبارتیں ملاحظہ ہوں۔ جس میں مرزا قادیانی نے اپنے لئے وحی کا دعویٰ کیا ہے:

۱… پس جیسا کہ میں نے باربار بیان کردیا ہے کہ یہ کلام جو میں سناتا ہوں۔ یہ قطعی اور یقینی طور پر خدا کا کلام ہے۔ جیسا کہ قرآن اور توریت خدا کا کلام ہے اور میں خدا کا ظلی اور بروزی طور پر نبی ہوں اور ہر ایک مسلمان کو دینی امور میں میری اطاعت واجب ہے اور مسیح موعود ماننا واجب ہے۔

(تحفۃ الندوہ ص۷،خزائن ج ۱۹ ص ۹۵)

۲… خدا تعالیٰ کی وہ پاک وحی جومیرے پر نازل ہوتی ہے۔ اس میں ایسے لفظ رسول اور مرسل اور نبی کے موجود ہیں۔ نہ ایک دفعہ بلکہ صدہا دفعہ۔ پھر کیونکر یہ جواب صحیح ہوسکتا ہے کہ ایسے الفاظ موجود نہیں ہیں۔ بلکہ اس وقت تو پہلے زمانے کی نسبت بہت تصریح اور توضیح سے یہ الفاظ موجود ہیں اور براہین احمدیہ میں بھی جس کو طبع ہوئے بائیس برس ہوئے۔ یہ الفاظ کچھ تھوڑے نہیں ہیں۔ چنانچہ وہ مکالمات الٰہیہ جو براہین احمدیہ میں شائع ہوچکے ہیں۔ ان میں سے ایک یہ وحی اللہ ہے: ھوالذی ارسل رسولہ بالھدیٰ ودین الحق لیظھرہ علی الدین کلہدیکھو براہین احمدیہ۔ اس میں صاف طور پر اس عاجز (مرزا) کو رسول کرکے پکارا گیا ہے۔

(مجموعہ اشتہارات ص ۴۳۱ ج ۳، ایک غلطی کا ازالہ ص۲،خزائن ص ۲۰۶ ج۱۸، النبوۃ فی الاسلام ص ۳۰۷، حقیقت النبوۃ ص ۲۶۱)

۳… غرض اس حصہ کثیر وحی الٰہی اور امور غیبیہ میں اس امت میں سے میں ہی ایک فرد مخصوص ہوں اور جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء اور ابدال اور اقطاب اس امت میں سے گزرچکے ہیں۔ ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا۔ پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں۔

(حقیقت الوحی ص ۳۹۱،خزائن ص ۴۰۶ ج۲۲)

58

۴… اور میں جیسا کہ قرآن شریف کی آیات پر ایمان رکھتا ہوں۔ ایسا ہی بغیر فرق ایک ذرہ کے خدا کی اس کھلی کھلی وحی پر ایمان لاتا ہوں جو مجھے ہوئی۔ جس کی سچائی اس کے متواتر نشانوں سے مجھ پر کھل گئی ہے اور بیت اللہ میں کھڑے ہوکر یہ قسم کھاسکتا ہوں کہ وہ پاک وحی جو میرے پر نازل ہوتی ہے۔ وہ اسی خدا کا کلام ہے جس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت محمد مصطفیﷺ پر اپنا کلام نازل کیا تھا۔

(ایک غلطی کا ازالہ ص۸،خزائن ج۱۸ ص ۲۱۰، ضمیمہ النبوۃ فی الاسلام ص ۳۱۰‘ حقیقت النبوۃ ص ۲۶۴‘ مجموعہ اشتہارات ص ۴۳۵ ج۳)

۵… میں خدا تعالیٰ کی تئیس برس کی متواتر وحی کو کیونکر رد کرسکتا ہوں۔ میں اس کی اس پاک وحی پر ایسا ہی ایمان لاتا ہوں۔ جیسا کہ ان تمام خدا کی وحیوں پر ایمان لاتا ہوں جو مجھ سے پہلے ہوچکی ہیں۔

(حقیقت الوحی ص ۱۵۰،خزائن ج ۲۲ ص ۱۵۴)

اب ملاحظہ فرمایئے کہ مرزا قادیانی اپنے اوپر جبریل علیہ السلام کے نزول کے بھی مدعی ہیں:

۶…جاء نی ائل واختار وادار اصبعہ واشارہ ان وعد اللہ اتیٰ۰ فطوبیٰ لمن وجدو رائیعنی میرے پاس آئل آیا اور اس نے مجھے چن لیا اور اپنی انگلی کو گردش دی اور یہ اشارہ کیا کہ خدا کا وعدہ آگیا۔ پس مبارک جو اس کو پاوے اور دیکھے۔ (اس جگہ آئل خدا تعالیٰ نے جبرائیل کا نام رکھا ہے۔ اس لئے کہ بار بار رجوع کرتا ہے۔ حاشیہ منہ)

(حقیقت الوحی ص ۱۰۳،خزائن ص ۱۰۶ ج ۲۲)

۷… اور خدا تعالیٰ میرے لئے اس کثرت سے نشان دکھلارہا ہے کہ اگر نوح کے زمانہ میں وہ نشان دکھلائے جاتے تو وہ لوگ غرق نہ ہوتے۔

(تتمہ حقیقت الوحی ص ۱۳۷،خزائن ج ۲۲ ص ۵۷۵)

اسلامی عقیدہ کے مطابق حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کا ایک خاص امتیاز یہ ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی نافرمانی سے معصوم ہوتے ہیں۔ ٹھیک انہی کے طرز پر مرزا قادیانی کو بھی معصوم ہونے کا دعویٰ ہے:

۸… ما انا الا کالقرآن وسیظھر علی یدی ماظھر من الفرقان

(تذکرہ ص ۶۷۴)

59

اور میں تو بس قرآن ہی کی طرح ہوں اور عنقریب میرے ہاتھ پر ظاہر ہوگا جو کچھ فرقان سے ظاہر ہوا۔

قرآن کریم مسلمانوں کی نہایت مقدس مذہبی کتاب ہے۔ جسے خود مرزا قادیانی کے پیرو بھی محفوظ عن الخطا سمجھتے ہیں اور مرزا قادیانی اپنے تقدس کو قرآن کے مثل ثابت کرتے ہیں۔

۹:… نحن نزلناہ و انا لہ لحافظون

(تذکرہ ص ۱۰۷ طبع ۴ ربوہ)

ہم نے اس کو اتارا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔

یہ قرآن کریم کی آیت ہے۔ جسے مرزا قادیانی نے معمولی تصرف کے ساتھ اپنی ذات پر چسپاں کیا ہے۔ گویا جس طرح قرآن منزل من اللہ ہے اور اللہ تعالیٰ نے ہر خطا و خلل سے اس کی حفاظت کا وعدہ فرمایا ہے۔ ٹھیک وہی تقدس مرزا قادیانی کو بھی حاصل ہے:

۱۰…و ما ینطق عن الھویٰ ان ھو الا وحی یوحی

(تذکرہ ص ۳۷۸، ۳۹۴)

اور وہ اپنی خواہش سے نہیں بولتا۔ یہ تو وحی ہے جو اس (مرزا) پر نازل کی جاتی ہے۔

علماء شریعت کی طرح تمام صوفیاء بھی اس پر متفق ہیں کہ نبوت و رسالت خاتم النبیینﷺ پر ختم ہوگئی اور آپﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوسکتا اور حضور پرنورﷺ کے بعد جو بھی نبوت کا دعویٰ کرے۔ وہ مرتد اور دائرئہ اسلام سے قطعاً خارج ہے۔ البتہ نبوت و رسالت کے کچھ کمالات اور اجزاء باقی ہیں کہ جو اولیاء امت کو عطا کئے جاتے ہیں۔ مثلاً کشف اور الہام اور رویائے صادقہ (سچا خواب) اور کرامتیں۔ اس قسم کے کمالات نبوت کے اجزاء ہیں۔ وہ ہنوز باقی ہیں۔ لیکن ان کمالات کی وجہ سے کسی شخص پر نبی کا اطلاق کسی طرح جائز نہیں اور نہ ان کے کشف اور الہام پر ایمان لانا واجب ہے۔ ایمان فقط کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ پر ہے۔ نبی کا تو خواب بھی وحی ہے: رُؤْيَا الْأَنْبِيَاءِ وَحْيٌ (بخاری) مگر ولی کا خواب اور الہام شرعاً حجت نہیں۔ نبی کے خواب سے ایک معصوم کا ذبح کرنا اور قتل کرنا بھی جائز ہے۔ مگر ولی کے الہام سے قتل کا جواز تو درکنار اس سے استحباب کا درجہ بھی ثابت نہیں ہوتا۔ غرض کسی بھی بڑے سے بڑے بزرگ کا کشف و الہام شرعی مسئلہ کے اثبات کے لئے کوئی مستقل دلیل نہیں ہے۔ اس کو اس طرح سمجھو کہ اگر کسی شخص میں کچھ کمالات اور خصلتیں بادشاہ اور وزیر کی سی پائی جائیں تو اس بناء پر وہ شخص بادشاہ اور

60

وزیر نہیں بن سکتا اور اگر کوئی اس بنا پر بادشاہت اور وزارت کا دعویٰ کرے اور اپنے کو وزیر اور بادشاہ کہنے لگے تو فوراً گرفتاری کے احکام جاری ہوجائیں گے۔ اس طرح اگر کسی شخص میں نبوت کے برائے نام کچھ کمالات پائے جائیں تو اس سے اس شخص کا منصب نبوت پر فائز ہونا لازم نہیں آتا۔ بلکہ اگر کوئی شخص اپنے نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ کرے تو وہ مرتد اور اسلام کا باغی سمجھا جائے گا۔

عن ابی ھریرۃ قال سمعت رسول اللہﷺ یقول لم یبق من النبوۃ الا المبشرات

(رواہ البخاری فی کتاب التعبیر ص ۱۰۳۵ ج۲)

ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے کہ اے لوگو! نبوت کا کوئی جزو سوائے اچھے خوابوں کے باقی نہیں۔ (اس حدیث کو بخاری و مسلم نے روایت کیا ہے)۔

اس حدیث کا حاصل یہ ہے کہ نبوت بالکلیہ ختم ہوچکی اور سلسلہ وحی منقطع ہوگیا۔ البتہ اجزائے نبوت میں سے ایک جزو مبشرات باقی ہے۔ یعنی جوسچے خواب مسلمان دیکھتے ہیں۔ یہ بھی نبوت کے اجزا میں سے ایک جزو ہے۔ جس کی تشریح بخاری ہی کی دوسری حدیث میں اس طرح آئی ہے کہ: سچا خواب نبوت کا چھیالیسواں جزو ہے۔

ایک شبہ اور اس کا ازالہ

عبرت کی جگہ ہے کہ ارشادات نبویہﷺ کے ان بینات کے بعد بھی بجائے اس کے کہ مرزائی قلوب میں زلزلہ پڑجاتا۔ اور وہ ایک متنبّی کاذب کو چھوڑ کر سیدالانبیاءa کی نبوت کو اپنے لئے کافی سمجھ لیتے۔ ان کی جسارت اور تحریف میں دلیری اور بڑھتی جاتی ہے۔وکذلک یطبع اللہ علی قلب کل متکبر جبار!

ادھر حدیث میں سلسلہ نبوت کے انقطاع پر یہ صاف ارشاد ہوتا ہے اور ادھر قادیانی دنیا میں خوشیاں منائی جاتی ہیں کہ اس سے بقاء نبوت ثابت ہوگیا۔ ان ھذا لشئ عجاب۔ کہا جاتا ہے کہ اس حدیث میں بتلایا گیا ہے کہ نبوت کا ایک جزو باقی ہے۔ جس سے نفس نبوت کا بقاء ثابت ہوتا ہے۔ جیسے پانی کا ایک قطرہ بھی باقی ہو تو اس کو پانی کہا جاسکتا ہے۔ اسی طرح نبوت کے ایک جزو کا باقی ہونا خود نبوت کا باقی ہونا ہے۔ اہل دانش فیصلہ کریں کہ اس فلسفہ اور سائنس کے دور میں

61

ایک مدعی نبوت کی طرف سے کہا جارہا ہے جس کو جزو اور کل کا بدیہی امتیاز معلوم نہیں۔ وہ کسی شے کے ایک جزو موجود ہونے کو کل کا موجود ہونا سمجھتے ہیں۔ جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ نماز کے ایک جزو مثلاً اللہ اکبر کو پوری نماز اور وضو کے ایک جزو مثلاً ہاتھ دھونے کو پورا وضو کہا جائے۔ اسی طرح ایک لفظ اللہ کو پوری اذان اور ایک منٹ کے روزہ کو ادائے روزہ کہا جائے۔ ہم کہتے ہیں کہ اگر قادیانی نبوت کی یہی برکات ہیں کہ کسی شے کے ایک جزو کے وجود کو کل کا وجود قرار دیا جائے اور جزو پر کل کا اطلاق درست ہوجائے تو پھر ایک اینٹ کو پورامکان کہنا بھی درست ہوگا۔ اور کھانے کے بیس اجزاء میں سے ایک جزو نمک ہے۔ تو نمک کو کھانا کہنا بھی روا ہوگا۔ نمک کو پلائو اور پلائو کو نمک کہا جائے تو کوئی غلطی نہ ہوگی۔ اور پھر تو شاید ایک دھاگہ کو کپڑا کہنا بھی جائز ہوگا اور ایک انگلی کے ناخن کو انسان اور ایک رسی کو چارپائی بھی کہا جائے اور ایک میخ کو کواڑ بھی۔ کیا خوب!

ایک مدعی نبوت کی طرف سے کہا جارہا ہے جس کو جزو اور کل کا بدیہی امتیاز معلوم نہیں۔ وہ کسی شے کے ایک جزو موجود ہونے کو کل کا موجود ہونا سمجھتے ہیں۔ جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ نماز کے ایک جزو مثلاً اللہ اکبر کو پوری نماز اور وضو کے ایک جزو مثلاً ہاتھ دھونے کو پورا وضو کہا جائے۔ اسی طرح ایک لفظ اللہ کو پوری اذان اور ایک منٹ کے روزہ کو ادائے روزہ کہا جائے۔ ہم کہتے ہیں کہ اگر قادیانی نبوت کی یہی برکات ہیں کہ کسی شے کے ایک جزو کے وجود کو کل کا وجود قرار دیا جائے اور جزو پر کل کا اطلاق درست ہوجائے تو پھر ایک اینٹ کو پورامکان کہنا بھی درست ہوگا۔ اور کھانے کے بیس اجزاء میں سے ایک جزو نمک ہے۔ تو نمک کو کھانا کہنا بھی روا ہوگا۔ نمک کو پلائو اور پلائو کو نمک کہا جائے تو کوئی غلطی نہ ہوگی۔ اور پھر تو شاید ایک دھاگہ کو کپڑا کہنا بھی جائز ہوگا اور ایک انگلی کے ناخن کو انسان اور ایک رسی کو چارپائی بھی کہا جائے اور ایک میخ کو کواڑ بھی۔ کیا خوب!

سوال۷ … مرزائی اجرائے نبوت پر جن آیات مبارکہ اور احادیث میں تحریف کرتے ہیں۔ ان میں سے تین کو ذکر کرکے ان کا شافی جواب لکھیں؟

62

جواب …

مرزائیوں سے ختم نبوت و اجرائے نبوت پر بحث کرنااصولی طور پر غلط ہے۔ اس لئے کہ ہمارے اور قادیانیوں کے درمیان ختم نبوت و اجرائے نبوت کا مسئلہ مابہ النزاع ہی نہیں۔ مسلمان بھی نبوت کو ختم مانتے ہیں۔ قادیانی بھی۔ اہل اسلام کے نزدیک رحمت دوعالمﷺ کے بعد قیامت تک کوئی نیا نبی نہیں بن سکتا۔ مرزائیوں کے نزدیک مرزا غلام احمد قادیانی کے بعد قیامت تک کوئی نبی نہیں۔

اب فرق واضح ہوگیا کہ مسلمان رحمت دوعالمﷺ پر نبوت کو بند مانتے ہیں۔ قادیانی، مرزا غلام احمد قادیانی پر۔ اس وضاحت کے بعد اب قادیانیوں سے مطالبہ کیا جائے کہ وہ سارے قرآن و حدیث سے ایک آیت یا ایک حدیث پڑھیں۔ جس میں لکھا ہوا ہو کہ نبوت رحمت دوعالمﷺ پر ختم نہیں۔ بلکہ حضورﷺ کے بعد چودہ سو سال میں ایک مرزا قادیانی نبی بنے ہیں۔ اور مرزا قادیانی کے بعد قیامت تک اور کوئی نبی نہیں بنے گا۔ قیامت تک تمام زندہ مردہ قادیانی اکٹھے ہوکر ایک آیت اور ایک حدیث اس سلسلہ میں نہیں دکھا سکتے۔

مرزا کہتا ہے:

۱… نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں۔

(حقیقت الوحی ص ۳۹۱، خزائن ص ۴۰۶، ۴۰۷ ج ۲۲)

۲… چونکہ وہ بروز محمدی جو قدیم سے موعود تھا۔ وہ میں ہوں۔ اس لئے بروزی رنگ کی نبوت مجھے عطا کی گئی اور اس نبوت کے مقابل پر اب تمام دنیا بے دست وپا ہے۔ کیونکہ نبوت پر مہر ہے۔ ایک بروز محمدی جمیع کمالات محمدیہ کے ساتھ آخری زمانہ کے لئے مقدر تھا۔ سو وہ ظاہر ہوگیا۔ اب بجز اس کھڑکی کے اور کوئی کھڑکی نبوت کے چشمہ سے پانی لینے کے لئے باقی نہیں۔

(ایک غلطی کا ازالہ ص ۱۱،خزائن ص ۲۱۵ ج۱۸)

۳… اس لئے ہم اس امت میں صرف ایک ہی نبی کے قائل ہیں۔ … پس ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ اس وقت تک اس امت میں کوئی اور شخص نبی نہیں گزرا۔

(حقیقت النبوۃ ص ۱۳۸ از مرزا محمود قادیانی)

۴… ہلاک ہوگئے وہ جنہوں نے ایک برگزیدہ رسول کو قبول نہ کیا۔ مبارک وہ جس نے مجھے پہچانا۔ میں خدا کی سب راہوں میں سے آخری راہ ہوں، اور میں اس کے سب

63

نوروں میں سے آخری نور ہوں، بدقسمت ہے جو مجھے چھوڑتا ہے۔ کیونکہ میرے بغیر سب تاریکی ہے۔

(کشتی نوح ص ۵۶،خزائن ص ۶۱ ج ۱۹)

۵…فاراد اللہ ان یتم النباء و یکمل البناء باللبنۃ الاخیرۃ فانا تلک اللبنۃ

(خطبہ الہامیہ ص ۱۱۲، خزائن ص ۱۷۸ ج۱۶)

پس خدا نے ارادہ فرمایا کہ اس پیشینگوئی کو پورا اور آخری اینٹ کے ساتھ بنا کو کمال تک پہنچادے۔ پس میں وہی اینٹ ہوں۔

۶… امت محمدیہﷺ میں سے ایک سے زیادہ نبی کسی صورت میں بھی نہیں آسکتے۔ چنانچہ نبی کریمﷺ نے اپنی امت سے صرف ایک نبی اللہ کے آنے کی خبر دی ہے۔ جو مسیح موعود ہے اور اس کے سوا قطعاً کسی کا نام نبی اللہ یا رسول اللہ نہیں رکھا جائے گا اور نہ کسی اور نبی کے آنے کی خبر آپﷺ نے دی ہے۔ بلکہ لا نبی بعدی فرماکر اوروں کی نفی کردی اور کھول کر بیان فرمادیا کہ مسیح موعود کے سوا میرے بعد قطعاً کوئی نبی یا رسول نہیں آئے گا۔

(رسالہ تشحیذالاذہان قادیان ماہ مارچ۱۹۱۴ء)

ان اقتباسات کا ماحصل یہ ہے کہ مرزا قادیانی اپنے آپ کو آخری نبی قرار دیتا ہے۔ گویا مرزا قادیانی خاتم النبیین ہے۔ معاذاللہ۔

قادیانی تحریفات

آیت نمبر۱…یٰبنی آدم امّا یأتینکم

قادیانی کہتے ہیں کہ:یٰبنی آدم اما یاتینکم رسل منکم یقصون علیکم آیاتی فمن اتقیٰ و اصلح فلا خوف علیھم و لا ھم یحزنون(اعراف :۳۵)

یہ آیت آنحضرتﷺ پر نازل ہوئی۔ لہٰذا اس میں حضورﷺ کے بعد آنے والے رسولوں کا ذکر ہے۔ آپﷺ کے بعد بنی آدم کو خطاب ہے۔ لہٰذا جب تک بنی آدم دنیا میں موجود ہیں۔ اس وقت تک نبوت کا سلسلہ جاری ہے۔

جواب۱ …

اس آیت کریمہ سے قبل اسی رکوع میں تین بار یا بنی آدم آیا ہے۔ اور اول یا بنی آدم کا تعلق اھبطوا بعضکم لبعض عدو سے ہے۔ اھبطواکے مخاطب سیدنا آدم علیہ السلام و سیدہ حوا علیہا السلام ہیں۔ لہٰذا اس آیت میں بھی

64

آدم علیہ السلام کے وقت کی اولاد آدم کو مخاطب بنایا گیا ہے۔ پھر زیر بحث آیت نمبر ۳۵ ہے۔ آیت نمبر ۱۰ سے سیدنا آدم علیہ السلام کا ذکر شروع ہے۔ اس تسلسل کے تناظر میں دیکھا جائے تو حقیقت میں یہ خطاب اولین اولاد آدم علیہ السلام کو ہے۔ اس پر قرینہ اس کا سباق ہے۔ تسلسل اور سباق آیات کی صراحتاً دلالت موجود ہے کہ یہاں پر حکایت حال ماضیہ کے طور پر اس کو ذکر کیا گیا ہے۔

جواب۲…

قرآن مجید کے اسلوب بیان سے یہ بات ظاہر ہے کہ آپﷺ کی امت اجابت کویا ایھا الذین آمنوا سے مخاطب کیا جاتا ہے، اور آپﷺ کی امت دعوت کو یا ایھا الناس سے خطاب ہوتا ہے۔ قرآن مجید میں کہیں بھی آپﷺ کی امت کو یا بنی آدم سے خطاب نہیں کیا گیا۔ یہ بھی اس امر کی دلیل ہے کہ آیت بالا میں حکایت ہے، حال ماضیہ کی۔

ضروری وضاحت

ہاں البتہیا بنی آدم کی عمومیت کے حکم میں آپﷺ کی امت کے لئے وہی سابقہ احکام ہوتے ہیں۔ بشرطیکہ وہ منسوخ نہ ہوگئے ہوں۔ اگر وہ منسوخ ہوگئے یا کوئی ایسا حکم جو آپﷺ کی امت کو اس عمومیت میں شمول سے مانع ہو۔ تو پھر آپﷺ کی امت کا اس عموم سے سابقہ نہ ہوگا۔

جواب۳ …

کبھی قادیانی کرم فرمائوں نے یہ بھی سوچا کہ بنی آدم میں تو ہندو، عیسائی، یہودی، سکھ سبھی شامل ہیں۔ کیا ان میں سے نبی پیدا ہوسکتا ہے؟ اگر نہیں تو پھر ان کو اس آیت کے عموم سے کیوں خارج کیا جاتا ہے۔ ثابت ہوا کہ خطاب عام ہونے کے باوجود حالات و واقعات وقرائن کے باعث اس عموم سے کئی چیزیں خارج ہیں۔ پھر بنی آدم میں تو عورتیں، ہیجڑے بھی شامل ہیں۔ تو کیا اس عموم سے ان کو خارج نہ کیا جائے گا؟ اگر یہ کہا جائے کہ عورتیں وغیرہ تو پہلے نبی نہ تھیں۔ اس لئے وہ اب نہیں بن سکتیں۔ تو پھر ہم عرض کریں گے کہ پہلے رسول مستقل آتے تھے۔ اب تم نے رسالت کو اطاعت سے وابستہ کردیا ہے تو اس میں ہیجڑے و عورتیں بھی شامل ہیں۔ لہٰذا مرزائیوں کے نزدیک عورتیں و ہیجڑے بھی نبی ہونے چاہئیں۔

جواب۴…

اگر یا بنی آدم اما یاتینکم رسل سے رسولوں کے آنے کا

65

وعدہ ہے تو اما یاتینکم منی ھدی میں وہی یاتینکم ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ نئی شریعت بھی آسکتی ہے۔ تو مرزائیوں کے عقیدہ کے خلاف ہوا۔ کیونکہ ان کے نزدیک تو اب تشریعی نبی نہیں آسکتا۔

جواب۵ …

۱…اماحرف شرط ہے۔ جس کا تحقق ضروری نہیں۔یا تینکممضارع ہے اور ہر مضارع کے لئے استمرار ضروری نہیں۔ جیسا کہ فرمایا:فاما ترین من البشر احدا(مریم: ۲۶)کیا حضرت مریم قیامت تک زندہ رہیں گی اور کسی بشر کو دیکھتی رہیں گی؟ مضارع اگرچہ بعض اوقات استمرار کے لئے آتا ہے۔ مگر استمرار کے لئے قیامت تک رہنا ضروری نہیں۔ جو فعل دوچار دفعہ پایا جائے اس کے لئے مضارع استمرار سے تعبیر کرنا جائز ہے۔ اس کی ایک مثال یہی آیتاما ترین من البشر ہے جو اوپر گزر چکی ۔

۲…انا انزلنا التوراۃ فیھا ھدی و نوریحکم بھا النبیون(مائدہ:۴۴)ظاہر ہے کہ تورات کے موافق حکم کرنے والے گزرچکے۔ آپﷺ کی بعثت کے بعد کسی کو حتیٰ کہ صاحب تورات کو بھی حق حاصل نہیں اس کی تبلیغ کا۔

۳…واوحی الی ھذا القرآن لانذرکم بہ ومن بلغ (انعام:۱۹)چنانچہ حضورﷺ ایک زمانہ تک ڈراتے رہے۔ مگر اب بلاواسطہ آپﷺ کی انذاروتبشیر مسدود ہے۔

۴…و سخرنا مع داؤد الجبال یسبحن والطیر (الانبیا ء:۷۹)تسبیح دائود کی زندگی تک ہی رہی پھر مسدود ہوگئی۔ مگر ہر جگہ صیغہ مضارع کا ہے۔

جواب۶…

۱…اما یاتینکم منی ھدی (بقرہ۳۸)

۲…واما ینسینک الشیطان فلا تقعد بعدالذکریٰ مع القوم الظالمین (انعام:۶۸)

۳… فاما تثقفنھم فی الحرب فشرد بھم من خلفھم لعلھم یذکرون (انفال: ۵۷)

66

۴… واما نرینک بعض الذی نعدھم اونتوفینک فالینا مرجعھم (یونس: ۴۶)

۵… اما یبلغن عندک الکبر احدھما اوکلاھما فلا تقل لھما اف ولا تنھر ھما

(بنی اسرائیل:۲۳)

۶…فاما ترین من البشر احدا فقولی انی نذرت للرحمن صوما (مریم:۲۶)

۷… اما ترینی مایوعدون رب فلا تجعلنی فی القوم الظالمین (مومنون:۹۳)

۸… و اما ینزغنک من الشیطان نزغ فاستعذ باللہ (اعراف:۲۰۰)

۹… فاما نذھبن بک فانا منھم منتقمون (زخرف:۴۱)

ان تمام آیات میں نون ثقیلہ مضارع ہونے کے باوجود قادیانیوںکو بھی تسلیم ہے کہ ان آیات میں استمرار نہیں۔ بلکہ حکایت حال ماضی کا بیان ہے۔

جواب۷ … درمنثور ج ۳ ص ۸۲ میں زیر بحث آیت ہذا لکھا ہے:یا بنی آدم اما یاتینکم رسل منکم الآیۃ اخرج ابن جریر عن ابی یسار السلمی فقال ان اللہ تبارک و تعالی جعل آدم و ذریتہ فی کفہ فقال یا بنی آدم اما یاتینکم رسل منکم یقصون علیکم آیاتی۰ ثم نظر الی الرسل فقال یا ایھا الرسل کلوا من الطیبات واعملوا صالحا

ابی یسار سلمی سے روایت ہے کہ اللہ رب العزت نے سیدنا آدم علیہ السلام اور ان کی جملہ اولاد کو (اپنی قدرت و رحمت کی) مٹھی میں لیا اور فرمایا:یا بنی آدم اما یاتینکم رسل منکم … الخ پھر نظر (رحمت) رسولوں پر ڈالی تو ان کو فرمایا کہ یا ایھا الرسل … الخ غرض یہ کہ عالم ارواح کے واقعہ کی حکایت ہے۔

جواب۸…بالفرض والتقدیر اگر اس آیت کو اجرائے نبوت کا مستدل مان بھی لیا جائے۔ تب بھی مرزا غلام احمد قادیانی قیامت کی صبح تک نبی قرار نہیں دیا جاسکتا۔ کیونکہ وہ بقول خود آدم کی اولاد ہی نہیں، اور یہ آیت تو صرف بنی آدم سے متعلق ہے۔ مرزانے خود اپنا تعارف بایں الفاظ کرایا ہے ، ملاحظہ فرمایئے:

67

کرم خاکی ہوں میرے پیارے نہ آدم زاد ہوں

ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار

(براہین احمدیہ حصہ پنجم،خزائن ص ۱۲۷ ج۲۱)

آیت نمبر ۲…من یطع اللہ والرسول

ومن یطع اللہ والرسول فاولئک مع الذین انعم اللہ علیھم من النبیین والصدیقین والشھداء والصالحین وحسن اولئک رفیقا(نساء :۶۹)

قادیانی کہتے ہیں کہ جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کریں وہ نبی ہوں گے۔ صدیق ہوں گے۔ شہید ہوں گے۔ صالح ہوں گے۔ اس آیت میں چار درجات کے ملنے کا ذکر ہے۔ اگر انسان صدیق، شہید، صالح بن سکتا ہے تو نبی کیوں نہیں بن سکتا؟ تین درجوں کو جاری ماننا۔ ایک کو بند ماننا۔ تحریف نہیں تو اور کیا ہے؟ اگر صرف معیت مراد ہو تو کیا حضرت صدیق اکبرؓ، حضرت فاروق اعظمؒ صدیقوں اور شہیدوں کے ساتھ ہوں گے۔ خود صدیق اور شہید نہ تھے؟

جواب۱… آیت مبارکہ میں درجات ملنے کا ذکر نہیں۔ بلکہ جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول حضرت محمدﷺ کی اطاعت کرے۔ وہ آخرت میں انبیاء، صدیقوں، شہیدوں اور صالحین کے ساتھ ہوگا۔ جیسا کہ آیت کے آخری الفاظ وحسن اولئک رفیقا ظاہر کرتے ہیں۔

جواب۲… یہاں معیت ہے۔ عینیت نہیں ہے۔ معیت فی الدنیا ہر مومن کو حاصل نہیں۔ اس لئے اس سے مراد معیت فی ا لآخرۃ ہی ہے۔ چنانچہ مرزائیوں کے مسلمہ دسویں صدی کے مجدد امام جلال الدینؒ نے اپنی تفسیر جلالین شریف میں اس آیت کا شان نزول لکھا ہے:

قال بعض الصحابۃ للنبیﷺ کیف نرٰک فی الجنۃ وانت فی الدرجات العلیٰ۰ ونحن اسفل منک فنزل ومن یطع اللہ والرسول … وحسن اؤلئک رفیقا۰ رفقاء فی الجنۃ بان یستمتع فیھا برؤیتھم وزیارتھم والحضور معھم وان کان مقرھم فی درجات عالیۃ بالنسبۃ الی غیرھم

(جلالین ص ۸۰)

بعض صحابہ کرامؓ نے آنحضرتﷺ سے عرض کیا کہ آپﷺ جنت کے بلند و بالا مقامات پر ہوں گے اور ہم جنت کے نچلے درجات پر ہوں گے۔ تو آپﷺ کی زیارت کیسے

68

ہوگی؟۔ پس یہ آیت نازل ہوئی من یطع اللہ والرسول … الخ(آگے فرماتے ہیں) یہاں رفاقت سے مراد جنت کی رفاقت ہے کہ صحابہ کرامؓ انبیاء علیہم السلام کی زیارت و حاضری سے فیضیاب ہوں گے۔ اگرچہ ان (انبیاء) کا ٹھکانہ دوسروں کی نسبت بلند مقام پر ہوگا۔

اسی طرح تفسیر کبیر ص ۱۷۰ ج ۱۰ میں ہے:

من یطع اللہ والرسول ذکروا فی سبب النزول وجوھا۔ الا ول روی جمع من المفسرین ان ثوبان مولی رسول اللہﷺ کان شدید الحب لرسول اللہﷺ قلیل الصبرعنہ فاتاہ یوما وقد تغیر وجھہ ونحل جسمہ وعرف الحزن فی وجھہ فسالہ رسول اللہﷺ عن حالہ فقال یارسول اللہ مابی وجع غیرانی اذالم ارک اشتقت الیک واستو حشت وحشۃً شدیدۃ ً حتی القاک فذکرت الاخرۃ فخفت ان لااراک ھناک لانی ان ادخلت الجنۃ فانت تکون فی درجات النبیین وانا فی درجۃ العبید فلا اراک وان انالم ادخل الجنۃ فحینئذ لااراک ابدا فنزلت ھذہ الایۃ

ترجمہ:من یطع اللہ … الخ(اس آیت) کے شان نزول کے کئی اسباب مفسرین نے ذکر کئے ہیں۔ ان میں پہلا یہ ہے کہ حضرت ثوبانؓ جو آنحضرتﷺ کے آزاد کردہ غلام تھے۔ وہ آپﷺ کے بہت زیادہ شیدائی تھے (جدائی پر) صبر نہ کرسکتے تھے۔ ایک دن غمگین صورت بنائے آنحضرتﷺ کے پاس آئے۔ ان کے چہرہ پر حزن و ملال کے اثرات تھے۔ آپﷺ نے وجہ دریافت فرمائی۔ تو انہوں نے عرض کیا کہ مجھے کوئی تکلیف نہیں۔ بس اتنا ہے کہ آپﷺ کو نہ دیکھوں تو اشتیاق ملاقات میں بے قراری بڑھ جاتی ہے۔ یہاں تک کہ آپﷺ کی زیارت ہو تو مجھے آخرت کا خیال آکر یہ خوف لاحق ہے کہ وہاں میں آپﷺ کو نہ دیکھ سکوں گا۔ چونکہ مجھے جنت میں داخلہ ملا بھی تو آپﷺ تو انبیاء کے درجات میں بلند ترین مقام پر فائز ہوں گے، اور ہم آپﷺ کے غلاموں کے درجہ میں، اور اگر جنت میں سرے سے میرا داخلہ ہی نہ ہوا تو پھر ہمیشہ کے لئے ملاقات سے گئے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔

معلوم ہوا کہ اس معیت سے مراد جنت کی رفاقت ہے۔ ابن کثیر، تنویر المقیاس، روح البیان میں بھی تقریباً یہی مضمون ہے:

69

حدیث: ’’قال رسول ﷲ ﷺ التاجر الصدوق الامین مع النبیین والصدیقین والشہداء‘‘

(منتخب کنزالعمال ج۴ ص۷ حدیث ۹۲۱۷ ؍ابن کثیر ص ۵۲۳ ج ۱ طبع مصر)

ترجمہ: ’’آپﷺ نے فرمایا کہ سچا تاجر امانت دار (قیامت کے دن) نبیوں صدیقوں اور شہداء کے ساتھ ہوگا۔‘‘

اگر معیت سے درجہ ملنا ثابت ہے تو مرزائی بتائیں کہ اس زمانہ میں کتنے امین و صادق تاجر نبی ہوئے ہیں؟

’’عن عائشۃ قالت سمعت رسول ﷲ ﷺ یقول مامن نبی یمرض الا خیربین الدنیا والآخرۃ وکان فی شکواہ الذی قبض اخذتہ بحۃ شدیدۃٌ فسمعتہ یقول مع الذین انعمت علیھم من النبیین… فعلمت انہ خیر‘‘

(مشکوٰۃ ص ۵۴۷ ج۲، ابن کثیر ص ۵۲۲ ج۱)

ترجمہ: ’’حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ میں نے آپﷺ سے سنا آپﷺ فرماتے تھے کہ ہر نبی، مرض (وفات) میں اسے اختیار دیا جاتا ہے کہ وہ دنیا میں رہنا چاہتا ہے یا عالم آخرت میں۔ جس مرض میں آپﷺ کی وفات ہوئی۔ آپﷺ کو شدید کھانسی ہوئی۔ آپﷺ اس مرض میں فرماتے تھے: مع الذین انعمت علیھم من النبیین ا س سے میں سمجھ گئی کہ آپﷺ کو بھی دنیا و آخرت میں سے ایک کا اختیار دیا جارہا ہے۔‘‘

معلوم ہوا کہ اس آیت میں نبی بننے کا ذکر نہیں۔ کیونکہ نبی تو پہلے بن چکے تھے۔ آپﷺ کی تمنا آخرت کی معیت کے متعلق تھی۔

درجات کے ملنے کا تذکرہ

قرآن کریم میں جہاں دنیا میں ایمان والوں کو درجات ملنے کا ذکر ہے۔ وہاں نبوت کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ اگرچہ باقی تمام درجات کا ملنا مذکور ہے، مثلاً:

۱… ’’والذین آمنوا بﷲ ورسلہ اولئک ھم الصدیقون والشھداء عندربھم (الحدید:۱۹)‘‘

ترجمہ:’’اور جو لوگ یقین لائے ﷲ پر اور اس کے سب رسولوں پر۔ وہی ہیں سچے ایمان والے اور لوگوں کا احوال بتلانے والے اپنے رب کے پاس۔‘‘

70

۲… ’’والذین آمنوا وعملوا الصالحات لندخلنھم فی الصالحین (عنکبوت: ۹)‘‘

ترجمہ: ’’اور جو لوگ یقین لائے اور بھلے کام کئے۔ ہم ان کو داخل کریں گے نیک لوگوں میں۔‘‘

۳… سورۃ حجرات کے آخر میں : مجاہدین فی سبیل ﷲ کو فرمایا اولئک ھم الصادقون

ان آیات میں صدیق، صالح وغیرہ درجات ملنے کا ذکر ہے۔ مگر نبوت کا ذکر نہیں۔ غرض جہاں درجات حاصل کرنے کا ذکر ہے۔ وہاں نبوت کا ذکر نہیں۔ جہاں نبوت کا ذکر ہے۔ وہاں درجات ملنے کا ذکر نہیں۔ بلکہ صرف معیت مراد ہے۔

جواب۳… کیا تیرہ سو سال میں کسی نے حضورﷺ کی پیروی کی ہے یا نہ؟ اگر اطاعت اور پیروی کی ہے تو نبی کیوں نہ بنے؟ اور اگر کسی نے بھی اطاعت وپیروی نہیں کی تو آپﷺ کی امت خیرامت نہ ہوئی۔ بلکہ شرامت ہوگی۔( نعوذبﷲ) جس میں کسی نے بھی اپنے نبی کی کامل پیروی نہ کی۔ حالانکہ ﷲ تعالیٰ نے سورئہ توبہ میں صحابہ کرامؓ کے متعلق خود شہادت دے دی ہے کہ : یطیعون ﷲ و رسولہ(توبہ: ۷۱) یعنی رسول ﷲ ﷺ کے صحابہ کرامؓ ﷲ اور اس کے رسول کی کامل اطاعت کرتے ہیں۔ بتائو! وہ نبی کیوں نہ ہوئے؟ اس لئے کہ اگر اطاعت کاملہ کا نتیجہ نبوت ہے تو اکابر صحابہ کرامؓ کو یہ منصب ضرور حاصل ہوتا۔ جنہیں رضی ﷲ عنھم ورضوا عنہ کا خطاب ملا اور یہی رضائے الٰہی سب سے بڑی نعمت ہے۔ چنانچہ فرمایا کہ: رضوان من ﷲ اکبر(توبہ:۷۲)‘

جواب۴… اگر بفرض محال پانچ منٹ کے لئے تسلیم کرلیں کہ ﷲ اور اس کے رسولa کی اطاعت میں نبوت ملتی ہے۔ تو اس آیت میں تشریعی اور غیر تشریعی کی کوئی تخصیص نہیں ہے۔ تم غیر تشریعی کی تخصیص کیوں کرتے ہو؟ اگر اس آیت میں نبوت ملنے کا ذکر ہے تو آیت میں النبیین ہے۔ المرسلین نہیں، اور نبی غیر تشریعی اور رسول تشریعی کو کہا جاتا ہے۔ جیسا کہ نبی و رسول کے فرق سے واضح ہے۔ تو اس لحاظ سے پھر تشریعی نبی آنے چاہئیں۔ یہ تو تمہارے عقیدہ کے بھی خلاف ہوا۔ مرزا کہتا ہے:

71

اب میں بموجب آیت کریمہ و اما بنعمت ربک فحدث اپنی نسبت بیان کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے مجھے اس تیسرے درجہ میں داخل کرکے وہ نعمت بخشی ہے کہ جو میری کوشش سے نہیں۔ بلکہ شکم مادر میں ہی مجھے عطا کی گئی۔

(حقیقت الوحی ص ۶۷، خزائن ص ۷۰ ج ۲۲)

اس حوالہ سے تو ثابت ہوا کہ مرزاقادیانی کو آنحضرت ﷺ کی ابتاع سے نہیں۔ بلکہ وہبی طور پر نبوت ملی۔ تو پھر اس آیت سے مرزائیوں کا استدلال باطل ہوا۔

جواب۵… اگر اطاعت کرنے سے نبوت ملتی ہے تو نبوت کسبی چیز ہوئی۔ حالانکہ ﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﷲ اعلم حیث یجعل رسالتہ نبوت وہبی چیز ہے ۔جو اسے کسبی مانے وہ کافر ہے۔

نبوت وہبی چیز ہے

۱… علامہ شعرانی ؒ الیواقیت والجواہر میں تحریر فرماتے ہیں:

فان قلت فھل النبوۃ مکتسبۃ او موھوبۃ فالجواب لیست النبوۃ مکتسبۃ حتی یتوصل الیھا بالنسک و الریاضات کما ظنہ جماعۃ من الحمقاء … و قد افتی المالکیۃ و غیرھم بکفر من قال ان النبوۃ مکتسبۃ

(الیواقیت والجواہر ص ۱۶۴،۱۶۵ ج ۱)

ترجمہ: ’’کہ کیا نبوت کسبی ہے یا وہبی؟ تو اس کا جواب ہے کہ نبوت کسبی نہیں ہے کہ درویشی اختیار کرنے یا محنت و کاوش سے اس تک پہنچا جائے۔ جیسا کہ بعض احمقوں (مثلاً قادیانی فرقہ …از مترجم) کا خیال ہے۔ مالکیہ وغیرہ نے کسبی کہنے والوں پر کفر کا فتویٰ دیا ہے۔‘‘

۲… قاضی عیاضؒ شفاء میں لکھتے ہیں:

من ادعی نبوۃ احد مع نبینا ﷺ اوبعدہ … اومن ادعی النبوۃ لنفسہ او جوأز اکتسابھا۰ و البلوغ بصفاء القلب الی مرتبتھا الخ وکذالک من ادعی منھم انہ یوحیٰ الیہ وان لم یدع النبوۃ… فھولاء کلھم کفار مکذبون للنبیﷺ لانہ اخبرﷺ انہ خاتم النبیین لانبی بعدہ

(شفاء ص ۲۴۶‘ ۲۴۷ ج ۲)

ترجمہ: ’’ہمارے نبیﷺ کی موجودگی یا آپﷺ کے بعد جو کوئی کسبی نبوت کا قائل ہو۔ یا اس نے خود اپنے نبی ہونے کا دعویٰ کیا۔ یا پھر دل کی صفائی کی بناء پر اپنے کسب کے ذریعہ

72

نبوت کے حصول کے جواز کاقائل ہوا۔ یا پھر اپنے پر وحی کے اترنے کو کہا۔ اگرچہ نبوت کا دعویٰ نہ کیا۔ تو یہ سب قسم کے لوگ نبیﷺ کے دعویٰ… ’’انا خاتم النبیین‘‘… کی تکذیب کرنے والے ہوئے اور کافر ٹھہرے۔

ان دونوں روشن حوالوں سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوگئی کہ نبوت کے کسبی ہونے کا عقیدئہ رکھنا اپنے اندر تکذیب خدا اور رسول کا عنصر رکھتا ہے، اور ایسے عقیدہ کا رکھنے والا مالکیہ و دیگر علماء کے نزدیک قابل گردن زدنی اور کافر ہے۔

جواب۶… اگر نبوت ملنے کے لئے اطاعت و تابعداری شرط ہے تو غلام احمد قادیانی پھر بھی نبی نہیں ہے، کیونکہ اس نے نبی کریم ﷺ کی کامل تابعداری نہیں کی جیسے: (۱) مرزا نے حج نہیں کیا۔ (۲) مرزا نے ہجرت نہیں کی۔(۳)مرزا نے جہاد بالسیف نہیں کیا۔ بلکہ الٹا اس کو حرام کہا۔ (۴)مرزا نے کبھی پیٹ پر پتھر نہیں باندھے۔ (۵)ہندوستان کے قحبہ خانوں میں زنا ہوتا رہا۔ مگر مرزا غلام احمد نے کسی زانیہ یا زانی کو سنگسار نہیں کرایا۔ (۶) ہندوستان میں چوریاں ہوا کرتی تھیں۔ مگر مرزا قادیانی نے کسی چور کے ہاتھ نہیں کٹوائے۔

جواب۷… نیز مع کا معنی ساتھ کے ہیں۔ جیسے: ان ﷲ معنا۰ ان ﷲ مع المتقین۰ ان ﷲ مع الذین اتقوا۰ محمد رسول ﷲ والذین معہ۰ ان ﷲ مع الصابرین نیز اگر نبی کی معیت سے نبی ہوسکتا ہے تو خدا کی معیت سے خدا بھی ہوسکتا ہے؟۔ العیاذبﷲ۔

جواب۸… یہ دلیل قرآن کریم کی آیت سے ماخوذ ہے۔ اس لئے مرزائی اپنے استدلال کی تائید میں کسی مفسر یا مجدد کا قول پیش کریں۔ بغیر اس تائید کے ان کا استدلال مردود اور من گھڑت ہے۔ اس لئے کہ مرزا نے لکھا ہے:

جو شخص ان (مجددین) کا منکر ہے۔ وہ فاسقوں میں سے ہے۔

(شہادۃ القرآن ص ۴۸، خزائن ص ۳۴۴ ج۶)

جواب۹… اگر مرزائیوں کے بقول اطاعت سے نبوت وغیرہ درجات حاصل ہوتے ہیں۔ تو ہمارا یہ سوال ہوگا کہ یہ درجے حقیقی ہیں یا ظلی وبروزی؟ اگر نبوت کا ظلی بروزی درجہ حاصل ہوتا ہے۔ جیسا کہ مرزائیوں کا عقیدہ ہے تو صدیق، شہید اور صالح بھی ظلی وبروزی ہونے

73

چاہئیں۔ حالانکہ ان کے بارے میں کوئی ظلی و بروزی ہونے کا قائل نہیں، اور اگر صدیق وغیرہ میں حقیقی درجہ ہے تو پھر نبوت بھی حقیقی ہی ماننا چاہئے۔ حالانکہ تشریعی اور مستقل نبوت کا ملنا خود مرزائیوں کو بھی تسلیم نہیں ہے۔ اس لئے یہ دلیل مرزائیوں کے دعویٰ کے مطابق نہ ہوگی۔

آیت نمبر۳… وآخرین منھم لما یلحقوابھم

طائفہ قادیانیہ چونکہ ختم نبوت کا منکر ہے۔ اس لئے قرآن مجید کی تحریف کرتے ہوئے آیت: ھوالذی بعث فی الامیین رسولا منھم یتلوا علیھم آیاتہ ویزکیھم ویعلمھم الکتاب والحکمۃ وان کانوا من قبل لفی ضلال مبین واٰخرین منھم لما یلحقوابھم (جمعہ: ۲،۳) کو بھی ختم نبوت کی نفی کے لئے پیش کردیا کرتے ہیں۔ طریق استدلال یہ بیان کرتے ہیں کہ جیسے امیین میں ایک رسول عربی ﷺ مبعوث ہوئے تھے اس طرح بعد کے لوگوں میں بھی ایک نبی قادیان میں پیدا ہوگا۔ معاذﷲ۔

جواب۱… بیضاوی شریف میں ہے:

وآخرین منھم عطف علی الامیین اوالمنصوب فی یعلمہم وھم الذین جاؤا بعد الصحابۃ الی یوم الدین فان دعوتہ وتعلیمہ یعم الجمیع

آخرین کا عطف امیین یا یعلمھم کی ضمیر پر ہے، اور اس لفظ کے زیادہ کرنے سے آنحضرت ﷺ کی بعثت عامہ کا ذکر کیا گیا ہے کہ آپ ﷺ کی تعلیم و دعوت صحابہؓ اور ان کے بعد قیامت کی صبح تک کے لئے عام ہے۔

خود آنحضرت ﷺ بھی فرماتے ہیں: انا نبی من ادرک حیا و من یولد بعدی صرف موجود ین کے لئے نہیں بلکہ ساری انسانیت اور ہمیشہ کے لئے ہادیa برحق ہوں۔

جواب۲… القرآن یفسر بعضہ بعضاً کے تحت دیکھیں تو یہ آیت کریمہ دعائے خلیل کا جواب ہے۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے بیت ﷲ کی تعمیر کی تکمیل پر دعا فرمائی تھی: ربنا وابعث فیھم رسولا منھم یتلوا علیھم آیتک ویعلمھم الکتاب والحکمۃ ویزکیھم (بقرہ:۱۲۹)

زیر بحث آیت میں اس دعا کی اجابت کا ذکر ہے کہ دعائے خلیل کے نتیجہ میں وہ رسول

74

معظم ان امیوں میں مبعوث ہوئے۔ لیکن صرف انہیں کے لئے نہیں بلکہ جمیع انسانیت کے لئے جو موجود ہیں ان کے لئے بھی جو ابھی موجود نہیں لیکن آئیں گے قیامت تک۔ سبھی کے لئے آپ ﷺ ہادی برحق ہیں۔ جیسے ارشاد باری تعالیٰ ہے: یا ایھاالناس انی رسول ﷲ الیکم جمیعا (اعراف: ۱۵۸) یاآپ ﷺ کا فرمانا: ارسلت الی الخلق کافۃ لہٰذا مرزا قادیانی دجال قادیان اور اس کے چیلوں کا اس کو حضور ﷺ کی دو بعثتیں قرار دینا یا نئے رسول کے مبعوث ہونے کی دلیل بنانا سراسر دجالیت ہے۔ پس آیت کریمہ کی رو سے مبعوث واحد ہے اور مبعوث الیھم موجود و غائب سب کے لئے بعثت عامہ ہے۔

جواب۴… رسولاً پر عطف کرنا صحیح نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ جو قید معطوف علیہ میں مقدم ہوتی ہے۔ اس کی رعایت معطوف میں بھی ضروری ہے۔ چونکہ رسولاً معطوف علیہ ہے۔ فی الامیین مقدم ہے۔ اس لئے فی الامیین کی رعایت وآخرین منھم میں بھی کرنی پڑے گی۔ پھر اس وقت یہ معنی ہوں گے کہ امیین میں اور رسول بھی آئیں گے۔ کیونکہ امیین سے مراد عرب ہیں۔ جیسا کہ صاحب بیضاوی نے لکھا ہے: فی الامیین ای فی العرب لان اکثرھم لایکتبون ولا یقرؤن اور لفظ منھم کا بھی یہی تقاضا ہے جب کہ مرزا عرب نہیں تو مرزائیوں کے لئے سوائے دجل و کذب میں اضافہ کے استدلال باطل سے کوئی فائدہ نہ ہوا۔

جواب۵… قرآن مجید کی اس آیت میں بعث کا لفظ ماضی کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ اگر رسولاً پر عطف کریں تو پھر بعث مضارع کے معنوں میں لینا پڑے گا۔ ایک ہی وقت میں ماضی اور مضارع دونوں کا ارادہ کرنا ممتنع ہے۔

جواب۶… اب آیئے دیکھئے کہ مفسرین حضرات جو (قادیانی دجال سے قبل کے زمانہ کے ہیں) اس آیت کی تفسیر میں کیا ارشاد فرماتے ہیں:

قال المفسرون ھم الا عاجم یعنون بہم غیر العرب ای طائفہ کانت قالہ ابن عباس وجماعۃ وقال مقاتل یعنی التابعین من ھذہ الامۃ الذین لم یلحقوا باوائلھم وفی الجملہ معنی جمیع الا قوال فیہ کل من دخل فی الاسلام بعد النبی ﷺ الی یوم القیامۃ فالمراد بالامیین العرب وبالآخرین سواھم من الامم

(تفسیر کبیر ص۴ جز۳۰ مطبع مصر)

75

(یعنی آپ ﷺ عرب و عجم کے لئے معلم و مربی ہیں) مفسرین کہتے ہیں کہ اس سے مراد عجمی ہیں۔ عرب کے ماسواء کوئی طبقہ ہو یہ حضرت ابن عباس کا قول ہے اور مقاتل کہتے ہیں کہ تابعین مراد ہیں۔ سب اقوال کا حاصل یہ ہے کہ امیین سے عرب مراد ہیں، اور آخرین سے سوائے عرب کے سب قومیں جو حضور ﷺ کے بعد قیامت تک اسلام میں داخل ہوں گے۔ وہ سب مراد ہیں۔

وھم الذین جاؤا بعد الصحابۃ الی یوم الدین

(تفسیر ابوسعود ج۴ جز ۸ ص ۲۴۷)

آخرین سے مراد وہ لوگ ہیں جو صحابہؓ کے بعد قیامت تک آئیں گے۔ (ان سب کے لئے حضور ﷺ ہی نبی ہیں۔)

ھم الذین یأتون من بعدھم الی یوم القیامۃ

(کشاف ص ۵۳۰ ج۴)

جواب۷… بخاری شریف ص ۷۲۷ ج۲ ،مسلم شریف ص ۳۱۲ ج۲، ترمذی شریف ص ۲۳۲ ج۲، مشکوٰۃ شریف ص ۵۷۶ پر ہے:

عن ابی ہریرۃؓ قال کنا جلوسا عند النبی ﷺ فانزلت سورۃ الجمعۃ وآخرین منھم لما یلحقوا بھم قال قلت من ھم یا رسول ﷲ فلم یراجعہ حتی سال ثلثا وفینا سلمان الفارسی وضع رسول ﷲ ﷺ یدہ علی سلمان ثم قال لوکان الایمان عندالثریا لنالہ رجال او رجل من ھؤلاء

ترجمہ: ’’حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں ہم نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے کہ آپ ﷺ پر سورئہ جمعہ نازل ہوئی وآخرین منھم لما یلحقوابھم و میں نے عرض کی یارسول ﷲ!وہ کون ہیں؟ آپ ﷺ نے خاموشی فرمائی۔ حتیٰ کہ تیسری بار سوال عرض کرنے پر آپ ﷺ نے ہم میں بیٹھے ہوئے سلمان فارسیؓ پر ہاتھ رکھ دیا اور فرمایا اگر ایمان ثریا پر ہوتا تو یہ لوگ (اہل فارس) اس کو پالیتے۔ رجال یا رجل کے لفظ میں راوی کو شک ہے۔ مگر اگلی روایت میں رجال کو متعین کردیا۔

یعنی عجم یا فارس کی ایک جماعت کثیرہ جو ایمان کو تقویت دے گی اور امور ایمانیہ میں اعلیٰ مرتبہ پر ہوگی۔ عجم و فارس میں بڑے بڑے محدثین، علماء، مشائخ ،فقہا، مفسرین، مقتداء،

76

مجددین و صوفیا، اسلام کے لئے باعث تقویت بنے آخرین منھم لما یلحقوابھم سے وہ مراد ہیں۔ ابوہریرہؓ سے لے کر ابو حنیفہؒ تک سبھی اسی رسول ہاشمی ﷺ کے دراقدس کے دریوزہ گرہیں۔ حاضر و غائب۔ امیین و آخرین سب ہی کے لئے آپ ﷺ کا دراقدس وا ہے۔ آئے جس کا جی چاہے۔ اس حدیث نے متعین کردیا کہ آپ ﷺ کی نبوت عامہ و تامہ و کافہ ہے۔ موجود و غائب عرب و عجم سب ہی کے لئے آپ ﷺ معلم و مزکی ہیں۔ اب فرمایئے کہ آپ ﷺ کی بعثت عامہ کا ذکر مبارک ہے یا کسی اور نئے نبی کے آنے کی بشارت؟ ایسا خیال کرنا باطل و بے دلیل دعویٰ ہے۔

آیت نمبر۴… وبالآخرۃ ھم یوقنون

قادیانی اجرائے نبوت کی دلیل میں یہ آیت پیش کرتے ہیں کہ: وبالآخرۃ ھم یوقنون (بقرہ:۴) (یعنی وہ پچھلی وحی پر ایمان لاتے ہیں)

جواب ۱… اس جگہ آخرت سے مراد قیامت ہے۔ جیسا کہ دوسری جگہ صراحتاً فرمایا گیا: وان الدار الآخرۃ لھیی الحیوان (عنکبوت:۶۴) آخری زندگی ہی اصل زندگی ہے: خسرالدنیا والآخرۃ(حج:۱۱) دنیا و آخرت میں خائب و خاسر: و لاجر الآخرۃ اکبر لو کانوا یعلمون (النحل:۴۱) ا لحاصل قرآن مجید میں لفظ آخرت پچاس سے زائد مرتبہ استعمال ہوا ہے اور ہر جگہ مراد جزا اور سزا کا دن ہے۔ حضرت ابن عباسؓ سے تفسیر ابن جریر ص ۱۰۶ جلد۱، درمنثور جلد اول ص ۲۷ پر ہے:عن ابن عباس (وبالآخرۃ )ای بالبعث والقیامۃ والجنۃ والنار والحساب والمیزان غرض جہاں کہیں قرآن مجید میں آخرت کا لفظ آیا ہے۔ اس سے قیامت کا دن مراد ہے۔ نہ کہ پچھلی وحی۔

جواب۲… مرزا قادیانی کہتا ہے:

طالب نجات وہ ہے جو خاتم النبیین پیغمبر آخرالزماں پر جو کچھ اتارا گیا ہے ایمان لائے و بالآخرۃ ھم یوقنون اور طالب نجات وہ ہے جو پچھلی آنے والی گھڑی۔ یعنی قیامت پر یقین رکھے اور جزا اور سزا مانتا ہو۔

(الحکم نمبر ۳۴،۳۵ ج۸، ۱۰/اکتوبر ۱۹۰۴ء دیکھو خزینۃ العرفان ص ۷۸ ج۱ ،از مرزا قادیانی)

اسی طرح دیکھو الحکم نمبر۲ ج۱۰، ۱۷ جنوری ۱۹۰۶ء ص ۵ کالم نمبر۲،۳۔ اس میں مرزا

77

قادیانی نے:

قادیانی نے: و بالآخرۃ ھم یوقنون کا ترجمہ: ’’اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔کیا ہے۔ اور پھر لکھتا ہے: ’’قیامت پر یقین رکھتا ہوں۔

تفسیر از حکیم نورالدین خلیفہ قادیان:’’اور آخرت کی گھڑی پر یقین کرتے ہیں۔

(ضمیمہ بدر ج۸ نمبر ۱۵ ‘ص۳‘ مورخہ ۴؍فروری ۱۹۰۹ء)

لہٰذا مرزائیوں کا: وبالآخرۃ ھم یوقنون کا معنی آخری وحی کرنا جہاں تحریف وزندقہ ہے۔ وہاں قادیانی اکابر کی تصریحات کے بھی خلاف ہے۔

جواب۳… قادیانی علم و معرفت سے معریٰ ہوتے ہیں۔ کیونکہ خود مرزا قادیانی بھی محض جاہل تھا۔ اسے بھی تذکیر و تانیث واحد و جمع کی کوئی تمیز نہ تھی۔ ایسے ہی یہاں بھی ہے کہ الآخرۃ تو مؤنث ہے۔ جبکہ لفظ وحی مذکر ہے۔ اس کی صفت مونث کیسے ہوگی؟ دیکھئے قرآن مجید میں ہے: ان الدارالآخرۃ لھی الحیوان دیکھئے دارالآخرۃ مونث واقع ہوا ہے۔ اس لئے لھیی کی مونث ضمیر آئی ہے اور لفظ وحی کے لئے مذکر کا صیغہ استعمال ہونا چاہئے۔ تو پھر کوئی سرپھرا ہی الآخرۃ کو آخری وحی قرار دے سکتا ہے؟۔

آیت نمبر۵… وجعلنا فی ذریتہ النبوۃ

قادیانی کہتے ہیں کہ: وجعلنا فی ذریتہ النبوۃ والکتاب (عنکبوت :۲۷) یعنی ہم نے اس ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں نبوت اور کتاب رکھی۔ اس سے معلوم ہوا کہ جب تک ابراہیم کی اولاد ہے۔ اس وقت تک نبوت جاری ہے۔

جواب۱… اگر اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ نبوت جاری ہے تو کتاب کا نزول بھی جاری معلوم ہوتا ہے۔ حالانکہ یہ بات قادیانیوں کے نزدیک باطل ہے۔ جو دلیل کتاب کے جاری ہونے سے مانع ہے۔ وہی اجرائے نبوت سے مانع ہے۔

جواب۲… وجعلنا کا فاعل باری تعالیٰ ہیں۔ تو گویا نبوت وہبی ہوئی۔ حالانکہ قادیانی وہبی کی بجائے اب کسبی۔ یعنی اطاعت والی کو جاری مانتے ہیں۔ تو گویا کئی لحاظ سے یہ قادیانی اعتراض خود قادیانی عقائد و مستدلات کے خلاف ہے۔

احادیث پر قادیانی اعتراضات کے جوابات

(۱)… لو عاش ابراہیم

و لو عاش (ابراہیم) لکان صدیقاً نبیا اس سے قادیانی استدلال

78

کرتے ہیں کہ اگر حضور ﷺ کے بیٹے حضرت ابراہیم زندہ رہتے تو نبی بنتے۔ بوجہ وفات کے حضرت ابراہیم نبی نہیں بن سکے۔ ورنہ نبی بننے کا امکان تو تھا۔

جواب۱… یہ روایت جس کو قادیانی اپنے استدلال میں پیش کرتے ہیں۔ سنن ابن ماجہ باب ماجاء فی الصلوٰۃ علی ابن رسول ﷲ ﷺ و ذکروفاتہ میں ہے۔ روایت کے الفاظ یہ ہیں:

عن ابن عباسؓ لمامات ابراہیم بن رسول ﷲ ﷺ صلی رسول ﷲ ﷺ وقال ان لہ مرضعاً فی الجنۃولوعاش لکان صدیقاً نبیا ولو عاش لعتقت اخوالہ القبط وما استرق قبطی

(ابن ماجہ ص ۱۰۸)

ترجمہ: ’’حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ جب آپ ﷺ کے صاحبزادے ابراہیم کا انتقال ہوا تو آپ ﷺ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی اور فرمایاکہ اس کے لئے دودھ پلانے والی جنت میں (مقرر کردی گئی) ہے اور اگر ابراہیم زندہ رہتے تو یقینا نبی ہوتے اور اگر وہ زندہ رہتے تو اس کے قبطی ماموں آزاد کردیتا اور کوئی قبطی قیدی نہ ہوتا۔‘‘

۱… اس روایت کی صحت پر شاہ عبدالغنی مجددیؒ نے انجاح الحاجہ علی ابن ماجہ میں کلام کیا ہے: وقد تکلم بعض الناس فی صحۃ ھذا الحدیث کما ذکر السید جمال الدین المحدث فی روضۃ الاحباب

(انجاح ص ۱۰۸)

اس حدیث کی صحت میں بعض (محدثین) نے کلام کیا ہے۔ جیسا کہ روضہ احباب میں سید جمال الدین محدث نے ذکر کیا ہے۔

۲… موضوعات کبیر کے ص ۵۸ پر ہے: قال النووی فی تھذیبہ ھذا الحدیث باطل وجسارۃ علی الکلام المغیبات ومجازفۃ وھجوم علی عظیم

ترجمہ: ’’امام نوویؒ نے تہذیب الاسماء واللغات میں فرمایا ہے کہ یہ حدیث باطل ہے۔ غیب کی باتوں پر جسارت ہے۔ بڑی بے تکی بات ہے۔

۳… مدارج النبوۃ ص ۲۶۷ ج ۲ شیخ عبدالحق دہلویؒ فرماتے ہیں کہ یہ

79

حدیث صحت کو نہیں پہنچتی۔ اس کا کوئی اعتبار نہیں۔ اس کی سند میں ابوشیبہ ابراہیم بن عثمان ہے جو ضعیف ہے۔

۴ … ابوشیبہ ابراہیم بن عثمان کے بارہ میں محدثین کی آراء یہ ہیں۔ ثقہ نہیں ہے۔ حضرت امام احمد بن حنبلؒ۔ حضرت امام یحییٰؒ۔ حضرت امام دائودؒ۔

     منکر الحدیث ہے: حضرت امام ترمذیؒ
متروک الحدیث ہے: حضرت امام نسائی
اس کا اعتبار نہیں: حضرت امام جوزجانی ؒ
ضعیف الحدیث ہے: حضرت امام ابوحاتم

ضعیف ہے۔ اس کی حدیث نہ لکھی جائے۔ اس نے حکم سے منکر حدیثیں روایت کی ہیں۔ (تہذیب التہذیب ص ۹۴‘۹۵ج۱) (یاد رہے کہ زیر بحث روایت بھی ابوشیبہ نے حکم سے روایت کی ہے۔)

ایسا راوی جس کے متعلق آپ اکابر امت کی آر اء ملاحظہ فرماچکے ہیں۔ اس کی ایسی ضعیف روایت کو لے کر قادیانی اپنا باطل عقیدئہ ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ حالانکہ ان کو معلوم ہونا چاہئے کہ عقیدہ کے اثبات کے لئے خبرواحد (اگرچہ صحیح بھی کیوں نہ ہو) معتبر نہیں ہوتی۔ چہ جائیکہ کہ عقائد میں ایک ضعیف روایت کا سہارا لیا جائے۔ یہ تو بالکل ’’ڈوبتے کو تنکے کا سہارا‘‘ والی بات ہوگی۔

جواب۲… اور پھر قادیانی دیانت کے دیوالیہ پن کا اندازہ فرمائیں کہ اسی متذکرہ روایت سے قبل حضرت ابن اوفیؓ کی ایک روایت ابن ماجہ نے نقل کی ہے۔ جو صحیح ہے۔ اس لئے کہ امام بخاریؒ نے بھی اپنی صحیح بخاری میں اسے نقل فرمایا ہے۔ جو قادیانی عقیدئہ اجراء نبوت کو بیخ و بن سے اکھیڑ دیتی ہے۔

قال قلت لعبداﷲ ابن ابی اوفیؓ رأیت ابراہیم بن رسول ﷲ ﷺ قال مات وھو صغیر ولو قضی ان یکون بعد محمد ﷺ نبی لعاش ابنہ ابراہیم ولکن لا نبی بعدہ۰ ابن ماجہ باب ماجاء فی الصلوۃ علی ابن رسول ﷲ وذکر وفاتہ

(ص ۱۰۸)

80

ترجمہ: ’’اسماعیل راوی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداﷲ ابن اوفی ؓ سے پوچھا کہ کیا رسول ﷲ ﷺ کے بیٹے ابراہیم کو آپ نے دیکھا تھا؟ عبداﷲ ابن اوفیؓ نے فرمایا کہ وہ (ابراہیم) چھوٹی عمر میں انتقال فرماگئے اور اگر حضور ﷺ کے بعد کسی کو نبی بننا ہوتا۔ تو آپ ﷺ کے بیٹے ابراہیم زندہ رہتے۔ لیکن آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔

یہ وہ روایت ہے جسے اس باب میں ابن ماجہ سب سے پہلے لائے ہیں۔ یہ صحیح ہے۔ اس لئے کہ حضرت امام بخاریؒ نے بھی اپنی صحیح کے باب من سمی باسماء الانبیاء میں اسے مکمل نقل فرمایا۔

(بخاری ج۲ ص ۹۱۴)

اب آپ ملاحظہ فرمائیں کہ یہ صحیح روایت جسے ابن ماجہ متذکرہ باب میں سب سے پہلے لائے اور جس کو امام بخاریؒ نے بھی اپنی صحیح بخاری میں روایت کیا ہے اور مرزا قادیانی نے اپنی کتاب (شہادت القرآن ص ۴۱،خزائن ص ۳۳۷ ج۶) پر ’’بخاری شریف کو اصح الکتب بعد کتاب ﷲ‘‘ تسلیم کیا ہے۔ اگر مرزائیوں میں دیانت نام کی کوئی چیز ہوتی تو اس صحیح بخاری کی روایت کے مقابلہ میں ایک ضعیف اور منکرالحدیث کی روایت کو نہ لیتے۔ مگر مرزائی اور دیانت یہ دو متضاد چیزیں ہیں۔

لیجئے ایک اور روایت۔ انہیں حضرت عبداﷲ بن اوفیؒ سے (مسند احمد ج ۴ ص ۳۵۳) کی ملاحظہ فرمایئے:

حدثنا ابن ابی خالد قال سمعت ابن ابی اوفیؒ یقول لو کان بعدالنبی ﷺ نبی مامات ابنہ ابراہیم

ابن ابی خالد فرماتے ہیں کہ میں نے ابن ابی اوفیؒ سے سنا۔ فرماتے تھے کہ حضرت رحمت دوعالم ﷺ کے بعدکوئی نبی ہوتا تو آپ ﷺ کے بیٹے ابراہیم فوت نہ ہوتے۔

حضرت انسؓ سے سدیؒ نے دریافت کیا کہ حضرت ابراہیم کی عمر بوقت وفات کیا تھی؟ آپ نے فرمایا: ’قد ملاء المہد ولو بقی لکان نبیاً ولکن لم یکن لیبقی لان نبیکم آخر الانبیاء وہ پنگھوڑے کو بھر دیتے تھے (یعنی بچپن میں ان کا انتقال ہوا۔ لیکن وہ اتنے بڑے تھے کہ پنگھوڑا بھرا ہوا نظر آتا تھا) اگر وہ باقی رہتے تو نبی ہوتے۔ لیکن اس لئے باقی نہ رہے کہ تمہارے نبی آخری نبی ہیں۔

(تلخیص التاریخ الکبیر لابن عساکر ص ۴۹۴ ج۱‘ فتح الباری ج۱۰ ص ۴۷۷ باب سمی باسماء الانبیاء)

81

اب ان صحیح روایات جو بخاری، مسند احمد اور ابن ماجہ میں موجود ہیں۔ ان کے ہوتے ہوئے ایک ضعیف روایت کو جس کا جھوٹا اور مردود ہونا یوں بھی ظاہر ہے کہ یہ قرآن کے نصوص صریحہ اور صدہا احادیث نبویہ کے خلاف ہے۔ اسے صرف وہی لوگ اپنے عقیدے کے لئے پیش کرسکتے ہیں۔ جن کے متعلق حکم خداوندی ہے:

’’ختم ﷲ علی قلوبھم وعلی سمعھم وعلیٰ ابصارھم غشاوۃ(بقرہ: ۷)‘‘

جواب۳… اس میں حرف لو قابل توجہ ہے۔ اس لئے کہ جیسے: لوکان فیھما الھۃ الا ﷲ لفسدتا لو عربی میں محال کے لئے بھی آجاتا ہے۔ اس روایت میں بھی تعلیق بالمحال ہے۔ اس سے اثبات عقیدہ کے لئے استدلال کرنا قادیانی علم کلام کا ہی کارنامہ ہوسکتا ہے۔

(۲)… ولا تقولوا لا نبی بعدہ

قادیانی کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں: قولوا خاتم الانبیاء ولا تقولوا لانبی بعدہ (تکملہ مجمع البحار ج۵ ص ۵۰۲درمنثور ص ۲۰۴ ج۵) اس سے ثابت ہوا کہ ان کے نزدیک نبوت جاری تھی۔

جواب۱… حضرت عائشہ صدیقہؓ کی طرف اس قول کی نسبت صریحاً بے حد زیادتی ہے۔ دنیا کی کسی کتاب میں اس کی سند متصل مذکور نہیں۔ ایک منقطع السند قول سے نصوص قطعیہ اور احادیث متواترہ کے خلاف استدلال کرنا سراپا دجل و فریب ہے۔

جواب۲… رحمت دوعالم ﷺ فرماتے ہیں: انا خاتم النبیین لا نبی بعدیاور حضرت عائشہ صدیقہؓ کا قول: ولا تقولوا لا نبی بعدہ یہ صریحاً اس فرمان نبویa کے مخالف ہے۔ قول صحابہؓ وقول نبویa میں تعارض ہوجائے تو حدیث و فرمان نبوی کو ترجیح ہوگی۔ پھر لا نبی بعدی حدیث شریف متعدد صحیح سندوں سے مذکور ہے اور قول عائشہؓ ایک منقطع السند قول ہے۔ صحیح حدیث کے مقابلہ میں یہ کیسے قابل حجت ہوسکتا ہے؟

جواب۳… خود حضرت عائشہ صدیقہؓ سے (کنزالعمال ص ۳۷۱ ج۱۵حدیث ۴۱۴۲۳) میں روایت ہے: لم یبق من النبوۃ بعدہ شئی الامبشرات اس واضح فرمان کے بعد اس قول کو حضرت عائشہ صدیقہؓ کی طرف منسوب کرنے کا کوئی جواز باقی رہ جاتا ہے؟

جواب۴… قادیانی دجل ملاحظہ ہوکہ وہ اس قول کو جو مجمع البحار میں بغیر سند کے نقل کیا

82

گیا ہے۔ استدلال کرتے وقت بھی ادھورا قول نقل کرتے ہیں۔ اس میں ہے: ھذا ناظر الی نزول عیسیٰ علیہ السلام

(تکملہ مجمع البحار ص۵۰۲ ج۵)

اگر ان کا یا مغیرہؓ کا جو قول: اذا قلت خاتم الانبیاء حسبک وغیرہ جیسے الفاظ آئے ہیں۔ ان سب کا مقصد یہی ہے کہ ان کے ذہن میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا مسئلہ تھا۔ یہ نہ کہو کہ آپ ﷺ کے بعد نبی کوئی نہیں (آئے گا) اس لئے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہوگا۔ یہ کہو کہ آپ ﷺ خاتم النبیین ہیں۔ یعنی آپ ﷺ کے بعد کوئی شخص نبی بنایا نہیں جائے گا۔ اس لئے کہ عیسیٰ علیہ السلام آپ ﷺ سے پہلے نبی بنائے جاچکے ہیں۔

جواب۵… اس قول ولا تقولوا لا نبی بعدہ میں بعدہ خبر کے مقام پر آیا ہے۔ اس لئے اس کا پہلا معنی یہ ہوگا: لانبی مبعوث بعدہ حضور ﷺ کے بعدکسی کو نبوت نہیں ملے گی۔ مرقات حاشیہ مشکوۃ شریف پر یہی ترجمہ مراد لیا گیا ہے۔ جو صحیح ہے۔

دوسرا معنی… لا نبی خارج بعدہ حضور ﷺ کے بعد کسی نبی کا ظہور نہیں ہوگا۔ یہ غلط ہے۔ اس لئے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نزول فرمائیں گے۔ حضرت مغیرہؓ نے ان معنوں سے : لا تقولوا لا نبی بعدہ کی ممانعت فرمائی ہے۔ جو سوفیصد ہمارے عقیدہ کے مطابق ہے۔

تیسرا معنی… لا نبی حیی بعدہ حضور ﷺ کے بعد کوئی نبی زندہ نہیں۔ ان معنوں کو سامنے رکھ کر حضرت عائشہؓ نے:لاتقولوا لا نبی بعدہ فرمایا۔ اس لئے کہ خود ان سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی روایات منقول ہیں۔

قادیانی سوال

اگر اس قول عائشہ صدیقہؓ کی سند نہیں تو کیا ہوا تعلیقات بخاری کی بھی سند نہیں۔

جواب… یہ بھی قادیانی دجل ہے ورنہ فتح الباری کے مصنف علامہ ابن حجرؒ نے الگ ایک مستقل کتاب تالیف کی ہے۔ جس کا نام تعلیق التعلیق ہے۔ اس میں تعلیقات صحیح بخاری کو موصول کیا ہے۔

۳… مسجدی آخر المساجد

قادیانی کہتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا: مسجدی آخرالمساجد ظاہر ہے کہ حضور ﷺ کی مسجد کے بعد دنیا میں ہر روز مسجدیں بن رہی ہیں۔ تو نبی بھی بن سکتے ہیں۔

83

جواب… یہ اشکال بھی قادیانی دجل کا شاہکار ہے۔ اس لئے جہاں ’’مسجدی آخر المساجد‘‘ کے الفاظ احادیث میں آئے ہیں۔ وہاں روایات میں آخر مساجد الانبیاء کے الفاظ بھی آتے ہیں۔ تمام انبیاء علیہم السلام کی سنت مبارک یہ تھی کہ وہ ﷲ رب العزت کا گھر (مسجد) بناتے تھے۔ تو انبیاء کرام علیہم السلام کی مساجد میں سے آخری مسجد۔ مسجد نبوی ہے۔ یہ ختم نبوت کی دلیل ہوئی نہ کہ اجرائے نبوت کی۔ (ترغیب و الترہیب ج۲ ص ۱۷۳ حدیث۱۷۷۱) میں خاتم مساجد الانبیاء کے الفاظ صراحت سے موجود ہیں۔ نیز (کنزالعمال ص ۲۷۰ ج ۱۲ حدیث ۳۴۹۹۹) باب فضل الحرمین میں حضرت عائشہ صدیقہؓ سے منقول ہے: ’’ عن عائشۃ قالت قال رسول ﷲ ﷺ انا خاتم الانبیاء ومسجدی خاتم مساجد الانبیاء‘‘

۴… ’’انک خاتم المہاجرین‘‘

قادیانی کہتے ہیں کہ حضور ﷺ نے اپنے چچا حضرت عباسؓ سے فرمایا: ’’اطمئن یا عم (عباسؓ) فانک خاتم المہاجرین فی الھجرۃ کما انا خاتم النبیین فی النبوۃ‘‘ (کنزالعمال ص ۶۹۹ ج۱۲ حدیث۳۳۳۸۷) اگر حضرت عباسؓ کے بعد ہجرت جاری ہے تو حضور ﷺ کے بعد نبوت بھی جاری ہے۔

جواب… قادیانی اس روایت میں بھی دجل سے کام لیتے ہیں۔ اصل واقعہ یہ ہے کہ حضرت عباسؓ مکہ مکرمہ سے ہجرت کرکے مدینہ طیبہ کے سفر پر روانہ ہوگئے تھے۔ مکہ مکرمہ سے چند کوس باہر تشریف لے گئے تو راستہ میں مدینہ طیبہ سے آنحضرت ﷺ دس ہزار قدسیوں کا لشکر لے کر مکہ مکرمہ فتح کرنے کے لئے تشریف لے آئے۔ راستہ میں ملاقات ہوئی تو حضرت عباسؓ کو افسوس ہوا کہ میں ہجرت کی سعادت سے محروم رہا۔ حضور ﷺ نے حضرت عباسؓ کو تسلی و حصول ثواب کی بشارت دیتے ہوئے یہ فرمایا۔ اس لئے واقعتاً مکہ مکرمہ سے ہجرت کرنے والے آخری مہاجر حضرت عباسؓ تھے۔ اس لئے کہ ہجرت دار الکفر سے دارالاسلام کی طرف کی جاتی ہے۔ مکہ مکرمہ رحمت دوعالم ﷺ کے ہاتھوں ایسے فتح ہوا جو قیامت کی صبح تک دارالاسلام رہے گا۔ تو مکہ مکرمہ سے آخری مہاجر واقعی حضرت عباسؓ ہوئے۔ آپ ﷺ کا فرمانا: ’’اے چچا تم خاتم المہاجرین ہو‘‘ تمہارے بعد جو بھی مکہ مکرمہ چھوڑ کر آئے گا۔ اسے مہاجر کا لقب نہیں ملے گا۔ اس لئے امام بخاریؒ فرماتے ہیں کہ: ’’لاہجرۃ بعد الفتح‘‘ (بخاری ص ۴۳۳ ج۱) حضرت

84

حضرت حافظ ابن حجر عسقلانیؒ (اصابہ ص ۲۷۱ ج ۲ طبع بیروت) میں فرماتے ہیں: ’’ھاجر قبل الفتح بقلیل وشھد الفتح‘‘

’’حضرت عباسؓ نے فتح مکہ سے قدرے پیشتر ہجرت کی اور آپ فتح مکہ میں حاضر تھے۔‘‘

۵… ’’ ابوبکر خیرالناس‘‘

قادیانی کہتے ہیں کہ:’’ابوبکر خیرالناس الا ان یکون نبی‘‘ ابوبکر تمام لوگوں سے افضل ہیں۔ مگر یہ کہ کوئی نبی ہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ نبوت جاری ہے۔

جواب…

یہ روایت (کنزالعمال ج۱۱ ص۵۴۳ حدیث۳۲۵۴۷)کی ہے۔ اس کے آگے ہی لکھا ہے: ’’ھذا الحدیث احد ماانکر‘‘ یہ روایت ان میں سے ایک ہے۔ جس پر انکار کیا گیا ہے۔ ایسی منکر روایت سے عقیدہ کے لئے استدلال کرنا قادیانی دجل کا شاہکار ہے۔

جواب۲…

کنزالعمال ج۱۱ ص۵۴۶ حدیث ۳۲۵۶۴ حضرت انس بن مالکؓ سے مروی ہے:

’’ما صحب النبیین والمرسلین اجمعین ولا صاحب یٰسن۰ افضل من ابی بکر‘‘

’’ رحمت دوعالم ﷺ سمیت تمام انبیاء و رسل کے صحابہؓ سے ابوبکر صدیقؓ افضل ہیں۔‘‘

حاکم میں حضرت ابوہریرہؓ سے (کنزالعمال میں ج ۱۱ ص ۵۶۰ حدیث ۳۲۶۴۵) پر روایت کے الفاظ ہیں:

’’ابوبکر و عمر خیرالاولین و خیر الاخرین وخیر اھل السموٰات وخیر اھل الارضین الا النبیین والمرسلین ‘‘

’’زمینوں و آسمانوں کے تمام اولین و آخرین میں سوائے انبیاء و مرسلین کے باقی سب سے ابوبکر ؓو عمرؓ افضل ہیں۔‘‘

ان روایات کو سامنے رکھیں تو مطلب واضح ہے کہ انبیاء کے علاوہ ابوبکرؓ باقی سب سے افضل ہیں۔ لیجئے اب ان تمام روایات کے سامنے آتے ہی قادیانی دجل پارہ پارہ ہوگیا۔

سوال۸…

لاہوری اور قادیانی مرزائیوں میں کیا فرق ہے؟ جب لاہوری مرزا غلام احمدقادیانی کو نبی ہی نہیںمانتے تو ان کی وجہ تکفیر کیا ہے؟ دونوں فرقوں کے درمیان اختلافات کا جائزہ پیش کریں؟

85

جواب…

مرزا غلام احمد قادیانی کے ماننے والوں کے دو گروپ ہیں۔ ایک لاہوری دوسرا قادیانی۔ مرزا غلام احمد قادیانی اور نورالدین کے زمانہ تک یہ ایک تھے۔ مارچ ۱۹۱۴ء میں نور الدین کے آنجہانی ہونے پر لاہوری گروپ کے چیف گرو محمد علی ایم اے اور اس کے حواریوں کا خیال تھا کہ نورالدین کی جگہ محمد علی کو قادیانی جماعت کی زمامِ اقتدار سونپ دی جائے گی۔ مگر مرزا قادیانی کے خاندان کے افراد اور مریدوں نے نو عمر مرزا محمود کو مرزا قادیانی کی نام نہاد خلافت کی گدی پر بٹھادیا۔ محمد علی لاہوری اپنے حواریوں سمیت اپناسا منہ لے کر لاہور آگئے۔ تب سے مرزا قادیانی کی جماعت کے دو گروپ بن گئے۔ لاہوری و قادیانی۔ دنیا جانتی ہے کہ یہ لڑائی صرف اور صرف اقتدار کی لڑائی تھی۔ عقائد کا اختلاف نہ تھا۔ اس لئے کہ لاہوری گروپ مرزا قادیانی اور نورالدین کے زمانہ تک عقائد میں نہ صرف قادیانی گروپ کا ہمنوا تھا۔ بلکہ اب بھی یہ لاہوری گروپ مرزا قادیانی کو اس کے تمام دعاوی میں سچا سمجھتا ہے۔ امام، مامور من ﷲ، مجدد، مہدی، مسیح، ظلی و بروزی نبی وغیرہ۔ مرزا کے تمام کفریہ دعاوی کو اپنے ایمان کا حصہ سمجھتے ہیں۔ مرزا قادیانی کے عقائد کی ترویج اور توسیع اس کی کتب کی اشاعت کرتے ہیں۔ قادیانیوں نے لاہوریوں کے متعلق یہ پروپیگنڈہ کیا کہ یہ اقتدار نہ ملنے کے باعث علیحدہ ہوئے ہیں۔ تو لاہوریوں نے اپنے دفاع کے لئے اقتدار کی لڑائی کو عقائد کے اختلاف کا چولا پہنادیا۔ لاہوریوں نے کہا کہ ہمیں قادیانیوں سے تین مسائل میں اختلاف ہے:

۱… قادیانی گروپ مرزا کے نہ ماننے والوں کو کافر کہتے ہیں۔ ہم ان کو کافر نہیں کہتے۔

۲… قادیانی گروپ مرزا قادیانی کو قرآنی آیت :’’مبشراً برسول یأتی من بعدی اسمہ احمد ‘‘ کا مصداق قرار دیتے ہیں۔ ہم اس آیت کا مرزا قادیانی کو مصداق نہیں سمجھتے۔

۳… قادیانی گروپ مرزا کو حقیقی نبی قرار دیتا ہے۔ ہم اسے حقیقی نبی قرار نہیں دیتے۔

اس پر ان کے درمیان مناظرے ہوئے۔ ’’مباحثہ راولپنڈی ‘‘ نامی کتاب میں دونوں کے تحریری مناظروں کی روئیداد شائع شدہ ہے۔ فریقین نے مرزا قادیانی کی کتب کے حوالہ جات دیئے ہیں۔ یہ خود مرزا قادیانی کے جھوٹا ہونے کی دلیل ہے کہ مرزا قادیانی کے دعاوی ایسے شیطان کی آنت کی طرح الجھے ہوئے ہیں کہ مرزا کے ماننے والے خود فیصلہ نہیں کرپائے کہ مرزا قادیانی

86

کے کیا دعاوی تھے؟ لیکن یہ اقتدار کی رسہ کشی، اور نفس پرستی ہے۔ جب دو گروپ بن گئے ۔ ایک گروپ کا چیف مرزا محمود۔ دوسرے گروپ کا چیف محمد علی لاہوری قرار پائے۔ تو مرزا محمود نوجوان تھا۔ اقتدار اور پیسہ پاس تھا۔ اس نے وہ بے اعتدالیاں کیں کہ مرزا قادیانی کے بعض پکے مرید کانوں کو ہاتھ لگانے لگے۔ مرزا محمود کی جنسی بے راہ روی اور رنگینیاں اور سنگینیاں اس داستان نے قادیان سے لاہور تک کا سفر کیا۔ تو لاہوری گروپ نے تاریخ محمودیت، ربوہ کا پوپ، ربوہ کا مذہبی آمر، کمالات محمودیہ۔ ایسی دسیوں کتابیں لکھ کر مرزا محمود کی بدکرداریوں کو الم نشرح کیا۔ مرزا محمود نے جواب آں غزل کے طور پر لاہوریوں کو وہ بے نقط سنائیں کہ الامان والحفیظ۔ ذیل میں حوالے ملاحظہ ہوں:

’’فاروق ‘‘جناب خلیفہ قادیان کے ایک خاص مرید کا اخبار ہے۔ جناب خلیفہ صاحب! کئی مرتبہ اس کی خدمات کے پیش نظر اس کی توسیع اشاعت کی تحریک فرماچکے ہیں۔ سوقیانہ تحریریں شائع کرنے اور گالیاں دینے کے لحاظ سے اس اخبار کو قادیانی پریس میں بہت اونچا درجہ حاصل ہے۔ جماعت لاہور اور اس کے اکابر کو گالیاں دینا اس اخبار کی سب سے بڑی خصوصیت ہے۔ اس کی ۲۸/ فروری ۱۹۳۵ء کی اشاعت میں ہمارے خلاف چند مضامین شائع ہوئے ہیں۔ ان میں بے شمار گالیاں دی گئی ہیں۔ جن میں سے چند بطور نمونہ درج ذیل کی جاتی ہیں:

(اخبار پیغام صلح لاہور مورخہ ۱۱/مارچ ۱۹۳۵ء)

(۱)لاہوری اصحاب الفیل۔ (۲) اہل پیغام کی یہودیانہ قلابازیاں۔ (۳) ظلمت کے فرزند اور زہریلے سانپ۔ (۴) لاہوری اصحاب الاخدود۔ (۵) خباثت اور شرارت اور رزالت کا مظاہرہ۔ (۶) دشمنان سلسلہ کی بھڑکی ہوئی آگ میں یہ پیغامی لاہوری فریق عبادالدنیا وقودالنار بن گئے۔ (۷) نہایت ہی کمینہ سے کمینہ اور رذیل سے رذیل فطرت والا اور احمق سے احمق انسان۔(۸) اصحاب اخدود پیامی۔ (۹) دوغلے اور نیمے دروں نیمے بروں عقائد۔ (۱۰) بدلگام پیغامیو۔ (۱۱) حرکات دنیہ اور افعال شنیعہ۔ (۱۲) محسن کشانہ اورغدارانہ اور نمک حرامانہ حرکات۔ (۱۳) دورخے سانپ کی کھوپڑی کچلنے۔ (۱۴) تم نے اپنے فریب کارانہ پوسٹر میں… تک انگیخت اور اشتعال کا زور لگالیا۔ (۱۵)فوراً کپڑے پھاڑ کر بالکل عریانی پر کمرباندھ لی۔ (۱۶) ایسی کھجلی اٹھی تھی۔ (۱۷) رذیل اور احمقانہ فعل۔ (۱۸) کبوتر نما جانور۔ (۱۹) احمدیہ بلڈنگ (لاہوری

87

جماعت کے مرکز) کے؟ کرمک۔ (۲۰)اے سترے بہترے بڈھے کھوسٹ۔ (۲۱) اے بدلگام تہذیب و متانت کے اجارہ دار پیامیو (فریق لاہور)۔ (۲۲) برخوردار پیامیو۔ (۲۳) جیسا منہ ویسی چپیڑ۔ (۲۴) کوئی آلو، ترکاری یا لہسن پیاز بیچنے بونے والا نہیں۔ (۲۵)جھوٹ بول کر اور دھوکے دے کر اور فریب کارانہ بھیگی بلی بن کر۔ (۲۶)لہسن پیاز اور گوبھی ترکاری کا بھائو معلوم ہوجاتا۔(۲۷)آخرت کی لعنت کا سیاہ داغ ماتھے پر لگے۔ (۲۸)اگر شرم ہو تو وہیں… چلو بھر پانی لے کر ڈبکی لگالو۔ (۲۹) یہ کسی قدر دجالیت اور خباثت اور کمینگی۔ (۳۰)علی بابا اور چالیس چور بھی اپنی مٹھی بھر جماعت لے کر بلوں میںسے نکل آئے ہیں۔(۳۱) بھلا کوئی ان پیامی ایروں غیروں سے اتنا تو پوچھے۔ (۳۲)سادہ لوح پیامی نادان دشمن۔ (۳۳)پیامیو عقل کے ناخن لو۔(۳۴) نامعقول ترین اور مجہول ترین تجویز۔ (۳۵) سادہ لوح اور احمق۔ (۳۶) اے سادہ لوح یا ابلہ فریب امیر پیغام۔ (۳۷)پیغام بلڈنگ کے اڑہائی ٹوٹرو۔(۳۸) احمق اور عقل و شرافت سے عاری اور خالی۔(۳۹) اہل پیغام (لاہوری فریق) نے جس عیاری اور مکاری اور فریب کاری سے اپنے دجل بھرے پوسٹروں میں۔ (۴۰)چاپلوسی اور پابوسی کا مظاہرہ۔ (۴۱) اہل پیغام کے دو تازہ گندے پوسٹر۔

(منقول از اخبار ’’فاروق‘‘ قادیان پیامی نمبر مورخہ ۲۸/ فروری ۱۹۳۵ء)

لاہوری مرزائی بھی قادیانیوں کو گالیاں دینے میں کم نہ تھے۔ ملاحظہ ہو:

’’مولوی محمد علی صاحب (لاہوری) کا خطبہ جمعہ ۱۹/ اکتوبر ۱۹۴۵ء ہمارے سامنے ہے۔ یہ خطبہ بھی حسب معمول جماعت احمدیہ اور حضرت امیر المومنین ایدہ ﷲ تعالیٰ کے خلاف الزامات اور گالیوں سے پر ہے۔ جناب مولوی صاحب کی گالیوں کی شکایت کہاں تک کی جائے۔ ان کا جوش غیظ و غضب ٹھنڈا ہونے میں ہی نہیں آتا۔ ہم ان کی گالیاں سنتے سنتے تھک گئے ہیں۔ مگر وہ گالیاں دیتے دیتے نہیں تھکے۔ ہر خطبہ گزشتہ خطبہ سے زیادہ تلخ اور طعن آمیز ہوتا ہے۔ بدگوئی اور بدزبانی اب جناب مولوی صاحب کی عادت ثانیہ بن چکی ہے۔ کوئی بات طعن و تشنیع اور گالی گلوچ کی آمیزش کے سوا کرہی نہیں سکتے۔‘‘

(مضمون مندرجہ اخبار ’’الفضل‘‘ قادیان ج۲۳، نمبر ۲۷۳، ص ۴ مورخہ ۲۲/نومبر ۱۹۴۵ء)

لیکن گالی گلوچ کی بوچھاڑ تو دونوں جماعتوں کی عادت ہے۔ کبھی ایک سبقت لے جاتی ہے کبھی دوسری۔ اس فن کی بنیاد خود مرزا قادیانی صاحب کی کتابوں میں رکھی گئی ہے۔ پس

88

اتباع لازم ہے۔ مرزا محمود نے محمدعلی کی گالیوں کی شکایت کی۔ اب محمد علی کی مرزا محمود کے متعلق شکایت بھی ملاحظہ ہو:

’’خود جناب میاں محمود احمد صاحب نے مسجد میں جمعہ کے روز خطبہ کے اندر ہمیں دوزخ کی چلتی پھرتی آگ۔ دنیا کی بدترین قوم اور سنڈاس پر پڑے ہوئے چھلکے کہا۔ یہ الفاظ اس قدر تکلیف دہ ہیں کہ ان کو سن کر ہی سنڈاس کی بو محسوس ہونے لگتی ہے۔‘‘

(مولوی محمد علی صاحب قادیانی امیر جماعت لاہور کا خطبہ جمعہ مندرجہ اخبار ’’پیغام صلح‘‘ لاہور جلد۲۲، نمبر ۳۳، ص ۷ مورخہ ۳/جون۱۹۳۴ء)

مسلمانوں نے (لاہوری و قادیانی)دونوں کی اس باہمی چخ بخ کو ایک سکہ کے دورخ قرار دیا۔ ایک گرو کے دو چیلوں کی اخلاق باختگی کو مرزا قادیانی کی روحانی تربیت کا نتیجہ قرار دیا۔ امیر شریعت مولانا سید عطاء ﷲ شاہ بخاریؒ سے کسی نے پوچھا کہ لاہوریوں و قادیانیوں میں کیا فرق ہے؟ آپ نے فی البدیہہ فرمایاکہ برہردولعنت، خنزیر، خنزیر ہوتا ہے، چاہے گورے رنگ کا ہو یا کالے رنگ کا۔ کفر کفر ہے۔ چاہے لاہوری ہو یا قادیانی۔ لاہوریوں کا مرکز لاہور میں ہے۔ قادیانیوں کا مرکز پاکستان بننے کے بعد چناب نگر اور اب ان کا مرکز بہشتی مقبرہ سمیت لندن کو سدھار گیا ہے۔ تمام علمائے اسلام نے دونوں گروپوں کے کفر کا فتویٰ دیا۔ قومی اسمبلی اور سپریم کورٹ تک سب نے دونوں کو کافرو غیر مسلم گردانا۔

لاہوری گروپ کافرکیوں؟

آنحضرت ﷺ کے بعد جو شخص نبوت کا دعویٰ کرے۔ وہ بالاجماع کافر ہے۔ اس کو جو لوگ اپنا امام‘ مجدد‘ مامور من ﷲ‘ مہدی‘ مسیح‘ ظلی نبی‘ تسلیم کریں۔ وہ بھی کافر ہیں۔ حتیٰ کہ مدعی نبوت کو جو لوگ مسلمان سمجھیں۔ بلکہ جو اسے کافر نہ سمجھیں وہ بھی کافر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ علماء نے اپنے فتاویٰ میں‘ عدالتوں نے اپنے فیصلوں میں، اور اسمبلی نے اپنے قانون میں قادیانیوں کی طرح لاہوری گروپ کو بھی کافر قرار دیا ہے۔ مرزاقادیانی کے کفریہ دعاوی جن کو لاہوری گروپ بھی صحیح تسلیم کرتے ہیں۔ ملاحظہ ہوں:

لاہوری گروپ مرزا قادیانی کو اس کے تمام دعاوی میں سچا مانتا ہے۔مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے کہ:

۱… ’’سچا خدا وہی خدا ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔‘‘

(دافع البلا ص ۱۱، خزائن ص ۲۳۱ ج۱۸)

89

۲… ’’ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم نبی اور رسول ہیں۔‘‘

(بدر ۵/مارچ ۱۹۰۸ء، ملفوظات ص ۱۲۷ ج۱۰)

۳… ’’میری دعوت کی مشکلات میں سے ایک رسالت اور وحی الٰہی اور مسیح موعود ہونے کا دعویٰ تھا۔ ‘‘

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ۵۵، حاشیہ خزائن ص ۶۸ ج۲۱)

۴… ’’نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا۔‘‘

(حقیقت الوحی ص ۳۹۱،خزائن ص ۴۰۶ ج۲۲)

۵… ’’اس امت میں آنحضرت ﷺ کی پیروی کی برکت سے ہزارہا اولیاء ہوئے ہیں اور ایک وہ (مرزا) بھی ہوا۔ جو امتی بھی ہے اور نبی بھی۔‘‘

(حقیقت الوحی ص ۲۸ حاشیہ، خزائن ص۳۰ ج۲۲)

۶… ’’ہمارے نبی ہونے کے وہی نشانات ہیں جو تورات میں مذکور ہیں۔ میں کوئی نیا نبی نہیں ہوں۔ پہلے بھی کئی نبی گزرے ہیں جنہیں تم لوگ سچے مانتے ہو۔‘‘

(الحکم ۱۰/اپریل ۱۹۰۸ء ملفوظات ص ۲۱۷ ج۱۰)

ان حوالہ جات میں مرزا قادیانی کا صراحت کے ساتھ نبوت کا دعویٰ موجود ہے، اور پہلے انبیاء (سیدنا آدم علیہ السلام سے لے کر آنحضرت ﷺ تک) کی طرح نبی ہونے کے مدعی ہیں۔ اب نبی کے لئے معجزہ چاہئے۔ کوئی نبی ایسانہیں گزرا جس کو ﷲ تعالیٰ نے معجزہ نہ دیا ہو۔ مرزا قادیانی نے جب نبوت کا دعویٰ کیا تو اس کے لئے معجزہ چاہئے۔ چنانچہ وہ اپنے معجزات کے متعلق خود لکھتا ہے:

۷… ’’اگر میں (مرزا) صاحب معجزہ نہیں تو جھوٹا ہوں۔‘‘

(تحفۃ الندوۃ ص ۹،خزائن ص ۹۷ ج۱۹)

۸… ’’مگر میں تو اس سے بڑھ کر اپنا ثبوت رکھتا ہوں کہ ہزارہا معجزات اب تک ظاہر ہوچکے ہیں۔‘‘

(تحفۃ الندوۃ ص ۱۲،خزائن ص۱۰۰ ج۱۹)

۹… ’’اور خدا تعالیٰ میرے لئے اس کثرت سے نشان دکھلارہا ہے کہ اگر نوح کے زمانہ میں وہ نشان دکھلائے جاتے تو وہ لوگ غرق نہ ہوتے۔ ‘‘

(تتمہ حقیقت الوحی ص۱۳۷، خزائن ص۵۷۵ ج۲۲)

دیکھئے نبی کے لئے وحی نبوت بھی ہونی چاہئے۔ مرزا قادیانی اس کے متعلق لکھتا ہے:

90

۱۰… ’’اور خدا کا کلام اس قدر مجھ پر ہوا ہے کہ اگر وہ تمام لکھا جائے تو بیس جزو سے کم نہیں ہوگا۔‘‘

(حقیقت الوحی ص ۳۹۱، خزائن ص ۴۰۷ ج۲۲)

ان حوالہ جات سے یہ امر پایہ ثبوت کو پہنچ گیا کہ مرزا قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا، اور یہ امر طے شدہ ہے کہ: ’’دعویٰ النبوۃ بعد نبینا ﷺ کفر بالاجماع ‘‘

(شرح فقہ اکبر ملا علی قاری ص ۲۰۷ مصری)

آنحضرت ﷺ کے بعد جو شخص نبوت کا دعویٰ کرے۔ وہ بالاجماع کافر ہے۔ مرزا کے ان کفریہ دعاوی کو لاہوری گروپ بھی صحیح مانتے ہیں۔ اس لئے قادیانیوں کی طرح لاہوری بھی کافر ہیں۔( مزید تفصیل ’’احتساب قادیانیت‘‘ ج اول میں مولانا لال حسین اخترؒ کی ترک مرزائیت اور ’’تحفہ قادیانیت‘‘ ج۲ میں معرکہ لاہور و قادیان از حضرت لدھیانوی شہیدؒ ملاحظہ کریں)۔

سوال۹…

عقیدئہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے دور صدیقیؓ سے دور حاضر تک جو خدمات سرانجام دی گئیں ہیں۔ ان کا تذکرہ مختصر مگر جامع انداز میں تحریرکریں؟

جواب …

آپ ﷺ کی ختم نبوت میں امت مسلمہ کی وحدت کا راز مضمر ہے۔ اس لئے اس مسئلہ میں چودہ سو سال سے کبھی بھی امت دورائے کا شکار نہیں ہوئی۔ بلکہ جس وقت کسی شخص نے اس مسئلہ کے خلاف رائے دی امت نے اسے سرطان کی طرح اپنے جسم سے علیحدہ کردیا۔ ختم نبوت کا تحفظ یا باالفاظ دیگر منکرین ختم نبوت کا استیصال دین کا ہی ایک حصہ ہے۔ دین کی نعمت کا اتمام آنحضرت ﷺ کی ذات اقدس پر ہوا۔ اس لئے دین کے اس شعبہ کو بھی ﷲ رب العزت نے خود آنحضرت ﷺ سے وابستہ فرمادیا اور سب سے پہلے خود آنحضرت ﷺ نے اپنے زمانہ میں پیدا ہونے والے جھوٹے مدعیان نبوت کا استیصال کرکے امت مسلمہ کو اپنے عمل مبارک سے کام کرنے کا عملی نمونہ پیش فرمادیا۔

تحفظ ختم نبوت آنحضرت ﷺ کی سنت مبارکہ

چنانچہ اسود عنسی کے استیصال کے لئے رحمت عالم ﷺ نے حضرت فیروز دیلمیؓ کو اور طلیحہ اسدی کے مقابلہ میں جہاد کی غرض سے حضرت ضرار بن ازورؓ کو روانہ فرمایا۔ یہ امت کے لئے خود آنحضرت ﷺ کا عملی سبق ہے۔ امت کے لئے خیروبرکت اور فلاح دارین اس سے وابستہ ہے کہ ختم نبوت کے عقیدئہ کا جان جوکھوں میں ڈال کر تحفظ کرے اور منکرین ختم نبوت کو ان کے انجام تک پہنچائے۔ امت نے آنحضرت ﷺ کے اس مبارک عمل کو اپنے لئے ایسے طور پر مشعل

91

راہ بنایا کہ خیرالقرون کے زمانہ سے لے کر اس وقت تک ایک لمحہ کے لئے بھی امت اس سے غافل نہیں ہوئی۔ طلیحہ اسدی نے اپنے ایک قاصد عم زاد ’’حیال‘‘ کو حضور ﷺ کے پاس بھیج کر اپنی نبوت منوانے کی دعوت دی۔ طلیحہ اسدی کے قاصد کی بات سن کر رحمت عالم ﷺ کو بہت فکر دامن گیر ہوئی۔ چنانچہ آپ ﷺ نے تحفظ ختم نبوت کی پہلی جنگ کے پہلے سپہ سالار کے لئے اپنے صحابی حضرت ضرار بن ازورؓ کا انتخاب فرمایا اور ان قبائل و عمال کے پاس جہاد کی تحریک کے لئے روانہ فرمایا جو طلیحہ کے قریب میں واقع تھے۔ حضرت ضرارؓ نے علی بن اسد سنان بن ابوسنان اور قبیلہ قضا اور قبیلہ بنوورتا وغیرہ کے پاس پہنچ کر ان کو آنحضرت ﷺ کا پیغام سنایا اور طلیحہ اسدی کے خلاف فوج کشی اور جہاد کی ترغیب دی۔ انہوں نے لبیک کہا اور حضرت ضرارؓ کی قیادت میں ایک لشکر تیار ہوکر واردات کے مقام پر پڑائو کیا۔ دشمن کو پتہ چلا۔انہوں نے حملہ کیا۔ جنگ شروع ہوئی۔ لشکر اسلام اور فوج محمدی نے ان کو ناکوں چنے چبوادیئے۔ مظفرو منصور واپس ہوئے۔ ابھی حضرت ضرارؓ مدینہ منورہ کے راستہ میں تھے کہ آنحضرت ﷺ کا وصال مبارک ہوگیا۔

(تلخیص ائمہ تلبیس ص ۱۷ ج۱)

عہد صدیقیؓ میں تحفظ ختم نبوت کی پہلی جنگ

حضرت سیدنا صدیق اکبرؓ کے عہد خلافت میں ختم نبوت کے تحفظ کی پہلی جنگ یمامہ کے میدان میں مسیلمہ کذاب کے خلاف لڑی گئی۔ اس جنگ میں سب سے پہلے حضرت عکرمہؓ پھر حضرت شرحبیلؓ بن حسنہ اور آخر میں حضرت خالد بن ولیدؓ نے مسلمانوں کے لشکر کی کمان فرمائی۔ اس پہلے معرکہ ختم نبوت میں ۱۲ سو صحابہ کرامؓ اور تابعینؒ شہید ہوئے۔ جن میں سات سو قرآن مجید کے حافظ و قاری تھے اور بہت سے صحابہؓ بدریین تھے ۔ سیدنا صدیق اکبرؓ نے حضرت خالد بن ولیدؓ کو لکھا کہ مسیلمہ کذاب کی پارٹی کے تمام بالغ افراد کو بجرم ارتداد قتل کردیا جائے۔ عورتیں اور کم سن لڑکے قیدی بنائے جائیں اور ایک روایت (البدایۃ والنہایۃ ج ۶ ص ۳۱۰ اور طبری تاریخ الامم والملوک کی جلد۲ص۴۸۲) کے مطابق مرتدین کے احراق کا بھی حضرت صدیق اکبرؓ نے حکم فرمایا۔ لیکن آپ کا فرمان پہنچنے سے قبل حضرت خالد بن ولیدؓ معاہدہ کرچکے تھے۔ معاہدہ اس طرح ہوا کہ حضرت خالد بن ولیدؓ نے مسیلمہ کے ایک ساتھی مجاعہ کو گرفتار کرلیا تھا۔ جنگ کے اختتام پر اسے قید سے رہا کرکے فرمایا کہ اپنی قوم کو قلعہ کھولنے پر تیار کرو۔ مجاعہ نے جاکر عورتوں اور بچوں کو پگڑیاں بندھوا کر مسلح کرکے قلعہ کی فصیل پر کھڑا کردیا اور حضرت خالدؓ کو یہ تاثر دیا کہ بہت سا لشکر

92

قلعہ میں جنگ کے لئے موجود ہے۔ حضرت خالدؓ اور مسلمان فوج ہتھیار اتار چکے تھے۔ نئی جنگ کے بجائے انہوں نے چوتھائی مال و اسباب پر مسیلمہ کی فوج سے صلح کرلی۔ جب قلعہ کھول دیا گیا تو وہاں عورتوں اور بچوں کے سوا اور کوئی نہ تھا۔ حضرت خالدؓ نے مجاعہ سے کہا کہ تم نے دھوکہ دیا۔ اس نے کہا کہ اپنی قوم کو بچانے کی خاطر ایسا کیا۔ باوجودیکہ یہ معاہدہ دھوکہ سے ہوا۔ لیکن حضرت خالدؓ نے اس معاہدہ کو برقرار رکھا۔ مسیلمہ کذاب کو حضرت وحشیؓ نے قتل کیا تھا اور بدایہ کی روایت کے مطابق طلیحہ کے بعض ماننے والوں کی خاطر بزاخہ میں قیام کے دوران ایک ماہ تک ان کی تلاش میں پھرتے رہے۔ تاکہ آپ ان سے مسلمانوں کے قتل کا بدلہ لیں۔ جن کو انہوں نے اپنے ارتداد کے زمانہ میں اپنے درمیان رہتے ہوئے قتل کردیا تھا۔ ان میں سے بعض (طلیحی مرتدین) کو حضرت خالدؓ نے آگ میں جلادیا اور بعض کو پتھروں سے کچل دیا، اور بعض کو پہاڑوں کی چوٹیوں سے نیچے گرادیا۔ یہ سب کچھ آپ نے اس لئے کیا تاکہ مرتدین عرب کے حالات سننے والا ان سے عبرت حاصل کریں۔

(البدایہ ج۲ ص ۱۱۶۶ اردو ترجمہ مطبوعہ نفیس اکیڈیمی، کراچی)

اسلام کی چودہ سو سال کی تاریخ گواہ ہے کہ باقی تمام فتنوں سے مباحثہ، مجادلہ، مناظرہ و مباہلہ وغیرہ ہوئے۔ لیکن جھوٹے نبیوں سے تو گفتگو کی بھی شریعت نے اجازت نہیں دی اور فصول عمادی میں کلمات کفر شمار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ:

’’وکذالو قال انا رسول ﷲ اوقال بالفارسیۃ من پیغامبرم یریدبہ پیغام می برم یکفر ولو انہ حین قال ھذہ المقالۃ طلب غیرہ منہ المعجزۃ قیل یکفر الطالب والمتأخرون من المشائخ قالوا ان کان غرض الطالب تعجیزہ وافتضاحہ لایکفر(فصول : ۱۳۰۰)‘‘

ترجمہ: ’’اور ایسے ہی اگر کہے کہ میں ﷲ کا رسول ہوں یا فارسی زبان میں کہے من پیغامبرم اور مراد یہ ہو کہ میں پیغام لے جاتا ہوں تو کافر ہوجائے گا اور جب اس نے یہ بات کہی اور کسی شخص نے اس سے معجزہ طلب کیا تو بعض کے نزدیک یہ طالب معجزہ بھی کافر ہوجائے گا۔ لیکن متأخرین نے فرمایا ہے کہ اگر طالب معجزہ کی نیت طلب معجزہ سے محض اس کی رسوائی اور اظہار عجز ہو تو کافر نہ ہوگا۔‘‘

اور خلاصۃ الفتاویٰ جلد ۴ صفحہ ۳۸۶ کتاب الفاظ الکفر فصل ثانی میں امام عبدالرشید بخاریؒ فرماتے ہیں کہ:

93

’’ولوادعیٰ رجل النبوۃ و طلب رجل المعجزۃ قال بعضھم یکفر وقال بعضھم ان کان غرضہ اظہار عجزہ وافتضاحہ لایکفر‘‘

ترجمہ: ’’اور اگر کسی شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا اور دوسرے نے اس سے معجزہ طلب کیا تو بعض فقہاکے نزدیک یہ طالب معجزہ بھی مطلقاً کافرہوجائے گا اور بعض نے یہ تفصیل فرمائی ہے کہ اگر اس نے اظہار عجز و رسوائی کے لئے معجزہ طلب کیا تھا تو یہ کافر نہ ہوگا۔‘‘

چنانچہ امت کی چودہ سوسال کی تاریخ گواہ ہے کہ جب کبھی کسی اسلامی حکومت میں کسی شخص نے جھوٹی نبوت کا دعویٰ کیا تو امت نے اس سے دلائل و معجزات مانگنے کی بجائے اس کے وجود سے ہی ﷲ تعالیٰ کی دھرتی کو پاک کردیا۔ ہمارے برصغیر پاک و ہند میں انگریز نے مرزا غلام احمد قادیانی کی بطور ’’خودکاشتہ پودا‘‘ آبیاری کی۔ مسلمان قوم مظلوم، محکوم، غلام تھی۔ لاچار امت کو قادیانی گروہ سے مناظرہ کی راہ اختیار کرنی پڑی۔ ﷲ تعالیٰ نے دلائل و براہین، مقدمات ومناظروں، منبرومحراب، عدالتوں و اسمبلی، مکۃ المکرمہ وافریقہ تک جہاں بھی کسی فورم پر قادیانی کیس گیا۔ امت مسلمہ کو کامیابی نصیب ہوئی۔ یہ راستہ مجبوراً اختیار کرنا پڑا۔ ورنہ شرعاًجھوٹے مدعی نبوت اور پیروکاروں کا وہی علاج ہے جو صدیق اکبرؓ نے اپنے عہد زرین میں مسیلمہ کذاب کا یمامہ کے میدان میں کیا تھا، اور یقین فرمایئے کہ جب کبھی اس خطہ میں اسلام کی حکومت قائم ہوگی۔ سنت صدیقؓ دھرائی جائے گی۔ ﷲ تعالیٰ امت محمدیہa کو توفیق نصیب فرمائے۔

نوٹ: آج تک جو جھوٹے مدعیان نبوت ہوئے۔ ان کی تفصیل ’’ائمہ تلبیس‘‘ (دوجلد) میں مولانا محمد رفیق دلاوریؒ نے قلمبند کی ہے۔ اس کی تلخیص ۲۲ جھوٹے مدعی نبوت کے نام سے نثار احمد خان فتحی نے کی ہے۔ ان کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔

سوال۱۰…

مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت کے بعد اکابر علمائے دیوبند نے جو گرانقدر خدمات اس محاذ کے مختلف میدانوں میں سرانجام دی ہیں۔ ان کا مختصرتذکرہ کریں؟

جواب …

برصغیر میں جب انگریز نے اپنے استبدادی پنجے مضبوطی سے گاڑ لئے تو اس نے اپنے اقتدار کو طول دینے کے لئے ’’لڑائو اور حکومت کرو‘‘ کی پالیسی اختیار کی۔ دیگر ضمیر ودین فروشوں اور فتویٰ بازوں کے علاوہ اسے ایک ایسے مدعی نبوت کی ضرورت پیش آئی جو اس کے ظالمانہ و کافرانہ نظام حکومت کو ’’سندالہام‘‘ مہیا کرسکے۔ اس کے لئے اس نے ہندوستان بھر کے ضمیر فروش طبقات سے اپنے مطلب کا آدمی تلاش کرنے کے لئے سروے شروع کیا۔ ﷲ رب

94

العزت کی قدرت کے قربان جایئے کہ قادیانی فتنہ کے جنم لینے سے قبل دارالعلوم دیوبند کے مورث اعلیٰ حضرت حاجی امداداﷲ مہاجر مکیؒ پر بطور کشف کے ﷲ تعالیٰ نے منکشف فرمادیا تھا کہ ہندوستان میں ایک فتنہ برپا ہونے والا ہے۔ چنانچہ مکہ مکرمہ میں ایک دن ان کے ہاں مولانا پیرمہر علی شاہ گولڑویؒ تشریف لے گئے۔ تو آپ نے حضرت پیر صاحبؒ سے فرمایا:

’’درہندوستان عنقریب یک فتنہ ظہور کند۔ شما ضرورد ر ملک خود واپس بروید و اگر بالفرض شمادر ہند خاموش نشستہ باشید تاہم آں فتنہ ترقی نہ کندودر ملک آرام ظاہر شودپس مادر یقین خویش وقوع کشف حاجی صاحب رابفتنہ مرزا قادیانی تعبیرمی کنم۔‘‘

ترجمہ: ’’ہندوستان میں عنقریب ایک فتنہ نمودار ہوگا۔ تم ضرور اپنے وطن میں واپس چلے جائو۔ اگر بالفرض تم ہندوستان میں خاموش بھی بیٹھے رہے۔ تو وہ فتنہ ترقی نہ کرے گا اور ملک میں سکون ہوگا۔ میرے (پیر صاحبؒ) نزدیک حاجی صاحبؒ کی فتنہ سے مراد فتنہ قادیانیت تھی۔‘‘

(ملفوظات طیبہ ص ۱۲۶، تاریخ مشائخ چشت ص ۷۱۳، ۷۱۴، بیس بڑے مسلمان ص ۹۸، مہر منیر ص ۱۲۹)

اس سے اتنی بات پایۂ ثبوت کو پہنچی ہے کہ مرزا قادیانی کے فتنہ انکار ختم نبوت سے قبل ہی حق تعالیٰ نے اپنے مقبول بندوں کو فتنہ قادیانیت کے خلاف کام کرنے کے لئے متوجہ فرمادیا۔ اس پر حق تعالیٰ شانہ کا جتنا شکریہ ادا کیا جائے کم ہے کہ سب سے پہلے فتنہ قادیانیت کی تردیدی وتکفیری مہم کے لئے حق تعالیٰ نے جس جماعت کا انتخاب کیا۔ وہ علمائے دیوبند کی جماعت تھی۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے انگریز کے منصوبہ کے مطابق مبلغ، مناظر، مجدد، مہدی، مسیح، ظلی و بروزی، تشریعی نبی اور پھر معاذاﷲ خدا ہونے کے دعوے کئے۔ اس کی سب سے پہلی کتاب جس وقت منظر عام پر آئی اور مرزا ابھی تعارف اور جماعت سازی کے ابتدائی مرحلے مکمل کرنے کے درپے تھا۔ اس وقت سب سے پہلے جس مردخدا ، عارف باﷲ نے پڑھنے پڑھانے سے نہیں۔ بلکہ حق تعالیٰ کی طرف سے باطن کی صفائی کی بنیاد پر مرزا کے کافر و مردود اور اسلام سے برگشتہ ہونے کا نعرئہ مستانہ بلند کیا۔ وہ خانوادئہ دیوبند کے سرخیل حضرت میاں شاہ عبدالرحیم سہارنپوریؒتھے۔ میاں شاہ عبدالرحیم سہارنپوریؒ کے پاس مرزا کی کتاب پر تبصرہ کرنے کے لئے قادیانی وفد حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا کہ مجھ سے پوچھتے ہو تو سن لو۔ یہ شخص تھوڑے دنوں میں ایسے دعوے کرے گا۔ جو نہ رکھے جائیں گے، نہ اٹھائے جائیں گے۔ قادیانی وفد یہ سن کر جزبز ہونے لگا کہ دیکھو علماء تو علماء۔ درویش کو بھی دوسرے لوگوں کا شہرت پانا گراں گزرتا ہے۔ میاں صاحبؒ نے فرمایا مجھ سے

95

پوچھا ہے تو جو سمجھ میں آیا بتادیا۔ ہم تو اس وقت زندہ نہ ہوں گے۔ تم آگے دیکھ لینا۔

(ماخوذ از ارشادات قطب الارشاد حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ ص۱۲۸)

قادیانیوں کے خلاف پہلا فتویٰ

مرزا غلام احمد قادیانی نے اب پرپرزے نکالے۔ جماعت سازی کے لئے۱۳۰۱ھ مطابق ۱۸۸۴ء میں لدھیانہ آیا تو مولانا محمد لدھیانویؒ، مولانا عبداﷲ لدھیانویؒ اور مولانا محمد اسمٰعیل لدھیانویؒ نے فتویٰ دیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی مجدّد نہیں بلکہ زندیق اور ملحد ہے۔

(فتاویٰ قادریہ ص۳)

اﷲ رب العزت کا کرم تو دیکھئے! سب سے پہلے دیوبند مکتبہ فکر کے علمائے کرام کی جماعت کو مرزا غلام احمد قادیانی پر کفر کا فتو یٰ دینے کی توفیق ہوئی۔ یہ مولانا محمد لدھیانویؒ معروف احرار رہنما مولانا حبیب الرحمن لدھیانویؒ کے دادا تھے۔ ان حضرات کا فتویٰ مرزا قادیانی کے کفر کو الم نشرح کرنے کے لئے کھڑے پانی میں پتھر پھینکنے کے مترادف ہوا۔ اس کی لہریں اٹھیں۔ حالات نے انگڑائی لی پھر:

لوگ ملتے گئے اور کارواں بنتا گیا

یہ اس زمانہ کی بات ہے جب مولانا محمد حسین بٹالوی وغیرہ مرزا قادیانی کی کتب پر مثبت رائے کا اظہار کررہے تھے۔ ۱۸۹۰ء میں انہوں نے بھی مرزا قادیانی کے خلاف فتویٰ دیا۔ مرزا قادیانی نے انگریز کے ایما پر رسائل و کتب شائع کیں۔ ہندوستان کے علمائے کرام حسب ضرورت اس کی تردید میں کوشاں رہے۔ قارئین کو یہ جان کر خوشی ہوگی کہ باضابطہ فتویٰ مرتب کرکے متحدہ ہندوستان کے تمام سرکردہ جید علمائے کرام سے فتویٰ لینے کی سعادت بھی ﷲ تعالیٰ نے دیوبند کو نصیب فرمائی۔ دارالعلوم دیوبند کے مدرس مولانا محمد سہولؒ نے ۱۲؍ صفر ۱۳۳۱ھ کو فتویٰ مرتب کیا کہ:

۱… مرزا غلام احمد قادیانی مرتد، زندیق، ملحد اور کافر ہے۔

۲… یہ کہ اس کے ماننے والوں سے اسلامی معاملہ کرنا شرعاً ہرگز درست نہیں۔ مسلمانوں پر لازم ہے کہ مرزائیوں کو سلام نہ کریں۔ ان سے رشتہ ناتہ نہ کریں۔ ان کا ذبیحہ نہ کھائیں۔ جس طرح یہود، ہنود، نصاریٰ سے اہل اسلام مذہباً علیحدہ رہتے ہیں۔ اسی طرح

96

مرزائیوں سے بھی علیحدہ رہیں۔ جس طرح بول و براز، سانپ اور بچھو سے پرہیز کیا جاتا ہے۔ اس سے زیادہ مرزائیوں سے پرہیز کرنا شرعاً ضروری اور لازمی ہے۔

۳… مرزائیوں کے پیچھے نماز پڑھنا ایسے ہے۔ جیسے یہود و نصاریٰ اور ہندو کے پیچھے نماز پڑھنا۔

۴… مرزائی مسلمانوں کی مساجد میں نہیں آسکتے۔ مرزائیوں کو مسلمانوں کی مساجد میں عبادت کی اجازت دینا ایسے ہے۔ جیسے ہندوؤں کو مسجد میں پوجا پاٹ کی اجازت دینا۔

۵… مرزا غلام احمد قادیانی، قادیان (مشرقی پنجاب ہندوستان) کا رہائشی تھا۔ اس لئے اس کے پیروکاروں کو ’’قادیانی‘‘ یا ’’فرقہ غلامیہ‘‘ بلکہ جماعت شیطانیہ ابلیسیہ کہا جائے۔

اس فتویٰ پر دستخط کرنے والوں میں شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ، حضرت مولانا مفتی محمد حسنؒ، حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ، حضرت مولانا سید مرتضیٰ حسن چاند پوریؒ، مولانا عبدالسمیع، حضرت مفتی عزیزالرحمن دیوبندیؒ، حضرت مولانا محمد ابراہیم بلیاویؒ، حضرت مولانا اعزاز علی دیوبندیؒ، حضرت مولانا حبیب الرحمن ایسے دیگر اکابر علمائے کرام شامل تھے جن کا تعلق دیوبند، سہارنپور، دہلی، کلکتہ، ڈھاکہ، پشاور، رام پور، راولپنڈی، ہزارہ، مراد آباد، وزیر آباد، ملتان اور میانوالی وغیرہ سے تھا۔ آپ اس سے اندازہ کرسکتے ہیں کہ کتنا وقیع اور جاندار فتویٰ تھا۔ آج سو سال کے بعد جبکہ قادیانیت کا کفر عیاں و عریاں ہے۔ بایں ہمہ اس فتویٰ میں ذرہ برابر زیادتی کرنا ممکن نہیں۔ ان اکابر نے سوچ سمجھ کر اتنا جاندار فتویٰ مرتب کیا۔ اس میں تمام جزئیات کو شامل کرکے اتنا جامع بنادیا کہ ایک صدی گزرنے کے باوجود اس کی آب و تاب و جامعیت جوں کی توں باقی ہے۔

اس کے بعد ۱۳۳۲ھ میں دارالعلوم دیوبند سے ایک فتویٰ جاری ہوا جس میں قادیانیوں سے رشتہ ناتہ کو حرام قرار دیا گیا تھا۔ یہ فتویٰ حضرت مولانا مفتی عزیزا لرحمن صاحب کا مرتب کردہ ہے۔ اس پر دیوبند سے حضرت مولانا سید اصغر حسینؒ، حضرت مولانا رسول خانؒ، حضرت مولانا محمد ادریس کاندہلویؒ، حضرت مولانا گل محمد خانؒ، سہارنپور سے مظاہرالعلوم کے مہتمم حضرت مولانا عنایت الٰہیؒ، حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوریؒ، حضرت مولانا عبدالرحمن کامل پوریؒ، حضرت مولانا عبداللطیفؒ، حضرت مولانا بدر عالم میرٹھیؒ، تھانہ بھون سے حکیم الامت حضرت

97

مولانا محمد اشرف علی تھانویؒ، رائے پور سے حضرت مولانا شاہ عبدالرحیم رائے پوریؒ، حضرت مولانا شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ، دہلی سے حضرت مولانا مفتی کفایت ﷲ دہلویؒ، غرض کلکتہ، بنارس، لکھنؤ، آگرہ، مرادآباد، لاہور، امرتسر، لدھیانہ، پشاور، راولپنڈی، ملتان، ہوشیارپور، گورداسپور، جہلم، سیالکوٹ، گوجرانوالہ، حیدرآباد دکن، بھوپال، رام پور، وغیرہ سے سینکڑوں علمائے کرام کے دستخط ہیں۔ اس فتویٰ کا نام ’’فتویٰ تکفیر قادیان‘‘ ہے۔ یہ کتب خانہ اعزازیہ دیوبند سے شائع ہوا۔

قادیانیوں کے خلاف مقدمات

حضرات علمائے دیوبند کی مساعی جمیلہ کے صدقے پوری امت کے تمام مکاتب فکر قادیانیوں کے خلاف صف آرا ہوگئے تو پورے متحدہ ہندوستان میں قادیانیوں کا کفر امت محمدیہؐ پر آشکارا ہوا۔ یوں تو ہندوستان کی مختلف عدالتوں نے قادیانیوں کے خلاف فیصلے دیئے۔ ماریشس تک کی عدالتوں کے فیصلہ جات قادیانیوں کے خلاف موجود ہیں۔ لیکن سب سے زیادہ جس مقدمہ نے شہرت حاصل کی اور جو ہر عام و خاص کی توجہ کا مرکز بن گیا وہ ’’مقدمہ بہاولپور‘‘ ہے۔ علمائے بہاولپور کی دعوت پر حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ ، حضرت مولانا ابو الوفا شاہجہانپوریؒ، حضرت مولانا مفتی محمد شفیعؒ، حضرت مولانا سید مرتضیٰ حسن چاند پوریؒ ایسے اکابر علمائے دیوبند نے بہاولپور ایسے دور افتادہ شہر آکر کیس کی وکالت کی۔ اس مقدمہ کی ۱۹۲۶ء سے لے کر ۱۹۳۵ء تک کارروائی چلتی رہی۔ اس مقدمہ میں جج نے قادیانیت کے کفر پر عدالتی مہر لگا کر قادیانیت کے وجود میں ایسی کیل ٹھونکی جس سے قادیانیت بلبلا اٹھی۔ سپریم کورٹ کے تمام فیصلوں کی بنیاد یہی فیصلہ ہے جس کی کامیابی میں فرزندان دیوبند سب سے نمایاں ہیں۔ فالحمد ﷲ اوّلاً و آخراً۔

قادیانیت کا جماعتی سطح پر احتساب

فرد کا مقابلہ فرد اور جماعت کا مقابلہ جماعت ہی کرسکتی ہے۔ چنانچہ مارچ ۱۹۳۰ء کو لاہور میں انجمن خدام الدین کے سالانہ اجتماع میں جو حضرت شیخ التفسیر مولانا احمد علی لاہوریؒ کی دعوت پر منعقد ہوا تھا۔ ملک بھر سے پانچ سو علمائے کرام کے اجتماع میں امام العصر حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ نے حضرت مولانا سید عطاء ﷲ شاہ بخاریؒ کو ’’امیر شریعت‘‘ کا خطاب دیا اور قادیانیت کے محاذ کی ان پر ذمہ داری ڈالی۔ اس وقت قادیانیت کے خلاف افراد اور اداروں کی

98

محنت میں دارالعلوم دیوبند کا کردار قابل رشک تھا۔ ندوۃ العلماء لکھنؤ کے بانی حضرت مولانا سید محمد علی مونگیریؒ تو گویا تکوینی طور پر محاذ ختم نبوت کے انچارج تھے۔ قادیا نیوں کے خلاف ان کا اور مولانا مرتضیٰ حسن چاندپوریؒ کا وجود ہندوستان کی دھرتی پر درئہ عمرؓ کی حیثیت رکھتا تھا۔ اب جماعتی سطح پر قادیانیوں کے احتساب کے لئے حضرت امیر شریعت سید عطاء ﷲ شاہ بخاریؒ کی ڈیوٹی لگی۔ آپ نے مجلس احرار اسلام ہند میں مستقل شعبہ تبلیغ قائم کردیا۔ جمعیۃ علمائے ہند اور دارالعلوم دیوبند کی پوری قیادت کا ان پر اس سلسلہ میں بھرپور اعتماد تھا۔ حکیم الامت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانویؒ ایسے مقبولانِ بارگاہِ الٰہی نے سرپرستی سے سرفراز فرمایا۔

قادیان کانفرنس

اﷲ رب العزت کے فضل وکرم سے مجلس احرار اسلام ہند نے ۲۰،۲۱، ۲۲؍ اکتوبر ۱۹۳۴ء کو قادیان میں کانفرنس کا انعقاد کیا۔ اس میں ان اکابرین ملت نے قادیانیت کا مقابلہ کیا۔ فاتح قادیان حضرت مولانا محمد حیاتؒ، حضرت مولانا عنایت علی چشتیؒ، ماسٹر تاج الدین انصاریؒ، حضرت مولانا رحمت ﷲ مہاجر مکیؒ وغیر ہ ان سب حضرات نے قادیان میں رہ کر قادیانیت کو ناکوں چنے چبوائے۔ ﷲ تعالیٰ کے کرم کے فیصلوں کو دیکھئے کہ یہ سب حضرات خانوادئہ دیوبند سے تعلق رکھتے تھے۔ اس کانفرنس میں علمائے کرام نے ملک کے چپہ چپہ میں قادیانی عقائد و عزائم کی قلعی کھولنے کی ایک لہر پیدا کردی۔

قادیان سے ربوہ تک

مختصر یہ کہ ان اکابر کی قیادت میں امیر شریعت مولانا سید عطاء ﷲ شاہ بخاریؒ اور ’’مجلس احرار اسلام‘‘ کے سرفروشوں نے اپنی شعلہ بار خطابت کے ذریعے انگریز اور انگریز کی ساختہ پرداختہ قادیانی نبوت کے خرمن خبیثہ کو پھونک ڈالا۔ تاآنکہ ۱۹۴۷ء میں انگریزی اقتدار رخت سفر باندھ کر رخصت ہوا تو برصغیر کی تقسیم ہوئی اور پاکستان منصہ شہود پر جلوہ گر ہوا۔ اس تقسیم کے نتیجہ میں قادیانی نبوت کا منبع خشک ہوگیا اور قادیان کی منحوس بستی دارالکفر اور دارالحرب ہندوستان کے حصہ میں آئی۔ قادیانی خلیفہ اپنی ’’ارض حرم‘‘ اور ’’مکۃ المسیح‘‘ (قادیان) سے برقعہ پہن کر فرار ہوا اور پاکستان میںربوہ (اب چناب نگر) کے نام سے نیا دارالکفر تعمیر کرنے کے بعد شاہوار نبوت کی ترکتازیاں دکھانے اور پورے ملک کو مرتد کرنے کا اعلان کرنے لگا۔

99

قیام پاکستان کے بعد

قادیانیوں کو یہ غلط فہمی تھی کہ پاکستان کے ارباب اقتدار پر ان کا تسلط ہے۔ ملک کے کلیدی مناصب ان کے قبضے میں ہیں۔ پاکستان کا وزیر خارجہ ظفر ﷲ خان خلیفہ قادیان (حال ربوہ) کا ادنیٰ مرید ہے۔ اس لئے پاکستان میں مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت کا جعلی سکہ رائج کرنے میں انہیں کوئی دقت پیش نہیں آئے گی۔ ان کی امید افزائی کا خاص پہلو یہ بھی تھا کہ ’’احرار اسلام‘‘ کا قافلہ تقسیم ملک کی وجہ سے بکھر چکا تھا۔ تنظیم اور تنظیمی وسائل کا فقدان تھا اور پھر ’’احراراسلام‘‘ ناخدایان پاکستان کے دربار میں معتوب تھے۔ اس لئے قادیانیوں کو غرہ تھا کہ اب حریم نبوت کی پاسبانی کے فرائض انجام دینے کی کسی کو ہمت نہیں ہوگی۔ لیکن وہ یہ بھول گئے تھے کہ حفاظت دین اور ’’تحفظ ختم نبوت‘‘ کا کام انسان نہیں کرتے خدا کرتا ہے اور وہ اس کام کے لئے خود ہی رجال کار بھی پیدا فرمادیتا ہے۔

مجلس تحفظ ختم نبوت

امیر شریعت سید عطاء ﷲ شاہ بخاریؒ اور ان کے رفقاء قادیانیوں کے عزائم سے بے خبرنہیں تھے۔ چنانچہ جدید حالات میں قادیانیت کے خلاف کام کرنے کا لائحہ عمل مرتب کرنے کے لئے ملتان کی ایک چھوٹی سی مسجد ’’مسجد سراجاں‘‘ (۱۹۴۹ء) میں ایک مجلس مشاورت ہوئی۔ جس میں امیر شریعت ؒ کے علاوہ مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ‘ خطیب پاکستان مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ‘ مولانا عبدالرحمن میانویؒ‘ مولانا تاج محمودؒ اور مولانا محمد شریف جالندھری ؒ شریک ہوئے۔ غوروفکر کے بعد ایک غیر سیاسی تبلیغی تنظیم ’’مجلس تحفظ ختم نبوت‘‘کی بنیاد رکھی گئی اور اس کا ابتدائی میزانیہ ایک روپیہ یومیہ تجویز کیا گیا۔ چنانچہ صدرالمبلغین کی حیثیت سے فاتح قادیان حضرت مولانا محمد حیات صاحبؒ کو‘ جو قادیان میں شعبہ تبلیغ احرار اسلام کے صدر تھے۔ ملتان طلب کیا گیا۔ ان دنوں مسجد سراجاں ملتان کا چھوٹا سا حجرہ مجلس تحفظ ختم نبوت کا مرکزی دفتر تھا۔ وہی دارالمبلغین تھا۔ وہی دارالاقامہ تھا۔وہی مشاورت گاہ تھی اور یہی چھوٹی سی مسجد اس عالمی تحریک ’’مجلس تحفظ ختم نبوت‘‘ کا ابتدائی کنٹرول آفس تھا۔ شہید اسلام حضرت زیدؓ کے بقول: ’’وذلک فی ذات الالہ وان یشاء یبارک علی اوصال شلو ممزع‘‘

حق تعالیٰ شانہ نے اپنی قدرت کاملہ سے اس نحیف و ضعیف تحریک میں ایسی برکت

100

ڈالی کہ آج اس کی شاخیں اقطار عالم میں پھیل چکی ہیں اور اس کا مجموعی میزانیہ لاکھوں سے متجاوز ہے۔

قیادت باسعادت

’’مجلس تحفظ ختم نبوت‘‘ کو یہ سعادت ہمیشہ حاصل رہی ہے کہ اکابر اولیاء ﷲ کی قیادت و سرپرستی اور دعائیں اسے حاصل رہی ہیں۔ حضرت اقدس رائے پوریؒ آخری دم تک اس تحریک کے قائد و سرپرست رہے۔ ان کے وصال کے بعد حضرت مولانا خیر محمد جالندھریؒ‘ حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ‘ حضرت مولانا عبداﷲ درخواستیؒ اور حضرت مولانا خان محمدصاحبؒ خانقاہ سراجیہ کندیاں۔ اس کے سرپرست ہیں ’’مجلس تحفظ ختم نبوت‘‘ کے بانی اور امیر اول امیر شریعت سید عطاء ﷲ شاہ بخاریؒ تھے۔ امیر شریعتؒ کی وفات ۱۹۶۱ء میں ہوئی۔ خطیب پاکستان مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ ان کے جانشین مقرر ہوئے۔ ان کے وصال کے بعد حضرت مجاہد ملت مولانا محمد علی جالندھریؒ کو امارت سپرد کی گئی۔ ان کے وصال کے بعد مناظر اسلام مولانا لال حسین اخترؒ امیر مجلس ہوئے۔ مولانا لال حسین اخترؒ کے بعد عارضی طور پر فاتح قادیان حضرت مولانا محمد حیات صاحبؒ کو مسند امارت تفویض ہوئی۔ مگر اپنے ضعف و عوارض کی بناء پر انہوں نے اس گراں باری سے معذرت کا اظہار فرمایا۔ یہ ایک ایسا بحران تھا کہ جس سے اس عظیم الشان تحریک کی پیش قدمی رک جانے کا اندیشہ لاحق ہوگیا تھا۔ لیکن حق تعالیٰ شانہ کا وعدہ حفاظت دین یکایک ایک ایسی ہستی کو اس منصب عالی کے لئے کھینچ لایا جو اپنے اسلاف کے علوم و روایات کی امین تھی اور جس پر ملت اسلامیہ کو بجاطور پر فخر حاصل تھا۔ میری مراد شیخ الاسلام حضرت العلامہ مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ سے ہے۔

تحفظ ختم نبوت اور رد قادیانیت‘ امام العصر حضرت مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ کی وراثت وامانت تھی اور اس کا اہل علوم انوری کے وارث حضرت شیخ بنوری سے بہتر اور کون ہوسکتا تھا؟ چنانچہ حضرت امیر شریعت قدس سرہ کی امارت خطیب پاکستان مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ کی خطابت‘ مجاہد ملت مولانا محمد علی جالندھری نوراﷲ مرقدہ کی ذہانت‘ مناظراسلام مولانا لال حسین اختر ؒ کی رفاقت‘ حضرت شیخ الاسلام مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ کی بلندئ عزم نے نہ صرف مجلس تحفظ ختم نبوت کی عزت و شہرت کو چار چاند لگادیئے۔ بلکہ ان حضرات کی قیادت نے قصر

101

قادیانی پر اتنی ضرب کاری لگائی کہ قادیانی تحریک کے بانی مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت پر کذب وافتراء کی آئینی مہر لگ گئی۔

غیر سیاسی جماعت

’’مجلس تحفظ ختم نبوت‘‘ کا مقصد تاسیس‘ عقیدئہ ختم نبوت کی حفاظت اور امت مسلمہ کو قادیانی الحاد سے بچانا تھا۔ اس کے لئے ضرورت تھی کہ جماعت خارزار سیاست میں الجھ کر نہ رہ جائے۔ چنانچہ جماعت کے دستور میں تصریح کردی گئی کہ جماعت کے ذمہ دار ارکان سیاسی معرکوں میں حصہ نہیں لیں گے۔ کیونکہ سیاسی میدان میں کام کرنے کے لئے دوسرے حضرات موجود ہیں۔ اس لئے ’’مجلس تحفظ ختم نبوت‘‘ کا دائرہ عمل دعوت و ارشاد‘ اصلاح و تبلیغ اور رد قادیانیت تک محدود رہے گا۔ اس فیصلے سے دو فائدے مقصود تھے۔

ایک یہ کہ: ’’جماعت تحفظ ختم نبوت‘‘ کا پلیٹ فارم تمام مسلمانوں کا اجتماعی پلیٹ فارم رہے گا اور عقیدئہ ختم نبوت کا جذبہ اہل اسلام کے اتحاد و اتفاق اور ان کے باہمی ربط تعلق کا بہترین ذریعہ ثابت ہوگا۔‘‘

دوم یہ کہ: ’’مجلس تحفظ ختم نبوت‘‘ کا ارباب اقتدار سے یا کسی اور سیاسی جماعت سے تصادم نہیں ہوگا۔ اور امت مسلمہ کا اجتماعی عقیدئہ ختم نبوت اطفال سیاست کا کھلونا بننے سے محفوظ رہے گا۔‘‘

امام العصر علامہ سید محمد انور شاہ کشمیری

امام العصر حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ کو قدرت نے قادیانیت کے خلاف سراپا تحریک بنا دیا تھا۔ آپ نے اپنے شاگردوں کی ایک مستقل جماعت کو قادیانیت کے خلاف تحریری و تقریری میدان میں لگایا تھا۔ حضرت مولانا بدر عالم میرٹھیؒ، حضرت مولانا مفتی محمد شفیعؒ، حضرت مولانا شبیر احمد عثمانیؒ، حضرت مولانا محمد منظور نعمانیؒ، حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ، حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ، حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ، حضرت مولانا محمد ادریس کاندہلویؒ، مولانا غلام ﷲ خانؒ ایسے جید علمائے امت جنہوں نے قادیانیت کو ناکوں چنے چبوائے۔ یہ سب حضرت کشمیریؒ کے شاگرد تھے۔ دارالعلوم دیوبند کی مسند ِ حدیث پر بیٹھ کر اس مردِ قلندر نے اس فتنہ عمیاء قادیانیت کے خلاف محاذ قائم کیا۔ جسے دیانت دار مورخ سنہرے حروف سے لکھنے پر مجبور ہے۔

102

پاکستان اور قادیانیت

۱۹۴۷ء میں پاکستان بنا۔ قادیانی جماعت کا لاٹ پادری مرزا محمود قادیان چھوڑ کر پاکستان آگیا۔ پنجاب کے پہلے انگریز گورنر موڈی کے حکم پر چنیوٹ کے قریب ان کو لب دریا ایک ہزار چونتیس ایکڑ زمین عطیہ کے طور پر الاٹ کی گئی۔ فی مرلہ ایک آنہ کے حساب سے صرف رجسٹری کے کل اخراجات 10,034/-روپے وصول کئے۔ قادیانیوں نے بلاشرکت غیرے وہاں پر اپنی اسٹیٹ ’’مرزائیل‘‘ کی اسرائیل کی طرز پر بنیاد رکھی۔ ظفراﷲ قادیانی پاکستان کا پہلا وزیر خارجہ بنا۔ اس نے سرکاری خزانہ سے آب و دانہ کھا کر قادیانیت کو دنیا بھر میں متعارف کرایا۔ انگریز خود چلا گیا۔ مگر جاتے ہوئے اسلامیان برصغیر کے لئے اپنی لے پالک اولاد قادیانیت کے لئے ایک مضبوط بیس مہیا کرگیا۔ قادیانی علی الاعلان اقتدار کے خواب دیکھنے لگے۔ ان پر کوئی روک ٹوک نہ تھی۔ قادیانیوں کی تعلّی اور لن ترانیاں دیکھ کر اسلامیان پاکستان کا ہردرد رکھنے والا شخص اس صورت سے پریشان تھا۔ قادیانی منہ زور گھوڑے کی طرح ہوا پر سوار تھے۔ ملک میں جداگانہ طرز انتخاب پر الیکشن کرانے کا فیصلہ کیا گیا۔ لیکن قادیانیوں کو مسلمانوں کا حصہ شمار کیا گیا۔ چنانچہ اس صورت حال کو دیکھ کر حضرت امیر شریعت سید عطاء ﷲ شاہ بخاریؒ نے شیر اسلام حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ اور مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ کو بریلوی مکتبہ فکر کے رہنما مولانا ابوالحسنات قادریؒ کے ہاں بھیجا۔ دیوبندی، بریلوی، اہلحدیث ، شیعہ مکاتب فکر اکٹھے ہوئے اور قادیانیوں کے خلاف تحریک چلی۔ جسے تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء کہا جاتا ہے۔ اس تحریک میں مرکزی کردار ابنائے دارالعلوم دیوبند کا تھا۔ اس تحریک نے قادیانیوں کے منہ زور گھوڑے کو لنگڑا کردیا۔ ظفر ﷲ قادیانی ملعون اپنی وزارت سے آنجہانی ہوگیا۔ قادیانیت کی اس تڑاخ سے ہڈیاں ٹوٹیں کہ وہ زمین پر رینگنے لگی۔ عقیدئہ ختم نبوت کی ان عظیم خدمات پر دارالعلوم دیوبند کے فیض یافتگان کو جتنا خراج تحسین پیش کیا جائے کم ہے۔

قبل ازیں ۱۹۴۹ء میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے نام سے جس پلیٹ فارم کا اعلان ہوا تھا۔ ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت کے بعد اسے مستقل جماعت کے طور پر قادیانیت کے احتساب کے لئے منظم کیا گیا جبکہ سیاسی و مذہبی طور پر اسلامیان پاکستان کی رہنمائی اور اسلامی نظام کے نفاذ اور اشاعت دین کے لئے ’’جمعیت علمائے اسلام پاکستان‘‘ کی تشکیل کی گئی۔ یہ سب ابنائے دارالعلوم کا کارنامہ ہے۔ جمعیت علمائے اسلام پاکستان نے ایوبی دور میں مغربی پاکستان اسمبلی

103

میں شیر اسلام مولانا غلام غوث ہزارویؒ اور قومی اسمبلی میں مفکر اسلام مولانا مفتی محمودؒ کی قیادت باسعادت میں ’’تحفظ ختم نبوت‘‘ کے لئے جو خدمات انجام دیں۔ وہ تاریخ کا حصہ ہیں۔ غرض مذہبی اور سیاسی اعتبار سے قادیانیت کا احتساب کیا گیا ’’مغربی آقائوں‘‘ کے اشارے پر قادیانی ’’فوج‘‘ و دیگر سرکاری دوائر میں سرگرم عمل تھے۔ علمائے کرام کی مستقل جماعت مولانا احمد علی لاہوریؒ مولانا سید عطاء ﷲ شاہ بخاریؒ، مولانا غلام غوث ہزارویؒ، مولانا مفتی محمودؒ، مولانا قاضی احسان احمدشجاع آبادیؒ، مولانا گل بادشاہؒ، مولانا محمد یوسف بنوریؒ، مولانا خیر محمد جالندھریؒ، مولانا تاج محمودؒ، مولانا لال حسین اخترؒ، مولانا مفتی محمد شفیعؒ، مولانا عبدالرحمن میانویؒ، مولانا محمد حیاتؒ، مولانا عبدالقیومؒ، مولانا عبدالواحدؒ، مولانا محمد عبداﷲ درخواستی ؒ اور ان کے ہزاروں شاگرد لاکھوں متوسلین کروڑوں متعلقین نے جو خدمات سرانجام دیں۔ وہ سب دارالعلوم کا فیضان نظر ہے۔ سب اسماء گرامی کا استحضار و احصاء ممکن نہیں۔ وہ سب حضرات جنہوں نے اس سلسلہ میں خدمات سرانجام دیں۔ وہ ہمارے ان الفاظ کے لکھنے کے محتاج نہیں۔ وہ یقینا رب کریم کے حضور اپنے حسنات کا اجر پاچکے ۔ (فنعم اجر العاملین)

قرارداد رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ

رابطہ عالم اسلامی کا سالانہ اجتماع اپریل ۱۹۷۴ء میں منعقد ہوا۔ مفکر اسلام مولانا ابوالحسن علی ندویؒ، شیخ الاسلام مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ اور دوسرے اکابرین دیوبند اس اجتماع میں نہ صرف موجود تھے۔ بلکہ اس قرار داد کو پاس کرانے کے داعی تھے۔ رابطہ عالم اسلامی نے متفقہ طور پر قادیانیوں کے خلاف قرارداد منظور کی جو دور رس نتائج کی حامل ہے۔ اس سے پوری دنیا کے علمائے اسلام کا قادیانیت کے کفر پر اجماع منعقد ہوگیا۔

تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء

اﷲ رب العزت کے فضل و احسان کے بموجب ۱۹۷۰ء میں جمعیت علمائے اسلام پاکستان کی مثالی جدوجہد سے مفکر اسلام مولانا مفتی محمودؒ ،شیر اسلام مولانا غلام غوث ہزارویؒ، شیخ الحدیث مولانا عبدالحقؒ، مولانا عبدالحکیمؒ، مولانا صدر الشہیدؒ اور دیگر حضرات قومی اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے۔ جناب ذوالفقار علی بھٹو مرحوم برسر اقتدار آئے۔ قادیانیوں نے ۱۹۷۰ء میں پیپلز پارٹی کی دامے درمے اور افرادی مدد کی تھی۔ قادیانیوں نے پھر پرپرزے نکالے۔ ۲۹؍مئی ۱۹۷۴ء کو چناب

104

نگر (ربوہ) ریلوے اسٹیشن پر نشتر میڈیکل کالج ملتان کے طلباء پر قاتلانہ حملہ کیا۔ اس کے نتیجہ میں تحریک چلی۔ اسلامیان پاکستان ایک پلیٹ فارم ’’مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پاکستان‘‘ پر جمع ہوئے جس کی قیادت دارالعلوم دیوبند کے مرد جلیل، محدث کبیر مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ نے فرمائی اور قومی اسمبلی میں امت مسلمہ کی نمائندگی کا شرف حق تعالیٰ نے دارالعلوم دیوبند کے عظیم سپوت مفکر اسلام مولانا مفتی محمودؒ کو بخشا۔ یوں قادیانی قانونی طور پر اپنے منطقی انجام کو پہنچے اور ان کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا۔ کہاں قادیانی اقتدار کا خواب اور کہاں چوہڑوں، چماروں میں ان کا شمار۔ اس پوری جدوجہد میں دارالعلوم دیوبند کے فیض یافتگان کی خدمات ﷲ رب العزت کے فضل و کرم کا اظہار ہے۔ غرض دارالعلوم دیوبند کے سرپرست اول حاجی امداد ﷲ مہاجر مکیؒ کی ’’الف‘‘ سے تحفظ ختم نبوت کی جو تحریک شروع ہوئی۔ وہ شیخ الاسلام مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ کی ’’یاء‘‘ پر کامیابی سے سرفراز ہوئی۔

قومی اسمبلی میں قادیانیوں کے متعلق جو کارروائی ہوئی وہ سب قومی ’’تاریخی دستاویز‘‘ کے نام سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے شائع کردی ہے۔ قومی اسمبلی میں دارالعلوم دیوبند کے فیض یافتگان ہمارے اکابر نے مفکر اسلام مولانا مفتی محمودؒ کی قیادت باسعادت میں قادیانیوں کو جس طرح چاروں شانے چت کیا۔ یہ دستاویز اس پر ’’شاہد عدل‘‘ ہے۔ قادیانیوں نے اسمبلی میں ایک محضر نامہ پیش کیا تھا۔ جس کا جواب مولانا مفتی محمودؒ اور مولانا محمد یوسف بنوریؒ کی نگرانی میں مولانا محمد تقی عثمانی اور مولانا سمیع الحق نے لکھا۔ حوالہ جات مولانا محمد حیاتؒ اور مولانا عبدالرحیم اشعرؒ نے فراہم کئے اور قومی اسمبلی میں اسے مفکر اسلام قائد جمعیت مولانا مفتی محمودؒ نے پڑھا۔

جناب ذوالفقار علی بھٹو کے بعد جنرل محمد ضیاء الحق برسراقتدار آئے۔ ان کے زمانہ میں پھر قادیانیوں نے پر پرزے نکالے۔ ایک بار ووٹنگ لسٹوں کے حلف نامہ میں تبدیلی کی گئی۔ اس زمانہ میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے سیکریٹری جنرل مولانا محمد شریف جالندھریؒ بھاگم بھاگ جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سیکریٹری جنرل مفکر اسلام مولانا مفتی محمودؒ کے پاس راولپنڈی پہنچے۔ حضرت مفتی صاحبؒ ملٹری ہسپتال میں پائوں کے زخم کے علاج کے سلسلہ میں زیر علاج تھے۔ اس حالت میں حضرت مفتی صاحبؒ نے جنرل ضیاء الحق کو فون کیا۔ آپ کی للکار سے اقتدار کا نشہ ہرن ہوا اور وہ غلطی درست کردی گئی۔ وہ غلطی نہ تھی۔ بلکہ حقیقت میں قادیانیوں سے متعلق قانون کو نرم کرنے کی پہلی چال تھی۔ جسے دارالعلوم دیوبند کے ایک فرزند کی للکار حق نے ناکام بنادیا۔

105

۱۹۸۲ء میں جنرل ضیاء الحق کے زمانہ اقتدار میں پرانے قوانین کی چھانٹی کا عمل شروع ہوا (جو قانون کہ اپنا مقصد حاصل کرچکے ہوںان کو نکال دیا جائے) اس موقع پر ابہام پیدا ہوگیا کہ قادیانیوں سے متعلق ترمیم بھی منسوخ ہوگئی ہے۔ اس پر ملک کے وکلاء کی رائے لی گئی۔ اڑھائی سو وکلاء کے دستخطوں سے مجلس تحفظ ختم نبوت نے روزنامہ جنگ میں اشتہار شائع کرایا۔ مولانا قاری سعیدالرحمن مہتمم جامعہ اسلامیہ کشمیر روڈ صدر راولپنڈی، مولانا سمیع الحق صاحب مہتمم جامعہ حقانیہ، اکوڑہ خٹک جنرل صاحب کو ملے۔ ان کی کابینہ میں محترم جناب راجہ ظفرالحق وفاقی وزیر تھے۔ ان کے مشورہ سے جنرل صاحب نے ایک آرڈی نینس منظور کیا اور قادیانیوں سے متعلق ترمیم کے بارے میں جو ابہام پایا جاتا تھا۔ وہ دور ہوا اور اسلامیان پاکستان نے اطمینان کا سانس لیا۔ اس آرڈی نینس کو اس وقت بھی آئینی تحفظ حاصل ہے۔

تحریک ختم نبوت ۱۹۸۴ء

جناب بھٹو کے زمانہ میں پاس شدہ آئینی ترمیم پر قانون سازی نہ ہوسکی۔ جنرل ضیاء الحق کے زمانہ میں قادیانی خواہش تھی کہ کسی طرح یہ ترمیم منسوخ ہوجائے۔ اس کے لئے وہ اندرون خانہ سازشوں میں مصروف تھے۔ قادیانی سازشوں اور اشتعال انگیز کارروائیوں سے مسلمانوں کے رد عمل نے تحریک ختم نبوت ۱۹۸۴ء کی شکل اختیار کی۔ شیخ الاسلام حضرت مولانا محمد یوسف بنوریؒ اور مفکر اسلام مولانا مفتی محمودؒ ﷲ کو پیارے ہوچکے تھے۔ اب اس نئی آزمائش میں دارالعلوم دیوبند کے زعماء خواجہ خواجگان حضرت مولانا خان محمد صاحبؒ، قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن، مولانا مفتی احمد الرحمنؒ، مولانا محمد اجمل خانؒ، مولانا عبیداﷲ انورؒ، پیر طریقت مولانا عبدالکریم بیرشریفؒ، مولانا محمد مراد ہالیجویؒ، مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ، مولانا محمد شریف جالندھریؒ، مولانا میاں سراج احمد دینپوری، مولانا سید محمد شاہ امروٹیؒ، مولانا عبدالواحدؒ، مولانا منیر الدینؒ کوئٹہ، ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر، مولانا حبیب ﷲ مختارشہیدؒ، مولانا محمد لقمان علی پوریؒ، مولانا عزیزالرحمن جالندھری، مولانا ضیاء القاسمیؒ، مولانا منظور احمد چنیوٹیؒ، مولانا سید امیر حسین گیلانیؒ، ایسے ہزاروں علمائے حق نے تحریک کی قیادت کی اور اس کے نتیجہ میں قادیانیوں کے متعلق پھر قانون سازی کے اس خلاء کو پر کرنے کے لئے امتناع قادیانیت آرڈی نینس منظور ہوا۔

یہ آرڈی نینس اس وقت قانون کا حصہ ہے۔ اس سے یہ فوائد حاصل ہوئے:

106

۱… قادیانی اپنی جماعت کے چیف گرو یا لاٹ پادری کو امیر المومنین نہیں کہہ سکتے۔

۲… قادیانی اپنی جماعت کے سربراہ کو خلیفۃ االمؤمنین یا خلیفۃ المسلمین نہیں کہہ سکتے۔

۳… مرزا غلام احمد قادیانی کے کسی مرید کو معاذاﷲ ’’صحابی‘‘ نہیں کہہ سکتے۔

۴… مرزا قادیانی کے کسی مرید کے لئے ’’رضی ﷲ عنہ‘‘ نہیں لکھ سکتے۔

۵… مرزا غلام احمد قادیانی کی بیوی کے لئے ’’ام المؤمنین‘‘ کا لفظ استعمال نہیں کرسکتے۔

۶… قادیانی اپنی عبادت گاہ کو مسجد نہیں کہہ سکتے۔

۷… قادیانی اذان نہیں دے سکتے۔

۸… قادیانی اپنے آپ کو مسلمان نہیں کہہ سکتے۔

۹… قادیانی اپنے مذہب کو اسلام نہیں کہہ سکتے۔

۱۰… قادیانی اپنے مذہب کی تبلیغ نہیں کرسکتے۔

۱۱… قادیانی اپنے مذہب کی دعوت نہیں دے سکتے۔

۱۲… قادیانی مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح نہیں کرسکتے۔

۱۳… قادیانی کسی بھی طرح اپنے آپ کو مسلمان شمار نہیں کرسکتے۔

۱۴ … غرض کہ کوئی بھی شعائر اسلام استعمال نہیں کرسکتے۔

بحمدہٖ تعالیٰ اس قانون کے منظور ہونے سے قادیانی جماعت کا سالانہ جلسہ جسے وہ ظلّی حج قرار دیتے تھے۔ پاکستان میں اس پر پابندی لگی۔ قادیانی جماعت کے چیف گرو، لاٹ پادری مرزا طاہر کو ملک چھوڑ کر لندن جانا پڑا۔ اس تمام تر کامیابی و کامرانی کے لئے ’’ابنائے دارالعلوم دیوبند‘‘ نے جو خدمات سرانجام دیں ان کو کوئی منصف مزاج نظر انداز نہیں کرسکتا۔ اس قانون کے نافذ ہوتے ہی قادیانیوں کے لئے ’’نہ پائے رفتن نہ جائے ماندن‘‘ والا قصہ ہوگیا۔

مقدمات

۱… قادیانیوں نے وفاقی شرعی عدالت میں اس قانون کو چیلنج کردیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحبؒ کے حکم پر کیس کی تیاری اور پیروی کے لئے شہید مظلوم حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ، حضرت مولانا محمد شریف جالندھریؒ، حضرت مولانا عبدالرحیم اشعرؒ پر مشتمل جماعت نے لاہور ڈیرے لگادیئے۔ ملتان

107

عالمی مجلس کے مرکزی کتب خانہ سے بیسیوں بکس کتب کے بھر کے لاہور لائے گئے۔ فوٹو اسٹیٹ مشین کا اہتمام کیا گیا۔ جامعہ اشرفیہ لاہور کی لائبریری اس کیس کی پیروی کے لئے جامعہ کے حضرات نے وقف کردی۔ ۱۵؍ جولائی سے ۱۲؍ اگست ۱۹۸۴ء تک اس کی سماعت جاری رہی۔ حضرت امیر مرکزیہؒ اور خانقاہ رائے پور کی روایات کے امین حضرت اقدس سید نفیس الحسینیؒ اور مفکر اسلام علامہ ڈاکٹر خالد محمود بھی تشریف لاتے رہے۔ لاہور کی تمام جماعتوں نے بھرپور حصہ لیا اور بالکل بہاولپور کے مقدمہ کی یاد تازہ ہوگئی۔ ﷲ رب العزت نے اپنے فضل و کرم سے نہایت ہی کرم کا معاملہ فرمایا۔ ۱۲؍ اگست ۱۹۸۴ء کو جب فیصلہ آیا تو قادیانیوں کی رٹ خارج کردی گئی۔ کفر ہار گیا۔ اسلام جیت گیا۔ تفصیلی فیصلہ جسٹس فخر عالم نے تحریر کیا۔

۲… قادیانیوں نے اس فیصلہ کے خلاف وفاقی شرعی عدالت کی اپیل بینچ سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی۔ ﷲ رب العزت نے فضل فرمایا۔ ۱۲؍ جنوری ۱۹۸۸ء سپریم کورٹ اپیل بینچ نے اس اپیل کو بھی مسترد کردیا۔ اسی طرح قادیانیوں نے لاہور، کوئٹہ، کراچی ہائی کورٹس میں کیس دائر کئے۔ تمام جگہ ان کو ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑا۔ قادیانی ان تمام مقدمات کی اپیل سپریم کورٹ آف پاکستان میں لے کر گئے۔ حق تعالیٰ شانہ نے یہاں بھی فیض یافتگان دارالعلوم دیوبند کو توفیق بخشی۔ اس کی پیروی کے لئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے بزرگ رہنما حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ، مولانا عزیزالرحمن جالندھری، مولانا علامہ احمد میاں حمادی، شہید اسلام مولانا محمد عبداﷲؒ، قاری محمد امینؒ، مولانا محمد رمضان علویؒ، شیخ القرآن مولانا غلام ﷲ خانؒ کے جانشین مولانا قاضی احسان احمدؒ، مولانا عبدالرؤفؒ اور اسلام آباد ، راولپنڈی کے تمام ائمہ و خطباء نے ایمانی جرأت و دینی حمیت کا مظاہرہ کیا۔ یوں ۳؍ جنوری ۱۹۹۳ء کو سپریم کورٹ آف پاکستان کے پانچ جج صاحبان پر مشتمل بینچ نے قادیانیوں کے خلاف فیصلہ دیا۔

بحمدہٖ تعالیٰ ان تمام فیصلہ جات پر مشتمل کتاب ’’قادیانیت کے خلاف اعلیٰ عدالتوں کے فیصلے‘‘ شائع شدہ ہے۔ جس میں دیگر تفصیلات ملاحظہ کی جاسکتی ہیں۔

۳… اسی طرح قادیانیوں نے جوہانسبرگ افریقہ میں ایک مقدمہ دائر کیا۔ حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی، حضرت مولانا مفتی زین العابدینؒ، حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ، حضرت مولانا عبدالرحیم اشعرؒ، ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ، علامہ ڈاکٹر خالد محمود، مولانا

108

منظور احمد چنیوٹیؒ، مولانا منظور احمد الحسینیؒ نے اس کی پیروی کے لئے وہاں کے سفر کئے۔ یہ فیصلہ بھی قادیانیوں کے خلاف ہوا۔

بیرون ممالک

امتناع قادیانیت قانون کے نافذ ہوتے ہی قادیانی جماعت کے بھگوڑے چیف گرو مرزا طاہر نے لندن کو اپنا مستقر بنایا۔ ابنائے دارالعلوم دیوبند وہاں بھی پہنچے۔ سالانہ عالمی ختم نبوت کانفرنس برطانیہ ۱۹۸۵ء سے ہر سال تسلسل کے ساتھ منعقد ہوتی رہی ہے۔ پاکستان ، ہندوستان، عرب، افریقہ و یورپ سے علمائے کرام اور ابنائے و فضلائے دارالعلوم دیوبند تشریف لاکر اس کانفرنس سے خطاب کرتے ہیں۔ اسی طرح برطانیہ میں مستقل طور پر قادیانیت کے احتساب کے لئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے اپنا مستقل دفتر قائم کردیا ہے۔ جہاں سے ختم نبوت کے تحفظ کا فریضہ سرانجام دیا جارہا ہے۔ امریکہ، افریقہ، یورپ کے کئی ممالک ایسے ہیں۔ جہاں مستقل بنیادوں پر قادیانیت کے خلاف کام ہورہا ہے اور وہ تمام ترکام بحمدہٖ تعالیٰ ابناء دارالعلوم دیوبند سرانجام دے رہے ہیں۔ ہندوستان میں دارالعلوم دیوبند کے زیر اہتمام عظیم الشان ختم نبوت کانفرنسوں کے علاوہ تربیتی کورسز کا سلسلہ شروع ہے۔ کتب، لٹریچر کی اشاعت و تقسیم ہورہی ہے اور اس کام کے لئے دارالعلوم دیوبند میں ہی ’’کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت‘‘ قائم کردی گئی ہے۔

آثار و نتائج

اکابر دیوبند کی مساعی اور ’’مجلس تحفظ ختم نبوت‘‘ کے مقاصد و خدمات کا مختصر ساخاکہ آپ کے سامنے آچکا ہے۔ اب ایک نظر ان آثار و نتائج پر بھی ڈال لینا چاہئے جو جماعت کی جہد مسلسل اور امت اسلامیہ کے اتفاق و تعاون کے نتیجہ میں وقوع پذیر ہوئے:

اوّل… پاکستان کی قومی اسمبلی نے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا۔ علاوہ ازیں قریباً تیس اسلامی ممالک قادیانیوں کو کافر‘ مرتد‘ دائرہ اسلام سے خارج اور خلاف قانون قرار دے چکے ہیں۔

دوم… ختم نبوت کی تحریک پاکستان میں کامیاب ہوئی تو پوری دنیا پر قادیانیوں کا کفر و نفاق واضح ہوگیا۔ اور دنیا کے بعید ترین ممالک کے مسلمان بھی قادیانیوں کے بدترین کفر سے واقف ہوگئے۔

109

سوم… بہاولپور سے ماریشس جوہانسبرگ تک کی بہت سی عدالتوں نے قادیانیوں کے غیر مسلم اقلیت ہونے کے فیصلے دیئے۔

چہارم… مجلس تحفظ ختم نبوت کی تحریک نے نہ صرف پاکستان کو بلکہ دیگر اسلامی ممالک کوقادیانیوں کے غلبہ اور تسلط سے محفوظ کردیا اور تمام دنیا کے مسلمان قادیانیوں کو ایک سازشی اور مرتد ٹولہ سمجھ کر ان سے محتاط اور چوکنا رہنے لگے۔

پنجم… بے شمار لوگ جو قادیانیوں کے دام ہمرنگ زمین کا شکار ہوکر مرتد ہوگئے تھے۔ جب ان پر قادیانیت کا کفر کھل گیا تو وہ قادیانیت کو چھوڑ کر دوبارہ دامن اسلام سے وابستہ ہوگئے۔

ششم… ایک وقت تھا کہ مسلمانوں کا ملازم پیشہ نوجوان طبقہ قادیانیوں سے بے حد مرعوب تھا۔ چونکہ قادیانی پاکستان میں اعلیٰ مناصب پر قابض تھے۔ اس لئے وہ ایک طرف اپنے ماتحت عملے میں قادیانیت کی تبلیغ کرتے اور دوسری طرف اچھے مناصب کے لئے صرف قادیانیوں کا انتخاب کرتے۔ اس سے مسلمانوں کے نوجوان طبقہ کی صریح حق تلفی ہوتی تھی اور بہت سے نوجوان اچھی ملازمت کے لالچ میں قادیانی مذہب کے ہمنوا ہوجاتے تھے۔ اب بھی اگرچہ کلیدی آسامیوں پر بہت سے قادیانی فائز ہیں اور ملازمتوں میں ان کا حصہ مسلمانوں کی نسبت اب بھی زیادہ ہے۔ مگر اب قادیانیوں کے سامنے مسلمان نوجوانوں کا احساس کمتری ختم ہورہا ہے اور نوجوانوں کی طرف سے مطالبے ہورہے ہیں کہ قادیانیوں کو ان کی حصہ رسدی سے زیادہ کسی اور ادارے میں نشستیں نہ دی جائیں۔

ہفتم… قیام پاکستان سے ۱۹۷۴ء تک ’’ربوہ‘‘ مسلمانوں کے لئے ایک ممنوعہ قصبہ تھا۔ وہاں مسلمانوں کے داخلہ کی اجازت نہیں تھی‘ حتی کہ ریلوے اور ڈاک خانہ کے سرکاری ملازموں کے لئے قادیانی ہونے کی شرط تھی۔ لیکن اب ’’ربوہ‘‘ کی سنگینی ٹوٹ چکی ہے۔ وہاں اکثر سرکاری ملازم مسلمان ہیں۔ ۱۹۷۵ء سے مسلمانوں کی نماز باجماعت بھی ہوتی ہے اور مجلس تحفظ ختم نبوت کے مدارس و مساجد دفتر و لائبریری قائم ہیں۔

110

ہشتم… قادیانی اپنے مردوں کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنے پر اصرار کیا کرتے تھے‘ لیکن اب مسلمانوں کے قبرستان میں ان کا دفن کیا جانا ممنوع ہے۔

نہم… پاسپورٹ‘ شناختی کارڈ اور فوجی ملازمتوں کے فارموں میں قادیانیوں کو اپنے مذہب کی تصریح کرنا پڑتی ہے۔

دھم… پاکستان میں ختم نبوت کے خلاف کہنا یا لکھنا تعزیری جرم قرار دیا جاچکا ہے۔

یازدھم… سعودی عرب‘ لیبیا اور دیگر اسلامی ممالک میں قادیانیوں کا داخلہ ممنوع ہے اور انہیں ’’عالم کفر کے جاسوس‘‘ قرار دیا جاچکا ہے۔

دوازدھم… مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت کے خلاف لب کشائی کی پاکستان میں اجازت نہیں تھی‘ مگر اب صورت حال یہ ہے کہ قادیانی اپنے آپ کو مسلمان نہیں کہہ سکتے۔

سیزدھم… قادیانی جو بیرونی ممالک میں یہ پروپیگنڈہ کیا کرتے تھے کہ: پاکستان میں قادیانیوں کی حکومت ہے اور دارالخلافہ ’’ربوہ‘‘ ہے۔ وہ اس جھوٹ پر نہ صرف پوری دنیا میں ذلیل ہوچکے ہیں‘ بلکہ خدا کی زمین اپنی فراخی کے باوجود ان پر تنگ ہورہی ہے۔ حتی کہ قادیانی سربراہ کو لندن میں بھی چین نصیب نہیں۔ ربوہ کانام مٹ کر اب ’’چناب نگر‘‘ ہے۔ آج قادیانی شہر کا نام مٹا ہے تو وہ وقت آیا چاہتا ہے جب قادیانیت کا نشان بھی مٹے گا۔ انشاء ﷲ العزیز!

نوٹ: موضوع کی مناسبت اور سوال کی نوعیت کے پیش نظر صرف علمائے دیوبند کی خدمات دربارہ تحفظ ختم نبوت کا تذکرہ کیا ہے ورنہ تمام علمائے کرام چاہے وہ بریلوی ہوں یا اہلحدیث‘ یا شیعہ حضرات‘ سب اس محاذ پر ایک دوسرے کے شانہ بشانہ رہے۔ سب نے اس محاذ پر گرانقدر خدمات سرانجام دیں۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی شائع کردہ کتاب ’’تحریک ختم نبوت۱۹۵۳ء‘‘ ’’تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء‘‘ (تین جلدیں) ان میں تمام مکاتب فکر کے اکابر کی سنہری خدمات کا تفصیلی تذکرہ کیا گیا ہے۔

111

بسم ﷲ الرحمن الرحیم!

حیات عیسیٰ علیہ السلام

سوال ۱…

سیدنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات مبارکہ کے بارے میں اسلام، یہودیت، مسیحیت اور مرزائیت کا نقطہ نظر واضح کریں؟

جواب …

اسلام کا نقطہ نظر، دربارہ حیات عیسیٰ علیہ السلام

عقیدئہ ختم نبوت کی طرح حیات عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے رفع و نزول کا عقیدہ بھی اسلام کے بنیادی عقائد اور ضروریات دین میں شامل ہے۔ جو قرآن کریم کی نصوص قطعیہ، احادیث متواترہ اور اجماع امت سے ثابت ہے اور جس کو علمائے امت نے کتب تفسیر، شروح احادیث اور کتب علم کلام میں مکمل توضیحات و تشریحات کے ساتھ منقح فرمادیا ہے۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں اسلامی عقیدہ

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق اسلامی عقیدہ یہ ہے کہ وہ حضرت مریم کے بطن مبارک سے محض نفخہ جبرائیل سے پیدا ہوئے۔ پھر بنی اسرائیل کے آخری نبی بن کر مبعوث ہوئے۔ یہود نے ان سے بغض و عداوت کا معاملہ کیا۔ آخر کار جب ایک موقع پر ان کے قتل کی مذموم کوشش کی۔ تو بحکم خداوندی، فرشتے ان کو اٹھاکر زندہ سلامت آسمان پر لے گئے اور ﷲتعالیٰ نے ان کو طویل عمر عطا فرمادی اور قرب قیامت میں جب دجال کا ظہور ہوگا اور وہ دنیا میں فتنہ وفساد پھیلائے گا۔ تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ قیامت کی ایک بڑی علامت کے طور پر نازل ہوںگے اور دجال کو قتل کریں گے۔ دنیا میں آپ کا نزول ایک امام عادل کی حیثیت سے ہوگا اور اس امت میں آپ جناب رسول ﷲ ﷺ کے خلیفہ ہوں گے، اور قرآن و حدیث (اسلامی شریعت) پر خود بھی عمل کریں گے اور لوگوں کو بھی اس پر چلائیں گے۔ ان کے زمانہ میں (جو اس امت کا آخری دور ہوگا) اسلام کے سوا دنیا کے تمام مذاہب مٹ جائیں گے اور دنیا میں کوئی کافر نہیں رہے گا۔ اس لئے جہاد کا حکم موقوف ہوجائے گا۔ نہ خراج وصول کیا جائے گا اور نہ جزیہ، مال وزر اتنا عام ہوگا کہ کوئی دوسرے سے قبول نہیں کرے گا۔ نزول کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام نکاح بھی فرمائیں گے اور ان کی اولاد بھی ہوگی۔ پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ہوجائے گی

112

اور مسلمان آپ کی نماز جنازہ پڑھ کر حضور اقد سa کے روضہ اقدس میں دفن کردیں گے۔ یہ تمام امور احادیث صحیحہ متواترہ میں پوری وضاحت کے ساتھ بیان کئے گئے ہیں۔ جن کی تعداد ایک سو سے متجاوز ہے ۔

(تفصیل کے لئے دیکھئے التصریح بما تواتر فی نزول المسیح)

اسلامی عقیدہ کے اہم اجزاء یہ ہیں

۱… حضرت عیسیٰ علیہ السلام ﷲتعالیٰ کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور وہی مسیح ہدایت ہیں۔ جن کی بشارت کتب سابقہ میں دی گئی ہے۔ وہ سچے نبی کی حیثیت سے ایک مرتبہ دنیا میں مبعوث ہوچکے ہیں۔

۲… یہود بے بہبود کے ناپاک اور گندے ہاتھوں سے ہر طرح محفوظ رہے۔

۳… زندہ بجسد عنصری آسمان پر اٹھالئے گئے۔

۴… وہاں بقید حیات موجود ہیں۔

۵… قیامت سے پہلے اس کی ایک بڑی علامت کے طور پر بعینہٖ وہی مسیح ہدایت (حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام) نزول فرماکر مسیح ضلالت (دجال) کو قتل کریں گے۔ ان سے الگ کوئی اور شخص ان کی جگہ مسیح کے نام سے دنیا میں نہیں آئے گا۔

سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق یہودیوں کا نقطہ نظر

یہودیوں کا عقیدہ یہ ہے کہ مسیح ہدایت ابھی نہیں آیا اور عیسیٰ بن مریم علیہما السلام نامی جس شخص نے اپنے آپ کو مسیح اور رسول ﷲ کہا ہے۔ (نعوذباﷲ) وہ جادو گر اور جھوٹا دعویٰ نبوت کرنے والا تھا۔ اسی لئے یہودیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے بغض و عداوت کا معاملہ کیا اور ان کو قتل کرنے اور سولی پر چڑھانے کا منصوبہ بنایا۔ بلکہ ان کے بقول یہ منصوبہ پایہ تکمیل کو پہنچادیا۔ جیسا کہ ارشاد ہے: ’’وقولھم انا قتلنا المسیح عیسیٰ بن مریم رسول ﷲ (نساء:۱۵۷)‘‘

’’اور ان کے اس کہنے پر کہ ہم نے قتل کیا مسیح عیسیٰ مریم کے بیٹے کو جو رسول تھا ﷲ کا۔‘‘

(ترجمہ شیخ الہندؒ)

دعویٰ قتل عیسیٰ بن مریم میں تو تمام یہود متفق ہیں۔ البتہ ان میں ایک فرقہ یہ کہتا ہے کہ قتل کئے جانے کے بعد اہانت اور تشہیر کے لئے عیسیٰ علیہ السلام کو سولی پر لٹکایا گیا، اور دوسرا

113

فریق کہتا ہے کہ سولی پر چار میخ کئے جانے کے بعد عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کیا گیا۔

(محاضرہ علمیہ نمبر ۴ ص ۴ از حضرت قاری محمد عثمان صاحب)

سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق مسیحی نقطئہ نظر

اور نصاریٰ کا متفقہ عقیدہ ہے کہ مسیح ہدایت آچکے ہیں اور وہ حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام ہیں۔ اس کے بعد ان میں دو فرقے بن گئے:

۱… ایک بڑا فرقہ یہ کہتا ہے کہ ان کو یہود نے قتل کیا۔ سولی پر چڑھایا۔ پھر ﷲتعالیٰ نے زندہ کرکے ان کو آسمان پر اٹھالیا اور سولی پر چڑھایا جانا۔ عیسائیوں کے گناہوں کا کفارہ ہوگیا۔ اسی لئے عیسائی صلیب کی پوجا کرتے ہیں۔

۲… دوسرا فرقہ یہ کہتا ہے کہ بغیر قتل و صلب کے ﷲتعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھالیا۔

پھر یہ دونوں فرقے بالاتفاق اس بات کے قائل ہیں کہ مسیح ہدایت عین قیامت کے دن جسم ناسوتی یا جسم لاہوتی میں خدا بن کر آئیں گے اور مخلوق کا حساب لیں گے۔

حاصل یہ کہ تمام یہود اور نصاریٰ کی بڑی اکثریت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت الصلیب کی قائل ہے اور یہود وتمام نصاریٰ کو ایک مسیح ہدایت کا انتظار ہے۔ یہود کو تو اس وجہ سے کہ ابھی یہ پیشین گوئی پوری نہیں ہوئی اور نصاریٰ کو اس لئے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت کے دن برائے فیصلہ خلائق خدا کی شکل میں آنے والے ہیں۔

(محاضرہ علمیہ نمبر ۴ ص ۴)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق قادیانی عقائد

مرزا قادیانی نے کتب ’’ازالہ اوہام، تحفہ گولڑویہ، نزول مسیح اور حقیقت الوحی‘‘ وغیرہ میں جو کچھ لکھا ہے۔ اس کا خلاصہ مرزا بشیر احمد ایم اے قادیانی نے اپنی کتاب ’’حقیقی اسلام‘‘ میں تحریر کیا ہے۔ چنانچہ وہ لکھتا ہے کہ: ’’اس بحث کے دوران میں (مرزا قادیانی) نے مندرجہ ذیل اہم مسائل پر نہایت زبردست روشنی ڈالی۔

۱… یہ کہ حضرت مسیح ناصری دوسرے انسانوں کی طرح ایک انسان تھے۔ جو دشمنوں کی شرارت سے صلیب پر ضرور چڑھائے گئے۔ مگر ﷲتعالیٰ نے ان کو اس لعنتی موت سے بچالیا اس کے بعد وہ خفیہ خفیہ اپنے ملک سے ہجرت کرگئے۔

114

۲… اپنے ملک سے نکل کر حضرت مسیح آہستہ آہستہ سفر کرتے ہوئے کشمیر میں پہنچے اور وہیں ان کی وفات ہوئی۔ (۸۷ برس کے بعد) اور وہیں ان کی قبر (سری نگر کے محلہ خانیار میں، ناقل) موجود ہے۔

۳… کوئی فرد بشر اس جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر نہیں جاسکتا۔ اس لئے مسیح کے زندہ آسمان پر چلے جانے کا خیال بھی باطل ہے۔

۴… بے شک مسیح کی آمد ثانی کا وعدہ تھا۔ مگر اس سے مراد ایک مثیل مسیح کا آنا تھا نہ کہ خود مسیح کا۔

۵… یہ کہ مثیل مسیح کی بعثت کا وعدہ خود آپ (مرزا قادیانی) کے وجود میںپورا کیا گیا اور آپ ہی وہ مسیح موعود ہیں۔ جس کے ہاتھ پر دنیا میں حق صداقت کی آخری فتح مقدر ہے۔ خود مرزا غلام احمد قادیانی نے قسم کھاکر لکھا ہے: ’’میں وہی مسیح موعود ہوں۔ جس کی رسول ﷲ ﷺ نے ان احادیث صحیحہ میں خبردی ہے۔ جو صحیح بخاری اور مسلم اور دوسری صحاح میں درج ہیں۔ وکفیٰ باﷲ شھیدا ‘‘

(حقیقی اسلام ص:۲۹،۳۰)

سوال۲…

مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ ﷲ پاک نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یہود کی دست درازیوں سے محفوظ رکھتے ہوئے آسمانوں پر اٹھالیا۔ آپ قرآن و احادیث صحیحہ کی روشنی میں اس عقیدئہ کو ثابت کریں؟

جواب…

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زندہ جسد عنصری کے ساتھ آسمان پر اٹھایا جانا۔

دلیل۱…

ارشاد ربانی: ’’اذ قال ﷲ یعیسیٰ انی متوفیک ورافعک الیّٰ ومطھرک من الذین کفروا وجاعل الذین اتبعوک فوق الذین کفروا الیٰ یوم القیامۃ ثم الیّٰ مرجعکم فاحکم بینکم فیما کنتم فیہ تختلفون (آل عمران:۵۵)‘‘

ترجمہ: ’’جب کہ ﷲتعالیٰ نے فرمایا: اے عیسیٰ! میں لے لوں گا تجھ کو اور اٹھالوں گا اپنی طرف اور تم کو ان لوگوں سے پاک کرنے والا ہوں۔ جو منکر ہیں اور جو لوگ تمہارا کہنا ماننے والے ہیں ان کو غالب رکھنے والا ہوں ان لوگوں پر جو کہ منکر ہیں۔ روزقیامت تک پھر میری طرف ہوگی سب کی واپسی۔ سو میں تمہارے درمیان فیصلہ کردوں گا۔ ان امور میں جن میں تم باہم اختلاف کرتے تھے۔‘‘

اس آیت کریمہ کے متصل ماقبل کی آیت کریمہ و مکروا و مکراﷲ میں باری

115

تعالیٰ کی جس خفیہ و کامل تدبیر کی جانب اشارہ فرمایا گیا تھا۔ اس کی تفصیل حسب بیان مفسرین آیت مذکورہ میں فرمائی گئی ہے۔ اس محکم تدبیر کے وقوع سے پہلے ہی جب کہ یہود بے بہبود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جائے قیام کا محاصرہ کرکے قتل و سولی پر چڑھانے کا ناپاک منصوبہ بنارہے تھے۔ حضرت حق جل مجدہ نے ایسے خطرناک وقت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو تسلی دینے کے لئے بشارت دے دی کہ آپ کے دشمن خائب و خاسر رہیں گے۔ اس سلسلہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے چار وعدے فرمائے گئے:

۱… میں تجھے پورا پورا لے لوں گا۔

۲… اور تجھے اپنی طرف (آسمان پر) اٹھالوں گا۔

۳… اور تجھے کفار (یہود) کے شر سے صاف بچالوں گا۔

۴… تیرے متبعین کو تیرے دشمنوں پر قیامت تک غالب رکھوں گا۔

یہ چار وعدے اس لئے فرمائے گئے کہ یہود کی سازش میں یہ تفصیل تھی کہ:

۱… حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پکڑیں۔

۲… اور طرح طرح کے عذاب دے کر ان کو قتل کریں۔

۳… اور پھر خوب رسوا اور ذلیل کریں۔

۴… اور اس ذریعہ سے ان کے دین کو فنا کریں کہ کوئی ان کا متبع ونام لیوا بھی نہ رہے۔

لہٰذا ان کے پکڑنے کے مقابلہ میں متوفیک فرمایا۔ یعنی تم کو بھرپورلینے والا ہوں۔تم میری حفاظت میں ہو اور ارادئہ ایذاء و قتل کے مقابلہ میں رافعک الیّٰ فرمایا۔ یعنی میں تم کو آسمان پر اٹھالوں گا، اور رسوا اور ذلیل کرنے کے مقابلہ میں مطہرک من الذین کفروا فرمایا۔ یعنی میں تم کو ان یہود نامسعود سے پاک کروں گا۔ رسوائی و بے حرمتی کی نوبت ہی نہیں آئے گی اورآپ کی امت کو مٹانے اور دین مسیحی کو نیست و نابود کرنے والوں کے مقابلہ میں: ’’جاعل الذین اتبعوک‘‘ فرمایا۔ یعنی تیرے رفع کے بعد تیرے متبعین کو ان کفار پر غلبہ دوں گا۔

توفی کے معنی

بہرحال پہلا وعدہ لفظ ’’توفی‘‘ سے فرمایا گیا ہے۔ اس کے حروف اصلیہ ’’وفا‘‘ ہیں۔ جس کے معنی ہیں پورا کرنا۔ چنانچہ استعمال عرب ہے وفی بعھدہ اپنا وعدہ پورا کیا۔

(لسان العرب)

116

باب تفعل میں جانے کے بعد اس کے معنی ہیں: اخذ الشئی وافیاً (بیضاوی) یعنی کسی چیز کو پورا پورا لینا۔ توفی کا یہ مفہوم جنس کے درجہ میں ہے۔ جس کے تحت یہ تمام انواع آتی ہیں۔ موت، نیند اور رفع جسمانی۔ چنانچہ امام رازیؒ فرماتے ہیں: ’’قولہ (انی متوفیک) یدل علی حصول التوفی وھو جنس تحتہ انواع بعضھا بالموت وبعضھا بالاصعاد الی السماء فلما قال بعدہ (و رافعک الیّٰ) کان ھذا تعیینا للنوع و لم یکن تکراراً‘‘

(تفسیر کبیر زیر آیت یعیسیٰ انی متوفیک ص۷۲ جز۸ )

ترجمہ: ’’باری تعالیٰ کا ارشاد انی متوفیک صرف حصول توفی پر دلالت کرتا ہے اور وہ ایک جنس ہے۔ جس کے تحت کئی انواع ہیں۔ کوئی بالموت اور کوئی بالرفع الی السماء ۔ پس جب باری تعالیٰ نے اس کے بعد ورافعک الیّ ٰ فرمایا تو اس نوع کو متعین کرنا ہوا۔ (رفع الی السماء) نہ کہ تکرار۔‘‘

یہ مسلمہ قاعدہ ہے کہ کسی لفظ جنس کو بول کر اس کی خاص نوع مراد لینے کے لئے قرینہ حالیہ و مقالیہ کا پایا جانا ضروری ہے۔ تو یہاں توفی بمعنی رفع جسمانی الی السماء لینے کے لئے ایک قرینہ یہ ہے کہ اس کے فوراً بعد ورافعک الیّٰ ٰ فرمایا گیا۔ رفع کے معنی ہیں اوپر اٹھا لینا۔ کیونکہ رفع، وضع وخفض کی ضد ہے۔ جس کے معنی نیچے رکھنا اور پست کرنا اور دوسرا قرینہ ومطھرک من الذین کفروا ہے۔ کیونکہ تطہیر کا مطلب یہی ہے کہ کفار (یہود) کے ناپاک ہاتھوں سے آپ کو صاف بچالوں گا۔ چنانچہ ابی جرؒیج سے محدث ابن جریرؒ نے نقل فرمایا ہے: ’’عن ابی جریج قولہ (انی متوفیک ورافعک الیّٰ ومطھرک من الذین کفروا) قال فرفعہ ایاہ الیہ توفیہ ایاہ وتطھیرہ من الذین کفروا‘‘

(تفسیر ابن جریر ج ۳ ص ۲۹۰)

’’باری تعالیٰ کا ارشاد گرامی متوفیک! کی تفسیر یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اپنی طرف اٹھالینا ہی آپ کی توفی ہے اور یہی کفار سے ان کی تطہیر ہے۔‘‘

اور تیسرا قرینہ حضرت ابوہریرہؓ کی روایت مرفوعہ ہے۔ جس کو امام بیہقیؒ نے نقل فرمایا ہے اور جس میں نزول من السماء کی تصریح ہے: ’’کیف انتم اذا نزل ابن مریم من السماء فیکم‘‘

(کتاب الاسماء والصفات ص :۲۰۳)

اس لئے کہ نزول سے پہلے رفع کا ثبوت ضروری ہے۔ اسی طرح جب یہ لفظ موت کے معنی دے گا۔ تو قرینہ کی احتیاج ہوگی مثلاً:

117

’’قل یتوفٰکم ملک الموت الذی وکل بکم (الم سجدہ:۱۱) ‘‘

ترجمہ: ’’اے پیغمبر! ان سے کہہ دو کہ تم کو قبض کرے گا۔ملک الموت جو تم پر مقرر کیا گیا ہے۔ (یعنی تم کو مارے گا)‘‘

اس میں ملک الموت قرینہ ہے۔ دیگر متعدد آیات میں بھی بربنائے قرائن توفی بمعنی موت آیا ہے۔ کیونکہ موت میں بھی توفی یعنی پوری پوری گرفت ہوتی ہے۔ ایسے ہی جہاں نیند کے معنی دے گا۔ تو بھی قرینہ کی ضرورت ہوگی۔

مثلاً: ’’وھوالذی یتوفٰکم باللیل (انعام:۶۰)‘‘ ترجمہ: ’’خدا ایسی ذات ہے کہ تم کو رات کے وقت پورا لے لیتا ہے۔ یعنی سلادیتا ہے۔‘‘

یہاں لیل اس بات کا قرینہ ہے کہ توفی سے مراد نوم ہے۔ کیونکہ وہ بھی توفی (پوری پوری گرفت) کی ایک نوع ہے۔ یہ تمام تفصیلات بلغاء کے استعمال کے مطابق ہیں۔ البتہ عام لوگ توفی کو اماتت اور قبض روح کے معنی میں استعمال کرتے ہیں۔ چنانچہ کلیات ابوالبقاء میں ہے: ’’التوفی الاماتۃ وقبض الروح وعلیہ استعمال العامۃ او الاستیفاء واخذ الحق وعلیہ استعمال البلغاء‘‘

(کلیات ابوالبقاء:۱۲۹)

یعنی عام لوگ تو توفی کو اماتت اور قبض روح کے معنی میں استعمال کرتے ہیں اور بلغاء پورا پورا وصول کرنے اور حق لے لینے کے معنی میں استعمال کرتے ہیں۔

بہرحال زیر بحث آیت کریمہ میں بربنائے قرائن توفی کے معنی قبض اور پورا پورا۔ یعنی جسم مع الروح کو اپنی تحویل میں لے لینے کے ہیں، اماتت کے نہیں ہیں۔ البتہ قبض روح بصورت نیند کے معنی ہوسکتے ہیں۔ کیونکہ قبض روح کی دو صورتیں ہیں۔ ایک مع الامساک اور دوسری مع الارسال۔ تو اس آیت میں توفی بقرینہ رافعک الیّٰ ٰ بمعنی نیند ہوسکتی ہے اور یہ ہمارے مدعا کے خلاف نہیں ہوگا۔ کیونکہ نیند اور رفع جسمی میں جمع ممکن ہے۔ چنانچہ مفسرین کی ایک جماعت نے اس کو اختیار کیا ہے: ’’(الثانی) المراد بالتوفی النوم ومنہ قولہ تعالیّٰ ﷲ یتوفی الانفس حین موتھا والتی لم تمت فی منامھا) فجعل النوم وفاۃ وکان عیسیٰ قد نام فرفعہ ﷲ وھو نائم لئلا یلحقہ خوف‘‘

(خازن ج۱ ص۲۵۵)

دلیل۲…

’’ وماقتلوہ یقینا بل رفعہ ﷲ الیہ (نساء:۱۵۷،۱۵۸)‘‘

118

ترجمہ: ’’اور اس کو قتل نہیں کیا بے شک بلکہ اس کو اٹھالیااﷲتعالیٰ نے اپنی طرف۔‘‘

(ترجمہ شیخ الہندؒ)

یہودیوں کی جانب سے محاصرہ کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے ان کے زندہ رفع جسمانی کا جو وعدئہ خداوندی ہوا تھا۔ اس کے پور اہونے کی اطلاع مذکورہ بالا آیات کریمہ میں دی گئی ہے۔

لفظ رفع کی تحقیق

رفع کے لغوی معنی اوپر اٹھانا بتائے جاچکے ہیں۔ المصباح المنیر میں مذکور ہے: ’’فالرفع فی الاجسام حقیقۃ فی الحرکۃ والانتقال وفی المعانی محمول علی مایقتضیہ المقام‘‘

(المصباح الٰہیہ ص:۱۳۹)

ترجمہ: ’’لفظ رفع جسموں کے متعلق حقیقی معنی کی رو سے حرکت اور انتقال کے لئے ہوتا ہے اور معانی کے متعلق جیسا موقع و مقام ہو ویسی مراد ہوتی ہے۔‘‘

اس سے معلوم ہوا کہ ’’رفع‘‘ کے حقیقی ووضعی معنی جب کہ اس کا متعلق جسم ہو۔ یہی ہے کہ اس کو نیچے سے اوپر حرکت دے کر منتقل کردینا۔ اس حقیقی معنی کو جبکہ اس کو اختیار کرنے میں کوئی دشواری نہیں۔ جبکہ محاورات میں اس کی بہت سی نظائر موجود ہیں۔ مثلاً حضرت زینبؓ کے صاحبزادے کے انتقال کی حدیث میں آتا ہے: ’’فرفع الی رسول ﷲ ﷺ الصبی‘‘

(مشکوٰۃ ص:۱۵۰)

ترجمہ: ’’یعنی وہ لڑکا (آپ ﷺ کا نواسہ) آپ کے پاس اٹھاکر لایاگیا۔‘‘

اور اہل زبان بولا کرتے ہیں

’’رفعت الزرع الی البیدر‘‘

(قاموس، اساس البلاغۃ)

ترجمہ: ’’میں کھیت کاٹ کر اور غلہ اٹھاکر خرمن گاہ میں لے آیا۔‘‘

بہرحال ’’بل رفعہ ﷲ‘‘ میں رفع جسمانی مع الروح تویقینا مراد ہے۔ جو اس کا معنی حقیقی ہے کیونکہ ’’ہ‘‘ ضمیر عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہے۔ جو جسد مع الروح کا نام ہے نہ کہ صرف روح کا۔ جیسا کہ ارشاد ہے: ’’ورفع ابویہ علی العرش (یوسف: ۱۰۰) ‘‘

ترجمہ: ’’یوسف علیہ السلام نے اپنے والدین کو تخت پر چڑھاکر بٹھایا۔‘‘

اور جہاں قرینہ پایا جائے گا وہاں لفظ رفع مجازاً صرف رفع منزلت کے معنی دے گا۔

119

اس کے ساتھ رفع جسم کے معنی نہیں لئے جاسکتے۔ کیونکہ حقیقت و مجاز کا جمع ہونا جائز نہیں ہے۔ جیسے ارشاد ہے: ’’ورفعنا بعضھم فوق بعض درجات (زخرف:۳۲)‘‘

ترجمہ: ’’اور ہم نے ایک کو دوسرے پر رفعت دے رکھی ہے۔‘‘

بہرحال ’’بل رفعہ ﷲ‘‘ میں نہ تو حقیقی معنی متعذر ہیں اور نہ کوئی قرینہ صارفہ موجود ہے۔ اس لئے یہاں صرف رفع منزلت کے معنی نہیں ہوسکتے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع جسمانی کو سمجھنے کے لئے ایک آیت بھی کافی تھی۔ مگر قرآن کریم میں دو جگہ صراحتاً لفظ رفع کے ساتھ اس کو بیان فرمایا گیا۔ لیکن بے بصیرت و بے بصارت قادیانی گروہ یہی رٹ لگاتا رہتا ہے کہ: ’’سارے قرآن شریف میں ایک آیت بھی ایسی نہیں کہ جس سے حضرت مسیح علیہ السلام کا زندہ بجسد عنصری آسمان پر اٹھایا جانا ثابت ہو‘‘ فسحقا لھم!

حالانکہ مذکورہ دو آیتوں کے علاوہ متعدد آیات کریمہ سے رفع عیسیٰ بجسدہ کا مضمون ثابت ہے۔ مثلاً:

۱… ’’وان من اھل الکتاب الا لیؤمنن بہ (نساء:۱۵۹)‘‘

۲… ’’ وانہ لعلم للساعۃ (زخرف:۶۱)‘‘

۳… ’’ویکلم الناس فی المھد وکھلاً ومن الصالحین (آل عمران: ۴۶)‘‘

احادیث نبویہ سے نزول عیسیٰ علیہ السلام کا ثبوت

حدیث۱…

’’عن النواس بن السمعان ؓ قال قال رسولa اذ بعث ﷲ المسیح بن مریم فینزل عندالمنارۃ البیضاء شرقی دمشق بین مھروذتین واضعاً کفیہ علی اجنحۃ ملکین فیطلبہ حتی یدرکہ بباب لد فیقتلہ‘‘

(مسلم ج۲ ص ۴۰۱، باب ذکر الدجال)

ترجمہ: ’’حضرت نواس بن سمعانؓ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ جب ﷲتعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مبعوث فرمائیں گے۔ وہ دمشق کی جامع مسجد کے سفید مشرقی مینار پر اتریں گے۔ وہ دو زرد چادریں پہنے ہوں گے اور اپنے دونوں ہاتھوں کو دو فرشتوں کے بازوؤں پر رکھے ہوئے ہوں گے۔ پھر وہ دجال کی تلاش میں نکلیں گے۔ تاآنکہ اسے باب لد کے مقام پر پائیں گے۔ پھر اسے قتل کردیں گے۔‘‘

120

اس حدیث میں یہ بھی ہے کہ بطور معجزہ ان کے منہ کی ہوا حد نگاہ تک پہنچے گی اور اس سے کافر مریں گے۔

حدیث ۲…

’’عن ابی ہریرۃؓ قال قال رسولa کیف انتم اذا نزل فیکم ابن مریم من السماء وامامکم منکم‘‘

(کتاب الاسماء والصفات للبیہقی ص:۳۰۱)

ترجمہ: ’’حضرت ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ تمہاری خوشی کا اس وقت کیا حال ہوگا۔ جبکہ عیسیٰ بن مریم علیہما السلام تم میں آسمان سے نازل ہوں گے اور تمہار امام تم میں سے ہوگا۔‘‘ (یعنی امام مہدی تمہارے امام ہوں گے اور حضرت عیسیٰ باوجود نبی و رسول ہونے کے امام مہدی کی اقتداء کریں گے)‘‘

تنبیہ۱… اس حدیث میں لفظ من السماء کی صراحت ہے۔

تنبیہ۲… اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت مہدی علیہ الرضوان الگ الگ شخصیتیں ہیں۔

حدیث۳ …

’’قال الامام احمد حدثنا عفان ثنا ھمام انبأنا قتادۃ عن عبدالرحمن عن ابی ہریرۃؓ ان النبی ﷺ قال الانبیاء اخوۃ لعلات امھاتھم شتی ودینھم واحدوانی اولیٰ الناس بعیسی بن مریم لانہ لم یکن نبی بینی وبینہ وانہ نازل فاذا رائیتموہ فاعرفوہ رجل مربوع الی الحمرۃ والبیاض علیہ ثوبان ممصران کان رائسہ یقطر وان لم یصبہ بلل فیدق الصلیب ویقتل الخنزیر ویضع الجزیۃ وید عوالناس الی الاسلام ویھلک ﷲ فی زمانہ الملل کلھا الا الاسلام ویھلک ﷲ فی زمانہ المسیح الدجال ثم تقع الامانۃ علی الارض حتی ترتع الاسود مع الابل والنمار مع البقر والذئاب مع الغنم ویلعب الصبیان بالحیات لاتضرھم فیمکث اربعین سنۃ ثم یتوفی ویصلی علیہ المسلمون‘‘

(و کذا رواہ ابوداؤد کذا فیتفسیر ابن کثیر ج ۱ ص ۵۷۸، زیر آیت و ان من اھل الکتاب، قال الحافظ ابن حجرؒ ، رواہ ابوداؤد و احمد باسناد صحیح، فتح الباری ج۶ ص۳۵۷)

ترجمہ: ’’امام احمد بن حنبلؒ اپنی مسند میں ابوہریرہؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول ﷲ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تمام انبیاء علاّٰتی بھائی ہیں۔ مائیں مختلف یعنی شریعتیں مختلف ہیں اور دین یعنی اصول شریعت سب کا ایک ہے اور میں عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ سب سے زیادہ قریب

121

ہوں۔ اس لئے کہ میرے اور ان کے درمیان کوئی نبی نہیں۔ وہ نازل ہوں گے جب ان کو دیکھو تو پہچان لینا۔ وہ میانہ قد ہوں گے۔ رنگ ان کا سرخ اور سفیدی کے درمیان ہوگا۔ ان پر دو رنگے ہوئے کپڑے ہوں گے۔ سرکی یہ شان ہوگی کہ گویا اس سے پانی ٹپک رہا ہے۔ اگرچہ اس کو کسی قسم کی تری نہیں پہنچی ہوگی۔ صلیب کو توڑیں گے۔ جزیہ کو اٹھائیں گے۔ سب کو اسلام کی طرف بلائیں گے۔ ﷲتعالیٰ ان کے زمانہ میں سوائے اسلام کے تمام مذاہب کو نیست و نابود کردے گا اور ﷲتعالیٰ ان کے زمانہ میں مسیح دجال کو قتل کرائے گا۔ پھر تمام روئے زمین پر ایسا امن ہوجائے گا کہ شیر اونٹ کے ساتھ اور چیتے گائے کے ساتھ اور بھیڑیئے بکریوں کے ساتھ چریں گے اور بچے سانپ کے ساتھ کھیلنے لگیں گے۔ سانپ ان کو نقصان نہ پہنچائیں گے۔ عیسیٰ علیہ السلام زمین پر چالیس سال ٹھہریں گے۔ پھر وفات پائیں گے اور مسلمان ان کے جنازہ کی نماز پڑھیں گے۔‘‘

حافظ ابن حجر عسقلانیؒ فتح الباری شرح صحیح بخاری میں فرماتے ہیں کہ اس روایت کی اسناد صحیح ہیں۔ اس حدیث سے صاف ظاہر ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کی ابھی وفات نہیں ہوئی۔ آسمان سے نازل ہونے کے بعد قیامت سے پیشتر جب یہ تمام باتیں ظہور میں آجائیں گی تب وفات ہوگی۔

حدیث ۴…

’’عن الحسن (مرسلاً) قال قال رسول ﷲ ﷺ للیھود ان عیسیٰ لم یمت وانہ راجع الیکم قبل یوم القیمٰۃ‘‘

(اخرجہ ابن کثیر فی تفسیر آل عمران ج ۱ ص ۳۶۶)

ترجمہ: ’’امام حسن بصریؒ سے مرسلا ً روایت ہے کہ رسول ﷲ ﷺ نے یہود سے فرمایا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ابھی تک نہیں مرے۔ زندہ ہیں اور وہی دن قیامت سے قبل واپس تشریف لائیں گے۔‘‘

حدیث ۵…

’’عن عبداﷲ بن عمرو قال قال رسول ﷲ ﷺ ینزل عیسیٰ بن مریم الی الارض فیتزوج ویولدلہ ویمکث خمسا واربعین سنۃ ثم یموت فیدفن معی فی قبری فاقوم انا وعیسیٰ بن مریم فی قبر واحد بین ابی بکر و عمر‘‘

(رواہ ابن الجوزی فی کتاب الوفا، کتاب الاذاحہ ص۱۷۷، مشکوٰۃ ص۴۸۰، باب نزول عیسیٰ ابن مریم)

ترجمہ: ’’عبداﷲ بن عمروؓ سے روایت ہے کہ رسول ﷲ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ زمانہ

122

آئندہ میں عیسیٰ علیہ السلام زمین پر اتریں گے۔ (اس سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس سے پیشتر زمین پر نہ تھے بلکہ زمین کے بالمقابل آسمان پر تھے) اور میرے قریب مدفون ہوں گے۔ قیامت کے دن میں مسیح بن مریم کے ساتھ اور ابوبکرؓ و عمرؓ کے درمیان قبر سے اٹھوں گا۔‘‘

حدیث ۶…

’’حدثنی المثنی قال ثنا اسحاق قال ثنا ابن ابی جعفر عن ابیہ عن الربیع فی قولہ تعالی (الم ﷲ لا الہ الا ھو الحی القیوم) قال ان النصاریٰ اتوا رسول ﷲ ﷺ فخاصموہ فی عیسیٰ بن مریم وقالوا لہ من ابوہ وقالوا علی ﷲ الکذب والبھتان لا الہ الا ھو لم یتخذ صاحبۃ ولا ولدا فقال لھم النبی ﷺ الستم تعلمون انہ لایکون ولد الاّ ھویشبہ اباہ قالوا بلیٰ قال الستم تعلمون ان ربنا حي لا یموت وان عیسیٰ یأتی علیہ الفناء قالوا بلیٰ قال الستم تعلمون ان ربنا قیم علی کل شئی یکلؤہ ویحفظہ ویرزقہ قالوا بلیٰ قال فھل یملک عیسیٰ من ذلک شیئا قالوا لا قال افلستم تعلمون ان ﷲ عزوجل لا یخفی علیہ شئ فی الارض ولا فی السماء قالوا بلیٰ۰ قال فھل یعلم عیسیٰ من ذلک شیا الا ما علم قالوا لا۰ قال فان ربنا صور عیسیٰ فی الرحم کیف شاء فھل تعلمون ذلک قالوا بلیٰ قال الستم تعلمون ان ربنا لا یاکل الطعام ولا یشرب الشراب ولا یحدث الحدث قالوا بلیٰ قال الستم تعلمون ان عیسیٰ حملتہ امرأۃ کما تحمل المرأۃ ثم وضعتہ کما تضع المرأۃ ولدھا ثم غذی کما یغذی الصبی ثم کان یطعم الطعام ویشرب الشراب و یحدث الحدث قالوا بلیٰ قال فکیف یکون ھذا کمازعمتم قال فعرفوا ثم ابوا الا حجوداً فانزل ﷲ عزوجل الم ﷲ لا الہ الا ھوالحی القیوم‘‘

(تفسیر ابن جریر ص ۱۶۳ ج۳)

ترجمہ: ’’ربیع سے ’’الم ﷲ لا الہ الا ھو الحی القیوم‘‘ کی تفسیر میں منقول ہے کہ جب نصاریٰ نجران، نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور حضرت مسیح علیہ السلام کی الوہیت کے بارے میں آپ ﷺ نے مناظرہ اور مکالمہ شروع کیا اور یہ کہا کہ اگر حضرت مسیح ابن ﷲ ہیں تو پھر ان کا باپ کون ہے؟ (مراد کہ اگر حضرت عیسیٰ کا باپ نہیں، تو ان کو ﷲ ہی کا بیٹا کہنا چاہئے)حالانکہ خدا وہ ہے جو لاشریک ہے۔ بیوی اور اولاد سے پاک اور منزہ ہے۔ تو

123

آنحضرت ﷺ نے ان سے یہ ارشاد فرمایا کہ تم کو خوب معلوم ہے کہ بیٹا باپ کے مشابہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کیوں نہیں بے شک ایسا ہی ہوتا ہے۔ (یعنی جب یہ تسلیم ہوگیا کہ بیٹا، باپ کے مشابہ ہوتا ہے)تو اس قاعدہ سے حضرت مسیح بھی خدا کے مماثل اور مشابہ ہونے چاہئیں۔ حالانکہ سب کو معلوم ہے کہ خدا بے مثل ہے اور بے چون و چگون ہے۔ ’’لیس کمثلہ شئی ولم یکن لہ کفواً احد‘‘ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ تم کو معلوم ہے کہ ہمارا پروردگار حیی لا یموت ہے۔ یعنی زندہ ہے۔ کبھی نہ مرے گا اور عیسیٰ علیہ السلام پر موت اور فنا آنے والی ہے۔ (اس جواب سے صاف ظاہر ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام ابھی زندہ ہیں، مرے نہیں۔ بلکہ زمانہ آئندہ میں ان پر موت آئے گی) نصاریٰ نجران نے کہا بے شک صحیح ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم کو معلوم ہے کہ ہمارا پروردگار ہر چیز کا قائم کرنے والا تمام عالم کا نگہبان اور محافظ اور سب کارزاق ہے۔ نصاریٰ نے کہا بے شک! آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ عیسیٰ علیہ السلام بھی کیا ان چیزوں کے مالک ہیں؟ نصاریٰ نے کہا نہیں۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا تم کو معلوم ہے کہ ﷲ پر زمین اور آسمان کی کوئی شے پوشیدہ نہیں۔ نصاریٰ نے کہا ہاں بے شک! آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کیا عیسیٰ کی بھی یہی شان ہے؟ نصاریٰ نے کہا نہیں۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم کو معلوم ہے کہ ﷲ نے حضرت عیسیٰ کو رحم مادر میں جس طرح چاہا بنایا؟ نصاریٰ نے کہا ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم کو خوب معلوم ہے کہ ﷲ نہ کھانا کھاتا ہے۔ نہ پانی پیتا ہے اور نہ بول و براز کرتا ہے۔ نصاریٰ نے کہا بے شک! آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم کو معلوم ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام سے اور عورتوں کی طرح ان کی والدہ مطہرہ حاملہ ہوئیں اور پھر مریم صدیقہ نے ان کو جنا۔ جس طرح عورتیں بچوں کو جنا کرتی ہیں۔ پھر عیسیٰ علیہ السلام کو بچوں کی طرح غذا بھی دی گئی۔ حضرت مسیح کھاتے بھی تھے، پیتے بھی تھے اور بول و براز بھی کرتے تھے۔ نصاریٰ نے کہا بے شک! ایسا ہی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ پھر عیسیٰ علیہ السلام کس طرح خدا کے بیٹے ہوسکتے ہیں؟‘‘نصاریٰ نجران نے حق کو خوب پہچان لیا۔ مگر دیدئہ و دانستہ اتباع حق سے انکار کیا۔ ﷲ عزوجل نے اس بارے میں یہ آیتیں نازل فرمائیں : ’’الم ﷲ لا الہ الا ھو الحی القیوم‘‘

ایک ضروری تنبیہ

ان تمام احادیث اور روایات سے یہ امر بخوبی واضح ہوگیا کہ احادیث میں جس مسیح کے نزول کی خبر دی گئی۔ اس سے وہی مسیح مراد ہے جس کا ذکر قرآن کریم میں ہے۔ جو حضرت مریم کے بطن سے بلاباپ کے نفخ جبرئیل علیہ السلام سے پیدا ہوئے اور جن پر ﷲ نے انجیل اتاری۔

124

معاذ ﷲ نزول سے امت محمدیہa میں سے کسی دوسرے شخص کا پیدا ہونا مراد نہیں کہ جو عیسیٰ علیہ السلام کا مثیل ہو۔ ورنہ اگر احادیث نزول مسیح سے کسی مثیل مسیح کا پیدا ہونا مراد ہوتا۔ تو بیان نزول کے وقت آنحضرت ﷺ اور ابوہریرہؓ کا آیت کو بطور استشہاد تلاوت کرنے کا کیا مطلب ہوگا؟ معاذاﷲ! اگر احادیث سے نزول میں مثیل مسیح اور مرزا کا قادیان میں پیدا ہونا مراد ہے۔ تو لازم آئے گا کہ قرآن کریم میں جہاں کہیں مسیح کا ذکر آیا ہے۔ سب جگہ مثیل مسیح اور مرزا قادیانی ہی مراد ہوں۔ اس لئے کہ آنحضرت ﷺ کا نزول مسیح کو ذکر فرماکر بطور اشتہاد آیت کو تلاوت کرنا اس امر کی صریح دلیل ہے کہ حضور ﷺ کا مقصود انہیں مسیح بن مریم کے نزول کو بیان کرنا ہے۔ جن کے بارے میں یہ آیت اتری۔ کوئی دوسرا مسیح مراد نہیں اور علی ہذا امام بخاری اور دیگر ائمہ احادیث کا احادیث نزول کے ساتھ سورئہ مریم اور آل عمران اور سورئہ نساء کی آیات کو ذکر کرنا اس امر کی صریح دلیل ہے کہ احادیث میں ان ہی مسیح بن مریم کا نزول مراد ہے کہ جن کی توفی (اٹھائے جانے) اور رفع الی السماء کا قرآن میں ذکر ہے۔ حاشا وکلا قرآن کریم کے علاوہ احادیث میں کوئی دوسرا مسیح مراد نہیں۔ دونوں جگہ ایک ہی ذات مراد ہے۔

ضروری نوٹ…

آنحضرت ﷺ سے حضرت سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی سو سے زائد احادیث منقول ہیں۔ جن سب کو امام العصر حضرت مولانا سید انور شاہ کشمیریؒ نے اپنی کتاب ’’التصریح بما تواتر فی نزول المسیح‘‘ میں ذکر فرمایا ہے۔ ان میں سے مندرجہ بالا چھ احادیث کا انتخاب اس لئے کیا گیا کہ ہر حدیث میں قادیانیوں کے نظریہ کا رد ہے۔ مثلاً:

۱… پہلی حدیث، میں عیسیٰ علیہ السلام کا دمشق کے مشرقی مینارہ پر اترنا۔ فرشتوں کے پروں پر ہاتھ رکھ کر اترنا اور باب لد (جو فلسطین کے ایک گاؤں کا نام ہے) پر دجال کو قتل کرنے کا ذکر ہے۔

۲… دوسری حدیث، میں عیسیٰ ابن مریم کے آسمان سے اترنے کی صراحت ہے۔

۳… تیسری حدیث، میں آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ وہ عیسیٰ بن مریم جن کے اور میرے درمیان کوئی نبی نہیں وہی نازل ہوں گے۔

۴… چوتھی حدیث، میں ’’لم یمت ‘‘ اور ’’رجوع‘‘ کا صراحت کے ساتھ ذکر ہے۔

۵… پانچویں حدیث، میں ’’ نزول الیٰ الارض‘‘ کی صراحت ہے۔

۶… چھٹی حدیث میں ’’یأتی علیہ الفناء‘‘ کی تصریح ہے۔

125

ایک چیلنج…

کتب احادیث میں عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا تو باب ہے۔ ساری کائنات کے قادیانی مل کر کسی حدیث کی کتاب سے وفات مسیح کا باب نہیں دکھاسکتے۔

فائدہ…

حضرت لدھیانوی شہیدؒ کا رسالہ ’’نزول عیسیٰ علیہ السلام‘‘ مندرجہ تحفہ قادیانیت جلد اوّل قابل دید ہے۔

سوال ۳ … مرزائیوں کو اس مسئلہ سے کیوں دلچسپی ہے؟ مرزا تو مدعی نبوت ہے۔ پھر ان کو مسئلہ حیات عیسیٰ علیہ السلام سے کیا سروکار؟ وضاحت سے لکھیں؟

جواب …

مرزا غلام احمد قادیانی ابتداء میں خود حیات عیسیٰ علیہ السلام کا قائل تھا اور قرآن مجید کی آیات سے مسیح علیہ السلام کی حیات پر استدلال کرتا تھا۔

’’یہ آیت (ھو الذی ارسل رسولہ) جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح کے حق میں پیشگوئی ہے اور جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے۔ وہ غلبہ مسیح کے ذریعہ سے ظہور میں آئے گا اور جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے۔ تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق اور اقطار میں پھیل جائے گا۔ ‘‘

(براہین احمدیہ ج ۱،خزائن ج۱ ص ۵۹۳، ومثلہ بادنیٰ تغیرچشمہ معرفت خزائن ج۲۳ ص۹۱)

حیات مسیح علیہ السلام کا ابتدا میں مرزا قائل تھا۔ لیکن دعویٰ نبوت کے لئے اس نے بتدریج مراحل طے کئے۔ پہلے خادم اسلام، پھر مبلغ اسلام، مامورمن ﷲ، مجدد ہونے کے دعوے کئے۔ اصل مقصود دعویٰ نبوت تھا۔ منصوبہ بندی یہ کی کہ پہلے مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ کیا جائے۔ مسیح بننے کے لئے حیات عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ رکاوٹ تھا۔ اس رکاوٹ کو دور کرنے کے لئے وفات مسیح کا عقیدہ تراشا۔ پھر کہا چونکہ احادیث میں مسیح علیہ السلام کا آنا ثابت ہے۔ وہ فوت ہوگئے ہیں۔ تو ان کی جگہ میں مثیل مسیح بن کر آیا ہوں اور میں ان سے افضل ہوں۔ اس کا مشہور شعر ہے:

ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو

اس سے بہتر غلام احمد ہے

(دافع البلاء ص ۲۴، خزائن ج۱۸ص ۲۴۰)

جب مرزا اپنے خیال فاسد میں مسیح بن گیا۔ تو کہا کہ مسیح علیہ السلام نبی تھے۔ تو اب مسیح ثانی (مرزا قادیانی) جو ان سے افضل ہے۔ وہ کیوں نبی نہیں؟ لہٰذا میں نبی ہوں۔ اس طرح دجل کرکے محض نبوت کا دعویٰ کرنے کے لئے اس نے وفات مسیح کا عقیدہ اختیار کیا۔ اصل میں وہ

126

تدریجاً دعویٰ نبوت کی طرف جارہا تھا۔ تو یوں دجل در دجل کا مرتکب ہوتا گیا۔ آنحضرت ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ: ’’میرے بعد جو نبوت کا دعویٰ کریں گے وہ دجال ہوں گے۔‘‘

دجل: دھوکہ، تلبیس، حق و باطل کے اختلاط کا نام ہے۔ جو مرزا قادیانی میں بدرجہ اتم موجود تھا۔ اس دجال اعظم، مفتری اکبر نے اپنے دجل سے اسلام کے بنیادی عقیدہ ختم نبوت و حیات مسیح علیہ السلام پر اپنے الحاد و زندقہ کی کلہاڑی چلائی۔ معاذاﷲ!

سوال۴ … قال ﷲتعالیٰ واذ قال ﷲ یعیسیٰ انی متوفیک ورافعک الیّٰ‘‘ اس کی صحیح تفسیر بیان کرکے حیات حضرت مسیح علیہ السلام کو ثابت کریں۔ مرزائی ’’ توفی‘‘ سے وفات مراد لیتے ہیں۔ حضرت ابن عباسؓ سے بھی ’’متوفیک‘‘ کی تفسیر ’’ممیتک‘‘ منقول ہے۔ اور اس تائید میں مرزائی ’’توفنا مع الابرار، تو فنا مع المسلمین‘‘ کو بھی پیش کرتے ہیں، ان تمام امور کا شافی جواب تحریر کریں؟

جواب …

’’واذ قال ﷲ یعیسیٰ انی متوفیک ورافعک‘‘ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رفع جسمانی ثابت ہے۔ یہ حیات عیسیٰ علیہ السلام کی دلیل ہے، نہ کہ وفات عیسیٰ علیہ السلام کی۔ توفی وغیرہ کی کچھ بحث پہلے گزرچکی ہے۔ مزید ملاحظہ ہو:

توفی کاحقیقی معنی

الف… ’’توفی‘‘ کا حقیقی معنی موت نہیں۔ اس لئے کہ اگر اس کا حقیقی معنی موت ہوتا تو ضرور قرآن و سنت میں کہیں ’’توفی‘‘ کو ’’حیات‘‘ کے مقابل ذکر کیا جاتا۔ حالانکہ ایسا کہیں نہیں ہے۔ بلکہ ’’توفی‘‘ کو ’’مادمت فیھم‘‘ کے مقابلہ میں رکھا گیا۔ معلوم ہوا کہ توفی کا حقیقی معنی موت نہیں۔ دیکھئے قرآن مجید میں جگہ جگہ موت و حیات کا تقابل کیا گیا ہے نہ کہ توفی و حیات کا۔ مثلاً الذی یحیی ویمیت، یحییکم ثم یمیتکم، ھوامات و احیی، لایموت فیھا ولایحییٰ، ویحي الموتیٰ، اموات غیر احیاء، یحییٰ الموتی، یحیی الارض بعد موتھا، تخرج الحي من المیت و تخرج المیت من الحي۰ یہ تقابل بتاتا ہے کہ تعرف الاشیاء باضدادہا کے تحت حیات کی ضد موت ہے توفی نہیں۔ توفی کو قرآن مجید میں مادمت فیھم کے مقابلہ میں لایا گیا: ’’ وکنت علیھم شھیداً مادمت فیھم فلما توفیتنی‘‘ اس سے توفی کا حقیقی معنی سمجھا جاسکتا ہے کہ کیا ہے؟ اس کے لئے علامہ زمخشری کا

127

حوالہ کافی ہوگا : ’’اوفاہ، استوفاہ، توفاہ استکمال ومن المجاز توفی و توفاہ ﷲ ادرکتہ الوفاۃ‘‘

ترجمہ : ’’اوفاہ، استوفاہ اور توفاہ کے معنی استکمال یعنی پورا لینے کے ہیں۔ توفی کو مجازاً موت کے معنی میں لیا جاتا ہے۔ جیسے توفی اور توفاہ ﷲ یعنی اس کی وفات ہوگی۔‘‘

اس حوالہ سے معلوم ہوا کہ توفی کا حقیقی معنی موت نہیں۔ البتہ مجازاً کہیں کہیں موت کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔

ب… اﷲ رب العزت نے اپنی کتاب میں ’’اماتت‘‘ کی اسناد اپنی طرف ہی فرمائی۔ غیر ﷲ کی طرف ہرگز نہیں کی۔ جبکہ ’’توفی‘‘ کی اسناد ملائکہ کی طرف بھی اکثر موجود ہے۔ یہ بھی اس بات کی دلیل ہے کہ توفی کا حقیقی معنی موت نہیں۔ جیسے ’’حتی اذا جاء احد کم الموت توفتہ رسلنا‘‘ یہاں پر توفی کی اسناد ملائکہ کی طرف کی گئی۔

ج… توفی کا حقیقی معنی موت نہیں جیسے قرآن مجید میں ہے: ’’حتیٰ یتوفھن الموت‘‘ یہاں توفی اور موت کو مقابلہ میں ذکر کیا گیا ہے۔ اب اس کے معنی ہوںگے کہ ان کو موت کے وقت پورا پورا لے لیا جاتا ہے۔ اگر توفی کا معنی موت ہو تو پھر اس کا معنی تھا کہ: ’’یمیتہن الموت‘‘ یہ کس قدر رکیک معنی ہوں گے۔ کلام الٰہی اور یہ رکاکت؟ اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔

د… توفی کا حقیقی معنی موت نہیں۔ قرآن مجید میں ہے : ’اﷲ یتوفی الانفس حین موتھا والتی لم تمت فی منامھا فیمسک التی قضیٰ علیہا الموت ویرسل الاخریٰ الیٰ اجل مسمی (الزمر: ۴۲)‘‘

ترجمہ: ’’اﷲتعالیٰ نفسوں کو لے لیتا ہے ان کی موت کے وقت اور ان نفسوں کو جو نہیں مرے ان کو نیند میں لے لیتا ہے۔ پس وہ نفس جس کو موت وارد ہوتی ہے روک لیتا ہے اور دوسرے کو مقرر مدت تک چھوڑ دیتا ہے۔‘‘

۱… یہاں پہلے جملہ میں توفی نفس کو حین موتھا کے ساتھ مقید کیا ہے۔ معلوم ہوا توفی عین موت نہیں۔

۲… اور پھر توفی کو موت اور نیند کی طرف منقسم کیا ہے۔ لہٰذا نصاً معلوم ہوا کہ توفی موت کے مغائر ہے۔

128

۳… نیز یہ کہ توفی، موت اور نیند دونوں کو شامل ہے۔ نیند میں آدمی زندہ ہوتا ہے۔ اس کی طرف توفی کی نسبت کی گئی۔ توفی بھی ہے اور آدمی زندہ ہے۔ مرا نہیں۔ کیا یہ نص نہیں اس بات کی کہ توفی کا حقیقی معنی موت نہیں؟

خلاصہ بحث

توفی کا حقیقی معنی پورا پورا لینے کے ہیں۔ ہاں البتہ کبھی مجازاً موت کے معنی میں بھی توفی کا استعمال ہوا ہے۔ جیسے : ’’توفنا مع الابرار، توفنا مسلمین‘‘ وغیرہ۔

ضروری تنبیہ… اگرکہیں کوئی لفظ کسی مجازی معنی میں استعمال ہو تو ہمیشہ کے لئے اس کے حقیقی معنی ترک نہیں کردیئے جائیں گے۔ اگر کوئی ایسے سمجھتا ہے تو وہ قادیانی احمق ہی ہوسکتے ہیں۔ ورنہ اصول صرف یہ ہے کہ مجازی معنی وہاں مراد لئے جائیں گے جہاں حقیقی معنی متعذر ہوں۔ یا عیسیٰ انی متوفیک میں حقیقی معنی پورا پورا لینے کے لئے جائیں گے اور توفنا مع الابرار میں مجازی معنی (موت) کے کئے جائیں گے۔

حضرت ابن عباس ؓ اور حیات عیسیٰ علیہ السلام

الف… حضرت ابن عباسؓ پوری امت کی طرح حیات مسیح علیہ السلام کے قائل ہیں۔ آپ نے آنحضرت ﷺ سے متعدد روایات حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع و نزول وحیات کی روایت کی ہیں۔ ’’التصریح بما تواتر فی نزول المسیح طبع ملتان‘‘ کے ص ۱۸۱، ۲۲۳، ۲۲۴، ۲۴۵، ۲۷۳، ۲۷۹، ۲۸۴، ۲۸۹، ۲۹۱، ۲۹۲ پر دس روایات حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع و نزول کی حضرت ابن عباس ؓ کے حوالہ سے حضرت انور شاہ کشمیریؒ نے جمع فرمائی ہیں۔ من شاء فلیراجع!

ب… متوفیک کے معنی ممیتک عبداﷲ بن عباسؓ سے نقل کرنے والا راوی علی بن ابی طلحہ ہے۔

(تفسیر ابن جریر ج۳ ص ۲۹۰)

علماء اسماء الرجال نے اس کے متعلق ضعیف الحدیث، منکر ، لیس بمحمود المذہب کے جملے فرمائے ہیں اور یہ کہ اس نے حضرت عبداﷲ ابن عباسؓ کی زیارت بھی نہیں کی۔ درمیان میں مجاہدؒ کا واسطہ ہے۔

(میزان الاعتدال ج ۵ ص ۱۶۳، تہذیب التہذیب ج ۴ ص ۲۱۳)

رہا یہ کہ پھر صحیح بخاری شریف میں یہ روایت کیسے آگئی؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ: امام بخاریؒ کا یہ التزام صرف احادیث مسندۃ کے بارے میں ہے۔ نہ کہ تعلیقات و آثار صحابہ کے

129

ساتھ۔ چنانچہ فتح مغیث ص ۲۰ میں ہے: ’’قول البخاری ماادخلت فی کتابی الا ماصح علی، مقصود بہ ھو الاحادیث الصحیحۃ المسندۃ دون التعالیق والاثار الموقوفۃ علی الصحابۃ فمن بعدھم والاحادیث المترجمۃ بھا ونحوذٰلک‘‘

ترجمہ: ’’یعنی امام بخاری کے اس فرمان کا مطلب کہ میں نے اپنی کتاب میں صرف وہی ذکر کیا ہے جو صحیح سند سے ثابت ہے۔ اس سے مراد صرف احادیث صحیحہ مسندہ ہیں۔ باقی تعلیقات اور آثار موقوفہ وغیرہ اس میں شامل نہیں۔ اس طرح وہ احادیث جو ترجمۃ الباب میں ذکر کی گئی ہیں وہ بھی مراد نہیں ہیں۔‘‘

ج… حضرت عبداﷲ بن عباسؓ سے دوسری صحیح روایت میں اگرچہ توفی کے معنی موت منقول ہیں۔ مگر اسی روایت میں کلمات آیت کے اندر تقدیم و تاخیر بھی صراحتاً مذکور ہے۔ جس سے قادیانی گروہ کی خود بخود تردید ہوجاتی ہے۔

’’اخرج ابن عساکر واسحاق بن بشر عن ابن عباسؓ قال قولہ تعالیٰ یٰعیسیٰ انی متوفیک ورافعک الیّٰ یعنی رافعک ثم متوفیک فی آخرالزمان‘‘

(درمنثور ج۲ ص۳۶)

ترجمہ: ’’یعنی ابن عساکر اور اسحاق بن بشر نے (بروایت صحیح) ابن عباسؓ سے روایت کی ہے کہ اس آیت کا یہ مطلب ہے کہ میں آپ کو اٹھانے والا ہوں اپنی طرف پھر آخر زمانہ میں (بعد نزول) آپ کو موت دینے والا ہوں۔‘‘

د… تفسیر ابن کثیر میں عبداﷲ ابن عباسؓ سے صحیح روایت منقول ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بغیر قتل کے زندہ آسمان پر اٹھالئے گئے۔

’’ورفع عیسیٰ من روزنۃ فی البیت الی السماء ھذا اسناد صحیح الی ابن عباس‘‘

(تفسیر ابن کثیر ج ۱ ص ۵۷۴ زیر آیت بل رفعہ ﷲ)

ترجمہ: ’’عیسیٰ علیہ السلام گھر کے روزن (روشن دان) سے (زندہ) آسمان کی طرف اٹھالئے گئے۔ یہ اسناد ابن عباسؓ تک بالکل صحیح ہے۔‘‘

سوال۵…سورئہ آل عمران میں ارشاد خداوندی ہے: ’’ورافعک‘‘ اور سورئہ نساء میں فرماتے ہیں: ’’بل رفعہ ﷲ الیہ‘‘ دونوں مقامات پر قادیانی رفع سے مراد رفع روحانی یا رفع درجات لیتے ہیں۔ آپ ان کے مؤقف کا اس طرح رد کریں۔ جس سے قادیانی دجل تارتار

130

ہوجائے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رفع جسمانی ثابت ہو؟

جواب …

یہ بات بھی قادیانی دجل کا شاہکار ہے کہ وہ کہیں رافعک اور بل رفعہ ﷲ میں رفع روح مراد لیتے ہیں اور جب ان پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ تمہارے (قادیانی) عقیدہ کے مطابق تو مسیح علیہ السلام صلیب سے اتر کر زخم اچھے ہونے کے بعد کشمیر چلے گئے اور ستاسی سال بعد ان کی موت واقع ہوئی۔ تو موت کے بعد رفع روح ہوا۔ حالانکہ یہ قرآن کے اسلوب بیان کے خلاف ہے۔ اس لئے کہ چاروں وعدوں میں سے تین وعدے جو براہ راست مسیح علیہ السلام کی ذات (جسم) مبارک سے تعلق رکھتے تھے۔ ایک ہی وقت میں ایک ساتھ ان کا ایفاء ہوا۔ تو قادیانی مجبوراً پھر اس سے فوراً رفع درجات پر آجاتے ہیں۔ جس طرح قادیانیوں کو ایمان کا قرار (سکون) نصیب نہیں اس طرح ان کے مؤقف کو بھی قرار نہیں۔ وہ اپنا مؤقف بدلتے رہتے ہیں۔ کبھی رفع روح مراد لیتے ہیں، کبھی رفع درجات مراد لیتے ہیں۔ حالانکہ یہ دونوں مؤقف غلط ہیں۔

۱… یہ امر روز روشن کی طرح واضح ہے کہ ’’بل رفعہ ﷲ ‘‘ کی ضمیر اسی طرف راجع ہے کہ جس طرف ’’قتلوہ‘‘ اور ’’ صلبوہ‘‘ کی ضمیریں راجع ہیں اور ظاہر ہے کہ ’’ قتلوہ‘‘ اور ’’صلبوہ‘‘ کی ضمیریں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے جسم مبارک اور جسد مطہر کی طرف راجع ہیں۔ روح بلا جسم کی طرف راجع نہیں۔ اس لئے کہ قتل کرنا اور صلیب پر چڑھانا جسم ہی کا ممکن ہے۔ روح کا قتل اور صلیب پر لٹکانا قطعاً ناممکن ہے۔ لہٰذا ’’بل رفعہ‘‘ کی ضمیر اسی جسم کی طرف راجع ہوگی۔ جس جسم کی طرف ’’قتلوہ‘‘ اور ’’صلبوہ‘‘ کی ضمیریں راجع ہیں۔

۲… دوم یہ کہ یہود روح کے قتل کے مدعی نہ تھے۔ بلکہ قتل جسم کے مدعی تھے اور ’’بل رفعہ ﷲ الیہ‘‘ سے اس کی تردید کی گئی ہے۔ لہٰذا بل رفعہ میں رفع جسم ہی مراد ہوگا۔ اس لئے کہ کلمہ بل کلام عرب میں ماقبل کے ابطال کے لئے آتا ہے۔ لہٰذا بل کے ماقبل اور مابعد میں منافات اور تضاد کا ہونا ضروری ہے جیسا کہ: ’’وقالوا اتخذالرحمن ولداً سبحنہ بل عباد مکرمون ‘‘ ولدیت اور عبودیت میں منافات ہے دونوں جمع نہیں ہوسکتے۔ ’’ام یقولون بہ جنۃ بل جاء ھم بالحق‘‘مجنونیت اور اتیان بالحق (یعنی من جانب ﷲ حق کو لے کر آنا) یہ دونوں متضاد اور متنافی ہیں۔ یکجا جمع نہیں ہوسکتے۔ یہ ناممکن ہے کہ شریعت حقہ کالا نے والا مجنون ہو۔ اسی طرح اس آیت میں یہ ضروری ہے کہ مقتولیت اور مصلوبیت جو بل کا ماقبل ہیں۔ وہ

131

مرفوعیت الیٰ ﷲ کے منافی ہو جو بل کا مابعد ہے اور ان دونوں کا وجود اور تحقق میں جمع ہونا ناممکن ہونا چاہئے اور ظاہر ہے کہ مقتولیت اور روحانی رفع بمعنی موت میں کوئی منافات نہیں۔ محض روح کا آسمان کی طرف اٹھایا جانا قتل جسمانی کے ساتھ جمع ہوسکتا ہے۔ جیسا کہ شہداء کا جسم تو قتل ہوجاتا ہے اور روح آسمان پر اٹھالی جاتی ہے۔ لہٰذا ضروری ہوا کہ بل رفعہ ﷲ میں رفع جسمانی مراد ہو کہ جو قتل اور صلب کے منافی ہے۔ اس لئے کہ رفع روحانی اور رفع عزت اور رفعت شان قتل اور صلب کے منافی نہیں۔ بلکہ جس قدر قتل اور صلب ظلماً ہوگا۔ اسی قدر عزت اور رفعت شان میں اضافہ ہوگا اوردرجات اور زیادہ بلند ہوں گے۔ رفع درجات کے لئے تو موت اور قتل کچھ بھی شرط نہیں۔ رفع درجات زندہ کو بھی حاصل ہوسکتے ہیں۔ ’’کما قال تعالیٰ ورفعنالک ذکرک‘‘ اور ’’یرفع ﷲ الذین آمنوا منکم والذین اوتو العلم درجات‘‘ ہے ۔

۳… یہود حضرت مسیح علیہ السلام کے جسم کے قتل اور صلب کے مدعی تھے۔ ﷲتعالیٰ نے اس کے ابطال کے لئے بل رفعہ ﷲ فرمایا۔ یعنی تم غلط کہتے ہو کہ تم نے اس کے جسم کو قتل کیا یا صلیب پر چڑھایا۔ بلکہ ﷲتعالیٰ نے ان کے جسم کو صحیح و سالم آسمان پر اٹھالیا۔ نیز اگر رفع سے رفع روح بمعنی موت مراد ہے تو قتل اور صلب کی نفی سے کیا فائدہ؟ قتل اور صلب سے غرض موت ہی ہوتی ہے اور بل اضرابیہ کے ما بعد کو بصیغہ ماضی لانے میں اس طرف اشارہ ہے کہ رفع الیٰ السمائ باعتبار ماقبل کے امر ماضی ہے۔ یعنی تمہارے قتل اور صلب سے پہلے ہی ہم نے ان کو آسمان پر اٹھالیا۔ جیسا کہ بل جاء ھم بالحق میں صیغہ ماضی اس لئے لایا گیا کہ یہ بتلادیا جائے کہ آپ ﷺ کا حق کو لے کر آنا کفار کے مجنون کہنے سے پہلے ہی واقع ہوچکا ہے۔ اسی طرح بل رفعہ ﷲ بصیغہ ماضی لانے میں اس طرف اشارہ ہے کہ رفع الی السماء ان کے مزعوم اور خیالی قتل اور صلب سے پہلے ہی واقع ہوچکا ہے۔

۴… جس جگہ لفظ رفع کا مفعول یا متعلق جسمانی شے ہوگی تو اس جگہ یقینا جسم کا رفع مراد ہوگا اور اگر رفع کا مفعول اور متعلق درجہ یا منزلہ یا مرتبہ یا امر معنوی ہو تو اس وقت رفع مرتبت اور بلندی رتبہ کے معنی مراد ہوں گے۔ ’’کما قال تعالیٰ ورفعنا فوقکم الطور‘‘ اٹھایا ہم نے تم پر کوہ طور ’’اﷲ الذی رفع السمٰوت بغیر عمدا ترونھا‘‘ ﷲ ہی نے بلند کیا آسمانوں کو بغیر ستونوں کے جیسا کہ تم دیکھ رہے ہو۔ ’’واذ یرفع ابراہیم القواعد من البیت واسمٰعیل‘‘ یاد کرو اس وقت کو کہ جب ابراہیم بیت ﷲ کی بنیادیں اٹھارہے تھے اور

132

اسمٰعیل ان کے ساتھ تھے۔ ’’ورفع ابویہ علی العرش‘‘ یوسف علیہ السلام نے اپنے والدین کو تخت کے اوپر بٹھایا۔ ان تمام مواقع میں لفظ رفع اجسام سے مستعمل ہوا ہے اور ہر جگہ رفع جسمانی مراد ہے اور ورفعنالک ذکرک ہم نے آپ ﷺ کا ذکر بلند کیا اور ورفعنا بعضھم فوق بعض درجات ہم نے بعض کو بعض پر درجہ اور مرتبہ کے اعتبار سے بلند کیا۔اس قسم کے مواقع میں رفعت شان اور بلندی رتبہ مراد ہے۔ اس لئے کہ رفع کے ساتھ خود ذکر اور درجہ کی قید یعنی قرینہ مذکور ہے۔

قادیانی اشکال

ایک حدیث میں ہے: ’’اذا تواضع العبد رفعہ ﷲ الی السماء السابعۃ‘‘

(کنزالعمال ج۳ ص۱۱۰، حدیث نمبر ۵۷۲۰، بحوالہ الخرائطی فی مکارم الاخلاق)

ترجمہ: ’’جب بندہ تواضع کرتا ہے تو ﷲتعالیٰ اس کو ساتویں آسمان پر اٹھالیتے ہیں۔

اس حدیث کو خرائطیؒنے اپنی کتاب مکارم الاخلاق میں ابن عباسؓ سے روایت کیا ہے ۔

اس روایت کو مرزائی بہت خوش ہوکر بطور اعتراض پیش کیا کرتے ہیں کہ رفع کا مفعول جسمانی شے ہے اور الی السماء کی بھی تصریح ہے۔ مگر باوجود اس کے رفع سے رفع جسمی مراد نہیں بلکہ رفع معنوی مراد ہے۔

جواب …

یہ ہے کہ یہاں مجاز کے لئے قرینہ عقلیہ قطعیہ موجود ہے کہ یہ اس زندہ کے حق میں ہے۔ جو لوگوں کے سامنے زمین پر چلتا ہے اور تواضع کرتا ہے۔ تو اس کا مرتبہ اور درجہ ﷲتعالیٰ کے یہاں ساتویں آسمان کے برابر بلند اونچا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہاں رفع جسم مراد نہیں بلکہ رفع درجات مراد ہے۔ غرض یہ کہ رفع کے معنی بلندی رتبہ مجازاً بوجہ قرینہ عقلیہ لئے گئے اور اگر کسی کم عقل کی سمجھ میں یہ قرینہ عقلیہ نہ آئے۔ تو اس کے لئے قرینہ قطعیہ بھی موجود ہے۔ وہ یہ کہ کنزالعمال میں روایت مذکورہ کے بعد ہی علی الاتصال یہ روایت مذکور ہے :’’من یتواضع للّہ درجۃ یرفعہ ﷲ درجۃ حتی یجعلہ فی علیین‘‘ عنی جس درجہ کی تواضع کرے گا۔ اسی کے مناسب ﷲ اس کا درجہ بلند فرمائیں گے۔ یہاں تک کہ جب وہ تواضع کے آخری درجہ پر پہنچ جائے گا تو ﷲتعالیٰ اس کو علیین میں جگہ دیں گے۔، جو علو اور رفعت کا آخری مقام ہے۔ اس حدیث میں صراحتاً لفظ درجہ کا مذکور ہے اور قاعدہ مسلمہ ہے۔ الحدیث یفسر بعضہ بعضا ایک حدیث دوسری حدیث کی تفسیر اور شرح کرتی ہے۔

133

خلاصہ یہ کہ رفع کے معنی اٹھانے اور اوپر لے جانے کے ہیں۔ لیکن وہ رفع کبھی اجسام کا ہوتا ہے اور کبھی معانی اور اعراض کا ہوتا ہے اور کبھی اقوال اور افعال کا، اور کبھی مرتبہ اور درجہ کا۔ جہاں رفع اجسام کا ذکر ہوگا۔ وہاں رفع جسمی مراد ہوگا اور جہاں رفع اعمال اور رفع درجات کا ذکر ہوگا۔ وہاں رفع معنوی مراد ہوگا۔ رفع کے معنی تو اٹھانے اور بلند کرنے ہی کے ہیں۔ باقی جیسی شے ہوگی اس کا رفع اسی کے مناسب ہوگا۔

۵… یہ کہ اس آیت کا صریح مفہوم اور مدلول یہ ہے کہ جس وقت یہود نے حضرت مسیح کے قتل اور صلب کا ارادہ کیا۔ تو اس وقت قتل اور صلب نہ ہوسکا۔ بلکہ اس وقت حضرت مسیح کا ﷲ کی طرف رفع ہوگیا۔ معلوم ہوا کہ یہ رفع جس کا بل رفعہ ﷲ میں ذکر ہے حضرت عیسیٰ کو پہلے سے حاصل نہ تھا۔ بلکہ یہ رفع اس وقت ظہور میں آیا کہ جس وقت یہود ان کے قتل کا ارادہ کررہے تھے اور وہ رفع جو ان کو اس وقت حاصل ہوا وہ یہ تھا کہ اس وقت بجسدہ العنصری صحیح و سالم آسمان پر اٹھا لئے گئے۔ رفعت شان اور بلندی مرتبہ تو ان کو پہلے ہی سے حاصل تھی اور وجیھا فی الدنیا ولآخرۃ ومن المقربین کے لقب سے پہلے ہی سرفراز ہوچکے تھے۔ لہٰذا اس آیت میں وہی رفع مراد ہوسکتا ہے کہ جو ان کو یہود کے ارادہ قتل کے وقت حاصل ہوا۔ یعنی رفع جسمی اور رفع عزت و منزلت اس سے پہلے ہی ان کو حاصل تھا۔ اس مقام پر اس کا ذکر بالکل بے محل ہے۔

۶… یہ کہ یہود کی ذلت و رسوائی اور حسرت اور ناکامی اور عیسیٰ علیہ السلام کی کمال عزت و رفعت بجسدہ العنصری صحیح و سالم آسمان پر اٹھائے جانے ہی میں زیادہ ظاہر ہوتی ہے۔ نیز یہ رفعت شان اور علو مرتبت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ مخصوص نہیں۔ زندہ اہل ایمان اور زندہ اہل علم کو بھی حاصل ہے۔ ’’کما قال تعالی یرفع ﷲ الذین اٰٰمنوا منکم والذین اوتوا العلم درجات‘‘ بلند کرتا ہے ﷲتعالیٰ اہل ایمان اور اہل علم کو باعتبار درجات کے۔

۷… یہ کہ اگر آیت میں رفع روحانی بمعنی موت مراد ہو تو یہ ماننا پڑے گا کہ وہ رفع روحانی بمعنی موت یہود کے قتل اور صلب سے پہلے واقع ہوا جیسا کہ: ’’ام یقولون بہ جنۃ بل جاء ھم بالحق، ویقولون أئنا لتارکوا اٰلھتنا للشاعر مجنون، بل جاء بالحق‘‘ ان آیات میں آنحضرت ﷺ کا حق کو لے کر آنا ان کے شاعر اور مجنون کہنے سے پہلے

134

واقع ہوا۔ اسی طرح رفع روحانی بمعنی موت کو ان کے قتل اور صلب سے مقدم ماننا پڑے گا۔ حالانکہ مرزا قادیانی اس کے قائل نہیں۔ مرزا قادیانی تو (العیاذباﷲ) یہ فرماتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام یہود سے خلاص ہوکرفلسطین سے کشمیر پہنچے اور عرصہ دراز تک بقید حیات رہے اور اسی عرصہ میں اپنے زخموں کا علاج کرایا اور پھر طویل مدت کے بعدیعنی ستاسی سال زندہ رہ کر وفات پائی اور سری نگر کے محلہ خان یار میں مدفون ہوئے اور وہیں آپ کا مزار ہے۔ لہٰذا مرزا قادیانی کے زعم کے مطابق عبارت اس طرح ہونی چاہئے تھی: ’’وما قتلوہ بالصلیب بل تخلص منھم وذہب الی کشمیر واقام فیھم مدۃ طویلۃ ثم اماتہ ﷲ ورفع الیہ ‘‘

۸… یہ کہ رفع روحانی بمعنی موت لینے سے وکان ﷲ عزیزاً حکیماً کے ساتھ مناسبت نہیں رہتی۔ اس لئے کہ عزیز اور حکیم اور اس قسم کی ترکیب اس موقعہ پر استعمال کی جاتی ہے کہ جہاں کوئی عجیب و غریب اور خارق العادات امر پیش آیا ہو اور وہ عجیب و غریب امر جو اس مقام پر پیش آیا وہ رفع جسمانی ہے۔ یہ خیال نہ کیا جائے کہ جسم عنصری کا آسمان پر جانا محال ہے۔ وہ عزت والا اور غلبہ والا اور قدرت والا ہے۔ اس کے لئے یہ کوئی مشکل کام نہیں اور نہ یہ خیال کرے کہ جسم عنصری کا آسمان پر اٹھایا جانا خلاف حکمت اور خلاف مصلحت ہے۔ وہ حکیم ہے اس کا کوئی فعل حکمت سے خالی نہیں۔ دشمنوں نے جب حضرت مسیح پر ہجوم کیا تو اس نے اپنی قدرت کا کرشمہ دکھلا دیا کہ اپنے نبی کو آسمان پر اٹھالیا اور جو دشمن قتل کے ارادہ سے آئے تھے۔ انہی میں سے ایک کو اپنے نبی کا ہم شکل اور شبیہ بناکر انہیں کے ہاتھ سے اس کو قتل کرادیا اور پھر اس شبیہ کے قتل کے بعد ان سب کو شبہ اور اشتباہ میں ڈال دیا۔

رفع کے معنی عزت کی موت۔ نہ کسی لغت سے ثابت ہے نہ کسی محاورہ سے اور نہ کسی فن کی اصطلاح سے۔ محض مرزا قادیانی کی اختراع ہے۔ البتہ رفع کا لفظ محض اعزاز اور رفع جسمانی کے منافی نہیں اعزاز اور رفع جسمانی دونوں جمع ہوسکتے ہیں۔ نیز اگر رفع سے عزت کی موت مراد ہو تو نزول سے ذلت کی پیدائش مراد ہونی چاہئے۔ اس لئے کہ حدیث میں نزول کو رفع کا مقابل قرار دیا ہے اور ظاہر ہے کہ نزول کے یہ معنی مرزا قادیانی کے ہی مناسب ہیں۔

۹… رہا یہ امر کہ آیت میں آسمان پر جانے کی کوئی تصریح نہیں۔ سو اس کا جواب یہ ہے کہ بل رفعہ ﷲ الیہ (اﷲتعالیٰ نے عیسیٰ کو اپنی طرف اٹھالیا) اس کلام کے معنی ہی یہ ہیں کہ ﷲ نے آسمان پر اٹھالیا جیسا کہ: ’’تعرج الملائکۃ والروح الیہ‘‘ کے معنی یہ ہیں کہ

135

فرشتے اور روح الامین ﷲ کی طرف چڑھتے ہیں یعنی آسمان پر۔ وقال تعالیٰ : ’’الیہ یصعد الکلم الطیب والعمل الصالح یرفعہ‘‘ ﷲ ہی کی طرف پاکیزہ کلمات چڑھتے ہیں اور ﷲتعالیٰ عمل صالح کو اوپر اٹھاتا ہے۔ یعنی آسمان کی طرف چڑھتے ہیں۔ اس طرح بل رفعہ ﷲ الیہ میں آسمان پر اٹھایا جانا مراد ہوگا اور جس کو خدائے تعالیٰ نے ذرا بھی عقل دی ہے۔ وہ سمجھ سکتا ہے بل رفعہ ﷲ الیہ کے یہ معنی کہ خدا نے ان کو عزت کی موت دی۔ یہ معنی جس طرح لغت کے خلاف ہیں اسی طرح سیاق و سباق کے بھی خلاف ہیں۔ اس طرح کہ اس آیت کی تفسیر میں حضرت ابن عباسؓ سے باسناد صحیح یہ منقول ہے :’’لما اراداﷲ ان یرفع عیسیٰ الیٰ السماء‘‘

(تفسیر ابن کثیر ص ۵۷۴ ج۱ زیر آیت بل رفعہ ﷲ)

’’جب ﷲتعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان کی طرف اٹھانے کا ارادہ فرمایا۔ الی آخر القصہ ‘‘

اس کے علاوہ متعدد احادیث میں آسمان پر جانے کی تصریح موجود ہے وہ احادیث ہم نقل کرچکے ہیں۔

۱۰… مرزا قادیانی نے لکھا ہے: ’’لہٰذا یہ امر ثابت ہے کہ رفع سے مراد اس جگہ موت ہے۔ مگر ایسی موت جو عزت کے ساتھ ہو۔جیسا کہ مقربین کے لئے ہوتی ہے کہ بعد موت ان کی روحیں علیین تک پہنچائی جاتی ہیں : ’’فی مقعد صدق عند ملیک مقتدر‘‘

(ازالہ اوہام ص ۵۹۹، خزائن ج۳ ص ۴۲۴)

مرزا قادیانی کا یہ کہنا کہ رفع سے ایسی موت مراد ہے جو عزت کے ساتھ ہو۔ جیسے مقربین کی موت ہوتی ہے کہ ان کی روحیں مرنے کے بعد علیین تک پہنچ جاتی ہیں۔ اس عبارت سے خود واضح ہے کہ بل رفعہ ﷲ سے آسمان پر جانا مراد ہے۔ اس لئے کہ علیین اور ’’مقعد صدق‘‘ تو آسمان ہی میں ہیں۔ بہرحال آسمان پر جانا تو مرزا قادیانی کو بھی تسلیم ہے۔ اختلاف اس میں ہے کہ آسمان پر حضرت مسیح بن مریم کی فقط روح گئی یا روح اور جسد دونوں گئے۔ سو یہ ہم پہلے ثابت کرچکے ہیں کہ آیت میں بجسدہ العنصری رفع مراد ہے۔

سوال ۶ … نزول مسیح کے دلائل ذکر کرتے ہوئے مرزا کے اس استدلال فاسدہ کا رد کریں کہ ’’میں مثیل مسیح ہوں‘‘ نیز ثابت کریں کہ نزول مسیح کا عقیدہ، عقیدئہ ختم نبوت کے منافی نہیں؟

136

جواب …

آیات قرآنیہ سے نزول عیسیٰ کا ثبوت

نزول عیسیٰ کا مضمون دو آیتوں میں اشارۃ قریب بصراحت کے موجود ہے: ’’وان من اھل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ (نساء: ۱۵۹)‘‘

ترجمہ: ’’اور اہل کتاب میں سے کوئی نہ رہے گا۔ مگر وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ان کی موت سے پہلے ضرور ایمان لائے گا۔‘‘

’’وانہ لعلم للساعۃ (زخرف: ۶۱)‘‘

ترجمہ: ’’اور بے شک وہ قیامت کی ایک نشانی ہیں۔‘‘

چنانچہ ملا علی قاریؒ فرماتے ہیں: ’’ونزول عیسیٰ من السماء کما قال ﷲتعالیٰ وانہ ای عیسیٰ لعلم للساعۃ ای علامۃ القیامۃ و قال ﷲتعالیٰ و ان من اھل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ ای قبل موت عیسیٰ بعد نزولہ عند قیام الساعۃ فیصیرالملل واحدۃ و ھی ملۃ الاسلام‘‘

(شرح فقہ اکبر ۱۳۶)

ترجمہ: ’’آسمان سے نزول عیسیٰ، قول باری تعالیٰ کہ عیسیٰ قیامت کی علامت ہیں، سے ثابت ہے۔ نیز اس ارشاد سے ثابت ہے کہ اہل کتاب ان کی آسمان سے تشریف آوری کے بعد اور موت سے پہلے قیامت کے قریب ان پر ایمان لائیں گے۔ پس ساری ملتیں ایک ہوجائیں گی اور وہ ملت‘ ملت اسلام ہے۔‘‘

بہرحال اس حدیث سے ثابت ہوا کہ قبل موتہ میں ضمیر کا مرجع حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں جیسا کہ لیؤمنن بہ میں ضمیر کا مرجع حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔ چنانچہ ’’ارشاد الساری‘‘ شرح بخاری میں ہے: ’’وان من اھل الکتاب احد الا لیؤمنن بعیسیٰ قبل موت عیسیٰ وھم اھل الکتاب الذین یکونون فی زمانہ فتکون الملۃ واحدۃ وھی ملۃ الاسلام وبھذا جزم ابن عباس فیما رواہ ابن جریر من طریق سعید بن جبیر عنہ باسناد صحیح‘‘

(ارشاد الساری ج۵ ص ۵۱۸،۵۱۹)

ترجمہ: ’’یعنی اہل کتاب میں سے کوئی بھی نہ ہوگا۔ مگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر عیسیٰ کی موت سے پہلے ایمان لے آئے گا اور وہ اہل کتاب ہوں گے۔ جو ان (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) کے زمانہ (نزول) میں ہوں گے۔ پس صرف ایک ہی ملت اسلام ہوجائے گی اور حضرت ابن

137

عباسؓ نے اس پر جزم کیا ہے۔ اس روایت کے مطابق جو ابن جریر نے ان سے سعید ابن جبیر کے طریق سے صحیح اسناد کے ساتھ روایت کی۔‘‘

حیات و نزول عیسیٰ پر امت کا اجماع ہے

آیات کریمہ واحادیث مرفوعہ متواترہ کی بناء پر حضرات صحابہؓ سے لے کر آج تک امت کا حیات و نزول عیسیٰ علیہ السلام کے قطعی عقیدئہ پر اجماع چلا آرہا ہے۔ ائمہ دین میں سے کسی سے بھی اس کے خلاف مروی نہیں ہے۔ معتزلہ جو بہت سے مسائل کلامیہ میں اہل سنت والجماعت سے اختلاف رکھتے ہیں۔ ان کا عقیدہ بھی یہی ہے جیسا کہ کشاف میں علامہ زمخشری نے اس کی تشریح کی ہے۔ چنانچہ ابن عطیہؒ فرماتے ہیں: ’حیاۃ المسیح بجسمہ الی الیوم و نزولہ من السماء بجسمہ العنصری ھما اجمع علیہ الامۃ وتواتربہ الاحادیث‘‘

ترجمہ: ’’تمام امت مسلمہ کا اس پر اجماع ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام اس وقت آسمان پر زندہ ہیں اور قرب قیامت میں بجسم عنصری پھر تشریف لانے والے ہیں۔ جیسا کہ احادیث متواترہ سے ثابت ہے۔‘‘

یہ ایک سو سے زیادہ احادیث تیس صحابہ کرامؓ سے مختلف انداز سے مروی ہیں جن کے اسماء گرامی یہ ہیں:

(۱)حضرت ابوہریرہؓ، (۲)حضرت جابر بن عبداﷲؓ، (۳)حضرت نواس بن سمعانؓ،(۴)حضرت ابن عمرؓ،(۵)حضرت حذیفہ بن اسیدؓ،(۶)حضرت ثوبانؓ، (۷)حضرت مجمعؓ، (۸)حضرت ابوامامہؓ، (۹)حضرت ابن مسعودؓ، (۱۰)حضرت ابونضرہؓ، (۱۱)حضرت سمرہؓ، (۱۲)حضرت عبدالرحمن بن خبیرؓ، (۱۳)حضرت ابوالطفیلؓ، (۱۴)حضرت انسؓ، (۱۵)حضرت واثلہؓ، (۱۶)حضرت عبداﷲ بن سلامؓ، (۱۷)حضرت ابن عباسؓ، (۱۸)حضرت اوسؓ، (۱۹)حضرت عمران بن حصینؓ، (۲۰)حضرت عائشہؓ،(۲۱)حضرت سفینہؓ،(۲۲)حضرت حذیفہؓ، (۲۳)حضرت عبداﷲ بن مغفلؓ، (۲۴)حضرت عبدالرحمن بن سمرہؓ، (۲۵)حضرت ابوسعید خدریؓ، (۲۶)حضرت عمار،ؓ (۲۷)حضرت ربیعؓ، (۲۸)حضرت عروہ بن رویمؓؓ، (۲۹)حضرت حسنؓ، (۳۰)حضرت کعبؓ۔

ان حضرات کی تفصیلی روایات ’’التصریح بما تواتر فی نزول المسیح‘‘ میں ملاحظہ کی جائیں۔ یہ کتاب درحقیقت زہریٔ وقت حضرت علامہ انور شاہ کشمیری قدس سرہ سابق

138

صدرالمدرسین دارالعلوم دیوبند کی املاء کردہ ہے۔ جس کو ان کے شاگر د رشید حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحبؒ مفتی اعظم پاکستان نے بہترین انداز میں مرتب فرماکر اہل اسلام کی ایک گراں قدر خدمت انجام دی ہے۔ (فجزاہ ﷲ وافیا) اور اس کتاب پر اس زمانہ کے محقق نامور عالم حضرت شیخ عبدالفتاح ابوغدہؒ نے تحقیقی کام کیا ہے اور مزید تلاش و جستجو کے بعد بیس احادیث کا اضافہ ’’استدراک ‘‘کے نام سے فرمایا ہے۔ حضرت لدھیانوی شہیدؒ کا رسالہ ’’نزول عیسیٰ علیہ السلام‘‘ مشمولہ تحفہ قادیانیت قارئین کے لئے مفید ہوگا۔

جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے

حضرت مسیح ابن مریم علیہما السلام کا نزول احادیث متواترہ سے ثابت ہونا… یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ خود مرزا قادیانی بھی اس کو تسلیم کرتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں: ’’یہ بات پوشیدہ نہیں کہ مسیح ابن مریم کے آنے کی پیشگوئی ایک اوّل درجہ کی پیشگوئی ہے۔ جس کو سب نے باتفاق قبول کرلیا ہے اور جس قدر صحاح میں پیشگوئیاں لکھی گئی ہیں۔ اس کے ہم پہلو اور ہم وزن ثابت نہیں ہوتیں۔ تواتر کا اوّل درجہ اس کو حاصل ہے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص ۵۵۷،خزائن ج۳ص۴۰۰)

اس سے چند سطریں پہلے مرزا قادیانی اپنی اسی کتاب میں لکھتے ہیں: ’’حال کے نیچری جن کے دلوں میں کچھ عظمت قال ﷲ اورقال الرسول کی باقی نہیں رہی۔ یہ بے اصل خیال پیش کرتے ہیں کہ جو مسیح ابن مریم کے آنے کی خبریں صحاح میں موجود ہیں۔ یہ تمام خبریں غلط ہیں … لیکن وہ اس قدر متواترات سے انکار کرکے اپنے ایمان کو خطرہ میں ڈالتے ہیں۔‘‘

(ازالہ اوہام ص ۲۳۰)

یہ الگ بات ہے کہ مرزا قادیانی ان احادیث کو توڑ مروڑ کر مسیح موعود کا مصداق اپنے آپ کو ثابت کرنا چاہتے ہیں۔

مثیل مسیح کا قادیانی ڈھونگ

ایک بے سروپا بات ہے۔ پیدائش مسیح سے رفع تک اور نزول سے وفات تک۔ وہاں کسی ایک بات میں مرزا قادیانی کو مماثلت نہیں۔ مسیح علیہ السلام بغیر باپ کے پیدا ہوئے۔ ساری عمر مکان نہیں بنایا۔ ساری عمر شادی نہیں کی۔ نزول کے بعد حاکم، عادل ہوں گے۔ دجال کو قتل کریں گے۔ ان کے زمانہ میں تمام ادیان باطلہ مٹ جائیں گے۔ صلیب پرستی کا خاتمہ ہوکر خدا

139

پرستی رہ جائے گی، دمشق جائیں گے بیت المقدس جائیں گے۔ حج کریں گے، عمرہ کریں گے، مدینہ طیبہ حاضری دیں گے۔ نزول کے بعد پینتالیس سال زندہ رہ کر پھر وفات پائیں گے۔ یہ چند بڑی، بڑی علامات ہیں۔ ان میں سے ایک بھی مرزا قادیانی میں نہ پائی جاتی تھی۔ اس کے باوجود دعویٰ مثیل ہونے کا۔ کیا اس سے بڑھ کر دنیا میں اور کوئی ڈھٹائی ہوسکتی ہے؟

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول عقیدئہ ختم نبوت کے منافی نہیں

مرزائیت کی تمام تر بنیاد دجل و فریب پر ہے۔ چنانچہ وہ اس جگہ مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے لئے ایک اعتراض پیش کرتے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ تشریف آوری کے بعد منصب نبوت پر فائز ہوں گے یا نہیں؟ اگر وہ بحیثیت نبی آئیں گے تو ختم نبوت پر زد پڑتی ہے۔ اگر نبی نہیں ہوں گے تو ایک نبی کا نبوت سے معزول ہونا لازم آتا ہے اور یہ بھی اسلامی عقائد کے خلاف ہے‘ تو سنئے:

جواب…

علامہ محمود آلوسیؒ نے اپنی تفسیر ’’روح المعانی‘‘ میں لکھا ہے: ’’وکونہ خاتم الانبیاء ای لا ینبأ احد بعدہ واما عیسیٰ ممن نبئ قبلہ‘‘

۱… آپ ﷺ کے خاتم الانبیاء ہونے کا معنی یہ ہے کہ آپ ﷺ کے بعد کسی شخص کو نبی نہیں بنایا جائے گا۔ عیسیٰ علیہ السلام تو آنحضرت ﷺ سے پہلے نبی بنائے جاچکے۔ پس عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری رحمت عالم ﷺ کی ختم نبوت کے منافی نہیں۔ آپ ﷺ وصف نبوت کے ساتھ اس دنیا میں سب سے آخر میں متصف ہوئے۔ اب کوئی شخص وصف نبوت حاصل نہیں کرسکے گا۔ نہ یہ کہ پہلے کے سارے نبی فوت ہوگئے۔

۲… پہلے حوالہ گزرچکا ہے کہ مرزا قادیانی اپنے آپ کو اپنے والدین کے لئے خاتم الاولاد کہتا ہے۔ حالانکہ اس کا بڑا بھائی مرزا غلام قادر زندہ تھا۔ مرزا غلام قادر کے زندہ ہونے کے باوجود اگر مرزا کے خاتم الاولاد ہونے میں کوئی فرق نہیں آیا۔ تو عیسیٰ علیہ السلام کے زندہ ہونے سے رحمت عالم ﷺ کی ختم نبوت میں کوئی فرق نہیں آتا۔

۳… ابن عساکر میں حدیث ہے کہ آدم علیہ السلام نے جبریل علیہ السلام سے پوچھا کہ محمد ﷺ کون ہیں؟ انہوں نے فرمایا: ’اخرولدک من الانبیاء‘‘

(کنزالعمال ص۴۵۵ ج۱۱ حدیث نمبر ۱۳۹ بحوالہ ابن عساکر)

ترجمہ: ’’انبیاء میں سے آپ ﷺ کے آخرالاولاد ہیں۔‘‘

140

اس حدیث نے بالکل صاف کردیاکہ خاتم النبیین کی مراد یہی ہے کہ آپ ﷺ انبیاء میں سے آخرالاولاد ہیں اور یہ معنی کسی نبی کے باقی رہنے کا معارض نہیں۔ لہٰذا آپ ﷺ کا آخرالاانبیاء وخاتم الانبیاء ہونا نزول عیسیٰ علیہ السلام کے کسی طرح مخالف نہیں ہوسکتا۔

۴… مرزا قادیانی اپنی کتاب (تریاق القلوب ص ۱۵۶، خزائن ج ۱۵ ص ۴۷۹) پر لکھتا ہے: ’’ضرور ہوا کہ وہ شخص جس پر بکمال و تمام دورئہ حقیقت آدمیہ ختم ہو وہ خاتم الاولاد ہو۔ یعنی اس کی موت کے بعد کوئی کامل انسان کسی عورت کے پیٹ سے نہ نکلے۔ ‘‘

جب خاتم الاولاد کے معنی مرزا قادیانی کے نزدیک یہ ہیں کہ عورت کے پیٹ سے کوئی کامل انسان اس کے بعد پیدا نہ ہو تو خاتم النبیین کے بھی یہ معنی کیوں نہ ہوں گے کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی عورت کے پیٹ سے پیدا نہ ہوگا۔ جس سے تین فائدے حاصل ہوئے۔ اوّل… تو یہ کہ ختم نبوت اور نزول مسیح علیہ السلام میں تعارض نہیں۔ خاتم النبیین چاہتا ہے کہ عورت کے پیٹ سے اس کے بعد کوئی نبی پیدا نہ ہو اور مسیح علیہ السلام آپ ﷺ سے پہلے پیدا ہوچکے ہیں۔ دوسرے… یہ بھی صاف معلوم ہوا کہ اگر مرزا قادیانی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوئے ہیں۔ تو ان کی نبوت خاتم النبیین کے خلاف ہے۔ تیسرے… یہ بھی متعین ہوگیا کہ جس مسیح کے نزول کی خبر احادیث میں دی گئی ہے۔ وہ اس وقت ماں کے پیٹ سے پیدا نہ ہوں گے۔ ورنہ خاتم النبیین کے خلاف ہوگا اور اس بناء پر مرزا قادیانی مسیح موعود بھی نہیں ہوسکتے۔ مکرر واضح ہو کہ آپ ﷺ کے بعد کسی نبی کے نہ آنے کا یہ مطلب ہے کہ کسی کو آپ ﷺ کے بعد منصب نبوت پر فائز نہیں کیا جائے گا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو آپ ﷺ کی آمد سے صدیوں پہلے منصب نبوت پر فائز ہوچکے ہیں۔

مذکورہ بالا اعتراض کا ایک عقلی جواب بھی سن لیجئے۔ ایک شخص کسی ملک کا فرماں روا ہے۔ وہ کسی دوسرے ملک کے سرکاری دورے پر جاتا ہے۔ اب ظاہر ہے کہ وہ اپنی صدارت، بادشاہی یا وزارت عظمیٰ کے منصب سے معزول نہیں ہوا۔ لیکن دوسرے ملک میں جاکر اس کا حکم نہیں چلے گا۔ وہاں پر حکم اسی ملک کے صدر یا وزیراعظم کا چلے گا۔ اسی طرح پر حضرت عیسیٰ مسیح ابن مریم علیہما السلام جب تشریف لائیں گے، تو وہ منصب نبوت سے معزول نہیں ہوں گے۔ لیکن جیسا کہ قرآن پاک میں فرمادیا گیا ہے: ’’و رسولاً الی بنی اسرائیل‘‘ ان کی رسالت بنی اسرائیل کے لئے تھی۔ اب امت محمدیہ میں ان کی نبوت کا قانون نافذ نہیں ہوگا۔ امت محمدیہ پر

141

قانون سید الانبیاء حضرت محمد مصطفی ﷺ ہی کا نافذ ہوگا۔ یہ الگ بات ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی آمد سے یہود کی بھی اصلاح ہوجائے گی اور نصاریٰ کی غلط فہمی بھی دور ہوجائے گی۔ یوں وہ سب دین قیّم (اسلام) کے حلقہ بگوش ہوجائیں گے اور ’’لیظھرہ علی الدین کلہ‘‘ کا فرمان پورا ہوجائے گا۔

سوال ۷ … حضرت مہدی و مسیح علیہم السلام کی آمد اور دجال کے خروج کے متعلق اسلامی نقطہ نظر بیان کرتے ہوئے قادیانی تلبیس اور اس کا رد کریں۔

جواب …

مہدی علیہ الرضوان

آنحضرت ﷺ کی احادیث کی روشنی میں سیدنا مہدی علیہ الرضوان کے ظہور کی مندرجہ ذیل شناخت بیان کی گئی ہیں:

۱…حضرت فاطمہؓ کی اولاد سے ہوں گے۔

۲… مدینہ طیبہ کے اندر پیدا ہوں گے۔

۳… والد کا نام عبداﷲ ہوگا۔

۴… ان کا اپنا نام محمد ہوگا اور لقب مہدی۔

۵… چالیس سال کی عمر میں ان کو مکہ مکرمہ حرم کعبہ میں شام کے چالیس ابدالوں کی جماعت پہچانے گی۔

۶… وہ کئی لڑائیوں میں مسلمان فوجوں کی قیادت کریں گے۔

۷… شام جامع دمشق میں پہنچیں گے، تو وہاں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہوگا۔

۸… حضرت عیسیٰ علیہ السلام نزول کے بعد پہلی نماز حضرت مہدی علیہ الرضوان کے پیچھے ادا کریں گے۔

۹… حضرت مہدی علیہ الرضوان کی کل عمر ۴۹ سال ہوگی، چالیس سال بعد خلیفہ بنیں گے ، سات سال خلیفہ رہیں گے، دو سال حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نیابت میں رہیں گے، ۴۹ سال کی عمر میں وفات پائیں گے۔

۱۰… ’’ثم یموت ویصلی علیہ المسلمون‘‘

(مشکوٰۃ:۴۱۷)

پھر ان کی وفات ہوگی اور مسلمان ان کی نماز جنازہ ادا کریں گے۔ تدفین کے مقام

142

کے متعلق احادیث میں صراحت نہیں۔ البتہ بعض حضرات نے بیت المقدس میں تدفین لکھی ہے۔

اس ذیل میں شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی ؒ کا رسالہ ’’الخلیفۃ المہدی فی الاحادیث الصحیحہ‘‘ اور محدث کبیر مولانا بدر عالم میرٹھی ؒ کا رسالہ ’’الامام المہدی‘‘ (ترجمان السنۃ ج ۴ مشمولہ احتساب قادیانیت جلد چہارم) میں قابل دید ہیں۔

حضرت سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا نزول

۱… حضرت عیسیٰ علیہ السلام ﷲ رب العزت کے وہ جلیل القدر پیغمبر و رسول ہیں۔ جن کی رفع سے پہلی پوری زندگی، زہد و انکساری، مسکنت کی زندگی ہے۔

۲… یہودی ان کے قتل کے درپے ہوئے ﷲتعالیٰ نے یہودیوں کے ظالم ہاتھوںسے آپ کو بچاکر آسمانوں پر زندہ اٹھالیا۔

۳… قیامت کے قریب دو فرشتوں کے پروں پر ہاتھ رکھے ہوئے نازل ہوں گے۔

۴… دو زردرنگ کی چادریں پہن رکھی ہوں گی۔

۵… دمشق کی مسجد کے مشرقی سفید مینار پر نازل ہوں گے۔

۶… پہلی نماز کے علاوہ تمام نمازوں میں امامت کرائیں گے۔

۷… حاکم عادل ہوں گے، پوری دنیا میں اسلام پھیلائیں گے۔

۸… دجال کو مقام لد پر (جو اس وقت اسرائیل کی فضائیہ کا ایئربیس ہے) قتل کریں گے۔

۹… نزول کے بعد پینتالیس سال قیام کریں گے۔

۱۰… مدینہ طیبہ میں فوت ہوں گے ،رحمت عالم ﷺ ، حضرت ابوبکر صدیقؓ، حضرت عمر فاروقؓ کے ساتھ روضہ اطہر میں دفن کئے جائیں گے۔ جہاں آج بھی چوتھی قبر کی جگہ ہے۔ ’’فیکون قبرہ رابعاً‘‘

(درمنشور بحوالہ تاریخ البخاری)

دجال کا خروج

۱… دجال …اسلامی تعلیمات اور احادیث کی روشنی میں شخص (متعین) کا نام ہے۔ جس کی فتنہ پردازیوں سے تمام انبیاء علیہم السلام اپنی امتوں کو ڈراتے آئے۔ گویا دجال ایک ایسا خطرناک فتنہ پرور ہوگا۔ جس کی خوفناک خدا دشمنی پر تمام انبیاء علیہم السلام کا اجماع ہے۔

143

۲… وہ عراق و شام کے درمیانی راستہ سے خروج کرے گا۔

۳… تمام دنیا کو فتنہ و فساد میں مبتلا کردے گا۔

۴… خدائی کا دعویٰ کرے گا۔

۵… ممسوح العین ہوگا، یعنی ایک آنکھ چٹیل ہوگی (کانا ہوگا)۔

۶… مکہ مدینہ جانے کا ارادہ کرے گا۔ حرمین کی حفاظت پر ماموراﷲتعالیٰ کے فرشتے اس کا منہ موڑ دیں گے۔ وہ مکہ، مدینہ میں داخل نہیں ہوسکے گا۔

۷… اس کے متبعین زیادہ تر یہودی ہوں گے۔

۸… ستر ہزار یہودیوں کی جماعت اس کی فوج میں شامل ہوگی۔

۹… مقام لد پر سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھوں قتل ہوگا۔

۱۰… وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حربہ (ہتھیار) سے قتل ہوگا۔

وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حربہ (ہتھیار) سے قتل ہوگا۔

اسلامی نقطئہ نظر سے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت مہدی علیہ الرضوان کی قریباً ایک سو اسی علامات آنحضرت ﷺ سے منقول ہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور مہدی علیہ الرضوان کی تشریف آوری تواتر سے ثابت ہے۔ چنانچہ علامہ شوکانی لکھتے ہیں:’’فتقرران الاحادیث الواردۃ فی المہدی المنتظر متواترۃ والاحادیث الواردۃ فی نزول عیسیٰ بن مریم متواترۃ‘‘

(الاذاعہ ص ۷۷)

ترجمہ: ’’چنانچہ یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ مہدی منتظر کے بارے میں وارد شدہ احادیث بھی متواتر ہیں اور حضرت عیسیٰ بن مریم کے بارے میں وارد شدہ احادیث بھی متواتر ہیں۔ ‘‘

اور حافظ عسقلانیؒ فرماتے ہیں: ’’قال ابو الحسن الخسعی الابدی فی مناقب الشافعی! تواترت الاخبار بان المہدی من ھذہ الامۃ وان عیسیٰ یصلی خلفہ ذکر ذلک رد اللحدیث الذی اخرجہ ابن ماجہ عن انس و فیہ ولا مہدی الاعیسی‘‘

(فتح الباری ج۶ ص۳۵۸)

ترجمہ:’’ابوالحسن خسعی ابدیؒ نے مناقب شافعی میں لکھا ہے کہ احادیث اس بارے میں متواتر ہیں کہ مہدی اسی امت میں سے ہوں گے اور یہ کہ عیسیٰ علیہ السلام مہدی کے پیچھے نماز پڑھیں گے ابوالحسن خسعی نے یہ بات اس لئے ذکر فرمائی ہے۔ تاکہ اس حدیث کا رد ہوجائے جو ابن ماجہ نے حضرت انس ؓسے روایت کی ہے۔ جس میں آیا ہے کہ حضرت عیسیٰ ہی مہدی ہیں۔‘‘

144

حافظ عسقلانی رحمۃ ﷲ علیہ نے جن احادیث کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ ان میں سے ایک یہ ہے: ’’عن جابر بن عبداﷲ قال قال سمعت رسول ﷲ ﷺ یقول لا تزال طائفۃ من امتی یقاتلون علی الحق ظاھرین الی یوم القیامۃ قال فینزل عیسیٰ بن مریم فیقول امیرھم تعال صل لنا فیقول لا: ان بعضکم علی بعض امراء تکرمۃ ﷲ ھذہ الامۃ‘‘

(مسلم ج ۱ ص ۸۷، باب نزول عیسیٰ ابن مریم ، احمد ج۳ ص۳۴۵)

ترجمہ: ’’حضرت جابر عبداﷲؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول ﷲ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میری امت میں ایک جماعت ہمیشہ حق کے مقابلہ میںجنگ کرتی رہے گی۔ دشمنوں پر غالب رہے گی۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا آخر میں عیسیٰ ابن مریم اتریں گے۔ (نماز کا وقت ہوگا) مسلمانوں کا امیر ان سے عرض کرے گا۔ تشریف لایئے اور نماز پڑھادیجئے وہ فرمائیں گے: یہ نہیں ہوسکتا۔ اس امت کا ﷲتعالیٰ کی طرف سے یہ اکرام و اعزاز ہے کہ تم خود ہی ایک دوسرے کے امام و امیر ہو۔‘‘

اس حدیث سے جہاں ایک جانب یہ ثابت ہوا کہ حضرت امام مہدی علیہ الرضوان اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام الگ الگ مقدس ہستیاں ہیں۔ دوسری جانب اس سے امت محمدیہa کی کرامت و شرافت عظمیٰ بھی ثابت ہوتی ہے کہ قرب قیامت تک اس امت میں ایسے برگزیدہ افراد موجود رہیں گے کہ اسرائیلی سلسلہ کا ایک مقدس رسول آکر بھی اس کی امامت کی حیثیت کو برقرار رکھ کر ان کے پیچھے نماز ادا فرمائیں گے۔ جو اس بات کا صاف اعلان ہے کہ جس شرافت اور کرامت کے مقام پر تم پہلے فائز تھے آج بھی ہو۔ یہ واقعہ بالکل اس قسم کا ہے جیسا کہ مرض الوفات میں آنحضرت ﷺ نے ایک وقت کی نماز حضرت ابوبکر صدیقؓ کی اقتداء میں ادا فرماکر امت کو گویا صریح ہدایت دے دی کہ میرے بعد امامت و اقتداء کی پوری صلاحیت ابوبکر صدیقؓ میں موجود ہے۔

سیدنا مسیح علیہ السلام اور سیدنا مہدی علیہ الرضوان کے متعلق احادیث کی روشنی میں بیان کردہ علامات دیکھنی ہوں تو ’’التصریح بما تواتر فی نزول المسیح‘‘ کے آخر میں علامات قیامت اور نزول مسیح (مترجم مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی) اور حضرت مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی محمد شفیع ؒ کا رسالہ ’’مسیح موعود کی پہچان‘‘ میں دیکھی جاسکتی ہیں۔

145

حضرت مسیح علیہ السلام، حضرت مہدی علیہ الرضوان اور دجال لعین کے متعلق مرزا قادیانی خود تسلیم کرتا ہے کہ یہ تین شخصیات ہیں: ’’اس لئے ماننا پڑا کہ مسیح موعود اور مہدی اور دجال تینوںمشرق میں ہی ظاہر ہوںگے۔‘‘

(تحفہ گولڑویہ ص ۴۷، خزائن ج۱۷ ص ۱۶۷)

تینوں مشرق میں ہوں گے۔ یہ تو قادیانی دجل کا شاہکار ہے۔ البتہ اتنی بات مرزا قادیانی کے اس حوالہ سے ثابت ہے کہ یہ تین شخصیات (سیدنامسیح، سیدنا مہدی اور دجال) علیحدہ علیحدہ ہیں۔

قادیانی مؤقف

لیکن! قادیانی جماعت کی بدنصیبی اور ایمان سے محرومی دیکھئے۔ ان کا مؤقف ہے کہ مسیح علیہ السلام اور مہدی ایک شخصیت ہے اور وہ مرزا قادیانی ہے۔ حالانکہ مسیح علیہ السلام اور مہدی علیہ الرضوان دو علیحدہ علیحدہ شخصیات ہیں۔ ان کے نام، کام، جائے پیدائش، جائے نزول، وقت ظہور، مدت قیام، عمر، دونوں علیحدہ تفصیلات کے ساتھ آنحضرت ﷺ سے منقول ہیں۔ لیکن قادیانی دجال اور اس کی جماعت کے دجل کو دیکھو سینکڑوں احادیث صحیحہ و متواترہ کو چھوڑ کر ایک جھوٹی و وضعی روایت سے اپنا عقیدہ ثابت کرنے کے لئے ہاتھ پاؤں مارتے ہیں۔ دیکھئے مرزا نے کہا: ’’ایھا الناس انی انا المسیح المحمدی وانی انا احمد المھدی‘‘

(خطبہ الہامیہ خزائن ص ۶۱ ج۱۶)

ترجمہ: ’’اے لوگو! میں وہ مسیح ہوں کہ جو محمدی سلسلہ میں ہے اور میں احمد مہدی ہوں۔‘‘

قاضی محمد نذیر قادیانی لکھتا ہے: ’’امام مہدی اور مسیح موعود ایک ہی شخص ہے۔‘‘

(امام مہدی کا ظہور ص ۱۶)

قادیانی مغالطہ

قادیانی گروہ دلیل میں ابن ماجہ کی روایت پیش کرتا ہے: ’’لا المہدی الا عیسیٰ بن مریم‘‘

(ابن ماجہ ص ۲۹۲ باب شدۃ الزمان)

یہی قاضی محمد نذیر اس حدیث کے متعلق لکھتا ہے: ’’اس حدیث نے ناطق فیصلہ دے دیا ہے کہ عیسیٰ بن مریم ہی المہدی ہے اور اس کے علاوہ کوئی ’’المہدی ‘‘نہیں ہے۔‘‘

یہ حدیث اولاً تو ضعیف ہے، ثانیاً اس کا مطلب وہ نہیں جو قادیانی سمجھاتے ہیں۔ ملا علی

146

قاریؒ فرماتے ہیں:’’حدیث لا مہدی الا عیسی بن مریم ضعیف باتفاق المحدثین کما صرح بہ الجزری علی انہ من باب لافتیٰ الا علیؓ‘‘

(مرقاۃ ص۱۸۳ ج۱۰)

ترجمہ: ’’حدیث لامہدی عیسیٰ بن مریم باتفاق محدثین ضعیف ہے جیسا کہ ابن جزریؒ نے اس کی صراحت کی ہے۔ علاوہ ازیں یہ ’’لا فتی الاعلیؓ‘‘ کے قبیل سے ہے‘‘۔

مطلب یہ ہے کہ اگر کسی درجہ میں حدیث کو صحیح مان لیا جائے تو اس کا وہی مطلب ہے۔ جو لافتی الاعلیؓ کا ہے۔ یعنی مہدی صفت کا صیغہ ہے اور اس کے لغوی معنی مراد ہیں اور یہ بتایا گیا ہے کہ اعلیٰ درجہ کے ہدایت یافتہ عیسیٰ بن مریم ہی ہیں۔ بطور حصر اضافی جیسے ’’لافتی الاعلیؓ‘‘ کے معنی اعلیٰ درجہ کے جوان اور بہادر حضرت علیؓ ہی ہیں۔

یہ مطلب لیناغلط ہے کہ جس شخصیت کا نام مہدی ہے۔ وہ عیسیٰ بن مریم ہی کی شخصیت ہے۔ خود مرزا قادیانی ایک اصول لکھتے ہیں: ’’جس حالت میں تقریباً کل حدیثیں قرآن شریف کے مطابق ہیں۔ پھر اگر بطور شاذ و نادر کوئی ایسی حدیث بھی موجود ہو۔ جو اس مجموعۂ یقینیہ کے مخالف ہو، تو ہم ایسی حدیث کو یا تو نصوص سے خارج کریں گے اور یا اس کی تاویل کرنی پڑے گی۔ کیونکہ یہ تو ممکن نہیں کہ ایک ضعیف اور شاذ حدیث سے وہ مستحکم عمارت گرادی جائے۔ جس کو نصوص بینہ فرقانیہ و حدیثیہ نے طیار کیا ہو۔‘‘

(ازالہ اوہام ص ۵۴۵، خزائن ج۳ص۳۹۳)

اس اصول کی روشنی میں دیکھئے۔ مرزائیوں کی پیش کردہ ابن ماجہ کی روایت کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے؟ اس لئے کہ نزول عیسیٰ کی مذکورہ بالا روایات صحیحہ متواترہ سے صاف طور پر ثابت ہوچکا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے اتریں گے۔ نہ یہ کہ وہ دنیا میں کسی خاندان میں پیدا ہوں گے۔ جبکہ حضرت امام مہدی علیہ الرضوان کے بارے میں حدیث ہے:

۱… ’’سمعت رسول ﷲ ﷺ یقول المہدی من عترتی من ولد فاطمۃ‘‘

(ابوداؤد ص ۱۳۱ ج۲ کتاب المہدی)

ترجمہ: ’’حضور ﷺ نے فرمایا کہ مہدی میری عترت سے ہوگا۔ یعنی حضرت فاطمہؓ کی اولاد سے۔‘‘

۲… ’’یواطی اسمہ اسمی واسم ابیہ اسم ابی‘‘

(ابوداؤد ج۲ ص۱۳۱،کتاب المہدی)

147

ترجمہ: ’’جو میرا نام ہے وہی اس کا نام ہوگا۔ جو میرے باپ کا نام ہے۔ وہی اس کے باپ کا نام ہوگا۔‘‘

اور حدیث مندرجہ ذیل نے معاملہ بالکل منقح کردیا ہے۔

۳… ’’کیف تھلک امۃ انا اولھا والمھدی وسطھا والمسیح اٰخرھا‘‘

(مشکوٰۃ ص ۵۸۳، باب ثواب ہذہ الامۃ)

ترجمہ: ’’وہ امت کیسے ہلاک ہوسکتی ہے جس کی ابتداء میں۔ میں (آنحضرت ﷺ) ہوں۔ درمیان میں مہدی، اور آخر میں مسیح علیہ السلام ہیں۔‘‘

یہ حدیث اس مسئلہ میں ببانگ دہل اعلان کررہی ہے کہ مرزا قادیانی کا مؤقف صراحتاً دجل و کذب کا شاہکار ہے۔ لیکن بے بصیرت و بے بصارت قادیانی گروہ کو یہ صاف صاف روایتیں بھی نظر نہیں آتیں اور پوری بے شرمی کے ساتھ مسیح و مہدی کے ایک ہونے کی رٹ لگاتا رہتا ہے۔ حالانکہ دونوں کے بارے میں روایات الگ الگ اور متواتر آئی ہیں۔

دجال

۱… رہا دجال کے متعلق قادیانی مؤقف، تو وہ گرگٹ کی طرح رنگ بدلتا رہا۔ پہلے کہا کہ اس سے مراد پادری ہیں۔ اس پر سوال ہوا کہ آنحضرت ﷺ سے حضرت عائشہ ؓ کی روایت ہے کہ ایک دن آنحضرت ﷺ تشریف لائے۔ میں رو رہی تھی۔ آپ ﷺ نے رونے کی وجہ دریافت فرمائی۔ میں نے عرض کیا کہ دجال کے بارہ میں آپ ﷺ نے تفصیلات بیان فرمائی: میں سن کر پریشان ہوگئی۔ اب خیال آتے ہی فوراً رونا آگیا۔، آپ ﷺ نے فرمایا کہ :میں موجود ہوا اور وہ آگیا تو تمہاری طرف سے میں کافی ہوں۔ اگر میری زندگی میں نہ آیا تو جو شخص سورئہ کہف کی آخری آیات پڑھتا رہے وہ اس سے محفوظ رہے گا۔ اگر پادری ہی دجال تھے۔ وہ تو حضور علیہ السلام کے زمانہ میں بھی موجود تھے۔ پھر حضور اقدسa کے فرمان کا کیا مطلب ہوا؟

۲… پھر مرزا نے کہا کہ اس سے مراد انگریز قوم ہے۔ اس سے کہا گیا کہ اگر انگریز ہیں۔ تو دجال کو حضرت مسیح علیہ السلام قتل کریں گے۔ تم تو ’’انگریز کے خود کاشتہ پودا‘‘ ہو۔

۳… پھر مرزا نے کہا کہ اس سے مراد روس ہے۔ تو اس سے کہا گیاکہ دجال تو شخص واحد ہے۔ قوم مراد نہیں۔ اس نے کہا کہ دجال نہیں حدیث میں ’’رجال‘‘ ہے۔ یہ اس کی جہالت کی دلیل ہے۔ اس کی تردید کے لئے اتنی بات کافی ہے کہ ابن صیاد کے مسئلہ پر

148

آنحضرت ﷺ سے حضرت عمرؓ نے اجازت مانگی کہ میں اسے قتل کردوں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر یہ وہی (دجال) ہے۔ تو ’’لست صاحبہ‘‘ تم اس کو قتل نہیں کرسکتے۔ اس کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی قتل کریںگے۔

ابن صیاد کی بابت کتب احادیث میں تفصیل سے روایات موجود ہیں۔ نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ دجال تلوار سے قتل ہوگا۔ نہ کہ قلم سے جیسا کہ قادیانیوں کا مؤقف ہے۔

خلاصہ…یہ کہ مرزا قادیانی اور اس کی ذریت کا مؤقف اسلام کے چودہ سوسالہ مؤقف کے خلاف ہے۔

سوال۸… مرزائی جن آیات و آثار کو عدم رفع اور وفات مسیح کے لئے پیش کرتے ہیں۔ ان میں سے تین کا ذکر کرکے ان کا شافی رد کریں؟

جواب …

قادیانی استدلال نمبر:۱

’’وکنت علیھم شھیداً مادمت فیھم فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیھم (مائدہ: ۱۱۷)‘‘

مرزا بشیر الدین کے ترجمہ کے الفاظ یہ ہیں: ’’اور جب تک میں ان میں (موجود) رہا۔ میں ان کا نگران رہا۔ مگر جب تو نے میری روح قبض کرلی، تو تو ہی ان پر نگران تھا۔ ‘ ‘

(ترجمہ قرآن مجید از مرزا بشیر الدین ص ۲۵۸)

وفات عیسیٰ علیہ السلام پر اس آیت سے قادیانی استدلال کی بنیاد ان کے خیال میں بخاری شریف کی ایک تفصیلی روایت پر ہے۔ جو مندرجہ ذیل ہے: ’’انہ یجاء برجال من امتی فیوخذبھم ذات الشمال فاقول یارب اصحابی فیقال انک لاتدری ما احدثوا بعدک فاقول کما قال العبد الصالح: وکنت علیھم شہیداً مادمت فیھم‘‘

(بخاری ص ۶۶۵ ج۲ کتاب التفسیر)

ترجمہ: ’’میری امت کے بعض لوگ لائے جائیں گے اور بائیں طرف۔ یعنی جہنم کی طرف ان کو چلایا جائے گا، تو میں کہوں گا: اے میرے رب یہ تو میرے صحابی ہیں۔ پس کہا جائے گا کہ آپ ﷺ کو اس کا علم نہیں کہ انہوں نے آپ ﷺ کے بعد کیا کچھ کیا۔ پس میں ایسے ہی کہوں گا جیسا کہ عبد صالح یعنی عیسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ جب تک میں ان میںموجود

149

تھا۔ ان پر گواہ تھا اور جب تو نے مجھے بتمامہٖ بھرپور لے لیا تھا۔ اس وقت آپ نگہبان تھے۔‘‘

تو ’’توفی‘‘ کا لفظ حضور ﷺ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام دونوں کے کلام میں آتا ہے اور ظاہر ہے کہ حضور ﷺ کی توفی بصورت وفات ہے۔ تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توفی بھی بصورت وفات ہوگی۔ نیز حضور ﷺ نے بتایا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ارشاد زمانہ ماضی میں ہوچکا ہے۔ معلوم ہوا کہ وہ وفات پاچکے ہیں۔

جواب…

اس تحریف کا جواب بھی معلوم ہوچکا ہے کہ توفی کے حقیقی معنی پورا پورا لینے کے ہیں۔ لیکن حضور اقدسa کے کلام میں یہ بمعنٰی موت ہے۔ کیونکہ سب جانتے ہیں کہ آپ ﷺ کی وفات ہوئی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے کلام میں توفی بطور اصعاد الی السماء پائی گئی ہے۔ کیونکہ اس کا قرینہ ورافعک الیّٰ موجود ہے۔

جواب…

اگر دونوں حضرات کی توفی ایک طرح کی ہوتی تو آپ ﷺ یوں فرماتے: ’’فاقول ماقال، العبد الصالح‘‘ تو فاقول کما قال العبد الصالح فرمانا بتارہا ہے کہ مشبہ اور مشبہ بہٖ میں چونکہ تغایر ہوا کرتا ہے۔ اس لئے اصل مقصد ہر دو حضرات کا امت کے درمیان اپنی عدم موجودگی کو بطور عذر پیش کرنا ہے۔ لہٰذا حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی غیر موجودگی توفی بمعنی اصعاد الی السماء سے بیان فرمائی اور نبی کریم ﷺ نے اپنی غیر موجودگی توفی بصورت موت بیان فرمائی ہے۔

جواب…

رہا یہ کہ آپ ﷺ نے اپنے متعلق فرمایا اقول اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق قال ماضی کا صیغہ فرمایا۔ تو اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ جس وقت آپ ﷺ نے یہ حدیث ارشاد فرمائی: سورئہ مائدہ کی مذکورہ آیت نازل ہوچکی تھی اور اس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قول جو قیامت کے دن باری تعالیٰ کے سوال کہ : ’’أ انت قلت للناس اتخذونی و امی الھین من دون ﷲ‘‘ کے جواب میں فرمائیں گے، حکایت کیا گیا ہے۔

اور دوسری وجہ یہ ہے کہ قیامت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا یہ کلام پہلے ہوچکے گا اور حضور ﷺ کا معاملہ بعد میں پیش آئے گا۔

قادیانی استدلال نمبر: ۲

’’ومامحمد الا رسول قدخلت من قبلہ الرسل افائِن مات اوقتل انقلبتم علی اعقابکم (آل عمران: ۱۴۴)‘‘

150

قادیانی ترجمہ:

’’اور محمد ﷺ صرف ایک رسول ہیں۔ ان سے پہلے کے سب رسول فوت ہوچکے ہیں۔ پس اگر وہ وفات پاجائیں یا قتل کئے جائیں تو کیا تم اپنی ایڑیوں کے بل لوٹ جاؤگے۔‘‘

اس آیت میں قادیانی گروہ خلو کو بمعنی موت لیتا ہے اور من قبلہٖ کو الرسل کی صفت مانتا ہے اور الرسل پر لام استغراق مانتا ہے۔ اس لئے استدلال کا حاصل یہ ہوا کہ جب محمد ﷺ سے پہلے سب رسول فوت ہوچکے ہیں۔ تو بس مسیح علیہ السلام بھی ان میں آگئے۔

جواب…

خلت، خلو سے مشتق ہے۔ جس کے لغوی معنی مکان سے متعلق ہونے کی صورت میں جگہ خالی کرنے کے اور زمان سے متعلق ہونے کی صورت میں گزرنے کے آتے ہیں اور جن چیزوں پر زمانہ گزرتا ہے۔ ان کو بھی تبعاً خلو سے موصوف کردیتے ہیں۔

مثالیں

۱… ’’واذا خلوا الی شیاطینھم (بقرہ:۱۴)‘‘

ترجمہ: ’’اور جب خلوت میں پہنچتے ہیں اپنے شریر سرداروں کے پاس۔‘‘

۲… ’’بما اسلفتم فی الایام الخالیۃ (حاقہ:۲۴)‘‘

ترجمہ: ’’ان اعمال کے صلہ میں جو تم نے بامید صلہ گزشتہ ایام میں کئے ہیں۔‘‘

۳… ’’تلک امۃ قدخلت (بقرہ:۱۴۱)‘‘

ترجمہ: ’’یہ ایک جماعت جو گزرچکی۔‘‘

(بیان القرآن)

بہرحال خلو کے معنی جگہ خالی کرنا خواہ زندہ گزر کر یا موت سے اور ایک جگہ سے دوسری جگہ ہٹ جانا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کے دلائل قطعیہ ہوتے ہوئے اس کو موت کے معنی میں لینا تحریف ہی تو ہے۔

جواب ۸…

من قبلہ الرسل کی صفت نہیں ہے۔ جس کے بعد معنی یہ ہوں کہ محمد سے پہلے کے تمام پیغمبر مرگئے۔ کیونکہ یہ الرسل سے مقدم ہے۔ بلکہ یہ خلت کا ظرف ہے۔ اب صحیح معنی یہ ہیں کہ محمد ﷺ سے پیشتر کئی رسول گزرچکے۔ وما محمد الا رسول سے حضور ﷺ کی

151

صفت رسالت ثابت کی اور جب خلت من قبلہ الرسل میں الرسل استغراق کے لئے ہوا، اور من قبلہ کا ظرف ہونا ثابت ہوہی چکا۔ تو اب ترجمہ یہ ہوگا کہ: جتنے اشخاص صفت رسالت سے موصوف تھے۔ محمد ﷺ سے پہلے فوت ہوچکے ہیں۔ اس سے نعوذباﷲ آپ ﷺ رسول برحق ثابت نہیںہوں گے۔ اس لئے لام جنس ماننا ضروری ہے۔

جواب…

اور اگر ’’ علی سبیل التنزل‘‘ قادیانی گروہ کی تینوں باتیں مان لی جائیں۔ تو بھی اس سے زیادہ سے زیادہ رسل کے عموم میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ثابت ہوگی۔ نہ کہ بطریق خصوص اور اس صورت میں یہ آیت ان کی دلیل بننے کے قابل نہیں رہے گی۔ کیونکہ علم اصول کی کتابوں میں اس قاعدہ مسلمہ کی تصریح ہے کہ کوئی امر خاص دلیل (تخصیص منقولی)سے ثابت ہو تو اس کے خلاف عام دلیل سے تمسک کرنا جائز نہیں ہے اور یہاں دلائل قطعیہ مخصوصہ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات ثابت کی جاچکی ہے۔

قادیانی استدلال نمبر:۳

’’ولکم فی الارض مستقر ومتاع الی حین (بقرہ:۳۶)‘‘

ترجمہ: ’’(ازمرزا) تم اپنے جسم خاکی کے ساتھ زمین پر ہی رہوگے۔ یہاں تک کہ اپنے تمتع کے دن پورے کرکے مرجاؤگے۔‘‘

اسی کے ساتھ مرزائی یہ آیت بھی پڑھتے ہیں: ’’فیھا تحیون و فیھا تموتون و منھا تخرجون (اعراف:۲۵)‘‘ اور ان کے استدلال کا حاصل یہی ہے کہ انسانی زندگی یہیں زمین پر بسر ہونی ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زمین کو چھوڑ کر کسی اور جگہ کیسے رہ سکتے ہیں؟

(ازالہ اوہام ص ۶۱۰، خزائن ج۳ص۴۲۹)

مرزا قادیانی کہتا ہے کہ: ’’یہ آیت جسم خاکی کو آسمان پر لے جانے سے روکتی ہے۔ کیونکہ ’’لکم‘‘ جو اس جگہ فائدہ تخصیص کا دیتا ہے۔ اس بات پر بصراحت دلالت کررہا ہے کہ جسم خاکی آسمان پر نہیں جاسکتا۔ بلکہ زمین سے ہی نکلا، زمین میں ہی رہے گا اور زمین میں ہی داخل ہوگا۔

(ازالہ ص۶۱۰، خزائن ج۳ص۴۲۹)

جواب۱… کسی مقام کا کسی کے لئے اصل جائے رہائش ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ عارضی طور پر کہیں اور نہ جاسکے آدمی ہوائی جہاز کا سفر کرتا ہے اور گھنٹوں فضا میں رہتا ہے، تو

152

کیا کوئی احمق کہہ سکتا ہے کہ قرآنی ضابطہ کی خلاف ورزی ہورہی ہے۔ ایک عرصہ سے خلانوردی کا سلسلہ شروع ہے۔ جولائی ۱۹۶۹ء میں پہلی مرتبہ دو آدمیوں نے چاند پر پاؤں رکھے۔ ﷲ کی قدرت کہ بہت سی چیزیں جو پہلے بعید از عقل معلوم ہوتی تھیں۔ سائنسی ایجادات کی بدولت وہ حقائق اور واقعات بن چکی ہیں۔ تو کیا کہا جائے گا کہ یہ خلائی سفر قرآنی آیات کے خلاف ہیں؟ اگر مرزا قادیانی کا یہ کہنا صحیح ہے کہ ’’جسم خاکی آسمان پر نہیں جاسکتا‘‘ تو کیا نیل آرم اسٹرانگ اور ایڈون ایلڈرن اور ان کے بعد کئی اور آدمی کوئی فرشتے تھے کہ خلائی مسافت طے کرکے چاند تک پہنچے؟ تو آیت کریمہ کا ضابطہ اپنی جگہ پردرست ہے۔ مگر اس سے یہ کہاں لازم آیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوگئے۔ کیونکہ وہ عارضی طور پر آسمان پر اٹھائے گئے ہیں۔ بہرحال وہ بھی مقررہ وقت پر پھر زمین پر آئیں گے اور دیگر انسانوں کی طرح وفات پاکر زمین میں دفن ہوں گے۔

جواب۲… علماء اسلام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو پیدائشی طور پر ملائکہ سے مشابہت تھی۔ لہٰذا ان کا آسمان پر اٹھایا جانا اور زیر بحث آیت کے حکم سے ان کا خارج ہونا اپنے فطری مادہ کے اعتبار سے ہے۔ رہی احادیث مبارکہ تو ایک صحیح حدیث قادیانی قیامت تک مسیح علیہ السلام کی وفات پر پیش نہیں کرسکتے۔ جو پیش کرتے ہیں یا موضوع ہیں یا مجروح ہیں یا مجہول ہیں۔ ایک بھی صحیح روایت وہ اپنے مؤقف پر پیش نہیں کرسکتے۔ ’’فان لم تفعلوا ولن تفعلوا فاتقوا النار‘‘

یہ ہیں قادیانی تحریفات کے چندنمونے، اختصار کے پیش نظر ان ہی پر اکتفاء کیا جاتا ہے۔ اس سلسلہ میں شہادت القرآن کا مطالعہ کیا جائے۔ جو مولانا میر ابراہیم سیالکوٹیؒ کی تصنیف ہے۔ اس سے بھی زیادہ عام فہم کتاب حیات عیسیٰ علیہ السلام پر حضرت شیخ مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ کی ہے۔ جو ’’احتساب قادیانیت جلد دوم‘‘ میں شامل ہے۔

سوال۹… رفع و نزول جسم عنصری کے امکان عقلی کو بیان کرتے ہوئے اس کے نقلی نظائر پیش کریں نیز رفع و نزول کی حکمتیں بیان کریں؟

جواب …

مرزا قادیانی اور ان کی جماعت کا دعویٰ ہے کہ: ’’ عیسیٰ علیہ السلام زندہ آسمان پر نہیں اٹھائے گئے۔ بلکہ وفات پاکر مدفون ہوچکے اور دلیل یہ ہے کہ کسی جسم عنصری کا آسمان پر جانا محال ہے۔‘‘

(ازالہ الاوہام ص ۴۷، خزائن ج۳ ص ۱۲۶)

153

قرآن و سنت سے رفع و نزول نہ صرف ثابت ہے۔ بلکہ اس کے نظائر بھی موجود ہیں۔ مثلاً:

۱ … یہ ہے کہ جس طرح نبیاکرم ﷺ کا جسد اطہر کے ساتھ لیلۃالمعراج میں جانا اور پھر وہاں سے واپس آنا حق ہے۔ اسی طرح عیسیٰ علیہ السلام کا بجسدہ العنصری آسمان پر اٹھایا جانا اور پھر قیامت کے قریب ان کا آسمان سے نازل ہونا بھی بلاشبہ حق اور ثابت ہے۔

۲… جس طرح آدم علیہ السلام کا آسمان سے زمین کی طرف ہبوط ممکن ہے۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ کا آسمان سے زمین کی طرف نزول بھی ممکن ہے۔ ’’ان مثل عیسیٰ عنداﷲ کمثل آدم‘‘

۳… جعفرؓ بن ابی طالب کا فرشتوں کے ساتھ آسمانوں میں اڑنا صحیح اور قوی حدیثوں سے ثابت ہے۔ اسی وجہ سے ان کو جعفر طیارؓ کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے: ’’اخرج الطبرانی باسناد حسن عن عبداﷲ بن جعفرؓ قال قال لی رسول ﷲ ﷺ ھنیئاء لک ابوک یطیر مع الملائکۃ فی السماء‘‘

(زرقانی شرح مواہب ج۲ ص ۲۷۵)

ترجمہ: ’’امام طبرانی نے باسناد حسن عبداﷲ بیٹے جعفرؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول ﷲ ﷺ نے مجھ سے ایک بار یہ ارشاد فرمایا کہ اے جعفرؓ کے بیٹے عبداﷲؓ تجھ کو مبارک ہو تیرا باپ فرشتوں کے ساتھ آسمانوں میں اڑتا پھرتا ہے۔ (اور ایک روایت میں یہ ہے کہ جعفرؓ، جبرئیل و میکائیل کے ساتھ اڑتا پھرتا ہے) ان ہاتھوں کے عوض میں جو غزوہ موتہ میں کٹ گئے تھے۔

ﷲتعالیٰ نے ان کو ملائکہ کی طرح دوباز و عطا فرما دیئے ہیں اور اس روایت کی سند نہایت جید اور عمدہ ہے اور حضرت علی کرم ﷲ وجہہ کا اس بارے میں ایک شعر ہے:

وجعفرؓ الذی یضحی و یمسی

یطیر مع الملائکۃ ابن امی

ترجمہ: ’’وہ جعفر ؓ کہ جو صبح و شام فرشتوں کے ساتھ اڑتا ہے وہ میری ہی ماں کا بیٹا ہے۔‘‘

۴… اور علیٰ ہذا عامر بن فہیرہؓ کا غزوہ بیر معونہ میں شہید ہونا، اور پھر ان کے جنازہ کا آسمان پر اٹھایا جانا روایات میں مذکور ہے۔ جیسا کہ حافظ عسقلانی نے اصابہ میں حافظ ابن عبدالبر نے استیعاب میں اور علامہ زرقانی نے (شرح مواہب ج۲ ص ۷۸) میں ذکر کیا ہے۔ جبار

154

بن سلمیؓ جو عامر بن فہیرہؓ کے قاتل تھے۔ وہ اسی واقعہ کو دیکھ کر ضحاک بن سفیان کلابی کی خدمت میں حاضر ہوکر مشرف باسلام ہوئے اور یہ کہا: ’’دعانی الی الاسلام مارایت من مقتل عامر بن فہیرۃ ورفعہ الی السماء‘

ترجمہ: ’’عامر بن فہیرہ کا شہید ہونا اور ان کا آسمان پر اٹھایا جانا، میرے اسلام لانے کا باعث بنا۔‘‘

ضحاکؓ نے یہ تمام واقعہ آنحضرت ﷺ کی خدمت بابرکت میں لکھ کر بھیجا۔ اس پر آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’فان الملائکۃ وارت جثتہ وانزل فی علیین‘‘

ترجمہ:’’ فرشتوں نے اس کے جثہ کو چھپالیا اور وہ علیین میں اتارے گئے‘‘۔

ضحاک ابن سفیان کے اس تمام واقعہ کو امام بیہقیؒ اور ابونعیمؒ دونوں نے اپنی اپنی دلائل النبوۃ میں بیان کیا۔

(شرح الصدور فی احوال الموتی والقبور للعلامۃ السیوطی ص:۱۷۴)

اور حافظ عسقلانی نے اصابہ میں جبار بن سلمیؓ کے تذکرہ میں اس واقعہ کی طرف اجمالاً اشارہ فرمایا ہے۔ شیخ جلال الدین سیوطی شرح الصدور میں فرماتے ہیں کہ عامر بن فہیرہؓ کے آسمان پر اٹھائے جانے کے واقعہ کو ابن سعد اور حاکم اور موسیٰ بن عقبہ نے بھی روایت کیا ہے۔ غرض یہ کہ یہ واقعہ متعدد اسانید اور مختلف روایات سے ثابت اور محقق ہے۔

۵… واقعہ رجیع میں جب قریش نے خبیب بن عدیؓ کو سولی پر لٹکایا تو آنحضرت ﷺ نے عمروبن امیہ ضمریؓ کو خبیبؓ کی نعش اتارلانے کے لئے روانہ فرمایا۔ عمرو بن امیہؓ وہاں پہنچے اور خبیبؓ کی نعش کو اتارا دفعتاً ایک دھماکہ سنائی دیا۔ پیچھے پھر کردیکھا اتنی دیر میں نعش غائب ہوگئی۔ عمرو بن امیہؓ فرماتے ہیں گویا زمین نے ان کو نگل لیا۔ اب تک اس کا کوئی نشان نہیں ملا۔ اس روایت کو امام ابن حنبلؒ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے۔

(زرقانی شرح مواہب ج۲ ص۷۳)

شیخ جلال الدین سیوطیؒ فرماتے ہیں کہ خبیبؓ کو زمین نے نگلا اسی وجہ سے ان کا لقب بلیع الارض ہوگیا اور ابونعیمؓ فرماتے ہیں کہ صحیح یہ ہے کہ عامر بن فہیرہؓ کی طرح خبیبؓ کو بھی فرشتے آسمان پر اٹھالے گئے۔ ابونعیم کہتے ہیں کہ جس طرح حق تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان

155

پر اٹھایا اسی طرح رسول ﷲ ﷺ کی امت میں سے عامر بن فہیرہؓ اور خبیب بن عدیؓ اور علاء بن حضرمیؓ کو آسمان پر اٹھایا۔ انتہی!

۶… علماء انبیاء کے وارث ہوتے ہیں۔ اولیاء کا الہام و کرامت انبیاء کرام کی وحی اور معجزات کی وراثت ہے:’’ومما یقوی قصۃ الرفع الی السماء ما اخرجہ النسائی والبیہقی والطبرانی وغیرھم من حدیث جابر ان طلحۃ اصیبت انا ملہ یوم احد فقال حس فقال رسول ﷲ ﷺ لو قلت بسم ﷲ لرفعتک الملائکۃ والناس ینظرون الیک حتی تلج بک فی جوالسماء (شرح الصدور ص:۲۵۸ طبع بیروت ۱۹۹۳ء) واخرج ابن ابی الدنیا فی ذکر الموتی عن زید بن اسلم قال کان فی بنی اسرائیل رجل قد اعتزل الناس فی کھف جبل وکان اھل زمانہ اذا قحطوا استغاثوا بہ فدعا ﷲ فسقاھم فمات فاخذوا فی جھازہ فبینا ھم کذلک اذا ھم بسریر یرفرف فی عنان السماء حتی انتھی الیہ فقام رجل فاخذہ فوضعہ علی السریر فارتفع السریر والناس ینظرون الیہ فی الھواء حتی غاب عنہم‘‘

(شرح الصدور ص ۲۵۷ طبع بیروت ۱۹۹۴ء سن طبع)

ترجمہ: ’’شیخ جلال الدین سیوطیؒ فرماتے ہیں کہ عامر بن فہیرہ اور خبیبؓ کے واقعہ رفع الی السماء کی وہ واقعہ بھی تائید کرتا ہے۔ جس کو نسائی اور بیہقی اور طبرانی نے جابرؓ سے روایت کیا ہے کہ غزوئہ احد میں حضرت طلحہؓ کی انگلیاں زخمی ہوگئیں۔ تو اس تکلیف کی حالت میں زبان سے ’’حس‘‘ کا لفظ نکلا۔ اس پر آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اگر تو بجائے’’حس‘‘ کے بسم ﷲ کہتا تو لوگ دیکھتے ہوتے اور فرشتے تجھ کو اٹھاکر لے جاتے۔ یہاں تک کہ تجھ کو آسمان کی فضا میں لے کر گھس جاتے… ابن ابی الدنیا نے ذکر الموتی میں زید بن اسلم سے روایت کیا ہے کہ بنی اسرائیل میں ایک عابد تھا کہ جو پہاڑ میں رہتا تھا۔ جب قحط ہوتا تو لوگ اس سے بارش کی دعا کراتے۔ وہ دعا کرتا، ﷲتعالیٰ اس کی دعا کی برکت سے باران رحمت نازل فرماتا۔ اس عابد کا انتقال ہوگیا۔ لوگ اس کی تجہیز و تکفین میں مشغول تھے۔ اچانک ایک تخت آسمان سے اترتا ہوا نظر آیا۔ یہاں تک کہ

156

اس عابد کے قریب آکر رکھا گیا۔ ایک شخص نے کھڑے ہوکر اس عابد کو اس تخت پر رکھ دیا۔ اس کے بعد وہ تخت اوپر اٹھتا گیا۔ لوگ دیکھتے رہے یہاں تک کہ وہ غائب ہوگیا۔‘‘

۷… اور حضرت ہارون علیہ الصلوٰۃ والسلام کے جنازہ کا آسمان پر اٹھایا جانا اور پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعا سے آسمان سے زمین پر اتر آنا مستدرک حاکم میں مفصل مذکور ہے۔

(مستدرک ص ۴۶۴ ج ۳ طبع بیروت)

مقصد ان واقعات کے نقل کرنے سے یہ ہے کہ منکرین اور ملحدین خوب سمجھ لیں کہ حق جل شانہ نے اپنے محبیّن و مخلصین کی اس خاص طریقہ سے بارہا تائید فرمائی کہ ان کو صحیح و سالم فرشتوں سے آسمانوں پر اٹھوالیا اور دشمن دیکھتے ہی رہ گئے۔ تاکہ اس کی قدرت کاملہ کا ایک نشان اور کرشمہ ظاہر ہو اور اس کے نیک بندوں کی کرامت اور منکرین معجزات و کرامات کی رسوائی و ذلت آشکارا ہو اور اس قسم کے خوارق کا ظہور مؤمنین اور مصدقین کے لئے موجب طمانیت اور مکذبین کے لئے اتمام حجت کا کام دے۔ ان واقعات سے یہ امر بھی بخوبی ثابت ہوگیا کہ کسی جسم عنصری کا آسمان پر اٹھایا جانا نہ قانون قدرت کے خلاف ہے۔ نہ سنت ﷲ کے متصادم ہے۔ بلکہ ایسی حالت میں سنت ﷲ یہی ہے کہ اپنے خاص بندوں کو آسمان پر اٹھالیا جائے تاکہ اس ملیک مقتدر کی قدرت کا کرشمہ ظاہر ہو اور لوگوں کو یہ معلوم ہوجائے کہ حق تعالیٰ کی اپنی خاص الخاص بندوں کے ساتھ یہی سنت ہے کہ ایسے وقت میں ان کو آسمان پر اٹھالیتا ہے۔ غرض یہ کہ کسی جسم عنصری کا آسمان پر اٹھایا جانا قطعاً محال نہیں۔ بلکہ ممکن اور واقع ہے اور اسی طرح کسی جسم عنصری کا بغیر کھائے اور پیئے زندگی بسر کرنا بھی محال نہیں۔

نزول کی حکمتیں

۱… حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع اور نزول کی حکمت علماء نے یہ بیان کی کہ یہود کا یہ دعویٰ تھا کہ ہم نے حضرت عیسیٰ کو قتل کردیا۔ ’’کما قال و قولھم انا قتلنا المسیح عیسیٰ بن مریم رسول ﷲ‘‘ اور دجال جو اخیر زمانہ میں ظاہر ہوگا۔ وہ بھی قوم یہود سے ہوگا اور یہود اس کے متبع اور پیرو ہوں گے۔ اس لئے حق تعالیٰ نے اس وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ آسمان پر اٹھایا اورقیامت کے قریب آسمان سے نازل ہوں گے اور دجال کو قتل کریں گے۔ تاکہ خوب واضح ہوجائے کہ جس ذات کی نسبت یہود یہ کہتے تھے کہ ہم نے اس کو قتل کردیا وہ سب

157

غلط ہے۔ ان کو ﷲتعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے زندہ آسمان پر اٹھایا اور اتنے زمانہ تک ان کو زندہ رکھا اور پھر تمہارے قتل اور بربادی کے لئے اتارا تاکہ سب کو معلوم ہوجائے کہ تم جن کے قتل کے مدعی تھے۔ ان کو قتل نہیں کرسکے۔ بلکہ ان کو ﷲتعالیٰ نے تمہارے قتل کے لئے نازل کیا اور یہ حکمت فتح الباری کے باب نزول عیسیٰ علیہ السلام ص۳۵۷ ج۱۰ پر مذکور ہے۔

۲… حضرت عیسیٰ علیہ السلام ملک شام سے آسمان پر اٹھائے گئے تھے اور ملک شام ہی میں نزول ہوگا۔ تاکہ اس ملک کو فتح فرمائیں۔ جیسا کہ نبیاکرم ﷺ ہجرت کے چند سال بعد فتح مکہ کے لئے تشریف لائے۔ اسی طرح عیسیٰ علیہ السلام نے شام سے آسمان کی طرف ہجرت فرمائی اور قیامت سے کچھ روز پہلے شام کو فتح کرنے کے لئے آسمان سے نازل ہوں گے اور یہود کا استیصال فرمائیں گے۔

۳… نازل ہونے کے بعد صلیب کا توڑنا بھی اسی طرف مشیر ہوگا کہ یہود اور نصاریٰ کا یہ اعتقاد کہ مسیح بن مریم صلیب پر چڑھائے گئے بالکل غلط ہے۔ حضرت مسیح علیہ السلام تو ﷲتعالیٰ کی حفاظت میں تھے۔ اس لئے نازل ہونے کے بعد صلیب کا نام و نشان بھی نہ چھوڑیں گے۔

۴… اور بعض علماء نے یہ حکمت بیان فرمائی ہے کہ حق تعالیٰ شانہ نے تمام انبیاء سے یہ عہد لیا تھا کہ اگر تم نبی کریم ﷺ کا زمانہ پاؤ تو ان پر ضرور ایمان لانا اور ان کی ضرور مدد کرنا۔ ’’کما قال تعالیٰ لتؤمنن بہ ولتنصرنہ‘‘ اور انبیاء بنی اسرائیل کا سلسلہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ختم ہوتا تھا۔ اس لئے حق تعالیٰ شانہ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھایا تاکہ جس وقت دجال ظاہر ہو۔ اس وقت آپ آسمان سے نازل ہوں اور رسول ﷲ ﷺ کی امت کی مدد فرمائیں۔ کیونکہ جس وقت دجال ظاہر ہوگا۔ وہ وقت امت محمدیہ پر سخت مصیبت کا وقت ہوگا اور امت شدید امداد کی محتاج ہوگی۔ اس لئے عیسیٰ علیہ السلام اس وقت نازل ہوں گے۔ تاکہ امت محمدیہa کی نصرت و اعانت کا جو وعدہ تمام انبیاء کرچکے ہیں۔ وہ وعدہ اپنی طرف سے اصالۃً اور باقی انبیاء کی طرف سے وکالتاً ایفاء فرمائیں۔ ’’فافہم ذلک فانہ لطیف‘‘

سوال۱۰ …حیات مسیح پر قادیانی جو عقلی وساوس و شبہات پیدا کرتے ہیں۔ ان میں سے تین کو ذکر کرکے ان کا جواب دیں؟

158

قادیانی اشکال نمبر:۱

حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمانوں میں ہیں تو وہاں کھاتے کیا ہوں گے؟

جواب…

۱… جب آدمی عالم دنیا سے عالم بالا میں پہنچ جاتا ہے۔ تو پھر اس پر وہاں لوازمات روحانیہ طاری ہوجاتے ہیں اور دنیاوی عوارض اس کو لاحق نہیں ہوتے۔ یوں سمجھیں کہ اِس دنیا میں جسم غالب۔ اس جہاں میں روح غالب، جسم مغلوب۔ لہٰذا عیسیٰ علیہ السلام کو وہاں کے حالات کے مطابق روحانی غذا ملتی ہے۔ پس وہ کیا کھاتے ہوں گے؟ یہ اشکال باقی نہ رہا۔

۲… اصحاب کہف کا تین سو سال تک بغیر کھائے پیئے زندہ رہنا خود قرآن کریم میں مذکور ہے :’’و لبثوا فی کھفھم ثلٰث مائۃ سنین و ازادادو تسعا (الکہف:۲۵)‘

۳… حدیث میں ہے کہ رسول ﷲ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب دجال ظاہر ہوگا تو شدید قحط ہوگا اور اہل ایمان کو کھانا میسر نہ آئے گا۔ اس پر صحابہؓ نے عرض کیا کہ یارسول ﷲ! اس وقت اہل ایمان کا کیا حال ہوگا؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’یجزئھم مایجزی اہل السماء من التسبیح والتقدیس‘‘ یعنی اس وقت اہل ایمان کو فرشتوں کی طرح تسبیح وتقدیس ہی غذا کا کام دے گی۔

(مشکوٰۃ ص ۴۷۷)

۴… اور حدیث میں ہے کہ نبیاکرم ﷺ کئی کئی دن کا صومِ وصال رکھتے اور یہ فرماتے : ’’ایکم مثلی انی ابیت یطعمنی ربی ویسقینی‘‘ (بخاری ج۲ ص۱۰۱۲) تم میں کون شخص میری مثل ہے کہ جو ’’صوم وصال‘‘ میں میری برابری کرے۔ میرا پروردگار مجھے غیب سے کھلاتا ہے اور پلاتا ہے۔ یہ غیبی طعام میری غذا ہے۔ معلوم ہوا کہ طعام و شراب عام ہے۔ خواہ حسی ہو یا غیبی ہو۔ لہٰذا وماجعلنھم جسدالا یاکلون الطعام سے یہ استدلال کرنا کہ جسم عنصری کا بغیر طعام و شراب کے زندہ رہنا ناممکن ہے غلط ہے۔ اس لئے کہ طعام و شراب عام ہے کہ خواہ حسی ہو یا معنوی۔

۵… حضرت آدم علیہ السلام کی جنت میں آسمانوں پر خوراک دنیوی نہ تھی۔ نیز حضرت مسیح علیہ السلام نفخہ جبرئیل سے پیدا ہونے کے باوجود جبرئیل امین کی طرح تسبیح و تہلیل سے

159

زندگی کیوں نہیں بسر فرماسکتے؟ ’’کماقال تعالی: ان مثل عیسیٰ عند ﷲ کمثل اٰدم (آل عمران:۵۹)‘‘ جو آدم علیہ السلام آسمانوں پر کھاتے تھے وہی عیسیٰ علیہ السلام کھاتے ہیں۔

۶… حضرت یونس علیہ السلام کا شکم ماہی میں بغیر کھائے پئے زندہ رہنا قرآن کریم میں صراحتاً مذکور ہے۔ ان کے بارے میں حق تعالیٰ کا ارشاد: ’’فلولا انہ کان من المسبّحین للبث فی بطنہ الی یوم یبعثون (الصفت:۱۴۳،۱۴۴)‘‘ اس پر صاف دلالت کرتا ہے کہ یونس علیہ السلام اگر مسبّحین میں سے نہ ہوتے تو اسی طرح قیامت تک مچھلی کے پیٹ میں ٹھہرے رہتے اور بغیر کھائے پئے زندہ رہتے۔

قادیانی اشکال نمبر:۲

جو شخص اسی یا نوے سال کو پہنچ جاتا ہے۔ وہ محض نادان ہوجاتا ہے۔ ’’کما قال تعالیٰ: ومنکم من یرد الی ارذل العمر لکیلا یعلم بعد علم شیئاً (النحل: ۷۰)‘‘

جواب…

۱… ارذل العمر کی تفسیر میں اسی یا نوے سال کی قید مرزا قادیانی نے اپنی طرف سے لگائی ہے۔ قرآن و حدیث میں کہیں قید نہیں۔

۲… اصحاب کہف تین سو سال تک کہیں نادان نہیں ہوگئے۔

۳… اور علیٰ ہذا حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت نوح علیہ السلام صدہا سال زندہ رہے اور ظاہر ہے کہ نبی کے علم اور عقل کا زائل ہونا ناممکن اور محال ہے۔

قادیانی اشکال نمبر:۳

زمین سے لے کر آسمان تک کی طویل مسافت کا چند لمحوں میں طے کرلینا کیسے ممکن ہے؟

جواب…

۱… سوجواب یہ ہے کہ حکمائے جدید لکھتے ہیں کہ روشنی ایک منٹ میں ایک کروڑ بیس لاکھ میل کی مسافت طے کرتی ہے۔ بجلی ایک منٹ میں پانچ سو مرتبہ زمین کے گرد گھوم سکتی ہے اور بعض ستارے ایک ساعت میں آٹھ لاکھ اسی ہزار میل حرکت کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں انسان جس وقت نظر اٹھاکر دیکھتا ہے تو حرکت شعاعی اس قدر سریع ہوتی ہے کہ ایک ہی آن میں آسمان تک پہنچ جاتی ہے۔ اگر یہ آسمان حائل نہ ہوتا تو اور دور تک وصول ممکن تھا۔

160

۲… جس وقت آفتاب طلوع کرتا ہے تو نورشمس ایک ہی آن میں تمام کرئہ ارضی پر پھیل جاتا ہے۔ حالانکہ سطح ارضی ۲۰۳۶۳۶۳۶ فرسخ ہے۔ جیسا کہ سبع شداد ص ۴۰ پر مذکور ہے اور ایک فرسخ تین میل کا ہوتا ہے۔ مجموعہ ۶۱۰۹۰۹۰۸کروڑ میل ہوا۔ حکمائے قدیم کہتے ہیں کہ: جتنی دیر میں جرم شمس بتمامہ طلوع کرتا ہے۔ اتنی دیر میں فلک اعظم کی حرکت ۵۱۹۶۰۰ لاکھ فرسخ ہوتی ہے اور ہر فرسخ چونکہ تین میل کا ہوتا ہے۔ لہٰذا مجموعہ مسافت ۱۵۵۸۸۰۰ لاکھ میل ہوئی۔

۳… شیاطین اور جنات کا شرق سے لے کر غرب تک آن واحد میں اس قدر طویل مسافت کا طے کرلینا ممکن ہے۔ تو کیا خداوند عالم اور قادر مطلق کے لئے یہ ممکن نہیں کہ وہ کسی خاص بندے کو چند لمحوں میں اس قدر طویل مسافت طے کرادے؟

۴… آصف بن برخیا کا مہینوں کی مسافت سے بلقیس کا تخت سلیمان علیہ السلام کی خدمت میں پلک جھپکنے سے پہلے پہلے حاضر کردینا قرآن کریم میں مذکور ہے۔ ’’کما قال تعالیٰ: قال الذی عندہ علم من الکتب انا اتیک بہ قبل ان یرتد الیک طرفک فلما راہ مستقرا عندہ قال ھذا من فضل ربی (النمل:۴۰)‘‘

۵… اسی طرح سلیمان علیہ السلام کے لئے ہوا کا مسخر ہونا بھی قرآن کریم میں مذکور ہے کہ وہ ہوا سلیمان علیہ السلام کے تخت کو جہاں چاہے اڑا کر لے جاتی اور مہینوں کی مسافت گھنٹوں میں طے کرتی۔ ’’کما قال تعالی وسخرنا لہ الریح تجری بامرہ‘‘

۶… آج کل کے ملحدین فی گھنٹہ ہزار میل کی مسافت طے کرنے والے ہوائی جہاز پر تو ایمان لے آئے ہیں۔ مگر نہ معلوم سلیمان علیہ السلام کے تخت پر بھی ایمان لاتے ہیں یا نہیں؟ ہوائی جہاز بندہ کی بنائی ہوئی مشین سے اڑتا ہے اور سلیمان علیہ السلام کے تخت کو ہوا بحکم خداوندی اڑاکر لے جاتی تھی۔ کسی بندہ کے عمل اور صنعت کو اس میں دخل نہ تھا۔ اس لئے وہ معجزہ تھا اور ہوائی جہاز معجزہ نہیں۔

قادیانی اشکال نمبر:۴

مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ: ’’کسی جسد عنصری کا آسمان پر جانا سراسر محال ہے۔ اس لئے کہ ایک جسم عنصری طبقہ ناریہ اور کرہ زمہریریہ سے کس طرح صحیح و سالم گزرسکتا ہے۔‘‘

(ازالہ الاوہام ص ۴۷ ج۱، خزائن ج۳ ص ۱۲۶)

161

نوٹ…یہ طبقۂ ناریہ اور کرۂ زمہریر وغیرہ قدیم فلاسفۂ یونان کے خرافاتی نظریات ہیں۔ جو موجودہ سائنس کی رو سے بالکل غلط ثابت ہوچکے ہیں۔ انسان کے چاند پر اترنے کے بعد وہاں زمینوں کی الاٹمنٹ شروع ہوگئی تھی۔ تو ان خلائی سفروں میں کہاں کا کرۂ نار اور کہاں کا طبقۂ زمہریر؟ آج کی پڑھی لکھی دنیا میں یونانی خرافات پیش کرنے کی کیا گنجائش ہے؟ اس کے علاوہ چلئے حضرات انبیاء علیہم السلام کی سوانح سے بھی اس کا جواب سن لیجئے:

جواب…

۱… جس طرح نبی کریم ﷺ کا لیلۃ المعراج میں اور ملائکۃ ﷲ کا لیل و نہار طبقہ ناریہ اور کرئہ زمہریر یہ سے مرور و عبور ممکن ہے۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا بھی عبور و مرور ممکن ہے اور جس راہ سے حضرت آدم علیہ السلام کا ہبوط اور نزول ہوا ہے۔ اسی راہ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ہبوط و نزول بھی ممکن ہے۔

۲… حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر آسمان سے مائدہ کا نازل ہونا قرآن کریم میں صراحتاً مذکور ہے۔ ’’کماقال تعالیٰ اذ قال الحواریون یٰعیسی بن مریم ھل یستطیع ربک ان ینزل علینا مائدۃ من السماء (الی قولہ تعالیٰ) قال عیسیٰ بن مریم اللھم ربنا انزل علینا مائدۃ من السماء تکون لنا عیدا لا ولنا واخرنا واٰیۃ منک وارزقنا وانت خیرالرازقین قال ﷲ انی منزلھا علیکم‘‘ پس اس مائدہ کا نزول بھی طبقہ ناریہ سے گزر کر ہوا ہے۔ مرزا قادیانی کے زعم فاسد اور خیال باطل کی بناء پر اگر وہ نازل ہوا ہوگا۔ تو طبقہ ناریہ کی حرارت اور گرمی سے جل کر خاکستر ہوگیا ہوگا۔ نعوذباﷲ من ہذہ الخرافات! یہ سب شیاطین الانس کے وسوسے ہیں اورانبیاء و مرسلین کی آیات نبوت اور کرامات رسالت پر ایمان نہ لانے کے بہانے ہیں۔

۳… کیا خداوند ذوالجلال عیسیٰ علیہ السلام کے لئے طبقہ ناریہ کو ابراہیم علیہ السلام کی طرح برد اور سلام نہیں بناسکتا؟جبکہ اس کی شان یہ ہے: ’’انما امرہ اذا اراد شیاء ان یقول لہ کن فیکون، فسبحان ذی الملک والملکوت والعزۃ الجبروت امنت باﷲ وکفرت بالطاغوت‘‘

162

ایک ایٹم بم حوالہ

اس بحث کو ختم کرنے سے قبل دو حوالہ جات ملاحظہ ہوں۔ پہلے حوالہ میں مرزا قادیانی صراحت سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی حیات کا اقرار کرتا ہے۔ دوسرے حوالہ میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی حیات آسمانوں پر مانتا ہے۔ ان حوالہ جات سے آپ کو یہ فائدہ ہوگا کہ جب کوئی مرزائی حیات مسیح پر اشکال کرے کہ مسیح علیہ السلام آسمانوں پر کیسے گئے۔ تو فوراً آپ کہہ دیں کہ جیسے موسیٰ علیہ السلام گئے تھے۔ وہ پوچھے عیسیٰ علیہ السلام آسمانوں پر کیا کھاتے ہوں گے۔ آپ کہہ دیں کہ جو موسیٰ علیہ السلام کھاتے ہیں۔ حیاتِ مسیح پر تمام اشکالات کا حل اور الزامی جواب یہ حوالہ جات ہیں۔ مرزا لکھتا ہے:

۱… ’’بل حیات کلیم ﷲ ثابت بنص القرآن الکریم الا تقرء فی القرآن ما قال ﷲتعالیٰ عز و جل فلا تکن فی مریۃ من لقائہٖ۔ و انت تعلم ان ھذہٖ الایۃ نزلت فی موسیٰ فھی دلیل صریح علیٰ حیات موسیٰ علیہ السلام لانہ لقی رسول ﷲ ﷺ والاموات لا یلاقون الاحیاء ولا تجد مثل ھذہٖ الایات فی شان عیسیٰ علیہ السلام نعم جاء ذکر وفاتہ فی مقامات شتّٰی‘‘

(حمامۃ البشریٰ ص ۵۵، خزائن ج۷ ص ۲۲۱)

۲… ’’ھذا ھو موسیٰ فتیٰ ﷲ الذی اشار ﷲ فی کتابہ الیٰ حیاتہ و فرض علینا ان نؤمن انہ حيّ فی السماء و لم یمت و لیس من المیتین‘‘

(نور الحق ص ۵۰، خزائن ج۸ ص۶۹)

۱… پس جب بھی قادیانی، حیات عیسیٰ پر اشکال کریں۔ آپ اس کا الزامی جواب دے دیں۔ جو حوالہ جات بالا سے ثابت ہے۔

۲… یہ بھی معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی بدنصیب ایسا بدبخت شخص تھا۔ جو ہر بات میں آنحضرت ﷺ کی مخالفت کرتا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا جہاد جاری ہے۔ مرزا نے کہا جہاد حرام ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا نبوت بند ہے۔ مرزا نے کہا جاری ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں۔ مرزا نے کہا کہ فوت ہوگئے۔ آپ ﷺ کی امت کا عقیدہ ہے کہ موسیٰ علیہ السلام فوت ہوگئے۔ مرزا کہتا ہے آسمان پر زندہ ہیں۔ تو جو شخص ہر بات میں آپ ﷺ کی مخالفت کرے وہ ابلیس سے بھی بڑا کافر ہے۔

163

بسم ﷲ الرحمن الرحیم!

کذب مرزا

سوال۱…مرزا غلام احمد قادیانی کی زندگی کے مختصرحالات تحریر کریں۔ جس میں اس کے دعویٰ نبوت تک پہنچنے کے تدریجی مراحل کا باحوالہ بیان ہو؟ وضاحت سے لکھیں۔

جواب…

نام و نسب…

مرزا غلام احمد قادیانی خود اپنا تعارف کراتے ہوئے لکھتا ہے: ’’میرا نام غلام احمد، میرے والد صاحب کا نام غلام مرتضیٰ اور دادا صاحب کا نام عطا محمد اور میرے پر دادا صاحب کا نام گل محمد تھا اور جیسا کہ بیان کیا گیا ہے، ہماری قوم مغل برلاس ہے اور میرے بزرگوں کے پرانے کاغذات سے جواب تک محفوظ ہیں، معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس ملک میں سمرقند سے آئے تھے۔‘‘

(کتاب البریہ حاشیہ ص ۱۳۴، خزائن ج۱۳ ص۱۶۲،۱۶۳)

تاریخ و مقام پیدائش…

مرزا غلام احمد قادیانی کا آبائی وطن قصبہ قادیان تحصیل بٹالہ ضلع گورداسپور پنجاب ہے اور تاریخ پیدائش کے سلسلہ میں اس نے یہ وضاحت کی ہے: ’’میری پیدائش ۱۸۳۹ء یا ۱۸۴۰ء میں سکھوں کے آخری وقت میں ہوئی ہے اور میں ۱۸۵۷ء میں سولہ برس کا یا ستر ہویں برس میں تھا۔‘‘

(کتاب البریہ ص ۱۴۶ حاشیہ، خزائن ج۱۳ ص ۱۷۷)

تعلیم…

مرزا غلام احمد قادیانی نے قادیان میں ہی رہ کر متعدد اساتذہ سے تعلیم حاصل کی۔ جس کی قدرے تفصیل خود اس کی زبانی ملاحظہ ہو: ’’بچپن کے زمانہ میں میری تعلیم اس طرح پر ہوئی کہ جب میں چھ سات سال کا تھا۔ تو ایک فارسی خواں معلم میرے لئے نوکر (استاذ کا احترام ملاحظہ ہو… ناقل)رکھا گیا۔ جنہوں نے قرآن شریف اور چند فارسی کتابیں مجھے پڑھائیں اور اس بزرگ کا نام فضل الٰہی تھا اور جب میری عمر تقریباً دس برس کی ہوئی۔ تو ایک عربی خواں مولوی صاحب میری تربیت کے لئے مقرر کئے گئے۔ جن کا نام فضل احمد تھا میں خیال کرتا ہوں کہ چونکہ میری تعلیم خدا تعالیٰ کے فضل کی ایک ابتدائی تخم ریزی تھی۔ اس لئے ان استادوں کے نام کا پہلا لفظ بھی فضل ہی تھا۔ مولوی صاحب موصوف جو ایک دیندار اور بزرگوار آدمی تھے۔ وہ بہت توجہ اور محنت سے پڑھاتے رہے اور میں نے صرف کی بعض کتابیں اور کچھ قواعد نحو ان سے

164

پڑھے اور بعد اس کے جب میں سترہ یا اٹھارہ سال کا ہوا تو ایک اور مولوی صاحب سے چند سال پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ ان کا نام گل علی شاہ تھا۔ ان کو بھی میرے والد صاحب نے نوکر رکھ کر قادیان میں پڑھانے کے لئے مقرر کیا تھا اور ان آخرالذکر مولوی صاحب سے میں نے نحو اور منطق اور حکمت وغیرہ علوم مروجہ کو جہاں تک خدا تعالیٰ نے چاہا حاصل کیا اور بعض طبابت کی کتابیں میں نے اپنے والد صاحب سے پڑھیں اور وہ فن طبابت میں بڑے حاذق طبیب تھے اور ان دنوں میں مجھے کتابوں کے دیکھنے کی طرف اس قدر توجہ تھی کہ گویا میں دنیا میں نہ تھا۔‘‘

(کتاب البریہ حاشیہ ص ۱۶۱ تا ۱۶۳، خزائن ج۱۳ ص ۱۷۹ تا ۱۸۱حاشیہ)

جوانی کی رنگ رلیاں اور ملازمت

مرزا غلام احمد قادیانی نے جب کچھ شعور حاصل کیا اور جوانی میں قدم رکھا تو نادان دوستوں اور احباب کی بدولت آوارہ گردی میں مبتلا ہوگیا۔ اس کا کچھ اندازہ حسب ذیل واقعہ سے لگایا جاسکتا ہے۔ چنانچہ مرزا کا اپنا بیٹا بشیر احمد لکھتا ہے: ’’بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ ایک دفعہ اپنی جوانی کے زمانہ میں حضرت مسیح موعود (مرزا) تمہارے دادا کی پنشن وصول کرنے گئے۔ توپیچھے پیچھے مرزا امام الدین بھی چلا گیا۔ جب آپ نے پنشن وصول کرلی تو وہ آپ کو پھسلاکر اور دھوکہ دے کر بجائے قادیان لانے کے باہر لے گیا اور ادھر ادھر پھراتا رہا۔ جب اس نے سارا روپیہ اڑا کر ختم کردیا تو آپ کو چھوڑ کر کہیں اور چلا گیا۔ حضرت مسیح موعود اس شرم سے واپس نہیں آئے اور چونکہ تمہارے دادا کا منشاء رہتا تھا کہ آپ کہیں ملازم ہوجائیں۔ اس لئے آپ سیالکوٹ شہر میں ڈپٹی کمشنر کی کچہری میں قلیل تنخواہ پر ملازم ہوگئے۔ ‘‘

(سیرۃ المہدی حصہ اول ص ۴۳ روایت ۴۹)

مرزا غلام احمد قادیانی کو بہلا کر لے جانے والا مرزا امام الدین کس قماش کا تھا۔ اس کے لئے درجہ ذیل تصریح ملاحظہ ہو: ’’مرزا نظام الدین و مرزا امام الدین وغیرہ پر لے درجہ کے بے دین اور دہریہ طبع لوگ تھے۔‘‘

(سیرت المہدی حصہ اول ص ۱۱۴ روایت ۱۲۷)

حکومت برطانیہ کا منظور نظر

سیالکوٹ میں ملازمت کے دوران مرزا غلام احمد نے یورپین مشزیوں اور بعض انگریز

165

افسروں سے پینگیں بڑھانی شروع کیں اور مذہبی بحث کی آڑ میں عیسائی پادریوں سے طویل خفیہ ملاقاتیں کیں اور انہیں اپنی حمایت و تعاون کا پورا یقین دلایا۔ چنانچہ سیرت مسیح موعودمصنفہ مرزا محمود صفحہ ۱۵ (ربوہ) میں برطانوی انٹیلی جنس سیالکوٹ مشن کے انچارج مسٹر ریورنڈ بٹلر کی مرزا سے ملاقات کا ذکر موجود ہے۔ یہ ۱۸۶۸ء کی بات ہے۔ اس کے چند ہی دن بعد مرزا غلام احمد قادیانی نے سیالکوٹ کچہری کی ملازمت ترک کرکے قادیان میں مستقل سکونت اختیار کرلی اور تصنیف و تالیف کا کام شروع کردیا۔ مرزا صاحب ’’ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ کی کچہری میں ۱۸۶۴ء سے ۱۸۶۸ء تک چار سال ملازم رہے۔‘‘

(سیرت المہدی حصہ اول ص ۱۵۴ تا ۱۵۸ ملخصاً)

صداقت اسلام کے نعرہ سے اسلام کی بیخ کنی کا آغاز

قادیان پہنچ کر پہلے تو عام مسلمانوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کرنے کے لئے مرزا غلام احمد قادیانی نے عیسائیوں، ہندوؤں اور آریوں سے کچھ نامکمل مناظرے کئے۔ اس کے بعد ۱۸۸۰ء سے (براہین احمدیہ) نامی کتاب لکھنی شروع کی۔ جس میں اکثر مضامین عام مسلمانوں کے عقائد کے مطابق تھے۔ لیکن ساتھ ہی اس میں مرزا نے اپنے بعض الہامات داخل کردیئے اور طرفہ تماشہ یہ کہ صداقت اسلام کے دعویٰ پر لکھی جانے والی اس کتاب میں انگریزوں کی مکمل اطاعت اور جہاد کی حرمت کا اعلان شد و مد کے ساتھ کیا۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے ۱۸۸۰ء سے۱۸۸۴ء تک براہین احمدیہ کے ۴ حصے لکھے۔ جبکہ پانچواں حصہ ۱۹۰۵ء میں لکھ کر شائع کیا۔

دعاوی مرزا

۱۸۸۰ء سے مرزاقادیانی نے مختلف دعاوی کا سلسلہ شروع کیا۔ اس کے چند اہم دعاوی یہ ہیں:

۱… ۱۸۸۰ء میں ملہم من ﷲ ہونے کا دعویٰ کیا۔

۲… ۱۸۸۲ء میں مجدد ہونے کا دعویٰ کیا۔

۳… ۱۸۹۱ء میں مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا۔

۴… ۱۸۹۹ء میں ظلّی بروزی نبوت کا دعویٰ کیا۔

۵… ۱۹۰۱ء میں مستقل صاحب شریعت نبی ہونے کا دعویٰ کیا۔

166

ان کے علاوہ بھی اس نے عجیب و غریب قسم کے دعوے کئے۔

بیت ﷲ ہونے کا دعویٰ

’’خدا نے اپنے الہام میںمیرا نام بیت ﷲ بھی رکھا ہے۔‘‘

(اربعین ۴ ص ۱۵ حاشیہ، خزائن ج ۱۷ ص ۴۴۵)

۱۸۸۲ء مجدد ہونے کا دعویٰ

’’جب تیرہویں صدی کا اخیر ہوا اور چودھویں کا ظہور ہونے لگاتو خدا تعالیٰ نے الہام کے ذریعہ سے مجھے خبر دی کہ تو اس صدی کا مجدد ہے۔‘‘

(کتاب البریہ ص ۱۸۳ برحاشیہ، خزائن ج۱۳ ص۲۰۱)

۱۸۸۲ء مامور ہونے کا دعویٰ

’’میں خدا تعالیٰ کی طرف سے مامور ہوکر آیا ہوں۔‘‘

(نصرۃ الحق براہین احمدیہ پنجم ص ۵۲، خزائن ج ۲۱ ص ۶۶،کتاب البریہ ص ۱۸۴ حاشیہ، خزائن ج۱۳ ص۲۰۲)

۱۸۸۲ء نذیر ہونے کا دعویٰ

’’الرحمن علم القرآن لتنذر قوما ما انذر اباؤہم‘‘ (خدا نے تجھے قرآن سکھلایا تاکہ تو ان لوگوں کو ڈرائے۔ جن کے باپ دادے ڈرائے نہیں گئے)

(تذکرہ ص ۴۴، ضرورۃ الامام ص ۳۱، خزائن ج۱۳ ص۵۰۲، براہین احمدیہ حصہ۵ ص۵۲، خزائن ج۲۱ص۶۶)

۱۸۸۳ء آدم، مریم اور احمد ہونے کا دعویٰ

’’یا ادم اسکن انت وزوجک الجنۃ یامریم اسکن انت وزوجک الجنۃ یا احمد اسکن انت وزوجک الجنۃ نفخت فیک من لدنی روح الصدق‘‘ ترجمہ: ’’اے آدم، اے مریم، اے احمد! تو اور جو شخص تیرا تابع اور رفیق ہے۔ جنت میں یعنی نجات حقیقی کے وسائل میں داخل ہوجاؤ۔ میں نے اپنی طرف سے سچائی کی روح تجھ میں پھونک دی ہے۔‘‘

(تذکرہ ص۷۰، براہین احمدیہ ص ۴۹۷، خزائن ج۱ ص۵۹۰ حاشیہ)

تشریح

’’مریم سے مریم ام عیسیٰ مراد نہیں اور نہ آدم سے آدم ابوالبشر مراد ہے اور نہ احمد سے۔ اس جگہ حضرت خاتم الانبیاءa مراد ہیں اور ایسا ہی ان الہامات کے تمام مقامات میں کہ جو موسیٰ

167

اور عیسیٰ اور داؤد وغیرہ نام بیان کئے گئے ہیں۔ ان ناموں سے بھی وہ انبیاء مراد نہیں ہے۔ بلکہ ہر ایک جگہ یہی عاجز مراد ہے۔ ‘‘

(مکتوبات احمدیہ جلد اول ص ۸۲ مکتوب بنام میر عباس علی بحوالہ تذکرہ ص ۷۱،۷۲ حاشیہ)

۱۸۸۴ء رسالت کا دعویٰ

الہام: ’’انی فضلتک علی العالمین قل ارسلت الیکم جمیعا‘‘ (میں نے تجھ کو تمام جہانوں پر فضیلت دی کہ میں تم سب کی طرف بھیجا گیا ہوں)

(تذکرہ ص ۱۲۹ مکتوب حضرت مسیح موعود مرزا مورخہ ۳۰؍دسمبر ۱۸۸۴ء، اربعین نمبر ۲ ص۷، خزائن ج۱۷ ص ۳۵۳)

۱۸۸۶ء توحید و تفرید کا دعویٰ

الہام… ’’تو مجھ سے ایسا ہے جیسی میری توحید واور تفرید۔‘‘

(تذکرہ ص ۳۸۱ طبع دوم)

’’ تو مجھ سے اور میں تجھ سے ہوں۔‘‘

(تذکرہ ص ۴۳۶ طبع دوم)

۱۸۹۱ء مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ

’’اﷲ جل شانہ کی وحی اور الہام سے میں نے مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور یہ بھی میرے پر ظاہر کیا گیا ہے کہ میرے بارے میں پہلے سے قرآن شریف اور احادیث نبویہ میں خبر دی گئی ہے اور وعدہ دیا گیا ہے۔‘‘

(تذکرہ ص۱۷۲، تبلیغ رسالت ج۱ ص ۱۵۹، مجموعہ اشتہارات ج ۱ ص ۲۰۷)

۱۸۹۱ء مسیح ابن مریم ہونے کا دعویٰ

الہام… ’’جعلناک المسیح بن مریم‘‘ (ہم نے تجھ کو مسیح ابن مریم بنایا) ان کو کہہ دے کہ میں عیسیٰ کے قدم پر آیا ہوں۔‘‘

(تذکرہ ص ۱۸۶، ازالہ اوہام ص ۴۳۴، خزائن ج۳ ص ۴۴۲)

ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو

اس سے بہتر غلام احمد ہے

(دافع البلاء ص ۲۰، خزائن ج۱۸ ص ۲۴۰)

۱۸۹۲ء صاحب کن فیکون ہونے کا دعویٰ

الہام… ’’انما امرک اذا اردت شیائً ان تقول لہ کن فیکون‘‘

’’یعنی تیری یہ بات ہے کہ جب تو کسی چیز کا ارادہ کرے تو اسے کہے کہ ہوجا تو وہ ہوجائے گی۔‘‘

(تذکرہ ۲۰۳، براہین احمدیہ حصہ۵ ص ۹۵، خزائن ج۲۱ ص ۱۲۴)

168

۱۸۹۸ء مسیح اور مہدی ہونے کا دعویٰ

’’بشرنی وقال ان المسیح الموعود الذی یرقبونہ والمھدی المسعود الذی ینتظرونہ ھوانت‘‘

ترجمہ: ’’خدا نے مجھے بشارت دی اور کہا کہ وہ مسیح موعود اور مہدی مسعود جس کا انتظار کرتے ہیں وہ تو ہے۔‘‘

(تذکرہ ص ۲۵۷، اتمام الحجۃ ص ۳، خزائن ج۸ ص ۲۷۵)

۱۸۹۸ء امام زماں ہونے کا دعوی

’’سو میں اس وقت بے دھڑک کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کے فضل اور عنایت سے وہ امام زماں میں ہوں۔‘‘

(ضرورۃ الامام ص ۲۴، خزائن ج۱۳ ص ۴۹۵)

۱۹۰۰ء تا ۱۹۰۸ء ظلی نبی ہونے کا دعویٰ

’’جب کہ میں بروزی طور پر آنحضرت ﷺ ہوں اور بروزی رنگ میں تمام کمالات محمدی مع نبوت محمدیہ کے میرے آئینہ ظلیت میں منعکس ہیں، تو پھر کونسا الگ انسان ہوا۔ جس نے علیحدہ طور پر نبوت کا دعویٰ کیا۔‘‘

(ایک غلطی کا ازالہ ص ۸، خزائن ج۱۸ ص۲۱۲)

نبوت و رسالت کا دعویٰ

۱… ’’انا انزلناہ قریباً من القادیان … الخ‘‘

ترجمہ: ’’ہم نے اس کو قادیان کے قریب اتارا ہے۔‘‘

(براہین احمدیہ ص ۴۹۹، خزائن ج۱ ص ۵۹۳، الحکم ج۴ ش ۳۰، مورخہ۲۴؍اگست۱۹۰۰ء، بحوالہ تذکرہ ص۳۶۷)

۲… ’’سچا خدا وہی خدا ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔‘‘

(دافع البلاء ص ۱۱، خزائن ج۱۸ ص۲۳۱)

۳… ’’میں رسول بھی ہوں اور نبی بھی ہوں۔ یعنی بھیجا گیا بھی اور خدا سے غیب کی خبریں پانے والا بھی۔‘‘

(ایک غلطی کا ازالہ ص ۷، خزائن ۱۸ ص۲۱۱)

۴… ’’خدا وہ خدا ہے جس نے اپنے رسول کو یعنی اس عاجز کو ہدایت اور دین حق اور تہذیب اخلاق کے ساتھ بھیجا۔‘‘

(اربعین نمبر۳ ص ۳۶، خزائن ج۱۷ ص۴۲۶، ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ۲۴، ج۱۷ص۷۳)

169

۵… ’’وہ قادر خدا قادیان کو طاعون کی تباہی سے محفوظ رکھے گا۔ تاتم سمجھو کہ قادیان اسی لئے محفوظ رکھی گئی کہ وہ خدا کا رسول اور فرستادہ قادیان میں تھا۔‘‘

(دافع البلاء ص ۵، خزائن ج۱۸ ص۲۲۵،۲۲۶)

مستقل صاحب شریعت نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ

۱… ’’قل یایھا الناس انی رسول ﷲ الیکم جمیعا ای مرسل من ﷲ‘‘

ترجمہ: ’’اور کہہ کہ اے لوگو! میں تم سب کی طرف خدا تعالیٰ کا رسول ہوکر آیا ہوں۔‘‘

(اشتہار معیار الاخیار ص ۳، مجموعہ اشتہارات ج ۳ ص ۲۷۰، منقول از تذکرہ ص ۳۵۲)

۲… ’’انا ارسلنا الیکم رسولاً شاھداً علیکم کما ارسلنا الی فرعون رسولاً‘‘

ترجمہ: ’’ہم نے تمہاری طرف ایک رسول بھیجا ہے۔ اسی رسول کی مانند جو فرعون کی طرف بھیجا گیا تھا۔‘‘

(حقیقت الوحی ص ۱۰۱، خزائن ج۲۲ ص۱۰۵)

۳… ’’اور اگر کہو کہ صاحب الشریعت افتراء کرکے ہلاک ہوتا ہے، نہ ہر ایک مفتری، تو اوّل تو یہ دعویٰ بے دلیل ہے۔خدا نے افتراء کے ساتھ شریعت کی کوئی قید نہیں لگائی۔ ماسوا اس کے یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے؟ جس نے اپنی وحی کے ذریعہ سے چند امر اور نہی بیان کئے اور اپنی امت کے لئے ایک قانون مقرر کیا۔ وہی صاحب شریعت ہوگیا۔ پس اس تعریف کے رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں۔ کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہیں اور نہی بھی۔ مثلاً یہ الہام: ’’قل للمؤمنین یغضوا من ابصارھم ویحفظوا فروجھم ذالک ازکی لھم‘‘ یہ براہین احمدیہ میں درج ہے اور اس میں امر بھی ہے اور نہی بھی اور اس پر تیئس برس کی مدت بھی گزرگئی اور ایسا ہی اب تک میری وحی میں امر بھی ہوتے ہیں اور نہی بھی اور اگر کہو کہ شریعت سے وہ شریعت مراد ہے، جس میں نئے احکام ہوں تو یہ باطل ہے۔ ﷲتعالیٰ فرماتا ہے۔ ’’ان ھذا لفی الصحف الاولیٰ صحف ابراہیم وموسیٰ‘‘ یعنی قرآنی تعلیم توریت میں بھی موجود ہے اور اگر یہ کہو کہ شریعت وہ ہے۔ جس میں باستیفاء امر اور نہی کا ذکر ہو تو یہ بھی باطل ہے۔ کیونکہ

170

توریت یا قرآن شریف میں باستیفاء احکام شریعت کا ذکر ہوتا تو پھر اجتہاد کی گنجائش نہ رہتی۔‘‘

(اربعین نمبر ۴ ص ۶، خزائن ج۱۷ ص۴۳۵،۴۳۶)

۴… ’’ یٰس انک لمن المرسلین علی صراط مستقیم‘‘ (اے سردار تو خدا کا مرسل ہے راہ راست پر)

(حقیقت الوحی ص ۱۰۷، خزائن ج۲۲ ص ۱۱۰)

۵… ’’فکلمنی ونادانی وقال انی مرسلک الی قوم مفسدین وانی جاعلک للناس اماما وانی مستخلفک اکراماً کما جرت سنتی فی الاولین‘‘

(انجام آتھم ص۷۹، خزائن ج۱۱ ص۷۹)

’’ھوالذی ارسل رسولہ بالھدیٰ ودین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ‘‘

(اعجاز احمدی ص ۷، خزائن ج۱۹ ص۱۱۳)

’’اب ظاہر ہے کہ ان الہامات میں میری نسبت بار بار بیان کیا گیا ہے کہ یہ خدا کا فرستادہ، خدا کا مامور، خدا کا امین اور خدا کی طرف سے آیا ہے۔ جو کچھ کہتا ہے اس پر ایمان لاؤ اور اس کا دشمن جہنمی ہے۔‘‘

(انجام آتھم ص ۶۲، خزائن ج۱۱ ص۶۲)

یہ ہیںمرزا غلام احمد کے چند دعاوی۔ جیسا کہ ہم پہلے اشارہ کرچکے ہیں کہ ان سبھی دعاوی کے صرف دو محرکات ہیں:

الف… مسلمانوں میں افتراق پیدا کرکے حکومت برطانیہ کی کاسہ لیسی کرنا۔

ب… مالیخولیا مراق کا اثر ظاہر ہونا۔

نوٹ… ان ہی دو وجوہات کو عوام کے سامنے بیان کرکے مرزا غلام احمد قادیانی کے دعاوی بتدریج بیان کرنے چاہئیں۔ تاکہ عوام کا ذہن اس بات کو بآسانی قبول کرنے پر آمادہ ہو کہ ان بلند بانگ دعوؤں کی بنیاد روحانیت، عقلیت یا حقیقت پر نہیں۔ بلکہ صرف اور صرف مادیت پرستی،بدعقلی اور کذب پر ہے۔

سوال۲ … ایمان کی تعریف کریں؟ ضروریات دین کس کو کہتے ہیں؟ کفر کا کیا معنی ہے؟ ’’کفردون کفر‘‘ کسے کہتے ہیں؟ نیز کافر، ملحد، مرتد، زندیق اور منافق ہر ایک کی تعریف کریں اور بتائیں کہ قادیانی کس زمرہ میں داخل ہیں؟ لزوم کفر اور التزام کفر کو واضح کرتے ہوئے

171

مرزائیوں کے اس شبہ کا جواب دیں کہ قادیانیوں کی تکفیر کرنے والوں نے آپس میں بھی ایک دوسرے کی تکفیر کی ہے؟

جواب…

ایمان کی تعریف

لفظ ایمان امن اور امانت سے مشتق ہے۔ لغت میں ایمان ایسی خبر کی تصدیق کو کہتے ہیں کہ جس خبر کا ہم نے مشاہدہ نہ کیا ہو اور محض مخبر کی امانت اور صداقت کے بھروسہ اور اعتماد پر اس کو تسلیم کرلیا ہو اور اصطلاح شریعت میں انبیاء کرام علیہم السلام پر اعتماد اور بھروسہ کرکے احکام خداوندی اور غیب کی خبروں کی تصدیق کو ایمان کہتے ہیں۔ مثلاً فرشتوں کو بغیر دیکھے محض نبی اور رسول کے اعتماد پر ماننے کا نام ایمان ہے اور مرتے وقت فرشتوں کو اپنی آنکھ سے دیکھ کر ماننایہ ایمان نہیں۔ کیونکہ یہ ماننا اپنے مشاہدہ پر مبنی ہے۔ نبی کریم ﷺ کے اعتماد اور بھروسہ پر نہیں۔ واضح ہو کہ فقط یقینی علم کا نام ایمان نہیں۔ بلکہ اپنے ارادے اور دل سے اس کو ماننا بھی ضروری ہے۔ جس کو تسلیم کہتے ہیں۔

نوٹ… اس موضوع پر حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ کی کتاب ’’اکفار الملحدین‘‘ لاجواب کتاب ہے۔ جس کا اردو ترجمہ بھی ہوچکا ہے۔ مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ نے اسی سے اکتساب کیا ہے۔ دیکھئے احتساب قادیانیت جلد دوم۔

ضروریات دین کی تعریف

ضروریات دین اصطلاح شریعت میں ان قطعی اور یقینی امور کو کہا جاتا ہے۔ جو آنحضرت ﷺ سے بطریق تواتر قطعی طور پر ثابت ہوں اور حد تواتر یعنی شہرت عام کو پہنچ چکے ہوں کہ عام طور پر مسلمان ان امور کو جانتے ہوں۔ ایمان اور اسلام کے لئے ان امور کا تسلیم کرنا لازم اور ضروری ہے۔

تاویل وہاں معتبر ہے۔ جہاں کوئی اشتباہ ہو اور قواعد عربیت اور قواعد شریعت میں اس کی گنجائش ہو۔ یعنی وہ تاویل کتاب و سنت اور اجماع امت کے خلاف نہ ہو اور جو حکم شرعی ایسی دلیل سے ثابت ہو۔ جو قطعی الثبوت اور قطعی الدلالت بھی ہو۔ اس میں تاویل معتبر نہیں۔ بلکہ ایسے امور میں تاویل کرنا انکار کے ہم معنی ہے۔

172

کفرکی تعریف

کفر شریعت میں ایمان کی ضد ہے۔ ﷲتعالیٰ کے حکموں کو نبی کے بھروسہ اور اعتماد پر بے چوں و چرا تسلیم کرنے کا نام ایمان ہے اور ﷲتعالیٰ کی کسی ایسی ایک بات کو نہ ماننا۔ جو ہمیں قطعی اور یقینی طور پر آنحضرت ﷺ کے واسطے سے پہنچی ہو۔ اس چیز کو نہ ماننے کا نام کفر ہے۔ قطعی اور یقینی کی قید اس لئے لگائی گئی کہ دین کے احکام ہم تک دو طریق سے پہنچے ہیں۔ ایک بطریق تواتر اور ایک بطریق خبرواحد، تواتر اس کو کہتے ہیں کہ جو چیز نبیاکرم ﷺ سے ہم تک علی الاتصال اور مسلسل اس طرح پہنچی ہو کہ ہر دور میں ایک جماعت اس کو روایت کرے اور عہد نبوت سے لے کر اس وقت تک نسلاً بعد نسل ہر زمانہ کے مسلمان اس کو نقل کرتے چلے آرہے ہوں۔ ایسی شئ قطعی اور یقینی ہے۔ جس میں احتمال خطا اور نسیان کا نہیں۔ ایسے قطعی اور یقینی اور متواتر امور کا انکار کفرہے اور جو امور خبر واحد سے ثابت ہوں ان کا انکار کفر نہیں۔

کفردون کفر

کفر کا اطلاق کبھی کفر فرعی یعنی غیر اصلی پر بھی ہوتا ہے جیسے : ’’سباب المسلم فسوق و قتالہ کفر‘‘ اس کو کفر دون کفر کہتے ہیں۔ ایمان کو نور اور کفر کو ظلمت کہا گیا ہے۔ نور کی مثال خالص دن اور کفر کی مثال خالص رات کی سی ہے۔ اب دن اور رات کے بعد درمیانی حصہ مثلاً صبح صادق وغیرہ! نہ تو خالص دن ہے اور نہ خالص رات یہی مثال کفردون کفر کی ہے۔

لزوم کفر

غیر ارادی طور پر کہیں ایسی بات کہہ ڈالی جو کفریہ بات تھی۔ جیسے داڑھی کا مذاق اڑایا۔ مگر اسے ایسی بات کا خیال بھی نہیں تھا کہ یہ کفر ہے۔ لیکن اس کے اس فعل سے کفر لازم آگیا۔ اسے لزوم کفر کہتے ہیں۔

التزام کفر

ایک آدمی نے جان بوجھ کر کفریہ کلمہ کہا۔ جیسے یہ کہا کہ آپ ﷺ کے بعد نبوت جاری ہے۔ وحی نبوت جاری ہے۔ اگر جان بوجھ کر عقیدۃً و ارادۃً کہا تو کفر کا التزام کیا۔ لزوم کفر کم درجہ کا کفر ہے۔ التزام کفر شدید بلکہ اشد درجہ کا کفر ہے۔ تمام قادیانی ان کفریہ عقائد و نظریات کا عقیدۃً و ارادۃً ارتکاب کرکے التزام کفر کرتے ہیں۔ فاؤلئک ھم الکافرون حقا!

173

کافر

لغت میں کفر انکار کو کہتے ہیں۔ اصطلاح شریعت میں کسی ایک شرعی قطعی حکم کے انکار کرنے والے کو کافر کہتے ہیں۔

ملحد و زندیق

جو امور بدیہی اور قطعی طور پر دین سے ثابت ہوں۔ ان میں تاویل کرنا اور ان کے ایسے معنی بیان کرنا۔ جو اجماعی عقیدئہ کے خلاف ہوں۔ قرآن کریم میں اس کا نام الحاد اور حدیث میں اس کا نام زندقہ ہے اور اصطلاح شریعت میں ملحد اور زندیق اس شخص کو کہتے ہیں۔ جو الفاظ تو اسلام کے کہے۔،مگر ان کے معنی ایسے بیان کرے۔ جس سے ان کی حقیقت ہی بدل جائے۔ جیسے صلوٰۃ اور زکوٰۃ میں یہ تاویل کرے کہ قرآن میں صلوٰۃ سے فقط دعا اور ذکر کے معنی مراد ہیں اور اس خاص ہیئت سے نماز پڑھنا ضروری نہیں اورزکوٰۃ سے تزکیہ نفس مراد ہے۔ ایک معین نصاب سے مال کی خاص مقدار کادینا مراد نہیں۔

غرض زندیق وہ ہے۔ جو اپنے کفر پر اسلام کا ملمع کرے اور اپنے کفر کو عین اسلام ثابت کرنے کی کوشش کرے۔

زندیق کا حکم

زندیق کے بارے میں امام مالکؒ ، امام ابو حنیفہؒ اور ایک روایت میں امام احمدؒ فرماتے ہیں کہ اس کی توبہ قبول نہیں۔ کیونکہ اس نے زندقہ کے جرم کا ارتکاب کیا ہے۔ یعنی کفر کو اسلام ثابت کرنے کی کوشش کی ہے اور کتے کا گوشت بکری کے نام سے فروخت کیا ہے۔ شراب پر زمزم کا لیبل چپکایا ہے۔ یہ جرم ناقابل معافی ہے۔ اس پر قتل کی سزا ضرور جاری ہوگی۔ تو یہ بات اچھی طرح سمجھ لیجئے کہ قادیانی زندیق ہیں۔

(تحفہ قادیانیت ج اوّل ص۶۶۷،۶۶۸)

مرتد

ارتداد کے معنی لغت میں لوٹ جانے اور پھرجانے کے ہیں اور اصطلاح شریعت میں ایمان اور اسلام میں داخل ہونے کے بعد کفر کی طرف لوٹ جانے کا نام ارتداد ہے۔ چنانچہ امام راغب اصفہانی ؒ ’’مفردات‘‘ میں ارتداد کی تعریف کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’ھوالرجوع من الاسلام الی الکفر‘‘ (اسلام سے کفر کی طرف پھرجانے کا نام ارتداد ہے)

174

مرتد کا حکم

چاروں فقہوں کا متفق علیہ مسئلہ ہے کہ جو شخص اسلام میں داخل ہوکر مرتد ہوجائے۔ یعنینعوذباﷲ ثم نعوذباﷲ! اسلام سے پھرجائے۔ اس کے بارے میں حکم یہ ہے کہ اس کو تین دن کی مہلت دی جائے۔ اس کے شبہات دور کرنے کی کوشش کی جائے اور اسے سمجھایا جائے۔ اگر بات اس کی سمجھ میں آجائے اور وہ دوبارہ اسلام میں داخل ہوجائے تو بہت اچھا۔ ورنہ ﷲتعالیٰ کی زمین کو اس کے وجود سے پاک کردیا جائے۔ یہ مسئلہ قتل مرتد کا مسئلہ کہلاتا ہے اور اس میں ہمارے ائمہ دین میں سے کسی کا اختلاف نہیں ہے۔

منافق

منافق وہ ہے جو اپنے دل کے اندر کفرچھپائے ہوئے ہو اور زبان سے جھوٹ موٹ اسلام کا اقرار کرتا ہو۔ منافق لوگ عہد نبوت میں ہوتے تھے۔ اب دو ہی صورتیں ہیں۔ یا مومن یاکافر۔ (کیونکہ وحی کا سلسلہ بند ہوچکا‘ اب کسی کے دل کا حال کیسے معلوم ہو؟)

قادیانیوں کا حکم

قادیانی زندیق ہیں۔ وہ اپنے کفر خالص یعنی قادیانیت کو عین اسلام کہتے ہیں اور دین محمدیa جو عین اسلام ہے۔ اسے عین کفر کہتے ہیں۔ قادیانیوں کی سو نسلیں بھی بدل جائیں۔ تب بھی ان کا حکم زندیق اور مرتد کا رہے گا۔ ان کا عام کافر کا حکم نہیں ہوگا۔ اس لئے کہ ان کا یہ جرم یعنی کفر کو اسلام اور اسلام کو کفر کہنا۔ ان کی آئندہ نسلوں میں بھی پایا جاتا ہے۔ الغرض قادیانی جتنے بھی ہیں۔ خواہ وہ اسلام چھوڑ کر مرتد ہوئے ہوں یعنی قادیانی اور زندیق بنے ہوں۔ یا ان کے بقول پیدائشی قادیانی ہوں۔ قادیانیوں کے گھر میں پیدا ہوئے ہوں اور یہ کفر ان کو ورثے میں ملا ہو۔ ان سب کا ایک ہی حکم ہے۔ یعنی مرتد اور زندیق کا۔ کیونکہ ان کا جرم صرف یہ نہیں کہ وہ اسلام کو چھوڑ کر کافر بنے ہیں۔ بلکہ ان کا جرم یہ ہے کہ دین اسلام کو کفر کہتے ہیں اور اپنے کفر کو اسلام کا نام دیتے ہیں اور یہ جرم ہر قادیانی میں پایا جاتا ہے۔ خواہ وہ اسلام کو چھوڑ کر قادیانی بنا ہو یا پیدائشی قادیانی ہو۔ اس مسئلہ کو خوب سمجھ لیجئے کہ بہت سے لوگوں کو قادیانیوں کی صحیح حقیقت معلوم نہیں۔ (تفصیل کے لئے ’’کافر کون؟ مسلمان کون؟‘‘ رسالہ از حضرت کاندھلوی ؒ مندرجہ احتساب قادیانیت جلد دوم ملاحظہ ہو)

175

مسلمانوں کی باہم تکفیر بازی

قادیانی اپنے کفر بواح سے توجہ ہٹانے کے لئے مغالطہ دیتے ہیں کہ جو علماء ہم پر کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں۔ وہ خود آپس میں ایک دوسرے کو کافر قرار دیتے ہیں۔ لہٰذا ان کے فتوؤں کا اعتبار اٹھ گیا ہے۔ اس مغالطے کے جواب کے لئے درجہ ذیل امور ملاحظہ ہوں:

۱… علماء کا کام کافر بنانا نہیں کافر بتانا ہے۔ باقی غیر محتاط حضرات کے فتویٰ کے بارے میں عرض ہے کہ امت کے باہمی تکفیر کے یہ تمام فتویٰ اپنے اپنے مکاتب فکر کی مکمل نمائندگی نہیں کرتے۔ اس کے بجائے ہر مسلمان مکتب فکر میں محقق اور اعتدال پسند علماء نے ہمیشہ اس بے احتیاطی اور عجلت پسندی سے شدید اختلاف کیا ہے۔ جو اس قسم کے فتووں میں روا رکھی گئی ہے۔ لہٰذا معدودے چند متشددین، عجلت پسند اور و غیر محتاط افراد کے چند فتاویٰ کو پیش کرکے یہ تاثر دینا بالکل غلط ،بے بنیاد اور گمراہ کن ہے کہ یہ سارے مکاتب فکر ایک دوسرے کو کافر قرار دیتے ہیں۔ اس کے بجائے حقیقت یہ ہے کہ ہر مکتب فکر میں ایک ایسا عنصر رہا ہے۔ جس نے دوسرے مکتب فکر کی مخالفت میں اتنا تشدد روا رکھا ہے کہ وہ تکفیر کی حد تک پہنچ جائے۔ لیکن اسی مکتب فکر میں بڑی تعداد ایسے علماء کرام کی رہی ہے۔ جنہوں نے ان اختلافات کو ہمیشہ اپنی حدود میں رکھا اور ان حدود سے نہ صرف یہ کہ تجاوز نہیں کیا۔ بلکہ اس کی مذمت کی ہے اور عملاً یہی محتاط اور اعتدال پسند عنصر غالب رہا ہے۔

۲… مسلمان مکاتب فکر کا باہمی اختلاف و اقعات کا اختلاف ہے۔ قانون کا اختلاف نہیں۔ جس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ جب کبھی مسلمانوں کا کوئی مشترکہ مسئلہ پیدا ہوتا ہے تو ان تمام مکاتب فکر کے مل بیٹھنے میں ان چند متشددین کے باہمی نزاعی فتوے کبھی رکاوٹ نہیں بنے۔ ان مسلمان فرقوں کی باہمی فرقہ بندیوں کا پروپیگنڈہ دنیا بھر میں گلا پھاڑ پھاڑ کر کیا گیا ہے اور ان کے اختلافات کا شور مچامچا کر قادیانیوں جیسے باطل طبقات نے اپنے کفریہ، باطل نظریات کی دکانیں چمکائی ہیں۔ ورنہ یہی وہ مسلمان فرقے تھے۔

۱… جو ۱۹۵۱ء میں پاکستان کی دستوری بنیاد طے کرنے کے لئے جمع ہوئے تو کسی ادنی اختلاف کے بغیر اسلامی دستور کے اساسی اصول طے کرکے اٹھے۔ جن کو ’’بائیس نکات‘‘ کہا جاتا ہے۔

176

ب… ۱۹۵۲ء میں پاکستان کے مجوزہ دستور میں متعین اسلامی ترجیحات طے کرنے کا مرحلہ آیا تو انہوں نے اکٹھے ہوکر متفقہ سفارشات پیش کیں۔ جبکہ یہ کام پہلے سے زیادہ غیر متوقع سمجھا جاتا تھا۔

ج… ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت میں انہی تمام مکاتب نے متفقہ مؤقف اختیار کیا۔

د… ۱۹۷۲ء میں دستور پاکستان (جو ۱۹۷۳ء میں نافذ ہوا) میں اسلامی شقوں کو درج کرانے کے لئے یہ تمام مکاتب فکر اکٹھے ہوئے۔

ہ…۱۹۷۴ء اور ۱۹۸۴ء کی تحریک ہائے ختم نبوت اور ۱۹۷۷ء کی تحریک نظام مصطفی میں یہ تمام مکاتب فکر یک جان ویک زبان متفق ومتحد نظر آتے ہیں۔ اس طرز عمل پر غور کرنے سے چند باتیں کھل کر سامنے آتی ہیں۔

اوّل… یہ کہ باہم ایک دوسرے کی تکفیر کے فتوے ان متشددین کی انفرادی رائے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ کسی مکتب فکر کی نمائندہ حیثیت نہیں۔ ورنہ یہ مکاتب فکر کبھی بحیثیت مسلمان جمع نہ ہوتے۔

دوم… یہ کہ ہر مکتب فکر میں غالب عنصر وہی ہے۔ جو ان اختلافات کو اپنے دائرے میں رکھتا ہے اور آپس کے اختلافات کو تکفیر کا ذریعہ نہیں بناتا۔ ورنہ اس قسم کے تمام مکاتب فکر کے باہمی اجتماعات کو قبول عام حاصل نہ ہوتا۔

سوم… یہ کہ اسلام کے وہ بنیادی عقائد جو واقعتاً کفر و ایمان میں حد فاصل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان میں یہ سب لوگ متفق ہیں۔

۳… اگر کچھ حضرات نے تکفیر کے سلسلہ میں غلو اور تشدد کی روش اختیار کی تو اس سے یہ نتیجہ کیسے نکالا جاسکتا ہے کہ اب دنیا میں کوئی شخص کافر ہوہی نہیں سکتا؟ اور اگر یہ سب لوگ مل کر بھی کسی کو کافر کہیں تو وہ کافر نہیں ہوگا؟

کیا دنیا میں عطائی قسم کے لوگ علاج کرکے انسانوں پر مشق ستم نہیں کرتے؟ اور کیا ماہر سے ماہر ڈاکٹر سے کبھی غلطی نہیں ہو جاتی؟ لیکن کیا کبھی کوئی انسان بشرطیکہ وہ عقل سے بالکل ہی معذور نہ ہو۔ یہ کہہ سکتا ہے کہ ان انفرادی غلطیوں کی سزا کے طور پر ڈاکٹروں کے طبقے کی کوئی بات قابل قبول نہیں ہونی چاہئے؟ کیا عدالتوں کے فیصلوں میں ججوں سے غلطیاں نہیں ہوتیں؟ لیکن کیا

177

کبھی کسی نے سوچا ہے کہ ان انفرادی غلطیوں کی وجہ سے عدالتوں کو تالے لگادیئے جائیں یا ججوں کا فیصلہ ہی نہ مانا جائے؟ کیا مکانات اور سڑکوں کی تعمیرات میں انجینئرز غلطی نہیں کرتے؟ لیکن کبھی کسی ذی ہوش نے یہ تجویز پیش کی ہے کہ ان غلطیوں کی بنا پر تعمیر کا ٹھیکہ انجینئروں کی بجائے گورکنوں کو دے دیا جائے؟ پھر یہ کہ اگر چند جزوی نوعیت کے فتوؤں میں بے احتیاطیاں ہوئیں۔ تو اس کا یہ مطلب کہاں سے نکل آیا کہ اب اسلام و کفر کے فیصلے قرآن و سنت کی بجائے مرزائی تحریفات کی بنیاد پر کرنے چاہئیں۔ علامہ اقبال نے مرزائیوں کو اقلیت قرار دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کیا۔ خوب بات کہی کہ: ’’مسلمانوں کے بے شمار فرقوں کے مذہبی تنازعوں کا ان بنیادی مسائل پر کچھ اثر نہیں پڑتا۔ جن مسائل پر سب فرقے متفق ہیں۔ اگرچہ وہ دوسرے پر الحاد کے فتوے ہی دیتے ہوں۔‘‘

(حرف اقبال ص ۱۲۷)

سوال۳ … قادیانیوں کی وجوہ تکفیر کون کون سی ہیں؟ کیا قادیانی اہل قبلہ شمار ہوتے ہیں۔ نیز بتائیں کہ قادیانی اور دوسرے کافروں میں کیا فرق ہے؟ قادیانیوں کا حکم کیا ہے؟ قادیانی اگر مسجد بنائیں یا مسلمانوں کے قبرستان میں اپنا مردہ دفن کریں تو اس کا شرعی حکم کیا ہے؟

جواب…

قادیانیوں کی وجوہ تکفیر

شہرئہ آفاق مقدمہ بہاولپور میں حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ نے مرزا قادیانی اور اس کے پیروکاروں کے چھ وجوہ کفر متعین فرمائے تھے:

۱… ختم نبوت کا انکار۔

۲… دعویٰ نبوت اور اس کی تصریح کہ ایسی ہی نبوت مراد ہے۔ جیسے پہلے انبیاء کی تھی۔

۳… ادعائے وحی اور اپنی وحی کو قرآن کی طرح واجب الایمان قرار دینا۔

۴… عیسیٰ علیہ السلام کی توہین۔

۵… آنحضرت ﷺ کی توہین۔

۶… عام امت محمدیہ کی تکفیر۔

(روئیداد مقدمہ مرزائیہ بہاولپور ج۱ ص۴۱۷)

مرزا غلام احمد قادیانی کی تمام تحریرات کفر کا ڈھیر ہیں۔ جس میں ہزاروں کفر موجود

178

ہیں۔ اس کی ایک ایک عبارت مرقع کفر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیری قدس سرہ فرمایا کرتے تھے کہ: ’’مسیلمہ کذاب اور مسیلمہ پنجاب (مرزا) کا کفر فرعون کے کفر سے بڑھ کر ہے۔

(احتساب قادیانیت ج۲ ص۱۱)

اب ہم ذیل میں حضرت شاہ صاحبؒ کی طرف سے متعین کردہ وجوہ کفر و ارتداد قادیانیت پر مختصراً دلائل عرض کرتے ہیں۔

۱ …ختم نبوت کا انکار

آنحضرت ﷺ کی ختم نبوت قرآن کریم کی نصوص قطعیہ، احادیث کے تواتر اور امت کے اجماع سے ثابت ہے۔ آنحضرت ﷺ کے بعد مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت کرنا انکار ختم نبوت کی صریح دلیل ہے۔ جبکہ ختم نبوت کا منکر قطعی کافر ہے۔ اس سلسلہ میں ایک حوالہ پر اکتفاء کیا جاتا ہے: ’’وکونہٖ a خاتم النبیین مما نطق بہ الکتاب وصدعت بہٖ السنۃ، واجمعت علیہ الامت فیکفر مدعی خلافہ و یقتل ان اصر‘‘

(روح المعانی ج ۸ ص ۳۹، زیر آیت خاتم النبیین)

ترجمہ: ’’آنحضرت ﷺ کے آخری نبی ہونے پر کتاب ﷲ ناطق ہے اور احادیث نے کھول کر سنادیا اور اس پر امت کا اجماع ہے۔ پس اس کے خلاف جو دعویٰ کرے۔ کافر ہوجائے گا اور اگر اصرار کرے تو قتل کیا جائے گا۔‘‘

۲… مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت

۱… ’’سچا خدا وہی خدا ہے۔ جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔‘‘

(دافع البلاء ص ۱۱، خزائن ج۱۸ ص ۲۳۱)

۲… ’’ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم نبی اور رسول ہیں۔‘‘

(ملفوظات ج۱۰ ص ۱۲۷)

۳… ’’صریح طور پر مجھے نبی کا خطاب دیا گیا۔‘‘

(حقیقت الوحی ص ۱۵۰، خزائن ج۲۲ ص۱۵۴)

۴…’’قل یا ایھالناس انی رسول ﷲ الیکم جمیعا‘‘

(تذکرہ ص ۳۵۲، مجموعہ الہامات مرزا)

۵… ’’انا ارسلنا الیکم رسولاً شاہداً کما ارسلنا الی فرعون رسولا‘‘

(مجموعہ الہامات مرزا، تذکرہ ص۶۱۰)

179

۳… ادعائے وحی اور اپنی وحی کو قرآن کی طرح قرار دینا

۱… ’’میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں ان الہامات پر اسی طرح ایمان لاتا ہوں۔ جیسا کہ قرآن شریف پر اور خدا کی دوسری کتابوں پر اور جس طرح میں قرآن شریف کو یقینی اور قطعی طور پر خدا کا کلام جانتا ہوں۔ اسی طرح اس کلام کو بھی جو میرے پر نازل ہوتاہے۔ خدا کا کلام یقین کرتا ہوں۔‘‘

(حقیقت الوحی ص ۲۲۰، خزائن ج۲۲ ص۲۲۰)

۲…

آنچہ من بشنوم زوحی خدا

بخدا پاک دانمش زخطاء

ہمچوں قرآن منزہ اش دانم

از خطاہا ہمین است ایمانم

بخدا ہست ایں کلام مجید

از دہان خدائے پاک و وحید

و آن یقین کلیم بر تورات

آن یقین ہائے سید سادات

کم نیم زاں ہمہ بروئے یقین

ہر کہ گوید دروغ ہست لعین

ترجمہ: ’’جو کچھ میں ﷲ کی وحی سے سنتا ہوں۔ خدا کی قسم اسے ہر قسم کی خطا سے پاک سمجھتا ہوں۔ قرآن کی طرح میری وحی خطاؤں سے پاک ہے۔ یہ میرا ایمان ہے، خدا کی قسم یہ کلام مجید ہے۔ جو خدائے پاک یکتا کے منہ سے نکلا ہے۔ جو موسیٰ علیہ السلام کو تورات پر اور حضوراکرم ﷺ کو قرآن مجید پر تھا۔ میں ازروئے یقین ان سب سے کم نہیں ہوں۔ جو جھوٹ کہے وہ لعنتی ہے۔‘‘

(نزول المسیح ص۹۹، خزائن ج۱۸ ص۴۷۷)

۳… ’’تائیدی طور پر ہم وہ حدیثیں بھی پیش کرتے ہیں۔ جو قرآن شریف کے مطابق ہیں اور میری وحی کے معارض نہیں اور دوسری حدیثوں کو ہم ردی کی طرح پھینک دیتے ہیں۔‘‘

(اعجاز احمدی ص ۳۰، خزائن ج۱۹ ص۱۴۰)

180

یہاں پر مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت پر صرف تین حوالوں پر اکتفا کیا گیا ہے اور تیسرے حوالہ میں مرزا قادیانی نہ صرف اپنی وحی کو قرآن کی سطح پر لایا ہے۔ بلکہ اس نے احادیث کی بھی توہین کا ارتکاب کیا ہے۔

۴…حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین

۱… ’’خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا۔ جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے اور اس نے اس دوسرے مسیح کا نام غلام احمد رکھا۔‘‘

(دافع البلاء ص ۱۳، خزائن ج۱۸ ص۲۳۳)

۲… ’’خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا۔ جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے… مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر مسیح ابن مریم میرے زمانہ میں ہوتا تو وہ کام جو میں کرسکتا ہوں۔ وہ ہرگز نہ کرسکتا اور وہ نشان جو مجھ سے ظاہر ہورہے ہیں۔ وہ ہرگز نہ دکھلاسکتا۔‘‘

(حقیقت الوحی ص ۱۴۸، خزائن ج۲۲ ص ۱۵۲)

۳… ’’اور مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر مسیح بن مریم میرے زمانہ میں ہوتا تو وہ کام جو میں کرسکتا ہوں۔ وہ ہرگزنہ کرسکتا اور وہ نشان جو مجھ سے ظاہر ہورہے ہیں وہ ہرگز نہ دکھلاسکتا۔‘‘

(کشتی نوح ص۵۶، خزائن ج۱۹ ص۶۰)

۴… ’’خدا تعالیٰ نے براہین احمدیہ حصص سابقہ میں میرا نام عیسیٰ رکھا اور جو قرآن شریف کی آیتیں پیشگوئی کے طور پر حضرت عیسیٰ کی طرف منسوب تھیں۔ وہ سب آیتیں میری طرف منسوب کردیں، اور یہ بھی فرمادیا کہ تمہارے آنے کی خبر قرآن و حدیث میں موجود ہے۔‘‘

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ۸۵، خزائن ج۲۱ ص ۱۱۱)

آخری حوالہ میں عبارت کے اس حصہ پر بھی توجہ فرمائیںکہ : ’’خدا تعالیٰ نے براہین احمدیہ حصص سابقہ میں میرا نام عیسیٰ رکھا‘‘ کیا نعوذباﷲ مرزا کی کتاب براہین احمدیہ خدا تعالیٰ کی کتاب تھی؟ ایسا کہنا بذات خود مستقل کفر ہے۔

۵… آنحضرت ﷺ کی توہین

مرزا نے اپنی تصنیفات میں تقریباً تمام انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی توہین و تنقیص

181

کی ہے۔ ذیل میں آنحضرت ﷺ کی شان میں گستاخیوں اور توہین پر مشتمل مرزا کے چند حوالے ملاحظہ ہوں:

۱… ’’میں بارہا بتلاچکا ہوں کہ میں بموجب آیت : ’’وآخرین منھم لما یلحقوابھم‘‘ بروزی طور پر وہی نبی خاتم الانبیاء ہوں اور خدا نے آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ میں میرا نام’’محمد‘‘اور ’’احمد‘‘ رکھا ہے اور مجھے آنحضرت ﷺ کا وجود قرار دیا ہے۔ پس اس طور سے آنحضرت ﷺ کے خاتم الانبیاء ہونے میں میری نبوت سے کوئی تزلزل نہیں آیا۔ کیونکہ ظل اپنے اصل سے علیحدہ نہیں ہوتا۔‘‘

(ایک غلطی کا ازالہ ص۸، خزائن ج۱۸ص۲۱۲)

۲… ’’اس نبی کریم( ﷺ) کے لئے چاند کے خسوف کا نشان ظاہر ہوا اور میرے لئے چاند اور سورج دونوں کا۔ اب کیا تو انکار کرے گا۔‘‘

(اعجاز احمدی ص۷۱، خزائن ج۱۹ ص۱۸۳)

۳… ’’مگر تم خوب توجہ کرکے سن لو کہ اب اسم محمد کی تجلی ظاہر کرنے کا وقت نہیں۔ یعنی اب جلالی رنگ کی کوئی خدمت باقی نہیں۔ کیونکہ مناسب حد تک وہ جلال ظاہر ہوچکا ہے۔ سورج کی کرنوں کی اب برداشت نہیں۔ اب چاند کی ٹھنڈی روشنی کی ضرورت ہے اور وہ احمد کے رنگ میں ہوکر میں (مرزا) ہوں۔‘‘

(اربعین نمبر۴ ص ۱۴، خزائن ج۱۷ ص۴۴۵،۴۴۶)

۴… ’’اورخدا نے مجھ پر اس رسول کریم کا فیض نازل فرمایا اور اس کو کامل بنایا اوراس نبی کریم ﷺ کے لطف اور جود کو میری طرف کھینچا۔ یہاں تک کہ میرا (مرزا) وجود اس (آنحضرت ﷺ) کا وجود ہوگیا۔ پس وہ جو میری جماعت میں داخل ہو ا درحقیقت میرے سردار خیرالمرسلین کے صحابہ میں داخل ہوا اور یہی معنی: آخرین منھم کے لفظ کے بھی ہیں۔ جیسا کہ سوچنے والوں پر پوشیدہ نہیں اور جو شخص مجھ میں اور مصطفی میں تفریق کرتا ہے۔ اس نے مجھے نہیں دیکھا ہے اور نہیں پہچانا ہے۔‘‘

(خطبہ الہامیہ ص ۱۷۱، خزائن ج۱۶ ص۲۵۸،۲۵۹)

۵… مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے کہ وہ (نعوذباﷲ) محمد رسول ﷲ ہے۔ چنانچہ وہ لکھتا ہے: ’’محمد رسول ﷲ والذین معہ اشداء علی الکفار‘‘ اس وحی میں میرا (مرزا) کا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی۔‘‘

(ایک غلطی کا ازالہ ص۴، خزائن ج۱۸ ص۲۰۷)

۶… امت محمدیہ کی تکفیر

۱… ’’خدا تعالیٰ نے میرے پر ظاہر کیا ہے کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت

182

پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا۔ وہ مسلمان نہیں ہے۔‘‘

(تذکرہ مجموعہ الہامات ص ۶۰۷)

۲… ’’کفر دو قسم پر ہے۔ اول یہ کہ ایک شخص اسلام سے ہی انکار کرتا ہے اور آنحضرت ﷺ کو خدا کا رسول نہیں مانتا۔ دوم یہ کہ مثلاً وہ مسیح موعود (مرزا) کو نہیں مانتا اور اس کو باوجود اتمام حجت کے جھوٹا جانتا ہے۔ جس کے ماننے اور سچا جاننے کے بارے میں خدا اور رسول نے تاکید کی ہے، اور پہلے نبیوں کی کتابوں میں بھی تاکید پائی جاتی ہے۔ پس اس لئے کہ وہ خدااور رسول کے فرمان کا منکر ہے کافر ہے۔ اور اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ دونوں کفر ایک ہی قسم میں داخل ہیں۔‘‘

(حقیقت الوحی ص ۱۷۹، خزائن ج۲۲ ص۱۸۵)

اسی طرح مرزا محمود اور مرزا بشیر احمد غلام احمد قادیانی کے نہ ماننے والوں کے بارے میں لکھتا ہے:

۳… ’’کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے۔ خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کا نام بھی نہیں سنا۔ وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔‘‘

(آئینہ صداقت ص ۳۵)

۴… ’’ہر ایک ایسا شخض جو موسیٰ کو تو مانتا ہے۔ مگر عیسیٰ کو نہیں مانتا یا عیسیٰ کو مانتا ہے۔ مگر محمد کو نہیں مانتا اور یا محمد کو مانتا ہے۔ پر مسیح موعود (مرزا) کو نہیں مانتا۔ وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔‘‘

(کلمتہ الفصل ص ۱۱۰)

قادیانی اور اہل قبلہ

اہل قبلہ کا لفظ اصطلاح میں اہل ایمان کے لئے بولا جاتا ہے، اور شریعت میں اہل قبلہ وہی لوگ کہلاتے ہیں جو تمام ضروریات دین پر ایمان رکھتے ہیں۔ ہم اہل قبلہ کو اس وقت تک کافر نہیں کہتے جب تک کہ وہ کسی موجب کفر قول یافعل کا ارتکاب نہ کریں۔ جو لوگ ضروریات دین کے منکر ہوں۔ مثلاً ختم نبوت کے منکر ہوں۔ آنحضرت ﷺ کے بعد مدعی نبوت کو سچا مانتے ہوں۔ وہ شریعت میں اہل قبلہ نہیں۔ اہل قبلہ کا ہرگز یہ معنی نہیں کہ جو شخص فقط قبلہ رخ ہوکر نماز پڑھتا ہو۔ وہ اہل قبلہ ہے۔ چاہے وہ کسی قطعی حکم کا منکر بھی کیوں نہ ہو۔کیونکہ قبلہ کی طرف رخ کرکے نماز تو مسیلمہ کذاب بھی پڑھتا تھا۔ لہٰذا اہل قبلہ وہ کہلائیں گے جو تمام ضروریات دین پر ایمان رکھتے ہوئے قبلہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے ہوں۔ وہ اہل قبلہ ہیں۔

183

قادیانی اور دوسرے کافروں میں فرق

جو لوگ دین اسلام کے منکر ہیں۔ وہ کافر ہیں۔ جیسے عیسائی، یہودی۔ لیکن عیسائیوں، یہودیوں اور قادیانیوں کے کفر میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ موجودہ عیسائی خود جھوٹے ہیں۔ مگر ان کے نبی، عیسیٰ علیہ السلام سچے نبی ہیں۔ موجودہ یہودی خود جھوٹے ہیں۔ مگر ان کے نبی، موسیٰ علیہ السلام سچے نبی ہیں۔ قادیانی خود بھی جھوٹے ہیں۔ ان کا نبی بھی جھوٹا تھا۔ اسلام سچے نبی کے جھوٹے پیروکاروں کے وجود کو بطور اہل کتاب یا ذمی کے تسلیم کرتا ہے۔ اسلام نہ جھوٹے نبی کو قبول کرتا ہے اور نہ اس کے پیروکاروں کو۔ جھوٹے نبی کے پیروکاروں کا وہی حکم ہے جو صدیق اکبرؓ نے یمامہ کے مید ان میں مسیلمہ کذاب کے پیروکاروں کے لئے تجویز فرمایا تھا۔ عام کافروں پر قادیانیوں کو قیاس نہیں کیا جاسکتا۔ اس لئے کہ قادیانی زندیق ہیں اور زندیق کا وجود اسلام کو قبول نہیں ہے۔ (تفصیل کے لئے ’’قادیانیوں اور دوسرے کافروں میں فرق‘‘ مندرجہ تحفہ قادیانیت جلد اوّل از حضرت لدھیانوی شہیدؒ کا مطالعہ کریں)

قادیانی عبادت گاہ

مسجد مسلمانوں کی عبادت گاہ کا نام ہے۔ منافقین نے عہد نبوت میں مسجد کے نام پر ایک اڈہ قائم کیا تھا۔ جسے اسلام نے مسجد ضرار قرار دیا۔ آنحضرت ﷺ نے اس کے انہدام واحراق کا حکم دیا تھا۔ جب اسلام نے منافقین کی عبادت گاہ کو مسجد تسلیم نہیں کیا تو قادیانی زندیقوں کی عبادت گاہوں کو کیسے مسجد تسلیم کیا جاسکتا ہے؟۔ نہ ان کی اذان کو شرعاً اذان قرار دیا جاسکتا ہے۔ (تفصیل کے لئے دیکھئے رسالہ ’’قادیانی اور تعمیر مسجد‘‘ مؤلفہ حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ مندرجہ تحفہ قادیانیت جلد اول)

مسلم قبرستان میں قادیانی مردوں کی تدفین کا حکم

جس طرح کسی ہندو، یہودی، عیسائی، چوڑھے چمار کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا شرعاً جائز نہیں۔ اسی طرح کسی قادیانی مردہ کا مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا بھی جائز نہیں۔ اگر وہ چوری چھپے دفن کردیں تو اسے مسلمانوں کے قبرستان سے نکال باہر کرنا ضروری ہے۔ (تفصیل کے لئے دیکھئے ’’قادیانی مردہ‘‘ تحفہ قادیانیت جلد اول)

184

حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ قادیانیوں اور دوسرے کافروں کے احکام لکھتے ہوئے فرماتے ہیں:

کفر کے دنیوی احکام

۱…ایمان کی پہلی شرط یہ ہے کہ کفر اور کافروں سے تبری اور بیزاری ہو۔ یعنی کافروں کو خدا کا دشمن سمجھے اور کوئی دوستانہ تعلق ان سے نہ رکھے۔کافروں سے موالات یعنی دوستانہ تعلقات کی ممانعت اور حرمت صراحتاً مذکور ہے اور علماء نے کافروں سے ترک موالات پر مستقل کتابیں لکھیں ہیں۔

۲…کافروں کو بچی دینا حرام ہے۔ اہل کتاب کے علاوہ کافروں سے بچی لینا حرام ہے۔

۳…کافر مسلمان کا اور مسلمان کافر کا وارث نہیں۔

۴…کافر کی نماز جنازہ میں شریک ہونا یا اس کی قبر پر جانا بھی جائز نہیں۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ہے: ’’ولا تصل علی احد منھم مات ابدا ولا تقم علی قبرہ انھم کفروا باﷲ ورسولہ وما تو ا وھم فاسقون‘‘

ترجمہ: ’’اور نماز نہ پڑھ ان میں سے کسی پر جو مرجائے کبھی۔ اور نہ کھڑا ہو اس کی قبر پر۔ وہ منکر ہوئے ﷲ سے اور اس کے رسول سے اور وہ مرگئے نافرمان۔‘‘

۵…مسلمان کے جنازہ میں کافر کو شرکت کی اجازت نہیں۔ وہ وقت طلب رحمت کا ہے اور کافر سے لعنت آتی ہے۔

۶…مردہ کافروں کے لئے دعائے مغفرت جائز نہیں۔ اگرچہ قریبی رشتہ دار ہوں۔ چنانچہ ارشاد الٰہی ہے: ’’ماکان للنبی والذین اٰمنوا ان یستغفروا للمشرکین ولو کانوا اولی قربیٰ‘‘

ترجمہ: ’’لائق نہیں نبی کو اور مسلمانوں کو کہ بخشش چاہیں مشرکوں کی اور اگرچہ وہ ہوں قرابت والے۔‘‘

۷…کافر کا ذبیحہ اور شکار مسلمان کے لئے حلال نہیں۔

۸…کافر کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا جائز نہیں۔

۹…جو کافر دارالاسلام میں مسلمانوں کی رعایا ہوں۔ ان کو فوج میں بھرتی کرکے جہاد میں ساتھ لے جانا جائز نہیں۔

185

۱۰…جو کافر اسلامی حکومت میں رہتے ہوں۔ ان سے جزیہ لیا جائے گا۔ چنانچہ حضرت عمر فاروقؓ کا فرمان ہے: ’’لا اکرمھم اذا اھانھم ﷲ ولا اعزھم اذا اذلھم ﷲ ولا ادنیھم اذا اقصاھم ﷲتعالیٰ‘‘

(اقتضاء الصراط المستقیم)

ترجمہ: ’’فاروق اعظمؓ نے فرمایا خدا کی قسم میں ان لوگوں کا ہرگز اعزاز اور اکرام نہ کروں گا جن کو خدا نے ذلیل اور حقیر قرار دیا۔ ان لوگوں کی ہر گز عزت نہ کروں گا جن کو ﷲتعالیٰ نے ذلیل کیا ہے اور ان لوگوں کو ہرگز اپنے قریب جگہ نہ دوں گا۔ جن کو ﷲتعالیٰ نے دور رکھنے کا حکم دیا۔‘‘

( ’’مسلمان اور کافر ‘‘ مؤلفہ حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ ص ۴۲۹ ،۴۳۱ ملخص احتساب قادیانیت ج۲)

سوال۴…خصوصیات اوصاف نبوت کیا کیا ہیں؟ مرزا قادیانی کی زندگی اور اوصاف نبوت میں تضاد کو واضح کریں؟ نیز ان اوصاف کا مرزا قادیانی کی زندگی سے موازنہ کریں اور ثابت کریں کہ مرزا قادیانی میں ان اوصاف میں سے کسی بھی وصف کی کوئی ادنیٰ جھلک بھی نہ پائی جاتی تھی؟

جواب…

حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کو ﷲتعالیٰ بہت سی خصوصیات و اوصاف سے نوازتے ہیں۔ جن میں سے چند ایک کو ذکر کرکے ہم موازنہ پیش کرتے ہیں:

۱… نبی کے لئے ضروری ہے کہ وہ کامل العقل ہو۔ بلکہ اکمل العقل ہو۔ تاکہ وحی الٰہی کے سمجھنے میں غلطی نہ کرے۔ وہ عقل و فہم میں اس درجہ بلند ہو کہ اس زمانہ میں کوئی اس کی نظیر نہ ہو۔ ناممکن ہے کہ کسی امتی کی عقل کسی نبی کے عقل سے بڑھ کر ہو۔ عقل اور دانائی میں نبی اتنا برتر و بالاتر ہوتا ہے کہ کسی بڑے سے بڑے عاقل کی عقل اس کے ہم پلہ اور پاسنگ نہیں ہوسکتی۔ جبکہ مرزا قادیانی ’’دائیں اور بائیں‘‘ جوتے کی تمیز نہیں کرسکتا تھا۔

(سیرت المہدی ج۱ ص۶۷ روایت ۸۳)

۲… نبوت کا دوسرا وصف یہ ہے کہ اس کا حافظہ صحیح اور درست ہو۔ نہ صرف یہ بلکہ کامل الحفظ اور اکمل الحفظ ہو۔ جبکہ مرزا قادیانی کا اقرار ہے کہ ’’مجھے مراق ہے۔‘‘

(ملفوظات ج۸ ص ۴۴۵)

نیز یہ کہ اس نے اپنے ایک مرید کو خط لکھا کہ: ’’میرا حافظہ بہت خراب ہے۔ اگر کئی دفعہ کسی سے ملاقات ہو تو تب بھی بھول جاتا ہوں۔حافظہ کی یہ ابتری (یعنی بدترین حالت)ہے کہ بیان نہیں کرسکتا۔ ‘‘

(مکتوبات ج۵ نمبر ۳ ص۳۱)

186

۳… نبوت کا تیسرا وصف یہ ہے کہ نبی ایسا کامل اور اکمل العلم ہو کہ امت کے حیطۂ ادراک سے بالا اور برتر ہو۔ مرزا کے علم کا یہ عالم تھا کہ: ’’وہ ماہ صفر کو اسلام کا چوتھا مہینہ قرار دیتا ہے۔‘‘

(تریاق القلوب ص ۴۲، خزائن ج۱۵ ص ۲۱۸)

۴… نبوت کا چوتھا وصف یہ ہے کہ وہ عصمت کاملہ و مستقرہ رکھتا ہو۔ مرزا قادیانی کے متعلق خود اس کے مریدوں کا اقرار ہے کہ: ’’وہ کبھی کبھی زنا کرلیا کرتا تھا۔‘‘

(خطبہ مرزا محمود،مندرجہ اخبار الفضل ۳۱؍اگست ۱۹۳۸ء)

مرزا قادیانی ’’غیر محرم عورتوں سے پاؤں دبوایا کرتا تھا۔‘‘

(سیرت المہدی ج۳ ص ۲۱۰، روایت ۷۸۰)

۵… نبوت کا پانچواں وصف یہ ہے کہ نبی صادق اور امین ہو۔ جبکہ مرزا قادیانی پرلے درجے کا کذاب اور بددیانت تھا۔ اس نے پچاس کتابیں لکھنے کا وعدہ کیا۔ پچاس کی رقم لی۔ پانچ کتابیں لکھ کر اعلان کردیا کہ: ’’پانچ سے پچاس کا وعدہ پورا ہوا۔ اس لئے کہ پچاس میں اور پانچ میں ایک نقطہ کا فرق ہے۔‘‘

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۷، خزائن ج۲۱ ص۹)

چنانچہ مرزا نے جھوٹ بولا اور بددیانتی سے لوگوں کا مال کھایا۔ ان کی دروغ گوئی کا نمونہ ملاحظہ ہو:

مرزا قادیانی کی دروغ گوئی کا نمونہ

یہ بات ذہن میں رہے کہ ’’راست بازی‘‘ نبی کے لئے وصف ِ لازم کی حیثیت رکھتی ہے۔ اسی لئے جو قریش مکہ رسول ﷲ ﷺ کی نبوت پر ایمان نہیں رکھتے تھے۔ وہ بھی آپ ﷺ کے سچ بولنے (صدق و امانت) کا اعتراف کئے بغیر نہیں رہ سکتے تھے۔ ’’ما جر بنا علیہ الا صدقاً‘‘ خود ﷲتعالیٰ نے فرمایا:’’فانھم لا یکذبونک و لکن الظلمین بایات ﷲ یجحدون‘‘ مگر مرزا قادیانی کا یہ حال ہے کہ متعدد جگہ وہ اپنے بارے میں وحی نقل کرتے ہیں کہ: : ’’وما ینطق عن الھویٰ ان ھو الا وحی یوحٰی‘‘

(اربعین نمبر ۲ ص۳۷، خزائن ج۱۷ ص۳۸۵، اربعین نمبر ۳ ص۳۶، خزائن ج۱۷ص۴۲۶)

اس کے باوجود وہ عرب کے نامور دروغ گو۔ ابوالحسین کذاب کو مات دے جاتے ہیں۔ ان کی کذب بیانی اور دروغ گوئی کا نمونہ ملاحظہ ہو:

۱… ’’ضرور تھا کہ قرآن شریف اور احادیث کی وہ پیش گوئیاں پوری ہوتیں

187

جن میں لکھا تھا کہ مسیح موعود جب ظاہر ہوگا تو اسلامی علماء کے ہاتھ سے دکھ اٹھائے گا۔ وہ اس کو کافر قرار دیں گے اور اس کے قتل کے لئے فتوے دیئے جائیں گے اور اس کی سخت توہین کی جائے گی اور اس کو دائرہ اسلام سے خارج اور دین کا تباہ کرنے والا خیا ل کیا جائے گا۔‘‘

(اربعین نمبر ۳ ص۱۷، خزائن ج۱۷ص۴۰۴)

بتایئے یہ پیش گوئیاں قرآن مجید میں کہاں ہیں؟ اور حدیث کی کون سی کتاب میں ہیں؟ مرزا قادیانی نے تین سطروں میں پانچ جھوٹ بول دیئے۔

۲… یہ بھی یاد رہے کہ قرآن شریف میں بلکہ توریت کے بعض صحیفوں میں بھی یہ خبر موجود ہے کہ مسیح موعود کے وقت طاعون پڑے گی۔ بلکہ حضرت مسیح علیہ السلام نے بھی انجیل میں یہ خبر دی ہے اور ممکن نہیں کہ نبیوں کی پیش گوئیاں ٹل جائیں۔‘‘

(کشتی نوح ص ۵، خزائن ج۱۹ص۵)

۳… ’’وہ خلیفہ جس کی نسبت بخاری میں لکھا ہے کہ آسمان سے آواز آئے گی کہ: ’’ھذا خلیفۃ ﷲ المھدی‘‘ اب سوچو کہ یہ حدیث کس مرتبہ کی ہے جو ایسی کتاب میں درج ہے جو ’’اصح الکتب بعد کتاب ﷲ‘‘ ہے۔‘‘

(شہادۃ القرآن ص ۴۱، خزائن ج۶ص۳۳۷)

بخاری شریف کا جو نسخہ ہندو پاک میں رائج ہے۔ وہ ۱۱۲۹ صفحات پر مشتمل ہے۔ کوئی ہمیں بتائے کہ بخاری شریف کے کون سے صفحہ پر اور کس عنوان کے تحت یہ حدیث درج ہے؟

۴… ’’صحیح بخاری یہ وہی کتاب ہے جس میں صاف طور پر لکھا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام وفات پاگئے۔‘‘

(کشتی نوح ص۶۰، خزائن ج۱۹ص۶۵)

جی کون سا صفحہ؟ کون سا باب؟

۵… ’’میری نسبت اور میرے زمانہ کی نسبت توریت اور انجیل اور قرآن شریف میں خبر موجود ہے کہ اس وقت (یعنی مسیح موعود کی آمد کے وقت) آسمان پر خسوف کسوف ہوگا اور زمین پر سخت طاعون پڑے گی۔‘‘

(دافع البلا ص ۳۴)

توریت اور انجیل تو دور کی بات ہے۔ قرآن پاک مسلمانوں کے گھر گھر میں موجود ہے۔ چلئے اس میں کوئی دکھادے کہ یہ خبر کس جگہ موجود ہے؟

۶… نبوت کا چھٹا وصف یہ ہے کہ اس کے بعد کوئی اس کا وارث نہ ہو۔ حدیث متواتر سے ثابت ہے:’’لا نورث ماترکنا فھو صدقۃ‘‘

(بخاری ج ۱ ص ۵۲۶)

188

نوٹ… حضرت امام بخاریؒ نے اس حدیث کو گیارہ بار اپنی صحیح میں ذکر فرمایا ہے۔ مزید تفصیلی حوالہ جات کی فہرست کے لئے (موسوعہ اطراف الحدیث ج۷ ص۲۹۱) دیکھئے بیسیوں حدیث کی کتب میں یہ روایت موجود ہے۔

(البدایہ والنہایہ ج ۴ ص ۳۰۲) پر نحن معشر الانبیاء لانورث ماترکناہ فھو صدقۃ ہے جبکہ مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ نے اپنے رسالہ شرائط نبوت ص ۱۴ پر نحن معشر الانبیاء لا نرث ولانورث ماترکنا فھو صدقۃ روایت نقل کرکے اسے متواترات میں شمار کیا ہے۔ جبکہ مرزا قادیانی نہ صرف اپنے آباؤ اجداد کی جائیداد کے حصول کے لئے انگریزی عدالتوں میں مقدمے لڑتا رہا، اور مرزا کی اولاد اس کی جائیدا کی وارث بھی ہوئی۔

(تفصیل کے لئے دیکھئے رئیس قادیان)

۷… نبوت کی ایک شرط زہد ہے۔ یعنی دنیا کی شہوات و لذات سے بے تعلقی۔ نبوت کا مقصد بندوں کو خدا تک پہنچانا ہے۔ ظاہر ہے کہ جو خود لذات پرست ہو وہ دنیا کو خداپرست کیسے بناسکتا ہے؟ جبکہ مرزا قادیانی ’’کنجریوں کے مال پر بھی ہاتھ صاف کرنے کے لئے مستعد نظر آتا ہے۔ ‘‘

(سیرت المہدی ص ۲۶۱ ج ۱ روایت ۲۷۲)

اور اس نے اسے استعمال میں لانے کے لئے دلیل بھی گھڑلی۔

(آئینہ کمالاتِ اسلام ص ۶۰۷ ٗخزائن ج۵ ص ایضاً)

اسی طرح مرزا قادیانی نے بہشتی مقبرہ کے نام پر مردہ فروشی کی تجارت کو فروغ دیا جو آج بھی قادیانی جماعت کی عقل و خرد پر ماتم کررہی ہے۔اسی طرح مرزا قادیانی کھاؤ پیو تھا۔ چنانچہ اس کی خوراک کیا تھی؟ اس پر ایک حوالہ ملاحظہ ہو:

’’سالم مرغ کا کباب، گوشت مونگرے، گوشت کی بھنی ہوئی بوٹیاں، سوپ، میٹھے چاول‘‘ اور پتہ نہیں کیا کیا کھاتا تھا۔

(سیرت المہدی حصہ اوّل ص۱۸۱ ۱۸۲ روایت نمبر۱۶۷)

جبکہ مرزا قادیانی کا ایک الہامی نسخہ زدجام عشق ہے جس میں ’’زعفران، مشک اور افیون بھی پڑتا تھا۔ ‘‘

(سیرت المہدی ص۵۱ ج۳ روایت ۵۶۹)

مرزا قادیانی ’’شراب اپنے مریدوں سے منگوایا کرتا تھا‘‘ ملاحظہ ہو ’’خطوط امام بنام غلام‘‘ (ص ۵ کالم ۱) مرزا ’’مشک اور عنبر استعمال کیا کرتے تھے۔‘‘

(سیرت المہدی حصہ دوم ص ۱۳۷ روایت ۴۴۴)

189

۸… نبوت کا ایک وصف یہ ہے کہ نبی حسب و نسب کے اعتبار سے اعلیٰ و برتر ہوتا ہے۔ مرزا قادیانی مغل بچہ تھا، اور اس کا خاندان انگریز کا ٹوڈی خاندان تھا۔ جیسا کہ مرزا قادیانی خود لکھتا ہے: ’’میں ایک ایسے خاندان سے ہوں کہ جو اس گورنمنٹ (انگریز) کا پکا خیرخواہ ہے۔ میرا والد مرزا غلام مرتضیٰ گورنمنٹ کی نظر میں وفادار اور خیرخواہ آدمی تھا۔ جن کو دربار گورنری میں کرسی ملتی تھی اور جن کاذکر مسٹر گریفن صاحب نے رئیسان پنجاب میںکیا ہے، اور ۱۸۵۷ء میں انہوں نے اپنی طاقت سے بڑھ کر سرکار انگریزی کو مدد دی تھی۔ یعنی پچاس سوار اور گھوڑے بہم پہنچاکر عین زمانہ غدر (جنگ آزادی) کے وقت سرکار انگریز کی امداد میں دیئے تھے۔‘‘

(کتاب البریہ ص۴، خزائن ص ۴ ج۱۳)

۹… نبی مرد ہوتا ہے۔ جیسا کہ نص قرآنی ہے:’’وما ارسلنا من قبلک الا رجالا نوحی الیہم‘‘ جبکہ مرزا قادیانی کو ’’مریم ہونے کا اور حاملہ ہونے کا دعویٰ بھی تھا۔

(کشتی نوح ص ۴۷، خزائن ج۱۹‘ص۵۰ )

۱۰… نبی خلق عظیم کا مظہر اتم ہوتا ہے۔ جبکہ مرزا قادیانی ماں بہن کی گالیوں سے بھی دریغ نہیں کرتا تھا۔ چنانچہ وہ لکھتا ہے:

الف… ’’جو شخص میری فتح کا قائل نہیں ہوگا تو صاف سمجھا جائے گا کہ اس کو ولدالحرام بننے کا شوق ہے اور حلال زادہ نہیں۔ ‘‘

(انواراسلام ص ۳۰، خزائن ص ۳۱ ج۹)

ب… ’’دشمن ہمارے بیابانوں کے خنزیر ہوگئے اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ گئیں۔‘‘

(نجم الہدیٰ ص ۵۳، خزائن ص ۵۳ ج۱۴)

نیز یہ کہ الف سے یا تک کوئی ایسی گالی نہیں جو مرزا قادیانی نے نہ بکی ہو۔ لکھنؤ کی بھٹیارن سے بھی زیادہ بدزبان اور بداخلاق تھا۔

(تفصیل کے لئے دیکھئے مغلظات مرزا مؤلفہ مولانا نور محمد خانؒ)

سوال۵… دلائل سے ثابت کریں کہ مرزا انگریز کا ایجنٹ تھا اور انگریز نے اپنے مخصوص مفادات کے حصول کے لئے اس کومذہب کا لبادہ اوڑھایا۔ واضح ہوکہ انگریز مسلمانوں کے جذبہ جہاد سے خائف تھا اور چاہتا تھا کہ مسلمانوں سے یہ جذبہ ختم ہوجائے۔ آپ واضح کریں کہ مرزا نے انگریز کی خواہش کی تکمیل کس طرح کی؟

190

جواب…

مرزا قادیانی جدی طور پر انگریز کا خود کاشتہ پودا تھا۔ انگریز نے جب متحدہ ہندوستان پر قبضہ کیا تو اپنی حکومت کو مستحکم کرنے کے لئے اور مسلمانوں سے جذبہ جہاد مٹانے کے لئے مرزا غلام احمد قادیانی کی خدمات حاصل کیں۔ مرزا قادیانی کی تحریرات سے ہمارے مؤقف کی صداقت ملاحظہ ہو:

۱… ’’یہ التماس ہے کہ سرکار دولتمدار (انگریز گورنمنٹ) ایسے خاندان کی نسبت جس کو پچاس برس کے متواتر تجربہ سے ایک وفادار جاں نثار خاندان ثابت کرچکی ہے… اس خود کاشتہ پودہ کی نسبت نہایت جزم اور احتیاط اور تحقیق و توجہ سے کام لے… ہمارے خاندان نے سرکار انگریزی کی راہ میں اپنے خون بہانے اور جان دینے سے فرق نہیں کیا اور نہ اب فرق ہے۔‘‘

(کتاب البریہ ص ۳۵۰، خزائن ص ۳۵۰ ج۱۳)

۲… ’’سب سے پہلے میں یہ اطلاع دینا چاہتا ہوں کہ میں ایک ایسے خاندان میں سے ہوں جس کی نسبت گورنمنٹ (انگریزی) نے ایک مدت دراز سے قبول کیا ہوا ہے کہ وہ خاندان اول درجہ پر سرکار دولتمدار انگریزی کا خیرخواہ ہے… ان تمام تحریرات سے ثابت ہے کہ میرے والد صاحب، میرا خاندان ابتداء سے سرکار انگریزی کے بدل و جان ہوا خواہ اور وفادار رہے ۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات ص۹،۱۰ ج ۳)

۳… ’’میں ابتدائی عمر سے اس وقت تک جو قریباً ساٹھ برس کی عمر تک پہنچا ہوں۔ اپنی زبان اور قلم سے اس اہم کام میں مشغول ہوں کہ تاکہ مسلمانوں کے دلوں کو گورنمنٹ انگلشیہ کی سچی محبت اور خیرخواہی اور ہمدردی کی طرف پھیروں اور ان کے بعض کم فہموں کے دلوں سے غلط خیال جہاد وغیرہ کے دور کروں۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات ص۱۱ ج۳)

۴… ’’اور میں نے نہ صرف اسی قدر کام کیا کہ برٹش انڈیا کے مسلمانوں کو گورنمنٹ انگلشیہ کی سچی اطاعت کی طرف جھکایا۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات ص ۱۱ ج۳)

۵… ’’میری عمر کا اکثر حصہ اس سلطنت انگریزی کی تائید اور حمایت میں گزرا ہے اور میں نے ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارہ میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہارات شائع کئے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھرسکتی ہیں۔ میں نے ایسی کتابوں کو تمام ممالک عرب اور مصر اور شام اور کابل اور روم تک پہنچادیا ہے۔ میری ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ مسلمان اس سلطنت کے سچے خیرخواہ ہوجائیں اور مہدی خونی

191

اور مسیح خونی کی بے اصل روایتیں اور جہاد کے جوش دلانے والے مسائل جو احمقوں کے دلوں کو خراب کرتے ہیں۔ ان کے دلوں سے معدوم ہوجائیں۔‘‘

(تریاق القلوب ص ۱۵، خزائن ص ۱۵۶،۱۵۵ ج۱۵)

۶… ’’سو میں نے نہ کسی بناوٹ اور ریاکاری سے بلکہ محض اس اعتقاد کی تحریک سے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے میرے دل میں ہے بڑے زور سے بار بار اس بات کو مسلمانوں میں پھیلایا ہے کہ ان کو گورنمنٹ برطانیہ کی۔ جو درحقیقت ان کی محسن ہے۔ سچی اطاعت اختیار کرنی چاہئے اور وفاداری کے ساتھ اس کی شکر گزاری کرنی چاہئے۔ ورنہ خدا تعالیٰ کے گناہ گار ہوں گے۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات ص۱۱ ج۳)

۷… ’’میں سچ سچ کہتا ہوں کہ محسن کی بدخواہی کرنا ایک حرامی اور بدکار آدمی کا کام ہے۔ سو میرا مذہب جس کو میں بار بار ظاہر کرتا ہوں یہ ہی ہے کہ اسلام کے دو حصے ہیں۔ ایک یہ کہ خدا تعالیٰ کی اطاعت کریں۔ دوسرے اس سلطنت کی جس نے امن قائم کیا ہو۔ جس نے ظالموں کے ہاتھ سے اپنے سایہ میں ہمیں پناہ دی ہو۔ سو وہ سلطنت حکومت برطانیہ ہے… سو اگر ہم گورنمنٹ برطانیہ سے سرکشی کریں تو گویا اسلام اور خدا اور رسول سے سرکشی کرتے ہیں۔‘‘

(شہادۃ القرآن ص ’’ج ،د‘‘ خزائن ص ۳۸۰،۳۸۱ ج۶)

۸… ’’جہاد یعنی دینی لڑائیوں کی شدت کو خدا تعالیٰ آہستہ آہستہ کم کرتا گیا ہے۔ حضرت موسیٰ کے وقت میں اس قدر شدت تھی کہ ایمان لانا بھی قتل سے بچا نہیں سکتا تھا اور شیرخوار بچے بھی قتل کئے جاتے تھے۔ پھر ہمارے نبی ﷺ کے وقت میں بچوں اور بڈھوں اور عورتوں کا قتل کرنا حرام کیا گیا، اور پھر بعض قوموں کے لئے بجائے ایمان کے صرف جزیہ دے کر مواخذہ سے نجات پانا قبول کیا گیا اور پھر مسیح موعود کے وقت قطعاً جہاد کا حکم موقوف کردیا گیا۔‘‘

(اربعین نمبر ۴ ص ۱۳ حاشیہ، خزائن ص ۴۴۳ ج۱۷)

۹…

اب چھوڑدو جہاد کا اے دوستو خیال

دیں کے لئے حرام ہے اب جنگ اور قتال

اب آگیا مسیح جو دیں کا امام ہے

دیں کی تمام جنگوں کا اب اختتام ہے

192

اب آسماں سے نور خدا کا نزول ہے

اب جنگ اور جہاد کا فتویٰ فضول ہے

دشمن ہے وہ خدا کا جو کرتا ہے اب جہاد

منکر نبی کا ہے جو یہ رکھتا ہے اعتقاد

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ۴۱، ۴۲، خزائن ص۷۷، ۷۸ ج۱۷)

سوال۶… جن الفاظ کی بناء پر مرزا کی تکفیر کی گئی ہے۔ اس طرح کے الفاظ بعض اولیاء سے بھی منقول ہیں۔ اگر مرزا نے ایسے الفاظ لکھ دیئے تو صرف اسی پر فتویٰ کفر کیوں ؟ الغرض قادیانی بعض اولیاء کی جن عبارتوں سے اپنے مؤقف کو ثابت کرتے ہیں۔ ان کا شافی جواب تحریر کریں؟

جواب…

سب سے پہلی گزارش تو یہ ہے کہ دین کا اصل سرچشمہ کتاب و سنت اور اجماعِ امت ہے۔ مرزائیوں نے بہت سے مسائل میں ان کو ٹھکرا دیا ہے۔ اب مبہم اور مجمل اقوال سے استدلال کرکے عقیدہ ثابت کرنا چاہتے ہیں جو بالکل غلط ہے۔ نیز واضح ہو کہ :

۱… اس ضمن میں مرزائی جو عبارات پیش کرتے ہیں۔ وہ عموماً دوقسم کی ہیں: ایک خواب اور دوسرے شطحیات۔

یاد رہے کہ آج تک جس جس شخص نے جو بات خلاف شرع کہی ہے۔ وہ دو حال سے خالی نہیں یا تو جان بوجھ کر اس نے خلاف شرع کہا۔ اگر ایسے ہے تو کہنے والا کافر ہے۔ چاہے کوئی بھی ہو۔ اگر حالت سکر میں کہا ہو۔ تو وہ معذور ہے۔ مرزا قادیانی کے متعلق قادیانی بتائیں کہ وہ کافر تھا یامعذور؟ ان دونوں حالتوں میں وہ نبوت کے قابل نہیں۔

۲… بزرگوں کے خوابوں کی شریعت میں کوئی حیثیت نہیں۔ بالخصوص عقائد کے باب میں تو صفر کے برابر بھی نہیں۔ مرزا قادیانی کے خوابوں کے جواب میں بزرگوں کے خواب پیش کردینا دیانت کے خلاف ہے۔ اس لئے کہ مرزا نبوت کا مدعی تھا اور انبیاء کے خواب بھی وحی ہوتے ہیں۔ جبکہ بزرگوں کے خوابوں کی شریعت میں کوئی حقیقت نہیں۔

۳… اگر کسی شخص نے حالت سکر میں کوئی بات کہی۔ جب بعد میں اسے بتایا گیا کہ آپ نے فلاں بات خلاف شرع کہی تو اس نے جواب میں کہا کہ تم نے اس وقت مجھے قتل کیوں

193

نہ کردیا۔ دیکھو پھر اگر میں کوئی بات خلاف شرع کہوں تو مجھے قتل کردیا جائے۔ بخلاف مرزا کے کہ یہ تو ان خلاف شرع باتوں کو کتابوں میں شائع کرتا ہے اور بڑی آب و تاب سے ان کی اشاعت کرتا ہے اور ان پر فخر و مباہات کرتا ہے۔

۴… اکثر و بیشتر قادیانی ان عبارتوں کو پیش کرتے ہیں کہ فلاں نے لکھا ہے کہ فلاں بزرگ نے یہ خواب دیکھا۔ جس بزرگ کا نام لیا جارہا ہے۔ وہ کتاب ان کی اپنی کتاب نہیں۔ اور کسی دوسرے کے لکھنے کی ان بزرگوں پر ذمہ داری کیسے؟ جبکہ مرزا کی تمام کفریات اس کی اپنی کتب میں پائی جاتی ہیں۔

۵… مرزا قادیانی خود تسلیم کرتا ہے : ’’اقوال سلف و خلف درحقیقت کوئی مستقل حجت نہیں۔‘‘

(ازالہ اوہام ص ۲۶۹ حصہ دوم خزائن ص ۳۸۹ ج۳)

۶… تصوف میں شطحیات وغیرہ کے متعلق یاد رکھیں کہ ہر علم و فن کا موضوع اور اس کے ماہرین علیحدہ ہوتے ہیں۔ تفسیر، حدیث، فقہ، عقائد اور تصوف میں سے ہر ایک علم کا وظیفہ اور اس کی اصطلاحات علیحدہ ہیں۔ ان علوم میں سب سے دقیق اور پیچیدہ تعبیرات تصوف کی ہیں۔ کیونکہ ان کتابوں کا تعلق نظریات اور ظاہری اعمال کی بجائے ان باطنی تجربات اور ان واردات وکیفیات سے ہے جو صوفیاء پر اپنے اشغال کے دوران طاری ہوئیں اور معروف الفاظ کے ذریعہ ان کی تعبیر دشوار ہوتی ہے۔ عقائد و عملی احکام‘ علم تصوف کا موضوع نہیں۔ اس لئے بعض صوفیاء کی کوئی بات از قسم شطحیات عقائد و اعمال میں کوئی حجت نہیں۔ الحمد ﷲ! محقق صوفیاء کرام جیسے ہمارے حضرات اکابر ہیں۔ ان کا کلام اس قسم کے امور سے خالی ہوتا ہے۔ تاہم اس موضوع پر مولانا لال حسین اختر کا رسالہ ’’ختم نبوت اور بزرگانِ امت‘‘ مندرجہ ’’احتساب قادیانیت‘‘ جلد اوّل ملاحظہ فرمائیں۔

سوال۷… نبی جب کوئی پیش گوئی کرتے ہیں تو ﷲ پاک اس کو ضرور پورا فرماتے ہیں۔ مگر مرزا کی ایک پیش گوئی بھی پوری نہ ہوئی۔ کم از کم تین مثالیں دیں؟

جواب…

مرزا کی زبانی پیش گوئیوں کی نسبت معیار صداقت ہونا ملاحظہ ہو: ’’اگر ثابت ہوجائے کہ میری سو پیش گوئیوں میں سے ایک بھی جھوٹی نکلی تو میں اقرار کروں گا کہ میں کاذب ہوں۔‘‘

(اربعین نمبر ۴ص ۲۵ حاشیہ خزائن ج۱۷ص۴۶۱)

194

’’ممکن نہیں کہ نبیوں کی پیش گوئیاں ٹل جائیں۔‘‘

(کشتی نوح ص۵، خزائن ج۱۹ص۵)

پہلی پیش گوئی مرزا کی موت سے متعلق

مرزا قادیانی نے اپنی موت سے متعلق یہ پیش گوئی کی کہ: ’’ہم مکہ میں مریں گے یا مدینہ میں۔‘‘

(تذکرہ ص ۵۹۱ طبع سوم)

ہمارا دعویٰ ہے کہ مکہ، مدینہ میں مرنا تو درکنار مرزا قادیانی کو مکہ اور مدینہ دیکھنے کی سعادت بھی نصیب نہ ہوئی، اور خود اپنی پیش گوئی کے بموجب ذلیل و رسوا ہوا اور جھوٹا قرار پایا۔ مرزا قادیانی کی پیش گوئی کا غلط ہونا ملاحظہ فرمائیں:

’’ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حج نہیں کیا اور اعتکاف نہیں کیا اور زکوٰۃ نہیں دی۔ تسبیح نہیں رکھی۔ میرے سامنے ضب یعنی گوہ کھانے سے انکار کیا۔‘‘

(سیرۃ المہدی حصہ سوم ص ۱۱۹ روایت نمبر ۶۷۲)

اسی طرح (سیرۃ المہدی حصہ اوّل ص ۱۱ روایت نمبر۱۲) میں لکھا ہے کہ مرزا کی موت لاہور میں قے اور اسہال کی حالت میں دستوں والی جگہ ہوئی… لہٰذا مکہ یا مدینہ میں مرنے کی بابت مرزا کی پیش گوئی سراسر جھوٹی ثابت ہوئی۔ اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔

دوسری پیش گوئی… زلزلہ اور پیر منظور محمد کے لڑکے کی پیش گوئی

پیر منظور محمد مرزا قادیانی کا بڑا خاص مرید تھا۔ مرزا کو معلوم ہوا کہ اس کی بیوی حاملہ ہے تو مرزا نے ایک پیش گوئی کردی کہ اس کے ہاں لڑکا پیدا ہوگا۔ اس کی پیش گوئی کے الفاظ یہ ہیں: ’’پہلے یہ وحی الٰہی ہوئی تھی کہ وہ زلزلہ جو نمونہ قیامت ہوگا۔ بہت جلد آنے والا ہے اور اس کے لئے یہ نشان دیا گیا تھا کہ پیر منظور محمد لدھیانوی کی بیوی محمدی بیگم کو لڑکا پیدا ہوگا اور وہ لڑکا اس زلزلہ کے لئے ایک نشان ہوگا۔ اس لئے اس کا نام بشیر الدولہ ہوگا۔‘‘

(حقیقت الوحی حاشیہ، خزائن ص ۱۰۳ ج ۲۲)

مگر خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ بجائے لڑکے کے لڑکی پیدا ہوئی۔ تو مرزا قادیانی نے یہ کہا کہ اس سے یہ تھوڑی مراد ہے کہ اسی حمل سے لڑکا پیدا ہوگا۔ آئندہ کبھی لڑکا پیدا ہوسکتا ہے۔ لیکن اتفاق سے وہ عورت ہی مرگئی، اور دوسری پیش گوئیوں کی طرح یہ پیش گوئی بھی صاف جھوٹی نکلی۔ نہ اس عورت کے لڑکا پیدا ہوا، اور نہ وہ زلزلہ آیا، اور مرزا ذلیل و رسوا ہوا۔

195

تیسری پیش گوئی… ریل گاڑی کا تین سال میں چلنا

امام مہدی اور مسیح موعود کی علاما ت اور نشانیاں بیان کرتے ہوئے مرزا قادیانی نے ایک نشانی یہ بیان کی ہے کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں تین سال کے اندر ریل گاڑی چل جائے گی۔ عبارت ملاحظہ فرمائیں: ’’یہ پیش گوئی اب خاص طور پر مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کی ریل تیار ہونے سے پوری ہوجائے گی۔ کیونکہ وہ ریل جو دمشق سے شروع ہوکر مدینہ آئے گی وہی مکہ معظمہ میں آئے گی۔ اور امید ہے کہ بہت جلد اور صرف چند سالوں تک یہ کام تمام ہوجائے گا۔ تب وہ اونٹ جو تیرہ سو برس سے حاجیوں کو لے کر مکہ سے مدینہ کی طرف جاتے ہیں۔ یک دفعہ بے کار ہوجائیں گے اور ایک عظیم انقلاب عرب اور بلاد شام کے سفروں میں آجائے گا۔ چنانچہ یہ کام بڑی سرعت سے ہورہا ہے اور تعجب نہیں کہ تین سال کے اندر اندر یہ ٹکڑا مکہ مکرمہ اور مدینہ کی راہ کا تیار ہوجائے اور حاجی لوگ بجائے بدوؤں کے پتھر کھانے کے طرح طرح کے میوے کھاتے ہوئے مدینہ منورہ میں پہنچا کریں۔‘‘

(تحفہ گولڑویہ ص ۱۰۳، خزائن ص ۱۹۵ ج ۱۷)

اب قادیانی بتائیں کہ کیا ریل گاڑی مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان چل گئی ہے؟۔ اگر نہیں اور یقینا نہیں تو کیا یہ پیش گوئی جھوٹی ہوکر مرزا ٰغلام احمد قادیانی کی ذلت و رسوائی کا باعث ہوئی یا نہیں؟ یاد رہے کہ مرزا قادیانی کی یہ کتاب ۱۹۰۲ء کی تصنیف ہے۔ مرزا قادیانی کی پیش گوئی کے مطابق ۱۹۰۵ء میں یہ ریل گاڑی چل جانی چاہئے تھی۔ ۹۲ سال اوپر گزر گئے ہیں۔ مگر وہ ریل گاڑی ابھی تک نہ چل سکی۔ بلکہ جو گاڑی شام سے مدینہ منورہ تک چلتی تھی۔ وہ بھی اس جھوٹے مسیح کی نحوست کی وجہ سے بند ہوگئی۔

چوتھی پیش گوئی… غلام حلیم کی بشارت

مرزا صاحب نے اپنے چوتھے لڑکے مبارک احمد کو مصلح موعود۔ عمر پانے والا، ’’کأن ﷲ نزل من السماء‘‘ (گویا خدا آسمان سے اتر آیا) وغیرہ الہامات کا مصداق بتایا تھا اور وہ نابالغی کی حالت میں ہی مرگیا۔ اس کی وفات کے بعد ہر چہار طرف سے مرزا قادیانی پر ملامتوں کی بوچھاڑ اور اعتراضات کی بارش ہوئی تو انہوں نے پھر سے الہامات گھڑنے شروع کئے۔ تاکہ مریدوں کے جلے بھنے کلیجوں کو ٹھنڈک پہنچے۔ ۱۶؍ ستمبر ۱۹۰۷ء کو الہام سنایا: ’’انا نبشرک بغلام حلیم‘‘

(البشریٰ ص ۱۳۴ ج ۲)

196

اس کے ایک ماہ بعد پھر الہام سنایا: ’’آپ کے لڑکا پیدا ہوا ہے۔ یعنی آئندہ کے وقت پیدا ہوگا: ’’انا نبشرک بغلام حلیم‘‘ ہم تجھے ایک حلیم لڑکے کی خوشخبری دیتے ہیں۔ ’’ینزل منزل المبارک‘‘ وہ مبارک احمد کی شبیہہ ہوگا۔‘‘

(البشریٰ ص ۱۳۶ ج ۲)

چند دن کے بعد پھر الہام سنایا

’’ساھب لک غلاماً زکیا۰ رب ھب لی ذریۃ طیبۃ۰ انّا نبشرک بغلام اسمہ یحییٰ میں ایک پاک اور پاکیزہ لڑکے کی خوشخبری دیتا ہوں۔ میرے خدا پاک اولاد مجھے بخش۔ تجھے ایک لڑکے کی خوشخبری دیتا ہوں جس کا نام یحییٰ ہے۔‘‘

(البشریٰ ص ۱۳۶ ج ۲)

ان الہامات میں ایک پاکیزہ لڑکے مسمی یحییٰ جو مبارک احمد کا شبیہہ اور قائم مقام ہونا تھا۔ کی پیش گوئی مرقوم ہے۔ اس کے بعد مرزا کے گھر کوئی لڑکا پیدا ہی نہ ہوا۔ اس لئے یہ سب کے سب الہامات افتراء علی ﷲ ثابت ہوگئے۔ جبکہ انبیاء علیہم السلام کو ﷲتعالیٰ معجزات کا شرف نصیب فرماتے ہیں۔ جن سے وہ مخالفین کو چیلنج کرتے ہیں۔ معجزہ خرق عادت ہوتا ہے۔ مگر جھوٹے مدعی نبوت کے ہاتھ پر کوئی خرق عادت کام نہیں ہوتا۔ تاکہ حق و باطل میں تلبیس نہ ہو۔ اس لئے بطور خرق عادت مرزا کی کوئی بات یا پیش گوئی پوری نہیں ہوئی۔

سوال۸… محمدی بیگم کے نکاح کے بارے میں مرزا قادیانی کے متضاد دعوؤں کو واضح کریں؟ نیز واضح کریں کہ نبی کے کلام میں تضاد نہیں ہوتا۔ جبکہ مرزا کا کلام تضادات کا مجموعہ ہے؟ کم از کم تین مثالیں دیں؟

جواب…

محمدی بیگم سے متعلق

محمدی بیگم مرزا قادیانی کے ماموں زاد بھائی مرزا احمد بیگ کی نو عمر لڑکی تھی۔ مرزا قادیانی نے اس کو زبردستی اپنے نکاح میں لانے کا ارادہ کیا۔ اتفاق ایسا ہوا کہ ایک زمین کے ہبہ نامہ کے سلسلہ میں مرزا احمد بیگ کو مرزا قادیانی کے دستخط کی ضرورت پڑی۔ چنانچہ وہ مرزا قادیانی کے پاس گیا اور اس سے کاغذات پر دستخط کرنے کی درخواست کی۔ مرزا قادیانی نے اپنی مطلب برآری کے لئے اس موقع کو غنیمت سمجھا اور احمد بیگ سے کہا کہ استخارہ کرنے کے بعد دستخط کروں گا۔ جب کچھ دن کے بعد دوبارہ احمد بیگ نے دستخط کرنے کی بات کی تو مرزا نے جواب دیا کہ

197

دستخط اسی شرط پر ہوں گے کہ اپنی لڑکی محمدی بیگم کا نکاح میرے ساتھ کردو۔ خیریت اسی میں ہے۔ اس کی دھمکی کے الفاظ یہ ہیں: ’’اﷲتعالیٰ نے مجھ پر وحی نازل کی کہ اس شخص یعنی احمد بیگ کی بڑی لڑکی کے نکاح کے لئے پیغام دے اور اس سے کہہ دے کہ پہلے وہ تمہیں دامادی میں قبول کرلے اور تمہارے نور سے روشنی حاصل کرے اور کہہ دے کہ مجھے اس زمین کے ہبہ کرنے کا حکم مل گیا ہے۔ جس کے تم خواہش مند ہو۔ بلکہ اس کے ساتھ اور زمین بھی دی جائے گی اور دیگر مزید احسانات تم پر کئے جائیں گے۔ بشرطیکہ تم اپنی لڑکی کا مجھ سے نکاح کردو۔ میرے اور تمہارے درمیان یہی عہد ہے۔ تم مان لو گے تو میں بھی تسلیم کرلوں گا۔ اگر تم قبول نہ کروگے تو خبردار رہو۔ مجھے خدا نے یہ بتلایا ہے کہ اگر کسی شخص سے اس لڑکی کا نکاح ہوگا۔ تو نہ اس لڑکی کے لئے یہ نکاح مبارک ہوگا اور نہ تمہارے لئے۔‘‘

( آئینہ کمالات اسلام درخزائن ج۵ ص ۵۷۲،۵۷۳)

ان دھمکیوں وغیرہ کا منفی اثر یہ ہوا کہ مرزا احمد بیگ اور اس کے خاندان والوں نے محمدی بیگم کا نکاح مرزا قادیانی کے ساتھ کرنے سے صاف انکار کردیا۔ مرزا نے خطوط لکھ کر اشتہار شائع کرواکر، اور پیش گوئیاں کرکے حتی کہ منت سماجت کے ذریعہ ایڑی چوٹی کا زور لگادیا کہ کسی طرح اس کی آرزو پوری ہوجائے۔ لیکن محمدی بیگم کا نکاح ایک دوسرے شخص مرزا سلطان احمد سے ہوگیا اور مرزا قادیانی کے مرتے دم تک بھی محمدی بیگم اس کے نکاح میں نہ آئی۔

اس سلسلہ میں مرزا قادیانی نے جو جھوٹی پیش گوئی کی تھی۔ اس کے الفاظ حسب ذیل ہیں: ’’خدا تعالیٰ نے اس عاجز کے مخالف اور منکر رشتہ داروں کے حق میں نشان کے طور پر یہ پیش گوئی ظاہر کی ہے کہ ان میں سے جو ایک شخص احمد بیگ نام کا ہے۔ اگر وہ اپنی بڑی لڑکی (محمدی بیگم) اس عاجز کو نہیں دے گا تو تین برس کے عرصہ تک بلکہ اس سے قریب فوت ہوجائے گا اور وہ جو نکاح کرے گا۔ وہ روز نکاح سے اڑھائی برس کے عرصہ میں فوت ہوگا اور آخر وہ عورت اس عاجز کی بیویوں میں داخل ہوگی۔‘‘

(اشتہار ۲۰؍ فروری ۱۸۸۶ء، تبلیغ رسالت ج۱ ص ۶۱ ، مندرجہ مجموعہ اشتہارات ج۱ ص ۱۰۲ حاشیہ)

اس پیش گوئی کی مزید تشریح کرتے ہوئے مرزا قادیانی نے کہا: ’’میری اس پیش گوئی میں نہ ایک بلکہ چھ دعوے ہیں۔ اول نکاح کے وقت تک میرا زندہ رہنا۔ دوم نکاح کے وقت تک اس لڑکی کے باپ کا یقینا زندہ رہنا۔ سوم پھر نکاح کے بعد اس لڑکی کے باپ کا جلدی سے مرنا جو تین برس تک نہیں پہنچے گا۔ چہارم اس کے خاوند کا اڑھائی سال کے عرصہ تک مرجانا۔ پنجم اس وقت

198

تک کہ میں اس سے نکاح کروں اس لڑکی کا زندہ رہنا۔ ششم پھر آخر یہ بیوہ ہونے کی تمام رسموں کو توڑ کر باوجود سخت مخالفت اس کے اقارب کے میرے نکاح میں آجانا۔‘‘

(آئینہ کمالات اسلام، خزائن ج۵ ص ۳۲۵)

اس بارے میں عربی الہام اس طرح ہے: ’’کذبوا بایتنا وکانوا بھا یستھزؤن فسیکفیکھم ﷲ ویردھا الیک لاتبدیل لکلمت ﷲ ان ربک فعال لما یرید، انت معی وانا معک عسیٰ ان یبعثک ربک مقاماً محمودا‘‘

(آئینہ کمالات اسلام، خزائن ج۵ ص۲۸۶،۲۸۷)

علاوہ ازیں (انجام آتھم ص ۳۱) اور تذکرہ میں متعدد جگہ یہ پیش گوئی مختلف الفاظ میں مذکور ہے اور ﷲ کی قدرت کہ ہر اعتبار سے مرزا قادیانی کی یہ پیشگوئی جھوٹی نکلی۔ کوئی ایک بھی دعویٰ سچا نہیں ہوا۔ محمدی بیگم کا خاوند اڑھائی سال میں تو کیا مرتا مرزا کے مرنے کے چالیس سال بعد تک زندہ رہا اور ۱۹۴۸ء میں وفات پائی اور خود محمدی بیگم بھی ۱۹۶۶ء تک زندہ رہ کر مرزا قادیانی کے کذاب اور دجال ہونے کا اعلان کرتی رہی اور ۱۹؍ نومبر ۱۹۶۶ء کو لاہور میں بحالت اسلام اس کی موت واقع ہوئی۔

خلاصہ یہ ہے کہ اس پیش گوئی کے ذریعہ ﷲتعالیٰ نے مرزا کے ذلیل و رسوا اور خائب وخاسر ہونے کا بہترین انتظام فرمادیا۔ آج کوئی بھی صاحب عقل محمدی بیگم کے واقعہ کو دیکھ کر مرزا کے جھوٹے اور اوباش ہونے کا بآسانی یقین کرسکتا ہے۔ فالحمدﷲ علی ذلک!

مرزا قادیانی کے مریدوں کا موقف

جب مرزا قادیانی ۲۶؍ مئی ۱۹۰۸ء کو لاہور میں بمرض ہیضہ آنجہانی ہوگیا اور محمدی بیگم سے نکاح نہ ہونا تھا نہ ہوا۔ تو قادیانیوں نے جواب گھڑا کہ نکاح جنت میں ہوگا۔ اس پر کہا گیا کہ محمدی بیگم مرزا پر ایمان نہ لائی تھی۔ جبکہ مرزا کا کہنا تھا کہ میرے منکر جہنم میں جائیں گے۔ تو کیا مرزا جہنم میں برأت لے کر جائے گا۔ تو اس پر مرزائیوں نے جواب تیار کیا کہ یہ پیشگوئی متشابہات میں سے ہے۔ غالباً قادیانیوں کو یہ بھی معلوم نہیں کہ پیش گوئی رب کا وہ وعدہ ہوتا ہے۔ جس کا نبی تحدّی سے اعلان کرتا ہے۔ جو ضرور پورا ہوتا ہے۔ مگر (معاذاﷲ) مرزا کا خدا بھی مرزا سے جھوٹے وعدے کرتا تھا۔

199

تضادات مرزا

ایک سچا نبی جو کچھ کہتا ہے۔ وہ وحی الٰہی کے تحت کہتا ہے۔ اس لئے اس کا کلام تضاد بیانی کے عیب سے بالکل پاک ہوتا ہے۔ تضاد بیانی خود اس بات کی دلیل ہے کہ کہنے والا جو کچھ کہہ رہا ہے۔ وہ منجانب ﷲ نہیں ہے۔ بلکہ اس کے اپنے ذہن کی اختراع اور من گھڑت ہے۔ قرآن مجید میں فرمایا گیا ہے: ’’لو کان من عند غیر ﷲ لوجدوا فیہ اختلافاً کثیراً‘‘ اس اصول کے تحت جب ہم مرزا قادیانی کے کلام کو پرکھتے ہیں۔ تو وہ مضحکہ خیز تضادات سے پر نظر آتا ہے۔ چند مثالیں درج ذیل ہیں:

۱… ’’مرزا صاحب سے سوال ہوا کہ آپ نے فتح اسلام میں دعوائے نبوت کیا ہے۔ جو اب دیا کہ نبوت کا دعویٰ نہیں۔ بلکہ محدثیت کا دعویٰ ہے۔ جو خدا تعالیٰ کے حکم سے کیا گیا ہے۔‘‘

(ازالہ اوہام حصہ اول ۴۲۱،۴۲۲، خزائن ص ۳۲۰ ج۳)

اس کے برخلاف دوسری جگہ کہتا ہے کہ: ’’اگر خدا تعالیٰ سے غیب کی خبریں پانے والا نبی کا نام نہیں رکھتا تو پھر بتلاؤ کس نام سے اس کو پکارا جائے۔ اگر کہو اس کا نام محدث رکھنا چاہئے تو میں کہتا ہوں تحدیث کے معنی کسی لغت کی کتاب میں اظہار غیب نہیں۔‘‘

(ایک غلطی کا ازالہ ص۵، خزائن ص ۲۰۹ ج۱۸)

۲… ’’ختم المرسلین کے بعد میں کسی دوسرے مدعی رسالت و نبوت کو کاذب اور کافر جانتا ہوں۔ میرا یقین ہے کہ وحی رسالت حضرت آدم صفی ﷲ سے شروع ہوئی اور حضرت محمد ﷺ پر ختم ہوگئی۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات ص ۲۳۰ ج۱)

اس کے برخلاف ملفوظات میں کہتا ہے: ’’ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم نبی اور رسول ہیں۔‘‘

(ملفوظات ص ۱۲۷ ج۱۰)

۳… ’’یہ تو سچ ہے کہ مسیح اپنے وطن گلیل میں جاکر فوت ہوگیا۔ لیکن یہ ہرگز سچ نہیں کہ وہی جسم جو دفن ہوچکا تھا۔ پھر زندہ ہوگیا۔‘‘

(ازالہ اوہام ص ۴۷۲، خزائن ص ۳۵۳ ج۳)

اس کے برخلاف ست بچن میں کہتا ہے: ’’اور حضرت مسیح اپنے ملک سے نکل گئے، اور جیسا کہ بیان کیا گیا ہے۔ کشمیر میں جاکر وفات پائی اور اب تک کشمیر میں ان کی قبر موجود ہے۔‘‘

(ست بچن حاشیہ ۱۶۴، خزائن ص ۳۰۷ ج۱۰)

200

۴… ’’میں نے صرف مثیل ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور میرا یہ بھی دعویٰ نہیں کہ صرف مثیل ہونا میرے پر ہی ختم ہوگیا۔ بلکہ میرے نزدیک ممکن ہے کہ آئندہ زمانوں میں میرے جیسے اور دس ہزار بھی مثیل مسیح آجائیں۔ ‘‘

(ازالہ اوہام ص۱۹۹، خزائن ص ۱۹۷ ج۳)

اس کے برخلاف دوسری جگہ کہتا ہے کہ: ’’اگر قرآن نے میرا نام ابن مریم نہیں رکھا تو میں جھوٹا ہوں۔‘‘

(تحفۃ الندوہ ص ۵، خزائن ص۹۸، ج۱۹)

۵… ’’اس جگہ کسی کو یہ وہم نہ گزرے کہ اس تقریر میں اپنے نفس کو حضرت مسیح پر فضیلت دی ہے۔ کیونکہ یہ ایک جزئی فضیلت ہے۔ جو غیر نبی کو نبی پر ہوسکتی ہے۔‘‘

(تریاق القلوب ص ۱۵۷، خزائن ص۴۸۱ ج۱۵)

اس کے برخلاف ایک اور جگہ لکھتا ہے کہ: ’’خدا نے اس امت میں مسیح موعود بھیجا جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے۔‘‘

(ریویو آف ریلیجنز۶ ص ۲۵۷ ج۱، مندرجہ حقیقت الوحی ص۱۴۸، خزائن ص ۱۵۲ ج۲۲ ، دافع البلاء ص ۱۳، خزائن ج ۱۸ ص۲۳۳)

تضاد بیانی کی ایک اور واضح مثال سنئے۔ مرزا قادیانی اپنی تمام تر توانائیاں اس پر صرف کرتے ہیں کہ وہ سیدنا عیسیٰ مسیح ابن مریم علیہما السلام کو فوت شدہ ثابت کریں۔ اب نہ تو کتاب و سنت کی کوئی نص ان کے پاس موجود ہے۔ نہ کوئی قابل وثوق تاریخی‘ جغرافیائی حوالہ۔ وہ ٹامک ٹوئیاں مارتے ہیں۔ کبھی انہیں کشمیر پہنچا کر وہاں ان کا فوت ہونا اور قبر میں مدفون ہونا بتاتے ہیں۔ چنانچہ ’’ستارۂ قیصریہ‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’دلائل قاطعہ سے ثابت ہوگیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر سری نگر کشمیر میں موجود ہے … آپ یہودیوں کے ملک سے بھاگ کر نصیبین کی راہ سے افغانستان میں آئے اور ایک مدت تک کوہ نعمان میں رہے اور پھر کشمیر میں آئے اور ایک سو بیس برس کی عمر پاکر سری نگر میں آپ کا انتقال ہوا اور سری نگر محلہ خان یار میں آپ کا مزار ہے۔‘‘

(ستارۂ قیصریہ ص ۱۲‘ ۱۳، خزائن ج۱۵ص۱۲۳،۱۲۴)

’’اور لطف تو یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ کی بھی بلاد شام میں قبر موجود ہے۔‘‘

(اتمام الحجۃ ص ۱۸، خزائن ج۸ص۲۹۶)

201

پھر اپنی تائید میں مولوی محمد سعید طرابلسی کا ایک عربی خط نقل کیا ہے جس کا ترجمہ مرزا قادیانی نے کیا ہے۔ اس میں لکھتے ہیں: ’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر بلدۂ قدس میں موجود ہے۔‘‘

(اتمام الحجۃ ص ۲۰حاشیہ خزائن ج۸ص۲۹۹)

مرزا قادیانی کی یہ تضاد بیانی اس بات کی واضح دلیل ہے کہ وہ جو کچھ کہتے ہیں منجانب ﷲ نہیں ہوتا۔

سوال۹… مرزائی ارشاد الٰہی: ’’لو تقول علینا بعض الاقاویل لاخذنا منہ بالیمین ثم لقطعنا منہ الوتین‘‘ کو کس ضمن میں پیش کرتے ہیں؟ اس کا اصولی طور پر رد کریں؟ نیز مرزائی ’’ھلا شققت قلبہ‘‘ کو کس ذیل میں پیش کرتے ہیں؟ اسی طرح حضرت ابو محذورہؓ سے اذان کہلانے کا کیا مطلب بیان کرتے ہیں؟ مؤقف واضح طور پر بیان کرکے اس کا شافی رد تحریر کریں؟

جواب…

قادیانی کہتے ہیں کہ: ’’لو تقول علینا بعض الاقاویل لاخذنا منہ بالیمین ثم لقطعنا منہ الوتین (الحاقہ: ۴۴،۴۶)‘‘

اس آیت کریمہ میں ﷲتعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ: ’’اگر محمد مصطفی(ﷺ) مجھ پر کوئی جھوٹا افتراء باندھتے تو میں ان کی شہ رگ کو کاٹ کر ہلاک کردیتا۔‘‘

اس سے ثابت ہوا کہ اگر مرزا قادیانی نے خدا تعالیٰ پر جھوٹا افتراء کیا تھا تو اسے ۲۳سال کے اندر اندر ہلاک کردیا جاتا اور اس کی شہ رگ کاٹ دی جاتی۔ کیونکہ نبی کریم ﷺ نبوت کے بعد ۲۳ سال تک بقید حیات رہے، اور یہ بات آپ کی اس زندگی سے متعلق ہے۔

جواب۱… اس آیت کا سیاق و سباق دیکھیں تو یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ یہ ﷲتعالیٰ کا ارشاد کسی قاعدہ کلیہ کے طور پر نہیں ہے۔ بلکہ یہ قضیہ شخصیہ ہے اور صرف حضوراکرم ﷺ کے متعلق یہ بات کہی جارہی ہے اور یہ بھی اس بناء پر کہ بائبل میں موجود تھا کہ :’’اگر آنے والا پیغمبر اپنی طرف سے کوئی جھوٹا الہام یا نبوت کا دعویٰ کرے تو وہ جلد مارا جائے گا۔‘‘ چنانچہ درج ذیل عبارت ملاحظہ ہو: ’’میں ان کے لئے ان ہی کے بھائیوں میں سے تجھ سا … ایک نبی برپا کروں گا اور اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا اور جو کچھ میں اسے حکم دوں گا (مراد محمد عربی ﷺ ہیں) وہ سب ان سے (یعنی اپنے امتیوں سے) کہے گا اور ایسا ہوگا کہ جو کوئی میری باتوں کو جنہیں وہ میرا

202

نام لے کر کہے گا نہ سنے گا تو میں اس کا حساب اس سے لوں گا۔ لیکن جو نبی گستاخ بن کر کوئی ایسی بات میرے نام سے کہے جس کے کہنے کا میں نے اس کو حکم نہیں دیا۔ یا اور معبودوں کے نام سے کچھ کہے تو وہ نبی قتل کیا جائے گا۔‘‘

(انجیل مقدس عہد نامہ قدیم ص ۱۸۴ کتاب استثناء باب ۱۸ آیت ۱۸ تا ۲۱)

جواب۲… بالفرض اگر یہ قانون عام بھی تسلیم کرلیا جائے تو یہ قانون سچے نبیوں کے متعلق ہوگا۔ نہ کہ جھوٹے نبیوں کے متعلق۔ کیونکہ جھوٹے نبیوں کو مہلت ملنے سے یہ قانون مانع نہیں۔ فرعون ونمرود،بہاء ﷲ ایرانی وغیرہ کو خدائی اور نبوت کے دعویدار ہونے کے باوجود کافی مہلت ملی۔

جواب۳… مرزا قادیانی اپنی اس دلیل کی روشنی میں خود جھوٹا ثابت ہوتا ہے۔ مرزا نے نبوت کا دعویٰ ۱۹۰۱ء میں کیا۔ اس کا دعویٰ نبوت اگرچہ محل نزاع ہے۔ کیونکہ اس کے ماننے والے دو جماعتوں میں منقسم ہیں۔ لاہوری گروپ اس کو نبی تسلیم نہیں کرتا۔ گو اس کے خیال میں اس کا اپنا دعویٰ نبوت ہر شک سے بالا ہے۔اس کے برعکس قادیانی گروپ اس کو نبی تسلیم کرتا ہے۔ اور نبی تسلیم کرنے والے گروپ کی تحقیق یہ ہے کہ مرزا قادیانی کی موت ۱۹۰۸ء میں ہوگئی تھی۔ لہٰذا یہ بات ثابت ہوگئی کہ مرزا قادیانی ۲۳ سال پورے کرنے سے پہلے ہی ہیضہ کی موت سے مرکر اپنی اس دلیل کو جھوٹا کر گیا۔

ھلا شققت قلبہ کا جواب

’’نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حضرت اسامہؓ حاضر ہوئے اور عرض کی کہ جنگ میں فلاں کافر سے میرا سامنا ہوا۔ جب وہ میری تلوار کی زد میں آیا تو اس نے کلمہ پڑھ لیا۔ اس کے باوجود میں نے اس کو قتل کردیا۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایاکہ: ’’میں تیرے اس فعل سے بری ہوں۔‘‘ انہوں نے عرض کی کہ یارسول ﷲ ﷺ!اس نے تو قتل سے بچنے کے لئے ڈر کے مارے کلمہ پڑھا تھا۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا کہ:ھلا شققت قلبہ (کیا تم نے اس کا دل چیر کر دیکھ لیا تھا)‘‘

قادیانی اس سے یہ استدلال کرتے ہیں کہ اگر کوئی شخص ظاہری طور پر کلمہ پڑھ لے تو اس کے کلمہ کا اعتبار کیا جائے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ایسا شخص جس کے تفصیلی حالات معلوم نہ

203

ہوں۔ اگر اس کی کوئی ایسی بات ملتی ہو جو کفر کی طرف مشعر ہو تو اس کے معاملہ تکفیر میں احتیاط برتی جائے گی۔ چنانچہ اگر کوئی خفیف سے خفیف ایسا احتمال نکلتا ہو جس کی وجہ سے وہ کفر سے بچ سکتا ہو تو اس احتمال کو اختیار کرتے ہوئے اسے کافر نہ کہا جائے گا۔ لیکن قادیانیوں کا اس روایت سے استدلال پکڑنا غلط ہے۔ اس لئے کہ ان کے کفریہ عقائد سینکڑوں تحریرات میں بعنوانات مختلفہ والفاظ واضحہ موجود ہیں۔ پھر یہ شخص خود کفریہ معنی مراد لیتا ہے۔ اس کے اپنے کلام میں کفر کی تصریحات موجود ہیں۔ اس لئے باجماع فقہاء امت اس پر کفر کا فتویٰ صادر کیا جائے گا۔

حضرت ابو محذورہؓ کی اذان کا جواب

حضرت ابومحذورہؓ ابھی نوعمر تھے اور انہوں نے ابھی تک اسلام قبول نہیں کیا تھا۔ یہ کھیل رہے تھے کہ حضرت بلالؓ نے اذان دینی شروع کی تو انہوں نے بھی نقل اتارنی شروع کردی۔ اس پر آنحضرت ﷺ نے انہیں بلایا اور ان سے اذان کے کلمات کہلوائے۔ اشھد ان محمد رسول ﷲ پر جب وہ پہنچے تو چونکے۔ آپ ﷺ نے تلقین کی تو انہوں نے یہ کلمات بھی کہہ دیئے۔ ساتھ ہی آپ ﷺ نے ان کے سینہ پر اپنا ہاتھ مبارک پھیرا۔ ان کے سر پر ہاتھ پھیرا اور ان کے حق میں دعائے خیر فرمائی۔ جس کے نتیجہ میں رسول ﷲ ﷺ کی محبت ان کے رگ وریشہ میں سرایت کرگئی اور وہ صدق دل سے مسلمان ہوگئے۔ قادیانی اس سے یہ استدلال کرتے ہیں کہ ابومحذورہؓ نے آنحضرت ﷺ کے سامنے غیر مسلم ہونے کی حالت میں اذان کہی۔ چلو ہم قادیانی غیر مسلم ہی سہی۔ مگر ہمیںاذان دینے کی تو اجازت دی جائے۔

جواب… اذان مسلمانوں کا شعار ہے۔ غیر مسلم کو اس مسلمانوں کے شعار کے اختیار کرنے کی قطعاً اجازت نہیں۔ غیر مسلم بھی اگر اسلامی شعائر کو استعمال کریں تو پھر اسلام بازیچہ اطفال بن جائے گا۔ اسلام کی تاریخ میں کبھی نماز کے بلانے کے لئے ایک بار بھی کسی غیرمسلم نے اذان نہیں کہی۔ جس دن حضرت ابومحذورہؓ نے حضرت بلالؓ کی نقل اتاری تھی۔ اس دن بھی نماز کے لئے اذان حضرت بلالؓ نے دی تھی۔ تبھی تو وہ ان کی نقل اتار رہے تھے۔

سوال۱۰… ثابت کریں کہ مرزا قادیانی بداخلاق، بدزبان اور بدکردار انسان تھا۔ اپنے مخالفین کو گالیاں دیتا تھا۔ انبیاء کرام علیہم السلام کی خصوصاً حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کرتا تھا۔ کم از کم بیس سطروں پر مضمون تحریر کریں۔

204

جواب…

مرزا غلام احمد قادیانی کی پیدائش ۱۸۳۹ء یا ۱۸۴۰ء میں مرزا غلام مرتضیٰ کے گھر واقع بستی قادیان تحصیل بٹالہ ضلع گورداسپور (انڈیا) میں ہوئی۔ انگریز نے مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنے اور جہاد کو حرام قرار دلوانے کے لئے اپنی اغراض مذمومہ اور خواہشات فاسدہ کے لئے اسے پروان چڑھایا۔ یہ اتنا بداخلاق شخص تھا کہ معمولی معمولی باتوں پر بدزبانی پر اتر آتا تھا۔ اپنے مخالفین کو ولدالحرام، کنجری کی اولاد ، کافر، جہنمی کہنا اس کا صبح شام کا مشغلہ تھا۔ جیسا کہ اس نے خود اپنی کتابوں میں لکھا ہے۔ ملاحظہ فرمایئے:

الف… ’’اور (جو) ہماری فتح کا قائل نہیں ہوگا تو صاف سمجھا جاوے گا کہ اس کو ولدالحرام بننے کا شوق ہے اور حلال زادہ نہیں۔‘‘

(انوار الاسلام ص ۳۰، خزائن ص ۳۱ ج ۹)

ب… ’’جو میرے مخالف تھے ان کا نام عیسائی اور یہودی اور مشرک رکھا گیا۔‘‘

(نزول المسیح حاشیہ ص ۴، خزائن ص ۳۸۲ ج ۱۸)

ج… ’’میری ان کتابوں کو ہر مسلمان محبت کی نظر سے دیکھتا ہے اور ان کے معارف سے فائدہ اٹھاتا ہے اور میری دعوت کی تصدیق کرتا ہے اور اسے قبول کرتا ہے۔ مگر رنڈیوں (بدکار عورتوں) کی اولاد نے میری تصدیق نہیں کی۔‘‘

(آئینہ کمالات اسلام ص ۵۴۷، ۵۴۸، خزائن ص ۵۴۷، ۵۴۸ ج۵)

د… ’’دشمن ہمارے بیابانوں کے خنزیر ہوگئے اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ گئی ہیں۔‘‘

(نجم الہدیٰ ص ۵۳، خزائن ص ۵۳ ج ۱۴)

ہ… ’’اور مجھے بشارت دی ہے کہ جس نے تجھے شناخت کرنے کے بعد تیری دشمنی اور تیری مخالفت اختیار کی۔ وہ جہنمی ہے۔‘‘

(تذکرہ ص ۱۶۸ طبع دوم)

و… ’’خدا تعالیٰ نے میرے پر ظاہر کیا ہے کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا۔ وہ مسلمان نہیں۔‘‘

(تذکرہ ص ۶۰۰ طبع دوم)

اس کی بدزبانی صرف عامۃ المسلمین تک کو شامل نہیں۔ بلکہ وہ انبیاء کرام علیہم السلام کے متعلق بھی بدزبانی کیا کرتا تھا۔ جیسا کہ ملاحظہ ہو:

ز… ’’میں اس بات کا خود قائل ہوں کہ دنیا میں کوئی ایسا نبی نہیں آیا جس نے کبھی اجتہاد میں غلطی نہیں کی ۔ ‘‘

(تتمہ حقیقت الوحی ص ۱۳۵، خزائن ص ۵۷۳ ج۲۲)

205

ح… ’’خدا تعالیٰ میرے لئے اس کثرت سے نشان دکھلارہا ہے کہ اگر نوح کے زمانہ میں وہ نشان دکھلائے جاتے تو وہ لوگ غرق نہ ہوتے۔ ‘‘

(تتمہ حقیقت الوحی ص۱۳۷، خزائن ص ۵۷۵ ج۲۲)

ط… ’’پس اس امت کا یوسف یعنی یہ عاجز (مرزا غلام احمد قادیانی) اسرائیلی یوسف سے بڑھ کر ہے۔ کیونکہ یہ عاجز قید کی دعا کرکے بھی قید سے بچایا گیا۔ مگر یوسف بن یعقوب قید میں ڈالا گیا۔ ‘‘

(براہین احمدیہ ج۵ ص ۹۹، خزائن ص ۹۹ ج ۲۱)

سیدنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق تو اس کی بدزبانی اور بدکلامی نے دنیا بھر کے بدزبانوں کا ریکارڈ توڑ دیا۔ ملاحظہ ہو:

ی… ’’ آپ (عیسیٰ علیہ السلام) کو گالیاں دینے اور بدزبانی کی اکثر عادت تھی۔ ادنیٰ ادنیٰ بات میں غصہ آجاتا تھا۔ اپنے نفس کو جذبات سے روک نہیں سکتے تھے۔ مگر میرے نزدیک آپ کی یہ حرکات جائے افسوس نہیں۔ کیونکہ آپ تو گالیاں دیتے تھے اور یہودی ہاتھ سے کسر نکال لیا کرتے تھے ۔ یہ بھی یاد رہے کہ آپ (عیسیٰ علیہ السلام) کو کسی قدر جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی۔ ‘‘

(حاشیہ انجام آتھم ص ۵ خزائن ص ۲۸۹ ج۱۱)

ک… ’’ نہایت شرم کی بات یہ ہے کہ آپ (عیسیٰ علیہ السلام) نے پہاڑی تعلیم کو جو انجیل کا مغز کہلاتی ہے۔ یہودیوں کی کتاب ’’طالمود‘‘ سے چراکر لکھا ہے اور پھر ایسا ظاہر کیا ہے کہ گویا یہ میری تعلیم ہے۔ ‘‘

(حاشیہ انجام آتھم ص ۶ خزائن ص ۲۹۰ ج ۱۱)

ل… ’’ آپ (عیسیٰ علیہ السلام) کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے۔ تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زناکار اور کسبی عورتیں تھیں۔ جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔ مگر شاید یہ بھی خدائی کے لئے ایک شرط ہوگی۔ آپ کا کنجریوں سے میلان اور صحبت بھی شاید اسی وجہ سے ہو کہ جدی مناسبت درمیان ہے۔ ورنہ کوئی پرہیز گار انسان ایک جوان کنجری کو یہ موقع نہیں دے سکتا کہ وہ اس کے سر پر اپنے ناپاک ہاتھ لگاوے اور زناکاری کی کمائی کا پلید عطر اس کے سر پر ملے اور اپنے بالوں کو اس کے پیروںپر ملے۔ سمجھنے والے سمجھ لیں کہ ایسا انسان کس چلن کا آدمی ہوسکتا ہے۔ ‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ص ۷‘ خزائن ص ۲۹۱ ج ۱۱)

م… ’’ یورپ کے لوگوں کو جس قدر شراب نے نقصان پہنچایا ہے۔ اس کا سبب

206

تو یہ تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام شراب پیا کرتے تھے۔ شاید کسی بیماری کی وجہ سے یا پرانی عادت کی وجہ سے۔ ‘‘

(کشتی نوح حاشیہ ص ۷۳ خزائن ص ۷۱ ج۱۹)

ن… ’’ خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے اور اس نے اس دوسرے مسیح کا نام غلام احمد رکھا۔ ‘‘

(دافع البلاء ص ۱۳ خزائن ص ۲۳۳ ج ۱۸)

س …

ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو

اس سے بہتر غلام احمد ہے

(دافع البلا ص ۲۰ ‘خزائن ص ۲۴۰ ج ۱۸)

دیکھئے یہ بدزبانی وہ شخص کررہا ہے جو خود شراب کا رسیا تھا (تفصیل کے لئے دیکھئے ’’خطوط امام بنام غلام‘‘ ص ۵) اور غیر محرم عورتوں سے مٹھیاں دبواتا تھا۔

(سیرت المہدی ج۳ ص ۲۱۰ روایت نمبر۷۸۰)

دوائیوں میں افیون کھاتا تھا۔ جیسا کہ خود اس کے اپنے نام نہاد الہامی نسخہ زد جام عشق (قوت باہ) کے نسخہ کے اجزاء میں افیون بھی شامل ہے۔

(تذکرہ ص ۷۶۱ طبع سوم)

اسی طرح وہ خواب میں بھی ننگی عورتوں کے نظارے کرتا تھا۔

(تذکرہ ص ۱۹۹طبع سوم)

اسی لئے مرزا قادیانی کے پیروکاروں کے لاہوری گروپ نے جو اسے بجائے نبی کے ولی ﷲ مانتے ہیں۔ اس پر زنا کا الزام لگایا ۔

(ملاحظہ ہو الفضل قادیان ج ۲۶ نمبر ۲۰۰، مورخہ ۳۱ اگست ۱۹۳۸ء)

ایسے اخلاق و کردار کا آدمی یہ دعویٰ کرے کہ میں نبی ہوں‘ محمد رسول ﷲ ہوں‘ اس سے بڑھ کر کوئی اور ظلم ہوسکتا ہے؟۔ نہیں !ہرگز نہیں۔ امت میں سے سب سے زیادہ مرزا قادیانی کے کفر کو اگر کسی نے سمجھا ہے تو وہ حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ تھے۔ انہوں نے فرمایا تھا کہ مرزا قادیانی فرعون اور ہامان سے بھی بڑا کافر تھا۔ اس فتنہ سے بچنا اور پوری امت کو اس سے بچانا ہماری ذمہ داری ہے۔ ﷲتعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عنایت فرمائیں۔ آمین!

برحمتک یا ارحم الراحمین والحمدﷲ اولاً وآخرا!

207

ضمیمہ آئینہ قادیانیت!

(مولانا مفتی محمدانور اوکاڑوی زید مجدھم)

نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم۰ اما بعد!

حضور اقدسa نے اپنے بعد بہت سے جھوٹے مدعیان نبوت کی پیشین گوئی مختلف احادیث میں بیان فرمائی تھی۔ حضور اقدسa کے زمانہ سے لے کر ماضی قریب تک بہت سے جھوٹے نبی پیدا ہوئے۔ ان میں سے اکثر تو اپنے متبعین کے ساتھ ایسے نابود ہوئے کہ سوائے تاریخ کے اوراق کے ان کا وجود نہیں۔ البتہ ماضی قریب میں کچھ ایسے مدعیان نبوت پیدا ہوئے کہ ان کے دنیاسے جانے کے بعد مرزاغلام احمد قادیانی کے متبعین کی طرح ان کے متبعین کا وجود بھی بعض بعض علاقوں میں پایا جاتا ہے۔ جس طرح قادیانی کے متبعین سے مسلمانوں کے دین وایمان کو بچانا ضروری ہے۔ اسی طرح ان جھوٹے مدعیان نبوت کی نشان دہی بھی اکابر نے ضروری سمجھی۔ تاکہ ان سے بھی ایمان کی حفاظت کی جاسکے۔

ان میں سے ایک ذکری فرقہ ہے۔ جس کے بانی محمد مہدی اٹکی ہیں جو ۹۷۷ھ کو پیدا ہوئے۔ اس نے پہلے مہدی موعود ہونے کا دعویٰ کیا۔ بعد میں اجرائے وحی کا بھی دعویٰ کیا اور اس کی غَیبت ۱۰۲۹ھ کو ہوئی۔ یہ فرقہ ملا محمد اٹکی کو خاتم النبیین سمجھتا ہے۔ یہ فرقہ قوم بلوچ میں زیادہ پھیلا۔ یہ لوگ تربت (بلوچستان) میں کوہ مراد کا حج کرتے ہیں۔

دوسرا فرقہ بابی ہے جو علی محمد باب کی طرف منسوب ہے۔ علی محمد ۲۰؍اکتوبر ۱۸۱۹ء کو شیراز کے ایک تاجر خاندان میں پیدا ہوا اور مختلف مراحل سے گزر کر ۹؍جولائی ۱۸۵۰ء کو مرزاتقی خان وزیراعظم ایران کے حکم سے قتل کردیا گیا۔

تیسرا فرقہ بہائیہ ہے جو حسین علی عرف بہاء ﷲ کی طرف منسوب ہے۔ اس کی پیدائش ۱۸۱۷ء میں ایران میں ہوئی اور وفات ۸؍مئی ۱۸۹۲ء کو ہوئی۔ اس نے علی محمد باب کی پیش گوئی کے

208

مطابق اپنے من یظہرہ ﷲ ہونے کا دعویٰ کیا۔ ۱۸۵۳ء میں اس نے اپنے اوپر وحی کا دعویٰ کیا اور پھر دس سال بعد ۱۸۶۳ء میں اپنی ماموریت کا کھلم کھلا اعلان کردیا۔

بہاء ﷲ کی وفات کے بعد اس کے بڑے لڑکے عباس آفندی نے اس تحریک کی باگ ڈور سنبھالی۔ اس نے ۲۸؍نومبر۱۹۲۱ء کو وفات پائی تو اس کا نواسہ شوقی آفندی اس کا جانشین بنا۔ اس نے ۴؍نومبر ۱۹۵۷ء کو لندن میں وفات پائی تو اس کے بعد ۲۷ آدمی ایادی امر ﷲ، کے نام سے جماعت چلانے لگے۔ پھر انہوں نے ’’بیت العدل‘‘ کے نام سے ۹ آدمیوں کی کمیٹی تیار کی، جو یکے بعد دیگرے ۹ آدمیوں کی تعداد کے ساتھ جماعت کا نظم ونسق چلاتے آرہے ہیں۔ اختصار کے ساتھ ان فرقوں کے بعض نظریات قلم بند کئے گئے ہیں۔ وفاق العربیہ کے امیر محترم حضرت مولانا سلیم ﷲ خان صاحب مدظلہ کے حکم پر ’’آئینہ قادیانیت‘‘ کے ضمیمہ کے لئے فقیر کی درخواست پر یہ مضمون حضرت مولانا مفتی محمدانور، رئیس شعبہ دعوت وارشاد خیرالمدارس ملتان نے تحریر فرمایا۔ جو پیش خدمت ہے۔

ﷲتعالیٰ تمام مسلمانوں کے ایمان کی حفاظت فرمائیں اور خود بھی ان سے بچیں اور دوسرے مسلمانوں کو بھی بچانے کی کوشش کریں۔ یرحم ﷲ عبداً قال آمینا!

فقیر! ﷲ وسایا … ۱۰؍ربیع الثانی۱۴۳۰ھ

عقائد ذکری فرقہ

۱… ’’اﷲ الہنا، محمد نبینا القرآن والمہدی امامنا امنا وصدقنا‘‘

(ذکر الٰہی ص۷)

۲…’’نور پاک نور محمد مہدی رسول ﷲ صادق الوعد الامین‘‘

(ذکر الٰہی ص۹)

۳…’’قدسیوں کا رفیق ہے۔ میٹھے باغ کا بلبل ہے۔ قرآن کی تاویل کرنے والا ہے۔ آخری نبی ہے اماموں کا سید ہے اور خاتم النبی ہے۔ نور محمد مہدی اوّل آخر الزمان علیہ الصلوٰۃ والسلام۔‘‘

(ذکر الٰہی ص۳۸،۳۹)

209

۴… ذکریوں کا کلمہ: ’’لا الہ الا ﷲ نور پاک نور محمد مہدی رسول ﷲ‘‘ لیکن سفر نامہ مہدی ص۵ میں اس کلمہ میں نور پاک کا لفظ نہیں لکھا۔

(بینات ص۱۳)

۵… ’’لا الہ الا ﷲ الملک الحق المبین نور پاک نور محمد مہدی رسول ﷲ صادق الوعد الامین‘‘

(ذکر وحدت ص۱۶،۱۷، نور تجلی ص۱۱۸،۱۲۲، ذکر الٰہی ص۱۰،۱۱)

۶…’’لا الہ الا ﷲ نور محمد مہدی رسول ﷲ صادق الوعد الامین‘‘

(ذکر توحید ص۴۷)

۷… ذکری محمد اٹکی کو رسول آخر الزمان خاتم المرسلین مانتے ہیں۔ ’’ونعت درشان حضرت سید المرسلین نور محمد مہدی اوّل الآخرین ہادی برگزین رب العالمین‘‘

(سفر نامہ مہدی ص۳)

۸… تاویل قرآن: ’’تاویل قرآن، نبی تمام، سید امام، مرسل خاتم رفیع الاکرام نور محمد مہدی اوّل آخر الزمان علیہ الصلوٰۃ والسلام۔‘‘

(ذکر الٰہی ص۳۹، مطبوعہ ۱۹۵۶ء)

۹…

’’توئی خاتم جملہ پیغمبراں، توئی تاجدار ہمہ سروراں، تو بودی پیغمبر بحق الیقین کہ آدم نہاں بود درماء وطین۔‘‘

(نور تجلی ص۶۹،۷۷)

۱۰…

’’امام رسل پیشوائے سبل، ہمہ ہمچو برگ است اوہمچو گل۔‘‘

(نور ہدایت ص۷۹، نور تجلی ص۷۶)

۱۱…’’جس نے ﷲتعالیٰ کی خدائی پر اور میری پیغمبری پر ایمان لایا وہ مجھ سے ہے اور جو الٹے منہ پھرا اورشک کیا وہ کافر ہوگیا۔‘‘

(بینات ص۱۷، از سیر جہانی قلمی نسخہ ص۳۸)

۱۲…قلمی نسخہ سیر جہانی ص۱۶۸ میں تو یہاں تک لکھا ہے کہ: ’’جو شخص تمام دوسرے پیغمبروں پر ایمان لا کر محمد اٹکی کی پیغمبری کا منکر ہو یا ذکری دین کو غلط سمجھے وہ کافر شمار ہوگا اور دوزخ سے خلاصی نہ پاسکے گا۔‘‘

(بینات ص۱۸)

210

۱۳…’’محمد مہدی تمام پیغمبروں سے افضل ہیں۔ تمام انبیاء کرام پر لازم ہے کہ وہ محمد اٹکی پر ایمان لائیں۔‘‘

(موسیٰ نامہ ص۱۰۰،۱۰۱، بینات ص۲۵،۲۶)

۱۴…’’اور ہم کپڑے بالکل پاک پہنتے ہیں اور پلید سے ذکر الٰہی کرنا گناہ سمجھتے ہیں اور جو آدمی ہمارے مذہب میں چالیس دن ذکر الٰہی نہ کرے اس کو کافر یا ناکارہ سمجھتے ہیں۔‘‘

(میں ذکری ہوں ص۳۱)

۱۵…چنانچہ کوئی ایک ذکری بھی نماز نہیں پڑھتا ہے۔ اگر ان میں کوئی ایک بار بھی نماز پڑھے تو اس کو بددین اور مرتد شمار کرتے ہیں۔

(ذکری مذہب کے عقائد واعمال ص۵۴)

۱۶…ذکری نماز کی طرح ماہ رمضان کے روزہ کے بھی منکر ہیں۔

(ایضاً ص۵۵)

۱۷…ذکری زکوٰۃ کا بھی چالیسواں حصہ کی بجائے زکوٰۃ عشر لیا کرتے ہیں۔

(ایضاً ص۵۵)

۱۸…ذکری لوگوں کے نزدیک حج بیت ﷲ منسوخ ہے۔

(ایضاً ص۵۶)

۱۹…ذکریوں کے نزدیک ﷲ کے فرمان حتیٰ یاتی امر ﷲ میں امر ﷲ سے مراد مہدی ہیں۔

(نور تجلی ص۵، بحوالہ ذکری مذہب کے عقائد واعمال ص۴۹)

عقائد بابی فرقہ

۱…’’اے محبوب ذکر اعظم کی مہربانی کی قدر کرو کہ وہ ﷲتعالیٰ کی طرف سے آئے ہیں۔‘‘

(سوانح علی محمد باب ص۹)

۲…’’حضرت باب نے نماز، روزہ، شادی، طلاق اور میراث کے بارے میں ان احکام کو قلمزد کیا جو حضرت محمد ﷺ پر نازل ہوئے تھے… آپ نے ایسے احکام نازل کئے جو اپنے مختصر عہد کے لئے ضروری تھے۔ آپ بیان کرتے ہیں کہ جب من یظہرہ ﷲ کا ظہور ہوگا تو وہ مجاز ہوںگے کہ ان کے احکام(شریعت محمدی) کو برقرار رکھیں یا کسی حکم کو یا سب احکام کو تبدیل کردیں۔‘‘

(ص۹۳،۹۴)

۳…کتاب البیان میں حضرت باب نے صاف اور واضح طور پر حضرت محمد ﷺ کے وہ احکام قلمزد کردئیے تھے جو نماز، روزہ، شادی یا طلاق کے بارے میں تھے اور جن پر مسلمان ایک ہزار سال سے عمل کر رہے تھے۔

(سوانح علی محمدباب ص۱۰۶)

211

۴…حضرت باب نے نئے دور کا آغاز کیا ہے جو حضرت محمد ﷺ کے دور سے قطعاً جدا ہے۔

(ص۱۰۶)

۵…حضرت باب ایک نیا اور مستقل دین لائے ہیں۔ کانفرنس کے دوران ہر دن حضرت بہاء ﷲ آیات نازل کرتے جو شرکاء کے سامنے پڑھی جاتیں اور ہر دن اسلام کے کسی ایک قانون کی منسوخی کا اعلان کیا جاتا۔

(ص۱۰۶)

۶…جناب طاہرہ نے یہ ثابت کیا کہ حضرت باب کا امر، اسلام سے الگ ہے۔

(ص۱۰۷)

۷…حضرت باب ایک نئے ظہور (نئے دین) کے بانی ہیں اور اسی روحانی سلسلہ کے ایک فرد ہیں۔ جس میں حضرت محمد ﷺ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام یکے بعد دیگرے شامل ہیں۔

(سوانح حضرت بہاء ﷲ ص۱۳)

۸…حضرت سید باب کے پیغام کو جھٹلانا ایسے ہوگا جیسے اس پیغام کو جھٹلانا جو پیغام حضرت محمد ﷺ، حضرت مسیح علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلام اور دیگر سارے پیغمبروں نے نازل کیا ہے۔

(سوانح حضرت باب ص۱۲۳)

۹…ہم اعلان کرتے ہیں کہ ہم دوشبانہ روز میں اتنی تعداد میں آیات الٰہی نازل کرنے کے قابل ہیں جو پورے قرآن کے برابر ہوں۔

(ص۱۱۱)

۱۰…آپ(باب) کے منصب دو طرح کے تھے۔ اوّلاً! شارح رحمانی کہ آپ نے خدا کی قدرت وعلم اور مشیت وارادہ سے شریعت نازل فرمائی اور اس کے ذریعے سنن سابقہ کو منسوخ کردیا۔ ثانیاً! مبشر من یظہرہﷲ آپ نے اپنے صحائف میں باربار بشارات دیں کہ آپ کی بعثت کے نو سال بعد اس ہستی کا ظہور ہوگا۔ جسے خدا ظاہر فرمائے گا۔ چنانچہ حضرت بہاء ﷲ کا ظہور ۱۸۵۲ء میں ہوا۔

(سوانح حضرت باب ص۱۴۱)

212

عقائد بہائی فرقہ

اجرائے وحی کا دعویٰ اور ختم نبوت کا انکار

۱… ’’حضرت بہاء ﷲ کا دعویٰ ظہور موعود ہے نہ کہ دعویٰ نبوت یا نیابت تو واضح عقلی دلیل سے یہ بات سمجھ میں آسکتی ہے کہ مظہر امراﷲ شریعت سابقہ کو جاری کرنے کے لئے مجبور نہیں ہے۔ کیونکہ یہ مرتبہ، مرتبہ شارعیت ہے اور یہ مرتبہ سلطنت مطلقہ الٰہیہ کہلاتا ہے۔‘‘

(الفرائدص۱۷۱)

۲…’’مہدی کا ظہور اسلام کے خاتمہ اور شریعت جدید کی ابتداء کا سبب ہوگا۔‘‘

(ایضاً ص۱۸۶)

۳…’’یہ خیال بالکل باطل ہے کہ اسلامی شریعت کے بعد کوئی اور شریعت نہیں آسکتی اور مظاہر امر خدا وندی کا دروازہ جو امت کی ہدایت ونجات وخوشحالی کا سب سے بڑا دروازہ ہے جو ہمیشہ کے لئے بند ہے۔‘‘

(الفرائد ص۱۸۷)

۴…’’اور نہ لفظ خاتم النبیین سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اب کوئی شریعت جدید اسلام کے بعد نہیں آئے گی اور نہ کلمہ لانبی بعدی سے اس بات کا ثبوت ہے کہ حضرت رسول ﷲ ﷺ کے بعد کوئی صاحب الامرظاہر نہیں ہوگا۔‘‘

(الفرائدص۲۰۵)

۵…’’قائم موعود کا اصل منصب ربوبیت وشارعیت ہے نہ کہ کسی شریعت کے ماتحت ہونا۔‘‘

(الفرائدص۲۵۰)

۶…’’حضرت بہاء ﷲ نے ۲۱اپریل ۱۸۶۳ء کو اپنی بعثت کا عظیم الشان اعلان کیا۔ اس ظہور اعظم سے دوبارہ شور قیامت مچ گیا۔‘‘

(ذکر ایام حضرت بہاء ﷲص۵۴)

213

۷…’’اڈریانوپل عکا سے بادشاہوں کے نام خطوط میں آپ نے اپنی روحانی ماموریت کا اعلان فرمایا۔ جب حضرت بہاء ﷲ ارض مقدس میں اپنے قید خانہ میں تشریف لائے تو صاحبان ہوش نے محسوس کرلیا کہ وہ بشارات جو خداوند عالم نے اپنے پیغمبروں کی زبانی دویاتین ہزار برس پہلے دی تھیں اب پھر ظاہر ہوئیں ہیں اور خدا کے وعدے سچے تھے۔ کیونکہ کچھ پیغمبروں پر خداوند عالم نے وحی فرمائی تھی اور خوشخبری دی تھی کہ رب الافواج کا ارض مقدس میں ظہور ہوگا۔ یہ سب وعدے پورے ہوگئے۔‘‘

(سوانح حضرت بہاء ﷲص۵۸)

۸…’’پیغمبروں کو بھیجنا خدا کی وہ سنت ہے جو جاری تھی اور خدا کی سنت جاری رہتی ہے۔ لہٰذا پیغمبروں کا آنا سنت ﷲ کے مطابق نہ صرف ممکن بلکہ ضروری ہے۔‘‘

(ختم نبوت کی حقیقت ص۵)

۹…’’پیغمبروں کا بھیجنا خدا کا سب سے بڑا فضل وکرم ہے۔ خدا کے فضل وکرم کے دروازے ہمیشہ کھلے رہے اور کھلے رہیں گے۔‘‘

(ختم نبوت کی حقیقت ص۵)

۱۰…’’خدا نے کسی کتاب میں اور قرآن میں کہیں نہیں فرمایا کہ یہ کتاب اور شریعت آخری ہے اور اس پیغمبر کے بعد کوئی پیغمبر نہیں آئے گا۔ یہ باتیں امتوں اور لوگوں نے خود بنائی ہیں۔‘‘

(ختم نبوت کی حقیقت ص۱۳)

۱۱…’’قرآن مجید میں مستقل رسولوں کی آمد کا دروازہ کھلا ہوا ہے کہ رسول آتے رہیں گے۔ نیا ذکر الٰہی یعنی کتاب وپیغمبر ضرور آئیں گے۔ حدیثوں میں فرمایا ہے کہ آنے والا موعود امرجدید اور شرع جدید لے کر آئے گا۔ مسیح موعود جہاد اور جزیہ کو ختم کردے گا۔ یہ کام ایک صاحب اختیار پیغمبر ہی کرسکتا ہے۔‘‘

(ختم نبوت کی حقیقت ص۱۳)

214

۱۲…’’اگر ختم نبوت کی حقیقت یہ ہوتی کہ آنحضور ﷺ کے بعد کوئی پیغمبر صاحب شریعت نہیں آسکتا تو ضرور تھا کہ شریعت قرآن اپنی اصل حالت پر رہتی اور امت اس پر کامیابی سے چلتی، مگر واقع ایسا نہیں۔ بلکہ سابقہ امتوں کی مانند امت محمدیہ اور گزشتہ شریعتوں کی مانند قرآنی شریعت، وقت کا ساتھ نہیں دے رہی ہے۔ روز بروز مسلمان شریعت اسلام سے بیگانہ ہوتے جارہے ہیں اور احکام شریعت مضمحل ہورہے ہیں۔ یہ دست قدرت کا عمل کافی شہادت ہے کہ اب نئے دور میں نئی شریعت اور نئی روح زندگی کی ضرورت ہے۔‘‘

(ختم نبوت کی حقیقت ص۱۸)

۱۳…’’حضرت بہاء ﷲ تمام انبیاء کے موعود ہیں۔ انبیاء علیہ السلام اس لئے نبی کہلاتے ہیں کہ وہ الیوم الموعود کی خبردیتے ہیں۔ الیوم الموعود حضرت بہاء ﷲ کے ظہور کا زمانہ ہے۔‘‘

(ختم نبوت کی حقیقت ص۲۷)

۱۴…’’کسی گذشتہ پیغمبر کے ماتحت نہیں ہوگا۔ بلکہ مستقل صاحب امروشریعت، ایک عظیم الشان دور جدید کا بانی ہے۔ ایک نیا نظام عالم قائم کرنے والا ہے۔ نئے آسمان وزمین بنائے گا جن میں راست بازی بسے گی۔‘‘

(ختم نبوت کی حقیقت ص۳۰)

۱۵…’’تورات، انجیل، قرآن میں یہ بات کہاں اور کس آیت میں لکھی ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام یا عیسیٰ علیہ السلام یا محمد ﷺ کے زمانے میں نوع انسان اتنی ترقی کرگئی تھی کہ اسے کامل شریعت دی گئی۔ جب خدا اور رسول یہ بات نہیں فرماتے کہ یہودی وعیسائی اورمسلمان اپنی طرف سے کیوں بات بناتے ہیں۔‘‘

(ختم نبوت کی حقیقت ص۸)

۱۶…’’موجودہ زمانے میں جس نے حضرت بہاء ﷲ کی پیروی کی اور آپ کی شریعت پر عمل کیا اس نے مومنوں کی راہ کی پیروی کی اور جو اس سے منحرف ہوا وہ حق سے منحرف ہوا اور آگ میں پڑا۔‘‘

(التبیان والبرھان حصہ دوم ص۱۱)

215

۱۷…’’خدانے کسی شریعت کو ہمیشہ کے لئے نہیں بنایا اور اگر کوئی شریعت ہمیشہ رہنے والی ہوتی تو آدم یا نوح کی شریعت ہوتی۔ جبکہ شریعتیں بدلتی رہیں اور یہ تبدیلی شرائع کا سلسلہ آدم علیہ السلام سے محمد ﷺ تک جاری رہا ہے تو آئندہ کیوں نہ جاری رہے گا۔ کیا وجہ ہے کہ پہلی شریعتوں میں تبدیلی ہوتی رہی اور شریعت محمدیہ لاتبدیل ہوگئی۔ شریعت کا بدلنا قانون الٰہی ہے۔‘‘

(التبیان والبرھان حصہ اول ص۱۹)

۱۸…’’حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ قولوا خاتم النبیین ولاتقولوا لانبی بعدہ اس کا مقصد یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد متصل نبی نہیں۔‘‘

(التبیان والبرھان حصہ اول ص۶۸)

۱۹…’’رسالت ہمیشہ جاری رہے گی جب تک نسل انسانی ہے رسول آتے رہیں گے۔‘‘

(ایضاً ص۷۹)

۲۰…’’قریب کی زندگی یعنی حضرت محمد ﷺ کے دور کے مومنوں سے مرتد بھی ہوئے۔ لیکن آخرت یعنی حضرت بہاء ﷲ کے دور کے مومن مرتد نہ ہوئے۔ بلکہ اپنے ایمان میں ثابت قدم رہے۔‘‘

(التبیان والبرھان حصہ دوم ص۱۰۴)

۲۱…’’(سورج کا مغرب سے نکلنا) سورج سے آفتاب رسالت مراد ہے اور مغرب سے امت محمدیہ جس میں آفتاب رسالت غروب ہوا یعنی رفیق اعلیٰ سے جاملا۔ پس مغرب سے سورج کے نکلنے کے معنی یہ ہیں کہ امت محمدیہ کے اندر سے آفتاب رسالت دوبارہ طلوع کرے گا۔‘‘

(التبیان والبرھان حصہ دوم ص۱۳۲)

۲۲…’’جب پہلی بعثت حضرت محمد ﷺ کی رسالت ہوئی تو لازماً دوسری بعثت دوسری رسالت ہوئی جو حضرت بہاء ﷲ کی رسالت ہے۔‘‘

(التبیان والبرھان حصہ دوم ص۱۷۱)

۲۳…’’چنانچہ مقررہ وقت پر حضرت بہاء ﷲ پر کتاب ﷲ نازل ہوئی اور اس کے ذریعے وراثت کتاب امت محمدیہ سے امت بہائیہ کو منتقل ہوگئی اور خدا کا وعدا پورا ہوا۔‘‘

(التبیان والبرھان حصہ دوم ص۲۵۱،۲۵۲)

۲۴…’’حضرت بہاء ﷲ کا ظہور اپنے سے پہلے تمام ادیان کی نظام شریعت کو بلاشرط منسوخ کرتا ہے۔‘‘

(ذکرایام حضرت بہاء ﷲص۲۲۲)

٭…………٭

216