قادیانی شبہات کے جوابات

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

نام کتاب: قادیانی شبہات کے جوابات (مکمل)
مرتب: حضرت مولانا ﷲ وسایا صاحب مدظلہ
تصحیح وتخریج (جلد دوم) : حضرت مولانا شاہ عالم گورکھپوری صاحب
تصحیح وتخریج (جلد دوم) : حضرت مولانا غلام رسول دین پوری صاحب
تصحیح وتخریج (جلد دوم): حضرت مولانا محمد رضوان عزیز صاحب
صفحات : ۶۸۸
قیمت : روپے
مطبع : ناصر زین پریس لاہور
طبع اوّل : جنوری ۲۰۱۷ء
ناشر : عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان
Ph: 061-4783486

اجمالی فہرست

۱… دیباچہ جدید ایڈیشن حضرت مولانا ﷲ وسایا مدظلہ ۳
۲… قادیانیت شبہات کے جوابات (جلد اوّل) حضرت مولانا ﷲ وسایا مدظلہ ۵
۳… قادیانیت شبہات کے جوابات (جلد دوم) حضرت مولانا ﷲ وسایا مدظلہ ۱۴۵
۴… قادیانیت شبہات کے جوابات (جلد سوم) حضرت مولانا ﷲ وسایا مدظلہ ۴۴۹
3

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

دیباچہ جدید ایڈیشن

قادیانی شبہات کے جوابات جلد اوّل (ختم نبوت) رجب ۱۴۲۰ھ

قادیانی شبہات کے جوابات جلد دوم (حیات عیسیٰ علیہ السلام) جمادی الاوّل ۱۴۲۵ھ

قادیانی شبہات کے جوابات جلد سوم (کذب مرزاقادیانی) جمادی الثانی ۱۴۳۲ھ

میں شائع ہوئیں۔ تینوں جلدیں سالانہ ختم نبوت کورس چناب نگر کے نصاب میں شامل ہیں۔ تینوں جلدیں وقفہ، وقفہ سے شائع ہوئیں۔ اس لئے علیحدہ علیحدہ شائع ہوتی رہیں۔ تینوں کو ایک ساتھ ایک جلد میں شائع کرتے تو صفحات اتنے بڑھ جاتے کہ کتاب کو سنبھالنا دشوار ہو جاتا۔ لیکن علیحدہ علیحدہ شائع کرنے میں دشواری یہ پیش آئی کہ کبھی کوئی جلد شارٹ، کبھی کوئی۔ نیز یہ کہ رفقاء کرام کا خیال ہوا کہ اس کی لفظی اغلاط پر بھی نظر ڈالی جائے۔ چنانچہ نظرثانی کا کام حضرت مولانا غلام رسول صاحب دین پوری اور حضرت مولانا محمد رضوان عزیز صاحب نے انجام دیا اور دوستوں کی رائے پر فیصلہ بھی یہ ہوا کہ ان تینوں کو ایک جلد میں شائع کیا جائے۔ البتہ سائز بڑا کر دیا جائے تاکہ صفحات کی تعداد بھی زیادہ نہ بڑھنے پائے اور علیحدہ علیحدہ اشاعت کی دشواری سے بھی بچ جائیں گے۔ چنانچہ اب یہ جدید ایڈیشن تینوں یکجا جلدوں پر مشتمل ہے۔ حق تعالیٰ اسے اپنی رحمت سے شرف قبولیت سے سرفراز فرمائیں۔ آمین!

محتاج دعا: فقیر ﷲ وسایا ملتان

۲۲؍ربیع الثانی ۱۴۳۸ھ، مطابق ۲۳ ؍فروری ۲۰۱۷ء

4

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

5

ختم نبوت

 

 

 

جلد اوّل

6

بسم اللہ الرحمن الرحیم

فہرست مضامین

عقیدہ ختم نبوت اور قرآن مجید کا اسلوب بیان

  1. Page ۱۲ Page ۱۳ Page ۱۴ Page ۱۶ Page ۱۷ Page ۱۸ Page ۱۹ Page ۱۹ Page ۱۹ Page ۲۰ Page ۲۰ Page ۲۱ Page ۲۱ Page ۲۱ Page ۲۲ Page ۲۲ Page ۲۲ Page ۲۴ Page ۲۵ Page ۲۵ Page ۲۶ Page ۳۰ Page ۳۱ Page ۳۲ Page ۳۳

    ختم نبوت اور احادیثِ نبویہ متواترہ

    Page ۳۴ Page ۳۵ Page ۳۵ Page ۳۶ Page ۳۶ Page ۳۷ Page ۳۸ Page ۳۸ Page ۳۹ Page ۴۰ Page ۴۱ Page ۴۲ Page ۴۳ Page ۴۵
7
  1. قادیانی شبہات اور ان کے جوابات

    Page ۴۶ Page ۴۸ Page ۴۹ Page ۵۰

    قرآنی آیات میں قادیانی تاویلات وتحریفات کے جوابات

    Page ۵۱ Page ۵۱ Page ۵۱ Page ۵۱ Page ۵۲ Page ۵۵ Page ۵۸ Page ۵۹ Page ۵۹ Page ۶۰ Page ۶۰ Page ۶۱ Page ۶۱ Page ۶۲ Page ۶۴ Page ۶۴ Page ۶۴ Page ۶۵ Page ۶۵ Page ۶۷ Page ۶۷ Page ۶۷ Page ۶۸ Page ۶۹ Page ۷۰ Page ۷۳ Page ۷۴ Page ۷۵ Page ۷۵ Page ۷۶ Page ۷۶ Page ۷۶ Page ۷۸ Page ۷۸ Page ۷۸ Page ۷۸ Page ۸۱ Page ۸۱
8
  1. Page ۸۲ Page ۸۲ Page ۸۳ Page ۸۳ Page ۸۳ Page ۸۳ Page ۸۴ Page ۸۴ Page ۸۴ Page ۸۴ Page ۸۶ Page ۸۶ Page ۸۶ Page ۸۶ Page ۸۷ Page ۸۷ Page ۸۸ Page ۸۸ Page ۹۰ Page ۹۰ Page ۹۰ Page ۹۰ Page ۹۱ Page ۹۱ Page ۹۳ Page ۹۳ Page ۹۶ Page ۹۶ Page ۹۹ Page ۹۹ Page ۱۰۱ Page ۱۰۱ Page ۱۰۱ Page ۱۰۱ Page ۱۰۲ Page ۱۰۲ Page ۱۰۳ Page ۱۰۳ Page ۱۰۴ Page ۱۰۴

    احادیث میں قادیانی تاویلات وتحریفات کے جوابات

    Page ۱۰۵ Page ۱۰۵ Page ۱۰۹ Page ۱۰۹
9
  1. Page ۱۱۲ Page ۱۱۲ Page ۱۱۲ Page ۱۱۲ Page ۱۱۳ Page ۱۱۳ Page ۱۱۳ Page ۱۱۳ Page ۱۱۴ Page ۱۱۴ Page ۱۱۴ Page ۱۱۴ Page ۱۱۶ Page ۱۱۶ Page ۱۱۶ Page ۱۱۶ Page ۱۱۷ Page ۱۱۷ Page ۱۱۷ Page ۱۱۷ Page ۱۱۸ Page ۱۱۸ Page ۱۱۸ Page ۱۱۸ Page ۱۱۹ Page ۱۱۹ Page ۱۱۹ Page ۱۱۹ Page ۱۲۰ Page ۱۲۱ Page ۱۲۱ Page ۱۲۲ Page ۱۲۲ Page ۱۲۳ Page ۱۲۳ Page ۱۲۴ Page ۱۲۴ Page ۱۲۵ Page ۱۲۵ Page ۱۲۶ Page ۱۲۷ Page ۱۲۹ Page ۱۲۹ Page ۱۳۰ Page ۱۳۱ Page ۱۳۱ Page ۱۳۲ Page ۱۳۷ Page ۱۳۸ Page ۱۴۲ Page ۱۴۳ Page ۱۴۳
10

پیش لفظ

(طبع اوّل)

مسئلہ ختم نبوت ،رفع ونزول سیدناعیسیٰ علیہ السلام اورکذب مرزا پرامت محمدیہ ﷺ کے علماء واہل قلم نے گراںقدرکتب تحریر فرمائیں۔عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے اکابر کی خواہش تھی کہ ان رشحات قلم اوربکھرے ہوئے موتیوں کی آبدارمالاتیا رکردی جائے۔اس نئی ترتیب میں جدیدوقدیم قادیانی اعتراضات کے جامع، مسکت، دندان شکن جوابات جمع کردئے جائیں۔اکابرواصاغرکی خواہش کے احترام میں یہ کام مو لانا ﷲوسایاصاحب کے سپردکیاگیا۔

کام کرنے کے لئے یہ خطوط متعین کئے گئے کہ :

الف… عقیدہ ختم نبوت پرقرآن وسنت اوراجماع امت کے دلائل ہوں۔

ب… مسیلمہ کذاب سے قادیانی کذاب تک تمام بے دین وبددین ا فر ا د وجماعتوں کے جملہ اعتراضات کے جوابات میں مناظرین اسلام نے جو کچھ ارشاد فرمایاسب کوجمع کردیاجائے۔

ج… مناظراسلام حجۃﷲعلی الارض حضرت مولانالال حسین اختر رحمۃ اللہ علیہ،فاتح قادیان استاذ المناظرین مولانا محمد حیات رحمۃ اللہ علیہ کی عمربھرکی ریاضت وفتنہ قادیانیت سے متعلق ان کی علمی محنت کو انہی کی نوٹ بکوں کی مددسے مرتب کردیاجائے۔

د… مولاناپیرمہرعلی شاہ گولڑوی رحمۃ اللہ علیہ مولاناسیدمحمدعلی مونگیری رحمۃ اللہ علیہ، مولاناسید محمد انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ، مولانا مرتضیٰ حسن چاندپوری رحمۃ اللہ علیہ، مولانا محمدشفیع رحمۃ اللہ علیہ، مولانا محمدادریس کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ، مولانا بدرعالم میرٹھی رحمۃ اللہ علیہ،مولانا عبدالغنی بٹالوی رحمۃ اللہ علیہ، مولانا محمدچراغ رحمۃ اللہ علیہ، مولانا محمدمسلم دیوبندی رحمۃ اللہ علیہ، مولاناثناء ﷲامرتسری رحمۃ اللہ علیہ، مولانا

11

محمدابراہیم سیالکوٹی رحمۃ اللہ علیہ، مولانا عبدﷲمعمار رحمۃ اللہ علیہ نے قادیانی شبہات کے جوابات میں جو کچھ فرمایاوہ سب اس کتاب میں سمودیاجائے۔

ہ… مناظراسلام مولانالال حسین اختر رحمۃ اللہ علیہ سے دوران تعلیم مولانابشیراحمد فاضل پوری اور مولانا ﷲوسایانے جوکچھ تحریر ی طورپرمحفوظ کیا۔ اسی طرح مناظراسلام فاتح قایان مولانامحمدحیات رحمۃ اللہ علیہ، حکیم العصر مولانامحمدیوسف لدھیانوی رحمۃ اللہ علیہ، مولاناعبدالرحیم اشعر رحمۃ اللہ علیہ، مولاناخدابخش رحمۃ اللہ علیہ، مولاناجمال ﷲ رحمۃ اللہ علیہ، مولانامنظوراحمد چنیوٹی رحمۃ اللہ علیہ، مولانا محمداسماعیل اوردیگر حضرات نے جو کچھ پڑھا،مطبوعہ یامخطوطہ جوبھی میسرآئے موقعہ بموقعہ اس کتاب میں شامل کردیا جائے۔ تاکہ یہ ایک ایسی دستاویزتیار ہوجائے جسے قادیانی شبہات کے جوابات کا انسائیکلوپیڈیا قراردیاجاسکے۔

الحمدﷲ!ان خطوط پرمولاناموصوف نے کام کیا۔ پہلاحصہ جوختم نبوت کے مباحث پرمشتمل ہے آپ کی خدمت میں پیش کیا جا ر ہا ہے۔پہلے اس کا نام ختم نبوت پاکٹ بک تجویزکیاگیاتھا۔مگراحباب کی رائے یہ ہے کہ اب پاکٹ سائزکتب کارواج نہیں رہا۔ اس لئے اب اس کا نام (قادیانی شبہات کے جوابات) تجویز ہواہے۔ سالانہ رد قادیانیت کورس چناب نگر پر سبقاً یہ پڑھائی جانی ہے۔اس لئے اس کی فوری اشاعت ضروری ہے۔ورنہ بہت حد تک اس میں اصلاح کی گنجائش ہو گی۔ ہمارے مخدوم مولانا محمدیوسف صاحب لدھیانوی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کتاب کا نام تجویز فرمایا۔ ﷲتعالیٰ مجلس کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت سے نوازیں۔آمین !

طالب دعا، خاکپائے اکابرین

عزیز الرحمن جالندھری

۲۸رجب ۱۴۲۰ ھ

12

عقیدہ ختم نبوت ا ور قرآن مجیدکا اسلوب بیان

نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم:امابعد

اسلوب نمبر۱

قرآن مجیدنے جہاں خداتعالی کی توحید اورقیامت کے عقیدہ کو ہمارے ایمان کاجزو لازم ٹھہرایا۔وہاں انبیاء ورسل علیہم السلام کی نبوت ورسالت کااقرارکرنابھی ایک اہم جزو قرار دیاہے اورانبیاء کرام علیہم السلام کی نبوتوں کوماننااوران پرعقیدہ رکھناویسے ہی ا ہم اورلازمی ہے جس طرح خدا تعا لیٰ کی توحیدپر۔ لیکن قرآن مجید کواول سے آخرتک دیکھ لیجئے۔ جہاں کہیں ہم انسانوں سے نبوت کااقرارکرایاگیاہو اورجس جگہ کسی وحی کو ہمارے لئے ماننالازمی قرار دیا گیا ہو۔ وہاں صرف پہلے انبیاء کی نبوت و وحی کاہی ذکر ملتا ہے۔ آنحضرت ﷺکے بعدکسی کو نبوت حاصل ہواور پھراس پرخداکی وحی نازل ہوکہیں کسی جگہ پراس کا ذکرتک نہیں۔نہ اشارۃًنہ کنایۃً۔حالانکہ آنحضرت ﷺ کے بعداگرکسی فرد بشر کونبوت عطاکرنا مقصود ہو تاتوپہلے انبیاء کی بہ نسبت اس کاذکرزیادہ لازمی تھااوراس پرتنبیہ کرنا ازحدضروری تھا۔کیوںکہ پہلے انبیاء کرام علیہم السلام اوران کی وحییں توگزرچکیں۔ امت مرحومہ کو تو سابقہ پڑناتھا آنحضرت ﷺ کے بعدکی نبوتوں سے، مگران کانام ونشان تک نہیں۔ بلکہ ختم نبوت کوقرآن مجیدمیں کھلے لفظوں میں بیان فرماناصاف اور روشن دلیل ہے اس بات کی کہ آنحضرت ﷺ کے بعدکسی شخصیت کونبوت یارسالت عطا نہ کی جائیگی۔

مندرجہ ذیل آیات پرغورفرمایئے۔

۱- ’’یُؤمِنُوْنَ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ وَمَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ وَبِالاٰخِرَ ۃِ ھُمْ یُوْقِنُوْنَ(بقرۃ:۴)‘‘

{ایمان لائے اس پرکہ جوکچھ نازل ہوتیری طرف اورا س پرکہ جوکچھ نازل ہواتجھ سے پہلے اورآخرت کووہ یقینی جانتے ہیں۔}

۲- ’’یٰٓااَہْلَ الْکِتَابِ َہلْ تَنْقِمُوْنَ مِنَّآاِلَّآاَنْ اٰمَنَّابِاللّٰہِ وَمَآاُنْزِلَ اِلَیْنَاوَمَآاُنْزِلَ مِنْ قَبْلُ (المائدہ:۵۹)‘‘

{اے کتاب والو!کیاضدہے تم کو ہم سے مگریہی کہ ہم ایمان لائے ﷲ پر اورجونازل ہواہم پر اورجونازل ہوچکاپہلے۔}

۳- ’’لٰکِنِ الرّٰسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ مِنْہُمْ وَالْمُؤْمِنُوْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَآاُنْزِلَ اِلَیْکَ وَمَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ (نساء:۱۶۲)‘‘

{لیکن جوپختہ ہیں علم میں ان میں اورایمان والے ‘سومانتے ہیں اس کو جونازل ہواتجھ پراورجونازل ہوا تجھ سے پہلے۔}

۴- ’’یٰآاَیُّہَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْآاٰمِنُوْابِﷲِ وَرَسُوْلِہٖ وَالْکِتٰبِ الَّذِیْ نَزَّلَ عَلٰی رَسُوْلِہٖ وَالْکِتٰبِ الَّذِیْ اَنْزَلَ مِنْ قَبْلُ (نساء:۱۳۶)‘‘

13

{اے ایمان والو!یقین لاؤ ﷲ پر اور اس کے رسول پر اور اس کتاب پر جو نازل کی ہے اپنے رسول پر اور اس کتاب پر جو نازل کی گئی پہلے۔}

۵- ’’اَلَمْ تَرَاِلیَ الَّذِ یْنَ یَزْعُمُوْنَ اَنَّہُمْ اٰمَنُوْ ابِمَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ وَمَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ (نساء:۶۰)‘‘

{کیا تو نے نہ دیکھا ان کو جو دعوی کرتے ہیں کہ ایمان لا ئے ہیں اس پر جو اتارا تیری طرف اور جو اتارا تجھ سے پہلے۔}

۶- ’’ وَلَقَدْ اُوْحِیَ اِلَیْکَ وَاِلَی الَّذِ یْنَ مِنْ قَبْلِکَ لَئِنْ اَشْرَکْتَ لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُکَ وَلتَکُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ (زمر:۶۵)‘‘

{اورحکم ہوچکا ہے تجھ کواورتجھ سے اگلوں کوکہ اگرتونے شرک مان لیاتواکارت جائیں گے تیرے اعمال اورتوہوگاٹوٹے میں پڑا۔ (یعنی یقنی طور پر سخت نقصان اٹھانے والوں میں شامل ہو جاؤ گے)}

۷- ’’کَذٰلِکَ یُوْحِیْ ٓاِلَیْکَ وَاِلَی الَّذِ یْنَ مِنْ قَبْلِکَ اللّٰہُ الْعَزِیْزُالْحَکِیْمُ (شوریٰ:۳)‘‘

{اسی طرح وحی بھیجتا ہے تیری طرف اورتجھ سے پہلوں کی طرف ﷲ زبر دست حکمتوں والا ہے۔}

مندر جہ بالا تمام آیتوں میں ﷲتعالی نے ہمیں صرف اُن کتابوں ، الہاموں اور وحیوں کی اطلاع دی ہے اور ہم سے صرف اُن ہی انبیاء کو ماننے کا تقاضہ کیا ہے جو آنحضرت ﷺ سے پہلے گزر چکے ہیں اور بعد میں کسی نبی کا ذکر نہیں فرمایا۔ یہ چندآیتیں لکھی گئی ہیں۔ورنہ قرآن پاک میں اس نوعیت کی اوربہت سی آیتیں ہیں۔ مندرجہ بالا آیتوں میں’’من قبل،من قبلک‘‘کاصریح طورپرذکرتھا۔

اسلوب-۲

اب چندوہ آیتیں بھی ملاحظ فرما ئیے جن میں خدا تعالی نے ماضی کے صیغہ میں انبیاء کا ذکر فرمایا ہے۔جس سے ثابت ہو تا ہے کہ نبوت کا منصب جن لوگوں کو حاصل ہونا تھا وہ ماضی میں حاصل ہو چکا ہے اور انہی کا ماننا داخل ایمان ہے۔آنحضرت ﷺ کے بعدکوئی ایسی شخصیت نہیں جس کونبوت بخشی جائے اوراس کا ماننا ایمان کا جزو لازمی قرار دیا گیا ہو۔

۱- ’’قُوْلُوْآ اٰ مَنَّابِﷲِ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَمَآ اُنِزِلَ اِلٰیٓ اِبْرَاہِیْمَ (بقرۃ:۱۳۶)‘‘

{تم کہہ دو کہ ہم ایمان لائے ﷲ پر اور جو اتارا ہم پر اور جو اتارا ابراہیم پر۔}

۲- ’’قُلْ اٰمَنَّا بِاللّٰہِ وَمَآ اُنْزِلَ عَلَیْنَا وَمَآاُنْزِلَ عَلیٰ اِبْرَاہِیْمَ (آل عمران:۸۴)‘‘

{تو کہہ ہم ایمان لائے ﷲ پر اور جو کچھ اتارا ہم پر اور جو کچھ اتارا ابراہیم پر۔}

۳- ’’اِنَّآ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ کَمَآ اَوْحَیْنَآ اِلٰی نُوْحٍ وَّالنَّبِیِّیْنَ مِنْ بَعْدِہٖ وَاَوْحَیْنَآ اِلٰیٓ اِبْرَاہِیْمَ وَاِسْمَاعِیْلَ (نساء:۱۶۳)‘‘

{ہم نے وحی بھیجی تیری طرف جیسے وحی بھیجی نوح پر اور ان نبیوں پر جو اس کے بعد ہوئے اور وحی بھیجی

14

ابراہیم پر اور اسماعیل پر۔}

ان تینوں آیتوں میں اور ان جیسی اور آیات میں ﷲتعالیٰ نے ہمیں گزشتہ انبیاء اور ماضی کی وحی کو منوانے کا اہتمام کیا ہے۔ حضور ﷺ کے بعد کسی کی نبوت ورسالت کو کہیں بھی صراحۃً وکنایۃً ذکر نہیں فرمایا۔ جس سے صاف ثابت ہو گیا کہ جن جن حضرات کو خلعت نبوت ورسالت سے نوازنا مقدر تھا، پس وہ ہو چکے اور گزر گئے۔اب آئندہ نبوت پر مہر لگ گئی اور بعد میں نبوت کی راہ کو ہمیشہ کے لئے مسدود کر دیا گیا ہے اور اب انبیاء کے شمار میں اضافہ نہ ہوسکے گا۔

اسلوب-۳

قرآن مجید میں بیان کردہ نقشۂ نبوت حضرات ناظرین کرام ملاحظہ فرمائیں ! ﷲتعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ جب دنیا پیدا ہوئی تو اس وقت حکم خداوندی حضرت آدم صفی ﷲ کو ان الفاظ میں پہنچایا گیا۔

’’قُلْنَا اھْبِطُوْا مِنْہَا جَمِیْعاً فَاِمَّا یَاْتِیَنَّکُمْ مِنِّی ھُدیً فَمَنْ تَبِعَ ھُدَایَ فلَاَ خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلَا ہُمْ یَحْزَنُوْنَ (بقرۃ:۳۸)‘‘

{ہم نے حکم دیا نیچے جاؤ یہاں سے تم سب۔ پھر اگر تم کو پہنچے میری طرف سے کوئی ہدایت تو جو چلا میری ہدایت پر ،نہ خوف ہوگا ان پر اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔}

’’قَالَ اھْبِطَا مِنْہَا جَمِیْعاً بَعْضُکُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ فَاِمَّا یَاْتِیَنَّکُمْ مِنِّی ھُدیً فَمَنِ اتَّبَعَ ھُدَایَ فَلاَ یَضِلُّ وَلَا یَشْقیٰ (طٰہٰ:۱۲۳)‘‘

{فرمایا اترو یہاں سے دونوں اکٹھے۔ رہو ایک دوسرے کے دشمن۔پھر اگر پہنچے تم کو میری طرف سے ہدایت پھر جو چلا میری بتلائی راہ پر سو نہ وہ بہکے گا اور نہ وہ تکلیف میں پڑے گا۔}

اسی مضمون کو الفاظ کی معمولی تبدیلی کے ساتھ دوسری جگہ بھی ذکر فرمایا گیا ہے۔ جس کو آج کل مرزا ئی آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت کو جاری ثابت کرنے کے لئے بالکل بے محل پیش کردیا کرتے ہیں۔ حالانکہ اس آیت کا تعلق حضرت آدم علیہ السلام کے زمانہ سے ہے۔ ملاحظہ فرمائیے :

’’یَا بَنِیْ ٓ اٰدَمَ اِمَّا یَاْتِیَنَّکُمْ رُسُلٌ مِّنْکُمْ یَقُصُّوْنَ عَلَیْکُمْ اٰیٰتِیْ فَمَنِ اتَّقیٰ وَ ٰاَصْلَحَ فَلاَ خَوْفٌ عَلَیْہِمَ وَلَا ہُمْ یَحْزَنُوْنَ (اعراف:۳۵)‘‘

{اے آدم کی اولاد اگر آئیں تمہارے پاس رسول تم میں کے کہ سنائیں تم کو میری آیتیں۔ تو جو کوئی ڈرے اور نیکی پکڑے تو نہ خوف ہو گا ان پر اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔}

ان دونوں آیتوں میں ابتداء آفرینش کا ذکرفرمایاجارہاہے اوردونوں کاخلاصہ یہ ہے کہ ﷲتعالیٰ نے بنی اسرائیل اورنوع انسان کوحکم دیاکہ میں آدم سے نبوت کاسلسلہ شروع کرناچاہتا ہوںاورآدم کے بعدانبیاء ورُسل بکثرت ہوںگے اورلوگوں کے لئے ان کااتباع کرناضروری ہوگا۔ اس جگہ رُسُل جمع کے صیغہ سے بیان فرمایاہے اورانبیاء کی تحدید وتعیین نہیں کی۔جس سے ثابت ہواکہ آدم صفی ﷲ کے بعدکافی تعدادمیں انبیاء کرام مبعوث ہوںگے۔

بعد ازاں حضرت نوح وابراہیم علیہم الصلوٰۃ والسلام کا زمانہ آیا تواس میں بھی یہی اعلان ہوا کہ ان کے بعدبھی بکثرت انبیاء کرام ہوں گے۔

15

’’وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحاً وَّاِبْرَاہِیْمَ وَجَعَلْنَافِیْ ذُرِّیَّتِہِمَاالنُّبُوَّۃَ وَالْکِتٰبَ فَمِنْہُمْ مُھْتَدٍ۔وَکَثِیْرٌ مِّنْہُمْ فٰسِقُوْنَ۔ ثُمَّ قَفَّیْنَا عَلیٰٓ اٰثَارِہِمْ بِرُسُلِنَا (حدید:۲۶،۲۷)‘‘

{اورہم نے بھیجا نوح اورابراہیم کو اور ٹھہرا دی دونوں کی اولاد میں پیغمبری اور کتاب۔پھر کوئی ان میں راہ پرہے اور بہت ان میں نافرمان ہیں۔پھرپیچھے بھیجے ان کے قدموں پر اپنے رسول۔}

اس آیت کریمہ میں صاف فرمایا کہ حضرت نوح اور حضرت ابراہیم علیہم السلام پر نبوت کا دروازا بند نہیں ہو گیا تھا۔ بلکہ ان کے بعد بھی کافی تعداد میں انبیاء کرام تشریف لائے اور یہاں بھی ’’رسل ‘‘ کا لفظ فرمایا کوئی تحدید وتعیین نہیں فرمائی۔ علی ہذا القیاس یہی سنت ﷲ حضرت موسی ٰ علیہ السلام کے بعدبھی رہی اور بعینہٖ یہی مضمون ذیل کی آیت میں صادرہوا۔

’’وَلَقَدْ اٰ تَیْنَا مُوْسیٰ ا لْکِتٰبَ وَقَفَّیْنَا مِنْ بَعْدِہٖ بِالرُّسُلِ (بقرۃ:۸۷)‘‘

{اور بے شک دی ہم نے موسیٰ کو کتاب اور پے درپے بھیجے اس کے پیچھے رسول۔}

معلوم ہوا کہ حضرت موسی ٰ علیہ السلام کے زمانہ میں بھی نبوت کا باب بند نہیں ہوا تھا اور ان کے بعد بھی انبیاء کرام بکثرت آتے رہے جس کو ﷲتعالیٰ نے بالرسل کہہ کر بیان فرمایا ہے

یہ صرف تین آیتیں اس لئے ذکر کی گئیں تا کہ ان سے معلوم ہو جائے کہ اولو العزم انبیاء کے بعد کیا سنت خدا و ندی رہی ہے؟

لیکن جب حضرت مسیح عیسیٰ بن مریم کی باری آئی تو اس مبشر احمد نے آکر دنیا کے سامنے یہ اعلان فرمایا کہ اب میرے بعد سلسلہ نبوت اس کثرت سے اور غیر محدود نہیں جیسے پہلے انبیاء کرا م کے بعد ہو تا چلا آیا ہے۔ بلکہ میرے زمانہ میں نبوت میں ایک نوع کا انقلاب ہو گیا ہے۔ یعنی بجائے اس کے کہ’’الرُسُل‘‘ کے لفظ سے انبیاء کرام کی آمد کو بیان کیا جاتا تھا اب واحد کا لفظ ’’بِرَسُوْل ‘‘کہہ کر ارشاد کیا اور بجائے اس کے کہ حسب سابق غیر محدود اور غیر معین رسولوں کے آنے کا ذکر کیا جاتا۔طریقہ بیان کو بدل کر صرف ایک رسول کے آنے کی اطلاع دی اور اس کے اسم مبارک (احمد ﷺ)کی بھی تعیین فرمادی کہ کو ئی شقی ازلی یہ دعویٰ نہ کرنے لگے کہ اس کا مصداق میں ہوں۔(جیسے خاص کر مرزا قادیانی کی امت یہ ہانک دیا کرتی ہے کہ بشارت احمد کا مصداق مرزا قادیانی ہے )

ارشاد ہوا ہے:

’’وَاِذْقَالَ عِیْسَی بْنُ مَرْیَمَ یَا بَنِیْٓ اِسْرَآئِیْلَ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ مُّصَدِّقاً لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرَاۃِ وَمُبَشِّراً بِرَسُوْلٍ یَّاْتِیْ مِنْ بَعْدِیْ اسْمُہ‘ اَحْمَدُ (صف:۶)‘‘

{اور جب کہا مریم کے بیٹے عیسی نے اے بنی اسرائیل میں بھیجا ہوا آیا ہوں ﷲ کا تمہارے پاس۔ یقین کرنے والا اس پر جو مجھ سے آگے ہے توریت ،اور خوشخبری سنانے والا ایک رسول کی جو آئے گا میرے بعد اس کا نام ہے احمد۔}

آنے والے نبی کا نام بتاکر تعیین بھی کردی اور کہا کہ اب میرے بعد ایک اور صرف ایک رسول آئے گا۔ جس کا نام گرا می احمد ہو گا۔انبیاء سابقین نے تو اپنے بعد کے زمانہ میں بصیغۂ جمع کئی رسولوں کی آمد کی خوشخبری دی تھی۔ مگر حضرت مسیح نے صرف ایک رسول احمد ﷺ کی ہی بشارت وخوشخبری دی اور جب وہ رسول خاتم الانبیاء والمرسلین ،آخر آمد بود فخر

16

الاوّلین تشریف فرما ہوئے تو خدا نے ساری دنیا کے سامنے اعلان فرمادیا کہ اب وہ رسول کریم ﷺ جس کی طرف نگاہیں تاک رہی تھیں وہ تشریف فرما ہوگیا ہے۔ وہ خاتم النّبیین ہے اور اس کے بعد کوئی نیا شخص نبوت کے اعزاز سے نہیں نوازا جائے گا۔ بلکہ وہ نبوت کی ایسی اینٹ ہے جس کے بعد نبوت کے دروازہ کو بند فرمادیا گیا ہے۔ ارشاد ملاحظہ ہو:

’’مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِکُمْ وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ (احزاب:۴۰)‘‘

یعنی آنحضرت ﷺ، جن کی آمد کی اطلاع حضرت مسیح نے دی تھی وہ آچکے اور آکر نبوت پر مہر کردی۔ اب آپ ﷺ کے بعد دنیا میں کوئی ا یسی ہستی نہیں ہو گی جس کو نبوت کے خطاب سے نوازا جائے اور انبیاء کرام کی تعداد میں اضافہ کیا جائے۔قرآن کا یہ طریقۂ بیان نبوت کے سلسلہ کی اُن کڑیوں کا اجمالی نقشہ تھا کہ جو حضرت آدم سے شروع ہو کر حضرت محمد ﷺ پر ختم ہو گیا۔

اسلوب- ۴

ﷲتعالی نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے کہ آنحضرت ﷺ تمام انبیاء کرام کے بعد تشریف فرما ہوئے ہیں آپ کے بعد اب کسی کو نبوت سے نہ نوازا جائے گا۔

’’وَاِذْ اَخَذَ اللّٰہُ مِیْثَاقَ النَّبِیِّیْنَ لَمَآ اٰتَیْتُکُمْ مِنْ کِتٰبٍ وَّحِکْمَۃٍ ثُمَّ جاء کُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَکُمْ لَتُؤ مِنُنَّ بِہٖ وَلَتَنْصُرُنَّہ (آل عمران:۸۱ )‘‘

{اور جب لیا ﷲ نے عہد نبیوں سے کہ جو کچھ میں نے تم کو دیا کتاب اور علم پھر آوے تمہارے پاس کو ئی رسول کہ سچا بتاوے تمہارے پاس والی کتاب کو تو اس رسول پر ایمان لاؤگے اور اس کی مدد کروگے۔}

اس جگہ متعین کردیا گیا کہ آنحضرت ﷺ تمام انبیاء کے بعد آئیں گے۔ اسی آیت کو مرزا قادیانی نے نقل کرکے اس کے بعد تحریر کیا ہے کہ اس آیت میں ’’ثُمَّ جَآ ءکُمْ رَسُولٌ‘‘ سے مرا د آنحضرت ﷺ ہیں ۱؎۔

قرآن مجید کو اوّل سے آخر تک پڑھئے۔آپ کو معلوم ہوگا کہ ﷲتعالی نے سلسلۂ نبوت حضرت آدم صفی ﷲ سے شروع کیا اور آنحضرت ﷺ پر ختم کردیا خود مرزا قادیانی بھی اس کا اقراری ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں :

’’سیدنا ومولانا محمد ﷺ ختم المرسلین کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت اور رسالت کو کاذب اور کافر جانتا ہوں۔ میرا یقین ہے کہ وحی رسالت حضرت آدم صفی ﷲ سے شروع ہوئی اور جناب رسول ﷲ محمد مصطفی ﷺ پر ختم ہوگئی۔

( مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۲۳۰)

آیات مندرجہ بالا کے علاوہ ایک ایسی آیت بھی ملاحظہ ہو جو کہ آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت کی ضرورت کو ہی اٹھا دیتی ہے اور وہ ایسی فلاسفی بتاتی ہے کہ جس پر یقین کرکے ہر مومن اطمینان حاصل کرے کہ اب آئندہ کسی کو نبوت حاصل نہ ہوگی اور نہ ہی اس کی کوئی ضرورت ہے۔

’’اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلاَمَ دِیْناً (مائدہ:۳۳)‘‘

۱؎ مرزا نے لکھا ہے ’’وَاِذْ اَخَذَ ﷲ ُ مِیْثَاقَ النَّبِیِّٖنَ …اور یاد کرو جب خدا نے تمام رسولوں سے عہد لیا کہ جب میں تمہیں کتاب اور حکمت دوں گا اور پھر تمہارے پاس آخری زمانہ میں میرا رسول آئے گا جو تمہاری کتابوں کی تصدیق کرے گا۔ تمہیں اس پر ایمان لا نا ہو گا اور اس کی مدد کرنی ہو گی۔( حقیقت الوحی خزائن ج۲۲ ص۱۳۳)

17

آج میں پورا کرچکا تمہارے لئے تمہارا دین اور پورا کیا تم پر میں نے اپنا احسان، اور پسند کیا تمہارے واسطے اسلام کو دین۔

اس ارشاد خداو ندی نے بتلادیا کہ دین کے تمام محاسن پورے ہو چکے ہیں۔ اب کسی پورا کرنے والے ،مکمل کرنے والے کی ضرورت نہیں۔ ظاہر بات ہے کہ جب کسی پورا کرنے والے کی ضرورت نہیں رہی تو آج کے بعد کسی کو نبی ماننے کی بھی ضرورت نہیں رہی۔

حضرت مو لانا مفتی شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے عربی میں کتاب تحریر فرمائی تھی، ہد یۃ المہدیین اس کا اردو ترجمہ ’’ختم نبوت کامل ‘‘ کے نام سے مارکیٹ میں دستیاب ہے۔ اس میں آپ نے قرآن مجید کی ننانوے آیات سے مسئلہ ختم نبوت پر استدلال فرمایا ہے۔

عالم ارواح میں ختم نبوت کا تذکرہ

’’وَاِذْ اَخَذَ اللّٰہُ مِیْثَاقَ النَّبِیِّیْنَ لَمَّا اٰتَیْتُکُمْ مِنْ کِتٰبٍ وَحِکْمَۃٍ ثُمَّ جَآ ء کُمْ رَسُوْْلٌ مُّصَدِّقُ لِّمَا مَعَکُمْ لَتُؤ مِنُنَّ بِہٖ وَلَتَنْصُرُنَّہ (آل عمران:۸۱)‘‘

اس آیت میں ﷲ رب العزت نے عہد ومیثاق کا ذکر فرمایا ہے۔جو ازل میں تمام انبیاء علیہم السلام سے آنحضرت ﷺ کے بارے میں لیا گیا۔جو ایک جملہ شرطیہ کی صورت میں تھا کہ اگر آپ میں سے کسی کی حیات میں محمد ﷺ تشریف لائیں تو آپ اس پر ایمان لائیں اور ان کی مدد کریں۔ یہ عہد خاص اگر چہ جملہ شرطیہ کے طور پر تھا۔ تاہم اس سے تمام انبیاء علیہم السلا م پر آپ کی امتیازی جلالت شان واضح ہو گئی۔

جملہ شرطیہ کا وقوع ضابطہ میں ضروری نہیں تا ہم مختلف مواقع میں خاص شان کی جلالت واضح بھی ہوئی۔

۱… لیلۃ المعراج میں تمام انبیاء کا آپ ﷺ کی اقتدا کرنا۔

۲… یوم آخرت میں سب انبیاء علیہم السلام کا آپ ﷺ کے جھنڈا تلے جمع ہونا۔

۳… حضرت آدم علیہ السلام سے لیکر حضرت عیسیٰ ؑ تک تمام انبیاء کا اپنے اپنے ادوار میں آپ ﷺ کی آمد کی خبر دینا۔

۴… حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ابتک زندہ رکھا گیا۔وہ تشریف لا کر آپ ﷺ کی امت اور آپ کے دین کی مددفرمائیںگے وغیرہ۔

اس آیت میں ’’ثُمَّ‘‘ کا لفظ ’’النَّبِیِّیْنَ‘‘ کے بعد قابل توجہ ہے۔یعنی تمام انبیاء کے بعد سب سے اخیر میں وہ نبی تشریف لا ئیں گے۔ سبحان ﷲ ! ختم نبوت کی شان دیکھئے کہ عالم ارواح میں اس کا تذکرہ ﷲ رب العزت انبیاء علیہم السلام کی ارواح سے فرما رہے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کُنْتُ اَوّلَ النَبیینَ فِی الخَلقِ وَآخِرَہُم فِی البَعْثِ تخلیق میں سب انبیاء سے پہلے ہوں اور بعثت میں تمام انبیاء کے بعد ہوں۔

(مسند الشامین للطبرانی رقم الحدیث:۲۶۰۰، دلائل النبوۃ لابی نعیم رقم الحدیث:۳، عیون الاثر لابن سید الناس رقم الحدیث:۱۶، ابن کثیر ص ۴۸ ج۸، کنز العمال ص ۴۱۸ ج۱۱حدیث نمبر۳۲۱۲۶)

واضح رہے کہ یہ حدیث کثرت طرق اور تلقی بالقبول کی وجہ سے درجۂ صحت کو پہنچی ہوتی ہے۔ محدثین کا اصول ہے۔ ’’یحکم للحدیث بالصحۃ اذا تلقاہ الناس بالقبول وان لم یکن لہ اسناد صحیح‘‘

(تدریب الرادی ج۲ ص۳۰، صفوۃ الاصول ص۱۲۷)

18

عالم دنیا میں ختم نبوت کا تذکرہ

۱… ﷲ رب العزت نے عالم دنیا میں سب سے پہلے سیدنا حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کیا۔ حضور پاک ﷺ کی حدیث ہے۔

’’اِنّی عِنْدَ اللّٰہ مَکْتُوبٌ خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ وَاِنَّ اَدَمَ لَمُنْجَدِلٌ فِیْ طِیْنَتِہِ ‘‘

تحقیق کہ میں ﷲ کے نزدیک (لوح محفوظ میں )خاتم النّبیین اس وقت لکھا ہوا تھا جبکہ آدم علیہ السلام ابھی مٹی میں تھے۔

(مشکوٰۃ ص ۵۱۳، مسند احمد ج۴ ص ۱۲۷، کنز حدیث نمبر۰ ۳۱۹۶، اتحاف المہدہ لابن حجر عسقلانی رقم الحدیث:۱۳۱۴۴، صحیح ابن حبان رقم الحدیث:۶۵۴۰، معجم کبیر طبرانی رقم الحدیث:۱۵۰۵۲، تاریخ اوسط للبخاری رقم الحدیث:۲۷)

عالم برزخ میں ختم نبوت کا تذکرہ

ابن ابی الدنیا وابو یعلی نے حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ سے ایک طویل حدیث کے ذیل میں روایت کی ہے کہ جب فرشتے منکر نکیر قبر میں مردہ سے سوال کریںگے کہ تیرا رب کون ہے اور تیرا دین کیا ہے تو وہ کہے گا :

’’رَبِّیَ اللّٰہُ وَحدہ لا شریک لہ، الاسلامُ دینی، ومحمدٌ نبیی وَھو خاتمُ النبیینَ فیقولانِ لہ صدقتَ ‘‘

{میرا پر ور دگار وحدہ لا شریک ہے اسلام میرا دین ہے اور محمد ﷺ میرے نبی ہیں اور وہ آخری نبی ہیں۔ یہ سنکر فرشتے کہیں گے کہ تو نے سچ کہا۔} (تفسیر درمنثور ج۶ص۱۶۵)

عالم آخرت میں ختم نبوت کا تذکرہ

’’عن ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ فی حدیث الشفاعۃ فیقول لہم عیسیٰ علیہ السلام …اِذْھَبُوْا اِلٰی غَیْرِیْ اِذْھَبُوْا اِلٰی مُحَمَّدِ ﷺ فَیَأْتُوْنَ مُحَمَّدًا ﷺ فَیَقُوْلُوْن یَاْ مُحَمَّد اَنْتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ وَخَاتَمُ الْاَنْبِیَاء‘‘

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک طویل روایت میں ذکر کیا گیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔جب لوگ حضرت عیسی ٰ علیہ السلام سے قیا مت کے روز شفاعت کے لئے عرض کریں گے تو وہ کہیںگے کہ آنحضرت ﷺ کے پاس جاؤ۔لوگ میرے پاس آئیںگے اور کہیں گے۔ اے محمد( ﷺ) آپ ﷲ کے رسول اور خاتم النّبیین ہیں۔

(بخاری ج۲ ص ۶۸۵، مسلم ج۱ ص ۱۱۱)

ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرمائیںگے کہ آج محمد خاتم النّبیین تشریف فرما ہیں ان کے ہوتے ہوئے کون شفاعت میں پہل کرسکتا ہے۔بہر کیف معلوم ہوا کہ عالم آخرت میں بھی حضور ﷺ کی ختم نبوت کا تذکرہ ہو گا۔

حجۃ الوداع میں ختم نبوت کا تذکرہ

’’عن ابی امامۃ رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللّٰہ ﷺ فی خطبتہ یوم حجۃ الوداع ایہا الناس انہ لا نبی بعدی ولا امۃ بعدکم الا فاعبدوا ربکم وصلوا خمسکم وصوموا شہرکم وادوا زکوٰۃ اموالکم طیبۃ بہا انفسکم واطیعوا ولاۃ امورکم تدخلوا جنۃ ربکم‘‘

19

حضرت ابو امامۃ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے اپنے حجۃ الوداع کے خطبہ میں فرمایا اے لوگو ! نہ میرے بعد کوئی نبی ہو گا اور نہ تمہارے بعد کو ئی امت۔

(منتخب کنز العمال بر حاشیہ مسند احمد ص۳۹۱ج۲)

خبر دا ر! اپنے رب کی عبادت کر تے رہو اور پانچ نمازیں پڑھتے رہو اور رمضان کے روزے رکھتے رہو اور اپنے مالوں کی خوش دلی سے زکوٰۃ دیتے رہو اور اپنے خلفاء کی اطاعت کرتے رہو تم اپنے رب کی جنت میں داخل ہو جاؤگے۔

درود شریف اور ختم نبوت کا تذکرہ

’’عن علی رضی اللہ عنہ فی صیغ صلوۃ النبی ﷺ اللّٰہم صل علٰی محمدٍ خاتمُ النبیین وامام المرسلین۔ الحدیث۔رواہ عیاض فی الشفا ء‘‘

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے درور شریف کے صیغے جو روایت کئے گئے ہیں ان میں اللّٰہم صلی علی محمد خاتم النبیین وامام المرسلین بھی آیا ہے۔قاضی عیاض نے اپنی کتاب شفا میں اس کو نقل کیا ہے۔

شب معراج اور ختم نبوت کا تذ کرہ

’’فی حدیث طویل فی باب الاسراء عن ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ مرفوعاً قالوا یا جبرائیل من ھذا معک قال ھذا محمد رسول اللّٰہ ﷺ خاتم النبیین (الی ان قال) فقال لہ ربہ تبارک وتعالیٰ قداخذ تک حبیباً وھو مکتوب فی التوراۃ محمد حبیب الرحمٰن وارسلناک للناس کافۃ وجعلت امتک ھم الاوّلون وھم الآخرون وجعلت امتک لا تجوز لہم خطبۃ حتیٰ یشہدوا انک عبدی ورسولی وجعلتک اول النبیین خلقاً وآخرہم بعثاً واعطیتک سبعاً من المثانی ولم اعطہا نبیاً قبلک واعطیتک خواتیم سورۃ البقرۃ من کنز تحت العرش لم اعطہا قبلک وجعلتک فاتحاًوخاتماً‘‘

(رواہ البزارکذا فی مجمع الزوائدص۲۷، بحوالہ ختم نبوت کامل ص۳۲۲ حدیث نمبر:۱۱۳)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے شب اسراء کے واقعہ کو مفصل ایک طویل حدیث میں مرفوعاً بیان کیا ہے (جس کے چند جملے حسب ضرورت ذکر کئے جاتے ہیں) فرشتوں نے حضرت جبرئیل سے کہا کہ یہ تمہارے ساتھ کون ہیں ؟جبرئیل علیہ السلام نے جواب دیا کہ ﷲ کے رسول اور تمام انبیاء میں سے آخر محمد ﷺہیں (اس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا ) ﷲتعالی کی جانب سے مجھے ارشاد ہوا کہ میں نے تمہیں اپنا محبوب بنایاہے اور توریت میں بھی لکھا ہوا ہے کہ محمد ﷺ ﷲ کے محبوب ہیں اور ہم نے تمہیں تمام مخلوق کی طرف نبی بناکر بھیجاہے اور آپ کی امت کو اوّلین اور آخرین بنایا،اور آپ ﷺ کی امت کو اس طرح رکھا کہ ان کے لئے کوئی خطبہ جائز نہیں جب تک کہ وہ خالص دل سے گواہی نہ دیں کہ آپ میرے بندے اور میرے رسول ہیں،اور میں نے آپ کو باعتبار اصل خلقت کے سب سے اول اور باعتباربعثت کے سب سے آخر بنایاہے۔ الخ!

20

کلمہ شہادت کی طرح عقیدہ ختم نبوت بھی ایمان کا جز و ہے

حضرت زید بن حارث رضی اللہ عنہ اپنے ایمان لانے کا ایک طویل اور دلچسپ واقعہ بیان فرماتے ہیں۔ آخر میں فرماتے ہیں کہ جب میں آنحضرت ﷺ کی خدمت میں آکر مسلمان ہو گیا تو میرا قبیلہ مجھے تلاش کرتا ہوا آپ ﷺ کی خدمت میں پہنچا اور مجھے آپ ﷺ کے پاس دیکھ کر کہا کہ اے زید اٹھو اور ہمارے ساتھ چلو۔میں نے جواب دیا کہ رسول ﷲ ﷺ کے بدلہ میں ساری دنیا کو کچھ نہیں سمجھتا اور نہ آپ ﷺ کے سوا کسی اور کا ارادہ رکھتا ہوں۔ پھر انھوں نے آنحضرت ﷺ سے خطاب کر کے کہا کہ اے محمد ﷺ! ہم آپ کو اس لڑ کے کے بدلہ میں بہت سے اموال دینے کے لئے تیار ہیں جو آپ ﷺ چاہیں طلب فرمائیں ہم ادا کر دیں گے ( مگر اس لڑکے کو ہمارے ساتھ بھیج دیجئے ) آپ ﷺ نے فرمایا ’’اسئلکم ان تشہدوا ان لا الٰہ الا اللّٰہ وانی خاتم الانبیاء ورسلہ وارسلہ معکم ‘‘ میں تم سے صرف ایک چیز مانگتا ہو ں وہ یہ ہے کہ شہادت دو اس کی کہ ﷲ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور میں انبیاء ورسل کا ختم کرنے والا ہوں۔(اس اقرار وایمان کے بدلہ میں) زید کو تمہارے ساتھ کردوں گا۔

(مستدرک حاکم ج۳ ص ۲۱۴)

اس حدیث میں آپ ﷺ نے عقیدہ ختم نبوت کو کلمۂ شہادت کی طرح ایمان کا جزو قرار دیا ہے۔اس لئے (الاشباہ والنظائر ص۳۹۶) میں ہے:

’’اذالم یعرف الرجل ان محمدا ﷺ آخرالانبیاء فلیس بمسلم لانہ من الضروریات ‘‘

جس شخص کو یہ معلوم نہیں کہ آپ ﷺ آخری نبی ہیں تو وہ مسلمان نہیں۔ غرض ایمان کے لئے کلمہ کی طرح ختم نبوت کا اقرار بھی ضروری ہے۔

مسلمانوں کی مساجد اور ختم نبوت

رحمت دوعالم ﷺ کی امت سے قبل حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی امت عیسائی لوگ ہیں۔جن کی عبادت گاہوں گرجا گھروں میں صبح وشام تبدیلی ہوتی رہتی ہے۔گرجا گھر بناتے ہیں اور جب عبادت کے لئے مسیحی وہاں نہیں آتے تو گر جا گھر سے پلازہ، حمام ،سبزی کی دکان ،شراب خانہ جوا گھر، ناچ ڈانس غرض اس (گرجاگھر، چرچ) کو کسی بھی مصرف میں لے آئیں ان کی شریعت اُن کو اس امر سے منع نہیں کرتی۔بخلاف اہل اسلام کے کہ اگر وہ کہیں مسجد بنا دیں تو قیامت کی صبح تک اس مسجد کی جگہ کو کسی اور مصرف میں نہیں لا سکتے۔کبھی آپ نے سوچا کہ یہ کیوں ہے ؟پہلے انبیاء علیہم السلام کی شریعت محدود وقت کے لئے تھی۔اس لئے ان کی عبادت گاہیں بھی محدود وقت کے لئے ہیں اور آنحضرت ﷺ کی شریعت قیا مت تک کے لئے ہے اس لئے جہاں کہیں آپ کی امت کا کوئی فرد مسجد بنائے گا وہ اس جگہ کو کسی اور مصرف میں نہیں لاسکتا۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو پوری دنیا کی ہر مسجد ختم نبوت کی دلیل ہے۔

حفاظ کرام اور ختم نبوت

پہلی آسمانی کتابوں میں سے کوئی کتاب جوں کی توں محفوظ نہیں۔اُن کتب میں سے کسی ایک کا بھی حافظ دنیا میں موجود نہیں۔جبکہ قرآن مجید جیسے نازل ہواتھا ویسا ہی قرن اول سے اس وقت تک محفوظ اور موجود ہے اور قیامت تک محفوظ رہے گا۔دنیا کا کوئی ملک ایسا نہیں جہاں قرآن مجید کے حافظ وقاری نہ ہوں اسلامی اور غیر اسلامی ممالک میں ایک

21

ایک شہر میں ہزاروں حفاظ کا موجود ہونا کسی پر مخفی نہیں۔آپ نے توجہ فرمائی کہ یہ کیوں ہے ؟ اس کی وجہ یہی ہے کہ وہ تمام سابقہ کتب اور وحی محدو د وقت کے لئے تھیں۔ اس لئے قدرت نے ان کے محفوظ کرنے کا کوئی اہتمام نہیں فرمایا۔مگر قرآن مجید آخری وحی اور آخری کتاب ہے تو قدرت نے اس کی حفاظت کا ذمہ خود اٹھایا۔ لاکھوں علماء اور مفسرین، اُس کے ترجمہ اور معا نی کی حفاظت کے لئے ،لاکھوں قراء اس کے تلفظ اور لہجہ کی حفا ظت کے لئے ،لاکھوں حفاظ اس کے متن کی حفاظت کے لئے ﷲتعالیٰ نے ہر دور میں پیدا فرمائے اور قیامت تک یوں حفاظت قرآن کا سلسلہ چلتا رہے گا۔اس اعتبار سے دیکھا جائے تو مسجد نبوی کے اصحاب صفہ سے لیکر دنیا بھر کا ہر مدرسہ اور ہر حافظ ختم نبوت کی دلیل ہے۔

تبلیغ اسلام اور ختم نبوت

پہلے ادیان کی نشرو اشاعت ترویج وتشریح کے لئے انبیاء علیہم السلام تشریف لاتے تھے۔ تبلیغ دین کا کام انبیاء کے ذمہ تھا۔آپ ﷺ کی ذات پر ﷲ رب العزت نے نبوت کا سلسلۂ ختم فرمادیا تو اب دین کی اشاعت کا جو کام انبیاء کو کرنا تھا وہ امت کے ذمہ لگا دیا۔ختم نبوت کے صدقہ میں امت کو تبلیغ دین اور اشاعت کا کام ملا اس نقطۂ نظر سے دیکھاجائے تو دنیامیں ہر تبلیغی بھائی ختم نبوت کی دلیل ہے۔

قارئین کرام ! عالم ارواح ہو یا عالم دنیا ،عالم برزخ ہو یا عالم آخرت ، سیدنا آدم علیہ السلام کی خلقت یا آپ ﷺ کی بعثت ،معراج مبارک کا سفر ہو یا حجۃ الوداع ،مساجد ہوںیا مدارس ،تبلیغ دین ہو یا تعلیم قرآن ،غرض اوّل سے اخیر تک خاک سے افلاک تک ہر دور میں ختم نبوت کی صداقتیں اور بہاریں نظر آتی ہیں۔

آئیے! اب ختم نبوت کے مسئلہ کو سمجھنے کے لئے قرآن وسنت کے حوالہ سے اگلے سفر کو شروع کریں۔

آیت خاتم النّبیین کی تفسیر

’’مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِکُمْ وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ وَکَانَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْماً (احزاب:۴۰)‘‘

محمد ﷺباپ نہیں کسی کا تمہارے مردوں میں سے لیکن رسول ہے ﷲ کا اور مہر سب نبیوں پر اور ہے ﷲ سب چیزوں کا جاننے والا۔

شان نزول

اس آیت شریفہ کا شان نزول یہ ہے کہ آفتاب نبوت کے طلوع ہو نے سے پہلے تمام عرب جن مضحکہ خیز اور تباہ کن رسومات قبیحہ میں مبتلا تھے ان میں سے ایک رسم یہ بھی تھی کہ متبنی یعنی لے پالک بیٹے کو تمام احکام واحوال میں حقیقی اور نسبی بیٹا سمجھتے تھے اور اسی کا بیٹا کہہ کر پکارتے تھے اور مرنے کے بعد وراثت ،رشتہ ناطہ ،حلت وحرمت وغیرہ تمام احکام میں حقیقی بیٹا قرار دیتے تھے۔ جس طرح نسبی بیٹے کے مرجانے یا طلاق دینے کے بعد باپ کے لئے بیٹے کی بیوی سے نکاح حرام ہے اسی طرح وہ لے پالک کی بیوی سے بھی نکاح کو حرام قرار دیتے تھے وغیرہ وغیرہ۔

اسلام جو کہ دنیا میں اسی لئے آیا ہے کہ کفر وضلالت کی بیہودہ رسوم سے عالم کو پاک کرے۔ اس کا فرض تھا کہ وہ اس رسم کو بھی جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی فکر کرتا۔چنانچہ اس نے اس کے لئے دو طریق اختیار کئے۔ ایک قولی اور دوسرا عملی۔ایک

22

طرف تو یہ اعلان فرمادیا۔

’’وَمَا جَعَلَ اَدْعِیَآء کُمْ اَبْنَاء کُمْ ذٰلِکُمْ قَوْلُکُمْ بِاَفْوَاہِکُمْ وَاللّٰہُ یَقُوْلُ الْحَقَّ وَھُوَ یَھْدِیْ السَّبِیْلَ اُدْعُوْہُمْ لِآبَاءِ ہِمْ ھُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰہِ

(احزاب:۴،۵)‘‘

اور نہیں کیا تمہارے لیپا لکوں کو تمہارے بیٹے ،یہ تمہاری بات ہے اپنے منہ کی، اور ﷲ کہتا ہے ٹھیک بات اور وہی سمجھا تا ہے راہ ، پکارو لیپالکوں کو ان کے باپ کی طرف نسبت کر کے یہی پورا انصاف ہے ﷲ کے یہاں۔

اصل مدعا یہ تھا کہ شرکت نسب اور شرکت وراثت اور احکام حلت وحرمت وغیرہ میں اس کو بیٹا نہ سمجھا جائے۔ لیکن اس خیال کو باطل کرنے کے لئے یہ حکم دیا کہ متبنیٰ یعنی لیپالک بنانے کی رسم ہی توڑ دی جائے۔ چنانچہ اس آیت میں ارشاد ہو گیا کہ لیپالک کو اس کے باپ کے نام سے پکارو۔

نزول وحی سے پہلے آنحضرت ﷺ نے حضرت زید بن حارث رضی اللہ عنہ کو ( جو کہ آپ ﷺ کے غلا م تھے) آزاد فرماکر متبنی بیٹا بنا لیا تھا اور تمام لوگ یہاں تک کہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین بھی عرب کی قدیم رسم کے مطابق ان کو زید بن محمد کہہ کر پکارتے تھے۔

حضرت عبد ﷲ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب آیت مذکورہ نازل ہوئی اس وقت سے ہم نے اس طریق کو چھوڑ کر ان کو زید بن حارثہ کہنا شروع کر دیا۔

صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین اس آیت کے نازل ہوتے ہی اس رسم قبیح کو خیر باد کہہ چکے تھے۔ لیکن چونکہ کسی رسم و رواج کے خلاف کرنے میںاعزاء واقارب اور اپنی قوم وقبیلہ کے ہزاروں طعن وتشنیع کا نشانہ بننا پڑتا ہے جس کا تحمل ہر شخص کو دشوار ہے۔ اس لئے خداوند عالم نے چاہا کہ اس عقیدہ کو اپنے رسول ہی کے ہاتھوں عملاً توڑا جائے۔چنا نچہ حضـرت زید رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی زینب رضی اللہ عنہا کو باہمی ناچاقی کی وجہ سے طلاق دے دی توخداوند عالم نے اپنے رسول ﷺ کو حکم فرمایا کہ ان سے نکاح کر لیں۔ تاکہ اس رسم وعقیدہ کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ ہو جائے۔چنانچہ ارشاد ہوا۔

فَلَمّاَ قَضیٰ زَیْدٌ مِّنْہَا وَطَراً زَوَّجْنٰکَہَا لِکَیْلاَ یَکُوْنَ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ حَرَجٌ فِیْ اَزْوَاجِ اَدْعِیَائِہِمْ

(الاحزاب:۳۷)

پس جب کہ زید رضی اللہ عنہ زینب رضی اللہ عنہا سے طلاق دے کر فارغ ہوگئے تو ہم نے ان کانکاح آپ ﷺسے کر دیاتاکہ مسلمانوں پر اپنے لے پالک کی بیویوں کے بارے میں کو ئی تنگی واقع نہ ہو۔

آپ ﷺنے بامرخداوندی نکاح کیا۔ادھر جیسا کہ پہلے ہی خیال تھا۔تمام کفار عرب نے شور مچایاکہ لو ‘اس نبی کو دیکھو کہ اپنے بیٹے کی بیوی سے نکاح کر بیٹھے۔ان لو گوں کے طعنوں اوراعتراضات کے جواب میں آسمان سے یہ آیت نازل ہو ئی۔ ’’مَاکَانَ مُحَمَّدٌ اَبَااَحَدٍ مِنْ رِّجَالِکُمْ وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَخَا تَمَ النَّبِیِّیْنَ‘‘

جس میں یہ بتادیا گیا کہ حضرت محمد ﷺکسی بھی مرد کے نسبی باپ نہیں تو حضرت زید رضی اللہ عنہ کے بھی نسبی باپ نہ ہوئے۔لہٰذا آپ ﷺکا ان کی سابقہ بیوی سے نکاح کر لینا بلاشبہ جائزاور مستحسن ہے اور اس بارے میں آپ ﷺکو مطعون کر نا سراسر نادانی اور حماقت ہے۔

23

ان کے دعوے کے رد کے لئے اتنا کہہ دینا کافی تھا کہ آپ ﷺحضرت زید رضی اللہ عنہ کے باپ نہیں۔لیکن خداوند عالم نے ان مطاعن کو مبالغہ کے ساتھ رد کر نے اور بے اصل ثابت کر نے کے لئے اس مضمو ن کو اس طرح بیا ن فرمایا کہ یہی نہیں کہ آپ ﷺ زید رضی اللہ عنہ کے باپ نہیں۔ بلکہ آپ ﷺتوکسی بھی مردکے باپ نہیں۔پس ایک ایسی ذات پر جس کاکوئی بیٹا ہی مو جو د نہیں یہ الزام لگانا کہ اس نے اپنے بیٹے کی بیوی سے نکاح کر لیا کس قدر ظلم اور کج روی ہے۔

اور اگر کہو کہ آنحضرت ﷺکے چار فر زند ہو ئے ہیں۔قاسم اور طیب اورطاہر حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے اور ابراہیم ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا کے بطن سے۔ پھر یہ ارشاد کیسے صحیح ہو گاکہ آپ ﷺ کسی مر د کے باپ نہیں ؔؔ؟

تواس کاجو اب خود قرآن کر یم کے الفاظ میں مو جو دہے۔کیو نکہ اس میں یہ فر ما یا گیا ہے کہ آپ ﷺکسی مر د کے باپ نہیں اورآپ ﷺکے چار فرزند بچپن میں ہی وفات پا گئے تھے۔ان کو مرد کہے جانے کی نو بت ہی نہیں آئی۔آیت میں ’’رِجَالِکُمْ‘‘کی قید اسی لئے بڑھا ئی گئی ہیں۔بالجملہ اس آیت کے نزول کی غرض آنحضرت ﷺسے کفارو منافقین کے اعتراضات کااٹھانااور آپ ﷺ کی برأت اورعظمت شان بیان فرمانا ہے اوریہی آیت کاشان نزول ہے۔اس کے بعد ارشاد ہو تا ہے: ’’ولکن رسول اللّٰہ وخاتم النبیین‘‘ لیکن رسول ہے ﷲ کااورمہر سب نبیو ںپر۔

خاتم النّبیین کی قرآنی تفسیر

اب سب سے پہلے دیکھیں کہ قرآن مجید کی رو سے اس کا کیا ترجمہ وتفسیر کیا جانا چاہئے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ لفظ ’’ختم ‘‘ کا مادہ قرآن مجید میں سات مقامات پر استعمال ہوا ہے۔

۱… ’’خَتَمَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوْ بِہِمْ (بقرۃ:۷)‘‘ مہر کردی ﷲ نے ان کے دلوں پر۔

۲… ’’خَتَمَ عَلٰی قُلُوْبِکُمْ (انعام:۴۶)‘‘ اور مہر کردی تمہارے دلوں پر۔

۳… ’’خَتَمَ عَلٰی سَمْعِہٖ وَقَلْبِہٖ (الجاثیہ:۲۳)‘‘ مہر کردی اس کے کان پراوردل پر۔

۴… ’’اَلْیَوْمَ نَخَتِمُ عَلٰی اَفْوَاہِہِمْ (یٰس:۶۵)‘‘ آج ہم مہر لگا دیں گے ان کے منہ پر۔

۵… ’’فَاِنْ یَّشَأِ اللّٰہُ یَخْتِمْ عَلٰی قَلْبِکَ (الشوریٰ:۲۴ا)‘‘ سو اگر ﷲ چاہے مہر کردے تیرے دل پر۔

۶… ’’رَحِیْقٍ مَّخْتُوْمٍ (مطففین:۲۵)‘‘ مہر لگی ہوئی۔

۷… ’’خِتَامُہ‘ مِسْکٌ (مطففین:۲۶)‘‘ جس کی مہر جمتی ہے مشک پر۔

ان ساتوں مقامات کے اوّل وآخر ،سیاق وسباق کو دیکھ لیں ختم کے مادہ کا لفظ جہاں کہیں استعمال ہوا ہے ان تمام مقامات پر قدر مشترک یہ ہے کہ کسی چیز کو ایسے طور پر بند کرنا۔ اس کی ایسی بندش کرنی کہ باہر سے کوئی چیز اس میں داخل نہ ہو سکے اور اندر سے کوئی سی چیز باہر نہ نکالی جاسکے۔وہاں پر ’’ختم‘‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے مثلاً پہلی آیت کو دیکھیں کہ ﷲتعالی نے ان کافروں کے دلوں پر مہر کردی۔ کیا معنی ؟کہ کفر ان کے دلوں سے باہر نہیں نکل سکتا اور باہر سے ایمان ان کے دلوں میں داخل نہیں ہو سکتا۔ تو فرمایا: ’ختم اللّٰہ علی قلوبہم‘‘

اب زیر بحث آیت خاتم النّبیین کا اس قرآنی تفسیر کے اعتبار سے ترجمہ کریں تو اس کا معنی ہو گا کہ رحمت دوعالم ﷺ کی آمد پر حق تعالی نے انبیاء علیہم السلام کے سلسلہ پر ایسی بندش کر دی ، مہر لگا دی کہ اب کسی کو نہ اس سلسلہ سے نکالا جاسکتا ہے اور نہ کسی نئے شخص کو سلسلۂ نبوت میں داخل کیا جا سکتا ہے۔ فھو المقصود!

24

خاتم النّبیین کی نبوی تفسیر

آنحضرت ﷺ نے خاتم النّبیین کی تفسیر ’’لانبی بعدی‘‘کے ساتھ وضاحت سے فرمادی۔ آپ ﷺ کی معروف حدیث شریف جس کا آخری جملہ ہے ’’اناخاتم النّبیین لا نبی بعدی ‘‘ اس کا حوالہ اور اس کی وضاحت آگے آرہی ہے سر دست یہاں فریق مخالف کے سامنے اس کے گرو مرزا قادیانی کے ایک حوالہ پر اکتفا کیا جاتاہے۔ مرزا لکھتا ہے۔

’’قال اللّٰہ عز وجل مَا کاَنَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِنْ رِّجَالِکُمْ وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ، الا تعلمُ ان الربَ الرحیمَ المتفضل سَمّیٰ نبیَّنَا ﷺ خاتمَ الانبیاء بغیر استثناء ،وفسَّرَہ نبیُنا فی قولہ لا نبیَّ بعدی ببیان واضح للطالبین‘‘

( حمامۃ البشریٰ خزائن ج۷ ص ۲۰۰)

دیکھئے کس طرح مرزا قادیانی صراحت اور وضاحت کر رہا ہے کہ خاتم النّبیین کی تفسیر حضور ﷺ نے واضح بیان کے ساتھ لا نبی بعدی سے کر دی ہے۔ لیکن حیرت ہے کہ قادیانی گروہ نہ اپنے گروگھنٹال مرزا کا تر جمہ مانتا ہے اور نہ رحمت دوعالم ﷺ کے ترجمہ وتفسیر کو ماننے کے لئے آمادہ ہے۔ فیا للعجب !

خاتم النّبیین کی تفسیر صحابہ کرام سے

حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین اور تابعین رحمہم اللہ علیہ کا مسئلہ ختمِ نبوت کے متعلق کیا موقف تھا۔ خاتم النّبیین کا ان کے نزدیک کیا ترجمہ تھا ؟اس کے لئے مفتی محمد شفیع رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب ختم نبوت کامل کے تیسرے حصہ کا مطالعہ فرمائیں۔ یہاں پر صرف دو صحابہ کرام کی آراء مبارکہ درج کی جاتی ہیں۔امام ابو جعفر ابن جریر طبری رحمۃ اللہ علیہ اپنی عظیم الشان تفسیرص۱۱ج۲۲‘‘ میں حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ سے خاتم النّبیین کی تفسیر میں روایت فرماتے ہیں :

’’عن قتادۃَ ولٰکن رسولَ اللّٰہِ وخاتمَ النبیین اَیْ آخِرُہُمْ ‘‘

حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ کا یہ قول شیخ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے تفسیر درمنثور میں عبد الرزاق اور عبد ابن حمید اور ابن منذر اور ابن ابی حاتم سے بھی نقل کیا ہے۔

(در منثور ج۵ ص۲۰۴)

اس قول نے بھی صاف وہی بتلا دیا جو ہم اوپر قرآن عزیز اور احادیث سے نقل کرچکے ہیں کہ خاتم النّبیین کے معنی آخرالنّبیین کے ہیں۔ کیا ا س میں کہیں تشریعی، غیر تشریعی، ظلی، بروزی کی کوئی تفصیل ہے ؟نیز عبد ﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت ہی اس آیت میں ’’ولٰکن نبیاً ختم النبیین ‘‘ ہے جو خود اسی معنی کی طرف ہدایت کرتی ہے جو بیان کئے گئے اور سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے درمنثور میں بحوالہ عبد بن حمید حضرت حسن رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے۔

’’عن الحسن فی قولہ وخاتم النبیین قال خَتَمَ اللّٰہُ النبیینَ بِمُحمد ﷺ وکانَ آخرُ مَنْ بُعِث‘‘

(درمنثو ر ج۵ص۲۰۴)

حضرت حسن رضی اللہ عنہ سے آیت خاتم النّبیین کے بارے میں یہ تفسیر نقل کی گئی ہے کہ ﷲتعالی نے تمام انبیاء علیہم السلام کو محمد ﷺ پر ختم کردیا اور آپ ﷺ ان رسولوں میں سے آخری ہیں جو ﷲ کی طرف سے مبعوث ہوئے۔

25

کیا اس جیسی وضاحتوں ،صراحتوں کے بعد بھی آیت میں کسی شک یا تاویل کی گنجا ئش ہے؟ یا ظلی ،بروزی وغیرہ کی تاویل چل سکتی ہے ؟نہیں اور ہرگز نہیں۔

خاتم النّبیین اور اصحابِ لغت

خاتم النّبیین( ’’ت‘‘کی زبر یا زیر )کے معنی کے سلسلہ میں قرآن وحدیث کی تصریحات اور صحابہ وتابعین اور ائمۂ سلف کی شہادتوں سے بھی صرف ِ نظر کر لی جائے اور فیصلہ صرف لغت عرب پر رکھ دیا جائے۔ تب بھی لغت عرب یہ فیصلہ دیتا ہے کہ آیت مذکورہ کی پہلی قرأت پر دو معنی ہو سکتے ہیں۔ آخر النّبیین اور نبیوں کے ختم کر نے والے اور دوسری قرأت پر ایک معنی ہو سکتے ہیں یعنی آخر النّبیین۔

لیکن اگر حاصل معنی پر غور کیا جائے تو دونوں کا خلاصہ صرف ایک ہی نکلتا ہے اور بلحاظ مراد کہا جا سکتا ہے کہ دونوں قرأتوں پر آیت کے معنی لغۃً یہی ہیں کہ آپ ﷺ سب انبیاء کے آخر ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی پیدا نہیں ہو سکتا۔جیسا کہ تفسیر روح المعانی میں بتصریح مو جود ہے۔

’’والخَاتَمُ اسمُ آلۃ لما یُخْتَمُ بہ کا لطابع لما یُطْبَعُ بہ فمعنیٰ خاتمُ النبیین الذی ختم النبییون بہ ومآلہ آخرالنبیین‘‘

(روح المعانی ج۷ ص۵۹)

اور خاتم بالفتح اسم آلہ کا نام ہے جس سے مہر لگائی جائے۔پس خاتم النّبیین کا معنی یہ ہوں گے ’’وہ شخص جس پر انبیاء ختم کئے گئے ‘‘اور اس معنی کا نتیجہ بھی یہی آخر النّبیین ہے۔

اور علامہ احمد معروف بہ ملا جیون نے اپنی تفسیر احمدی میں اسی لفظ کے معنی کی تفسیر کرتے ہوئے لکھا ہے۔

’’والماٰل علیٰ کُلِّ توجیہ ھو المعنیَ الآخر ولذالک فسَّرَ صاحبُ المد ارک قرأۃ عاصم بالآخر و صاحبُ البیضاوی کلَّ القرأتینِ بالآخر‘‘

اور نتیجہ دونوں صورتوں میں بالفتح وبالکسرصرف آخر ہی کے معنی ہیں اور اسی لئے صاحب تفسیر مدارک نے قرأت عاصم یعنی بالفتح کی تفسیر آخر کے ساتھ کی ہے اور بیضاوی نے دونوں قرأتوں کی یہی تفسیر کی ہے۔

روح المعانی اور تفسیر احمدی کی ان عبارتوں سے یہ بات بالکل روشن ہو گئی کہ لفظ خاتم کے دو معنی آیت میں بن سکتے ہیں۔ ان کا بھی خلاصہ اور نتیجہ صرف ایک ہی ہے۔ یعنی آخرالنّبیین اور اسی بنا پر بیضاوی رحمۃ اللہ علیہ نے دونوں قرأتوں سے ترجمہ میں کوئی فرق نہیں کیا۔ بلکہ دونوں صورتوں میں آخر النّبیین تفسیر کی ہے۔

خداوند عالم ائمۂ لغت کو جزاء خیر عطا فرمائے کہ انھوں نے صرف ا سی پر بس نہیں کی کہ لفظ خاتم کے معنی کو جمع کردیا۔ بلکہ تصریحا اس آیت شریفہ کے متعلق جس پر اس وقت ہماری بحث ہے صاف طور پر بتلا دیا کہ تمام معانی میں سے جو لفظ خاتم میں لغۃً محتمل ہے اس آیت میں صرف یہی معنی ہو سکتے ہیں کہ آپ ﷺ سب انبیاء کے ختم کرنے والے اور آخری نبی ہیں۔

خدائے علیم وخبیر ہی کو معلوم ہے کہ لغت عرب پر آج تک کتنی کتابیں چھوٹی بڑی اور معتبر و غیر معتبر لکھی گئیں اور کہاں کہاں اور کس صورت میں موجود ہیں۔ ہمیں نہ ان سب کے جمع کرنے کی ضرورت ہے اور نہ یہ کسی بشر کی طاقت ہے۔ بلکہ صرف اُن چند کتابوں سے جو عرب وعجم میں مسلم الثبوت اور قابل استدلال سمجھی جاتی ہیں ’’مشتے نمونہ از خروارے‘‘

26

ہدیۂ ناظرین کر کے یہ دکھلانا چاہتے ہیں کہ لفظ خاتم بالفتح اور بالکسر کے معنی میں سے ائمۂ لغت نے آیت مذکورہ میں کون سے معنی تحریر کئے ہیں۔

۱-مفردات القرآن

یہ کتاب امام راغب اصفہانی رحمۃ اللہ علیہ کی وہ عجیب تصنیف ہے کہ اپنی نظیر نہیں رکھتی۔ خاص قرآن کے لغات کو نہایت عجیب انداز سے بیان فرما یاہے۔ شیخ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے اتقان میں فرمایا ہے کہ لغات قرآن میں اس سے بہتر کتاب آج تک تصنیف نہیں ہوئی۔ آیت مذکورہ کے متعلق اس کے الفاظ یہ ہیں۔

’’وخاتمُ النبیین لانہ خَتَمَ النُبوۃَ اَیْ تَمَّمَہا بِمَجِیئہ‘‘

(مفردات راغب ص۱۴۲)

آنحضرت ﷺ کو خاتم النّبیین اس لئے کہا جاتا ہے کہ آپ ﷺ نے نبوت کو ختم کردیا یعنی آپ ﷺ نے تشریف لا کر نبوت کو تمام فرمادیا۔

۲-المحکم لابن سیدہ

لغت عرب کی وہ معتمد کتاب ہے جس کو علا مہ سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے ان معتبرات میں شمار کیا ہے جن پر قرآن کے بارے میں اعتماد کیا جاسکے۔

’’وَخَاتَمُ کُلُّ شَیء وَخَاتِمَتُہ عاقِبَتُہ وآخِرُہ‘‘

(از:لسان العرب)

اور خاتم اور خاتمہ ہر شے کے انجام اور آخر کو کہا جاتا ہے۔

۳- تہذیب الازہری

اس کو بھی سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے معتبر لغات میں شمار کیا ہے۔اس میں لکھا ہے۔

’’والخاتِم والخاتَم من اسما ء النبی ﷺ وفی التنزیل العزیز ما کان محمد ابا احد من رجالکم ولٰکن رسول اللّٰہ وخاتم النبیین ای آخرہم‘‘

(از:لسان العرب)

خاتم بالکسر اور خاتم بالفتح دونوں نبی کریم ﷺ کے ناموں میں سے ہیں اور قرآن عزیز میں ہے کہ نہیں ہے محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ لیکن ﷲتعالی کے رسول اور خاتم النّبیین یعنی سب نبیوں میں آخری نبی ہیں۔

اس میں کس قدر صراحت کے ساتھ بتلایا گیا کہ خاتم بالکسر اور خاتم بالفتح دونوں آنحضرت ﷺکے نام ہیں اور قرآن مجید میں خاتم النّبیین سے آخر النّبیین مراد ہے۔ کیا ائمۂ لغت کی اتنی تصریحات کے بعد بھی کوئی منصف اس معنی کے سوا اور کوئی معنی تجویز کرسکتا ہے؟

۴-لسان العرب

لغت کی مقبول کتاب ، عرب وعجم میں مستند مانی جاتی ہے۔ اس کی عبارت یہ ہے:

’’خاتِمہم وخاتَمُہم آخِرُہُم عن اللحیانی ومحمد ﷺ خاتم الانبیاء علیہ وعلیہم الصلوٰۃ والسلام‘‘

27

خاتم القوم بالکسر اور خاتم القوم بالفتح کے معنی آخر القوم ہیں اور انہیں معانی پر لحیانی سے نقل کیا جاتا ہے، محمد ﷺ خاتم الانبیاء یعنی آخر الانبیاء ہیں۔

اس میں بھی بوضاحت بتلایا گیا کہ بالکسر کی قرأت پڑھی جائے یا بالفتح کی ہر صورت میں خاتم النّبیین اور خاتم الانبیاء کے معنی آخر النّبیین اور آخر الانبیاء ہوںگے۔

لسان العرب کی اس عبارت سے ایک قاعدہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ اگر چہ لفظ خاتم بالفتح اور بالکسر دونوں کے بحیثیت نفس لغت بہت سے معانی ہو سکتے ہیں لیکن جب قوم یا جماعت کی طرف اس کی اضافت کی جاتی ہے تو اس کے معنی صرف آخر اور ختم کرنے والے کے ہوتے ہیں۔غالباً اسی قاعدہ کی طرف اشارہ کرنے کے لئے لفظ خاتم کو تنہا نہیں۔ بلکہ قوم اور جماعت کی ضمیر کی طرف اضافت کے ساتھ بیان کیا ہے۔

لغت عرب کے تتبع (تلاش)کرنے سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ لفظ خاتم بالکسر یا بالفتح جب کسی قوم یا جماعت کی طرف مضاف ہو تو اس کے معنی آخر ہی کے ہوتے ہیں۔آیت مذکورہ میں بھی خاتم کی اضافت جماعت ’’نبیین ‘‘کی طرف ہے۔ اسی لئے اس کے معنی آخر النّبیین اور نبیوں کے ختم کرنے والے کے علاوہ اور کچھ نہیں ہو سکتے۔ اس قاعدہ کی تائید ’’تاج العروس شرح قاموس‘‘ سے بھی ہوتی ہے۔ وھو ھذا!

۵-تاج العروس

تاج العروس شرح قاموس ( للعلامہ الزبیدی )نے لحیانی سے نقل کیا ہے:

’’ومن اسمائِہ علیہ السلام الخاتِمُ والخَاتَمُ وَھو الذی خَتَمَ النبوۃَ بمجیئہ‘‘

اور آنحضرت ﷺ کے اسماء مبارکہ میں سے خاِتم بالکسراور خاتم بالفتح بھی ہے اور خاتم وہ شخص ہے جس نے اپنے تشریف لا نے سے نبوت کو ختم کردیا ہو۔

۶-مجمع البحار

جس میں لغات حدیث کو معتمد طریق سے جمع کیا گیا ہے۔اس کی عبارت درج ذیل ہے۔

’’ الخاتَمُ وَالخَاتِمُ من اسماِئہ ﷺ بالفتح اسمٌ ای آخرُہم وبالکسراسمُ فاعل‘‘

(مجمع البحار ص۱۵ج۲)

خاتم بالفتح اور خاتم بالکسر نبی ﷺ کے ناموں میں سے ہے۔ بالفتح اسم ہے جس کے معنی آخر کے ہیں اور بالکسر اسم فاعل کا صیغہ ہے جس کے معنی تما م کرنے والے کے ہیں۔

’’خاتم النبوۃ بکسر التاء ای فاعل الختم وھو الاتمام وبفتحہا بمعنی الطابع ای شیٌٔ یدُّلُ عَلٰی اَنہ لا نَبی بعدَہ‘‘

(مجمع البحار ج۳ ص۱۵)

خاتم النبوۃ ’’تا‘‘ کے کسرہ کیساتھ بمعنی تمام کرنے والا اور ’’ت‘‘ کے فتحہ کیساتھ بمعنی مہر یعنی وہ شے جو اس پر دلالت کرے کہ آپ ﷺکے بعد کوئی نبی نہیں۔

28

۷-قاموس میں ہے

’’والخاتم آخر القوم کا لخاتم ومنہ قولہ تعالیٰ وخاتم النبیین ای آخرہم‘‘

اور خاتم بالکسر اور بالفتح قوم میں سب سے آخر کو کہا جاتا ہے اور اسی معنی میں ہے ﷲتعالی کا ارشاد خاتم النّبیین یعنی آخر النّبیین۔

اس میں لفظ قوم بڑھا کر قاعدہ مذکورہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ نیز مسئلہ زیر بحث کا بھی نہایت وضاحت کے ساتھ فیصلہ کردیا ہے۔

۸-کلیات ابی البقاء

لغت عرب کی مشہور ومعتمد کتاب ہے اس میں مسئلہ زیر بحث کو سب سے زیادہ واضح کردیا ہے۔ (ص۳۱۹) پرملا حظہ ہو:

’’وتسمیۃ نبینا ﷺ خاتم الانبیاء لان الخاتم آخر القوم قال اللّٰہ تعالی ما کان محمدا با احد من رجالکم ولٰکن رسو ل اللّٰہ وخاتم النبیین‘‘

اور ہمارے نبی ﷺ کا نام خاتم الانبیاء اس لئے رکھا گیا کہ خاتم آخر قوم(قوم کے آخری فرد) کو کہتے ہیں۔ (اور اسی معنی میں ) خدا وند عالم نے فرمایا ہے: ’’ماکان محمدالآ یۃ‘‘

اس میں نہایت صاف کردیا گیا ہے کہ آپ ﷺ خاتم الانبیاء ہیں اور خاتم النّبیین نام رکھنے کی وجہ ہی یہ ہے کہ:’’خاتم‘‘خاتم القوم کو کہا جاتا ہے اور آپ ﷺ آخر النّبیین ہیں۔ نیز ابو البقاء نے اس کے بعد کہا ہے کہ:

’’و نفی الاعم یستلزم نفی الاخص‘‘ اور عام کی نفی خاص کی نفی کو بھی مستلزم ہے جس کی غرض یہ ہے کہ نبی عام ہے۔ تشریعی ہو یا غیر تشریعی۔ رسو ل خاص تشریعی کے لئے بولا جاتا ہے اور آیت میں جبکہ عام یعنی نبی کی نفی کردی گئی تو خاص یعنی رسو ل کی بھی نفی ہو نا لازمی ہے۔ لہٰذا معلوم ہوا کہ اس آیت سے تشریعی اور غیر تشریعی ہر قسم کے نبی کا اختتام اور آپ ﷺ کے بعد پیدا ہو نے کی نفی ثابت ہو تی ہے۔ جو لوگ آیت میں تشریعی اور غیر تشریعی کی تقسیم گھڑ تے ہیں علا مہ ابوالبقا ء نے پہلے ہی سے ان کے لئے رد تیا ر کر رکھا ہے۔

۹-صحاح العربیۃ للجوھری

جس کی شہرت محتاج بیان نہیں۔ اس کی عبارت یہ ہے:

’’والخاتِم والخاتَم بکسر التاء وفتحہا الخَیْتَامُ والخٰتام کلہ بمعنی والجمع الخواتیم وخاتمۃ الشیء آخرہ ومحمد ﷺ خاتم الانبیاء علیہم السلام‘‘

اور خاتم اورخاتم ’’ت‘‘ کے زیر اورزبر دونوں سے اور ایسے ہی ’’خیتام‘‘ اور ’’خاتام‘‘ سب کے معنی ایک ہیں اور جمع خواتیم آتی ہے اور خاتمہ کے معنی آخر کے ہیں اور اسی معنی میں محمد ﷺکو خاتم الانبیاء علیہم السلام کہا جاتا ہے۔

اس میں تصریح کردی گئی ہے کہ خاتم اور خاتم بالکسر وبالفتح دونوں کے ایک معنی ہیں۔ یعنی آخر قوم۔

29

۱۰-منتہی الارب

میں خاتم کے متعلق لکھا ہے:

’’خاتم کصاحب، مہر و انگشتری، وآخر ہر چیزے وپایانآں، وآخر قوم وخاتم بالفتح مثلہ ومحمد خاتم الانبیاء علیہم السلام ‘‘

۱۱-صراح

میں لکھا ہے:

’’خاتمۃُ الشیئِ آخِرُہ ومحمد خاتم الانبیاء بالفتح صلوات اللّٰہ علیہ وعلیہم اجمعین‘‘

خاتمہ شے کے معنی آخر شے کے ہیں اور اسی معنی میں محمد ﷺ خاتم الانبیاء ہیں۔

لغت عرب کے غیر محدود دفتر میں سے یہ ائمۂ لغت کے چند اقوال بطور نمونہ پیش کئے گئے ہیں۔ جن سے انشاء ﷲتعالی ناظرین کو یقین ہو گیا ہوگا کہ از روئے لغت عرب، آیت مذکورہ میں خاتم النّبیین کے معنی آخر النّبیین کے سوا اور کچھ نہیں ہو سکتے اور لفظ خاتم کے معنی آیت میں آخر اور ختم کرنے والے کے علاوہ ہرگز مراد نہیں بن سکتے ۱؎۔

یہاں تک بحمد ﷲ یہ بات بالکل روشن ہو چکی ہے کہ آیت مذکورہ میں خاتم بالفتح اور بالکسر کے حقیقی معنی صرف دو ہو سکتے ہیں اور اگر بالفرض مجازی معنی بھی مراد لئے جائیں تو اگر چہ اس جگہ حقیقی معنی کے درست ہو تے ہوئے۔ اس کی ضرورت نہیں، لیکن بالفرض اگر ہوں تب بھی خاتم کے معنی مہر کے ہوںگے اور اس وقت آیت کے معنی یہ ہوں گے کہ آپ ﷺ انبیاء پر مہر کرنے والے ہیں۔

خاتم النّبیین اور قادیانی جماعت

قرآن وسنت صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین اور اصحاب لغت کی لفظ خاتم النّبیین کی وضاحت کے بعد اب قادیانی جماعت کے موقف کو دیکھیں۔ان کا کہنا یہ ہے کہ خاتم النّبیین کا معنی ’’نبیوں کی مہر ‘‘ کے ہیں یعنی پہلے ﷲتعالی نبوت عنایت فرماتے تھے، اب ﷲتعالیٰ کی مرضی کا دخل نہیں بلکہ حضور ﷺ کی اتباع کا دخل ہے اب آنحضرت کی اتباع سے نبوت ملا کرے گی، جو شخص حضور ﷺ کی کامل اتباع کرے گا۔ آپ ﷺاس پر مہر لگا دیں گے۔تو وہ نبی بن جائے گا۔

(خلاصہ بیان مرزاقادیانی مندرجہ حقیقت الوحی درخزائن ص۱۰۰، درحاشیہ)

۱؎ قادیانی اس موقع پر مغالطہ دیتے ہیں کہ خاتَم ’’ت‘‘ کے فتحہ کے ساتھ کے معنی ختم کرنے والا ،نہیں ہو سکتے۔کیونکہ یہ اسم فاعل نہیں ہے۔ چونکہ فتحہ کے ساتھ ہے اس لئے اس کے معنی ’’افضل ‘‘ کے ہوں گے۔الجواب۔زبان عرب کے جملہ محققین میں سے کسی ایک نے بھی لفظ خاتم کا معنی افضل نہیں لکھا۔خواہ ’’ت‘‘ کے زبر کے ساتھ ہو یا زیر کے ساتھ چونکہ قادیانی اپنی نادانی اور ہٹ دھر می کی وجہ سے بعض عبارتوں اور روایتوں میں لفظ خاتم کا ترجمہ ’’افضل‘‘ بیان کر کے مغالطہ دیتے ہیں، اس لئے محققین زبان نے زیر بحث آیت میں بوضاحت زیراور زبر دونوں کا معنی ’’آخر ‘‘اور ختم کرنے والا ‘‘بیان کرکے، مرزائیوں کے منہ پر ایک زناٹے دار طمانچہ رسید کیا ہے۔

30

ہمارے نزدیک قادیانی جماعت کا یہ موقف سراسر فاسد، باطل، بے دینی، تحریف دجل وافترا،کذب وجعل سازی پر مبنی ہے حضر ت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب نے اس موقع پر کیا خوب چیلنج کیا، آپ فرماتے ہیں :

’’اگر مرزا صاحب اور ان کی امت کوئی صداقت رکھتے ہیں تو لغت عرب اور قواعد عربیت سے ثابت کریں کہ خاتم النّبیین کے معنی یہ ہیں کہ آپ ﷺ کی مہر سے انبیاء بنتے ہیں۔لغت عرب کے طویل وعریض دفترمیں سے زائد نہیں صرف ایک نظیر اس کی پیش کردیں،یا کسی ایک لغوی اہل عربیت کے قول میں یہ معنی دکھلادیں اور مجھے یقین ہے کہ ساری مرزائی جماعت مع اپنے نبی اور ابن نبی کے اس کی ایک نظیر کلام عرب یا اقوال لغویین میں نہ دکھا سکیں گے۔ ‘‘

(ختم نبوت کامل)

خود مرزا صاحب نے(اپنی کتاب برکات الدعا ،درروحانی خزائن ص۱۷، ۱۸، ج۶میں) جوتفسیر قرآن کے معیار میں سب سے پہلے نمبرپر قرآن مجیدکو اوردوسرے پر احادیث نبی کریم اور تیسرے پر اقوال صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کو رکھا ہے،اگر یہ صرف ہاتھی کے دکھانے کے دانت نہیں تو اور کیا ہے؟ خدارا خاتم النّبیین کی اس تفسیر کو قرآن کی کسی ایک آیت میں دکھلائیں اور اگر یہ نہیں ہو سکتا تو احادیث نبویہ کے اتنے وسیع وعریض د فتر میں ہی کسی ایک حدیث میں یہ تفسیر دکھلائیں۔پھر ہم یہ بھی نہیں کہتے کہ صحیحین کی حدیث ہو یا صحاح ستہ کی بلکہ کسی ضعیف سے ضعیف میں دکھلادو کہ نبی کریم ﷺنے خاتم النّبیین کے یہ معنی بتلا ئے ہوںکہ آپ ﷺکی مہر سے انبیاء بنتے ہیں۔

اور اگر یہ بھی نہیں ہو سکتا (اور ہرگز نہ ہو سکے گا )تو کم از کم کسی صحا بی کسی تابعی کا قول ہی پیش کرو جس میں خاتم النّبیین کے یہ معنی بیان کیے ہوں،لیکن مجھے معلوم ہے۔

نہ خنجر اٹھے گا نہ تلوار ان سے

یہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں

مرزا ئیوں کو کھلاچیلنج

اے مرزا ئی جماعت اور اس کے مقتدر ارکان! اگر تمہارے دعوے میں کوئی صداقت کی بو اور قلب میں کوئی غیرت ہے تو اپنی ایجاد کردہ تفسیر کا کوئی شاہد پیش کرو۔ اس کی کوئی نظیر پیش کرو! ۱؎ اور اگر ساری جماعت مل کر قرآن کے تیس پاروں میں سے کسی ایک آیت میں، احادیث کے غیر محصور دفتر میں سے کسی ایک حدیث میں اگرچہ ضعیف ہی ہو، صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین وتابعین کے بے شمار آثار میں سے کسی ایک قول میں یہ دکھلادے کہ خاتم النّبیین کے یہ معنی ہیں کہ آپ ﷺ کی مہر سے انبیاء بنتے ہیں تو وہ نقد انعام وصول کر سکتے ہیں۔

صلائے عام ہے یاران نکتہ داں کے لئے

لیکن میں بحول اللّٰہ وقوتہ اعلاناًَ کہہ سکتا ہوں کہ اگر مرزا صاحب اور ان کی ساری امت مل کر ایڑی چوٹی کا زور لگائیںگے، تب بھی ان میں سے کوئی ایک چیز پیش نہ کرسکیں گے۔ وَلَوْکَانَ بَعْضُھم لِبَعْضٍ ظَہیْراً‘‘ بلکہ اگر کوئی دیکھنے والی آنکھیں اور سننے والے کان رکھتا ہے توقرآن عزیز کی نصوص اور احادیث نبویہ کی تصریحات اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین اور تابعین کے صاف صاف آثار سلف صالحین اور ائمہ تفسیر کے کھلے کھلے بیانات اور لغت عرب اور قواعد عربیت کا

۱؎ یاد رکھئے مرزا کااصول ہے ’’سچ کی یہی نشانی ہے کہ اس کی کوئی نظیر بھی ہو تی ہے اور جھوٹ کی یہ نشانی ہے کہ اس کی کوئی نظیر نہیں ہوتی۔ (خزائن ج۱۷ص۹۵)لہٰذا مرزا کا من گھڑت معنی اس کے اصول کے مطابق غلط ہے تا آنکہ کوئی نظیر پیش کرے۔

31

واضح فیصلہ، سب کے سب اس تحریف کی تردید کر تے ہیں اور اعلان کرتے ہیں کہ آیت خاتم النّبیین کے وہ معنی جو مرزا ئی فرقہ نے گھڑے ہیں باطل ہیں۔

قادیانی ترجمہ کے وجوہ ابطال

نمبر۱: اوّل اس لئے کہ یہ معنی محاورات عرب کے بالکل خلاف ہیں ورنہ لازم آئے گا کہ خاتم القوم اور آخرالقوم کے بھی یہی معنی ہوں کہ اس کی مہر سے قوم بنتی ہے اور خاتم المہاجرین کے یہ معنی ہوں کہ اس کی مہر سے مہاجرین بنتے ہیں۔

نمبر۲:خود مرزا غلام احمد قادیانی نے خاتم النّبیین کا معنی کیا ہے اور ختم کرنے والا ہے نبیوں کا۔

(ازالہ ا وہا م، خزائن ج۳ ص۴۳۱)

نمبر۳: مرزا قادیانی نے اپنی تحریروں میں مختلف مقامات پر لفظ خاتم کو جمع کی طرف مضاف کیا ہے ملاحظہ فرمائیے اس کی ایک مثال۔

’’میرے ساتھ ایک لڑکی پیدا ہوئی تھی جس کا نام جنت تھا اور پہلے وہ لڑکی پیٹ میں سے نکلی تھی اور بعد اس کے میں نکلا تھااور میرے بعد میرے والدین کے گھر میں اور کوئی لڑ کی یا لڑکا نہیں ہوا اورمیں ان کے لئے خاتم الاولاد تھا ۱؎ ۔‘‘

(تریاق القلوب خ ص۴۷۹ج۱۵)

اگر خاتم الاولاد کا ترجمہ ہے کہ مرزا اپنے ماں باپ کے ہاں آخری ولد تھا مرزا کے بعد اس کے ماں باپ کے یہاں کوئی لڑکی یا لڑکا،صحیح یا بیمار، چھوٹا یا بڑا، ظلی ،بروزی کسی قسم کا پیدا نہیں ہوا توخاتم النّبیین کا بھی یہی ترجمہ ہوگا کہ رحمت دوعالم ﷺکے بعد کوئی ظلی بروزی مستقل غیر مستقل کسی قسم کا کوئی نبی نہیں بنایا جائے گا۔

اور اگر خاتم النّبیین کا معنی ہے کہ حضور ﷺکی مہر سے نبی بنیں گے تو خاتم الاولاد کا بھی یہی ترجمہ مرزا ئیوں کو کرنا ہوگا کہ مرزا کی مہر سے مرزا کے والدین کے ہاں بچے پیدا ہوں گے۔ اس صورت میں مرزا کے بعد مرزا کا باپ فارغ۔ اب مرزا صاحب مہر لگاتے جائیںگے اور مرزا صاحب کی ماں بچے جنتی چلی جائے گی۔ ہے ہمت تو کریں مرزائی یہ ترجمہ۔

الجھا ہے پاؤں یار کا زلف دراز میں

لو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا

نمبر۴: پھر قادیانی جماعت کا موقف یہ ہے کہ رحمت دوعالم ﷺسے لیکر مرزا قادیانی تک کوئی نبی نہیں بنا خود مرزا نے لکھا(حقیقت الوحی، خزائن ج۲۲ ص۴۰۶) پرہے:

’’غرض اس حصہ کثیر وحی الٰہی اور امور غیبیہ میں اس امت میں سے میں ہی ایک فرد مخصوص ہوں اور جس قدر مجھ سے پہلے اولیا ء اور ابدال اور اقطاب اس اُمت میں سے گزر چکے ہیں ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا۔ پس اِس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیاگیااوردُوسرے تمام لوگ اِس نام کے مستحق نہیں۔‘‘

۱؎ مرزائی امت کے بعض جہلا چیلنج دیا کرتے ہیں کہ ’’عربی زبان کا کوئی مستعمل محاورہ پیش کیا جائے جس میں ’’خاتم‘‘کسی جمع کے صیغے کی طرف مضاف ہوا ہواور پھر اس کے معنی بند کرنے والے کے ہوں۔انھیں چاہئے کہ مرزا کی تحریروں کے آئینہ میں اپنا منہ دیکھیں اور پہلے اپنی اصلاح کریں یا پھر اپنے جھوٹے نبی کی !لغویین ،محدثین اور مفسرین سے قطع نظرخود مرزا سے خدا ئے کارساز نے آیت اور محاورہ دونوںطور پر لفظ خاتم کااستعمال کرا دیا ہے، جس کے معنی آخر کے ہی بنتے ہیں۔فلہ الحمد

32

اس عبارت سے یہ ثابت ہوا کہ چودہ سو سال میں صرف مرزا کو ہی نبوت ملی اور پھر مرزا کے بعد قادیانیوں میں خلافت نام نہاد ہے نبوت نہیں اس لحاظ سے بقول قادیانیوں کے حضور ﷺکی مہر سے صرف مرزا ہی نبی بنا تو گویا حضور ﷺخاتم النبی ہوئے خاتم النّبیین نہ ہوئے، چنانچہ مرزا محمود نے لکھا ہے :

’’ایک بروز محمدی جمیع کمالات محمدیہ کے ساتھ آخری زمانہ کے لئے مقدر تھا سو وہ ظاہر ہوگیا ‘‘

(ضمیمہ حقیقت النبوت ص۲۶۸ )

نمبر ۵: خاتم النّبیین کے معنی اگر نبیوں کی مہر لیاجائے اور حضور ﷺ کی مہر سے نبی بننے مراد لئے جائیں تو آپ آئندہ کے نبیو ں کے لئے خاتم ہوئے سیدنا آدم علیہ السلا م سے لیکر سیدنا عیسیٰ علیہ السلام تک کے لئے آپ ﷺ خاتم النّبیین نہ ہوئے اس اعتبار سے یہ بات قرآنی منشاء کے صاف صاف خلاف ہے۔

نمبر۶: مرزا غلام احمد قادیانی نے رحمت دوعالم ﷺ کی اتباع کی تو نبی بن گیا، یہ ہے خاتم النّبیین کا قادیانی معنی۔یہ اس لحاظ سے بھی غلط ہے کہ خود مرزا قادیانی لکھتا ہے :

اب میں بموجب آیۃ کریمہ ’’واما بنعمۃ ربک فحدث‘‘ اپنی نسبت بیان کرتا ہو ں کہ خداتعالی نے مجھے اُس تیسرے درجہ میں داخل کرکے وہ نعمت بخشی ہے کہ جو میری کوشش سے نہیں بلکہ شکم مادر میں ہی مجھے عطا کی گئی ہے۔

(حقیقت الوحی، خزائن ج۲۲ ص۷۰)

لیجئے ! خاتم النّبیین کا معنی نبیوں کی مہر۔وہ لگے گی اتباع کرنے سے۔وہ صرف مرزا پر لگی۔ اس لئے آپ ﷺ خا تم النبی ہوئے۔ اب اس حوالہ میں مرزا نے کہہ دیا کہ جناب اتباع سے نہیں بلکہ شکم مادر میں مجھے یہ نعمت ملی۔ تو گویا خاتم النّبیین کی مہر سے آج تک کوئی نبی نہیں بنا تو خاتم النّبیین کا معنی نبیوں کی مہر کرنے کا کیا فائدہ ہوا ؟

قادیانیوں سے ایک سوال

ایک دفعہ مناظرہ میں فقیرنے ایک قادیانی سے سوال کیا کہ اگرآنحضرت ﷺ کی اتباع سے نبوت مل سکتی ہے توآنحضرت ﷺکی اتباع سے نجات بھی مل سکتی ہے یا نہیں؟ قادیانی نے کہا ہوسکتی ہے۔تومیں نے کہا جب آنحضرت ﷺ کی اتباع سے نجات ہوسکتی ہے توپھرمرزا کو ماننے کی کیا ضرورت ہے؟وہ چکرا گیا اور کہنے لگا نہیں ہو سکتی، تومیں نے کہا مرزا اگرحضورکی اتباع کرے تواسے نبوت مل جائے اورامت محمدیہ اگرحضورکی اتباع کرے تونجات بھی نہ ہو۔ فَبُہِتَ الَّذِیْ کَفَرَ!

ختم نبوت اور احادیث نبویہ متواترہ

آنحضرت ﷺنے متواتراحادیث میں اپنے خاتم النّبیین ہونے کا اعلان فرمایااورختم نبوت کی ایسی تشریح بھی فرمادی کہ اس کے بعدآپ ﷺ کے آخری نبی ہونے میں کسی شک وشبہ اورتاویل کی گنجائش نہیں رہی۔متعدداکابرنے احادیث ختم نبوت کے متواتر ہونے کی تصریح کی ہے۔چنانچہ حافظ ابن حزم ظاہری لکھتے ہیں:

’’وقدصح عن رسول اللّٰہ ﷺ بنقل الکواف التی نقلت نبوتہ واعلامہ وکتابہ انہ اخبرانہ لا نبی بعدہ‘‘

33

وہ تمام حضرات جنہوں نے آنحضرت ﷺ کی نبوت،آپ ﷺ کے معجزات اور آپ ﷺ کی کتاب (قرآن مجید)کونقل کیا ہے۔ انھوں نے یہ بھی نقل کیا ہے کہ آپ ﷺ نے یہ خبردی تھی کہ آپ ﷺ کے بعدکوئی نبی نہیں۔ (کتاب الفصل ج۱ ص۷۷، الموسوعہ العقدیہ ج۶ ص۴۴۴، الفصل فی الملل والاہواء والنحل ج۱ ص۶۸)

حافظ ابن کثیر آیت خاتم النّبیین کے تحت لکھتے ہیں :

’’وبذالک وردت الاحادیث المتواترۃعن رسول اللّٰہ ﷺمن حدیث جماعۃ من الصحابۃ‘‘

اورختم نبوت پرآنحضرت ﷺسے احادیث متواترہ وارد ہوئی ہیں جن کوصحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کی ایک بڑی جماعت نے بیان فرمایا ہے۔

(تفسیر ابن کثیر ج۳ ص۴۹۳)

اور علامہ سید محمود آلوسی، زیر آیت خاتم النّبیین لکھتے ہیں:

’’وکونہ ﷺ خاتم النّبیین مما نطق بہ الکتاب وصدعت بہ السنۃ واجمعت علیہ الامۃ فیکفر مدعی خلافہ ویقتل ان اصر‘‘

اورآنحضرت ﷺ کا خاتم النّبیین ہونا ایسی حقیقت ہے جس پر قرآن ناطق ہے، احادیث نبویہ نے جس کو واشگاف طور پر بیان فر مایا ہے، اور امت نے جس پر اجماع کیا ہے، پس جو شخص اس کے خلاف کا مدعی ہو، اس کو کافر قرار دیا جائے گا اور اگر اس پر اصرار کرے تو اس کو قتل کیاجائے گا۔ (روح المعانی ج۲۲ ص۴۱)

پس عقیدۂ ختم نبوت جس طرح قرآن کریم کے نصوص قطعیہ سے ثابت ہے ،اسی طرح آنحضرت ﷺ کے احادیث متواترہ سے بھی ثابت ہے۔ یہاں اختصار کے پیش نظر چند احادیث ذکر کی جاتی ہیں۔

حدیث نمبر ۱

عن ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ ان رسول اللّٰہ ﷺقال اِنّ مَثَلِیْ وَمَثَلَ الْاَنْبِیَاء مِنْ قَبْلِیْ کَمَثَلِ رَجُلِ بَنٰی بَیْتَاََ فَاَحْسَنَہٗ وَاَجْمَلَہٗ اِلَّا مَوْضِعَ لَبِنَۃٍ مِنْ زَاوِیَۃٍ فَجَعَلَ النَّاسُ یَطُوَفَّوْنَ بِہٖ وَیَتَعْجَبُوْنَ لَہٗ وَیَقُوْلُوْنَ ہَلَّا وُضِعَتَ ھٰذِہِ اللْبِنَۃُ قَالَ فَانَا اللْبِنَۃُ وَاَنَا خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ‘‘

(بخاری کتاب المناقب ج۱ ص۵۰۱، مسلم ج۲ ص۲۴۸)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسو ل ﷲ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میری اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال ایسی ہے کہ ایک شخص نے بہت ہی حسین وجمیل محل بنایا مگر اس کے کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی ،لوگ اس کے گرد گھومنے اور عش عش کرنے لگے اور یہ کہنے لگے کہ یہ ایک اینٹ بھی کیوں نہ لگا دی گئی؟ آپ ﷺنے فرمایا میں وہی۔ (کونے کی آخری) اینٹ ہوں اور میں نبیوں کو ختم کرنے والا ہوں ۱؎ ۔

۱؎ یہ حدیث حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے علاوہ مندرجہ ذیل صحابہ کرام سے بھی مروی ہے (۱)حضرت جابر بن عبد ﷲ کے الفاظ صحیح مسلم میں اس طرح ہیں: ’’قال رسول ﷲ ﷺ فانا موضع اللبنۃ جئت فختمت الانبیاء‘‘(مسنداحمدج۳ ص۳۶۱، بخاری ج۱ ص ۱ ۰ ۵، مسلم ج۲ ص۱۴۸، ترمذی ج۱ ص۱۰۹) (۲)حضرت ابی ابن کعب کے الفاظ یہ ہیں: ’’مثلی فی النبیین کمثل رجل بنی دارا فاحسنہا واکملہا واجملہا وترک منہا موضع لبنۃ فجعل الناس یطوفون بالبناء ویعجبون منہ و یقولون لو تم موضع تلک اللبنۃ، وانا فی النبیین موضع تلک اللبنۃ‘‘ (قال الترمذی ہذا حدیث حسن صحیح غریب ج۲ ص۲۰۱، مسند احمد ج۵ ص۱۳۷) (۳)حضرت ابوسعید خدری سے مسند احمد میں حدیث کے یہ الفاظ منقول ہیں:’’مثلی ومثل النبیین من قبلی کمثل رجل بنی دارا فاتمہاالالبنۃواحدۃ،فجئت انافاتممت تلک اللبنۃ‘‘ (مسند احمد ج۳ ص ۹واللفظ لہ، مسلم ج۲ ص۲۴۸، جامع الاصول ج۸ ص۵۳۹)

34

اس حدیث میں آنحضرت ﷺ نے ختم نبوت کی ایک محسوس مثال بیان فرما دی ہے اور اہل عقل جانتے ہیں کہ محسوسات میں کسی تاویل کی گنجائش نہیں ہوتی۔

حدیث نمبر ۲

’’عن ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ ان رسو ل اللّٰہ ﷺقال فُضِّلْتُ عَلٰی الْاَنْبِیَاء بِستٍّ اُعْطِیْتُ جَوَامِعَ الْکَلَمِ وَنُصِرْتُ بِالرعْبِ وَاُحِلَّتْ لِیَ الْغَنَائِمُ وَجُعِلَتْ لِی الارضُ مسجدا وطھورا وَاُرْسِلْتُ اِلَی الْخَلْقِ کَافَّۃً وَخُتِمَ بِی النَّبِیُّوْنَ‘‘

(صحیح مسلم ج۱ ص۱۹۹، مشکواۃص۱۲)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ﷲ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے چھ چیزوں میں انبیاکرام پر فضیلت دی گئی ہے (۱)مجھے جامع کلمات عطا کئے گئے ہیں (۲)رعب کے ساتھ میری مدد کی گئی ہے (۳)مال غنیمت میرے لئے حلال کردیا گیاہے (۴)روئے زمین کو میرے لئے مسجد اور پاک کرنے والی چیز بنادیا گیاہے (۵)مجھے تمام مخلوق کی طرف مبعوث کیا گیاہے (۶)مجھ پر تمام نبیوں کا سلسلہ ختم کر دیا گیاہے

اس مضمون کی ایک حدیث صحیحین میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ مجھے پانچ چیزیں ایسی دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں۔اس کے آخرمیں ہے ’’وکان النبی یبعث الی قومہ خاصۃ وبعثت الی الناس عامۃ‘‘(مشکوۃ ص۵۱۲) پہلے انبیا کو خاص ان کی قوم کی طرف مبعوث کیا جاتا تھا اور مجھے تمام انسانوں کی طرف مبعوث کیا گیاہے۔

حدیث نمبر ۳

’’عن سعد بن ابی وقاص قال قال رسول اللّٰہ ﷺلِعَلِیِّ انتَ مِنی بِمنزلۃِ ہارونَ مِن موسٰی اِلاَ اَنَّہ‘ لانبیَ بعدِی، وفی روایۃ، انہ لانبوۃ بعدی‘‘ (مسلم ج۲ ص۲۷۸)

سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم مجھ سے وہی نسبت رکھتے ہو جو ہارون کو موسی علیہ السلام سے تھی مگر میرے بعدکوئی نبی نہیں اور مسلم کی ایک اور روایت میں ہے کہ میرے بعد نبوت نہیں۔

واضح رہے کہ جو حدیث دس سے زیادہ صحابہ کرام سے مروی ہو حضرات محدثین اسے احادیث متواترہ میں شمار کرتے ہیں۔ چونکہ یہ حدیث دس سے زیادہ صحابہ سے مروی ہے اس لئے مسند الہند شاہ ولی ﷲ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے اسے حدیث متواتر میں شمار کیاہے ۱؎ ۔

۱؎ چند صحابہ کے نام حسب ذیل ہیں: (۱)حضرت جابر بن عبد ﷲ رضی اللہ عنہ (مسند احمد ص ۳۳۸ ج ۳، ترمذی ص ۲۱۴ ج ۲، ابن ماجہ ص۱۲) (۲)حضرت عمر رضی اللہ عنہ (کنزل العمال ص ۶۰۷ ج ۱۱ حدیث نمبر ۳۲۹۳۴) (۳)حضرت علی رضی اللہ عنہ (کنز ص ۱۵۸ ج ۱۳ حدیث نمبر ۳۶۴۸۸ مجمع الزوائد ص ۱۱۰ ج۹) (۴)اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہ (مسند احمد ص ۴۳۸ ج ۶ مجمع ص۱۰۹ ج۹، کنز ص ۶۰۷ ج ۱۱ حدیث نمبر ۳۲۹۳۷) (۵)ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ (کنز ص ۶۰۳ ج۱۱ حدیث نمبر ۳۲۱۹۱۵ مجمع الزوائد ص ۱۰۹ ج۹) (۶)ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ (مجمع الزوائد ص ۱۱۱ ج۹) (۷)جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ (ایضاً ص ۱۱۰ ج۹) (۸)ام سلمہ رضی اللہ عنہا (ایضا ص ۱۰۹ ج ۹) (۹)براء بن عازب رضی اللہ عنہ (ایضاً ص ۱۱۱ ج۹) (۱۰)زید بن ارقم رضی اللہ عنہ (ایضاً ص ۱۱۱ ج۹) (۱۱)عبد ﷲ بن عمر رضی اللہ عنہ (ایضاً ص ۱۱۰ ج۹، خصائص کبریٰ سیوطی ص ۲۴۹ ج۲) (۱۲)حبشی بن جنادہ رضی اللہ عنہ (کنز ص ۱۹۲ ج ۱۳ حدیث نمبر ۳۶۵۷۲ مجمع ص ۱۰۹ ج۹) (۱۳)مالک بن حسن بن حویرث رضی اللہ عنہ (کنز ص ۶۰۶ ج ۱۱ حدیث نمبر ۳۲۹۳۲) (۱۴)زید بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ (کنز ص ۱۰۵ ج ۱۳ حدیث نمبر ۳۶۳۴۵)

35

حضرت شاہ صاحب ’’ازالۃ الخفا‘‘ میں’’ مآثر علی رضی اللہ عنہ،،کے تحت لکھتے ہیں :

’’فمن التواترِ انتَ منی بمنزلۃِ ہارونَ من موسٰی ‘‘ (ج۴ ص۴۴۴ مترجم)

متواتر احادیث میں سے ایک حدیث یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ’’تم مجھ سے وہی نسبت رکھتے ہو جو ہارون کو موسی علیہ السلام سے تھی۔‘‘

حدیث نمبر ۴

’’عن ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ یُحَدِّثُ عن النبی ﷺ قال کانتْ بنو اسرائیلَ تَسُوسُھُم الانبیاءُ کُلَّما ہلکَ نبیٌ خَلَفہ نبیٌ وانہ لانبی بعدِی وسیکون خلفاء فیکثرون‘‘(بخاری ج۱ ص۴۹۱)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اکرم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ بنی اسرائیل کی قیادت خود ان کے انبیا کیا کرتے تھے جب کسی نبی کی وفات ہوتی تھی تو دوسرا نبی اس کی جگہ آجاتا تھا لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں البتہ خلفا ہوںگے اور بہت ہوںگے۔

بنی اسرائیل میں غیر تشریعی انبیا آتے تھے جو موسیٰ علیہ السلام کی شریعت کی تجدید کرتے تھے مگر آنحضرت ﷺ کے بعد ایسے انبیا کی آمد بھی بند ہے۔

حدیث نمبر ۵

’’عن ثوبان رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللّٰہ ﷺاِنَہُ سَیَکُوْنُ فِیْ اُمَّتِیْ کَذَّابُوْنَ ثَلَاثُوْنَ کُلَّہُمْ یَزْعَمُ انہ نبیٌ وَاَنَا خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ‘‘(ابو دَاوُدج۲ ص۵۹۵، ترمذی ج۲ ص۴۵)

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضو ر ﷺ نے فرمایا کہ میری امت میں تیس جھوٹے پیدا ہوں گے، ہرایک کہے گا کہ میں نبی ہوں ،حالانکہ میں خاتم النّبیین ہوں یعنی میرے بعدکسی قسم کا کوئی نبی نہیں۔ یہ حدیث بھی متواتر ہے اور حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ کے علاوہ دس سے زائد صحابہ کرام سے مروی ہے۱ ۱؎ ۔

حدیث نمبر ۶

’’عن انس ابن مالک رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللّٰہ ﷺاِن النبوۃَ والرسالۃَ قد انقطعتْ فلا رسولَ بعدِیْ وَلَا نبی‘‘

(ترمذی ج۲ص۵۳)

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل للہ ﷺ نے فر مایا کہ رسالت ونبوت ختم ہو چکی ہے پس میرے بعد نہ کوئی رسول ہے نہ نبی۔

۱؎ حضرت ثوبان کے علاوہ بقیہ صحابہ کے نام حسب ذیل ہیں: (۱)حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ (بخاری ج۱ ص۵۰۹، مسلم ج۲ ص۳۹۷) (۲)حضرت نعیم بن مسعود رضی اللہ عنہ (کنزالعمال ج۱۴ص۱۹۸، حدیث نمبر:۳۸۳۷۲) (۳)حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ (مشکل الآثار ج۴ ص۱۰۴) (۴)عبد ﷲ بن زبیر رضی اللہ عنہ (فتح الباری ج۶ص۶۱۷، حدیث نمبر:۳۶۰۹) (۵)حضرت عبد ﷲ بن عمر رضی اللہ عنہ (فتح الباری ج۱۳ ص۸۷، حدیث نمبر:۷۱۲۱) (۶)عبد ﷲ بن مسعود (۷)حضرت علی رضی اللہ عنہ (۸)حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ (۹)حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ (۱۰)حضرت انس رضی اللہ عنہ (۱۱)حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ (مجمع الزوائد ج۷ ص۳۳۴) ان تمام احادیث کا متن (مجمع الزوائد ج۷ ص ۳۳۲ تا ۳۳۴) میں درج ہے۔

36

امام ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح ہے اور حافظ ابن کثیر فرماتے ہیں کہ اس کو امام احمد نے مسند میں بھی روایت کیا ہے حافظ ابن حجر نے فتح الباری میں بروایت ابو یعلی اتنا اضافہ نقل کیا ہے:

’’ولٰکن بقیت المبشرات قا لو اما المبشرات قال رو یا المسلمین جزء من اجزاء النبوۃ‘‘

(فتح الباری ج۱۲ ص۳۷۵)

لیکن مبشرات باقی رہ گئے ہیں صحابہ نے پوچھا مبشرات کیا ہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا مومن کا خواب جو نبوت کے اجزا میں سے ایک جزہے

اس مضمون کی حدیث متعدد صحابہ کرام سے مروی ہے ۱؎۔

حدیث نمبر ۷

’’عن ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ اَنَّہٗ سَمِعَ رَسُول اللّٰہ ﷺیقول نحنُ الآخرونَ السابقونَ یومَ الْقِیَامَۃِ بید انھم اُوْتُوْ الکِتَابَ مِنْ قبلنا‘‘

(بخاری ۱۲۰ج ۱، صحیح مسلم ج۲ ص۵۸۶)

حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ﷲ ﷺ نے فر مایا ہم سب کے بعد آئے اور قیامت کے دن سب سے آگے ہوں گے۔صرف اتنا ہوا کہ ان کو کتاب ہم سے پہلے دی گئی۔

اس حدیث میں آنحضرت ﷺنے اپنا آخری نبی ہونا اور اپنی امت کا آخری امت ہونا بیان فرمایاہے یہ مضمون بھی متعدد احادیث میں آیاہے ۲؎ ۔

۱؎ مثلاً: (۱)حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ (بخاری ص۱۰۳۵ج۲) (۲)حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا (کنزالعمال ص۳۷۰ ج۱۵، حدیث نمبر:۴۱۴۱۹، مجمع الزوائد ص۱۷۲ج۷) (۳)حضرت حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ (مجمع)(۴)حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ (مسلم ص۱۹۱ج۱، سنن نسائی ص۱۷۸،ابو دَاوُد ص۱۲۷ ج۱، ابن ماجہ ص۲۷۸) (۵)حضرت ام کرز الکعبیہ رضی اللہ عنہ (ابن ماجہ ۲۷۸، مسند احمد ص۳۸۱ج۶، فتح الباری ص۳۷۵ج۱۲) (۶)حضرت ابو طفیل رضی اللہ عنہ (مسند احمد ص۴۵۴ ج۵،مجمع الزوائد ص۱۷۳ج۷)

۲؎ مثلاً: (۱)’’عن حذ یفۃ رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللّٰہ ﷺ…ونحن الآخرون من اہل الدنیا والاولون یوم القیامۃالمقضی لہم قبل الخلائق‘‘ (مسلم ص۲۸۲ج۱، نسائی ص ۲۰۲ج۱) (۲)’’عن ابن عباس رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللّٰہ ﷺ(فذکر حدیث الشفاعۃوفیہ) نحن الآخرون الاولون نحن آخرالامم واول من یحاسب‘‘ (مسند احمد ص۲۸۲ج۱) (۳)’’عن عائشۃ رضی اللہ عنہا عن النبی ﷺ قال انا خاتم الانبیا ومسجدی خاتم مساجد الانبیاء‘‘ (کنزالعمال ص۲۸۰ج۱۲،حدیث نمبر:۳۴۹۹۹) (۴)’’عن ابی ہریرۃ مرفوعا لما خلق اللّٰہ عزوجل آدم خبرہ ببنیہ فجعل یری فضائل بعضھم علی بعض فرأی نورا ساطعا فی اسفلھم فقال یا رب من ھذا قال ھذا ابنک احمد ھوالاول ھوالأخر وھو اول شافع اول مشفع‘‘ (کنز ص۴۳۸ج۱۱،حدیث نمبر:۳۲۰۵۶) (۵)’’عن ابی ا سید رضی اللہ عنہ(فی حدیث الاسراء)ثم سار حتی اتی بیت المقدس فنزل فربط فرسہ الی صخرۃ ثم دخل فصلی مع الملائکۃ فلما قضیت الصلوۃقالوا یا جبرئیل من ھذا معک قال ھذا محمد خاتم النبیین‘‘ ( الموا ہب الدنیہ ص۱۷ ج۲) (۶)’’عن ابی اما مۃ الباہلی رضی اللہ عنہعن النبی ﷺ…قال انا آخر الانبیا وانتم آخر الامم‘‘ (ابن ماجہ ص ۲۹۷) (۷)حضرت ابوقتیلہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے خطبہ حجۃ الوداع میں فرمایا: ’’لانبی بعدی ولا امۃ بعدکم‘‘ (مجمع الزوائد ص۲۷۳ ج۳، کنز العمال ص۹۴۷ج۱۰ حدیث نمبر:۴۳۶۳۸) (۸)’’عن ابی ذر رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللّٰہ ﷺیا ابا ذر اول الرسل آدم وآخرھم محمد ﷺ‘‘ (کنزالعمال ص۴۸۰ج۱۱، حدیث نمبر:۳۲۲۶۹)

37

حدیث نمبر ۸

’’عن عقبۃ بن عامر قال قال رسو ل اللّٰہ ﷺلَوْ کَانَ بَعْدِیْ نَبِّیٌ لَکَانَ عُمَرُ بْنُ الخطابِ‘‘

(ترمذی ص۲۰۹ج۲)

حضرت عقبۃ ابن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ﷲ ﷺ نے ارشاد فر مایا ،اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمربن خطاب رضی اللہ عنہ ہوتے ۱؎ ۔

’’لو‘‘ کا لفظ فرض محال کے لئے آتا ہے اور فرض محال اپنے واقع ہونے کو مستلزم نہیں ہے۔ جیسا کہ مشہور محدث ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ ’’مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح‘‘ میں ارشاد فرماتے ہیں۔ ’’والحاصل ان قضیۃ الشرطیۃ لاتستلزم الوقوع‘‘

(مرقاۃ المفاتیح ج۹ ص۷۴۶)

حاصل کلام یہ ہے کہ قضیہ شرطیہ مستلزم وقوع نہیں، مفروضہ کے عدم وقوع والے اس اصول کو علامہ ابن عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ اور دیگر محدثین نے بھی بیان فرمایا ہے۔ انظر!

(فتح الباری ج۸ ص۱۶۷، جمع الوسائل فی شرح الشمائل ج۲ ص۱۲۴، ذخیرۃ العقبی فی شرح المجتبیٰ ج۳۹ ص۲۷۹)

حدیث کا مطلب یہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ میں نبوت کی صلاحیت کامل طور پر پائی جاتی تھی مگر چونکہ آپ ﷺ کے بعد کسی کا نبی ہونا محال ہے اس لئے باوجود صلاحیت کے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نبی نہیں بن سکے۔امام ربانی مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

’’درشان حضرت فاروق فرمودہ است علیہ وعلی آلہ الصلوٰۃ و السلام لوکان بعدی نبی لکان عمر رضی اللہ عنہ یعنی لوازم وکمالاتیکہ در نبوت درکار است ہمہ را عمر دارد اما چو ںمنصب نبوت بخاتم رسل ﷺ ختم شدہ است علیہ وعلی آلہ الصلواۃ و السلام بدولت منصب نبوت مشرف نگشت‘‘(مکتوب ۲۴ص۲۳دفترسوم )

حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی شان میں آنحضرت ﷺنے فرمایا: ’’ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتے ‘‘یعنی وہ تمام لوازم وکمالات جو نبوت کے لئے درکار ہیں سب حضرت عمر رضی اللہ عنہ میں موجود ہیں، لیکن چونکہ منصب نبوت خاتم الرسل ﷺپر ختم ہو چکاہے اس لئے وہ منصب نبوت کی دولت سے مشرف نہ ہو ئے۔‘‘

حدیث نمبر ۹

’’عن جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ قا ل سمعت النبی ﷺ یقول ان لی اسماء، اَنَا محمدٌ وَاَنَا اَحْمَدُ ، وَاَنَا المَاحِی الذی یَمْحُوْ اللّٰہُ بِی الْکُفْرَ، وَاَنَا الحَاشِرُ الذی یُحْشَرُ الناسُ عَلٰی قَدَمَیَّ ، وانا العاقبُ الذی لَیْسَ بَعْدَہٌ نبیٌ‘‘

(مشکوٰۃ ص ۵۱۵)

حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو خود یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ

۱؎ یہ حدیث حضرت عقبۃ بن عامر کے علاوہ مندرجہ ذیل صحابہ سے مروی ہے: (۱)حضر ت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ (فتح الباری ص۵۱ج۷، مجمع الزوائد ص۶۸ج۹) (۲)حضر ت عصمہ بن مالک رضی اللہ عنہ (مجمع الزوائد ص۶۸ج۹)

38

میرے چند نام ہیں میں محمد ہوں ،میں احمد ہوں ،میں ماحی یعنی مٹانے والا ہوں کہ میرے ذریعہ ﷲتعالی کفر کو مٹائیں گے ،اور میں حاشر یعنی جمع کرنے والا ہوں کہ لوگ میرے قدموں پر اٹھا ئے جائیں ،اور میں عاقب یعنی سب کے بعد آنے والا ہوں کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

اس حدیث میں دواسماء گرامی آپ ﷺ کے خاتم النّبیین ہونے پر دلالت کرتے ہیں، اوّل ’’الحاشر ‘‘حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ ’’فتح الباری‘‘ میں اس کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

’’اشارۃ الی انہ لیس بعدہ نبی ولا شریعۃ فلما کان لا امۃ بعد امتہ لانہ لانبی بعدہ نسب الحشر الیہ لانہ یقع عقبہ‘‘

(فتح الباری ص۵۵۷ج۶)

یہاں اس طرف اشارہ ہے کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں اور کوئی شریعت نہیں… چونکہ آپ کی امت کے بعد کوئی امت نہیں اور آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں، اس لئے حشر کو آپ ﷺ کی طرف منسوب کر دیا گیا۔ کیونکہ آپ ﷺ کی تشریف آوری کے بعد حشر ہوگا۔

دوسرا اسم گرامی ’’العاقب ‘‘جس کی تفسیر خود حدیث میں موجود ہے یعنی کہ ’’الذی لیس بعدہ نبی‘‘ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں۔ اس مضمون کی حدیث متعدد صحابہ سے مروی ہے ۱؎ ۔

حدیث نمبر ۱۰

متعدد احادیث میں یہ مضمون آیاہے کہ آنحضرت ﷺ نے انگشت شہادت اور درمیانی انگلی کی طرف اشارہ کرکے فرمایا: ’’بعثت انا والساعۃ کھاتین‘‘ (مشکوٰۃ ص۴۸۰، عن انس رضی اللہ عنہ) مجھے اور قیامت کو ان دوانگلیوں کی طرح بھیجا گیا ہے ۲؎ ۔

۱؎ مثلاً: (۱)حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث کے الفاظ حسب ذیل ہیں: ’’کان رسول اللّٰہ ﷺیسمی لنا نفسہ اسماء فقال انا محمد واحمد والمقفی والحاشر ونبی التو بہ ونبی الرحمۃ‘‘ (مسلم ص۲۶۱ ج۲) (۲)حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: ’’قال انا محمد وانا احمدوانا الرحمۃ ونبی التوبہ وانا المقفی وانا الحاشر ونبی الملاحم‘‘ (شمائل ترمذی ص۲۶، مجمع الزوائد ص۸۴ج۸) (۳)حضرت جابر بن عبد ﷲ رضی اللہ عنہ کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: ’’انا احمد وانامحمد وانا الحاشر الذی یُحشر الناس علی قدمی‘‘ (مجمع الزوائد ص۲۸۴ ج۸) (۴)حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت اس طرح ہے: ’’وانا احمد ومحمد والحاشر والمقفی والخاتم‘‘ (مجمع الزوائد ص۲۸۴ج۸) (۵)مرسل مجاہدv کی روایت کے الفاظ حسب ذیل ہیں: ’’انا محمد واحمد انا رسول الرحمۃ، انا رسول الملحمۃ، انا المقفی والحاشر بعثت بالجہاد ولم ابعث بالزراع‘‘ (طبقات ابن سعد ص۱۰۵ ج۱) (۶)حضرت ابو طفیل رضی اللہ عنہ سے بھی (فتح الباری ص۵۵۵ج۶) میں یہی روایت منقو ل ہے۔

۲؎ اس مضمون کی احادیث مندرجہ ذیل صحابہ سے مروی ہیں: (۱)سہل بن سعد رضی اللہ عنہ (بخاری ص۹۶۳ج۹، مسلم ص ۶ ۰ ۴ ج۲) (۲)ابوہریرہ رضی اللہ عنہ (بخاری ص۹۶۳ج۲) (۳)حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ (بخاری ص۹۶۳ج۲) (۴)حضرت مستو ر د بن شداد رضی اللہ عنہ (ترمذی ص۴۴ج۲) (۵)حضرت جابر بن عبد ﷲ رضی اللہ عنہ (مسلم ص۲۸۴ج۱، نسائی ص ۴ ۳ ۲ ج۱) (۶)حضر ت سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ (جامع الاصول ص۸۵ج۱۰) (۷)حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ (مسند احمد ص۳۴۸ج۵) (۸)حضرت ابی جبیرۃ رضی اللہ عنہ (مجمع الزوائدص ۳۱۲ج۱۰) (۹)حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ (مسند احمد ص۱۰۳ج۵) (۱۰)حضرت وہب السوائی رضی اللہ عنہ (مجمع الزوائد ص۳۱۱ج۱۰) (۱۱)حضرت ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ (کنز ص۱۹۵ج۱۴، مسند احمد ص۳۰۹ج۴)

39

اور آنحضرت ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ مجھے اور قیامت کو ان دو انگلیوں کی طرح بھیجا گیا ہے اس کے معنی یہ ہیں کہ میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں ، میرے بعد بس قیامت ہے۔جیسا کہ انگشت شہادت درمیانی انگلی کے متصل واقع ہے ،دونوں کے درمیان کوئی انگلی نہیں۔اسی طرح میرے اور قیامت کے درمیان کوئی نبی نہیں۔

علامہ سندھی رحمۃ اللہ علیہ حاشیہ نسائی میں لکھتے ہیں :

’’التشبیہ فی المقارنۃ بینھما ای لیس بینھما اصبع اخری کما انہ لا نبی بینہ ﷺ وبین الساعۃ‘‘

(حاشیہ سندھی بر نسائی ص ۴ ۳ ۲ ج ۱)

تشبیہ دونوں انگلیوں کے درمیان اتصال میں ہے یعنی جس طرح ان دونوں کے درمیان کوئی انگلی نہیں اسی طرح آنحضرت ﷺ اور قیامت کے درمیان کوئی اور نبی نہیں۔

ان احادیث میں آنحضرت ﷺ کی بعثت اور قیامت کے درمیان اتصال کا ذکر کیا گیا ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ آنحضرت ﷺ کی تشریف آوری قرب قیامت کی علامت ہے اور اب قیامت تک آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں۔چنانچہ امام قرطبی ’’تذکرہ‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’واما قولہ بعثت انا والساعۃ کھاتین فمعناہ انا النبی الاخیرفلا یلینی نبی آخروانما تلینی القیامۃکما تلی السبابۃ الوسطی ولیس بینہا اصبع آخر ولیس بینی وبین القیامۃ نبی‘‘

(التذکرۃ فی احوال الموتی وامور الآخرۃ۷۱۱)

حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب ’’ختم نبوت کامل ‘‘ کے حصہ دوم میں دوسو دس احادیث مبارکہ رحمت دوعالم ﷺکی ختم نبوت پر نقل فرمائی ہیں حضرت مفتی صاحب کے زمانہ میں بہت کم احادیث شریف کے انڈکس تیار ہوئے تھے آج کل بہت زیادہ انڈکس احادیث پر مشتمل کئی کئی جلدوں کے مل جاتے ہیں ان سے اس موضوع ’’ختم نبوت ‘‘کا کام لیا جائے تو دوسو دس احادیث سے کہیں زیادہ ذخیرہ احادیث ختم نبوت کے موضوع پر تیار ہو سکتا ہے۔ کم ترک الاولون لاٰخرون!

اجماع کی حقیقت اور اس کی عظمت

خداتعالی کے ہزاروں دروداس ذات مقدس پر جسکے طفیل میں ہم جیسے سراپا گناہ اور سراسر خطاوقصور ،بھی خیر الامم، امت وسطی ،امت مرحومہ ،شہداء خلق کے القاب گرامی کے ساتھ پکارے جاتے ہیں:

کہ دارد زیر گردوں میر سامانے کہ من دارم

’’وہ بے شمار خداوندی انعام واکرام جو ہمارے آقاء نامدار ﷺ کی بدولت ہم پر مبذول ہوئے ہیں ،اجماع امت بھی ان میں سے ایک امتیازی فضیلت ہے جس کی حقیقت یہ ہے کہ اس امت کے علماء مجتہدین اگر کسی مسئلہ میں ایک حکم پر اتفاق کر لیں تو یہ حکم بھی ایسا ہی واجب الاتباع اور واجب التعمیل ہوتا ہے جیسے قرآن وحدیث کے شرعی احکام۔ جس کی حقیقت دوسرے عنوان سے یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ پر جب نبوت ختم کردی گئی تو آپ ﷺ کے بعد کوئی ہستی معصوم

40

باقی نہیں رہتی جس کے حکم کو غلطی سے پاک اور ٹھیک حکم خداوندی کا ترجمان کہا جاسکے، اس لئے رحمت خداوندی نے امت محمدیہ کے مجموعہ کو ایک نبی معصوم کا درجہ دیدیاکہ سا ر ی امت جس چیز کے اچھے یا برے ہونے پر متفق ہوجائے وہ علامت اس کی ہے کہ یہ کام ﷲتعالی کے نزدیک ایسا ہی ہے جیسا امت کے مجموعہ نے سمجھا ہے۔‘‘

اسی بات کو رسول کریم ﷺ نے ان الفاظ میں فرمایاہے کہ ’’لن تجتمع امتی علی الضلالۃ ‘‘ یعنی میری امت کا مجموعہ کبھی گمراہی پر متفق نہیں ہو سکتا۔

اسی لئے اصول کی کتابوں میں اس کے حجت ہونے اور اس کے شرائط ولوازم پر مفصل بحث کی جا تی ہے اور احکام شرعیہ کی حجتوں میں قرآن وحدیث کے بعد تیسرے نمبرپر اجماع کو رکھا جاتاہے۔

اجماع بھی دراصل دلیل ختم نبوت ہے

درحقیقت اجماع کا شرعی حجتوں میں داخل ہونا اور اس امت کے لئے مخصوص ہونابھی ہمارے زیربحث مسئلہ ختم نبوت کی روشن دلیل ہے۔جیسا کہ صاحب توضیح لکھتے ہیں :

’’ومااتفق علیہ المجتہدون من امۃ محمد ﷺ فی عصر علی امر فھذا من خواص امۃ محمدعلیہ الصلٰوۃ والسلام فانہ خاتم النبیین لا وحی بعدہ وقد قال اللّٰہ تعالی الیوم اکملت لکم دینکم ولاشک ان احکام التی تثبت بصریح الوحی بالنسبۃالی الحوادث الواقعۃ قلیلۃ غایۃ القلۃ فلو لم تعلم احکام تلک الحوادث من الوحی الصریح وبقیت احکامہا مہملۃ لایکون الدین کاملا فلابد ان یکون للمجتہدین ولایۃ استنباط احکامہا من الوحی‘‘

(توضیح مصری ص ۴۹ج۱)

اور وہ حکم جس پر محمد ﷺ کی امت کے مجتہدین کا کسی زمانہ میں اتفاق ہو جائے اس کا واجب التعمیل ہونا اس امت کے خصوصیات میں سے ہے۔ کیوں کہ آپ خاتم النّبیین ہیں اور آپ ﷺ کے بعد کسی پر وحی نہیں آئے گی اور ادھر یہ ارشاد خداوندی ہے کہ ہم نے تمہارا دین کامل کردیاہے اور اس میں بھی شک نہیں کہ جو احکام صریح وحی سے ثابت ہوئے ہیں وہ بنسبت روزمرہ کے پیش آنے والے واقعات کے نہایت قلیل ہیں۔ پس جب ان واقعات کے احکام وحی صریح سے معلوم نہ ہوئے اور شریعت میں ان واقعات سے متعلق احکام نہ ہوں تو دین کامل نہیں رہتا۔ اس لئے ضروری ہے کہ اس امت کے مجتہدین کو وحی سے ان احکام کے استنباط کرنے کا حق حاصل ہو۔

الغرض جس طرح قرآن واحادیث سے احکام شرعیہ ثابت ہوئے ہیں اسی طرح بتصریح قرآن واحادیث ،اور باتفاق علماء امت ،اجماع سے قطعی احکام ثابت ہوتے ہیں۔ البتہ اس میں چند درجات ہیں۔جن میں سب سے مقدم اور سب سے زیادہ قطعی صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کا اجماع ہے۔ جس کے متعلق علماء اصول کا اتفاق ہے کہ اگر کسی مسئلہ پر تمام صحابہ کی آراء بالتصریح جمع ہو جائیں تو وہ بالکل ایسا ہی قطعی ہے جیسا کہ قرآن مجید کی آیات اور اگر یہ صورت ہو کہ بعض نے اپنی رائے بیان فرمائی اور باقی صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے اس کی تردید نہ کی بلکہ سکوت اختیار کیا تو یہ بھی اجماع صحابہ میں داخل ہے اور

41

اس سے جو حکم ثابت ہو وہ بالکل ایسا ہی قطعی ہے جیسے احادیث متواترہ کے احکام قطعی ہوتے ہیں۔بلکہ اگر غور سے کام لیا جائے تو تمام ادّلۂ شرعیہ میں سب سے زیادہ فیصلہ کن دلیل ہے اور بعض حیثیات سے تمام حجج شرعیہ پر مقدم ہے۔کیونکہ قرآن وسنت کے معنی ومفہوم متعین کرنے میں آراء مختلف ہو سکتی ہیں،اجماع میں اس کی بھی گنجائش نہیں۔ چنانچہ حافظ حدیث علامہ ابن تیمیہ vتحریر فرماتے ہیں۔

’’وَاِجْمَاعُھُمْ حُجَّۃٌ قَاطِعَۃٌ یَجِبُ اِتِّبَاعُہَا بَلْ ہِیَ اَوْکَدُ الْحِجَج وَہِیَ مُقَدَّمَۃٌ عَلٰی غَیْرِہَا وَلَیْسَ ہَذَا مَوْضِعُ تَقْرِیْرِ ذَالِکَ فَاِنَّ ھَذَاالْاَصْل مُقَرَّرٗ فِیْ مَوْضِعِہِ وَلَیْسَ فِیْہِ بَیْنَ الْفَقَہَاءِ وَلَا بَیْنَ سَائِرِالْمُوْمِنِیْنَ الذین ھُمُ الْمومنون خِلَافٌ‘‘ (اقامۃ الدلیل ص۱۳۰ ج۳)

اور اجماع صحابہ حجت قطعیہ ہے بلکہ اس کا اتباع فرض ہے بلکہ وہ تمام شرعی حجتوں میں سب سے زیادہ موکد اور سب سے مقدم ہے۔ یہ موقع اس بحث کا نہیں۔ کیونکہ ایسے موقعے (یعنی کتب اصول )میں یہ بات باتفاق اہل علم ثابت ہو چکی ہے اور اس میں تمام فقہا اور تمام مسلمانوں میں جو واقعی مسلمان ہیں کسی کا اختلاف نہیں۔

صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کا سب سے پہلا اجماع

اسلامی تاریخ میں یہ بات درجہ تواتر کو پہنچ چکی ہے کہ مسیلمہ کذاب نے آنحضرت ﷺ کی موجودگی میں دعویٰ نبوت کیا ،اور ایک بڑی جماعت اس کی پیرو ہو گئی۔ آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد سب سے پہلی مہم جہاد جو صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت میں روانہ کی وہ اسی کی جماعت کی سرکوبی کے لئے تھی۔ جمہور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے اس کو محض دعوائے نبوت کی وجہ سے ، او ر اس کی جماعت کو اس کی تصدیق کی وجہ سے کافر سمجھا اور باجماع صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین وتابعین رحمۃ اللہ علیہم ان کے ساتھ وہی معاملہ کیا گیا جو کفار کے ساتھ کیا جاتا ہے اور یہی اسلام میں سب سے پہلا اجماع تھا۔ حالانکہ مسیلمہ کذاب بھی مرزا قادیانی کی طرح آنحضرت ﷺ کی نبوت اور قرآن کا منکر نہ تھا بلکہ بعینہٖ مرزاقادیانی کی طرح آپ ﷺ کی نبوت پر ایمان لانے کے ساتھ اپنی نبوت کا مدعی تھا۔ یہاں تک کہ اس کی اذان میں برابر ’’اشہد ان محمد ارسول اللّٰہ ‘‘ پکارا جاتا تھا اور وہ خود بھی بوقت اذان اس کی شہادت دیتا تھا۔تاریخ طبری ص۲۴۴ج۳ میں ہے۔

’’ کان یوء ذن للنبی ﷺ وشہد فی الاذان ان محمدا رسول اللّٰہ وکان الذی یُوء َذِّنُ لَہ عبدُ اللّٰہِ بن النواحہ وکان الذی یُقیمُ لَہ حُجیر بن عُمیر ویَشْہَدُ لَہ وکان مسیلمۃُ اِذا دَنیٰ حجیرُ مِن الشَّہادۃِ قاَل صرح حجیر فَیَزِیْدُ فِی صوت وَیُبالغُ التصدیقَ فی نفسِہ‘‘

وہ (مسیلمہ) نبی کریم ﷺ کے لئے اذان میں یہ گواہی دیتا تھاکہ محمد ﷲ کے رسول ہیں اور اس کا مؤذن عبد ﷲ بن نواحہ اور اقامت کہنے والا حجیر بن عمیر تھا اور جب حجیر شہادت پر پہنچتا تو مسیلمہ بآواز بلند کہتا کہ حجیر نے صاف بات کہی اور پھر اس کی تصدیق کرتا تھا۔

الغرض نبوت وقرآن پر ایمان ،نماز روزہ سب ہی کچھ تھا۔ مگر ختم نبوت کے بدیہی مسئلہ کے انکار اور دعوی نبوت کی وجہ سے باجماع صحابہ کرام کا فر سمجھا گیا او رحضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین مہاجرین ،انصار ،اور تابعین رحمۃ اللہ علیہم کا ایک عظیم الشان لشکر حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی امارت میں مسیلمہ کے ساتھ جہاد کے لئے یمامہ کی طرف روانہ کیا۔

42

تمام صحابہ میں سے کسی ایک نے بھی اس کا انکار نہ کیا اور کسی نے نہ کہا کہ یہ لوگ اہل قبلہ ہیں ،کلمہ گو ہیں ،نماز روزہ ،حج زکواۃ ،ادا کرتے ہیں ان کو کیسے کافر سمجھ لیا جائے حضرت فاروق اعظم کا ابتدائً خلاف کرنا جو روایات میں منقول ہے وہ بھی اس واقعہ میں نہیں تھا بلکہ مانعین زکواۃ پر جہاد کرنے کے معاملہ میں تھا۔

بعض لوگوں نے آنحضرت ﷺ کے بعد زکواۃ ادا کرنے سے انکار کیا تھا۔ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے ان سے جہاد کرنے کا ارادہ کیا تو حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے وقت کی نزاکت اور مسلمانو ںکی قلت وضعف کا عذر پیش کر کے ابتدائً ان کی رائے سے خلاف ظاہر فرمایاتھا لیکن حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھوڑے سے مکالمہ کے بعد ان کی رائے بھی موافق ہو گئی۔

الغرض حضرت فاروق اعظم کا ابتداء میں ا ختلاف کرنا بھی مسیلمہ کذاب کے واقعہ میں ثابت نہیں۔ اس طرح حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کے لشکر کی روانگی کے مسئلہ پر بھی حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اختلاف کیا مگر مسیلمہ کذاب جھوٹے مدعی نبوت کے خلاف جہاد کرنے کے مسئلہ پر کسی ایک صحابی نے بھی اختلاف نہیں کیا۔ یہ دلیل ہے کہ سب سے پہلا اجماع اسی مسئلہ پر منعقد ہوا۔ امت کو اجماع ختم نبوت کے صدقے ملا۔امت نے بھی سب سے پہلا اجماع اسی مسئلہ پر کیا۔ بارہ سو صحابہ کرام اسی جگہ میں شہید ہوئے۔جن میں سات سو قرآن مجید کے حافظ وقاری تھے۔رحمت دوعالم ﷺ کی امت کا سب سے قیمتی اثاثہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین اس مسئلہ پر شہید ہوئے جس سے سمجھ میں آسکتا ہے کہ ختم نبوت کی صحابہ کرام کے نزدیک کتنی اہمیت تھی۔

نیز ’’مسک الختام فی ختم نبوۃ سید الانام‘‘ کے (ص۱۰) پر حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ نے صراحت فرمائی ہے کہ’’ امت محمدیہ میں سب سے پہلا اجماع جو ہوا وہ اسی مسئلہ پر ہوا کہ مدعی نبوت قتل کیا جائے ‘‘

(احتساب قادیانیت ج۲ مجموعہ رسائل مولانا ادریس کاندھلوی ص۱۰)

مولانا سید محمد انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ’’ اور سب سے پہلا اجماع جو اس امت میں منعقد ہوا وہ مسیلمہ کذاب کے قتل پر اجماع تھا۔جس کا سبب صرف اس کا دعوی نبوت تھا۔ اس کی دیگر گھناؤ نی حرکات کا علم صحابہ کرام کو اس کے قتل کے بعد ہوا تھا۔جیسا کہ ابن خلدون نے نقل کیا ہے۔

(خاتم النّبیین مترجم ص۱۹۷)

اجماع امت کے حوالہ جات

۱… ملا علی قاری شرح فقہ اکبر میں لکھتے ہیں:

’’دَعْوَی النبوۃِ بعدَ نبیِّنا ﷺ کفرٌ بالاجماعِ‘‘

(شرح فقہ اکبر ص۲۰۲)

ہمارے نبی ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنا باالاجماع کفر ہے۔

۲… حجۃ الاسلام امام غزالی ’’الاقتصاد ‘‘ میں فرماتے ہیں۔

’’ ان الامۃ فہمت بالاجماع من ھذ اللفظ و من قرا ئن احوالہ انہ افہم عدم نبی بعدہ ابدا۔۔۔۔وانہ لیس فیہ تاویل ولا تخصیص فمنکر ھذا لا یکون الا منکر الاجماع‘‘

(الاقتصاد فی الاعتقاد ص۱۲۳)

بیشک امت نے باالاجماع اس لفظ (خاتم النّبیین ) سے یہ سمجھا ہے کہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ آپ ﷺ کے

43

بعد نہ کوئی نبی ہوگا اور نہ رسول اور اس پر اجماع ہے کہ اس لفظ میں کو ئی تاویل و تخصیص نہیں۔ پس اس کا منکر یقینا اجماع امت کا منکر ہے۔

۳… حضرت قاضی عیا ض رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی شہرہ آفاق کتاب ’’شفاء‘‘میں خلیفہ عبد الملک بن مروان کے عہد خلافت کا واقعہ نقل کیا ہے کہ ان کے زمانہ میں حارث نامی ایک شخص نے نبوت کا دعوی کیا تو خلیفہ نے وقت کے علماء (جو صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین اور تابعین رحمۃ اللہ علیہم تھے )کے فتویٰ سے اسے قتل کردیا اور سولی پر چڑھایا۔قاضی عیاض صاحب رحمۃ اللہ علیہ اس واقعہ کو نقل کر کے لکھتے ہیں۔

’’وفَعَلَ ذالک غیرُ واحد مِن الخُلَفاءِ والملوکِ باشباہہم واَجْمَعَ علماءُ وقْتِہِم علَی صواب فِعلہم والمخالفُ فی ذالک مِنْ کُفرِ ہم کافرٌ‘‘(شفاء ص۲۵۷،۲۵۸ج۲)

اور بہت سے خلفاء ،سلاطین نے ان جیسے مدعیان نبوت کے ساتھ یہی معاملہ کیاہے اور اس زمانہ کے علما ء نے ان سے اس فعل کے درست ہونے پر اجماع کیا ہے اور جو شخص ایسے مدعیا ن نبوت کی تکفیر میں خلاف کرے وہ خود کافر ہے۔

۴… قاضی عیا ض رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب شفاء میں اسی اجماع کی تصریح ان الفاظ میں فرماتے ہیں:

’’لانہ اخبرَﷺ اَنَّہ خاتَم النبیین لانبی بعدَہ واخبر عن اللّٰہِ تعالٰی اَنَّہ خاتَم النبیین وانہ اُرسِل کافۃً للناسِ واَجْمعت الامۃُ علٰی حملِ ھذالکلامِ علی ظاہرِہ وانہ مفہومہ المراد بہ دون تاویل ولا تخصیص فلا شک فی کفر ھؤلاء الطوائف کلہا قطعا اجماعاً وسمعاً ‘‘(شفاء ص۲۴۷ ج۲)

اس لئے کہ آپ ﷺنے خبر دی ہے کہ آپ ﷺ خاتم النّبیین ہیں اور آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا اور ﷲتعالی کی طرف سے یہ خبر دی ہے کہ آپ ﷺانبیاء کے ختم کرنے والے ہیں اور اس پر امت کا اجماع ہے کہ یہ کلام بالکل اپنے ظاہری معنوں پر محمول ہے اور جو اس کا مفہوم ظاہری الفاظ سے سمجھ میں آتا ہے وہ یہی بغیر کسی تاویل یا تخصیص کے مراد ہے۔پس ان لوگوں کے کفر میں کوئی شبہ نہیں جو اس کا انکار کرے اور یہ قطعی اور اجماعی عقیدہ ہے۔

۵… اور علامہ سید محمود آلوسی رحمۃ اللہ علیہ مفتی بغداد اپنی تفسیر روح المعانی ص۳۹ج۲۲ میں اسی اجماع کو الفاظ ذیل میں نقل فرماتے ہیں۔

’’ویکونﷺ خاتم النبیین مما نطقت بہ الکتاب وصدعت بہ السنۃ واجمعت علیہ الامۃ فیکفر مدعی خلافِہ ویُقْتلُ اِنْ اَصرَّ‘‘

اور آنحضرت ﷺکا خاتم النّبیین ہونا ان مسائل میں سے ہے جس پر کتاب (بلکہ تمام آسمانی کتابیں) ناطق ہے اور احادیث نبوی ﷺاس کو بوضاحت بیان کرتی ہیں اور تمام امت کا اس پر اجماع ہے۔ پس اس کے خلاف کا مدعی کافر ہے۔اگر توبہ نہ کرے تو قتل کردیا جائے۔

44

۶… اور اسی مضمون کو علامہ ابن حجر مکی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے فتاویٰ میں اس طرح بیان فرمایاہے۔

’’ومن اعـتـقد وحیاً بعـدَ محمد ﷺ کَـفَـرَ باِجمـاع المُسلِمین‘‘

اور جوشخص آنحضرت ﷺکے بعد کسی وحی کا معتقد ہو وہ باجماع المسلمین کافر ہے۔

۷… کتاب الفصل فی الملل والنحل میں ہے۔

’’صحَّ الاجماعُ علٰی اَنَّ کلَّ مَنْ جَحد شیئاًصَحَّ عندنا باالاجماع اَنّ رسول اللّٰہِ ﷺ اتٰی بِہ فقد کفرَ ‘‘

خلاصہ بحث

۱- مسئلہ ختم نبوت قرآن مجید کے ننانوے آیات وبینات سے ثابت ہے۔

۲- مسئلہ ختم نبو ت دوسو دس احادیث مبارکہ سے ثابت ہے۔

۳- مسئلہ ختم نبوت تواتر سے ثابت ہے۔

۴- مسئلہ ختم نبوت اجماع امت سے ثابت ہے۔

۵- مسئلہ ختم نبوت پر امت کا سب سے پہلا اجماع منعقد ہوا۔

۶- مسئلہ ختم نبوت کے لئے بارہ سو صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے جام شہادت نوش فرمایا ،جس میں سات سو حافظ وقاری اور بدری صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین تھے۔

۷- مسئلہ ختم نبوت کی وجہ سے ﷲ رب العزت نے امت کو اجماع کی نعمت سے نوازا۔

۸- مسئلہ ختم نبوت کی وجہ سے رحمت دوعالم ﷺ پر نازل شدہ وحی قرآن مجید کی حفاظت کا ﷲتعالیٰ نے وعدہ فرمایا۔

۹- ختم نبوت کے تحفظ کی پہلی جنگ کے بعد قرآن مجید کو جمع کرنے کا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں امت نے اہتمام کیا۔

۱۰- ختم نبوت کے منکر یعنی جھو ٹے مدعی نبوت سے اس کے دعوی نبوت کی دلیل طلب کرنے والا بھی کافر ہے۔نیز یہ کہ جھو ٹے مدعی نبوت اور اس کے پیرو کاروں کی شرعی سزا قتل ہے۔

۱۱- دنیا میں کہیں کسی آسمانی کتاب کے حافظ موجودنہیں جب کہ قرآن مجید کے حافظ وقاری ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں ہیں ،یہ اس لئے کہ پہلی کتب عارضی اور محدود دور کے لئے تھیں۔ قرآن مجید قیامت تک کے لئے ہے اس اعتبار سے تو اصحاب صفہ رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین سے لیکر اس وقت تک دنیا کے ہر خطہ میں حافظ وقاری ختم نبوت کی دلیل ہیں۔

۱۲- مسیحی قوم اپنی عبادت گاہوں کو فروخت کرکے دوسرے مقاصد ، دکان ومکان، کے لئے استعمال کرتی ہیں۔جہاں مسجد بن جائے امت محمدیہ ﷺ اس جگہ کو شرعاً دوسرے مقصد کے لئے استعمال نہیں کر سکتی۔پہلے انبیاء کی شریعت محدود وقت کے لئے تھیںان کی عبادت گاہیں بھی محدود وقت کے لئے تھیں۔آپ ﷺ کی نبوت قیامت تک کے لئے ہے تو مساجد بھی قیامت تک کے لئے ہیں۔اس اعتبار سے دیکھئے تو مسجد نبوی ﷺ سے لیکر کائنات کے ہر خطہ کی ہر مسجد ختم نبوت کی دلیل نظر آتی ہے۔

45

ان تمام امور پر نظر کریں تو گویا پورا دین ختم نبوت کے گرد گھومتا نظر آتا ہے۔

قادیانی شبہات اور ان کے جوابات

ختم نبوت کے موضوع پر مرزائی شبہات اور ان کے جوا بات ملاحظہ کر نے سے پہلے اس سلسلہ میںتنقیح موضوع کے طور پرچند اصولی با تیںذہن نشین کرلینی چا ہئیں ،جن سے موضوع کی تفہیم کے ساتھ ساتھ قادیانی دجل و فریب بھی خوب خوب آشکا را ہو جائیگا۔

۱-خاتم النّبیین کون؟

ہمارے اور قادیانیوں کے درمیان ختم نبوت یا اجراء نبوت نزاع کا سبب نہیں۔ کیونکہ مسلمان بھی نبوت کو ختم مانتے ہیں اور مرزائی بھی۔فرق دونوں میں یہ ہے کہ مسلمان رحمت دوعالم ﷺ پر نبوت کو ختم اور بند مانتے ہیں جبکہ قادیانی مرزا غلام احمد پر نبوت کو ختم اور بند مانتے ہیں۔اہل اسلام کے نزدیک حضور ﷺ کے بعد قیامت تک کوئی نیا نبی نہیں بن سکتا جبکہ مرزائیوں کے نزدیک حضور ﷺ کے بعد مرزا غلام احمد نبی بنا اور مرزا کے بعد اب قیامت تک کوئی نبی نہیں بن سکتا۔مسلمانوں کے نزدیک نبوت کی عمارت میں لگنے والی آخری اینٹ محمد ﷺ ہیںجبکہ مرزائیوں کے نزدیک آخری اینٹ مرزا غلام احمد ہے۔

اب فرق واضح ہوجانے کے بعد معلوم ہوا کہ مرزا ئیوں سے ختم نبوت ،اجراء نبوت پر بحث کرنا ہی سخت غلطی ہے۔لہٰذا اس وضاحت کے بعد اب قادیانیوں سے ہمیشہ یہ مطالبہ ہونا چاہئے کہ سارے قرآن و حدیث میں سے ایک آیت یا ایک بھی ایسی حدیث مرزائی دکھا دیں جس سے یہ ثابت ہو تا ہو کہ نبوت حضور ﷺ پر نہیں بلکہ مرزا قادیانی پر ختم ہوئی ہے اور قیامت تک مرزا قادیانی کے بعد اب کوئی نبی نہیں بنے گا ؟

قیامت تک تمام زندہ مردہ قادیانی اکٹھے ہو کر ایک آیت اور ایک حد یث بھی اس سلسلہ میں نہیں دکھا سکتے:

’’ھَاتُوْا بُرْہَانَکُمْ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا وَلَنْ تَفْعَلُوْا فَاتَّقُوْا النَّارَ‘‘

مرزا قادیانی کی امت جتنی آیات واحادیث وغیرہ سے ختم نبوت کا انکار ثابت کرنے کے لئے تحریفات کیا کرتے ہیں ان تحریفات کو صحیح اگر تسلیم کر لیا جائے تو ان سب سے یہ ثابت ہو تا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد بہت سے نبی آیا کریں گے۔ گویا نبیوں کا ایک پھاٹک کھول دیا کرتے ہیں۔

لیکن ان کا چیف گرو مرزا غلام احمد قادیانی تو آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت صرف اپنے لئے ہی محفوظ اور مخصوص رکھتا ہے۔اس سے تو امت اور نبی کے درمیان ایک زبر دست اختلاف ثابت ہو تا ہے کہ نبی نبوت کو بس اپنی ذات تک ہی محدود رکھنا چاہتا ہے جبکہ امت، نبوت کی کہیں حد بندی ہی نہیں کرتی۔

اور صرف مرزا قادیانی ہی نہیں بلکہ اس کا بیٹا مرزا محمود اور تا حال اس کی ذریت یہی ثابت کر رہی ہے کہ بس حضور ﷺ کے بعد میرا ابا ہی نبوت سے سرفراز ہوا ہے۔تو گویا مرزا کی ذریت اور اس کے نام نہاد خلفاء بھی قادیانی امت کے خلاف ہیں !فیا للعجب ! ! !

46

مرزا قادیانی نبوت کو صرف اپنے لئے مخصوص کرتا ہے اس کے حوالہ جات ملاحظہ ہوں۔

۱… ’’غرض اس حصہ کثیر وحی الہی اور امور غیبیہ میں اس اُمت میں سے میں ہی ایک فرد مخصوص ہوں اور جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء اور ابدال اور اقطاب اس اُمت میں سے گذرچکے ہیںان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا۔ پس اِس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا اور دوسرے تمام لوگ اِس نام کے مستحق نہیں۔‘‘ (حقیقت الوحی، خزائن ج۲۲ ص۴۰۶)

۲… ’’چونکہ وہ بروز محمدی جو قدیم سے موعود تھا۔ وُہ میں ہوں۔ اس لئے بروزی رنگ کی نبوت مجھے عطا کی گئی اور اِس نبوت کے مقابل پر اب تمام دنیا بے دست وپا ہے۔ کیوں کہ نبوت پر مہر ہے۔ ایک بروز محمدی جمیع کمالاتِ محمدیہ ﷺ کے ساتھ آخری زمانہ کے لئے مقدر تھا۔ سو وُہ ظاہر ہو گیا۔ اب بجز اِس کھڑکی کے اور کوئی کھڑکی نبوت کے چشمہ سے پانی لینے کے لئے با قی نہیں۔‘‘(ایک غلطی کا ازالہ، خزائن ج۱۸ ص۲۱۵، ضمیمہ حقیقت النبوۃ۲۶۸)

۳… ’’اس لئے ہم اس امت میں صرف ایک ہی نبی کے قائل ہیں۔پس ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ اس وقت تک اس امت میں کوئی اور شخص نبی نہیں گذرا۔ ‘‘ (حقیقت النبوۃ ص۳۱۸)

۴… ’’ہلاک ہو گئے وہ جنھوں نے ایک برگذیدہ رسول کو قبول نہ کیا۔ مبارک وہ جس نے مجھے پہچانا۔ میں خدا کی سب راہوں میں سے آخری راہ ہوں اور میں اس کے سب نوروں میں سے آخری نور ہوں بدقسمت ہے وہ جو مجھے چھوڑتا ہے کیوں کہ میرے بغیر سب تاریکی ہے۔‘‘(کشتی نوح ،خزائن ج۱۹ ص ۶۱)

۵… ’’فارادَ اللّٰہُ اَنْ یُتِم البنا ء ویکمل البنا ء باللبنۃِ الاخیرَۃِ فاَنَا تِلْکَ اللبنۃُ‘‘ پس خدا نے ارادہ فرمایا کہ اس پیشگوئی کو پورا کرے اور آخری ا ینٹ کے سا تھ بناء کو کمال تک پہنچا وے۔ پس میں وہی اینٹ ہوں۔ (خطبہ الہامیہ، خزائن ج۱۶ ص۱۷۸)

۶… ’’مسیح موعود کے کئی نام ہیں منجملہ ان کے ایک نام خاتم الخلفا ء ہے یعنی ایسا خلیفہ جو سب سے آخر آنے والا ہے۔‘‘ (چشمہ معرفت، خزائن ج۲۳ ص۳۳۳)

۷… ’’امت محمدیہ میں ایک سے زیادہ نبی کسی صورت میں نہیں آسکتے۔چنانچہ نبی کریم ﷺ نے اپنی امت سے صرف ایک نبی ﷲ کے آنے کی خبر دی ہے جو مسیح موعود ہے اور اس کے سوا قطعا ًکسی کا نام نبی اللہ یا رسول اللہ نہیں رکھا جائے گا اور نہ کسی اور نبی کے آنے کی خبر آپ ﷺ نے دی ہے۔بلکہ ’’لانبی بعدی‘‘ فرماکر اوروں کی نفی کردی اور کھول کر بیان فر مادیا کہ مسیح موعود کے سوا قطعاًکوئی نبی یا رسول نہیں آئے گا۔ ‘‘(رسالہ تشحیذالاذہان قادیان ،ماہ ۱۹۱۴ء؁)

ان اقتباسات کا ماحصل یہ ہے کہ مرزاقادیانی اپنے آپ کو ہی آخری نبی اور خاتم النّبیین قرار دیتا ہے۔مرزا کے بعد اب کوئی نبی نہیں آسکتا۔اس سے معلوم یہ ہوا کہ مرزائی نبوت پر ایمان لانے والوں کے نزدیک نبوت مرزا پر ختم ہوئی اور آخری نبی مرزا ٹھہرا، پھر اجراء نبوت یا ختم نبوت پر بحث کرنے سے کیا حاصل ؟

لہٰذا اب ہمیشہ بحث اس پر ہونی چاہئے کہ آخری نبی کون ہے ؟آیا حضور محمد عربی ﷺ ہیں یا مرزا غلام احمد قادیانی ہے؟

47

ہمارا دعویٰ ہے کہ اپنے من گھڑت عقائد و نظریات کی صداقت کے لئے نہ مرزا قادیانی کوئی ایک آیت یا ایک حدیث پیش کرسکا ہے اور نہ آج تک اس کی امت پیش کرسکی ہے اور نہ قیامت تک پیش کر سکتی ہے۔ قیامت آسکتی ہے لیکن قادیانی ہمارا چیلنج قبول نہیں کرسکتے۔

نبوت کی ا قسام اور دعوی نبوت میں قادیانی مغالطہ

ایک عام قاعدہ ہے کہ دعوی اور دلیل میں مطابقت ضروری ہے۔دلیل اگر دعوی کے مطابق نہ ہو تو وہ دلیل نہیں بلکہ ہفوات کہلائے گی۔

قادیانی جس قسم کی نبوت جاری ہونے کے قائل ہیں وہ ایک خاص قسم کی نبوت ہے، جس کو ظلی ،بروزی نبوت کہتے ہیں۔دوسرے یہ کہ وہ نبوت حضور ﷺ کے بعد جاری ہوئی ہے۔ تیسرے یہ کہ وہ نبوت رسول کی اطاعت ومحبت اور رسول میں فنائیت سے حاصل ہوتی ہے گویا وہ کسبی ہے وہبی نہیں۔

اب ہمارے لئے ضروری ہے کہ قادیانیوں سے ان کے خاص دعویٰ کے مطابق خاص دلیل طلب کریں۔عموماً قادیانی دھوکہ دیتے ہوئے دعویٰ کرتے ہیں خاص قسم کی نبوت کے جاری ہونے کا اور جب دلیل دینے کی باری آتی ہے تو عام دلیل پیش کر دیتے ہیں جس میں ان کے خاص دعوے کا کوئی تذکرہ نہیں ہوتا۔ ذیل میں قادیانیوں کے خاص دعوی کے حوالہ جات ملاحظہ ہوں۔

۱… ’’میں نبیوں کی تین اقسام مانتا ہوں۔ایک جو شریعت والے ہوں۔ دوسرے جو شریعت تو نہیں لا تے لیکن نبوت ان کو بلا واسطہ ملتی ہے اور کام وہ پہلی امتوں کا ہی کرتے ہیں۔جیسے سلیمان ویحیٰ اورزکریاo اور تیسرے وہ جو نہ شریعت لاتے ہیں اور نہ ا ن کو بلا واسطہ نبوت ملتی ہے ،لیکن وہ پہلے نبی کی اتباع سے نبی ہوتے ہیں۔‘‘(قول فیصل، مرزا بشیر الدین ص۱۴)

۲… ’’اس جگہ یاد رہے کہ نبوت مختلف نوع پر ہے اور آج تک نبوت تین قسم پر ظاہر ہو چکی ہے نمبر ۱۔ تشریعی نبوت، ایسی نبوت کو مسیح موعود نے حقیقی نبوت سے پکا را ہے۔نمبر۲۔ وہ نبوت جس کے لئے تشریعی یا حقیقی ہونا ضروری نہیں ایسی نبوت حضرت موعود کی اصطلاح میں مستقل نبوت ہے۔نمبر ۳۔ ظلی اور امتی نبی ہے حضور ﷺ کی آمد سے مستقل اور حقیقی نبوتوں کا دروازہ بند کیا گیا اور ظلی نبوت کا دروازا کھولا گیا۔‘‘(مسئلہ کفر واسلام کی حقیقت، مرزا بشیر احمد ایم اے ص۳۱۔کلمۃ الفصل ص۱۱۹)

۳… ’’انبیاء علیہم السلام دو قسم کے ہوتے ہیں۔(۱)تشریعی۔ (۲)غیر تشریعی۔ پھر غیر تشریعی بھی دو قسم کے ہوتے ہیں (۱)براہ راست نبوت پانے والے، (۲)نبی تشریعی کی اتباع سے نبوت کے حاصل کرنے والے، آنحضرت ﷺ سے پیشتر صرف پہلے دو قسم کے نبی آتے تھے۔ (مباحثہ راول پنڈی ص۱۷۵)

ان حوالوں سے قادیانیوں کا یہ دعویٰ واضح ہو گیا کہ ان کے نزدیک نبوت کی تین قسمیں ہیں جن میں دو بند ہیں اور ایک خاص قسم یعنی ’’ظلی بروزی‘‘نبوت جو آنحضرت ﷺکی اتباع سے حاصل ہوتی ہے جاری ہے۔نیز نبوت کی یہ خاص قسم آنحضرت ﷺسے پہلے نہیں پائی جاتی تھی آپ ﷺ کے بعد ظہور میں آئی اور یہ وہبی نہیں بلکہ کسبی ہے۔کیونکہ اس میں اتباع کا دخل ہے۔

48

تو گویا دعویٰ کے تین جز ہوئے۔(۱)ظلی بروزی نبوت۔ (۲)یہ نبوت آنحضرت ﷺ کے بعد جاری ہوئی۔ (۳)یہ نبوت کسبی ہے وہبی نہیں۔ اب تینوں اجزاء کی تنقیح ،وضاحت کے بعد دیکھنا یہ چاہئے کہ مرزائی اپنے عقیدہ کے ثبوت میں جو دلیل پیش کریں وہ ان کے خاص دعویٰ سے مطابقت رکھتی ہے یا نہیں۔یعنی اس پیش کردہ آیت میں ظلی بروزی کی قید لگی ہوئی ہے ؟اور اس میں کسب سے حاصل ہونے اور حضور ﷺ کی اتباع سے ملنے کا ذکر ہے ؟ اگر یہ تینوں شرطیں اس دلیل میں پائی جارہی ہوں تو ٹھیک ! ورنہ اسے رد کردیا جائے کیوں کہ وہ دلیل دعویٰ کے مطابق نہیں اور ہمارا دعویٰ ہے کہ قیام قیامت تک سارے مر ز ا ئی مل کر بھی اپنے من گھڑت دعویٰ کے مطابق دلیل نہیں پیش کر سکتے۔ ھاتوا برہانکم ان کنتم صادقین!

ظلی بروزی کی اصطلاح

قادیانی ظلی ،بروزی کی اصطلاح استعمال کرکے مسلمانوں کو دھوکہ دیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مرزا غلام احمد کا دعوی عین محمد ہونے کا ہے اور رتبہ اور درجہ کے اعتبار سے تو محمد ﷺ سے بھی بڑھا ہوا ہونے کا ہے۔ظل ،اور بروز کانام لیکر تو ان کا مقصد صرف اور صرف یہ ہے کہ اس کی آڑ میں قادیانی نبوت کو فریب کا چولا پہنایا جائے اور آسانی سے اس فریب کا ری کے ذریعہ مسلمانوں کا شکار کیا جاسکے۔چنانچہ ملاحظہ فرما ئیے مرزا قادیانی لکھتا ہے۔

’’خدا ایک اور محمد ﷺ اس کا نبی ہے اور وہ خاتم الانبیاء ہے اور سب سے بڑھ کر ہے اب بعد اس کے کوئی نبی نہیں مگر وہی جس پر بروزی طور سے محمدیت کی چادر پہنائی گئی…جیسا کہ تم جب آئینہ میں اپنی شکل دیکھو تو تم دو نہیں ہو سکتے بلکہ ایک ہی ہو۔ اگر چہ بظاہر دو نظر آتے ہیں صرف ظل اور اصل کا فرق ہے۔‘‘ (کشتی نوح خ ص۱۶ج۱۹)

قارئین محترم ! مرزا قادیانی کا کفر یہاں ننگا ناچ رہاہے۔اس کا یہ کہنا کہ میں ظلی بروزی ہوں ،کیا مطلب؟ جب آئینہ میں حضور ﷺ کی شکل دیکھو تو وہ غلام احمد ہے ،اور جو غلام احمد آئینہ میں دکھائی دے رہا ہے وہ غلام احمد نہیں محمد ہی ہے۔دونوں ایک ہیں پھر ظل اور بروز کی ڈھکو سلہ بازی کیسی ؟یہ تو صرف عوام کو مغالطہ دیناہے اور بس !

قطع نظر اس خبث وبد باطنی کے مجھے یہاں یہ عرض کرناہے کہ ظلی بر و ز ی کہہ کر مرزا قادیانی کی جھو ٹی نبوت کو قادیانی جو فریب کا چولا پہناتے ہیں وہ بھی اصولی طور پر غلط ہے۔ کیونکہ مرزا لکھتا ہے:

’’نقطہ محمدیہ ایساہی ظل الوہیت کی وجہ سے مرتبہ الٰہیہ سے اس کو ایسی مشابہت ہے جیسے آئینہ کے عکس کو اپنی اصل سے ہوتی ہے اور امہات صفات الہیہ یعنی حیات ،علم ،ارادہ، قدرت ،سمع ،بصر ،کلام مع اپنے جمیع فروع کے اتم و اکمل طور پر اس (آنحضرت ﷺ) میں انعکاس پذیر ہیں۔‘‘ (سرمہ چشم آریہ، خزائن ص ۴ ۲ ۲ ج ۲ در حاشیہ)

ایک دوسری جگہ لکھتا ہے: ’’حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا وجود ظلی طور پر گویا آنجناب ﷺ کا وجود ہی تھا۔‘‘(ایام الصلح، خزائن ص۲۶۵ج۱۴)

ایک اور جگہ لکھتا ہے: ’’خلیفہ در حقیقت رسول کا ظل ہوتا ہے۔‘‘ (شہادت القرآن ،خزائن ص ۳۵۳ج۶)

تواب سوال یہ ہے کہ کیا کسی قادیانی کی ہمت ہے کہ مرزا قادیانی کے فلسفہ کے مطابق حضور ﷺ کو خدا کہہ دے ؟اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور دیگر خلفاء کو نبی اور رسول کہہ دے؟ قادیانی اس موقع پر قیامت تک مرزا قادیانی کا فلسفہ نہ قبول

49

کریںگے۔معاملہ یہ ہے کہ ظل اوربروز کا جو معنی ،مطلب اور جو فلسفہ محمد ﷺ اور مرزا کے درمیان ہے جس کی بنیاد پر اسے نبوت مل جاتی ہے۔وہی معنی ،مطلب اور وہی فلسفہ بقول مرزا حضور ﷺ اور خدا تعالی کے درمیان ہے توپھرحضور ﷺکو خدائی کا درجہ کیوں نہیں دیا جاتا ؟یا حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور دیگر خلفاء کو نبی کا درجہ کیوں نہیں دیا جاتا ؟

معلوم یہ ہوا کہ ظل و بروز کا فلسفہ محض ڈھکوسلہ بازی اور مرزا کی جھوٹی نبوت کو فریب کا چولا پہنانے کی خاطر ہے۔اس سے زیادہ اس کی کوئی حقیقت اور حیثیت نہیں ہے۔

دیکھنے والے ہوش میں رہنا

سب دھوکہ ہی دھوکہ ہی

ملبوس بڑے بد صورت ہیں

لباس بڑے بھڑکیلے ہیں

امکان کی بحث

اکثر اوقات مرزائی امکان نبوت کی بحث چھیڑ دیتے ہیں۔یہاں امکان کی بحث نہیں ہے ،وقوع کی بحث ہے اگر وہ امکان کی بحث چھیڑیں تو تریاق القلوب کی درج ذیل عبارت پیش کریں۔

’’مثلاً ایک شخص جو قوم کا چوہڑہ یعنی بھنگی ہے اور ایک گاؤں کے شریف مسلمانوں کی تیس چالیس سال سے یہ خدمت کرتا ہے کہ دووقت ان کے گھروں کی گندی نالیو ںکو صاف کرنے آتا ہے اور ان کے پائخانوں کی نجاست اٹھاتاہے اور ایک دو دفعہ چوری میں بھی پکڑا گیا اور چند دفعہ زنا میں بھی گرفتار ہو کر اس کی رسوائی ہو چکی ہے اور چند سال جیل خانہ میں قید بھی رہ چکا ہے او رچند دفعہ ایسے برے کاموں پر گاؤں کے نمبر داروں نے اس کو جوتے بھی مارے ہیں او راس کی ماں اور دادیاں اور نانیاں ہمیشہ سے ایسے ہی نجس کام میں مشغول رہی ہیں اور سب مردار کھا تے اور گوہ اٹھاتے ہیں۔ اب خدا تعا لی کی قدرت پر خیال کرکے ممکن تو ہے کہ وہ اپنے کاموں سے تا ئب ہوکر مسلمان ہو جائے او رپھر یہ بھی ممکن ہے کہ خدا تعالی کا ایسا فضل اس پر ہو کہ وہ رسول اور نبی بھی بن جائے اور اسی گاؤں کے شریف لوگوں کی طرف دعوت کا پیغام لیکر آوے اور کہے کہ جو شخص تم میں سے میری اطاعت نہیں کریگا خدا اسے جہنم میںڈالے گا۔ لیکن باوجود اس امکان کے جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے کبھی خدا نے ایسا نہیں کیا۔‘‘ (تریاق القلوب خ ص۲۸۰ج۱۵ )

جب یہ عبارت پڑھیں تو ساری پڑھ دیں کیوں کہ عموماً تھوڑی سی عبارت پڑھنے کے بعد قادیانی کہتے ہیں کہ آگے پڑھو اور مجمع پر برا اثر ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔

یہاں پر یہ واقعہ بھی ملحوظ خاطر رہے کہ جب حضرت ابو سفیا ن زمانہ جاہلیت میں تجارتی سفر پر روم گئے تھے اور قیصر روم نے انھیں اپنے دربار میں بلاکر سوال پو چھے تھے جن میں سے ایک سوال حضور ﷺ کے خاندان کے بارے میں تھا۔جس کا انھوں نے جواب دیا تھا کہ وہ ایک بلند مرتبہ خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اور قیصر روم کا اس پر تبصرہ یہ تھا کہ انبیاء عالی نسب قوموں سے ہی مبعوث کئے جاتے ہیں۔ (بخاری ص ۴ج۱)

معلوم ہوا کہ نبی کا عالی نسب ہونایہ ایسا امر ہے جس پر کافروں کوبھی اتفاق تھامگر غلام احمدقادیانی ایسا بد ترین کافر تھا کہ وہ اپنے جیسے ہر ذلیل وکمینہ وبد کار کے لئے نبوت کی گنجائش اور امکان پیدا کر رہا ہے۔در اصل وہ اپنے ذلیل خاندان کے لئے منصب نبوت کی گنجائش نکا لنے کے چکر میں ہے۔

50

قرآنی آیات میں قادیانی تاویلات و تحریفات کے جوابات

آیت خاتم النّبیین

تاویل نمبر۱:

خاتم النّبیین کے معنی نبیوں کی مہرکہیں۔ جیساکہ مرزا قادیانی نے لکھا ہے۔’’اللہ جل شانہ نے آنحضرت ﷺ کو صاحب خاتم بنایا ،یعنی آپ کو افاضہ کما ل کے لئے مہر دی جو کسی اور نبی کو ہر گز نہیں دی گئی۔اسی وجہ سے آپ ﷺ کا نام خاتم النّبیین ٹھہرا۔ یعنی آپ ﷺ کی پیروی کمالات نبوت بخشتی ہے اور آپ ﷺ کی توجہ روحانی نبی تراش ہے۔‘‘(حقیقت الوحی، خزائن ج۲۲ ص۱۰۰)

جواب۱:

مرزا قادیانی کا بیان کردہ یہ معنی اس کے دجل وکذب کا شاہکار، اور قرآن وسنت کے سراسر خلاف ہے۔ محض اپنی جھوٹی نبوت کو سیدھی کرنے کی غرض سے مرزا نے جو معنی بیا ن کئے ہیں ،لغت عرب میں ہرگز ہرگز مستعمل نہیں۔قادیانیوں میں غیرت وحمیت نام کی اگر کوئی چیز ہے ،تو اپنے معنی کی تائید میں قرآن وحدیث یا لغت عرب سے کو ئی ایک نظیر پیش کردیں؟

جواب۲:

اگر مرزا کا من گھڑت ترجمہ مان لیا جائے تو ’’خَتَمَ اللّٰہُ عَلیٰ قُلُوْبِہِمْ‘‘ کے معنی مہمل ہوں گے ،اور پھر تو خاتم الاولاد کے معنی ہوں گے کہ اس کی مہر سے اولاد بنتے ہیں اور خاتم القوم کے معنی ہوں گے اس کی مہر سے قوم بنتی ہے۔اگر قادیانیوں میں ہمت ہے تو اس ترجمہ کے ماننے کا اعلان کریں ؟

جواب۳:

مرزا نے حقیقت الوحی میں لکھاہے کہ نبوت کا نام پانے کے لئے صرف مرزا ہی مخصوص کیا گیا اور چودہ سو سال میں اور کوئی نبی نہیں بنا کیونکہ نبوت کی مہر ٹوٹنے کا خطرہ لاحق ہے (خلاصہ خزائن ص ۴۰۶ج۲۲)تو اگر خاتم النّبیین کا یہی معنی ہے کہ آپ ﷺ کی مہر سے نبی بنتے ہیں ،تو کسی کے نبی بننے سے مہر کے ٹو ٹنے کا خطرہ کیوں لاحق ہے ؟ بلکہ پھر تو جتنے زیادہ نبی بنیں گے اسی میں اس مہر کا کمال ہے۔یہ کیسی مہر ہے کہ بنتے بنتے بنا بھی تو ایک نبی اور وہ بھی ناقص ظلی ،بر و ز ی اور ایک آنکھ کا کانا ؟

تاویل نمبر۲:

خاتم النّبیین کا ترجمہ آخر النّبیین ہے لیکن آپ ﷺ اپنے سے پہلوں کے خاتم اور آخری ہیں۔

جواب:

اس معنی کے لحاظ سے ہر نبی آدم علیہ السلام کے علاوہ اپنے سے پہلے انبیاء کا خاتم ہے پھر خاتم النّبیین ہو نے میں آنحضرت ﷺ کی خصوصیت کیا رہی؟ جبکہ حضور ﷺ فرما تے ہیں مجھے چھ چیزوں کے ساتھ تمام انبیاء پر فضیلت دی گئی ،ان میں سے ایک ’’اُرْسِلتُ اِلی الخلقِ کافۃً وخُتِمَ بِیَ النَّبِیُّوْ ن‘‘ آپ ﷺ کا وصف خاصہ ہے اور قاعدہ ہے۔ ’’خاصَّۃُ الشَّیِٔ یُوجدُ فیہ ولا یوجد فی غیرہ‘‘ لہٰذا مرزا قادیانی کا من گھڑت معنی بے سود اور باطل ہے۔

تاویل نمبر۳:

خاتم النّبیین کا معنی آخر النّبیین ہے لیکن الف لام اس میں عہد کا ہے نہ کہ استغراق کا۔جس کا معنی یہ ہے کہ آپ ﷺانبیاء شریعت جدیدہ کے خاتم ہیں نہ کہ کل نبیوں کے۔

جواب۱:

اگر الف لام عہد کا ہوتا تو معہود کلام میں مذکور ہونا چاہئے تھا اور کلام سابق میں انبیاء تشریعی کا کہیں ذکر نہیں ملتا۔بلکہ اگر ذکر آیا ہے تو مطلق انبیاء کا جو اس امر کی دلیل ہے تمام انبیاء کے آپ ﷺ خاتم ہیں۔

51

جواب۲:

قادیانی اخبار الحکم اگست ۱۸۹۹ء میں لکھاہے ’’خدا نے اپنے تمام نبوتوں اور رسالتوں کو قرآن شریف اور آنحضرت ﷺ پر ختم کردیا۔‘‘سوال یہ ہے کہ اس کا کیا مفہوم ہے ؟کیا ’’تمام نبوتوں ‘‘میں تشریعی اور غیر تشریعی شامل نہیں ؟

جواب۳:

مرزا غلام احمدنے لکھا ہے ’’ہست اوخیر الرسل خیر الانام… ہرنبوت را بر و شد اختتام‘‘(سراج منیر خ ص۹۵ج۱۲) قادیانی دنیا میں اگر انصاف نام کی کو ئی چیز ہے تو خود غور کریں کہ’’ہرنبوت‘‘ میں کیا تشریعی اور غیر تشریعی سب شامل نہیں ؟

تاویل نمبر۴:

خاتم النّبیین میں الف لام استغراق عرفی کے لئے ہے استغراق حقیقی کے لئے نہیں۔جیسا کہ ’’وَیَقْتُلُوْنَ النَّبِیِّیْنَ ‘‘ میں استغراق عرفی ہے ،حقیقی نہیں۔

معلوم ہوا کہ آیت بالامیں الف لام عہد کا بتلانا قادیانی لاف زنی اور مرزا کے بیان کردہ تفسیری معیار کی روشنی میں قرآن مجید میں کھلی تحریف معنوی ہے۔

جواب۱:

پہلے تو استغراق عرفی اور حقیقی کی تعریف دیکھیں کیاہے ؟ الف لام استغراق حقیقی،اصطلاح میں اس کو کہا جاتا ہے کہ وہ جس لفظ پر داخل ہو اس کے تمام افراد بے کم و کاست مراد لئے جا سکیں۔مثلاً عالم الغیب میں لفظ غیب جس پرالف لام داخل ہے اس سے اس کے تمام افراد مراد ہیں ،یعنی تمام غائبات کا عالم اوراستغراق عرفی میں تمام افراد مراد نہیں ہوسکتے۔مثلاً ’’جَمعَ الامیرُ الصاغۃَ‘‘ یعنی بادشاہ نے سناروں کو جمع کیا۔ یہاں صاغہ جس پر الف لام داخل ہے اس کے تمام افراد مراد نہیں ،بلکہ مراد یہ ہے کہ اپنے شہر یا قلم رو کے تمام سناروں کو جمع کیا۔کیوں کہ پوری دنیا کے سناروں کو جمع کرنا مراد بھی نہیں اور ممکن بھی نہیں۔

باتفاق علماء عربیت واصول استغراق عرفی اس وقت مراد لیا جاتا ہے جب استغراق حقیقی نہ بن سکتا ہو، یا عرفاً اس کے تمام افراد مراد نہ لئے جاسکتے ہوں۔ اس اصول کے اعتبار سے خاتم النّبیین میں جب استغراق حقیقی مراد لیا جا سکتا ہے تو ظا ہر سی بات ہے کہ استغراق عرفی مراد لینا جائز نہ ہوگا۔خاتم النّبیین کے بلا تکلف استغراق حقیقی کے ساتھ یہ معنی صحیح ہیں کہ آپ ﷺ تمام انبیاء کے ختم کرنے والے ہیں ،پھر کیا وجہ ہے کہ استغراق حقیقی کو چھوڑ کربلا دلیل و قرینہ اور بلا کسی وجہ کے استغراق عرفی مراد لیا جائے !!

باقی رہا یہ مسئلہ کہ آیت کریمہ ’’وَیَقْتُلُوْنَ النَّبِیِّیْنَ ‘‘ کو اپنے دعویٰ کی تائید میں پیش کرنا، توہم عرض کرچکے ہیں کہ جب استغراق حقیقی نہ بن سکے گا تو ا ستغر ا ق عرفی کی طرف ہم جائیں گے اور اس آیت میں کھلی ہوئی بات ہے کہ ’’یَقْتُلُوْنَ النَّبِیِّیْنَ ‘‘ کا الف لام استغراق حقیقی کے لئے کسی طرح نہیں ہو سکتا۔ورنہ آیت کے یہ معنی کرنے پڑیںگے کہ بنی اسرائیل تمام انبیاء علیہم السلام کو قتل کرتے تھے۔ حا لا نکہ یہ بات کسی طرح درست نہیں ہو سکتی ،بلکہ کذب محض ہوگی۔کیوںکہ اول تو بنی اسرائیل کے زمانہ میں تمام انبیاء موجود نہ تھے، بہت سے ان میں سے پہلے گذر چکے تھے اور بعض ابھی پیدا بھی نہ ہوئے تھے پھر ان کا تمام انبیاء کو قتل کرنا کیا مطلب رکھتا ہے ؟

دوسرے یہ کہ یہ بھی ثابت نہیں کہ بنی اسرائیل نے اپنے زمانہ کے تمام انبیاء کو بلا استثناء قتل ہی کرڈالا ہو۔بلکہ قرآن عزیز ناطق ہے کہ ’’فَفَرِیْقاًکَذَّبْتُمْ وَفَرِیْقاً تَقْتُلُوْنَ‘‘ جس سے واضح طور پر معلوم ہو گیا کہ بنی اسرائیل نے تمام انبیاء مو جودین کو بھی قتل نہیںکیا۔ اس اعلان کے بعد بھی اگر ’’وَیَقْتُلُوْْنَ النَّبِیِّیْنَ ‘‘ کے الف لام کو استغراق حقیقی کے لئے

52

رکھا جاوے تو جس طرح واقعات اور مشاہدات اس کی تکذیب کریںگے اسی طرح خود قرآن کریم بھی اس کو غلط ٹہرا ئے گا۔اس لئے یہاں استغراق عرفی ہی مراد لیا جائے گا ،حقیقی نہیں۔

بخلاف آیت خاتم النّبیین کے کہ اس میں تخصیص کرنے کی کوئی وجہ نہیں ،اس میں معنی حقیقی لینا بلا تامل درست ہیں۔یعنی حضور ﷺ تمام انبیاء علیہم السلام کے ختم کرنے والے ہیں۔

یہاں یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ قادیانی اگریوں ہی نفس پرستی اور خود غرضی کی بنیاد پر جہاں چاہیں استغراق عرفی مراد لے سکتے ہیں تو ہمارا ان سے سوال ہے کہ مندرجہ ذیل آیتوں میں بھی الف لام ’’النبیین‘‘ پر داخل ہے ،کیا اس جگہ بھی استغراق عرفی مراد لیں گے؟ اگر ہمت ہے تو اس کا اعلان کریں؟

’’وَلٰکِـنَّ الْبـِـرَّ مَنْ اٰمَــنَ بِاللّٰہِ وَالْیَــوْمِ الْآخـِـرِ وَالْمَلٰٓئِکَۃِ وَالْکِتٰبِ وَالنَّبِیِّیْنَ‘‘

لیکن نیکی تو یہ ہے کہ جو کوئی ایمان لا ئے ﷲتعا لی پر اور ملائکہ پر اور سب کتا بوں پر اور پیغمبروں پر۔(بقرۃ۱۷۷)

کیا یہاں استغراق عرفی مراد لیکر قادیانی یہ معنی مطلب بیان کر یں گے کہ تمام انبیا پر ایمان لانا ضروری نہیں ؟

اسی طرح آیت ’’فَبَعَثَ اللّٰہُ النَّبِیّٖنَ مُبَشِّرِیْنَ وَمُنْذِرِیْنَ‘‘ میں کیا استغراق عرفی مراد لیکر یہ معنی ومطلب بیان کریںگے کہ اللہ نے بعض انبیاء کو بشیر ونذیر بنایا ہے اور بعض کو نہیں ۱؎؟

اگر آیات مذکورۃ الصدر اور ان کی امثال میں استغراق عرفی مراد نہیں لیا جا سکتا تو کوئی وجہ نہیں کہ خاتم النّبیین میں استغراق عرفی مراد لیا جائے۔یا للعجب !! سارا قرآن اول سے آخر تک خاتم النّبیین کے نظائر سے بھرا ہوا ہے ا ن میں سے کوئی نظیر پیش نہ کی گئی اور کسی پر ان کو قیاس نہ کیا گیا۔قیا س کے لئے ملی تو آیت ’’وَیَقْتُلُوْنَ النَّبِیِّیْنَ ‘‘ جس میں بداہت اور مشاہدہ نے آفتاب کی طرح استغراق حقیقی کو غیرممکن بنا دیاہے اورپھرقرآن کریم نے اس کا اعلان صاف صاف لفظو ں میں کردیا ہے۔

جواب۲:

سب سے زیادہ قابل غوربات یہ ہے کہ اگران سب امورسے قطع نظرکریں اورقواعدعربی سے بھی آنکھیں بندکرلیں اورآیت میں کسی طرح استغراق عرفی مراد لے لیں تو پھرآیت خاتم النّبیین کے معنی ہوں گے۔ آنحضرت ﷺ تمام انبیاء کے خاتم نہیں ہیں۔ لیکن جس شخص کو خدا وندتعالی نے سمجھ بوجھ سے کچھ حصہ دیاہے وہ بلا تامل سمجھ سکتا ہے کہ اس صورت میں خاتم النّبیین ہونا آنحضرت ﷺ کی کو ئی خصوصی فضیلت نہیں رہتی بلکہ آدم علیہ السلا م کے بعد ہرنبی اپنے سے پہلے انبیاء کا خاتم ہے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنے سے پہلے انبیاء کے لئے اورحضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے سے پہلے انبیا ء کے لئے (اوراسی طرح سلسلہ بسلسلہ )

حالانکہ آیت مذکورہ کا سیاق بتلا رہاہے کہ خاتم النّبیین ہونا آپ ﷺکی مخصوص فضیلت ہے علاوہ بریں خودآنحضرت ﷺ نے ختم نبوت کو اپنے ان فضائل میں شمار فرمایاہے جوآپ ﷺکے لئے مخصوص ہیں اورآپ ﷺسے

۱؎ اس قسم کی مثالیں قرآن مجید میں بے شمار ہیں جہاں الف ولام النّبیین پر داخل ہے، لیکن وہاں استغراق عرفی کسی طرح مراد نہیں لیا جاسکتا مثلاً: ’’ وَلا یَاء مُرَکُمْ اَنْ تَتخذُوا المَلٰئکۃَ وَالنَبیینَ اَرْبَاباً (آل عمران:۸۰)‘‘ (۲)’’مَعَ الذینَ انعمَ اللّٰہُ علیہِمْ مِنَ النبیینَ ‘‘ (۳)’’وَُضِعَ الکتٰبُ باالنبیینَ وَ الشہداءِ‘‘ (۴)’’وَاِذْ اَخَذَاللّٰہُ مِیْثَاقَ النبیینَ‘‘ (۵)’’ولقد فضلنا بعض النبیین علی بعض‘‘
53

پہلے کسی نبی کونہیںدی گئیں۔ چنانچہ حدیث مسلم بروایت ابوہریرہ رضی اللہ عنہپہلے گذرچکی ہے جس میں آپ ﷺنے اپنی چھ مخصوص فضیلتیں شمارکرتے ہوے فرمایاہے: ’’وارسلتُ اِلی الخلق کافۃ وخُتِمَ بی النبیون‘‘

اور منجملہ مخصوص فضائل کے یہ ہے کہ میں تمام مخلوقات کی طرف مبعوث ہوا ہوں اور مجھ پر انبیاء ختم کردیئے گئے۔ (رواہ مسلم )

جواب۳:

اگرا ن تمام چیزوں سے آنکھیں بند کرلیں اور اپنی دھن میں اس کا بھی خیال نہ کریں کہ آیت میں استغراق عرفی کے ساتھ بعض انبیاء یعنی اصحاب شریعت مراد لینے سے آیت کے معنی درست ہوں گے یا غلط۔بفرض محال اس احتمال کو نافذ اورجائزقراردیں ،تب بھی مرزا قادیانی اور ان کے اذناب کا مقصد ’’ہنوز دلی دور است ‘‘ کا مصداق ہے۔کیوں کہ ہم اوپرعرض کرچکے ہیں کہ قرآن مجید کی تفسیرمحض احتمالات عقلیہ اورلغویہ سے نہیں ہو سکتی جب تک کے مذکورہ سابقہ اصول تفسیرسے اس کی صداقت پرشہادت نہ لے لی جائے۔

لیکن مرزا قادیانی اور ان کی ساری امت ملکرقرآن مجیدکی کسی ایک آیت میں یہ نہیں دکھلا سکتے (اور ہرگز نہ دکھلا سکیںگے، ’’وَلَوْکَانَ بَعْضُہُمْ لِبَعْضٍ ظَہِیْرًا‘‘ کہ آیت خاتم النّبیین میں فقط انبیاء تشریعی یعنی اصحاب شریعت جدیدہ مرادہیں ؟

اسی طرح ان کی تمام ذریت،احادیث کے اتنے وسیع دفترمیں کسی ایک صحیح بلکہ ضعیف حدیث میں بھی آیت خاتم النّبیین کی یہ تفسیر نہیں دکھلا سکتے ہیں کہ اس سے خَاتَم النبیین التشریعین مراد ہیں۔

اسی طرح مرزا قادیانی اور ان کے تمام اذناب ،آثار صحابہ اور تابعین کے وسیع تر میدان میں سے کوئی ایک بھی اثر اس تفسیرکے ثبوت میں پیش نہیں کر سکتے ہیں اورہرگزنہیں۔

اوراگریہ سب کچھ نہیں تو ائمہ تفسیرکی مستنداورمعتبرتفاسیرہی میں سے کوئی تفسیرپیش کریں جس میں خاتم النّبیین کی مراد بیان کی گئی ہو۔کہ ختم کر نے والے تشریعی انبیاء کے۔ مرزا قادیانی اوران کی ساری امت ایڑی چوٹی کا زورلگا کر بھی قیامت تک اصول مذکورہ میں سے کسی ایک اصل کو بھی اپنی گھڑی ہوئی اور مخترع تفسیر،بلکہ تحریف کی شہادت میں پیش نہ کرسکیں گے۔

جواب۴:

ہم علاوہ تفسیراوراصول کے خود اسی آیت کے سیاق وسباق پر نظر ڈالتے ہیں تو بلا تامل آیت بول اٹھتی ہے کہ خاتم النّبیین میں نبیین سے تمام انبیاء مراد ہیں۔جمہور عربیت واصول کا مذہب یہی ہے کہ لفظ نبی عام ہے اور لفظ رسول خاص۔یعنی رسول صرف اس نبی کو کہا جاتا ہے کہ جس پر شریعت مستقلہ نازل ہوئی ہو اور نبی اس سے عام ہے ،صاحب شریعت مستقلہ کو بھی نبی کہتے ہیں اور اس کو بھی جس پر شریعت مستقلہ نازل نہیں ہوئی اور ظاہر ہے کہ آیت میں آنحضرت ﷺ کو خاتم النّبیین کہا گیا ہے ، خاتم المرسلین نہیں فرمایا۔ کیوں کہ اس سے پہلے آپ ﷺ کی نسبت لفظ رسول فر مایا گیاہے ’’ وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ ‘‘ لفظ رسول کے ساتھ ظاہر ہے کہ خاتم المرسلین بہ نسبت خاتم النّبیین کے زیادہ چسپاں ہے۔ مگر سبحان ﷲ !خداء علیم وخبیر کا کلام ہے وہ جانتا ہے کہ امت میں وہ لوگ بھی پیدا ہوں گے جو آیت میں تحریف کریں گے، اس لئے یہ اسلوب بدل کر اس تحریف کا دروازہ بند کردیا۔چنانچہ امام المفسرین ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ نے اس پر متنبہ فر مایا ہے۔

54

’’ وقولہ تعالی وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ وَکَانَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمًا۔ فھذہ الآیۃ۔ نص فی انہ لانبی بعدہ واذا کان لا نبی بعدہ فلا رسول بعد ہ با لطریق الا وْلٰی والاَحْریٰ لانّ مقامَ الرسالۃِاخصُّ من مقام النبوۃ فان کل رسول نبی ولاینعکس وبذ ا لک وردت الا حادیثُ المتواترُعن رسول اللّٰہ ﷺمن حدیث جماعۃمن الصحابۃ‘‘

(تفسیرابن کثیر ج۸ ص۸۹)

اور فرمان ﷲتعالی آیت ’’ ولکن رسول اللّٰہ وخاتم النبیین وکان اللّٰہ بکل شیئ علیماً‘‘ اس بارہ میںصاف وصریح ہے کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا اور جب کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ،تو رسول بھی بدرجہ اولی نہ ہوگا۔ اس لئے کہ مقام رسالت بہ نسبت مقام نبوت خاص ہے کیونکہ ہر رسول کے لئے نبی ہونا شرط ہے اور نبی کے لئے رسول ہونا ضروری نہیں اور اسی پر وارد ہوئی ہیں رسول ﷲ ﷺ کی احادیث ،جن کو صحابہ کرام کی ایک بڑی جماعت نے روایت کی ہے۔

اسی طرح سید محمود آلوسی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تفسیر میں بیان فرمایاہے :

’’والمرادُ بالنبی ما ہُوَ اَعم مِن الرسولِ فیلزَمُ من کونہ ﷺ خاتمُ النبیین خاتمُ المرسلین‘‘

اور نبی سے وہ مراد ہے جو رسول سے عام ہے اور اس لئے آپ ﷺ کے خاتم النّبیین ہو نے سے خاتم المرسلین (یعنی اصحاب شریعت انبیا ء کا خاتم ) ہونا بھی لازم آتا ہے۔

(روح المعانی ج۸ ص۶۰)

یہ بات فریقین کے ہاں مسلمہ ہے کہ نبوت عام ہے اور رسالت خاص ہے اور کلیات ابوالبقاء میں یہ اصول لکھا ہے: ’’ونفی الاعم یستلزم نفی الاخص‘‘

(کلیات ص۳۶۷، طبع قاہرہ)

کہ عام کی نفی سے خاص کی نفی خود بخود ہو جاتی ہے۔ اس لئے خاتم النّبیین سے بسلسلہ نبوت کے ساتھ ساتھ سلسلہ رسالت کی بھی نفی ہو گئی۔

تاویل نمبر۵:

قادیانی کہتے ہیں کہ حضرت شاہ عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ کے لئے خاتم المحدثین بعض حضرات کے لئے خاتم المفسرین کے الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں اوروہ سب مجاز پر محمول کیا جائے گا۔لہٰذا اسی محاورہ کی طرح یہاں بھی خاتم النّبیین کا معنی ومطلب ہوگا۔

جواب۱:

خاتم المحدثین، خاتم المحققین، خاتم المفسرین وغیرہ انسان کا کلام ہے جس کو کل کی کچھ خبر نہیں کہ کل کیا ہونے والاہے۔ کتنے آدمی پیدا ہوں گے، کتنے مریں گے، کتنے عالم ہوں گے، کتنے جاہل ہوں گے، کتنے محدث ومفسر ہوںگے، اور کتنے آوارہ پھریں گے۔اس لئے اس کو کوئی حق نہیں کہ وہ کسی کو خاتم المحدثین کہے۔ اگر کہیں کسی کے کلام میں ایسے الفاظ پائے جائیں تو سوائے اس کے چارہ نہیں کہ اسے مجاز یا مبالغہ پر محمول کیا جائے۔ورنہ یہ کلام لغو اور بے معنی ہو جائے گا۔ لیکن کیا عالم الغیب ذات کے کلام کو بھی اس پرقیاس کیا جائے گا؟جس کے علم محیط سے کوئی چیز با ہر نہیں اور جو اپنے علم اور اختیار کے ساتھ انبیاء کرام کو مبعوث فرماتا ہے۔پس علیم وخبیر اور حکیم ذات کے کلام میں اگر کسی کی ذات کے متعلق خاتم النّبیین کا لفظ جو ارشاد کیا گیاہے تو کوئی وجہ نہیں کہ اس کے حقیقی معنی مراد نہ لئے جائیں جو کہ بلا تکلف مراد لئے جا سکتے ہیں اور ان کو چھوڑ کر مجاز

55

ومبالغہ پر حمل کرنا صریحاً ناجائز ہے۔الغرض انسان کے کلام میں ہم مجبور ہیں کہ ان کلمات کو ظاہری معنی سے پھیر کر مبالغہ یا مجاز پر محمول کریں۔ مگر خداوند قدوس کے کلام میں ہمیں اس کی ضرورت نہیں اور بلا ضرورت حقیقی معنی کو چھو ڑ کر مجاز کی طرف جانا اصول مسلم کے خلاف ہے۔

امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں

’’لیس فیہ تاویلٌ ولا تخصیصٌ ومن اولہ بتخصیص فکلامُہ من انواع الھذیانِ لایمنع الحکمَ بتکفیرِہ لانہ مُکذبٌ لِھذاالنص الذی اَجتمعت الامۃُعلی انہ غیرُ ماؤل ولا مخصوص‘‘(الاقتصاد ص )

آیت خاتم النّبیین میں نہ کوئی تاویل ہے اور نہ تخصیص اور جو شخص اس میں کسی قسم کی تخصیص کر ے اس کا کلام ہذیا ن کی قسم سے ہے اور یہ تاویل اس کو کافر کہنے کے حکم سے روک نہیں سکتی کیوں کہ وہ اس آیت (خاتم النّبیین) کی تکذیب کررہا ہے جس کے متعلق امت کا اجماع ہے کہ وہ مائول یا مخصوص نہیں

لغرض چونکہ قرآن عزیزاور احادیث نبویہ اور اجماع صحابہ اور اقوال سلف نے اس کا قطعی فیصلہ کر دیا کہ خاتم النّبیین اپنے حقیقی معنی پر محمول ہے۔نہ اس میں مجاز ہے نہ کوئی مبالغہ اور نہ تاویل وتخصیص۔اب اسے کسی مجازی معنی پر محمول کرنے کیلئے قیاس کے اٹکل پچو چلانا جائز نہیں۔

مخفی نہیں رہے کہ حق تعالی کے ارشاد ’’ وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ‘‘ کو عوام الناس کے قول پر قیاس کرنا انتہائی جہالت ونادانی کا کرشمہ ہے۔کیونکہ اوّل تو یہ مقولہ ایک عامی محاورہ ہے جو تحقیق پر مبنی نہیں۔بہت سے محاورات مقامات خطابیہ میں استعمال ہوتے ہیں جن کا مدار تحقیق پر نہیں ہوتا۔بخلاف ارشاد خدا وندی کے کہ وہ سراسر تحقیق ہے اور حقیقت واقعہ سے سر مو متجاوز نہیں بلکہ قرآن کریم کے وجوہ اعجاز میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس کے ایک کلمہ کی جگہ مخلوق دوسرا کلمہ نہیں لا سکتی۔کیونکہ اس مقام کے حق اور حقیقت غرض کی گہرائی کا احاطہ انسانی طاقت سے خارج ہے۔

جواب۲:

اس فقرہ کے قائل نے خود بھی تحقیق کا ارادہ نہیں کیا۔کیونکہ نہ تو اسے غیب کا علم ہے اور نہ وہ غیب کے پردہ میں چھپی ہوئی چیزوں سے باخبر ہے کہ دوام کی رعایت رکھ کر بات کہتا۔بخلاف باری تعالی کے کہ اس کے لئے ماضی اور مستقبل یکساں ہیں۔

جواب۳:

یہ فقرہ ہر شخص اپنے گمان کے موافق کہتا ہے اور ایک ہی زمانہ میں متعدد لوگ کہتے ہیں اور انہیں ایک دوسرے کے قول کی خبر نہیں ہوتی۔بلکہ ایک شخص اس اطلاع کے باوجود کہ اس زمانہ میں دیگر اصحاب کمال بھی موجود ہیں، اس لفظ کا اطلاق کرتا اور قطعی قرینہ پر اعتماد کرتا ہے کہ دوسرے لوگ خود مشاہدہ کرنے والے ہیں اس لئے میرے سامعین ایک ایسی چیز کے بارے میں جسے وہ خود اپنی آنکھو ں سے دیکھتے اور اپنی کانوں سے سنتے ہیں ، میرے کلام کی وجہ سے غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہوں گے۔

جواب۴:

ہر شخص کی مراد اپنے زمانہ کے لوگوں تک محدودہو تی ہے،مستقبل سے اسے کوئی سرو کار نہیں ہوتا۔

جواب۵:

اس قادیانی دجال کے خیال کے مطابق نعوذ بِاللہ آئندہ آنے والے ہر نبی پر ایک اعتبار سے خاتم کا اطلاق کرسکتے ہیں اندریں حالت آیت کے مضمون کا کوئی حاصل اور نتیجہ ہی نہیں نکلتا۔

56

جواب۶:

جس صورت میں کہ (دجال قادیان کے بقول )خاتم کے معنی مہر لگانے والے کے لئے جائیں تو اس صورت میں اگر خاتم الانبیاء کا زمانہ تمام انبیاء کرام سے مقدم ہوتا، جب بھی آپ ﷺ خاتم بالمعنی المذکور ہوتے۔حالانکہ یہ قطعاً بے معنی بات ہے۔ ایسی حالت میں مقدام النبیین بولتے ہیں نہ کہ خاتم النّبیین۔

جواب۷:

اس تقدیر پر اگر خاتم النّبیین ﷺ کو امت مرحومہ کے ساتھ کوئی زائد خصوصی تعلق باقی نہیں رہ جاتا۔حالانکہ آیت کا سیاق یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کو امت کیساتھ ابوت کے بجائے خاتم نبوت کا علاقہ ہے اور شاید آنحضرت ﷺ کی نرینہ اولاد اسی واسطے نہیں رہی تاکہ آپ ﷺ کے بعد نبوت کی طمع کلی طور پرمنقطع ہو جائے۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ سے علاقہ ابوت مت تلاش کرو بلکہ اس کی جگہ علاقہ نبوت ڈھونڈواور وہ بھی ختم نبوت کا علاقہ اورآپ ﷺ کی نرینہ اولاد کے زندہ نہ رہنے میں یہ ارشارہ تھا کہ آپ ﷺ کے بعد سلسلہ نبوت باقی نہیں رہے گا۔جیسا کہ بعض صحابہ مثلاً عبد ﷲ ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہاور ابن عباس رضی اللہ عنہ کے الفاظ سے سمجھا جاتا ہے۔دیکھئے ’’شرح مواہب‘‘ جلد ثالث۔ذکر ابراہیم اور وراثت نبوت کے لئے ’’جامع البیان‘‘ اوائل سورۃ مریم مع حاشیہ اور مواہب لدنیہ میں خصائص کی بحث دیکھئے۔

غرض یہ کہ محاورہ عامیہ ،تحقیقی کلام نہیں ہے بلکہ تساہل اور تسامح پر مبنی ہے اور اس کے نظائر احیا ء العلوم (مصنفہ امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ)کے’’باب آفات لسان‘‘میں ملاحظہ کئے جائیں۔نیزجو کلام انہوںنے فخریہ القاب۔مثلاًشہنشاہ پر کیاہے اسے بھی ملاحظہ کئے جائیں اور ممدوحین کے روبروان کی تعریف وتوصیف کی ممانعت معلوم ہی ہے۔ پس یہ محاورات تو تحقیقی ہیںاور نہ شرعی ہیں۔ (اس نوعیت کے غیرذمہ دارانہ القاب و محاورات تو کیا شرعی ہوتے ہیں)چہ جائیکہ شارع علیہ السلام نے برہ نام کو بھی پسندنہیں فرمایا (کہ اس میں تزکیہ وتوصیف کی جھلک تھی)

جواب۸:

لفظ ختم کا مدلول یہ ہے کہ خاتم کا حکم و تعلق اس کے ماقبل پر جاری ہوتا ہے اور سابقین اس کی سیادت وقیادت کے ماتحت ہوتے ہیں۔ جس طرح کہ بادشاہ موجودین کا قائد ہوتا ہے۔ نہ کہ ان لوگوں کا جوہنوز پر دہ عدم میں ہوں اور اس کی سیادت کا ظہور اور اس کے عمل کا آغاز رعایا کے جمع ہونے کے بعد ہوتا ہے۔ نہ کہ اس سے پہلے۔گویا اجتماع کے بعدکسی قوم کاکسی کی آمد کے لئے منتظر اور چشم براہ ہونااس امر کا اظہار ہے کہ معاملہ اس کی ذات پر موقوف ہے۔بخلاف اس کی بر عکس صورت کے کہ (قائدآئے اور چلاجائے اور ما تحت عملہ اس کے بعدآئے۔اس صورت میں کسی قرینے سے اس امر کا اظہار نہیں ہوتا۔بلکہ اس پیشرو کی برتری اور سیادت کا تصور)محض ایک معنوی اور ذہنی چیز ہے۔(جس کا خارج میں کوئی اثر ونشان نہیں ہوتا۔ نہ اس پر کوئی دلیل وبرہان ہے) یہی وجہ ہے کہ عاقب،حاشر اور مقفیٰ جوسب آنحضرت ﷺ کے اسمائے گرامی ہیں ما بعد کے لحاظ سے نہیں(بلکہ ما قبل کے لحاظ سے ہیں۔ جیسا کہ ان کے معانی پر غور کرنے سے بادنیٰ تامل معلوم ہو سکتا ہے)اور خاتمیت سے یہ مراد لینا کہ چونکہ آپ ﷺکی نبوت بالذات ہے اور دوسروں کی نبوت با لعر ض۔

لہٰذاآپ ﷺ سے استفادہ کے ذریعہ اب بھی نبوت مل سکتی ہے۔ خاتمیت کا یہ مفہوم غلط ہے کیوں کہ ما بالذات اور ما بالعرض کا ارادہ فلسفہ کی اصطلاح ہے۔ نہ تو یہ قرآن کریم کا عرف ہے۔ نہ زبان عرب ہی اس سے آشنا ہے اور نہ قرآن کریم کی عبارت میں اس کی جانب کسی قسم کا اشارہ یا دلالت موجود ہے۔ پس اس آیت میں ’’ استفادہ نبوت ‘‘ کا

57

اضافی مضمون داخل کرنا محض خود غرضی اور مطلب براری کے لئے قرآن پر زیادتی ہے۔البتہ سنت ﷲ یہی واقع ہو ئی ہے کہ ختم زمانی کا منصب عالی اسی شخصیت کے لئے تجویز فرمایاگیا جو قطعی طور پر امتیازی کمال میں سب سے فائق تھی اور تمام سابقین کو اس کی سیادت وقیادت کے ماتحت رکھا گیا اور انبیاء کرام کو نبوت پیدا کرنے کے لئے نہیں بھیجاجاتا (کہ مہر لگا لگا کر نبی پیدا کریں )بلکہ سیادت وقیادت اور سیاست د رسیاست کے لئے مبعوث کیا جاتا ہے۔ قوم نماز کے لئے پہلے جمع ہو تو اس کے بعد امام مقرر کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے یہی محمل ہے حق تعا لیٰ کے ارشاد : ’’ یَوْمَ نَدْعُوْا کُلَّ اُنَاسٍ بِاِمَامِہِمْ (بنی اسرائیل:۷۱)‘‘ کا پہلی امتوں میں انبیا ء کرام تکمیل کار کے لئے رسولوں کے ماتحت ہو تے تھے چنانچہ موسی علیہ السلام کی دعا ہے: ’’اُشْدُدْ بِہٖ اَزْرِیْ وَاَشْرِکْہُ فِیْ اَمْرِیْ (طٰہٰ:۳۰)‘‘ نیز موسی علیہ السلام کی درخواست کے جواب میں ارشاد خداوندی ہے : ’’ سَنَشُدُّ عَضُدَکَ بِاَخِیْکَ‘‘ اور حضرت خاتم الانبیاء علیہم السلام کے مقام میں کمال کا کوئی جزء باقی نہیں چھوڑا گیا (بلکہ کار نبوت کی تکمیل من کل الوجوہ آپ ﷺ کی ذات گرامی سے کرادی گئی لہٰذااب کوئی منصب باقی نہ رہا جس کے لئے کسی نئے نبی کو مبعوث کیا جا تا۔ چنانچہ آپ ﷺ کی شان تو یہ ہے)

حسن یو سف دم عیسیٰ ید بیضا داری

آنچہ خوباں ہمہ دارند تو تنہاداری

تاویل نمبر۶:

خاتم کا معنی انگشتری ہے۔قادیانی کہتے ہیں خاتم النّبیین میں خاتم بمعنی نگینہ ہے اگر یہاں نگینہ مراد لیکر زینت کا معنی مراد لیا جائے اور کلام کا معنی یہ ہوں کہ آپ ﷺ سب انبیاء کی زینت ہیں تو اس صورت میں آیت کو ختم نبوت سے کوئی تعلق ہی باقی نہیں رہتا۔

جواب۱:

لیکن جب ہم اس کو اصول تفسیر پر رکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ محض قرآن پر افترا ہے۔اس کی ہرگز وہ مراد نہیں ،جو قادیانی لینا چاہتے ہیں۔

اوّل تو اس وجہ سے کہ خاتم بمعنی زینت مراد لینا مجازی معنی ہیں اور جبکہ اس جگہ حقیقی معنی بلا تکلف درست ہیں تو حسب تصریحات علماء لغت وبلاغت واصول،معنی مجازی کی طرف جانیکی کوئی وجہ نہیں۔دوسرے احادیث متواترہ نے جو تفسیر اس آیت کی صاف صاف بیان کی ہے یہ اس کے خلاف ہے۔

جواب۲:

یہ تفسیر اجماع اور آثار سلف کے بھی خلاف ہے۔جیسا کہ ہم نے اوپر مفصل عرض کیاہے۔

جواب۳:

ائمہ تفسیر کی شہادتیں بھی اس کے خلاف ہیں۔پھر کیا کوئی مسلمان قرآن عزیز کے ایسے معنی تسلیم کرسکتاہے؟جو قواعدعربیت کے بھی خلاف ہوں اور خو د تصر یحا ت قرآن مجید کے بھی۔احادیث متواترہ اور آثار سلف بھی اس کورد کرتے ہوںاورائمہ تفسیربھی۔ ’’اقیمو الصلواۃ‘‘ وغیرہ کے الفاظ سے نماز کی فرضیت کی تاکید کی گئی ہے سب جگہ محض درود بھیجنا اور دعا کرنا مراد ہے جو لفظ صلواۃ کے لغوی معنی ہیں۔

جواب۴:

اور اگر اسی طرح ہرکس وناکس کے خیالات اور ہر حقیقی یا مجازی معنی قرآن عزیز کی تفسیر بن سکتے ہیں تو کوئی یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ تمام قرآن مجید میں جہاںکہیں

اسی طرح اآیت کریمہ ’’فَمَنْ شَہِدَ مِنْکُمُ الشَّہْرَ فَلْیَصُمْہُ (البقرہ:۱۸۵)‘‘ وغیرہ جس میں روزہ کی فرضیت ثابت ہے۔اس کا لغوی ترجمہ اور مطلب یہ ہیکہ جب رمضان کا مہینہ آئے تو تم رک جائوکیوں کہ لغت عرب میں صوم کے لغوی معنی صرف رک جاناہیں۔

58

اسی طرح حج اور زکواۃ وغیرہ کے الفاظ میں ان سب کے معنی اگر احادیث اور آثار سلف وغیرہ سے آنکھیں بند کرکے صرف ازروئے لغت کئے جائیں تو مرزا قادیانی اور ان کے اذناب کی عنایت سے سارے فرائض سے چھٹی ہو جائے گی۔ بلکہ عجب نہیں کہ خود دین اسلام سے بھی آزادی مل جائے۔(والعیاذ بِاللہ تعا لی )

لیکن آیات مذکورہ میں صوم وصلواۃاور حج وغیرہ کے الفاظ سے ان کے معنی لغوی کو اس لئے چھوڑا جاتاہے کہ قرآن عزیز کی دوسری آیت اور احادیث متواترہ او رآثار سلف سے جو تعبیر ان کی ثابت ہے اس کے خلاف ہے اور اگر آج کوئی ان آیات کے وہ لغوی معنی بتلاکرلوگوں کو ان فرائض کی پابندیوں سے آزاد کرنا چاہے تو بحمد ﷲ مسلمانو ں کاہر جاہل وعالم یہی جواب دے گا ’’اِذَا خَاطَبَہُمُ الْجٰہِلُوْنَ قَالُوْا سَلَاماً (الفرقان:۶۳)‘‘

غرض کوئی جاہل سے جاہل بھی اس قسم کی تحریفات کے ماننے پر تیار نہیں ہو سکتا۔ ٹھیک اسی طرح اگر چہ خاتم بمعنی زینت مجازاً مراد لینا محتمل ہے ،لیکن چونکہ یہ احتمال نصوص قرآن وحدیث اور تفاسیر سلف کے خلاف ہے۔ اس لئے اسی طرح مردود اور ناقابل قبول ہوگا ،جس طرح صوم، صلواۃ، حج، زکواۃ، وغیرہ ارکان دین کے مشہور لغوی معنی لینا باتفاق مردود ہیں۔

لفظ خاتم کا مرزا قادیانی کے یہاں استعمال

مرزا قادیانی نے سینکڑوں مرتبہ لفظ خاتم استعمال کیا اور ان مقامات کے بغیر جہاں خاتم النّبیین کی تفسیر ’’نبی ساز‘‘ کرتے ہیں باقی ہر مقام پر اس لفظ کو ’’آخری ‘‘ کے معنوں میں استعمال کیا ہے۔ مثلاً

۱… خدا تعالی نے قرآن شریف میں بارہ موسوی خلیفوں کا ذکر فرمایا۔جن میں سے ہر ایک حضرت موسی کی قوم میں سے تھا اور تیرواں حضرت عیسی علیہ السلام کا ذکر فرمایا جو موسیٰ کی قوم کا خاتم الانبیاء تھا۔(تحفہ گولڑویہ، خزائن ج۱۷ص۱۲۳)

۲… ’’یہ ماننا ضروری ہے کہ وہ (خود مرزا قادیانی )اس امت کا خاتم الاولیاء ہے۔ جیسا کہ سلسلہ موسویہ کے خلیفوں میں حضرت عیسیٰ خاتم الانبیاء ہے۔‘‘(تحفہ گولڑویہ، خزائن ج۱۷ ص ۱۲۷)

کیا یہ عجیب بات نہیں کہ مرزا قادیانی نے لفظ خاتم کو باقی ہر مقام پر آخری کے معنوں میں استعمال کیا ہے۔لیکن جب خاتم النّبیین کی تفسیر کرنے لگا تو کہا ’’اسی وجہ سے آپ کا نام خاتم النّبیین ٹھہرا۔یعنی آپ کی پیروی کمالات نبوت بخشتی ہے اور آپ کی توجہ روحانی نبی تراش ہے۔ (حقیقت الوحی، خزائن ج۲۲ ص۱۰۰)

اور اس سے عجب تر یہ ہے کہ جب اپنے آپ کو خاتم الخلفاء والانبیاء قرار دیتا ہے تو لفظ خاتم کو پھر ’’آخری‘‘کے مفہوم میں استعمال کرتا ہے۔

ایک شبہ

مرزائیوں کی جانب سے شبہ یہ ڈالا جاتاہے کہ یہ تحریرات نومبر۱۹۰۱ء سے پیشتر کی ہیں۔ کہ جس وقت مرزاقادیانی کو نبوت نہیں ملی تھی، لہٰذا یہ تمام تحریریں منسوخ کہی جائیں گی۔

جواب:

نبوت کا دعوی کفر ہے۔دعوی نبوت کا تعلق عقائد سے ہے اورنسخ عقائد میں جاری نہیں ہوتا ،احکام میں ہوتا ہے۔ ایوب بن موسیٰ ابوالبقاء نے نسخ کے بارے میں یہ اصول بیان فرمایا ہے کہ نسخ کا تعلق احکام شرعیہ سے ہوتا

59

ہے۔ موجبات عقلیہ اور عقائد سے نہیں ہوتا۔ ’’واعلم ان النسخ انما یجری فی الاحکام الشرعیۃ التی لہا جواز ان لا تکون مشروعۃ دون الاحکام‘‘ (کلیات ص۷۶۴) یہ ناممکن ہے کہ جوبات پہلے کفر کی تھی وہ بعد میں اسلام بن جائے۔نیزانبیاء کفر سے قبل از نبوت بھی ایسے ہی پاک ہو تے ہیںجیسے بعد از نبوت۔ نیز بد عقل اور بد فہم کبھی نبی نہیں ہو سکتا جبکہ مرزا بدعقل اوربدفہم تھا۔

مرزا ئی جماعت سے ایک سوال ؟

مرزا قادیانی کی ان تمام عبارات سے یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ دعوی نبوت سے پہلے مرزا قادیانی بھی خاتم النّبیین کے معنی وہی سمجھتا تھا جو تیرہ سو برس سے تمام دنیا کے مسلمان سمجھتے چلے آئے اور اب دعوی نبوت کے بعد مرزا قادیانی خاتم النّبیین کے دوسرے معنی بیان کرتا ہے جس کی بناء پر نبوت کا جاری ہونا ضروری ہو گیا اور بقول مرزا جس مذہب میں وحی نبوت نہ ہو وہ شیطانی اور لعنتی مذہب کہلانے کا مستحق ہے۔ (براہین احمدیہ حصہ پنجم، خزائن ج۲۱ ص۳۰۶)’’جو شخص یہ کہے کہ رسول ﷲ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا وہ دین دین نہیں اور نہ وہ نبی نبی ہے۔‘‘ (براہین احمدیہ حصہ پنجم خ ص۳۰۶ج۲۱)

اب سوال یہ ہے کہ خاتم النّبیین کے کون سے معنی صحیح ہیں پس اگر خاتم النّبیین کے جدید معنی صحیح ہیں ،تو یہ لازم آئے گا کہ تیرہ سو سال میں جس قدر بھی مسلمان گزرچکے وہ سب کافر اور بے ایمان مرے۔گویا کہ عہد صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعینسے لیکر اس وقت تک تمام امت کفر پر گزری اور دعوی نبوت سے پہلے خود مرزا صاحب بھی جب تک ا سی سابقہ عقیدہ پر رہے، کافر رہے اور پچاس برس تک جملہ آیات واحادیث کا مطلب بھی غلط سمجھتے رہے اور تمام امت کا اس بات پر اجماع ہے کہ جو شخص تمام امت کی تکفیر و تضلیل کرتا ،اور احمق وجاہل قرار دیتا ہو وہ بالاجماع کافر اور گمراہ ہے۔لہٰذا مرزا قادیانی بالاجماع کافر اور گمراہ ٹھہرا۔

اور اگر خاتم النّبیین کے پہلے معنی صحیح ہیں جو تمام امت نے سمجھے اور مرزا صاحب بھی دعوی نبوت سے پہلے وہی سمجھتے تھے تو لازم آئے گا کہ پہلے لوگ تو سب مسلمان ہوئے اور مرزاصاحب دعوی نبوت کے بعد سابق عقیدہ کے بدل جانے کی وجہ سے خود اپنے اقرار سے کافر اور مرتد ہو جائیں۔

غرض یہ کہ خاتم النّبیین کے جو بھی معنی مراد لئے جائیں مرزا صاحب بہر صورت کافر ہیں اور غباوت اور بد فہمی بھی بہر دو صورت ان کے ساتھ ہے جو نبوت کے منافی ہے۔

تاویل نمبر ۷:

مرزا صاحب نے نبی بننے کے شوق میں (حاشیہ حقیقت الوحی، خزائن ج۲۲ص۱۰۰) میں تو آیت خاتم النّبیین کی تحریف کرتے ہوے آیت کے معنی یہ بتلائے تھے کہ آپ ﷺ کی پیروی کمالات نبوت بخشتی ہے اور آپ ﷺ کی توجہ روحانی نبی تراش ہے، لیکن اس سے بھی جب کام بنتا نظر نہ آیا تو ایک اور تاویل گھڑی اور (حقیقت الوحی، خزائن ج۲۲ ص۳۰) پر لکھا کہ ’’اور ایک وہی ہے جس کی مہر سے ایسی نبوت بھی مل سکتی ہے۔‘‘

جواب۱:

ہم اس وقت اس بحث میں نہیں جاتے کہ خاتم النّبیین کے یہ معنی لغت اور عربی زبان کے اعتبار سے بھی ہو سکتے ہیں یا نہیں !اور اس بحث کو بھی چھوڑتے ہیں کہ اس نو ایجاد تفسیر کا تو یہ نتیجہ ہے کہ کسی کو نبی بنانا اللہ کے رسول کے ہاتھ میں ہے جس پر آپ ﷺ چاہیں نبوت کی مہر لگا دیں ،اللہ کے ہاتھ میں نہیں !مرزا صاحب کی اس غلطی کوبھی نظر انداز کرتے ہیں کہ اس غلطی کی رو سے نبوت ایک اکتسابی چیز بن جاتی ہے ! کہ جو کوئی آنحضرت ﷺ

60

کی مکمل پیروی کرلے وہ نبی بن جائے۔

ہاں ہم اس جگہ اس نوایجاد تفسیر کے اس نتیجہ پر آپ کو متوجہ کرتے ہیں کہ اگر اس کو صحیح مان لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اس امت میں جتنے زیا دہ نبی اور رسول آئیں اتنا ہی حضور ﷺ کا کمال ظاہر ہوگا۔

لیکن تحقیق سے پتہ چلا کہ مرزا صاحب خود بھی اس دروازہ کواتنا کھولنا نہیں چاہتے کہ اس میں ان کے سوا کوئی دوسرا آسکے اور تیرہ سو برس میں کبھی ایک شخض کے نبی بننے کے وہ بھی قائل نہیں۔تو یہ کس قدر عجیب بات ہوگی کہ جس ہستی کو ﷲتعالیٰ نے یہ اعزاز بخشا کہ ان کی توجہ روحانی بقول مرزا’’نبی تراش‘‘ہو۔اس کی توجہ روحانی ایک لاکھ سے زائد جاں نثار صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین میں سے کسی کو نبی نہ بنا سکی اور پھر ان کے بعد جن لو گوں کو آپ ﷺ نے خیرالقرون فرمایا ان میں بھی کوئی ایسا نہ نکلاجوآپ ﷺ کی پیروی کر کے آپ ﷺکی توجہ روحانی سے نبی بن سکتا۔

تیرہ سو برس تک یہ توجہ روحانی معاذ ﷲ کوئی کام نہ کر سکی۔یہاں تک کہ چودھویں صدی میںمرزا نے جنم لیا۔تو اِس توجہ روحانی کا ثمرہ صرف ایک شخص بنا۔معاذ ﷲ ،یہ قرآن کی تحریف کے ساتھ خود حضور پاک ﷺ کی کس قدر تو ہین ہے۔نعوذ باللہ اور مرزا قادیانی کے بعد پھر آپ ﷺ کی توجہ روحانی معطل!(جیسا کہ گزشتہ حوالوں سے معلوم ہوئے ) نعوذ باللّٰہ!

جواب۲:

خاتم النّبیین دوالفاظ سے مرکب ہیں۔خاتم اور النّبیین۔النّبیین جمع ہے نبی کی۔ عربی میں جمع کا اطلاق کم از کم تین پر ہوتا ہے۔مثلاً کتب ،کم از تین کتابیں۔ مساجد کم از کم تین مسجدیں۔اگر خاتم سے مراد نبی تراش مہر لی جائے تو خاتم النّبیین کی تفسیر ہوگی کہ کم از کم تین نبی بنانے والے مہر۔ لیکن مرزا صاحب اپنی آخری کتابوں میں اعلان کرچکے ہیں کہ وہ امت کے پہلا اور آخری نبی ہیں تو پھر اس جدید اور من گھڑت معنی کا فائدہ ہی کیا نکلا ؟

آیت: ’’یَابَنِی آدَمَ اِمّاَ یَاْتِیَنّکُمْ رُسُلٌ مِنْکُمْ‘‘

قادیانی: ’’یَابَنِیْ اٰدَمَ اِمَّایَاْتِیَنَّکُمْ رُسُلٌ مِنْکُمْ یَقُصُّوْنَ عَلَیْکُمْ اٰیٰتِیْ فَمَنِ اتَّقٰی وَاَصْلَحَ فَلَاخَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلَاہُمْ یَحْزَنُوْنَ (اعراف:۳۵)‘‘

یہ آیت آنحضرت ﷺپر نازل ہوئی۔ لہٰذا اس میں حضور ﷺ کے بعد آنے والے رسولوں کا ذکر ہے۔ آپ ﷺ کے بعد بنی آدم کو خطاب ہے۔ لہٰذا جب تک بنی آدم دنیا میں موجود ہیں، اس وقت تک نبوت کا سلسلہ جاری رہے گا۔

جواب۱:

اس آیت کریمہ سے قبل اسی رکوع میں تین بار ’’یابنی آدم ‘‘آیا ہے اور اول ’’یابنی آدم ‘‘کا تعلق ’’اِھْبِطُوْا بَعْضُکُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ (البقرۃ:۳۶)‘‘سے ہے۔ ’’اِھْبِطُوْا‘‘ کے مخاطب سیدنا آدم علیہ السلام وسیدہ حواء ہیں۔لہٰذا اس آیت میں بھی آدم علیہ السلام کے وقت کے اولاد آدم کو مخاطب بنا یا گیاہے۔پھرزیر بحث آیت نمبر ۳۵ ہے۔آیت نمبر ۱۰، سے سیدنا آدم علیہ السلام کا ذکر شروع ہے۔اس تسلسل کے تناظر میں دیکھا جائے تو دورکوع سے پہلے جو مضمون چلا آرہاہے اس کی ترتیب وتنسیق خود ظاہرکرتی ہے کہ جب آدم وحواء کو اپنے اصلی مسکن (جنت)سے عارضی طور پر جدا کیا گیا تو ان کی مخلصانہ توبہ وانابت پر نظر کرتے ہوئے مناسب معلوم ہوا کہ اس حرمان کی تلافی اور تمام اولاد آدم کو اپنی میراث آبائی واپس دلانے کے لئے کچھ ہدایات دی

61

جائیں۔چنانچہ ھبوط آدم کا قصہ ختم ہو نے کے بعد ’’یَابَنِیْٓ اٰدَمَ قَدْ اَنْزَلْنَا عَلَیْکُمْ لِبَاساً (اعراف:۲۶)‘‘ سے خطاب شروع کر کے تین چار رکوع تک انہیں ہدایات کا مسلسل بیان ہوا ہے۔توحقیقت میں یہ خطاب اولین اولادآدم علیہ السلام کو ہے ا س پر قرینہ اس کاسباق ہے۔تسلسل اورسباق آیات کی صراحۃً دلالت موجودہے کہ یہا ں پر حکایت کیاگیاہے۔

جواب۲:

قرآن مجید کے اسلوب بیان سے یہ بات ظاہر ہے کہ آپ ﷺکی امت اجابت کو ’’یَآاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا‘‘ سے مخاطب کیا جاتا ہے اور آپ ﷺکی امت دعوت کو ’’یَآاَیُّھَاالنَّاسُ ‘‘ سے خطاب ہوتا ہے۔قرآن مجید میں کہیں بھی آپ ﷺکی امت اجا بت کویابنی آدم سے خطا ب نہیں کیا گیا۔یہ بھی اس امر کی دلیل ہے کہ آیت بالا میں حکایت ہے حال ماضیہ کی۔

ضروری وضاحت

ہاں البتہ ’’یَا بَنِیْٓ اٰدَمَ‘‘ کی عمومیت کے حکم میں آپ ﷺ کی امت کے لئے وہی سابقہ احکام ہوتے ہیں۔بشرطیکہ وہ منسوخ نہ ہو گئے ہوں اور اگر وہ منسوخ ہوگئے یاکوئی ایسا حکم جو آپ ﷺ کی امت کواس عمومیت میں شمول سے مانع ہو تو پھر آپ ﷺ کی امت کااس عموم سے سابقہ نہ ہوگا۔

جواب۳:

کبھی قادیانی کرم فرمائوں نے یہ بھی سوچا کہ بنی آدم میں ہندو، عیسائی، یہودی، سکھ ، سبھی شامل ہیں۔کیا ان میں سے نبی پیدا ہو سکتا ہے۔اگر نہیں تو پھر ان کو اس آیت کے عموم سے کیوں خارج کیا جاتاہے ؟ثابت ہوا کہ خطاب عام ہونے کے باوجود حالات وواقعات وقرائن کے باعث اس عموم سے کئی چیزیں خارج ہیں۔ پھر بنی آدم میں تو عورتیں، ہجڑے بھی شامل ہیں۔تو کیا اس عموم سے ان کو خارج نہ کیا جائے گا ؟ اگر یہ کہا جائے کہ عورتیں وغیرہ تو پہلے نبی نہ تھیں اس لئے وہ اب نہیں بن سکتیں تو پھر ہم عرض کریںگے کہ پہلے رسول مستقل آتے تھے ،اب تم نے رسالت کو اطاعت سے وابستہ کر دیا ہے۔تو اس میں ہجڑے وعورتیں بھی شامل ہیں۔ لہٰذا مرزائیوں کے نزدیک عورتیں وہجڑے بھی نبی ہونے چاہئیں۔

جواب۴:

اگر ’’یَابَنِیْ اٰدَمَ اِمَّایَاتِیَنَّکُمْ رُسُلٌ ‘‘ سے رسولوں کے آنے کا وعدہ ہے تو ’اِمَایَاتِیَنَّکُمْ مِنِّیْ ھُدیً ‘‘ میں وہی یاتینکم ہے اس سے ثابت ہوا کہ نئی شریعت بھی آسکتی ہے۔تو مرزائیوں کے عقیدہ کے خلاف ہوا۔کیوں کہ تمہارے نزدیک تو اب تشریعی نبی نہیں آسکتا۔کیونکہ خود مرزا نے کہا ’’رسول کا لفظ عام ہے جس میں رسول اور نبی اور محدث داخل ہیں ‘‘(آئینہ کمالات، خزائن ج۵ ص۳۲۲)اگر کہا جائے کہ ’’قُلْنَا اھْبِطُوْا مِنْہَا جَمِیْعاً‘‘ قرینہ ہے کہ ھبوط آدم کے وقت کے لئے یہ آیت مخصوص ہے تو ہم عرض کریںگے کہ ’’یابنی آدم‘‘ قرینہ ہے کہ یہ حکم اولین اولاد آدم کو تھا۔اس میں آپ ﷺ کی امت کو خطاب نہیں کیا گیا۔ بلکہ حکایت حال ماضیہ کی کی گئی ہے۔

جواب۵:

اما حرف شرط ہے۔جس کا تحقیق ضروری نہیں۔ ’’یاتینکم‘‘ مضارع ہے اور ہر مضارع کے لئے استمرار ضروری نہیں۔ جیسا کے فرمایا ’’اِمَّاتَرَیِنَّ مِنَ الْبَشَرِ اَحَداً (مریم:۲۶)‘‘ کیا حضرت مریم قیامت تک زندہ رہیں گی اور کسی بشر کو دیکھتی رہیں گی؟مضارع اگر چہ بعض اوقات استمرار کے لئے آتا ہے مگر استمرار کے لئے قیامت

62

تک رہنا ضروری نہیں۔جو فعل دوچار دفعہ پایا جائے اس کے لئے مضارع استمرار سے تعبیر کرنا جائز ہے اس کی ایک مثال گزر چکی ۱؎ ۔

جواب۶:

آیت زیر بحث میں ہے۔ ’’یَقُصُّوْنَ عَلَیْکُمْ اٰیٰتِیْ‘‘ تو معلوم ہوا کہ آنے والے رسول شریعت لائیں گے۔جیسا کہ مفسرین نے اور بالخصوص امام فخرالدین رحمۃ اللہ علیہمرازی نے وضاحت کی ہے ۲؎ اور جیساکہ ’’نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْکَ اَحْسَنَ الْقَصَصِ‘‘ سے ثابت ہے۔ تو یہ آیت مرزا ئیوں کے دعوی کے خلاف ہوئی کیونکہ ان کے نزدیک تواب صاحب شریعت نبی نہیں آئیں گے۔ چنانچہ مرزا قادیانی بھی شریعت کے اجراء کا قائل نہیں۔ وہ لکھتا ہے کہ:’’میں حضو ر ﷺکو خاتم الانبیاء حقیقی معنوں کی رو سے سمجھتا ہوںاور قرآن کو خاتم الکتب تسلیم کرتا ہوں۔‘‘ (سراج منیر، خزائن ج۱۲ ص۶)

جواب۷:

(درمنثورج ۳ص ۸۲)میںزیربحث آیت ہذالکھاہے: ’’یَابَنِیْٓ آدَمَ اِمَّا یَاْتِیَنَّکُمْ۳؎ رُسُلٌ مِنْکُمْ (الٓا یۃ) اخرج ابن جریرعن ابی یسارالسلمی فقال ان ﷲ تبارک وتعالیٰ جَعَلَ آدم وذریتہ فی کفہ فقال ’’یَابَنِیْٓ آدَمَ اِمَّا یَاْتِیَنَّکُمْ ثم نظرالی الرسل فقال ی یَآاَیُّھَاالرُّسُلُ کُلُوْامِنَ الطَّیِّبَاتِ وَاعْمَلُوْاصَالِحاً‘‘

۱؎ اس کی مزیدچندمثالیں یہ ہیں: (۱)’’اِنَّا ٓاَنْزَلْنَا التَّوْرٰۃَ فِیْہَا ھُدًی وَّنُوْرٌ یَحْکُمُ بِہَا النَّبِیُّوْنَ (مائدہ :۴۴)‘‘ ظاہر ہے کہ تو رات کے موافق حکم کرنے والے گزر چکے۔ آپ ﷺ کی بعثت کے بعد کسی کو حتی کے صاحب توراۃ کو بھی حق حاصل نہیں اس کی تبلیغ کا۔ (۲)’’وَسَخَّرْنَا مَعَ دَاوٗدَ الجِبَالَ یُسَبِّحْنَ وَالطَّیْرَ (الانبیاء:۷۹)‘‘ تسبیح دَاوُد کی زندگی تک ہی رہی پھر مسدود ہوگئی۔ مگر ہر جگہ صیغہ مضارع کا ہے۔ (۳)’’وَاُوْحِیَ اِلَیَّ ھٰذَاالْقُرْاٰنُ لِاُنْذِرَکُمْ بِہ وَمَنْ بَلَغَ (انعام:۱۹)‘‘ چنانچہ حضور ﷺ ایک زمانہ تک ڈراتے رہے مگر اب بلا واسطہ آپ کی انذار وتبشیرمسدود ہے۔

۲؎ بعض مرزائی جہلاء بحوالہ تفسیر کبیر مغالطہ دیتے ہیں کہ یہاں آیاتیسے مراد صرف قرآن ہے یعنی اب جو نبی آئیںگے وہ غیرتشریعی ہوں گے جن کا کام قرآن پڑھ پڑھ کر سنانا ہوگا۔ تو واضح رہے کہ امام رازی رحمۃ اللہ علیہ نے یہاں تین اقوال ذکر کئے ہیں: ’’فقِیْلَ تِلْکَ الآیاتُ ہِی القرآن وقِیْلَ الدلائلُ وقِیلَ الاحکامُ و الشرائعُ والاَوْلیٰ دخولُ الکلِّ فِیہِ لِاَنَّ جَمیعَ ھٰذہ الاشیائِ الآیاتُ‘‘ معلوم ہوا کہ امام رازی رحمۃ اللہ علیہ نے قرآن کے ساتھ تخصیص نہیں کی یہ قادیانی دیانت داری کے دیوالیہ ہونے کی شہادت اور قادیانیوں کا نرِا مغالطہ ہے اور بس۔

۳؎ دھوکے باز مرزائی یہاں پر مضارع اور نون تاکید کے بحث میں الجھاکر بیضاوی کی ایک عبارت نقل کرتے ہیں: ’’اتیان الرسل امر جائز غیر واجب‘‘ اور ترجمہ یوں کرتے ہیں: ’’رسولوں کا آنا جائز ہے اگرچہ ضروری نہیں۔‘‘ اس سے معلوم ہوا کہ نبی کا آنا ممکن ہے لیکن اسی کے آگے جملہ ’’کماظنہ اہل التعلیم‘‘کو چھوڑ دیتے ہیں جس سے صاحب بیضاوی کا مقصد اور مراد واضح ہوتا ہے۔ بہرکیف شہاب علی البیضاوی نے کیا خوب قادیانیوں پر چپت رسید کیا ہے ملاحظہ ہو: ’’ذکرہ بحر ف الشرط۔ارسال الرسل لھدایۃ البشر واقع ولیس بواجب عندنا وقالت الفلاسفۃ انہ واجب علی اللّٰہ لانہ یجب علیہ تعالی ان یفعل الاصلح وھم یُسمون اہل التعلیم …ولیس المراد بالرسل نبینا ﷺ وببنی آدم امتہ کما قیل فانہ خلاف الظاہر‘‘(شہاب علی البیضاوی ص۱۶۶)

63

ابی یسارسلمیٰ سے روایت ہے کہ ﷲرب العزت نے سیدناآدم علیہ السلام اورا ن کی جملہ اولادکو (اپنی قدرت ورحمت کی ) مٹھی میں لیا اور فرمایا: ’’ یَابَنِیْ ٓاٰدَمَ اِمَّایَاْتِیَنَّکُمْ رُسُلٌ مِّنْکُمْ‘‘ پھر نظر (رحمت )رسولوں پر ڈالی تو ان کو فرمایا: ’’یاایہا الرسل‘‘

غرض یہ کہ عالم ارواح کے واقعہ کی حکایت ہے۔

مرزائی عذر

اس آیت میں حضور ﷺ کے زمانہ کے بعد بنی آدم کو ہی خطاب ہے جیسے ’’یَابَنِیْ آدَمَ خُذُ وْا زِیْنَتَکُمْ عِنْدَ کُلِّ مَسْجِدٍ‘‘ میں کیونکہ اس میں مسجد کا لفظ ہے اور یہ لفظ محض امت محمدیہ ہی کی عبادت گاہ کے لئے وضع کیا گیا ہے۔

جواب:

امم سابقہ کے لئے بھی مسجد کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جیسا کہ سورہ کہف میں ہے ’’قَالَ الْذِیْنَ غَلَبُوْا عَلٰی اَمْرِھِمْ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَیْہِمْ مَّسْجِدًا (کہف:۲۱)‘‘

بالفرض والتقدیراگر اس آیت کو اجرائے نبوت کی دلیل مان بھی لیا جائے تب بھی مرزا غلام احمد قیامت کی صبح تک نبی قرار نہیں دیا جاسکتا۔ کیوں کہ وہ بقول خود آدم کی اولاد ہی نہیں اور یہ آیت تو صرف بنی آدم سے متعلق ہے۔مرزا نے اپنا تعارف بایں الفاظ کرایا ہے۔ ملاحظہ ہو ؎

کرم خاکی ہوں میرے پیارے نہ آدم زاد ہوں

ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار

( براہین احمدیہ حصہ پنجم، خزائن ج۲۱ ص۱۲۷)

اب اگر وہ بنی آدم میں سے تھا جیسا کہ ہمارا اس کے بارے میں ابھی تک خیال ہے تو پھر اسنے اپنی آدمیت کا انکار کرکے سفید جھوٹ بولا ہے اور جھوٹا آدمی نبی نہیں ہوسکتا اور اگر وہ واقعی دائرہ آدمیت سے خارج تھا تو پھر یا بنی آدم والی آیت سے اس کی نبوت نہیں ثابت کی جاسکتی۔اس لئے مرزائیوں کا اس آیت سے اجراء نبوت کی دلیل پیش کرنا سراسر لاحاصل کوشش ہے۔

شعر میں تاویل

مذکورہ بالا شعر میں مرزائی یہ تاویل کرتے ہیں کہ در اصل ہمارے حضرت صاحب بہت ہی منکسر المزاج تھے۔اس کسر نفسی کی بناء پر انھوں نے یہ شعر کہہ دیا اس سے اپنا تعارف کرانا مقصود نہ تھا۔لہٰذا یہ شعر ہماری بحث سے خارج ہونا چاہئے۔

تاویل کا تجزیہ

پہلی بات تو یہ ہے کہ کوئی عقل مند آدمی ایسی تواضع نہیں کرتا کہ اپنے آدمی ہونے ہی کا انکار کردے ،اور ساتھ میں اپنے کو بشر کی جائے نفرت (شرمگاہ )قرار دے۔ دوسری بات یہ کہ جو شخص متواضع ہوتا ہے وہ ہر جگہ اپنی تواضع اور کسر نفسی کا اظہار کرتاہے۔ یہ نہیں کہ ایک جگہ اپنے آدمی ہونے کا ہی انکار کردے اور دوسری جگہ اپنے کو دنیا کا سب سے عظیم المرتبت انسان قرار دینے لگے۔لیکن اس الٹی منطق کا ارتکاب مرزا جی ایک نہیں بے شمار جگہ کرتے ہیں۔ چند ایک ان کی نام نہاد تواضع کا نمونہ ملاحظہ فرمائیے۔جو مرزائیوں کی تاویل کا منہ چڑا رہے ہیں۔ دیکھئے!

64

ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو

اس سے بہتر غلام احمد ہے ۱؎

(دافع البلا ء، خزائن ج۱۸ ص۲۴۰)

روضہء آدم کے جو تھا نامکمل اب تلک

میرے آنے سے ہوا کامل بجملہ برگ وبار

(براہین احمدیہ حصہ پنجم، خزائن ج۲۱ ص۱۴۴)

کربلائے ست سیر ہر آنم

صد حسین است در گریبانم

آدمم نیز احمد مختار

در برم جامہ ہمہ ابرار

آنچہ داداست ہر نبی را جام

داد آں جام را مرا بتمام

انبیاء گرچہ بودہ اند بسے

من بعرفاں نہ کمترم زکسے

(نزول المسیح، خزائن ج۱۸ ص ۴۷۷)

خود ہی سوچئے!کیا کوئی ہوش مند انسان ایسے متکبر اور گھمنڈی کو منکسر المزاج کہہ سکتا ہے؟ مرزا نے کہا ،کربالا ئے ست سیر ہر آنم ،تو مرزا کے بیٹے مرزا محمود نے اس پر یہ رنگ چڑھا یا :

’’حضرت مسیح موعود (مرزا مردود )نے فرما یاکہ میرے گریبان میں سوحسین ہیں۔ لوگ اس کے یہ معنی سمجھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعودنے فرمایاکہ میں سوحسین کے برابرہوں۔ لیکن میں کہتاہوںکہ اس سے بڑھ کراس کامفہوم یہ ہے کہ سوحسین کی قربانی کے برابرمیری ہرگھڑی کی قربانی ہے۔وہ شخص جواہل دنیا کی فکروں میں گھلاجاتاہے جوایسے وقت میں کھڑاہوتاہے جبکہ ہرطرف تاریکی اور ظلمت پھیلی ہوئی ہے اوراسلام کانام مٹ رہاہے۔ وہ د ن رات دنیاکا غم کھاتا ہوا اسلام کو قائم کرنے کے لئے کھڑا ہوتا ہے۔ کون کہہ سکتاہے کہ اس کی قربانی سوحسین کے برابر نہ تھی۔یہ توادنیٰ سوال ہے کہ حضرت مسیح موعودامام حسین کے برابرتھے یاادنیٰ۔‘‘

(خطبہ محمودمندرجہ اخبارالفضل قادیان ۲۶جنوری ۱۹۲۶ء)

اب قادیانی بتائیں کہ کیایہ منکسرالمزاجی تھی؟

۲… کرم خاکی ہوں میرے پیارے نہ آدم زادہوں اگریہ عاجزی ہے توتمام مرزائی اجتماعی طورپرمرزاقادیانی کی سنت پرعمل کرکے عاجزی کریں اوراعلان کریں کہ وہ آدم زادنہیں۔

۳… ہوں بشرکی جائے نفرت اورانسانوں کی عار،، توانسان کی جائے نفرت دومقام ہیں۔ مرزائی وضاحت کریں کہ وہ کون سی جگہ تھا۔ (لاحول ولاقوۃ الا بِاللہ العلی العظیم)

آیت: ’’مَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَالرَّسُوْلَ‘‘

قادیانی:

’’مَنْ یُّطِعِ ا ﷲ َوَالرَّسُوْلَ فَأُولٰٓئِکَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ مِنَ النَّبِیِّیْنَ وَالصَّدِّیْقِیْنَ وَالشُّہَدَاءِ وَالصّٰلِحِیْنَ وَحَسُنَ أُولٰٓئِکَ رَفِیْقاً (نساء:۶۹)‘‘

قادیانیوں کا کہنا ہے کہ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کریں گے وہ نبی ہوں گے، صدیق ہوں گے، شہید ہوںگے، صالح ہوں گے۔ اس آیت میں چار درجات ملنے کا ذکر ہے اگر انسان صدیق، شہید، صالح بن سکتا ہے تو

۱؎ استاذمحترم حضرت مولانا محمد حیات صاحب رحمۃ اللہ علیہفاتح قادیان نے یہ شعر اس طرح بدلا ہے۔

ابن ملجم کے ذکر کو چھو ڑو اس سے بدتر غلام احمد ہے ( ﷲ وسایا)

65

نبی کیوں نہیں بن سکتا ؟تین درجوں کو جاری مانا اور ایک کو بند مانا تحریف نہیں تو اور کیا ہے اور اگر صرف معیت مراد ہو تو کیا حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ صدیقوں اور شہیدوں کے ساتھ ہوں گے، بذات خود صدیق اور شہید نہ تھے؟

جواب۱:

آیت مبارکہ میں نبوت ملنے کا ذکر نہیں اور نہ ہی کوئی اور درجہ ملنے کا یہاں ذکرہے یہاں تو محض معیت اور رفاقت کا ذکر ہے کہ اللہ اور اس کے رسو ل کی اطاعت کرنے والے مذکورہ بالا چار لوگوں کے ساتھ ہوں گے۔جیسا کہ آیت کے آخری الفاظ ’’حَسُنَ اُولٰٓئِکَ رَفِیْقاً‘‘ سے ظاہر ہے۔

جواب۲:

آیت میں معیت مراد ہے عینیت نہیں، معیت فی الدنیاہر مومن کو حاصل نہیں اس لئے اس سے مراد معیت فی الآخرۃ ہی مراد ہے۔چنانچہ مرزائیوں کے مسلمہ دسویں صدی کے مجدد امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تفسیر جلالین شریف میں اس آیت کا شان نزول لکھاہے :

’’قال بعضُ الصحابۃِ لِلنبی ﷺ کیفَ نراکَ فی الجنۃ وانت فی الدرجات العلی۔ونحن اسفل منک فنز ل ومن یطع اللّٰہ والرسول فیما امر بہ فاولئک مع الذین انعم اللّٰہ علیہم من النبیین والصدیقین۔افاضل اصحاب الانبیاء لمبالغتہم فی الصدق والتصدیق۔والشہداء القتلی فی سبیل اللّٰہ والصالحین غیر من ذکر وحسن اولئک رفیقاً۔رفقاء فی الجنۃ بان یستمتع فیہا برؤیتہم وزیارتہم والحضور معہم وان کان مقرہم فی درجات عالیۃ‘‘(جلالین ص۸۰)

بعض صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے آنحضرت ﷺسے عرض کیاکہ آپ ﷺ جنت کے بلند وبالا مقامات پر ہوں گے اور ہم جنت کے نچلے درجات میں ہوں گے، تو آپ ﷺ کی زیارت کیسے ہوگی؟تو یہ آیت نازل ہوئی ’’من یطع اللّٰہ والرسول‘‘ یہاں رفاقت سے مراد جنت کی رفاقت ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعینانبیاء علیہم السلام کی زیارت وحاضری سے فیضیاب ہوں گے اگرچہ ان (انبیاء ) کا قیام بلند وبالا مقام پر ہوگا۔

اسی طرح اما فخرالدین رازی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھاہے :

’’من یطع اللّٰہ والرسول ذکروا فی سبب النزول وجوھاًالاول روی جمع من المفسرین ان ثوبان رضی اللہ عنہ مولی رسول اللّٰہ ﷺکان شدید الحب لرسول اللّٰہ ﷺقلیل الصبر عنہ فاتاہ یوماوقد تغیر وجہہ ونحل جسمہ وعرف الحزن فی وجہہ فسئلہ رسول اللّٰہ ﷺعن حالہ فقال یا رسول اللّٰہ ما بی وجع غیر انی اذا لم ارا ک اشتقت الیک واستوحشت وحش شدیدحتی القاک فذکرت الآخرۃ فخفت ان لا ارا ک ھناک لانی ان ادخلت الجنۃ فانت تکون فی الدرجات النبیین وانا فی الدرجۃ العبید فلا اراک وان انا لم ادخل الجنۃ فحینئذ لا ارا ک ابدا فنزلت ھذہ الآیۃ:من یطع اللّٰہ‘‘

اس آیت کے کئی اسباب مفسرین نے ذکر کئے ہیں ان میں پہلا یہ ہے کہ حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ جو آنحضرت ﷺ کے آزاد کردہ غلام تھے وہ آپ ﷺ کے بہت زیادہ شیدائی تھے (جدائی) پر صبر نہ کر سکتے تھے ایک دن غمگین صورت بنا ئے رحمت دوعالم ﷺ کے پاس آئے ان کے چہرے پر حزن وملال کے اثر تھے۔ آپ ﷺ نے وجہ دریافت فرمائی۔تو انھوں نے عرض کیا کہ مجھے کوئی تکلیف نہیں۔ بس اتنا ہے کہ

66

آپ ﷺکواگر نہ دیکھوں تو اشتیاق ملاقات میں بے قراری بڑ ھ جاتی ہے۔آپ ﷺ کی زیارت ہوئی آپ ﷺ نے قیامت کا تذکرہ کیا تو سوچتا ہوں کہ جنت میں داخلہ ملا بھی تو آپ ﷺ سے ملاقات کیسے ہوگی۔اس لئے کہ آپ ﷺ تو انبیاء کے درجات میں ہوں گے اور ہم آپ ﷺ کے غلاموں کے درجہ میں اور اگر جنت میں سرے سے میرا داخلہ ہی نہ ہوا تو پھر ہمیشہ کے لئے ملاقات سے گئے۔اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔

معلوم ہوا کہ اس معیت سے مراد جنت کی رفاقت ہے۔ ابن کثیر،تنویر المقیاس، روح البیان میں بھی تقریباً یہی مضمون ہے۔

حدیث نمبر۱:

’’عن معاذ ابن انس رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللّٰہ ﷺمن قرء الف آیۃ فی سبیل اللّٰہ کتب یوم القیامۃ مع النبیین والصدیقین والشہداء والصالحین وحسن اولئک رفیقاً‘‘

’’حضرت معاذــ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں آپ ﷺنے فرما یا کہ جو شخص ایک ہزار آیت ﷲ (کی رضا)کے لئے تلاوت کرے۔ طے شدہ ہے کہ وہ قیامت کے دن نبیوں، صدیقوں، شہداء وصالحین کے ساتھ بہترین رفاقت میں ہوگا۔‘‘

(منتخب کنزالعمال بر حاشیہ مسند احمد ج۱ ص۳۶۳، ابن کثیر ج۱ ص۲۳)

حدیث نمبر۲:

’’قالَ رسولُ اللّٰہِ ﷺ التاجرُ الصدُ وقُ الامینُ مَعَ النبیین والصدیقین والشہداءِ‘‘

’’آپ ﷺ نے فرمایا کہ سچا تاجر امانت دار(قیامت کے دن)نبیوں، صدیقوں اور شہداء کے ساتھ ہوگا۔‘‘

(منتخب کنز العمال بر حاشیہ مسند احمد ص۲۰۹ج۲‘ ابن کثیر ص۵۲۳ج۱ طبع مصر)

مرزا ئی بتا ئیں کہ اس زمانہ میں کتنے امین وصادق، تاجر نبی ہوئے ہیں ؟

حدیث نمبر۳:

’’عن عائشۃ رضی اللہ عنہا قالت سمعت رسول اللّٰہ ﷺیقول ما من نبی یمرض اِلَّاخُیِّرَ بین الدنیا والآخرِۃِ وکان فی شکواہُ الذی قُبِضَ اَخَذتہ مجۃ شدیدٌ سمعتُہ یقولُ مع الذین انعمتَ علیہم مِن النبیین فعلمتُہ اَنَّہ خُیِّرَ‘‘

’’حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے آپ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے کہ ہر نبی مرض (وفات) میں اسے اختیار دیا جاتا ہے کہ وہ دنیا میں رہنا چاہتا ہے یا عالم آخرۃ میں۔جس مرض میں آپ ﷺ کی وفات ہوئی آپ ﷺ اس مرض میں فرماتے تھے ’’مع الذین انعمت علیہم من النّبیین ‘‘اس سے میں سمجھ گئی کہ آپ ﷺکو بھی (دنیا وآخرۃ میں سے ایک کا )اختیار دیا جارہاہے۔‘‘

(مشکواۃ ص۵۴۷ج۲۔ابن کثیر ص۵۲۲ج۱)

کتب سیر میں یہ روایت موجود ہے کہ آنحضرت ﷺنے وصال کے وقت یہ الفاظ ارشاد فر مائے: ’’مع الرفیق الاعلی فی الجنۃ مع الذین انعمت علیہم من النبیین والصدیقین والشہداء والصالحین‘‘(البدایہ والنہایہ ص۲۴۱ج۵) رفیق اعلی کے ساتھ جنت میں انعام یافتہ لوگوں۔(یعنی انبیا ،صدیقین ،شہداء اور صالحین کے ساتھ)

67

معلوم ہوا کہ اس آیت میں نبی بننے کا ذکر نہیں چونکہ نبی تو پہلے بن چکے تھے آپ ﷺ کی تمنا آخرۃ کی معیت کے متعلق تھی۔

ان تمام احادیث میں مع کا لفظ ہے۔جو معیت کے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ ان کو عینیت کے معنوں میں لینا ممکن ہی نہیں۔محض اختصار ۱؎ سے یہ روایات درج کی گئی ہیں۔

درجات کے ملنے کاتذکرہ

قرآن کریم میں جہاں دنیامیں درجات ملنے کا ذکر ہے وہاں نبوت کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ اگر چہ باقی تمام درجات مذکور ہیں جیسے دیکھو!

۱… ’’وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰہِ وَرُسُلِہٖٓ أُولٰٓئِکَ ہُمُ الصِّدِّیْقُوْنَ وَالشُّہَدَآءُ عِنْدَ رَبِّہِمْ (الحدید:۱۹)‘‘ {اور جو لوگ یقین لائے اللہ پر اور اس کے سب رسولوں پر وہی ہیں سچے ایمان والے اور لوگوں کا احوال بتلانے والے اپنے رب کے پاس۔}

۲… ’’وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُواالصّٰلِحا تِ لَنُدْخِلَنَّہُمْ فِیْ الصّٰلِحِیْنَ (عنکبوت:۹)‘‘ {اور جو لوگ یقین لا ئے اور بھلے کام کیئے ہم ان کو داخل کریںگے نیک لوگوں میں۔}

۳… سورۂ حجرات کے آخر میں محاربین فی سبیل اللہ کو فرمایا: ’’اُولٰٓئِکَ ھُمُ الصَّادِقُوْنَ‘‘

۴… ’’من یطع اللّٰہ‘‘ میں من عام ہے۔جس میں عورتیں بچے ہجڑے سب شامل ہیں۔ کیا یہ سب نبی ہو سکتے ہیں؟ اگر نبوت اطاعت کاملہ کا نتیجہ ہے تو عورت کو بھی نبوت ملنی چاہئے۔ کیونکہ اعمال صالحہ کے نتائج میں مردوعورت کو یکساں حیثیت حاصل ہے جیسے فرمایا:

’’مَنْ عَمِلَ صَالِحاً مِنْ ذَکَرٍ اَوْ اُنْثٰی وَہُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْیِیَنَّہ‘ حَیٰوۃً طَیِّبَۃً وَلَنَجْزِیَنَّہُمْ اَجْرَہُمْ بِاَحْسَنِ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ (النحل:۹۷)‘‘ {کہ کوئی اچھا عمل کرتا ہے مرد یا عورت ،اور وہ مومن ہے تو یقیناً اسے ایک پاک زندگی میں زندہ رکھیںگے اور ہم یقیناً ان کے بہترین اعمال کے جو وہ کرتے تھے اجر دیںگے۔}

کیا ا س میں آنحضرت ﷺکا کمال فیضان ثابت نہ ہوگا کہ عورت جسے کبھی نبوت حاصل نہ ہوئی وہ بھی آپ ﷺ کے طفیل نبوت حاصل کرتی ہے ؟اس سے معلوم ہوا کہ نبوت ورسالت اطاعت کاملہ کا نتیجہ نہیں۔

۵… کیاتیرہ سوسال میںکسی نے حضور ﷺکی پیروی کی ہے یانہ؟اگراطاعت اورپیروی کی ہے تونبی کیوںنہ بنے؟ ا و ر ا گر کسی نے بھی اطاعت وپیروی نہیںکی تو آپ ﷺ کی امت خیرامت نہ ہوئی بلکہ شرّامت ہوگی

۱؎ مزید چند روایتیں حسب ذیل ہیں: (۱)’’عن انس رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللّٰہ ﷺمن احبنی کان معی فی الجنۃ‘‘ (ابن عساکر ج۳ ص۱۴۵) (۲)’’عن عمر ابن مرۃ الجہنی رضی اللہ عنہ قال جاء رجل الی النبی ﷺ فقال یا رسول اللّٰہ ﷺاشہدت ان لاالٰہ الا اللّٰہ وانک رسول اللّٰہ وصلیت الخمس وادیت زکواۃ مالی وصمت رمضان فقال ﷺ من مات علی ھذا مع النبیین والصدیقین والشہداء یوم القیامۃ ھٰکذاونصب اصبعیہ‘‘ (مسند احمد، ابن کثیر ج۱ ص۵۲۳) (۳)’’قال علیہ السلام المرء مع من احب‘‘ (مسند احمد ج۳ ص۱۰۴)

68

(نعوذبِاللہ) جس میںکسی نے بھی اپنے نبی کی کامل پیروی نہ کی۔حالانکہ ﷲتعالیٰ نے سورۃتوبہ میںصحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعینکے متعلق خودشہادت دیدی ہے: ’’ویُطِیْعُوْنَ ﷲوَرَسُوْلَہ (توبہ: ۷۱)‘‘ یعنی رسول ﷲ ﷺکے صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین ﷲاوراس کے رسول کی کامل اطاعت کرتے ہیں۔بتاؤوہ نبی کیوںنہ ہوئے؟ اس لئے کہ اگر ا طا عت کاملہ کانتیجہ نبوت ہے تواکابرصحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کویہ منصب ضرورحاصل ہوتا جنہیں ’’رَضِیَ ﷲ عَنْھُمْ وَرَضُوْعَنْہ‘‘ کاخطاب ملا اوریہی رضائے الٰہی سب سے بڑی نعمت ہے چنانچہ فرمایا: ’’وَرِضْوَانُ مِّنَ ﷲِاَکْبَرُ (توبہ:۷۲)‘‘

۶… مرزا قادیانی تحریر کرتا ہے (۱)حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا وجو د ظلی طور پرگویا آنجناب ﷺ کا وجود ہی تھا۔ (ایام الصلح، خزائن ج۱۴ ص۲۶۵) (۲)صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین آنحضرت ﷺ کے دست وبازو تھے۔ (سرالخلافہ ج۸ص۳۴۱) (۳)صدیق اکبر من بقیۃ طینۃ النبی تھے۔ (سر الخلافہ ج۸ ص۳۵۵) (۴)صدیق اکبر رضی اللہ عنہ آیت استخلاف کا مصداق تھے۔ (سر الخلافہ، خزائن ج۸ ص۳۵۲) (۵)صحابہ کرام آنحضرت ﷺ کی عکسی تصویریں تھے۔

(فتح اسلام، خزائن ج۳ ص۲۱)

سوال یہ ہے کہ جب مرزا قادیانی کے نز دیک صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین آنحضرت ﷺ کے رنگ میں رنگے ہوئے تھے اور کامل اتباع کا نمونہ تھے تو وہ نبی کیوں نہ بنے ؟

۷… اگر بفرض محال ایک منٹ کے لئے تسلیم کر لیں کہ ﷲ اور اس کے رسول کی اطاعت میں نبوت ملتی ہے توبھی اس آیت میں تشریعی اور غیر تشریعی کی کوئی تخصیص نہیں۔تم غیر تشریعی کی کیوں تخصیص کرتے ہو ؟اگر اس آیت میں نبوت ملنے کا ذکر ہے تو آیت میں النّبیین ہے المرسلین نہیں اور نبی تشریعی ہوتاہے جیساکہ نبی و رسول کے فرق سے واضح ہے۔ تو اس لحاظ سے تشریعی نبی آنے چاہئیں۔یہ تمہارے عقیدہ کے بھی خلاف ہوا۔ مرزا کہتاہے :

’’اب میں بموجب آیت کریمہ ’’وَاَمَّا بِنِعْمَتِ رَبِّکَ فَحَدِّثْ‘‘ اپنی نسبت بیان کرتاہوں کہ خدا تعالی نے مجھے اُس تیسرے درجہ میں داخل کرکے وہ نعمت بخشی ہے کہ جو میری کوشش سے نہیں بلکہ شکم مادر میں ہی مجھے عطا کی گئی ہے۔‘‘

(حقیقت الوحی، خزائن ج۲۲ ص۷۰)

اس حوالہ سے تو ثابت ہوا کہ مرزا کو آنحضرت ﷺ کی اتباع سے نہیں بلکہ وہبی طور پر نبوت ملی ہے۔تو پھر اس آیت سے مرزا ئیوں کا استدلال باطل ہوا۔

۸… اگر اطاعت کرنے سے نبوت ملتی ہے تو نبوت کسبی چیز ہوئی۔ حالانکہ ﷲتعالی فرماتے ہیں ’’ اللّٰہُ اَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَہ‘‘ لہٰذا اس آیت سے ثابت ہوا کہ نبوت وہبی چیز ہے جو اسے کسبی مانے وہ کافر ہے۔

نبوت وہبی چیزہے

۱… علامہ شعرانی رحمۃ اللہ علیہ’’الیواقیت والجواہر‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں : ’’فاِنْ قُلْتَ فَہْل النُّبو ۃ مکتسبۃ اوموھوبۃ فالجواب لیست النبوۃ مکتسبۃ حتی یتوصل الیہا بالنسک و الریاضات کما ظنہ جماعۃ من الحمقاء…وقد افتی المالکیۃ وغیرہم بکفر من قال ان النبوۃ مکتسبۃ‘‘ (الیواقیت ج۱ ص۱۶۴، ۱۶۵) اگر تو کہے کہ کیا نبوت کسبی ہے یا وہبی؟ تو اس کا جواب ہے کہ نبوت کسبی نہیں ہے کہ محنت وکاوش،

69

سے اس تک پہنچا جائے جیسا کہ بعض احمقوں (مثلا ً قادیانی فرقہ،از مترجم )کا خیال ہے۔مالکی وغیرہ نے کسبی کہنے والوں پر کفر کا فتوی دیاہے۔

۲… قاضی عیا ض رحمۃ اللہ علیہ شفاء میں لکھتے ہیں :

’’من ادعی النبوۃ احد مع نبینا ﷺ او بعدہ… او من ادعی النبوۃ لنفسہ او جوز اکتسابہا اوالبلوغ بصفاء القلب الی مرتبتہا… وکذا من ادعی منہم انہ یوحی الیہ وان لم یدع النبوۃ… فھٰوء لاء کلہم کفار مکذبون للنبی ﷺ لانہ اخبر علیہ السلام انہ خاتم النبیین لانبی بعدی‘‘ (شفاء قاضی عیاضvج۲ ص۲۴۶،۲۴۷)

ہمارے نبی ﷺ کی موجودگی میں یا آپ ﷺکے بعد جو کوئی کسی اور کی نبوت کا قائل ہو یا اس نے خود اپنے نبی ہونے کا دعوی کیا۔ یا پھر دل کی صفائی کی بنا پر اپنے کسب کے ذریعہ نبوت کے حصول کے جواز کا قائل ہوا۔ یاپھر اپنے پر وحی کے اترنے کو کہا۔ اگر چہ نبوت کا دعوی نہ کیا تو یہ سب قسم کے لوگ نبی ﷺکے دعوی ’’انا خاتم النّبیین ‘‘کی تکذیب کرنے والے ہوئے اور کا فر ٹھرے۔

ان دونوں روشن حوالوں سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوگئی کہ نبوت کے کسبی ہونے کا عقیدہ رکھنا اپنے اندر تکذیب خدا اور رسول کا عنصر رکھتا ہے اور ایسا عقیدہ کا رکھنے والا مالکیہ و دیگر علما ء کے نزدیک قابل گردن زدنی اور کافر ہے۔

مرزا قادیانی خود اقراری ہے کہ نبوت وہبی چیز ہے کسبی نہیں۔اس نے لکھا ہے:

۱… ’’اس میں شک نہیں کہ محدثیت محض وہبی چیز ہے۔کسب سے حاصل نہیں ہو سکتی۔ جیسا کہ نبوت کسب سے حاصل نہیں ہوسکتی۔‘‘ (حمامۃ البشری، خزائن ج۷ ص۳۰۱)

۲… ’’صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلیہمْ‘‘ اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جس شخص کو یہ مرتبہ ملا انعام کے طور پر ملا۔یعنی محض فضل سے نہ کسی عمل کااجر۔ (چشمہ مسیحی، خزائن ج۲۰ ص۳۶۵)

مرزائی عذر:۱

وہبی چیز میں بھی انسان کا دخل ہوتا ہے جیسے ﷲ نے فر مایاہے ’’یَھَبُ لِمَنْ یَّشَآ ء اِنَاثاً وَیَھَبُ لِمَنْ یَشَاءُ الذُّکُوْرَ (شوری:۴۹)‘‘ بخشتا ہے جس کو چاہے بیٹیاں اور بخشتا ہے جس کو چاہے بیٹے۔ اس میں اگر مرد عورت اکٹھے نہ ہوں تو کچھ نہیں ہوتا۔معلوم ہوا کہ وہبی چیز میں بھی کسب کو دخل ہے۔

جواب:

ہاں ٹھیک ہے کہ انسان کا اس عمل میں دخل ہے مگر لڑکا یا لڑکی عطا کرنے میں کسی قسم کا کوئی دخل نہیں ہے۔ چنانچہ بسا اوقات اس اختلاط سے بھی کچھ نہیں ہوتا۔پڑھئے ’’وَیَجْعَلُ مَنْ یَّشَآ ء عَقِیْماً (شوری:۵۰)‘‘

۹… اگر نبوت ملنے کے لئے اطاعت وتابعداری شرط ہے تو پھر بھی غلام احمد نبی نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ اس نے نبی کریم ﷺ کی کامل اطاعت اور تابعداری نہیں کی جیسے : (۱)مرزا نے حج نہیں کیا۔ (۲)مرزا نے ہجرت نہیں کی۔ (۳)مرزا نے جہاد بالسیف نہیں کیا بلکہ الٹا اس کو حرام کہا۔ (۴)مرزا نے کبھی پیٹ پر پتھر نہیں باندھے۔ (۵)ہندوستان کے قحبہ خانوں میں زنا ہوتا رہا مگر غلام احمد نے کسی زانیہ یا زانی کو سنگسار نہیں کرایا بلکہ اس کے اور اس کے خاندان کے اس فعل قبیح میں ملوث ہونے کے پختہ ثبوت خود قادیانیوں نے ہی جمع کئے ہیں۔

70

(۶)ہندوستان میں چوریاں ہوا کرتی تھیںمگر مرزا جی نے کسی چور کے ہاتھ نہیں کٹوائے۔ بلکہ خود مرزا جی ہی پانچ اور پچاس کا فلسفہ پڑھاتے رہے۔ اس عقدہ کو آج تک کوئی مرزا ئی حل نہیں کر سکا !

۱۰… مرزا نے لکھاکہ: ’’تم پنج وقت نمازوں میں یہ دعا پڑھاکرو کہ اھدنا الصراط المستقیم… یعنی اے ہمارے خدا اپنے منعم علیہم بندوں کی ہمیں راہ بتا، وہ کون ہے! نبی اور صدیق اور شہید اور صلحاء۔ اس دعاکا خلاصہ مطلب یہی تھا کہ ان چاروں گروہوں میں سے جس کا زمانہ تم پائو اس کے سایہ ء صحبت میں آجائو۔‘‘ (آئینہ کمالات، خزائن ج۵ ص۶۱۲)

نیز مرزاقادیانی خود تحریر کرتا ہے :

’’الا تریٰ الی قول رسو ل اللّٰہ ﷺاذقال ان فی الجنۃ مکاناً لا ینالہ الا رجل واحد وارجو ان اکون انا ہو فبکی رجل من سماع ھذاالکلام وقال یا رسو ل اللّٰہ ﷺلا اصبر علی فراقک ولا استطیع ان تکون فی مکان وانا فی مکان بعیدعنک محجوباً عن رؤیۃ وجہک وقال لہ رسول اللّٰہ ﷺانت تکون معی و فی مکانی‘‘ (حمامۃ البشریٰ، خزائن ج۷ ص۲۹۴)

اب صراحۃً مرزا کے کلام سے ثابت ہوا کہ معیت سے مرادمعیت فی الجنۃ ہے اورمعیت فی المرتبہ مرادنہیں تاکہ اجراء نبوت کاسوال پیداہو۔

۱۱… یہ کہ مرزاقادیانی نے اہل مکہ کے لئے دعاء کی ہے ﷲتعالی تم کوانبیاء ورسل وصدیقین وشہداء اورصالحین کی معیت نصیب کرے۔جیسے (حمامۃالبشریٰ، خزائن ج۷ ص۳۲۵)میں لکھاہے : ’’نسئلہ ان یدخلکم فی ملکوتہ مع الانبیاء والرسل والصدیقین والشہداء والصالحین‘‘ توکیااس کامطلب یہ ہوگاکہ مرزا دعا مانگ رہاہے کہ اہل مکہ تمام کے تمام انبیاء ورسول بن جاویں؟اگریہی مرادسمجھی جاوے تومرزانے گویا اہل مکہ کے لئے نبوت حاصل کرنے کی دعا کی ہے اوریقینااس کی دعا منظورہوئی ہوگی۔ کیونکہ مرزاکوخدانے الہام میںوعدہ کیاہواہے کہ :’’اجیب کل دعائک الافی شرکائک‘‘ میںتیری ساری دعائیں قبول کروںگامگر شرکاء کے بارے میں نہیں۔ (تذکرہ ص ۲۶طبع سوم) توپھریقینامکہ والے لوگ نبی ہوگئے ہوںگے ؟

(عسل مصفٰی ج۱ ص۲۷۰) میں خدا بخش قادیانی نے کتاب (ماثبت بالسنۃص۴۶ مؤلفہ شیخ عبدالحق دہلوی) سے یہ عبارت نقل کی ہے: ’’ماوقع فی مرضہ انہ ﷺ خیر عند موتہ یقول فی آخر مرضہ مع الذین انعم اللّٰہ علیہم من النبیین‘‘ جب حضور ﷺ مریض ہو گئے، تو ﷲتعالی نے ان کو موت کے وقت، حیات دنیا وآخرت میں اختیار دیا تو آپ ﷺ نے آخری مرض میں یہ آیت پڑھی۔ ’’مع اللذین انعم اللّٰہ… الخ‘‘

اس سے یہ بھی ظاہر ہے کہ حضور ﷺ کو کامل نبوت کے حاصل ہو نے کے بعد بھی اپنی مرض موت میں ﷲتعالی کی طرف سے اختیار دیاگیا تھا ،کہ دنیا کے ساتھیوں کی رفاقت پسند کرتے ہیں یا جنت والے ساتھیوں کی۔اس سے ثابت ہوا کہ ہر دو مقام سے رفاقت مکانی مقصود ہے نہ کہ رفاقت مرتبی۔ کیونکہ یہ تو آپ ﷺ کو پہلے ہی سے حاصل تھی۔

۱۲… نیز مع کا معنی ساتھ کے ہیں۔ جیسے: ’’اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا‘ اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ ،اِنَّ اللَّہَ مَعَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا،مُحَمَّدُرَّسُوْلُ اللّٰہِ وَالَّذِیْنَ مَعَہ‘، اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الصَّابِرِیْنَ‘‘

71

نیزاگر نبی کی معیت سے نبی ہو سکتا ہے تو سوال یہ ہے کہ کیا خدا کی معیت سے خدا بھی ہو سکتا ہے؟العیاذ باللہ !

۱۳… یہ دلیل قرآن کریم کی آیت سے ماخوذ ہے۔اس لئے مرزائی اپنے استدلال کی تائید میں کسی مفسر یا مجدد کا قول پیش کریں۔بغیر اس تائید کے اس کا استدلال مردود اور من گھڑت ہے۔اس لئے کہ مرزا نے لکھا ہے :

’’جو شخص ان(مجددین )کا منکر ہے وہ فاسقوں میں سے ہے۔ ‘‘ (شہادت القرآن، خزائن ج۶ ص۳۴۴)

۱۴… اگر مرزائیوں کے بقول اطاعت سے نبوت وغیرہ درجات حاصل ہوتے ہیں تو ہما را یہ سوال ہوگا کہ یہ درجے حقیقی ہیں یا ظلی، بروزی ؟اگر نبوت کا ظلی، بروزی درجہ حاصل ہوتا ہے جیسا کہ مرزائیوں کا عقیدہ ہے تو صدیق، شہید اور صالح بھی ظلی وبروزی ہونے چاہئیں۔ حالانکہ ان کے بارے میں کوئی ظلی ،بروزی ہونے کا قائل نہیں اور اگر صدیق وغیرہ میں حقیقی درجہ ہے تو پھر نبوت بھی حقیقی ہی ماننا چاہئے۔ حالانکہ تشریعی اور مستقل نبوت کا ملنا خود مرزائیوں کو بھی تسلیم نہیں ہے۔اس لئے یہ دلیل مرزا ئیوں کے دعوی کے مطابق نہ ہوئی۔

۱۵… اس أیت سے چار آیت پہلے انبیاء ورسل کے متعلق فرمایاہے: ’’وَمَا اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰہِ (نساء:۳۴)‘‘ یعنی ہر ایک رسول مطاع اور امام بنانے کے لئے بھیجاجاتاہے۔اس غرض سے نہیں بھیجاجاتا کہ وہ کسی دوسرے رسو ل کا مطیع اور تابع ہو اور آیت: ’’وَمَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَالرَّسُوْلَ ‘‘ میں مطیعون کا ذکر ہے اور مطیع کسی بھی صورت میں نبی اور رسول نہیں ہوتا۔خلاصہ یہ کہ نبی اور رسول مطاع ہوتا ہے مطیع نہیں (فافہم)

۱۶… مرزائی ایک طرف تو دلیل بالا سے یہ بات ثابت کرنے کی کو شش کررہے ہیں کہ اطاعت رسول کے ذریعہ سے آدمی درجۂ نبوت تک پہنچ سکتاہے۔دوسری طرف خود ان کے حضرت صاحب نے اس بات کا اقرار واعتراف کیاہے کہ اطاعت کرنے حتی کہ فنا فی الرسول ہو جانے سے بھی نبوت نہیںمل سکتی۔ بس زیادہ سے زیادہ محدثیت کا درجہ حاصل ہوسکتا ہے۔ اس اعتراف کے ثبوت میں چند حوالے پیش ہیں :

۱۶… مرزائی ایک طرف تو دلیل بالا سے یہ بات ثابت کرنے کی کو شش کررہے ہیں کہ اطاعت رسول کے ذریعہ سے آدمی درجۂ نبوت تک پہنچ سکتاہے۔دوسری طرف خود ان کے حضرت صاحب نے اس بات کا اقرار واعتراف کیاہے کہ اطاعت کرنے حتی کہ فنا فی الرسول ہو جانے سے بھی نبوت نہیںمل سکتی۔ بس زیادہ سے زیادہ محدثیت کا درجہ حاصل ہوسکتا ہے۔ اس اعتراف کے ثبوت میں چند حوالے پیش ہیں :

حوالہ۱: ’’جب کسی کی حالت اس نوبت تک پہنچ جائے (جو اس سے قبل ِذکر کی گئی) تو اس کا معا ملہ اس عالم سے ورائو الوراہو جاتاہے اور ان تمام ہدایتوں اور مقامات عالیہ کو ظلی طور پا لیتاہے۔جو اس سے پہلے نبیوں اور رسولوں کو ملے تھے اور انبیاء ورسل کا نائب اور وارث ہو جاتاہے۔ وہ حقیقت جو انبیا میں معجزہ کے نام سے موسوم ہوتی ہے۔وہ اس میں کرامت کے نام سے ظاہر ہوتی ہے اور وہی حقیقت انبیا ء میں عصمت کے نام سے نامزد کی جاتی ہے۔ اس میں محفوظیت کے نام سے پکاری جاتی ہے اور وہی حقیقت جو انبیاء میں نبوت کے نام سے بولی جاتی ہے۔ اس میں محدثیت کے پیرایہ میں ظہور پکڑتی ہے۔ حقیقت ایک ہے لیکن بباعث شدت اور ضعف رنگ کے ،ان کے نام مختلف رکھے جاتے ہیں۔ اس لئے آنحضرت ﷺ کے ملفوظات مبارکہ ارشاد فرما رہے ہیں کہ محدث،نبی بالقوۃ ہوتا ہے اگر باب نبوت مسدود نہ ہوتا تو ہر ایک محدث اپنے وجود میں قوت اوراستعدادنبی ہونے کی رکھتا ہے اور اس قوت اور استعداد کے لحاظ سے محدث کا حمل نبی پر جائز ہے۔یعنی کہہ سکتے ہیں کہ ’’المحدث نبیّ‘‘ جیسا کہ کہہ سکتے ہیں ’’العنب خمرنظرا ً علی القوۃ والاستعداد ومثل ھذالمحمل شائع متعارف‘‘ (ماہنامہ ریویو آف ریلیجنزج۳،ماہ اپریل ۱۹۰۴ء بعنوان اسلام کی برکات)

اس عبارت سے واضح ہوا کہ ظلی نبوت بھی درحقیقت محدثیت ہی ہے اور کامل اتباع سے جو ظلی نبی بنتاہے وہ دراصل محدث ہوتا ہے اور یہاں جو محدث پرنبی کا حمل کیا گیاہے وہ محض استعداد کی بنا پر ہے۔ یعنی اگر دروازۂ نبوت بند نہ

72

ہوتا تو وہ بھی نبی بن جاتا۔ جیسا کہ عنب پر خمر کا اطلاق قوت اور استعداد کی بنا پر کیا جاتاہے۔ لیکن ظاہر ہے کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ جو خمر کا حکم ہے وہ عنب کا بھی حکم ہو۔ بلکہ دونوں کے احکام اپنی جگہ الگ الگ ہیں۔اسی طرح اگر محدث پر نبی کا اطلاق بلحاظ استعداد کیا جائے گا تو دونوں کے احکام الگ الگ ہوں گے۔نبی کا انکار کفر ہوگا اور محدث کی نبوت کا انکار کفر نہ ہوگا۔ حالانکہ مرزائی اپنے حضرت صاحب (ظلی نبی )کے منکرین کو پکا کافر گردانتے ہیں۔یہ تو عجیب تضاد ہوا مرزا غلام احمد کچھ کہیں۔مرزائی کچھ کہیں اور آج کل کے جاہل کچھ کہیں! اسی سے اس لچر عقیدہ کے بطلان کا اندازہ لگایاجاسکتاہے۔

حوالہ۲:

مرزاقادیانی لکھتاہے: ’’حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا وجود ظلی طورپر گویا آنجناب ﷺ کا وجود ہی تھا۔‘‘(ایام الصلح، خزائن ج۱۴ ص۲۶۵)

مرزا کو خود تسلیم ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ آنحضرت ﷺ کے ظلی وجود تھے۔ پھر بھی وہ نبی نہ بن سکے۔معلوم ہوا کہ اتباع نبی سے زیادہ سے زیادہ ظلی وجود تو مرزا کے نزدیک ہو سکتا ہے مگر نبوت نہیں مل سکتی۔ورنہ قادیانی لوگ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بھی ظلی نبی تسلیم کریں ! ’’لوکان بعدی نبی لکان عمر رضی اللہ عنہ‘‘ حدیث نے عمر رضی اللہ عنہ کے نبی نہ ہونے کی صراحت کردی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہفرماتے ہیں: ’’قال علی رضی اللہ عنہ الا وانی لست نبی ولا یوحی الی‘‘(ازالۃ الخفاء ص۱۳۳) حضرت علی رضی اللہ عنہفرماتے ہیں: خبردار !نہ میں نبی ہوں اور نہ میری طرف وحی آتی ہے۔

حوالہ۳:

’’صدہا ایسے لوگ گز رے ہیں جن میں حقیقت محمدیہ متحقق تھی اور عند ﷲ ظلی طور پر ان کانام محمد یا احمد تھا۔(آئینہ کمالات اسلام، خزائن ج۵ ص۳۴۶)

اس عبارت سے یہ بھی پتہ چلا کہ اگر چہ صدہا لوگ ایسے گزرچکے ہیں جن کانام ظلی طورپر محمد یا احمد تھا مگر پھر بھی ان میں سے نہ کوئی نبی بنا اور نہ کسی نے دعوی نبوت کیا،نہ اپنی الگ جماعت بنائی اور نہ اپنے منکرین کو کافر اور خارج از اسلام قرار دیا۔تو عجیب بات ہے کہ اتنے بڑے بڑے متبعین خدا اور رسو ل تو اس نعمت سے محروم ہی دنیا سے رخصت ہو گئے اور مرزا قادیانی جیسا کوڑھ مغز آدمی ظلی نبی کے ساتھ ساتھ حقیقی نبی بھی بن گیا۔

مرزائی عذر-۲

’’مَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَالرَّسُوْلَ فَأُولٰٓئِکَ مَعَ الَّذِیْنَ مع‘‘ من کے معنی میں ہے اور مطلب یہ ہے کہ جو ﷲ اور رسول کی اطاعت کرے گا وہ منعم علیہم انبیا وغیرہ میں سے ہوگا، نہ کہ محض ان کے ساتھ ہوگا اور اس کی مثال قرآن کریم میں بھی موجود ہے دیکھئے فرمایا گیا: ’’وَتَوَفَّنَا مَعَ الْاَبْرَارِ ،ای من الابرار ‘‘ یعنی نیکوں میں سے بنا کر ہمیں وفات دیجئے۔

جواب:

مرزا ئی عذر بچند وجوہ باطل ہے۔

الف… پورے عرب میں کہیں بھی مع ،من کے معنی میں استعمال نہیں ہوتا۔اگر یہ من کے معنی میں آتا تو مع پر من کا دخول ممتنع ہوتا حالانکہ عربی محاوروں میں من کا مع پر داخل ہونا ثابت ہے لغت کی مشہور کتاب المصباح المنیرمیں لکھاہے: ’’ودخول من نحوجئت من معہ۔مع القوم ‘‘ لہٰذا معلوم ہوا کہ من کبھی بھی مع کے معنی میں نہیں ہو سکتا۔ ورنہ ایک ہی لفظ کا تکرار لازم آئے گا۔

ب… جب کوئی لفظ مشترک ہو اور دو معنی میں مستعمل ہو تو دیکھا جا تا ہے کہ کون سے معنی حقیقی ہیں اور کون سے معنی مجازی۔جب تک حقیقت پر عمل کرنا ممکن ہو تو مجاز اختیار کرنا درست نہیں ہوتا۔یہاںپربہرحال مع رفاقت کے

73

معنی میں حقیقت ہے اوراس پر عمل کرنایہاںممکن بھی ہے۔کیونکہ اگلے جملہ’’وَحَسُنَ اُولٰئِکَ رفیقاً‘‘ سے صاف طور پر ر فا قت کے معنی کی تائیدہورہی ہے۔لہٰذامع کومن کے مجازی معنی میںلے جاناہرگزجائزنہ ہوگا۔

ج… اگرمع کا معنیٰ من لیاجائے توحسب ذیل آیت کے معنی کیا ہوںگے۔

۱… ’’اِنَّ ﷲمَعَ الصَّابِرِیْنَ (بقرۃ:۱۵۳)‘‘ کیاخدااورفرشتے ایک ہو گئے۔

۲… ’’لاَ تَحْزَنْ اِنَّ ﷲ مَعَنَا (توبہ:۴۰)‘‘ کیاحضور ﷺ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہاورخداایک ہوگئے۔

۳… ’’اِنَّ ﷲمَعَ الصَّابِرِیْنَ (بقرۃ:۱۵۳)‘‘

۴… ’’مُحَمَّدٌرَّسُوْلُ ﷲِ وَالَّذِیْنَ مَعَہ‘ (فتح:۲۹)‘‘ کیااس کامطلب یہ ہے کہ نعوذبِاللہ، ﷲتعالی صابروںکے جزہیںیایہ کہ حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین آنحضرت ﷺ میںسے ہیں؟ دیکھئے کس طرح قادیانی تنکوں کاپل بناتے ہیںاورپھراس پرزندہ ہاتھی گزارنے کی کوشش کرتے ہیں۔

د… اگربالفرض یہ تسلیم کرلیا جائے کہ مع بھی کبھی من کے معنی میں استعمال ہواہے یاہوتاہے تواس سے یہ کیسے لازم آیا کہ آیت مبحوث عنہامیں بھی مع ،من کے معنی میںہے۔ کیاکسی مفسریامجددنے یہاںپرمع کے بجائے من کے معنی مرادلیے ہیں؟

ہ… مع، من کے معنی میںہونے پرمرزائی جوآیات قرآنیہ تلبیس ومغالطہ کے لئے پیش کرتے ہیں۔ان میںسے کسی ایک آیت میں بھی مع، من کے معنی میںنہیں۔ہمارے اورمرزائیوںکے معتبرمفسرامام رازی رحمۃ اللہ علیہ (جومرزائیوںکے نزدیک چھٹی صدی کے مجد د ہیں (عسل مصفی ص۱۶۴ج۱)نے آیت: ’’وَتَوَفَّنَامَعَ الْاَبْرَارِ‘‘ کی تفسیرفرماتے ہوئے مرزائیوںکے سارے کھروندے کوزمیںبوس کردیاہے اوران کی رکیک تاویل کی دھجیاںاڑادی ہیں۔وہ فرماتے ہیں:

’’وفاتہم معہم ھی ان یموتواعلی مثل اعمالہم حتی یکونوا فی درجاتہم یوم القیامۃ قد یقول الرجل انا مع الشافعی فی ہذہ المسئلۃ ویرید بہ کونہ مساویا لہ فی ذالک الاعتقاد‘‘ (تفسیرکبیرص۱۸۱ج۳)

ان کاان(ابرار)کے ساتھ وفات پانااس طرح ہوگاکہ وہ ان نیکوںجیسے اعمال کرتے ہوئے انتقال کر یں تا کہ قیامت کے دن ان کادرجہ پالیں۔جیسے کبھی کوئی آدمی کہتاہے کہ میں اس مسئلہ میںشافعیـvکے ساتھ ہوں اورمطلب یہ ہوتا ہے کہ اس کا اعتقا د رکھنے میںوہ اورامام شافعی رحمۃ اللہ علیہ برابرہیں۔نہ یہ کہ وہ درجہ میںامام شافعی رحمۃ اللہ علیہ تک پہنچ گیا۔

مرزائی عذر-۳

مرزائیوں نے اپنے باطل استدلا ل کی تائید کے لئے جھوٹ کا پلندہ تیار کیا ہے اور مشہور امام لغت راغب اصفہانی رحمۃ اللہ علیہ کے کندھے پر رکھ کر بندوق چلانے کی ناکام کوشش کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امام راغب رحمۃ اللہ علیہ کے ایک قول سے ان کے بیان کردہ معنی کی تائید ہوتی ہے وہ عبارت یہ ہے۔

’’قال الراغب :ممن انعم علیہم من الفرق الاربع فی المنزلۃ والصواب النبی بالنبی والصدیق بالصدیق والشہید بالشہید والصالح بالصالح واجاز الراغب ان یتعلق من

74

النبی بقولہ ومن یطع اللّٰہ والرسول ای من النبیین ومن بعدہم‘‘

(بحر المحیط للعلامہ اندلسی ص۲۸۷ج۳)

اس تحقیق سے معلوم ہوا کہ من النبیین ،انعم اللّٰہ علیہم سے نہیں بلکہ ومن یطع اللّٰہ سے متعلق ہے۔لہٰذا آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ نبیوں وغیرہ میں سے جو ﷲ اور رسول کی اطاعت کرے گا وہ منعم علیہم کے ساتھ ہوگا اور یہاں ’’یطع‘‘ مضارع کا صیغہ ہے جو حال ومستقبل دونوں کے لئے بولا جاتاہے۔لہٰذا ضروری ہوا کہ اس امت میں بھی کچھ نبی ہونے چاہئیںجو رسولوں کی اطاعت کرنے والے ہوں۔اگر نبوت کا دروازہ بند ہوگا تو اس آیت کے مطابق کون سا نبی ہوگا جو رسو ل ﷲ کی اطاعت کرے گا ؟

ڈھول کا پول

مرزا ئیوں نے مذکورہ عبارت پیش کر کے انتہائی دجل وفریب کا مظاہرہ کیا ہے۔یہ حوالہ علامہ اندلسی کی تفسیر ’’البحرالمحیط‘‘ سے ماخوذ ہے۔مگر انہوں نے اس قول کو نقل کر کے اپنی رائے اس طرح بیان فرمائی ہے:

’’وھذا وجہ الذی ھو عندہ ظاھرفاسدمن جھۃالمعنی ومن جھۃ النحو‘‘

(تفسیر البحر المحیط ص۲۸۷ج۳ بیروت) معنی اور نحو کے لحاظ سے یہ بات فاسد ہے۔

لہٰذا معلوم ہوا کہ یہ قول بالکل مردود اور ساقط الاستدلال ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ امام راغب رحمۃ اللہ علیہکی کسی کتاب میں اس طرح کی عبارت نہیں ملتی۔ان کی طرف یہ قول منسوب کرناصحیح نہیںہے۔ان کی طرف قول بالاکی غلط نسبت ہونے پر ہمارے پاس دو قرینہ موجود ہیں۔دیکھئے:

پہلا قرینہ

امام راغب اصفہانی رحمۃ اللہ علیہ نے صدیقین کی تفسیر میںایک رسالہ تصنیف فرمایا ہے۔جس کا نام ’’الذریعہ الٰی مکارم الشریعہ‘‘ ہے۔ آیت: ’’ومن یطع اللّٰہ والرسول۔۔۔الخ‘‘ کا تعلق بھی اسی مضمون سے ہے اگر بالفرض امام راغب رحمۃ اللہ علیہکاوہ مسلک ہوتا جو بحر محیط میں نقل کیا ہے تو اس کتاب میں ضرور نقل کرتے۔لیکن پوری کتاب میں کہیں اشارۃ ً وکنایۃًبھی اس کا ذکر نہیں ہے۔

دوسرا قرینہ

اگر اس طرح کی عبارت امام راغب رحمۃ اللہ علیہ کی کسی کتاب میں ہوتی تومرزائی مناظرین امام راغب رحمۃ اللہ علیہ کی اسی کتاب سے حوالہ دیتے اور وہیں سے نقل کرتے کہ دلیل پختہ ہوتی۔ لیکن وہ لوگ تو بحر محیط کی ایک عبارت لے کر لکیر پیٹتے رہتے ہیں۔ کیونکہ اس کا اصل ماخذ کہیں ہے ہی نہیں۔

۱۷… اگر درجے ملنے کا ذکر ہے توبترتیب حاصل ہونے چاہئیںپہلے صدیق پھر شہیدپھر صالح۔

مرزائی عذر-۴

معَ، بمعنی،ِ ْمن ہے۔ ابلیس کے متعلق ایک جگہ فرمایا : ’’اَنْ یَّکُوْنَ مَعَ السّٰجِدِیْنَ (الحج)‘‘ دو سری جگہ فرمایا: ’’لَمْ یَکُنْ مِّنَ السّٰجِدِیْنَ (اعراف:۱۱)‘‘

75

جواب:

ابلیس نے تین گناہ کئے تھے۔ (۱)تکبر کیا تھا۔ اس کا ذکر سورۃ ص کے آخری رکوع میں ہے: ’ ’ کُنْتَ مِنَ ا لْعَا لَیِن ‘ ‘ ۲)سجدہ نہ کر کے ﷲتعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی کی۔ اس کا بیان سورۃ اعراف کے دوسرے رکوع میں ہے: ’’لم یکن من الساجدین ‘‘ (۳)اس نے جماعت ملائکہ سے مفارقت کی تھی۔ اس کا بیان سورۃ حجر کے تیسرے رکوع میں ہے: ’’اَنْ یَّکُوْنَ مَعَ السَّاجِدِیْنَ‘‘

پس مع ہرگز من کے معنوں میں نہیں بلکہ دونوں کے فائدے الگ الگ اور جدا گانہ ہیں۔جیسا کہ ظاہر ہیں۔

مرزائی عذر-۵

’’اِلاَّ الَّذِیْنَ تَابُوا وَاَصْلَحُوْا وَاعْتَصَمُوْا بِاللّٰہِ وَاَخْلَصُوْا دِیْنَہُمْ لِلّٰہِ فَأُولٰٓئِکَ مَعَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَسَوْفَ یُؤتِ اللّٰہُ الْمُؤمِنِیْنَ اَجْراًعَظِیْماً (نساء:۱۴۶)‘‘ کیا توبہ کرنے والے مومن نہیں،مومنوں کے ساتھ ہوں گے۔کیا ان کو اجر عظیم عطا نہ ہوگا ؟

جواب:

حقیقت یہ ہے کہ مؤمنین پر الف لام عہدکا ہے اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو شروع سے خالص مومن ہیں ان سے کبھی نفاق سرزد نہیں ہوا، ان کی معیت میں وہ لوگ جنت میں ہوں گے جو پہلے منافق تھے پھر توبہ کرکے مخلص مومن بن گئے۔پس ثابت ہوا کہ مع اپنے اصل معنی ،مصاحبت کے لئے آیا ہے نہ کہ بمعنی من۔

آیت : ’’یَآاَیُّہَا الرُّسُلُ کُلُوْا مِنَ الطَّیِّبٰتِ‘‘

قادیانی:

’’یَا ٓاَیُّہَا الرُّسُلُ کُلُوْا مِنَ الطَّیِّبٰتِ وَاعْمَلُوْا صَالِحاً (مومنون:۵۱)‘‘ یہ آیت آپ ﷺ پر نازل ہوئی حضور ﷺ واحد ہیں اور رسل جمع کا صیغہ ہے۔ پس ثابت ہوا کہ حضور ﷺ اور آپ ﷺ کے بعد آنے والے رسول مراد ہیں۔جن کو یہ حکم ہے کہ میرے رسولو!پاک چیزیں کھائو اور نیک عمل کرو۔ورنہ کیا خدا تعالی وفات شدہ رسولوں کو حکم دے رہاہے ؟کہ اٹھو پاک کھانے کھائواورنیک کام کرو۔ (احمدیہ پاکٹ بک ص۴۶۷)

تبلیغی پاکٹ کے مصنف سے زیادہ ایک مرزائی سردار عبد الرحمن مہر سنگھ نے کمال کیا ہے۔اس نے بھلوال ضلع سرگودھا سے ایک اشتہار نکالا ہے۔جس کے جواب کے لئے بیس ہزار انعامی چیلنج کااعلان ہے۔اشتہار کا عنوان ہے ’’پاک محمد نبیوں کا بادشاہ‘‘ اس میں اجراء نبوت کے دلائل دیتے ہوئے مندرجہ بالا آیت بھی پیش کی ہے۔جس کی تمہید اس نے اس طرح ذکر کی ہے کہ ’’آنحضرت ﷺ سے پیشتر کے انبیاء کی طرز زندگی خوراک ،پوشاک وغیرہ سادہ ہوا کرتی تھی۔اکثر نبی ،جو ،اور کھجور پر گزارہ کرلیا کرتے تھے مگر زمانہ مستقبل میں آنے والے رسولوں کو فرمایا: ’’یَا ٓاَیُّہَا الرُّسُلُ کُلُوْا مِنَ الطَّیِّبٰتِ‘‘ اے آنے والے رسولو! تمہارے زمانہ میں بے شمار پیسٹری اور مٹھائیاں اور نفیس اکل وشرب کی چیزیں تیار ہوں گی۔پر تم ان میں سے پاک اور صاف اور ستھری چیزیں کھایا کرنا جو کچھ تم کروگے میں خوب جانتاہوں۔ ﷲتعالی کو معلوم تھا کہ زمانہ مستقبل میں گونا گوں مٹھائیاں اورٹوسٹ تیار ہوں گے۔یہ حکم حضور ﷺ،حضرت آدم ،نوح، ابراہیم ،یوسف ، ادریس علیہ السلام کے لئے نہیں دیا گیاتھا کہ قبروں سے اٹھو اور نہا دھوکر پاک اور طیب چیزیں کھایاکرو۔کیونکہ وہ ہزاروں سال سے بہشت میں مزے کررہے ہیں۔پس یہ حکم آنیوالے امتی نبیوں کے متعلق آنحضرت ﷺ پر نازل ہواتھا۔

(اشتہار مذکورہ ص۲)

76

جواب۱:

سورۃ مومنون کے دوسرے رکوع سے اس آیت کریمہ تک انبیاء سابقین کا ذکر ہے۔سب سے آخر میں حضرت مسیح علیہ السلام کا ذکر ان الفاظ میں فرمایا: ’’وَجَعَلْنَا ابْنَ مَرْیَمَ وَاُمَّہ‘ اٰیَۃً وَّاٰوَیْنٰہُمََا اِلٰی رَبْوَۃٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَّمَعِیْنَ (مومنون:۰ ۵)‘‘ ہم نے مسیح علیہ السلام اور ان کی والدہ کو بڑی نشانی بنایا اور ہم نے ان دونوں کوایک ایسی بلند زمین پرلیجا کر پناہ دی جو بوجہ غلات میوہ جات ہونے کے ٹھہرنے کے قابل اور شاداب تھی۔ اس سے اگلی آیت نمبر۵۱،میں فرمایا: ’’یَآاَیُّہَا الرُّسُلُ کُلُوْا مِنَ الطَّیِّبٰتِ وَاعْمَلُوْا صَالِحاً‘‘ اے میرے پیغمبرو :تم اور تمہاری امتیں نفیس چیزیں کھا ئو اور نیک عمل کرو اور میں تم سب کے کئے ہوئے کاموں کو خوب جانتا ہوں۔ اگلی آیت نمبر ۵۲ میں فرمایا: ’’وَاِنَّ ھٰذِہٖ اُمَّتُکُمْ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً وَاَنَا رَبُّکُمْ فَاتَّقُوْنِ (المؤمنون:۵۲)‘‘ اور ہم نے ان سب سے یہی کہا یہ ہے تمہارا طریقہ وہ ایک ہی طریقہ ہے (اور حاصل اس طریقہ کا یہ ہے کہ)میں تمہارا رب ہوں۔سو تم مجھ سے ڈرتے رہو۔

ان آیات میں حکایت ماضیہ کے ضمن میں یہ بتلانا مقصود ہے کہ پاک اور نفیس اشیاء کا استعمال کرو۔ ’’وَاِنَّ ھٰذِہٖ اُمَّتُکُمْ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً‘‘ یعنی اصول دین کا طریق کسی شریعت میں مختلف نہیں ہوا گویا انبیاء کرام علیہم السلام کو اپنی امتوں کے لئے نمونہ بننے کے لئے رزق حلال وطیب اور اپنا کردار صالح اپنا نے کا ارشاد ہو رہاہے۔تو اصل حکم امتوں کو دینا مقصود ہے۔ قرینہ آیت نمبر ۵۴ ہے: جس میں فرقہ بازی کے ارتکاب پر تنبیہ کی گئی ہے۔ظاہر ہے کہ تفرقہ کا شکار امت ہوتی ہے نہ کہ انبیاء علیہم السلام۔ فافہم وکن من الشاکرین!

جواب۲:

’’عن ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ قال قال رسو ل اللّٰہ ﷺان اللّٰہ طیب لایقبل الاطیباًوان اللّٰہ امر المومنین لما امر بہ المرسلین۔فقال یاایہا الرسل کلو من الطیبات واعملو ا صالحاً وقال اللّٰہ تعالی یاایہا الذین آمنوا کلوا من الطیبات ما رزقناکم‘‘

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ﷲتعالی پاک ہے اور سوائے پاکیزگی کے کچھ قبول نہیں کرتا۔ بیشک ﷲتعالی نے مومنین کو وہی حکم دیاہے جو اس نے انبیاء کرام کودیاتھا۔کہ اے رسولو!کھائو پاک چیزیں اور عمل صالح کرو اور ایساہی مسلمانوں کو فرمایا ﷲتعالی نے اے ایمان والو! کھائو پاک رزق سے جو میں نے تمہیں عطا کیاہے۔

(مسلم شریف کتاب البیوع،باب الکسب وطلب الحلال، مسند احمد ص۳۲۸ج۲، ابن کثیر ص۲۴۷ج۳)

اب نفس آیت کے مفہوم کو سمجھیں کہ ﷲتعالی نے حضرت مریم علیہا السلام اور ان کے صاحبزادے کو ایک اونچے محفوظ مقام ،شاداب جگہ پر پناہ دی۔اس واقعہ کے بیان کے بعد ﷲتعالی فرماتے ہیں کہ (حضرت مسیح ہوں یا اور رسول) ہم نے ان سب کو حکم دیاتھا کہ پاک چیزیں کھائو اور اچھے عمل کرو جو کچھ تم کرتے ہو میں اس کو جانتا ہوں۔ یہ سب لوگ امۃ واحدہ تھے اور میں تم سب کا رب ہوں اور مجھ سے ڈرو۔مگر اس تاکید کے بعد بھی انبیاء کے متبعین نے دین الٰہی میں پھوٹ ڈال دی اور ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور ہر فرقہ اپنی اپنی جگہ خوش وخرم ہے کہ ہم حق پر ہیں: ’’فَتَقَطَّعُوْا اَمْرَہُمْ بَیْنَہُمْ زُبُراًکُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَیْہِمْ فَرِحُوْنَ (مومنون:۵۳)‘‘ آگے آپ ﷺ کو حکم ہے کہ: ’’فَذَرْہُمْ فِیْ غَمْرَتِہِمْ (مومنون:۵۴)‘‘ ان کو اس مدہوشی میں چھوڑ دیںوقت معین تک۔یعنی موت تک یا قیامت تک کہ بالآخر میرے پاس آئیں گے۔اپنے کئے کی پائیںگے (معلوم ہوا کہ آپ ﷺ کے بعد قیامت تک نبوت نہیں) اسی لئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اَنَا والساعۃُ کہاتَیْنِ‘‘

77

غرض یہ کہ آیات اپنے مطلب کو صاف صاف ظاہر کر رہی ہیں کہ یہ امر ہر ایک رسول کو اپنے اپنے وقت پر ہوتا رہاہے فَـتَقَطَّعُوْا کی آیت نے تو با لکل بات واضح کردی کہ ان امتوں کا ذکر ہے جن پہلی امتوں نے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کردیاتھا۔ گذشتہ واقعہ کی خبر وحکایت بیا ن کی گئی ہے نہ کہ آنے والے رسولوں کا ذکر ہے ؟

جواب۳:

مرزاقادیانی آنحضرت ﷺ کے بعد صرف ایک ہی رسول یعنی اپنے آپ کوہی صحیح مانتے ہیں۔اسی طرح مرزامحمود اور بشیر احمد بھی آپ ﷺ کے بعد صرف ایک ہی نبی یعنی مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت کے قائل ہیں۔ تو پھر ایک کے لئے ’’یا ایہا الرسل ‘‘ جمع کا صیغہ کیوں استعمال کیاگیا؟علاوہ ازیں اگر یہ کہا جائے کہ اس آیت میں آنحضرت ﷺ اور بعد والا مرزا بھی معاذ ﷲ مراد ہے تو پھر بھی یہ تثنیہ کا صیغہ چاہئے تھا نہ کہ جمع کا۔ الغرض کسی بھی احتمال پر قادیانی مفہوم صحیح ثابت نہیں ہو سکتا۔

نوٹ:

حضرت ابو یسار سلمی رضی اللہ عنہ کی روایت ’’یابنی آدم ‘‘ کی بحث میں گذر چکی ہے۔ وہ اس مسئلہ پر ضرور دیکھ لی جائے۔

آیت: ’’اَنْ لَّنْ یَّبْعَثَ اللّٰہُ اَحَداً‘‘

قادیانی:

’’وَاَنَّھُمْ ظَنُّوْا کَمَا ظَنَنْتُمْ اَنْ لَّنْ یَّبْعَثَ اللّٰہُ اَحَدًا (جن:۷)‘‘ پہلے بھی کہتے تھے اللہ کسی کو مبعوث نہ کریگا۔اب بھی کہتے ہیں یہ پرانی بات ہے نئی بات نہیں۔

جواب۱:

اس میں بعثت انبیا ء کا ذکر نہیںبلکہ کفار کے بقول قیامت کے دن دوبارہ پیدا ہونے کا انکار ہے۔کہ ﷲتعالیٰ کسی کو کھڑا نہ کریگا۔اس آیت کی وضاحت دوسری جگہ موجود ہے: ’’زَعَمَ الَّذِیْنَ کَفَرُوا اَنْ لَّنْ یُّبْعَثُوْا قُلْ بَلیٰ وَرَبِّی لَتُبْعَثُنَّ (تغابن:۷)‘‘ تو ان کا انکار بعث بعدالموت سے ہے۔

جواب۲:

قادیانی تحریف بھی بفرض محال تسلیم کر لیجائے تو بھی ان کا مدعا ثابت نہیں ہوتا۔ کیونکہ یہ قول کفار ہے یہ کافر جنوں کاظن تھا۔ جو غلط ہے۔یہ خدائی فیصلہ نہیں۔خدائی فیصلہ اب ختم نبوت کاہے۔کافر جنات کے قول غلط سے استدلال کرکے قادیانی کافر کی جھوٹی اور غلط نبوت کو ثابت کرنا۔ خداتعالیٰ مرزائیوں کو مبارک کرے۔

جواب۳:

جس وقت ان لوگو ں نے کہا کہ اب کو ئی نبی مبعوث نہیں ہوگا۔اس وقت نبوت جاری تھی۔ اب نبوت ختم ہے۔جب جاری تھی تواس کو بند کہنے والے کافر تھے۔اب جب بند ہے تو اس کو جاری کہنے والے کافر ہوں گے۔

آیت: ’’وَاٰخَرِینَ مِنْھُمْ لَمََّا یَلْحَقُوْا بِھِمْ (جمعہ:۳)‘‘

قادیانی:

’’طائفہ قادیانیہ چونکہ ختم نبوت کا منکر ہے۔اس لئے قرآن مجید کی تحریف کر تے ہوئے آیت: ’’ھُوَالَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّیِّیْنَ رَسُوْلًامِّنْہُمْ یَتْلُوْا عَلَیْہِمْ اٰیٰتِہٖ وَ یُزَکِّیْہِمْ وَیُعَلِّمُہُمُ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَۃَ وَاِنْ کَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ وَاٰخَرِیْنَ مِنْھُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْا بِھِمْ (جمعۃ:۲،۳)‘‘ کو بھی ختم نبوت کی نفی کے لئے پیش کر دیا کرتے ہیں۔ طریق استدلال یہ بیان کرتے ہیں کہ جیسے امیین میں ایک رسول عربی ﷺ مبعوث ہوئے تھے اس طرح بعد کے لوگوں میں بھی ایک نبی قادیان میں پیدا ہوگا۔(معاذ ﷲ)

78

جواب۱:

مرزا قادیانی تحریر کرتا ہے: ’’خدا وہ ہے جس نے امیوں میںانہی میں سے ایک رسول بھیجاجو ان پر اس کی آیتیں پڑھتا ہے اور انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب وحکمت سکھلاتا ہے۔اگرچہ پہلے وہ صریح گمراہ تھے اور ایساہی وہ رسول جو ان کی تربیت کر رہا ہے۔ایک دوسرے کی بھی تربیت کریگا جو انہی میں سے ہو جاویں گے۔‘‘

گویا تمام آیت معہ اپنے الفاظ مقدرہ کے یوں ہے: ’’ھُوَالَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّیِّیْنَ رَسُوْلاًمِّنْہُمْ یَتْلُوْاعَلَیْہِمْ اٰیٰتِہٖ وَیُزَکِّیْہِمْ وَیُعَلِّمُہُمُ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَۃَ وَاِنْ کَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ وَاٰخَرِیْنَ مِنْہُمْ‘‘ یعنی ہمارے خالص اورکامل بندے بجزصحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعینکے اوربھی ہیںجن کاگروہ کثیرآخری زمانہ میںپیداہوگا اورجیسے نبی کریم ﷺ نے صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کی تربیت فرمائی۔ایساہی آنحضرت ﷺ اس گروہ کی بھی باطنی طورپرتربیت فرمائیںگے۔ (آئینہ کمالات اسلام، خزائن ج۵ ص ۲۰۸،۲۰۹)

ماحصل عبارت کایہ ہے کہ بہ اقرارمرزاقادیانی اس آیت سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ آخرین منھم میں بھی کوئی نبی مبعوث ہوگا۔بلکہ وہ آیت کامطلب یہ بتاتاہے کہ آنحضرت ﷺ نے جیسے پہلے لوگوںکی تعلیم وتربیت کاانتظام اپنے ذمہ رکھاتھاویسے ہی بعدکے لوگوںکی تعلیم وتربیت بھی آنحضرت ﷺ ہی فرمائیںگے۔نہ یہ کہ کوئی اورنبی آئے گا جوقادیان سے پیداہوکران کاذمہ دارہواوروہ ان کانبی بنے گا۔

جواب۲:

بیضاوی شریف میںہے ’’وآخـــرین منھم عطف علی الامییــــن او المنصوب فی یعلمہم وھم الذین جاء وا بعد الصحابۃ الی یوم الدین فان دعوتہ وتعلیمہ یعم الجمیع‘‘ آخرین کاعطف اُمِیِّین یا یُعَلِّمُہُمْ ک کی ضمیرپرہے او ر ا س لفظ کا زیادہ کرنے سے آنحضرت ﷺ کی بعثت عامہ کاذکرکیاگیا۔کہ آپ ﷺ کی تعلیم و دعوت صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین اوران کے بعدقیامت کی صبح تک کے لئے عام ہے۔

خودآنحضرت ﷺبھی فرماتے ہیں: ’’انا نبی من ادرکَ حیاً ومَنْ یُوْلَدُ بعدِی‘‘ صر ف موجودین کے لئے نہیںبلکہ ساری انسانیت ا ورہمیشہ کے لئے ہادی ﷺ برحق ہوں۔

جواب۳:

’’القرآنُ یُفَسِّرُبعضہ بعضاً‘‘ کے تحت دیکھیں تو یہ آیت کریمہ دعائے خلیل کا جواب ہے سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے بیت ﷲ کی تعمیر کی تکمیل پر دعاء فرمائی تھی۔ ’’رَبَّنَا وَابْعَثْ فِیْہِمْ رَسُوْلاًمِّنْہُمْ یَتْلُوْ عَلَیْہِمْ اٰیٰتِکَ وَیُعَلِّمُہُمُ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَۃَ وَیُزَکِّیْہِمْ (بقرۃ:۱۲۹)‘‘

اب زیر بحث آیت: ’’ھُوَالَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّیِّیْنَ رَسُوْلاً مِّنْہُمْ یَتْلُوْا عَلَیْہِمْ اٰیٰتِہٖ وَ یُزَکِّیْہِمْ وَیُعَلِّمُہُمُ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَۃَ وَاِنْ کَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنَ وَاٰخَرِیْنَ مِنْھُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْا بِھِمْ (جمعہ:۲،۳)‘‘ میں اس دعا کی اجابت کا ذکر ہے۔کہ دعائے خلیل کے نتیجہ میں وہ رسول معظم ان امیوں میں مبعوث فرمایا لیکن صرف انہیں کے لئے نہیں بلکہ جمیع انسانیت کے لئے جو موجود ہیں ان کے لئے بھی جو ابھی موجود نہیں ہیں لیکن آئیںگے قیامت تک، سبھی کے لئے آپ ﷺ ہادی برحق ہیں جیسے ارشاد باری تعالی ہے: ’’یَآاَیُّہَاالنَّاسُ اِنِّی رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَیکُمْ جَمِیْعاً (اعراف:۱۵۸)‘‘ یا آپ ﷺ کا فرمانا: ’’انی ارسلتُ اِلی الخلقِ کافۃً‘‘ لہٰذا مرزا قادیانی دجال قادیان اور اس کے چیلوں کا اس کو حضور ﷺ کی دوبعثتیں قرار دینا۔ یا نئے رسول کے مبعوث ہونے کی دلیل بنانا سراسر دجالیت ہے۔پس آیت کریمہ کی روسے مبعوث واحد ہے اور مبعوث الیہم موجود وغائب سب کے لئے بعثت عامہ ہے۔

79

جواب۴:

رسولاً پر عطف کرنا صحیح نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ جو قید معطوف علیہ میں مقدم ہوتی ہے اس کی رعایت معطوف میں بھی ضروری ہے چونکہ رسولاً معطوف علیہ ہے ’’فی الامیین‘‘ مقدم ہے۔ اس لئے ’’فی الامیین‘‘ کی رعایت ’’وآخرین منہم‘‘ میں بھی کرنی پڑے گی۔ پھر اس وقت یہ معنی ہوںگے کہ ’امیین‘‘ میں او ررسول بھی آئیں گے۔ کیونکہ امیین سے مراد عرب ہیں۔ جیسا کہ صاحب بیضاوی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے: ’’فی الامیّٖن ای فی العرب لان اکثرہم لا یکتبون ولا یقرؤن‘‘ اور لفظ منہم کا بھی یہی تقاضہ ہے۔جبکہ مرزا عرب نہیں تو مرزا ئیوں کے لئے سوائے دجل وکذب میں اضافہ کے استدلال باطل سے کوئی فائدہ نہ ہوا۔

جواب۵:

قرآن مجید کی اس آیت میں ’’بعث‘‘ کا لفظ ماضی کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ اگر رسولاً پر عطف کریں تو پھر ’’بعث‘‘ مضارع کے معنوں میں لیناپڑیگا۔ایک ہی وقت میں ماضی اور مضارع دونوں کا ارادہ کرنا ممتنع ہے۔

جواب۶:

اب آئیے د یکھئے کہ مفسرین حضرات جو قادیانی دجال سے قبل کے زمانہ کے ہیں۔ وہ اس آیت کی تفسیر میں کیا ارشاد فرماتے ہیں۔ ’’قال المفسرون ہم الاعاجم یعنون بہ غیر العرب ای طائفۃ کانت قالہ ابن عباس رضی اللہ عنہ وجماعۃ وقال مقاتل یعنی التابعین من ھذہ الامۃ الذین یلحقون باوائلہم وفی الجملۃ معنی جمیع الاقوال فیہ کل من دخل فی الاسلام بعــد النبی ﷺ الی یــوم القیامــۃ فالمراد بالامیین العــرب وبالآخرین سواہم من الامم‘‘ (تفسیر کبیر ج۴ ص۴) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ اور ایک جماعت مفسرین کہتے ہیں کہ آخرین سے مراد عجمی ہیں یعنی آپ ﷺ عرب وعجم کے لئے معلم ومربی ہیں اور مقاتل کہتے ہیں کہ تابعین مراد ہیں سب اقوال کا حاصل یہ ہے کہ امیین سے عرب مراد ہیں اور آخرین سے سوائے عرب کے سب قومیں جو حضور ﷺ کے بعد قیامت تک اسلام میں دا خل ہوںگے وہ سب مراد ہیں۔

’’وہم الذین جاؤا بعد الصحابۃ الی یوم الدین‘‘ (تفسیر ابو سعود) آخرین سے مراد وہ لوگ ہیں جو صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کے بعد قیامت تک آئیں گے (ان سب کے لئے حضور ﷺ ہی نبی ہیں) ’’ہم الذین یا تون من بعدہم الی یوم القیامۃ‘‘ (کشاف ص۱۸۵ج۳)

جواب۷:

(بخاری شریف ص۷۲۷ ج۲، مسلم شریف ص۳۱۲ج۲، ترمذی شریف ص۱۶۷ ج۲، مشکوٰۃ شریف ص۵۷۶) پرہے: ’’عن ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ قال کنا جلوساً عند النبی فانْزِلَتْ علیہ سورۃُ الجمعۃِ وَآخَرِیْنَ مِنْہُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْا بِہِم قال قُلْتُ مَنَ ہُم یَا رسولَ اللّٰہِ فلم یُرَاجِعْہَ حتی سَئِلَ ثلاثاً وفینا سلمان الفارسی وضعَ رسولُ اللّٰہ ﷺیَدہَ عَلی سلمانَ ثم قال لوکان الایمانُ عند الثریا لَنَالَہٗ رِجَالٌ او رَجُلٌ مِنْ ھٰئولائِ‘‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر باش تھے کہ آپ ﷺپر سورۃ جمعہ نازل ہوئی۔ ’’وَاٰخَرِیْنَ مِنْہُمْ لَمّاَ یَلْحَقُوْا بِہِمْ‘‘ تو میں نے عرض کی، کہ یا رسول ﷲ ﷺ وہ کون ہیں؟ آپ ﷺنے خاموشی فرمائی۔ حتی کہ تیسری بار سوال عرض کرنے پر آپ ﷺنے ہم میں بیٹھے

80

ہوئے سلمان فارسی رضی اللہ عنہپر ہاتھ رکھ دیا اور فرمایا اگر ایمان ثریا پر چلا گیا تو یہ لوگ (اہل فارس ) اس کو پا لیںگے۔} (رجال یا رجل کے لفظ میں راوی کو شک ہے مگر اگلی روایت نے رجال کو متعین کردیا )

یعنی عجم یا فارس کی ایک جماعت کثیرہ جو ایمان کو تقویت دیگی اور امور ایمانیہ میں اعلی مرتبہ پر ہوگی۔عجم وفارس میں بڑے بڑے محدثین، فقہا، مفسرین، مجددین، صوفیا، اسلام کے لئے باعث تقویت بنے۔ آخرین منہم سے وہ مراد ہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ وابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے لیکر ابو حنیفہ v تک سبھی اسی رسول ہاشمی ﷺ کے در اقدس کے دریوزہ گر ہیں۔ حاضر وغائب امیین وآخرین سبھی کے لئے آپ ﷺ کا دراقدس کھلا ہے آئے جس کا جی چاہے۔ اس حدیث نے متعین کردیا کہ آپ ﷺ کی نبوت عامہ وتامہ وکافۃ ہے۔ موجود وغائب عرب وعجم سبھی کے لئے آپ ﷺ معلم ومزکی ہیں۔ اب فرمائیے کہ آپ ﷺ کی بعثت عامہ کا ذکر مبارک ہے یا کسی اور نئے نبی کے آنے کی بشارت ؟ یقینا ً نئے نبی کی بشارت کا خیال کرنا باطل وبے دلیل دعوی ہے۔

آیت : ’’وَاِذْ اَخَذَ اللَّہُ مِیْثَاقَ النَّبِیِّیْنَ‘‘

قادیانی:

کبھی کبھی آیت: ’’وَاِذْ اَخَذَ اللَّہُ مِیْثَاقَ النَّبِیِّیْنَ لَمَآ اٰتَیْتُکُمْ مِنْ کِتٰبٍ وَّحِکْمَــۃٍ ثُمَّ جَآ ءکُمْ رَسُــوْلٌ مُّصَـدِّقٌ لِّمَا مَعَکُمْ لَتُؤمِنُنَّ بِہٖ و َلَتَنْصُرُنَّہ‘(آل عمران:۸۰)‘‘ اور آیت: ’’وَاِذْ اَخَذْ نَا مِنَ النَّبِیِّیْٖنَ مِیْثَاقَہُمْ وَمِنْکَ وَمِنْ نُوْح(احزاب:۷)‘‘ سے استدلال کرتے ہیںوہ کہتے ہیں کہ ﷲتعالیٰ سب انبیاء سے حتیٰ کہ آنحضرت ﷺ سے بھی ایک رسول کے آنے کا واقعہ پیش کر کے اس کی تصدیق کرنے کااو ر اس رسول کوماننے کا وعدہ لیا جا رہا ہے۔ وہ رسول کون ہوگا جو سب انبیاء اور آنحضرت ﷺ کے بعد آنے والا ہے وہ مرزا غلا م احمد قادیانی ہی ہے۔ نعوذ با ا للّٰہ!

جواب۱:

ہردوآیات میںجس چیزکاخداتعالیٰ انبیاء سے وعدہ لے رہے ہیںوہ الگ الگ چیزیںہیں۔پہلی آیت لیں تو ایک بہت عظیم الشان نبی کی تصدیق کا وعدہ لیا جا رہا ہے جو آیت بتلا رہی ہے کہ وہ نبی اعلیٰ منصب رکھتا ہوگا۔ جس کے لئے ﷲتعالیٰ انبیاء کرام علیہم السلام سے تاکیدی طور پر اس پرایمان لانے کا وعدہ لے رہے ہیں اور جس کی امداد کے لئے سخت تاکید فرمائی جارہی ہے۔وہ تو آنحضرت ﷺ ہی ہو سکتے ہیں۔مرزاقادیانی جیسے دجال کواس میثاق ووعدہ کامصداق ٹہراناجس قدربعیدازعقل ونقل ہے اس قدردنیامیں اورکوئی ظلم ہو ہی نہیں ہوسکتا۔ پھرخودمرزاقادیانی بھی اس ’’ثُمَّ جاء کُمْ رَسُوْلٌ‘‘ سے مرادآنحضرت ﷺ کو سمجھتاہے۔ملاحظہ ہو:

’’اوریاد کر جب خدانے تمام رسولوںسے عہدلیاکہ جب میںتمہیںکتاب اورحکمت دوںگا اورپھرتمہارے پاس آخری زمانہ میںمیرارسول آئے گاجو تمہاری کتابوںکی تصدیق کرے گا۔تمہیںاُسپرایمان لاناہوگا اوراس کی مددکرنی ہوگی …اب ظاہرہے کہ انبیاء تواپنے اپنے وقت پرفوت ہوگئے تھے یہ حکم ہرنبی کی امت کے لئے ہے کہ جب وہ رسول ظا ہرہوتواس پرایمان لاؤ۔‘‘ (حقیقت الوحی، خزائن ج۲۲ ص۱۳۳،۱۳۴)

جب مرزاقادیانی نے اس کامصداق رحمت دوعالم ﷺ کی ذات اقدس کوقراردیا اور مرزائیوںکی لن ترانی کومرزانے درخوداعتنانہیںسمجھاتوپھرہم مرزائیوںکوکیوںگھاس ڈالیں؟

دوسری آیت میںتبلیغ واشاعت احکامات الہیہ پروعدہ لئے جانے کاتذکرہ ہے۔

81

جواب۲:

’’ثم جآ ء کم‘‘ کے الفاظ قابل غور ہیں۔ان میں نبی کریم ﷺ کا تمام انبیاء کرام کے بعد تشریف لانے کو ثم کے ساتھ ادا کیا گیاہے۔ جو لغت عرب میں تراخی کے لئے آتاہے۔ جب کہا جاتاہے کہ ’’جاء نی القوم ثم عمر‘‘ تو لغت عرب میں اس کا یہی مفہوم ومعنی سمجھا جاتاہے کہ پہلے تمام قوم آگئی پھر کچھ تراخی یعنی مہلت کے بعد سب کے آخر میں عمر آیا۔ ’’لھذا ثُمَّ جاء کُمْ رَسُوْلٌ‘‘ کے یہ معنی ہوں گے کہ تمام انبیاء کے آنے کے بعد سب سے آخر میں آنحضرت ﷺ تشریف لائے۔ یہ تو ختم نبوت کی دلیل ہوئی اور قادیانیت کے لئے نشتر جان!

جواب۳:

تمام مفسرین کرام نے ’’ ثُمَّ جاء کُمْ رَسُوْلٌ ‘‘ سے مراد رحمت دوعالم ﷺ کو لیاہے۔ چنانچہ ابن کثیر اور جامع البیان میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے حوالہ سے اس کی تفسیر یہ منقول ہے۔

’’مابعث اللّٰہ نبیاًمن الانبیاء الا اخذ علیہ المیثاق لئن بعث اللّٰہ محمداوھو حی لیؤمنن بہ ولینصرنہ وآصرہ ان یاخذ المیثاق علی امۃ لئن بعث محمد وھم احیاء لیؤمنن بہ ولینصرنہ ‘‘ (ابن کثیر ص۱۷۷،جامع البیان ص۵۵)

ﷲ رب العزت نے جس نبی کو بھی مبعوث فرمایا اس سے یہ عہد لیا کہ اگر تمہاری زندگی میں اللہ نے نبی کریم ﷺ کو مبعوث کیا تو ان پر ضرور ایمان لائیں اور ان کی مدد کریں۔ اس طرح ﷲتعالی نے ہر اس نبی کو ( جسے مبعوث کیا) حکم دیا کہ آپ اپنی امت سے پختہ عہد لیں کہ اگر اس امت کے ہوتے ہوئے وہ نبی (آخرالزماں ) تشریف لائیں تو وہ امت ضرور ان پر ایمان لائے اور اس کی نصرت کرے۔

رسول کا لفظ نکرہ تھا مگر حضرت علی رضی اللہ عنہ وابن عباس رضی اللہ عنہ نے اس کی تخصیص کرکے اس سے انکار کی گنجائش باقی نہ چھوڑی۔

جواب۴:

’’رَبَّنَا وَابْعَثْ فِیْہِمْ رَسُولاً۔ ھُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِیْ الْاُمِّیّْٖنَ رَسُوْلاً۔لَقَدْ جاء کُمْ رَسُوْ لٌ مِّنْ اَنَفُسِکُمْ۔ قَدْ اَنْزَلْنَا اِلَیْکُمْ ذِکْراً رَسُوْلاً‘‘

ان آیات میں بھی رسو ل نکرہ ہے۔ اگر ان کی تخصیص کرکے ان کا مصداق محمد عربی ﷺ کو لیاجاتاہے تو ’’جاء کم رسول‘‘ میں کیوں نہیں لیاجاتا ؟

آیت: ’’وَبِالْاٰخِرَۃِ ھُمْ یُوْ قِنُوْنَ‘‘

قادیانی:

اجرائے نبوت کی دلیل میں یہ آیت پیش کرتے ہیں: ’’وَبِالْاٰخِرَۃِ ھُمْ یُوْ قِنُو ْنَ (بقرہ:۴)‘‘ یعنی وہ پچھلی وحی پرایمان لاتے ہیں۔اس سے حضور ﷺ کے بعد وحی کا ثبوت ملتا ہے

جواب۱:

اس جگہ آخرت سے مرادقیامت ہے۔جیساکہ دوسری جگہ صراحۃً فرمایاگیا: ’’وَاِنَّ الدَّارَ الْاٰخِرَۃَ لَھِیَ الْحَیَوَانُ (عنکبوت:۶۴)‘‘ آخری زندگی ہی اصل زندگی ہے : ’’خَسِرَالدُّنْیَاوَالْاٰخِرَۃَ (حج)‘‘ دنیاوآخرت میںخائب وخاسر: ’’الآخِرَۃُ اَکْبَرْ لَوْ کَانُوْا یَعْلَمُوْنَ‘‘ الحاصل قرآن مجیدمیں لفظ آخرت پچاس سے زائدمرتبہ استعمال ہواہے اور ہر جگہ مرادجزا اور سز ا کادن ہے۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے (تفسیرابن جریرص۸۱جلد اوّل، درمنثور جلد اوّل ص ۲۷) پر ہے: ’’عن ابن عباس رضی اللہ عنہ (وبالآخرۃ) ای بالبعث والقیامۃ والجنۃ والنار والحساب والمیزان‘‘

82

۲-تفسیرمرزاقادیانی

طالب نجات وہ ہے جوخاتم النّبیین پیغمبرآخرالزماںپرجوکچھ اتاراگیاہے ایمان لائے ’’وبالآخرۃھم یوقنون‘‘ اور طالب نجات وہ ہے جو پچھلی آنے والی گھڑی یعنی قیا مت پر یقین رکھے اور جزا اور سزا مانتاہو۔

(الحکم نمبر ۳۴،۳۵،ج۸،۱۰؍ اکتوبر ۱۹۰۴ء، خزینۃ العرفان ص۷۸ج۱، الحکم نمبر ۲ج۱۰، مورخہ ۱۷؍جنوری ۱۹۰۶ء ص۵ ،کالم ۲،۳)

اس میں مرزا قادیانی نے ’’بالآخرۃ ہم یو قنون‘‘ کا ترجمہ،اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں کیا ہے اور پھر لکھتا ہے : قیامت پر یقین رکھتا ہوں ۔

تفسیر از حکیم نور الدین خلیفہ قادیان :

’’اور آخرت کی گھڑی پر یقین کرتے ہیں۔‘‘ (ضمیمہ بدر مورخہ ۴ فروری ۱۹۰۹ ؁ء)

لہٰذا مرزائیوں کا ’’وَباِلاٰخِرَۃِ ہُمْ یُوْقِنُوْنَ‘‘ کا معنی آخری وحی کرنا تحریف و زند قہ ہے۔

۳… قادیانی علم ومعرفت سے معریٰ ہوتے ہیں کیونکہ خود مرزا قادیانی بھی جاہل محض تھا اسے بھی تذکیر وتانیث واحد وجمع کی کوئی تمیز نہ تھی ۔ ایسے ہی یہاں بھی ہے کہ ’’الآخرۃ‘‘ تو صیغہ مونث ہے جبکہ لفظ وحی مذکرہے ۔اس کی صفت مونث کیسے ہوگی؟ دیکھئے قرآن مجید میں ہے ’’اِنَّ الدَّارَ الْاٰخِرَۃَ لَھِیَ الْحَیَوَانُ (عنکبوت:۶۴)‘‘ دیکھئے دارالآخرۃ مونث واقع ہوئی ہے ۔ ’’لھی‘‘ کی مونث ضمیر آئی ہے ۔ اور لفظ وحی کے لئے ’’وحی، یو حی‘‘ مذکر کا صیغہ مستعمل ہے توپھر کوئی سرپھرا الآخرۃ کو آخری وحی قرار دے سکتا ہے ؟اسی طرح دوسرے کئی مقامات پر الآخرۃ کا لفظ قیامت کے لئے آیاہے ۔دیکھئے یہاں صرف قیامت ہی کا تذکرہ ہے۔ جس کے لئے ہی ترکیب لائی گئی ہے۔قادیانی عقل ودانش اور علم وتمیز سے بالکل معریٰ ہوتے ہیں ۔ وہ اغراض فاسدہ کے حصول کے لئے اندھے بہرے ہو کر ہر قسم کی تحریف وتاویل اور جہالت وحماقت کا ارتکاب کر گزر تے ہیں۔

آیت: ’’وَجَعَلْنَا فِیْ ذُرِّ یَّتِہِ النُّبُوَّۃَ وَالْکِتٰبَ‘‘

قا دیانی:

’’ وَجَعَلْنَا فِیْ ذُرِّ یَّتِہِ النُّبُوَّۃَ وَالْکِتٰبَ (عنکبوت:۲۷)‘‘ یعنی ہم نے اس ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں نبوت اور کتاب رکھی ۔ اس سے معلوم ہوا کہ جب تک ابراہیم کی اولا د ہے اس وقت تک نبوت ہے ۔

جواب۱ :

اگر اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ نبوت جاری ہے تو کتاب کا نزول بھی جاری ہی معلوم ہوتا ہے کہ حالانکہ یہ بات قادیانیوں کے نز دیک باطل ہے جو دلیل کتب کے جاری ہو نے سے مانع ہے وہی اجرائے نبوت سے مانع ہے ۔

جواب۲:

قرآن مجید میں دوسرے مقام پر سیدنا نوح علیہ الّسلام اور سیدنا ابراہیم علیہ السلام دو نوں کے متعلق ہے ۔ ’’وَجَعَلْنَا فِیْ ذُرِّ یَّتِہِ النُّبُوَّۃَ‘‘ تو کیا سیدنا نوح علیہ السلام کی اولاد میں اب بھی قادیانی نبوت کو جاری مانیںگے ۔ حالانکہ وہ اس کے قائل نہیں ۔

جواب۳:

’’وجعلنا‘‘ کا فاعل باری تعالی ہیں تو گویا نبوت وہبی ہوئی حالانکہ قادیانی وہبی کی بجائے اب کسبی یعنی اطاعت والی کو جاری مانتے ہیں۔ توگویا کئی لحاظ سے یہ قادیانی اعتراض خود قادیانی عقائد ومستدلات کے خلاف ہے ۔

83

آیت: ’’ظَہَرَ الْفَسَادُ فِیْ الْبَرِّ وَالْبَحْر‘‘

قادیانی:

’’ظَہَرَ الْفَسَادُ فِیْ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا کَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ (روم:۴۱)‘‘ اس تحریف میں متعدد آیات پیش کرتے ہیں ۔ خلاصہ جن کا یہ ہے کہ جب دنیا میں بگاڑ پیدا ہوجاتاہے تو اللہ تعالی رسو ل بھیجتاہے ۔

جواب۱:

پہلی شریعتیں وقتی اور خاص خاص قوموں کے لئے تھیں ۔ چنانچہ حالات کے موافق احکامات نازل ہوتے رہے۔ مگر اسلام کامل واکمل ہے ۔ محمد ﷺ کی بعثت سے دین کمال کو پہنچ گیا۔ قرآن نے ہدایت ورشد کے تمام پہلوؤںکو کمال بسط اور تمام تفصیلات کے ساتھ دنیا میں روشن کر دیا اب کسی نئے نبی یا نئی شریعت کی ضرورت نہیں ہے۔ باقی رہا اصلاح وتبلیغ کا کام تو یہ کام صالحین امت اور علماء دین کے سپرد ہے: ’’وَلْتَکُنْ مِّنْکُمْ اُمَّۃٌ یَّدْعُوْنَ اِلَی الْخَیْرِ وَیَاْمُرُوْنَ بِا لْمَعْرُوفِ وَیَنْہَوْنَ عِنِ الْمُنْکَرِ (آل عمران:۱۰۴)‘‘ اور ’’العلماء ورثۃ الانبیاء (الحدیث)‘‘ اس پر شاہد ہیں ۔

جواب:۲

خود مرزانے بھی لکھاہے کہ: ’’اگر کوئی کہے کہ فساد اور بد عقیدگی اور بد اعمالیوں میں یہ زمانہ بھی تو کم نہیں ۔ پھر اس میں کوئی نبی کیوں نہیں آیا تو جواب یہ ہے کہ وہ زمانہ توحید اور راست روی سے باکل خالی ہو گیا تھا اور اس زمانہ میں چالیس کروڑ لالٰہ الا اللّٰہ کہنے والے موجود ہیں ۔ اور اس زمانہ کو بھی خدا تعالی نے مجدد کے بھیجنے سے محروم نہیں رکھا۔ ‘‘ (نور الحق، خزائن ج۹ ص۳۳۹)

الحاصل مرزا قادیانی کے زیر نظر یہی آیت ہے مگر پھر بھی مرزا قادیانی اسی آیت کے ماتحت نبوت کی عدم ضرورت کو بیان کر رہا ہے ۔ اور ختم نبوت کا قائل ہے ۔ مرزائیہ قادیانی طائفہ اس سے نفی ختم نبوت کرنا چاہتاہے مگر ان کا پیر ومرشد ختم نبوت کو ثابت کررہا ہے ۔ قادیانی بتائیں کہ سچا کون اور جھو ٹا کون ؟

آیت: ’’وَمَاکُنَّا مُعَذِّبِیْنَ‘‘

قادیانی:

’’وَمَاکُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰی نَبْعَثَ رَسَوْلاً (بنی اسرائیل:۱۵)‘‘ جب تک کوئی رسول نہ بھیجیں ہم عذاب نازل نہیں کرتے ۔ یعنی بموجب قرآن ، نزول آفات سماوی وارضی سے پہلے حجت پوری کرنے کے لئے رسول کا آنا ضروری ہے ۔ موجودہ عذابات اس ضرورت پر گواہ ہیں ۔

جواب۱:

آیت کا مفہوم تو صرف اس قدر ہے کہ اللہ تعالی کسی قوم کو بے خبری اور لا علمی میں ہلاک نہیں کرتے ۔ اللہ تعالی کے رسو ل آکر حجت پوری کرتے ہیں تاکہ وہ گمراہی کو چھوڑکر ہدایت کا راستہ اختیار کریں۔ مگر منکرین مخالفت کرتے ہیں جس کی وجہ سے عذاب نازل ہوتاہے ۔ چونکہآنحضرت ﷺ تمام جہان اور سب وقتوں، اور سب امتوں کے لئے ایک ہی نبی ہیں۔ اس لئے یہ تمام عذابات اسی رسالت کاملہ کی مخالفت کا باعث ہے۔ نیز جو عذابات مرزا قادیانی کے دعوی نبوت کرنے سے پہلے دنیامیں آئے وہ کس نبی کے انکار کی وجہ سے آئے ؟ اگر وہ آنحضرت ﷺ کی مخالفت کی وجہ سے آئے تو اس زمانہ کے عذابات کو کیوں نہ آپ ﷺ ہی کی مخالفت کا نتیجہ قرار دیاجائے ؟ کیا اللہ نے کوئی حد مقرر کی ہے ؟ کہ تیرہ سو سال تک توجو عذاب آئے گا وہ رسو ل ﷲ ﷺ کے انکار کی وجہ سے آئے گا۔ پھر بعد میں کسی اور رسو ل کے انکار کی وجہ سے ہوگا اور اگر موجودہ عذابات مرزا

84

قادیانی کے انکار کی وجہ سے آرہے ہیں، تو اس کی کوئی حد مقرر ہونی چاہئے کہ ان کی وجہ سے کتنے عرصہ تک عذاب آئے گا۔ ثابت ہوا کہ عذابات آنحضرت ﷺ کی مخالفت کی وجہ سے ہیں۔ مذکورہ بالا آیت کسی نئے نبی کو نہیں چاہتی۔ کیونکہ آنحضرت ﷺ کافۃ للناس کے لئے نبی ہیں اور آپ ﷺ کے آنے سے حجت پوری ہوگئی ہے ۔

جواب۲:

اسی آیت کو مرزا قادیانی اپنے زیر نظر رکھتے ہوئے ختم نبوت کا قائل ہو رہاہے۔ وہ کہتاہے کہ اب صرف خلیفے آئیںگے۔ ( ملاحظہ ہو شہادت القرآن، خزائن ج۶ ص۳۵۲) اور اس کی امت اجرائے نبوت کی دلیل بنا رہی ہے۔ فیا للعجب !

جواب۳:

عموماً دنیا میں مصائب تو آتے ہی رہتے ہیں تو کیا ہر وقت کوئی نہ کوئی نبی ماننا ضروی ہوگا ؟اگر ہر عذاب کے موقع پر کوئی نبی،رسول ،ہونا ضروری ہے تو بتایا جائے کہ:

۱… آنحضرت ﷺکے بعد جس قدر مصائب اور عذاب آئے وہ کن رسولوں کے باعث آئے؟

۲… حضرت فاروق اعظم کی خلافت میں مرض طاعون پڑی جس سے ہزاروں صحابہ کرامؓ شہید ہوئے۔

۳… ۸۰ھ میں بہت سخت زلزلہ آیا تھا جس میں ہزاروں انسان مرگئے اور اسکندریہ کے منارے گر گئے۔

(تاریخ الخلفاء ص۱۵۸)

۴… ۴۲۵ھ میں تما م دنیا میں زلزلے آئے اس کی شدت کا یہ عالم تھا کہ انطاکیہ میں پہاڑ سمندر میں گر پڑا لاکھوں انسان تباہ ہوئے۔ (تاریخ الخلفا ص۱۸۶) یہ سب کس رسول کی تکذیب کے باعث ہوئے ؟

۵… اندلس اور بغداد کی تباہی کے وقت کونسا رسول تھا؟

۶… انگلستان کا خطرناک طاعون ۱۳۴۸ء میں کس رسول کے باعث آیا ؟

۷… چنگیز وہلاکو کے زمانہ میں لاکھوں قتل ہوئے ۔

۸… پہلی جنگ عظیم ،زلزلہ بہار،اور دوسری جنگ عظیم ،زلزلہ کوئٹہ،جاپان، اٹلی، کے وقت کونسا رسول تھا ؟

۹… اور اب جبکہ مرزا کو بھی مرے ہوئے سوسال سے زائد ہوگئے پھر بھی تباہیاں آرہی ہیں تو اس وقت کونسا رسول ہے ؟معلوم ہوا کہ قادیانیوں کا استدلال محض ایک بکواس ہے اور بس!

جواب۴:

(الف) اگر تیرہ سو سال تک جو عذاب آتے رہے وہ حضور پاک ﷺ کی تکذیب کے باعث تھا تو آئندہ قیامت تک جو عذاب آئیںگے وہ کیوں نہ آپ ﷺ کی تکذیب کے باعث قرار دیئے جائیں ؟

(ب) یہ کہنا کہ اب کسی اور رسول کے باعث عذاب آتے ہیںیہ معنی رکھتاہے کہ آنحضرت ﷺ کا زمانہ ختم ہوگیا ۔کیا مرزا ئی اس کا کھلا اعلان کریںگے ؟

(ج) مرزا قادیانی کہتا ہے کہ مرزا کے کامل اتباع سے بھی نعمت نبوت مل سکتی ہے (اربعین نمبر۱، خزائن ص۳۴۶ ج۱۷)مگر مرزا ئی مرزا کے بعد اور کسی نبی کا وجود ہی نہیں مانتے۔ پھر سوال یہ ہے کہ عذاب کی علت کس کو قرار دیا جائے ؟

جواب۵:

مولانا محمد حسین بٹالویؒ،مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ،ڈاکٹر عبد الحکیم خاں پٹیالوی ،پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی ؒ،مرزا

85

سلطان محمد ؒ ساکن پٹی۔ (مرزا کا رقیب اور بقول حضرت مولانا چنیوٹی مرزائیوں کی آسمانی ماں کو لے بھاگنے والا، محمدی بیگم کا خاوند) مولانا صوفی عبدالحق غزنوی ؒ، جو متنبی قادیان کے اشد ترین مخالف تھے ۔حیرت ہے کہ مرزا کی تکذیب کے باعث ان لوگوں پر عذاب نہ آیا بلکہ یورپ کی اقوام پر عذاب آیا جنہیں مرزا قادیانی کی خبر تک نہ تھی ۔ ’’تلک اذیً قسمۃ ضیزی‘‘

۶… ’’وَمَاکُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰی نَبْعَثَ رَسَوْلاً‘‘ سے اگر یہ ثابت کیا جائے کہ اور نبی آسکتا ہے تو ’’وَاِنْ مِّنْ اُمَّۃٍ اِلاَ خَلَا فِیْہَا نَذِیْرٌ‘‘ کا تقاضہ اور سنت الٰہی یہی ہونی چاہئے کہ ہر بستی میں رسو ل آئے۔ اگر قادیانی کہیں کہ آپ ﷺ کی نبوت کافۃ للناس ہے تو پھر کل عالم میں جہاں عذاب آئے گا وہ بھی آپ ﷺ کی تکذیب کے باعث آئے گا ۔

۷… عذاب کا باعث صرف نبوت کا انکار نہیں بلکہ اور بھی بے شمار وجوہات عذاب ہوسکتے ہیں۔ مثلا ظلم سے عذاب آتا ہے۔ زنا سے عذاب آتا ہے ۔ جھوٹی قسم سے عذاب آتا ہے ۔ جس کے مرتکب خود مرزا قادیانی اور مرزا ئی ہیں۔

آیت: ’’ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ لَمْ یَکُ مُغَیِّرًا نِعْمَۃً اَنْعَمَہَا (انفال۵۳)‘‘

قادیانی:

یعنی اللہ تعالیٰ جس قوم پر کوئی نعمت کرتا ہے تو اس سے وہ نعمت دور نہیں کرتا۔ جب تک وہ قوم اپنی حالت نہ بدل لے۔ اگر اس امت پر خدا نے نبوت کی نعمت بند کر دی ہے تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ یہ امت بد کار ہو گئی ہے۔

جواب:

اس آیت میں نعمت نبوت کا ذکر نہیں ہے۔ بلکہ دیگر دنیوی نعمت کا ذکر ہے۔ جو آیت کے سیاق وسباق سے معلوم ہوسکتا ہے۔ اس آیت کے پہلے بھی اور بعد میں بھی فرعو ن وغیرہ کا ذکر ہے کہ خدا تعالیٰ نے ان کو کئی نعمتیںبخشی تھیں۔ لیکن انہوں نے نا فرمانی کی توخدا تعالی نے ان پر تباہی ڈالی۔ کہاںنبوت اور کہاں دنیا کی نعمتیں خوشحالی وحکو مت وغیرہ۔

نبوت ایک نعمت ہے قادیانی مغالطہ

قادیانی:

نبوت بھی ایک نعمت ہے ۔ امت محمدیہ ﷺ اس سے کیوں محروم ہو گئی ہے؟

جواب۱:

نبوت تشریعی اورنزول کتاب بھی اس سے بڑھ کر نعمت ہے ۔ کیا آپ ﷺ کے بعد کوئی نئی کتاب یا کوئی نئی شریعت نازل ہوسکتی ہے؟ نہیں تو پھر وہی اعتراض لازم آیاکہ آنحضرت ﷺکی تشریف آوری کے بعد دنیا فیض شریعت سے محرو م کر دی گئی، کیونکہ جس طرح انبیاء علیہم السلام آتے رہے اس طرح شریعت بھی وقتاً فوقتاً نازل ہوتی رہی اور یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ انعام شریعت بہ نسبت انعام نبوت کے بہت بڑا ہے۔

الزام ان کو دیتے تھے قصور اپنا نکل آیا

الغرض نزول کتاب، ونبوت تشریعی بھی ایک بڑی نعمت ہے۔ جب یہ نعمت بوجود بند ہو نے کے امت میں نقص پیدا نہیں کرتی تو اگر مطلق نبوت نعمت ہوتو اس کے ختم ہو نے کی صورت میں بھی کوئی نقص لازم نہیں آئے گا۔ کیونکہ نعمت اپنے وقت میں نعمت ہوتی ہے۔ مگر غیر وقت میں نعمت نہیں ہوتی ۔ جیسے بارش ﷲ تعالیٰ کی نعمت ہے مگریہی بارش دوسرے وقت زحمت وعذاب ہو جاتی ہے۔

86

جواب۲:

ہم تو اس کے قائل ہیں کہ وہ نعمت پورے کمال کے ساتھ انسانوں کے پاس پہنچا دی گئی ۔ ہم نعمت سے محروم نہیں ہیںبلکہ وہ اچھی صورت میںہمارے پاس ہے۔ جس طرح سورج نکلنے سے کسی چراغ کی ضرورت نہیں رہتی اس طرح آنحضرت ﷺ کی تشریف آوری کے بعدکسی نبی کی ضرورت نہیں ہے ۔ چنانچہ قرآن مجید میں شجرۂ طیبہ (اسلام) کے متعلق ہے کہ: :’’تُؤْتِیْ اُکُلَھَا کُلَّ حِیْنٍ (ابراہیم:۲۵)‘‘ شجرہ اسلام قیامت تک ثمر بار اور فیضان رساں رہے گا۔ اس کا فیضان قیامت تک منقطع نہیں ہو سکتا۔ قادیانی اگر خود کو اس نعمت سے محروم سمجھتے ہیں تو ان کی یہ بد فہمی ہے اس کی اصلاح کر لیں۔

نیز اگر نبوت نعمت ہی ہے تو مرز ا کے بعد بھی اس نعمت کے مظاہر وجود پذیر ہونے چاہئے، وہ کیونکر بند ہو گئے؟

آیت: ’’وَاِذِابْتَلیٰٓ اِبْرَاھِیْمَ‘‘

قادیانی:

’’وَاِذِابْتَلٰی اِبْرَاھِیْمَ رَبُّہ‘ بِکَلِمٰتٍ فَاَتَمَّھُنَّ قَالَ اِنِّی جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ اِمَامًا قَالَ وَمِنْ ذُرِّیَّتِی قَالَ لَایَنَالُ عَھْدِی الظّٰلِمِیْنَ(بقرہ:۱۲۴)‘‘

اور جس وقت آزمایا ابراہیم علیہ السلام کو رب اس کے نے، ساتھ کئی باتوں کے۔ پس پوراکیا ان کو۔ کہا تحقیق میں کرنے والا ہوں تجھ کو واسطے لوگوں کے امام اور میری اولاد سے، کہا نہ پہنچے گا عہد میرا ظالموں کو۔

اس سے دو باتیں معلوم ہوئیں: (۱)اوّل یہ کہ عہد نبوت نسل ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ ضرور پورا ہوگا۔ (۲)دوم یہ کہ جب نسل ابراہیمی ظالم ہو جائے گی تو ان سے نبوت چھین لی جائے گی۔ کیونکہ امت محمدیہ میںنبوت جاری نہیں ۔ لہٰذا یہ امت ظالم ہو گئی اور اگر ظالم نہیں تو امت محمدیہ میں نبوت جاری ہے۔

جواب۱:

آیت کا مطلب صرف اس قدر ہے کہ جو ظالم ہو اس کو یہ نعمت نہ ملے مگر ہر غیر ظالم کے لئے نبوت جاری نہیں ۔ ہاں اگر نبوت آنحضرت ﷺکے بعد جاری ہوتی تو پھر غیر ظالموں کو مل سکتی تھی ۔مگر قرآن مجید میں ﷲ تعالیٰ کا فرمان موجو د ہے ’’ماکان محمد ابااحدمن رجالکم الی قولہ وخاتم النبیین‘‘ مرزا قادیانی نے خودآیت ختم نبوت کاترجمہ کیاہے :

’’محمد ﷺ تم میں سے کسی مرد کا باپ نہیں مگر وہ رسو ل ﷲ ہے اور ختم کر نے والا ہے نبیوں کا۔ یہ آیت بھی صاف دلالت کر رہی ہے کہ بعد ہمارے نبی ﷺ کے کوئی رسول دنیا میں نہیں آئے گا۔‘‘ (ازالہ اوہام، خزائن ج۳ ص۳۱)

جواب۲:

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خدا سے دعا مانگی تھی جو قبول ہو گئی۔ مگر دکھا ئو کہ آنحضرت ﷺنے بھی ایسی دعا مانگی ہے۔ بلکہ آپ ﷺ نے صر یح اور واضح الفاظ میں فرمایا: ’’ان النبوۃ والرسالۃقدانقطعت فلارسول بعدی ولا نبی‘‘ (ترمذی شریف ص۵۱ ج۲ باب ذہبت النبوۃ) ثابت ہوا کہ نبوت جاری نہیں ۔

جواب۳:

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں صاحب کتاب نبی بھی ہوئے ہیں۔ لہٰذا تمہارے قاعدے کے مطابق کوئی نبی صاحب کتاب بھی ضرور آناچا ہئے۔حالانکہ تم اس کے خود قائل نہیں ۔ جس دلیل سے صاحب کتاب نبی آنے کی ممانعت ہے وہی دلیل مطلقاًکسی نبی کے آنے سے مانع ہے ۔

جواب۴:

اگر کہو کہ وہ جسے نبوت نہ ملے ظالم ہوتا ہے تو صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین اور تمام امت محمدیہ ﷺ اب تک ظالم ٹھہرتی ہے اور مرزاغلام احمد قادیانی کی وفات کے بعد تمام قادیانی امت بھی ظالم ٹھہرتی ہے۔

87

جواب۵:

مذکورہ آیت تو یہ بتاتی ہے کہ جو لوگ آزمائشوں میں کامیاب ہوتے ہیںوہ دنیا میں امام بنائے جاتے ہیں اور ابراہیم علیہ السلام اس امامت کے منصب سے پہلے بھی نبی بن چکے تھے ۔ یہ امامت کس نوعیت کی تھی؟ لکھا ہے کہ:’’خدا نے ابراہیم علیہ السلام سے کہاتیری نسل اپنے دشمنوں کے دروازے پر قابض ہوگی اور تیری نسل سے دنیا کی ساری قومیں برأت پائیں گی۔‘‘ (پیدائش آیت:۱۷،۱۸باب ۲۲)

پھر فرمایا: ’’میں تجھ کو اور تیرے بعد تیری نسل کو کنعان کا تمام ملک جس میں تو پردیسی ہے دیتا ہوں ۔‘‘(پیدائش آیت:۷، ۸باب۷)

تو الحاصل آیت کریمہ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور آپ کی ذریۃ طیبہ کو دنیا میں سرفراز کرنے کا عہد تھا۔جس کا اظہار ’’سورۃ حدید‘‘ کے آخر میں واضح کردیاکہ ہم نے آپ کی اولاد میں کتاب اور نبوت کو مرتکز کر دیا۔پھر اس کے بعد حضرت مسیح علیہ السلام کا ذکر فرمایاجنہوں نے اس سلسلۂ انبیاء کے آخری فرد کامل کا اعلان کر دیا۔اس فرد کامل نے تشریف لاکر سلسلۂ نبوت کا کلی اختتام وانقطاع کا اعلان فرما کر حقیقت واضح کردی۔

آیت: ’’لَیَسْتَخْلِفَنَّہُمْ فِیْ الْاَرْض‘‘

قادیانی:

’’ وَعَدَ ﷲاُلَّذِیْنَ اٰمَنُوْامِنْکُمْ وَعَمِلُواالصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّہُمْ فِیْ الْاَرْضِ کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ وَلَیُمَکِّنَنَّ لَہُمْ دِیْنَہُمُ الَّذِی ارْتَضیٰ لَہُمْ (النور:۵۵)‘‘ اس سے ثابت ہوا کہ حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت دَاوُد علیہ السلام کی طرح خلیفے یعنی غیر تشریعی نبی ہوںگے ۔

جواب۱:

اس کا مطلب یہ ہے کہ ﷲتعالیٰ مسلمانوں کو سلطنت عنایت کریگا نہ یہ کہ نبی خلیفہ ہوںگے ورنہ دوسری آیت کا کیا جواب ہے ؟کہ : عَسیٰ رَبُّکُمْ اَنْ یُہْلِکَ عَدُوَّکُمْ وَیَسْتَخْلِفَکُمْ فِیْ الْاَرْضِ (الاعراف:۱۲۹)‘‘ قریب ہے تمہارا رب تمہارے دشمن کو ہلاک کردے اور تمہیں زمین کا بادشاہ بنا دے۔

اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ تم سب کو غیر تشریعی نبی بنا دے گا۔ ’’جَعَلَکُمْ خَلٰئِفَ فِی الْاَرْ ضِ وَ رَفَعَ بَعْضَکُم فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِّیَبْلُوَکُمْ فِیْمَآ اٰتٰکُمْ (انعام:۱۶۵)‘‘ وہ ذات پاک ہے جس نے تم کو دنیا میں جانشین بنایااور بعض کے بعض پر درجات بلند کئے ۔تاکہ اس نے جو کچھ تمہیں دیا ہے اس میں آزمائش کرے۔

اس کا بھی ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ﷲ تعالیٰ انہیں غیر تشریعی نبی بنائے۔تفسیر ’’معا لم التنزیل‘‘ میں لیستخلفنہم کا معنی لکھتے ہیں: ’’ای لَیُورِثَنہم ارضَ الکفارِ مِنْ العربِ والعجم فجعلہم ملو کاً سادتہا وسکانہا‘‘ یعنی مسلمانوں کو کافروں (عرب ہوں یا عجمی)کی زمین کا وارث بنائے گااور ان کو بادشاہ اور فرمانروا اور وہاں کا باشندہ بنا دے گا۔ نہ یہ مطلب ہے کہ غیر تشریعی نبی بنا دے گا۔ نیز یہی آیت تو ختم نبوت پر دال ہے کہ حضور ﷺ کے بعد نبوت کا سلسلہ اب بند ہے۔ آ گے خلفاء ہی ہوںگے۔ پھر یہ کہ وعدہ خلافت بھی اس سے ہے جومومن بھی ہو اور اعمال صالحہ بھی کرنے والا ہو۔ کیا صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعینا ن دونوں صفات سے موصوف نہ تھے ؟اگر تھے تو نبوت تشریعی یاغیر تشریعی کا دعویٰ انہوں نے کیوں نہ کیااور اگر جواب نفی میں ہے تو یہ قرآن عظیم کے بھی خلاف ہے۔کیونکہ قرآن شاہد ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کی جماعت ان دونوں صفات سے موصوف تھی اور بعض صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین خلیفہ بھی بنے مگر پھر بھی نبوت غیر تشریعی کادعویٰ ان سے ثابت نہیں ہے۔

88

جواب۲:

مرزائیو! اپنے پیر ومرشد کی خبر لو کہ وہ اس آیت میں خلفاء سے کیا مراد لیتا ہے؟ چنانچہ خود مرزانے اس آیت سے ایسے خلیفے مراد لئے ہیں جن کے مصداق خلفاء راشدین ہیں۔ چنانچہ مندرجہ بالا آیت کے تحت مرزا قادیانی لکھتا ہے کہ

۱… ’’نبی تو اس امت میں آنے کو رہے۔ اب اگر خلفا ئے نبی بھی نہ آویں اور وقتاً فوقتاً روحانی زندگی کے کرشمے نہ دکھلاویں تو پھر اسلام کی روحانیت کا خاتمہ ہے۔‘‘ (شہادت القرآن، خزائن ج۶ ص۳۵۵)

۲… ’’ خدا تعالی فرماتا ہے کہ میں اس نبی کریم کے خلیفے وقتاً فوقتاً بھیجتا رہونگا اور خلیفہ کے لفظ کو اشارہ کے لئے اختیار کیاگیاہے کہ وہ نبی کے جانشین ہوں گے۔ ‘‘ ( شہادت القرآن، خزائن ج۶ ص۳۳۹)

ان حوا لوں میں واضح طور پر تسلیم کیا گیا ہے کہ امت محمدیہ ﷺکی اصلاح وتربیت کے لئے کوئی نبی مبعوث نہیں ہو گا۔ بلکہ انبیاء کے بجائے مجدد اور روحانی خلیفے یعنی وارثان محمد ﷺ آتے رہیںگے ۔

۳… ’’قرآن کریم نے اس امت میں خلیفوں کے پیدا ہو نے کا وعدہ کیا ہے۔ ایک زمانہ گزرنے کے بعد جب پاک تعلیم پر خیالات فاسدہ کا ایک غبار پڑجاتا ہے اور حق خالص کا چہرہ چھپ جاتا ہے ۔ تب اس خوبصورت چہرے کو دکھلا نے کے لئے مجدد اور محدث اور روحانی خلیفے آتے ہیں۔ مجددوں اور روحانی خلیفوں کی اس امت میں ایسے ہی طور سے ضرورت ہے جیسا کہ قدیم سے انبیاء کی ضرورت پیش آتی رہی ہے۔‘‘

( شہادت القرآن، خزائن ج۶ ص۳۳۹، ۳۴۰)

مگر افسوس مرزا صاحب نے بہت جلد قرآن کی اس تعلیم کو بھلا دیا اور خود نبوت کے مدعی بن بیٹھے ۔ جبکہ مرزا قادیانی کی ان تمام عبارتوں سے ثابت ہوا کہ جیسے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ خلیفہ تھے اور وہ آنحضرت ﷺ کے جانشین تھے، لیکن نبی نہ تھے۔ اسی طرح آنحضرت ﷺ کی امت میں خلفا ہی آیا کریںگے نبی ہرگز نہیں آئیں گے ۔

جواب۳:

(الف) ’’وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْ ا مِنْکُمْ (النور:۵۵)‘‘ سے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کی تخصیص ہے ۔موعودلہم صحابہ ہیںورنہ منکم نہ فرمایاجاتا۔

(ب)استخلاف فی الارض سے مراد زمین کی حکومت اورسلطنت ہے۔ جیساکہ دوسری آیت شریف میں: ’’وَیَسْتَخْلِفَنَّکُمْ فِیْ الْاَرْضِ (الاعراف:۱۲۹)‘‘ مرزاحکمران توکجاغلام ابن غلام تھا۔ پھراس کوتشریعی یاغیرتشریعی نبوت سے کیاواسطہ ۔

(ج)آیت میں وعدہ ہے کہ تمکین دین ہوگی۔جب کہ لعین قادیان انگریز ی عدالتوں کی زندگی بھر خاک چھانتا رہا۔

(د)آیت بتا رہی ہے کہ خوف کے بعد امن ہوگا۔ مرزا کے امن کا یہ حال تھا کہ بوجہ خوف اپنی حفاظت کے لئے حفاظتی کتا رکھتا تھا اور محض خوف کی وجہ سے حج نہ کر سکا۔ ملاحظہ فر ما ئیے حوالہ ۔

’’ڈاکٹر محمد اسماعیل نے مجھ سے بیان کیا کہ مسیح موعود (مرزا قادیانی )نے اپنے گھر کی حفاظت کے لئے ایک دفعہ ایک گدی کتا بھی رکھا تھا ۔ وہ دروازہ پر بندھارہتا تھا اور اس کا نام شیرو تھا ۔‘‘ (سیرت المہدی ج۳ ص۲۹۸)

(ھ)آیت میں ہے: ’’لَایُشْرِکُوْنَ بِیْ شَیْئًا (النور:۵۵)‘‘ مرزا کا حال یہ ہے کہ وہ آخری درجہ کا مشرک تھا۔ کیونکہ حیات عیسیٰ علیہ السلام کے عقیدہ پر پچاس سال سے زائد عرصہ قائم رہا۔ پھر خود ہی اس کو شرک قرار دیا۔ تو

89

بقول خود پچاس سال سے زائد عرصہ تک مشرک رہا۔ علاوہ ازیں مرزا کو الہام ہوا ’’انت منی بمنزلۃ ولدی‘‘ (حقیقت الوحی، خزائن ج۲۲ ص۸۹) ا ور یہ جملہ خالص کفریہ ہے ۔

جواب۴:

مرزانے ’’سرالخلافۃ‘‘ نامی کتا ب میں یہ آیت اور دیگر چند آیات لکھ کران آیات کے متعلق لکھا ہے: ’’فالحاصل ان ھذہ الآیات کلہا مخبر عن خلافۃ الصدیق ولیس لہ محمل آخر ‘‘ یہ آیات صدیق اکبر کی خلافۃ پر دال ہیں ان کا کوئی دوسرا محمل نہیں۔ معلوم ہوا کہ مرزا کے فیصلہ کے مطابق اس آیت سے اجرائے نبوت پر استدلال بے سود اور باطل ہے۔

آیت: ’’اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ‘‘

قادیانی:

’’اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ(مائدہ:۳)‘‘ سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد لوگ منصب نبوت پر فائز ہوا کریںگے۔ کیونکہ جب خدا تعالی نے ہمیں نعمت تامہ دیدی ہے، تو سب سے اعلی نعمت تونبوت کی نعمت ہے وہ ضرور ہمیں ملنی چاہئے ۔

جواب:

اپنے گھر کی خبر لو! تمہارا پیر ومرشد اس آیت کو ختم نبوت کے لئے پیش کررہا ہے اور تم اس سے نفی ختم نبوت کو ثابت کرنا چاہ رہے ہو ۔ معلوم نہیں الٹی سمجھ کس کی ہے ؟ملاحظہ ہو: ’’ اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ‘‘ اور آیت ’’وَلَٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ‘‘ میں صریح نبوت کو آنحضرت ﷺپر ختم کرچکا ہے۔

(تحفہ گولڑویہ، خزائن ج۱۷ ص۱۷۴)

آیت: ’’یَتْلُوْہُ شَاہِدٌمِّنْہُ‘‘

قادیانی:

’’یَتْلُوْہُ شَاہِدٌمِّنْہُ (ھود:۱۷)‘‘ اس آیت کی تفسیر میں کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کی صداقت کو ثابت کرنے کے لئے ایک نبی شاہد کی ضرورت ہے۔ چنانچہ لکھتے ہیں: ’’اس کی صداقت ثابت کرنے کے لئے جب اتنا عرصہ گزر جائے گا کہ پہلے دلائل قصوں کے رنگ میں رہ جائیں تو خدا تعالی کی طرف سے ایک نیا گواہ آجائے گا۔ اس جگہ خصوصیت کے ساتھ مسیح موعود (مرزا قادیانی ) کا ہی ذکرہے۔

(مرزا ئی تفسیرکبیر ج۳ ص۶ ۶ ۱، بشیر الدین محمود )

جواب۱:

قادیانیوں کا یہ کہنا کہ: ’’ہر ایک نبی کی شہادت نبی ہی دیتاچلاآیاہے۔‘‘ یہ گھر کا بنایا ہوا قاعدہ ہے جس پر کوئی نص قرآنی یا حدیث دلالت نہیں کرتی اور اگر یہ صحیح ہے تو اس سے لازم آتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام جب آسمان سے نازل ہوںگے تو پھر ان کے بعد ان کی تصدیق کے لئے کوئی اور نبی آئے۔ پھر اس نبی کی تصدیق کے لئے کوئی اور نبی آنا چاہئے۔ پس اس سے تسلسل لازم آئے گا جو باطل ہے ۔

جواب۲:

پھر سوچو کہ کیا مسلمان کا یہ عقیدہ ہو سکتا ہے کہ جب تک مرزا قادیانی نبی نہ مانا جائے اس وقت تک آنحضرت ﷺ کی نبوت مشکوک اور مشتبہ ہے اور مرزا کی گواہی کی محتاج ہے ؟ اور فرض کریں کہ اگر مرزا نہ آتا اور گواہی نہ دیتا تو آنحضرت ﷺ کی نبوت ہی شکی اور فرضی رہتی؟ نعوذباللہ من ہذہ الخرافات! یہ کس قدر لغو اور بیہودہ خیال ہے اور ہزار افسوس ہے ان قادیانیوں کے ایمان پر جن کے نزدیک ہمارے نبی ﷺ کی نبوت ثابت نہ ہوئی۔ بلکہ جب مرزا نے نبی بن کر گواہی دی تو ثابت ہوئی ۔

90

جواب۳:

در اصل اس آیت میں یہ بتانا مقصود ہے کہ مومن کے ہاتھ میں صرف ایک بینہ یعنی کتا ب یا روشنی ہی نہیں ہوتی بلکہ اس کے لئے ایک کامل نمونہ بھی موجود ہے جو اس بینہ پر عمل کر کے اس کے راستہ کو بالکل صاف کردیتاہے اور مومن کے اندر بھی اس کتاب پر عمل کرنے کی طاقت پیدا کردیتاہے اور اسی طرح کتابوں کا نازل کرنا اور انبیاء کو ان کتابوں کی عملی تعلیم کا نمونہ بنانا یہ اللہ تعالی کی قدیم سے سنت رہی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ آگے جن انبیاء علیہم السلام کا ذکر آتا ہے وہ سب اپنی امتوں سے یہی خطاب کرتے ہیں کہ وہ اپنے رب کی طرف سے ایک بینہ پر ہیں ۔ کیوں کہ ہر نبی کی وحی اس کے حق میں بینہ ہی ہے ۔ مگر اس میں ایک دوسری غرض یہ بھی ہے کہ یہ بینہ یعنی قرآن ایسی صاف ہے کہ اس کی شہادت حضرت موسیٰ علیہ السلام کی کتاب اور پہلی امتوں میں بھی ہے ۔

جواب۴:

اس آیت شریفہ میں ’’یتلوہ شاہد منہ ‘‘ سے مراد رحمت دوعالم ﷺ کی ذات اقدس ہے ۔ جیسا کہ دوسرے مقامات پر آپ ﷺ کے مشاہد ہونے کا ذکر ہے۔ ’’وَجِئْنَا بِکَ عَلیٰ ھٰٓئوُلَآ ء شَہِیْداً (نساء:۴۱) ویکون الرسول علیکم شہیداً (بقرہ:۱۴۳)‘‘ معلوم ہوا کہ آیت ’’یَتْلُوْہُ شَاہِدٌمِّنْہُ ‘‘ میں آپ ﷺ ہی کی ذات مراد ہے یعنی سرور کائنات ﷺقرآن مجید پڑھتے تھے۔کیونکہ اگر اس سے مراد مرزا ہے۔معاذاللہ! تو سوال یہ ہے کہ کیا مرزا غلام احمد تک قرآن نہیں پڑھا گیا ؟

جواب۵:

اگر شاہد سے مراد مرزا ہے اور یہ قرآن کی آیت کا مصداق ہے تو کیا چودہ سو سال میں اہم امر جو مدار ایمان تھا اس کا کہیں کسی زمانہ میںتذکرہ ملتا ہے جبکہ مرزا نے خود لکھاہے۔

’’مگر وہ باتیں جو مدار ایمان ہیں اور جن کے قبول کرنے اور جاننے سے ایک شخص مسلمان کہلا سکتا ہے وہ ہر زمانہ میں برابر شائع ہوتی رہیں۔‘‘ (تذکر ۃ الشہادتین خ ص ۶۲ج۲۰)

اس کا تذکرہ نہ ملنا بقو ل اس کے واضح دلیل ہے اس بات کی کہ اس آیت کا مصداق مرزا ہرگز ہرگز نہیں ۔

آیت: ’’حَتٰی یَمِیْزَ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ‘‘

قادیانی:

’’مَاکَانَ اللّٰہُ لِیَذَرَ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلٰی مَآ اَنْتُمْ عَلَیْہِ حَتّیٰ یَمِیْزَ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ وَمَا کَانَ اللّٰہُ لِیُطْلِعَکُمْ عَلَی الْغَیْبِ وَلٰٰکِنَّ اللّٰہَ یَجْتَبِی مِنْ رُّسُلِہٖ (آل عمران:۱۷۹)‘‘

خدا تعالی ہر مومن کو اطلاع غیب نہیں دیتے بلکہ اپنے رسولوں میں سے جس کو چاہے گا بھیجے گا۔

(مرزا ئی پاکٹ بک ص۴۵۰)

جواب۱:

آیت مذکورہ بالا میں ’’بھیجے گا ‘‘ کس لفظ کا ترجمہ ہے ؟اس آیت میں یہ لفظ قطعاً نہیں ۔البتہ اطلاع علی الغیب کی خبر ہے جو غیر نبی کو بھی تمہارے نزدیک ہو تی رہتی ہے۔ چنانچہ مرزا نے لکھا ہے ۔

’’یہ بھی ان کو معلوم رہے کہ تحقیق وجود الہام ربانی کے لئے جو خاص خدا کی طرف سے نازل ہوتا ہے اور امور غیبیہ پر مشتمل ہوتا ہے۔ ایک اور بھی راستہ کھلا ہواہے اور وہ یہ ہے کہ خداتعالی امت محمدیہ میںکہ جو سچے دین پرثابت اور قائم ہیں ۔ ہمیشہ ایسے لوگ پیدا کرتا ہے کہ جو خدا کی طرف سے ملہم ہوکر ایسے امور غیبیہ بتلاتے ہیں۔ جن کا بتلا نا بجز خدائے واحد لاشریک کے کسی کے اختیا رمیں نہیں۔‘ ‘ (براہین احمدیہ حصہ اوّل ص۲۳۸)

91

اس سے معلوم ہوا کہ غیر نبی کو بھی مرزائیوں کے نزدیک اطلاع علی الغیب ہو تی رہتی ہے اور اسی کتاب کے ص۸۰ پر مرزا نے لکھا ہے کہ ’’وحی رسالت بوجہ عدم ضرورت منقطع ہے۔ ‘‘

نیز رسلا ً میں عموم ہے اور قادیانیوں کا دعوی خاص ہے دعوی کے مطابق دلیل نہ ہونے کی وجہ سے یہ ان کی دلیل باطل ٹہری ۔اور یجتبی میں اللہ فاعل ہے جس سے مستقل نبی کا چننا ثابت ہوتا ہے ۔ جبکہ قادیانی لوگ مستقل نبی آنے کے قائل نہیں ۔

جواب۲:

حکیم نور الدین نے یہی آیت مرزا کے مرنے پر پڑھ کر بیان کیا کہ یہ مومنوں کا امتحان اور جانچنا ہے اور دوسرے امتیا ز بین المخلصین و ا لمنافقین ہے ۔لہٰذا اس آیت سے صرف ابتلامراد ہے جیسا کہ مرزا کی موت پر تم کو آزمائش میں ڈالا گیا ۔ (ریویو آف ریلیجنز بابت جون ،جولائی ۱۹۰۸ء ص۲۲۵ج۷)

حکیم نور الدین نے اس آیت کو کسی نبی کے آنے پر نہیں پڑھا تھا کہ اجرائے نبوت ثابت ہو بلکہ مرزا ئیوں کے جھوٹے نبی کے جانے پر پڑھا تھا ۔مرزا ئی خلیفہ نے بھی ثابت کردیا کہ اسے اجرائے نبوت کی دلیل بنانا حماقت ہے ۔

جواب۳:

’’ حَتٰی یَمِیْزَ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ‘‘ میں مرزا ئیوں کا یہ کہنا کہ تمیز پہلے ہو چکی تھی یہ بھی غلط ہے کیونکہ سورۂ توبہ میں اللہ تعالی نے فرمایاہے جو نزول کے اعتبار سے آخری ہے: ’’وَمِنْ اَہْلِ الْمَدِیْنَۃِ مَرَدُوْا عَلَی النِّفَاقِ لاَ تَعْلَمُہُمْ نَحْنُ نَعْلَمُہُمْ سَنُعَذِّبُہُمْ مَّرَّتَیْنِ ثُمَّ یُرَدُّونَ اِلٰی عَذَابٍ عَظِیْمٍ (توبہ:۱۰۱)‘‘ (آل عمران:۱۱۹) میں ہے: ’’وَاِذَا لَقُوْکُمْ قَالُوا اٰمَنَّا وَاِذَا خَلَوْا عَضُّوْ عَلَیْکُمُ الْاَنَامِلَ مِنَ الْغَیْظِ‘‘ تو یہ تمیز مومنوں اور منافقوں میں ہو کر رہے گی ۔اللہ تعالی ہر ایک کو نہیں بتائے گا اور تمیز ہوگی ۔

جواب۴:

اجتباء کا معنی کسی لغت کی کتاب میں بھیجنا نہیں ہے ۔آیت کا صحیح ترجمہ یہ ہے : ’’اور ﷲایسا نہیں کہ مومنو ں کو اس حالت پر چھوڑدے جس پر (اے گروہ کفار ومنافقین)تم ہو (بلکہ خدا انہیں اس حالت سے بلند کرنا چاہتا ہے)یہاں تک کہ ناپاک کو پاک سے الگ کردے ۔ (اور مومنین سے ہر قسم کی ایمانی اور عملی کمزوریاںدور کردے)اور ﷲتعالیٰ ایسا بھی نہیں کہ تم کو (اپنی ہدایت وقوانین کے) غیب پر اطلاع دے لیکن ﷲتعالیٰ اپنے رسولوں میں سے جسے چاہتاہے (اس مرتبہ پر)فضیلت بخشتا ہے۔(جیساکہ محمدرسول ﷲ ﷺکو چنا)سوتم ﷲاور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤاگر تم ایمان لاؤ اور تقویٰ اختیار کروتو تمہیں بڑا اجر ملے گا۔ ‘‘

گویا اس آیت میں رسولوں کے سلسلہ جاری رکھنے کا کوئی ذکر نہیں ہے۔

جواب۵:

سوال کرنے والوں نے کہا تھا کہ ہمیں فرداً فرداً غیب پر کیوں اطلاع نہیں دی جاتی؟ جواب میں فرمایا:یہ رسول کا کام ہے ۔ آئندہ بعثت رسل کے متعلق نہ کسی نے سوال کیا نہ جواب دیاگیا۔

جواب۶:

یہ کہنا کہ آئندہ رسول آئے گا یہ مطلب رکھتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے ذریعہ خبیث وطیب میں امتیاز نہیں ہوا۔ حالانکہ قرآن مجید فرماتا ہے: ’’یُحِلُّ لَہُمُ الطَّیِّبٰتِ وَیُحَرِّمُ عَلَیْہِمُ الْخَبٰئِثَ (الاعراف:۱۵۷) وجاء الْحَقُّ وَزَہَقَ الْبَاطِلُ اِنَّ الْبَاطِلَ کَانَ زَہُوْقاً (بنی اسرائیل:۸۱)‘‘ حق آگیا اور باطل ہلاک ہوگیا۔ بیشک باطل ہلاک ہونے والا ہی تھا ۔پس حق وباطل میںحضور ﷺکے ذریعہ امتیازقائم ہو چکا ہے۔اس لئے اب کسی اور رسول کی ضرورت نہیں رہی ۔

92

اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ وہ مدعیان ایمان کو اسی طرح (منافق ومخلص مومن ملے جلے ) رہنے دے حتی کہ وہ بدباطن منافق اور مخلص مومن کے درمیان با لکل تمیز قائم کردیگا ۔ چنانچہ تمیز کلی طور پر غزوۂ تبوک تک مکمل ہو گئی ۔مخلص مومن لوگ باقی رہ گئے اور منافق چھٹ گئے ۔حتیٰ کہ منافقین کے نام لے لے کر مسجد نبوی سے اٹھا دیاگیا تھا۔

آیت: ’’صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْہِمْ‘‘

قادیانی:

’’اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْہِمْ‘‘ اے اللہ ہم کو سیدھا راستہ دکھا ان لوگوں کا جن پر تو نے اپنی نعمت نازل کی۔ گویا ہم کو بھی وہ نعمتیں عطا فرما جو پہلے لوگوں کو عطا کی گئیں۔ اب سوال یہ ہوتا ہے کہ وہ نعمتیں کیا تھیں۔ قرآن مجید میں ہے: ’’یٰقَوْمِ اذْکُرُوا نِعْمَۃَ اللَّہِ عَلَیْکُمْ اِذْ جَعَلَ فِیْکُمْ اَنْبِیَاء وَجَعَلَکُمْ مُلُوْکاً (مائدہ:۲۰)‘‘ موسی علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا کہ اے قوم تم اپنے خدا کی نعمت یاد کروجب اس نے تم میں نبی بنائے اور تم کو بادشاہ بنایا۔ تو ثابت ہوا کہ نبوت اور بادشاہی دونوں نعمتیں ہیں جو خدا تعالی کسی قوم کو دیا کرتا ہے ۔خدا تعالی نے سورۂ فاتحہ میں دعا سکھائی ہے اور خود ہی نبوت کو نعمت قرار دیا ہے اور دعا کا سکھانا بتاتا ہے کہ خدا تعالی اس کی قبولیت کا فیصلہ فرما چکا ہے ۔لہٰذا امت محمدیہ میں نبوت ثابت ہوئی۔

(احمدیہ پاکٹ بک ص۴۶۷،۴۶۶آخری ایڈیشن )

جواب۱:

اس آیت میں منعم علیہم کی راہ پر چلنے اور قائم رہنے کی دعا ہے نہ کہ نبی بننے کی۔ اس کے یہ معنی ہیں کہ ان کے طریق عمل کو نمونہ بنائیں ۔جیسا کہ ارشاد خداوندی ہے: ’’لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ (احزاب:۲۱)‘‘

جواب۲:

اگر انبیا کی پیروی سے آدمی نبی بن سکتا ہے توکیا خدا کی پیروی سے خدا بن جائے گا ؟جیسا کہ خدا کا فرمان ہے: ’’اَنَّ ھٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْماً فَاتَّبِعُوْہُ (انعام:۱۵۳)‘‘ اور کیا گورنر کے راستہ پر چلنے والا گورنر بن سکتا ہے ؟ یا چپڑاسی کے راستہ پر چلنے والا چپراسی بن جاتا ہے ؟

جواب۳:

نبوت دعائوں سے نہیں ملا کرتی۔ اگر نبوت دعائوں سے ملے تو نبوت کسبی ہوجائے گی۔ حالانکہ نبوت وہبی ہے۔ ’’اَللّٰہُ اَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَہ‘ (انعام:۱۲۴)‘‘

جواب۴:

حضور ﷺ نے بھی یہ دعا مانگی تھی حالانکہ آپ ﷺ اس سے پہلے نبی بن چکے تھے۔ آپ ﷺکا ہر نماز میں ’’اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتُقِیْمَ‘‘ کے الفاظ سے دعا کرنا اس امر کی واضح دلیل ہے کہ اس سے حصول نبوت مراد نہیں ۔

جواب۵:

تیرہ سو برس میں اگر کوئی نبی نہ بنا تو کیا کسی کی بھی دعا قبول نہ ہوئی؟ جس مذہب میں کروڑوں لوگوں کی دعا قبول نہ ہو وہ خیر امت نہیں کہلا سکتی ۔ اور نہ اس کو کہلانے کا حق ہے ۔

جواب۶:

’’اھدنا‘‘ صیغہ جمع کا ہے یعنی اللہ تعالی ہم سب کو نبی بنائے۔ اس سے پتہ چلا کہ اللہ تعالی نے مرزا قادیانی کی بھی دعا قبول نہ کی۔کیونکہ اگر دعا قبول ہوئی ہوتی تو مرزا قادیانی کے سب پیروکار وں کو نبی ہونا چاہئے تھا ۔مگر ایسا نہ ہوا، اور اگر سب نبی ہی بن جائیں تو سوال یہ ہے کہ پھر امتی کہاں سے آتے ؟کیا مرزائیوں میں سے کوئی

93

نبوت چھوڑ کرامتی بننے کے لئے تیار ہے ؟

جواب۷:

یہی دعا عورتوں کو بھی سکھائی گئی ہے ۔ تو کیا وہ بھی منصب نبوت پر فائز ہو سکتی ہیں؟ اگر جواب نفی میں ہے تو پھر یہ دعا انھیں کیوں سکھائی گئی ہے؟ اور اگر ہاں میں ہے تو یہ تمہارے خلاف ہے ۔

جواب۸:

نبوت اور بادشاہت دونوں خدا کی نعمت ہیں جیسا کہ مرزا ئی سوال میں بھی اعتراف کیا گیاہے ۔تو مرزا ئی بتائیں کہ ان کے قول کے مطابق مرزا نبی تو بنا مگر بادشاہ نہ بنا تو کیا آدھی دعا قبول ہوئی ؟

جواب۹:

شریعت اور کتا ب بھی اللہ تعالی کی نعمت بلکہ نعمت عظمیٰ ہے ۔جیسا کہ ارشاد باری ہے ’’وَاذْکُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ وَمَا اَنْزَلَ عَلَیْکُمْ مِنَ الْکِتٰبِ وَ الْحِکْمَۃِ (بقرۃ:۲۳۱)‘‘ تو پھر قادیانیوں کے ہاں اس پر پانبدی کیوں ہے ؟اگر دعاسے نبوت لینی ہے تو پھر نعمت تامہ یعنی تشریعی نبوت لینی چاہیے تا کہ مکمل نعمت حاصل ہو۔ حالانکہ مرزا ئی اس کے قائل نہیں۔

جواب۱۰:

مرزا قادیانی اس آیت کے تحت لکھتا ہے : ’’پس اِس آیت سے بھی کھلے کھلے طور پر یہی ثابت ہوا کہ خداتعالی اس امت کو ظلی طور پر تمام انبیاء کا وارث ٹھراتاہے تا انبیاء کا وجود ظلی طور پر ہمیشہ باقی رہے اور دنیا اُن کے وجود سے کبھی خالی نہ ہو۔ ‘‘ (شہادت القرآن، خزائن ج۶ ص۳۵۲)

اس آیت سے مراد مرزا قادیانی وہ ظلی نبی لیتاہے جو ہمیشہ ہمیشہ دنیا میں چلے آتے ہیں ۔جن سے دنیا کبھی خالی نہیں رہی ۔ مگر مرزا کی امت ، حضورپاک ﷺکے بعد اور مرزا سے پہلے کسی کو بھی نبی تسلیم نہیں کرتی ۔ معلوم ہوا کہ مرزا کچھ کہتا ہے اور اس کی امت کچھ کہتی ہے ۔اب مرزا ئی فیصلہ کریں کہ وہ درست کہتے ہیں یا انکا متنبی مرزا؟

جواب۱۱:

نعمت سے مراد نبوت کا ملنا نہیں۔ کیونکہ یہ نعمت حضرت مریم علیہا السلام پر بھی نازل ہوئی: ’’اُذْکُرْ نِعْمَتِیْ عَلَیْکَ وَعَلٰی وَالِدَتِکَ (المائدہ:۱۱۰)‘‘ اے عیسی میری نعمت کو یاد کرو جو میں نے تجھ پر اور تیری ماں پر کی ۔ایسا ہی زید ابن حارثہ ؓپر انعام ہوا: ’’اِذْ تَقُوْلُ لِلَّذِیٓ اَنْعَمَ اللَّہُ عَلَیْہِ (الاحزاب:۳۷)‘‘ اسی طرح سب مسلمانوں پر انعام الٰہی ہوا کہ بھائی بھائی بن گئے ’’وَاذْکُرُوْ ا نِعْمَتَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ اِذْ کُنْتُمْ اَعْدَٓائً فَالَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِکُمْ فَاَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِہٖ اِخْوَاناً (آل عمران:۱۰۳)‘‘ ان سب مقامات پر نعمت ملنے کا ذکر ہے۔ لیکن اس سے نبوت لازم نہیں آتی اسی طرح زیر بحث آیت میں بھی نعمت سے مراد نبوت ملنا لازم نہیں۔

جواب۱۲:

اس دعا میں منعم علیہم گروہ کی طرح استقامت کی راہ پر گامزن رہنے کی تمنا ہے ۔ کیونکہ جو ممکن انعامات ہیں اسی راہ پر ملیںگے مثلاً ہر قسم کے انوار وبرکات اور محبت ویقین کامل اور تائیدات سماویہ اور قبولیت اور معرفت تامہ، عزیمت واستقامت کے انعام ، جو امت محمدیہ کے لئے مقررہیں ۔

جواب۱۳:

اگر نبوت طلب کرنے کی دعا ہے توغلام احمد قادیانی نبی بن جانے کے بعد یہ دعا کیوں مانگتا تھا۔کیا اسے اپنی نبوت پر یقین نہ تھا؟

جواب۱۴:

مرزا قادیانی نے لکھا: ’’اِہْدِناَ الصِّرَاطَ المُسْتَقِیْمَ صِرَاطَ الَذِینَ اَنْعَمْتَ عَلَیْہِمْ‘‘ تو دل میںیہی ملحوظ رکھو کہ میں صحابہ اور مسیح موعودکی جماعت کی راہ طلب کرتا ہوں۔ (تحفہ گولڑویہ، خزائن ج۱۷ ص۲۱۸)

94

مسیح موعودکی پچر تو خر دجال(مرزا قادیانی )نے خود لگائی ہے لیکن ’’اِہْدِناَ الصِرَاطَ المُسْتَقِیْمَ ‘‘ کامعنیٰ مرزا کی راہ طلب کرنا نہ کہ مرزا(مسیح موعود)بننا۔ پس مرزاکے اس اقرارسے مرزائیوںکی دلیل کا مرزائیوںکے دلوںکی طرح خانہ خراب ہوگیا۔اس آیت میںمنعم علیہم کی نعمت طلب کر نے کی تعلیم نہیں دی گئی ۔بلکہ ان کے راستے پرچلنے کی دعاء سکھلائی گئی ہے۔ انبیاء کاراستہ شریعت ومذہب ہے کہ وہ اس کی پابندی اوراتباع کی طرف لوگوں کودعوت دیتے ہیں۔اگرنبوت طلب کرنے کی تعلیم دینی مقصود ہوتی تو: ’’صِرَاطَ الَّذِ یْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْہِمْ‘‘ کی بجائے : ’’اَعْطنا ماانعمت علیہم‘‘ ہوتا ۔

جواب۱۵:

’’اِہْدِناَ الصِّرَاطَ المُسْتَقِیْمَ‘‘ یہ دعاء نبی کریم ﷺنے بھی مانگی بلکہ یہ دعاء مانگنا آپ ﷺ نے امت کو سکھلایا۔ لیکن یہ دعاآپ ﷺ نے اس وقت مانگی جب آپ ﷺنبی منتخب ہوچکے تھے۔ قرآن مجید آپ ﷺ پر اترنا شروع ہو چکا تھا۔ ظاہر ہے کہ نبی کریم ﷺاس دعا سے نبی نہیں بنے تو پھر اس دعا کا فائدہ کیا ہوا ؟ مزید یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ چودہ سو سال میں کسی ایک کی یہ دعا قبول ہوئی یا نہ ہوئی ۔ اگر ہوئی تو وہ کون ہے جو اس دعا سے نبی بنا ؟اور اگر قبول نہ ہوئی تو پھر یہ امت خیر امت کہاں ہوئی ؟اور اگر مرزا ئی کہیں کہ صرف مرزا کی دعا قبول ہوئی۔تو پھر یہ سوال ہوتا ہے کہ اگر مرزا کے حق میں قبول ہوئی تو مکمل کیوں نہ قبول ہوئی تیسرا حصہ کیوں قبول ہوئی ؟ کیونکہ بادشاہت اور نبوت مستقلہ بھی نعمت ہیں یہ دونوں نعمتیں مرزا کو کیوں نہ ملیں؟ مرزا میں وہ کون سی خامیاں تھیں جن کی وجہ سے مرزاکو ان نعمتوں سے محروم رکھا گیا؟

قابل غور ٹھوکر اور گرُو ،چیلا’’مرزا ئیوں کے لاہوری گروپ کے گرو مسٹر محمد علی لاہوری نے اپنی نام نہاد تفسیر ’’بیان القرآن ‘‘(ص۵ ج۱) میں لکھاہے ۔

یہاں (منعم علیہم میں)نبی کا لفظ آجانے سے بعض لوگوں کو یہ ٹھوکر لگی ہے کہ خود مقام نبوت بھی اس دعا کے ذریعہ سے مل سکتا ہے اور گویا ہر مسلمان ہر روز بار بار مقام نبوت کو ہی اس دعا کے ذریعہ سے طلب کرتا ہے ۔ یہ ایک اصولی غلطی ہے اس لئے کہ نبوت محض محبت ہے اور نبوت میں انسان کی جد وجہد اور اس کی سعی کو کوئی دخل نہیں ۔ایک وہ چیزیں ہیں جو موہبت سے ملتی ہیں اور ایک وہ جو انسان کی جدو جہد سے ملتی ہیں ۔ نبوت اوّل میں سے ہے ۔‘‘

محمد علی لا ہوری کا کہنا کہ: ’’بعض لوگوں کو ٹھوکر لگی ،یہ اصولی غلطی ہے ،یہ ٹھوکر کسی اور کو آج تک کبھی نہیں لگی یہ تو صرف اور صرف محمد علی کے چیف گرو مرزا قادیانی کو لگی ہے ۔اس اصولی غلطی اور ٹھوکر کا مرتکب صرف اور صرف مرزا ہے۔‘‘ چنانچہ اس سلسلہ میں مرزا کی تحریر ملاحظہ ہو ۔

’’افسوس کہ حال کے نادان مسلمانوں نے اپنے اس نبی مکرم کا کچھ قدر نہیں کیا اور ہر ایک بات میں ٹھوکر کھائی ۔ وہ ختم نبوت کے ایسے معنی کرتے ہیں جس سے آنحضرت ﷺ کی ہجو نکلتی ہے نہ تعریف ۔ گویاآنحضرت ﷺ کے نفس پاک میں افاضہ اور تکمیل نفوس کے لئے کوئی قوت نہ تھی اور وہ صرف خشک شریعت کو سکھلانے آئے تھے۔ حالانکہ اللہ تعالی اِس اُمت کو یہ دُعا سکھلاتا ہے : ’’اِہْدِناَ الصِّرَاطَ المُسْتَقِیْمَ صِرَاطَ الَّذِ یْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْہِم‘‘ پس اگر یہ اُمت پہلے نبیوں کی وارث نہیں اور اس انعام میں سے اِن کو کچھ حصہ نہیں تو یہ دعا کیوں سکھلائی گئی۔ ‘‘ (حقیقت الوحی، خزائن ج۲۲ ص۱۰۴)

95

دعا سکھا نے کا فلسفہ تو محمد علی اپنے گرو جی سے سیکھیں ۔ہاں ہمیں یہ ضرو ربتانا ہے کہ متضاد باتوں کو گرو اور چیلہ دونوں ،ٹھوکر قرار دے رہے ہیں ۔اب کون سچا ہے ؟ یہ فیصلہ قارئین خود کرلیں !

آیت: ’’اَللّٰہُ یَصْطَفِیْ مِنَ الْمَلٰٓئِکَۃِ ‘‘

قادیانی:

’’ اَللّٰہُ یَصْطَفِیْ مِنَ الْمَلٰٓئِکَۃِ رُسُلاً وَّمِنَ النَّاسِ (حج:۷۵)‘‘ ’’یصطفی‘‘ مضارع ہے جو حال اور استقبال اور استمرار کے لئے ہے ۔ مراد یہ ہے کہ اللہ تعالی فرشتوں اور انسانوں سے رسول چنتا ہے اور چنتا رہے گا۔ یہ آیت حضور ﷺ پر نازل ہوئی ثابت ہوا کہ حضور ﷺ کے بعد بھی نبی آئیںگے ۔ حضور ﷺ واحد ہیں اور رسل جمع ہے۔ واحد پر جمع کا اطلاق نہیں ہوسکتا۔

جواب۱:

اس آیت میں کوئی ایسا لفظ نہیں جس سے ثابت ہو کہ حضور ﷺ کے بعد نبی مبعوث ہو سکتے ہیں بلکہ اللہ تعالی نے اپنا قانون بیان فر ما یا ہے کہ وہ فرشتوں میں سے رسول چنتا ہے ۔ جو اللہ تعالی کا حکم انبیاء علیہم السلام پر لا تے ہیں اور انسانوں میں سے رسول چنتا ہے جو انسانوں میں کلام الٰہی کی تبلیغ کرتے تھے ۔ اس سنت قدیم کی رو سے اب بھی یہ رسول بھیجا ہے اس آیت سے معبودان باطلہ کی تردید ہے کہ اگر وہ معبود حقیقی ہوتے تو وہ بھی اپنے رسول مخلوق کی طرف بھیجتے ۔

جواب۲:

یہ کسی جاہل کاہی عقیدہ ہے کہ ہر مضارع استمرار کے لئے ہوتا ہے ۔ اس آیت میں صیغہ مضارع فعل کے اثبات کے لئے ہے نہ کہ استمرار اور تجدد کے لئے جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا ’’ھُوَ الَّذِیْ یُنَزِّلُ عَلٰی عَبْدِہٖ اٰیٰتٍ بَیِّنٰتٍ (الحدید:۹)‘‘ یہاں بھی مضارع ہے۔ کیا اس سے بھی لازم آتا ہے کہ اس میں استمرار ہو اور ہمیشہ قیامت تک کے لئے قرآن نازل ہوتا رہے ؟

مرزا جی کا الہام

’’ یریدون ان یروا طمثک‘‘ یعنی بابو الٰہی بخش چاہتا ہے کہ تیرا حیض دیکھے یا کسی پلیدی اور ناپاکی پر اطلاع پائے مگر خداتعالیٰ تجھے اپنے انعامات دکھلائے گا جو متواتر ہوںگے اور تجھ میں حیض نہیںبلکہ وُہ بچہ ہوگیاہے ایسا بچہ جو بمنزلہ اطفال اللہ ہے۔ ‘‘ (تتمہ حقیقت الوحی، خزائن ج۲۲ص۵۸۱)یہاں بھی ’’یریدون‘‘ اور ’’یروا‘‘ مضارع ہے کیا مرزاکا حیض قیامت تک چلتا رہے گا ؟اور بابو الٰہی بخش اسے ہمیشہ قیامت تک دیکھتے رہیںگے؟

در حقیقت اس آیت میں ’’یصطفی‘‘ زما نہ استقبال کے لئے نہیں بلکہ حکایت ہے حال ماضیہ کی ۔ جیسے باری تعالی کا ارشاد ہے: ’’فَفَرَیْقًا کَذَّبْتُمْ وَفَرِیَقاً تَقْتُلُوْنَ (بقرۃ:۸۷)‘‘ اس کے یہ معنی نہیں کہ اے یہودیو !حضرت محمد a کے بعد جو نبی آئیں گے تم ان کو قتل کروگے بلکہ حکایت ہے حال ماضیہ کی یا جیسے ’’اِذْیَرْفَعُ اِبْرَاھِیْمُ الْقَوَاعِدَ (البقرۃ:۱۲۷)‘‘ میں بھی حکایت ہے حال ماضیہ کی۔ (دیکھو تفسیر بیضاوی )

جواب۳:

فرمایا: ’’اَللّٰہُ یَصْطَفِیْ مِنَ الْمَلٰٓئِکَۃِ رُسُلاً وَّمِنَ النَّاسِ (حج:۷۵)‘‘ فرشتوں میںسے یا انسانوںمیں سے رسول ہوں گے۔ مرزا قادیانی نہ تو فرشتے ہیں نہ انسان ہیں۔ کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ ’’کرم خاکی ہوں میرے پیارے نہ آدم زاد ہوں ‘‘ مرزا جی تو کسی حالت میں نبی نہیں بنتے۔ خود مرزاصاحب ہماری تائید کرتے

96

ہوئے لکھتے ہیں: ’’ایک عام لفظ کو کسی خاص معنی میں محدود کرنا صریح شرارت ہے۔ ‘‘

(نورالقرآن ۲، خزائن ج۹ ص۴۴۴)

جواب۴:

آیت بالا کا قادیانی ترجمہ ملاحظہ ہو لکھتے ہیں: ’’اَللّٰہُ یَصْطَفِیْ‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ عند الضرورت خدا تعالی رسول بھیجتا رہے گا۔ (مرزا ئی تبلیغی پاکٹ بک ص۴۵۰)

پہلی بات تو یہ ہے کہ: ’’عند الضرورت‘‘ آیت کے کس لفظ کا ترجمہ ہے؟ حالانکہ مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ: ’’اب رسولوں کی ضرورت نہیں وحی رسالت بوجہ عدم ضرورت منقطع ہے۔ ‘‘ (براہین احمدیہ، خزائن ج۱ ص ۲۳۸)

اور اسی طرح (ازالہ اوہام، خزائن خزائن ج۳ ص۴۳۲) میں بھی لکھا ہے کہ ’’وحی رسالت تا بقیامت منقطع ہے۔‘‘

جواب۵:

بایں وجہ استدلال مرزائیہ باطل ہے کہ لفظ’’رسلا‘‘کے اندر عموم ہے جس میں نبی اور رسول ومجدد ومحدث سب شامل ہیں۔جیسا کہ مرزانے (آئینہ کمالات ص۳۲۲، خزائن ج۵ ص۳۲۲)پر لکھا ہے :’’رسول کا لفظ عام ہے جس میں رسول اور نبی اور محدث داخل ہیں۔‘‘

ایسے ہی (ایام الصلح ص۱۹۵، خزائن ج۱۴ ص۴۱۹حاشیہ) پر لکھا ہے کہ :’’رسولو ں سے مراد وہ لوگ ہیںجو خدا تعالیٰ کی طرف سے بھیجے جاتے ہیں۔خواہ وہ نبی ہوں یا رسول یامحدث اور مجدد ہوں۔‘‘اسی طرح (شہادت القرآن ص۲۸، خزائن ج۶ ص ۳۲۳) پر ہے :’’رسل سے مراد مرسل ہیں خواہ وہ رسول ہوں یا نبی ہوں یا محدث ہوں ۔‘‘

سو ظاہر ہے کہ مرزائیوں کادعویٰ فردخاص کا ہے ۔دلیل میں عموم ہے لہٰذاتقریب تام نہ ہونے کی وجہ سے استدلال باطل ہے تو دلیل‘دلیل نہ ٹھہری۔

جواب۶:

نیزچننے والے نبیوں کے ﷲتعالیٰ ہی ہیں۔ ’’اصطفٰی‘‘ فعل خدا وندی ہے اور ﷲتعالیٰ کا چنا ہوا مستقل نبی ہوتا ہے جیسا کہ آل عمران آیت نمبر ۳۳میں الفاظ قرآن ہیں: ’’اِنَّ اللّٰہَ اصْطَفٰیٓ اٰدَمَ وَنُوْحاً وَّاٰلَ اِبْرَاہِیْمَ وَاٰلَ عِمْرٰنَ عَلیَ الْعٰلَمِیْنَ‘‘ اس آیت میں مستقل نبیوں کا ہونا مسلم ہے تو اس طرح کا چننا اور ﷲتعالیٰ کا چننا تو مرزائیوں کے عقیدے کے خلاف ہے ۔ (مباحثہ راولپنڈی ص۱۷۵)

جواب۷:

نبیوں کا انتخاب خداتعالیٰ کی مشیت پر ہے ۔جس طرح اس نے ایک وقت تک کتابیںبھجیںاسی طرح رسول بھیجے۔اب اگر وہ کتابیں نہ بھیجے یا رسول نہ بھیجے اور نبوت ختم کردے تو اس پر کوئی الزام نہیںآتا۔سیاق کلام بتاتا ہے کہ آیت میں ان لوگوں کے خیال کی تردیدہے جو انسانوں کو الوہیت کا مقام دیتے ہیں ۔فرمایا معززترین گروہ تو انبیاء ورسل کا ہے ۔مگر وہ بھی الوہیت کے اہل نہیںیا بطور اصول فرمایا گیا کہ ﷲتعالیٰ انسانوں اور ملائکہ کو رسالت کا منصب تو دیتا ہے مگر خدائی نہیں دیتا ۔تم کیوں ان کی طرف خدائی منسوب کرتے ہو؟سیاق کلام کے ساتھ مذکورہ ترجمہ پر غور کر لیا جائے تو قادیا نی استدلال باطل ہو جائے گا۔: ’’یَااَیُّھَاالنَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ…تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ (الحج:۷۳،۷۶)‘‘ اے لوگو ایک مثال بیان کی جاتی ہے اسے غور سے سنو ۔وہ جنہیں تم ﷲکے سوا پکارتے ہو ایک مکھی بھی پیدا نہیں کر سکتے ۔گو وہ سب اس کے لئے اکٹھے ہوجائیں ۔اور اگر مکھی ان سے کوئی چیز چھین کر لے جائے تو اسے اس سے چھڑا نہیں سکتے ۔طالب اور مطلوب دونوں کمزور ہیں۔ انہوں نے ﷲتعالیٰ کو نہیں پہچانا جیسا کہ پہچاننے کا حق ہے ۔یقینا ﷲتعا لیٰ طاقتور اور غالب ہے ۔ ﷲ

97

فرشتوں اور انسانوں میںسے رسولوں کا اصطفاء کرتا ہے۔ ﷲ تعالیٰ سمیع وبصیر ہے۔وہ جانتا ہے کہ جو ان کے آگے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے اور ﷲ ہی کی طرف سب کام لوٹائے جائیں گے ۔

جواب۸:

اگر اس طرح استمرار تجددی مراد لینا جائز ہے تو ذیل کی آیات میں کیسے استمرار لیا جائے گا:

۱… ’’کَذٰلِکَ یُوْحِیٓ اِلَیْکَ وَاِلیَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکَ اللّٰہُ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ (شوریٰ:۳)‘‘ { ﷲجو عزیز وحکیم ہے اسی طرح تیری طرف اور ان کی طرف جوتجھ سے پہلے ہوئے وحی کرتا ہے۔}

۲… ’’اِنَّ اللّٰہَ یَاْمُرُکُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْامٰنٰتِ اِلیٓ اَھْلِہَا (نساء:۵۸)‘‘ ﷲتعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے کہ اپنی امانتیں ان کے سپرد کرو جو ان کے اہل ہیں ۔

۳… ’’یَحْکُمُ بِھَاالنَّبِیُّوْنَ الَّذِیْنَ اَسْلَمُوْا (المائدہ:۴۴)‘‘ ا سی کے مطابق نبی جو فرمانبردار تھے فیصلہ کرتے تھے۔

اب کیا آنحضرت ﷺ کی طرف وحی آئندہ بھی نازل ہوگی؟کیا امانات کے متعلق آئندہ بھی احکا م نازل ہوںگے؟ کیا تورات کے مطابق آئندہ بھی فیصلہ کیا کریں گے ؟

جواب۹:

استمرار تجددی کے لئے اصول حسب ذیل ہے: ’’وقدتفیدالاستمرار التجددی بالقرائن اذا کان الفعل مضارعا (قواعداللغۃالعربیہ)‘‘ یعنی استمرار تجددی کا اندازہ قرائن سے لگایا جاتا ہے اور بعد خاتم النّبیین ‘ارسال رسل کے لئے تو کوئی قرینہ نہیں ۔البتہ اس کے خلاف تمام قرآن مجید قرینہ ہے۔

جواب۱۰:

ضرورت نبوت کے مقتضی کون کون سے اسباب ہیں؟

۱… جبکہ کتاب ﷲاصلاًمفقود ہوجائے ۔

۲… جبکہ کتاب ﷲ محرف ومبدل ہوجائے ۔

۳… جبکہ احکام الٰہی میں سے کوئی حکم بوجہ مختص بالقوم ہونے یا مختص بالزمان ہونے سے قابل تنسیخ ہو یاکوئی نیا حکم آنا ہو۔

۴… جبکہ شریعت میں ابھی تکمیل کی ضرورت ہو۔

۵… جبکہ الگ الگ امتوں اور الگ الگ ملکوں کے لئے الگ الگ نبی ہوں اور ساری دنیا کے لئے ابھی ایک نبی نہ آیا ہو۔

۶… جبکہ اس کتاب کے ہمیشہ تک محفوظ رہنے کا وعدہ الٰہی نہ ہو ۔

۷… جبکہ اس نبی کا فیض روحانی بند ہوجائے اور اس دین میں کامل انسان بنانے کی طاقت نہ رہے۔

قارئین پر واضح ہو چکا ہوگا کہ اجرائے نبوت کے مذکورہ تقاضوں میں سے کوئی بھی ایسا تقاضہ باقی نہیں رہ گیا ہے جس کی تکمیل کے لئے کسی اور نبی کی بعثت کی ضرورت ہو ۔لہٰذا ختم نبوت میں کوئی شبہ باقی نہیں رہ جاتا۔

جواب۱۱:

اگر رسل جمع ہے تو ملائکہ بھی جمع ہے ۔کیا بہت سے فرشتے وحی لایا کرتے ہیں؟نہیں ہر گز نہیں ۔بلکہ صرف حضرت جبرئیل علیہ السلام۔مرزاقادیانی نے لکھا ہے ۔

الف… ’’رسولوں کی تعلیم اور اعلام کے لئے یہی سنۃ ﷲقدیم سے جاری ہے۔ جووہ بواسطہ جبرائیل علیہ السلام کے اور بذریعہ نزول آیات ربانی کلام رحمانی کے سکھلائے جاتے ہیں۔‘‘

(ازالہ، خزائن ج۳ ص ۴۱۵)

98

ب… ’’کیونکہ حسب تصریح قرآن کریم رسول اسی کو کہتے ہیں جس نے احکام وعقائددین جبرئیل کے ذریعہ حاصل کئے ہوں ۔‘‘ (ازالہ، خزائن ج۳ ص۳۸۷)

پس جب پیغام رساں فرشتہ کو باوجودواحد ہونے کے جمع کے صیغہ سے ذکر کیا گیاہے تو پھرحضرت نبی کریم ﷺ (واحد) پر اس کا اطلاق کیوں ناجائز ہے؟

آیت: ’’فَلَایُظْھِرُ عَلیٰ غَیْبِہٖٓ اَحَدًا ‘‘

قادیانی:

اس آیت: ’’ فَلَایُظْھِرُ عَلیٰ غَیْبِہٖٓ اَحَدًا (جن:۲۶)‘‘ کو پیش کر کے کہتے ہیں کہ چونکہ مرزا صاحب پر اظہار غیب ہو ا یعنی آپ کو پیش گوئیاں دی گئیں۔لہٰذا وہ نبی ہیںاور نبوت جاری ہے۔

جواب۱:

خود مرزا صاحب نے اس آیت کا جو معنی ومفہوم بیان کیا ہے ملاحظہ ہو: ’’ فَلَایُظْھِرُ عَلیٰ غَیْبِہٖٓ اَحَدًا اِلّاَمَنِ ارْتَضیٰ مِنْ رَّسُوْلٍ (جن:۲۶)‘‘ یعنی کامل طور پر غیب کا بیان کرنا صرف رسولو ں کا کا م ہے۔ دوسرے کو یہ مرتبہ عطانہیں ہوتا۔ رسولوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو خدا تعالیٰ کی طرف سے بھیجے جاتے ہیں ۔خواہ وہ نبی ہوں یارسول یا محدث اور مجددہوں۔ (ایام الصلح، خزائن ج۱۴ ص۴۱۹)

اسی طرح ایک اور جگہ لکھتے ہیں : ’’فَلَایُظْھِرُ عَلیٰ غَیْبِہٖٓ اَحَدًا اِلّاَمَنِ ارْتَضیٰ مِنْ رَّسُوْلٍ‘‘ رسول کا لفظ عام ہے ۔جس میں رسول اور نبی اور محدث داخل ہیں۔ (آئینہ کمالات اسلام، خزائن ج۵ ص۳۲۲)

پھر ایک اور جگہ مرزا صاحب لکھتے ہیں کہ: ’’اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ ‘‘ اور آیت: ’’وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ‘‘ میں صریح نبوت کو آنحضرت ﷺپر ختم کر چکا ہے۔

(تحفہ گو لڑویہ، خزائن ج۱۷ ص۱۷۴)

معلوم ہوا کہ مرزائی تحریروں کی روشنی میں بھی اور ’’لم یبق من النبوۃ الاالمبشرات‘‘ جیسی احادیث کی روشنی میں زیر بحث آیت کا صرف یہی مفہوم ہے کہ ’’علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل‘‘ کے مطابق امت محمدیہ ﷺ میں بڑے بڑے بزرگ اولیاء اللہ ،مجددومحدث،غوث وقطب وابدال پیدا ہوتے رہیںگے ۔جو اللہ تعالی سے ہم کلامی کا شرف پائیںگے ۔ یہ لوگ اگر چہ نبی اور رسو ل نہ ہونگے اللہ تعالی ان سے وہی کام لے گا جو انبیاء سے لیا کرتا تھا ۔ جن میں سے ایک اظہار واطلاع غیب بھی ہے ۔

جواب۲:

مرزاقادیانی نے یوں تو بہت سی پیشگوئیوں کو خدا کی طرف منسوب کیا ہے ۔ مگر خود ان پیشگوئیوں کا نہ مطلب سمجھ سکے نہ مصداق ۔کاش!قادیانی حضرات مرزا جی کی ان پیشگوئیوں پر ہی سرسری نظر ڈال لیں جن کو انھوں نے اپنے صدق و کذب کا معیار قرار دیا ہے تو ان کے دعوے کی حقیقت بآسانی سمجھ میں آسکتی ہے ۔ مرزا کی پیشگوئیوں کا حال تو نجومیوں سے بھی برا ہے ۔ ان میں دس جھوٹ تو ایک سچ ہوتا ہے ۔ مگر مرزا میں تو جھوٹ ہی جھوٹ تھا ۔

جواب۳:

غیب سے مراد صرف پیش گوئیاں ہی نہیں ماضی حال اور مستقبل کی ہر چیز جو محسوسات سے غائب ہو ’’غیب‘‘ ہے۔ ذرا ’’یُؤمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ ‘‘ پر غور کیا جائے۔ حضرت نوح علیہ السلام کے واقعات کا ذکر کرکے فرمایا ’’تِلْکَ مِنْ اَنْبَآ ء الْغَیْبِ نُوْحِیْہَآ اِلَیْکَ مَا کُنْتَ تَعْلَمُہَا اَنْتَ وَلاَ قَوْمُکَ مِنْ قَبْلِ ھٰذا

99

(ھود:۴۹)‘‘ کہ یہ غیب کی خبریں ہیں جن سے تو او رتیری قوم دونوں بے خبر تھے ۔لہٰذا غیب کو پیش گوئیوں میں مخصوص کرنا غلط ہے ۔

کائنات کے متعلق علم کس قدر ہی کیوں نہ بڑھ جائے ایک حصہ غیب کا ضرور رہتاہے۔ اسی لیئے فرمایا ’’عَالِمُ الْغَیْبِ وِالشَّہَادَۃِ (حشر:۲۲)‘‘ خدا غیب کو بھی جانتاہے اور موجود کو بھی ۔اللہ تعالی کے لئے کوئی چیز بھی غائب نہیں البتہ تمہارے لئے ایک حصہ غیب کا ہے اور دوسرا موجود کا ہم غیب کے ایک حصہ کا علم حاصل کرتے چلے جاتے ہیں اور وہ ہمارے لئے موجود بنتا چلا جاتاہے ۔ مگر غیب کی بعض قسمیں ایسی ہیں جن پر ہم اپنی کوشش سے غالب نہیں آسکتے۔مثلاً خدا کی ذات وصفات ،احکام وشرائع اور مابعد الموت ۔ یہ صرف نبی کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بتایاجاتاہے اوراسی کے توسط سے انسان کو ملتا ہے۔ پیش گوئیوں والا غیب تو اولیاء اور محدثین کو بھی حاصل ہوتا ہے مگر حقیقی غیب صرف انبیاء سے مخصوص ہے۔ اس قسم کا ہر غیب رسول ﷲ ﷺکے ذریعہ امت کو دیاجاچکاہے ۔اس لئے مزید کسی نبوت کی گنجائش نہیں ۔

جواب۴:

اے کاش! اس اعتراض سے قبل قادیانی کچھ خوف خدا کرتے۔ کیا ان کو نہیں معلوم کہ اس آیت کا یہ مطلب نہیں کہ جس کو رسول بنانا چاہتاہے اس کو غیب کی خبریں دے کر رسالت عطا کردیتاہے ۔ مغیبات کی خبریں دے کر رسول بنانا آیت کا مفہوم نہیں بلکہ رسول بناکر مغیبات پر مطلع کرنا آیت کا مفاد ومقصد ہے ۔چنانچہ قاضی بیضاوی ؒاس آیت کے معنی بیان کرتے ہیں ’’ولکن اللّٰہ یجتبی الرسالتہ من یشاء فیوحی الیہ ویخبرہ ببعض المغیبات‘‘ یعنی اللہ تعالی جس کو چاہتاہے اپنا رسول بنا لیتاہے اور پھر اس کے ذریعہ سے مغیبات کی خبریں دیتاہے ۔

غرض رسو ل کو غیب کی خبریں دیجاتی ہیں لیکن یہ ضروری نہیں کہ جو غیب کی خبر دے وہ رسول ہوجائے ۔ورنہ تو خود مرزاکو بھی تسلیم ہے کہ فاسق فاجر ،فاحشہ عورتیں بھی سچے خواب کے ذریعہ، نجومی کاہن اپنے اٹکل پچو سے غیب کی خبریں دیتے ہیں ۔ کیا وہ رسول ہیں ؟ہرگز نہیں ۔ غرض آیت سے اتنا ثابت ہے کہ رسول کو غیب کی خبر دیجاتی ہے۔یہ نہیں جو غیب کی خبر دیدے وہ رسول ثابت ہوجائے ۔

جواب۵:

’’وَمَاکاَنَ اللّٰہُ لِیُطْلِعَکُمْ عَلیَ الْغَیْبِ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ یَجْتَبِیٓ مِنْ رُّسُلِہٖ مَنْ یَّشَآ ء (اٰل عمران:۱۷۹)‘‘ دوسری آیت شریفہ میں ہے ’’فلایُظْہِرُ عَلیَ غَیْبِہٖٓ اَحَداً اِلاَّمَنْ ارْتضیٰ مِنْ رَّسُوْلٍ‘‘ دونوں آیتوں کی مراد یہ ہے کہ اللہ تعالی غیب کی خبریں رسولوں میں سے کسی ایک رسول کے ذریعہ سے دیتاہے۔ اس صورت میں ’’من رسلہ‘‘ میں لفظ من تبعیضیہ ہوگا اور اگر من بیانیہ لیں تو غیب سے مراد وحی (وحی رسالت)لینی پڑے گی۔ پھر آیت کے یہ معنی ہوں گے کہ اللہ تعالی وحی پر سوائے رسولوں کے کسی کو مطلع نہیں کرتا۔ غرض کہ اللہ جسے رسول بناتاہے تو ان کو وحی رسالت، غیب کی خبریں عنایت کرتا ہے۔ اس آیت سے قادیانی استدلال قادیانی دعوی کے بھی خلاف ہے۔ اس لئے کہ ان کے دعوی کے مطابق اب خدا کی عنایت سے کوئی نبی نہیں ہوسکتا۔ بلکہ اطاعت سے بنتاہے۔ خلاصہ یہ کہ اگر اس آیت میں قادیانیوں کا تحریف شدہ مفہوم (معاذ اللہ ) مان بھی لیں تب بھی یہ دلیل قادیانی دعوی کے مطابق نہیں۔

100

آیت: ’’یُلْقِیْ الرُّوْحَ مِنْ اَمْرِہٖ‘‘

قادیانی:

’’ یُلْقِیْ الرُّوْحَ مِنْ اَمْرِہٖ عَلٰی مَنْ یَّشَآ ء (مومن:۱۵)‘‘ اللہ تعالی اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتاہے اپنی روح ڈالتاہے ۔یعنی منصب نبوت اس کو بخشتا ہے۔ لہٰذاثابت ہوا کہ نبی آتے رہیںگے ۔

جواب۱:

آیت مذکورہ میں روح کے معنی نبوت کے نہیں ہیں ۔بلکہ اس کے یہی معنی ہیںآیا ہے کہ ’’لَہُمُ الْبُشْریٰ فِیْ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا‘‘ یعنی مومنوں کے لئے مبشرات باقی رہ گئے ہیں ۔ یا فرمایا: ’’لم یبق من النبوت الا المبشرات ‘‘ کہ خداکا کلام مبشرات کے رنگ میں امت محمدیہ ﷺکے لئے باقی رکھا گیاہے ۔چنانچہ اسی کے تحت گزشتہ چودہ سو سال میں ہزارہا اولیاء امت اور علماء حق کو انوار نبوت ملے اور آثار نبوت بھی انکے اندر موجزن تھے مگر وہ نبی نہ تھے۔

جواب۲:

روح کا لفظ محض کلام کے معنی میں آتاہے اور اللہ تعالی کا کلام غیرنبی سے بھی ہوتا ہے۔ جیسا کہ حدیث صحیح ’’رجال یکلمون من غیر ان یکونوا انبیاء‘‘ سے ظاہر ہے ۔ پس اللہ تعالی کا اپنے بندوں سے کلام کرنا اجرائے نبوت کی دلیل نہیںبن سکتی۔

آیت: ’’وَلاَ ٓاَنْ تَنْکِحُوْٓا اَزْوَاجَہ‘‘

قادیانی:

’’وَلاَ ٓاَنْ تَنْکِحُوْٓا اَزْوَاجَہ‘ مِنْ بَعْدِہٖ اَبَداً (احزاب:۵۳)‘‘ اور نہ نکاح کرو اس نبی ﷺکی بیویوں سے اس کی وفات کے بعد کبھی بھی۔ قادیانیوں کی طرف سے سب سے زیادہ مضحکہ خیز استدلال اس آیت کی بنا پر کیا گیاہے ۔ کہ اب آنحضرت ﷺکے بعد سلسلۂ نبوت ختم ہو گیا ہے تو کوئی نبی نہ آئے گا۔ نہ اس کی وفات کے بعد اس کی بیویاں زندہ رہیںگی ۔اور نہ ان کے نکاح کا سوال ہی زیر بحث آئے گا۔ اب اگر اس آیت کو قرآن مجید سے نکال دیا جائے تو کونسا نقص لا زم آتا ہے ورنہ ماننا پڑتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد سلسلۂ نبوت جاری ہے اور قیامت تک انبیاء کی ازواج مطہرات ان کی وفات کے بعد بیوی ہی کی حالت میں رہیںگی۔ کیونکہ رسول اللہ کالفظ نکرہ ہے جس میں ہر رسول داخل ہے ۔

جواب۱:

رسول اللہ کا لفظ معرفہ ہے اور یہاں بھی وہی رسول اللہ مراد ہے جس کا اس سورۃ میں کئی بار ذکر آچکا ہے۔ جیسے ’’لَقَدْکاَنَ لَکُمْ فِیْ رَسُُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃُ (احزاب:۲۱)‘‘ تمہارے لئے رسول اللہ ﷺ میں اسوۂ حسنہ ہے۔ ’’قَالُوْا ھٰذَا مَا وَعَدَنَا اللّٰہُ وَرَسُوْلُہ (احزاب:۲۲)‘‘ مومنوں نے کہا یہی ہے جس کا اللہ نے اور اس کے رسول ﷺ نے وعدہ دیا تھا: ’’وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَخاَتَمَ النَّبِیِّیَْنَ (احزاب:۴۰)‘‘ مگر اللہ کا رسول اورآخری نبی ہے۔ ’’اِنْ کُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہ (احزاب:۲۹)‘‘ اگر تم اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو چاہتی ہو۔

اور وہی رسول اللہ مراد ہے جس کے متعلق کتب حدیث میں ہزارہامرتبہ یہ الفاظ آتے ہیں ’’قال رسول اللّٰہ ﷺ‘‘ کیا کوئی بندہ جاہل یہ کہہ سکتا ہے کہ قال رسول ﷲ ﷺ نکرہ ہے تو اس سے مراد مرزا قادیانی ہے ۔معاذاللہ!

101

جواب۲:

نحو کا مسلمہ قاعدہ ہے کہ اضافت معنوی نکرہ کو معرفہ بنا دیتی ہے ۔جیسے عندہ زید، لفظ رسول، ﷲکی طرف مضاف ہو کر معرفہ ہوگیا۔فرمایا: ’’مُحَمَّدٌرَّسُوْلُ ﷲوَالَّذِیْنَ مَعَہ (فتح:۲۹) ‘‘

جواب۳:

یہ کہنا کہ اب نبی نہ آئے گا تو اس آیت کی کیا ضرورت ہے ایسا ہی ہے جیسے کوئی یہ کہہ دے کہ آدم علیہ السلام کے بے ماں باپ یا عیسیٰ علیہ السلام کے بے باپ ہونے کا ذکر قرآن سے نکال دئیے جانے کے قابل ہے ۔کیونکہ اب کوئی اس طرح پیدا نہیں ہوتا اور نہ ہوگا۔

یا یہ کہے کہ: : ’’فَلَمَّا قَضیٰ زَیْدٌ مِنْھَا وَطَرًا زَوَّجْنٰکَہا (احزاب:۳۷)‘‘ سے ظاہر ہے کہ آئندہ رسول بھی منہ بولے بیٹے کی مطلقہ سے شادی کیا کریں گے۔ ورنہ اس آیت کو نکال دیا جائے۔

جواب۴:

قرآن مجید میں اس آیت کے باقی رکھنے کی ضرورت یہ تھی کہ عرب معاشرہ میں امراء کی وفات پر ان کی ازواج سے شادی کرنا فضیلت میں شمار ہوتا تھا اور قرآن نے سورۃ نور میںبیواؤں سے نکاح کا حکم دیا ہے۔

قرآن نے صریح حکم دیا ہے کہ حضور ﷺکی ازواج سے نکا ح نہ کیا جائے۔ وہ آخری امہات المؤمنین ہیں اور آپ ﷺ بوجہ خاتم النّبیین ہونے کے آخری ’’باپ‘‘ہیں اگر یہ حکم مذکور نہ ہوتا تو اس فضیلت کے حصول کے لئے کوشش کرتے ۔اس امت میں فتنہ وفساد پیدا ہوتا اور ازواج مطہرات کی پوزیشن بجائے امت کی معلمات دین ہونے کی معمولی حیثیت بھی نہ رہتی۔ اس لئے اس تاریخی حکم کا تا قیامت باقی رکھنا ضروری تھا تاکہ معلوم ہو کہ یہ خواتین مقدسہ آخری مائیں ہیں اور حضور اقدس aآخری باپ ہیں۔

جواب۵:

یہ آیت مبارکہ حضور ﷺ کی شان وفضیلت کا اظہار کرتی ہے جو کہے کہ اسے نکال دو۔ وہ حضور ﷺکی فضیلت کو مٹانے والا ہے ۔اس لئے ملعون کافر جہنمی ہے۔ وہ یہود کا مثیل ہے کل ایسے خبیث کہیں گے کہ قرآن مجید سے گذشتہ انبیاء علیہم السلام کے قصص نکال دینے چاہئیں۔ کیونکہ وہ انبیاء گزرچکے ہیں۔جیسا کہ لعین قادیانی نے کہا:

ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو اس سے بہتر غلام احمد ہے

(در ثمین اردو، خزائن ج۱۸ ص ۲۴۰، دافع البلاء)

جو ایسی بیہودہ تحریف کرے اس کے متعلق لعین قادیانی نے کہا:’’تحریف، تغیر کرنا بندروں اور سؤروں کا کام ہے۔‘‘ (اتمام الحجت، خزائن ج۸ ص۲۹۱)

آیت: ’’اِنَّ رَحْمَتَ ﷲِقَرِیْبٌ‘‘

قادیانی:

’’اِنَّ رَحْمَتَ ﷲِ قَرِیْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ (اعراف:۵۶)‘‘ نبوت بھی ایک رحمت ہے وہ بھی نیکو ں کو ملنی چاہیے۔

جواب۱:

اس آیت میں جملہ رحمتیں مراد نہیں اور نہ ہر رحمت ہر ایک کے لئے ضروری ہے ۔ورنہ دولت،سلطنت،بارش وغیرہ سب رحمت ہیں جبکہ اکثر محسنین خصوصاً انبیاء علیہم السلام دولت اور سلطنت وغیرہ کی رحمتوں سے خالی تھے تو کیا وہ نبی نہ تھے؟ معلوم ہوا کہ بہت ساری رحمتوں کی طرح نبوت بھی ایک رحمت ہے جو باری تعالی کی مرضی پر ہے۔ جب چاہیں اور جس کو چاہیں دیں اور جس پر جس نعمت کی چاہیں بندش فرمادیں۔

102

جواب۲:

’’وَمَا اَرْسَلْنٰکَ اِلاَّ رَحْمَۃَ لِّلْعٰلَمِیْنَ (انبیاء:۱۰۷)‘‘ اس امت کے لئے دنیا میں سب سے بڑی رحمت حضور پاک ﷺکی ذات اقدس ہے۔ جو شخص اب آنحضرت ﷺ کے بعد کسی اور رحمت، نبوت کو تلاش کرتاہے یا جاری کرنے کی کوشش کرتا ہے وہ اللہ کی سب سے بڑی رحمت محمدعربی علیہ السلام سے منہ موڑتا ہے اس سے بڑھ کر بدنصیب اور کون ہو گا ؟

حضور ﷺ نے فرمایاہے ’’اناحضکم من الانبیاء وانتم حضی من الامم‘‘ نبیوں میں سے میں محمد ﷺ، تمہارے حصہ میں آیا ہوں اور امتوں میں سے تم میرے حصہ میں آئے ہو ۔معلوم ہوا کہ جو شخص کسی اور نبی کی تلاش میں ہے وہ حضور ﷺ کی امت میں نہیں رہے گا گویا وہ اللہ کی سب سے بڑی رحمت اور نعمت سے محروم ہو جا ئے گا اور جب کہ مرزا نے خود ہی لکھا ہے: ’’فلا حاجۃ لنا الی نبی بعد محمد‘‘ (حمامۃ البشری، خزائن ج۷ ص۲۴۴) تو مرزا ئیوں کو نیا نبی اور وہ بھی مرزا جیسا کوڑھ مغز نبی ڈھونڈنے کی ضرورت کیا ہے ۔

جواب۳:

حضور ﷺکے بعد جو شخص نبوت کا دعوی کرے گا وہ اپنی وحی کی اتباع کا پابند ہوگا اور حضور ﷺکی اتباع سے محروم ہوکر خدا کی سب سے بڑی رحمت سے محروم ہو جائے گا۔ اس محروم القسمت بدبخت کے لئے جو حضور ﷺ کی اتباع سے منہ موڑتا ہے مرزا ئی لوگ قرآن میں تحریف کرکے اس کی نبوت کے لئے دلا ئل تلا ش کرتے ہیں۔ فیاللعجب!

جواب۴:

پھر جناب اگر نبوت رحمت ہے تو سب سے بڑی رحمت نبوت تشریعیہ ہے تو مرزا ئی اس کو بند کیوں مانتے ہیں؟

جواب۵:

آیت: ’’اِنَّ رَحْمَتَ ﷲِ قَرِیْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ (اعراف:۵۶)‘‘ کے ساتھ ملحقہ اگلی آیت ’’ھُوَ الَّذِیْ یُرْسِلُ الرِّیٰحَ بُشْراً بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِہٖ (اعراف:۵۷)‘‘ میں بارش کو رحمت کہا گیا ہے ۔مگر پوری دنیا کا اتفاق ہے کہ اگر بارش والی رحمت ضرورت سے بڑھ جائے تو رحمت کے بجائے زحمت یعنی عذاب بن جاتی ہے۔ لیجئے جناب ! اس آیت شریفہ سے ہی قادیانی لغویات کا بھر پور ابطال نکل آیا۔ بارش رحمت ہے مگر جو ضرورت سے زیادہ بارش مانگے وہ عذاب خداوندی کو دعوت دیتاہے ۔اسی طرح حضور ﷺکی نبوت رحمت ہے اس رحمت کے ہوتے ہوئے اگر اور نبوت کی رحمت کو کوئی مانگتا ہے تو وہ بھی عذاب خداوندی کو دعوت دیتاہے ۔

آیت: ’’وَلَقَدْ ضَلَّ قَبْلَہُمْ اَکْثَرُ الْاَوَّلِیْنَ‘‘

قادیانی:

’’وَلَقَدْ ضَلَّ قَبْلَہُمْ اَکْثَرُ الْاَوَّلِیْنَ وَلَقَدْ اَرْسَلنَا فِیْہِمْ مُّنْذِرِیْنَ (صٰفٰت:۷۲)‘‘ ان سے پہلے بھی بہت سے لوگوں میں گمراہ ہوئے اور یقیناً ہم نے ان کے اندر ڈرانے والے بھیجے ۔جیسے پہلی گمراہیوں کے وقت نبی آتے رہے ویسے ہی اب بھی گمراہی کے وقت مرزا غلام احمد قادیانی نبی مبعوث ہوا ۔ معاذاللّٰہ!

جواب۱:

پہلے لوگوں میں گمراہی اس لئے پھیلی کہ ان کے انبیاء کی تعلیمات محفوظ نہ رہیں۔ اس میں ترمیم واضافہ کردیا گیا۔ ہمارے نبی ﷺکی تعلیمات الحمد للہ محفوظ ہیں: ’’اِنَّانَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّا لَہ‘ لَحٰفِظُوْنَ (حجر:۹)‘‘ اس لئے حضور ﷺ کی امت، سابقہ امتوں کی طرح من حیث المجموع گمراہ نہیں ہوسکتی ۔حضور

103

پاک ﷺ کا ارشاد ہے: ’’لا تجتمع امتی علی الضلالۃ (مشکوٰۃ)‘‘ اور پھر امت محمدیہ کے علماء وہی کام انجام دیںگے جو انبیاء بنی اسرائیل دیتے تھے ۔چنانچہ اس حدیث پاک کو لعین قادیان مرزا نے بھی اپنی کتاب (شہادت القرآن خ ص۳۲۳ج۶) پر تسلیم کیا ہے کہ اصلاح وتبلیغ کا کام یہ صالحین امت وعلماء دین کریں گے۔ ارشاد باری تعالی ہے: ’’وَلْتَکُنْ مِّنْکُمْ اُمَّۃٌ یَّدْعُوْنَ اِلیَ الْخَیْرِ وَیَاْمُرُوْنَ بِالْمَعَرُوْفِ وَیَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ (اٰل عمران:۱۰۴)‘‘

جواب۲:

اب خود مرزا کے مسلمات پر غور کیجئے۔

الف… ’’خداتعالی نے اس بارہ میں بھی پیشینگوئی کر کے آپ فرمادیا یعنی شرک اور مخلوق پرستی نہ کوئی اپنی نئی شاخ نکلے گی نہ پہلے حالت پر عود کرے گی۔‘‘ (براہین احمدیہ، خزائن ج۱ ص۱۰۲)

ب… ’’اگر کوئی کہے کہ فساد اور بدعقیدگی اور بداعمالیوں میں یہ زمانہ بھی تو کم نہیں پھر ا س میں کوئی نبی کیوں نہیں آیا تو جواب یہ ہے کہ وہ زمانہ (یعنی حضور ﷺ سے قبل کا ) توحید اور راست روی سے بالکل خالی ہو گیا تھا اور اس زمانہ میں چالیس کروڑ لا الٰہ الا اللّٰہ کہنے والے موجود ہیں ۔اور اس زمانہ کو بھی خدا تعالی نے مجددکے بھیجنے سے محروم نہیں رکھا۔‘‘ (نور القرآن، خزائن ج۹ ص۳۳۹)

آیت: ’’مُبَشِّراً بِرَسُوْلٍ یََّاْتِیْ مِنْ بَعْدِی‘‘

قادیانی:

’’مُبَشِّراً بِرَسُوْلٍ یَّأتِیْ مِنْ بَعْدِیْ اِسْمُہ‘ اَحْمَدُ (صف :۶)‘‘ کو پیش کرکے کہتے ہیں کہ اس سے مراد مرزا غلام احمد قادیانی ہے ۔

جواب۱:

(الف)چودہ سوسال سے آپ ﷺ کی امت کا اس پر اجماع ہے کہ اس سے مراد رحمت دوعالم ﷺ کی ذات اقدس ہے ۔

(ب)پھر یہ بشارت سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے من بعدی کے ساتھ دی تھی تو ظاہر ہے کہ حضرت عیسیٰ کے بعد رحمت عالم ﷺتشریف لا ئے تو اس کا آپ ﷺ مصداق ہوئے نہ کہ مرزا کانا۔

(ج)آپ ﷺ کا اسم گرامی محمد ﷺ اور احمد ﷺتھا ۔جیسا کے مشہور احادیث صحیحہ ومتواترہ میں وارد ہے ۔ تفصیلات کے لئے کنز العمال ،مدارج النبوت وغیرہ ملاحظہ ہو ۔ اور مرزا کا نام محمد یا احمد نہیں بلکہ غلام احمد یا مرزاغلام احمد قادیانی ہے اس کے لئے مرزا ئی کتب، کتاب البریہ،تذکرہ ،ازا لہ اوہام وغیرہ ملاحظہ ہو۔

(د)آپ ﷺ خود ارشاد فر ما تے ہیں: ’’انا بشارۃ عیسٰی ‘‘ اور قرآن مجید میں آپ ﷺ ہی کی نسبت بشارت عیسیٰ وارد ہے ۔نہ کہ مرزا جیسے افیونی کے لئے ۔

جواب۲:

مرزا غلام احمد قادیانی کا اصل نام جو اس کے ماں باپ نے رکھاتو وہ غلام احمد تھا۔ مرزا بھی ساری زندگی یہی لکھتا رہا ،بکتا رہا۔اس کا نام احمد نہیں تھا ۔تو غلام احمد، اسمہ احمد کا مصداق کیسے ہو گیا؟

ایک دفعہ ایک قادیانی نے حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے سامنے یہ بات کہہ دی آپ نے فی البدیہہ فرمایا غلام احمد سے مراد ،احمد ہے تو عطاء اللہ سے مراد صرف اللہ ہو سکتا ہے ۔غلام احمد کو احمد مانتے ہو تو پھر عطاء

104

اللہ کو اللہ ماننا پڑے گا۔ اگر اللہ مانو گے! تو میرا پہلا حکم یہ ہے کہ غلام احمد جھوٹاہے ۔اسے میں نے نبی نہیں بنایا۔ پس شاہ جی رحمۃ اللہ علیہ کے حاضر جوابی سے قادیانی یہ جا وہ جا !

جواب۳:

اگر احمدسے مراد مر زا قادیانی ہے تو پھر یہ مسیح موعود یا مہدی کیسے ہوا؟ اس لئے کہ مسیح موعود اورمہدی میں سے کسی کا نام احمد نہیں ۔

احادیث میں قادیانی تاویلات وتحریفات کے جوابات

حدیث: ’’لوعاش ابراہیم‘‘

قادیانی:

’’لوعاش (ابراہیم ) لکان صدیقاً نبیاً‘‘ اس سے قادیانی استدلال کرتے ہیں کہ اگر حضور ﷺکے بیٹے حضرت ابراہیم زندہ رہتے تو نبی بنتے۔ بوجہ وفات کے حضرت ابراہیم نبی نہیں بن سکے ورنہ نبی بننے کا امکان تو تھا۔

جواب۱:

یہ روایت جس کو قادیانی اپنے استدلال میں پیش کرتے ہیں۔ (سنن ابن ماجہ ،باب ماجاء فی الصلوٰۃعلی ابن رسول ﷲ ﷺوذکر وفاتہ) میں ہے۔ روایت کے الفاظ یہ ہیں: ’’عن ابن عباس ؓلما مات ابراہیم ابن رسول اللہ ﷺصلیٰ رسول اللہ ﷺوقال ان لہ مرضعاً فی الجنۃولو عاش لکان صدیقاً نبیاًولو عاش لاعتقت اخوالہ القبط وما استرق قبطی (ابن ماجہ ص۱۰۸)‘‘

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب آپ ﷺ کے صاحبزادہ ابراہیم کا انتقال ہوا تو آپ ﷺ نے نماز جنازہ پڑھائی اور فرمایا اس کے لئے دودھ پلانے والی جنت میں (مقررکردی گئی)ہے اور اگر ابراہیم زندہ رہتے تو سچے نبی ہوتے اور اگر وہ زندہ رہتے تو اس کے قبطی خالہ زاد آزاد کردیتا۔

۱… اس روایت پر شاہ عبد الغنی مجددی رحمۃ اللہ علیہ نے ’’انجاح الحاجہ علی ابن ماجہ‘‘ میں کلام کیا ہے: ’’وقد تکلم بعض النا س فی صحۃ ھٰذا الحدیث کما ذکر السید جمال الدین المحدث فی روضۃ الاحباب (انجاح ص۱۰۸)‘‘

اس حدیث کے صحت میں بعض محدثین نے کلام کیا ہے جیسا کہ ’’روضۃ الاحباب‘‘ میں محدث سید جمال الدین نے ذکر کیا ہے ۔

۲… ’’قال ابن عبد البرؒلا ادری ما معنی ھٰذا القول لان اولاد نوح ما کانوا انبیاء (انجاح ص۱۰۸)‘‘

شیخ ابن عبد البر رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں: اس قول کے کیا معنی ہیں مجھے نہیں معلوم۔کیونکہ یہ کہاں ہے کہ ہر نبی کا بیٹا نبی ہو۔ اس لئے کہ حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے نبی نہیں تھے ۔

۳… ’’قال الشیخ دہلوی رحمۃ اللہ علیہ وھٰذہ جرأۃ عظیمۃ …لم یصح (انجاح ص۱۰۸)‘‘ {شیخ عبد الحق دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ بہت بڑی زیادتی ہے …جو صحیح نہیں۔}

۴… روی ابن ماجہ بسندفیہ ابو شیبۃ ابراہیم بن عثمان العبسی قاضی واسط وھو متروک الحدیث

105

۵… علامہ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے فر مایاہے کہ: ’’ابو شیبۃ ابراہیم بن عثمان العبسی ھو متروک الحدیث‘‘

(تقریب التھذیب ص۲۵)

۶… ہدایہ اور فتا وی عالمگیری کے مترجم علامہ امیر علی نے (تقصیب التقریب میں ترمذی جلد۱ص۱۹۹،کتاب الجنائز) کے حوالہ سے ابو شیبہ ابراہیم کے بارے میں تحریر کیا ہے کہ وہ منکرالحدیث ہے۔ (تقریب ص۲۵)

۷… (تذکرۃ الموضوعات ص۲۳۳)پر ابو شیبہ ابراہیم ابن عثمان کو متروک کہاہے اور لکھا ہے کہ شیبہ نے اس کی تکذیب کی ہے۔

۸… ’’قال النووی ؒفی تھذیبہ ھذا الحدیث باطل وجسارۃ علی الکلام المغیبات وفجازفۃ وھجوم علی عظیم‘‘ (موضوعات کبیر ص۵۸)

امام نووی نے تہذیب الاسماء میں فرمایا ہے کہ یہ حدیث باطل ہے۔ غیب کی باتوں پر جسارت ہے بڑی بے تکی بات ہے ۔

۹… (مدارج النبوت ج۲ ص۶۷۷)پر شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح کو نہیں پہنچتی۔ اس کا کوئی اعتبار نہیں۔ اس کی سند میں ابو شیبہ ابراہیم ابن عثمان ہے جو ضعیف ہے ۔

۱۰… حضرت امام احمدابن حنبل رحمۃ اللہ علیہ، حضرت امام یحییٰ رحمۃ اللہ علیہ، حضرت ا مام دَاوُد رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ محدثین کی آراء یہ ہیں کہ ابو شیبہ ابرہیم ابن عثمان، ثقہ نہیں۔ حضرت اما م ترمذی رحمۃ اللہ علیہ کی رائے یہ ہے کہ منکر الحدیث ہے۔ حضرت اما م نسائی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں وہ متروک الحدیث ہے۔ حضرت امام جوزجانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں، اس کاکوئی اعتبار نہیں۔ حضرت امام ابو حاتم ؒفرماتے ہیں ،وہ ضعیف الحدیث ہے۔ (تہذیب التہذیب ج۱ ص۱۴۵،۱۴۴)

ایسا را وی جس کے متعلق آپ اکابر امت کی آراء ملاحظہ فر ما چکے ہیں۔ اس کی ایسی ضعیف روایت کو لیکر قادیانی اپنا باطل عقیدہ ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ حالانکہ ان کو معلوم ہونا چاہئے کہ عقیدہ کے اثبات کے لئے خبر واحد (اگرچہ صحیح کیوں نہ ہو)بھی معتبر نہیں ہوتی۔ چہ جا ئے کہ عقائد میں ایک ضعیف روایت کا سہارا لیا جائے۔ یہاں تو ڈوبتے کو تنکے کا سہارا والی بات ہوگی۔

جواب۲:

اور پھرقادیانی دیانت کا دیوالیہ پن ملاحظہ فر مائیں کہ اس روایت سے قبل حضرت ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کی ایک روایت ابن ما جہ نے نقل کی ہے جو صحیح ہے۔ اس لئے کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اپنی صحیح میں اس کو نقل فرمایا ہے جو قادیانی عقیدہ اجرائے نبوت کو بیخ وبن سے اکھیڑ دیتی ہے۔ اے کاش!قادیانی پہلے اس روایت کو پڑھ لیتے۔ جو یہ ہے: ’’قال قلت لعبد اللّٰہ ابن ابی اوفیٰ رائیت ابراہیم بن رسول اللّٰہ ﷺ قال مات وھو صغیر ولو قضی ان یکون بعد محمد ﷺ نبی لعاش ابنہ ابراہیم ولٰکن لا نبی بعدہ‘‘ (ابن ماجہ ص۱۰۸)

ا سماعیل راوی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد ﷲابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا رسول ﷲ ﷺکے بیٹے ابراہیم علیہ السلام کو آپ نے دیکھا تھا ؟ عبد ﷲابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ وہ (ابراہیم )چھوٹی عمر میں انتقال فرماگئے اور اگر حضور ﷺکے بعدکسی کو نبی بننا ہوتا۔ تو آپ ﷺکے بعد ابراہیم زندہ رہتے۔ لیکن آپ ﷺکے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔

106

یہ وہ روایت ہے جسے اس باب میں ابن ماجہ سب سے پہلے لائے ہیں ۔یہ صحیح ہے اس لئے کہ حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی صحیح کے باب ’’من سمی باسماء الانبیاء ‘‘ میں اسے مکمل نقل فرمایا ہے۔ (بخاری ج۲ص۹۱۴)

اب آپ ملاحظہ فرمائیں کہ یہ صحیح روایت ہے جسے ابن ماجہ متذکرہ باب میں سب سے پہلے لائے اور جس کو امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی صحیح بخاری میں روایت کیا ہے اور مرزا قادیانی نے اپنی کتاب (شہادت القرآن ص۴۱، خزائن ج۶ ص۳۳۷) پر’’بخاری شریف‘‘ کو ’’اصح الکتب بعدکتاب ﷲ‘‘ تسلیم کیا ہے۔اگر مرزائیوں میں دیانت نام کی کوئی چیز ہوتی تو اس صحیح بخاری کی روایت کے مقابلہ میںایک ضعیف اور منکر ا لحدیث کی روایت کو نہ لیتے۔ مگر مرزائی اور دیانت یہ دومتضادچیزیں ہیں ۔

اب ملاحظہ فرمائیے کہ حضرت عبد ﷲ ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ یہ کیوں فرماتے ہیں کہ اگر حضور ﷺکے بعد کسی کو نبی بننا ہوتاتوآپ ﷺکے بیٹے ابراہیم زندہ رہتے ۔گویا حضرت کے صاحبزادہ کا انتقال ہی اس لئے ہوا کہ آپ ﷺ کے بعد کسی کو نبی نہیں بننا تھا۔ اس لئے فرمایا کہ رحمت دوعالم a کے بعداگر آپ کے بیٹے ابراہیم زندہ رہتے اور جوانی کی عمر کو پہنچتے تو دوصورتیں تھیں ۔ایک یہ کہ وہ نبی بنتے ،تو یہ آپ ﷺ کی ختم نبوت کے منافی تھا۔دوسرے یہ کہ نبی نہ بنتے ،تو پھر یہ سوال پیدا ہو سکتا تھا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بیٹے حضرت اسما عیل علیہ السلام نبی بنے۔اسی طرح حضرت یعقوب علیہ السلام کے بیٹے حضرت یوسف علیہ السلام نبی بنے تو آپ ﷺکا بیٹا کیوں نبی نہیں ؟گویا اللہ رب العزت کی حکمت بالغہ نے آپ ﷺکے صاحبزادوں کا بچپن میں انتقال ہی اس لئے کردیا کہ نہ آپ کی ختم نبوت پر حرف آئے اور نہ آپ ﷺ کی ذات پر کوئی اعتراض آئے۔ خلاصہ یہ نکلا کہ حضرت ابراہیم کا انتقال ہی ختم نبوت کی وجہ سے ہوا کہ آپ ﷺکے بعد کسی کو نبی نہیں بننا تھا۔

لیجئے! ایک اور روایت انہیں حضرت ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے ملاحظہ فرمائیے:

’’حدثنا ابن ابی خالدقال سمعت ابن ابی اوفیٰ یقول لوکان بعد النبی علیہ السلامنبی مامات ابنہ ابراہیم‘‘ (مسند احمدص۳۵۳ج۴)

ابن ابی خالد فرماتے ہیں کہ میں نے ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے سنا ،فرماتے تھے کہ اگررحمت دوعالم ﷺ کے بعد کوئی نبی ہوتا تو آپ ﷺکے بیٹے ابراہیم فوت نہ ہو تے۔

حضرت انس سے سدی رحمۃ اللہ علیہ نے دریافت کیا کہ حضرت ابراہیم کی عمربوقت وفات کیا تھی؟ آپ نے فرمایا ’’ماملاء معہدہ ولوبقی لکان نبیاًلٰکن لم یبق لان نبیکم آخر الانبیاء(تاریخ الکبیر لابن عساکرص۴۹۲ج۱)‘‘ ہ تو گہوارہ کو بھی نہ بھر سکے (یعنی بچپن میں ہی انتقال کرگئے)اگر وہ باقی رہتے تو نبی ہو تے لیکن اس لئے باقی نہ رہے کہ تمہارے نبی آخری نبی ہیں ۔

’’قال ابن عباس یرید لولم اختم بہ النبیین لجعلت لہ ابناًیکون بعدہ نبیا وروی عن عطاء عن ابن عباس رضی اللہ عنہ ان اللّٰہ تعالی لما حکم ان لا نبی بعدہ لم یعطہ ولداً ذکراًیصیر رجلاً (معالم التنزیل ص۱۷۸ج۳)‘‘

حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی کی مراد یہ ہے کہ اگر نبیوں کا سلسلہ ختم نہ کرتا تو آپ ﷺ کے لئے صاحبزادہ ہوتا ۔جو آپ ﷺ کے بعد نبی ہوتا۔ حضرت عطا ء فرماتے ہیں کہ جب ﷲتعالی نے آپ ﷺکے بعد نبوت بند کرنے کا فیصلہ فرمادیا تو آپ کو بیٹا نہیں دیا جو جوانی کو پہنچے۔

107

اس روایت نے واضح کردیا کہ ابراہیم رضی اللہ عنہ کی وفات ہی اس لئے ہوئی کہ آپ ﷺ کے بعد کسی کو نبی نہ بننا تھا۔ اب ان صحیح روایات کے ہوتے ہوئے جو بخاری،ابن ماجہ،مسند احمد میں موجود ہیں ،ایک ضعیف روایت کو جس کا جھوٹا ہونا اور مردودہوناقطعی طورپر ظاہر ہے۔ اسے صرف وہی لوگ اپنے عقیدہ کی تائید میں پیش کر سکتے ہیں جن کے متعلق حکم خداوندی ہے: ’’خَتَمَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوْبِہِمْ وَعَلٰی سَمْعِہِمْ وَعَلٰی اَبْصَارِہِمْ غِشَاوَۃٌ (بقرۃ:۷)‘‘

قادیانی:

اس روایت کی شہاب علی البیضاوی اورموضوعات میں ملاعلی قاری نے تصحیح کی ہے ۔

جواب:

شہاب علی البیضاوی یاحضرت ملاعلی قاری رحمۃ اللہ علیہ کی تصحیح ائمہ حدیث ابن حجرعسقلانی رحمۃ اللہ علیہ ، حافظ ابن عبدالبر رحمۃ اللہ علیہ اورامام نووی رحمۃ اللہ علیہ کے مقابلہ میں کوئی تقدیم نہیں رکھتی ۔یہ تمام ائمہ حدیث اس روایت کوضعیف اورباطل قراردیتے ہیں اورپھرموضوعات میں حضرت ملاعلی قاری رحمۃ اللہ علیہ نے بھی ان ائمہ کی اس حدیث کے بارے میں جرح کونقل کیاہے۔ اس لئے شہاب علی البیضاوی ہوںیاحضرت ملا علی القاری رحمۃ اللہ علیہ ان دونوں کی تصحیح وتعدیل پر حافظ ابن عبدالبر رحمۃ اللہ علیہ اور امام نووی رحمۃ اللہ علیہ کی جرح مقدم ہوگی اور پھرجبکہ جرح بھی ائمہ حدیث کی ہوجن کی ثقاہت پرحضرت ملاعلی قاری ؒبھی سردھنتے ہوں۔

(الحاوی للفتاوی ص ۹۹ ج ۲) پرحضرت عبد ﷲبن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت کے الفاظ یہ ہیں:

’’توفی وہوصغیرولوقضی ان یکون بعدمحمد ﷺ نبی لعاش ولکنہ لانبی بعدہ‘‘ حضرت ابراہیم بچپن میں فوت ہوگئے اگرآنحضرت ﷺکے بعدکسی شخص کا نبی بننا مقدر (جائز) ہوتاتووہ زندہ رہتے لیکن (زندہ اس لئے نہیں رہے کہ )آپ ﷺکے بعدکوئی نبی نہیں (بنناتھا) اور (الحاوی للفتاوی ص۹۹ج۲) پرایک اورروایت حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ: ’’ولوبقی لکان نبیاولکن لم یبق لان نبیکم آخرالانبیاء‘‘ ا اگروہ زندہ رہتے تونبی ہوتے لیکن وہ زندہ اس لئے نہیں رہے کہ آنحضرت ﷺآخرالانبیاء ہیں۔

الحاوی کے مصنف علامہ جلا ل الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ ہیں۔جن کوقادیانی نویں صدی کا مجدد مانتے ہیںاورجن کے متعلق مرزالکھاہے کہ: ’’انھوں نے حالت بیداری میں ۷۵مرتبہ رحمت دوعالم ﷺسے حدیثوں کی صحت کرائی تھی۔‘‘

(ازالہ اوہام، خزائن ج۳ ص۱۷۷)

غرض علامہ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے ان تمام روایات کو جمع کرنے کے بعدانکا جو جواب تحریر کیا ہے ۔اے کاش! قادیانیوں کے لئے ہدایت کا باعث بن جائے ۔جو یہ ہے۔

’’حافظ ابن حجر اصابہ میں فرماتے ہیں کہ یہ روایت میں نہیں جانتا کہ اس کا کیا مطلب ہے ؟ہر چند کہ یہ تین صحابہ سے مروی ہے (لیکن غلط ہے )اس لئے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین سے متعلق یہ خیال نہیں کیا جاسکتا کہ انھوں نے ایسی بات کہی ہو ۔ علامہ جلال الدین رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں (اگر یہ صحیح ہوتی بھی)تو یہ قضیہ شرطیہ ہے اس کا وقوع لا زم نہیں۔

(الحاوی للفتاوی ص۱۰۰ج۲)

جواب۳:

اگر یہ روایت کہیں سند سے مذکور بھی ہوتی تو بھی واحد ہونے کی وجہ سے اور احادیث صحیحہ متواترہ کے خلاف ہونے کے باعث قابل توجیہ یا قابل ردتھی ۔جیسا کہ ’’مدارج النبوت‘‘ میں حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ یہی کہا جائے گا کہ اگر رحمت دوعالم a کے بعدنبوت جاری ہوتی اور ابراہیم زندہ رہتے تو ان میں نبی بننے کی صلاحیت تھی ۔ (۷۷۹،طبع دہلی)

108

مگر چونکہ آپ ﷺکے بعد نبوت کا دروازہ بند ہے تو صلاحیت ہو نے کے باوجود بھی نبی نہیں بن سکتے تھے۔جیسا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے متعلق معروف روایت ہے ’’لوکان بعدی نبی لکان عمر‘‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہ میں بالقوۃ نبی بننے کی صلاحیت موجود تھی مگر آپ ﷺ کے خاتم النّبیین ہو نے کے باعث بالفعل نبی نہیں بن سکے ۔

جواب۴:

اس میں حرف ’’لو‘‘ قابل توجہ ہے ۔ ’’لو‘‘ عربی میں محال کے لئے آتا ہے ۔جیسے: ’’لَوْ کاَنَ فِیْہِمَا اٰلِھَۃ ٌاِلاَّاللّٰہُ لَفَسَدَتَا (انبیاء:۲۲)‘‘ میں تعلیق محال ہے ،اسی طرح اس روایت میں بھی تعلیق بالمحال ہے ’’لو عاش ابراہیم ‘‘ بعد تقدیر موت کے،حیات ابراہیم محال ہے ۔لہٰذا ان کا نبی ہونا بھی محال ہوا۔کیوں کہ معلق علی المحال بھی محال ہی ہوتا ہے۔ پس اگر اسکی سند صحیح بھی ہو تب بھی یہ ممتنع الوقوع ہے ۔

حدیث : ’’ولاتقولوالانبی بعدہ‘‘

قادیانی:

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ’’قولواخاتم النبیین ولاتقولوا لا نبی بعدہ (مجمع البحار ص۸۵، در منثور ج۵ ص۲۰۴)‘‘ اس سے ثابت ہوا کہ ان کے نزدیک نبوت جاری ہے ۔

جواب۱:

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی طرف اس قول کی نسبت اصطلاحات واصول محدثین کی روشنی میں باطل ہے۔ دنیا کی کسی کتاب میں اس کی ایسی متصل سند موجود نہیں جو علت قادحہ سے محفوظ ہو۔ایک غیر مستند قول سے نصوص قطعیہ اور احادیث متواترہ کے خلاف استدلال کرنا سراپا دجل وفریب ہے ۔

جواب۲:

رحمت دوعالم ﷺ فرماتے ہیں ’’انا خاتم النبیین لا نبی بعدی‘‘ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا قول صریحاً اس فرمان نبوی کے خلاف ہے ۔اس تعارض میں یقیناقول نبی ﷺکو ترجیح دیجائے گی۔ علامہ ظفر احمد عثمانی رحمۃ اللہ علیہ نے اس بنیادی اصول کو اس طرح بیان فرمایا ہے: ’’ولا حجۃ فی قول الصحابی فی معارضۃ المرفوع (اعلاء السنن ج۱ ص۴۲۸)‘‘ پھرحدیث: ’’لانبی بعدی‘‘ متعددصحیح اسناد سے مذکور ہے۔ جبکہ قول عائشہ رضی اللہ عنہا کی سند ہی نہیں تو صحیح حدیث کے مقابلہ میں یہ کیسے حجت ہو سکتا ہے؟

جواب۳:

خود حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا صدیقہ سے مروی ہے: ’’لم یبق من النبوۃ شیئی الا المبشرات (کنز العمال ج۸ ص۳۳)‘‘

تو اس واضح فرمان کے بعد اس غیر مستند قول کو حضرت صدیقہ رضی اللہ عنہا کی طرف منسوب کر نے کا کوئی جواز ہی باقی نہیں رہتا ۔

جواب۴:

قادیانی دجل وفریب ملاحظہ ہوکہ مجمع البحار سے نقل کرتے وقت قادیانی صرف آدھی بات نقل کرنے کی جرأت کرتے ہیں۔اگر پوری بات نقل کریں تو دنیا ان کے استدلال پر تھو ،تھو، کرے گی ۔غور فرمائیے اسی سے آگے روایت میں یہ جملہ بھی ہے ’’ھٰذا ناظر الی نزول عیسی علیہ السلام‘‘ (تکملہ مجمع البحار ص۸۵) اب اگر ان کا، یا حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ کاقول ’’ حسبک اذا قلت خاتم الانبیاء ‘‘ وغیرہ جیسے آتے ہیں تو ظاہر ہے کہ ان سب کا مقصدیہی ہے کہ ان کے ذہن میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا مسئلہ تھا۔کہ یہ نہ کہو کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی، نہیں آئے گا اس لئے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہوگا۔ ہاں!خاتم النّبیین ﷺ کے بعد کوئی نبی بنایا نہیں جائے گا۔ اس لئے کہ ’’وعیسٰی علیہ السلام ممن نبی قبلہ ‘‘ وہ آپ ﷺسے پہلے نبی بنائے جاچکے ہیں۔

109

جواب۵:

اس قول میں بعدہ خبر کے مقام پر آیا ہے اور خبر افعال عامہ یا افعال خاصہ سے محذوف ہے۔ اس لئے اس کا پہلا معنی یہ ہوگا: ’’لا نبی مبعوث بعدہ‘‘ حضور ﷺ کے بعد کونبی مبعوث نہیں ہو گا۔ مرقاۃ حاشیہ مشکوٰۃشریف پر یہی ترجمہ مراد لیا گیا ہے جو صحیح ہے۔

دوسرا معنی ہو گا ۔ لانبی خارج بعدہ حضور ﷺ کے بعد کسی نبی کا ظہور نہیں ہو گا۔ یہ معنی غلط ہے اس لئے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نزول فر مائیں گے۔ حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ نے انھیں معنوں کے اعتبار سے ’’لا تقولوا لا نبی بعدہ‘‘ میں ممانعت فر مائی ہے جو سو فیصد ہمارے عقیدہ کے مطابق ہے ۔

تیسرا معنی ہوگا: ’’لانبی حی بعدہ ‘‘ اس معنی کے اعتبار سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ’’لا تقولوا لا نبی بعدہ‘‘ میں ممانعت فر ما ئی ہے ۔اس لئے کہ خود ان سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی روایات منقول ہیں اور ان کے نزدیک حضرت عیسیٰ علیہ السلام ابھی زندہ ہیں جو آسمان سے نزول فرمائیںگے ۔

جواب۶:

مرزا قادیانی نے لکھا ہے: ’’دوسری کتب حدیث(بخاری اور مسلم کے علاوہ )صرف اس صورت میں قبول کے لائق ہوںگے کہ قرآن اور بخاری اور مسلم کی متفق علیہ حدیث سے مخالف نہ ہوں۔‘‘

(آریہ دھرم، درحاشیہ خزائب ج۱۰ ص۶۰)

جب صحیحین کے مخالف مرزا کے نزدیک کوئی حدیث کی کتاب قابل قبول نہیں تو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی طرف منسوب غیر مستند قول غیر صحیحین سے قابل قبول کیوں ہوگا؟ نیز مرزا نے اپنی تصنیف (کتاب البریہ، خزائن ج۱۳ ص۲۱۷) پر تحریر کیا ہے کہ حدیث ’’لا نبی بعدی‘‘ ایسی مشہور تھی کہ کسی کو اس کی صحت میں کلام نہ تھا ‘‘تو سوال یہ ہے کہ کیا یہ ممکن ہے کہ حضرت عائشہ ؓ نے ایسی مشہور صحیح حدیث کے خلاف کچھ فرمایا ہو ؟

جواب۷:

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا یہ قول اگر صحیح ہوتا، تو بھی مرزا ئیت کے منہ پریہ ایک زوردارجوتا تھا۔ اس لئے کہ (بخاری شریف کتاب العلم ج۱ ص۲۴) میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ہی روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ قوم تازہ تازہ ایمان لا ئی ہے ورنہ میں بیت اللہ شریف کو توڑ کر دو دروازے کر دیتا۔ (ایک مشرقی جانب اور دوسرا مغربی جانب) ایک سے لوگ داخل ہوتے دوسرے سے نکل جاتے۔ اس حدیث کو لا نے کے لئے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے باب باندھاہے: ’’باب من ترک بعض الاختیار مخافۃان یقصر فہم بعض الناس فیقعوا فی اشد منہ‘‘ کہ جب اس بات کا اندیشہ ہو کہ قاصرالفہم لوگ خرابی میں مبتلا ہو جائیںگے تو امر مختار کے اظہار کو ترک کردے۔ یہ روایت حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے بخاری میں موجود ہے۔ کوئی شخص ’’لا نبی بعدی‘‘ کی روایت سے قادیانی دجالوں کی طرح حضرت عیسیٰ کی آمد کا انکار نہ کردے ،اس لئے امر مختار ’’لانبی بعدی‘‘ کو آپ نے ترک کرنے کا حکم دیا۔ اس کی شاہد حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب وہ روایت ہے جو (در منثور ج۵ ص۲۰۴) پر ہے کہ کسی نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے سامنے ’’خاتم الانبیاء لا نبی بعدی‘‘ کہا تو حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ نے فر مایا: ’’حسبک اذا قلت خاتم الانبیاء فانا کنا نحدث ان عیسٰی خارج فان ھو خرج فقد کان قبلہ وبعدہ‘‘

110

جواب۸:

اب قول عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور قول مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہا دونوں کی مکمل عبارتیں مع ترجمہ وتشریح ملاحظہ فرمائیے ۔ ’’وفی حدیث عیسیٰ انہ یقتل الخنزیر ویکسر الصلیب ویزید فی الحلال ای یزید فی حلال نفسہ بان یتزوج ویولد لہ وکان لم یتزوج قبل رفعہ الی السماء فزاد بعد الہبوط فی الحلال فحینئذ یؤمن کل احد من اہل الکتاب یتیقن بانہ بشر وعن عائشۃ ؓقولواانہ خاتم الانبیاء ولا تقولوا لا نبی بعدہ لانہ اراد لا نبی ینسخ شرعہ‘‘ (تکملہ مجمع البحار ص۸۵)

’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قصہ میں ہے کہ وہ نزول کے بعد خنزیر کو قتل کریںگے۔ اور صلیب کو توڑیںگے اور اپنے نفس کی حلال چیزوں میں اضافہ کریں گے یعنی نکاح کریںگے اور آپ کی اولاد ہوگی ۔کیوں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے آسمان پر اٹھائے جانے سے پہلے نکاح نہیں فرمایا تھا ۔آسمان سے اتر نے کے بعد نکاح فرمائیںگے ۔پس اس حال کو دیکھ کر اہل کتا ب میں سے ہر ایک شخص ان کی نبوت پر ایمان لا ئے گا اور اس بات کا یقین کرے گا کہ بلاشک حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایک بشر ہیں خدا نہیں ۔جیسا کہ نصاریٰ ابتک سمجھتے رہے ۔اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے جو یہ منقول ہے کہ وہ فرماتی تھیں کہ آپ ﷺ کو خاتم النّبیین کہو اور یہ نہ کہو کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں۔ ان کا یہ ارشاد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے پیش نظر رکھ کر تھا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا دنیا میں آنا ’’لا نبی بعدی ‘‘ کے منافی نہیں کیوں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نزول کے بعد حضور ﷺ ہی کی شریعت کے متبع ہوں گے اور لا نبی بعدی کی مراد یہ ہے کہ کوئی ایسا نبی نہ آئے گا جو آپ ﷺ کی شریعت کا ناسخ ہو ۔‘‘

اور اسی قسم کا قول حضرت مغیرہ ابن شعبہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے :

’’عن الشعبی قال قال رجل عند المغیرۃبن شعبۃ ؓصلی اللہ علی النبی محمد خاتم الانبیاء لا نبی بعدہ فقال المغیرۃ بن شعبہ حسبک اذا قلت خاتم الانبیاء فانا کنا نحدث ان عیسٰی علیہ السلام خارج فان ھو خرج فقد کان قبلہ وبعدہ‘‘ (تفسیر درمنثور ص۲۰۴ج۵)

’’شعبی رحمۃ اللہ علیہ سے منقول ہے کہ ایک شخص نے حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ کے سامنے یہ کہا کہ اللہ تعالی رحمت ناز ل کرے محمد ﷺپر جو خاتم الانبیاء ہے اور ان کے بعد کوئی نبی نہیں ۔ حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا خاتم الانبیاء کہہ دینا کافی ہے ۔ یعنی لا نبی بعدہ کہنے کی ضرورت نہیں کیونکہ ہم کو یہ حدیث پہنچی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام پھر تشریف لائیں گے۔ پس جب وہ آئیںگے تو ایک ان کا آنا محمد ﷺ سے پہلے ہوا اور ایک آنا محمد ﷺ کے بعد ہو گا ۔‘‘

پس جس طرح حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ ختم نبوت کے قائل ہیں۔ مگر محض عقیدہ نزول عیسی ابن مریم علیہ السلام کی حفاظت کے لئے لا نبی بعدہ کہنے سے منع فرمایا اسی طرح حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ختم نبوت کے عقیدہ کو تو خاتم النّبیین کے لفظ سے ظاہر فرمایا اور اس موہم لفظ کے استعمال سے منع فرمایا ۔کہ جس لفظ سے عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے خلاف کا ابہام ہوتا تھا ۔ ورنہ حاشا وکلاء، یہ مطلب ہرگز نہیں کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا حضور ﷺ کے بعدکسی قسم کی نبوت کو جائز کہتی ہیں ۔

عجیب بات ہے کہ مرزا ئی صاحبان کے نز دیک ایک مجہول الاسناد اثر تو معتبر ہو جائے اور صحیح اور صریح روایتوں کا دفتر معتبر نہ ہو۔اصل بات یہ ہے کہ جو لفظ ان کے خواہش کے مطابق کہیں سے مل جائے ،وہ تو قبول ہے اور جو آیت اور حدیث خواہ کتنی صریح اور صاف کیوں نہ ہو وہ نا مقبول ہے: ’’اَفَکُلَّمَا وجاء کُمْ رَسُوْلٌ بِمَالاَ تَہْویٰٓ اَنْفُسُکُمُ

111

اسْتَکْبَرْتَمْ (بقرۃ:۸۷)‘‘ اور یہ پھر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ دونوں کے اقوال سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے مسئلہ کے پیش نظر ہیں۔ ان کے مطمح نظر کو، قادیانی ،نظرانداز کردیتے ہیں۔ قرآن مجید نے اس یہودیا نہ قادیانی تحریف کے مد نظر کیا سچ فرمایا: ’’اَفَتُؤْمِنُونَ بِبَعْضِ الْکِتٰبِ وَتَکْفُرُوْنَ بِبَعْضٍ (بقرۃ:۸۵)‘‘

مرزائی مفسر کی شہادت

محمدعلی لاہوری بیان القرآن میں لکھتا ہیں : ’’اور ایک قول حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا پیش کیا جاتاہے جس کی سند کوئی نہیں ’’قولوا خاتم النبیین ولا تقولوا لا نبی بعدہ‘‘ خاتم النّبیین کہو اور یہ نہ کہو کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں اور اس کا یہ مطلب لیا جاتا ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے نزدیک خاتم النّبیین کے معنی کچھ اور تھے اور کاش وہ معنی بھی کہیں مذکور ہوتے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے اپنے قول میں ہوتے، کسی صحابی کے قول میں ہوتے، نبی کریم ﷺکی حدیث میں ہوتے، مگر وہ معنی در بطن قائل ہے اور اس قدر حدیثو ں کی شہادت جن میں خاتم النّبیین کے معنی لا نبی بعدی کئے گئے ہیں ایک بے سند قول پر پس پشت پھینکی جاتی ہیں۔ یہ غرض پرستی ہے خدا پرستی نہیں کہ رسول ﷲ ﷺ کی تیس حدیثوں کی شہادت ایک بے سند قول کے سامنے رد کی جاتی ہیں۔ اگر اس قول کو صحیح مانا جائے تو کیوں اس کے معنی یہ نہ کئے جائیں کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا مطلب یہ تھا کہ دونوں باتیں اکٹھی کہنے کی ضرورت نہیں خاتم النّبیین کا فی ہے۔ جیسا کہ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہا کا قول ہے کہ ایک شخص نے آپ کے سامنے کہا: ’’خاتم الانبیاء ولا نبی بعدہ ‘‘ تو آپ نے فرمایا کہ خاتم الانبیاء تجھے کہنا بس ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ آپ کا مطلب ہو کہ جب اصل الفاظ خاتم النّبیین واضح ہے تو وہی استعمال کرویعنی الفاظ قرآنی کو الفاظ حدیث پر ترجیح دو۔ اس سے یہ کہاں نکلا کہ آپ الفاظ حدیث کو صحیح نہ سمجھتی تھیں؟ اور اتنی حدیثوں کا مقابل اگر ایک حدیث ہوتی تو وہ بھی قابل قبول نہ ہوتی ۔چہ جائے کہ صحابی رضی اللہ عنہ کا قول جو شرعاً حجت نہیں۔‘‘

(مرزائی تفسیربیان القرآن ج۲ ص۱۱۰۳،۱۱۰۴)

قادیانی سوال

اگر اس قول عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی سند نہیں تو کیا ہوا ۔تعلیقات بخاری کی بھی سند نہیں۔

جواب:

یہ بھی قادیانی دجل ہے ورنہ فتح الباری کے مصنف علامہ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے ایک مستقل کتاب تصنیف کی ہے۔ جس کا نام ’’تعلیق التعلیق‘‘ ہے ۔اس میں تعلیقات صحیح بخاری کی اسناد کو موصول کیا ہے ۔

حدیث: ’’مسجدی آخرالمساجد‘‘

قادیانی:

حضور ﷺ نے فرمایا ’’مسجدی آخرالمساجد‘‘ ظاہر ہے کہ حضور ﷺ کی مسجد کے بعد دنیا میں ہر روز مسجدیں بن رہی ہیں تو آپ ﷺ کے آخرالنّبیین کا بھی یہی مطلب ہو گا اور آپ ﷺ کے بعد نبی بن سکتے ہیں۔

جواب:

یہ اشکال بھی قادیانی دجل کا شاہکار ہے اس لیے کہ جہاں ’’مسجدی آخر المساجد ‘‘ کے الفاظ احادیث میں آئے ہیں وہاں روایات میں ’’آخر مساجد الانبیاء ‘‘ کے الفاظ بھی آئے ہیں ۔ تمام انبیاء علیہم السلام کی سنت مبارکہ یہ تھی کہ وہ اللہ رب العزت کا گھر (مسجد)بناتے تھے ۔تو انبیاء کرام علیہم السلام کی مساجد میں سے

112

آخری مسجد، مسجد نبوی علیہ السلامہے۔ یہ ختم نبوت کی دلیل ہوئی نہ کہ اجرائے نبوت کی۔ ’’التر غیب والترہیب‘‘ میں ’’آخر مساجد الانبیاء‘‘ کے الفاظ صراحت کے ساتھ مذکور ہیں ۔نیز کنز العمال میں بھی (ص ۶ ۵ ۲ ج ۶) ’’باب فضل الحرمین‘‘ میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے۔ ’’عن عائشۃ رضی اللہ عنہا قالت قال رسول اللّٰہ ﷺانا خاتم الانبیاء ومسجدی خاتم مساجد الانبیاء‘‘

حدیث: ’’انک خاتم المہاجرین‘‘

قادیانی:

حضور ﷺ نے اپنے چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ’’اطمئن یا عم فانک خاتم المہاجرین فی الہجرۃ کما انا خاتم النبیین فی النبوۃ‘‘ اگر حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے بعد ہجرت جاری ہے تو حضور ﷺ کے بعد نبوت بھی جاری ہے ۔

جواب:

قادیانی اس روایت میں دجل وفریب سے کام لیتے ہیں۔ اصل واقعہ یہ ہے کہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ سے ہجرت کرکے مدینہ طیبہ روانہ ہو گئے تھے۔ مکہ مکرمہ سے چند ہی میل کا سفر کئے تھے کہ دیکھا حضور ﷺ مدینہ طیبہ سے دس ہزار قدسیوں کا لشکر لیکر مکہ شریف فتح کرنے کے لئے تشریف لا رہے ہیں ۔ راستہ میں ملاقات ہوئی تو حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے افسوس ظاہر فرمایا کہ میں ہجرت کی فضیلت سے محروم رہا ۔حضور ﷺ نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو تسلی اور حصول ثواب کی بشارت دیتے ہوئے یہ فرمایا ۔اس لئے کہ مکہ مکرمہ سے واقعی ہجرت کرنے والے آخری مہاجر حضرت عباس رضی اللہ عنہ تھے کیونکہ ہجرت دار الکفر سے دارالاسلام کی طرف کی جاتی ہے۔ مکہ مکرمہ آنحضرت ﷺ کے ہاتھوں ایسا فتح ہوا جو قیامت کی صبح تک دار الاسلام رہے گا۔تو مکہ مکرمہ سے آخری مہاجر حضرت عباس رضی اللہ عنہ ہوئے ۔لہٰذا آپ ﷺکا فرمانا کہ اے چچا تم آخری مہاجر ہو، تمہارے بعد جو بھی مکہ مکرمہ چھوڑ کر آئے گا اسے مہاجر کا لقب نہیں ملے گا۔ اس لئے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ’’لاہجرۃ بعد الفتح‘ ‘ ( بخا ری ص۴۳۳ ج۱) حضرت حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’ہاجر قبل الفتح بقلیل وشہد الفتح‘‘ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے فتح مکہ سے قدرے پیشتر ہجرت کی اور آپ فتح مکہ میں حاضر تھے۔ (اصابہ ص ۲۷۱ ج۲)

معلوم ہوا کہ اس واقعہ کو اجرائے نبوت کے لئے بطور تشبیہ استعمال کرنا قادیانیوں کی جہالت کا شاہکار ہے ۔

حدیث: ’’ابوبکر خیرالناس بعدی‘‘

قادیانی:

’’ابوبکرخیر الناس الاان یکون نبیاً‘‘ ا بو بکر تمام لوگوں سے افضل ہیں۔ مگر یہ کہ کوئی نبی ہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ نبوت جاری ہے ۔

جواب۱:

’’الناس‘‘ سے مراد عام لوگ ہیں، نبی نہیں۔اگر ’’الناس‘‘ سے مراد نبی ہو تو آپ کو خیرالناس کا لقب نہیں ملے گا۔ اس کی تائید واقعات عالم کے علاوہ، دو روایتیں بھی کرتی ہیں جو آپ کی فضیلت میں وارد ہوئی ہیں۔ گویا آسان لفظوں میں اس کا مفہوم یہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام کے علاوہ باقی تمام لوگوں سے افضل حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں۔

113

جواب۲:

یہ روایت (کنز العمال ج۱۲ ص۱۶۱، مطبو عہ دکن)کی ہے۔ اس کے آگے ہی لکھاہے: ’’ھٰذالحدیث احد ما انکر‘‘ یہ روایت ان میں سے ایک ہے جس پر انکار کیاگیاہے ۔معلوم ہوا کہ ایسی منکر روایت سے عقیدہ کے لئے استدلال قادیانی دجل کاشاہکار ہے ۔

جواب۳:

حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ’’ما صحب النبیین والمرسلین ولا صاحب یٰسین افضل من ابی بکر ‘‘ رحمت دوعالم ﷺ سمیت تمام انبیا ء و رسل علیہم السلام کے صحابہ سے ابو بکر رضی اللہ عنہ افضل ہیں ۔

(کنزالعمال ص ۹ ۵ ۱ ج۱۲روایت نمبر ۸۰۴)

’’حاکم‘‘ میں ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ سے (کنز العمال میں ص۱۸۰ج۱۲) پر روایت کے یہ الفاظ ہیں: ’’ابو بکر وعمر خیر الاولین والآخرین وخیر اہل السمٰوات وخیر اہل الارضین الا النبیین والمرسلین‘‘ زمینوں وآسمانوں کے تما م اوّلین وآخرین سوائے انبیاء ومرسلین کے باقی سب سے ابو بکر و عمر افضل ہیں۔ کنز العمال ص۱۸۰ج۱۲)

ان تمام روایات کو سامنے رکھیں تو مطلب واضح ہے کہ انبیاء کے علاوہ باقی سب سے افضل ابو بکر ہیں ۔ان تمام روایات کے سامنے آتے ہی قادیانی دجل پارہ پارہ ہو جاتا ہے ۔

حدیث: ’’انا مقفی‘‘

قادیانی:

حضور ﷺ فرماتے ہیں: ’’انا مقفی‘‘ یعنی آپ ﷺ کے بعد جو نبی آئیںگے آپ ﷺ ان کے مقفیٰ یعنی مطاع ہوںگے۔

جواب:

’’وَقَفَّیْنَا مِنْ بَعْدِہٖ بِالرُّسُلِ (بقرۃ:۸۷)‘‘ آیت کریمہ دلالت کررہی ہے کہ یہاں ’’ الذی قفی بہ‘‘ سب کے آخر میں آنے والے کا معنی دیتا ہے ۔حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ’’انا محمد واحمد والمقفی قال النووی المقفی العاقب‘‘ امام نووی رحمۃ اللہ علیہ فر ماتے ہیں کہ: ’’مقفی‘‘ کے معنی آخر میںآنے و الے کے ہیںلہٰذا آخر میں آنے والے کسی نبی کے مطاع ،کامعنی قادیانی تحریف ہے ۔

حدیث: ’’اذا ہلکَ کِسْریٰ‘‘

قادیانی:

’’لانبی بعدی‘‘ میں ’’لا نفی‘‘ کمال کے لئے ہے ۔یعنی کامل تشریعی نبی آپ ﷺکے بعد نہ ہوں گے بلکہ غیر تشریعی ہوںگے۔جیسے کہ: ’’اذا ہلک کسریٰ فلا کسریٰ بعدہ واذا ہلک قیصر فلا قیصر بعدہ ‘‘ ہے ۔

جواب۱:

’’لانبی بعدی‘‘ میں لا نفی جنس کا ہے ۔جیسے ’’ذالِکَ الکِتابُ لا رَیْبَ فِیْہ ‘‘ اور ’’لالٰہ الا اللّٰہ‘ ‘ میں جیسا کہ خود مرزا قادیانی نے بھی لکھا ہے: ’’حدیث لا نبی بعدی میں لا نفی عام ہے۔

(ایام الصلح، خزائن ج۱۴ ص۳۹۳)

جہاں تک ’’اذا ہلک کسری‘‘ کا تعلق ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ کسریٰ وقیصر کسی خاص آدمی کے نام نہیں بلکہ جاہلیت میں فارس وروم کے بادشاہوں کے لقب تھے جب قریش مسلمان ہو گئے اور انھیں خوف ہوا کہ اب

114

ہماراداخلہ شام وعراق میں بند ہو جائے گا تو حضور ﷺ نے مومنین کی تسلی کے لئے فرمایا کہ تمہاری تجارت گاہیں ان کے وجود ہی سے پاک کردی جائیںگی ۔جب مملکت فارس اسلام کے قبضہ میں آجائے گا تو کسریٰ کا لقب جاتا رہے گا اورمملکت روم کے آجانے سے لقب قیصر بھی جاتا رہے گا۔ چنانچہ آپ ﷺ کی پیشینگوئی حرف بحرف سچی ہوئی اور ایسا ہوا کہ کسریٰ اور کسرویت کا تو بالکل خاتمہ ہوگیا ۔اور قیصرنے ملک شام چھوڑکر اور وہاں سے بھاگ کر اور جگہ پناہ لی ۔

علامہ نووی رحمۃ اللہ علیہ نے (شرح مسلم ص۳۹۶ج۲)میں لکھا ہے: ’’قال الشافعی وسائرالعلماء معناہ لا یکون کسریٰ بالعراق وقیصر بالشام کما کان فی زمانہ ﷺ فاعلمنا بانقطاع ملکہما فی ھٰذین الاقلیمین‘‘

امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ اور تمام علما نے فرمایاہے کہ اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ کسریٰ،عراق میں اور قیصر ،شام میں باقی نہ رہے گا۔ جیسا کہ حضور ﷺ کے زمانہ میں تھے۔پس حضور ﷺ نے ان کے انقطاع سلطنت کی خبر دی کہ دونوں اقلیموں میں ان کی سلطنت باقی نہ رہے گی۔

چنانچہ ایسا ہی ہوا ۔لہٰذا یہ حدیث شریف اپنے ظاہری معنی پر ہی مستعمل ہے۔ اس میں مرزا ئی وسوسہ کا شائبہ ہی نہیں۔

جواب۲:

حضور ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ’’اماتری انت منی بمنزلۃ ہارون من موسیٰ الا انہ لا نبی بعدی ‘‘ کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ اے علی تو میرے جیسا کامل نبی نہیں ہوگا ؟مگر گھٹیا نبی ہو گا ؟ (معاذاللہ )

جواب۳:

آنحضرت ﷺ سے پہلے صاحب کتا ب اور بغیر کتاب نبی آتے رہے (اخبار بدر ۵مارچ ۱۹۰۸ء)قادیانیوں کے اس فیصلے سے معلوم ہوا کہ آپ ﷺ کو جو خاتم النّبیین کہا گیا تو دونوں قسم کے انبیاء کے آپ ﷺخاتم ہوئے۔ اب اگر آپ ﷺ کے بعد کوئی بغیر کتاب ہی کے سہی ،نبی آجائے تو سوال یہ ہے کہ آپ خاتم الانبیاء کیسے ہوئے؟ اور آپ ﷺکی فضیلت ہی کیا رہی ؟

جواب۴:

اگر لا نبی بعدی میں لا، نفی کمال کے لئے ہے ۔یعنی آپ ﷺجیسا کوئی نبی نہیں آئے گا ۔تو اس لحاظ سے تو موسیٰ علیہ السلام بھی خاتم الانبیاء ہوئے ۔اس لئے کہ ان کے بعد جتنے خلفا آئے کوئی ان جیسا نہ ہوا جیسا کہ خو دمرزا نے لکھاہے ۔

اللہ جل شانہ نے حضرت موسیٰ کو اپنی رسالت سے مشرف کر کے پھر بطور اکرام و انعام خلافت ظاہری اور باطنی کا ایک لمباسلسلہ ان کی شریعت میں رکھ دیا …اس عرصہ میں صدہا بادشاہ اور صاحب وحی والہام شریعت موسوی میں پیدا ہوئے …ہم نے موسی کو کتاب دی اور بہت سے رسل اس کے پیچھے آئے۔ ‘‘(شہادت القرآن خ ص۳۲۲ج۶) لیکن مرزا ئی اس معنی کے حساب سے حضرت موسیٰ کو خاتم الانبیا نہیں مانتے لہٰذا ان کا استدلال خود بخود باطل ہوجاتا ہے ۔

جواب۵:

مرزا نے لکھاہے: حدیث لا نبی بعدی میں بھی نفی عام ہے ۔پس یہ کس قدر جرأت و دلیری اور گستاخی ہے کہ خیالات رکیکہ کی پیروی کرکے نصوص صریحہ قرآن کو عمداً چھوڑدیا جائے اور خاتم الانبیاء کے بعد ایک نبی کا آنا مان لیا جائے۔‘‘ (ایام الصلح، خزائن ج۱۴ ص ۳۹۳) لہٰذا مرزا ئیوں کو خیالات رکیکہ چھوڑ کر مرزائیت کے لغو استدلال اور مرزا ئیت سے توبہ کرلینا چاہئے ۔

115

حدیث: ’’رویا المسلمین جزء من اجزا ء النبوۃ‘‘

قادیانی:

نیک خواب نبوت کا چھیا لیسواں حصہ ہے ۔ جو امت محمدیہ میں باقی ہے۔ اسی جز کے اعتبار سے نبوت باقی ہے اور ایسے نبی آسکتے ہیں ۔

جواب:

اگر ایک اینٹ کو مکان ،نمک کو پلائو اور ایک دھاگہ کو کپڑا اور ایک رسی کو چارپائی نہیں کہہ سکتے تو نبوت کے ۴۶؍ویں جز کوبھی نبوت نہیں کہہ سکتے اور یہ ایک بدیہی امر ہے۔

حدیث: ’’انا العاقب‘‘

قادیانی:

حدیث ’’انا العاقب والعاقب الذی لیس بعدہ نبی ‘‘ میں قادیانی کہتے ہیں کہ نبوت کی نفی راوی کا اپنا خیال ہے ۔حضور ﷺ کی زبان سے ثابت نہیں۔

جواب:

یہ غلط ہے جس کسی نے کہا ہے خود اس کا یہ خیا ل ہے ورنہ حدیث میں کوئی تفریق نہیں ۔عاقب کے یہ معنی خود رسول ﷲ ﷺنے کئے ہیں ۔چنانچہ حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’وفی روایۃ سفیان بن عیینۃ رضی اللہ عنہ عند الترمذی وغیرہ بلفظ الذی لیس بعدی نبی‘‘

(فتح الباری ص۳۱۳ج۱۴،ترمذی ص۱۱۱ج۲)

سفیان بن عیینہ رحمۃ اللہ علیہ کی مرفوع حدیث میں امام ترمذیؒ وغیرہ کے نزدیک یہ لفظ ہے۔میں عاقب ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا ۔

لہٰذا ثابت ہوا کہ عاقب کی تفسیر میں جو الفاظ وارد ہیں وہ کلمات مرفوع ہیں۔ آنحضرت ﷺ نے خود ہی فرمائے ہیں۔

حدیث عاقب کی تشریح از ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ ملاحظہ ہو : ’’والعاقب الذی لیس بعدہ نبی قیل ھذا قول الزھری وقال العسقلانی ظاہرہ انہ مدرج لٰکنہ وقع فی روایۃ سفیان بن عیینہ عند الترمذی ای فی الجامع بلفظ الذی لیس بعدی نبی‘‘ (الجمع الوسائل حصہ دوم ص۱۸۳)

لہٰذا ثابت ہوا کہ عاقب کی تفسیر میں جو الفاظ وارد ہیں وہ کلمات مرفوع ہیں۔ آنحضرت ﷺنے خود ہی ارشاد فرمائے ہیں۔

مزید برآں شمائل کی شرح(جو جمع الوسائل شرح الشمائل مصری ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ کے حاشیہ پر چڑھی ہوئی ہے) کرتے ہوئے علامہ عبد ا لرئوف المناوی المصری رحمۃ اللہ علیہ نے متن میں ’’بعدی‘‘ کو نقل فرمایا ہے۔

اسی طرح چوتھی صدی کے مشہور محدث حافظ ابن عبدالبر رحمۃ اللہ علیہ نے روایت مذکور پوری نقل فرمائی ہے: ’’قال… وانا الخاتم ختم ﷲبی النبوۃوانا العاقب فلیس بعدی نبی‘‘ (کتاب الاستیعاب بر حاشیہ اصابہ،مطبوعہ مصر ص۳۷ج۱)

’’آنحضرت ﷺنے فرمایامیں خاتم ہوں ﷲنے نبوت میرے ساتھ ختم کردی ہے اور میں عاقب ہوں۔پس میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے ۔‘‘

اسی طرح چھٹی صدی کے مشہور محدث قاضی عیاضؒ بھی لکھتے ہیں : ’’وفی الصحیح اناالعاقب الذی لیس بعدی نبی‘‘ (کتاب الشفامطبوعہ استنبول ص۱۹۱ج۱، ترمذی ص۱۱۱ج۲)

116

’’یعنی آپ ﷺنے فرمایاکہ میں عاقب ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں۔‘‘

ایسا ہی ’’تفسیر خازن (سورۃ صف)‘‘میں ہے : ’’انا العاقب الذی لیس بعدی نبی‘‘ ان کتابوں(شفاء کتاب الاستیعاب، خازن، فتح الباری اور شرح الشمائل)میں لفظ بعدی موجود ہے۔ جس سے ثابت ہے کہ یہ تفسیر نبوی ہے۔

(ص۷۱ج۷طبع مصر۱۳۴۹ھ)

قادیانی اعتراض

صحاح ستہ جوحدیث کی معتبر کتابیں ہیں ۔ان میں یوں نہیں آیا ۔لہٰذا حجت نہیں ہے ۔

جواب:

صحاح ستہ میں سے جامع ترمذی میں یوں ہی موجود ہے ۔چنانچہ (ترمذی ابواب الاستیذان والادب، باب ماجاء فی اسماء النبی) میں حدیث صحیح مرقوم ہے: ’’وانا العاقب الذی لیس بعدی نبی‘‘

(ترمذی مطبوعہ مصر ص ۷ ۳ ۱ ج ۲ طبع ۲ ۹ ۳ ۱، مطبع مجتبائی دہلی ص۱۰۷ج۲طبع۱۳۲۸ھ، مطبوعہ مجیدی پریس کانپورص۱۱۲ج۲)

اعلان:

ترمذی مطبوعہ ہند کے بعض نسخوں(مطبوعہ احمدی وغیرہ )میں اس مقام پر ’’بعدہ‘‘ غلط طبع ہو گیا ہے ۔ناظرین سے التماس ہے کہ ترمذی کے اس مقام کو درست کر لیں اور بجائے ’’بعدہ‘‘ کے ’’بعدی‘‘ بنالیں ۔محدثین شارحین نے بھی ترمذی کے حوالہ سے بعدی نقل کیا ہے ۔

(فتح الباری پ۱۴ص۳۱۳،اسی طرح زرقانی نے شرح مؤطا میں بحوالہ ترمذی بعدی نقل کیا ہے ۔ص۲۷۲ج۴مطبوعہ مصر)

تشریح لفظ عاقب از علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ

’’والعاقب الذی جاء عقب الانبیاء فلیس بعدہ نبی فان العاقب ھوالاخر فھو بمنزلۃ الخاتم ولھٰذا سمی العاقب علی الاطلاق ای عقب الانبیاء جاء عقبہم (زاد المعاد ج۱ص۳۳)‘‘

حدیث: قصر نبوت

قادیانی:

اوّل! تو نبی علیہ السلام کومحل کی ایک اینٹ قرار دیناآپ ﷺکی توہین ہے۔ کیونکہ آپ ﷺکا درجہ بہت بلند ہے۔ پھر اس کا یہ مطلب بتایا ہے کہ آپ ﷺنے پہلی شرائع کو کامل کر دیا ہے اور شریعت کے محل کو مکمل کر دیا ۔ حدیث میں پہلے انبیاء کا ذکر ہے بعد میں آنے والے کا نہیں ۔

جواب:

محل کی تو ایک مثال ہے ۔شریعت وغیرہ کا اس حدیث میں کوئی ذکر نہیں۔ آنحضرت ﷺکو ﷲ تعالیٰ نے خاتم النّبیین فرمایااور ساتھ یہ جان کرکہ آئندہ کذاب ودجال پیدا ہو نے والے ہیں جن میں سے کوئی تو عذر کرے گا کہ میرا نام ’’لا‘‘ ہے اور حدیث میں ’’لانبی بعدی‘‘ آیاہے اور کوئی یہ عذر کرے گا کہ مردوں میں نبوت ختم ہے۔ میں عورت ہوں اس لئے میرا دعویٰ خاتم النّبیین کے منافی نہیں ۔اور کوئی یہ عذر کرے گا کہ دور محمدیہ میں نبوت ختم ہے نئی کتاب اور شریعت خاتم النّبیین کے خلاف نہیں۔(جیسا کہ بہائی مذہب والے کہتے ہیں )اور کوئی یہ عذر کرے گا کہ شریعت والی نبوت ختم ہے ۔بغیر شریعت کے نبی آسکتا ہے جیسا کہ مرزا قادیانی نے کہا اور کوئی یہ عذر کرے گاکہ حدیث میں پہلے نبیوں کا ذکر ہے بعدکا نہیں ۔ان تمام باتوں کو ملحوظ رکھ کر ﷲتعالیٰ نے

117

اپنے نبی کی زبان سے آیت کی وہ تفسیر کرائی جس سے تمام دجالوں کی تاویلات :’’ھبائً منثورا‘‘ ہو جاویں۔

چنانچہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میرا خاتم النّبیین ہونا ان معنوں سے ہے کہ جس طرح ایک محل بنایا جائے ۔جس کی تکمیل میں صرف ایک اینٹ کی کسر ہو۔سو اسی طرح یہ سلسلہ انبیاء علیہم السلام کا ہے جس میں کتاب والے آئے اور بلا کتاب والے بھی ۔یہ روحانی انبیاء علیہم السلام کا سلسلہ چلتاچلتا اس مقام پر پہنچا کہ صر ف ایک ہی نبی باقی رہ گیا ۔سو وہ نبی میں ہوں۔ جس کے بعد کوئی اور نبی نہیں ہوگا۔اس مثال سے جملہ دجال وکذاب اشخاص کی تاویلات واہیہ تباہ وبرباد ہو کر رہ جاتی ہیں۔نہ تشریعی وغیر تشریعی کا عذر نہ عورت ومرد کا امتیاز ۔نہ پہلے اور پچھلوں کا فرق ۔محل نبوت تمام ہو گیا ۔نبوت ختم ہو گئی اب بعد میں پیدا ہو نے والے بموجب حدیث ‘سوائے دجال وکذاب کے اور کسی خطاب کے حقدار نہیں۔

قادیانی اعتراض:۱

بعض روایات میں لفظ ’’من قبلی ‘‘ موجود ہے ۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ سب انبیاء کی مثال نہیں بلکہ گذشتہ انبیاء کی مثال ہے ۔ نیز اس روایت سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ جس قسم کے پہلے نبی آیا کرتے تھے ۔اس قسم کے نبی اب ہرگز نہیں آئیں گے۔ جیسا کہ: ’’من قبلی ‘‘ ظاہر کرتا ہے ۔

جواب:

چونکہ سب انبیاء علیہم السلام آپ ﷺسے پہلے گزر چکے ہیں ۔اس لئے ’’من قبلی‘‘ بولا گیا ہے ۔نیز جملہ: ’’ختم بی البنیان وختم بی الرسل ‘‘ جریان نبوت کی فقط نفی کرتا ہے۔ دوسرے یہ کہ حدیث :’’من قبلی ‘‘ الفاظ خصوصیت سے قابل غور ہیں۔ جن سے انبیاء کا عمو م بتلایا گیا ہے ۔ اور جملہ ’’ختم بی الرسل‘‘ اور ’’انا اللبنۃ وانا خاتم النبیین ‘‘ اور ’’فجئت انا و اتممت تلک اللبنۃ ‘‘ اس کی پوری تشریح کر رہے ہیں کہ شرعی یا غیر شرعی نبوت کی ہر قسم کی آخری اینٹ میں ہوں اور نبیوں کا اور ہر قسم کی نبوت کا ختم کرنے والا ہوں۔ میرے آنے سے وہ کمی پوری ہو گئی جو ایک اینٹ کی جگہ باقی تھی۔ اب کسی قسم کے نبی پیدا نہیں ہوں گے۔

پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ کہاں سے معلوم ہوا کہ پہلے صرف بلا واسطہ نبی ہوتے تھے اور اب آنحضرت ﷺ کی وساطت سے ہوا کریں گے ؟اور خدا تعالی کی سنت کی تبدیلی اور استثناء کس حرف سے معلوم ہوا ؟

مرزا نے بھی لکھا ہے کہ آنحضرت ﷺ آخری نبی ہیں اور جامع الکمالات بھی ؎

ہست او خیر الرسل خیر الانام ہر نبوت رابر وشد اختتام

( در ثمین فارسی ص۱۱۴‘سراج منیر ص۹۳ خ ص۹۵ ج۱۲)

ہر نبوت ختم کا کیا معنی؟اب مرزائی مرزاقادیانی پر کیا فتویٰ لگاتے ہیں؟دیدہ باید!

قادیانی اعتراض:۲

جب نبوت کے محل میںکسی نبی کی گنجائش نہیں رہی تو پھر آخر زمانہ میں عیسیٰ علیہ السلام کا تشریف لانا کس طرح ممکن ہو سکتا ہے ؟

جواب:

مثلاً کہا جاتا ہے کہ خاتم اولاد(سب سے آخر میں پیدا ہو نے والا) اس کا یہ مطلب نہیں کہ پہلی اولاد کا صفایا ہو

118

چکا ہے اور سب مر گئے ہیں ۔اسی طرح خاتم النّبیین سے کیسے سمجھ لیا گیا کہ تمام انبیاء سابقین پر موت طاری ہو چکی ہے ؟ بلکہ مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ کے بعد کسی کو یہ عہدۂ نبوت نہیں دیا جائے گا ۔اور ظاہر ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو آپ ﷺ کے بعد عہدۂ نبوت نہیں ملا ۔بلکہ آپ ﷺ سے پہلے مل چکا ہے ۔اور وہ اس وقت سے آخر عمر تک برابر اس وصف کے ساتھ متصف ہیں۔پھر معلوم نہیں کہ آپ ﷺکے خاتم النّبیین ہونے اور نزول مسیح علیہ السلام کے عقیدہ میں کیا تعارض ہے ؟

قادیانی اعتراض:۳

نبی ﷺ کو محل کی ایک اینٹ قرار دینا آپ ﷺکی تو ہین ہے ۔

جواب:

اگر کوئی شخص یہ کہے ‘فلاںشخص شیر ہے ۔تو کیا یہ مطلب ہے کہ وہ جانور ہے۔ جنگلوں میں رہتا ہے ۔ اس کی دم بھی ہے اور بڑے بڑے ناخنوں اور بالوں والا ہے۔کیا خوب یہ مبلغ علم و فہم؟نبی علیہ السلامنے ایک مثال سمجھا نے کے لئے دی ہے۔ اور اس میں تو ہین کہاں آگئی ؟اگر یہ توہین ہے تو پھر مرزا صاحب بھی اس توہین کے مرتکب ہوئے ہیں۔ یعنی یہی مثال مرزا نے دی ہے کہ : ’’جو دیوار نبوت کی آخری اینٹ ہے وہ حضرت محمدمصطفی علیہ السلامہیں ؟‘‘

(سرمہ چشم آریہ مصنفہ مرزا ص۱۹۸حاشیہ خ ص۱۹۸ج۲)

اس توہین کا جو جواب مرزائی دیں وہی میری جانب سے تصور کر لیں۔

حدیث: ’’ثلاثون کذابون‘‘

قادیانی:

تیس دجال کی تعیین بتاتی ہے کہ بعد میں کچھ سچے بھی آئیں گے ۔

جواب:

تیس کی تعیین اس لئے ہے کہ کذاب ودجال صرف تیس ہی ہوں گے۔ چنانچہ حدیث کے الفاظ: ’’لاتقوم الساعۃ حتیٰ یخرج ثلاثون دجالون کلہم یزعم انہ ر سو ل ﷲ (ابوداؤد)‘‘ (قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ تیس دجال وکذاب پیدا نہ ہو لیں) صاف دال ہے کہ قیامت تک تیس ہی ایسے ہونے والے ہیں ان سے زیادہ نہیں ۔خود مرزا قادیانی بھی مانتا ہے کہ یہ قیامت تک کی شرط ہے۔

’’آنحضرت ﷺفرماتے ہیں کہ دنیا کے آخر تک قریب تیس کے دجال پیدا ہوںگے۔‘‘

(ازالہ اوہام، خزائن ج۳ ص۱۹۷)

باقی رہا یہ کہ کچھ سچے بھی ہوں گے سو اس کے جواب میں وہی الفاظ کافی ہیں جو آپ ﷺ نے دجالوں کی تردید میںساتھ ہی اس حدیث میں فرمائے ہیں: ’’لانبی بعدی‘‘ میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔

قادیانی:

یہ دجال آج سے پہلے پورے ہو چکے ہیں ۔جیسا کہ ’’اکمال الاکمال‘‘ میں لکھا ہے۔

جواب:

حدیث میں قیامت تک شرط ہے ۔ ’’اکمال الاکمال‘‘ والے کا ذاتی خیال ہے۔ جو سند نہیں ۔بعض دفعہ ایک چھوٹے دجال کو بڑا سمجھ لیتا ہے ۔اسی طرح انہوں نے اپنے خیال کے مطابق تعداد پوری سمجھ لی ۔حالانکہ مرزاقادیانی کے دعویٰ نبوت نے وضاحت کردی کہ ابھی اس تعداد میں کسر باقی ہے ۔

مزید برآں حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے ’’فتح الباری شرح صحیح بخاری‘‘ میں اس سوال کو حل کرتے ہوئے فرمایا:

119

’’ولیس المراد بالحدیث من ادعیٰ النبوۃ مطلقاًفانہم لایحصون کثرۃ لکون غالبہم ینشألہم ذلک عن جنون وسوداء وانما المراد من قا مت لہ الشوکۃ (فتح الباری ص۲۵۵ج۶)‘‘

اور ہر مدعی نبوت مطلقا اس حدیث سے مراد نہیں۔ اس لئے کہ آپ ﷺ کے بعد مدعی نبوت تو بیشمار ہوئے ہیں۔ کیونکہ یہ بے بنیاد دعویٰ عموماجنون یا سوداء سے پیدا ہوتا ہے۔ بلکہ اس حدیث میں جن تیس دجالوں کا ذکر ہے وہ وہی ہیں جن کی شوکت قائم ہو جائے اور جن کا مذہب مانا جائے اور جن کے متبع زیادہ ہوجائیں۔

مزید اربات

اور ملاحظہ ہوایک طرف تو بحوالہ اکمال الاکمال آج سے چار سو برس قبل تیس دجال کی تعداد ختم لکھی ہے ۔مگر آگے چل کر بحوالہ حجج الکرامہ مصنفہ مولانا نواب صدیق حسن خان رحمۃ اللہ علیہ لکھا ہے کہ

آنحضرت ﷺنے جو اس امت میں تیس دجالوں کی آمد کی خبر دی تھی وہ پوری ہوکر ستائیس کی تعداد مکمل ہو چکی ہے۔ ‘‘(ص۵۴۰) گویا اکمال الاکمال والے کا خیال غلط تھا۔ اس کے ساڑھے تین سو برس بعد تک بھی صرف ستائیس دجال وکذاب ہوئے ہیں۔ بہت خوب ۔حدیث میں تیس کی خبر ہے ۔جس میں بقول نواب صاحب رحمۃ اللہ علیہ مسلمہ شمار ۲۷ ہو چکے ہیں۔ اب ان میں ایک متنبی مرزاقادیانی کو ملائیں تو بھی ابھی دو کی کسر باقی ہے ۔

یہاں تک تو مرزائی وکیل نے اس حدیث کو رسول ﷲ ﷺ کی مانتے ہوئے جواب دئیے۔مگر چونکہ اس کا ضمیر گواہی دیتا ہے کہ جواب دفع الوقتی اور بد دیانتی کی کھینچ تان ہے جسے کوئی دانا قبول نہیں کر سکتا ۔ اس لئے آگے چل کر عجیب دجالانہ صفائی کی ہے کہ یہ حدیث ضعیف ہے ۔آہ!صحاح ستہ خاص کر صحاح میں بھی سب کی سردار کتاب بخاری ومسلم کی حدیث اور ضعیف ؟اور پھر جرات یہ کہ حجج الکرامہ کے حوالہ سے لکھا ہے کہ حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے ’’فتح الباری‘‘ میں حدیث تیس دجال والی کو ضعیف لکھا ہے ۔حالانکہ یہ سراسر جھوٹ ہے ۔حجج الکرامہ کی جو عبارت درج کی ہے اگرچہ ساری نہیں درج کی گئی تا ہم اس سے ہی اصل حقیقت کھل رہی ہے ۔ملاحظہ ہو! لکھا ہے :

’’در حدیث ابن عمر سی کذاب در روایتی عبد ﷲ بن عمر نز د طبرانی است برپا نمیشود ساعت تا آنکہ بیرون آیندہفتاد کذاب، ونحوہ عند ابی یعلی من حدیث انس رضی اللہ عنہ، حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ گفتہ کہ سند ایں ہر دو حدیث ضعیف است ‘‘

ناظرین کرام !حجج الکرامہ کی عبارت میں تین روایتوں کا ذکر ہے ۔ابن عمر رضی اللہ عنہ کی تیس دجال والی (یہ صحیح مسلم بخاری وترمذی وغیرہ کی ہے بادنیٰ تغیر)دوسری روایت عبد ﷲبن عمر رضی اللہ عنہ کی جو طبرانی میں ہے ۔۷۰ دجال والی اور تیسری روایت انس رضی اللہ عنہ والی جوابو یعلی میں ہے۔ ۷۰ دجال والی حافظ صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے پچھلی دونوں روایتوں کو ضعیف کہا ہے۔ مگر مرزائی صحیح حد یث کو بھی اسی صف میں لاکر نہ صرف اپنے نامہ اعمال کو سیاہ کر رہا ہے بلکہ حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ اور نواب صدیق حسن خان رحمۃ اللہ علیہ پر افتراء کر کے اپنی مرزائیت کا ثبوت دے رہا ہے ۔اب آئیے !

میں آپ کے سامنے حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ کی اصل کتاب جس کا حوالہ دیا گیا پیش کروں: ’’وفی روایۃ عبد ﷲ بن عمر رضی اللہ عنہ عند الطبرانی لاتقوم الساعۃ حتی یخرج سبعون کذابا وسندھا ضعیف وعند ابی یعلی من حدیث انس رضی اللہ عنہ نحوہ وسندہ ضعیف ایضا‘‘

(فتح الباری شرح صحیح بخاری مطبوعہ دہلی ص۵۶۴جزء ۲۹)

120

عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت میں امام طبرانی کے نزدیک یہ وارد ہے کہ ستر کذاب نکلیں گے اور اس کی سند ضعیف ہے اور ابو یعلی کے نزدیک حضرت انس رضی اللہ عنہ کی حدیث سے بھی اسی طرح ہے اور اس کی بھی سند ضعیف ہے ۔

حاصل یہ ہے کہ حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے صرف ستردجال والی روایت کو جو دوطریق سے مروی ہے ،ضعیف لکھا ہے ۔نہ کہ تیس دجال والی روایت کو ۱؎ ۔

حدیث بنی اسرائیل

قادیانی:

حدیث میں ہے کہ بنی اسرائیل میں نبی سیاست کرتے رہے مگر میرے بعد خلفا ہوں گے۔ اس حدیث میں ’’سیکون‘‘ کا لفظ وارد ہے جس کے معنی ہیں عنقریب میرے بعد خلفا ہوں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ امت میں خلافت اور نبوت جمع نہ ہوگی۔ جو بادشاہ خلیفہ ہوگا نبی نہ ہوگا اور جو نبی ہوگا وہ خلیفہ نہ ہوگا ۔

جواب:

کیا کہنے اس یہودیا نہ تحریف کے ۔حدیث شریف کے الفاظ صاف ہیں کہ بنی اسرائیل کے بادشاہ نبی ہو تے تھے جب ایک فوت ہوتا تھا تو دوسرا اس کا قائم مقام بادشاہ بن جاتا تھا ۔اب اس تقریر سے خیال پیدا ہوتا تھا کہ پھر آنحضرت ﷺ کے بعد بھی بادشاہ ہوںگے جو آپ کے جانشین ہو کر نبی کہلائیںگے ۔

حضور ﷺ نے اس خیال کو یوں حل کیا کہ چونکہ میرے بعد کوئی نبی پیدا نہ ہوگا اس لئے میرے بعد میرے جانشین صرف خلفا ہوں گے جو عنقریب عنان خلافت سنبھالیںگے ۔ پھر بکثرت ہوں گے ۔اس حدیث سے صاف ظاہر ہے کہ نبوت بند اور انتظام ملکی کے لئے خلافت جاری ۔

اس خلافت کے مسئلہ کو دوسری جگہ یو ںبیان فرمایا: : ’’تکون النبوۃ فیکم ماشاء اللہ …ثم تکون خلافۃ علی منہاج النبوۃما شاء اللہ ثم تکون ملکاً عاضاًفیکون ماشاء اللہ …ثم تکون خلافۃ علی منہاج النبوۃ‘‘ (رواہ احمد والبیہقی مشکوٰۃ کتاب الفتن)

رہے گی میری نبوت تمہارے اندر جب تک خدا چاہے ۔پھر ہوگی خلافت، منہاج نبوت پر۔ اس کے بعد بادشاہی ہو جائے گی ۔پھر خلافت منہاج نبوت پر ہوگی۔ یعنی امام مہدی کے زمانہ میں ۔یعنی جس طریقہ پر امور سیاسیہ کو حضور پاک ﷺ نے چلایا اسی طرح حضور ﷺ کی سنت کے مطابق آخری زمانہ میں امام مہدی چلا ئے گا ۔

ایک اور روایت بیہقی میں ہے کہ اس کے بعد فساد پھیل جائے گا ’’حتی یلقوا اللّٰہ‘‘ یہاں تک کہ قیامت آجائے گی۔ (مشکوٰۃ کتاب الفتن) حاصل یہ کہ آنحضرت ﷺکے بعد اس امت کے لئے سوائے درجہ ولایت وخلافت کے نبوت کا اجرا نہیں ہوگا ۔

بطرز دیگر ’’س‘‘ تحقیق وقوع کے لئے ہے جیسے: ’’سَیُطَوَّقُوْنَ مَا بَخِلُوْا بِہٖ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ (آل عمران:۱۸۱)‘‘ یعنی جس چیز کا وہ بخل کرتے تھے وہ قیامت کے دن ضرور بالضرور ان کے گلوں میں طوق بناکر ڈالی جائے گی۔ ثابت یہ ہوا کہ نبوت منقطع ہو چکی ہے اور اس انقطاع کے بعد ایک چیز یقیناباقی ہے اور وہ خلافت ہے۔

۱؎ اسی عبارت کو علامہ عینی حنفی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی شرح بخاری میں اسی طرح نقل کیا ہے اور مسئلہ کو صاف کردیا ہے کہ ستر کی تعداد والی ہر دو روایات جو طبرانی اور ابو یعلی نے روایت کی ہیں وہ دونوں ضعیف ہیں۔ (عینی ص۳۹۸ج۱۱)

121

دیگر یہ کہ اسی حدیث میں آپ ﷺ کے بعد فوراً خلافت کا منہاج نبوت پر ہونا مذکور ہے اور اس سے مراد بالخصوص حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ،حضرت عمر رضی اللہ عنہ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ،حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت ہے۔ ان زمانوں میں آنحضرت ﷺ کی سنت کے مطابق عمل ہوتا رہا اور یہ امر مسلم ہے کہ یہ چاروں حضرات نبی نہ تھے اور نہ ان میں سے کسی نے نبوت کا دعوی کیا ۔ پس یہ حدیث اجرائے نبوت کی دلیل نہیں ہو سکتی ۔

حدیث : ’’لولم ابعث لبعثت یا عمر‘‘

قادیانی:

حدیث میں ہے: ’’لو لم ابعث لبعثت یا عمر‘‘ یعنی اگر میں مبعوث نہ ہوتا تو اے عمر رضی اللہ عنہ تو مبعوث ہوتا۔ لیکن چونکہ حضور ﷺ مبعوث ہوئے اس وجہ سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نبی نہ بن سکے۔ اس سے معلوم ہوا کہ نبوت کا امکان ہے ۔

جواب:

ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ نے مرقاۃ میں حدیث ’’لوکان بعدی نبی لکان عمر‘‘ کے تحت لکھا ہے ’’وفی بعض طرق ھذالحدیث لو لم ابعث لبعثت یا عمر‘‘ (ص۵۲۹ ج۵) لیکن ملا صاحب نے نہ راوی حدیث کانام لیاہے نہ مخرج کا پتہ دیاہے نہ الفاظ مذکورہ حدیث کی کسی معتبر یا غیر معتبر کتاب میں ملتے ہیں ۔البتہ حافظ مناوی رحمۃ اللہ علیہ نے ’’کنوز الحقائق‘‘ میں اس کے ہم معنی روایت دو طریق سے نقل کی ہے ۔ایک تو ابن عدی کے حوالہ سے، جس کے الفاظ یوں ہیں: ’’لو لم ابعث فیکم لبعث عمر فیکم‘‘ (ص۱۵۵۱ج۲) دوسری فردوس دیلمی کے حوالہ سے ،جس کے الفاظ اس طرح ہیں ’’لو لم ابعث لبعث عمر‘‘ (بحوالہ مذکورہ) ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ نے غالباً اسی روایت کو بالمعنی نقل کردیا ہے۔ محدثین کے نزدیک ہر دو روایت باطل اور جھوٹی ہیں اور موضوع ہیں ۔ ابن جوزی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی موضوعات میں ابن عدی والی روایت کو دو سندوں سے نقل کیا ہے اور چونکہ دونوں میں راوی وضاع ہیں اس لئے دونوں کو موضوع کہا ہے۔ چنانچہ سلسلۂ اسناد ملاحظہ ہو۔

۱… ’’حدثنا علی بن الحسین بن قدیرالمصری حدثنا زکریا بن یحیٰ الوقار حدثنا بشیر بن بکر عن ابی بکربن عبد اللہ بن ابی مریم الغسانی عن ضمرۃ عن غفیف بن الحارث عن بلال بن رباح قا ل قال النبی علیہ السلاملو لم ابعث فیکم لبعث عمر ‘‘

۲… ’’حدثنا عمر بن الحسن بن نصرالحلبی حدثنا مصعب بن سعید ابو خیثمۃ حدثنا عبد اللہ بن واقد الحرانی حدثنا حیوۃ بن شریح عن بکر بن عمروبن مشرح بن ھاعان عن عقبۃ بن عامر قال قال ﷺ لو لم ابعث فیکم لبعث عمر فیکم ‘‘

ابن جوزی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کے بعد فرمایا ہے: ’’زکریا کذاب یضع، وابن واقد الحرا نی متروک‘ ‘

ذہبی رحمۃ اللہ علیہ نے میزان میں خود ابن عدی سے جس نے روایت مذکور اپنی کتاب میں درج کی ہے نقل کیا ہے:’’قال ابن عدی، یضع الحدیث وقال صالح کان من الکذا بین الکبار‘‘ یعنی پہلی سند کا راوی زکریا ،حدیثیں بناتا تھا ۔زکریا بہت بڑے جھوٹوں میں سے ہے۔ دوسری سند کا راوی ابن واقد حرانی متروک ہے۔ جیسا کہ ابن جوزی اور ابن جوزجانی نے کہا ہے ۔بلکہ میزان میں یعقوب بن ا سماعیل کا قول ابن واقد حرانی کے بارے میں ’یکذب ‘ ‘ بھی موجود ہے ۔یعنی یہ بھی جھوٹا ہے چنانچہ اس نے ترمذی وغیرہ کی سند رجال ،اپنی جھوٹی روایت پر لگا لی ہے ۔

122

کنوز الحقائق کی دوسری حدیث بحوالہ فردوس دیلمی منقول ہے اس کی سند یوں ہے۔

’’قال الدیلمی انبأنا ابی انبأنا عبد الملک بن عبد الغفار انبأنا عبد اللہ بن عیسیٰ بن ہارون انبأنا عیسیٰ بن مروان حدثنا الحسین بن عبد الرحمٰن بن حمران حدثنا اسحٰق بن نجیع الملطی عن عطاء بن میسرۃ الخراسانی عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ عن النبی علیہ السلامانہ قال: لو لم ابعث فیکم لبعث عمر فیکم‘‘

یہ حدیث بھی موضوع اور باطل ہے۔ اس کی سند میں بھی اسحق ملطی وضاع وکذاب ہے ۔علامہ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ میزان میں لکھتے ہیں: ’’قال احمد ھو من اکذب الناس وقال یحیٰ معروف للکذب ووضع الحدیث‘‘ یعنی اسحق بڑا جھوٹا ہے ۔جھوٹی حدیثوں کو بنانے میں مشہور ہے۔ دوسرا راوی عطاء خراسانی بھی ایسا ہی ہے۔ تہذیب میں سعید بن مسیب رحمۃ اللہ علیہ کا قول منقول ہے ’’کذب عطاء‘‘ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے بھی ’’تاریخ صغیر‘‘ میں سعید کا قول ’’کذب‘‘ نقل کیا ہے ۔(ص۱۵۷)یعنی عطاء جھوٹا ہے ۔ خود امام ترمذی فرماتے ہیں ’عامۃ احادیثہ مقلوبۃ‘‘ یعنی عطاء خراسانی کی حدیثیں الٹی پلٹی غلط ہوتی ہیں۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے اسے کثیر الغلط کہاہے۔ (زیلعی)حاصل کلام یہ ہے کہ کنوز الحقائق کی دونوں روایتیں باطل اور جھوٹی ہیں اور یہ کچھ ان دونوں روایتوں پر ہی موقوف نہیں ہے بلکہ کامل ابن عدی اور فردوس دیلمی کی تمام روایات کا یہی حاصل ہے ۔شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ عجالہ نافعہ میں طبقہ رابعہ کا بیان فر ماتے ہوئے لکھتے ہیں۔ ’’احادیث یہ کہ نام ونشاں آنہا کہ در قرون سابقہ معلوم نہ بود ایں احادیث ناقابل اعتماد اند ‘‘پھر ان کے نقل کرنے والوں میں کتا ب الکامل لابن عدی اور فردوس دیلمی کا نام بھی گنا ہے۔ (ص۸۷۷)اور بستان المحدثین میں دیلمی کی کتاب الفردوس کے تذکرہ میں لکھتے ہیں۔ درسقیم وصحیح احادیث تمیز نمی کند لہٰذا دریں کتاب موضوعات واہیات ہم مدرج اند (ص۶۲)یہی حال فردوس دیلمی کی اس روایت کا بھی ہے جسے مرزا ئیوں نے اپنی ڈائری کے صفحہ نمبر ۵۱۸میں کنوز الحقائق کے حوالہ سے نقل کیا ہے ۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا ’’ابوبکر افضل ھٰذہ الامۃ الا ان یکون نبیا ‘‘ اور اس سے انکار نبوت کی دلیل پکڑی ہے ۔حالانکہ یہ روایت باطل ،موضوع اور جھوٹی ہے۔اور اس کے ثبوت کے لئے اس کے حوالہ میں فردوس دیلمی کا نام کافی ہے حافظ مناوی نے کنوز الحقائق میں فر دوس دیلمی کے حوالہ سے ہی نقل کیا ہے۔ ولعل فیہ کفایۃ

حدیث: ’’لوکان بعدی نبی لکان عمر‘‘

قادیانی:

اگر میرے بعدنبی ہوتا تو عمر ؓہوتا کا جواب یہ ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔ لہٰذا حجت نہیں ۔

جواب:

کیا ہر غریب حدیث ضعیف یا غلط ہوتی ہے ؟ہر گز نہیں کیونکہ مطلقاً غرابت صحت حدیث کے منافی نہیں ہے۔ جب تک کہ کوئی اور سبب نہ پایا جائے۔ چنانچہ خود مرزا نے بھی اس کو (ازالہ اوہام، خزائن ج۳ ص ۲۱۹)پر نقل کیا ہے ۔ اگر حدیث غیر معتبر ہو تی تو مرزا صاحب اس کو ازالہ اوہام میں ہر گز درج نہ کرتے ۔ کیوں کہ انکا دعوی ہے کہ: ’’لوگ آنحضرت ﷺ کی حدیثیں زید وعمر سے ڈھونڈ تے ہیں اور میں بلا انتظار آپ ﷺ کے منہ سے سنتا ہوں۔‘‘ (آئینہ کمالات اسلام، خزائن ج۵ ص۲۵)

123

حدیث : ’’لا نبی بعدی‘‘

قادیانی:

حدیث ’’لا نبی بعدی‘‘ میں لفظ بعدی بھی مغائرت اور مخالفت کے معنوں میں مستعمل ہوا ہے: ’’فَبِاَیِّ حَدِیْثٍ بَعْدَاللّٰہِ وَآیٰتہ یُوْمِنُوْنَ (جاثیہ:۶)‘‘ اللہ اور اس کی آیات کے بعد کون سی بات پر وہ ایمان لائیںگے۔ ﷲکے بعد سے کیا مقصدہے ؟ کیا ﷲ کے فوت ہوجانے کے بعد ؟یا ﷲ کی غیر حاضری میں؟ظاہر ہے کہ دونوں معنی باطل ہیں پس بعد ﷲ کا مطلب ہوگا کہ ﷲ کے خلاف ﷲ کو چھوڑکر۔ پس یہی معنی ’’لانبی بعدی‘‘ کے ۔یعنی مجھ کو چھوڑ کر یا میرے خلاف رہ کر کوئی نبی نہیں ہو سکتا ۔

حدیث میں ہے آنحضرت ﷺ نے فرمایا: ’’فاولتہا کذابین لیخرجان بعدی احدہما العنسی والآخر مسیلمۃ (بخاری ص ۶۲۸ج۲)‘‘ یعنی آنحضرت ﷺ نے فر مایا کہ خواب میں،میں نے سونے کے کنگن جو دیکھے اور ان کو پھونک مارکر اڑا دیا تو اس کی تعبیر میں نے یہ کی کہ اس سے مراد دو کذاب ہیں جو میرے بعد نکلیں گے۔ پہلا اسود عنسی ہے اور دوسرا مسیلمہ کذاب ۔یہاں بعد سے مراد غیر حاضری یا وفات نہیں بلکہ مخالفت ہے ۔کیونکہ مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی دونوں آنحضرت ﷺکی زندگی ہی میںمدعی نبوت ہوکر آنحضرت ﷺ کے با لمقابل کھڑے ہو گئے تھے ۔

جواب:

بعد کا ترجمہ ’’مخالفت ‘‘خلاف عربیت ہے لغت عربی کی کسی کتاب میں بعد کے معنی مغائرت ومخالفت کے نہیں لکھے ہیں ۔نہ اہل زبان سے اس کی کوئی نظیر موجود ہے۔حدیث ’’لانبی بعدی‘‘ کے معنی د وسری حدیثیں خود واضح کرتی ہیں۔ ’’لم یبق من النبوۃ الاالمبشرات (مشکوۃ ص۳۸۶)‘‘ یہاں بعد کا لفظ موجود نہیں اور ہر قسم کی نبوت کی نفی ہے۔کوئی نیا نبی نہ موا فق آئے گا نہ مخالف ۔صحیح مسلم میں ہے ’’انی آخر الانبیاء (ص۴۴۶)‘‘ پس اگر کوئی نیا ہی نبی گو موافق سہی آجائے تو آپ ﷺکی آخریت باقی نہیں رہتی۔ ابو داؤداور ترمذی میں ہے ’’انا خاتم النبیین لانبی بعدی (مشکوۃص۴۵۷)‘‘ یہاں لانبی بعدی کے ساتھ وصف خاتم النّبیین بھی مذکور ہے جو بعدہ کے معنی ’’مخالفت‘‘کے لینے کی تردید کرتا ہے۔ کیونکہ نئے موافق نبی کا آنا ختم نبوت کے منافی ہے ۔مسند احمد اور ترمذی میںہے: ’’ان الرِسَالَۃَ وَالنَّبُوَّۃَ اِنْقَطَعَتْ فَلَا رَسُوْلَ بَعْدِِیْ وَلَا نُبُوَّۃَ (ابن کثیر ص۸۹ج۸)‘‘ یہا ں بعد کے معنی مخالفت کے لینے کی تردید ’’انقطعت‘‘ سے ہورہی ہے۔ آنحضرت ﷺنے فرمایا کہ (موافق ومخالف )ہر قسم کی نبوت ورسالت بند ہوگئی ہے۔ پس میری رسالت ونبوت کے بعد نہ تو کوئی رسول ہی ہوگا اور نہ نبی ۔

اب سورۃ جاثیہ کی آیت مذکورکی تحقیق سنئے۔قرآن مجید عربی زبان میں ہے۔ عربی زبان جاننے کے لئے بہت سے فنون جو قرآن کے خادم ہیں حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ منجملہ ان کے ایک فن علم معانی کا ہے ۔اس علم میں ایک باب ایجاز کا ہے۔ جس میں لفظ اصل مراد سے کم لیکن کافی ہوتا ہے ۔اس کی دوسری قسم ایجاز حذف کا ہے۔ جس میں کچھ محذوف ہوتا ہے ۔ آیت مذکورہ اس قبیل سے ہے اور ’’بعد ﷲ‘‘ میں بعد کا مضاف الیہ محذوف ہے ۔چنانچہ تفسیر معالم وخازن میں ہے :’’ای بعد کتاب ﷲ‘‘ اور تفسیر جلالین وبیضاوی وکشاف وسراج المنیر وابوالسعودوفتح الباری وابن جریر میں ہے: ’’ای بعد حدیث ﷲ وھو القرآن ‘‘ اس کی تائید دوسری آیت سے بھی ہوتی ہے۔ سورۃ اعراف ومرسلات

124

آیت نمبر ۵۰میںہے : ’’فبای حدیث بعدہ یومنون ‘‘ بعدہ کی ضمیر مجرداور راجع ہے حدیث کی طرف۔ یعنی کس بات پر اس بات کے بعد ایمان لائیںگے ؟۔ اسی طرح نبی ﷺکی دعائیں جو حدیثوں میں آئی ہیںان میں بھی ایجاز حذف ہے۔ ایک دعا میں وارد ہے : ’’انت الاٰخر فلیس بعدک شیئٌ (مسلم ص۳۴۸ج۲) ای بعد اخریتک (مرقاۃ ص۱۰۸ج۳) فلا شیء بعدہ (مسلم ص۳۵۰ج۲) ای امرہ بالفناء‘‘ اسی طرح حدیث ’لانبوۃ بعدی (مسلم ص۲۷۸ج۲)‘‘ کے معنی میں لانبوۃ بعدنبوتی یعنی میری پیغمبری کے بعدکوئی پیغمبری نہیں ہے ۔

مرزائیوں کی دوسری دلیل(اسود عنسی اور مسیلمہ کذاب )کا جواب یہ ہے کہ یہاں بھی ایجاز محذوف ہے اور بعد کا مضاف الیہ محذوف ہے یعنی: یخرجان بعد نبوتی (فتح الباری انصاری پ۲۸ص۵۰۷) مطلب یہ ہے کہ اب جبکہ نبوت مجھے مل چکی ہے۔اس مل جانے کے بعد ان دونوں کا ظہور ہوگا ۔چنانچہ مسیلمہ اور اسود عنسی کا ظہور آپ ﷺکے نبی بن چکنے کے بعد ہوا ہے نہ قبل ۔اس محذوف پر قرینہ صحیح بخاری کی دوسری حدیث ہے جس کے الفاظ یہ ہیں ’الکذابین الذین انا بینھما (بخاری ص۶۲۸ج۲)‘‘ وہ دونوں جھوٹے مدعیان نبوت کہ ان دونوں کے درمیان میں موجودہوں۔ اسی کو واضح کرنے کے لئے امام بخاری نے حدیث : یخرجان بعدی ‘‘ کے متصل ہی انا بینھما کی روایت ذکر کی ہے ۔دیکھو کتاب (المغازی بخاری ص۶۲۸ج۲) اصل بات یہ کہ جب کوئی شخص اپنی بات منوانے پرتل جائے توپھرکوئی پروانہیں کرتاکہ بات بنتی ہے یانہیں۔قرآن کی مخالفت ہویاحدیث کی مخالفت اور عربی زبان کی مخالفت، اسے کوئی حجاب نہیں ہوتا ۔مرزاقادیانی اوراس کی ’’امت‘‘کایہی حال ہے۔

حاصل کلام یہ کہ کتاب وسنت ولغت عرب میں لفظ بعدبمعنیٰ مخالفت نہیں آیا۔ وھوالمراد! حضرت علی رضی اللہ عنہ سے متعلق روایت میں بھی لفظ بعدواردہے توکیا حضرت علی رضی اللہ عنہ آنحضرت ﷺکے مخالف تھے۔ اگر نہیں اور یقینا نہیں تو پھر ان کویہ جواب دیناکہ گوتم میرے ساتھ وہی نسبت رکھتے ہوجوموسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہارون علیہ السلام کوتھی۔ مگر میرے مخالف بن کرتم نبی نہیں ہوسکتے کیایہی مطلب ہے ۔کیاحضرت علی رضی اللہ عنہ نے نبوت کاعہدہ مانگاتھاجویہ جواب دیاگیاہے؟

ناظرین کرام !غورفرمایئے حضور ﷺجنگ کوتشریف لے جارہے ہیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اپنے پیچھے چھوڑتے ہیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اس بات کا ملال ہے کہ مجھے ساتھ کیوں نہیں لے جاتے۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ اے علی رضی اللہ عنہ میں تجھے کسی مغائرت کے سبب نہیں چھوڑ کر جارہاہوں بلکہ اپنے بعد اپنا جانشین بنا کر جا رہا ہوں۔ جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنا جانشین اورخلیفہ حضرت ہارو ن علیہ السلام کو بنا کر گئے تھے ۔فرق صرف اتنا ہے کہ ہارو ن علیہ السلام نبی تھے ،تم نبی نہیں ہو ۔امر مقدریوں ہی ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا ۔

نیز صحیح مسلم غزوۂ تبوک میں حضرت سعدبن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی وہ حدیث، جس میں لانبی بعدی کی بجائے لا نبوۃ بعدی کے الفاظ موجود ہیں ،جس کے معنی یہ ہیں کہ میرے بعد نبوت نہیں ۔اُس سے صاف واضح ہے کہ ’’لانبی بعدی‘‘ اور ’’لا نبوۃ بعدی‘‘ دونوں ایک ہی معنی میں ہیں یعنی آپ ﷺکے بعد کسی کو نبوت نہ دی جائے گی ۔

حدیث: ’’الخلافۃ فیکم و النبوۃ‘‘

قادیانی:

(حجج الکرامۃ ص۱۹۷)پر ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو فرمایا تھا: ’’الخلافۃ فیکم والنبوۃ‘‘ اس سے معلوم ہوا کہ اس امت میں نبوت بھی جاری ہے ۔

125

جواب۱:

اصل میں یہ ایک روایت نہیں بلکہ تین روایتیں ہیں جو (مسند احمد ص۲۸۳ج۱۲)پر موجود ہیں۔ ان کو سامنے رکھیں تو قادیانی دجل تار عنکبوت سے بھی کمزور نظر آئے گا ۔روایت نمبر۱۶۷۳ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ۔کہ آپ ﷺ نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا ’’الخلافۃ فیکم والنبوۃ ‘‘ روایت نمبر ۱۶۷۴بھی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ’’فیکم النبوۃ والخلافۃ‘‘ اور روایت نمبر۱۶۷۸ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مر وی ہے کہ آپ ﷺ نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے فر مایا: ’’لی النبوۃ ولکم الخلافۃ ‘‘ ان تینوں روایتوں کو سامنے رکھیں تو مسئلہ حل ہوجا تا ہے کہ آپ ﷺ کے فرمان مبارک کا منشاء یہ تھا کہ نبوت وخلافت قریش میں ہے۔ یعنی میں نبی (قریشی) ہوں۔ تم (قریش) میں خلافت ہو گی۔

جواب۲:

جہاں تک حجج الکرامۃ کی روایت ہے اس کے ساتھ ہی حجج الکرامۃ میں لکھا ہے ’’اخرجہ البزار در سندش محمد عامری ضعیف است‘‘ قادیانی علم کلام کا معیار دیکھئے کہ عقائد کے لئے ضعیف روایت کو سہارا بنایا جا رہا ہے۔ ڈوبتے کو تنکے کا سہارا !

جواب۳:

یہ روایت جہاں سند کے اعتبار سے ضعیف ہے ۔درایت کے اعتبار سے بھی غلط ہے ۔ اس لئے کہ ا ٓج تک بنو عباس میں کوئی نبی نہ ہوا ۔

جواب۴:

اگر یہ روایت صحیح بھی مان لی جا ئے تو پھر بھی مرزائیوں کے لئے مفید نہیں۔ کیونکہ آن دجال مرزا قادیانی تو مغل کا بچہ تھا۔ ان کا اس روایت سے بھلا کیا تعلق۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وحی اور قادیانی مغالطہ

قادیانی یہ کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب دنیا میں تشریف لا ئیں گے تو ان پر وحی نازل ہوگی یا نہیں؟اگر وحی ہوگی تو ثابت ہوا کہ حضور ﷺ کے بعدوحی ہوسکتی ہے۔ پس مسلمانوں کا عقیدہ غلط ہوا، اور اگر وحی نہ ہوگی تو کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے نبوت چھن گئی ؟

جواب۱:

انقطاع وحی سے مراد انقطاع وحی نبوت ہے ۔باقی کشف ،الہام، رؤ یا تو امت میں جاری ہے اور خود قرآن گواہ ہے کہ ہدایت کا راستہ دکھا نے اور کسی مخفی امر پر مطلع کر نے کے لئے وحی نبوت کے علاوہ اور بھی راستے ہیں۔ جیسے فرمایاگیا: ’’وَاَوْحَیْنَا اِلٰی اُمِّ مُوْسٰی، یا وَاَوْحٰی رَبُّکَ اِلیَ النَّحْلِ‘‘ شہد کی مکھی یا ام موسی کو جو رہنمائی ہوئی قرآن نے اسے وحی سے تعبیر کیا ہے۔ حالانکہ وہ لوگ نبی نہیں تھے۔ معلوم ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو وحی ہوگی وہ وحی نبوت نہ ہوگی ۔لہٰذا ان کی طرف وحی کا ہو ناامت کے عقیدہ انقطاع وحی نبوت کے منافی نہ ہوگا ۔

جواب۲:

وحی شریعت ، لازم نبوت ہے ۔مگر اس کے یہ معنی نہیں کہ ہر وقت اور ہر آن اس پر وحی نبوت نازل ہوتی رہے گی اور اگر وحی نازل نہ ہو تو وہ نبوت سے معزول ہوجائے۔ اس قادیانی فلسفہ سے تو معاذاللہ حضور ﷺ بھی کبھی نبوت کے عہدہ پربحال اور کبھی اس سے معزول ہو تے رہے ہوں گے؟ کیونکہ ابتدا میں تو برابر تین سال تک اور واقعہ افک میں ایک ماہ تک برابر وحی کا آنا موقوف رہا۔ تو کیا معاذ ﷲحضور ﷺ ان ایام میں نبوت سے

126

معزول سمجھے جائیں گے؟ (معاذاللہ ) بے شک عیسیٰ علیہ السلام تشریف لائیں گے لیکن اب ا ن پر وحی نبوت کا آنا لازم نہیں۔ کیونکہ بحکم خداوندی دین کامل ہو چکا ہے اور اب وحی نبوت کی حاجت نہیں ۔اس لئے نبی ہونے کے باوجود ان کو وحی نبوت نہ ہو گی ۔

عیسیٰ علیہ السلام کی آمد پر مسئلہ ختم نبوت اورقادیانی مغالطہ

قادیانی:

عیسیٰ علیہ السلام جب دوبارہ دنیا میں تشریف لا ئیںگے تو اس سے ختم نبوت کی مہر ٹوٹ جائے گی۔ ان کی تشریف آوری ختم نبوت کے منافی ہے۔ حضور ﷺ نے مسلم شریف کی روایت کے مطابق تین مرتبہ فرمایا کہ عیسیٰ نبی اللہ تشریف لائیںگے تو ختم نبوت کی مہر ٹوٹ جائے گی۔ لہٰذا ان کا تشریف لانا ختم نبوت کے منافی ہے ۔

جواب۱:

عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری اور مرزاقادیانی کے دعوی نبوت میں زمین وآسمان کا فرق ہے اور ان دونوں باتوں کو آپس میں خلط ملط کرنا انصاف کا خون کرناہے خاتم النّبیین کا تقاضہ اور مفہوم ومعنی یہ ہے کہ رحمت دوعالم ﷺ کے بعد کوئی شخص اب نئے طور پر نبی نہیں بنایاجائے گا ۔نئے سرے سے کسی کو اب نبوت ورسالت نھیں ملے گی۔ بخلاف عیسیٰ علیہ السلام کے کہ وہ حضور ﷺ سے پہلے کے نبی ورسول ہیں۔ ان کو آپ سے پہلے نبوت مل چکی ہے۔ لہٰذا ان کی تشریف آوری ختم نبوت کے منافی نہیں۔ کشاف، تفسیر ابوسعود، روح المعانی، مدارک، اور شرح مواہب زرقانی میں ہے: ’’معنی کونہ آخر الانبیاء ای لا ینبأ احدبعدہ وعیسیٰ ممن نبی قبلہ‘‘ یعنی آخر الانبیاء ہونے کے معنی یہ ہیں کہ حضور ﷺ کے بعد کوئی شخص نبی نہ بنایاجائے گا۔ جبکہ عیسیٰ علیہ السلام ان نبیوں میں سے ہیں جن کو منصب نبوت آنحضرت ﷺ سے پہلے عطاکیا جا چکا ہے۔ ‘‘ اس سے یہ بات واضح ہو گئی کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کو ئی شخص نئے سرے سے منصب نبوت پر فائز نہیں ہوسکتا ۔

اب مرزا قادیانی کے کیس پر غور کریں کہ اس نے چودہویں صدی میں نبوت کا دعوی کیا تو اس کا دعویٔ نبوت، رحمت دوعالم ﷺ کے خاتم النّبیین ہونے کے بعد ہے۔ لہٰذا یہ نہ صرف غلط بلکہ ختم نبوت کے منافی ہے ۔ مرزا قادیانی کا دعویٔ نبوت کرنا آنحضرت ﷺ کے ارشاد کے مطابق کہ جو شخص میرے بعد دعوئے نبوت کرے گا دجال، کذاب ہوگا۔ (ترمذی ،ابو داؤد،مشکوٰۃکتاب الفتن) یہ دعوی دجل وکذب پر مبنی ہے ۔یہ ہردوعلیٰحدہ علیٰحدہ امر ہیں ان کوباہمی خلط ملط نہیں کیا جاسکتا۔

قابل توجہ بات یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کسی کو نبی یا رسول متعین کرکے مبعوث نہ کیا جائے گا اور کوئی بھی فرد آکر حسب سابق یہ نہیں کہے گا کہ: ’’اِنِّیْ رَسُوْلٌ مِنْ رَّبِّ العٰلَمِیْنَ ‘‘ یا خدا اسے کہے ’’اِنَّااَرْسَلْنَٰـکَ‘‘ چنانچہ جب مسیح آئیںگے تو آکر کوئی دعوی یا اعلان نہیں کریںگے۔ بلکہ جب آپ نازل ہوںگے تو آپ کو پہچان لیا جائے گا ۔نہ کوئی اعلان واظہار، نہ کوئی دعوی وبیان، نہ مباحثہ، نہ کوئی دلیل وحجت کچھ نہیں ہوگا۔ بخلاف قادیانی کے کہ یہاں سب کچھ ہوا۔ مرزا نے کہا مجھ پر وحی ہوئی، مجھے اللہ تعالی نے کہا انا ارسلنا احمد الی قومہ (تذکرہ ص۳۴۵) تو یہ سرا سر دجل، کذب اور ختم نبوت کے منافی ہے ۔

جواب۲:

مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے آپ کو والدین کے لئے خاتم الاولاد کہا ہے۔ (تریاق القلوب، خزائن ج۱۵

127

ص۴۷۹) مرزا نے جب اپنے آپ کو خاتم الاولاد کہا۔ اس وقت مرزا قادیانی کا بڑابھائی مرزا غلام قادر زندہ تھا۔ پہلے بھائی کا زندہ ہونا مرزا کے خاتم الاولاد کے خلاف نہیں ہے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا تشریف لانا بھی رحمت دوعالم ﷺ کی ختم نبوت کے منافی نہیں ہے۔

جواب۳:

خاتم النّبیین کا معنی یہ ہے کہ انبیاء کا شمار اب بند ہوگیا ہے اور کوئی ایسا نبی نہ ہوگا جس کے آنے سے انبیاء کی تعداد میں اضافہ ہو آپ ﷺ آخری نبی ہیں۔ یعنی انبیاء کا شمار زیادہ ہوتا گیا ۔حتیٰ کہ آخری نمبرزمانہ کے لحاظ سے آنحضرت ﷺ کا نمبر ٹھہرا۔فرض کروکہ آنحضرت ﷺ سے پہلے ایک لاکھ ایک کم چوبیس ہزار انبیاء ہوچکے تھے تو آپ ﷺ کے آنے سے پورے ایک لاکھ چوبیس ہزا ر کی گنتی پوری ہو گئی ۔اب آپ ﷺ نے آکر انبیاء کی تعداد کو بند کردیا۔ اگرچہ آنحضرت ﷺ کی نبوت سب سے اوّل تھی۔ لیکن زمانہ کے لحاظ سے آپ کا ظہور سب سے آخر میں ہوا۔ اب کسی نئے شخص کو منصب نبوت پر فائز نہ کیا جائے گا ۔ورنہ انبیاء کی تعداد میں اضافہ ہوگا۔ مثلاً پھر ایک لاکھ چوبیس ہزار اور ایک، نبی ہوجائیںگے اور پہلے انبیاء کی جو گنتی بند ہو چکی تھی وہ بند نہ ہوگی اور اس تعداد پر زیادتی ہوجائے گی اور یہ ختم نبوت کے منافی ہوگا۔

اب اس معنی کے بعد عرض کرونگا کہ حضرت مسیح علیہ السلام اگر آنحضرت ﷺ کے بعد دوبارہ تشریف فرماہوں تو اس سے ختم نبوت اور خاتم النّبیین کے مفہوم میں کوئی کسی قسم کا خلل واقع نہ ہوگا۔ کیونکہ حضرت مسیح کا شمار تو پہلے ہوچکا ہے۔ اب وہ دوبارہ نہیں شمار کئے جائیںگے۔ اگر بالفرض سہ بار بھی آجائیں یا چالیس سال نہیں بلکہ اس سے زیادہ سال بھی ان پر وحی ہوتی رہے بلکہ اس سے بڑھ کر بالفرض اگر تمام انبیاء سابقین بھی دوبارہ آجائیں تو اس سے ختم نبوت اور خاتم النّبیین کے مفہوم میں کسی قسم کی خرابی نہ ہوگی۔ کیونکہ ان سب انبیاء کرام کا شمار پہلے ہو چکا ہے۔ اب ان کے دوبارہ آنے سے سابقہ تعداد میں کوئی اضافہ نہ ہوگا اور آخر نبی اور خاتم النّبیین بھی آنحضرت ﷺ ہی رہیںگے۔ کیونکہ ظہور کے لحاظ سے اور زمانہ کے لحاظ سے آخری نمبر آنحضرت ﷺ کو ہی نبوت عطا ہوئی ہے آپ ﷺ کے بعد کسی کو نبوت عطا نہ ہوگی۔ اسی مفہوم کو ہمارے اہل اسلام علماء نے ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے ۔(تفسیر روح المعا نی ص ۳۲ج۲۲)پر ہے: ’’انقطاع حدوث وصف النبوۃ فی احد من الثقلین بعد تحیتہ علیہ الصلوٰۃ والسلام بہا فی ھٰذہ النشأۃ‘‘ یعنی اس عالم ظہور میں آنحضرت ﷺ کے منصب نبوت سے ممتاز ہوچکنے کے بعد کسی کو وصف نبوت سے نہ نوازا جائے گا۔

خازن میں ہے: ’’خاتم النبیین ختم بہ النبوۃ بعدہ‘‘ (تفسیر خازن ص۲۱۸ج۵) یعنی آنحضرت ﷺ کے بعد کسی کو نبوت حاصل ہو یہ نہ ہوسکے گا ۔بلکہ نبوت ختم ہو چکی ہے ۔

’’خاتم النبیین آخرہم یعنی لا ینبأ احد بعدہ‘‘ (تفسیر مدارک ۲۱۱) مطلب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد اب کسی کو نئی نبوت حاصل نہ ہوگی کیونکہ آپ ﷺ آخری نبی ہیں۔ یعنیآپ ﷺکا نمبر زمانہ اور ظہور کے لحاظ سے سب سے آخری نمبر ہے۔

پس حاصل جواب یہ ہوا کہ آنحضرت ﷺ کے بعد حضرت مسیح علیہ السلام کے دوبارہ آنے سے انبیاء کرام علیہم السلام کی شمار میں کوئی فرق نہیں آئے گا۔ جو تعداد انبیاء کرام علیہم السلام کی پہلے تھی وہی باقی رہے گی ۔

لیکن مرزا قادیانی یا مسیلمہ کذاب یا ان جیسے مدعیان نبوت کی نبوت کو صحیح تسلیم کرنے سے خاتم النّبیین اور ختم

128

نبوت کا مفہوم بالکل بگڑ جائے گا اور جو شمار انبیاء کرام کا پہلے ہوچکا ہے اس پر یقینا اضافہ کرنا ہوگا کیونکہ مرزا اور اس کے یاران طریقت تمام مدعیان کا پہلے اعداد میں شمار نہیں ہوا۔ لہٰذا وہ پہلے نمبروں پر زائد ہوں گے ۔مثلاً فرض کرو کہ ایک لاکھ بیس ہزار انبیاء کا شمار تھا تو اب اس عدد پر ایک یا دو یا تیس چالیس کا اضافہ ہوجائے گا اور آخری نمبر پر پھر مرزا قادیانی کا ہوگا۔ وہی خاتم النّبیین ٹھہرے گا۔ (نعوذ باللہ )

اس اجمالی عرضداشت سے مرزا کے آنے سے ختم نبوت کے مفہوم کا بگڑ جانا اور حضرت مسیح کے دوبارہ آنے سے مفہوم خاتم النّبیین میں کوئی فرق نہ پڑنا بالکل روز روشن کی طرح واضح ہو چکا ہے۔ فالحمد للہ علی ذالک!

ایک ضمنی بات

ہاں ایک چیز رہ جاتی ہے کہ شاید مرزا ئی کہہ دے کہ مرزا قادیانی کیوں کہ ایک بروزی نبی ہے اور وہ غیر مستقل ہے اس لئے اس کے آنے سے شماروتعداد میں اضافہ نہیں ہوگا تو یہ باطل ہے۔ کیونکہ انبیاء کی تعداد میں تشریعی اور غیر تشریعی سب شامل ہیں ۔ چنانچہ باقرار مرزا قادیانی حضرت یوشع علیہ السلام یا حضرت مسیح علیہ السلام بروزی یا غیر تشریعی نبی اور دوسرے نبی کے متبع تھے تو ان کے آنے سے کیا اضافہ نہیں ہوا ؟اور ان کے آنے کو انبیاء کا آنا نہیں سمجھا گیا ؟یقینا ان کو تعداد میں شمار کیاگیا اور ان کو بھی انبیاء کی گنتی میں شامل کیاگیا۔ چنانچہ قرآن مجید میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد انبیاء کا یوں ذکر فرمایا ’’وَقَفَّیْنَا مِنْ بَعْدِہٖ بِالرُّسُلِ (بقرۃ:۸۷)‘‘ تو ان کو بھی انبیاء ورسل کی صف میں شمار کیاگیا تھا ۔اب دو ہی صورتیں ہیں یا تو باقرار خودبروزی انبیاء کی آمد کو انبیاء کی آمد نہ سمجھو اور آیت: ’’وَقَفَّیْنَا مِنْ بَعْدِہٖ بِالرُّسُلِ‘‘ کا انکار کردو یا پھر تسلیم کرو کہ مرزاقادیانی کے آنے سے انبیاء کی تعداد میں اضافہ ہوگا ایک نمبر اور بڑھ جائے گا تو آخری نبی آنحضرت ﷺ نہ رہے۔ نعوذباللہ!

مدعیٔ نبوت کے متعلق استخارہ کا حکم

قادیانی:

جواب:

استخارہ ایسے امور میں ہوتا ہے جس کا کرنا یا نہ کرنا دونوں امور مباح ہوں۔ ایسے امر میں استخارہ کرنا جس کا حلال یا حرام شریعت نے واضح کردیاہے جائز نہیں ۔ جیسے ماں بیٹے پر حرام ہے ۔اب کوئی بیٹا یہ استخارہ نہیں کرے گا کہ ماں مجھ پر حلال ہے یا حرام ہے۔ ایسا کرنے والا اسلام کے حدود کو توڑنے والا ہوگا۔ اسی طرح نماز فرض ہے ۔اب نماز کی فرضیت یا عدم فرضیت پر کوئی مسلمان استخارہ نہیں کرسکتا ۔

اسی طرح آپ ﷺ ﷲتعالی کے آخری نبی ہیں کوئی آدمی آپ ﷺکے بعد مدعی نبوت کے لئے استخارہ نہیں کرسکتا۔ جو استخارہ کرے گا وہ کافر ہوگا۔ کیونکہ استخارہ کرنے کے معنی یہ ہیں کہ اس کے نزدیک آپ ﷺ کے بعد کوئی اور نبی بن سکتا ہے۔ تبھی تو استخارہ کررہا ہے۔ اگر اسے یقین ہو کہ کوئی نبی نہیں بن سکتا تو پھر استخارہ کیوں کرے؟ استخارہ کا دل میں خیال لانا گویا آپ ﷺ کے بعد مدعیٔ نبوت کے لئے جگہ پیدا کرنا ہے اور ایسا کرنا کفر ہے۔ لہٰذا آپ ﷺکے بعدکسی مدعیٔ نبوت کے لئے استخارہ کرنا کفرہے ۔

129

درود شریف اور قادیانی مغالطہ

قادیانی:

’’اللہم صل علی محمد وعلی آل محمد کماصلیت علی ابراہیم وعلی آل ابراہیم انک حمید مجید ۔اللہم بارک علی محمد وعلی آل محمد کمابارکت علی ابراہیم وعلی آل ابراہیم انک حمیدمجید ‘‘

حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کی اولاد پر خیر وبرکت نبوت ورسالت تھی۔ اس قسم کی برکات اور رحمتیں آل محمد پر ہونی چاہئیں۔ ورنہ لفظ کما کا لانا صحیح نہ ہوگا ۔

جواب۱:

درود شریف میں جس خیر وبرکت کا ذکر ہے اس سے کثرت اولاد اور بقاء نسل مرا دہے ۔جیسا کہ اس آیت سے ظاہر ہے: ’’قَالُوْا اَتَعْجَبِیْنَ مِنْ اَمْرِاللّٰہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہ‘ عَلَیْکُمْ اَہْلَ الْبَیْتِ اِنَّہ‘ حِمِیْدٌ مَّجِیْدٌ (ھود:۷۳)‘‘ تفسیر عثمانی میں ہے کہ بعض محققین نے لکھا ہے کہ درود ابراہیمی اس آیت شریف سے اقتباس کیا گیاہے۔ اس میں حضرت سارہ علیہا السلام کو اولاد کی بشارت دیتے ہے ارشاد فرمایاگیاہے، خیر وبرکت والی اولاد مراد ہے۔ عطاء نبوت کا اس میں کوئی ذکر نہیں۔ اس لئے درود شریف میں نبوت ورسالت کی برکت مراد نہیں ۔

جواب۲:

اگر ’’صل‘‘ یا ’’بارک‘‘ سے نبوت مراد ہے ’’صل علی محمد، بارک علی محمد‘‘ کے معنی یہ ہوں گے محمد ﷺکو نبوت کی برکت عطا فرما۔ حضور ﷺنبی ہوتے ہوئے اپنے لئے نبوت کی دعا کررہے ہیں اور امت بھی حضور ﷺ کے لئے عطاء نبوت کی دعا کررہی ہے ۔یہ بات نہ صرف یہ کہ بیہودہ ہے بلکہ بداہۃ غلط ہے۔

جواب۳:

ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میںتو مستقل وتشریعی نبی تھے۔ کیا حضور ﷺ کی اولاد میں بھی تشریعی نبی ہوں گے؟ یہ تو مرزائیوں کے عقیدہ کے بھی خلاف ہے۔

جواب۴:

ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میںمستقل نبوت کا سلسلہ چلا۔ حضور ﷺ کی اولاد میں چودہ سو سال میں کوئی بھی نہ بنا اور بقول مرزا ئیوں کے جو بنا، تو وہ حضور ﷺ کی اولاد سے نہیںتھا اور وہ بنا بھی تو ظلی وبروزی بنا ۔(چلی وموذی)جس ظلی وبروزی کا ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں ذکر ہی نہیں۔ غرض مرزا کی تحریف کو تسلیم بھی کرلیں تولفظ ’کما‘ کا کمال یہ ہے کہ اس کے معنی مرزا پر فٹ نہیں آتے ۔اس مرزا ئی تحریف پر سوائے ’’سبحانک ھذا بہتان عظیم‘‘ کے اور کیا کہا جاسکتا ہے ؟

جواب۵:

حضور ﷺ کی شریعت اتنی اعلی، افضل، اکمل اور اتم ہے کہ ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء علیہم السلام کی تمام شریعتیں مل کر آپ ﷺکی شریعت کا مقابلہ نہیں کرسکتیں۔ آج سے چودہ سو سال قبل آپ ﷺ کو جو شریعت ملی۔ اس کا مقابلہ ہوہی نہیں سکتا۔ کیا یہ آپ ﷺ کی شان میں گستاخی نہیں کہ آپ ﷺ جیسی شریعت کے ہوتے ہوئے اس کے مقابل حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کی اولاد جیسی نعمت (شریعت) مانگیں۔ ’’اَتَسْتَبْدِلُوْنَ الَّذِیْ ہُوَ اَدْنٰی بِالَّذِیْ ھُوَ خَیْرٌ‘‘

جواب۶:

قادیانی جاہلوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ یہاں لفظ کما ہے جس سے قادیانی مشابہت تامہ سمجھ رہے ہیں۔ حالانکہ مشبہ اور مشبہ بہ میں مشابہت تامہ من کل الوجوہ نہیں ہوا کرتی بلکہ ایک جز میں مشابہت کی وجہ سے ایک چیز کو

130

دوسری چیز سے مشابہت دیدی جاتی ہے۔ بقائے نسل وغیرہ سے کما کی تشبیہ کا تقاضہ سوفی صد پورا ہوگیا۔ خود مرزا قادیانی نے لکھاہے: ’’یہ ظاہر ہے کہ تشبیہات میں پوری پوری تطبیق کی ضرورت نہیں ہوتی ہے ۔بلکہ بسا اوقات ایک ادنی مماثلت کمی وجہ سے بلکہ ایک جز ومیں مشارکت کے باعث ایک چیز کا نام دوسری چیزپر اطلاق کردیتے ہیں۔ ‘‘ (ازالہ اوہام، خزائن ج۳ ص۱۳۸)

خلاصہ یہ کہ درودشریف میںجن رحمتوںوبرکتوںکوطلب کیاجاتاہے وہ نبوت کے علاوہ ہیں۔ وجہ یہ کہ آیت: ’’لٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ‘‘ میںصریح نبوت کو آنحضرت ﷺ پرختم کرچکاہے۔

(تحفہ گو لڑویہ ص۵۲، خزائن ج۱۷ ص۱۷۴)

خیرامت کاتقاضہ اورقادیانی مغالطہ

قادیانی:

ایک اورشبہ مرزائیوںکی طرف سے پیش ہواکرتاہے کہ پہلے انبیاء کی شریعت کی خدمت کے لئے توانبیاء کرام تشریف لایاکرتے تھے ۔اب اس امت میں بھی اگرانبیاء تشریف نہ لائیںتوآپ ﷺکی امت خیرامت اوربہترین امت نہ رہے گی ۔

جواب۱:

یہ بھی ایک محض دھوکہ دہی ہے ۔اوّل تواس لئے کہ ’’شہادت القرآن‘‘ میںمرزاقادیانی نے لکھاہے کہ پہلے انبیاء کے بعدتوخدمت دین کے لئے انبیاء کرا م غیرتشریعی آیاکرتے تھے ۔اب اس امت میںبوجہ ختم نبوت کے انبیاء (غیرتشریعی) تو نہیں آئیں گے البتہ خلفاء آتے رہیںگے اورمجددین کاوقتا فوقتا دور دورہ ہوتا رہے گا، تو تمہارا مرزا قادیانی ہی اس کا جواب دے چکا۔

(ملخص شہادت القرآن ص۵۹خزائن ص۳۵۵ج۶)

جواب۲:

یہ کہ اگرآنحضرت ﷺکی امت میںعلماء مجددین ہی وہ فریضہ اداکریں جوڈیوٹی بنی اسرائیل کے انبیاء اداکیاکرتے تھے توآپ ﷺکی امت خیر امت ہوگی اور اس میںامت مرحومہ کی افضلیت ثابت ہوگی کیونکہ ادنی درجہ کے لوگ اعلی درجہ والے حضرات کی ڈیوٹی ادافرمارہے ہیں۔ سواس میںآنحضرت ﷺ یاآ پ کی امت کی کوئی ہتک نہیںبلکہ زیادہ عزت ہے۔

دعاء اور قادیانی مغالطہ

عام طور پر قادیانی کہہ دیا کرتے ہیں کہ آپ بھی دعا کریں ہم بھی دعا کرتے ہیں کہ مرزا قادیانی سچا تھا یا جھوٹا۔ جو حق پر نہ ہوگا وہ ہلاک ہوجائے گا ۔

جواب۱:

مرزا قادیانی بھی اسی طرح لوگوں کو کہا کرتا تھا مگر مرزا قادیانی کا جو حشر ہوا کیا وہ آپ کو یاد نہیں ؟کہ اپنی منہ مانگی موت، وبائی ہیضہ میں مرا۔

جواب۲:

مرزا قادیانی کا مولانا عبد الحق غز نوی سے مباہلہ ہوا اور مرزا قادیانی اپنے حریف مولانا غزنوی کے دیکھتے دیکھتے مباہلہ کے نتیجہ میں ہلاک ہوگیا ۔مرزا کے جھوٹ نے مرزا کو تباہ وبرباد کردیا ۔

جواب۳:

مرزا قادیانی نے مولانا ثناء اللہ امرتسری کے مقابلہ میں بددعا کی کہ جھوٹا سچے کے مقابلہ میں ہلاک ہوجائے۔ چنانچہ مرزا، مولانا امرتسری کی زندگی میں ہلاک ہوا، اور اپنے جھوٹ پر مہر تصدیق ثبت کرگیا۔ سچ ہے کہ مرزا

131

کذب میں سچا تھا اس لئے پہلے مرگیا ۔

جواب۴:

مرزا قادیانی نے اپنے ازلی ابدی رقیب ،مرزا سلطان بیگ کے موت کی پیشگوئی کی مگر سلطان بیگ کے زندہ ہوتے ہوے ہیضہ کی موت سے دوچار ہوگیا ۔کیا مرزا کے جھوٹا ہونے کے لئے ابھی مزید شہادت درکار ہے کہ دعا کی جائے ۔

جواب۵:

مرزا قادیانی نے اپنے ایک اور حریف ڈاکٹر عبد الحکیم خاں کو مرتد قرار دیااور فرشتوں کی کھنچی ہوئی تلوار دکھائی اور دعا کی کہ: ’’اے میرے رب سچے اور جھوٹے کے درمیان فیصلہ کردے۔ ‘‘قدرت کا کرشمہ دیکھئے کہ ﷲ نے اس کی کوئی اور دعا سنی یا نہ سنی، لیکن یہ دعا ضرور سن لی اور ڈاکٹر صاحب کی زندگی میں ہلاک وبرباد ہوکر اپنے جھوٹے ہونے کی ایسی نشانی چھوڑ گیا جو مرزا ئی امت کی ندامت کے لئے کافی ہے ۔

جواب۶:

اسی طرح ایک اوردعاکاواقعہ عرض کرتاہوں۔ہماری جماعت ’’عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت‘‘ کے بانی رکن اوردوسرے امیر،خطیب پاکستان حضرت مولاناقاضی احسان احمدشجاع آبادی رحمۃ اللہ علیہ تھے۔جماعت قادیانی کے مشہورمناظرقاضی نذیراحمدسے آپ کی گفتگو ہوئی۔ جب قاضی نذیرقادیانی لاجواب ہوگیا اورکوئی جواب اس سے نہ بن پڑاتوخفت مٹانے اوراپنے ہمراہیوں کو مرعوب کرنے کی غرض سے قاضی احسان احمدشجاع آبادی رحمۃ اللہ علیہ سے یہی کہاکہ آپ بھی دعا کریں میں بھی دعاکرتاہوں۔جوسچاہوگااس کی دعاقبول ہوجائے گی اتفاق سے قاضی ایک آنکھ سے عاری (کانے) تھے ۔ہمارے حضرت قاضی احسان احمد رحمۃ اللہ علیہ نے فوراہاتھ اٹھائے اور فرمایا، یا ﷲ اگر مسلمان سچے ہیںاورمرزائی جھوٹے ہیںتواس قاضی نذیرقادیانی کی آنکھ ٹھیک نہ ہو۔ منہ پرہاتھ پھیرکرقاضی نذیرقادیانی کوکہاکہ اب آپ دعاکریں کہا اگرآپ سچے ہیں تو آپ کی آنکھ ٹھیک ہو جائے۔ اس پر قاضی نذیر کھسیانی بلی کھمبا نوچے ‘کا عملی مصداق بن کررہ گیا۔

ظلی اوربروزی نبوت کی کہانی

مرزا قادیانی نے لکھا ہے : ’’لیکن اگر کوئی شخص اُسی خاتم النّبیین میں ایسا گم ہو کہ بباعث نہایت اتحاد اور نفی غیریت کے اسی کا نام پالیا ہو اور صاف آئینہ کی طرح محمدی چہرہ کا اس میں انعکاس ہو گیا ہو تو وُہ بغیر مہر توڑنے کے نبی کہلائے گا۔ کیونکہ وہ محمد ہے گو ظلی طور پر۔ پس باوجود اس شخص کے دعویٰ نبوت کے جس کانام ظلی طور پر محمد اور احمد رکھا گیا پھر بھی سیدنا محمد a خاتم النّبیین ہی رہا کیونکہ یہ محمد ثانی اسی محمد ﷺ کی تصویر اور ا سی کا نام ہے۔ ‘‘

(ایک غلطی کا ازالہ، خزائن ص۲۰۹ج۱۸)

مرزا قادیانی کی اس عجیب وغریب تحقیق کا جائزہ تو بعد میں لیا جائے گا۔ پہلے اس پر نظر فرمائیے کہ اس نے (حقیقت الوحی ص۱۰۰) پر خاتم النّبیین کی تفسیر کرتے ہوئے لکھا ہے: ’’آنحضرت ﷺ کی توجہ روحانی سے نبی بنتے ہیں۔‘‘ جس کا واضح مطلب یہ نکلا کہ کسی کے دعویٔ نبوت سے ختم نبوت کی مہر ٹوٹنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتابلکہ ختم نبوت کی مہر تو مزید نبی بنا نے کے لئے ہے اور اس نئی تحقیق میں دعویٔ نبوت کو اس نے ختم نبوت کی مہر ٹوٹنے کا مترادف قرار دیا ہے اور مہر کو ٹوٹنے سے بچانے کے لئے ظلی، بروزی کا دم چھلہ لگا یا ہے۔ یعنی دعویٔ نبوت سے تو مہر ٹوٹ جائے گی لیکن کوئی ظل بن جائے اور تصویر ثانی بن جائے تب نہیں ٹوٹے گی ۔

132

اب پہلے مرزاقادیانی اور اس کی امت سے یہ پوچھا جائے کہ دونوں میں سے کونسی بات صحیح ہے اور کون سی غلط؟ اگر حقیقت الوحی کے اعتبار سے معنی صحیح ہیں تو مرزا کو ظل اور بروز کا ڈھکوسلہ بنا نے کی کیا ضرورت پڑی تھی ؟اور اگر (ایک غلطی کا ازالہ) کے مطابق معنی صحیح ہیں کہ: ’’خاتم النّبیین‘‘ سے نبوت تو ختم ہو چکی ہے۔ یعنی نبوت پر اب بند کی مہر لگ گئی ہے۔ وہ کوئی مہر نہیں کہ اس سے نبی بنا کریںگے۔ ہاں !مرزا کے آنے سے اس لئے وہ مہر نہیں ٹوٹتی کہ وہ ظل اور تصویر ثانی بن کر آیا ہے ۔ظاہر ہے کہ دونوں معنی صحیح نہیں ہو سکتے۔ ایک ضرور غلط ہوگا ۔

اب ایک غلطی کے ازالہ کی غلطیاں دیکھئے ۔

مرزا نے لکھا ہے کہ: ’’اس کا حل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے کامل اتباع سے کوئی شخص ظلی یا بروزی طور پر عین محمد ﷺ بن جاتا ہے۔ ‘‘

جواب۱:

اگر یہ صحیح ہے تو ہم دریافت کرتے ہیں کہ ابتداء اسلام سے مرزا قادیانی کی پیدائش تک کیا کسی اور کو بھی یہ کامل اتباع نصیب ہوئی ؟حضرات صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین میں سے کوئی ظلی طور پر محمد بنا یا نہیں؟ جنھوں نے آپ ﷺ کی محبت اور پیروی کے لئے اپنے ماں باپ، بھائیوں سے قتال کیا اور ایک ایک سنت پر جان دی۔ ان میں محمدی چہرہ کا انعکاس ہوا یا نہیں؟ اگر ان میں کسی کو یہ مرتبہ حاصل ہوا تو کیا انھوں نے اس مرزائی ڈھکوسلہ بازی کے مطابق دعویٔ نبوت کیا؟

جواب۲:

مرزا نے یہ ظل وبروز کی کہانی ہندؤںکے عقیدہ تناسخ سے لیا ہے لیکن مرزائیوں کے ڈوب مرنے کی بات ہے کہ مرزا نے بے سمجھے ان سے یہ عقیدہ لیا ہے۔ کیونکہ ظل ا و ر بروز کاتو اسلام میں کوئی تصور ہی نہیں یہ قطعاً غیراسلامی عقیدہ ہے اور جن متصوفین نے اس لفظ کو استعمال کیا ہے ان کا مرزا ئی فلسفہ سے کوئی جوڑ نہیں اور جو لوگ تناسخ اور حلول کے قائل ہیں وہ کبھی اس کے قائل نہیں کہ دوسری نئی پیدائش میں آنے والا، بعینہٖ پہلی پیدائش والے شخص جیسا ہو جاتا ہے، اس کے احکام اور حقوق وہی ہوتے ہیں جو پہلے شخص کے تھے۔ مثلا فر ض کرلوکہ زیدمر گیااورپھروہ کسی دوسری پیدائش میںآیا۔ اس کے ماںباپ نے نام عمررکھاتوکسی مذہب وعقیدہ میںعمرکے نام سے پید ا ہونے والے زیدکو یہ حق نہیں کہ قدیم حقوق کامطالبہ کرے۔ اپنی سابق بیوی کو بیوی سمجھے۔ سابق ماںباپ کوماںباپ کہے۔ و ا ر ثوں میںتقسیم شدہ جائیدادکواپنی ملک قراردے دے۔

مرزاقادیانی کافلسفہ سب سے نرالاہے کہ اسلامی عقیدہ کوتو خراب کیا ہی تھا۔تناسخ کے عقیدہ کا بھی ستیاناس کردیاکہ جس شخص کو ظل وبروز قرار دیا۔ اس کو یہ حق بھی دے دیا کہ وہ اپنے پچھلے سارے حقوق کا مالک بنا رہے۔ وہ اپنے کو ر سو ل ونبی بھی کہے اورساری دنیاکواپنی نبوت ماننے پرمجبوربھی کرے اورجونہ مانے اس کوکافرکہے۔ پہلے حق کا حوالہ دے کر اپنے گرد جمع ہونے والے ڈفالیوں کو صحابہ سے تعبیر کرے اور اپنی چڑیل بیویوں کو اسی بنیاد پر ام المومنین کا لقب دے۔ فیا للعجب!

ایں کارازتومی…آیدومرداں چنیں کنند

جواب۳:

اس کے بعدکوئی مرزاصاحب سے پوچھے کہ نبوت ورسالت کے معا ملہ میں آپ کے ظل وبروز کے فلسفہ پر کیا کوئی قرآن وحدیث کی شہادت بھی موجود ہے؟ کہیں قرآن کریم نے ظلی وبروزی نبی کا ذکر کیا ہے ؟یا کسی

133

حدیث میں اس کا کوئی اشارہ ہے ؟اور اگر ایسا نہیں تو پھر اسلام کادعوی رکھتے ہوئے اسلام کے بنیادی عقیدہ رسالت میں اس ہندؤانہ عقیدہ کو ٹھونسنا کون سی دینی روایت یا عقل وشریعت ہے ؟

جواب۴:

صرف یہی نہیں کہ بروز اور نبی بروزی کے پیدا ہونے سے احادیث وقرآن کی نصوص خالی اور ساکت ہیں۔ بلکہ آنحضرت ﷺ کی بہت سی احادیث اس کے بطلان کا اعلان صاف صاف کررہی ہیں۔

ملاحظہ ہو وہ حدیث جو آخری نبی ﷺنے اپنے آخری اوقات حیات میں بطور وصیت ارشاد فرمائی اور جس کے الفاظ یہ ہیں۔

’’یا ایہاالناس انہ لم یبق من مبشرات النبوۃ الا الرویا الصالحۃ‘‘رواہ مسلم و النسائی وغیرہ عن ابن عباس رضی اللہ عنہ‘‘ اے لوگو !مبشرات نبوت میں سے سوائے اچھے خوابوں کے اور کچھ باقی نہیں رہا ۔

اور اسی مضمون کی ایک اور حدیث بخاری ومسلم وغیرہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی روایت کی ہے۔ جس کے الفاظ یہ ہیں: ’’لم یبق من النبوۃ الا المبشرات‘‘ بخاری کتاب التفسیرو مسلم ‘‘ نبوت میں سے کوئی جز باقی نہیں رہا سوائے اچھے خوابوں کے۔

اوراسی مضمون کی ایک حدیث حضرت حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ سے طبرانی نے روایت کی ہے۔اورنیزامام احمد رحمۃ اللہ علیہ اورابوسعید رحمۃ اللہ علیہ اورمردویہ رحمۃ اللہ علیہ نے اسی مضمون کی ایک حدیث حضرت ابوطفیل رضی اللہ عنہ سے بھی روایت کی ہے اور احمد رحمۃ اللہ علیہ اورخطیب رحمۃ اللہ علیہ نے بھی یہی مضمون بروایت عائشہ رضی اللہ عنہا نقل کیا ہے۔ جن میں سے بعض کے الفاظ یہ ہیں: ’’ذہبت النبوۃ وبقیت المبشرات‘‘ نبوت تو جاتی رہی اور اچھا خواب باقی رہ گئے۔

الغرض ان متعدد احادیث کے مختلف الفاظ کا خلاصۂ مضمون یہ ہے کہ نبوت ہر قسم کی بالکل مختتم اور منقطع ہو چکی۔ البتہ اچھے خواب باقی ہیں جو کہ نبوت کا چھیالیسواں جز ہیں۔ (جیساکہ بخاری ومسلم وغیرہ کی احادیث سے ثابت ہوتا ہے )

لیکن ظاہر ہے کہ کسی چیز کے ایک جز وموجود ہو نے سے اس چیزکا موجود ہونا لازم نہیں آتا اور نہ جز کا وہ نام ہوتا ہے جو اس کے کل کا ہے۔ ورنہ لازم آئے گا کہ صرف نمک کو پلاؤ کہا جائے کیونکہ وہ پلاؤ کا جز ہے اور ناخن کو انسان کہا جائے کیونکہ وہ انسان کا جز و ہے۔ اسی طرح ایک مرتبہ اللہ اکبر کہنے کو نماز کہا جائے کیونکہ وہ نماز کا جز ہے یا کلی کرنے کو غسل کہا جائے کیونکہ وہ غسل کا جزو ہے۔

غرض کوئی عقل مند انسان جزو اور کل کو نام میں بھی برابر نہیں کرسکتا۔ احکام کا تو کہنا کیا۔ پس اگر نمک کو پلاؤ اور پانی کو روٹی اور ایک ناخن یا ایک بال کو انسان نہیں کہہ سکتے تو نبوت کے چھیالیسویں جزو کو بھی نبوت نہیں کہ سکتے۔

خلاصہ یہ ہے کہ حدیث میں نبوت کے بالکلیہ انقطاع کی خبر دے کر اس میں سے نبوت کی کوئی خاص قسم یا اس کا کوئی فرد مستثنیٰ نہیں کیاگیا۔ بلکہ استثناء کیا گیا تو صرف چالیسویں جزو کا کیاگیا ہے۔جس کو کوئی انسان نبوت نہیں کہہ سکتا۔

اب منصف مزاج ناظرین ذرا غور سے کام لیں کہ اگر نبوت کی کوئی نوع یا کوئی جزئی مستقل یا غیر مستقل، تشریعی یا غیر تشریعی، ظلی یا بروزی، عالم میں باقی رہنے والی تھی تو بجائے اس کے کہ آنحضرت ﷺ نبوت کے چھیالیسویں جزو کا استثناء فرمائیں ضروری تھا کہ اس نوع نبوت کا استثناء فرماتے ۔

اور جب کہ آپ ﷺنے استثناء میں صرف نبوت کے چھیالیسویں جزو کو خاص کیا ہے تو یہ کھلا ہوا اعلان ہے کہ

134

یہ بروزی نبوت جو مرزا قادیانی نے ایجاد کی ہے (اگر بالفرض کوئی چیز ہے اور اس کا نام نبوت رکھا جاسکتا ہے) تو آنحضرت ﷺ کے بعد یہ بھی عالم میں موجود نہ رہے گی۔

جواب۵:

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا : ’’کَانَتْ بَنُوْ اِسْرَائِیْلَ تَسُوْسُہُمُ الْاَنْبِیَاء کُلَّمَا ہَلَکَ نَبِیُّ فَخَلَفَہٗ نَبِیُّ وَاِنَّہٗ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ وَسَیَکُوْنُ خُلَفَا ء فَیَکْثِرُوْنَ قَالُوْا فَمَا تَاْمُرُنَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ فواببیعۃ الاول فالاولِ اعطوہم حَقَّہ‘‘

(بخاری ص۴۹۱ج۱،مسلم کتاب الایمان ومسند احمد ص۲۹۷ج۲وابن ماجہ وابن جریر،وابن ابی شیبہ )

آنحضرت ﷺ کے اس ارشاد میں غور کرو کہ کس طرح اول تو نبوت کے بالکلیہ انقطاع کی خبر دی اور پھر جو چیز نبوت کے قائم مقام آپ ﷺ کے بعد باقی رہنے والی تھی اس کو بھی بیان فرمادیا ۔جس میں صرف خلفاء کا نام لیاگیا ہے۔اگر آپ ﷺ کے بعدکوئی بروزی نبی آنے والا تھا اور نبوت کی کوئی قسم بروزی یا ظلی، مستقل یا غیر مستقل ،تشریعی یا غیر تشریعی دنیا میں باقی رہنے والی تھی تو سیاق کلام کا تقاضہ تھا کہ اس کو ضرور اس جگہ ذکر فرمایا جاتا۔

اورجب آنحضرت ﷺ نے اپنے بعد نبوت کا قائم مقام صرف خلفاء کو قرار دیا ہے۔ تو ضرور اس کا اعلان ہے کہ آپ ﷺکے بعد کوئی نبی بروزی وغیرہ نہیں ہوسکتا۔

جواب۶:

حضرت ابو مالک اشعری رحمۃ اللہ علیہ روایت فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’ان اللّٰہ بدأھٰذا الامربنبوۃ ورحمۃ وکائناً خلافۃ ً ورحمۃً (رواہ الطبرانی فی الکبیر)‘‘ اللہ تعالی نے اس کام کو ابتداء نبوۃ اور رحمت بنایا اور اب خلافت اور رحمت ہوجانے والا ہے ۔

اس حدیث میں بھی اختتام نبوت اور اس کے بالکلیہ انقطاع کے ساتھ یہ بھی ارشاد فر مادیا کہ نبوت رحمت ختم ہوکر خلافت رحمت باقی رہے گی ۔جس میں صاف اعلان ہے کہ نبوت کی کوئی قسم بروزی یا ظَلی وغیرہ نہیں رہے گی ورنہ ضروری تھا کہ بجائے خلافت کے اس کے ذکر کو مقدم رکھا جاتا ۔

جواب۷:

آخر میں ہم ناظرین کی توجہ ایک ایسے امر کی طرف منعطف کرتے ہیں کہ جس میں تھوڑا سا غور کرنے سے ہر شخص اس پر بلا تأمل یقین کرے گا کہ آپ ﷺ کے بعد کسی قسم کا کوئی نبی بروزی ،ظلی وغیرہ نہیں ہو سکتا۔

جس کا حاصل یہ ہے کہ غالباً کوئی ادنی مسلمان اس میں شک نہیں کرسکتا کہ نبی کریم ﷺ اپنی امت پر سب سے زیادہ شفیق اور مہربان ہیں۔ آپ ﷺ کو دنیا کی تمام چیزوں میں اس سے زیادہ محبوب کوئی چیز نہیں کہ ایک آدمی کو ہدایت ہو جائے اور اسی طرح اس سے زیادہ کوئی چیز رنج دہ اور باعث تکلیف نہیں کہ لوگ آپ ﷺ کی ہدایت کو قبول نہ کریں۔ خداوند سبحانہ اپنے رسو ل کی رحمت وشفقت کو اس طرح بیان فرماتا ہے: ’’عزیز علیہ ما عنتم حریص علیکم بالمومنین رؤف رحیم‘‘ سخت گراں ہے رسول ﷲ ﷺ پر تمہاری تکلیف۔ وہ تمہاری ہدایت پرحریص ہے اور مسلمانوں پر شفیق ومہربان۔

اور دوسری جگہ آپ ﷺکی تبلیغی کوششوں کو ان وزن دار الفاظ میں بیان فر مایا ہے: ’’لَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفْسَکَ اَلاَّ یَکُوْنُوْا مُؤمِنِیْن (شعراء:۳)‘‘ شاید آپ ﷺ اپنی جان کو ان کے پیچھے گنوادیں گے اگر وہ ایمان نہ لائیں۔

135

پھر اس نبی امی (فداہ ابی وامی )کے ارشاد وتبلیغ پر جانکاہ کوشش،مخلوق کی ہدایت کے لئے سخت ترین جفا کشی۔ ان کی سخت سے سخت ایذاؤںپر صبر وتحمل۔ کفار کی جانب سے پتھروں کی بارش کے جواب میں: ’’اللہم اھد قومی فانہم لا یعلمون ‘‘ (روح المعانی ج۶ ص۱۹۸، الاحادیث المختارہ لمقدسی ج۱۰ ص۱۶، الفردوس بما ثورالخطاب ج۳ ص۴۳۲) اے اللہ !میری قوم کو ہدایت کر کیوں کہ وہ جانتے نہیں ۔ فرمانا ایک ناقابل انکار مشاہدہ ہے جو آپ ﷺ کی اس شفقت کی خبر دے رہا ہے جو کہ آپ ﷺکو خلق اللہ کی ہدایت کے ساتھ تھی۔

اور اسی وجہ سے آپ ﷺ نے امت کو ایسی سیدھی اور صاف روشن شاہراہ پر چھوڑا ہے کہ قیامت تک اس پر چلنے والے کے لئے کوئی خطرہ نہیں۔ بلکہ ’’لیلہا ونہارہا سواء‘‘ کا مصداق ہے ۔یعنی اس کا رات اور دن برابر ہے ۔

آپ ﷺ کے بعد قیامت تک جس قدر فتنے پیدا ہونے والے تھے اگر ایک طرف ان کی ایک ایک خبر دے کر ان سے محفوظ رہنے کی تدبیریں امت کے لئے بیان فرمائیں تو دوسری جانب اس امت میں جس قدر قابل اتباع اور قابل تقلید انسان پیدا ہونے والے تھے ان میں ایک ایک سے امت کو مطلع فرماکر ان کی اقتدا کا حکم دیا۔ غرض کوئی خیر باقی نہیں کہ جس کی تحصیل کے لئے امت کو ترغیب نہ کی ہو اور کوئی شرباقی نہیں کہ جس سے امت کو ڈرا کر اس سے بچنے کی تاکید نہ فرمائی ہو۔

چنانچہ آپ ﷺنے اپنے بعد امت کو حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی اقتدا کا حکم کیا اور فرمایا: ’’اقتدوا بالذین من بعدی ابی بکر وعمر (بخاری )‘‘ ان دوشخصوں کی اقتدا کرو جو میرے بعد خلیفہ ہوں گے۔ یعنی ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنہ ایک جگہ آپ ﷺنے ارشاد فرمایا:’’علیکم بسنتی وسنۃ الخلفاء الراشدین‘‘ ایک جگہ ارشاد فرمایا: ’’انی ترکت فیکم ما ان اخذتم بہ لن تضلوا کتاب اللہ وعترتی‘‘ (ترمذی ص۴۴ج۱)

پھر آپ ﷺنے اطلاع دی کہ ہر سوسال کے بعد ایک مجدد پیدا ہوگا جو امت کی عملی خرابیوں کی اصلاح فرماکر ان کو نبی علیہ السلامکی ٹھیک سنت پر قائم کرے گا اور آپ ﷺ کی ان سنتوں کو زندہ کرے گا جن کو لوگ بھلاچکے ہوں گے۔

(رواہ ابو داؤد والحاکم )

اور ارشادفرمایا کہ آخر زمانہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے اور اس امت کے لئے امام ہوکر ان کی عملی خرابیوں کی اصلاح فرمائیںگے۔ یہاں تک کہ حضور ﷺ نے اپنے بعد ہونے والے خلفاء کی اطاعت کا حکم فرمایا اور اس کی یہاں تک تاکیدفرمائی لفظ وصیت سے اس تاکید کو بیان فرمایا: ’’اوصیکم بتقوی اللّٰہ والسمع والطاعۃولو امر علیکم عبد حبشی مجدع الاطراف‘‘ (مسند احمد، ابو داؤد، ترمذی) میں تم کو اللہ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں اور خلفاء کی اطاعت وفرمانبرداری کی وصیت کرتا ہوں۔ اگر چہ تم پر ایک حبشی غلام لنگڑا لولا حاکم بنادیا جائے۔

اب منصف ناظرین غور فرمائیں !اگر اس امت میں کوئی کسی قسم کا ظلی بروزی نبی پیدا ہونے والا ہوتا تو ضروری تھا کہ آنحضرت ﷺ سب سے زیادہ اس کا ذکر فرماتے اور اس کے اتباع کی تاکید فرماتے۔ ورنہ ایک عجیب حیرت انگیز بات ہوگی کہ ایک لنگڑے غلام حبشی کی اتباع کی تو تاکید کی جائے اور ایک انوکھی اور بروزی رنگ میں پیدا ہونے والے ظلی نبی کا کوئی تذکرہ ہی نہ ہو۔ حالانکہ یہ بھی ظاہر ہے کہ خلیفہ کی اطاعت سے باہر ہونے سے زیادہ سے زیادہ ایک آدمی فاسق کہلائے گا لیکن نبی کے انکار سے تو آدمی کافر ہوجائے گا تو نبی کا ذکر تو نہ ہو اور خلفاء کا ذکر ہر جگہ ہو یہ کیسا الٹا معاملہ ہو گا۔

136

قادیانیو!ذرا سوچو! کہ وہ نبی جس کو رؤف ورحیم اور رحمۃ للعالمین کا خطا ب خدائے پاک دیتاہے ۔ وہ مخلوق خدا کو چھوٹی چھوٹی باتوں کی تو خبر دیتاہے لیکن کسی ایک حدیث میں بھی یہ اشارہ تک نہیں دیتا کہ چودہویں صدی میں ہم خود دوبارہ بروزی رنگ میں دنیا میں آئیںگے ،اس وقت ہماری تکذیب نہ کرنا ۔امت کو معمولی گناہوں سے بچنے کی تو تاکید کرتا ہے مگر ان کو کفر صریح میں مبتلا ہونے سے نہیں روکتا ۔معاذ اللہ !معاذ اللہ !

خلاصہ کلام یہ ہے کہ حدیث میں اس کا صاف اعلان ہے کہ آپ ﷺ کے بعد کو ئی ظلی، بروزی، تشریعی، غیرتشریعی نبی پیدا نہیں ہوگا۔

ظلی اور بروزی پر ایک اہم گزارش !

پہلے ظل اور بروز سے متعلق مرزائی تحریرات ملاحظہ فرمائیے اور پھر فیصلہ کیجئے کہ کیا ظل وبروز کا مرزائی فلسفہ کسی کے سمجھ میں آنے والا ہے؟

۱… مسیح موعود (مرزا قادیانی )کا آنا بعینہ محمد رسول اللہ کاگویا دوبارہ آنا ہے ۔ یہ بات قرآن سے صراحۃ ثابت ہے کہ محمد رسو ل اللہ دوبارہ مسیح موعود (مرزا قادیانی ) کی بروزی صورت اختیار کر کے آئیں گے۔ ‘‘(اخبار الفضل ج۲ نمبر۲۴) حالانکہ آج تک کسی مرزائی ماں نے ایسا بچہ جنم نہیں دیا کہ اسے قرآن سے ثابت کردکھائے۔ اگر کوئی ہے تو سامنے آئے۔ ناقل!)

۲… پھر مثیل اور بروز میں بھی فرق ہے ۔بروز میں وجود ِبروزی اپنے اصل کی پوری تصویر ہوتا ہے ۔یہاں تک کہ نام بھی ایک ہوجاتا ہے …بروز اور اوتار ہم معنی ہیں۔ ‘‘ (الفضل ۲۰؍اکتوبر ۱۹۳۱ء)

۳… میں احمدیت میں بطور بچہ کے تھا جو میرے کانوں میں یہ آواز پڑی۔ ’’مسیح موعود محمد است وعین محمد است ‘‘

(اخبار الفضل قادیان، ۱۷؍اگست ۱۹۱۵ء ج۲ نمبر۲۴)

۴… ’’اس میں کیا شک رہ جاتا ہے کہ قادیان میں اللہ تعالی نے پھر محمد ﷺکو اتارا۔‘‘

(کلمۃ الفصل ص۱۰۵)

۵… پس مسیح موعود (مرزا قادیانی ) خود محمد رسول اللہ ہے ۔جو اشاعت اسلام کے لئے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے۔‘‘ (کلمۃ الفصل ص۱۵۸)

۶… ’’مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ وَالَّذِیْنَ مَعَہ (الفتح:۲۹)‘‘ اس وحی الٰہی میں میرانام محمد رکھا گیا اور رسول بھی۔ ‘‘

(ایک غلطی کا ازالہ، خزائن ج۱۸ ص۲۰۷)

مذکورہ بالا مرزائی تحریرات، واقرارات کا واضح مطلب یہ ہے کہ مرزا قادیانی اور حضور ﷺ ہر لحاظ سے ایک ہیں۔ لیکن دریافت طلب امر یہ ہے کہ آیا دونوں جسم وروح ہر دولحاظ سے ایک تھے ۔یاحضور ﷺ کی صرف روح مرزاقادیانی میں داخل ہوئی تھی۔ پہلی صورت بداہۃ غلط ہے۔ اس لئے کہ حضور ﷺ کا جسم اطہر گنبد خضرا میں مدفون ہے اور دوسری صورت میں تناسخ کا قائل ہونا پڑے گا جو عقائد اسلام کے خلاف ہے۔ علاوہ ازیں قرآن حکیم شہداء کی حیات کا قائل ہے۔ انبیاء کا درجہ شہداء سے بہت بلند ہوتا ہے تو لازماً انبیا بھی حیات سے بہرہ ور ہیں تو پھر مرزا قادیانی میں انبیاء کی روح کہاں سے آگئی تھی؟ آریائی فلسفہ سے تو بروز واوتار کا مسئلہ سمجھ میں آتا ہے کہ یہ لوگ تناسخ کے قائل ہیں لیکن اسلام کی سیدھی سادی تعلیم ان پیچیدگیوں کی متحمل نہیں ہو سکتی۔

137

اور اگر عینیت سے مراد وحدت اوصاف وکمالات ہوں تب بھی بات نہیں بنتی اس لئے کہ :

۱… حضور ﷺ امی تھے اور مرزا کئی کتابوں کا مصنف ہے۔

۲… حضور ﷺ عربی تھے اور مرزا عجمی ہے ۔

۳… حضور ﷺ قریشی تھے ۔مرزا مغل کا بچہ ہے اور خود کو فارسی ہو نیکا مدعی ہے ۔

۴… حضور ﷺ دنیوی لحاظ سے بے برگ و بے نوا تھے ۔جبکہ مرزا کو رئیس قادیان کہلا نے کا بیحد شوق تھا اور زمین وباغات کا مالک تھا ۔

۵… حضور ﷺ نے مدنی زندگی کے د س برس میں ساراجزیرہ عرب زیر نگیں کرلیا تھا اور مرزا غلامی زندگی کو پسند کرتا تھا ۔جہاد وفتوحات کا قائل ہی نہ تھا ۔

۶… حضور ﷺ کے ہاں قیصروکسریٰ کے استبداد ختم کرنے کا پروگرام تھا اور مرزا انگریز کے جابرانہ وغاصبانہ تسلط کو قائم رکھنے کے منصوبے بناتا تھا ۔

۷… حضور ﷺ کے ہاں اسلام کو آزادی کا مترادف قرادیا گیاہے اور مرزا کا اسلام غلامی کا مترادف ہے۔

۸… حضور ﷺ کی صداقت کی گواہی غیروں نے بھی دی۔ جب کہ مرزا کو آج تک مرزائی سچا ثابت نہ کرسکے اور نہ کرسکیں گے۔ ’’ہَاتُوْابُرْہَانَکُمْ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ‘‘

۹… حضور ﷺ کی صاف ستھری زندگی سب پر عیاں ہے۔ جبکہ مر ز ا ئیو ں کی ماں نے ایسا بچہ جنم نہیں دیا جو مرزا کے گھناؤنے کیریکٹر پر بحث کرے۔

۱۰… حضور ﷺ کی مالی معاملات اور حقوق العباد کی ادائیگی میں بے مثال زندگی دنیا بھر کے لئے نمونہ ہے۔ جب کہ مرزا کی خیانت اور لوگوں کے حقوق ادا نہ کرنا آج بھی مرزا ئیوں کے لئے سوہان روح بنا ہوا رہتا ہے ۔

الغرض نہ وحدت جسم اور وحدت روح کا دعویٰ درست ہے اور نہ وحدت کمالات واوصاف کا تو پھر ہم یہ کیسے باور کرلیں کہ مرزا قادیانی عین محمد ہے یا محمد ﷺ کا بروز؟ (معاذاللّٰہ لاحول ولاقوۃ الاباللّٰہ)

ختم نبوت اور بزرگان امت

قارئین محترم! قادیانی گروہ چند بزرگان دین کی کچھ عبارتوں کو غلط معانی کا جامہ پہناکر عوام کے دلوں میں وسوسہ پیدا کرنے کی شیطانی کوشش کرتے ہیں۔ قادیانیوں کے اس دجل کو پارہ پارہ کرنے کے لئے ابتدائی چند اصولی باتیں زیر نظر رہنی چاہئیں۔

۱… پہلے آپ پڑھ چکے ہیں کہ قادیانی کس طرح قرآن وسنت سے کتر بیونت کرکے مطلب برآری کرتے ہیں۔ جو گروہ قرآن وسنت پر اپنے دجل کا کلہاڑا چلانے سے باز نہیں رہتا۔ اگر وہ بزرگان دین کی عبارتوں میں قطع وبرید کرے یا کسی بات کو اس کے سیاق وسباق سے ہٹاکر اپنے دجل وتلبیس کا مظاہرہ کرے تو یہ امر ان سے کوئی بعید نہیں۔

۲… ہمارا دعویٰ ہے کہ حضور پاک ﷺ سے لے کر آج تک کوئی شخص امت محمدیہ میں ایسا پیدا نہیں ہوا جس کا یہ عقیدہ ہو کہ حضور ﷺ کے بعد کوئی نبی بن سکتا ہے یا یہ کہ آپ ﷺ کے بعد فلاں شخص نبی تھا۔ اگر قادیانیوں میں ہمت ہے تو کوئی ایک مثال پیش کریں۔ ان شاء اللّٰہ! قیامت کی صبح تک وہ ایسا نہیں کر سکتے۔

138

۳… وہ توجیہات واحتمالات جو فرض محال کے درجہ میں ہوں۔ اگر،مگر، چنانچہ،چونکہ، وغیرہ کی قیدیں جن عبارات کے ساتھ لگی ہوئی ہوں ان سے کوئی بددیانت اور بدعقیدہ ہی عقائد کے باب میں استدلال کرے گا۔ ورنہ عقائد میں نص صریح اور صحیح کے علاوہ کسی کا گزر نہیں ہوتا چہ جائیکہ ان سے عقیدہ ثابت کیا جائے۔

پھر جن حضرات نے توجیہ کے یہ جملے ’’اگر ہوتے تو ایسے ہوتے ‘‘وغیرہ کہیں استعمال میں لائے ہیں تو صراحۃ وہ اس بات کے قائل ہیں۔

۱… آپ ﷺ پر نبوت ختم ہے۔

۲… آپ ﷺ کے بعد کوئی شخص کسی قسم کا نبی نہیں بن سکتا ۔

۳… آپ ﷺ کے بعد آج تک کوئی شخص نبی نہیں بنا۔

۴… جس کسی شخص نے نبوت کا دعوی کیا تو اسے کافر گر دانا ہے۔ ظاہر بات ہے کہ مدعی نبوت کو کافر قرار دیتے ہوئے ان کے اس قسم کے جملے اگر ہوتے تو ایسے ہوتے ’’لَوْکاَنَ فِیْہِمَااٰلِہَۃٌ اِلاَّ اللّٰہُ لَفَسَدَ تَا (الانبیاء:۲۲)‘‘ کے ہی قبیل سے ہوں گے۔ یعنی تعلیق بالمحال قرار دئے جائیںگے۔ لیکن قادیانی دجل کو دیکھئے کہ وہ محال کو احتمال اور احتمال کو استدلال سمجھ کر بے پر کی اڑائے جاتے ہیں۔ ’’وَمَا یَخْدَعُوْنَ اِلاَّ اَنْفُسَہُمْ (بقرۃ:۹)‘‘

۵… جملہ اکابرین نے ختم نبوت کا یہی معنی سمجھا کہ آپ ﷺکے بعد اب کسی کو منصب نبوت سے نہ نوازا جائے گا۔ اب کسی کو نبوت نہ ملے گی۔ نہ یہ کہ پہلی سب رسالتیں ختم ہوگئیں۔ ہاں اب ان رسالتوں میں سے کسی کا حکم نافذنہیں ہوگا۔ مفہوم ختم نبوت کا تقاضہ یہ ہے کہ پہلے پیغمبروں میں سے کوئی تشریف لا ئیں (جیسے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام)تو وہ آپ ﷺ کی شریعت کے ماتحت اور مطیع ہو کر آئیںگے۔ کیونکہ یہ دور دور محمدی ہے۔ آپ ﷺ کی شان خاتمیت کے پیش نظر دوباتیں ہیں۔ اوّل یہ کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی پیدا نہ ہو۔ دوم یہ کہ پہلوں میں سے کوئی آجائے تو وہ آپ ﷺ کی شریعت کے تابع ہوکر، آپ ﷺ کی شریعت کا مبلغ ہو کر رہے۔

خلاصہ یہ کہ آپ ﷺ کی نبوت قیامت تک جاری وساری ہے اب آپ کے بعد کسی کو نبوت ملنا ممکن نہیں رہا ۔ نبوت کی رحمت جو پہلے تغیر پذیر تھی اب پوری آن وبان ،کمال وشان کے ساتھ نوع انسانی کے پاس آپ ﷺ کی شکل مبارک میں ہمیشہ موجود رہے گی۔ ہم سے کوئی نعمت چھنی نہیں گئی بلکہ امت محمدیہ ﷺ کی رحمت کے مسئلہ پر آپ ﷺ کے ہوتے ہوئے ایسی مالامال کردی گئی ہے کہ اب کسی اور نبوت کی ضرورت نہیں ۔جس طرح سورج نکلنے کے بعد چراغ کی ضرورت باقی نہیں رہتی ۔آپ ﷺ کی آفتاب رسالت کے ہوتے ہوئے نوع انسانی کا کوئی فرد بشر کسی اور چراغ نبوت کا محتاج نہیں ۔

۶… آنحضرت ﷺ زمانہ کے اعتبار سے تمام انبیاء علیہم السلام کے آخر میں تشریف لائے اور اپنے مقام ومرتبہ، منصب وشان کے اعتبار سے بھی آپ ﷺ پر مراتب ختم ہوگئے۔آپ ﷺ پر تمام مراتب کی انتہا فرمادی گئی ۔اس ختم نبوت مرتبی کو ختم نبوت زمانی لازم ہے۔ ان میں تباین وتناقض نہیں اور نہ ختم نبوت مرتبی کے بیا ن سے ختم نبوت زمانی کی نفی لازم آتی ہے۔قادیانی وسوسہ اندازوں نے ایک کے اقرار کو محض اپنے دجل سے دوسرے کی نفی لازم قرار دے کر اپنا غلط مقصد پورا کرنے کے لئے چور دروازہ کھول دیا اور مرزا کو اس میں داخل کرنے کے درپے ہو گئے ۔

139

بزر گان اسلام میں جن حضرات نے آنحضرت ﷺ کی ختم نبوت مرتبی بیان کی قادیانی وسوسہ انداز فوراً کود پڑے کہ اس سے ہماری تائید ہو گئی اور انھوں نے اُن بزرگوں کی اُن عبارات پر سرسری نظر بھی نہ ڈالی جن میں حضور ﷺ کی ختم نبوت زمانی کا صریح طور پر ذکر ہے۔

جبکہ وہ تمام حضرات ختم نبوت مرتبی کی طرح ختم نبوت زمانی کے بھی قائل ہیں اور اس کے منکر کو کافر سمجھتے ہیں۔ بعض بزرگ ایسے تھے جنھوں نے حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کی آمد ثانی کے ذکر میں حضور ﷺکے بعد ایک پرانے نبی کی آمد کا بیان کیا تھا۔ قادیانی وسوسہ اندازوں نے اسے امت میں ایک نئے نبی کی آمد کا جواز قرار دے کر مسیح ابن مریم علیہ السلام کی بجائے مرزا قادیانی بن چراغ بی بی کو باور کر لیا۔ اِن دوباتوں (۱)ختم نبوت مرتبی (۲) حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کی آمد ثانی کو خواہ مخواہ حضور ﷺ کی ختم نبوت زمانی کے مقابل لا کھڑا کیا ۔

اس سلسلہ میں عرض ہے کہ قادیانی جو عبارتیں پیش کرتے ہیں اگر اُن کو اس تناظر میں دیکھا جائے تو قادیانی دجل نقش برآب، یا تار عنکبوت سے زیادہ وقعت نہیں رکھتا۔ قادیانی اپنے الحادی عقیدہ کو کشید کرتے وقت یہ بھول جاتے ہیں کہ ضروریات دین کو تأویل وتحریف کا آب ودانہ مہیا کرنا اہل حق کا شیوہ نہیں ۔

۷… جن حضرات کی عبارتوں سے قادیانی اپنے الحادی عقیدہ کو کشید کرنے کے لئے سعی لا حاصل کرتے ہیں ان کے پیش نظر جو امور تھے ان کی تفصیل یہ ہے ۔

الف… حضرت عیسی علیہ السلام کا تشریف لانا بظاہر آیت ختم النّبیین اور حدیث ’’لا نبی بعدی‘‘ کے منافی معلوم ہوتا ہے۔ اس کے متعلق حضرت شیخ محی الدین ابن عربی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ: ’’وان عیسٰی علیہ السلام اذا نزل مایحکم الا بشریعۃ محمد ﷺ (فتوحات مکیہ ج۱باب ۱۴ص۱۵)‘‘ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب تشریف لائیںگے تو وہ صرف نبی کریم ﷺ کی شریعت پر عمل پیرا ہوں گے اس کے مطابق فیصلہ کریںگے یعنی اپنی نبوت ورسالت کی تبلیغ کے لئے نہیں۔ آنحضرت ﷺ کی شریعت کے اجرا ونفاذ، خدمت وتمکین کے لئے تشریف لا ئیںگے ۔

ب… حدیث ’’لم یبق من النبوۃ الا المبشرات‘‘ میں نبوت کے ایک جز کو باقی کہا گیا ہے ۔یہ حدیث سطحی طورپر ’’لا نبی بعدی‘‘ کے مخالف نظر آتی ہے حضرت محی الدین ابن عربی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کے متعلق تحریر فرمایا: ’’قالت عائشۃ رضی اللہ عنہا اوّل ما بدی بہ رسول اللّٰہ ﷺ من الوحی الرؤیا فکان لا یری رؤیاً الا خرجت مثل فلق الاصباح وہی التی ابقی اللّٰہ علی المسلمین وہی من اجزاء النبوت لما ارتفعت النبوت با لکلیۃو لھٰذا قلنا انما ارتفعت نبوۃ التشریع فھٰذا معنی لا نبی بعدہ (فتوحات مکیہ ج۲باب۷۳،سوا ل ۲۵)‘‘ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضور ﷺ کو وحی سے پہلے سچے خواب نظر آتے تھے جو چیز رات کو خواب میں دیکھتے تھے وہ خارج میں صبح روشن کی طرح ظہور پذیر ہو جاتی تھی اور یہ وہ چیز ہے جو مسلمانوں میں ﷲتعالی نے باقی رکھی ہے اور یہ سچا خواب نبوت کے اجزا میں سے ہے۔ پس اس اعتبار سے نبوت کلی طور پر بند نہیں ہوئی اور اسی وجہ سے ہم نے کہا کہ لا نبی بعدی کا معنی یہ ہے کہ حضور ﷺ کے بعد نبوت تشریعی باقی نہیں ۔

140

اس عبارت سے روز روشن کی طرح واضح ہوا کہ: نبوت میں سے سوائے اچھے خوابوں کے کچھ باقی نہیں ۔کیا ہر اچھا خواب دیکھنے والا نبی ہوتا ہے ۔ہرگز نہیں۔ ناخن انسان کے جسم کا جز ہے، انیٹ مکان کا جز ہے، مگر ناخن پر انسان کا اور انیٹ پر مکان کا اطلاق کوئی جاہل نہیں کرتا۔ اسی طرح اچھے خواب دیکھنے والے کو آج تک امت کے کسی فر دنے نبی قرار نہیں دیا ۔

نیزنبی چاہے وہ صاحب کتاب وشریعت ہو یا نہ ہو بلکہ کسی دوسرے نبی کی کتاب وتابعداری کا اسے حکم ہو۔

غرض کسی بھی نبی کی جو وحی ہو گی وہ امر ونہی پر مبنی ہو گی۔ جیسے حضرت ہارو ن علیہ السلام کو وحی ہو ئی کہ آپ موسیٰ علیہ السلام کی شریعت کی تابع داری کریں تو یہ امر ہے۔ حضرت شیخ ابن عربی رحمۃ اللہ علیہ اور اس قبیل کے دوسرے صوفیا ء کے نزدیک ہر نبی کو جو بھی وحی ہو تشریعی ہو تی ہے۔ اب وہ بھی باقی نہیں رہی۔ یعنی اب کسی شخص کو انبیاء والی وحی نہ ہوگی بلکہ غیر تشریعی جس میں بجائے امرونہی کے ایقان واطمنان کا الہام وبشارت ہو یہ اولیا ء کو ہو گا۔ ان اولیاء کو وہ غیر تشریعی قرار دیتے ہیں پھر کسی بھی ولی کو وہ غیر تشریعی نبی کا نام نہیں دیتے۔ نہ ہی ان کی اطاعت کو فرض قرار دیتے ہیں۔ نہ ہی ان اولیاء کے انکار کو کفر قرار دیتے ہیں۔ خدا لگتی قادیانی بتائیں کہ اس غیر تشریعی نبی کے لفظ سے وہ نبوت ثابت کررہے ہیں یا صرف ولا یت کو باقی تسلیم کررہے ہیں۔

یہ بھی معلوم ہوا کہ حضور علیہ السلام کے بعد تشریعی نبوت بند ہے ۔ یہی معنی ہے لا نبی بعدی کا غیر تشریعی یعنی اولیاء ہوسکتے ہیں۔ اولیاء کے نیک خوابوں کی بنیاد پر ان کو کسی نے آج تک نبی قرار دیا؟اس کو یوں فرض کریں کہ نبی خبر دینے والے کو کہتے ہیں اگر خبر وحی سے ہو تو وہ نبی ہو گا۔ واجب الاطاعت ہو گا، اس کی وحی خطا سے پاک ہوگی، شریعت کہلائے گی ،اس کا منکر کافر ہوگا اور اگر خبر اس نے الہام وغیرہ سے دی تو وہ نبی نہ ہوگا، واجب الاطاعت نہ ہوگا ،اس کی خبر (الہام )خطا سے پاک نہ ہوگی ۔شریعت نہ ہوگی اس کا منکر کافر نہ ہوگا ،اور نہ اس پر نبی کے لفظ کا اطلاق کیاجائے گا ۔یہ غیر تشریعی وحی (الہام )والا صرف ولی ہو گا ۔ فرمائیے یہ ختم نبوت کا اعلان ہے یا انکار؟

ج… بعض علماء وصوفیا کو وحی والہام سے نوازا جاتا ہے۔ اس سے بادی النظر میں ختم نبوت سے تعارض معلوم ہوتا ہے۔ اس کے متعلق شیخ ابن عربی رحمۃ اللہ علیہ تحریر کر تے ہیں: ’’فللاولیاء والا نبیاء ،الخبر خاصۃ وللانبیاء الشرائع والرسل والخبر و الحکم (فتوحات مکیہ ج۲ باب۱۵۸ ص۲۵۷)‘‘ انبیاء واولیا کو ﷲتعالی کی طرف سے خبر خاصہ (وحی و الہام) کے ذریعہ خصوصی خبر دی جاتی ہے اور انبیاء کے لئے تشریعی احکام، شریعت ورسالت ،خبر واحکام نازل ہوتے ہیں۔ شریعت ورسالت ،خبر واحکام گویا ابنیاء کا خاصہ ہے اور پھر شیخ ابن عربی رحمۃ اللہ علیہ جس خبر (الہام اور رہنمائی ) کو اولیا کے لئے جاری مانتے ہیں اس کو تو وہ حیوانات میں بھی جاری مانتے ہیں۔ فرماتے ہیں: ’’وھٰذہ النبوۃ جاریۃ ساریۃ فی الحیوان مثل قولہ تعالی واوحیٰ ربک الی النحل (فتوحات مکیہ ج۲ باب ۱۵۵ ص۲۵۴)‘‘ اور نبوت حیوانات میں بھی جاری ہے جبکہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ تیرے رب نے شہد کی مکھی کو وحی کی ۔

اب شیخ ابن عربی کی اس صراحت نے تو یہ بات واضح کردی کہ وہ جہاں پر نبوت کو اولیا کے لئے جاری مانتے

141

ہیں۔ ان کو وحی نبوت نہیں خبر وولایت سمجھتے ہیں جو صرف رہنمائی تک محدود ہی ۔احکام واخبار ،امر ونہی ،شریعت ورسالت کا اس سے تعلق نہیں ہے۔ یہ صرف رہنمائی ہے ۔ اس پر انھو ں نے لفظ نبوت کا استعمال کیا ۔ اور گھوڑے ، گدھے، بلی، چھپکلی، چمگادڑ، الّواور شہد کی مکھی تک میں اس کو جاری مانتے ہیں۔ کیا یہ نبی ہیں؟ ظاہر ہے کہ اس سے وہ صرف رہنمائی مراد لے رہے ہیں کہ یہ رہنمائی وہدایت تو باری تعا لی ان جانوروں کو بھی کرتے ہیں ۔

مندرجہ بالا اقتباس سے یہ حقیقت صاف واضح ہو جاتی ہے کہ حضرت شیخ اکبر رحمۃ اللہ علیہ تشریعی اور غیر تشریعی نبوت کا جو جو فرق بیان کرتے ہیں ان کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ حضور ﷺ کے بعد کسی کو نبوت مل سکتی ہے ۔لیکن تشریعی نہیں ہو سکتی۔ بلکہ وہ تو یہ فرماتے ہیں کہ جو وحی، نبی یا رسول پر ناز ل ہوتی ہے وہ تشریعی ہی ہوتی ہے ۔اس میں اوامر ونواہی ہو تے ہیں۔ حضور ﷺ کے بعد کسی پر وحی تشریعی نازل نہ ہوگی ۔اس لئے حضور ﷺکے بعد کوئی نبی نہیں ہوسکتا۔ البتہ اللہ کے نبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے اور وہ بھی شریعت محمدیہ پر عمل کریں گے۔ نیز نبوت کا ایک جز قیامت تک باقی ہے، جسے مبشرات کہتے ہیں اور بعض خواص کو الہام اور وحی ولایت ہو سکتی ہے۔ لیکن کسی پررسول اور نبی کا لفظ ہر گز نہیں بولا جاسکتا۔ چنانچہ فرماتے ہیں: ’’اسم النبی زال بعد رسول اللّٰہ ﷺ فانہ زال التشریع المنزل من عند اللّٰہ بالوحی بعدہ ﷺ (فتوحات مکیہ ج۱ ص۵۸ باب۷۳ سوال ۲۵)‘‘

اسی طرح آنحضرت ﷺ کے بعد نبی کا لفظ کسی پر نہیں بولا جاسکتا ۔کیونکہ آپ کے بعد وحی جو تشریعی صورت صرف نبی پر آتی ہے۔ ہمیشہ کے لئے ختم ہو چکی ہے ۔

مطلب واضح ہے کہ نبی وہ ہوتا ہے جو تشریعی احکام لاتا ہے۔ حضور ﷺ کے بعد احکام شرعیہ (اوامر ونواہی )کا نزول ممتنع اور محال ہے اس لئے کسی پر لفظ نبی کا اطلاق نہیں ہو سکتا ۔

تنقیح موضوع

لے دے کے چند عبارات ہیں جن میں تاویل وتحریف کے ہاتھ صاف کرتے ہوئے مرزائی پنڈت انھیں آنحضرت ﷺ کے بعد نئے نبی پیدا ہو نے کی دلیل بناتے ہیں۔ حالانکہ یہ لوگ آج تک ان عبارات میں سے ایک بھی عبارت ایسی نہیں پیش کرسکے جن میں ان کے مدعا کے مطابق حسب ذیل باتیں پائی جاتی ہوں۔

۱… آنحضرت ﷺ کی ختم مرتبت کے بعد کسی غیر تشریعی نبی کے اس امت محمدیہ میں پیدا ہونے کی صراحت مو جود ہو۔

۲… اس کے سیاق وسباق میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر نہ ہو۔ جیسا کہ علامہ طاہر پٹنی نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی روایت ’’قولو ا انہ خاتم الانبیاء ولا تقولوا لا نبی بعدہ‘‘ نقل کرنے کے بعد ساتھ ہی یہ بھی لکھ دیا ہے۔ ’’وھذا ناظر الی نزول عیسی بن مریم‘‘ اس طرح ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ نے ’’موضوعات کبیر‘‘ میں اس نبی کی آمد کو جو آپ کی شریعت کو منسوخ نہ کرے اسے آپ ﷺ کی ختم نبوت کے خلاف نہیں کہا وہاں تشبیہ کے طور پر حضرت عیسیٰ، حضرت خضر اور حضرت الیا س علیہ السلام کے نام لکھ دئیے ہیں کہ اگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ یا حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کو حضور ﷺ کے بعد نبی ہو نا ہوتا تو انھیں نبوت حضور ﷺ سے پہلے ملی ہو تی۔ جس طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام،حضرت خضر علیہ السلام ، حضرت الیاس علیہ السلام کو ملی ہوئی ہے۔ کیونکہ آنحضرت ﷺ کے بعد کسی کو نبوت

142

نہیں ملنی ہے گو غیر تشریعی کیوں نہ ہو۔ اس لئے کہ یہ یقیناآیت خاتم النّبیین اور حدیث لا نبی بعدی کے خلاف ہے ۔

۳… اس میں محض اجزاء نبوت، سچے خواب وغیرہ یا بعض کمالات نبوت ملنے کا بیان نہ ہو بلکہ امت کے بعض افراد کے لئے منصب نبوت پا نے کی خبر ہو ۔

۴… یہ نہ ہو کہ اس کے سباق میں تو ختم نبوت مرتبی کا ذکر ہو اور اسے کسی نئے غیر تشریعی نبی کی نبوت سے غیر متصادم کہا گیا ہو اور اسے دعویٰ سے پیش کیا جائے کہ کسی نئے غیر تشریعی نبی کی نبوت حضور ﷺ کی ختم زمانی کے منافی نہیں۔ حضرت مولانا قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ کی بات ختم نبوت مرتبی کے سیاق میں کہی گئی ہے۔ جسے قادیانی خیانت کے طور پر ختم نبوت زمانی بناکر پیش کرتے ہیں اور مولانا کی جانب منسوب کرکے کہتے ہیں کہ اگر حضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی پیدا ہو تو اس سے ختم نبوت زمانی میں کوئی فرق نہیں آئے گا۔ (استغفر اللہ) یہاں ختم نبوت زمانی کا کوئی ذکر نہیں۔ بات بدل کر لوگوں کو مغالطہ دینا یہی دجل کہلاتا ہے۔

ان چار شرطوں کے ساتھ آج تک مرزا ئی پنڈت اجراء ے نبوت کے ثبوت میں ایک عبارت بھی اپنے دعویٰ کے مطابق پیش نہیں کر سکے۔ لہٰذا اصولاً ہما رے ذمہ مرزائیوں کے کسی استدلال کا جواب نہیں کیونکہ مدعی اپنے دعوے کو صحیح صورت میں پیش نہ کرسکے اور جس کے پاس اپنے دعوی کے مطابق ایک بھی دلیل نہ ہو تو مدعاعلیہ کے ذمے کوئی جواب نہیں ہوتا۔

قادیانیوں کا منہ بند

تاہم مرزا ئیوں کا منہ بند کرنے کے لئے یہ دو حوالے زیر نظر رہیں ۔

۱… مرزا قادیانی لکھتا ہے: ’’اقوال سلف وخلف در حقیقت کو ئی مستقل حجت نہیں۔‘‘

(ازالہ اوہام، خزائن ج۳ ص۳۸۹)

۲… مرزاقادیانی کا بیٹا مرزا محمود لکھتا ہے: ’’نبی کی وہ تعریف جس کی رو سے آپ (مرزا قادیانی )اپنی نبوت کا انکار کرتے رہے ہیں۔ یہ ہے کہ نبی وہی ہوسکتا ہے جو کوئی نئی شریعت لا ئے یا پچھلی شریعت کے بعض احکام کو منسوخ کرے یا یہ کہ اس نے بلا واسطہ نبوت پائی اور کسی دوسرے نبی کا متبع نہ ہو اور یہ تعریف عام طور پر مسلمانوں میں مسلم تھی۔ ‘‘ (حقیقت النبوۃ ص۱۲۲)

لیجئے ! مرزا محمود نے خود تسلیم کرلیا کہ اہل اسلام کے نزدیک صرف ایک ہی نبوت تھی یعنی تشریعی۔ (غیر تشریعی ان کے ہاں صرف ولایت تھی مگر اس پر نبوت کے نام کا ان کے نزدیک بھی اطلاق درست نہ تھا۔

اس باب میں مزید تفصیلات کے لئے مناظر اسلام حضرت مولانا لال حسین اختر رحمۃ اللہ علیہ کا رسالہ ’’ختم نبوت اور بزرگان امت ‘‘ اور ’’بقیۃ السلف‘‘ حضرت مولانا محمد نافع رحمۃ اللہ علیہ کا رسالہ ’’مسئلہ ختم نبوت اور سلف صالحین ‘‘اور مناظر اسلام حضـرت مولانا علامہ خالد محمود کی کتاب ’’عقیدۃ الا مۃ فی معنی ختم النبوۃ ‘‘ سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔

مرزائی جماعت سے چند سوال ؟

یہ مسئلہ فریقین میں مسلم ہے کہ تشریعی نبوت کا دعوی کفر ہے ۔ خود مرزا قادیانی کی تصریحات اس پر موجود ہیں کہ جو شخص تشریعی نبوت کا دعوی کرے …وہ کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔ (مجموعہ اشتہارات ص۲۳۰ ،۲۳۱ج۱)

143

اختلاف صرف نبوت مستقلہ کے بارے میں ہے کہ آیا وہ جاری ہے یا وہ بھی ختم ہو گئی ۔اس لئے اب اس کے متعلق فریق مخالف سے چند سوالات ہیں ۔

۱… مرزا نے اوّل اپنی کتابوں میں تشریعی نبوت کے دعوی کو کفر قرار دیا اور پھر خود صراحۃ تشریعی نبوت کا دعوی کیا ۔کیا یہ صریح تعارض اور تناقض نہیں ؟ کیا مرزا اپنے اقرار سے کافر نہ ہوا ؟

۲… جب مرزا قادیانی تشریعی نبوت اور مستقل رسالت کا مدعی ہے تو پھر اس کو خاتم النّبیین میں یہ تاویل کرنے اور غیر تشریعی نبی مراد لینے سے کیا فائدہ ؟

۳… نصوص قرآنیہ اور صدہا احادیث نبویہ سے مطلقاً نبوت کا انقطاع اور اختتام معلوم ہوتا ہے اس کے برعکس کو ئی ایک روایت بھی ایسی نہیں کہ جس میں یہ بتلایا گیاہو کہ حضور اکرم ﷺ کے بعد نبوت غیر مستقلہ کا سلسلہ جاری رہے گا اگر ہے تو اسے پیش کیا جائے ؟

۴… نبوت غیر مستقلہ کے ملنے کا معیار اور ضابطہ کیا ہے؟

۵… کیا وہ معیا ر حضرات صحابہ میں نہ تھا؟ اور اگر تھا جیسا کہ مرزا کو اقرار ہے تو وہ نبی کیوں نہ بنے؟

۶… اس چودہ سو سال کی طویل وعریض مدت میں، ائمہ حدیث وائمہ مجتہدین، اولیاء، عارفین، اقطاب وابدال، مجددین میں سے کوئی ایک شخص ایسا نہ گزرا جو علم وفہم ولایت ومعرفت میں مرزا کے ہم پلہ ہوتا؟ اور نبوت غیرمستقلہ کا منصب پاتا کیا رسو ل ﷲ ﷺ کی ساری امت میں سوائے قادیان کے دہقان کے کوئی بھی نبوت کے قابل نہ نکلا؟

۷… آنحضرت ﷺ کے بعد بہت سے لوگوں نے نبوت کے دعوے کئے بعض ان میں سے تشریعی نبوت کی مدعی تھے جیسے صالح بن ظریف اور بہاء اللہ ایرانی اور بعض غیر تشریعی نبوت کے مدعی تھے۔ جیسے ابو عیسیٰ وغیرہ تو ان سب کے جھوٹا ہو نے کی کیا دلیل ہے؟

نوٹ:

ﷲ کے فضل وکرم سے عقیدہ ختم نبوت کی متعلقہ مباحث سے ہم فارغ ہوئے اور عقیدۂ ختم نبوت کے پس منظر، پیش منظر اور تہہ منظر کو جان لینے اور مرزائی امت کی بے اعتدالیوں سے واقف ہو جانے کے بعد اب لازم ہے کہ امت مرزائیہ کی ان محلاتی سازشوں کو بھی بے نقاب کیا جائے جو انہوں نے ﷲتعالیٰ کے ایک جلیل القدر برگزیدہ پیغمبر حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کی شخصیت کو مجروح کرنے کے لئے تیار کیں اور اس مبارک منصب پر ڈاکہ زنی کی۔ لہٰذا ضروری تھا کہ ایک مستقل تصنیف میں حضرت سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی منقبت کو بیان کیا جائے اور ان کے متعلق مرزائی امت کے پھیلائے ہوئے شبہات ووساوس کے تارعنکبوت کو چاک کر دیا جائے تو لیجئے! اب آپ کی خدمت میں حاضر ہے، قادیانی شبہات کے جوابات کی دوسری جلد۔ امید ہے دفاع ختم نبوت میں آپ کا اور ہمارا ساتھ اس کتاب کے آغاز سے اختتام، حتیٰ کہ زندگی کے انجام تک ساتھ رہے گا۔

ہے افق سے اک سنگ آفتاب آنے کی بات ٹوٹ کر مانند آئینہ بکھر جائے گی رات

ﷲ وسایا!

144

قادیانی شبہات کے جوابات

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

000

حیات عیسیٰ علیہ السلام

 

 

 

جلد دوم

145

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

تفصیلی فہرست

  1. اعتراف ومعافی Page ۱۵۳ قادیانیوں سے گفتگو کے لئے رہنما اصول Page ۱۵۵ باب اوّل … تمہیدات خمسہ Page ۱۵۹ تمہید اوّل: رفع ونزول مسیح علیہ السلام کا عقیدہ اور آنحضرت ﷺ کا فرض منصبی Page ۱۵۹ تمہید دوم: نزول مسیح علیہ السلام اور آنحضرت ﷺ کی جلالت شان Page ۱۶۸ تمہید سوم: امکان رفع کی بحث Page ۱۶۹ تمہید چہارم: رفع ونزول کی حکمتیں Page ۱۷۳ تمہید پنجم: رفع ونزول مسیح پر چند گزارشات Page ۱۷۴ باب دوم … حیات عیسیٰ علیہ السلام کے قرآنی دلائل Page ۱۷۸ دلیل نمبر:۱… وَمَا قَتَلُوْہُ وَمَا صَلَبُوْہُ کی تفسیر Page ۱۷۸ آٹھ تفسیری شواہد Page ۱۸۵ قادیانی اعتراضات کے جوابات Page ۱۸۷ اعتراض نمبر:۱… مسیح کی شکل دوسرے شخص پر کیسے Page ۱۸۷ اعتراض نمبر:۲… مسیح کی شکل دشمن پر Page ۱۸۷ اعتراض نمبر:۳… بل ابطالیہ کیسے؟ Page ۱۸۷ اعتراض نمبر:۴… رفع سے مراد عزت کی موت Page ۱۸۸ اعتراض نمبر:۵… رفع روحانی Page ۱۸۹ اعتراض نمبر:۶… آسمان کا ذکر کہاں ہے Page ۱۹۰ اعتراض نمبر:۷… صلیب کا معنی صلیب پر مارنا Page ۱۹۲ اعتراض نمبر:۸… آسمان پر کیسے؟ درمیان میں کئی کرے ہیں Page ۱۹۲

    حیات موسیٰ علیہ السلام پر قادیانی اہم حوالہ

    اعتراض نمبر:۹… اس حوالہ پر قادیانی اشکالات کے جوابات Page ۱۹۵ اعتراض نمبر:۱۰… ثُمَّ اَقْبَرَہٗ کا جواب Page ۱۹۵ اعتراض نمبر:۱۱… تواضع العبد کا جواب Page ۱۹۶ دلیل نمبر:۲… وان من اہل الکتاب Page ۱۹۷
146
  1. آیت کی تفسیر قول اوّل Page ۱۹۷ تفسیر بالحدیث وقول ثانی Page ۱۹۹ دونوں اقوال میں تطبیق Page ۲۰۰ گیارہ تفسیری شواہد Page ۲۰۱

    آیت پر قادیانی اعتراضات کے جوابات

    اعتراض نمبر:۱… تمام اہل کتاب کیسے ایمان لائیں گے؟ Page ۲۰۵ اعتراض نمبر:۲… قبل موتہم کا جواب؟ Page ۲۰۶ اعتراض نمبر:۳… نزول کے وقت کے اہل کتاب کیسے؟ Page ۲۰۹ اعتراض نمبر:۴… ’’بہ‘‘ کی ضمیر میں اختلاف کا جواب؟ Page ۲۱۰ اعتراض نمبر:۵… القینابینہم العداوۃ کا جواب؟ Page ۲۱۰ اعتراض نمبر:۶… جب سب مومن تو غلبہ کن کافروں پر کا جواب؟ Page ۲۱۳ دلیل نمبر:۳… ومکروا ومکر ﷲ Page ۲۱۳ چودہ تفسیری شواہد Page ۲۱۳ چیلنج Page ۲۱۷

    آیت پر قادیانی اعتراضات کے جوابات

    اعتراض نمبر:۱… مسیح کا ہم شکل کون تھا؟ Page ۲۱۷ اعتراض نمبر:۲… یہود نے یہ تدبیر کیوں کی؟ Page ۲۱۸ اعتراض نمبر:۳… مکر سے مراد قتل ہے؟ Page ۲۱۸ اعتراض نمبر:۴… ماکرین کو عذاب؟ Page ۲۱۹ اعتراض نمبر:۵… تدبیر کے مقابلہ میں قدرت؟ Page ۲۲۱ اعتراض نمبر:۶… ہوبہو شکل کیسے؟ Page ۲۲۱ اعتراض نمبر:۷… آسمانوں پر کیوں؟ Page ۲۲۱ قادیانیوں سے سوال Page ۲۲۲ دلیل نمبر:۴… یا عیسی انی متوفیک Page ۲۲۲ لفظ توفی کی تحقیق Page ۲۲۳ توفی کا لغوی معنی Page ۲۲۴ توفی کا حقیقی معنی موت نہیں Page ۲۲۵ موت وحیات کا تقابل Page ۲۲۶ توفی کا مجازی معنی موت کہاں؟ Page ۲۲۶
147
  1. بیس تفسیری شواہد Page ۲۳۰ دلیل نمبر:۵… وانہ لعلم للساعۃ Page ۲۳۶ تفسیری شواہد Page ۲۳۶ تفسیر نبوی چھ حوالہ جات Page ۲۳۸ اس آیت پر قادیانی اعتراض نمبر ایک ’’انہ‘‘ کی ضمیر میں اختلاف Page ۲۴۰ قادیانی اعتراض نمبر:۲ Page ۲۴۱ مضحکہ خیز قادیانی تفسیر Page ۲۴۳ اس آیت کی تصدیق از انجیل Page ۲۴۵ دلیل نمبر:۶… واذ کففت بنی اسرائیل عنک Page ۲۴۶ تفسیری شواہد Page ۲۴۸ قادیانی اعتراض نمبر:۱ Page ۲۵۱ قادیانی اعتراض نمبر:۲ Page ۲۵۳ دلیل نمبر:۷… وجیہا فی الدنیا والآخرۃ Page ۲۵۵ قرآنی تفسیر Page ۲۵۶ تفسیری شواہد Page ۲۵۷ قادیانی نظریہ کی حقیقت Page ۲۵۹ دلیل نمبر:۸… اذ علمتک الکتاب والحکمۃ Page ۲۶۱ تفسیری شواہد Page ۲۶۱ دلیل نمبر:۹… یکلم الناس فی المہد وکہلا Page ۲۶۲ تفسیری شواہد Page ۲۶۳ دلیل نمبر:۱۰… لیظہرہ علی الدین کلہ Page ۲۶۵ تفسیر نبوی ﷺ Page ۲۶۵ تفسیری شواہد Page ۲۶۶ دلیل نمبر:۱۱… ایدناہ بروح القدس Page ۲۶۸ تفسیری شواہد Page ۲۷۰ دلیل نمبر:۱۲… وجعلنا لہم ازواجًا وذریۃ Page ۲۷۱ تفسیر نبوی ﷺ Page ۲۷۱ باب سوم … حیات مسیح علیہ السلام احادیث کی روشنی میں Page ۲۷۳ حدیث نمبر:۱… الانبیاء اخوۃ Page ۲۷۳
148
  1. حدیث نمبر:۲… ان عیسٰی لم یمت Page ۲۷۳ حدیث نمبر:۳… اذا نزل ابن مریم فیکم Page ۲۷۳ حدیث نمبر:۴… ینزل اخی عیسٰی بن مریم من السماء Page ۲۷۳ حدیث نمبر:۵… فیتزوج ویولد Page ۲۷۳ حدیث نمبر:۶… یدفن عیسٰی مع رسول اللّٰہ ﷺ Page ۲۷۳ حدیث نمبر:۷… کیف تہلک امۃ انافی اولہا Page ۲۷۳ حدیث نمبر:۸… قصہ ابن صیاد Page ۲۷۳ حدیث نمبر:۹… حدیث معراج Page ۲۷۳ حدیث نمبر:۱۰… آنحضرت ﷺ کا انصاری سے مباحثہ Page ۲۷۳ باب چہارم … حیات عیسیٰ علیہ السلام اور اجماع امت Page ۲۹۹ باب پنجم … مرزاقادیانی اور عقیدہ حیات عیسیٰ علیہ السلام کے تین دور Page ۳۰۱ تیس قادیانی استدلال کے جوابات Page ۳۰۱ پہلی آیت: ’’انی متوفیک‘‘ میں قادیانی تحریف کا جواب Page ۳۱۰ دوسری آیت: ’’بل رفعہ اللّٰہ‘‘ میں قادیانی تحریف کا جواب Page ۳۱۵ تیسری آیت: ’’توفیتنی‘‘ میں قادیانی تحریف کا جواب Page ۳۱۶ چوتھی آیت: ’’لیومنن بہ قبل موتہ‘‘ میں قادیانی تحریف کا جواب Page ۳۲۲ پانچویں آیت: ’’قد خلت من قبلہ الرسل‘‘ میں قادیانی تحریف کا جواب Page ۳۲۴ چھٹی آیت: ’’وما جعلناہم جسد الا یاکلون‘‘ میں قادیانی تحریف کا جواب Page ۳۲۶ ساتویں آیت: ’’قد خلت من قبلہ الرسل‘‘ میں قادیانی تحریف کا جواب Page ۳۲۹ آٹھویں آیت: ’’وما جعلنا لبشر من قبلک الخلد‘‘ میں قادیانی تحریف کا جواب Page ۳۳۱ نویں آیت: ’’تلک امۃ قد خلت‘‘ میں قادیانی تحریف کا جواب Page ۳۳۲ دسویں آیت: ’’اوصانی باالصلٰوۃ والزکٰوۃ مادمت حیا‘‘ میں قادیانی تحریف کا جواب Page ۳۳۳ گیارھویں آیت: ’’یوم ولدت ویوم اموت‘‘ میں قادیانی تحریف کا جواب Page ۳۳۵ بارھویں آیت: ’’ومنکم من یرد الٰی ارزل العمر‘‘ میں قادیانی تحریف کا جواب Page ۳۳۷ تیرھویں آیت: ’’ولکم فی الارض مستقر‘‘ میں قادیانی تحریف کا جواب Page ۳۳۸ چودھویں آیت: ’’ومن نعمرہ ننکسہ فی الخلق‘‘ میں قادیانی تحریف کا جواب Page ۳۴۱ پندرھویں آیت: ’’اللّٰہ الذی خلقکم من ضعف‘‘ میں قادیانی تحریف کا جواب Page ۳۴۲ سولہویں آیت: ’’انما مثل الحیٰوۃ الدنیا‘‘ میں قادیانی تحریف کا جواب Page ۳۴۳ سترھویں آیت: ’’ثم انکم بعد ذالک لمیتون‘‘ میں قادیانی تحریف کا جواب Page ۳۴۴
149
  1. اٹھارھویں آیت: ’’الم تر ان اللّٰہ انزل من السماء‘‘ میں قادیانی تحریف کا جواب Page ۳۴۴ انیسویں آیت: ’’لیاکلون الطعام ویمشون‘‘ میں قادیانی تحریف کا جواب Page ۳۴۵ بیسویں آیت: ’’اموات غیر احیاء‘‘ میں قادیانی تحریف کا جواب Page ۳۴۶ اکیسویں آیت: ’’ولٰکن رسول اللّٰہ وخاتم النّبیین‘‘ میں قادیانی تحریف کا جواب Page ۳۴۸ بائیسویں آیت: ’’فاسئلوا اہل الذکر‘‘ میں قادیانی تحریف کا جواب Page ۳۵۱ تیئسویں آیت: ’’فادخلی فی عبادی وادخلی جنتی‘‘ میں قادیانی تحریف کا جواب Page ۳۵۶ چوبیسویں آیت: ’’ثم یمیتکم ثم یحییکم‘‘ میں قادیانی تحریف کا جواب Page ۳۵۷ پچیسویں آیت: ’’کل من علیہا فان‘‘ میں قادیانی تحریف کا جواب Page ۳۵۸ چھبیسویں آیت: ’’ان المتقین فی جنّٰت ونہر‘‘ میں قادیانی تحریف کا جواب Page ۳۵۹ ستائیسویں آیت: ’’ما اشتہت انفسہم وہم فیہا خٰلدون‘‘ میں قادیانی تحریف کا جواب Page ۳۶۰ اٹھائیسویں آیت: ’’اینما تکونوا یدرکم الموت‘‘ میں قادیانی تحریف کا جواب Page ۳۶۱ انتیسویں آیت: ’’ما آتاکم الرسول فخذوہ‘‘ میں قادیانی تحریف کا جواب Page ۳۶۲ تیسویں آیت: ’’اوترقٰی فی السماء‘‘ میں قادیانی تحریف کا جواب Page ۳۶۴ باب ششم … حیات مسیح اور بزرگان امت Page ۳۶۶ حضرت امام حسین رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین Page ۳۶۶ حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ Page ۳۶۷ حضرت امام مالک رحمۃ اللہ علیہ Page ۳۶۹ حضرت امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ، حضرت امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ Page ۳۶۹ حضرت علامہ ابن حزم رحمۃ اللہ علیہ Page ۳۷۰ حضرت مولانا عبدالحق رحمۃ اللہ علیہ، نواب صدیق حسن خان رحمہم اللہ علیہ Page ۳۷۱ حضرت امام ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ Page ۳۷۱ حافظ لکھوی رحمۃ اللہ علیہ Page ۳۷۲ ابن عربی رحمۃ اللہ علیہ Page ۳۷۳ ابن جریر رحمۃ اللہ علیہ Page ۳۷۳ علامہ شعرانی رحمۃ اللہ علیہ (الیواقیت والجواہر) Page ۳۷۴ حضرت مولانا عبید ﷲ سندھی رحمۃ اللہ علیہ Page ۳۷۵ حضرت امام جبائی رحمۃ اللہ علیہ Page ۳۷۷ حافظ ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ Page ۳۷۸ حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ Page ۳۷۸ حضرت خواجہ اجمیری رحمۃ اللہ علیہ Page ۳۷۹
150
  1. حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ Page ۳۷۹ باب ہفتم … متفرق قادیانی شبہات کے جوابات Page ۳۸۳ قادیانی سوال نمبر:۱… نزول کے بعد عیسیٰ علیہ السلام نبی ہوں گے یا نہ؟ Page ۳۸۳ قادیانی سوال نمبر:۲… نزول کے بعد عیسیٰ علیہ السلام کس شریعت پر عمل کریں گے؟ Page ۳۸۳ قادیانی سوال نمبر:۳… نزول عیسیٰ علیہ السلام ہوا تو باب نبوت بند نہ ہوا؟ Page ۳۸۴ قادیانی سوال نمبر:۴… نزول عیسیٰ کے وقت سیڑھی کیوں؟ Page ۳۸۵ قادیانی سوال نمبر:۵… نزول عیسیٰ علیہ السلام کی شہریت کس ملک کی ہوگی؟ Page ۳۸۶ قادیانی سوال نمبر:۶… کیا عیسیٰ علیہ السلام خنزیروں کو قتل کریں گے؟ Page ۳۸۶ قادیانی سوال نمبر:۷… غیرمعقول بات؟ Page ۳۸۸ قادیانی سوال نمبر:۸… نزول عیسیٰ کے بعد رفع کی آیات کا کیا بنے گا؟ Page ۳۸۸ قادیانی سوال نمبر:۹… قتل دجال تلوار سے یا قلم سے؟ Page ۳۸۹ قادیانی سوال نمبر:۱۰… دجال کہاں قتل ہوگا؟ Page ۳۸۹ قادیانی سوال نمبر:۱۱… انزلنا الحدید میں نزول سے پیدائش مراد؟ Page ۳۹۰ قادیانی سوال نمبر:۱۲… علامات مسیح اور مرزاقادیانی Page ۴۰۰ قادیانیوں سے دس سوال Page ۴۰۱ قادیانی سوال نمبر:۱۳… نزول کے وقت کیفیت کیا ہوگی؟ Page ۴۰۲ قادیانی سوال نمبر:۱۵… عیسیٰ علیہ السلام کے دم سے کافر مریں گے؟ Page ۴۰۳ قادیانی سوال نمبر:۱۶… سر سے پانی ٹپکے گا؟ Page ۴۰۳ قادیانی سوال نمبر:۱۷… بیت ﷲ کا طواف؟ Page ۴۰۴ قادیانی سوال نمبر:۱۸… کسر صلیب؟ Page ۴۰۴ قادیانی سوال نمبر:۱۹… شادی کریں گے؟ Page ۴۰۵ قادیانی سوال نمبر:۲۰… قتل دجال سے مراد دجالی فتنہ روبزوال؟ Page ۴۰۵ قادیانی سوال نمبر:۲۱… عیسیٰ علیہ السلام کی جائے تدفین اور مرزاقادیانی؟ Page ۴۰۶ قادیانی سوال نمبر:۲۲… روضہ طیبہ کھولا جائے گا؟ Page ۴۰۷ قادیانی سوال نمبر:۲۳… عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق تصریحات؟ Page ۴۰۸ قادیانی سوال نمبر:۲۴… مومن کی قبر فراخ کا جواب؟ Page ۴۱۰ قادیانی سوال نمبر:۲۵… آنحضرت ﷺ زمین پر عیسیٰ علیہ السلام آسمانوں پر؟ Page ۴۱۱ قادیانی سوال نمبر:۲۶… آنحضرت ﷺ کی حفاظت زمین اور مسیح کی آسمانوں پر؟ Page ۴۱۳ قادیانی سوال نمبر:۲۷… یاجوج ماجوج؟ Page ۴۱۳
151
  1. قادیانی سوال نمبر:۲۸… اہل دجال کا گدھا؟ Page ۴۱۴ قادیانی سوال نمبر:۲۹… آسمانوں پر عیسیٰ علیہ السلام کیا کھاتے ہوں گے؟ Page ۴۱۴ قادیانی سوال نمبر:۳۰… حیات مسیح پر بحث کے لئے اصرار کا جواب؟ Page ۴۱۷ قادیانی سوال نمبر:۳۱… عیسیٰ علیہ السلام میدان حشر میں؟ Page ۴۱۷ قادیانی سوال نمبر:۳۲… لوکان موسٰی وعیسٰی حیین؟ Page ۴۱۸ قادیانی سوال نمبر:۳۳… لا مہدی الا عیسٰی؟ Page ۴۲۰ قادیانی سوال نمبر:۳۴… علامات قیامت موجود تو مہدی کون؟ Page ۴۲۳ قادیانی سوال نمبر:۳۵… دمدار ستارہ؟ Page ۴۲۶ قادیانی سوال نمبر:۳۶… رفع کا حقیقی معنی؟ Page ۴۲۶ قادیانی سوال نمبر:۳۷… ﷲ فاعل ذی روح مفعول باب توفی؟ Page ۴۲۸ قادیانی سوال نمبر:۳۸… آپ ﷺ کا رفع مسیح علیہ السلام جیسا؟ Page ۴۳۰ قادیانی سوال نمبر:۳۹… حدیث اقول کما قال العبد الصالح؟ Page ۴۳۱ قادیانی سوال نمبر:۴۰… علماء امتی کا انبیاء بنی اسرائیل کا تقاضہ ہے کہ مسیح نہ آئیں؟ Page ۴۳۳ قادیانی سوال نمبر:۴۱… تمام روئے زمین کے لوگ سو سال میں مر جائیں گے؟ Page ۴۳۴ قادیانی سوال نمبر:۴۲… ینزل فیکم سے مراد صحابہb؟ Page ۴۳۴ قادیانی سوال نمبر:۴۳… مبشراً برسول یاتی من بعدی سے مراد وفات؟ Page ۴۳۵ قادیانی سوال نمبر:۴۴… معراج کی رات؟ Page ۴۳۵ قادیانی سوال نمبر:۴۵… زمین وآسمان کی طویل مسافت؟ Page ۴۳۶ قادیانی سوال نمبر:۴۶… عقل میں نہیں آتا؟ Page ۴۳۷ قادیانی سوال نمبر:۴۷… ایلیاء کی پیش گوئی یحییٰ سے پوری ہوئی؟ Page ۴۳۷ قادیانی سوال نمبر:۴۸… طبری میں کتبہ قبر مسیح کا ذکر ہے؟ Page ۴۳۹ قادیانی سوال نمبر:۴۹… عمر مسیح علیہ السلام پر اختلاف؟ Page ۴۴۰ قادیانی سوال نمبر:۵۰… کرہ ناریہ سے گزر کیسے؟ Page ۴۴۲ قادیانی سوال نمبر:۵۱… بعض اکابر کی عبارات؟ Page ۴۴۳ قادیانی سوال نمبر:۵۲… حلیے دو؟ Page ۴۴۳ قادیانی سوال نمبر:۵۳… عیسیٰ علیہ السلام مخصوص کیوں؟ Page ۴۴۴ قادیانی سوال نمبر:۵۴… قبور انبیاء سجدہ گاہ؟ Page ۴۴۵ قادیانی سوال نمبر:۵۵… مسلمانو! عیسیٰ علیہ السلام کو اتار لاؤ؟ Page ۴۴۶ قادیانی سوال نمبر:۵۶… حضرت عیسیٰ حضرت مہدی کس فرقہ سے ہوں گے؟ Page ۴۴۷ قادیانی سوال نمبر:۵۷… تقدیم وتاخیر Page ۴۴۷
152

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

اعتراف قصور وطلب معافی

محض ﷲرب العزت کے فضل وکرم واحسان وتوفیق، عنایت ومہربانی سے ’’قادیانی شبہات کے جوابات‘‘ کی دوسری جلد پیش خدمت ہے۔ یہ جلد حیات سیدنا عیسیٰ علیہ السلام پر مشتمل ہے۔ قادیانی شبہات کے جوابات کی جلد اوّل رجب ۱۴۲۰ھ میں شائع ہوئی تھی۔ اب جمادی الاوّل ۱۴۲۵ھ میں دوسری جلد شائع ہورہی ہے۔ چارسال دس ماہ کی طویل مدت تک رفقاء کو انتظار کرنا پڑا۔ پہلی جلد کو ﷲتعالیٰ نے شرف قبولیت سے سفرفراز فرمایا۔ اس کے پاکستان میں اس وقت تک متعدد ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں۔ مخدوم محترم حضرت مولانا شاہ عالم صاحب گورکھپوری نائب ناظم کل ہندمجلس تحفظ ختم نبوت دارالعلوم دیوبند نے اس پر نظرثانی فرماکر اسے ہندوستان سے بھی شائع کیا۔ دارالعلوم دیوبند کے ’’درجہ تخصص فی ختم النبوۃ‘‘ میں اسے شامل کورس کیاگیا۔

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیراہتمام شعبان میں منعقدہ ’’سالانہ ردقادیانیت وعیسائیت کورس‘‘ چناب نگر میں اسے پڑھایا جاتا ہے۔ رفقاء نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ اس کی قدردانی اور فقیر کی حوصلہ افزائی کی۔ متعدد حضرات نے حیات مسیح علیہ السلام پر دوسری جلد کی اشاعت کا تقاضہ کیا۔ لیکن فقیر راقم احتساب قادیانیت شائع کرنے کے کام میں ایسا مستغرق ہوا کہ اس کی تو ۱۳جلدیں شائع ہوگئیں۔ مگر قادیانی شبہات کے جوابات کی جلد ثانی مکمل نہ کر پایا۔ حالانکہ مسودہ تقریباً تیار تھا۔ اب گزشتہ دو ماہ سے تبلیغی اسفار کے باوجود اسے ترجیحاً شائع کرنے کا نظم بنایا۔ مسودہ پر نظر ثانی کی اور عجلت میں کمپوزنگ کے لئے بھجوادیا۔ عجلت اس لئے ہوئی کہ آج سے دس دن بعد سفر برطانیہ درپیش ہے۔ سفر برطانیہ سے واپسی پر چناب نگر میں سالانہ ختم نبوت کانفرنس وکورس کا کام سرپر سوار ہوگا۔ یہ رہ گئی تو سال بھر اس کی اشاعت مؤخر ہو جائے گی۔ پہلے بھی یہی ہوا اب بھی اسی کا اندیشہ ہے۔ ﷲتعالیٰ کا نام لے کر جو کچھ ہوسکا پیش خدمت ہے۔ یہ کام عجلت میں ہوا اور بہت ہی عجلت میں ہوا۔ اس میں بہت ساری خامیاں ہیں۔ مزید محنت درکار تھی جو نہیں ہوسکی۔ اس میں بعض مقامات پر آپ کو تکرار ملے گا۔ بعض جگہ تو اجمال وتفصیل کے باعث تکرار ناگزیر تھا اور بعض مقامات پر عجلت کے باعث تکرار رہ گیا۔ جو کسی

153

کتاب کے لئے بدنماداغ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس پر میں اپنے قصور کا اعتراف کرتا ہوں۔ ﷲ رب العزت اور اس کے بندوں سے معافی چاہتا ہوں۔ کاش! حضرت مولانا محمد انور اوکاڑوی مدظلہ، حضرت مولانا شاہ عالم گورکھپوری، حضرت مولانا محمد عابد مدظلہ، حضرت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، حضرت مولانا محمدابراہیم واسوی، پروفیسر مولانا مفتی حفیظ الرحمن (ٹنڈوآدم) ایسا کوئی محسن اس پر نظر ثانی سے توجہ فرماکر اس کے جھول دورکر کے تکرارات کو حذف اور مفید اضافے کردے۔ ’’بہتر نقش ثانی از نقش اوّل‘‘ ہو جائے۔ وما ذالک علی ﷲ بعزیز!

اس کے سات ابواب ہیں۔ حیات مسیح پر قرآنی دلائل میں حضرت مولانامحمد ادریس کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب ’’حیات مسیح‘‘ کو اور آیات قرآنی میں قادیانی تحریفات کے جوابات کے لئے حضرت مولانا قاضی محمد سلیمان منصورپوری رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب ’’غایت المرام‘‘ کوبنیاد بناکر اس پر اضافے کئے ہیں۔ ان شاء ﷲ العزیز تمام ترکوتاہیوں کے باوصف اس موضوع پر یہ کتاب تمام قدیم ماخذ ومحنت بزرگان کا نچوڑ ثابت ہوگی۔

جو کچھ مواد ہے یہ بزرگوں کی محنت ہے۔ فقیر اس کا جامع یا مرتب ہے۔ مانگ تانگ سے کشکول گدائی بھر گیا تو صاحب ہم بھی مصنف ہوگئے۔ (معاذ ﷲ) ﷲتعالیٰ معاف فرمائیں۔

سراپا تقصیر مجموعہ خطاء، امت محمدیہ کا سیاہ دل وسیاہ رو اس کے علاوہ اور کیا عرض کرسکتا ہے۔ اے باری تعالیٰ اپنے عاجزومسکین گنہگار بندہ کی خطاؤں کو معاف فرما اور قادیانی شبہات کے جوابات کی تیسری جلد ’’کذب قادیانی‘‘ بھی مرتب کرنے کی توفیق سے مالامال فرمائیں۔

آمین۔ بحرمۃ النبی الکریم خاتم النّبیین!

فقیر: ﷲ وسایا (دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت)

حضوری باغ روڈ ملتان

۱۱؍جمادی الاوّلیٰ ۱۴۲۵ھ، بمطابق یکم؍جولائی ۲۰۰۴ء

154

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

قادیانیوں سے گفتگو کے لئے رہنما اصول

قادیانیوں سے گفتگو کرنی ہو تو ہماری پہلی ترجیح یہ ہوتی ہے کہ مرزاقادیانی کے کذب پر گفتگو ہو۔ اس موضوع سے قادیانی اس طرح بھاگتے ہیں جس طرح شکار تیر سے۔ اس لئے کہ قادیانی کتب سے مرزاقادیانی کی جو بھیانک صورت اجاگر ہوتی ہے اس سے قادیانیوں کو جان کے لالے پڑ جاتے ہیں۔ بدیں وجہ قادیانیوں کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ حیات مسیح علیہ السلام کے مسئلہ کو آڑ بنا کر، تحریف کے نشتر چلا کر، استعارہ کی اوٹ لے کر اور بات کا بتنگڑ بنا کر مرزاقادیانی کی حقیقت پر پردہ پوشی کریں۔ لہٰذا حیات مسیح علیہ السلام پر جب گفتگو کرنی پڑے تو اس کتاب سے استفادہ کر سکتے ہیں۔ ان شاء ﷲ العزیز یہ مفید اور کارگر ہتھیار ثابت ہوگی۔ قادیانی تمام شبہات کا اس میں جواب موجود ہے۔ لیکن جب آپ گفتگو کریں تو قادیانیوں اور سامعین پر واضح کریں کہ قرآن مجید ﷲتعالیٰ کی کتاب ہے۔ اسے نازل ہوئے چودہ صدیاں بیت گئیں۔ آیا اسے آج تک کسی نے سمجھا بھی ہے یا نہیں؟ یقینا اس کا وہ جواب ہاں میں دیں گے، تو پھر آپ مؤقف اختیار کریں کہ قرآن مجید کی جس آیت کا ترجمہ ومفہوم سمجھنا ہو امت کے قدیم مفسرین، مجددین ومحدثین کی تفہیم کی روشنی میں ہم اسے سمجھیں گے۔ یعنی جو آیت زیربحث ہو اس کا ہم یا قادیانی جو ترجمہ ومفہوم بیان کریں وہ چودہ سو سالہ امت کی رائے کے خلاف نہ ہو۔ اگر ہم نیا ترجمہ کرتے ہیں تو لازم آئے گا کہ چودہ سو سال میں امت میں سے قرآن مجید کو کسی نے نہیں سمجھا اور یہ محال ہے۔ مرزاقادیانی کے فتنہ کو سوسال ہوگئے۔ اس سے اختلاف ہوا۔ اس سے قبل جو امت کے مفسرین، مجددین یا محدثین ہیں وہ تو متفقہ ہیں۔ اس لئے فریقین جو آیت پیش کریں اس کا ترجمہ ومفہوم امت کی سابقہ تفسیروں سے دکھائیں۔ جو تفسیر فریقین کے نزدیک مسلم ہو اس کو مدار بنائیں۔ ایک نہیں دس سابقہ قدیم تفاسیر کو مدار بنا کر گفتگو کریں جو ترجمہ ومفہوم ہو ہم ان تفاسیر میں دکھانے کے پابند ہوں اور قادیانی بھی ’’جی بسم ﷲ‘‘ قادیانی کسی ایک قدیم تفسیر یا تفاسیر جتنی چاہیں ان کے نام بتائیں۔ جس آیت کا ترجمہ ومفہوم پوچھنا ہو ان سے پوچھیں گے۔ اس نکتہ پر قادیانی کبھی نہ آئیں گے تو ان کا باربار کہنا کہ قرآن سے، قرآن سے، قرآن سے، بحث کریں۔ وہ سامعین پر واضح ہو جائے گا کہ یہ جو قرآن کا نام لے کر قرآن مجید پر الحاد کا کلہاڑا چلانا چاہتے ہیں۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ لغت سے ترجمہ نہ ہو۔ لیکن لغت میں ایک لفظ کے کئی معنی ہی، یہاں کون سا معنی مراد ہے۔ اس کے لئے قدیم مفسرین پر فیصلہ کی فریقین پابندی کریں۔ آخر قدیم مفسرین بھی تو لغت جانتے تھے۔ آج کے دور میں فہم قرآن پر ہم پابندی نہیں لگارہے۔ بلکہ اپنے فہم کو امت مسلمہ کے چودہ سو سالہ سلسلۃ الذہب سے منسلک کر رہے ہیں تاکہ الحاد سے بچ جائیں۔

۲… ہمارے نزدیک ہر صدی میں مجدد یا مجددین کا ہونا صحیح ہے۔ لیکن وہ کون ہے؟ کوئی بھی ہوسکتا ہے۔ لیکن قادیانیوں نے ازخود مرزاقادیانی کو چودھویں صدی کا مجدد بنانے کے لئے تیرہ صدیوں کے مجددین کی فہرست شائع کر دی ہے۔ جو یہ ہے:

’’پہلی صدی میں اصحاب ذیل مجدد تسلیم کئے گئے ہیں: (۱)عمر بن عبدالعزیز۔ (۲)سالم۔ (۳)قاسم۔ (۴)مکحول۔ علاوہ ان کے اور بھی اس صدی میں مجدد مانے گئے ہیں۔ چونکہ جو مجدد جامع صفات حسنٰی ہوتا ہے وہ سب کا

155

سردار اور فی الحقیقت وہی مجدد فی نفسہ مانا جاتا ہے۔

دوسری صدی کے مجدد اصحاب ذیل ہیں: (۱)امام محمد ادریس ابوعبد ﷲ شافعی۔ (۲)احمد بن محمد بن حنبل شیبانی۔ (۳)یحییٰ بن معین بن عون عطفانی۔ (۴)اشہب بن عبدالعزیز بن داؤد قیس۔ (۵)ابوعمرمالکی مصری۔ (۶)خلیفہ مامون رشید بن ہارون۔ (۷)قاضی حسن بن زیاد حنفی۔ (۸)جنید بن محمد بغدادی صوفی۔ (۹)سہل بن ابی سہل بن رنحلہ شافعی۔ (۱۰)بقول امام شعرانی حارث بن اسعد محاسبی ابوعبد ﷲ صوفی بغدادی۔ (۱۱)اور بقول قاضی القضات علامہ عینی۔ احمد بن خالد الخلال، ابوجعفر حنبلی بغدادی۔ (نجم الثاقب ج۲ ص۱۴، قرۃ العیون ومجالس الابرار)

تیسری صدی کے مجدد اصحاب ذیل ہیں:(۱)قاضی احمد بن شریح بغدادی شافعی۔ (۲)ابوالحسن اشعری متکلم شافعی۔ (۳)ابوجعفر طحاوی ازدی حنفی۔ (۴)احمد بن شعیب۔ (۵)ابوعبدالرحمن نسائی۔ (۶)خلیفہ مقتدربِاللہ عباسی۔ (۷)حضرت شبلی صوفی۔ (۸)عبید ﷲ بن حسین۔ (۹)ابوالحسن کرخی صوفی حنفی۔ (۱۰)امام بقی بن مخلد قرطبی مجدد اندلس اہل حدیث ۔

چوتھی صدی کے مجدد اصحاب ذیل ہیں:(۱)امام ابوبکر باقلانی۔ (۲)خلیفہ قادر بِاللہ عباسی۔ (۳)ابوحامد اسفرانی۔ (۴)حافظ ابونعیم۔ (۵)ابوبکرخوارزمی حنفی۔ (۶)بقول شاہ ولی ﷲ ابوعبد ﷲ محمد بن عبد ﷲ المعروف بالحاکم نیشاپوری۔ (۷)امام بیہقی۔ (۸)حضرت ابوطالب ولی ﷲ صاحب قوت القلوب جو طبقہ صوفیا سے ہیں۔ (۹)حافظ احمدبن علی بن ثابت خطیب بغدادی۔ (۱۰)ابواسحق شیرازی۔ (۱۱)ابراہیم بن علی بن یوسف فقیہ ومحدث۔

پانچویں صدی کے مجدد اصحاب ذیل ہیں: (۱) محمد بن ابوحامد امام غزالی۔ (۲)بقول عینی وکرمانی حضرت راعونی حنفی۔ (۳)خلیفہ مستظہر بالدین مقتدی بِاللہ عباسی۔ (۴)عبد ﷲ بن محمدانصاری ابواسماعیل ہروی۔ (۵)ابوطاہر سلفی۔ (۶)محمدبن احمد ابوبکر شمس الدین سرخسی فقیہ حنفی۔

چھٹی صدی کے مجدد اصحاب ذیل ہیں: (۱)محمدبن عمر ابوعبد ﷲ فخرالدین رازی۔ (۲)علی بن محمد۔ (۳)عزالدین ابن کثیر۔ (۴)امام رافعی شافعی صاحب زبدہ شرح شفا۔ (۵)یحییٰ بن حبش بن میرک حضرت شہاب الدین سہروردی شہید امام طریقت۔ (۶)یحییٰ بن اشرف بن حسن محی الدین لوذی۔ (۷)حافظ عبدالرحمن ابن جوزی۔ (۸)حضرت عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ سرتاج طریقہ قادری۔

ساتویں صدی کے مجدد اصحاب ذیل ہیں: (۱)احمدبن عبدالحلیم تقی الدین ابن تیمیہ حنبلی۔ (۲)تقی الدین ابن دقیق السعید۔ (۳)شاہ شرف الدین مخدوم بھائی سندی۔ (۴)حضرت معین الدین چشتی۔ (۵)حافظ ابن القیم جوزی شمس الدین محمد بن ابی بکر بن ایوب بن سعد بن القیم الجوزی درعی دمشقی حنبلی۔ (۶)عبد ﷲ بن اسعد بن علی بن سلیمان بن خلاج ابومحمد عفیف الدین یافعی شافعی۔ (۷)قاضی بدرالدین محمد بن عبد ﷲ الشبلی حنفی دمشقی۔

آٹھویں صدی کے مجدد اصحاب ذیل ہیں: (۱) حافظ علی بن حجر عسقلانی شافعی۔ (۲)حافظ زین الدین عراقی شافعی۔ (۳)صالح بن عمر بن ارسلان قاضی بلقینی۔ (۴)علامہ ناصرالدین شاذلی ابن سنت میلی۔

نویں صدی کے مجدد اصحاب ذیل ہیں: (۱)عبدالرحمن بن کمال الدین شافعی معروف بامام جلال الدین سیوطی۔ (۲)محمد بن عبدالرحمن سخاوی شافعی۔ (۳)سید محمد جون پوری مہدی ۔

اور بقول بعض دسویں صدی کے مجدد ہیں۔

دسویں صدی کے مجدد اصحاب ذیل ہیں: (۱)ملاعلی قاری۔ (۲)محمدطاہر فتنی گجراتی محی الدین محی السنۃ۔

156

(۳)حضرت علی بن حسام الدین معروف بعلی متقی ہندی مکی۔

گیارھویں صدی کے مجدد اصحاب ذیل ہیں: (۱) عالمگیر بادشاہ غازی اورنگ زیب۔ (۲)حضرت آدم بنوری صوفی۔ (۳)شیخ احمد بن عبدالاحد بن زین العابدین فاروقی سرہندی۔ معروف بامام ربانی مجدد الف ثانی۔

بارھویں صدی کے مجدد اصحاب ذیل ہیں: (۱) محمد بن عبدالوہاب بن سلیمان نجدی۔ (۲)مرزا مظہر جانِ جاناں دہلوی۔ (۳)سید عبدالقادر بن احمد بن عبدالقادر حسنی کوکیانی۔ (۴)حضرت احمد شاہ ولی ﷲ صاحب محدث دہلوی۔ (۵)امام شوکانی۔ (۶)علامہ سید محمد بن اسماعیل امیریمن۔ (۷)محمد حیات بن ملاملازیہ سندھی مدنی۔

تیرھویں صدی کے مجدد اصحاب ذیل ہیں: (۱)سید احمد بریلوی۔ (۲)شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی۔ (۳)مولوی محمداسماعیل شہیددہلوی۔ (۴)بعض کے نزدیک شاہ رفیع الدین صاحب بھی مجدد ہیں۔ (۵)بعض نے شاہ عبدالقادر کو مجدد تسلیم کیا ہے۔ ہم اس کا انکار نہیں کرسکتے کہ بعض ممالک میں بعض بزرگ ایسے بھی ہوں گے جن کو مجدد مانا گیا ہو اور ہمیں ان کی اطلاع نہ ملی ہو۔‘‘

(عسل مصفّٰی ص۱۶۲تا۱۶۵،خدا بخش مرزائی تصدیق شدہ از مرزا غلام احمد قادیانی)

لیجئے! اس فہرست میں جو حضرات فریقین کے ہاں مسلم ہوں ان پر اتفاق کرلیاجائے۔

(الف)… جس آیت کا وہ جو ترجمہ کریں دونوں فریق قبول کریں۔

(ب)… وہ فرمادیں کہ مسیح علیہ السلام زندہ تو ہم دونوں فریق قبول کریں۔ وہ کہہ دیں فوت ہوگئے تو بھی فریقین قبول کریں۔

(ج)… وہ ختم نبوت کے مسئلہ پر جو موقف رکھتے ہوں فریقین مان لیں۔ قادیانیوں کو اس کا پابند کریں ۔ فیصلہ آسان ہوگا۔ قارئین یقین فرمائیے تیرہ صدیوں کا ایک بھی مسلمہ مفسر ومجدد ایسا نہیں جو حیات مسیح کا منکر یا اجرائے نبوت کا قائل ہو۔ قادیانی اس پر آجائیں۔ لیکن قادیانی اس سے بھاگیں گے۔ اس پر نہیں آئیں گے۔ حیات مسیح‘ ختم نبوت پر ان بزرگوں کے جو وہ حوالہ جات دیتے ہیں سب میں تحریف کرتے ہیں۔ کانٹ چھانٹ اور ہیر پھیر سے کام لیتے ہیں۔ دجل کرتے ہیں۔ ورنہ حقیقت میں ایک بھی مسلمہ بزرگ ان مسائل میں امت کے خلاف مؤقف نہیں رکھتا۔ جیسا کہ آپ اس کتاب میں ملاحظہ کریں گے۔

۳… قادیانی اس پر کبھی نہ آئیں گے۔ تو پھر آپ ان سے سوال کریں کہ تیرہ صدیوں کے مسلمہ مجدد حیات مسیح اور ختم نبوت کے قائل۔ چودھویں صدی کا ایک آپ کا نام نہاد مجدد مرزا قادیانی ان کا منکر۔ آیا تیرہ صدیوں کے مجدد صحیح ہیں یا یہ ایک؟ اس لئے کہ ایک مسئلہ پر تیرہ صدیوں کے مسلمہ بزرگوں کی رائے ایک ہے۔ اکیلے مرزا قادیانی کی ایک طرف۔ اگر تیرہ صدیوں کے حضرات حق پر ہیں تو مرزا قادیانی حق پر نہ ہوا۔اگر مرزا قادیانی حق پر ہے تو تیرہ صدیوں کے حضرات حق پر نہ ہوئے۔ اب مرزائی تیرہ صدیوں کے مسلمہ مجددین کا انکار کریں یا ایک کا؟ اس سے بھی سامعین اور انصاف پسند قادیانی سمجھ جائیں گے کہ حق کس طرف ہے۔

۴… ذیل میں چند حوالہ جات پیش خدمت ہیں۔ ان پر گفتگو کے وقت نظر رہے۔ نیز سابقہ نکات کی تائید کے لئے بھی یہ کارآمد ہیں۔

حوالہ نمبر۱:

’’ مومنوں کو قرآن کریم کا علم اور نیز اس پر عمل عطا کیا گیا ہے۔ ‘‘

(شہادۃ القرآن ص۵۵، خزائن ج۶ص۳۵۱)

حوالہ نمبر۲:

’’ایسے ائمہ اور اکابر کے ذریعہ سے جن کو ہر ایک صدی میں فہم قرآن عطا ہوا ہے۔ جنہوں نے قرآن شریف کے اجمالی مقامات کی احادیث نبویہ کی مدد سے تفسیر کرکے خدا کے پاک کلام اور پاک تعلیم کو ہرایک زمانہ میں

157

تحریف معنوی سے محفوظ رکھا۔‘‘ (ایام الصلح ص۵۵، خزائن ج۱۴ص۲۸۸)

حوالہ نمبر۳:

’’مگر وہ باتیں جو مدار ایمان ہیں اور جن کے قبول کرنے اور جاننے سے ایک شخص مسلمان کہلاسکتا ہے وہ ہرزمانہ میں برابر طور پر شائع ہوتی رہیں۔‘‘

(کرامات الصادقین ص۲۰، خزائن ج۷ص۶۲)

حوالہ نمبر۴:

’’غرض برخلاف اس متبادر مسلسل معنوں کے جو قرآن شریف میں … اول سے آخرتک سمجھے جاتے ہیں۔ ایک نئے معنی اپنی طرف سے گھڑنا یہی تو الحاد اور تحریف ہے۔ خدا تعالیٰ مسلمانوں کو اس سے بچاوے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۷۴۵، خزائن ج۳ص۵۰۱)

حوالہ نمبر۵:

’’کسی اجماعی عقیدہ سے انکار وانحراف موجب لعنت کلی ہے۔‘‘

(انجام آتھم ص۱۴۴،خزائن ج۱۱ص ایضاً)

ان حوالہ جات سے جو نتائج برآمد ہوئے وہ یہ ہیں:

(الف) مومنوں کو قرآن کا علم وعمل عطا کیا گیا۔

(ب) ہر صدی میں ائمہ واکابر قرآن مجید کے فہم کو جاننے والے موجود رہے۔

(ج) مدار ایمان چیزیں ہر زمانہ میں شائع (مشہور عام) رہیں۔

(د) متبادر مسلسل معنوں کے خلاف قرآن میں معنی گھڑنا الحاد وتحریف ہے۔

مرزا قادیانی کے ان حوالوں کی روشنی میں قادیانی گزشتہ صدیوں کے ائمہ واکابر کے فہم کے قرآن کے خلاف نئے معنی گھڑ کر الحاد وتحریف اختیار کرنے کی بجائے ہمارے ساتھ تمام مختلف فیہ مسائل میں تمام قرآنی آیات جو پیش ہوں وہ ترجمہ کریں۔ اس فہم کو پیش کریں جو مرزا قادیانی سے پہلے ہے گزشتہ صدیوں کے ائمہ واکابر کی تفاسیر سے معلوم ومتعین ہیں۔ تاکہ بات کسی نتیجہ پر پہنچ سکے۔

اختلاف تفاسیر: قادیانی تفاسیر کی آراء کے اختلاف کی بابت سوال کریں تو ان سے کہا جائے کہ امت کے اکابر نے دیانت داری سے جتنے اقوال وتشریحات ہوسکتی ہیں سب کو بیان کردیا۔ ان آراء کے باوجود جو مختار، راجح بلکہ ارجح معنی ومفہوم تھا۔ اسے بھی بیان کیا۔ اس کے مطابق جو عقیدہ اختیار کیا اس کو ماننا چاہئے۔ اب حیات مسیح، ختم نبوت پر جو امت کے اکابر وائمہ کا عقیدہ ہے اسے مانیں۔ وہ سب حیات مسیح اور ختم نبوت کے قائل تھے۔ ہاں اگر اختلاف اقوال کو دیکھا جاسکتا ہے تو وہ مختلف حضرات کے مختلف اقوال تھے۔ مختلف آیات کی ہر ایک نے ترجمہ وتفسیر کی۔ جس آیت کی جتنی تشریح یا جو جو آیت کا مفہوم ہوسکتا تھا بیان کیا۔ لیکن کسی نے ایک ہی مسئلہ پر کہ عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں۔ نہیں فوت ہوگئے۔ ختم نبوت نہیں اجرائے نبوت ہے۔ یہ نہیں کہا لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ مرزا قادیانی کا ان امور پر کیا کردار تھا۔ دور نہ جائیں قادیانیوں کے گھر کی شہادت پیش خدمت ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کا سالا مرزا محمود کا ماموں میراسماعیل قادیانی نے لاہوری قادیانی اختلاف کے سلسلہ میں ’’نبوت حضرت مسیح موعود پر ایک شہادت‘‘ کے عنوان سے ایک مضمون لکھا جو ’’فرقان قادیان جولائی ۱۹۴۳ء‘‘ میں شائع ہوا۔ اسی مضمون کو دوبارہ الفرقان ربوہ مئی،جون۱۹۶۵ء کی اشاعت میں شائع کیا گیا۔ جس میں وہ لاہوریوں کو مخاطب کرکے کہتے ہیں :

’’اس مسئلہ کے حل کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام(مرزا) ہر دو فریق کے مقتداء ہیں۔ نیز ہمارے اور آپ کے نزدیک وہ صادق اور راست باز ہیں۔ ان باتوں کے باوجود: (۱)حضور ایک جگہ فرماتے ہیں کہ مسیح ناصری زندہ ہیں۔ پھر یہ بھی فرماتے ہیں کہ مسیح ناصری فوت ہوچکے ہیں۔ (۲)اور یہ کہتے ہیں کہ مسیح ناصری آخری زمانہ

158

میں آسمان سے نازل ہوں گے اور یہ بھی فرماتے ہیں کہ وہ ہرگز آسمان سے نازل نہیں ہوںگے۔ (۳)پھر کہتے ہیں مسیح اور مہدی دو شخص ہوں گے۔ پھر فرماتے ہیں کہ ہرگز نہیں مسیح اور مہدی ایک ہی شخص ہے۔ (۴)کبھی فرماتے ہیں کہ مہدی تو بنی فاطمہ سے ہوگا۔ پھر کہتے ہیں کہ میں مہدی ہوں۔ (۵)کہیں فرماتے ہیں کہ مجھے عیسیٰ سے کیا نسبت وہ عظیم الشان نبی ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی فرماتے ہیں کہ میں مسیح ناصری سے افضل اور ہرشان میں بڑھ کر ہوں۔ (۶)کہیں فرماتے ہیں کہ میں نبی نہیں ہوں صرف مجدد اور محدث ہوں۔ ساتھ ہی یہ بھی فرماتے ہیں کہ ہم نبی اور رسول ہیں۔ (۷)اسی طرح فرماتے ہیں کہ میرے انکار سے کوئی کافر نہیں ہوتا پھر یہ بھی کہتے ہیں کہ میرا منکر کافر ہے۔ (۸)غیر احمدیوں کے پیچھے نمازیں پڑھتے بھی رہے پھر حرام بھی فرمادیں۔ (۹)ان سے رشتے ناطے بھی کرتے تھے۔ پھر منسوخ بھی کردئیے۔ (۱۰)متوفیک کے معنے کئے کہ پوری نعمت دوں گا۔ پھر کہا کہ ہزار روپیہ انعام اگر سوائے موت۔ اس کے کوئی اور معنے ثابت ہوں۔ (۱۱)فرماتے تھے کہ ایک نبی دوسرے کا متبع نہیں ہوتا۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ کسی نبی کے لئے ضروری نہیں کہ وہ کسی دوسرے نبی کا متبع نہ ہو۔ (۱۲)ایک کتاب میں نبی کی تعریف اور کی ہے۔ دوسری میں اس کے کچھ مخالف کی ہے۔ (۱۳)کبھی کہا کہ میں تو مسیح کا صرف مثیل ہوکر آیا ہوں۔ وہ خود بھی آئے گا۔ پھر کہا کہ میں ہی مسیح ہوں اور کوئی نہیں آئے گا۔ غرض حضور کی تصانیف میں دس حوالے اگر آپ ایک طرح کے دکھاسکتے ہیں تو سو ہم دوسری طرح کے۔

(مسیح موعود نمبر الفرقان ربوہ مئی جون ۱۹۶۵ء ص۴۴)

باب اوّل … تمہیدات خمسہ
تمہید اوّل

رفع ونزول مسیح علیہ السلام کا عقیدہ اور آنحضرت ﷺ کا فرض منصبی

الحمد ﷲ وکفٰی وسلام علی عبادہ الذین اصطفٰی۔ اما بعد!

حضور سرور کائنات ﷺ کی بعثت کے وقت سرزمین عرب میں تین طبقے خصوصیت سے موجود تھے۔ (۱)مشرکین مکہ۔ (۲)نصاریٰ نجران۔ (۳)یہود۔ (خیبر میں)

اب ہمیں دیکھنا ہے کہ قرآن مجید کی رو سے آنحضرت ﷺ کی رسالت کے کیا فرائض تھے؟

(الف)… چنانچہ آپ ﷺ کی بعثت سے قبل کے جو طریق منہاج ابراہیمی کے موافق تھے ان میں تغیر وتبدل نہ ہوا تھا ان کو آپ ﷺ نے اور زیادہ استحکام کے ساتھ قائم فرمایا اور جن امور میں تحریف، فساد یا شعائر شرک وکفر مل گئے تھے۔ ان کا آپ ﷺ نے بڑی شدت سے علی الاعلان رد فرمایا۔ جن امور کا تعلق عبادات واعمال سے تھا ان کے آداب ورسومات اور مکروہات کو واضح کیا۔ رسومات فاسدہ کی بیخ کنی فرمائی اور طریق ہائے صالحہ کا عمل فرمایا اور جس مسئلۂ شریعت کو پہلی امتوں نے چھوڑ رکھا تھا یا انبیاء سابقہ نے اسے مکمل نہ کیا تھا۔ ان کو آپ ﷺ نے تروتازگی دے کر رائج فرمایا اور کامل ومکمل کر دیا۔

159

(ب)… اسی طرح آپ ﷺ سے قبل مختلف مذاہب کے پیروکاروں میں جن امور پر اختلاف تھا آپ ﷺ ان کے لئے فیصل (فیصلہ کرنے والے) اور حکم بن کر تشریف لائے۔ آپ ﷺ پر نازل ہونے والی کتاب قرآن مجید اور اس کی تفسیر (حدیث) کے ذریعے مختلف فیہ امور میں جو فیصلہ صادر ہو جائے وہ حتمی اور اٹل ہے۔ (اس سے روگردانی وانحراف موجب ہلاکت وخسران اور اسے دل سے تسلیم کرنا سعادت مندی اور اقبال بختی کی دلیل ہے) چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’وَمَا اَنْزَلْنَا عَلَیْکَ الْکِتٰبَ اِلَّا لِتُبَیِّنَ لَہُمُ الَّذِی اخْتَلَفُوْا فِیْہِ وَہُدًی وَّرَحْمَۃً لِّقَوْمِ یُّوْمِنُوْنَ (النحل:۶۴)‘‘ اور ہم نے اتاری تجھ پر کتاب اسی واسطے کہ کھول کر سنا دے تو ان کو وہ چیز جس میں وہ جھگڑ رہے ہیں اور سیدھی راہ سمجھانے کو اور بخشش واسطے ایمان لانے والوں کے۔

اب ہم دیکھتے ہیں کہ تینوں طبقات کے کون کون سے عقائد واعمال صحیح یا غلط تھے اور ان کا آپ ﷺ نے کیا فیصلہ فرمایا؟

مشرکین مکہ

۱… شرک میں مبتلا تھے۔ بتوں کی پوجا کرتے تھے۔ چنانچہ قرآن مجید نے تردید شرک اور اثبات توحید باری تعالیٰ پر جتنا زور دیا ہے اور جس طرح شرک کو بیخ وبن سے اکھاڑا ہے بتوں کی عبادت کی تردید اور ابطال کا قرآن مجید نے جو انداز اختیار کیا ہے کیا کسی آسمانی مذہب یا آسمانی کتاب میں اس کی نظیر پیش کی جاسکتی ہے؟ نہیں اور ہرگز نہیں۔ آپ ﷺ نے جس طرح معبودان باطلہ کو للکارا وہ صرف اور صرف آپ ﷺ ہی کا حصہ تھا۔

۲… مشرکین مکہ بیت ﷲ کا طواف کرتے تھے۔ یہ عمل ان کا صحیح تھا۔ اسلام نے اس کو نہ صرف قائم رکھا۔ بلکہ زمانۂ نبوت سے تا آبد الآباد اس کو اسلامی عبادت کا بہترین حصہ قرار دیا۔ ’’وَلْیَطَّوَّفُوْا بِالْبِیْتِ الْعَتِیْقِ (الحج:۲۹)‘‘ اور طواف کریں پس قدیم گھر کا۔ طواف امر الٰہی اور حکم ربی ہے۔ ہاں! مشرکین نے طواف میں جو غلط رسوم شامل کر لی تھیں۔ مثلاً وہ ننگے طواف کرتے تھے۔ یہ بیہودہ امر تھا اس کو محو کر دیا۔

۳… مشرکین مکہ حجاج کو ستو پلایا کرتے تھے۔ حجاج کی عزت وتکریم کرتے تھے۔ حجاج کو، بیت ﷲ کے زائرین کو ضیوف ﷲ سمجھتے تھے۔ یہ امر صحیح تھا۔ اس لئے اس کی توثیق فرمائی۔ جیسے ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’سِقَایَۃَ الْحَاجِّ (توبہ:۱۹)‘‘ حاجیوں کو پانی پلانا۔ اس سے قبل بیت ﷲ الحرام کی تعمیر اور اس میں حاجیوں کو پانی پلانا ذکر فرماکر ان امور خیر کی توثیق فرمائی۔

۴… مشرکین عرب اپنی بچیوں کو زندہ درگور کردیا کرتے تھے۔ ان کا یہ فعل قبیح اور حرام تھا۔ اس سے پیغمبر اسلام نے نہ صرف روکا بلکہ بچیوں کی تربیت کرنے والوں کو جنت کی خوشخبری سے نوازا۔ بچیوں کے قتل پر قرآن مجید میں ارشاد ہے: ’’وَاِذَا الْمُؤْدَۃُ سُئِلَتْ بِاَیِّ ذَنْبٍ قُتِلَتْ (تکویر:۸،۹)‘‘ اور جب بیٹی زندہ گاڑ دی گئی تو پوچھیں کہ کس گناہ پر وہ ماری گئی۔

غرض قرآن مجید نے مشرکین کے غلط عقائد ورسوم کو مٹایا اور صحیح کاموں کی توثیق کی اور ان کو اور زیادہ منقح اور مستحکم کیا۔

160

یہود کے عقائد

۱… یہود بے بہبود حضرت عزیر علیہ السلام کو ابن ﷲ قرار دیتے تھے۔ ۔ ’’وَقَالَتِ الْیَہُوْدُ عُزَیْرُنِ ابْنُ اللّٰہِ (توبہ:۳۰)‘‘ اور یہود نے کہا کہ عزیر ﷲ کا بیٹا ہے۔

قرآن مجید نے اس کی تردید کی۔ ’’تَکَادُ السَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرْنَ مِنْہُ وَتَنْشَقُّ الْاَرْضُ وَتَخِرُّ الْجِبَالُ ہَدًا۔ اَنْ دَعَوْا لِلرَّحْمٰنِ وَلَدًا۔ وَمَا یَنْبَغِیْ لِلرَّحْمٰنِ اَنْ یَّتَّخِذَ وَلَدًا (مریم:۹۰تا۹۲)‘‘ ابھی آسمان پھٹ پڑیں اس بات سے اور ٹکڑے ہو زمین اور گر پڑیں پہاڑ ڈھے کر اس پر کہ پکارتے ہیں رحمان کے نام پر اولاد اور نہیں پھبتا رحمان کو کہ رکھے اولاد۔

۲… یہود حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کے قتل کا اعتقاد رکھنے اور ر ’’اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِیْحَ عِیْسٰی ابْنَ مَرْیَمَ رَسُوْلَ اللّٰہِ (النساء:۱۵۷)‘‘ {ہم نے قتل کیا مسیح، عیسیٰ، مریم کے بیٹے کو جو رسول تھا۔} جتنی پختگی سے وہ دعویٰ کرتے تھے اس سے زیادہ زوردار بیان سے قرآن مجید نے ’’وَمَا قَتَلُوْہُ‘‘ {اور انہوں نے نہ اس کو مارا۔} کہہ کر قتل مسیح کی مطلق نفی کر کے اس غلط دعویٰ کی تردید فرمائی۔

۳… اور وہ حضرت مریم عذراء علیہا السلام کی پاک دامنی کے خلاف تھے۔ قرآن مجید نے ’’وَاِذْ قَالَتِ الْمَلٓئِکَۃُ یٰمَرْیَمُ اِنَّ اللّٰہَ اصْطَفٰکِ وَطَہَّرَکِ وَاصْطَفٰکِ عَلٰی نِسَائِ الْعٰلَمِیْن (آل عمران:۴۲)‘‘ {اور جب فرشتے بولے اے مریم ﷲ نے تجھ کو پسند کیا اور ستھرا بنایا اور پسند کیا تجھ کو سب جہان کی عورتوں پر۔} ’’وَاُمُّہٗ صِدِّیْقَۃٌ (مائدہ:۷۵)‘‘ {اور اس کی ماں ولیہ ہے۔} کہہ کر یہود کے عقیدۂ بد کی تردید فرمائی۔

خود مرزاقادیانی کو بھی اعتراف ہے۔ چنانچہ اس نے لکھا کہ: ’’یہودیوں کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت یہ خیال تھا کہ وہ قتل بھی کئے گئے اور صلیب بھی دئیے گئے۔ بعض یہود کہتے ہیں پہلے قتل کر کے پھر صلیب پر لٹکائے گئے اور بعض کہتے ہیں پہلے صلیب دے کر پھر ان کو قتل کیاگیا۔‘‘

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۱۷۶، خزائن ج۲۱ ص۳۴۵)

غرض یہود کے ان غلط دعوؤں کو ’’وَمَا قَتَلُوْہُ وَمَا صَلَبُوْہُ وَمَا قَتَلُوْہُ یَقِیْنًا‘‘ کے زوردار الفاظ سے ڈنکے کی چوٹ پر قرآن مجید نے نہ صرف رد کیا بلکہ قتل مطلق اور صلب مطلق کی نفی کی تلوار سے ان دعوؤں کو بیخ وبن سے اکھیڑ دیا۔ ’’وَمَا قَتَلُوْہُ یَقِیْنًا‘‘ تو ایسا قرآنی بم ہے جس نے یہود کے دعویٰ کو ملیا میٹ اور زمین بوس کر دیا۔

نصاریٰ کے عقائد

۱… نصاریٰ تثلیث کے قائل تھے۔ ان کا یہ عقیدہ بداہۃً باطل تھا۔ قرآن مجید نے اس کا رد فرمایا۔ ’’لَقَدْ کَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْا اِنَّ اللّٰہَ ثَالِثُ ثَلٰثَۃ (مائدہ:۷۳)‘‘ {بے شک کافر ہوئے جنہوں نے کہا ﷲ ہے تین میں کا ایک۔} نیز فرمایا: ’’وَمَا مِنْ اِلٰہٍ اِلَّا اِلٰہُ وَّاحِدٌ (مائدہ:۷۳)‘‘ {حالانکہ کوئی معبود نہیں بجز ایک معبود کے۔}

۲… نصاریٰ الوہیت مسیح کے قائل تھے۔ ان کا یہ عقیدہ بھی بداہۃً باطل تھا۔ چنانچہ صراحۃً قرآن مجید نے اس کی تردید فرمائی۔ ’’لَقَدْ کَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْا اِنَّ اللّٰہَ ہُوَ الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ (مائدہ:۷۲)‘‘ {بے شک کافر ہوئے جنہوں نے کہا ﷲ وہی مسیح ہے مریم کا بیٹا۔} نیز فرمایا: ’’مَا الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ اِلَّا رَسُوْلٌ (مائدہ:۷۵)‘‘ {نہیں ہے مسیح مریم کا بیٹا مگر رسول۔}

161

۳… نصاریٰ عیسیٰ بن مریم کو ابن ﷲ قرار دیتے تھے۔ ’’وَقَالَتِ النَّصَارَی الْمَسِیْحُ ابْنُ اللّٰہِ (توبہ:۳۰)‘‘ {اور نصاریٰ نے کہا مسیح ﷲ کا بیٹا ہے۔}

ان کا یہ عقیدہ بھی بداہۃً باطل تھا۔ قرآن مجید نے صراحتاً اس کی بھی تردید فرمائی۔ ’’قُلْ ہُوَ اللّٰہُ اَحَدٌO اللّٰہُ الصَّمَدٌO لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْO وَلَمْ یَکُنْ لَّہٗ کُفُوًا اَحَدْ (سورۃ الاخلاص)‘‘ {تو کہہ وہ ﷲ ایک ہے ﷲ بے نیاز ہے نہ کسی کو جنا نہ کسی سے جنا گیا اور نہیں اس کے جوڑ کا کوئی۔}

نیز سورۃ مریم کی آیات ۹۰تا۹۲ پہلے گزر چکی ہیں۔ غرض نصاریٰ کے اس (ابنیت مسیح) عقیدہ باطل کی بھی قرآن مجید نے تردید کی۔

۴… نصاریٰ کا عقیدہ تھا کہ مسیح علیہ السلام پھانسی پر چڑھ کر ہمارے گناہوں کا کفارہ ہو گئے۔ ان کے عقیدۂ کفارہ کی بنیاد مسیح علیہ السلام کا صلیب پر چڑھنا تھا۔ قرآن مجید نے اس کی تردید کی ’’وَمَا صَلَبُوْہُ (النساء:۱۵۷)‘‘ کہ وہ قطعاً پھانسی پر نہیں چڑھائے گئے تو عقیدہ کفارہ کی بنیاد ہی قرآن مجید نے گرادی کہ جب وہ سرے سے صلیب پر نہیں چڑھائے گئے تو تمہارے گناہوں کا کفارہ کا عقیدہ ہی سرے سے بے بنیاد ہوا۔

چونکہ یہ عقیدہ اصولاً غلط تھا۔ چنانچہ قرآن مجید نے صرف نفی صلیب پر اکتفاء نہیں کیا بلکہ واقعاتی تردید کے ساتھ ساتھ اصولی اور معقولی تردید بھی کی۔ ’’وَلَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰی (فاطر:۱۸)‘‘ {اور نہ اٹھائے گا کوئی اٹھانے والا بوجھ دوسرے کا۔}

نیز فرمایا: ’’فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًا یَّرَہٗ وَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَّرَہٗ (زلزال:۷،۸)‘‘ {سو جس نے ذرہ بھر بھلائی کی وہ دیکھ لے گا اسے اور جس نے کی ذرہ برابر برائی وہ دیکھ لے گا اسے۔}

مرزاقادیانی کو بھی تسلیم ہے کہ نصاریٰ کا عقیدہ تھا کہ: ’’مسیح عیسائیوں کے گناہ کے لئے کفارہ ہوا۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۳۷۳، خزائن ج۳ ص۲۹۲)

نصاریٰ کا عقیدہ کفارہ غلط تھا۔ قرآن مجید نے بغیر رعایت کے اپنا فرض منصبی ادا کرتے ہوئے اس کی تردید کا علم بلند کیا۔

۵… نصاریٰ کا عقیدہ تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رفع جسمانی ہوا اور وہ دوبارہ اس دنیا میں واپس تشریف لائیں گے۔ حضرت مسیح کے رفع الیٰ السماء حیات مسیح اور نزول مسیح من السماء کے نصاریٰ قائل تھے اور مرزاغلام احمد قادیانی بھی مانتا ہے کہ: ’’اس خیال پر تمام فرقے نصاریٰ کے متفق ہیں کہ (مسیح علیہ السلام) آسمان کی طرف اٹھائے گئے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۲۴۸، خزائن ج۳ ص۲۲۵)

مرزاقادیانی نے لکھا ہے کہ: ’’اِنَّ عَقِیْدَۃَ حَیَاتِہٖ قَدْ جَاء تْ فِیْ الْمُسْلِمِیْنَ مِنَ الْمِلَّۃِ النَّصْرَانِیَۃِ‘‘

(الاستفتاء ضمیمہ حقیقت الوحی ص۳۹، خزائن ج۲۲ ص۶۶۰)

(حیات عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ مسلمانوں میں امت نصاریٰ سے آیا ہے)

قادیانیوں سے سوال:۱

مرزاقادیانی کا یہ کہنا کہ عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کا عقیدہ نصاریٰ قوم کی طرف سے آیا ہے۔ آیا حیات مسیح کا

162

عقیدہ صحیح تھا یا غلط؟ اگر غلط تھا تو آنحضرت ﷺ نے ’’وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَیُوْشِکَنَّ اَنْ یَّنْزِلَ فِیْکُمْ اِبْنُ مَرْیَمَ (بخاری ج۱ ص۴۹۰)‘‘ {قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے۔ تحقیق ضرور بالضرور عیسیٰ بیٹا مریم کا تم میں نازل ہوگا۔} ’’اِنَّ عِیْسٰی لَمْ یَمُتْ وَاِنَّہٗ رَاجِعٌ اِلَیْکُمْ قَبْلَ یَوْمِ الْقِیَامَۃِ‘‘

(ابن کثیر ج۱ ص۳۶۶، ابن جریر ج۳ ص۲۸۹)

تحقیق عیسیٰ علیہ السلام فوت نہیں ہوئے اور وہی تمہاری (امت محمدیہ کی) طرف واپس لوٹیں گے اور قرآن مجید نے ’’بل رفعہ اللّٰہ الیہ‘‘ میں نصاریٰ کے غلط عقیدے کو قبول کر لیا؟ ۱۱۲؍احادیث صحیحہ میں آنحضرت ﷺ، عیسائیوں کے غلط عقیدہ کی ترجمانی کرتے رہے؟ اور چودہ سو سال سے امت مسلمہ اس غلط عقیدہ کی ترجمانی کرتی چلی آرہی ہے؟ قرآن مجید غلط عقائد کی ترجمانی کرتا رہا؟ کیا کوئی بڑے سے بڑا دشمن رسول آنحضرت ﷺ پر اتنے بڑے افتراء کی جرأت کر سکتا ہے جو مرزاقادیانی نے کی؟ مرزاقادیانی کے اس الزام کو صحیح مان لیا جائے تو اس حالت میں معاذ ﷲ آپ ﷺ عیسائیت کے ترجمان ٹھہریں گے۔ نہ ترجمان حق، خداوند کریم اور آنحضرت ﷺ پر مرزاقادیانی کے اس افتراء کی دنیا کا کوئی قادیانی صفائی دے سکتا ہے؟

اصل صورتحال

اب ہم اصل صورتحال قارئین کی خدمت میں عرض کرتے ہیں کہ واقعتا رفع ونزول مسیح کا عقیدہ مسیحی حضرات کا تھا۔ آنحضرت ﷺ سے پہلے یہ عقیدہ اس قوم میں پایا جاتا تھا۔ مگر چونکہ یہ عقیدہ صحیح تھا۔ عین واقعہ کے مطابق تھا۔ تبھی قرآن مجید کے ذریعہ ﷲ رب العزت نے اور آنحضرت ﷺ نے اس عقیدہ کی توثیق فرمائی۔ پھانسی پر چڑھنے، موت کا واقع ہونے اور پھر زندہ ہونے کی باتیں غلط تھیں۔ ان کی ’’وَمَا قَتَلُوْہُ، وَمَا صَلَبُوْہُ، وَمَا قَتَلُوْہُ یَقِیْنًا‘‘ میں واشگاف الفاظ سے تردید کر دی۔ ہاں! مسیح علیہ السلام کے زندہ اٹھائے جانے اور دوبارہ نازل ہونے کی بات صحیح تھی۔ اس حصہ کی خداتعالیٰ اور رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے تصدیق وتوثیق فرمائی۔

رفع ونزول مسیح اور انجیل

آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں عیسائیوں کا یہ عقیدہ تھا کہ درحقیقت مسیح ابن مریم ہی دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے۔ جیسا کہ خود عیسائی کتب میں ہے۔

۱… ’’غرض خداوند یسوع ان سے کلام کرنے کے بعد آسمان پر اٹھایا گیا۔‘‘

(مرقس باب:۱۶، آیت:۱۹)

۲… ’’ان (حواریوں) سے جدا ہوگیا اور آسمان پر اٹھایا گیا۔‘‘(لوقا باب:۲۴، آیت:۵۲)

ان دونوں حوالہ جات میں سیدنا مسیح علیہ السلام کے آسمانوں پر رفع کا جس صراحت سے ذکر ہے اس کا اندازہ قارئین خود فرمالیں کہ آیا اس سے زیادہ صراحت ہوسکتی ہے؟ یہ دو حوالہ جات آپ نے رفع کے ملاحظہ کئے۔ اب دو حوالہ جات نزول مسیح علیہ السلام کے بھی ملاحظہ فرمائیں۔

۳… ’’اس وقت ابن آدم کا نشان آسمان پر دکھائی دے گا اور اس وقت زمین کی سب قومیں چھاتی پیٹیں گی اور ابن آدم (عیسیٰ علیہ السلام) کو بڑی قدرت اور جلال کے ساتھ آسمان کے بادلوں پر آتے دیکھیں گی۔‘‘

(متی باب:۲۴، آیت:۳۰)

163

۴… ’’اس وقت لوگ ابن آدم (عیسیٰ علیہ السلام) کو بڑی قدرت اور جلال کے ساتھ بادلوں میں آتے دیکھیں گے۔‘‘ (مرقس باب:۱۳، آیت۲۶)

قارئین! حوالہ نمبر۴ میں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا وہ جواب نقل کیا ہے جب آپ کے حواریوں نے پوچھا کہ آپ کا آنا کب ہوگا۔ اس کے جواب میں انہوں نے جو فرمایا وہ آپ حضرات نے ملاحظہ کیا۔ لطف کی بات یہ ہے کہ مرقس اور متی کے بیان کے تقریباً الفاظ بھی ایک ہیں۔ اب اس سے زیادہ مزے کی بات ملاحظہ ہو۔

۵… ’’ہم کو بتا یہ باتیں کب ہوں گی اور تیرے آنے اور دنیا کے آخیر ہونے کا نشان کیا ہوگا۔ یسوع نے جواب میں ان سے کہا کہ خبردار کوئی تم کو گمراہ نہ کر دے۔ کیونکہ بہتیرے میرے نام سے آئیں گے۔ (مرزاقادیانی وبہاء ﷲ ایرانی) اور کہیں گے کہ میں مسیح ہوں اور بہت سے لوگوں کو گمراہ کر دیں گے۔‘‘

(متی باب:۲۴، آیت:۳تا۶)

۶… ’’اور بہت سے نبی اٹھ کھڑے ہوں گے اور بہتیروں کو گمراہ کریں گے۔‘‘ (متی باب:۲۴، آیت:۱۱)

۷… قارئین! اب مرقس کا بیان ملاحظہ ہو: ’’اور اگر کوئی تم سے کہے کہ دیکھو مسیح یہاں (قادیان) یا دیکھو وہاں (ایران) ہے تو یقین نہ کرنا۔ کیونکہ جھوٹے مسیح اور جھوٹے نبی اٹھ کھڑے ہوں گے اور نشان اور عجیب کام دیکھائیں گے۔ تاکہ اگر ممکن ہو تو برگزیدوں کو بھی گمراہ کر دیں۔ لیکن تم خبردار رہو۔ دیکھو میں نے تم سے سب کچھ پہلے کہہ دیا ہے۔‘‘

(مرقس باب:۱۳، آیت:۲۲،۲۳)

غرض مسیح علیہ السلام کے رفع ونزول اور جھوٹے مسیحیت کے دعویداروں کے بیان کے ساتھ ثابت ہوا کہ مسیحی کتب اور خود مرزاقادیانی کے اقرار کے بموجب مسیحی قوم رفع ونزول کے عقیدہ کی قائل تھی۔ اگر رفع مسیح کا عقیدہ، نصاریٰ کے دیگر عقائد کی طرح غلط تھا تو جس طرح قرآن مجید نے مسیحیوں کے دیگر غلط عقائد کی تردید کی۔ قرآن مجید اس غلط عقیدہ کی بھی دوٹوک الفاظ میں تردید کرتا۔ وضاحت سے قرآن مجید اور صاحب قرآن محمد عربی ﷺ ’’ما رفع ولا ینزل‘‘ ارشاد فرماتے۔

قادیانیوں سے سوال:۲

کیا ساری دنیا کے قادیانی مل کر قرآن مجید اور ذخیرہ احادیث سے ’’مَارَفَعَہُ اللّٰہُ وَلَا یَنْزِلُ عِیْسٰی بْنُ مَرْیَمَ‘‘ دکھا سکتے ہیں؟ ہمارا دعویٰ ہے کہ رہتی دنیا تک کوئی قادیانی ہمارے اس مطالبہ کو پورا نہیں کرسکتا۔

حقیقت حال

پھر جب یہ تسلیم ہے کہ عیسائیوں کا عقیدہ رفع ونزول کا تھا۔ اگر یہ عقیدہ غلط تھا تو قرآن مجید اس کی تردید کرتا۔ اگر تردید نہ کرتا اور صرف سکوت اختیار کر لیا جاتا تو بھی یہ عقیدہ صحیح تسلیم کر لیا جاتا۔ اس لئے کہ نبی کریم ﷺ کے سامنے کوئی بات یا کوئی کام ہو تو نبوت کا سکوت بھی تسلیم ورضا کی دلیل اور شریعت کا حکم بن جاتا ہے۔ خود مرزاقادیانی کو بھی اس کا اعتراف ہے۔ لکھتا ہے: ’’واقعہ صلیب کے متعلق قرآن کیا کہتا ہے۔ اگر یہ خاموش ہے تو پتہ چلا کہ یہود ونصاریٰ اپنے خیالات میں حق پر ہیں۔‘‘ (ریویو آف ریلیجنز، ش۱ ج۹ ص۴۹ا،۱۵۰)

اب ہم دیکھنا چاہتے ہیں کہ اس سلسلہ میں قرآن حکیم اور رسول کریم ﷺ نے ہمیں کیا تعلیم دی؟ یہ ظاہر ہے کہ مسیح کے دوبارہ آنے کا عقیدہ اسلام کا پیدا کردہ نہیں۔ بلکہ مسیح علیہ السلام کا وہ ارشاد اور پیش گوئی ہے جو آپ نے ظالم

164

فریسیوں کے پنجہ میں گرفتار ہونے سے چند روز پیشتر باطلاع خداوندی اپنی قوم کو دی تھی۔ غرض یہ عقیدہ اس زاہد اور مظلوم نبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیش گوئی کی بناء پر عیسائیوں میں قائم ہوا اور برابر ظہور نبی ﷺ (تقریباً چھ سو برس) تک کمال استحکام کے ساتھ عیسائیوں میں چلا آیا اور حضرت مسیح کا بجسدہ العنصری آسمان سے اترنا اور بادلوں پر سے اترتے ہوئے نظر آنا مسیحیوں کا نہایت مسلم عقیدہ رہا۔ اب دیکھنا چاہئے کہ وہ پاک اسلام جس نے ملتہائے متفرقہ کی افراط وتفریط کو دور کر کے صراط مستقیم کو قائم کیا اور ادیان سابقہ کے دروازۂ تحریف کو بند کر کے ابواب تنقیح وتصحیح کو کھولا۔ ہم کو اس عقیدہ رفع ونزول مسیح کے بارے میں کیا تعلیم دیتاہے؟ وہ نبی جس کی شان ہے: ’’ہُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّیِّنَ رَسُوْلاً مِّنْہُمْ یَتْلُوْا عَلَیْہِمْ اٰیٰتِہٖ وَیُزَکِّیْہِمْ وَیُعَلِّمُہُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَاِنْ کَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ (الجمعہ:۲)‘‘ {وہی ہے جس نے اٹھایا اَن پڑھوں سے ایک رسول انہیں میں پڑھ کر سناتا ہے ان کو ان کی آیتیں اور ان کو سنوارتا ہے اور سکھلاتا ہے ان کو کتاب اور عقلمندی اور اس سے پہلے وہ پڑے ہوئے تھے صریح بھول میں۔} وہ مزکی نبی خداوند کریم کے حکم سے، وحی سے، کافہ اہل عالم کو اس عقیدہ کے بارہ میں کیا کھول کھول کر سناتے ہیں؟ کہ: (۱)مسیح دوبارہ دنیا میں آئیں گے۔ (۲)خدا کی قسم ضرور آئیں گے۔ (۳)اس شان وشوکت کے ساتھ آئیں گے۔ (۴)ایسے زمانہ میں آئیں گے۔ (۵)ایسی جگہ پر آئیں گے۔ (۶)آکر یہ کام کریں گے۔ (۷)اتنا عرصہ دنیا میں زندہ رہیں گے۔ (۸)پھر وفات پائیں گے۔ (۹)میرے ساتھ روضہ طیبہ میں دفن ہوں گے۔ (۱۰)اور قیامت کے دن میرے ساتھ اٹھیں گے۔

حضرت مسیح علیہ السلام کی وہ مختصر پیش گوئی جس کی کیفیت مسیحیوں میں بہت کچھ اجمالی تھی۔ اس کی شرح وتفسیر، تفصیل وتوضیح رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی فرمائی کہ جس سے بڑھ کر تشریح وتفصیل ممکن ہی نہیں۔ دوسو نو علامات رفع ونزول سے متعلق آپ ﷺ نے ارشاد فرمائیں۔ (علامات قیامت ونزول مسیح ص۱۷۳)

ﷲ رب العزت فرماتے ہیں: ’’وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْہَوٰی اِنْ ہُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰی (النجم:۳،۴)‘‘ {اور نہیں بولتا اپنے نفس کی خواہش سے یہ تو حکم ہے بھیجا ہوا۔}

لیکن ان تمام توضیحات واعلان قرآنی کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ آج ایک ایسے عقیدہ کو مشتہر کیا جارہا ہے کہ مسیح نہیں آئیں گے جس مسیح کے آنے کا انتظار ہے۔ اس کے آنے سے درحقیقت ایک شخص کا پیدا ہونا ہے جو اپنی ذات میں کمالات مسیح کو لئے ہوئے ہو تو یہ دیکھ کر سوال پیدا ہوتا ہے کہ انجیل میں تحریف ہونا ممکن (اس لفظی ومعنوی تحریف کی ہمارے علماء کرام نے تصریح بھی کی) اس پیش گوئی (رفع ونزول) میں تحریف وتفسیر یا من گھڑت ہونا انجیل میں شامل کیا جانا۔ ہمارے نزدیک ممکن الوقوع۔ لیکن کیا یہی محرف ومبدل، غیر اسلامی وغیرسماوی عقیدہ مسلمانوں میں، اسلام میں، حضور علیہ السلام کی زبان مقدسہ سے، قرآن مجید کی آیت ’’بَلْ رَفَعَہُ اللّٰہُ‘‘ سے شامل ہوگیا۔ کیا یہ قرین قیاس ہے؟

۱… وہ رسول جن کو ’’بَلِّغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ وَاِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسٰلَتَہٗ (مائدہ:۶۷)‘‘ {اے رسول پہنچا دے جو تجھ پر اترا تیرے رب کی طرف سے اور اگر ایسا نہ کیا تو تو نے کچھ نہ پہنچایا اس کا پیغام۔} کا آپ ﷺ کو حکم دیاگیا۔

۲… جس نبی ﷺ کی یہ نشانی بتائی گئی: ’’یٰاَہْلَ الْکِتٰبَ قَدْ جاء کُمْ رَسُوْلُنَا یُبَیِّنُ لَکُمْ کَثِیْرًا مِّمَّا کُنْتُمْ تُخْفُوْنَ مِنَ الْکِتٰبِ (مائدہ:۱۵)‘‘ {اے کتاب والو تحقیق آیا ہے۔ تمہارے پاس رسول ہمارا ظاہر کرتا ہے تم پر بہت سی چیزیں جن کو تم چھپاتے تھے کتاب میں سے۔}

165

۳… یا وہ رسول ’’وَلَا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَتَکْتُمُوا الْحَقَّ وَاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ (بقرہ:۴۲)‘‘ {اور مت ملاؤ صحیح میں غلط اور مت چھپاؤ سچ کو جان بوجھ کر۔} کہہ کر اہل کتاب کو جھٹلاتے تھے۔ وہ نبی خود معاذ ﷲ ان پر معاملہ مشتبہ ہوگیا؟ وہ تلبس کا شکار ہوگئے کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے جن علامات کو اپنی پیشین گوئی میں بیان نہ کیا تھا ان کو نبی ﷺ نے باوجود اصل واقعہ کے موضوع ہونے کے شامل عقائد کر لیا؟ اور وہ عقائد جو مرزاقادیانی کے نزدیک شرک تک پہنچتے ہیں اسلام میں داخل ہوگئے اور وہ بھی نبوت کی زبان سے؟ اے بدباطن خبردار؟ رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی جناب میں یہ بیہودہ خیال نہ کر، معصوم نبی ﷺ کی شان میں تہمت نہ تراش، چاند پہ تھوکنا اپنے منہ پر تھوکنا ہے اور آفتاب پہ غبار ڈالنا اپنی آنکھوں کو خاک آلودہ کرنا ہے۔ ’’حذر کن‘‘

مرزاقادیانی نے اپنی کتاب (ازالہ اوہام ص۵۵۷، خزائن ج۳ ص۴۰۰) پر لکھا ہے کہ: ’’پس کمال درجہ کی بے نصیبی اور بھاری غلطی ہے کہ یک لخت تمام حدیثوں کو ساقط الاعتبار سمجھ لیں اور ایسی متواتر پیشین گوئیوں کو جو خیرالقرون میں ہی تمام ممالک اسلام میں پھیل گئی تھیں اور مسلمات میں سے سمجھی گئی تھیں بمد موضوعات داخل کر دیں۔ یہ بات پوشیدہ نہیں کہ مسیح ابن مریم کے آنے کی پیشین گوئی ایک اوّل درجہ کی پیشین گوئی ہے جس کو سب نے بالاتفاق قبول کر لیا ہے اور جس قدر صحاح میں پیشین گوئیاں لکھی گئی ہیں۔ کوئی پیشین گوئی اس کے ہم پہلو اور ہم وزن ثابت نہیں ہوتی۔ تواتر کا اوّل درجہ اس کو حاصل ہے۔ انجیل بھی اس کی مصدق ہے۔ اب اس قدر ثبوت پر پانی پھیرنا اور یہ کہنا کہ یہ تمام حدیثیں موضوع ہیں۔ درحقیقت ان لوگوں کا کام ہے جن کو خداتعالیٰ نے بصیرت دینی اور حق شناسی سے کچھ بھی بخرہ اور حصہ نہیں دیا اور بباعث اس کے کہ ان لوگوں کے دلوں میں ’’قَالَ اللّٰہُ‘‘ اور ’’قَالَ الرَّسُوْلُa‘‘ کی عظمت باقی نہیں رہی۔ اس لئے جو بات ان کی اپنی سمجھ سے بالاتر ہو اس کو محالات اور ممتنعات میں داخل کر لیتے ہیں۔‘‘

اوّل درجہ کی پیشین گوئی جس کو تواتر کا درجہ حاصل ہے کے متعلق مرزاقادیانی نے لکھا ہے کہ ’’متواترات کا انکار کرنا گویا اسلام کا انکار کرنا ہے۔‘‘ (کتاب البریہ ص۸۸، خزائن ج۱۳ ص۲۰۶)

اور پھر (ایام الصلح ص۷۲، خزائن ج۱۴ ص۲۹۸) پر لکھا ہے کہ: ’’ہمیں اس بات کو اوّل درجہ کی دلیل قرار دینا چاہئے کہ ایک قوم باوجود ہزاروں اور لاکھوں اپنے افراد کے پھر ایک بات پر متفق ہو۔‘‘ اسی طرح (ازالہ اوہام ص۵۵۶، خزائن ج۳ ص۳۹۹) پر لکھا ہے کہ: ’’تواتر ایک ایسی چیز ہے کہ اگر غیرقوموں کی تواریخ کی رو سے بھی پایا جائے تو تب بھی ہمیں قبول کرنا ہی پڑتا ہے۔‘‘

عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کے تشریف لانے کو اوّل درجہ کی پیشین گوئی قرار دے کر شرک قرار دینا کتنا بڑا شاخسانہ ہے۔ جیسا کہ اس نے اپنی کتاب (الاستفتاء ص۳۹، خزائن ج۲۲ ص۶۶۰) پر لکھا ہے کہ: ’’فَمِنْ سُوْئِ الْاَدَبِ اَنْ یُّقَالَ اِنَّ عِیْسٰی مَامَاتَ وَاِنْ ہُوََ اِلَّاشِرْکٌ عَظِیْمٌ‘‘

اور پھر لطف یہ کہ اقرار کرتا ہے کہ: ’’میرا بھی یہی اعتقاد تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے۔‘‘ (حقیقت الوحی ص۱۴۹، خزائن ج۲۲ ص۱۵۲)

گویا یہ خود مثیل مسیح بننے سے پہلے مشرک رہا اور اب مسیح علیہ السلام کا دوبارہ آنا جو انجیل کی تعلیم سے مسیحیوں کا عقیدہ ہے۔ اس کا طلسم صرف اتنی اظہار حقیقت سے ٹوٹ سکتا ہے کہ اس کے مثیل کا دنیا میں پیدا ہونا مان لیا جائے۔ جب کہ مرزاقادیانی خود لکھتا ہے کہ: ’’میں نے صرف مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور میرا یہ بھی ایمان نہیں کہ صرف مثیل مسیح

166

ہونا میرے پر ہی ختم ہو گیا ہے۔ بلکہ میرے نزدیک ممکن ہے کہ آئندہ زمانوں میں میرے جیسے اور بھی دس ہزار مثیل مسیح آجائیں… کسی زمانہ میں ایسا مسیح بھی آجائے جس پر حدیثوں کے بعض ظاہری الفاظ صادق آسکیں۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۹۰، خزائن ج۳ ص۱۹۲)

اور اس کے ساتھ ہی یہ بھی لکھا ہے کہ: ’’اوّل تو یہ جاننا چاہئے کہ مسیح علیہ السلام کے نزول کا عقیدہ کوئی ایسا عقیدہ نہیں ہے جو ہمارے ایمانیات کی کوئی جزو ہو یا ہمارے دین کے رکنوں میں سے کوئی رکن ہو۔ بلکہ صدہا پیشین گوئیوں میں سے یہ ایک پیشین گوئی ہے جس کو حقیقت اسلام سے کچھ بھی تعلق نہیں۔‘‘ (ازالہ اوہام ص۱۴۰، خزائن ج۳ ص۱۷۱)

یہ بھی یاد رہے کہ مرزاقادیانی نے لکھا ہے کہ: ’’اس عاجز نے جو مثیل موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے جس کو کم فہم لوگ مسیح موعود خیال کر بیٹھے ہیں۔‘‘ (ازالہ اوہام ص۱۹۰، خزائن ج۳ ص۱۹۲)

۱… مسیح ابن مریم کے رفع اور نزول کو اوّل درجہ کی پیشین گوئی قرار دینا۔

۲… قرآن وانجیل کی تصدیق شدہ ہونا قرار دینا۔

۳… تواتر کا درجہ اس کے لئے ماننا۔

۴… غیرقوموں کے تواتر کو بھی حجت ماننا۔

۵… تواتر کے انکار کو کفر قرار دینا۔

۶… پھر حیات عیسیٰ علیہ السلام کے عقیدے کو شرک قرار دینا۔

۷… اسے صدہا پیشین گوئیوں میں سے ایک پیشین گوئی قرار دینا۔ جس کا حقیقت اسلام سے کچھ تعلق نہیں۔

۸… پھر مثیل مسیح علیہ السلام ہونے کا دعویٰ کرنا۔

۹… جو اسے مسیح موعود سمجھے اسے کم فہم قرار دینا۔

۱۰… پھر دس ہزار مثیل مسیح کا آنا ماننا۔

۱۱… پھر ایسے مثیل مسیح کا آنا ماننا جس پہ حدیث کے ظاہری الفاظ بھی صادق آ سکیں۔

ان تمام مندرجہ بالا نتائج کو سامنے رکھ کر سوائے اس کے کیا کہا جاسکتا ہے کہ ؎

تف بر تواے چرخ گردوں تف

یا پھر ؎

ناطقہ سر بگریباں ہے اسے کیا کہئے

کیا رسول اکرم ﷺ نے عیسائیوں کو یہ نہ فرمایا کہ تم مجاز کو حقیقت سمجھتے ہو اور مسیح علیہ السلام کی دقیق تعلیم کو نہیں سمجھتے جس مسیح علیہ السلام کا تم انتظار کرتے ہو وہ تو میرے امتیوں میں سے ایک امتی ہوگا بلکہ اس کے علی الرغم یہود ونصاریٰ کے دو بڑے گروہوں میں رب کریم نے حکم بن کر ’’اِنَّہٗ لَقَوْلٌ فَصْلٌ وَّمَا ہُوَ بِالْہَزْلِ (الطارق:۱۳،۱۴)‘‘ کی شان کو دکھلایا ہے اور دونوں گروہوں کے معتقدات میں سے جو حصہ درست اور صحیح تھا اسے درست وصحیح کہا اور جو حصہ غلطی یا کفر وشرک سے بھرا ہوا تھا اسے غلط وباطل فرمایا۔ پس ایسی حالت میں فریقین متنازعین کے درمیان فیصلہ صادر کیا جائے۔ کون عقلمند یہ تجویز کر سکتا ہے کہ اس فیصلہ میں اصل حقیقت اس لئے ظاہر نہیں کی گئی کہ فلاں تیسرا شخص بھی اس حقیقت سے واقف نہ ہو جائے۔

167

یاد رکھو کہ قرآن مجید اور رسول کریم ﷺ نے اس زمانہ کے موجودہ مذاہب کے لوگوں میں جن مسائل میں وہ اختلاف میں پڑے ہوئے تھے خوب کھول کھول کر فیصلے سنائے۔ پھر اعتقادات وایمانیات میں سے فروگزاشت کیا کرنی تھی۔ نصاریٰ کہتے ہیں کہ ابن مریم علیہ السلام دنیا پر پھر آئے گا، بادشاہت کرے گا جب کہ یہود کہتے ہیں کہ وہ مر گیا۔ کبھی مردہ بھی پھر آیا ہے؟ رسول اکرم ﷺ دونوں کا بیان سن لیں اور ارشاد فرمائیں کہ ہاں! ابن مریم علیہ السلام ضرور آئے گا، اور قوانین اسلام پر چلے گا تو ان بیانات پر کیا سمجھا جاتا ہے کہ وہی ابن مریم علیہ السلام جس کے بارے میں جھگڑا تھا یا کوئی اور؟ اگر یہ عیسائیوں کا گھڑاہوا عقیدہ تھا تو عیسیٰ علیہ السلام ایک نبی کی پیشین گوئی کو دوسرے نبی حضرت محمد ﷺ نے چیستان بنادیا اور بھی پیچیدہ کر دیا۔ نہ پہلے نے حق رسالت ادا کیا اور نہ دوسرے نے حق تبلیغ؟ جس نبی ﷺ نے ’’جَاء الْحَقُّ وَزَہَقَ الْبَاطِلُ اِنَّ الْبَاطِلَ کَانَ زَہُوْقًا‘‘ پڑھ کر سنایا۔ جس نے اہل کتاب کو راست بازی اور انصاف سے ملزم ٹھہرایا۔ جس نے یہود ونصاریٰ کو ان کے افعال ملعونہ پر شرمایا۔ موسیٰ علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام کی آسمانی تعلیمات کو نفسانی تاویلات سے علیحدہ کر کے دکھلایا۔ اب اس نئی روشنی کے زمانہ میں اس نبی کی نسبت مرزاقادیانی یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ اس نے بھی ہم کو دھوکہ میں رکھا اور جس مسیح کی مسیحی انتظار کر رہے تھے اسی انتظار کی مصیبت میں اپنی امت کو بھی شریک کر دیا۔ (معاذ ﷲ) کیا نبی علیہ السلام نے ایسے ناقص المعانی الفاظ کا استعمال کیا اور مغلق پیرایہ اختیار فرمایا۔ لفظی ومعنوی الجھنوں کو کام میں لائے کہ خود حضور ﷺ کے فیضان صحبت سے مستفید ہونے والے صحابی مقصود محمدی علی صاحبھا الصلوۃ والسلام کو صحیح نہ سمجھ سکے اور نہ امت، وارثان علم نبوت، آج تک اسے سمجھ سکی۔ کیا آج تک اس سے بھی بڑا کفر چودہ سو سال میں کسی کے خیال وذہن میں آیا ہے جس کا مرزاقادیانی مرتکب ہورہاہے؟

تمہید دوم

نزول مسیح علیہ السلام آنحضرت ﷺ کی جلالت شان

ﷲ رب العزت نے حضور نبی کریم ﷺ کی جلالت شان کی سیادت وقیادت کو صرف مسلمانوں تک محدود نہ رکھا بلکہ ایک خرق عادت امر کا ظہور مقدر فرمایا جس کے سامنے موافق ومخالف، مسلمان واہل کتاب کو خوشی یا ناگواری سے سرتسلیم خم کرنا ہوگا۔ جب حق وباطل کی فیصلہ کن گھڑی آن پہنچے گی۔ اس وقت بنی اسرائیل کے خاتم حضرت عیسیٰ مسیح علیہ السلام کو خاتم مطلق وسید برحق آنحضرت ﷺ کا نائب اور امت محمدیہ کا قائد بنا کر نہایت اکرام واجلال کے ساتھ آسمان سے زمین پر بھیجا جائے گا۔ یہودیت ومسیحیت تمام ادیان وملل کا خاتمہ ہوگا۔ اسلام کا چہار سو عالم غلغلہ بلند ہوگا۔ سیدنا مسیح علیہ السلام یہ سب کچھ اپنے نام سے نہیں بلکہ اپنے آقا وسید آنحضرت ﷺ کے نام سے سرانجام دیں گے۔ جن کے آپ نائب بنا کر بھیجے جائیں گے۔ وہ انجیل کی طرف نہیں قرآن وسنت کی طرف مخلوق خدا کو بلائیں گے جو مقدس وجود نہایت اکرام کے ساتھ آسمانوں پر اٹھایا گیا۔ وہ وجود آج آنحضرت ﷺ کے دین کی سربلندی اور آئین محمدی کی اتباع کو فخر سمجھ کر نزول فرمائیں۔ سبحان ﷲ! وہ کیسا منظر قابل فخر ہوگا کہ بنی اسرائیل کے خاتم آنحضرت خاتم الانبیاء علیہم السلام کی قیادت وسیادت کا علم لئے ہوں گے۔ ذرا ایمان ووجدان کی نظروں سے اس کا تصور ذہن میں لائیے۔ جب ایک جلیل القدر نبی ورسول، آنحضرت ﷺ کی امت میں صف باندھے کھڑا آپ ﷺ کی سروری وسرداری کی علیٰ رؤس الاشہاد گواہی دے رہا ہوگا۔

168

وہ منظر اتنا جاذب اور ایمان افروز ہوگا جس کی اہمیت کی طرف خود آنحضرت ﷺ نے بھی اپنی امت کو متوجہ فرمایا۔ ’’کَیْفَ اَنْتُمْ اِذَا نَزَلَ فِیْکُمْ اِبْنُ مَرْیَمَ (بخاری ومسلم)‘‘ فرمایا اس وقت تمہاری خوشی کا کیا عالم ہوگا جب عیسیٰ بیٹا مریم علیہ السلام کا تم میں نازل ہوگا۔ افسوس امت محمدیہ ﷺ میں مسیحیت ویہودیت کے ایجنٹ، سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا انکار کر کے آنحضرت ﷺ کی اس جلالت شان کو دنیا پر ظاہر نہیں ہونے دیتے۔ قادیانی گروہ دجال کی نمائندگی کر کے، سیدنا مسیح علیہ السلام کی وفات کا پروپیگنڈہ کر کے، خود مسیح بن کر، جہاں آنحضرت ﷺ کی جلالت شان کے اظہار میں روڑے اٹکاتا ہے۔ وہاں وہ سیدنا مسیح علیہ السلام کے ہاتھوں دجال کو قتل سے بچانے کے لئے کوشاں ہے۔ لیکن ذات باری تعالیٰ کے ارادہ وحکم کے سامنے نہ آج تک کسی فرعون ودجال کی تدبیر چلی نہ آئندہ چلے گی۔ آنحضرت ﷺ کی جلالت شان علی رؤس الاشہاد ظاہر وباہر ہوگی اور ضرور ہوگی۔ رب کریم ایسا ضرور فرمائیں گے۔ ہم نہیں بلکہ آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں: ’’وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ اَنْ یَّنْزِلَ فِیْکُمْ اِبْنُ مَرْیَمَ (بخاری، مسلم)‘‘ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری (آنحضرت ﷺ کی) جان ہے۔ ضرور عیسیٰ بیٹا مریم کا تم میں نازل ہوگا۔ آپ ﷺ کے اس قسمیہ وحلفیہ اعلان کو جو شخص پس پشت ڈالتا ہے وہ ارادۂ خداوندی اور آنحضرت ﷺ کی جلالت شان کاانکاری ہے۔ پس ثابت ہوا کہ مسیح علیہ السلام کے نزول میں آنحضرت ﷺ کی جلالت شان کے وقوع میں آنے کا دراصل وہ وقت عیسائیت کے لئے اتنا خفت وذلت کا باعث ہوگا کہ جس ذات کو اپنا معبود والہ مانتے ہیں۔ وہ خود اسلام کا نمائندہ بن کر ان مسیحیوں کو داخل اسلام کر رہا ہوگا۔ اس کے سفید فام آقاؤں کو ذلت سے بچانے کے لئے قادیانی حیات ونزول کا منکر ہو رہا ہے۔ خود مسیح بن کر سفید فام آقاؤں کی غلامی کا دم بھر رہا ہے۔ پس مسیح علیہ السلام کے نزول سے انکار کا باعث یہی وہ امر ہے جس کی مرزاقادیانی کو رعایت مقصود ہے۔ (فافہم)

مسلمانو! ہوشیار رہو۔ ان سفید فام انگریزوں کے چیلوں کی باتوں میں نہ آؤ۔ مسیح علیہ السلام کے نزول کو ہونے دو۔ ان کا نام ہی، مسیحیت ویہودیت، دجال زمان ودجال قادیان کے کفر کا جانا ہے۔ آنحضرت ﷺ کے نائب اعظم (سیدنا مسیح علیہ السلام) کی حیات میں کفر کی موت ہے۔ ’’یُہْلِکُ اللّٰہُ فِیْ زَمَانِہِ الْمِلَلَ کُلَّہَا اِلَّا الْاِسْلَامُ‘‘ ان کی آمد پرتمام ملتیں نیست ونابود ہو جائیں گی۔ ان کی آمد سے کل عالم پر اسلام کا غلبہ ہوگا۔

’’ہُوَ الَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْہُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ (القرآن)‘‘ کا ایک بار پھر زمین وآسمان والے ایسا مسحور کن نظارہ دیکھیں گے کہ کل عالم مرحبا مرحبا کی صداؤں سے معمور ومخمور ہو جائے گا۔ ’’اَللّٰہُمَّ انْصُرْ مَنْ نَصَرَ دِیْنَ مُحَمَّدٍa وَاجْعَلْنَا مِنْہُمْ‘‘

تمہید سوم

امکان رفع کی بحث

سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے رفع ونزول پر بحث سے قبل یہ دیکھنا چاہئے کہ آیا ’’امکان رفع‘‘ ہے؟ قرآن وسنت اور واقعات عالم پر نظر دوڑائیں کہ اس کی کوئی مثال ہے؟ کیا کبھی ایسے ہوا؟ واقعات سے اگر ثابت ہو جائے کہ رفع کا امکان ہے۔ ایک ثابت شدہ واقعہ کا انکار یا حقیقت واقعہ کا انکار سوائے احمقوں کے اور کوئی نہیں کیا کرتا۔ اس بحث سے ہم

169

قادیانی عقائد کو نہیں لیتے کہ وہ ان سب واقعات کے انکاری محض اس لئے ہیں کہ ان واقعات کے اقرار سے رفع ونزول کی اگر مثال قائم ہوگئی، تو مسیح علیہ السلام کے رفع ونزول کا انکار بے معنی ہوکر رہ جائے گا۔ جس سے ان کے خود ساختہ مسیح کے دجل وکذب، افتراء وتلبیس کی پوری عمارت دھڑام سے گر پڑے گی۔ اس لئے وہ ان واقعات سے انکاری ہیں۔

ہم یہاں صرف مسلمانوں کے ایمان کی تازگی کے لئے قرآن وسنت وتاریخ وسوانح کے حوالہ سے، ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ رفع ونزول کے نظائر موجود ہیں۔ جن سے امکان رفع نہیں بلکہ وقوع رفع ثابت ہوتا ہے۔

دربیان امکان رفع جسمانی

مرزاقادیانی اور ان کی جماعت کا دعویٰ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام زندہ آسمان پر نہیں اٹھائے گئے بلکہ وفات پاکر مدفون ہوچکے اور دلیل یہ ہے کہ: ’’کسی جسم عنصری کا آسمان پر جانا محال ہے۔‘‘ جیسا کہ (ازالہ اوہام ص۴۷، خزائن ج۳ ص۱۲۶) پر ہے۔

جواب نمبر:۱…

یہ ہے کہ جس طرح نبی اکرم محمد مصطفیٰ ﷺ کا جسد اطہر کے ساتھ لیلۃ المعراج میں جانا اور پھر وہاں سے واپس آنا حق ہے۔ اسی طرح عیسیٰ علیہ السلام کا بجسدہ العنصری آسمان پر اٹھایا جانا اور پھر قیامت کے قریب ان کا آسمان سے نازل ہونا بھی بلاشبہ حق اور ثابت ہے۔

جواب نمبر:۲…

جس طرح آدم علیہ السلام کا آسمان سے زمین کی طرف ہبوط ہوا ہے۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے زمین کی طرف نزول بھی ممکن ہے۔ ’’اِنَّ مَثَلَ عِیْسٰی عِنْدَ اللّٰہِ کَمَثَلِ اٰدَمَ‘‘

جواب نمبر:۳…

جعفر رضی اللہ عنہ بن ابی طالب کا فرشتوں کے ساتھ آسمانوں میں اڑنا صحیح اور قوی حدیثوں سے ثابت ہے۔ اسی وجہ سے ان کوجعفر طیار کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔ ’’اَخْرَجَ الطِّبْرَانِیُّ بِاِسْنَادٍ حَسَنٍ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ ہَنِیْأً لَکَ اَبُوْکَ یَطِیْرُ مَعَ الْمَلَائِکَۃِ فِی السَّمَا ء‘‘ امام طبرانی نے باسناد حسن عبد ﷲ رضی اللہ عنہ بیٹے جعفر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ایک بار یہ ارشاد فرمایا کہ اے جعفر کے بیٹے عبد ﷲ تجھ کو مبارک ہو تیرا باپ فرشتوں کے ساتھ آسمانوں میں اڑتا پھرتا ہے (اور ایک روایت میں یہ ہے کہ جعفر جبرائیل ومیکائیل کے ساتھ اڑتا پھرتا ہے۔ ان ہاتھوں کے عوض میں جو غزوۂ موتہ میں کٹ گئے تھے ﷲتعالیٰ نے ان کو ملائکہ کی طرح دو بازو عطاء فرمادئیے ہیں) اور اس روایت کی سند نہایت جید اور عمدہ ہے۔

(الترغیب ج۲ ص۲۸۷، حدیث:۲۰۳۵، جامع الاحادیث ج۱۱ ص۲۷۹ حدیث:۳۳۴۸۹، زرقانی ص۲۷۵ ج۲، فتح الباری ج۷ ص۷۶)

اور حضرت علی کرم ﷲ وجہہ کا اس بارے میں ایک شعر ہے ؎

وجعفرِ الَّذِی یضْحی و یَمْسِیْ یطیر مَع الملائکۃ ابنَ اُمّی

(وہ جعفر کہ جو صبح وشام فرشتوں کے ساتھ اڑتا ہے وہ میری ہی ماں کا بیٹا ہے)

جواب نمبر:۴…

عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ کا غزوۂ بیر معونہ میں شہید ہونا اور پھر ان کے جنازہ کا آسمان پر اٹھایا جانا روایات میں مذکور ہے۔ جیسا کہ حافظ عسقلانی نے (اصابہ ج۲ ص۲۵۶، القسم الاوّل حرف العین) میں اور حافظ ابن عبدالبر نے (استیعاب ج۲ ص۳۴۵) میں علامہ زرقانی نے (شرح مواہب ج۲ ص۷۸) میں ذکر کیا ہے۔ جبار بن سلمیٰ جو عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ کے قاتل تھے۔ وہ اسی واقعہ کو دیکھ کر ضحاک رضی اللہ عنہ بن سفیان کلابی کی خدمت میں حاضر ہوکر مشرف باسلام ہوئے اوریہ کہا:

170

’’دعانِی الی الاسلام مَا رایتُ مِنْ مَقَتَل عَامر بن فہیرۃ وَمن رَفعہ الی السمائِ‘‘ عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ کا شہید ہونا اور ان کا آسمان پر اٹھایا جانا میرے اسلام لانے کا باعث بنا۔ عامر ابن فہیرہ رضی اللہ عنہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ماں کی طرف سے بھائی طفیل بن صخرا کے غلام تھے۔ ہجرت کی شب یہی عامر ابن فہیرہ رضی اللہ عنہ حضور سرور کائنات ﷺ کو غارثور پر بکریاں چراتے چراتے لے جا کر دودھ دیا کرتے تھے۔ عامر ابن فہیرہ رضی اللہ عنہ بیر معونہ کے واقعہ میں قتل ہوئے۔ بخاری شریف میں ہشام ابن عروہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: ’’فقال لقد رأیتہٗ بعد ما قتل رفع الی السمآء حتی انی لا نظر الی السما بینہ وبین الارض ثم وضع فاتی النبی ﷺ خبرہم (بخاری ج۲ ص۵۸۷، باب غزوۃ الرحیع وبیرمعونہ)‘‘

ضحاک رضی اللہ عنہ نے یہ تمام واقعہ آنحضرت ﷺ کی خدمت بابرکت میں لکھ کر بھیجا۔ اس پر آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’فان الملائکۃ وارت جثتہ وانزل فی علیین‘‘ ’’فرشتوں نے اس کے جثہ کو چھپا لیا اور وہ علییّن میں اتارے گئے۔‘‘

ضحاکابن سفیان کے اس تمام واقعہ کو امام بیہقی اور ابونعیم اصفہانی دونوں نے اپنی اپنی ’’دلائل النبوۃ‘‘ میں بیان کیا۔

(شرح الصدور فی احوال الموتی والقبور للعلامۃ السیوطی ص۲۵۷، طبع بیروت ودلائل النبوۃ للبیہقی ج۳ ص۳۵۳)

اور حافظ عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ نے (اصابہ ج۱ ص۲۲۰، القسم الاوّل حرف الجیم) میں جبار بن سلمیٰ کے تذکرہ میں اس واقعہ کی طرف اجمالاً اشارہ فرمایا ہے۔

شیخ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ (شرح الصدور ص۲۵۸) میں فرماتے ہیں کہ عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ کے آسمان پر اٹھائے جانے کے واقعہ کو ابن سعد ج۳ ص۱۷۴ نمبر۴۹ اور حاکم اور موسیٰ بن عقبہ نے بھی روایت کیا ہے۔ غرض یہ کہ یہ واقعہ متعدد اسانید اور مختلف روایات سے ثابت اور محقق ہے۔

جواب نمبر:۵…

’’واقعہ رجیع، رجیع اسمہ لموضع من بلاد ہذیل کانت الواقعہ بالقرب منہ فی صفر سنۃ اربع‘‘

(حاشیہ بخاری ج۲ ص۵۸۵)

واقعہ رجیع میں جب قریش نے خبیب بن عدی رضی اللہ عنہ کو سولی پر لٹکایا تو آنحضرت ﷺ نے عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ کو خبیب رضی اللہ عنہ کی نعش اتار لانے کے لئے روانہ فرمایا۔ عمرو رضی اللہ عنہ بن امیہ وہاں پہنچے اور خبیب رضی اللہ عنہ کی نعش کو اتارا۔ دفعۃً ایک دھماکہ سنائی دیا۔ پیچھے پھر کر دیکھا تو اتنی دیر میں نعش غائب ہوگئی۔ عمرو رضی اللہ عنہ بن امیہ فرماتے ہیں گویا زمین نے ان کو نگل لیا۔ اب تک اس کا کوئی نشان نہیں ملا۔ اس روایت کو امام ابن حنبل رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے۔

(زرقانی شرح مواہب ج۲ ص۷۳)

شیخ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ خبیب رضی اللہ عنہ کو زمین نے نگلا! اسی وجہ سے ان کا لقب ’’بلیغ الارض‘‘ ہوگیا اور ابونعیم اصفہانی فرماتے ہیں کہ صحیح یہ ہے کہ عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ کی طرح خبیب رضی اللہ عنہ کو بھی فرشتے آسمان پر اٹھالے گئے۔ ابونعیم کہتے ہیں کہ جس طرح حق تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھایا اسی طرح رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں سے عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہاور خبیب بن عدی رضی اللہ عنہ اور علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ کو آسمان پر اٹھایا۔ انتہی!

جواب نمبر:۶…

’’ومما یقوی قصۃ الرفع الی السماء ما اخرجہ النسائی والبیہقی والطبرانی وغیرہم من حدیث جابر بن طلحۃ اصیبت انا ملُہٗ یَوْمَ احدٍ فقال حِسِّ، فقال رسول اللّٰہ ﷺ لو

171

قلت بسم اللّٰہ لرفعتک الملائکۃ والناسُ یَنْظَرُوْنَ الیکَ حَتّٰی تلج بک فی جَوْ السمائِ‘‘

(شرح الصدور ص۲۵۸، نسائی ج۶ ص۳۳۶، حدیث:۳۱۴۹)

شیخ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہاور خبیب رضی اللہ عنہ کے واقعۂ رفع الیٰ السماء کی وہ واقعہ بھی تائید کرتا ہے جس کو نسائی اور بیہقی اور طبرانی نے جابر بن عبد ﷲ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ غزوۂ احد میں حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کی انگلیاں زخمی ہوگئیں تو اس تکلیف کی حالت میں زبان سے ’’حس‘‘ یہ لفظ نکلا۔ اس پر آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اگر تو بجائے حس کے بسم ﷲ کہتا تو لوگ دیکھتے ہوئے ہوتے اور فرشتے تجھ کو اٹھا کر لے جاتے۔ یہاں تک کہ تجھ کو آسمان میں لے کر گھس جاتے۔

جواب نمبر:۷…

علماء انبیاء کے وارث ہوتے ہیں۔ اولیاء کا الہام وکرامت انبیاء کرام علیہم السلام کی وحی اور معجزات کی وراثت ہے۔

’’واخرج ابن ابی الدنیا فی ذکر الموتی عن زید بن اسلم رضی اللہ عنہ قال کان فی بنی اسرائیل رجل قد اعتزل الناس فی کہف جبل وکان اَہَلْ زمانِہٖ اذا قحطُوْا استغَاثَوْا بِہٖ فدعی اللّٰہ فسقاہُمْ فَمَاتَ فاخذوا فی جہازہ بینہم کَذَلِکَ اِذاہَمَّ بسریر فرفع فی، عنان السماء حتی انتہی الیہ فقام رجل فاخذہ فوضعہ علی السریر والناس لینظرون الیہ فی الہواء حتی غَابَ عَنْہُمْ‘‘ (شرح الصدور ص۲۵۷)

’’ابن ابی الدنیا نے ذکر الموتی میں زید بن اسلم رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ بنی اسرائیل میں ایک عابد تھا کہ جو پہاڑ کی غار میں رہتا تھا جب قحط ہوتا تو لوگ اس سے بارش کی دعا کراتے وہ دعا کرتا ﷲتعالیٰ اس کی دعا کی برکت سے باران رحمت نازل فرماتا۔ اس عابد کا انتقال ہوگیا۔ لوگ اس کی تجہیز وتکفین میں مشغول تھے۔ اچانک ایک تخت آسمان سے اترتا ہوا نظر آیا۔ یہاں تک کہ اس عابد کے قریب آکر رکھا گیا۔ ایک شخص نے کھڑے ہوکر اس عابد کو اس تخت پر رکھ دیا۔ اس کے بعد وہ تخت اوپر اٹھتا گیا۔ لوگ دیکھتے رہے یہاں تک کہ وہ غائب ہوگیا۔‘‘

جواب نمبر:۸…

اور حضرت ہارون علیہ الصلوٰۃ والسلام کے جنازہ کا آسمان پر اٹھایا جانا اور پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعا سے آسمان سے زمین پر اتر آنا ’’مستدرک حاکم‘‘ میں مفصل مذکور ہے۔

(مستدرک ج۲ ص۵۷۹)

جواب نمبر:۹…

حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر آسمان سے مائدہ کا نازل ہونا قرآن کریم میں صراحۃً مذکور ہے۔ ’’کما قال تعالٰی اِذْ قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ یٰعِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ ہَلْ یَسْتَطِیْعُ رَبُّکَ اَنْ یُّنَزِّلَ عَلَیْنَا مَآئِدَۃً مِّنَ السَّمَآ ء (الٰی قولہ تعالٰی) قَالَ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ اللّٰہُمَّ رَبَّنَا اَنْزِلْ عَلَیْنَا مَآئِدَۃً مِّنَ السَّمَآ ء تَکُوْنُ لَنَا عِیْدًا لِّاَوَّلِنَا وَاٰخِرِنَا وَاٰیَۃً مِّنْکَ وَارْزُقْنَا وَاَنْتَ خَیْرُ الرَّازِقِیْنَ * قَالَ اللّٰہُ اِنِّیْ مُنَزِّلُہَا عَلَیْکُمْ (مائدہ:۱۱۴،۱۱۵)‘‘

جواب نمبر:۱۰…

سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی قوم کے لئے من وسلویٰ آسمانوں سے اترا تھا۔ اس کے لئے (ان تمام کروں سے) آنا قرآن سے ثابت ہے۔ پس کھانا انبیاء علیہم السلام کے اجساد سے زیادہ مادی جسم ہے۔ کھانے کی نسبت انبیاء علیہم السلام کا وجود زیادہ لطیف بلکہ الطف ہے۔ اگر مادی جسم آسمانوں سے آنا محال نہیں تو ان سے لطیف بلکہ الطف اجساد کا آنا کیوں کر محال ہے؟

172

مقصد ان واقعات عشرہ کے نقل کرنے سے یہ ہے کہ منکرین اور ملحدین خوب سمجھ لیں کہ حق جل شانہ نے اپنے محبیّن اور مخلصین کی اس خاص طریقہ سے بارہا تائید فرمائی کہ ان کو صحیح وسالم فرشتوں کے ذریعے آسمانوں پر اٹھوا لیا اور دشمن دیکھتے ہی رہ گئے تاکہ اس کی قدرت کاملہ کا ایک نشان اور کرشمہ ظاہر ہو اور اس کے نیک بندوں کی کرامت اور منکرین معجزات وکرامات کی رسوائی وذلت آشکارا ہو اور اس قسم کے خوارق کا ظہور مومنین اور مصدقین کے لئے موجب طمانیت اور مکذبین کے لئے اتمام حجت کا کام دے۔

ان واقعات سے یہ امر بھی بخوبی ثابت ہوگیا کہ کسی جسم عنصری کا آسمان پر اٹھایا جانا نہ قانون قدرت کے خلاف ہے نہ سنت ﷲ کے متصادم ہے۔ بلکہ ایسی حالت میں سنت ﷲ یہی ہے کہ اپنے خاص بندوں کو آسمان پر اٹھا لیا جائے تاکہ اس ’’ملیک مقتدر‘‘ کی قدرت کا کرشمہ ظاہر ہو اور لوگوں کو یہ معلوم ہو جائے کہ حق تعالیٰ کی اپنے خاص الخاص بندوں کے ساتھ یہی سنت ہے کہ ایسے وقت میں ان کو آسمان پر اٹھا لیتا ہے۔ غرض یہ کہ کسی جسم عنصری کا آسمان پر اٹھایا جانا قطعاً محال نہیں بلکہ ممکن اور واقع ہے۔

تمہید چہارم

رفع الی السماء اور نزول من السماء الی الارض کی حکمت

۱… حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع اور نزول کی حکمت علماء نے یہ بیان کی ہے کہ یہود کا یہ دعویٰ تھا کہ ہم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کر دیا۔ ’’کما قال تعالٰی وقَوْلِہِمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِیْحَ عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ رَسُوْلَ اللّٰہِ‘‘ اور دجال جو اخیر زمانہ میں ظاہر ہوگا وہ بھی قوم یہود سے ہوگا اور یہود اس کے متبع اور پیرو ہوں گے۔ اس لئے حق تعالیٰ نے اس وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ آسمان پر اٹھایا اور قیامت کے قریب آسمان سے نازل ہوں گے اور دجال کو قتل کریں گے تاکہ خوب واضح ہو جائے کہ جس ذات کی نسبت یہود یہ کہتے تھے کہ ہم نے اس کو قتل کر دیا وہ سب غلط ہے۔ ان کو ﷲتعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے زندہ آسمان پر اٹھایا اور اتنے زمانہ تک ان کو زندہ رکھا اور پھر تمہارے قتل اور بربادی کے لئے اتارا تاکہ سب کو معلوم ہو جائے کہ تم جن کے قتل کے مدعی تھے ان کو قتل نہیں کر سکے۔ بلکہ ان کو ﷲتعالیٰ نے تمہارے قتل کے لئے نازل کیا اور یہ حکمت (فتح الباری باب نزول عیسیٰ ج۱۰ ص۳۵۷) پر مذکور ہے۔

۲… حضرت عیسیٰ علیہ السلام ملک شام سے آسمان پر اٹھائے گئے تھے اور ملک شام ہی میں نزول ہوگا تاکہ اس ملک کو فتح فرمائیں۔ جیسا کہ نبی اکرم ﷺ ہجرت کے چند سال بعد فتح مکہ کے لئے تشریف لائے۔ اسی طرح عیسیٰ علیہ السلام نے شام سے آسمان کی طرف ہجرت فرمائی اور وفات سے کچھ عرصہ پہلے شام کو فتح کرنے کے لئے آسمان سے نازل ہوں گے اور یہود کا استیصال فرمائیں گے اور نازل ہونے کے بعد صلیب کا توڑنا بھی اسی طرف اشارہ ہوگا کہ یہود اور نصاریٰ کا یہ اعتقاد کہ مسیح بن مریم علیہا السلام صلیب پر چڑھائے گئے بالکل غلط ہے۔ حضرت مسیح علیہ السلام تو ﷲتعالیٰ کی حفاظت میں تھے۔ اسی لئے نازل ہونے کے بعد صلیب کا نام ونشان بھی نہ چھوڑیں گے۔

۳… اور بعض علماء نے یہ حکمت بیان فرمائی ہے کہ حق تعالیٰ نے تمام انبیاء سے یہ عہد لیا تھا کہ اگر تم نبی کریم ﷺ کا زمانہ پاؤ تو ان پر ضرور ایمان لانا اور ان کی ضرور مدد کرنا۔ ’’کما قال تعالٰی لَتُؤْمِنُنَّ بِہٖ وَلَتَنْصُرُنَّہٗ‘‘

173

اور انبیاء بنی اسرائیل کا سلسلہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ختم ہوتا تھا۔ اس لئے حق تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھایا تاکہ جس وقت دجال ظاہر ہو اس وقت آپ آسمان سے نازل ہوں اور رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کی مدد فرمائیں۔

کیونکہ جس وقت دجال ظاہر ہوگا وہ وقت امت محمدیہ پر سخت مصیبت کا وقت ہوگا اور امت شدید امداد کی محتاج ہوگی۔ اس لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس وقت نازل ہوں گے تاکہ امت محمدیہ ﷺ کی نصرت واعانت کا جو وعدہ تمام انبیاء کر چکے ہیں۔ وہ وعدہ اپنی طرف سے اصالۃً اور باقی انبیاء کی طرف سے وکالۃً ایفاء فرمائیں۔ ’’فافہم ذلک فانہ لطیف‘‘

۴… اور بعض علماء نے یہ حکمت بیان فرمائی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے جب انجیل میں نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم اور آپ ﷺ کی امت کے اوصاف دیکھے تو حق تعالیٰ سے یہ دعا فرمائی کہ مجھے بھی امت محمدیہ ﷺ میں سے کر دیجئے۔ حق تعالیٰ نے ان کی یہ دعا قبول فرمائی اور ان کو آخر زمانہ تک باقی رکھا اور قیامت کے قریب دین اسلام کے لئے ایک مجدد کی حیثیت سے تشریف لائیں گے تاکہ قیامت کے نزدیک ان کا حشر امت محمدیہ ﷺ کے زمرہ میں ہو۔ ’’وَاللّٰہُ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی اَعْلَمُ‘‘

تمہید پنجم

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع ونزول کے متعلق چند مختصر اور منصفانہ گزارشات

۱… حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رفع ونزول بے شک عالم کے عام دستور کے خلاف ہے۔ لیکن ذرا اس پر بھی تو غور فرمائیے کہ ان کی ولادت کیا عالم کے عام دستور کے موافق ہے؟ بایں ہمہ اس اعجازی ولادت کا ذکر خود قرآن کریم نے فرمایا ہے۔ پھر ان کا نزول عالم کے درمیانی واقعات میں سے نہیں بلکہ عالم کی تخریب کے علامات میں شمار ہے اور تخریب عالم یعنی قیامت کی بڑی علامات میں سے ایک علامت بھی ایسی نہیں جو عالم کے عام دستور کے موافق ہو۔ لہٰذا اگر ان کے نزول کو قیاس کرنا ہی ہے تو عالم کے تعمیری دور کی بجائے اس کے تخریبی دور پر قیاس کرنا چاہئے۔

۲… حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت کا مسئلہ صرف عام انسانوں کی موت پر قیاس کر کے طے کر دینا صحیح نہیں۔ کیونکہ عام انسانوں کی حیات وموت سے مذہبی عقیدہ کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ اس لئے کہ وہ صرف ظن وتخمین سے بھی طے کیاجاسکتا ہے۔ اس کے برخلاف اس اولوالعزم رسول کی موت وحیات کا مسئلہ ہے۔ اس سے مذہبی عقیدے کا تعلق ہے۔ مزید برآں یہاں ایک طرف کتاب وسنت کی تصریحات، دوسری طرف نصاریٰ کی مذہبی تاریخ ان کی حیات کی گواہی بھی دے رہی ہے۔ اس لئے اس کو صرف قیاس سے کیسے طے کیا جاسکتا ہے۔

۳… یہ بات بہت زیادہ غور کرنے کے قابل ہے کہ دنیا میں پہلے بہت سے رسول گزرچکے ہیں۔ بلکہ ان میں سے بعض وہ بھی ہیں جن کو یہود ملعون نے قتل کیا ہے۔ مگر کیا ان کی موت میں کسی متنفس کو بھی اختلاف ہے۔ پھر خاص حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی کے معاملہ میں بات کیا ہے کہ ان کی موت وحیات میں آج تک ان کی امت کو بھی اختلاف ہے۔ کیا اس سے یہ نتیجہ برآمد نہیں ہوتا کہ ان کی موت کا معاملہ ضرور دوسروں سے کچھ مختلف ہے۔

۴… لغت عرب میں موت کے لئے ایک صریح لفظ ’’موت‘‘ کا موجود ہے۔ پس اگر حضرت عیسیٰ علیہ

174

السلام کی موت واقع ہوچکی تھی تو کیا وجہ ہے کہ ان کے معاملہ میں قرآن کریم نے اس صریح لفظ کو کہیں استعمال نہیں فرمایا تاکہ ایک طرف ان کی موت کا مسئلہ طے ہوجاتا اور دوسری طرف ان کی الوہیت کا افسانہ بھی باطل ہوجاتا۔

۵… یہ کتنی تعجب کی بات ہے کہ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت واقع ہوچکی تھی تو آج تک ان کی قبر کیسے لاپتہ رہی۔ جبکہ ان کی امت میں ان کے موافق اور مخالف دونوں فریق کسی انقطاع کے بغیر مسلسل چلے آرہے ہیں۔ دیکھئے اس امت میں نہ معلوم کتنے اولیاء ﷲ گزر چکے ہیں۔ جن کی وفات کو بڑی بڑی مدتیں گزرچکی ہیں۔ مگر ان کی قبروں کا لاپتہ ہونا تو درکنار اب تک وہ زندہ یادگاریں بنی ہوئی ہیں۔ پھر یہ کیسے قرین قیاس ہے کہ نصاریٰ کی اس فرط عقیدت کے باوجود ان کی قبر لاپتہ ہوجاتی۔

۶… ہم ہرگز اس امر کے مجاز نہیں کہ کسی اولوالعزم رسول کی اپنی جانب سے کوئی ایسی جدید تاریخ بناڈالیں جو اس کے موافق ومخالف میں سے کسی کو بھی مسلم نہ ہو اور نہ اس کے لئے کوئی اور خارجی قطعی ثبوت موجود ہو۔ مثلاً یہ کہنا کہ عیسیٰ علیہ السلام سولی دئیے گئے۔ مگر وہ اس پر مرے نہیں بلکہ کشمیر جاکر مدتوں کے بعد اپنی موت سے مرگئے ہیں۔ یہ ان کی ایک ایسی جدید تاریخ ہے جس کا دنیا میں کوئی بھی قائل نہیں اور نہ اس کے لئے خارجی کوئی قطعی شہادت موجود ہے۔

۷… اگر یہ تسلیم کرلیا جائے کہ سلف صالحین کے دور میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق یہی عقیدہ تھا کہ وہ وفات پاچکے ہیں تو پھر تاریخی طور پر یہ ثابت کرنا ہوگا کہ مسلمانوں میں ان کی حیات کا عقیدہ کب سے پیدا ہوا۔ یہ واضح رہنا چاہئے کہ نزول کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سب کے نزدیک بالاتفاق ثابت ہے۔ جو موت کہ متنازع فیہ ہے وہ ان کی گزشتہ موت ہے۔ پس اگرکسی کے قلم سے موت کا لفظ نکلا بھی ہو تو جب تک یہ بھی ثابت نہ کیا جائے کہ وہ ان کی گزشتہ موت کا قائل ہے اور آیت نزول کا منکر ہے۔ اس وقت تک صرف موت کا لفظ پیش کرنا باکل بے سود ہے۔

۸… حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معاملہ میں قرآنی آیتوں کی تفسیر صرف لغت کی مدد سے کرنی صحیح نہیں۔ بلکہ اس پر بھی نظر رکھنی لازم ہے کہ یہاں مدعیین کے بیانات کیا نقل کئے گئے ہیں؟ اور ان کے معاملہ کی پوری روئیداد کیا ہے؟ پھر جو قرآنی فیصلہ ہے وہ بھی اسی روشنی میں دیکھنا چاہئے۔

۹… قرآن کریم پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معاملہ میں اصل لفظ جو قابل بحث ہے وہ ’’رفع‘‘ کا ہے۔ اس لئے اس نے اسی لفظ کو اپنے فیصلہ میں لیا ہے اور اسی پر زور دیا ہے اور توفیٰ کا لفظ اپنے فیصلہ میں لیا ہی نہیں۔ یعنی ’’وماقتلوہ یقینا بل رفعہ ﷲ الیہ‘‘ فرمایا ہے اور ’’بل توفاہ ﷲ‘‘ نہیں فرمایا۔

۱۰… حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معاملہ میں زیر بحث ان کا جسم ہی تھا۔ یہود اس کے قتل کے مدعی تھے اور نصاریٰ اس کے رفع کے قائل تھے۔ روح کا معاملہ نہ زیر بحث تھا۔ نہ یہ معاملہ زیر بحث آنے کے قابل تھا۔ ظاہر ہے کہ روح کا معاملہ ایک غیبی اور پوشیدہ معاملہ ہے۔ اس پر کوئی حجت قائم نہیں کی جاسکتی۔ نیز جبکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت ابھی ثابت ہی نہیں ہے تو ان کی روح زیر بحث آہی نہیں سکتی۔ اس کے علاوہ جب رفع روحانی میں عام مؤمنین بھی شریک ہوسکتے ہیں تو انبیاء علیہم السلام کے متعلق اس میں شبہ ہی کیا ہوسکتا ہے۔

۱۱… یہ بات بڑی اہمیت کے ساتھ غور کرنے کے قابل ہے کہ جب دوسرے انبیاء علیہم السلام کا مقتول ہونا قرآن کریم نے خود تسلیم کرلیا ہے۔ حالانکہ ان کے قاتلین بھی وہی یہود تھے جو یہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قتل

175

کے مدعی ہیں۔ پھر کیا وجہ ہے کہ اگر کسی کے مقتول ہونے سے اس کے رفع روحانی میں شبہ پیدا ہوسکتا تھا تو قرآن کریم نے ان کے رفع روحانی کی تصریح نہیں کی اور خاص حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں یہ تصریح کرنی کیوں ضروری سمجھی ہے۔ حالانکہ دیگر انبیاء علیہم السلام کے قتل سے بھی ان کا مقصد ان کے رفع روحانی کا انکار کرنا تھا۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ کسی کا مقتول ہوجانا اس کے لعنتی ہونے کا ہرگز ثبوت نہیں بن سکتا۔ ورنہ دوسرے مقتول انبیاء علیہم السلام کا لعنتی ہونا ماننا پڑے گا ۔ والعیاذبِاللہ!

۱۲… یہ کتنی عجیب بات ہے کہ جب یہود نے : ’’اناقتلنا‘‘ کہا (یعنی ہم نے ان کو یقینا قتل کرڈالا ہے) تو قرآن کریم نے ان کی تردید میں دوبار : ’’وماقتلوہ‘‘ فرمایا (یعنی ہرگز ان کو قتل نہیں کیا) لیکن جب عیسائیوں نے: ’’ان عیسیٰ رفع‘‘ کہا (یعنی عیسیٰ علیہ السلام اٹھالئے گئے) تو اس نے ایک بار بھی : ’’ومارفع‘‘ نہیں کہا (یعنی ہرگز نہیں اٹھائے گئے) بلکہ: ’’بل رفعہ اللّٰہ الیہ‘‘ کہہ کر ان کی اور تائید فرمادی۔ کیا اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اتنی بات میں یعنی ان کے رفع کے بارے میں نصاریٰ کا عقیدہ درست تھا۔

۱۳… قرآن کریم سے کہیں معلوم نہیں ہوتا کہ اہل کتاب نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا مقدمہ کبھی آپ کے سامنے پیش کیا تھا۔ بلکہ ان کے نزدیک وہ پیش کرنے کے قابل ہی نہ تھا۔ ظاہر ہے کہ جو فریق ان کے قتل کا یقین رکھتا ہو وہ ان کے نزول کی بحث ہی کیا کرسکتا تھا۔ ہاں جو فریق ان کے رفع جسمانی کا مدعی تھا وہ لازمی طور پر ان کے نزول کا بھی قائل تھا۔ پس براہ راست ان کے نزول کا مسئلہ نہ ان کے نزدیک قابل بحث تھا نہ ان کے نزدیک۔ لہٰذا جب اس وقت یہ مسئلہ زیر بحث ہی نہ تھا تو قرآن کریم اس صریح لفظ کے ساتھ اس پر بحث کیسے کرتا۔ اس لئے یہ خیال کتنا غلط ہے کہ قرآن کریم میں چونکہ نزول کا صریح لفظ کہیں موجود نہیں۔ اس لئے ان کا نزول قابل تسلیم نہیں۔ جی ہاں رفع کا لفظ جہاں موجود تھا۔ کیا آپ نے اس کو مان لیا؟

۱۴… قرآن کریم اور حدیث پر سرسری نظر ڈالنے سے ہم کو یہ ثابت ہوتا ہے کہ جہاں قرآن کریم کسی خاص مقصد سے بحث کا ایک پہلو لے لیتا ہے۔ وہاں حدیث فوراً اس کا دوسرا پہلو اپنے بیان میں لے لیتی ہے اور اس طرح اس کے دونوں پہلو سامنے آجاتے ہیں اور درحقیقت حدیث کے بیان ہونے کا بھی منشاء یہی ہے۔ اسی اصول کے مطابق چونکہ یہاں قرآن کریم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع کا پہلو لے لیا تھا۔ اس لئے حدیث نے اس کا دوسرا پہلو یعنی نزول کا لے لیا ہے اور اس کو اتنا روشن کیا ہے۔ اس کی اتنی تفصیلات بیان کی ہیں اور اس کو اتنا پھیلایا ہے کہ اس کے بعد قرآن کریم میں رفع سے جسمانی رفع کے سوا روحانی رفع کا احتمال ہی باقی نہیں رہتا۔ ظاہر ہے کہ حدیثوں میں جو تفصیلات حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی مذکور ہیں۔ ان میں جسمانی نزول کے سوا دور کا بھی کوئی دوسرا احتمال نہیں۔ لہٰذا ماننا پڑتا ہے کہ جو شخص اپنے جسم کے ساتھ اترے گا وہ ضرور اپنے جسم ہی کے ساتھ اٹھایا گیا تھا اور اس طرح اب آپ جتنا قرآنی رفع کو حدیثی نزول اور حدیثی نزول کو قرآنی رفع کے ساتھ ملا ملا کر پڑھتے جائیں گے اتنا ہی آپ پر یہ روشن ہوتا چلا جائے گا کہ جو شخص جسم کے ساتھ اترے گا وہ ضرور اپنے جسم ہی کے ساتھ اٹھایا گیا تھا اور جو جسم کے ساتھ اٹھایا گیا تھا وہ ضرور اپنے جسم ہی کے ساتھ اترے گا۔

۱۵… یہ سوال بھی کتنا عجیب ہے کہ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے جسم ہی کے ساتھ نازل ہوں گے تو کیا لوگ ان کو اپنی آنکھوں سے اترتا ہوابھی دیکھیں گے۔ ظاہر ہے کہ اگر یہ سوال ان کے آسمان پر جانے کے متعلق ہوسکتا ہے

176

تو اترنے کے متعلق بھی ہوسکتا ہے۔ اس کی مثال بالکل ایسی ہوگی جیسا یہ کہا جائے کہ اگر عرش بلقیس کا حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس آنا تسلیم کرلیا جائے تو کیا اس کو لوگوں نے اڑتا ہوا بھی دیکھا تھا؟ یا مثلاً اگر شق القمر کا معجزہ تسلیم کیا جائے تو کیا اس کو دوٹکڑے ہوکر اس کا پھرمل جانا عام لوگوں نے بھی دیکھا تھا۔ پس جو حیثیت اس سوال کی ان ثابت شدہ مقامات میں ہوگی وہی حیثیت اس کی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معاملہ میں سمجھنی چاہئے۔

۱۶… یہ بات ہر شخص جانتا ہے کہ جب کوئی واقعہ اپنے دلائل کے ساتھ ثابت ہوجاتا ہے تو اس میں ضمنی اختلافات کا پیدا ہوجانا اس کی واقعیت پر ذرا اثرانداز نہیں ہوتا۔ آخر آنحضرت ﷺ کی تاریخ ولادت اور آپ ﷺ کی عمر شریف میں بھی اختلافات منقول ہیں۔ مگر اس وجہ سے آپ ﷺ کی ولادت یا آپ ﷺ کی وفات میں کوئی ادنیٰ شبہ پیدا ہوسکتا ہے؟ پھر یہ کتنی ناانصافی ہے کہ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں راویوں نے بعض غیر متعلق باتوں میں اختلاف کیا ہے تو اس کی وجہ سے ایک متفق علیہ واقعہ کا بھی انکار کردیاجائے۔ کیا نماز کی ہیئت یا زکوٰۃ یا روزے اور حج کی روایات میں اختلاف نہیں؟ پھر کیا اس کی وجہ سے ان کے ثبوت بلکہ ان کی رکنیت میں کسی مسلمان کو ادنیٰ شبہ ہے؟

۱۷… دین اسلام کا یہ بھی ایک طرۂ امتیاز ہے کہ اس کے بیانات میں غیر متعارف مجازات اور نامانوس استعارات کا کہیں استعمال نہیں ہوا اور درحقیقت ایک آخری دین کی یہی صفت ہونی بھی چاہئے۔ اس کے برخلاف یہود ونصاریٰ ہیں جن کے ہاں بات بات میں استعارات حتیٰ کہ توحید جوکہ اصول دین میں داخل ہے۔ اس میں بھی مجاز واستعارہ کا دخل موجود ہے۔

۱۸… صریح الفاظ کی تاویل کرنی کبھی مبارک نہیں ہوئی۔ اسی منحوس عادت کی بدولت یہودونصاریٰ آنحضرت ﷺ کے متعلق صریح پیشگوئیوں کے منکر ہوگئے اور اسی کی بدولت یہود نے پہلی بار حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مسیح ہدایت ہونے کا انکار کیا اور آخر میں ان کی بجائے دجال کی تصدیق کریں گے۔ یعنی ان کو مسیح ہدایت مانیں گے۔ لہٰذا اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اس صاف پیش گوئی میں پھروہی تاویل کی راہ اختیار کی گئی تو وہ بھی ہرگز مبارک نہیں ہوگی اور اس کا نتیجہ یہی نکلے گا کہ جب مسیح برحق نازل ہوں تو ان کا انکار کردیا جائے اور اگر بالفرض ان صریح بیانات کی تاویل کرنی بھی درست ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ یہودونصاریٰ آپ کی آمد کی پیش گوئیوں میں تاویل کرنے میں معذور نہ ٹھہرائے جائیں۔ فاعتبروا یآاولی الابصار!

۱۹… آخر میں یہ تنبیہ کرنی ضروری ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معاملہ میں ان کی حیات ووفات پر بحث کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ کیونکہ مسلمان اگر ان کی حیات کے قائل ہیں تو وہ صرف ان کی عام حیات کے قائل نہیں بلکہ اس حیات کے قائل ہیں جو رفع کے بعد اس وقت بھی آسمانوں میں ان کو حاصل ہے۔ اسی طرح یہود اگر ان کی موت کے قائل ہیں تو وہ بھی ان کی عام موت کے قائل نہیں ہیں۔ بلکہ اس موت کے قائل ہیں جو خود ان کے فعل سے واقع ہوئی ہے۔ اب اگر آپ ان کی حیات وموت کو رفع وقتل کی بحث سے الگ کرکے دیکھیں تو پھر خود انصاف فرمائیے کہ اس کی اہمیت کیا رہ جاتی ہے۔ جس بات سے ان کی حیات وموت کی اہمیت پیدا ہوتی ہے۔ وہ صرف ان کے رفع وقتل کا مسئلہ ہے۔ اس لئے یہاں حیات ووفات کو اصل موضوع بنائے رکھنا بالکل ایک عبث مشغلہ ہے اور اسی طرح اس کی جواب دہی میں مصروف رہنا بھی اضاعت وقت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے ان کے رفع وقتل ہی کو موضوع بحث بنایا ہے اور صرف حیات وموت کو بحث کے قابل نہیں سمجھا۔

177

باب دوم … حیات عیسیٰ علیہ السلام پر قرآنی دلائل

حیات عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی پہلی دلیل

’’قَالَ اللّٰہُ عَزِّوَجَلّ فَبِمَا نَقْضِہِمْ مِیْثَاقَہُمْ وَکُفْرِہِمْ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَقَتْلِہِمُ الْاَنْبِیَآء بِغَیْرِ حَقٍّ وَّقَوْلِہِمْ قُلُوْبُنَا غُلْفٌ بَلْ طَبَعَ اللّٰہُ عَلَیْہَا بِکُفْرِہِمْ فَلَا یُؤْمِنُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا * وَّبِکُفْرِہِمْ وَقَوْلِہِمْ عَلٰی مَرْیَمَ بُہْتَانًا عَظِیْمًا * وَّقَوْلِہِمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِیْحَ عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ رَسُوْلَ اللّٰہِ وَمَا قَتَلُوْہُ وَمَا صَلَبُوْہُ وَلٰکِنْ شُبِّہَ لَہُمْ وَاِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِیْہِ لَفِیْ شَکٍّ مِّنْہُ مَا لَہُمْ بِہٖ مِنْ عِلْمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ وَمَا قَتَلُوْہُ یَقِیْنًا * بَلْ رَّفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیْہِ وَکَانَ اللّٰہُ عَزِیْزًا حَکِیْمًا * (نساء:۱۵۵تا۱۵۸)‘‘

’’ان کو جو سزا ملی سو ان کی عہد شکنی پر اور منکر ہونے پر ﷲ کی آیتوں سے، اور خون کرنے پر پیغمبروں کا ناحق، اور اس کہنے پر کہ ہمارے دل پر غلاف ہے سو یہ نہیں بلکہ ﷲ نے مہر کر دی ان کے دل پر کفر کے سبب، سو ایمان نہیں لاتے مگر کم، اور ان کے کفر پر اور مریم پر بڑا طوفان باندھنے پر اور ان کے اس کہنے پر کہ ہم نے قتل کیا مسیح عیسیٰ مریم کے بیٹے کو جو رسول تھا ﷲ کا اور انہوں نے نہ اس کو مارا اور نہ سولی پر چڑھایا لیکن وہی صورت بن گئی ان کے آگے، اور جو لوگ اس میں مختلف باتیں کرتے ہیں تو وہ لوگ اس جگہ شبہ میں پڑے ہوئے ہیں۔ کچھ نہیں ان کو اس کی خبر صرف اٹکل پر چل رہے ہیں، اور اس کو قتل نہیں کیا بے شک بلکہ اس کو اٹھا لیا ﷲ نے اپنی طرف اور ﷲ ہے زبردست حکمت والا۔‘‘

(ترجمہ شیخ الہند)

فائدہ:

ﷲتعالیٰ ان کے قول کی تکذیب فرماتا ہے کہ یہودیوں نے نہ عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کیا نہ سولی پر چڑھایا یہود جو مختلف باتیں اس بارہ میں کہتے ہیں اپنی اپنی اٹکل سے کہتے ہیں۔ ﷲ نے ان کو شبہ میں ڈال دیا۔ خبر کسی کو بھی نہیں۔ واقعی بات یہ ہے کہ ﷲتعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھا لیا اور ﷲتعالیٰ سب چیزوں پر قادر ہے اور اس کے ہر کام میں حکمت ہے۔ قصہ یہ ہوا کہ جب یہودیوں نے حضرت مسیح علیہ السلام کے قتل کا عزم کیا تو پہلے ایک آدمی ان کے گھر میں داخل ہوا۔ حق تعالیٰ نے ان کو تو آسمان پر اٹھا لیا اور اس شخص کی صورت حضرت مسیح علیہ السلام کی صورت کے مشابہ کر دی جب باقی لوگ گھر میں گھسے تو اس کو مسیح سمجھ کر قتل کر دیا۔ پھر خیال آیا تو کہنے لگے کہ اس کا چہرہ تو مسیح کے چہرہ کے مشابہ ہے اور باقی بدن ہمارے ساتھی کا معلوم ہوتاہے۔ کسی نے کہا کہ یہ مقتول مسیح ہے تو وہ آدمی کہاں گیا اور ہمارا آدمی ہے تو مسیح کہاں ہے۔ اب صرف اٹکل سے کسی نے کچھ کہا کسی نے کچھ کہا۔ علم کسی کو بھی نہیں حق یہی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہرگز مقتول نہیں ہوئے بلکہ آسمان پر ﷲ نے اٹھالیا اور یہود کو شبہ میں ڈال دیا۔

(تفسیر عثمانی)

(ربط) حق جل شانہ نے ان آیات شریفہ میں یہود بے بہبود کے ملعون اور مغضوب اور مطرود ومردود ہونے کے کچھ وجوہ واسباب ذکر کئے ہیں۔ چنانچہ فرماتے ہیں کہ پس ہم نے یہود کو متعدد وجوہ کی بناء پر مورد لعنت وغضب بنایا۔ (۱)نقض عہد کی وجہ سے۔ (۲)اور آیات الٰہی کی تکذیب اور انکار کی وجہ سے۔ (۳)اور خدا کے پیغمبروں کو بے وجہ محض عناد اور دشمنی کی بناء پر قتل کرنے کی وجہ سے۔ (۴)اور اس قسم کے متکبرانہ کلمات کی وجہ سے کہ مثلاً ہمارے قلوب علم اور حکمت کے ظرف ہیں۔ ہمیں تمہاری ہدایت اور ارشاد کی ضرورت نہیں۔ ان کے قلوب علم اور حکمت اور رشد وہدایت سے اس لئے بالکل خالی ہیں کہ ﷲ نے ان کے عناد اور تکبر کی وجہ سے ان کے دلوں پر مہر لگادی ہے۔ جس کی وجہ سے قلوب میں جہالت

178

اور ضلالت بند ہے۔ اوپر سے مہر لگی ہوئی ہے۔ اندر کا کفر باہر نہیں آسکتا اور باہر سے کوئی رشد اور ہدایت کا اثر اندر نہیں داخل ہوسکتا۔ (پس اس گروہ میں سے کوئی ایمان لانے والا نہیں مگر کوئی شاذ ونادر جیسے عبد ﷲ رضی اللہ عنہ بن سلام اور ان کے رفقاء) (۵)اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ کفر وعداوت کی وجہ سے۔ (۶)اور حضرت مریم علیہ السلام پر عظیم بہتان لگانے کی وجہ سے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اہانت اور تکذیب کو بھی مستلزم ہے۔ اہانت تو اس لئے کہ کسی کی والدہ کو زانیہ اور بدکار کہنے کے معنی یہ ہیں کہ وہ شخص ولد الزنا ہے اور العیاذ بِاللہ نبی کے حق میں ایسا تصور بھی بدترین کفر ہے اور تکذیب اس طرح لازم آتی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے معجزہ سے حضرت مریم علیہا السلام کی برأت اور نزاہت ثابت ہوچکی ہے اور تہمت لگانا برأت اور نزاہت کا صاف انکار کرنا ہے۔ (۷)اور ان کے اس قول کی وجہ سے کہ جو بطور تفاخر کہتے تھے کہ ہم نے مسیح بن مریم جو رسول ﷲ ہونے کے مدعی تھے ان کو قتل کر ڈالا۔ نبی کا قتل کرنا بھی کفر ہے بلکہ ارادۂ قتل بھی کفر ہے اور پھر اس قتل پر فخر کرنا یہ اس سے بڑھ کر کفر ہے اور حالانکہ ان کا یہ قول کہ ہم نے مسیح بن مریم کو قتل کر ڈالا۔ بالکل غلط ہے ان لوگوں نے نہ ان کو قتل کیا اور نہ سولی چڑھایا۔ لیکن ان کو اشتباہ ہوگیا اور جو لوگ حضرت مسیح کے بارے میں اختلاف کرتے ہیں وہ سب شک اور تردد میں پڑے ہوئے ہیں اور ان کے پاس کسی قسم کا کوئی صحیح علم اور صحیح معرفت نہیں۔ سوائے گمان کی پیروی کے کچھ بھی نہیں۔ خوب سمجھ لیں کہ امر قطعی اور یقینی ہے کہ حضرت مسیح کو کسی نے قتل نہیں کیا بلکہ ﷲتعالیٰ نے ان کو اپنی طرف یعنی آسمان پر اٹھا لیا اور ایک اور شخص کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا شبیہ اور ہم شکل بنا دیا اور حضرت عیسیٰ سمجھ کر اسی کو قتل کیا اور صلیب پر چڑھایا اور اسی وجہ سے یہود کو اشتباہ ہوا اور پھر اس اشتباہ کی وجہ سے اختلاف ہوا اور یہ سب ﷲ کی قدرت اور حکمت سے کوئی بعید نہیں۔ بے شک ﷲتعالیٰ بڑے غالب اور حکمت والے ہیں کہ اپنی قدرت اور حکمت سے نبی کو دشمنوں سے بچا لیا اور زندہ آسمان پر اٹھایا اور ان کی جگہ ایک شخص کو ان کے ہم شکل بناکر قتل کرایا اور تمام قاتلین کو قیامت تک اشتباہ اور اختلاف میں ڈال دیا۔

یہ آیات شریفہ حضرت مسیح علیہ السلام کے رفع جسمی میں نص صریح ہیں۔

۱… ان آیات میں یہود بے بہبود پر لعنت کے اسباب کو ذکر فرمایا ہے۔ ان میں ایک سبب یہ ہے: ’’وَقَوْلِہِمْ عَلٰی مَرْیَمَ بُہْتَانًا عَظِیْمًا‘‘ یعنی حضرت مریم علیہا السلام پر طوفان اور بہتان لگانا۔ اس طوفان اور بہتان عظیم میں مرزاقادیانی کا قدم یہود سے کہیں آگے ہے۔ مرزاقادیانی نے اپنی کتابوں میں حضرت مریم علیہا السلام پر جو بہتان کا طوفان برپا کیا ہے یہود کی کتابوں میں اس کا چالیسواں حصہ بھی نہ ملے گا۔

۲… آیات کا سیاق وسباق بلکہ سارا قرآن روز روشن کی طرح اس امر کی شہادت دے رہا ہے کہ یہود بے بہبود کی ملعونیت اور مغضوبیت کا اصل سبب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی عداوت اور دشمنی ہے۔ مرزاقادیانی اور مرزائی جماعت کی زبان اور قلم سے حضرت مسیح علیہ السلام کے بغض اور عداوت کا جو منظر دنیا نے دیکھا ہے وہ یہود کے وہم وگمان سے بالا اور برتر ہے۔ مرزاقادیانی کے لفظ لفظ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دشمنی ٹپکتی ہے۔ ’’قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَآ ء مِنْ اَفْوَاہِہِمْ وَمَا تُخْفِیْ صُدُوْرُہُمْ اَکْبَرُ (اٰل عمران:۱۱۸)‘‘ انتہائی بغض اور عداوت خود بخود ان کے منہ سے ظاہر ہورہی ہے اور جو عداوت ان کے سینوں میں مخفی اور پوشیدہ ہے وہ تمہارے خواب وخیال سے بھی کہیں زیادہ ہے۔

مرزاقادیانی نے نصاریٰ کے الزام کے بہانہ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شان میں اپنے دل کی عداوت دل کھول کر نکالی جس کے تصور سے بھی کلیجہ شق ہوتا ہے۔

179

۳… پہلی آیت میں ’’وَقَتْلِہِمُ الْاَنْبِیَآء بِغَیْرِ حَقٍّ‘‘ فرمایا۔ یعنی انبیاء کو قتل کرنے کی وجہ سے ملعون اور مغضوب ہوئے اور اس آیت میں: ’’وَقَوْلِہِمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِیْحَ‘‘ فرمایا۔ یعنی اس کہنے کی وجہ سے کہ ہم نے مسیح کو قتل کر ڈالا۔ معلوم ہوا کہ محض قول ہی قول ہے اور قتل کا محض زبانی دعویٰ ہے۔ اگر دیگر انبیاء کی طرح حضرت مسیح واقع میں مقتول ہوئے تھے تو جس طرح پہلی آیت میں ’’وَقَتْلِہِمُ الْاَنْبِیَاء‘‘ فرمایا تھا اسی طرح اس آیت میں: ’’وقتلہم وصلبہم المسیح عیسٰی ابن مریم رسول اللّٰہ‘‘ فرماتے۔ پہلی آیت میں لعنت کا سبب قتل انبیاء ذکر فرمایا اور دوسری آیت میں لعنت کا یہ سبب ان کا ایک قول بتلایا۔ یعنی ان کا یہ کہنا کہ ہم نے مسیح عیسیٰ ابن مریم کو قتل کر ڈالا۔ معلوم ہوا کہ جو شخص یہ کہے کہ مسیح ابن مریم مقتول اور مصلوب ہوئے وہ شخص بلاشبہ ملعون اور مغضوب ہے۔ نیز اس آیت میں حضرت مسیح کے دعویٰ قتل کو بیان کر کے ’’بَلْ رَّفَعَہُ اللّٰہُ‘‘ فرمایا اور انبیاء سابقین کے قتل کو بیان کر کے ’’بل رفعہم اللّٰہ‘‘ نہیں فرمایا۔ حالانکہ قتل کے بعد ان کی ارواح طیبہ آسمان پر اٹھائی گئیں۔ ثابت ہوا کہ مسیح کے رفع جسمانی کا بیان ہے نہ کہ رفع روح کا۔

۴… اس مقام پر حق جل شانہ نے دو لفظ استعمال فرمائے۔ ایک ’’مَا قَتَلُوْہُ‘‘ جس میں قتل کی نفی فرمائی۔ دوسرا ’’وَمَا صَلَبُوْہُ‘‘ جس میں صلیب پر چڑھائے جانے کی نفی فرمائی۔ اس لئے کہ اگر فقط ’’وَمَا قَتَلُوْہُ‘‘ فرماتے تو یہ احتمال رہ جاتا کہ ممکن ہے قتل نہ کئے گئے ہوں۔ لیکن صلیب پر چڑھائے گئے ہوں اور علیٰ ہذا اگر فقط ’وَمَا صَلَبُوْہُ‘‘ فرماتے تو یہ احتمال رہ جاتا کہ ممکن ہے صلیب تو نہ دئیے گئے ہوں۔ لیکن قتل کر دئیے گئے ہوں۔ علاوہ ازیں بعض مرتبہ یہود ایسا بھی کرتے تھے کہ اوّل قتل کرتے اور پھر صلیب پر چڑھاتے۔ اس لئے حق تعالیٰ شانہ نے قتل اور صلیب کو علیحدہ علیحدہ ذکر فرمایا اور پھر ایک حرف نفی پر اکتفاء نہ فرمایا۔ یعنی ’’وَمَا قَتَلُوْہُ وَصَلَبُوْہُ‘‘ نہیں فرمایا ہے بلکہ حرف نفی یعنی کلمہ ’’ما‘‘ کو ’’قتلوا ‘‘ اور ’’صلبوا‘‘ کے ساتھ علیحدہ علیحدہ ذکر فرمایا اور پھر ’’ما قتلوہ‘‘ اور پھر ’’ما صلبوہ‘‘ فرمایا تاکہ ہر ایک کی نفی اور ہر ایک کا جداگانہ مستقلاً رد ہو جائے اور خوب واضح ہو جائے کہ ہلاکت کی کوئی صورت ہی پیش نہیں آئی نہ مقتول ہوئے اور نہ مصلوب ہوئے اور نہ قتل کر کے صلیب پر لٹکائے گئے۔ دشمنوں نے ایڑی چوٹی کا سارا زور ختم کر دیا، مگر سب بے کار گیا۔ قادر وتوانا جس کو بچانا چاہے اسے کون ہلاک کر سکتا ہے؟

قادیانی اشکال

مرزائی جماعت کا یہ خیال ہے کہ اس آیت میں مطلق قتل اور صلب کی نفی مراد نہیں بلکہ ذلت اور لعنت کی موت کی نفی مراد ہے۔

جواب:

یہ ہے کہ یہ محض وسوسہ شیطانی ہے جس پر کوئی دلیل نہیں۔ جیسے ’’ماضربوہ‘‘ میں ضرب مطلق کی نفی ہے کہ اس پر سرے سے فعل ضرب واقع نہیں ہوا۔ اسی طرح ’’مَاقَتَلُوْہُ‘‘ اور ’’وَمَاصَلَبُوْہُ‘‘ میں بھی قتل مطلق اور صلب مطلق کی نفی ہے کہ فعل قتل وصلب سیدنا عیسیٰ علیہ السلام پر سرے سے واقع نہیں ہوا اور اگریہ کہا جائے کہ یہود کے خیال کی تردید ہے تو تب بھی آیت میں یہود کا، پورا رد ہے۔ اس لئے کہ یہود کا گمان یہ تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام العیاذ بِاللہ جھوٹے نبی ہیں اور جھوٹا نبی ضرور قتل ہوتا ہے تو ﷲتعالیٰ اس کے جواب میں فرماتے ہیں کہ وہ قتل بھی نہیں کئے گئے اور نہ صلیب پر چڑھائے گئے۔ اس لئے کہ وہ خدا کے سچے نبی تھے۔ علاوہ ازیں اگر یہود کے اس عزم کی رعایت کی جائے تو ’’وَقَتْلِہِمُ الْاَنْبِیَآء بِغَیْرِ حَقٍّ‘‘ اور ’’یَقْتُلُوْنَ النَّبِیِّیْنَ‘‘ کے یہ معنی ہونے چاہئیں کہ معاذ ﷲ وہ انبیاء ذلت اور لعنت کی موت مرے۔ ’’کَبُرَتْ

180

کَلِمَۃً تَخْرُجُ مِنْ اَفْوَاہِہِمْ اِنْ یَّقُوْلُوْنَ اِلَّا کَذِبًا (کہف:۵)‘‘ {کیا بڑی بات نکلتی ہے ان کے منہ سے سب جھوٹ ہے جو کہتے ہیں۔}

۵… ’’وَلٰکِنْ شُبِّہَ لَہُمْ‘‘ یعنی ان کے لئے اشتباہ پیدا کر دیا گیا۔ ’’شبہ‘‘ کی ضمیر حضرت مسیح کی طرف راجع کرو اور اس طرح ترجمہ کرو کہ عیسیٰ علیہ السلام کا ایک شبیہ اور ہم شکل ان کے سامنے کر دیا گیا تاکہ عیسیٰ سمجھ کر اس کو قتل کریں اور ہمیشہ کے لئے اشتباہ اور التباس میں پڑ جائیں۔ حضرت شاہ عبدالقادر رحمۃ اللہ علیہ اس طرح ترجمہ فرماتے ہیں: ’’لیکن وہی صورت بن گئی ان کے آگے۔‘‘ یہ ترجمہ اسی اشتباہ کی تفسیر ہے۔ یعنی اس صورت سے وہ اشتباہ اور التباس میں پڑ گئے۔

بعض روایات میں ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام نے رفع الی السماء سے پہلے ’’حواریین‘‘ کی دعوت فرمائی اور خود اپنے دست مبارک سے ان کے ہاتھ دھلائے اور بجائے رومال کے اپنے جسم مبارک کے کپڑوں سے ان کے ہاتھ پونچھے۔ یہ روایت (تفسیر ابن کثیر ج۳ ص۲۲۹) پر ہے۔

گویا کہ یہ دعوت رفع الیٰ السماء کا ولیمہ اور رخصتانہ تھا اور احباب واصحاب کی الوداعی دعوت تھی۔ الغرض غسل فرماکر برآمد ہونا اور احباب کو اپنے ہاتھ سے کھانا کھلانا یہ سب آسمان پر جانے کی تیاری تھی۔ جب فارغ ہوگئے تو اپنے ایک عاشق جان نثار پر اپنی شباہت ڈال کر روح القدس کی معیت میں عروج کے لئے آسمان کی طرف روانہ ہوئے۔ یہ رفع الی السماء حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی عروج جسمانی تھی جس طرح نبی اکرم ﷺ جبرائیل امین علیہ السلام کی معیت میں آسمانوں کی معراج کے لئے روانہ ہوئے اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام حضرت جبرائیل علیہ السلام کی معیت میں عروج کے لئے آسمان پر روانہ ہوئے۔

فائدہ:

صحیح مسلم میں نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام جب دمشق کے منارہ شرقیہ پر اتریں گے تو سرمبارک سے پانی ٹپکتا ہوا ہوگا۔ سبحان ﷲ! جس وقت آسمان پر تشریف لے گئے اس وقت بھی سرمبارک سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے اور جس وقت قیامت کے قریب آسمان سے اتریں گے اس وقت بھی سرمبارک سے پانی کے قطرے ٹپکتے ہوئے ہوں گے۔ جس شان سے تشریف لے گئے تھے اسی شان سے تشریف آوری ہوگی اور مرور زمانہ کا ان پر کوئی اثر نہ ہوگا۔

تنبیہ:

سلف میں اس کا اختلاف ہے کہ جس شخص پر عیسیٰ علیہ السلام کی شباہت ڈالی گئی وہ یہودی تھا یا منافق عیسائی یا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مخلص حواری گزشتہ روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ شخص مومن مخلص تھا۔ اس لئے کہ اسی روایت میں یہ بھی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ جس پر میری شباہت ڈالی جائے گی وہ جنت میں میرا رفیق ہوگا۔ و ﷲ سبحانہ وتعالیٰ اعلم!

بَلْ رَّفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیْہِ کی تفسیر

یعنی یہودی حضرت مسیح کو نہ قتل کر سکے اور نہ صلیب دے سکے بلکہ ﷲتعالیٰ نے حضرت جبرائیل کے ذریعہ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اپنی طرف یعنی آسمان پر اٹھا لیا جیساکہ امام رازی رحمۃ اللہ علیہ نے ’’وَاَیَّدْنَاہُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ‘‘ کی تفسیر میں ذکر کیا ہے کہ حضرت جبرائیل کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ خاص خصوصیت تھی کہ انہیں کے نفخہ سے پیدا ہوئے۔ انہیں کی ترتیب میں رہے اور وہی ان کو آسمان پر چڑھا کر لے گئے۔ (تفسیر کبیر ج۱ ص۴۳۶)

181

جیسا کہ شب معراج میں حضرت جبرائیل آنحضرت ﷺ کا ہاتھ پکڑ کر آسمان پر لے گئے۔ (صحیح البخاری ج۱ ص۴۷۱، باب ذکر ادریس علیہ السلام) میں ہے ’’ثم اخذ بیدی فعرج بی الی السماء‘‘

یہ آیت رفع جسمی کے بارے میں نص صریح ہے کہ حق جل شانہ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اسی جسد عنصری کے ساتھ زندہ اور صحیح اور سالم آسمان پر اٹھا لیا۔ اب ہم اس کے دلائل اور براہین ہدیۂ ناظرین کرتے ہیں۔ غور سے پڑھیں۔

۱… یہ امر روز روشن کی طرح واضح ہے کہ: ’’بَلْ رَّفَعَہُ اللّٰہُ‘‘ کی ضمیر اسی طرف راجع ہے کہ جس طرف ’’مَا قَتَلُوْہُ‘‘ اور ’’مَا صَلَبُوْہُ‘‘ کی ضمیریں راجع ہیں اور ظاہر ہے کہ ’’مَا قَتَلُوْہُ‘‘ اور ’’مَا صَلَبُوْہُ‘‘ کی ضمیریں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے جسم مبارک اور جسد مطہر کی طرف راجع ہیں۔ روح بلا جسم کی طرف راجع نہیں۔ اس لئے کہ قتل کرنا اور صلیب پر چڑھانا جسم ہی کا ممکن ہے۔ روح کا قتل اور صلیب قطعاً ناممکن ہے۔ لہٰذا بل رفعہ کی ضمیر اسی جسم کی طرف راجع ہوگی جس جسم کی طرف ’’مَاقَتَلُوْہُ‘‘ اور ’’مَا صَلَبُوْہُ‘‘ کی ضمیریں راجع ہیں۔

۲… دوم یہ کہ یہود روح کے قتل کے مدعی نہ تھے بلکہ جسم کے قتل کے مدعی تھے اور ’’بل رفعہ ﷲ‘‘ میں اس کی تردید کی گئی لہٰذا ’’بل رفعہ‘‘ سے جسم ہی مراد ہوگا۔

بل کی بحث

اس لئے کہ کلمہ بل کلام عرب میں ما قبل کے ابطال کے لئے آتا ہے۔ لہٰذا بل کے ’’ماقبل‘‘ اور ’’مابعد‘‘ میں منافات اور تضاد کا ہونا ضروری ہے۔ جیسا کہ ’’وَقَالُوْا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا سُبْحٰنَہٗ بَلْ عِبَادٌ مُّکْرَمُوْنَ (الانبیاء:۲۶)‘‘ ولدیت اور عبودیت میں منافات ہے دونوں جمع نہیں ہوسکتے۔ ’’اَمْ یَقُوْلُوْنَ بِہٖ جِنَّۃٌ بَلْ وجاء ہُمْ بِالْحَقِّ (مؤمنون:۷۰)‘‘ {یا کہتے ہیں اس کو سودا ہے کوئی نہیں وہ تو لایا ہے ان کے پاس سچی بات۔} مجنونیت اور اتیان بالحق (یعنی منجانب ﷲ حق کو لے کر آنا) یہ دونوں متضاد اور متنافی ہیں۔ یکجا جمع نہیں ہوسکتے۔ یہ ناممکن ہے کہ شریعت حقہ کا لانے والا مجنون ہو۔ اسی طرح اس آیت میں یہ ضروری ہے کہ مقتولیت اور مصلوبیت جو بل کا ماقبل ہے وہ مرفوعیت الی ﷲ کے منافی ہو جو بل کا مابعد ہے اور ان دونوں کا وجود اور تحقق میں جمع ہونا ناممکن ہے اور ظاہرہے کہ مقتولیت اور روحانی رفع بمعنی موت میں کوئی منافات نہیں۔ محض روح کا آسمان کی طرف اٹھایا جانا قتل جسمانی کے ساتھ جمع ہوسکتا ہے۔ جیسا کہ شہداء کا جسم تو قتل ہو جاتا ہے اور روح آسمان پر اٹھالی جاتی ہے۔ لہٰذا ضروری ہوا کہ ’’بل رفعہ ﷲ‘‘ میں رفع جسمانی مراد ہو کہ جو قتل اور صلب کے منافی ہے۔ اس لئے کہ رفع روحانی اور رفع عزت اور رفعت شان قتل اور صلب کے منافی نہیں۔ بلکہ جس قدر قتل اور صلب ظلماً ہوگا اسی قدر عزت اور رفعت شان میں اضافہ ہوگا اور درجات اور زیادہ بلند ہوں گے۔ رفع درجات کے لئے تو موت اور قتل کچھ بھی شرط نہیں۔ رفع درجات زندہ کو بھی حاصل ہوسکتے ہیں۔ ’’کما قال تعالٰی وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکَ (الم نشرح:۴)‘‘ {اور بلند کیا ہم نے ذکر تیرا۔} اور ’’یَرْفَعِ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ وَالَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍ (المجادلہ:۱۱)‘‘ { ﷲ بلند کرے تگا ان کے لئے جو کہ ایمان رکھتے ہیں تم میں سے اور علم ان کے درجے۔}

182

یہود حضرت مسیح علیہ السلام کے جسم کے قتل اور صلب کے مدعی تھے۔ ﷲتعالیٰ نے اس کے ابطال کے لئے ’’بَلْ رَّفَعَہُ اللّٰہُ‘‘ فرمایا۔ یعنی تم غلط کہتے ہو کہ تم نے اس کے جسم کو قتل کیا، یا صلیب پر چڑھایا۔ بلکہ ﷲتعالیٰ نے ان کے جسم کو صحیح وسالم آسمان پر اٹھا لیا۔

قتل سے قبل رفع جسمانی

اگر رفع سے رفع روح بمعنی موت مراد ہے تو قتل اور صلب کی نفی سے کیا فائدہ؟ قتل اور صلب سے غرض موت ہی ہوتی ہے اور بل اضرابیہ کے بعد رفعہ کو بصیغہ ماضی لانے میں اس طرف اشارہ ہے کہ ’’رفع الی السماء‘‘ باعتبار ماقبل کے امر ماضی ہے۔ یعنی تمہارے قتل اور صلب سے پہلے ہی ہم نے ان کو آسمان پر اٹھا لیا۔ جیسا کہ ’’بل جآء ہم بالحق‘‘ میں صیغہ ماضی اس لئے لایا گیا کہ یہ بتلا دیا جائے کہ آپ ﷺ کا حق کو لے کر آنا کفار کے مجنون کہنے سے پہلے ہی واقع ہو چکا ہے۔ اسی طرح ’’بل رفعہ اللّٰہ‘‘ بصیغہ ماضی لانے میں اس طرف اشارہ ہے کہ رفع الی السماء ان کے مزعوم اور خیالی قتل اور صلب سے پہلے ہی واقع ہوچکا ہے۔

۳… جس جگہ لفظ رفع کا مفعول یا متعلق جسمانی شے ہو گی تو اس جگہ یقینا جسم کا رفع مراد ہوگا اور اگر رفع کا مفعول اور متعلق درجہ یا منزلہ یا مرتبہ یا امر معنوی ہو تو اس وقت رفع مرتبت اور بلندیٔ رتبہ کے معنی مراد ہوں گے۔ ’’کما قال تعالیٰ وَرَفَعْنَا فَوْقَکُمُ الطُّوْرَ (البقرہ:۶۳)‘‘ {اور بلند کیا تمہارے اوپر کوہ طور کو۔} ’’اَللّٰہُ الَّذِیْ رَفَعَ السَّمٰوٰتِ بِغَیْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَہَا (الرعد:۲)‘‘ { ﷲ وہ ہے جس نے اونچے بنائے آسمان بغیر ستون دیکھتے ہو۔} ’’وَاِذْ یَرْفَعُ اِبْرٰہِیْمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَیْتِ وَاِسْمٰعِیْلُ (البقرہ:۱۲۷)‘‘ {اور یاد کر جب اٹھاتے تھے ابراہیم بنیادیں خانہ کعبہ کی اور اسماعیل۔} ’’وَرَفَعَ اَبَوَیْہِ عَلَی الْعَرْشِ (یوسف:۱۰۰)‘‘ {اور اونچا بٹھایا اپنے ماں باپ کو تخت پر۔} ان تمام مواقع میں لفظ رفع اجسام میں مستعمل ہوا ہے اور ہر جگہ رفع جسمانی مراد ہے اور ’’وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکَ‘‘ ہم نے آپ علیہ السلام کا ذکر بلند کیا اور ’’وَرَفَعْنَا بَعْضَہُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ (الزخرف:۳۲)‘‘ {اور بلند کر دئیے درجے بعض کے بعض پر۔} اس قسم کے مواقع میں رفعت شان اور بلندی رتبہ مراد ہے۔ اس لئے کہ رفع کے ساتھ خود ذکر اور درجہ کی قید مذکور ہے۔

خلاصۂ کلام

یہ کہ رفع کے معنی اٹھانے اور اوپر لے جانے کے ہیں۔ لیکن وہ رفع کبھی اجسام کا ہوتا ہے اور کبھی معانی اور اعراض کا ہوتا ہے اور کبھی اقوال اور افعال کا اور کبھی مرتبہ اور درجہ کا۔ جہاں رفع اجسام کا ذکر ہوگا وہاں رفع جسمی مراد ہوگا اور جہاں رفع اعمال اور رفع درجات کا ذکر ہوگا وہاں رفع معنوی مراد ہوگا۔ رفع کے معنی تو اٹھانے اور بلند کرنے ہی کے ہیں۔ باقی جیسی شے ہوگی اس کا رفع بھی اس کے مناسب ہوگا۔

۴… اس آیت کا صریح مفہوم اور مدلول یہ ہے کہ جس وقت یہود نے حضرت مسیح کے قتل اور صلب کا ارادہ کیا تو اس وقت قتل اور صلب نہ ہوسکا کہ اس وقت حضرت مسیح علیہ السلام کا ﷲ کی طرف رفع ہوگیا۔ معلوم ہوا کہ یہ رفع جس کا ’’بَلْ رَّفَعَہُ اللّٰہ‘‘ میں ذکر ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پہلے سے حاصل نہ تھا بلکہ یہ رفع اس وقت ظہور میں آیا کہ جس وقت یہود ان کے قتل کا ارادہ کر رہے تھے اور رفع جو ان کو اس وقت حاصل ہوا وہ یہ تھا کہ اس وقت بجسدہ العنصری صحیح وسالم

183

آسمان پر اٹھا لئے گئے۔ رفعت شان اور بلندی مرتبہ تو ان کو پہلے ہی سے حاصل تھا اور ’’وَجِیْہًا فِی الدُّنْیَا وَالاْٰخِرَۃِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ (آل عمران:۴۵)‘‘ {مرتبہ والا دنیا میں اور آخرت میں اور ﷲ کے مقربوں میں۔} کے لقب سے پہلے ہی سرفراز ہوچکے تھے۔ لہٰذا اس آیت میں وہی رفع مراد ہوسکتا ہے کہ جو ان کو یہود کے ارادہ قتل کے وقت حاصل ہوا یعنی رفع جسمی اور رفع عزت ومنزلت اس سے پہلے ہی ان کو حاصل تھا اس مقام پر اس کا ذکر بالکل بے محل ہے۔

۵… یہ کہ رفع کا لفظ قرآن کریم میں صرف دو پیغمبروں کے لئے آیا ہے۔ ایک عیسیٰ علیہ السلام اور دوسرے ادریس علیہ السلام کے لئے۔ ’’کما قال تعالٰی وَاذْکُرْ فِی الْکِتٰبِ اِدْرِیْسَ اِنَّہٗ کَانَ صِدِّیْقًا نَّبِیًّا وَّرَفَعْنٰہُ مَکَانًا عَلِیًّا (مریم:۵۶،۵۷)‘‘ {اور مذکور تذکرہ کتاب میں ادریس کا وہ تھا سچا نبی اور اٹھا لیا ہم نے اس کو ایک اونچے مکان پر۔} ادریس علیہ السلام کا رفع جسمانی کا مفصل تذکرہ تفاسیر میں مذکور ہے۔روح المعانی ج۵ ص۱۸۷، خصائص کبریٰ ج۱ ص۱۶۷،۱۶۸، ج۱ ص۱۷۴، تفسیر کبیر ج۵ ص۵۴۵، ارشاد الساری ج۵ ص۳۷۰، فتح الباری ج۱۳ ص۲۲۵، مرقات ج۵ ص۲۲۴، معالم التنزیل ج۳ ص۷، فی عمدۃ القاری ج۷ ص۳۲۷، القول الصحیح بانہ رفع وہوحی ودرمنثور ج۴ ص۲۴۶، وفی التفسیر ابن جریر ج۱۶ ص۶۳) ان اللّٰہ رفعہ وہو حی الٰی السماء۔ الرابعۃ وفی الفتوحات المکیۃ (ج۳ ص۳۴۱) والیواقیت الجواہر (ج۲ ص۲۴) فاذا انا بادریس بجسمہ فانہ مامات الٰی الآن بل رفعہ اللّٰہ مکانا علیا وفی الفتوحات (ج۲ ص۵) ادریس علیہ السلام بقی حیا بجسدہٖ واسکنہ اللّٰہ الٰی السماء الرابعۃ) لہٰذا تمام انبیاء کرام میں انہیں دو پیغمبروں کو رفع کے ساتھ کیوں خاص کیاگیا؟ رفع درجات میں تمام انبیاء شریک ہیں۔

۶… ’’وَمَا قَتَلُوْہُ وَمَا صَلَبُوْہُ‘‘ اور ’’وَمَا قَتَلُوْہُ یَقِیْنًا‘‘ اور ’’بَلْ رَّفَعَہُ‘‘ میں تمام ضمائر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہیں جن کو مسیح اور ابن مریم اور رسول ﷲ کہا جاتا ہے اور ظاہر ہے کہ عیسیٰ اور مسیح اور ابن مریم اور رسول یہ جسم معین اور جسد خاص کے نام اور لقب ہیں۔ روح کے اسماء اور القاب نہیں۔ اس لئے کہ جب تک روح کا تعلق کسی بدن اور جسم کے ساتھ نہ ہو اس وقت تک وہ روح کسی اسم کے ساتھ موسوم اور کسی لقب کے ساتھ ملقب نہیں ہوتی۔ ’’وَاِذْ اَخَذَ رَبُّکَ مِنْ بَنِیْ اٰدَمَ مِنْ ظُہُوْرِہِمْ ذُرِّیَتَہُمْ (الاعراف:۱۷۲)‘‘ {اور جب نکالا تیرے رب نے بنی آدم کی پیٹھوں سے ان کی اولاد کو۔} ’’وقولہa الارواح جنود مجندۃ الحدیث‘‘

(بخاری ج۱ ص۴۶۹، باب الارواح جنود مجندۃ کنزالعمال ج۹ ص۲۳، حدیث:۲۴۷۴۱)

۷… یہ کہ یہود کی ذلت ورسوائی اور حسرت اور ناکامی اور عیسیٰ علیہ السلام کی کمال عزت ورفعت بجسدہ العنصری صحیح وسالم آسمان پر اٹھائے جانے ہی میں زیادہ ظاہر ہوتی ہے۔

۸… یہ کہ رفعت شان اور علو مرتبت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ مخصوص نہیں۔ زندہ اہل ایمان اور زندہ اہل علم کو بھی حاصل ہے۔ ’’کما قال تعالٰی یَرْفَعِ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ وَالَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍ (مجادلہ:۱۱)‘‘ {بلند کرتا ہے ﷲتعالیٰ اہل ایمان اور اہل علم کو باعتبار درجات کے۔}

۹… یہ کہ اگر آیت میں رفع روحانی بمعنی موت مراد ہو تو یہ ماننا پڑے گا کہ وہ رفع روحانی بمعنی موت یہود کے قتل اور صلب سے پہلے واقع ہوا جیسا کہ: ’’اَمْ یَقُوْلُوْنَ بِہٖ جِنَّۃٌ بَلْ وجاء ہُمْ بِالْحَقِّ (المؤمنون:۷۰) وَیَقُوْلُوْنَ اَئِنَّا لَتَارِکُوْا اٰلِہَتِنَا لِشَاعِرٍ مَّجْنُوْنٍ * بَلْ وجاء بِالْحَقِّ (الصافات:۳۶،۳۷)‘‘ میں آنحضرت ﷺ کا حق کو لے کر آنا ان کے شاعر اور مجنون کہنے سے پہلے واقع ہوا۔ اسی طرح رفع روحانی بمعنی موت کو ان

184

کے قتل اور صلب سے مقدم ماننا پڑے گا۔ حالانکہ مرزاقادیانی اس کے قائل نہیں۔ مرزاقادیانی تو (العیاذ بِاللہ) یہ کہتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام یہود سے خلاص ہوکر فلسطین سے کشمیر پہنچے اور عرصہ دراز تک بقید حیات رہے اور اسی عرصہ میں اپنے زخموں کا علاج کرایا اور پھر طویل مدت کے بعد یعنی ستاسی سال زندہ رہ کر وفات پائی اور سری نگر کے محلہ خان یار میں مدفون ہوئے اور وہیں آپ کا مزار ہے۔ لہٰذا مرزاقادیانی کے زعم کے مطابق عبارت اس طرح ہونی چاہئے تھی۔ ’’وما قتلوہ بالصلیب بل تخلص منہم وذہب الٰی کشمیر واقام فیہم مدۃ طویلۃ ثم اماتہ اللّٰہ ورفع الیہ‘‘ کیا کہیں قرآن مجید اور ذخیرہ احادیث میں ایسی کوئی عبارت ہے؟ نہیں اور ہر گز نہیں۔

۱۰… یہ کہ رفع روحانی بمعنی موت لینے سے ’’وَکَانَ اللّٰہُ عَزِیْزًا حَکِیْمًا‘‘ کے ساتھ مناسبت نہیں رہتی۔ اس لئے کہ عزیز اور حکیم اور اس قسم کی ترکیب اس موقعہ پر استعمال کی جاتی ہے کہ جہاں کوئی عجیب وغریب اور خارق العادات امر پیش آیا ہو اور وہ عجیب وغریب امر جو اس مقام پر پیش آیا وہ رفع جسمانی ہے۔ اس مقام پر ’’عَزِیْزًا حَکِیْمًا‘‘ کو خاص طور پر اس لئے ذکر فرمایا کہ کوئی شخص یہ خیال نہ کرے کہ جسم عنصری کا آسمان پر جانا محال ہے۔ وہ عزت والا اور غلبہ والا اور قدرت والا ہے اور نہ یہ خیال کرے کہ جسم عنصری کا آسمان پر اٹھایا جانا خلاف حکمت اور خلاف مصلحت ہے۔ وہ حکیم ہے اس کا کوئی فعل حکمت سے خالی نہیں۔ دشمنوں نے جب حضرت مسیح پر ہجوم کیا تو اس نے اپنی قدرت کا کرشمہ دکھلا دیا کہ اپنے نبی کو آسمان پر اٹھا لیا اور جو دشمن قتل کے ارادہ سے آئے تھے انہی میں سے ایک کو اپنے نبی کا ہم شکل اور شبیہ بنا کر انہیں کے ہاتھ سے اس کو قتل کرادیا اور پھر اس شبیہ کے قتل کے بعد ان سب کو شبہ اور اشتباہ میں ڈال دیا۔

رفع کا معنی عزت کی موت

مرزاغلام احمد قادیانی نے لکھا ہے کہ: ’’جاننا چاہئے کہ اس جگہ رفع سے مراد وہ موت ہے جو عزت کے ساتھ ہو۔ جیسا کہ دوسری آیت اس پر دلالت کرتی ہے۔ وَرَفَعْنَہُ مَکَانًا عَلِیًا ‘‘

(ازالہ اوہام ص۵۹۹، خزائن ج۳ ص۴۲۳)

پھر تحریر کرتے ہیں کہ: ’’لہٰذا یہ امر ثابت ہے کہ رفع سے مراد اس جگہ موت ہے۔ مگر ایسی موت جو عزت کے ساتھ ہو جیسا کہ مقربین کے لئے ہوتی ہے کہ بعد موت کے ان کی روحیں علیین تک پہنچائی جاتی ہیں۔ فِیْ مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَ ملیکٍ مُّقْتَدِرٍ‘‘ (ازالہ اوہام ص۶۰۵، خزائن ج۳ ص۴۲۴)

رفع کے معنی عزت کی موت نہ کسی لغت سے ثابت ہیں اور نہ کسی محاورہ سے اور نہ کسی فن کی اصطلاح ہے۔ محض مرزاقادیانی کی اختراع اور گھڑت ہے۔ البتہ رفع کا لفظ محض اعزاز کے معنی میں مستعمل ہوتا ہے مگر اعزاز رفع جسمانی کے منافی نہیں اعزاز اور رفع جسمانی دونوں جمع ہوسکتے ہیں نیز اگر رفع سے عزت کی موت مراد ہو تو نزول سے ذلت کی پیدائش مراد ہونی چاہئے اس لئے کہ حدیث میں نزول کو رفع کا مقابل قرار دیا ہے اور ظاہرہے کہ نزول کے یہ معنی مرزاقادیانی کے ہی مناسب ہیں۔

تفسیری شواہد

اب ہم ذیل میں مفسرین حضرات کے چند تفسیری شواہد نقل کرتے ہیں۔

۱… تفسیر روح المعانی میں علامہ سید محمود آلوسی (و:۱۲۷۰ھ) اس آیت کے تحت جزء سادس ص۹ پر فرماتے ہیں کہ سیدنا عبد ﷲ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی کہ جب یہود مسیح علیہ السلام کے قتل کے لئے جمع ہوکر ان کی طرف گئے

185

تاکہ ان کو قتل کر دیں تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام مسیح علیہ السلام کے گھر میں داخل ہوئے۔ مسیح علیہ السلام کو آسمان کی طرف اٹھاکر لے گئے۔

(ص۱۱) پر فرماتے ہیں کہ: ’’سیدنا عیسیٰ علیہ السلام دوسرے آسمان پر زندہ تشریف فرماہیں۔ واپس دنیا میں تشریف لائیں گے اور دنیا میں ان کا انتقال ہوگا۔‘‘

۲… علامہ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی (تفسیر درمنثور ج۲ ص۲۳۸) پر بھی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کی مذکورہ روایت کو نقل فرمایا ہے۔

۳… علامہ ابن جریر طبری رحمۃ اللہ علیہ (و:۳۱۰ھ) اپنی (تفسیر جامع البیان ج۶ ص۱۴) اس آیت کے تحت حضرت سدی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں۔ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو آسمانوں پر اٹھا لیا گیا۔ ص۱۵ پر حضرت مجاہد رحمۃ اللہ علیہسے روایت کرتے ہیں کہ: ’’سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو ﷲتعالیٰ نے زندہ اٹھا لیا۔‘‘

۴… علامہ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی (تفسیر ابن کثیر ج۳ ص۱۲) پر حضرت مجاہد رحمۃ اللہ علیہکی روایت کو یوں نقل فرمایا: ’’صلبوا رجلاً شبہًا بعیسٰی ورفع اللّٰہ عزوجل عیسٰی الٰی السماء حیاً یہود نے ایک شخص کو جو مسیح کا شبیہ تھا صلیب پر لٹکایا جب کہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو ﷲتعالیٰ نے زندہ آسمانوں پر اٹھالیا۔‘‘

۵… (تنویر المقیاس من تفسیر ابن عباس رضی اللہ عنہ ج۱ ص۶۸) میں ابی طاہر محمد بن یعقوب فیروز آبادی فرماتے ہیں: ’’انہوں (یہود) نے یقینا عیسیٰ علیہ السلام کو قتل نہیں کیا بلکہ ﷲتعالیٰ نے ان کو آسمانوں پر اٹھالیا۔‘‘

۶… تفسیر کشاف میں علامہ جار ﷲ محمود بن عمر الزمخشری (و:۵۲۸ھ) اس آیت کے تحت (ج۱ ص۵۷۸ طبع بیروت) پر فرماتے ہیں: ’’جب یہود عیسیٰ علیہ السلام کے قتل کے لئے جمع ہوئے تو ﷲتعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو خبر دی کہ ہم آپ کو آسمانوں پر اٹھاتے ہیں اور یہود کی ناپاک صحبت سے پاک کرتے ہیں۔‘‘

۷… تفسیر مظہری میں علامہ ثناء ﷲ مظہری رحمۃ اللہ علیہ (و:۱۳۲۵ھ) اس آیت کے تحت (ج۳ ص۲۷۱) پر فرماتے ہیں کہ ’’بل رفعہ اللّٰہ الیہ‘‘ میں ردقتل (مسیح علیہ السلام) اور اثبات رفع (مسیح علیہ السلام) ہے۔

۸… تفسیر کبیر میں علامہ فخرالدین رازیv اس آیت کے تحت (جز۱۱ ص۱۰۳) پر فرماتے ہیں کہ: ’’اس آیت (بل رفعہ ﷲ) سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رفع الی السماء ثابت ہے جیسا کہ آیت آل عمران ’’انی متوفیک ورافعک ومطہرک‘‘ اس کی نظیر ہے۔ جان کہ عیسیٰ علیہ السلام کو مصیبت ومشقت (یہود سے) پیش آئیں تو ﷲتعالیٰ نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا اور ان کے لئے ثواب جنت کے دروازے وا کر دئیے۔ ان کے جسم کو (رفع سے) تمام راحتیں نصیب ہوگئیں۔ (جن کے جسم کی رفعتوں کا یہ عالم ہے جو اس آیت میں مذکور ہیں) تو اس آیت سے ان کی روحانی ترقیوں کی معرفت کا بھی خود بخود اندازہ کر لو (یعنی رفع جسمانی کو رفع روحانی خود بخود لازم ہے) اس صفحہ پر آیت ’’کان اللّٰہ عزیزًا حکیما‘‘ کے تحت تحریر فرماتے ہیں۔

عزت سے مراد کمال قدرت اور حکمت سے مراد کمال علم ان الفاظ ( عزیزًا حکیمًا) سے یہ جتلانا مقصود ہے کہ رفع عیسیٰ علیہ السلام کا دنیا سے آسمانوں کی طرف انسان کے لئے ایسا کرنا تو مشکل ہے۔ لیکن میری ( ﷲتعالیٰ) قدرت وحکمت کے لئے تو کوئی مشکل نہیں۔ جیسا کہ ﷲتعالیٰ سبحانہ ’’اسرٰی بعبدہٖ لیلاً‘‘ میں فرماتے ہیں کہ معراج (سماوی) آنحضرت ﷺ کے لئے خود بخود تو مشکل تھا۔ لیکن قدرت حق (تعالیٰ سبحانہ) کے لئے تو آسان ہے۔‘‘

186

قادیانی سوال:۱

ایک شخص کی شکل ہو بہو عیسیٰ علیہ السلام جیسی کیسے ہوگئی؟

جواب:

۱… جس طرح فرشتوں کا بشکل بشر متمثل ہونا۔

۲… اور موسیٰ علیہ السلام کے عصا کا اژدہا بن جانا قرآن کریم میں منصوص ہے۔

۳… انبیاء کرام کے لئے پانی کا شراب اور زیتون بن جانا نصاریٰ کے نزدیک مسلم ہے۔ پس اسی طرح اگر کسی شخص کو عیسیٰ علیہ السلام کے مشابہ اور ہم شکل بنادیا جائے تو کیا استبعاد ہے؟

۴… احیاء موتیٰ کا معجزہ القاء شبیہ کے معجزہ سے کہیں زیادہ بلند تھا۔ لہٰذا احیاء موتیٰ کی طرح القاء شبیہ کے معجزہ کو بھی بلاشبہ اور بلاتردد تسلیم کرنا چاہئے۔

۵… نیز موجودہ سائنس کے دور میں پلاسٹک سرجری سے چہروں کی شباہت تبدیل کی جاتی ہے۔ یہ انسان اپنے ذرائع سے کر رہا ہے۔ اگر حق تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے ایک شخص کی شباہت دوسرے شخص پر ڈال دی تو وجہ استعجاب کیا ہے؟

قادیانی سوال:۲

جس شخص پر عیسیٰ علیہ السلام کی شباہت ڈالی گئی وہ آپ کا دشمن تھا۔ یا حواری، اگر دشمن پر ڈالی گئی تو اسے مسیح بنا کر عزت دی گئی۔ کافر کو عزت دی گئی۔ اگر حواری تھا تو اس پر ظلم ہوا اور یہ ﷲتعالیٰ کی شان سے بعید ہے۔

جواب:

اس آیت کی تفسیر میں پہلے نقل ہو چکا ہے کہ اس میں مفسرین کے دو قول ہیں۔ کیونکہ قرآن مجید تاریخی کتاب نہیں بلکہ ہدایت کا منبع ہے۔ یہ تاریخ کا موضوع ہے کہ وہ شخص جو پھانسی دیاگیا وہ کون ہے؟ قرآن مجید صرف اتنا بتلانا چاہتا ہے کہ مسیح علیہ السلام نہ قتل ہوئے نہ پھانسی دئیے گئے۔ یہود کا قول قتل مسیح کا دعویٰ غلط ہے۔ اب وہ شخص کون تھا؟ تو اس میں سابقہ کتب میں دو اقوال ہیں (۱)کہ وہ دشمن تھا، (۲)وہ حواری تھا۔ اس لئے مفسرین نے دونوں اقوال نقل کئے۔ اب کہ وہ دشمن تھا تو نبی کی شکل دے کر اسے اعزاز دیاگیا؟ یہ قادیانیوں کی نادانی ہے۔ اس دشمن کو مسیح کی شکل دے کر اعزاز نہیں دیاگیا بلکہ عذاب دیاگیا کہ وہ پھانسی پر لٹکایا گیا۔ کیوں؟ اس کا جواب قرآن نے دیا۔ ’’شبہ لہم‘‘ اور دوسرا قول کہ مسیح علیہ السلام کا حواری تھا اس پر اشکال کہ بے قصور تھا۔ اس پر ظلم ہوا۔ اس کا جواب بھی تفسیروں اور کتب سابقہ میں موجود ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ کون شخص ہے جو میری جگہ پھانسی پر چڑھے اور قیامت کے دن جنت میں میرا رفیق بنے۔ یہ سوال تین بار کیا تو تینوں دفعہ مخلص حواری اٹھا جو اپنے نبی کی جگہ قربانی کے لئے آمادہ ہوا۔ یہ ایثار وقربانی کی بے مثال روایت ہے کہ اپنے نبی کے لئے جان قربان کر کے رفیق جنت بننے پر آمادہ ہوا اور ایسے کر کے وہ اعزاز کا مستحق ہوا نہ کہ اعتراض کا۔ وہ درجہ شہادت پر فائز ہوا۔ قادیانی، مخلص حواری مسیح کی شہادت کو ظلم سے تعبیر کریں تو جو لوگ اپنے دین وایمان، اسلام وقرآن انبیاء کرام کی عزتوں کے تحفظ کے لئے شہید ہوئے تو کیا ان سب پر ظلم ہوا؟ معاذ ﷲ!

قادیانی سوال:۳

آیت: ’’بَلْ رَّفَعَہُ اللّٰہُ‘‘ میں لفظ ’’بل‘‘ ابطالیہ نہیں، نحویوں نے لکھا ہے کہ لفظ ’’بل‘‘ قرآن میں نہیں

187

آسکتا۔ (مرزائی پاکٹ بک)

جواب:

۱… پھر تو یہ مطلب ہوا کہ کافر یہود سچے ہیں جو کہتے تھے ہم نے مسیح کو قتل وغیرہ کر دیا۔ اے جناب! تم نے خود بحوالہ کتب نحو لکھا ہے کہ: ’’جب خدا کفار کا قول نقل کرے تو بغرض تردید، اس میں ’’بل‘‘ آسکتا ہے۔‘‘

(احمدیہ پاکٹ بک ص۲۲۴)

یہی معاملہ اس جگہ ہے۔ خود مرزاقادیانی مانتے ہیں کہ اس جگہ لفظ ’’بل‘‘ تردید قول کفار کے لئے ہے۔

’’مسیح مصلوب مقتول ہوکر نہیں مرا… بلکہ خداتعالیٰ نے عزت کے ساتھ اس کو اپنی طرف اٹھالیا۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۵۹۸، خزائن ج۳ ص۴۲۳)

جواب:

۲… قرآن مجید میں قول کفار کی تردید کے لئے متعدد بار بل ابطالیہ استعمال ہوا ہے: (۱) ’’وَقَالُوْا اتَّخَذَ اللّٰہُ وَلَدًا سُبْحٰنَہٗ بَلْ لَّہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (بقرہ:۱۱۶)‘‘ {اور کہتے ہیں کہ ﷲ رکھتا ہے اولاد وہ تو سب باتوں سے پاک ہے بلکہ اسی کا ہے جو کچھ آسمان اور زمین میں ہے۔} (۲) ’’وَقَالُوْا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا سُبْحٰنَہٗ بَلْ عِبَادٌ مُّکْرَمُوْنَ (الانبیاء:۲۶)‘‘ {اور کہتے ہیں رحمان نے کر لیا کسی کو بیٹا وہ ہرگز اس لائق نہیں۔ لیکن وہ بندے ہیں جن کو عزت دی ہے۔} (۳) ’’اَمْ یَقُوْلُوْنَ بِہٖ جِنَّۃٌ بَلْ وجاء ہُمْ بِالْحَقِّ (مؤمنون:۷۰)‘‘ {یا کہتے ہیں اس کو سودا ہے کوئی نہیں وہ تو لایا ہے ان کے پاس سچی بات۔} (۴) ’’اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰہُ بَلْ ہُوَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّکَ (السجدۃ:۳)‘‘ {کیا کہتے ہیں کہ یہ جھوٹ باندھ لیا ہے کوئی نہیں وہ ٹھیک ہے تیرے رب کی طرف سے۔}

قادیانی سوال:۴

رفع سے مراد وہ موت ہے جو عزت کے ساتھ ہو۔ (مرزائی پاکٹ بک)

جواب:

۱… وعدہ بلا توقف اور جلد رفع کا تھا۔ اگر آپ کے معنی صحیح ہوں تو مطلب یہ ہواکہ مسیح اسی وقت عزت کے ساتھ مرگیا تھا اور کون نہیں جانتا کہ یہ یہود کی تائید ہے۔ چونکہ یقینا حضرت مسیح علیہ السلام اس زمانے میں فوت نہیں ہوئے۔ جیسا کہ مرزاقادیانی کو بھی اقرار ہے۔ لہٰذا اس وقت جو رفع ہوا وہ یقینا زندہ آسمان پر اٹھایا جانا تھا۔

اس کے علاوہ رفع کے معنی عزت کی موت لینے نہ صرف بوجہ تمام کتب لغت کے خلاف ہونے کے مردود ہیں۔ بلکہ اس میں یہ نقص ہے کہ کلام ربانی درجۂ فصاحت سے گرجاتا ہے۔ کیونکہ دوسری آیت میں ’’رافعک‘‘ سے پہلے ’’متوفیک‘‘ کا وعدہ موجود ہے اور توفی کے معنی جیسا کہ کتب عربیہ اور تحریرات مرزا سے کسی چیز کو پورا لینے کے ہیں۔ پس یہ کہنا کہ زندہ اٹھالیا۔ پھر ساتھ ہی یہ کہنا کہ عزت کی موت دے کر اٹھا لیا۔ یہ متضاد کلام خدا کی شان سے بعید ہے۔ اگر کہا جائے کہ ’’متوفیک‘‘ کے معنی بھی موت ہیں تو بھی خلاف فصاحت ہے۔ کیونکہ جو بات ایک لفظ (موت) سے ادا ہوسکتی تھی اس کو دو فقروں میں بیان کرنا بھی شان بلاغت پر دھبہ ہے۔ حاصل یہ کہ یہود کہتے تھے کہ ہم نے مسیح علیہ السلام کو ماردیا۔ ان کے جواب میں یہ کہنا کہ ہاں مارتو دیا تھا مگر یہ عزت کی موت ہے۔ یہود کی تردید نہیں بلکہ تصدیق ہے۔ حالانکہ خداوند تعالیٰ اس عقیدہ کو لعنتی قرار دیتا ہے جو قادیانیوں کو مبارک ہے۔

۲… ’’بَلْ رَّفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیْہِ‘‘ کی تفسیر میں تیرہ سو سال کے کسی ایک مفسر یا محدث یا امام لغت نے رفع درجات یا رفع روحانی مراد نہیں لیا۔ یہ خالصتاً قادیانی تحریف کا شاخسانہ ہے جس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ وہ اپنے

188

دعویٰ رفع درجات یا روحانی رفع کے لئے اس آیت کی تفسیر میں سلف کا ایک قول پیش نہیں کر سکتے۔

قادیانی سوال:۵

یہود صلیب کی موت کو لعنتی قرار دیتے ہیں۔ اس لئے ’’بَلْ رَّفَعَہُ اللّٰہُ‘‘ فرمایا گیا کہ ان کا رفع روحانی ہوا۔

جواب:

۱… قرآن مجید نے ’’ماقتلوہ‘‘ سے یہود کے عقیدہ کی تردید کی۔ جس کے لئے وہ ’اِنَّا قَتَلْنَا‘‘ سے قطعی دعویٰ کرتے تھے۔ ’’وَمَا صَلَبُوْہٗ‘‘ سے نصاریٰ کے عقیدہ کفارہ کی تردید کی جو یہ کہتے ہیں کہ پھانسی پر چڑھ کر ہمارے گناہوں کا کفارہ ہوگئے۔ ’’بَلْ رَّفَعَہُ اللّٰہُ‘‘ سے مسیح علیہ السلام کے رفع جسمانی کو جو قتل کے منافی ہے بیان کر کے حقیقت کو واضح کیا۔ ورنہ ’’یقتلون الانبیاء بغیر حق‘‘ میں دیگر انبیاء کے قتل میں یہود کے فعل بد کی نشاندہی فرمائی۔ اگر قتل اور صلیب لعنتی موت سے رفع روحانی مراد ہوتا تو کیا باقی انبیاء علیہم السلام کا رفع روحانی نہیں ہوا۔ ان کے لئے ’’بَلْ رَفَعَہُمُ اللّٰہُ‘‘ کا ذکر کیوں نہیں کیاگیا؟ پس ثابت ہوا کہ یہ رفع روحانی نہیں ہوا، ان کے لئے ’’بَلْ رَفَعَہُمُ اللّٰہُ‘‘ کا ذکر کیوں نہیں کیاگیا۔ پس ثابت ہوا کہ یہ رفع روحانی کا تذکرہ نہیں بلکہ رفع جسمانی کا اثبات وبیان ہے۔

۲… درجات کی بلندی اور رفع روحانی کی انتہاء تو نبوت ہے۔ نبوت سے بڑھ کر اور کیا رفع درجات ہوسکتا ہے؟ وہ تو یہود کے قول قتل سے قبل مسیح علیہ السلام کو حاصل تھا۔ اس کا یہاں بیان ایک بے مقصد بات اور فضول دعویٰ ہے۔ جس کے قادیانی مرتکب ہورہے ہیں۔

۳… کیا ہر مصلوب لعنتی ہوتا ہے اگرچہ وہ بے گناہ ہی کیوں نہ ہو۔ کیا بے گناہ مقتول شہید نہیں ہوتا؟ کیا ’’وَیَقْتُلُوْنَ النَّبِیِّیْنَ بِغَیْرِ الْحَقِّ‘‘ قرآن میں نہیں ہے؟

۴… کیا تیرہ سو سالہ مفسرین کی تفسیری آراء کو یکسر نظرانداز کر کے ان کے مقابلہ میں محرف ومبدل تورات وکتب سابقہ سے اپنے اختراعی مؤقف کو ثابت کرنا کسی طرح جائز ہے؟ َیِّنُوْا تَوَجِرُوْا!

۵… مرزاقادیانی کا یہ کہنا کہ ہر مصلوب ملعون ہوتا ہے، جھوٹ ہے۔ ذیل میں حوالہ ملاحظہ ہو۔ ’’اگر کسی نے کچھ ایسا گناہ کیا ہو جس سے اس کا قتل واجب ہو اور وہ مارا جائے اور تو اسے درخت پر لٹکائے تو اس کی لاش رات بھر لٹکی نہ رہے بلکہ تو اس دن اسے گاڑھ دے۔ کیونکہ وہ جو پھانسی دیا جاتا ہے خدا کا ملعون ہے۔ اس لئے چاہئے کہ تیری زمین جس کا وارث خداوند تیرا خدا تجھ کو کرتا ہے ناپاک نہ کی جائے۔‘‘ (استثناء باب:۲۱، آیت:۲۲،۲۳، کتاب مقدس مطبوعہ ۱۹۲۷ء ص۱۷۹)

اس حوالہ سے ثابت ہوا کہ صلیب دئیے جانے والا وہی شخص ملعون ہے جو کسی گناہ اور جرم کی پاداش میں صلیب دیا گیا ہو۔ ہر مصلوب لعنت کا مستحق نہیں حوالہ میں ’’وہ جو پھانسی دیا جاتا ہے۔‘‘ میں لفظ ’’وہ‘‘ کا اشارہ اس مجرم گنہگار کی طرف ہے۔ اگر ہر مصلوب کی ملعونیت ثابت کرنا مقصود ہوتی تو آیت کا یہ فقرہ یوں نہ ہوتا۔ بلکہ آیت میں ’’وہ جو‘‘ موصول ہے۔ وہ پھانسی دیا جانا اس کا صلہ ہے۔ چونکہ موصول پر حکم لگانے سے پہلے صلہ کا جاننا ضروری ہے۔ اس لئے مصلوب ہونے کے متعلق وہی علم ہوگا جو بائیسویں آیت سے حاصل ہورہا ہے۔ بائیسویں آیت میں مجرم کا اپنے گناہ کی سزا میں مصلوب ہونا مذکور ہے۔ اس لئے یہاں بھی ’’وہ جو‘‘ پھانسی دیا جاتا ہے اس سے مجرم ہی مراد ہے۔

۶… (سورۃ طٰہٰ:۷۱) میں ہے: ’’وَلَا اُصَلِّبَنَّکُمْ فِیْ جُذُوْعِ النَّخْلِ‘‘ فرعون نے کہا کہ میں سب کو کھجور کے تنوں کے ساتھ پھانسی دوں گا۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لانے والے ساحروں کو فرعون نے صلیب پر لٹکایا۔

189

وہ سب کے سب مقبول بارگاہ الٰہی تھے۔ ایک بھی ملعون نہ تھا۔ فرعون نے اپنا ارادہ پورا کیا اور سب کو دار پر لٹکا دیا۔ (تفسیر کبیر ج۶ ص۵۶) پر ہے: ’’قال ابن عباس رضی اللہ عنہ کانوا فی اوّل النہار سحرۃ‘‘ اور ’’فی آخرہا شہداء‘‘ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ دن کے پہلے وقت میں ساحر تھے۔ دن کے آخری وقت میں شہداء میں شامل ہوئے۔ اسی طرح بخاری ومسلم میں حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کا جو ایک جلیل القدر صحابی ہیں سولی پر مارا جانا مذکور ہے۔ چونکہ عیسیٰ علیہ السلام فی الواقعہ غیرمجرم تھے۔ اس لئے ان کا سولی دیا جانا لعنت کا باعث کیسے ہوسکتا تھا؟ پس عدم قتل کے مقابلہ میں رفع۔ رفع جسمانی ہے۔

۷… اگر یہودی مسیح علیہ السلام کو لعنتی ثابت کرنا چاہتے اور ہر مصلوب ان کے نزدیک ملعون ہوتا جیسا کہ مرزاقادیانی کا دعویٰ ہے تو یہودی بجائے ’’اِنَّا قَتَلْنَا‘‘ کے ’’اِنَّا صَلَبْنَا‘‘ کہتے اور ان کے جواب میں ’’وما قتلوہ‘‘ کی بجائے صرف ’’وما صلبوہ‘‘ ہوتا تاکہ ان کی پوری تردید ہو جاتی۔ ’’یا ماہو بملعون بل رفعہ‘‘ کہہ کر صاف لفظوں میں یہود کا رد کیا جاتا۔ لہٰذا یہودیوں کا قتل مسیح کا زوردار دعویٰ کرنا اور ﷲتعالیٰ کا ان کی تردید میں قتل ہی کی تردید کرنے سے ظاہر ہے کہ یہودیوں نے نہ کبھی ان کے لعنتی ہونے کا دعویٰ کیا اور نہ اس کے رد میں کوئی آیت نازل ہوئی۔ بلکہ ’’ماقتلوہ‘‘ سے یہود کی تردید اور ’’وما صلبوہ‘‘ سے نصاریٰ کی تردید مقصود ہے۔ پس عیسیٰ علیہ السلام کا زندہ ہونا۔ عدم قتل اور رفع الی السماء سب باتیں صادق ہیں۔

قادیانی سوال:۶

رَفَعَہُ اللّٰہُ میں خدا کی طرف اٹھانا مرقوم ہے۔ آسمان کاکہاں ذکر ہے؟

جواب:

۱… خدا کے لئے فوق وعلو ہے۔ انہی معنوں سے قرآن میں کہاگیا ہے۔ ’’ء اَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآ ء اَنْ یَّخْسِفَ بِکُمُ الْاَرْضَ (الملک:۱۶)‘‘ {کیا تم نڈر ہوگئے اس ذات سے جو آسمان میں ہے اس سے کہ دھنسا دے تم کو زمین میں۔} ’’اَمْ اَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآ ء اَنْ یُّرْسِلَ عَلَیْکُمْ حَاصِبًا (الملک:۱۷)‘‘ {کیا نڈر ہو گئے ہو اس ذات سے جو آسمان میں ہے اس بات سے کہ برسا دے تم پر مینہ پتھروں کا۔}

ایسا ہی آنحضرت ﷺ انتظار وحی کے وقت آسمان کی طرف دیکھا کرتے تھے۔ ’’قَدْ نَرٰی تَقَلُّبَ وَجْہِکَ فِی السَّمَآ ء (البقرہ:۱۴۴)‘‘ {بے شک ہم دیکھتے ہیں باربار اٹھنا تیرے منہ کا آسمان کی طرف۔}

اسی طرح خود مرزاقادیانی نے ’’رفعہ ﷲ‘‘ کے معنی آسمان کی طرف اٹھایا جانا لکھے ہیں۔ ’’رافعک کے یہی معنی ہیں کہ جب عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوچکے تو ان کی روح آسمان کی طرف اٹھائی گئی۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۲۶۶، خزائن ج۳ ص۲۳۴)

’’مرنے کے بعد ہر مومن کی روح خدا کی طرف اٹھائی جاتی ہے۔ رب کی طرف واپس چلی جاتی ہے اور بہشت میں داخل ہو جاتی ہے۔‘‘ (ملخص ضمیمہ براہین احمدیہ پنجم ص۷۱، خزائن ج۲۱ ص۳۴۱)

’’حضرت مسیح علیہ السلام تو انجیل کو ناقص کی ناقص ہی چھوڑ کر آسمانوں پر جا بیٹھے۔‘‘

(حاشیہ براہین احمدیہ ص۳۶۱، خزائن ج۱ ص۴۳۱)

تین قرآنی آیات اور تین مرزا کے حوالہ جات سے ثابت ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بابت یہ اختلاف نہیں

190

کہ کس طرف اٹھائے گئے۔ قادیانیوںکو بھی مسلم ہے کہ مرفوع چیز آسمانوں کی طرف اٹھائی گئی۔ مرفوع میں اختلاف ہے جہت رفع میں نہیں۔ فافہم!

۲… ’’بَلْ رَّفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیْہِ‘‘ { ﷲتعالیٰ نے عیسیٰ کو اپنی طرف اٹھا لیا۔} اسی کلام کے معنی ہی یہ ہیں کہ ﷲ نے آسمان پر اٹھا لیا جیسا کہ ’’تَعْرُجُ الْمَلٰئِکَۃُ وَالرُّوْحُ اِلَیْہِ (المعارج:۴)‘‘ {چڑھیں گے اس کی طرف فرشتے اور روح۔} کے معنی یہ ہیں کہ ﷲ نے آسمان پر اٹھا لیا جیسا کہ فرشتے اور روح الامین ﷲ کی طرف چڑھتے ہیں یعنی آسمان پر۔ ’’وقال تعالیٰ اِلَیْہِ یَصْعَدُ الْکَلِمُ الطَّیِّبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ یَرْفَعُہٗ (فاطر:۱۰)‘‘ {اس کی طرف چڑھتا ہے کلام ستھرا اور کام نیک اس کو اٹھالیتا ہے۔} یعنی آسمان کی طرف چڑھتے ہیں۔ اسی طرح ’’بَلْ رَّفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیْہِ‘‘ میں آسمان پر اٹھایا جانا مراد ہوگا اور جس کو خدائے تعالیٰ نے ذرا بھی عقل دی ہے وہ سمجھ سکتا ہے۔ ’’بَلْ رَّفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیْہِ‘‘ کے یہ معنی کہ خدا نے ان کو عزت کی موت دی۔ یہ معنی جس طرح لغت کے خلاف ہیں اسی طرح سیاق وسباق کے بھی خلاف ہیں۔

۳… اس آیت کی تفسیر میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے باسناد صحیح یہ منقول ہے: ’’لما اراد اللّٰہ ان یرفع عیسٰی الی السماء‘‘ {جب ﷲتعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان کی طرف اٹھانے کا ارادہ فرمایا الیٰ آخر القصہ۔} (تفسیر ابن کثیر ج۳ ص۹)

۴… مرزاقادیانی کا یہ کہنا کہ رفع سے ایسی موت مراد ہے جو عزت کے ساتھ ہو۔ جیسے مقربین کی موت ہوتی ہے کہ ان کی روحیں مرنے کے بعد علیین تک پہنچائی جاتی ہیں۔ (حوالہ مذکور)

اس عبارت سے خود واضح ہے کہ: ’’بَلْ رَّفَعَہُ اللّٰہُ‘‘ سے آسمان پر جانا مراد ہے۔ اس لئے کہ ’’علیین‘‘ اور ’’مقعد صدق‘‘ تو آسمان ہی میں ہیں۔ بہرحال آسمان پر جانا تو مرزاقادیانی کو بھی تسلیم ہے۔ اختلاف اس میں ہے کہ آسمان پر حضرت مسیح بن مریم کی فقط روح گئی یا روح اور جسد دونوں گئے؟ سو یہ ہم پہلے ثابت کر چکے ہیں کہ آیت میں بجسدہ العنصری رفع مراد ہے۔ ذیل میں خود مرزاقادیانی کے ہم تین حوالے پیش کرتے ہیں جن سے ﷲتعالیٰ کے آسمان پر ہونے اور رفع الی السماء کا ثبوت ہوتا ہے۔ دیکھئے:

حوالہ:۱

’’فرزند دلبند گرامی ارجمند مظہر الحق والعلا کان اللّٰہ نزل من السماء‘‘ (تذکرہ ص۱۸۵)

معلوم ہوا کہ مرزاقادیانی کے نزدیک بھی ﷲتعالیٰ آسمان میں ہے۔

حوالہ:۲

’’الا یعلمون ان المسیح ینزل من السماء بجمیع علومہ‘‘ (آئینہ کمالات اسلام، خزائن ج۵ ص۴۰۹)

’’کیا لوگ نہیں جانتے کہ مسیح آسمان سے تمام علوم کے ساتھ اتریں گے۔‘‘

پتہ چلا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پہلے ہی آسمان پر اٹھائے گئے ہیں جبھی تو وہاں سے نازل ہوں گے۔

حوالہ:۳

’’ہر ایک اپنے درجہ کے موافق آسمانوں کی طرف اٹھایا جاتا ہے اور اپنے قرب کے انداز کے موافق رفع سے حصہ لیتا ہے اور انبیاء اور اولیاء کی روح اگرچہ دنیوی حیات کے زمانہ میں زمین پر ہو مگر پھر بھی اس آسمان سے اس کا تعلق ہوتا ہے، جو اس کی روح کے لئے حد رفع ٹھہرایا گیا ہے اور موت کے بعد وہ روح اس آسمان میں جا ٹھہرتی ہے جو اس کے لئے حد رفع مقرر کیاگیا ہے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۳۴۵، خزائن ج۳ ص۲۷۶)

اس حوالہ سے ثابت ہوا کہ الیہ سے مراد آسمان ہی ہے اور جہت رفع میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ بلکہ اختلاف مرفوع شی میں ہے کہ آیا صرف روح اٹھائی گئی، یا اس کے ساتھ جسم بھی تھا؟

191

قادیانی سوال:۷

’’صلب کا معنی صلیب پر مارنا ہے۔‘‘

جواب:

لغت میں صلب کا معنی صرف سولی پر چڑھانا ہے۔ اسے موت لازم نہیں۔

۱… صراح میں ہے صلب بردار کردن۔ صلیب پر چڑھانا۔

۲… (غیاث اللغات ص۳۰۹، مطبوعہ مجیدی کانپور) میں صلیب کے لفظ کے تحت لکھا ہے: ’’بمعنی بردار کردن وجہش آنکہ چوں عیسیٰ علیہ السلام رابر آسمان بردند۔ طرطوس نام شخصے را کہ بشکل عیسیٰ علیہ السلام بود۔ بردار کشیدند‘‘ صلیب پر چڑھایا اس کی وجہ یہ تھی کہ جب عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھا لیا گیا تو طرطوس نامی شخص جو عیسیٰ علیہ السلام کا ہم شکل تھا صلیب پر چڑھا دیا۔

۳… حضرت شاہ ولی ﷲ رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ’’ونہ کشتند اورا وبردار نکردند اورا۔‘‘ نہ انہوں (یہود ) نے ان (عیسیٰ) کو قتل کیا اور نہ ان کو چڑھایا (صلیب پر)

۴… حضرت شاہ رفیع الدین رحمہم اللہ علیہ لکھتے ہیں: ’’اور نہیں مارا اس کو نہ سولی دی۔‘‘

۵… حضرت شاہ عبدالقادر رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ’’اور نہ اس کو مارا اور نہ سولی پر چڑھایا۔‘‘ ان تصریحات سے یہ بات ثابت ہوئی کہ صلبوہ کا معنی اسے صلیب پر چڑھانا۔ ’’وما صلبوہ‘‘ کا معنی اس کو صلیب پر نہیں چڑھایا۔

قادیانیوں سے سوال:۳

اگر صلب کا معنی صلیب پر چڑھا کر مارنا ہے اور مصلوب کا معنی صلیب پر چڑھا کر مارا ہوا، تو صرف سولی پر چڑھانے اور سولی پر چڑھائے ہوئے، کے لئے کون سا لفظ ہے؟ پوری دنیا کے قادیانی مل کر مطلق صلب کے لئے کوئی لفظ بتاسکتے ہیں؟

قادیانی سوال:۸

مرزائی کہتے ہیں کہ بھلا حضرت عیسیٰ علیہ السلام انسان ہوتے ہوئے آسمان پر کیسے جاسکتے ہیں؟ آسمان وزمین کے بیچ کئی (ناری کرے) ہیں جن سے گزرنے کی تاب انسان نہیں رکھتا۔ اسی وجہ سے جب مشرکین مکہ نے آنحضرت ﷺ سے مطالبہ کیا کہ آپ ﷺ آسمان پر جائیں تو ہم ایمان لائیں گے تو آپ ﷺ نے جواب دیا تھا کہ: ’’ہل کنت الا بشراً رسولا‘‘ معلوم ہوا انسان یہ کام نہیں کرسکتا۔

جواب:

۱… ایک انتہائی ضروری حوالہ

یہ حوالہ نہیں بلکہ ایسا کیمیاوی ایٹم بم ہے جو صرف مذکورہ سوال ہی نہیں بلکہ وفات عیسیٰ کے بارے میں مرزائیوں کے تمام اشکالات کو بھسم کر دیتا ہے اور جگہ جگہ کام آئے گا۔ دل پر ہاتھ رکھ کر ملاحظہ کریں۔ جواب کے الفاظ یہ ہیں: ’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام ناری کروں سے گزر کر آسمان پر ایسے ہی چلے گئے جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام چلے گئے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں۔ ویسے ہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں۔‘‘ اور یہ کوئی ہماری ایجاد نہیں بلکہ خود مرزائیوں کے حضرت صاحب نے لکھا ہے۔ دیکھئے حوالہ:۱ ’’بل حیاۃ کلیم اللّٰہ ثابت بنص القرآن الکریم

192

الاتقرء فی القرآن ماقال اللّٰہ تعالٰی عزوجل، فلا تکن فی مریۃ من لقائہ وانت تعلم ان ہذہٖ الایۃ نزلت فی موسٰی فہی دلیل صریح علٰی حیاۃ موسٰی علیہ السلام لانہ لقی رسول اللّٰہ ﷺ والاموات لا یلاقون الاحیاء ولا تجد مثل ہذہ الایات فی شان عیسٰی علیہ السلام نعم جاء ذکر وفاتہ فی مقامات شتی‘‘

(حمامتہ البشریٰ ص۵۵، خزائن ج۷ ص۲۲۱)

بلکہ حیات کلیم ﷲ (موسیٰ علیہ السلام) نص قرآن کریم سے ثابت ہے کیا تو نے قرآن کریم میں نہیں پڑھا۔ ﷲتعالیٰ کا قول ہے کہ آپ ﷺ شک نہ کریں ان کی ملاقات سے یہ آیت موسیٰ علیہ السلام کی ملاقات کے بارے میں نازل ہوئی۔ یہ آیت دلیل صریح ہے موسیٰ علیہ السلام کی حیات پر۔ اس لئے کہ رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی موسیٰ علیہ السلام سے (معراج میں) ملاقات ہوئی اور (اگر موسیٰ علیہ السلام فوت شدہ ہوتے) مردے زندوں سے نہیں ملا کرتے۔ ایسی آیات تو عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں نہیں بلکہ مختلف مقامات پر ان کی وفات کا ذکر ہے۔

حوالہ:۲

’’ہذا ہو موسٰی فتی اللّٰہ الذی اشار اللّٰہ فی کتابہ الی حیاتہ وفرض علینا ان نؤمن بانہ حی فی السماء ولم یمت ولیس من المیتین‘‘ یہ وہی موسیٰ مرد خدا ہے جس کی نسبت قرآن میں اشارہ ہے کہ وہ زندہ ہے اور ہم پر فرض ہوگیا کہ ہم اس بات پر ایمان لائیں کہ وہ زندہ آسمان میں موجود ہے اور مردوں میں سے نہیں۔ (نورالحق ص۵۰، خزائن ج۸ ص۶۹)

جواب:

۲… مذکورہ بالا اعتراض وعذر کا جواب یہ ہے کہ… یہاں بحث خود جانے کی نہیں بلکہ خدا کے لے جانے کی ہے۔ کیا کوئی شخص یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ نعوذ بِاللہ، ﷲتعالیٰ بھی کسی کو آسمان پر لے جانے کی قدرت نہیں رکھتا؟ اور آنحضرت ﷺ نے اپنی بشریت کا اقرار کر کے مطالبہ پورا کرنے سے جو عذر کیا ہے اس میں خود جانے کی نفی ہے۔ ﷲتعالیٰ کے لئے جانے کی نفی نہیں ہے۔ چنانچہ معراج میں آپ ﷺ منجانب خداوندی آسمان پر لے جائے گئے نہ کہ خود گئے۔

۳… مرزاقادیانی خود تسلیم کرتے ہیں کہ آسمان پر بجسم عنصری جانا ناممکن نہیں بلکہ ممکن ہے۔ مرزاقادیانی کی اپنی عبارت ملاحظہ فرمائیں: ’’ہماری طرف سے یہ جواب ہی کافی ہے کہ اوّل تو خداتعالیٰ کی قدرت سے کچھ بعید نہیں کہ انسان مع جسم عنصری آسمان پر چڑھ جائے۔‘‘

(چشمہ معرفت ص۲۱۹، خزائن ج۲۳ ص۲۲۸)

۴… مرزائیوں پر تعجب ہے کہ بابا گرونانک کے چولہ کا آسمان پر سے اترنا تو مرزاقادیانی کے نزدیک تسلیم ہوسکتا ہے اور اس کو آگ نہیں جلاتی، لیکن حضرت مسیح کے جانے یا آنے سے کرۂ زمہریر یا کرۂ ناریہ مانع ہے؟

مرزاقادیانی کا یہ اقرار (ست بچن ص۳۷، خزائن ج۱۰ ص۱۵۷) پر ملاحظہ فرمائیں: ’’بعض لوگ انگد کے جنم ساکھی کے اس بیان پر تعجب کریں گے کہ یہ چولہ آسمان سے نازل ہوا ہے اور خدا نے اس کو اپنے ہاتھ سے لکھا ہے۔ مگر خداتعالیٰ کی بے انتہاء قدرتوں پر نظر کر کے کچھ تعجب کی بات نہیں۔ کیونکہ اس کی قدرتوں کی کسی نے حد بست نہیں کی۔‘‘

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان پر جانا اور پھر نازل ہونا مرزاقادیانی خود انجیل کے حوالہ سے تسلیم کرتا ہے۔ مرزاقادیانی کی اپنی عبارت ملاحظہ فرمائیں: ’’اور منجملہ انجیلی شہادتوں کے جو ہم کو ملی ہیں انجیل متی کی مندرجہ ذیل آیت ہے اور اس وقت انسان کے بیٹے کا نشان آسمان پر ظاہر ہوگا اور اس وقت زمین کی ساری قومیں چھاتی پیٹیں گی اور انسان کے بیٹے کو بڑی قدرت اور جلال کے ساتھ آسمانوں کے بادلوں پر آتے دیکھیں گے۔ دیکھو متی باب:۲۴، آیت:۳۰‘‘

(مسیح ہندوستان میں ص۳۸، خزائن ج۱۵ ص۳۸)

193

حاصل کلام یہ ہوا کہ قرآن وحدیث وبائبل سب مسیح کے حیات ونزول جسمانی ورفع جسمانی کے قائل ہیں۔ لہٰذا اب کوئی آیت یا حدیث یا بائبل پیش کرنے کی ضرورت نہیں رہی۔

۵… ﷲتعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ بجسد عنصری آسمانوں پر لے گئے اور ناری کرہ ان کے لئے رکاوٹ نہ بنا۔ ﷲتعالیٰ نے اس ناری کرہ کو اسی طرح ٹھنڈا کر دیا جس طرح حضرت آدم علیہ السلام اور حواء کے لئے ٹھنڈا کیا اور انہیں جنت سے زمین پر اتارا اور جس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لئے ﷲتعالیٰ نے آگ کو ٹھنڈا کر دیا۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے بھی ناری کرہ کو ٹھنڈا کر دیا۔ مرزاقادیانی خود اعتراف کرتا ہے، وہ لکھتا ہے:

۱… ’’حضرت ابراہیم علیہ السلام چونکہ صادق اور خداتعالیٰ کا وفادر بندہ تھا اس لئے ہر ایک ابتلاء کے وقت خدا نے اس کی مدد کی۔ جب کہ وہ ظلم سے آگ میں ڈالا گیا۔ خدا نے آگ کو اس کے لئے سرد کر دیا۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۵۰، خزائن ج۲۲ ص۵۲)

۲…

اسی کا تھا معجزانہ اثر کہ نانک بچا جس سے وقت خطر
بچا آگ سے اور بچا آب سے اسی کے اثر سے نہ اسباب سے

(ست بچن ص۴۲، خزائن ج۱۰ ص۱۶۲)

خلاصۂ بحث

ﷲ رب العزت عام قوانین فطرت کے خلاف بھی کبھی کام کرتے ہیں۔ یہ اس کے خاص نوامیس فطرت ہیں یہ بات مرزاقادیانی کے ہاں بھی مسلم ہے۔ اگر مرزاقادیانی کی پیش کردہ مثالیں درست ہیں تو پھر ناری کروں کی موجودگی کے باوجود حضرت آدم علیہ السلام کا اترنا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رفع ونزول بھی عام قانون قدرت کے خلاف ممکن ہے۔ اگر قادیانیوں نے یہی کہنا ہے کہ کوّا سفید ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ناری کرہ سے کیسے گزر گئے؟ تو مرزائی ہم سے سوال کرنے سے قبل یہ اعلان کریں کہ مذکورہ حوالوں میں مرزاقادیانی نے یکے بعد دیگرے کئی جھوٹ بولے ہیں۔

الجھا ہے پاؤں یار کا زلف دراز میں لو آپ اپنے دام میں صیاد آگیا

قادیانی اشکال برحوالہ مذکورہ

مرزائی عموماً حضرت موسیٰ علیہ السلام کے اس رفع کو بھی رفع روحانی پر محمول کر کے جان چھڑانا چاہتے ہیں۔ مگر جان چھوٹ جانا اتنا آسان تھوڑا ہی ہے۔ اس تاویل کا تحقیقی جواب یہ ہے:

حوالہ بالا میں خود مرزاقادیانی نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا تقابل کیا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام تو زندہ ہیں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں۔ یہ تقابل اسی وقت درست ہوسکتا ہے جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جسمانی موت اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی جسمانی حیات مراد لی جائے۔ مذہب قادیانی میں یہی ہے۔ قادیانی اس عبارت کی تاویل کرتے ہیں کہ ’’حی فی السماء‘‘ سے مراد روحانی حیات ہے اور آگے ’’لم یمت‘‘ سے نفی

194

بھی روحانی موت کی ہی ہورہی ہے۔ یہ تاویل چند وجوہ سے باطل ہے۔

اوّلاً… کوئی شخص حضرت موسیٰ علیہ السلام کی روحانی موت کا قائل نہیں ہے کہ ان کی روحانی حیات ثابت کرنے کی ضرورت پیش آئی تھی۔

ثانیاً… ’’نورالحق‘‘ میں مذکورہ عبارت کی چند سطروں کے بعد مرزاقادیانی نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا تقابل کیا ہے، کہتا ہے: ’’ولا تجد مثل ہذہ الایات فی شان عیسٰی‘‘ اگر یہ تقابل مانا جائے اور مرزائیوں کی تاویل بھی مانی جائے تو اس عبارت سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی روحانی موت کا اقرار کرنا پڑے گا اور یہ کفر ہے۔ لہٰذا دونوں جگہ جسمانی حیات ہی مراد لی جانی چاہئے۔

قادیانی سوال:۹

مرزائی یہ کہتے ہیں کہ ’’رفعہ‘‘ میں ضمیر کے مرجع کا فرق صنعت استخدام کے قبیل سے ہے… اس کا جواب یہ ہے کہ صنعت استخدام اس وقت ہوسکتی ہے جب کہ عیسیٰ ابن مریم کے دو معنی ہوں، جس کا دنیا میں کوئی قائل نہیں ہے اور اس کے باوصف اسے استخدام کی صنعت قرار دینا مرزائیوں کی جہالت پر بین دلیل ہے۔ اس لئے کہ:

صنعت استخدام کی تعریف یہ ہے کہ ایک لفظ کے دو معنی ہوں اور لفظ بول کر اس کا ایک معنی مراد لیا جائے اور جب اس لفظ کی طرف ضمیر لوٹے تو دوسرے معنی مراد ہوں یا دو ضمیریں ہوں ایک ضمیر لوٹا کر ایک معنی اور دوسری ضمیر لوٹا کر دوسرا معنی مراد لیا جائے۔ (از تلخیص المفتاح ص۷۱)

اذا نزل السماء بارض قوم رعیناہ وان کانوا خضابا

سماء کا معنی بارش ہے اور دوسرا معنی جس کی طرف ’رعیناہ‘‘ کی ضمیر لوٹتی ہے۔ سبزہ ہے جو اس بارش سے اگا۔

قادیانیوں کا سوال:۱۰

تھک ہار کر مرزائی ایک بہت دور کی کوڑی لائے کہ آیت بالا سے اثبات رفع اسی وقت ہوسکتا ہے جب کہ ’’وما قتلوہ‘‘ اور ’’رفعہ‘‘ دونوں کی ضمیر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ایک ہی کیفیت جسد مع الروح کی طرف راجع ہو۔ ہم اس کو نہیں مانتے۔ بلکہ ہمارا دعویٰ یہ ہے کہ رفعہ کی ضمیر کا مرجع صرف روح عیسوی ہے نہ کہ جسد اور اس کی نظیر قرآن کریم کی یہ آیت ہے: ’’ثم اماتہ فاقبرہ‘‘ جس میں بالاتفاق پہلی ضمیر کا مرجع جسد مع الروح اور دوسری ضمیر کا مرجع صرف روح یا صرف جسد ہے۔

جواب:

۱… مرزائی اس خوش فہمی میں نہ رہیں کہ ہم نے یہ اعتراض کر کے کوئی بڑا تیر مار لیا ہے۔ کیونکہ جس آیت سے مرزائیوں نے استدلال کیا ہے وہ آیت مبحوث عنہا کی نظیر ہرگز نہیں بن سکتی۔ کیونکہ اماتہ کہنے کے بعد لامحالہ روح اور جسد میں انفصال ہوگیا تو اب ’’اقبرہ‘‘ کی ضمیر دونوں کی طرف راجع نہیں ہوسکتی ہے۔ ایک ہی کی طرف راجع ہوگی اور ہماری ذکر کردہ آیت: ’’وما قتلوہ یقینًا بل رفعہ اللّٰہ‘‘ میں قتل کی نفی کے بعد رفع کا اثبات کیا جارہا ہے۔ گویا کہ صراحتاً جسد وروح کے انفصال کی نفی کی جارہی ہے۔ اس لئے یہاں جسد مع الروح ہی مرجع قرار دیا جاسکتا ہے۔ کسی ایک کو لینا اور دوسرے کو چھوڑنا درست نہ ہوگا۔

195

۲… مندرجہ بالا آیت میں موت واقع ہونے کے بعد جب کہ جسد اور روح میں انفصال ہو گیا تو لامحالہ دوسری ضمیر کا مرجع یا صرف جسد ہوگا یا صرف روح۔ دونوں نہیں بن سکتے بخلاف متنازعہ فیہ آیت کے کہ اس میں قتل اور صلیب (یعنی موت کی نفی) کے بعد رفع کے ساتھ ضمیر آرہی ہے تو لامحالہ یہاں رفع جسد مع الروح کا ہوگا نہ کہ فقط روح کا۔ لہٰذااس آیت پر قیاس، قیاس مع الفارق کے قبیل سے ہے جو درست نہیں۔

۳… یہ ہے کہ ’’اماتہ فاقبرہ‘‘ میں بھی دونوں جگہ مرجع جسد مع الروح ہی ہے اور اس میں انسان کے متعدد احوال ذکر ہورہے ہیں جو انسان ’’معہود فی الذہن‘‘ ہے۔

یہاں رفع روحانی اس لئے بھی نہیں ہوسکتا کہ یہاں پر چار جگہ واحد مذکر غائب کی ضمیر آئی ہے جن میں تین ضمیروں کا مرجع بالاتفاق عیسیٰ بن مریم جسد مع الروح ہے۔ ان ضمیروں کا مرجع نہ صرف جسد ہے اور نہ صرف روح ہے۔ کیونکہ قتل اور صلیب کا فعل تب ہی واقع ہوسکتا ہے جب جسد اور روح اکٹھے ہوں تو لامحالہ یہاں پر رفع کی ضمیر کا مرجع بھی جسد مع الروح ہی ہوگا، نہ کہ فقط روح۔ نیز یہاں پر ’’کان اللّٰہ عزیزًا حکیما‘‘ کا جملہ اس بات کی قوی دلیل ہے کہ یہاں رفع جسمانی ہی ہے۔ ورنہ رفع روحانی کے لئے ان صفات کے لانے کی ضرورت نہیں تھی اور یہ ﷲتعالیٰ کے کلام میں زائد جملہ ہو جائے گا اور یہ ہو نہیں سکتا۔ قرآن کا ہر جملہ معنی خیز ہے۔

قادیانی اعتراض:۱۱

ایک حدیث میں ہے:’’اذا تواضع العبد رفعہ اللّٰہ الی السماء السابعۃ رواہ الخرائطی فی مکارم الاخلاق‘‘ جب بندہ تواضع کرتا ہے تو ﷲتعالیٰ اس کو ساتویں آسمان پر اٹھا لیتے ہیں۔ اس حدیث کو خرائطی نے اپنی کتاب مکارم الاخلاق میں ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔

(کنزالعمال ج۳ ص۱۱۰، حدیث ۵۷۲۰، باب التواضع)

اس روایت کو مرزائی بہت خوش ہوکر بطور اعتراض پیش کیا کرتے ہیں کہ رفع کا مفعول جسمانی شئے ہے اور الی السماء کی بھی تصریح ہے مگر باوجود اس کے رفع سے رفع جسمی مراد نہیں بلکہ رفع معنوی مراد ہے۔

جواب:

یہاں مجاز کے لئے قرینہ عقلیہ قطعیہ موجود ہے کہ یہ اس زندہ کے حق میں ہے۔ یعنی جو بندہ لوگوں کے سامنے زمین پر چلتا ہے اور تواضع کرتا ہے تو اس کا مرتبہ اور درجہ ﷲ کے یہاں ساتویں آسمان کے برابر بلند اور اونچا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہاں رفع جسم مراد نہیں بلکہ رفع درجات مراد ہے۔ غرض یہ کہ رفع کے معنی بلندی رتبہ مجازًا بوجہ قرینہ عقلیہ لئے گئے اور اگر کسی کم عقل کی سمجھ میں یہ قرینہ عقلیہ نہ آئے تو اس کے لئے قرینہ لفظیہ بھی موجود ہے۔ وہ یہ کہ (کنزالعمال ج۳ ص۱۱۰، حدیث ۵۷۲۱) میں روایت مذکورہ کے بعد ہی علی الاتصال یہ روایت مذکور ہے۔ ’’من تواضع للّٰہ درجۃً یرفعہ اللّٰہ درجۃً حتی یجعلہ فی علیین‘‘ یعنی جس درجہ کی تواضع کرے گا اسی کے مناسب ﷲ اس کا درجہ بلند فرمائیں گے۔ یہاں تک کہ جب وہ تواضع کے آخری درجہ پر پہنچ جائے گا تو ﷲتعالیٰ اس کو علیین میں جگہ دیں گے جو علو اور رفعت کا آخری مقام ہے۔ اس حدیث میں صراحتاً لفظ درجہ کا مذکور ہے اور قاعدہ مسلمہ ہے۔ ’’الحدیث یفسر بعضہ بعضًا‘‘ ایک حدیث دوسری حدیث کی تفسیر اور شرح کرتی ہے۔ غرض قرآن وحدیث میں جہاں کہیں رفع کو درجات کی بلندی میں استعمال کیاگیا وہاں کوئی نہ کوئی قرینہ صارفہ موجود ہے۔ جوادنیٰ تأمل سے معلوم ہوسکتا ہے کہ یہ مجازی معنی میں اس وجہ سے استعمال ہورہا ہے۔ فافہم!

196

حیات عیسیٰ علیہ السلام کی دوسری دلیل

’’قال اللّٰہ عزوجل وَاِنْ مِّنْ اَہْلِ الکِتٰبِ اِلَّا لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ وَیَوْمَ الْقِیٰمَۃِ یَکُوْنُ عَلَیْہِمْ شَہِیْدًا (نساء:۱۵۹)‘‘ {اور جتنے فرقے ہیں اہل کتاب کے سو عیسیٰ پر یقین لائیں گے اس کی موت سے پہلے اور قیامت کے دن ہو گا ان پر گواہ۔}

ف… حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ موجود ہیں آسمان پر، جب دجال پیدا ہوگا تب اس جہان میں تشریف لاکر اسے قتل کریں گے یہود اور نصاریٰ ان پر ایمان لائیں گے کہ بے شک عیسیٰ زندہ ہیں مرے نہ تھے اور قیامت کے دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان کے حالات اور اعمال کو ظاہر کریں گے کہ یہود نے میری تکذیب اور مخالفت کی اور نصاریٰ نے مجھ کو خدا کا بیٹا کہا۔ (تفسیر عثمانی)

ربط:

یہ آیت گزشتہ آیت ہی کے سلسلہ کی ہے۔ گزشتہ آیات میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع الی السماء کا ذکر تھا۔ جس سے طبعاً یہ سوال پیدا ہوتا تھا کہ اب رفع الی السماء کے بعد کیا ہوگا؟ اس آیت میں اس کا جواب مذکور ہے کہ وہ اس وقت تو آسمان پر زندہ ہیں۔ مگر قیامت کے قریب آسمان سے نازل ہوں گے اور اس وقت تمام اہل کتاب ان کی موت سے پہلے ان پر ایمان لے آئیں گے اور چند روز دنیا میں رہ کر انتقال فرمائیں گے اور روضۂ اقدس میں مدفون ہوں گے جیسا کہ احادیث میں مذکور ہے اور یہود بے بہبود جو ان کے قتل کے مدعی ہیں ان کو اپنی آنکھوں سے زندہ دیکھ کر اپنی غلطی پر ذلیل اور نادم ہوں گے۔

بیان ربط بعنوان دیگر

گزشتہ آیات میں حضرت مسیح علیہ السلام کے ساتھ یہود کے کفر اور عداوت کا ذکر تھا۔ اس آیت میں ان کے ایمان کا ذکر ہے کہ رفع الی السماء سے پہلے اگرچہ یہود حضرت مسیح علیہ السلام کی نبوت سے منکر تھے۔ مگر نزول من السماء کے بعد تمام اہل کتاب ان پر ایمان لے آئیں گے اور ان کی نبوت کی تصدیق کریں گے۔ چنانچہ ارشاد فرماتے ہیں کہ آئندہ زمانے میں کوئی شخص اہل کتاب میں سے باقی نہ رہے گا۔ مگر عیسیٰ علیہ السلام کے مرنے سے پہلے ان کی نبوت ورسالت پر ضرور بالضرور ایمان لے آئے گا۔ (لام تاکیدونون تاکید) رفع الی السماء سے پہلے تکذیب اور عداوت تھی۔ نزول کے بعد تصدیق وتکذیب اور محبت اور عداوت کی شہادت دیں گے تاکہ شہادت کے بعد فیصلہ سنادیا جائے۔

اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام ابھی زندہ ہیں۔ قیامت کے قریب آسمان سے نازل ہوں گے اور ان کی وفات سے پہلے تمام اہل کتاب ان پر ایمان لے آئیں گے اس کے بعد ان کی وفات ہوگی۔

تفسیر آیت:

اس آیت کی تفسیر میں صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین وتابعین رحمہم اللہ علیہ وعلماء مفسرین کے دو قول ہیں۔

قول اوّل:

مشہور اور جمہور کے نزدیک مقبول اور راجح یہ ہے کہ: ’’لَیُؤْمِنَنَّ‘‘ کی ضمیر کتابی کی طرف راجع ہے اور ’’بِہٖ‘‘ اور ’’قَبْلَ مَوْتِہٖ‘‘ کی دونوں ضمیریں عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہیں اور معنی آیت کے یہ ہیں کہ: ’’نہیں رہے گا کوئی شخص اہل کتاب میں مگر البتہ ضرور ایمان لے آئے گا (زمانہ آئندہ یعنی زمانہ نزول میں) عیسیٰ علیہ السلام ان پر گواہ ہوں گے۔‘‘ چنانچہ حضرت شاہ ولی ﷲ قدس ﷲ سرہ اس آیت کا ترجمہ اس طرح فرماتے ہیں۔

’’نباشد ہیچ کس از اہل کتاب الا البتہ ایمان آرد بعیسیٰ پیش از مردن۔ وروز قیامت عیسیٰ گواہ باشد برایشاں۔‘‘

197

ف… مترجم می گوید یعنی یہودی کہ حاضر شوند، نزول عیسیٰ را البتہ ایمان آرند۔ انتہی!

حضرت شاہ ولی ﷲ رحمۃ اللہ علیہ کے اس ترجمہ اور فائدہ تفسیریہ سے صاف ظاہر ہے کہ ’’بِہٖ‘‘ اور ’’مَوْتِہٖ‘‘ کی دونوں ضمیریں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہیں۔ جیسا کہ آیت کے سیاق وسباق سے معلوم ہوتا ہے۔ اس لئے کہ ’’وَمَا قَتَلُوْہُ‘‘ اور ’’وَمَا صَلَبُوْہُ‘‘ اور ’’وَمَا قَتَلُوْہُ یَقِیْنًا‘‘ اور ’’بَلْ رَّفَعَہُ‘‘ کی تمام ضمائر مفعول حضرت مسیح بن مریم علیہ السلام ہی کی طرف راجع ہیں اور پھر آئندہ آیت ’’وَیَوْمَ الْقِیٰمَۃِ یَکُوْنُ عَلَیْہِمْ شَہِیْدًا‘‘ میں ’’یَکُوْنُ‘‘ کی ضمیر بھی حضرت مسیح علیہ السلام ہی کی طرف راجع ہو گی تاکہ سیاق اور سباق کے خلاف نہ ہو۔

حضرت عبد ﷲ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے باسناد صحیح منقول ہے کہ: ’’بِہٖ‘‘ اور ’’مَوْتِہٖ‘‘ کی ضمیریں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہیں۔ دیکھئے: (فتح الباری ج۶ ص۳۵۷)

اور قتادہ رحمۃ اللہ علیہ اور ابومالک رحمۃ اللہ علیہ سے بھی یہی منقول ہے کہ ’’قَبْلَ مَوْتِہٖ‘‘ کی ضمیر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہے۔ (تفسیر ابن جریر ج۶ ص۱۴)

تفسیر ازروئے حدیث

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی ایک روایت میں ہے جس کو امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے روایت کیا ہے اس سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ: ’’بہ‘‘ اور ’’موتہ‘‘ کی ضمیریں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہیں۔

’’عن ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللّٰہ ﷺ والذی نفسی بیدہ لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم حکما عدلاً فیکسر الصلیب ویقتل الخنزیر ویضع الحرب ویفیض المال حتی لا یقبلہ احد حتی تکون السجدۃ الواحدۃ خیر الہ من الدنیا وما فیہا ثم یقول ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ واقروا ان شئتم وان من اہل الکتٰب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ ویوم القیمۃ یکون علیہم شہیدا‘‘

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے۔ بے شک عنقریب تم میں عیسیٰ بن مریم نازل ہوں گے۔ درآنحالیکہ وہ فیصلہ کرنے والے اور انصاف کرنے والے ہوں گے۔ صلیب کو توڑیں گے اور خنزیر کو قتل کریں گے اور لڑائی کو ختم کردیں گے۔ مال کو بہادیں گے۔ یہاں تک کہ مال کو قبول کرنے والا کوئی نہ ملے گا اور ایک سجدہ دنیا اور مافیہا سے بہتر ہوگا۔ پھر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یہ فرماتے ہیں کہ اگر چاہو تو اس حدیث کی تصدیق کے لئے یہ آیت پڑھو: ’’وَاِنْ مِّنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ اِلَّا لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ وَیَوْمَ الْقِیٰمَۃِ یَکُوْنُ عَلَیْہِمْ شَہِیْدًا‘‘

(بخاری شریف کتاب الانبیاء باب نزول عیسیٰ بن مریم ص۴۹۰، ج۱ طبع مجتبائی، مسلم شریف ج۱ ص۲۹۹تا۳۰۱، طبع بجنور بفتح الملہم باب نزول عیسیٰ بن مریم)

حافظ عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں: ’’وہذا مصیر من ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ الی ان الضمیر فی قولہ بہ وموتہ یعود علی عیسیٰ علیہ السلام ای الا لیؤمنن بعیسٰی قبل موت عیسٰی‘‘ (فتح الباری ج۶ ص۳۵۷)

یعنی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا اس طرح آیت کا پڑھنا اس کی دلیل ہے کہ ’’بہٖ‘‘ اور ’’موتہٖ‘‘ کی ضمیریں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہیں۔ یعنی ہر شخص زمانہ آئندہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے حضرت عیسیٰ

198

علیہ السلام پر ضرور ایمان لے آئے گا۔

حافظ عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ فتح الباری میں فرماتے ہیں: ’’وقد اختار کون الضمیر لعیسٰی، ابن جریر، وبہ قال جماعۃ من السلف وہو الظاہر لا نہ تقدم ذکر عیسٰی وذہب کثیر من التابعین فمن بعدہم الی ان المراد قبل موت عیسٰی کما روی عن ابن عباس قبل ہذا‘‘ (فتح الباری)

دونوں ضمیروں کا یعنی ’’بہ‘‘ اور ’’موتہ‘‘ کی ضمیروں کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہونا اس کو امام بن جریر اور سلف کی ایک جماعت نے راجح قرار دیا ہے اور قرآن کریم کا سیاق بھی اس کو مقتضی ہے۔ کیونکہ گزشتہ کلام میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی کا ذکر ہے اور تابعین اور تبع تابعین کثرت سے اسی طرف ہیں کہ آیت کی مراد یہ ہے کہ ’’قبل موت عیسٰی‘‘ یعنی عیسیٰ علیہ السلام کے مرنے سے پہلے جیسا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔

قول ثانی:

آیت کی تفسیر میں دوسرا قول یہ ہے کہ: ’’بہٖ‘‘ کی ضمیر تو عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہے اور ’’قَبْلَ مَوْتِہٖ‘‘ کی ضمیر کتابی کی طرف راجع ہے اور آیت کا مطلب یہ ہے کہ ہر کتابی اپنے مرنے سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت ورسالت اور ان کی عبدیت پر ایمان لے آتا ہے۔ جیسا کہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی قرأت ’’وَاِنْ مِّنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ اِلَّا لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہِمْ‘‘ اسی معنی کی صریح مؤید ہے یعنی نہیں ہے کوئی اہل کتاب میں سے مگر وہ ضرور ایمان لے آئیں گے اپنے مرنے سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت ورسالت پر۔ یعنی اس بات پر کہ وہ ﷲ کے بندے اور رسول تھے۔ خدا اور خدا کے بیٹے نہیں تھے۔ مگر یہ ایمان چونکہ خروج روح کے وقت ہوتا ہے۔ اس لئے شرعاً معتبر نہیں اور نہ آخرت میں نجات کے لئے کافی ہے۔ اس قرأت میں بجائے ’’قَبْلَ مَوْتِہٖ‘‘ کے ’’قَبْلَ مَوْتِہِمْ‘‘ بصیغہ جمع آیا ہے۔ جو صراحۃً اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ ’’قَبْلَ مَوْتِہِمْ‘‘ کی ضمیر اہل کتاب کی طرف راجع ہے۔ لہٰذا اسی طرح دوسری قرأت میں بھی ’’قَبْلَ مَوْتِہٖ‘‘ کی ضمیر کتابی کی طرف راجع ہونی چاہئے تاکہ دونوں قرأتیں متفق ہو جائیں۔ حافظ عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’ورجح جماعۃ ہذا المذہب بقرأۃ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ الا لیومنن بالضم بہ قبل موتہم ای اہل الکتٰب قال النووی معنی الایۃ علی ہذا لیس من اہل الکتٰب اذا یحضرہ الموت الا آمن عند المعانیۃ قبل خروج روحہ بعیسٰی علیہ السلام انہ عبداللّٰہ ولٰکن لا ینفعہ ہذا الایمان فی تلک الحالۃ کما قال اللّٰہ عزوجل ولیست التوبۃ للذین یعملون السیأت حتی اذا حضر احدہم الموت قال انی تبت الاٰن‘‘ (فتح الباری ج۶ ص۳۵۷)

’’علماء کی ایک جماعت نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی قرأت کی بناء پر اس قول کو راجح قراردیا ہے کہ ’’موتہ‘‘ کی ضمیر کتابی کی طرف راجع ہے اور اس قول کی بناء پر آیت کے یہ معنی ہوں گے کہ ہر کتابی اپنی روح نکلنے سے پہلے اس بات پر ایمان لے آتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام ﷲ کے بندے اور رسول تھے۔ مگر ایسی حالت میں ایمان اس کو نافع اور مفید نہیں ہوتا جیسا کہ ﷲتعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’وَلَیْسَتِ التَّوْبَۃ الخ‘‘ یعنی جب موت آجائے تو اس وقت توبہ مقبول نہیں۔‘‘

ترجیح ارجح وتصحیح اصح

جمہور سلف اور خلف کے نزدیک آیت کی تفسیر میں راجح اور مختار قول اوّل ہے اور دوسرا قول ضعیف ہے۔ اس لئے کہ اس قول کا دارومدار ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی قرأت پر ہے اور یہ قرأت شاذ ہے۔ کسی صحیح یا حسن سند سے بھی ثابت نہیں۔

199

سند کے راوی ضعیف اور مجروح ہیں۔ تفسیر ابن جریر میں اس قرأت کی اسانید مذکور ہیں اور علیٰ ہذا اس بات میں جس قدر روایتیں ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہیں وہ بھی ضعیف ہیں۔ امام جلیل وکبیر حافظ عمادالدین ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں۔

’’واولٰی ہذہ الا قوال بالصحۃ القول الاوّل وہو انہ لا یبقی احد من اہل الکتاب بعد نزول عیسٰی علیہ السلام الا اٰمن بہ قبل موتہ ای قبل موت عیسٰی علیہ السلام ولاشک ان ہذا الذی قالہ ابن جریر ہو الصحیح لانہ مقصود من سیاق الاٰیۃ وہذا القول ہو الحق کما سنبینہ بالدلیل القاطع ان شاء اللّٰہ تعالٰی وبہ الثقۃ وعلیہ التکلان آہ‘‘ (تفسیر ابن کثیر ج۳ ص۲۳۳)

’’حافظ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ صحیح قول فقط یہی ہے کہ دونوں ضمیریں عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہیں اور آیت کی تفسیر اس طرح کی جائے گی کہ آئندہ ایک زمانہ آنے والا ہے کہ جس میں تمام اہل کتاب عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بعد ایمان لے آئیں گے کہ عیسیٰ علیہ السلام بے شک رسول ہیں اور یہی ابن جریر طبری رحمۃ اللہ علیہ نے اختیار فرمایا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہی صحیح اور درست ہے۔ کیونکہ سیاق آیت سے عیسیٰ علیہ السلام ہی کا ذکر مقصود ہے اور یہی قول حق ہے جیسا کہ ہم اس کو دلیل قطعی سے ثابت کریں گے۔ ﷲتعالیٰ ہی پر اعتماد ہے اور اسی پر بھروسہ ہے۔‘‘

اور دلیل قطعی سے وہ احادیث متواترہ مراد ہیں کہ جن میں صراحۃً یہ مروی ہے کہ قیامت کے قریب عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے اور اس وقت کوئی شخص ایسا باقی نہ رہے گا کہ جو عیسیٰ علیہ السلام پر عیسیٰ علیہ السلام کی وفات سے پہلے ایمان نہ لے آئے۔

(یاد رہے کہ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ قادیانیوں کے ہاں بھی مسلمہ مجدد ہیں)

تطبیق وتوفیق

جاننا چاہئے کہ دو قرأتین دو مستقل آیتوں کا حکم رکھتی ہیں۔ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی قرأت سے ہر کتابی کا اپنے مرنے سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت پر ایمان لانا معلوم ہوتا ہے اور قرأت متواترہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ زمانہ آئندہ میں تمام اہل کتاب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ضرور ایمان لے آئیں گے۔ ان دونوں قرأتوں میں کوئی تعارض نہیں، دونوں حق ہیں۔ ہر ایک قرأت بمنزلہ مستقل آیت کے ہے جو حجت ہے۔ ہر کتابی اپنے مرنے کے وقت بھی حضرت مسیح علیہ السلام کی نبوت پر ایمان لاتا ہے اور جب قیامت کے قریب حضرت مسیح علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے اس وقت بھی موجود ہر کتابی حضرت مسیح علیہ السلام کی موت سے پہلے حضرت مسیح علیہ السلام پر ضرور ایمان لے آئے گا۔ قرأت متواترہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات اور نزول اور اہل کتاب کے اس ایمان کا ذکر ہے جو نزول کے بعد لائیں۔

اور ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی قرأت شاذہ میں حضرت مسیح علیہ السلام کی حیات اور نزول کا ذکر نہیں۔ نہ حیات کا ذکر ہے نہ وفات کا۔ فقط اہل کتاب کے اس ایمان کا ذکر ہے کہ جو اہل کتاب اپنی روح نکلتے وقت لاتے ہیں۔ غرض یہ کہ ہر قرأت میں ایک جدا واقعہ کا ذکر ہے جیسا کہ: ’’الٓم غُلِبَتِ الرُّوْمُ‘‘ میں دو قرأتیں ہیں۔ ایک معروف اور ایک مجہول اور ہر قرأت میں علیحدہ علیحدہ واقعہ کی طرف اشارہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جن حضرات صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین اور تابعین رحمہم اللہ علیہ سے یہ قرأت

200

شاذہ منقول ہے وہ سب کے سب بالاتفاق حضرت مسیح علیہ السلام کے بجسدہ النعصری آسمان پر اٹھائے جانے اور قیامت کے قریب آسمان سے اترنے کے بھی قائل ہیں۔ چنانچہ تفسیر ’’درمنثور‘‘ میں ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا اور محمد بن الحنفیہ سے مروی ہے کہ جو لوگ حضرت مسیح علیہ السلام کے نزول سے پہلے مریں گے وہ اپنی موت کے وقت حضرت مسیح علیہ السلام پر ایمان لاتے ہیں اور جو اہل کتاب حضرت مسیح علیہ السلام کے زمانہ نزول کو پائیں گے وہ تمام حضرت مسیح علیہ السلام پر حضرت مسیح علیہ السلام کی موت سے پہلے ایمان لائیں گے۔ لہٰذا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی قرأت نزول عیسیٰ علیہ السلام سے پہلے مرنے والوں کے حق میں ہے اور قرأت متواترہ ان لوگوں کے حق میں ہے کہ جو نزول کے بعد حضرت مسیح علیہ السلام کی موت سے پہلے ایمان لائیں گے۔

پھر یہ کہ اہل کتاب جو اپنے مرنے سے پہلے ایمان لاتے ہیں وہ بھی یہی ایمان لاتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام ابھی فوت نہیں ہوئے۔ بلکہ زندہ صحیح وسالم آسمان پر اٹھا لئے گئے جیسا کہ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے۔

’’اخرج عبد بن حمید وابن المنذر عن شہر بن حوشب فی قولہ تعالٰی وان من اہل الکتٰب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ عن محمد بن علی بن ابی طالب وہو ابن الحنفیۃ قال قال لیس من اہل الکتٰب احد الا اتتہ الملئکۃ یضربون وجہہ ودبرہ ثم یقال یا عدو ﷲ ان عیسٰی روح اللّٰہ وکلمتہ کذبت علی اللّٰہ وزعمت انہ اللّٰہ ان عیسٰی لم یمت وانہ رفع الی السماء وہو نازل قبل ان تقوم الساعۃ فلا یبقی یہودی ولا نصرانی الا اٰمن بہ‘‘

(تفسیر درمنثور ج۲ ص۳۴۱)

’’عبد بن حمید اور ابن منذر نے بروایت شہر بن حوشب محمد (بن علی ابن الحنفیہ) سے آیت:’’وَاِنْ مِّنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ اِلَّا لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ الخ‘‘ کی تفسیر اس طرح روایت کی ہے کہ نہیں ہے کوئی اہل کتاب میں سے مگر آتے ہیں فرشتے اس کی موت کے وقت اور خوب مارتے ہیں اس کے چہرے اور سرین پر اور کہتے ہیں کہ اے ﷲ کے دشمن! بے شک عیسیٰ ﷲ کی خاص روح ہیں اس کا کلمہ ہیں۔ تو نے ﷲ پر جھوٹ بولا اور گمان کیا کہ عیسیٰ، ﷲ ہیں تحقیق عیسیٰ ابھی نہیں مرے اور تحقیق آسمان کی طرف اٹھا لئے گئے اور وہ قیامت سے پہلے نازل ہوں گے پس اس وقت کوئی یہودی اور نصرانی باقی نہ رہے گا مگر حضرت مسیح علیہ السلام پر ضرور ایمان لائے گا۔‘‘

عجب نہیں کہ جس طرح مشرکین کو مرنے کے وقت عقیدۂ فاسدہ پر توبیخ اور سرزنش کی جاتی ہے۔ اسی طرح اہل کتاب کو بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں غلط عقیدہ کی بناء پر توبیخ کی جاتی ہو۔ ’’کما قال تعالٰی اِنَّ الَّذِیْنَ تَوَفّٰہُمُ الْمَلٰئِکَۃُ ظَالِمِیْ اَنْفُسِہِمْ فَاَلْقَوُ السَّلَمَ مَا کُنَّا نَعْمَلُ مِنْ سُوْء (نساء:۹۷)‘‘

امام ابن جریر رحمۃ اللہ علیہ اور ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جب موت کا وقت ہوتا ہے تو حق اور باطل کا فرق واضح ہو جاتا ہے جب تک دین حق اور دین باطل کا امتیاز نہ ہو جائے۔ اس وقت تک روح نہیں نکلتی۔ اسی طرح ہر کتابی اپنے مرنے سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت ورسالت پر ایمان لے آتا ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں اس پر حق واضح ہو جاتا ہے۔

تفسیری شواہد

۱… حضرت شاہ ولی ﷲ رحمۃ اللہ علیہ۔ ۲… فتح الباری۔
201
۳… ابن جریر طبری۔ ۴… ابن کثیر۔

۵… درمنثور کے حوالہ جات پہلے نقل ہوچکے۔ مزید تفسیری حوالہ جات اس آیت کے ذیل میں ملاحظہ ہوں۔

۶… تفسیر کشاف میں زیر آیت ہذا (ج۱ ص۵۸۹) پر حضرت علامہ زمخشری فرماتے ہیں: ’’وان منہم احد الا لیؤمنن بعیسٰی قبل موت عیسٰی وہم اہل الکتاب والذین یکونون فی زمان نزولہٖ روی انہ ینزل من السماء فی آخرالزمان فلا یبقی احد من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ حتی تکون الملۃ واحدۃ وہی ملۃ الاسلام ویہلک اللّٰہ فی زمانہ المسیح الدجال‘‘ ان (اہل کتاب) میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہ ہوگا مگر وہ ضرور عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے ان پر ایمان لائے گا۔ (اس سے وہ اہل کتاب مراد ہیں) جو عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے زمانہ میں موجود ہوں گے۔ جیسا کہ حدیث میں ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام آخری زمانہ میں آسمان سے نازل ہوں گے تو ایک بھی اہل کتاب سے ایسا باقی نہ بچے گا جو عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان نہ لائے۔ اس وقت ایک ملت ہو جائے گی اور وہ ملت اسلام ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے زمانہ میں ﷲتعالیٰ مسیح دجال کو ہلاک کریں گے۔

۷… اس کی تفسیر میں علامہ عثمانی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ موجود ہیں آسمان پر۔ جب دجال خارج ہوگا تب اس جہان میں تشریف لا کر اسے قتل کریں گے۔ اور یہود ونصاریٰ (وغیرہم کفار) ان پر ایمان لائیں گے کہ بے شک عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں، مرے نہ تھے اور قیامت کے دن حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام ان کے حالات اور اعمال کو ظاہر کریں گے۔ یہود نے میری تکذیب اور مخالفت کی اور نصاریٰ نے مجھ کو خداتعالیٰ کا بیٹا کہا۔‘‘

(فوائد عثمانیہ ص۱۳۳)

۸… حافظ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ بطریق ابی رجاء رحمۃ اللہ علیہ یہ تفسیر نقل کرتے ہیں کہ: ’’عن الحسن وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ قبل موت عیسٰی علیہ السلام واللّٰہ انہ لحی الاٰن عند اللّٰہ تعالٰی ولٰکن اذا نزل آمنوا بہ اجمعون الخ‘‘ (تفسیر ابن کثیر ج۱ ص۵۷۶)

حضرت حسن رحمہم اللہ علیہ (بصری) نے ’’وَاِنْ مِّنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ (الآیہ)‘‘ کی تفسیر یہ کی ہے کہ اہل کتاب میں سے کوئی بھی ایسا نہ رہے گا جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ان کی وفات سے پہلے ایمان نہ لائے۔ بخدا حضرت عیسیٰ علیہ السلام اب ﷲتعالیٰ کے پاس زندہ ہیں اور جب نازل ہوں گے تو سبھی ہی ان پر ایمان لائیں گے۔

اور دوسرے طریق سے تفسیریوں نقل کرتے ہیں کہ: ’’ان رجلاً قال للحسن رحمہم اللہ علیہ یا ابا سعید قول اللّٰہ عزوجل وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ قال قبل موت عیسٰی علیہ السلام ان اللّٰہ تعالیٰ رفع الیہ عیسٰی علیہ السلام وہو باعثہ قبل یوم القیمۃ مقاما یؤمن بہ البر والفاجر وکذا قال قتادۃ وعبدالرحمٰن بن زید بن اسلم وغیرہ واحد وہذا القول ہو الحق کما سنبینہ بعدہ بالدلیل القاطع ان شاء اللّٰہ تعالٰی الخ‘‘ (تفسیر ابن کثیر ج۱ ص۵۷۶)

’’ایک شخص نے حضرت حسن رحمہم اللہ علیہ (بصری) سے دریافت کیا کہ اے ابوسعید رحمۃ اللہ علیہ (یہ ان کی کنیت تھی) ﷲتعالیٰ کے اس ارشاد کا کہ اہل کتاب میں سے کوئی بھی نہ رہے گا جو اس کی موت سے پہلے اس پر ایمان نہ لائے گا، کیا معنی ہے؟ حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ بے شک ﷲتعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ایسی جگہ بھیجے گا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات سے پہلے تمام نیک وبدان پر ایمان لائیں گے اور یہی تفسیر حضرت قتادہ رحمۃ اللہ علیہ، عبدالرحمن بن زید بن اسلم رضی اللہ عنہ اور بے شمار

202

مفسرین نے کی ہے اور یہی تفسیر حق ہے۔ ہم آگے دلیل قاطع سے اسے بیان کریں گے۔ ان شاء ﷲ العزیز۔‘‘

اس کے بعد حافظ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ نے نصوص قرآنیہ، احادیث متواترہ اور اجماع امت کے حوالہ سے اسے مبرہن کیا ہے۔ قرآن کریم کے اس روشن بیان سے حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی حیات اور ان کی وفات سے قبل یہود ونصاریٰ وغیرہم کفار کا ان پر ایمان لانا ثابت ہے۔ ’’لاریب فیہ‘‘ اور ان کی آمدونزول سے پہلے ساری دنیا کفر ظلم وجور اور قتل وغارت اور بے حیائی سے بھری ہوئی ہوگی۔ مگر ؎

نہ گھبرا کفر کی ظلمت سے تو اے نور کے طالب وہی پیدا کرے گا دن بھی، کی ہے جس نے شب پیدا

کتب تفاسیر میں ’’اِلَّا لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ‘‘ کی دو تفسیریں نقل کی گئی ہیں ایک یہ کہ ’’بہٖ‘‘ کی ضمیر حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طرف راجع ہے اور ’’قَبْلَ مَوْتِہٖ‘‘ میں ضمیر کتابی یعنی یہود ونصاریٰ کے ہر ہر فرد کی طرف راجع ہے اور مطلب یہ ہے کہ ہر یہودی اور نصرانی اپنی موت سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام پر ایمان لائے گا وہ یوں کہ نزع اور جان کنی کے وقت انہیں اپنے باطل عقیدے پر بخوبی اطلاع ہو جائے گی اور وہ مجبور ہوکر حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لائیں گے۔ اگرچہ کتب تفسیر میں یہ تفسیر بھی موجود ومذکور ہے۔ مگر دلائل اور سیاق وسباق سے اس کی تائید نہیں ہوتی…

اوّل… اس لئے کہ نزع کی حالت کا ایمان، ایمان نہیں اور نہ عند ﷲ تعالیٰ اس کی قبولیت ہے۔ حالانکہ آیت کریمہ میں لام تاکید اوّل میں اور نون تاکید ثقلیہ آخر میں ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ضرور بالضرور ایمان لائیں گے اور اس ایمان سے ایسا ایمان مراد ہے جو عند ﷲ ایمان ہو اور مقبول بھی ہو اور مرتے وقت یہودی اور نصرانی کا ایمان، ایمان ہی نہیں تو وہ اس ’’لیؤمنن‘‘ کا مصداق کیسے ہوسکتا ہے؟

ثانیاً… اس لئے کہ ﷲتعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’فَمَنْ شَاء فَلْیُؤْ مِنْ‘‘ یعنی ہر مکلف سے وہ ایمان مطلوب ہے جو اس کی مرضی اور مشیت سے ہو اور نزع کے وقت جب فرشتے سامنے ہوں تو اس وقت کا ایمان مجبوری کا ایمان ہوگا جس کا شرعاً کوئی اعتبار نہیں ہے۔

ثالثاً… اس لئے کہ قرآن کریم سے زیادہ فصاحت اور بلاغت والی کتاب دنیا میں موجود نہیں ہے۔ اگر ’’موتہ‘‘ کی ضمیر کتابی کی طرف راجع ہو تو آگے ’’ویوم القیمۃ یکون علیہم شہیدا‘‘ میں ’’یکون‘‘ میں ’’ہو‘‘ ضمیر یقینا حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طرف راجع ہے تو انتشار ضمائر لازم آئے گا کہ ایک ضمیر تو کتابی کی طرف راجع ہو اور دوسری ضمیر حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طرف جو فصاحت وبلاغت کے خلاف ہے۔ اس لئے یہی بات راجح اور متعین ہے کہ ’’قبل موتہ‘‘ میں ضمیر حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طرف راجع ہے کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام آسمان سے نازل ہوں گے اور یہود ونصاریٰ کو جب اپنی غلطی کا اقرار واحساس ہوگا تو اپنے نزع سے پہلے ہی حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام پر ایمان لائیں گے اور وہ ایمان، ایمان ہوگا اور مقبول ہوگا۔

۹… علامہ اندلسی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’والظاہر ان الضمیرین فی بہ وموتہ عائدان علی عیسٰی علیہ السلام وہو سیاق الکلام والمعنی ان من اہل الکتاب الذین یکونون فی زمان نزولہ روی انہ ینزل من السماء فی آخرالزمان فلا یبقی احد من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ حتی

203

تکون الملۃ واحدۃ وہی ملۃ الاسلام قالہ ابن عباس رضی اللہ عنہ والحسن رحمہم اللہ علیہ وابومالک رحمۃ اللہ علیہ الخ‘‘

(البحر المحیط ج۳ ص۵۵۴،۵۵۵، طبع بیروت)

اور ظاہر یہی ہے کہ ’’بہ‘‘ اور ’’موتہ‘‘ میں دونوں ضمیریں حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طرف راجع ہیں اور سیاق کلام بھی اسی کو چاہتا ہے اور معنی یہ ہے کہ جو اہل کتاب حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے نزول کے وقت ہوں گے۔ ان میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہ رہے گا جو ان پر ایمان نہ لائے اور احادیث میں مروی ہے کہ وہ آخر زمانہ میں نازل ہوں گے اور اہل کتاب میں سے کوئی بھی ان پر ایمان لائے بغیر نہیں رہے گا۔ حتیٰ کہ اس وقت ایک ہی ملت باقی رہے گی اور وہ صرف ملت اسلام ہی ہوگی۔ یہی بات حضرت عبد ﷲ بن عباس رضی اللہ عنہ حضرت حسن رحمہم اللہ علیہ (بصری) اور ابومالک رحمۃ اللہ علیہ نے بیان کی ہے۔

علامہ موصوف کی تفسیر سے واضح ہوگیا کہ آیت کریمہ کاظاہر اور سیاق وسباق اسی کو چاہتا ہے کہ ’’بہ‘‘ کی طرح ’’قبل موتہ‘‘ کی ضمیر بھی حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طرف راجع ہے۔

۱۰… قاضی بیضاوی رحمۃ اللہ علیہ (عبد ﷲ بن عمر بیضاوی المتوفی ۶۴۸ھ) نے بھی یہ تفسیر نقل کی ہے۔ ’’وقیل الضمیر ان لعیسٰی علیہ افضل الصلوٰۃ والسلام والمعنی انہ اذا نزل من السماء آمن بہ اہل الملل کلہا روی انہ علیہ الصلوٰۃ والسلام ینزل من السماء‘‘ (تفسیر بیضاوی ج۱ ص۲۵۵)

’’اور یہ کہا گیا ہے (اور یہی صحیح اور راجح ہے) کہ دونوں ضمیریں حضرت عیسیٰ ان پر افضل صلوٰۃ وسلام ہوں، کی طرف راجع ہیں اور معنی یہ ہے کہ جب وہ آسمان سے نازل ہوں گے تو تمام ملتوں والے ان پر ایمان لائیں گے اور احادیث میں مروی ہے کہ وہ آسمان سے نازل ہوں گے۔‘‘

قاضی بیضاوی رحمۃ اللہ علیہ یہ بتانا چاہتے ہیں کہ اس تفسیر کی جس میں دونوں ضمیریں حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طرف راجع ہیں، اس کی وہ احادیث بھی تائید کرتی ہیں (جو متواتر ہیں) جن میں ان کے آسمان سے نازل ہونے اور تمام اہل ملل کے ان پر ایمان لانے کا واضح ذکر ہے۔

۱۱… اور حافظ ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ: ’’والقول الصحیح الذی علیہ الجمہور قبل موت المسیح‘‘ (الجواب الصحیح ج۱ ص۳۴۱، ج۲ ص۱۱۳)

’’اس آیت کریمہ کی تفسیر میں صحیح قول (اور تفسیر) وہی ہے جس پر جمہور اہل اسلام ہیں کہ ’’موتہ‘‘ میں ضمیر حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طرف راجع ہے۔‘‘

پہلی آیت کریمہ اور اس میں نقل کردہ تفاسیر کی طرح اس دوسری آیت کریمہ اور اس کی تفسیر میں نقل کردہ ٹھوس اور مضبوط حوالوں سے یہ بات بالکل عیاں ہوگئی ہے کہ حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما الصلوٰۃ والسلام کا رفع الی السماء ان کی حیات اور قیامت سے پہلے ان کا زمین پر نازل ہونا نصوص قطعیہ قرآنی آیات سے ثابت ہے جس کا انکار کافر ملحد اور زندیق کے سوا اور کوئی نہیں کر سکتا۔ مگر باطل پرستوں پر براہین قاطعہ اور ادلّۂ ساطعہ کا کچھ اثر نہیں ہوتا۔ وہ اپنی انا اور ضد پر قائم رہتے ہیں۔ بھلا شیطان کی ہدایت کس کے بس میں ہے۔

بدلنا ہے تو مے بدلو یا طریق مے کشی بد وگرنہ ساغر و مینا بدل جانے سے کیا ہو
204

قادیانی اعتراض:۱

’’اگر ہم فرض کے طور پر تسلیم کر لیں کہ آیت موصوفہ بالا کے یہی معنی ہیں جیسا کہ سائل (اہل اسلام) نے سمجھا ہے تو اس سے لازم آتا ہے کہ زمانہ صعود مسیح سے اس زمانہ تک کہ مسیح نازل ہو۔ جس قدر اہل کتاب دنیا میں گزرے ہیں یا اب موجود ہیں یا آئندہ ہوں گے وہ سب مسیح پر ایمان لانے والے ہوں۔ حالانکہ یہ خیال بالبداہت باطل ہے ہر شخص خوب جانتا ہے کہ بے شمار اہل کتاب مسیح کی نبوت سے کافر رہ کر اب تک واصل جہنم ہوچکے ہیں۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۳۶۷، خزائن ج۳ ص۲۸۸)

جواب:

۱… اس آیت میں ان اہل کتاب کا ذکر ہے جو نزول مسیح کے بعد ان پر ایمان لائیں گے۔ چنانچہ الفاظ ’’بِہٖ‘‘ اس پر دلیل ہیں۔ فقرہ ’لَیُؤْمِنَنَّ‘‘ مضارع موکد بہ نون تاکید ثقیلہ ہے جو مضارع میں تاکید مع خصوصیت زمانہ مستقبل کرتا ہے۔ (مرزائی پاکٹ بک ص۵۰۲،۴۲۶)

چنانچہ حضرت شاہ ولی ﷲ صاحب محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ جن کو خود مرزائی مجدد صدی مانتے ہیں اس کا ترجمہ یہ کرتے ہیں: ’’ونباشد، ہیچ کس از اہل کتاب البتہ ایمان آورد بعیسیٰ پیش از مردن عیسیٰ وروز قیامت باشد عیسیٰ گواہ برایشاں (حاشیہ میں اس کا حاصل مطلب یہ لکھتے ہیں) یعنی یہودی کہ حاضر شوند نزول عیسیٰ علیہ السلام را البتہ ایمان آرند۔‘‘

۲… ’’نہیں کوئی اہل کتاب میں سے اگر البتہ ایمان لائے گا، ساتھ اس کے پہلے موت اس کی کے اور دن قیامت کے ہوگا اوپر اس کے گواہ۔‘‘ (فصل الخطاب مصنفہ نورالدین خلیفہ اوّل قادیانی ج۲ ص۸۰)

۳… ’’وان من اہل الکتاب احد الا لیؤمنن بعیسٰی قبل موت عیسٰی وہم اہل الکتاب الذین یکونون فی زمانہ فتکون ملۃ واحدۃ وہی ملۃ الاسلام وبہذا جزم ابن عباس فیما رواہ ابن جریر من طریق سعید بن جریر عنہ باسناد صحیح (ارشاد الساری شرح صحیح بخاری ج۵ ص۵۱۸،۵۱۹)‘‘ ابن جریر جو نہایت معتبر اور ائمہ حدیث میں سے ہے۔ (حاشیہ چشمہ معرفت ص۲۵۰، خزائن ج۲۳ ص۲۶۱) بلکہ ’’رئیس المفسرین‘‘ ہے۔ (آئینہ کمالات اسلام ص۱۶۸، خزائن ج۵ ص ایضاً)

اپنی تفسیر میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے جو قرآن کریم کے سمجھنے میں اوّل نمبر والوں میں ہیں اس بارے میں ان کے حق میں آنحضرت ﷺ کی ایک دعا بھی ہے۔ (ازالہ اوہام ص۲۴۷، خزائن ج۳ ص۲۲۵) باسناد صحیح روایت لائے ہیں کہ آیت: ’’ان من اہل الکتاب‘‘ میں وہ اہل کتاب مراد ہیں جو اس زمانہ میں ہوں گے پس وہ ایک ہی مذہب اسلام پر آجائیں گے۔

۴… اب سنئے مرزاقادیانی کا ترجمہ:

’’کوئی اہل کتاب میں سے ایسا نہیں جو اپنی موت سے پہلے مسیح پر ایمان نہیں لائے گا۔ دیکھو یہ بھی تو خالص استقبال ہی ہے کیونکہ آیت اپنے نزول کے بعد کے زمانہ کی خبر دیتی ہے۔ بلکہ ان معنوں پر آیت کی دلالت صریحہ ہے۔‘‘

(الحق دہلی ص۲۲، خزائن ج۴ ص۳۲)

مرزاقادیانی نے آدھا ترجمہ صحیح کیا ہے آدھا غلط۔ بہرحال ان تراجم اربعہ سے یہ امر صاف اور واضح ہے کہ آیت کا مطلب بلکہ ’’دلالت صریحہ‘‘ یہی ہے کہ آئندہ زمانہ میں اہل کتاب مسیح پر ایمان لائیں گے۔ فہذا مرادنا!

205

جواب:

۲… معترض کا پہلا اعتراض جہالت محضہ پر مبنی ہے۔ تمام اہل کتاب مراد نہیں ہوسکتے۔ا س آیت کا مضمون بالکل ایسا ہی ہے جیسا کہ مثلاً اس فقرہ کا کہ ۳۰۰۰ سے پہلے تمام مرزائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات اور رفع جسمانی پر ایمان لے آئیں گے۔ مطلب بالکل صاف ہے کہ ۳۰۰۰ کے بعد کوئی مرزائی حیات عیسیٰ علیہ السلام کا منکر نہیں پایا جائے گا۔ اس سے پہلے کے مرزائی بعض کفر کی حالت پر مریں گے اور بعض اسلام لے آئیں گے۔ لیکن ۳۰۰۰ کے بعد مرزائی کا نام ونشان نہیں رہے گا۔

دوسری مثال

’’مولانا فضل الرحمن دسمبر ۲۰۰۳ء کو لاہور تشریف لائیں گے آپ کی تشریف آوری سے پیشتر تمام اہل لاہور اسٹیشن پر ان کے استقبال کے لئے حاضر ہو جائیں گے۔‘‘

کون بے وقوف ہے جو اس کا مطلب یہ لے گا کہ تمام اہل لاہور سے مراد آج (۱۰؍فروری ۲۰۰۳ء) کے اہل لاہور مراد ہیں۔ ممکن ہے بعض مر جائیں۔ بعض باہر سفر کو چلے جائیں۔ بعض باہر سے لاہور میں آجائیں۔ بعض ابھی پیدا ہوں گے۔

پس ثابت ہوا کہ کلام ہمیں خود مجبور کر رہی ہے کہ اہل الکتاب سے وہ لوگ مراد ہیں جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے وقت موجود ہوں گے اور وہ بھی تمام کے تمام نہیں بلکہ جو موت اور قتل سے بچ جائیں گے وہ ضرور حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لے آئیں گے۔ ہاں! حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت کے بعد کوئی اہل الکتاب نہیں رہے گا۔ سوائے اہل اسلام کے۔

قادیانی اعتراض:۲

۱… دوسری قرأت اس آیت میں بجائے ’’قبل موتہ قبل موتہم‘‘ موجود ہے۔

(حقیقت الوحی ص۳۴، خزائن ج۲۲ ص۳۶)

۲… ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی قرأت سے ثابت ہوا کہ موتہ کی ضمیر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف نہیں پھرتی بلکہ اہل الکتاب کی طرف راجع ہے۔(حمامتہ البشریٰ ص۴۸، خزائن ج۷ ص۲۴۱)

جواب:

۱… قرآن پاک میں ’’قبل موتہ‘‘ مذکور ہے۔ حضرت ابی رضی اللہ عنہ کی یہ قرأت بوجہ شاذ ہونے کے متروک ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ودیگر صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین حضرت ابی رضی اللہ عنہ کی اس قسم کی قرأتوں کو نہیں مانتے تھے۔ جیسا کہ (صحیح بخاری ج۲ ص۶۴۴، ۷۴۸) میں ہے: ’’قال عمر ابی اقرء نا وانا لندع من لحن ابی رضی اللہ عنہ‘‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ابی رضی اللہ عنہ بڑے قاری ہیں تو بھی ہم صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین لوگ ان کی قرأتوں کو چھوڑ دیتے ہیں اور یہی حق ہے۔ ترجمہ حضرت شاہ ولی ﷲ صاحب ونور الدین قادیانی بغور ملاحظہ ہو۔ نیز ’’قبل موتہم‘‘ والی قرأت جو ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کذب محض ہے کیونکہ اس میں دو راوی مجروح ہیں۔ اوّل خصیف دوم عتاب ابن بشیر، تقریب ص۱۴۲ میں خصیف کے متعلق مندرج ہے۔ ’’سَیِّیُٔ الْحِفْظِ خَلَطَ بَاٰخِرِہٖ رُمِیَ بِالْاَرْجَائِ‘‘ (مرزاقادیانی کی طرح) خراب حافظہ والا۔ اس پر مرجیہ ہونے کا الزام دھرا گیا۔ میزان الاعتدال میں ہے: ’’ضَعَّفَہٗ اَحْمَدُ وَقَالَ اَبُوْحَاتِمِ تَتَکَلم فِیْ سُوْئِ حِفْظِہٖ وقال احمد ایضًا تُکَلِّمُ فِی الْاَرْجَائِ وقال عثمان بن عبدالرحمٰن رأیت علی خصیف ثیابا سودًا کَانَ

206

عَلٰی بیت المال‘‘ (میزان الاعتدال ج۲ ص۴۴۲، حرف الخاء)

یعنی ضعیف الحدیث اور سییٔ الحافظہ اور مرجیہ ہونے کے علاوہ چور بھی تھا۔ بیت المال سے اس نے چادر اڑ کر امیرانہ ٹھاٹھ بنانے کو مونڈھوں پر لٹکالی چہ خوش!

اب سنئے! دوسرے صاحب ’’عتاب‘‘ کا حال، وہ بھی ضعیف ہیں۔ چنانچہ میزان میں ہے۔ قال النسائی لیس بذاک فی الحدیث وقال ابن المدینی کان اصحابنا یضعفونہ وقال علی ضربنا علی حدیثہ انتہی ملخصًا‘‘ (میزان ج۵۳ ص۳۲، حرف العین)

اس روایت کے جھوٹی اور بناوٹی ہونے پر یہ دلیل ہے کہ ہم ارشاد الساری شرح صحیح بخاری سے بحوالہ روایت ابن جریر انہیں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی صحیح السند روایت درج کر آئے ہیں جس میں صاف الفاظ ہیں: ’’لیومنن بعیسٰی قبل موت عیسٰی‘‘ پس ’’موتہم‘‘ والی روایت مردود ہے۔

۲… قرأت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ’’قبل موتہم‘‘ شاذ ہے اور ’’قبل موتہ‘‘ قرأت متواترہ ہے۔ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی قرأت شاذہ قرأت متواترہ کے تابع ہوگی۔ ’’لابالعکس‘‘

۳… یہ روایت ضعیف ہے اور اس کے ضعیف ٹھہرانے والا وہ بزرگ ہے جو مرزاقادیانی کے نزدیک نہایت معتبر اور ائمہ حدیث میں سے ہے یعنی مفسر ومحدث ابن جریر۔

(دیکھو چشمہ معرفت ص۲۵۰ حاشیہ، خزائن ج۲۳ ص۲۶۱)

نیز اسی مفسر ابن جریر رحمۃ اللہ علیہ کے متعلق مرزاقادیانی کے مسلمہ مجدد صدی نہم امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ کا فتوی ہے۔ ’’اجمع العلماء المعتبرون علی انہ لم یؤلف فی التفسیر مثلہ (اتقان ج۲ ص۳۲۵ النوع الثمانون فی طبقات المفسرین)‘‘ معتبر علماء امت کا اجماع ہے اس بات پر کہ امام ابن جریر کی تفسیر کی مثل کوئی تفسیر نہیں لکھی گئی۔

اس روایت کو ضعیف ٹھہرا کر مفسر ابن جریر رحمۃ اللہ علیہ نے صحیح سند سے روایت کیا ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کا مذہب بھی یہی ہے کہ ’’قبل موتہ‘‘ سے مراد ’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے‘‘ ہے۔ نہ کہ کتابی کی موت سے پہلے۔ دیکھو تفسیر ابن جریر۔

۴… خود مرزاقادیانی نے ’’موتہ‘‘ کی ضمیر کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہونا تسلیم کیاہے۔

(دیکھو ازالہ اوہام ص۳۷۲، خزائن ج۳ ص۲۹۱)

ہاں! کلام ﷲکے الفاظ کو نعوذ بِاللہ ناکافی بتلا کر ایسے ایسے محذوفات نکالے ہیں کہ تحریف میں یہودیوں سے بھی گوئے سبقت لے گیا ہے۔ بہرحال ہمارا دعویٰ سچا رہا کہ ’’ہٖ‘‘ کی ضمیر کا مرجع حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔

۵… نورالدین خلیفہ اوّل مرزاقادیانی نے اپنی کتاب (فصل الخطاب حصہ دوم ص۸۰) میں اس آیت کا ترجمہ یوں کرتے ہیں: ’’اور نہیں کوئی اہل کتاب سے مگر البتہ ایمان لائے گا ساتھ اس (حضرت مسیح کے) پہلے موت کی (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) کے اور دن قیامت کے ہوگا اوپر ان کے گواہ۔‘‘ اس سے بھی ظاہر ہے کہ مرزاقادیانی کا دعویٰ بے ثبوت ہے۔ کیونکہ ہم نے اس کے خلاف اس کے اپنے مسلمات اور معتبر ائمہ تفسیر کے اقوال پیش کئے ہیں۔

۶… جمہور علماء اسلام ہمیشہ ’’قبل موتہ‘‘ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات پر استدلال کرتے رہے ہیں۔ جیسا کہ سابق میں ہم بیان کر آئے ہیں۔

۷… بخاری شریف کی صحیح حدیث اس روایت کی تردید کر رہی ہے جیسا کہ پہلے ہم بیان کر آئے ہیں۔

207

۸… ’’لَیُؤْمِنَنَّ‘‘ میں لام قسم اور نون ثقلیہ موجود ہے جو ہمیشہ فعل کو آئندہ زمانہ سے خاص کر دیتے ہیں۔ پس معنی اس کے یہ ہوں گے۔ ’’البتہ ضرور ایمان لے آئے گا۔‘‘ اگر ہر کتابی کا اپنی موت سے پہلے ایمان مقصود ہوتا تو پھر عبارت یوں ہونا چاہئے تھی۔ ’’من یؤمن بہٖ قبل موتہٖ‘‘ جس کے معنی قادیانیوں کے حسب منشاء ٹھیک بیٹھتے ہیں۔ یعنی ہر ایک اہل کتاب ایمان لے آتا ہے اپنی موت سے پہلے۔ ان شاء ﷲ! قیامت تک کسی معتبر کتاب سے اس طرح کے الفاظ نہ دکھا سکیں گے۔

۹… آیت کا آخری حصہ ’’ویوم القیامۃ یکون علیہم شہیدا‘‘ {اور قیامت کے دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان پر شہادت دیں گے۔} قادیانی بھی اس حصۂ آیت کے معنی کرنے میں ہم سے متفق ہیں۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام یہود ونصاریٰ کے کس حال کی گواہی دیں گے۔ اگر آیت کے معنی قادیانی تفسیر کے مطابق کریں۔ یعنی یہ کہ ’’تمام اہل کتاب اپنی موت سے پہلے ایمان لے آتے ہیں۔‘‘ تو وہ ہمیں بتلائیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کیسے شہادت دیں گے اور کیا دیں گے؟ ہاں! اگر اسلامی تفسیر کے مطابق مطلب بیان کیا جائے یعنی ’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے زمانہ میں تمام یہود ایمان لے آئیں گے اور کوئی منکر باقی نہ رہے گا۔‘‘ تو پھر واقعی قیامت کے دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان کے ایمان لانے کی شہادت دے سکیں گے۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت کے دن عرض کریں گے۔ ’’کُنْتُ عَلَیْہِمْ شہیدا مادمت فیہم‘‘ جب تک میں ان میں موجود رہا میں ان پر نگہبان تھا۔

۱۰… ’’قبل موتہ‘‘ میں قبل کا لفظ بڑا ہی قابل غور ہے۔ یہ تو ظاہر ہے کہ اہل کتاب اپنی موت سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان نہیں لاتے۔ بعض کا خیال ہے (اور انہیں میں مرزاغلام احمد قادیانی بھی ہے) کہ اس ایمان سے مراد ایمان اضطراری ہے جو غرغرہ (نزع) کے وقت ہر ایک کتابی کو حاصل ہوتا ہے۔ یہ اس لئے باطل ہے۔ اگر ایمان اضطراری مراد ہوتا تو ﷲتعالیٰ اپنی فصیح وبلیغ کلام میں ’’قبل‘‘ کی بجائے ’’عند موتہٖ‘‘ فرماتے۔ یعنی موت کے وقت ایمان لاتے ہیں اور وہ ایمان واقعی قابل قبول نہیں ہوتا۔ لیکن جس ایمان کا ﷲتعالیٰ بیان فرمارہے ہیں۔ وہ ایمان کتاب کو اپنی موت سے پہلے حاصل ہونا ضروری ہے۔ مگر وہ واقعات کے خلاف ہے۔ لہٰذا یہی معنی صحیح ہوں گے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے وقت تمام اہل کتاب ان پر ایمان لے آئیں گے۔

۱۱… مرزاغلام احمد قادیانی کی مضحکہ خیز تفسیر سے بھی ہم اپنے ناظرین کو محظوظ کرنا چاہتے ہیں۔ مرزاقادیانی لکھتے ہیں کہ: ’’کوئی اہل کتاب میں سے ایسا نہیں جو ہمارے اس بیان مذکورہ بالا پر جو ہم نے (خدا نے) اہل کتاب کے خیالات کی نسبت ظاہر کئے ہیں۔ ایمان نہ رکھتا ہو۔ قبل اس کے جو وہ اس حقیقت پر ایمان لائے جو مسیح اپنی طبعی موت سے مر گیا۔ یعنی تمام یہودی اور عیسائی اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ فی الحقیقت انہوں نے مسیح کو صلیب نہیں دیا یہ ہمارا ایک اعجازی بیان ہے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۳۷۲، خزائن ج۳ ص۲۹۱)

مجھے یقین ہے کہ ناظرین اوّل تو مرزاقادیانی کی پیچیدہ عبارت کا مطلب ہی نہ سمجھ سکیں گے اور اگر سمجھ جائیں تو سوچیں کہ یہ عبارت کلام ﷲ کے کون سے الفاظ کا ترجمہ ہے؟

چیلنج

مرزاقادیانی اپنی کتاب (شہادۃ القرآن ص۵۵، خزائن ج۶ ص۳۵۱) پر صاف اقرار کرتے ہیں: ’’جس طرح روز

208

اوّل سے اس (قرآن مجید) کا پودا دلوں میں جمایا گیا یہی سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔‘‘

نیز مرزاقادیانی (ایام الصلح ص۵۵، خزائن ج۱۴ ص۲۸۸) پر لکھتے ہیں: ’’انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون‘‘ خداتعالیٰ نے اپنے کلام کی حفاظت ایسے ائمہ واکابر کے ذریعہ سے کی ہے جن کو ہر ایک صدی میں فہم قرآن عطاء ہوتا ہے۔ ہمارا چیلنج یہ ہے کہ اگر مرزاقادیانی میں کچھ بھی صداقت کا شائبہ ہے تو وہ یا ان کی جماعت اس آیت کی یہ تفسیر جو اس نے ازالہ حوالہ بالا میں کی ہے یہ تفسیر حدیث سے یا ۱۴۰۰سال کے مجددین امت وعلماء مفسرین کے اقوال سے پیش کریں۔ ورنہ بمطابق ’’من قال فی القرآن بغیر علم فلیتبوا مقعدہ من النار‘‘

(کنزالعمال ج۲ ص۱۶، حدیث:۲۹۵۷، جامع المسانید ج۳ ص۲۹۴،۲۹۵، حدیث:۵۸۷تا۵۹۰)

یعنی فرمایا رسول کریم ﷺ نے جس کسی نے اپنی رائے سے تفسیر کی۔ اس نے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالیا۔

پس یا تو مرزائی جماعت مرزاقادیانی کے بیان کردہ معنی کسی سابق مجدد یا مفسر امت کی کتاب سے ثابت کرے یا مرزاقادیانی کا اور اپنا ملحد اور محرف ہونا تسلیم کرے۔

قادیانی اعتراض:۳

’’بعض لوگ کچھ شرمندہ سے ہوکر دبی زبان یہ تاویل پیش کرتے ہیں کہ اہل کتاب سے مراد وہ لوگ ہیں جو مسیح کے دوبارہ آنے کے وقت دنیا میں موجود ہوں گے اور وہ سب مسیح کو دیکھتے ہی ایمان لے آئیں گے اور قبل اس کے جو مسیح فوت ہو وہ سب مومنوں کی فوج میں داخل ہو جائیں گے۔ لیکن یہ خیال بھی ایسا باطل ہے کہ زیادہ لکھنے کی حاجت نہیں۔ اوّل تو آیت موصوفہ بالا صاف طور پر فائدہ تعمیم کا دے رہی ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل کتاب کے لفظ سے تمام وہ اہل کتاب مراد ہیں جو مسیح کے وقت میں یا مسیح کے بعد برابر ہوتے رہیں گے اور آیت میں ایک بھی ایسا لفظ نہیں جو آیت کو کسی خاص محدود زمانہ سے متعلق اور وابستہ کرتا ہو۔‘‘ (ازالہ اوہام ص۳۶۸، خزائن ج۳ ص۲۸۹)

جواب:

مرزاقادیانی نے (گستاخی معاف) بہت دجل وفریب سے کام لیا ہے۔ لکھتے ہیں: ’’بعض لوگ دبی زبان سے کہتے ہیں کہ اہل کتاب سے وہ مراد ہیں۔ جو مسیح کے دوبارہ آنے کے وقت دنیا میں موجود ہوں گے۔‘‘

اجی کیوں جھوٹ بولتے ہو۔ جن کے پاس قرآن کی گواہی، حدیث رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت۔ صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کی تائید اور مجددین امت کا متفقہ فیصلہ ہو۔ وہ بھلا دبی زبان سے کہے گا یہ محض آپ کی چالاکی ہے۔ جس کے متعلق رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے سے پیش گوئی فرمائی ہوئی ہے۔ دجالون، کذابون۔ یعنی بہت سے فریب بنانے والے اور بہت جھوٹ بولنے والے ہوں گے۔ پھر مرزاقادیانی لکھتے ہیں: ’’کہ آیت تعمیم کا فائدہ دے رہی ہے۔ یعنی اہل کتاب کے لفظ سے مراد تمام وہ لوگ مراد ہیں جو حضرت مسیح کے وقت میں ان کے بعد برابر ہوتے رہے ہیں۔‘‘

کیوں مرزاقادیانی! جناب نے تعمیم کا لفظ استعمال کر کے پھر اہل کتاب کو ’’حضرت مسیح علیہ السلام کے وقت میں اور بعد میں۔‘‘ کے ساتھ کیوں مقیدومحدود کردیا؟ اگر آپ کے قول کے مطابق آیت تعمیم کا فائدہ دے رہی ہے۔ یعنی سارے اہل کتاب اس سے مراد ہیں۔ تو پھر حضرت مسیح علیہ السلام سے پہلے کے اہل کتاب کیوں شمار نہیں ہوں گے؟ جس دلیل سے آپ حضرت مسیح علیہ السلام کی پیدائش سے پہلے کے اہل کتاب کو اس سے الگ کریں گے۔ اسی دلیل سے ہم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے پہلے کے یہودی ونصرانی کو الگ کر دیں گے۔

209

علاوہ ازیں بمطابق ’دروغگورا حافظہ نباشد‘‘ خود مرزاقادیانی اگلے ہی فقرہ میں لکھتے ہیں: ’’آیت میں ایک بھی ایسا لفظ نہیں جو آیت کو کسی خاص زمانہ سے متعلق اور وابستہ کرتا ہو۔‘‘ باوجود اس کے خود آیت کو ’’حضرت مسیح علیہ السلام کو وقت اور ان کے بعد‘‘ سے وابستہ کر رہے ہیں۔ شاید مرزاقادیانی کے نزدیک زمانے صرف دوہی ہوتے ہوں۔ (حال ومستقبل) زمانہ ماضی۔ مضی ما مضی کا شکار ہوکر رہ گیا ہو؟ جب آیت کی ’’زد‘‘ میں تمام اہل کتاب آتے ہیں تو حضرت مسیح علیہ السلام سے پہلے کے یہودی کیوں اس میں شامل نہ کئے جائیں؟ مرزاقادیانی ان اہل کتاب کو اس کا مخاطب سمجھتے۔ جو جواب قادیانی اس سوال کا دیں گے۔ وہی جواب اہل اسلام ان کے اس اعتراض کا دیں گے۔ ناظرین حقیقت یہ ہے کہ قادیانی اعتراضات کلہم جہالت پر مبنی ہیں۔ اگر ان کو علم عربی اور ان کے اصولوں سے ذرا بھی واقفیت ہوتی تو و ﷲ ان اعتراضات کا نام بھی نہ لیتے۔

قادیانی اعتراض:۴

’’یؤمنن بہٖ کی ضمیر میں بھی اختلاف ہے کوئی عیسیٰ علیہ السلام کی طرف پھیرتا ہے۔ کوئی آنحضرت ﷺ اور قرآن کی طرف۔‘‘ (پاکٹ بک ص۳۴۳)

جواب:

قرآن پاک میں تو مسیح کی طرف ہی ہے اس طرح ترجمہ شاہ ولی ﷲ رحمۃ اللہ علیہ اور ترجمہ نور دین اور روایت ابن عباس رضی اللہ عنہ اور تحریر مرزاقادیانی مندرجہ ’’الحق دہلی ص۳۲‘‘ جو سب نقل کر آئے ہیں صاف شاہد ہیں کہ: ’’لیؤمنن عیسٰی قبل موت عیسٰی‘‘ خود تم نے اسی صفحہ پاکٹ بک پر ’’بہٖ‘‘ کی ضمیر بطرف مسیح علیہ السلام پھیری ہے۔ ’’یہود کا ہر فرد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مصلوب ہونے پر ایمان لائے گا۔‘‘ کہو کیا کہتے ہو؟

قادیانی اعتراض نمبر:۵

’’مگر افسوس کہ وہ (اہل اسلام) اپنے خود تراشیدہ معنوں سے قرآن میں اختلاف ڈالنا چاہتے ہیں۔ جس حالت میں ﷲتعالیٰ فرماتا ہے: ’’وَاَلْقَیْنَا بَیْنَہُمُ الْعَدَاوَۃَ وَالْبَغْضَآء اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃ‘‘ جس کے یہ معنی ہیں کہ یہود اور نصاریٰ میں قیامت تک بغض اور دشمنی رہے گی تو اب بتلاؤ کہ جب تمام یہودی قیامت سے پہلے ہی حضرت مسیح علیہ السلام پر ایمان لے آئیں گے تو پھر بغض اور دشمنی قیامت تک کون لوگ کریں گے۔‘‘

(تحفہ گولڑویہ ص۲۰۸، خزائن ج۱۷ ص۳۰۹)

جواب:

عداوت یہود ونصاریٰ کے وجود تک ہے جب وہ سب اسلام لاکر مسلمان ہو جائیں گے۔ اس وقت سب عداوتیں مٹ جائیں گی۔ جلدی میں یہ نہ کہہ دینا کہ عداوت ’’اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ‘‘ ہے اور ’’الٰی‘‘ کا لفظ چمٹ جانے کے معنی میں آتا ہے۔ ’’الٰی‘‘ کے معنی قریب ہوتے ہیں یعنی ’’الٰی یوم القیامۃ‘‘ سے مراد ’’قرب لیوم القیامۃ‘‘ ہے۔ کیونکہ فنائے عالم کے بہت عرصہ کے بعد قیامت کا دن ہوگا۔ جیسا کہ حدیثوں سے ثابت ہے۔ جب کوئی آدمی ہی نہ زندہ ہوگا تو دشمنی، کس میں ہوگی؟ پس لامحالہ الیٰ کے معنی قرب کے کرنے ہوں گے۔

۲… مرزاقادیانی کو نہ علم ظاہری نصیب ہوا اور نہ باطنی آنکھیں ہی نصیب ہوئیں۔ موافقت کا نام وہ اختلاف رکھتے ہیں۔ کہتے ہیں اہل اسلام کی تفسیر ماننے سے قرآن میں اختلاف ہو جاتا ہے۔ سبحان ﷲ! مرزاقادیانی جیسے بے استاد اور بے پیر سمجھنے والے ہوں تو اختلاف اور تضاد ہی نظر آنا چاہئے۔ باقی رہا ان کا یہ اعتراض کہ یہود اور نصاریٰ کے

210

درمیان بعض اور عناد کا قیامت تک رہنا اس بات کی دلیل ہے کہ یہود اور نصاریٰ دونوںمذاہب قیامت تک زندہ رہیں گے تو اس کا جواب بھی آنکھیں کھول کر پڑھئے۔

اوّل… تو یہ سمجھنا چاہئے کہ یہود ونصاریٰ سے مراد دو قومیں ہیں۔ اگر وہ مسلمان بھی ہو جائیں تو بھی ان کے درمیان بغض وعناد کا رہنا کون سا محال ہے۔ کیا اس وقت روئے زمین کے مسلمانوں میں بعض وعناد معدوم ہے؟ کیا تمام مرزائی بالخصوص لاہوری وقادیانی جماعتوں میں بعض وعناد نہیں ہے؟ ہے اور ضرور ہے۔ کیا اس صورت میں وہ اپنے آپ کو مسلمان نہیں سمجھتے۔ دوسرے! ’’الیٰ یوم القیامۃ‘‘ سے مراد یقینا طوالت زمانہ ہے اور یہ محاورہ تمام اہل زبان استعمال کرتے ہیں۔ دیکھئے! جب ہم یوں کہیں کہ قادیانی ہمارے دلائل کا جواب قیامت تک نہیں دے سکیں گے تو مراد اس سے ہمیشہ ہمیشہ ہے۔ یعنی جب تک مرزائی دنیا میں رہیں۔ اگرچہ وہ قیامت تک ہی کیوں نہ رہیں۔ ہمارے دلائل کا جواب نہیں دے سکیں گے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ مرزائی لوگ کے قیامت تک رہنے کی میں پیش گوئی کر رہا ہوں۔ یا جب یوں کہا جاتا ہے کہ زید تو قیامت تک اس سوال کا جواب نہیں دے سکتا۔ کون بے وقوف ہے جو اس کا مطلب یہ سمجھے گا کہ کہنے والے کامطلب یہ ہے کہ زید قیامت تک زندہ رہے گا۔ مطلب صاف ہے کہ جب تک زید زندہ رہے گا وہ اس کا جواب نہیں دے سکتا۔ اسی طرح آیات پیش کردہ کا مطلب ہے۔ آیت اوّل یہ ہے: ’’وَاَغْوَیْنَا بَیْنَہُمُ الْعَدَاوَۃَ وَالْبَغْضَآء اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ‘‘ اور مطلب اس کا بمطابق محاورہ یہی ہے کہ جب تک بھی یہود ونصاریٰ رہیں گے۔ ان کے درمیان باہمی عداوت اور دشمنی رہے گی۔

آیت ثانی یہ ہے: ’’وَجَاعِلُ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْکَ فَوْقَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ‘‘ اس کا مطلب بھی یہی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے تابعدار قیامت تک ہمیشہ یہود پر غالب رہیں گے۔ اب غلبہ کئی قسم کا ہے۔ اس کی دو صورتیں بہت ہی اہم ہیں۔

اوّل… یہود کا نصاریٰ ومسلمانوں کا غلام ہوکر رہنا۔ مگر اپنے مذہب پر برابر قائم رہنا۔ یہ صورت اب موجود ہے۔

دوم… یہود کا نہ صرف مسلمانوں اور نصاریٰ کے ماتحت ہی رہنا بلکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی مخالفت چھوڑ کر ان کا روحانی غلام بھی ہو جانا اور یہی حقیقی ماتحتی اور غلامی ہے۔ اس کا ظہور نزول مسیح کے وقت ہوگا۔ یہی مطلب ہے تمام آیات کلام ﷲ کا، جس کو مرزاقادیانی اور ان کی جماعت بڑے طمطراق سے سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کے لئے پیش کیا کرتے ہیں۔ ہم اپنے اس دعویٰ کے ثبوت میں احادیث نبوی اور خود اقوال مرزاقادیانی سے شہادت پیش کرتے ہیں۔

حدیث نبوی ’’یہلک اللّٰہ فی زمانہ (عیسٰی) الملل کلہا الا الاسلام‘‘

(رواہ ابوداؤد باب خروج الدجال ج۲ ص۱۳۵، مسند احمد ج۲ ص۴۰۶، ابن جریر ج۶ ص۲۲، درمنثور ج۲ ص۲۴۲)

’’ہلاک کر دے گا ﷲتعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں تمام مذاہب کو سوائے اسلام کے۔‘‘ علامہ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ کو قادیانی مجدد مانتے ہیں۔ درمنثور ان کی تفسیر ہے انہوں نے اس روایت کو نقل کیا۔ مجدد کا قول جن کا منکر مرزاقادیانی کے نزدیک کافر وفاسق ہوجاتا ہے۔ (شہادت القرآن ص۴۸، خزائن ج۶ ص۳۴۴)

اقوال مرزا:۱

’’اس پر اتفاق ہوگیا ہے کہ مسیح کے نزول کے وقت اسلام دنیا پر کثرت سے پھیل جائے گا اور ملل باطلہ ہلاک ہو

211

جائیں گے اور راست بازی ترقی کرے گی۔‘‘ (ایام الصلح ص۱۳۶، خزائن ج۱۴ ص۳۸۱)

۲… ’’میرے آنے کے دو مقصد ہیں۔ مسلمانوں کے لئے یہ کہ اصل تقویٰ اور طہارت قائم ہو اور عیسائیوں کے لئے کسر صلیب اور ان کا مصنوعی خدا نظر نہ آئے۔ دنیا اس کو بھول جائے۔ خدائے واحد کی عبادت ہو۔‘‘

(الحکم مورخہ ۱۷؍جولائی ۱۹۰۵ء ج۹ ش۲۵ ص۱۰ کالم۴)

۳… ’’اور پھر اسی ضمن میں (رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے) مسیح موعود کے آنے کی خبر دی اور فرمایا کہ اس کے ہاتھ سے عیسائی دین کا خاتمہ ہوگا۔‘‘ (شہادت القرآن ص۱۲، خزائن ج۶ ص۳۰۷)

۴… ’’وَنُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَجَمَعَنٰہُمْ جَمَعًا‘‘ {خدا تعالیٰ کی طرف سے صور پھونکا جائے گا۔} کے تحت مرزاقادیانی نے لکھا ہے: ’’تب ہم تمام مذاہب کو ایک ہی مذہب پر جمع کر دیں گے۔‘‘

(شہادت القرآن ص۱۵، خزائن ج۶ ص۳۱۱)

۵… ’’وَنُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَجَمَعَنٰہُمْ جَمَعًا یعنی یاجوج ماجوج کے زمانہ میں بڑا تفرقہ اور پھوٹ لوگوں میں پڑ جائے گی اور ایک مذہب دوسرے مذہب پر اور ایک قوم دوسری قوم پر حملہ کرے گی۔ تب ان دنوں خداتعالیٰ اس پھوٹ کے دور کرنے کے لئے آسمان سے بغیر انسانی ہاتھوں کے اور محض آسمانی نشانوں سے اپنے کسی مرسل کے ذریعہ جو صور یعنی قرنا کا حکم رکھتا ہوگا۔ اپنی پرہیبت آواز لوگوں تک پہنچائے گا۔ جس میں ایک بڑی کشش ہوگی اور اس طرح پر خداتعالیٰ تمام متفرق لوگوں کو ایک مذہب پر جمع کر دے گا۔‘‘ (چشمہ معرفت ص۸۰، خزائن ج۲۳ ص۸۸)

۶… ’’خدا نے تکمیل اس فعل کی جو تمام قومیں ایک قوم کی طرح بن جائیں اور ایک ہی مذہب پر ہو جائیں زمانہ محمدی علی صاحبھا الصلوۃ والسلام کے آخیری حصہ میں ڈال دی جو قریب قیامت کا زمانہ ہے۔‘‘

(چشمہ معرفت ص۸۲، ۸۳، خزائن ج۲۳ ص۹۰،۹۱)

۷… ’’خداتعالیٰ نے ہمارے نبی سیدنا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا میں بھیجا۔ تابذریعہ اس تعلیم قرآنی کے جو تمام عالم کی طبائع کے لئے مشترک ہے۔ دنیا کی تمام متفرق قوموں کو ایک قوم کی طرح بنادے اور جیسا کہ وہ وحدہ لاشریک ہے۔ ان میں بھی ایک وحدت پیدا کر لے اور تا وہ سب مل کر ایک وجود کی طرح اپنے خدا کو یاد کریں اور اس کی وحدانیت کی گواہی دیں اور تاپہلی وحدت قومی جو ابتدائے آفرینش میں ہوئی اور آخری وحدت اقوامی جس کی بنیاد آخری زمانہ میں ڈالی گئی… یہ دونوں قسم کی وحدتیں خدائے وحدہ لاشریک کے وجود اور اس کی وحدانیت پر دوہری شہادت ہو۔ کیونکہ وہ واحد ہے۔‘‘ (چشمہ معرفت ص۸۲، خزائن ج۲۳ ص۹۰)

۸… ’’وحدت اقوامی کی خدمت اسی نائب النبوۃ (مسیح موعود) کے عہد سے وابستہ کی گئی ہے اور اسی کی طرف یہ آیت اشارہ کرتی ہے اور وہ یہ ہے۔ ’’ہُوَ الَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْہُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیَظْہَرَہٗ عَلٰی الدِّیْنِ کُلِّہٖ‘‘ یہ عالمگیر غلبہ مسیح موعود کے وقت میں ظہور میں آئے گا۔‘‘

(چشمہ معرفت ص۳۸، خزائن ج۲۳ ص۹۱)

ناظرین ہم نے احادیث نبوی علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام اور اقوال مرزا سے ثابت کر دیا ہے کہ مسیح علیہ السلام کے وقت میں تمام مذاہب سوائے اسلام کے مٹ جائیں گے۔ اب اگر مرزائی وہی مرغی کی ایک ٹانگ کی رٹ ہی لگائے جائیں تو پھر مذکورہ بالا اقوال مرزا کو تو کم ازکم فضول اور لا یعنی کہنا پڑے گا۔ ایسا وہ کہہ نہیں سکتے کیونکہ مرزاقادیانی ان کے نزدیک حکم ہے اور ’’جری اللّٰہ فی حلل الانبیاء‘‘ ہے۔ پس ثابت ہوا کہ ان کا یہ اعتراض بالکل جہالت پر مبنی ہے۔

212

قادیانی اعتراض:۶

جب سب مومن ہو جائیں گے تو پھر غلبہ کن کافروں پر ہوگا؟

جواب:

۱… کافروں پر غلبہ اسی وقت تک ہے جب تک کافر موجود ہوں۔ جب کافر ہی نہ رہیں گے سب مومن ہو جائیں گے۔ اس وقت سوال اٹھانا ہی دلیل جہالت ہے۔

قرآن میں بھی اور حدیث میں بھی سب کا مومن ہونا مرقوم ہے۔ پھر ایک حدیث میں یہ بھی آیا ہے کہ اس زمانہ میں ’’لیس بین اثنین عداوۃ‘‘ (مشکوٰۃ ص۴۸۱، باب لاتقوم الساعۃ)

پھر اس کے بعد جب کافر رہ جائیں گے اس وقت مومن ہی کوئی نہ ہوگا۔ لہٰذا وہاں بھی یہ اعتراض نہیں ہوسکتا کیونکہ غلبہ مومنوں کا تبھی تک موعود ہے جب تک مومن رہیں۔ غرض ’’الٰی یوم القیمۃ‘‘ سے مراد قرب قیامت ہے۔

۲… ایمان اور عداوت میں باہمی منافات نہیں ہے۔ دونوں باہم جمع ہوسکتے ہیں۔ سمجھ میں نہ آئے تو قادیانیوں اور لاہوریوں کو دیکھ لیجئے کہ دونوں احمدی کہلاتے ہیں اور ایمان کا بھی دعویٰ ہے۔ لیکن آپس میں کتنی منافرت اور عداوت ہے؟

اس حدیث نے صاف فیصلہ کر دیا کہ یہود ونصاریٰ کی عداوت، مومنوں کا کافروں پر غلبہ، جس کے لئے قرآن میں ’’الٰی یوم القیامۃ‘‘ وارد ہے۔ اس کا مطلب قرب قیامت ہی ہے۔

حیات مسیح علیہ السلام کی تیسری دلیل

’’وَمَکَرُوْا وَمَکَرَ اللّٰہِ وَاللّٰہُ خَیْرُ الْمَاکِرِیْنَ (آل عمران:۵۴)‘‘ {اور مکر کیا ان کافروں نے اور مکر کیا ﷲ نے اور ﷲ کا داؤ سب سے بہتر ہے۔}

تفسیری شواہد

۱… علامہ عثمانی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: مکر کہتے ہیں لطیف وخفیہ تدبیر کو۔ اگر وہ اچھے مقصد کے لئے ہو، اچھا ہے اور برائی کے لئے ہو تو برا ہے۔ اسی لئے ’’ولا یحیق المکر السیٔ‘‘ میں مکر کے ساتھ ’’سیی‘‘ کی قید لگائی اور یہاں خدا کو ’’خیرالماکرین‘‘ کہا۔ مطلب یہ ہے کہ یہود نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے خلاف طرح طرح کی سازشیں اور خفیہ تدبیریں شروع کر دیں۔ حتیٰ کہ بادشاہ کے کان بھردئیے کہ یہ شخص (معاذ ﷲ) ملحد ہے۔ تورات کو بدلنا چاہتا ہے۔ سب کو بددین بنا کر چھوڑے گا۔ اس نے مسیح علیہ السلام کی گرفتاری کاحکم دے دیا۔ ادھر یہ ہورہا تھا اور ادھر حق تعالیٰ کی لطیف وخفیہ تدبیر ان کے توڑ میں اپنا کام کر رہی تھی۔ بے شک خدا کی تدبیر سب سے بہتر اور مضبوط ہے جسے کوئی نہیں توڑ سکتا۔ (تفسیر عثمانی)

۲… علامہ کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’وَمَکَرُوْا وَمَکَرَ اللّٰہُ‘‘ سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ توفی سے پورا پورا لینا اور آسمان پر اٹھایا جانا مراد ہو۔ کیونکہ باجماع مفسرین ’’وَمَکَرُوْا‘‘ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قتل اور صلب کی تدبیریں مراد ہیں اور ’’مَکَرَ اللّٰہُ‘‘ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حفاظت کی تدبیر مراد ہے اور ’’مَکَرَ اللّٰہُ‘‘ کو ’’مَکَرُوْا‘‘ کے مقابلہ میں لانے سے اس طرف اشارہ ہے کہ یہود کا مکر اور ان کی تدبیر تو نیست اور ناکام ہوئی اور ﷲ سبحانہ

213

کا ارادہ اور اس کی تدبیر غالب آئی۔ ’’وَاللّٰہُ غَالِبٌ عَلٰی اَمْرِہٖ (یوسف:۲۱)‘‘ جیسے ’’اِنَّہُمْ یَکِیْدُوْنَ کَیْدًا وَّاَکِیْدُ کَیْدًا (الطارق:۱۵،۱۶)‘‘ {وہ بھی تدبیر کر رہے ہیں اور میں بھی تدبیر کر رہا ہوں۔} اور دوسری جگہ ارشاد ہے: ’’قَالُوْا تَقَاسَمُوْا بِاللّٰہِ لَنُبَیِّتَنَّہٗ وَاَہْلَہٗ ثُمَّ لَنَقُوْلَنَّ لِوَلِیِّہٖ مَا شَہِدْنَا مَہْلِکَ اَہْلِہٖ وَاِنَّا لَصٰدِقُوْنَ * وَمَکَرُوْا مَکْرًا وَّمَکَرْنَا مَکْرًا وَّہُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ * فَانْظُرْ کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ مَکْرِہِمْ اَنَّا دَمَّرْنٰہُمْ وَقَوْمَہُمْ اَجْمَعِیْنَ (النمل:۴۹تا۵۱)‘‘ {قوم ثمود نے آپس میں کہا کہ قسمیں اٹھاؤ کہ ہم شب کے وقت صالح علیہ السلام اور ان کے متعلقین کو قتل کر ڈالیں اور بعد میں ان کے وارثوں سے کہہ دیں گے کہ ہم اس موقعہ پر حاضر نہ تھے اور ہم سچے ہیں۔}

ﷲتعالیٰ فرماتے ہیں اس طرح انہوں نے صالح علیہ السلام کے قتل کے مشورے اور تدبیریں کیں اور اس نے بھی ان کے بچانے کی خفیہ تدبیر کی کہ ان کو خبر بھی نہ ہوئی وہ یہ کہ پہاڑ سے ایک بھاری پتھر لڑھک کر ان پر آگرا جس سے دب کر سب مر گئے۔ (کما فی الدرالمنثور)

دیکھ لیا کہ ان کے مکر کا کیا انجام ہوا؟ ہم نے اپنی تدبیر سے سب کو غارت کر ڈالا۔ اسی طرح اس آیت میں ’’مکروا‘‘ کے بعد ’’ومکر اللّٰہ‘‘ مذکور ہے۔ جس سے حق جل شانہ کو یہ بتلانا مقصود ہے کہ یہود نے جو قتل کی تدبیرکی وہ تو کارگر نہ ہوئی۔ مگر ہم نے جو ان کی حفاظت کی نرالی اور انوکھی تدبیر کی وہی غالب ہوکر رہی۔ پس اگر روح اور جسم کا پوراپورا لینا مراد نہ لیا جائے۔ بلکہ توفی سے موت مراد لی جائے تو یہ کوئی ایسی تدبیر نہیں جو یہود کی مغلوبی اور ناکامی کا سبب بن سکے۔ بلکہ موت کی تدبیر تو یہود کی عین تمنا اور آرزو کے مطابق ہے۔ کفار مکہ نے نبی اکرم ﷺ کے قتل کی تدبیریں کیں اور ﷲتعالیٰ نے آپ ﷺ کی حفاظت کی تدبیر کی ’’کَمَا قال تَعَالٰی وَیَمْکُرُوْنَ وَیَمْکُرُ اللّٰہُ وَاللّٰہُ خَیْرُ الْمَاکِرِیْنَ (الانفال:۳۰)‘‘ کفار مکہ آپ ﷺ کے قتل کی تدبیریں کر رہے ہیں اور ﷲتعالیٰ آپ ﷺ کی حفاظت کی تدبیر کر رہا ہے اور ﷲ تعالیٰ بہترین تدبیر فرمانے والے ہیں۔ ﷲتعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو کفار مکہ کے منصوبوں سے آگاہ کیا اور صحیح وسالم آپ ﷺ کو مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرادی۔ اسی طرح حق تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق فرمایا تھا: ’’وَمَکَرُوْا وَمَکَرَ اللّٰہُ وَاللّٰہُ خَیْرُ الْمَاکِرِیْنَ‘‘ یعنی یہود نے آپ کے قتل کی تدبیریں کیں اور ﷲتعالیٰ نے آپ کی حفاظت کی تدبیر کی کہ دشمنوں کے ہاتھ سے صحیح وسالم نکال کر آسمان کی طرف ہجرت کرادی۔ اب اس ہجرت کے بعد نزول اور تشریف آوری زمین کے فتح کرنے کے لئے ہوگی۔ جیسا کہ آنحضرت ﷺ ہجرت کے کچھ عرصہ بعد مکہ فتح کرنے کے لئے تشریف لائے اور تمام اہل مکہ مشرف باسلام ہوئے۔ اسی طرح جب عیسیٰ علیہ السلام زمین کو فتح کرنے کے لئے نازل ہوں گے تو تمام اہل کتاب ایمان لے آئیں گے۔ ’’بر رفع الی السماء‘‘

(تفسیر معارف القرآن کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ)

۳… امام فخرالدین رازی رحمۃ اللہ علیہ قادیانیوں کے مجدد صدی ششم، اپنی (تفسیر کبیر ج۷ ص۶۹،۷۰) میں فرماتے ہیں: ’’وَاَمَّا مَکْرُہُمْ بِعِیْسَی عَلَیْہِ السَّلَامُ فَہُوَ اَنَّہُمْ ہَمُّوْا بِقَتْلِہٖ وَاَمَّا مَکَرَ اللّٰہِ بِہِمْ وَفِیْہِ وُجُوْہُ… مَکَرَ اللّٰہِ تَعَالٰی بِہِمْ اَنَّہٗ رَفَعَ عِیْسَی عَلَیْہِ السَّلَامُ اِلٰی السَّمَاء وَذٰلِکَ اَنَّ یَہُوْدًا مَلِکَ الْیَہُوْدِ اَرَادَ قَتْلَ عِیْسَی وَکَانَ جِبْرَائِیْل عَلَیْہِ السَّلَامَ لَا یُفَارِقُہٗ سَاعَۃً وَہُوَ مَعْنٰی قَوْلُہٗ تَعَالٰی وَاَیَّدْنَاہٗ بِرُوْحِ الْقُدُسِ فَلَمَّا اَرَادُوْا ذَالِکَ۔ اَمْرَہٗ جِبْرَائِیْلُ اَنْ یَدْخُلَ بَیْتًا فِیْہَ رَوَزَنَۃٌ فَلَمَّا دَخَلُوْا الْبَیْتَ اَخْرَجَہٗ جِبْرَائِیْلُ مِنْ تِلْکَ الرَّوْزَنَۃِ وَکَاَن قَدْ اَلْقٰی شِبْہَہٗ عَلٰی غَیْرِہٖ فَاُخِذَ وَصُلِبَ وَفِی الْجُمْلَۃِ

214

ِ فَالْمُرَادُ مِنْ مَکْرِ اللّٰہِ تَعَالٰی بِہِمْ اَنَّ رَفَعَہٗ اِلٰی السَّماء وَمَا مَکَنّٰہُمْ مِنْ اِیْصَالِ الشَّرِّ اِلَیْہِ‘‘ اور یہود کا مکر حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے یہ تھا کہ انہوں نے ان کے قتل کا ارادہ کیا اور ﷲتعالیٰ کا مکر یہود سے۔ سو اس کی کئی صورتیں ہوئیں… ایک صورت یہ کہ ﷲتعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھالیا اور یہ اس طرح ہوا کہ یہود کے ایک بادشاہ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قتل کا ارادہ کیا اور جبرائیل علیہ السلام ایک گھڑی بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے جدا نہ ہوتا تھا اور یہی مطلب ہے۔ ﷲتعالیٰ کے اس قول کا ’’وَاَیَّدْنَاہٗ بِرُوْحِ الْقُدُسِ‘‘ یعنی ہم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو جبرائیل سے مدد دی۔ پس جب یہود نے قتل کا ارادہ کیا تو جبرائیل علیہ السلام نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ایک مکان میں داخل ہو جانے کے لئے فرمایا۔ اس مکان میں کھڑکی تھی۔ پس جب یہود اس مکان میں داخل ہوئے تو جبرائیل علیہ السلام نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اس کھڑکی سے نکال لیا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شباہت ایک اور آدمی کے اوپر ڈال دی۔ پس وہی پکڑاگیا اور پھانسی پر لٹکایا گیا… غرضیکہ یہود کے ساتھ ﷲ کے مکر کے معنی یہ ہیں کہ ﷲتعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھا لیا اور یہود کو حضرت مسیح علیہ السلام کے ساتھ شرارت کرنے سے روک لیا۔

۴… اب ہم امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ کی تفسیر نقل کرتے ہیں۔ امام موصوف قادیانی عقیدہ کے مطابق نویں صدی ہجری میں مجدد مبعوث ہوکر آئے تھے اور ان کا مرتبہ ایسا بلند تھا کہ جب انہیں ضرورت پڑتی تھی۔ حضرت رسول کریم ﷺ کی بالمشافہ زیارت کر کے حدیث دریافت کرلیا کرتے تھے۔

(ازالہ اوہام ص۱۵۱،۱۵۲، خزائن ج۳ ص۱۷۷)

’’فَلَمَّا اَحَسَّ (عَلَمِ) عِیْسٰی مِنْہُمْ الْکُفْرَ وَارَادُوْا قَتْلَہٗ وَمَکَرُوْا (اَیْ کُفَّارُ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ بِعِیْسٰی اِذَا وَکَّلُوْ بِہٖ مَنْ یَقْتُلُہٗ غِیْلَۃً) وَمَکَرَ اللّٰہُ (بِہِمْ بِاَنْ اَلْقٰی شِبْہَ عِیْسٰی عَلٰی مَنْ قَصَدَ قَتْلَہٗ فَقَتَلُوْہُ وَرُفِعَ عِیْسٰی) وَاللّٰہُ خَیْرُ الْمَاکِرِیْنَ (اَعْلَمُہُمْ بِہٖ)‘‘ (جلالین ص۵۲)

’’پس جب عیسیٰ علیہ السلام نے یہود کا کفر معلوم کر لیا اور یہود نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قتل کا ارادہ کر لیا… اور یہود نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ مکر کیا۔ جب انہوں نے مقرر کیا ایک آدمی کو کہ وہ قتل کرے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دھوکا سے اور ﷲتعالیٰ نے یہود کے ساتھ مکر کیا اس طرح کہ ڈال دی شبیہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اس شخص پر جس نے ارادہ کیا تھا ان کے قتل کا۔ پس یہود نے قتل کیا اس شبیہ کو اور اٹھا لئے گئے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ﷲتعالیٰ تمام تدبیریں کرنے والوں میں سے بہترین تدبیر کرنے والا ہے۔‘‘

۵… اب ہم اس بزرگ کی تفسیر بیان کرتے ہیں جن کو قادیانی ولاہوری مجدد صدی دو ازدہم مانتے ہیں اور مرزاقادیانی اپنی کتاب (کتاب البریہ ص۷۴، خزائن ج۱۳ ص۹۲) میں لکھتے ہیں کہ شاہ ولی ﷲ صاحب کامل ولی اور صاحب خوارق وکرامات بزرگ تھے۔

شاہ ولی ﷲ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب تاویل الاحادیث میں فرماتے ہیں: ’’کَانَ عِیْسٰی عَلَیْہِ السَّلَامُ کَاَنَّہٗ مَلَکٌ یَمْشِیْ عَلٰی وَجْہِ الْاَرْضَ فَاتَّہَمَہُ الْیَہُوْدُ بِاِلزِّنْدَقَۃِ وَاَجْمَعُوْا عَلٰی قَتْلِہٖ فَمَکَرُوْا وَمَکَرَ اللّٰہُ وَاللّٰہُ خَیْرُ الْمَاکِرِیْنَ فَجَعَلَ لَہٗ ہَیْءۃً مِثَالِیَۃً وَرَفَعَہٗ اِلَی السَّمَا ء وَاَلْقٰی شِبْہَہٗ عَلٰی رَجُلٍ مِنْ شِیْعَتِہٖ اَوْ عَدُوِّہٖ فَقَتَلَ عَلٰی اَنَّہٗ عِیْسٰی ثُمَّ نَصَرَ اللّٰہُ شِیْعَتَہٗ عَلٰی عَدُوِّہِمْ فَاَصْبَحُوْا ظَاہِرِیْنَ‘‘

’’اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو گویا ایک فرشتہ تھے کہ زمین پر چلتے تھے۔ پھر یہودیوں نے ان پر زندیق ہونے کی تہمت لگائی اور قتل پر جمع ہوگئے۔ پس انہوں نے تدبیر کی اور خدا نے بھی تدبیر کی اور ﷲ بہترین تدبیر کرنے والا ہے۔

215

ﷲ نے ان کے واسطے ایک صورت مثالیہ بنادی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھالیا اور ان کے گروہ میں سے یا ان کے دشمن کے ایک آدمی کو ان کی صورت کا بنادیا۔ پس وہ قتل کیاگیا اور یہودی اسی کو عیسیٰ علیہ السلام سمجھتے تھے۔‘‘

(تاویل الاحادیث ص۶۰)

۶… امام وقت شیخ الاسلام حافظ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ کی تفسیر۔

قادیانی اور لاہوری بیک زبان چھٹی صدی کے سر پر تجدید دین کے لئے ان کا مبعوث ہونا مانتے ہیں۔

(دیکھو عسل مصفّٰی حصہ اوّل ص۱۶۳تا۱۶۵)

’’فَلَمَّا اَحَاطُوْا بِمَنْزِلَۃٍ وَظَنُّوْا اَنَّہُمْ ظَفَرُوْا بِہٖ نَجَاہُ اللّٰہُ تَعَالٰی مِنْ بَیْنِہِمْ وَرَفَعُہُ مِنْ رَوُزْنَۃِ ذَالِکَ الْبَیْتِ اِلَی السَّمَا ء وَاَلْقَی اللّٰہ شِبْہَہٗ عَلٰی رَجُلٍ مِمَّنْ کَانَ عِنْدَہٗ فِی الْمَنْزِلِ فَلَمَّا دَخَلُوْا اُوْلٰئِکَ اِعْتَقَدُوْہُ فِی ظُلْمَۃِ اللَّیْلِ عِیْسٰی فَاَخَذُوْہُ واہانوہ صَلَبُوْہُ وََضَعُوْا عَلٰی رَأْسِہٖ الشَّوْکَ وَکَانَ ہَذَا اَمْرُ اللّٰہِ بِہِمْ فَاِنَّہٗ نَجّٰی نَبِیِّہٗ وَرَفَعَہٗ مِنْ بَیْنِ اَظْہَرہِمْ وَتَرَکَہُمْ فِی ضَلَالِہِمْ یَعْمَہُوْنَ (ابن کثیر ج۱ ص۳۶۴)‘‘{جب یہود نے آپ کے مکان کو گھیر لیا اور گمان کیا کہ آپ پر غالب ہوگئے ہیں تو خداتعالیٰ نے ان کے درمیان سے آپ کو نکال لیا اور اس مکان کی کھڑکی سے آسمان پر اٹھا لیا اور آپ کی شباہت اس پر ڈال دی جو اس مکان میں آپ کے پاس تھا۔ سو جب وہ اندر گئے تو اس کو رات کے اندھیرے میں عیسیٰ خیال کیا۔ پس اسے پکڑا اور سولی دیا اور سر پر کانٹے رکھے اور ان کے ساتھ خدا کا یہی مکر تھا کہ اپنے نبی کو بچا لیا اور اسے ان کے درمیان سے اوپر اٹھالیا اور ان کو ان کی گمراہی میں حیران چھوڑ دیا۔}

۷… (تفسیر مظہری ج۲ ص۲۴۷) پر ہے: ’’کلبی نے بواسطہ ابوصالح حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے کہ یہودیوں کی ایک جماعت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے سامنے آئی آپ کو دیکھ کر کہنے لگے جادوگر، جادوگرنی کا بیٹا آگیا۔ آپ پر بھی تہمت لگائی اور آپ کی والدہ پر بھی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ان پر لعنت کی اور ان کو بددعا دی۔ فوراً ﷲتعالیٰ نے ان کی شکلیں مسخ کر دیں۔ یہودیوں کا سردار یہودا تھا۔ اس نے جو یہ بات دیکھی تو گھبرا گیا اور آپ کی بددعا سے ڈر گیا۔ آخر تمام یہودی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مارڈالنے پر متفق الرائے ہوگئے اور قتل کرنے کے ارادے سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف بڑھے۔ لیکن ﷲتعالیٰ نے جبرائیل علیہ السلام کو بھیج دیا۔ جبرائیل علیہ السلام نے آپ کو چھت کے روشن دان سے نکالا پھر وہاں سے ﷲتعالیٰ نے آپ کو آسمان پر اٹھا لیا یہودا اندر گیا اس کی شکل عیسیٰ علیہ السلام جیسی بنادی۔ لوگوں نے (یہودا) کو عیسیٰ علیہ السلام سمجھ کر قتل کر دیا۔‘‘

۸… (معالم التنزیل ج۱ ص۱۶۲) پر تفسیر مظہری کی محولہ بالا روایت کو نقل کیاگیا ہے۔

۹… (تفسیر مواہب الرحمن ج۳ ص۱۹۹) پر ہے: ’’مکروا‘‘ بنی اسرائیل نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قتل کے واسطے ایسے شخص کو مقرر کیا جو ان کو فریب میں دھوکے سے قتل کر ڈالے۔ ’’ومکر ﷲ‘‘ ﷲتعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کی شباہت اس پر ڈال دی۔ جس نے عیسیٰ علیہ السلام کے قتل کا قصد کیا تھا۔ پس کافروں نے اسی کو قتل کرڈالا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ﷲتعالیٰ نے آسمان پر اٹھالیا۔

۱۰… (تفسیر ابی السعود ج۲ ص۴۲) پر ہے: ’’یہودیوں نے آپ کو دھوکہ سے قتل کرنے کے لئے آدمی مقرر کیا اور ﷲتعالیٰ نے تجویز فرمائی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اٹھالیا۔ آگے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی تفسیر مظہری ومعالم

216

التنزیل والی روایت نقل کی ہے۔‘‘

۱۱… زمخشری نے (کشاف ج۱ ص۳۶۶) پر لکھا ہے کہ: : ’’مکر اللّٰہ ان رفع عیسٰی الی السماء والقٰی شبہ علی من اراد اغتیالہ حتی قتل ﷲتعالیٰ نے یہ تجویز فرمائی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھا لیا اور ان کی شباہت اس آدمی پر ڈال کر قتل کرا دیا جو آپ کو دھوکہ سے قتل کرنا چاہتا تھا۔‘‘

۱۲… تفسیر بغوی میں بھی یہی منقول ہے۔

۱۳… (تفسیر درمنثور ج۲ ص۳۶) پر ہے: ’’وصعد بعیسٰی الی السماء عیسیٰ علیہ السلام کو آسمانوں پر اٹھالیا۔‘‘

۱۴… (تفسیر روح المعانی ج۳ ص۲۵۷) پر ہے: ’’قال ابن عباس لما اراد ملک بنی اسرائیل قتل عیسٰی علیہ السلام دخل غرفۃ وفیہا سکوۃ فرفعہ جبرائیل علیہ السلام من السکوۃ الی السماء‘‘ {ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب یہودیوں کے بادشاہ نے عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تو عیسیٰ علیہ السلام ایک کمرہ میں داخل ہوئے جس میں روشن دان تھا۔ اس سے جبرائیل علیہ السلام آپ کو آسمانوں پر اٹھا کر لے گئے۔}

۱۵… (تفسیر ابن جریر طبری ج۳ ص۲۸۹) پر ہے: ’’وصعد بعیسٰی الی السماء‘‘ {عیسیٰ علیہ السلام کو آسمانوں پر اٹھا لیا گیا۔} ہم نے اختصار کے ساتھ ان قدیم تفاسیر کے حوالہ جات آپ کے سامنے رکھے۔

چیلنج

ہمارا دعویٰ ہے کہ پوری امت کے تمام قدیم مفسرین نے اس آیت کے تحت میں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے رفع الی السماء کو ثابت کیا ہے۔ ایک مفسر کا بھی اس میں اختلاف نہیں۔ قادیانی کرم فرما، کیا اس کے خلاف ثابت کر کے ہمارے چیلنج ودعویٰ کو غلط ثابت کر سکتے ہیں؟ نہیں ہرگز نہیں۔

قادیانی اعتراض:۱

مفسرین نے مختلف اقوال پیش کئے کہ عیسیٰ علیہ السلام کی شباہت جس پر ڈالی گئی وہ عیسیٰ علیہ السلام کا مخلص مرید تھا یا دشمن کافر؟ تو اختلاف ثابت ہوگیا۔

جواب:

عیسیٰ علیہ السلام کی جس پر شبیہ ڈالی گئی اس کا نام قرآن مجید نے ذکر نہیں کیا۔ نہ ہی قرآن مجید کا یہ موضوع ہے وہ کون تھا؟ یہ تاریخ کا موضوع ہے۔ اس کے نام کا تعین کرنے کے لئے لامحالہ مسیحی قدیم روایات کو دیکھنا ہوگا۔ چونکہ ان کی کتب میں اختلاف ہے۔ اس لئے مفسرین نے کمال دیانت کے ساتھ اس اختلاف کو بیان کردیا۔ جہاں تک نفس واقعہ کا تعلق ہے وہ اتنا ہے کہ یہود عیسیٰ علیہ السلام کے درپے قتل ہوئے۔ ﷲتعالیٰ نے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے قریب بھی یہود کو نہ پھٹکنے دیا اور عیسیٰ علیہ السلام کو آسمانوں پر اٹھا لیا۔ پوری امت کے خیرالقرون کے زمانہ سے اس وقت تک تمام مستند وقابل ذکر وقابل فخر مفسرین نے یہی اس آیت سے سمجھا ہے۔ ہم نے ان مفسرین کے بھی حوالے نقل کر دئیے جنہیں قادیانی اپنے اپنے دور کا مجدد مانتے ہیں۔ ان سب کا اتفاق ہے۔ وہ سب اس آیت کے نفس واقعہ پر متفق ہیں۔ کسی ایک کو اختلاف نہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام کو آسمانوں پر اٹھایا گیا۔ یہی ’’مکر ﷲ‘‘ کی تفسیر ہے۔ ہم پھر اپنے چیلنج کو دہراتے ہیں کہ اس سے رفع روحانی، عیسیٰ علیہ السلام کو تازیانے مارنے، صلیب پر چڑھانے، کشمیر جانے کی قادیانی خود تراشیدہ تحریف کو کسی ایک مفسر

217

ذکر نہیں کیا۔ یہ خالصتاً تحریف اور قادیانی دجل کا شاہکار ہے۔ اس آیت کی تفسیر میں تمام قدیم مفسرین کا اجماع ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو آسمانوں پر ﷲتعالیٰ نے اٹھالیا۔ کوئی قادیانی ماںکا لال ہمارے چیلنج کو قیامت کی صبح تک نہیں توڑ سکتا۔ ’’وان لم تفعلوا ولن تفعلوا فاتقوا النار‘‘

قادیانی اعتراض:۲

یہود نے یہ مکر اور تدبیر قتل آپ کے حق میں کیوں کی؟

جواب:

یہود نے آپ کے معجزات کو جادو قرار دے کر آپ کو جادوگر ٹھہرایا اور پھر قتل کا حکم لگایا اور اس کی صورت صلیب پر کھینچنا تجویز کی۔ چنانچہ اوپر کی آیت میں معجزات کو جادو قرار دینا صاف مذکور ہے اور آیت مندرجہ عنوان کے قبل بھی ذکر معجزات اس امر پر دلالت کر رہا ہے اور ’’فلما احس عیسٰی منہم الکفر‘‘ کے یہی معنی ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کفار یہود سے مکر، قتل کا احساس کیا۔ اس جگہ کفر بمعنی ’’قتل من باب تسمیہ الشیٔ باسم سببہ‘‘ ہے۔ یعنی کسی شئے کے وہ نام بولنا جو اس کے سبب کا نام ہے۔ چنانچہ مطول میں لکھا ہے: ’’رعینا الغیث ای النبات الذی سببہ الغیث (مطول) چرائی ہم نے بارش یعنی نباتات جس کے اگنے کا سبب بارش ہے۔‘‘

اسی طرح آیت: ’’وَمَا اَنْزَلَ اللّٰہُ مِنَ السَّمَآ ء مِنْ رِّزْقٍ (جاثیہ:۵)‘‘ {میں رزق بمعنی مطر یعنی بارش سبب ہے رزق کے پیدا ہونے کا۔} اس طرح اس کے نظائر قرآن شریف میں بکثرت ہیں اور کتب بلاغت میں اس قاعدے کی تصریح موجود ہے۔ دیگر یہ کہ کفر کا احساس کے ساتھ ذکر کرنا بھی اس امر کا مؤید ہے کہ اس جگہ کفر سے مراد قتل ہے۔ کیونکہ احساس ایسے مواقع میں اس جگہ مستعمل ہوتا ہے۔ جہاں کوئی خوفناک امر ہو جیسے آیت: ’’فَلَمَّا اَحَسُّوْا بَأسَنَا (انبیاء:۱۲)‘‘ اور نیز آیت: ’’اِذْ تَحُسُّوْنَہُمْ (آل عمران:۱۵۲) ای تقتلونہم‘‘

اس بیان سے واضح ہو گیا کہ: : ’’فَلَمَّا اَحَسَّ عِیْسٰی مِنْہُمُ الْکُفْرَ‘‘ میں کفر بمعنی قتل ہے۔ پس مکر یہود کی صورت ارادۂ قتل وصلب عیسیٰ علیہ السلام متعین ہوگئی۔

قادیانی اعتراض:۳

کیا مفسرین کے اس قول کی تائید قرآن سے ہوسکتی ہے کہ مکر سے مراد قتل ہے؟

جواب:

۱… کیوں نہیں؟ بے شک مفسرین رحمہم اللہ علیہ کے بیان کی تائید میں کئی آیات ہیں۔ ’’منہا قولہ تعالٰی حَاکِیًا عن اخوۃ یوسف نِاقْتُلُوْا یُوْسُفَ اَوِاطْرَحُوْہُ اَرْضًا (یوسف:۹)‘‘ {یوسف کو قتل کر ڈالو یا اسے کسی زمین میں پھینک دو۔}

اور اس تدبیر قتل کا نام مکر رکھا۔ چنانچہ اسی سورۂ یوسف:۱۰۲ ہی میں ’’وَہُمْ یَمْکُرُوْنَ‘‘ فرمایا اور نیز سورۂ نمل میں صالح علیہ السلام کے بیان میں فرمایا: ’’وَکَانَ فِی الْمَدِیْنَۃِ تِسْعَۃُ رَہْطٍ یُّفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ وَلَا یُصْلِحُوْنَ * قَالُوْا تَقَاسَمُوْا بِاللّٰہِ لَنُبَیِّتَنَّہٗ وَاَہْلَہٗ ثُمَّ لَنَقُوْلَنَّ لِوَلِیِّہٖ مَاشَہِدْنَا مَہْلِکَ اَہْلِہٖ وَاِنَّا لَصٰدِقُوْنَ (نمل:۴۸،۴۹)‘‘ {اور اس شہر میں نو شخص تھے جو زمین میں فساد کرتے تھے اور اصلاح نہیں کرتے تھے۔ انہوں نے پس میں کہا کہ خدا کی قسم کھاؤ کہ اس (صالح) کو اور اس کے اہل کو راتوں رات قتل کر ڈالیں گے پھر اس کے ولی کو کہیں گے کہ ہم تو اس کے قتل کے موقع ووقت پر حاضر نہ تھے اور ہم ضرور سچے ہیں۔}

218

یعنی نومفسدوں نے آپس میں یہ منصوبہ باندھا اور اس پر قسمیں کھانے کو کہا کہ صالح علیہ السلام کو اور آپ کے اہل کو راتوں رات قتل کر ڈالیں۔ ان کی اس تدبیر شر کی نسبت ﷲتعالیٰ نے اس سے آگے فرمایا: ’’وَمَکَرُوْا مَکَرًا (نمل:۵۰)‘‘ یعنی انہوں نے بڑا بھاری مکر کیا یعنی پوشیدہ طور پر نبی ﷲ صالح علیہ السلام کو قتل کرنے کی تدبیر کی اسی طرح حضرت سید المرسلین خاتم النّبیین ﷺ کی نسبت کفار نے جو مشورہ کیا اس کی نسبت فرمایا: ’’وَاِذْ یَمْکُرُ بِکَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لِیُثْبِتُوْکَ اَوْ یَقْتُلُوْکَ اَوْ یُخْرِجُوْکَ وَیَمْکُرُوْنَ وَیَمْکُرُ اللّٰہُ وَاللّٰہُ خَیْرُ الْمَاکِرِیْنَ (الانفال:۳۰)‘‘ {اور جب کفار تدبیر کرتے تھے کہ تجھے قید کر لیں یا قتل کر ڈالیں یا جلاوطن کر دیں وہ بھی تدبیر کرتے تھے اور خدا بھی تدبیر کرتا تھا اور خدا بہتر تدبیر کرنے والا ہے۔}

اور حضرت ابراہیم خلیل ﷲ علیہ السلام کی نسبت کفار نے جو مشورہ کیا اس کی نسبت فرمایا: ’’فَمَا کَانَ جَوَابَ قَوْمِہٖ اِلَّا اَنْ قَالُوا اقْتُلُوْہُ اَوْحَرِّقُوْہُ (عنکبوت:۲۴)‘‘ {اور اس کی قوم سے کوئی جواب بن نہ آیا سوائے اس کے کہ انہوں نے کہا اسے قتل کر ڈالو یا آگ میں جلادو۔}

اور ان کے منصوبہ کا نام کید رکھا۔ چنانچہ سورۂ انبیاء میں فرمایا: ’’وَاَرَادُوْا بِہٖ کَیْدًا فَجَعَلْنٰہُمُ الْاَخْسَرِیْنَ (انبیاء:۷۰)‘‘ {انہوں نے اس کی نسبت خفیہ تدبیر کی بس ہم نے انہی کو کر دیا نقصان اٹھانے والے۔}

اور مکر اور کید مترادف ہیں۔ چنانچہ مصباح میں ہے: ’’کَادَہٗ، مَکْرَبِہٖ‘‘

۲… ان تمام آیات میں کفار کے مکر وکید کی کئی شکلیں بیان ہوئیں۔ جن میں مکر کی ایک شکل قتل کا بھی بیان ہے۔ جہاں عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ یہود کے مکر کا تعلق ہے تو وہ صرف قتل ہے۔ جیسا کہ ’’انا قتلنا المسیح‘‘ سے واضح ہے۔

قادیانی اعتراض:۴

کفار ماکرین کے ساتھ سنت الٰہی کیا ہے اور ان کے مکر کا انجام کیا ہوا کرتا ہے؟

جواب:

ماکرین کو ہلاک کرنا اور ان کے مکر کا وبال انہی پر نازل کرنا اور اپنے عباد مرسلین کو ان کے مکر سے بچا لینا

دلیل:

ﷲتعالیٰ نے سورۂ فاطر وغیرہ میں فرمایا:

۱… ’’وَالَّذِیْنَ یَمْکُرُوْنَ السَّیِّاٰتِ لَہُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ وَمَکْرُ اُولٰئِکَ ہُوَ یَبُوْرُ (فاطر:۱۰)‘‘ یعنی جو لوگ بری تدبیریں اور منصوبے باندھتے ہیں ان کے لئے سخت عذاب ہوگا اور ان کا مکر وہی ہلاک ہوگا۔

۲… ’’وَلَا یَحِیْقُ الْمَکْرُ السَّیِّیُٔ اِلَّا بِاَہْلِہٖ (فاطر:۴۳)‘‘ اسی صورت میں کہ بری تدبیر کا وبال اس کے اہل ہی پر پڑا کرتا ہے۔

۳… ’’وَہَمَّتْ کُلُّ اُمَّۃٍ بِرَسُوْلِہِمْ لِیَاْخُذُوْہُ وَجَادَلُوْا بِالْبَاطِلِ لِیُدْحِضُوْا بِہَ الْحَقَّ فَاَخَذْتُہُمْ فَکَیْفَ کَانَ عِقَابِ (المؤمن:۵)‘‘ ہر امت نے اپنے رسول کو ماخوذ کرنے پر کمر باندھی اور لانے لگے جھوٹے جھگڑے تاکہ اس ناحق سے حق کو باطل کر دیں۔ پس میں نے انہی کو عذاب میں گرفتار کیا۔ پس میرا عذاب ان پر کیسا سخت ہوا۔

۴… ’’وَاَرَادُوْا بِہٖ کَیْدًا فَجَعَلْنٰہُمُ الْاَخْسَرِیْنَ (الانبیاء:۷۰)‘‘ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے

219

حق میں جو کہ مکر اور کید ان کی قوم نے کیا تھا اس کی بابت فرمایا کہ انہوں نے اس کے ساتھ ایک بھاری مکر کرنا چاہا۔ پس ہم نے انہیں کو سخت زیان کار اور سخت پست اور ذلیل کر دیا۔

۵… ’’فَاَرَادُوْا بِہٖ کَیْدًا فَجَعَلنٰہُمُ الْاَسْفَلِیْنَ (الصّٰٓفّٰت:۹۸)‘‘ پھر چاہنے لگے اس پر برا داؤ کرنا پھر ہم نے ڈالا انہیں کو نیچے۔

۶… ’’قَدْ مَکَرَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ فَاَتَی اللّٰہُ بُنْیَانَہُمْ مِّنَ الْقَوَاعِدِ فَخَرَّ عَلَیْہِمُ السَّقْفُ مِنْ فَوْقِہِمْ وَاَتٰہُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَیْثُ لَا یَشْعُرُوْنَ (النحل:۲۶)‘‘ کفار مکہ کے پیشتر بہت لوگوں نے مکر اور تدابیر کیں۔ پس ﷲتعالیٰ نے ان کی عمارات کو بنیادوں سے گرا دیا اور ان پر چھت ان کے اوپر سے گر پڑے اور ان کو ایسی جگہ سے عذاب آیا۔ جہاں سے ان کو شعور بھی نہ تھا۔

۷… ’’وَقَدْ مَکَرُوْا مَکْرَہُمْ وَعِنْدَ اللّٰہِ مَکْرُہُمْ وَاِنْ کَانَ مَکْرُہُمْ لِتَزُوْلَ مِنْہُ الْجِبَالُ * فَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰہَ مُخْلِفَ وَعْدِہٖ رُسُلَہٗ اِنَّ اللّٰہَ عَزِیْزٌ ذُوانْتِقَامٍ (ابراہیم:۴۶،۴۷)‘‘ سورۂ ابراہیم میں بڑے زور اور تاکید سے فرمایا کہ کفار مکہ نے جہاں تک ان سے ہوسکا بہت سی تدبیریں کیں اور ﷲتعالیٰ کو ان کی سب تدبیریں معلوم ہیں۔ اگرچہ ان کی تدابیر اور مکر ایسے زبردست اور محکم ہوں کہ ان سے زوال جبال یعنی پہاڑوں کا گر جانا ممکن ہو سکے تو بھی ہرگز یہ خیال نہ کرنا کہ ﷲتعالیٰ کبھی بھی اپنے اس وعدے کو خلاف کرے گا۔ جو اس نے اپنے رسولوں سے کیا ہوا ہے کیونکہ ﷲتعالیٰ بڑا غالب ہے اور اعداء سے بدلہ لینے والا ہے۔

۸… ’’وَلَقَدْ سَبَقَتْ کَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِیْنَ * اِنَّہُمْ لَہُمُ الْمَنْصُوْرُوْنَ (الصّٰٓفّٰت:۱۷۱،۱۷۲)‘‘ اور اس وعدے کی نسبت سورۂ صافات میں فرمایا کہ بے شک ہمارا اپنے عباد مرسلین سے پہلے ہی سے وعدہ ہو چکا ہے کہ وہ ضرور ضرور منصور ہوں گے۔

۹… ’’کَتَبَ اللّٰہُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِیْ اِنَّ اللّٰہَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ (مجادلہ:۲۱)‘‘ سورۂ مجادلہ میں فرمایا کہ ﷲتعالیٰ نے یہ امر مقرر کر دیا ہے کہ میں اور میرے رسول ضرور ضرور غالب رہیں گے۔ کیونکہ ﷲتعالیٰ بڑی قوت والا اور بڑا غالب ہے۔

۱۰… ’’وَکَانَ فِی الْمَدِیْنَۃِ تِسْعَۃُ رَہْطٍ یُّفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ وَلَا یُصْلِحُوْنَ * قَالُوْا تَقَاسَمُوْا بِاللّٰہِ لَنُبَیِّتَنَّہٗ وَاَہْلَہٗ ثُمَّ لَنَقُوْلَنَّ لِوَلِیِّہٖ مَاشَہِدْنَا مَہْلِکَ اَہْلِہٖ وَاِنَّا لَصٰدِقُوْنَ * وَمَکَرُوْا مَکْرًا وَّمَکَرْنَا مَکْرًا وَّہُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ * فَانْظُرْ کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ مَکْرِہِمْ اَنَّا دَمَّرْنٰہُمْ وَقَوْمَہُمْ اَجْمَعِیْنَ * فَتِلْکَ بُیُوْتُہُمْ خَاوِیَۃً بِمَا ظَلَمُوْا اِنَّ فِیْ ذٰالِکَ لَاٰیَۃً لِّقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ * وَاَنْجَیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَکَانُوْا یَتَّقُوْنَ (النمل:۴۸تا۵۳)‘‘ اور سورۂ نمل میں حضرت صالح علیہ السلام کے ذکر میں فرمایا کہ اس شہر میں نو شخص مفسد اور غیرمصلح تھے۔ انہوں نے آپس میں کہا کہ صالح علیہ السلام اور آپ کے ولی یعنی حامی ووارث کو کہیں گے کہ ہم تو اس کے اہل بیت کے مرنے کے موقع اور وقت پر حاضر ہی نہ تھے اور ہم ضرور سچے ہیں۔ اس کے بعد ﷲتعالیٰ نے فرمایا کہ یہ انہوں نے بڑا بھاری مکر کیا تھا اور ہم نے بھی مکر (تدبیر محکم) کیا اور وہ ہماری تدبیر کا شعور نہ رکھتے تھے۔ پس دیکھ ان کے مکر کا انجام کیا ہوا کہ ہم نے ان نو مفسدوں اور ان کے باقی حامی کاروں سب کو بالکل ہلاک کر دیا۔ پس یہ ان کے گھر ان کے ظلم کے سبب اجڑے پڑے ہیں۔ بے شک اس معاملہ میں علم والے یعنی سمجھ والے لوگوں کے لئے (رسولوں کی نصرت اور ان کے

220

دشمنوں کی ذلت کا) بڑا بھاری نشان ہے اور ہم نے مؤمنین اور متقین یعنی اتباع صالح علیہ السلام کو بچا لیا۔ انتہی!

خلاصہ یہ کہ قرآن کریم میں جہاں کہیں رسل ﷲ کے برخلاف کفار کے مکر کا ذکر ہے۔ اس جگہ یہی مراد ہے کہ ﷲتعالیٰ پیغمبروں کو ان کے مکر اور شر سے محفوظ رکھتا ہے اور الٹا ماکرین ہی پر وبال وعذاب نازل کیا کرتا ہے سو اسی طرح حضرت مسیح علیہ السلام کے حق میں بھی اسی طرح کی آیت آئی ہے جیسے حضرت صالح علیہ السلام اور حضرت سید المرسلین ﷺ کے حق میں وارد ہے۔ یہ کس قدر غلط اور لغو بات ہے کہ جو الفاظ دیگر رسولوں کے محفوظ رہنے پر دلالت کریں انہی الفاظ کے ہوتے ہوئے حضرت کلمتہ ﷲ وروح ﷲ علیہ السلام اس قدر ذلت اور خواری سے صلیب پر کھینچے جائیں کہ آپ کی مبارک رانوں پر میخیں لگائی جائیں اور آپ کے پاک ہاتھوں میں کیلیں ٹھونکی جائیں اور آپ کے مقدس سر پر کانٹوں کی ٹوپی پہنائی جائے اور آپ کے خزانہ حکمت کی پسلی میں تیر مارا جائے۔ معاذ ﷲ ثم معاذ ﷲ! کس قدر تعجب کا مقام ہے کہ جس امر کی تاکید کے لئے ﷲتعالیٰ اس قدر تاکید فرمادے اور بالالتزام بیان کرے۔ اسی امر کو برخلاف مراد الٰہی اپنا عقیدہ بنایا جائے؟

قادیانی اعتراض:۵

یہود نے قتل کا ارادہ کیا ﷲتعالیٰ نے آسمانوں پر اٹھا لیا۔ تدبیر یہود کے مقابلہ میں ﷲتعالیٰ نے قدرت نمائی کی۔ یہ تدبیر نہ ہوئی۔

جواب:

یہود نے اپنی طاقت کے مطابق تدبیر کی۔ ﷲتعالیٰ رب العزت نے اپنی قدرت وطاقت کے مطابق تدبیر کی۔ مخلوق اور خالق کی طاقت کا قدرت حق سے تقابل توہین باری تعالیٰ ہے۔

قادیانی اعتراض:۶

سیدنا مسیح علیہ السلام کی شکل دوسرے شخص پر ڈال دی۔ دوسرے شخص کی شکل ہوبہو مسیح کی شکل ہوگئی یہ کیسے ممکن ہے؟

جواب:

قرآن مجید میں صراحت سے مذکور ہے کہ ﷲتعالیٰ نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے عصاء (لکڑی) کو سانپ بنادیا۔ جس نے حرکت کی اور تمام جادوگروں کی اشیاء کو ہڑپ کرگیا جو خداوند کریم بے جان لکڑی کی شکل بدل کر جاندار جانور بنانے پر قادر ہیں۔ اس ذات نے ایک انسان کی شکل دوسرے پر ڈال دی تو اس میں اشکال کیا ہے؟

قادیانی اعتراض:۷

ﷲتعالیٰ نے باقی انبیاء علیہم السلام حتیٰ کہ خود آنحضرت ﷺ کی زمین پر حفاظت کی، وہ عیسیٰ علیہ السلام کو آسمانوں پر کیوں لے گئے؟

جواب:

۱… ہر نبی کی اپنی خصوصیت تھی۔ حق تعالیٰ شانہ نے تمام انبیاء کو مختلف خصوصیات سے سرفراز فرمایا۔ کسی کو کوئی خصوصیت دی۔ کسی کو کوئی۔ خصوصیت کی تعریف ہی یہ ہے۔ ’’خاصۃ الشیٔ یوجد فیہ ولا یوجد فی غیرہ‘‘ تمام انبیاء کو زمین سے زمین پر ہجرت کرائی۔ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی خصوصیت ہے کہ ان کو آسمانوں پر ہجرت کرائی۔ باقی رہا کیوں؟ تو اس کا جواب ﷲتعالیٰ سے مانگنا چاہئے۔ لیکن جہاں تک نصوص کا تعلق ہے تو سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو پانی سے پار کیا۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام پر آگ ٹھنڈی کر دی۔ سیدنا آدم علیہ السلام کو آسمانوں سے زمین پر اتارا۔ (۱)بہتے دریا سے راستہ کا بن جانا۔ (۲)جلتی آگ کا نہ جلانا۔ خود جل رہی ہے مگر ابراہیم علیہ السلام اس میں محفوظ ہیں۔

221

(۳)آدم علیہ السلام کا آسمانوں سے زمین پر آنا۔ اگر صحیح اور ممکن ہے تو سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا آسمانوں پر جانا کیوں غلط اور نہ ممکن ہے؟

۲… ’’وانہ لعلم للساعۃ‘‘ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام قیامت کی نشانی ہیں۔ ان کو قیامت تک ایسے ماحول میں رکھا جاسکتا ہے جو مرور زمانہ کے اثرات سے محفوظ ہو اور وہ آسمان ہی ہیں کہ مرور زمانہ کا اس ماحول کے باشندگان (ملٰئکۃ) پر کوئی اثر نہیں۔

۳… سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نفخۂ جبرائیل سے پیدا ہوئے تو ان کی ملکوتی صفات کے ظہور کے لئے آسمانوں پر جانا عین تقاضہ تھا جسے حق تعالیٰ نے پورا فرمایا۔ اس لئے جائے اعتراض نہیں جائے تسلیم ہے۔ (خذو کن من الشاکرین)

قادیانیوں سے سوال

۱… مرزاقادیانی! آپ کی ساری تحریر کا مطلب تو یہ ہے کہ یہود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پھانسی دے کر لعنتی ثابت کرنا چاہتے تھے اور یہی ان کا مکر تھا۔ اس کے مقابلہ پر خدا نے پھانسی پر جان نہ نکلنے دی اور کسی کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زندہ بچ جانے کا سوائے آپ کے پتہ بھی نہ لگ سکا اس بناء پر تو یہودی اپنی تدبیر میں خوب کامیاب ہو گئے۔ یعنی نہ صرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ملعون ہی ثابت کر دیا بلکہ کروڑہا نصاریٰ سے عیسیٰ علیہ السلام کے ملعون ہونے کے عقیدہ کا اقرار بھی لے لیا۔ پس بتلائیے! کون اپنی تدبیر میں غالب رہا۔ یہود یا خدا احکم الحاکمین؟ آپ کے بیان کے مطابق تو یہود کا مکر ہی غالب رہا۔

۲… سبحان ﷲ! یہ بھی کوئی کمال ہے کہ یہودیوں نے جو کچھ چاہا حضرت مسیح علیہ السلام سے کر لیا۔ خدا منع نہ کر سکا۔ اگر کیا تو یہ کہ عزرائیل کو حکم دے دیا کہ دیکھنا اس کی روح مت نکالنا پھر ساتھ ہی دعویٰ کرتا ہے کہ میں تمام تدبیریں کرنے والوں سے بہتر تدبیر کرنے والا ہوں۔ کیا اس قادیانی تحریف کا قرآنی اسلوب متحمل ہے۔

حیات عیسیٰ علیہ السلام کی چوتھی دلیل

’’قَالَ اللّٰہُ عَزْوَجَلَّ اِذْ قَالَ اللّٰہُ یٰعِیْسٰی اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ وَمُطَہِّرُکَ مِنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَجَاعِلُ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْکَ فَوْقَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُکُمْ فَاَحْکُمُ بَیْنَکُمْ فِیْمَا کُنْتُمْ فِیْہِ تَخْتَلِفُوْنَ (آل عمران:۵۵)‘‘ {جس وقت کہا ﷲ نے اے عیسیٰ میں لے لوں گا تجھ کو اور اٹھالوں گا اپنی طرف اور پاک کردوں گا تجھ کو کافروں سے اور رکھوں گا ان کو جو تیرے تابع ہیں غالب ان لوگوں سے جو انکار کرتے ہیں قیامت کے دن تک پھر میری طرف ہے تم سب کو پھر آنا پھر فیصلہ کر دوں گا تم میں جس بات میں تم جھگڑتے ہو۔}

ترجمہ وتفسیر

یہودیوں نے عیسیٰ علیہ السلام کے پکڑنے اور قتل کرنے کی خفیہ تدبیریں کیں اور ﷲتعالیٰ نے ان کی حفاظت اور عصمت کی ایسی تدبیر فرمائی جو ان کے وہم وگمان سے بھی بالا اور برتر تھی۔ وہ یہ کہ ایک شخص کو عیسیٰ علیہ السلام کا ہم شکل بنادیا اور عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھا لیا اور یہودی جب گھر میں داخل ہوئے تو اس ہم شکل کو پکڑ کر لے گئے اور عیسیٰ علیہ السلام سمجھ کر اس کو قتل کیا اور سولی پر چڑھایا اور ﷲتعالیٰ سب سے بہتر تدبیر فرمانے والے ہیں۔ کوئی تدبیر ﷲ کی تدبیر کا مقابلہ نہیں

222

کر سکتی۔ اس وقت ﷲتعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پریشانی دور کرنے کے لئے یہ فرمایا کہ اے عیسیٰ تم گھبراؤ نہیں، تحقیق میں تم کو تمہارے ان دشمنوں سے بلکہ اس جہاں ہی سے پورا پورا لے لوں گا اور بجائے اس کے کہ یہ ناہنجار تجھ کو پکڑ کر لے جائیں اور صلیب پر چڑھائیں میں تجھ کو اپنی پناہ میں لے لوں گا اور آسمان پر اٹھاؤں گا کہ جہاں کوئی پکڑنے والا پہنچ ہی نہ سکے اور تجھ کو ان ناپاک اور گندوں سے نکال کر پاک اور صاف مطہر اور معطر جگہ میں پہنچا دوں گا کہ تجھ کو کفر اور عداوت کا رائحہ بھی محسوس نہ ہو اور یہ ناہنجار تجھ کو بے عزت کر کے تیرے اور تیرے دین کے اتباع سے لوگوں کو روکنا چاہتے ہیں اور میں اس کے بالمقابل تیرے پیروؤں کو تیرے کفر کرنے والوں پر قیامت تک غالب اور فائق رکھوں گا۔ تیرے خدام اور غلام ان پر حکمران ہوں گے اور یہ ان کے محکوم اور باج گزار ہوں گے۔ قیامت کے قریب تک یوں ہی سلسلہ رہے گا کہ نصاریٰ ہر جگہ یہود پر غالب اور حکمران رہیں گے اور اپنی ذلت ومسکنت کا اور حضرت مسیح بن مریم کے نام لیواؤں کی عزت ورفعت کا مشاہدہ کرتے رہیں گے اور اندر سے تلملاتے رہیں گے۔ یہاں تک کہ جب قیامت قریب آجائے گی اور دجال کو جیل خانہ سے چھوڑ دیا جائے گا تا کہ یہود بے بہبود اپنی عزت اور حکومت قائم کرنے کے لئے اس کے اردگرد جمع ہو جائیں تو یکایک عیسیٰ علیہ السلام بصد جاہ وجلال آسمان سے نازل ہوں گے اور دجال کو جو یہود کا بادشاہ بنا ہوا ہوگا اس کو تو خود اپنے دست مبارک سے قتل فرمائیں گے اور باقی یہود کا قتل وقتال اور اس جماعت کا بالکلیۃ استیصال امام مہدی اور مسلمانوں کے سپرد ہوگا۔ دجال کے متبعین کو چن چن کر قتل کیا جائے گا۔ نزول سے پہلے یہود اگرچہ حضرت مسیح علیہ السلام کے غلام اور محکوم تھے مگر زندہ رہنے کی تو اجازت تھی مگر حضرت مسیح علیہ السلام کے نزول کے بعد زندہ رہنے کی بھی اجازت نہ رہے گی۔ ایمان لے آؤ یا اپنے وجود سے بھی دستبردار ہو جاؤ اور نصاریٰ کو حکم ہوگا کہ میری الوہیت اور ابنیت کے عقیدہ سے تائب ہوجاؤ اور مسلمانوں کی طرح مجھ کو ﷲ کا بندہ اور رسول سمجھو اور صلیب کو توڑ دیں گے اور خنزیر کو قتل کریں گے اور جزیہ کو ختم کریں گے اور سوائے دین اسلام کے کوئی دین قبول نہ فرمائیں گے۔ الغرض نزول کے بعد اس طرح تمام اختلافات کا فیصلہ فرمائیں گے۔ جیسا کہ آئندہ آیت میں اس طرف اشارہ فرماتے ہیں۔ پھر تم سب کا میری طرف لوٹنا ہے۔ پس اس وقت میں تمہارے اختلافات کافیصلہ کروں گا۔ وہ فیصلہ یہ ہوگا کہ عیسیٰ علیہ السلام کے نزول سے یہود کا یہ زعم باطل ہو جائے گا کہ ہم نے حضرت مسیح علیہ السلام کو قتل کر دیا۔ ’’کَمَا قَالَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَقَوْلِہِمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِیْحِ عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ رُسُوْلَ اللّٰہِ‘‘ اور نصاریٰ کا یہ زعم باطل ہوگا کہ وہ خدایا خدا کے بیٹے ہیں اور حیات مسیح علیہ السلام کے مسئلہ کا فیصلہ ہو جائے گا اور روز روشن کی طرح تمام عالم پر یہ واضح ہو جائے گا کہ عیسیٰ علیہ السلام اسی جسد عنصری کے ساتھ زندہ آسمان پر اٹھائے گئے تھے اور اسی جسم کے ساتھ آسمان سے اترے ہیں۔

لفظ توفی کی تحقیق

قبل اس کے کہ ہم ان آیات کی مفصل تفسیر کریں لفظ توفی کی تحقیق ضروری سمجھتے ہیں۔

توفی وفا سے مشتق ہے جس کے معنی پورا کرنے کے ہیں یہ مادہ خواہ کی شکل اور کسی ہیئت میں ظاہر ہو مگر کمال اور تمام کے معنی کو ضرور لئے ہوئے ہوگا۔ ’’کما قال تعالٰی وَاَوْفُوْا بِعَہْدِیْ اُوْفِ بِعَہْدِکُمْ (بقرہ:۴۰)‘‘ تم میرے عہد کو پورا کرو میں تمہارے عہد کو پورا کروں گا۔ ’’وَاَوْفُوا الْکَیْلَ اِذَا کِلْتُمْ (اسراء:۳۵)‘‘ ماپ کو پورا کرو جب تم تولا کرو ’’یُوْفُوْنَ بِالنَّذْرِ (دہر:۷)‘‘ اپنی نذروں کوپورا کرتے ہیں۔ ’’وَاِنَّمَا تُوَفَّوْنَ اُجُوْرَکُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃ (آل

223

عمران:۱۸۵)‘‘ جز ایں نیست کہ تم پورا پورا اجر قیامت کے دن دئیے جاؤ گے۔ یعنی کچھ تھوڑا بہت اجرتو دنیا میں بھی مل جائے گا مگر پورا پورا اجر قیامت کے دن ہی ملے گا۔

اور لفظ توفی جو اسی مادہ یعنی وفا سے مشتق ہے اس کے اصلی اور حقیقی معنی ’’اخذ الشیٔ وافیا‘‘ کے ہیں۔ یعنی کسی چیزکو پورا پورا لے لینا کہ باقی کچھ نہ رہے۔ قرآن اور حدیث اور کلام عرب میں جس جگہ بھی یہ لفظ مستعمل ہوا ہے سب جگہ توفی سے استفیاء اور اکمال اور اتمام ہی کے معنی مراد لئے گئے ہیں۔ توفی سے اگر کسی جگہ موت کے معنی مراد لئے گئے ہیں تو وہ کنایتہ اور لزوماً مراد لئے گئے ہیں۔ اس لئے کہ استیفا عمر اور اتمام عمر کے لئے موت لازم ہے۔ توفی عین موت نہیں بلکہ موت تو توفی بمعنی اکمال عمر اور اتمام زندگی کا ایک ثمرہ اور نتیجہ ہے۔

توفی کا لغوی معنی

(لسان العرب ج۱۵ ص۳۵۹) میں ہے: ’’توفی المیت استیفاء مدۃ التی وفیت لہ وعدد ایامہ وشہورہ وعوامہ فی الدنیا‘‘

یعنی میت کے توفی کے معنی یہ ہیں کہ اس کی مدت حیات کو پورا کرنا اور اس کی دنیاوی زندگی کے دنوں اورمہینوں اور سالوں کو پورا کر دینا۔ مثلاً کہا جاتا ہے، فلاں بزرگ کا وصال یا انتقال ہوگیا۔ وصال کے اصل معنی ملنے کے ہیں اور انتقال کے اصل معنی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہو جانے کے ہیں۔ بزرگوں کی موت کو موت کے لفظ سے تعبیر کرنا عرف میں خلاف ادب سمجھا جاتا ہے اس لئے بجائے موت کے لفظ وصال اور انتقال مستعمل ہوتا ہے۔ یعنی اپنے رب سے جا ملے اور دارفانی سے دار جاودانی کی طرف انتقال فرمایا اور کبھی اس طرح کہتے ہیں کہ فلاں بزرگ رحلت فرمائے عالم آخرت ہوئے یا یہ کہتے ہیں کہ فلاں شخص اس عالم سے رخصت ہوا یا فلاں شخص گزر گیا تو کیا اس استعمال سے کوئی شخص یہ سمجھتا ہے کہ وصال اور انتقال اور رحلت اور رخصت وغیرہ ان الفاظ کے حقیقی اور اصلی معنی موت کے ہیں؟ ہرگز نہیں بلکہ یہ سمجھتا ہے کہ اصلی اور حقیقی معنی تو اور ہیں۔ تشریف اور تکریم کی غرض کہ بزرگوں کی موت کو وصال اور انتقال کے لفظ سے تعبیر کر دیا گیا۔ اسی طرح توفی کے لفظ کو سمجھئے کہ اصلی اور حقیقی معنی تو استفیاء اور اکمال کے ہیں۔ مگر بعض مرتبہ بغرض تشریف وتکریم کسی کی موت کو توفی کے لفظ سے کنایتہ تعبیر کر دیا جاتا ہے جس سے قادیان اور چناب نگر کے احمق اور نادان یہ سمجھ گئے کہ توفی کے حقیقی معنی ہی موت کے ہیں۔

۲… (علامہ زمخشری اساس البلاغۃ ج۲ ص۳۰۴) میں تصریح فرماتے ہیں کہ توفی کے حقیقی اور اصلی معنی استیفاء اور استکمال کے ہیں اور موت کے معنی مجازی ہیں: ’’وفی بالعہد واوفی بہ وہو وفا من قوم وہم اوفیاء واوفاہ واستوفاہ توفاہ استکملہ ومن المجاز توفی وتوفاہ اللّٰہ ادرکہ الوفاۃ‘‘

۳… علامہ زبیدی تاج العروس (شرح قاموس ج۲۰ ص۳۰۱) مادہ وفی پر فرماتے ہیں: ’’وفی الشئی وفیأ ای تم وکثرفہو وفی وواف بمعنی واحد وکل شی بلغ تمام الکمال فقد وفٰی وتم ومنہ اوفی فلانا حقہ اذا عطاہ وافیا واوفاہ فاستوفٰی وتوفاہ ای لم یدع منہ شیئا فہما مطا وعان لاوفاہ وافاہ ومن المجاز ادرکتہ الوفاۃ ای والموت والمنیۃ وتوفی فلان اذا مات وتوفاہ اللّٰہ عزوجل اذا قبض نفسہ‘‘

224

توفی کا حقیقی معنی موت نہیں

اب ہم چند آیتیں ہدیۂ ناظرین کرتے ہیں جس سے صاف طور پر یہ معلوم ہو جائے گا کہ توفی کی حقیقت موت نہیں بلکہ توفی موت کے علاوہ کوئی اور شئے ہے۔

آیت اوّل: ’’اَللّٰہُ یَتَوَفَّی الْاَنْفُسَ حِیْنَ مَوْتِہَا وَالَّتِیْ لم تَمُتْ فِیْ مَنَامِہَا فَیُمْسِکُ الَّتِیْ قَضٰی عَلَیْہَا الْمَوْتَ وَیُرْسِلُ الْاُخْرٰی اِلٰی اَجَلٍ مُّسَمَّی (الزمر:۴۲)‘‘ یعنی ﷲتعالیٰ قبض کرتا ہے روحوں کو جب وقت ہو ان کے مرنے کا اور جو نہیں مرے ان کو قبض کرتا ہے وقت نیند کے۔ پس روک لیتا ہے ان کو جن پر موت مقدر کی ہے اور واپس بھیج دیتا ہے دوسروں کو وقت مقرر تک۔

اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ توفی بمعنی موت کا نام نہیں بلکہ توفی موت کے علاوہ کوئی اور شئے ہے کہ جو کبھی موت کے ساتھ جمع ہوتی ہے اور کبھی نیند کے ساتھ۔ یعنی تمہاری جانیں خدا کے قبضہ اور تصرف میں ہیں۔ ہر روز سوتے وقت تمہاری جانیں کھینچتا ہے اور پھر واپس کر دیتا ہے۔ مرنے تک ایسا ہی ہوتا رہتا ہے اور جب موت کا وقت ہوتا ہے تو پھر جان کھینچنے کے بعد واپس نہیں کی جاتی۔ خلاصہ یہ کہ آیت ہذا میں توفی کی موت اور نیند کی طرف تقسیم اس امر کی صریح دلیل ہے کہ توفی اور موت الگ الگ چیزیں ہیں اور ’’حِیْنَ مَوْتِہَا‘‘ کی قید سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ توفی موت کے وقت ہوتی ہے عین موت نہیں ورنہ خود شئے کا اپنے لئے ظرف ہونا لازم آتا ہے۔ لسان العرب سے ہم ابھی نقل کر چکے ہیں کہ توفی کے معنی استفیاء اور استکمال یعنی کسی شئے کو پورا پورا لینے کے ہیں۔

۴… (صاحب لسان ج۱۵ ص۳۵۹،۳۶۰، طبع بیروت) توفی کی حقیقت بیان کر دینے کے بعد آیت موصوفہ کی تفسیر فرماتے ہیں: ’’ومن ذلک قولہ عزوجل اللّٰہ یَتَوَفَّی الْاَنْفُسَ حِیْنَ مَوْتِہَا ای ستوفی مددآجالہم فی الدنیا واما توفی النائم فہو استیفاء وقت عقلہ وتمیزہ الی ان نام‘‘ یعنی مرنے کے وقت جان اور روح پوری پوری لے لی جاتی ہے اور نیند کے وقت عقل اور ادراک اورہوش اور تمیز کو پوراپورا لے لیا جاتا ہے۔‘‘

حاصل یہ کہ توفی کے معنی تو وہی استفیاء اور ’’اخذ الشیٔ وافیا‘‘ یعنی شئے کو پورا پورا لینے ہی کے رہے۔ توفی میں کوئی تغیر اور تبدل نہیں صرف توفی کے متعلق میں تبدیلی ہوئی۔ ایک جگہ توفی کا متعلق موت ہے اور دوسری جگہ نوم (نیند)

آیت دوم: ’’وَہُوْ الَّذِی یَتَوَفّٰکُمْ بِاللَّیْل (انعام:۶۰)‘‘ وہی ہے کہ جو تم کو رات میں پوراپور کھینچ لیتا ہے۔

اس مقام پر بھی توفی موت کے معنی میں مستعمل نہیں ہوا بلکہ نیند کے موقع پر توفی کا استعمال کیاگیا۔ حالانکہ نوم میں قبض روح پورا نہیں ہوتا۔

آیت سوم: ’’حَتّٰی یَتَوَفّٰہُنَّ الْمَوْتُ (النساء:۱۵)‘‘ حضرت شاہ ولی ﷲ صاحب رحمۃ اللہ علیہ اس کا ترجمہ اس طرح کرتے ہیں۔ ’’تاآں کہ عمر ایشان را تمام کند مرگ‘‘ یعنی یہاں تک کہ موت ان کی عمر تمام کر دے۔

اس آیت میں توفی کے معنی اتمام عمر اور اکمال عمر کے لئے گئے ہیں۔ علاوہ ازیں قرآن کریم میں جابجا موت کے مقابلہ میں حیات کو ذکر فرمایا ہے۔ توفی کو حیات کے مقابل ذکر نہیں فرمایا۔ جس سے صاف ظاہر ہے کہ توفی کی حقیقت موت نہیں۔

225

موت وحیات کا تقابل

ورنہ اگر توفی کی حقیقت موت ہوتی تو جس طرح جابجا موت کے مقابل حیات کا ذکر کیا جاتا ہے اسی طرح توفی کے مقابل بھی حیات کا ذکر کیا جاتا۔ چند آیات ہدیۂ ناظرین کرتے ہیں جن میں حق تعالیٰ نے حیات کو موت کے مقابل ذکر فرمایا ہے۔ توفی کے مقابل ذکر نہیں فرمایا۔ قال تعالیٰ:

۱… ’’یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِہَا (الروم:۱۹)‘‘

۲… ’’کِفَاتًا اَحْیَآئً وَاَمْوَاتًا (مرسلات:۲۶)‘‘

۳… ’’یُحْیِیْکُمْ ثُمَّ یُمِیْتُکُمْ (بقرہ:۲۸)‘‘

۴… ’’ہُوَ اَمَاتَ وَاَحْیٰی (النجم:۴۴)‘‘

۵… ’’یُخْرِجُ الْحَیَّی مِنَ الْمَیِّتِ وَیُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّی (یونس:۳۱)‘‘

۶… ’’اَمُوْاتُ غَیْرُ اَحْیَآئٍ (النحل:۲۱)‘‘

۷… ’’وَتَوَکَّلْ عَلَی الْحَیِّی الَّذِیْ لَا یَمُوْتُ (فرقان:۵۸)‘‘

۸… ’’لَایَمُوْتُ فِیْہَا وَلَا یَحْیٰی (طٰہٰ:۷۴)‘‘

۹… ’’کَذٰلِکَ یُحْیِّی اللّٰہُ الْمَوْتٰی (البقرہ:۷۳)‘‘

۱۰… ’’یُحْیِّی وَیُمِیْتُ وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیٍٔ قَدِیْرُ (التوبہ:۱۱۷)‘‘

ان آیات اور ائمہ لغت کی تصریحات سے یہ بات بخوبی منکشف ہوگئی کہ توفی کی حقیقت موت نہیں بلکہ توفی ایک جنس کا درجہ رکھتا ہے جس کے تحت میں کئی فرد مندرج ہیں۔ جیسے حیوان ایک جنس ہے اور انسان اور فرس اور بقر وغیرہ اس کے افراد ہیں۔ حیوانیت کبھی انسانیت میں ہوکر پائی جاتی ہے اور کبھی فرس کے ساتھ۔ وغیرذلک!

۵… چنانچہ حافظ ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’لفظ التوفی فی لغۃ العرب معناہ الاستیفاء والقبض وذلک ثلاثۃ انواعٍ احدہا توفی النوم، والثانی توفی الموت والثالث توفی الروح والبدن جمیعًا (الجواب الصحیح ج۲ ص۲۸۳)‘‘

’’لغت عرب میں توفی کے معنی استیفاء پورا پورا لینے کے ہیں اور توفی کی تین قسمیں ہیں۔ ایک توفی نوم یعنی نیند اور خواب کی توفی اور دوسری توفی موت کے وقت روح کو پورا پورا قبض کر لینا۔ تیسری توفی الروح والجسد۔ یعنی روح اور جسم کو پورا پورا لینا۔‘‘

توفی بمعنی موت کہاں؟

جن ائمہ لغت نے توفی کے معنی قبض روح کے لکھے ہیں انہوں نے یہ کہیں نہیں لکھا کہ فقط قبض روح کو توفی کہتے ہیں اور اگر قبض روح مع البدن ہو تو اس کو توفی نہیں کہتے۔ بلکہ اگر قبض روح کے ساتھ قبض بدن بھی ہو تو بدرجہ اولیٰ توفی ہوگی۔ جب یہ ثابت ہوگیا کہ توفی ایک جنس ہے اور نوم (نیند) اور موت اور رفع جسمانی یہ اس کے انواع اور اقسام ہیں اور یہ مسلم ہے کہ نوع اور قسم معین کرنے کے لئے قرینہ کا ہونا ضروری اور لازمی ہے اس لئے جہاں لفظ توفی کے ساتھ موت اور اس کے لوازم کا ذکرہو گا اس جگہ توفی سے موت مراد لی جائے گی جیسے۔ ’’قُلْ یَتَوَفّٰکُمْ مَلَکُ الْمَوْتِ الَّذِیْ

226

وُکِّلَ بِکُمْ (سجدہ:۱۱)‘‘ {اے ہمارے نبی! آپ ﷺ کہہ دیجئے کہ پورا پورا پکڑے گا تم کو وہ موت کا فرشتہ جو تم پر مسلط کیاگیا ہے۔}

اس مقام پر ملک الموت کے قرینہ سے توفی سے موت مراد لی جائے گی۔

توفی بمعنی نیند

جس جگہ توفی کے ساتھ نوم یعنی خواب اور اس کے متعلقات کا ذکر ہوگا اس جگہ توفی سے نوم کے معنی مراد لئے جائیں گے۔ جیسے: ’’وَہُوَ الَّذِیْ یَتَوَفّٰکُمْ بِاللَّیْلِ‘‘ {وہی خدا تم کو رات میں پورا پورا لیتا ہے۔} لیل کے قرینہ سے معلوم ہوا کہ اس جگہ توفی سے نوم کے معنی مراد ہیں۔ ابونواس کہتا ہے ؎

’’فلما توفاہ رسول الکریٰ‘‘ یعنی نیند کے قاصد نے اس کو پورا پورا لے لیا یعنی سلا دیا۔ اس شعر میں بھی توفی سے نوم کے معنی مراد ہیں اور جس جگہ توفی کے ساتھ رفع کا ذکر ہو یا اور کوئی قرینہ ہو تو وہاں توفی سے رفع جسمانی مراد ہوگا اور مرزاقادیانی بھی، دعویٰ مسیحیت سے پہلے توفی کے معنی موت کے نہیں سمجھتے تھے جیسا کہ (براہین احمدیہ ص۵۲۰، خزائن ج۱ ص۶۲۰) پر لکھتے ہیں: ’’اِنِّی مُتَوَفِّیْکَ‘‘ یعنی میں تجھ کو پوری نعمت دوں گا اور اس کتاب کے (ص۴۹۹، خزائن ج۱ ص۵۹۳، ص۵۰۵، خزائن ج۱ ص۶۰۱) پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زندہ رہنا اور نہایت عظمت اور جلال کے ساتھ دوبارہ دنیا میں آنا تسلیم کیا ہے۔ غرض یہ ثابت ہوگیا کہ توفی کے حقیقی معنی استیفاء اور ’’اخذ الشیٔ وافیًا‘‘ یعنی کسی شئے کو پورا پورا لینے کے ہیں اور یہ کسی کتاب میں نہیں کہ توفی کے حقیقی معنی موت کے ہیں۔ اگر کسی مرزائی سے ممکن ہے تو لغت کی کوئی کتاب لا دکھاوے جس میں یہ تصریح ہو کہ توفی کے حقیقی معنی موت کے ہیں۔ بلکہ ہم دعوے کے ساتھ کہتے ہیں کہ قرآن اور حدیث میں، جہاں کہیں بھی لفظ توفی آیا ہے۔ سب جگہ توفی کے اصلی اور حقیقی ہی معنی مراد ہیں یعنی استیفاء اور استکمال۔ مگر چونکہ عمر کے پورا ہو جانے کے بعد موت کا تحقق لازمی ہے اس لئے مجازاً یہ کہہ دیا گیا کہ یہاں موت کے معنی مراد ہیں۔

قادیانیوں سے سوال:۴

ہم نے کتب متعددہ سے توفی کے مجازی معنی موت کی تصریح دکھائی۔ دنیا بھر کے قادیانی کسی کتاب لغت سے توفی کے حقیقی معنی موت دکھا سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں۔

خلاصہ کلام:

یہ کہ توفی کے اصلی معنی پورا وصول کرنے اور ٹھیک لینے کے ہیں۔ قرآن کریم نے لفظ توفی کو نوم اور موت کے معنی میں اس لئے استعمال کیا کہ اہل عرب پر موت اور نوم کی حقیقت واضح ہو جائے۔ جاہلیت والے اس حقیقت سے بالکل بے خبر تھے کہ موت اور نوم میں حق تعالیٰ کوئی چیز بندہ سے لیتے ہیں۔ عرب کا عقیدہ یہ تھا کہ انسان مر کر نیست ونابود ہو جاتا ہے۔ موت کو فنا اور عدم کے مترادف سمجھتے تھے۔ اس لئے وہ بعث اور نشأۃ ثانیہ کے منکر تھے۔ ﷲتعالیٰ نے ان کے رد کے لئے ارشاد فرمایا: ’’قُلْ یَتَوَفّٰکُمْ مَلَکُ الْمَوْتِ الَّذِیْ وُکِّلَ بِکُمْ ثُمَّ اِلٰی رَبِّکُمْ تُرْجَعُوْنَ (سجدہ:۱۱)‘‘ آپ ﷺ منکرین بعث سے کہہ دیجئے کہ مرکر تم فنا نہیں ہوتے بلکہ موت کا فرشتہ تم سے ﷲ کا پورا پورا حق وصول کر لیتا ہے۔ یعنی وہ ارواح کہ جو ﷲ کی امانت ہیں وہ تم سے لے لی جاتی ہیں اور ﷲ کے یہاں محفوظ رہتی ہیں۔ قیامت کے دن پھر یہی ارواح تمہارے اجسام کے ساتھ متعلق کر کے حساب کے لئے پیشی ہوگی۔

حضرت شاہ عبدالقادر صاحب قدس ﷲ سرہ فرماتے ہیں: ’’تم اپنے آپ کو دھڑ سمجھتے ہو کہ خاک میں رل گئے تم

227

جان لو وہ فرشتہ لے جاتا ہے فنا نہیں ہوتے۔‘‘

شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے ان مختصر الفاظ میں اسی حقیقت کی طرف اشارہ فرمایا جس کی ہم نے وضاحت کی۔ اس آیت میں بھی توفی کے معنی موت کے نہیں بلکہ حق وصول کرنے کے ہیں۔ موت دینے والا تو صرف وہی محیی اور ممیت ہے۔ ملک الموت تو ﷲ کا حق وصول کرنے والا ہے۔

آیت توفی کی تفسیر:

جب توفی کے معنی معلوم ہو گئے تو اب آیت توفی کی تفسیر سنئے۔ یہود بے بہبود نے جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قتل کی تدبیریں شروع کیں تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بھی اس کو محسوس فرمالیا۔ ’’کما قال تعالٰی فَلَمَّا اَحَسَّ عِیْسٰی مِنْہُمُ الْکُفْرَ‘‘ تو ﷲ تعالیٰ نے اس وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تسلی فرمائی کہ اے عیسیٰ تم گھبراؤ مت۔ یہ تو تدبیریں کر ہی رہے ہیں ہم بھی تدبیریں کر رہے ہیں۔ عنقریب تم کو معلوم ہو جائے گا۔

اس آیت شریفہ میں حق تعالیٰ نے ان پانچ وعدوں کا ذکر فرمایا ہے جو ﷲتعالیٰ نے اس وقت عیسیٰ علیہ السلام سے فرمائے۔ ایک: توفی، دوم: رفع، اور سوم: تطہیر من الکفار یعنی کافروں سے پاک کرنا، اور چہارم: متبعین کا منکرین پر قیامت تک غالب اور فائق رہنا، اور پنجم: فیصلۂ اختلافات۔ اوّل کے تین وعدے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ذات بابرکات کے متعلق ہیں اور چوتھا خدام کے متعلق ہے اور پانچواں فیصلہ کے متعلق ہے جس کا تعلق سب سے ہے۔

چار وعدے

۱… وعدۂ توفی:

جمہور صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین اور تابعین رحمہم اللہ علیہ اور عامہ سلف وخلف اس طرف گئے ہیں کہ آیت میں توفی سے موت کے معنی مراد نہیں بلکہ توفی کے اصلی اور حقیقی معنی مراد ہیں یعنی پورا پورا اور ٹھیک ٹھیک لے لینا۔ کیونکہ مقصود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تسلی اور تسکین ہے کہ اے عیسیٰ تم ان دشمنوں کے ہجوم اور نرغہ سے گھبراؤ نہیں میں تم کو پورا پورا روح اور جسم سمیت ان نابکاروں سے چھین لوں گا۔ یہ نابکار اور ناہنجار اس لائق نہیں کہ تیرے وجود مسعود کو ان میں رہنے دیا جائے۔ ان کی ناقدردانی اور ناسپاسی کی سزا یہ ہے کہ ان سے اپنی نعمت واپس لے لی جائے۔ حضرت مولانا الشاہ سید محمد انور نور ﷲ وجہہ یوم القیامۃ ونضر (آمین) فرماتے ہیں۔

وجوہ لم تکن اہلًا لخیرٍ فیاخذ منہم عیسٰی الیہ

’’یہ چہرے خیر کے قابل نہ تھے اس لئے ﷲتعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو ان سے لے کر اپنی طرف کھینچ لیا۔‘‘

ویرفعہ ولا یبقیہ فیہم کاخذ الشیٔ لم یشکر علیہ

’’اور اپنی طرف اٹھا لیا اور نہ چھوڑا۔ عیسیٰ علیہ السلام کو ان سے ایسا لے لیا۔ جیسا کہ اس شئے کو لے لیا جاتا ہے کہ جس کی ناقدری کی جائے۔‘‘

وحیز کما یحاز الشیٔ حفظًا واٰواہ الٰی ماویٰ لدیہ

’’اور ان سے چھین کر اپنے پاس محفوظ رکھا اور اپنے یہاں ان کو ٹھکانا دیا۔‘‘

اس مقام پر موت کے معنی مناسب نہیں۔ اس لئے کہ جب ہر طرف سے خون کے پیاسے اور جان کے لیوا کھڑے ہوئے ہوں تو اس وقت تسلی اور تسکین خاطر کے لئے موت کی خبر دینا یا موت کا ذکر کرنا مناسب نہیں۔ دشمنوں کا تو

228

مقصود ہی جان لینا ہے اس وقت تو مناسب یہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ تم گھبراؤ نہیں ہم تم کو تمہارے دشمنوں کے نرغہ سے صحیح سالم نکال لے جائیں گے۔ تمہارا بال بھی بیکا نہ ہوگا۔ ہم تم کو دشمنوں کے درمیان سے اس طرح اٹھالیں گے کہ تمہارے دشمنوں کو تمہارا سایہ بھی نہ ملے گا۔ آیت میں اگر توفی سے موت کے معنی مراد ہوں تو عیسیٰ علیہ السلام کی تو تسلی نہ ہوگی۔ البتہ یہود کی تسلی ہوگی اور معنی آیت کے یہ ہوں گے کہ اے یہود! تم بالکل نہ گھبراؤ اور نہ مسیح کے قتل کی فکر کرو۔ میں خود ہی ان کو موت دوں گا اور تمہاری تمنا اور آرزو پوری کروں گا۔ خود بخود تمہاری تمنا پوری ہو جائے گی۔ تمہیں کوئی مشقت بھی نہ ہوگی۔

۲… نیز یہ کہ توفی بمعنی الموت تو ایک عام شئے ہے جس میں تمام مؤمن اور کافر، انسان اور حیوان سب ہی شریک ہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی کیا خصوصیت ہے جو خاص طور پر ان سے توفی کا وعدہ فرمایا گیا؟ قرآن کریم کے تتبع اور استقراء سے معلوم ہوتا ہے کہ توفی کا وعدہ حق تعالیٰ نے سوائے عیسیٰ علیہ السلام کے اور کسی سے نہیں فرمایا۔

رفع کا معنی:

جب ’’رَفَعَ یَرْفَعُ رَفُعًا فَہُوَ رَافِعٌ‘‘ میں سے کوئی بولا جائے جہاں ﷲتعالیٰ فاعل ہو، اور مفعول ’’جوہر‘‘ ہو (’’عرض‘‘ نہ ہو) اور صلہ الیٰ مذکور ہو اور مجرور اس کا ضمیر ہو۔ اسم ظاہر نہ ہو اور وہ ضمیر فاعل کی طرف راجع ہو۔ وہاں سوائے آسمان پر اٹھانے کے دوسرے معنی ہی نہیں۔

وعدہ دوم:

’’کَمَا قَالَ تَعَالٰی وَرَافِعُکَ اِلَیَّ‘‘ یعنی اے عیسیٰ میں تم کو اپنی جانب اٹھاؤں گا۔ جہاں کسی انسان کی رسائی بھی نہیں ہوسکتی۔ جہاں میرے فرشتے رہتے ہیں وہاں تم کو رکھوں گا۔ اس آیت میں رفع سے رفع جسمانی مراد ہے۔ اس لئے کہ:

۱… ’’رافعک‘‘ میں خطاب جسم مع الروح کو ہے۔

۲… رفع درجات تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پہلے ہی سے حاصل تھا اور رفع روحانی بصورت موت، یہ مرزاقادیانی کے زعم کے مطابق خود ’’متوفیک‘‘ سے معلوم ہو چکا ہے۔ لہٰذا دوبارہ ذکر کرنا موجب تکرار ہے۔

۳… نیز رفع روحانی ہر مرد صالح اور نیک بخت کی موت کے لئے لازم ہے اس کو خاص طور پر بصورت وعدہ بیان کرنا بے معنی ہے۔

۴… نیز باتفاق محدثین ومفسرین اور مورخین یہ آیتیں نصاریٰ نجران کے مناظرہ اور ان کے عقائد کی اصلاح کے بارے میں اتری ہیں اور ان کا عقیدہ یہ تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام صلیب پر چڑھائے گئے اور پھر دوبارہ زندہ ہوکر آسمان پر اٹھائے گئے۔ لہٰذا اگر رفع الی السماء کا عقیدہ غلط اور باطل تھا تو قرآن نے جس طرح عقیدۂ ابنیت اور عقیدۂ تثلیث اور عقیدۂ قتل اور صلیب کی صاف صاف لفظوں میں تردید کی تو اسی طرف رفع الی السماء کے عقیدہ کی بھی صاف صاف لفظوں میں تردید ضروری تھی اور جس طرح ’’وما قتلوہ‘‘ اور ’’ماصلبوہ‘‘ کہہ کر عقیدہ قتل وصلب کی تردید فرمائی۔ اسی طرح بجائے ’’بل رفعہ اللّٰہ‘‘ کے ’’مارفعہ اللّٰہ‘‘ فرماکر عقیدہ رفع الی السماء کی تردید ضروری تھی۔ سکوت اور مبہم الفاظ سے نصاریٰ کی تو کیا اصلاح ہوتی مسلمان بھی اشتباہ اور گمراہی میں پڑ گئے۔ (معاذ ﷲ)

نیز اگر توفی اور رفع سے موت اور رفع روحانی مرادہو تو وعدہ ’’تطہیر من الکفار‘‘ اور ’’وعدہ کف عن بنی اسرائیل‘‘ کی کوئی حقیقت اور اصلیب باقی نہیں رہتی۔ جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے: ’’واذ کففت بنی اسرائیل عنک اذ جئتہم بالبینٰت‘‘ اس آیت میں حق جل شانہ کے ان انعامات اور احسانات کا ذکر ہے کہ جو قیامت کے دن حق جل شانہ بطور امتنان عیسیٰ علیہ السلام کو یاد دلائیں گے ان میں سے ایک احسان یہ ہے کہ تجھ کو بنی اسرائیل

229

کی دست درازی سے محفوظ رکھا۔

وعدہ سوم:

’’وَمُطَہِّرُکَ مِنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا‘‘

حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے تیسرا وعدہ یہ فرمایا کہ تجھ کو اپنے اور تیرے دشمنوں یعنی کافروں سے پاک کروں گا اور ان کے ناپاک اور نجس پڑوس میں تجھ کو نہیں رہنے دوں گا بلکہ نہایت مطہر اور معطر جگہ میں تجھ کو بلالوں گا۔ لفظ مطہرک، کفر اور کافروں کی نجاست کی طرف اشارہ کرنے کے لئے استعمال فرمایا۔ ’’کما قال تعالٰی انما المشرکون نجس‘‘ یعنی یہ نجس اور گندے آپ کے جسم مطہر کے قریب بھی نہ آنے پائیں گے۔

وعدہ چہارم: غلبہ متبعین برمنکرین

’’وَجَاعِلُ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْکَ فَوْقَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃ‘‘ {اور اے عیسیٰ علیہ السلام میں تیری پیروی کرنے والوں کو تیرے کفر کرنے والوں پر قیامت تک غالب رکھوں گا۔}

چنانچہ جس جگہ یہود اور نصاریٰ ہیں، وہاں نصاریٰ یہود پر غالب اور حکمران ہیں۔ آج تک یہود کو نصاریٰ کے مقابلہ میں کبھی حکمرانی نصیب نہیں ہوئی۔

وعدہ پنجم: فیصلہ اختلاف

’’ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُکُمْ فَاَحْکُمُ بَیْنَکُمْ فِیْمَا کُنْتُمْ فِیْہِ تَخْتَلِفُوْنَ‘‘

یہ پانچواں وعدہ ہے جو اختلاف کے فیصلہ کے متعلق ہے۔

توفی کی دوسری نوع

اور اگر اس آیت میں توفی کی دوسری نوع یعنی نوم (نیند) مراد لی جائے تب بھی مرزاقادیانی کے لئے مفید نہیں۔ کیونکہ اس صورت میں ’’مُتَوَفِّیْکُ‘‘ معنی میں منیمک کے ہوگا اور آیت کے معنی یہ ہوں گے کہ ’’اے عیسیٰ علیہ السلام میں تجھ کو سلاؤں گا۔‘‘ اور سونے کی حالت میں تجھ کو آسمان پر اٹھاؤں گا۔ جیسا کہ تفسیر ابن جریر اور معالم التنزیل میں ربیع بن انس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے۔

۱… ’’قال الربیع بن انس المراد بالتو فی النوم وکان عیسٰی علیہ السلام قد نام فرفعہ اللّٰہ نائمًا الی السماء معناہ انی منیمک ورافعک الی کما قال تعالٰی وہو الذی یتوفٰکم باللیل ای ینیمکم باللیل واللّٰہ اعلم‘‘

’’ربیع بن انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آیت میں توفی سے نوم یعنی نیند مراد ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سوگئے تھے۔ ﷲتعالیٰ نے ان کو اسی حالت میں آسمان پر اٹھایا اور آیت کے یہ معنی ہیں کہ اے عیسیٰ علیہ السلام میں تجھ کو سلاؤں گا اور اسی حالت میں تجھ کو اپنی طرف اٹھاؤں گا۔ جیسا کہ ﷲتعالیٰ کے اس ارشاد ’’وَہُوَ الَّذِیْ یَتَوَفّٰکُمْ بِاللَّیْلِ‘‘ {وہی ہے کہ جو تم کو رات میں سلاتا ہے۔} میں توفی سے نوم مراد ہے۔‘‘ لیکن توفی بمعنی نوم سے بھی مرزاقادیانی کی تمنا اور آرزو پوری نہیں ہوتی۔ کیونکہ نیند کی حالت میں آدمی زندہ رہتا ہے مرتا نہیں۔

توفی کی تیسری نوع

یعنی موت: اور اگر اس آیت میں توفی سے اس کی تیسری نوع مراد لی جائے جیسا کہ علی بن طلحہ حضرت ابن

230

عباس رضی اللہ عنہ سے ’’متوفیک‘‘ کی تفسیر ’’ممیتک‘‘ کے ساتھ روایت کرتے ہیں تب بھی مرزاقادیانی کا مدعا وفات قبل النزول حاصل نہیں ہوتا۔ اس لئے کہ امام بغوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کے اس قول کے دو مطلب ہو سکتے ہیں۔

پہلا مطلب: ایک مطلب تو یہ کہ جو وہب بن منبہ اور محمد بن اسحق سے منقول ہے کہ ﷲتعالیٰ نے اوّلاً حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو وفات دی اور پھر کچھ دیر کے بعد ان کو زندہ کر کے آسمان پر اٹھایا۔ وہب یہ کہتے ہیں کہ دن کی تین ساعت مردہ رکھا اور پھر زندہ کر کے اٹھایا اور محمد بن اسحق یہ کہتے ہیں کہ دن کی سات ساعت مردہ رکھا اور پھر زندہ کر کے اٹھایا۔ غرض یہ کہ اگر توفی بمعنی موت تین ساعت یا سات ساعت کے لئے پیش بھی آئی تو اس کے بعد دوبارہ زندگی اور رفع الی السماء بھی واقع ہوا ہے اور مرزاقادیانی اس کے قائل نہیں۔

دوسرا مطلب: ابن عباس رضی اللہ عنہ کے اس قول کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ خود ابن عباس رضی اللہ عنہ کے شاگرد خاص یعنی ضحاک رحمۃ اللہ علیہ سے منقول ہے کہ آیت میں تقدیم وتاخیر ہے جیسا کہ شیخ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ تفسیر درمنثور میں فرماتے ہیں:

۲… ’’اخرج اسحٰق بن بشر وابن عساکر من طریق جوہر عن الضحاکعن ابن عباس رضی اللہ عنہ فی قولہ تعالٰی انی متوفیک ورافعک الیّ یعنی رافعک ثم متوفیک فی آخرالزمان (درمنثور ج۲ ص۳۶)‘‘ {ضحاک کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ ’’متوفیک ورافعک‘‘ کی تفسیر میں یہ فرماتے تھے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کا رفع مقدم ہے اور ان کی وفات اخیرزمانہ میں ہوگی۔}

پس اگر ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ’’متوفیک‘‘ کی تفسیر ’’ممتیک‘‘ سے مروی ہے تو ان سے تقدیم وتاخیر بھی مروی ہے۔ لہٰذا ابن عباس رضی اللہ عنہ کے نصف قول کو جو اپنی ہوائے نفسانی اور غرض کے موافق ہو اسے لینا اور حجت قرار دینا اور دوسرے نصف کو جو ان کی غرض کے مخالف ہو اس سے گریز کرنا یہ ایسا ہی ہے جیسے تارک نماز کا ’’لَاتَقْرَبُوا الصَّلٰوۃَ‘‘ سے حجت پکڑنا اور ’’انتم سکارٰی‘‘ سے آنکھیں بند کر لینا۔ نصف قول ماننا اور نصف قول سے قطع نظر کر لینا یہ ’’نصف الاعمیٰ‘‘ اور ’’نصف البصیر‘‘ ہی کا کام ہے۔

علاوہ ازیں ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ’’متوفیک‘‘ کی تفسیر جو ’’ممیتک‘‘ مروی ہے اس کا راوی علی بن طلحہ ہے۔ محدثین کے نزدیک یہ راوی ضعیف اور منکر الحدیث ہے۔ علی بن طلحہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے نہ کچھ سنا ہے اورنہ ان کو دیکھا ہے۔ لہٰذا علی بن طلحہ کی روایت ضعیف بھی ہے اور منقطع بھی ہے جو حجت نہیں ہوسکتی بلکہ اس کے برعکس ابن عباس رضی اللہ عنہ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا صحیح وسالم زندہ آسمان پر اٹھایا جانا باسانید صحیحہ اور جیدہ منقول ہے۔ تعجب اور سخت تعجب ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کی وہ تفسیر جس کی سند ضعیف اور منکر اور غیرمعتبر ہو وہ تو مرزائیوں کے نزدیک معتبر ہو جائے اور ابن عباس رضی اللہ عنہ کی وہ تفسیر جو اسانید صحیحہ اور جیدہ اور روایات معتبرہ سے منقول ہے وہ مرزاقادیانی کے نزدیک قابل قبول نہ ہو۔

جواب دیگر:

اور اگر بالفرض یہ تسلیم کر لیا جائے کہ ’’متوفیک‘‘ کی تفسیر ’ممیتک‘‘ کے ساتھ صحیح ہے تو یہ کہیں گے کہ مرزاقادیانی (ازالۃ الاوہام ص۹۴۲، خزائن ج۳ ص۶۲۰) پر لکھتے ہیں کہ: ’’اماتت کے حقیقی معنی صرف مارنا اور موت دینا نہیں بلکہ سلانا اور بیہوش کرنا بھی اس میں داخل ہے۔‘‘

مرزاقادیانی اس عبارت میں فقط اس امر کے مدعی نہیں کہ اماتت کے معنی کبھی سلانے کے بھی آجاتے ہیں بلکہ اس کے مدعی ہیں کہ جس طرح مارنا، موت دینا،ا ماتت کے حقیقی معنی ہیں اسی طرح سلانا اور بے ہوش کرنا بھی اماتت کے حقیقی معنی ہیں۔ لہٰذا جب مرزاقادیانی کے نزدیک اماتت کے حقیقی معنی سلانے کے بھی ہیں تو ابن عباس رضی اللہ عنہ کی تفسیر ممیتک

231

میں اگر اماتت سے سلانے کے معنی مراد لئے جائیں تو کوئی مضائقہ نہیں۔ اس لئے کہ مرزاقادیانی کے نزدیک یہ معنی بھی حقیقی ہیں اور آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ نیند کی حالت میں آسمان پر اٹھائے گئے۔ جیسا کہ ربیع رضی اللہ عنہ سے منقول ہے اور حدیث میں بھی اماتت بمعنی انامت یعنی سلانے کے معنی میں آیا ہے: ’’الحمد ﷲ الذی احیانا بعد ما اماتنا والیہ النشور‘‘ (مسلم ج۲ ص۳۴۸، باب الدعاء عند النوم)

اقوال مفسرین:

گزشتہ تفصیل کے بعد اب کسی مزید توضیح کی ضرورت نہیں۔ مگر چونکہ توفی کے استعمالات مختلف ہیں اس لئے حضرات مفسرین سے اس آیت کی جو توجیہات منقول ہیں ہم ان توجیہات کو نقل کر کے یہ بتلانا اور دکھانا چاہتے ہیں کہ تمام مفسرین سلف اور خلف اس پر متفق ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام بجسدہ العنصری زندہ آسمان پر اٹھائے گئے۔ آیت شریفہ کی توجیہات اور تفسیری تعبیرات میں اگرچہ بظاہر اختلاف ہے لیکن رفع الی السماء پر سب متفق ہیں۔ اس میں کسی کو اختلاف نہیں ہے۔

عباراتنا شتی وحسنک واحد وکل الی ذاک الجمال یشیر

’’ہماری تعبیرات مختلف ہیں اور تیرا حسن ایک ہے، سب کا اشارہ اسی ایک حسن کی طرف ہے۔‘‘

قول اوّل:

توفی سے استیفاء اور استکمال کے معنی مراد ہیں اور استیفاء اور استکمال سے عمر کا اتمام مراد ہے اور مطلب آیت کا یہ ہے کہ اے عیسیٰ علیہ السلام تم دشمنوں سے گھبراؤ نہیں۔ یہ قتل اور صلب سے تمہاری عمر ختم کرنا چاہتے ہیں یہ سب ناکام رہیں گے۔ میں تمہاری عمر پوری کروں گا اور اس وقت میں تم کو آسمان پر اٹھاؤں گا چنانچہ امام رازی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

۳… ’’الاوّل معنی قولہ انی متوفیک ای متم عمرک فحینئذٍ اتوفاک فلا اترکہم حتی یقتلوک بل انا رافعک الی سمائی ومقربک بملائکتی واصونک عن ان یتمکنوا من قتلک وہذا تاویل حسن‘‘

(تفسیر کبیر ج۲ ص۴۸۱)

’’انی متوفیک کے معنی یہ ہیں کہ اے عیسیٰ علیہ السلام میں تیری عمر پوری کروں گا کوئی شخص تجھ کو قتل کر کے تیری عمر قطع نہیں کر سکتا۔ میں تجھ کو تیرے دشمنوں کے ہاتھ میں نہیں چھوڑوں گا کہ وہ تجھ کو قتل کر سکیں۔ بلکہ میں تجھ کو آسمان پر اٹھاؤں گا اور اپنے فرشتوں میں رکھوں گا۔ امام رازی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ معنی نہایت عمدہ ہیں۔‘‘

اور اسی معنی کو علامہ زمخشری نے ’’تفسیر کشاف‘‘ میں ذکر کیا ہے اور اس معنی کرنے سے کلام اپنے حال پر ہے۔ کلام میں کوئی تقدیم وتاخیر نہیں۔ توفی کے معنی اتمام عمر کے ہیں جو ابتدائے عمر سے لے کر اخیر عمر تک صادق ہیں۔ اسی درمیان میں رفع الی السماء ہوا اور اسی درمیان میں نزول ہوگا اور وقت پر وفات ہوگی۔ اسی طرح عمر شریف پوری ہوگی۔

۴… ’’قال الزمخشری انی متوفیک ای مستوفی اجلک ومعناہ انی عاصمک من ان یقتلک الکفار وموخرک الی اجل کتبتہ لک وممیتک حتف انفک لا قتلًا بایدیہم‘‘ (مشکلات القرآن ص۱۳۲)

قول دوم:

توفی سے قبض من الارض کے معنی مراد ہیں۔ یعنی اے عیسیٰ علیہ السلام میں تم کو ان کافروں سے چھین کر پورا پورا اپنے قبضہ میں لے لوں گا۔ جیسا کہ امام رازی قدس ﷲ سرہ فرماتے ہیں:

۵… ’’ان التوفی ہو القبض یقال وفانی فلان دراہمی واوفانی وتوفیتہا منہ کما یقال سلم فلان الی دراہمی وتسلمتہا منہ‘‘ یعنی توفی کے معنی کسی شئے پر پوری طرح قبضہ کر لینے کے ہیں۔ جیسا کہ

232

کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص نے میرے پورے روپے دے دئیے اور میں نے اپنے پورے روپے اس سے وصول کر لئے۔ (تفسیر کبیر ج۲ ص۴۸۱)

آیت کے یہ معنی حسن بصری اور مطر ورّاق اور ابن جریج اور محمد جعفر بن زبیر رحمہم ﷲ سے منقول ہیں اور امام ابن جریر طبری رحمۃ اللہ علیہ نے اسی معنی کو اختیار فرمایا ہے۔ اس معنی کے کرنے سے بھی آیت میں کوئی تقدیم وتاخیر نہیں۔ قول اوّل اور قول ثانی دونوں قولوں میں توفی کے معنی استیفاء اور استکمال ہی کے ہیں۔ فرق اتنا ہے کہ پہلے قول میں استیفاء سے اجل اور عمر کا اتمام اور اکمال مراد لیاگیا، اور دوسرے قول میں ایک شخص اور ایک ذات کا پورا پورا قبضہ میں لینا مراد لیاگیا ہے۔ ایک جگہ استیفاء اجل ہے اور ایک جگہ استیفاء شخص اور استیفاء قبضہ ہے۔

قول سوم:

توفی کے معنی ’’اخذ الشیٔ وافیا‘‘ کے معنی کسی سے کسی چیز کو پورا پورا لے لینا، اور اس جگہ عیسیٰ علیہ السلام کو روح اور جسم دونوں کے ساتھ لینا مراد ہے۔ جیسا کہ امام رازی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

۶… ’’ان التوفی اخذ الشیٔ وافیا ولما علم اللّٰہ تعالٰی ان من الناس من یخطر ببالہ ان الذی رفعہ اللّٰہ ہو روحہ لا جسدہ ذکر ہذا الکلام لیدل علی انہ علیہ الصلوٰۃ والسلام رفع بتمامہ الی السماء بروحہ وبجسدہ ویدل علٰی صحۃ ہذا التاویل قولہ تعالٰی وما یضرّونک من شیٔ‘‘ توفی کے معنی کسی شئے کو پورا پورا اور بجمیع اجزائہٖ لے لینے کے ہیں۔ چونکہ حق تعالیٰ کو معلوم تھا کہ بعض لوگوں کے دل میں یہ وسوسہ گزرے گا کہ شاید ﷲتعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی صرف روح کو اٹھایا اس لئے متوفیک کا لفظ فرمایا تاکہ معلوم ہو جائے کہ عیسیٰ علیہ السلام روح اور جسم سمیت آسمان پر اٹھائے گئے۔ جیسا کہ ﷲتعالیٰ نے دوسری جگہ فرمایا ہے: ’’وما یضرونک من شیٔ‘‘ تم کو ذرہ برابر ضرر نہیں پہنچا سکیں گے نہ روح کو نہ جسم کو۔ (تفسیر کبیر ج۲ ص۴۸۱)

قول چہارم:

توفی سے نوم کے معنی مراد ہیں۔ یعنی سلا کر تم کو اپنی طرف اٹھاؤں گا کہ تم کو خبر بھی نہ ہو کہ کیا ہوا اور آسمان اور فرشتوں ہی میں جاکر آنکھ کھلے گی۔ یہ قول ربیع بن انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔

۷… ’’قال الربیع بن انس المراد بالتوفی النوم وکان عیسٰی علیہ السلام قدنام فرفعہ اللّٰہ نائمًا الی السماء معناہ منیمک ورافعک الیّ کما قال تعالٰی وہو الذی یتوفکم بالیل‘‘

ربیع بن انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ توفی سے نوم یعنی نیند کے معنی مراد ہیں۔ ﷲتعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سونے کی حالت میں آسمان پر اٹھایا جیسا کہ ’’وہو الذی یتوفٰکم باللیل‘‘ اس آیت میں توفی سے نوم کے معنی مراد ہیں۔

(تفسیر درمنثور ج۲ ص۳۶، معالم التنزیل تفسیر کبیر وغیرہ وغیرہ)

فائدہ: متعلقہ بآیت مائدہ

جب یہ ثابت ہو گیا کہ توفی کے حقیقی معنی ’’استفیاء‘‘ اور ’’استکمال‘‘ اور ’’اخذ الشیٔ وافیا‘‘ (یعنی کسی شئے کو پورا پورا لینے کے ہیں) اور ’’اِنِّی مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعْکَ اِلَیَّ‘‘ میں توفی سے موت کے معنی مراد نہیں بلکہ توفی سے رفع آسمانی مراد ہے تو اسی طرح سورۂ مائدہ کی آیت توفی کو سمجھئے کہ وہاں بھی توفی سے رفع الی السماء ہی مراد ہے اور ’’فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ‘‘ کے معنی ’’فَلَمَّا رَفَعْتَنِی اِلَی السَّمَا ء‘‘ کے ہیں۔ چنانچہ تمام معتبر تفاسیر میں ’’تَوَفَّیْتَنِی‘‘ کی تفسیر ’’رفعتنی‘‘ کے ساتھ مذکور ہے۔ چند تفاسیر کے حوالہ پر اکتفاء کرتے ہیں۔

233

۸… جیسا کہ تفسیر ابن جریر۔

۹… ابن کثیر۔

۱۰… درمنثور میں ہے۔

۱۱… امام رازی رحمۃ اللہ علیہ (تفسیر کبیر ج۳ ص۷۰۰) میں لکھتے ہیں: ’’فلما توفیتنی المراد بہ وفاۃ الرفع الی السماء‘‘

۱۲… (تفسیر ابی السعود ج۳ ص۷۰۱) ’’ورافعک الیّ فان التوفی اخذ الشیٔ وافیًا‘‘

۱۳… تفسیر بیضاوی۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ جن کے متعلق مرزاقادیانی کو بھی اقرار ہے وہ بہ برکت دعائے نبوت ﷺ قرآن سمجھنے میں اوّل نمبر پر تھے، کی روایت سے ’’تفسیر معالم‘‘ میں مرقوم ہے۔

۱۴… ’’فَبَعَثَ اللّٰہُ جِبْرَائِیْلَ فَادْخَلَہٗ فِیْ خَوْخَۃٍ فِیْ سَقُفَہَا رَوْزَنَۃ فَرَفَعَہُ اِلَی السَّمَائٍ مِنْ تِلْک الرَّوَزَنَۃِ فَاَلْقٰی اللّٰہَ عَلَیْہِ شِبْہَ عِیْسٰی عَلَیْہِ السَّلَام فَقْتَلُوْہُ وَصَلَبُوْہُ‘‘ (معالم التنزیل ج۱ ص۳۰۸)

’’وہ شخص جو مسیح علیہ السلام کو پکڑنے کے لئے گیا تھا مکان کے اندر پہنچا تو خدا نے جبرائیل کو بھیج کر مسیح علیہ السلام کو آسمان پر اٹھا لیا اور اسی بدبخت یہودی کو مسیح علیہ السلام کی شکل پر بنادیا پس یہود نے اسی کو قتل کیا اور صلیب پر چڑھا دیا۔‘‘

۱۵… تفسیر روح المعانی۔

۱۶… تفسیر خازن ج۱ ص۶۰۸ میں بھی ہیں۔

’’الغرض ان تمام تفاسیر میں صراحۃً اس کی تصریح ہے کہ توفی سے رفع الی السماء مراد ہے اور بالفرض اگر یہ تسلیم کر لیا جائے کہ آیت مائدہ میں توفی سے کنایتہ موت مراد لی گئی ہے تب بھی مرزاقادیانی کا مدعا ثابت نہیں ہوسکتا۔ اس لئے کہ اس آیت میں اس وفات کا ذکر ہے جو بعد از نزول، قیامت سے پہلے ہو گی۔ کیونکہ آیت کا تمام سیاق وسباق اس بات پر شاہد ہے کہ یہ تمام واقعہ کوئی گزشتہ واقعہ نہیں بلکہ مستقبل یعنی قیامت کا واقعہ ہے اور قیامت سے پہلے ہم بھی وفات مسیح کے قائل ہیں۔ جیسا کہ ’’یَوْمَ یَجْمَعُ اللّٰہُ الرُّسُلَ‘‘ اور ’’ہٰذَا یَوْمَ یَنْفَعُ الصّٰدِقِیْنَ صِدْقُہُمُ‘‘ اور ’’وَیَوْمَ الْقِیَامَۃِ یَکُوْنُ عَلَیْہِمْ شَہِیْدًا‘‘ سے صاف ظاہر ہے۔‘‘

۱۷… ’’اخرج عبدالرزاق وابن ابی حاتم عن قتادۃ فی قولہ أنت قلت للناس اتخذونی وامی الٰہین من دون اللّٰہ متی یکون ذلک قال یوم القیامۃ الاتری انہ یقول یوم ینفع الصدقین‘‘ عبدالرزاق اور ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ سے نقل کیا کہ قتادہ سے ’’أَاَنْتَ قُلْتَ للِنَّاسِ اتَّخِذُوْنِیْ‘‘ کے متعلق دریافت کیاگیا کہ یہ واقعہ کب ہو گا؟ تو یہ فرمایا کہ قیامت کے دن ہوگا جیسا کہ ’’ہٰذَا یَوْمُ یَنْفَعُ الصّٰدِقِیْنَ‘‘ سے صاف معلوم ہوتا ہے بلکہ بعض مرفوع احادیث میں بھی اس کی تصریح موجود ہے کہ یہ واقعہ قیامت کا ہے۔

234

۱۸… ’’روی ابن عساکر عن ابی موسٰی الاشعری رضی اللہ عنہ قال قال رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم اذا کان یوم القیٰمۃ یدعٰی بالانبیاء واممہم ثم یدعٰی بعیسٰی فیذکرہ نعمتہ علیہ فیقربہا فیقول بعیسٰی اذکر نعمتی علیک وعلٰے والدتک الآیتہ ثم یقول أانت قلت للناس اتخذونی وامی الٰہین من دون اللّٰہ فینکر ان یکون قال ذلک (حدیث)‘‘ (تفسیر ابن کثیر ج۳ ص۲۸۱)

’’ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن انبیاء اور ان کی امتوں کو بلایا جائے گا۔ پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بلایا جائے گا۔ حق تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اپنے قریب بلا کر یہ فرمائیں گے کہ تم ہی نے کہا تھا مجھ کو اور میری ماں کو خدا بناؤ۔ عیسیٰ علیہ السلام انکار فرمائیں گے کہ معاذ ﷲ میں نے ہرگز نہیں کہا۔‘‘

۱۹… ’’واخرج ابن مردویہ عن جابر بن عبداللّٰہ انہ سمع النبی ﷺ یقول اذا کان یوم القیامۃ جمعت الامم ودعا کل ناس بامامہم قال ویدعٰی عیسٰی فیقول بعیسٰی یعیسٰی أانت قلت للناس اتخذونی وامی الٰہین من دون اللّٰہ فیقول سبحنک ما یکون لی ان اقول ما لیس لی بحق الٰی قولہ یوم ینفع الصدقین‘‘

(درمنثور ج۲ ص۳۴۹)

اس حدیث شریف کا ترجمہ تقریباً وہی ہے جو کہ پہلی حدیث کا ہے۔ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی حدیث کی طرح جابر بن عبد ﷲ رضی اللہ عنہ کی اس روایت میں بھی اس امر کی تصریح موجود ہے کہ قیامت کے دن عیسیٰ علیہ السلام سے یہ دریافت کیا جائے گا۔

مرزاقادیانی جس موت کے مدعی ہیں وہ کسی لفظ سے بھی ثابت نہیں ہوتی۔ مرزاقادیانی کا دعویٰ تو یہ ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام واقعۂ صلیب کے بعد کشمیر تشریف لے گئے اور ستاسی سال زندہ رہ کر شہر سری نگر کے محلہ خان یار میں مدفون ہوئے۔ یہ نہ کسی آیت سے ثابت ہے نہ کسی حدیث سے اور نہ کسی صحابی رضی اللہ عنہ اور تابعی رحمۃ اللہ علیہ بلکہ کسی معتبر عالم کے قول سے بھی ثابت نہیں۔ ممکن ہے کہ یہ بھی اسی کنہیا لال اور مراری لال وروشن لال سے منقول ہو جنہوں نے کریم بخش کے صادق ہونے کی گواہی دی ہے۔

مرزاقادیانی (ازالہ اوہام ص۷۰۸، خزائن ج۳ ص۴۸۲) میںلکھتے ہیں کہ: ’’کریم بخش روایت کرتے ہیں کہ گلاب شاہ مجذوب نے تیس برس پہلے مجھ کو کہا کہ اب عیسیٰ جوان ہوگیا ہے اور لدھیانہ میں آکر قادیانی غلطیاں نکالے گا۔ پھرکریم بخش کی تعدیل بہت سے گواہوں سے کی گئی جن میں خیراتی، بوٹا، کنہیا لال، مراری لال، روشن لال، گنیشا مل وغیرہ ہیں اور گواہی یہ ہے کہ کریم بخش کا جھوٹ کبھی ثابت نہیں ہوا۔‘‘

ائمۂ حدیث جب کسی راوی کی توثیق اور تعدیل نقل کرتے ہیں تو احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ اور یحییٰ بن معین رحمہم اللہ علیہ کا نام مبارک پیش کر دیتے ہیں۔ مرزاقادیانی کو جب کریم بخش کی روایت کی تعدیل کی ضرورت پیش آئی تو کنہیا لال اور مراری لال کی تعدیل پیش کی۔ ناظرین کرام! تعجب نہ فرمائیں۔ نبی کاذب کے سلسلۂ روایت کے لئے کنہیا لال اور مراری لال جیسے راوی مناسب اور ضروری ہیں۔ مرزاقادیانی بھی معذور ہیں۔ اپنی مسیحیت کی گواہی میں آخر کس کو پیش کریں؟ حضرات محدثین کے نزدیک ’’مالک عن نافع عن ابن عمر رضی اللہ عنہ بسند سلسلۃ الذہب‘‘ کے نام سے موسوم ہے۔ یہ سلسلۃ الذہب تو حضرات محدثین کا ہے اور مرزاقادیانی کا سلسلۃ الذہب یہ ہے کہ جو حضرات ناظرین نے پڑھا یعنی کنہیا لال اور مراری لال اور روشن لال۔

235

اے مرزائیو! تمہیں کیا ہوا؟ مالک رحمۃ اللہ علیہ اور نافع رحمۃ اللہ علیہاور ابن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت تو تمہاری نظر میں غیرمعتبر ہوگئی اور مرزاقادیانی اور مراری لال اور کنہیا لال اور روشن لال کی اور اس قسم کے پاگل داس لوگوں کی بکواس معتبر ہوگئی ؎

بریں عقل و دانش بباید گریست

۲۰… ’’فَاجْتَمَعَتِ الْیَہُوْدُ عَلٰی قَتْلِہٖ فَاَخْبَرَہُ اللّٰہُ بِاَنَّہٗ یَرْفَعُہٗ اِلَی السَّمَا ء وَیَطَہِّرُہٗ مِنْ صُحْبَۃِ الْیَہُوْدِ (نسائی وابن مردویہ ذکرہ فی السراج المنیر)‘‘ جب یہود مسیح کو قتل کرنے کے لئے اکٹھے ہوئے اس وقت ﷲتعالیٰ نے اسے خبر دی کہ میں تجھے آسمان پر اٹھاؤں گا اور کفار یہود کی صحبت سے پاک رکھوں گا۔

بیس تفسیری احادیث اور شواہدات پر اس آیت کی بحث کو ختم کرتے ہیں۔

حیات عیسیٰ علیہ السلام کی پانچویں دلیل

’’قَالَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ وَاِنْ ہُوَ اِلَّا عَبْدٌ اَنْعَمْنَا عَلَیْہِ وَجَعَلْنٰہٗ مَثَلًا لِّبَنِیْ اِسْرَائِیْلَ وَلَوْ نَشَآ ءُ لَجَعَلْنَا مِنْکُمْ مَلٰئِکَۃٍ فِی الْاَرْضِ یَخْلُفُوْنَ وَاِنَّہٗ لَعِلْمٌ للِّسَّاعَۃِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِہَا وَاتَّبِعُوْنِ ہٰذَا صِرَاطٌ مُسْتَقِیْمً وَلَا یَصُدَّنَّکُمُ الشَّیْطٰنُ اِنَّہٗ لَکُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ (زخرف:۵۹تا۶۱)‘‘ {وہ کیا ہے ایک بندہ ہے کہ ہم نے اس پر فضل کیا، اور کھڑا کر دیا اس کو بنی اسرائیل کے واسطے، اور اگر ہم چاہیں نکالیں تم میں سے فرشتے رہیں زمین میں تمہاری جگہ، اور وہ نشان ہے قیامت کا سو اس میں شک مت کرو اور میرا کہا مانو یہ ایک سیدھی راہ ہے، اور نہ روک دے تم کو شیطان وہ تو تمہارا دشمن ہے صریح۔}

تفسیری شواہد:

۱… علامہ عثمانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں۔ یعنی عیسیٰ علیہ السلام میں آثار فرشتوں کے سے تھے (جیسا کہ سورۂ مائدہ، آل عمران اور کہف کے فوائد میں اشارہ کیا جاچکا ہے) اتنی بات سے کوئی شخص معبود نہیں بن جاتا۔ اگر ہم چاہیں تو تمہاری نسل سے ایسے لوگ پیدا کریں یا تمہاری جگہ آسمان سے فرشتوں ہی کو لاکر زمین پر آباد کر دیں۔ ہم کو سب قدرت حاصل ہے۔ یعنی حضرت مسیح علیہ السلام کا اوّل مرتبہ آنا تو خاص بنی اسرائیل کے لئے ایک نشان تھا کہ بدوں باپ کے پیدا ہوئے اور عجیب وغریب معجزات دکھلائے اور دوبارہ آنا قیامت کا نشان ہوگا۔ ان کے نزول سے لوگ معلوم کر لیں گے کہ قیامت بالکل نزدیک آلگی ہے۔ یعنی قیامت کے آنے میں شک نہ کرو اور جو سیدھی راہ ایمان وتوحید کی بتلا رہا ہوں اس پر چلے آؤ۔ مبادا تمہارا ازلی دشمن شیطان تم کو اس راستے سے روک دے۔

۲… حضرت امام فخرالدین رازی رحمۃ اللہ علیہ (محمد بن عمر رحمۃ اللہ علیہ المتوفی۶۰۶ھ) اس کی تفسیر میں لکھتے ہیں: ’’وانہ ای عیسٰی لعلم للساعۃ شرط من اشراطہا تعلم بہ فسمی الشیٔ الدال علی الشیٔ علما لحصول العلم بہ‘‘ (تفسیر کبیر ج۲۷ ص۲۲۲)

’’اور بے شک وہ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام البتہ نشانی ہے قیامت کی یعنی قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے (اس لئے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد سے قیامت کا علم ہوگا) اس لحاظ سے علامت کو جو کسی شئے کے وجود پر دلالت کرتی ہے علم کہاگیا کیونکہ اس علامت کے ساتھ اس شئے کا علم حاصل ہوتا ہے۔‘‘

236

یعنی علامت کا اطلاق علم پر ہوا یہی وجہ ہے کہ اکثر مترجمین حضرات لعلم کا معنی بھی نشانی کے کرتے ہیں اور یہ ترجمہ دوسری قرأت کے عین موافق ہے ار دوسرے قرأت لعلم ہے۔ اس میں ابتداء میں لام اور اس کے بعد عین اور دوسری لام پر بھی فتحہ ہے۔ جس کا معنی نشانی اور علامت ہے اور یہ قرأت حضرت عبد ﷲ بن عباس رضی اللہ عنہ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، حضرت ابومالک غفاری رضی اللہ عنہ، حضرت زید بن علی رضی اللہ عنہ، حضرت قتادہ رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مجاہد رحمۃ اللہ علیہ، حضرت ضحاک رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مالک بن دینار رحمۃ اللہ علیہ، حضرت الاعمش کلبی رحمۃ اللہ علیہ اور بقول علامہ ابن عطیہ رحمۃ اللہ علیہ حضرت ابو نصرۃ رحمۃ اللہ علیہ کی ہے۔ (تفسیر البحر المحیط ج۸ ص۲۶، روح المعانی ج۲۵ ص۹۵) اور دونوں قرأتوں کا مفہوم بالکل واضح ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے نزول اور آمد سے قرب قیامت کا علم ہوگا اور وہ قیامت کی نشانی ہیں۔

۳… علامہ سید محمود آلوسی رحمۃ اللہ علیہ (المتوفی ۱۲۷۰ھ) لعلم اور لعلم دونوں قرأتوں کا تذکرہ کر کے آخر میں فرماتے ہیں کہ ’’والمشہور نزولہ علیہ السلام بدمشق وان الناس فی صلوٰۃ الصبح فیتاخر الامام وہو المہدی فیقدمہ عیسٰی علیہ السلام ویصلی خلفہ ویقول انما اقیمت لک‘‘

(روح المعانی ج۲۵ ص۹۶)

’’اور مشہور یہی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام دمشق میں نازل ہوں گے جبکہ لوگ صبح کی نماز میں مصروف ہوں گے اور امام مہدی علیہ الرضوان امام ہوں گے وہ پیچھے ہٹ جائیں گے تاکہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام امامت کرائیں مگر حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام حضرت امام مہدی علیہ الرضوان کو آگے کر کے ان کی اقتداء میں نماز پڑھیں گے اور فرمائیں گے کہ نماز آپ کے لئے قائم کی گئی تھی۔‘‘

اور نیز علامہ آلوسی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ: ’’وفی بعض الروایات انہ علیہ السلام ینزل علی ثنیۃ یقال لہا افیق بفاء وقاف بوزن امیروہی ہنا مکان بالقدس الشریف‘‘ (روح المعانی ج۲۵ ص۹۶)

’’اور بعض روایات (مثلاً مسند احمد ج۴ ص۲۱۶، مستدرک ج۴ ص۴۷۸، مجمع الزوائد ج۷ ص۳۴۲ وغیرہ) میں ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام افیق فاء اور قاف کے ساتھ بروزن امیر کے ٹیلہ پر نازل ہوں گے اور یہ قدس شریف میں ایک جگہ ہے۔ (جو سوق حمیدیہ میں جامع اموی کے مشرقی کنارہ پر ہے جس پر سفید مینار بنا ہوا ہے جہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام بوقت صبح نازل ہوں گے)‘‘

۴… مشہور مفسر الحافظ ابو الفداء اسماعیل رحمۃ اللہ علیہ بن کثیر القرشی الدمشقی (المتوفی۷۷۴ھ) فرماتے ہیں: ’’وانہ لعلم للساعۃ ای امارۃ دلیل علی وقوع الساعۃ قال مجاہد رحمۃ اللہ علیہ وانہ لعلم للساعۃ ای آیۃ للساعۃ خروج عیسٰی بن مریم علیہ السلام قبل یوم القیمۃ وہکذا روی عن ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ وابن عباس رضی اللہ عنہ وابی العالیۃ رضی اللہ عنہ وابی مالک رضی اللہ عنہ وعکرمۃ رضی اللہ عنہ والحسن رضی اللہ عنہ وقتادۃ رضی اللہ عنہ والضحاک رضی اللہ عنہ وغیرہم وقد تواترت الاحادیث عن رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم انہ اخبر بنزول عیسٰی علیہ السلام قبل یوم القیمۃ اماما عادلاً وحکما مقسطا‘‘ (تفسیر ابن کثیر ج۴ ص۱۳۲،۱۳۳)

’’اور بے شک وہ (عیسیٰ علیہ السلام) قیامت کی علامت ہیں۔ یعنی قیامت کی آمد اور اس کے وقوع کی نشانی اور دلیل ہیں۔ حضرت مجاہد رحمۃ اللہ علیہاس کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کاقیامت کا دن برپا ہونے سے پہلے آنا قیامت (کے قرب) کی علامت اور نشانی ہے اور اسی طرح اس کی یہ تفسیر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ،

237

حضرت ابوالعالیہ رضی اللہ عنہ، حضرت ابومالک رضی اللہ عنہ، حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ، حضرت حسن رحمہم اللہ علیہ (بصری)، حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ضحاک رضی اللہ عنہ (بن مزاحم) وغیرہم سے بھی مروی ہے اور آنحضرت ﷺ سے متواتر احادیث کے ساتھ ثابت ہے کہ آپ ﷺ نے قیامت سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے امام عادل اور منصف حاکم بن کر نازل ہونے کی خبر دی ہے۔‘‘

قرآن کریم کی ان آیات مبارکہ کے ہر ہر جملہ میں تاکیدی الفاظ کے ساتھ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے نزول اور آمد کا بالکل واضح ثبوت ہے اور پھر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہاور حضرت عبد ﷲ بن عباس رضی اللہ عنہ جیسے ترجمان قرآن اور جلیل القدر صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین اور معتبر ومستند تابعین رحمہم اللہ علیہ کی تفسیر اس پر مستزاد ہے اور احادیث متواترہ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد اور نزول اپنی جگہ حق ہے۔

۵… امام ابن جریر الطبری رحمۃ اللہ علیہ (محمد بن جریر بن یزید رحمۃ اللہ علیہ المتوفی ۳۱۰ھ) ’’لعلم‘‘ اور ’’لعلم‘‘ دونوں قرأتوں کا حوالہ دے کر بعض حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین بعض تابعین رحمہم اللہ علیہ اور تبع تابعین رحمہم اللہ علیہ وغیرہم کی تفسیریں نقل کرتے ہیں اور بحوالہ حضرت عبد ﷲ رضی اللہ عنہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: ’’قال نزول عیسٰی بن مریم علیہما السلام‘‘ (تفسیر ابن جریر ج۲۵ ص۹۰)

’’انہوں نے فرمایا کہ اس سے حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما الصلوٰۃ والسلام کا نزول مراد ہے۔‘‘ (کیونکہ وہ قیامت کی نشانی ہیں)

۶… ’’لسان العرب‘‘ جس کی تعریف میں مرزاقادیانی بھی رطب اللسان ہے۔ اس کی (ج۹ ص۳۷۲) پر ہے: ’’وفی التنزیل فی صفۃ عیسٰی علیہ السلام وانہ لعلم للساعۃ وہی قرأۃ اکثر القراء وقرء بعضہم انہ لعلم للساعۃ المعنی ان ظہور عیسٰی ونزولہ الی الارض علامۃ تدل علی اقتراب الساعۃ‘‘ قرآن شریف میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی صفت میں ’’وانہ لعلم للساعۃ‘‘ ہے۔ یہ اکثر قاریوں کی قرأت اور ان میں سے بعض نے ’’لعلم‘‘ بھی پڑھا جس کے معنی ہیں عیسیٰ علیہ السلام کا ظہور اور ان کا نازل ہونا زمین کی طرف، ایسا نشان ہے جو قیامت کے قرب پر دلالت کرے گا۔

لسان العرب کی مرزامحمود نے (حقیقت النبوۃ ص۱۱۵) پر توثیق وتعریف کی ہے۔

۷… حضرت شاہ ولی ﷲ رحمۃ اللہ علیہ نے اس کا ترجمہ فرمایا ہے: ’’عیسیٰ نشان است قیامت را پس شبہ مکنید در قیامت۔‘‘

تفسیر نبوی:

۱… احادیث کی تمام اہم کتب (مثلاً مسند احمد ج۶ ص۲۴ حاشیہ پر منتخب کنزالعمال، سنن ابوداؤد ج۲ ص۱۳۴) میں آنحضرت ﷺ نے قیامت کی دس بڑی علامات میں سے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کو شمار فرمایا۔ اسی طرح واقعۂ معراج کے ضمن میں ایک روایت ہے۔

’’عن ابن مسعود رضی اللہ عنہ عن النبی ﷺ قال: لقیت لیلۃ اسرٰی بی ابراہیم علیہ السلام وموسٰی علیہ السلام وعیسٰی علیہ السلام۔ قال: فتذاکرو امر الساعۃ فردوا امرہم الٰی ابراہیم علیہ السلام فقال لا علم لی بہا۔ فردوا الامر الٰی موسٰی علیہ السلام فقال لا علم لی بہا۔ فردوا

238

الامر الٰی عیسٰی فقال اما وجبتہا فلا یعلمہا احد الا اللّٰہ ذلک وفیما عہد الیّ ربی عزوجل ان الدجال خارج قال ومعی قضیبان فاذا رأنی ذاب کما یذوب الرصاص قال فیہلک اللّٰہ‘‘

(مسند احمد ج۱ ص۳۷۵)

’’حضرت عبد ﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہ آنحضرت ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ معراج کی رات حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ، حضرت عیسیٰ علیہم السلام سے میری ملاقات ہوئی۔ فرمایا کہ قیامت کا تذکرہ ہوا تو سب نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے پوچھا آپ نے فرمایا کہ مجھے اس کا علم نہیں۔ پھر موسیٰ علیہ السلام سے پوچھا انہوں نے بھی فرمایا کہ مجھے اس کا علم نہیں۔ پھر عیسیٰ علیہ السلام سے پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ قیامت کا صحیح علم تو سوائے ﷲتعالیٰ کے کسی کو نہیں البتہ میرے ساتھ ﷲ رب العزت نے وعدہ فرمایا ہے کہ جب دجال نکلے گا تو میرے پاس دو ہتھیار ہوں گے۔ جب دجال مجھے دیکھے گا تو وہ دھات کی طرح پگھلے گا۔ فرمایا کہ ﷲتعالیٰ (میرے ہاتھ سے) اسے ہلاک کریں گے۔‘‘

نوٹ:

یہ حدیث الفاظ کے معمولی تغیر کے ساتھ (ابن ماجہ ص۳۰۹ باب فتنہ الدجال وخروج عیسیٰ ابن مریم) میں عبد ﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول ہے۔ ابن ماجہ طبع بیروت ج۴ ص۴۵۱، حدیث نمبر۴۰۸۱ پر اس کے حاشیہ میں ہے۔ ’’اسنادہ صحیح ورجالہ ثقات‘‘ یہ روایت بیہقی میں بھی ہے۔

اسی طرح بہت سی احادیث میں قیامت کے قریب مسیح کا نزول لکھا ہے جو آئندہ ’’باب ثبوت حیات مسیح از احادیث‘‘ میں نقل ہوں گی۔ ان شاء ﷲ تعالیٰ!

۲… آیت ’’انہ لعلم للساعۃ‘‘ کی تفسیر میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے جن کو بہ دعا نبوی ﷺ علم قرآن حاصل تھا (جو مرزاقادیانی کو بھی مسلم ہے) (مندرجہ مسند احمد ج۱ ص۳۱۷،۳۱۸) پر ان سے منقول ہے کہ: : ’’انہ لعلم للساعۃ قال ہو خروج عیسٰی ابن مریم علیہ السلام قبل یوم القیامۃ‘‘ اسی طرح حضرت عبد ﷲ بن عباس رضی اللہ عنہ کی اس روایت کو (مستدرک حاکم ج۳ ص۲۴۱، حدیث:۳۷۲۷) پر نقل کر کے لکھا ہے۔ ہذا حدیث صحیح الاسناد روایت کے الفاظ یہ ہیں:’’عن عکرمۃ عن ابن عباس رضی اللہ عنہ فی قولہ عزوجل وانہ لعلم للساعۃ قال خروج عیسٰی ابن مریم‘‘

۳… اسی طرح محدث عبد بن حمید نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہی روایت کی ہے۔

۴… نیز (درمنثور ج۶ ص۲۰) پر عبد ﷲ بن عباس رضی اللہ عنہ آنحضرت ﷺ سے روایت کرتے ہیں۔ جس کے آخر میں ہے: ’’وانہ لعلم للساعۃ قال ہو خروج عیسٰی ابن مریم قبل یوم القیامۃ‘‘

۵… نیز (درمنثور ج۶ ص۲۰) پر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، حضرت مجاہد رحمۃ اللہ علیہ، حضرت حسن رحمہم اللہ علیہ سے یہی تفسیر منقول ہے۔

۶… ابن جریر نے (تفسیر طبری ج۲۵ ص۹۰،۹۱) پر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے چار سندوں کے ساتھ اس کو نقل کیا ہے۔

۷… نیز خود مرزاقادیانی نے اس آیت میں ’’انہ لعلم‘‘ کی ضمیر عیسیٰ علیہ السلام کی طرف پھیری ہے۔

’’قرآن شریف میں ہے: ’’انہ لعلم للساعۃ‘‘ یعنی اے یہودیو! عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تمہیں قیامت کا پتہ لگ جائے گا۔‘‘(اعجاز احمدی ص۲۱، خزائن ج۱۹ ص۱۳۰)

239

صاف ظاہر ہے کہ ’’انہ‘‘ کی ضمیر بطرف مسیح تسلیم کی گئی ہے۔ نیز مرزاقادیانی نے لکھا:

۸… ’’ان فرقۃ من الیہود لکانوا کافرین بوجود القیامۃ فاخبرہم اللّٰہ علٰی لسان بعض انبیائہ ان ابناً من قومہم یولد من غیر اب وہذا یکون اٰیۃ لہم علی وجود القیامۃ‘‘

(حمامتہ البشریٰ ص۹۰، خزائن ج۷ ص۳۱۶)

’’یعنی ایک فرقہ یہود کا قیامت کے وجود سے منکر تھا۔ خدا نے بعض انبیاء کی زبانی ان کو خبر دی کہ تمہاری قوم میں ایک لڑکا بلا باپ پیدا ہوگا۔ یہ قیامت کے وجود پر ایک نشانی ہے۔‘‘

اس میں ہمارا استدلال صرف اتنا ہے کہ: ’’وانہ لعلم للساعۃ‘‘ میں ’’انہ‘‘ کی ضمیر کا مرجع مرزاقادیانی نے بھی عیسیٰ علیہ السلام کو قرار دیا ہے۔ ’’فہو المقصود‘‘ باقی مرزاقادیانی کا یہ کہنا کہ قیامت کی نشانی میں عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش مراد ہے۔ جب کہ اس کے مقابلہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ اور دوسرے صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین وتابعین رحمہم اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام کا نزول قیامت کی نشانی ہے۔ اب مرزائی فیصلہ کریں کہ مرزاقادیانی کی تفسیر مانی جائے یا صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین وتابعین رحمہم اللہ علیہ کی؟ ان واضح شہادتوں کے بعد بھی کوئی نہ مانے تو اسے ﷲتعالیٰ ہی سمجھ نصیب فرمائیں۔

اعتراض:۱… از مرزاغلام احمد قادیانی

’’حق بات یہ ہے کہ ’’انہ‘‘ کی ضمیر قرآن شریف کی طرف پھرتی ہے اور آیت کے یہ معنی ہیں کہ قرآن شریف مردوں کے جی اٹھنے کے لئے نشان ہے۔ کیونکہ اس سے مردہ دل زندہ ہوتے ہیں۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۴۲۴، خزائن ج۳ ص۳۲۲)

مرزاقادیانی نے کوئی دلیل ’’انہ‘‘ کی ضمیر کو قرآن شریف کے لئے متعین کرنے کے حق میں بیان نہیں کی۔ سوائے اس کے کہ ’’ہ‘‘ کی ضمیر عیسیٰ علیہ السلام کے لئے ماننے سے مرزاقادیانی کی مسیحیت معرض ہلاکت میں آجاتی ہے۔ اگر ہم ثابت کر دیں کہ ’’انہ‘‘ کی ضمیر قرآن کریم کی طرف راجع نہیں بلکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف پھرتی ہے تو مرزاقادیانی کی یہ ’’حق بات ہے‘‘ کی حقیقت الم نشرح ہوکر رہ جائے گی۔ سنئے:

جواب:

۱… سیاق وسباق میں بحث صرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ہستی کی ہے نہ قرآن کریم کی۔ پس جس کا ذکر ہی نہیں۔ اس کی طرف خواہ مخواہ ضمیر کو پھیرنا اگر سکھا شاہی نہیں تو اور کیا ہے۔

۲… ہم نے قادیانی مسلمات کی رو سے ثابت کر دیا ہے کہ ’’انہ‘‘ سے مراد حضرت مسیح علیہ السلام کا نزول ہے۔ اگر مرزاقادیانی اس کا انکار کریں گے تو حسب فتویٰ خود کافر وفاسق ہو جائیں گے۔

۳… حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ ’’انہ‘‘ کی ضمیر کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف پھیرتے ہیں جن کے متعلق مرزاقادیانی کا ارشاد (ازالہ اوہام ص۲۴۷، خزائن ج۳ ص۲۲۵) پر ہے: ’’ناظرین پر واضح ہو گا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ قرآن کریم کے سمجھنے میں اوّل نمبر والوں میں سے ہیں اور اس بارہ میں ان کے حق میں آنحضرت ﷺ کی ایک دعا بھی ہے۔‘‘

اب کس کا منہ ہے جو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ جیسی عظیم الشان ہستی کا فیصلہ رد کرے؟

۴… مرزاقادیانی یا ان کی جماعت اپنی تائید میں اور ہماری مخالفت میں ۸۶گزشتہ مجددین، مسلمہ قادیانی، میں سے کسی ایک کو بھی پیش نہیں کرسکتے۔

240

۵… خود مرزاقادیانی کے مرید ’’انہ‘‘ کی ضمیر کے قرآن کی طرف پھرنے سے منکر ہیں۔ چنانچہ سید سرور شاہ قادیانی ’’ضمیمہ اخبار بدر قادیان مورخہ ۶؍اپریل ۱۹۱۱ء‘‘ میں لکھتے ہیں: ’’ہمارے نزدیک تو اس کے آسان معنی یہ ہیں کہ وہ (مثیل مسیح) ساعت کا علم ہے۔‘‘

نوٹ:

قادیانی سرور شاہ کا علم اسی بات سے اظہر من الشمس ہوا جاتا ہے کہ مسیح کے ساتھ مثیل کی دم اپنی طرف سے بڑھا دی ہے۔ اگر ایسا کرنا جائز قرار دیا جائے تو قرآن شریف کی تفسیر ہر ایک آدمی اپنے حسب منشاء کر سکتا ہے۔ مثلاً جہاں رسول کریم ﷺ کا اسم مبارک ہے وہاں بھی کہہ دیا جائے کہ اس سے مثیل محمد ﷺ مراد ہیں جو قادیانیوں کے نزدیک (نعوذ بِاللہ) مرزاقادیانی ہیں۔

۶… مرزاقادیانی کے بڑے فرشتہ سید محمد احسن امروہی مرزاقادیانی کی تردید میں یوں فرماتے ہیں:

الف… ’’دوستو! یہ آیت: ’’وانہ لعلم للساعۃ‘‘ سورۂ زخرف میں ہے اور بالاتفاق تمام مفسرین کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ آنے کے واسطے ہے۔ اس میں کسی کو اختلاف نہیں۔‘‘

(اخبار الحکم مورخہ ۲۸؍فروری ۱۹۰۹ء)

ب… ’’آیت دوم میں تسلیم کیا کہ ضمیر ’’انہ‘‘ کی طرف قرآن شریف یا آنحضرت ﷺ کے راجع نہیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی کی طرف راجع ہے۔‘‘ (اعلام الناس حصہ دوم ص۵۶)

قادیانی اعتراض:۲

از مرزاقادیانی ’’ظاہر کہ خداتعالیٰ اس آیت کو پیش کر کے قیامت کے منکرین کو ملزم کرنا چاہتا ہے کہ تم اس نشان کو دیکھ کر پھر مردوں کے جی اٹھنے سے کیوں شک میں پڑے ہو… اگر خداتعالیٰ کا اس آیت میں یہ مطلب ہے کہ جب حضرت مسیح علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے تب ان کا آسمان سے نازل ہونا مردوں کے جی اٹھنے کے لئے بطور دلیل یا علامت کے ہوگا تو پھر اس دلیل کے ظہور سے پہلے خداتعالیٰ لوگوں کو ملزم کیوں کر سکتا ہے کیا اس طرح اتمام حجت ہوسکتا ہے۔ دلیل تو ابھی ظاہر نہیں ہوئی اور کوئی نام ونشان اس کا پیدا نہیں ہوا اور پہلے ہی سے منکرین کو کہا جاتا ہے کہ اب بھی تم یقین نہیں کرتے کیا ان کی طرف سے یہ عذر صحیح طور پر نہیں ہوسکتا کہ یا الٰہی ابھی دلیل یا نشان قیامت کا کہاں ظہور میں آیا جس کی وجہ سے ’’فلا تمترن بہا‘‘ کی دھمکی ہمیں دی جاتی ہے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۴۲۲، خزائن ج۳ ص۳۲۱)

جواب:

مرزاقادیانی کا یہ اعتراض ناشی از جہالت ہے۔ اپنی کم علمی سے ’وانہ لعلم للساعۃ‘‘ کو ’’فلا تمترن بہا‘‘ کے لئے دلیل ٹھہرا لیا اور پھر اس دلیل کے غلط ہونے پر منطقی بحث شروع کر دی۔ اس آیت کا شان نزول جو مرزاقادیانی نے ظاہر کیا ہے وہ محض ایجاد مرزا ہے۔ ورنہ اصلی شان نزول ملاحظہ ہو اور کلام ﷲ کے اپنے الفاظ میں ملاحظہ ہو۔

’’لما ضرب ابن مریم مثلًا اذا قومک منہ یصدون وقالوا ء اٰلہتنا خیر ام ہو ماضربوہ لک الاجدلا بل ہم قوم خصمون ان ہو الا عبد انعمنا علیہ وجعلناہ مثلًا لبنی اسرائیل ولو نشاء لجعلنا منکم ملٰئکۃ فی الارض یخلفون وانہ لعلم للساعۃ فلا تمترن بہا واتبعون ہذا صراط مستقیم‘‘ اور جب عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم کے متعلق (معترض کی طرف سے) ایک عجیب مضمون بیان کیاگیا تو یکایک آپ کی قوم کے لوگ (مارے خوشی کے) چلانے لگے اور کہنے لگے کہ ہمارے معبود زیادہ بہتر ہیں یا عیسیٰ علیہ السلام۔ ان لوگوں نے جو یہ مضمون بیان کیا ہے تو محض جھگڑنے کی غرض سے بلکہ یہ لوگ (اپنی عادت سے) ہیں ہی

241

جھگڑالو۔ عیسیٰ علیہ السلام تو محض ایک ایسے بندے ہیں جن پر ہم نے (کمالات نبوت سے اپنا) فضل کیا تھا اور ان کو بنی اسرائیل کے لئے ہم نے (اپنی قدرت کا) ایک نمونہ بنایا تھا، اور اگر ہم چاہتے تو ہم تم میں سے فرشتوں کو پیدا کر دیتے کہ وہ زمین پر یکے بعد دیگرے رہا کرتے، اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو قیامت (کے قرب) کا نشان ہیں۔ پس تم لوگ اس میں شک مت کرو اور تم لوگ میرا اتباع کرو۔ یہی سیدھا راستہ ہے۔

معزز ناظرین! مرزاقادیانی کی چالاکی ملاحظہ ہو کہ بمطابق مثل ؎

چہ دلاور است دزدے کہ بکف چراغ دارد

خود شان نزول اس آیت کی کلام ﷲ کی انہیں آیات میں موجود ہے اور وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام، مشرکین کے بتوں کے متعلق ایک مثال ہے۔ باوجود اس کے مرزاقادیانی فرماتے ہیں کہ یہاں بحث قیامت سے ہے۔ قیامت کی بحث تو یہاں ہے ہی نہیں۔ وہ تکمیل کلام ومآل دنیا پر مذکور ہے۔ چنانچہ ہم مرزاقادیانی کے اپنے مانے ہوئے مجدد صدی نہم امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ کی روایت سے مرزاقادیانی کے تسلیم کردہ حبر الامت امام المفسرین ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بیان کردہ شان نزول پیش کرتے ہیں۔

’’آنحضرت ﷺ نے ایک روزہ سورۂ انبیاء کی آیت: ’’انکم وما تعبدون من دون ﷲ حصب جہنم‘‘ کے موافق یہ فرمایا کہ مشرک جن چیزوں کو پوجتے ہیں وہ اور مشرک دونوں قیامت کے دن دوزخ میں جھونکے جائیں گے۔ اس پر عبد ﷲ بن زبعری نامی ایک شخص نے کہا کہ نصاریٰ لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پوجتے ہیں اور تم عیسیٰ علیہ السلام کو نبی اور ہمارے بتوں سے اچھا سمجھتے ہو۔ اس لئے جو حال ہمارے بتوں کا ہوگا وہی حال حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ہوگا۔ عبد ﷲ بن زبعری کے اس جواب کو مشرک لوگوں نے بڑا شافی جواب جانا اور سب خوش ہوئے۔ اس پر ﷲتعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں۔ (درمنثور ج۶ ص۲۰، زیر آیت: انہ لعلم للساعۃ) باوجود اس قدر تصریح کے اگر پھر بھی قادیانی اپنی اس نامعقول دلیل پر جمے رہیں تو ہمارا جواب بھی الزامی رنگ میں سن لیں اور کان کھول کر سنیں۔‘‘

۲… مرزاقادیانی اپنی کتاب (اعجاز احمدی ص۲۱، خزائن ج۱۹ ص۱۳۰) پر لکھتے ہیں: ’’قرآن شریف میں ہے: ’’انہ لعلم للساعۃ‘‘ یعنی اے یہودیو! عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تمہیں قیامت کا پتہ لگ جائے گا۔‘‘

۳… (سورۂ طہ:۱۶) میں ﷲتعالیٰ حضرت موسیٰ علیہ السلام جیسے رسول کو بھی بطور ہدایت فرماتا ہے۔ ’’ان الساعۃ اتیۃ اکاد اخفیہا لتجزیٰ کل نفس بما تسعٰی فلا یصدنک عنہا من لا یؤمن بہا‘‘ اے موسیٰ علیہ السلام! قیامت بے شک وشبہ آنے والی ہے۔ میں اسے مخفی رکھنا چاہتا ہوں تاکہ بدلہ ملے ہر شخص کو اپنی محنت کا۔ خبردار کوئی بے ایمان تجھے اس کے ماننے سے روک نہ دے۔

یہاں اگر قادیانی طرز کلام کا اتباع کیا جائے تو سوال پیدا ہوگا کہ موسیٰ علیہ السلام کے سامنے قیامت کے آنے کی دلیل یا نشانی تو بیان نہیں کی گئی۔ صرف اس کے آنے کا اعلان کیاگیا ہے۔ پھر یہ اعلان اگلے حصہ آیت کے لئے دلیل کیسے ہوسکتا ہے؟ قادیانی جو جواب اس سوال کا دیں گے وہی جواب ہمارا بھی سمجھ لیں۔

۴… مرزاقادیانی نے ۱۸۸۶ء میں پیش گوئی کی کہ محمدی بیگم دختر احمد بیگ ہوشیارپوری ضرور بضرور میرے نکاح میں آئے گی۔ پھر اس کے متعلق الہامات بھی شائع کئے۔ جن میں سے ایک یہ بھی تھا۔ ’’انا زوجناکہا‘‘ (انجام آتھم ، خزائن ج۱۱ ص۶۰) یعنی اے مرزا ہم نے تیرا نکاح محمدی بیگم سے کر دیا ہے۔

242

انتظار کرتے کرتے مرزاقادیانی تھک گئے۔ آخر ۱۸۹۱ء میں مرزاقادیانی سخت بیمار ہوئے۔ موت کے خیال پر جب محمدی بیگم والی پیش گوئی میں جھوٹا ہونے کا خیال گزرا تو الہام ہوا۔ ’’الحق من ربک فلا تکونن من الممترین‘‘ یعنی یہ بات تیرے رب کی طرف سے سچ ہے تو کیوں شک کرتا ہے

(ازالہ اوہام ص۳۹۸، خزائن ج۳ ص۳۰۶)

دیکھئے! یہاں مرزاقادیانی کے خدا نے مرزاقادیانی کو یقین دلانے کو صرف اتنا ہی کہا۔ ’’الحق من ربک‘‘ حالانکہ ابھی نکاح نہیں ہوا۔ پہلے ہی سے اس کے ہونے کا اعلان کر کے محض اعلان ہی کو دلیل قرار دیا جارہا ہے۔ جس دلیل سے مرزاقادیانی کے لئے ایک پیش گوئی کا اعلان دلیل ہوگیا آئندہ حکم کے حق ہونے کا۔ اسی دلیل سے یہاں بھی ’’انہ لعلم للساعۃ‘‘ دلیل سمجھ لیں۔ ’’فلا تمترن بہا‘‘ کی (ذرا غور سے سمجھئے) مگر یہ سب بیان ہمارا الزامی رنگ میں ہے۔ ورنہ مرزاقادیانی کا یہ اعتراض مبنی ہے علوم عربیہ سے جہالت مطلقہ پر۔

مضحکہ خیز قادیانی تفسیر

۱… ’’یہ کیسی بدبودار نادانی ہے جو اس جگہ لفظ ’’ساعۃ‘‘ سے مراد قیامت سمجھتے ہیں۔ اب مجھ سے سمجھو کہ ’’ساعۃ‘‘ سے مراد اس جگہ وہ عذاب ہے۔ جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد طیطوس رومی کے ہاتھ سے یہودیوں پر نازل ہوا تھا۔‘‘ (اعجاز احمدی ص۲۱، خزائن ج۱۹ ص۱۲۹)

۲… ’’حق بات یہ ہے کہ ’’انہ‘‘ کی ضمیر قرآن شریف کی طرف پھرتی ہے اور آیت کے معنی یہ ہیں کہ قرآن شریف مردوں کے جی اٹھنے کے لئے نشان ہے۔ کیونکہ اس سے مردہ دل زندہ ہوتے ہیں۔‘‘

(ازالہ ص۴۲۴، خزائن ج۳ ص۳۲۲)

۳… ’’ان فرقۃ من الیہود اعنی لصدوقین کانوا کافرین بوجود القیامۃ فاخبرہم اللّٰہ علٰی لسان بعض انبیاء ہٖ ان ابنًا من قومہم یولد من غیر اب وہذا یکون آیۃ لہم علی وجود القیامۃ فالی ہذا اشار فی آیۃ وانہ لعلم للساعۃ‘‘ یہود کا ایک فرقہ صدوقین نامی قیامت کے وجود سے منکر تھا۔ پس ﷲتعالیٰ نے بعض نبیوں کے واسطے سے انہیں خبردی کہ ان کی قوم میں سے ایک لڑکا بغیر باپ کے پیدا ہوگا اور وہ قیامت کے وجود پر دلیل ہوگا۔ پس اسی طرف اشارہ کیا ہے۔ ﷲتعالیٰ نے اس آیت ’’وانہ لعلم للساعۃ‘‘ میں۔

(حمامۃ البشریٰ ص۹۰، خزائن ج۷ ص۳۱۶)

۴… ’’ان المراد من العلم تولدہ من غیر اب علی طریق المعجزۃ کما تقدم ذکرہ فی الصحف السابقۃ‘‘

(الاستفتاء ضمیمہ حقیقت الوحی ص۴۹، خزائن ج۲۲ ص۶۷۲)

’’العلم‘‘ سے مراد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا بغیر باپ کے پیدا ہونا ہے بطور معجزہ کے جیسا کہ پہلی کتابوں میں اس کا ذکر ہوچکا ہے۔

نوٹ:

مرزاقادیانی معلوم ہوتا ہے فن مناظرہ اور اس کے اصولوں سے جاہل مطلق تھے۔ دلیل تو وہ قابل قبول ہوتی ہے جو مخالف کے ہاں قابل قبول ہو۔ بلکہ جس کا رد کرنا مخالف سے آسان نہ ہو۔ ایسی دلیل کو پیش کرنا جس کو مخالف صحیح تسلیم نہیں کرتا۔ یہ مرزاقادیانی جیسے پنجابی نبی ہی کی شان ہی ہوسکتی ہے۔ ورنہ دلیل تو ایسی ہو کہ مخالف کے نزدیک بھی وہ قابل قبول اور حجت ہو سکے جیسا کہ ہم حیات عیسیٰ علیہ السلام کے ثبوت میں قادیانی مسلمات پیش کر کے قادیانی افراد سے قبول

243

حق کی اپیل کر رہے ہیں۔

تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ بقول مرزاقادیانی یہودی (صدوقین) قیامت کے وجود سے منکر تھے۔ ان کے سامنے بقول مرزاقادیانی قیامت کے وجود پر دلیل یہ پیش کی جاتی ہے۔ دیکھو ہم نے ایک لڑکا (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) بغیر باپ کے پیدا کیا ہے۔ یہودی تو اس دلیل ہی کے صحیح اور حجت ہونے سے منکر تھے۔ وہ تو کہتے تھے اور عقیدہ رکھتے تھے اور اب بھی رکھتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام (نعوذ بِاللہ نقل کفر کفر نباشد) ولد الزنا تھے جو دلیل خود محتاج دلیل ہو۔ وہ دلیل کیا ہوئی؟ پس مرزاقادیانی کی تفسیر بھی قرآن کریم کے ساتھ محض ایک مذاق ثابت ہوئی۔

۵… تفسیر سید سرور شاہ صحابی مرزا۔

مرزاقادیانی کا ایک بہت بڑا صحابی سرور شاہ قادیانی اپنے نبی مرزاقادیانی کی تردید عجیب طرز سے کرتا ہے۔ لکھتا ہے: ’’مسیح کے بے باپ ولادت دلیل کس طرح بن سکتی ہے۔ ہمارے نزدیک تو اس کے آسان معنی یہ ہیں کہ وہ مثیل مسیح ساعۃ (قیامت) کا علم ہے۔‘‘

(ضمیمہ اخبار بدر قادیان مورخہ ۶؍اپریل ۱۹۱۱ء)

۶… تفسیر از مولوی سید محمد احسن امروہی جو مرزاقادیانی کے اکابر صحابہ میں سے تھا اور مرزاقادیانی کا فرشتہ کہلاتا تھا۔ (اعلام الناس حصہ دوم ص۵۶) پر ’’انہ‘‘ کی ضمیر عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہے۔

محترم ناظرین! ہم نے قادیانی جماعت کی چھ تفسیریں جن میں سے چار مرزاقادیانی کی اپنی ہیں۔ آپ کے سامنے پیش کی ہیں۔ ان کا باہمی تضاد اظہر من الشمس ہے۔ میں اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتا۔ کلام ﷲ سے دو آیتیں اور مرزاقادیانی اور ان کے حواری کے اقوال اور انجیل کی تصدیق پیش کر کے اس بحث کو ختم کرتا ہوں۔

۱… پہلی آیت ’’سورۂ حجر:۷۲‘‘ کی ہے: ’’انہم لفی سکرتہم یعمہون‘‘ وہ اپنی بیہوشی میں گم گشتہ راہ پھر رہے ہیں۔

۲… دوسری آیت سورۂ نساء:۸۲ میں ہے: ’’ولو کان من عند غیر اللّٰہ لوجد وافیہ اختلافًا کثیرًا‘‘ اگر یہ کلام ﷲ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو اس میں بہت اختلاف پاتے۔

مرزاقادیانی اور ان کی جماعت اپنی خود غرضی کے لئے اسلامی تفسیر کو چھوڑ کر گمراہی میں سرگردان ہیں۔ کبھی کچھ کہتے ہیں اور کبھی کچھ۔ مرزاقادیانی کہتا ہے:

۱… ’’ظاہر ہے کہ ایک دل سے دو متناقض باتیں نہیں نکل سکتیں۔ کیونکہ ایسے طریق سے یا تو انسان پاگل کہلاتا ہے یا منافق۔‘‘ (ست بچن ص۳۱، خزائن ج۱۰ ص۱۴۳)

۲… ’’جھوٹے پر خدا کی لعنت… جھوٹے کے کلام میں تناقض ضرور ہوتا ہے۔‘‘

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۱۱۱، خزائن ج۲۱ ص۲۷۵)

۳… ’’اس شخص کی حالت ایک مخبوط الحواس کی حالت ہے کہ ایک کھلا کھلا تناقض اپنے کلام میں رکھتا ہے۔‘‘ (حقیقت الوحی ص۱۸۴، خزائن ج۲۲ ص۱۹۱)

نوٹ:

مرزاقادیانی نے اس آیت کی جس قدر تفسیریں کی ہیں ان میں سے ہم نے صرف چار پیش کی ہیں اور دو ان کے حواریوں کی درج کی ہیں۔ (۱)ساعۃ سے مراد وہ عذاب جو عیسیٰ علیہ السلام کے بعد طیطوس رومی کے ذریعہ یہود پر نازل ہوا۔ (۲)اس سے مراد قرآن مجید ہے۔ (۳)اس سے مراد عیسیٰ علیہ السلام کا بغیر باپ پیدا ہونا۔ (۴)اس سے مراد عیسیٰ

244

علیہ السلام بغیر باپ بطور معجزہ پیدا ہونا۔ (۵)اس سے مراد مثیل مسیح۔ (۶)اس سے مراد عیسیٰ علیہ السلام۔ ان سب کی سب کا آپس میں تضاد وتناقض ظاہر ہے۔ پس مرزاقادیانی معہ اپنے صحابہ اپنے ہی فتویٰ کی رو سے۔ پاگل، منافق، جھوٹے پر خدا کی لعنت اور مخبوط الحواس ثابت ہوئے۔ مرزاقادیانی کے حواری مرزا خدا بخش مصنف (عسل مصطفٰی ج۱ ص۴۱۹) پر علماء اسلام کی تفسیر میں اختلاف مزعومہ کے بارہ میں لکھتے ہیں: ’’یہ چھ قسم کے معانی علماء متقدمین ومتاخرین نے کئے ہیں اور یہی معانی میری نظر سے گزرے ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر علماء ومفسرین کو یقینی معنی معلوم ہوتے تو وہ کیوں اس قدر چکر کھاتے اور کیوں دور از قیاس رائے ظاہر کرتے۔ جب ہم ان معانی پر غور سے نظر کرتے ہیں تو سیاق کلام… کے خلاف پاتے ہیں۔‘‘

ناظرین! قادیانی تفسیر کے متعلق یہی عبارت پڑھ دیں صرف علماء متقدمین ومتاخرین کی بجائے مرزاقادیانی اور ان کے حواری سمجھ لیں۔

تصدیق از انجیل

حضرات! یہ تو آپ بخوبی سمجھتے ہیں کہ کلام ﷲ، انجیل یا توریت کی نقل نہیں ہے بلکہ ایک بالکل الگ اور براہ راست سلسلہ وحی ہے۔ پس جہاں کہیں قرآن کریم اور انجیل کے مضمون میں مطابقت لفظی یا معنوی معرض ظہور میں آجائے وہاں وہی معنی قابل قبول ہوں گے جو متفق علیہ ہیں۔ خود مرزاقادیانی ہماری تصدیق میں لکھ گئے ہیں: ’’فاسئلوا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ‘‘ یعنی اگر تمہیں ان بعض امور کا علم نہ ہو جو تم میں پیدا ہوں تو اہل کتاب کی طرف رجوع کرو اور ان کی کتابوں کے واقعات پر نظر ڈالو تا اصل حقیقت تم پر منکشف ہوجائے۔ (ازالہ اوہام ص۶۱۷، خزائن ج۳ ص۴۳۳)

سو ہم نے جب موافق اس حکم کے نصاریٰ کی کتابوں کی طرف رجوع کیا تو مندرجہ ذیل عبارت نظر پڑی۔ (انجیل متی باب:۲۴، آیت:۳تا۳۱) ’’جب وہ زیتون کے پہاڑ پر بیٹھا تھا تو اس کے شاگرد الگ اس کے پاس آ کر بولے۔ ہمیں بتا کہ یہ باتیں کب ہوں گی اور تیرے آنے اور دنیا کے آخر ہونے کا نشان کیا ہے۔ (’’انہ لعلم للساعۃ‘‘ قرآن کریم) یسوع نے جواب میں ان سے کہا خبردار کوئی تمہیں گمراہ نہ کر دے کیونکہ بہتیرے میرے نام سے آئیں گے اور کہیں گے کہ میں مسیح ہوں اور بہت سے لوگوں کو گمراہ کریں گے… اس وقت اگر تم سے کوئی کہے کہ دیکھو مسیح یہاں ہے یا وہاں ہے تو یقین نہ کرنا۔ کیونکہ جھوٹے مسیح اور جھوٹے نبی اٹھ کھڑے ہوں گے… میں نے پہلے ہی تم سے کہہ دیا ہے… پس اگر وہ تم سے کہیں کہ دیکھو وہ بیابان میں ہے تو باہر نہ جانا۔ دیکھو وہ کوٹھڑیوں میں ہے تو یقین نہ کرنا۔ کیونکہ جیسے بجلی پورب سے کوندھ کر پچھم تک دکھائی دیتی ہے ویسے ہی ابن مریم کا آنا ہوگا… ابن مریم کو بڑی قدرت اور جلال کے ساتھ آسمان کے بادلوں پر آتے دیکھیں گے۔ یہی مضمون (انجیل مرقس باب:۱۳) اور (انجیل لوقا باب:۲۱) میں مرقوم ہے۔ انجیل کے اس مضمون سے مندرجہ ذیل نتائج نکلتے ہیں۔

۱… حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام خود دوبارہ نازل ہوں گے۔ کیونکہ اپنے تمام نام نہاد مثیلوں سے بچنے کی ہدایت کر رہے ہیں۔

۲… حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا دوبارہ آنا قیامت کی نشانی ہے۔

۳… جھوٹے مسیح اور جھوٹے نبی اٹھ کھڑے ہوں گے۔

245

۴… حضرت مسیح علیہ السلام آسمان سے اچانک نازل ہوں گے۔

۵… حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہونے کے بعد بڑی قدرت اور جلال کے ساتھ تشریف لائیں گے۔

یہی مضمون کلام ﷲ میں موجود ہے۔ جیسا کہ ہم تصریح کر چکے ہیں۔ پس قادیانی جماعت پر لازم ہے کہ مرزاقادیانی کے بیان کردہ معیار کے مطابق حق کو قبول کر کے مرزائیت سے اپنی بیزاری کا اعلان کر دیں۔

نتیجہ:

مرزاقادیانی اپنی کتاب (ازالہ اوہام ص۲۶۹، خزائن ج۳ ص۲۳۶) میں لکھتے ہیں: ’’اس جگہ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ مسیح کا جسم کے ساتھ آسمان سے اترنا اس کے جسم کے ساتھ چڑھنے کی فرع ہے۔ لہٰذا یہ بحث بھی کہ مسیح اسی جسم کے ساتھ آسمان سے اترے گا جو دنیا میں اسے حاصل تھا۔ اس دوسری بحث کی فرع ہوگی جو مسیح جسم کے ساتھ آسمان پر اٹھایا گیا تھا۔‘‘

ہم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا جسم کے ساتھ آسمان سے اترنا ثابت کر دیا ہے۔ پس حسب قول مرزاقادیانی ثابت ہوگیا کہ حضرت مسیح علیہ السلام اسی جسم کے ساتھ آسمان پر اٹھائے گئے کیونکہ حضرت مسیح علیہ السلام کا دوبارہ نازل ہونا جبھی مانا جا سکتا ہے جب کہ ان کا آسمان پر اسی جسم کے ساتھ جانا تسلیم کر لیا جائے۔ فالحمد ﷲ علیٰ ذالک!

حیات مسیح علیہ السلام کی چھٹی دلیل

’’وَاِذْ کَفَفْتُ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ عَنْکَ اِذْ جِئْتَہُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْہُمْ اِنْ ہَذَا اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْن (مائدہ:۱۱۰)‘‘ {اور جب روکا میں نے بنی اسرائیل کو تجھ سے جب تو لے کر آیا ان کے پاس نشانیاں تو کہنے لگے کافر تھے جو ان میں اور کچھ نہیں یہ تو جادو ہے صریح۔}

ف… معجزات اور فوق العادت تصرفات کو جادو کہنے لگے اور انجام کار حضرت مسیح علیہ السلام کے قتل کے درپے ہوئے۔ حق تعالیٰ نے اپنے لطف وکرم سے حضرت مسیح علیہ السلام کو آسمان پر اٹھا لیا۔ اس طرح یہود کو ان کے ناپاک مقاصد میںکامیاب ہونے سے روک دیا گیا۔ (تفسیر عثمانی)

استدلال:۱

من جملہ ان نعمتوں کے جو حضرت مسیح علیہ السلام کو دی گئیں ایک یہ ہے کہ اے عیسیٰ علیہ السلام ’’وَاِذْ کَفَفْتُ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ عَنْکَ‘‘ اور اس وقت کو یاد کر کہ جب بنی اسرائیل کو تیرے پاس آنے سے بھی روک دیا۔ پس اگر خدانخواستہ قتل اور صلب میں کامیاب ہو گئے تو پھر اس تطہیر اور کف کے وعدہ اور انعام کی کوئی حقیقت باقی نہیں رہتی۔

’’واذ کففت‘‘ میں کف کا مفعول بنی اسرائیل کو بنایا ہے نہ کہ کاف ضمیر مخاطب کو۔ یعنی میں نے دور ہٹائے رکھا بنی اسرائیل (یہود) کو تجھ سے۔ یہ نہیں فرمایا: ’’کَفَفْتُک عن بنی اسرائیل‘‘ (ہٹا دیا تجھ کو بنی اسرائیل سے) کیونکہ ضرر پہنچانے کا ارادہ یہودیوں کا تھا پس انہی کو ہٹائے رکھنے کا ذکر مناسب ہے۔ (دوم) یہ کہ کف کا صلہ عن ذکر کیا ہے جو بعد کے لئے آتا ہے جس طرح حضرت یوسف علیہ السلام کے بارے میں ارشاد ہے۔ ’’لِنَصْرِفَ عَنْہُ السُّوْئِ وَالْفَحْشَائِ (یوسف:۲۴)‘‘ ہم نے یوسف علیہ السلام سے برائی اور بے حیائی کو دور ہٹا دیا۔ یہ نہیں فرمایا: ’’نصرفک عن السوء والفحشاء‘‘ (یوسف علیہ السلام کو برائی سے ہٹا دیں) یہ اگر ہوتا تو شبہ ہوتا کہ یوسف علیہ السلام کے دل میں برائی (قصد زنا) آگئی تھی بلکہ ﷲ نے برائی اور بدی کے ارادہ کو ہی دور دور رکھا اور یوسف علیہ السلام تک پہنچنے ہی نہ دیا۔ اسی طرح ﷲ نے یہود کو حضرت مسیح علیہ السلام سے دور دور رکھا۔ جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے: ’’وَاِذْ اَنْجَیْنٰکُمْ مِنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ

246

یَسُوْمُوْنَکُمْ سُوْء الْعَذَابِ (الاعراف:۱۴۱)‘‘ {اے بنی اسرائیل اس وقت کو یاد کرو کہ جب ہم نے تم کو فرعونیوں کے عذاب سے بچایا اور نجات دی۔} اس لئے کہ اگر عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں یہ عنوان اختیار فرماتے تو یہ شبہ ہوتا کہ بنی اسرائیل کی طرح عیسیٰ علیہ السلام نے بھی دشمنوں سے ایذائیں اور تکلیفیں اٹھائیں۔ مگر اخیر میں ﷲ نے ان مصائب اور تکالیف سے نجات دی۔ عیسیٰ علیہ السلام کو کوئی ایذا تو کیا پہنچاتا وہ خود بھی ان تک نہ پہنچ سکا۔ ﷲ نے دشمنوں کو دور ہی رکھا اور کسی بدذات کو پاس بھی نہ بھٹکنے دیا اور جبرائیل علیہ السلام کو بھیج کر آسمان پر اٹھا لیا۔ تمام تفاسیر معتبرہ میں یہی تفسیر مذکور ہے۔

مرزاقادیانی کہتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام صلیب سے رہا ہوکر کشمیر پہنچے اور ستاسی سال کے بعد کشمیر میں وفات پائی۔ حالانکہ کشمیر اس وقت کفر اور شرک اور بت پرستی کا گھر تھا جو ملک شام سے کسی طرح بہتر نہ تھا۔ شام حضرات انبیاء کا مسکن اور وطن تھا اور ﷲتعالیٰ یہ فرماتے ہیں: ’’وَمُطَہِّرُکَ مِنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا‘‘ کہ میں تجھ کو کافروں سے پاک کرنے والا ہوں۔ نیز عیسیٰ علیہ السلام صرف بنی اسرائیل کی طرف مبعوث ہوئے تھے۔ ’’کما قال تعالٰی وَرَسُوْلًا اِلٰی بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ‘‘ ان کی نبوت صرف بنی اسرائیل کے لئے تھی۔ لہٰذا بنی اسرائیل کو چھوڑ کر کشمیر جانے کے کیا معنی؟

استدلال:۲

’’کف‘‘ کے لفظی معنی ہیں ’باز گردانیدن‘‘ یعنی روکے رکھنا۔

قرآن مجید میں یہ لفظ کئی مقامات پر استعمال ہوا ہے۔ (۱)’’وَیَکُفُّوْا اَیْدِیَہُمْ (نساء:۹۱)‘‘ (۲)’’فَکَفَّ اَیْدِیَہُمْ عَنْکُمْ (مائدہ:۱۱)‘‘ (۳)’’کُفُّوْا اِیْدِیَکُمْ (نساء:۱۷)‘‘ (۴)’’وَکَفَّ اِیْدِیَ النَّاسِ عَنْکُمْ (الفتح:۲۰)‘‘ (۵)’’ہُوَ الَّذِیْ کَفَّ اِیْدِیَہُمْ عَنْکُمْ وَاِیْدِیَکُمْ عَنْہُمْ بِبَطْنِ مَکَّۃَ مِنْ بَعْدِ اَنْ اَظْفَرَکُمْ عَلَیْہِم (الفتح:۲۴)‘‘

آخری آیت میں خصوصاً کف کے مفعول کو عن کے مجرور سے بکلی روکا گیا ہے۔ ’’اور وہ ( ﷲ) وہی ہے جس نے روک رکھے ان کے ہاتھ تم سے اور تمہارے ہاتھ ان سے مکہ کے قریب میں بعد اس کے کہ ﷲتعالیٰ نے قابو دیا تم کو ان پر۔‘‘ اس آیت میں صلح حدیبیہ کی طرف اشارہ ہے۔ قادیانی فریق کو بھی تسلیم ہے کہ حدیبیہ میں مطلقًا کوئی لڑائی نہیں ہوئی۔

جیسا کہ تمام مفسرین ومورخین کا اس پر اتفاق ہے۔ دوسری آیت ’’فکف ایدیہم عنکم (مائدہ:۱۱)‘‘ پوری آیت کا ترجمہ یہ ہے: ’’اے مسلمانو! تم ﷲتعالیٰ کی وہ نعمت یاد کرو جو اس نے تم پر کی جب کفار نے تم پر دست درازی کرنی چاہی تو ہم نے ان کے ہاتھ تم سے روکے رکھے۔‘‘

ناظرین! جس طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یہود نے قتل کرنے کی کوشش کی اور قتل کا مکمل انتظام کر لیا بعینہٖ اسی طرح بنو نضیر کے یہود نے آنحضرت ﷺ کو ہلاک کرنے کا منصوبہ بنایا۔ لیکن ﷲتعالیٰ نے آپ ﷺ کو بال بال محفوظ رکھا۔ جیسا کہ تمام مفسرین نے ’’سورۃ مائدہ آیت:۱۱‘‘ کے تحت لکھا ہے۔ قادیانی اپنے مسلمہ مجدد ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ کی تفسیر کو اس آیت کے تحت میں ملاحظہ کریں جس طرح کف کا لفظ آنحضرت ﷺ کے لئے استعمال ہوا۔ بعینہٖ وہی لفظ ’’واذ کففت بنی اسرائیل عنک‘‘ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے استعمال ہوا۔ آنحضرت ﷺ کو یہود کے شر سے محفوظ رکھنے پر ﷲتعالیٰ کا شکریہ ادا کرنے کا حکم ہوا۔ اس طرح عیسیٰ علیہ السلام کو یہود کے شر سے محفوظ رکھنے پر ﷲتعالیٰ شکریہ کا حکم فرمائیں گے اور اپنا انعام یاد کرائیں گے۔

247

عجیب نکتہ

حدیبیہ میں دونوں گروہ مسلمان اور کفار آمنے سامنے ہوئے۔ لیکن ایک دوسرے سے لڑائی کا مرحلہ نہیں آیا۔ یعنی ایک دوسرے تک ہاتھ نہیں پہنچے ’’فکف ایدیہم عنکم، کف‘‘ کا مفعول ایدی اور ان کا مجرور ضمیریں ہیں۔ یعنی دونوں فریقوں کااجتماع تو ہوا لیکن لڑائی نہیں ہوئی۔ مگر آیت: ’’واذکففت بنی اسرائیل عنک‘‘ میں ﷲتعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ: ’اذ کففت ایدی بنی اسرائیل عنک‘‘ کہ میں نے ان کے ہاتھ آپ سے روکے رکھے۔ بلکہ فرمایا کہ یہود کو عیسیٰ علیہ السلام سے روکے رکھا کہ وہ آپ کے قریب تک نہیں بھٹکے یعنی جب یہود عیسیٰ علیہ السلام کے قتل کے درپے ہوئے تو ﷲتعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھا لیا۔ وہ آپ کے قریب تک نہیں آسکے۔ تمام تدبیروں کے باوجود عیسیٰ علیہ السلام کے قریب پہنچنے سے روک لیا وہ ان کی پہنچ سے باہر (آسمان پر) تھے۔

تفسیری شواہد:

۱… (تفسیر ابن کثیر ج۱ ص۱۱۵) زیر آیت مذکور ہے: ’’اذکر نعمتی علیک فی کفی ایاہم عنک اذ جئتہم بالبراہین والحجۃ القاطعۃ علی نبوتک ورسالتک من اللّٰہ الیہم فکذبوک واتہموک بانک ساحر وسعوا فی قتلک وصلبک فنجیتک منہم ورفعتک الی وطہرتک من دنسہم وکفیتک شرہم وہذا یدل علی الامتنان کان من اللّٰہ الیہ بعد رفعہ الی السماء الدنیا او یکون ہذا الامتنان واقعًا یوم القیامۃ وعبر عنہ بصیغۃ الماضی دلالۃ علی وقوعہ لا محالۃ وہذا من اسرار الغیوب التی اطلع اللّٰہ علیہا نبیہ محمدا ﷺ‘‘ {(عیسیٰ علیہ السلام کو ﷲتعالیٰ فرمائیں گے) کہ میری نعمتوں کو یاد کریں کہ جب یہودیوں کو آپ سے میں نے روکے رکھا جب آپ ان کے پاس فیصلہ کن دلائل وبراہین اور رسالت، ﷲتعالیٰ سے لے کر آئے تو انہوں نے آپ کی تکذیب کی۔ جادوگری کا اتہام لگایا۔ آپ کے قتل وپھانسی کے در پے ہوئے۔ میں ( ﷲتعالیٰ) نے ان سے آپ کو بچایا اور اپنی طرف اٹھا لیا اور ان کی بدی سے آپ کو پاک کیا اور ان کے شر سے محفوظ رکھا۔ ﷲتعالیٰ نے ان انعامات کا تذکرہ آپ کے آسمان دنیا پر اٹھائے جانے کے بعد کیا یا قیامت کے دن ان انعامات کا تذکرہ فرمائیں گے۔ (اگر قیامت کے دن فرمائیں گے تو پھر ’’اذ قال اللّٰہ‘‘ بصیغہ ماضی کیوں فرمایا؟) اس کی تعبیر ماضی سے اس لئے فرمائی کہ یہ یقینی امر ہے جو ہر حال میں ہوگا (گویا ہوچکا قیامت کے دن یہ کلام الٰہی عیسیٰ علیہ السلام سے ہوگا) یہ وہ غیب کے اسرار ہیں جن پر ﷲتعالیٰ نے اپنے نبی محمد ﷺ کو مطلع فرمادیا۔}

۲… (تفسیر خازن ج۲ ص۵۳۹) پر ہے: ’’فقصد الیہود قتلہ فخلصہ اللّٰہ منہم ورفعہ الٰی السماء‘‘ جب یہود نے عیسیٰ علیہ السلام کے قتل کا ارادہ کیا تو ﷲتعالیٰ نے ان سے آپ کو بچایا اور آسمان پر اٹھا لیا۔

۳… (معارف القرآن ج۴ ص۱۵۳) حضرت کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’جب کہ میں ( ﷲتعالیٰ) نے بنی اسرائیل یعنی یہودیوں کو تیرے پاس آنے سے روک دیا اور انہوں نے جو تیرے قتل کا ارادہ اور صلیب کا منصوبہ بنایا تھا اس کو میں نے ایک لخت ملیا میٹ کر دیا اور تجھ کو صحیح وسالم زندہ آسمان پر اٹھالیا اور وہ تجھے کوئی ضرر نہ پہنچا سکے۔‘‘

۴… (تفسیر کبیر ج۱۲ ص۱۲۷) زیر آیت بالا حضرت علامہ رازی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’انہ علیہ الصلوٰۃ والسلام لما اظہر ہذہ المعجزات العجیبہ قصد الیہود قتلہ فخلصہ اللّٰہ تعالٰی منہم حیث رفعہ

248

الی السماء‘‘ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام سے جب ان معجزات کاظہور ہوا تو یہود نے قتل کا منصوبہ بنایا۔ ﷲتعالیٰ نے یہود سے عیسیٰ علیہ السلام کو بچا کر آسمان پر اٹھا لیا۔

۵… (معالم العرفان ج۵ ص۴۸۰) پر ہے: ’’عیسیٰ علیہ السلام گھبراؤ نہیں میں ان کے ناپاک ہاتھ تم تک نہیں پہنچنے دوں گا۔ چنانچہ ﷲتعالیٰ نے آپ کو بحفاظت آسمان پر اٹھا لیا۔‘‘

قارئین محترم! ﷲ رب العزت نے یہود کی دست وبرد سے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو ایسے طور پر محفوظ رکھا کہ وہ ان کی پہنچ سے باہر ہوگئے۔ یہود ان کے قریب نہ بھٹک سکے۔ ان تفسیری تصریحات کے باجود مرزاقادیانی کا کیا مؤقف ہے؟ وہ ملاحظہ کریں۔

مرزاقادیانی کا مؤقف

۱… ’’اسی طرح ﷲتعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو فرمایا تھا: ’اذ کففت بنی اسرائیل عنک‘‘ یعنی یاد کر وہ زمانہ جب کہ بنی اسرائیل کو جو قتل کا ارادہ رکھتے تھے۔ میں نے تجھ سے روک دیا۔ حالانکہ تواتر قومی سے ثابت ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو یہودیوں نے گرفتار کر لیا تھا اور صلیب پر کھینچ دیا تھا۔ لیکن خدا نے آخر جان بجادی۔ پس یہی معنی ’’اذ کففت‘‘ کے ہیں۔‘‘

(ضمیمہ نزول المسیح ص۱۵۱، خزائن ج۱۸ ص۵۲۸)

۲… اسی مضمون کو مرزاقادیانی دوسری جگہ اس طرح لکھتے ہیں: ’’پھر بعد اس کے مسیح علیہ السلام ان کے حوالہ کیاگیا اور اس کو تازیانے لگائے گئے اور جس قدر گالیاں سننا اور فقیہوں اور مولویوں کے اشارہ سے طمانچے کھانا اور ہنسی اور ٹھٹھے اڑائے جانا اس کے حق میں مقدر تھا سب نے دیکھا۔ آخر صلیب دینے کے لئے تیار ہوئے… تب یہودیوں نے جلدی سے مسیح علیہ السلام کو دو چوروں کے ساتھ صلیب پر چڑھادیا۔ تاشام سے پہلے ہی لاشیں اتاری جائیں۔ مگر اتفاق سے اسی وقت ایک سخت آندھی آگئی… انہوں نے تینوں مصلوبوں کو صلیب پر سے اتار لیا… سو پہلے انہوں نے چوروں کی ہڈیاں توڑیں… جب چوروں کی ہڈیاں توڑ چکے اور مسیح علیہ السلام کی نوبت آئی تو ایک سپاہی نے یوں ہی ہاتھ رکھ کر کہہ دیا کہ یہ تو مر چکا ہے۔ کچھ ضرور نہیں کہ اس کی ہڈیاں توڑی جائیں اور ایک نے کہا میں ہی اس لاش کو دفن کروں گا… پس اس طور سے مسیح زندہ بچ گیا۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۳۸۰تا۳۸۲، خزائن ج۳ ص۲۹۶،۲۹۷)

۳… مرزاقادیانی نے مزید تشریح یوں کی ہے: ’’مسیح علیہ السلام پر جو مصیبت آئی کہ وہ صلیب پر چڑھایا اور کیلیں اس کے اعضاء میں ٹھونکی گئیں۔ جن سے وہ غشی کی حالت میں ہوگیا۔ یہ مصیبت درحقیقت موت سے کچھ کم نہ تھی۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۳۹۲، خزائن ج۳ ص۳۰۲)

۴… مرزاقادیانی لکھتے ہیں: ’’اب بھی خداتعالیٰ کا وہ غصہ نہیں اترا جو اس وقت بھڑکا تھا جب کہ اس ’’وجیہہ‘‘ نبی کو گرفتار کراکر مصلوب کرنے کے لئے کھوپری کے مقام پر لے گئے تھے اور جہاں تک بس چلا تھا ہر ایک قسم کی ذلت پہنچائی تھی۔‘‘ (تحفہ گولڑویہ ص۱۰۷، خزائن ج۱۷ ص۲۰۰)

مرزاقادیانی علیہ ما علیہ کے ان چار حوالہ جات سے ذیل کے نتیجے اخذ ہوتے ہیں:

۱… عیسیٰ علیہ السلام کو گرفتار کیا گیا۔

۲… عیسیٰ علیہ السلام کو صلیب پر کھینچا گیا۔

249

۳… عیسیٰ علیہ السلام یہود کے حوالہ ہوئے۔

۴… عیسیٰ علیہ السلام کو تازیانے (کوڑے) لگائے گئے۔

۵… عیسیٰ علیہ السلام نے گالیاں سنیں۔

۶… عیسیٰ علیہ السلام کو طمانچے مارے گئے۔

۷… عیسیٰ علیہ السلام سے ٹھٹھا وہنسی ہوئی۔

۸… عیسیٰ علیہ السلام چوروں کے ساتھ صلیب دئیے گئے۔

۹… عیسیٰ علیہ السلام پر مصیبت آئی۔

۱۰… عیسیٰ علیہ السلام کے اعضاء میں کیلیں ٹھونکی گئیں۔

۱۱… عیسیٰ علیہ السلام بیہوش ہوگئے۔

۱۲… عیسیٰ علیہ السلام کی یہ مصیبت موت سے کم نہ تھی۔

۱۳… عیسیٰ علیہ السلام وجیہ نبی کو گرفتار کیا گیا۔

۱۴… عیسیٰ علیہ السلام کو ہر قسم کی ذلت پہنچائی تھی۔

چودھویں صدی کے سباب وکذاب اعظم مرزاقادیانی کی عبارتوں سے یہ چودہ نتائج برآمد ہوئے۔ اس قادیانی تفسیر پر مزید حاشیہ آرائی کی ضرورت نہیں۔ تاہم بقول مرزاقادیانی کہ جب ہر ممکن ذلت وخواری میں مسیح علیہ السلام کو خدا نے مبتلا کرایا۔ یہاں تک کہ وہ ایسے بے ہوش ہوگئے کہ دیکھنے والے انہیں مردہ تصور کر کے چھوڑ گئے۔ کیا اس کے بعد بھی خدا کو یہ حق پہنچتا ہے کہ یوں کہے بالفاظ مرزا ’’یاد کر وہ زمانہ جب بنی اسرائیل کو جو قتل کا ارادہ رکھتے تھے میں نے تجھ سے روک لیا۔‘‘

(نزول المسیح ص۱۵۱، خزائن ج۱۸ ص۵۲۸)

اس آیت کی ابتداء میں باری تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو فرماتے ہیں: ’’اذکر نعمتی‘‘ یعنی یاد کر میری نعمتیں۔

انہی نعمتوں میں سے ایک نعمت بنی اسرائیل سے حضرت مسیح علیہ السلام کو بچانا بھی ہے۔ دنیا جہاں میں ایسے موقعوں پر سینکڑوں دفعہ ایک انسان دوسروں کے نرغہ سے بال بال بچ جاتا ہے۔ پس اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام بال بال بھی بچ گئے ہوتے جب بھی اس بچانے کو مخصوص طور پر بیان کرنا باری تعالیٰ کی شان عالی کے لائق نہ تھا۔ ایسا بچ جانا عام بات ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا معجزانہ رنگ اور عجیب طریقہ سے یہود کے درمیان سے بچ کر آسمان پر چلا جانا ایک خاص نعمت ہے۔ جس کو باری تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے سامنے بیان کر کے شکریہ کا مطالبہ کر سکتے ہیں۔ ورنہ اگر مرزاقادیانی کا بیان اور تفسیر صحیح تسلیم کر لی جائے تو کیا اس نعمت کے شکریہ کے مطالبہ پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام یوں کہنے میں حق بجانب نہ ہوں گے؟ یا ﷲ یہ بھی آپ کا کوئی مجھ پر احسان تھا کہ تمام جہان کی ذلتیں اور مصائب مجھے پہنچائی گئیں۔ میرے جسم میں میخیں ٹھونکی گئیں۔ میں نے ’’ایلی ایلی لما سبقتنی‘‘ کی صدائیں دیں۔ یعنی اے میرے خدا اے میرے خدا تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا ہے۔ پھر بھی تیری غیرت جوش میں نہ آئی۔ اندھیری رات میں وہ مجھے مردہ سمجھ کر پھینک گئے۔ میرے حواریوں نے چوری چوری میری مرہم پٹی کی۔ میں یہود کے ڈر سے بھاگا بھاگا ایران اور افغانستان کے دشوارگزار پہاڑوں میں ہزار مشکلات کے بعد درۂ خیبر کے راستہ پنجاب، یو۔پی، نیپال پہنچا اور وہاں کی گرمی کی شدت برداشت نہ کر سکنے کے سبب کوہ ہمالیہ کے دشوار گزار دروں میں سے گرتا پڑتا سری نگر پہنچا۔ وہاں ۸۷برس گمنامی کی زندگی

250

بسر کر کے مر گیا اور وہیں دفن کر دیا گیا۔ اس میں آپ نے کون سا کمال کیا کہ مجھے نعمت کے شکریہ کا حکم دیتے ہیں؟ کیا یہ کہ میری جان جسم سے نہ نکلنے دی اور اس حالت کا شکریہ مطلوب ہے؟ سبحان ﷲ! واہ رے آپ کی خدائی۔ ہاں! ایسی ذلت سے پہلے اگر میری جان نکال لیتا تو بھی میں آپ کا احسان سمجھتا۔ اب کون سا احسان ہے؟ اگر تو کہے کہ میں نے تیری جان بچا کر صلیب پر مرنے اور اس طرح ملعون ہونے سے بچا لیا تو اس کا جواب بھی سن لیں۔

۱… کیا تیرا معصوم نبی اگر صلیب پر مر جائے تو واقعی تیرا یہی قانون ہے کہ وہ لعنتی ہو جاتا ہے۔ اگر نہیں اور یقینا نہیں تو پھر جان بچانے کے کیا معنی؟

۲… باوجود اپنی اس تدبیر کے جس پر آپ مجھ سے شکریہ کا مطالبہ چاہتے ہیں۔ یہودی اور عیسائی مجھے ملعون ہی سمجھتے ہیں۔ آپ کی کس بات کا شکریہ ادا کروں؟

۳… اگر آپ کے ہاں نعوذ بِاللہ ایسا ہی عجیب قانون ہے کہ ہر معصوم مظلوم پھانسی پر چڑھائے جانے اور پھر مر جانے پر ملعون ہو جاتا ہے اور آپ نے مجھے لعنتی موت سے بچانا چاہا تو معاف کریں اگر میں یوں کہوں کہ آپ کا اختیار کردہ طریق کار صحیح نہ تھا جیسا کہ نتائج نے ثابت کر دیا۔ جس کی تفصیل نمبر۲ میں میں عرض کر چکا ہوں۔ اگر مجھے اپنی مزعومہ لعنتی موت سے بچانا تھا تو کم ازکم یوں کرتے کہ ان کی گرفتاری سے پہلے مجھے موت دے دیتے تاکہ میری اپنی امت تو ایک طرف یقینا یہودی بھی میری لعنتی موت کے قائل نہ ہوسکتے۔ پس مجھے بتایا جائے کہ میں کس بات کا شکریہ ادا کروں؟

معاذ ﷲ! یہ ہے وہ قدرتی جواب جو قیامت کے دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ذہن میں آنا چاہئے۔ بشرطیکہ قادیانی اقوال واہیہ کو ٹھیک تسلیم کر لیا جائے۔ ہاں! اسلامی تفسیر کو صحیح تسلیم کرلیں تو وہ حالت یقینا قابل ہزار شکر ہے۔ ہزارہا یہود قتل کے لئے تیار ہو کر آتے ہیں۔ مکان کو گھیر لیتے ہیں۔ مکروفریب کے ذریعہ گرفتاری کا مکمل سامان کر چکے ہیں۔ موت حضرت مسیح علیہ السلام کو سامنے نظر آتی ہے۔ ﷲتعالیٰ فرماتے ہیں: ’’انی متوفیک ورافعک الی‘‘ یعنی (اے عیسیٰ علیہ السلام) میں تجھ پر قبضہ کرنے والا ہوں اور آسمان پر اٹھانے والا ہوں۔

پھر اس وعدہ کو ﷲتعالیٰ پورا کرتے ہیں اور یوں اعلان کرتے ہیں: ’’وایدناہ بروح القدس‘‘ یعنی ہم نے مسیح علیہ السلام کو جبرائیل فرشتہ کے ساتھ مدد دی۔ (جو انہیں اٹھا کر دشمنوں کے نرغہ سے بچا کر آسمان پر لے گئے) دوسری جگہ اس وعدہ کا ایفا یوں مذکور ہے: ’’ماقتلوہ یقینًا بل رفعہ اللّٰہ الیہ‘‘ (یہود نے یقینی بات ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو قتل نہیں کیا بلکہ اٹھا لیا ﷲتعالیٰ نے ان کو آسمان پر) اسی ایفاء وعدہ اور معجزانہ حفاظت کو بیان کر کے شکریہ کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اس آیت میں ’’واذ کففت بنی اسرائیل عنک‘‘ یعنی اے عیسیٰ علیہ السلام یاد کر ہماری نعمت کو جب ہم نے تم سے بنی اسرائیل کو روک لیا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر واجب ہے کہ گردن مارے احسان کے جھکا دیں اور یوں عرض کریں۔ ’’رب او زعنی ان اشکر نعمتک التی انعمت علی‘‘ یا رسول ﷲ! مجھے توفیق دے کہ میں واقعی تیری معجزانہ نعمتوں کا شکریہ ادا کروں۔

قادیانی اعتراض:۱… ازمرزاقادیانی

’’دیکھو آنحضرت ﷺ سے بھی عصمت کا وعدہ کیاگیا تھا حالانکہ احد کی لڑائی میں آنحضرت ﷺ کو سخت زخم پہنچے تھے اور یہ حادثہ وعدۂ عصمت کے بعد ظہور میں آیا تھا۔ اسی طرح ﷲتعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو فرمایا تھا: ’’واذ

251

کففت بنی اسرائیل عنک‘‘ یعنی یاد کر وہ زمانہ کہ جب بنی اسرائیل کو جو قتل کا ارادہ رکھتے تھے۔ میں نے تجھ سے روک دیا۔ حضرت مسیح علیہ السلام کو یہودیوں نے گرفتار کر لیا تھا اور صلیب پر کھینچ دیا تھا۔ لیکن خدا نے آخر جان بچا دی۔ پس یہی معنی ’’اذ کففت‘‘ کے ہیں۔ جیسا کہ ’’واللّٰہ یعصمک من الناس‘‘ کے ہیں۔‘‘

(نزول المسیح ص۱۵۱، خزائن ج۱۸ ص۵۲۹ حاشیہ)

جواب:

۱… ’’عصم‘‘ کے معنی ہیں ’’بچا لینا‘‘ یعنی دشمن کا طرح طرح کے حملے کرنا اور ان حملوں کے باوجود جان کا محفوظ رکھنا۔ لیکن ’’کف‘‘ کے معنی ہیں روک لینا۔ یعنی ایک چیز کو دوسری تک پہنچنے کا موقعہ ہی نہ دینا۔ پس دونوں آپس میں ایک جیسے کس طرح ہو سکتے ہیں؟ ہم اس پر بھی مفصل بحث کر کے ثابت کر آئے ہیں کہ: : ’’کف‘‘ کے استعمال کے موقعہ پر ضروری ہے کہ ایک فریق کو دوسرے سے مطلق کسی قسم کا گزند نہ پہنچے۔ جب ہم شواہد قرآنی سے ثابت کرچکے ہیں کہ تمام قرآن کریم میں جہاں جہاں ’’کف‘‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ مکمل حفاظت کے معنوں میں استعمال ہوا ہے تو ان معنوں کے خلاف اس آیت کے معنی کرنا کس طرح جائز ہوسکتا ہے؟ لیجئے! ہم خود مرزاقادیانی کا اپنا اصول ایسے موقعہ پر صحیح معنوں کی شناخت کا پیش کر کے قادیانی جماعت سے درخواست کرتے ہیں کہ اگر ایمان کی ضرورت ہے تو اسلامی تفسیر کے خلاف اپنی تفسیر بالرائے کو ترک کر دو۔

’’اگر قرآن شریف اوّل سے آخر تک اپنے کل مقامات مین ایک ہی معنوں کو استعمال کرتا ہے تو محل مبحوث میں بھی یہی قطعی فیصلہ ہوگا جو معنی… سارے قرآن شریف میں لئے گئے ہیں وہی معنی اس جگہ بھی مراد ہوں۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۳۳۰، خزائن ج۳ ص۲۶۷)

ہم چیلنج کرتے ہیں کہ تمام قرآن شریف میں جہاں جہاں ’’کف‘‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے انہیں مذکورہ بالا معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ پس محل نزاع میں اس کے خلاف معنی کرنا حسب قول مرزاالحاد اور فسق ہوگا۔

۲… ایک لمحہ کے لئے ہم مان لیتے ہیں۔ نہیں بلکہ قادیانی تحریف کی حقیقت الم نشرح کرنے کے لئے ہم فرض کر لیتے ہیں کہ ’’عصم‘‘ اور ’’کف‘‘ ہم معنی ہیں۔ پھر بھی قادیانی ہی جھوٹے ثابت ہوں گے۔ کیونکہ رسول کریم ﷺ کے ساتھ وعدہ ’’عصمت‘‘ جو خدا نے کیا۔ وہ مکمل حفاظت کے رنگ میں ظاہر کیا۔ یقینا قادیانی دجل وفریب کا ناطقہ بند کرنے کو ایسا کیاگیا۔ ہمارا دعویٰ ہے کہ : ’’واللّٰہ یعصمک من الناس‘‘ کی بشارت کے بعد رسول کریم ﷺ کو کفار کوئی جسمانی گزند بھی نہیں پہنچا سکے۔

قادیانی کا یہ کہناکہ جنگ احد میں رسول کریم ﷺ کا زخمی ہونا اور دانت مبارک کا ٹوٹ جانا اس بشارت کے بعد ہوا ہے۔ یہ ’’دو جمع دو چار روٹیاں‘‘ والی مثال ہے اور قادیانی کے تاریخ اسلام اور علوم قرآنی سے کامل اور مرکب جہالت کا ثبوت ہے۔

جنگ احد شوال ۳ھ میں ہوئی تھی اور رسول کریم ﷺ کو زخم اور دیگر جسمانی تکلیف بھی اسی ماہ میں لاحق ہوئی تھی جیسا کہ قادیانی خود تسلیم کر رہا ہے۔ مگر یہ آیت ’’واللّٰہ یعصمک من الناس‘‘ سورۂ مائدہ کی ہے جو نازل ہوئی تھی ۵ھ اور ۷ھ کے درمیان زمانہ میں۔ دیکھو خود مرزاقادیانی کا مرید محمد علی امیر جماعت لاہوری اپنی تفسیر بیان القرآن میں یوں رقمطراز ہے۔ ’’ان مضامین پر جن کا ذکر اس سورۂ (مائدہ) میں ہے۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے اور یہی رائے اکثر محققین کی بھی ہے کہ اس سورت کے اکثر حصہ کا نزول پانچویں اور ساتویں سال ہجری کے درمیان ہے۔‘‘ (بیان القرآن ص۵۸۸)

252

اب رہا سوال خاص اس آیت: ’’وَاللّٰہُ یَعْصِمُکَ مِنَ النَّاس‘‘ کے نزول کا سو اس بارہ میں ہم قادیانی نبی اور اس کی امت کے مسلمہ مجدد صدی نہم علامہ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ کا قول پیش کرتے ہیں: ’’وَاللّٰہُ یَعْصِمُکَ مِنَ النَّاس فی صحیح ابن حبان عن ابی ہریرہ رضی اللہ عنہانہا نزلت فی السفر واخرج ابن ابی حاتم وابن مَرْدَوَیْہ عن جابر انہا نزلت فی ذات الرقاع باعلٰی نخل فی غزوۃ بنی انمار‘‘

(تفسیر اتقان جزو اوّل ص۱۹)

مطلب جس کا یہ ہے کہ غزوہ بنی انمار کے زمانہ میں یہ آیت سفر میں نازل ہوئی تھی۔ جب اس آیت کا وقت نزول غزوہ بنی انمار کا زمانہ ثابت ہوگیا تو اس کی تاریخ نزول کا قطعی فیصلہ ہو گیا کیونکہ یہ بات تاریخ اسلامی کے ادنیٰ طالب علم سے بھی معلوم ہوسکتی ہے کہ غزوہ بنی انمار ۵ھ میں واقع ہوا تھا۔ مفصل دیکھو کتب تاریخ اسلام ابن ہشام وغیرہ۔

لیجئے! ہم اپنی تصدیق میں مرزاقادیانی کا اپنا قول ہی پیش کرتے ہیں تاکہ مخالفین کے لئے کوئی جگہ بھاگنے کی نہ رہے۔ مرزاقادیانی لکھتے ہیں: ’’لکھا ہے کہ اوّل مرتبہ میں جناب پیغمبر خدا ﷺ چند صحابی کو برعایت ظاہر اپنی جان کی حفاظت کے لئے رکھا کرتے تھے۔ پھر جب یہ آیت: ’’وَاللّٰہُ یَعْصِمُکَ مِنَ النَّاس‘‘ نازل ہوئی تو آنحضرت ﷺ نے ان سب کو رخصت کر دیا اور فرمایا کہ اب مجھ کو تمہاری حفاظت کی ضرورت نہیں۔‘‘

(الحکم مورخہ ۲۴؍اگست ۱۸۹۹ء، بحوالہ خزینۃ العرفان ص۴۹۲)

اس حوالہ میں مرزاقادیانی نے تسلیم کر لیا کہ اس آیت کے بعد آپ ﷺ کو کوئی گزند نہیں پہنچی۔

مرزاقادیانی کا سیاہ جھوٹ

پس مرزاقادیانی کا یہ لکھنا: ’’کہ جنگ احد کا حادثہ وعدہ عصمت کے بعد ظہور میں آیا تھا۔‘‘ بہت ہی گندہ اور سیاہ جھوٹ ہے۔ ﷲتعالیٰ جھوٹوں کے متعلق فرماتے ہیں: ’’لَعْنَۃُ اللّٰہِ عَلَی الْکٰذِبِیْن‘‘ اور خود مرزاقادیانی جھوٹ بولنے والے کے بارہ میں لکھتے ہیں: ’’جھوٹ بولنا اور گوہ کھانا ایک برابر ہے۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۲۰۶، خزائن ج۲۲ ص۲۱۵)

قادیانی اعتراض:۲

حضرت ابراہیم علیہ السلام کو کفار نے آگ میں ڈال دیا اور ﷲتعالیٰ نے آپ کو اس آگ سے بچا لیا۔ اگر یہ کہا جائے کہ یہود نے حضرت روح ﷲ کو صلیب پر چڑھا دیا مگر ﷲتعالیٰ نے آپ کو زندہ رکھا اور ان کے ہاتھ سے مرنے نہ دیا تو اس میں کیا حرج ہے؟

جواب:

۱… جناب! وقائع اور امور تاریخیہ میں قیاس کو بالکل دخل نہیں ہوتا بلکہ ان کا مدار صرف روایت وشہادت ہی پر ہوتا ہے۔ وقائع میں قیاسات کے مفید نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ وقوع حوادث کی صورت واحد دون آخر نہیں ہوتی۔ پس حضرت روح ﷲ کے واقعہ کو قیاس محض سے واقعہ حضرت خلیل ﷲ علیہ السلام کا ہمرنگ بنانا جہالت وسفاہت ہے۔ کیونکہ صورت نجات اسی ایک طریق میں منحصر نہیںہے۔ ’’کَمَا لَا یَخْفٰی عَلٰی مَنْ لَہٗ اَدْنٰی تَاَمَّلٌ‘‘ دیگر یہ۔

۲… کہ ہمارا دین سماعی ہے قیاسی نہیں یعنی جو امر جس طرح قرآن وحدیث میں وارد ہے۔ اسے اسی طرح تسلیم کرتے ہیں اور اپنے قیاسات سخیفہ اور خیالات ضعیفہ پر مدار نہیں رکھتے۔ چونکہ قرآن مجید میں حضرت خلیل ﷲ علیہ السلام کا آگ میں پڑنا اور پھر سلامت رہنا ذکر کیاگیا ہے۔ اس لئے اس واقع کو اسی طرح مانتے ہیں اور چونکہ حضرت روح ﷲ علیہ السلام کا صلیب پر نہ چڑھایا جانا اور یہود کا آپ کو مس تک بھی نہ کر سکنا مذکور ہے۔ اس لئے اسی طرح یقین رکھتے

253

ہیں۔ اپنے خیال وقیاس سے کچھ نہیں کہتے۔

حضرت خلیل ﷲ علیہ السلام کے واقعۂ نار کی بابت سورۃ انبیاء میں فرمایا: ’’قُلْنَا یَانَارُکُوْنِیْ بَرْدًا وَّسَلَامًا عَلٰی اِبْرَاہِیْمَ وَاَرَادُوْ بِہٖ کَیْدًا فَجَعَلْنٰہُمُ الْاَخْسَرِیْنَ (انبیاء:۶۹)‘‘ {ہم نے کہا اے آگ تو ابراہیم پر ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو جا اور انہوں نے ابراہیم سے داؤ کرنا چاہا تھا۔ پس ہم نے انہی کو نہایت زیان کار کر دیا۔}

اور سورت صافات میں ’’اَلْاَسْفَلِیْنَ‘‘ (نہایت پست) فرمایا۔ سو ان آیات میں امر ’’یَانَارُکُوْنِی بَرْدًا وَّسَلَامًا عَلٰی اِبْرَاہِیْمَ‘‘ میں اشارہ اس امر کا ہے کہ آپ آگ میں ڈالے گئے تھے۔ کیونکہ ’امریَانَارُکُوْنِیْ بَرْدًا وَّسَلَامًا‘‘ نہیں ہوسکتا جب تک آگ موجود نہ ہو (وجود خارجی بھی ہوتا ہے اور ذہنی بھی) خدا کے امر میں دونوں برابر ہیں۔ صورت اس کی یہ ہے کہ اگر خدا کے امر کے وقت مامور خارج میں موجود نہ ہو بلکہ خدا کے علم میں ہو تو خداتعالیٰ اس صورت علمیہ کو امر کرتا ہے تو لزوماً خارج میں اس کا وجود ہو جاتا ہے۔ چنانچہ فرمایا: ’’اِنَّمَا اَمْرُہٗ اِذَا اَرَادَ شَیْئًا اَنْ یَّقُوْلَ لَہٗ کُنْ فَیَکُوْنَ (یٰسین:۸۲)‘‘ اور ’’علٰی ابراہیم‘‘ صادق نہیں ہوسکتا۔ جب تک حضرت ابراہیم علیہ السلام اس میں واقع نہ ہوں۔ علاوہ اس کے یہ حدیث میں رفعاً وارد ہوا۔ ’’عن ابی ہریرۃ قال قال رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم لما القی ابراہیم علیہ السلام فی النار قال اللہم انک واحد فی السماء وانا فی الارض واحد اعبدک‘‘

(ابن کثیر ج۶ ص۲۸۵)

یعنی رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام آگ میں ڈالے گئے تو آپ نے کہا اے خدا تو آسمان میں واحد (لاشریک) ہے اور (اس وقت) زمین میں صرف میں اکیلا تیری (خالص) عبادت کرتاہوں الخ! نیز (صحیح بخاری ج۲ ص۶۵۵، کتاب التفسیر سورۂ آل عمران) میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے موقوفًا وارد ہے۔ ’’عن ابن عباس رضی اللہ عنہ قال کان اخر قول ابراہیم حین القی فی النار حَسْبِیَ اللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ‘‘ یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام جب آگ میں ڈالے گئے تو آخری بات جو آپ نے کی وہ یہ تھی: ’’حَسْبُنَا اللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ‘‘ یعنی ’’ہمیں صرف ﷲ کافی ہے اور وہی بہتر کارساز ہے۔‘‘ پس اس سے واقعۂ آگ صاف ثابت ہوگیا۔

۳… نیز یہ کہ کفار کو ’’اَخْسَرِیْنَ‘‘ اور ’’اَسْفَلِیْنَ‘‘ کر دینا فرمایا اور ’’خَاسِرِیْنَ وَسَافِلِیْنَ‘‘ فرمایا۔ کیونکہ اسم تفصیل میں اسم فاعل پر ازروئے معنی زیادتی ہوتی ہے جیسا کہ اس کے نام ہی سے ظاہر ہے۔ پس کفار ’’اَلْاَخْسَرِیْنَ‘‘ یعنی سخت زیان کار اور ’’اَلْاَسْفَلِیْنَ‘‘ یعنی نہایت پست اور ذلیل تب ہی ہوسکتے ہیں۔ جب اپنا سارا زور بل لگا چکیں اور اپنے اسباب کو استعمال میں لا چکیں اور پھر اپنے ارادے میں ناکام رہیں۔ جیسا کہ سورۂ کہف ۱۰۲،۱۰۳ میں فرمایا۔ ’’قُلْ ہَلْ نُنَبِّئُکُمْ بَالْاَخْسَرِیْنَ اَعْمَالاً اَلَّذِیْنَ ضَلَّ سَعَیُہُمْ فِیْ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَہُمْ یَحْسِبُوْنَ اَنَّہُمْ یُحْسِنُوْنَ صُنْعًا‘‘ (اے پیغمبر ان سے) کہو کیا ہم تم کو بتائیں کہ اپنے اعمال میں کون نہایت زیان کار رہتے ہیں۔ ایسے وہ لوگ ہوتے ہیںجن کی سعی اسی زندگی میں اکارت جائے اور وہ گمان کرتے ہیں کہ ہم نیک کام کرتے ہیں۔

اس سے ظاہر ہے کہ ’’اَخْسَرْ‘‘ اس کو کہتے ہیں جس کی سعی اکارت جائے اور نیز یہی وجوہات مذکورہ اس امر کی مؤید ہیں کہ کفار کا کید حضرت خلیل ﷲ علیہ السلام کے خلاف صرف تدبیر تک ہی نہ رہا تھا بلکہ صورت فعلیہ میں سرزد ہوا تھا اور پھر وہ اس میں ناکام رہے۔ بخلاف حضرت مسیح علیہ السلام کے کہ کفار یہود کا مکر صورت فعلیہ میں صادر نہیں ہوا۔ جیسا کہ ’’وَمُطَہِّرُکَ مِنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا‘‘ اور ’’وَمَا قَتَلُوْہُ وَمَا صَلَبُوْہُ‘‘ اور ’’وَاِذْ کَفَفْتُ‘‘ سے ظاہر ہے۔

254

حیات مسیح علیہ السلام کی ساتویں دلیل

’’اِذْ قَالَتِ الْمَلٰئِکَۃُ یٰمَرْیَمُ اِنَّ اللّٰہَ یُبَشِّرُکَ بِکَلِمَۃٍ مِّنْہُ اسْمُہُ الْمَسِیْحُ عِیْسٰی ابْنُ مَرْیَمَ وَجِیْہًا فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ (آل عمران:۴۵)‘‘ {جب کہا فرشتوں نے اے مریم ﷲ تجھ کو بشارت دیتا ہے اپنے ایک حکم کی جس کانام مسیح ہے عیسیٰ مریم کا بیٹا مرتبہ والا دنیا میں اور آخرت میں اور ﷲ کے مقربوں میں۔}

حضرت مسیح علیہ السلام کو قرآن وحدیث میں کئی جگہ ’’کلمۃ ﷲ‘‘ فرمایا ہے: ’’اِنَّمَا الْمَسِیْحُ عِیْسٰی ابْنُ مَرْیَمَ رَسُوْلَ اللّٰہِ وَکَلِمَتُہٗ اَلْقَاہَا اِلٰی مَرْیَمَ وَرُّوْحُ مِّنْہُ (نساء:۱۷۱)‘‘ یوں تو ﷲ کے کلمات بے شمار ہیں جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا: ’’قُلْ لَوْکَانَ الْبَحْرُ مِدَادً الِّکَلِمَاتِ رَبِّیْ لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ اَنْ تَنْفَدَ کَلِمَاتُ رَبِّیْ وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِہٖ مَدَدَا (کہف:۱۰۹)‘‘ لیکن بالتخصیص حضرت مسیح کو ’’کلمۃ ﷲ‘‘ ( ﷲ کا حکم) کہنا اس حیثیت سے ہے کہ ان کی پیدائش باپ کے توسط کے بدون عام سلسلۂ اسباب کے خلاف محض خدا کے حکم سے ہوئی اور جو فعل عام اسباب عادیہ کے سلسلہ سے خارج ہو۔ عموماً اس کی نسبت براہ راست حق تعالیٰ کی طرف کردی جاتی ہے۔ جیسے فرمایا: ’’وَمَا رَمَیْتَ اذرَمَیْتَ وَلٰکِنَّ اللّٰہ رَمٰی (انفال:۱۷)‘‘ ’’مسیح‘‘ اصل عبرانی میں ’’ماشیح‘‘ یا ’مشیحا‘‘ تھا۔ جس کے معنی مبارک کے ہیں۔ معرب ہوکر ’’مسیح‘‘ بن گیا۔ باقی دجال کو جو ’’مسیح‘‘ کہا جاتا ہے وہ بالاجماع عربی لفظ ہے جس کی وجہ تسمیہ اپنے موقع پر کئی طرح بیان کی گئی ہے۔ ’’مسیح‘‘ کا دوسرا نام یا لقب ’’عیسیٰ‘‘ ہے۔ یہ اصل عبرانی میں ’’ایشوع‘‘ تھا۔ معرب ہوکر ’’عیسیٰ‘‘ بنا۔ جس کے معنی سید کے ہیں۔ یہ بات خاص طور پر قابل غور ہے کہ قرآن کریم نے یہاں ’’ابن مریم‘‘ کو حضرت مسیح علیہ السلام کے لئے بطور جزء علم کے استعمال کیا ہے۔ کیونکہ خود مریم علیہا السلام کو بشارت سناتے وقت یہ کہنا کہ تجھے ’’کلمۃ ﷲ‘‘ کی خوشخبری دی جاتی ہے جس کا نام ’’مسیح عیسیٰ ابن مریم‘‘ ہوگا۔ عیسیٰ علیہ السلام کا پتہ بتلانے کے لئے نہ تھا بلکہ اس پر متنبہ کرنا تھا کہ باپ نہ ہونے کی وجہ سے اس کی نسبت صرف ماں ہی کی طرف ہوا کرے گی۔ حتیٰ کہ لوگوں کو خدا کی یہ آیت عجیبہ ہمیشہ یاد دلانے اور مریم کی بزرگی ظاہر کرنے کے لئے گویا نام کا جز بنادی گئی۔ ممکن تھا کہ حضرت مریم کو بمقتضائے بشریت یہ بشارت سن کر تشویش ہوکہ دنیا کس طرح باور کرے گی کہ تنہا عورت سے لڑکا پیدا ہو جائے۔ ناچار مجھ پر تہمت رکھیں گے اور بچہ کو ہمیشہ برے لقب سے مشہور کر کے ایذا پہنچائیں گے۔ میں کس طرح برأت کروں گی؟ اس لئے آگے ’’وَجِیْہًا فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃ‘‘ کہہ کر اطمینان دلا دیا کہ خدا اس کو نہ صرف آخرت میں بلکہ دنیا میں بھی بڑی عزت ووجاہت عطاء کرے گا اور دشمنوں کے سارے الزام جھوٹے ثابت کر دے گا۔ ’’وجیہ‘‘ کا لفظ یہاں ایسا سمجھو جیسے موسیٰ علیہ السلام کے متعلق فرمایا: ’’یَاَیُّہَا الَّذِینَ اٰمَنُوْا لَا تَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ اَذَوْا مُوْسٰی فَبَرَّاہُ اللّٰہُ مِمَّا قَالُوْا وَکَانَ عِنْدَ اللّٰہُ وَجِیْہًا (احزاب:۶۹)‘‘ گویا جو لوگ ’’وجیہ‘‘ کہلاتے ہیں ان کو حق تعالیٰ خصوصی طور پر جھوٹے طعن وتشنیع یا الزامات سے بری کرتا ہے۔ حضرت مسیح علیہ السلام کے نسب پر جو خبیث باطن طعن کریں گے یا خدا کو یا کسی انسان کو جھوٹ موٹ ان کا باپ بتلائیں گے یا خلاف واقع ان کو مصلوب ومقتول یا بحالت زندگی مردہ کہیں گے یا الوہیت وابنیت وغیرہ کے باطل عقائد کی مشرکانہ تعلیم ان کی طرف منسوب کریں گے۔ اس طرح کے تمام الزامات سے حق تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اعلانیہ بری ظاہر کر کے ان کی وجاہت ونزاہت کا علیٰ رؤس الاشہاد اظہار فرمائے گا جو وجاہت ان کو ولادت وبعثت کے بعد دنیا میں حاصل ہوئی۔ اس کی پوری پوری تکمیل نزول کے بعد ہوگی۔ جیسا کہ اہل اسلام کا اجماعی عقیدہ ہے۔

255

پھر آخرت میں خصوصیت کے ساتھ ان سے ’’أاَنْتَ قلت للناس اتخذونی‘‘ کا سوال کر کے اور انعامات خصوصی یاد دلا کر تمام اوّلین وآخرین کے روبرو وجاہت وکرامت کا اظہار ہوگا جیسا کہ سورہ ’’مائدہ‘‘ میں مذکور ہے اور نہ صرف یہ کہ دنیا وآخرت میں باوجاہت ہوں گے بلکہ خداتعالیٰ کے اخص خواص مقربین میں ان کا شمار ہوگا۔ (تفسیر عثمانی)

تفسیر القرآن بالقرآن

ﷲ رب العزت نے جہاں کہیں کسی کو مقرب کے لفظ سے خطاب فرمایا ہے۔ اس سے مراد یا اہل جنت ہیں یا فرشتے ہیں۔ ذیل میں قرآنی آیات ملاحظہ ہوں۔

۱… ’’لَنْ یَسْتَنْکِفَ الْمَسِیْحُ اَنْ یَّکُوْنَ عَبْدًا لِلّٰہ * وَلَا الْمَلَائِکَۃُ الْمُقَرَّبُوْنَ (النساء:۱۷۳)‘‘

۲… ’’وَالسَّابِقُوْنَ السَّابِقُوْنَ اُوْلٰئِکَ الْمُقَرَّبُوْنَ (الواقعۃ:۱۱)‘‘

۳… ’’کِتَابٌ مَّرْقُوْم یَشْہَدُہُ الْمُقَرَّبُوْنَ (المطففین:۲۱)‘‘

۴… ’’وَمِزَاجُہٗ مِنْ تَسْنِیْم عَیْنًا یَشْرَبُ بِہَا الْمُقَرَّبُوْنَ (المطففین:۲۸)‘‘

۵… ’’وَجِیْہًا فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ (آل عمران:۴۰)‘‘

۶… ’’قَالَ نَعَمْ وَاِنَّکُمْ لَمِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ (الاعراف:۱۱۴)‘‘

۷… ’’قَالَ نَعَمْ وَاِنَّکُمْ لَمِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ (الشعراء:۴۲)‘‘

۸… ’’فَاَمَّا اِنْ کَانَ مِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ فَرَوْحٌ وَرِیْحَانٌ وَجَنَّۃُ نَعِیْمُ (الواقعۃ:۸۸)‘‘

قرآن مجید میں انہی مقامات پر مقرب کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ سات نمبر میں فرعون نے اپنے ساحرین کو اپنا مقرب قرار دیا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ مقرب کا لفظ فرعون کا قول ہے۔ ﷲ رب العزت نے جن کو مقرب کے لفظ سے خطاب فرمایا۔ وہ یا اہل جنت ہیں یا فرشتے۔ جنت آسمانوں میں ہے۔ فرشتوں کا مستقر بھی آسمان ہے۔ اب عیسیٰ علیہ السلام کے لئے بھی یہی لفظ استعمال کیاگیا۔ جس سے بخوبی سمجھ میں آتا ہے کہ اس میں بھی عیسیٰ علیہ السلام کے لئے آسمانوں پر جانے کا حق تعالیٰ نے وعدہ کا ذکر (بوقت بشارت ولادت مسیح) حضرت مریم سے فرمایا۔ جس کا تحقق ووقوع ’’بل رفعہ ﷲ‘‘ میں ہوا۔ اب یہ ہماری رائے نہیں بلکہ مفسرین بھی یہی ارشاد فرماتے ہیں۔ اسی طرح اسی آیت میں دوسرا لفظ ’’وجیہا فی الدنیا‘‘ ہے۔ وجاہت دنیوی کے لئے یاد رہے کہ عیسیٰ علیہ السلام پیدائش سے یہود کے معتوب ہوئے۔ یہود آپ کے در پے آزار رہے۔ ساری زندگی فقر وزہد میں گزار دی۔ وجاہت دنیوی رفع تک آپ کو حاصل نہ ہوئی۔ وہ نزول کے بعد ہو گی۔ جس کے لئے آپ ﷺ نے فرمایا:’’یکون حکمًا عدلاً حکمًا مقسطا‘‘ کہ نزول کے بعد سیدنا عیسیٰ علیہ السلام حاکم عادل ہوں گے۔ گویا وجاہت دنیوی کا مظہر اتم ہوں گے۔

نکتہ:

نیز آپ کی وجاہت دنیوی کے وعدہ قرآنی کا تقاضہ تھا کہ آپ مصلوب نہیں ہوسکتے تھے۔ کیونکہ مصلوبیت اس عالم دنیوی میں ذلت کا سبب ہے جو وجاہت کے منافی ہے۔ جیسا کہ خود قرآن مجید میں صلیب دئیے جانے کے ذکر کے بعد فرمایا ’’ذالک لہم خزی فی الدنیا (مائدہ:۳۳)‘‘ یہ ان کے اس زندگی دنیوی میں خواری ہے۔ معاذ ﷲ! اگر حضرت روح ﷲ علیہ السلام صلیب پر لٹکائے جاتے جیسا کہ مرزاقادیانی کا خیال فاسد وعقیدہ باطل ہے۔ خواہ صلیب سے

256

زندہ بھی اتارے جاتے تو بھی آپ کی وجاہت کے منافی ہوتا۔ پس عقیدہ ملعونیہ صلیبیہ قادیانیہ بالکل قادیانیت کی طرح مردود ہے۔

تفسیری شواہد:

۱… اب حضرت امام رازی رحمۃ اللہ علیہ جن کی تفسیر مرزاقادیانی کے نزدیک بھی معتبر ہے جن کو قادیانی مجدد بھی تسلیم کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں۔

’’معنی الوجیہ ذوالجاہ والشرف والقدر… اذا صارت لہ منزلۃ رفعیۃ عند الناس والسلطان‘‘

(تفسیر کبیر ج۸ ص۵۳)

صاحب وجاہت وبزرگی، صاحب قدر ومنزلۃ کو وجیہ کہتے ہیں… جب کہ اسے عوام وخواص (بادشاہ) میں خاص قدر ومنزلت حاصل ہو۔ اب ظاہر ہے کہ اگر بادشاہ وقت نے یہودیوں کے کہنے پر ان کو مصلوب کیا تو پھر منزلت ووجاہت حاصل نہ ہوئی۔ اس لئے ’’وجیہاً‘‘ کا تقاضہ ہے کہ وہ مصلوب نہیں ہو سکتے۔ اسی طرح حضرت علامہ رازی رحمۃ اللہ علیہ ’’ومن المقربین‘‘ کے تحت فرماتے ہیں۔

’’ان ہذا الوصف کالتنبیہ علی انہ علیہ السلام سیرفع الی السماء وتصاحبہ الملائکۃ‘‘

(تفسیر کبیر ج۸ ص۵۴)

تحقیق (ومن المقربین) کا یہ وصف تنبیہ ہے۔ اس پر کہ عیسیٰ علیہ السلام عنقریب آسمانوں پر اٹھائے جائیں گے اور ملائکۃ کی صحبت میں جلوہ گر ہوں گے۔ دیکھئے کس صراحت سے حضرت امام رازی نے ’’وجیہًا فی الدنیا والاٰخرۃ ومن المقربین‘‘ میں امت کے مؤقف کی تصریح فرمائی۔ ’’من شاء فلیؤمن ومن شاء فلیکفر‘‘

۲… علامہ زمخشری جن کی تفسیر مرزاقادیانی کے ہاں معتبر ہے اور قادیانی ان کو مجدد تسلیم کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں:’’ومن المقربین رفعہ الی السماء وصحبتہ للملائکۃ‘‘ (کشاف ج۱ ص۳۶۴)

۳… تفسیر جلالین میں ہے۔ ’’ومن المقربین عند ﷲ‘‘ اس کے بین السطور میں مرقوم ہے۔ ’’یرفعہ الٰی السماء‘‘ (جلالین ص۵۱، مطبع اصح المطابع کراچی)

۴… تفسیر خازن میں ہے۔ ’’وجیہًا ای شریفًا رفیعًا ذا جاہ وقدر ومن المقربین… انہ رفع علی السماء‘‘

(خازن ج۱ ص۲۵۰)

۵… تفسیر روح المعانی میں ہے: ’’رفعہ الٰی السماء وصحبتہ الملائکۃ‘‘

(روح المعانی ج۳ ص۱۴۴)

۶… تفسیر ابی السعود میں بھی ’’رفعہ الیٰ السماء صحبتہ الملائکۃ‘‘ ‘ مذکور ہے۔

(ابی السعود ج۲ ص۳۷)

قارئین آپ نے امت کا مؤقف اور اس کی صداقت کا ائمہ مفسرین کی کتب تفسیر سے بخوبی اندازہ فرمالیا۔ اب چلیں قادیانی مؤقف اور اس کا بطلان اور اہل اسلام کے مؤقف کی صداقت ملاحظہ کریں۔

257

قادیانی مؤقف ان کی مسلمات کی رو سے

۱… مرزاقادیانی نے ’’وجیہًا فی الدنیا‘‘ کے معنی لکھے ہیں: ’’دنیا میں راست بازوں کے نزدیک باوجاہت یا باعزت ہونا۔‘‘ (ایام الصلح ص۱۶۴، خزائن ج۱۴ ص۴۱۲)

۲… مرزاقادیانی کے نزدیک ’’تمام نبی دنیا میں وجیہ ہی تھے۔‘‘

(ایام الصلح ص۱۶۶، ملخص خزائن ج۱۴ ص۴۱۴)

۳… (الف)مرزاقادیانی کے لاہوری خلیفہ اپنی تفسیر بیان القرآن ج۱ مطبوعہ ۱۳۴۰ھ ص۳۱۱ پر لکھتے ہیں: ’’وجیہ کے معنی ہیں ذوجاہ یا ذووجاہۃ یعنی مرتبہ والا یا وجاہت والا۔‘‘ (ب)’’ ﷲتعالیٰ کے انبیاء سب ہی وجاہت والے ہوتے ہیں۔‘‘

ناظرین باتمکین! اس آیت مبارکہ میں حضرت مریم علیہا السلام کو بطور بشارت کہاگیا ہے کہ وہ لڑکا (عیسیٰ علیہ السلام) دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی باعزت، بآبرو اور باوجاہت ہوگا۔ قابل توجہ الفاظ یہاں ’’وَجِیْہًا فِی الدُّنْیَا‘‘ کے ہیں۔ ان الفاظ سے صاف عیاں ہے کہ اس سے مراد صرف دنیوی وجاہت ہی ہے۔ جیسا کہ خود الفاظ ڈنکے کی چوٹ اعلان کر رہے ہیں۔ پھر دنیوی وجاہت سے بھی وہ معمولی وجاہت مراد نہیں ہو سکتی جو دنیا میں کروڑہا انسانوں کو حاصل ہے۔ اس سے کوئی خاص وجاہت (عزت مراد ہے) ورنہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دنیوی وجاہت سے خاص کرنا اور اس کی بشارت کو خصوصیت کے ساتھ بطور پیش گوئی بیان کرنا شان باری تعالیٰ کے لائق نہیں۔ حضرت مریم علیہا السلام کو معمولی دنیوی وجاہت سے قبل از وقت اطلاع دینا قرین قیاس نہیں۔ روحانی وجاہت کا یقین تو حضرت مریم علیہا السلام کو ’’کلمۃ منہ‘‘ اور ’’وجیہًا فی الآخرۃ‘‘ اور ’’غلاما ذکیا‘‘ وغیرہ خطابات ہی سے حاصل ہوگیا تھا۔ ہاں! ’’وجیہًا فی الدنیا‘‘ کے الفاظ کے اضافہ سے یقینا باری تعالیٰ کا یہ مقصود تھا کہ اے مریم اس دنیا میں اپنی قوم سے چند روز بدسلوکی کے بعد ہم انہیں تمام جہاں کی نظروں میں باعزت بھی کر کے چھوڑیں گے۔ اب سوال پیداہوتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو واقعہ صلیب تک دنیوی وجاہت حاصل تھی یا نہ؟ اس کا جواب قادیانی کے اپنے الفاظ میں پیش کرتا ہوں۔

’’وجیہًا فی الدنیا والآخرہ‘‘ دنیا میں بھی مسیح علیہ السلام کو اس کی زندگی میں وجاہت یعنی عزت، مرتبہ، عظمت، بزرگی ملے گی اور آخرت میں بھی۔ اب ظاہر ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے ہیرودیس کے علاقہ میں کوئی عزت نہیں پائی۔ بلکہ غایت درجہ کی تحقیر کی گئی۔ (مسیح ہندوستان میں ص۵۳، خزائن ج۱۵ ص۵۳) واقعی مرزاقادیانی سچ کہہ رہے ہیں۔

محمد علی لاہوری کی شہادت

’’یہاں اشارہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ لوگ سمجھیں گے کہ یہ شخص ذلیل ہوگیا مگر ایسا نہ ہوگا بلکہ اسے دنیا میں بھی ضرور وجاہت حاصل ہوگی اور آخرت میں بھی۔ جس قدر تاریخ حضرت مسیح علیہ السلام کی عیسائیوں کے ہاتھ میں ہے۔ وہ بظاہر انہیں ایک ذلت کی حالت میں چھوڑتی ہے۔ کیونکہ ان کا خاتمہ چوروں کے ساتھ صلیب پر ہوتا ہے۔ مگر ﷲتعالیٰ کا یہ قانون ہے کہ وہ انبیاء کو کچھ نہ کچھ کامیابی دے کر اٹھاتا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق ’’وجیہًا فی الدنیا‘‘ فرمانا بھی یہی معنی رکھتا ہے کہ لوگ انہیں ناکام سمجھیں گے۔ مگر فی الحقیقت وہ کامیابی کے بعد اٹھائے جائیں گے۔ یہ کامیابی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یہود بیت المقدس میں حاصل نہیں ہوئی۔‘‘

(تفسیر بیان القرآن ج۱ ص۳۱۱)

258

معزز حضرات! جب یہ طے ہوگیا کہ واقعہ صلیب تک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دنیوی وجاہت وعزت حاصل نہ تھی۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ واقعہ صلیب اور اس کے بعد کے زمانہ میں کیا انہیں یہ وجاہت اس وقت تک نصیب ہوئی ہے یا نہ؟ اس کا جواب بھی قادیانی کے اپنے اقوال اور مسلمات سے پیش کرتا ہوں۔ یعنی ابھی تک دنیوی وجاہت اور عزت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو حاصل نہیں ہوئی۔

۱… واقعہ صلیبی کو آیت: ’’واذ کففت بنی اسرائیل عنک‘‘ کے ذیل میں مرزاقادیانی کے الفاظ میں پڑھ لیا جائے۔ اگر مرزاقادیانی کا بیان صحیح تسلیم کر لیا جائے تو اس سے بڑھ کر دنیوی بے وجاہتی اور بے عزتی کا تصور انسانی دماغ کے تخیل سے محال ہے۔ یہی حال انجیل کے بیانات کو صحیح ماننے کا ہے۔ ہاں! اسلامی حقائق کو قبول کر لینے سے واقعہ صلیبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دنیوی وجاہت کی ابتداء معلوم ہوتی ہے۔ وہ اس طرح کہ یہود کے مکروفریب کے خلاف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا معجزانہ رنگ میں آسمان پر اٹھایا جانا اور یہود نامسعود کا اپنی تمام فریب کاریوں میں بدرجہ اتم فیل ہوجانا گویا وجاہت کی ابتداء ہے۔

۲… اب ہم واقعہ صلیب کے زمانہ مابعد کو لیتے ہیں۔ اس زمانہ میں یہود اور عیسائی بالعموم یہی عقیدہ رکھتے چلے آئے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام صلیب پر چڑھائے گئے اور بالآخر قتل کئے گئے اور اس وجہ سے دونوں مذاہب کے ماننے والے یعنی یہودی اور عیسائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو (نعوذ بِاللہ) لعنتی قرار دیتے ہیں۔ (اگر قادیانی تصدیقات کی ضرورت ہو تو دیکھو ’’ومکروا ومکر اللّٰہ واللّٰہ خیر الماکرین‘‘ کے ذیل میں)

پس کیا کروڑہا انسانوں کا آپ کو لعنتی قرار دینا موجب وجاہت ہے یا بے عزتی؟ پہلے تو صرف مخالف یہودیوں کی نظر ہی میں بے عزت تھے مگر واقعۂ صلیب سے لے کر اس وقت تک عیسائی بھی لعنت میں یہود کے ہمنوا ہوگئے۔

قادیانی نظریہ وجاہت عیسیٰ علیہ السلام اور اس کی حقیقت

’’سچی بات یہ ہے جب مسیح نے ملک پنجاب کو اپنی تشریف آوری سے شرف بخشا تو اس ملک میں خدا نے ان کو بہت عزت دی… حال ہی میں ایک سکہ ملا ہے۔ اس پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نام درج ہے۔ اس سے یقین ہوتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے اس ملک میں آکر شاہانہ عزت پائی۔‘‘(مسیح ہندوستان میں ص۵۳، خزائن ج۱۵ ص۵۳)

ناظرین! مرزاقادیانی کے اس بیان کو ایجاد مرزاقادیانی کہنا ہی زیادہ زیبا ہے۔ کیونکہ یہ سب کچھ مرزاقادیانی کا اپنا تخیل اور اپنے عجیب وغریب دماغ کی پیداوار ہے۔ قرآن وحدیث، تفاسیر، مجددین، انجیل اور کتب تواریخ یکسر اس بیان کی تصدیق اور تائید سے خالی ہیں۔ تینوں آسمانی مذاہب اسلام، یہودیت، مسیحیت کوئی اس کو تسلیم نہیں کرتا۔ ہاں! اتنا معلوم ہوتا ہے کہ مرزاقادیانی بھی ’’وجیہًا فی الدنیا‘‘ کی تفسیر دنیوی جاہ وجلال اور بادشاہت سے کرتے ہیں۔ کوئی قادیانی حضرات سے دریافت کرے کہ علاقہ ہیرودیس میں مسیح علیہ السلام ساڑھے تینتیس برس تک رہے اور بغیر وجاہت دنیوی عزت کے رہے۔ دنیوی جاہ وجلال سے بھی عاری رہے۔ باوجود اس کے اس زمانہ میں جو انجیل نازل ہوئی۔ اس کے نام پر انجیل موجود ہے اور ساڑھے تینتیس سال کے حالات سے ساری انجیلیں بھری پڑی ہیں۔ اگر آپ کے بیان میں ذرہ بھر بھی صداقت کا نام ہو تو پنجاب میں جو حضرت مسیح علیہ السلام نے شاہانہ عزت پائی۔ اس زمانہ کے حالات کہاں درج ہیں؟ آپ کے خیال میں واقعہ صلیبی کے ۸۷برس بعد تک حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ رہے۔ اس علاقہ میں آپ نے

259

جس انجیل کی تعلیم دی۔ وہ کہاں ہے اور اس کا کیا ثبوت ہے؟ بلکہ آپ کا بیان اگر صحیح مان لیا جائے۔ یعنی صلیب کے واقعہ کے ۸۷برس بعد تک حضرت مسیح گمنامی کی زندگی بسر کر کے کشمیر میں فوت ہوگئے تو کیا یہ بھی کوئی دنیوی وجاہت اور عزت ہے کہ جلاوطنی اور مسافری کے مصائب وآلام برداشت کر کے آخر ۸۷برس کے بعد بے نام ونشان فوت ہوگئے؟ سبحان ﷲ! کہ اتنی بڑی وجاہت کے باوجود اوراق تاریخ ان کے تذکرہ سے خالی ہیں۔ طرفہ تر یہ کہ تواریخ کشمیر پر یہ الہامی ضمیمہ کسی طرح چسپاں نہیں ہوسکتا۔ بینوا توجروا!

لیجئے! ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ ’’وجیہًا فی الدنیا‘‘ کا مطلب کیا ہے۔ لیجئے! ’’وجیہًا فی الدنیا‘‘ کی بشارت ووعدہ کی تکمیل کے لئے ﷲتعالیٰ فرماتے ہیں۔ ’’وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ‘‘ یعنی تمام اہل کتاب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے ان پر ایمان لے آئیں گے۔ (مفصل دیکھو اسی آیت کی ذیل میں)

رسول کریم ﷺ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد ثانی کا حال ان الفاظ میں بیان فرماتے ہیں: ’’عن ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ قال: قال رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم: والذی نفسی بیدہ لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم حکمًا عدلًا۔ فیکسر الصلیب ویقتل الخنزیر ویضع الحرب ویفیض المال حتّٰی لا یقبلہ احد، وتکون السجدۃ الواحدۃ خیرا من الدنیا وما فیہا ثم یقول ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ فاقروا ان شئتم! وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ (بخاری ومسلم)‘‘ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا خدا کی قسم عنقریب ابن مریم علیہ السلام تم میں اتریں گے حاکم عادل ہوکر۔ پھر وہ صلیب (عیسائیوں کے نشان مذہب) کو توڑیں گے اور خنزیر کو قتل کرادیں گے اور بوجہ غلبۂ اسلام جہاد کو موقوف کر دیں گے (یعنی جب کفار ہی نہ رہیں گے تو جہاد کس سے کریں گے۔ لہٰذا شروع میں جہاد ضرور کریں گے) اور مال اتنا فراوان ہو جائے گا کہ کوئی شخص اسے قبول نہ کرے گا۔ یہاں تک کہ ایک سجدہ ساری دنیا کی نعمتوں سے اچھا ہو گا۔ پھر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر تم (اس کی تصدیق کلام ﷲ سے) چاہو۔ تو پڑھو آیت: ’’وَاِنْ مِّنْ اَہْلِ لْکِتٰبِ اِلَّا لَیُؤْمِنُنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ‘‘

دیکھئے ناظرین! یہ ہے وہ وجاہت جس کی بشارت حضرت مریم علیہا السلام کو دی جا رہی ہے اور جو اہل اسلام کا عقیدہ ہے۔ بہرحال قادیانی مسلمات کی رو سے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام دنیوی وجاہت سے بکلی محروم رہے۔ حالانکہ قادر مطلق خدا کا سچا وعدہ ہے وہ پورا ہوکر رہے گا۔

تصدیق از مرزاقادیانی

حضرات! مرزاقادیانی کو جس زمانہ میں ابھی مسیح، عیسیٰ علیہ السلام، ابن مریم، بننے کا شوق نہیں چرایا تھا۔ تو اس زمانہ میں ان کا بھی وہی عقیدہ تھا۔ جو ایک ارب چالیس کروڑ مسلمانان عالم کا چودہ سو سال سے چلا آرہا ہے۔ براہین احمدیہ اپنی الہامی کتاب میں مجدد ومحدث کا دعویٰ کرنے کے بعد یوں لکھتے ہیں: ’’ہُوَ الَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَہُ بِالْہُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لَیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ‘‘ یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح کے حق میں پیش گوئی ہے اور جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیاگیا ہے وہ غلبہ مسیح کے ذریعہ سے ظہور میں آئے گا اور جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق اور اقطار میں پھیل جائے گا۔

(براہین احمدیہ ص۴۹۸، ۴۹۹، خزائن ج۱ ص۵۹۳)

260

’’عَسٰی رَبُّکُمْ اَنْ یَّرْحَم عَلَیْکُمْ اِنْ عُدْتُّمْ عُدْنَا‘‘ یہ آیت اس مقام میں حضرت مسیح کے جلالی طور پر ظاہر ہونے کا اشارہ ہے… تو وہ زمانہ بھی آنے والا ہے۔ جب خداتعالیٰ مجرمین کے لئے شدت اور عنف اور قہر اور سختی کو استعمال میں لائے گا اور حضرت مسیح علیہ السلام نہایت جلالیت کے ساتھ دنیا پر اتریں گے اور تمام راہوں سڑکوں کو خس وخاشاک سے صاف کردیں گے اور کج وناراست کا نام ونشان نہ رہے گا اور جلال الٰہی گمراہی کے تخم کو اپنی تجلی قہری سے نیست ونابود کر دے گا۔

(براہین احمدیہ ص۵۰۵، خزائن ج۱ ص۶۰۱،۶۰۲)

ناظرین! یہ ہے وہ وجاہت جس کی طرف ﷲتعالیٰ حضرت مریم علیہا السلام کو توجہ دلا رہے ہیں۔ چونکہ ابھی تک یہ وجاہت حضرت مسیح علیہ السلام کو حاصل نہیں ہوئی۔ پس معلوم ہوا کہ وہ ابھی تک دنیا میں نازل بھی نہیں ہوئے اور بقول مرزا ’’نزول جسمانی رفع جسمانی کی فرع ہے۔‘‘ (ازالہ اوہام ص۲۶۹، خزائن ج۳ ص۲۳۶) اس لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام (فداہ ابی وامی، روحی وجسدی واولادی) کا رفع بھی ثابت ہوگیا۔ فالحمد ﷲ علٰی ذالک!

حیات مسیح علیہ السلام کی آٹھویں دلیل

’’وَاِذْ عَلَّمَّتُکَ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَۃَ وَالتَّوْرَاۃَ وَالْاِنْجِیْلَ وَاِذْ تَخْلُقُ مِنَ الطِّیْنَ کَہَیْءۃٍ الطَّیْرَ (مائدہ:۱۱۰)‘‘ {اور جب سکھائی میں نے تجھ کو کتاب اور تہہ کی باتیں اور توریت اور انجیل اور جب تو بناتا تھا گارے سے جانور کی صورت۔}

’’وَیُعَلِّمُہُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَالتَّوْرَۃَ وَالْاِنْجِیْلَ (آل عمران:۴۸)‘‘

قرآن مجید میں جہاں کہیں آنحضرت ﷺ کے لئے ’’یعلمہم الکتاب والحکمۃ‘‘ کا لفظ آیا ہے۔ امت کے اجتماعی فہم قرآن کے مطابق ’’الکتاب والحکمۃ‘‘ سے مراد قرآن وسنت ہے۔ اب سورۂ مائدہ آیت:۱۱۰ اور آل عمران کی آیت:۴۸ میں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے لئے بھی جہاں تورات وانجیل کے علم دئیے جانے کا ذکر ہے۔ وہاں ’’الکتاب والحکمۃ‘‘ سے مراد بھی قرآن وسنت کا علم دیا جانا مذکور ہو تو یہ نہ صرف قرین قیاس بلکہ قرآن کی قرآنی تفسیر قرار دیا جاسکتا ہے۔ اس لئے کہ ’’الکتاب والحکمۃ‘‘ معرفہ ہے۔ بدیں وجہ عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری پر ’’یحکم بشرعنا لا بشرعہ (الیواقیت) یہلک الملل کلہا الاملۃ الاسلام (حدیث)‘‘ کے مطابق قرآن وسنت کا ان کو علم دیا جائے گا۔ وہ کسی سے قرآن وسنت کا علم حاصل نہیں کریں گے بلکہ قرآن وسنت کا علم بذریعہ الہام والقاء منجانب ﷲ ان کو عطاء کیا جائے گا۔ اس لحاظ سے مذکورہ بالا آیات سیدنا مسیح علیہ السلام کے نزول کی دلیلیں قرار پائیں گی۔ یہ صرف ہماری رائے نہیں بلکہ قدیم مفسرین نے بھی اس طرف اشارہ کیا ہے۔ جیسا کہ:

تفسیری شواہد:

۱… علامہ خازن نے اپنی شہرہ آفاق تفسیر خازن میں ’’الحکمۃ‘‘ یعنی ’’العلم والسنۃ واحکام الشرائع‘‘ لکھا ہے۔ (خازن ج۱ ص۲۵۱)

۲… علامہ زمخشری نے (کشاف ج۱ ص۶۹۱) پر ’’الکتاب والحکمۃ‘‘ کے تحت ’’لان المراد بہما جنس الکتاب والحکمۃ‘‘ لکھا ہے۔

۳… تفسیر ابی السعود اور روح المعانی میں بھی اسی طرح مذکور ہے۔

261

۴… علامہ شبیر احمد عثمانی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تفسیر عثمانی میں لکھا ہے: ’’یعنی لکھنا سکھائے گا یا عام کتب ہدایت کا عموماً اور تورات وانجیل کا خصوصاً علم عطاء فرمائے گا اور بڑی گہری حکمت کی باتیں تلقین کرے گا اور بندہ کے خیال میں ممکن ہے کتاب وحکمت سے مراد قرآن وسنت ہو۔ کیونکہ حضرت مسیح علیہ السلام نزول کے بعد قرآن وسنت رسول ﷲ کے موافق حکم کریں گے اور یہ جب ہی ہوسکتا ہے کہ ان چیزوں کا علم دیا جائے۔ و ﷲ اعلم!‘‘

۵… (معالم العرفان ج۳ ص۱۶۶) پر ہے: ’’وَیُعَلِّمُہُ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَۃَ‘‘ اور ﷲتعالیٰ اسے یعنی عیسیٰ علیہ السلام کو کتاب اور حکمت سکھائے گا۔ عام مفسرین کرام کتاب سے مراد لکھنا لیتے ہیں اور حکمت سے دانائی۔ مگر بہت سے دوسرے مفسرین فرماتے ہیں کہ کتاب سے مراد قرآن اور حکمت سے مراد سنت ہے۔ مسلم شریف میں امام ابن ابی ذئب رحمۃ اللہ علیہ کی روایت میں ہے کہ جب مسیح علیہ السلام دنیا میں دوبارہ نازل ہوں گے تو وہ کتاب وسنت کے مطابق فیصلے کریں گے۔ ﷲتعالیٰ آپ کو قرآن وسنت کا علم بھی بلاواسطہ دیں گے۔ آپ کسی استاد سے نہ تفسیر پڑھیں گے اور نہ سنت سیکھیں گے بلکہ ﷲتعالیٰ یہ چیزیں خود بخود سکھائے گا۔

۶… (مسلم شریف ج۱ ص۸۷) پر مستقل باب ہے جس کا عنوان ہے۔

’’بَابُ نُزُوْلِ عِیْسٰی بْنِ مَرْیَمَ عَلَیْہِمَا السَّلَامُ حَاکِمًا بِشَرِیْعَۃِ نَبِیِّنَا ﷺ‘‘ باب نزول عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کے بارہ میں (جب وہ نازل ہوں گے) تو ہمارے نبی ﷺ کی شریعت (کتاب وسنت) کے مطابق فیصلہ کرنے والے ہوں گے۔‘‘

۷… (مسلم شریف ج۱ ص۸۷، باب نزول عیسیٰ بن مریم علیہما السلام) میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے دو روایتیں ہیں: (۱)’’کیف انتم اذا نزل ابن مریم فیکم وامامکم منکم‘‘ عیسیٰ علیہ السلام امت محمدیہ میں نازل ہوں گے اور تمہارا امام (حضرت مہدی علیہ الرضوان) تم میں سے ہوگا۔ س میں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت مہدیb کی دو علیحدہ علیحدہ شخصیات کا تذکرہ ہے۔ (۲)دوسری روایت میں ہے کہ: ’’کیف انتم اذا نزل فیکم ابن مریم فامکم‘‘ عیسیٰ علیہ السلام تم میں نازل ہوں گے اور وہ تمہارے امام ہوں گے۔

ا س روایت کی شرح میں حضرت امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ ایک روایت لائے ہیں۔ ’’قال ابن ابی ذئب تدری ما امکم منکم قلت تخبرنی قال فامکم بکتاب ربکم عزوجل وسنۃ نبیکم ﷺ (مسلم ج۱ ص۸۷)‘‘ ابن ابی ذئب فرماتے ہیں کہ تم جانتے ہو کہ وہ کس چیز پر تمہاری رہنمائی کریں گے۔ میں (راوی) نے کہا کہ آپ فرمائیں۔ فرمایا کہ وہ ﷲ رب العزت کی کتاب اور آنحضرت ﷺ کی سنت کے مطابق رہنمائی فرمائیں گے۔

حیات مسیح علیہ السلام کی نویں دلیل

’’یکلم الناس فی المہد وکہلاً ومن الصالحین (آل عمران:۴۶)‘‘ {اور باتیں کرے گا لوگوں سے جب کہ ماں کی گود میں ہوگا اور جب ادھیڑ عمر کا ہوگا اور نیک بختوں میں سے۔}

سیدہ مریم علیہا السلام کو جب بشارت دی گئی تو مسیح علیہ السلام کی دیگر خصوصیات کے ساتھ اس خصوصیت کا ﷲتعالیٰ نے وعدہ فرمایا۔ اسی طرح جب قیامت کے دن مسیح علیہ السلام سے حق تعالیٰ فرمائیں گے کہ ہم نے آپ پر یہ احسان کئے تو دیگر انعامات کے علاوہ ’’تکلم الناس فی المہد وکہلا (مائدہ:۱۱۰)‘‘ {تو کلام کرتا تھا لوگوں سے

262

گود میں اور بڑی عمر میں۔} اس کا ﷲتعالیٰ تذکرہ فرمائیں گے۔

تفسیری شواہد:

۱… حضرت مولانا محمد شفیعK (معارف القرآن ج۲ ص۶۲،۶۳) پر لکھتے ہیں: ’’اس آیت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ایک صفت یہ بھی بتلائی ہے کہ وہ بچپن کے گہوارے میں جب کوئی بچہ کلام کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا اس حالت میں بھی کلام کریں گے۔ جیسا کہ دوسری آیت میں مذکور ہے کہ جب لوگوں نے ابتداء ولادت کے بعد حضرت مریم علیہا السلام پر تہمت کی بناء پر طعن کیا، تو یہ نومولود بچے حضرت عیسیٰ علیہ السلام بول اٹھے، ’’اِنِّیْ عَبْدُاللّٰہِ‘‘ اور اس کے ساتھ یہ بھی فرمایا کہ جب وہ ’’کہل‘‘ یعنی ادھیڑ عمر کے ہوں گے۔ اس وقت بھی لوگوں سے کلام کریں گے۔ یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ بچپن کی حالت میں کلام کرنا تو ایک معجزہ اور نشانی تھی اس کا ذکر تو اس جگہ کرنا مناسب ہے مگر ادھیڑ عمر میں لوگوں سے کلام کرنا تو ایک ایسی چیز ہے جو ہر انسان مومن کافر، عالم، جاہل کیا ہی کرتا ہے۔ یہاں اس کو بطور وصف خاص ذکر کرنے کے کیا معنی ہو سکتے ہیں۔ اس سوال کا ایک جواب تو وہ ہے جو بیان القرآن کے خلاصہ تفسیر سے سمجھ میں آیا، کہ مقصد اصل میںحالت بچپن ہی کے کلام کا بیان کرنا ہے۔ اس کے ساتھ بڑی عمر کے کلام کا ذکر اس غرض سے کیاگیا کہ ان کا بچپن کا کلام بھی ایسا نہیں ہوگا جیسے بچے ابتداء میں بولا کرتے ہیں۔ بلکہ عاقلانہ، عالمانہ، فصیح وبلیغ کلام ہوگا۔ جیسے ادھیڑ عمر کے آدمی کیا کرتے ہیں اور اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے واقعہ اور اس کی پوری تاریخ پر غور کیا جائے تو اس جگہ ادھیڑ عمر میں کلام کرنے کا تذکرہ ایک مستقل عظیم فائدہ کے لئے ہو جاتا ہے۔ وہ یہ ہے کہ اسلامی اور قرآنی عقیدہ کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ آسمان پر اٹھا لیا گیا ہے۔ روایات سے یہ ثابت ہے کہ ان کو اٹھانے کے وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی عمر تقریباً تیس پینتیس سال کے درمیان تھی جو عین عنفوان شباب کا زمانہ تھا۔ ادھیڑ عمر جس کو عربی میں کہل کہتے ہیں وہ اس دنیا میں ان کی ہوئی ہی نہ تھی۔ اس لئے ادھیڑ عمر میں لوگوں سے کلام جبھی ہوسکتا ہے جب کہ وہ پھر دنیا میں تشریف لائیں۔ اس لئے جس طرح ان کا بچپن کا کلام معجزہ تھا اسی طرح ادھیڑ عمر کا کلام بھی معجز ہی ہے۔‘‘

۲… علامہ ابن جریر طبری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’معنی قولہ وکہلا انہ سیکلمہم اذا ظہر‘‘ عیسیٰ علیہ السلام کا جب نزول ہوگا اس وقت بھی کلام فرمائیں گے۔ اسی کے آگے ابن زید رحمۃ اللہ علیہ کا اثر لائے ہیں۔ ’’قد کلمہم عیسٰی فی المہد وسیکلم اذا قتل الدجال وہو یومئذ کہل (ابن جریر ج۳ ص۲۷۲،۲۷۳)‘‘ عیسیٰ علیہ السلام نے ان لوگوں سے پنگھوڑے میں باتیں کیں۔ اسی طرح جب قتل دجال (نزول کے بعد) کریں گے اس وقت بھی باتیں کریں گے۔ اس وقت وہ ادھیڑ عمر کے ہوں گے۔ یعنی اتنا لمبا عرصہ مرور زمانہ کا ان پر کوئی اثرانداز نہ ہوگا۔

۳… علامہ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی حضرت زید رحمۃ اللہ علیہ کے اسی اثر کو نقل فرمایا ہے: ’’قد کلمہم عیسٰی علیہ السلام فی المہد وسیکلمہم اذا قبل الدجال وہو یومئذ کہل (درمنثور ج۲ ص۲۵)‘‘ عیسیٰ علیہ السلام نے پنگھوڑے میں جس طرح باتیں کیں۔ اسی طرح دجال کے مقابل (نزول کے بعد) جب آئیں گے ادھیڑ عمر کے ہوں گے اور باتیں کریں گے۔

۴… علامہ آلوسی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’وعلی ما ذکر فی سن الکہولۃ یراد بتکلیمہ علیہ السلام کہلا تکلیمہ لہم کذالک بعد نزولہ من السماء‘‘ ادھیڑ عمر سے مراد عیسیٰ علیہ السلام کاادھیڑ عمر میں اس

263

وقت باتیں کرنا ہے جب وہ آسمانوں سے نازل ہوں گے۔ پھر وہی مذکورہ ابن جریر کے مذکورہ اثر کو اس کی تائید میں ذکر کیا ہے۔ (روح المعانی ج۳ ص۱۴۵)

۵… حضرت قاضی ثناء ﷲ پانی پتی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’وفیہ اشارۃ الٰی رفعہ یعمر ولا یموت حتی یکہل والٰی ان سنہ لا یتجاوز الکہولۃ قال الحسن بن فضل وکہلا یعنی بعد نزولہ من المساء فانہ رفع الٰی السماء قبل سن الکہولۃ (مظہری ج۳ ص۵۰)‘‘ اس (وکہلا) میں اشارہ ہے کہ وہ طویل عمر پائیں گے۔ حتیٰ کہ ادھیڑ عمر اور (مرور زمانہ کا ان پر کوئی اثر نہ ہوگا) ان کی عمر (یعنی جیسے قبل از رفع تھے ویسے بعد النزول) کہولت سے تجاوز نہ کرے گی۔ حسن بن فضل رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ کہولت (کی باتوں سے مراد) ان کا آسمانوں سے نازل ہونے کے بعد باتیں کرنا ہے۔ اس لئے کہ وہ کہولت سے قبل آسمانوں پر اٹھائے گئے ہیں۔

۶… علامہ علی بن محمد بن ابراہیم بغدادی المعروف بالخازن رحمہم اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’عن الحسن بن الفضل وکہلا یعنی ویکلم الناس کہلا بعد نزولہ من السماء‘‘ حسن بن فضل رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ کہولت یعنی عیسیٰ علیہ السلام کا ادھیڑ عمر میں باتیں کرنا یہ آسمانوں سے نزول کے بعد ہوگا۔

’’وفی ہذہٖ نص علٰی انہ سینزل من السماء الی الارض ویقتل الدجال (تفسیر خازن ج۲ ص۲۵۰)‘‘ اور یہ نص (صریح قطعی) ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمانوں سے زمین پر نازل ہوں گے اور دجال کو قتل کریں گے۔

۷… حضرت فراء بغوی رحمۃ اللہ علیہ نے مذکورہ تفسیر نقل فرمائی ہے۔

(معالم التنزیل ج۱ ص۱۵۹)

۸… علامہ رازی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’کہلا ان یکون کہلا بعد ان ینزل من السماء فی آخرالزمان ویکلم الناس ویقتل الدجال قال الحسن بن الفضل وفی ہذہ الایۃ نص فی انہ علیہ الصلوٰۃ والسلام سینزل الٰی الارض‘‘ کہلا سے مراد وہ ادھیڑ عمر ہے جو ان کے آسمانوں سے زمانہ نزول میں (قرب قیامت) میںہوگی کہ وہ لوگوں سے باتیں کریں گے۔ دجال کو قتل کریں گے۔ حسن بن فضل رحمۃ اللہ علیہ اس آیت کو عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ زمین پر نازل ہونے کے لئے نص (قطعی) قرار دیتے ہیں۔ (تفسیر کبیر ج۸ ص۵۵)

۹… ابوالسعود العمادی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’انہ رفع شابا والمراد کہلاً بعد نزولہ‘‘

(تفسیر ابوالسعود ج۲ ص۳۷)

۱۰… تفسیر جلالین میں ہے: ’’فی المہدای طفلا وکہلا یفید نزولہ قبل الساعۃ لانہ رفع قبل الکہولۃ‘‘

(جلالین المائدہ ص۱۱۰)

۱۱… (تفسیر جامع البیان پ۷ ص۴۸) پر اس آیت کے تحت میں مذکور ہے: ’’کیونکہ وہ سن کہولت سے پہلے آسمان کو اٹھائے گئے اور قیامت سے کچھ پہلے اتارے جائیں گے تو اس قدر زمانہ دراز کے باوجود اس عالم میں ان کو کچھ تغیر نہ ہوگا بلکہ وہی سن کہولت کے ہوگا… یہاں (اس آیت) سے نکلا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے اترنا اقتضاء النص سے ثابت ہے۔‘‘

۱۲… حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ اپنی تفسیر (معارف القرآن ج۴ ص۱۵۲) پر فرماتے ہیں: ’’لفظ کہلاً میں آپ کے نزول من السماء کی طرف اشارہ ہے جس کی تفصیل احادیث میں آئی ہے۔ اس لئے کہ آپ زمانہ کہولت سے پہلے آسمان کو اٹھائے گئے، نزول کے بعد آپ کہولت کو پہنچیں گے اور حکمت وموعظت کی باتیں لوگوں کو بتلائیں گے۔‘‘

264

حیات مسیح علیہ السلام کی دسویں دلیل

’’ہَوَ الَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْہُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لَیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہِ ولوکرہ المشرکون (توبہ:۳۳)‘‘ {اسی نے بھیجا اپنے رسول کو ہدایت اور سچا دین دے کر تاکہ اس کو غلبہ دے ہر دین پر اور پڑے برا مانیں مشرک۔}

بعینہٖ اسی طرح یہی آیت سورۃ صف آیت:۸ میں ہے۔ اس میں بجائے ’’مشرکون‘‘ کے ’’کافرون‘‘ ہے۔

(تفسیر انوار البیان ج۴ ص۲۶۶،۲۶۷) پر غالب ہونے کی تین صورتیں بیان کی گئی ہیں: (۱)دلیل وحجت کے ساتھ غلبہ یہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ (۲)اسلام کے غالب ہونے کی یہ صورت کہ مسلمان اقتدار کے اعتبار سے غالب ہوں۔ جب صرف تین براعظم دنیا میں مصروف تھے تو قیصروکسریٰ۔ ایشیاء وافریقہ اور یورپ پر مسلمان غالب رہے۔ اس وقت بھی دنیا کے بڑے حصہ پر مسلمان برسراقتدار ہیں۔ (۳)تیسری صورت کہ تمام اقوام جو مختلف ادیان کے ماننے والے ہیں، مسلمان ہو جائیں، اور دنیا میں اسلام ہی اسلام ہو ایسا قیامت سے پہلے ضرور ہوگا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت مہدی علیہ السلام کے زمانہ میں اسلام خوب پھیل جائے گا۔ (ملخص) دونوں مقامات پر ان آیات سے قبل کی آیات میں سیدنا مسیح علیہ السلام کا تذکرہ ہے۔ چنانچہ مفسرین نے ان آیات کو سیدنا مسیح علیہ السلام کی دوبارہ تشریف آوری سے متعلق قرار دیا ہے۔

تفسیر نبوی ﷺ

اس آیت سراپا انعام وہدایت میں دین اسلام کو جملہ دینوں پر ایک نمایاں غلبہ دینے کا وعدہ دیا ہے۔ چنانچہ حدیث میں ہے کہ یہ غلبۂ کاملہ حضرت مسیح ابن مریم کے نزول کے زمانہ میں ہوگا: ط ’’وَعَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ: لَا یَذْہَبْ الِّیْلُ وَالنَّہَارُ حَتّٰی یُعِبْدُ اللَّاتُ وَالْعُزی فَقُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ انی کُنْتُ لَا ظُنُّ حِیْنَ اَنْزَلَ اللّٰہُ ہُوَ الَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْہُدٰی الآیۃ اَنَّ ذَالِکَ تَامًا فَقَالَ اِنَّہٗ سَیَکُوْنُ مَنْ ذَالِکَ مَا شَاء اللّٰہُ ثُمَّ یَبْعَثَ اللّٰہُ رِیْحًا طَیِّبَۃً فَتُوُفِّیْ کُلُّ مَنْ کَانَ فِیْ قَلْبِہٖ مِثْقَالَ حَبَّۃٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِّنْ اَیْمَانٍ‘‘ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے آنحضرت ﷺ سے سنا آپ فرماتے تھے قیامت قائم نہ ہو گی حتیٰ کہ بت پرستی کا دوبارہ زور شور نہ ہو۔ میں نے عرض کی یا رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم میں تو جب آیت: ’’ہُوَ الَّذِیْ اَرْسَلَ‘‘ نازل ہوئی اس وقت سمجھ چکی تھی کہ دین کا غلبہ پورا ہو چکا۔ فرمایا تحقیق بات یہ ہے کہ اس کا غلبہ عنقریب پھر ہو گا جتنا عرصہ ﷲ چاہے گا (مسیح ابن مریم علیہما السلام کے زمانہ میں نزول کے بعد) پھر خدا ایک پاک ہوا بھیجے گا جس سے ہر وہ مومن جس کے دل میں رائی کے دانہ برابر ایمان ہو گا مر جائے گا۔ ’’فَیَبْقٰی مَنْ لَا خَیْرَ فِیْہِ فَلَیَرْجِعُوْنَ اِلٰی دِیْنِ اَبَائِہِمْ‘‘ پس باقی رہ جائیں گے ایسے شخص جن میں ذرہ بھر بھی بھلائی نہ ہوگی پس وہ جھک جائیں گے اپنے آبائی دین بت پرستی کی طرف۔

(مسلم ج۲ ص۳۹۴، کتاب الفتن واشراط الساعۃ مشکوٰۃ ص۴۸۱، باب لاتقوم الساعۃ الاعلی شرار الناس فصل اوّل، درمنثور ج۳ ص۲۳۰)

اسی باب کی دوسری حدیث میں مزید وضاحت ہے کہ خداعیسیٰ بن مریم علیہما السلام کو بھیجے گا پھر سات سال مسلمانوں پر ایسے آئیں گے کہ کسی دل میں رنج وبغض، حسد وعداوت نہ ہوگا۔ پھر خدا ایک پاک ہوا بھیجے گا جو ہر مومن کو قبض کر لے گی اور باقی رہ جائیں گے شریر تب ان پر قیامت قائم ہوگی۔ (عن عبد ﷲ بن عمر رضی اللہ عنہ مشکوٰۃ ص۴۸۱، مسلم ج۱ ص۴۰۳)

265

الغرض اس آیت کی تفسیر حدیثی سے عیاں ہے کہ حضرت مسیح ابن مریم زندہ ہیں جو آخری زمانہ میں نازل ہوں گے۔ ان کے ہاتھ سے دین اسلام جملہ مذاہب پر پھر غلبہ حاصل کرے گا۔

تفسیری شواہد:

۱… علامہ عثمانی رحمۃ اللہ علیہ (سورۃ صف:۸) کے فائدہ میں فرماتے ہیں: ’’اسلام کا غلبہ باقی ادیان پر معقولیت اور حجت ودلیل کے اعتبار سے۔ یہ تو ہر زمانہ میں بحمد ﷲ نمایاں طور پر حاصل رہا ہے۔ باقی حکومت وسلطنت کے اعتبار سے وہ اس وقت حاصل ہوا ہے اور ہوگا جب کہ مسلمان اصول اسلام کے پوری طرح پابند اور ایمان وتقویٰ کی راہوں میں مضبوط اور جہاد فی سبیل ﷲ میں ثابت قدم تھے یا آئندہ ہوں گے اور دین حق کا ایسا غلبہ کہ باطل ادیان کو مغلوب کر کے بالکل صفحۂ ہستی سے محو کر دے۔ یہ نزول مسیح علیہ السلام کے بعد قریب قیامت کے ہونے والا ہے۔‘‘

۲… علامہ رازی رحمۃ اللہ علیہ (تفسیر کبیر ج۱۶ ص۴۰) پر غلبہ دین اسلام کا جمیع ادیان پر کیسے؟ کے کئی جواب دئیے ہیں۔ دوسرے جواب میں فرماتے ہیں: ’’الوجہہ الثانی فی الجواب ان نقول روی عن ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ بانہ تعالٰی یجعل الاسلام عالیًا علی جمیع الادیان وتمام ہذا انما یحصل عند خروج عیسٰی‘‘ دوسرے جواب میں کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ﷲتعالیٰ دین اسلام کو تمام دینوں پر بلندی نصیب کریں گے۔ یہ عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری پر ہوگا۔

۳… (تفسیر ابن عباس رضی اللہ عنہ ص۱۲۱) پر ہے: ’’یظہر دین الاسلام علی الادیان کلہا من قبل ان تقوم الساعۃ‘‘ تمام ادیان پر غلبہ قیامت سے قبل نزول مسیح علیہ السلام کے وقت ہوگا۔

۴… (درمنثور ج۳ ص۲۳۱) پر ایک تو وہ روایت عائشہ رضی اللہ عنہا نقل کی گئی ہے جو اس آیت کی تشریح میں ہم پہلے نقل کر چکے ہیں۔ (۲)دوسرے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی روایت نقل کی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں یہ غلبہ ہوگا۔ (۳)اسی طرح تیسری روایت عبد بن حمید رحمۃ اللہ علیہ سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی نقل ہے:’’عن ابی ہریرۃ فی قولہ لیظہرہ علی الدین کلہ قال خروج عیسٰی علیہ السلام‘‘ تمام ادیان پر دین اسلام کا غلبہ عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری پر ہوگا۔

۵… علامہ آلوسی رحمۃ اللہ علیہ (روح المعانی پارہ:۲۸ ص۸۸) پر لکھتے ہیں:’’عن مجاہد رحمۃ اللہ علیہاذا نزل عیسٰی علیہ السلام لم یکن فی الارض الادین الاسلام‘‘ حضرت مجاہد رحمۃ اللہ علیہسے منقول ہے کہ جب عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے تو روئے زمین پر دین اسلام کے سوا کوئی (دین) نہ ہوگا۔

۶… (روح المعانی پارہ:۱۰ ص۷۷) پر ایک قول نقل کر کے فیصلہ فرماتے ہیں: ’’واکثر المفسرون علی احتمال الثانی قالوا وذالک عند نزول عیسٰی علیہ السلام فانہ حینئذ لا یبقی دین سوی دین الاسلام‘‘ اکثر مفسرین دوسرے قول کے مطابق فرماتے ہیں کہ (غلبۂ اسلام) نزول عیسیٰ علیہ السلام کے وقت میں ہوگا پس اس وقت سوائے دین اسلام کے اور کوئی دین باقی نہ رہے گا۔

۷… (تفسیر مظہری پارہ:۱۰ ص۲۶۰) پر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، حضرت ضحاک رضی اللہ عنہ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے دین اسلام کا غلبہ عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے زمانہ میں لکھا ہے۔

266

۸… ’’تفسیر کشاف سورۃ صف‘‘ کی آیت بالا میں مذکور ہے: ’’عن مجاہد اذا نزل عیسٰی علیہ السلام لم یکن فی الارض الا دین الاسلام‘‘ حضرت مجاہد رحمۃ اللہ علیہسے منقول ہے کہ جب عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے تو روئے زمین پر صرف اور صرف اسلام ہی ہوگا۔

۹… (تفسیر طبری ج۲۸ ص۸۸) پر ہے: ’’لیظہر الدین دینہ الحق الذی ارسل بہ رسولہ علی کل دین سواہ وذالک عند نزول عیسٰی بن مریم حین تصیر الملۃ واحدۃ فلا یکون دین غیر الاسلام‘‘ تاکہ غالب کریں دین حق کو جو آنحضرت رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے۔ تمام دوسرے مذاہب پر اور یہ عیسیٰ بن مریم کے نزول کے وقت ہوگا جب کہ ایک ملت (اسلام) ہو جائے گی۔ دین اسلام کے سوا کوئی دین باقی نہ رہے گا۔

۱۰… (طبری ج۱۰ ص۱۱۶) پر بھی عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کے نزول کے وقت غلبہ دین اسلام ہوگا۔ منقول ہے۔

۱۱… (تفسیر ابن کثیر مع البغوی ص۱۵۲) سورۃ توبہ کی مذکورہ آیت کے تحت تمام احادیث متعلقہ نقل کر کے سب کے آخر میں قول فیصل کے طور پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی مذکورہ بالا روایت نقل کی گئی ہے ۔ فالحمدﷲ!

۱۲… تفسیر معالم التنزیل سورۃ توبہ کی آیت مذکورہ کے تحت ص۷۴ پر حضرت ضحاک رضی اللہ عنہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے آنحضرت ﷺ کی مذکورہ بالا تفسیر نقل کی گئی ہے۔

۱۳… (تفسیر خازن ج۳ ص۶۹) پر بھی اس طرح منقول ہے۔

۱۴… (تفسیر مواہب الرحمن پ۲۸ ص۳۱۷) پر اس آیت کی تفسیر میں حضرت عبد ﷲ بن سلام رضی اللہ عنہ صحابی رسول ﷺ کی تورات کے حوالہ سے یہ روایت نقل فرمائی کہ: ’’تورات میں آنحضرت ﷺ کی تعریف مذکور ہے اور یہ کہ عیسیٰ علیہ السلام آپ کے پاس دفن ہوں گے۔‘‘

۱۵… (بیان القرآن پ۲۸ ص۳) پر بھی حضرت عبد ﷲ بن سلام کی یہی روایت منقول ہے اور سورۃ توبہ کی آیت کی تفسیر میں ص۱۰۸ پر منقول ہے۔ ’’اتمام بمعنی اثبات وتقویت دلائل تو اسلام کے لئے ہر زمانہ میں عام ہے… اور (اتمام) مع اعتبار انضمام سلطنت مشروط ہے۔ اصلاح اہل دین کے ساتھ اور مع محو کل بقیہ ادیان واقع ہوگا زمانہ عیسیٰ علیہ السلام میں۔ (باقی تفسیری شواہد طوالت کے خوف سے نقل نہیں کئے)‘‘

قادیانی شہادت

اس کی مزید تائید مرزاقادیانی کی تحریر سے کی جاتی ہے۔ (براہین احمدیہ ص۴۹۸،۴۹۹، خزائن ج۱ ص۵۹۳) پر مرزالکھتا ہے: ’’ہو الذی ارسل رسولہ بالہدٰی ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ‘‘ یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح علیہ السلام کے حق میں یہ پیش گوئی ہے اور جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیاگیا ہے وہ غلبہ مسیح کے ذریعے ظہور میں آئے گا اور جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق واقطار میں پھیل جائے گا۔ لیکن اس عاجز پر ظاہر کیاگیا ہے کہ یہ خاکسار اپنی غربت اور انکسار اور توکل اور ایثار اور آیات اور انوار کے رو سے مسیح کی پہلی زندگی کا نمونہ ہے۔‘‘

سوال:

مرزاقادیانی کے مرید کہتے ہیں کہ یہ رسمی عقیدہ لکھ دیا تھا۔

جواب:

مرزاقادیانی نے براہین کو ملہم ومامور ہوکر لکھا۔ قرآنی آیت سے استدلال کیا اور بقول اس کے یہ کتاب براہین

267

احمدیہ، حضور علیہ السلام کو دیکھا کر منظوری حاصل کی اور یہ کہ یہ کتاب قطبی یعنی قطب ستارہ کے مانند ہے۔ مرزاقادیانی نے (تتمہ حقیقت الوحی ص۵۱، خزائن ج۲۲ ص۴۸۵) پر لکھا ہے: ’’ ﷲتعالیٰ براہین احمدیہ میں فرماتا ہے۔‘‘ گویا براہین احمدیہ ﷲتعالیٰ کی کتاب ہے۔ ان تصریحات کے ہوتے ہوئے قادیانیوں کا یہ عذر عذرلنگ ہے۔

جواب:

۲… عبارت مذکورہ میں ہے: ’’لیکن اس عاجز پر ظاہر کیاگیا۔‘‘ یہ ظاہر کرنے والا کون تھا؟ رحمن یا شیطان۔ اگر رحمن تھا تو پھر قرآنی تفسیر سے رحمانی فہم کے ساتھ مرزا حیات مسیح علیہ السلام تسلیم کر رہا ہے۔ ’’فہو المقصود‘‘ اور اگر یہ ظاہر کرنے والا شیطان تھا تو قادیانیوں کو مبارک ہو۔ قصہ ہی تمام ہوا ا ’’فماذا بعد الحق الا الضلال‘‘

حیات مسیح علیہ السلام کی گیارھویں دلیل

’’اَیَّدْنَاہُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ (بقرہ۲۵۳)‘‘ {ہم نے مسیح کو جبرائیل کے ساتھ تائید دی۔}

جو مدعا بالا کی مؤید ہے یہ ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو بوقت محصوری آسمان پر لے جانے کو حضرت جبرائیل علیہ السلام آئے جیسا کہ سابقاً بروایت ابن عباس رضی اللہ عنہ جن کو ’’علم قرآن بدعا نبوی ﷺ حاصل تھا۔‘‘ مذکور ہو چکا ہے۔ اسی کی طرف قرآن مجید میں باربار توجہ دلائی گئی ہے۔ تفصیل اس کی یوں ہے کہ اگرچہ تمام انبیاء کے پاس حضرت جبرائیل علیہ السلام آتے رہے۔ مگر اس طرح کا واقعہ کسی نبی کے ساتھ پیش نہیں آیا جیسا مسیح علیہ السلام کے ساتھ، یعنی یہ کہ جبرائیل علیہ السلام انہیں دشمنوں کے نرغے سے نکال کر آسمان پر لے گئے ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ خاص مسیح علیہ السلام کے متعلق آیات میں باربار آیا ہے۔ ’’اَیَّدْنَاہُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ‘‘ ہم نے مسیح علیہ السلام کو جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ تائید دی۔

اسی طرح خداتعالیٰ قیامت کے دن مسیح علیہ السلام کو یہ انعام یاد دلائے گا۔ ’’اِذْ اَیَّدْتُکَ بِرُوْحِ الْقُدُسِ (مائدہ:۱۱۰)‘‘ اے عیسیٰ علیہ السلام وہ وقت یاد کر جب میں نے تجھے روح القدس سے تائید بخشی یعنی آسمان پر زندہ اٹھایا۔ (تفسیر ہذا مذکور برتفسیر کبیر ج۱ ص۲۲۶)

آیات بالا کی موجودگی میں یہ اعتقاد رکھنا کہ معاذ ﷲ یہود نے حضرت مسیح علیہ السلام کو صلیب پر چڑھا دیا اور آپ کے ہاتھوں میں میخیں ٹھونکیں۔ ایک صریح گندہ اور کفریہ عقیدہ ہے۔ یقینا حضرت مسیح علیہ السلام باعانت جبرائیل علیہ السلام بحکم وبموجب وعدہ الٰہی جو جلد اور بلا توقف پورا ہونے والا تھا۔ یہود کے ہاتھوں میں مبتلائے آلام ہونے سے پیشتر زندہ آسمان پر اٹھائے گئے۔ اب چند آیات قرآنی ملاحظہ ہوں۔

’’وَآتَیْنَا عِیْسٰی ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنَاتِ وَاَیَّدْنَاہُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ (البقرہ:۸۷)‘‘ روح القدس سے مراد جبرائیل علیہ السلام۔

’’وَآتَیْنَا عِیْسٰی ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنَاتِ وَاَیَّدْنَاہُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ (البقرہ:۲۵۳)‘‘ روح القدس سے مراد جبرائیل علیہ السلام۔

’’وَکَلِمَتَہٗ اَلْقَاہَا اِلٰی مَرْیَمَ وَرُوْحٌ مِنْہُ (النساء:۱۷۱)‘‘اور اس کا کلام ہے جس کو ڈالا مریم کی طرف اور روح (مراد روح ﷲ)

’’اَذْکُرْ نِعْمَتِیْ عَلَیْکَ وَعَلٰی وَاَلْدَتِکَ اِذْا اَیَّدْتُّکَ بِرُوْحِ الْقُدُس (المائدہ:۱۱۰)‘‘ یاد کر میرا احسان جو ہوا ہے تجھ پر اور تیری ماں پر جب مدد کی میں نے تیری روح پاک سے۔ (مراد روح ﷲ)

268

’’یُنَزِّلُ الْمَلٰئِکَۃُ بِالرُّوْحِ مِنْ اَمْرِہٖ عَلٰی مَنْ یَّشَائُ مِنْ عِبَادِہٖ (النحل:۲)‘‘ یہاں روح سے مراد وحی الٰہی ہے۔

’’قُلْ نَزَّلَہٗ رُوْحُ الْقُدُسِ مِنْ رَّبِّکَ بِالْحَقِّ لِیُثَبِّتَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا (النحل:۱۰۲)‘‘ مراد جبرائیل علیہ السلام۔

’’وَیَسْءلُوْنَکَ عَنِ الرُّوْحِ (الاسراء:۸۵)‘‘ اس سے مراد روح ہے۔

’’قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّیْ وَمَا اُوْتِیُتُمْ مِنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِیْلًا (الاسراء:۸۵)‘‘ اس سے مراد روح ہے۔

’’نَزَّلَ بِہِ الرُّوْحُ الْاَمِیْنَ عَلٰی قَلْبِکَ لِتَکُوْنَ مِنَ الْمُنْذَرِیْنَ (الشعراء:۱۹۳)‘‘ مراد جبرائیل علیہ السلام۔

’’یُلْقِی الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِہٖ عَلٰی مَنْ یَّشَائُ مِنْ عِبَادِہٖ لِیُنْذِرَ یَوْمَ الطَّلَاقُ (غافر:۱۵)‘‘ اس سے مراد وحی ہے۔

’’اُوْلٰئِکَ کَتَبَ فِیْ قُلُوْبِہِمُ الْاِیْمَانَ وَاَیَّدْہُمْ بِرُوْحٍ مِنْہُ (المجادلۃ:۲۲)‘‘ اس سے مراد جبرائیل علیہ السلام۔

’’وَالرُّوْحُ اِلَیْہِ فَیْ یَوْمٍ کَانَ مِقْدَارُہٗ خَمْسِیْنَ اَلْفَ سَنَۃ (المعارج:۴)‘‘ اس سے مراد جبرائیل علیہ السلام۔

’’یَوْمَ یَقُوْمُ الرُّوْحُ وَالْمَلَائِکَۃُ صَفًّا (النباء:۳۸)‘‘ اس سے مراد جبرائیل علیہ السلام۔

’’تَنَزَّلُ الْمَلَائِکَۃُ وَالرُّوْحُ فِیْہَا بِاِذْنِ رَبِّہِمْ مِنْ کُلِّ اَمْرٍ (القدر:۴)‘‘ اس سے مراد جبرائیل علیہ السلام۔

’’وَکَذَالِکَ اَوْحَیْنَا اِلَیْکَ رُوْحًا مِنْ اَمْرِنَا (الشوریٰ:۵۲)‘‘ اس سے مراد قرآن پاک۔

’’فَارْسَلْنَا اِلَیْہَا رُوْحَنَا فَتَمَثَّلَ لَہَا بَشَرًا سَوِیَّا (مریم:۱۷)‘‘ اس سے مراد جبرائیل علیہ السلام۔

’’اَحْصَنَتْ فَرْجَہَا فَنَفَخْنَا فِیْہَا مِنْ رُّوْحِنَا (الانبیاء:۹۱)‘‘ اس سے مراد جبرائیل علیہ السلام یا حضرت عیسیٰ علیہ السلام۔

’’وَمَرْیَمَ ابْنَۃَ عِمْرَانَ اَلَّتِیْ اَحْصَنَتْ فَرْجَہَا فَنَفَخْنَا فِیْہِ مِنْ رُّوْحِنَا (التحریم:۱۲)‘‘ اس سے مراد جبرائیل علیہ السلام یا حضرت عیسیٰ علیہ السلام۔

استدلال:

۱… قرآن مجید میں ۱۸آیات سے ثابت ہوا کہ جہاں کہیں ﷲرب العزت نے روح کا لفظ ارشاد فرمایا ہے وہاں روح سے مراد جبرائیل امین علیہ السلام، فرشتے، وحی یا روح اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں… اور ظاہر ہے کہ ان تمام چیزوں کا تعلق عالم بالا سے ہے۔ ﷲ رب العزت نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو روح منہ فرمایا یعنی روح ﷲ فرمایا۔ جس سے ثابت ہوا کہ عیسیٰ علیہ السلام میں عالم بالا کی طرف آنے جانے کی صلاحیت وخاصیت موجود ہے۔

استدلال:

۲… سیدنا عیسیٰ علیہ السلام بغیر باپ کے پیدا ہوئے۔ نفخۂ جبرائیل علیہ السلام سے اس لحاظ سے ان میں ملکوتی صفات ہیں۔ ملائکہ کا مستقر آسمان ہیں۔ ان کا زمین پر آنا جانا عارضی ہے۔ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام چونکہ سیدہ مریم علیہا السلام کے بطن مبارک سے پیدا ہوئے۔ بشر ہیں تو ان کا ملکوتی صفات کے لحاظ سے آسمانوں پر جانا عارضی ہے۔ غرض جب آسمان پر ہیں ملکوتی صفات کا ظہور ہے۔ رفع سے پہلے اور نزول کے بعد جب زمین پر تھے یا ہوں گے تو بشری صفات کا ظہور ہے۔

استدلال:

۳… سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو روح ﷲ فرمایا گیا۔ تمام ارواح کا مستقر عالم سماوی ہے۔ اس لئے کہ روح لطیف چیز ہے اورہر لطیف کا مرکز عالم سماوی ہے،جیسا کہ ہر کثیف چیز کا مرکز عالم دنیا ہے۔ روح ﷲ کا تقاضہ ہے کہ سیدنا

269

عیسیٰ علیہ السلام عالم سماوی پر بھی تشریف لے جاتے تاکہ روح ﷲ کا منشاء پورا ہوتا۔ اس لئے اگر وہ آسمانوں پر نہ جاتے تو جائے تعجب ہوتا ان کا جانا تو عین تقاضہ ومنشاء کی تکمیل ہے۔

استدلال:

… کلمۃ ﷲ! سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو کلمۃ ﷲ کہاگیا۔ دوسری آیت کریمہ ہے: ’’الیہ یصعد الکلم الطیب (فاطر:۱۰)‘‘ ﷲتعالیٰ کی طرف نیک کلمات اٹھائے جاتے ہیں۔ مسلمان مؤمن کے نیک کلمات اٹھائے جاتے ہیں، ان کا رفع ہوتا ہے تو کلمۃ ﷲ (عیسیٰ علیہ السلام) کے رفع میں کوئی اشکال نہیں ہونا چاہئے۔ عیسیٰ علیہ السلام کا رفع نہ ہوتا تو جائے اشکال تھا۔ رفع تو عین تقاضہ ومنشاء کی تکمیل ہے۔

تفسیری شواہد:

۱… (درمنثور ج۲ ص۳۴۵) پر ’’اذ ایدتک بروح القدس‘‘ کے تحت علامہ سیوطی رحمۃ اللہ علیہ وہب رحمۃ اللہ علیہ کی روایت لاتے ہیں جس میں ہے: ’’فقال لما رفع اللّٰہ عیسٰی علیہ السلام اقامہ بین یدی جبرائیل ومیکائیل‘‘

۲… علامہ رازی رحمۃ اللہ علیہ اپنی (تفسیر کبیر ج۱۲ ص۱۲۵) زیر آیت: ’’اذ ایدتک بروح القدس‘‘ فرماتے ہیں: ’’فاللّٰہ تعالٰی خص عیسٰی بالروح الطاہرۃ النورانیۃ المشرقۃ العلویۃ الخیرۃ‘‘ ﷲتعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو خاص طور پر پاک نورانی درخشندہ علویہ اور پسندیدہ روح سے مختص فرمایا۔ یہاں روح علویہ خصوصیت سے قابل توجہ ہے۔

۳… علامہ رازی رحمۃ اللہ علیہ اپنی (تفسیر کبیر ج۶ ص۲۱۷) ’’ایدناہ بروح القدس‘‘ کے تحت فرماتے ہیں: ’’والمعنی اعناہ جبرائیل علیہ السلام فی اوّل امرہ وفی وسطہ وفی آخرہ اما فی اوّل الامر فلقولہ فنفخنا فیہ من روحنا اما فی وسطہ فلأن جبرائیل علیہ السلام علمہ العلوم وحفظہ من الاعداء واما فی آخر الامر فحین ارادت الیہود قتلہ اعانہ جبرائیل علیہ السلام ورفعہ الی السماء‘‘ تائید جبرائیل علیہ السلام کا معنی یہ ہے کہ سیدنا جبرائیل علیہ السلام اوّل، درمیان اور آخر، ہر دور میں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی تائید میں رہے۔ اوّل اس طرح کہ نفخۂ جبرائیل سے پیدائش ہوئی۔ درمیان اس طرح کہ عیسیٰ علیہ السلام کو علوم سکھلائے اور دشمنوں سے حفاظت کی۔ آخر اس طرح کہ جب یہود عیسیٰ علیہ السلام کے قتل کے درپے ہوئے تو جبرائیل علیہ السلام نے عیسیٰ علیہ السلام کی تائید کی کہ ان کو آسمانوں پر اٹھا کر لے گئے۔

۴… علامہ زمخشری رحمۃ اللہ علیہ اپنی (تفسیر کشاف ج۱ ص۲۹۹) پر ان آیات کے تحت میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت نقل کی ہے۔ حضرت عبد ﷲ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم (صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین) مسجد میں انبیاء کے فضائل پر بات کر رہے تھے کہ حضرت نوح علیہ السلام کی فضیلت طول عبادت (بوجہ طوالت عمر) حضرت ابراہیم علیہ السلام کی فضیلت یہ کہ وہ خلیل ﷲ تھے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی فضیلت یہ کہ وہ کلیم ﷲ تھے اور عیسیٰ علیہ السلام کی فضیلت یہ کہ ان کو آسمانوں پر اٹھایا گیا۔

اس روایت کو اس آیت کے تحت میں لاکر علامہ زمخشری رحمۃ اللہ علیہ یہ بتانا چاہتے ہیں کہ اس آیت سے صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین یہ سمجھتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمانوں پر اٹھائے گئے۔

270

۵… (تفسیر خازن ج۱ ص۱۹۴) زیر آیت: ’’ایدناہ بروح القدس‘‘ لکھتے ہیں: ’’وقویناہ بجبرائیل علیہ السلام فکان معہ الٰی ان رفعہ الٰی عنان السماء‘‘ جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ عیسیٰ علیہ السلام کو تائید بخشی کہ جبرائیل علیہ السلام ان کو آسمانوں پر اٹھا کر لے گئے۔

۶… (تفسیر انوارالبیان ج۶ ص۱۸۶) زیر آیت: ’’فنفحنا فیہا من روحنا‘‘ لکھتے ہیں: ’’ ﷲتعالیٰ نے فرشتہ بھیجا جس نے ان (مریم علیہا السلام) کے کرتہ کے گریبان میں پھونک ماردی۔ اس سے حمل قرار ہوگیا اور اس کے بعد لڑکا پیدا ہوگیا۔ یہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام تھے جو بنی اسرائیل کے سب سے آخری نبی تھے۔ ﷲتعالیٰ نے ان پر انجیل نازل فرمائی اور انہوں نے بنی اسرائیل کو تبلیغ کی اور شریعت کے احکام بتائے۔ بنی اسرائیل ان کے سخت مخالف ہوگئے اور ان کے قتل کرنے پر آمادہ ہوگئے۔ ﷲتعالیٰ نے انہیں آسمان پر اٹھا لیا۔ قیامت سے پہلے دوبارہ تشریف لائیں گے۔ جیسا کہ احادیث شریفہ میں وارد ہے۔‘‘

حیات عیسیٰ علیہ السلام کی بارھویں دلیل

’’وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِکَ وَجَعَلْنَا لَہُمْ اَزْوَاجًا وَّذُرِّیَۃٌ (الرعد:۳۸)‘‘ {اور بھیج چکے ہیں ہم کتنے رسول تجھ سے پہلے اور ہم نے دی تھیں ان کو بیویاں اور اولاد۔}

حضور نبی کریم ﷺ پر کفار مکہ جیسے امیہ بن خلف وابی جہل (معالم) کی طرف سے اعتراض ہواکہ یہ کھاتے پیتے بازاروں میں چلتے اور نکاح کرتے ہیں۔ ﷲ رب العزت نے اس اعتراض کے جواب میں فرمایا کہ پہلے انبیاء علیہم السلام کی بھی تو تمام معاشرت انسانوں جیسی تھی۔ جب ان کی نبوت مسلم ہے اور ان انسانی افعال سے ان کی نبوت پر تم معترض نہیں تو آنحضرت ﷺ کی نبوت پر اعتراض کیوں؟

اس آیت میں ﷲتعالیٰ کا یہ ارشاد کہ پہلے انبیاء علیہم السلام نے شادیاں کیں یہ توجہ کے قابل ہے۔ اس کے لئے ہمیں آنحضرت ﷺ کی احادیث کی طرف مراجعت کرنی چاہئے۔

تفسیر نبوی ﷺ

چنانچہ (تفسیر درمنثور ج۴ ص۶۵) پر مصنف ابن ابی شیبہ، مسند احمد اور ترمذی کے حوالہ سے حضرت ابی ایوب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ چار چیزیں انبیاء علیہم السلام کی سنت ہیں۔ خوشبو، نکاح، مسواک، ختنہ، اس روایت کو تفسیر ابن کثیر نے اور دیگر مفسرین نے نقل کیا ہے۔

(مصنف ابن ابی شیبہ ج۱ ص۱۹۷، باب ۲۰۲، ماذکر فی السواک حدیث نمبر۲۱)

(مسند احمد ج۵ ص۴۲۱ (لیکن اس میں چوتھی چیز بجائے ختنہ کے حیاء ہے) ترمذی ج۱ ص۲۰۶ ابواب النکاح) پر یہ روایت موجود ہے۔ غرض اس روایت سے ثابت ہوا کہ نکاح کرنا انبیاء علیہم السلام کی سنت ہے اور آیت مبارکہ یہ بتاتی ہے کہ آنحضرت ﷺ سے قبل بھی انبیاء علیہم السلام نے بتوفیق وبحکم الٰہی نکاح کئے اور ان کی اولاد ہوئی۔

سیدنا عیسیٰ علیہ السلام اور نکاح

نصاریٰ، یہود اور خود قادیانیوں کو اعتراف ہے کہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے نکاح نہیں کیا۔ مرزاقادیانی کی

271

بدباطنی ملاحظہ ہو۔ شرافت سر پیٹ کر رہ جاتی ہے۔ جب مرزاقادیانی سیدنا مسیح علیہ السلام کے نکاح نہ ہونے کے واقعہ کو ان الفاظ میں بیان کرتا ہے۔

’’مردمی اور رجولیت انسان کی صفات محمودہ میں سے ہے۔ ہیجڑا ہونا کوئی اچھا صفت نہیں جیسے بہرہ اور گونگا ہونا کسی خوبی میں داخل نہیں ہاں! یہ اعتراض بہت بڑا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام مردانہ صفات کی اعلیٰ ترین صفت سے بے نصیب محض ہونے کے باعث ازواج سے سچی اور کامل حسن معاشرت کا کوئی عملی نمونہ نہ دے سکے۔‘‘

(نورالقرآن نمبر۲ ص۱۷، خزائن ج۹ ص۳۹۲)

سیدنا مسیح علیہ السلام کے متعلق بڑے سے بڑے یہودی نے بھی یہ بکواس نہیں کی اور ان کے نکاح نہ کرنے کی یہ وجہ نہیں بتائی جو مرزاقادیانی ملعون نے بیان کی۔ لیکن بہرحال اس حوالہ سے یہ ثابت ہوا کہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے نکاح نہیں کیا۔ جب نکاح نہیں ہوا تو اولاد کا سوال ہی نہیں؟ لیکن اس کے باوجود اولاد نہ ہونے کا قادیانی حوالہ بھی ملاحظہ ہو۔ ’’ظاہر ہے کہ دنیوی رشتوں کے لحاظ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی کوئی آل نہ تھی۔‘‘

(تریاق القلوب ص۲۳۵، خزائن ج۱۵ ص۳۶۳)

استدلال:

قارئین! مرزاقادیانی کے دجل وبدزبانی پر لعنت بھیجیں۔ آیت قرآنی اور حدیث نبوی ﷺ کے بموجب توجہ فرمائیں کہ نکاح رب کریم کا حکم اور انبیاء علیہم السلام کی سنت ہے۔ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی پہلی زندگی (قبل از رفع) میں نکاح نہیں کیا تو اس حکم باری تعالیٰ اور سنت انبیاء علیہم السلام پر عمل ان کے نزول من السماء کے بعد ہوگا۔ چنانچہ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’عن ابن عمر رضی اللہ عنہ قال قال رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ینزل عیسٰی بن مریم الٰی الارض فیتزوج ویولد لہ‘‘

(مشکوٰۃ ص۴۸۰، باب نزول عیسیٰ بن مریم، التصریح ص۲۴۰، مرقات ج۵ ص۲۲۳، وفاء الوفاء للسمہودی ج۱ ص۵۵۸، شرح مواہب للزرقانی ج۸ ص۲۹۶، مواہب اللدنیہ ج۲ ص۳۸۲)

حضرت عبد ﷲ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ عیسیٰ علیہ السلام جب زمین پر تشریف لائیں گے تو شادی کریں گے اور ان کی اولاد ہوگی۔

لیجئے! اس حدیث شریف نے مذکورہ بالا آیت مبارکہ (شادی واولاد) کے بموجب کہ حکم الٰہی اور سنت انبیاء علیہم السلام پر سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا عمل مبارک نزول من السماء کے بعد ہوگا۔ اس بحث کو ختم کرنے سے قبل ایک اور حوالہ پیش کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے۔ مرزاقادیانی نے لکھا: ’’چنانچہ رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی پہلے سے ایک پیش گوئی فرمائی کہ ’’یتزوج ویولد لہ‘‘ یعنی وہ مسیح موعود بیوی کرے گا اور نیز وہ صاحب اولاد ہوگا۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ص۵۳ حاشیہ، خزائن ج۱۱ ص۳۳۷)

مرزاقادیانی نے اپنے دجل سے اس حدیث کو محمدی بیگم پر فٹ کرنا چاہا۔ ﷲتعالیٰ نے اسے ذلیل کیاکہ وہ پوری نہ ہوئی۔ تاہم اس حدیث شریف (کہ عیسیٰ علیہ السلام نزول کے بعد شادی کریں گے اولاد ہوگی) کی صحت مرزاقادیانی کے حوالہ بالا سے بھی ثابت ہوگئی۔ ’’فہو المقصود (فالحمد ﷲ اوّلا وآخرا)‘‘

نوٹ:

انبیاء علیہم السلام میں سے صرف سیدنا یحییٰ علیہ السلام اور سیدنا مسیح علیہ السلام نے شادی نہیں کی۔ سیدنا یحییٰ علیہ السلام کے متعلق نص قرآنی ہے (حصوراً) اس اعزاز کے باعث ان کا استثناء ہے۔ رہے سیدنا مسیح علیہ السلام تو وہ نزول کے بعد شادی کریں گے۔

272
باب سوم … حیات عیسیٰ علیہ السلام احادیث کی روشنی میں

حیات عیسیٰ علیہ السلام پر عربی میں دس کتابوں کی جناب محدث کبیر الشیخ عبدالفتاح ابوغدہ رحمۃ اللہ علیہ نے فہرست دی ہے جو درج ذیل ہیں۔

۱… ’’نظرۃ عابرۃ فی مزاعم من ینکر نزول عیسٰی علیہ السلام قبل الآخرۃ‘‘ للامام محمد زاہد الکوثری رحمۃ اللہ علیہ۔ (۱۳۶۲ھ)

۲… ’’عقیدۃ اہل الاسلام فی نزول عیسٰی علیہ السلام‘‘ للشیخ عبد ﷲ ابن الصدیق الغماری۔ (م۱۳۶۹ھ)

۳… ’’اقامۃ البرہان علی نزول عیسٰی علیہ السلام فی آخر الزمان (لہ ایضًا)‘‘

۴… ’’عقیدۃ الاسلام فی حیاۃ عیسٰی علیہ السلام‘‘ للشیخ محمد انور شاہ الکشمیری رحمۃ اللہ علیہ۔

۵… ’’تحیۃ الاسلام فی حیاۃ عیسٰی علیہ السلام‘‘ للشیخ محمد انور شاہ الکشمیری رحمۃ اللہ علیہ۔

۶… ’’الجواب المقنع المحرر فی الرد من طغی وتحیر بدعوی أنہ عیسٰی او المہدی المنتظر‘‘ للشیخ محمد حبیب ﷲ الشنقیطی رحمۃ اللہ علیہ۔ (م۱۳۴۵ھ)

۷… ’’ازالۃ الشبہات العظام فی الرد علی منکر نزول عیسٰی علیہ السلام‘‘ للشیخ محمد علی اعظم رحمۃ اللہ علیہ۔ (م۱۳۷۸ھ)

۸… ’’اعتقاد اہل الایمان بالقرآن بنزول المسیح ابن مریم علیہ السلام اٰخرالزمان‘‘ للشیخ محمد العربی التبانی الجزائری۔ (م۱۳۶۹ھ)

۹… ’’التوضیع فی تواتر ماجاء فی المنتظر والدجال والمسیح‘‘ للقاضی الشوکانی۔

۱۰… ’’فتوی العلامۃ الشیخ محمد بخیت مفتی الدیار المصریہ فی نزول سیدنا عیسٰی علیہ السلام‘‘

اس کے علاوہ بعض اور بزرگوں کی بھی حیات مسیح، علامات قیامت وغیرہ پر قدیم وجدید کتب اس وقت سعودی عرب میں کثرت سے چھپ رہی ہیں۔ ان میں سے ۷/۵ تو ہمارے اپنے کتب خانے میں موجود ہیں۔ نیز حیاۃ عیسیٰ علیہ السلام پر پاک وہند میں ۱۰۰سے زیادہ کتب ورسائل لکھی گئیں۔ جن میں سے ۷۹ کتابوں کا تو ’’قادیانیت کے خلاف قلمی جہاد کی سرگزشت‘‘ میں تعارف آچکا ہے۔ ’’التصریح بما تواتر فی نزول المسیح‘‘ حضرت مولانا انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کے حکم پر مولانا مفتی محمد شفیعK نے مرتب کی تھی جس کی حلب شام کے شیخ عبدالفتاح ابوغدہ رحمۃ اللہ علیہ نے تخریج بھی فرمائی اور حسب ضرورت تشریح بھی فرمائی۔ دوران تخریج شیخ ابوغدہ رحمۃ اللہ علیہ کو مزید احادیث وآثار ملیں جو انہوں نے ’’تتمہ واستدراک‘‘ کے نام سے شامل کر دیں۔

273

صحاح ستہ پر سرسری نظر ڈالنے سے ذیل کی روایات آسانی سے سامنے آتی ہیں جو پیش خدمت ہیں۔ دقت النظر سے دیکھا جائے تو اس سے کہیں زیادہ روایات صرف صحاح ستہ میں مل سکتی ہیں۔

۱… امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب (بخاری شریف ج۱ ص۴۹۰) پر ’’باب نزول عیسیٰ بن مریم‘‘ قائم کیا ہے اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے دو روایات اس باب کے تحت درج فرمائیں۔ ویسے اس باب کی روایت اوّل کو حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کئی جگہ اپنی کتاب میں لائے ہیں۔ مثلاً ’’کتاب البیوع‘‘، ’’باب قتل الخنزیر‘‘، ’’کتاب المظالم‘‘، ’’باب کسر الصلیب وقتل الخنزیر‘‘ وغیرہ۔

۲… حضرت امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب (مسلم شریف ج۱ ص۸۷) پر ’’باب نزول عیسیٰ بن مریم‘‘ موجود ہے۔ اس باب میں سات احادیث ہیں۔ ان میں سے چھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور ایک حضرت جابر بن عبد ﷲ رضی اللہ عنہ سے مروی ہیں۔ اسی طرح (مسلم ج۱ ص۴۰۸) ’’باب جواز التمتع فی الحج والقرآن‘‘ میں دو روایتیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بعد ’’فج روحاء‘‘ سے احرام باندھنے کی لائے ہیں۔ اس طرح کتاب (الفتن واشراط الساعۃ ج۲ ص۳۹۲) پر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک، (ص۳۹۳) پر حضرت حذیفہ بن اسید الغفاری رضی اللہ عنہ سے ایک، اور باب ذکر الدجال (ج۲ ص۴۰۰) پر حضرت نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ سے ایک روایت، (ص۴۰۳) پر حضرت عبد ﷲ بن عمر رضی اللہ عنہ سے ایک روایت، کتاب الفتن باب خروج الدجال ومکثہ فی الارض ونزول عیسیٰ بن مریم کے تحت عروۃ بن مسعود ثقفی رحمۃ اللہ علیہ سے ایک۔ کل تیرہ روایات، مسلم شریف میں نزول عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق ان حوالوں کو آپ نے ملاحظہ کیا۔ علاوہ ازیں ’الخبر الصحیح فیما وردعن سید المسیح علیہ السلام‘‘ مستقل تصنیف ہے۔ عرب عالم دین عبد ﷲ الحسینی کی جو ۱۹۸۵ء میں بیروت سے شائع ہوئی اس میں انہوں نے سیدنا مسیح علیہ السلام سے متعلق بخاری ومسلم سے پچاس احادیث کو جمع کیا ہے۔

۳… (ترمذی شریف ج۲ ص۴۷) پر ’’باب ماجاء فی نزول عیسیٰ بن مریم‘‘ قائم فرمایا ہے اور اس میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت لائے ہیں۔ (ج۲ ص۴۸) باب ماجاء فی فتنہ الدجال میں حضرت نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ کی روایت۔ باب ماجاء فی قتل عیسیٰ بن مریم الدجال میں حضرت مجمع بن جاریۃ الانصاری رضی اللہ عنہ کی روایت لائے ہیں اور اس باب میں وفی الباب کے تحت (۱)عمران بن حصین۔ (۲)نافع بن عتبہ۔ (۳)ابی برزہ۔ (۴)حذیفہ بن اسید۔ (۵)ابی ہریرہ۔ (۶)کیسان۔ (۷)عثمان بن ابی العاص۔ (۸)جابر۔ (۹)ابی امامہ۔ (۱۰)ابن مسعود۔ (۱۱)عبد ﷲ بن عمر۔ (۱۲)سمرۃ بن جندب۔ (۱۳)نواس بن سمعان۔ (۱۴)عمرو بن عوف۔ (۱۵)حذیفۃ بن الیمان رضی اللہ عنہرضوان ﷲ تعالیٰ علیہم اجمعین کی روایات کا حوالہ دیا ہے۔ گویا تین روایات نقل کر کے باقی پندرہ کا حسب معمول حوالہ دے کر نزول مسیح کی صریح وصحیح اٹھارہ روایات کو نقل فرمایا ہے۔

۴… (ابوداؤد شریف کتاب الفتن باب ذکر الفتن ودلائلہا ج۲ ص۱۲۷) پر حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے ایک حدیث، (کتاب الملاحم باب امارات الساعۃ ج۲ ص۱۳۴) پر حضرت حذیفہ بن اسید الغفاری رضی اللہ عنہ سے ایک حدیث، (باب خروج الدجال ج۲ ص۱۳۴) پر حضرت نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ سے ایک حدیث۔ اسی باب میں (ص۱۳۴) پر حضرت ابی امامہ رضی اللہ عنہ سے ایک حدیث، (ص۱۳۵) پر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک حدیث۔ گویا حضرت عیسیٰ بن مریم کے نزول پر صحیح اور صریح پانچ احادیث نقل فرمائی ہیں۔

274

۵… ابن ماجہ نے فتنہ الدجال اور خروج عیسیٰ بن مریم کا باب (ص۲۹۵) پر قائم فرمایا ہے۔ (ص۲۹۶) پر حضرت نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ کی حدیث (ص۲۹۷) پر حضرت ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ اور (ص۲۹۹) پر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہاور (ص۲۹۹) پر حضرت عبد ﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے نزول مسیح بن مریم پر صحیح اور صریح روایات نقل فرمائی ہیں۔

۶… (سنن نسائی ج۲ ص۵۲) میں باب غزوۃ الہند کے تحت میں حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ حضرت عیسیٰ بن مریم کے ساتھ میری امت کا جو طبقہ دجال سے لڑے گا ان پر جہنم کی آگ حرام ہے۔ ان کے علاوہ مزید:

۷… اتحاف فضلاء البشر لدمیاطی۔

۸… الاجوبۃ الفاضلۃ للکھنوی۔

۹… احیاء علوم الدین للغزالی۔

۱۰… الاذاعۃ لما کان ویکون بین یدی الساعۃ للصدیق حسن خان۔

۱۱… ارشاد الساری للقسطلانی۔

۱۲… اسباب النزول للواحدی۔

۱۳… الاشاعۃ لاشراط الساعۃ برزنجی۔

۱۴… الاصابہ للعسقلانی۔

۱۵… الاعلام بحکم عیسٰی علیہ السلام للسیوطی۔

۱۶… اقامتہ البرہان لغماری۔

۱۷… البدایہ والنہایہ لا بن کثیر۔

۱۸… البحر المحیط لابی حیان اندلسی۔

۱۹… بہجۃ النفوس لابی جمرہ۔

۲۰… تاج العروس للمرتضی زبیدی۔

۲۱… تاریخ الامم والملوک للطبری۔

۲۲… تاریخ البغداد للخطیب البغدادی۔

۲۳… تاریخ الخلفاء للسیوطی۔

۲۴… تاریخ دمشق لابن عساکر۔

۲۵… التاریخ الکبیر للبخاری۔

۲۶… تاریخ الصغیر للبخاری۔

۲۷… تاریخ الاوسط للبخاری۔

۲۸… تذکرۃ الحفاظ للذہبی۔

۲۹… التذکرہ باحوال الموتی للقرطبی۔

۳۰… تفسیر ابن جریر طبری۔

275

۳۱… تفسیر ابن کثیر۔

۳۲… تحقیق النضرۃ بتلخیص معالم دار الہجرۃ للمراغی۔

۳۳… تقریب التہذیب لا بن حجر۔

۳۴… التخلیص الحبیر لا بن حجر۔

۳۵… تلخیص المستدرک للذہبی۔

۳۶… تنزیہ الشریعہ لابن عراق۔

۳۷… تہذیب تاریخ ابن عساکر لبدران۔

۳۸… تہذیب التہذیب لا بن حجر۔

۳۹… التیسیر بشرح الجامع الصغیر للمناوی۔

۴۰… الجامع الصغیر للسیوطی۔

۴۱… الجامع لاحکام القرآن للقرطبی۔

۴۲… الجرح والتعدیل لا بن ابی حاتم۔

۴۳… حاشیۃ السندھی علی المسلم۔

۴۴… الحاوی للسیوطی۔

۴۵… الحلیۃ الاولیاء لا بی نعیم۔

۴۶… الخطط للمقریزی۔

۴۷… الدرلمنثور فی تفسیر المأثور للسیوطی۔

۴۸… الدرۃ الثمینۃ فی اخبار المدینۃ لابن النجار۔

۴۹… دفع شبہۃ التشبیہ لا بن جوزی۔

۵۰… ذخائر المواریث للنابلسی۔

۵۱… رسالۃ المسترشدین للمحاسبی۔

۵۲… الرفع والتکمیل للکنوی۔

۵۳… الروض الانف للسہیلی۔

۵۴… روح المعانی لاٰلوسی۔

۵۵… الزہد لامام احمد۔

۵۶… السراج المنیر للعزیزی۔

۵۷… السیرۃ النبویہ لا بن ہشام۔

۵۸… السعایۃ للکنوی۔

۵۹… السنن الکبری للبیہقی۔

۶۰… شذرات الذہب لابن عمامہ۔

276

۶۱… شرح مسلم للنووی۔

۶۲… شرح المسلم لملا علی القاری۔

۶۳… شرح المواہب للزرقانی۔

۶۴… طبقات الشافعیہ لابن سبکی۔

۶۵… الطبقات الکبریٰ لابن سعد۔

۶۶… ظفرالامانی للکنوی۔

۶۷… العرف الوردی للسیوطی۔

۶۸… عقیدۃ الاسلام للکشمیری۔

۶۹… عقیدۃ اہل الاسلام للغماری۔

۷۰… عمدۃ القاری للعینی۔

۷۱… فتح الباری لابن حجر۔

۷۲… فضائل الشام للربیعی۔

۷۳… فیض الباری للکشمیری۔

۷۴… فیض القدیر للمناوی۔

۷۵… کشف الکربۃ لابن رجب۔

۷۶… کشف الظنون حاجی خلیفہ۔

۷۷… الکشف للسیوطی۔

۷۸… کنزالعمال لعلی متقی الہندی۔

۷۹… الکوکب الدری لکاندھلوی۔

۸۰… اللاٰلی المصنوعہ للسیوطی۔

۸۱… لسان المیزان للسیوطی۔

۸۲… سواطع الانوار البہیہ للسفارینی۔

۸۳… مجمع الزوائد للہیثمی۔

۸۴… محاسن التاویل للقاسمی۔

۸۵… مختصر تذکرہ للقرطبی۔

۸۶… مختصر سنن ابی داؤد للمنذری۔

۸۷… مرقات لملا علی قاری۔

۸۸… مرقاۃ السعود۔

۸۹… المستدرک للحاکم۔

۹۰… مسند احمد لامام احمد بن حنبل۔

277

۹۱… مسند ابوداؤد للطیالسی۔

۹۲… مشکوٰۃ شریف للتبریزی۔

۹۳… معالم السنن للخطابی۔

۹۴… معانی الاثار للطحاوی۔

۹۵… معجم البلدان لیاقوت الحموی۔

۹۶… معجم ابی عبید البکری۔

۹۷… المقالات للکوثری۔

۹۸… المقاصد الحسنۃ للسَّخاوی۔

۹۹… وفاء الوفاء للسمہودی۔

۱۰۰… النہایۃ لابن اثیر۔

ہم نے صرف ایک سو کتاب کا نام لکھا ہے جن میں حیات مسیح علیہ السلام یا اس کے متعلقات پر حوالہ جات موجود ہیں۔ ان کتب سے براہ راست حضرت علامہ عبدالفتاح ابو غدہ رحمۃ اللہ علیہ محدث الشام نے مراجعت کر کے التصریح کی تخریج کی ہے۔

ان کے علاوہ ہمارے ممدوح جناب بابو پیر بخش نے اپنی کتاب ’’الاستدلال الصحیح فی حیات المسیح‘‘ (مشمولہ احتساب قادیانیت ج۱۲) میں ۱۸۷حضرات کی روایات وکتب سے اور ہمارے مخدوم حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید رحمۃ اللہ علیہ نے ’’عقیدہ حیات ونزول چودہ صدیوں کے اکابر کی نظر میں‘‘ (مشمولہ تحفہ قادیانیت ج۳) دو صد پچیس حضرات کی شہادتوں کو شامل کیا ہے تو گویا امت کے گزشتہ صدہا سے زائد اکابر نے اپنی کتب میں حیات مسیح علیہ السلام کے مسئلہ کو بیان کیا ہے۔

ان محولہ بالا کتابوں کے علاوہ اور بھی سینکڑوں اسماء الرجال، لغت، تفسیر، شروحات حدیث کی کتابوں سے حوالہ جات دئیے ہیں۔ علیٰ وجہ البصیرت کہا جاسکتا ہے کہ حدیث کی کتابوں میں سے کوئی ایسی ’’جامع‘‘ نہیں جس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع اور نزول کا ذکر نہ ہو۔ جن کتابوں کے ہم نے حوالہ جات نقل کئے ہیں یہ عرب ممالک کی چھپی ہوئی ہیں۔ آج کل زیادہ تر نئی چھپنے والی کتب احادیث میں حدیثوں کے نمبر دئیے جاتے ہیں۔ جب کہ ہمارے ہاں ایسا نہیں اس لئے حوالہ تلاش کرنے کے لئے کتب حدیث میں آیات رفع ونزول کے تحت کتاب التفسیر دیکھ لی جائے۔ بعض ائمہ حدیث نے کتاب الانبیاء، یا کتاب الفتن باب اشراط الساعۃ یا باب نزول ابن مریم کے ضمن میں ان احادیث کا ذکر کیا ہے۔

ذیل میں ۳۴حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین، ۲۲تابعین رحمہم ﷲ سے ان کے اسمائے گرامی کے ساتھ ان سے رفع ونزول عیسیٰ علیہ السلام کے بارہ میں روایات کی تعداد کا ذکر تفصیل سے ملاحظہ فرمائیں۔

۱… حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ(۲۱) ۲… حضرت جابر بن عبد ﷲ رضی اللہ عنہ۔(۷)
۳… حضرت نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ(۱) ۴… حضرت عبد ﷲ بن عمر رضی اللہ عنہ (۳)
278
۵… حضرت ابوحذیفہ بن سعید غفاری رضی اللہ عنہ (۲) ۶… حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ (۱)
۷… حضرت مجمع بن جاریہ رضی اللہ عنہ (۱) ۸… حضرت ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ (۱)
۹… حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ (۱) ۱۰… حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ (۱)
۱۱… حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ (۳) ۱۲… حضرت واثلہ بن الاسقع رضی اللہ عنہ (۱)
۱۳… حضرت عبد ﷲ بن سلام رضی اللہ عنہ (۲) ۱۴… حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ (۱۲)
۱۵… حضرت اوس بن اوس الثقفی رضی اللہ عنہ(۱) ۱۶… حضرت عمران بن حصین رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین (۱)
۱۷… حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا (۲) ۱۸… حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ (۱)
۱۹… حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ (۱) ۲۰… حضرت حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ (۶)
۲۱… حضرت عبد ﷲ بن مغفل رضی اللہ عنہ (۱) ۲۲… حضرت عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ(۱)
۲۳… حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ (۱) ۲۴… حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ (۱)
۲۵… حضرت کیسان بن عبد ﷲ رضی اللہ عنہ (۱) ۲۶… حضرت عبد ﷲ ابن مسعود رضی اللہ عنہ (۳)
۲۷… حضرت عبد ﷲ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ (۷) ۲۸… حضرت سلمہ بن نفیل السکونی رضی اللہ عنہ (۱)
۲۹… حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا (۱) ۳۰… حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ (۱)
۳۱… حضرت عمرو بن عوف المزنی رضی اللہ عنہ (۱) ۳۲… حضرت جبیر بن نفیر رضی اللہ عنہ (۱)
۳۳… حضرت سلمہ بن سعد رضی اللہ عنہ (۱) ۳۴… حضرت ابوالطفیل للیثی رضی اللہ عنہ(۱)

تابعین

۱… ربیع بن انس رحمۃ اللہ علیہ (۱) ۲… نافع بن کیسان رحمہم اللہ علیہ (۱)
۳… حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ (۵) ۴… حضرت عمرو بن سفیان رحمہم اللہ علیہ (۱)
۵… حضرت محمد بن علی ابن الحنفیہ رحمۃ اللہ علیہ (۲) ۶… حضرت شہر بن حوشب رحمۃ اللہ علیہ (۱)
۷… حضرت قتادہ رحمۃ اللہ علیہ (۴) ۸… حضرت محمد ابن زید رحمۃ اللہ علیہ (۲)
۹… حضرت ابومالک الغفاری رحمۃ اللہ علیہ (۱) ۱۰… حضرت مجاہد رحمۃ اللہ علیہ(۱)
۱۱… حضرت ابورافع رحمۃ اللہ علیہ(۱) ۱۲… حضرت ابوالعالیہ رحمۃ اللہ علیہ (۱)
۱۳… حضرت عبدالجبار بن عبید ﷲ رحمۃ اللہ علیہ (۱) ۱۴… حضرت وہب ابن منبہ رحمۃ اللہ علیہ (۱)
۱۵… حضرت ابن سیرین رحمہم اللہ علیہ (۱) ۱۶… حضرت ارطاۃ رحمۃ اللہ علیہ (۱)
۱۷… حضرت کعب احبار رحمۃ اللہ علیہ (۴) ۱۸… حضرت زین العابدین رحمہم اللہ علیہ (۱)
۱۹… حضرت عروہ بن رویم رحمۃ اللہ علیہ (۱) ۲۰… حضرت ولید ابن مسلم رحمۃ اللہ علیہ (۱)
۲۱… ابواشعث صنعانی رحمۃ اللہ علیہ (۱) ۲۲… عبدالرحمن بن جبیر رحمۃ اللہ علیہ (۱)

سے روایات منقول ہیں۔ ان سب سے صرف دس احادیث پیش خدمت ہیں۔

حدیث:۱

’قال الامام احمد حدثنا عفان قال حدثناہمام قال اخبرنا قتادۃ عن عبدالرحمن بن

279

آدم عن ابی ہریرۃ ان النبی ﷺ قَالَ الْاَنْبِیَاء اِخْوَۃٌ لِعَلَّاتٍ اُمَّہَاتُہُمْ شَتّٰی وَدِیْنُہُمْ وَاحِدُ وانا اَوْلَی النَّاسِ بِعِیْسٰی بْنَ مَرْیَمَ لَاَنَّہُ لَمْ یَّکُنْ بَیْنِیْ وَبَیْنَہُ نَبِیٌّ وَاِنَّہُ نازل فاذا رأیتموہ فاعرفوہ رجل مربوع الی الحمرۃ والبیاض علیہ ثوبان ممصران کان راسہ یقطروان لم یصبہ بلل فیدق الصلیب ویقتل الخنزیر ویضع الجزیۃ ویدعوا الناس الی الاسلام ویہلک ﷲ فی زمانہ الملل کلہا الا الاسلام ویہلک ﷲ فی زمانہ المسیح الدجال ثم تقع الامانۃ علی الارض حتی ترتع الاسود مع الابل والنمار مع البقر والذئاب مع الغنم ویلعب الصبیان بالحیات لا تضرہم فیمکث اربعین سنۃ ثم یتوفی ویصلی علیہ المسلمون‘‘ امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ اپنی مسند میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تمام انبیاء علاتی بھائی ہیں۔ ان کی مائیں یعنی شریعتیں مختلف ہیں اور ان کا دین یعنی اصول شریعت سب کا ایک ہے اور میں عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ سب سے زیادہ قریب ہوں۔ اس لئے کہ میرے اور ان کے درمیان کوئی نبی نہیں۔ وہ نازل ہوں گے جب ان کو دیکھو تو پہچان لینا۔ وہ میانہ قد ہوں گے۔ رنگ ان کا سرخ اور سفیدی کے درمیان ہوگا۔ ان پر دورنگے ہوئے کپڑے ہوں گے۔ سر کی یہ شان ہوگی کہ گویا اس سے پانی ٹپک رہا ہے۔ اگرچہ اس کو کسی قسم کی تری نہیں پہنچی ہوگی۔ صلیب کو توڑیں گے جزیہ کو اٹھائیں گے۔ سب کو اسلام کی طرف بلائیں گے۔ ﷲتعالیٰ ان کے زمانہ میں سوائے اسلام کے تمام مذاہب کو نیست ونابود کر دے گا اور ﷲتعالیٰ ان کے زمانہ میں مسیح دجال کو قتل کرائے گا۔ پھر تمام روئے زمین پر ایسا امن ہوجائے گا کہ شیر اونٹ کے ساتھ اور چیتے گائے کے ساتھ اور بھیڑیے بکریوں کے ساتھ چرنے لگیں گے، اور بچے سانپوں کے ساتھ کھیلنے لگیں گے۔ سانپ ان کو نقصان نہ پہنچائیں گے۔ عیسیٰ علیہ السلام زمین پر چالیس سال ٹھہریں گے پھر وفات پائیں گے اور مسلمان ان کے جنازہ کی نماز پڑھیں گے۔

نوٹ:

اس حدیث شریف کا متن (۱)(مسند احمد ج۲ ص۴۰۶) سے ہم نے نقل کیا ہے۔ یہ حدیث شریف مسند احمد کے علاوہ الفاظ کے معمولی تفاوت سے ذیل کی کتب میں بھی موجود ہے۔ (۲)بخاری ج۱ ص۴۸۹،۴۹۰۔ (۳)مسلم ج۱ ص۸۷۔ (۴)ابوداؤد ج۲ ص۱۳۵۔ (۵)ابن ماجہ ص۳۰۸۔ (۶)مسند احمد ج۲ ص۴۱۱، ۴۹۴۔ (۷)درمنثور ج۲ ص۲۴۲ پر ابن ابی شیبہ، احمد، ابوداؤد، ابن جریر ابن حبان کے حوالہ سے اس کو نقل کیا ہے۔ (۸)ابن کثیر ج۳ ص۱۶۔ (۹)فتح الباری ج۶ ص۳۵۷ پر حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ اس کو نقل کر کے فرماتے ہیں کہ اس روایت کی اسناد صحیح ہیں۔ (۱۰)التصریح ص۱۶۰۔ (۱۱)مصنف ابن ابی شیبہ ج۸ ص۶۵۴، حدیث نمبر:۴۱، باب ذکر فی فتنہ الدجال۔ (۱۲)صحیح ابن حبان ج۹ ص۲۸۹،۲۹۰ پر سے اس حدیث کے مکمل متن کو نقل کیا ہے۔ (۱۳)مرزاقادیانی کے بیٹے مرزامحمود نے حقیقت النبوۃ ص۱۹۲ پر مکمل اس حدیث کو نقل کیا ہے۔ (۱۴)خود مرزاقادیانی نے ازالہ اوہام ص۵۹۴، خزائن ج۳ ص۴۲۰ پر اس حدیث کے بعض حصے نقل کر کے اس کی تصحیح وتصدیق کی بلکہ اس سے استدلال بھی کیا ہے۔

ضروری گزارش

مرزاقادیانی کے مرید خدابخش مرزائی نے اپنی کتاب ’’عسل مصفی‘‘ لکھی اس کی جلد اوّل میں ص۱۶۲ سے ۱۶۵ تک تیرہ صدیوں کے مجددین کی فہرست نقل کی ہے۔ اس فہرست میں اس حدیث منقولہ بالا کو نقل کرنے والے مرزائیوں کے تسلیم شدہ مجددین سے امام احمد بن حنبل، ابن کثیر، ابن حجر عسقلانی، جلال الدین سیوطی، چار مجدد اس روایت کو نقل کرتے

280

ہیں۔ مرزاقادیانی اور اس کا بیٹا اس روایت کو تسلیم کرتے ہیں۔ قادیانی حضرات اس صحیح روایت کے نتائج پر غور فرمائیں۔

اس حدیث مبارک کے نتائج

اس حدیث مبارک سے جو نتائج مرتب ہوتے ہیں وہ یہ ہیں:

حدیث اوّل:

۱… آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام دوبارہ تم میں نازل ہوں گے۔

۲… وہی عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے جن کے اور آنحضرت ﷺ کے درمیان کوئی اور نبی نہیں جو آنحضرت ﷺ کا علاتی بھائی تھا۔

۳… عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بعد تمام ادیان باطلہ مٹ جائیں گے۔

۴… عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بعد دین اسلام تمام ادیان پر غالب ہوگا۔

۵… عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں مسیح دجال ہلاک ہوگا۔

۶… عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں امن وامان قائم ہو جائے گا۔

۷… حتیٰ کہ ان کے زمانہ میں شیر اونٹ کے ساتھ، چیتے گائے کے ساتھ اور بھیڑیے بکریوں کے ساتھ چرنے لگیں گے۔

۸… زہریلی چیزوں (سانپ وغیرہ) کی زہر ختم ہو جائے گی۔

۹… نزول کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام چالیس برس کا عرصہ اس زمین پر رہیں گے۔

۱۰… اس کے بعد پھر عیسیٰ علیہ السلام وفات پائیں گے (ابھی ان کی وفات نہیں ہوئی)

اب مرزائیوں سے ہمارا سوال ہے

۱… کیا مرزاقادیانی ابن مریم تھا؟ یا ابن چراغ بی بی؟

۲… کیا مرزاقادیانی وہی عیسیٰ ابن مریم ہے جو آنحضرت ﷺ سے پہلے تشریف لائے تھے؟ جن کے اور آنحضرت ﷺ کے درمیان کوئی نبی نہ تھا؟

۳… کیا مرزاقادیانی کے زمانہ میں تمام ادیان باطلہ یہودیت، نصرانیت مٹ گئی یا خود مرزاقادیانی کے جہنم بھومی ہندوستان میں بھی مرزا کے زمانہ میں نصرانیوں کی حکومت تھی؟

۴… کیا مرزاقادیانی کے زمانہ میں دین اسلام کا غلبہ ہوا؟ یا خود مرزاقادیانی نے دین اسلام کے ماننے والے مسلمانوں کو کافرقرار دے کر دین اسلام کی بیخ کنی کی؟

۵… مرزاقادیانی کے زمانہ میں دجال معہود کا قتل ہوا؟

۶… مرزاقادیانی کے زمانہ میں امن وامان ہوا؟ یا کود مرزاقادیانی زندگی بھر مقدمات کے لئے دربدر ٹھوکریں کھاتا پھرا؟ اس کے گھر پر چھاپے مارے گئے اور خود غیرمامون ہوا؟

281

۷… مرزاقادیانی کے زمانہ میں شیراونٹوں کے ساتھ، چیتے گائے کے ساتھ اوربھیڑیے بکریوں کے ساتھ چرے؟

۸… ان امور کے بعد مرزاقادیانی کی وفات ہوئی؟ خدا لگتی بات یہ ہے کہ مرزائی صحیح جواب قیامت کے دن کے لئے تیار رکھیں۔

۹… اس حدیث میں عیسیٰ علیہ السلام کے لئے ’’انہ نازل‘‘ کا صراحۃً لفظ ہے۔ کیا پورے ذیرۂ احادیث میں قادیانی ’’ان مثیلہ مولود‘‘ کا لفظ دکھا سکتے ہیں؟

۱۰… اس صحیح حدیث میں ’’ثم یتوفی‘‘ (ان امور کے بعد) عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوں گے۔ کیا قادیانی کسی صحیح حدیث میں ’’قد توفی‘‘کہ عیسیٰ علیہ السلام وفات پاچکے دکھا سکتے ہیں؟

۱۱… ’’ویصلی علیہ المسلمون‘‘ اور عیسیٰ علیہ السلام کی نماز جنازہ مسلمان پڑھیں گے۔ کیا قادیانی کسی صحیح حدیث ’’قد صلی علیہ المسلمون‘‘ کہ مسلمان ان کی نماز جنازہ پڑھ چکے دکھا سکتے ہیں؟

اس حدیث سے صاف ظاہر ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کی ابھی وفات نہیں ہوئی۔ آسمان سے نازل ہونے کے بعد قیامت سے پیشتر جب یہ تمام باتیں ظہور میں آجائیں گی تب وفات ہوگی۔

حدیث:۲

’’عن الحسن مرسلا قال قال رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم للیہود ان عیسٰی علیہ السلام لم یمت وانہ راجع الیکم قبل یوم القیمۃ‘‘

امام حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ سے مرسلاً روایت ہے کہ رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود سے ارشاد فرمایا کہ عیسیٰ علیہ السلام ابھی نہیں مرے وہ قیامت کے قریب ضرور لوٹ کر آئیں گے۔ (ابن کثیر ج۱ ص۳۶۶) (زیر آیتانی متوفیک)

(ابن جریر ج۳ ص۲۸۹، درمنثور ج۲ ص۳۶)

نوٹ:

یہ روایت ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ اور علامہ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے نقل فرمائی ہے۔ دونوں قادیانیوں کے نزدیک مجدد ہیں اور ابن جریر کو مرزاقادیانی نے (آئینہ کمالات اسلام ص۱۶۸، خزائن ج۵ ص۱۶۸) پر رئیس المفسرین تسلیم کیا ہے۔ تینوں اکابر، قادیانیوں کے نزدیک مسلمہ مجدد ہیں۔

نتائج حدیث دوم:

۱۱… یہود (جو ’’انا قتلنا المسیح‘‘ سے) سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کے قائل تھے ان کو آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ ’’ان عیسٰی لم یمت‘‘ تحقیق عیسیٰ علیہ السلام فوت نہیں ہوئے۔

۱۲… اس روایت میں ’’ان عیسٰی لم یمت‘‘ کی صراحت ہے۔

۱۳… اس روایت میں ’’انہ راجع الیکم قبل یوم القیامۃ‘‘ عیسیٰ علیہ السلام قیامت سے قبل تم میں واپس لوٹیں گے کی صراحت ہے۔

قادیانیوں سے سوال

۱۲… کیا کسی روایت میں قادیانی دکھا سکتے ہیں کہ اس روایت کے برعکس کسی نے آنحضرت ﷺ کے سامنے عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کا ذکر کیا اور آپ ﷺ نے اس کی تصدیق کی ہو؟

282

۱۳… اس روایت میں ’’لم یمت‘‘ صراحت سے مذکور ہے کیا قادیانی کسی صحیح روایت میں ’’قدمات عیسٰی بن مریم علیہ السلام‘‘ آنحضرت ﷺ سے منقول دکھا سکتے ہیں؟

۱۴… اس روایت میں ’’انہ راجع الیکم‘‘ کی صراحت مذکور ہے کیا قادیانی کسی صحیح روایت میں ’’انہ لا یرجع الیکم‘‘ دکھا سکتے ہیں؟

۱۵… مرزاقادیانی نے (براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۴۱، خزائن ج۲۱ ص۵۲) پر لکھاہے: ’’نازل ہوگا اگر دوبارہ آنا مقصود ہوتا تواس جگہ ’’رجوع‘‘ کا لفظ چاہئے تھا نہ کہ نزول کا۔‘‘ یہی مطالبہ مرزاقادیانی نے اپنی کتاب، (کتاب البریہ ص۲۰۸ حاشیہ، خزائن ج۱۳ ص۲۲۶) پر بھی کیا ہے۔ مرزاقادیانی کے لفظ رجوع کے مطالبہ کو مذکورہ روایت میں ’’انہ راجع الیکم‘‘ کے الفاظ سے ہم نے پورا کر دیا۔ اب سوال یہ ہے کہ مرزاقادیانی کو اس روایت کا علم تھا یا نہیں؟ اگر علم تھا پھر مطالبہ کیا تو یہ دجل ہے۔ اگر علم نہیں تھا تو یہ کم علمی ہے۔ اب مرزائی بتائیں کہ وہ کم علم تھا یا دجال تھا؟

قادیانی اعتراض:

یہ حدیث مرسل ہے اس لئے قابل قبول نہیں۔

جواب:

حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ کی مرسل حدیث میں تو وہی شخص کلام کرے گا جس کو ان کے اقوال کا پورا علم نہیں وہ خود فرماتے ہیں: ’’کل شیٔ سمعتنی اقول فیہ قال رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم فہو عن علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ غیر انی فی زمان لا استطیع ان اذکر علیاb‘‘ (تہذیب الکمال للمزنی) میں جتنی احادیث میں قال رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کہوں اورصحابی کا نام نہ لوں۔ سمجھ لو کہ وہ حضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی روایت ہے۔ میں ایسے (سفاک دشمن آل رسول حجاج کے) زمانہ میں ہوں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا نام نہیں لے سکتا۔ اے کاش! قادیانیوں نے حدیث پر اعتراض کرنے سے پیشتر علم حدیث کسی استاد سے پڑھ لیا ہوتا۔

قادیانی اعتراض:

مرزائی بعض وقت کہہ دیا کرتے ہیں کہ یہ حدیث بلاسند ہے۔

الجواب:

۱… آنحضرت ﷺ کے ارشاد ’’انّ عیسٰی لم یمت‘‘ کو باب مدینۃ العلم مولیٰ علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے سنا۔ ان سے حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ (سید التابعین وشیخ الصوفیہ) نے اخذ کیا، ان سے ربیع نے، ان سے ابوجعفر رحمۃ اللہ علیہ نے، ان سے ان کے بیٹے عبد ﷲ رحمۃ اللہ علیہ نے، ان سے اسحق رحمۃ اللہ علیہ نے ان سے مثنیٰ نے ان سے ابن جریر طبری رحمۃ اللہ علیہ نے (ابن جریر ج۳ ص۲۸۹، ابن کثیر ج۱ ص۳۶۶) تفسیر ابن جریر کتب متداولہ میں سے ہے اور اس میں حدیث کی سند بھی موجود ہے۔

۲… محمد بن جریر رحمۃ اللہ علیہ بڑے پایہ کا محدث ہے کہ ابن خلکان وغیرہ نے ان کو ائمہ مجتہدین میں سے لکھا ہے۔ بغیر سند کے بھی وہ لکھتے تب بھی ان کا لکھنا معتبر ہے۔ اس لئے کہ خود مرزاقادیانی نے لکھا ہے کہ: ’’ابن جریر نہایت معتبر اور ائمہ حدیث میں سے ہے۔‘‘

(چشمہ معرفت حاشیہ ص۲۵۰، خزائن ج۲۳ ص۲۶۱)

قادیانی اعتراض:

اگر یہ معتبر حدیث ہے تو اس کو صحاح ستہ میں ہونا چاہئے تھا۔

الجواب:

۱… مرزاقادیانی نے (ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص۵۳، خزائن ج۱۱ ص۳۳۷) میں جو حدیث ’’یتزوج ویولدلہ‘‘ لکھی ہے وہ صحاح ستہ میں کہاں ہے؟

۲… (حقیقت الوحی ص۱۹۴، خزائن ج۲۲ ص۲۰۲، حاشیہ، چشمہ معرفت ص۳۱۴، خزائن ج۲۳ ص۳۲۹) میں جو روایت کسوف وخسوف دررمضان تحریر کی ہے وہ صحاح ستہ میں کس جگہ ہے؟

283

۳… (ضمیمہ انجام آتھم ص۴۱، خزائن ج۱۱ ص۳۲۵) جو اثر خروج مہدی از کدعہ درج کیا ہے وہ صحاح ستہ کی کس کتاب میں ہے؟

۴… (کتاب مسیح ہندوستان میں ص۵۳،۵۴، خزائن ج۱۵ ص۵۳،۵۴) میں جو تین روایات حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی سیاحت سے متعلق تحریر ہیں ان کا پتہ صحاح ستہ سے بتاؤ؟

حدیث:۳

’’عن ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللّٰہ ﷺ کیف انتم اذا نزل ابن مریم فیکم وامامکم منکم (بخاری ج۱ ص۴۹۰، باب نزول عیسٰی بن مریم، مسند احمد ج۲ ص۳۳۶، مسلم ج۱ ص۸۷، باب نزول عیسٰی بن مریم)‘‘ یہی روایت حضرت امام بیہقی نے اپنی کتاب (الاسماء والصفات ص۴۲۴) پر نقل فرمائی جس کی سند اور الفاظ یہ ہیں: ’’اخبرنا ابوعبداللّٰہ الحافظ انا ابوبکر بن اسحاق انا احمد بن ابراہیم ثنا ابن بکیرثنی اللیث عن یونس عن ابن شہاب عن نافع مولٰی ابن قتادۃ الانصاری قال ان اباہریرۃ رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللّٰہ ﷺ کیف انتم اذا نزل ابن مریم من السماء فیکم وامامکم منکم انتہی‘‘

اس وقت تمہارا کیا عالم ہوگا (خوشی کے باعث) جب عیسیٰ بن مریم آسمان سے تم میں نازل ہوںگے اور تمہارا امام تم میں سے ہوگا۔

نوٹ:

امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ قادیانیوں کے مسلمہ مجدد ہیں۔ آپ سے بخاری ومسلم ومسند احمد کی روایت میں ’’من السماء‘‘ کے الفاظ کی زیادتی مذکور ہے۔

نتائج حدیث سوم:

۱۴… بیہقی کی اس حدیث شریف میں لفظ (السماء) آسمان کی صراحت مذکور ہے۔

۱۵… سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے لئے ’’ینزل فیکم‘‘ اور سیدنا مہدی علیہ الرضوان کے لئےوامامکم منکم‘‘ کے الفاظ مذکور ہیں۔ ’’فیکم‘‘ اور ’’منکم‘‘ کی صراحت سے ثابت ہوا کہ مہدی علیہ الرضوان اور مسیح علیہ السلام علیحدہ علیحدہ شخصیات ہیں۔

قادیانیوں سے سوال

۱۶… امام بیہقی کی روایت میں ’’من السماء‘‘ کی صراحت سے ثابت ہوا کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمانوں سے نازل ہوں گے، نہ کہ ماں کے پیٹ سے۔ پس مرزا کا ماں کے پیٹ سے پیدا ہوکر مسیح ہونے کا دعویٰ کرنا غلط ثابت ہوا یا نہ؟

۱۷… ’’فیکم‘‘ اور ’’منکم‘‘ کی صراحت سے ثابت ہوا کہ سیدنا مسیح ومہدی دو علیحدہ علیحدہ شخصیات ہیں۔ ان دو کو ایک ماننا۔ بخاری ومسلم اور بیہقی ایسے محدثین کی روایات کے خلاف ہے یا نہیں؟

یاد رہے کہ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے جہاں ’’من السماء‘‘ کی صراحت کی ہے وہاں وہ اسے بخاری ومسلم کی روایات کی اسناد ذکر کر کے فرماتے ہیں: ’’وانما اراد نزولہ من السماء بعد الرفع الیہ‘‘ کہ ان روایات میں آسمان پر رفع کے بعد آسمان سے نزول مراد ہے اور آنحضرت ﷺ سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہتک، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے امام

284

بخاری رحمۃ اللہ علیہ تک، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے امام مسلم رضی اللہ عنہ تک، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ تک تمام رواۃ کی رفع الیٰ السماء اور نزول من السماء ہی مراد تھی۔

قادیانی اعتراض:

امام بیہقی نے اس حدیث کو روایت کر کے بخاری شریف کا حوالہ دیا ہے۔ حالانکہ بخاری میں ’’مِنَ السَّمَآ ء‘‘ کا لفظ نہیں۔

الجواب:

حدیث کی کتاب بیہقی مخرَّج نہیں ہے بلکہ مسند ہے۔ یعنی ایسی کتاب نہیں ہے کہ دوسروں سے نقل کر کے ذخیرہ اکٹھا کرے جیسا کہ کنزالعمال وغیرہ ہے، بلکہ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ اپنی سند سے راویوں کے ذریعہ روایت کرتے ہیں اور بخاری کا حوالہ صرف اس لحاظ سے دیا گیا ہے کہ بخاری میں بھی یہ حدیث موجود ہے۔ اگرچہ لفظ ’’مِنَ السَّمَآ ء‘‘ نہیں۔ مگر مراد نزول سے ’’مِنَ السَّمَآ ء‘‘ ہی ہے۔ چنانچہ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ خود لکھتے ہیں:’’اِنَّمَا اَرَادَ نَزُوْلَہٗ مِنَ السَّمَآ ء بَعْدَ الرَّفْعِ‘‘ (کتاب الاسماء ص۴۲۴)

یعنی سوائے اس کے نہیں کہ اس کو روایت کرنے والے کا ارادہ ’’نزول من السماء‘‘ ہی ہے کیونکہ وہ آسمانوں پر اٹھائے گئے ہیں۔

پس معاملہ صاف ہے کہ بخاری میں ’’من السماء‘‘ نہ ہونا اس حدیث کے صحیح ہونے کے خلاف نہیں۔ امام بیہقی نے جو روایت کی ہے صحیح ہے۔ دیکھو مرزاقادیانی نے بھی تو (ازالہ اوہام ص۸۱، خزائن ج۳ ص۱۴۲) کی عبارت مسلم شریف کی طرف ’’من السماء‘‘ کا لفظ منسوب کیا ہے۔ حالانکہ مسلم میں نہیں ہے تو سوائے اس کے کیا کہا جائے گا کہ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کا ارادہ آسمان سے نزول کا ہی ہے۔ کیونکہ قرآن مجید کی آیات متعددہ اور احادیث نبویہ سے ان کا رفع آسمانی عیاں ہے۔ فافہم!

قادیانی اعتراض:

امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کو امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب سے نقل کیا ہے مگر اس میں لفظ ’’من السماء‘‘ نہیں لکھا۔ پس معلوم ہوا کہ بیہقی میں موجود ہی نہیں یا امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ کی ذاتی تشریح ہے۔

الجواب:

یہ اعتراض احمقانہ ہے بھلے مانسو! جب حدیث کی کتاب میں جو اصل ہے یہ لفظ موجود ہے اور تم اسے آنکھوں سے دیکھ رہے ہو تو اگر کسی ناقل نے غلطی سے اسی نقل نہ کیا ہو تو اس سے اصل کتاب کیسے مشکوک ہو جائے گی؟

دیکھئے تمہارے خود ساختہ ’’حضرت نبی ﷲ‘‘ مرزاقادیانی نے اپنی کتب میں قرآن مجید کی سو کے قریب آیات غلط الفاظ میں نقل کی ہیں۔ کہیں لفظ کم کر دیا۔ کہیں زیادہ کیا۔ اس سے کوئی تمہارے جیسا احمق یہ نتیجہ نکال لے کہ قرآن مشکوک ہے۔ صحیح آیات وہی ہیں جو مرزاقادیانی نے لکھی ہیں تو وہ صحیح الدماغ انسان کہلانے کا حق دار ہے؟

مرزائیو! اب خواہ تم اس منہ کی کالک کو کاتب کے سر ہی تھوپو۔ مگر مرزاقادیانی کی نقل کردہ آیت تو ہر حال غلط ہے۔ حالانکہ قرآن میں اس طرح نہیں۔ نتیجہ ظاہر ہے کہ کسی ناقل کی غلطی اصل کتاب پر کوئی اثر نہیں کرسکتی۔

ایک نکتہ:

ماضی میں ایک بڑا فتنہ ’’فرقہ جہمیہ‘‘ کے نام سے اسی طرح سے پیدا ہوا جس طرح آج کل فتنہ مرزائیہ ہے۔ ’’فرقہ جہمیہ‘‘ اسماء وصفات باری تعالیٰ میں طرح طرح کی تاویلیں بلکہ تحریفیں کرتا تھا۔ اس لئے علمائے اسلام نے عموماً اور محدثین کرام نے خصوصاً اس فرقہ کی تردید میں بڑی بڑی کتابیں تصنیف کیں۔ ’’کتاب الاسماء والصفات

285

للبیہقی‘‘ اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔ جہمیہ کے عقائد باطلہ میں سے ایک عقیدہ یہ بھی تھا کہ ’’ان ﷲ لیس فی السماء‘‘ (کتاب العلوم مطبوعہ مصر ص۳۴۷)

امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب مذکور میں اس کی تردید میں کئی باب منعقد کئے ہیں اور ’’ ﷲ فی السماء‘‘ کو بہت سی حدیثوں سے ثابت کیا ہے۔ ص۴۲۰ میں باب ’’ء اَمِنْتُمْ مِّنْ فِی السَّمَآ ء‘‘ کا منعقد فرماتے ہیں اور مختلف احادیث نبویہ سے مسئلہ مذکور ثابت کرتے ہیں۔ اس کے ص۴۲۴ پر باب ’’رَافِعُکَ اِلَیَّ، رَفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیْہِ، تَعْرُجُ الْمَلٰئِکَۃُ، اِلَیْہَ یَصْعَدُ الْکَلِمُ الطَّیِّبُ‘‘ کا لائے ہیں اور مختلف حدیثوں سے فرشتوں، کلموں اور عملوں کا آسمان پر خدا کی طرف جانا ثابت کرتے ہیں۔ مثلاً ’عروج الملکۃ الی السماء (ص۴۲۴)‘‘ اسی باب میں پہلی حدیث حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بابت بھی لائے ہیں۔ ’’کیف انتم اذا نزل ابن مریم من السماء فیکم‘‘ پس انصاف کرنا چاہئے کہ جب مصنف کا مقصود ہی یہی ہے کہ اس باب میں خصوصیت سے الیٰ السماء، فی السماء، من السماء ثابت کیا جائے تو یہ کیونکر کہا جاسکتا ہے کہ اصل بیہقی میں من السماء کا لفظ نہیں ہے؟ حالانکہ امام موصوف اسی چیز کے ثابت کرنے کے درپے ہیں۔

قادیانی اعتراض:

اس حدیث میں ’’امامکم منکم‘‘ سے مراد وہ عیسیٰ علیہ السلام ہے جو مسلمانوں میں سے ایک ہوگا۔

الجواب:

قرآن وحدیث بلکہ کل دنیا بھر کے اہل اسلام کی کتابوں میں حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام جس کا نزول مذکور ہے سوائے مسیح رسول ﷲ کے اور کوئی شخص نہیں یہ افتراء ہے، اور ازسرتاپا یہود یا نہ تحریف ہے جو بیسیوں آیات وصدہا احادیث کے خلاف ہے۔ حدیث میں مسیح کے نزول کے وقت ایک دوسرے امام کا ذکر ہے جو باتفاق جملہ مفسرین ومحدثین ومجددین غیراز مسیح ہے جو یقینا امام مہدی علیہ الرضوان ہیں جن کے متعلق آنحضرت ﷺ کی صحیح حدیث ہے کہ ’’رَجُلٌ مِّنْ اَہْلِ بَیْتِیْ یُؤَاطِیٔ اِسْمُہٗ اِسْمِیْ وَاِسْمُ اَبِیْہِ اِسْمَ اَبِیْ (ابوداؤد ج۳ ص۱۳۱، ترمذی ج۲ ص۴۷، مشکوٰۃ باب اشراط الساعۃ ص۴۷۰)‘‘ مرزاقادیانی نے لکھا ہے: ’’آنحضرت ﷺ پیش گوئی فرماتے ہیں۔ مہدی خَلق اور خُلق میں میری مانند ہوگا میرے نام جیسا اس کا نام ہوگا، میرے باپ کے نام کی طرح اس کے باپ کا نام۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۱۴۸، خزائن ج۳ ص۱۷۵)

اس کے علاوہ خود مرزاقادیانی بھی مانتے ہیں کہ ’’امامکم منکم‘‘ میں مسلمانوں کے امام الصلوٰۃ غیراز مسیح کا ذکر ہے۔ چنانچہ ایک شخص نے مرزاقادیانی سے سوال کیا کہ آپ خود امام بن کر نماز کیوں نہیں پڑھایا کرتے۔ کہا: ’’حدیث میں آیا ہے کہ مسیح جو آنے والا ہے وہ دوسروں کے پیچھے نماز پڑھے گا۔‘‘ (فتاویٰ احمدیہ ج۱ ص۸۲)

حدیث:۴

’’وعن ابن عباس رضی اللہ عنہ (فی حدیث طویل) قال قال رسول اللّٰہ ﷺ فعند ذلک ینزل اخی عیسٰی بن مریم من السماء‘‘ (کنزالعمال ج۱۴ ص۶۱۹ نمبر۳۹۷۲۶)

ابن عباس رضی اللہ عنہ ایک طویل حدیث میں فرماتے ہیں کہ رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پس اس وقت میرے بھائی عیسیٰ بن مریم آسمان سے نازل ہوں گے۔

نوٹ:

اس روایت کو ’’کنزالعمال‘‘ کے مصنف ’’علی بن حسام المتقی ہندی‘‘ نے نقل کیا ہے۔ قادیانیوں کے نزدیک یہ دسویں صدی کے مجدد ہیں۔ مرزاقادیانی نے (حمامۃ البشریٰ ص۱۴۸، خزائن ج۷ ص۳۱۴) پر اس کو حدیث رسول ﷲ تسلیم کیا ہے اور ’’عن ابن عباس قال قال رسول اللّہ‘‘ لکھا ہے۔

286

نتائج حدیث چہارم:

۱۶… اس روایت میں ’’نزول من السماء‘‘ کی صراحت ہے۔

قادیانیوں سے سوال

۱۸… اس روایت کو نقل کرنے والے ’’علی المتقی ہندی رحمۃ اللہ علیہ‘‘ قادیانیوں کے نزدیک مجدد ہیں۔ وہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمانوں سے نزول کا ذکر کرتے ہیں۔ اب اس قول کے بعد قادیانی فرمائیں گے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا حیات مسیح علیہ السلام کا عقیدہ تھا یا نہ؟

۱۹… مرزاقادیانی جگہ جگہ اپنی کتب میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کو وفات مسیح کا قائل ظاہر کرتے ہیں کیا یہ مرزاقادیانی کا سفید جھوٹ ہے یا نہ؟

۲۰… مرزاقادیانی نے اس روایت ابن عباس رضی اللہ عنہ کو (حمامۃ البشریٰ ص۱۴۸، خزائن ج۷ ص۳۱۴) پر نقل کیا ہے۔ مگر من السماء کا لفظ حذف کر کے خیانت کا ارتکاب کیا۔ کیا خائن نبی ہوسکتا ہے؟

حدیث:۵

’’عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمَرَ وَقَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَنْزِل عِیْسٰی بْنَ مَرْیَمَ اَلَی الْاَرْضِ فَیَتَزَوَّجُ وَیُوْلَدْ لَہٗ وَیَمْکُثِ خَمْسَا وَاَرْبَعِیْنَ سَنَۃً ثُمَّ یَمُوْتُ فَیُدْفَنْ مَعَی فِیْ قَبْرِی فاقوم انا وعیسٰی بن مریم فی قبرو احد بین ابی بکر وعمر‘‘

’’عبد ﷲ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ زمانہ آئندہ میں عیسیٰ علیہ السلام زمین پر اتریں گے (اس سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس سے پیشتر زمین پر نہ تھے بلکہ زمین کے بالمقابل آسمان پر تھے) اور میرے قریب مدفون ہوں گے۔ قیامت کے دن میں، مسیح بن مریم کے ساتھ اور ابوبکر رضی اللہ عنہ وعمر رضی اللہ عنہ کے درمیان قبر سے اٹھوں گا۔‘‘ اس حدیث کو ابن جوزی نے کتاب الوفا میں روایت کیا۔

(مشکوٰۃ کتاب الفتن باب نزول عیسیٰ علیہ السلام ص۴۸۰، وفاء الوفاء للسمہودی ج۱ ص۵۵۸، شرح مواہب للزرقانی ج۸ ص۲۹۶، مواہب لدنیہ القسطلانی ج۲ ص۳۸۲، مرقات ج۱۰ ص۲۳۳)

نوٹ:

مرقات کے مصنف حضرت ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ قادیانیوں کے نزدیک مجدد ہیں۔ ان کی بیان کردہ یہ روایت ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ وعمر رضی اللہ عنہ کی قبریں آنحضرت ﷺ کے ساتھ ہیں۔ ان کے متعلق مرزاقادیانی لکھتے ہیں۔

’’ان کو یہ مرتبہ ملا کہ آنحضرت ﷺ سے ایسے ملحق ہوکر دفن کئے گئے کہ گویا ایک ہی قبر ہے۔‘‘

(نزول المسیح ص۴۷، خزائن ج۱۸ ص۴۲۵)

جو مطلب ومراد اس تحریر کی ہے وہی مراد آنحضرت ﷺ کی متذکرہ حدیث کی ہے۔ ’’یدفن معی فی قبری‘‘ کے اصلی معنی یہ ہیں کہ وہ میرے ساتھ ایک ہی روضہ میں دفن ہوں گے جو حضرات عربی ادب سے ذوق رکھتے ہیں ان کو معلوم ہے کہ ’’فی‘‘ سے مراد کبھی قرب بھی ہوتا ہے جیسے ’’بورک من فی النار (سورۃ نمل)‘‘ یعنی موسیٰ علیہ السلام پر برکت نازل کی گئی جو آگ کے قریب تھے نہ کہ اندر۔

مرزاقادیانی بھی اس معنی کی تائید کرتے ہیں اور لکھتے ہیں: ’’اس حدیث کے معنی ظاہر پر ہی عمل کریں تو ممکن ہے کہ کوئی مثیل مسیح ایسا بھی آجائے جو آنحضرت ﷺ کے روضہ کے پاس مدفون ہو۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۴۷۰، خزائن ج۳ ص۳۵۲)

287

مرزاقادیانی نے اس حوالہ میں قبر بمعنی مقبرہ بھی مانا ہے اور آنحضرت ﷺ کے پاس سیدنا مسیح کا مدفون ہونا بھی مانا ہے۔

نتائج حدیث پنجم:

۱۷… اس حدیث شریف میں ’’ینزل عیسٰی بن مریم الی الارض‘‘ کی صراحت ہے۔

۱۸… اس حدیث شریف میں آنحضرت ﷺ کے ساتھ روضہ طیبہ میں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی تدفین کی صراحت ہے۔

۱۹… قیامت کے دن آنحضرت ﷺ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام، سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ، سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے ایک ساتھ اٹھنے کی صراحت ہے۔

قادیانیوں سے سوال

۲۱… قادیانی کسی حدیث میں ’’لاینزل الی الارض‘‘ دکھا سکتے ہیں؟

۲۲… حدیث شریف میں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی تدفین کے لئے آنحضرت ﷺ روضہ طیبہ میں آج بھی جگہ باقی ہے۔ جیسا کہ ترمذی شریف میں صراحۃً مذکور ہے۔

(حوالہ آگے آرہا ہے) مرزاقادیانی سیدنا مسیح علیہ السلام کی قبر مبارک سری نگر میں بتاتا ہے۔ کیا آنحضرت ﷺ کا روضہ طیبہ سری نگر میں ہے؟

۲۳… سری نگر کشمیر میں مسیح علیہ السلام کی قبر ہے۔ اس پر کسی آسمانی کتاب یا قرآن وسنت یا کسی ایک مجدد کا قول قادیانی قیامت تک پیش کر سکتے ہیں؟

۲۴… کیا مرزاقادیانی نے حدیث مبارک کے مقابلہ میں سری نگر کا ڈھکوسلہ تیار کر کے آنحضرت ﷺ کے صریح فرمان کی تکذیب کا کفر اختیار نہیں کیا؟

۲۵… کیا آنحضرت ﷺ اور عیسیٰ علیہ السلام صدیق رضی اللہ عنہ وفاروق رضی اللہ عنہ کے درمیان سری نگر سے قیامت کے دن اٹھیں گے؟

۲۶… مرزاقادیانی مسیح تھا تو آنحضرت ﷺ کے روضہ طیبہ میں دفن ہوا؟

۲۷… قیامت کے دن مرزا، آنحضرت ﷺ اور سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اور سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک قبر سے اٹھے گا؟ (اس لئے کہ حدیث میں ’’فاقوم انا وعیسٰی بن مریم فی قبر واحد بین ابی بکر وعمر‘‘ کی صراحت ہے)

قادیانی اعتراض: قادیانی رذالت کی انتہاء

ایک قادیانی نے کہا کہ حدیث شریف میں آتا ہے کہ مومن کی قبر حدنگاہ تک فراخ ہو جاتی ہے تو آنحضرت ﷺ کی قبر مبارک فراخ ہوتے ہوئے قادیان تک آگئی۔ مرزاقادیانی قادیان میں دفن ہوا تو آنحضرت ﷺ کے روضہ میں دفن ہوگیا۔

288

جواب:

مرزاقادیانی کو اقرار ہے کہ ممکن ہے ایسا مسیح آجائے جو آنحضرت ﷺ کے روضہ طیبہ میں مدفون ہو۔ (حوالہ گزر چکا) مرزاقادیانی کی یہ عبارت پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ روحانی قبر مراد نہیں۔

۲… اگر روحانی قبر مراد ہے تو پھر سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ وفاروق رضی اللہ عنہ بھی روحانی طور پر آنحضرت ﷺ کے مقبرہ میں مدفون ہیں؟ اس حدیث میں تین اشخاص سیدنا مسیح علیہ السلام، سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ، سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے متعلق آپ ﷺ کے ساتھ تدفین کا ذکر ہے۔ دو حضرات کی تدفین کو جسمانی تدفین اور تیسرے کی تدفین کو روحانی تدفین ماننا۔ کیا یہ یہودیانہ خصلت نہیں؟

۳… اگر روحانی تدفین مراد لی جائے تو سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ وفاروق رضی اللہ عنہ ومسیح علیہ السلام کی تخصیص ختم ہو جاتی ہے۔

۴… آنحضرت ﷺ کی قبر مبارک مدینہ طیبہ سے فراخ ہوتے ہوئے قادیان پہنچ گئی۔ معاذ ﷲ ثم معاذ ﷲ! نقل کفر کفر نباشد۔ تو مدینہ طیبہ سے قادیان تک جاتے ہوئے راستہ میں جدہ، کراچی، حیدرآباد، سکھر، رحیم یارخان، بہاولپور، ملتان، اوکاڑہ، خانیوال، ساہیوال، لاہور، بٹالہ آتے ہیں۔ اس کے بعد قادیان، تو کیا حجاز سے قادیان تک جتنے غیرمسلم دفن ہیں وہ معاذ ﷲ آنحضرت ﷺ کے ساتھ دفن ہیں؟ ’’فبہت الذی کفر‘‘

قارئین! اندازہ کریں قادیانی خبث وبدباطنی کفر ودجل کاکہ کس طرح بکواس کرتے ہیں؟ نتائج سے قطعاً نہیں شرماتے۔ چاہے آنحضرت ﷺ کی توہین ہی کیوں نہ ہو؟ سچ ہے کہ قادیانیت گندگی ہے۔ ہر قادیانی کا دماغ گندگی کا ڈپو ہے اور گندگی کبھی پاک نہیں ہوتی۔ گندگی کا ایک ذرہ بھی ہو تو وہ ناپاک ہے۔ جتنا پانی ڈالتے جائیں گندگی زائل ہو جائے گی اس کا وجود مٹ جائے گا۔ مگر کبھی گندگی پاک نہ ہوگی۔ اس لئے قادیانیت کا علاج ہی اس کا مٹ جانا ہے۔ آج نہیں تو کل۔ مسیلمہ کذاب کی پارٹی کی طرح مٹ جائیں گے۔ ان شاء ﷲ!

قادیانی اعتراض:

مرزاقادیانی نے اپنی کتاب (حقیقت الوحی ص۳۱۳، خزائن ج۲۲ ص۳۲۶) پر اس کی تاویل یہ کی کہ اسے حضور ﷺ کا قرب نصیب ہوگا۔ ظاہری تدفین مراد نہیں اس لئے کہ حضور ﷺ کا روضہ طیبہ کھولا گیا تو اس سے آپ ﷺ کی توہین لازم آئے گی۔

جواب:

۱… روضہ طیبہ کی دیواروں کو توڑا نہیں جائے گا ایک دیوار جالی مبارک والی ہے جہاں پر کھڑے ہوکر درود وسلام پڑھا جاتا ہے اس میں تو دروازہ موجود ہے۔ مسلم سربراہان اور مسجد نبوی ﷺ کے خدام کے لئے کھولا جاتا ہے۔ آگے والی دیوار مبارک جس پر پردہ مبارک ہے قبور مقدسہ تک جتنی دیواریں یا پردے ہیں ان سب میں دروازے موجود ہیں۔ بعد میں ان کو چن دیا گیا۔ جب عیسیٰ علیہ السلام کی تدفین ہوگی تو معمولی سی کوشش سے ان دروازوں کو دوبارہ کھول دیا جائے گا اس سے آپ ﷺ کی توہین نہ ہوگی۔

۲… نیز یہ کہ آپ ﷺ کے فرمان اقدس کو پورا کرنے کے لئے تمام رکاوٹوں کو دور کرنا آپ ﷺ کی عین اطاعت ہے نہ کہ توہین، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے آنحضرت ﷺ سے عرض کیا کہ ایسے معلوم ہوتا ہے کہ میں آپ ﷺ کے بعد زندہ رہوں تو آپ ﷺ مجھے اجازت دیں کہ میں آپ ﷺ کے ساتھ دفن کی جاؤں۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ کیسے ممکن ہے کیونکہ وہاں چار قبروں میری، ابوبکر رضی اللہ عنہ، عمر رضی اللہ عنہ، عیسیٰ علیہ السلام کی قبور کے سوا اور جگہ ہی نہیں۔

(کنزالعمال برحاشیہ مسند احمد ج۶ ص۵۷)

289

یہی وجہ ہے کہ جب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا مرض الوفات تھا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ میری تدفین جنت البقیع میں ہو۔ آپ کے عزیزوں نے درخواست کی کہ آپ ﷺ کے پہلو میں ایک قبر مبارک کی جگہ باقی ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس کی ریزرویشن نبی علیہ السلام نے عیسیٰ علیہ السلام کے لئے فرمادی ہے۔ وہی یہاں پر دفن ہوں گے۔ چنانچہ آج تک روضہ شریف میں وہ جگہ، پکار پکار کر مرزائیت کے غلط عقائد کا اعلان کر رہی ہے تو یہ حدیث شریف ظاہر کر رہی ہے کہ قبر بمعنی مقبرہ ہے۔

۳… (مصنف ابن ابی شیبہ ج۳ ص۲۲۹، مطبوعہ ملتان) کی (کتاب الجنائز۱۵۱، باب فی الرجل یوصی ان یدفن فی موضع) پر ایک ساتھ دو حدیثیں ہیں۔ ایک ہی امر سے متعلق ایک حدیث شریف میں قبر کا لفظ ہے۔ دوسری حدیث شریف میں مقبرہ کا لفظ ہے۔ ایک ہی امر کے لئے ایک ہی حدیث میں قبر اور دوسری میں اسی امر سے متعلق مقبرہ کا لفظ صاف ظاہر کر رہا ہے کہ قبر بمعنی مقبرہ بھی مستعمل ہے۔

۴… قادیانی کے مسلمہ مجدد حضرت ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:’’(ثم یموت فیدفن معی) ای مصاحبالی (فی قبری) ای مقبرتی وعبرعنہا بالقبر قرب قبرہ بقبرہ فکانہما فی قبر واحد (فاقوم انا وعیسٰی فی قبر واحد) ای من مقبرۃ واحدۃ ففی القاموس ان فی تاتی بمعنی من کذافی المغنی‘‘

(مرقاۃ ج۱۰ ص۲۳۳، مطبوعہ امدادیہ ملتان)

پھر فوت ہوں گے عیسیٰ علیہ السلام اور میرے ساتھ دفن ہوں گے۔ میری مصاحبت میں دفن ہوں گے۔ فی قبری (میری قبر میں) قبر سے مراد مقبرہ ہے۔ میری قبر اس لئے آپ ﷺ نے تعبیر کی کہ عیسیٰ علیہ السلام کی قبر آنحضرت ﷺ کی قبر مبارک کے ساتھ قریب ہوگی۔ گویا دونوں ایک ہی قبر ہے۔ آنحضرت ﷺ اور عیسیٰ علیہ السلام ایک قبر سے قیامت کو اٹھیں گے۔ یعنی ایک مقبرہ سے اٹھیں گے۔ قاموس میں ہے کہ ’’فی‘‘ من کے معنی میں بھی آتا ہے جیسا کہ مغنی میں ہے۔ اس حدیث شریف کی شرح میں ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ نے دو جگہ قبر کا معنی مقبرہ کیا ہے۔

۵… خود قرآن مجید میں بھی بعض جگہ فی بمعنی مع کا مستعمل ہے۔ جیسے فرمایا: ’’بورک من فی النار (نمل)‘‘ یعنی موسیٰ علیہ السلام پر برکت نازل کی گئی جو آگ کے قریب تھا، نہ کہ اندر، چنانچہ (تفسیر کبیر ج۲۴ ص۱۸۳) پر اسی آیت کے تحت علامہ رازی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’وہذا اقرب لان القریب من الشی قدیقال انہ فیہ‘‘ کبھی کبھار قریب ترین کے متعلق کہہ دیا جاتا ہے کہ یہ بھی اس میں ہے۔ یاد رہے کہ امام رازی کو بھی قادیانی مجدد مانتے ہیں۔ اب دو مجددین کے معنوں سے قادیانیوں کا انحراف زیغ نہیں تو اور کیا ہے؟

۶… خود مرزاقادیانی کا حوالہ گزر چکا ہے کہ ’’ممکن ہے کہ کوئی مثیل مسیح ایسا بھی آجائے جو آنحضرت ﷺ کے روضہ کے پاس مدفون ہو۔‘‘ اس حوالہ میں بھی مرزاقادیانی نے قبر بمعنی مقبرہ یعنی روضہ کے تسلیم کیا ہے تو حضور ﷺ کا یہ فرمانا کہ: ’’فیدفن عیسٰی فی قبری‘‘ کہ عیسیٰ علیہ السلام میرے ساتھ میری قبر میں دفن ہوں گے اس کا یہی معنی ہے کہ میرے ساتھ میرے مقبرہ میں دفن ہوں گے۔

قادیانی اعتراض:

اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آنحضرت ﷺ کے مقبرہ میں دفن ہونا صحیح ہے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو تین چاند کیوں دکھائے گئے؟ پھر تو چارچاند دکھائے جانے چاہئے تھے۔

290

الجواب:

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو خواب میں تین چاند اس لئے دکھائے گئے کہ ان کی زندگی میں صرف تین چاند ہی ان کے حجرے میں دفن ہونے والے تھے اور وہ صرف تینوں ہی کو دیکھنے والی تھیں۔ یعنی آنحضرت ﷺ کو اور اپنے والد ماجد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو۔ باقی رہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام۔ سو وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی زندگی میں دفن ہونے والے نہ تھے اس لئے وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو نہ دکھائے گئے۔ مزید برآں حدیث نبوی اگر کسی امتی کے خواب کے خلاف یا قول کے خلاف ہونے سے غلط ہو جائے تو آج حدیث کا سارا دفتر مردود ہو جائے گا اور اسلام دنیا سے رخصت۔

اس حدیث شریف کی بحث کو ختم کرنے سے قبل قادیانیوں سے ایک سوال ہے۔

قادیانیوں سے سوال

الف… ’’مسیح علیہ السلام کی قبر سری نگر میں ہے۔‘‘ (راز حقیقت ص۲۰، خزائن ج۱۴ ص۱۷۲)

ب… ’’مسیح اپنے وطن گلیل میں جاکر فوت ہوا۔‘‘ (ازالہ ص۲۷۳، خزائن ج۳ ص۳۵۳)

ج… ’’عیسیٰ علیہ السلام کی قبر بلدہ قدس میں ہے۔‘‘

(اتمام الحجہ ص۲۱،۲۲، خزائن ج۸ ص۲۹۹،۳۰۰)

ایک شخص کی قبر تین جگہ نہیں ہوسکتی۔ ایک جگہ ہوگی تو دو قبروں کے متعلق مرزاقادیانی نے جھوٹ بولا۔ اس طرح ستاسٹھ فیصد جھوٹا ہوا۔ قادیانی بتائیں کہ ایک شخص تین جگہ کیسے دفن ہوا؟

حدیث:۶… سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی قبر مبارک کہاں ہوگی؟

نزول من السماء کے بعد سیدنا عیسیٰ علیہ السلام پینتالیس سال دنیا میں قیام فرمائیں گے۔ دجال کو قتل کریں گے۔ حج وعمرہ کریں گے۔ شادی ہوگی، اولاد ہوگی، پینتالیس سال نزول کے بعد دنیا میں رہ کر مدینہ طیبہ میں انتقال فرمائیں گے۔ حضور ﷺ کے روضہ طیبہ میں دفن ہوں گے۔ (۱)آنحضرت ﷺ، (۲)سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ، (۳)سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ۔ تین قبور مبارکہ موجود ہیں۔ چوتھی قبر مبارک سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی مدینہ طیبہ مسجد نبوی میں آنحضرت ﷺ کے روضہ طیبہ میں ہوگی۔

حوالہ نمبر:

۱… ’’عن عبداللّٰہ بن سلام رضی اللہ عنہ قال یدفن عیسٰی بن مریم علیہ السلام مع رسول اللّٰہ ﷺ وصاحبیہ رضی اللّٰہ عنہما فیکون قبرہ رابعًا‘‘ (مجمع الزوائد ج۸ ص۲۰۹، درمنثور ج۲ ص۲۴۶)

’’حضرت عبد ﷲ بن سلام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام آنحضرت ﷺ اور سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ دفن ہوں گے اور ان کی چوتھی قبر ہوگی۔‘‘

حوالہ نمبر:

۲… ’’عن عائشۃ رضی اللہ عنہا قالت قلت یا رسول اللّٰہ انی اری انی اعیش بعدک فتاذن لی ان ادفن الٰی جنبک فقال وانّٰی لک بذالک الموضع مافیہ الاموضع قبری وقبر ابی بکر وعمر وعیسٰی بن مریم‘‘

(کنزالعمال ج۱۴ ص۶۲۰، حدیث نمبر۳۹۷۲۸، ابن عساکر ج۲۰ ص۱۵۴)

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کی یا رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم بظاہر یہ ہے کہ میں آپ ﷺ کے بعد زندہ رہوں گی۔ اپنے پہلو میں مجھے دفن ہونے کی اجازت مرحمت فرمائیں۔ آپ ﷺ نے یہ فرمایا کہ آپ کے لئے جگہ کہاں۔ وہاں تو صرف میری (آنحضرت ﷺ) ابوبکر رضی اللہ عنہ، عمر رضی اللہ عنہ اور عیسیٰ علیہ السلام کی قبور کی جگہ ہے۔

291

حوالہ نمبر:

۳… ’’عن عبداللّٰہ بن سلام قال وجدت فی الکتٰب ان عیسٰی بن مریم یدفن مع النبی ﷺ فی القبر وقد بقیی فی البیت موضع قبر‘‘ (ابن عساکر ج۲۰ ص۱۵۴)

’’حضرت عبد ﷲ بن سلام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے کتب سماویہ میں پایا کہ بے شک عیسیٰ بن مریم علیہ السلام دفن ہوں گے نبی کریم ﷺ کے ساتھ قبر میں اور تحقیق باقی ہے روضہ طیبہ میں ایک قبر کی جگہ۔‘‘

حوالہ نمبر:

۴… ’’عن عبداللّٰہ بن سلام نظرت فی التورۃ صفۃ محمد وعیسٰی بن مریم یدفن معہ‘‘

(ابن عساکر ج۲۰ ص۱۵۴)

حضرت عبد ﷲ بن سلام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تورات میں، میں نے آنحضرت ﷺ کی تعریف میں لکھا دیکھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بن مریم آپ ﷺ کے ساتھ دفن ہوں گے۔

حوالہ نمبر:

۵… ’’عن عبداللّٰہ بن سلام لیدفن عیسٰی بن مریم مع النبی فی بیتہ‘‘

(تاریخ الکبیر للبخاری ج۱ ص۲۶۳، ابن عساکر ج۲۰ ص۱۵۴)

حوالہ نمبر:

۶… ’’قال ابومودود وقد بقیی موضع قبر‘‘

(ابن عساکر ج۲۰ ص۱۵۴، ترمذی ج۲ ص۲۰۲، باب فضل النبی ﷺ)

’’حضرت ابومودود رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اس وقت آنحضرت ﷺ کے روضہ مبارکہ میں صرف ایک قبر کی جگہ باقی ہے۔ (عیسیٰ علیہ السلام کے لئے)‘‘

حوالہ نمبر:

۷… ’’عن عبداللّٰہ بن سلام قال مکتوب فی التوراۃ صفۃ محمدٍ وعیسٰی بن مریم یدفن معہ‘‘

(ترمذی ج۲ ص۲۰۲، باب فضل النبی ﷺ)

’’حضرت عبد ﷲ بن سلام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تورات میں آنحضرت ﷺ اور حضرت عیسیٰ بن مریم کی شان میں لکھا ہے کہ وہ ایک ساتھ دفن ہوں گے۔‘‘

درمنثور، ترمذی، کنزالعمال، مجمع الزوائد، ابن عساکر، التاریخ الکبیر للبخاری، ایسی وقیع اور امہات الکتب کے حوالہ جات کے بعد بھی کوئی بدنصیب قادیانی اس بات کو نہیں مانتا تو پھر ان کا علاج خود عیسیٰ علیہ السلام ہی تشریف لا کر کریں گے۔ جیسا کہ (صحیح بخاری ج۱ ص۴۹۰) پر ہے: ’’یقتل الخنزیر‘‘ خذوکن من الشاکرین!

نتائج حدیث ششم:

۲۰… اس حدیث شریف میں عیسیٰ علیہ السلام کی قبر مبارک روضہ طیبہ میں چوتھی قبر ہونے کی صراحت ہے۔

۲۱… اس میں آنحضرت ﷺ کے روضہ طیبہ میں ابھی ایک قبر مبارک کی جگہ کے باقی ہونے کی صراحت ہے۔

۲۲… عبد ﷲ بن سلام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تورات میں عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق لکھا تھا کہ وہ آنحضرت ﷺ کے ساتھ دفن ہوں گے۔

قادیانیوں سے سوال

۲۹… کیا روضہ طیبہ مدینہ منورہ میں چوتھی قبر مرزا کی بنی؟

۳۰… کیا روضہ طیبہ کی چوتھی قبر مبارک کی باقی جگہ (ترمذی کی صراحت کے مطابق) پر ہوگئی ہے؟

292

۳۱… کیا مرزا کے متعلق تورات میں تھا کہ وہ آنحضرت ﷺ کے ساتھ دفن ہوںگے؟

حدیث:۷

’’عن ابن عباس رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللّٰہ ﷺ لن تہلک امۃ انا فی اولہا وعیسٰی بن مریم فی آخرہا والمہدی فی وسطہا‘‘ وہ امت کبھی ہلاک نہیں ہوگی جس کے اوّل میں میں ہوں اور آخر میں عیسیٰ بن مریم علیہ السلام اور درمیان میں مہدی علیہ الرضوان۔

(جامع الاحادیث للسیوطی ج۵ ص۱۱۰، حدیث:۱۷۵۰۱، کنزالعمال ج۱۴ ص۲۶۶، حدیث:۳۸۶۷۱، ص۲۶۹، حدیث:۳۸۶۸۲، ص۳۳۷ حدیث:۳۸۸۵۸، سراج منیر ج۴ ص۱۳۹ (مطبوعہ مکتبہ الایمان مدینہ) فیض القدیر ج۵ ص۳۰۱، حدیث:۷۳۸۴، ابن عساکر ج۲۰ ص۱۵۴)

نوٹ:

اس حدیث میں علامہ سیوطی، علاء الدین بن حسام الدین صاحب الکنز یہ دونوں قادیانیوں کے نزدیک مجدد ہیں۔ ان کی بیان کردہ روایت ہے۔

نتائج حدیث ہفتم:

۲۳… اس حدیث شریف میں صراحت ہے کہ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام امت محمدیہ میں آئیں گے۔

۲۴… اس حدیث شریف میں سیدنا مسیح ومہدی علیہما السلام کی علیحدہ علیحدہ شخصیات کی تصریح ہے۔

قادیانیوں سے سوال

۳۲… کیا مرزاقادیانی مریم کابیٹا تھا؟

۳۳… اس کا ذاتی نام غلام احمد تھا یا عیسیٰ؟

۳۴… مہدی ومسیح دو ہیں یا ایک؟

حدیث:۸

مشکوٰۃ ’’باب قصۃ ابن صیاد‘‘ میں مذکور ہے حضور ﷺ بمعہ صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین، ابن صیاد کو دیکھنے گئے۔ ابن صیاد کے بارے میں صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کو شبہ تھا کہ یہ ہی دجال نہ ہو۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی ’’ائذن لی یارسول اللّٰہ فاقتلہ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ ﷺ اِنْ یَکُنْ ہُوَ فَلَسْتَ صَاحِبَہٗ اِنَّمَا صَاحِبُہٗ عِیْسٰی ابْنُ مَرْیَمَ‘‘ اجازت دو مجھ کو یا رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کہ میں ابھی اسے قتل کردوں۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اگر یہ ابن صیاد دجال ہے تو پھر تو اسے قتل نہ کر سکے گا۔ کیونکہ اس کا قتل عیسیٰ بن مریم کے ہاتھوں ہوگا۔

(مشکوٰۃ ص۴۷۹، باب قصۃ ابن صیاد، شرح السنۃ بغوی ج۷ ص۴۵۳،۴۵۴، حدیث:۴۱۶۹، کتاب الفتن باب ذکر ابن صیاد مسند احمد ج۳ ص۳۶۸، مجمع الزوائد ج۸ ص۶، باب ماجاء فی ابن صیاد، وقال رجالہ صحیح، کنزالعمال ج۱۴ ص۳۳۱، باب ابن صیاد حدیث:۳۸۸۳۸، فتح الباری ج۶ ص۱۲۱، بخاری ج۱ ص۴۲۹، کتاب الجہاد باب یعرض الاسلام علی الصبی)

بخاری کے الفاظ یہ ہیں: ’’قال عمر رضی اللہ عنہ یا رسول اللّٰہ ائذن لی فیہ اضرب عنقہ قال النبی ﷺ ان یکن ہو فلن تسلّط علیہ وان لم یکن ہو فلا خیر لک فی قتلہ‘‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آنحضرت ﷺ سے عرض کیا اجازت دیں کہ میں اس کی گردن اتاردوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا اگر یہ وہی (دجال) ہے تو تم اسے قتل نہیں کر سکتے۔ (اس لئے کہ اس کے قاتل عیسیٰ علیہ السلام ہوں گے) اور اگر یہ وہ (دجال) نہیں تو اس کے قتل میں تمہاری بھلائی نہیں۔

نوٹ:

امام احمد، صاحب کنزالعمال، علامہ عسقلانی۔ یہ سب قادیانیوں کے مسلمہ مجدد ہیں۔ یہ روایت ان کی بیان کردہ ہے۔

مرزاقادیانی بھی یہی لکھتے ہیں: ’’آنحضرت ﷺ نے عمر کو قتل کرنے سے منع (کیا اور فرمایا) اگر یہی دجال ہے تو اس کا صاحب عیسیٰ بن مریم ہے جو اسے قتل کرے گا۔ ہم اسے قتل نہیں کر سکے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۲۲۵، خزائن ج۳ ص۲۱۳)

293

ثابت ہوا کہ حضرت مسیح زندہ آسمان پر موجود ہیں جو زمین پر اتر کر دجال کو قتل کریں گے جیسا کہ حدیث معراج میں اس کی مزید تائید ہے۔

نتائج حدیث ہشتم:

۲۵… اس حدیث میں صراحت ہے کہ دجال کے قاتل عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔

۲۶… یہ کہ دجال ایک شخص معیّن ہے نہ کہ اقوام۔

۲۷… یہ کہ دجال تلوار سے قتل ہوگا۔

قادیانیوں سے سوال

۳۵… کسی حدیث شریف میں قادیانی دکھا سکتے ہیں کہ دجال کا قاتل عیسیٰ علیہ السلام کے سوا کسی اور کو قرار دیا گیا ہو؟

۳۶… کیا قادیانی حدیث میں دکھا سکتے ہیں کہ دجال کوئی قوم ہے نہ کہ شخص معین؟

۳۷… قادیانی کسی حدیث میں دکھا سکتے ہیں کہ دجال کا قتل دلائل سے ہوگا؟

حدیث:۹

’’عن عبداللّٰہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، عن النبی ﷺ قال لقیت لیلۃ اسری بی ابراہیم وموسٰی وعیسٰی قال فتذاکروا امر الساعۃ فردوا امرہم الی ابراہیم، فقال لا علم لی بہا فردوا الامر الی موسٰی، فقال لا علم لی بہا فردوا الامر الٰی عیسٰی، فقال: اما وجبتہا فلا یعلمہا احد الا اللّٰہ تعالٰی ذلک وفیہما عہد الٰی ربی عزوجل ان الدجال خارج قال ومعیی قضیبان فاذا رآنی ذاب کما یذوب الرصاص قال فیہلکہ اللّٰہ، حتی ان الحجر والشجر لیقول: یا مسلم ان تحتی کافرًا فتعال فاقتلہ قال: فیہلکہم اللّٰہ تعالٰی‘‘ حضرت عبد ﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ میں نے شب معراج میں ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ علیہم السلام سے ملاقات کی تو وہ قیامت کے بارے میں باتیں کرنے لگے۔ پس انہوں نے اس معاملہ میں ابراہیم علیہ السلام سے رجوع کیا (کہ وہ وقت قیامت کے بارے میں کچھ بتائیں) حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا کہ مجھے اس کا کوئی علم نہیں۔ پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف رجوع کیا تو انہوں نے بھی فرمایا کہ مجھے اس کا کوئی علم نہیں۔ پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف رجوع کیا تو انہوں نے فرمایا جہاں تک وقت قیامت کا معاملہ ہے تو اس کا علم سوائے ﷲتعالیٰ کے کسی کو نہیں۔ یہ بات تو اتنی ہی ہے البتہ جو عہد پروردگار نے مجھ سے کیا ہے اس میں یہ ہے کہ دجال نکلے گا اور میرے پاس دو باریک سی نرم تلواریں ہوں گی پس وہ مجھے دیکھتے ہی رانگ (یا سیسہ) کی طرح پگھلنے لگے گا۔ پس ﷲ اس کو ہلاک کرے گا۔ یہاں تک کہ پتھر اور درخت بھی کہیں گے کہ اے مرد مسلم میرے نیچے کافر چھپا ہوا ہے آکر اسے قتل کر دے۔ چنانچہ ﷲ ان سب (کافروں) کو ہلاک کر دے گا۔ (مسند احمد ج۱ ص۳۷۵ واللفظ لہ، ابن ماجہ ص۲۹۹، باب خروج الدجال وخروج عیسیٰ بن مریم علیہما السلام وخروج یاجوج وماجوج (اس میں ہے کہ میں دجال کو قتل کروں گا) ابن جریر ج۱۷ ص۹۱، زیر آیت:’’حَتّٰی اِذَا فُتِحَتْ یَاجُوْجُ وَمَاجُوْجُ وَہُمْ مِنْ کُلِّ حَدَبٍ یَّنْسِلُوْنَ‘‘ مستدرک حاکم ج۵ ص۶۸۷، باب مذاکرۃ الانبیاء فی امر الساعۃ (امام حاکم فرماتے ہیں کہ یہ روایت صحیحین کی شرط پر صحیح الاسناد ہے) فتح الباری ج۱۳ ص۷۹، درمنثور ج۴ ص۳۳۶، مصنف ابن ابی شیبہ ج۸ ص۶۶۱، حدیث:۷۱، کتاب الفتن باب ماذکر فی فتنۃ الدجال)

294

نوٹ:

امام احمد، حاکم، جلال الدین سیوطی، قادیانیوں کے مسلّم مجدد اور ابن جریر رئیس المفسرین ہیں ان سے یہ روایت منقول ہے۔

نتائج حدیث نہم:

۲۸… تمام انبیاء علیہم السلام کی موجودگی میں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام قتل دجال کے لئے دوبارہ دنیا میں آنے کا تذکرہ فرماتے ہیں۔ کسی نبی نے اس پر نکیر نہ کی گویا انبیاء علیہم السلام کا قرب قیامت نزول مسیح علیہ السلام پر اجماع ثابت ہوا۔

۲۹… اس واقعہ کو آنحضرت ﷺ بیان فرماتے ہیں۔

۳۰… عیسیٰ علیہ السلام نزول کو وعدہ خداوندی فرماتے ہیں۔

۳۱… عیسیٰ علیہ السلام کی دجال سے لڑائی کے وقت میں پتھر ودرخت کلام کریں گے۔

۳۲… دجال کے ساتھی جو جنگ میں شامل ہوں گے ہلاک ہو جائیں گے۔

قادیانیوں سے سوال

۳۸… انبیاء علیہم السلام کے اجماع کا مرزاقادیانی اور قادیانیت منکر ہیں یا نہ؟

۳۹… جو شخص آنحضرت ﷺ کے بیان کردہ واقعہ کو تسلیم نہ کرے وہ کون ہے؟

۴۰… جو شخص ﷲتعالیٰ کے وعدہ کا منکر ہو وہ کون ہے؟

۴۱… مرزاقادیانی کے زمانہ میں لڑائی ہوئی؟

۴۲… پتھر اور درختوں نے کلام کیا؟

۴۳… دجال کے ساتھی ہلاک ہوئے؟

حدیث:۱۰

’’حدثنی المثنی ثنا اسحاق ثنا ابن ابی جعفر عن ابیہ عن الربیع فی قولہ تعالٰی الم اللّٰہ لا الہ الا ہو الحی القیوم قال ان النصارٰی اتو رسول اللّٰہ ﷺ فخا صموہ فی عیسٰی بن مریم وقالوا لہ من ابوہ وقالوا علی اللّٰہ الکذب والبہتان لا الہ الا ہو لم یتخذ صاحبۃ ولا ولدا فقال لہم النبی ﷺ الستم تعلمون انہ لا یکون ولدا الا وہو یشبہ اباہ قالوا بلی قال الستم تعلمون ان ربنا حی لا یموت وان عیسٰی یاتی علیہ الفناء قالوا بلی قال الستم تعلمون ان ربنا قیم علی کل شیٔ یکلؤہ ویحفظہ ویرزقہ قالوا بلٰی قال فہل یملک عیسٰی من ذلک شیئا قالوا لا، قال: افلستم تعلمون ان اللّٰہ عزوجل لا یخفی علیہ شیٔ فی الارض ولا فی السماء قالوا بلٰی قال فہل یعلم عیسٰی من ذلک شیئا الاما علم قالوا لا قال فان ربنا صوّر عیسٰی فی الرحم کیف شاء فہل تعلمون ذلک قالوا بلی قال الستم تعلمون ان ربنا لا یاکل الطعام ولا یشرب الشراب ولا یحدث الحدث قالوا بلٰی قال الستم تعلمون ان عیسٰی حملتہ امرأۃ کما تحمل المرأۃ ثم وضعتہ کما تضع المرأۃ ولدہا ثم غذی کما یغذی الصبی ثم کان یطعم الطعام ویشرب الشراب ویحدث الحدث قالوا بلٰی قال فکیف یکون ہذا کما زعمتم قال فعر فواثم ابوا الاجحودا فانزل اللّٰہ عزوجل الم اللّٰہ لا الہ الا ہو الحی القیوم‘‘

(تفسیر ابن جریر ج۳ ص۱۶۳، تفسیر درمنثور ج۲ ص۳)

295

نوٹ:

ابن جریر قادیانیوں کے نزدیک رئیس المفسرین اور علامہ سیوطی رحمۃ اللہ علیہ مجدد ہیں۔ ان دونوں کی یہ بیان کردہ روایت ہے۔

’’ربیع‘‘ سے ’’الٓمٓ اَللّٰہُ لَا اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ الْحَیُّ الْقَیُوْم‘‘ کی تفسیر میں منقول ہے کہ جب نصاریٰ نجران نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور حضرت مسیح علیہ السلام کی الوہیت کے بارے میں آپ ﷺ سے مناظرہ اور مکالمہ شروع کیا اور یہ کہا کہ اگر حضرت مسیح ابن ﷲ نہیں تو پھران کا باپ کون ہے۔ حالانکہ وہ خدا وحدہٗ لاشریک بیوی اور اولاد سے پاک اور منزہ ہے تو آنحضرت ﷺ نے ان سے یہ ارشاد فرمایا کہ تم کو خوب معلوم ہے کہ بیٹا باپ کے مشابہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کیوں نہیں بے شک ایسا ہی ہوتا ہے۔ (یعنی جب یہ تسلیم ہوگیا کہ بیٹا باپ کے مشابہ ہوتا ہے تو اس قاعدہ سے حضرت مسیح علیہ السلام بھی خدا کے مماثل اور مشابہ ہونے چاہئیں۔ حالانکہ سب کو معلوم ہے کہ خدا بے مثل ہے اور بے چون وچگون ہے ’’لَیْسَ کَمِثْلِہٖ شَیْئٌ، وَلَمْ یَکُنْ لَّہٗ کُفُوًا اَحَد‘‘)

آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ تم کو معلوم ہے کہ ہمارا پروردگار ’’حی لا یموت‘‘ ہے۔ یعنی زندہ ہے کبھی نہ مرے گا اور عیسیٰ علیہ السلام پر موت اور فنا آنے والی ہے (اس جواب سے صاف ظاہر ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام ابھی زندہ ہیں مرے نہیں۔ بلکہ زمانہ آئندہ میں ان پر موت آئے گی) نصاریٰ نجران نے کہا بے شک صحیح ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم کو معلوم ہے کہ ہمارا پروردگار ہرچیز کا قائم رکھنے والا تمام عالم کا نگہبان اور محافظ اور سب کا رزاق ہے۔ نصاریٰ نے کہا بے شک! آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ عیسیٰ علیہ السلام بھی کیا ان چیزوں کے مالک ہیں؟ نصاریٰ نے کہا نہیں۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا تم کو معلوم ہے کہ ﷲ پر زمین اور آسمان کی کوئی شئے پوشیدہ نہیں۔ نصاریٰ نے کہا نہیں۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کیا عیسیٰ علیہ السلام کی بھی یہی شان ہے؟ نصاریٰ نے کہا نہیں۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم کو معلوم ہے کہ ﷲ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو رحم مادر میں جس طرح چاہا بنایا۔ نصاریٰ نے کہا ہاں آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم کو خوب معلوم ہے کہ ﷲ نہ کھانا کھاتا ہے نہ پانی پیتا ہے اور نہ بول وبراز کرتا ہے۔ نصاریٰ نے کہا بے شک۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم کو معلوم ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام سے اور عورتوں کی طرح ان کی والدہ مطہرہ حاملہ ہوئیں اور پھر مریم صدیقہ نے ان کو جنا۔ جس طرح عورتیں بچوں کو جنا کرتی ہیں۔ پھر عیسیٰ علیہ السلام کو بچوں کی طرح غذا بھی دی گئی۔ حضرت مسیح علیہ السلام کھاتے بھی تھے پیتے بھی تھے اور بول وبراز بھی کرتے تھے۔ نصاریٰ نے کہا بے شک ایسا ہی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ پھر عیسیٰ علیہ السلام کس طرح خدا کے بیٹے ہوسکتے ہیں؟ نصاریٰ نجران نے حق کو خوب پہچان لیا مگر دیدہ ودانستہ اتباع حق سے انکار کیا۔ ﷲ عزوجل نے اس بارے میں یہ آیتیں نازل فرمائیں: ’’الٓمٓ اَللّٰہُ لَا اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ‘‘

نتائج حدیث دہم:

۳۳… اس روایت میں صراحت ہے کہ نصاریٰ سے آنحضرت ﷺ کی گفتگو ہوئی۔ نصاریٰ عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کے قائل تھے اور ہیں۔ یہ موقع تھا کہ اگر عیسیٰ علیہ السلام فوت شدہ تھے تو آنحضرت ﷺ ان کے سامنے وفات مسیح علیہ السلام کو الم نشرح کرتے کیا آپ ﷺ نے ایسے کیا؟

۳۴… آنحضرت ﷺ نے نصاریٰ کے سامنے ﷲتعالیٰ کے ہمیشہ حی وقیوم کا ذکر کیا اور عیسیٰ علیہ السلام کے لئے کہ ان پر فنا آئے گی۔ فرمایا اگر عیسیٰ علیہ السلام فنا شدہ (یعنی وفات شدہ تھے) تو آنحضرت ﷺ فرماتے کہ

296

ﷲتعالیٰ حی وقیوم ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام تو فوت ہوگئے تو آپ ﷺ کی دلیل اور پختہ ہو جاتی مگر آپ ﷺ کا فرمانا کہ ان پر فنا آئے گی یہ صریح دلیل ہے حیات عیسیٰ علیہ السلام کی۔

۳۵… اس حدیث میں’’ان عیسٰی یاتی علیہ الفناء‘‘ کی تصریح ہے۔

قادیانیوں سے سوال

۴۴… نصاریٰ حیات مسیح کے قائل تھے۔ آنحضرت ﷺ کے سامنے حیات مسیح کا کیس آیا آپ ﷺ نے کیا فیصلہ دیا۔ قادیانی فرمائیں کہ جو آپ ﷺ کے فیصلہ کو نہ مانے وہ کون؟

۴۵… اگر عیسیٰ علیہ السلام فوت شدہ تھے تو نصاریٰ کے سامنے آنحضرت ﷺ نے اسلام کا کیا عقیدہ پیش کیا؟

۴۶… قادیانی فرمائیں کہ نصاریٰ حیات مسیح کے قائل آنحضرت ﷺ نے بھی حیات مسیح کا اثبات فرمایا۔ اگر وہ فوت شدہ تھے تو آپ ﷺ نے نصاریٰ کی تائید کر کے اسلام کا کیس غلط پیش کیا؟ معاذ ﷲ!

۴۷… مرزاقادیانی کے نزدیک عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کا عقیدہ شرک ہے (الاستفتاء) کیا آنحضرت ﷺ نے معاذ ﷲ شرک کی تائید کی؟

۴۸… کیا آنحضرت ﷺ سے ابن جریر رحمۃ اللہ علیہ اور جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ تک سب راویوں نے شرک کو پھیلایا؟

۴۹… اس حدیث میں: ’’ان عیسٰی یاتی علیہ الفناء‘‘ ہے کیا قادیانی ’’ان عیسٰی علیہ السلام اتی علیہ الفناء‘‘ کا لفظ کسی روایت میں پورے ذخیرہ احادیث سے دکھا سکتے ہیں؟

۵۰… ہم نے ان روایات میں مرزائیوں کے مسلمہ مجددین کی بیان کردہ روایات کو نقل کیا۔ کیا یہ مجددین صحیح تھے یا مرزاقادیانی؟

۵۱… تیرہ صدیوں کے مجددین حیات مسیح کے قائل چودھویں صدی کا (بزعم خود) مرزامجدد ان کے خلاف عقیدہ رکھتا ہے۔ کیا وہ تیرہ صدیوں کے مجددین صحیح تھے یا صرف مرزا؟

۵۲… وہ عقیدہ جو تیرہ صدیوں کے مجددین کا ہے ان کا انکارکرنے والا خود مجدد ہو سکتا ہے؟

ان روایات سے ہم نے ۳۵نتائج نکالے چونکہ ہر قادیانی باون گزکا ہے ان سے باون سوال کئے۔

قادیانیوں کو چیلنج

۱… ان روایات میں ہم نے نزول عیسیٰ بن مریم کے ابواب کے حوالے دئیے۔

۲… ’’ینزل من السماء‘‘

۳… ’’ان عیسٰی یاتی علیہ الفناء‘‘

۴… ’’انہ نازل‘‘

۵… ’’ان عیسٰی لم یمت‘‘

۶… ’’انہ راجع الیکم‘‘

۷… ’’یہبط عیسٰی (کنز ج۱۴، حدیث:۳۹۷۲۰)‘‘

297

۸… ’’ینزل عیسٰی بن مریم الی الارض‘‘

۹… ’’فیکون قبرہ رابعا‘‘

۱۰… ’’فیدفن معی‘‘ کے صریح الفاظ دکھائے اس کے مقابلہ میں کوئی قادیانی ماں کا لعل صراحۃً۔

سوال:

۱… ذخیرہ احادیث میں وفات مسیح کا باب دکھا سکتا ہے؟

۲… ذخیرہ احادیث میں’’لا ینزل من السماء‘‘ کا لفظ دکھا سکتا ہے؟

۳… ذخیرہ احادیث میں ’’ان عیسٰی اتی علیہ الفناء‘‘ کا لفظ دکھا سکتا ہے؟

۴… ذخیرہ احادیث میں ’’انہ لا ینزل‘‘ دکھا سکتا ہے؟

۵… ذخیرہ احادیث میں ’’ان عیسٰی قدمات‘‘ دکھا سکتا ہے؟

۶… ذخیرہ احادیث میں ’’انہ (عیسٰی) لا یرجع الیکم‘‘ دکھا سکتا ہے؟

۷… ذخیرہ احادیث میں ’’لا یہبط عیسٰی‘‘ دکھا سکتا ہے؟

۸… ذخیرہ احادیث میں ’’لا ینزل عیسٰی الی الارض‘‘‘ دکھا سکتا ہے؟

۹… ذخیرہ احادیث میں مسیح علیہ السلام کی قبر درروضہ طیبہ کی نفی دکھا سکتا ہے؟

۱۰… ذخیرہ احادیث میں مسیح علیہ السلام کی آنحضرت ﷺ کے ساتھ تدفین کی نفی کا صراحۃً ذکر دکھا سکتا ہے؟ ’’وان لم تفعلوا ولن تفعلوا فاتقوا النار‘‘

ایک ضروری تنبیہ

ان تمام احادیث اور روایات سے یہ امر بخوبی واضح ہو گیا کہ احادیث میں جس مسیح کے نزول کی خبر دی گئی اس سے وہی مسیح مراد ہے جس کا ذکر قرآن کریم میں ہے۔ یعنی وہی مسیح مراد ہیں کہ جو حضرت مریم علیہا السلام کے بطن سے بلا باپ کے نفخۂ جبرائیل سے پیدا ہوئے اور جن پر ﷲ نے انجیل اتاری۔ معاذ ﷲ! نزول سے امت محمدیہ میں سے کسی دوسرے شخص کا پیدا ہونا مراد نہیں کہ جو عیسیٰ علیہ السلام کا مثیل ہو۔ ورنہ اگر احادیث نزول مسیح سے کسی مثیل مسیح کا پیدا ہونا مراد ہوتاتو بیان نزول کے وقت آنحضرت ﷺ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا آیت کو بطور استشہاد تلاوت کرنے کا کیا مطلب ہوگا؟ معاذ ﷲ! اگر احادیث نزول میں مثیل مسیح اور مرزاقادیانی کا قادیان میں پیدا ہونا مراد ہے تو لازم آئے گا کہ قران کریم میں جہاں کہیں مسیح کا ذکر آیا ہے سب جگہ مثیل مسیح اور مرزاقادیانی ہی مراد ہوں۔ اس لئے کہ آنحضرت ﷺ کا نزول مسیح کو ذکر فرما کر بطور استشہاد آیت کو تلاوت کرنا اس امر کی صریح دلیل ہے کہ حضور ﷺ کا مقصود انہیں مسیح بن مریم علیہما السلام کے نزول کو بیان کرنا ہے۔ جن کے بارے میں یہ آیت اتری، کوئی دوسرا مسیح مراد نہیں اور علیٰ ہذا امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور دیگر ائمہ احادیث کا احادیث نزول کے ساتھ سورۂ مریم اور آل عمران اور سورۂ نساء کی آیات کو ذکر کرنا اس امر کی صریح دلیل ہے کہ احادیث میں ان ہی مسیح بن مریم کا نزول مراد ہے کہ جن کی توفی (اٹھائے جانے) اور رفع الی السماء کا قرآن میں ذکر ہے۔ حاشا وکلا قرآن کریم کے علاوہ احادیث میں کوئی دوسرا مسیح مراد نہیں۔ دونوں جگہ ایک ہی ذات مراد ہے۔

اس حقیقت کے واضح اور آشکارا ہونے کے بعد بھی اگر کوئی بدعقل اور بدنصیب ایسے مکار پر اپنی ایمان کی دولت کو قربان اور نثار کرنا چاہتا ہے تو اس کو اختیار ہے ہمارا کام تو حق اور باطل کے فرق کو واضح کر دینا ہے۔ سو الحمدﷲ! وہ کر

298

چکے۔ دوا کر چکے اور دعا بھی کرتے ہیں اور آپ سے یہ درخواست ہے کہ ﷲتعالیٰ کی طرف رجوع کریں اور اس سے رشد وہدایت کی دعا کریں۔

باب چہارم … حیات عیسیٰ علیہ السلام پر اجماع امت

۱… حافظ عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ (تلخیص الحبیر ج۳ ص۴۶۲ مطبوعہ مکہ تحت روایت نمبر۱۶۰۷) میں فرماتے ہیں:’’اما رفع عیسٰی فاتفق اصحاب الاخبار والتفسیر علی انہ رفعہ ببدنہ حیا وانما اختلفوا ہل مات قبل ان یرفع اونام فرفع انتہٰی‘‘ یعنی تمام محدثین اور مفسرین اس پر متفق ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اسی بدن کے ساتھ زندہ آسمان پر اٹھائے گئے۔ اختلاف صرف اس بارے میں ہے کہ رفع الی السماء سے پہلے کچھ دیر کے لئے موت طاری ہوئی یا حالت نوم میںاٹھائے گئے۔

۲… (تفسیر بحرالمحیط ج۲ ص۴۷۳) پر ہے: ’’قال ابن عطیۃ واجمعت الامۃ علی ماتضمنہ الحدیث المتواتر من ان عیسٰی فی السماء حی وانہ ینزل فی اٰخر الزمان‘‘ یعنی تمام امت کا اس پر اجماع ہوچکا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ موجود ہیں اور اخیر زمانہ میں نازل ہوں گے جیسا کہ احادیث متواترہ سے ثابت ہے۔

۳… (تفسیر النہر الماد ج۲ ص۴۷۳) پر ہے: ’’واجتمعت الامۃ علٰی ان عیسٰی حی فی السماء وینزل الی الارض‘‘ امت کا اجماع ہے اس پر کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمانوں پر زندہ ہیں اور زمین پر دوبارہ نازل ہوں گے۔

۴… (تفسیر وجیز برحاشیہ جامع البیان ص۵۲) میں ہے:’’والاجماع علی انہ حی فی السماء وینزل ویقتل الدجال ویؤید الدین‘‘ اس پر اجماع ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمانوں پرزندہ ہیں نازل ہوکر دجال کو قتل کریں گے اور اسلام کی تائید کریں گے۔

۵… امام ابوالحسن اشعری قدس ﷲ سرہ (کتاب الابانۃ عن اصول الدیانۃ ص۴۶) پر فرماتے ہیں: ’’قال اللّٰہ عزوجل یعیسٰی انی متوفیک ورافعک الی وقال اللّٰہ تعالٰی وما قتلوہ یقینا بل رفعہ اللّٰہ الیہ واجمعت الامۃ علی ان اللّٰہ عزوجل رفع عیسٰی الی السماء‘‘ ﷲتعالیٰ فرماتے ہیں اے عیسیٰ علیہ السلام میں آپ کو پورا پورا لوں گا اور آپ کو اٹھاؤں گا اور ﷲتعالیٰ فرماتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام کو یہود نے یقینا قتل نہیں کیا بلکہ ان کو ﷲتعالیٰ نے اپنی طرف اٹھالیا اور امت کا اس پر اجماع ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو آسمانوں پر اٹھایا گیا۔

۶… شیخ اکبر قدس ﷲ سرہ (فتوحات مکیہ باب۷۳ ج۲ ص۳) میں فرماتے ہیں: ’’لاخلاف فی انہ ینزل فی اخر الزمان‘‘ اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام آخری زمانہ میں نازل ہوں گے۔

۷… (علامہ سفارینی شرح عقیدۂ سفارینیہ ج۲ ص۹۰) پر فرماتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام کا نزول من السماء کتاب اور سنت اور اجماع امت سے ثابت ہے۔ اوّل آیت:’’وان من اہل الکتٰب الآیۃ‘‘ نقل کی اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث نقل کی اب اس کے بعد فرماتے ہیں:’’واما الاجماع: فقد اجتمعت الامۃ علٰی نزولہ ولم یخالف فیہ احد من اہل الشریعۃ وانما انکر ذلک الفلاسفۃ والملاحدۃ ممن لا یعتد بخلافہ وقد انعقد

299

اجماع الامۃ علی انہ ینزل ویحکم بہذہ الشریعۃ المحمدیۃ ولیس ینزل بشریعۃ مستقلۃ عند نزولہ من السماء وان کانت النبوۃ قائمۃ بہ وہو متصف بہا‘‘ یعنی رہا اجماع سو تمام امت محمدیہ ﷺ کا اجماع ہوگیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ضرور نازل ہوں گے اور اہل اسلام میں سے اس کا کوئی مخالف نہیں۔ صرف فلاسفہ اور ملحد اور بے دین لوگوں نے اس کا انکار کیا ہے جن کا اختلاف قابل اعتبار نہیں اور نیز تمام امت کا اجماع اس پر ہوا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہونے کے بعد رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کے موافق حکم کریں گے۔ مستقل شریعت لے کر آسمان سے نازل نہ ہوں گے۔ اگرچہ وصف نبوت ان کے ساتھ قائم ہوگا۔ (شرح عقیدہ سفارینیہ ج۲ ص۹۰)

۸… علامہ طبری تفسیر (جامع البیان ج۳ ص۲۹۱) پر ہے: ’’لتواتر الاخبار عن رسول اللّٰہ ﷺ انہ قال ینزل عیسٰی بن مریم فیقتل الدجال‘‘ آنحضرت ﷺ کی تواتر کے ساتھ احادیث ہیں کہ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نازل ہوکر دجال کو قتل کریں گے۔

۹… علامہ محمود آلوسی اپنی تفسیر (روح المعانی پارہ:۲۲، زیر آیت: خاتم النّبیین ص۳۲) پر فرماتے ہیں:’’واجمعت الامۃ علیہ وأشتہرت فیہ الاخبار ولعلہا بلغت مبلغ التواتر المعنوی ونطق بہ الکتاب علٰی قول ووجب البیان بہ واکفر منکرہ کا لفلاسفۃ من نزول عیسٰی علیہ السلام‘‘ نزول عیسیٰ علیہ السلام پر امت کا اجماع ہے۔ اس کی احادیث حد شہرت کو پہنچ گئی ہیں شاید تواتر معنوی کا درجہ ان کو حاصل ہے۔ اس قول پر کتاب ﷲ گواہ ہے۔ اس پر ایمان لانا واجب ہے۔ اس کا منکر کافر ہے۔ جیسے فلاسفہ (یا آج کل کے قادیانی)

۱۰… علامہ ابن کثیر اپنی تفسیر (ابن کثیر زیر آیت: وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ) میں فرماتے ہیں: ’’وانہ باق حیی وانہ سینزل قبل یوم القیامۃ کما دلّت علیہ الاحادیث المتواترۃ‘‘ عیسیٰ علیہ السلام ابھی زندہ موجود ہیں۔ وہ قیامت سے قبل نازل ہوں گے۔ اس پر احادیث متواترہ دلالت کرتی ہیں۔ حافظ ابن کثیر اپنی تفسیر سورۃ زحرف ’’وانہ لعلم الساعۃ‘‘ کے تحت لکھتے ہیں کہ: ’’وَقَدْ تَوَاتَرَتَ الْحَدِیْثَ عَنْ رَسُوْلَ اللّٰہ ﷺ انہ اخبر بنزول عیسٰی علیہ السلام قبل یوم القیامۃ اماما عادلاً وحکمًا مقسطًا‘‘ آنحضرت ﷺ سے متواتر احادیث مذکور ہیں۔ آپ ﷺ نے عیسیٰ علیہ السلام کے قیامت سے قبل نزول کی خبر دی کہ وہ امام عادل اور منصف حکمران بن کر تشریف لائیں گے۔

۱۱… ’’وقد تواترت الاحادیث بنزول عیسٰی جسما اوضح ذلک الشوکانی فی مؤلف مستقل یتضمن ذکرا اورد فی المہدی المنتظر والدجال والمسیح وعزہ فی غیرہ وصححہ الطبری ہذا القول واورد بذلک الاحادیث المتواترۃ (فتح البیان ج۲ ص۳۴۴)‘‘ عیسیٰ علیہ السلام کے جسماً نازل ہونے میں احادیث متواترہ وارد ہیں۔ علامہ شوکانی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک مستقل رسالہ میں جو مہدی موعود اور دجال ومسیح کے بارے میں ہے واضح کیا ہے اور اس کے غیر میں بھی اس کو بیان کیا ہے اور اس قول کی طبری نے تصحیح کی اور اس کے بارے میں احادیث متواترہ وارد ہیں۔

۱۲… ’’فتفرد ان الاحادیث الواردۃ فی المہدی المنتظر متواترۃ والاحادیث الواردۃ فی نزول عیسٰی علیہ السلام بن مریم متواترۃ انتہی کلام الشوکانی واما الاجماع فقال السفارینی فی اللوامع قد اجتمعت الامۃ علی نزولہ ولم یخالف فیہ احد من اہل الشریعۃ وانما

300

انکر ذٰلک الفلاسفۃ والملاحدۃ ممن لا یعتد بخلافہ وقد انعقد اجماع الامۃ علی انہ ینزل ویحکم بہذہ الشریعۃ المحمدیۃ ولیس ینزل بشریعۃ مستقلۃ عند نزولہ من السمآء وان کانت النبوۃ قائمۃ بہ وہو متصف بہا (کتاب الاذاعہ ص۷۷)‘‘ پس ثابت ہوچکا کہ وہ احادیث جو مہدی موعود کے بارے میں وارد ہیں متواتر ہیں اور وہ احادیث جو نزول عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے بارے میں وارد ہیں انتہی کلام الشوکانی، لیکن اجماع پس سفارینی نے لوامع میں فرمایا کہ نزول عیسیٰ علیہ السلام پر امت کا اجماع ہے کسی نے اہل شریعت یں سے اس میں خلاف نہیں کیا۔ بس صرف فلاسفہ اور ملاحدہ نے انکار کیا ہے۔ جن کے خلاف کا کچھ اعتبار نہیں اور تحقیق امت کا اجماع منعقد ہوا کہ وہ نازل ہوں گے اور شریعت محمدیہ ﷺ پر حکم کریں گے اور آسمان سے نزول کے زمانہ میں شریعت مستقل لے کر نازل نہ ہوں گے۔ اگرچہ نبوۃ ان کے ساتھ قائم ہے اور وہ نبوۃ کے ساتھ متصف ہوں گے۔

۱۳… علامہ زمخشری امام المعتزلیین (تفسیر کشاف ج۳ ص۵۴۴،۵۴۵) میں لکھتے ہیں: ’’فان قلت کیف کان اٰخر الانبیآء وعیسٰی علیہ السلام ینزل فی اٰخرالزمان قلت معنی کونہ اٰخر الانبیآء انہ لا ینبأ احد بعدہ وعیسٰی ممن نبی قبلہ‘‘ اگر تو کہے کہ حضور علیہ السلام آخر الانبیاء کیسے ہوئے حالانکہ عیسیٰ علیہ السلام آخرزمانہ میں نازل ہوں گے؟ میں کہوں گا کہ آخرالانبیاء ہونے کے معنی یہ ہیں کہ حضور ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں بنایا جائے گا، اور عیسیٰ علیہ السلام ان نبیوں میں سے ہیں جن کو نبوۃ پہلے مل چکی ہے۔ معلوم ہوا کہ معتزلہ بھی اس عقیدہ میں خلاف نہیں ہیں جیسا کہ عقیدہ سفارینی میں مذکور ہے۔ صرف ملاحدہ اور متفلسفہ خلاف ہیں اور بعض علماء نے جو لکھا ہے کہ معتزلہ اس کے خلاف ہیں وہ وہی معتزلہ ہیں جو فلسفی العقیدہ ہوکر ملاحدہ میں جا ملے یہ بالکل لَا یُعْبَأُبِہٖ ہیں۔ اجماع میں ان کے خلاف سے کچھ خلل لازم نہیں آتا۔

باب پنجم … مرزاقادیانی اور عقیدہ حیات عیسیٰ علیہ السلام (تین ادوار) تیس قادیانی تحریفات کے جوابات

مرزاغلام احمد قادیانی ملعون نے اپنی کتاب ازالہ اوہام میں تیس آیات قرآنی میں تحریف معنوی کر کے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ثابت کرنے کی سعی نامراد کی ہے۔ ذیل میں ان کے ترتیب وار جوابات عرض کئے جاتے ہیں۔ حضرت مولانا قاضی محمد سلمان منصور پوری رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مولانا عبداللطیف مسعودK، مولانا انوار ﷲ خان حیدرآبادی رحمۃ اللہ علیہ اور دیگر حضرات کے رشحات قلم سے اس باب میں استفادہ کیاگیا ہے۔ لیکن اس باب میں سب سے پہلے مرزاقادیانی کا مؤقف معلوم ہونا چاہئے کہ وہ حیات مسیح علیہ السلام پر کیا مؤقف رکھتے تھے؟ مرزاقادیانی کی کتب گواہ ہیں کہ مرزاقادیانی (۱)حیات مسیح علیہ السلام کا قائل رہا۔ (یہ اس زمانہ کی بات ہے جب وہ خود مدعی مسیحیت نہ تھا) (۲)پھر جب مدعی مسیحیت ہوا تو حیات مسیح علیہ السلام کو اپنے راستہ میں رکاوٹ خیال کر کے دلائل تراشنے لگا۔ اپنی کتاب ’’توضیح المرام‘‘ میں لکھا کہ عیسیٰ علیہ السلام کی وفات تین آیات سے ثابت ہے۔ جب ’’ازالہ اوہام‘‘ لکھی تو کہا کہ عیسیٰ علیہ السلام کی وفات تیس آیات سے ثابت ہے۔ (۳)پھر حیات مسیح کو شرکیہ عقیدہ قرار دے کر پوری امت مسلمہ کو مشرک بنادیا۔ ذیل میں اس کے تینوں ادوار کے حوالہ جات اور ان کے نتائج پیش خدمت ہیں۔

301

مرزاقادیانی اور حیات عیسیٰ علیہ السلام (تین ادوار)

مرزاغلام احمد قادیانی اپنی پہلی الہامی کتاب ’’براہین احمدیہ‘‘ میں لکھتا ہے:

حوالہ:۱

’’ہُوَ الَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْہُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ‘‘ یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح علیہ السلام کے حق میں پیش گوئی ہے اور جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیاگیا ہے کہ وہ غلبہ حضرت مسیح علیہ السلام کے ذریعے ظہور میں آئے گا اور جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق اور اقطار میں پھیل جائے گا… حضرت مسیح علیہ السلام پیش گوئی متذکرہ بالا کا ظاہری اور جسمانی طور پر مصداق ہے۔ (براہین احمدیہ حصہ چہارم ص۴۹۸،۴۹۹، خزائن ج۱ ص۵۹۳)

نتائج:

اس بیان میں صاف اقرار کرتا ہے:

۱… حضرت مسیح علیہ السلام اس دنیا میں دوبارہ تشریف لائیں گے۔

۲… ان کی آمد سے دین اسلام تمام عالم میں پھیل جائے گا اور ان کے ذریعہ دین اسلام کو غلبہ کاملہ نصیب ہوگا۔

۳… یہ بھی صاف صاف اقرار کرتا ہے کہ قرآن کی مندرجہ بالا آیت کریمہ میں ﷲتعالیٰ نے حضرت مسیح علیہ السلام کی تشریف آوری کی پیش گوئی فرمائی ہے اور وہی اس پیش گوئی کا ظاہری اور جسمانی طور پر مصداق ہیں اور مرزاغلام احمد قادیانی اپنی آخری تصنیف ’’چشمہ معرفت‘‘ میں، جو اس کی وفات سے دس دن پہلے شائع ہوئی، لکھتا ہے:

حوالہ:۲

’’ہُوَ الَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْہُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ‘‘ یعنی خدا وہ خدا ہے جس نے اپنے رسول کو ایک کامل ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا تاکہ اس کو ہر ایک قسم کے دین پر غالب کر دے۔ یعنی ایک عالمگیر غلبہ اس کو عطاء کرے اور چونکہ وہ عالمگیر غلبہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں ظہور میں نہیں آیا اور ممکن نہیں کہ خدا کی پیش گوئی میں کچھ تخلف ہو اس لئے اس آیت کی نسبت ان سب متقدمین کا اتفاق ہے جو ہم سے پہلے گزر چکے ہیں کہ یہ عالمگیر غلبہ مسیح موعود کے وقت میں ظہور میں آئے گا۔ (چشمہ معرفت ص۸۳، خزائن ج۲۳ ص۹۱)

مرزاقادیانی نے اپنی آخری کتاب میں بھی وہی بات لکھی ہے جو سب سے پہلی کتاب میں لکھی تھی کہ اس آیت شریفہ میں جس عالمگیر غلبۂ اسلام کی پیش گوئی کی گئی وہ حضرت مسیح علیہ السلام کے وقت میں ہوگا۔ مگر یہاں مرزاقادیانی کی اس تحریر میں دوفرق نظر آتے ہیں۔

اوّل… یہ کہ وہ حضرت مسیح علیہ السلام کا نام لکھنے سے شرماتا ہے اور اس کی جگہ ’’مسیح موعود‘‘ کی اصطلاح استعمال کرتا ہے۔حالانکہ مرزاقادیانی سے پہلے ’’مسیح موعود‘‘ کی اصطلاح کسی نے استعمال نہیں کی۔

دوم… یہ کہ وہ تیرہ صدیوں کے تمام بزرگان دین اور اکابر امت کا اجماع نقل کرتا ہے کہ اس آیت میں جو پیش گوئی کی گئی ہے وہ حضرت مسیح علیہ السلام کے وقت میں پوری ہوگی۔ اس عبارت سے دو باتیں صاف طور پر ثابت ہو جاتی ہیں۔

۴… تیرہ صدیوں کے سب اکابر اس پر متفق ہیں کہ آخری زمانے میں حضرت مسیح علیہ السلام تشریف لائیں گے جن کے ہاتھ سے اسلام تمام آفاق واقطار میں پھیل جائے گا اور اسلام کے سوا تمام مذاہب ختم ہو جائیں گے اور

302

یہ کہ اس آیت شریفہ میں حضرت مسیح علیہ السلام کی تشریف آوری کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

۵… مرزاغلام احمد قادیانی کے ہاتھ سے اسلام کا یہ عالمگیر غلبہ نہیں ہوا، اس کو مرے ہوئے بھی ایک صدی گزر رہی ہے لیکن غلبہ اسلام کے دور ونزدیک کوئی آثار نہیں بلکہ معاملہ اس کے برعکس ہے کہ جب سے مرزاقادیانی نے ’’مسیح‘‘ ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ اسلام کمزور سے کمزور تر ہورہا ہے اور کفر ترقی پذیر ہے۔ لہٰذا مرزاقادیانی کا ’’مسیح موعود‘‘ ہونے کا دعویٰ غلط اور جھوٹ ہے اور واقعات کا مشاہدہ گواہی دیتا ہے کہ مرزا ’’مسیح موعود‘‘ نہیں، بلکہ ’’مسیح کذاب‘‘ ہے۔

مرزاغلام احمد قادیانی یہ بھی تسلیم کرتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے آثار مرویہ سے حیات عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ ثابت ہے۔ اس لئے اپنے نبی کے آثار مرویہ کی پیروی کرتے ہوئے وہ بھی ایک زمانے میں یہی عقیدہ رکھتا تھا۔ مرزاقادیانی کا مندرجہ ذیل بیان بغور ملاحظہ فرمائیے:

حوالہ:۳

’’میں نے براہین میں جو کچھ مسیح بن مریم کے دوبارہ دنیا میں آنے کا ذکر لکھا ہے وہ ذکر صرف ایک مشہور عقیدہ کے لحاظ سے ہے جس کی طرف آج کل ہمارے مسلمان بھائیوں کے خیالات جھکے ہوئے ہیں، سواسی ظاہری اعتقاد کے لحاظ سے میں نے لکھ دیا تھا کہ میں صرف مثیل موعود ہوں اور میری خلافت صرف روحانی خلافت ہے۔ لیکن جب مسیح آئے گا تو اس کی ظاہری اور جسمانی طور پر خلافت صرف روحانی خلافت ہے۔ لیکن جب مسیح آئے گا تو اس کی ظاہری اور جسمانی طور پر خلافت ہوگی یہ بیان جو براہین میں درج ہوچکا ہے۔ صرف اس سرسری پیروی کی وجہ سے ہے، جو ملہم کو قبل از انکشاف اصل حقیقت اپنے نبی کے آثار مرویہ کے لحاظ سے لازم ہے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۱۹۷، خزائن ج۳ ص۱۹۶)

مرزاقادیانی کے مندرجہ بالا اقتباس سے چند باتیں معلوم ہوئیں:

۶… مسلمانوں کا مشہور عقیدہ یہی چلا آتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں اور وہ بنفس نفیس تشریف لائیں گے۔

۷… مرزاقادیانی اقرار کرتا ہے کہ میں نے براہین میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے تشریف لانے اور ظاہری وجسمانی خلافت پر فائز ہونے کا عقیدہ درج کیا ہے۔

۸… جب تک مرزاقادیانی پر بذریعہ الہام براہ راست الہامی انکشاف نہیں ہوا تھا تب تک اس کا عقیدہ بھی اپنے نبی کے آثار مرویہ کی ’’سرسری پیروی‘‘ میں یہی تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں اور وہی بنفس نفیس تشریف لاکر خلافت پر فائز ہوں گے۔

اس عبارت سے واضح ہے کہ مرزاقادیانی جس شخصیت کو اس وقت اپنا نبی سمجھتا تھا یعنی آنحضرت ﷺ، ان کے آثار مرویہ اور احادیث طیبہ میں حضرت مسیح علیہ السلام کی حیات ونزول کا مسئلہ ذکر فرمایا گیا ہے، جس کی پیروی ہر اس شخص پر لازم ہے جو اپنے کو نبی کا امتی مانتا ہو۔ چنانچہ مرزاقادیانی بھی جب تک آنحضرت ﷺ کو واجب الاتباع سمجھتا رہا۔ آپ ﷺ کے ارشادات کے مطابق حضرت مسیح علیہ السلام کی حیات ونزول کا معتقد رہا۔

مرزاقادیانی یہ بھی تسلیم کرتا ہے کہ تیرہ صدیوں سے نسلاً بعد نسل اور قرنا بعد قرن مسلمانوں کا یہی عقیدہ چلا آتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں اور کسی زمانہ میں وہ خود دوبارہ تشریف لائیں گے۔ گویا مرزاغلام احمد قادیانی کو اقرار ہے کہ ہمیشہ سے مسلمانوں کا اجماعی اور متواتر عقیدہ یہی رہا ہے جو عقیدہ آج امت اسلامیہ کا ہے۔ حسب ذیل تصریحات بغور ملاحظہ فرمائیے۔

303

حوالہ:۴

’’ایک دفعہ ہم دہلی میں گئے تھے ہم نے وہاں کے لوگوں سے کہا کہ تم نے تیرہ سو برس سے یہ نسخہ استعمال کیا کہ… حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ آسمان پربٹھایا۔ مگر اب دوسرا نسخہ ہم بتاتے ہیں وہ استعمال کر کے دیکھو اور وہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو… وفات شدہ مان لو۔‘‘(ملفوظات ج۱۰ ص۳۰۰ مطبوعہ ربوہ)

حوالہ:۵

’’مسیح ابن مریم (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) کے آنے کی پیش گوئی ایک اوّل درجہ کی پیش گوئی ہے جس کو سب نے بالاتفاق قبول کر لیا ہے اور جس قدر صحاح ستہ میں پیش گوئیاں لکھی گئی ہیں کوئی پیش گوئی اس کے ہم پہلو اور ہم وزن ثابت نہیں ہوتی، تواتر کا اوّل درجہ اس کو حاصل ہے، انجیل بھی اس کی مصدق ہے، اب اس قدر ثبوت پر پانی پھیرنا اور یہ کہنا کہ یہ تمام حدیثیں موضوع ہیں، درحقیقت ان لوگوں کا کام ہے جن کو خداتعالیٰ نے بصیرت دینی اور حق شناسی سے کچھ بھی بخرہ اور حصہ نہیں دیا۔‘‘(ازالہ اوہام ص۵۵۷، خزائن ج۳ ص۴۰۰)

حوالہ:۶

’’مسیح موعود (عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری) کے بارے میں جو احادیث میں پیش گوئی ہے وہ ایسی نہیں کہ جس کو صرف ائمہ حدیث نے چند روایتوں کی بنا پر لکھا ہو بس۔ بلکہ یہ ثابت ہوگیا ہے کہ یہ پیش گوئی عقیدہ کے طور پر ابتداء سے مسلمانوں کے رگ وریشہ میں داخل چلی آتی ہے، گویا جس قدر اس وقت روئے زمین پر مسلمان تھے اسی قدر اس پیش گوئی کی صحت پر شہادتیں موجود تھیں، کیونکہ عقیدہ کے طور پر وہ اس کو ابتداء سے یاد کرتے چلے آتے تھے۔‘‘

(شہادت القرآن ص۸، خزائن ج۶ ص۳۰۴)

حوالہ:۷

’’اس امر سے کسی کو بھی انکار نہیں کہ احادیث میں مسیح موعود (عیسیٰ بن مریم کے دوبارہ آنے) کی کھلی کھلی پیش گوئی موجود ہے بلکہ قریباً تمام مسلمانوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ احادیث کی رو سے ضرور ایک شخص آنے والا ہے جس کا نام عیسیٰ بن مریم ہوگا۔‘‘

(شہادت القرآن ص۲، خزائن ج۶ ص۲۹۸)

حوالہ:۸

’’یہ خبر مسیح موعود (عیسیٰ علیہ السلام) کے آنے کی اس قدر زور کے ساتھ ہر ایک زمانہ میں پھیلی ہوئی معلوم ہوتی ہے کہ اس سے بڑھ کر کوئی جہالت نہیں ہوگی کہ اس کے تواتر سے انکار کیا جائے۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اگر اسلام کی وہ کتابیں جن کی رو سے یہ خبر سلسلہ وار شائع ہوتی چلی آئی ہے۔ صدی وار مرتب کر کے اکٹھی کی جائیں تو ایسی کتابیں ہزارہا سے کچھ کم نہیں ہوں گے۔‘‘

(شہادت القرآن ص۲، خزائن ج۶ ص۲۹۸)

مرزاغلام احمد قادیانی کی ان تصریحات سے واضح ہوا کہ:

۹… تیرہ سو سال سے مسلمانوں کا یہی عقیدہ چلا آتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ ہیں۔ واضح رہے کہ آنحضرت ﷺ کی ہجرت سے مرزاغلام احمد قادیانی کے دعویٰ مسیحیت تک تیرہ صدیاں ہی گزری تھیں۔

۱۰… مسلمان ابًا عن جد یہی عقیدہ سکھاتے چلے آئے ہیں اور یہ عقیدہ ہمیشہ سے ان کے رگ وریشہ میں داخل رہا ہے۔

۱۱… مسلمانوں کا یہ عقیدہ ان ارشادات نبویہ پر مبنی ہے جن کو تواتر کا اوّل درجہ حاصل ہے۔

۱۲… تیرہ صدیوں کے کل مسلمان اور ان کا ہر ہر فرد اس عقیدے کی صحت کا گواہ رہا ہے۔

۱۳… یہ عقیدہ علم عقائد وغیرہ کی ہزارہا اسلامی کتابوں میں صدی وار اشاعت پذیر ہوتا رہا ہے۔

۱۴… ایسے متواتر عقیدہ سے انکار کر دینا یا اس میں شک وشبہ کااظہار کرنا سب سے بڑھ کر جہالت اور بصیرت دینی اور حق شناسی سے یکسر محرومی کی علامت ہے۔

304

حوالہ:۹

یہاں مرزاقادیانی کے الہامی فرزند اور اس کے خلیفہ دوم مرزامحمود کی شہادت بھی پیش کرنا چاہتا ہوں، وہ لکھتے ہیں: ’’پچھلی صدیوں میں قریباً سب دنیا کے مسلمانوں میں مسیح کے زندہ ہونے پر ایمان رکھا جاتا ہے اور بڑے بڑے بزرگ اس عقیدہ پر فوت ہوئے… حضرت مسیح موعود (غلام احمد قادیانی) سے پہلے جس قدر اولیاء صلحاء گزرے ان میں ایک بڑا گروہ عام عقیدہ کے ماتحت حضرت مسیح علیہ السلام کوزندہ خیال کرتا تھا۔‘‘

(صرف بڑا گروہ نہیں بلکہ بلااستثناء امت اسلامیہ کے ہر ایک فرد کا یہی عقیدہ رہا ہے۔ ناقل)

(حقیقت النبوۃ مصنفہ مرزامحمود ص۱۴۲)

حوالہ:۱۰

نیز اس ضمن میں لاہوری گروپ کے امیر اور مرزاغلام احمد قادیانی کے پرجوش مرید مسٹر محمد علی ایم۔اے کی شہادت بھی ملاحظہ فرمائی جائے: ’’بانی فرقہ احمدیہ (مرزاغلام احمد قادیانی) نے پچاس یا اس سے بھی زیادہ کتابیں پبلک میں شائع کی ہیں، جن تمام میں یا ان میں سے بہت سی کتابوں میں اس نے جہاد کے قطعاً حرام ہونے اور خونی مہدی کے عقائد کے جھوٹے ہونے پر زور دیا ہے۔ اگر کوئی خاص اصول احمدیہ فرقہ کا سب سے بڑا قرار دیا جاسکتا ہے تو وہ دو متذکرہ بالا خطرناک اصولوں کی، جو تیرہ صدیوں سے مسلمانوں میں چلے آتے تھے۔ بیخ کنی کرنا ہے۔‘‘

(ریویو آف ریلیجنز ج۳ ش۳ ص۹۰، بابت ماہ مارچ۱۹۰۴ء)

مندرجہ بالا حوالوں میں مرزاقادیانی اور اس کے حواریوں کے اعتراف سے ثابت ہو چکا ہے کہ تیرہ سو سال سے ابًاعن جد مسلمانوں کا یہی عقیدہ چلا آتا ہے کہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ ہیں اور آخری زمانے میں وہی دوبارہ تشریف لائیں گے۔ لیکن مرزاقادیانی تیرہ سو سال بعد امت اسلامیہ کو مشورہ دیتا ہے کہ وہ ایک متواتر اسلامی عقیدہ کو خیرباد کہہ کر ایک نیا نسخہ آزمائے، جو خود مرزاقادیانی نے تجویز کیا ہے، یا بقول اس کے اس پر منکشف ہوا ہے۔

یہاں ہم مسلمانوں کو اس نکتہ کی طرف متوجہ کرنا چاہیں گے کہ کیا کسی مسلمان کو اس کا حق حاصل ہے کہ وہ کوئی نیا عقیدہ اختیار کر لے؟ مسلمانوں کو سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی پہلی تقریر کا یہ فقرہ یاد ہوگا: ’’لوگو! میں تو صرف پیروی کرنے والا ہوں نئی بات ایجاد کرنے والا نہیں ہوں۔‘‘

اس اصول کی روشنی میں ایک مسلمان کو سوبار یہ حق حاصل ہے کہ وہ کسی عقیدے کے بارے میں پوری طرح یہ اطمینان کر لے کہ آیا یہ عقیدہ آنحضرت ﷺ اور حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کے دور سے چلا آتا ہے؟ یا خیرالقرون کے بعد کی پیداوار ہے؟ لیکن جب یہ اطمینان ہو جائے کہ فلاں عقیدہ خیرالقرون سے متواتر چلا آتا ہے تو اس کے بعد کسی مسلمان کو اس پر اعتراض کرنے یا اس سے انحراف کرنے کا حق حاصل نہیں، جس شخص کو اسلام کے کسی متواتر عقیدے پر نکتہ چینی کا شوق ہو اس کا فرض ہے کہ مسلمانوں کی صف سے نکل کر غیرمسلموں کی صف میں کھڑا ہو جائے، اس کے بعد بصد شوق اسلام کے متواترات ومسلمات کو ہدف اعتراض بنائے۔

مرزاغلام احمد قادیانی کی یہ منطق ناقابل فہم ہے کہ وہ حیات عیسیٰ علیہ السلام کے عقیدے کو تیرہ صدیوں سے متواتر بھی تسلیم کرتا ہے اور پھر اسے تبدیل کر کے ایک نیا نسخہ استعمال کرنے کا بھی مشورہ دیتا ہے، حالانکہ وہ یہ اصول تسلیم کرتا ہے کہ:

حوالہ:۱۱

’’حدیثوں کا وہ دوسرا حصہ جو تعامل کے سلسلہ میں آگیا اور کروڑہا مخلوقات ابتداء سے اس پر اپنے عملی طریق سے محافظ اور قائم چلی آئی ہے اس کو ظنی اور شکی کیوں کر کہا جائے؟ ایک دنیا کا مسلسل تعامل جو بیٹوں سے باپوں تک،

305

اورباپوں سے دادوں تک، اور دادوں سے پڑدادوں تک بدیہی طور پر مشہور ہوگیا اور اپنے اصل مبداء تک اس کے آثار اور انوار نظر آگئے اس میں تو ایک ذرہ گنجائش نہیں رہ سکتی اور بغیر اس کے انسان کو کچھ نہیں بن پڑتا کہ ایسے مسلسل عملدرآمد کو اوّل درجے کے یقینیات میں سے یقین کرے، پھر جب کہ آئمہ حدیث نے اس سلسلہ تعامل کے ساتھ ایک اور سلسلہ قائم کیا اور امور تعاملی کا اسناد راست گو اور متدین راویوں کے ذریعہ آنحضرت ﷺ تک پہنچا دیا تو پھر بھی اس پر جرح کرنا درحقیقت ان لوگوں کا کام ہے جن کو بصیرت ایمانی اور عقل انسانی کا کچھ بھی حصہ نہیں ملا۔‘‘

(شہادت القرآن ص۸، خزائن ج۶ ص۳۰۴)

آپ مرزاقادیانی کی زبان سے سن چکے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان پر زندہ ہونا اور پھر دوبارہ کسی وقت دنیا میں تشریف لانا امت اسلامیہ کا تیرہ سو سال سے متواتر عقیدہ رہا ہے۔ آنحضرت ﷺ کے متواتر ارشادات میں، جن کو تواتر کا اوّل درجہ حاصل ہے، یہی عقیدہ بیان ہوا ہے اور خیرالقرون میں یہ عقیدہ وہاں وہاں تک پہنچا ہوا تھا جہاں کہیں ایک مسلمان بھی آباد تھا۔ انصاف فرمائیے کہ اس سے بڑھ کر اس عقیدہ کی حقانیت کا اور کیا ثبوت پیش کیا جاسکتا ہے؟

اس کے بعد بھی جو شخص اس عقیدے پر زبان طعن دراز کرتا ہے، اسلام کی مسلسل اور متواتر تاریخ کی تکذیب کرتا ہے، اسلام کے متواترات وقطعیات کو، جن کی پشت پر تیرہ سو سالہ امت کا تعامل موجود ہے، جھٹلانے کی جرأت کرتا ہے۔ انصاف کیجئے کہ کیا ایسا شخص مسلمان کہلانے کا مستحق ہے؟ بہرحال مرزاغلام احمد قادیانی کا یہ مشورہ کہ: ’’تم نے تیرہ سو برس سے یہ نسخہ استعمال کیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ آسمان پر بٹھایا مگر اب دوسرا نسخہ ہم بتاتے ہیں وہ استعمال کر کے دیکھو اور وہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو وفات شدہ مان لو۔‘‘ (ملفوظات ج۱۰ ص۳۰۰)

کسی مسلمان کے لئے لائق التفات نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ کسی مسلمان کے لئے یہ ممکن نہیں کہ وہ اسلام کے متواتر ومسلسل عقیدہ کو بدل ڈالنے کی جرأت کرے اور جو شخص ایسی جرأت کرے وہ مسلمان نہیں، بلکہ اسلام کا دشمن ہے۔

اس باب میں ہم نے مرزاقادیانی اور اس کے متبعین کے گیارہ حوالے پیش کر کے چودہ نتائج اخذ کئے۔ مرزاقادیانی نے حوالہ نمبر۱ اور نمبر۲ میں قرآنی آیات سے استدلال کیا کہ سیدنا مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے اور ان کے ہاتھ سے غلبہ اسلام ہوگا۔ مرزاقادیانی اقراری ہے کہ قرآن کی رو سے سیدنا مسیح علیہ السلام تشریف لائیں گے۔ اب یہاں ایک اہم حوالہ پیش خدمت ہے۔ مرزاقادیانی کا بڑا بیٹا اور قادیانی جماعت کا دوسرا خلیفہ مرزامحمود لکھتا ہے۔

حوالہ:۱۲

’’لیکن ۱۸۹۱ء میں ایک اور تغیر عظیم ہوا یعنی حضرت مرزاقادیانی کو الہام کے ذریعہ بتایا گیا کہ حضرت مسیح ناصری (عیسیٰ علیہ السلام) جن کے دوبارہ آنے کے مسلمان اور مسیحی دونوں قائل ہیں، فوت ہوچکے ہیں اور ایسے فوت ہوئے ہیں کہ پھر واپس نہیں آسکیں گے اور یہ مسیح کی بعثت ثانیہ سے مراد ایک ایسا شخص ہے جو ان کی خوبو پر آوے اور وہ آپ (مرزاقادیانی) ہی ہیں۔ جب اس بات پر آپ کو شرح صدر ہوگیا اور باربار الہام سے آپ کو مجبور کیاگیا کہ آپ اس بات کااعلان کریں تو آپ کو مجبوراً اس کام کے لئے اٹھناپڑا قادیان میں ہی آپ کو یہ الہام ہوا تھا۔ آپ نے گھر میں فرمایا کہ اب ایک ایسی بات میرے سپرد کی گئی ہے کہ اس سے سخت مخالفت ہوگی۔ اس کے بعد آپ لدھیانہ چلے گئے اور مسیح موعود ہونے کا اعلان ۱۸۹۱ء میں بذریعہ ایک اشتہار کے شائع کیاگیا۔ اس اعلان کا شائع ہونا تھا کہ ہندوستان بھر میں ایک شور پڑ گیا۔‘‘

(سیرت مسیح موعود ص۳۰ بارسوم مطبوعہ قادیان دسمبر ۱۹۴۶ء)

306

اس حوالہ نمبر۱۲ سے جو نتائج نکلتے ہیں اس کو ہم علیحدہ نمبردے کر لکھتے ہیں:

نمبر:۱… ۱۸۹۱ء تک مرزاقادیانی حیات مسیح علیہ السلام کا قائل تھا۔

نمبر:۲… الہام کے ذریعہ بتایا گیا کہ مسیح فوت ہوگئے (اب یہاں سوال یہ ہے کہ حوالہ نمبر۱ میں قرآن کی رو سے مرزا اقراری ہے کہ مسیح زندہ ہے۔ حوالہ نمبر۱۲ سے الہام کے ذریعہ معلوم ہوا کہ مسیح فوت ہوگئے کیامرزاقادیانی کا الہام قرآن کے لئے ناسخ تھا؟ اس شخص سے بڑھ کر کون کافر ہوسکتا ہے جو اپنے الہام سے قرآن کو منسوخ قرار دے)

نمبر:۳… تمام مسلمان ومسیحی سیدنا مسیح علیہ السلام کے دوبارہ آنے کے قائل تھے۔

نمبر:۴… مسیح علیہ السلام کی بعثت ثانیہ سے مراد مرزاقادیانی کی آمد ہے۔

نمبر:۵… باربار الہام سے آپ کو مجبور کیاگیا تب مرزاقادیانی نے اعلان کیا۔

اب دیکھئے کہ مرزاقادیانی کو مسیح بننے کا شوق الہام سے ہوا؟ سوال یہ ہے کہ یہ الہام شیطانی تھا یا رحمانی۔ اگر رحمانی ہوتا تو قرآن کے خلاف کیوں کر ہوسکتا تھا؟ پس ثابت ہوا کہ الہام شیطانی تھا۔ اس لئے تو باربار شیطان نے مرزاقادیانی کو مجبور کیا کہ تم یہ اعلان کرو۔ شیطان کا الہام اور حکیم نورالدین کی انگیخت سے مرزاقادیانی نے مسیح ہوے کا اعلان کیا۔ شیطان، نورالدین اور مرزاقادیانی کی تثلیث نے مل کر امت مسلمہ میں فتنہ کا بیج بویا۔ قارئین حیران ہوں گے کہ ہم نورالدین کو کہاں سے گھسیٹ لائے۔ حوالہ ملاحظہ ہو۔

حوالہ:۱۳

مرزاقادیانی حکیم نورالدین کے ایک خط کے جواب میں تحریر کرتا ہے: ’’جو کچھ آں مخدوم (نورالدین) نے تحریر کیا ہے کہ اگر دمشقی حدیث کے مصداق کو علیحدہ چھوڑ کر الگ مثیل مسیح کا دعویٰ ظاہر کیا جائے تو اس میں کیا حرج ہے۔‘‘

(مکتوبات احمدیہ مکتوب نمبر۶، بنام حکیم نورالدین ج۵ نمبر۲ ص۸۵)

قارئین اس خط پر ۲۴؍جنوری ۱۸۹۱ء کی تاریخ درج ہے۔ مرزامحمود کا حوالہ نمبر۱۲ آپ نے پڑھا کہ ۱۸۹۱ء میں مرزاقادیانی نے مسیح ہونے کا دعویٰ کیا۔ اب یہ تثلیث مل کر ابلیس کا ناٹک رچانے کے درپے ہے کہ کس طرح مرزاقادیانی کو مسیح بنایا جائے۔ فرمائیے الہام سے ہورہا ہے یا مشاورت سے؟ اس پر بس نہیں بلکہ نورالدین قادیان آیا اور مرزاقادیانی کو سبق پڑھایا۔ چنانچہ مرزاقادیانی لکھتا ہے:

حوالہ:۱۴

’’محب واثق مولوی حکیم نورالدین اس جگہ قادیان میں تشریف لائے۔ انہوں نے اس بات کے لئے درخواست کی کہ جو مسلم کی حدیث میں لفظ دمشق ہے… اس کے انکشاف کے لئے جناب الٰہی میں توجہ کی جائے… پس واضح ہو کہ دمشق کے لفظ کی تعبیر میرے پر منجانب ﷲ یہ ظاہر کیاگیا کہ اس جگہ ایسے قصبہ (قادیان) کا نام دمشق رکھاگیا ہے۔ جس میں ایسے لوگ رہتے ہیں جو یزیدی الطبع ہیں اور یزید پلید کی عادات اور خیالات کے پیرو ہیں… خداتعالیٰ نے مسیح کے اترنے کی جگہ جو دمشق کو بیان کیا ہے تو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مسیح سے مراد وہ اصلی مسیح نہیں (بلکہ نقلی مسیح مرزا) ہے جس پر انجیل نازل ہوئی تھی بلکہ مسلمانوں میں سے کوئی ایسا شخص مراد ہے… دمشق کا لفظ محض استعارہ کے طور پر استعمال کیاگیا۔‘‘ (ازالہ اوہام ص۶۵تا۶۷، خزائن ج۳ ص۱۳۵،۱۳۶ حاشیہ)

لیجئے صاحب! دمشق کی حدیث کا مسئلہ حل ہوگیا۔ دمشق سے مراد قادیان اور مسیح سے مراد مرزاقادیان، فرمائیے کہ یہ الہام ربانی ہے یا کھیل شیطانی ہے؟

307

لیکن بایں ہمہ جھوٹ جھوٹ ہوتا ہے۔ ’’مرزامحمود ۱۹۲۴ء میں دمشق گیا۔ ایک ہوٹل میں نماز پڑھی۔ سامنے سفید مینار تھا۔ کہنے لگا کہ لو حدیث دمشق پوری ہوگئی۔‘‘

(سوانح فضل عمر ج۳ ص۷۱، تاریخ احمدیت ج۵ ص۴۱۳)

گویا مرزاقادیانی کا جھوٹ کہ قادیان دمشق ہے۔ مرزامحمودکو ہضم نہ ہوا۔ لیکن کیا کیا جائے اس حماقت کا کہ مرزاقادیانی نے صرف قادیان کو دمشق نہیں بنایا بلکہ مینارہ بھی بنوانا شروع کیا۔ لیکن اس دجل کا قدرت نے پردہ یوں چاک کیاکہ مرزاقادیانی (فرضی مسیح) مرگیا مینارہ بعد میں بنا۔ سچے مسیح کے لئے مینارہ پہلے مسیح پھر، لیکن یہاں قادیان میں الٹی گنگا کہ مسیح پہلے مینارہ بعد میں۔ بہرحال مرزاقادیانی نے جب مسیح بننے کا تانابانا تیار کیا تو ابتداء میں کہا کہ:

حوالہ:۱۵

’’کہ قرآن میں تین آیات سے وفات مسیح ثابت ہے۔‘‘ (توضیح المرام ص۸، خزائن ج۳ ص۵۴)

حوالہ:۱۶

جب یہ جھوٹ اپنے احمق مریدوں کو منوا چکے تو اگلی کتاب میں کچھ دنوں بعد کہا کہ: ’’قرآن مجید کی تیس آیتوں سے وفات مسیح ثابت ہے۔‘‘ (ازالہ اوہام ص۵۹۸، خزائن ج۳ ص۴۲۳)

آخر میں تو عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کا جو قائل نہ ہو ان کو مشرک تک قرار دے دیا۔

حوالہ:۱۷

’’فمن سوء الادب ان یقال ان عیسٰی مامات ان ہو الاشرک عظیم‘‘

(الاستفتاء ص۳۹، خزائن ج۲۲ ص۶۶۰)

علاوہ ازیں اپنی کتابوں میں یہ بھی لکھا کہ مسئلہ حیات اور نزول مسیح مرزاقادیانی سے پہلے کسی کو معلوم نہ تھا۔ اس کی حقیقت صرف اور صرف مرزاقادیانی پر ہی منکشف ہوئی۔ بلکہ خودخداتعالیٰ نے بھی اس کو لوگوں سے پوشیدہ اور مخفی رکھا۔ چنانچہ مرزاقادیانی لکھتے ہیں:

حوالہ:۱۸

’’ہم کہہ سکتے ہیں کہ اگر آنحضرت ﷺ پر ابن مریم اور دجال کی حقیقت کاملہ بوجوہ نہ موجود ہونے کسی نمونہ کے موبمومنکشف نہ ہوئی ہو… تو کچھ تعجب کی بات نہیں۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۶۹۱، خزائن ج۳ ص۴۷۳)

حوالہ:۱۹

مرزاقادیانی کے نزدیک خود سیدنا مسیح علیہ السلام کو بھی اپنے نزول کا مطلب سمجھ میں نہ آیا۔ چنانچہ لکھا: ’’یہ امر بھی ناممکن نہیں کہ مسیح کو اپنی آمد ثانی کے معنی سمجھنے میں غلطی لگی ہو اور بجائے روحانی آمد سمجھنے کے اس نے جسمانی آمد اس سے سمجھ لی ہو۔‘‘

(ریویو آف ریلیجنز ج۳ نمبر۸ بابت ماہ اگست ۱۹۰۴ء ص۲۸۱)

حوالہ:۲۰

یہ بھی لکھا کہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کو بھی اس مسئلہ کی حقیقت معلوم نہ ہوئی: ’’یا اخوان! ہذا ہو الامر الذی اخفاہ اللّٰہ عن اعین القرون الاولٰی‘‘ اے بھائیو! یہ وہ بات ہے جس کو ﷲتعالیٰ نے پہلی صدی کے مسلمانوں (یعنی صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین) سے چھپا رکھا تھا۔ (آئینہ کمالات اسلام ص۴۲۶، خزائن ج۵ ص ایضاً)

حوالہ:۲۱

اس طرح اپنی کتاب ’’تحفہ بغداد‘‘ میں لکھا: ’’وما کان ایمان الاخیار من الصحابۃ والتابعین بنزول المسیح علیہ السلام الا اجمالیا وکانوا یؤمنون بالنزول مجملاً‘‘ مسیح علیہ السلام کے نزول کے بارہ میں اخیار صحابہ اور تابعین کا ایمان اجمالی تھا اور وہ اس عقیدہ نزول مسیح پر مجمل ایمان رکھتے تھے۔ (یعنی تفصیل کا انہیں علم نہیں تھا) (تحفہ بغداد ص۷، خزائن ج۷ ص۸)

حوالہ:۲۲

مرزاقادیانی کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ان سے پہلے کسی شخص کو اس مسئلہ کی حقیقت معلوم نہیں ہوئی۔ چنانچہ مرزاقادیانی نے لکھا ہے کہ: ’’علم من لدنہ ان النزول فی اصل مفہومہ حق ولکن مافہم المسلمون حقیقۃ لان ﷲ تعالیٰ ارادہ اخفاہ فغلب قضاء ہ ومکرہ وابتلاء ہ علٰی الافہام، فصرف وجوہہم

308

عن الحقیقۃ الروحانیۃ الٰی الخیالات الجسمانیۃ، فکانوا بہامن القانعین، وبقی ہذا الخبر مکتومًا مستورًا کالحب فی السنبلۃ قرنًا بعدقرن حتی زماننا… فکشف اللّٰہ الحقیقۃ علینا‘‘

(آئینہ کمالات اسلام ص۵۵۲، خزائن ج۵ ص ایضاً)

یعنی مجھے ﷲتعالیٰ کی طرف سے بتایا گیا کہ نزول اپنے اصل مفہوم کے لحاظ سے حق ہے لیکن مسلمان اس کی حقیقت کو نہیں سمجھ سکے۔ کیونکہ ﷲتعالیٰ کا ارادہ اس کو پردہ اخفاء میں رکھنے کا تھا۔ پس ﷲ کا فیصلہ غالب آیا اور لوگوں کے ذہنوں کو اس مسئلہ کی حقیقت روحانیہ سے خیالات جسمانیہ کی طرف پھیر دیا گیا اور وہ اسی پر قانع ہوگئے اور یہ مسئلہ پردہ اخفا ہی میں رہا جیسے کہ دانہ خوشے میں چھپا ہوتا ہے کئی صدیوں تک حتیٰ کہ ہمارا زمانہ آگیا… پس ﷲتعالیٰ نے اس بات کی حقیقت کو ہم پر منکشف کیا۔

اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ مرزاغلام احمد قادیانی کے دعویٰ مسیحیت تک نزول مسیح کا مسئلہ کلی طور پر پردہ اخفاء میں رہا اور سوائے مرزاغلام احمد قادیانی کے اس کی حقیقت کا کسی اور پر انکشاف نہ ہوا۔ چنانچہ مرزاقادیانی لکھتے ہیں کہ:

حوالہ:۲۳

’’مگر باوجود اس قدر آشکارا ہونے کے خداتعالیٰ نے اس کو مخفی کر لیا اور آنے والے موعود کے لئے اس کو مخفی رکھا۔‘‘(اخبار الحکم قادیان ص۶ ج۱۰ کالم۳، مورخہ ۱۷؍فروری ۱۹۰۶ء)

یہی وجہ ہے کہ مرزاقادیانی نے اپنے عقیدہ حیات مسیح میں ۵۲سال کے بعد جو تبدیلی کی وہ قرآن وحدیث کے دلائل کی وجہ سے نہ تھی بلکہ اپنی وحی کی وجہ سے کی جو موسلادھار بارش کی طرح ان پر ہوئی اور بقول ان کے اس نے ان کو مجبور کر دیا کہ وہ اپنے باون سالہ عقیدہ میں تبدیلی کریں۔ چنانچہ اس عقیدہ میں تبدیلی انہوں نے اپنی وحی کی وجہ سے کی جس نے اس عقیدہ کے اخفاء کو ان پر منکشف کیا۔ اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے سچ کہا ؎

ولے تاویل شاں در حیرت انداخت خدا و جبرئیل و مصطفیٰ را

اعتراض:

مسیح علیہ السلام کو آسمان پر زندہ ماننا شرکیہ عقیدہ ہے اور مرزاقادیانی کا عقیدہ حیات مسیح قبل از الہام تھا۔ الہام کے بعد وہ عقیدہ منسوخ ہوگیا۔ جس طرح آنحضرت ﷺ پہلے بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے تھے لیکن جب وحی آئی بیت ﷲ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے لگے۔ نیز آنحضرت ﷺ نے پہلے فرمایا کہ مجھے یونس بن متی پر فضیلت نہ دو بعد میں فرمایا کہ میں تمام نبیوں سے افضل ہوں۔ پس جب آپ کو وحی ہوئی تو آپ نے فضیلت کا اظہار فرمایا۔ اسی طرح جب مرزاقادیانی کو الہام ہوا کہ (مسیح فوت ہوگئے ہیں اور میں مسیح موعود ہوں) تو انہوں نے بھی دعویٰ کر دیا۔ نیز مرزاقادیانی کا عقیدہ حیات مسیح ایک رسمی عقیدہ تھا۔

الجواب:

۱… مرزاقادیانی کو بارہ برس تک خدائے تعالیٰ سے الہام ہوتے رہے۔ مگر وہ برابر شرک میں مبتلا رہے۔ ہمیں اس کی نظیر انبیاء میں نہیں ملتی اور بیت المقدس کی مثال بالکل مہمل ہے۔ اوّل تو اس لئے کہ بیت المقدس کو قبلہ بنانا حسب ہدایت آیت: ’’فَبِہُدٰہُمُ اقْتَدِہ (انعام:۹۰)‘‘ انبیائے سابقین کی سنت پر عمل ہے اور شرک نہیں تو وہ اس کی مثال کیسے بن سکتا ہے۔ بلکہ ’’انبیاء جو شرک کو مٹانے آئے ہیں خود شرک میں مبتلا ہیں؟‘‘ دیگر اس وجہ سے بے محل ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا مسئلہ عقائد میں سے ہے اور عقائد میں تنسیخ وتبدیلی نہیں ہوسکتی اور بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنا عملیات میں سے ہے جن میں تبدیلی وتنسیخ ہوسکتی ہے پس یہ اس کی نظیر نہیں۔

309

۲… مرزائیوں کا یہ کہنا کہ محض رسمی عقیدہ کی بناء پر مرزاقادیانی حیات مسیح کے قائل تھے بالکل لغو ہے۔ کیونکہ براہین احمدیہ وہ کتاب ہے جو بقول مرزاقادیانی دربار رسالت مآب میں رجسٹرڈ ہوچکی اور آنحضرت ﷺ سے قبولیت حاصل کر رہی تھی کیا اس وقت یہ تمام بیانات جن میں حضرت مسیح علیہ السلام کی حیات اور رفع آسمانی اور نزول ثانی مرقوم تھے، براہین سے نکال کر پیش ہوئے تھے یا آنحضرت ﷺ کی نظر میں نہ چڑھے تھے اور آپ نے یونہی بلاتحقیق مطالعہ اس کو شہد کی صورت میں ٹپکا دیا۔

۳… اور حضرت یونس بن متی والی مثال بھی بے محل ہے۔ کیونکہ مرزاقادیانی فرماتے ہیں کہ ’’یا تو یہ حدیث ضعیف ہے یا بطور تواضع وانکساری کے ایسا کہا گیا ہے۔‘‘

(آئینہ کمالات اسلام ص۱۶۳، خزائن ج۵ ص ایضاً)

عذر مرزائیہ

مرزاقادیانی نے براہین احمدیہ میں محض رسمی طور پر عقیدہ حیات مسیح لکھا تھا۔

الجواب:

اوّل تو ہمیں یہ مضر نہیں کیونکہ ہم نے بآیت قرآن وحدیث رسول ﷺ ثابت کر دیا ہے کہ یہاں حضرت مسیح علیہ السلام کا بھی ذکر ہے۔ دوم مرزائیوں کا عذر یوں بھی غلط ومردود ہے کہ مرزاقادیانی بقول خود ’’براہین احمدیہ کے وقت رسول ﷲ تھے۔‘‘

(ایک غلطی کا ازالہ ص۲، خزائن ج۱۸ ص۲۰۶، ایام الصلح اردو ص۷۵، خزائن ج۱۴ ص۳۰۹)

پھر اور سنو! براہین احمدیہ وہ کتاب ہے جو بقول مرزاقادیانی: ’’مولف نے ملہم ہوکر بغرض اصلاح تالیف کی۔‘‘ (اشتہار براہین احمدیہ ملحقہ کتاب آئینہ کمالات وسرمہ چشم آریہ) اور خود آنحضرت ﷺ کے دربار میں رجسٹرڈ ہوچکی ہے آپ نے اس کا نام قطبی رکھا یعنی قطب ستارہ کی طرح غیرمتزلزل ومستحکم اور یہ کتاب خدا کے الہام اور امر سے لکھی گئی ہے۔

(براہین احمدیہ ص۲۴۸،۲۴۹، خزائن ج۱ ص۲۷۵)

تیس آیات کے جوابات

پہلی آیت:

’’یٰعِیْسٰی اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ وَمُطَہِّرُکَ مِنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَجَاعِلُ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْکَ فَوْقَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ (آل عمران:۵۴)‘‘ اے عیسیٰ علیہ السلام میں لے لوں گا تجھ کو اور اٹھالوں گا اپنی طرف اور پاک کردوں گا تجھ کو کافروں سے اور رکھوں گا ان کو جو تیرے تابع ہیں۔ غالب ان لوگوں سے جو انکار کرتے ہیں قیامت کے دن تک۔

قادیانی استدلال:

’’یعنی اے عیسیٰ علیہ السلام میں تجھے وفات دینے والا ہوں اور پھر عزت کے ساتھ اپنی طرف اٹھانے والا ہوں اور کافروں کی تہمتوں سے (تجھے) پاک کرنے والا ہوں اور تیرے متبعین کو تیرے منکروں پر قیامت تک غلبہ دینے والا ہوں۔‘‘ (ازالہ اوہام ص۵۹۸، خزائن ج۳ ص۴۲۳)

جواب:

۱… اس آیت میں ’’مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ‘‘ کی نسبت مرزاقادیانی (ازالہ اوہام ص۳۹۴، خزائن ج۳ ص۳۰۳) پریہ اقرار کر لیا ہے کہ یہ آیت وعدۂ وفات ہے (یعنی دلیل وخبر وفات نہیں) حیرانگی ہے کہ وعدۂ وفات دینے میں کیا مصلحت الٰہی ہوسکتی ہے؟ کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کبھی یہ خیال کر بیٹھے تھے کہ ان پر موت وارد نہ ہوگی؟ حالانکہ ہر شخص خواہ مومن ہو یا کافر ’’کُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَۃُ الْمَوْتِ‘‘ کو مانتا ہے۔ مرزاقادیانی کا بیان ہے کہ یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب یہود نے حضرت مسیح کو پکڑ کر صلیب پر کھینچنا چاہا کیونکہ ان کا خیال تھا کہ جو صلیب پر لٹکایا گیا وہ لعنتی ہے۔ رب کریم نے

310

یہود کے اس ارادۂ فاسد کے مقابلہ میں حضرت مسیح علیہ السلام کا اطمینان فرمایا کہ تم صلیب پر نہیں مرو گے بلکہ اپنی موت سے، مرزاقادیانی کی اس وجہ اور سبب وعدۂ وفات کے غلط ہونے کی یہ دلیل بھی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یہ تو اپنی پیدائش کے دن ہی معلوم ہوگیا تھا کہ وہ نہ قتل کئے جائیں گے اور نہ صلیب پر لٹکائے جائیں گے بلکہ سلامتی کی موت کے ساتھ اپنی انفاس حیات پوری کریں گے۔ پڑھو یہ آیت: ’’وَسَلَامٌ عَلَیَّ یَوْمَ وُلِدْتُّ وَیَوْمَ اُمُوْتُ وَیَوْمَ اُبْعَثُ حَیَّا (مریم:۲۳)‘‘ پس یہ آیت بھی صاف دلالت کر رہی ہے کہ ’’اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ‘‘ کے معنی موت دوں گا ہرگز صحیح نہیں، مرو گے۔ عزت پاؤ گے ان کافروں کے ارادۂ فاسد سے پاک وصاف رہو گے۔ مرزاقادیانی کی یہ خودتراشیدہ وجہ بھی وعدۂ وفات کی مصلحت کو ظاہر کرنے میں بودی اور کمزور ہے۔ مرزاقادیانی مانتے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام صلیب پر لٹکائے گئے۔ صلیب کی سختیوں سے ایسے قریب بہ مرگ ہوگئے کہ یہود نے مرجانے کا خیال کر لیا۔ سبت بھی قریب تھا۔ جلدی سے اتار کر دفن کر گئے۔ حضرت مسیح علیہ السلام کے یارواحباب نے آکر ان کو نکال لیا۔ پھر وہ خفیہ زندہ رہے اور اپنی موت سے مر گئے۔

اہم استنباط:

یہ وجہ اس لئے کمزور اور بودی ہے کہ مرزاقادیانی مانتے ہیں کہ صلیب پر لٹکائے جانے کے بعد پھر زندہ رہے اور مدتوں جئے تو اندریں صورت اقتضائے مقام یہ تھا کہ ﷲتعالیٰ ان کو وعدۂ نجات دیتا کہ یہود تو تجھے صلیب پر لٹکانا چاہتے اور بے عزتی کے ساتھ ہلاک کرنا چاہتے ہیں۔ مگر میں تجھے ان کے ہاتھوں سے نجات دوں گا اور تو اپنی زندگی اور عمر کا بقیہ حصہ خاموشی اور امن کے ساتھ پورا کرے گا نہ کہ برخلاف اس کے کہ ایک شخص جو موت کے سامان اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ رہا ہے اور اپنے مرنے کا یقین کر رہا ہے اس کی تسلی اور تشفی ان الفاظ میں کی جائے کہ میں تجھے ماروں گا اور وفات دوں گا۔ درآنحالیکہ مارنے اور وفات دینے میں ہنوز عرصۂ دراز باقی ہے۔ ایسے موقعہ دل دہی اور اطمینان پر ایسے الفاظ کا استعمال دنیا کی کسی زبان میں بھی نہ ہوتا ہوگا۔ چہ جائیکہ رب کریم کے کلام میں ہو۔ جس کی بلاغت بدرجہ غایت پہنچی ہوئی ہے۔ اس سے ظاہر ہے کہ مرزاقادیانی نے اس آیت کا جو ترجمہ کیا ہے وہی اپنی غلطی اور اندرونی شہادت رکھتا ہے اور بآواز بلند پکار رہا ہے کہ الفاظ ربانی کے ایسے معانی کرنا جس کے ایک پہلو سے ﷲتعالیٰ پر فعل عبث اور کلام بے محل کا الزام آتا ہو اور دوسرے پہلو سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر غلط فہمی کا اعتراض قائم ہوتا ہو بالکل بے بصیرتی ہے اور ﷲتعالیٰ کے کلام پاک کو اس کے درجہ اعلیٰ سے ’’متنزل‘‘ کر دینا ہے اور ’’مُتَوَفِّیْکَ‘‘ کا ترجمہ تجھے ماروں گا کرنے سے ہی معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا ترجمہ ’’وَرَافِعُکَ اِلَیَّ وَمُطَہِّرُکَ مِنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا‘‘ پہلے الفاظ سے کچھ مناسبت نہیں رکھتا۔ یعنی عدم مطابقت کلام الٰہی ہے اور وہ محال ہے کیونکہ جس عزت کی موت کا وعدہ تھا یا تو وہ عزت جسمانی ہوسکتی ہے۔ جو بقول آپ کے حضرت مسیح علیہ السلام کو نصیب نہیں ہوئی۔ کیونکہ وہ تادم زیست یہودیوں کے خوف سے چھپے ہی رہے۔ گمنامی کے ساتھ زندگی بسر کرنا اور معمولی طور پر مر جانا جسمانی لحاظ سے باعزت موت نہیں ہوسکتی۔ جب کہ اس کا وعدہ بھی منجانب ﷲ دیاگیا ہو اور یا وہ عزت روحانی ہوسکتی ہے یعنی اعلیٰ علیین میں روح کا جاگزین ہونا وغیرہ وغیرہ تو یہ سب امور تو انبیاء علیہم السلام کو یقینا حاصل ہوتے ہیں اور کوئی نبی بھی ایسا نہیں گزرا۔ جس کو سوء خاتمہ کا خوف ہو۔ یا سلب ایمان کا ڈر۔ پس اس اعتبار سے بھی یہ وعدہ ایک فعل لا یعنی ہوا اور جس کے یہ معنی ہیں کہ یہود کی مخالفت دیکھ کر خود حضرت مسیح علیہ السلام کو بھی اپنی صداقت اور نبوت میں شک ہوگیا تھا۔ (معاذ ﷲ) جس کا دفعیہ خداتعالیٰ کو کرنا پڑا کہ نہیں تو شک نہ کر۔ تو سچا ہے اور اس لئے تو عزت کے ساتھ ہمارے پاس آئے گا۔ ’’مُتَوَفِّیْکَ‘‘ کے ترجمہ ماروں گا کی غلطی تو لفظ ’’مُطَہِّرُکَ مِنَ الَّذِیْنَ

311

کَفَرُوْا‘‘ بھی ظاہر کرتا ہے۔ جب مرزاقادیانی کا اقرار ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام یہود کے ہاتھوں صلیب پر لٹکائے گئے (گو ان کو صلیب پر وفات پانے کا انکار ہے) اور توریت کے خاص الفاظ یہی ہیں کہ جو صلیب پر لٹکایا گیا (دیکھو صلیب پر لٹک کر مر گیا توریت بھی نہیں کہتی) وہ لعنتی ہے، تو معلوم ہوا کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو یہود کی آنکھوں میں تطہیر حاصل نہیں ہوئی۔ حالانکہ وعدہ تطہیر کا تھا۔

اب ناظرین یہ بھی خیال فرمائیں کہ مرزاقادیانی نے ان ہرچہار فعلوں میں ترتیب طبعی کو تسلیم کر لیا ہے۔ حالانکہ ان کی بتلائی ہوئی وجہ سے جس کا ذکر اوپر ہوا ’’مُطَہِّرُکَ مِنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا‘‘کو ’’مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ‘‘ پر تقدم زمانی حاصل ہے۔ کیونکہ تطہیر کے معنی ان کے نزدیک صلیب پر لٹکے ہوئے وفات نہ پانا ہے۔ جو واقعہ تصلیب سے اگلے روز ہی ان کو حاصل ہوگئی تھی اور جب یہ تقدم زمانی ثابت ہوئی تو پھر ان کا یہ مذہب کہ تقدیم وتاخیر الفاظ قرآنی صریح الحاد ہے۔ انہی پر لوٹ چلے گا۔ غرض یہ ترجمہ ہی اپنی بطلان پر خود شاہد ہے۔

اس جگہ تقدیم وتاخیر الفاظ کی نسبت بھی کچھ گزارش کرنا ضروری ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا مذہب یہ ہے کہ: :’’مُتَوَفِّیْکَ‘‘ کے معنی ’’مُمِیْتُکَ‘‘ ہیں۔ اس پر وہی اعتراضات وارد ہوتے جو مرزاقادیانی کے ترجمہ پر ہوئے ہیں۔ مگر ساتھ ہی ان کا یہ مذہب بھی ہے کہ الفاظ ’’مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ‘‘ میں تقدیم وتاخیر ہے۔ مرزاقادیانی اس مقام پر آکر ایسے غضب میں بھر جاتے ہیں کہ تقدیم وتاخیر الفاظ کا نام الحاد قرار دیتے ہیں اور ان کے خوش فہم مرید بھی بحق صحابی رسول۔ مفسر قرآن فقیہ فی الدین، برادر عم زاد نبی ابن عباس رضی اللہ عنہ اس فتوے الحاد پر بڑے نازاں ہورہے ہیں۔ اگر ان کو نظم قرآنی پر ذرا غور کا موقع بھی ملا ہوتا تو یہ حرف کبھی زبان پر نہ لاتے۔

نوٹ:

آیت: ’’اِنِّی مُتَوَفِّیْکَ اِلَیَّ‘‘ کے جو معنی مرزاقادیانی نے کئے ہیں اور اس معنی پر جو اعتراض ہم نے کیا ہے کہ آپ اس آیت کو حضرت مسیح علیہ السلام کے لئے اطمینان دہ اور تسلی بخش مانتے ہیں۔ مگر آپ کا ترجمہ اس آیت کو ان کے حق میں ایک پروحشت خبر اور پیام مرگ بتارہا ہے اور ایک مقید واسیر کو جو اپنی آنکھوں سے صلیب کو اپنے لئے تیاراور قوم کو اپنے قتل پر آمادہ دیکھے۔ موت فوری اور قتل ذلت کا یقین دلا رہا ہے۔ ہمارے اس اعتراض کا صحیح ہونا مرزاقادیانی نے خود تسلیم کر لیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں: ’’واضح ہو کہ مسیح کو بہشت میں داخل ہونے اور خداتعالیٰ کی طرف اٹھائے جانے کا وعدہ دیاگیا تھا۔ مگر وہ کسی اور وقت پر موقوف تھا جو مسیح پر ظاہر نہیں کیاگیا تھا جیسا کہ قرآن کریم میں ’’اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ‘‘ وارد ہے۔ سو اس سخت گھبراہٹ کے وقت میں مسیح نے خیال کیا کہ شاید آج ہی وہ وعدہ پورا ہوگا چونکہ مسیح ایک انسان تھا اور اس نے دیکھا کہ تمام سامان میرے مرنے کے موجود ہوگئے ہیں۔ لہٰذااس لئے برعایت اسباب گمان کیا کہ شاید آج میں مرجاؤں گا۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۳۹۴، خزائن ج۳ ص۳۰۳)

مرزاقادیانی ’’مسیح ایک انسان تھا‘‘ کہہ کر اپنے معنی کا نقص چھپانا چاہتے ہیں۔ مگر مسیح علیہ السلام ایک رسول تھا جس کے پاس یہود کے ہاتھوں سے نجات پا جانے کا وعدہ حتمی ﷲتعالیٰ کے پاس سے آچکا تھا۔ اس لئے لازمہ نبوت تھا کہ وہ ان کمزور ہیچ کاربندوں کے اسباب کو بیت العنکبوت سے زیادہ کمزور خیال کرتا اور ذرا گھبراہٹ اس کے لاحق حال نہ ہوتی۔ بے شک ہم یقین رکھتے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام کے استقلال واستقامت وصبر میں کبھی لغزش ظاہر نہیں ہوئی۔ یہود اور سلطنت کے مخالفوں کے سامنے ان کا بھروسہ خدائے کریم پر تھا اور اس نے اس کو بچا بھی لیا۔ حقیقت یہ ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کے استقامت احوال پر یہ جو اعتراض ہوتا ہے وہ بھی مرزاقادیانی کے ترجمہ کی خرابی کا موجب ہے

312

ورنہ نبی کی شان اس سے اعلیٰ وبرتر ہے۔

جواب:

۲… ناظرین! مرزاقادیانی کے الفاظ ترجمہ پر مکرر غور فرمائیں کہ اگر ان کے ترجمہ کے موافق ’’مُتَوَفِّیْکَ‘‘ سے وفات جسمی اور رفع سے عروج روحی مراد لی جائے تو لامحالہ عبارت میں یہ تقدیر ماننی پڑے گی۔ ’’اِنِّیْ مُتَوَفِّیْ جَسَدَکَ رَافِعُ روحک‘‘ حالانکہ معنی بنانے کے لئے قرآن شریف کی عبارت میں الفاظ کی تقدیر مرزاقادیانی کے مذہب میں الحاد اور کفر ہے۔

خیال کرنا چاہئے کہ اس جگہ چار فعل ہیں اور ان چاروں فعلوں کا فاعل باری تعالیٰ ہے اور ان چاروں فعلوں میں مخاطب یا عیسیٰ ہیں۔ جن پر ان افعال کا اثر مرتب ہوتا ہے۔ اب یہ طے کر لینا چاہئے کہ لفظ عیسیٰ جو اسم ہے۔ یہ مسمی کے صرف جسم یا صرف روح پر دلالت کرتا ہے یا جسم وروح دونوں پر۔ مرزاقادیانی کا مذہب بہت ہی عجیب ہے۔ وہ ’’اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ‘‘ میں ک کا مرجع یا عیسیٰ سے صرف جسم مراد لیتے ہیں۔ کیونکہ توفی کے معنی وہ روح کو قبض کر کے جسم کو بیکار چھوڑ دینا بتلاتے ہیں اور ’’رَافِعُکَ اِلَیَّ‘‘ میں ’’ک‘‘ کا مرجع یا عیسیٰ سے صرف روح عیسیٰ لیتے ہیں اور ’’مُطَہِّرُکَ‘‘ اور ’’اتَّبَعُوْکَ‘‘ میں یا عیسیٰ کا مرجع جسم وروح دونوں کو اور اس طرح پر وہ آیت کا ترجمہ کر سکنے کے قابل ہوتے ہیں جو سراسر نظم قرآنی کے خلاف اور شان کلام ربانی سے بعید ہے۔

جواب:

۳… ناظرین یہ بھی یاد رکھیں کہ ’’براہین احمدیہ‘‘ میں جس کو خدا کے حکم والہام سے مرزاقادیانی نے لکھا اور جس کو کشف میں حضرت سیدہ فاطمہ الزہراءt نے مرزاقادیانی کو یہ کہہ کر دیا کہ یہ تفسیر علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی ہے۔ مرزاقادیانی نے آیت: ’’یَاعِیْسٰی اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ‘‘ کا اپنے اوپر الہام ہونا لکھا ہے اور پھر اس کا ترجمہ یہ کیا ہے۔ ’’اے عیسیٰ میں تجھے پوری نعمت دوں گا۔‘‘ حوالہ ظاہر ہے کہ اگر ’’مُتَوَفِّیْکَ‘‘ کے معنی حقیقی تجھے ماروں گا ہوتے تو الہامی کتاب اور کشفی تفسیر میں یہ ترجمہ اس کا نہ کیا جاتا۔ مرزاقادیانی اس وقت بھی کچھ جاہل نہ تھے۔ جو توفی کے معنی نہ جانتے ہوں۔ پس اگر یہ ترجمہ ان کے لئے جائز اور صحیح ترجمہ تھا تو حضرت مسیح علیہ السلام کے لئے کیوں یہ ترجمہ صحیح نہیں؟ اگر مرزاقادیانی فرمائیں کہ ﷲتعالیٰ کے الہام میں تو اس وقت بھی ’’مُتَوَفِّیْکَ‘‘ کے معنی ماروں گا۔ مراد تھی مگر ترجمہ کرنے میں غلطی ہوئی تو خیر یہ بھی سہی مگر ظاہر ہے کہ براہین میں اس الہام کو چھپے ہوئے یعنی مرزاقادیانی کو خبر وفات منجانب باری تعالیٰ ملتے ہی مرزا کو پندرہ سال کا عرصہ ہوچکا اور مرزاقادیانی کو فوری موت نہیں آئی تو اس سے واضح ہوا کہ جس طرح مرزاقادیانی کے لئے بعد از خبر وفات پندرہ سال کا عرصہ اوپر گزر جانا جائز ہے۔ اسی طرح حضرت مسیح علیہ السلام کے لئے صدیوں کا عرصہ گزر جانا بھی جائز ہے اور اس صورت میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا مذہب ماننا پڑے گا۔

جواب:

۴… ’’اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ‘‘ پر تدبر فرمائیے۔ ’’تَوَفّٰی‘‘ کے معنی قبض تام ہیں اور چونکہ یہ قبض تام عیسیٰ علیہ السلام کے لئے ہے جس کے مفہوم میں روح اور جسم دونوں شامل تھے۔ لہٰذا توفی بجسدہ العنصری ثابت ہوا۔ ’’رَافِعُکَ اِلَیَّ‘‘ پر تفکر کیجئے۔ ’’رفع‘‘ کے معنی بلند کرنا ہیں جس کی ضد ’’وضع‘‘ ہے جو نیچے رکھ دینے کے معنی میں آتا ہے۔ پس قبض تام کے بعد رفع۔ رفع جسمی ہی ہے۔

چیلنج:

لفظ عیسیٰ کے مفہوم اور توفی کے معنی نے حضرت مسیح علیہ السلام کا بجسدہ العنصری قبض کیا جانا اورلفظ ’’رفع‘‘ کے معنی نے اسی جسم کے ساتھ آسمان پر جانا ثابت کر دیا۔ وﷲ الحمد! یہ وہ معنی ہیں۔ جس میں نہ لغت سے عدول ہوا۔ نہ عرف سے، نہ کہیں مرادی معنی لئے گئے۔ نہ مجازی ڈھکوسلہ لگایا گیا۔ مرزاقادیانی جو اس آیت کے معنی کرتے ہیں۔ وہ ’’یَا

313

عِیْسٰی‘‘ کے لفظ پر تو کچھ غور کرنا ہی نہیں چاہتے۔ ’’اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ‘‘ میں توفی کے معنی صرف قبض روح کرتے ہیں۔ مگر ہم حیران ہیں کہ توفی کے معنی صرف قبض روح کس لغت میں ہیں؟ اگر براہ عنایت مرزاقادیانی کسی مستند کتاب لغت میں یہ الفاظ لکھے دکھائیں: ’’کہ توفی کے معنی صرف قبض روح اور جسم کو بیکار چھوڑ دینے کے ہیں۔‘‘ (ازالہ اوہام ص۶۰۰، خزائن ج۳ ص۴۲۴) تو وہ ایک ہزار روپیہ کا انعام پانے کے مستحق ہوں گے۔

’’وَرَافِعُکَ اِلَیَّ‘‘ کے معنی وہ لغوی نہیں لیتے بلکہ مرادی معنی لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ’’رافعک الی‘‘ قرب الٰہی مراد ہے۔ مسلمانوں کا اعتقاد ہے اور لغت ان کا شاہد ہے کہ رفع کسی جسم کے بلند کرنے، نیچے سے اٹھا کر اوپر لے جانے کو کہتے ہیں۔ وہ جسم خواہ محسوس ہو یا غیرمحسوس۔ واضح ہو کہ جس طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے محسوس۔ جسم کے اٹھا لینے پر رب کریم نے اس لفظ کا استعمال فرمایا ہے۔ اسی طرح رسول خدا نے بھی ایک محسوس جسم کے زمین سے اوپر اٹھائے جانے پر اسی لفظ کا استعمال فرمایا ہے۔

’’وقریش تسالْنِیْ عن مسرٰی فَسَاَلتنی عن اشیائٍ مِنْ بیت المقدس لم اثبتہا فَکْرِبْتُ کربۃً مَا کُرِبْتَ مِثْلہ قَطُّ قَالَ فَرَفَعَہٗ اللّٰہُ لَیَّ انظر الیہ مَایَسَألُوْنی عن اشیاء الا انبأتہم‘‘

(مسلم ج۱ ص۹۶، باب الاسراء برسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم الیٰ السموات عن ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ)

آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں شب معراج کے بعد (جب آپ ﷺ نے لوگوں سے اپنا بیت المقدس تشریف لے جانا اور وہاں سے افلاک پر جانا بیان فرمایا) قریش میرے اس سفر کے متعلق سوال کرنے لگے۔ انہوں نے بیت المقدس کے متعلق چند ایسی چیزیں دریافت کیں۔ جن کا میں نے دھیان نہ رکھا تھا۔ مجھے اس وقت نہایت ہی شاق گزرا (کیونکہ جواب نہ دینے سے کفار کو احتمال کذب کایارا تھا) رب کریم نے میرے لئے بیت المقدس کواٹھا کر بلند کر دیا کہ میں اسے بخوبی دیکھتا تھا۔ پھر قریش نے جو کچھ مجھ سے پوچھا۔ میں نے جواب دے دیا۔

آنحضرت ﷺ کا معراج جسمی

مسرای کا لفظ غور طلب ہے کہ اس سے معراج جسمانی ثابت ہوتا ہے (جو جمہور اہل السنت والجماعت کا مذہب ہے) یا کشفی ومنامی ہے؟ جو مرزاقادیانی کا مذہب ہے پھر دیکھنا چاہئے کہ اگر آنحضرت ﷺ نے اپنا خواب یا کشف بیان کیا ہوتا تو کفار کو اس سے سخت انکار کرنے اور امتحان کی غرض سے مختلف سوالات پیش کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ کیونکہ سب جانتے ہیں کہ خواب میں کسی دور دراز مکان کا دیکھ لینا کچھ بھی مستبعد نہیں۔ علیٰ ہذا خواب میں مرئیات کو واقع کے مطابق دیکھنا بھی ضروری نہیں۔ کفار کے سوال اور ان کے اعتراض سے رسول کریم ﷺ کی گھبراہٹ اور ﷲتعالیٰ کا اس گھبراہٹ کو دور فرمانا تو تب ہی ٹھیک ہوتا ہے جب یہ تسلیم کر لیا جائے کہ آنحضرت ﷺ نے اپنے معراج کو جسمانی بتلایا تھا اور آپ ﷺ کے الفاظ سے صحابہ اور مشرکین نے یہی سمجھا تھا۔

جناب مرزاقادیانی ’’رَفَعَہُ اللّٰہُ لِیْ‘‘ پر کم سے کم تین بار غور فرمائیں۔

’’رَفَعَ‘‘ کے جو معنی ’’وَرَافِعُکَ اِلَیَّ‘‘ میں ہم نے کئے ہیں۔ ’’بَلْ رَّفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیْہِ‘‘ کا منطوق ہے۔ کیونکہ مرزاقادیانی نے جب ’’مُتَوَفِّیْکَ‘‘ میں صرف قبض روح کے معنی لئے تو ’’رَافِعُکَ‘‘ میں معزز موت مراد لی۔ ان دونوں فعلوں کا مرجع بہرحال عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔ مگر جب وہ ’’بَلْ رَّفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیْہِ‘‘ کے معنی کرتے ہیں تو ان کے بیان میں

314

لغزش آجاتی ہے کیونکہ ’’مَاقَتَلُوْہُ وَمَا صَلَبُوْہُ‘‘ کی ضمیر کا مرجع جسم اور روح دونوں ہیں۔ جس کو مرزاقادیانی بھی مانتے ہیں لیکن ’’بَلْ رَّفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیْہِ‘‘ میں آکر وہ ضمیر کا مرجع صرف روح کوقرار دے بیٹھے ہیں۔ جس کے واسطے ان کے پاس کوئی دلیل نہیں بلکہ یہ تو کلام میں نہایت بھونڈی اور بدنما تعقید ہے۔ جس کا وجود کسی فصیح انسان کے کلام میں بھی نہیں ملتا۔ چہ جائیکہ ایسے معجز کلام الٰہی میں ہو۔ اس وقت مرزاقادیانی کو اپنے وہ الفاظ جو توضیح میں لکھے ہیں۔ یاد کرنے چاہئیں۔ ’’خوبصورت اور دلچسپ طریقے تفسیر کے وہ ہوتے ہیں۔ جن میں متکلم کی اعلیٰ شان بلاغت اور اس کے روحانی ارادوں کا خیال بھی رہے۔ نہ یہ کہ غایت درجہ کے سفلی اور بدنما اور بے طرح موٹے معنی جو ہجو ملیح کے حکم میں ہوں۔ اپنی طرف سے گھڑے جائیں اور خداتعالیٰ کی پاک کلام کو جو پاک اور نازک دقائق پر مشتمل ہے۔ صرف دہقانی لفظوں تک محدود خیال کیا جائے۔‘‘ (توضیح مرام ص۱۴،۱۵، خزائن ج۳ ص۵۸)

اب مرزاقادیانی کو دیکھنا چاہئے کہ متکلم کی اعلیٰ شان بلاغت کا خیال نہ کر کے غایت درجہ کے سفلی بدنما اور بے طرح موٹے معنی آپ کرتے ہیں۔ یا ہم؟ ایسے معنی کہ اس میں ضمائر بھی ٹھیک نہیں بیٹھتی ہیں۔

مرزاقادیانی نے ازالہ کے خاتمہ پر پھر آیت: ’’یَا عِیْسٰی اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ وَمُطَہِّرُکَ مِنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَجَاعِلُ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْکَ فَوْقَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃَ‘‘ کو لکھا ہے (ازالہ اوہام ص۹۲۲، خزائن ج۳ ص۶۰۶) اور بیان کیا ہے کہ خداتعالیٰ نے ترتیب وار چار فعل بیان کر کے اپنے تئیں ان کا فاعل بیان کیا ہے میں کہتا ہوں کہ ہمارا مذہب بھی یہی ہے اور آیت کے جو معنی ہم نے لکھے ہیں۔ اس میں بھی ترتیب ان فعلوں کی اسی طرح قائم رہتی ہے۔ البتہ ترتیب توڑنے کا جو الزام بڑے زوروشور سے مرزاقادیانی نے قائم کیا ہے اور ترتیب توڑنے والوں کو پیٹ بھر گالیاں دی ہیں۔ وہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا مذہب ہے۔ وہی ابن عباس رضی اللہ عنہ جن کا مذہب امام بخاری نے ’’مُتَوَفِّیْکَ‘‘ بمعنی ’’مُمِیْتُُکَ‘‘ بیان کیا ہے اور وہی ابن عباس رضی اللہ عنہ جن کا مذہب (ازالہ اوہام ص۸۹۲، خزائن ج۳ ص۵۸۷) پر آپ نے اپنے لئے سند سمجھا ہے۔

بڑی حیف کی بات ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے مقولہ کا آدھا حصہ تو آپ قبول کرتے ہیں اور آدھا قبول نہیں کرتے۔ ایمان بعض اور کفر بعض کی۔ اگر کوئی اور مثال ہے تو فرمائیں؟

دوسری آیت:

’’وَقَوْلِہِمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِیْحَ عِیْسٰی ابْنَ مَرْیَمَ رَسُوْلَ اللّٰہِ وَمَا قَتَلُوْہُ وَمَا صَلَبُوْہُ وَلٰکِنْ شُبِّہَ لَہُمْ وَاِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِیْہِ لَفِیْ شَکٍّ مِّنْہُ مَا لَہُمْ بِہٖ مِنْ عِلْمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ وَمَا قَتَلُوْہُ یَقِیْنًا بَلْ رَّفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیْہِ وَکَانَ اللّٰہُ عَزِیْزًا حَکِیْمًا وَاِنْ مِّنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ اِلَّا لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ وَیَوْمَ الْقِیٰمَۃِ یَکُوْنُ عَلَیْہِمْ شَہِیْدًا (نساء:۱۵۸،۱۵۹)‘‘ {اور ان کے اس کہنے پر کہ ہم نے قتل کیا مسیح عیسیٰ مریم کے بیٹے کو جو رسول تھا ﷲ کا اور انہوں نے نہ اس کو مارا نہ سولی پر چڑھایا۔ لیکن وہی صورت بن گئی ان کے آگے اور جو لوگ اس میں مختلف باتیں کرتے ہیں تو وہ لوگ اس جگہ شبہ میں پڑے ہوئے ہیں۔ کچھ نہیں ان کو اس کی خبر صرف اٹکل پر چل رہے ہیں اور اس کو قتل نہیں کیا۔ بے شک اس کو اٹھا لیا ﷲ نے اپنی طرف اور ﷲ ہے زبردست حکمت والا اور جتنے فرقے ہیں اہل کتاب کے سو عیسیٰ علیہ السلام پر یقین لائیں گے اس کی موت سے پہلے اور قیامت کے دن ہوگا ان پر گواہ۔}

قادیانی استدلال:

’’دوسری آیت جو مسیح ابن مریم کی موت پر دلالت کرتی ہے یہ ہے یعنی مسیح ابن مریم مقتول اور مصلوب ہوکر مردود اور ملعون لوگوں کی موت نہیں مرا۔ جیسا کہ عیسائیوں اور یہودیوں کا خیال ہے بلکہ خداتعالیٰ نے عزت

315

کے ساتھ اس کو اپنی طرف اٹھالیا۔ جاننا چاہئے کہ اس جگہ رفع سے مراد وہ موت ہے جو عزت کے ساتھ ہو جیسا کہ دوسری آیت اس پر دلالت کرتی ہے۔ وَرَفَعْنَاہُ مَکَانًا عَلِیَّا‘‘

(ازالہ اوہام ص۵۹۹، خزائن ج۳ ص۴۲۳)

جواب:

۱… یہ دوسری آیت مرزاقادیانی نے وفات عیسیٰ علیہ السلام پر ’’بَلْ رَّفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیْہِ‘‘ پیش کی ہے۔ انہوں نے اس کا ترجمہ ان الفاظ میں کیا ہے۔ ’’بلکہ خداتعالیٰ نے عزت کے ساتھ اس کو اپنی طرف اٹھالیا۔‘‘ ترجمہ کے بعد پھر لکھا ہے: ’’اس جگہ رفع سے مراد موت ہے جو عزت کے ساتھ ہو جیسا کہ دوسری آیت اس پر دلالت کرتی ہے۔ ’’وَرَفَعْنَاہُ مَکَانًا عَلِیَّا‘‘ مرزاقادیانی نے مراد کا لفظ لکھ کر ثابت کر دیا کہ وہ اس جگہ مرادی ترجمہ کرتے ہیں اور ترجمہ آیت میں حسب مراد خود جو چاہتے ہیں تصرف کرتے ہیں۔ نیز ثابت کر دیا کہ اس جگہ رفع کے لغوی معنی مرزاقادیانی کے مذہب کو دفع کر رہے ہیں۔ آیت: ’’وَرَفَعْنَاہُ مَکَانًا عَلِیَّا‘‘ جو حضرت ادریس علیہ السلام کی شان میں ہے۔ وہ نہ ان مرادی معنی پر دلالت کرتی ہے اور نہ ہی مرزاقادیانی کے کچھ مفید ہے۔ کیونکہ یہاں رفع کا لفظ ’’مَکَانًا عَلِیَّا‘‘ سے مضاف ہے اور جس کے یہ معنی ہیں کہ رب کریم نے حضرت ادریس علیہ السلام کو رتبہ علیا پر فائز کیا اور منصب برتر پر ممتاز فرمایا۔ ایسا ہی دوسرے مقام پر ﷲتعالیٰ نے فرمایا ہے: ’’تِلْکَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَہُمْ عَلٰی بَعْضٍ مَنْہُمْ مَّنْ کَلَّمَ اللّٰہُ وَرَفَعَ بَعْضَہُمْ دَرَجٰتٍ (البقرۃ:۲۵۳)‘‘ یہ رسول ہیں جن میں سے بعض کو بعض پر ہم نے فضیلت دی ہے اور بعض کے درجے ہم نے بلند کئے ہیں۔ اس میں رفع کو درجات کی طرف مضاف کیا ہے پس واضح ہوا کہ مرزاقادیانی نے یہ مرادی معنی تو ﷲتعالیٰ کے مقصود ومطلوب کلام کے خلاف کئے ہیں۔ لہٰذا روشن ہوا کہ رفع کے معنی یہاں بھی وہی ہیں۔ جو لغت میں ہیں اور جو ہر جگہ لئے اور سمجھے سمجھائے بولے جاتے ہیں یعنی بلند کرنا۔ اب چونکہ یہاں رفع کا لفظ ہے اور وہ ’’اِلَیَّ‘‘ کی طرف مضاف ہے تو صاف اور سیدھے معنی جن کو لغت کی امان حاصل ہے یہ ہیں کہ ہم نے عیسیٰ علیہ السلام کو اپنی طرف اوپر اٹھالیا۔ ’’اِلَیَّ‘‘ کے معنی میں فوق، جہت، علو کی بحث (جو مسئلۂ صفات کا حصہ ہے) شامل کی جاسکتی ہے مگر میں امید کرتا ہوں کہ آپ ان صفات الٰہی سے منکر نہ ہوں گے اور مسئلۂ صفات میں اہل سنت والجماعت کا مذہب چھوڑ نہ بیٹھے ہوں گے۔ ناظرین بجائے اس کے کہ مرزاقادیانی اس آیت سے وفات عیسیٰ علیہ السلام ثابت کر سکتے۔ ان کو شروع تقریر میں ہی اپنے ضعف استدلال کا خود اقرار کرنا پڑا اور یہ ماننا لازمی ہوا کہ جو معنی ہم نے کئے ہیں وہ مرادی معنی ہیں۔ مجھے نہایت تعجب آتا ہے کہ توفی کے لفظ پر تو مرزاقادیانی نے اتنا زور دیا ہے کہ گویا تمام بحث کا لب لباب اور کل دلائل کا عطر مجموعہ یہی لفظ ہے اور وہ سارا زور صرف اس بات پر ہے کہ توفی کے لغوی اور اصلی معنی وفات کے ہیں مگر رفع میں آکر اس تمام جوش وخروش کو سینہ میں دبا کر چاہتے ہیں کہ اس کے لغوی اور اصلی معنی کو چھوڑ کر مرادی معنی لے لئے۔‘‘

جواب:

۲… مرزاقادیانی کے نزدیک رفع کا اٹھانا اور الیہ کا معنی آسمان کی طرف مسلم ہیں۔ کیونکہ جب وہ ارواح کے اٹھائے جانے کے قائل ہیں تو اس صورت میں رفع کے حقیقی معنی اٹھانا ثابت ہیں اور چونکہ ارواح کا اٹھایا جانا آسمان کی طرف ہوتا ہے جو قرآنی آیت: ’’فی مقعد صدق عند ملیک مقتدر‘‘ سے ثابت ہے۔ اس لئے آیت ’’بل رفعہ اللّٰہ‘‘ میں آسمان کی طرف حقیقی طور پر اٹھایا جانا مرزاقادیانی کے نزدیک مسلم ٹھہرا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا چیز اٹھائی گئی؟ اس کا جواب خود قرآن مجید میں مذکور ہے کہ جس کو قتل نہیں کر سکے وہی اٹھایا گیا۔ ظاہر ہے کہ وہ جسم ہی تھا۔

تیسری آیت:

’’فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ کُنْتَ اَنْتَ الرَّقِیْبَ عَلَیْہِمْ (مائدہ:۱۱۷)‘‘ {پھر جب تو نے مجھ کو اٹھالیا تو تو ہی تھا خبر رکھنے والا ان کی۔}

316

قادیانی استدلال:

’’یعنی جب تو نے مجھے وفات دے دی تو تو ہی ان پر نگہبان تھا… تمام قرآن شریف میں ’’تَوَفّٰی‘‘ کے معنی یہ ہیں کہ روح کو قبض کرنا اور جسم کو بیکار چھوڑ دینا۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۶۰۰، خزائن ج۳ ص۴۲۴)

تیسری آیت وفات عیسیٰ علیہ السلام پر مرزاقادیانی نے ’’فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ‘‘ پیش کی ہے۔ اس آیت کے ضمن میں لفظ توفی پر نہایت پرجوش اور زوردار لفظوں میں بحث کی ہے۔ لکھا ہے۔ ’’توفی کے معنی اماتت اور قبض روح ہیں۔ بعض علماء نے الحاد اور تحریف سے اس جگہ ’’تَوَفَّیْتَنِیْ‘‘ سے ’’رَفَعْتَنِیْ‘‘ مراد لیا ہے اور اس طرف ذرا خیال نہیں کیا کہ یہ معنی نہ صرف لغت کے مخالف بلکہ سارے قرآن کے مخالف ہیں۔ پس یہی تو الحاد ہے۔ قرآن شریف میں اوّل سے آخر تک بلکہ صحاح ستہ میں بھی انہی معنی کا التزام کیاگیا ہے۔‘‘ (ازالہ اوہام ص۶۰۱، خزائن ج۳ ص۴۲۴)

مرزاقادیانی دیکھیں کہ جب آپ نے محض ایک لفظ ’’تَوَفَّیْتَنِیْ‘‘ کے معنی ’’رَفَعْتَنِیْ‘‘ لینے سے سینکڑوں سال کے مرے ہوئے ہزاروں علماء پر فتویٰ الحاد جاری کر دیا اور ملحد کہنے میں ان کے ایمان واسلام، اقرار شہادتین وغیرہ کا کچھ خیال نہ کیا۔ کیا آپ کو حال کے علماء سے اپنے فتویٰ تکفیر کے بارہ میں کیا شکایت ہوسکتی ہے۔

الجواب:

اب مجھے لازم ہے کہ توفی کے لفظ پر بحث کروں اور لغت نیز قرآن مجید سے اس کے معنی اماتت اور قبض روح کے سوا اور بھی ثابت کر دوں۔

پہلے لغت کی کتابوں کو لیجئے۔

۱… صحاح میں ہے: ’’اوفاہ حقہ‘‘ (باب افعال سے) اور ’’وفاہ حقہ‘‘ (باب تفعیل سے) اور ’’استوفٰی حقہ‘‘ (باب استفعال سے) اور ’’توفاہ‘‘ (باب تفعل سے جو زیر بحث ہے) سب ایک ہی معنی رکھتے ہیں کہ اس کا حق پورا دے دیا۔ ’’توفاہ ﷲ‘‘ کے معنی قبض روح کے ہیں اور ’’توفی‘‘ کے معنی نیند بھی ہیں۔

۲… ’’ایفاء‘‘ گزار دن حق کسے بہ تمام۔ ’’ویقال منہ واوفاہ حقہ ووفاہ واستیفاہ توفی تمام گرفتن حق توفاہ ﷲ ای قبض روحہ وفاۃ مردن موافاۃ رسیدن وآمدن وتوافی القوم ہی تناموا‘‘

۳… قاموس میں ہے ’’اوفی فلانا حقہ‘‘ کے یہ معنی ہیں کہ اس کو پورا حق دے دیا۔ جیسے ’’وفاہ‘‘ اور ’’اوفاہ، استوفاہ‘‘ اور ’’توفاہ‘‘ کے یہی معنی ہیں۔ وفات بمعنی موت بھی ہے۔ ’’توفاہ ﷲ‘‘ کے معنی قبض روح ہیں۔ مرزاقادیانی کا دعویٰ تھا کہ کتب مذکور بالا سے ان کو کوئی ایسی مثال یا محاورہ دکھلا دیا جائے جس میں لفظ توفی بمعنی قبض جسم بولا گیا ہو۔ اب وہ ’’توفاہ حقہ‘‘ کے محاورہ پر غور کریں۔ جس سے درہم ودینار وغیرہ اجسام کا قبض کرنا ثابت ہے۔

اب تفاسیر کی طرف آئیے۔ ’’تفسیر بیضاوی‘‘ میں ہے۔ توفی کسی چیز کے پورا لینے کو کہتے ہیں۔ بیضاوی جیسے متبحر وماہر نے لکھا ہے: ’’التوفی اخذاً وافیًا‘‘ مارنا اس کی ایک قسم ہے (اور نیند اس کی دوسری قسم) ان دونوں قسموں کا اس قول ربانی میں ذکر ہے۔ خدائے تعالیٰ جانوں کو موت کے وقت پورا لیتا ہے۔ (یعنی مارتا ہے) اور جو نہیں مرتے ان کو نیند میں پورا لیتا ہے۔ (یعنی ان کوسلا دیتا ہے)

’’تفسیر کبیر‘‘ میں ہے توفی کے معنی قبض کرنا ہے۔ اس لفظ سے عرب کے محاورات یہ ہیں:’’وفانی فلان دراہمی واوفانی وتوفیتہا منہ‘‘ یعنی فلاں شخص نے میرے درہم میرے قبضہ میں دے دئیے اور میں نے اس سے

317

پورے کر لئے۔ خیال فرمائیے یہ محاورہ قبض جسم کی مثال ہے۔ (جس کے مرزاقادیانی منکر ہیں) جیسے یہ محاورات ہیں ’’سلم فلان درہمی الی وتسلمتہا منہ‘‘ یعنی فلاں شخص نے میرے درہم مجھے سپرد کر دئیے اور میں نے اس سے لے لئے اور کبھی توفی بمعنی ’’استوفی‘‘ آتا ہے جس کے معنی پورا لینے کے ہیں۔ ان دونوں معنی کے اعتبار سے (کہ خود توفی کے معنی بھی قبض کرنا ہے اور ’’توفی‘‘ کے معنی ’’استوفی‘‘ بھی ہیں) حضرت مسیح علیہ السلام کو زمین سے اٹھا کر آسمان پر چڑھالے جانا ان کی توفی ہے۔ اس پر اگر کوئی اعتراض کرے کہ جب توفی بعینہٖ رفع جسم ہوا تو ’’متوفیک‘‘ کے بعد ’’رافعک الی‘‘ کہنا تکرار بلا فائدہ ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ ط ’’متوفیک‘‘ فرمانے سے صرف قبض کرنا معلوم ہوا جو ایک جنس اور عام مفہوم ہے اور اس کے تحت میں کئی انواع واقسام پائے جاتے ہیں۔ (۱)موت (جس میں صرف روح کو قبض کرنا ہوتا ہے)، (۲)جسم کو آسمان پر لے جانا (جس میں روح کی شمولیت بھی پائی جاتی ہے)، (۳)نوم جس میں ایک قسم کا قبض روح ہوتا ہے۔ پس جب ’’متوفیک‘ فرمانے کے بعد ’’ورافعک الی‘‘ بھی فرمادیا تو اس سے اس جنس کی ایک نوع کاتقرر ہوگیا اور تکرار لازم نہ آیا۔

اسی تفسیر میں آیات زیربحث کی تفسیر میں ہے: ’’یَتَوَفَّاکُمْ بَاللَّیْلِ‘‘ کے معنی ہیں۔ خداتعالیٰ تم کو رات کو سلادیتا ہے اور تمہاری ان ارواح کو قبض کر لیتا ہے۔ جن سے تم ادراک اور تمیز کر سکتے ہو۔ جیسا کہ دوسری آیت میں ہے کہ خداتعالیٰ ارواح کو نیند کے ساتھ قبض کرتا ہے جیسا کہ موت کے ساتھ قبض کرتا ہے۔

لغات اور تفاسیر کے بعد آپ قرآن مجید کی آیات ذیل پر غور فرمائیے۔ ’’وَہُوَ الَّذِیْ یَتَوَفَّاکُمْ بِاللَّیْلِ وَیَعْلَمُ مَاجَرَحْتُمْ بِالنَّہَارِ ثُمَّ یَبْعَثُکُمْ فِیْہِ لِیُقْضٰی اَجَلٌ مُسَمّٰی (الانعام:۶۰)‘‘ {خدا وہ ہے جو تم کو رات کے وقت پورا قبض کر لیتا ہے اور جو تم دن کو کیا کرتے ہو اس کو جانتا ہے پھر تم کو دن میں اٹھاتا ہے تاکہ تمہاری میعاد حیات پوری کرے۔}

مرزاقادیانی جو (ازالہ اوہام ص۶۰۰، خزائن ج۳ ص۴۲۴) پر توفی کے معنی صرف اماتت یعنی ماردینا اور روح کو قبض کر کے جسم کو بیکار چھوڑ دینا بتاتے تھے۔ اپنے ان معنی کو ملحوظ رکھ کر ذرا اس آیت کا ترجمہ تو کر دیں! مگر یاد رکھیں کہ اگر اس شبانہ روزی موت کا آپ نے اقرار کر لیا تو آپ کے بیسیوں دلائل پر پانی پھر جائے گا۔ ’’اَللّٰہُ یَتَوَفَّی الْاَنْفُسَ حِیْنَ مَوْتِہَا وَالَّتِیْ لَمْ تَمُتْ فِیْ مَنَامِہَا فَیُمْسِکُ الَّتِیْ قَضٰی عَلَیْہَا الْمَوْتَ وَیُرْسِلُ الْاُخْرٰی اِلٰی اَجَلٍ مُّسَمًّی (الزمر:۴۲)‘‘ {خداتعالیٰ موت کے وقت جانوں کو پورا قبض کر لیتا ہے اور جو نہیں مرتے ان کی تو فی نیند میں ہوتی ہے یعنی نیند میں ان کو پورا قبض کر لیا جاتا ہے پھر ان میں جس پر موت کا حکم لگا چکتا ہے اس کو روک لیتا ہے اور دوسری کو (جس کی موت کا حکم نہیں دیا…نیند میں توفی کے بعد) ایک وقت تک چھوڑ دیتا ہے۔}

مرزاقادیانی کو لازم بلکہ واجب ہے کہ اس آیت میں توفی کے معنی ضرور ہی اماتت کے لیں۔ کیونکہ یہاں نفس انسانی مفعول اور خدا فاعل بھی ہے۔ لیکن اگر ان کو اس جگہ توفی کے معنی اماتت لینے میں کچھ پس وپیش ہو (جیسا کہ (ازالہ اوہام ص۳۳۲، خزائن ج۳ ص۲۶۹) پر اس تذبذب اور اندرونی بے چینی کو ان الفاظ میں ظاہر کیا ہے کہ: ’’یہ دو موخرالذکر آیتیں اگرچہ بظاہر نیند سے متعلق ہیں۔ مگر درحقیقت ان دونوں آیتوں میں نیند نہیں مراد لی گئی‘‘) تو ان کو (ازالہ اوہام ص۶۰۱، خزائن ج۳ ص۴۲۴) پر لکھے ہوئے الفاظ سے ذرا شرم فرمانی چاہئے کہ: ’’قرآن شریف میں اوّل سے آخر تک توفی کے معنی اماتت

318

کا ہی التزام کیاگیا ہے۔‘‘ حوالہ کتب لغت اور نقل محاورات اور ثبوت آیات قرآنیہ کے بعد میں بہتر سمجھتا ہوں کہ (ازالہ اوہام ص۶۰۱) کے جواب میں اسی کا (ص۳۳۲، خزائن ج۳ ص۲۶۹) پیش کر دوں۔ جس میں آپ نے توفی کے معنی اس جگہ بظاہر نیند ہونا قبول کر لئے ہیں، اور پھر لکھا ہے کہ اس جگہ توفی سے حقیقی موت نہیں بلکہ مجازی موت مراد ہے جو نیند ہے۔ ہم کو آپ کا اس قدر اقرار بس ہے کیونکہ خواہ آپ نے لفظ بظاہر کی قید لگائی یا مجاز کی۔ بہرحال آپ کا وہ دعویٰ (ازالہ اوہام ص۹۱۸، خزائن ج۳ ص۶۰۳) قرآن مجید میں لفظ توفی بجز معنی اماتت کے دوسرے معنی میں مستعمل ہی نہیں ہوا۔ غلط ثابت ہوگیا۔

لفظ توفی پر اس قدر بحث وتحقیق کے بعد اب میں مرزاقادیانی کی وجہ استدلال کی طرف توجہ کرتا ہوں۔ جس سے آپ نے اس آیت کو تیسری دلیل وفات مسیح علیہ السلام پر قرار دیا ہے۔

مرزاقادیانی لکھتے ہیں: ’’فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ‘‘ سے پہلے یہ آیت ہے: ’’اِذْ قَالَ اللّٰہُ یَا عِیْسٰی۔ الخ‘‘

’’قَالَ‘‘ ماضی کا صیغہ ہے اور ’’اِذْ‘‘ جو خاص ماضی کے واسطے آتا ہے اس سے پہلے موجود ثابت ہوا۔ یہ قصہ نزول آیت کے وقت ایک ماضی کا قصہ تھا نہ زمانہ استقبال کا۔ پھر جو جواب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف سے ہے۔ یعنی ’’فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ‘‘ وہ بھی صیغہ ماضی ہے۔ غرض اس سے ثابت ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مرچکے اور اس مرنے کا اقرار خود ان کی زبان کا موجود ہے۔

(ازالہ اوہام ص۶۰۲، خزائن ج۳ ص۴۲۵)

ناظرین سمجھ سکتے ہیں کہ اگر ہم حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور رب العالمین کے اس سوال وجواب کو زمانہ مستقبل کا سوال وجواب ثابت کر دیں اور پھر ’’تَوَفَّیْتَنِیْ‘‘ کے جو معنی ’رَفَعَتَنِیْ اِلَی السَّمَاء‘‘ عام مفسرین نے لئے ہیں۔ اس کا قرینہ اسی آیت میں سے نکال دیں تو کچھ شک نہیں کہ مرزاقادیانی کی یہ دلیل بھی ان کے حق میں بالکل بودی اور ضعیف ثابت ہو جائے گی۔ واضح ہو کہ ’’قَالَ‘‘ کے ماضی ہونے میں کچھ شبہ نہیں۔ مگر یہ غلط ہے کہ ’’اِذْ‘‘ صرف ماضی کے واسطے آتا ہے یا جب ماضی پر آتا ہے تو اس جگہ زمان مستقبل مراد ہونا ممتنع ہوتا ہے۔ دیکھو ’’وَلَوْ تَرَا اِذْ فَزِعُوْا‘‘ اور ’’اِذْ تَبَرَّ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْا‘‘ میں ماضی پر ’’اِذْ‘‘ آیا ہے۔ مگر وہی حال قیامت کے لئے۔ علیٰ ہذا مضارع پر بھی ’’اِذْ‘‘ آیا ہے۔ پڑھو یہ آیت: ’’وَاِذْ یَرْفَعُ اِبْرَاہِیْمُ الْقَوَاعِدَ‘‘ اور ’’وَاِذْ تَقُوْلُ لِلْمُؤْمِنِیْنَ‘‘ مگر ہاں سنت ﷲ یہ ہے کہ زمان مستقبل کے جن امور کا ہونا یقینی اور ضروری ہے۔ ان کو بصیغۂ ماضی بیان کیا جایا کرتا ہے۔ جس شخص کو نظم قرآنی کے سمجھنے میں ذرا بھی مناسبت ہوگی۔ جس نے معمولی توجہ سے بھی قرآن مجید کے ایک پارہ کی تلاوت کی ہوگی۔ وہ ہمارے بیان کی صداقت سے بخوبی فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ قیامت کا ذکر خصوصیت سے ایسا ذکر ہے جس کو جابجا بصیغۂ ماضی سے بیان کیاگیا ہے۔ جس کے یہ معنی ہیں کہ جس طرح واقعات گزشتہ کا کوئی شخص انکار نہیں کر سکتا۔ اسی طرح احوال قیامت میں کسی کو مجال انکار ومقام شبہ باقی نہ رہ جائے۔ مثلاً حدیث صحیح میں آیا ہے: ’’جَاء تُ الراجفۃ تَتْبَعُہَا الرادفہ‘‘ پہلا نفخ صور آگیا۔ اس کے ساتھ دوسرا بھی ہے۔ قرآن میں ہے: ’’اتی امر اللّٰہ‘‘ قیامت آگئی۔ گو ’’جاء ت‘‘ اور ’’اتی‘‘ صیغہ ماضی ہیں۔ مگر زبان مستقبل کی خبر دیتے ہیں۔ اس طرز کلام میں یہ سمجھانا مقصود ہوتا ہے کہ ان امور کا واقع ہونا ذرا بھی غیریقینی نہیں۔

اب یہ معلوم کرنے کے لئے کہ یہ پرسش وگزارش یہ سوال اور جواب زمانہ ماضی کا ایک قصہ نہیں بلکہ ’’یَوْمِ الدِّیْن‘‘ کے وقوعی امر کا اخبار ہے۔ آپ قرآن مجید کی طرف توجہ فرمائیے کہ شروع قصۂ مسیح ابن مریم علیہما السلام سے پہلے ﷲتعالیٰ نے فرمایا ہے: ’’یَوْمَ یَجْمَعُ اللّٰہُ الرُّسُلَ فَیَقُوْلُ مَاذَا اُجِبْتُمْ قَالُوْا لَاعِلْمَ لَنَا اِنَّکَ اَنْتَ عَلَّامُ

319

الْغُیُوْبَ (المائدہ:۱۰۹)‘‘ {جس دن خداتعالیٰ رسولوں کو اکٹھا کر کے فرمائے گا تم کو تمہاری امتوں نے کیا جواب دیا۔ عرض کریں گے ہم کو اس کی خبر نہیں تو علام الغیوب ہے۔} الرسل لانے کے بعد ایک اولوالعزم رسول کے ساتھ جو سوال وجواب ہوں گے، ان کی خصوصیت سے تصریح بھی فرمادی اور اس سوال وجواب کے لکھنے سے پہلے مسئول عنہ کی قدرومنزلت دکھلانے کے واسطے ان نعمتوں وعزتوں کا شمار بھی فرمایا جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو عطاء کی گئی تھیں تاکہ معلوم ہو جائے کہ اس ہولناک دن میں کیسے کیسے ممتاز رسولوں کو اپنی اپنی پڑی ہوگی اور مشرکین کو ان کے معبود ذرا بھی فائدہ نہ پہنچا سکیں گے۔

پھر دیکھو کہ اس جواب وسوال کے ختم ہونے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بے گناہی کو تسلیم کر لینے کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے الفاظ ’’اِنْ تَغْفِرْلَہُمْ فَاِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ (مائدہ:۱۱۸)‘‘ کا ﷲتعالیٰ نے یہ جواب دیا ہے: ’’قَالَ اللّٰہُ ہٰذَا یَوْمُ یَنْفَعُ الصَّادِقِیْنَ صِدْقُہُمْ (مائدہ:۱۱۹)‘‘ {آج تو وہ دن ہے کہ صادقین کو ان کا صدق نفع پہنچائے گا۔} اب اس میں تو شک نہیں کہ ’’ہٰذَا یَوْمُ‘‘ اس سوال وجواب کے دن ہی کو کہاگیا ہے اور اس میں بھی شک نہیں کہ ’’یَنْفَعُ الصَّادِقِیْنَ صِدْقُہُمْ‘‘ کا ظہور قیامت کے روز ہی ہونا ہے۔ لہٰذا مرزاقادیانی کو چاہئے کہ اب ’’اذ قال‘‘ کی کوئی اور توجیہ پیش کریں۔

اب ناظرین آیت ومعنی آیت ملاحظہ فرمائیں: ’’وَکُنْتُ عَلَیْہِمْ شَہِیْدًا مَادُمْتُ فِیْہِمْ فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ کُنْتَ اَنْتَ الرَّقِیْبَ عَلَیْہِمْ (مائدہ:۱۱۷)‘‘ میں ان کی نگہبانی کرتا رہا۔ جب تک ان کے درمیان موجود رہا پھر جب تو نے مجھے اٹھا لیا تو تو ان کا نگہبان اور رکھوالا تھا۔‘‘ واضح ہو کہ ﷲتعالیٰ نے خبر دینے کے وقت ’’اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ‘‘ فرمایا تھا۔ توفی کے معنی ہیں کسی چیز کو پورا پورا لے لینا۔ یہ ایک جنس ہے جس کے تحت میں بہت انواع ہیں۔ رفع بھی اس کی ایک نوع ہے۔ اس لئے ﷲتعالیٰ نے ’’بَلْ رَّفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیْہِ‘‘ کے لفظ سے خبر دی ہے تاکہ تعین ہو جائے، اور اسی لئے جب مفسرین نے دیکھا کہ ﷲتعالیٰ خود اس جنس سے تعین ایک نوع کی فرماچکا ہے تو انہوں نے ’’فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ‘‘ کے معین بھی مراد سبحانی وتعین ربانی کے موافق کئے۔ جس کو مرزاقادیانی نے خود نہیں سمجھا اور اس غلط فہمی کی وجہ سے سب مفسرین پر الحاد اور تحریف کرنے کا فتویٰ جاری کر دیا۔حضرت! اس میں مفسرین کا کچھ قصور نہیں۔ اگر تحریف اسی کا نام ہے تو وہ خود اس کلام پاک اور قدیم کے متکلم کی طرف سے وقوع میں آئی ہے جو فتوے لگانا ہو اس پر لگائے۔

جواب:

۲… خارجی دلائل کو تائید میں لانے سے پہلے خود اس آیت کے اندر دلائل کے تلاش کرنے سے بہت کچھ ملتا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے یوں عرض کیا ہے: ’’کُنْتُ عَلَیْہِمْ شَہِیْدًا مَا دُمْتُ فِیْہِمْ‘‘ یعنی جب تک میں ان کے درمیان موجود رہا تب تک ان کانگہبان تھا۔ یہ الفاظ بآواز بلند پکار رہے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رہنے یعنی زندگی بسر کرنے کا کوئی ایسا زمانہ بھی ہے جب کہ وہ اپنی امت میں موجود نہیں رہے اور ان کو منصب رسالت وتبلیغ ووعظ وانداز سے کوئی علاقہ بھی نہیں رہا اور کچھ شک نہیں کہ وہی زمانہ صعود برسماء کا ہے۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قول ’’مَادُمْتُ فِیْہِمْ‘‘ کے معنی سمجھنے کے لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوسرے قول ’’مَادُمْتُ حَیَّا‘‘ پر بھی نظر ڈالنی چاہئے کہ پہلے قول میں آپ نے فرمایا ہے: ’’جب تک میں ان کے درمیان رہا۔‘‘ اور دوسرے قول میں ہے: ’’جب تک میں زندہ رہوں۔‘‘ پہلے میں ان کے درمیان رہنے کی قید اور دوسرے قول میں ’’نماز

320

وزکوٰۃ کے لئے حیات کی قید۔‘‘ کیا معنی رکھتی ہے۔ اگر ’’فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ‘‘ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اپنی موت کا بیان کرنا تھا تو اس کے لئے نہایت واضح لفظ یہ تھے کہ یوں فرماتے: ’’کُنْتُ عَلَیْہِمْ شَہِیْدًا مَا دُمْتُ حَیَّا فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ کُنْتَ اَنْتَ الرَّقِیْبَ‘‘ جب کہ ایسا نہیں فرمایا تو ثابت ہوا کہ آپ کی یہ تیسری مستدلہ آیت بھی آپ کے دعویٰ کا کچھ ثبوت نہیں۔ بلکہ روشن ہوگیا کہ حیات مسیح علیہ السلام کے لئے ہماری دلیل ہے۔ ناظرین کو یہ بھی واضح ہو کہ مرزاقادیانی نے اپنی دیگر مستدلہ آیات کی نسبت تو دلالت کا لفظ استعمال کیا ہے۔ یعنی یہ آیت دلالت کرتی ہے اور وہ آیت دلالت کرتی ہے۔ مگر اس تیسرے نمبر کی آیت کی نسبت یہ الفاظ لکھے تھے کہ یہ حضرت عیسیٰ ابن مریم کے مرنے پر کھلی کھلی گواہی دے رہی ہے، اور جو آیت ان کے زعم میں کھلی کھلی گواہی دیتی تھی اسی میں ان کا ضعف استدلال اس قدر ہے۔

اعتراض:

امت کے بگڑنے کا علم مسیح علیہ السلام کو قیامت کے دن دیا جائے گا۔

جواب:

یہ کسی آیت سے بھی ثابت نہیں۔ قطعاً بے بنیاد ہے خود مرزاقادیانی مانتے ہیں کہ مسیح علیہ السلام کو قیامت سے پیشتر امت بگڑنے کی اطلاع ہے۔

’’میرے پر یہ کشفاً ظاہر کیاگیا کہ یہ زہرناک ہوا جو عیسائی قوم میں پھیل گئی ہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اس کی خبر دی گئی۔‘‘ (آئینہ کمالات اسلام ص۲۵۴، خزائن ج۵ ص ایضاً)

’’خدائے تعالیٰ نے اس عیسائی فتنہ کے وقت میں یہ فتنہ حضرت مسیح علیہ السلام کو دکھایا گیا یعنی اس کو آسمان پر اس فتنہ کی اطلاع دی گئی۔‘‘ (آئینہ کمالات ص۲۶۸، خزائن ج۵ ص ایضاً)

حضرات! ہمارے پاس قرآن پاک کی نص صریحہ اور احادیث نبویہ صحیحہ ہیں جو اس بات پر شاہد ہیں کہ مسیح دنیا میں آئیں گے اور آکر اپنی امت کا حال زبوں ملاحظہ کر کے قیامت کو ان پر گواہ ہوںگے۔ بخلاف اس کے مرزاقادیانی اپنا کشف بتاتے ہیں۔ اوّل تو خلاف قرآن وحدیث کسی کا کشف خود عند المرزا قابل حجت نہیں۔

(ازالہ اوہام ص۵۶۷، خزائن ج۳ ص۴۰۵)

دوم: یہ کہ کشف ہمارے مخالف نہیں بلکہ ہمارے بیان کے ساتھ جمع ہوسکتا ہے۔ یعنی مسیح علیہ السلام کو قبل از نزول آسمان پر اس کی خبردی گئی اور بعد از نزول بموجب آیت قرآن واحادیث نبی علیہ السلام بچشم خود ملاحظہ فرمالیں گے۔ بہرحال یہ متعین ہوگیا کہ مسیح کو قیامت سے پیشتر امت بگڑنے کا پتہ ہے۔ فہو المطلوب!

ہماری اس تقریر سے یہ بھی ثابت ہوگیا کہ مرزائی جو کہا کرتے ہیں کہ مسیح علیہ السلام قیامت کے دن اپنی لاعلمی کا اظہار کریں گے۔ یہ ازسرتاپا جھوٹ فریب اور بہتان وافتراء ہے۔

ایک اور طرز سے

مرزائیوں کو مسلّم ہے کہ عیسائی بعد توفی مسیح کے بگڑے ہیں اور یہ بھی ان کا مذہب ہے کہ واقعہ صلیب کے بعد آپ کشمیر چلے آئے۔ ایک سوبیس برس زندہ رہے۔

(تذکرۃ الشہادتین ص۲۷، خزائن ج۲۰ ص۲۹)

’’حالانکہ انجیل پر ابھی پورے تیس برس نہیں گزرے تھے کہ بجائے خدا کی پرستش کے ایک عاجز انسان کی پرستش نے جگہ لے لی۔‘‘ (چشمہ معرفت ص۲۵۴، خزائن ج۲۳ ص۲۶۶)

321

مذکورہ بالا بیان سے بلاتاویل ثابت ہے کہ مسیح علیہ السلام کی ہجرت کشمیر کے بعد فوراً تثلیث پھیل گئی تھی۔ نتیجہ ظاہر ہے کہ توفی کے معنی موت نہیں ہیں۔

اعتراض:

بخاری کی حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ قیامت کے دن کہیں گے کہ میری توفی کے بعد میری امت بگڑی ہے اور حضرت مسیح علیہ السلام کی مثال دیں گے۔ پس ثابت ہوا کہ توفی کے معنی موت ہیں۔

الجواب:

ایک ہی لفظ جب دو مختلف اشخاص پر بولا جائے تو حسب حیثیت وشخصیت اس کے جداجدا معنی ہوسکتے ہیں۔ دیکھئے حضرت مسیح علیہ السلام اپنے حق میں نفس کا لفظ بولتے ہیں اور خدائے پاک کے لئے بھی ’’تَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِیْ وَلَا اَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِکَ (مائدہ:۱۱۶)‘‘ اب کیاخدا کا نفس اور مسیح علیہ السلام کا نفس ایک جیسا ہے؟ ہرگز نہیں۔ ٹھیک اسی طرح حضرت مسیح علیہ السلام کی توفی بمعنی ’’اخذ الشیٔ وافیا‘‘ پورا لینے کے ہے۔ کیونکہ اگر موت مراد لی جائے تو علاوہ نصوص صریحہ جن میں حیات مسیح علیہ السلام کا ذکر ہے کے خلاف ہونے کے یہود پلید کی تائید وتصدیق ہوتی ہے کیونکہ وعدہ توفی کا رفع کا۔ بلاتوقف وبجلد ’’پورا ہوا ہے جو سوائے رفع جسمانی کے اور کچھ نہیں ہوسکتا۔‘‘

چوتھی آیت:

جس کا موت مسیح علیہ السلام پر دلالت کرنا مرزاقادیانی نے تحریر کیا ہے۔ وہ یہ ہے: ’’وَاِنْ مِّنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ اِلَّا لَیُوْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ‘‘ اس کی وجہ استدلال مرزاقادیانی نے اس جگہ کچھ نہیں لکھی۔ صرف یہ تحریر کیا ہے کہ اس کی تفسیر اسی رسالہ میں ہم بیان کر چکے ہیں۔

ناظرین واضح ہو کہ اس آیت میں غور طلب تین الفاظ ہیں۔ اوّل: ’’لیُؤْمِنَنَّ‘‘ دوم: ’’بہٖ‘‘ سوم: ’’قَبْلَ مَوْتِہٖ‘‘ مرزاقادیانی نے ’’لیُؤْمِنَنَّ‘‘ کو صیغہ ماضی بناکر ترجمہ کیا ہے اور یہ الفاظ لکھے ہیں کہ ’’کوئی اہل کتاب نہیں جو اس بیان پر ایمان نہ رکھتا ہو۔‘‘ (ازالہ اوہام ص۳۷۲، خزائن ج۳ ص۲۹۱)

حالانکہ تمام روئے زمین کے علماء علم نحو کا اس قاعدے پر اتفاق ہے کہ جب مضارع پر لام تاکید اور نون ثقیلہ واقع ہوتے ہیں تو فعل مضارع اس جگہ خالص مستقبل کے لئے ہو جاتا ہے۔ یہ ایسا قاعدہ ہے جس کو مرزاقادیانی آج تک غلط ثابت نہیں کر سکے اور نہ کر سکیں گے۔ بلکہ جب یہاں آکر نہایت بے دست وپا ہوگئے تو یہ جواب بنایا۔ ’’ہمارے پر ﷲ اور رسول نے یہ فرض نہیں کیا کہ ہم انسانوں کے خود تراشیدہ قواعد صرف ونحو کو اپنے لئے ایسا رہبر قرار دے دیں کہ باوجودیکہ ہم پر کافی اور کامل طور پر کئی معنی آیت کھل جائیں اور اس پر اکابر مومنین اہل زبان کی شہادت بھی مل جائے۔ تو پھر بھی ہم اسی قاعدہ یا نحو کو ترک نہ کریں۔ اس بدعت کے التزام کی ہمیں حاجت ہی کیا ہے۔‘‘

(مباحثہ دہلی ص۵۳، خزائن ج۴ ص۱۸۳)

(صرف ونحو کو بدعت کہنا یہی مرزاقادیانی کی بدعت ہے۔ شاہ اسماعیل صاحب شہید رحمۃ اللہ علیہ اپنے رسالہ ’’ایضاح الحق الصریح‘‘ میں فرماتے ہیں ’’جمع قرآن وترتیب سور، نماز تراویح، اذان اوّل برائے نماز جمعہ واعراب قرآن مجید، ومناظرہ اہل بدعت بدلائل نقلیہ، وتصنیف کتب حدیث۔ تبیین قواعد نحو، وتنقید رواۃ حدیث، واشتغال یا استنباط احکام فقہ بقدر حاجت، ہمہ از قبیل ملحق بالسنۃ ست کہ درقرون مشہود لہا بالخیر مروج گردیدہ، وبآں تعامل بلانکیر در آں قرون جاری شدہ، چنانچہ برماہر فن مخفی نیست۔‘‘ مرزاقادیانی دیکھیں کہ قواعد نحو کو کن علوم ہمایوں کے پہلو میں جگہ دی گئی ہے۔ پھر اس کا ملحق بالسنۃ ہونا، قرون مشہود لہا بالخیر میں بلا انکار احد سے مروج ہونا اور تعامل کے زبردست سلسلہ میں (جس کی اوٹ آپ اکثر لیا کرتے ہیں) آجانا یہ سب امور کس وضاحت سے بیان کئے گئے ہیں اور آخر فقرہ میں یہ بھی ظاہر فرمادیا ہے کہ

322

ان سے انکار کرنے والا تاریخ اسلامی سے ناواقف محض ہے)

اس جواب سے جو علمیت وقابلیت اور پھر اس پر زبان دانی اور الہام یابی کا افتخار ظاہر ہورہا ہے۔ وہ اہل علم سے پوشیدہ نہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تیسری آیت کی وجہ استدلال میں جب مرزاقادیانی نے حرف ’’اِذْ‘‘ اور ’’قَالَ‘‘ پر نحوی بحث کی تھی۔ اس وقت تو اس بدعت کے التزام کی ان کو حاجت تھی۔ اب کہ اس التزام سے دعویٰ ٹوٹتا ہے اور بے شمار وساوس ودورازکار خیالات (جن کو بڑی آب وتاب کے ساتھ مجموعہ اوہام میں جلوہ دیاگیا ہے) ’’ہَبَآئً مَنْثُوْرًا‘‘ کی طرح اڑے جاتے ہیں تو اس میں کچھ شک نہیں کہ آپ کو اس التزام بدعت کی کچھ حاجت نہیں رہی۔ مگر اس لئے کہ آپ کو اس کی حاجت نہیں رہی۔ لازم نہیں آتا کہ قاعدہ نحوی کی صحت بھی باقی نہیں رہی۔ ناظرین یادرکھیں کہ ’’لِیُؤْمِنَنَّ‘‘ خالص مستقبل کے لئے ہے۔

(ایک دوسری آیت میں ہے: ’’ثُمَّ جَاء کُمْ رَسُوْلٌ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَکُمْ لتُؤْمِنُنَّ بِہٖ وَلَتَنْصُرَنہ (آل عمران:۸۱)‘‘ صرف حاضر وغائب کا فرق ہے۔ مرزاقادیانی اس کو بھی ماضی بناکر ترجمہ کر دکھلائیں)

دوسری بحث ’’بہ‘‘ کی ضمیر پر ہے کہ اس کا مرجع کون ہے۔ مرزاقادیانی ’’بہ‘‘ کا مرجع بیان مذکورہ بالا کو بتاتے ہیں۔ دیکھو (ازالہ اوہام ص۳۷۲، خزائن ج۳ ص۲۹۱) اور ہم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو۔ لیکن بیان مذکورہ کو مرجع قرار دینے سے ہمارا کچھ حرج نہیں۔ یعنی محض ’’بہ‘‘ کا مرجع بیان مذکورہ قرار دینے سے مرزاقادیانی کا مذہب ثابت ہونا ممکن نہیں۔ تیسری بحث ’’قَبْلَ مَوْتِہٖ‘‘ کی ضمیر پر ہے اور یہ بھی ’’لیُؤْمِنَنَّ‘‘ کی طرح ضروری بحث ہے کیونکہ جو کوئی ’’قَبْلَ مَوْتِہٖ‘‘ کی ضمیر کا مرجع قرار دیا جائے گا۔ اسی کی حیات بالفعل ثابت ہو جائے گی۔ بعض مفسرین نے ’’قَبْلَ مَوْتِہٖ‘‘ کے مرجع قرار دینے میں مختلف اقوال لکھے ہیں۔ مگر اہل سنت والجماعت کے جمہور کا مختار مذہب یہ ہے کہ ’’قَبْلَ مَوْتِہٖ‘‘ کی ضمیر کا مرجع عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔ مرزاقادیانی نے بھی مسلمانوں کے حال پر رحم فرما کر (ازالہ اوہام ص۳۷۲، خزائن ج۳ ص۲۹۱) پر ’’قَبْلَ مَوْتِہٖ‘‘ کی ضمیر کا مرجع عیسیٰ علیہ السلام کو قرار دیا ہے اور گو آیت کا ترجمہ کرتے ہوئے بڑے بڑے لمبے لمبے جملہ ہائے معترضہ بیچ میں ڈال کر معنی کچھ کے کچھ کر گئے ہیں مگر ہم اس کو لاکھ غنیمت سمجھتے ہیں کہ ’’قَبْلَ مَوْتِہٖ‘‘ کے مرجع میں وہ ہم سے خلاف نہیں۔

(ازالہ اوہام ص۳۸۵، خزائن ج۳ ص۲۹۸)

(مرزاقادیانی نے ’’بِہٖ‘‘ کی ضمیر کا مرجع بیان مذکورہ اور ’’قَبْلَ مَوْتِہٖ‘‘ کا مرجع کتابی ہی کو بتایا ہے مگر معلوم نہیں کہ: ’’یوم القیامۃ یکون علیہم شہیدا‘‘ میں ’’یکون‘‘ کا فاعل کس کو قراردیں گے۔ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ہی قراردیں گے تو ان کو معلوم ہو جائے گا کہ ضمائر میں اس قدر بعد وانفصال اور تعقید کلام میں داخل ہے جو فصاحت وبلاغت سے سخت مخالف ہے۔ پھر ’’قَبْلَ مَوْتِہٖ‘‘ کی ضمیر کا مرجع کتابی کو کہنا اس لئے غلط ہے کہ اس صورت میں ’’قَبْلَ مَوْتِہٖ‘‘ کا جملہ کلام میں ذرا بھی فائدہ نہیں دیتا۔ کیونکہ ’’لیُؤْمِنَنَّ‘‘ میں جو ایمان لانے کی خبرہے۔ وہ خود حیات کتابی کی متقاضی ہے۔ ورنہ ماننا پڑے گا کہ بعد از موت یقین کرنے کا نام بھی شرع میں ایمان رکھاگیا ہے اور یہ بالبداہت باطل ہے۔ واضح رہے کہ شرع میں حالت نزع بھی بعد از موت میں داخل اور زمانۂ حیات سے خارج ہے۔ دیکھو جب فرعون نے اپنے غرق ہونے کو یقینی معلوم کرکے ’’اٰمَنْتُ اَنَّہٗ لَا اِلٰہَ اِلَّا الَّذِیْ اٰمَنَتْ بِہٖ بَنُوْ اِسْرَائِیْل‘‘ کہا تو اس کے جواب میں اس کو یہی کہاگیا: ’’اٰلان وقد عَصَیْتَ قَبْلُ‘‘ غرض مرزاقادیانی کے معنی ہر طرح سے نظم قرآنی کے خلاف ہیں۔ اگرچہ ان کے وہ معنی بھی کسی طرح سے مفید مطلب نہیں ہوسکتے۔ کیونکہ ’’لیُؤْمِنَنَّ‘‘ صیغہ ماضی نہیں بن سکتا)

323

پھر قندمکرر کے طور پر اس شہادت کو ادا کیاہے اور تسلیم کر لیا کہ: : ’’قَبْلَ مَوْتِہٖ‘‘ کا مرجع عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ:’’قَبْلَ مَوْتِہٖ‘‘ کی تفسیر یہ ہے کہ ’’قَبْلَ ایمانہ بموتہ‘‘ ہم کو ان معنی سے کچھ سروکار نہیں۔ ضمیر کا مرجع جس کو ہم نے قرار دیا تھا اسی کو مرزاقادیانی نے تسلیم بھی کر لیا۔ ’’وَلِلّٰہِ الْحَمْدُ‘‘ اب اس تسلیم کے بعد مرزاقادیانی اور ان کے تمام اعیان وانصار کے لئے محال کلی ہے کہ اس آیت سے وفات عیسیٰ علیہ السلام کی (صراحت تو کیا) دلالت بھی ثابت کر سکیں۔ اب اس آیت کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں۔

۱… اور نہیں کوئی اہل کتاب سے۔ مگر البتہ ایمان لائے گا ساتھ اس کے پہلے موت اس کی کے۔ (شاہ رفیع الدین رحمہم اللہ علیہ)

۲… اور جو فرقہ کتاب والوں میں سے ہے۔ سو اس پر یقین لائیں گے اس کی موت سے پہلے۔ (شاہ عبدالقادر رحمۃ اللہ علیہ)

۳… ونباشد ہیچ کس از اہل کتاب الایمان آوردبہ عیسیٰ پیش از مردن عیسیٰ۔ (شاہ ولی ﷲ رحمۃ اللہ علیہ)

ان ہرسہ تراجم میں ’’بِہٖ‘‘ اور ’’قَبْلَ مَوْتِہٖ‘‘ دونوں کی ضمیروں کا مرجع حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔ یہی مذہب جمہور ہے۔

۴… اور نہیں کوئی اہل کتاب سے مگر البتہ ایمان لائے گا وہ قرآن کے بیان مذکورہ بالا پر پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت کے۔ (مرزاغلام احمد قادیانی)

یہ معنی مرزاقادیانی کے مذہب پر ہیں جو ’’بِہٖ‘‘ کا مرجع بیان کو اور ’’مَوْتِہٖ‘‘ کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو کہتے ہیں۔

اور ان سب صورتوں میں حیات مسیح علیہ السلام ثابت ہوتی ہے۔ وفات کا کیا ذکر ہے اور اس آیت سے مرزاقادیانی کو استدلال کرنے کی کیا وجہ ہے؟

یاد رکھو کہ جب تک مرزاقادیانی ’’لیُؤْمِنَنَّ‘‘ کو مفید معنی ماضی ثابت نہ کر سکیں۔ تب تک وہ اس آیت سے استدلال کا نام بھی نہیں لے سکتے اور وہ ثابت کرنا اس وقت تک ان پر محال ہے جب کہ موجودہ علم نحو کی تمام کتابوں کو ڈبو کر اور تمام عرب اہل زبان کو دریابرد کر کے ازسرنو ملک عرب آباد نہ کریں اور اس میں اپنا نوایجاد کردہ صرف ونحو جاری نہ فرمائیں۔

پانچویں آیت:

مرزاقادیانی نے وفات مسیح کے ثبوت میں تحریر کی ہے:’’مَا الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ اِلَّا رَسُوْل قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہٖ الرُّسُلِ وَاُمُّہٗ صِدِیْقَہُ کَانَا یَا کُلَانِ الطَّعَامِ‘‘ آیت مذکورہ کو مرزاقادیانی نے موت مسیح علیہ السلام پر نص صریح لکھ کر بتایا ہے کہ وجہ استدلال یہ ہے کہ ’’کَانَا‘‘ حال کو چھوڑ کر گزشتہ کی خبر دیا کرتا ہے… اس جگہ ’’کَانَا تثنیہ‘‘ ہے۔ دونوں اس ایک ہی حکم میں شامل ہیں۔ یہ نہیں بیان کیاگیا کہ حضرت مریم علیہا السلام تو بوجہ موت طعام کھانے سے روکی گئیں لیکن حضرت ابن مریم کسی اور وجہ سے۔ اس کے بعد مرزاقادیانی نے لکھا ہے کہ: ’’اگر اس آیت کو ’’مَاجَعَلْنَاہُمْ جَسَدًا لَا یَاکُلُوْنَ الطَّعَامُ‘‘ کے ساتھ ملا کر پڑھیں تو یقینی وقطعی نتیجہ یہ ہے کہ فی الواقع حضرت مسیح علیہ السلام فوت ہوگئے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۶۰۳، خزائن ج۳ ص۴۲۶)

324

ناظرین! یہ غلط ہے کہ ’’کان‘‘ ہمیشہ حال کو چھوڑ کر گزشتہ زمانہ کی خبر دیاکرتا ہے۔ اگر یہی صحیح ہے تو ’’کَانَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ (فتح:۲۱)‘‘ کا ترجمہ مرزاقادیانی کر کے دکھلائیں۔ کیا خدا پہلے قادر تھا اب نہیں؟ معاذ ﷲ! یا ’’مَاکَانَ لِلنَّبِیِّ وَالَّذِیّنَ اٰمَنُوْا اَنْ یَّسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِکِیْنَ (توبہ:۱۱۳)‘‘ کیا مشرکین کے گزشتہ زمانہ میں استغفار ناجائز تھا۔ اب جائز ہے؟ نہیں ہرگز نہیں۔ تو ثابت ہوا کہ کان صرف ماضی کے لئے نہیں بلکہ حال ومستقبل کو بھی شامل ہوتا ہے۔

اب حقیقت حال سنئے۔ اس رکوع میں ﷲتعالیٰ نے عیسائیوں کے دو فرقوں کی تردید وتکذیب دلائل عقلی سے فرمائی ہے اور ان کے کفر کا ثبوت دیا ہے۔

۱… ’’لَقَدْ کَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْا اِنَّ اللّٰہَ ہُوَ الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ وَقَالَ الْمَسِیْحُ یٰبَنِیْ اِسْرَائِیْلَ اعْبُدُوْا اللّٰہَ رَبِّیْ وَرَبَّکُمْ (مائدہ:۱۷)‘‘ {البتہ وہ کافر ہوئے۔ جن کا یہ قول ہے کہ مسیح ابن مریم ہی خدا ہے کیونکہ مسیح نے تو خود کہا ہے۔ لوگو میرے اور اپنے خدا کی عبادت کرو۔}

۲… ’’لَقَدْ کَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْا اِنَّ اللّٰہَ ثَالِثُ ثَلْثَہٗ (مائدہ:۷۳)‘‘ {البتہ وہ بھی کافر ہوئے جو خدا کو تثلیث کا ایک اقنوم کہتے ہیں۔}

۳… ’’مَا الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ اِلَّا رَسُوْلٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ وَاُمُّہٗ صِدِّیْقَہٌ کَانَا یَاْ کُلٰنِ الطَّعَامَ (مائدہ:۷۵)‘‘ {اور مسیح بن مریم تثلیث کے دوسرے دو اقنوم جیسا کہ رومن کیتھولک کا اعتقاد ہے بھی خدا نہیں کیونکہ مسیح بن مریم تو رسول ہے اس سے پہلے بھی رسول ہوچکے ہیں اوراس کی ماں صحابیہ وصدیقہ ہے۔ دونوں طعام کھایا کرتے تھے۔}

صاف ظاہر ہے کہ اس رکوع میں ﷲتعالیٰ کو عیسائیوں کی غلطی ثابت کرنا اور ان کے کفر پر دلیل قائم کرنا منظور تھا جو مسیح علیہ السلام ہی کو خدا قرار دیتے تھے۔ ان پر یوں دلیل قائم کی کہ مسیح علیہ السلام خودلوگوں کو یوں کہا کرتا تھا کہ میرے رب اور اپنے رب کی عبادت کرو اگر وہ خود خدا ہوتا تو وہ یوں کہا کرتا۔ لوگو میں جو تمہارا رب ہوں۔ میری عبادت کرو۔ لیکن جب مسیح علیہ السلام نے خدا کی ربوبیت کا اقرار کیا ہے تو اس تربیت یافتہ کو رب کہنا کفر ہے۔

جو لوگ ایک خدا کوتین خدا اور تین خدا کو ایک خدا کہتے اور خدا، مسیح۔ مریم کو اقانیم ثلثہ قرار دیتے تھے۔ خداوند کریم نے ان پر دلیل قائم کی کہ جب ہزاروں، لاکھوں شخصوں نے ان دونوں ماں بیٹا کو لوازم بشری کے محتاج اپنی طرح پایا اور دیکھا ہے اور بایں ہمہ پھر ان کو خدا کہنے کی جرأت کی ہے۔ یہ بھی ان کا کفر ہے۔ اب ہر شخص خیال کر سکتا ہے کہ اس میں موت وحیات کی کیا بحث ہے؟ جب ﷲتعالیٰ نے ان الفاظ سے وہ مراد ہی نہیں لی تو مرزاقادیانی متکلم کے خلاف ان الفاظ سے معانی نکالنے کے کیا مجاز ہیں۔ کیا ان کو معلوم نہیں کہ تفسیر بالرائے کا کیا حکم ہے؟

علاوہ اس کے مرزاقادیانی کو خود قرار ہے کہ ’’حضرت مریم علیہا السلام کے طعام نہ کھانے کی وجہ موت اور ابن مریم کے طعام نہ کھانے کی کوئی دوسری وجہ بیان نہیں کی گئی۔ صرف ’’کانا‘‘ کہاگیا ہے۔‘‘ تو اس صورت میں مرزاقادیانی کا کیا حق ہے کہ جس امر کی وجہ اس آیت میں بیان نہیں ہوئی۔ اس کو آپ خود بیان کریں بلکہ اس پر جزم بھی کر دیں۔ کیا ممکن نہیں کہ دو شخصوں کا ایک مشترکہ فعل سے جدا ہونا مختلف اسباب سے ہو۔ مثلاً زید اور عمر وپارسال دونوں لاہور رہتے تھے۔ زید نے تعلیم چھوڑ دی اور عمرو ولایت چلا گیا۔ اس مثال میں دیکھو۔ لاہور میں رہائش دونوں کا مشترکہ فعل ہے مگر اس سے

325

جدا ہونے کے مختلف اسباب ہیں۔

مرزاقادیانی! اگر ایسے دلائل ہی آپ کے مذہب کے مؤید ہیں تو اس کے مقابلہ میں کوئی شخص یہ آیت پیش کر سکتا ہے: ’’قُلْ فَمَنْ یَمْلِکُ مِنَ اللّٰہِ شَیْئًا اِنْ اَرَادَ اَنْ یُہْلِکَ الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ وَاُمَّہٗ وَمَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا (مائدہ:۱۷)‘‘ {یہ کہہ دے کون سی چیز خدا کی روک بن سکتی ہے۔ اگر وہ یہ چاہے کہ مسیح علیہ السلام اور اس کی ماں کو نیز تمام مخلوق کو جو کل صفحۂ زمین پر ہے، ہلاک کر دے۔ اگر ہلاک کر دے بتا رہا ہے کہ اب تک ﷲتعالیٰ نے ہلاک نہیں کیا۔} اور کہہ سکتا ہے کہ نہ کبھی ’’جَمِیْعَ مَنْ فِی الْاَرْضِ‘‘ ہلاک ہوئے اور نہ مسیح علیہ السلام اور نہ ان کی مادر صدیقہ ہی کو ہلاکت نے اپنا اثر پہنچایا۔ جس طرح آج ’’جَمِیْعَ مَنْ فِی الْاَرْضِ‘‘ زندہ ہیں۔ مسیح اور اس کی ماں بھی زندہ ہے۔ اگر آپ اس کو صحیح نہیں مان سکتے تو وہ آپ کا استدلال باولیٰ غیرصحیح اور سراپا غلط ہے۔

اس آیت کو آپ نے نص صریح کہہ کر پھر استدلال کے وقت اس کے ساتھ دوسری آیت کو ملانے اور پھر یقینی نتیجہ پر پہنچنے کی نسبت جو لکھا ہے اس سے صاف ظاہر ہے کہ آپ کے نزدیک بھی یہ آیت نص صریح ’’لذاتِہْا‘‘ نہیں اور نہ ہوسکتی ہے۔ دوسری آیت جس کو ملا کر آپ نے اس دلیل کو کامل بنایا ہے اس کی بحث ذیل میں آتی ہے۔

چھٹی آیت:

’’وَمَا جَعَلْنٰہُمْ جَسَدًا لَّا یَاْکُلُوْنَ الطَّعَامَ (الانبیاء:۸)‘‘ {اور نہیں بنائے تھے ہم نے ان کے ایسے بدن کہ وہ کھانا نہ کھائیں۔}

قادیانی استدلال:

’’درحقیقت یہی اکیلی آیت کافی طور پر مسیح علیہ السلام کی موت پر دلالت کر رہی ہے۔ کیونکہ جب کوئی جسم خاکی بغیر طعام کے نہیں رہ سکتا، یہی سنت ﷲ ہے تو پھر حضرت مسیح علیہ السلام کیوں اب تک بغیرطعام کے زندہ موجود ہیں اور ﷲ جل شانہ فرماتا ہے:

’’ولن تجد لسنۃ اللّٰہ تبدیلا‘‘ اور اگر کوئی کہے کہ اصحاب کہف بھی تو بغیر طعام کے زندہ موجود ہیں تو میں کہتا ہوں کہ ان کی زندگی بھی اس جہان کی زندگی نہیں۔ مسلم کی حدیث سو برس والی ان کو بھی مارچکی ہے۔ بے شک ہم اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ اصحاب کہف بھی شہداء کی طرح زندہ ہیں، ان کی بھی کامل زندگی ہے۔ مگر وہ دنیا کی ایک ناقصہ کثیفہ زندگی سے نجات پاگئے ہیں۔ دنیا کی زندگی کیا چیز ہے اور کیا حقیقت؟ ایک جاہل اس کو بڑی چیز سمجھتا ہے اور ہر ایک قسم کی زندگی جو قرآن شریف میں مذکور ومندرج ہے اسی کی طرف گھسیٹتا چلا جاتا ہے، وہ یہ خیال نہیں کرتا کہ دنیوی زندگی تو ایک ادنیٰ درجہ کی زندگی ہے جس کے ارزل حصہ سے حضرت خاتم الانبیاء علیہم السلام نے بھی پناہ مانگی ہے اور جس کے ساتھ نہایت غلیظ اور مکروہ لوازم لگے ہوئے ہیں۔ اگر انسان کو اس سفلی زندگی سے ایک بہتر زندگی حاصل ہو جائے اور سنت ﷲ میں فرق نہ آئے تو اس سے زیادہ کون سی خوبی ہے؟‘‘

(ازالہ اوہام ص۶۰۵، خزائن ج۳ ص۴۲۶،۴۲۷)

جواب:

(۱)یہ آیت مشرکین مکہ کا جواب ہے جو کہا کرتے تھے: ’’مالہذا الرسول یا کل الطعام ویمشی فی الاسواق‘‘ یہ کیا رسول ہے جو کھانا کھاتا اور بازاروں میں چلتا ہے۔‘‘ قرآن مجید نے جواب میں فرمایا: ’’وما جعلنٰہم جسدا لا یاکلون الطعام‘‘ کوئی ایسا انسان نہیں جو کھانا نہ کھاتا ہو۔‘‘ پہلے انبیاء بھی کھانا کھاتے تھے۔ آپ ﷺ بھی کھانا کھاتے ہیں۔ اجسام کے لئے طعام ضروری ہے۔ لیکن آسمان والوں کے لئے آسمانی کھانا، زمین والوں کے لئے زمینی کھانا، لیکن ﷲتعالیٰ کبھی ایسا بھی فرماتے ہیں کہ زمین والوں کے لئے آسمانی کھانا زمینی کھانے جیسا بھیج دیا۔ جیسے نزول مائدہ، یا آنحضرت ﷺ کے لئے اس سے بھی اعلیٰ کھانا ’’یطمعنی ربی ویسقینی‘‘ صوم وصال میں دیکھئے۔ آپ ﷺ ہیں زمین پر مگر کھانا آسمان والوں کا کھا رہے ہیں۔ عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر آسمانی کھانا کھاتے ہیں تو اس میں

326

کیا اشکال؟ (تفصیل آگے آئے گی)

جواب:

۲… وفات مسیح پر یہ چھٹی آیت مرزاقادیانی نے لکھی ہے: ’’وَمَا جَعَلْنٰہُمْ جَسَدًا لَا یَا کُلُوْنَ الطَّعَامَ‘‘ اور تحریر کیا ہے کہ درحقیقت یہی اکیلی آیت کافی طور پر مسیح علیہ السلام کی موت پر دلالت کرتی ہے۔

(ازالہ اوہام ص۶۰۵، خزائن ج۳ ص۴۳)

اس فقرہ کے الفاظ درحقیقت یہی اکیلے، کافی طور پر ناظرین کی توجہ کے لائق ہیں۔ جس کے صاف معنی یہ ہیں کہ اس اکیلی کے سوا مرزاقادیانی کی دیگر مستدلہ آیات درحقیقت مسیح علیہ السلام کی موت پر دلالت نہیں کرتیں اور اگر ان کو حقیقت کے خلاف اس مسئلہ کی دلیل بنایا بھی جائے تو وہ کافی طور پر دلیل نہیں کہلا سکیں۔ ناظرین یہ کیسا صاف اقرار ہے کہ مرزاقادیانی کے دل میں بھی باقی ۲۹آیتیں ان کے مذہب کی تائید پر نہیں: ’’قضی الرجل علی نفسہ‘‘ یاد رکھو کہ ’’یہی‘‘ حصر کے لئے آتا ہے۔ ’’اکیلی‘‘ نے اس کو اور بھی پرزور کر دیا۔ مرزاقادیانی کی وجہ استدلال یہ ہے کہ جب کوئی جسم خاکی بغیر طعام کے نہیں رہ سکتا تو پھر حضرت مسیح علیہ السلام کیونکر اب تک بغیر طعام کے زندہ موجود ہیں؟ ناظرین اس آیت کا صرف یہ مطلب ہے کہ کوئی جسم ایسا نہیں جسے طعام (غذا) کی حاجت نہ ہو مگر آیت میں یہ کہاں ہے کہ کوئی جسم ایسا نہیں جو فلاں مدت تک بغیر طعام کے زندہ نہ رہ سکے اور جب یہ نہیں تو مرزاقادیانی کے لئے یہ دلیل بھی نہیں۔ مرزاقادیانی کا خیال ہے کہ جو شخص ان کی طرح ہر روز دو وقت کھانا نہ کھاتا ہو۔ وہ مردہ ہے۔ اگر یہی صحیح ہے تو فرنچ قوم کے نزدیک جو دن میں آٹھ دفعہ کھاتے ہیں۔ کل ہندوستان مردہ ہے اور جو چینی پورے پچاس پچاس روز کا برت رکھتے ہیں وہ مردہ درگور ہیں۔ ناظرین آپ خیال فرما سکتے ہیں کہ کسی جسم کا ایک خاص مدت معین تک اکل وشرب سے جدا رہنا نہ تو اس جسم کے مردہ ہونے کی دلیل ہوسکتا ہے اورنہ اس جسم کے لوازم جسمانی سے بے نیاز ہونے کی حجت بن سکتا ہے۔

قرآن مجید اس امر کا گواہ ہے کہ: ’’وَلَبِثُوْا فِیْ کَہْفِہِمْ ثَلٰثَ مِاءۃٍ سِنِیْنَ وَازْ دَادُوْا تِسْعًا (کہف:۲۵)‘‘ اصحاب کہف ۳۰۹ برس تک اسی معمورہ دنیا کے ایک پہاڑ میں اکل وشرب کے بغیر زندہ رہے اور ۳۰۹برس بعد ان کو طعام کی ضرورت محسوس ہوئی۔ چنانچہ ان میں سے ایک اس وقت طعام لینے کو پہاڑ سے نکلا۔ مرزاقادیانی غور کریں کہ جس طرح پر تحقیقات حکماء کو جن کا یہ قول ہے کہ زیادہ سے زیادہ ابن آدم ۷۰دن تک بلاطعام کے زندہ رہ سکتا ہے۔ ۳۰۹ برس نے غلط ثابت کر دیا۔

جواب:

۳… دوسری دلیل کو سماعت فرمائیے۔ شاید آپ یہ جانتے ہیں کہ طعام کا لفظ زبان شرع میں صرف نباتات اور زمین کی روئیدگی یا حیوانی غذا کے لئے آتا ہے اور یہی بہت بڑی غلط فہمی ہے۔ آپ یاد رکھیں کہ زبان شرع میں ان انواروبرکات کو بھی طعام کہا گیا ہے۔ جو خواص بشر کی جسمانی اور روحانی تربیت ایسی ہی کرتے ہیں جیسے دیگر ماکولات اور روئیدگی زمینی عوام کی تربیت جسمانی کا کام آتی ہیں۔ ذیل میں مثالیں ملاحظہ ہوں۔

بغیر کھائے پئے زندہ رہنا

۱… اسی طرح کسی جسم عنصری کا بغیر کھائے اور پئے زندگی بسر کرنا بھی محال نہیں۔ اصحاب کہف کا تین سو سال تک بغیر کھائے پئے زندہ رہنا قرآن کریم میں مذکور ہے۔ ’’وَلَبِثُوْا فِیْ کَہْفِہِمْ ثَلٰثَ مِاءۃٍ سِنِیْنَ وَازْدَادُوْا تِسْعًا (کہف:۲۵)‘‘ اس سے مرزاقادیانی کا یہ وسوسہ بھی زائل ہوگیا کہ جو شخص اسّی یا نوے سال کو پہنچ جاتا ہے۔ وہ محض

327

نادان ہو جاتا ہے۔ ’’کَمَا قَالَ تَعَالٰی وَمِنْکُمْ مَّنْ یُّرَدَّ اِلٰی اَرْذَلِ الْعُمُرِ لِکَیْلَا یَعْلَمَ بَعْدَ عِلْمٍ شَیْئًا (النحل:۷۰)‘‘ اس لئے کہ ارذل العمر کی تفسیر میں اسّی یا نوے سال کی قید مرزاقادیانی نے اپنی طرف سے لگائی ہے۔ قرآن وحدیث میں کہیں قید نہیں۔ اصحاب کہف تین سو سال تک کہیں نادان نہیں ہوگئے اور علیٰ ہذا حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت نوح علیہ السلام صدہا سال زندہ رہے اور ظاہر ہے کہ نبی کے علم اور عقل کا زائل ہونا ناممکن اور محال ہے۔

۲… حدیث میں ہے کہ رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب دجال ظاہر ہوگا تو شدید قحط ہوگا اور اہل ایمان کو کھانا میسر نہ آئے گا۔ اس پر صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے عرض کیا کہ یا رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت اہل ایمان کا کیا حال ہوگا؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’یُجْزِئُہُمْ مَایُجْزِیُٔ اَہْلَ السَّمَا ء مِنَ التَّسْبِیْحِ وَالتَّقْدِیْسِ‘‘

(مشکوٰۃ ص۴۷۷، باب علامات بین یدی الساعۃ)

یعنی اس وقت اہل ایمان کو فرشتوں کی طرح تسبیح وتقدیس ہی غذا کا کام دے گی۔

۳… اور حدیث میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ کئی کئی دن کا صوم وصال رکھتے اور یہ فرماتے: ’’اَیُّکُمْ مِثْلِیْ اِنِّیْ اَبِیْتُ یُطْعِمُنِیْ رَبِّیْ وَیَسْقِیْنِیْ‘‘ (بخاری ج۲ ص۱۰۱۲، باب کم التعزیر والادب)

’’تم میں کون شخص میری مثل ہے کہ جو صوم وصال میں میری برابری کرے۔ میرا پروردگار مجھے غیب سے کھلاتا ہے اور پلاتا ہے۔‘‘ یہ غیبی طعام میری غذا ہے معلوم ہوا کہ طعام وشراب عام ہے۔ خواہ حسی ہو یا غیبی ہو۔ لہٰذا ’’وَمَا جَعَلْنٰہُمْ جَسَدًا لَّا یَأْکُلُوْنَ الطَّعَامَ (الانبیاء:۸)‘‘ سے یہ استدلال کرنا کہ جسم عنصری کا بغیر طعام وشراب کے زندہ رہنا ناممکن ہے غلط ہے۔ اس لئے کہ طعام وشراب عام ہے کہ خواہ حسی ہو یا معنوی۔ حضرت آدم علیہ السلام اکل شجرہ سے پہلے جنت میں ملائکہ کی طرح زندگی بسر فرماتے تھے۔ تسبیح وتہلیل ہی ان کا ذکر تھا۔ پس کیا حضرت مسیح علیہ السلام جو نفخۂ جبرائیل سے پیداہونے کی وجہ سے جبرائیل امین کی طرح تسبیح وتہلیل سے زندگی بسر نہیں فرما سکتے۔

۴… ’’اِنَّ مَثَلَ عِیْسٰی عِنْدَ اللّٰہِ کَمَثَلِ اٰدَمَ (آل عمران:۵۹)‘‘ جو آسمانوں پر سیدنا آدم علیہ السلام کی غذا تھی وہی سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی ہے۔ حضرت یونس علیہ السلام کا شکم ماہی میں بغیر کھائے پئے زندہ رہنا قرآن کریم میں صراحۃً مذکور ہے اور حضرت یونس علیہ السلام کے بارے میں حق تعالیٰ کا یہ ارشاد: ’’فَلَوْلَا اَنَّہٗ کَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِیْنَ لَلَبِثَ فِیْ بَطْنِہٖ اِلٰی یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ (الصافات: ۱۴۳،۱۴۴)‘‘ اس پر صاف دلالت کرتا ہے کہ یونس علیہ السلام اگر مسبحین میں سے نہ ہوتے تو اس طرح قیامت تک مچھلی کے پیٹ میں ٹھہرے رہتے اور بغیر کھائے اور پئے زندہ رہتے۔

۵… حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر آسمان سے مائدہ کا نازل ہونا قرآن کریم میں صراحۃً مذکور ہے: ’’کَمَا قَالَ تَعَالٰی اِذْ قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ یٰعِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ ھَلْ یَسْتَطِیْعُ رَبُّکَ اَنْ یُّنَزِّلَ عَلَیْنَا مَآئِدَۃً مِّنَ السَّمَآ ء (المائدہ:۱۱۲) الٰی قولہ تعالیٰ قَالَ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ اللّٰہُمَّ رَبَّنَا اَنْزِلْ عَلَیْنَا مَآئِدَۃً مِّنَ السَّمَآ ء تَکُوْنُ لَنَا عِیْدًا لِّاَ وَّلِنَا وَاٰخِرِنَا وَاٰیَۃً مِّنْکَ وَارْزُقْنَا وَاَنْتَ خَیْرُ الرّٰازِقِیْنَ قَالَ اللّٰہُ اِنِّیْ مُنَزِّلُہَا عَلَیْکُمْ (المائدہ:۱۱۴،۱۱۵)‘‘ جو خدا سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی دعا پر ان کی قوم کو آسمانوں کا کھانا زمین پر بھیج سکتا ہے کیا وہ مسیح علیہ السلام کو آسمانوں پر رکھ کر آسمانی کھانا نہیں دے سکتا؟

328

ساتویں آیت:

’’وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ اَفَائِنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلٰی اَعْقَابِکُمْ (آل عمران:۱۴۴)‘‘ {اور محمد تو ایک رسول ہے ہو چکے اس سے پہلے بہت رسول۔ پھر کیا اگر وہ مر گیا یا مارا گیا تو تم پھر جاؤ گے الٹے پاؤں۔}

قادیانی استدلال:

یعنی محمد ﷺ صرف ایک نبی ہیں ان سے پہلے سب نبی فوت ہوگئے ہیں۔ اب کیا اگریہ بھی فوت ہو جائیں یا مارے جائیں تو ان کی نبوت میں کوئی نقص لازم آئے گا جس کی وجہ سے تم دین سے پھر جاؤ؟ اس آیت کا ماحصل یہ ہے کہ اگر نبی کے لئے ہمیشہ زندہ رہنا ضروری ہے تو کوئی ایسا ہی پہلے نبیوں میں سے پیش کرو جو اب تک زندہ موجود ہے اور ظاہر ہے کہ اگر مسیح ابن مریم علیہ السلام زندہ ہے تو پھر یہ دلیل جو خدا تعالیٰ نے پیش کی صحیح نہیں ہوگی۔

(ازالہ اوہام ص۶۰۶، خزائن ج۳ ص۴۲۷)

جواب:

۱… ناظرین قابل غور یہ ہے کہ ترجمہ میں یہ الفاظ ’’ان سے پہلے سب نبی فوت ہو گئے ہیں۔‘‘ قرآن مجید کے کن الفاظ کا ترجمہ ہیں۔ ظاہراً معلوم ہوتا ہے کہ ’’قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُل‘‘ کا یہ ترجمہ کیا گیا ہے۔ مگر مرزاقادیانی براہ نوازش کسی لغت کی کتاب میں یہ تو دکھلائیں کہ ’’خَلَتْ‘‘ یا ’’خَلَا‘‘ بمعنی موت زبان عرب میں آیا بھی ہے؟ آپ اس جگہ صرف اپنے دعویٰ کی تائید میں ایسے مصروف ہوئے ہیں کہ خواہ لغت اورمحاورہ آپ کے ترجمہ کی غلطی کو صاف ظاہر کر رہا ہو۔ مگر آپ کو اس کی ذرہ پرواہ نہیں۔ اچھا صاحب اگر خلت کے معنی فوت ہو جانا ہی ہیں تو آپ اس آیت: ’’سُنَّۃَ اللّٰہِ الَّتِیْ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلُ (الفتح:۲۳)‘‘ کا کیا ترجمہ کرتے ہیں؟ کیا یہی کہ وہ سنت الٰہی ہے جو تم سے پہلے فوت ہوچکی ہو؟ اگر آپ ایسا ترجمہ کریں گے تو آیت ہذا کے ساتھ ملے ہوئے الفاظ ’’وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّۃِ اللّٰہِ تَبْدِیْلًا‘‘ آپ کے اس ترجمہ کی سخت تکذیب کریں گے۔

پس جب آیت مستدلہ میں مرزاقادیانی کا ترجمہ ہی غلط ہے تو استدلال کی صحت کہاں رہی؟ مرزاقادیانی کے ترجمہ میں اتنے الفاظ سینہ وا ہیں تو ’’ان کی نبوت میں کوئی نقص لازم آئے گا۔‘‘ حالانکہ نہ ان الفاظ کی کچھ ضرورت تھی اور نہ کسی الفاظ قرآنی کا ترجمہ ہیں۔

ناظرین کو یہ بھی واضح ہو کہ آیت کا نزول جنگ احد میں ہوا تھا۔ رسول کریم ﷺ اس جنگ میں زخمی ہوکر کشمکش کے اندر ایک غار میں گر گئے تھے۔ شیطان نے پکار دیا کہ محمد ﷺ مارے گئے۔ یہ سنتے ہی مسلمانوں کا تمام لشکر (بجز خواص اصحاب کے) بھاگ نکلا ﷲتعالیٰ نے مسلمانوں کو سمجھایا ہے کہ تم کیا سمجھتے ہو کہ احکام شریعت کی تعمیل صرف اس وقت تک کی جاتی ہے جب تک نبی اپنی امت میں بہ نفس نفیس موجود رہے؟ یہ تمہارا خیال غلط ہے۔ ذرا خیال کرو کہ کس قدر نبی اور رسول ہوچکے ہیں۔ کیا وہ سب اپنی امت میں موجود ہیں ان کے متبعین نے اپنا دین محض اسی وجہ سے ترک کر دیا ہے؟ اور جب کسی نے بھی ایسا نہیں کیا تو کیا تم ایسا کرو گے؟ پہلے حکمت سے سمجھایا پھر تنبیہ کے لئے زجر آمیز کلمات فرمائے۔ خیال کرو اس میں وفات مسیح کی کون سی دلیل ہے؟

واضح ہو کہ ’’خلت‘‘ کا مصدر ’’خَلَوْا‘‘ ہے اور چند معنی میں مستعمل ہے۔ ’’جدا ہونا یا تنہا ہونا۔‘‘ چنانچہ اس آیت میں ہے۔ (۱) ’’وَاِذَا خَلَا بَعْضُہُمْ اِلٰی بَعْضٍ (البقرہ:۷۶)‘‘ جب ایک دوسرے کے پاس سے تنہا ہوتے ہیں، یا ہوتے رہنا چنانچہ اس آیت میں ہے۔ (۲) ’’وَاِنْ مِّنْ اُمَّۃٍ اِلَّا خَلَافِیْہَا نَذِیْرٌ (فاطر:۲۴)‘‘ کوئی امت نہیں مگر اس میں ڈرانے والا ہوا ہے۔ (۳) ’’قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِکُمْ سُنَنٌ (آل عمران:۱۳۷)‘‘ تم سے پہلے کئی دستور

329

ہوتے رہے ہیں۔ چلے آنا۔ چنانچہ اس آیت میں ہے۔ (۴)’’سُنَّۃَ اللّٰہِ الَّتِیْ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلُ (الفتح:۲۳)‘‘ یہ سنت الٰہی ہے جو پہلے سے چلی آتی ہے۔ (۵)’’وَاِذَا خَلَوْا اِلٰی شَیٰطِیْنِہِمْ (البقرہ:۱۴)‘‘ (۶)’’وَاِذَا خَلَوْا عَضُّوْا عَلَیْکُمُ الْاَنَامِلَ مِنَ الْغَیْظِ (آل عمران:۱۱۹)‘‘ (۷)’’وَقَدْ خَلَتِ الْقُرُوْنُ مِنْ قَبْلِیْ (الاحقاف:۱۷)‘‘ (۸)’’تلک امۃ قد خلت (البقرۃ)‘‘ (۹)’’فی امم قد خلت (الاعراف:۳۸)‘‘ (۱۰)’’قد خلت من قبلہا امم (الرعد:۳۰)‘‘ پس ’’قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ‘‘ کا صحیح ترجمہ یہ ہے۔ ’’ہوتے رہے ہیں ان سے پہلے رسول۔‘‘

یہ یاد رکھو! کہ ’’خَلَا‘‘ اور ’’خَلَتْ‘‘ لغت میں زمانہ کی صفت کے لئے آتا ہے۔ دیکھو قرون خالیہ مثلاً عرب بولتے ہیں۔ ’’خَلَتْ یَاخَلُوْنَ مِنْ شَہْرِ رَمَضَانِ‘‘ (رمضان کی فلاں تاریخ گزر گئی) اور اہل زمانہ کے لئے مجازاً، اور اس سے بخوبی معلوم ہوسکتا ہے کہ ’’خَلَتْ‘‘ کا سیدھا اثر رسالت پر ہے نہ رسولوں کے وجود پر لہٰذا آیت: ’’قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ‘‘ کا مفہوم یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ سے پہلے بھی بہت رسول رسالت کر چکے ہیں۔ تبلیغ احکام رسالت کر چکنا متضمن اس امر کا نہیں کہ سب کے سب مر بھی چکے ہیں۔ گو ان میں سے اکثر مر بھی چکے ہوں۔ مثلاً (بلا تشبیہ) کوئی پرویز مشرف کو مخاطب کر کے کہے کہ آپ سے پہلے بھی جسٹس رفیق تارڑ حکومت کر چکے ہیں تو کیا اس سے یہ لازم آتا ہے کہ جسٹس رفیق تارڑ جو اب تک زندہ صحیح سالم حالت میں موجود ہیں۔ یہ سب مر بھی گئے۔

ناظرین بلاغت قرآنی سمجھنے کے لئے یہ غور کرنا چاہئے کہ ’’خَلَتْ‘‘ کا لفظ کیوں استعمال کیاگیا ہے۔ مقتضائے مقام اور بظاہر تناسب کلام تو یہ تھا کہ ﷲتعالیٰ یوں فرماتا: ’’قَدْ مَاتُوْا اَوْ قُتِلُوْا مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلَ اَفَاِنْ مَاتَ اَوْقُتِلَ‘‘ (محمد ﷺ) سے پہلے جتنے رسول تھے یا وہ مر گئے یا قتل ہوگئے۔ پھر اگر آپ ﷺبھی قتل ہو جائیں یا مر جائیں۔ مگر ایسا نہیں فرمایا:’’وللّٰہ الحجۃ البالغۃ‘‘ وجہ یہ ہے کہ مفرورین پر حجت بھی قائم ہو جائے اور آنحضرت ﷺ سے پہلے رسولوں اور نبیوں کے زمان رسالت کے منقطع ہونے کی خبر بھی دی جائے اور حضرت مسیح ابن مریم علیہ السلام کی حیات پر دلیل بھی قائم رہی۔ ’’اَیُّہَا النَّاس تَفَکَّرُوْا‘‘

اس تمام بیان سے ناظرین کو معلوم ہوگیا ہوگا کہ ﷲتعالیٰ نے لشکر مسلمین پر جو دلیل قائم کی ہے۔ وہ صحیح ودرست ہے مگر جو مطلب مرزاقادیانی ان الفاظ میں ڈھونڈھتے ہیں۔ اسے پاش پاش کرنے کے لئے عرب کا لغت اور قرآن کریم کا اسلوب شمشیر بکف کھڑے ہیں۔ تعالٰی اللّٰہ عن ذلک!

جواب:

۲… پوری دنیا کے قادیانی مل کر اپنے مسلمہ تیرہ صدیوں کے مجددین کا ایک حوالہ دکھا سکتے ہیں کہ انہوں نے اس آیت سے یہی استدلال کیا ہو جو مرزا کا ہے قیامت کی صبح تک نہیں؟

کیا ’’خلت‘‘ کے معنی موت ہیں؟ اور سنو! اسی سورت میں ایک مقام پر ارشاد ہے: ’’کَذَالِکَ اَرْسَلْنٰکَ فِیْ اُمَّۃٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہَا اُمَمٌ (الرعد:۳۰)‘‘ {اے رسول ﷺ اسی طرح بھیجا ہم نے تم کو ایک امت میں۔ ہو چکی ہیں اس سے پیشتر امتیں۔} کیا اس جگہ خلت کے معنی یہ ہیں کہ پہلی امتیں سب کی سب صفحۂ زمین سے مٹ چکی تھیں؟ ہرگز نہیں۔ یہود ونصاریٰ وغیرہ موجود تھے۔ خود قرآن میں یا اہل الکتاب اہل انجیل اہل تورات کہہ کر ان کو یاد کیاگیا ہے۔ الغرض خلت کے معنی موت لے کر وفات مسیح کو ثابت کرنا مقصود خداوندی ومنشاء محمدی علی صاحبھا الصلوۃ والسلام کے خلاف ہے ایسا ہی ’’الرسول‘‘ سے تمام رسول مراد لینا بھی تحکم ہے۔

330

ہاں! ہاں!! اگر آنحضرت ﷺ سے پہلے سب کے سب فوت ہوچکے تھے تو مرزاقادیانی نے (نورالحق حصہ اوّل ص۵۰، خزائن ج۳ ص۶۹) پر جناب موسیٰ علیہ السلام کا آسمانوں پر زندہ ہونا اور اس پر ایمان لانا ضروری ولازمی کیسے لکھا؟

’’عیسیٰ صرف اور نبیوں کی طرح ایک نبی خدا کا ہے اور وہ اس نبی معصوم کی شریعت کا ایک خادم ہے جس پر تمام دودھ پلانے والی حرام کی گئی تھیں۔ یہاں تک کہ اپنی ماں کی چھاتیوں تک پہنچایا گیا اور اس کا خدا کوہ سینا میں اس سے ہم کلام ہوا اور اس کو پیارا بنایا۔ یہ وہی موسیٰ مرد خدا ہے جس کی نسبت قرآن میں اشارہ ہے کہ وہ زندہ ہے اور ہم پر فرض ہوگیا کہ ہم اس بات پر ایمان لائیں کہ وہ زندہ آسمان میں موجود ہے۔ ’’ولم یمت ولیس من المیتین‘‘ وہ مردوں میں سے نہیں۔ مگر یہ بات کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے سو ہم نے اس خیال کا باطل ہونا ثابت کر دیا ہم قرآن میں بغیر وفات عیسیٰ علیہ السلام کے کچھ ذکرنہیں پاتے۔‘‘

قادیانیو! جہاں آنحضرت ﷺ کے پہلے انبیاء سے موسیٰ علیہ السلام کو علیحدہ کر دیا گیا ہے وہاں مہربانی کر کے مسیح کی مسند بھی بچھی ہوئی سمجھ لیجئے۔

اعتراض:

اس جگہ موسیٰ علیہ السلام کی روحانی زندگی مراد ہے۔

الجواب:

یہ کہنا کہ یہ روحانی زندگی ہے بالکل غلط ہے اور مرزاقادیانی کی تقریر کے بالکل خلاف ہے روحانی زندگی تو بعد وفات سب انبیاء کو حاصل ہے اس میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کو کیا خصوصیت حاصل ہے۔ نیز اس کے بعد مرزاقادیانی نے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مردہ کہا تو یہ تفریق بتلارہی ہے کہ مرزاقادیانی حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جسمانی زندگی سے زندہ سمجھتے تھے۔

آٹھویں آیت:

’’وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّنْ قَبْلِکَ الْخُلْدَ اَفَائِنْ مِّتَّ فَہُمُ الْخٰلِدُوْنَ (الانبیاء:۳۴)‘‘ {اور نہیں دیا ہم نے تجھ سے پہلے کسی آدمی کو ہمیشہ کے لئے زندہ رہنا، پھر کیااگر تو مرگیا تو وہ رہ جائیں گے۔}

قادیانی استدلال:

’’اس آیت کا مدعا یہ ہے کہ تمام لوگ ایک ہی سنت ﷲ کے نیچے داخل ہیں اور کوئی موت سے نہیں بچا نہ آئندہ بچے گا اور لغت کی رو سے خلود کے مفہوم میں یہ بات داخل ہے کہ ہمیشہ ایک ہی حالت میں رہے۔ کیونکہ تغیر موت اور زوال کی تمہید ہے۔ پس نفی خلود سے ثابت ہوا کہ زمانہ کی تاثیر سے ہر ایک شخص کی موت کی طرف حرکت ہے اور پیرانہ سالی کی طرف رجوع اور اس سے مسیح ابن مریم علیہ السلام کا بوجہ امتداد زمانہ اور شیخ فانی ہو جانے کے باعث فوت ہو جانا ثابت ہوتاہے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۶۰۷، خزائن ج۳ ص۴۲۷،۴۲۸)

جواب:

۱… مرزاقادیانی نے آٹھویں آیت یہ پیش کی ہے: ’’وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّنْ قَبْلِکَ الْخُلْدَ اَفَائِنْ مِّتَّ فَہُمُ الْخٰلِدُوْنَ‘‘ اور بہت صحیح لکھا ہے کہ آیت کا مدعا یہ ہے کہ تمام لوگ ایک ہی سنت ﷲ کے نیچے داخل ہیں۔ نہ کوئی موت سے بچا ہے اور نہ آئندہ بچے گا۔ مگر ناظرین غور کریں ہ اس کو وفات مسیح سے کیا علاقہ ہے؟ اب رہی اس آیت سے مرزاقادیانی کی یہ وجہ استدلال کہ خلود کے مفہوم میں داخل ہے۔ ہمیشہ ایک ہی حالت میں رہنا اور نفی خلود سے ثابت ہے کہ ہر شخص کی حرکت موت کی طرف ہے اور اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مسیح ابن مریم علیہما السلام بوجہ امتداد زمانہ اور شیخ فانی ہو جانے کے فوت ہوگیا۔ یہ بالکل مرزاقادیانی کے مذہب کے خلاف ہے۔ امتداد زمانہ اور شیخ فانی ہو جانے کا نام وہ شخص لے سکتا ہے جس کا یہ مذہب ہو کہ مسیح علیہ السلام آسمان پر تو گئے تھے۔ مگر شیخ فانی ہوکر اور امتداد زمانہ سے ضعف ہرم وغیرہ میں آکر پھر فوت ہوگئے۔ جب آپ کا مذہب ہی یہ ہے کہ مسیح علیہ السلام آسمان پر نہیں گئے تو یہ آپ کے سینہ زار شاعرانہ

331

الفاظ بھی آپ کی دلیل نہیں بن سکتے۔ بسم ﷲ! آپ مسیح علیہ السلام کا آسمان پر جانا تسلیم فرمائیے اور پھر یہ وجہ استدلال پیش کیجئے۔ ’’وَاِذْ لَیْسَ فَلَیْسَ‘‘ اب میں مرزاقادیانی سے یہ بھی دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ کوئی ایسی حد بطور کلیہ قاعدہ کے آپ کو معلوم ہے؟ کہ جب کوئی بنی آدم اس حد کو پہنچ جائے تو وہ شیخ فانی بھی ضرور ہی ہو جائے۔ شیخ فانی کے لئے حد اگر معلوم ہو تو براہ مہربانی بیان فرمائیں تاکہ درایۃً وروایۃً اس کی جانچ پڑتال کر لی جائے۔ ناظرین خوب یاد رکھیں کہ اس کا جواب مرزاقادیانی کچھ نہیں دے سکتے اور اسی لئے نہ وہ اس آیت سے استدلال ہی کرسکتے ہیں اور نہ ان کی وجہ استدلال درست ہی ہوسکتی ہے۔

جواب:

۲… قارئین زمین وآسمان کے رہنے والوں پر اثرات جداجدا مرتب ہوتے ہیں۔ اس لئے کہ دونوں کے ماحول کے اثرات جدا جدا ہیں۔ زمین پر رہنے والوں کی نسبت آسمانوں پر رہنے والوں (ملائکہ) کی زندگی لمبی ہے۔ پس آسمان پر ہونے کے باعث مسیح علیہ السلام زمینی اثرات سے محفوظ ہونے کے باعث لمبی زندگی پائیں تو اس میں کوئی امرمانع نہیں۔

جواب:

۳… مسیح کے خلود کے تو مسلمان بھی قائل نہیں۔ ﷲتعالیٰ کی طرف مسیح علیہ السلام کے خلود کے مسلمان قائل ہوتے تب تو یہ آیت مانع ہوتی۔ آنحضرت ﷺ اور آپ ﷺ سے پہلے یا بعد کے کسی بھی مخلوق کے خلود کے مسلمان قائل نہیں۔ اس آیت میں خلود کی نفی ہے وجود کی نفی نہیں۔

نویں آیت:

’’تِلْکَ اُمَّۃٌ قَدْ خَلَتْ لَہَا مَا کَسَبَتْ وَلَکُمْ مَّا کَسَبْتُمْ وَلَا تسئلون عَمَّا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ (البقرۃ:۱۴۱)‘‘ {وہ ایک جماعت تھی جو گزر چکی ان کے واسطے ہے جو انہوں نے کیا اور تمہارے واسطے ہے جو تم نے کیا اور تم سے کچھ پوچھ نہیں ان کے کاموں کی۔}

قادیانی استدلال:

’’یعنی اس وقت سے پہلے جتنے پیغمبر ہوئے ہیں یہ ایک گروہ تھا جو فوت ہوگیا، ان کے اعمال ان کے لئے ہیں اور تمہارے اعمال تمہارے لئے اور ان کے کاموں میں تم نہیں پوچھے جاؤ گے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۲۰۷، خزائن ج۳ ص۴۲۸)

جواب:

۱… نویں آیت وفات مسیح پر مرزاقادیانی نے یہ پیش کی ہے: ’’تِلْکَ اُمَّۃٌ قَدْ خَلَتْ‘‘ اس آیت کا صرف ترجمہ ہی کر گئے ہیں اور وجہ استدلال وغیرہ کچھ تحریر نہیں کی۔ ہاں! ترجمہ میں یہ الفاظ ضرور لکھ دئیے ہیں۔ یعنی اس وقت سے پہلے جتنے پیغمبر ہوئے ہیں یہ ایک گروہ تھا جو فوت ہوگیا۔

ناظرین! آپ بخوبی اور بآسانی معلوم کر سکتے ہیں کہ مرزاقادیانی کے یہ الفاظ ’’اس وقت سے پہلے جتنے پیغمبر ہوئے ہیں۔‘‘ کن الفاظ کا ترجمہ ہے۔ غالباً ’’تِلْکَ‘‘ کا ترجمہ ہے یہ جو اسم اشارہ ہے اب اگر تم اس کا مشار الیہ معلوم کرنا چاہتے ہو تو قرآن شریف کھول کر دیکھ لیجئے کہ کون کون سے نام اس سے پہلے آیت میں آچکے ہیں۔ (اس سے پہلی آیت کی تخصیص ہم نے اس لئے کر دی ہے کہ ’’تِلْکَ‘‘ اشارہ قریب کے لئے ہے) ناظرین دیکھیں کہ اس سے پہلی آیت یہ ہے: ’’اَمْ تَقُوْلُوْنَ اِنَّ اِبْرَاہِیْمَ وَاِسْمٰعِیْلَ وَاِسْحٰقَ وَیَعْقُوْبَ وَالْاَسْبَاطَ کَانُوْا ہُوْدًا اَوْ نَصٰرٰی قُلْ ء اَنْتُمْ اَعْلَمُ اَمِ اللّٰہ وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ کَتَمَ شَہَادَۃً عِنْدَہٗ مِنَ اللّٰہِ وَمَا اللّٰہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ تِلْکَ اُمَّۃٌ قَدْ خَلَتْ (البقرہ:۱۴۰،۱۴۱)‘‘ تم کیا کہتے ہو کہ ابراہیم اور اسماعیل اور اسحق ویعقوب اور ان کی اولاد یہودی یا نصاریٰ تھے۔ کہہ دیجئے تم زیادہ جانتے ہو یا خدا، اور اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو شہادت کو چھپاتا ہے جو اس کے پاس ﷲ کی طرف سے

332

ہے اور ﷲ تمہارے عملوں سے بے خبر نہیں۔ یہ ایک امت تھی جو گزر چکی۔ خلت کے لفظ پر بحث ساتویں آیت میں ہوچکی ہے۔ اعجاز قرآن ہے کہ آیت میں عیسیٰ کا نام نہیں۔

جواب:

۲… سیدنا مسیح علیہ السلام کے رفع کے لئے چونکہ تخصیص منقولی ثابت ہوچکی ہے اس لئے اب عموم کی آیت سے استدلال قادیانی دجل کا شاہکار ہے۔ وہ مسیح علیہ السلام کے نام کے ساتھ واضح صریح موت کا لفظ وہ بھی بصیغۂ ماضی جب تک نہ دکھائیں ان کا مدعا ہرگز ثابت نہیں ہوتا۔

دسویں آیت:

’’وَاَوْصٰنِیْ بِالصَّلٰوۃِ وَالزَّکٰوۃِ مَا دُمْتُ حَیًّا وَّبَرًّا بِوَالِدَتِیْ (مریم:۳۱،۳۲)‘‘ {اور تاکید کی مجھ کو نماز کی اور زکوٰۃ کی جب تک میں رہوں زندہ اور سلوک کرنے والا اپنی ماں سے۔}

قادیانی استدلال:

’’اب ظاہر ہے کہ ان تمام تکلیفات شرعیہ کا آسمان پر بجالانا محال ہے اور جو شخص مسیح علیہ السلام کی نسبت یہ اعتقاد رکھتا ہے کہ وہ زندہ مع جسدہٖ آسمان کی طرف اٹھایا گیا۔ اس کو اسی آیت موصوفہ بالا کے منشاء کے مطابق یہ بھی ماننا پڑے گا کہ تمام احکام شرعی جو انجیل اور توریت کی رو سے انسان پر واجب العمل ہوتے ہیں وہ حضرت مسیح علیہ السلام پر اب بھی واجب ہیں۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۴۳۶، خزائن ج۳ ص۳۳۱)

الجواب:

۱… کسی نے سچ کہا ہے کہ ’’خوئے بدرا بہانہ ہائے بسیار۔‘‘ کسی بھوکے سے پوچھا گیا دو اور دو کتنے ہوتے ہیں۔ وہ جھٹ بولا چار روٹیاں۔ ٹھیک یہی مثال مرزائیوں کی ہے۔ کہاں صاف وصریح آیات قرآنیہ جن میں بالفاظ صریح حیات مسیح کا مذکور ہے اور کہاں مرزائیوں کی یہ یہودیانہ کھینچ تان۔

اے جناب! اگر یہ ضروری ہے کہ اس آیت کی رو سے مسیح تمام زندگی بھر زکوٰۃ وغیرہ دیتے رہیں اور ضرور ہی اس کام کے لئے ان کی جیب روپوں سے بھری رہے تو جب یہ الفاظ مسیح نے کہے تھے یعنی پیدائش کے پہلے دن (ص۲۸ پاکٹ بک مرزائی) اس وقت بھی تو وہ زندہ تھے۔ فرمائیے ان کی جیب میں کتنے سوپونڈ موجود تھے اور کون کون شخص زکوٰۃ ان سے وصول کیاکرتے تھے۔ نیز یہ بھی فرمائیے کہ وہ ان دنوں کتنی نمازیں روزانہ ادا کیا کرتے تھے اور گواہ کون ہے۔ فما جوابکم فہو جوابنا!

ناظرین شروع میں کسی کام کا حکم ہونا یہ معنی نہیں رکھتا کہ ہر وقت، دن رات، سوتے جاگتے، اٹھتے بیٹھتے اس پر عمل کرتے رہیں بلکہ ہر نکتہ مکانے دارد کے تحت ہر کام کا وقت اور اس کی حدود قائم ہیں۔ نماز بعد بلوغت فرض ہوتی ہے اور زکوٰۃ بعد مال۔ جب تک مسیح بچے تھے، نماز فرض نہ تھی۔ بالغ ہوئے حکم بجالائے جب مال ہوتا زکوٰۃ دیتے۔ اب آسمان پر مال دنیاوی ہے ہی نہیں۔ زکوٰۃ کیونکر دیں۔ پھر اور سنو! حدیث میں آیا ہے کہ نبیوں کا دین واحد ہے۔ بدیں لحاظ موسیٰ علیہ السلام پر بھی زکوٰۃ فرض ہے۔ بتلائیے آسمانوں پر جب وہ زندہ ہیں تو زکوٰۃ کسے دیتے ہیں اور روپیہ ان کے پاس کس قدر ہے؟

جواب:

۲… مرزاقادیانی کا یہ بیان سقم اور غلطیوں سے بھرا ہوا ہے۔ اس آیت سے وفات مسیح پر مرزاقادیانی کی وجہ استدلال ’’ازالہ اوہام‘‘ میں یہ ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے تاحیات خود صلوٰۃ اور زکوٰۃ کا ادا کرنا فرائض میں شمار کیا ہے۔ اگر وہ زندہ ہیں تو ان کا زکوٰۃ دینا ثابت کرو۔ ورنہ وہ مردہ ہیں۔ اس تقریر میں متانت مثیلیت اور وقار مہدویت کو بالائے نفاق رکھ کر مرزاقادیانی نے شوخانہ استہزاء بھی کیا ہے اور دریافت کیا ہے کہ آسمان پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام زکوٰۃ کہاں سے دیتے ہوں گے اور کون لیتا ہوگا؟

333

واضح ہو! کہ کل نبیوں پر جیسا کہ زکوٰۃ کا لینا حرام ہے۔ ویسا ہی دینا بھی حرام ہے۔ ’’فقال لہم عمر رضی اللہ عنہ انشدکم باللّٰہ الم تعلموا ان رسول اللّٰہ ﷺ قال ان کل مال النبی صدقۃ الاما اطعمہ اہلہ اوکساہم‘‘ (کنزالعمال ج۱۲ ص۴۵۱، حدیث نمبر:۳۵۵۴۲)

’’یعنی عمر رضی اللہ عنہ نے کہا تمہیں ﷲ کی قسم کیا تم نہیں جانتے کہ حضور ﷺ نے فرمایا ہے کہ نبی کا مال سب صدقہ ہوتا ہے مگر جس قدر اپنے اہل کو کھلائے پہنائے۔‘‘ کیونکہ ان کا کل مال خدا کی راہ میں وقف ہوتا ہے۔ اب رہا یہ امر کہ ’’اَوْصَانِیْ‘‘ کیوں کہا یہ بطور تعلیم ارکان شریعت کے ہے۔ کیونکہ جب فرمایا: ’’اتٰنِیَ الْکِتٰبَ وَجَعَلْنِیْ نَبِیًّا‘‘ خدا نے مجھے کتاب دی اور نبی بنایا تو ساتھ ہی اپنی شریعت کے ارکان بھی ظاہر کردئیے۔ (۲)زکوٰۃ سے مراد اس جگہ زکوٰۃ مال نہ ہو بلکہ زکوٰۃ نفس ہو۔ قرینہ اس پر روح القدس کا حضرت مریم کو کہنا ہے ’’لِاَہَبَ لَکِ غُلَامًا زَکِیًّا‘‘ ظاہر ہے کہ اس جگہ ’’زکیّا‘‘ کے معنی زکوٰۃ مال نکالنے والا نہیں بلکہ صاف زکوٰۃ وطہارت ہیں۔

بیضاوی میں ہے: ’’وَاَوْصَانِیْ وامرنی بِالصَّلٰوۃِ وَالزَّکٰوۃِ زَکٰوۃ الْمَالِ اِنْ ہَلَکَتْہُ اَوْتَطْہِیْرُ النفس عن الرزائل‘‘ زکوٰۃ سے زکوٰۃ مال مراد ہے کہ جب صاحب نصاب ہوں ورنہ نفس کو رزائل سے پاک صاف رکھنا بھی زکوٰۃ ہے۔

ﷲتعالیٰ نے حضرت یحییٰ علیہ السلام کے حق میں فرمایا ہے: ’’وَاٰتَیْنٰہُ الْحُکْمَ صَبِیًّا وَّحَنَانًا مِّنْ لَّدُنَّا وَزَکٰوۃً (مریم:۱۲،۱۳)‘‘ {ہم نے اس کو لڑکپن ہی میں حکم، نرم دلی اور پاکیزگی عنایت کی۔} یہاں لفظ زکوٰۃ خصوصیت سے بمعنی پاکیزگی ہے۔

جواب:

۳… زکوٰۃ تو اہل نصاب پر فرض ہے۔ اگر مرزاقادیانی حضرت مسیح علیہ السلام کا اس دنیا پر زکوٰۃ دینا ثابت کردیں تو میں وعدہ کرتا ہوں کہ مسیح علیہ السلام کا آسمان پر زکوٰۃ دینابھی ثابت کردوں گا۔

جواب:

۴… مرزاقادیانی کی اس بیان میں دوسری غلطی یہ ہے کہ ان کو انجیلی طریق پر نماز پڑھنے کی وصیت کی گئی تھی۔ ’’وہ عیسائیوں کی طرح نماز پڑھتے ہیں۔‘‘ اس غلطی کا منشاء یہ ہے کہ ان کو معنی نبوت معلوم نہیں۔ امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ (جن کی قرآن دانی اور اسرار فہمی کی توصیف مرزاقادیانی نے ازالہ میں کی ہے) کا مذہب یہ ہے کہ قاضی کا فیصلہ ظاہر اور باطن پر یکساں ہوتا ہے۔ مگر آپ تو نبوت کو بھی ظاہر اور باطن کے لئے نہیں سمجھتے۔ ہمارے سید ومولیٰ حضرت محمد رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم جس طرح تمام کافہ ناس کی طرف مبعوث ہوئے ہیں۔ اسی طرح جن وملک کی طرف بھی۔ کوئی ذوی العقول متنفس ایسا نہیں۔ خواہ وہ نبی ہو یا غیر نبی۔ جس پر آپ ﷺ کے احکام اور شرائع ومناہج کی پیروی واطاعت فرض نہ ہو اور آپ ﷺ کی رسالت کے بعد سابقہ شرائع واحکام پر چلنا حرام نہ ہوگیا ہو۔ پس جب حالت یہ ہے تو آپ کا یہ خیال کرنا کہ اب وہ انجیلی طریق پر نماز پڑھتے ہیں اور نزول کے بعد برخلاف وصیت مسلمانوں کی طرح پڑھیں گے۔ معنی رسالت کے نہ سمجھنے ہی پر محمول ہو سکتا ہے۔ مرزاقادیانی… دیکھئے! ﷲتعالیٰ کیا فرماتا ہے: ’’وَاِذْ اَخَذَ اللّٰہُ مِیْثَاقَ النَّبِیِّیْنَ لَمَا اٰتَیْتُکُمْ مِنْ کِتَابٍ وَحِکْمَۃٍ ثُمَّ جَاء کُمْ رَسُوْلٌ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَکُمْ لتُؤْمِنُنَّ بِہٖ وَلَتَنْصُرُنَّہٗ (آل عمران:۸۰)‘‘ {جب خدا نے نبیوں سے اقرار لیا کہ جو کچھ میں نے تم کو کتاب اور حکمت دی ہے۔ پھر جب تمہاری طرف رسول موعود آئے جو تمہاری سچائی ظاہر کرے گا تو تم ضرور اس پر ایمان لانا اور ضرور اس کی مدد کرنا۔}

334

اب سمجھ لو کہ مسلمانوں کی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نماز پڑھنا برخلاف وصیت نہیں بلکہ موافق میثاق ازلی ہے۔ اس معنی کی طرف ’’صحیح مسلم‘‘ کی حدیث عن ابوہریرہ رضی اللہ عنہ میں اشارہ ودلالت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے موسیٰ، عیسیٰ، ابراہیم علیہم السلام کا امام بن کر نماز پڑھائی۔

جواب:

۵… تیسری غلطی اس بیان میں مرزاقادیانی کی یہ ہے کہ: ’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام نماز پڑھتے ہوں گے اور حضرت یحییٰ علیہ السلام پاس پڑے رہتے ہوں گے۔ مردہ جو ہوئے۔‘‘ یہ غلطی بھی درجۂ انبیاء سے عدم معرفت کی وجہ سے ناشی ہوئی ہے۔ شاید آپ کو معلوم نہیں کہ گو مر جانے کے بعد تکلیف احکام سے انسان سبکدوش ہو جاتا ہے۔ مگر انبیاء علیہم السلام جن کے جسم میں عبادت الٰہی بمنزلہ روح کے ہے۔ جن کے دل میں محبت ربانی بجائے حرارت غریزی کے ہے۔ وہ مر جانے کے بعد بھی طاعات میں مشغول رہا کرتے ہیں۔ (صحیح مسلم ج۱ ص۹۵، باب الاسراء) کی حدیث عن ابن عباس رضی اللہ عنہ میں ہے۔ جب رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ اور مدینہ کے درمیان وادی ازرق میں پہنچے تو فرمایا میں نے اس وادی میں موسیٰ علیہ السلام کو کانوں میں انگلیاں دئیے۔ لبیک لبیک پکارتے۔ گزرتے دیکھا ہے جب ہر شی میں پہنچے تو فرمایا میں نے یونس علیہ السلام کو جبہ صوف (لباس احرام) پہنے، اونٹنی پر سوار اس وادی سے گزرتے دیکھا ہے۔ (صحیح مسلم ج۱ ص۹۶، باب الاسراء) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں حضرت ابراہیم وحضرت موسیٰ علیہما السلام کا نماز پڑھنا ثابت ہے۔ اس سے واضح ہوا کہ حضرت یحییٰ علیہ السلام بھی پڑے ہی نہیں رہتے بلکہ وہ بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرح نماز پڑھا کرتے ہیں۔ مگر سیدنا یحییٰ علیہ السلام پر موت کا عمل واقع ہوچکا۔ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام پر موت کا عمل نزول کے بعد ہوگا۔

ناظرین! بخوبی اندازہ کر سکتے ہیں کہ یہ آیت بھی مرزاقادیانی کے دعویٰ کے لئے کچھ مفید نہیں اور آیت کو وفات مسیح سے ذرا تعلق نہیں۔ نیز دعویٰ اثبات وفات مسیح کے علاوہ دیگر زوائد جو مرزاقادیانی نے لکھے تھے ان کا ایک حرف بھی صحیح نہیں۔

گیارھویں آیت:

’’وَالسَّلٰمُ عَلَیَّ یَوْمَ وُلِدْتُ وَیَوْمَ اَمُوْتُ وَیَوْمَ اُبْعَثُ حَیًّا (مریم:۳۳)‘‘ {اور سلام ہے مجھ پر جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن مروں اور جس دن اٹھ کھڑا ہوں زندہ ہوکر۔}

قادیانی استدلال:

’’اس آیت میں واقعات عظیمہ جو حضرت مسیح علیہ السلام کے وجود سے متعلق تھے۔ صرف تین بیان کئے گئے ہیں۔ حالانکہ اگر رفع اور نزول واقعات صحیحہ میں سے ہیں تو ان کا بیان بھی ہونا چاہئے تھا۔ کیا نعوذ بِاللہ رفع اور نزول حضرت مسیح علیہ السلام کا مورد اور محل سلام الٰہی نہیں ہونا چاہئے تھا؟ سو اس جگہ پر خداتعالیٰ کا اس رفع اور نزول کو ترک کرنا جو مسیح ابن مریم علیہ السلام کی نسبت مسلمانوں کے دلوں میں بسا ہوا ہے۔ صاف اس بات پر دلیل ہے کہ وہ خیال ہیچ اور خلاف واقعہ ہے بلکہ وہ ’’رفع یوم اموت‘‘ میں داخل ہے اور نزول سراسر باطل ہے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۶۰۸، خزائن ج۳ ص۴۲۸)

تنقیح اشکال:

مرزاقادیانی لکھتے ہیں: اس آیت میں واقعات عظیمہ جو حضرت مسیح علیہ السلام کے وجود کے متعلق تھے صرف تین بیان کئے گئے ہیں۔ حالانکہ اگر رفع اور نزول واقعات صحیحہ میں سے ہیں تو ان کا بیان بھی ضروری تھا۔ کیا نعوذ بِاللہ رفع اور نزول حضرت مسیح کا مورد اور محل سلام الٰہی کا نہیں ہونا چاہئے تھا۔

الجواب:

۱… مرزاقادیانی کے ان فقرات کو باربار حیرت اور تعجب سے دیکھئے کہ وہ اسرار دانی اور قرآن فہمی کہاں ہے؟ کیا کسی شئے کا کسی جگہ مذکور نہ ہونا اس کے عدم وجود کی بھی دلیل ہوسکتی ہے؟ صحیحین بلکہ صحاح ستہ میں بیسیوں ایسی

335

احادیث ملیں گی کہ سائل نے آکر رسول کریم ﷺ سے اسلام کا سوال کیا اور آنحضرت ﷺ نے بیان ارکان میں کبھی کلمہ شہادت، کبھی زکوٰۃ کبھی حج کو بیان نہیں فرمایا تو کیا مرزاقادیانی مجرد ان احادیث پر اکتفاء کر کے ان ارکان اسلام کے رکن ہونے سے انکار کر جائیں گے؟ اگر نہیں تو یہاں بھی وہی عمل کریں۔

جواب:

۲… مرزاقادیانی کو یاد کرنا چاہئے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کا یہ کلام اس وقت کا تھا۔ جب مریم صدیقہ علیہا السلام ان کو جن کر گود میں لے کر قوم میں آئی تو کیا ضرور ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام اسی وقت اپنی زندگی کے مفصلانہ کل واقعات عظیمہ سے واقف بھی کئے گئے ہوں بلکہ قرآن کریم اس امر کا شاہد صادق ہے کہ ’’رَفَعَ‘‘ کی خبر حضرت کو حالت نبوت میں دی گئی تھی۔ ’’یَا عِیْسٰی اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ‘‘ مرزاقادیانی کو بھی تسلیم ہے کہ مسیح علیہ السلام کو جب یہود نے گھیرا تو اس وقت یہ آیت: ’’رافعک‘‘ اتری۔(سراج منیر ص۴۱، خزائن ج۱۲ ص۴۳)

’’والسلام علی یوم ولدت ویوم اموت‘‘ عیسیٰ علیہ السلام والدہ مریم کی گود میں تھے،۔ اس وقت کی کلام ہے۔ پس رفع کا وعدہ بعد میں ہوا۔ اس لئے اس وقت اس کا ذکر کیسے فرماتے؟

جواب:

۳… حقیقت یہ ہے کہ: ’’سَلَامٌ عَلَیَّ یَوْمَ وُلِدْتُ وَیَوْمَ اَمُوْتُ‘‘ اسی قبیل کا جملہ ہے جیسے ’’اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ اولہ واخرہ یا بِسْمِ اللّٰہ اولہ واخرہ‘‘ جو ابتداء سے لے کر آخر تک کی تمام حالتوں پر شامل ہے اب اگر ان فقرات پر کوئی اعتراض نہیں کیا جاتا تو ’’سَلَامٌ عَلَیَّ‘‘ پر کیوں ہے؟ ہمارے نزدیک رفع اور نزول حضرت مسیح علیہ السلام دونوں مورد اور محل سلام الٰہی کے ہیں اور اسی لئے دو سلامتیوں کے اندر اور وسط میں واقع ہوئے ہیں۔ ہاں! مرزاقادیانی جو ان الفاظ کا درمیانی واقعات پر اثر انداز نہ ہونا تسلیم کرتے ہیں ان کو اس امر کا ضرور جواب دینا چاہئے کہ جب بقول ان کے مسیح علیہ السلام پر سولی لٹکائے گئے۔ ان کے ہاتھوں اور پاؤں میں میخیں ٹھونکی گئیں اور ان اذیتوں اور تکلیفوں کے بعد دروازۂ مرگ پر پہنچ کر پھر وہ بیچ رہے تو کیا ان کی یہ جان بری مورد اور محل سلام الٰہی کا نہ تھی؟ کیا مسیح علیہ السلام کا صحیح وسلامت رہنا ربانی سلامتی کے بغیر تھا؟ اگر ایسے دشمنوں کے نرغہ میں سے ایسے برصلیب کشیدہ کے سلامت رہنے کو تم سلام الٰہی تسلیم نہیں کرتے تو اور کسے کرو گے؟ لیکن اگر تسلیم کرتے ہو تو بتاؤ کہ آیت میں ایسی نہایت ہی حیرت بخش جان بری اور ایسی آفت کے بعد سلامتی کا ذکر کیوں نہیں؟

جواب:

۴… واقعتا اگر تمام اہم واقعات کا تذکرہ اسی آیت میں منحصر قرار دے کر قادیانی استدلال (بروفات مسیح) ہو رہا ہے تو پھر ان واقعات بے مثل کا ذکر ہونا یعنی واقع رفع ونزول سے بھی اہم تھا۔ کیونکہ رفع الیٰ السماء کی مثال تو بعض سید الانبیاء علیہم السلام کے معراج جسمانی اور نیز آمدورفت ملائکہ معہود تھی۔ مگر تمہاری مزعومہ صلیب وہجرت الیٰ دیار الغریبہ بلا اظہار عظمت وشان نبی کی مثال تاریخ رسالت میں موجود نہیں۔ لہٰذا ان واقعات کا ذکر ہونا لازم تھا تو جب تمہارے واقعات غیرمعہودہ کا تذکرہ تمہارے ہاں باعث اشکال نہیں تو ہمارے مسلمہ اور معہودہ واقعات (رفع ونزول) کا عدم ذکر کیسے محل استعجاب ہے؟ حالانکہ ہمارے اعتقاد کی جملہ تفصیلات بے شمار نصوص وحدیثہ اور اجماع امت کے تحت مذکور بھی ہیں۔ بلکہ خود نص میں اس آیت سے ذرا قبل بھی معہود ہے۔ ’’کما قال حاکیا عن المسیح وجعلنی مبارکًا اینما کنت‘‘ گویا جس امر کو تم طلب کر رہے ہو کہ یہ بھی ہونا چاہئے تھا وہ ان امور ثلاثہ سے پہلے بیان کر دیا گیا ہے۔ ’’فللّٰہ الحمد‘‘

336

بارھویں آیت:

’’وَمِنْکُمْ مَّنْ یُّتَوَفّٰی وَمِنْکُمْ مَّنْ یُّرَدُّ اِلٰی اَرْذَلِ الْعُمُرِ لِکَیْلَا یَعْلَمَ مِنْ بَعْدِ عِلْمٍ شَیْئًا (الحج:۵)‘‘ {اور کوئی تم میں سے قبضہ کر لیا جاتا ہے اور کوئی تم میں سے پھر چلایا جاتا ہے نکمی عمر تک۔ تانکہ سمجھنے کے پیچھے کچھ نہ سمجھنے لگے۔}

قادیانی استدلال:

’’اس آیت میں خداتعالیٰ فرماتا ہے کہ سنت ﷲ دو ہی طرح سے تم پر جاری ہے بعض تم میں سے عمر طبعی سے پہلے ہی فوت ہو جاتے ہیں اور بعض عمر طبعی کو پہنچتے ہیں۔ یہاں تک کہ ارذل عمر کی طرف رد کئے جاتے ہیں اور اس حد تک نوبت پہنچتی ہے کہ بعد علم کے نادان محض ہو جاتے ہیں۔ یہ آیت بھی مسیح ابن مریم علیہ السلام کی موت پر دلالت کرتی ہے۔ کیونکہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ انسان اگر زیادہ عمر پائے تو دن بدن ارذل عمر کی طرف حرکت کرتا ہے۔ یہاں تک کہ بچے کی طرح نادان محض ہوجاتا ہے اور پھر مر جاتا ہے۔‘‘ (ازالہ اوہام ص۶۰۸،۶۰۹، خزائن ج۳ ص۴۲۹)

الجواب:

۱… ناظرین کو واضح ہو کہ یہ آیت مرزاقادیانی کی تب دلیل ہے۔ جب وہ مسیح علیہ السلام کا زیادہ عمر پانا تسلیم کر لیں۔ مگر اس کے ساتھ ’’رَفَعَ اِلَی السَّمَاء‘‘ بھی ملا ہوا ہے۔ لہٰذا یہ بھی مرزاقادیانی کو تسلیم کرنا پڑے گا۔ مرزاقادیانی کو لازم ہے کہ وہ ایک حد قراردیں کہ جب عمر کے فلاں سال تک کوئی انسان پہنچے گا تو وہ ضرور ہی ارذل عمر میں داخل ہو جائے گا۔ قرآن کریم تو اس امر پر شاہد ناطق ہے کہ:

الف… حضرت نوح علیہ السلام نے ساڑھے نو سو برس تک دعوت کی۔ نبوت حاصل ہونے سے پہلے کی عمر اور دعوت کے بعد طوفان آنے اور بعد از طوفان آپ کے زندہ رہنے کی عمر ان ساڑھے نو صدیوں کے علاوہ ہے۔ پھر رب کریم کا یہ کلام پاک ہم کو یہ بھی بتاتا ہے کہ سینکڑوں سالوں کے وہ تغیرات وانقلابات (جن سے قومیں مفقود ہو جاتی ہیں۔ خرابہ آباد اور آباد خرابہ بن جاتے ہیں۔ سلطنتیں بدل جاتی ہیں۔ بولیاں تبدیل ہو جاتی ہیں) بعض جسموں پر اسی طبقۂ ارض کی موجودگی کی حالت میں اتنا اثر بھی نہیں ڈال سکتے کہ وہ اتنا بھی معلوم کر لیں کہ اس طبقۂ ارض پر اور اس حصہ ملک میں کبھی کوئی تغیر آیا بھی تھا؟ اور کسی قسم کا انقلاب ہوا بھی تھا یا نہیں؟ وہ سینکڑوں برسوں کا ممتد زمانہ اور دراز عرصہ ان کی نگاہ میں ایسا قلیل نظر آیا کرتا ہے کہ یہ خاصان خدا اسے ’’یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ‘‘ سے تعبیر کیا کرتے ہیں۔ کیا مرزاقادیانی کے نزدیک یہ بیانات ہدایت اور نور نہیں ہیں؟ کیا انسان ضعیف البنیان کو اختیار دیاگیا ہے کہ وہ تحکم کی راہ سے یہ قرار دے کہ جو کچھ آج کل ہورہا ہے رب کریم نے نہ کبھی اس سے تجاوز فرمایا ہے اور نہ فرمائے گا۔ کیا:

ب… ان کو لقمان ذوالنثور کا حال معلوم نہیں۔ جس کی عمر دوہزار سال کی تھی۔ کیا:

ج… ان کو عمر معدیکرب کی تاریخ پر نظر ہے۔ جو دوسو پچاس سال کی عمر میں ایرانیوں کے بیسیوں جنگ آزما، عربدہ جو فیلوں کو تلوار سے کاٹ کاٹ کر پھر شہید ہوا تھا؟ کیا مرزاقادیانی کا حق ہے کہ وہ ارزل عمر کی بھی حد سنین کا تعین کر کے اپنی طرف سے خود ہی مقرر کر دیں۔ ’’اِتَّقُوْا اللّٰہَ اَیُّہَا النَّاس‘‘

جواب:

۲… زمین پر مرور زمانہ کے اثرات جدا ہوتے ہیں۔ آسمانوں پر ان کو قیاس کرنا حماقت ہے۔ انسانوں سے ملائکہ اور ابلیس کی زندگی کا موازنہ کرنا حماقت ہے تو زمین والوں اور آسمان والوں کی زندگی کا موازنہ کرنا بھی درست نہیں۔ اس لئے بھی استدلال باطل ہے۔

جواب:

۳… دوسرے نطفہ انسان کی یہ صفت ہے کہ وہ عمر کی درازی سے ضعیف ہو جاتا ہے۔ یعنی مادی ہونے کے باعث زمین کی تاثیرات سے متاثر ہوکر ضعیف ہو جاتا ہے۔ مگر آسمان کی تاثیرات ایسی ہیں کہ اجرام فلکی کا بدل ماتجل

337

ساتھ ہی ساتھ ہوتا جاتا ہے اور وہ ضعیف نہیں ہوتے۔ پس مسیح علیہ السلام بھی تاثیرات فلکی سے ارذل عمر کے ضعف سے بچے ہوئے ہیں۔ جیسا کہ مشاہدہ ہے کہ فرشتے، ستارے، آفتاب، مہتاب وغیرہ ایک ہی حالت پر رہتے ہیں۔ لہٰذا حضرت مسیح علیہ السلام بھی آسمان پر درازی عمر سے نکمے نہیں ہوسکتے اور نہ زمین کی آب وہوا کی طرح آسمان کی آب وہوا ہے کہ مسیح علیہ السلام کو ارذل عمر ملے اور چونکہ مسیح علیہ السلام کی پیدائش نفخ روح سے تھی اور روح درازی عمر سے ضعیف اور ارذل نہیں ہوتی۔ اس لئے مسیح علیہ السلام کے واسطے ارذل عمر کا ضعف لازم بھی نہیں۔ کیونکہ وہ روح مجسم تھے۔ صرف وہ جسم ضعیف وارذل ہوتا ہے جو نطفہ امشاج وغیرہ کی ترکیب سے بنایا جاتا ہے۔

جواب:

۴… حدیث شریف میں ہے کہ: ’’رأیت عیسٰی بن مریم علیہ السلام شابا‘‘

(مسند احمد ج۱ ص۳۷۴، کنزالعمال ج۵ ص۳۲۲، ج۶ ص۳۰۷، الخصائص ج۲ ص۸)

یعنی حضور علیہ السلام فرماتے ہیں کہ میں نے عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کو جوان دیکھا۔ حضور ﷺ فرمائیں کہ مسیح علیہ السلام جوان ہیں مگر مرزاقادیانی کہتا ہے کہ بوڑھے ہوگئے۔ قادیانی بتائیں ان دو اقوال سے کن کا قول سچا؟

جواب:

۵… جب خداتعالیٰ قرآن مجید میں حضرت مسیح علیہ السلام کے حق میں فرماتے ہیں کہ وہ نہ صلیب دئیے گئے اور نہ قتل کئے گئے۔ بلکہ ﷲ نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا تو کیا وہ قادر مطلق ان کو انسانی ارذل عمر اور ضعف پیری سے ایسا ہی مستغنی نہیں کر سکتا جیسا کہ ان کو ان کی ولادت میں قانون فطرۃ عامہ سے مستثنیٰ کر دیا تھا کہ بغیر نطفۂ مرد کے پیدا کیا۔ دیکھو اصحاب کہف کا قصہ کہ ۳۰۹برس سوتے رہے۔ نہ بھوک لگی نہ پیاس جب خود بیدار ہوئے تب بھوک محسوس ہوئی اور ان کے جسم میں کسی طرح کا تغیر بھی پیدا نہ ہوا تھا اور حضرت عزیر علیہ السلام کا قصہ پڑھو کہ سو برس کے بعد زندہ کئے گئے۔ بیضاوی شریف میں لکھا ہے کہ جب اپنے گھر لوٹ کر آئے تو آپ جوان تھے اور ان کی اولاد بوڑھی تھی۔ ’’اذا رجع الٰی منزلہ کان شابا واولادہ شیوخًا‘‘ (بیضاوی ج۱ طبع مجتبائی ص۱۶۸)

اور (مستدرک ج۲ ص۲۸۲) میںحدیث علی رضی اللہ عنہ میں ہے کہ سب سے پہلے ان کی آنکھیں پیدا کی گئیں۔ وہ اپنی ہڈیوں کو گوشت پہناتے اور پیدا ہوتے ہوئے دیکھتے تھے اور اسی قصہ میں خداتعالیٰ فرماتے ہیں: ’’فَانْظُرْ اِلٰی طَعَامِکَ وَشَرَابِکَ لَمْ یَتَسَنَّہ (البقرۃ:۲۵۹)‘‘ یعنی {دیکھ اپنے کھانے اور پانی کو کہ وہ سو برس کی مدت تک سڑے نہیں۔} افسوس جب اسی جگہ یہ قدرت کے کرشمے دکھلائے گئے اور ہم کو قرآن میں سنائے گئے تو مومن قرآن کے دل میں تو یہ شبہ ہی نہیں آسکتا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اتنی عمر پاکر بالکل نکمے ہو جائیں گے۔ وہ آکر کیا خدمت کریں گے۔ الٹا ہم سے خدمت لیں گے۔ معاذ ﷲ! حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی درازی عمر سے کیوں گھبراتے ہو ’’عوج بن عنق‘‘ کی عمر ۳ہزار کے قریب تھی۔(مطلع العلوم ص۳۰۸)

جواب:

۶… ایک مناظرہ میں قادیانی کو ایک مسلمان مناظر نے جواب دیا کہ مسیح کے بوڑھے ہونے کی بات وہ کرے جس نے مسیح علیہ السلام کو رشتہ دینا ہو۔ اس پر مرزائی بہت سٹ پٹائے تو مولوی صاحب نے فوراً کہا کہ رشتہ کے چکر میں نہ پڑنا۔ ورنہ ’’یتزوج ویولد‘‘ شادی کریں گے اولاد ہوگی۔ اس میں بھی پھنس جاؤ گے۔ اس پر قادیانیوں کے اوسان خطا ہو گئے۔

تیرھویں آیت:

’’وَلَکُمْ فِی الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّمَتَاعٌ اِلٰی حِیْنٍ قال فیہا تحیون وفیہا تموتون (البقرۃ:۳۶)‘‘ {اور تمہارے واسطے زمین میں ٹھکانہ ہے اور نفع اٹھانا ہے ایک وقت تک۔}

338

قادیانی استدلال:

’’یعنی تم اپنے خاکی جسم کے ساتھ زمین پر ہی رہو گے۔ یہاں تک کہ اپنے تمتع کے دن پورے کر کے مر جاؤ گے۔ یہ آیت جسم خاکی کو آسمان پر جانے سے روکتی ہے۔ کیونکہ ’’لَکُمْ‘‘ جو اس جگہ فائدہ تخصیص کا دیتا ہے اس بات پر بصراحت دلالت کر رہا ہے کہ جسم خاکی آسمان پر نہیں جاسکتا بلکہ زمین سے ہی نکلا اور زمین میں ہی رہے گا اور زمین میں ہی داخل ہوگا۔‘‘ (ازالہ اوہام ص۶۰۹، خزائن ج۳ ص۴۲۹)

الجواب:

۱… خاص دلائل سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات ثابت ہوچکی ہے اور علم اصول میں مقرر ومسلم ہے کہ خاص دلیل عام پر مقدم ہوتی ہے اور ان دونوں کے مقابلے میں دلیل خاص کا اعتبار کیا جاتا ہے۔ اس کے نظائر قرآن مجید میں بکثرت موجود ہیں۔ مثلاً عام انسانوں کی پیدائش کی نسبت فرمایا: ’’اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُطْفَۃٍ اَمْشَاج (الدھر:۲)‘‘ یعنی {انسانوں کو ملے ہوئے نطفے سے پیداکیا۔} اور اس کے برخلاف حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوّا علیہا السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت خاص دلائل سے معلوم ہے کہ ان کی پیدائش بایں طور نہیں ہوئی۔ پس ان کے متعلق دلیل خاص کا اعتبار کیا گیا ہے اور دلیل عام کو ان کی نسبت چھوڑ دیا گیا ہے۔

جواب:

۲… فرشتوں کی جائے قرار اصلی اور طبعی طور سے آسمان ہیں۔ مگر وہ عارضی طور پر کچھ مدت کے لئے زمین پر بھی رہتے ہیں۔ مسیح علیہ السلام عارضی طور پر اب آسمانوں پر ہیں۔

ناظرین دیکھیں! ترجمہ میں جسم خاکی اور ’’مرجاؤ گے‘‘ کن الفاظ کا ترجمہ ہے۔ مرزاقادیانی ’’لکم‘‘ کو مفید تخصیص جانتے ہیں اور قرآن مجید کا سیاق کلام شاہد ہے کہ آیت کے مخاطب ابلیس وآدم وحوّا ہیں۔ چنانچہ ﷲتعالیٰ فرماتا ہے: ’’فَاَزَلَّہُمَا الشَّیْطٰنُ عَنْہَا فَاَخْرَجَہُمَا مِمَّا کَانَا فِیْہِ وَقُلْنَا اہْبِطُوْا بَعْضُکُمْ لِبَعْضٍ عَدَوٌّ وَلَکُمْ فِی الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَمَتَاعٌ اِلٰی حِیْن (البقرہ:۳۶)‘‘ {پس شیطان نے آدم وحوّا دونوں کو پھسلا دیا اور بہشت سے جہاں وہ رہتے تھے ان دونوں کو نکال دیا اور ہم نے کہا تم اترو۔ بعض تمہارے بعض کے دشمن ہیں اور تمہارے لئے زمین میں ٹھکانا اور فائدہ ہے ایک وقت تک۔} ’’اَزَلَّہُمَا‘‘ میں تثنیہ ہے اور ذکر شیطان کے بعد ضمائر جمع ’’لَکُمْ‘‘ کو جو ضمیر خطاب ہے۔ جب مفید تخصیص مرزاقادیانی تسلیم کر چکے تو پھر ان کا مخاطبین کے سوا اوروں سے مراد لینا ان کی تسلیم کے خلاف ہے۔

جواب:

۳… بالفرض اگر آیت کے یہ معنی ہیں کہ مخاطبین زمین سے اٹھ کر آسمان پر نہ جاسکیں تو یہ کہاں سے مرزاقادیانی نے نکال لیا کہ جو لوگ خطاب کے وقت ہنوز کتم عدم میں مستور تھے۔ وہ بھی اسی حکم میں شامل وداخل ہیں۔ اس کی دلیل انہوں نے کچھ نہیں دی بلکہ ’’لَکُمْ‘‘ مفید تخصیص مان کر اپنے دعویٰ کو ضعف پہنچایا۔

جواب:

۴… اگر بلا کسی دلیل کے مان لیا جائے کہ ’’لَکُمْ‘‘ میں ابلیس اور آدم کے سوا ان کی ذریات بھی شامل ہیں۔ تب بھی آیت بالا مفید معنی ومقصود مرزاقادیانی نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ جب ثابت ہوچکا کہ ’’لَکُمْ‘‘ میں ابلیس وآدم وحوّا کی طرف خطاب ہے تو قرآن مجید کے بیسیوں مقامات سے یہ ثابت اور واضح ہے کہ شیاطین آسمان کی طرف چڑھ جاتے ہیں اور ملائکہ سے قریب ہو جاتے ہیں۔ حتیٰ کہ شہاب ثاقب ان کے پیچھے لگ کر ان کو خاک کر دیتا ہے۔ بقول مرزاقادیانی آیت کا اثر مخاطبین پر یہ ہونا چاہئے تھا کہ یہ سب زمین سے اونچے اٹھ نہ سکیں۔ فضا میں جا نہ سکیں۔ مگر شیاطین کاچڑھ جانا دیگر آیات سے معلوم ہوگیااور آیت مستدلہ ان کے لئے مانع نہ ہوئی۔ اب مرزاقادیانی فرمائیں کہ یہ ایت انبیاء، خدا کے لئے آسمان پر جانے سے کیوں مانع ہے؟

339

جواب:

۵… ’’مستقر‘‘ کا ترجمہ ٹھیک ٹھیک ہیڈکوارٹر ہے۔ جس کو صدر مقام بھی بولتے ہیں۔ عربی زبان کی تاریخوں میں اسی لئے تخت گاہ کو مستقر الخلافہ لکھا ہوتا ہے۔ ظاہر ہے کہ کسی شخص کا اپنے ہیڈکوارٹر میں موجود ہونا یہ معنی نہیں رکھتا کہ وہ دوسری جگہ جا نہیں سکتا۔ علیٰ ہذا اس کا ہیڈ کوارٹر سے علیحدہ ہونا بھی اس امر کا ثبوت نہیں کہ اس کو اپنے صدر مقام سے اب کوئی مناسبت نہیں رہی۔ سید الانبیاء حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم بھی بشر تھے۔ جو شب معراج کو بالائے سدۃ المنتہیٰ تشریف لے گئے تھے۔ اگر آنحضرت ﷺ کے لئے یہ آیت مانع نہ ہوئی تو حضرت مسیح علیہ السلام کے لئے بھی نہیں ہوسکتی۔ معراج جسمانی کا ثبوت اس مضمون میں آگے آئے گا۔

جواب:

۶… مرزاقادیانی نے ’’اِلٰی حِیْنَ‘‘ کا ترجمہ ’’یہاں تک کہ مر جاؤ گے۔‘‘ کیا ہے مگر وہ کسی لغت کی کتاب سے ’’حِیْنَ‘‘ کے معنی موت ثابت نہ کر سکیں گے۔ ’’حین‘‘ کے معنی وقت کے ہیں اور اسی لئے ’’اِلٰی حِیْنَ‘‘ کا ترجمہ ایک وقت تک ہے۔ ہر شخص کے لئے ’’استقرار فی الارض‘‘ کا ایک معین عرصہ رب کریم نے مقرر کر رکھا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی ایک وقت تک زمین پر رہے اور جب ’’مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ الی‘‘ کا وعدہ پورا ہونے کو آیا تو وہ آسمان پر تشریف لے گئے۔ ظاہر ہے کہ ’’اِلٰی حِیْنَ‘‘ کے یہ معنی ہیں کہ اگر ایک وقت زمین پر ہے تو دوسرے وقت زمین پر سے اٹھ کر چلا بھی جائے۔ اس سے ثابت ہوا کہ کسی جسم کا بھی بوجہ جسم ہونے کے آسمان پر جانا محال نہیں۔ یہ اور بات ہے کہ رب کریم اس جسم کو آسمان پر لے جانا چاہے یا نہ چاہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے آسمان پر لے جانے کا اظہار اس نے خود فرمایا اور خود ہی اپنے منشاء کو پورا فرمایا۔

بالفرض مرزاقادیانی نے زور لگا کر ’’حِیْنَ‘‘ بمعنی موت ثابت بھی کر دیا تب اور بھی زیادہ ان کے معنی قابل اعتراض ہو جائیں گے۔ یعنی اس وقت ترجمہ آیت یہ ہوگا اور تمہارے لئے زمین میں استقرار اور فائدہ (اگر یہ جواب ہو کہ موت کے بعد جسم تو زمین میں ہی رہتے ہیں۔ مگر ان کو زمین سے کچھ فائدہ نہیں ملتا تو اس کے رد میں آیت ’’ثم اقبرہ‘‘ اور آیت: ’’اَلَمْ نَجْعَلَ الْاَرْضَ کفاتًا احیاء وامواتًا‘‘ پر نظر کرو) موت تک ہے۔ جس سے یہ نکلا کہ موت کے بعد اموات کی لاشیں زمین سے اٹھائی جاتی ہیں۔ قبروں میں نہیں دبائی جاتیں۔ بلکہ وہ فضا میں چلی جاتی ہیں۔ اس معنی کا غلط ہونا ظاہر ہے۔ اس وقت آپ کو ’’حِیْنَ‘‘ کا ترجمہ مجبوراً ’’وقت‘‘ کرنا پڑے گا۔ جیسا کہ شاہ رفیع الدین رحمہم اللہ علیہ وشاہ عبدالقادر رحمۃ اللہ علیہ نے کیا ہے۔ غرض بہرصورت آپ کے استدلال کا بودا اور کمزور اور غلط ہونا ظاہر ہوگیا اور کھل گیا کہ گو آپ نے آیت کا ترجمہ بھی غلط کیا اور اپنی طرف سے الفاظ بھی زیادہ کئے مگر بایں ہمہ مساعی پھر بھی مرزاقادیانی حصول مرام میں ناکامیاب ہی رہے۔

جواب:

۷… ہم اس پاگل مخبوط الحواس جس سے مخاطب ہیں۔ اس سے پوچھئے کیا ایک مستقر میں رہتے ہوئے عارضی طور پر کوئی دوسری جگہ نہیں جاسکتا۔ کیا ملائکہ کا مستقر آسمان ہونا ان کے نزول الیٰ الارض سے مانع ہے۔ کیا آج تمام انسانوں مع مرزائی ٹولے کا مستقر زمین ہونا ان کے خلائی پرواز کر کے اپنے جنم بھومی (انگلینڈ جرمنی) پہنچنا غیرمعقول اور محال ہے۔ کیا امریکی اور روس چاند گاڑیوں کا زمینی مخلوق کو لے کر دورارض سے نکلنا محال تھا؟ کیا یہ واقع نہیں ہو چکا؟ اب تو مخلوق خدا مریخ، زحل اور اس سے بھی اوپر پرواز کرنے کے منصوبے بنارہے ہیں بلکہ ارض قمر میں خلائی اسٹیشن اور بستیاں قائم کر کے مستقر انسانی ارض کو ترک کرنے کا اعلان کر کے تاحیات کی قبر پر تعزیت کے ڈونگرے برسارہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان دوجزء سے مرکب ہے۔ بدن اور روح، اور دونوں کا مزاج اور تقاضے اور تاثیرات الگ الگ ہیں۔ بدن تو

340

ثقل ارض میں جکڑا ہوا ہے۔ مگر روح ثقل جسمانی کی گرفت میں ہے تو ظاہر ہے کہ مزاحمت وتقابل میں ہر دو فریقین کا غلبہ ممکن ہوتا ہے۔ لہٰذا جیسے عموماً ثقل ارضی غالب رہتا ہے تو کبھی کشش سمائی کا غلبہ بھی ممکن ومحتمل تسلیم کرنا پڑے گا یہ کوئی بعید از عقل بات نہیں۔ لہٰذا جب رحمت کائنات ﷺ کی کامل ترین روحانیت کے تحت اسراء کا واقعہ عین ممکن اور واقع ہوچکا ہے تو بسلسلہ مسیح علیہ السلام بضمن روحانیت وہ کشش سمائی کے دائرہ میں کیوں نہیں جاسکتے؟ بالخصوص جب کہ ان کی روحانیت ابتداء سے ہی غالب رکھی گئی ہے۔

جواب:

۸… کلمۂ طیبہ: : ’’محمد رسول ﷲ‘‘ اس کا ترجمہ ہے۔ محمد ﷺ ﷲ کے رسول ہیں تو کیا حضرت موسیٰ وعیسیٰ علیہم السلام ﷲتعالیٰ کے رسول نہیں؟ پس جس طرح محمد رسول ﷲ کہنے سے دیگر انبیاء کی رسالت کی نفی نہیں ہوتی۔ اسی طرح ’’ولکم فی الارض مستقر‘‘ کہنے سے ’’فی السماء مستقر‘‘ کی نفی نہیں ہوتی۔

جواب:

۹… ’’ولکم فی الارض‘‘ کے مخاطب تمام بنی آدم ہیں۔ تب بھی مسیح علیہ السلام کا مستقر آسمان نہیں بلکہ عارضی قیام ہے۔

جواب:

۱۰… ’’مامن عام الا وقد خص عنہ البعض‘‘ کے تحت مستقر فی الارض کی بجائے ’’مستقر فی السماء للمسیح‘‘ ہوگیا تو بھی سو فیصد ہوا۔

چودھویں آیت:

’’وَمَنْ نُّعَمِّرْہُ نُنَکِّسْہُ فِی الْخَلْقِ (یٰسین:۶۸)‘‘ {اور جس کو ہم بوڑھا کریں، اوندھا کریں اس کی پیدائش میں۔}

قادیانی استدلال:

تشریح: ’’یعنی انسانیت کی طاقتیں اور قوتیں اس سے دور ہو جاتی ہیں۔ حواس میں اس کے فرق آجاتا ہے۔ عقل اس کی زائل ہو جاتی ہے۔‘‘ (ازالہ اوہام ص۶۱۰، خزائن ج۳ ص۴۲۹)

(اور یہ وہ کیفیت ہے جو دنیا میں بڑھاپے کی حالت میں عام مشاہدہ میں آتی ہے)

(ازالہ اوہام ص۶۱۰، خزائن ج۳ ص۴۲۹)

الجواب:

۱… مرزاقادیانی کے اس وجہ استدلال کا جواب آٹھویں اور بارھویں آیت کے تحت ہوگیا ہے۔ ناظرین ملاحظہ فرمائیں باربار یہی عرض ہے کہ مرزاقادیانی بطور کلیہ قاعدہ کے عمر کے وہ مقدار قرار دیں۔ جس کو ارذل عمر کہہ سکیں اور جس پر تنکیس فی الخلق صحیح ثابت ہوسکے۔ ہم توریت وغیرہ کتابوں میں لکھا دیکھتے ہیں کہ حضرت آدم علیہ السلام کی ۹۳۰ برس، حضرت شیث علیہ السلام کی ۹۱۲، حضرت نوح علیہ السلام کی ۱۰۰۰، حضرت ادریس علیہ السلام کی ۳۶۵، حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ۱۲۰، حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ۱۷۵ سال کی عمریں تھیں اور بایں ہمہ ان کے انسانیت کے قویٰ میں کچھ فرق نہ آیا تھا۔ اصحاب کہف کا قصہ پڑھنے سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ بعض انسانی جسموں کو صدیوں کے زمانہ کا اثر محض اتنا ہوتا ہے۔ جتنا ہم لوگوں پر ۶؍گھنٹے یا ۱۲؍گھنٹے یا ۲۴؍گھنٹے یا ۴۸؍گھنٹے گزر جانے سے، اگر ناظرین اور مرزاقادیانی کے نزدیک ایک ۳۳سال کا جوان شخص ایسا پیر ہرم اور شیخ فانی ہوسکتا ہے کہ اس کی قوت جسمانی اور قویٰ بشری بالکل ہی اسے جواب دے جائیں تو حضرت مسیح علیہ السلام کی نسبت بھی مرزاقادیانی کو ایسا خیال باندھ لینے کا حق ہے۔ لیکن اگر یہ ایک قابل تمسخر بات سمجھی جائے کہ کوئی نوجوان شخص معمولی قاعدہ انحطاط بدنی کے لحاظ سے ۴۸؍گھنٹہ میں شیخ فانی ہوسکے تو یقینا

341

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا پیر ضعیف ہو جانا بھی غلط ہے۔

حوالہ:

حکیم نورالدین جو ’’فصل الخطاب‘‘ میں مان چکے ہیں کہ الہامی زبان میں ایک یوم ایک سال کو کہتے ہیں۔ وہ اس بیان سے زیادہ تر فائدہ حاصل کر سکتے ہیں کہ وحی ربانی میں ۳۰۹برس کو ایک یوم یا ایک یوم کا حصہ کہاگیا ہے۔ ان کواربعہ لگا لینا چاہئے کہ جب الہامی زبان میں ۳۰۹برس برابر ہیں ایک دن کے، تو دوہزار برس کتنے دن کے برابر ہوتے ہیں۔ یہ سوال حل کرنے سے پہلے یہ بھی غور فرمالینا چاہئے کہ (اصحاب کہف) ۳۰۹برس کا بعض یوم کے برابر ہونا تو اسی طبقۂ ارض پر ثابت ہے۔ مملکت آسمانی کا حساب اس سے نرالا ہے۔ رب کریم قرآن مجید میں فرماتا ہے: ’’اِنَّ یَوْمًا عِنْدَ رَبِّکَ کَاَلْفِ سَنَۃٍ مِمَّا تَعُدُّوْنَ (الحج:۴۷)‘‘ جس کو تم ہزارسال شمار کرتے ہو۔ وہ پروردگار کے ہاں ایک یوم ہے۔ اس اعتبار سے مسیح علیہ السلام کو آسمان پر گئے ہوئے چند دن ہوتے ہیں۔

واضح ہو ’’اِنَّ یَوْمًا عِنْدَ رَبِّکَ‘‘ کو مرزاقادیانی نے (ازالہ اوہام ص۶۹۶، خزائن ج۳ ص۴۷۵) پر درج کیا ہے اور اس حساب سے روز ششم کو الف ششم کا قائم مقام بتا کر اپنی پیدائش اس میں ثابت کی ہے اس لئے اب مرزاقادیانی اس حساب سے انکار نہیں کر سکتے۔

جواب:

۲… مندرجہ بالا امور کے علاوہ ایک ضابطہ یہ بھی قابل توجہ ہے کہ ہر جہاں کی آب وہوا اور تغیر وتبدل کے ضوابط الگ الگ ہیں تو اس ضابطہ کے تحت یہ سطح ارض ہے جہاں ہر چیز بزود یا بدیر (کلی مشکک کے طور پر) تغیر پذیر ہو رہی ہے۔ مگر عالم بالا (آسمان) ایک غیرمتغیر ماحول ہے وہاں کوئی چیز بھی تغیرپذیر نہیں ہوتی۔ دیکھئے وہ ارواح وملائکہ کا جہاں اور ماحول ہے وہاں یہ نوع مخلوق لاکھوں سال سے غیر متغیر حالت میں موجود ہیں۔ آج تک کبھی نہیں سنا گیا کہ کوئی ایک فرشتہ عمررسیدہ ہوکر فوت ہوگیا۔ یا وہ نہایت بوڑھا ہوگیا۔ یا کم ازکم اس کی سروس پوری ہوکر وہ اپنی ڈیوٹی سے پنشن یافتہ ہوگیا ہو۔

جواب:

۳… عالم بالا خداتعالیٰ کی تجلی گاہ ہے تو جیسے اس کی ذات عالیہ ازل ابدی ہے۔ وہ تغیروتبدل سے بکلی منزہ ہے۔ ایسے ہی اس کا ماحول، آسمان بھی غیرمتغیر ہے اگرچہ اس کے سوا سب مخلوق ہے اور ایک دن وہ لقمۂ فنا بنیں گے مگر وہاں عالم دنیا اور ناسوت کی طرح، تدریج وتسلسل نہیں ہے۔ تغیر وتنزل کا کوئی وجود نہیں۔ لہٰذا جب حضرت مسیح علیہ السلام بقدرت الٰہی وہاں پہنچ گئے تو وہاں کا ٹائم ٹیبل ہے۔ وہاں کی آب وہوا ہے جس کے تحت وہ لاکھ سال بھی بلاتغیر وتبدل رہ سکتے ہیں۔ مرزاقادیانی چونکہ سفل الطبع تھے۔ ان کی ذہنی اور روحانی پرواز نکتہ انجماد سے بھی ڈاؤن تھی۔ اس لئے یہ عام اور موٹی بات بھی ذہن میں نہ آسکی جس کی بناء پر وہ معراج جسمانی کے انکار پر اترے ہوئے ہیں اور رفع ونزول مسیح علیہ السلام بھی ان کے اس سفل ادراک سے ماورا ہے۔ وہ اس میدان کے فرد ہی نہیں یہ مسئلہ بمع دیگر ایسے مسائل کے تو عقول صافیہ کا مسئلہ ہے۔ مرزاقادیانی کے سامنے ایسے حقائق تو ایسے ہیں جیسے کوئی بھینس کے سامنے بین بجا کر اس سے اپنی بہترین موسیقی پر داد تحسین وصول کرنا چاہے۔ یہ صاحب تو احمق علی الارض کا نمونہ ہے۔ لہٰذا ’’وضع العلم عند غیر اہلہ کمقلد الخنازیر اللؤلؤ‘‘ والا مسئلہ ہے۔

پندرھویں آیت:

’’اَللّٰہُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّنْ ضُعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ ضُعْفٍ قُوَّۃً ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ قُوَّۃٍ ضُعْفًا وَّشَیْبَۃً (الروم:۵۴)‘‘ { ﷲ ہے جس نے بنایا تم کو کمزوری سے پھر دیا کمزوری کے پیچھے زور پھر دے گا زور کے پیچھے کمزوری اور سفید بال (بڑھاپا)۔}

342

قادیانی استدلال:

تشریح: ’’یہ آیت بھی صریح طور پر اس بات پر دلالت کر رہی ہے کہ کوئی انسان اس قانون قدرت سے باہر نہیں اور ہر ایک مخلوق اس محیط قانون میں داخل ہے کہ زمانہ اس کی عمر پر اثر کر رہا ہے۔ یہاں تک کہ تاثیر زمانہ سے وہ پیر فرتوت ہو جاتا ہے اور پھر مرجاتا ہے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۶۱۰، خزائن ج۳ ص۴۲۹)

الجواب:

یہ سچ ہے مگر آیت میں مسیح علیہ السلام کے مرچکنے کی دلیل اور مرزاقادیانی کے بیان میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے وفات کر جانے کی وجہ استدلال ذرا بھی موجود نہیں۔ اچھا اگر کوئی شخص مشہور کر دے کہ مرزامسرور قادیانی کا انتقال ہوگیا اور جب کوئی اس سے پوچھے کہ تم کو کیونکر معلوم ہوا تو وہ یہی آیت پڑھ دے تو آپ اس کی وجہ استدلال کو کیا کہیں گے؟ ہمارا اعتقاد یہ ہے کہ اس وقت مسیح علیہ السلام ’’ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ ضُعُفٍ قُوَّۃ‘‘ کے مصداق حال ہیں۔ نزول برزمین کے بعد ’’ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ قُوَّۃٍ ضُعْفًا وشَیْبَہ‘‘ کی حالت ان پر طاری ہوگی۔

جواب:

پہلے کمزور پھر طاقتور پھر کمزور سفید بال! اگر قادیانیوں کے نزدیک قاعدہ کلیہ ہے تو پھر جو بچہ نوعمری میں مرگیا وہ کلیہ میں شامل ہے؟ سیدنا نوح علیہ السلام ہزار برس کے ہوکر بھی پیرفرتوت نہ ہوئے۔ حالانکہ مرزاقادیانی ۶۰سال کے ہوکر پیرفرتوت ہو گئے تھے کہ دائیں بائیں جوتے کی تمیز نہ تھی تو ایک بچہ کے لئے چند دن کی زندگی، نوح علیہ السلام کے لئے ہزاربرس کی زندگی، اس آیت کے منافی نہیں۔ بلکہ مستثنیات ہیں تو مسیح علیہ السلام کے لئے کیوں نہیں؟ جب کہ وہ اس عالم میں ہی نہیں ہیں بلکہ عالم بالا میں ہیں۔

سولہویں آیت:

’’اِنَّمَا مَثَلُ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا کَمَآ ء اَنْزَلْنَہُ مِنَ السَّمَآ ء فَاخْتَلَطَ بِہٖ نَبَاتُ الْاَرْضِ مِمَّا یَاْکُلُ النَّاسُ وَالْاَنْعَامُ (یونس:۲۴)‘‘ {دنیا کی وہی مثل ہے جیسے ہم نے پانی اتارا آسمان سے پھر رلا ملا نکلا اس سے سبزہ زمین کا جو کہ کھائیں آدمی اور جانور۔}

قادیانی استدلال:

’’یعنی اس زندگی دنیا کی مثال یہ ہے جیسے اس پانی کی مثال ہے جس کو ہم آسمان سے اتارتے ہیں۔ پھر زمین کی روئیدگی اس سے مل جاتی ہے پھر وہ روئیدگی بڑھتی اور پھولتی ہے۔ آخرکاٹی جاتی ہے۔ یعنی کھیتی کی طرح انسان پیدا ہوتا ہے۔ اوّل کمال کی طرف رخ کرتا ہے پھر اس کا زوال ہوتا جاتا ہے۔ کیا اس قانون قدرت سے مسیح علیہ السلام باہر رکھاگیا ہے؟‘‘ (ازالہ اوہام ص۶۱۱، خزائن ج۳ ص۴۳۰)

جواب:

۱… کاش مرزاقادیانی اس مثال سے ہی فائدہ اٹھاتے اور سمجھتے کہ سب روئیدگی کی قسمیں زمین سے اگنے، کمال تک پہنچنے اور بڑھنے اور پھر زوال کی جانب مائل ہوکر خشک ہونے میں درجہ مساوی نہیں رکھتیں۔ چنا ان ہرسہ مراتب کو دو ماہ میں طے کر لیتا ہے اور نیشکر (کماد) کو کمال تک پہنچنے کے لئے دس ماہ کا عرصہ درکار ہے۔ سن اور ہالوں کا بیج چند پہر میں زمین سے اگ آتا ہے اور گنوارے اور کھنڈی کا بیج سال بھر تک زمین میں جوں کا توں پڑا رہتا ہے۔ افسوس کہ آپ حارث وحراث ہونے کے دعویدار ہوکر بھی ان مثالوں سے بہت کم مستفید ہوتے ہیں۔ ہم مانتے ہیں کہ مسیح علیہ السلام اس قانون قدرت سے باہر نہیں۔ مگر اس قانون میں مساوات شخصی نکال کر آپ دکھا دیجئے۔

جواب:

۲… مرزاقادیانی کے لئے یہ نمونہ میں کافی ہے کہ اگر یہ ضابطہ عام مانا جائے تو پھر تمام انبیاء حیوان، جماد ایک ہی رفتار سے سفر کریں۔ یہ انسان ایک ہی طرح کے حالات وتغیرات سے دوچار ہو۔ فعلی اور پودے ایک ہی رفتار سے پیداہوں۔ بڑھیں اور قابل استفادہ ہوں۔ حالانکہ ان امور میں ناقابل فہم تفاوت سامنے ہے ایک پودہ چند دن میں اپنا سفر طے کر رہا ہے اور ایک پودہ صدیوں تک اپنا سفر حیات طے کرتا ہے۔ ایک جانور چند لمحات کا مسافر ہوتا ہے (جیسے کئی قسم کے

343

جراثیم) اور کئی حیوان انسان سے بھی بڑھ کر عمر پاتے ہیں اور دیکھئے یہ قانون خود مرزاقادیانی کے گھر میں بھی نافذ رہا ہے کہ اس کا کوئی بچہ پیٹ ہی سے چل بسا۔ کوئی چند دن زندہ رہ کر کوئی چند سال کے بعد اور کوئی لمبی عمر پا کر فوت ہوئے تو جب رفتار حیات کسی کی بھی مساوی نہیں تو مرزاقادیانی صرف مسیح علیہ السلام کو قانون مساوی کے کیوں پابند کرنے کے درپے ہیں؟ جب اس متغیر سطح ارضی پر کئی صدیاں انسان زندہ رہ چکے ہیں۔ (اصحاب کہف سیدنا نوح علیہ السلام) تو اس غیرمتغیر جہان میں جہاں کا ٹائم ٹیبل بھی اس جہاں سے کہیں متفرق ہے۔ وہاں باذن الٰہی مسیح علیہ السلام چند صدیاں زندگی نہیں گزار سکتے۔ آخر سارے جہاں سے صرف مرزاقادیانی کو ہی کیوں اتنا فکر ہورہا ہے۔ حالانکہ مرزاقادیانی خود بھی جسمانی حیات مسیح علیہ السلام کا مشاہدہ کر چکے ہیں۔ چنانچہ کئی جگہ لکھ چکے ہیں کہ میں نے مسیح علیہ السلام کے ہمراہ کئی دفعہ ایک دسترخوان پر کھانا بھی کھایا اور ایک جگہ لکھا کہ میں نے مسیح علیہ السلام کے ساتھ ایک ہی پیالہ میں گائے کا گوشت بھی کھایا۔ (تذکرہ ص۴۴۷) معلوم ہوا کہ وہ جوان ہیں زندہ ہیں کھاتے پیتے بھی ہیں۔

سترھویں آیت:

’’ثُمَّ اِنَّکُمْ بَعْدَ ذٰلِکَ لَمَیِّتُوْنَ (المؤمنون:۱۵)‘‘ {پھر تم اس کے بعد مرو گے۔}

قادیانی استدلال:

’’یعنی اوّل رفتہ رفتہ خداتعالیٰ تم کو کمال تک پہنچاتا ہے اور پھر تم اپنا کمال پورا کرنے کے بعد زوال کی طرف میل کرتے ہو یہاں تک کہ مر جاتے ہو۔ یعنی تمہارے لئے خداتعالیٰ کی طرف سے یہی قانون قدرت ہے کوئی بشر اس سے باہر نہیں۔ اے خداوند قدیر! اپنے اس قانون قدرت کو سمجھنے کے لئے ان لوگوں کو بھی آنکھ بخش جو مسیح ابن مریم علیہ السلام کو اس سے باہر سمجھتے ہیں۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۶۱۱، خزائن ج۳ ص۴۳۰)

جواب:

۱… ناظرین زبان عرب میں حرف ثُمَّ، تراخی اور ترتیب کے لئے آتا ہے اور اسی لئے ہم نہایت صدق دل سے گواہی دیتے ہیں۔ ’’وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَیُوْشَکَنَّ اَنْ ینزل فِیْنَا ابْنُ مَرْیَمَ حَکَمَا عَدَلًا ثُمَّ اِنَّہُ بَعْدَ ذٰلِکَ لیموت‘‘ مرزاقادیانی قانون قدرت کے موٹے موٹے حروف تو پڑھ لیتے ہیں۔ مگر کیا اچھا ہو کہ اس کی تشریحات بھی ملاحظہ کر لیا کریں۔

جواب:

۲… رفتہ رفتہ کمال سیدنا مسیح علیہ السلام کا دور چل رہا ہے۔ اس کے بعد: ’’بعد ذالک لمیتون‘‘ میں داخل ہوں گے کیا یہی آیت پڑھ کر اس وقت تمام زندہ لوگوں کی وفات پر استدلال کیا جاسکتا ہے؟ نہیں اور ہرگز نہیں تو پھر مسیح علیہ السلام کی وفات پر استدلال کیسے صحیح ہوگا؟

اٹھارویں آیت:

’’اَلَمْ تَرَا اَنَّ اللّٰہَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآ ء مآ ء فَسَلَکَہٗ یَنَابِیْعَ فِی الْاَرْضِ ثُمَّ یُخْرِجُ بِہٖ زَرْعًا مُّخْتَلِفًا اَلْوَانُہٗ ثُمَّ یَہِیْجُ فَتَرٰہُ مُصْفَرَّا ثُمَّ یَجْعَلُہٗ حُطَامًا اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَذِکْرٰی لِاُوْلِی الْاَلْبَابِ (الزمر:۲۱)‘‘ {تو نے نہیں دیکھا کہ ﷲ نے اتار آسمان سے پانی، پھر چلایا وہ پانی چشموں میں زمین کے، پھر نکالتا ہے اس سے کھیتی کئی کئی رنگ بدلتے اس پر، پھر آئے تیاری پر تو دیکھے اس کا رنگ زرد پھر کر ڈالتا ہے اس کو چورا چور، بے شک اس میں نصیحت ہے عقل مندوں کے واسطے۔}

قادیانی استدلال:

’’ان آیات میں بھی مثال کے طور پر یہ ظاہر کیا ہے کہ انسان کھیتی کی طرح رفتہ رفتہ اپنی عمر کو پورا کر لیتا ہے اور پھر مر جاتا ہے۔‘‘ (اور حضرت مسیح علیہ السلام بھی بحیثیت انسان اس قاعدہ کلیہ اور قانون قدرت سے باہر نہیں رہ سکتے۔ مرتب) (ازالہ اوہام ص۶۱۲، خزائن ج۳ ص۴۳۰)

جواب:

مرزاقادیانی وفات مسیح علیہ السلام پر اس آیت سے استدلال کی وجہ کچھ نہیں لکھ سکے۔ کھیتی کی مثال سچ ہے مگر

344

اس مثال میں مرزاقادیانی کی غلط فہمی کا اظہار سولہویں آیت کے تحت میں ہم کر چکے ہیں۔ رفتہ رفتہ عمر پوری کرتا ہے لیکن عمریں مختلف ہیں۔ بچہ کی اور بوڑھے کی اور نوح علیہ السلام کی اور اصحاب کہف کی اور مسیح علیہ السلام کی اور اس تدرج طبعی کو سوفیصد تسلیم کرتے ہیں کہ ہر انسان ہی نہیں بلکہ ہر فرد مخلوق آہستہ آہستہ موت تک ہی سفر طے کر رہا ہے۔ ہر فرد مخلوق ’’کل من علیہا فان‘‘ سے مستثنیٰ نہیں مگر یہ بات کہ مسیح علیہ السلام پر موت آگئی کہاں ثابت ہوا۔ کیا امکان اور وقوع میں فرق نہیں؟

انیسویں آیت:

’’وَمَا اَرْسَلْنَا قَبْلَکَ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّا اِنَّہُمْ لَیَاکُلُوْنَ الطَّعَامَ وَیَمْشُوْنَ فِیْ الْاَسْوَاقِ (الفرقان:۲۰)‘‘ {اور جتنے بھیجے ہم نے تجھ سے پہلے رسول سب کھاتے تھے کھانا اور پھرتے تھے بازاروں میں۔}

قادیانی استدلال:

’’یعنی ہم نے تجھ سے پہلے جس قدر رسول بھیجے ہیں وہ سب کھانا کھایا کرتے تھے اور بازاروںمیں پھرتے تھے۔ اس آیت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اب تمام نبی نہ کھانا کھاتے ہیں نہ بازاوں میں پھرتے ہیں اور ہم پہلے بنص قرآنی ثابت کر چکے ہیں کہ دنیوی حیات کے لوازم میں سے طعام کا کھانا ہے۔ لہٰذا اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ سب فوت ہوچکے ہیں جن میں بوجہ کلمہ حصر مسیح بھی داخل ہے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۶۱۲،۶۱۳، خزائن ج۳ ص۴۳۱)

الجواب:

۱… ناظرین ﷲتعالیٰ نے یہ آیت ان منکرین نبوت کے جواب میں نازل فرمائی ہے جو رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا انکار کرتے اور رسالت کو بنظر حقارت دیکھتے اور یوں کہا کرتے تھے۔ ’’مَا لِہٰذَ الرَّسُوْلِ یَأْکُلُ الطَّعَامَ وَیَمْشِیْ فِی الْاَسْوَاقِ (الفرقان:۷)‘‘ یہ رسول کیسا ہے، جو کھانا بھی کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا بھی ہے۔ ﷲتعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو ان کی اس بیہودہ گفتگو کے جواب میں بطور تشفی وتسکین قلب فرمایا ہے۔ کہ بازاروں میں پھرنا اور طعام کھانا اگر رسالت کے منافی ہے تو سارے کے سارے پیغمبر ایسے ہی گزرے ہیں۔ جن میں یہ صفات لوگوں نے دیکھے اور معلوم کئے اور بایں ہمہ یہ معترض ان میں سے بعض کی نبوت کا یقین بھی رکھتے ہیں۔ مثلاً نصاریٰ اور یہود اور عرب کے اکثر قبیلے اب آپ خیال فرمائیں کہ اس میں کون سی دلیل وفات مسیح کی ہے۔

حضرت مسیح علیہ السلام کے طعام کھانے یا نہ کھانے کی بحث ساتویں آیت کے تحت میں ہوچکی۔ مرزاقادیانی آپ نے ان تین آیتوں کو دلیل وفات مسیح بنانے میں حصر اور تعمیم سے بہت ہی کام لیا ہے اور یہ دل میں ٹھان لی ہے کہ اگر ایک تعمیم کی دوسری نص تخصیص کر دیتی ہو تو اس تخصیص کا ہرگز اعتبار نہیں کریں گے۔ مگر یہ کاغذکی ناؤ چلتی نظر نہیں آتی۔ ’’اَوَلَمْ یَرَالْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنَاہُ مِنْ نُطْفَۃٍ فَاِذَا ہُوَ خَصِیْمٌ مُّبِیْنٍ (یٰسین:۷۷)‘‘ {کیا انسان نے نہیں دیکھا اور غور کیا کہ ہم نے اس کو نطفہ سے پیدا کیا اور وہ جھٹ کھلم کھلا خصومت رکھنے والا بن گیا۔}

آیت میں ’’اَلْاِنْسَانُ‘‘ کل انسانوں پر شامل ہے۔جس سے کوئی باہر نہیں۔ حالانکہ اسی آیت میں دو جگہ آپ کو تخصیص ماننی پڑے گی۔ اوّل ’’مِنْ نُطْفَۃ‘‘ میں کیونکہ حضرت آدم علیہ السلام انسان تھے مگر نطفہ سے پیدا نہ ہوئے تھے۔ دوم ’’خَصِیْمٌ مُّبِیْن‘‘ میں کیونکہ ہم یقینا اور ایماناً جانتے ہیں کہ انبیاء اور صدیقین نہایت فرمانبردار بندے ہوتے ہیں اور کبھی اپنے پروردگار سے خصومت نہیں کرتے۔

جواب:

۲… مرزاقادیانی یہ فرمائیں کہ طعام کھانا اور بازاروں میں پھرنا یہ مرسلین کا لازم حال تھا یا منجملہ صفات بشری کے ایک صفت، اگر لازمۂ حال تھا تو لازم آتا ہے کہ ہر ایک نبی اور مرسل نے وقت پیدائش سے لے کر

345

زندگی کی آخری ساعت تک، غرض اپنی تمام تر عمر کا کوئی لمحہ کوئی لحظہ کوئی منٹ کوئی سیکنڈ ایسا گزرنے نہ دیا ہو کہ وہ بازار میں نہ پھرتے ہوئے اور کچھ نہ کچھ کھاتے ہوئے نظر نہ آئے ہوں۔ غرض کہ ان کا منہ اور ان کے پاؤں ہر وقت چلتے ہی رہتے تھے۔ کیوں مرزاقادیانی آپ کے مذہب میں یہی معنی اس آیت کے ہیں؟ اگر یہی معنی ہیں تو اس کا بطلان نہایت صریح ہے لیکن اگر باوجود آیت کے الفاظ بالا کے یہ معنی آپ نہیں کرتے۔ بلکہ یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ ان کے کھانے اور بازاروں میں پھرنے کے خاص اوقات ہوں اور دیگر اوقات میں اکل طعام اور ’’مَشِیْ فِی السُّوْقِ‘‘ ان میں پایا بھی نہ جاتا ہو تب آیت بالا آپ کے کیا مفید ہے؟ اگر کسی معتکف وصائم کو دیکھ کر کوئی شخص یہ حکم لگا سکتا ہے کہ طعام کھانے اور بازاروں میں پھرنے کی صفت اس سے جاتی رہی تو اس کے دانشمند ہونے میں کسی کو شک ہوسکتا ہے؟ مرزاقادیانی ان نمونوں سے بھی مستفید نہیں ہوتے۔

جواب:

۳… ممکن ہے کہ مرزاقادیانی یا کوئی انکا مرید کبھی یہ استدلال بھی کرنے لگے کہ روزہ رکھنا اس آیت کے خلاف ہے۔ ’’ماجعلناہم جسدًا لا یاکلون‘‘ اور آیت ہذا: ’’انہم لیاکلون الطعام ویمشون فی الارض‘‘ اگر اس کو راز نبوت قرار دے لیاجائے تو پھرآپ ﷺ کے مراقبات حرا اور وصال کا انکار لازم آتا ہے۔

بیسویں آیت:

’’وَالَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ لَا یَخْلُقُوْنَ شَیْئًا وَّہُمْ یُخْلَقُوْنَ اَمْوَاتٌ غَیْرُ اَحْیَآئٍ وَمَا یَشْعُرُوْنَ اَیَّانَ یُبْعَثُوْنَ (النحل:۲۰،۲۱)‘‘ {اور جن کو پکارتے ہیں ﷲ کے سوا کچھ پیدا نہیں کرتے اور وہ خود پیداکئے ہوئے ہیں۔ مردے ہیں جن میں جان نہیں اور نہیں جانتے کب اٹھائے جائیں گے۔}

قادیانی استدلال:

’’دیکھو یہ آیتیں کس قدر صراحت سے مسیح علیہ السلام اور ان سب انسانوں کی وفات پر دلالت کر رہی ہیں جن کو یہود اور نصاریٰ اور بعض فرقے عرب کے اپنے معبود ٹھہراتے تھے اور ان سے دعائیں مانگتے تھے۔ اگر اب بھی آپ لوگ مسیح ابن مریم علیہ السلام کی وفات کے قائل نہیں ہوتے تو سیدھے یہ کیوں نہیں کہہ دیتے کہ ہمیں قرآن کریم کے ماننے میں کلام ہے۔ قرآن کریم کی آیتیں سن کر پھر وہیں نہ ٹھہر جانا کیا یہ ایمان داروں کا کام ہے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۶۱۳،۶۱۴، خزائن ج۳ ص۴۳۱)

جواب:

۱… ’’الذین‘‘ کا ترجمہ ’’جن لوگوں کو‘‘ صحیح نہیں کیونکہ ’’الذین‘‘ سے مراد اصنام (بت) بھی ہیں۔ لہٰذا صحیح ترجمہ یوں ہے۔ ’’اور جن کو پکارتے ہیں۔‘‘ اور چونکہ کفار میں زیادہ تربت پرستی ہی پائی جاتی تھی۔ (چنانچہ کعبہ کے ۳۶۰ بت جو فتح مکہ کے دن توڑے گئے اس پر شاہد ہیں) اس لئے۔

جواب:

۲… اموات کے بعد غیراحیاء کا ذکر کیاگیا تاکہ اصنام کی حقیقت اصلیہ ظاہر ہو جائے کہ وہ علی الاطلاق مردہ ہیں۔ ان کو حیات کی ہوا بھی نہیں لگی نہ پہلے کبھی نہ اب۔

جواب:

۳… ’’وَمَا یَشْعُرُوْنَ اَیَّانَ یُبْعَثُوْنَ (النحل:۲۱)‘‘ کا مطلب تو یہ ہے کہ ان معبودوں کو اس کا بھی شعور (علم) نہیں کہ ان کے پوجنے والے کب اٹھائے جائیں گے۔ (جلالین وفتح البیان) بلکہ ان سے بہتر تو ان کے عابد ہیں کہ ان کو علم وشعور اور حیات تو حاصل ہے۔ (دوسری طرز سے)

جواب:

۴… آیت کا یہ مطلب نہیں کہ معبود ان مصنوعی مرچکے ہیں بلکہ یہ مطلب ہے کہ ان سب کو موت آنے والی ہے۔ صرف لفظ اموات کو دیکھ کر یہ نتیجہ نکال لینا کہ وہ سب کے سب مرچکے ہیں غلط ہے۔ ’’اِنَّکَ مَیِّتٌ وَّاِنَّہُمْ مَّیِّتُوْنَ (الزمر:۳۰)‘‘ اے رسول ﷺ تو بھی میت ہے اور وہ بھی، مطلب یہ ہوا کہ بالآخر موت آنے والی ہے۔ لہٰذا آیت کا صحیح ترجمہ یہ ہوا کہ تمام وہ لوگ جو ﷲ کے سوا پوجے جاتے ہیں۔ آخر کارمرنے والے ہیں گو ان میں کئی مرچکے ہوں اور ہم بھی مانتے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام بعد نزول فوت ہوجائیں گے۔

346

جواب:

۵… نیز مشرکین جنوں اور فرشتوں کو بھی پوجتے تھے کیا وہ سب مرچکے ہیں؟ کیونکہ وہ بھی ’’من دون اللّٰہ‘‘ میں شامل ہیں۔ نیز آج بھی کئی ایسے ملنگ پیر معبود ہیں جنکو جاہل لوگ سجدے کرتے ہیں ان کی عبادت کرتے ہیں تو کیا وہ اب مرے ہوئے ہیں؟ اصل مفہوم یہی ہے کہ جن کی لوگ پوجا کرتے ہیں وہ معرض فنا میں ہیں۔ بقا صرف ذات واحد کو ہے۔ ’’الحی القیوم‘‘ صرف ایک ہی ہے لہٰذا عبادت کا مستحق بھی یہی ہے۔ بلکہ تمام کے تمام ’’کل شی ہالک‘‘ اور ’’کل من علیہا فان‘‘ کے زیر تصرف ہیں۔ کیونکہ ماسوی ﷲ ہرچیز پردہ فنا میں تھی پھر عالم موجود میں آئی اس کے بعد پھر پردہ فنا سے دوچار ہونے والی ہے۔

ناظرین! مرزاقادیانی نے اپنی عبارت میں انسانوں کی قید اپنی طرف سے لگا دی ہے۔ آیت میں ہے اور اس لئے ایسے تین صفات بیان ہوئے جن سے کوئی خلوق جن وملک اور انسان وغیرہ اس تعمیم سے باہر نہیں رہ سکتے۔ (۱) ’’مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ‘‘ اس میں کل مخلوق شامل ہے۔ (۲)کسی کا خالق نہ ہونا۔ یہ بھی سب پر محیط ہے۔ (۳)مخلوق ہونا۔ یہ بھی بجز خدا کے سب کو گھیرے ہوئے ہیں۔ پس ان صفتوں والا اگر کسی قوم اور قبیلہ کا معبود سمجھایا مانا گیا ہے تو وہ مردہ ہے۔

جب ہم نصاریٰ کے مذہب پر نظر ڈالتے ہیں جو خدا کو ’’ثالث ثلثہ‘‘ جانتے ہیں اور اس کے علاوہ اقنوم قائم کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ خدا کے سوا ایک تو مسیح کو معبود جانتے ہیں دوسرے روح القدس کو۔ ان دونوں کی پرستش بھی کرتے ہیں اور ان دونوں کو پکارتے بھی۔

مرزاقادیانی اس آیت پر تمسک کر کے حضرت مسیح علیہ السلام کی وفات ثابت کرتے ہیں۔ میں ان سے دریافت کر لینا چاہتا ہوں کہ وہ روح القدس کو بھی مردہ جانتے ہیں، یا نہیں۔ اگر نہیں تو کیوں؟ کیا وہ ’’مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ‘‘ نہیں۔ یا وہ کسی شئے کا خالق بھی ہے یا وہ خود مخلوق نہیں یا نصاریٰ اس کو اسی طرح نہیں پکارتے۔ جس طرح مسیح کو پکارتے ہیں؟ اگر یہ سب صفات اس میں موجود ہیں تو پھر… روح القدس کو آیت کی تعمیم سے جدا رکھنے کی کیا وجہ ہے؟ اگر مرزاقادیانی کے پاس روح القدس کو اس عمومیت سے جدا رکھنے اور جدا باور کرنے کی کوئی وجہ ہے۔ تو یقین رکھئے کہ ہمارے پاس بھی ہے اور اگر وہ روح القدس کو بھی مردہ سمجھتے ہیں تو بسم ﷲ اس کا اقرار فرمائیں تاکہ ان کے بیسیوں دلائل پر پانی پھر جائے اور میں پھر معنی آیت گزارش کروں۔

ناظرین! (۱)ایک لطیف قصہ یاد رکھنے کے قابل ہے۔ جب قرآن مجید میں ’’اِنَّکُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ حَصَبُ جَہَنَّمَ (الانبیاء:۹۸)‘‘ نازل ہوا۔ تو مشرکین نے اس تعمیم کو دیکھ کر خوب تالیاں لگائیں اور خوش ہوکر کہا کہ اگر ہم اور ہمارے بت جہنم میں ڈالے جائیں گے تو ہم کو کچھ غم نہیں۔ کیونکہ اسی قاعدہ ’’وَمَا تَعْبُدُوْنَ‘‘ کے بموجب نصاریٰ کے ساتھ مسیح کو بھی جہنم میں ڈالا جائے گا اور ہم اس پر خوش ہیں کہ جب مسیح جہنم میں جائے تو ہم اور ہمارے بت بھی وہیں ڈالے جائیں۔ اس پر ﷲتعالیٰ نے یہ نازل فرمایا۔ ’’مَاضَرَبُوْہُ لَکَ اِلَّا جَدَلًا بَلْ ہُمْ قَوْمٌ خَصِمُوْنَ (الزخرف:۵۸)‘‘ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نظیر جوان کفار نے پیش کی ہے۔ یہ ان کا مجادلہ ہے یہ لوگ محض خصومت سے ایسی باتیں کرتے ہیں: ’’اِنْ ہُوَ اِلَّا عَبْدٌ اَنْعَمْنَا عَلَیْہِ (الزخرف:۵۹)‘‘ حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو خدا کے ایسے بندہ ہیں جن پر خدا نے نعمت کی ہے۔ پس آیت کریمہ کی اس تعمیم میں وہ منعم علیہ جس کی تخصیص واستثناء دیگر آیات سے

347

ہوچکی ہے۔ کیونکر شامل ہوسکتا ہے۔ فرمایا: ’’اِنَّ الَّذِیْنَ سَبَقَتْ لَہُمْ مِنَّا الْحُسْنٰی اُوْلٰئِکَ عَنْہَا مُبْعَدُوْنَ‘‘ گویا مرزاقادیانی نے فطرت کے لوگوں کو واضح کیا کہ عدم سے استدلال صحیح نہیں ہوتا۔

مرزاقادیانی ملاحظہ فرمائیں کہ ایسی تعمیمات سے تمسک واستدلال کرنا اور دیگر آیات پر نظر نہ ڈالنا وہ شیوہ اور وہ مسلک ہے جس پر مشرکین مکہ گامزن ہوچکے ہیں اور جن کی تکذیب قرآن مجید فرما چکا ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ مرزاقادیانی کا استدلال نہ شرعی ہے نہ عالمانہ بلکہ آیت مذکورہ ایسے استدلال کا نام مجادلہ رکھتی اور مستدل کو ’’قوم خصمون‘‘ میں شامل کرتی ہے۔ ’’فَاعْتَبِرُوْا یَا اُوْلِی الْاَبْصَارِ‘‘

۲… ’’اَمْوَاتٌ غَیْرُ اَحْیَائٍ‘‘ پر بھی غور فرمائیے۔ غور طلب امر یہ ہے کہ یہ ’’من دون اللّٰہ‘‘ جن کو پکارا جاتا ہے۔ یہ ’’اَمْوَاتٌ غَیْرُ اَحْیَائٍ‘‘ حَالاً ہیں یا مآلاً ہیں۔ یعنی کیا آیت کے یہ معنی مرزاقادیانی کرتے ہیں کہ جب چند شخصوں نے کسی ’’مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ‘‘ کو پکارنا شروع کیا تو وہ فوراً مربھی جاتا ہے اور اس کی حیات بھی منقطع ہو جاتی ہے۔ اگر وہ یہی معنی کرتے ہیں۔ تب کچھ شک نہیں کہ یہ معنی خلاف واقع ہیں اور کلام ربانی کی شان عظیم اس سے برتر واعلیٰ ہے۔ ہم نے خود سینکڑوں ایسے شخص دیکھے ہیں اور مرزاقادیانی نے نیز ناظرین نے بھی دیکھے ہوں گے کہ ان کے بیوقوف معتقد اور مرید ان کو خدائے حاضر وناظر کی طرح ہر وقت ہر جگہ موجود جانتے ہیں اور اٹھتے بیٹھتے، جاگتے سوتے، یا پیر یا پیر ہی پکارا کرتے ہیں۔ ان کا بڑا مسئلہ یہ ہے کہ خدا روٹھ جائے تو پیر ملادیتا ہے اور پیر روٹھ جائے تو خدا نہیں ملا سکتا۔ اس لئے وہ ہمیشہ پیر کا درجہ رسول اور خدا سے برتر وافضل جانا کرتے ہیں اور بایں ہمہ طغیانی کفر وشرک یہ ’’مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ‘‘ معبود اپنی تمتع اور کامرانی کے دن بڑی عیش وشادمانی سے پورے کیا کرتے ہیں۔ یہ واقعات جن کا ظہور ہر شخص ہر روز دیکھ سکتا ہے۔ بتلا رہے ہیں کہ مرزاقادیانی کے معنی غلط اور خلاف واقع ہیں۔

اب رہا ان کا مآلا اموات اور غیراحیاء ہونا یعنی بالآخر ان مشرکین کے معبودوں نے ایک روز مرنا ہے۔ یہ بے شک صحیح ہے مگر اب آیت میں مسیح علیہ السلام کی وفات بالفعل پرذرا بھی اشارت باقی نہ رہے گا اور مرزاقادیانی کا ہم پر کچھ اعتراض نہ رہ گیا۔ کیونکہ حضرت مسیح علیہ السلام کی وفات بزمانہ آئندہ کو ہم بھی تسلیم کرتے ہیں اور ’’کل نفس فان‘‘ کا اثر ونفاذ مسیح پر بھی تسلیم کرتے ہیں۔

(جوابات بالا مرزاقادیانی کی تفہیم کے لئے عرض کئے گئے ہیں۔ ورنہ مفسرین نے آیت کو بحق اصنام یعنی بتوں کے لئے لکھا ہے اور اموات غیراحیاء کے یہ معنی کئے ہیں کہ ان بنائے ہوئے معبودوں کو تو کبھی بھی حیات حاصل نہیں ہوئی۔ ان میں کبھی بھی لوازم زندگی پائے نہیں گئے اور اس لئے عدم محض ہیں اس معنی پر کوئی اعتراض مرزاقادیانی کا وارد نہیں ہوتا اور وفات مسیح کی دلیل کا تو اس میں ہونا ذرا بھی تعلق نہیں رکھتا)

اکیسویں آیت:

’’مَاکَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحْدٍ مِّنْ رِّجَالِکُمْ وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ (الاحزاب:۴۰)‘‘ {محمد باپ نہیں کسی کا تمہارے مردوں میں سے لیکن رسول ہے ﷲ کا اور مہر سب نبیوں پر۔}

قادیانی استدلال:

’’یہ آیت بھی صاف دلالت کر رہی ہے کہ بعد نبی ﷺ کے کوئی رسول دنیا میں نہیں آئے گا پس اس سے بھی بکمال وضاحت ثابت ہے کہ مسیح ابن مریم رسول ﷲ دنیا میں نہیں آسکتا، کیونکہ مسیح ابن مریم رسول ہے… اور یہ امر خود مستلزم اس بات کو ہے کہ وہ مرگیا۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۶۱۴، خزائن ج۳ ص۴۳۱)

348

الجواب:

۱… ناظرین یہاں مرزاقادیانی سے سخت غلط فہمی ہوئی ہے اور منشاء غلطی یہ ہے کہ سید الانبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ کی شان رفیعہ کے سمجھنے میں قصور ہوا ہے۔ قرآن مجید میں یہ آیت صریح اور نص قطعی موجود ہے: ’’وَاِذْ اَخَذَ اللّٰہُ مِیْثَاقَ النَّبِیِّیْنَ لَمَا اٰتَیْتُکُمْ مِّنْ کِتَابٍ وَّحِکْمَۃٍ ثُمَّ جَاء کُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقَ لِّمَا مَعَکُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِہٖ وَلَتَنْصُرُنَّہٗ (آل عمران:۸۱)‘‘ {جب خدا نے نبیوں سے اقرار لیا کہ جو کچھ میں نے تم کو کتاب اور حکمت دی ہے پھر جب تمہاری طرف رسول موعود آئے جو تمہاری سچائی ظاہر کرے گا تو تم ضرور اس پر ایمان لاؤ گے اور ضرور اس کی مدد کرو گے۔}

اس کا مفہوم ومنطوق یہ ہے کہ جس قدر انبیاء ورسل حضرت آدم علیہ السلام سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک گزرے ہیں۔ یہ سب وعدہ کر چکے ہیں کہ ہم محمد رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے شمار میں اپنے آپ کو داخل وشامل سمجھیں گے اور امتیوں کی طرح آپ کا کلمہ پڑھیں گے۔ اسی آیت کی عملی تفسیر اس حدیث معراج میں ہے۔ جو صحیح مسلم میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول خدا ﷺ نے امام بن کر نماز پڑھائی اور حضرت موسیٰ وحضرت عیسیٰ وحضرت ابراہیم علیہم السلام وغیرہ نے آپ ﷺ کے پیچھے مقتدی بن کر پڑھی۔ پس جب انبیاء گزشتہ کا شمار پہلے ہی سے حضور ﷺ کی امت میں حضور ﷺ کی رسالت کے بعد ہوتا ہے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا اس میثاق ازلی کے ایفاء کے طورپر دنیا میں آنا اور خلیفۂ مسلمین بننارسول کریم ﷺ کے اعلیٰ درجہ رسالت کا مظہر ہے نہ کہ آنحضرت ﷺ کے درجہ خاتمیت کے منافی۔ یہ امر کہ مسیح علیہ السلام آنحضرت ﷺ کی امت میں شمار ہوتے ہیں۔ مرزاقادیانی نے انیسویں آیت کے تحت میں (ازالہ اوہام ص۶۲۳، خزائن ج۳ ص۴۳۶) پر ان الفاظ میں مان لیا ہے۔ یہ ظاہر ہے کہ حضرت مسیح ابن مریم اس امت کے شمار میں ہی آگئے ہیں۔ یہ اقرار کرنے کے بعد مرزاقادیانی سے نہایت مستبعد معلوم ہوتا ہے کہ مسیح بن مریم کے آنے کا انکار اس آیت کے تمسک سے کریں اور تعجب پر تعجب یہ ہے کہ انبیاء گزشتہ میں سے اگر کوئی نبی اس میثاق ازلی کے موافق جس کی خبر قرآن مجید میں دی گئی۔ ہمارے سید حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی نصرت وخدمت کے لئے دنیا میں تشریف لائے تو مرزاقادیانی اس آیت کو اس کے لئے مانع خیال کرتے ہیں۔ مگر خود اپنے لئے ایک پہلو نکال کر یوں تحریر کرتے ہیں: ’’خاتم النّبیین‘‘ ہونا ہمارے نبی ﷺ کا کسی دوسرے نبی کے آنے سے مانع ہے۔ ہاں! ایسا نبی جو مشکوٰۃ نبوت محمدیہ ﷺ سے نور حاصل کرتا ہے اور نبوت تامہ نہیں رکھتا۔ جس کو دوسرے لفظوں میں محدث بھی کہتے ہیں۔ وہ اس تحریر سے باہر ہے۔ کیونکہ وہ بباعث اتباع اور فنا فی الرسول ہونے کے جناب ختم المرسلین کے وجود میں ہی داخل ہے۔ جیسے کل میں جزو داخل ہوتی ہے۔

(ازالہ اوہام ص۵۷۵، خزائن ج۳ ص۴۱۱)

دیکھو کیسے صاف لفظوں میں لکھ گئے کہ میں نبی ہوں اور یہ آیت میرے لئے مانع نہیں کیونکہ فنا فی الرسول ہوکر میں بھی محمد رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کا جزو بن گیا ہوں۔

اچھا مرزاقادیانی اگر بباعث اتباع اور فنا فی الرسول ہونے کے کوئی نبی ختم المرسلین کے وجود میں ہی داخل ہو جاتا ہے اور اس کی نبوت جداگانہ شمار نہیں ہوتی۔ تب بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آنا اور نزول فرمانا ثابت ہوگیا۔ کیونکہ صحیح مسلم کی حدیث معراج عن ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ثابت ہوچکا ہے کہ مسیح علیہ السلام نے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا اتباع کیا ہے اور فنا فی الرسول ہونے کی شہادت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اس وعظ سے ملتی ہے۔ جس میں انہوں نے اپنی امت کو وجود باوجود محمدی علی صاحبھا الصلوۃ والسلام کی بشارت سنا سنا کر فرمایا تھا۔ ’’آگے کو تم سے بہت باتیں نہ کروں گا کیونکہ اس دنیا کا سردار آتا ہے اور مجھ

349

میں اس کی کوئی چیز نہیں۔‘‘ یوحنا:۱۵، باب:۲۰ دنیا کا سردار اور مجھ میں اس کی کوئی چیز نہیں۔ خیال تو کرو کیسے الفاظ ہیں اور کس سچے دل اور صادق زبان سے نکلے ہیں۔ اگر فنا فی الرسول کا درجہ اس قول کے قائل کوبھی حاصل نہیں۔ (جس کا اپنے قول میں صادق ہونا سب کے نزدیک مسلم ہے) تو اور کس شخص کو ہوسکتا ہے؟ اس کے بعد مرزاقادیانی اس حدیث پر نظر فرمائیں۔ جس میں آنحضرت ﷺ نے انبیاء کو علاتی بھائی فرماکر آخر میں فرمایا ہے: ’’وَاَنَا اَوْلَی النَّاسِ بِعِیْسٰی ابْنِ مَرْیَمَ‘‘ یہاں آپ ذرا غور سے دیکھیں کہ آپ کی اصطلاح کے موافق عیسیٰ بن مریم تو محمد رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم میں اور محمد رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت مسیح علیہ السلام میں کس طرح داخل ہیں۔ غرض ثابت ہوا کہ آپ کی مستدلہ آیت آپ کے مفید نہیں ہوسکتی۔ بچند وجوہ!

۱… قرآن مجید شہادت دیتا ہے کہ سابقہ حملہ انبیاء آنحضرت ﷺ کی امت میں ہیں۔ لہٰذا اس میں سے کسی ایک کا آنا اور خلیفہ بننا بعینہٖ صدیق رضی اللہ عنہ اور فاروق رضی اللہ عنہ جیسا خلیفہ بننا ہے۔

۲… مرزاقادیانی نے مان لیا کہ مسیح علیہ السلام بھی اسی امت محمدیہ ﷺ کے شمار میں آچکا ہے۔

۳… مرزاقادیانی کہتے ہیں۔ میں نبی ہوں اور میرے لئے آیت خاتم النّبیین مانع نہیں کیونکہ مجھے درجہ فنافی الرسول حاصل ہے اور میں رسول خدا سے کچھ جدا نہیں ہوں۔

۴… فنا فی الرسول کا قاعدہ کلیہ حضرت مسیح پر زیادہ ثابت ہوتا ہے۔ انجیل اور صحیح مسلم اس کے گواہ ہیں۔

پس ثابت ہوگیا۔ مرزاقادیانی نے اس آیت سے استدلال میں بڑی غلطی کھائی ہے یا صریح مغالطہ دیا ہے۔

ناظرین! یہ بھی یاد رکھیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام جو خدا کے نبی ہیں۔ وہ ہمارے سید ومولا محمد مصطفیٰ ﷺ کے صحابی بھی ہیں۔ صحابی کی تعریف یہ ہے کہ اس نے ایمان کے ساتھ اس زندگی میں رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہو۔ آنحضرت ﷺ کا حضرت مسیح علیہ السلام سے شب معراج کو ملاقات کرنا ثابت ہے۔ پس نتیجہ یہ ہے کہ اگر صدیق رضی اللہ عنہ وفاروق رضی اللہ عنہ کی خلافت کے لئے آیت خاتم النّبیین مانع ہے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی خلافت کے لئے بھی ہے اور اگر ان کے لئے مانع نہیں تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے بھی مانع نہیں۔ ایک نبی کا نبی ہوکر پھر صحابی ہونا بھی بعید نہیں۔ حضرت ہارون علیہ السلام اور یحییٰ علیہ السلام کی مثالیں موجود ہیں۔ ہارون علیہ السلام تو موسیٰ علیہ السلام کے صحابی تھے۔ یحییٰ زکریا علیہ السلام کے۔

المختصر مرزاقادیانی کا یہ استدلال اور مفہوم اجماع امت کے بھی خلاف اور خود مرزاقادیانی کے مسلمہ اقرار واعتراف کے خلاف ہے۔ ملاحظہ فرمائیے کہ اس آیت کریمہ کے متعلق سابقہ تمام صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین اور بعد کے ائمۂ ہدیٰ، مجددین، ملہمین، مفسرین ومحدثین تمام متکلمین اور متصوفین نے اس آیت کا مفہوم خاتم الانبیاء علیہم السلام کی ختم نبوت پر نص صریح تسلیم کیا ہے اور اس کو آمد مسیح علیہ السلام کے رتی بھر منافی نہیں رکھا۔ یہ صحیح مفہوم تھا جو ہر زمانہ اور ہر دور میں مسلم تھا۔ اب مرزاقادیانی نے لکھا اجماعی مسئلہ کے منکر پر خدا ورسول اور تمام کائنات کی لعنت ہے۔ (ازالہ) پھر لکھا کہ سلف، خلف کے لئے بطور وکیل کے ہوتے ہیں ان کی شہادات ماننا ہی پڑتی ہیں۔ (ازالہ ص۴۷۴،۴۷۵)

جواب:

۲… سیدنا مسیح علیہ السلام کا آنا آپ ﷺ کی ختم نبوت کے منافی نہیں۔ مرزاقادیانی سے صدیوں پہلے علامہ آلوسی نے روح المعانی میں اس اعتراض کا جواب دے دیا ہے۔ ’’ای لاینباء احد بعدہ اما عیسٰی ممن نبی قبلہ‘‘ خاتم النّبیین کا معنی یہ ہے کہ آپ ﷺ کے بعد کسی کو منصب نبوت پر فائز نہیں کیا جائے گا۔ باقی رہے عیسیٰ علیہ السلام

350

تو وہ آپ ﷺ سے پہلے نبی بن چکے ہیں۔ اس لئے عیسیٰ علیہ السلام کی آمد آپ ﷺ کی ختم نبوت کے منافی نہیں۔

جواب:

۳… معراج کی رات تمام انبیاء علیہم السلام موجود تھے تو بھی آپ ﷺ خاتم النّبیین تھے۔ قیامت کے دن تمام انبیاء علیہم السلام موجود ہوں گے تب بھی آپ ﷺ خاتم النّبیین ہوں گے۔ اس لئے کہ وہ آپ ﷺ سے پہلے نبی بنائے جاچکے۔ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی بنے تو آپ ﷺ کی ختم نبوت کے منافی ہے۔

جواب:

۴… سیدنا مسیح علیہ السلام کی آمد ثانی آنحضرت ﷺ کے بعد کسی کو نبی نہیں بنا رہی۔ نہ شمار انبیاء میں اضافہ ہورہا ہے۔ آپ ﷺ کے بعد کوئی نیا نبی نہیں بن رہا۔ بلکہ نبی ماقبل آپ ﷺ کی امت میں شامل ہورہا ہے۔ وہ ایک نہیں بلکہ سب (شب معراج، یوم قیامت) شامل ہوں تب بھی آپ ﷺ کی ختم نبوت کے خلاف نہ ہوگا۔ بخلاف اس کے کہ کوئی آپ ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرے جیسے مسیلمہ کذاب یا کذاب قادیان وہ آپ ﷺ کی ختم نبوت کے باغی ومنحرف کہلائیں اور کافر، کذاب ودجال۔

بائیسویں آیت:

’’فاسئلوا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لَاتَعْلَمُوْنَ (النحل:۴۴)‘‘ {سو پوچھو یاد رکھنے والوں سے اگر تم کو معلوم نہیں۔}

قادیانی استدلال:

’’یعنی اگر تمہیں ان بعض امور کا علم نہ ہو جو تم میں پیداہوں تو اہل کتاب کی طرف رجوع کرو اور ان کی کتابوں پر نظر ڈالو تااصل حقیقت تم پر منکشف ہو جائے۔ سو جب ہم نے موافق حکم اس آیت کے اہل کتاب یعنی یہود اور نصاریٰ کی کتابوں کی طرف رجوع کیا اور معلوم کرنا چاہا کہ کیا اگر کسی نبی گزشتہ کے آنے کاوعدہ دیاگیا ہو تو وہی آجاتا ہے یا ایسی عبارتوں کے کچھ اور معنی ہوتے ہیں تو معلوم ہوا کہ اسی امر متنازعہ فیہ کا ہم شکل ایک مقدمہ حضرت مسیح ابن مریم علیہ السلام آپ ہی فیصل کر چکے ہیں اور ان کے فیصلہ کا ہمارے فیصلہ کے ساتھ اتفاق ہے۔ دیکھو کتاب سلاطین وملا کی نبی اورانجیل جو ایلیاہ علیہ السلام نبی کا دوبارہ آسمان سے اترنا کس طور سے حضرت مسیح علیہ السلام نے بیان فرمایا ہے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۶۱۵،۶۱۶، خزائن ج۳ ص۳۴۲)

آئیے مرزاقادیانی! اگر آپ ’’فاسئلوا اَہْلَ الذِّکْرِ‘‘ پر ہی فیصلہ کرنا چاہتے ہیں تو یوں ہی فیصلہ کر لیں آپ نے الفاظ ’’ایلیاہ کا دوبارہ آسمان سے اترنا‘‘ لکھ کر یہ تسلیم کر لیا ہے کہ ایلیاہ آسمان پر چڑھایا گیا۔ آپ یہ دریافت کرتے ہیں کہ اس کا اترنا کس طور کا بیان کیاگیاہے تو پہلے یہ دریافت کر لیجئے کہ ’’ایلیاہ کا آسمان پر چڑھ جانا کس طرح بیان کیا گیا ہے۔‘‘ اور یوں ہوا کہ جب خداوند نے چاہا کہ ایلیاہ کو ایک بگولے میں اڑا کے آسمان پر لے جائے۔ تب ایلیاہ الیسع کے ساتھ جل جلال سے چلا اور ایلیاہ نے الیسع کو کہا تو یہاں ٹھہریو اس لئے کہ خداوند نے مجھے بیت ایل کو بھیجا ہے۔ سو الیسع بولا۔ خداوند کی حیات اور تیری جان کی سوگند میں تجھے نہ چھوڑوں گا۔ سو وہ بیت ایل کو اتر گئے اور انبیاء زادے جو بیت ایل میں تھے نکل کر الیسع پاس آئے اور اس کو کہا تجھے آگاہی ہے کہ خداوند آج تیرے سر پر سے تیرے آقا کو اٹھا لے جائے گا۔ وہ بولا ہاں میں جانتا ہوں تم چپ رہو۔ تب ایلیاہ نے اس کو کہا۔ اے الیسع تو یہاں ٹھہریو کہ خداوند نے مجھے یریحو کو بھیجا ہے۔ اس نے کہا خداوند کی حیات اور تیری جان کی قسم میں تجھ سے جدا نہ ہوں۔ چنانچہ وہ یریحو میں آئے اور انبیاء زادے جو یریحو میں تھے۔ الیسع پاس آئے اور اس سے کہا تو اس سے آگاہ ہے کہ خداوند آج تیرے آقا کو تیرے سر پر سے اٹھالے جائے گا۔ وہ بولا میں تو جانتا ہوں۔ تم چپ رہو اور پھر ایلیاہ نے اس کو کہا تو یہاں درنگ کیجیو کہ خداوند نے مجھ کو یردن بھیجا ہے۔ وہ بولا خداوند کی حیات اور تیری جان کی قسم میں تجھ کو نہ چھوڑوں گا۔ چنانچہ وہ دونوں آگے چلے اور ان کے پیچھے

351

پیچھے پچاس آدمی انبیاء زادوں میں سے روانہ ہوئے اور سامنے کی طرف دور کھڑے ہو رہے اور وہ دونوں لب یردن (نام ریا) کھڑے ہوئے اور ایلیاہ نے اپنی چادر کو لیا اورلپیٹ کر پانی پر مارا کہ پانی دو حصے ہوکے ادھر ادھر ہوگیا اور وہ دونوں خشک زمین پر ہوکے پار گئے اور ایسا ہوا کہ جب پار ہوئے تب ایلیاہ نے الیسع کو کہا کہ اس سے آگے کہ میں تجھ سے جدا کیا جاؤں۔ مانگ کہ میں تجھے کیا دوں۔ تب الیسع بولا مہربانی کر کے ایسا کیجئے کہ اس روح کا جو تجھ پرہے مجھ پر دوہرا حصہ ہو۔ تب وہ بولا تو نے بھاری سوال کیا۔ سو اگر مجھے آپ سے جدا ہوتے ہوئے دیکھے گا تو تیرے لئے ایسا ہوگا اور اگر نہیں تو ایسا نہ ہوگا اور ایسا ہوا کہ جوں ہی وہ دونوں بڑھتے اور باتیں کرتے چلے جاتے تھے تو دیکھ کہ ایک آتشی رتھ اور آتشی گھوڑوں کے درمیان آکے ان دونوں کو جدا کر دیا اور ایلیاہ بگولے میں ہوکے آسمان پر جاتا رہا اور الیسع نے یہ دیکھا اور چلایا۔ اے میرے باپ میرے باپ اسرائیل کی رتھ اور اس کے ساتھی۔ سو اس نے پھر نہ دیکھا اور اس نے اپنے کپڑوں پر ہاتھ مارا اور انہیں دو حصے کیا اور اس نے ایلیاہ کی چادر کو بھی جو اوپر سے گر پڑی تھی۔ اٹھا لیا اور الٹا پھرا اور یردن کے کنارے پر کھڑا ہوا اور وہاں اس نے ایلیاہ کی چادر کو جو اس پر سے گر پڑی تھی لے کر پانی پر مارا اور کہا کہ خداوند ایلیاہ کا خدا کہاں ہے اور اس نے بھی اس چادر کو جب پانی پر مارا تو پانی ادھر ادھر ہوگیا اور الیسع پار ہوگیا۔ مرزاقادیانی ایلیاہ کے آسمان پر چڑھ جانے کی یہ کیفیت مفصل پڑھ کر اب اپنے اس فقرہ کو یاد کریں کہ ’’جب جسم خاکی کے ساتھ آسمان پر چلے جانا ثابت ہو جائے تو پھر اسی جسم کے ساتھ اترنا کچھ مشکل نہیں۔‘‘ نیز یہ فقرہ (کتاب مقدس سلاطین:۲، باب۲، آیت:۱تا۴ ص۳۵۰، مطبوعہ ۱۹۲۷ء) ’’مسیح کا جسم کے ساتھ آسمان سے اترنا اس کے جسم کے ساتھ چڑھنے کی فرع ہے۔‘‘ (ازالہ اوہام ص۲۷۰، خزائن ج۳ ص۲۳۶) اور ملاحظہ کیجئے کہ ایلیاہ کا جسم کے ساتھ آسمان پر چڑھنا کس وضاحت سے اہل کتاب کے صحف سماوی میں مندرج ہے۔ آپ کا یہ کہنا کہ ایلیاہ کی جس چادر کے گرنے کا ذکر ہے وہ اس کا جسم ہی تو تھا بالکل غلط ہے۔ کیونکہ اوّل تو شروع باب میں یہ فقرہ ہے یہ خدا نے چاہا کہ ایلیاہ کو ایک بگولے میں اڑا کے آسمان پر لے جائے۔ بگولے میں اڑا کر لے جانا روح سے کچھ تعلق نہیں رکھتا۔ دوم: یہ فقرہ ایلیاہ نے اپنی چادر کو لپیٹ کر دریا پر پھینک کر مارا۔ پانی ادھر ادھر ہوگیا۔ اگر چادر سے مراد جسم ہے تو ایلیاہ نے خود اپنے جسم کو کس طرح لپیٹ کر دریا پر مارا تھا۔ سوم: یہ فقرہ الیسع نے بھی اس چادر کو جب پانی پر مارا۔ کیا الیسع نے اپنے پیرومرشد کی لاش کو پھینک کر مارا تھا۔ غرض یہ تاویل فضول ہے اور سلاطین باب:۲ سے ایک جسم کا آسمان پر جانا ثابت ہے۔ اگر مرزاقادیانی کو ’’فاسئلوا اَہْلَ الذِّکْرِ‘‘ پر ایمان ہے تو پہلے اس صعود جسمی کو تو مان لیں۔

ناظرین اس بیان میں مرزاقادیانی نے چند غلطیاں کی ہیں۔ اوّل معنی آیت کے سمجھنے میں۔ آیت کے صاف معنی یہ ہیں کہ اگر تم کو معلوم نہ ہو تب اہل کتاب سے پوچھو۔ خدا کے فضل سے نزول مسیح علیہ السلام کا مسئلہ ایسا نہیں جو ہم کو معلوم نہ ہو۔ قرآن مجید سے لے کر صحاح ستہ اور دیگر تمام دوا وین حدیث میں نزول مسیح علیہ السلام کی مفصل خبریں درج ہیں۔ بلکہ میں دعویٰ کے ساتھ عرض کرتا ہوں کہ احادیث نزول مسیح میں اس قدر تفصیل اور تشریح ہے کہ آج تک کسی پیش گوئی کو تو کیا گزشتہ واقعہ کو بھی کسی مورخ نے ایسی خوبی اور صفائی سے شاید ہی بیان کیا ہو۔ میرا یہ کہنا تو مرزاقادیانی کو ناگوار خاطر ہوگا کہ انہوں نے ان احادیث پر نظر نہیں ڈالی۔ مگر اس میں شک نہیں کہ ان کی تحریر میں ان احادیث کا علم ہونے کی ذرا بھی دلالت نہیں۔

الف… مرزاقادیانی!!! جغرافیائی طور پر اس پیش گوئی کے متعلقہ احادیث اس طرح ہیں۔

۱… مدینہ کی آبادی اہاب تک پہنچ جائے گی۔ (صحیحین مسلم ج۲ ص۳۹۳، کتاب الفتن)

352

ناظرین آج ہمارے زمانہ میں اس حد تک آبادی نہیں پہنچی۔

۲… اسلامی شہروں میں سے سب سے آخر میں مدینہ ویران ہوگا۔

(ترمذی ج۲ ص۲۲۹، باب فضل المدینہ)

خدا کے فضل سے آج مدینہ آباد وبارونق ہے۔

۳… بیت المقدس کی کامل آبادی سبب ہے مدینہ کی خرابی کا۔ مدینہ کاخراب ہونا سبب ہے جنگ عظیم کا۔ جنگ عظیم کا واقع ہونا سبب ہے قسطنطنیہ کی فتح کا۔ قسطنطنیہ کا فتح ہو جانا وقت ہے خروج دجال کا (ابوداؤد ج۲ ص۱۳۲، باب امارت الملاحم) یہ فقرہ یا دو رجانے کی ضرورت نہیں کہ خروج الدجال سبب ہے نزول مسیح کا۔

۴… حضرت مسیح شہر بیت المقدس میں اور مسلمانوں کے لشکر میں نازل ہوں گے۔

(ابوداؤد ج۲ ص۱۳۵، باب خروج الدجال وابن ماجہ ص۲۹۷، باب فتنۃ الدجال)

ب… اس کے بعد ملکی انقلابات سے متعلقہ احادیث پر نظر ڈالئے۔

۱… مسلمانوں کا لشکر جو نصاریٰ کی طلب میں نکلا ہوگا۔ اس فوج کے مقابل ہوں گے جس نے قسطنطنیہ فتح کر لیا ہوگا۔ تین روز تک مسلمانوں کو شکست ہوتی رہے گی۔ چوتھے روز مسلمانوں کو فتح کامل حاصل ہوگی۔ اس جنگ سہ روزہ میں ۹۹فیصدی مقتول ہوں گے۔ اس فتح کے بعد مسلمان قسطنطنیہ کو فتح کر لیں گے۔ فتح کے بعد جب ملک شام میں پہنچیں گے تب دجال خروج کرے گا اور پھر نماز صبح کے وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام نزول فرمائیں گے۔

(مسلم ج۲ ص۳۹۱،۳۹۲، کتاب الفتن عن ابی ہریرہ رضی اللہ عنہوابن مسعود رضی اللہ عنہ)

۲… دجال زمین مشرق، خراسان سے نکلے گا۔

(ترمذی ج۲ ص۴۷، باب ماجاء فی الدجال عن ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہ)

وہ بجز مکہ ومدینہ سب جگہ پھر جائے گا۔ (مسلم ج۲ ص۴۰۵، باب فی بقیۃ احادیث الدجال)

ج… تعین زمانہ اور سنین کے اعتبار سے ملاحظہ فرمائیے۔

۱… جنگ عظیم اور فتح قسطنطنیہ میں ۶سال کا فاصلہ ہے اور دجال کا خروج ساتویں سال میں ہے۔

(ابوداؤد ج۲ ص۱۳۲، باب فی تواتر الملاحم)

گو میں نے ان احادیث کی طرف نہایت مختصر لفظوں میں اشارہ کیا ہے۔ مگر حق کے طالب اور صداقت کے جویا ان بیانات سے بہت کچھ فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔ میری غرض ان احادیث کودکھانے سے یہ ہے کہ جب اسلام نے اپنی تعلیم کو خود مکمل کر دیا ہے اور ﷲتعالیٰ نے اپنے ناچیز بندوں پر اپنی نعمت کو تمام فرمادیا ہے اور مبحث فیہ مسئلہ میں بھی ایسی صراحت سے مسلمانوں کو آگاہ فرمایا ہے تو ان نعمتوں کی قدر نہ کرنا اس پاک اور آخری تعلیم پر اعتبار نہ کرنا اور پھر اہل کتاب سے پرسش کا اپنے آپ کو محتاج جاننا کیا ہی لغو فعل ہے؟ جس طرح بہت سے شوم طبع بھکیاری (جن کے اندوختہ سے ان کے نفس کو بھی منفعت حاصل نہیں ہوتی) سینکڑوں اشرفیاں اپنی سڑی بسی گڈری میں چھپا رکھتے ہیں اور پیسہ پیسہ کے لئے دربدر بھٹکتے پھرا کرتے ہیں۔ بس اس جگہ بھی ٹھیک وہی مثال ہے۔ دوسری غلطی مرزاقادیانی کی یہ رائے ہے کہ نصاریٰ کی کتابوں سے یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ جب کسی نبی کے آنے کا وعدہ دیاگیا ہو تو اس کے کیا معنی ہوتے ہیں۔ مرزاقادیانی کیوں یہ دیکھنا نہیں چاہتے کہ ان کتابوں میں خاص حضرت مسیح علیہ السلام کے آنے کے بارہ میں کیا لکھا ہے۔ کیونکہ اس جگہ عمومیت کا

353

سوال نہیں بلکہ خصوصیت کا ہے۔

میں معزز ناظرین کی نزہت طبع کے لئے مسیح کے آنے کے بارہ میں جو کچھ انجیل میں لکھا ہے پیش کرتا ہوں۔ متی ۲۴ باب میں یہی بیان ہے۔

(۱)یسوع ہیکل سے نکل کر چلا گیا اور اس کے شاگرد اس کے پاس آئے کہ اسے ہیکل کی عمارتیں دکھلائیں۔ (۲)پریسوع نے کیا کیا تم یہ سب چیزیں دیکھتے ہو۔ میں تمہیں سچ کہتا ہوں کہ یہاں پتھر پتھر پر نہ چھوٹے گا جو گرایا نہ جائے گا۔ (۳)جب وہ زیتون کے پہاڑ پر بیٹھا تھا اس کے شاگرد اس کے پاس آئے اور بولے کہ یہ کب ہوگا اور تیرے آنے کا اور دنیا کے اخیر کا نشان کیا ہے۔ (۴)اور یسوع نے جواب دے کے انہیں کہا خبردار ہو کہ کوئی تمہیں گمراہ نہ کرے۔ (۵)کیونکہ بہتیرے میرے نام پر آئیں گے اور کہیں گے کہ میں مسیح ہوں اور بہتوں کو گمراہ کریں گے۔ (۶)اور تم لڑائیاں اور لڑائیوں کی افواہ سنو گے۔ خبردار مت گھبراؤ کیونکہ ان سب باتوں کا واقع ہونا ضرور ہے۔ پر اب تک اخیر نہیں ہے (یعنی قیامت نہیں) (۷)کیونکہ قوم قوم پر اور بادشاہت بادشاہت پر چڑھے گی اور کال وبائیں اور جگہ جگہ زلزلے ہوں گے۔ (۸)پھر یہ سب باتیں مصیبتوں کا شروع ہیں۔ تب وہ تمہیں دکھ میں حوالے کریں گے اور میرے نام کے سبب سب قومیں تم سے کینہ رکھیں گی۔ (۹)اور اس وقت بہتیرے ٹھوکر کھائیں گے اور ایک دوسرے سے کینہ رکھے گا۔ (۱۰)اور بہت جھوٹے نبی اٹھیں گے اور بہتوں کو گمراہ کریں گے۔ (۱۱)اور بے دینی پھیل جانے سے بہتوں کی محبت ٹھنڈی ہو جائے گی۔ (۱۲)پر جو آخر تک سہے گا وہی نجات پائے گا۔ (۱۳)اور بادشاہت کی یہ خوشخبری ساری دنیا میں سنائی جائیگی۔ تاکہ سب قوموں پر گواہی ہو اور اس وقت آخر آئے گا۔ (۱۴)پس جب ویرانی کی مکروہ چیز کو جس کا دانیال نبی کی معرفت ذکر ہوا ہے مقدس مکان میں کھڑے دیکھو گے۔ (یعنی جب دجال بیت المقدس پہنچے) (۱۵)تب جو یہودیہ میں ہوں پہاڑوں پر بھاگ جائیں۔ (۱۶)جو کوٹھے کے اوپر ہو اپنے گھر سے کچھ نکالنے کو نہ اترے۔ (۱۷)اور جو کھیت میں ہو اپنا کپڑا اٹھا لینے کو پیچھے نہ پھرے۔ (۱۸)پر ان پر افسوس جو ان دنوں میں حاملہ اور دودھ پلانے والیاں ہوں (کیونکہ جب بچہ پیٹ یا گود میں ہوتا ہے بھاگا نہیں جاتا) (۱۹)سو دعا مانگو کہ تمہارا بھاگنا جاڑے میں باڑ کے دن نہ ہو (اس سے ظاہر ہے کہ دجال بیت المقدس میں موسم سرما اور یوم شنبہ کو پہنچے گا۔ بھاگنا نہ ہو سے مطلب یہ ہے کہ خدا تم کو وہ دن نہ دکھلائے) (۲۰)کیونکہ اس وقت ایسی بڑی مصیبت ہوگی جیسی دنیا کے شروع سے اب تک نہ ہوئی ہو اور نہ کبھی ہوگی۔ (۲۱)اور اگروے (دن) گھٹائے نہ جاتے تو ایک تن بھی نجات نہ پاتا۔ پر برگزیدوں کی خاطروے دن گھٹائے جائیں گے۔ (۲۲)تب اگر کوئی کہے کہ دیکھو مسیح یہاں ہے یا وہاں تو یقین مت لاؤ۔ (۲۳)کیونکہ جھوٹے مسیح اور جھوٹے نبی اٹھیں گے اور بڑے نشان اور کرامتیں دکھائیں گے یہاں تک کہ اگر ممکن ہوتا تو برگزیدوں کو بھی گمراہ کرتے۔ (۲۴)دیکھو میں پہلے سے ہی کہہ چکا ہوں۔ (۲۵)پس اگر وہ (لوگ) تمہیں کہیں دیکھو وہ ( مسیح) جنگل میں ہے تو باہر مت جاؤ۔ دیکھو وہ کوٹھڑی میں ہے (جس کا نام مرزاقادیانی نے بیت الذکررکھا ہے) تو باور مت کرو۔ (۲۶)کیونکہ جیسے بجلی پورب سے کوندتی ہے اور پچھم تک چمکتی ہے ویسا ہی انسان کے بیٹے کا آنا بھی ہوگا۔ (۲۷)اور فی الفور ان دنوں کی مصیبت کے بعد سورج اندھیرا ہو جائے گا اور چاند اپنی روشنی نہ دے گا اور ستارے آسمان سے گریں گے اور آسمان کی قوتیں ہلائی جائیں گی۔

(ناظرین تیرے آنے کا اور دنیا کے اخیر کا نشان کیا ہے۔ یہ الفاظ ’’انہ لعلم للساعۃ‘‘ کا ترجمہ ہیں۔ مرزاقادیانی نے ’’انہ‘‘ کی ضمیر میں جو مختلف وجوہ پیش کئے ہیں احادیث نبوی کے الفاظ اور انجیل کے الفاظ اس کا تصفیہ

354

کرتے ہیں۔ حواریوں کے الفاظ سوال سے یہ بھی معلوم ہے کہ اس سوال سے پہلے بھی ان کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر جانے اور پھر قرب قیامت میں بار دوم آنے کا حال معلوم ہوچکا تھا۔ یعنی وہ یہ وقت تھا جب ﷲتعالیٰ ’’اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ‘‘ کا وعدہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دے چکا تھا اور ان الفاظ کے معنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام نیز ان کے حواری وہی سمجھتے تھے جو آج جمہور مسلمانوں نے سمجھے ہیں۔ ورنہ تیرے آنے کا اور دنیا کے اخیر کا کیا نشان ہے۔ بالکل بے معنی ہو جاتا ہے کیونکہ حضرت مسیح تو خود ان میں موجود تھے اور آنے میں کیا کسر رہ گئی تھی)

(حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے یہ پیش گوئی کیسے صاف اور واضح الفاظ میں حتمی طور پر فرمائی ہے اور اطلاع دی ہے کہ بہت سے لوگ ایسے پیدا ہوں گے جو مسیح کا نام اور درجہ اپنے لئے ثابت کریں گے۔ پھر علامت اورنشانی کے طور پر فرمادیا کہ جھوٹے مسیح اس زمانہ میں پیدا ہوں گے جب لڑائیاں شروع ہوں گی۔ یا لڑائیوں کی افواہ، قوم قوم پر بادشاہت بادشاہت پر چڑھے گی۔ کال، وبائیں، زلزلے آئیں گے۔ اب ان علامات پر نظر غور سے دیکھو۔ پہلے مرزاقادیانی کا وہ دعویٰ یاد کرو۔ ’’جَعَلْنٰکَ مَسِیْحَ ابْنِ مَرْیَمَ‘‘ یعنی میں مسیح ہوں پھر فرانس کا جنگ۔ سیام سے سوڈانیوں کا، مصر سے انگریزوں کا۔ افریقہ میں وحشی لوگوں سے، ہندوستان میں برہما اور شمالی پیاڑی والوں سے وغیرہ وغیرہ پر نگاہ ڈالو۔ پھر روس اور انگلستان کی اور جرمن وفرانس کی اور یونان وروم کی جنگ کی افواہیں یاد رکھو اور پھر اس نتیجہ کو جو مسیح علیہ السلام نے نکالا ہے انصاف سے دیکھو کہ وہ جھوٹے مسیح بہتیروں کو گمراہ کرنے والے ہوں گے)

یوحنا کی انجیل میں دیکھئے۔ (۲۸)تم سن چکے ہو کہ میں نے تم کو کہا کہ جاتا ہوں اورتمہارے پاس پھر آتا ہوں۔ اگر تم مجھے پیار کرتے تو میرے اس کہنے سے کہ میں باپ کے پاس جاتا ہوں خوش ہوتے۔ کیونکہ میرا باپ مجھ سے بڑا ہے۔ (۲۹)اور اب میں نے تمہیں اس کے واقع ہونے سے پیشتر کہا ہے تاکہ جب ہو جائے تم ایمان لاؤ۔ (۱۵ باب مرقس کے ۱۳باب اور لوقا کے ۱۷باب) میں بھی اسی طرح ہے۔

اب مرزاقادیانی انصاف اور حق پسندی کی راہ سے فرمائیں کہ آپ حضرت مسیح علیہ السلام کا بیان ان کے نزول کے بارہ میں جو اس قدر مفصل ہے اور اناجیل اربعہ میں منقول ہے کیوں منظور نہیں فرماتے۔ انجیل یوحنا کا یہ فقرہ میں نے تم کو کہا کہ جاتا ہوں اور تمہارے پاس پھر آتا ہوں۔ زیادہ تر تدبر اور غور کے قابل ہے۔ ظاہر ہے: ’’پھر آتا ہوں۔‘‘ وہی شخص کہا کرتا ہے جو پہلے جایا کرتا ہے۔ پہلے جانا حضرت مسیح علیہ السلام کا ہمارے اور مرزاقادیانی کے نزدیک مسلم ہے (گو اس کی کیفیت میں اختلاف ہو) مگر ’’پھر آتا ہوں۔‘‘ کی مرزاقادیانی بڑے زور سے تردید کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام کا پھر آنا محال اور قدرت کے خلاف ہے۔ اندریں حالت کہ مرزاقادیانی’’فاسئلوا اہل الذکر‘‘ پکار رہے ہیں اور انجیل حضرت مسیح علیہ السلام کا بذات خود دنیا پر مکرر آنا بآواز بلند پکار رہی ہے۔ پھر معلوم نہیں کہ مرزاقادیانی نے کیوں اور کیونکر اس آیت کو وفات مسیح علیہ السلام کی دلیل بنایا ہے اور نہ صرف خوش اعتقاد مریدوں کو بلکہ کل مسلمانوں کو کیسی صریح غلطی میں ڈالنا چاہا ہے۔

یہ ثابت کرنے کے بعد کہ اہل کتاب کی آسمانی کتاب میں نزول مسیح علیہ السلام کی کیفیت کیا لکھی ہے؟ اب میں ایلیاہ کے اس قصہ پر توجہ کرتا ہوں۔ جس کا حوالہ اس آیت مستدلہ کے تحت میں مرزاقادیانی نے دیا ہے۔ جس کا ماحصل یہ ہے کہ یہود حضرت ایلیاہ کی آمد کے منتظر تھے۔ جب حضرت مسیح علیہ السلام نے نبوت کا اظہار کیا تو یہود نے یہ اعتراض کیا کہ پہلے ایلیاہ آنا چاہئے تھا۔ اگر تو مسیح ہے۔ بتا ایلیاہ کہاں ہے؟ حضرت مسیح علیہ السلام کا جواب اس بارہ میں انجیل میں

355

یوں تحریر ہے کہ حضرت یوحنا کی طرف اشارہ کر کے آپ نے فرمایا۔ آنے والا ایلیاہ یہی ہے۔ چاہو تو قبول کرو۔ اس جواب کا وہی مطلب ہے جو مرزاقادیانی نے سمجھا ہے۔ مگر ناظرین انجیل کو ذرا تامل سے ملاحظہ فرمائیے۔ اسی انجیل میں یہ بھی ہے کہ جب علماء یہود کے فرستادوں نے خود حضرت یوحنا سے سوال کیا کہ آپ کون ہیں۔ آیا مسیح ہیں؟ کہا میں نہیں ہوں۔ پوچھا: کیا آپ ایلیاہ ہیں؟ فرمایا میں نہیں ہوں۔ آیا وہ نبی ہیں (وہ نبی ترجمہ ہے آنحضرت ﷺ کا)؟ کہا میں نہیں ہوں۔ انہوں نے پھر دریافت کیا کہ اگر آپ نہ مسیح ہیں نہ ایلیاہ ہیں نہ وہ نبی ہیں تو پھر کون ہیں۔ حضرت یوحنا یحییٰ علیہ السلام نے جواب دیا میں وہ ہوں۔ جس کی یسعیاہ نبی نے خبر دی تھی۔

اب دیکھو کہ اگر انجیل کا یہ بیان ہے کہ مسیح نے یوحنا کو ایلیاہ بتایا تو انجیل ہی کا یہ بیان ہے کہ یوحنا نے ایلیاہ ہونے سے انکار کیا۔

فرمائیے! مسیح جو دوسرے کے بارہ میں کہہ رہا ہے وہ سچا ہے یا یوحنا جو خود اپنے حال کی خبر دیتا ہے۔ وہ صادق ہے۔ نبی دونوں ہیں۔ نتیجہ کیا نکالو گے؟ یہی کہ نبی تو دونوں سچے ہیں۔ ہاں! مسیح کے قول میں تحریف ہوگئی ہے۔ اس قدر لکھنے کے بعد جس سے ایلیاہ کا یوحنا ہونا غلط محض ثابت ہو چکا۔ یہ بھی درج کر دینا چاہتا ہوں کہ یہودی اگر حضرت ایلیاہ کے آنے کے قائل بھی تھے تو ان کے اعتقاد میں یہ ہرگز نہ تھا کہ وہ خود آسمان پر سے اترے گا۔ دیکھو علماء یہود نے حضرت یوحنا سے آکر یہ پوچھا ہے کہ تومسیح ہے یا ایلیا یا وہ نبی، اگر ایلیا کے آسمان سے نزول فرمانے کے وہ قائل ہوتے تو حضرت یوحنا پر مسیح اور وہ نبی ہونے کا شبہ نہ کرتے اور جب انہوں نے شبہ کیا تو اس کے صرف دو معنی ہیں یا تو یہود مسیح اور وہ نبی اور ایلیا تینوں کے نزول من السماء کے قائل تھے اور یہ بداہت باطل ہے۔ کیونکہ مسیح اور وہ نبی تو ہنوز بار اوّل بھی دنیا میں پیدا نہ ہوئے تھے یا یہ کہ وہ ایلیاہ کے بجسدہ آسمان سے نازل ہونے کے قائل نہ تھے اور یہی فقرہ کا مطلب ہے۔ بدیں صورت مرزاقادیانی کی وجہ استدلال کچھ بھی نہ رہی اور ثابت ہوگیا کہ مرزاقادیانی نے اس آیت سے استدلال کرنے میں چند درچند غلطیاں کیں اور مغالطے دئیے ہیں۔

تیئسویں آیت:

’’یَاَیَّتُہَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّۃُ اِرْجِعِی اِلٰی رَبِّک رَاضِیَۃً مَّرْضِیَّۃً فَادْخُلِیْ فِیْ عِبَادِیْ وَادْخُلِیْ جَنَّتِیْ (الفجر:۲۷تا۳۰)‘‘ {اے وہ جی جس نے چین پکڑ لیا پھر چل اپنے رب کی طرف تو اس سے راضی وہ تجھ سے راضی۔ پھر شامل ہو میرے بندوں میں اور داخل ہو میری بہشت میں۔}

قادیانی استدلال:

’’اس آیت سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ انسان جب تک فوت نہ ہو جائے گزشتہ لوگوں کی جماعت میں ہرگز داخل نہیں ہوسکتا۔ لیکن معراج کی حدیث سے جس کو بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے بھی مبسوط طور پر اپنے صحیح میں لکھا ہے ثابت ہوگیا کہ حضرت مسیح ابن مریم علیہ السلام فوت شدہ نبیوں کی جماعت میں داخل ہے (کیونکہ اس حدیث کی رو سے آنحضرت ﷺ کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام شب معراج دوسرے آسمان پر ملے جب کہ حضرت یحییٰ علیہ السلام جو بالاتفاق فوت ہوچکے ہیں۔ وہیں موجود تھے۔ چونکہ مسیح علیہ السلام بھی فوت شدہ لوگوں کے ساتھ پائے گئے۔ لہٰذا انہیں بھی فوت شدہ ہی تسلیم کرنا پڑے گا۔ مرتب) لہٰذا حسب دلالت صریحہ اس نص کے مسیح ابن مریم علیہ السلام کا فوت ہو جانا ماننا پڑے گا۔‘‘ (ازالہ اوہام ص۶۱۷،۶۱۸، خزائن ج۳ ص۴۳۳)

مرزاقادیانی کی وجہ استدلال یہ ہے کہ گزشتہ جماعت میں داخلہ تب مل سکتا ہے جب انسان مر جائے اور صحیح بخاری کی حدیث معراج سے ثابت ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی فوت شدہ نبیوں کے گروہ میں شامل تھے۔ لہٰذا یہ نص

356

وفات مسیح پر دلالت صریح رکھتی ہے۔

جواب:

۱… ناظرین! مرزاقادیانی کا صغریٰ وکبریٰ دونوں غلط ہیں۔ صحیح بخاری کی اسی حدیث پر جس کا مرزاقادیانی نے حوالہ دیا ہے اگر تدبر کرتے تو اس غلطی پر وہ جلد مطلع ہو جاتے۔ مرزاقادیانی فرمائیے نبیوں کی فوت شدہ جماعت میںحضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھنے والا کون تھا۔ ظاہر ہے ہمارے سید ومولیٰ حضرت محمد رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم تھے اور یہ بھی ظاہر ہے کہ اس وقت آپ ﷺ اسی دنیوی حیات میں تھے۔ پس جس طرح محمد رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزشتہ انبیاء کے گروہ میں داخل ہونا۔ داخلہ مل جانے کے بعد کچھ تفاوت نہیں کہ تھوڑی دیر کے لئے ہو یا زیادہ دیرکے لئے اسی طرح مسیح علیہ السلام بھی اس وقت اس گروہ میں موجود تھے۔ اس غلطی کے بعد دوسری غلطی مرزاقادیانی کی یہ ہے کہ انہوںنے اس آیت سے استدلال کیا۔ اگر وہ ’’یَا عِیْسٰی اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ اَوْرِیَا اَیَّتُہَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّۃُ ارْجِعِیْ‘‘ دونوں پر چشم بصیرت سے نظر فرماتے تو ان کو صداقت کا نور درخشاں نظر آتا۔ پہلی آیت میں عیسیٰ علیہ السلام مخاطب ہیں۔ عیسیٰ علیہ السلام میں جسم اور روح دونوں شامل ہیں اور دوسری میں صرف نفس یعنی روح مخاطب ہے۔ پہلی آیت میں ’’رَافِعُکَ اِلَیَّ‘‘ ہے اور دوسری میں ارجعی دنیا بھر کی لغات میں تلاش کر لو نہ رجوع بمعنی رفع ملے گا اور نہ رفع بمعنی رجوع پھر ایک کو دوسرے سے کیا مناسبت ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ رفع کے معنی کلام الٰہی میں وہی ہیں جو اس کے لغوی اور حقیقی معنی ہیں اور مرزاقادیانی نے اپنی تقویت کے لئے لفظ کو اس کے اصلی معنی سے پھیر کر کچھ کا کچھ بنادیا ہے۔

مرزاقادیانی آپ نے ’’رَافِعُکَ اِلَیَّ‘‘ کو ’’اِرْجِعِیْ اِلٰی رَبِّکَ‘‘ کے ہم معنی بنادیا ہے۔ اگر کوئی کہے کہ ’’اِرْجِعِیْ اِلٰی رَبِّکَ‘‘ اور ’’اِلٰی رَبِّکَ فَارْغَبْ‘‘ بھی ہم معنی ہیں تو آپ کیا جواب دیں گے؟

جواب:

۲… نیز مرزاقادیانی نے خود اقرار کیا ہے کہ میں نے ایک ہی پیالہ میں مسیح کے ساتھ گوشت کھایا ہے۔ دیکھئے۔ (تذکرہ ص۴۲۷) نیز یہ بھی لکھا کہ میں نے کئی مرتبہ مسیح کے ساتھ ایک دسترخوان پر کھانا کھایا۔ نورالقرآن۔ یہ بات انہوں نے اور کسی بھی نبی کے متعلق نہیں لکھی تو معلوم ہوا کہ مسیح بحالت حیات ہیں۔ کیونکہ اکل وشرب زندوں کے ساتھ ہی متعلق ہے۔ نیز یہ بھی معلوم ہواکہ زندہ متوفی کے ساتھ ملاقات کر سکتا ہے۔ ورنہ مرزاقادیانی اپنے آپ کو بھی مردار تسلیم کریں۔

چوبیسیویں آیت:

’’اَللّٰہُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ ثُمَّ رَزَقَکُمْ ثُمَّ یُمِیْتُکُمْ ثُمَّ یُحْیِیْکُمْ (الروم:۴۰)‘‘ { ﷲ وہی ہے جس نے تم کو بنایا، پھر تم کو روزی دی، پھر تم کو مارتا ہے پھر تم کو جلائے گا۔}

قادیانی استدلال:

’’اس آیت میں ﷲتعالیٰ اپنا قانون قدرت یہ بتلاتا ہے کہ انسان کی زندگی میں صرف چار واقعات ہیں۔ پہلے وہ پیدا کیا جاتا ہے۔ پھر تکمیل اور تربیت کے لئے روحانی اور جسمانی طور پر رزق مقدر اسے ملتا ہے۔ پھر اس پر موت وارد ہوتی ہے۔ پھر وہ زندہ کیا جاتا ہے۔ اب ظاہر ہے کہ اس آیت میں کوئی ایسا کلمہ استثنائی نہیں جس کی رو سے مسیح علیہ السلام کے واقعات خاصہ باہر رکھے گئے ہوں۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۶۱۹، خزائن ج۳ ص۴۳۴)

الجواب:

ناظرین یہ سچ ہے کہ ان واقعات چارگانہ میں کل مخلوق داخل ہے۔ مگر حرف ’’ثم‘‘ جو ہر حالت کے ساتھ لگا ہوا ہے۔ بتاتا ہے کہ یہ تمام واقعات آن واحد ہی میں شخص واحد پر گزر نہیں لیتے۔ بلکہ ان سب میں تراخی (دیر اور فاصلہ) اور ترتیب کا ہونا ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مستمعین کے لئے آیت: ’’خَلَقَکُمْ ثُمَّ رَزَقَکُمْ‘‘ کے الفاظ صیغہ ماضی کے ساتھ ہیں اور ’’ثُمَّ یُمِیْتُکُمْ ثُمَّ یُحْیِیْکُمْ‘‘ کے الفاظ صیغہ مضارع سے۔ جس کے یہ معنی ہیں کہ گو مستمع پر دو واقعے گزر گئے

357

ہوں۔ مگر دو امور آئندہ پیش آئیں گے۔ پس جب آیت کا مفہوم زندہ جانداروں کی وفات بالفعل کا مقتضی نہیں بلکہ صرف یہ ظاہر کرتا ہے کہ سب نے مرجانا ہے اور سب پر ان واقعات چارگانہ نے گزر لینا ہے تو وفات مسیح پر استدلال کی کیا وجہ ہوسکتی ہے؟ مسلمانوں کا اعتقاد یہ ہے تکمیل وترتیب کی حدود مختلف رزق مقسوم کے مناسب حال ہوتا ہے۔ اس لئے آج کل حضرت مسیح علیہ السلام ’’ثم رزقکم‘‘ کے مصداق حال ہیں؟

اس کے بعد ’’ثم یمیتکم‘‘ کے مرحلہ میں داخل ہوں گے اور پھر سب کے ساتھ ’’ثم یحییکم‘‘ کے مرحلہ میں ’’فلا اشکال ولا استدلال‘‘

پچیسویں آیت:

’’کُلُّ مَنْ عَلَیْہَا فَانٍ وَّیَبْقٰی وَجْہُ رَبِّکَ ذُوْالْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ (الرحمن:۲۶،۲۷)‘‘ {جو کوئی ہے زمین پر فنا ہونے والا ہے اور باقی رہے گا منہ تیرے رب کا بزرگی اور عظمت والا۔}

قادیانی استدلال:

مطلب یہ کہ ہر یک جسم خاکی کو نابود ہونے کی طرف ایک حرکت ہے اور کوئی وقت اس حرکت سے خالی نہیں، وہی حرکت بچہ کو جوان کر دیتا ہے اور جوان کو بڈھا اور بڈھے کو قبر میں ڈال دیتی ہے اور اس قانون قدرت سے کوئی باہر نہیں، خداتعالیٰ نے ’فَانٍ‘‘ کا لفظ اختیار کیا ’’یَفْنِیْ‘‘ نہیں کہا تاکہ معلوم ہو کہ فنا ایسی چیز نہیں کہ آئندہ کسی زمانہ میں یک دفعہ واقعہ ہوگی۔ بلکہ سلسلہ فنا کا ساتھ ساتھ جاری ہے۔ لیکن ہمارے مولوی یہ گمان کر رہے ہیں کہ مسیح ابن مریم علیہ السلام اسی فانی جسم کے ساتھ جس میں بموجب نص صریح ہر دم فنا کام کر رہی ہے بلاتغیر وتبدل آسمان پر بیٹھا ہے اور زمانہ اس پر اثر نہیں کرتا۔ حالانکہ ﷲتعالیٰ نے اس آیت میں بھی مسیح علیہ السلام کو کائنات الارض سے مستثنیٰ قرار نہیں دیا۔

(ازالہ اوہام ص۶۱۹،۶۲۰، خزائن ج۳ ص۴۳۴)

الجواب:

۱… ناظرین ہمارا ایمان ہے کہ ہر شئے کے ساتھ فنا لگی ہوئی ہے۔ ہم مرزاقادیانی کے بیان کو سچ جانتے ہیں کہ ’’یَفْنِیْ‘‘ کی جگہ ’’فَانٍ‘‘ کا لفظ اختیار کرنے میں یہی بلاغت اور حکمت تھی۔ مگر مرزاقادیانی یہ فرمائیں کہ اس میں وفات بالفعل کی دلیل کہاں ہے۔ یہ بھی جناب ممدوح کا مولوی صاحبان پر افتراء محض ہے کہ مسیح بلاتغیر وتبدل آسمان پر بیٹھا ہے۔ ہاں! ہم یہ ضرور اعتقاد رکھتے ہیں کہ زمانہ کے تغیروتبدل کا اثر بعض جسموں پر (غیرمعمولی کہو، خرق عادات کے طور پر سمجھو) ایسا خفیف ہوتا ہے کہ وہ اثر نہ خود اس جسم کو محسوس ہوتا ہے اور نہ اس کے دیکھنے والے کو۔ اصحاب کہف جب ۳۰۹ برس کے بعد اٹھے تو انہوں نے اپنے خواب کی درازی مدت کو صرف ’’یَوْمَ اَوْ بَعْضَ یَوْم‘‘ خیال کیا تھا۔ علیٰ ہذا! جب ان میں سے ایک بزار میں گیا۔ تو بازار والے بھی جسمی ساخت وغیرہ سے اس کو اپنے ہی زمانہ کا ایک شخص سمجھ کر (کیونکہ ان کو بھی کوئی ایسا تغیر نہ معلوم ہوا جس سے وہ ان کو گزشتہ چار صدیوں کا آدمی خیال کر لیتے) اور ان کے ہاتھ میں نہایت پرانے عہد کا سکہ دیکھ کر دوردراز کے خیالات میں پھنس گئے تھے۔ تغیروتبدل کے اثر کا تفاوت طبقات ارض پر بھی ہے۔ گرم ولایت میں مردوزن جلد جوان ہو جاتے ہیں اور سرد میں ان سے کئی سال بعد۔ گرم ولایت کے رہنے والے جلد بوڑھے ہو جاتے ہیں۔ سرد ولایت کے بہ دیر، آسمانی زمین پر رہنے والوں میں تغیر وتبدل ایسا کم اور غیرمحسوس ہے جس کے لئے کسر اعشاریہ کے صفر بھی مشکل سے کفایت کر سکتے ہیں۔

جواب:

۲… کون نہیں جانتا کہ ’’کُلُّ مِنْ‘‘ کی تحت میں آسمان کے فرشتے بھی شامل ہیں اور مرزاقادیانی بھی جانتے ہیں کہ ’’فان‘‘ کا اثر ان پر بھی ہے۔ یعنی سلسلہ فنا ان کے ساتھ ساتھ بھی لگا ہوا ہے۔ مگر یہ بھی سب جانتے ہیں کہ وہ ہزاروں برس سے عبادت کرنے والے ہنوز ایسے زمانہ تک جس کی حد انسانی وہم وگمان سے برتر ہے، زندہ رہیں گے۔ اب

358

مرزاقادیانی کے نزدیک اگر مولوی صاحبان نے مسیح علیہ السلام کے جسم پر جو زمینی آسمان پر ہے۔ نامعلوم تغیروتبدل کا تانزول ہونا مان لیا ہے اور اس ماننے سے ان کی توحید اور ان کی اطاعت قرآن کریم کے دعویٰ باطل ہوگئے ہیں تو کیا خود مرزاقادیانی پر وہی اعتقاد دربارۂ فرشتگان رکھنے میں وہی اعتراض عائد نہ ہوں گے۔ ’’سُبْحَانَ اللّٰہِ قَضَی الرَّجَلُ عَلٰی نَفْسِہٖ‘‘ اسی کو کہتے ہیں۔

جواب:

۳… آفتاب ومہتاب زمین وآسمان سیدنا مسیح علیہ السلام سے قبل کے ہیں کیا ان پر فنا آگئی یا آئے گی؟ اگر آئے گی تو مسیح علیہ السلام پر بھی آئے گی۔ بحث تو امکان میں نہیں بلکہ وقوع میں ہے۔

جواب:

۴… ویسے بھی ہر کلیہ مخصوص البعض ہوتا ہے۔ دیکھئے اس چہارگو نہ کلیہ کو کہ اس میں تو تمام مخلوقات داخل بھی نہیں ہوتے۔ کیونکہ کوئی وجود حیات سے قبل ہی ختم ہو جاتا ہے اور کوئی بعد حیات وقبل الرزق، اور کوئی مرحلہ رزق کے کسی حصہ میں۔یعنی ابتدا میں، وسط میں یا انتہاء میں پھر ہر مرحلہ یکساں نہیںتو معلوم ہوا کہ ہر ضابطہ اور کلیہ استغراقی نہیں ہوتا بلکہ بطور جنس کے ہوتا ہے۔ استثنائی صورتیں متعدد ہوتی ہیں۔

نیز ’’کل من علیہا فان‘‘ کا دائرہ تأثیر ابتداء سے چلا آرہا ہے جو کہ آخرکار صور اوّل تک منتہی ہو جائے گا تو اس وقت ’’کل من علیہا فان‘‘ اور ’’لمن الملک الیوم‘‘ کا اعلان ہوگا۔ اس وقت واقعۂ کوئی بھی زندہ نہ ہوگا نہ مسیح نہ کوئی اور فرد مخلوق۔ ’’فلا نزاع ولا جدال‘‘

چھبیسویں آیت:

’’اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّنَہَرٍ فِیْ مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَ مَلَیْکٍ مُّقْتَدِرٍ (القمر:۵۴،۵۵)‘‘ {جو لوگ ڈرانے والے ہیں باغوں میں ہیں اورنہروں میں۔ بیٹھے سچی بیٹھک میں نزدیک بادشاہ کے جس کا سب پر قبضہ ہے۔}

قادیانی استدلال:

’’اب ان آیات سے صاف ظاہر ہے کہ خداتعالیٰ نے دخول جنت اور مقعد صدق میں تلازم رکھا ہے، یعنی خداتعالیٰ کے پاس پہنچنا اور جنت میں داخل ہونا ایک دوسرے کا لازم ٹھہرایا گیا ہے۔ سو اگر ’’رَافِعُکَ اِلَیَّ‘‘ کے یہی معنی ہیں جو مسیح علیہ السلام خداتعالیٰ کی طرف اٹھایا گیا تو بلاشبہ جنت میں بھی داخل ہو گیا۔ جیسے کہ دوسری آیت: ’’اِرْجِعِیْ اِلَی رَبِک‘‘ جو ’’رَافِعُکَ اِلَیَّ‘‘ کے ہم معنی ہے۔ بصراحت اسی پر دلالت کر رہی ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ خداتعالیٰ کی طرف اٹھائے جانا اور گزشتہ مقربوں کی جماعت میں شامل ہو جانا اور بہشت میں داخل ہو جانا یہ تینوں مفہوم ایک ہی آن میں پورے ہو جاتے ہیں۔ پس اس آیت سے بھی مسیح ابن مریم علیہ السلام کا فوت ہونا ہی ثابت ہوا۔ فالحمد للّٰہ الذی احق الحق وابطل الباطل ونصر عبدہ اید ما مورہ‘‘

(ازالہ اوہام ص۶۲۱، خزائن ج۳ ص۴۳۵)

جواب:

۱… اس آیت مستدلہ کا تعلق مرنے کے بعد سے نہیں بلکہ روز قیامت سے ہے۔ الفاظ قرآنی یہ ہیں:’’بَلِ السَّاعَۃُ مَوْعِدُہُمْ وَالسَّاعَۃُ اَدْھٰی وَاَمَرَّ اِنَّ الْمُجْرِمِیْنَ فِیْ ضَلَالٍ وَسُعُرْ‘‘ آگے چار آیتیں مجرمین ہی کے بیان میں ارشاد فرما کر فرمایا۔ ’’اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَنَہَر‘‘ معزز ناظرین نہ صرف مرزاقادیانی کا ترجمہ ہی غلط ہے بلکہ یہ بھی کہ مرزاقادیانی نے اسی آیت کی بناء پر جو یہ اصول قائم کیا تھا (حالانکہ الفاظ میں اس اصول کی طرف صراحت تو کیا دلالت بھی نہیں) کہ انسان مرنے کے ساتھ ہی بہشت میں چلا جاتا ہے وہ سراپا غلط ہے۔ قرآن مجید میں ہے:’’یَوْمَ نَقُوْلُ لِجَہَنَّمَ ہَلِ امْتَلَئْتِ وَتَقُوْلُ ہَلْ مِنْ مَّزِیْدٍ* وَاُزْ لِفَتِ الْجَنَّۃُ لِلْمُتَّقِیْنَ غَیْرَ بَعِیْدٍ* ہٰذَا

359

مَاتُوْعَدُوْنَ لِکُلِّ اَوَّابٍ حَفِیْظٍ * مَنْ خَشِیَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَیْبِ وَجاء بِقَلْبٍ مُّنِیْبِ * نِادْخُلُوْہَا بِسَلَامِ ذٰلِکَ یَوْمُ الْخُلُوْدِ (ق:۳۰تا۳۴)‘‘ جس روز ہم جہنم کو پوچھیں گے تو بھر گئی؟ وہ کہے گی کیا اور کچھ بھی ہے؟ اور (جس روز) متقین کے واسطے جنت کو آراستہ کر کے قریب لائیں گے۔ یہ وہ بہشت ہے جس کا وعدہ ہررجوع کنندہ (احکام کے) محافظ کو دیاگیا تھا جو شخص بن دیکھے رحمن سے ڈرا اور رجوع کرنے والے دل سے ساتھ آیا۔ اس کو اس بہشت میں سلامتی کے ساتھ داخل کر دو۔ یہ دن یوم خلود ہے۔ یہ آیت کس قدر مرزاقادیانی کے تلازم اور ایک آن کے مسئلہ کو باطل کر رہی ہے۔ احادیث صحیحہ میں بھی بڑی تفصیل وتشریح ہے سب کی جامع ایک ہی حدیث ہے۔ رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔ میں سب سے پہلے دروازہ جنت جاکر کھٹکھٹاؤں گا۔ رضوان پوچھے گا آپ کون ہیں۔ میں کہوں گا محمد ﷺ رضوان دروازہ کھول دے گا اور کہے گا۔ مجھے یہی حکم تھا کہ آپ سے پہلے کسی کے لئے دروازہ نہ کھولوں؟ اگر مرزاقادیانی کا یہ مذہب ٹھیک ہے تو ان کو اس حدیث کے بعد بتلانا پڑے گا کہ وفات محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے تک جس قدر برگزیدگان خداانتقال کرتے رہے وہ سب کہاں جنت کے باہر رہے۔ یہ تمام تقریر تو مرزاقادیانی کی اصولی غلطی ظاہر کرنے کے لئے لکھی گئی۔

جواب:

۲… اب یہ عرض ہے کہ آیت: مستدلہ مرزاقادیانی کے دعویٰ پر ذرا دلیل نہیں۔ بالفرض ان کا یہ بیان صحیح ہے کہ انسان مرتے ہی جنت میں داخل ہو جاتا ہے تو وفات مسیح پر یہ کیا دلیل ہے۔ برگزیدہ بندوں میں داخل ہونا اگر دلیل وفات ہوتی تو شب معراج میں ہی رسول کریم ﷺ کا وفات پانا ایک مسلم واقع ہوتا۔ جب ایسا نہیں ہوا تو آپ کا یہ استدلال ایسا بودا اور ضعیف ہے۔ جس کو دعویٰ سے ذرا مناسبت نہیں۔

جواب:

۳… مرزاقادیانی اپنی کوتاہ عقلی سے سمجھے بیٹھے ہیں کہ آسمان پر صرف جنت ہے اور کوئی جگہ اور خطہ نہیں۔ حالانکہ یہ بالکل غلط ہے۔ کیونکہ آسمان تو سات ہیں۔ اب ہر آسمان تمام کا تمام جنت میں مانیں گے؟ مرزاقادیانی آسمان ایک نہایت وسیع وعریض مقامات ہیں۔ اس میں خدا جانے کیا کیا ہے۔ رفع سماء سے دخول جنت لازم نہیں آتا۔ دیکھئے سید دو عالم ﷺ جب معراج پر تشریف لے گئے تو بے شمار مقامات کی سیر کے بعد جنت کی سیرفرمائی وہاں منازل صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین ملاحظہ فرمائے۔ مسیح علیہ السلام کا رفع آسمانوں پر ہوا نہ کہ جنت موعودہ میں۔ فافہم!

ستائیسویں آیت:

’’اِنَّ الَّذِیْنَ سَبَقَتْ لَہُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰی اُوْلٰئِکَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ * لا يَسْمَعُونَ حَسِیْسَہَا وَہُمْ فِیْ مَا اشْتَہَتْ اَنْفُسُہُمْ خٰلِدُوْنَ (الانبیاء:۱۰۱،۱۰۲)‘‘ {جن کے لئے پہلے سے ٹھہر چکی ہماری طرف سے نیکی وہ اس سے دور رہیں گے۔ نہیں سنیں گے اس کی آہٹ اور وہ اپنے جی کے مزوں میں سدا رہیں گے۔}

قادیانی استدلال:

’’اس آیت سے مراد حضرت عزیر علیہ السلام اور حضرت مسیح علیہ السلام ہیں ان کا بہشت میں داخل ہو جانا اس سے ثابت ہوتا ہے۔ جس سے ان کی موت بپایہ ثبوت پہنچتی ہے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۶۲۲، خزائن ج۳ ص۴۳۵)

جواب:

۱… مضمون آیت یہ ہے کہ نیک بندے بہشت میں داخل ہوں گے۔ لہٰذا حضرت مسیح علیہ السلام مر گئے مرتے ہی بہشت میں داخل ہونے کا غلط ہونا ثابت ہو چکا۔ بالفرض یہ عقیدہ صحیح درست ہے تاہم اس اصول سے کہ مردے فوراً داخل بہشت ہوتے ہیں۔ وفات مسیح بالفعل کہاں ثابت ہوگئی؟

جواب:

۲… یہ سلسلۂ کلام روز حشر کے بعد کے ساتھ متعلق ہے جو امر حشر کے بعد سے متعلق ہو اس کے فرضی نتائج سے دنیا میں عقیدہ کا اثبات احمقوں کی جنت کے باسی کی ہی چال ہو سکتی ہے۔

360

اٹھائیسویں آیت:

’’اَیْنَ مَا تَکُوْنُوْا یُدْرِکْکُمُ الْمَوْتَ وَلَوْ کُنْتُمْ فِیْ بُرُوْجٍ مُّشَیَّدَہُ (نساء:۷۸)‘‘ {یعنی جس جگہ تم ہو اسی جگہ موت تمہیں پکڑے گی اگرچہ تم بڑے مرتفع برجوں میں بودوباش اختیار کرو۔}

قادیانی استدلال:

’’اس آیت سے بھی صریح ثابت ہوتا ہے کہ موت اور لوازم موت ہر جگہ جسم خاکی پر وارد ہوتے ہیں۔ یہی سنت ﷲ ہے اور اس جگہ بھی استثناء کے طور پر کوئی ایسی عبارت بلکہ ایک ایسا کلمہ بھی نہیں لکھا گیا ہے جس سے مسیح باہر رہ جاتا۔ پس بلاشبہ یہ اشارۃ النص بھی مسیح ابن مریم کی موت پر دلالت کر رہے ہیں۔ موت کے تعاقب سے مراد زمانہ کا اثر ہے جو ضعف اور پیری یا ارضی وآفات مخبر الی الموت تک پہنچانا ہے۔ اس سے کوئی نفس مخلوق خالی نہیں۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۶۲۲، خزائن ج۳ ص۴۳۶)

جواب:

۱… یہاں بھی مرزاقادیانی نے تحریف قرآنی کا ارتکاب کر کے غلط نتیجہ کشید کرنے کی نامراد کوشش کی ہے۔ اس کے لئے سب سے پہلے آیت کے صحیح معنی ومفہوم پر نظرکرنا ضروری ہے۔ آپ ﷺ جب صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کے ساتھ ہجرت کر کے مدینہ طیبہ تشریف لائے۔ کفار مکہ نے مدینہ پر حملہ کرنے کا پروگرام ترتیب دیا۔ آپ ﷺ نے کفار کے مقابلہ کے لئے تیاری کا حکم فرمایا تو بعض کمزور طبع حضرات یا منافقین نے جنگ سے جی چرانا چاہا۔ ان کی تنبیہ کے لئے یہ آیات نازل ہوئیں۔ کئی رکوع اسی مضمون سے متعلق نازل ہوئے۔ ان میں یہ آیت کریمہ بھی ہے کہ ’’جنگ میں جانے سے جی چرا کر تم موت سے نہیں بچ سکتے۔ موت تو کہیں بھی آسکتی ہے۔ اگرچہ بلند وبالا برجوں میں کیوں نہ رہو پھر بھی موت آئے گی۔‘‘ اب اس آیت میں موت کا آنا یقینی ہے اس کا بیان ہورہا ہے۔ یہ کہاں ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوگئے۔

جواب:

۲… تمام اہل اسلام کا عقیدہ ہے کہ تمام مخلوق کی طرح سیدنا عیسیٰ علیہ السلام پر موت آئے گی۔ بحث اس میں ہے کہ اس وقت زندہ ہیں یا فوت ہوگئے۔ مرزاقادیانی کا مؤقف ہے کہ فوت ہوگئے۔ اس آیت میں ایک لفظ بھی ایسا نہیں جس سے ثابت ہو کہ وہ فوت ہوگئے۔ پس مرزاقادیانی کا یہ دجل اور تحریف ہے۔ مرزاقادیانی کے دل کا چور بھی مرزاقادیانی کو ملامت کرتا تھا کہ تم غلط استدلال کر رہے ہو۔ اس لئے مجبوراً اسے کہنا پڑا۔ ’’یہ اشارۃ النص بھی مسیح بن مریم کی موت پر دلالت کر رہے ہیں۔‘‘ مرزاقادیانی نے غلط کہا اس میں اشارۃ النص نہیں بلکہ مرزاقادیانی کی ’’شرارۃ النفس‘‘ نے اسے اس تحریف پر مجبور کیا ہے۔

جواب:

۳… مرزاقادیانی کا کہنا کہ ’’موت اور لوازم موت ہر جگہ جسم خاکی پر وارد ہوتے ہیں۔‘‘ یہاں بھی مرزاقادیانی کو یاد رکھنا چاہئے کہ جس طرح مسلمان وکافر امتی اور نبی کی کیفیت موت میں فرق ہے۔ اس طرح زمین پر رہنے والے اور آسمان پر رہنے والے اجسام کے لوازم موت یا اثرات میں بھی فرق ہے۔ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نفخۂ جبرائیل علیہ السلام سے پیدا ہوئے۔ اس لئے آسمانوں پر قیام فرشتوں کی طرح ان کے جسم مبارک پر اثرات کے مرتب کا فرق ظاہر وباہر ہے۔ مرزا کا مرشد ابلیس بھی اگر اب تک زندہ ہے تو اس کے جسم پر اثرات موت ولوازم موت میں مرزاقادیانی کی نسبت تفاوت ہے تو زمین پر رہنے والوں اور ساکنان سماء کا اجسام پر لوازم موت کے تفاوت اثرات سے انکار نہیں کرنا چاہئے؟‘‘

جواب:

۴… ’’اور زمانہ سے جسم پر لوازم موت وارد ہوتے ہیں۔‘‘ یہ صرف مرزاقادیانی کا عقیدہ نہیں بلکہ کفار

361

مکہ، مادہ پرست، منکرین بعث یہی کہتے تھے۔ ’’وَقَالُوْا مَاہِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا نَمُوْتُ وَنَحْیَا وَمَا یُہْلِکُنَا اِلَّا الدَّہْرُ (جاثیہ:۲۴)‘‘ وہ (کفار) کہتے تھے کہ ہمیں دنیوی زندگانی ہی کافی ہے۔ ہم مرتے اور پیدا ہوتے ہیں اور حوادث زمانہ ہی ہمیں ہلاک کرتے ہیں۔ کفار مکہ ومنکرین بعث حوادث زمانہ کو موت اور لوازم موت سمجھتے تھے۔ یہی راگ آج مرزاقادیانی الاپ رہا ہے۔ جب کہ مسلمانوں کے نزدیک موت صرف اور صرف مشیت الٰہی ’’یفعل ما یشاء‘‘ اور ’’مشیت‘‘ ذات باری کی مرضی ومنشاء پر منحصر ہے۔ کوئی ماں کے پیٹ سے مردہ برآمد ہوا۔ کوئی چند ساعات، کوئی چند سال، کوئی چند صدیاں، جس کو جتنا چاہے زندہ رکھے، یہ خالق کی مرضی پر منحصر ہے۔ جب چاہے جس کو چاہے موت دے۔ عیسیٰ علیہ السلام ابھی زندہ ہیں۔ ان کی وفات کے وقوع کا اس آیت میں اشارہ یا شائبہ تک نہیں۔ پس مرزاقادیانی ’’خسرالدنیا والآخرۃ‘‘ کا مصداق ہے۔

جواب:

۵… مرزاقادیانی نے اپنی غلط برآری کے لئے آیت میں تحریف کر کے اشارۃ النص ثابت کرنا چاہی۔ جب کہ ’’صراحۃ النص بل رفعہ اللّٰہ (قرآن) ان عیسٰی لم یمت (حدیث) ان ینزل فیکم (حدیث)‘‘ کی موجودگی اس بات پر دلیل بیّن ہے کہ مرزاقادیانی نے یہاں بھی تحریف سے کام لیا ہے۔

جواب:

۶… ’’یدرککم الموت‘‘ یہ مضارع ہے۔ موت تم کو پائے گی نہ کہ پاچکی۔ مضارع کو ماضی میں لینا، عیسیٰ علیہ السلام جن کی تخصیص منقولی ثابت ہوچکی۔ ان کو عموم میں ثابت کرنا قادیانی دجل کا شاہکار ہے۔

انتیسویں آیت:

’’وَمَا اٰتٰکُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ وَمَا نَہٰکُمْ عَنْہُ فَانْتَہُوْ (الحشر:۷)‘‘ {اور جو دے تم کو رسول سولے لو اور جس سے منع کرے سو چھوڑ دو۔}

قادیانی استدلال:

’’یعنی رسول جو کچھ تمہیں علم ومعرفت عطاء کرے وہ لے لو اور جس سے منع کرے وہ چھوڑ دو۔ لہٰذا اب ہم اس طرف متوجہ ہوتے ہیں کہ رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارہ میں کیا فرمایا ہے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۶۲۳، خزائن ج۳ ص۴۳۶)

جواب:

۱… آئیے مرزاقادیانی اسی آیت پر عمل کریں اور دیکھیں کہ رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے حیات مسیح اور نزول مسیح علیہ السلام کے بارہ میں کیا فرمایا ہے۔

۱… امام حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے: ’’قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لِلْیَہُوْدِ اِنَّ عِیْسٰی علیہ السلام لَمْ یَمُتْ وَاِنَّہٗ رَاجِعٌ اِلَیْکُمْ قَبْلَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ‘‘

(تفسیر ابن کثیر ج۱ ص۳۶۶،۵۷۶، ابن جریر ج۳ ص۲۸۹)

’’رسول خدا ﷺ نے یہود کو (جو وفات عیسیٰ کے قائل تھے) فرمایا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہرگز نہیں مرے اور وہ قیامت سے پہلے تمہاری طرف لوٹ کر آئیں گے۔‘‘ حدیث میں ’’لَمْ یَمُتْ‘‘ کا لفظ غور طلب ہے کیونکہ ’’لَمْ‘‘ نفی تاکید کے لئے آتا ہے اور مضارع کو بمعنی ماضی کر دیتا ہے۔ مطلب یہ کہ اس وقت تک حضرت عیسیٰ علیہ السلام نہیں مرے۔ اس حدیث پر شاید جرح ہوسکتی ہے کہ مرسل ہے۔ امام حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ نے صحابی کا نام نہیں لیا۔ مگر یہ جرح مرزاقادیانی اور ان کے اخوان کی طرف سے تو ہو نہیں سکتی۔ کیونکہ مرزاقادیانی نے ’’مباحثہ الحق لدھیانہ‘‘ میں تسلیم کیا ہے۔ ’’مجردضعف حدیث کا بیان کرنا اس کو بکلی اثر سے روک نہیں سکتا۔‘‘ مرسل حدیث بکلی پایۂ اعتبار سے خالی اور بے اعتبار محض نہیں ہوتی، اب رہے اہل حدیث۔ وہ بھی اس حدیث پر کچھ جرح نہیں کرسکتے۔ کیونکہ امام حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ سے بروایت صحیح ثابت ہو چکا

362

ہے کہ جب وہ روایت حدیث ارسال کرتے ہیں تو اس حدیث کے راوی حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ ہوتے ہیں۔ مگر بنی امیہ کے خلاف شورش کے خوف سے آپ نام نہیں لیا کرتے تھے۔ اس سے واضح ہوا کہ حدیث بالا مرفوع ہے اور اس کی سند بھی جید اور عالی ہے۔ مرزاقادیانی اگر ’’اٰتٰکُمُ الرَّسُوْلُ‘‘ پر ایمان رکھتے ہیں تو اس حدیث کے سامنے سر اطاعت خم کریں۔

۲… (ابوداؤد ج۲ ص۱۳۵، باب خروج الدجال) کی حدیث میں ہے: ’’لَیْسَ بَیْنِیْ وَبَیْنَ عِیْسٰی نَبِیٌّ وَاِنَّہٗ نَازِلٌ‘‘ میرے اور عیسیٰ کے درمیان کوئی نبی نہیں ہوا اور وہی عیسیٰ تم میں نازل ہوں گے۔ ان الفاظ کو مرزاقادیانی ایمانی نظر سے دیکھیں کہ کس کا آنا ثابت ہوتا ہے اور کس کی زندگی واضح ہے؟

۳… امام احمد کی (مسند، ابن ماجہ ص۲۹۹، باب خروج الدجال) میں ہے۔ رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ میں شب معراج کو حضرت ابراہیم وموسیٰ وعیسیٰ علیہم السلام سے ملا۔ قیامت کے بارہ میں گفتگو ہونے لگی۔ فیصلہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے سپرد کیا گیا۔ انہوں نے کہا مجھے اس کی کچھ خبرنہیں۔ پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو فیصلہ دیاگیا۔ انہوں نے کہا قیامت کے وقت کی خبر تو خدا کے سوا کسی کو بھی نہیں۔ ہاں! خدا نے میرے ساتھ یہ عہد کیا ہے کہ قیامت سے پہلے دجال نکلے گا اور میرے ہاتھ میں شمشیر برہنہ ہوگی۔ جب وہ مجھے دیکھے گا تو یوں پگھلنے لگے گا۔ جیسے رانگ پگھل جاتا ہے۔

مرزاقادیانی کیا یہ احادیث ’’مَا اٰتٰکُمُ الرَّسُوْلُ‘‘ میں داخل ہیں یا نہیں۔ اگر ہیں تو آپ ان پر ایمان کیوں نہیں لاتے؟ اگر آپ کے نزدیک ’’مَا اٰتٰکُمُ الرَّسُوْلُ‘‘ میں جملہ احادیث نبوی میں سے صرف وہ دو حدیثیں داخل ہیں جو آپ نے اس آیت کے تحت میں لکھی ہیں تو واضح ہو کہ یہ وہ حدیثیں بھی آپ کے مدعا کے لئے ذرا مثبت نہیں۔

۱… (ترمذی ج۲ ص۱۹۵، ابواب الدعوات) کی یہ حدیث آپ نے پیش کی ہے کہ ’’اَعَمارِ امتی ما بین الستِیْن الی السَّبْعِیْنَ وَاَقلہُمْ مَنْ یَجُوْزُ ذٰلِک‘‘ جس کا ترجمہ بھی آپ نے صحیح کیا ہے کہ:’’میری امت کی اکثر عمریں ساٹھ سے ستر برس تک ہوں گی اور ایسے لوگ کمتر ہوں گے جو ان سے تجاوز کریں۔‘‘ میں کہتا ہوں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی اقلہم میں داخل ہیں۔ نزول کے بعد جب امت میں عملاً شمار ہوں گے تب تو چالیس پینتالیس کے عرصہ میں ان کا وصال ہو جائے گا۔ پھر یہ حدیث کیا دلیل آپ کے لئے ہے؟

۲… دوسری حدیث (مسلم ج۲ ص۳۱۰، ابواب الفضائل) کی یہ پیش کی ہے:’’مَا عَلَی الْاَرْضِ مِنْ نَفْسٍ مَنْفُوْسَۃٍ یَاْتِیْ عَلَیْہَا مَائۃ سنۃ وَہِیَ حَیَّۃٌ‘‘ جو زمین کے اوپر جاندار ہے۔ ایسی مخلوق نہیں کہ اس پر سوبرس گزریں اور وہ زندہ ہو۔ ’’مَا عَلَی الْاَرْضِ‘‘ کا لفظ بتاتا ہے کہ یہ حکم صرف ان نفوس منفوسہ کے لئے ہے جو اس وقت زمین پر موجود تھے۔ ورنہ ’’مَا عَلَی الْاَرْضِ‘‘ کی شرط لغو ٹھہرتی ہے۔ بلکہ زیادہ تدبر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ متکلم ﷺ کو یہ تخصیص کرنے کے وقت حضرت مسیح علیہ السلام کا ضرور خیال گزرا ہے اور اس لئے ایسے الفاظ استعمال فرمائے جو روئے زمین کے کل انسانوں پر تو حاوی ہوسکیں۔ مگر حضرت مسیح علیہ السلام اس سے مستثنیٰ بھی رہیں۔ لفظ الارض پر جن علماء نے علمی بحث کی ہے اور آیات ربانی کے قرائن سے الارض کے الف لام کو یقین کے لئے قرار دیا ہے۔ اس بحث میں تو مرزاقادیانی الارض کو ربع مسکون پر بھی اطلاق نہ کر سکیں گے۔ بلکہ جزیرۂ عرب ہی مختص ہو جائے گا۔ الغرض یہ احادیث بھی آپ کے لئے کچھ ممدومعاون نہیں اور یہ بھی ثابت ہوا کہ مرزاقادیانی ’’مَا اٰتٰکُمُ الرَّسُوْلُ‘‘ کے امر واجب الاذعان کو جو نہایت وسیع اور عام ہے صرف دو حدیثوں کے اندر (جن کو آپ نے بہزار دقت اپنے مفید بنایا تھا مگر اس میں بھی کامیاب نہ ہوئے) محدود جانتے ہیں۔ بلکہ جہاں کہیں رسول معصوم کے ارشادات جن کی اطاعت ہم پر

363

فرض کی گئی ہے ان کے اوہام نفسانی کی مخالفت کرتے ہیں۔ اس جگہ آپ نہایت دلیری اور جرأت سے احادیث رسول پر مخالفانہ حملہ کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ مسلمانوں کی نگاہ میں احادیث نبوی کی وقعت کو پرکاہ سے بھی کم ظاہر کر دیں۔ اس بیان کے ثبوت میں کہ انہوں نے کس طرح پر جابجا احادیث نبویہ پر حملے کئے ہیں اور کیسے کیسے پیرایہ میں ان کا ساقط الاعتبار ہونا زوروشور سے تحریر کیا ہے۔ مجھے زیادہ حوالے دینے کی ضرورت نہیں۔ میں اس جگہ صرف اس قدر دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ کیا ’’مَا اٰتٰکُمُ الرَّسُوْلُ‘‘ کا امر واجب الاذعان اس وقت فراموش ہوجایا کرتا ہے۔

جواب:

۲… مرزاقادیانی اور اس کے پیروکار یہ بھی خیال فرمالیں کہ آج تک بے شمار ائمہ دین، مجددین، ملہمین، مفسرین، متکلمین ہوئے ہیں انہوں نے اس آیت کریمہ کی تلاوت فرمائی۔ سنا اور سمجھا، انہوں نے جو اس کا مفہوم لیا اور اپنایا اس کے حوالہ سے جو اس کا مصداق ومفہوم ہوگا وہ ہمیں سو فیصد تسلیم ومنظور۔ اس کے سوا ہم کسی بھی وسوسے اور شبہے کو سننے کے لئے ہرگز تیار نہیں۔ لائیے پوری امت سے ایک آدمی پیش کریں جس نے اس آیت سے وفات مسیح علیہ السلام مراد لی ہو۔ ایک مفسر قیامت تک پوری قادیانی امت اس مؤقف پر یہاں پیش نہیں کرسکتی۔

تیسویں آیت:

’’اَوْتَرْقٰی فِی السَّمَآ ء وَلَنْ نُّؤْمِنَ لِرُقِیِّکَ حَتّٰی تُنَزِّلَ عَلَیْنَا کِتٰبًا نَّقْرَؤْہٗ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّیْ ہَلْ کُنْتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًا (بنی اسرائیل:۹۳)‘‘ {یا چڑھ جائے تو آسمان میں اور ہم نہ مانیں گے تیرے چڑھ جانے کو جب تک نہ اتار لائے ہم پر ایک کتاب جس کو ہم پڑھ لیں تو کہہ سبحان ﷲ! میں کون ہوں مگر ایک آدمی ہوں بھیجا ہوا۔}

قادیانی استدلال:

’’اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ کفار نے آنحضرت ﷺ سے آسمان پر چڑھنے کا نشان مانگا تھا اور انہیں صاف صاف جواب ملا کہ یہ عادت ﷲ نہیں کہ کسی خاکی جسم کو آسمان پر لے جائے۔ اب اگر جسم خاکی کے ساتھ ابن مریم علیہ السلام کا آسمان پرجانا صحیح مان لیا جائے تو یہ جواب مذکورہ بالا سخت اعتراض کے لائق ٹھہر جائے گا اور کلام الٰہی میں تناقض اور اختلاف لازم آئے گا۔ لہٰذا قطعی اور یقینی یہی امر ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام بجسدہ عنصری آسمان پر نہیں گئے بلکہ موت کے بعد آسمان پر گئے ہیں۔‘‘ (ازالہ اوہام ص۶۲۵، خزائن ج۳ ص۴۳۷)

جواب:

’’یہ بات نہیں ہے کہ ہرکس وناکس خدا کا پیغمبر بن جائے اور ہر ایک پر وحی نازل ہوجایا کرے۔ اس کی طرف قرآن شریف نے فرمایا ہے اور وہ یہ ہے:’’وَاِذَا وجاء تْہُمْ اٰیَۃٌ قَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ حَتّٰی نُؤْتٰی مِثْلَ مَا اُوْتِیَ رُسُلُ اللّٰهِؔ‌ۘؕ اَللّٰهُ اَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رَسَالَتَہٗ (الانعام:۱۲۴)‘‘ یعنی جس وقت کوئی نشان کفار کو دکھائی جاتی ہے تو کہتے ہیں کہ جب تک خود ہم پر ہی کتاب نازل نہ ہو تب تک ایمان نہ لائیں گے۔ خدا خوب جانتا ہے کہ کس جگہ اور کس محل پر رسالت کو رکھنا چاہئے۔‘‘

(براہین احمدیہ حاشیہ ص۱۶۹، خزائن ج۱ ص۱۸۱)

الغرض مرزائی مصنف کی پیش کردہ آیت سے بشر رسول کا آسمان پر جانا ناممکن الحال ثابت نہیں ہوتا۔

مرزاقادیانی سے کوئی پوچھے صاحب اس میں یہ کہاں لکھا ہے کہ آسمان پر لے جانا عادت ﷲ نہیں بلکہ اس آیت سے تو یہ معلوم ہوا کہ آسمان پر چلا جانا انسانی قدرت سے تو بالاتر ہے لیکن خداتعالیٰ قادر ہے اگر کسی نبی کو چاہئے آسمان پر لے جاسکتا ہے بھلا یہ مسلمان کب کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے آپ آسمان پر جابیٹھے۔ مسلمانوں کا تو یہ عقیدہ ہے۔ ’’بَلْ رَّفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیْہِ‘‘ ﷲ نے ان کو اپنی قدرت کاملہ سے اٹھایا ہے۔ ہاں! شاید یہ شبہ ہو کہ پھر کیوں کفار کے مطالبہ کے موافق یہ معجزہ حضور ﷺ سے ظاہر نہ کیاگیا تاکہ وہ ایمان لے آتے۔ کفار کے مطالبہ کو کیوں روکا گیا۔ کیا وہ یہ

364

کہتے تھے کہ تم اپنی ہی قدرت سے یہ کرشمہ دکھلاؤ ان کا ہرگز یہ خیال نہ تھا تاکہ یہ جواب دے دیا جاتا کہ بذات خود مجھ میں یہ قدرت نہیں۔ ہاں! ﷲتعالیٰ اس پر قادر ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ کفار مکہ کے یہ سوالات کسی غرض صحیح اور تحقیق حق پر مبنی نہ تھے۔ بلکہ محض تعنت اور عناد پر مبنی تھے۔ ان کے ظاہر ہونے پر ایمان لانا ہرگز مقصود نہ تھا۔ چنانچہ سوال ہوتا ہے: ’’اَوْتَاْتِیَ بِاللّٰہِ وَالْمَلٰٓئِکَۃِ قَبِیْلًا (بنی اسرائیل:۹۲)‘‘ یعنی ﷲ اور فرشتوں کو ہمارے سامنے گواہ لاؤ جو محال قطعی ہے پھر سوال ہوتا ہے کہ ہمارے سامنے سیڑھی لگا کر آسمان پر چڑھیں لیکن کفار ہمارے رسول کے آسمان پر چڑھ جانے کے معجزہ کی درخواست پر جمے نہیں رہے بلکہ اس کے ساتھ یہ چاہا کہ پھر ہمارے سامنے آسمان سے اترو اور ہر ایک کے نام خدا کی طرف سے نوشتہ اور کتاب لے کر آؤ کہ ہم اس کو پڑھیں۔ یعنی ہم پر بھی خدا کی کتاب نازل کر، کہ اے فلاں بن فلاں محمد ﷺ پر ایمان لاؤ۔ یعنی گویا رسول بنادے۔ حالانکہ یہ خدا کا کام ہے کہہ دے کہ میں تو بشر اور خود اس کا رسول ہوں کسی کو نبی اور رسول بنانا اور خدا کی طرف سے اس کے نام کتاب نازل کرنا میرا کام نہیں ہے۔ یہ تو ﷲ کے اختیار میں ہے۔ مگر میرا ﷲ پاک ہے کہ ایسے گندے اورناپاک روحوں کو اپنا نوشتہ اور اپنی کتاب بھیج کر رسول بنائے یا ان کے سامنے شہادت دینے آئے۔ معاذ ﷲ!

جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے: ’’قَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ حَتّٰی نُؤْتٰی مِثْلَ مَا اُوْتِیَ رُسُلُ اللّٰہِ اَللّٰہُ اَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسٰلَتَہٗ (الانعام:۱۲۴)‘‘ یعنی کفار مکہ نے کہا ہم ہرگز ایمان نہ لائیں گے یہاں تک کہ ہم کو بھی دیا جائے مثل اس کے جو ﷲ کے رسولوں کو دیاگیا ہے۔ یعنی رسالت ووحی وکتاب ومعجزے وغیرہ۔ فرمادیجئے کہ ﷲ کوب جانتا ہے کہ کہاں اپنی رسالت کو رکھے۔ یعنی تمہارے جیسے گندے اور ناپاک اور خبیث النفس رسالت کے کب قابل ہیں اور بعض سوال ممکن بھی تھے اور وہی معجزے طلب کئے تھے جو پہلے رسولوں سے ظاہر ہوچکے۔ لیکن محض تعنت اور عناد پر مبنی تھے۔ ان کے ظاہر ہونے پر ایمان لانا ہرگز مقصود نہ تھا۔ جیسے شق القمر کا معجزہ ظاہر کیاگیا مگر انہوں نے پھر بھی جھٹلایا۔ چنانچہ خود ارشاد خداوندی ہے۔ ’’وَمَا مَنَعَنَا اَنْ نُّرْسِلَ بِالْاٰیَاتِ اِلَّا اَنْ کَذَّبَ بِہَا الْاَوَّلُوْنَ (بنی اسرائیل:۵۹) قولہ تعالٰی وَاَقْسَمُوْا بِاللّٰہِ جَہْدَ اَیْمَانِہِمْ لَئِنْ وجاء تْہُمْ اَیٰۃٌ لَّیُؤْمِنُنَّ بِہَا قُلْ اِنَّمَا الْاَیَاتُ عِنْدَ اللّٰہِ وَمَا یُشْعِرُکُمْ اَنَہَا اِذَا وجاء تْ لَایُؤْمِنُوْنَ * وَنُقَلِّبُ اَفْئِدَتَہُمْ وَاَبْصَارَہُمْ کَمَا لَمْ یُؤْمِنُوْا بِہٖ اَوَّلَ مَرَّۃٍ (الانعام:۱۰۹،۱۱۰)‘‘ {نہیں روکا ہم کو کہ ہم معجزوں کو بھیجیں مگر اس بات نے کہ پہلے لوگ جھٹلا چکے ہیں اور قسمیں کھاتے ہیں ﷲ کی تاکید سے کہ اگر ان کو ایک معجزہ پہنچے تو البتہ اس پر ایمان لائیں۔ فرمادیجئے کہ معجزے تو ﷲ کے پاس ہیں اور تم مسلمان کیا خبررکھتے ہو کہ جب معجزے آئیں گے تو ہرگز ایمان نہ لائیں گے اور ہم الٹ دیں گے ان کے دل اور آنکھیں جیسے ایمان نہیں لائے پہلی بار۔}

غرض یہ سوال محض عناد پر مبنی تھے لیکن اگر ان فرمائشی معجزات کو پورا بھی کر دیا جاتا تب بھی وہ ایمان نہ لاتے جس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ پھر وہ بالکل تباہ اور برباد کر دئیے جاتے۔ کیونکہ اقتراحی معجزے کے بعد امہال اور استدراج نہیں ہوتا جیسا کہ پہلی امتوں کے ساتھ پیش آچکا ہے۔

اگر کہا جائے گو آسمان پر چڑھایا جانا ممکن تو ہے اور ﷲتعالیٰ جس کو چاہے آسمان پر پہنچا سکتا ہے۔ کیونکہ خدا کے نزدیک کوئی چیز انہونی نہیں۔ لیکن یہ عام سنت جاریہ اور عام عادت ﷲ کے خلاف ہے۔ مگر یہ مرزاقادیانی ہرگز نہیں کہہ سکتے۔ کیونکہ (حقیقت الوحی ص۴۹،۵۰، خزائن ج۲۲ ص۵۲) میں لکھتے ہیں: ’’اس قدر زور سے صدق اور وفا کی راہوں پر چلتے

365

ہیں کہ ان کے ساتھ خدا کی ایک الگ عادت ہو جاتی ہے گویا ان کا خدا ایک الگ خدا ہے جس سے دنیا بے خبر ہے اور ان سے خداتعالیٰ کے وہ معاملات ہوتے ہیں جو دوسروں سے وہ ہرگز نہیں کرتا جیسا کہ ابراہیم علیہ السلام۔‘‘

پس جب انبیاء علیہم السلام کے ساتھ خدا کے وہ معاملات ہوتے ہیں جو دوسرے سے نہیں۔ ان کے ساتھ خدا کی ایک الگ عادت ہوتی ہے تو پھر رفع عیسیٰ علیہ السلام وزیادتی عمر بلاارذل عمر پر کیوں تعجب ہے۔ ’’اِنَّ مَثَلَ عِیْسٰی عِنْدَ اللّٰہِ کَمَثَلِ اٰدَمَ (آل عمران:۵۹)‘‘ جب آدم علیہ السلام زمین سے جنت میں، پھر جنت سے زمین پر آچکے ہیں۔ ایسے عیسیٰ علیہ السلام کا زمین سے آسمان پر، پھر آسمان سے زمین پر آنا ہوگا۔

باب ششم … حیات عیسیٰ علیہ السلام اور بزرگان امت

قرآن وسنت کی طرح پوری امت کے اکابر بھی حضرت سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کی حیات، رفع الیٰ السماء، نزول من السماء عند قرب الساعۃ کے قائل ہیں۔ اس پر ہمارے حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی رحمۃ اللہ علیہ کی مستقل تصنیف ہے۔ ’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات ونزول کا عقیدہ چودہ صدیوں کے مجددین واکابر امت کی نظر میں‘‘ اس تصنیف میں ترتیب وار چودہ صدیوں کے سینکڑوں اکابر کی تحریرات وتصریحات کو یکجا کر دیا ہے۔ یہ تصنیف (تحفہ قادیانیت ج۳ ص۱تا۲۶۴) پر طبع شدہ ہے۔ قادیانی دجال جس طرح قرآن وحدیث میں تحریف کے تیر چلاتے ہیں۔ اسی طرح اکابرین امت کی عبارات کو سیاق وسباق سے کاٹ کر یہودیوں کے کان کترتے ہیں۔ جن اکابر پر قادیانی وفات مسیح کا الزام دیتے ہیں۔ ذیل میں ہم فقط ان کی تحریفات کے جوابات عرض کرتے ہیں۔

حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ

ایسا ہی حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ پر قادیانیوں نے بہتان باندھا ہے کہ انہوں نے وفات حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خطبہ میں کہا: ’’لقد قبض الیلۃ عرج فیہا بروح عیسٰی ابن مریم‘‘

(طبقات کبریٰ ج۳ ص۲۸، مرزائی پاکٹ بک ص۲۰۵)

جواب:

۱… ’’طبقات ابن سعد‘‘ کا ایک قول نقل کرنا ہی دلیل صداقت سمجھا جائے؟ قرآنی وتفسیری، حدیثی ہزاروں اقوال کے مقابلہ میں ایک قول کو عقیدہ کے لئے بنیاد بنانا قادیانی الحاد کی دلیل ہے۔

جواب:

۲… چونکہ خود اسی کتاب کا مصنف قائل حیات مسیح علیہ السلام ہے جیسا کہ (ج۱ ص۴۵) پر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا قول دربارہ مثبت حیات مسیح نقل کر کے مصنف نے اس پر کوئی جرح نہیں کی۔ وہو ہذا!

’’وان اللّٰہ رفع بجسدہ وانہ حی الان وسیرجع الی الدنیا فیکون فیہا ملکا ثم یموت کما یموت الناس‘‘ یعنی تحقیق مسیح بمع جسم کے اٹھایا گیا ہے۔ ولا ریب وہ اس وقت زندہ ہے۔ دنیا کی طرف آئے گا اور بحالت شاہانہ زندگی بسر کرے گا پھر دیگر انسانوں کی طرح فوت ہوگا۔

اس روایت نے فیصلہ کردیا کہ رفع سے مراد رفع جسمی ہے اور اگر حضرت حسن رضی اللہ عنہ والی روایت درست ہے تو اس کا بھی یہی مطلب ہے۔ جس سے مراد یہ ہوگی کہ ’’عرج فیہا بروح اللّٰہ عیسٰی ابن مریم‘‘ یعنی عیسیٰ بن مریم روح ﷲ اٹھایا گیا۔

ایسا ہونا کوئی بڑی بات نہیں۔ عموماً روایات میں الفاظ مقدم ومؤخر، ملفوظ ومقدر اور قدرے مختلف ہوجایا کرتے

366

ہیں اور تو اور خود صحیح بخاری کی احادیث میں بھی ایسا موجود ہے۔ چنانچہ ہم حدیث ’’حدیث لا تفضلونی علی موسٰی‘‘ کسی نے ’’لاتفضلونی‘‘ کہا کسی راوی نے ’’لاتخیرونی‘‘ کہا۔ کسی نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے علاوہ دیگر انبیاء کو بھی شامل کیا۔ ’’تخیروا بین انبیاء اللّٰہ‘‘ وغیرہ۔

خود یہی زیر تنقید روایت مختلف طریقوں سے کتابوں میں مرقوم ہے۔ درمنثور والے نے ’’لیلۃ قبض موسٰی‘‘ درج کیا ہے۔ (درمنثور ج۲ ص۳۶) اور یہ صاحب درمنثور قادیانیوں کے مسلمہ مجدد ہیں۔

الغرض ایسی غیرمعتبر روایات میں فیصلہ کا صحیح طریق یہی ہے کہ جو بات احادیث صحیحہ وقرآن کے مطابق ہووہی صحیح سمجھی جائے۔ باقی کو غلط ومردود قرار دیا جائے۔

جواب:

۳… اب اسی بارے میں ایک اور روایت (مستدرک حاکم ج۴ ص۱۲۱، باب ۱۸۴۴ قتل علی لیلۃ انزل القرآن، روایت نمبر۴۷۴۲) پر روایت ہے۔ جسے درمنثور نے بھی نقل کیا ہے: ’’عن الحریث سمعت الحسن بن علی یقول قتل لیلۃ انزل القراٰن ولیلۃ اسری بعیسٰی ولیلۃ قبض موسٰی‘‘ (درمنثور ج۲ ص۳۶) حریثb کہتے ہیں میں نے حسن رضی اللہ عنہ سے سنا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اس رات قتل کئے گئے جس رات قرآن اترا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام سیر کرائے گئے اور موسیٰ علیہ السلام قبض کئے گئے۔

حضرات! غور فرمائیے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ جو شہید ہوگئے تھے۔ قتل کا لفظ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام پر جو وفات پوگئے ہوئے تھے قبض کا استعمال ہوا۔ مگر مسیح علیہ السلام چونکہ زندہ جسم اٹھائے گئے تھے اس لئے ان کے حق میں اسری فرمایا گیا۔ ’’السّرایۃ اذا قطعۃ بالسیر‘‘ جب کوئی شخص چل کر مسافت طے کرے اس کو سرایت بولتے ہیں۔ خود قرآن پاک میں ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام بمع مومنین کے راتوں رات مصر سے نکلے یہ خروج بحکم خدا تھا۔ ’’فَاَسْرِ بِعِبَادِیْ لَیْلاً اِنَّکُمْ مُتَّبَعُوْنَ (دخان:۲۳)‘‘ {لے چل میرے بندوں کو راتوں رات تحقیق تمہارا تعاقب کیا جائے گا۔}

اسی طرح حضرت لوط علیہ السلام کے متعلق وارد ہے کہ:’’فَاَسْرِ بِاَہْلِکَ بِقِطْعٍ مِّنَ اللَّیْلِ (سورۂ الحجر:۶۵)‘‘ {لے نکل اپنے اہل کو ایک حصہ رات میں۔}

حاصل یہ کہ اگر حضرت حسن رضی اللہ عنہ کا خطبہ امرواقع ہے تو یقینا اس کا یہی مطلب ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بمعہ جسم اٹھائے گئے اور یہی حق ہے جو قرآن وحدیث کے مطابق ہے۔

عجیب تائید الٰہی

مرزائیوں نے اس روایت کو وفات مسیح کی دلیل ٹھہرایا تھا۔ خدا کی قدرت کہ یہی حیات مسیح کی مثبت ہوگئی۔ نیز اس سے یہ بھی ثابت ہوگیا کہ مرزاقادیانی کاذب تھے۔ دلیل یہ کہ اس روایت میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وفات صاف مذکور ہے۔ حالانکہ مرزاقادیانی انہیں زندہ مانتے ہیں۔

(نورالحق حصہ اوّل ص۵۰، خزائن ج۸ ص۶۹)

حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ

ایسا ہی حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ پر قادیانیوں نے افتراء کیا۔ کہا جاتا ہے کہ وہ بھی وفات مسیح علیہ السلام کے قائل تھے۔ دلیل یہ کہ انہوں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا خطبہ جس میں وفات مسیح علیہ السلام مذکور ہے اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت متوفیک، ممیتک کو بخاری میں نقل کیا ہے۔

367

جواب:

۱… ہم ثابت کر آئے ہیں کہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین خاص کر ابن عباس رضی اللہ عنہ کو قائلین وفات مسیح قرار دینا قطعاً جھوٹ ہے۔ ان کی روایت سے وفات ثابت نہیں ہوتی۔ بلکہ دیگر بیسیوں روایات سے حیات ثابت ہے۔ پس اس بودی دلیل پر بنیاد قائم کر کے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کو قائل وفات کہنا یقینا پرلے سرے کی جہالت ہے۔ سنو! امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت جس میں نزول مسیح کا ذکر اور ان کے ابھی تک زندہ ہونے کا تذکرہ اور آخر زمانہ میں نازل ہونے کا اظہار موجود ہے۔ یعنی وہ روایت جس میں آیت: ’’اِنْ مِّنْ اَہْلِ الْکِتَابِ اِلَّا لَیُؤْمِنُنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ‘‘ سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے مسیح علیہ السلام کے حیات ہونے پر دلیل بنایا ہے (اور مرزاقادیانی نے غصہ میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو غبی فہم قرآن میں ناقص درایت سے حصہ نہ رکھنے والا قرار دیا ہے۔ (اعجاز احمدی ص۱۸، خزائن ج۱۹ ص۱۲۷) کو نقل کر کے اور اسی طرح دیگر صحابہ کی روایات جن میں نزول مسیح علیہ السلام کا ذکر ہے۔ بخاری شریف میں نقل کر کے ان پر کوئی جرح یا انکار نہ کرتے ہوئے ثابت کر دیا ہے کہ وہ بھی حیات مسیح علیہ السلام کے قائل تھے اور کیوں نہ ہوتے جب کہ آنحضرت ﷺ خدا کی قسم کھاکر نزول مسیح علیہ السلام کا اظہار فرماتے ہیں اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہآیت قرآن کے ساتھ اس پر مہر تصدیق ثبت کرتے ہیں اور امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ خود اس روایت کو بخاری شریف میں درج فرماتے ہیں۔

جواب:

۲… امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت مسیح علیہ السلام کی پیدائش سے لے کر نزول تک کے واقعات کو صحیح بخاری میں نقل کیا ہے اور مختلف باب باندھے ہیں۔ ناظرین ملاحظہ فرمائیں: (۱)’’باب قول اللّٰہ تعالٰی وَاذْکُرْ فِی الْکِتَابِ مَرْیَمَ‘‘ (۲)’’باب وَاِذْ قَالَتِ الْمَلٰئِکَۃُ‘‘ (۳)’’باب وَاِذْ قَالَتِ الْمَلٰئِکَۃُ یَامَرْیَمُ اِنَّ اللّٰہَ یُبَشِّرُکِ بِکَلِمَۃٍ مِّنْہُ اسْمُہٗ الْمَسِیْحُ عِیْسٰی ابْنُ مَرْیَمَ‘‘ (۴)’’باب قولہ یَا اَہْلَ الْکِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِیْ دِیْنِکُمْ‘‘ (۵)’’باب وَاذْکُرْ فِی الْکِتٰبِ مَرْیَمَ‘‘ (۶)’’باب نزول عیسٰی ابن مریم علیہما السلام‘‘

پھر ہر ایک باب کے بعد آنحضرت ﷺ کی احادیث لائے ہیں۔ آخری باب کے شروع پر کوئی آیت قرآن نہیں لکھی کیونکہ اس باب میں جو حدیث لائے اس کے اندر خود آیت: ’’وَاِنْ مِّنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ‘‘ سے تمسک کیا ہوا ہے۔

حضرات! غور فرمائیے کہ حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اسی مسیح ابن مریم علیہ السلام کی آمد کے قائل ہیں جس کا ذکر مختلف ابواب میں کیا ہے یا کسی اور شخص کے لئے؟

جواب:

۳… نیز بخاری شریف میں نزول عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کا باب تو ہم نے دیکھا ساری دنیا کے مرزائی مل کر امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب میں وفات مسیح بن مریم کا باب دکھا سکتے ہیں؟ نہیں اور قیامت تک نہیں تو پھر قادیانی چیف گرو لاٹ پادری مرزااور قادیانیوں کو امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ پر کذب بیانی کرتے شرم آنا چاہئے۔ لیکن شرم اور قادیانیت آپس میں ضد ہیں۔ حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ تو کیا ان کے فرشتوں کو بھی معلوم نہ تھا کہ ان احادیث نبویہ میں سوائے مسیح ابن مریم علیہما السلام کے کسی آئندہ پیدا ہونے والے پنجابی شخص مریض مراقی کی آمد کا تذکرہ ہے۔ حاصل یہ کہ حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ حیات مسیح علیہ السلام کے قائل تھے۔

جواب:

۴… اس پر مزید تشفی کے لئے ہم ان کی تاریخ سے ان کا فرمان نقل کرتے ہیں: ’’یُدْفَنُ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ وَصَاحِبَیْہِ فَیَکُوْنُ قَبْرُہٗ رَابِعًا‘‘ (درمنثور ج۲ ص۲۴۵)

۵… ’’لیدفن عیسٰی بن مریم مع النبی ﷺ فی بیتہ‘‘ عیسیٰ بن مریم آنحضرت ﷺ کے ساتھ آپ ﷺ کے حجرہ شریف میں دفن ہوں گے۔ (تاریخ الکبیر للبخاری ج۱ ص۲۶۳ نمبر۸۳۹)

368

امام مالک رحمۃ اللہ علیہ

ایسا ہی امام مالک رحمۃ اللہ علیہ پر قادیانیوں نے جھوٹ باندھا ہے کہ وہ بھی وفات کے قائل تھے۔ اس پر مجمع البحار وشرح اکمال الاکمال س سے نقل کیا ہے کہ: ’’قال مالک مات عیسٰی‘‘

جواب:

۱… اوّل تو یہ قول بے سند ہے کوئی سند اس کی بیان نہیں کی گئی۔ پس کیسے سمجھا جائے کہ اس جگہ مالک سے مراد امام مالک رحمۃ اللہ علیہ ہیں اور یہ روایت صحیح ہے؟

جواب:

۲… بعض سلف کا یہ بھی مذہب ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اٹھائے جانے سے قبل سلائے گئے تھے۔ چنانچہ لفظ توفی کے یہ بھی ایک معنی ہیں۔ ’’وَہُوَ الَّذِیْ یَتَوَفّٰکُمْ بِاللَّیْلِ وَیَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بِالنَّہَارِ (انعام:۶۰)‘‘ ﷲ وہ ذات ہے جو رات کو تمہیں سلا دیتا ہے اور جانتا ہے جو تم دن میں کماتے ہو۔ پس اگر یہ فی الواقع امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے تو اس سے مراد سلانا ہے۔ ’’کیونکہ مات کے معنی لغت میں ’’نَامَ‘‘ بھی ہیں۔ دیکھو قاموس‘‘

(ازالہ اوہام ص۶۳۹، خزائن ج۳ ص۴۴۵)

جواب:

۳… ’’وفی العتبیۃ قال مالک بین الناس قیام یستمعون لاقامۃ الصلٰوۃ فتغشاہم غمامۃ فاذا انزل عیسٰی‘‘ (شرح اکمال الاکمال ج۱ ص۴۴۶)

’’عتبیہ میں ہے کہ کہا مالک رحمۃ اللہ علیہ نے لوگ نماز کے لئے تکبیر کہہ رہے ہوں گے کہ ایک بدلی چھا جائے گی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے۔‘‘ اس تصریح کے اسی کتاب میں ہوتے ہوئے بھی کوئی دجال حضرت امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کو وفات مسیح علیہ السلام کا قائل قرار دے تو دلائل کی دنیا میں اسے کون قائل کر سکتا ہے؟ الغرض امام مالک رحمۃ اللہ علیہ حیات مسیح ونزول فی آخرالزمان کے قائل تھے۔ چنانچہ آپ کے مقلدین معتقد ہیں۔ حیات مسیح علیہ السلام کے۔ علامہ زرقانی مالکی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:’’رفع عیسٰی وہو حی علی الصحیح‘‘

(شرح مواہب لدنیہ ج۵ ص۳۵۱، یہاں ص۳۴۶سے۳۵۴تک حیات مسیح کی تفصیل درج ہے)

نوٹ:

اور واضح ہو کہ کتاب عتبیہ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کی نہیں ہے بلکہ امام عبدالعزیز اندلسی قرطبی رحمۃ اللہ علیہ کی ہے۔ جس کی وفات ۲۵۴ میں ہوئی۔ (کشف الظنون ج۱ ص۱۰۶،۱۰۷)

حضرت امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ وحضرت امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ

مذکورہ بالا ائمہ کرام کے متعلق بھی قادیانیوں نے بلاثبوت افتراء کیا ہے کہ یہ سب اس مسئلہ میں خاموش تھے لہٰذا وفات مسیح کے قائل تھے۔

جواب:

۱… ’’نزول عیسٰی علیہ السلام من المساء حق کائن‘‘

(فقہ اکبر مؤلفہ امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ ص۵۴، مطبوعہ گوجرانوالہ)

جواب:

۲… امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کی مسند میں تو بیسیوں احادیث حیات مسیح کی موجود ہیں۔ لہٰذا ان کو قائل وفات گرداننا انتہائی ڈھٹائی اس کے لئے (مسند احمد ج۱ ص۳۷۵، ج۲ ص۲۲، ۳۹، ۶۸، ۸۳، ۱۲۲، ۱۲۶، ۱۴۴، ۱۵۴، ۱۶۶، ۲۴۵، ۲۷۲،

369

۲۹۰، ۲۹۸، ۲۹۹، ۳۳۶، ۳۹۴، ۴۰۶، ۴۱۱، ۴۳۷، ۴۸۲، ۴۹۴، ۵۱۳، ۵۳۸، ۵۴۰، ج۳ ص۳۴۵، ۳۶۸، ۳۸۴، ۴۲۰ ج۴ ص۱۸۱، ۱۸۲، ۲۱۶، ۲۱۷، ۳۹۰، ۴۲۹، ج۵ ص۱۳،۱۶، ۲۷۴، ج۶ ص۷۵) پر نظرکی جائے تو چمکتی دمکتی ۳۹روایات نظر آجائیں گی۔ امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کی مسند کی کوئی جلد حیات مسیح کی روایات سے خالی نہیں۔ لہٰذا ان کو قائل وفات گرداننا انتہائی ڈھٹائی ہے۔

علامہ ابن حزم رحمۃ اللہ علیہ

امام ابن حزم رحمۃ اللہ علیہ کے خلاف بھی غیروں کی کتابوں کی بناء پر قادیانیوں نے اتہام باندھا ہے۔ حالانکہ وہ برابر حیات مسیح علیہ السلام کے قائل ہیں۔

۱… ’’ان عیسٰی ابن مریم سینزل‘‘ (المحلی ج۱ ص۹۴) اس مقام پر اس صراحت کے بعد وہ ’’نزول عیسیٰ بن مریم الیٰ الارض‘‘ کی احادیث لائے ہیں۔

۲… ’’فکیف یستجیز مسلم ابن یثبت بعدہ علیہ السلام نبیا فی الارض حاشا ما استثناہ رسول اللّٰہ ﷺ فی الاثار المسندۃ الثابتۃ عن نزول عیسٰی ابن مریم فی اخر الزمان‘‘

(کتاب الفصل ج۳ ص۱۱۴)

یعنی کسی مسلمان سے کس طرح جائز ہے کہ وہ آنحضرت ﷺ کے بعد زمین میں کسی نبی کو ثابت کرے۔ الّٰا اسے جسے رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے احادیث صحیحہ ثابتہ میں مستثنیٰ کر دیا ہو۔ عیسیٰ بن مریم کے آخری زمانہ میں نازل ہونے کے بارے میں۔

۳… ’’واما من قال ان بعد محمدٍa نبیا غیر عیسٰی ابن مریم فانہ لا یختلف اثنان فی تکفیرہ (الفصل فی الملل والاہوا والنحل ج۲ ص۲۶۹، باب فیمن یکفر)‘‘ جو شخص اس بات کا قائل ہو کہ آنحضرت ﷺ کے بعد سوائے عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام کے کوئی اور نبی ہے۔ (مثلاً غلام احمد قادیانی) اس شخص کے کفر میں امت محمدیہ میں سے دو کس بھی مخالف نہیں۔

(الفصل ج۱ ص۱۰۱) پر امام حزم رحمۃ اللہ علیہ نے وفاۃ کی دو قسمیں بیان کیں۔ ایک نیند اور دوسری موت۔ ’’فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ‘‘ میں موت کے معنی کو متعین کر کے ان کے رفع جسمی کے قائل ہیں کہ ان پر چند ساعتوں کے لئے موت واقع ہوئی۔ اس وقت وہ زندہ ہیں۔ آسمانوں پر موجود ہیں۔ نازل ہوں گے پوری امت کی طرح وہ اس کے قائل ہیں۔

۴… ’’ان عیسٰی علیہ السلام لم یقتل ولم یصلب ولٰکن توفاہ اللّٰہ عزوجل ثم رفعہ الیہ… ومن قال انہ علیہ السلام قتل او صلب فہو کافر مرتد حلال دمہ ومالہ لتکذیبہ القرآن وخلافہ الاجماع (المحلی ج۱ ص۱۰۱)‘‘ عیسیٰ علیہ السلام نہ قتل ہوئے نہ صلیب پر چڑھائے گئے۔ بلکہ ﷲتعالیٰ نے ان کو وفات دے کر پھر زندہ کیا اور اپنی طرف اٹھالیا اور جو ان کے قتل یا صلیب پر چڑھائے جانے کا قائل ہو (جیسے مرزاقادیانی) وہ کافر ومرتد ہے۔ واجب القتل ہے۔ اس لئے وہ قرآن کی تکذیب اور اجماع (امت) کے خلاف کرنے والا ہے۔

۵… احادیث صحیحہ سے نزول مسیح کے قائل ہیں۔(الفصل ج۱ ص۹۵)

۶… تورات وانجیل عیسیٰ علیہ السلام کے رفع کے بعد باطل ہوگئیں۔ (الفصل ج۱ ص۲۳۶)

370

۷… مسیح علیہ السلام کے حواری ان کے رفع کے بعد تین سو سال بے خانماں رہے۔

(الفصل ج۱ ص۲۵۳)

۸… (الفصل ج۱ ص۳۳۹) پر ہے کہ قسطنطنیہ عیسیٰ علیہ السلام کے رفع کے تین سو سال بعد فتح ہوا۔

۹… (الفصل ج۳ ص۱۹۱) پر ہے کہ جو لوگ (جیسے مرزائی) کہتے ہیں کہ اس امت میں کوئی عیسیٰ علیہ السلام سے افضل ہوسکتا ہے۔ وہ بے حیاء ہے جو غیر نبی کو نبی پر فضیلت دے (جیسے مرزاقادیانی، ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو۔ اس سے بہتر غلام احمد ہے۔ معاذ ﷲ) ان تصریحات کے بعد ابن حزم کو وفات کا قائل قرار دینا صریحاً ڈھٹائی ہے۔

مولانا عبدالحق محدث دہلوی اور نواب صدیق حسن خان

ایسا ہی مولانا عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ اور مولانا نواب صدیق حسن خاں قنوجی رحمۃ اللہ علیہ پر قادیانیوں نے افتراء کیا کہ انہوں نے عمر مسیح ۱۲۰ برس لکھی ہے۔ لہٰذا وہ وفات کے اقراری ہیں۔

الجواب:

یہ بزرگ حیات کے قائل ہیں۔ البتہ ان کا یہ خیال ہے کہ مسیح علیہ السلام کا ۳۳برس کی عمر میں رفع نہیں ہوا۔ ایک سو بیس کی عمر میں وہ آسمان پر اٹھائے گئے ہیں اور زندہ اٹھائے گئے ہیں۔

’’ونزول عیسیٰ بن مریم ویاد کرد آنحضرت ﷺ فرود آمدن عیسیٰ را از آسمان برزمین۔‘‘

(کتاب اشعۃ اللمعات ج۴ ص۳۴۴، مصنفہ شیخ عبدالحق دہلوی رحمۃ اللہ علیہ)

ایسا ہی (ج۴ ص۳۷۳) پر مسیح کا آسمان سے نازل ہونا لکھا ہے۔ ایسا ہی تفسیر حقانی میں لکھا ہے: ’’اور یہ حق ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام جب قیامت کے قریب نازل ہوں گے سو اس وقت سوا دین حق کے اور کوئی دنیا پر غالب نہ ہوگا۔ اس وقت یہود بھی اس جلال وشوکت کو دیکھ کرایمان لائیں گے اور یہ معنی اس حدیث سے ثابت ہیں کہ جس کو بخاری ومسلم نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ قیامت کے قریب عیسیٰ بن مریم نازل ہوں گے۔ صلیب کو توڑ ڈالیں گے۔ خنزیر کو قتل کریں گے جزیہ موقوف کردیں گے۔‘‘ (تفسیر حقانی سورۃ نساء زیر آیت ’’وان من اہل الکتاب‘‘)

اور نواب صدیق حسن خاں نے تو اپنی کتاب (حجج الکرامہ) میں نزول وحیات مسیح علیہ السلام پر ایک مستقل باب باندھا۔ جس میں آیت: ’’وان من اہل الکتاب الا لیومنن بہ قبل موتہ‘‘ سے استدلال کیا ہے۔ یہ بات (حجج الکرامہ ص۴۲۲تا۴۳۴) پر محیط ہے۔ اس سے بیسویں آیات واحادیث رسول ﷺ واقوال صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین سے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر زندہ ہونے اور آسمانوں سے قرب قیامت نزول اور آنحضرت ﷺ کے روضہ طیبہ میں تدفین کی روز روشن کی طرح صراحتیں ہیں۔ اس کے باوجود بھی کوئی بدنصیب قادیانی، مولانا نواب صدیق حسن خان کو وفات مسیح کا قائل قرار دیتا ہے تو اس کا علاج ’’ویقتل الخنزیر‘‘ ہی ہے۔ فافہم!

امام ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ

اس بزرگ امام پر قادیانیوں نے بھی ہاتھ صاف کیا ہے کہ وہ مسیح علیہ السلام کو وفات شدہ خیال کرتے تھے۔ کیونکہ انہوں نے ’’مدارج السالکین‘‘ میں ’’لَوْکَانَ مُوْسٰی وَعِیْسٰی حَیَّیْنِ‘‘ اگر موسیٰ علیہ السلام وعیسیٰ علیہ السلام زندہ ہوتے، حدیث نقل کی ہے۔

الجواب:

امام ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ نے ہرگز اس قول کو حدیث نہیں کہا بلکہ یہ ان کا اپنا قول ہے۔ مطلب ان کا اس قول سے نہ

371

ثبوت حیات دینا مطلب ہے نہ وفات کا تذکرہ، بلکہ مقصود ان کا یہ ہے کہ اگر آج زمین پر موسیٰ علیہ السلام وعیسیٰ علیہ السلام موجود ہوتے تو نبی کریم ﷺ کی پیروی کرتے۔ یعنی زمین کی زندگی کو فرض کر کے آنحضرت ﷺ کی بزرگی ثابت کرنا چاہی ہے نہ کہ وفات کا اظہار۔ چنانچہ وہ اسی عبارت میں جسے مرزائی خیانت سے نقل نہیں کرتے۔ آگے چل کر نزول مسیح علیہ السلام کا اقرار فرماتے ہیں۔ ’’ومحمد ﷺ مبعوث الی جمیع الثقلین فرسالتہ عامۃ لجمیع الجن والانس فی کل زمان ولوکان موسٰی وعیسٰی حیین لکانا من اتباعہ واذا نزل عیسٰی ابن مریم فانما یحکم بشریعۃ محمد ﷺ‘‘

(مدارج السالکین ج۲ ص۳۱۳، مطبوعہ مصر ج۲ ص۲۴۳)

’’یعنی آنحضرت ﷺ کی نبوت تمام کافہ جن وانس کے لئے اورہر زمانے کے لئے ہے۔ بالفرض اگر موسیٰ علیہ السلام وعیسیٰ علیہ السلام (آج زمین پر) زندہ ہوتے تو آنحضرت ﷺ کی اتباع کرتے اور جب عیسیٰ بن مریم نازل ہوگا تو وہ شریعت محمدیہ ﷺ پر ہی عمل کرے گا۔‘‘

مرزائیو! اپنی اغراض کو پورا کرنے کے لئے کسی کے اصل مفہوم کو بگاڑنا بعید از شرافت ہے۔ سنو! اگر اس قول سے ضرور وفات ہی ثابت کرنا چاہو گے تو ساتھ ہی مرزاقادیانی کی رسالت بھی چھوڑنی پڑے گی۔ کیونکہ وہ حیات موسیٰ علیہ السلام کے قائل ہیں۔ حالانکہ اس قول میں موسیٰ علیہ السلام کی وفات مذکور ہے۔ ’’فما جوابکم فہو جوابنا‘‘

بالآخر ہم امام ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ کی کتب سے بعبارۃ النص حیات مسیح کا ثبوت پیش کرتے ہیں جس سے ہر ایک دانا جان لے گا کہ علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ کا وہی مطلب ہے جو ہم نے اوپر لکھا ہے وفات مقصود نہیں۔

۱… ’’وہذا المسیح ابن مریم حی لم یمت وغذاؤہ من جنس غذا الملٰئکۃ‘‘

(کتاب التبیان مصنفہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ ص۱۳۹)

مسیح علیہ السلام زندہ ہیں۔ ابھی فوت نہیں ہوئے اور ان کی غذا فرشتوں کی غذا جیسی ہے۔

۲… ’’وانہ رفع المسیح الیہ‘‘ (ص۲۲ کتاب مذکورہ)

تحقیق ﷲتعالیٰ نے مسیح علیہ السلام کو اپنی طرف اٹھالیا۔

۳… ’’وہو نازل من السماء فیحکم بکتاب اللّٰہ‘‘ اور وہ آسمان سے نازل ہوکر قرآن پر عمل کرے گا۔

(ہدایۃ المحیاریٰ مع ذیل الفاروق ص۴۳، مطبوعہ مصر)

حافظ محمد لکھوی رحمۃ اللہ علیہ

اس بزرگ پر بھی قادیانیوں نے الزام لگایا ہے کہ یہ وفات مسیح کا قائل تھا۔ حالانکہ یہ سراسر جھوٹ اور افتراء بلکہ بے ایمانی ہے۔ وہ اپنی تفسیر (موسومہ محمدی ج۱ ص۲۹۱، زیر آیت: ’’وَمَکَرُوْا وَمَکَرَاللّٰہ‘‘) پر لکھتے ہیں کہ جب یہود نے مسیح کو پکڑنا چاہا۔

تاں جبرائیل گھلیا رب لے گیا وچہ چوبارے اس چھت اندر ہک باری اوتھوں ول آسماں سدھارے
سردار تنہاندے طیطیانوس نوں کیتا حکم زبانوں جو چڑھے چبارے قتل کریں عیسیٰ نوں ماریں جانوں
جاں چڑھ ڈٹھس وچہ چبارے عیسیٰ نظر نہ آیا شکل شباہت عیسیٰ دی رب طیطیانوس بنایا
انہاں ظن عیسیٰ نوں کیتا سولی فیر چڑھایا ہک کہن جو مرد حواریاں تھیں ہک سولی مار دیوایا
372

یعنی خدا نے اس وقت جبرائیل بھیجا جو عیسیٰ علیہ السلام کو اٹھا کر آسمان پر لے گیا۔ جب طیطیانوس انہیں قتل کرنے کے ارادہ سے اندر گیا تو خدا نے اسے عیسیٰ علیہ السلام کی شکل بنادیا جسے سولی دیا گیا۔ اسی طرح اگلے صفحہ پر آیت ’’انی متوفیک ورافعک‘‘ کی تفسیر کرتے ہیں۔

جا کہیا خدا اے عیسیٰ ٹھیک میں تینوں پورا لیساں تے اپنی طرف تینوں کنوں کفاراں پاک کریساں
توفی معنی قبض کرن شے صحیح سلامت پوری تے عیسیٰ نوں رب صحیح سلامت لے گیا آپ حضوری

یعنی جب کہا ﷲتعالیٰ نے اے عیسیٰ میں تجھے پورا پورا لے کر اپنی طرف اٹھانے والا ہوں۔ توفی کے معنی کسی چیز کو صحیح وسلامت پورا لینے کے ہیں۔ سو ایسا خدانے مسیح کو اپنے حضور میں بلالیا۔

ابن عربی رحمۃ اللہ علیہ

اگرچہ مرزاقادیانی نے مسئلہ وحدۃ الوجود کے رد میں حضرت ابن العربی رحمۃ اللہ علیہ کو سب سے پہلا وجودی قرار دیا۔ (ملفوظات ج۳ ص۳۰۶)

پھر ان وجودیوں کو دہریہ قابل نفرت اور قابل کراہت قرار دیا۔ (ملفوظات ج۸ ص۵۳)

مگر جہاں ضرورت پڑی انہیں صاحب مکاشفات ولی ﷲ ظاہر کر کے اپنی اغراض نفسانیہ کو پورا بھی کیا ہے۔

کہا گیا ہے کہ یہ بزرگ بھی وفات مسیح علیہ السلام کے قائل تھے۔ اس پر تفسیر ’’عرائس البیان‘‘ کا حوالہ دیا جاتا ہے۔ حالانکہ خود یہی بات مشکوک ہے کہ یہ تفسیر ان کی ہے بھی یا نہیں پھر جو عبارت پیش کی جاتی ہے اس میں بھی وفات مسیح کا کوئی لفظ نہیں صرف یہ ہے کہ مسیح دوسرے بدن کے ساتھ اترے گا۔ اب دوسرے بدن کا مطلب ظاہر ہے جب تک حضرت مسیح علیہ السلام زمین پر رہے۔ بوجہ طعام ارضی ان میں کثاد ہے۔ مگر اب صدہا برس کے بعد جب نازل ہوں گے تو یقینا روحانیت کا غلبہ تام ہوگا۔

حضرت ابن عربی رحمۃ اللہ علیہ تو حیات مسیح علیہ السلام کے اس قدر قائل ہیں کہ کوتاہ نظر انسان انہیں غلوتک پہنچا ہوا قرار دے گا۔ تفصیل کے لئے فتوحات مکیہ دیکھیں۔ اس جگہ صرف اختصار کے طور پر ایک دو عبارات پیش کرتا ہوں۔

’’ان عیسٰی علیہ السلام ینزل فی ہذہ الامۃ فی اٰخرالزمان ویحکم بشریعۃ محمد ﷺ‘‘

(فتوحات مکیہ ج۲ ص۱۲۵، سوال:۱۴۵)

’’انہ لم یمت الی الان بل رفعہ اللّٰہ الی ہذہ السماء واسکنہ فیہا‘‘ (ج۳ ص۳۴۱، باب:۳۶۷)

ایسا ہی (ج۱ ص۱۳۵تا۱۴۴، ص۱۸۵تا۲۲۴، ج۲ ص۳تا۴۹، ص۱۲۵، ج۳ ص۵۱۳) وغیرہ میں حیات مسیح علیہ السلام کا ذکر کیا ہے۔

ابن جریر رحمۃ اللہ علیہ

امام ابن جریر رحمۃ اللہ علیہ نے جا بجا اپنی تفسیر میں حیات مسیح کا ثبوت دیا ہے۔ چونکہ تفاسیر میں مختلف لوگوں کے اقوال نقل ہوا کرتے ہیں۔ اسی طرح انہوں نے کسی کا قول نقل کر دیا ہے کہ ’’قدمات عیسیٰ‘‘ مرزائیوں نے جھٹ اسے ابن جریر کا قول قرار دے دیا۔ حالانکہ ہم اس کتاب میں کئی ایک عبارتیں امام ابن جریر رحمۃ اللہ علیہ کی لکھ آئے ہیں۔ اس جگہ ایک اور تحریر نقل کی جاتی ہے۔ جس میں امام موصوف نے جمیع اقوال متعلقہ توفی مسیح لکھ کر بعد میں اپنا فیصلہ دیا ہے۔

373

’’واولی ہذہ الاقوال بالصحۃ عندنا قول من قال معنی انی قابضک من الارض ورافعک علی التواتر الاخبار عن رسول اللّٰہ ﷺ‘‘ توفی کے متعلق جو بحث ہے کوئی کہتا ہے کہ توفی بمعنی نیند ہے اور کوئی کہتا ہے کہ توفی بمعنی موت ہے جو آخری زمانہ میں ہوگی۔ ان سب اقوال میں ہمارے نزدیک صحیح وہ قول ہے جو کہاگیا ہے کہ میں ’’زمین سے پورا پورا لینے والا ہوں۔‘‘ یہ معنی اس لئے اقرب الی الصواب ہیں کہ آنحضرت ﷺ کی متواتر احادیث میں آیا کہ: ’’انہ ینزل عیسٰی ابن مریم فیقتل الدجال ثم یمکث فی الارض ثم یموت‘‘

(ج۳ ص۲۹۱، زیر آیت انی متوفیک)

بے شک وہ عیسیٰ بن مریم نازل ہوگا۔ پھر قتل کرے گا دجال کو پھر رہے گا زمین پر پھر وفات پائے گا۔

اس تحریر میں امام موصوف نے صاف فیصلہ کر دیا ہے کہ جس مسیح ابن مریم علیہما السلام کے بارے میں آیت ’’انی متوفیک ورافعک‘‘ وارد ہوئی، جس میں اختلاف کیا جاتا ہے وہی زمین سے اٹھایاگیا ہے اور وہی نازل ہوگا۔

مرزائیو! تمہارے نبی نے اس امام ہمام کو ’’رئیس المفسرین‘‘ اور ’’معتبر از ائمہ محدثین‘‘ لکھا ہے۔ آؤ اسی کی تحریرات پر فیصلہ کر لو۔ تم تو صرف دھوکا دینا چاہتے ہو، تمہیں ایمان وانصاف سے کیا کام؟

مصنف الیواقیت والجواہر

قادیانیوں نے کہا ہے کہ یہ بھی وفات مسیح کے قائل ہیں۔ کیونکہ انہوں نے ’’حدیث موسیٰ علیہ السلام وعیسیٰ علیہ السلام‘‘ حیین نقل کی ہے۔

الجواب:

پھر تو مرزاقادیانی کاذب ہیں۔ کیونکہ انہوں نے موسیٰ علیہ السلام کو زندہ لکھا ہے۔ ادھر ادھر کے یہودیانہ تصرف کی بجائے اگر صداقت مطلوب ہے تو آؤ ہم اس بارے میں اس بزرگ کی کتابوں پر تمہارے ساتھ شرط باندھتے ہیں جو کچھ ان میں ہو، ہمیں منظور۔ مگر ؎

نہ خنجر اٹھے گا نہ تلوار تم سے یہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں

یہ بزرگ اپنی کتاب میں خود ہی یہ سوال کر کے کہ مسیح کے نازل ہونے پر کیا دلیل ہے۔ جواب دیتے ہیں: ’’الدلیل علٰی نزولہ قولہ تعالٰی وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ ای حین ینزل ویجتمعون علیہ انکرت المعتزلۃ والفلاسفۃ والیہود والنصاریٰ (والمیرزائیہ۔ ناقل) عروجہ بجسدہ الی السماء وقال تعالٰی فی عیسٰی علیہ السلام وانہ لعلم للساعۃ والضمیر فی انہ راجع الٰی عیسٰی والحق انہ رفع بجسدہ الٰی السماء والایمان بذالک واجب قال اللّٰہ تعالٰی بل رفعہ اللّٰہ الیہ‘‘ (الیواقیت والجواہر ج۲ ص۱۴۶)

’’دلیل نزول مسیح پر ﷲتعالیٰ کا قول ہے کہ نہیں ہوگا کوئی اہل کتاب مگر ایمان لائے گا ساتھ عیسیٰ علیہ السلام کے پیشتر اس کے مرنے کے یعنی وہ اہل کتاب جو نزول کے وقت جمع ہوں گے اور منکر ہیں معتزلی اور فلاسفہ ویہود ونصاریٰ (اور ہمارے زمانہ میں قادیانی متنبی وذریۃً۔ ناقل) مسیح کے آسمان پر اٹھائے جانے کے۔ فرمایا ﷲتعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق کہ وہ نشانی ہے قیامت کی اور ضمیر ’’انہ‘‘ کی مسیح علیہ السلام کی طرف پھرتی ہے۔ سچ یہ ہے کہ وہ بمعہ جسم کے آسمان پر اٹھایا گیا ہے اور واجب ہے اس پر ایمان لانا کیونکہ خدا نے قرآن میں فرمایا کہ بلکہ اٹھالیا ﷲ نے اس کو۔‘‘

374

قادیانی دوستو! اس تحریر کو بغور پڑھو۔ دیکھو یہ تمہارا مسلمہ ومقبولہ امام اور ولی ﷲ ہے۔ کیا اب بھی ان پر افتراء ہوگا کہ وہ حیات مسیح علیہ السلام اور رفع ونزول کے قائل نہیں؟ شرم باید کرد۔

حیات مسیح، قادیانی اور مولانا عبید ﷲ سندھی رحمۃ اللہ علیہ

قادیانی:

’’الہام الرحمن‘‘ میں حضرت مولانا عبید ﷲ سندھی رحمۃ اللہ علیہ کے حوالہ سے حیات عیسیٰ علیہ السلام کا انکار لکھا ہے۔

جواب:

۱… حضرت مولانا عبید ﷲ سندھی رحمۃ اللہ علیہ مرد مجاہد تھے۔ حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن رحمہم اللہ علیہ کے شاگرد اور شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھی اور امام الہند حضرت شاہ ولی ﷲ رحمۃ اللہ علیہ کے نظریات کے علمبردار تھے۔ ان کی طرف وفات مسیح کی نسبت کرنا زبردست زیادتی اور غلط بیانی ہے۔ بات کا تجزیہ کرنے سے قبل چند امور لائق توجہ ہیں۔

الف… مولانا صوفی عبدالحمید سواتی رحمۃ اللہ علیہ نے ’’مولانا عبید ﷲ سندھی رحمۃ اللہ علیہ کے علوم وافکار‘‘ کے ص۷۸ پر تحریر کیا ہے کہ: ’’مولانا عبید ﷲ سندھی کی طرف منسوب تحریریں اکثر وہ ہیں جو املائی شکل میں ان کے تلامذہ نے جمع کی ہیں۔ مولانا کے اپنے قلم سے لکھی ہوئی تحریرات اور بعض کتب بہت دقیق، عمیق اور فکر انگیز ہیں اور مستند بھی ہیں۔ لیکن املائی تحریروں پر پورا اعتماد نہیں کیا جاسکتا اور بعض باتیں ان میں غلط بھی ہیں جن کو ہم املا کرنے والوں کی غلطی پر محمول کرتے ہیں۔ مولانا کی طرف ان کی نسبت درست نہ ہوگی۔‘‘

ب… مولانا عبید ﷲ سندھی رحمۃ اللہ علیہ اور ان کے علوم وافکار ص۸۴ پر ہے کہ: ’’مولانا عبید ﷲ سندھی رحمۃ اللہ علیہ، مولانا شاہ ولی ﷲ رحمۃ اللہ علیہ اور مولانا شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ کے طریقہ سے باہر نہیں نکلے۔ یہ باتیں ایسی ہیں کہ املاء کرنے والوں نے مولانا سندھی رحمۃ اللہ علیہ کی تقریر کو یا تو سمجھا نہیں یا اپنے ذہن کے مطابق کشید کیا ہے۔ یہ قابل اعتبار نہیں اور نہ لائق اعتناء ہیں۔‘‘

ج… مولانا محمد منظور نعمانی رحمۃ اللہ علیہ نے ’’الفرقان شاہ ولی ﷲ رحمۃ اللہ علیہ نمبر‘‘ کے اداریہ ص۴ پر نگاہ اوّلین کے تحت حضرت سندھی رحمۃ اللہ علیہ سے نقل فرماتے ہیں کہ: ’’جو بات میں ایسی کہوں جس کو حضرت شاہ ولی ﷲ رحمۃ اللہ علیہ، شاہ عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ اور ان کے مستفیضین یا مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ کے یہاں نہ دکھا سکوں تو میں اس کو ہر وقت واپس لینے کو تیار ہوں۔ میں ان اکابر کے علوم سے باہر نہیں جاتا۔ اگر فرق ہوتا ہے تو صرف تعبیر کا۔‘‘

ان وضاحتوں کے بعد اب ’’الہام الرحمن‘‘ کی ان عبارتوں کو دیکھا جائے جو وفات مسیح علیہ السلام کے متعلق ہیں تو بات واضح ہو جاتی ہے کہ وفات مسیح کے عقیدہ کی مولانا عبید ﷲ سندھی رحمۃ اللہ علیہ کی طرف نسبت سو فیصد نہیں ہزارفیصد غلط ہے۔ اس لئے کہ مولانا عبید ﷲ سندھی رحمۃ اللہ علیہ، حضرت شاہ ولی ﷲ رحمۃ اللہ علیہ کے پیروکار اور حضرت شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ کے شاگرد تھے۔ یہ تمام حضرات، حیات عیسیٰ علیہ السلام کے قائل ہیں۔ مولانا احمد علی لاہوری رحمۃ اللہ علیہ ایسے بیسیوں علماء حضرت سندھی رحمۃ اللہ علیہ کے شاگرد ہیں جو سب حیات مسیح علیہ السلام کے قائل تھے تو ثابت ہوا کہ مولانا کے اساتذہ ومشائخ وشاگرد جب سب حیات مسیح علیہ السلام کے قائل ہیں، اور خود مولانا سندھی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں ان کی رائے کے خلاف نہیں جاتا تو وہ پھر کیسے وفات مسیح کے قائل تھے؟

375

جواب:

۲… مولانا عبید ﷲ سندھی رحمۃ اللہ علیہ کی طرف جن کتب میں وفات مسیح کی نسبت کی گئی ہے ان میں سے ایک کتاب بھی مولانا سندھی رحمۃ اللہ علیہ کی اپنی تحریر کردہ نہیں۔ دوسرے لوگوں نے لکھ کر ان کی طرف نسبت کر دی ہے۔ دو کتابیں اس وقت میرے سامنے ہیں۔ ایک ان کے اپنے ہاتھ کی ہے دوسری انہوں نے مولانا غلام مصطفیٰ قاسمی رحمۃ اللہ علیہ کو پڑھائی اور تحریر کرائی۔ ان میں حیات عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ بیان کیاگیا ہے۔ جب ان کے ہاتھ سے تحریر کردہ کتاب میں حیات عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ موجود ہے تو پھر دوسروں کی کسی بات کا کیا اعتبار ہے؟

چنانچہ شاہ ولی ﷲ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے افکار پر مشتمل ’’رسالہ محمودیہ‘‘ حضرت مولانا عبید ﷲ سندھی رحمۃ اللہ علیہ نے ’’ترجمہ عبیدیہ‘‘ کے نام سے تحریر کیا ہے۔ جس کے ص۲۶،۲۷ پر مولانا سندھی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’فعسی ان تکون سارًا لافق الکمال غاشیًا لأقلیم القرب فلن یوجد بعدک الاولک دخل فی تربیتہ ظاہرًا وباطنًا حتی ینزل عیسٰی علیہ السلام‘‘ تو عنقریب کمال کے افق کا سردار بن جائے گا اور قرب الٰہی کی اقلیم پر حاوی ہو جائے گا۔ تیرے بعد کوئی مقرب الٰہی ایسا نہیں ہوسکتا جس کی ظاہری وباطنی تربیت میں تیرا ہاتھ نہ ہو۔ یہاں تک کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں۔

اسی طرح ’’الخیر الکثیر‘‘ جو حضرت شاہ ولی ﷲ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کی تصنیف ہے جس کا ترجمہ حضرت مولانا عبید ﷲ سندھی رحمۃ اللہ علیہ نے املا کرایا ہے۔ تحقیق وترجمہ لکھنے والے مولانا غلام مصطفیٰ قاسمی رحمۃ اللہ علیہ ہیں۔ حیدرآباد سندھ کی شاہ ولی ﷲ اکیڈمی سے سے شائع ہوا ہے۔ اس کے (ص۱۰۶) پر ہے: ’’اسی نوع کے امام عیسیٰ علیہ السلام ہیں اور یہ چیز ان کو جبرائیل علیہ السلام کی پھونک سے حاصل ہوئی ہے اور اس لئے معین ہوا ہے کہ نازل ہوکر دجال کو قتل کرے۔‘‘

اس کے (ص۱۱۷) پر ہے: ’’عیسیٰ علیہ السلام جب زمین پر نازل ہوں گے۔‘‘

ان تصریحات کے ہوتے ہوئے کوئی حضرت سندھی رحمۃ اللہ علیہ کی وفات مسیح کے عقیدہ کی طرف نسبت کرے اس سے بڑا اور کوئی ظلم نہیں ہوسکتا۔

جواب:

۳… ’’الہام الرحمن‘‘ جو موسیٰ جار ﷲ وغیرہ کی تحریر کردہ ہے غلط طور پر حضرت سندھی رحمۃ اللہ علیہ کی طرف منسوب کی گئی ہے۔ اس کی ثقاہت کا یہ عالم ہے کہ محمد نور مرشد نے اس کے حاشیہ پر لکھا ہے کہ: ’’مولانا محمد انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ نے بعض تابعین کے حوالے سے لکھا ہے کہ مسیح علیہ السلام وفات پاگئے ہیں۔‘‘

اب جس کتاب میں مولانا انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کی طرف یہ روایت کی گئی ہواس کتاب کے غیر مستند ہونے کے لئے اتنی بات کافی ہے۔ اس لئے کہ مولانا سید انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کی ’’عقیدۃ الاسلام فی حیات عیسیٰ علیہ السلام، التصریح بما تواتر فی نزول المسیح‘‘ حیات عیسیٰ علیہ السلام پر مستند کتابیں ہیں۔ ان کتابوں کے ہوتے ہوئے حیات عیسیٰ علیہ السلام کے عقیدہ کے شارح، قرآن وسنت کی روشنی میں اس مسئلہ کے علمبردار،حضرت مولانا انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کے متعلق جس کتاب میں ایسی بے سروپا، غلط ومن گھڑت روایت درج کی جاسکتی ہے تو ناممکن نہیں کہ اس میں مولانا سندھی رحمۃ اللہ علیہ کی طرف غلط روایت منسوب کر دی گئی ہو۔

جواب:

۴… مولانا عبدالحمید سواتی رحمۃ اللہ علیہ پاکستان میں حضرت سندھی رحمۃ اللہ علیہ کے نظریات کے شارح اور ترجمان سمجھے جاتے ہیں۔ آپ نے اپنی کتاب ’’مولانا عبید ﷲ سندھی رحمۃ اللہ علیہ کے علوم وافکار‘‘ کے (ص۷۴،۷۵) پر اس مسئلہ کے متعلق تحریر فرمایا ہے: ’’مولوی محمدمعاویہ مرحوم آف کبیروالا بھی مولانا سندھی رحمۃ اللہ علیہ کے مشن اور کتب سے دلچسپی رکھتے تھے۔

376

انہوں نے الہام الرحمن ج۱،۲ کا اردو میں ترجمہ بھی شائع کرایا تھا۔ اس کی اشاعت کے وقت میں نے ان سے عرض کیا تھا کہ مولانا سندھی رحمۃ اللہ علیہ کی طرف مسئلہ وفات المسیح کی نسبت درست نہیں۔ اس کی کچھ وضاحت ہونی چاہئے۔ چنانچہ انہوں نے اس کی طبع دوم کے وقت ایک مختصر سا مضمون شائع کرایا تھا۔ اصل میں وفات مسیح کا مسئلہ مرزائیوں، قادیانیوں اورلاہوریوں نے زیادہ اٹھایا تھا تاکہ وفات مسیح کو ثابت کرنے کے بعد ان تمام احادیث کی تاویل اپنے زعم فاسد کے مطابق مرزاقادیانی پر چسپاں کر سکیں اور یہ لوگ اسی عقیدہ فاسدہ کی بناء پر اور اجرائے نبوت کے قائل ہونے کی وجہ سے تمام طبقات امت کے نزدیک مرتد، کافر، زندیق اور خارج از اسلام ہیں۔ آج تک اہل اسلام میں سے کسی نے اس (حیات عیسیٰ علیہ السلام) کا انکار نہیں کیا اور قرب قیامت میں مسیح علیہ السلام کا نزول اجماعی عقیدہ ہے اور پھر یہ کہہ کر مغالطہ دینا کہ علم کلام کی کتابوں ’’شرح مواقف اور عضدیہ‘‘ وغیرہ میں اس کا ذکر نہیں کیاگیا۔ بہت غلط بات ہے جب کہ امام اعظم امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ، کی فقہ اکبر میں اور ’’بیان السنۃ‘‘ یا ’’عقیدۃ الطحاوی‘‘ میں اس کا ذکر موجود ہے جو علم کلام کا سب سے قدیم اور صحیح ماخذ ہے۔ پھر اس کا انکار کس طرح روا ہوسکتا ہے۔ اس کو بجز گمراہی اور کجروی کے اور کیا تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ مولانا عبید ﷲ سندھی رحمۃ اللہ علیہ اور اس طرح مولانا ابوالکلام آزاد رحمۃ اللہ علیہ اور بعض دیگر علماء کرام ایک اور بات کا ذکر کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ دین کو ﷲتعالیٰ نے مکمل کر دیا ہے۔ حضور خاتم النّبیین ﷺ پر دین کی تکمیل ہوچکی ہے اور تکمیل دین کی آیت قرآن کریم میں نازل ہوچکی ہے۔ اب دین کی تکمیل کسی نئے ظہور پر موقوف نہیں۔ مسیح علیہ السلام اگر دوبارہ زمین پر آئیں گے یا مہدی علیہ الرضوان کا ظہور ہوگا تو یہ تکمیل دین کے لئے نہیں ہوگا بلکہ یہ قیامت کی علامات کے طور پر ہوگا۔ مسیح علیہ السلام کوئی نیا حکم جاری نہیں کریں گے۔ قرآن وسنت کے مطابق ہی عمل کریں گے اور اسی پر لوگوں کو کاربند بنائیں گے۔ حضور ﷺ کی بعثت کے بعد قرآن وسنت پر عمل کرنا اور عمل کرانا یہ امت کا فریضہ ہے۔ یہ نہیں کہ ہم ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھے رہیں اور انتظار کریں کہ مسیح علیہ السلام اور مہدی علیہ الرضوان کا ظہور ہوگا تو اس پر عمل مکمل ہوگا۔ یہ نظریہ باطل اور گمراہ کن ہے۔ یہ روافض اور اس قسم کے گمراہ لوگوں کا اعتقاد ہوسکتا ہے نہ کہ اہل ایمان کا۔‘‘ (ص۷۴،۷۵)

امام جبائی معتزلی

مرزائی قائلین وفات میں امام جبائی کا نام بھی پیش کرتے ہیں۔ مگر باوجود معتزلی ہونے کے حیات مسیح اور رفع الی السماء کے قائل ہیں۔ سنو! ’’قال الجبائی انہ لما رفع عیسٰی علیہ السلام‘‘

(کشف الاسرار مطبوعہ مصر وعقیدۃ الاسلام ص۱۲۴)

صاحب کشف الاسرار علامہ جبائی سے ناقل ہیں کہ جبائی نے فرمایا کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رفع الی السماء ہوا تو یہود نے ایک شخص کو عیسیٰ علیہ السلام کے تابعداروں سے قتل کر دیا۔ لیجئے! جبائی معتزلی بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کے قائل نہیں ہیں بلکہ وہ صاف صاف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زندہ آسمان پر اٹھایا جانا مانتے ہیں۔

قادیانیوں نے ’’تاریخ طبری‘‘ سے لکھا ہے کہ کسی پہاڑ پر ایک قبر دیکھی گئی جس پر لکھا تھا کہ یہ مسیح رسول ﷲ کی قبر ہے۔

جواب:

۱… کیا کہنے ہیں اس دلیل بازی کے۔ کہاں قرآن وحدیث کی تصریحات اور کہاں اس قسم کی تفریحات۔ ہاں! جناب ایسی قبریں سینکڑوں بنی ہوئی ہیں۔ تمہارے نبی کے عقیدہ کی رو سے تو کشمیر میں بھی ہے اور وہی اصلی قبر ہے۔ پس اگر طبری والی روایت کو صحیح سمجھتے ہو تو پہلے کشمیر کے ڈھکوسلہ کا اعلان کردو۔ پھر ہم اس پر غور کریں گے۔

377

جواب:

۲… تفسیر ابن جریر کے متعدد حوالے گزر چکے ہیں کہ وہ حیات، رفع ونزول من السماء سیدنا مسیح ابن مریم کے قائل ہیں۔ ان حوالہ جات کے ہوتے ہوئے ابن جریر کو تاریخی روایت کی بناء پر ملزم گرداننا قادیانی سرشت کا خاصہ ہے۔

جواب:

۳… (عسل مصفٰی حصہ اوّل ص۴۶۸) مرزا خدابخش نے لکھا کہ: ’’گویہ قبر فرضی ہے اور بلاشک فرضی ہے۔‘‘

جواب:

۴… تاریخ طبری کی اس روایت میں ایک راوی محمد بن اسحاق ہے جو کذاب ہے۔ یہ موضوع ہے اور تاریخ میں موضوع روایات سے عقیدہ کا بت تراشنا قادیانی علم کلام کا شاہکار کارنامہ ہے۔

محمد بن اسحاق کے کذب کی بابت (القول المعمور فی شان الموعود ص۱۲۲،۱۲۳، ۱۷۳،۱۷۴) پر قادیانی سرور شاہ کی تصریحات ملاحظہ ہوں۔

حافظ ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ

ناظرین! مرزاغلام احمد قادیانی کی (کتاب البریہ ص۲۰۳، خزائن ج۱۳ ص۲۲۱ حاشیہ) پر لکھا ہے کہ ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ بھی وفات مسیح علیہ السلام کے قائل ہیں۔ حالانکہ یہ افتراء ہے۔ امام موصوف حیات مسیح علیہ السلام کے قائل ہیں۔ ملاحظہ ہو: ’’الجواب الصحیح لمن بدل دین المسیح اور زیارۃ القبور‘‘

۱… ’’فبعث المسیح علیہ السلام رسلہ یدعونہم الٰی دین ﷲ تعالیٰ فذہب بعضہم فی حیاتہ فی الارض وبعضہم بعد رفعہ الٰی السماء فیدعرہم الٰی دین ﷲ‘‘

(الجواب الصحیح ج۱ ص۱۱۶، طبع المجد التجاریۃ)

’’روم اور یونان وغیرہ میں مشرکین اشکال علویہ اور بتان زمین کو پوجتے تھے۔ پس مسیح علیہ السلام نے اپنے نائب بھیجے کہ وہ لوگوں کو دین الٰہی کی طرف دعوت دیتے تھے۔ پس بعض مسیح علیہ السلام کی زندگی میں گئے اور بعض آپ علیہ السلام کے آسمان پر اٹھائے جانے کے بعد گئے۔‘‘

۲… ’’ینزل عیسٰی بن مریم من السماء علی المنارۃ البیضا شرقی دمشق‘‘

(ایضاً ص۱۷۷)

عیسیٰ علیہ السلام آسمانوں سے سفید شرقی مینار پر دمشق میں نازل ہوں گے۔

۳… (ج۱ ص۳۴۹) پر ہے کہ وہ نزول کے بعد شریعت محمدیہ پر عمل پیرا ہوں گے۔

۴… (ج۲ ص۲۸۳تا۲۸۶) ’’وان من اہل الکتاب‘‘ سے سیدنا عیسیٰ بن مریم کے نزول الی الارض پر استدلال کیا ہے۔

۵… (ج۱ ص۳۲۴) پر نزول الی الارض کا اثبات ہے۔

۶… (ج۱ ص۲۸۷) پر ان کے رفع الی السماء کی صراحت ہے۔

۷… (ج۲ ص۲۸۵) پر توفی کی تین اقسام بتا کر روح مع الجسد ان کے رفع اور نزول الی الارض کا اثبات کیا ہے۔ ان تصریحات کے بعد کوئی بدنصیب ان کو وفات مسیح کا قائل قرار دے تو اس کی مرضی؟

مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ

حضرت شیخ احمد سرہندی رحمۃ اللہ علیہ مکتوبات میں فرماتے ہیں۔ ’حضرت عیسیٰ علیہ السلام کہ از آسمان نزول خواہد

378

فرمود متابعت شریعت خاتم الرسل خواہد فرمود۔‘‘

(مکتوبات ۱۷، دفتر سوم ص۳۰۵، مطبوعہ سعید کمپنی کراچی)

یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نزول فرما کر خاتم النّبیین کی شریعت کی پیروی کریں گے۔

پیران پیر رحمۃ اللہ علیہ

سیدنا حضرت شیخ عبدالقادر گیلانی رحمۃ اللہ علیہ ’’غنیۃ الطالبین‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں۔ ’’رفع ﷲ عزوجل عیسٰی علیہ السلام الیٰ السماء‘‘ (مصری ج۲ ص۵۵)

یعنی ﷲ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھالیا۔

خواجہ اجمیری رحمۃ اللہ علیہ

حضرت خواجہ معین الدین اجمیری رحمۃ اللہ علیہ کا ارشاد سنو۔ ’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام از آسمان فرود آید (انیس الارواح ص۹) یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے اتریں گے۔‘‘

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ اور عقیدہ نزول مسیح علیہ السلام

ابن عباس رضی اللہ عنہ سے باسناد صحیح منقول ہے کہ جب یہودیوں نے حضرت مسیح علیہ السلام کے قتل کا ارادہ کیا تو ﷲتعالیٰ نے حضرت مسیح علیہ السلام کو مکان کے ایک دریچہ سے آسمان پر اٹھالیا اور ان ہی میں سے ایک شخص کو عیسیٰ علیہ السلام کے ہم شکل اور مشابہ بنادیا۔ یہودیوں نے اس کو عیسیٰ علیہ السلام سمجھ کر قتل کردیا اور مدعی ہوئے کہ ہم اپنے مدعا میں کامیاب ہوگئے۔ چنانچہ حافظ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں:

۱… ’’قال ابن ابی حاتم حدثنا احمد بن سنان حدثنا ابومعاویۃ عن الاعمش عن المنہال بن عمرو عن سعید بن جبیر عن ابن عباس رضی اللہ عنہ قال لما اراد ﷲ ان یرفع عیسٰی الٰی السماء خرج علی اصحابہ وفی البیت اثنا عشر رجلا من الحواریین یعنی فخرج علیہم من عین فی البیت ورأسہ یقطر ماء فقال ان منکم من یکفر بی اثنی عشر مرۃ بعد ان امن بی قال ایکم یلقی علیہ شبہی فیقتل مکانی ویکون معی فی درجتی فقام شاب من احدثہم سنا فقال لہ اجلس ثم اعاد علیہم فقال ذالک الشاب فقال انا فقال ہو انت ذاک فالقی علیہ شبہ عیسٰی ورفع عیسٰی من روزنۃ فی البیت الٰی السماء قال وجاء الطلب من الیہود فاخذوا الشبہ فقتل ثم صلبوہ الی اخر القصۃ وہذا اسناد صحیح الٰی ابن عباس ورواہ النسائی عن ابی کریب عن ابی معاویۃ وکذا ذکر غیر واحد من السلف انہ قال لہم ایکم یلقی شبہی فیقتل مکانی وہو رفیع فی الجنۃ‘‘

(تفسیر ابن کثیر ج۳ ص۹،۱۰)

’’ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب حق تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھانے کا ارادہ فرمایا تو عیسیٰ علیہ السلام اس چشمہ سے کہ جو مکان میں تھا غسل فرماکر باہر تشریف لائے اور سرمبارک سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے۔ (بظاہر یہ غسل آسمان پر جانے کے لئے تھا جیسے مسجد میں آنے سے پہلے وضو کرتے ہیں) باہر مجلس میں بارہ حواریین موجود تھے۔ ان کو دیکھ کریہ ارشاد فرمایا کہ بے شک تم میں سے ایک شخص مجھ پر ایمان لانے کے بعد بارہ مرتبہ کفر کرے گا بعد

379

ازاں فرمایا کہ کون شخص تم میں سے اس پر راضی ہے کہ اس پر میری شباہت ڈال دی جائے اور وہ میری جگہ قتل کیا جائے اور میرے درجہ میں میرے ساتھ رہے یہ سنتے ہی ایک نوجوان کھڑا ہوا اور اپنے آپ کو اس جاں نثاری کے لئے پیش کیا۔ عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا بیٹھ جا اور پھر عیسیٰ علیہ السلام نے اسی سابق کلام کا اعادہ فرمایا۔ پھر وہی نوجوان کھڑا ہوا اور عرض کیا، میں حاضر ہوں ؎

نشود نصیب دشمن کہ شود ہلاک تیغت سر دوستاں سلامت کہ تو خنجر آزمائی

عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا اچھا تو ہی وہ شخص ہے اس کے فوراً ہی بعد اس نوجوان پر عیسیٰ علیہ السلام کی شباہت ڈال دی گئی اور عیسیٰ علیہ السلام مکان کے روشندان سے آسمان پر اٹھا لئے گئے۔ بعدازاں یہود کے پیادے عیسیٰ علیہ السلام کی گرفتاری کے لئے گھر میں داخل ہوئے اور اس شبیہ کو عیسیٰ علیہ السلام سمجھ کر گرفتار کیا اور قتل کر کے صلیب پر لٹکایا۔ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ سند اس کی صحیح ہے اور بہت سے سلف سے اسی طرح مروی ہے۔‘‘

اس روایت سے صاف ظاہر ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو اپنے رفع الی السماء کا بذریعہ وحی پہلے ہی علم ہوچکا تھا اور یہ علم تھا کہ اب آسمان پر جانے کا تھوڑا ہی وقت رہ گیا ہے اور بظاہر یہ غسل آسمان پر جانے کے لئے تھا جیسا کہ عید میں جانے کے لئے غسل ہوتا ہے۔ بلکہ گمان ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس وقت ذرہ برابر مضطرب اور پریشان نہ تھے بلکہ غایت درجہ سکون اور اطمینان میں تھے بلکہ نہایت درجہ شاداں وفرحاں تھے۔

۲… ’’وان من اہل الکتٰب‘‘ میں عبد ﷲ بن عباس رضی اللہ عنہ سے بھی باسناد صحیح یہی منقول ہے کہ ’’بہ‘‘ اور ’’موتہ‘‘ کی ضمیریں حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طرف راجع ہیں۔ چنانچہ حافظ عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ فتح الباری شرح صحیح بخاری میں فرماتے ہیں: ’’وبہذا جزم ابن عباس فیما رواہ ابن جریر من طریق سعید بن جبیر عنہ باسناد صحیح ومن طریق ابی رجاء عن الحسن قال قبل موت عیسٰی واللّٰہ انہ الآن لحی ولٰکن اذا ینزل امنوا بہ اجمعون ونقلہ عن اکثر اہل العلم ورجحہ ابن جریر وغیرہ‘‘

(فتح الباری ج۶ ص۳۵۷)

’’اسی کا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے جزم اور یقین کیا، جیسا کہ ابن جریر رحمۃ اللہ علیہ نے بروایت سعید بن جبیر، ابن عباس رضی اللہ عنہ سے باسناد صحیح روایت کیا ہے، اور بطریق ابی رجاء حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ سے اس آیت کی تفسیر قبل موت عیسیٰ کے منقول ہے۔ حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں و ﷲ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس آن میں بھی زندہ ہیں۔ جب نازل ہوں گے اس وقت ان پر سب ایمان لے آئیں گے اور یہی اکثر اہل علم سے منقول ہے اور اسی کو ابن جریر وغیرہ نے راجح قرار دیا ہے۔‘‘

۳… علامہ آلوسی رحمۃ اللہ علیہ روح المعانی میں لکھتے ہیں: ’’والصحیح کما قال القرطبی ان ﷲ تعالیٰ رفعہ من غیر وفاۃ ولا نوم وہو الروایۃ الصحیحۃ عن ابن عباس‘‘

(روح المعانی ج۳ ص۱۵۸، زیر آیت یا عیسیٰ انی متوفیک)

امام قرطبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ صحیح یہی ہے کہ ﷲتعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو بغیر موت اور بغیر نیند کے زندہ آسمان پراٹھالیا اور ابن عباس رضی اللہ عنہ کا صحیح قول یہی ہے۔

۴… امام قرطبی رحمۃ اللہ علیہ کے کلام کا صاف مطلب یہی ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے صحیح روایت یہی ہے کہ وہ زندہ آسمان پر اٹھا لئے گئے اور اس کے خلاف جو روایت ہے وہ ضعیف ہے۔ قابل اعتبار نہیں۔ ’’قال الحافظ عماد

380

الدین بن کثیر عن ابن عباس رضی اللہ عنہ قال لما اراد اللّٰہ ان یرفع عیسٰی الٰی السماء (الٰی ان قال) ورفع عیسٰی من روزنۃ فی البیت الٰی السماء قال وجاء الطلب من الیہود فاخذوا الشبہ فقتلوہ ثم صلبوہ وہذا اسناد صحیح الٰی ابن عباس‘‘ (تفسیر ابن کثیر ج۳ ص۹)

حافظ عماد الدین بن کثیر رحمۃ اللہ علیہ اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ جب ﷲتعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھانے کا ارادہ فرمایا تو ایک شخص پر ان کی شباہت ڈال دی گئی اور وہ قتل کر دیا گیا اور عیسیٰ علیہ السلام مکان کے روشن دان سے آسمان پر اٹھالئے گئے۔ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کے اس اثر کی سند صحیح ہے۔

۵… اور (تفسیر فتح البیان ج۲ ص۳۴۲) پر ہے کہ حافظ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ نے سچ کہا کہ اس کی سند صحیح ہے۔ بے شک اس کے راوی بخاری کے راوی ہیں۔

۶… علامہ آلوسی رحمۃ اللہ علیہ نے ’’وَمَکَرُوْا وَمَکَرَاللّٰہُ‘‘ کی تفسیر میں ابن عباس رضی اللہ عنہ کا قول نقل کیا کہمکر ﷲ سے مراد یہ ہے کہ ایک شخص پر عیسیٰ علیہ السلام کی شباہت ڈال دی گئی اور عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھالیاگیا۔

(روح المعانی ج۳ ص۱۵۷)

۷… تفسیر ابن جریر اور ابن کثیر میں ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ: ’’وَاِنَّہٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَۃِ‘‘ سے نزول عیسیٰ علیہ السلام مراد ہے۔

۸… محمد بن سعد نے (طبقات کبریٰ ج۱ ص۴۴،۴۵) پر ابن عباس رضی اللہ عنہ کا ایک ثر نقل کیا ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات اور رفع الی السماء کے بارے میں نص صریح ہے۔ ہم اس کو ہدیۂ ناظرین کرتے ہیں۔ وہو ہذا!

’’اخبرنا ہشام بن محمد بن السائب عن ابیہ عن ابی صالح عن ابن عبال قاص کان بین موسٰی بن عمران وعیسٰی بن مریم الف سنۃ وتسع مائۃ (الٰی ان قال) وان عیسٰی علیہ السلام حین رفع کان ابن اثنتین وثلاثین سنۃ وستۃ اشہر وکانت نبوتہ ثلاثین شہرا وان اللّٰہ رفعہ بجسدہ وانہ حی الان وسیرجع الٰی الدنیا فیکون فیہا ملکا ثم یموت کما یموت الناس‘‘ ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام کے درمیانی زمانہ انیس سو سال ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام جس وقت اٹھائے گئے تو ان کی عمر شریف ۳۲سال اور چھ ماہ کی تھی اور زمانۂ نبوت تیس ماہ تھا اور ﷲتعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ان کے جسم سمیت اٹھایا۔ دراں حالیکہ وہ زندہ تھے اور آئندہ زمانہ میں پھر وہ دنیا کی طرف واپس آئیں گے اور بادشاہ ہوں گے اور پھر چند روز بعد وفات پائیں گے۔ جیسے اورلوگ وفات پاتے ہیں۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے اس قول سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ’’رفع الٰی السماء‘‘ اور دوبارہ نزول صراحۃً معلوم ہوگیا۔ اس روایت میں ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ’’سیرجع الی الدنیا‘‘ کا لفظ استعمال فرمایا جو رجوع سے مشتق ہے۔ جس کے معنی واپسی کے ہیں۔ یعنی جس طرح جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر گئے تھے اسی جسم کے ساتھ اسی طرح دوبارہ واپسی اور تشریف آوری ہوگی۔ خود بہ نفس نفیس وہ دنیا میں واپس تشریف لائیں گے کوئی ان کا مثیل اور شبیہ نہیں آئے گا۔

381

خلاصۂ کلام

یہ کہ اگر ابن عباس رضی اللہ عنہ سے متوفیک کی تفسیر ممیتک کے ساتھ منقول ہے تو ان سے تقدیم وتاخیر بھی منقول ہے اور عیسیٰ علیہ السلام کا اسی جسد عنصری کے ساتھ زندہ آسمان پر اٹھایا جانا اور پھر قیامت کے قریب ان کا آسمان سے نازل ہونا یہ بھی ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔

مرزاقادیانی کو چاہئے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کے ان اقوال صریحہ کو بھی تسلیم کریں۔ حالانکہ ان اقوال کی اسانید نہایت صحیح اور قوی ہیں اور متوفیک کی تفسیر جو ممیتک سے مروی ہے اس کی سند ضعیف ہے۔ چنانچہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بھی متوفیک کے معنی موت کرتے تھے۔مذہب ان کا یہ تھا کہ:

۱… ’’عن الضحاکعن ابن عباس رضی اللہ عنہ فی قولہ انی متوفیک الآیۃ رافعک ثم یمیتک فی اٰخرالزمان (الدرالمنثور ج۱ ص۳۶)‘‘ یعنی اے عیسیٰ میں تجھے آسمان پر زندہ اٹھانے والا ہوں۔ آخری زمانہ میں وفات دوں گا۔ درمنثور کا مصنف قادیانیوں کا مسلمہ مجدد ہے۔

۲… ’’والصحیح ان اللّٰہ تعالٰی رفعہ من غیر وفاۃ ولانوم قال الحسن وابن زید وہو اختیار الطبری وہو الصحیح عن ابن عباس رضی اللہ عنہ (تفسیر ابی السعود)‘‘ یعنی اصلیت یہ ہے کہ خدا نے مسیح علیہ السلام کو آسمان پر اٹھالیا بغیر وفات کے اور بغیر نیند کے جیساکہ حسن اور ابن زید نے کہا اور اسی کو اختیارکیاہے طبری ابن جریر نے، اور یہی صحیح ہے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے۔

حاصل یہ کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ اس جگہ تقدیم وتاخیر کے قائل ہیں۔ یعنی رفع آسمانی ہو چکا، آئندہ وفات ہوگی۔ ’’چنانچہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ صحابی وعم زاد رسول ﷺ جن کے حق میں آنحضرت ﷺ نے زیادتی علم قرآن کی دعا بھی فرمائی ہے۔‘‘ (ازالہ اوہام ص۲۴۷، خزائن ج۳ ص۲۲۵)

مرزا اور مرزائیوں کی گستاخانہ روش

اپنے مطلب کو تو مرزاقادیانی نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی خوب تعریف کی اور لکھا کہ وہ قرآن کو سب سے زیادہ اور اچھا سمجھتے تھے۔ آنحضرت ﷺ نے اس بارے میں ان کے حق میں دعا کی ہوئی تھی۔

(ازالہ اوہام ص۲۴۷، خزائن ج۳ ص۲۲۵)

مگر جونہی اس آیت پر پہنچے اور انہیں معلوم ہوا کہ میری نفسانیت کو توڑنے والے سب سے پہلے انسان حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ ہیں تو انہوں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ، جھٹ سے فتویٰ لگا دیا کہ اس آیت میں تقدیم وتاخیر کے قائل متعصب، پلید، یہودی، لعنتی، محرف ہیں۔ (معاذ ﷲ۔ ناقل)

(ضمیمہ نصرۃ الحق ص۱۷۸، خزائن ج۲۱ ص۳۴۷)

معاذ ﷲ، استغفر ﷲ! کس قدر شوخی وگستاخی وبدتہذیبی ہے کہ ایک صحابی رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ابن عم محمد ﷺ اور کئی ایک بہترین امت، مفسرین ومحدثین کو اختلاف آراء کی وجہ سے ہر ممکن دشنام کا حقدار بنایا ہے۔ سچ ہے کہ منافق کی علامت ہے کہ وہ بدگوئی میں اوّل نمبر ہوتا ہے۔

دفعیہ:

علم نحو وادب وبلاغت کی کتابوں میں بالاتفاق موجود ہے کہ حرف واؤ میں ترتیب ضروری ولازمی نہیں ہوتی۔ ’’الوا وللجمع المطلق قریب فیہا کافیہٖ وغیرہ ان الواو فی قولہ تعالٰی انی متوفیک ورافعک انہ

382

لا تفید الترتیب فالایۃ تدل علٰی انہ تعالٰی یفعل بہ ہذا الافعال فاما کیف یفعل ومتٰی یفعل فالأمر فیہ مرقوف علی الدلیل وقد ثبت باالدلیل انہ حی ورد الخبر عن النبی ﷺ انہ ینزل ویقتل الدجال ثم ان اللّٰہ یتوفی بعد ذالک (تفسیر کبیر)‘‘ یعنی آیت ’’انی متوفیک ورافعک‘‘ میں واؤ ترتیب کے لئے نہیں ہے۔ آیت میں ﷲتعالیٰ نے مسیح علیہ السلام سے کئی وعدے کئے ہیں۔ مگر یہ بات وہ کیسے کرے گا اور کب کرے گا یہ محتاج دلیل ہے اور البتہ دلیل سے ثابت ہوچکا ہے کہ مسیح علیہ السلام زندہ ہے اس بارے میں آنحضرت ﷺ کی خبر موجود ہے کہ وہ نازل ہوگا اور دجال کو قتل کرے گا۔ پھر ﷲتعالیٰ انہیں وفات دے گا۔

باب ہفتم … متفرق قادیانی شبہات کے جوابات

قادیانی سوال:۱

عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ تشریف آوری کے بعد نبی ہوں گے یا نہ؟ اگر ہوں گے تو پھر یہ ختم نبوت کے خلاف ہے۔ اگر نبی نہ ہوں تو پھر کیا وہ نبوت سے معزول ہو جائیں گے؟

جواب:

عیسیٰ علیہ السلام کی دوبارہ تشریف آوری بحیثیت حضور ﷺ کے امتی اور خلیفہ کے ہوگی۔ یعنی امت محمدیہ ﷺ کی طرف نبی بن کر تشریف نہ لائیں گے۔ کیونکہ وہ صرف بنی اسرائیل کے نبی تھے جس پر قرآن شریف کی آیت: ’’رسولاً الٰی بنی اسرائیل (البقرہ:۴۹)‘‘ دلالت کرتی ہے۔ آپ ﷺ کی بعثت کافہ وعامہ کے بعد عیسیٰ علیہ السلام کی یہ ڈیوٹی ختم ہوگئی۔ اس لئے وہ صرف امتی اور خلیفہ ہوں گے۔ (بخاری شریف ج۱ ص۴۹۰، مسلم شریف ج۱ ص۸۸) پر ہے کہ:: ’’ان ینزل فیکم عیسٰی ابن مریم حکمًا مقسطًا‘‘

اور ’’ابن عساکر‘‘ میں ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ’’الا انہ خلیفتی فی امتی من بعدی (ابن عساکر ج۲۰ ص۱۴۴)‘‘ کہ میری امت میں میرے خلیفہ ہوں گے۔ تشریف آوری کے وقت وہ امت محمدیہ ﷺ کی طرف نبی اور رسول کی حیثیت سے تشریف نہ لائیں گے بلکہ خلیفہ وامام ہوں گے۔ اس لئے ان کی تشریف آوری سے ختم نبوت کی خلاف ورزی لازم نہ آئے گی۔ باقی رہا یہ کہ وہ کیا نبوت سے معزول ہوجائیں گے؟ یہ بھی غلط ہے وہ نبوت سے معزول نہ ہوں گے بلکہ دوبارہ تشریف آوری کے بعد نبی ﷲ ہونے کے باوجود ان کی ڈیوٹی بدل جائے گی۔ جیسے پاکستان کے صدر مملکت، پاکستان کے سربراہ ہیں۔ اگر وہ برطانیہ تشریف لے جائیں تو صدر مملکت پاکستان ہونے کے باوجود برطانیہ تشریف لے جانے پر ان کو برطانیہ کے قانون کی پابندی لازم ہے۔ حالانکہ وہ صدر مملکت ہیں مگر وہاں جاکر ان کی حیثیت صدر مملکت ہونے کے باوجود مہمان کی ہوگی۔ اس طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے زمانہ میں جو ان کی نبوت کا پیریڈ تھا اس میں وہ نبی تھے۔ کل جب وہ حضور ﷺ کی امت میں تشریف لائیں گے نبی ہونے کے باوجود حضور ﷺ کے زمانۂ نبوت میں ان کی حیثیت امتی وخلیفہ کی ہوگی۔ اب وہ نہ نبوت سے معزول ہوئے نہ ان کے تشریف لانے سے ختم نبوت پر حرف آیا۔

قادیانی سوال:۲

عیسیٰ علیہ السلام جب تشریف لائیں گے کس شریعت پر عمل کریں گے۔ اپنی شریعت پر یا حضور ﷺ کی شریعت پر؟

383

جواب:

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد امتی ہونے کی حیثیت سے ہے تو ظاہر ہے کہ وہ حضور ﷺ کی شریعت پر عمل کریں گے۔ اس لئے ہمارے عقائد کی کتابوں میں ہے: ’’یحکم بشر عنالا بشرعہ‘‘ کہ وہ ہماری یعنی امت محمدیہ ﷺ کی شریعت کے مطابق حکم کریں گے اور خود بھی عمل پیرا ہوں گے نہ کہ اپنی شریعت پر۔ قرآن مجید میں ہے کہ ﷲ رب العزت قیامت کے روز حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر اپنے انعامات کا ذکرفرمائیں گے۔ ’’اِذْ عَلَّمْتُکَ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَۃَ وَالتَّوْرَۃَ وَالْاِنْجِیْلَ (المائدہ:۱۱۰)‘‘ کتاب وحکمت سے مراد قرآن وسنت ہے (جیسا کہ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر اس کی مثالیں موجود ہیں) اب ظاہر ہے کہ تورات اور انجیل یہ تو ضرورت تھی ان کو اس وقت کی جب آپ ’’رَسُوْلاً اِلٰی بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ‘‘ تھے۔ دوبارہ نزول من السماء پر منجانب ﷲ کتاب وسنت سکھایا جائے گا۔ امت محمدیہ ﷺ کی قیادت وسیادت اور رہنمائی کے لئے۔ وہ کسی فرد بشر امتی سے قرآن وسنت نہیں پڑھیں گے۔ مگر چونکہ ضرورت ہوگی اس لئے منجانب ﷲ اس کا اہتمام کیا جائے گا۔ اس لئے وہ جب دوبارہ تشریف لائیں گے تو نبی ہونے کے باوجود ڈیوٹی بدل جائے گی۔ پہلے اپنی شریعت موسوی پر عمل پیرا تھے۔ اب شریعت محمدیہ ﷺ کے علمبردار ہوں گے۔

قادیانی سوال:۳

کیا وہ شریعت محمدیہ آکر کسی سے پڑھیں گے یا ان کو وحی ہوگی اگر وحی ہوگی تو وحی کا دروازہ تو بند نہ ہوا؟

جواب:

نبی دنیا میں کسی کا شاگرد نہیں ہوتا نبی کو تعلیم وتبلیغ خود ﷲ رب العزت فرماتے ہیں۔ (مرزاقادیانی کے جھوٹے ہونے کی ایک یہ بھی دلیل ہے کہ وہ ایک نہیں کئی استادوں کے شاگرد تھے۔ جن میں مولوی فضل الٰہی، مولوی فضل احمد اور گل علی شیعہ بطور خاص مشہور ہیں۔ جیسا کہ سیرت المہدی ج۱ ص۲۵۱ میں مذکور ہے) نبی دنیا میں کسی کا شاگرد نہیں ہوتا۔ اسلامی تعلیمات اور دیگر کتب کی رو سے تو یہ ممکن ہے کہ ایک نبی دوسرے نبی سے بحکم وبمصلحت خداوندی چند خاص امور کی تفسیر ووضاحت کے لئے جائے مگر ایک نبی دنیا میں کسی غیر نبی کے دروازہ پر علم کی تحصیل کے لئے جائے تو اس سے بڑھ کر نبی اور نبوت کی اور زیادہ توہین نہیں ہوسکتی۔ اس لئے کہ نبی ’’معلم للناس‘‘ ہوتا ہے نہ کہ متعلم من الناس۔

(مرزاقادیانی کا دوسروں کے دروازوں پر تحصیل علم کے لئے زانوئے تلمذ تہہ کرنا اس کے جھوٹے ہونے کے لئے کافی ہے اور مختاری کے امتحان میں فیل ہونا اس کی عزت میں اضافہ نہیں کرتا) حضرت عیسیٰ علیہ السلام چونکہ ﷲ کے نبی ہیں وہ دوبارہ نازل ہوکر کسی سے قرآن وحدیث یا شریعت محمدیہ کی تعلیم حاصل کریں یہ ناممکن اور ہمارے عقائد کے خلاف ہے۔ ان کے لئے قرآن وسنت کی تعلیم کا ﷲ کی طرف سے ہونا خود قرآن میں مذکور ہے۔ ’’وَاِذْ عَلَّمْتُکَ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَۃَ (المائدہ:۱۱۰)‘‘

باقی رہا یہ سوال کہ کیا ان پر وحی نازل ہوگی تو جناب ان پر وحی نبوت نہ ہوگی وحی نبوت کادروازہ امت محمدیہ ﷺ پر بند ہے۔ تو پھر ان کو شریعت محمدیہ ﷺ کا علم کیسے ہوگا؟ اس کا اہتمام ﷲ رب العزت کے ذمہ ہے۔ اس اہتمام اور ان کی تعلیم کے لئے وحی نبوت نہ ہوگی، بلکہ الہام، کشف، مبشرات، القاء، علم لدنی ہے۔ بے شمار قدرت کے ذرائع ہیں جن کے ذریعہ ﷲ رب العزت ان کو شریعت محمدیہ ﷺ کی تعلیم کا اہتمام فرما دیں گے۔ قادیانی بے فکر رہیں نہ وحی نبوت کی ضرورت ہے نہ کسی کے دروازے پر زانوئے تلمذ تہہ کر کے نبوت کو مذاق بنانے کی۔ قدرت کی طرف سے اس کا اہتمام ہوگا۔ قرآن مجید میں صراحتاً ہے کہ وحی نبوت کے علاوہ اور بھی وحی کے اقسام ہیں۔ مثلاً: ’’وَاِذْ اَوْحَیْنَا اِلٰی اُمِّکَ (طٰہٰ:۳۸)

384

وَاَوْحٰی رَبُّکَ اِلٰی النَّحْلِ (النحل:۶۸)‘‘ ظاہر ہے کہ ام موسیٰ کی طرف یا نحل کی طرف وحی ہونے کے باوجود وہ وحی نبوت نہ تھی۔ پس قرآن کی ان آیات سے ثابت ہوا کہ وحی نبوت کے علاوہ بھی وحی ہے۔

قادیانی سوال:۴

قادیانی کہتے ہیں کہ آپ کے عقیدہ کے مطابق عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے تو وہ زمین پر فرشتوں کے ذریعہ آئیں گے اور پھر مینار سے آگے ان کے لئے سیڑھی لائی جائے گی۔ کیا جو خدا ان کو مینار تک لایا ہے وہ صحن تک لانے پر قادر نہیں؟

جواب:

پہلے تو ہماری نظر سے کوئی ایسی روایت نہیں گزری کہ عیسیٰ علیہ السلام کے لئے سیڑھی لائی جائے گی بلکہ ’’عند منارۃ البیضاء‘‘ کے الفاظ ہیں۔ مینارہ کے قریب نہ کہ مینارہ پر بفرض محال یہ روایت ہو بھی تو قدرت وحکمت میں فرق سمجھیں۔ قدرت علیحدہ چیز ہے حکمت علیحدہ چیز ہے۔ ﷲتعالیٰ ان کو صحن پر لانے پر بھی قادر ہیں۔ یہ قدرت کے خلاف نہیں مگر حکمت اسی میں ہے کہ ان کو مینار تک تو فرشتوں کے ذریعہ لایا جائے،آگے مسلمان ان کو خود سیڑھی لے کر مینار سے اتاریں۔ اس میں دو حکمتیں نظر آتی ہیں۔ (مشکوٰۃ شریف ص۵۳۷، باب المعجزات) کی متفق علیہ روایت کے مطابق نبی علیہ السلام سے جنگ حدیبیہ میں جب مسلمانوں کے لشکر میں پانی ختم ہوگیا۔ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے اپنی پریشانی کا ذکر کیا رحمت عالم ﷺ نے فرمایا کہ برتنوں میں سے بچا کھچا پانی اکٹھا کر کے لائیں۔ ایک پیالے میں پانی لایا گیا۔ آپ ﷺ نے پیالہ کے جمع شدہ پانی میں ہاتھ مبارک ڈال دئیے جس سے پانچ انگلیوں سے پانی کے چشمے جاری ہوگئے۔ آپ ﷺ پیالہ میں جمع شدہ پانی میں ہاتھ ڈال کر امت کو سبق دے رہے تھے کہ جو انسان کی ہمت میں ہے وہ خود کرے جہاں انسان کی ہمت جواب دے جائے، وہاں سے پھر انسان کو قدرت خداوندی پر نظر رکھنی چاہئے۔ بعینہٖ اسی طرح مینار سے اوپر آسمانوں تک انسان کی طاقت نہیں چلتی۔ جہاں انسان کی طاقت کام نہیں کر سکتی وہاں خداتعالیٰ کی قدرت کام کرے گی۔ جہاں پر انسان کی طاقت چل سکتی ہے وہ مینار سے نیچے سیڑھی لگاکر اپنی طاقت کو استعمال کریں گے۔ دوسری حکمت یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو ہم اپنے سامنے اترتا دیکھیں گے تاکہ مسلمانوں کو یقین ہو کہ سچا مسیح وہ ہے جو سامنے آسمانوں سے اتریں گے جوقادیان میں ماں کے پیٹ سے پیدا ہوکر کہتا ہے کہ میں مسیح ہوں۔ جھوٹ بولتا ہے۔

سچے مسیح اور جھوٹے مسیح کے درمیان فرق

(۱)جب مسیح علیہ السلام تشریف لائیں گے تو آسمان سے نازل ہوں گے۔ جب کہ مرزاقادیانی ماں کے پیٹ سے نکلا۔ (۲)مسیح علیہ السلام کی تشریف آوری کے وقت دو فرشتے ان کے ساتھ ہوں گے۔ جب کہ مرزاقادیانی کی ماں کے پاس دائی تھی۔ (۳)مسیح علیہ السلام تشریف آوری پر ایسے محسوس ہوں گے جیسے غسل کر کے آئے ہوں۔ جب کہ مرزاقادیانی نفاس کے خون میں لت پت تھا۔ (۴)مسیح علیہ السلام نے تشریف آوری کے وقت احرام کی دو چادریں پہن رکھی ہوں گی۔ جب کہ مرزاقادیانی پیدائش کے وقت الف ننگا تھا۔ (۵)مسیح علیہ السلام تشریف آوری کے وقت خوش وخرم ہوں گے۔ جب کہ مرزاقادیانی پیدائش کے وقت چیں چیں کرتا ہوا نکلا۔ غرضیکہ مرزاقادیانی کے آنے کو حضرت مسیح علیہ السلام کے ساتھ کسی بھی قسم کی کوئی مشابہت ومماثلت نہیں تو پھر اسے کیسے سچا سمجھ لیا جائے؟

385

قادیانی سوال:۵

حضرت عیسیٰ علیہ السلام شام دمشق میں نازل ہوں گے۔ اسرائیل بیت المقدس جائیں گے وہ پھر وہاں سے قتل دجال کے بعد مکہ مکرمہ سعودی عرب تشریف لائیں گے تو ان کے پاس نیشنلٹی کس ملک کی ہوگی، پاسپورٹ، این۔او۔سی زرمبادلہ کا کیا بنے گا؟

جواب:

اس اشکال کا حل بھی تعلیمات اسلامیہ میں موجود ہے۔ (مشکوٰۃ شریف باب نزول مسیح ص۴۷۹) متفق علیہ روایت کے الفاظ یہ ہیں: ’’ان ینزل فیکم ابن مریم حکمًا عدلًا‘‘ وہ حاکم ہوں گے اور حاکم بھی مرزاقادیانی کی طرح انگریز کے مدح سرا اور انگریز کی خوشامد اور لجاجت کی خجالت میں غرق نہ ہوں گے نہ ہی ملکہ وکٹوریہ کو برطانیہ میں خط لکھیں گے کہ تو زمین کا نور ہے اور میں آسمان کا نور ہوں۔ تیرے وجود کی برکت وکشش نے مجھے اوپر سے نیچے کھینچ لیا ہے۔

(ستارہ قیصریہ ص۶، خزائن ج۱۵ ص۱۱۷)

جس میں جہاد کو حرام اور انگریز کی اطاعت کو فرض اور خود کو گورنمنٹ برطانیہ کا خود کاشتہ پودا قرار دیا ہے۔ (مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۲۱، اشتہار بحضور نواب لیفٹیننٹ گورنر) عیسیٰ علیہ السلام ایسے نہیں ہوں گے وہ حاکم عادل ہوں گے۔ ان کے نزول کے وقت ’’یہلک الملل کلہا الاملۃ واحدۃ الا وہی الاسلام‘‘ تمام ملتیں اور ادیان باطلہ مٹ جائیں گے۔ دین اسلام کی برتری اور شاہی ہوگی۔ پوری دنیا پر اسلام کا جھنڈا ہوگا۔ پوری دنیا اسلام کی وحدت واکائی اور ون یونٹ میں پروئی ہوگی اور اس کے حکمران حضرت عیسیٰ علیہ السلام بحیثیت خلیفہ محمدی علی صاحبھا الصلوۃ والسلام ہوں گے تو جب قیامت سے قبل نزول مسیح کے وقت تمام دنیا اسلام کے زیرنگیں ہوگی اور اس کے حکمران عیسیٰ علیہ السلام ہوں گے تو ان سے اس وقت پاسپورٹ اور ویزا کی بحث کرنی عقل اور نقل کے خلاف ہے۔

قادیانی سوال:۶

کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام خنزیروں کو قتل کریں گے؟ کیا خنزیر کو قتل کرنا ان کی شان کے خلاف نہیں؟

جواب:

مسئلہ کو اس کی حقیقت کی روشنی میں صحیح سمجھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ اس سے صورتحال واضح ہوگی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نعوذ بِاللہ خود خنزیروں کو قتل نہیں کریں گے بلکہ ان کی تشریف آوری کے بعد جب دنیا میں خنزیر کھانے والی اور اس کا ریوڑ پالنے والی قوم نہ رہے گی بلکہ وہ مسلمان ہو جائیں گے تو ان کے مسلمان ہو جانے پر جو لوگ خنزیر پالنے والے تھے، وہی اس کو قتل کرنے والے ہوں گے۔ کیونکہ قتل خنزیر کا سبب عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہوگا۔ آپ کے حکم سے خنزیر قتل کئے جائیں گے اور آپ کے زمانہ بعد از نزول میں یہ سب کچھ ہوگا۔ اس لئے قتل کی نسبت آپ کی طرف کر دی گئی۔ مثلاً جنرل محمد ضیاء الحق نے ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی۔ حالانکہ پھانسی کا فیصلہ کرنے والا مشتاق احمد چیف جسٹس لاہور تھا اور پھانسی کا پھندا گلے میں ڈال کر بھٹو کو لٹکانے والا ’’تارا مسیح‘‘ مشہور جلاد تھا۔ مگر بایں ہمہ نسبت پھانسی کی جنرل ضیاء الحق کی طرف کی جاتی ہے اور کی جائے گی کہ یہ سب کچھ ان کے عہد اقتدار میں ہوا۔ حالانکہ اس نے خود پھانسی نہیں دی۔ اسی طرح جنرل ایوب خان نے ۶۵کی پاک بھارت جنگ میں فتح حاصل کی۔ حالانکہ لڑنے والے فوجی تھے ایوب کے حکم سے اس کے زمانہ میں فتح ہوئی۔ اس لئے فتح کی نسبت ایوب خان کی طرف کی جائے گی۔ یا بھٹو نے مرزائیت کو اقلیت قرار دیا۔ حالانکہ اقلیت کا ریزولیوشن کرنے والی قومی اسمبلی تھی مگر بھٹو صاحب کے زمانہ میں ہوا اس لئے اس کی طرف نسبت کی جاتی ہے۔

386

اسی طرح خنزیر، عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں قتل ہوں گے مگر یہ برائی آپ کے زمانہ بعد از نزول میں اختتام پذیر ہوگی۔ اس لئے اس کا کریڈٹ احادیث میں آپ کو دیا گیا تو ایک برائی کو ختم کرنا اچھا فعل ہے نہ کہ قابل ملامت وباعث اعتراض؟ پھر کیا آپ نے کبھی یہ بھی سوچا کہ قتل تو خنزیر ہوں گے مگر پریشان قادیانی جماعت ہے۔ آخر کیوں؟ اور اگر قتل خنزیر سے بقول قادیانیوں کے عیسیٰ علیہ السلام کی توہین لازم آتی ہے تو پھر قادیانی جماعت کے مفتی صادق کی کتاب ذکر حبیب میں موجود ہے کہ مرزاقادیانی کے ایک مرید نے شکایت کی کہ لوگ مجھے کتا مار پیر کہتے ہیں۔ اس پر مرزاقادیانی نے کہا کہ اس میں کیا حرج ہے خدا نے مجھے سورمار کہا ہے۔ (ذکر حبیب ص۱۶۲)

اس طرح (تحفہ گولڑویہ ص۲۱۴، خزائن ج۱۷ ص۳۱۶) پر اپنے آپ کو سورمارنے والا کہا ہے۔ ان دونوں حوالہ جات میں مرزاقادیانی نے وہی بات کہی جو عیسیٰ علیہ السلام کے لئے باعث ملامت بتاتے ہیں۔ اگر عیسیٰ علیہ السلام کے لئے باعث ملامت ہے تو مرزاقادیانی کے لئے کیوں نہیں۔

اب ایک اور امر کی طرف توجہ دلانا ضروری ہے کہ مرزاقادیانی نے اپنی کتاب (براہین احمدیہ ص۴۵،۴۶، خزائن ج۲۱ ص۵۸) پر لکھا ہے: ’’ان (عیسیٰ علیہ السلام) کی تعلیم میں خنزیر خوروں اور تین خدا بنانے کا حکم اب تک انجیلوں میں نہیں پایا جاتا۔ اسی طرح تورات میں بھی ہے کہ سور مت کھانا‘‘ اور (حقیقت الوحی ص۲۹، خزائن ج۲۲ ص۳۱) پر لکھتا ہے کہ: ’’عیسیٰ علیہ السلام اگر آئیں گے تو سور کا گوشت کھائیں گے۔‘‘ معاذ ﷲ ثم معاذ ﷲ!

نیز (کشتی نوح ص۶۱، خزائن ج۱۹ ص۶۵ حاشیہ) پر مرزاقادیانی نے لکھا ہے کہ: ’’(عیسیٰ علیہ السلام) صلیب سے نجات پاکر کشمیر کی طرف چلے آئے… عیسائیوں پر سور کو جو توریت کے رو سے ابدی حرام تھا حلال کر دیا ہے۔‘‘

فرمائیے خود ہی مرزاقادیانی نے لکھا کہ شریعت عیسوی میں خنزیر خوری منع اور ابدی حرام ہے اور پھر خود لکھا کہ وہ یعنی عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ آئیں گے تو سور کا گوشت کھائیں گے۔ معاذ ﷲ ثم معاذ ﷲ!

ایک چیز جو باقرار مرزا قادیانی عیسیٰ علیہ السلام کی شریعت میں جائز نہیں اس کی نسبت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف کرنا توہین نبوت ہے یا نہ؟ (حقیقت الوحی ص۲۹، خزائن ج۲۲ ص۳۱) کی عبارت یہ ہے: ’’یہ بات بالکل غیرمعقول ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی ایسا نبی آنے والا ہے کہ جب لوگ نماز کے لئے جانے کے لئے مساجد کی طرف دوڑیں گے تو وہ کلیسا کی طرف بھاگے گا اور جب لوگ قرآن شریف پڑھیں گے تو وہ انجیل کھول بیٹھے گا اور جب لوگ عبادت کے لئے بیت ﷲ کی طرف منہ کریں گے تو وہ بیت المقدس کی طرف متوجہ ہوگا اور شراب پئے گا اور سور کا گوشت کھائے گا۔ معاذ ﷲ ثم معاذ ﷲ اور اسلام کے حلال اور حرام کی کچھ پروا نہیں رکھے گا کیا کوئی عقل تسلیم کرسکتی ہے کہ اسلام کے لئے یہ مصیبت کا دن پھر باقی رہے یہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی ایسا بھی آئے گا۔‘‘

حوالہ نمبر:۲

(سیرت المہدی ج۳ ص۲۹۱،۲۹۲) پر ہے کہ: ’’مسیح موعود (مرزاقادیانی) اکثر ذکر فرمایا کرتے تھے کہ بقول ہمارے مخالفین کے جب مسیح آئے گا اور لوگ اس کو ملنے کے لئے اس کے گھر پر جائیں گے تو گھر والے کہیں گے کہ مسیح صاحب باہر جنگل میں سور مارنے کے لئے گئے ہوئے ہیں۔ پھر وہ لوگ حیران ہوکر کہیں گے کہ یہ کیسا مسیح ہے کہ لوگوں کی ہدایت کے لئے آیا ہے اور باہر سوروں کا شکار کھیلتا پھرتا ہے۔ پھر (مرزاقادیانی) فرماتے تھے کہ ایسے شخص کی آمد سے ساسینیوں اور گنڈیلوں (حرام خور) کو خوشی ہوسکتی ہے جو اس قسم کا کام کرتے ہیں مسلمانوں کو کیسے خوشی ہوسکتی ہے۔ یہ الفاظ بیان کر کے آپ (مرزاقادیانی) بہت ہنستے تھے۔ یہاں تک کہ اکثر اوقات آپ (مرزاقادیانی) کی آنکھوں میں پانی آجاتا تھا۔‘‘

387

اندازہ فرمائیے کہ مرزاقادیانی مارے خوشی کے جس مفروضہ پر لوٹ پوٹ ہو رہے ہیں اس مضمون کا کہیں احادیث میں ذکر ہے؟ یا یہ کہ یہ صرف اور صرف مرزاقادیانی کی خود ساختہ مفروضہ وموضوعہ کہانی ہے جو اس کے خبث باطن کی مظہر ہے۔

قادیانی سوال:۷

مرزائی کہتے ہیں کہ جب مرزاقادیانی نے صاف لکھ دیا ہے کہ یہ بات بالکل غیرمعقول ہے کہ اب وہ جس بات کو خود غیرمعقول کہہ رہے ہیں آپ اسی کو کیوں ملزم ٹھہراتے ہیں یہ تو انصاف کا خون ہے۔

جواب:

مرزاقادیانی کی یہ عبارت اردو ہے اردو جاننے والے دنیا میں کروڑوں انسان رہتے ہیں۔ کسی سے اس کا مفہوم پوچھ لیں۔ مرزاقادیانی یہ لکھتا ہے کہ یہ بات بالکل غیرمعقول ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی ایسا نبی آنے والا ہے یعنی یہ کہ وہ نہیں آئے گا اس کا آنا عقل کے خلاف اور غیرمعقول بات ہے۔ کیونکہ اگر وہ آئے تو(۱)مسجد کی بجائے کلیساء کو جائے گا۔ (۲)مسلمان قرآن پڑھیں گے تو وہ انجیل کھول کر بیٹھے گا۔ (۳)مسلمان بیت ﷲ کی طرف اور وہ بیت المقدس کی طرف رخ کرے گا۔ (۴)شراب پئے گا۔ (۵)سور کا گوشت کھائے گا۔ (۶)اسلام کے حلال وحرام کی پابندی نہیں کرے گا۔

لہٰذا ثابت ہوا کہ کوئی ایسا نبی نہیں آئے گا اس کا آنا غیرمعقول ہے۔ کیونکہ اگر وہ آئے گا تو اس کو یہ کام کرنے ہوں گے۔ ان کے باعث وہ کہتا ہے کہ ان کا آنا غیرمعقول ہے۔ اب فرمائیے کہ ایک ایسی چیزمثلاً خنزیر جو عیسیٰ علیہ السلام کی انجیل میں بھی بقول مرزا منع ہے تو کیا عیسیٰ علیہ السلام آکر ایک حرام چیز کو کھانا شروع کر دیں گے؟ یہ وہ قادیانی تعلیمات ہیں جس کی بنیاد پر ہم اس کے کفر کا فتویٰ دیتے ہیں۔ باقی رہا مرزاقادیانی کا یہ اعتراض کہ مسلمان جب بیت ﷲ کی طرف رخ کریں گے تو وہ بیت المقدس کی طرف منہ کرے گا۔ اس کا بھی احادیث میں جواب موجود ہے۔ ایسے محسوس ہوتا ہے کہ مرزاقادیانی کے دجل وفریب، کذب وتلبیس کا آنحضرت ﷺ نے اپنی حدیث میں جواب عنایت فرمایا ہے۔ اب یہ کہ وہ بیت المقدس کی طرف رخ کرے گا اس کا آنحضرت ﷺ کی احادیث میں یہ جواب موجود ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نزول کے بعد پہلی نماز حضرت مہدی علیہ الرضوان کی اقتداء میں ادا فرمائیں گے۔ جب کہ باقی نمازیں عیسیٰ علیہ السلام خود پڑھائیں گے۔ حضرت مہدی علیہ الرضوان حضور ﷺ کے امتی ہیں۔ امتی ہونے کے ناطے سے ان کا رخ بیت ﷲ کی طرف ہوگا۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان کے مقتدی ہیں تو کیا عقلاً وشرعاً یہ ممکن ہے کہ امام کا رخ بیت ﷲ کی طرف اور مقتدی کا بیت المقدس کی طرف؟

قادیانی سوال:۸

مسلمانوں کے عقیدہ کے مطابق قرآن مجید میں ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے جب وہ نازل ہوں گے تو قرآنی آیات کا کیا بنے گا۔ یہ آیات تو پھر بھی یہ کہہ رہی ہوں گی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے۔ کیا یہ منسوخ ہو جائیں گی؟

قرآن مجید میں ﷲ رب العزت نے حضور ﷺ سے بہت سے وعدے کئے جو حضور ﷺ کے زمانہ میں ہی آپ ﷺ کی ذات سے وابستہ تھے۔ وہ وعدے پورے ہوئے۔ مگر آیات آج بھی موجود ہیں۔

388

(۱)’’الم غلبت الروم‘‘ (۲)’’اذا جاء نصر اللّٰہ‘‘ (۳)’’تبت یدا ابی لہب‘‘ (۴)’’لتدخلن المسجد الحرام‘‘ یہ تمام وعدے پورے ہوئے۔ جب بات پوری ہو جائے تو آیت بدل نہیں جاتی بلکہ وہ اور زیادہ شان سے چمکنے لگتی ہے کہ جن کا وعدہ تھا وہ پورا ہوگیا۔ قرآن مجید میں ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام نے خوشخبری دی۔ ’’مبشرا برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’انا بشارۃ عیسٰی‘‘ اسی طرح جب عیسیٰ علیہ السلام تشریف لائیں گے تو وہ بھی فرمائیں گے کہ میں ان آیات کا بذات خود مصداق بن کر آیاہوں تو ان کے نزول سے ان آیات کی عملی تفسیر ہو جائے گی اور یہ آیات اور زیادہ شان سے چمکنے لگ جائیں گی نہ کہ منسوخ ہو جائیں گی۔

قادیانی سوال:۹

مرزاقادیانی نے کہا کہ میں مسیح موعود ہوں۔ ہم نے کہا کہ اگر تو مسیح موعود ہے تو مسیح موعود تو دجال کو قتل کریں گے تو اس نے کہا کہ قتل دجال تلوار سے نہیں قلم سے ہوگا۔

جواب:

(مشکوٰۃ شریف باب قصۃ ابن صیاد ص۴۷۹ میں بحوالہ شرح السنۃ ج۷ ص۴۵۴، باب ذکر ابن صیاد) کے حوالے سے حدیث ہے کہ رحمت عالم ﷺ کے زمانہ میں ’’ابن صیاد‘‘ کے متعلق مشہور ہوا کہ وہ دجال ہے۔ رحمت عالم ﷺ اس کی تحقیق حال کے لئے گئے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کے ساتھ تھے۔ انہوں نے تلوار نکال کر آپ ﷺ سے اجازت چاہی کہ اگر اجازت ہو تو میں اس کو قتل کر دوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر یہ دجال ہے تو تم اسے قتل نہیں کر سکتے۔ ’’لست صاحبہ‘‘ اس کو عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام ہی قتل کریں گے۔ اگر یہ دجال نہیں تو تم اپنے ہاتھ قتل ناحق سے کیوں رنگین کرتے ہو۔ اس حدیث شریف نے ثابت کر دیا کہ دجال سے لڑائی تلوار کے ساتھ ہوگی۔ ورنہ جس وقت حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے تلوار نکالی تھی حضور ﷺ فرمادیتے کہ اے عمر رضی اللہ عنہ یہ کیا کر رہے ہو اس سے تو جہاد قلم کے ساتھ ہوگا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا تلوار نکالنا اور حضور ﷺ کا یہ فرمانا کہ اگر یہ دجال ہے تو تم اس کو قتل نہیں کر سکتے۔ اس کو عیسیٰ بن مریم ہی قتل کرے گا۔ یہ دلیل ہے اس بات کی کہ دجال کے ساتھ لڑائی تلوار کے ساتھ ہوگی نہ کہ قلم کے ساتھ۔ جہاد باالسیف ہوگا ’’نہ کے قلم قتلے‘‘

قادیانی سوال:۱۰

اگر دجال تلوار سے قتل ہوگا تو کہاں ہوگا؟

جواب:

حدیث شریف میں ہے کہ دجال مقام (لد) پر قتل ہوگا۔ ’’لد‘‘ اس وقت اسرائیل میں واقع ہے۔ اسرائیلی ائیرفورس کا ائیربیس ہے۔ دجال کے ساتھ اس وقت سترہزار یہودیوں کی جماعت ہوگی۔ جو اس کے حامی اور مددگار ہوں گے۔ جس وقت سرکار دوعالم ﷺ نے یہ فرمایا اس وقت نہ اسرائیل کا کوئی وجود تھا اور نہ ہی مقام ’’لد‘‘ کو کوئی اہمیت حاصل تھی۔ آپ ﷺ کی صداقت پر قربان جائیں کہ کس طرح آج اسرائیل میں ’’لد‘‘ کو اہمیت حاصل ہے۔ وہاں اس کی فوج کی چھاؤنی ہے۔ گویا دجال آخری وقت تک یہود کی فوج میں پناہ لینے کی کوشش کرے گا۔ یہاں ایک اور بات قابل توجہ ہے کہ مرزاقادیانی ۱۹۰۸ء میں مرا اور پاکستان ۱۹۴۷ء میں بنا۔ پاکستان بننے کے دو سال بعد اسرائیل کی حکومت وجود میں آئی۔ جس وقت مرزاقادیانی زندہ تھا اس وقت اسرائیل کا وجود بھی نہ تھا۔ مرزاقادیانی کے مرنے کے اکتالیس سال بعد اسرائیل کی حکومت وجود میں آئی۔ مرزاقادیانی اپنی کتابوں میں اس بات کا مذاق اڑاتا ہے کہ ستر ہزار یہودی تو پوری دنیا میں نہیں ہیں اور وہ کس طرح دجال کے ساتھ ہوں گے۔ لیکن اس بدبخت کو معلوم نہ تھا کہ ساری کائنات کا نظام بدل سکتا

389

ہے۔ ﷲ کے نبی ﷺ کی بات جھوٹی نہیں ہوسکتی۔ آج مرزاقادیانی کی قبر سے کوئی سوال کرے کہ اے بدبخت جن ستر ہزار یہودیوں سے متعلق حدیث کا مذاق اڑاتا تھا آج وہ نصف النہار کی طرح پوری ہوچکی ہے۔ اسرائیل میں ایک ستر ہزار نہیں بلکہ کئی سترہزار یہودی جمع ہیں۔

انزلنا الحدید کا جواب

قادیانی سوال:۱۱

نزول عیسیٰ علیہ السلام سے مراد آسمانوں سے نزول نہیں۔ اس لئے کہ انزلنا کا معنی قرآن میں پیدا کرنے کے معنی میں بھی آتا ہے۔ ’’انزلنا الحدید‘‘ ہم نے لوہے کو پیدا کیا وغیرہ۔

جواب:

الف… کسی بھی لفظ کا ایک حقیقی معنی ہوتا ہے۔ دوسرا مجازی۔ ہمیشہ ترجمہ کرتے وقت حقیقی معنی کو ترجیح ہوتی ہے۔ جہاں حقیقی معنی کرنا متعذر ہوں وہاں مجازی معنی لیا جاتا ہے۔

ب… اگر کہیں مجازی معنی مراد لیا جائے تو اس کا یہ مقصد نہیں ہوگا کہ اب حقیقی معنی کہیں بھی مراد نہیں لیا جائے گا جو شخص کسی مقام پر مجازی معنی کی وجہ سے حقیقی معنی کاانکار کرے وہ تحریف کا مرتکب ہوگا۔ جو باطل ہے۔

ج… اب دیکھیں کہ نزل، ینزل، نازل، نزول کا حقیقی معنی کیا ہے۔

علامہ راغب اصفہانی نے اپنی کتاب (مفردات ص۷۰۵) میں لکھا ہے: ’’نزل النزول فی الاصل ہو انحطاط من علو‘‘ نزول کا حقیقی معنی دراصل بلندی سے نیچے کی طرف آنا ہے۔

(مصباح اللغات ص۸۶۸) پر لکھا ہے: ’’نزل، نزولاً من علو الی اسفل‘‘ اترنا، اتارنا۔

قاضی بیضاوی نے لکھا ہے: ’’والا نزال نقل الشیٔ من الاعلٰی الی الاسفل‘‘ غرض یہ بات متعین ہے کہ نزل کا حقیقی معنی بلندی سے نیچے کی طرف اترنا ہے۔ قرآن مجید میں ثلاثی مجرد باب فعل یفعل کے وزن پر نزل ینزل ہمیشہ نزول کے حقیقی معنی میں استعمال ہوا ہے۔

ثلاثی مزید فیہ میں باب افعال: جیسے ’’انزل، ینزل، انزالًا‘‘

ثلاثی مزید فیہ میں باب تفعیل: جیسے ’’نزل ینزل تنزیلاً‘‘

ثلاثی مزید فیہ میں باب تفعل: جیسے ’’تنزل، یتنزل، تنزلاً‘‘

۱… عیسیٰ علیہ السلام کے لئے لفظ نزل، ینزل آیا ہے۔ (ثلاثی مجرد) اس کا حقیقی معنی ہی ہمیشہ مراد ہوتا ہے۔ ان کے لئے یہ لفظ دوسرے معنوں میں کبھی آیا نہیں۔

۲… عیسیٰ علیہ السلام کے لئے نزول کا حقیقی معنی لینے کے دلائل بھی موجود ہیں۔ مثلاً: ’’ینزل اخی عیسٰی بن مریم من السماء‘‘ (کنزالعمال ج۱۴ ص۶۱۹، حدیث نمبر۳۹۷۲۶)

’’لیہبطن‘‘ مسلم فی کتاب الحج۔

(مسند احمد ج۲ ص۱۹۰، حاکم ج۲ ص۵۹۵، درمنثور ج۲ ص۳۵۰)

’’ان عیسٰی لم یمت وانہ راجع الیکم‘‘ (ابن کثیر ج۱ ص۵۷۶، ۳۶۶، ابن جریر ج۳ ص۲۰۲)

390

’’یاتی علیہ الفناء‘‘ (ابن جریر ج۳ ص۱۰۸، درمنثور ج۲ ص۳)

اسی ایک ذات سیدنا عیسیٰ علیہ السلام جن کے متعلق نبی ﷺ نے نزول کا لفظ فرمایا انہیں کے لئے آسمان سے اترنے کی وضاحت بھی کر دی۔ لفظ آسمان بھی حدیث میں آیا ہے۔ ہبوط نیچے آنا، راجع واپس آنا، لم یمت جو نہیں مرے جو مریں گے، جن پر فنا آئے گی۔ ان الفاظ کے استعمال نے ثابت کر دیا کہ عیسیٰ علیہ السلام کے لئے نزول کا حقیقی معنی مراد ہے اور اوپر (آسمان) سے نیچے (زمین پر) آنا ہے۔

د… قرآن مجید میں جہاں ’’اَنْزَلْنَا لَکُمُ الْاَنْعَامَ اَنْزَلْنَا الْحَدِیْدَ اَنْزَلْنَا اِلَیْکُمْ لِبَاسًا‘‘ ہے اور ان کا معنی اسباب وعلل مہیا کرنا، نازل کرنا، پیدا کرنا آیا ہے۔ وہاں ’’اَنْزَلْنَاہٗ فِیْ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ وَنَزَلَ بِہٖ الرُّوْحِ الْاَمِیْنَ، بِالْحَقِّ اَنْزَلْنَاہٗ وَبِالْحَقِّ نَزَلْ، تَنَزَّلُ الْمَلٰئِکَۃُ وَالرُّوْحُ‘‘ بھی آیا ہے جس کا حقیقی معنی سوائے ’’نزول من السماء‘‘ کے اور کوئی ہو ہی نہیں سکتا۔ اب جب شواہد موجود، قرائن موجود، امت نے چودہ سو سال سے جو عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق نزول کے لفظ سے سمجھا وہ تعامل امت موجود ہے، تو یہاں حقیقی معنی نزول کا کرنے کے علاوہ چارہ ہی نہیں ہے۔

ھ… لفظ زکوٰۃ قرآن مجید میں کثرت سے صدقہ فرضیہ کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ مگر بعض جگہ قرآن مجید میں طہارت، برکت، صلاحیت کے معنی میں استعمال ہوا ہے: ’’خَیْرًا مِّنْہُ زَکٰوۃً وَّرَحْمَۃَ مَازَکٰی مِنْکُمْ ذَالِکُمْ اَزْکٰی لَکُمْ‘‘ اب کوئی بدباطن یہ کہہ سکتا ہے کہ زکوٰۃ فرض نہیں ہے؟ فریضہ زکوٰۃ کا انکار کر دے اور کہے اس سے مراد طہارت ہے۔ دل کی طہارت، جسم کی طہارت وغیرہ اگر ایسے کوئی کہے تو وہ مردود ہوگا۔ جس طرح زکوٰۃ کو ہمیشہ طہارت کے معنی میں لینا مردود امر ہے۔ اس طرح ’’اَنْزَلْنَا‘‘ کا ’’خَلَقْنَا‘‘ کے معنی میں ہمیشہ لینا بھی مردود امر ہے۔

و… قادیانیوں سے ہمارا سوال ہے کہ اگر نزول کا معنی پیدا ہونا ہے تو پھر دجال یا حضرت مہدی کے لئے نزول کا لفظ کیوں نہیں آیا۔ ان کے لئے خروج یا ظہور کا لفظ کیوں آیا ہے؟

ز… مرزاقادیانی نے لکھاہے کہ: ’’حضرت مسیح تو انجیل کو ناقص کی ناقص ہی چھوڑ کر آسمانوں پر جابیٹھے۔‘‘(براہین احمدیہ ص۳۶۱، خزائن ج۱ ص۴۳۱)

اسی طرح مرزاقادیانی نے (ازالہ اوہام ص۴۱، خزائن ج۳ ص۱۴۲) پر لکھا ہے: ’’مثلاً صحیح مسلم کی حدیث میں جو یہ لفظ موجود ہیں کہ حضرت مسیح جب آسمان سے اتریں گے تو ان کا لباس زرد رنگ کا ہوگا۔‘‘

اب جناب آپ کے مرزاقادیانی نے ان عبارتوں میں رفع ونزول کا خود معنی متعین کر دیا ہے کہ رفع کا معنی رفع الی السماء اور نزول کا معنی آسمانوں سے نیچے زمین پر اترنا۔ اب بھی کوئی قادیانی نہ سمجھے تو جائے جہنم میں۔

اس طرح (مجمع البحار ج۴ ص۷۰۶) میں بھی ہے: ’’النزول والصعود والحرکات من صفات الاجسام‘‘ نزول وصعود صفات اجسام سے ہے۔ جس وقت اس کی نسبت اجسام خاکیہ کی طرف کی جائے گی تو اس سے نزول وصعود ’’بجسمہ‘‘ العنصری مراد لیا جائے گا۔ غرض نزول کے حقیقی معنی اعلیٰ سے اسفل کی طرف انتقال کے ہیں۔ دنیا کی کسی کتاب میں اس کا حقیقی معنی اس کے علاوہ نہیں دکھایا جاسکتا ہے۔

ح… ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ نے ابن جریر رحمۃ اللہ علیہ، ابن ابی حاتم رحمۃ اللہ علیہ کے حوالہ سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت نقل کی ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کے ساتھ تین چیزیں زمین پر نازل کی گئی تھیں۔ ان میں سے ایک لوہے کا ہتھوڑا بھی تھا۔ اب تو نزول کا اس آیت: ’’انزلنا الحدید‘‘ میں حقیقی معنی ہوگا۔

391

جواب:

۲… (الف)قادیانی دجل وتحریف کے مطابق تسلیم کر لیں کہ معاذ ﷲ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق نزول، پیدائش کے معنوں میں ہے۔ تو کیا قادیانی فرمائیں گے کہ عیسیٰ علیہ السلام کی ابھی پیدائش نہیں ہوئی۔ جن کی پیدائش کو صدیاں بیت چکی ہیں ان کے متعلق کہنا ینزل (بقول قادیانی) پیدا ہوں گے۔ چہ معنی دارد؟ ہے کوئی قادیانی جو اس عقدہ کو حل کرے؟

(ب)مرزائیوں کے نزدیک اگر ینزل سے مراد مرزاقادیانی کی تشریف آوری ہے تو پھر ان کا نزول کب مانیں؟ آیا:

۱۸۴۰ء = ماں کے پیٹ سے باہر نکلنے کو

۱۸۸۰ء = تاریخ دعویٰ مجددیت کو

۱۸۹۲ء = تاریخ دعویٰ مسیحیت کو

۱۹۰۱ء = تاریخ دعویٰ نبوت کو

پھربھی آپ کا گزارہ نہیں ہوگا جان نہیں چھوٹے گی۔ اس لئے کہ حدیث شریف میں جہاں عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی خوشخبری دی گئی ہے وہاں ’’کیف انتم یا کیف بکم‘‘ کے الفاظ ہیں۔ یعنی اس وقت تمہاری (مسلمانوں کی) خوشی کا کیا عالم ہوگا جب تم میں عیسیٰ بن مریم نازل ہوں گے تو ان کا نزول خوشی عالم اسلام کا باعث ہوگا۔ اب اگر ان کے نزول سے مرزاقادیانی کی تشریف آوری اور اس سے مرزاقادیانی کی پیدائش ۱۸۴۰ء مراد ہے۔ اس وقت دنیا تو کیا خوش ہوگی، خود مرزاقادیانی بھی چیختا چلاتا، روتا دھوتا ماں کے پیٹ کے بضع سے برآمد ہوا تھا۔ اگر ۱۸۸۰ء دعویٰ مجددیت یا دعویٰ مسیحیت ۱۸۹۲ء مراد ہے تو اس وقت علماء کرام اور امت مسلمہ کے ایک دشمن، انگریز کے ایجنٹ وخود کاشتہ پودا کے نزول پر امت (مسلمانوں) کو خاک خوشی ہوئی۔ ۱۹۰۱ء مراد لیا جائے تو وہ سال تو مرزاقادیانی کے کفر اور اسلام دشمنی کے عین عروج کاسال ہے۔ اس پر مسلمانوں کو کیا خوشی ہوئی۔ حالانکہ حضور ﷺ فرماتے ہیں: ’’کیف انتم اذا نزل ابن مریم فیکم (بخاری ج۱ ص۴۹۰، باب نزول عیسٰی بن مریم)‘‘ اے مسلمانو! اس وقت تمہاری خوشی کا کیا عالم ہوگا جب تم میں ابن مریم علیہ السلام نازل ہوگا۔

غرض کسی اعتبار سے لیں، نزول کا حقیقی معنی لئے بغیر چارہ نہیں۔

جواب:

۳… اگر نزول کا معنی پیدائش ہی ہے تو تمام انبیاء پیدا ہوئے۔ کیا کسی نبی کے لئے قرآن وحدیث میں نزول کا لفظ آیا ہے۔ اگر نہیں تو یہ دلیل ہے اس بات کی، کہ نزول کا حقیقی معنی بلندی سے اترنا ہے، پیدائش نہیں؟ جہاں کہیں پیدائش کے معنی میں آیا ہے وہ مجازی ہے، اور یہاں عیسیٰ علیہ السلام کے لئے مجازی معنی کرنا ممکن ہی نہیں۔ اس لئے کہ (مسلم شریف ج۲ ص۴۰۱) پر ہے: ’’اذ بعث اللّٰہ فیکم ابن مریم فینزل عند المنارۃ البیضاء‘‘ جب کہ بھیجیں گے تم میں ﷲتعالیٰ ابن مریم علیہما السلام کو۔ پس وہ منارہ سفید کے نزدیک نازل ہوں گے۔ اگر نزول کا معنی پیدائش اور ابن مریم کا معنی مرزاغلام احمد قادیانی ہے تو پھر مرزاقادیانی کی ماں کو مرزاقادیانی کی پیدائش کے وقت منارہ پر جانا چاہئے تھا۔ خوب! اس حالت میں تو مرزاقادیانی پیدا ہونے سے قبل ہی ماں کو عذاب میں ڈالے ہوئے ہوگا؟ اس لئے تو پنجابی میں کہتے ہیں: ’’تیرے جمن تے لعنت‘‘ یعنی اگر ایسے ہی کرتوت کرنے تھے تو اچھا تھا کہ تو پیدا ہی نہ ہوتا۔ قرآن مجید میں ۱۸۹ مقامات پر نزل بلندی سے نیچے اترنا آسمان سے زمین پر اترنے کے معنی میں آیا ہے۔ وہ آیات یہ ہیں۔

392

(نَزَلَ از قرآن شریف)

۱… ’’وَبِالْحَقِّ نَزَلَ (بنی اسرائیل ص۱۰۵)‘‘

۲… ’’نَزَلَ بِہِ الرُّوْحُ الْاَمِیْنُ (الشعراء:۱۹۳)‘‘

۳… ’’وَمَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ (حدید:۱۶)‘‘

(یَنْزِلُ)

۴… ’’وَمَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمَآ ء (سباء:۲)‘‘

۵… ’’وَمَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمَآ ء (حدید:۴)‘‘

(نَزَّلَ)

۶… ’’ذَالِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ نَزَّلَ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ (بقرہ:۱۷۶)‘‘

۷… ’’نَزَّلَ عَلَیْکَ الْکِتَابَ بِالْحَقِّ (آل عمران:۳)‘‘

۸… ’’وَالْکِتَابِ الَّذِیْ نَزَّلَ عَلٰی رَسُوْلِہٖ (نساء:۱۳۶)‘‘

۹… ’’مَا نَزَّلَ اللّٰہُ بِہَا مِنْ سُلْطَانٍ (اعراف:۷۱)‘‘

۱۰… ’’اِنَّ وَلِیِّ اللّٰہُ الَّذِیْ نَزَّلَ الْکِتَابَ (اعراف:۱۹۶)‘‘

۱۱… ’’تَبَارَکَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰی عَبْدِہٖ (فرقان:۱)‘‘

۱۲… ’’وَلَئِنْ سَأَلْتَہُمْ مَنْ نَّزَّلَ مِنَ السَّمَا ء مَا ء (عنکبوت:۶۳)‘‘

۱۳… ’’اَللّٰہُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِیْثِ (زمر:۲۳)‘‘

۱۴… ’’وَاللّٰہُ نَزَّلَ مِنَ السَّمَا ء مَا ء بِقَدَرٍ (زخرف:۱۱)‘‘

۱۵… ’’ذَالِکَ بِاَنَّہُمْ قَالُوْا لِلَّذِیْنَ کَرِہُوْا مَا نَزَّلَ اللّٰہُ سَنُطِیْعُکُمْ فِیْ بَعْضَ الْاَمْرِ وَاللّٰہُ یَعْلَمُ اِسْرَارَہُمْ (محمد:۲۶)‘‘

۱۶… ’’قَالُوْا بَلٰی قَدْ جَاء نَا نَذِیْرٌ فَکَذَّبْنَا وَقُلْنَا مَانَزَّلَ اللّٰہُ مِنْ شَیْئٍ (ملک:۹)‘‘

(نُزِّلَ)

۱۷… ’’وَقَالُوْا لَوْلَا نُزِّلَ عَلَیْہِ اٰیَۃَ مِّنْ رَّبِّہٖ (انعام:۳۷)‘‘

۱۸… ’’وَقَالُوْا یَا اَیُّہَا الَّذِیْ نُزِّلَ عَلَیْہِ الذِّکْرُ اِنَّکَ لَمَجْنُوْنٌ (حجر:۶)‘‘

۱۹… ’’وَنُزِّلَ الْمَلَائِکَۃُ تَنْزِیْلًا (فرقان:۲۵)‘‘

۲۰… ’’وَقَالُوْا لَوْلَا نُزِّلَ ہٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰی رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْیَتَیْنِ عَظِیْمٌ (زخرف:۳۱)‘‘

۲۱… ’’وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوْا الصَّالِحَاتِ وَاٰمَنُوْا بِمَا نُزِّلَ عَلٰی مُحَمَّدٍ (محمد:۲)‘‘

393

(نُزِّلَتْ)

۲۲… ’’لَوْلَا نُزِّلَتْ سُوْرَۃٌ (محمد:۲۰)‘‘

(نَزَّلَہٗ)

۲۳… ’’فَاِنَّہٗ نَزَّلَہٗ عَلٰی قَلْبِکَ بِاِذْنِ اللّٰہِ (بقرہ:۹۷)‘‘

۲۴… ’’قُلْ نَزَّلَہٗ رُوْحُ الْقُدُسِ مِنْ رَبِّکَ بِالْحَقِّ (النمل:۱۰۲)‘‘

(یُنَزِّلُ)

۲۵… ’’اَللّٰہُ بَغیًا اَنْ یُّنَزِّلَ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ عَلٰی مَنْ یَّشَائُ (بقرہ:۹۰)‘‘

۲۶… ’’بِمَا اَشْرَکُوْا بِاللّٰہِ مَالَمْ یُنَزِّلْ بِہٖ سُلْطَانًا (اٰل عمران:۱۵۱)‘‘

۲۷… ’’ہَلْ یَسْتَطِیْعُ رَبُّکَ اَنْ یُّنَزِّلَ عَلَیْنَا مَائِدَۃً مِنَ السَّمَا ء (مائدہ:۱۱۲)‘‘

۲۸… ’’قُلْ اِنَّ اللّٰہَ قَادِرً عَلٰی اَنْ یُّنَزِّلَ اٰیَۃً (انعام:۳۷)‘‘

۲۹… ’’اِنَّکُمْ اَشْرَکْتُمْ بِاللّٰہِ مَالَمْ یُّنَزِّلْ بِہٖ سُلْطَانًا (انعام:۸۱)‘‘

۳۰… ’’وَاَنْ تُشْرِکُوْا بِاللّٰہِ مَالَمْ یُنَزِّلْ بِہٖ سُلْطَانًا (اعراف:۳۳)‘‘

۳۱… ’’وَیُنَزِّلُ عَلَیْکُمْ مِنَ السَّمَا ء مَا ء (انفال:۱۱)‘‘

۳۲… ’’یُنَزِّلُ الْمَلَائِکَۃُ بِالرُّوْحِ مِنْ اَمْرِہٖ عَلٰی مَنْ یَّشَاء (نحل:۲)‘‘

۳۳… ’’وَاللّٰہُ اَعْلَمُ بِمَا یُنَزِّلُ (نحل:۱۰۱)‘‘

۳۴… ’’وَیَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ مَالَمْ یُنَزِّلْ بِہٖ سُلْطَانًا (حج:۷۱)‘‘

۳۵… ’’وَیُنَزِّلُ مِنَ السَّمَا ء (نور:۴۳)‘‘

۳۶… ’’وَیُنَزِّلُ الْغَیْثَ (لقمان:۳۴)‘‘

۳۷… ’’وَیُنَزِّلُ لَکُمْ مِنَ السَّمَا ء رِزْقًا (مؤمن:۱۳)‘‘

۳۸… ’’وَلٰکِنْ یُّنَزِّلُ بِقَدَرٍ مَّا یَشَاءُ (شوریٰ:۲۷)‘‘

(یُنَزَّلَ)

۳۹… ’’مَا یَوَدُّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ اَہْلِ الْکِتَابِ وَلَا الْمُشْرِکِیْنَ اَنْ یُّنَزَّلَ عَلَیْکُمْ مِّنْ خَیْرٍ مِّنْ رَبِّکُمْ (بقرہ:۱۰۵)‘‘

۴۰… ’’وَاَنْ تَسْءلُوْا عَنْہَا حِیْنَ یُنَزَّلُ الْقُرْاٰنُ تُبْدَلَکُمْ (مائدہ:۱۰۱)‘‘

۴۱… ’’وَاِنْ کَانُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ یُّنَزَّلَ عَلَیْہِمْ مِّنْ قَبْلِہٖ لَمُبْلِسِیْنَ (روم:۴۹)‘‘

394

(نَزَّلْنَا)

۴۲… ’’وَاِنْ کُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِمَّا نَزَّلْنَا عَلٰی عَبْدِنَا (بقرہ:۲۳)‘‘

۴۳… ’’اٰمِنُوْا بِمَا نَزَّلْنَا مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَکُمْ (نساء:۴۷)‘‘

۴۴… ’’وَلَوْ نَزَّلْنَا عَلَیْکَ کِتَابًا فِیْ قِرْطَاسِ (انعام:۷)‘‘

۴۵… ’’وَلَوْ اَنَّنَا نَزَّلْنَا اِلَیْہِمُ الْمَلَائِکَۃَ (انعام:۱۱۱)‘‘

۴۶… ’’اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ (حجر:۹)‘‘

۴۷… ’’وَنَزَّلْنَا عَلَیْکَ الْکِتَابَ تِبْیَانًا لِکُلِّ شَیْ ئٍ (نحل:۸۹)‘‘

۴۸… ’’لَنَزَّلْنَا عَلَیْہِمْ مِنَ السَّمَا ء مَلَکًا رَّسُوْلًا (بنی سرائیل:۹۵)‘‘

۴۹… ’’وَنَزَّلْنَاہُ تَنْزِیْلًا (بنی اسرائیل:۱۰۶)‘‘

۵۰… ’’وَنَزَّلْنَا عَلَیْکُمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوٰی (طٰہٰ:۸۰)‘‘

۵۱… ’’وَلَوْ نَزَّلْنَاہُ عَلٰی بَعْضِ الْاَعْجَمِیِّیْنَ (شعرا:۱۹۸)‘‘

۵۲… ’’وَنَزَّلْنَا مِنَ السَّمَا ء مَا ء مُّبَارَکًا (ق:۹)‘‘

۵۳… ’’اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا عَلَیْکَ الْقُرْاٰنَ تَنْزِیْلًا (دہر:۲۳)‘‘

(اَنْزَلَ)

۵۴… ’’اَنْ یَّکْفُرُوْا بِمَا اَنَزَلَ اللّٰہُ (بقرہ:۹۰)‘‘

۵۵… ’’وَمَا اَنْزَلَ اللّٰہُ مِنَ السَّمَا ء مِنْ مَّا ء (بقرہ:۱۶۴)‘‘

۵۶… ’’وَاِذَ قِیْلَ لَہُمُ اتَّبِعُوْا مَا اَنْزَلَ اللّٰہُ (بقرہ:۱۷۰)‘‘

۵۷… ’’وَاَنْزَلَ مَعَہُمُ الْکِتَاَب بِالْحَقِّ (بقرہ:۲۱۳)‘‘

۵۸… ’’وَمَا اَنْزَلَ عَلَیْکُمْ مِّنَ الْکِتَابِ وَالْحِکْمَۃِ (بقرہ:۲۳۱)‘‘

۵۹… ’’وَاَنْزَلَ التَّوْرَاۃَ وَالْاِنْجِیْلَ (اٰل عمران:۳)‘‘

۶۰… مِنْ قَبْلُ ہُدًی لِّلنَّاسِ وَاَنْزَلَ الْفُرْقَانَ (اٰل عمران:۴)‘‘

۶۱… ’’ہُوَ الَّذِیْ اَنْزَلَ عَلَیْکَ الْکِتَابَ (اٰل عمران:۷)‘‘

۶۲… ’’ثُمَّ اَنْزَلَ عَلَیْکُمْ مِّنْ بَّعْدِ الْغَمِّ اَمَنَۃً (اٰل عمران:۱۵۴)‘‘

۶۳… ’’وَاِذَا قِیْلَ لَہُمْ تَعَالُوْا اِلٰی مَا اَنْزَلَ اللّٰہُ (نساء:۶۱)‘‘

۶۴… ’’وَاَنْزَلَ اللّٰہُ عَلَیْکَ الْکِتَابَ (نساء:۱۱۳)‘‘

۶۵… ’’وَالْکِتَابِ الَّذِیْ اَنْزَلَ مِنْ قَبْلُ (نساء:۱۳۶)‘‘

۶۶… ’’لٰکِنِ اللّٰہُ یَشْہَدُ بِمَا اَنْزَلَ اِلَیْکَ (نساء:۱۶۶)‘‘

۶۷… ’’وَمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَا اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُوْلٰئِکَ ہُمُ الْکَافِرُوْنَ (مائدہ:۴۴)‘‘

395

۶۸… ’’وَمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَا اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُوْلٰئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوْنَ (مائدہ:۴۵)‘‘

۶۹… ’’وَمَنْ لَّمْ یَحْکُمُ بِمَا اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُؤْلٰئِکَ ہُمُ الْفَاسِقُوْنَ (مائدہ:۴۷)‘‘

۷۰… ’’فَاحْکُمْ بَیْنَہُمْ بِمَا اَنْزَلَ اللّٰہُ (مائدہ:۴۸)‘‘

۷۱… ’’وَاْحذَرْہُمْ اَنْ یَّفْتِنُوْکَ عَنْ بَّعْضِ مَا اَنْزَلَ اللّٰہُ اِلَیْکَ (مائدہ:۴۹)‘‘

۷۲… ’’وَاِذَا قِیْلَ لَہُمْ تَعَالُوْا اِلٰی مَا اَنْزَلَ اللّٰہُ (مائدہ:۱۰۴)‘‘

۷۳… ’’اِذْ قَالُوْا مَا اَنْزَلَ اللّٰہُ عَلٰی بَشَرٍ مِّنْ شَیْئٍ (انعام:۹۱)‘‘

۷۴… ’’وَہُوَ الَّذِیْ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَا ء مَا ء (انعام:۹۹)‘‘

۷۵… ’’وَہُوَ الَّذِیْ اَنْزَلَ اِلَیْکُمُ الْکِتَابَ مُفَصَّلًا (انعام:۱۱۴)‘‘

۷۶… ’’ثُمَّ اَنْزَلَ اللّٰہُ سَکِیْنَتَہٗ عَلٰی رَسُوْلِہٖ وَعَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ وَاَنْزَلَ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْہَا (توبہ:۲۶)‘‘

۷۷… ’’فَاَنْزَلَ اللّٰہُ سَکِیْنَتَہٗ عَلَیْہِ (توبہ:۴۰)‘‘

۷۸… ’’وَاَجْدَرُ اَلَّا یَعْلَمُوْا حُدُوْدَ مَا اَنْزَلَ اللّٰہُ عَلٰی رَسُوْلِہٖ (توبہ:۹۷)‘‘

۷۹… ’’قُلْ اَرَءیْتُمْ مَا اَنْزَلَ اللّٰہُ لَکُمْ (یونس:۵۹)‘‘

۸۰… ’’مَا اَنْزَلَ اللّٰہُ بِہَا مِنْ سُلْطَانٍ (یوسف:۴۰)‘‘

۸۱… ’’اَنْزَلَ مِنَ السَّمَا ء مَا ء (رعد:۱۷)‘

۸۲… ’’وَاَنْزَلَ مِنَ السَّمَا ء مَا ء (ابراہیم:۳۲)‘‘

۸۳… ’’وَہُوَ الَّذِیْ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَا ء مَا ء (نحل:۱۰)‘‘

۸۴… ’’وَاِذَا قِیْلَ لَہُمْ مَاذَا اَنْزَلَ رَبُّکُمْ قَالُوْا اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ (نحل:۲۴)‘‘

۸۵… ’’وَقِیْلَ لِلَّذِیْنَ اتَّقُوْا مَاذَا اَنْزَلَ رَبُّکُمْ (نحل:۳۰)‘‘

۸۶… ’’وَاللّٰہُ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَا ء مَا ء (نحل:۶۵)‘‘

۸۷… ’’قَالَ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا اَنْزَلَ ہٰؤُلَائِ اِلَّا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (بنی اسرائیل:۱۰۲)‘‘

۸۸… ’’اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَنْزَلَ عَلٰی عَبْدِہٖ الْکِتَابَ وَلَمْ یَجْعَلْ لَّہٗ عِوَجًا (کہف:۱)‘‘

۸۹… ’’وَاَنْزَلَ مِنَ السَّمَا ء مَا ء (طٰہٰ:۵۳)‘‘

۹۰… ’’اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَا ء مَا ء (حج:۶۳)‘‘

۹۱… ’’وَلَوْشَاء اللّٰہُ لَاَنْزَلَ مَلَائِکَۃً (مؤمنون:۲۴)‘‘

۹۲… ’’وَاَنْزَلَ مِنَ السَّمَا ء مَا ء (نمل:۶۰)‘‘

۹۳… ’’وَاِذَا قِیْلَ لَہُمُ اتَّبِعُوْا مَاَنْزَلَ اللّٰہُ (لقمان:۲۱)‘‘

۹۴… ’’اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَا ء مَا ء (فاطر:۲۷)‘‘

۹۵… ’’اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَا ء مَا ء (زمر:۲۱)‘‘

396

۹۶… ’’قَالُوْا لَوْ شَاء رَبُّنَا لَاَنْزَلَ مَلَائِکَۃً (حٰم سجدہ:۱۴)‘‘

۹۷… ’’وَقُلْ اٰمَنْتُ بِمَا اَنْزَلَ اللّٰہُ مِنْ کِتَابٍ (شوریٰ:۱۵)‘‘

۹۸… ’’اَللّٰہُ الَّذِیْ اَنْزَلَ الْکِتَابَ بِالْحَقِّ وَالْمِیْزَانَ (شوریٰ:۱۷)‘‘

۹۹… ’’وَمَا اَنْزَلَ اللّٰہُ مِنَ السَّمَا ء مِنْ رِّزْقٍ (جاثیہ:۵)‘‘

۱۰۰… ’’ہُوَ الَّذِیْ اَنْزَلَ السَّکِیْنَۃَ فِیْ قُلُوْبِ الْمَؤْمِنِیْنَ (فتح:۴)‘‘

۱۰۱… ’’فَاَنْزَلَ اللّٰہُ سَکِیْنَتَہٗ عَلٰی رَسُوْلَہٗ وَعَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ (فتح:۱۸)‘‘

۱۰۲… ’’مَا اَنْزَلَ اللّٰہُ بِہَا مِنْ سُلْطَانٍ (نجم:۲۳)‘‘

۱۰۳… ’’قَدْ اَنْزَلَ اللّٰہُ اِلَیْکُمْ ذِکْرًا رَّسُوْلًا یَّتْلُوْا عَلَیْکُمْ اٰیٰتِ اللّٰہِ (طلاق:۱۰،۱۱)‘‘

(اُنْزِلَتْ)

۱۰۴… ’’وَمَا اُنْزِلَتِ التَّوْرَاۃُ وَالْاِنْجِیْلُ اِلَّا مِنْ بَّعْدِہٖ (اٰل عمران:۶۵)‘‘

۱۰۵… ’’وَاِذَا اُنْزِلَتْ سُوْرَۃٌ اَنْ اٰمِنُوْا بِاللّٰہِ (توبہ:۸۶)‘‘

۱۰۶… ’’وَاِذَا مَا اُنْزِلَتْ سُوْرَۃٌ فَمِنْہُمْ مَنْ یَّقُوْلُ اَیُّکُمْ زَادَتْہُ ہٰذِہٖ اِیْمَانًا (توبہ:۱۲۴)‘‘

۱۰۷… ’’وَلَا یَصُدَّنَّکَ عَنْ اٰیٰتِ اللّٰہِ بَعْدَ اِذْ اُنْزِلَتْ اِلَیْکَ (قصص:۸۷)‘‘

(اَنْزَلْتُمُوْہُ)

۱۰۸… ’’ء اَنْزَلْتُمُوْہُ مِنَ الْمُزْنِ اَمْ نَحْنُ الْمُنْزِلُوْنَ (واقعہ:۶۹)‘‘

(اَنْزَلَہٗ)

۱۰۹… ’’اَنْزَلَہٗ بِعِلْمِہٖ (نساء:۱۶۶)‘‘

۱۱۰… ’’قُلْ اَنْزَلَہٗ الَّذِیْ یَعْلَمُ السِرَّّ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (فرقان:۶)‘‘

۱۱۱… ’’ذَالِکَ اَمْرُ اللّٰہِ اَنْزَلَہٗ اِلَیْکُمْ (طلاق:۵)‘‘

(اَنْزَلْنَا)

۱۱۲… ’’فَاَنْزَلْنَا عَلَی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا رِجْزًا مِّنَ السَّمَا ء (بقرہ:۵۹)‘‘

۱۱۳… ’’وَلَقَدْ اَنْزَلْنَا اِلَیْکَ اٰیٰتٍ بَیِّنٰتٍ (بقرہ:۹۹)‘‘

۱۱۴… ’’اِنَّ الَّذِیْنَ یَکْتُمُوْنَ مَا اَنْزَلْنَا مِنَ الْبَیِّنٰتِ (بقرہ:۱۵۹)‘‘

۱۱۵… ’’اِنَّا اَنْزَلْنَا اِلَیْکَ الْکِتَابَ (نساء:۱۰۵)‘‘

۱۱۶… ’’وَاَنْزَلْنَا اِلَیْکُمْ نُوْرًا مُّبِیْنًا (نساء:۱۷۴)‘‘

۱۱۷… ’’اِنَّا اَنْزَلْنَا التَّوْرَاۃَ (مائدہ:۴۴)‘‘

۱۱۸… ’’وَاَنْزَلْنَا اِلَیْکَ الْکِتَابَ بِالْحَقِّ (مائدہ:۴۸)‘‘

397

۱۱۹… ’’وَلَوْ اَنْزَلْنَا مَلَکًا لَّقَضِیَ الْاَمْرُ (انعام:۸)‘‘

۱۲۰… ’’فَاَنْزَلْنَا بِہِ الْمَاء (اعراف:۵۷)‘‘

۱۲۱… ’’وَاَنْزَلْنَا عَلَیْہِمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوٰی (اعراف:۱۶۰)‘‘

۱۲۲… ’’وَمَا اَنْزَلْنَا عَلٰی عَبْدِنَا یَوْمَ الْفُرْقَانِ وَیَوْمَ الْتَقَی الْجَمْعَانِ (انفال:۴۱)‘‘

۱۲۳… ’’فَاِنْ کُنْتَ فِیْ شَکِّ مِمَّآ اَنْزَلْنَا اِلَیْکَ (یونس:۹۴)‘‘

۱۲۴… ’’اِنَّا اَنْزَلْنَاہُ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا (یوسف:۲)‘‘

۱۲۵… ’’وَکَذَالِکَ اَنْزَلْنٰہَ حُکْمًا عَرَبِیًّا (رعد:۳۷)‘‘

۱۲۶… ’’کِتَابٌ اَنْزَلْنَاہُ اِلَیْکَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النّوْرِ (ابراہیم:۱)‘‘

۱۲۷… ’’فَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَا ء مَا ء (حجر:۲۲)‘‘

۱۲۸… ’’کَمَا اَنْزَلْنَا عَلَی الْمُقْتَسِمِیْنَ (حجر:۹۰)‘‘

۱۲۹… ’’وَاَنْزَلْنَا اِلَیْکَ الذِّکْرَ (نحل:۴۴)‘‘

۱۳۰… ’’وَمَا اَنْزَلْنَا اِلَیْکَ الْکِتَابَ اِلَّا لِتُبَیِّنَ لَہُمُ الَّذِی اخْتَلَفُوْا فِیْہِ (نحل:۶۴)‘‘

۱۳۱… ’’وَبِالْحَقِّ اَنْزَلْنَاہُ (بنی اسرائیل:۱۰۵)‘‘

۱۳۲… ’’وَاضْرِبْ لَہُمْ مَثَلَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا کَمَاء اَنْزَلْنَاہُ مِنَ السَّمَا ء (کہف:۴۵)‘‘

۱۳۳… ’’وَمَا اَنْزَلْنَا عَلَیْکَ الْقُرْاٰنَ لِتَشْقٰی (طٰہٰ:۲)‘‘

۱۳۴… ’’وَکَذَالِکَ اَنْزَلْنَاہُ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا (طٰہٰ:۱۱۳)‘‘

۱۳۵… ’’لَقَدْ اَنْزَلْنَا اِلَیْکُمْ کِتَابًا فِیْہِ ذِکْرُکُمْ (انبیاء:۱۰)‘‘

۱۳۶… ’’وَہٰذَا ذِکْرٌ مُبَارَکٌ اَنْزَلْنَاہُ (انبیاء:۵۰)‘‘

۱۳۷… ’’فَاِذَا اَنْزَلْنَا عَلَیْہَا الْمَاء اہْتَزَّتْ (حج:۵)‘‘

۱۳۸… ’’وَکَذَالِکَ اَنْزَلْنَاہُ اٰیٰتٍ بَیِّنٰتٍ (حج:۱۶)‘‘

۱۳۹… ’’وَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَا ء مَا ء بِقَدَرٍ (مومنون:۱۸)‘‘

۱۴۰… ’’سُوْرَۃٌ اَنْزَلْنَاہَا وَفَرَضْنٰہَا (نور:۱)‘‘

۱۴۱… ’’وَاَنْزَلْنَا فِیْہَا اٰیٰتٍ بَیِّنٰتٍ (نور:۱)‘‘

۱۴۲… ’’وَلَقَدْ اَنْزَلْنَا اِلَیْکُمْ اٰیٰتٍ مُّبَیِّنٰتٍ (نور:۳۴)‘‘

۱۴۳… ’’لَقَدْ اَنْزَلْنَا اٰیٰتٍ مُّبَیِّنٰتٍ (نور:۴۶)‘‘

۱۴۴… ’’وَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَا ء مَآء طَہُوْرًا (فرقان:۴۸)‘‘

۱۴۵… ’’وَکَذَالِکَ اَنْزَلْنَا اِلَیْکَ الْکِتَابَ (عنکبوت:۴۷)‘‘

۱۴۶… ’’اَمْ اَنْزَلْنَا عَلَیْہِمْ سُلْطٰنًا فَہُوَ یَتَکَلَّمُ بِمَا کَانُوْا بِہٖ یُشْرِکُوْنَ (روم:۲۵)‘‘

۱۴۷… ’’وَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَا ء مَا ء (لقمان:۱۰)‘‘

۱۴۸… ’’وَمَا اَنْزَلْنَا عَلٰی قَوْمِہٖ مِنْ بَّعْدِہٖ مِّنْ جُنْدٍ مِّنَ السَّمَا ء وَمَا کُنَّا مُنْزِلِیْنَ (یٰسین:۲۸)‘‘

398

۱۴۹… ’’کِتَابٌ اَنْزَلْنَاہُ اِلَیْکَ مُبَارَکٌ (صٓ:۲۹)‘‘

۱۵۰… ’’اِنَّا اَنْزَلْنَا اِلَیْکَ الْکِتَابَ بِالْحَقِّ (زمر:۲)‘‘

۱۵۱… ’’اِنَّا اَنْزَلْنَا عَلَیْکَ الْکِتَابَ لِلنَّاسِ بِالْحَقِّ (زمر:۴۱)‘‘

۱۵۲… ’’اِنَّا اَنْزَلْنَاہُ فِیْ لَیْلَۃٍ مُّبَارَکَۃٍ (دخان:۳)‘‘

۱۵۳… ’’وَقَدْ اَنْزَلْنَا اٰیٰتٍ مُّبَیِّنٰتٍ (مجادلہ:۵)‘‘

۱۵۴… ’’لَوْ اَنْزَلْنَا ہٰذَا الْقُرْاٰنَ عَلٰی جَبَلٍ (حشر:۲۱)‘‘

۱۵۵… ’’فَاٰمِنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَالنُّوْرِ الَّذِیْ اَنْزَلْنَا (تغابن:۸)‘‘

۱۵۶… ’’وَاَنْزَلْنَا مِنَ الْمُعْصِرَاتِ مَا ء ثَجَّاجًا (نباء:۱۴)‘‘

۱۵۷… ’’اِنَّا اَنْزَلْنَاہُ فِیْ لَیْلَۃٍ الْقَدْرِ (قدر:۱)‘‘

(اُنْزِلَ)

۱۵۸… ’’وَالَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَا اُنْزِلَ اِلَیْکَ وَمَا اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ (بقرہ:۴)‘‘

۱۵۹… ’’وَمَا اُنْزِلَ عَلَی الْمَلَکَیْنِ بِبَابِلَ ہَارُوْتَ وَمَارُوْتَ (بقرہ:۱۰۲)‘‘

۱۶۰… ’’قُوْلُوْا اٰمَنَّا بِاللّٰہِ وَمَا اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَمَا اُنْزِلَ اِلٰی اِبْرَاہِیْمَ وَاِسْمَاعِیْلَ (بقرہ:۱۳۶)‘‘

۱۶۱… ’’اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَا اُنْزِلَ اِلَیْہِ مِنْ رَبِّہٖ وَالْمُؤْمِنُوْنَ (بقرہ:۲۸۵)‘‘

۱۶۲… ’’وَقَالَتْ طَّائِفَۃٌ مِّنْ اَہْلِ الْکِتَابِ اٰمِنُوْا بِالَّذِیْ اُنْزِلَ عَلَی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَجْہَ النَّہَارِ وَاکْفُرُوْا اٰخِرَہٗ لَعَلَّہُمْ یَرْجِعُوْنَ (آل عمران:۷۲)‘‘

۱۶۳… ’’اُنْزِلَتْ التَّوْرَاۃُ وَالْاِنْجِیْلُ اِلَّا مِنْ بَّعْدِہٖ (آل عمران:۶۵)‘‘

۱۶۴… ’’قُلْ اٰمَنَّا بِاللّٰہِ وَمَا اُنْزِلَ عَلَیْنَا وَمَا اُنْزِلَ عَلٰی اِبْرَاہِیْمَ (آل عمران:۸۴)‘‘

۱۶۵… ’’وَمَا اُنْزِلَ اِلَیْکُمْ وَمَا اُنْزِلَ اِلَیْہِمْ (آل عمران:۱۹۹)‘‘

۱۶۶… ’’اَلَمْ تَرَا اِلَی الَّذِیْنَ یَزْعُمُوْنَ اَنَّہُمْ اٰمَنُوْا بِمَا اُنْزِلَ اِلَیْکَ وَمَا اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ (نساء:۶۰)‘‘

۱۶۷… ’’لٰکِنِ اللّٰہُ یَشْہَدُ بِمَا اُنْزِلَ اِلَیْکَ (نساء:۱۶۶)‘‘

۱۶۸… ’’وَمَا اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَمَا اُنْزِلَ مِنْ قَبْلُ (مائدہ:۵۹)‘‘

۱۶۹… ’’وَمَا اُنْزِلَ اِلَیْکُمْ مِّنْ رَبِّکُمْ وَلَیَزِیْدَنَّ کَثِیْرًا مِّنْہُمْ مَّا اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِّنْ رَبِّکَ طُغْیَانًا وَّکُفْرًا (مائدہ:۶۸)‘‘

۱۷۰… ’’وَلَوْ کَانُوْا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَالنَّبِیِّ وَمَا اُنْزِلَ اِلَیْہِ مَا اتَّخَذُوْہُمْ اَوْلِیَاء (مائدہ:۸۱)‘‘

399

۱۷۱… ’’وَاِذَا سَمِعُوْا مَا اُنْزِلَ اِلَی الرَّسُوْلِ تَرٰی اَعْیُنَہُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ (مائدہ:۸۳)‘‘

۱۷۲… ’’وَقَالُوْا لَوْلَا اُنْزِلَ عَلَیْہِ مَلَکٌ (انعام:۸)‘‘

۱۷۳… ’’قُلْ مَنْ اَنْزَلَ الْکِتَابَ الَّذِیْ جَاء بِہٖ مُوْسٰی (انعام:۹۱)‘‘

۱۷۴… ’’اُنْزِلَ الْکِتَابُ عَلٰی طَائِفَتَیْنِ مِنْ قَبْلِنَا (انعام:۱۵۷)‘‘

۱۷۵… ’’لَوْ اَنَّا اُنْزِلَ عَلَیْنَا الْکِتَابَ لَکُنَّا اَہْدٰی مِنْہُمْ (انعام:۱۵۸)‘‘

۱۷۶… ’’کِتَابٌ اُنْزِلَ اِلَیْکَ (اعراف:۲)‘‘

۱۷۷… ’’وَاتَّبَعُوْا النُّوْرَ الَّذِیْ اُنْزِلَ مَعَہٗ (اعراف:۱۵۷)‘‘

۱۷۸… ’’وَیَقُوْلُوْنَ لَوْلَا اُنْزِلَ عَلَیْہِ اٰیَۃٌ مِّنْ رَبِّہٖ (یونس:۲۰)‘‘

۱۷۹… ’’لَوْلَا اُنْزِلَ عَلَیْہِ کَنْزٌ (ہود:۱۲)‘‘

۱۸۰… ’’فَاعْلَمُوْا اَنَّمَا اُنْزِلَ بِعِلْمِ اللّٰہِ (ہود:۱۴)‘‘

۱۸۱… ’’وَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَوْلَا اُنْزِلَ عَلَیْہِ اٰیَۃٌ مِّنْ رَبِّہٖ (رعد:۷)‘‘

۱۸۲… ’’اَفَمَنْ یَّعْلَمُ اَنَّمَا اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ الْحَقُّ کَمَنْ ہُوَ اَعْمٰی (رعد:۱۹)‘‘

۱۸۳… ’’وَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَوْلاَ اُنْزِلَ اِلَیْہِ اٰیَۃً مِّنْ رَبِّہٖ (رعد:۲۷)‘‘

۱۸۴… ’’وَالَّذِیْنَ اٰتَیْنَاہُمُ الْکِتَابَ یَفْرَحُوْنَ بِمَا اُنْزِلَ اِلَیْکَ (رعد:۳۶)‘‘

۱۸۵… ’’وَقَالَ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَاء نَا لَوْلَا اُنْزِلَ عَلَیْنَا الْمَلَائِکَۃُ (فرقان:۲۱)‘‘

۱۸۶… ’’وَقُوْلُوْا اٰمَنَّا بِالَّذِیْ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَاُنْزِلَ اِلَیْکُمْ (عنکبوت:۴۶)‘‘

۱۸۷… ’’وَیَرَی الَّذِیْنَ اُوْتُوْا الْعِلْمَ الَّذِیْ اُنْزَلَ اِلَیْکَ مِنْ رَبِّکَ ہُوَ الْحَقُّ (سبا:۶)‘‘

۱۸۸… ’’ء اُنْزِلَ عَلَیْہِ الذِّکْرُ مِنْ بَیْنِنَا (صٓ:۸)‘‘

۱۸۹… ’’وَاتَّبِعُوْا اَحْسَنَ مَا اُنْزِلَ اِلَیْکُمْ مِّنْ رَبِّکُمْ (زمر:۵۵)‘‘

ان تمام ۱۸۹آیات میں نزول کے معنی اترنے کے ہیں۔ اگر چند مقامات پر نزل مجازاً اسباب وعلل مہیا کرنا یا پیدا ہونے کے معنی میں آیا ہے تو ان تمام آیات میں حقیقی معنی کو ترک کرنا دجل نہیں تو اور کیا ہے۔

علامات مسیح علیہ السلام اور مرزاقادیانی

قادیانی سوال:۱۲

علامات مسیح ومرزاقادیانی سے متعلق بحث۔

جواب:

احادیث میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دوبارہ تشریف آوری کے متعلق ۱۷۵علامات ہیں جو موجودہ طبع ’’التصریح بما تواتر فی نزول المسیح‘‘ کے ساتھ بطور ضمیمہ کے شائع ہوئی ہیں۔ جس کا اردو ایڈیشن ’’علامات قیامت اور نزول عیسیٰ علیہ السلام‘‘ کے نام سے عام ملتا ہے۔ یہ ترجمہ مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی مدظلہ نے کیا ہے، ان علامات میں سے چند ایک پیش خدمت ہیں۔

400

۱… حضور ﷺ نے فرمایا آنے والے کا نام عیسیٰ علیہ السلام ہوگا۔ مرزاقادیانی کا نام غلام احمد قادیانی تھا۔ آنے والا بغیرباپ کے پیدا ہوا۔ مرزاقادیانی کے چھ فٹ کا غلام مرتضیٰ نامی ایک شخص باپ بیان کیا جاتا ہے۔

۲… آنے والے کا لقب مسیح روح ﷲ، کلمۃ ﷲ ہے۔ مرزاقادیانی کا لقب کوئی نہ تھا یا زیادہ سے زیادہ وہی سورمار جس کا حوالہ پہلے گزر چکا ہے۔

۳… آنے والے کی والدہ کا نام مریم ہے۔ مرزاقادیانی کی والدہ کا نام چراغ بی بی تھا۔ اس کا لقب گھسیٹی مشہور عام بیان کیا جاتا ہے۔

۴… آنے والے کی والدہ کی عصمت وعفت کی قرآن مجید نے گواہی دی۔ مرزاقادیانی کی ماں کی کہانی اس وقت کے لوگوں کو معلوم ہوگی۔ ہم کچھ نہیں کہہ سکتے۔ مگر جس کا بیٹا اتنا مقدر والا تھا کہ اس کے صاحبزادے مرزامحمود کو مرزاقادیانی کے ایک مرید جو اس کو خط میں مسیح موعود لکھتے ہیں اور پھر وہ خط مرزامحمود نے اپنے خطبہ جمعہ میں لوگوں کو سنایا اور پھر مرزائی اخبار الفضل قادیان مورخہ ۳۱؍اگست ۱۹۳۸ء کو ص۷ کالم۱ پر شائع ہوا جس میں ہے کہ: ’’حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) ولی ﷲ ہے اور ولی ﷲ بھی کبھی کبھی زنا کیا کرتے ہیں۔ اگر انہوں نے کبھی زنا کر لیا تو اس میں کیا حرج ہے۔‘‘

یہ چراغ بی بی کے صاحبزادے کے کمالات ہیں تو غرض یہ کہ مرزاقادیانی میں ایک نشانی بھی عیسیٰ علیہ السلام والی نہ پائی جاتی تھی۔

۵… اور یہ کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے۔ مرزاقادیانی کی ماں کے پیٹ سے نکلا۔

۶… وہ فرشتوں کے پروں پر ہاتھ رکھ کرآئیں گے مرزاکو دائی نے وصول کیا۔

۷… عیسیٰ علیہ السلام جب آئیں گے تو ان کے سر کے بالوں سے پانی ٹپکتا ہوگا۔ گویا غسل کر کے آئے ہیں جب کہ مرزانفاس کے خون میں لت پت تھا۔

۸… مسیح علیہ السلام نے تشریف آوری کے وقت دوچادریں پہن رکھی ہوں گی۔ جب کہ مرزاقادیانی پیدائش کے وقت الف ننگا تھا۔

۹… مسیح علیہ السلام تشریف آوری کے وقت خوش وخرم ہوں گے۔ جب کہ مرزاقادیانی چیں چیں کرتا ہوا نکلا۔

غرض یہ کہ ۱۷۵علامات میں سے کوئی ایک علامت بھی مرزاقادیانی میں نہ پائی جاتی تھی کہ مرزاقادیانی حضرت مسیح علیہ السلام کے ساتھ کسی قسم کی مشابہت نہیں رکھتا تھا۔

قادیانیوں سے دس سوال

مرزاقادیانی نے اپنی کتاب (حقیقت الوحی ص۳۰۷، خزائن ج۲۲ ص۳۲۰) پر لکھا ہے۔

۱… وہ دو زرد چادروں کے ساتھ اترے گا۔

۲… نیز یہ کہ وہ فرشتوں کے کاندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے اترے گا۔

۳… نیز یہ کہ کافر اس کے دم سے مریں گے۔

۴… نیز یہ کہ وہ ایسی حالت میں دکھائی دے گا کہ گویا وہ غسل کر کے ابھی حمام سے نکلا ہے اور پانی کے قطرے اس کے سر پر موتی کے دانے کی طرح ٹپکتے نظر آئیں گے اور یہ کہ دجال کے مقابل پر خانہ کعبہ کا طواف کرے گا۔

401

۵… نیز یہ کہ وہ صلیب کو توڑے گا۔

۶… نیز یہ کہ وہ خنزیر کو قتل کرے گا۔

۷… نیز یہ کہ وہ نکاح کرے گا اور اس کی اولاد ہوگی۔

۸… نیز یہ کہ وہی ہے جو دجال کا قاتل ہوگا۔

۹… نیز یہ کہ مسیح موعود قتل نہیں کیا جائے گا بلکہ فوت ہوگا۔

۱۰… اور آنحضرت ﷺ کی قبر میں داخل ہوگا۔

یہ دس علامات خود مرزاقادیانی نے سیدنا مسیح علیہ السلام کی تسلیم کی ہیں۔ مرزاقادیانی کی تحریف سے ہٹ کر ہمارا قادیانیوں سے سوال ہے کہ، اگر، مگر، چونکہ، چنانچہ، لیکن، لہٰذا، استعارہ، کنایہ کی بھول بھلیوں سے نکل کر ساری دنیا کے قادیانی ان علامات مسیح علیہ السلام میں سے کوئی ایک علامت مرزاقادیانی میں دکھا سکتے ہیں؟

علامات مسیح علیہ السلام پر قادیانی تحریفات کے جوابات

قادیانی سوال:۱۳

علامت نمبر:۱… عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے وقت کیا حالت ہوگی؟

جواب:

جس وقت وہ نازل ہوں گے اس وقت انہوں نے دو زرد رنگ کی چادریں پہن رکھی ہوں گی۔ مرزاقادیانی نے کہا کہ زرد رنگ کی چادروں سے مراد بیماری ہے۔

’’مجھے بھی دو مرض لاحق ہیں۔ ایک بدن کے اوپر کے حصہ میں دوران سر اور نیچے کے حصہ میں کثرت پیشاب۔‘‘ (حقیقت الوحی ص۳۰۷، خزائن ج۲۲ ص۳۲۰ کثرت پیشاب کی تشریح مرزاقادیانی کی دوسری کتاب نسیم دعوت ص۷۰، خزائن ج۱۹ ص۴۳۴) پر ہے: ’’بعض دفعہ سو سو مرتبہ ایک ایک دن میں پیشاب آتا ہے اور بوجہ اس کے پیشاب میں شکر ہے اور کبھی کبھی خارش کا عارضہ بھی ہو جاتا ہے۔‘‘

اب آپ انصاف فرمائیں کہ دنیا کی کسی لغت کی کتاب میں چادر کا معنی بیماری ہے؟ فقیر نے سعودی عرب، انڈونیشیا، سنگاپور، ملائیشیاء، تھائی لینڈ، برطانیہ، سری لنکا، شام، مصر، ڈنمارک، سویڈن، ناروے، کینیڈا کا سفر کیا ہے۔ آج تک مجھے کوئی ایسی کتاب نہیں ملی جس میں چادر کا معنی بیماری لکھا ہو اور وہ بھی پیشاب کی۔ وہ بھی ایسے جیسے ٹوٹا ہوا لوٹا جو ہر وقت بہتا رہتا ہے۔ سوچئے کہ کس طرح مرزاقادیانی نے احادیث کا مذاق اڑایا ہے؟ دوران سر کو مرزاقادیانی نے ہسٹیریا سے تعبیر کیا ہے۔ جیسے اس کی بیوی کا بیان ہے جو (سیرت المہدی ج۱ ص۱۶،۱۷) پر درج ہے۔ ’’بیان کیا مجھ سے والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود کو پہلی دفعہ دوران سر اور ہسٹیریا کا دورہ بشیر اوّل (پسر مرزا) کی وفات کے چند دن بعد ہوا تھا… اس کے بعد آپ (مرزا) کو باقاعدہ دورے پڑنے شروع ہوگئے۔‘‘

قادیانی سوال:۱۴

علامت نمبر:۲… مرزاقادیانی نے علامات مسیح بیان کرتے ہوئے علامت نمبر۲ میں دو فرشتوں سے مراد دو غیبی طاقتیں لیا ہے۔

402

جواب:

یہ حدیث کے ساتھ مرزاقادیانی کا ’’ناروا استہزا‘‘ ہے۔ دو فرشتوں سے مراد حقیقتاً دو فرشتے ہیں جو ﷲتعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے وقت ساتھ بھیجیں گے۔ ان کے کندھوں پر ہاتھ رکھے۔ عیسیٰ علیہ السلام نزول فرمائیں گے۔ ایک دفعہ مرزاقادیانی نے کہا کہ فرشتوں سے مراد میرے یہ دو آدمی ہیںجو مجھے ملے ہیں۔ جب قادیانی جماعت اختلاف کا شکار ہوئی اور قادیانی ولاہوری جماعت میں بٹ گئی تو مرزابشیرالدین نے کہا کہ لاہوری منافق ہیں تو انہوں نے کہا کہ ان میں تو وہ بھی ہے جن کو حضرت نے فرشتہ قرار دیا تھا۔

قادیانی سوال:۱۵

علامت نمبر:۳… عیسیٰ علیہ السلام کے دم سے کافر مریں گے۔ مرزاقادیانی نے اس کی توجیہ یہ کی کہ اس کی وجہ سے کافر ہلاک ہوں گے۔

جواب:

بالکل ٹھیک ہے اس میں کیا حرج ہے۔ حدیث کے مطابق عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھتے ہی دجال پگھلنا شروع ہو جائے گا۔ جیسے نمک پانی میں اور جہاں تک ان کی سانس پہنچے گی کافر مرتے جائیں گے۔ یہ حدیث ظاہر پر محمول ہے بالکل اسی طرح وقوع ہوگا۔ آج انسان نے ایسی چیزیں ایجاد کی ہیں جیسے اشک آور گیس جہاں تک اس کا اثر پہنچتا ہے آنسو جاری ہو جاتے ہیں۔ ایک ایسا ’’بم‘‘ تیار ہوچکا ہے۔ اگر وہ چلا دیا جائے تو تمام دنیا کے آکسیجن جلنے کے باعث دم گھٹنے سے مر جائے۔ یہ ساری انسان کی طاقت ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ﷲتعالیٰ کی قدرت اور نصرت ہوگی۔ ان سے کیا کچھ نہ ہوگا۔ انسانی طاقت سے جو کچھ ہوسکتا ہے وہ خدا کی قدرت سے کیوں نہ ہو گا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہمارے نبی ﷺ کی بات پوری ہوگی۔

قادیانی سوال:۱۶

علامت نمبر:۴… حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایسی حالت میں دکھائی دے گا کہ گویا وہ غسل کر کے آیا ہے کہ گویا موتی ٹپک رہے ہیں۔ مرزاقادیانی نے (حقیقت الوحی ص۳۰۸، خزائن ج۲۲ ص۳۲۱) پر توضیح کی ہے کہ وہ تضرع وزاری ایسی کرے گا کہ گویا اس سے باربار غسل کرے گا اور پاک غسل کے پاک قطرے موتیوں کی طرح اس کے سر پر سے ٹپکتے ہیں۔

جواب:

۱… تمام انبیاء علیہم السلام ﷲتعالیٰ کی بارگاہ میں تضرع وزاری کرتے ہیں تو ان کے متعلق کیوں نہیں کہاگیا کہ ان کے سر کے بالوں سے موتیوں کی طرح پانی ٹپکتا تھا، اس سے ثابت ہوا کہ یہ تضرع کا عمل نہیں بلکہ حقیقی پانی کا ٹپکنا مراد ہے۔

جواب:

۲… توبہ وزاری سے پانی آنکھوں سے ٹپکتا ہے نہ کہ سر سے۔

جواب:

۳… مرزاقادیانی کا یہ عذر سفید کذب وافتراء اور تحریف فی الحدیث ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے سر کے بالوں سے پانی کے قطرات اس طرح گرتے ہوں گے کہ ابھی غسل کر کے تشریف لائے ہیں۔ اس کی محدثین نے دو توجیہات کی ہیں اور دونوں صحیح ہیں۔

۱… جس وقت تشریف لے گئے تھے اس وقت غسل کر کے فارغ ہوئے تھے کہ آسمانوں پر اٹھا لئے گئے تو جب آسمانوں پر گئے تو سر سے پانی ٹپک رہا تھا۔ جب واپس تشریف لائیں گے تو بھی بالوں سے پانی ٹپک رہا ہوگا، آج کل کی سائنس نے یہ مسئلہ بھی حل کر دیا کہ واٹر کولر میں چوبیس گھنٹہ پانی جوں کا توں رہتا ہے۔ خراب نہیں ہوتا۔ فریج میں

403

کسی چیز کو ہفتہ بھر جوں کا توں رکھا جاسکتا ہے۔ اگر کسی چیز کو کولڈ اسٹور میں رکھ دیں تو جوں کی توں سال بھر رہے گی خراب نہیں ہوگی۔ اگر انسان اپنی عقل وہمت سے کسی چیز کو سنبھالنا جاہے جوں کا توں ایک دن ایک ہفتہ ایک سال تک سنبھال سکتا ہے۔ مگر رب کریم کی قدرت کو دیکھو کہ عیسیٰ علیہ السلام جس حالت میں گئے تھے جوں کے توں اسی حالت میں تشریف لائیں گے۔ انسان کی ہمت کی جہاں انتہاء ہوتی ہے رب العزت کی قدرت کی وہاں سے ابتداء ہوتی ہے۔ جب تشریف لے گئے تھے تو بھی بالوں سے پانی ٹپک رہا تھا جب واپس تشریف لائیں گے تو بھی سر کے بالوں سے پانی ٹپک رہا ہوگا۔

۲… توجیہ یہ لکھی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے بال مبارک ایسے نرم ونازک گھنگریالے اور تاب دار ہوں گے کہ ان پر نظر نہ ٹھہر سکے گی۔ ایسے محسوس ہوتا ہوگا کہ سر کے بالوں سے قطرے ٹپک رہے ہیں۔ اگرچہ ان کو تری نہ پہنچی۔ یہ دونوں توضیحات صحیح ہیں کوئی تضاد نہیں ہے۔

قادیانی سوال:۱۷

علامت نمبر:۵… حضرت عیسیٰ علیہ السلام، دجال کے مقابلہ میں خانہ کعبہ کا طواف کریں گے۔ (استغفر ﷲ) یعنی یہ کہ دجالی طاقتیں چور کی طرح بیت ﷲ کا طواف کریں گی، ان کے مقابلہ میں عیسیٰ علیہ السلام طواف کریں گے۔ یعنی ان کو مٹا دیں گے۔ (حقیقت الوحی ص۳۱۰، خزائن ج۲۲ ص۳۲۳)

جواب:

حدیث شریف پر افتراء ہے یہ مرزاقادیانی کے ذہن کی پیداوار ہے۔ آج تک کسی محدث نے یہ مطلب نہیں لکھا، مرزاقادیانی کی یہ تاویل باطل ہے۔ احادیث اور خود رحمت عالم ﷺ کی منشاء کے خلاف ہے۔ حدیث میں ہے کہ دجال ہر جگہ جائے گا، مگر مکہ اور مدینہ نہیں جائے گا۔ جب کہ مرزاقادیانی کہتا ہے کہ چوروں کی طرح بیت ﷲ کا طواف کرے گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ قتل دجال سے فراغت کے بعد عیسیٰ علیہ السلام مکہ مکرمہ آئیں گے۔ حج یا عمرہ یا دونوں کریں گے۔ بیت ﷲ سے فارغ ہونے کے بعد روضہ طیبہ پر آئیں گے۔ وہ سلام کہیں گے میں سنوں گا میں جواب دوں گا وہ سنیںگے، تفصیل کے لئے دیکھئے۔

’’التصریح، بما تواتر فی نزول المسیح‘‘

اب ان الفاظ کو سامنے رکھیں تو مرزائیوں کی کوئی تاویل نہیں چل سکتی، ہاں! البتہ مرزاقادیانی کی یہ تاویل خود قادیانیوں پر فٹ ہے کہ دعویٰ نبوت کرنے والا دجال اور وہ ہے مرزاقادیانی، اسے ماننے والی دجالی طاقت ان کے ہو گئے دو گروہ۔ تو دجالی طاقت کی بجائے دو طاقتیں ہوگئے، ان کے حرم کعبہ پر جانے پر پابندی ہے تو یہ چوروں کی طرح چوری جاکر طواف کرتے ہیں۔ عیسیٰ علیہ السلام ان کے مقابل پر آکر طواف کریں گے، یعنی ان کو مٹادیں گے اس لئے جب حقیقی مسیح آجائے گا تو جھوٹے مسیح کو ماننے والا کوئی نہیں رہے گا۔ پس مرزاقادیانی کی تاویل خود مرزائیوں پرفٹ آتی ہے۔

قادیانی سوال:۱۸

علامت نمبر:۶… حضرت عیسیٰ علیہ السلام صلیب کو توڑیں گے، مرزاقادیانی نے اپنی کتاب (حقیقت الوحی ص۳۰۷، خزائن ج۲۲ ص۳۲۰) پر یہ کہا کہ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ صلیبی عقیدہ کو توڑے گا۔ مرزاقادیانی نے اپنی اس کتاب کے (ص۳۱۱، خزائن ج۲۲ ص۳۲۴) میں اس کی تاویل یہ کی ہے کہ صلیب سے مراد لکڑی سونا چاندی نہیں بلکہ صلیبی عقیدہ کو توڑیں گے۔

جواب:

یہودی عیسائی جو مقابلہ کریں گے مارے جائیں گے۔ باقی ماندہ مسلمان ہو جائیں گے تو جب صلیب والے نہ

404

رہے تو صلیب کب رہے گی؟ جو صلیب کے پرستار تھے وہ مسلمان ہوکر صلیب شکن بن جائیں گے۔ اس لئے یہ عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں ہوگا۔ آپ کے حکم سے ہوگا۔ اس لئے صلیب شکنی کی آپ کی طرف نسبت کر دی گئی۔ باقی مرزاقادیانی کا یہ تاویل کرنا کہ صلیبی عقیدہ کو توڑے گا۔ یہ باطل ہے اس لئے کہ بقول مرزاقادیانی کے اس نے عیسیٰ علیہ السلام کو وفات شدہ کہہ کر عیسائیوں کے عقیدہ کو توڑا اس سے عیسائیوں کی صحت پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟ دنیا میں ایک بھی مسیحی، عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ دنیا میں تشریف لانے کا منکر نہیں ہے تو اس سے عیسائیوں کا عقیدہ کب ٹوٹا؟ پس ثابت ہوا کہ صلیب شکنی سے مراد حقیقی صلیب کو توڑنا ہے نہ کہ صلیبی عقیدہ کو۔

۲… اگر کسر صلیب سے مراد صلیبی عقیدہ کو توڑنا ہے تو ’’وما صلبوہ‘‘کہہ کر قرآن مجید اور پیغمبر اسلام ﷺ نے کسر صلیب فرمادی۔ پس ثابت ہوا کہ حدیث میں ’’یکسر الصلیب‘‘ کی نسبت سیدنا مسیح علیہ السلام کی طرف حقیقی صلیب کو توڑنا ہی مراد ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بعد تمام صلیب پرست مسلمان ہو جائیں گے تو صلیب کو پوجنے والے اس کو توڑنے والے ہوں گے۔ عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بعد کے زمانہ میں ہوگا اس لئے وہ کاسر صلیب قرار پائیں گے۔

قادیانی سوال:۱۹

علامت نمبر:۷… نیز یہ کہ وہ بیوی کرے گا اور اس کی اولاد ہوگی۔ اس کی مرزاقادیانی نے (انجام آتھم ص۳۳۷، خزائن ج۱۱ ص۳۳۷ حاشیہ) پر یہ تاویل لکھی ہے: ’’(اس پیشین گوئی کی محمدی بیگم والی) تصدیق کے لئے جناب حضرت محمد ﷺ نے بھی پہلے سے ایک پیشین گوئی فرمائی ہے۔ ’’یتزوج ویولد لہ‘‘ یعنی مسیح موعود بیوی کرے گا اور نیز وہ صاحب اولاد ہوگا۔ اب ظاہرہے کہ تزوج اور اولاد کا ذکر کرنا عام طور پر مقصود نہیں۔ کیونکہ عام طور پر ہر ایک شادی کرتا ہے اور اولاد بھی ہوتی ہے۔ اس میں کچھ خرابی نہیں بلکہ تزوج سے مراد ایک خاص تزوج جو بطور نشان ہوگا۔ اس جگہ رسول ﷺ ان سیاہ دل منکروں کو ان کے شبہات کا جواب دے رہے ہیں۔‘‘

جواب:

مرزاقادیانی نے محمدی بیگم سے شادی کے شوق میں حدیث شریف میں تحریف کی ہے ورنہ حدیث شریف میں ’’یتزوج ویولد لہ‘‘ محض اس لئے فرمایا گیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے رفع سے قبل شادی نہیں کی تھی، تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ وہ نزول کے بعد شادی کی سنت پر عمل کریں گے اور یہ کہ ان کی اولاد ہوگی (ایک روایت کے مطابق دو صاحبزادے ہوں گے ایک کا نام محمد، دوسرے کا نام موسیٰ رکھیں گے) دوسرا یہ کہ مرزائیوں کا یہ اعتراض ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمانوں پر اتنا لمبا قیام کریں گے تو مرور زمانہ کا ان کی صحت پر ایسا اثر ہوگا کہ وہ پیر فرتوت ہوگئے ہوں گے۔ حضور ﷺ نے اس حدیث شریف میں یہ جواب دیا کہ وہ اتنے طاقتور ہوں گے کہ وہ شادی کریں گے اوراتنے ہمت والے ہوں گے کہ ان کی اولاد بھی ہوگی۔ مرور زمانہ کا واپسی پران پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ باقی رہی یہ بات کہ اس سے مراد محمدی بیگم تو اس کا جوحال ہوا وہ سب جانتے ہیں۔

قادیانی سوال:۲۰

علامت نمبر:۸… عیسیٰ علیہ السلام، دجال کو قتل کریں گے۔ مرزاقادیانی نے اپنی کتاب (حقیقت الوحی ص۳۱۳، خزائن ج۲۲ ص۳۲۶) پر اس کی تاویل یہ کی ہے کہ دجال کو قتل کریں گے اس کا معنی یہ ہے کہ اس کے ظہور سے دجالی فتنہ روبزوال ہو جائے گا۔

405

جواب:

۱… دجال سے مراد حقیقتاً قتل دجال ہے۔ جیسا کہ (مشکوٰۃ شریف ص۴۷۹) کی حدیث سوال نمبر:۹ کے ذیل میں درج کی جاچکی ہے۔

جواب:

۲… مرزاقادیانی کی یہ تاویل بھی غلط ہے اس لئے کہ یہ خود کو مسیح کہتا ہے اور اپنے ظہور سے دجالی فتنہ کے روبزوال ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ مرزاقادیانی کے زمانہ میں تو درکنار اس کے مرنے کے بعد بھی عیسائیت مزید ترقی کرتی گئی، حوالہ یہ ہے کہ: ’’کیا آپ کو معلوم ہے کہ اس وقت ہندوستان میں عیسائیوں کے ۱۳۷؍مشن کام کر رہے ہیں، یعنی ہیڈمشن ان کی برانچوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ ہیڈ مشنوں میں ۱۸۰ سے زیادہ پادری کام کر رہے ہیں۔ ۴۰۳؍ہسپتال ہیں جن میں ۵۰۰؍ڈاکٹر کام کر رہے ہیں۔ ۴۳؍پریس ہیں اور تقریباً ۲۰؍اخبارات مختلف زبانوں میں چھپتے ہیں۔ ۵۱؍کالج، ۴۱۷؍ہائی سکول اور ۴؍ٹریننگ کالج ہیں۔ ان میں ۶۰۰۰۰؍طالب علم تعلیم پاتے ہیں۔ مکتی فوج میں ۳۰۸؍یورپین اور ۲۸۸؍ہندوستانی مناد کام کر رہے ہیں۔ اس کے ماتحت ۵۰۷؍پرائمری اسکول ہیں جن میں ۱۸۶۷۵؍طالب علم ہیں۔ ۱۸؍بستیاں اور ۱۱؍اخبارات ان کے اپنے ہیں۔ اس فوج کے مختلف اداروں کے ضمن میں ۳۲۹۰؍آدمیوں کی پرورش ہورہی ہے اور ان سب کی کوششوں کا نتیجہ یہ ہے کہ کہا جاتا ہے کہ روزانہ دو سو چوبیس مختلف مذاہب کے آدمی ہندوستان میں عیسائی ہورہے ہیں۔ اس کے مقابلہ میں مسلمان کیا کر رہے ہیں؟ تو وہ اس کام کو شاید قابل توجہ بھی نہیں سمجھتے۔ احمدی جماعت کو سوچنا چاہئے کہ عیسائی مشنوں کے اس قدر وسیع جال کے مقابلہ میں اس کی مساعی کی حیثیت کیا ہے۔ ہندوستان بھر میں ہمارے دو درجن مبلغ ہیں اور وہ بھی جن حالات میں کام کر رہے ہیں انہیں ہم لوگ خوب جانتے ہیں۔‘‘ (اخبار الفضل قادیان مورخہ ۱۹؍جون ۱۹۱۴ء ص۵)

نوٹ:

مرزاقادیانی ۱۹۰۸ء میں مرا تھا۔ یہ مرزائیوں کے اخبار ۱۹۴۱ء کی رپورٹ ہے کہ عیسائیت ترقی کر رہی ہے۔ اس کے مرنے کے ۳۳سال کے بعد کی رپورٹ نے ثابت کر دیا کہ دجالی فتنہ روبزوال ہونے والی اس کی تاویل بھی غلط ہے۔ ان سطور کی تحریر کے وقت امریکہ کا صدر بش صلیب پرست، عراق، افغانستان میں جو اودہم مچائے ہوئے ہے وہ مرزاقادیانی ملعون کی تاویل بد کے ابطال کے لئے کافی ہے۔

قادیانی سوال:۲۱

علامت نمبر:۹… کیا مرزاقادیانی کو یہ تسلیم تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام حضور ﷺ کے روضہ طیبہ میں دفن ہوں گے۔

جواب:

(ازالہ اوہام ص۴۷۰، خزائن ج۳ ص۳۵۲) اس میں مرزاقادیانی نے لکھا ہے کہ: ’’ممکن ہے کہ کوئی مثیل مسیح ایسا بھی ہو جو آنحضرت ﷺ کے روضہ کے پاس مدفون ہو۔‘‘ اب فرمائیں کہ مرزاقادیانی کو یہ نشانی تسلیم تھی یا نہ؟ اگر تھی تو اس میں پوری ہوئی یا نہ؟ اگر نہیں تو تسلیم کریں کہ مرزاقادیانی جھوٹا تھا۔ ایک بات اور بھی عرض کرتا ہوں کہ مرزاقادیانی نے لکھا ہے کہ: ’’ہم مکہ میں مریں گے یا مدینہ میں۔‘‘ (تذکرہ طبع دوم ص۵۸۴، طبع چہارم ص۵۹۱)

پہلے اس مرزاقادیانی کے الہام پر غور کریں کہ ہم مکہ میں مریں گے یا مدینہ میں۔ اگر یہ الہام رحمانی ہوتا تو الہام میں ’’یا‘‘ کا لفظ نہ ہوتا۔ یہاں پر لفظ ’’یا‘‘ شک کے لئے استعمال ہوا ہے۔ حالانکہ خدائی کلام شک سے پاک ہوتاہے۔ اس میں لفظ ’’یا‘‘ دلیل ہے اس بات کی کہ مرزاقادیانی کو الہام، رحمان سے نہیں بلکہ شیطان سے ہوا۔

۲… اگر رحمانی الہام ہوتا تو مرزاقادیانی مکہ مکرمہ یا مدینہ طیبہ میں سے کسی شہر میں فوت ہوا۔ کہاں فوت

406

ہوا اور کس حالت میں، یہ سب کو معلوم ہے۔ مرزاقادیانی نے اس کی تاویل یہ کی کہ مکی فتح ہوگی یا مدنی، ہم مکہ میں مریں گے یا مدینہ میں، مرنے کا معنی فتح کرنا دنیا کی کسی لغت میں دکھا دیں تو کرم ہوگا۔ اگر دکھا دو تو پھر میری درخواست ہوگی کہ اگر موت کا معنی فتح ہے تو تمام قادیانی زہر کا پیالہ پی کر اکٹھے مرجائیں تاکہ سب کی اکٹھی فتح ہو جائے یا یہ کہ دنیا آپ کے شر سے بچ جائے۔ ایک بات یہ بھی یاد رکھیں کہ نبی کو فوت ہونے سے پہلے اختیار دیا جاتا ہے۔ ’’بخاری شریف‘‘ میں موسیٰ علیہ السلام اور ملک الموت کا واقعہ ایک مشہور امر ہے کہ بغیر اجازت کے فرشتہ نبی کے گھر قدم نہیں رکھتا اور جھوٹے کو لیٹرین سے نہیں اٹھنے دیتا۔ ایک یہ بھی درخواست ہے کہ نبی جہاں فوت ہو وہیں دفن ہوتا ہے۔ اگر مرزاقادیانی نبی تھا تو جہاں قے اور دستوں کی کشتی سے مرزاقادیانی کی موت واقع ہوئی وہاں پر دفن ہوتا۔ پھر مرزائی اس پر سلام پڑھنے کے لئے وہاں تشریف لے جاتے تو دستوں اور اجابتوں کی جگہ کو بھی رنگ لگ جاتے۔

قادیانی سوال:۲۲

علامت نمبر:۱۰… مسیح موعود کو قتل نہیں کیا جائے گا بلکہ فوت ہوگا اور آنحضرت ﷺ کی قبر میں داخل کیا جائے گا۔ مرزاقادیانی نے اپنی کتاب (حقیقت الوحی ص۳۱۳، خزائن ج۲۲ ص۳۲۶) پر اس کی تاویل یہ کی کہ اسے حضور ﷺ کا قرب نصیب ہوگا۔ ظاہری تدفین مراد نہیں اس لئے کہ حضور ﷺ کا روضہ طیبہ کھولا گیا تو اس سے آپ ﷺ کی توہین لازم آئے گی۔

جواب:

روضہ طیبہ کی دیواروں کو توڑا نہیں جائے گا۔ ایک دیوار جالی مبارک والی ہے جہاں پر کھڑے ہوکر درود وسلام پڑھا جاتا ہے۔ اس میں تو دروازہ موجود ہے۔ مسلم سربراہان اور مسجد نبوی ﷺ کے خدام کے لئے کھولا جاتا ہے۔ آگے والی دیوار مبارک جس پر پردہ مبارک ہے۔ قبور مقدسہ تک جتنی دیواریں یا پردے ہیں ان سب میں دروازے موجود ہیں۔ بعد میں ان کو چن دیا گیا۔ جب عیسیٰ علیہ السلام کی تدفین ہوگی تو معمولی سی کوشش سے ان دروازوں کو دوبارہ کھول دیا جائے گا۔ اس سے آپ ﷺ کی توہین نہ ہوگی۔ نیز یہ کہ آپ ﷺ کے فرمان اقدس کو پورا کرنے کے لئے تمام رکاوٹوں کو دور کرناآپ ﷺ کی عین اطاعت ہے نہ کہ توہین، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے آنحضرت ﷺ سے عرض کیا کہ ایسے معلوم ہوتا ہے کہ میں آپ ﷺ کے بعد زندہ رہوں تو آپ ﷺ مجھے اجازت دیں کہ میں آپ کے ساتھ دفن کی جاؤں۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ کیسے ممکن ہے۔ کیونکہ وہاں چار قبروں (میری، ابوبکر رضی اللہ عنہ، عمر رضی اللہ عنہ، عیسیٰ علیہ السلام) کے سوا اور جگہ ہی نہیں۔

(کنزالعمال بہ حاشیہ مسند احمد ج۶ ص۵۷، ابن عساکر ج۲ ص۱۵۴)

یہی وجہ ہے کہ جب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا مرض الوفات تھا تو آپ نے فرمایا کہ میری تدفین جنت البقیع میں ہو۔ آپ کے عزیزوں نے درخواست کی کہ آپ ﷺ کے پہلو میں ایک قبر مبارک کی جگہ باقی ہے تو آپt نے فرمایا کہ اس کی ریزرویشن نبی علیہ السلام نے عیسیٰ علیہ السلام کے لئے فرمادی ہے۔ وہی یہاں پر دفن ہوں گے۔ چنانچہ آج تک روضہ شریف میں وہ جگہ، پکار پکار کر مرزائیت کے غلط عقائد کا اعلان کر رہی ہے تو یہ حدیث شریف ظاہر کر رہی ہے کہ قبر کا معنی مقبرہ ہے۔ مصنف ابن ابی شیبہ (کتاب الجنائز ص۱۴۳) پر ایک ساتھ دو حدیثیں ہیں ایک ہی امر سے متعلق ایک حدیث شریف میں قبر کا لفظ ہے۔ دوسری حدیث میں ’’مقبرہ‘‘ کا لفظ ہے۔ ایک ہی امر کے لئے ایک حدیث میں قبر اور دوسری میں اسی امر سے متعلق مقبرہ کا لفظ صاف ظاہر کر رہا ہے کہ قبر بمعنی مقبرہ بھی مستعمل ہے۔

(مرقات برحاشیہ مشکوٰۃ کتاب الفتن ص۵۱۳) پر ہے کہ: ’’فیدفن فی الحجرۃ الشریفۃ‘‘ اس حدیث

407

سے ظاہر ہے کہ قبر بمعنی مقبرہ ہے۔ قرآن مجید میں بھی بعض جگہ ’’فی‘‘ بمعنی مع کا مستعمل ہے۔ جیسے فرمایا: ’’بورک من فی النار‘‘ (نمل) یعنی موسیٰ علیہ السلام پر برکت نازل کی گئی جو آگ کے قریب تھا، نہ کہ اندر۔ چنانچہ (تفسیر کبیر ج۶ ص۴۳۶) پر اسی آیات کے تحت علامہ رازی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’وہذا اقرب لان القریب من الشی قدیقال انہ فیہ‘‘ کبھی کبھار قریب ترین کے متعلق کہہ دیا جاتا ہے کہ یہ بھی اس میں ہے۔

خود (ازالہ اوہام ص۴۷۰، خزائن ج۳ ص۳۵۲) پر مرزاقادیانی نے لکھا ہے کہ: ’’ممکن ہے کہ کوئی مثیل مسیح ایسا بھی آجائے جو آنحضرت ﷺ کے روضہ کے پاس مدفون ہو۔‘‘ اس حوالہ میں بھی مرزاقادیانی نے قبر بمعنی مقبرہ یعنی روضہ کے تسلیم کیا ہے تو حضور ﷺ کا یہ فرمانا کہ: ’’فیدفن عیسٰی معی فی قبری‘‘ کہ عیسیٰ علیہ السلام میرے ساتھ میری قبر میں دفن ہوں گے۔ اس کا یہی معنی ہے کہ میرے ساتھ میرے مقبرہ میں دفن ہوں گے۔

۲۳؍احادیث شریف سے سیدنا مسیح علیہ السلام کی ۲۰؍تصریحات

۱… ’’سیدنا عیسیٰ علیہ السلام‘‘ تفسیر فتح العزیز میں سورۃ التین کے ذیل میں ام المؤمنین حضرت حفصہt کے متعلق ہے کہ جب وہ بیت المقدس کی زیارت اور مسجد اقصیٰ میں نماز سے فارغ ہوئیں تو جبل زیت پر چڑھیں۔ وہاں نماز پڑھی اور فرمایا: ’’ہذا الجبل ہو الذی رفع منہ عیسٰی علیہ السلام الی السماء‘‘ یہ وہ پہاڑ ہے جہاں سے عیسیٰ علیہ السلام آسمانوں پر اٹھائے گئے۔ اس لئے مسیحی حضرات آج تک اس پہاڑ کی قدرومنزلت کرتے ہیں۔ (التصریح طبع ملتان ص۲۵۸)

۲… لم یمت: حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ آپ ﷺ سے مرفوعاً نقل کرتے ہیں کہ: ’’ان عیسٰی لم یمت‘‘ عیسیٰ علیہ السلام ابھی فوت نہیں ہوئے۔

(التصریح ص۲۴۳، بحوالہ ابن کثیر ج۱ ص۳۶۶، ۵۷۶، ابن جریر ج۳ ص۲۸۹)

۳… رجوع: اسی روایت میں ہے: ’’انہ راجع الیکم قبل یوم القیامۃ‘‘ کہ وہ قیامت سے قبل تم (امت محمدیہ ﷺ) میں دوبارہ واپس لوٹیں گے۔ (حوالہ مذکور)

۴… یاتی علیہ الفنا: ربیع بن انس بکرمی تابعی رحمۃ اللہ علیہ مرسلاً بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے نصاریٰ سے گفتگو کے دوران فرمایا: ’’ان عیسٰی یاتی علیہ الفناء‘‘ کہ عیسیٰ علیہ السلام پر فنا (موت) آئے گی۔

(التصریح ص۲۳۷، الدر المنثور ج۲ ص۳)

۵… نزول: سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے لئے تو آنحضرت ﷺ نے نزول کی صراحت فرمائی جیسے: ’’کیف انتم اذا نزل فیکم ابن مریم‘‘

(بخاری ج۱ ص۴۹۰، باب نزول عیسیٰ بن مریم، مسلم ج۱ ص۸۷، باب نزول عیسیٰ بن مریم)

(اے امت محمدیہ) اس وقت تمہاری (خوشی کی) کیا حالت ہوگی جب تم میں ابن مریم (عیسیٰ علیہ السلام) نازل ہوں گے۔

۶… بعثت الٰی الارض: اسی طرح سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی آمد ثانی کو بعثت سے تعبیر کرتے ہوئے آپ ﷺ نے خبر دی: ’’اذ بعث اللّٰہ عیسٰی ابن مریم‘‘ پھر ﷲتعالیٰ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو بھیجیں گے۔

(مسلم ج۱ ص۴۰۰، باب ذکرالدجال عن نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ)

408

۷… ہبوط: ’’لیہبطن عیسٰی ابن مریم حکمًا عدلًا‘‘

(کنزالعمال ج۱۴ ص۳۳۵، حدیث نمبر۳۸۸۵۱، ابن عساکر ج۲۰ ص۱۴۴)

اس میں ہبوط الی الارض کا ذکر ہے۔

۸… آنحضرت ﷺ اور عیسیٰ علیہ السلام: ’’لم یکن بینی وبینہ نبی انہ نازل‘‘

(کنزالعمال ج۴ ص۳۳۶، حدیث نمبر۳۸۸۵۶، ابن عساکر ج۲۰ ص۹۱)

وہ عیسیٰ علیہ السلام کہ میرے اور جن کے درمیان کوئی نبی نہیں۔ وہی نازل ہوں گے۔

۹… عیسیٰ علیہ السلام اور مہدی علیحدہ علیحدہ شخصیات: ’’کیف بکم اذ نزل ابن مریم فیکم وامامکم منکم‘‘

(کنز العمال ج۱۴ ص۳۳۴، حدیث نمبر۳۸۸۴۵، مسلم ج۱ ص۸۷، باب نزول عیسیٰ بن مریم)

تمہاری کیا حالت ہوگی کہ جب تم میں ابن مریم نازل ہوں گے اور تمہارا امام تم میں سے ہوگا۔ اس حدیث میں عیسیٰ علیہ السلام اور سیدنا مہدی کو دو علیحدہ علیحدہ شخصیات بیان کیاگیا۔ عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق ’’فیکم‘‘ اور مہدی کے متعلق ’’منکم‘‘ کے الفاظ ہیں۔

۱۰… پہلی نماز امامت مہدی میں: عیسیٰ علیہ السلام جب نازل ہوں گے تو سیدنا مہدی علیہ الرضوان ان سے عرض کریں گے: ’’تعال صل لنا‘‘ تشریف لائیں اور نماز پڑھائیں۔ عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے آپ پڑھائیں: ’’تکرمۃ لہٰذہ الامۃ‘‘

(کنزالعمال ج۱۴ ص۳۳۴، حدیث نمبر۳۸۸۴۶، مسلم ج۱ ص۸۷، باب نزول عیسیٰ بن مریم)

۱۱… باقی نمازوں کی امامت: پہلی نماز کے علاوہ زندگی بھر بقیہ نمازوں کی امامت سیدنا عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے: ’’اذا نزل ابن مریم فیکم فامکم‘‘

(کنزالعمال ج۱۴ ص۳۳۲، حدیث نمبر۳۸۸۴۰، مسلم ج۱ ص۸۷، باب نزول عیسیٰ بن مریم)

جب عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے تو امامت کرائیں گے۔

۱۲… نزول من السماء: ’’ینزل اخی عیسٰی بن مریم من السماء‘‘

(کنزالعمال ج۱۴ ص۶۱۹، حدیث نمبر۳۹۷۲۶، ابن عساکر ج۲۰ ص۱۴۹)

۱۳… تین شخصیتیں علیحدہ علیحدہ:’’کیف تہلک امۃ انا اولہا والمہدی وسطہا والمسیح آخرہا (مشکوٰۃ ص۵۸۳، باب ثواب ہذہ الامۃ)‘‘ وہ امت کیونکر ہلاک ہو گی جس کے اوّل میں میں (آنحضرت ﷺ) اور درمیان میں مہدی (علیہ الرضوان) اور آخر میں مسیح (عیسیٰ علیہ السلام) ہوں۔

۱۴… نزول کے بعد عرصۂ قیام: عیسیٰ علیہ السلام نزول کے بعد دنیا میں پینتالیس سال قیام فرمائیں گے۔ (التصریح ص۲۴۰، مشکوٰۃ ص۴۸۰، باب نزول عیسیٰ علیہ السلام)

بعض روایات میں چالیس سال کا بھی ذکر ہے۔ ان میں اختلاف نہیں۔ جنہوں نے کسر شمار کی پینتالیس فرمادیا۔ جنہوں نے کسر شمار نہیں کی چالیس فرمادیا۔

۱۵… پھر فوت ہوں گے: ’’ثم یتوفی‘‘ پھر فوت ہوں گے۔

(التصریح ص۱۴۰، ابوداؤد ج۲ ص۱۳۵، باب ذکر الدجال)

409

۱۶… نماز جنازہ وتدفین: ’’فیصلی علیہ المسلمون ویدفنونہ‘‘

(التصریح ص۱۴۰،۱۲۰، مسند احمد ج۲ ص۴۳۷)

پس مسلمان ان کی نماز جنازہ پڑھیں گے۔

۱۷… روضہ شریف میں تدفین: ’’فیدفن معہ‘‘ آپ ﷺ کے ساتھ دفن ہوں گے۔

(ترمذی ج۲ ص۲۰۲)

۱۸… قبر مبارک کی جگہ باقی ہے:’’فقال ابو مودود قد بقی فی البیت موضع قبر‘‘ آپ ﷺ کے روضہ طیبہ میں ایک قبر مبارک کی جگہ باقی ہے۔ (ترمذی ج۲ ص۲۰۲)

۱۹… چوتھی قبر مبارک ہوگی: ’’لیدفن عیسٰی بن مریم مع رسول اللّٰہ ﷺ وصاحبیہ فیکون قبرہ رابعًا‘‘

(درمنثور ج۲ ص۲۴۵،۲۴۶)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام آنحضرت ﷺ اور آپ ﷺ کے دو ساتھیوں (سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ) کے ساتھ دفن ہوں گے اور ان کی قبر مبارک چوتھی ہوگی۔

۲۰… آپ نہ، عیسیٰ علیہ السلام: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ ﷺ سے عرض کیا کہ مجھے اپنے ساتھ دفن ہونے کی اجازت بخشیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: وہاں (۱)میں (آپ ﷺ)، (۲)ابوبکر رضی اللہ عنہ، (۳)عمر رضی اللہ عنہ، (۴)عیسیٰ علیہ السلام دفن ہوں گے۔

(التصریح ص۸۳،۲۲۷، کنزالعمال ج۱۴ ص۶۲۰، حدیث نمبر۳۹۷۲۸)

قارئین ان تصریحات کے بعد بھی کوئی قادیانی نہ مانے تو ہم اسے حوالہ بخدا کرتے ہیں۔

قادیانی سوال:۲۴

حدیث شریف میں ہے کہ مومن قبر میں رکھا جاتا ہے تو حد نگاہ تک اس کی قبر فراخ ہو جاتی ہے اور گنہگار کی قبر یہاں تک تنگ ہو جاتی ہے کہ مردہ کی پسلیاں آپس میں مل جاتی ہیں تو رحمت عالم ﷺ کی قبر مبارک فراخ ہوتے ہوتے قادیان تک پہنچ گئی۔ مرزاقادیانی قادیان میں دفن ہوئے تو حضور ﷺ کے روضہ طیبہ میں دفن ہوئے۔ (العیاذ بِاللہ)

جواب:

۱… حدیث شریف میں ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ مجھے جنت البقیع میں دفن کیا جائے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ روضہ طیبہ میں جو چوتھی قبر مبارک کی جگہ خالی ہے وہ عیسیٰ علیہ السلام کے لئے مخصوص ہے۔ اس حدیث شریف سے یہ بات ثابت ہے کہ حضور ﷺ کے ساتھ تدفین کی خصوصیت مراد ہے۔ ورنہ تو جنت البقیع اور پورے مدینہ والے بھی حضور ﷺ کے ساتھ دفن ہوئے۔

۲… پھر یہ بھی سوچا کہ مدینہ طیبہ سے قادیان جانا ہو تو راستہ میں جدہ، کراچی، حیدرآباد، سکھر، صادق آباد، رحیم یارخان، بہاول پور، ملتان، خانیوال، ساہیوال، قصور، لاہور، بٹالہ آتے ہیں۔ اس کے بعد پھر قادیان آتا ہے تو جدہ سے لے کر قادیان تک جتنے غیرمسلم دفن ہیں کیا وہ روضہ طیبہ کی فراخی کے باعث اسی میں داخل ہیں

۳… آنحضرت ﷺ کا ارشاد کہ عیسیٰ علیہ السلام میرے ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ دفن ہوں گے۔ محدثین نے صراحت کی کہ چوتھی قبر عیسیٰ علیہ السلام کی ہوگی۔ پس ثابت ہوا کہ قبر مبارک کی معنوی وسعت مراد نہیں بلکہ روضہ طیبہ جہاں اور دو حضرات کی قبور مبارکہ ہیں وہاں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی تدفین مراد ہے۔

410

قادیانی سوال:۲۵

قادیانی جماعت یہ اعتراض کرتی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دشمنوں سے بچانے کے لئے ﷲتعالیٰ نے آسمانوں کا انتخاب فرمایا اور حضور سرور کائنات ﷺ کو دشمنوں سے بچانے کے لئے غارثور کا، چنانچہ مرزاقادیانی نے اپنی کتاب (تحفہ گولڑویہ ص۱۱۲، خزائن ج۱۷ ص۲۰۵ حاشیہ) پر لکھا ہے کہ: ’’خداتعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کے چھپانے کے لئے ایک ایسی ذلیل جگہ تجویز کی جو نہایت متعفن اور تنگ اور تاریک اور حشرات الارض کی نجاست کی جگہ تھی (استغفر ﷲ) مگر حضرت مسیح کو آسمان پر جو بہشت کی جگہ اور فرشتوں کی ہمسائیگی کا مکان ہے بلالیا۔‘‘ نیز یہ کہ مرزامحمود نے اپنی کتاب (دعوت الامیر ص۱۳۳) پر لکھا ہے کہ: ’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمانوں پر اور حضور ﷺ زمین میں یہ حضور ﷺ کی توہین اور تنقیص ہے۔‘‘

جواب:

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان پر جانا اور حضور سرور کائنات ﷺ کا زمین میں مدفون ہونا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بلندی اور حضور ﷺ کے لئے زمین کا انتخاب کرنا پستی کی دلیل نہیں۔ غرض یہ کہ کسی کا اوپر ہونا یا کسی کا نیچے ہونا اس سے عظمت یا تنقیص لازم نہیں آتی۔ کوئی اوپر ہو یا نیچے جس کی جو شان ہے وہ برقرار رہے گی۔ آسمان والوں کی زیادہ شان ہو اور زمین والوں کی کم، مرزائیوں کی یہ بات عقلاً ونقلاً غلط ہے۔

الف… فرشتے آسمانوں میں رہتے ہیں اور انبیاء علیہم السلام زمین میں مدفون ہیں اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ فرشتے انبیاء علیہم السلام سے افضل ہیں۔ فرشتے آسمانوں پر ہیں اور رحمت عالم ﷺ روضہ طیبہ میں۔ حالانکہ جبرائیل امین حضور ﷺ کے دربان تھے۔ حضور ﷺ کو ﷲتعالیٰ نے زمین پر آباد کر کے عالم ملکوت کے سردار جبرائیل کو آپ ﷺ کا خادم بنادیا اور عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر چڑھا کر پھر مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری میں زمین پر بھیج دے تویہ سب اس کے اختیار میں ہے۔

ب… ایک دفعہ حضور ﷺ کے کندھوں پر مدینہ طیبہ کے بازار میں حضرت حسن رضی اللہ عنہ سوار تھے۔ آپ ﷺ نے ان کو کندھوں پر اٹھایا ہوا تھا۔ جس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا کہ حسن رضی اللہ عنہ تمہیں سواری اچھی ملی ہے۔ اس کے جواب میں حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اے عمر رضی اللہ عنہ اگر سواری اچھی ہے تو سوار بھی اچھا ہے۔ تو کیا حضرت حسن رضی اللہ عنہ کا حضور ﷺ کے کندھوں پر سوار ہونا اس سے یہ لازم آتا ہے کہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ حضور ﷺ سے افضل تھے؟ نہیں اور ہرگز نہیں۔ اس طرح فتح مکہ کے موقع پر کعبہ شریف سے بتوں کو ہٹانے کے لئے حضور ﷺ کے حکم پر حضرت علی رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کے کندھے پر سوار ہوئے تو کیا اس سے یہ لازم آتا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ حضور ﷺ سے افضل تھے؟

ج… صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے آنحضرت ﷺ کو روضہ طیبہ میں دفن کیا۔ اس وقت صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین زمین کے اوپر تھے اور آنحضرت ﷺ زیرزمین۔ کیا اس سے صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کا آنحضرت ﷺ سے افضل ہونا لازم آتا ہے؟

د… امتی حضور ﷺ کے روضہ پر کھڑے ہوکر سلام عرض کرتے ہیں۔ اس وقت امتی زمین پر ہوتے ہیں اور حضور ﷺ زیرزمین۔ تو کیا اس سے یہ لازم آتا ہے کہ امتی حضور ﷺ سے افضل ہیں؟ نہیں اور ہر گز نہیں۔ غرض یہ کہ ﷲ رب العزت نے حضور ﷺ کو جو شان بخشی ہے وہ آپ ﷺ کی ہر حال میں برقرار رہے گی۔ چاہے حضور ﷺ کے کندھوں پر کوئی سوار ہو یا حضور ﷺ کسی کے کندھے پر سوار ہوں۔ جیسے حضور ﷺ نے ہجرت کی رات ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ

411

کے کندھوں پر بیٹھ کرسواری کی۔

(بلا تشبیہ) موتی دریا کی تہہ میں ہوتے ہیں اور گھاس پھوس تنکے اور جھاگ سمندر کی سطح پر ہوتے ہیں تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ تنکے یا جھاگ موتیوں سے افضل ہوں یا جیسے مرغی زمین پر ہوتی ہے لیکن کوا اور گدھ فضا میں اڑتے ہیں۔ ان کے فضا میں اڑنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ کوّا اور گدھ مرغی سے افضل ہوں یا جیسے رات کو آدمی سوتا ہے تو رضائی اس کے اوپر ہوتی ہے۔ اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ رضائی انسان سے افضل ہو، بادام کا سخت چھلکا اوپر ہوتا ہے اور مغز اندر تو اس سے لازم نہیں آتا کہ مغز سے چھلکا افضل ہو۔

ہ… باقی رہا مرزائیوں کا یہ کہنا کہ حضور ﷺ کا زمین میں مدفون ہونا اس سے حضور ﷺ کی تنقیص لازم آتی ہے تو ان کو یاد رکھنا چاہئے کہ اہل سنت کے نزدیک رحمت عالم ﷺ جس مبارک مٹی میں آرام فرمارہے ہیں اس مٹی کی شان عرش سے بھی زیادہ ہے۔ آپ ﷺ کی رہائش گاہ کا نام قرآن میں حجرات آیا ہے آسمان پر تو شیطان بھی جانے کی راہیں بناتا ہے۔ مگر حضور ﷺ کے گھر میں تو بغیر اجازت کے فرشتے کو بھی قدم رکھنے کی اجازت نہیں۔

و… مرزائیوں کے منہ بند کرنے کے لئے یہ واقعہ بھی بڑی اہمیت کا حامل ہے کہ قادیان کے قادیانی مرگھٹ کی جب چاردیواری نہیں تھی تو لوگ چشم دید واقعہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے دیکھا کہ کتا مرزاقادیانی کی قبر پر پیشاب کر رہا ہے۔ کیا اس سے یہ لازم آتا ہے کہ وہ مرزاقادیانی سے افضل ہوگیا؟

جواب:

بعض کو بعض پر بعض کو کل پر فضیلت ہوتی ہے۔ بعض خصوصیات ہوتی ہیں۔ خصوصیت کی تعریف یہ ہے: ’’یوجد فیہ ولا یوجد فی غیرہ‘‘

تمام انبیاء علیہم السلام میں سب سے افضل واعلیٰ آنحضرت ﷺ ہیں۔ لیکن بعض انبیاء کو جزئی فضیلت حاصل تھی۔ وہ آپ ﷺ کی کل فضیلت کے ہرگز مخالف نہیں۔ اس پر پوری امت کا ایمان وعقیدہ ہے۔

الف… آدم علیہ السلام کی عمر ۹۳۰برس۔ سیدنا نوح علیہ السلام کی ہزاربرس اور آنحضرت ﷺ کی ۶۳برس تو کیا اس میں آپ ﷺ کی ہتک ہے؟ نہیں ہرگز نہیں۔

ب… سیدنا مسیح بغیر باپ کے کنواری مائی مریم علیہا السلام سے پیدا ہوئے۔ آپ ﷺ کے والد گرامی تھے تو یہ عیسیٰ علیہ السلام کی خصوصیت ہے۔ آنحضرت ﷺ کی ہتک نہیں۔

ج… موسیٰ علیہ السلام کو کلیم ﷲ فرمایا گیا۔ بغیر واسطہ جبرائیل علیہ السلام کے موسیٰ علیہ السلام کو ذات باری سے ہم کلامی کا شرف نصیب ہوا۔ یہ ان کی خصوصیت تھی۔ دیگر انبیاء علیہم السلام بشمول آپ ﷺ کے کسی کی اس میں ہتک نہیں۔

د… حدیث شریف میں ہے کہ قیامت کے دن ایک مرحلہ پر سب لوگ بیہوش ہو جائیں گے۔ آپ ﷺ فرماتے ہیں سب سے پہلے میں اٹھوں گا۔ مگر موسیٰ علیہ السلام کو دیکھوں گا کہ وہ عرش کا پایہ تھامے کھڑے ہیں۔ یہ موسیٰ علیہ السلام کی خصوصی فضیلت ہوئی۔ اس میں کسی دیگر کی ہتک نہیں۔

ہ… سیدنا یونس علیہ السلام تین دن رات مچھلی کے پیٹ میں زندہ رہے۔ کوئی اور نہیں۔ یہ ان کی خصوصی فضیلت وشرف ہوا۔ دیگر کی ہتک نہیں۔

غور طلب یہ امر ہے کہ ان تمام خصوصی فضائل کے باوجود تمام انبیاء علیہم السلام شب معراج یا کل قیامت کے روز آپ ﷺ کی قیادت وسیادت کے زیرسایہ ہوں گے۔

412

وہ مسیح علیہ السلام جن کی رفعت جسمانی آسمانوں سے پار گئی۔ وہ بھی آپ ﷺ کی امت میں شامل ہوکر آپ ﷺ کے کلمہ کا ورد کریں گے تو فرمائیے شان کن کی اعلیٰ وافضل؟

جواب:

قادیانیو! تم مکان کی وجہ سے مکین کی عزت سمجھتے ہو۔ ہم مکین کی وجہ سے مکان کی عزت کے قائل ہیں۔ ’’لَا اَقْسِمُ بِہٰذَا الْبَلَدْ‘‘ ہمارے مؤقف پر نص صریح ہے۔

قادیانی سوال:۲۶

جب کہ دیگر تمام انبیاء کو ﷲتعالیٰ نے اسی دنیا میں رکھ کر شر اعداء سے محفوظ رکھا تو حضرت مسیح علیہ السلام کی کیا خصوصیت تھی کہ انہیں آسمان پر اٹھالیا۔ آنحضرت ﷺ کو کیوں نہ اٹھالیا؟

الجواب:

چونکہ امر مقدر یونہی تھا کہ حضرت مسیح علیہ السلام نہ صرف بلا باپ پیدا ہونے کے بلکہ ایک عرصہ دراز تک زندہ رہنے اور آسمان پر اٹھائے جانے کے نشان قدرت بنائے جائیں اور آخری زمانہ میں ان کے ہاتھ سے خدمت اسلام لے کر آنحضرت ﷺ کی شان کو دوبالا کیا جائے کہ آپ ﷺ کا وہ مرتبہ ہے کہ مستقل اور صاحب شریعت وکتاب رسول بھی آپ ﷺ کی اتباع کو اپنی سعادت سمجھیں۔ حتیٰ کہ امت محمدیہ ﷺ کے آگے ہوکر امام الصلوٰۃ بھی بنیں اور گواہی دیں کہ ’’تَکْرِمَۃَ اللّٰہِ ہٰذِہِ الْاُمَّۃِ (مشکوٰۃ باب نزول عیسٰی علیہ السلام)‘‘ اس لئے ﷲتعالیٰ نے آپ ﷺ کو آسمان پر اٹھالیا۔

مرزائیوں سے ایک سوال

صاحبان! آپ مسیح کی ولادت بلاباپ کو مانتے ہیں۔ جیسا کہ مرزاقادیانی کی تصریحات موجود ہیں۔ پس بتلائیے کہ کیا وجہ ہے، خدا نے دیگر انبیاء علیہم السلام کو تو ماں باپ دونوں کے ذریعہ پیدا کیا۔ مگر مسیح علیہ السلام کو بلاباپ، جو جواب تم اس کا دو گے اسی کے اندر ہمارا جواب موجود ہے۔

۲… حضرت سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو روح ﷲ فرمایا گیا ہے اور روح کا تعلق آسمان سے ہے۔ اس لئے ان کو آسمانوں پر اٹھانا ہی قرین انصاف تھا۔

قادیانی سوال:۲۷

یاجوج ماجوج سے مراد مرزاقادیانی نے روس اور امریکہ لیا ہے۔ نیز کہ یاجوج ماجوج پر عذاب نازل ہوگا۔ حالانکہ ان کو تبلیغ نہیں ہوئی۔

جواب:

یاجوج ماجوج ایک قوم ہے۔ کہاں ہے؟ اس کے ہم ذمہ دار نہیں۔ بے شمار ایسی چیزیں ہیں جن کی ابھی تک دریافت نہیں ہوئی۔ اس کا یہ معنی تو نہیں کہ جس چیز کا ہمیں علم نہ ہو وہ چیز بھی نہ ہو۔ مرزاقادیانی نے بھی لکھا ہے کہ: ’’عدم علم سے عدم شئی لازم نہیں آتا۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۱۱۷، خزائن ج۲۲ ص۱۲۰)

آج سے ڈیڑھ دو سو سال پہلے امریکہ کا کسی کو علم نہ تھا۔ آج اگر دجال کے گدھے کی کیفیت ایک عجوبہ معلوم ہوتی ہے تو یاد رکھئے کہ کل یہ عجوبہ نہ ہوگا۔ ایک سفر میں مجھے ایک ماہی پروری کے پروفیسر ناروے میں ملے۔ انہوں نے بتایا کہ سائبریا میں ایسی مچھلی پائی جاتی ہے جو بیک وقت اڑھائی ہزار انسان کا لقمہ بناسکتی ہے۔ فرمائیے! آج سے ایک صدی

413

پہلے کوئی یہ بات کہتا تو دنیا کیا سے کیا طوفان قائم کر دیتی۔

آدم علیہ السلام کی اوّلین اولاد کو کوئی کہتا کہ لوہا فضا میں پرواز کرے گا۔ کون مانتا۔ مگر آج ایک حقیقت ہے آپ کی سوچ اور اعتراض چیونٹی جیسے ہیں۔ جس کے کان میں کہہ دیا جائے کہ ہاتھی سومن وزن اٹھاسکتا ہے تو وہ تڑپ تڑپ کر مر جائے گی۔ مرزائی بھی ہزار تڑپیں یاجوج ماجوج ایک قوم ہیں۔ گدھا اتنے فاصلے کے کانوں والا ہوگا۔ مجھے اپنی آنکھوں دیکھی چیز پر شبہ ہوسکتا ہے مگر نبی ﷺ کے فرمان پر شبہ نہیں ہوسکتا۔

آپ کا یہ کہنا کہ یاجوج ماجوج کو تبلیغ نہیں ہوئی تو پھر ان پر عذاب کیوں آئے گا۔ یہ بھی غلط ہے۔ ان کو تبلیغ ہوچکی ہے۔ اس کا ثبوت بھی حدیث شریف میں ہے کہ وہ ہر روز اس دیوار کو چاٹتے ہیں بالآخر تھک کر چلے جاتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ باقی کل، مگر ان شاء ﷲ نہیں کہتے۔ جس روز ان کا خروج ﷲ رب العزت کو منظور ہوگا تو وہ اس دن ان شاء ﷲ کہیں گے کہ باقی دیوار کل ان شاء ﷲ گرائیں گے۔ ان کا ان شاء ﷲ کہنا اس بات کی دلیل ہے کہ ان کو تبلیغ ہوچکی ہے۔

قادیانی سوال:۲۸

مرزاقادیانی نے کہا کہ وہ گدھا دجال کی ملکیت ہوگا نہ کہ اس کی سواری۔

جواب:

اگر دجال سے مراد انگریز ہیں اور ان کے گدھے سے مراد ریل ہے اور وہ ملکیت ہوگی نہ کہ سواری، اس کا معنی یہ ہے کہ ریل صرف انگریز کی ملکیت ہوتی اور وہ بھی اس پر سواری نہ کرتے۔ نمبر۲ کسی اور کی ملکیت نہ ہوتی۔ پھر حدیث شریف میں ملکیت کا لفظ نہیں بلکہ یہ ہے کہ وہ ایک گدھے پر سوار ہوگا جس کے دونون کانوں کا درمیانی فاصلہ چالیس ہاتھ ہوگا۔

(مسند احمد، حاکم)

سواری کے الفاظ کو آپ جس طرف ہیر پھیر کریں یہ تحریف کے زمرہ میں آئے گا۔ گدھے کے ایک کان سے دوسرے کان تک چالیس ہاتھ کا فاصلہ ہوگا۔ قادیانی کہتے ہیں کہ ریل اتنی لمبی ہوتی ہے۔ یہ دلیل ہے کہ مراد ریل گاڑی ہے۔ ایک کان سے دوسرے کان تک اتنا لمبا فاصلہ ہوگا۔ ظاہر ہے کہ مراد اس سے چوڑائی ہے نہ کہ لمبائی۔ ریل گاڑی جتنی چاہے لمبی ہو چوڑائی تو کہیں بھی چالیس ہاتھ نہیں ہے۔ دجال کے گدھے کے پیٹ میں قمقمے جلتے ہوں گے۔ یہ مرزاطاہر کی کذب بیانی ہے۔ کہیں نہیں لکھا۔ ہمت ہے تو حوالہ لائیں۔ ’’وان لم تفعلوا ولن تفعلوا فاتقوا النار‘‘

۲… مرزاقادیانی نے ریل گاڑی کو دجال کا گدھا کہا۔ عمر بھر اس کی مرزا سواری کرتا رہا۔ حتیٰ کہ مرنے کے بعد آخری سفر اس کی نعش کا اسی گدھے پر ہوا۔ مرزاعمر بھر جسے دجال کا گدھا کہتارہا اس پر آخری سواری کر کے خود دجال ثابت ہوا۔

قادیانی سوال:۲۹

حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمانوں پر کیا کھاتے ہوں گے یا پیتے ہوں گے۔ کہاں رفع حاجت کرتے ہوں گے؟

جواب:

جو میزبان ہواس کو مہمان کی فکر ہوتی ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام آسمانوں پر مہمان ہیں۔ ﷲ رب العزت ان کے میزبان ہیں۔ جن کے میزبان ﷲتعالیٰ ہوں اس کے بارے میں قادیانیوں کو اس کی فکر نہیں کرنی چاہئے۔ مرزائی کرم فرما۔ اس طرح سوال کرتے ہیں کہ کھاتے کیا ہوں گے جس طرح کہ مرزائیوں نے وہاں آسمانوں پر ہوٹل کھولنا ہو کہ ان کی مرضی کی ڈش تیار کریں۔ کبھی کہتے ہیں کہ جی حجامت بڑھ گئی ہوگی۔ جس طرح مرزائیوں نے وہاں پر حمام کھولنا ہو۔ کبھی کہتے ہیں

414

کہ جی عیسیٰ علیہ السلام پیشاب کہاں کرتے ہوں گے۔ ایسے بیہودہ اعتراض کا مولانا ثناء ﷲ امرتسری رحمۃ اللہ علیہ نے یہ جواب دیا تھا کہ ﷲتعالیٰ نے فلش سسٹم کا انتظام کر کے آسمانوں سے گٹر کا پائپ لگا کر مرزاقادیانی کی قبر میں فٹ کر دیا ہے۔ خیر یہ تو ہوا لطیفہ اب جواب سنئے۔

حدیث شریف میں ہے رحمت عالم ﷺ نے فرمایا ایک وقت آئے گا کہ کھانے پینے کی تمام اشیاء پر دجال کا قبضہ ہو گا۔ صحابہ کرام رضوان ﷲ علیہم اجمعین نے عرض کیا کہ آقا ﷺ پھر مسلمان کیا کھائیں گے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ ان کو وہ غذا کفایت کرے گی جو آسمان والوں کی عذا ہے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے عرض کیا کہ آقا آسمان والوں کی کیا غذا ہے؟ آپ ﷺنے ارشاد فرمایا کہ ﷲتعالیٰ کی تحمید وتقدیس۔

(مشکوٰۃ ص۴۷۷، باب العلامات بین یدی الساعۃ بحوالہ ابوداؤد الطیالسی واحمد)

اس حدیث شریف نے عقدہ حل کر دیا کہ آسمان والوں کی غذا تحمید وتقدیس باری تعالیٰ ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام آسمانوں پر ہیں تو ان پر آسمان والوں کے احکام جاری ہوتے ہیں۔

جواب:

۲… انسانی وملکوتی دونوں صفات سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام متصف ہیں۔ کیونکہ والدہ مریم انسان تھیں۔ اس لحاظ سے ان میں بشری صفات ہوئیں۔ بغیر باپ کے پیدا ہوئے روح القدس کی پھونک سے تو ملکوتی صفات بھی ہوئیں۔ جب تک زمین پر تھے انسانی تقاضوں پر عمل کر کے کھاتے پیتے تھے اور آسمانوں پر ملکوتی صفات کا مظہر ہیں تو ان کی غذا حمد وتقدیس ہے۔ جب واپس تشریف لائیں تو زمین پر پھر انسانی صفات کے مطابق کھانا شروع کر دیں گے۔

جواب:

۳… (نورالحق ج۱ ص۵۱، خزائن ج۸ ص۶۹) پر ہے: ’’ہذا ہو موسٰی فتی اللّٰہ الذی اشار اللّٰہ فی کتابہ الٰی حیاتہ وفرض علینا ان نؤمن بانہ حی فی السماء ولم یمت ولیس من المیتین‘‘ یہ وہی موسیٰ مرد خدا ہے جس کی نسبت قرآن مجید میں اشارہ ہے کہ وہ زندہ ہے اور ہم پر فرض ہوگیا کہ ہم اس بات پر ایمان لائیں گے کہ وہ زندہ آسمانوں پر موجود ہے اور مردوں میں سے نہیں۔ یہ عبارت اور ترجمہ مرزاقادیانی کا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام آسمانوں پر زندہ موجود ہیں اورکہتا ہے کہ قرآن سے ثابت ہے اور اس پر ایمان لانا مرزائیوں پر فرض ہے تو جناب عالیٰ! جو موسیٰ علیہ السلام آسمانوں پر کھاتے ہوں گے وہی عیسیٰ علیہ السلام، جو کچھ موسیٰ علیہ السلام پیتے ہوں گے وہی عیسیٰ علیہ السلام، جہاں وہ حجامت بنواتے ہوں گے وہاں سے عیسیٰ علیہ السلام، غرض یہ کہ تمام ضروریات ایک ساتھ پوری کرتے ہوں گے۔ اس حوالہ کو ہم ’’ایٹم بم‘‘ سے تعبیر کرتے ہیں کہ جس سے پوری مرزائیت کی عمارت دھڑام سے نیچے گر جاتی ہے۔ جو اشکال عیسیٰ علیہ السلام کی حیات پر کرتے ہیں ان تمام کا توڑ یہ حوالہ ہے جس کا کوئی مرزائی جواب نہیں دے سکتے۔ اب رہا مرزاقادیانی کا یہ کہنا کہ موسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں تو اس ضمن میں درخواست ہے کہ مرزاقادیانی کی عادت تھی کہ وہ حضور ﷺ کی ہر بات میں مخالفت کرتا تھا۔ آپ ﷺ کا بدترین ازلی ابدی دشمن تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا نبوت بند ہے۔ مرزاقادیانی نے کہا کہ نہیں جاری ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جہاد جاری ہے۔ مرزاقادیانی نے کہا کہ نہیں بند ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ مجھے حق کی قسم عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں۔ مرزاقادیانی نے کہا کہ حق کی قسم مرگیا ابن مریم۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ موسیٰ علیہ السلام فوت ہوگئے۔ مرزاقادیانی نے کہا کہ نہیں زندہ آسمانوں پر ہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ میں محل نبوت کی آخری اینٹ ہوں۔ مرزاقادیانی نے کہا کہ نہیں میں آخری اینٹ ہوں۔

روضہ آدم کہ تھا وہ نامکمل اب تلک میرے آنے سے ہوا کامل بجملہ برگ و بار

(درثمین ص۱۳۵)

415

مرزاقادیانی نے خطبہ الہامیہ (تختی کلاں ص۱۱۲، خزائن ج۱۶ ص۱۷۸) پر کہا ہے کہ وہ آخری اینٹ میں ہوں۔

جواب:

۴… رئیس المکاشفین حضرت عبدالوہاب شعرانی رحمۃ اللہ علیہ (الیواقیت والجواہر ج۲ ص۱۴۶) میں اس کا جواب لکھتے ہیں: ’’فان قیل فما الجواب عن استغنآئہ عن الطعام والشراب مدۃ رفعہ فان اللّٰہ تعالٰی قال وما جعلنا ہم جسدًا لا یاکلون الطعام؟ والجواب ان الطعام انما جعل قوتًا ان یعیش فی الارض لانہ مسلط علیہ الہواء الحار والبارد فینحل بدنہ فاذا انحل عوضہ اللّٰہ تعالٰی بالغذاء اجراء لعادتہٖ فی ہٰذہ للحظۃ الغبراء واما من رفعہ اللّٰہ الٰی السمآء فانہ یلطفہ بقدرتہ ویغنیہ عن الطعام والشراب کما اغنی الملٰئکۃ عنہما فیکون حینئذٍ طعامہ التسبیح وشرابہ التہلیل کما قال ﷺ انی ابیت عند ربی یطعمنی ویسقینی وفی الحدیث مرفوعًا ان بین یدی الدجال ثلاث سنین الخ۔ فکیف بالمومنین حینئذٍ فقال یجزئہم ما یجزی اہل السماء من التسبیح والتقدیس‘‘ اگر کہا جائے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ رفع میں کھانے پینے سے مستغنی ہونے کا کیا جواب ہے؟ اس لئے کہ ﷲتعالیٰ نے فرمایا ہے: ’’مَاجَعَلْنٰہُمْ جَسَدًا لاَّ یَاْکُلُوْنَ الطَّعَامَ‘‘ جواب یہ ہے کہ ﷲتعالیٰ نے طعام کو زمین پر پر معیشت پوری کرنے کے لئے قوت بنایا ہے۔ کیونکہ یہاں اس پر ہوا گرم اور سرد مسلط ہے۔ اس کے بدن کو تحلیل کرتی ہے۔ جب تحلیل ہوتا ہے تو ﷲتعالیٰ غذا سے اس کا عوض پیدا کرتا ہے۔ اس زمین میں اس کی یہ عادت جاری ہے۔ لیکن وہ شخص جس کو ﷲتعالیٰ نے آسمان پر اٹھالیا اس کو اپنی قدرت سے نوازتا ہے اور کھانے پینے سے بے پرواہ کرتا ہے۔ جیسے فرشتوں کو بے پرواہ کیا۔ پس اس وقت اس کا طعام تسبیح اور پانی اس کا تہلیل ہوگا۔ جیسے حضور ﷺ نے فرمایا ہے کہ میں اپنے رب کے پاس رات گزارتا ہوں کہ مجھ کو ﷲتعالیٰ کھلا پلا دیتا ہے اور حدیث میں مرفوعاً روایت ہے کہ دجال سے تین برس پہلے قحط پڑے گا۔ اسی حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ سے عرض کیاگیا کہ اس وقت جب مسلمانوں کے پاس کھانے پینے کو کچھ نہ ہوگا تو ان کا کیا حال ہوگا؟ حضور ﷺ نے فرمایا کہ ان کو کفایت کرے گا وہ کھانا جو آسمان والوں کو کیفیت کرتا ہے۔ یعنی تسبیح اور تقدیس۔‘‘ حضرت شیخ رحمۃ اللہ علیہ نے پہلے فلسفی دلیل سے سمجھا دیا اور پھر حدیث مرفوع بھی بیان کر دی کہ دجال کے زمانہ میں مومنین کو اہل سماء کی طرح صرف تسبیح وتقدیس ہی غذا کا کام دے گی۔ حضرت شیخ رحمۃ اللہ علیہ نے اسی پر بس نہیں کی بلکہ ایک بزرگ ’’خلیفۃ الخراط‘‘ نامی کا جو بلاد مشرق کے شہروں میں سے ایک شہر ابہر میں رہتے تھے ذکر فرمایا کہ اس نے ۲۳سال سے برابر کچھ نہیں کھایا تھا اور دن اور رات عبادت الٰہی میں مشغول رہتا تھا اور کسی طرح کا ضعف بھی لاحق نہیں ہوا تھا۔ پھر عیسیٰ علیہ السلام کے لئے تسبیح وتہلیل کی غذا ہونے میں کیا تعجب ہے؟ ’’قال الشیخ ابوالطاہر وقد شاہد نار جلاً اسمہ خلیفۃ الخراط کان مقیمًا بہر من بلاد المشرق مکث لا یطعم طعامًا منذ ثلاث وعشرین سنۃ وکان یعبد اللّٰہ لیلا ونہارًا من غیر ضعف فاذا علمت ذلک فلا یبعدان یکون قوت عیسٰی علیہ السلام التسبیح والتہلیل واللّٰہ اعلم جمیع ذٰلک (الیواقیت ج۲ ص۱۴۶)‘‘ مرزاقادیانی نے یہ کیونکر سمجھ لیا کہ ایک غذا کے بدلنے سے فوت ہونا لازم آتا ہے۔ روزمرہ کا مشاہدہ ہے کہ تمام حیوان ماں کے پیٹ میں خون سے پرورش پاتے ہیں اور خون ہی طعام ان کا ہوتا ہے۔ جب ماں کے پیٹ سے باہر آتے ہیں تو صرف دودھ ان کی غذا وطعام اور وجہ پرورش ہوتی ہے اور جب اس سے بھی بڑے ہوتے ہیں تو اناج وگھاس ومیوہ جات ان کا طعام وغذا ہوتے ہیں۔ کیا کوئی باحواس آدمی کہہ سکتا ہے کہ ماں کے پیٹ سے باہر آکر انسان یا دیگر حوانات فوت ہوجاتے ہیں۔ کیونکہ ’’کَانَا یَاْکُلَانِ

416

ِ الطَّعَاَم‘‘ نہیں رہتے۔ اس لئے کہ خون کی غذا بند ہو اجاتی ہے اور صرف دودھ ہی ملتا ہے۔ جب دودھ ملتا ہے تو کیا مرجاتے ہیں یا دودھ کا موقوف ہونا وفات کی دلیل ہے۔ ہرگز نہیں کیونکہ مشاہدہ ہے کہ غذا کے بدلنے سے کوئی فوت نہیں ہوتا۔ جب یہ امر ثابت ہے کہ غذا کے بدلنے سے کوئی فوت نہیں ہوتا۔ موت لازم نہیں ہوتی تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی غذائے زمینی سے غذائے آسمانی کیونکر باعث موت ہوسکتی ہے؟ یاکیونکر مرزاقادیانی کو معلوم ہوا کہ آسمان پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو طعام وغذا نہیں ملتی؟

جواب:

۵… جب قرآن سے ثابت ہے کہ لگا لگایا خوان آسمان سے بنی اسرائیل کی درخواست اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دعا سے اترا۔ (دیکھو قرآن میں کس طرح مفصل ذکر ہے) تو پھر مومن قرآن تو انکار نہیں کر سکتا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بھی آسمانوں پر کھانا ملنا محال ہو۔

قادیانی سوال:۳۰

قادیانی حیات مسیح علیہ السلام پر گفتگو کے لئے کہہ دیتے ہیں کہ آپ عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر زندہ ثابت کر دیں تو مسئلہ ختم۔

جواب:

۱… میرے بھائی! دنیا میں کئی ایسے فرقے موجود ہیں جو عیسیٰ علیہ السلام کو فوت شدہ مانتے ہیں۔ (۱)یہودی۔ (۲)عیسائی۔ ان میں سے بعض کا عقیدہ ہے کہ فوت ہوئے پھر زندہ ہوکر آسمانوں پر گئے تو موت کے وارد ہونے کے وہ بھی قائل ہیں۔ (۳)پرویزی۔ (۴)سرسید اور ان کے خیالات کے نیچری۔ (۵)قادیانی۔ تو پہلے آپ ارشاد فرمائیں کہ اگر وفات مسیح ہی آپ کی الجھن ہے تو ان پانچ میں سے آپ نے قادیانیت کیوں قبول کی اور باقی فرقوں کو نظرانداز کیوں کیا؟ کیونکہ اگر وفات مسیح ہی آپ کی الجھن ہے تو آپ یہودی ہو جاتے۔ عیسائی ہو جاتے۔ جو پہلے سے وفات کے قائل ہیں آپ قادیانی کیوں ہوئے؟ آپ جب وجہ بیان کریں گے تو پھر بات آگے بڑھے گی۔ کیونکہ آپ کے جواب سے میں ثابت کروں گا کہ اصل میں آپ کی الجھن وفات مسیح نہیں بلکہ مرزاقادیانی کا روگ ہے جو آپ کو لگ گیا۔ اس لئے پہلے مرزاقادیانی پر بحث ہوگی۔

جواب:

۲… مرزاقادیانی نے اپنی کتاب (ازالہ اوہام ص۱۴۰، خزائن ج۳ ص۱۷۱) پر لکھا ہے کہ: ’’اوّل تو جاننا چاہئے کہ مسیح کے نزول کا عقیدہ کوئی ایسا عقیدہ نہیں ہے جو ہمارے ایمانیات کی کوئی جزو یا ہمارے دین کے رکنوں میں سے کوئی رکن ہو۔ بلکہ صدہا پیش گوئیوں میں سے ایک پیش گوئی ہے جس کو حقیقت اسلام سے کچھ بھی تعلق نہیں۔‘‘ تو دیکھئے مرزاقادیانی کے نزدیک جب یہ مسئلہ ایمانیات سے نہیں تو پھر اس پر اتنا زور کیوں؟

جواب:

۳… اگر حیات وممات مسیح علیہ السلام پر گفتگو کرنی ہے تو مرزاقادیانی بھی مسیح ہونے کا مدعی ہے۔ مسیح علیہ السلام کی حیات پر خوب بحث ہوچکی۔ اب نئے مسیح (معاذ ﷲ) مرزاقادیانی کی حیات وممات پر بحث ہونی چاہئے۔ ہمارے نزدیک اس کی حیات بھی لعنتی تھی اور ممات بھی لعنتی تھی۔

قادیانی سوال:۳۱

حضرت عیسیٰ علیہ السلام نزول کے بعد حضور ﷺ کے امتی ہوں گے۔ جب پہلے تشریف لائے تھے تو نبی تھے۔ اب تشریف لائیں گے تو امتی ہوں گے۔ قیامت کے دن ان کی کیا پوزیشن ہوگی۔ نبی کی یا امتی کی؟ اس لئے کہ اگر قیامت

417

کے روز نبی کی حیثیت سے حشر ہو، تو فوتگی بحیثیت امتی کے ہوئی تھی اور اگر حشر بحیثیت امتی کے ہوا تو وہ آپ کی امت جن کی طرف آپ پہلے نبی بن کر تشریف لائے تھے اور انہوں نے آپ کو نبی مانا تھا وہ کہاں جائیں گے۔ اس لئے کہ حدیث شریف میں ہے کہ قیامت کے دن امتی اپنی نبی کے جھنڈے کے نیچے ہوں گے۔

جواب:

اس کا بھی جواب ہماری کتابوں میں موجود ہے۔ (الیواقیت والجواہر ج۲ ص۷۳) میں ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کا دو دفعہ حشر ہوگا۔ ایک دفعہ بحیثیت نبی کے جھنڈا لے کر اپنی امت کا حساب کرائیں گے۔ دوسری بار رحمت عالم ﷺ کے جھنڈے کے نیچے کھڑے ہو کر اپنا حساب کتاب پیش کریں گے۔

قادیانی سوال:۳۲

’’لوکان موسٰی وعیسٰی حیین لما وسعہما الاتباعی (الیواقیت ج۲ ص۲۲)‘‘ ابن کثیر اور شرح فقہ اکبر مصری نسخہ میں یہ روایت موجود ہے۔ اس سے ثابت ہواکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوگئے ہیں۔

جواب:

۱… یہ غلط اور مردود قول ہے۔ کسی حدیث کی کتاب میں نہیں ہے۔ آج تک کوئی مرزائی اس کی سند پیش نہیں کر سکا۔ جن تینوں کتابوں کا ذکر کیاگیا ہے ان میں سے کوئی بھی حدیث کی کتاب نہیں۔ یہ حدیثیں دوسروں سے روایت کرتے ہیں۔ اگر یہ حدیث ہوتی تو کسی حدیث کی کتاب میں موجود ہوتی۔

۱… ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ باسند روایت کرتے ہیں مگر انہوں نے بھی اس کو بے سند لکھا ہے۔

۲… یہ کہ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ میں بااسناد صحیحہ متعدد مقامات پر احادیث صحیحہ ونصوص قطعیہ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کے مسئلہ کو بیان کیاگیا ہے۔ یہ دلیل ہے اس بات کی کہ اس بے سند روایت کو نقل کرتے ہوئے ان سے سہو ہوا ہے۔ الیواقیت نے فتوحات مکیہ کا حوالہ دیا ہے۔ اب اگر قادیانیوں میں دیانت نام کی کوئی چیز ہے تو فیصلہ آسان ہے کہ الیواقیت نے جو ماخذ بیان کیا ہے اس کو دیکھ لینا چاہئے۔ سو فتوحات مکیہ میں ’’لوکان موسٰی حیًا‘‘ ہے۔ یہ دلیل ہے اس امر کی کہ الیواقیت میں سہو کاتب سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نام آگیا ہے۔

اسی طرح شرح فقہ اکبر کے صرف مصری نسخہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نام ہے۔ ہندوپاک اور دیگر دنیا بھر کے شرح فقہ اکبر کے نسخوں میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نام نہیں۔

۳… اسی شرح فقہ اکبر میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کا مسئلہ ہے جو دلیل ہے اس امر کی کہ اس نسخہ میں غلطی اور سہو کاتب سے عیسیٰ علیہ السلام کا نام آگیا ہے۔

۴… شرح فقہ اکبر کی اس روایت کا بھی قادیانیوں میں دیانت نام کی کوئی چیز ہو تو آسانی سے فیصلہ ہوسکتا ہے۔ اس لئے کہ شرح فقہ اکبر میں ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں۔ مصری نسخہ کے مطابق ’’لوکان عیسٰی حیًا لما وسعہ الااتباعی وبینت وجہ ذالک عند قولہ فاذ اخذ اللّٰہ فی شرح شفاء (فقہ اکبر ص۹۹ مصری طبع) لو کان عیسٰی حیًا لما وسعہ الاتباعی‘‘ کی تشریح ہم نے ’’فاذا اخذ اللّٰہ‘‘ کی بحث شرح شفاء میں کر دی ہے۔

اب شرح شفاء کو دیکھ لیتے ہیں کہ اس میں کیا ہے تو (شرح شفاء ج۱ فصل۷) میں آیت: ’’اذا اخذ اللّٰہ‘‘ میثاق النّبیین کے تحت لکھا ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو تورات پڑھتے دیکھا تو فرمایا کہ: ’لوکان موسٰی حیًا ما وسعہ الا اتباعی‘‘ (شرح شفاء ج۱ ص۱۱۵ طبع بیروت)

418

تو مسئلہ واضح ہوگیا کہ مصری نسخہ فقہ اکبر میں ’’لوکان موسٰی‘‘ کی جگہ غلطی اور سہو کاتب سے عیسیٰ لکھا گیا ہے۔ اب ذیل میں حضرت ملا علی قاری کی تصریحات حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات پر ملاحظہ ہوں۔

۱… موضوعات کبیر میں جو ۱۲۸۹ھ میں طبع ہوئی تھی۔ حدیث: ’’لوعاش ابراہیم لکان صدیقًا نبیا‘‘ پر بحث کرتے ہوئے اس حدیث پر ختم کرتے ہیں۔ ’’لوکان موسٰی حیًا لما وسعہ الا اتباعی‘‘ (ص۶۷)

۲… (مرقاۃ شرح مشکوٰۃ مطبوعہ مصر ج۱ ص۲۵۱) میں تحریر فرماتے ہیں: ’’لوکان موسٰی حیًا‘‘

۳… ’’فینزل عیسٰی ابن مریم من السماء‘‘ (مرقاۃ ج۵ ص۱۶۰، مطبوعہ مصر)

۴… ’’نزول عیسٰی من السماء‘‘

(فقہ اکبر مطبوعہ مصر ص۹۲، طبع ۱۳۲۳ھ، مطبع مجیدی کانپور ۱۳۴۵ھ)

اسی طرح تفسیر ابن کثیر، الیواقیت، فتوحات مکیہ کے لکھنے والے تمام حضرات کا اسی متذکرہ کتب میں صراحت سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کا ذکر کرنا،اور مرزائیوں کا اسے تسلیم نہ کرنا اور بے سند مردود قول سے استدلال کرنا یہ اس امرکو واضح کرتا ہے کہ صرف اعتراض برائے اعتراض برائے مغالطہ وبرائے شبہ ان کا مقصد ہے۔ اگر دیانت نام کی کوئی چیز ان میں ہوتی تو وہ اس کو پیش نہ کرتے۔

جواب:

۲… اب اصل واقعہ کو ملاحظہ فرمائیں جس سے تمام استدلال کی حقیقت واضح ہو جائے گی۔ ایک دن رحمت عالم ﷺ کی خدمت میں حضرت سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ آئے انہیں کہیں سے تورات کے چند اوراق ملے تھے۔ انہوں نے رحمت عالم ﷺ سے ان کا تذکرہ کیا۔ آپ ﷺ کی منشاء معلوم ہونے سے قبل ان کی تلاوت شروع فرمادی۔ آپ ﷺ کی طبیعت مبارک پر یہ گراں گزرا۔ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ جو رمز شناس نبوت تھے۔ آپ ﷺ کے چہرہ مبارک کا تأثر معلوم کر کے فوراً حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ٹوکا۔ فرمایا کہ عمر رضی اللہ عنہ تجھے تیری ماں روئے کیا تو رحمت عالم ﷺ کے چہرہ مبارک سے ناراضگی کا اندازہ نہیں کرتا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے تورات کے اوراق کی تلاوت بند کر دی اور فوراً کہا ’’رضیت باللّٰہ ربا وباالاسلام دینًا وبمحمدٍ نبیًا‘‘ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا عمر رضی اللہ عنہ: ’’لوکان موسٰی حیًا لما وسعہ الا اتباعی‘‘ تورات کی بات نہیں آج اگر صاحب تورات حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی زندہ ہوتے تو ان کو بھی میری اتباع کے بغیر چارہ کار نہ ہوتا۔ صحیح روایت یہ ہے۔

(رواہ احمد والبیہقی فی شعب الایمان مشکوٰۃ ص۳۰، باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ)

جواب:

۳… موسیٰ علیہ السلام زندہ ہوتے تو حضور ﷺ کی اتباع کرتے جیسا کہ معراج کی رات اتباع کی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں وہ تشریف لائیں گے تو اتباع کریں گے۔ ’’یحکم بشرعنا لا بشرعہ‘‘

جواب:

۴… پھر دیکھئے قادیانیوں کی بدبختی کی انتہاء کہ حضور ﷺ فرماتے ہیں۔ عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں۔ بدبخت مرزاقادیانی کہتا ہے کہ وہ فوت ہوگئے۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام فوت ہوگئے۔ مرزاقادیانی کہتا ہے کہ زندہ ہیں۔ حوالہ گزر چکا ہے۔

مرزائی جس روایت کو بیان کرتے ہیں۔ مرزاقادیانی کے حوالہ نے اس کی تردید کر دی۔ پس یہ روایت مرزائیوں کے لئے بھی وجہ استدلال نہیں ہوسکتی۔ اس لئے وہ اس مردود قول سے موسیٰ علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ اس حوالہ میں مرزاقادیانی نے موسیٰ علیہ السلام کی حیات ثابت کر دی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات قرآن وسنت نے بیان کر دی۔ پس مرزائیوں کے لئے یہ مردود قول بھی وجہ استدلال نہ رہا۔

419

جواب:

۵… اگر یہ روایت صحیح ہوتی تو قرآن وسنت اور اجماع امت کے حوالہ جات کے بعد اس کی توجیہ یہ کی جاتی۔ ’’لوکان موسٰی وعیسٰی حیین (علی الارض) لما وسعہما الاتباعی‘‘ غرض کہ کسی بھی طرح سے لیں۔ مرزائیوں میں یہ جس طرح ایمان نہیں ہے اس طرح اس قول میں جان نہیں ہے۔ (فافہم وکن من الشکرین)

جواب:

۶… تمام طرق اور متابعات اور شواہد دلالت کرتے ہیں کہ اس حدیث میں ذکر عیسیٰ علیہ السلام کی کچھ اصل نہیں ہے اور کتب حدیث میں جہاں مسند روایتیں روایت کے ساتھ نقل کی جاتی ہیں۔ کہیں اس لفظ کا پتہ نہیں۔ صرف موسیٰ علیہ السلام کا ذکر ہے۔ (فتح الباری ج۱۳ ص۲۸۱) ’’باب قولہa لا تسالوا اہل الکتٰب عن شیئٍ وہو فی المسند ج۳ ص۳۳۸، عن جابر رضی اللہ عنہ، واخرجہ ابونعیم عن عمر رضی اللہ عنہ ذکرہ فی الخصائص ج۲ ص۱۸۷ (وکنزالعمال ج۱ ص۲۰۱، حدیث نمبر۱۰۱۰) وحاشیۃ ابی داؤد للمغربی من الملاحم وشرح المواہب وشرح الشفاء للقاری فی مواضع والدر المنثور تحت اٰیۃ المیثاق مسند الدارمی (مشکوٰۃ ص۳۰، باب بالکتاب والسنۃ)‘‘ پس یہ قطعاً سہو کاتب اور زلّۃ قلم ہے۔

قادیانی سوال:۳۳

ہمیں قادیانیوں کا یک ورقی چھوٹا سا اشتہار ملا ہے۔ جس کا عنوان ہے: ’’تلاش کریں‘‘ ان پیش گوئیوں کا مصداق کون اور کہاں ہے۔ اس میں قادیانیوں نے سب سے پہلے نمبر پر ابن ماجہ کی روایت نقل کی ہے۔ ’’لا مہدی الا عیسٰی‘‘ یعنی مہدی اور مسیح ایک ہے۔

جواب:

۱… یہ روایت ابن ماجہ کے ص۲۹۲ (مطبع نور محمد آرام باغ کراچی) پر ہے۔ اس کے حاشیہ پر شاہ عبدالغنی مجددی فرماتے ہیں: ’’قال الذہبی فی المیزان ہذا خبر منکر تفردبہ یونس بن عبدالاعلی عن شافعی… قال حدثت عن الشافعی فہو علی ہذا منقطع الا ان جماعۃ ردوہ عن یونس قال حدثنا عن الشافعی والصحیح انہ لم یسمعہ منہ ومحمد بن خالد قال الازدی منکر الحدیث وقال الحاکم مجہول… قال الحافظ جمال الدین المزی فی التہذیب قال ابوبکر بن زیاد ہذا حدیث غریب… قد تواترت الاخبار واستفاضت بکثرۃ رواتہا عن المصطفٰیa فی المہدی وانہ من اہل بیتہ وانہ یملک، سبع سنین ویملاء الارض عدلا وانہ یخرج مع عیسٰی ابن مریم فیساعدہ علی قتل الدجال بباب لد بارض فلسطین وانہ یؤم ہذہ الامۃ وعیسٰی علیہ السلام یصلی خلفہ… فانہ غیر معروف عند اہل اکصناعۃ من اہل العلم والنقل۔ وقال البیہقی ہٰذا حدیث تفرد بہ محمد بن خالد الجندی۔ قال ابو عبداللّٰہ الحافظ وہو رجل مجہول… وہو مجہول… عن ابان ان ابی عیاش وہو متروک… وروی الحافظ ابو القاسم بن عساکر فی تاریخ دمشق باسنادہ عن احمد بن محمد بن راشد قال حدثنی ابو الحسن علی ابن محمد بن عبداللّٰہ الواسطی قال رایت محمد بن ادریس الشافعی فی المنام فسمعتہ یقول کذب علی یونس۔ فی حدیث الجندی حدیث الحسن عن النبی ﷺ فی المہدی قال الشافعی ما ہذا من حدیثی ولا حدثت بہ کذب علی یونس وقال البیہقی فی کتاب بیان خطاء من اخطاء علی

420

الشافعی ہذا الحدیث بما انکر علی الشافعی… وہو یقول کذب علی یونس لیس ہذا من حدیثی… وہذا الحدیث فیما یظہر ببادی الرائی مخالف لا حادیث الواردۃ فی ثبات مہدی غیر عیسٰی بن مریم‘‘

اس طویل اقتباس سے ذیل کی باتیں روایت متذکرہ بالا میں معلوم ہوئیں۔

۱… ذہبی رحمۃ اللہ علیہ نے میزان میں فرمایا ہے کہ یہ خبر منکر ہے۔ حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ سے یونس بن عبدالاعلیٰ اکیلے روایت کرتے ہیں۔ (باقی کسی نے نقل نہیں کیا)

۲… حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ سے یہ روایت منقطع ہے۔ علاوہ ازیں ایک جماعت اس کو رد کرتی ہے۔

۳… حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ سے یونس روایت کرتے ہیں جب کہ صحیح یہ ہے کہ حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ سے ان کا سماع (سرے سے) نہیں۔

۴… رازی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ منکر الحدیث ہے۔

۵… حاکم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ مجہول ہے۔

۶… حافظ جمال الدین رحمہم اللہ علیہ نے تہذیب میں ابوبکر بن زیاد کے حوالے سے فرمایا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔

۷… احادیث متواترہ جنہیں کثرت سے مختلف راوی حضرات آنحضرت ﷺ سے حضرت مہدی علیہ السلام کے بارہ میں روایت کرتے ہیں کہ وہ (مہدی) آنحضرت ﷺ کے اہل بیت سے ہوں گے۔ سات سال تک حکمرانی کریں گے۔ عدل وانصاف سے زمین کو بھردیں گے۔ اور وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ (ایک زمانہ میں) ظہور فرمائیں گے اور دجال کو مقام لدارض فلسطین میں قتل کرنے میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی مدد فرمائیں گے اور وہ (مہدی) اس امت کے امام ہوں گے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان کے مقتدی ہوں گے۔ (یہ تمام تفصیلات جو احادیث میں مذکور ہیں بتاتی ہیں کہ حضرت مہدی علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام دو علیحدہ شخصیات ہیں)

۸… فن حدیث کے ماہرین اور اہل علم وعقل کے نزدیک یہ روایت غیرمعروف (غیرمقبول) ہے۔

۹… امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک محمد بن خالد جندی (دوسرا راوی) کا تفرد ہے۔

۱۰… حافظ ابو عبد ﷲ فرماتے ہیں یہ مجہول شخص ہے۔

۱۱… اور متروک ہے۔

۱۲… تاریخ دمشق میں ابن عساکر (سند بیان کر کے) فرماتے ہیں کہ علی بن محمد بن عبد ﷲ واسطی رحمۃ اللہ علیہ نے خواب میں حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کو دیکھا وہ فرماتے ہیں کہ یونس نے مجھ پر جھوٹ بولا ہے۔ مہدی کے بارہ میں یہ روایت نہ میری ہے نہ میں نے اسے بیان کیا ہے۔ یونس نے مجھ پر جھوٹ بولا ہے۔

۱۳… بیہقی فرماتے ہیں کہ یہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ پر افتراء ہے۔ امام صاحب اس سے بری ہیں یونس نے ان پر کذب باندھا ہے یہ ان کی روایت نہیں۔

۱۴… نیزیہ کہ نظر بہ ظاہر یہ روایت ان تمام روایات کے مخالف ہے۔ جن سے یہ ثابت ہے کہ حضرت مہدی علیہ السلام حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے علاوہ ہیں۔

421

اب قارئین غور فرمائیں کہ کس طرح قادیانی روایت مکذوبہ، متروکہ کی بنیاد پر تمام احادیث صحیحہ کو نظرانداز کر کے اپنے عقیدہ کی دیوار ریت کے گھروندہ پر قائم کرنے کے درپے ہیں۔

انصاف نام کی کوئی چیز، یا دیانت نام کی کوئی چیز قادیانیوں میں ہوتی تو وہ احادیث صحیحہ متواترہ جن میں حضرت مہدی علیہ السلام کا نام، ولدیت، جائے پیدائش، جائے ظہور، مدت قیام، کارہائے مفوضہ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نام، والدہ کا نام، نزول من السماء، جگہ نزول اور بعد از نزول کارہائے کارکردگی کی تفصیل مذکور ہے۔ ان کے ہوتے ہوئے اس مکذوبہ، متروکہ روایت کا نام بھی نہ لیتے لیکن مقدر کی مار اسی کو کہتے ہیں کہ اپنے مطلب کے خلاف روایات متواترہ ہوں تو ان کو رد کر دیتے ہیں۔ اپنے عقیدہ کے مطابق غیرصحیح جھوٹی روایت ہو تو اس کو قبول کر لیتے ہیں۔

جواب:

۲… ’’ابن ماجہ‘‘ کے حاشیہ پر اس روایت کی بحث کا آخری حصہ یہ ہے کہ: ’’بل یکون المراد ان المہدی حق الہدی ہو عیسٰی ابن مریم ولا ینفی ذالک ان یکون غیرہ مہدیا‘‘ (اگر یہ روایت صحیح بھی ہوتی تو اس کا محمل یہ ہوتا) کہ یہاں مہدی سے مراد ہدایت یافتہ ہے۔ (یعنی مہدی نام مراد نہیں صفت مراد ہے) سب سے زیادہ ہدایت یافتہ (اپنے زمانہ میں) عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام ہوں گے۔ (یہ ان کی صفت ہے اس کا یہ معنی نہیں) کہ ان کے علاوہ اور کوئی مہدی نہیں ہوگا۔

جواب:

۳… مہدی نام کا ایک شخص معہود ہے جس کا احادیث میں تذکرہ ہے۔ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے علاوہ ہے۔ جہاں تک لغوی معنوں کے اعتبار سے (ہدایت یافتہ) لفظ مہدی کا تعلق ہے خود حضور ﷺ نے حضرت امیر معاویہb کے متعلق فرمایا کہ ’’اللہم اجعلہ ہاد یا مہدیا‘‘ اے ﷲ معاویہ کو ہادی مہدی بنادے۔ یہاں لغوی معنی مراد ہے نہ کہ نام (علم) کا ذکر ہے اور خود مسند احمد کی روایت میں انہیں معنی میں عیسیٰ علیہ السلام کو ’’اماماً مہدیاً‘‘ فرمایا گیا اور دوسری روایات میں ’’حکماً عدلاً وحکماً مقسطاً‘‘

جواب:

۴… اگر یہ روایت صحیح ہوتی تو پھر احادیث متواترہ جو حضرت مہدی علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی علیحدہ علیحدہ شخصیات پر واضح دلیل ہیں۔ ان کی روشنی میں اس کا معنی یہ کیا جاتا: ’’لا مہدی الافی زمن عیسٰی علیہ السلام‘‘ یعنی مہدی نہیں ہوگا مگر عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں (یعنی مہدی کے ظہور اور مسیح کے نزول کا زمانہ ایک ہوگا) اور ظہور ونزول کے بعد دونوں مل کرکارہائے مشترکہ انجا دیں گے۔ دجال کو قتل کریں گے۔ روئے زمین پر عدل وانصاف سے حکمرانی کریں گے۔ وغیرہ ذالک! غرض یہ کہ کسی بھی اعتبار سے دیکھا جائے تو قادیانیوں کا اعتراض برائے اعتراض ہے اس میں کوئی شمع بھر بھی صداقت نہیں پائی جاتی۔

جواب:

۵… مرزاقادیانی نے اپنی کتاب (حمامۃ البشریٰ ص۸۹، خزائن ج۷ ص۳۱۴،۳۱۵) پر لکھا ہے کہ: ’’واما احادیث محبیٔ المہدی فانت تعلم انہا کلہا ضعیفۃ مجروحۃ ویخالف بعضہا بعضا حتی جاء حدیث فی ابن ماجۃ وغیرہ من الکتب انہ لا مہدی الا عیسٰی بن مریم فکیف یتکاء علی مثل ہذہ الاٰحادیث مع شدۃ اختلافہا وتناقضہا وضعفہا والکلام فی رجالہا کثیرا کما لا یخفی علی المحدثین‘‘ مہدی کی آمد کے بارے میں تمام روایات ضعیف اور مجروح ہیں۔ ایک دوسرے کے خلاف ہیں۔ حتیٰ کہ ابن ماجہ کی روایت ’’لا مہدی الا عیسٰی‘‘ بھی ان جیسی روایت ہے۔ ان روایات پر کیسے اعتماد کر لیا جائے۔ ان کے شدت اختلاف وتناقض اور ضعف کے باعث ان روایات کے رجال میں سخت کلام ہے۔ جیسا کہ محدثین پر مخفی نہیں۔‘‘

422

قادیانی صاحبان! غور فرمائیں آپ کا گرو مرزاقادیانی صرف اس روایت کو ہی نہیں بلکہ تمام روایات مہدی کو ضعیف ومتناقض قرار دے رہا ہے۔ اب غیرمعتبر روایات کو بنیاد بناکر صفات مہدی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ایک شخصیت قرار دینا مرزائیوں کے لئے جائے عبرت وجائے تماشا ہے ؎

تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن مرزے کا تو بن

غرضیکہ یہ روایت غلط ہے اس کی کوئی حقیقت نہیں جس طرح کہ مرزائیوں کے ایمان وعقیدہ کی کوئی حقیقت نہیں۔

قادیانی سوال:۳۴

اسی یک ورقی پمفلٹ پر قادیانیوں نے ذیل کی علامات لکھ کر ذیل کا نتیجہ نکالا ہے۔

ض… اسلام نام کا باقی رہ جائے گا۔ قرآن صرف رسماً ہوگا۔ مساجد بکثرت ہوں گی۔ مگر ہدایت سے خالی، علماء روئے زمین پر بدترین مخلوق ہوں گے۔ (مشکوٰۃ)

ض… دین کا علم اٹھ جائے گا۔ شراب کا عام استعمال ہوگا۔ زنا کی کثرت، مردوں کی کمی عورتوں کی زیادتی ہوگی۔ (بخاری)

ض… میری امت پہلے لوگوں یعنی یہود ونصاریٰ کے قدم بقدم چلے گی۔ (بخاری)

ض… نیک عمل گھٹ جائیں گے۔ بخیلی دلوں میں سما جائے گی۔ فتنے فساد پھوٹیں گے۔ قتل اور خون ریزی بہت ہوگی۔ (بخاری)

ض… امانتیں غنیمت سمجھی جائیں گی۔ زکوٰۃ چٹی ہوگی۔ مرد بیویوں کے ماتحت ہوں گے۔ ماں کے خلاف۔ دوست کے نزدیک اور باپ سے دور۔ قوم کے سردار فاسق ہوں گے اور رئیس کمینے ہوں گے۔ گانے بجانے زیادہ ہوں گے۔ (مشکوٰۃ)

ض… پہاڑ اڑائے جائیں گے۔ دریاؤں سے نہریں نکالی جائیں گی۔ اونٹ اونٹنیاں بیکار ہو جائیں گے۔ چڑیا گھر قائم ہوں گے۔ کتب واخبارات بکثرت شائع ہوں گے۔ دوردور کے لوگ جمع ہوں گے۔ (القرآن)

ض… دجال اور یاجوج ماجوج کا ظہور ہوگا۔ یعنی عیسائیت کا مذہبی اور سیاسی فتنہ غلبہ پائے گا۔

ض… دجال کا گدھا نئی سواری ظاہر ہوگی۔ جس کا مدار آگ اور پانی پر ہوگا۔

(مجمع البحار، طبرانی)

ض… بنی اسرائیل کے ۷۲؍فرقے ہوئے۔ میری امت کے ۷۳؍فرقے ہوں گے۔ (مشکوٰۃ)

ض… صلیبی مذہب عیسائیت کا غلبہ ہوگا۔ (بخاری، ترمذی)

ض… مذہبی جنگوں کا خاتمہ ہوگا۔ جزیہ اٹھالیا جائے گا۔ (بخاری)

ض… طاعون کی مرض پھیلے گی۔ ظلم فخر سے کیا جائے گا۔ امیر فاجر ہوں گے۔ وزیر خیانت کریں گے۔ اراکین ظالم ہوں گے۔ (کنزالعمال)

ض… عورتیں باوجود لباس کے ننگی ہوں گی۔ عورتیں منبروں پر چڑھ کر لیکچر دیں گی۔ (کنزالعمال)

ض… عورتیں مردوں کی اور مرد عورتوں کے ہم شکل ہوں گے۔

423

یہ چند اہم نشانات ہیں جو ظہور پذیر ہوچکے ہیں اور بنی نوع انسان کو دعوت دیتے ہیں کہ مدعی مہدویت ظاہر ہوچکا ہے اور اس کی صداقت کے ثبوت کے لئے شواہد بھی ظاہر ہوچکے ہیں۔

جواب:

۱… قادیانیت اور دیانت میں تضاد ہے جس طرح رات دن جمع نہیں ہو سکتے۔ اس طرح قادیانیت اور دیانت بھی ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتی۔ قادیان کے قحبہ خانہ میں ہر شخص باون گز کا ہے۔ جتنا بڑا قادیانی ہوگا اتنا بڑا بددیانت ہوگا۔ بھلا ان شریفوں سے کوئی پوچھے کہ یہ حضرت مہدی علیہ السلام کی علامات ہیں یا قیامت کی۔ اگر ان علامتوں سے ظاہر ہوا کہ مہدی آگئے تو ان علامتوں سے یہ بھی ثابت ہوا کہ قیامت قائم ہوگئی۔ ماہو جوابکم فہو جوابنا!

جواب:

۲… قارئین محترم! رحمت عالم مخبر صادقa نے قیامت کی دو قسم کی علامتیں بیان فرمائی ہیں۔ ایک وہ جو قیامت سے بہت پہلے ظاہر ہوں گی۔ جنہیں علامات صغریٰ کہا جاتا ہے اور دوسری وہ جو قیامت کے بہت قریب ظاہر ہوں گی جنہیں علامات کبریٰ کہا جاتا ہے۔ جو علامتیں اوپر ذکر کی گئی ہیں ان میں بھی قادیانیوں نے دجل آمیزی کی ہے۔ دجل نہ بھی ہوتا تو بھی یہ تمام کی تمام علامات صغریٰ ہیں جو قیامت سے بہت پہلے ظاہر ہونا تھیں۔ اکثر ظاہر ہوچکی ہیں۔ ابھی بہت کچھ باقی ہیں جو یقینا ظاہر ہوں گی۔ ان کے بعد علامات کبریٰ ظہور میں آئیں گی۔ جیسے ظہور مہدی، نزول عیسیٰ علیہ السلام، خروج دجال، خروج دابۃ الارض، خسف، کسف اور آخری علامات ’’طلوع الشمس من مغربہا‘‘ (سورج کا بجائے مشرق کے مغرب سے نکلنا) اور باب توبہ کا بند ہونا اور پھر قیامت کا قیام۔ یہ علامات کبریٰ احادیث سے محدثین نے قریباً دس بیان کی ہیں۔ غرض ان علامات صغریٰ وکبریٰ کو خلط کرنا قادیانی دجل کا شاہکار ہے۔ علامات صغریٰ میں سے بعض کو لے کر دلیل قائم کرنا کہ علامات کبریٰ (ظہور مہدی) ظاہر ہوگئی ہیں۔ پس وہ مرزاقادیانی ہے اس کو کہتے ہیں ؎

کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑا بھان متی نے کنبہ جوڑا

پھر قادیانی اپنی عقل کو دہائی دیں کہ اگر ان علامات سے ثابت ہوا کہ مہدی آگئے تو احادیث کے مطابق ان کے بعد مشرق کی بجائے مغرب سے طلوع شمس ہوگا اور قیامت قائم ہو جائے گی۔ تمہارے مزعومہ مہدی (مرزاقادیانی) کو آنجہانی ہوئے ایک صدی بیت گئی۔ پھر قیامت کیوں قائم نہ ہوئی؟ معلوم ہوا کہ ان علامات سے ظہور مہدی کی دلیل قائم کرنا دجل وکذب ہے۔ علامات صغریٰ علیحدہ امر ہے۔ علامات کبریٰ علیحدہ امر ہے۔ مہدی کا آنا اور قیامت کا نہ آنا یہ مرزائیوں کے کذب پر دلیل صریح ہے جو ان پہ استدلال کو جڑ سے اکھیڑ رہی ہے۔ البتہ اہل اسلام کے لئے وجہ اطمینان ہے کہ ہمارے نبی علیہ السلام کی احادیث وفرامین کے مطابق ان علامتوں اور ان جیسی دوسری سینکڑوں علامتوں کے ظہور کے بعد علامات کبریٰ کا ظہور ہوگا اور پھر قیامت قائم ہوگی۔ ان علامات صغریٰ کے بعد جب حضرت مہدی علیہ السلام وحضرت عیسیٰ علیہ السلام تشریف لائیں گے تو تمام برائیاں دور ہو جائیں گی۔ دنیا ایک دفعہ پھر منہاج نبوت پر مبنی معاشرہ کا نظارہ کرے گی۔ اگر قادیانیوں کے بقول مہدی آگیا تو کیا دنیا نے منہاج نبوت پر مبنی معاشرہ دیکھ لیا۔ منہاج نبوت پر مبنی معاشرہ تو درکنار، دنیا بھر کا معاشرہ تو بجائے خود، مرزائی مرزا کے گھر کی خبر لیں۔ مرزاقادیانی نے اپنی جماعت کے مریدوں کے متعلق کیا خوب منظر کشی کی ہے۔ ملاحظہ ہو۔

مرزاقادیانی نے ۲۷؍دسمبر ۱۸۹۳ء کے جلسہ کے ملتوی ہونے کا اشتہار دیا جو ان کی کتاب ’’شہادت القرآن‘‘ کے آخر پر ملحق طبع ہوا ہے۔ (شہادت القرآن ص۹۹،۱۰۰، خزائن ج۶ ص۳۹۵،۳۹۶) پر مرزاقادیانی نے اپنی جماعت کے متعلق (جو مرزاقادیانی کے نام نہاد صحابی تھے) تحریر کیا۔

424

’’اخی مکرمی حضرت مولوی نورالدین صاحب سلمہ تعالیٰ بارہا مجھ سے یہ تذکرہ کر چکے ہیں کہ ہماری جماعت کے اکثر لوگوں نے اب تک کوئی خاص اہلیت اور تہذیب اور پاک دلی اور پرہیزگاری اور للّٰہی محبت باہم پیدا نہیں کی۔ سو میں دیکھتا ہوں کہ مولوی صاحب موصوف کا یہ مقولہ بالکل صحیح مجھے معلوم ہوا ہے کہ بعض حضرات جماعت میں داخل ہوکر اور اس عاجز سے بیعت کر کے اور عہد توبہ نصوص کر کے پھر بھی ویسے کج دل ہیں کہ اپنی جماعت کے غریبوں کو بھیڑیوں کی طرح دیکھتے ہیں۔ وہ مارے تکبر کے سیدھے منہ سے السلام علیک نہیں کر سکتے۔ چہ جائیکہ خوش خلقی اور ہمدردی سے پیش آئیں اور انہیں سفلہ اور خود غرض اس قدر دیکھتا ہوں کہ وہ ادنیٰ ادنیٰ خود غرضی کی بناء پر لڑتے اور ایک دوسرے سے دست بدامن ہوتے ہیں اور ناکارہ باتوں کی وجہ سے ایک دوسرے پر حملہ ہوتا ہے بلکہ بسا اوقات گالیوں تک نوبت پہنچتی ہے اور دلوں میں کینے پیدا کر لیتے ہیں اور کھانے پینے کی قسموں پر نفسانی بحثیں ہوتی ہیں۔ خادم القوم ہونا مخدوم بننے کی نشانی ہے اور غریبوں سے نرم ہوکر اور جھک کر بات کرنا مقبول الٰہی ہونے کی علامت ہے اور بدی کا نیکی کے ساتھ جواب دینا سعادت کے آثار ہیں اور غصہ کو کھا لینا اور تلخ بات کو پی جانا نہایت درجہ کی جوانمردی ہے۔ مگر میں دیکھتا ہوں کہ یہ باتیں ہماری جماعت کے بعض لوگوں میں نہیں بلکہ بعض میں ایسی بے تہذیبی ہے کہ اگر ایک بھائی ضد سے اس کی چارپائی پر بیٹھا ہے تو وہ سختی سے اس کو اٹھانا چاہتا ہے اور اگر نہیں اٹھتا تو چارپائی کو الٹا دیتا ہے اور اس کو نیچے گرادیتا ہے۔ پھر دوسرا بھی فرق نہیں کرتا اور وہ اس کوگندی گالیاں دیتا ہے اور تمام بخارات نکالتا ہے۔ یہ حالات ہیں جو اس مجمع میں مشاہدہ کرتا ہوں تب دل کباب ہوتا اور جلتا ہے اور بے اختیار دل میں یہ خواہش پیدا ہوتی ہے کہ اگر میں درندوں میںر ہوں تو ان بنی آدم سے اچھا ہے۔ پھرمیں کس خوشی کی امید سے لوگوں کو جلسہ کے لئے اکٹھے کروں۔ یہ دنیا کے تماشوں میں سے کوئی تماشا نہیں۔ ابھی تک میں جانتا ہوں کہ میں اکیلا ہوں۔ بجز ایک مختصر گروہ رفیقوں کے جو دو سو سے کس قدر زیادہ ہیں۔‘‘

قادیانی صاحبان! لیجئے آپ کے مہدی نے اپنی جماعت کے دو سو افراد کے علاوہ باقی سب قادیانیوں کو جو آپ کے مہدی (مرزاقادیانی) کے ہاتھ پر بیعت بھی کر چکے تھے۔ ان کو درندوں سے بدتر قرار دے دیا۔ درندوں سے بدتر… کی زد میں یہ قادیانی ہوئے۔ درندے، خنزیر، بھیڑئیے اور یہ ان سے بھی بدتر کمال ہوگئی۔ جناب! یہ مہدی ہے اور یہ اس کا عدل وانصاف سے زمین کو بھرنے کا کارنامہ ہے۔ سوچئے اور باربار سوچئے اس کو کہتے ہیں کہ ’’جادو وہ جو سر پر چڑھ کر بولے‘‘ مرزاقادیانی اپنی جماعت قادیانیوں کے متعلق اور خوب بولے۔

ایک اشکال اور اس کا جواب

ممکن ہے کہ کوئی قادیانی کہہ دے کہ یہ تو مرزاقادیانی کے زمانہ کی بات تھی۔ بعد میں قادیانی اچھے ہو گئے۔ تو لیجئے یہ حوالہ بھی پڑھ لیں۔ مرزاقادیانی نے ایک پیش گوئی کو اپنے پر منطبق کرتے ہوئے تحریر کیا: ’’اس کے مرنے کے بعد نوع انسانی میں علت سقم سرایت کر جائے گی۔ یعنی پیدا ہونے والے حیوانوں اور وحشیوں سے مشابہت رکھیں گے اور انسانیت حقیقی صفحہ عالم سے مفقود ہو جائے گی اور وہ حلال کو حلال نہیں سمجھیں گے اور نہ حرام کو حرام۔ پس ان پر قیامت قائم ہوگی۔‘‘

(تریاق القلوب مصنفہ مرزا ص۳۵۵، خزائن ج۱۵ ص۴۸۳)

لیجئے صاحب! بقول مرزاقادیانی کے اس زمانہ کے قادیانی درندوں سے بدتر اور اس کے (مرزاقادیانی کے) مرنے کے بعد پیدا ہونے والے قادیانی وحشیوں سے مشابہ ہیں۔ جن میں حلال وحرام کی کوئی تمیز نہ ہے۔

425

جواب:

۳… اس یک ورقی میں دیگر علامتوں کے علاوہ ایک علامت یہ بھی لکھی ہے کہ عورتیں باوجود لباس کے ننگی ہوں گی۔ اس پر ذیل کا حوالہ ملاحظہ ہو۔

’’وہ بھی کپڑے ہیں جو یورپ کی عورتیں پہنتی ہیں۔ جن کا نام اگرچہ کپڑا ہوتا ہے مگر جسم کا ہر حصہ اس میں سے ننگا نظر آتا ہے۔ جب میں ولایت گیا تو مجھے خصوصیت سے خیال آیا کہ یورپین سوسائٹی کا عیب والا حصہ بھی دیکھوں۔ مگر قیام انگلستان کے دوران میں مجھے اس کا موقعہ نہ ملا۔ واپسی پر جب ہم فرانس آگئے تو میں نے چوہدری ظفر ﷲ خان صاحب سے جو میرے ساتھ تھے کہا کہ مجھے کوئی ایسی جگہ دکھائیں جہاں پوریین سوسائٹی عریانی سے نظر آسکے۔ وہ بھی فرانس سے واقف تو نہ تھے مگر مجھے ایک اوپیرا میں لے گئے جس کا نام مجھے یاد نہیں رہا۔ اوپیرا سینما کو کہتے ہیں۔چوہدری صاحب نے بتایا کہ یہ اعلیٰ سوسائٹی کی جگہ ہے جسے دیکھ کر آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ ان لوگوں کی کیا حالت ہے۔ میری نظر چونکہ کمزور ہے اس لئے دور کی چیز اچھی طرح نہیں دیکھ سکتا۔ تھوڑی دیر کے بعد میں نے جو دیکھا تو ایسا معلوم ہوا کہ سینکڑوں عورتیں بیٹھی ہیں۔ میں نے چوہدری صاحب سے کہا کیا یہ ننگی ہیں۔ انہوں نے بتایا یہ ننگی نہیں بلکہ کپڑے پہنے ہوئے ہیں۔ مگر باوجود اس کے وہ ننگی معلوم ہوتی تھیں تو یہ بھی ایک لباس ہے۔ اس طرح ان لوگوں کے شام کی دعوتوں کے لباس گاؤں ہوتے ہیں۔ نام تو اس کا بھی لباس ہے۔ مگر اس میں سے جسم کا ہر حصہ بالکل ننگا نظر آتا ہے۔‘‘

(اخبار الفضل قادیان مورخہ ۲۸؍جنوری ۱۹۳۴ء)

مہدی کے آنے سے قبل ایسے لباس ہوں گے یا مہدی کے آنجہانی ہونے کے بعد اس کے خلیفہ ان عریاں لباسوں کو دیکھیں گے؟ اس کا جواب قادیانیوں کے ذمہ ہے۔

قادیانی سوال:۳۵

قادیانی رسالہ یک ورقی میں ہے کہ مہدی کے زمانہ میں ایک دم دار ستارہ نکلے گا اور یہ کہ وہ ۱۸۸۸ء میں نکلا۔

جواب:

اس دم دار ستارہ کا حضرت مہدی علیہ الرضوان سے کیا تعلق؟ اس کا حوالہ قادیانی پی گئے۔ ورنہ اس کی حقیقت مرزاقادیانی کی خود ساختہ مہدویت کے پرخچے اڑادیتی۔ لیجئے! اگر دم دار ستارے ہی مہدی کی علامت ہیں تو مرزاقادیانی کو مر کر صدی ہوئی۔ آنجہانی جہنم مکانی ہوگیا۔ مگر دم دار ستارے ابھی ظاہر ہورہے ہیں۔ ابھی حال میں دو ماہ ہوئے ایک دم دار ستارہ مشرق سے مغرب کی طرف حرکت کر کے غروب آفتاب کے بعد ظاہر ہوتا رہا ہے۔ بہت سے لوگوں نے دیکھا خود فقیر ( ﷲوسایا) نے بھی دیکھا ہے۔ اب فرمائیے کہ اس دم دار ستارے کا مہدی کون ہے؟ لاحول ولا قوۃ الا باللّٰہ!

قادیانی سوال:۳۶

رفع کا معنی: رفع کے حقیقی اور لغوی معنی جب کہ رفع کا مورد کوئی جسم ہوتا ہے تو رفع جسمانی ہی کے ہوتے ہیں۔ ’’قال الراغب فی المفردات الرفع یقال تارۃ فی الاجسام الموضوعۃ اذا أعلیتہا من مقرہا نحو رفعنا فوقکم الطور، وقولہ تعالٰی اللّٰہ الذی رفع السمٰوٰت بغیر عمدٍ، وتارۃ فی البناء اذا اطولتہا نحو قولہ تعالٰی واذ یرفع ابراہیم القواعد من البیت واسمعیل، وتارۃ فی الذکر اذا نوہتہ نحو قولہ تعالٰی ورفعنا لک ذکرک، وتارۃ فی المنزلۃ اذا شرفتہا نحو قولہ تعالٰی رفعنا بعضہم فوق بعض درجت، نرفع درجت من نشاء ہ رفیع الدرجت انتہی کلامہ‘‘ (تاج العروس ج۱۱ ص۱۸۱، مفردات ص۱۹۹)

426

’’امام راغب نے مفردات میں فرمایا ہے کہ رفع کا کبھی جسم میں استعمال ہوتا ہے جس کو تو اس کی جگہ سے اوپر اٹھائے جیسے: ’’رَفَعْنَا فَوْقَکُمُ الطُّوْر (البقرۃ:۶۳)‘‘ یعنی ہم نے تمہارے اوپر طور کو اٹھالیا اور ’’قولہ تعالی اللّٰہ اَلَّذِیْ رَفَعَ السَّمٰوٰتِ بِغَیْرِ عَمَدٍ (الرعد:۲)‘‘ یعنی وہ ذات جس نے بغیر ستون کے آسمانوں کو اٹھالیا، اور کبھی بنا میں استعمال ہوتا ہے جس کو تو طویل کرے۔ جیسے ’’اِذْ یَرْفَعُ اِبْرَاہِیْمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَیْتِ وَاِسْمٰعِیْل (البقرۃ:۱۲۷)‘‘ یعنی جب ابراہیم واسماعیل علیہم السلام بیت ﷲ شریف کی بنیاد کو اٹھاتے تھے، اور کبھی ذکر میں استعمال ہوتا ہے جب تو اس کی مدح کرے اور اس کو شہرت اور عزت دے جیسے ’’رَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکَ (الم نشرح:۴)‘‘ یعنی ہم نے تیرے ذکر کو بلند کیا، اور کبھی مرتبہ میں استعمال ہوتا ہے جب تو کسی کو بلند درجہ عطاء کرے یا بلند درجہ بیان کرنا چاہے۔ جیسے ’’رَفَعْنَا بَعْضَہُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰت (الزخرف:۳۲)‘‘ یعنی ہم نے بعض کے مرتبہ کو بعض پر بلند کیا۔ ’’نَّرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَشَآءُ (انعام:۸۳)‘‘ یعنی ہم جس کو چاہتے ہیں درجہ بلند کرتے ہیں۔ ’’رفیع الدرجٰت (غافر:۱۵)‘‘ بلند مرتبہ والا۔ لہٰذا آیت: ’’رَفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیْہِ‘‘ میں کہیں درجات کا لفظ تک نہیں اور نہ کوئی قرینہ صارفہ ہے۔ محض اپنی خود غرضی سے روح یا درجہ کا رفع مراد لینا نصوص قطعیہ سے اعراض ہے۔ حدیث شریف میں ہے۔ (۱)’’لا یرفع ثوبہ حتّٰی یدنوا من الارض‘‘ یعنی حضور ﷺ رفع حاجت کے لئے اپنا کپڑا نہیں اٹھاتے تھے۔ یہاں تک کہ زمین کے قریب ہوتے تھے۔ (مجمع البحار ج۲ ص۳۵۷ رفع) (۲)’’کان یکثر ان یرفع طرفہ الی السماء‘‘ یعنی حضور ﷺ انتظار وحی میں اکثر اپنی نگاہ آسمان کی طرف اٹھاتے تھے۔ (مجمع البحار ج۲ ص۳۵۸) (۳)’’فرفع الٰی رسول اللّٰہ ﷺ الصبی ونفسہ تقعقع (مشکوٰۃ ص۱۵۰، باب البکاء علی المیت)‘‘ یعنی لڑکے کو حضور ﷺ کی طرف اٹھا کر لایا گیا اور اس کا سانس اکھڑ رہا تھا۔ اور تیز حرکت کر رہا تھا۔ (۴)’’فرفعہ الٰی یدہ لیراہ الناس‘‘ یعنی حضور ﷺ نے پانی کو اپنے ہاتھ میں لے کر بلند کیا تاکہ لوگ اس کو دیکھیں (مجمع البحار ج۲ ص۳۵۶) (۵)’’لا ترفعن رؤسکن حتّٰی یستوی الرجال جلوسًا‘‘ (حوالہ مذکورہ) یعنی حضور ﷺ نے عورتوں سے فرمایا تھا کہ اپنے سروں کو سجدے سے مت اٹھایا کرو۔ یہاں تک آدمی برابر سیدھے بیٹھ جائیں۔ (۶)’’ارفع یدک فرفع یدہ فاذا ایۃ الرجم (بخاری ج۲ ص۱۰۰۷)‘‘ یعنی عبد ﷲ بن سلام نے یہودی سے فرمایا کہ اپنا ہاتھ تو اٹھا اس نے اپنا ہاتھ اٹھایا اس کے نیچے آیت رجم نکلی۔ (۷)’’رفع یدیہ، رفع راسہ‘‘ کثرت سے احادیث میں آیا ہے۔ (۸)(بخاری شریف ج۲ ص۵۸۷، باب غزوۃ الرجیع ورعل وذکوان وبئر معونۃ) میں عامر بن فہیرہ کا بیر معونہ کے دن شہید ہونے کے بعد بجسد عنصری آسمان کی طرف اٹھ جانا درج ہے۔ ’’قال لقد رأیتہ بعد ماقتل رفع الی السماء حتی انی لا نظر الٰی السماء بینہ وبین الارض ثم وضع‘‘ یعنی میں نے قتل ہو جانے کے بعد ان کو دیکھا کہ آسمان کی طرف اٹھائے گئے۔ یہاں تک کہ میں نے ان کو زمین وآسمان میں معلق دیکھا۔ پھر رکھے گئے۔ (۹)حضور ﷺ نے ایک دفعہ صاحبزادی امامہ رضی اللہ عنہا بنت زینب رضی اللہ عنہا کو کندھے پر اٹھا کر نماز پڑھی۔ ’’فاذا رکع وضعہا واذا رفع رفعہا‘‘ یعنی جب رکوع کو جاتے اتار دیتے تھے اور جب سجدہ سے فارغ ہو کر اٹھتے تھے تو امامہ رضی اللہ عنہا کو کندھے پر اٹھا لیتے تھے۔ (بخاری ج۲ ص۸۸۶، باب رحمۃ الولد وتقبیلہ ومعانقتہ) (۱۰)’’قد رفع اکلتہ الٰی فیہ فلا یطعمہا (بخاری ج۲ ص۱۰۵۵، باب خروج النار)‘‘ یعنی اچانک قیامت قائم ہو جائے گی کہ ایک شخص لقمہ منہ کی طرف اٹھائے گا وہ اس کو کھا نہیں سکے گا۔‘‘

427

قادیانی سوال:۳۷

ﷲ فاعل، ذی روح مفعول، توفی کا معنی موت اس چیلنج کو کوئی نہیں توڑ سکا۔

جواب:

اگرکسی موقع پر دوسرے دلائل ایسے موجود ہوں جن کے پیش نظر توفی کے حقیقی معنی لئے جاسکتے ہوں یا حقیقی کے ماسوا دوسرے معنی بن ہی نہ سکتے ہوں تو اس مقام پر خواہ فاعل ’’ ﷲتعالیٰ‘‘ اور مفعول ’’ذی روح انسان‘‘ ہی کیوں نہ ہو وہاں حقیقی معنی ’’پورا لے لینا‘‘ ہی مراد ہوں گے۔ مثلاً:

۱… آیت: ’’اللّٰہ یتوفی الانفس حین موتہا والتی لم تمت فی منامہا (زمر:۴۲)‘‘ ﷲ پورا لے لیتا ہے جانوں کو ان کی موت کے وقت اور ان جانوں کو جن کو ابھی موت نہیں آئی ہے۔ پورا لے لیتا ہے نیند میں۔ ’’والتی لم تمت‘‘ کے لئے بھی لفظ ’’توفی‘‘ بولا گیا یعنی ایک جانب یہ صراحت کی جارہی ہے کہ یہ وہ جانیں (نفوس) ہیں جن کو موت نہیں آئی اور دوسری جانب یہ بھی بصراحت کہا جارہا ہے کہ ﷲتعالیٰ نیند کی حالت میں ان کے ساتھ ’’توفی‘‘ کا معاملہ کرتا ہے تو یہاں ﷲ فاعل ہے۔ ’’متوفی‘‘ اور نفس انسانی مفعول ہے۔ ’’متوفی‘‘ مگر پھر بھی کسی صورت سے ’’توفی بمعنی موت‘‘ صحیح نہیں ہیں ورنہ تو قرآن کا جملہ ’’والتی لم تمت‘‘ العیاذ بِاللہ مہمل ہوکر رہ جائے گا۔ یا مثلاً:

۲… ’’وہو الذی یتوفکم بالیل ویعلم ما جرحتم بالنہار (انعام:۶۰)‘‘ اور وہی ( ﷲ) ہے جو پورا لے لیتا یا قبضہ میں کر لیتا ہے تم کو رات میں اور جانتا ہے جو تم کماتے ہو دن میں۔ اس میں بھی کسی طرح توفی بمعنی موت نہیں بن سکتے۔ حالانکہ فاعل ﷲ اور مفعول ذی روح انسانی نفوس ہیں۔ فعل توفی اور معنی نیند کے ہیں۔ یا مثلاً

۳… آیت:’’حتی اذا جاء احدکم الموت توفتہ رسلنا (انعام:۶۱)‘‘ یہاں تک کہ جب آتی ہے تم میں سے ایک کسی کو موت، قبض کر لیتے ہیں یا پورا لے لیتے ہیں اس کو ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) میں ذکر موت ہی کا ہو رہا ہے۔ لیکن پھر بھی توفتہ میں توفی کے معنی موت کے نہیں بن سکتے۔ ورنہ بے فائدہ تکرار لازم آئے گا۔ یعنی ’’احدکم الموت‘‘ میں جب لفظ ’’موت‘‘ کا ذکر آچکا تو اب ’’توفتہ‘‘ میں بھی اگر توفی کے معنی موت ہی کے لئے جائیں تو ترجمہ یہ ہوگا۔ ’’یہاں تک کہ جب آتی ہے تم میں سے ایک کسی کو موت، موت لے آتے ہیں ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) اور ظاہر ہے کہ اس صورت میں دو بار لفظ موت کا ذکر بے فائدہ ہے اور کلام فصیح وبلیغ اور معجز تو کیا روزمرہ کے محاورہ اور عام بول چال کے لحاظ سے بھی پست اور لاطائل ہو جاتا ہے۔ البتہ اگر ’’توفی‘‘ کے حقیقی معنی ’’کسی شئے پر قبضہ کرنا یا اس کو پورا لے لینا‘‘ مراد لئے جائیں تو قرآن عزیز کا مقصد ٹھیک ٹھیک ادا ہوگا اور کلام بھی اپنے حد اعجاز پر قائم رہے گا۔‘‘

اب ہر ایک عاقل غور کر سکتا ہے کہ یہ دعویٰ کرنا کہ ’’توفی‘‘ کے حقیقی معنی موت کے ہیں۔ خصوصاً جب کہ فاعل خدا ہو اور مفعول ذی روح کہاں تک صحیح اور درست ہے؟

۴… ان تین مقامات کے علاوہ سورۂ بقرہ کی آیت نمبر۲۸ ’’ثم توفی کل نفس بما کسبت‘‘ پھر پورا دیا جائے گا ہر ایک نفس کو جو کچھ اس نے کمایا ہے۔

اور سورۃ نحل کی آیت نمبر:۱۱۱ ’’وتوفی کل نفس ما عملت‘‘ اور پورا دیا جائے گا ہر نفس کو جو کچھ اس نے کمایا ہے۔ میں بھی توفی کا فاعل ﷲتعالیٰ اور مفعول ’’نفس انسانی‘‘ ہے تاہم یہاں بھی توفی بمعنی موت نہیں بن سکتے اور یہ بہت واضح اور صاف بات ہے۔ ’’یا وَوُفیت کل نفس ماکسبت وہم لا یظلمون (اٰل عمران:۲۵) یا فاما الذین

428

آمنوا وعملوا الصلحٰت فیوفیہم اجورہم (اٰل عمران:۵۷)‘‘ غرض ان آیات میں باوجود اس امر کے کہ ’’توفی‘‘ کا فاعل ﷲتعالیٰ اور اس کا مفعول انسان یا نفس انسانی ہے پھر بھی باجماع اہل لغت وتفسیر ’’موت کے معنی‘‘ نہیں ہوسکتے۔ خواہ اس لئے کہ دلیل اور قرینہ اس معنی کے خلاف ہے اور یا اس لئے کہ اس مقام پر توفی کے حقیقی معنی (پورا لے لینا) یا قبض کر لینا کے ماسوا ’’موت کے معنی‘‘ کسی طرح بن ہی نہیں سکتے۔

تو مرزا قادیانی کا یہ دعویٰ کہ ’’توفی‘‘ اور ’’موت‘‘ مرادف الفاظ ہیں یا یہ کہ توفی کا فاعل اگر ﷲتعالیٰ اور مفعول انسان یا نفس انسانی ہو تو اس جگہ صرف ’’موت‘‘ ہی کے معنی ہوں گے۔ دونوں دعویٰ باطل اور نصوص قرآن کے قطعاً مخالف ہیں۔ ’’فہاتوا برہانکم ان کنتم صدقین‘‘

۵… قاعدہ: مرزاقادیانی نے یہ قاعدہ افتراء کیا ہے۔ دنیا کی کسی کتاب میں یہ قاعدہ مذکور نہیں۔ زیادہ نہیں چودہ صدیوں کے مسلمہ مجددین میں سے کسی ایک مجدد کی کتاب سے ہی قادیانی یہ قاعدہ دکھا دیں ورنہ اقرار کریں کہ یہ مرزاقادیانی کی دجالانہ اختراع تھی۔

۶… مرزاقادیانی نے کہا کہ ﷲ فاعل ذی روح مفعول تو فی کا معنی سوائے موت کے اور کوئی نہیں ہوسکتا۔ گویا مرزاقادیانی نے اعتراف کر لیا کہ توفی کا حقیقی معنی موت نہیں۔ ورنہ ان شرائط کی کیا ضرورت تھی؟

بالفاظ دیگر مرزاقادیانی نے تسلیم کر لیا کہ توفی میں جہاں ﷲ فاعل نہ ہو۔ یا ذی روح مفعول نہ ہو وہاں اس کا معنی موت نہیں ہوگا۔ مرزاقادیانی کا اتنی بات تسلیم کرنا دلیل ہے۔ اس امر کی کہ توفی کا حقیقی معنی موت نہیں۔ ورنہ حقیقی معنی کبھی شرائط کا محتاج نہیں ہوتا۔

۷… مرزاقادیانی نے (براہین احمدیہ ص۵۱۹، خزائن ج۱ ص۶۲۰) پر لکھا ہے: ’’یا عیسٰی انی متوفیک ورافعک‘‘ میں تجھ کو پوری نعمت دوں گا اور اپنی طرف اٹھالوں گا۔‘‘ لیجئے! ﷲ فاعل ذی روح مفعول لفظ توفی لیکن خود مرزاقادیانی نے معنی موت نہیں کیا۔

مرزائیوں کو چیلنج

اگر قاعدے ہی بنانے ہیں تو پھر ہمارا دعویٰ سنیں۔

۱… اگر فعل توفی رفع کے ساتھ مستعمل ہو اور فاعل دونوں کا ﷲ تعالیٰ ہو اور مفعول جسم ذی روح ذات واحد تو وہاں صرف اخذ جسم مع رفع جسم ہی کے معنی ہوں گے۔ کوئی دنیا کا قادیانی اس قاعدہ کو توڑ کر دکھائے۔

۲… اب ہمارا دعویٰ ہے کہ اگر توفی باب تفعل ہو۔ ﷲ اس میں فاعل ہو اور ذی روح اس کا مفعول بہ ہو جو بن باپ پیدا ہوا ہے وہاں پر توفی کا معنی پورا پورا لینا اور اٹھانا ہوگا۔ وہاں موت کا معنی نہیں ہوگا۔ کوئی قادیانی میدان میں آئے جو ہمارے اس قاعدے کو توڑ کر منہ مانگا انعام حاصل کرے۔ اگر قادیانی کہیں کہ یہ قاعدہ کہاں لکھا ہے؟ تو اس کا آسان جواب یہ ہے کہ علم نحو کی جس کتاب میں مرزاقادیانی کا قاعدہ لکھا ہوا ہے اس کے اگلے صفحہ پر ہمارے یہ قاعدے بھی لکھے ہوئے ہیں۔

مرزاقادیانی کا چیلنج قبول

مرزاقادیانی نے لکھا: ’’اگر کوئی شخص قران کریم سے یا حدیث رسول سے یا اشعار وقصائد نظم ونثر قدیم وجدید

429

عرب سے یہ ثبوت پیش کرے کہ کسی جگہ توفی کا لفظ خداتعالیٰ کا فعل ہونے کی حالت میں جو ذی روح کی نسبت استعمال کیاگیا ہو۔ وہ بجز قبض روح اور وفات دینے کے کسی اور معنی پر پایا گیا ہے۔ یعنی قبض جسم کے معنوں میں بھی مستعمل ہوا ہے تو میں ﷲ جل شانہ کی قسم کھا کر اقرار صحیح کرتا ہوں کہ ایسے شخص کو اپنا حصہ ملکیت کا فروخت کر کے مبلغ ہزارروپے نقد دوں گا۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۹۱۹، خزائن ج۳ ص۶۰۳)

آنحضرت ﷺ سے سیدنا عبد ﷲ بن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ایک انصاری کے جواب میں فرمایا: ’’اذا رمی الجمار لا یدری احد مالہ حتّٰی یتوفّاہ اللّٰہ عزوجل یوم القیامۃ‘‘ جب کوئی رمی جمار (شیطانوں کو کنکریاں مارنا) کرتا ہے تو نہیں جانتا کہ اس کا کیا اجر ہے۔ حتیٰ کہ قیامت کے دن ﷲتعالیٰ اسے پورا پورا (اجر) دیں گے۔

(الترغیب والترہیب للمنذری ج۲ ص۱۶۰، باب ترغیب وقوف بعرفۃ والمزدلفۃ وفضل یوم عرفۃ، موارد الظمأن ص۲۴۰، حدیث نمبر۹۶۳)

لیجئے اس روایت میں مرزاقادیانی کی مطلوبہ تمام شرائط موجود ہیں اور توفی کا معنی موت مرزاقادیانی تو درکنار اس کا باپ بھی اس روایت میں نہیں کر سکتا۔

قادیانیوں کو چیلنج

مرزاغلام احمد قادیانی نے (ازالہ اوہام ص۵۴۰، خزائن ج۳ ص۳۹۰) پر لکھا ہے: ’’توفی کا معنی روح کو قبض کر لینا اور جسم کو بے کار چھوڑ دینا‘‘ اس پر ہمارے مخدوم حضرت مولانا قاضی محمد سلیمان منصورپوری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب (غایت المرام ص۷۹) پر مرزاقادیانی کو چیلنج دیا کہ: ’’ہم حیران ہیں کہ توفی کے معنی صرف ’’قبض روح‘‘ کس لغت میں ہیں۔ اگر براہ عنایت مرزاقادیانی کسی مستند کتاب لغت میں یہ الفاظ لکھے دکھا دیں کہ توفی کے معنی ’’صرف قبض روح اور جسم کو بے کار چھوڑ دینے‘‘ کے ہیں تو وہ ایک ہزار روپیہ کا انعام پانے کے مستحق ہوں گے۔ اس رقم میں ’’سراج منیر‘‘ بخوبی چھپ سکتا ہے۔‘‘

(احتساب قادیانیت ج۶ ص۲۳۵،۲۳۶)

یہ اس زمانہ کی بات ہے جب مرزاقادیانی زندہ تھا۔ ’’سراج منیر‘‘ اپنی کتاب چھاپنے کے لئے چندہ کی اپیلیں کر رہا تھا۔ مرزاقادیانی اس چیلنج کو قبول کرنے سے عاجز رہا۔ اب ہم مولانا قاضی محمد سلیمان منصورپوری رحمۃ اللہ علیہ کے ادنیٰ خادم ہونے کے ناتے پوری قادیانیت کو چیلنج کرتے ہیں کہ اس چیلنج کو قبول کرو اور ہم سے انعام پاؤ۔ نکلو میدان میں۔ مرد میدان بن کر سامنے آؤ اور مرزاقادیانی کی پیشانی سے ذلت وندامت کے داغ کو دھونے کے لئے کوشش کرو۔ مگر قیامت تک ایسا نہ کر سکو گے۔ ’’ہاتوا برہانکم ان کنتم صادقین‘‘

قادیانی سوال:۳۸

رحمت عالم ﷺ کی وفات پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آپ ﷺ کی وفات نہیں ہوئی بلکہ آپ کو اس طرح اٹھایا جائے گا، جیسا کہ مسیح علیہ السلام اٹھائے گئے۔ پس حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ’’قد خلت من قبلہ الرسل‘‘ قرآنی آیت پڑھی تو صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کو آنحضرت ﷺ کی وفات پر یقین ہوگیا۔ گویا عیسیٰ علیہ السلام کی وفات پر صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کا اجماع ہوگیا۔

جواب:

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آنحضرت ﷺ کی وفات کی خبر سے ایسے وارفتہ ہوئے کہ اس پر یقین کرنا ان کے لئے مشکل ہوگیا۔ چونکہ تمام صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین میں حضرت سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا رفع الی السماء ایسا متفق علیہ ومشہور عقیدہ تھا کہ اس پر

430

قیاس کیا کہ آپ ﷺ کا ایسے رفع ہوگا جیسے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا۔ اس پر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آنحضرت ﷺ کی وفات پر استدلال کیا۔ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے رفع کا انکار نہیں کیا۔ ورنہ مقیس علیہ کا انکار کرنے سے مقیس کا خود انکار ہو جاتا کہ عیسیٰ علیہ السلام کا کہاں رفع ہوا؟ اس سے آنحضرت ﷺ کے رفع کی خود بخود تردید ہو جاتی۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے رفع عیسیٰ کا انکار نہیں کیا۔ صرف آنحضرت ﷺ کے وصال کو ثابت کیا۔ اس پر تمام صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین خاموش رہے۔ گویا اجماع ہوگیا صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کا اس امر پر کہ عیسیٰ علیہ السلام کا رفع برحق ہے۔

قادیانی سوال:۳۹

بخاری شریف کی روایت ہے کہ قیامت کے دن آنحضرت ﷺ فرمائیں گے:’’فاقول کما قال العبد الصالح کنت علیہم شہیدا ما دمت فیہم فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیہم‘‘ پس عیسیٰ علیہ السلام اور آنحضرت ﷺ کی توفی ایک جیسی ہے۔ آنحضرت ﷺ کی توفی سے مراد موت ہے تو عیسیٰ علیہ السلام کی توفی موت کیوںنہیں؟

جواب:

پہلے تو بخاری شریف کی روایت مکمل نقل کرتے ہیں جو یہ ہے: ’’انہ یجاء برجال من امتی فیوخذ بہم ذات الشمال فاقول یارب اصیحابی فیقال انک لا تدری ما احد ثوابعدک فاقول کما قال العبد الصالح کُنْتُ عَلَیْہِمْ شَہِیْدًا مَادُمْتُ فِیْہِمْ فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ کُنْتَ اَنْتَ الرَّقِیْبَ عَلَیْہِمْ (بخاری ج۲ ص۶۶۵، باب قولہ وکنت علیہم شہیدا)‘‘ میری امت کے بعض لوگ پکڑے جائیں گے اور بائیں طرف یعنی جہنم کی طرف ان کو چلایا جائے گا۔ میں کہوں گا اے میرے رب یہ تو میرے صحابی رضی اللہ عنہ ہیں۔ کہا جائے گا کہ آپ کو اس کا علم نہیں کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا کچھ کیا۔ پس میں ویسے ہی کہوں گا۔ جیسا کہ عبد صالح یعنی عیسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ جب تک میں ان میں موجود تھا ان پر گواہ تھا اور جب تو نے مجھے بہ تمامہ بھرپور لے لیا تھا اس وقت آپ نگہبان تھے۔

جواب:

یہ تو پہلے قرآن کے اسی رکوع سے اور حدیث رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے حتیٰ کہ مرزاقادیانی کے قول سے معلوم ہوچکا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا یہ واقعہ قیامت کے دن ہوگا اور عیسیٰ علیہ السلام قیامت کے دن فرمائیں گے اور حضور ﷺ کا یہ فرمان بھی اسی حدیث میں ظاہر ہے کہ قیامت کے دن حوض پر فرمائیں گے۔ اب رہا کہ یہ صیغہ ماضی کا ہے۔ یعنی عیسیٰ علیہ السلام کے لئے ’’قال‘‘ اور اپنے لئے ’’اقول‘‘ اس کی وجہ یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کا قول قیامت میں پہلے ہوچکے گا اور حضور ﷺ کا یہ واقعہ بعد کو پیش آئے گا۔ تو حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ میں ویسے ہی کہوں گا جیسا کہ اس سے پہلے عیسیٰ علیہ السلام نے کہا۔ یعنی قیامت کے دن عیسیٰ علیہ السلام کے قول کی ماضی حضور ﷺ کے قول کے اعتبار سے ہے۔

جواب:

۲… دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ حضور ﷺ نے جب یہ حدیث بیان فرمائی تھی تو سورۂ مائدہ جس میں یہ حکایت مذکورہے پہلے نازل ہوچکی تھی اور تمام صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے اس حکایت کو سن لیا تھا۔ اب حضور ﷺ اس حکایت کو محکی عنہ بنا کر بیان فرماتے ہیں۔ یعنی ’’فاقول کما قال العبد الصالح فی سورۃ المائدۃ‘‘

جواب:

۳… یہ غلط ہے کہ حضور ﷺ کی توفی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توفی ایک ہی صورت کی ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو حضور ﷺ یہ فرماتے:’’فاقول ما قال العبد الصالح‘‘ حالانکہ ’’فاقول کما قال‘‘ صرف قول میں تشبیہ ہے مقولہ میں نہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا ہے یعنی اسی قسم کا قول میں بھی کہوں گا نہ یہ کہ وہی قول کہوں گا مشبہ اور مشبہ بہ میں تغائر

431

ضروری ہے۔ ادنیٰ مشارکت سے تشبیہ متحقق ہو جاتی ہے۔ جیسے کا لاسد بہادری میں تشبیہ ہے نہ کہ من کل الوجوہ جیسے دم۔ ٹانگ، کھال۔ پس اس حدیث کا صرف یہ مطلب ہے کہ جس طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنی غیرحاضری کا عذر کریں گے میں بھی اپنی غیرحاضری کا عذر کروں گا نہ کہ وہی الفاظ کہوں گا جو کہ عیسیٰ علیہ السلام نے کہے ہوں گے۔ کیونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بقول مرزاقادیانی جس سوال کا یہ جواب ہے یہ سوال ہوگا۔ ’’أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوْنِیْ وَاُمِّیَ اِلٰہِیْنِ (مائدہ:۱۱۶)‘‘ اور حضور ﷺ سے ہر گز یہ سوال نہ ہوگا تو پھریہ بعینہٖ جواب بھی نہیں ہوسکتا۔ بلکہ حضور ﷺ عیسیٰ علیہ السلام کے قول کے مانند کہیں گے اور غیرحاضری کا عذر دونوں فرمائیں گے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توفی یعنی غیرحاضری وعدم موجودگی بطور اصعاد الی السماء ہوئی اور حضور ﷺ کی توفی یعنی غیرحاضری وعدم موجودگی بطور توفی بالموت کے، تشبیہ کے لئے اس قدر بھی تغائر کافی ہے۔

جواب:

۴… اگر کوئی عیسائی اعتراض کرے کہ جیسے عیسیٰ علیہ السلام کو کوڑے پٹوائے گئے اور طمانچے مارے گئے۔ صلیب پر چار میخ کر کے عذاب دئیے گئے اور صلیب پر اس کی جان نکلی تھی۔ جیسا کہ اناجیل میں ہے کہ یسوع نے بڑے زور سے چلا کر جان دی اور اس کی توفی وقوع میں آئی۔ اسی طرح نعوذ بِاللہ محمد ﷺ کی توفی ہوئی ہوگی اور یہی آپ کی دلیل پیش کرے کہ جیسے کہ مسیح علیہ السلام کی توفی ہوئی۔ اسی طرح محمد ﷺ کی توفی وقوع میں آئی۔ کیونکہ محمد ﷺ کی توفی اور عیسیٰ علیہ السلام کی توفی ایک ہی صورت کی تھی تو مرزاقادیانی اور مرزائی بتادیں کہ اس عیسائی کو وہ کیا جواب دیں گے؟ آیا ایسی تذلیل اور عذاب جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ہوئے ویسے ہی حضرت خلاصۂ موجودات افضل الرسل ﷺ کے واسطے ہونے قبول کریں گے یا اپنی اس دلیل کی اصلاح کریں گے کہ دونوں کی توفی ایک ہی قسم کی نہ تھی؟

جواب:

۵… کلمہ ٔ ’’کما‘‘ کے ماقبل وما بعد کے لئے ضروری نہیں کہ وہ ہر طرح اور ہر وصف اور ہر حکم میں ایک جیسے ہوں۔ بلکہ بسا اوقات ان کی کیفیتوں میں بہت مغائرت ہوتی ہے۔ جیسے آیت کریمہ: ’’کما بدأنا اوّل خلق نعیدہ (الانبیاء)‘‘ یعنی جس طرح ہم نے پہلی دفعہ پیدا کر لیا تھا۔ اسی طرح پھر دوسری دفعہ بھی پیدا کر لیں گے۔ جو اس حدیث کی کتاب صحیح بخاری میں موجود ہے۔ پہلی دفعہ کی پیدائش اور قیامت کی پیدائش کو کلمہ کما سے ذکر کیا تو اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلے گا کہ پہلی دفعہ ماں کے پیٹ اور باپ کے نطفہ سے پیدا ہوئے تھے تو پھر قیامت کو بھی اسی طرح پیدا ہوں گے۔ معاذ ﷲ! پہلی دنیوی پیدائش، دوسری اخروی پیدائش۔ دونوں کے لئے لفظ ’’کما‘‘ آیا۔ مگر ان میں مماثلت صرف اس امر میں ہے کہ یہ دونوں باتیں ﷲتعالیٰ کی قدرت میں داخل ہیں۔ جس طرح پہلی پیدائش کو تم دیکھ چکے اس طرح دوسری دفعہ (موت کے بعد) زندہ کرنابھی اس خالق علیم کی قدرت سے باہر نہیں۔ دونوں تخلیقوں کے لئے لفظ کما آیا لیکن کیفیات میں فرق ہے۔ اس طرح ’’اقول کما قال‘‘ میں دونوں کے لئے کما ہے۔ مگر قول دونوں حضرات کے مختلف ہوں گے۔

جواب:

۶… اسی آیت میں ’’فلما توفیتنی‘‘ سے قبل ’’تعلم ما فی نفسی ولا اعلم ما فی نفسک‘‘ ہے۔ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام اور ﷲتعالیٰ دونوں کے لئے ایک ہی لفظ نفس استعمال ہوا ہے تو معاذ ﷲ اس سے کیا یہ لازم آیا کہ عیسیٰ علیہ السلام کا نفس اور ﷲتعالیٰ کا نفس ایک جیسے ہیں۔ اسی طرح گو ایک ہی لفظ توفی دونوں کے لئے مستعمل ہوا ہے۔ مگر ہر دو کے حالات مخصوصہ جو دلائل خارجہ سے ثابت ہیں ان پر نظر کرنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کی توفی رفع الی السماء سے اور آنحضرت ﷺ کی توفی موت سے ہوئی۔ آپ ﷺ کی توفی بخاری ’’باب وفات النبی ﷺ وموضعہ‘‘ نے متعین کر دی اور عیسیٰ علیہ السلام کی متوفیک کے بعد رافعک نے متعین کر دی۔

432

قادیانی سوال:۴۰

کیا اس بات میں امت محمدیہ ﷺ کی جو خیرالامت ہے اور اس کی شان میں ہے: ’’علماء امتی کانبیآء بنی اسرائیل‘‘ ہتک نہیں ہے کہ اصلاح امت محمدیہ ﷺ کے لئے ایک نبی کو محفوظ رکھاجائے اور امت میں کوئی لائق نہیں کہ اصلاح کرے اور خدا کو نبی بھیجنا پڑے۔ کیا یہ کام امت محمدیہ ﷺ کا مجدد نہیں کر سکتا۔

جواب:

۱… چونکہ حضرت عیسیٰ نبی امتی بن کر آئیں گے۔ جیسا کہ حدیثوں میں مذکور ہے یہ امت محمدی کا فخر اور عزت ہے کہ اس میں ایک اولوالعزم پیغمبر علیہ السلام شامل ہوتا ہے اور اپنی دعا سے شامل ہوتا ہے۔ دیکھو انجیل برنباس: ’’اے رب بخشش کرنے والے اور رحمت میں غنی تو اپنے خادم (عیسیٰ علیہ السلام) کو قیامت کے دن اپنے رسول ﷺ کی امت میں ہونا نصیب فرما۔‘‘

(فصل ۲۱۲ ص۱۹۴)

اب بتاؤ کہ یہ امت محمدیہ ﷺ کی ہتک ہے یا علو درجہ کا ثبوت ہے کہ ایک نبی دعا کرتا ہے کہ اے خدا مجھ کو امت محمدی علی صاحبھا الصلوۃ والسلام میں ہونا نصیب فرما۔

جواب:

۲… کس قدر عالی مرتبہ اس امت کا ہے کہ عیسائیوں کا خدا اس امت کا ایک فرد ہو کر آتا ہے۔ مگر تعصب بھری آنکھ کو یہ عزت ہتک نظر آتی ہے یہ نظر کا قصور ہے۔ آہ! کس قدر کج فہمی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آنے سے توہتک ہے اور مرزاقادیانی کو حضور ﷺ کے بعد نبی بنانے سے ہتک نہیں؟ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی علت غائی احکام دین اسلام کی تنسیخ یا شریعت محمدی علی صاحبھا الصلوۃ والسلام کی کمی پوری کرنا نہیں۔ حدیثوں میں بصراحت موجود ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دجال کے قتل کے واسطے اور صلیب کے توڑنے کے لئے آئیں گے۔ جس سے ثابت ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام، یہود اور نصاریٰ کی اصلاح کے واسطے آئیں گے نہ کہ دین اسلام اور امت محمدی کی اصلاح کے واسطے۔ دیکھو قرآن مجید فرمارہا ہے: ’’وَاِنْ مِّنْ اَہْلِ الْکَتٰبِ اِلَّا لَیُؤْمِنُنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ‘‘ یعنی مسیح علیہ السلام کی موت سے پہلے اہل کتاب اس پر ایمان لائیں گے۔ چونکہ مجدد اسلامی امت کا وہ صرف ایک فرد ہوتا ہے۔ اس لئے اس کا کہنا صرف مسلمانوں پر اثر کر سکتا ہے اور ارادۂ خداوندی میں کسر صلیب اور اصلاح یہود ہے اس لئے اسی پیغمبر علیہ السلام کو جسے ایک گروہ ان کو خدا بناکر گمراہ ہوا اور دوسرے گروہ نے نبوت سے انکار کر کے ان کو جھوٹانبی علیہ السلام کہا اور اپنی دانست میں ان کو طرح طرح کے عذاب دے کر صلیب پر قتل کر چکے۔ خداوند تعالیٰ نے ان دونوں گروہوں کے زعم باطل توڑنے اور کذب ظاہر کرنے اور امت محمدی علی صاحبھا الصلوۃ والسلام کا رتبہ بڑھانے اور ان کی دعا قبول کرنے اور ’’لتومنن بہ ولتنصرن‘‘ کا مصداق بنانے کے لئے ان کو مقدر کیا کہ جب وہ خود ہی زندہ اتر کر ان کے سب زعم باطل کر دے گا تو وہ آسانی سے سمجھ جائیں گے اور ایسا کھلا معجزہ اور کرشمہ قدرت دیکھ کر اور دجال کو اور اس کے ہمراہیوں کو قتل کرنے کے بعد آخرکار سب اہل کتاب یہود اور نصاریٰ ایمان لے آئیں گے۔

جواب:

۳… یہ کہاں لکھا ہے کہ امت محمدیہ ﷺ کی اصلاح کے واسطے آئیں گے ’’علماء امتی کانبیآء بنی اسرائیل‘‘ کا صرف یہ مطلب ہے کہ جس طرح بنی اسرائیل کے نبی تبلیغ دین کرتے تھے اسی طرح میرے علماء امت تبلیغ دین کیا کریں گے۔ کیونکہ میرے بعد کوئی نبی نہیں، یہ نہیں کہ علماء امت بنی اسرائیل کے نبیوں کے ہم مرتبہ ہوں گے یا کسی قسم کی نبوت کے مدعی ہوں گے۔ نیز یہ کہ اس روایت کی صحت بھی مخدوش ہے۔

433

جواب:

۴… پہلے نبیوں میں سے ایک نبی آنحضرت ﷺ کی امت میں شامل ہورہا ہے نہ کہ آپ ﷺ کی امت سے کسی شخص کو نبی بنایا جارہا ہے۔

قادیانی سوال:۴۱

اسی طرح ایک اور روایت مسلم وغیرہ میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ سو سال تک تمام جاندار مر جائیں گے۔ (کنزالعمال راوی جابر ومسلم)

جواب:

اگر یہی ترجمہ صحیح ہے جو کیاگیا ہے تو پھر ہر ’’جاندار‘‘ میں تو جناب موسیٰ، ملائکہ علیہم السلام بھی شامل ہیں۔ کیا یہ سب کے سب سو سال کے اندر اندر فوت ہوگئے تھے؟ تو صاحب جس دلیل سے تم ملائکہ کو ’’ہر جاندار‘‘ کے لفظ سے باہر کرو گے۔ اسی سے ہم مسیح کو نکال لیں گے۔ کیوں؟ کیسی کہی، ہاں! جس دلیل سے تم موسیٰ علیہ السلام کو بچاؤ گے ہم اس سے مسیح علیہ السلام کو۔

حضرات! اصل بات یہ ہے کہ مرزائی مذہب سراپا خیانت وفریب ہے۔ مرزاقادیانی کی بھی یہی عادت تھی کہ آنحضرت ﷺ کی حدیث سے اپنے مطلب کو نقل کرتے۔ مگر جو فقرہ اپنی نفسانیت کے خلاف ہوتا اس کو چھوڑ دیتے۔ چنانچہ (حمامۃ البشریٰ ص۸۸، خزائن ج۷ ص۳۱۲) پر کنزالعمال کی حدیث لکھتے ہیں جوہم اسی مضمون میں بذیل ثبوت حیات مسیح لکھ آئے ہیں۔ یعنی حدیث نمبر:۸۔ مگر اس میں لفظ ’’من السماء‘‘ چھوڑ گئے۔ یہی چالاکی مرزائی مصنف نے کی ہے۔ مسلم کی حدیث جو جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اس میں ’’مَا عَلَی الْاَرْضِ‘‘ کا لفظ موجود ہے۔ یعنی آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں: آج جتنے لوگ زمین پر موجود ہیں سو سال تک ان میں سے کوئی باقی نہ رہے گا۔

’’ما علی الارض من نفس منفوسۃ یاتی علیہا مائۃ سنۃ وہی حیۃ یومئذ (مسلم)‘‘ یعنی روایت ہے جابر رضی اللہ عنہ سے پیغمبر خدا ﷺ فرماتے تھے۔ روئے زمین پر کوئی نفس نہیں جو پیدا کیاگیا ہو اور موجود ہو۔ پھر آج سے سو برس سے گزرے اور وہ زندہ ہو۔ دوسرے حدیث صحیح مسلم کی یہ ہے کہ زمین پر کوئی شخص بھی آج کے لوگوں میں سے زندہ موجود ہو۔ (ازالہ اوہام ص۴۸۱، خزائن ج۳ ص۳۵۸)

مگر مرزائی مصنف پاکٹ بک کی خیانت ہے کہ: ’’زمین پر آج کے لوگوں‘‘ کے الفاظ اڑا کر’’ہر جاندار‘‘ ترجمہ کر کے مسیح کی وفات ثابت کرتا ہے۔

قادیانی سوال:۴۲

’’ان ینزل فیکم‘‘ میں آنحضرت ﷺ نے صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کو مخاطب کیا ہے کہ ابن مریم تم میں نازل ہوگا۔

الجواب:

خطاب صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کے ساتھ مختص نہیں ہے بلکہ عامہ امت محمدیہ تا قیامت مخاطب ہے۔ ’’ابن خزیمہ وحاکم‘‘ نے روایت نقل کی ہے: ’’عن انس قال النبی ﷺ سیدرک رجال من امتی ابن مریم (کنزالعمال ج۱۴ ص۳۳۵، حدیث نمبر:۳۸۸۵۴)‘ یعنی میری امت کے لوگ عیسیٰ علیہ السلام کا زمانہ پائیں گے نہ صحابہ لوگ، اور دیگر احادیث صحیحہ کثیرہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قرب قیامت تشریف لانا مصرح ہے۔ ملاحظہ ہوں: ’’قال لا تقوم الساعۃ حتی ینزل عیسٰی بن مریم (مسند احمد ج۲ ص۴۹۳، ابن ماجہ ص۲۹۹، باب فتنۃ الدجال وخروج عیسٰی بن مریم)‘‘

434

’’لن تقوم الساعۃ حتی ترون قبلہا عشر اٰیات ونزول عیسٰی ابن مریم (مسلم ج۲ ص۳۹۳، کتاب الفتن) ظاہرین الٰی یوم القیامۃ فینزل عیسٰی ابن مریم (مسلم ج۱ ص۸۷، باب نزول عیسٰی بن مریم) کیف تہلک امۃ انا اولہا والمہدی وسطہا والمسیح اخرہا (مشکوٰۃ ص۵۸۳، باب ثواب ہذہ الامۃ)‘‘ ان تمام حدیثوں میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول قرب قیامت میں مذکور ہے اور پچھلی روایت میں امت محمدیہ کے آخر زمانہ میں مسیح علیہ السلام کا ہونا مصرح ہے نہ عہد صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین میں نہ چودہ سو سال کے بعد۔

قادیانی سوال:۴۳

’’مُبَشِرًا بِرَسُوْلٍ یَأْتِیْ مِنْ بَعْدِیْ اِسْمُہٗ اَحْمَد‘‘ عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: میرے بعد احمد رسول ﷺ آئے گا۔ بعد سے مراد وفات ہے۔

جواب:

ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’وَاِذْ وَعَدْنَا مُوْسٰی اَرْبَعِیْنَ لَیْلَۃً ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ مِنْ بَعْدِہٖ وَاَنْتُمْ ظَلِمُوْنَ (بقرہ:۵۱)‘‘ یعنی تم نے موسیٰ علیہ السلام کے بعد بچھڑے کو پوجا اور تم ظالم ہو۔ جو معنی اس جگہ اور جو معنی ’’بعد‘‘ کے ہیں وہی معنی کلام مسیح میں بھی۔ کیا آیت ہذا میں ’’بعد‘‘ سے مراد موسیٰ علیہ السلام کی وفات ہے؟ ہرگز نہیں۔

قادیانی سوال:۴۴

آنحضرت ﷺ نے شب معراج باقی انبیاء علیہم السلام میں عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھا۔ جب وہ فوت شدہ ہیں تو عیسیٰ علیہ السلام بھی وفات یافتہ ہے نہیں تو انہیں بھی زندہ مانو۔

الجواب:

الف… جناب اگر ایک زندہ انسان کا وفات یافتہ روحوں میں شامل ہونا ثبوت وفات ہے تو پھر مرزاقادیانی زندگی میں ہر مرچکے تھے جو کہتے تھے کہ: (۱)’’اس (مسیح نے) کئی دفعہ مجھ سے ملاقات کی۔ ایک دفعہ میں نے اور اس نے عالم کشف میں جو گویا بیداری کا عالم تھا ایک جگہ بیٹھ کر ایک ہی پیالہ میں گائے کا گوشت کھایا۔‘‘ (ریویو ج۱ ص۳۴۸) (۲)’’ایک دفعہ میں نے بیداری کی حالت میں جناب رسول ﷺ کو مع حسین وعلی وفاطمہ کے دیکھا یہ خواب نہ تھی بلکہ بیداری کی ایک قسم تھی۔‘‘

(فتاویٰ احمدیہ ج۱ ص۱۷۸، اخبار الحکم مورخہ ۱۰؍دسمبر ۱۹۰۲ء)

سنبھل کے رکھیو قدم دشت خار میں مجنوں کہ اس میں اک سودا برہنہ پا بھی ہے

ب… یہ استدلال درست نہیں۔ کیونکہ اس سے تو پھر یہ لازم آئے گا کہ اس وقت خود آنحضرت ﷺ بھی فوت شدہ ہوں۔ حالانکہ آنحضرت ﷺ کو اس دنیوی زندگی میں جسمانی معراج ہوئی۔ پس جس طرح دوسرے انبیاء کی ملاقات کے وقت آنحضرت ﷺ زندہ تھے۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی زندہ تھے اور آسمانوں پر تھے اور آنحضرت ﷺ کو اپنے نزول قرب قیامت کی خبر دی تھی۔ جیسا کہ ’’ابن ماجہ‘‘ میں مصرح ہے۔

ج… یہ غلط ہے کہ معراج کی رات وفات شدگان کا اجتماع تھا۔ بلکہ آنحضرت ﷺ اور سیدنا جبرائیل علیہ السلام جیسے اس اجتماع میں زندہ تھے سیدنا مسیح علیہ السلام بھی تھے۔ معراج کی رات تین قسم کے حضرات کی باہمی ملاقات تھی۔ (۱)فوت شدگان کی فوت شدگان سے جیسے آدم وابراہیم علیہ السلام۔ (۲)فوت شدگان کی زندہ حضرات سے جیسے سیدنا آدم علیہ السلام کی آنحضرت ﷺ سے۔ (۳)زندہ حضرات کی زندہ حضرات سے جیسے آنحضرت ﷺ کی سیدنا جبرائیل ومسیح علیہ السلام سے یا ان دونوں حضرات کی آنحضرت ﷺ سے۔ پس قادیانی استدلال باطل ہے۔

435

قادیانی سوال:۴۵

زمین سے آسمان تک کی طویل مسافت کا چند لمحوں میں طے کر لینا کیسے ممکن؟

جواب:

۱… کہ حکماء جدید لکھتے ہیں کہ نور ایک منٹ میں ایک کروڑ بیس لاکھ میل کی مسافت طے کرتا ہے۔

۲… بجلی ایک منٹ میں پانچ سو مرتبہ زمین کے گرد گھوم سکتی ہے۔

۳… اور بعض ستارے ایک ساعت میں آٹھ لاکھ اسی ہزار میل حرکت کرتے ہیں۔

۴… علاوہ ازیں انسان جس وقت نظر اٹھا کر دیکھتا ہے توحرکت شعاعی اس قدر سریع ہوتی ہے کہ ایک ہی آن میں آسمان تک پہنچ جاتی ہے۔ اگر یہ آسمان حائل نہ ہوتا تو اور دور تک وصول ممکن تھا۔

۵… نیز جس وقت آفتاب طلوع کرتا ہے تو نور شمس ایک ہی آن میں تمام کرۂ ارض پر پھیل جاتا ہے۔ حالانکہ سطح ارضی ۲۵۳۶۳۶۳۶؍فرسخ ہے۔ جیسا کہ سبع شداد ص۴۲ پر مذکور ہے اور ایک فرسخ تین میل کا ہوتا ہے۔ لہٰذا مجموعہ ۶۱۰۹۰۹۰۸؍کروڑ میل ہوا۔ حکماء قدیم کہتے ہیں کہ جتنی دیر میں جرم شمس بتمامہ طلوع کرتا ہے۔ اتنی دیر میں فلک اعظم کی حرکت ۵۱۹۶۰۰؍لاکھ فرسخ ہوتی ہے اور ہر فرسخ چونکہ تین میل کا ہوتا ہے۔ لہٰذا مجموعہ مسافت ۱۵۵۸۸۰۰؍لاکھ میل ہوئی۔ نیز شیاطین اور جنات کا شرق سے لے کر غرب تک آن واحد میں اس قدر طویل مسافت کا طے کر لینا ممکن ہے تو کیا خداوند عالم اور قادر مطلق کے لئے یہ ممکن نہیں کہ وہ کسی خاص بندے کو چند لمحوں میں اس قدر طویل مسافت طے کرادے؟

۶… آصف بن برخیا کا مہینوں کی مسافت سے بلقیس کا تخت سلیمان علیہ السلام کی خدمت میں پلک جھپکنے سے پہلے پہلے حاضر کر دینا قرآن کریم میں مصرح ہے: ’’کما قال تعالٰی وَقَالَ الَّذِیْ عِنْدَہٗ عِلْمٌ مِّنَ الْکِتٰبِ اَنَا اٰتِیْکَ بِہٖ قَبْلَ اَنْ یَّرْتَدَّ اِلَیْکَ طَرْفُکَ فَلَمَّا رَاٰہُ مُسْتَقِرًّا عِنْدَہٗ قَالَ ہٰذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّیْ (النحل:۴۰)‘‘ اسی طرح سلیمان علیہ السلام کے لئے ہوا کا مسخر ہونا بھی قرآن کریم میں مذکور ہے کہ وہ ہوا سلیمان علیہ السلام کے تخت کو جہاں چاہے اڑا کر لے جاتی اور مہینوں کی مسافت گھنٹوں میں طے کرتی۔ ’’کما قال تعالٰی وَسَخَّرْنَا لَہُ الرِّیْحَ تَجْرِیْ بِاَمْرِہ‘‘

۷… آج کل کے ملحدین فی گھنٹہ تین سو میل کی مسافت طے کرنے والے ہوائی جہاز پر تو ایمان لے آئے ہیں مگر نہ معلوم سلیمان علیہ السلام کے تخت پر بھی ایمان لاتے ہیں یا نہیں؟ ہوائی جہاز بندہ کی بنائی ہوئی مشین سے اڑتا ہے اور سلیمان علیہ السلام کے تخت کو ہوا بحکم خداوندی اڑا کر لے جاتی تھی۔ کسی بندہ کے عمل اور صنعت کو اس میں دخل نہ تھا۔ اس لئے وہ معجزہ تھا اور ہوائی جہاز معجزہ نہیں۔

۸… مرزاقادیانی (چشمہ معرفت حصہ دوم ص۲۱۹، خزائن ج۲۳ ص۲۲۷،۲۲۸) پر لکھتے ہیں: ’’پھر مضمون پڑھنے والے نے قرآن پر یہ اعتراض کیا کہ اس میں لکھا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام مسیح مع گوشت پوست آسمان پر چڑھ گیا تھا۔ ہماری طرف سے یہ جواب کافی ہے کہ اوّل تو خداوند تعالیٰ کی قدرت سے کچھ بعید نہیں کہ انسان مع جسم عنصری آسمان پر چڑھ جائے۔‘‘ اور (ازالہ اوہام ص۲۷۲، خزائن ج۳ ص۲۳۸) میں اپنے ایک مطلب کے ثبوت میں تورات کی عبارت استدلال پیش کرتے ہیں جس میں یہ بھی لکھا ہے: ایلیا نبی جسم کے ساتھ آسمان کی طرف اٹھایا گیا اور چادر اس کی زمین پر۔

436

قادیانی سوال: ۴۶

حیات مسیح عقل میں نہیں آتا؟

جواب:

۱… گو قرآن کی آیتوں، حدیثوں اور آثار صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین وتابعینi اور اجماع امت یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں اور اصالۃً نزول فرمائیں گے لیکن عام عقلوں میں نہیں سماتا۔ اس کے جواب میں ان کے مرشد کا یہ حکم سنادینا چاہئے کہ (ازالہ اوہام ص۸۳۵، خزائن ج۳ ص۵۵۲) میں ہے: ’’اگر قرآن وحدیث کے مقابل پر ایک جہان عقلی دلائل کا دیکھو تو ہرگز اسکو قبول نہ کرو اور یقینا سمجھو کہ عقل نے لغزش کھائی ہے۔‘‘ اور (ازالہ اوہام ص۳۷۴، خزائن ج۳ ص۲۹۳) میں ہے: ’’سلف خلف کے لئے بطور وکیل کے ہوتے ہیں اور ان کی شہادتیں آنے والی ذریت کو ماننی پڑتی ہیں۔‘‘ اگر کہا جائے کہ خدا نے خود فرمایا ہے: ’’لَنْ تَجِدَ لِسُنَّۃِ اللّٰہِ تَبْدِیْلًا (الاحزاب:۶۲)‘‘ کہ ہم اپنی سنت جاریہ کے خلاف نہیں کرتے تو میں کہوں گا کہ اگر سنت ﷲ کے یہ معنی ہیں تو بتائیے کہ پہلے سب مخلوق محض عدم میں تھے پھر پیدا کر کے کیوں سنت کو بدلا اور پھر پیدا کر کے مار ڈالنے سے سنت کو بدلا اور پھر قیامت کو زندہ کر کے اپنی سنت کو بدل ڈالے گا اور نیز آدم علیہ السلام وحوا علیہا السلام کو بے ماں وباپ کے پیدا کیا اور عیسیٰ علیہ السلام کو بے باپ کے جو یہ بھی سنت جاریہ کے خلاف ہے اور انبیاء علیہم السلام کے معجزات سب خارق عادت ہی ہوتے ہیں۔ اگر کہا جائے کہ یہ مجموعہ حالت کا من حیث المجموع سنت ﷲ ہے تو میں کہوں گا کہ کسی کو مار کر زندہ نہ کرنا اور بعض کو بطور خرق عادت زندہ کرنااور کسی کو آسمان پر نہ اٹھانا اور بعض کسی کو اٹھا لینا یہ مجموعہ بھی سنت ﷲ ہے۔ چنانچہ (بخاری شریف ج۲ ص۵۸۷، باب غزوۃ الرجیع وبیرمعونہ) میں عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ کا بیرمعونہ کے دن شہید ہونے کے بعد بجسد عنصری آسمان کی طرف اٹھ جانا پھر زمین پر آجانا درج ہے۔ اس آیت کے معنی یہ ہیں کہ تو سنت ﷲ کے بدل دینے کو نہیں پاسکتا۔ یعنی ہماری سنت کو کوئی نہیں بدل سکتا۔ ’’لَا مُبَدِّلَ لِکَلِمَاتِ اللّٰہِ (انعام:۳۴)‘‘ ہاں وہ خود بدل سکتا ہے اور سنت سے مراد سنت قولی یعنی وعدۂ نصرت بھی ہوسکتا ہے۔ یعنی ہم اپنے وعدۂ نصرت کو نہیں بدلتے۔ ہمیشہ انبیاء علیہم السلام کو نصرت ہی دی ہے۔ ’’اِنَّ اللّٰہَ لَا یُخْلِفُ وَعْدَہٗ رُسُلَہٗ‘‘ اور نیز آیات ﷲ اور سنت ﷲ میں فرق ہے۔ آیات ﷲ جس جگہ قرآن مجید میں آیا ہے خارق عادت ہے اور سنت ﷲ سے عادت اکثر یہ مراد ہے۔ فافہم!

جواب:

۲… دین صرف عقل کی نہیں بلکہ نقل کی تابعداری کا نام ہے۔ صرف عقل کو شیطان نے استعمال کیا کہ میں آدم علیہ السلام کو کیسے سجدہ کروں۔ ’’انا خیر منہ‘‘ وہ ابلیس ہوا۔

قادیانی سوال:۴۷

جیسے کہ حضرت الیاس علیہ السلام کے نزول کی پیشین گوئی حضرت یحییٰ علیہ السلام کی بعثت سے پوری ہوئی تھی۔ اسی طرح عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی پیشین گوئی کسی دوسرے مدعی کی بعثت سے ہوسکتی ہے۔ یہ کوئی ضروری نہیں کہ وہی عیسیٰ علیہ السلام اسرائیلی ہی نازل ہوں بلکہ مثیل مراد ہے۔ کیونکہ پیشین گوئی میں اکثر استعارہ ہوتا ہے۔

جواب:

۱… اوّل تو یہی غلط ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق پیشین گوئی کی ہے۔ کیونکہ پیشین گوئی اس کو کہتے ہیں جو کسی وجود کے ظہور سے پہلے خبر دی جائے۔ چونکہ یہود اور نصاریٰ کا باہمی اختلاف تھا۔ عیسائی کہتے تھے کہ مسیح علیہ السلام اب آسمان پر زندہ موجود ہیں۔ دوبارہ اخیر زمانہ میں نزول فرمائیں گے اور یہود کہتے تھے کہ ہم

437

نے مسیح علیہ السلام کو قتل کر دیا ہے۔ خداتعالیٰ نے قرآن میں یہ فیصلہ فرمایا ہے کہ ’’مَا قَتَلُوْہُ وَمَا صَلَبُوْہُ بَلْ رَّفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیْہِ وَاِنْ مِّنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ اِلَّا لَیُؤْمِنُنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ‘‘ اور ایسا ہی احادیث میں بکثرت موجود ہے۔ یہ بالکل غلط ہے کہ حیات ونزول مسیح علیہ السلام کا مسئلہ پیشین گوئی ہے اور پیشین گوئیاں استعارہ کے رنگ میں ہوتی ہیں۔ بلکہ حضور ﷺ نے حیات ونزول مسیح علیہ السلام کا فیصلہ فرمایا ہے نہ کہ پیشین گوئی کی ہے۔ کیونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو حضور سرور عالم ﷺ سے چھ سو برس پہلے دنیا میں آکر آسمان پر جاچکے تھے اور یہود اس کے منکر تھے اور کہتے تھے کہ ہم نے ان کو قتل کر ڈالا ہے۔ یہود اور نصاریٰ میں یہی جھگڑا تھا۔ اس لئے حضور ﷺ نے ﷲتعالیٰ سے وحی پاکر یہ فیصلہ دیا کہ بے شک عیسیٰ علیہ السلام مرے نہیں وہ اخیرزمانہ میں دوبارہ آئیں گے۔ پس اس فیصلہ نبوی ﷺ کے سامنے تمام امت کا سرخم چلا آیا ہے اور تیرہ سو برس سے اس پر اجماع امت ہے۔ اگر نصاریٰ کا عقیدہ اصالۃً نزول عیسیٰ علیہ السلام کا شرک تھا یا کم ازکم غیر صحیح تھا تو قرآن شریف دوسرے عقائد ابن ﷲ وغیرہ کی طرح اس کو بھی خوب صراحۃً رد فرما دیتا اور حضور ﷺ کی حدیث میں اس کا رد بکثرت پایا جاتا نہ کہ برعکس۔ قرآن شریف اور احادیث اس عقیدے کے ہم نوا ہوں اور یہ بھی خوب کہی کہ پیشین گوئیاں استعارہ کے رنگ میں ہوتی ہیں تاکہ کوئی کاذب متنبی بھی جھوٹا نہ ہو سکے۔ جب چاہے جس پر چاہے گڑبڑ کر کے فریب دے سکے۔ دمشق سے مراد قادیان لے سکے۔ حالانکہ خود حضور ﷺ نے بتاکید منع فرمایا ہے۔ ’’ان النبی ﷺ نہٰی عن الاغلوطات رواہ ابوداؤد (مشکوٰۃ ص۳۵، کتاب العلم)‘‘ ہاں خوابوں کی تعبیر ہوا کرتی ہے نہ صریح وحی کی۔

جواب:

۲… تعجب یہ ہے کہ مرزاقادیانی شریعت محمدی علی صاحبھا الصلوۃ والسلام میں تو کوئی نظیر پیش نہیں کر سکتے۔ محرف کتابوں سے اپنی تائید کرنا چاہتے ہیں کہ شاید کوئی اسی سے دھوکہ میں آجائے۔ حالانکہ وہ خود اس کو رد بھی کر چکے ہیں۔ چنانچہ (حصہ پنجم براہین احمدیہ ص۳۲، خزائن ج۲۱ ص۴۲) میں لکھتے ہیں: پہلے نبیوں نے مسیح کی نسبت یہ پیشین گوئی کی تھی کہ وہ نہیں آئے گا جب تک کہ الیاس علیہ السلام دوبارہ دنیا میں نہ آجائے۔ مگر الیاس نہ آیا اور یسوع بن مریم نے یونہی مسیح معہود ہونے کا دعویٰ کر دیا۔ حالانکہ الیاس دوبارہ دنیا میں نہ آیا اور جب پوچھا گیا تو الیاس علیہ السلام موجود کی جگہ یوحنا یعنی یحییٰ علیہ السلام نبی کو الیاس علیہ السلام ٹھہرادیا۔ تاکسی طرح مسیح موعود بن جائے… پہلے نبیوں اور تمام راست بازوں کے اجماع کے برخلاف الیاس علیہ السلام آنے والے سے مراد یوحنا اپنے مرشد کو قرار دے دیا اور عجیب یہ کہ یوحنا اپنے الیاس علیہ السلام ہونے سے خود منکر ہے۔ مگر تاہم یسوع بن مریم علیہ السلام نے زبردستی اس کو الیاس علیہ السلام ٹھہرا ہی دیا۔ اب ہم مرزاقادیانی سے پوچھتے ہیں کہ آپ کے نزدیک معاذ ﷲ ان دو نبیوں میں کون جھوٹا ہے۔ یوحنا خود منکر ہیں کہ میں ہرگز الیاس علیہ السلام نہیں ہوں اور عیسیٰ علیہ السلام زبردستی ان کو الیاس علیہ السلام ٹھہراتے ہیں کہ تو ہی وہ الیاس علیہ السلام ہے۔ یہاں پر مرزاقادیانی کا روئے سخن اور التفات جس طرف بھی ہو مگر اہل حق جانتے ہیں کہ دونوں سچے نبی علیہ السلام سے ہیں، قصہ جھوٹا ہے کتاب ﷲ میں تحریف کر دی گئی ہے۔ اسی وجہ سے حضور ﷺ نے فرمایا ہے: ’’لا تصدقوا اہل الکتٰب ولا تکذبوہم (بخاری ج۲ ص۱۰۹۴، باب النبی لاتسئلوا اہل الکتاب) ان اہل الکتٰب بدلوا کتاب اللّٰہ وغیروہ وکتبوا بایدیہم الکتٰب وقالوا ہو من عند اللّٰہ‘‘

اور حکیم نورالدین قادیانی جو مرزاقادیانی کا اوّل جانشین تھا (فصل الخطاب ص۳۶۵) میں لکھتا ہے: ’’یوحنا اصطباعی کا ایلیا میں ہونا بالکل ہندوؤں کے مسئلہ آواگون کے ہم معنی یا اسی کا نتیجہ ہے۔‘‘ افسوس یہ ہے کہ مرزاقادیانی کو اپنے دعوے کے اثبات میں اس قدر شوق ہے کہ جس بات کو ایک جگہ ثابت کرتے ہیں دوسری جگہ خود ہی اس کو رد کر دیتے

438

ہیں۔ جیسا موقعہ مناسب سمجھتے ہیں اسی پر زور دیتے ہیں۔

جواب:

۳… نہیں سمجھا جاسکتا کہ کوئی مومن قرآن اس قصہ کی تصدیق کے لئے آمادہ بھی ہو کیونکہ قرآن نے خود اس قصہ کی تکذیب کر دی ہے۔ قرآن شریف میں ہے: ’’یَا زَکَرِیَّا اِنَّا نُبَشِّرُکَ بِغُلَامِ نِاسْمُہٗ یَحْیٰی لَمْ نَجْعَلْ لَّہٗ مِنْ قَبْلُ سَمِیًّا‘‘ (ترجمہ از مرزاقادیانی) یعنی یحییٰ علیہ السلام سے پہلے ہم نے کوئی اس کا مثیل (یعنی جس کا نام یحییٰ علیہ السلام پر بوجہ مماثلۃ اطلاق کر سکیں) دنیا میں نہیں بھیجا۔ (ازالہ اوہام ص۵۳۹، خزائن ج۳ ص۳۹۰) تو پھر کیسے پہلے نبی کا نام یعنی ایلیا کا نام یحییٰ علیہ السلام پر اطلاق کیا جاسکتا ہے؟

قادیانی سوال:۴۸

(تاریخ طبری ج۲ ص۷۳۹) میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر کے کتبہ کی یہ عبارت نقل کی گئی ہے۔ ’’ہذا قبر رسول اللّٰہ عیسٰی علیہ السالم الٰی ہذہ البلاد‘‘

جواب:

۱… (کتاب الوفاء باب:۳) میں قصہ حجر بیان کرتے ہوئے لکھا ہے: ’’فاخرجت الیہما الحجر فقراہ فاذا فیہ اناعبداللّٰہ الاسود رسول رسول اللّٰہ عیسٰی بن مریم علیہ السلام الٰی اہل قری عرینۃ‘‘ اور باب:۷، فصل:۴ میں ہے۔ ’’وروی الزبیر عن موسٰی بن محمد عن ابیہ قال وجد قبر اٰدمی علی راس جاء ام خالد مکتوب فیہ انا اسود بن سوادۃ رسول رسول اللّٰہ عیسٰی بن مریم علیہ السلام الٰی اہل ہذا القریہ وعن ابن شہاب قال وجد قبر علی جماء ام خالد اربعون ذرا عافی اربعین ذراعا مکتوب فی حجر فیہ انا عبداللّٰہ من اہل نینوی رسول رسول اللّٰہ عیسٰی بن مریم علیہم السلام اے اہل ہذہ القریۃ فادر کنی الموت فاوصیت ان ادفن فی جماء ام خالد‘‘ پس معلوم ہوا کہ یہ کسی حواری عیسیٰ علیہ السلام اسود بن سوادہ نامی کی قبر ہے اور اس پتھر پر ’’رسول رسول ﷲ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام‘‘ لکھا ہے۔ لیکن تاریخ طبری میں قلم ناسخ سے لفظ رسول مضاف ساقط ہوگیا ہے اور مرزائیوں کا اس سے ایمان ساقط ہوگیا اور اس کو موت عیسیٰ علیہ السلام پر حجت بنالیا۔ العجب کل العجب!

جواب:

۲… قارئین کرام! آپ کو خوشی ہوگی ہم مسکینوں کی اس محنت پر کہ جب قادیانیوں کا یہ اعتراض پڑھا تو اس کتاب کی تلاش شروع کی۔ ہمارے کتب خانہ میں اردو ترجمہ تھا۔ اصل تاریخ طبری عربی نہ تھی۔ چنانچہ ۱۱؍مئی ۲۰۰۴ء کو کراچی سے کتاب عربی ایڈیشن خریدا گیا۔ ملتان دفتر آکر حوالہ تلاش کیا۔ جدید ایڈیشن دارالکتب العلمیۃ بیروت ج۱ ص۳۵۵ پر عبارت مل گئی۔ (الف)ص۳۴۵ سے مصنف نے سیدنا مسیح علیہ السلام کے زمانہ کے حالات قلمبند کرنے شروع کئے۔ ص۳۴۵، ۳۴۸، ۳۵۲، ۳۵۴ (اس ص پر چار بار) سیدنا مسیح علیہ السلام کے رفع کا حضرت ابن جریر طبری نے ذکرفرمایا ہے جو دلیل ہے اس بات کی کہ وہ سیدنا مسیح علیہ السلام کے رفع کے قائل ہیں۔ ’’ہذا قبر رسول اللّٰہ عیسٰی بن مریم‘‘ میں سہو ہے۔ اصل میں ’ہذا قبر رسول رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم عیسیٰ بن مریم‘‘ تھا۔ یعنی یہ کتبہ عیسیٰ علیہ السلام کے حواری کی قبر کا ہے۔ (ب)اس پر ایک مزید دلیل یہ بھی ہے کہ اس کے بعد کئی صفحات تک سیدنا مسیح علیہ السلام کے حواریوں کا ذکر ہے۔

439

جواب:

۳… ہم مسیح علیہ السلام کی حیات رفع الی السماء ونزول الی الارض پر قرآنی دلائل میں ابن جریر کی تفسیر کے بیسیوں حوالے نقل کر چکے ہیں۔ اس کے باوجود قادیانیوں سے کہتے ہیں کہ تمام بحث کو اسی کتاب تاریخ طبری پر منحصر کر لیتے ہیں جو تاریخ طبری کہہ دے وہ آپ بھی مان لیں۔ ہم بھی بسروچشم تسلیم کر لیتے ہیں۔ لیجئے! (تاریخ طبری کی اسی ج۱ ص۴۹۵) پر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی یہ روایت موجود ہے۔ ’’اِنَّ اللّٰہَ رَفَعَہُ بِجَسَدِہِ وَاِنَّہٗ لَحَیٌّ الان‘‘ تحقیق ﷲتعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو جسم سمیت اٹھالیا اور وہ اس وقت تک زندہ ہیں۔ غرض قادیانیوں میں انصاف نام کی کسی چیز کی کوئی رمق باقی ہے تو وہ اس صریح عبارت اور ابن عباس رضی اللہ عنہ وابن جریر رحمۃ اللہ علیہ کے فیصلہ کے مطابق اپنا عقیدہ بنا لیں۔ ﷲتعالیٰ توفیق بخشیں۔ ’’ہو الہادی وہو یہدی الٰی السبیل الحق اٰمین بحرمۃ النبی الکریم ﷺ‘‘

قادیانی سوال:۴۹

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی عمر ازروئے احادیث؟

جواب:

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی عمر کے چار حصے ہیں۔ بعثت نبوت سے پہلے، زمانۂ بعثت نبوت، زمانۂ رفع، زمانہ بعد نزول، قبل از بعثت کا زمانہ اور اس کی تعیین کا ذکر حدیثوں میں کہیں نہیں اور زمانۂ رفع کابھی بوجہ غیرمتعلق ہونے کے احادیث میں مذکور نہیں اور زمانۂ بعثت نبوت کا ذکر احادیث میں آیا ہے: ’’اخرج ابن سعد عن ابراہیم النخعی قال قال رسول اللّٰہ ﷺ یعیش کل نبی نصف عمر الذی قبلہ وان عیسٰی علیہ السلام مکث فی قومہ اربعین عامًا (خصائص الکبریٰ وکنزالعمال ج۱۱ ص۴۷۸، حدیث:۳۲۲۶۰، الباب الثانی فی فضائل سائر الانبیاء، فصل اوّل من الاکمال) یا فاطمۃ رضی اللہ عنہا انہ لم یبعث نبی علیہ السلام عمر الذی بعدہ نصف عمرہ وان عیسٰی بن مریم علیہ السلام بعث رسولًا لاربعین وانی بعثت لعشرین (کنزالعمال ج۱۱ ص۴۷۸، حدیث:۳۲۲۵۹، باب ایضًا)‘‘

یعنی ہر نبی کی عمر بعثت پہلے نبی کی عمر بعثت سے نصف ہوتی ہے۔ چنانچہ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام مبعوث ہوکر چالیس برس اپنی قوم میں ٹھہرے اور میں بیس بس کے لئے مبعوث ہوا ہوں۔

اور نزول کے بعد کا زمانہ بھی احادیث میں مذکور ہے: ’’عن ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ مرفوعًا ینزل عیسٰی علیہ السلام… فیمکث فی الارض اربعین سنۃ ثم یتوفٰی (ابوداؤد ج۲ ص۱۳۵، باب ذکر الدجال) عن عبداللّٰہ بن عمر رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللّٰہ ﷺ ینزل عیسٰی بن مریم علیہ السلام الٰی الارض… ویمکث خمسًا واربعین سنۃ ثم یموت الخ رواہ ابن الجوزی فی کتاب الوفاء (مشکوٰۃ ص۴۸۰، باب نزول عیسٰی علیہ السلام)‘‘ اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ایک دوسری روایت بھی ہے۔ ’’عن ابن عمر رضی اللہ عنہ انہ یمکث فی الارض (بعد نزولہ) سبع سنین لیس بین اثنین عداوۃ (مشکوٰۃ ص۴۸۱، باب لاتقوم الساعۃ الاعلی شرار الناس)‘‘ یعنی عیسیٰ علیہ السلام بعد نزول بحساب شمسی ۴۰برس اور حساب قمری سے جبر کسر کے ساتھ ۴۵برس زمین پر رہیں گے اور ان چالیس میں ۷برس دجال کے قتل کرنے کے بعد اور ملت واحدہ ہونے کے بعد جیسا کہ ’’صفت لیس بین اثنین عداوۃ‘‘ دلالت کرتی ہے۔ زمین پر رہیں گے جیسے کہ ان احادیث سے معلوم ہوا کہ عیسیٰ علیہ السلام کا زمانہ بعثت ۴۰برس تھا اور حضور ﷺ کا اس کے نصف۲۰ کیونکہ بعد کے نبی کا زمانہ بعثت پہلے نبی کے زمانہ

440

بعثت سے نصف ہوتا ہے۔ ایسے ہی کل عمر کے متعلق بھی جو زمین پر گزری اور گزرے گی۔ احادیث میں ہے جو یہی اختلاط بین الناس کا زمانہ ہے۔ ’’انہ لم یکن نبی کان بعدہ نبی الاعاش نصف عمر الذی قبلہ وان عیسٰی بن مریم علیہ السلام عاش عشرین ومأۃ وانی لا رانی الا ذاہبًا علی رأس الستین (کنزالعمال ج۱۱ ص۴۸۷، حدیث:۳۲۲۶۲، باب ایضاً)‘‘ یعنی بعد کے نبی کا زمانہ معیشت پہلے نبی کے زمانہ معیشت سے نصف ہوتا ہے اور عیسیٰ علیہ السلام کا زمانہ معیشت ۱۲۰برس ہوا اور میراخیال ہے کہ میں ۶۰برس کے شروع پر انتقال کرنے والا ہوں۔ (اور عمر عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق ۳۳برس کی روایت تو مرفوعاً کہیں ثابت نہیں بلکہ اس کو قول نصاریٰ بتلایا گیا ہے۔ چنانچہ شرح مواہب وزاد المعاد وجمل میں مشرح لکھا ہے اور جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے جلالین میں ۳۳برس لکھا اور مرقاۃ الصعود میں اپنا رجوع نقل کرتے ہیں) اور لفظ عاش ماضی لانے کی یہ وجہ ہوئی کہ دیگر انبیاء علیہم السلام کے حق میں تو ماضی ہی صادق تھا اور بحق عیسیٰ علیہ السلام دو حصوں یعنی زمانہ قبل از بعثت اور زمانہ بعثت قبل از رفع کے اعتبار سے تو صادق ہے۔ اس کے ساتھ ہی حضور ﷺ کو صرف تنصیف عمر بیان کرنی منظور تھی۔ لہٰذا حصہ ثالثہ یعنی زمانہ بعد نزول کو ماضی ہی میں لپیٹ دیا تاکہ بیان تنصیف عمر میں تطویل لاطائل نہ اختیار کرنی پڑے اور تنصیف کل عمر اور تنصیف عمر نبوت ہر دو اعتبار سے معہ رعایت اختصار مستقیم ہو جائے اور سلسلہ نظم عبارت بھی بحال رہے۔ سبحان ﷲ! کس قدر بلاغت ہے۔ جب کہ یہ بات صاف ہو گئی کہ کل عمر جو زمین پر گزرے گی وہ ایک سو بیس برس ہے اور چالیس برس بحذف کسر بعد نزول زمین پر رہنے کی مدت ثابت ہے اور چالیس برس بعثت کے زمانہ کی بھی ثابت ہے۔ یہ ۸۰برس تو احادیث سے معلوم ہو گئے باقی رہے چالیس۔ معلوم ہوا کہ یہ زمانہ قبل بعثت کا ہے۔ کیونکہ آپ کی چالیس برس کی عمر میں بعثت ہوئی ہے جو کہ یہی عمر انبیاء ورسل کی بعثت کی مقرر ہے۔ جیسا کہ (زاد المعاد برحاشیہ شرح مواہب ج۱ ص۶۴) پر مذکور ہے اور جب یہ معلوم ہوگیا تو اب یہ بھی معلوم ہوگیا کہ آپ کا رفع اسی برس کی عمر میں ہوا۔ چنانچہ اصابہ میں سعید بن مسیب سے اسی طرح مذکور ہے اور چالیس برس بعد نزول رہ کر ۱۲۰برس ہوئے۔ یہ سب عمریں بحذف کسر ہیں اور بعض علماء نے ۱۲۰برس میں رفع فرمایا ہے اور ۴۰برس جو بعد نزول ہوگا اس کو نظرانداز کیا۔ کیونکہ یہ حصہ عمر بحیثیت خلافت وامامت گزرے گا۔ رسالت ونبوت کی ڈیوٹی پر نہ ہوں گے۔ افسوس مرزائی امت جس حدیث کو پیش کیاکرتے ہیں وہ تو انہی کی جڑ کاٹ رہی ہے۔ کیونکہ جب کہ بعد کے نبی کی عمر پہلے نبی کی عمر سے نصف ہوتی ہے تو مرزاقادیانی کدھر سے نبی ہوگئے۔ کیونکہ مرزاقادیانی کی عمر تو بجائے نصف کے حضور ﷺ کی عمر سے زیادہ ہے۔ بلکہ ان حدیثوں سے ہی یہ معلوم ہوگیا کہ حضور ﷺ کے بعد کوئی نبی مبعوث نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ اگر کوئی نبی مبعوث ہوگا تو اس کی عمر حضور ﷺ کی عمر کے نصف یعنی ۳۰برس کی ہوگی۔ حالانکہ یہ عمر عمر بعثت ہی نہیں بلکہ ۱۰برس زمانہ مدت بعثت نکال کر ۲۰برس کی عمر میں بعثت ہوگی۔ وہو باطل!

خلاصۂ بحث

۱… حضرت مسیح علیہ السلام کی عمر کے بارے میں اختلاف ضرور ہے۔ لیکن ٹھوس بات کسی کی نہیں۔ جیسا کہ حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ کے انداز سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے ۳۳اور۱۲۰کے دونوں قول ذکر کر کے بلافیصلہ چھوڑ دیا ہے۔ (فتح الباری ج۲ ص۳۸۲) بعض ۳۳سال کہتے ہیں۔ جس کو حافظ ابن کثیر اور زرقانی شارح مواہب نے ترجیح دی ہے۔

(تفسیر ابن کثیر پارہ:۶، سورہ نساء وفتح البیان ج۲ ص۴۹۹)

441

مگر اس قول کو حافظ ابن القیم رحمۃ اللہ علیہ بے اصل قرار دیتے ہیں۔ (زادالمعاد ج۱ ص۱۹) دوسرا قال ۱۲۰سال کا ہے۔ جس کو حافظ ابن کثیر شاذ، غریب البعید (حوالہ مذکورہ) قرار دیتے ہیں۔ اس کی تائید میں طبرانی اور حاکم کے حوالہ سے بروایت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا جو روایت ذکر کی جاتی ہے وہ سخت ضعیف اور کمزور ہونے کے باعث دلیل بننے کے قابل نہیں۔ حافظ ابن کثیر نے بحوالہ مستدرک حاکم ذکر کر کے اس کو ’’حدیث غریب‘‘ (عجیب روایت) قرار دیا۔ (البدایۃ میں ج۲ ص۹۵ اور مجمع الزوائد ج۹ ص۲۳) بحوالہ طبرانی لاکر ضعیف کہہ دیا ہے۔

۲… البدایہ والی سند میں محمد بن عبد ﷲ بن عمرو بن عثمان نامی ایک راوی ہے جو مختلف فیہ سمجھا گیا ہے۔ تاہم حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’عندہ عجائب‘‘ اس کے پاس عجیب عجیب روایتیں ہیں۔ (میزان ج۲ ص۷۸، تہذیب ج۲ ص۲۶۹) گویا ان کے نزدیک یہ راوی مشتبہ ٹھہرا۔

۳… حضرت مسیح علیہ السلام کی عمر کے بارے میں اختلاف کرنے والے دونوں فریق اصل مسئلہ پر متفق ہیں۔ یعنی اختلاف اس میں نہیں کہ آسمان کی طرف رفع ہوا یا نہیں۔ رفع آسمانی پر سب متفق ہیں۔ اختلاف اس میں ہے کہ آسمان کی طرف اٹھائے جانے کے وقت عمر کیا تھی؟ اور یہی حاصل نواب صدیق حسن خاں رحمۃ اللہ علیہ کی بحث کا ہے۔ جس کو مرزائی پاکٹ بک کا مصنف (ص۳۳۱ پر) لئے بیٹھا ہے۔ چنانچہ (حجج الکرامۃ ص۴۲۸) میں بات رفع کی ہورہی ہے۔ وفات کا تو یہاں کوئی قصہ ہی نہیں۔

قادیانی دوستو! اسی مردود روایت کی بناء پر احادیث صحیحہ اور آیات قرآنیہ کی تردید کرتے ہو۔

قادیانی سوال:۵۰

کرہ زمہریر سے گزر کیسے؟

مرزاقادیانی (ازالہ اوہام ص۴۷، خزائن ج۳ ص۱۲۶) پر لکھتے ہیں کہ: ’’کسی جسد عنصری کا آسمان پر جانا سراسر محال ہے۔ اس لئے کہ ایک جسم عنصری طبقہ ناریہ اور کرۂ زمہریریہ سے کس طرح صحیح وسالم گزر سکتا ہے۔‘‘

جواب:

۱… جس طرح نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام کا لیلۃ المعراج میں اور ملائکۃ ﷲ کا لیل ونہار طبقہ ناریہ اور کرۂ زمہریریہ سے مرور وعبور ممکن ہے اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا بھی عبور ومرور ممکن ہے اور:

۲… جس راہ سے حضرت آدم علیہ السلام کا ہبوط اور نزول ہوا ہے اسی راہ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ہبوط ونزول بھی ممکن ہے۔

۳… حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر آسمان سے مائدہ کا نازل ہونا قرآن کریم میں صراحۃً مذکور ہے:’’کما قال تعالٰی اِذْ قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ یٰعِیْسٰی ابْنَ مَرْیَمَ ہَلْ یَسْتَطِیْعُ رَبُّکَ اَنْ یُّنَزِّلَ عَلَیْنَا مَآئِدَۃً مِّنَ السَّمَآ ء (اِلٰی قولہ تعالٰی) قَالَ عِیْسٰی ابْنُ مَرْیَمَ اللّٰہُمَّ رَبَّنَا اَنْزِلْ عَلَیْنَا مَآئِدَۃً مِّنَ السَّمَآ ء تَکُوْنُ لَنَا عِیْدًا لِّاَوَّلِنَا وَاٰخِرِنَا وَاٰیَۃً مِّنْکَ وَارْزُقْنَا وَاَنْتَ خَیْرُ الرَّازِقِیْنَ قَالَ اللّٰہُ اِنِّیْ مُنَزِّلَہَا عَلَیْکُمْ (مائدۃ:۱۱۲،۱۱۴،۱۱۵)‘‘ پس اس مائدہ کا نزول بھی طبقہ ناریہ میں ہوکر ہوا ہے۔ مرزاقادیانی کے زعم فاسد اور خیال باطل کی بناء پر اگر وہ نازل ہوا ہوگا تو طبقہ ناریہ کی حرارت اور گرمی سے جل کر خاکستر ہوگیا ہوگا؟ نعوذ بِاللہ من ہذہ الخرافات! یہ سب شیاطین الانس کے وسوسے ہیں اور انبیاء ومرسلین کی آیات نبوت اور کرامات رسالت پر ایمان نہ لانے کے بہانے

442

ہیں۔ کیا خداوند ذوالجلال عیسیٰ علیہ السلام کے لئے طبقہ ناریہ کو ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طرح برد اور سلام نہیں بناسکتا؟ جب کہ اس کی شان یہ ہے: ’’اِنَّمَا اَمْرُہٗ اِذَا اَرَادَ شَیْئًا اَنْ یَّقُوْلَ لَہٗ کُنْ فَیَکُوْنُ (یٰسین:۸۲)‘‘

۴… ان کروں سے روح القدس کا آسمان سے زمین اور زمین سے آسمانوں پر جانا تمام نیک ارواح کا آسمانوں پر جانا تسلیم ہے تو سیدنا روح ﷲ کے لئے یہ کرے مانع آگئے؟

قادیانی سوال:۵۱

قادیانی بعض اکابر امت کی عبارات میں تحریف کر کے ثابت کرتے ہیں کہ معاذ ﷲ وہ وفات مسیح علیہ السلام کے قائل تھے۔

جواب:

مرزاقادیانی نے (آئینہ کمالات اسلام ص۴۲۶، خزائن ج۵ ص ایضاً) پر لکھا ہے کہ: ’’وفات مسیح کا عقیدہ مجھ سے پہلے پردہ اخفاء میں تھا۔‘‘ اگر یہ صحیح ہے تو پہلے کے بزرگ کیسے وفات مسیح کے قائل تھے؟ اس سے ثابت ہوا کہ وہ بزرگوں پر افتراء کرتا ہے۔

قادیانی سوال: ۵۲

نبی کریم ﷺ نے پہلے مسیح اور آنے والے مسیح علیہ السلام کا رنگ، حلیہ، قد علیحدہ علیحدہ بیان کیا ہے۔

الجواب:

اس طرح سے اگر دو عیسیٰ ہو جاتے ہیں تو دو موسیٰ بھی ماننا ہوں گے۔ کیونکہ ایسا ہی اختلاف سراپا موسیٰ میں بھی اسی حدیث میں مذکور ہے۔ ملاحظہ ہو: ’’مُوْسٰی رَجُلاً اٰدَمَ طِوَالًا جَعْدَ کَاَنَّہٗ مِنْ رِجَالِ شَنُوْء ۃَ وَرَأَیْتُ عِیْسٰی رَجُلاً مَرْفُوْعًا مَرْبُوْعَ الْخَلْقِ اِلَی الْحُمُرَۃِ وَالْبَیَاضِ سَبَطَ الرَّأَس (بخاری ج۱ ص۴۵۹)‘‘ حضرت موسیٰ علیہ السلام گندمی رنگ، قد لمبا، گھنگریالے بال والے تھے۔ جیسے یمن کے قبیلہ شنوء ہ کے لوگ اور عیسیٰ علیہ السلام درمیانہ قد سرخ وسفید رنگ، سیدھے بال والے، اور کتاب الانبیاء میں ہے۔

’’لقیت موسٰی قال فنعتہ فاذا رجل حسبتہ قال مضطرب رجل الرأس کانہ من رجال شنوء ۃ قال ولقیت عیسٰی فنعتہ النبی ﷺ قال ربعۃ احمر (وفی الحدیث الذی بعدہ) عیسٰی بعد مربوع (بخاری ج۱ ص۴۸۹، باب واذکر فی الکتاب مریم)‘‘ یعنی موسیٰ علیہ السلام دبلے سیدھے بال والے تھے۔ جیسے شنوء ہ کے لوگ اور عیسیٰ علیہ السلام میانہ قد سرخ رنگ کے گھنگرالے بال والے۔ پہلی حدیث میں موسیٰ علیہ السلام گھنگرالے بال والے تھے اور عیسیٰ علیہ السلام سیدھے بال والے۔ اس حدیث میں موسیٰ علیہ السلام سیدھے بال والے تھے اور عیسیٰ علیہ السلام گھنگریالے بال والے۔ پس دو موسیٰ اور دو عیسیٰ ہوئے (اور سنئے) یعنی عیسیٰ علیہ السلام کا رنگ سرخ، بال گھنگرالے اور سینہ چوڑا ہے۔ لیکن موسیٰ علیہ السلام کا رنگ گندمی ہے۔ موٹے بدن کے سیدھے بال والے جیسے جاٹ لوگ ہوتے ہیں۔ پہلی حدیث کے موسیٰ دبلے پتلے شنوء ہ والوں کی طرح تھے اور اس حدیث کے موسیٰ موٹے بدن کے جاٹوں کی طرح ہیں۔ پہلی حدیث کے عیسیٰ علیہ السلام کا رنگ سفید سرخی مائل ہے۔ دوسری اور تیسری حدیث کے عیسیٰ کا رنگ بالکل سرخ۔ اس بناء پر جب دو عیسیٰ ہوسکتے ہیں ایک پہلا اور ایک ہونے والا تو موسیٰ بھی دو ہوسکتے ہیں؟ معاذ ﷲ!

443

عیسیٰ علیہ السلام کے رنگ وحلیہ کے اختلافات کی حدیثیں

ورنہ حقیقت میں نہ موسیٰ علیہ السلام کے حلئے میں اختلاف ہے۔ نہ عیسیٰ علیہ السلام کے رنگ وحلیہ میں جس سے کہ دو ہستیاں سمجھی جاسکیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام کے بیان میں لفظ ’’جعد‘‘ کے معنی گھنگرالے بال کے نہیں بلکہ کٹھیلے بدن کے ہیں۔ نہایہ ابن اثیر میں ہے: ’’مَعْنَاہُ شَدِیْدُ الْاَسْرِا وَالْخَلْقِ نَاقَۃٌ جْعَدَۃٌ اَیَ مُجْتَمِعَۃُ الْخَلْقِ شَدِیْدَۃٌ‘‘ یعنی جعد کے معنی جوڑو بند کا سخت ہونا جعدہ اونٹنی مضبوط جوڑ بند والی۔ مجمع البحار میں ہے: ’’اَمَّا مُوْسٰی فَجُعَدٌ اَرَادَ جُعُوْدَۃَ اَلْجِسِ وَہُوَ اِجْتَمَاعُہٗ وَاکتِنَازُہٗ لاضد سُبُوْطَۃُ الشِّعْرِ لِاَنَّہٗ رُوِیَ اَنَّہٗ رِجْلُ الشِّعْرِ وَکَذَا فِیْ وَصْفِ عِیْسٰی (ج۱ ص۱۹۶ کذافی فتح الباری ص۲۷۶ پ۱۳ ونووی شرح مسلم ج۱ ص۹۴)‘‘ یعنی حدیث میں موسیٰ وعیسیٰ کے لئے جو لفظ جعد آیا ہے اس کے معنی بدن کا گٹھیلا ہونا ہے۔ نہ بالوں کا گھنگر ہونا کیونکہ ان کے بالوں کا سیدھا ہونا ثابت ہے۔ اسی طرح لفظ ضرب اور جسیم میں بھی اختلاف نہیں ہے۔ ضرب بمعنی نحیف البدن اور جسیم بمعنی طویل البدن: ’’قال القاضی عیاض المراد باالجسیم فی صفۃ موسٰی الزیادہ فی الطول (فتح الباری ص۲۷۶ پ:۳)‘‘ یعنی صفت موسیٰ میں لفظ جسیم کے معنی لمبائی میں زیادتی ہے۔ اسی طور سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رنگ میں بھی اختلاف نہیں ہے۔ لفظ احمر کا صحابی راوی نے سخت انکار کیا ہے۔ چنانچہ صحیح بخاری میں موجود ہے: ’’عَنِ ابْنِ عُمُرُ قَالَ لَا وَاللّٰہِ مَاقَالَ النَّبِیٌّa لَعِیْسٰی اَحْمَرَ (بخاری ج۱ ص۴۸۹)‘‘ حضرت عبد ﷲ بن عمر رضی اللہ عنہ قسم کھا کر فرماتے ہیں کہ قسم ہے ﷲ کی آنحضرت ﷺ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی صفت میں احمر (یعنی سرخ رنگ) کبھی نہیں فرمایا۔ پس پہلا رنگ برقرار رہا۔ یعنی سفید رنگ سرخی مائل لہٰذا رنگ وحلیہ کا اختلاف حضرت موسیٰ علیہ السلام وعیسیٰ علیہ السلام سے مدفوع ہے اور حقیقت میں جیسے موسیٰ علیہ السلام ایک تھے عیسیٰ علیہ السلام بھی ایک ہی ہیں۔

قادیانی سوال:۵۳

یہ ایک عام قانون الٰہی ہر فرد بشر پر حاوی ہے تو کیونکر ہوسکتا ہے کہ اس کے صریح خلاف حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر موجود ہوں۔

الجواب:

۱… خاص دلائل سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات ثابت ہوچکی ہے اور علم اصول میں مقرر ومسلم ہے کہ خاص دلیل عام پر مقدم ہوتی ہے اور ان دونوں کے مقابلے میں دلیل خاص کا اعتبار کیا جاتا ہے۔ اس کے نظائر قرآن مجید میں بکثرت موجود ہیں۔ مثلاً عام انسانوں کی پیدائش کی نسبت فرمایا: ’’اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُطْفَۃٍ اَمْشَاجٍ (دہر:۲)‘‘ یعنی انسانوں کو ملے ہوئے نطفے سے پیدا کیا اور اس کے برخلاف حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوّا علیہا السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت خاص دلائل سے معلوم ہے کہ ان کی پیدائش بایں طور نہیں ہوئی پس ان کے متعلق دلیل خاص کا اعتبار کیاگیا اور دلیل عام کو ان کی نسبت چھوڑ دیا گیا ہے۔

۲… فرشتوں کی جائے قرار اصلی اور طبعی طور سے آسمان ہیں۔ مگر وہ عارضی طور پر مدت کے لئے زمین پر بھی رہتے ہیں۔

444

قادیانی سوال:۵۴

آنحضرت ﷺ کی حدیث شریف ہے کہ:’’عن عائشۃ رضی اللہ عنہا قالت قال رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم فی مرضہ الذی لم یقم منہ لعن اللّٰہ الیہود والنصاریٰ اتخذ واقبور انبیاء ہم مساجد (مسلم ج۱ ص۲۰۱، باب النہی عن بناء المساجد علی القبور)‘‘ ﷲتعالیٰ یہود ونصاریٰ پر لعنت کریں کہ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبور کو سجدہ گاہ بنایا۔ پس یہود کی حد تک تو بات ٹھیک ہے۔ نصاریٰ کے لعنتی ہونے کے لئے ضروری ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کی قبر کو وہ سجدہ گاہ بنائیں۔ ورنہ لعنتی کیسے؟ پس اس حدیث سے ثابت ہوا کہ عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوگئے۔

جواب:

۱… سیدنا آدم علیہ السلام سے سیدنا موسیٰ علیہ السلام تک تمام انبیاء کو یہودی برحق مانتے ہیں۔ سیدنا آدم علیہ السلام سے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام تک تمام انبیاء کو نصاریٰ برحق مانتے ہیں۔ یہود ونصاریٰ کا صرف مسیح علیہ السلام پر اختلاف ہے۔ مسیحی ان کو برحق اور یہودی ناحق مانتے ہیں۔ پس آدم علیہ السلام سے موسیٰ علیہ السلام تک یہود ونصاریٰ جن انبیاء کی قبور کو سجدہ گاہ بناتے ہیں وہ سب کے سب اس حدیث کے بموجب ملعون ہیں۔

جواب:

۲… یہ حدیث شریف ’’لعن اللّٰہ الیہود والنصاریٰ اتخذو قبور انبیاء ہم مساجد‘‘ سیدنا مسیح علیہ السلام کی وفات کی دلیل نہیں بلکہ حیات کی دلیل ہے۔ اس لئے کہ اس حدیث کی رو سے اگر مسیح علیہ السلام فوت شدہ ہوتے یا ان کی کہیں قبر ہوتی تو وہ مسجود نصاریٰ ہونی چاہئے۔ کسی قبر کا بطور قبر مسیح کے مسجود نصاریٰ ہونا تو درکنار وہ مسیح علیہ السلام کو زندہ مانتے ہیں۔ کسی قبر کو مسیح علیہ السلام کی قبر ہی نہیں مانتے تو ثابت ہوا کہ مسیح علیہ السلام زندہ ہیں۔ اگر فوت شدہ ہوتے تو ان کی قبر مسجود نصاریٰ ہوتی۔ پس یہ حدیث سیدنا مسیح علیہ السلام کی حیات کی دلیل ہے نہ کہ وفات کی۔

جواب:

۳… مسلم شریف کی جس روایت سے قادیانیوں نے استدلال کیا ہے۔ اسی کتاب کے اس صفحہ پر اس حدیث سے آگے چوتھی روایت میں اس کی ایسی وضاحت وصراحت ہے جو قادیانی دجل کو بیخ وبن سے اکھاڑ دیتی ہے۔ ’’عن جندب قال سمعت النبی ﷺ قبل ان یموت بخمسوہو یقول وان من کان قبلکم کانوا یتخذون قبور انبیاء ہم وصالحیہم مساجد الا فلا تتخذوا القبور مساجد انی انہاکم عن ذالک (مسلم ج۱ ص۲۰۱، باب النہی عن بناء المسجد علی القبور)‘‘ حضرت جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ سے میں نے سنا آپ ﷺ نے اپنی وفات سے پانچ دن قبل فرمایا: تم سے پہلے (امتوں کے لوگ) اپنے انبیاء وصلحاء کی قبور کو سجدہ گاہ بناتے تھے۔ خبردار تم قبور کو سجدہ گاہ نہ بنانا۔ میں تم کو اس سے منع کرتا ہوں۔

لیجئے! جب یہود ونصاریٰ کے ملعون ہونے کا ایک باعث یہ بھی ہے کہ وہ قبور انبیاء وصلحاء کو سجدہ گاہ بناتے تھے۔ پس ملعون ہونے کے لئے صرف قبور انبیاء کو سجدہ گاہ بنانا ضروری نہیں بلکہ اگر کوئی صلحاء کی قبور کو بھی سجدہ گاہ بناتا ہے تو وہ اس وعید کا مستحق ہے۔ نصاریٰ کے معلون ہونے کے لئے عیسیٰ علیہ السلام کی قبر کا ہونا شرط نہیں۔ بلکہ اگر وہ کسی صالح کی قبر کو سجدہ گاہ بنائیں گے تو اس وعید کے مستحق قرار پائیں گے۔ اس حدیث کی تعمیم نے سیدنا مسیح علیہ السلام کو اس سے خارج کر دیا۔ اس لئے کہ نہ ان کی قبر ہے نہ وہ مسجود نصاریٰ ہے۔ پس وہ زندہ ثابت ہوئے۔ مسیح کی حیات ثابت ہوئی نہ کہ وفات، البتہ اس حدیث نے قادیانی اعتراض کو ابدی موت دے دی۔

445

جواب:

۴… ’’اتخذوا قبور انبیائہم مساجد‘‘ میں ’’انبیائہم‘‘ میں اضافت استغراق کے لئے نہیں ہے کہ آدم علیہ السلام سے موسیٰ علیہ السلام تک ہر نبی کی قبر کو تمام یہودونصاریٰ نے سجدہ گاہ بنایا ہو۔ یہ یقینا اور واقعتا غلط ہے۔ اس لئے کہ ہزاروں انبیاء کی قبور کا تو پتہ تک نہیں۔ جب استغراق نہیں تو بعض میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو داخل کرلینا باطل اور مردود ہے۔ یہود ونصاریٰ کا بعض انبیاء کی قبور کو سجدہ گاہ بنالینا حدیث کی صداقت کے لئے کافی ہے۔

قادیانی سوال:۵۵

سیدنا عیسیٰ علیہ السلام اگر زندہ ہیں تو تم ان کو آسمانوں سے اتار کیوں نہیں لاتے؟

جواب:

قادیانی جب جل بھن جاتے ہیں تو پھر یہ اعتراض کر دیتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں تو آسمانوں سے اتار لاؤ۔ عرصہ ہوا ایک بار قادیانیوں نے ’’منہ مانگا انعام‘‘ مقرر کر کے اشتہار شائع کیا۔ اس کا حضرت مولانا محمد اکرم طوفانی صاحب مدظلہ کی طرف سے جواب شائع ہوا۔ مولانا کا اشتہار سامنے نہیں تاہم مولانا نے جو شائع کیا اس کا مفہوم یہ تھا۔

۱… سیدنا عیسیٰ علیہ السلام قرآن وسنت واجماع امت کی رو سے آسمانوں پر زندہ ہیں۔ ان کو آسمانوں پر لے جانے والی ذات ﷲتعالیٰ کی ہے۔ کسی انسان سے نازل کرنے کے مطالبہ کی بجائے یہ مطالبہ ﷲتعالیٰ سے کریں تاکہ قادیانیوں کا کفار مکہ کی سنت پر عمل ہو جائے۔ جنہوں نے آنحضرت ﷺ سے کہا تھا کہ ہمارے سامنے آپ ﷺ آسمانوں سے اتر کر کتاب ہمراہ لائیں جو ہمارے نام لکھی گئی ہو۔ اسے پڑھ کر پھر ایمان لائیں گے۔

۲… سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا نزول من السماء قیامت کی بڑی نشانیوں میں سے ہے۔ جسے دابۃ الارض کا خروج، دجال کا خروج وغیرہ۔ یہ اعتراض تب قادیانی کر سکتے تھے جب قیامت آجاتی۔ یہ علامات پوری ہو جاتیں اور عیسیٰ علیہ السلام تشریف نہ لاتے۔ تب قادیانی واویلا سمجھ میں آسکتا تھا۔ شریفو! جب قیامت کی دیگر علامات کبریٰ ظاہر نہیں ہوئیں تو اس ایک پرواویلا کرنا قبل از مرگ واویلا والی بات ہے۔

۳… انعام مقرر کرنے کرانے کا شوق ہے تو چشم ماروشن دل ماشاد۔ آئیے! غور کیجئے کہ کسی کو آسمانوں پر لے جانا واپس لانا انسان کے بس کی بات نہیں۔ یہ ﷲتعالیٰ کے کرم وقدرت کے فیصلے ہیں۔ اس میں انسان دخل نہیں دے سکتا۔ البتہ کسی انسان کی زندگی غلط یا صحیح۔ کردار درست یا غلط پر بحث کرنا انسان کے لئے آسان ہے۔ قادیانی آئیں، مرزاغلام احمد قادیانی کو نبی تو درکنار شریف انسان ثابت کر دیں اور ہم مرزاقادیانی کو بدکردار، شراب کا پاپی، غیر محرم عورتوں سے مٹھیاں بھروانے والا، کبھی کبھی زنا کرنے والا، بددیانت، بداخلاق، بدزبان، جھوٹا، مکار، عیار، فریبی، دغاباز ثابت کرتے ہیں۔ تم اسے شریف انسان ثابت کردو تو میں ایک کروڑ روپیہ تمہیں انعام دینے کے لئے تیار ہوں۔ آئیں، شرائط طے کریں۔ گفتگو ہو جائے جو انسانی بس میں ہے۔ اس پر عمل کر کے کروڑوں کا انعام حاصل کرو۔ چونکہ مولانا طوفانی صاحب کے اس اشتہار کو چناب نگر میں گلی گلی تقسیم کیاگیا تھا۔ قادیانی پریس نے الفضل لندن تک اس پر گالیوں کی بوچھاڑ کی۔ مگر قادیانی مردمیدان نہ بنے۔ سمجھئے صاحب! سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا نزول من السماء الی الارض الدنیا قیامت کی نشانی ہے۔ قیامت کے قریب سب کچھ ہوگا۔ قیامت کب آئے گی۔ اس کا علم سوائے ﷲتعالیٰ کے کسی کو نہیں۔ اس کے وقوع سے قبل اس قسم کے اعتراضات سنت کفار ہیں نہ کہ طریقہ اخیار۔ فافہم!

446

قادیانی سوال:۵۶

سیدنا مسیح علیہ السلام ومہدی علیہ السلام کس فرقہ سے ہوں گے۔ اس وقت دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث، شیعہ، حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی مختلف مسالک ہیں۔ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام اور سیدنا مہدی علیہ الرضوان کس مسلک کے ہوئے۔ نیز ان پر امت کا اتفاق کیسے ہوگا؟

جواب:

۱… سیدنا عیسیٰ علیہ السلام ﷲ رب العزت کے جلیل القدر نبی ہیں۔ ان کی تشریف آوری کے صرف اہل اسلام ہی نہیں بلکہ اہل کتاب بھی منتظر ہیں۔ اسی طرح سیدنا مہدی علیہ الرضوان آنحضرت ﷺ کی امت کے وہ جلیل القدر فرد ہیں جن کی تشریف آوری کی آنحضرت ﷺ نے خبر دی اس لئے پوری امت ان کی تشریف آوری پر آنحضرت ﷺ کے فرمان کے پورا ہونے کا منظر دیکھنے کی سعادت کے لئے چشم براہ ہے۔ اس لئے ان کی آمد پر پوری امت کا ایسا اتحاد واتفاق کا قابل دید منظر ہوگا کہ اس وقت تمام اختلاف ورنجشیں ختم ہو جائیں گی۔ ایسا اتحاد واتفاق کا منظر کہ بچے سانپ سے کھیلیں گے۔ شیربکریوں کے ساتھ چرے گا۔ پس ان کی آمد پر اتفاق ہوگا نہ کہ اختلاف۔

۲… سیدنا عیسیٰ علیہ السلام وسیدنا مہدی علیہ السلام ایسے مقام پر فائز ہوں گے کہ پوری دنیا ان کی پیروی کرے گی۔ جیسا کہ ’’یہلک الملل کلہا الاملۃ واحدۃ‘‘ کا تقاضہ ہے۔ پس ان کے آنے پر تفرقہ بازی ختم ہوگی نہ کہ وہ خود تفرقہ کا شکار ہوں گے۔ سیدنا مہدی علیہ الرضوان کی بیعت بیت ﷲ شریف میں ہوگی۔ آج بھی بیت ﷲ شریف میں حاضر ہونے والوں کا عموماً منظر یہ ہے کہ ایک ہی امام کے پیچھے تمام فقہوں تمام مسالک وتمام ممالک والے صف آراء ہوتے ہیں تو سیدنا مسیح ومہدی علیہما السلام کی آمد پر امت کی ایسی صف بندی ہوگی کہ اس میں کسی کو کوئی دراڑ تک نظر نہ آئے گی۔ کاالجسد الواحد کا منظر ہوگا۔

۳… دور کیوں جاتے ہیں۔ خود پاکستان اور برصغیر میں مشترکہ مقاصد کے لئے اتفاق کی راہیں بنتی رہیں۔ تحاریک ختم نبوت میں تمام مسالک اکٹھے ہوئے۔ جعلی مہدی وفرضی مسیح مرزاقادیانی کے نظریات کے جواب کے لئے امت اکٹھی ہوئی۔ تاکہ سیدنا مسیح بن مریم علیہماالسلام اور مہدی علیہ الرضوان کی مسند پر کوئی غلط آدمی براجمان نہ ہو۔ جب ان ہر دو حضرات کے مسند ومقام کے تحفظ کے لئے امت کے اکٹھا ہونے کی لازوال مثالیںموجود ہیں تو ان کی تشریف آوری پر اتحاد ویگانگت کے نہ ہونے کی بات کرنا ابلہ فریبی نہیں تو اور کیا ہے؟

۴… غرض ان کی آمد پر اتفاق ہوگا۔ اس وقت اتحاد کا نہ ہونا غلام احمد قادیانی کے کذب کی صریح دلیل ہے۔ بلکہ اس کے ماننے والوں کا لاہوری وقادیانی گروپس میں تقسیم ہونا ’’ظلمات بعضہا فوق بعض‘‘ کا مصداق ہے۔

قادیانی اعتراض:۵۷

تقدیم وتاخیر الحاد ہے۔

جواب:

واؤ جمع کے لئے ہوتی ہے۔ ترتیب کے لئے ذیل میں قرآن مجید سے مثالیں ہوں:

’’واسجدی وارکعی مع الراکعین‘‘ حالانکہ رکوع، سجود پر بالاجماع مقدم ہے۔ ایک جگہ قرآن میں ہے: ’’قولو حطۃ وادخلوا الباب

447

سجدًا (سورۃ اعراف)‘‘ اگر واؤ میں ترتیب ہو تو ان دونوں میں تعارض لازم آتا۔ ’’واوحینا الٰی ابراہیم واسماعیل واسحق ویعقوب والاسباط وعیسٰی وایوب ویونس وہارون وسلیمان‘‘ حالانکہ ایوب، یونس، ہارون، سلیمان، حضرت عیسیٰ پر مقدم ہیں۔ ’’قال تعالٰی ماہی الا حیاتنا الدنیا نموت ونحیٰ‘‘ حالانکہ حیاۃ موت پر مقدم ہے۔ ’’قولہ تعالٰی حتی تستانسوا وتسلموا‘‘ حالانکہ شرعاً سلام مقدم ہوتا ہے استیذان پر، اور ’’ان الصفا والمروۃ من شعائر ﷲ‘‘ جب نازل ہوئی تو صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے عرض کیا کہ پہلے صفا کا طواف کریں یا مروہ کا تو حضور ﷺ نے فرمایا صفا سے اگر واؤ ترتیب کے لئے موضوع ہوتا تو اس سوال کی کوئی حاجت نہ تھی اور جمیع نحاۃ کا اتفاق ہے کہ واؤ ترتیب کے لئے نہیں مطلق جمع کے لئے ہے۔

قادیانیوں سے سوال

۱… مرزاقادیانی نے لکھا کہ: ’’سچ کی یہی نشانی ہے کہ اس کی کوئی نظیر بھی ہوتی ہے اور جھوٹ کی یہ نشانی ہے کہ اس کی کوئی نظیر نہیں ہوتی۔‘‘ (تحفہ گولڑویہ ص۶، خزائن ج۱۷ ص۹۵)

قادیانی فرمائیں کہ مرزاقادیانی نے کہا کہ میں مسیح علیہ السلام کا بروز ہوں۔ کیا امت میں سے آج تک کسی نے بروز مسیح ہونے کا دعویٰ کیا؟ نہیں تو مرزاقادیانی کے جھوٹے ہونے میں کیا کلام رہ جاتا ہے؟

۲… مرزا قادیانی نے کہا کہ میں اس صدی کا مجدد ہوں اور اپنا عقیدہ بتایا کہ مسیح فوت ہوگئے۔ ان کی جگہ میں مسیح ہوں۔ کیا تیرہ صدیوں کے کسی مجدد نے اپنا وفات مسیح کا عقیدہ بتایا؟ یا کسی مجدد نے اپنے آپ کو بروز مسیح کہا؟ کوئی اس کی نظیر لاسکتے ہو؟ نہیں تو اگر تیرہ صدیوں کے مجدد صحیح تھے تو مرزا قادیانی غلط اور اگر مرزا قادیانی صحیح تو تیرہ صدیوں کے مجدد غلط۔ مرزائی فیصلہ کریں۔

۳… مرزا قادیانی نے کہا کہ میں ظلی طور پر محمدرسول ﷲ ہوں۔ اس دعویٰ پر پوری امت میں کوئی نظیر قادیانی دکھاسکتے ہیں کہ آج تک کسی امت کے فرد نے خود کو محمدرسول ﷲ قرار دیا ہو؟

۴… مرزا قادیانی نے کہا کہ پوری امت سے نبوت کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا۔ (حقیقت الوحی ص۳۹۱، خزائن ج۲۲ص۴۰۶) ’’میں ہی مخصوص کیا گیا۔‘‘ یہ الفاظ بتارہے ہیں کہ اس کی امت میں نظیر نہیں۔ مرزا قادیانی کا اقرار ہے جس کی نظیر نہ ہو وہ جھوٹ ہے۔ تو مرزائی بتائیں کہ مرزا قادیانی کے جھوٹے ہونے میں کوئی کسر رہ گئی؟

۵… کیا تیرہ صدیوں کے کسی ایک مجدد نے کہا کہ عیسیٰ علیہ السلام کی قبر کشمیر سری نگر محلہ خانیار میں ہے۔ کسی ایک مجدد یا تیرہ صدیوں کے کسی ایک قابل مفسر یا قابل ذکر ایک مؤرخ کا قادیانی نام بتاسکتے ہیں۔ قیامت تک؟

۶… مرزا قادیانی نے (حقیقت الوحی ص۳۱، خزائن ج۲۲ص۳۳) پر کہا کہ: : ’’ أانت قلت للناس‘‘ کا سوال حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے قیامت کے روز ہوگا۔‘‘ اور (ازالہ اوہام ص۲۴۸، خزائن ج۳ص۴۲۵) پر کہا کہ :’’ یہ قصہ وقت نزول آیت زمانہ ماضی کا……‘‘ کیا ایک ہی واقعہ میں زمانہ ماضی اور مستقبل دونوں پائے جاسکتے ہیں؟

۷… مرزا قادیانی نے (آئینہ کمالات ص۵۲۶، خزائن ج۵ ص ایضاً) پر لکھا ہے کہ: ’’وفات مسیح کا عقیدہ مجھ پر کھولا گیا۔ اس سے پہلے پردہ اخفاء میں رکھا گیا تھا۔‘‘ اگر پردہ اخفاء میں تھا تو پہلے کے بزرگ کیسے قائل تھے۔ اگر وہ قائل تھے تو پھر پردہ اخفاء کیسا؟

448

قادیانی شبہات کے جوابات

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

000

کذب مرزا قاد یانی

 

 

 

جلد سوم

449

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

تفصیلی فہرست

  1. پیش لفظ Page ۴۶۴

    باب اوّل … مرزاغلام احمد قادیانی کے حالات

    نسب وخاندان Page ۴۶۵ چینی الاصل Page ۴۶۶ شجرۂ نسب Page ۴۶۶ شجرۂ مرزا Page ۴۶۶ خاندان مرزا Page ۴۶۶ پیدائش مرزا Page ۴۶۷ مرزاقادیانی کی ماں کا نام Page ۴۶۷ مرزاقادیانی کے استاد Page ۴۶۷ مرزاغلام احمد قادیانی کا بچپن … ’’چڑیاں پکڑنا‘‘ Page ۴۶۸ میاں ’’محمود احمد‘‘ کا چڑیاں پکڑنا Page ۴۶۸ چوری کرنا Page ۴۶۸ روٹی پر راکھ Page ۴۶۸ مرزا’’غلام احمد قادیانی‘‘ کی جوانی … باپ کی پنشن Page ۴۶۹ ٹہلتے ٹہلتے کھانا Page ۴۶۹ مرزاقادیانی کا ازار بند Page ۴۶۹ مرزاقادیانی کی گرگابی Page ۴۶۹ الٹی جراب، الٹے بٹن، الٹی جوتی Page ۴۷۰ صدری کے بٹن کوٹ کے کاج میں Page ۴۷۰ کپڑے تکیہ کے نیچے Page ۴۷۰ جیب میں اینٹ Page ۴۷۰ انگلی سے سالن لینا Page ۴۷۰ بائیں ہاتھ سے چائے، پانی پینا Page ۴۷۰ مرزا قادیانی اور شراب Page ۴۷۱
450
  1. گڑ اور ڈھیلے Page ۴۷۱ مرزاقادیانی اور کتا Page ۴۷۱ مرزے کا کتا Page ۴۷۱ مرزا کتوں کا شکار کھیلتا تھا Page ۴۷۱ اسٹیشن کی سیر Page ۴۷۲ تھیٹر دیکھنا Page ۴۷۲ مرزاغلام احمد قادیانی کی حالت زار … درد زہ Page ۴۷۳ جائے نفرت Page ۴۷۳ احتلام Page ۴۷۳ کبھی کبھی زنا Page ۴۷۳

    باب دوم … مرزاقادیانی اور صنف نازک

    بدنظری کے متعلق مرزاقادیانی کا فتوی Page ۴۷۳

    مرزاقادیانی کا فعل

    کھانا دینے والی عورت Page ۴۷۴ پاخانہ میں لوٹا رکھنے والی غیرمحرم عورت Page ۴۷۴ خاص خدمت گار غیر محرم عورت Page ۴۷۴ غیر محرم عورت بھانو پاؤں دبایا کرتی تھی Page ۴۷۴ پہرہ دینے والی غیر محرم عورتیں Page ۴۷۴ غیرمحرم عورت کو اپنا جوٹھا قہوہ پلایا Page ۴۷۵ غیرمحرم عورت سے نظم کا قافیہ پوچھا Page ۴۷۵ غیرمحرم عورت کا مراق اپنی خدمت کراکر دور کر دیا Page ۴۷۵ غیرمحرم عورت سے تین ماہ خدمت کرواکر اس کا دل خوشی اور سرور سے بھر دیا Page ۴۷۵ غیرمحرم لڑکیوں کو گھر میں رکھ کر ان کی شادی کا بندوبست کرتے تھے Page ۴۷۶ ننگی عورت Page ۴۷۶ غرارہ Page ۴۷۶ ﷲ مرد اور مرزاقادیانی عورت Page ۴۷۶ مرزاقادیانی کا حاملہ ہونا Page ۴۷۷

    مرزا کے صحابی کا مبارک عمل

    نماز میں مرزا کے جسم کو ٹٹولنا Page ۴۷۷ جسم پر نامناسب طور پر ہاتھ پھیرنا Page ۴۷۷
451
  1. باب سوم … مرزاغلام احمد قادیانی کے فرشتے

    ٹیچی ٹیچی Page ۴۷۸ شیر علی Page ۴۷۸ مرزاغلام قادر Page ۴۷۹ خیراتی Page ۴۷۹ مٹھن لال Page ۴۷۹ حفیظ Page ۴۷۹ درشنی Page ۴۸۰

    باب چہارم … مرزاقادیانی کی عملی زندگی

    دادا کی پنشن کا ہڑپ کر جانا Page ۴۸۰ مختاری کے امتحان میں فیل Page ۴۸۱ ایک قادیانی روایت ملاحظہ ہو Page ۴۸۲ گمنام منی آرڈروں کا ملنا Page ۴۸۲ انگریز کی اطاعت خدا کی اطاعت کی طرح فرض Page ۴۸۳ جہاد قطعی حرام ہے Page ۴۸۳ مرزاقادیانی قادیان میں Page ۴۸۳ مرزاقادیانی کا پہلا تصنیفی کارنامہ Page ۴۸۴ تصنیف کی دنیا میں ایک لازوال کمال Page ۴۸۵ پچاس جلدوں کا وعدہ Page ۴۸۵ مرزاقادیانی کے دجل کی انتہاء Page ۴۸۶ پانچ اور پچاس Page ۴۸۶ مرزائیوں کے جواب کا تجزیہ Page ۴۸۷ صداقت اسلام کے نعرہ سے اسلام کی بیخ کنی کا آغاز Page ۴۸۷

    باب پنجم … دعاوی مرزا

    بیت ﷲ ہونے کا دعویٰ Page ۴۸۸ ۱۸۸۲ء مجدد ہونے کا دعویٰ Page ۴۸۸ ۱۸۸۲ء مامور ہونے کا دعویٰ Page ۴۸۸ ۱۸۸۲ء نذیر ہونے کا دعویٰ Page ۴۸۸ ۱۸۸۳ء آدم، مریم اور احمد ہونے کا دعویٰ Page ۴۸۸
452
  1. ۱۸۸۴ء رسالت کا دعویٰ Page ۴۸۹ ۱۸۸۶ء توحید وتفرید کا دعویٰ Page ۴۸۹ ۱۸۹۱ء مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ Page ۴۸۹ ۱۸۹۱ء مسیح ابن مریم ہونے کا دعویٰ Page ۴۸۹ ۱۸۹۲ء صاحب ’’کن فیکون‘‘ ہونے کا دعویٰ Page ۴۸۹ ۱۸۹۸ء مسیح اور مہدی ہونے کا دعویٰ Page ۴۹۰ ۱۸۹۸ء امام زماں ہونے کا دعویٰ Page ۴۹۰ ۱۹۰۰ء تا ۱۹۰۸ء ظلی نبی ہونے کا دعویٰ Page ۴۹۰ نبوت ورسالت کا دعویٰ Page ۴۹۰ مستقل صاحب شریعت نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ Page ۴۹۰

    باب ششم … عقائد مرزا

    حضرت حق تعالیٰ جل شانہ کی شان اقدس میں مرزاکی ہرزہ سرائی Page ۴۹۱ حضور نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم Page ۴۹۳ ہلال اور بدر کی نسبت Page ۴۹۴ بڑی فتح مبین Page ۴۹۵ روحانی کمالات کی ابتداء اور انتہاء Page ۴۹۵ ذہنی ارتقاء Page ۴۹۵ محمد رسول ﷲ کی دو بعثتیں Page ۴۹۵ مرزاقادیانی بعینہ محمد رسول ﷲ Page ۴۹۶ محمد رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام کمالات مرزاقادیانی میں Page ۴۹۷ مرزاخاتم النّبیین Page ۴۹۷ مرزاافضل الرسل Page ۴۹۷ فخر اوّلین وآخرین Page ۴۹۸ پہلے محمد رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر Page ۴۹۸ حضرات انبیاء کرام علیہم السلام Page ۴۹۸ حضرت مسیح علیہ السلام Page ۵۰۰ اسلام اور مرزا قادیانی Page ۵۰۲ اسلام وہی جو مرزا کہے، مسلمان وہی جو مرزا کو مانے Page ۵۰۳ حضرات صحابہ کرام علیہم الرضوان Page ۵۰۳ قرآن وسنت Page ۵۰۵
453
  1. حرمین شریفین زادہما ﷲ شرفاً وتعظیماً Page ۵۰۷ علماء واولیاء امت Page ۵۰۸ جملہ مخالفین کے خلاف Page ۵۰۹ تمام مسلمانوں کے لئے فتویٰ کفر Page ۵۱۰ مسلمانوں سے معاشرتی بائیکاٹ Page ۵۱۱ الگ دین، الگ امت Page ۵۱۳ مرزائیوں کے قبرستان میں مسلمانوں کا بچہ بھی دفن نہیں ہوسکتا Page ۵۱۴ مرزا قادیانی کے انٹ شنٹ الہامات Page ۵۱۴

    باب ہفتم … مرزاقادیانی کی پیش گوئیاں

    دلیل اوّل Page ۵۱۶ پہلی پیش گوئی … مرزاقادیانی کی موت سے متعلق Page ۵۱۷ دوسری پیش گوئی … زلزلہ اور پیر منظور محمد کے لڑکے کی پیش گوئی Page ۵۱۷ تیسری پیش گوئی … ریل گاڑی کا تین سال میں چلنا Page ۵۱۷ چوتھی پیش گوئی … غلام حلیم کی بشارت Page ۵۱۸ پانچویں پیشگوئی … محمدی بیگم سے متعلق Page ۵۱۸ چھٹی پیش گوئی … عبد ﷲ آتھم عیسائی Page ۵۲۰ ساتویں پیش گوئی … ڈاکٹر عبدالحکیم خان صاحب کے متعلق Page ۵۲۱ آٹھویں پیش گوئی … مولانا ثناء ﷲ صاحب کے متعلق Page ۵۲۲ نویں پیش گوئی … عالم کباب کے متعلق Page ۵۲۴ دسویں پیش گوئی … مرزاغلام احمد کی طاعون کی پیش گوئی Page ۵۲۵ گیارھویں پیش گوئی … مرزاغلام احمد قادیانی کی عمر کی پیش گوئی Page ۵۳۲ بارھویں پیش گوئی … پنڈت لیکھرام کی موت کی پیش گوئی Page ۵۳۷

    باب ہشتم … کذب بیانی اور مرزاقادیانی

    کذبات مرزاقادیانی Page ۵۴۱ مرزاقادیانی کی تاریخ دانی … نبی کریم ﷺ کی بارہ لڑکیاں Page ۵۴۲ نبی کریم ﷺ کے گیارہ لڑکے Page ۵۴۲ صفر، چوتھا مہینہ، چار شنبہ چوتھادن Page ۵۴۲

    باب نہم … تضادات مرزا

    قادیانی نبی کی متضاد باتیں Page ۵۴۴
454
  1. حضرت مسیح علیہ السلام کے متعلق متضاد باتیں Page ۵۴۵ مرزاقادیانی کا اپنے متعلق فیصلہ کہ خارج ازاسلام اور کافر ہے Page ۵۴۷ مرزاقادیانی کا اپنے ملعون ہونے کا فیصلہ Page ۵۴۸

    باب دہم … مرزاقادیانی کی بیماریاں

    مرض ہسٹیریا کا دورہ Page ۵۴۸ دورے پر دورہ Page ۵۴۹ خونی قے Page ۵۴۹ مراق Page ۵۴۹ ہسٹریا Page ۵۴۹ دق Page ۵۴۹ نامردی Page ۵۵۰ کالی بلا Page ۵۵۰ سخت دورہ اور ٹانگیں باندھنا Page ۵۵۰ اوپر اور نیچے والے امراض Page ۵۵۰ پرانی اور دائمی بیماریاں Page ۵۵۰ اعصابی کمزوری Page ۵۵۰ حافظہ کا ستیاناس Page ۵۵۱ پاخانوں کی یلغار Page ۵۵۱ بے ہوشی Page ۵۵۱ مقعد سے خون Page ۵۵۱ انتہائی کمزوری ولاچاری Page ۵۵۱ سستی نبض اور گھبراہٹ Page ۵۵۱ دم الٹ دینے والی کھانسی Page ۵۵۱ پاؤں کی سردی Page ۵۵۲ کھانسی اور جوشاندہ Page ۵۵۲ کھانسی اور گرم گرم گنا Page ۵۵۲ سر کے بالوں کی بیماری Page ۵۵۲ گنجا پن Page ۵۵۲ مراق Page ۵۵۲ دانت درد Page ۵۵۲
455
  1. پیر جھسوانا اور بدن دبوانا Page ۵۵۳ دورہ دوران سر Page ۵۵۳ مرزاقادیانی کو پاخانے کی ضرورت Page ۵۵۳ پھٹی ہوئی ایڑیاں Page ۵۵۳ سردی گرمی Page ۵۵۳ انگھوٹھے کا درد Page ۵۵۳ انگوٹھے کی سوجن Page ۵۵۳ ٹخنے کا پھوڑا Page ۵۵۳ لتاڑا Page ۵۵۴ خارش Page ۵۵۴ کیچڑ Page ۵۵۴ سفید بال Page ۵۵۴ لکنت Page ۵۵۴ چشم نیم باز Page ۵۵۴ داڑھوں کا کیڑا Page ۵۵۵ دل گھٹنے کا دورہ Page ۵۵۵ پیچش Page ۵۵۵ گرمی دانے Page ۵۵۵ دردگردہ Page ۵۵۵ دوران سر Page ۵۵۵ پشت پر پھنسی Page ۵۵۵ سردی اور متلی Page ۵۵۶ گرمیوں میں جرابیں Page ۵۵۶ کھانسی Page ۵۵۶ مائی اوپیا Page ۵۵۶ چکر Page ۵۵۶ سل Page ۵۵۶ ذیابیطس اور پیشاب کی زیادتی Page ۵۵۷ دائمی مریض سو دفعہ پیشاب Page ۵۵۷ ادھ کھلی آنکھیں Page ۵۵۷
456
  1. سرعت پیشاب Page ۵۵۷ ریشمی ازاربند Page ۵۵۷ ضعف دماغ Page ۵۵۷ مرض الموت ’’ہیضہ‘‘ Page ۵۵۷

    باب یازدہم … مرزا قادیانی کے مالی معاملات

    مرزا قادیانی اور دیانت Page ۵۶۰ مرزاغلام احمد قادیانی کی خیانت ملاحظہ فرمائیں Page ۵۶۱

    باب دوازدہم … مرزا قادیانی اور اغیار کی غلامی

    باب سیزدہم … مرزا قادیانی اور اعمال صالحہ

    منہ میں پان اور نماز Page ۵۶۴ روزے تڑوادئیے Page ۵۶۴ حج، اعتکاف، زکوٰۃ Page ۵۶۴ کذب بیانی، وعدہ خلافی، تلبیس اور دھوکا دہی Page ۵۶۵ مرزا قادیانی اور انبیاء سابقین Page ۵۶۶ مرزا قادیانی اور بہادری Page ۵۶۷ مال ودولت اور نبوت Page ۵۶۸ شاعری اور نبوت Page ۵۷۰ عشقیہ Page ۵۷۰ عشقیہ شعر وشاعری Page ۵۷۰ قومی زبان اور نبوت Page ۵۷۱ نبوت اور معجزہ Page ۵۷۱ دعویٰ خدائی Page ۵۷۳ مردمیت اور نبوت Page ۵۷۴ تدریجی دعویٰ نبوت Page ۵۷۵ علامات نفاق اور مرزا قادیانی Page ۵۷۵ وراثت اور نبوت Page ۵۷۷ نبی کی تدفین Page ۵۸۰ انبیاء کا بکریاں چرانا Page ۵۸۱
457
  1. خاندان نبوت Page ۵۸۱ اوصاف نبوت Page ۵۸۲ عمر کی بابت Page ۵۸۳ خلاصہ معیار نبوت Page ۵۸۳ معجزہ کی حقیقت Page ۵۸۷ صداقت کی نشانی مرزاقادیانی کی زبانی Page ۵۸۹ تردید صداقت مرزاقادیانی Page ۵۹۱ مرزاقادیانی کی تمنائے موت کا جواب Page ۵۹۹ فقد لبثت فیکم Page ۵۹۹ دعویٰ سے قبل Page ۵۹۹ صدق نبوت کی ایک دلیل Page ۶۰۲ دین کا داعی یا سیاسی قائد؟ Page ۶۰۲ مرزاقادیانی کی خانگی زندگی Page ۶۰۲ مالی اعتراضات Page ۶۰۳ آمدنی کے نئے نئے ذرائع Page ۶۰۴ قادیان اور ربوہ کی دینی ریاست Page ۶۰۴ دور حاضر کا مذہبی آمر Page ۶۰۴ اظہار غیب Page ۶۰۷ سلسلہ کی حفاظت وغلبہ Page ۶۰۷ مرزاقادیانی اور مخالفین Page ۶۰۸ اسمہ کا مصداق مرزا Page ۶۰۹ عذاب Page ۶۱۱ مرزا سے استہزاء Page ۶۱۱

    احادیث نبویہ سے مغالطہ دہی کے جوابات

    اونٹوں کا بیکار ہونا Page ۶۱۱ خسوف وکسوف Page ۶۱۳ افتراء علی ﷲ Page ۶۱۵ افتراء علی الرسول Page ۶۱۵ پینتالیس برس کی قلیل مدت میں گرہنوں کا نقشہ ملاحظہ ہو Page ۶۱۶ حدیث مجدد Page ۶۱۸
458
  1. باب چہاردہم … قادیانیوں سے سوالات

    سوال نمبر۱…کیا حضور ﷺ کی اتباع سے نجات مل سکتی ہے؟ Page ۶۲۱ سوال نمبر۲… خاتم النّبیین کے کون سے معنی صحیح ہیں؟ Page ۶۲۱ سوال نمبر۳…کیا نزول مسیح اور ختم نبوت کے منافی ہے؟ Page ۶۲۳ سوال نمبر۴…اسود عنسی اور مسیلمہ کیوں قتل ہوئے؟ Page ۶۲۳ سوال نمبر۵…کیا مرزاقادیانی جھوٹا اور مرتد تھا؟ Page ۶۲۳ سوال نمبر۶…سابقہ مدعیان نبوت کے جھوٹا ہونے کی کیا دلیل ہے؟ Page ۶۲۳ سوال نمبر۷…کیا حضور ﷺ سابقہ انبیاء علیہم السلام کے لئے خاتم نہیں؟ Page ۶۲۴ سوال نمبر۸…کیا حضور ﷺ خاتم النبی تھے؟ Page ۶۲۴ سوال نمبر۹…خاتم النّبیین کے معنی ’’نبیوں کی مہر‘‘ کا ثبوت؟ Page ۶۲۴ سوال نمبر۱۰…اجراء نبوت پر کوئی آیت یا حدیث؟ Page ۶۲۴ سوال نمبر۱۱…نبوت غیرمستقلہ ملنے کے لئے معیار؟ Page ۶۲۴ سوال نمبر۱۲…کیا جھوٹا مدعی نبوت زندہ نہیں رہ سکتا؟ Page ۶۲۵ سوال نمبر۱۳…کیا حضرت ابوبکرؓ وحضرت عمرؓ منصب نبوت کے لائق نہ تھے؟ Page ۶۲۵ سوال نمبر۱۴…کیا ﷲ کے نبی دنیا کے معلمین کے پاس تعلیم حاصل کرتے ہیں؟ Page ۶۲۵ سوال نمبر۱۵…کیا مراقی نبی بن سکتا ہے؟ Page ۶۲۵ سوال نمبر۱۶…کیا مرزاقادیانی کی شہ رگ نہیں کٹی؟ Page ۶۲۶ سوال نمبر۱۷…کلمہ گو، اہل قبلہ کا کیا مطلب؟ Page ۶۲۶ سوال نمبر۱۸…مرزاقادیانی ’’مسیح موعود‘‘ کیسے؟ Page ۶۲۶ سوال نمبر۱۹…کیا دجال قتل ہوگیا؟ اور اسلام کو ترقی مل گئی؟ Page ۶۲۷ سوال نمبر۲۰…مرزاقادیانی کے مسیح بننے کا امر مخفی کیوں Page ۶۲۷ سوال نمبر۲۱…کیا عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوگئے؟ Page ۶۲۸ سوال نمبر۲۲…حدیث صحیح اور مسیح موعود؟ Page ۶۲۸ سوال نمبر۲۳…حدیث صحیح اور تیرھویں صدی کا لفظ؟ Page ۶۲۸ سوال نمبر۲۴…کیا سلف کے کلام میں لفظ نزول من السماء نہیں؟ Page ۶۲۸ سوال نمبر۲۵…کیا مرزاقادیانی مفتری اور کذاب ہے؟ Page ۶۲۹ سوال نمبر۲۶…مرزاقادیانی نے دس برس تک مسیحیت کیوں چھپائے رکھی؟ Page ۶۲۹ سوال نمبر۲۷…کیا نبی وحی الٰہی سے جاہل ہوتا ہے؟ Page ۶۳۰ سوال نمبر۲۸…پھر مرزاقادیانی پر مسیحیت کا الزام کیوں؟ Page ۶۳۰ سوال نمبر۲۹…مسیح موعود کی شش علامات کس آیت اور کس حدیث میں؟ Page ۶۳۱
459
  1. سوال نمبر۳۰…مرزاقادیانی کی مسیحیت کی علامات اور احادیث؟ Page ۶۳۱ سوال نمبر۳۱…کیا قادیانیوں کے نزدیک مرزا قادیانی بڑا جھوٹا ہے؟ Page ۶۳۱ سوال نمبر۳۲…کیا وفات مسیح کا بھید صرف مرزا قادیانی پر کھلا؟ Page ۶۳۳ سوال نمبر۳۳…کیا مسیح حضرت عیسیٰ علیہ السلام نہیں مرزا قادیانی ہے؟ Page ۶۳۳ سوال نمبر۳۴…کیا مسیح موعود اور علماء کا تصادم آیت یا حدیث میں ہے؟ Page ۶۳۴ سوال نمبر۳۵…مرزا قادیانی حقیقی مسیح کیسے؟ Page ۶۳۴ سوال نمبر۳۶…کیا دوزرد چادروں سے دو بیماریاں مراد ہیں؟ Page ۶۳۴ سوال نمبر۳۷…کیا علامات مسیح علیہ السلام ومہدی علیہ السلام مرزا میں ہیں؟ Page ۶۳۵ سوال نمبر۳۸…مرزاقادیانی کی پہچان اپنی علامات میں Page ۶۳۵ سوال نمبر۳۹…کیا مرزاقادیانی ۱۳۳۵ھ تک زندہ رہا؟ Page ۶۳۵ سوال نمبر۴۰…دمشق کا کون سا معنی صحیح ہے Page ۶۳۵ سوال نمبر۴۱…مرزاقادیانی اپنے دام میں… نزول کا معنی اترنا ہے پیدائش نہیں Page ۶۳۶ سوال نمبر۴۲…کیا مرزاقادیانی قرآن کا معجزہ ہے Page ۶۳۶ سوال نمبر۴۳…کیا مرزاقادیانی نے یہود کی بے گناہی بیان نہیں کی؟ Page ۶۳۶ سوال نمبر۴۴…کیا مرزاقادیانی لعنتی اور بدذات تھا؟ Page ۶۳۷ سوال نمبر۴۵…کیا نبی برائی کو مستحکم کرنے آتا ہے یا مٹانے؟ Page ۶۳۷ سوال نمبر۴۶…کیا مرزاقادیانی کی وحی، وحی ربانی ہے یا شیطانی؟ Page ۶۳۸ سوال نمبر۴۷…کیا قرآن میں مرزاقادیانی کا نام ابن مریم ہے؟ Page ۶۳۸ سوال نمبر۴۸…کیا قرآن میں ہے کہ جسم عنصری آسمان پر نہیں جاسکتا؟ Page ۶۳۸ سوال نمبر۴۹…کیا یہ مرزاقادیانی کی حماقت نہیں؟ Page ۶۳۸ سوال نمبر۵۰…کیا یہ مرزاقادیانی کی نامعقول حرکت نہیں؟ Page ۶۳۹ سوال نمبر۵۱…کیا مرزاقادیانی اب بھی ملعون نہیں؟ Page ۶۳۹ سوال نمبر۵۲…کیا غیرنبی، نبی سے افضل ہوسکتا ہے؟ Page ۶۳۹ سوال نمبر۵۳…کیا مرزاقادیانی کو مثیل محمد ﷺ کہہ سکتے ہو؟ العیاذ بِاللہ! Page ۶۳۹ سوال نمبر۵۴…مرزاقادیانی بارہ برس تک کفر میں کیوں؟ Page ۶۴۰ سوال نمبر۵۵…کیا ﷲتعالیٰ مرزاقادیانی کے مرید؟ (العیاذ بِاللہ) Page ۶۴۰ سوال نمبر۵۶…کیا مرزاقادیانی مریم تھا؟ تو اس کا شوہر کون؟ Page ۶۴۰ سوال نمبر۵۷…کیا سچے پیغمبر کے کئی نام ہوئے؟ Page ۶۴۱ سوال نمبر۵۸…مرزاقادیانی کی تحقیق عجیب اور اس کا مبلغ علم Page ۶۴۱ سوال نمبر۵۹…کیا یہ مرزاقادیانی کا قرآن پر بہتان نہیں؟ Page ۶۴۲
460
  1. سوال نمبر۶۰…کیا مرزاقادیانی مہدی ہے؟ Page ۶۴۲ سوال نمبر۶۱…کیا مرزاقادیانی خودغرض تھا؟ Page ۶۴۲ سوال نمبر۶۲…کیا مرزا قادیانی کے نزدیک اعور کا معنی کانا نہیں؟ Page ۶۴۳ سوال نمبر۶۳…کیا قرآن مجید میں ’’قادیان‘‘ کا نام ہے؟ Page ۶۴۳ سوال نمبر۶۴…کیا مرزا قادیانی آدم زاد نہیں؟ Page ۶۴۳ سوال نمبر۶۵…کیا مرزا قادیانی شراب پیتا تھا؟ Page ۶۴۴ سوال نمبر۶۶…کیا مرزا قادیانی کے آنے سے جہاد منسوخ ہوگیا؟ Page ۶۴۴ سوال نمبر۶۷…کیا نبی گھر کی طعن وتشنیع سے خوف کھا کر سرکاری ملازمت کرتا ہے؟ Page ۶۴۵ سوال نمبر۶۸…کیا ریل گاڑی دجال کا گدھا ہے؟ Page ۶۴۵ سوال نمبر۶۹…جو بخاری شریف پر جھوٹ باندھے وہ مسیح کیسے؟ Page ۶۴۶ سوال نمبر۷۰…مرزاقادیانی کی سلطان القلمی یا جہالت؟ Page ۶۴۶ سوال نمبر۷۱…مرزاقادیانی ’’رجل فارس‘‘ کیسے؟ Page ۶۴۷ سوال نمبر۷۲…کیا مرزا یزیدی؟ اور قادیان پلید جگہ ہے؟ Page ۶۴۷ سوال نمبر۷۳…کیا خدا کا ’’حیّ‘‘ ہونا مرزے کی وحی ماننے پر موقوف ہے؟ Page ۶۴۷ سوال نمبر۷۴…مفسر بننے، صاحب تقویٰ ہونے کا معیار مرزاقادیانی کو ماننا؟ Page ۶۴۸ سوال نمبر۷۵…کیا مرزاقادیانی کی بڑھتی ہوئی ترقی معکوس ہوگئی؟ Page ۶۴۸ سوال نمبر۷۶…کیا فلاسفہ کی پیروی نادانی ہے؟ Page ۶۴۹ سوال نمبر۷۷…کیا تمام انبیاء علیہم السلام نے مرزاقادیانی کے بارے میں خبر دی؟ Page ۶۴۹ سوال نمبر۷۸…پیش گوئی پوری نہ ہونے کی کوئی شکل؟ Page ۶۴۹ سوال نمبر۷۹…گھر کا معنی اور کشتی کی توسیع Page ۶۵۰ سوال نمبر۸۰…ٹیکہ کے مقابلہ میں الہام اور ایام طاعون میں احتیاط Page ۶۵۰ سوال نمبر۸۱…سلطنت برطانیہ تاہشت سال کے الہام سے مرزا انکاری بیٹا اقراری Page ۶۵۱ سوال نمبر۸۲…کیا جاہل محض مقتدا بن سکتا ہے؟ Page ۶۵۲ سوال نمبر۸۳…کیا نبی کا فرشتہ جھوٹ بول سکتا ہے Page ۶۵۲ سوال نمبر۸۴…آئینہ کمالات اسلام یا نفسانی تحقیقات Page ۶۵۲ سوال نمبر۸۵…کیا ماہ صفر چوتھا اسلامی مہینہ ہے؟ Page ۶۵۳ سوال نمبر۸۶… کیا سورۃ لہب میں ابی لہب سے مرادمرزا قادیانی کی تکفیر؟ Page ۶۵۳ سوال نمبر۸۷…کیا انگلش ناخواندہ ملازم اور انگریزی الہامات ’’آئی لو یو‘‘وغیرہ کیسے Page ۶۵۳ سوال نمبر۸۸…کیا غیرزبانی الہام برحق ہونے کی دلیل؟ Page ۶۵۴ سوال نمبر۸۹…بوقت دعویٰ پیٹ میں اب اولاد جوان؟ Page ۶۵۴
461
  1. سوال نمبر۹۰…کیا بکر وثیب والی پیش گوئی پوری ہوئی؟ Page ۶۵۴ سوال نمبر۹۱…کیا راست باز کا کام لعنت کرنا؟ Page ۶۵۴ سوال نمبر۹۲…کیا نبی گالیاں دیتا ہے؟ Page ۶۵۵ سوال نمبر۹۳…کیا مرزاقادیانی کی جماعت بے تہذیب، درندہ صفت؟ Page ۶۵۵ سوال نمبر۹۴…کیا نبی امتی کی تقلید کر سکتا ہے؟ Page ۶۵۵ سوال نمبر۹۵…کیا نبی بدعت پر عمل کرتا ہے؟ Page ۶۵۶ سوال نمبر۹۶…مرزا قادیانی نماز کس وقت پڑھتا تھا؟ Page ۶۵۶ سوال نمبر۹۷…کیا اب بھی مرزا قادیانی کا انکار کفر ہے؟ Page ۶۵۶ سوال نمبر۹۸…جو معجزہ کو مسمریزم کہے وہ کون؟ Page ۶۵۶ سوال نمبر۹۹… ﷲ کا فرمان سچا یا مرزاقادیانی کی بکواس؟ Page ۶۵۷ سوال نمبر۱۰۰…کیا قابل نفرت عمل ﷲ کو پسند؟ Page ۶۵۷ سوال نمبر۱۰۱…کیا ﷲتعالیٰ نبیوں کو قابل نفرت عمل کا حکم دیتے تھے؟ Page ۶۵۷ سوال نمبر۱۰۲…اگر نبی سچا تو پیش گوئیاں کیوں ٹلیں؟ Page ۶۵۸

    باب پانزدہم … متفرق قادیانی سوالات کے جوابات

    سوال نمبر۱…قادیانیوں کا کلمہ پڑھنا کیسے؟ Page ۶۵۸ سوال نمبر۲…حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کے قتل کا واقعہ Page ۶۶۰ سوال نمبر۳…حضرت ابومحذورہ رضی اللہ عنہ کی اذان، اور قبول اسلام Page ۶۶۲ سوال نمبر۴…بزرگوں کے خلاف شرع اقوال حجت نہیں Page ۶۶۳ سوال نمبر۵…قادیانی جماعت برابر بڑھ رہی ہے Page ۶۶۴ سوال نمبر۶…دیوبندی، بریلوی وغیرہ کے ایک دوسرے پر فتوے اور قادیانی Page ۶۶۴ سوال نمبر۷…جھوٹے نبی کا جھوٹا فرشتہ Page ۶۶۷ سوال نمبر۸…کیا مرزاقادیانی مجدد تھا؟ Page ۶۶۷ سوال نمبر۹…کیا حضور ﷺ کے دشمنوں سے نرمی کرنا سنت نبوی ہے؟ Page ۶۶۸ سوال نمبر۱۰…مرزاقادیانی کی موت ہیضہ سے Page ۶۶۹ سوال نمبر۱۱…کیا قادیانیوں کو گالیاں دی جاتی ہیں؟ Page ۶۷۱ سوال نمبر۱۲…کیا علماء سخت بیان ہیں؟ Page ۶۷۲ سوال نمبر۱۳…کیا قادیانی بااخلاق ہیں؟ Page ۶۷۲ سوال نمبر۱۴…حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور مرزاقادیانی اور تضادات مرزا Page ۶۷۳ سوال نمبر۱۵…کیا مرزاقادیانی پر زناکا الزام ہے؟ Page ۶۷۴
462
  1. سوال نمبر۱۶…کیا قادیانی یا قادیانیوں کو خنزیر کہنا جائز ہے؟ Page ۶۷۴ سوال نمبر۱۷…مرزاقادیانی کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر زنا کا الزام Page ۶۷۵ سوال نمبر۱۸…خود مدعی مسیحیت تو مسیح کی توہین کیسے؟ Page ۶۷۷ سوال نمبر۱۹…حضرت مریم کو صدیقہ کہا تو توہین کیسے؟ Page ۶۷۹ سوال نمبر۲۰…مرزاقادیانی نے مسیح کے متعلق جو کچھ کہا الزامی طور پر کہا Page ۶۷۹ سوال نمبر۲۱…یسوع، مسیح، ابن مریم ایک ہیں Page ۶۷۹ سوال نمبر۲۲…مسیح کے متعلق جو کہا جواباً وتردیداً کہا Page ۶۸۰ سوال نمبر۲۳…مرزاقادیانی نے فرضی مسیح کو کہا Page ۶۸۰ سوال نمبر۲۴…انجیل کے حوالہ سے کہا Page ۶۸۰ سوال نمبر۲۵…مسیح کے بہن بھائی کا ذکر ’’انما المؤمنون اخوۃ‘‘ کے درجہ میں Page ۶۸۰ سوال نمبر۲۶…دشمنوں کے اعتراض نقل کئے Page ۶۸۱ سوال نمبر۲۷…وہ مسیح جو ابنیت کا مدعی تھا Page ۶۸۱ سوال نمبر۲۸…رحمت ﷲ کیرانوی وغیرہ Page ۶۸۱

    قادیانی اعتراضات کے مسکت جوابات

    سوال نمبر۲۹…عیسیٰ ٰ علیہ السلام کب فوت ہوئے؟ Page ۶۸۲ سوال نمبر۳۰…ابن مریم کی جگہ ابن چراغ بی بی کیسے؟ Page ۶۸۲ سوال نمبر۳۱…مرزاقادیانی کا الہام قرآن کا ناسخ؟ Page ۶۸۲ سوال نمبر۳۲…میں رانجھا ہوگئی؟ Page ۶۸۳ سوال نمبر۳۳…قادیانی مسیلمہ کذاب؟ Page ۶۸۴ سوال نمبر۳۴…پٹواری نہیں بلکہ مفسرین؟ Page ۶۸۴ سوال نمبر۳۵…مرزاجاہل تھا؟ Page ۶۸۴ سوال نمبر۳۶…مرزاقادیانی دنیا کا سب سے بڑا جاہل؟ Page ۶۸۵ سوال نمبر۳۷…شیطان کے ماننے والے بہت؟ Page ۶۸۵ سوال نمبر۳۸…دنیا میں مرزاقادیانی کا ایک بھی ماننے والا نہیں؟ Page ۶۸۵ سوال نمبر۳۹…قرآن میں ربوہ؟ Page ۶۸۶ سوال نمبر۴۰…مرزا کو ماننا Page ۶۸۶ سوال نمبر۴۱…مرزا کی دو سچی باتیں Page ۶۸۷ سوال نمبر۴۲…مرزاقادیانی کو صاحب کیوں نہیں کہتے؟ Page ۶۸۸ کیا کبھی ایسے ہوا؟ Page ۶۸۸
463

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ.!

پیش لفظ

الحمدﷲ وکفیٰ وسلام علیٰ سید الرسل وخاتم الانبیاء۰ امابعد!

قادیانی شبہات جلداوّل… ختم نبوت

قادیانی شبہات جلددوم…حیات عیسیٰ علیہ السلام کے مباحث پر مشتمل ہے

جلد اوّل ۱۴۲۰ھ جبکہ جلد دوم ۱۴۲۵ھ میں مرتب ہوئیں۔

اب ۱۴۳۲ھ میں ﷲ رب العزت نے اس سلسلہ کو پایۂ تکمیل تک پہچانے کی توفیق بخشی کہ ’’قادیانی شبہات جلد سوم‘‘ جو ’’کذب مرزا‘‘ کے مباحث پر مشتمل ہے۔ پیش خدمت ہے۔ جلد اوّل اور جلد دوم ہر سال ردقادیانیت کورس چناب نگر وملتان میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ دونوں جلدیں ہندوستان میں بھی شائع ہوئیں۔ دیوبند میں اس سلسلہ میں جو کورسسز رکھے گئے ان میں بھی ان کتابوں کو شامل رکھا گیا۔ عرصہ سے رفقاء کی خواہش تھی کہ اس کا تیسرا حصہ مرتب ہوجائے۔ تاکہ تمام مباحث پر مشتمل مواد کورسسز کے شرکاء کو شائع شدہ نصاب کی طرح پڑھادیا جائے۔

ﷲ تعالیٰ کے ہاں ہر کام کے لئے وقت مقرر ہے۔ شدید خواہش وتقاضہ کے باوجود اتنا عرصہ تک یہ کام رکا رہا۔ برادرعزیز مولانا قاضی احسان احمدصاحب نے اصرار کیا اور وقت مقرر کیا کہ دس پندرہ دن لگاکر اس کو مکمل کرنا ہے۔ جو دن انہوں نے مقرر فرمائے ان دنوں ’’تحریک ناموس رسالت‘‘ کی مصروفیات آڑے آئیں۔ تحریک سے فارغ ہوتے ہی پندرہ دن انہوں نے عنایت کئے۔ ان دنوں ’’احتساب قادیانیت‘‘ کے مزید رسائل پر تخریج کے کام کے لئے حضرت مولانا محمدقاسم رحمانی دفترمرکزیہ میں قیام فرماتھے۔ ان ہر دو حضرات نے دن رات ایک کرکے اس کام کو مکمل کیا۔ فقیر ان کے شانہ بشانہ رہا۔ ورنہ تمام تر کام ان حضرات کی محنت کا مرہون منت ہے۔ فقیر نے مختلف لفافوں میں جو منتشر مواد رکھا تھا اسے ان حضرات نے مرتب کرکے قابل مراجعت بنادیا۔ فقیر نے سرسری دیکھا اور کمپوزنگ کے لئے دے دیا۔ البتہ ’’قادیانیوں سے سوالات‘‘ اور ’’قادیانی سوالات کے جوابات‘‘ کا حصہ فقیر نے حضرت مولانا غلام رسول دین پوری صدر مدرس مدرسہ عربیہ ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر کے سپرد کیا۔ انہوں نے فقیر کی گزارشات کے مطابق اس پر سر توڑ محنت کی۔ یوں یہ کتاب مرتب ہوگئی۔ پروف پڑھنے میں بھی حضرت مولانا غلام رسول دین پوری نے بھرپور محنت ومعاونت فرمائی۔ ان تمام حضرات کا بہت بہت شکریہ۔ لیجئے! اس کام سے فارغ ہوئے۔ اب ایک کام جو عرصہ سے رکا ہوا ہے ۔ تحریک ختم نبوت ۱۹۸۴ء کے لئے جو میٹر جمع کرکے ترتیب دینا شروع کیا تھا وہ اس سرے سے مل نہیں رہا۔ کبھی کبھی طبیعت میں ابال آتا ہے۔ لیکن مسودہ کی گمشدگی طبیعت کو سرد کردیتی ہے۔

قارئین دعا فرمائیں کہ یہ کام بھی ہوجائے تو ﷲ تعالیٰ کا احسان ہوگا۔ ۱۹۳۴ء سے ۱۹۸۴ء تک کی تاریخ کے قلمبند کرنے کا جو کام شروع کیا تھا جو ۱۹۷۴ء پر آکر رکا ہوا ہے۔ وہ پایۂ تکمیل کو پہنچ جائے تو بہت ہی سعادت کی بات ہوگی۔ ﷲ تعالیٰ توفیق عنایت فرمائیں۔ آمین ثم آمین!

محتاج دعا: فقیر: ﷲوسایا

۱۴؍جمادی الثانی ۱۴۳۲ھ، بمطابق ۱۸؍مئی۲۰۱۱ء

464

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ.

باب اوّل … مرزاغلام احمد قادیانی کے حالات

نسب وخاندان

مرزاغلام احمد قادیانی کا نسبی تعلق مغل قوم اور اس کی خاص شاخ برلاس سے ہے۔ مرزاغلام احمد قادیانی لکھتا ہے: ’’ہماری قوم مغل برلاس ہے۔‘‘

(کتاب البریہ ص۱۴۴ حاشیہ، خزائن ج۱۳ ص۱۶۲)

لیکن کچھ عرصہ کے بعد مرزاغلام احمد قادیانی کو بذریعہ الہام معلوم ہوا کہ ’’وہ ایرانی النسل ہے۔‘‘ چنانچہ اس نے لکھا ہے: ’’خُذُوْا التَّوْحِیْدَ اَلتَّوْحِیْدَ یَا ابْنَائِ الْفَارِس‘‘ (یعنی توحید کو پکڑ لو۔ توحید کو پکڑ لو۔ اے فارس کے بیٹو!)

پھر دوسرا الہام میری نسبت یہ ہے: ’’لَوْکَانَ الْاِیْمَانُ مُعَلَّقًا بِالثُّرِیَّا لَنَالَہٗ رَجُلٗ مِّنْ فَارِسٍ‘‘ (یعنی اگر ایمان ثریا سے معلق ہوتا تو یہ مرد جو فارس الاصل ہے۔ وہیں جاکر اس کو لے لیتا)۔

اور پھر ایک تیسرا الہام میری نسبت یہ ہے: ’’ان الذین کفروا رد علیہم رجل من فارس شکر ﷲ سعیہ‘‘ (یعنی جو لوگ کافر ہوئے اس مرد نے جو فارس الاصل ہے ان کے مذاہب کو رد کر دیا۔ خدا اس کی کوشش کا شکر گزار ہے) یہ تمام الہامات ظاہر کرتے ہیں کہ ہمارے آباء اوّلین فارسی تھے۔‘‘

(کتاب البریہ ص۱۴۴،۱۴۵ حاشیہ، خزائن ج۱۳ ص۱۶۲،۱۶۳)

مرزاقادیانی مغل برلاس تھے۔ لیکن خود کو ایرانی النسل ثابت کرنے کے لئے اپنے نام نہاد الہامات کا بھی سہارا لیا۔ حالانکہ ان کا اعتراف موجود ہے۔

’’یاد رہے کہ اس خاکسار کا خاندان بظاہر مغلیہ خاندان ہے۔ کوئی تذکرہ ہمارے خاندان کی تاریخ میں یہ نہیں دیکھا گیا کہ وہ بنی فارس کا خاندان تھا۔ ہاں بعض کاغذات میں یہ دیکھا گیا ہے کہ ہماری بعض دادیاں شریف اور مشہور سادات میں سے تھیں۔ اب خدا کے کلام سے معلوم ہوا کہ دراصل ہما را خاندان فارسی خاندان ہے۔ سو اس پر ہم پورے یقین سے ایمان لاتے ہیں۔ کیونکہ خاندانوں کی حقیقت جیسا کہ خداتعالیٰ کو معلوم ہے کسی دوسرے کو ہرگز معلوم نہیں۔ اسی کا علم صحیح اور یقینی اور دوسرے کا شکی اور ظنی۔‘‘ (اربعین نمبر۲ حاشیہ ص۱۸، خزائن ج۱۷ ص۳۶۵)

مرزاقادیانی نے فارسی النسل بننے کے لئے کیوں الہام تراشا؟ اس سوال کا جواب خود اس کی عبارت میں موجود ہے۔ ’’الایمان معلقاً باالثریا لنا لہ رجل من فارس‘‘ یہ دراصل حدیث شریف ہے۔ مرزاقادیانی نے اسے اپنا الہام جتا کر اس کا مصداق بننے کے لئے خود کے ایرانی النسل ہونے کا گورکھ دھندا تیار کیا۔ اس کی خود غرضی نے اسے اس شیطانی کھیل کھیلنے پر مجبور کیا۔ یہ حدیث صحاح میں الفاظ کے خفیف اختلاف کے ساتھ آئی ہے۔ بعض روایتوں میں ’’رجال من فارس‘‘ بھی ہے۔ علماء ومحدثین نے اس سے حضرت سلمان فارسیb اور ان ایرانی النسل علماء واکابر کو مراد لیا ہے۔ جو

465

اپنی قوت ایمانی اور خدمت دینی میں خاص امتیاز رکھتے تھے۔ انہیں میں امام اعظم ابوحنیفہ نعمان بن ثابتK بھی ہیں۔ جو فارسی الاصل ہیں۔ مرزاقادیانی نے اس حدیث کا مصداق بننے کے لئے نام نہاد الہام وضع کیا۔ لیکن خود مرزاقادیانی دوسری جگہ لکھتے ہیں۔

چینی الاصل

مرزاقادیانی مغل برلاس، چینی الاصل، ایرانی النسل کیا سمجھا جائے کہ مرزاقادیانی کون سی نسل سے تھے؟ ’’ایسا ہی میں بھی توأم پیدا ہونے کی وجہ سے حضرت آدم سے مشابہ ہوں اور اس قول کے مطابق جو حضرت محی الدین ابن عربی لکھتے ہیں کہ: ’’خاتم الخلفاء صینئی الاصل‘‘ ہوگا۔ یعنی مغلوں میں سے اور وہ جوڑا یعنی توأم پیدا ہوگا۔ پہلے لڑکی نکلے گی۔ بعد اس کے وہ پیدا ہوگا۔ ایک ہی وقت میں اسی طرح میری پیدائش ہوئی کہ جمعہ کی صبح کو بطور توأم میں پیدا ہوا۔ اوّل لڑکی اور بعدہٗ میں پیدا ہوا۔‘‘ (تذکرۃ الشہادتین ص۳۳، خزائن ج۲۰ ص۳۵)

’’اور اس پیش گوئی کو شیخ محی الدین ابن عربی نے بھی اپنی کتاب ’’فصوص‘‘ میں لکھا ہے اور لکھا ہے کہ وہ ’’صینئی الاصل‘‘ ہوگا۔‘‘ (حقیقت الوحی ص۲۰۱، خزائن ج۲۲ ص۲۰۹)

شجرۂ نسب

۱… ’’ہمارا شجرۂ نسب اس طرح پر ہے۔ میرا نام غلام احمد ابن مرزاغلام مرتضیٰ صاحب ابن مرزاعطاء محمد صاحب ابن مرزا گل محمد صاحب ابن مرزا فیض محمد صاحب ابن مرزا محمد قائم ابن مرزا محمد اسلم ابن مرزامحمد دلاور ابن مرزا الہ دین ابن مرزا جعفر بیگ ابن مرزا محمد بیگ ابن مرزا عبدالباقی ابن مرزامحمد سلطان ابن مرزا ہادی بیگ مورث اعلیٰ۔‘‘

(کتاب البریہ ص۱۴۲ حاشیہ، خزائن ج۱۳ ص۱۷۲، ضمیمہ حقیقت الوحی ص۷۷، خزائن ج۲۲ ص۷۰۳)

شجرۂ مرزا

مرزاغلام احمد قادیانی کا شجرۂ نسب۔ مرزاہادی بیگ، مغل، حاجی برلاس، مغل خان کے ذریعے یافث بن حضرت نوح تک پہنچتا ہے۔ اگر مرزاقادیانی فارسی النسل یا بنی اسرائیل یا بنی اسحاق میں سے ہوتا تو چاہئے تھا کہ اس کا شجرۂ نسب حضرت یعقوب علیہ السلام، حضرت اسحاق علیہ السلام، حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ذریعے سام بن حضرت نوح علیہ السلام تک پہنچتا۔ مگر معاملہ برعکس ہے۔

خاندان مرزا

’’اب میرے سوانح اس طرح پر ہیں کہ میرا نام غلام احمد میرے والد صاحب کا نام غلام مرتضیٰ اور دادا صاحب کا نام عطاء محمد اور میرے پردادا کا نام گل محمد تھا اور جیسا کہ بیان کیاگیا ہے۔ ہماری قوم مغل برلاس ہے اور میرے بزرگوں کے پرانے کاغذات سے جواب تک محفوظ ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس ملک میں سمرقند سے آئے۔‘‘

(کتاب البریہ ص۱۳۴ حاشیہ، خزائن ج۱۳ ص۱۶۲)

466

پیدائش مرزا

عیسوی سنہ، مرزاقادیانی نے کہا: ’’میری پیدائش ۱۸۳۹ء یا ۱۸۴۰ء میں سکھوں کے آخری وقت میں ہوئی ہے۔‘‘

(کتاب البریہ ص۱۴۶ حاشیہ، خزائن ج۱۳ ص۱۷۷، قادیانی اخبار بدر مورخہ ۸؍اگست ۱۹۰۴ء ص۵، کتاب حیات النبی (از شیخ یعقوب علی تراب قادیانی ایڈیٹر اخبار الحکم) ج اوّل ص۴۹، قادیانی رسالہ ریویو ج۵ نمبر۶ بابت ماہ جون ۱۹۰۶ء ص۲۱۹، قادیانی اخبار الحکم مورخہ ۲۱،۲۸؍مئی ۱۹۱۱ء ص۴)

نوٹ:

تاریخ پیدائش کے مسئلہ پر یاد رہے کہ آج کل کے قادیانی، مرزاقادیانی کی تاریخ پیدائش ۱۹۳۵ء بتاتے ہیں۔ یہ دجل ہے۔ تفصیل پیش گوئیوں میں ’’عمر مرزا‘‘ میں دیکھو۔

تاریخ اور دن:

’’یہ عاجز بروز جمعہ چاند کی چودھویں تاریخ میں پیدا ہوا ہے۔‘‘

(تحفہ گولڑویہ (مطبوعہ ۱۹۱۴ء ضیاء الاسلام پریس قادیان) ص۱۸۱ حاشیہ، خزائن ج۱۷ ص۲۸۱)

وقت:

’’میں بھی جمعہ کے روز بوقت صبح توأم پیدا ہوا تھا۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۲۰۱، خزائن ج۲۲ ص۲۰۹)

کیفیت ولادت:

’’میرے ساتھ ایک لڑکی پیدا ہوئی تھی۔ جس کا نام جنت تھا اور پہلے وہ لڑکی پیٹ میں سے نکلی تھی اور بعد اس کے میں نکلا تھا اور میرے بعد میرے والدین کے گھر میں اور کوئی لڑکی یا لڑکا نہیں ہوا اور میں ان کے لئے خاتم الاولاد تھا۔‘‘ (تریاق القلوب ص۱۵۷، خزائن ج۱۵ ص۴۷۹)

’’تیسری آدم سے مجھے یہ بھی مناسبت ہے کہ آدم توأم کے طور پر پیدا ہوا اور میں بھی توأم پیدا ہوا۔ پہلے لڑکی پیدا ہوئی۔ بعدہٗ میں، اور بایں ہمہ میں اپنے والد کے لئے خاتم الولد تھا۔ میرے بعد کوئی بچہ پیدا نہیں ہوا اور میں جمعہ کے روز پیدا ہوا تھا۔‘‘

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۸۶، خزائن ج۲۱ ص۱۱۳)

مرزاقادیانی کی ماں کا نام

مرزابشیر احمد ایم۔اے نے لکھا ہے: ’’خاکسار عرض کرتا ہے کہ ہماری دادی صاحبہ یعنی حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کی والدہ صاحبہ کا نام چراغ بی بی تھا۔ وہ دادا صاحب کی زندگی میں ہی فوت ہوگئی تھیں۔‘‘

(سیرۃ المہدی حصہ اوّل ص۸، روایت نمبر۱۰)

(ایک اور نام بھی زبان زد خلائق ہے ’’یعنی گھسیٹی‘‘ مرتب)

مرزاقادیانی کے استاد

’’بچپن کے زمانہ میں میری تعلیم اس طرح پر ہوئی کہ جب میں چھ سات سال کا تھا تو ایک فارسی خواں معلم میرے لئے نوکر رکھا گیا۔ جنہوں نے قرآن شریف اور چند فارسی کتابیں مجھے پڑھائیں اور اس بزرگ کا نام فضل الٰہی تھا اور جب میری عمر قربیاً دس برس کے ہوئی تو ایک عربی خواں مولوی صاحب میری تربیت کے لئے مقرر کئے گئے۔ جن کا نام فضل احمد تھا اور میں نے صرف کی بعض کتابیں اور کچھ قواعد نحو ان سے پڑھے اور بعد اس کے جب میں سترہ یا اٹھارہ سال کا ہوا تو ایک اور مولوی صاحب سے چند سال پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ ان کا نام گل علی شاہ تھا۔ ان کو بھی میرے والد صاحب نے نوکر رکھ کر قادیان میں پڑھانے کے لئے مقرر کیا تھا اور ان آخر الذکر مولوی صاحب سے میں نے نحو اور منطق اور حکمت

467

وغیرہ علوم مروجہ کو جہاں تک خداتعالیٰ نے چاہا حاصل کیا اور بعض طبابت کی کتابیں میں نے اپنے والد صاحب سے پڑھیں اور وہ فن طبابت میں بڑے حاذق طبیب تھے۔‘‘

(کتاب البریہ ص۱۴۸تا۱۵۰ حاشیہ، خزائن ج۱۳ ص۱۷۹تا۱۸۱)

مرزاغلام احمد قادیانی کا بچپن … ’’چڑیاں پکڑنا‘‘

’’بسم ﷲ الرحمن الرحیم! بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہا: کہ تمہاری دادی ایمہ ضلع ہوشیار پور کی رہنے والی تھیں۔ حضرت صاحب فرماتے تھے کہ ہم اپنی والدہ کے ساتھ بچپن میں کئی دفعہ ایمہ گئے ہیں۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ وہاں حضرت صاحب بچپن میں چڑیاں پکڑا کرتے تھے اور چاقو نہیں ملتا تھا تو سر کنڈے سے ذبح کر لیتے تھے۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ ایک دفعہ ایمہ سے چند بوڑھی عورتیں آئیں تو انہوں نے باتوں باتوں میں کہا کہ سندھی ہمارے گاؤں میں چڑیاں پکڑا کرتا تھا۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ میں نے نہ سمجھا کہ سندھی سے کون مراد ہے۔ آخر معلوم ہوا کہ ان کی مراد حضرت صاحب سے ہے۔‘‘ (کتاب سیرۃ المہدی حصہ اوّل ص۴۵، روایت نمبر۵۱)

’’نیز والدہ صاحبہ فرماتی تھیں کہ حضرت صاحب فرماتے تھے کہ ہم بچپن میں چڑیاں پکڑا کر تے تھے اور چاقو نہ ہوتا تھا تو تیز سر کنڈے سے ہی حلال کر لیتے تھے۔‘‘

(سیرت المہدی حصہ اوّل ص۲۵۰، روایت نمبر۲۵۱)

میاں ’’محمود احمد‘‘ کا چڑیاں پکڑنا

’’بیان کیا مجھ سے ڈاکٹر میر محمد اسماعیل نے کہ ایک دفعہ میاں (مرزامحمود) دالان کے دروازے بند کر کے چڑیاں پکڑ رہے تھے کہ حضرت (مرزاقادیانی) نے جمعہ کی نماز کے لئے باہر جاتے ہوئے ان کو دیکھ لیا اور فرمایا۔ میاں! گھر کی چڑیاں نہیں پکڑا کرتے۔ جس میں رحم نہیں اس میں ایمان نہیں۔‘‘

(سیرت المہدی حصہ اوّل ص۱۹۲، روایت نمبر۱۷۸)

چوری کرنا

’’بیان کیا مجھ سے والدہ صاحبہ نے کہ ایک دفعہ حضرت صاحب سناتے تھے کہ جب میں بچہ ہوتا تھا تو ایک دفعہ بعض بچوں نے مجھے کہا کہ جاؤ گھر سے میٹھا لاؤ۔ میں گھر میں آیا اور بغیر کسی کے پوچھنے کے ایک برتن میں سے سفید بورا اپنی جیبوں میں بھر کر باہر لے گیا اور راستہ میں ایک مٹھی بھر کر منہ میں ڈال لی۔ پس پھر کیا تھا۔ میرا دم رک گیا اور بڑی تکلیف ہوئی۔ کیونکہ معلوم ہوا کہ جسے میں نے سفید بورا سمجھ کر جیبوں میں بھرا تھا۔ وہ بورا نہ تھا بلکہ پسا ہو انمک تھا۔‘‘

(سیرت المہدی حصہ اوّل ص۲۴۴، روایت نمبر۲۴۴)

روٹی پر راکھ

’’بیان کیا مجھ سے والدہ صاحبہ نے کہ بعض بوڑھی عورتوں نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ بچپن میں حضرت صاحب نے اپنی والدہ سے روٹی کے ساتھ کچھ کھانے کو مانگا۔ انہوں نے کوئی چیز شاید گڑ بتایا کہ یہ لے لو۔ حضرت صاحب نے کہا نہیں یہ میں نہیں لیتا۔ انہوں نے کوئی اور چیز بتائی۔ حضرت صاحب نے اس پر بھی وہی جواب دیا۔ وہ اس وقت کسی بات پر چڑی ہوئی بیٹھی تھیں۔ سختی سے کہنے لگیں کہ جاؤ پھر راکھ سے روٹی کھا لو۔ حضرت صاحب روٹی پر راکھ ڈال کر بیٹھ گئے اور گھر میں ایک لطیفہ ہوگیا۔ یہ حضرت صاحب کا بالکل بچپن کا واقعہ ہے۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ والدہ صاحبہ نے یہ واقعہ سنا کر کہا۔ جس وقت اس عورت نے مجھے یہ بات سنائی تھی۔ اس وقت حضرت صاحب بھی پاس تھے۔ مگر آپ خاموش

468

رہے۔‘‘ (سیرت المہدی حصہ اوّل ص۲۴۵، روایت نمبر۲۴۵)

مرزا’’غلام احمد قادیانی‘‘ کی جوانی … باپ کی پنشن

’’بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ ایک دفعہ اپنی جوانی کے زمانہ میں حضرت مسیح موعود تمہارے دادا کی پنشن وصول کرنے گئے۔ تو پیچھے پیچھے مرزاامام الدین بھی چلاگیا۔ جب آپ نے پنشن وصول کر لی تو وہ آپ کو پھسلا کر اور دھوکہ دے کر بجائے قادیان لانے کے باہر لے گیا اور ادھر ادھر پھراتا رہا۔ پھر جب اس نے سارا روپیہ اڑا کر ختم کر دیا تو آپ کو چھوڑ کر کہیں اور چلا گیا۔ حضرت مسیح موعود اس شرم سے واپس گھر نہیں آئے۔‘‘

(سیرت المہدی حصہ اوّل ص۴۳، روایت نمبر۴۹)

نوٹ:

اس حوالہ میں ادھر ادھر بروزن زیر زبر اور ’’شرم کے باعث‘‘ قابل توجہ ہیں۔

ٹہلتے ٹہلتے کھانا

’’بیان کیا مجھ سے میاں عبد ﷲ صاحب سنوری نے کہ حضرت صاحب جب بڑی مسجد میں جاتے تھے تو گرمی کے موسم میں کنوئیں سے پانی نکلوا کر ڈول سے ہی منہ لگا کر پانی پیتے تھے اور مٹی کے تازہ ٹنڈیاتازہ آبخورہ میں پانی پینا آپ کو پسند تھا اور میاں عبد ﷲ صاحب نے بیان کیا کہ حضرت صاحب! اچھے تلے ہوئے کرارے پکوڑے پسند کرتے تھے۔ کبھی کبھی مجھ سے منگوا کر مسجد میں ٹہلتے ٹہلتے کھایا کرتے تھے اور سالم مرغ کا کباب بھی پسند تھا۔‘‘

(سیرت المہدی حصہ اوّل ص۱۸۱، روایت نمبر۱۶۷)

مرزاقادیانی کا اِزَارْ بَند

’’خاکسار عرض کرتا ہے کہ آپ معمولی نقدی وغیرہ اپنے رومال میں جو بڑے سائز کا ململ کا بنا ہوا تھا۔ باندھ لیا کرتے تھے اور رومال کا دوسرا کنارہ واسکٹ کے ساتھ سلوا لیتے یا کاج میں بندھوا لیتے اور چابیاں ازاربند کے ساتھ باندھتے تھے۔ جو بوجھ سے بعض اوقات لٹک آتا تھا اور والدہ صاحبہ بیان فرماتی ہیں کہ حضرت مسیح موعود عموماً ریشمی ازاربند استعمال فرماتے تھے۔ کیونکہ آپ کو پیشاب جلدی جلدی آتا تھا۔ اس لئے ریشمی ازاربند رکھتے تھے۔ تاکہ کھلنے میں آسانی ہو اور گرہ بھی پڑ جاوے تو کھولنے میں دقت نہ ہو۔ سوتی ازاربند میں آپ سے بعض وقت گرہ پڑ جاتی تھی تو آپ کو بڑی تکلیف ہوتی تھی۔‘‘(سیرت المہدی حصہ اوّل ص۵۵، روایت نمبر۶۵)

مرزاقادیانی کی گرگابی

’’ایک دفعہ کوئی شخص آپ کے لئے گرگابی لے آیا۔ آپ نے پہن لی۔ مگر اس کے الٹے سیدھے پاؤں کا آپ کو پتہ نہیں لگتا تھا۔ کئی دفعہ الٹی پہن لیتے تھے اور پھر تکلیف ہوتی تھی۔ بعض دفعہ آپ کا الٹا پاؤں پڑ جاتا تو تنگ ہوکر فرماتے۔ ان کی (انگریز کی) کوئی چیز بھی اچھی نہیں۔ (اور خود ان کا خود کاشتہ پودا ہے) والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ میں نے آپ کی سہولت کے واسطے سیدھے پاؤں کی شناخت کے لئے نشان لگا دئیے تھے۔ مگر باوجود اس کے آپ الٹا سیدھا پہن لیتے تھے۔ اس لئے آپ نے اسے اتار دیا۔‘‘

(سیرت المہدی حصہ اوّل ص۶۷، روایت نمبر۸۳)

469

الٹی جراب، الٹے بٹن، الٹی جوتی

’’ڈاکٹر میر محمد اسماعیل نے مجھ سے بیان کیا۔ حضرت مسیح موعود اپنے جسمانی عادات میں ایسے سادہ تھے کہ بعض دفعہ جب حضور جراب پہنتے تھے تو بے توجہی کے عالم میں اس کی ایڑھی پاؤں کے تلے کی طرف نہیں بلکہ اوپر کی طرف ہو جاتی تھی اور بارہا ایک کاج کا بٹن دوسرے کاج میں لگا ہوا ہوتا تھا اور بعض اوقات کوئی دوست حضور کے لئے گرگابی ہدیتہ لاتا تو آپ بسا اوقات دایاں پاؤں بائیں میں ڈال لیتے تھے اور بائیاں دائیں میں۔ چنانچہ اسی تکلیف کی وجہ سے آپ دیسی جوتی پہنتے تھے۔‘‘

(سیرۃ المہدی حصہ دوم ص۵۸، روایت نمبر۳۷۵)

صدری کے بٹن کوٹ کے کاج میں

’’بارہا دیکھا گیا کہ بٹن اپنا کاج چھوڑ کر دوسرے میں لگے ہوتے تھے۔ بلکہ صدری کے بٹن کوٹ کے کاجوں میں لگے ہوئے دیکھے گئے… کوٹ، صدری اور پاجامہ گرمیوں میں بھی گرم رکھتے تھے۔‘‘

(سیرت المہدی حصہ دوم ص۱۲۶، روایت نمبر۴۴۴)

کپڑے تکیہ کے نیچے

’’کپڑوں کی احتیاط کا یہ عالم تھا۔ صدری ٹوپی عمامہ رات کو اتار کر تکیے کے نیچے ہی رکھ لیتے اور رات بھر تمام کپڑے جنہیں محتاط لوگ شکن اور میل سے بچانے کو الگ جگہ کھونٹی پر ٹانگ دیتے ہیں۔ وہ بستر پر سر اور جسم کے نیچے ملے جاتے اور صبح کو ان کی ایسی حالت ہو جاتی کہ اگر کوئی فیشن کا دلدادہ اور سلوٹ کا دشمن دیکھ لے تو سر پیٹ لے۔‘‘

(سیرت المہدی حصہ دوم ص۱۲۸، روایت نمبر۴۴۴)

جیب میں اینٹ

’’آپ کے ایک بچے نے آپ کی واسکٹ کی ایک جیب میں ایک بڑی اینٹ ڈال دی۔ آپ جب لیٹتے تو وہ اینٹ چبھتی۔ کئی دن ایسا ہوتا رہا۔ ایک دن اپنے ایک خادم کو کہنے لگے کہ میری پسلی میں درد ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کوئی چیز چبھتی ہے۔ وہ حیران ہوا اور آپ کے جسم مبارک پر ہاتھ پھیرنے لگا۔ اس کا ہاتھ اینٹ پر جا لگا۔ جھٹ جیب سے اینٹ نکال لی۔ دیکھ کر مسکرائے اور فرمایا کہ چند روز ہوئے محمود نے میری جیب میں ڈالی تھی اور کہا تھا کہ اسے نکالنا نہیں۔ میں اسی سے کھیلوں گا۔‘‘

(حضرت مسیح موعود کے مختصر حالات ملحقہ براہین احمدیہ طبع چہارم ص ق)

انگلی سے سالن لینا

’’بعض دفعہ تو دیکھا گیا کہ آپ روکھی روٹی کا نوالہ منہ میں ڈال لیا کرتے تھے اور پھر انگلی کا سرا شوربے میں تر کر کے زبان سے چھودیا کرتے تھے۔ تاکہ لقمہ نمکین ہو جاوے۔‘‘

(سیرت المہدی حصہ دوم ص۱۳۱، روایت نمبر۴۴۴)

بائیں ہاتھ سے چائے، پانی پینا

’’کبھی کبھی آپ پانی کا گلاس یا چائے کی پیالی بائیں ہاتھ سے پکڑ کر پیا کرتے تھے اور فرماتے تھے۔ ابتدائی عمر

470

میں دائیں ہاتھ میں ایسی چوٹ لگی تھی کہ اب تک بوجھل چیز اس ہاتھ سے برداشت نہیں ہوتی۔‘‘

(سیرت المہدی حصہ دوم ص۱۳۱، روایت نمبر۴۴۴)

مرزا قادیانی اور شراب

’’محبی اخویم حکیم محمد حسین صاحب سلمہ ﷲ تعالیٰ! السلام علیکم ورحمتہ ﷲ وبرکاتہ

اس وقت میاں یار محمد بھیجا جاتا ہے۔ آپ اشیاء خردنی خود خرید دیں اور ایک بوتل ’’ٹانک وائن‘‘ کی پلومر کی دوکان سے خرید دیں۔ مگر ٹانک وائن چاہئے۔ اس کا لحاظ رہے۔ باقی خیریت ہے۔ والسلام!‘‘ مرزاغلام احمد عفی عنہ!

(خطوط امام بنام غلام ص۵، از حکیم محمد حسین قریشی قادیانی)

گڑ اور ڈھیلے

براہین احمدیہ کا پہلا ایڈیشن جو مرزاقادیانی کے زمانۂ حیات میں شائع ہوا۔ اس میں معراج الدین عمر احمدی نے ’’حضرت مسیح موعود مرزاغلام احمد قادیانی مؤلف براہین احمدیہ کے مختصر حالات‘‘ نامی مضمون بھی ساتھ شائع کیا۔ اس کے (ص۶۷) پر لکھا کہ: ’’آپ کو شرینی سے بہت پیار ہے اور مرض بول بھی عرصہ سے آپ کو لگی ہوئی ہے۔ اس زمانہ میں آپ مٹی کے ڈھیلے بعض وقت جیب میں ہی رکھتے تھے اور اسی جیب میں ہی گڑ کے ڈھیلے بھی رکھ لیا کرتے تھے۔‘‘

مرزاقادیانی اور کتا

مولوی عبدالکریم سیالکوٹی قادیانی نے لکھا کہ: ’’مجھے یاد ہے کہ حضرت لکھ رہے تھے۔ ایک خادمہ کھانا لائی اور حضرت کے سامنے رکھ دیا اور عرض کیا کھانا حاضر ہے۔ فرمایا خوب کیا۔ مجھے بھوک لگ رہی تھی اور میں آواز دینے کو تھا وہ چلی گئی اور آپ پھر لکھنے میں مصروف ہوگئے۔ اتنے میں کتا آیا اور بڑی فراغت سے سامنے بیٹھ کر کھانا کھایا اور برتنوں کو بھی صاف کیا اور بڑے سکون اور وقار سے چل دیا۔ ﷲ ﷲ ان جانوروں کو بھی کیا عرفان بخشا گیا ہے۔ وہ کتا اگرچہ رکھا ہوا اور سدھا ہوا نہ تھا۔ مگر خدا معلوم اسے کہاں سے یقین ہوگیا اور بجا یقین ہوگیا کہ یہ پاک وجود بے ضرر وجود ہے اور یہ وہ ہے جس نے کبھی چیونٹی کو بھی پاؤں تلے نہیں مسلا اور جس کا ہاتھ کبھی دشمن پر بھی نہیں اٹھا۔ غرض ایک عرصہ کے بعد وہاں ظہر کی اذان ہوئی تو آپ کو پھر کھانا یاد آیا۔ آواز دی خادمہ دوڑی آئی اور عرض کیا کہ میں تو مدت ہوئی کھانا آپ کے آگے رکھ کر آپ کو اطلاع کر آئی تھی۔ اس پر آپ نے مسکرا کر فرمایا اچھا تو شام کو ہی کھائیں گے۔‘‘ (سیرت مسیح موعود ص۱۶)

مرزے کا کتا

’’ڈاکٹر پیر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود نے اپنے گھر کی حفاظت کے لئے ایک گدی کتا بھی رکھا تھا۔ وہ دروازے پر بندھا رہتا تھا اور اس کا نام شیرو تھا۔ اس کی نگرانی بچے کرتے تھے یا میاںقدرت ﷲ خان صاحب مرحوم کرتے تھے۔ جو گھر کے دربان تھے۔‘‘

(سیرت المہدی حصہ سوم ص۲۹۸، روایت نمبر۹۵۷)

مرزا کتوں کا شکار کھیلتا تھا

’’میاں امام دین سیکھوانی نے مجھ سے بیان کیا کہ بہت ابتدائی زمانہ کا ذکر ہے کہ مولوی غلام علی صاحب ڈپٹی

471

سپرنٹنڈنٹ بندوبست ضلع گورداسپور مرزانظام الدین صاحب کے مکان میں آکر ٹھہرے ہوئے تھے۔ ان کو شکار دیکھنے کا شوق تھا۔ وہ مرزانظام الدین صاحب کے مکان سے باہر نکلے اور ان کے ساتھ چند کس سانس بھی جنہوں نے کتے پکڑے ہوئے تھے نکلے۔ مولوی غلام علی صاحب نے شاید حضرت صاحب کو پہلے اطلاع دی ہوئی تھی۔ حضرت صاحب بھی باہر تشریف لے آئے۔ آگے چل پڑے۔ ہم پیچھے پیچھے جا رہے تھے۔ اس وقت حضرت کے پاؤں میں جو جوتا تھا۔ شاید وہ ڈھیلا ہونے کی وجہ سے ٹھپک ٹھپک کرتا جاتا تھا۔ مگر وہ بھی حضرت صاحب کو اچھا معلوم ہوتا ہے۔ چلتے چلتے پہاڑی دروازہ پر چلے گئے۔ وہاں ایک مکان سے سانسیوں نے ایک بلے کو چھیڑ کر نکالا۔ یہ بلا شاید جنگلی تھا۔ جو وہاں چھپا ہوا تھا۔ جب وہ بلا مکان سے باہر بھاگا تو تمام کتے اس کو پکڑنے کے لئے دوڑے۔ یہاں تک کہ اس بلے کو انہوں نے چیر پھاڑ کر رکھ دیا۔ یہ حالت دیکھ کر حضرت صاحب چپ چاپ واپس اپنے مکان کو چلے آئے اور کسی کو خبر نہ کی۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ صدمہ دیکھ کر آپ نے برداشت نہ کیا اور واپس آگئے۔‘‘

(سیرت المہدی حصہ سوم ص۲۸۵، روایت نمبر۹۳۴)

اسٹیشن کی سیر

’’بیان کیا حضرت مولوی نورالدین صاحب نے کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود کسی سفر میں تھے۔ اسٹیشن پر پہنچے تو ابھی گاڑی آنے میں دیر تھی۔ آپ بیوی صاحبہ کے ساتھ اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر ٹہلنے لگ گئے۔ یہ دیکھ کر مولوی عبدالکریم صاحب جن کی طبیعت غیور اور جوشیلی تھی۔ میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ بہت لوگ اور پھر غیرلوگ ادھر ادھر پھرتے ہیں۔ آپ حضرت صاحب سے عرض کریں کہ بیوی صاحبہ کو کہیں الگ بٹھا دیا جاوے۔ مولوی صاحب فرماتے تھے میں نے کہا میں تو نہیں کہتا آپ کہہ کر دیکھ لیں۔ ناچار مولوی عبدالکریم صاحب خود حضرت صاحب کے پاس گئے اور کہا کہ حضور لوگ بہت ہیں۔ بیوی صاحبہ کو الگ ایک جگہ بٹھا دیں۔ حضرت صاحب نے فرمایا جاؤ جی! میں ایسے پردے کا قائل نہیں ہوں۔ مولوی صاحب فرماتے تھے کہ اس کے بعد مولوی عبدالکریم صاحب سر نیچے ڈالے میری طرف آئے۔ میں نے کہا مولوی صاحب جواب لے آئے۔‘‘ (سیرت المہدی حصہ اوّل ص۶۳، روایت نمبر۷۷)

تھیٹر دیکھنا

’’حضرت مرزاقادیانی کے امرتسر جانے کی خبر سے بعض اور احباب بھی مختلف شہروں سے وہاں آگئے۔ چنانچہ کپورتھلہ سے محمد خاں صاحب مرحوم اور منشی ظفر احمد صاحب بہت دنوں وہاں ٹھہرے رہے۔ گرمی کا موسم تھا اور منشی صاحب اور میں۔ ہر دو نحیف البدن اور چھوٹے قد کے آدمی ہونے کے سبب ایک ہی چارپائی پر دونوں لیٹ جاتے تھے۔ ایک شب دس بجے کے قریب میں تھیٹر میں چلا گیا۔ جو مکان کے قریب ہی تھا اور تماشہ ختم ہونے پر دو بجے رات کو واپس آیا۔ صبح منشی ظفر احمد نے میری عدم موجودگی میں حضرت صاحب کے پاس میری شکایت کی کہ مفتی صاحب رات تھیٹر چلے گئے۔ حضرت صاحب (مرزاقادیانی) نے فرمایا۔ ایک دفعہ ہم بھی گئے تھے تاکہ معلوم ہو کہ وہاں کیا ہوتا ہے۔ اس کے سوا اور کچھ نہ فرمایا۔ منشی صاحب نے خود ہی مجھ سے ذکر کیا کہ میں تو حضرت صاحب کے پاس آپ کی شکایت لے کر گیا تھا اور میرا خیال تھا کہ حضرت صاحب آپ کو بلا کر تنبیہ کریں گے۔ مگر حضور نے تو صرف یہی فرمایا کہ ایک دفعہ ہم بھی گئے تھے اور اس سے معلومات حاصل ہوتے ہیں۔ میں نے کہا کہ حضرت کا کچھ نہ فرمانا یہ بھی ایک تنبیہ ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ آپ مجھ سے ذکر کریں گے۔‘‘ (ذکر حبیب، مفتی صادق قادیانی ص۱۸)

472

مرزاغلام احمد قادیانی کی حالت زار … درد زہ

خدا نے پہلے مجھے مریم کا خطاب دیا اور پھر نفخ روح کا الہام کیا۔ پھر بعد اس کے یہ الہام ہوا تھا۔ ’’فَاجَاء ہَا الْمَخَاضُ اِلٰی جِذْعِ النَّخْلَۃِ قَالَتْ یَا لَیْتَنِیْ مِتُّ قَبْلَ ہَذَا وَکُنْتُ نَسْیًا مَنْسِیًّا‘‘ (یعنی پھر مریم کو جو مراد اس عاجز سے ہے۔ دردزہ تنہ کھجور کی طرف لے آئی)۔ (کشتی نوح ص۴۷، خزائن ج۱۹ ص۵۱)

جائے نفرت

کرم خاکی ہوں میرے پیارے نہ آدم زاد ہوں ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۹۷، خزائن ج۲۱ ص۱۲۷)

احتلام

’’ڈاکٹر میر محمد اسماعیل نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت صاحب کے خادم میاں حامد علی کی روایت ہے کہ ایک سفر میں حضرت صاحب کو احتلام ہوا۔ جب میں نے یہ روایت سنی تو بہت تعجب ہوا۔ کیونکہ میرا خیال تھا کہ انبیاء کو احتلام نہیں ہوتا۔ پھر بعد فکر کرنے کے اور طبعی طور پر اس مسئلہ پر غور کرنے کے میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ احتلام تین قسم کا ہوتا ہے۔ ایک فطری، دوسرا شیطانی خواہشات اور خیالات کا نتیجہ اور تیسرا مرض کی وجہ سے انبیاء کو فطرتی اور بیماری والا احتلام ہوسکتا ہے۔ مگر شیطانی نہیں ہوتا۔ لوگوں نے سب قسم کے احتلام کو شیطانی سمجھ رکھا ہے جو غلط ہے۔‘‘

(سیرت المہدی حصہ سوم ص۲۴۲، روایت نمبر۸۴۳)

کبھی کبھی زنا

’’حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) ولی ﷲ تھے اور ولی ﷲ بھی کبھی کبھی زنا کرلیا کرتے ہیں۔ اگر انہوں نے کبھی کبھار زنا کر لیا تو اس میں کیا حرج ہوا۔ پھر لکھا ہے ہمیں حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) پر اعتراض نہیں کیونکہ وہ کبھی کبھی زنا کیا کرتے تھے۔ ہمیں اعتراض موجودہ خلیفہ پر ہے۔ کیونکہ وہ ہر وقت زنا کرتا رہتا ہے۔‘‘

(الفضل قادیان مورخہ۳۱؍اگست ۱۹۳۸ء)

باب دوم … مرزاقادیانی اور صنف نازک

بدنظری کے متعلق مرزاقادیانی کا فتوی

’’قرآن تمہیں انجیل کی طرح یہ نہیں کہتا کہ صرف بدنظری اور شہوت کے خیال سے غیر محرم عورتوں کو مت دیکھو اور بجز اس کے دیکھنا حلال، بلکہ وہ کہتا ہے کہ ہر گز نہ دیکھ۔ نہ بد نظری سے اور نہ نیک نظری سے کہ یہ سب تمہارے لئے ٹھوکر کی جگہ ہے۔‘‘

(کشتی نوح ص۲۶، خزائن ج۱۹ ص۲۸،۲۹)

473

مرزاقادیانی کا فعل

کھانا دینے والی عورت

۱… ’’بیان کیا مجھ سے مولوی رحیم بخش صاحب نے کہ بیان کیا مجھ سے مرزاسلطان احمد نے کہ جو عورت والد صاحب کو کھانا دینے جاتی تھی وہ بعض اوقات واپس آکر کہتی تھی۔ میاں ان کو یعنی حضرت صاحب کو کیا ہوش ہے۔ یا کتابیں ہیں اور یا یہ ہیں۔‘‘

(سیرۃ المہدی حصہ اوّل ص۲۳۴، روایت نمبر۲۳۴)

پاخانہ میں لوٹا رکھنے والی غیرمحرم عورت

۲… ’’ایک دن آپ نے کسی خادمہ سے فرمایا کہ آپ کے لئے پاخانہ میں لوٹا رکھ دے۔ اس نے غلطی سے تیز گرم پانی کا لوٹا رکھ دیا۔ جب حضرت صاحب مسیح موعود فارغ ہوکر باہر تشریف لائے تو دریافت فرمایا کہ لوٹا کس نے رکھا تھا؟ جب بتایا گیا کہ فلاں خادمہ نے رکھا تھا تو آپ نے اسے بلوایا اور اپنے ہاتھ آگے کرنے کو کہا اور پھر اس کے ہاتھ پر آپ نے اس لوٹے کا بچا ہوا پانی بہا دیا۔‘‘

(سیرۃ المہدی حصہ سوم ص۲۴۳، روایت نمبر۸۴۷)

خاص خدمت گار غیر محرم عورت

۳… ’’ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ڈاکٹر نور محمد صاحب لاہوری کی بیوی ڈاکٹرنی کے نام سے مشہور تھی۔ وہ مدتوں قادیان آکر حضور کے مکان میں رہی اور حضور کی خدمت کرتی تھی۔ جب وہ فوت ہوگئی تو اس کا ایک دوپٹہ حضرت صاحب نے یاددہانی کے لئے بیت الدعا کی کھڑکی کی ایک آہنی سلاخ سے بندھوا دیا۔‘‘

(سیرۃ المہدی حصہ سوم ص۱۲۶، روایت نمبر۶۸۸)

غیر محرم عورت بھانو پاؤں دبایا کرتی تھی

۴… ’’ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت ام المؤمنین نے ایک دن سنایا کہ حضرت صاحب کے ساتھ ایک ملازمہ مسماۃ بھانو تھی۔ وہ ایک رات جب کہ خوب سردی پڑ رہی تھی۔ حضور کو دبانے بیٹھی۔ چونکہ وہ لحاف کے اوپر سے دبا رہی تھی۔ اس لئے اس کو پتہ نہ لگا کہ جس چیز کو میں دبا رہی ہوں وہ حضور کی ٹانگیں نہیں ہیں بلکہ پلنگ کی پٹی ہے۔ تھوڑی دیر کے بعد حضرت صاحب نے فرمایا ۔ بھانو آج بڑی سردی ہے۔ بھانو کہنے لگی۔ جی ہاں جبھی تو آج آپ کی لاتیں لکڑی کی طرح سخت ہورہی ہیں۔‘‘ (سیرۃ المہدی حصہ سوم ص۲۱۰، روایت نمبر۷۸۰)

پہرہ دینے والی غیر محرم عورتیں

۵… ’’مائی رسول بی بی صاحبہ بیوہ حافظ حامد علی صاحب مرحوم نے بواسطہ مولوی عبدالرحمن صاحب جٹ مولوی فاضل نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک زمانہ میں حضرت مسیح موعود کے وقت میں میں اور اہلیہ بابو شاہ دین رات کو پہرہ دیتی تھیں اور حضرت صاحب نے فرمایا ہوا تھا کہ اگر میں سوتے میں کوئی بات کیاکروں تو مجھے جگا دینا۔ ایک دن کا واقعہ ہے کہ میں نے آپ کی زبان پر کوئی الفاظ جاری ہوتے سنے اور آپ کو جگا دیا۔ اس وقت رات کے بارہ بجے تھے۔ ان ایام

474

میں عام طور پر پہرہ پر مائی فجو منشیانی اہلیہ منشی محمد دین گوجرانوالہ اور اہلیہ بابو شاہ دین ہوتی تھیں۔‘‘

(سیرۃ المہدی حصہ سوم ص۲۱۳، روایت نمبر۷۸۶)

غیرمحرم عورت کو اپنا جوٹھا قہوہ پلایا

۶… ’’ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ میری بڑی لڑکی زینب بیگم نے مجھ سے بیان کیا ایک دفعہ حضرت مسیح موعود قہوہ پی رہے تھے کہ حضور نے اپنا بچا ہوا قہوہ دیا اور فرمایا زینب یہ پی لو۔ میں نے عرض کی حضور یہ گرم ہے اور مجھ کو ہمیشہ اس سے تکلیف ہو جاتی ہے۔ آپ نے فرمایا کہ یہ ہمارا بچا ہوا قہوہ ہے۔ تم پی لو کچھ نقصان نہیں ہوگا۔ میں نے پی لیا۔‘‘ (سیرۃ المہدی حصہ سوم ص۲۶۶، روایت نمبر۸۹۶)

غیرمحرم عورت سے نظم کا قافیہ پوچھا

۷… ’’مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم کی بڑی بیوی مولویانی کسی کام کی غرض سے حضرت صاحب کے پاس آئیں۔ حضرت صاحب نے ان سے فرمایا کہ میں ایک نظم لکھ رہا ہوں۔ جس میں یہ یہ قافیہ ہے۔ آپ بھی کوئی قافیہ بتائیں۔ مولویانی مرحومہ نے کہا ہمیں کسی نے پڑھایا ہی نہیں۔ فرمایا کہ آپ نے بتا تو دیا ہے۔ (پڑھا) چنانچہ آپ نے اس وقت ایک شعر میں اس قافیہ کو استعمال کر لیا۔‘‘

(سیرۃ المہدی حصہ سوم ص۲۴۳، روایت نمبر۸۴۶)

غیرمحرم عورت کا مراق اپنی خدمت کراکر دور کر دیا

۸… ’’ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ میری لڑکی زینب بیگم نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ جب حضور سیالکوٹ تشریف لے گئے تھے تو میں رعیہ سے ان کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ ان ایام میں مجھے مراق کا سخت دورہ تھا۔ میں شرم کے مارے آپ سے عرض نہیں کر سکتی تھی۔ میں حضور کی خدمت کر رہی تھی کہ حضور نے خود معلوم کر کے فرمایا کہ زینب تجھ کو مراق کی بیماری ہے۔ ہم دعا کریں گے۔ کچھ ورزش کیا کرو اور پیدل چلا کرو۔ میں اپنے مکان پر جانے کے لئے جو حضور کے مکان سے ایک میل دور تھا۔ ٹانگے کی تلاش کی۔ مگر نہ ملا۔ اس لئے مجبوراً مجھے پیدل جانا پڑا۔ مجھ کو یہ پیدل چلنا سخت مصیبت اور ہلاکت معلوم ہوتی تھی۔ مگر خدا کی قدرت جوں جوں میں پیدل چلتی تھی۔ آرام معلوم ہوتا تھا۔ حتیٰ کہ دوسرے روز میں پیدل چل کر حضور کی زیارت کو آئی تو دورہ مراق کا جاتا رہا اور بالکل آرام ہوگیا۔‘‘

(سیرۃ المہدی حصہ سوم ص۲۷۵،۲۷۶، روایت نمبر۹۱۷)

غیرمحرم عورت سے تین ماہ خدمت کرواکر اس کا دل خوشی اور سرور سے بھر دیا

۹… ’’ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ مجھ سے میری لڑکی زینب بیگم نے بیان کیا کہ میں تین ماہ کے قریب حضرت اقدس کی خدمت میں رہی ہوں۔ گرمیوں میں پنکھا وغیرہ اور اسی طرح کی خدمت کرتی تھی۔ بسا اوقات ایسا ہوتا تھا کہ نصف رات یا اس سے زیادہ خدمت کرتے گذر جاتی تھی۔ مجھ کو اس اثناء میں کسی قسم کی تھکان وتکلیف محسوس نہیں ہوتی تھی۔ بلکہ خوشی سے دل بھر جاتا تھا۔ ایک دو دفعہ ایسا موقعہ آیا کہ عشاء کی نماز سے صبح کی اذان تک مجھے ساری ساری رات خدمت کا موقعہ ملا۔ پھر بھی اس حالت میں مجھ کو نہ نیند نہ غنودگی اور نہ تھکان معلوم ہوتی تھی۔ بلکہ خوشی اور سرور پیدا ہوتا تھا۔‘‘ط

(سیرۃ المہدی حصہ سوم ص۲۷۲، ۲۷۳، روایت نمبر۹۱۰)

475

غیرمحرم لڑکیوں کو گھر میں رکھ کر ان کی شادی کا بندوبست کرتے تھے

۱۰… ’’بیان کیا مجھ سے میاں عبد ﷲ سنوری نے کہ جب میاں ظفر احمد کپور تھلوی کی پہلی بیوی فوت ہوگئی اور ان کو دوسری بیوی کی تلاش ہوئی تو ایک دفعہ حضرت صاحب نے ان سے کہا کہ ہمارے گھر میں دو لڑکیاں رہتی ہیں۔ ان کو میں لاتا ہوں۔ آپ ان کو دیکھ لیں۔ پھر ان میں سے جو آپ کو پسند ہو اس سے آپ کی شادی کرادی جاوے۔ چنانچہ حضرت صاحب گئے اور ان دولڑکیوں کو بلا کر کمرہ کے باہر کھڑا کر دیا اور پھر اندر آکر کہا وہ باہر کھڑی ہیں۔ آپ چک کے اندر سے دیکھ لیں۔ چنانچہ میاں ظفر احمد صاحب نے ان کو دیکھ لیا اور پھر حضرت صاحب نے ان کو رخصت کر دیا اور اس کے بعد میاں ظفر احمد صاحب سے پوچھنے لگے کہ اب بتاؤ تمہیں کون سی لڑکی پسند ہے۔ وہ نام تو کسی کا جانتے نہیں تھے۔ اس لئے انہوں نے کہا کہ جس کا منہ لمبا ہے وہ اچھی ہے۔ اس کے بعد حضرت صاحب نے میری رائے لی۔ میں نے عرض کیا حضور میں نے تو نہیں دیکھا۔ پھر خود فرمانے لگے کہ ہمارے خیال میں تو دوسری لڑکی بہتر ہے۔ جس کا منہ گول ہے۔ پھر فرمایا کہ جس شخص کا چہرہ لمبا ہوتا ہے وہ بیماری وغیرہ کے بعد عموماً بدنما ہو جاتا ہے۔ لیکن گول چہرے کی خوبصورتی قائم رہتی ہے۔‘‘

(سیرۃ المہدی حصہ اوّل ص۲۵۹، روایت نمبر۲۶۸)

ننگی عورت

’’حضرت مسیح موعود کے اندرون خانہ ایک نیم دیوانی سی عورت بطور خادمہ کے رہا کرتی تھی۔ ایک دفعہ اس نے کیا حرکت کی کہ جس کمرے میں حضرت صاحب بیٹھ کر لکھنے پڑھنے کا کام کرتے تھے۔ وہاں ایک کونے میں کھرا تھا۔ جس کے پاس پانی کے گھڑے رکھے تھے۔ وہاں اپنے کپڑے اتار کر اور ننگی بیٹھ کر نہانے لگ گئی۔ حضرت صاحب اپنے کام تحریر میں مصروف رہے اور کچھ خیال نہ کیا کہ وہ کیا کرتی ہے۔ جب وہ نہا چکی تو ایک اور خادمہ اتفاقاً آ نکلی۔ اس نے اس نیم دیوانی کو ملامت کی کہ حضرت صاحب کے کمرے میں اور موجودگی کے وقت تو نے یہ کیا حرکت کی؟ تو اس نے ہنس کر جواب دیا۔ انہوں کجھ دیدا ہے۔ یعنی اسے کیا دکھائی دیتا ہے۔ مرزاقادیانی کی عادت غض بصر کی جو وہ ہر وقت مشاہدہ کرتی تھی۔ اس کا اثر اس دیوانی عورت پر بھی ایسا تھا کہ وہ خیال کرتی تھی کہ حضور کو کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ اس واسطے حضور سے کسی پردہ کی ضرورت ہی نہیں۔‘‘

(ذکر حبیب، مفتی صادق قادیانی ص۳۸)

غرارہ

’’آخری ایام میں حضور ہمیشہ ایسے پاجامے پہنا کرتے تھے جو نیچے سے تنگ اوپر سے کھلے۔ گاؤ دم طرز کے اور شرعی کہلاتے ہیں۔ لیکن شروع میں ۹۵۔۱۸۹۰ء میں میں نے حضور کو بعض دفعہ غرارہ پہنے ہوئے بھی دیکھا ہے۔‘‘

(ذکر حبیب، مفتی صادق قادیانی ص۳۹)

ﷲ مرد اور مرزاقادیانی عورت

’’حضرت مسیح موعود نے ایک موقع پر اپنی حالت یہ ظاہر فرمائی ہے کہ کشف کی حالت آپ پر اس طرح طاری ہوئی کہ گویا آپ عورت ہیں اور ﷲتعالیٰ نے رجولیت کی طاقت کا اظہار فرمایا تھا۔ سمجھنے والے کے لئے اشارہ کافی ہے۔‘‘

(اسلامی قربانی ٹریکٹ نمبر۳۴ ص۱۲، از قاضی یار محمد قادیانی مرید مرزاقادیانی)

476

مرزاقادیانی کا حاملہ ہونا

’’مریم کی طرح عیسیٰ علیہ السلام کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا اور آخرکئی مہینہ کے بعد جو دس مہینے سے زیادہ نہیں بذریعہ اس الہام کے جو سب سے آخر براہین احمدیہ کے حصہ چہارم ص۵۵۶ میں درج ہے۔ ’’مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا۔ پس اس طور سے میں ابن مریم ٹھہرا۔‘‘ (کشتی نوح ص۴۷، خزائن ج۱۹ ص۵۰)

مرزا کے صحابی کا مبارک عمل

نماز میں مرزا کے جسم کو ٹٹولنا

’’قاضی محمد یوسف صاحب پشاوری نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک زمانہ میں حضرت اقدس حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کے ساتھ اس کوٹھڑی میں نماز کے لئے کھڑے ہوا کرتے تھے۔ جو مسجد مبارک میں بجانب مغرب تھی۔ مگر ۱۹۰۷ء میں جب مسجد مبارک وسیع کی گئی تو وہ کوٹھڑی منہدم کر دی گئی۔ اس کوٹھڑی کے اندر حضرت صاحب کے کھڑے ہونے کی وجہ اغلباً یہ تھی کہ قاضی یار محمد حضرت اقدس کو نماز میں تکلیف دیتے تھے۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ قاضی یار محمد صاحب بہت مخلص آدمی تھے۔ مگر ان کے دماغ میں کچھ خلل تھا۔ جس کی وجہ سے ایک زمانہ میں ان کا یہ طریق ہوگیا تھا کہ حضرت صاحب کے جسم کو ٹٹولنے لگ جاتے تھے اور تکلیف اور پریشانی کا باعث ہوتے تھے۔‘‘

(سیرۃ المہدی حصہ سوم ص۲۶۵، روایت نمبر۸۹۳)

جسم پر نامناسب طور پر ہاتھ پھیرنا

’’ڈاکٹر میر محمد اسماعیل نے مجھ سے بیان کیا کہ قدیم مسجد مبارک میں حضور (مرزاقادیانی) نماز جماعت میں ہمیشہ پہلی صف کے دائیں طرف دیوار کے ساتھ کھڑے ہوا کرتے تھے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں سے آج کل موجودہ مسجد مبارک کی دوسری صف شروع ہوتی ہے۔ یعنی بیت الفکر کی کوٹھڑی کے ساتھ ہی مغربی طرف امام اگلے حجرہ میں کھڑا ہوتا تھا۔ پھر ایسا اتفاق ہوا کہ ایک شخص پر جنون کا غلبہ ہوا اور وہ حضرت صاحب کے پاس کھڑا ہونے لگا اور نماز میں آپ کو تکلیف دینے لگا اور اگر کبھی اس کو پچھلی صف میں جگہ ملتی تو ہر سجدہ میں وہ صفیں پھلانگ کر حضور کے پاس آتا اور تکلیف دیتا اور قبل اس کے کہ امام سجدہ سے سر اٹھائے وہ اپنی جگہ پر واپس چلا جاتا۔ اس تکلیف سے تنگ آکر حضور نے امام کے پاس حجرہ میں کھڑا ہونا شروع کر دیا۔ مگر وہ بھلا مانس حتی المقدور وہاں بھی پہنچ جایا کرتا اور ستایا کرتا تھا۔ مگر پھر بھی وہاں نسبتاً امن تھا۔ اس کے بعد آپ وہیں نماز پڑھتے رہے۔ یہاں تک کہ مسجد کی توسیع ہوگئی۔ یہاں بھی آپ دوسرے مقتدیوں سے آگے امام کے پاس ہی کھڑے ہوتے رہے۔ مسجد اقصیٰ میں جمعہ اور عیدین کے موقعہ پر آپ صف اوّل میں عین امام کے پیچھے کھڑے ہوا کرتے تھے۔ وہ معذور شخص جو ویسے مخلص تھا۔ اپنے خیال میں اظہار محبت کرتا اور جسم پرنامناسب طور پر ہاتھ پھیر کر تبرک حاصل کرتا تھا۔‘‘ (سیرۃ المہدی حصہ سوم ص۲۶۸، روایت نمبر۹۰۳)

477

باب سوم … مرزاغلام احمد قادیانی کے فرشتے

ﷲتعالیٰ کے چار فرشتے بہت زیادہ مشہور ہیں۔ حضرت عزرائیل علیہ السلام، حضرت میکائیل علیہ السلام، حضرت اسرافیل علیہ السلام اور حضرت جبرائیل علیہ السلام۔ حضرت عزرائیل علیہ السلام کے ذمہ ہر جاندار کی روح قبض کرنا ہے۔ حضرت میکائیل علیہ السلام کے ذمہ ہواؤں اور بارشوں کا نظام سپرد ہے۔ حضرت اسرافیل علیہ السلام کے ذمہ روز قیامت صور پھونکنا ہے۔ جس سے پوری کائنات درہم برہم ہو جائے گی اور زمانۂ آخرت شروع ہو جائے گا۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام ﷲتعالیٰ کا پیغام (وحی نبوت ورسالت) لے کر تمام ابنیاء ورسل تک پہنچاتے رہے۔ حضور نبی کریم ﷺ ﷲتعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔ آپ ﷺ پر سلسلۂ نبوت اور رسالت ختم ہوگیا اور وحی کا دروازہ بھی۔ لہٰذا حضرت جبرائیل علیہ السلام کی ڈیوٹی ( ﷲ کے نبیوں پر وحی پہنچانا) بھی ختم ہوگئی۔ ان چاروں فرشتوں کے علاوہ بھی ﷲتعالیٰ کے بے شمار فرشتے ہیں۔ جو اپنے اپنے فرائض منصبی انجام دے رہے ہیں۔ جھوٹے مدعیان نبوت کا ہمیشہ یہ دعویٰ رہا ہے کہ ان پر بھی فرشتے نازل ہوتے ہیں۔ کہاوت مشہور ہے۔ جیسی روح، ویسے فرشتے۔ یہ ضرب المثل جھوٹے مدعی نبوت آنجہانی مرزاقادیانی پر پوری طرح صادق آتی ہے۔ جس طرح مرزاقادیانی ایک مخبوط الحواس اور مضحکہ خیز شخصیت کا مالک تھا۔ اس کے نام نہاد فرشتے بھی ایسی ہی خصلت رکھتے تھے۔ آئیے! ملتے ہیں مرزاقادیانی کے ’’خصوصی‘‘ فرشتوں سے:

ٹیچی ٹیچی

’’کوئی شخص ہے اس سے میں کہتا ہوں کہ تم حساب کر لو مگر وہ نہیں کرتا۔ اتنے میں ایک شخص آیا اور اس نے ایک مٹھی بھر کر روپے مجھے دیئے ہیں۔ اس کے بعد ایک اور شخص آیا جو الٰہی بخش کی طرح ہے۔ مگر انسان نہیں بلکہ فرشتہ معلوم ہوتا ہے۔ اس نے دونوں ہاتھ روپوں کے بھر کر میری جھولی میں ڈال دئیے ہیں تو وہ اس قدر ہوگئے ہیں کہ میں ان کو گن نہیں سکتا۔ پھر میں نے اس کا نام پوچھا تو اس نے کہا۔ میرا کوئی نام نہیں۔ دوبارہ دریافت کرنے پر کہا کہ میرا نام ہے ٹیچی۔‘‘

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات طبع دوم ص۵۲۶)

ٹیچی ٹیچی مرزاقادیانی کا عجیب فرشتہ تھا۔ مرزاقادیانی نے اس سے نام پوچھا تو پہلے اس نے جھوٹ بولتے ہوئے کہا، میرا کوئی نام نہیں۔ پھر دوبارہ دریافت کرنے پر بتایا کہ میرا نام ٹیچی ہے۔ قادیانیوں کا کہنا ہے کہ ٹیچی ٹیچی تیز رفتار فرشتہ ہے۔ جو ٹچ کر کے جاتا ہے اور ٹچ کر کے آتا ہے۔ لیکن یہ بھی عجیب بات ہے کہ جب قادیانیوں کو ٹیچی ٹیچی کہا جاتا ہے تو وہ اس کا برا محسوس کرتے ہیں۔ بلکہ بعض دفعہ تو وہ غصے میں آکر جھگڑنا شروع کر دیتے ہیں۔ آزمائش شرط ہے۔

شیر علی

’’میں نے کشفی حالت میں دیکھا کہ ایک شخص جو مجھے فرشتہ معلوم ہوتا ہے۔ مگر خواب میں محسوس ہوا کہ اس کا نام شیر علی ہے۔ اس نے مجھے ایک جگہ لٹا کر میری آنکھیں نکالی ہیں اور صاف کی ہیں اور میل اور کدورت ان میں سے پھینک دی اور ہر ایک بیماری اور کوتاہ بینی کا مادہ نکال دیا ہے اور ایک مصفّٰی نور جو آنکھوں میں پہلے سے موجود تھا۔ مگر بعض مواد کے نیچے دبا ہوا تھا۔ اس کو ایک چمکتے ہوئے ستارہ کی طرح بنادیا ہے۔‘‘ (تذکرہ مجموعہ وحی والہامات ص۳۱، طبع سوم)

478

معلوم ہوتا ہے کہ اس فرشتے (آئی سپیشلسٹ) نے مرزاقادیانی کی آنکھیں صحیح طریقے سے صاف نہیں کیں۔ کیونکہ مرزاقادیانی آخر وقت تک آنکھوں کی بیماری ’’مائی اوپیا‘‘ میں مبتلا رہا۔ جس کی وجہ سے وہ چاند بھی نہ دیکھ سکتا تھا۔ (سیرت المہدی ج۳ ص۱۱۹، بروایت نمبر۶۷۳)

مرزاغلام قادر

’’میں نے کشفی حالت میں دیکھا کہ میرے بڑے بھائی مرزاغلام قادر مرحوم کی شکل پر ایک شخص آیا ہے۔ مگر مجھے فوراً معلوم کرایا گیا کہ یہ فرشتہ ہے۔‘‘

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات ص۱۸۸، طبع سوم)

خیراتی

’’عرصہ قریباً پچیس برس کا گزرا ہے کہ مجھے گورداسپور میں ایک رؤیا ہوا کہ میں ایک چارپائی پر بیٹھا ہوں اور اسی چارپائی پر بائیں طرف مولوی عبد ﷲ صاحب غزنوی مرحوم بیٹھے ہیں۔ اتنے میں میرے دل میں تحریک پیدا ہوئی کہ میں مولوی صاحب موصوف کو چارپائی سے نیچے اتاردوں۔ چنانچہ میں نے ان کی طرف کھسکنا شروع کیا۔ یہاں تک کہ وہ چارپائی سے اتر کر زمین پر بیٹھ گئے۔ اتنے میں تین فرشتے آسمان کی طرف سے ظاہر ہوگئے۔ جن میں سے ایک کا نام خیراتی تھا۔‘‘

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات ص۲۹، طبع سوم)

مٹھن لال

’’فرمایا۔ نصف رات سے فجر تک مولوی عبدالکریم کے لئے دعا کی گئی۔ صبح کے بعد جب سویا تو یہ خواب آئی۔ میں نے دیکھا کہ عبد ﷲ سنوری میرے پاس آیا ہے اور وہ ایک کاغذ پیش کر کے کہتا ہے کہ اس کاغذ پر میں نے حاکم سے دستخط کرانا ہے اور جلدی جانا ہے۔ میری عورت سخت بیمار ہے اور کوئی مجھے پوچھتا نہیں۔ دستخط نہیں ہوتے۔ اس وقت میں نے عبد ﷲ کے چہرے کی طرف دیکھا تو زردرنگ اور سخت گھبراہٹ اس کے چہرہ پر ٹپک رہی ہے۔ میں نے اس کو کہا کہ یہ لوگ روکھے ہوتے ہیں۔ نہ کسی کی سپارش مانیں اور نہ کسی کی شفاعت، میں تیرا کاغذ لے جاتا ہوں۔ آگے جب کاغذ لے کر گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک شخص مٹھن لال نام جو کسی زمانہ میں بٹالہ میں اکسٹرا اسسٹنٹ تھا۔ کرسی پر بیٹھا ہوا کچھ کام کر رہا ہے اور گرد اس کے عملہ کے لوگ ہیں۔ میں نے جاکر کاغذ اس کو دیا اور کہا کہ یہ ایک میرا دوست ہے اور پرانا دوست ہے اور واقف ہے۔ اس پر دستخط کر دو۔ اس نے بلا تأمل اسی وقت لے کر دستخط کر دئیے۔ پھر میں نے واپس آکر وہ کاغذ ایک شخص کو دیا اور کہا خبردار ہوش سے پکڑو، ابھی دستخط گیلے ہیں اور پوچھا کہ عبد ﷲ کہاں ہے؟ انہوں نے کہا کہ کہیں باہر گیا ہے۔ بعد اس کے آنکھ کھل گئی اور ساتھ پھر غنودگی کی حالت ہوگئی۔ تب میں نے دیکھا کہ اس وقت میں کہتا ہوں، مقبول کو بلاؤ۔ اس کے کاغذ پر دستخط ہوگئے ہیں۔ فرمایا۔ یہ جو مٹھن لال دیکھا گیا ہے۔ ملائک طرح طرح کی تمثلات اختیار کر لیا کرتے ہیں۔ مٹھن لال سے مراد ایک فرشتہ تھا۔‘‘

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات ص۵۶۰، طبع سوم)

حفیظ

صوفی نبی بخش صاحب لاہوری نے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود نے فرمایا: ’’بڑے مرزا صاحب پر ایک مقدمہ تھا۔ میں نے دعا کی تو ایک فرشتہ مجھے خواب میں ملا جو چھوٹے لڑکے کی شکل میں تھا۔ میں نے پوچھا تمہارا کیا

479

نام ہے ۔وہ کہنے لگا میرا نام حفیظ ہے۔ پھر وہ مقدمہ رفع دفع ہوگیا۔‘‘

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات ص۷۵۷، طبع سوم)

درشنی

’’ایک فرشتہ کو میں نے ۲۰برس کے نوجوان کی شکل میں دیکھا۔ صورت اس کی مثل انگریزوں کے تھی اور میز کرسی لگائے ہوئے بیٹھا ہے۔ میں نے اس سے کہا کہ آپ بہت ہی خوبصورت ہیں۔ اس نے کہا ہاں میں درشنی آدمی ہوں۔‘‘

(ملفوظات جلد چہارم ص۶۹)

باب چہارم … مرزاقادیانی کی عملی زندگی

مرزاقادیانی کی پیدائش سے اس کی جوانی تک سے متعلق جستہ جستہ قادیانی کتب سے حوالہ جات آپ نے ملاحظہ کئے۔ جس سے ایک شخص کی ذہنی ساخت، ذاتی کردار پر بڑی حد تک روشنی پڑتی ہے۔ ان حوالہ جات کے بعد ہر شخص دیانتدارانہ طور پر یہ سمجھنے پر مجبور ہے کہ مرزاقادیانی کے کفریہ عقائد تو وجہ نفرت ہیں ہی، ورنہ ذاتی طور پر بھی مرزاقادیانی اس قابل نہ تھا کہ اسے کسی شریف سوسائٹی میں کوئی آبرو مندانہ مقام مل سکتا۔ آئیے! اب ہم دیکھتے ہیں کہ مرزاقادیانی نے جب عملی زندگی میں قدم رکھا تو کیا کیا گل کھلائے۔

دادا کی پنشن کا ہڑپ کر جانا

’’بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے ایک دفعہ اپنی جوانی کے زمانہ میں حضرت مسیح موعود تمہارے دادا کی پنشن وصول کرنے گئے تو پیچھے پیچھے مرزا امام الدین بھی چلا گیا۔ جب آپ نے پنشن وصول کر لی تو آپ کو پھسلا کر اور دھوکہ دے کر بجائے قادیان لانے کے باہر لے گیا اور ادھر ادھر پھراتا رہا۔ پھر جب اس نے سارا روپیہ اڑا کر ختم کر دیا تو آپ کو چھوڑ کر کہیں اور چلا گیا۔ حضرت مسیح موعود اس شرم سے واپس گھر نہیں آئے اور چونکہ تمہارے دادا کا منشا رہتا تھا کہ آپ کہیں ملازم ہو جائیں۔ اس لئے آپ سیالکوٹ شہر میں ڈپٹی کمشنر کی کچہری میں قلیل تنخواہ پر ملازم ہوگئے اور کچھ عرصہ تک وہاں ملازمت پرر ہے۔ پھر جب تمہاری دادی بیمار ہوئیں تو تمہارے دادا نے آدمی بھیجا کہ ملازمت چھوڑ کر آجاؤ۔ جس پر حضرت صاحب فوراً روانہ ہوگئے۔‘‘

(سیرت المہدی ص۴۳، حصہ اوّل روایت نمبر۴۹)

ایک بار پھر اس قادیانی روایت کو پڑھیں۔ مرزاامام الدین جو مرزاقادیانی سے عمر میں بڑا تھا۔ مرزاقادیانی کا رشتہ میں چچازاد بھائی اور ہمجولی تھا۔ تبھی تو مرزاقادیانی کے ہمراہ ہمراز کے طور پر روانہ ہوا۔ یہ ایسا آدمی تھا کہ سیرۃ المہدی حصہ اوّل ص۴۴، روایت۴۹ کے مطابق ایک بار ڈاکہ میں پکڑا گیا تھا۔ نیز اس امام الدین نے مرزاقادیانی کو بعد میں قادیانی گروہ کے سربراہ کے طور پر دیکھا تو یہ چوہڑوں کا پیر بن گیا۔ (سیرۃ المہدی حصہ اوّل ص۳۲، روایت۳۹)

ایک بار پھر پنشن وصول کرنے کی روایت کو پڑھیں کہ جب آپ نے پنشن وصول کر لی تو:

۱… آپ کو پھسلا کر اور دھوکہ دے کر بجائے قادیان لانے کے باہر لے گیا۔

۲… اور ادھر ادھر پھراتا رہا۔

۳… پھر جب اس نے سارا روپیہ اڑا کر ختم کر دیا تو آپ کو چھوڑ کر کہیں اور چلا گیا۔

۴… اور حضرت مسیح موعود اس شرم سے واپس گھر نہیں آئے۔

480

مرزاقادیانی عاقل بالغ تھے۔ ایسے آدمی سے وہ کون سی مجبوری تھی کہ ان کو سارا روپیہ دے دیا۔ پھر ادھر ادھر پھراتا رہا۔ ادھر ادھر کا کیا معنی؟ وہ کون سی جگہ تھی جہاں یہ خطیر رقم صرف کی۔ وہ کون سے کارہائے ناکردنی اور باعث شرم تھے۔ جس کے باعث مرزاقادیانی امام دین کا لٹو بنارہا۔ ان عوامل پر قادیانی غور کریں تو مرزاقادیانی کی جوانی مستانی کی رنگین وسنگین باعث شرم پوری کہانی ان پر واضح ہو جائے۔ حوالہ جات گذر چکے کہ جو شخص دعویٰ نبوت کے بعد ہر وقت عورتوں کے جھرمٹ میں رہتا تھا تو پنشن کے خرچ کرنے کا مصرف صاف صاف نظر آجاتا ہے۔ (سیرۃ المہدی حصہ اوّل ص۱۳۱، روایت۱۳۲) کے مطابق پنشن سات سوروپے تھی۔ اس زمانہ میں (سیرۃ المہدی حصہ اوّل ص۱۸۲، روایت نمبر۱۶۷) کے مطابق ایک آنہ کا سیرخام گوشت ملتا تھا۔ اب ذرا حساب لگائیں تو سات سو روپیہ کے گیارہ ہزار دو سو آنے بنتے تھے۔ فی آنہ ایک سیر کا معنی گیارہ ہزار دو سو کلو گوشت۔ اس سات سو روپیہ میں مل سکتا تھا۔ آج کل گوشت چار صد روپیہ فی کلو ہے۔ گیارہ ہزار دو سو کلو گوشت کی قیمت فی کلو چار سو روپیہ کے حساب سے چوالیس لاکھ اسی ہزار روپیہ بنتی ہے۔ آج اس دور میں اتنی خطیر رقم مرزاقادیانی اور امام الدین اس کے ہمجولی نے ادھر ادھر کہاں کہاں خرچ کی؟ اے کاش! قادیانی اس پر غور کریں۔

اب مرزاقادیانی نے گھر آنے کی بجائے سیالکوٹ میں قلیل تنخواہ پر (پندرہ روپیہ ماہوار) پر ملازمت کر لی۔ دیکھئے (سیرۃ المہدی حصہ اوّل ص۴۳، روایت نمبر۴۹) اس ملازمت کے دوران مرزاقادیانی کے ہم عصر لوگوں کی روایات ’’چودھویں صدی کا مسیح‘‘ کے مصنف جو سیالکوٹ کے رہنے والے تھے۔ مرزاقادیانی کے زمانہ حیات میں اپنی مندرجہ بالا کتاب میں شائع کیں کہ اِدھر اُدھر کے عادی مرزاقادیانی نے ادھر ادھر سے خوب مال بنایا۔

مرزااحمد علی اثنا عشری امرتسری کتاب (دلیل العرفان) میں لکھتے ہیں کہ منشی غلام احمد امرتسری نے رسالہ ’’نکاح آسمانی کے راز ہائے پنہانی‘‘ میں مرزاغلام احمد کے حین حیات بڑے طمطراق سے لکھا۔ انہوں نے زمانہ محرری میں خوب رشوتیں لیں۔ یہ رسالہ ۱۹۰۰ء میں یعنی مرزاقادیانی کی وفات سے آٹھ سال پیشتر شائع ہوا تھا۔ لیکن مرزاقادیانی نے اس الزام کی کبھی تردید نہ کی اور نہ زمانہ محرری میں اپنی دیانت ثابت کر سکے۔ (دلیل العرفان مؤلفہ مرزا احمد علی امرتسری ص۱۱۳) اس طرح مولوی ابراہیم صاحب سیالکوٹی نے مناظرہ روپڑ میں جو ۲۱،۲۲؍مارچ ۱۹۳۲ء کو ہوا ہزارہا کے مجمع میں بیان کیا کہ مرزاقادیانی نے سیالکوٹ کی نوکری کے زمانہ میں رشوت ستانی سے خوب ہاتھ رنگے اور یہ سیالکوٹ ہی کی ناجائز کمائی تھی۔ جس سے مرزاقادیانی نے چار ہزار روپے کا زیور اپنی دوسری بیوی کو بنوا کر دیا۔ (روئیداد مناظرہ روپڑ مطبوعہ کشن سٹیم پریس جالندھر شہر ص۳۵)

سیالکوٹ ملازمت کے دوران مرزاقادیانی نے خیر سے چند انگریزی کتب کی تعلیم حاصل کی اور مختاری کا امتحان دیا۔

مختاری کے امتحان میں فیل

’’آپ مختاری کے امتحان میں فیل ہو گئے۔ اسی روایت میں ص۱۵۵ پر ہے کہ پادری بٹلر سے مرزاقادیانی کا مباحثہ ہوتا رہا۔ اس سے شناسائی کے مطابق وہ پادری ولایت جانے لگے تو مرزاقادیانی سے کچہری میں ملنے آئے۔ اس روایت کے الفاظ یہ ہیں۔ ’’چنانچہ جب پادری صاحب ولایت جانے لگے تو مرزاقادیانی کی ملاقات کے لئے کچہری تشریف لائے۔ ڈپٹی کمشنر صاحب نے پادری صاحب سے تشریف آوری کا سبب پوچھا تو پادری صاحب نے جواب دیا کہ میں مرزاصاحب سے ملاقات کرنے کو آیا تھا۔ چونکہ میں وطن جانے والا ہوں۔ اس واسطے ان سے آخری ملاقات

481

کروں گا۔ چنانچہ جہاں مرزاقادیانی بیٹھے تھے وہیں چلے گئے اور فرش پر بیٹھے رہے اور ملاقات کر کے چلے گئے۔‘‘

(سیرۃ المہدی حصہ اوّل ص۱۵۶، روایت نمبر۱۵۰)

اس ملاقات کے کچھ عرصہ بعد مرزاقادیانی ملازمت ترک کر کے قادیان آگئے۔ مرزاقادیانی کے والد نے پوچھا کہ آپ ملازمت کیوں نہیں کرتے تو مرزاقادیانی نے جواب دیا کہ میں ملازم ہوگیا ہوں۔

ایک قادیانی روایت ملاحظہ ہو

’’بیان کیا مجھ سے جھنڈا سنگھ ساکن کا لہواں نے کہ میں بڑے مرزاقادیانی کے پاس آیا جایا کرتا تھا۔ ایک دفعہ مجھے بڑے مرزاقادیانی نے کہا کہ جاؤ غلام احمد کو بلا لاؤ۔ ایک انگریز حاکم میرا واقف ضلع میں آیا ہے۔ اس کا منشا ہو تو کسی اچھے عہدہ پر نوکر کرادوں۔ جھنڈا سنگھ کہتا تھا کہ میں مرزاصاحب کے پاس گیا تو دیکھا کہ چاروں طرف کتابوں کا ڈھیر لگا کر اس کے اندر بیٹھے ہوئے کچھ مطالعہ کر رہے ہیں۔ میں نے بڑے مرزاصاحب کا پیغام پہنچا دیا۔ مرزاصاحب آئے اور جواب دیا۔ میں تو نوکر ہوگیا ہوں۔ بڑے مرزاصاحب کہنے لگے کہ اچھا کیا واقعی نوکر ہوگئے ہو؟ مرزاصاحب نے کہا ہاں ہوگیا ہوں۔ اس پر بڑے مرزاصاحب نے کہا اچھا اگر نوکر ہوگئے ہو تو خیر ہے۔‘‘

(سیرۃ المہدی حصہ اوّل ص۴۸، روایت نمبر۵۲)

چنانچہ مرزاقادیانی نے آکر قادیان میں ڈیرہ لگایا۔ کتابوں کا مطالعہ شروع کیا۔ عیسائیوں اور ہندوؤں کو مباحثہ کے چیلنج دئیے۔ مذہبی منافرت کا بازار گرم کیا۔ ادھر سے مرزاقادیانی کو گمنام منی آرڈر ملنے شروع ہوگئے۔

گمنام منی آرڈروں کا ملنا

’’مرزادین محمد صاحب ساکن لنگر وال ضلع گورداسپور نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک مرتبہ حضرت مسیح موعودنے مجھے صبح کے قریب جگایا اور فرمایا کہ مجھے ایک خواب آیا ہے۔ میں نے پوچھا کیا خواب ہے۔ فرمایا میں نے دیکھا ہے کہ میرے تخت پوش کے چاروں طرف نمک چنا ہوا ہے۔ میں نے تعبیر پوچھی تو کتاب دیکھ کر فرمایا کہ کہیں سے بہت سا روپیہ آئے گا۔ اس کے بعد میں چار دن یہاں رہا۔ میرے سامنے ایک منی آرڈر آیا۔ جس میں ہزار سے زائد روپیہ تھا۔ مجھے اصل رقم یاد نہیں۔ جب مجھے خواب سنائی تو ملاوامل اور شرن پت کو بھی بلایا اور فرمایا بھائی یہ منی آرڈر آیا ہے۔ جاکر ڈاکخانہ سے لے آؤ۔ ہم نے دیکھا تو منی آرڈر بھیجنے والے کا پتہ اس پر درج نہیں تھا۔ حضرت صاحب کو بھی پتہ نہیں لگا کہ کس نے بھیجا ہے۔‘‘

کہیں سے بہت سا روپیہ آئے گا۔ ڈاکخانہ گئے تو ہزار روپیہ کا بغیر بھیجنے والے کے نام وپتہ کے منی آرڈر مل گیا؟

قارئین! اس دجل کو جانے دیجئے! توجہ اس طرف فرمائیے کہ اس زمانہ کا ہزار روپیہ آج کل کے حساب سے کتنی مالیت کا تھا۔ حوالہ پہلے گذر چکا ہے کہ اس زمانہ میں گوشت فی کلو ایک آنہ کا تھا۔ جو آج کل فی کلو چار صد روپیہ کا ہے۔ لیجئے! حساب کیجئے۔ ایک ہزار روپیہ کے سولہ ہزار آنے ہوئے۔ جو سولہ ہزار کلو گوشت کی اس زمانہ میں رقم تھی۔ اب سولہ ہزار آنے کو چار صد روپیہ (موجودہ گوشت فی کلو کی قیمت) سے ضرب دیں تو چونسٹھ لاکھ روپے بنتے ہیں۔ اتنی خطیر رقم کا مرزاقادیانی کو بغیر بھیجنے والے کے نام وپتہ کے منی آرڈر ملنا اور ملنے سے پہلے ’’بلی کو خواب چھیچھڑوں کے رقم کا نظر آنا‘‘ اور منی آرڈر مل جانا۔ اس کے ساتھ ہی ذہن میں رہے بٹلر پادری کی ملاقات کے بعد مرزاقادیانی کا ملازمت کو چھوڑنا اور پھر والد سے کہنا کہ میںملازم ہوگیا ہوں اور پھر خفیہ منی آرڈروں کا ملنا کیا یہ چغلی نہیں کھا رہا کہ مرزاقادیانی یہ کھیل سب انگریز حکومت کے کہنے پر کھیل رہا تھا؟

482

انگریز کی اطاعت خدا کی اطاعت کی طرح فرض

’’خداتعالیٰ نے ہم پر محسن گورنمنٹ کا شکر ایسا ہی فرض کیا ہے۔ جیسا کہ اس (خدا کا) شکر کرنا، سو اگر ہم اس محسن گورنمنٹ کا شکر ادا نہ کریں یا کوئی شر اپنے ارادے میں رکھیں تو ہم نے خدا تعالیٰ کا بھی شکر ادا نہیں کیا۔ کیونکہ خداتعالیٰ کا شکر اور کسی محسن گورنمنٹ کا شکر جس کو خداتعالیٰ اپنے بندوں کو بطور نعمت عطاء کرے۔ درحقیقت یہ دونوں ایک ہی چیز ہیں اور ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔‘‘(شہادۃ القرآن ص۸۴، خزائن ج۶ ص۳۸۰)

جہاد قطعی حرام ہے

’’اور ہر ایک شخص جو میری بیعت کرتا ہے اورمجھ کو مسیح موعود مانتا ہے۔ اسی روز سے اس کو یہ عقیدہ رکھنا پڑتا ہے کہ اس زمانہ میں جہاد قطعاً حرام ہے۔ کیونکہ مسیح آچکا۔ خاص کر میری تعلیم کے لحاظ سے اس گورنمنٹ انگریزی کا سچا خیرخواہ اس کو بننا پڑتا ہے۔‘‘

(ضمیمہ رسالہ جہاد ص۶، خزائن ج۱۷ ص۲۸)

قارئین! یقین فرمائیے کہ مرزاقادیانی کی ہر بات میں اختلاف ہے۔ حتیٰ کہ قومیت کے متعلق بھی حوالے پڑھ چکے کہ اس نے اپنی تین قومیں بتائی ہیں۔ لیکن ایک بات ایسی ہے کہ مرزاقادیانی نے تاحیات اس مؤقف کے خلاف کچھ نہیں لکھا۔ وہ یہی ہے کہ انگریز کی اطاعت فرض اور انگریز کے خلاف جہاد کرنا قطعی حرام ہے۔ اس سے آپ سمجھ جائیں کہ بٹلر پادری سے ڈپٹی کمشنر کے دفتر میں علیحدگی میں ملاقات، ملازمت سے استعفیٰ، گھر آنا، غیر مرئی ذرائع سے خطیررقم کا ملنا اور پھر مرزاقادیانی کا انگریز کی اطاعت کے نعرہ مستانہ کو بلند کرنا ان کڑیوں کو آپ ملائیں تو اس سے مرزاقادیانی کی جو تصویر نظر آتی ہے وہ قادیانیوں کے لئے قابل توجہ ہے۔

مرزاقادیانی قادیان میں

مرزاقادیانی کے سوانح نگاروں نے ۱۸۶۴ء سے ۱۸۶۸ء مرزاقادیانی کی چار سالہ سیالکوٹ کی ملازمت لکھی ہے۔ گویا ۱۸۶۹ء سے مرزاقادیانی مستقلاً قادیان میں آکر براجمان ہوگئے۔ مرزاقادیانی کے بیٹے مرزامحمود نے مرزاقادیانی کی سوانح مرتب ’’سیرۃ مسیح موعود‘‘ لکھی۔ اس میں لکھتے ہیں کہ سیالکوٹ سے واپسی پر اپنے والد کے کام اور زمین کے مقدمات کی پیروی کرتے رہے۔ لیکن زیادہ وقت ان کا مختلف مذاہب کی کتب بینی میں خرچ ہوتا رہا۔ مرزاقادیانی خود لکھتا ہے ؎

بہر مذہبے غور کردم بسے شنیدم بدل حجت ہر کسے
بخواندم زہر ملّتے دفترے بدیدم زہر قوم دانشورے
ہم از کود کی سوئے این تاختم دریں شغل خود را بیند اختم
جوانی ہمہ اندریں باختم دل از غیر ایں کار پردا ختم

(براہین احمدیہ حصہ دوم ص۹۵، خزائن ج۱ ص۸۵)

یہ عبارت پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ مرزاقادیانی نے مختلف مذاہب کی کتب کا خوب مطالعہ کیا۔ ہر مذہب کے دفتر کے دفتر پڑھ ڈالے۔ ہرقوم کے راہنما کی زندگی کا جائزہ لیا اور اس کام میں جوانی کھپا دی۔ چنانچہ مولانا ثناء ﷲ

483

امرتسری رحمۃ اللہ علیہ نے ’’مرزاقادیانی اور بہاء ﷲ‘‘ نام کا رسالہ تصنیف کیا اور اس میں ثابت کیا کہ مرزاقادیانی کے تمام دعوے مہدویت ومسیحیت سب بہاء ﷲ کی تعلیمات کی کاپی ہیں۔ خیر! دیکھئے کہ مرزاقادیانی کو ان دنوں کتب بینی کا کتنا شغف تھا کہ خود مرزاقادیانی کے والد کے حوالہ سے مذکور ہے کہ: ’’شدت اور مطالعہ وتوغل کتب میں مشغولیت اور محویت دیکھ کر (مرزاقادیانی کے والد نے) یہ سمجھ لیا تھا کہ آپ دنیا کے کسی کام کے لائق نہیں اور اکثر دوستوں کے آگے یہی بات پیش کیاکرتے کہ مجھے تو غلام احمد کا فکر ہے کہ یہ کہاں سے کھائے گا اور اس کی عمر کس طرح کٹے گی۔ بلکہ بعض دوستوں کو یہ بھی کہا کرتے تھے کہ آپ ہی اس کو سمجھاؤ کہ وہ اس استغراق کو چھوڑ کر کمانے کے دھندے میں لگے۔ اگر کبھی کوئی اتفاق سے ان سے کوئی دریافت کرتا کہ مرزا غلام احمد کہاں ہیں؟ تو وہ یہ جواب دیتے کہ مسجد میں جاکر سقاوہ کی ٹوٹی میں تلاش کرو۔ اگر وہاں نہ ملے تومایوس ہوکر واپس مت آنا۔ مسجد کے اند چلے جانا اور کسی گوشہ میں تلاش کرنا۔ اگر وہاں بھی نہ ملے تو پھر بھی نا امید ہوکر لوٹ مت آنا کسی صف میں دیکھنا کہ کوئی اس کو لپیٹ کر کھڑا کر گیا ہوگا۔ کیونکہ وہ تو زندگی میں مرا ہوا ہے اور اگر کوئی اسے صف میں لپیٹ دے تو وہ آگے سے حرکت بھی نہیں کرے گا۔‘‘

(مسیح موعود کے مختصر حالات ص۶۷، از معراج الدین قادیانی)

آگے چلنے سے پہلے اس عبارت پر توجہ کر لی جائے کہ مرزاقادیانی کے والد تو اسے نکما قرار دیتے ہیں۔ لیکن کتاب کا قادیانی مؤلف تاویل کرتا ہے کہ: ’’وہ (مرزاقادیانی) زندگی میں مرے ہوئے تھے۔‘‘ لیکن یہ نہ سوچا کہ کوئی کسی کو صف میں لپیٹ دے تو وہ لپٹا رہے۔ حرکت نہ کرے۔ یہ تو مرا ہوا کی طرح ہے۔ لیکن یہ کہ سقاوہ کی ٹوٹی میں دیکھنا اس کا کیا معنی ہے؟ مرا ہوا آدمی ٹوٹی میں کیسے چلا جاتا ہے؟ اس کی مرزائی مؤلف کو کوئی تاویل نہ سوجھی۔ مجھ سے پوچھو تو (۱)خود مرزاقادیانی کا اعتراف ہے کہ میں کرم خاکی ہوں۔ مٹی کا کیڑا ہوں تو مرزاقادیانی کا والد بھی مرزاقادیانی کو کیڑا سمجھتا ہوگا۔ تب ہی تو ٹوٹی میں گھسنے کا کہا۔ (۲)یہ کہ وہ مرزاقادیانی کو جن، بھوت، شیطان سمجھتا ہوگا۔ جو جنس بدل کر کیا سے کیا ہوجاتے ہیں۔ (۳)یا یہ اس نے مرزاقادیانی کو شیطان کی ٹوٹی کہا ہوگا کہ وہ صف میں لپٹا کھڑا ہوگا۔ شیطان کی ٹوٹی کو مرزائی مؤلف نے سقاوہ کی ٹوٹی سمجھ لیا۔ خیر قادیانی جانے ان کا کام، نیا نبی اور ان کا والد۔ قادیانی مرزاقادیانی کو ٹوٹی میں داخل کریں یا صف میں لپیٹیں۔ ہمارا اس سے کیا تعلق؟

مقدمہ بازی، مناظرہ بازی، کتب بینی، یہ مرزاقادیانی کے مشاغل تھے۔ مرزاقادیانی عیسائیوں، ہندوؤں، آریوں سے الجھاؤ بازی کے مشغلہ میں سرگرداں رہا۔ قادیانیوں نے مرزاقادیانی کے اشتہارات کو پہلے ’’تبلیغ رسالت‘‘ کے نام پر دس حصوں میں شائع کیا۔ پھر ان کو ’’مجموعہ اشتہارات‘‘ کے نام سے تین جلدوں میں شائع کیا۔ مجموعہ اشتہارات کی پہلی جلد میں پہلا اشتہار جو انہوں نے شائع کیا یہ آریوں کے خلاف ہے۔ اس پر ۲؍مارچ ۱۸۷۸ء کی تاریخ درج ہے۔ اس میں پانچ سو روپیہ کی شرط لگائی ہے۔ غرض مناظرہ بازی بحث ومباحثہ سے ماحول کو گدلا کرنے کے بعد جب مرزاقادیانی نے اشتہار بازی کی طرف عنان توجہ کا رخ موڑا۔ پھر مسلمانوں سے مضامین مانگ تانگ کر براہین احمدیہ لکھنا شروع کی۔ مرزاقادیانی کا بیٹا لکھتا ہے کہ: ’’یہ پہلا حصہ (براہین کا) ۱۸۸۰ء میں شائع ہوا۔ پھر اسی کتاب کا دوسرا حصہ ۱۸۸۱ء میں اور تیسرا حصہ ۱۸۸۲ء اور چوتھا ۱۸۸۴ء میں شائع ہوا۔‘‘ (سیرۃ مسیح موعود ص۲۷)

مرزاقادیانی کا پہلا تصنیفی کارنامہ

مرزاقادیانی کا اشتہار بازی، مقدمہ بازی، مناظرہ بازی کے بعد پہلا تصنیفی کام ’’براہین احمدیہ‘‘ کی تصنیف

484

ہے۔ پہلا حصہ ۱۸۸۰ء میں شائع ہوا۔ اس کے اوّل میں خریداری کتاب کا اشتہار پھر ’’التماس از مؤلف‘‘ جس میں چندہ دہندگان کے اسماء بھی ہیں۔ ص۱۳ پر دیباچہ شروع ہوا۔ جو ص۲۴ پر ختم ہوگیا۔ اس کے بعد موٹے حروف کا اشتہار ہے۔ ایک صفحہ کی سات سطریں ہیں۔ یہ ص۵۲ پر ختم ہوگیا۔ لو پہلا حصہ مکمل ہوگیا۔ گویا براہین کی پہلی جلد کے ۵۲صفحات ہیں۔

اب دوسرا حصہ ۱۸۸۱ء میں شائع ہوا۔ اس میں پہلے بیس صفحات اشتہارات کے ہیں۔ جلد اوّل، دوم جو یکجا شائع ہوئے تو اس کے صفحات مسلسل ہیں۔ مسلسل صفحات میں سے ص۷۰ پر جاکر کتاب کا مقدمہ دوسری جلد میں شروع ہوا۔ ص۵۵ سے یہ حصہ شروع ہوکر ص۱۳۱ پر ختم ہو جاتا ہے۔ گویا دوسری جلد کے کل ۷۶صفحات ہیں۔ سال بھر میں دعویٰ مجددیت، مامور من ﷲ، ملہم کا دعویٰ لوگوں سے مضامین مانگے اور سال بھر میں ۷۶صفحات پر مشتمل جلد تیار کر پائے۔ اسے کہتے ہیں ’’سلطان القلم

تیسری جلد میں حسب سابق ابتداء میں دس صفحات کے اشتہارات پھر جاکر پہلی فصل شروع ہوئی۔ اس میں تمہید در تمہید مسلسل صفحات کے ص۱۴۳ سے یہ شروع ہوکر ص۳۱۰ پر پہنچے تو یہ جلد ختم کر دی۔ آخر پھر عذرو اطلاع کا دو صفحاتی اشتہار لگا دیا۔ لیکن اس میں ایک کمال کیا جو مرزاقادیانی کے سارے کمالات پر بھاری ہے! حسن وہ جس کا سوکن کو بھی اعتراف ہو۔

تصنیف کی دنیا میں ایک لازوال کمال

حصہ سوم کا ص۳۱۰ پر اختتام کیا۔ اس کا آخری جملہ ناتمام چھوڑ دیا۔ لفظ میں ’’خدا کے خواص کا ضروری ہونا‘‘ ان الفاظ پر یہ جلد ختم ہوگئی۔ اب مسلسل صفحات کے ص۳۱۳ سے جلد چہارم شروع ہوئی۔ ص۳۲۲ تک حسب عادت اشتہارات ص۳۲۲ پر ص۳۱۰ کے ناتمام جملہ کو مکمل کیا۔ ص۳۱۰ پر تھا کہ ’’خدا کے خواص کاضروری ہونا‘‘ ص۳۲۲ پر اس جملہ کا باقی حصہ ہے۔ ’’یعنی اس کی ذات اور صفات اور افعال کا شرکت غیر سے پاک ہونا اور‘‘ اس کے آگے بھی یہ شیطان کی آنت پھیلتی جارہی ہے۔ میرا قادیانیوں سے سوال ہے کہ آج تک دنیائے تصنیف میں کہیں ایسے ہوا کہ جملہ کا ایک حصہ ایک جلد میں ہو اور جملہ کا دوسرا حصہ دوسری جلد میں ہو اور مسلسل صفحات میں بارہ صفحات کا فرق ہو۔ ایک ناتمام جملہ ص۳۱۰ پر لکھا ایک جلد ختم۔ اگلی جلد کے بارہ صفحات بعد جاکر اس جملہ کو مکمل کیا۔ یہ ہے مرزاقادیانی، مجدد، مامور، ملہم اور سلطان القلم کی قابلیت وانفرادیت کی وہ زندۂ جاوید حماقت کا ریکارڈ جسے آج تک احمق سے احمق انسان نہیں توڑ سکا۔ نہ شاید اس احمقانہ کمال ریکارڈ کو کوئی توڑ سکے گا۔ سب احمقوں پر قادیانی پیغمبر سبقت لے گیا۔ مرداں چنیں کند، کاش ترا مادرنہ زادے۔

۱۸۸۰ء سے لے کر ۱۸۸۴ء تک چار جلدیں مرزاقادیانی نے براہین کی شائع کیں۔ ان چاروں جلدوں کے کل صفحات ۶۷۴ ہیں۔ گویا فی جلد کے ۱۶۸ صفحات ہوئے۔ غرض چار سالوں میں آپ کی یہ کاوش سامنے آئی۔ اس میں حیات مسیح علیہ السلام کے مسئلہ کو قرآن کے حوالہ سے لکھا کہ سیدنا مسیح علیہ السلام دوبارہ زمین پر تشریف لائیں گے۔ ختم نبوت کے مسئلہ کی بھی مخالفت نہیں کی۔ البتہ اپنے الہامات درج کئے جسے پڑھ کر علماء لدھیانہw اور مولانا غلام دستگیر قصوری رحمۃ اللہ علیہ جیسے حضرات نے مرزاقادیانی کے کفر کا فتویٰ جاری کیا۔

پچاس جلدوں کا وعدہ

مرزاقادیانی نے وعدہ کیا تھا۔ اشتہار دیا تھا کہ اس کتاب ’’براہین احمدیہ‘‘ کی پچاس جلدیں ہوں گی۔ پچاس

485

جلدوں کے پیسے لئے۔ چار جلدیں بھیجنے کے بعد ’’براہین احمدیہ‘‘ کی تصنیف کو بند کر دیا اور بہانہ بنایا کہ ﷲتعالیٰ نے یہ کام اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔ گویا ﷲتعالیٰ نے مرزاقادیانی کو وعدہ کی خلاف ورزی کا حکم کیا ہے۔

اب مرزاقادیانی نے ۱۹۰۵ء میں براہین کا پانچواں حصہ لکھنا شروع کیا۔ (۱۸۸۴ء کے بعد ۱۹۰۵ء) یہ کتاب مرزاقادیانی کے مرنے کے بعد شائع ہوئی۔ اب مرزاقادیانی کی اس مایۂ ناز کتاب کا تجزیہ کریں تو یہ ہے کہ پہلے حصص میں حیات مسیح علیہ السلام کا بیان ہے۔ آخری حصہ میں وفات مسیح علیہ السلام کا بیان ہے۔ پہلے حصص میں نبوت کے ختم ہونے کا بیان، آخری حصہ میں نبوت کے جاری ہونے کا بیان۔ گویا ان کی تصنیف لطیف کا اوّل وآخر حصہ آپس میں ایک دوسرے کی ضد اور نقیض ہیں اور یہی تضاد ہی مرزاقادیانی کی زندگی کا خلاصہ قرار دیا جاسکتا ہے۔ ’’وَلَوْ کَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اللّٰہِ لَوَجَدُوْا فِیْہِ اخْتِلَافاً کَثِیْرًا (نساء:۸۲)‘‘ اسی کو کہتے ہیں۔

مرزاقادیانی کے دجل کی انتہاء

مرزاقادیانی نے کمال ڈھٹائی اور کفر انتہائی کے ساتھ کئی جگہوں پر براہین احمدیہ کو خدائی تصنیف قرار دیا۔ ذیل کے دو حوالہ جات ملاحظہ ہوں۔ ’’آج سے چھبیس برس پہلے خداتعالیٰ نے ’’براہین احمدیہ‘‘ میں اس عقیدہ کو کھول دیا ہے۔ کیونکہ ایک طرف تو مجھ کو مسیح موعود قرار دیا ہے اور میرا نام عیسیٰ رکھا ہے۔ جیسا کہ ’’براہین احمدیہ‘‘ میں فرمایا یَا عِیْسٰی اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ وَمُطَہِّرُکَ مِنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا‘‘ (تتمہ حقیقت الوحی ص۶۷، خزائن ج۲۲ ص۵۰۱)

’’اور خداتعالیٰ نے آج سے چھبیس برس پہلے میرا نام ’’براہین احمدیہ‘‘ میں محمد اور احمد رکھا ہے اور آنحضرت ﷺ کا بروز مجھے قرار دیا ہے۔ اسی وجہ سے ’’براہین احمدیہ‘‘ میں لوگوں کو مخاطب کر کے فرمادیا ہے۔ ’’قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ‘‘ اور نیز فرمایا ہے۔ ’’کل برکۃ من محمد ﷺ فتبارک من علم وتعلم‘‘

(تتمہ حقیقت الوحی ص۶۸، خزائن ج۲۲ ص۵۰۲)

الف… ’’خداتعالیٰ نے ’’براہین احمدیہ‘‘ میں اس عقیدہ کو کھول دیا۔‘‘

ب… ’’براہین احمدیہ‘‘ میں فرمایا۔ ’’یَا عِیْسٰی اِنِّی مُتَوَفِّیْکَ‘‘

ج… ’’خداتعالیٰ نے آج سے چھبیس برس پہلے میرا نام ’’براہین احمدیہ‘‘ میں محمد اور احمد رکھا۔‘‘

د… ’’اسی وجہ سے براہین میں لوگوں کو مخاطب کر کے فرمایا۔ قل ان کنتم تحبون ﷲ۔

یہ چاروں ایک کتاب کے دو حوالوں کے ہیں۔ ان سے ثابت ہوتا ہے کہ قرآن مجید کی طرح مرزاقادیانی براہین احمدیہ کو بھی ﷲتعالیٰ کی کتاب قرار دیتا ہے۔‘‘

پانچ اور پچاس

’’پہلے پچاس حصے لکھنے کا ارادہ تھا۔ مگر پچاس سے پانچ پر اکتفا کیاگیا، کیونکہ پچاس اور پانچ کے عدد میں صرف ایک نقطہ کا فرق ہے۔ اس لئے پانچ حصوں سے وہ وعدہ پورا ہوگیا۔ دوسرا سبب التواء کا جو تیئس برس تک حصہ پنجم لکھا نہ گیا، یہ تھا کہ خداتعالیٰ کو منظور تھا کہ ان کے دلی خیالات ظاہر کرے۔ جن کے دل مرض بد گمانی میں مبتلا تھے اور ایسا ہی ظہور میں آیا۔ کیونکہ اس قدر دیر کے بعد خام طبع لوگ بدگمانی میں بڑھ گئے۔ یہاں تک کہ بعض ناپاک فطرت گالیوں پر اتر آئے اور چار حصے اس کتاب کے جو طبع ہوچکے تھے۔ کچھ تو مختلف قیمتوں پر فروخت کئے گئے تھے اور کچھ مفت تقسیم کئے گئے تھے۔ پس

486

جن لوگوں نے قیمتیں دی تھیں۔ اکثر نے گالیاں بھی دیں اور اپنی قیمت بھی واپس لی۔‘‘

(براہین احمدیہ حصہ پنجم دیباچہ ص۷،۸، خزائن ج۲۱ ص۹)

اس حوالہ میں مرزاقادیانی تسلیم کرتے ہیں: (۱)پچاس جلدیں لکھنا تھیں۔ (۲)’’مجموعہ اشتہارات‘‘ میں تفصیل ہے کہ پچاس جلدوں کے پیسے وصول کئے۔ (۳)مگر پچاس کی بجائے پانچ جلدیں تحریر کیں۔

اس سے ثابت ہوا:

۱… پچاس کا وعدہ کر کے پانچ کتابیں لکھیں۔ وعدہ خلافی کی جو وعدہ خلافی کرے وہ نبی نہیں جو نبی ہے وہ وعدہ خلافی نہیں کرتا۔

۲… مرزاقادیانی نے لکھا کہ: ’’پانچ اور پچاس میں صرف ایک نقطہ کا فرق ہے۔‘‘ بات پانچ اور پچاس لکھنے کی نہیں، عدد کی ہے۔ شمار کرنے میں پانچ اور پچاس میں پینتالیس کا فرق ہے۔ مرزاقادیانی نے دجل کیا، جھوٹ بولا جو دجل کرے۔ جھوٹ بولے وہ نبی نہیں۔ جو نبی ہو وہ دجل وکذب کا مرتکب نہیں ہوتا۔

۳… مرزاقادیانی نے قیمت پچاس کتابوں کی لی اور کتابیں پانچ دیں۔ پینتالیس کتابوں کے پیسے لئے، گویا حرام کھاگیا۔ جو حرام کھائے وہ نبی نہیں، جو نبی ہے وہ حرام نہیں کھاتا۔

مرزائیوں کے جواب کا تجزیہ

مرزائی اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ ﷲتعالیٰ نے معراج کی رات پہلے پچاس نمازیں فرض کیں۔ پھر ان کو پانچ کر دیا۔ ﷲتعالیٰ نے بھی پچاس کو پانچ کیا۔ مرزاقادیانی نے بھی پچاس کو پانچ کیا تو سنت ﷲ پر مرزاقادیانی نے عمل کیا۔

جواب نمبر:۱… قادیانیوں کا یہ جواب کذب ودجل کا شاہکار ہے۔ اس لئے کہ قیاس کرنے کے لئے مقیس اور مقیس علیہ میں مطابقت ضروری ہے۔ جہاں مطابقت نہ ہو وہاں قیاس مع الفارق ہوتا ہے جو حرام ہے۔ ﷲ رب العزت کے کاموں پر مخلوق کے کاموں کو قیاس کرنا قیاس مع الفارق ہے جو ناجائزو حرام ہے۔

جواب نمبر:۲… ﷲ رب العزت نے نمازیں امت محمدیہ کے ذمہ فرض کیں۔ امت نے یہ نمازیں پڑھنی تھیں۔ آسان لفظوں میں کہ ﷲتعالیٰ نے نمازیں لینی تھیں۔ امت نے نمازیں دینی تھیں۔ لینے والے کو حق حاصل ہے کہ وہ معاف کر دے۔ دینے والا تو مقروض کے درجہ پر ہے۔ اسے تومعاف کرنے کا حق ہی نہیں۔ جب کہ مرزاقادیانی نے لوگوں کے پیسے دینے تھے۔ لوگوں نے لینے تھے۔ لوگ تو معاف کر سکتے تھے۔ مگر معاف کرنے کی بجائے وہ تقاضۂ ادائیگی کر رہے ہیں۔ ادھر مرزاقادیانی ہیں جو مقروض ہیں۔ وہ پچاس کو پانچ کر رہے ہیں۔ جس کا ان کو حق بھی نہیں تو یہ قادیانی جواب دجل کا شاخسانہ ہے اور بس۔

جواب نمبر:۳… ﷲ رب العزت نے فرمایا کہ نمازیں پانچ پڑھو۔ ثواب پچاس کا دوں گا۔ ﷲتعالیٰ، پانچ لے کر پچاس دے رہے ہیں۔ مرزاقادیانی پچاس لے کر پانچ دے رہا ہے۔ تو یہ الٹی گنگا ہوئی۔ اس لئے بھی یہ قادیانی جواب لائق اعتناء نہیں۔

صداقت اسلام کے نعرہ سے اسلام کی بیخ کنی کا آغاز

قادیان پہنچ کر پہلے تو عام مسلمانوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کرنے کے لئے مرزاغلام احمد قادیانی نے عیسائیوں، ہندوؤں اور آریوں سے کچھ نامکمل مناظرے کئے۔ اس کے بعد ۱۸۸۰ء سے (براہین احمدیہ) نامی کتاب لکھنی

487

شروع کی۔ جس میں اکثر مضامین عام مسلمانوں کے عقائد کے مطابق تھے۔ لیکن ساتھ ہی اس میں مرزاقادیانی نے اپنے بعض الہامات داخل کر دئیے اور طرفہ تماشہ یہ کہ صداقت اسلام کے دعویٰ پر لکھی جانے والی اس کتاب میں انگریزوں کی مکمل اطاعت اور جہاد کی حرمت کا اعلان شدومد کے ساتھ کیا۔ مرزاغلام احمد قادیانی نے ۱۸۸۰ء سے ۱۸۸۴ء تک براہین احمدیہ کے ۴حصے لکھے۔ جب کہ پانچواں حصہ ۱۹۰۵ء میں لکھ کر شائع کیا۔

باب پنجم … دعاوی مرزا

۱۸۸۰ء سے مرزاقادیانی نے مختلف دعاوی کا سلسلہ شروع کیا۔ اس کے چند اہم دعاوی یہ ہیں:

۱… ۱۸۸۰ء میں ملہم من ﷲ ہونے کا دعویٰ کیا۔

۲… ۱۸۸۲ء میں مجدد ہونے کا دعویٰ کیا۔

۳… ۱۸۹۱ء میں مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا۔

۴… ۱۸۹۹ء میں ظلی، بروزی نبوت کا دعویٰ کیا۔

۵… ۱۹۰۱ء میں مستقل صاحب شریعت نبی ہونے کا دعویٰ کیا۔

ان کے علاوہ بھی اس نے عجیب وغریب قسم کے دعوے کئے۔

بیت ﷲ ہونے کا دعویٰ

’’خدا نے اپنے الہام میں میرا نام بیت ﷲ بھی رکھا ہے۔‘‘

(اربعین نمبر۴ ص۱۵، حاشیہ، خزائن ج۱۷ ص۴۴۵)

۱۸۸۲ء مجدد ہونے کا دعویٰ

’’جب تیرھویں صدی کا اخیر ہوا اور چودھویں کا ظہور ہونے لگا تو خداتعالیٰ نے الہام کے ذریعہ سے مجھے خبر دی کہ تو اس صدی کا مجدد ہے۔‘‘ (کتاب البریہ ص۱۸۳، حاشیہ، خزائن ج۱۳ ص۲۰۱)

۱۸۸۲ء مامور ہونے کا دعویٰ

’’میں خداتعالیٰ کی طرف سے مامور ہوکر آیا ہوں۔‘‘

(نصرۃ الحق براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۵۲، خزائن ج۲۱ ص۶۶، کتاب البریہ ص۱۸۴، خزائن ج۱۳ ص۲۰۲)

۱۸۸۲ء نذیر ہونے کا دعویٰ

’’اَلرَّحْمٰنُ عَلَّمَ الْقُرْآنَ، لِتُنْذِرَقَوْمًا مَا اُنْذِرَ اٰبَاؤُہُمْ‘‘ خدا نے تجھے قرآن سکھلایا تاکہ تو ان لوگوں کو ڈرائے۔ جن کے باپ دادے ڈرائے نہیں گئے۔‘‘

(تذکرہ ص۴۴، طبع سوم، ضرورۃ الامام ص۳۱، خزائن ج۱۳ ص۵۰۲، براہین احمدیہ حصہ ۵ ص۵۲، خزائن ج۲۱ ص۶۶)

۱۸۸۳ء آدم، مریم اور احمد ہونے کا دعویٰ

’’یَا اٰدَمُ اسْکُنْ اَنْتَ وَزَوْجُکَ الْجَنَّۃَ، یَا مَرْیَمُ اسْکُنْ اَنْتِ وَزَوْجُکِ الْجَنَّۃَ، یَا اَحْمَدُ اسْکُنْ

488

اَنْتَ وَزَوْجُکَ الْجَنَّۃَ نَفَخْتُ فِیْکَ مِنْ لَدُنِّیْ رُوْحَ الصِّدْقِ‘‘ اے آدم، اے مریم، اے احمد! تو اور جو شخص تیرا تابع اور رفیق ہے۔ جنت میں یعنی نجات حقیقی کے وسائل میں داخل ہو جاؤ میں نے اپنی طرف سے سچائی کی روح تجھ میں پھونک دی ہے۔

(تذکرہ ص۷۰، طبع سوم، براہین احمدیہ ص۴۹۷، خزائن ج۱ ص۵۹۰ حاشیہ)

تشریح

’’مریم سے مریم ام عیسیٰ مراد نہیں اور نہ آدم سے آدم ابوالبشر مراد ہے اور نہ احمد سے اس جگہ حضرت خاتم الانبیاء علیہم السلام مراد ہیں اور ایسا ہی ان الہامات کے تمام مقامات میں کہ جو موسیٰ اور عیسیٰ اور داؤد وغیرہ نام بیان کئے گئے ہیں۔ ان ناموں سے بھی وہ انبیاء مراد نہیں ہیں۔ بلکہ ہر ایک جگہ یہی عاجز مراد ہے۔‘‘

(مکتوبات احمدیہ ج۱ ص۸۲، مکتوب بنام میر عباس علی بحوالہ تذکرہ ص۷۰ حاشیہ طبع سوم)

۱۸۸۴ء رسالت کا دعویٰ

الہام: ’’اِنِّیْ فَضَّلْتُکَ عَلَی الْعَالَمِیْنَ قُلْ اُرْسِلْتُ اِلَیْکُمْ جَمِیْعًا‘‘ میں نے تجھ کو تمام جہانوں پر فضیلت دی کہ میں تم سب کی طرف بھیجا گیا ہوں۔‘‘

(تذکرہ ص۱۲۵ طبع سوم، مکتوب حضرت مسیح موعود مرزا مورخہ ۳۰؍دسمبر ۱۸۸۴ء، اربعین نمبر۲ ص۷، خزائن ج۱۷ ص۳۵۳)

۱۸۸۶ء توحید وتفرید کا دعویٰ

الہام: ’’تو مجھ سے ایسا ہے جیسی میری توحید اور تفرید۔‘‘ (تذکرہ ص۳۸۱ طبع دوم)

’’تو مجھ سے اور میں تجھ سے ہوں۔‘‘ (تذکرہ ص۴۳۶، طبع دوم)

۱۸۹۱ء مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ

’’ ﷲ جل شانہ کی وحی اور الہام سے میں نے مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور یہ بھی میرے پر ظاہر کیاگیا ہے کہ میرے بارے میں پہلے سے قرآن شریف اور احادیث نبویہ میں خبر دی گئی ہے اور وعدہ دیاگیا ہے۔‘‘

(تذکرہ ص۱۷۲، طبع سوم، تبلیغ رسالت ج۱ ص۱۵۹، مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۲۰۷)

۱۸۹۱ء مسیح ابن مریم ہونے کا دعویٰ

الہام: ’’جَعَلْنَاکَ الْمَسِیْحَ بْنَ مَرْیَمَ (ہم نے تجھ کو مسیح ابن مریم بنایا) ان کو کہہ دے کہ میں عیسیٰ کے قدم پر آیا ہوں۔‘‘ (تذکرہ ص۱۸۶، طبع سوم، ازالہ اوہام ص۴۳۴، خزائن ج۳ ص۴۴۲)

ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو اس سے بہتر غلام احمد ہے

(دافع البلاء ص۲۰، خزائن ج۱۸ ص۲۴۰)

۱۸۹۲ء صاحب کن فیکون ہونے کا دعویٰ

الہام: ’’اِنَّمَا اَمْرُکَ اِذَا اَرَدْتَّ شَیْئًا اَنْ تَقُوْلَ لَہٗ کُنْ فَیَکُوْنَ یعنی تیری یہ بات ہے کہ جب تو کسی

489

چیز کا ارادہ کرے تو اسے کہے کہ ہو جا تو وہ ہو جائے گی۔‘‘

(تذکرہ ص۲۰۳، طبع سوم، براہین احمدیہ حصہ۵ ص۹۵، خزائن ج۲۱ ص۱۲۴)

۱۸۹۸ء مسیح اور مہدی ہونے کا دعویٰ

’’بشرنی وقال ان المسیح الموعود الذی یرقبونہ والمہدی المسعود الذی ینتظرونہ ھوانت‘‘ خدا نے مجھے بشارت دی اور کہا کہ وہ مسیح موعود اور مہدی مسعود جس کا انتظار کرتے ہیں وہ تو ہے۔‘‘

(تذکرہ ص۲۵۷، طبع سوم، اتمام الحجۃ ص۳، خزائن ج۸ ص۲۷۵)

۱۸۹۸ء امام زماں ہونے کا دعویٰ

’’سو میں اس وقت بے دھڑک کہتا ہوں کہ خداتعالیٰ کے فضل اور عنایت سے وہ امام زماں میں ہوں۔‘‘

(ضرورۃ الامام ص۲۴، خزائن ج۱۳ ص۴۹۵)

۱۹۰۰ء تا ۱۹۰۸ء ظلی نبی ہونے کا دعویٰ

’’جب کہ میں بروزی طور پر آنحضرت ﷺ ہوں اور بروزی رنگ میں تمام کمالات محمدی مع نبوت محمدیہ کے میرے آئینہ ظلیت میں منعکس ہیں۔ تو پھر کون سا الگ انسان ہوا جس نے علیحدہ طور پر نبوت کا دعویٰ کیا۔‘‘

(ایک غلطی کا ازالہ ص۸، خزائن ج۱۸ ص۲۱۲)

نبوت ورسالت کا دعویٰ

۱… ’’انا انزلناہ قریباً من القادیان‘‘ ہم نے اس کو قادیان کے قریب اتارا ہے۔‘‘

(براہین احمدیہ ص۴۹۹، خزائن ج۱ ص۵۹۳، الحکم ج۴، ش۳۰، مورخہ ۲۴؍اگست ۱۹۰۰ء، بحوالہ تذکرہ ص۳۶۷ طبع سوم)

۲… ’’سچا خدا وہی خدا ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔‘‘

(دافع البلاء ص۱۱، خزائن ج۱۸ ص۲۳۱)

۳… ’’میں رسول بھی ہوں اور نبی بھی ہوں۔ یعنی بھیجا گیا بھی اور خدا سے غیب کی خبریں پانے والا بھی۔‘‘

(ایک غلطی کا ازالہ ص۷، خزائن ج۱۸ ص۲۱۱)

۴… ’’خدا وہ خدا ہے جس نے اپنے رسول کو یعنی اس عاجز کو ہدایت اور دین حق اور تہذیب اخلاق کے ساتھ بھیجا۔‘‘

(اربعین نمبر۳ ص۳۶، خزائن ج۱۷ ص۴۲۶، ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص۲۴، خزائن ج۱۷ ص۷۳)

۵… ’’وہ قادر خدا قادیان کو طاعون کی تباہی سے محفوظ رکھے گا۔ تاکہ تم سمجھو کہ قادیان اسی لئے محفوظ رکھی گئی کہ وہ خدا کا رسول اور فرستادہ قادیان میں تھا۔‘‘

(دافع البلاء ص۵، خزائن ج۱۸ ص۲۲۵،۲۲۶)

مستقل صاحب شریعت نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ

۱… ’’قُلْ یٰاَیُّہَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ جَمِیْعًا اَیْ مُرْسَلٌ مِّنَ اللّٰہِ‘‘ اور کہہ کہ اے لوگو! میں تم سب کی طرف خداتعالیٰ کا رسول ہوکر آیا ہوں۔‘‘

(اشتہار معیار الاخیار ص۳، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۲۷۰، منقول از تذکرہ ص۳۵۲، طبع سوم)

۲… ’’اِنَّا اَرْسَلْنَا اِلَیْکُمْ رَسُوْلاً شَاہِدًا عَلَیْکُمْ کَمَا اَرْسَلْنَا اِلٰی فِرْعَوْنَ رَسُوْلاً‘‘ ’’ہم نے تمہاری

490

طرف ایک رسول بھیجا ہے۔ اسی رسول کی مانند جو فرعون کی طرف بھیجا گیا تھا۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۱۰۱، خزائن ج۲۲ ص۱۰۵)

۳… ’’اور اگر کہو کہ صاحب الشریعت افتراء کر کے ہلاک ہوتا ہے نہ ہر ایک مفتری، تو اوّل تو یہ دعویٰ بے دلیل ہے۔ خدا نے افتراء کے ساتھ شریعت کی کوئی قید نہیں لگائی۔ ماسوا اس کے یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے؟ جس نے اپنی وحی کے ذریعہ سے چند امر اور نہی بیان کئے اور اپنی امت کے لئے ایک قانون مقرر کیا۔ وہی صاحب شریعت ہوگیا۔ پس اس تعریف کے رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں۔ کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہیں اور نہی بھی۔ مثلاً یہ الہام: ’’قُلْ لِّلْمَؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِہِمْ وَیَحْفَظُوْا فُرُوْجَہُمْ ذَالِکَ اَزْکٰی لَہُمْ‘‘ یہ ’’براہین احمدیہ‘‘ میں درج ہے اور اس میں امر بھی ہے اور نہی بھی اور اس پر تیئس برس کی مدت بھی گزر گئی اور ایسا ہی اب تک میری وحی میں امر بھی ہوتے ہیں اور نہی بھی اور اگر کہو کہ شریعت سے وہ شریعت مراد ہے جس میں نئے احکام ہوں تو یہ باطل ہے۔ ﷲتعالیٰ فرماتا ہے: ’’اِنَّ ہٰذَا لَفِیْ الصُّحُفِ الْاُوْلٰی صُحُفِ اِبْرَاہِیْمَ وَمُوْسٰی‘‘ یعنی قرآنی تعلیم توریت میں بھی موجود ہے اور اگر یہ کہو کہ شریعت وہ ہے جس میں باستیفاء امر اور نہی کا ذکر ہو تو یہ بھی باطل ہے۔ کیونکہ اگر توریت یا قرآن شریف میں باستیفاء احکام شریعت کا ذکر ہوتا تو پھر اجتہادی گنجائش نہ رہتی۔‘‘

(اربعین نمبر۴ ص۶، خزائن ج۱۷ ص۴۳۵،۴۳۶)

۴… ’’یٰسٓں اِنَّکَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ‘‘ ’’اے سردار تو خدا کا مرسل ہے راہ راست پر۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۱۰۷، خزائن ج۲۲ ص۱۱۰)

۵… ’’فکلمنی ونادانی وقال انی مرسلک الیٰ قوم مفسدین وانی جاعلک للناس اماما وانی مستخلفک اکراما کما جرت سنتی فی الاولین‘‘ (انجام آتھم ص۷۹، خزائن ج۱۱ ص۷۹)

۶… ’’ھُوَ الَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْہُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ‘‘

(اعجاز احمدی ص۷، خزائن ج۱۹ ص۱۱۳)

’’اب ظاہر ہے کہ ان الہامات میں میری نسبت باربار بیان کیاگیا ہے کہ یہ خدا کا فرستادہ، خدا کا مأمور، خدا کا امین، اور خدا کی طرف سے آیا ہے۔ جو کچھ کہتا ہے اس پر ایمان لاؤ اور اس کا دشمن جہنمی ہے۔‘‘

(انجام آتھم ص۶۲، خزائن ج۱۱ ص۶۲)

یہ ہیں مرزاغلام احمد قادیانی کے چند دعاوی۔

باب ششم … عقائد مرزا

حضرت حق تعالیٰ جل شانہ کی شان اقدس میں مرزاکی ہرزہ سرائی

ﷲ تبارک وتعالیٰ اس جہان کے خالق ومالک، حاکم مطلق اور سبھی کچھ ہیں۔ ہر قسم کے نقص وعیب سے پاک، خاندان، کنبہ، برادری، عزیز واقارب، اولاد اور جملہ انسانی اوصاف وتعلقات سے مبّرا ہیں۔ ان کی شان حمید خود ان کی نازل کردہ آخری کتاب قرآن مجید میں یہ بیان ہوئی۔ ’’لَیْسَ کَمِثْلِہٖ شَیْیٔٗ‘‘

قرآن وحدیث کے علاوہ اکابر علمائے متقدمین ومتأخرین کی کتابیں حضرت حق کی عظمت وجلالت کے موضوعات سے پُر ہیں۔ لیکن اتنا کچھ کہنے سننے کے بعد بھی اس کی عظمت وکبریائی اور اس کی حقیقت کا ادراک انسانی فہم

491

سے ماوراء ہے۔ حتیٰ کہ پیغمبر اعظم ﷺ فرماتے ہیں: ’’ہم تیری معرفت کا حق ادا نہیں کر سکے۔‘‘

لیکن متنبی قادیان نے جس دیدہ دلیری سے مسلّمہ عقائد کا مذاق اڑایا ہے اور گلی میں گلی ڈنڈا کھیلنے والے بچوں کے باہمی ذوق کے انداز میں ﷲتعالیٰ کا ذکر کیا ہے اور اپنی خودساختہ نبوت کے ثبوت کے لئے ﷲتعالیٰ کے متعلق خرافات کا پلندہ گھڑا ہے۔ وہ مرزاقادیانی کی نامرادی کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔ دل پر ہاتھ رکھ کر ان خرافات کو پڑھیں۔

*… ’’وہ خدا جو ہمارا خدا ہے ایک کھا جانے والی آگ ہے۔‘‘ (سراج منیر ص۶۲، خزائن ج۱۲ ص۶۴)

*… ’’وہ خدا جس کے قبضہ میں ذرہ ذرہ ہے۔ اس سے انسان کہاں بھاگ سکتا ہے۔ وہ فرماتا ہے کہ میں چوروں کی طرح پوشیدہ آؤں گا۔‘‘ (تجلیات الٰہیہ ص۴، خزائن ج۲۰ ص۳۹۶)

*… ’’قیوم العالمین ( ﷲتعالیٰ) ایک ایسا وجود اعظم ہے جس کے بے شمار ہاتھ، بے شمار پیر اور ہر ایک عضو اس کثرت سے ہے کہ تعداد سے خارج اور لاانتہاء عرض اور طول رکھتا ہے اور تیندوے کی طرح اس وجود اعظم کی تاریں بھی ہیں جو صفحہ ہستی کے تمام کناروں تک پھیل رہی ہیں۔‘‘

(توضیح المرام ص۷۵، خزائن ج۳ ص۹۰)

*… مرزاقادیانی نے کہا کہ نبوت اور وحی کا دروازہ بند مانا جائے تو پھر لازم آئے گا کہ: ’’کیا کوئی عقلمند اس بات کو قبول کر سکتا ہے کہ اس زمانہ میں خدا سنتا تو ہے مگر بولتا نہیں۔ (یعنی وحی نہیں بھیجتا) پھر اس کے بعد یہ سوال ہوگا کہ بولتا کیوں نہیں کیا زبان پر کوئی مرض لاحق ہوگئی ہے۔‘‘

(ضمیمہ براہین حصہ پنجم ص۱۴۴، خزائن ج۲۱ ص۳۱۲)

*… ’’آواہن خدا تیرے (مرزاقادیانی) اندر اتر آیا۔‘‘

(تذکرہ ص۳۱۱، طبع سوم، کتاب البریہ ص۸۴، خزائن ج۱۳ ص۱۰۲)

*… ’’میں (مرزاقادیانی) نے خواب میں دیکھا کہ میں خود خدا ہوں۔ میں نے یقین کر لیا کہ میں وہی ہوں۔‘‘

(آئینہ کمالات اسلام ص۵۶۴، خزائن ج۵ ص ایضاً، کتاب البریہ ص۸۵، خزائن ج۱۳ ص۱۰۳)

*… ’’انت منی بمنزلۃ اولادی‘‘ ’ ’اے مرزا تو مجھ سے میری اولاد جیسا ہے۔‘‘

(اربعین نمبر۴ ص۱۹ حاشیہ، خزائن ج۱۷ ص۴۵۲)

*… ’’خدا نے مجھے (مرزاقادیانی کو) الہام کیا کہ تیرے گھر میں ایک لڑکا پیدا ہو گا۔ ’’کأنّ ﷲ نزل من السماء‘‘ گویا خدا آسمانوں سے اتر آیا۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۹۵، خزائن ج۲۲ ص۹۹، تذکرہ ص۱۳۹، طبع سوم)

*… مرزاقادیانی کاایک مرید قاضی یار محمد اپنے ٹریکٹ نمبر۳۴ موسویہ اسلامی قربانی میں لکھتا ہے: ’’حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) نے ایک موقع پر اپنی حالت یہ ظاہر فرمائی کہ کشف کی حالت آپ پر طاری ہوئی۔ گویا کہ آپ عورت ہیں اور ﷲ تعالیٰ نے رجولیت کی طاقت کا اظہار فرمایا۔ (سمجھنے والے کے لئے اشارہ کافی ہے)‘‘ (اسلامی قربانی ص۱۲)

*… جس سے رجولیت کی طاقت کا اظہار ہو، ظاہر ہے کہ اسے حمل قرار پائے گا۔ تو اس کے متعلق مرزاقادیانی نے خود لکھا کہ: ’’میرا نام ابن مریم رکھاگیا اور عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارہ کے رنگ میں حاملہ ٹھہرایا گیا۔ آخر کئی مہینہ کے بعد جو (مدت حمل) دس مہینہ سے زیادہ نہیں مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا۔ پس اس طور سے میں ابن مریم ٹھہرا‘‘

(کشتی نوح ص۴۶،۴۷، خزائن ج۱۹ ص۵۰)

*… ’’خدا نکلنے کو ہے۔ ’’انت منی بمنزلۃ بروزی‘‘ تو (مرزاقادیانی) مجھ (خدا) سے ایسا ہے جیسا کہ میں (خدا) ہی ظاہر ہوگیا۔‘‘

(سرورق آخری ریویو ج۵ ش۳، مورخہ ۱۵؍مارچ ۱۹۰۶ء کا الہام، تذکرہ ص۶۰۴، طبع سوم)

492

*… ’’خاطبنی ﷲ بقولہ اسمع یا ولدی‘‘ ’’ ﷲتعالیٰ نے مجھے یہ کہہ کر خطاب کیا کہ اے میرے بیٹے سن۔‘‘ (البشریٰ ج۱ ص۴۹)

*… ’’خدا قادیان میں نازل ہوگا۔‘‘ (البشریٰ ج۱ ص۵۶)

*… ’’مجھ سے میرے رب نے بیعت کی۔‘‘ (دافع البلاء ص۶، خزائن ج۱۸ ص۲۲۷)

*… ’’سچا خدا وہی خدا ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔‘‘

(دافع البلاء ص۱۱، خزائن ج۱۸ ص۲۳۱)

حضور نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم

حضرت محمد ﷺ ﷲتعالیٰ کے آخری نبی اور اس کی جملہ مخلوقات میں سب سے اعلیٰ، افضل اور رب العزت کے مقرب خاص ہیں۔

بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر

آپ ﷺ کے لئے کہاگیا اور سچ یہ ہے کہ اس سے بڑھ کر آپ ﷺ کے مقام رفیع کا بیان ممکن نہیں۔ ﷲتعالیٰ نے اپنے آخری کلام قرآن مجید میں مختلف حوالوں سے اپنے اس عبد کامل ﷺ اور رسول خاتم ﷺ کا ذکر کیا اور اتنے پیار اور محبت سے کہ

کرشمہ دامن دل می کشد کہ جا اینجا است

لیکن ایک مرزاغلام احمد ہے جس کے بے لگام اور گستاخ قلم سے اس انسان اعظم، رسول اکرم اور نبی مکرم ﷺ کے متعلق وہ وہ دلخراش عبارتیں نکلیں کہ: ’’الامان والحفیظ۔‘‘

ایسی جسارت تو ابلیس اعظم علیہ ما علیہ بھی نہ کر سکا۔ اس نے بھی محض اپنی بڑائی کے اظہار کے لئے ’’اَنَا خَیْرٌ مِّنْہٗ‘‘ کی بات کہی۔ لیکن تیرھویں صدی کے دم آخر انگریزی استبداد کے زیرسایہ نبوت کا ڈھونگ رچانے والے اس ابلیس مجسم نے اس امام الانبیاء علیہم السلام کا کس طرح ذکر کیا وہ بڑی ہی اَندُوہناک داستان ہے۔

افسوس کہ گوری اقلیت کے زیر سایہ یہ سب گند اچھالا جاتا رہا اور اب تک بعض بدقسمت اس مردودِ ازلی سے اپنی عقیدتوں کا رشتہ جوڑے بیٹھے ہیں۔

ہم اس کفر کو دل پر پتھر رکھ کر نقل کر رہے۔ آپ بھی ان ملعون تحریرات کو دیکھ کر مرزائی اور مرزائی نوازوں کو آئینہ دکھائیے۔

*… ’’مگر تم خوب توجہ کر کے سن لو کہ اب اسم محمد ﷺ کی تجلی ظاہر کرنے کا وقت نہیں یعنی اب جلالی رنگ کی کوئی خدمت باقی نہیں۔ کیونکہ مناسب حد تک وہ جلال ظاہر ہوچکا۔ سورج کی کرنوں کی اب برداشت نہیں۔ اب چاند کی ٹھنڈی روشنی کی ضرورت ہے اور وہ احمد کے رنگ میں ہوکر میں ہوں۔‘‘ (اربعین نمبر۴ ص۱۵، خزائن ج۱۷ ص۴۴۵)

*… یہ بات روز روشن کی طرح ثابت ہے کہ آنحضرت( ﷺ) کے بعد نبوت کا دروازہ کھلا ہے۔

(حقیقت النبوۃ ص۲۲۸)

*… نبی پاکa اشاعت دین مکمل طور پر نہ کر سکے۔ ’’نبی ﷺ سے دین کی مکمل اشاعت نہ ہوسکی۔ میں نے پوری کی ہے۔‘‘ معاذ ﷲ تعالیٰ! (تحفہ گولڑویہ ص۱۰۱ حاشیہ، خزائن ج۱۷ ص۲۶۳)

493

*… ’’آنحضرت ﷺ کے تین ہزار معجزات ہیں۔‘‘ (تحفہ گولڑویہ ص۴۰، خزائن ج۱۷ ص۱۵۳)

*… ’’میرے نشانات کی تعداد دس لاکھ ہے۔‘‘

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۵۶، خزائن ج۲۱ ص۷۲)

*… ’’نشان، معجزہ، کرامت اور خرق عادت ایک چیز ہے۔‘‘

(براہین احمدیہ حصہ پنجم، نصرۃ الحق ص۵۰، خزائن ج۲۱ ص۶۳)

*… ’’سوال نمبر۵: ایسے موقع پر مسلمان معراج پیش کر دیتے ہیں۔ حضرت اقدس (مرزاقادیانی) نے فرمایا کہ معراج جس وجود سے ہوا تھا وہ یہ ہگنے موتنے والا وجود تو نہ تھا۔‘‘

(ملفوظات احمدیہ ج۹ ص۴۵۹)

*… ’’آنحضرت ﷺ اور آپ کے اصحاب عیسائیوں کے ہاتھ کا پنیر کھا لیتے تھے۔ حالانکہ مشہور تھا کہ سؤر کی چربی اس میں پڑتی ہے۔‘‘

(مرزاقادیانی کا مکتوب مندرجہ الفضل قادیان مورخہ ۲۲؍فروری ۱۹۲۴ء)

*… ’’ہر ایک نبی کو اپنی استعداد اور کام کے مطابق کمالات عطا ہوتے تھے۔ کسی کو بہت، کسی کو کم، مگر مسیح موعود (مرزاقادیانی) کو تو تب نبوت ملی جب اس نے نبوت محمدیہ کے تمام کمالات کو حاصل کر لیا اور اس قابل ہوگیا کہ ظلی نبی کہلائے۔ پس ظلی نبوت نے مسیح موعود (مرزاقادیانی) کے قدم کو پیچھے نہیں ہٹایا۔ بلکہ آگے بڑھایا اور اس قدر آگے بڑھایا کہ نبی کریم ﷺ کے پہلو بہ پہلو لا کھڑا کیا۔‘‘ (کلمتہ الفصل ص۱۱۳)

*… ’’یہ بالکل صحیح بات ہے کہ ہر شخص ترقی کر سکتا ہے اور بڑے سے بڑا درجہ پاسکتا ہے۔ حتیٰ کہ محمد رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی بڑھ سکتا ہے۔‘‘ (نعوذ بِاللہ)

(اخبار الفضل قادیان مورخہ ۱۷؍جولائی ۱۹۲۲ء)

*…

محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں

اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں

محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل

غلام احمد کو دیکھے قادیاں میں

(اخبار بدر قادیان مورخہ ۲۵؍اکتوبر ۱۹۰۶ء)

ہلال اور بدر کی نسبت

اور قادیانی ظہور کی افضلیت کو اس عنوان سے بھی بیان کیاگیا کہ مکی بعثت کے زمانہ میں اسلام ہلال کی مانند تھا۔ جس میں کوئی روشنی نہیں ہوتی اور قادیانی بعثت کے زمانہ میں اسلام بدر کامل کی طرح روشن اور منور ہوگیا۔ چنانچہ ملاحظہ ہو: ’’اور اسلام ہلال کی طرح شروع ہوا، اور مقدر تھا کہ انجام کار آخری زمانہ میں بدر (چودھویں کا چاند) ہو جائے خداتعالیٰ کے حکم سے۔ پس خداتعالیٰ کی حکمت نے چاہا کہ اسلام اس صدی میں بدر کی شکل اختیار کرے۔ جو شمار کے رو سے بدر کی طرح مشابہ ہو۔ (یعنی چودھویں صدی)‘‘ (خطبۂ الہامیہ ص۱۸۴، خزائن ج۱۶ ص۲۷۵)

*… ’’آنحضرت ﷺ کے بعثت اوّل میں آپ کے منکروں کو کافر اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دینا۔ لیکن ان کی بعثت ثانی میں آپ کے منکروں کو داخل اسلام سمجھنا یہ آنحضرت ﷺ کی ہتک اور آیت ﷲ سے استہزاء ہے۔ حالانکہ ’’خطبہ الہامیہ‘‘ میں حضرت مسیح موعود نے آنحضرت ﷺ کی بعثت اوّل وثانی کی باہمی نسبت کو ہلال اور بدر کی نسبت سے تعبیر فرمایا ہے۔‘‘

(اخبار الفضل قادیان ج۳ ش۱۰، مورخہ ۱۵؍جولائی ۱۹۱۵ء)

494

بڑی فتح مبین

اور اظہار افضلیت کے لئے ایک عنوان یہ اختیار کیاگیا کہ مرزاقادیانی کے زمانہ کی فتح مبین، آنحضرت ﷺ کی فتح مبین سے بڑھ کر ہے۔ چنانچہ ملاحظہ ہو: ’’اور ظاہر ہے کہ فتح مبین کا وقت ہمارے نبی کریم( ﷺ) کے زمانے میں گزر گیا اور دوسری فتح باقی رہی جو کہ پہلے غلبہ سے بہت بڑی اور زیادہ ظاہر ہے اور مقدر تھا کہ اس کا وقت مسیح موعود کا وقت ہو۔‘‘

(خطبہ الہامیہ ص۱۹۳،۱۹۴، خزائن ج۱۶ ص۲۸۸)

روحانی کمالات کی ابتداء اور انتہاء

یہ بھی کہا گیا کہ آنحضرت ﷺ کی مکی بعثت کا زمانہ روحانی ترقیات کا پہلا قدم تھا اور قادیانی ظہور کا زمانہ روحانی ترقیات کی آخری معراج ہے۔ چنانچہ ملاحظہ ہو: ’’ہمارے نبی کریم ﷺ کی روحانیت نے پانچویں ہزار میں (یعنی مکی بعثت میں) اجمالی صفات کے ساتھ ظہور فرمایا اور وہ زمانہ اس روحانیت کی ترقیات کا انتہاء نہ تھا۔ بلکہ اس کے کمالات کے معراج کے لئے پہلا قدم تھا۔ پھر اس روحانیت نے چھٹے ہزار کے آخر میں یعنی اس وقت پوری طرح سے تجلی فرمائی۔‘‘

(خطبہ الہامیہ ص۱۷۷، خزائن ج۱۶ ص۲۶۶)

ذہنی ارتقاء

یہ بھی کہاگیا کہ مرزاقادیانی کا ذہنی ارتقاء آنحضرت ﷺ سے بڑھ کر تھا۔ چنانچہ ملاحظہ ہو: ’’حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کا ذہنی ارتقاء آنحضرت ﷺ سے زیادہ تھا… اور یہ جزوی فضیلت ہے جو حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کو آنحضرت ﷺ پر حاصل ہے۔ نبی کریم ﷺ کی ذہنی استعدادوں کا پورا ظہور بوجہ تمدن کے نقص کے نہ ہوا، اور نہ قابلیت تھی۔ اب تمدن کی ترقی سے حضرت مسیح موعود کے ذریعہ ان کا پورا ظہور ہوا۔‘‘

(ریویو، مئی ۱۹۲۹ء، بحوالہ قادیانی مذہب ص۲۶۶، اشاعت نہم مطبوعہ لاہور)

*… مرزاغلام احمد قادیانی کا دعویٰ ہے کہ وہ (نعوذ بِاللہ) ’’محمد رسول ﷲ‘‘ہے۔ چنانچہ ملاحظہ ہو:’’مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ وَالَّذِیْنَ مَعَہٗ اَشِدَّآئُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَـمَآءُ بَیْنَہُمْ‘‘ اس وحی الٰہی میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی۔‘‘ (ایک غلطی کا ازالہ ص۳، خزائن ج۱۸ ص۲۰۷)

محمد رسول ﷲ کی دو بعثتیں

مرزاقادیانی کے محمد رسول ﷲ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ قادیانی عقیدے کے مطابق حضرت خاتم النّبیین محمد رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کا دوبارہ دنیا میں آنا مقدر تھا۔ پہلی بار آپ مکہ مکرمہ میں محمد ﷺ کی شکل میں آئے اور دوسری بار قادیان میں مرزاغلام احمد قادیانی کی بروزی شکل میں آئے۔ یعنی مرزاقادیانی کی بروزی شکل میں محمد ﷺ کی روحانیت مع اپنے تمام کمالات نبوت کے دوبارہ جلوہ گر ہوئی ہے۔ چنانچہ ملاحظہ ہو: ’’اور جان کہ ہمارے نبی کریم ﷺ جیسا کہ پانچویں ہزار میں مبعوث ہوئے۔ (یعنی چھٹی صدی مسیحی میں) ایسا ہی مسیح موعود (مرزاغلام احمد قادیانی) کی بروزی صورت اختیار کر کے چھٹے ہزار (یعنی تیرھویں صدی ہجری) کے آخر میں مبعوث ہوئے۔‘‘

(خطبہ الہامیہ ص۱۸۰، خزائن ج۱۶ ص۲۷۰)

*… ’’آنحضرت ﷺ کے دو بعث ہیں۔ یا بہ تبدیل الفاظ یوں کہہ سکتے ہیں کہ ایک بروزی رنگ میں

495

آنحضرت ﷺ کا دوبارہ آنا دنیا میں وعدہ دیاگیا تھا۔ جو مسیح موعود اور مہدی معہود (مرزاقادیانی) کے ظہور سے پورا ہوا۔‘‘

(تحفہ گولڑویہ ص۹۴ حاشیہ، خزائن ج۱۷ ص۲۴۹)

مرزاقادیانی بعینہ محمد رسول ﷲ

چونکہ قادیانی عقیدہ کے مطابق محمد رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے تمام کمالات کے ساتھ مرزاقادیانی کی بروزی شکل میں قادیان میں دوبارہ مبعوث ہوئے ہیں۔ اس لئے مرزاقادیانی کا وجود (نعوذ بِاللہ) بعینہ محمد رسول ﷲ کا وجود ہے۔ چنانچہ ملاحظہ ہو: ’’اور خدا نے مجھ پر اس رسول کریم کا فیض نازل فرمایا اور اس کو کامل بنایا اور اس نبی کریم کے لطف اور جود کو میری طرف کھینچا۔ یہاں تک کہ میرا وجود اس کا وجود ہوگیا۔ پس وہ جو میری جماعت میں داخل ہوا۔ درحقیقت میرے سردار خیرالمرسلین ﷺ کے صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین میں داخل ہوا اور یہی معنی ’’اٰخَرِیْنَ مِنْہُمْ‘‘ کے لفظ کے بھی ہیں۔ جیسا کہ سوچنے والوں پر پوشیدہ نہیں اور جو شخص مجھ میں اور مصطفیٰ میں تفریق کرتا ہے۔ اس نے مجھ کو نہیں دیکھا ہے اور نہیں پہچانا ہے۔‘‘

(خطبہ الہامیہ ص۱۷۱، خزائن ج۱۶ ص۲۵۸،۲۵۹)

’’اور چونکہ مشابہت تامہ کی وجہ سے مسیح موعود (مرزاقادیانی) اور نبی کریم میں کوئی دوئی باقی نہیں رہی۔ حتیٰ کہ ان دونوں کے وجود بھی ایک وجود کا ہی حکم رکھتے ہیں۔ جیسا کہ خود مسیح موعود نے فرمایا ہے کہ ’’صارو جودی وجودہ‘‘ (یہاں تک کہ میرا وجود اس (محمد رسول ﷲ) کا وجود ہوگیا)‘‘

(خطبہ الہامیہ ص۱۷۱، خزائن ج۱۶ ص۲۵۸)

’’اور حدیث میں بھی آیا ہے کہ حضرت نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ مسیح موعود میری قبر میں دفن کیا جاوے گا۔ جس سے یہی مراد ہے کہ وہ میں ہی ہوں۔ یعنی مسیح موعود نبی کریم ﷺ سے الگ کوئی چیز نہیں ہے۔ بلکہ وہی ہے جو بروزی رنگ میں دوبارہ دنیا میں آئے گا۔ تو اس صورت میں کیا اس بات میں کوئی شک رہ جاتا ہے کہ قادیان میں ﷲتعالیٰ نے پھر محمد ﷺ کو اتارا۔‘‘

(کلمتہ الفصل ص۱۰۴، ۱۰۵، مندرجہ ریویو آف ریلیجنز قادیان مارچ واپریل ۱۹۱۵ء)

*…

صدی چودھویں کا ہوا سر مبارک

کہ جس پر وہ بدرالدجیٰ بن کے آیا

محمد پئے چارہ سازیٔ امت

ہے اب احمد مجتبیٰ بن کے آیا

حقیقت کھلی بعث ثانی کی ہم پر

کہ جب مصطفیٰ میرزا بن کے آیا

(اخبار الفضل قادیان مورخہ ۲۸؍مئی ۱۹۲۸ء)

*…

اے مرے پیارے مری جان رسول قدنی

تیرے صدقے ترے قربان رسول قدنی

پہلی بعثت میں محمد ہے تو اب احمد ہے

تجھ پہ پھر اترا ہے قرآن رسول قدنی

(اخبار الفضل قادیان مورخہ ۱۶؍اکتوبر ۱۹۲۲ء)

496

محمد رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام کمالات مرزاقادیانی میں

جب یہ عقیدہ ٹھہرا کہ مرزاقادیانی کا وجود بعینہ محمد رسول ﷲ کا وجود ہے اور یہ کہ مرزاقادیانی کا روپ دھار کر خود محمد رسول ﷲہی دوبارہ قادیان میں آئے ہیں تو یہ عقیدہ بھی ضروری ہوا کہ محمد رسول ﷲ کے تمام کمالات وامتیازات بھی مرزاقادیانی کی طرف منتقل ہوگئے ہیں۔ چنانچہ ملاحظہ ہو: ’’جب کہ میں بروزی طور پر آنحضرت ﷺ ہوں اور بروزی رنگ میں تمام کمالات محمدی مع ثبوت محمدیہ کے میرے آئینہ ظلیت میں منعکس ہیں تو پھر کون سا الگ انسان ہوا جس نے علیحدہ طور پر نبوت کا دعویٰ کیا؟‘‘ (ایک غلطی کا ازالہ ص۸، خزائن ج۱۸ ص۲۱۲)

*… ’’خداتعالیٰ کے نزدیک حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کا وجود آنحضرت ﷺ کا ہی وجود ہے۔ یعنی خدا کے دفتر میں حضرت مسیح موعود اور آنحضرت، آپس میں کوئی دوئی یا مغائرت نہیں رکھتے۔ بلکہ ایک ہی شان ایک ہی مرتبہ اور ایک ہی منصب اور ایک ہی نام رکھتے ہیں۔ گویا لفظوں میں باوجود دو ہونے کے ایک ہی ہیں۔‘‘

(اخبار الفضل قادیان ج۳، ش۳۷، مورخہ ۱۶؍ستمبر ۱۹۱۵ء، بحوالہ قادیانی مذہب ص۲۰۷)

*… ’’گذشتہ مضمون مندرجہ ’’الفضل‘‘ مورخہ ۱۶؍ستمبر میں میں نے بفضل الٰہی اس بات کو پایۂ ثبوت تک پہنچایا ہے کہ حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) باعتبار نام، کام، آمد، مقام، مرتبہ کے آنحضرت ﷺ کا ہی وجود ہیں۔ یا یوں کہو کہ آنحضرت ﷺ جیسا کہ (دنیا کے) پانچویں ہزار میں مبعوث ہوئے تھے۔ ایسا ہی اس وقت جمیع کمالات کے ساتھ مسیح موعود کی بروزی صورت میں مبعوث ہوئے ہیں۔‘‘ (الفضل مورخہ ۲۸؍اکتوبر ۱۹۱۵ء، بحوالہ قادیانی مذہب ص۲۰۹)

مرزاخاتم النّبیین

جب قادیانی عقیدہ کے مطابق محمد رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی قادیانی بعثت، جو مرزاقادیانی کی بروزی شکل میں ہوئی۔ بعینہ محمد رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہے تو مرزاقادیانی بروزی طور پر خاتم النّبیین بھی ہوا۔ چنانچہ ملاحظہ ہو: ’’میں بارہا بتلا چکا ہوں کہ میں موجب آیت ’’وَاٰخَرِیْنَ مِنْہُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْا بِہِمْ‘‘ بروزی طور پر وہی نبی خاتم الانبیاء علیہم السلام ہوں اور خدا نے آج سے بیس برس پہلے ’’براہین احمدیہ‘‘ میں میرا نام محمد اور احمد رکھا ہے اور مجھے آنحضرت ﷺ کا ہی وجود قرار دیا ہے۔‘‘

(ایک غلطی کا ازالہ ص۸، خزائن ج۱۸ ص۲۱۲)

*… ’’مبارک ہیں وہ جس نے مجھے پہچانا، میں خدا کی سب راہوں میں سے آخری راہ ہوں اور میں اس کے سب نوروں میں سے آخری نور ہوں۔ بدقسمت ہے وہ جو مجھے چھوڑتا ہے۔ کیونکہ میرے بغیر سب تاریکی ہے۔‘‘

(کشتی نوح ص۵۶، خزائن ج۱۹ ص۶۱)

مرزاافضل الرسل

’’آسمان سے کئی تخت اترے۔ مگر سب سے اونچا تیرا تخت بچھایا گیا۔‘‘

(مرزاقادیانی کا الہام مندرجہ تذکرہ ص۳۳۹، طبع سوم)

*… ’’کمالات متفرقہ جو تمام دیگر انبیاء علیہم السلام میں پائے جاتے تھے۔ وہ سب حضرت رسول کریم ﷺ میں ان سے بڑھ کر موجود تھے اور وہ سارے کمالات حضرت رسول کریم ﷺ سے ظلی طور پر ہم کو عطاء کئے گئے اور اسی لئے ہمارا نام

497

آدم، ابراہیم، موسیٰ، نوح، داؤد، یوسف، سلیمان، یحییٰ، عیسیٰ وغیرہ ہے… پہلے تمام انبیاء ظل تھے۔ نبی کریم کی خاص خاص صفات میں اور اب ہم ان تمام صفات میں نبی کریم ﷺ کے ظل ہیں۔‘‘

(ملفوظات ج۳ ص۲۷۰)

فخر اوّلین وآخرین

روزنامہ ’’الفضل قادیان‘‘ مسلمانوں کو للکارتے ہوئے کہتا ہے: ’’اے مسلمان کہلانے والو! اگر تم واقعی اسلام کا بول بالا چاہتے ہو اور باقی دنیا کو اپنی طرف بلاتے ہو تو پہلے خود سچے اسلام کی طرف آجاؤ۔ (یعنی مسلمانوں کا اسلام جھوٹا ہے۔ نعوذ بِاللہ، ناقل) جو مسیح موعود (مرزاقادیانی) میں ہوکر ملتا ہے۔ اسی کے طفیل آج بروتقویٰ کی راہیں کھلتی ہیں۔ اسی کی پیروی سے انسان فلاح ونجات کی منزل مقصود پر پہنچ سکتا ہے۔ وہ وہی فخر اوّلین وآخرین ہے۔ جو آج سے تیرہ سو برس پہلے رحمۃ للعالمین بن کر آیا تھا۔‘‘ (الفضل قادیان مورخہ ۲۶؍ستمبر ۱۹۱۷ء، بحوالہ قادیانی مذہبب ص۲۱۱،۲۱۲)

پہلے محمد رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر

اسی پر اکتفاء نہیں بلکہ قادیانی عقیدہ میں محمد رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کا قادیانی ظہور (جو مرزاقادیانی کے روپ میں ہوا ہے) مکی ظہور سے اعلیٰ وافضل ہے۔ ملاحظہ ہو: ’’اور جس نے اس بات سے انکار کیا کہ نبی علیہ السلام کی بعثت چھٹے ہزار سے تعلق رکھتی ہے۔ جیسا کہ پانچویں ہزار سے تعلق رکھتی تھی۔ پس اس نے حق کا اور نص قرآن کا انکار کیا۔ بلکہ حق یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی روحانیت چھٹے ہزار کے آخر میں یعنی ان دنوں میں بہ نسبت ان سالوں کے اقویٰ اور اکمل اور اشد ہے۔ بلکہ چودھویں رات کی طرح ہے۔‘‘ (خطبہ الہامیہ ص۱۸۱، ۱۸۲، خزائن ج۱۶ ص۲۷۱،۲۷۲)

*… ’’اس (آنحضرت ﷺ) کے لئے چاند کا کسوف کا نشان ظاہر ہوا اور میرے لئے چاند وسورج دونوں کا۔‘‘

(اعجاز احمدی ص۷۱، خزائن ج۱۹ ص۱۸۳)

خیال زاغ کو بلبل سے برتری کا ہے غلام زادے کو دعویٰ پیمبری کا ہے

حضرات انبیاء کرام علیہم السلام

ﷲتعالیٰ کے رنگا رنگ مخلوقات میں انسان سب سے اعلیٰ واشرف ہے۔ جسے اشرف المخلوقات ہونے کا شرف حاصل ہے۔ گروہ انسانیت میں وہ سعادت مند پھر بڑی عظمتوں کے حامل ہیں۔ جنہیں وحی ربانی کی تسلیم وطاعت کا شرف حاصل ہوا اور اس گروہ مسلمین میں سے لاتعداد عظمتوں کے امین وحامل وہ ہیں۔ جنہیں نبوت ورسالت کا تاج پہنایا گیا۔ جنہیں ﷲتعالیٰ نے اپنی سب سے بڑی امانت کا امین قرار دیا اور سب سے بڑی نعمت سے نوازا۔ یہ گروہ پاک باز انسان ہوکر بھی اتنا عظیم المرتبت ہے کہ معصومیت ان کے لوازم میں سے ہے۔ وہ معصوم اور ﷲتعالیٰ کی اس حفاظت میں ہوتے ہیں کہ گناہ ان کے گھر کا رخ نہیں کر سکتا۔ وہ ﷲتعالیٰ کی وحی کے حامل اور اس کے مبلغ ہوتے ہیں۔ اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر اس کی تبلیغ کرتے اور اف تک نہیں کرتے۔ چاہے اس راستہ میں ان کا جسم آرے سے چیرا جائے۔

لیکن قادیان کے اس شیطانِ مجسم نے اس گروہ پاک باز کو جس طرح یاد کیا۔ ان کی توہین کی اور اپنے ناپاک وجود کو ان سے برتر قرار دیا وہ اس دھرتی کا سب سے گھناؤنا کاروبار ہے۔ ان شیطنت آمیز تحریرات کی نقل ومطالعہ کسی

498

شریف انسان کے بس کا روگ نہیں۔ لیکن ضرورت ومجبوری سے انہیں نقل کیا جارہا ہے۔

*… ’’یہودیوں، عیسائیوں اور مسلمانوں پر بباعث ان کے کسی پوشیدہ گناہ کے یہ ابتلاء آیا کہ جن راہوں سے وہ اپنے موعود نبیوں کا انتظار کرتے رہے۔ ان راہوں سے وہ نبی نہیں آئے۔ بلکہ چور کی طرح کسی اورراہ سے آگئے۔‘‘

(نزول المسیح ص۳۵ حاشیہ، خزائن ج۱۸ ص۴۱۳)

*… ’’میں خود اس بات کا قائل ہوں کہ دنیا میں کوئی ایسا نبی نہیں آیا جس نے کبھی اجتہادی غلطی نہیں کی۔‘‘

(تتمہ حقیقت الوحی ص۱۳۵، خزائن ج۲۲ ص۵۷۳)

*…

زندہ شد ہر نبی بآمدنم

ہر رسول نہاں بہ پیراہنم

(نزول المسیح ص۱۰۰، خزائن ج۱۸ ص۴۷۸)

ترجمہ: ’’زندہ ہوا ہر نبی میری آمد سے تمام رسول میرے کرتہ میں چھپے ہوئے ہیں۔‘‘

*… ’’اس (آنحضرت ﷺ) کے شاگردوں میں علاوہ بہت سے محدثوں کے ایک (مرزاقادیانی) نے نبوت کا درجہ بھی پایا اور نہ صرف یہ کہ نبی بنا۔ بلکہ بعض اولوالعزم نبیوں سے بھی آگے نکل گیا۔‘‘

(حقیقت النبوۃ ص۲۵۷)

*… ’’حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کو جو بلحاظ مدارج کئی نبیوں سے بھی افضل ہیں۔ ایسے مقام پر پہنچے کہ نبیوں کو اس مقام پر رشک ہے۔‘‘

(اخبار الفضل قادیان ج۲۰ ش۹۳، مورخہ ۵؍فروری ۱۹۳۳ء)

*… ’’آپ (مرزاقادیانی) کا درجہ رسول کریم ﷺ کے سوا باقی تمام انبیاء سے بلند ہے۔‘‘

(اخبار الفضل قادیان ج۲۰ ش۴۵، مورخہ ۶؍جون ۱۹۳۳ء)

*… ’’جس (مرزاقادیانی) کے وجود میں ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کی شان جلوہ گر تھی۔‘‘

(الفضل قادیان ج۲ نمبر۱۴۶، مورخہ ۳۰؍مئی ۱۹۱۵ء)

*… ’’آدم ثانی حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) جو آدم اوّل سے شان میں بڑھا ہوا تھا۔ اس کے لئے کیوں یہ نہ کہا جاتا کہ آگ تمہاری غلام بلکہ غلاموں کی غلام ہے۔‘‘ (ملائکۃ ﷲ ص۶۵)

*… ’’اور خداتعالیٰ میرے لئے اس کثرت سے نشان دکھلارہا ہے کہ اگر نوح ( علیہ السلام) کے زمانہ میں وہ نشان دکھلائے جاتے تو وہ لوگ غرق نہ ہوتے۔‘‘ (تتمہ حقیقت الوحی ص۱۳۷، خزائن ج۲۲ ص۵۷۵)

*… ’’پس اس امت کا یوسف یعنی یہ عاجز (مرزا لعین) اسرائیلی یوسف( علیہ السلام) سے بڑھ کر ہے۔ کیونکہ یہ عاجز قید کی دعا کر کے بھی قید سے بچایا گیا۔ مگر یوسف بن یعقوب( علیہم السلام) قید میں ڈالا گیا۔‘‘

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۷۶، خزائن ج۲۱ ص۹۹)

*… ’’حدیث میں تو ہے کہ اگر موسیٰ وعیسیٰ ( علیہم السلام) زندہ ہوتے۔ (حدیث میں صرف موسیٰ علیہ السلام کا ذکر ہے) تو آنحضرت( ﷺ) کے اتباع کے بغیر ان کو چارہ نہ ہوتا۔ مگر میں کہتا ہوں کہ مسیح موعود (مرزالعین) کے وقت میں بھی موسیٰ وعیسیٰ ( علیہم السلام) ہوتے تو مسیح موعود (مرزالعین) کی ضرور اتباع کرنی پڑتی۔‘‘

(اخبار الفضل قادیان ج۳ نمبر۹۸، مورخہ ۱۸؍مارچ ۱۹۱۶ء)

499

*… ’’حضرت مسیح موعود (مرزالعین) کی اتباع میں، میں بھی کہتا ہوں کہ مخالف لاکھ چِلاّئیں کہ فلاں بات سے حضرت عیسیٰ( علیہ السلام) کی ہتک ہوتی ہے۔ اگر رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت قائم کرنے کے لئے حضرت عیسیٰ( علیہ السلام) یا کسی اور کی ہتک ہوتی ہے تو ہمیں اس کی پرواہ نہیں ہوگی۔‘‘

(تقریر مرزابشیر محمود لعین، درلائل پور مندرجہ الفضل قادیان ج۲۱، نمبر۱۳۸، مورخہ ۲۰؍مئی ۱۹۳۴ء)

*…

انبیاء گرچہ بودہ اند بسے

من بعرفاں نہ کمترم زکسے

(نزول المسیح ص۹۹، خزائن ج۱۸ ص۴۷۷)

ترجمہ: ’’اگرچہ دنیا میں بہت سارے نبی ہوئے ہیں۔ لیکن علم وعرفان میں میں کسی سے کم نہیں ہوں۔‘‘

*… ’’خدا تعالیٰ نے مجھے تمام انبیاء علیہم السلام کا مظہر ٹھہرایا ہے اور تمام نبیوں کے نام میری طرف منسوب کئے گئے ہیں۔ میں آدم ہوں۔ میں شیث ہوں، میں نوح ہوں، میں ابراہیم ہوں، میں اسحاق ہوں، میں اسماعیل ہوں، میں یعقوب ہوں، میں یوسف ہوں، میں موسیٰ ہوں، میں داؤد ہوں، میں عیسیٰ ہوں اور آنحضرت ﷺ کے نام کا میں مظہر ہوں۔ یعنی ظلی طور پر محمد اور احمد ہوں۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۷۲ حاشیہ، خزائن ج۲۲ ص۷۶)

حضرت مسیح علیہ السلام

حضرات انبیاء کرام علیہم السلاممیں سے سیدنا مسیح علیہ السلام اپنی بعض خصوصیات کے پیش نظر امتیازی مقام کے حامل ہیں۔ ﷲتعالیٰ کی قدرت کاملہ سے بن باپ پیدا ہونا، ایک خاص موقع پر زندہ آسمان پر اٹھایا جانا، اور قرب قیامت میں دوبارہ دنیا میں واپسی، ایسی امتیازی خصوصیات ہیں۔ جن میں ان کا کوئی دوسرا سہیم وشریک نہیں۔ دنیا کی سب سے بڑی مغضوب ومردود قوم یہود نے سب سے بڑھ کر سیدنا مسیح علیہ السلام اور ان کی پاک دامن وعفت مآب والدہ محترمہ سیدتنا مریم صدیقہ طاہرہ ’’سلام ﷲ تعالیٰ علیہا ورضو انہا‘‘ پر طرح طرح کے الزامات لگائے۔ انہیں اذیت پہنچائی۔ سیدنا مسیح علیہ السلام کے قتل کے منصوبے بنائے اور تکلیف واذیت کے حوالہ سے جو ہو سکا انہوں نے کیا۔

صدیوں بعد اس روایت کو قادیانی دہقان مرزاغلام احمد قادیانی نے دہرایا اور اپنی گستاخ وبے لگام قلم سے سیدنا مسیح علیہ السلام اور ان کی عظیم المرتبت والدہ کے خلاف وہ وہ بہتان طرازیاں کیں کہ یہود کی روح بھی شاید شرما اٹھی ہو۔ یہ بدزبانی اور دوں نہادی جس کا رویہ ہو، اسے شریف انسان کہنا بھی مشکل ہے۔ آئیں دیکھیں اس حوالہ سے کہ اس بدزبان نے کیا لکھا؟

*… ’’وہ (مسیح ابن مریم) ہر طرح عاجز ہی عاجز تھا۔ مخرج معلوم کی راہ سے جو پلیدی اور ناپاکی کا مبرز ہے۔ تولد پاکر مدت تک بھوک اور پیاس اور درد اور بیماری کا دکھ اٹھاتا رہا۔‘‘

(براہین احمدیہ ص۳۶۹ حاشیہ، خزائن ج۱ ص۴۴۱،۴۴۲)

*… آپ (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے۔ تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں۔ جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔

(ضمیمہ انجام آتھم ص۷ حاشیہ، خزائن ج۱۱ ص۲۹۱)

*… ’’مسیح( علیہ السلام) کا چال چلن کیا تھا؟ ایک کھاؤ، پیو، نہ زاہد، نہ عابد، نہ حق کا پرستار، متکبر، خود بین، خدائی کا دعویٰ کرنے والا۔‘‘ (مکتوبات احمدیہ ج۳ ص۲۳تا۲۴)

500

*… ’’یورپ کے لوگوں کو جس قدر شراب نے نقصان پہنچایا ہے۔ اس کا سبب تو یہ تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام شراب پیا کرتے تھے۔ شاید کسی بیماری کی وجہ سے یا پرانی عادت کی وجہ سے۔‘‘

(کشتی نوح ص۶۶ حاشیہ، خزائن ج۱۹ ص۷۱)

*… ’’ایک دفعہ مجھے ایک دوست نے یہ صلاح دی کہ ذیابیطس کے لئے افیون مفید ہوتی ہے۔ پس علاج کے لئے مضائقہ نہیں کہ افیون شروع کر دی جائے۔ میں نے جواب دیا کہ یہ آپ نے بڑی مہربانی کی کہ ہمدردی فرمائی۔ لیکن اگر میں ذیابیطس کے لئے افیون کھانے کی عادت کر لوں تو میں ڈرتا ہوں کہ لوگ ٹھٹھا کر کے یہ نہ کہیں کہ پہلا مسیح تو شرابی تھا اور دوسرا افیونی۔‘‘

(نسیم دعوت ص۶۹، خزائن ج۱۹ ص۴۳۴،۴۳۵)

*… ’’یسوع اس لئے اپنے تئیں نیک نہیں کہہ سکا کہ لوگ جانتے تھے کہ یہ شخص شرابی، کبابی ہے اور یہ خراب چال چلن نہ خدائی کے بعد بلکہ ابتداء ہی سے ایسا معلوم ہوتا ہے۔ چنانچہ خدائی کا دعویٰ شراب خوری کا ایک بد نتیجہ ہے۔‘‘

(ست بچن ص۱۷۲ حاشیہ، خزائن ج۱۰ ص۲۹۶)

*… ’’آپ (یسوع مسیح) کا کنجریوں سے میلان اور صحبت بھی شاید اسی وجہ سے ہو کہ جدی مناسبت درمیان ہے۔ ورنہ کوئی پرہیزگار انسان ایک جوان کنجری کو یہ موقع نہیں دے سکتا کہ وہ اس کے سر پر اپنے ناپاک ہاتھ لگا دے اور زنا کاری کی کمائی کا پلید عطر اس کے سر پر ملے اور اپنے بالوں کو اس کے پیروں پر ملے۔ سمجھنے والے سمجھ لیں کہ ایسا انسان کس چلن کا آدمی ہوسکتا ہے۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ص۷ حاشیہ، خزائن ج۱۱ ص۲۹۱)

*… ’’لیکن مسیح کی راست بازی اپنے زمانے میں دوسرے راست بازوں سے بڑھ کر ثابت نہیں ہوتی۔ بلکہ یحییٰ نبی کو اس پر فضیلت ہے۔ کیونکہ وہ شراب نہیں پیتا تھا اور کبھی نہیں سنا گیا کہ کسی فاحشہ عورت نے آکر اپنی کمائی کے مال سے اس کے سر پر عطر ملایا ہاتھوں اور سر کے بالوں سے اس کے بدن کو چھواء تھا یا کوئی بے تعلق جوان عورت اس کی خدمت کرتی تھی۔ اسی وجہ سے خدا نے قرآن میں یحییٰ کا نام حصور رکھا۔ مگر مسیح کا یہ نام نہ رکھا۔ کیونکہ ایسے قصے اس نام کے رکھنے سے مانع تھے۔‘‘

(مقدمہ دافع البلاء ص۴، حاشیہ، خزائن ج۱۸ ص۲۲۰)

*… ’’میرے نزدیک مسیح شراب سے پرہیز رکھنے والا نہیں تھا۔‘‘ (ریویو ج۱ ص۱۲۴، ۱۹۰۲ء)

*… ’’یہ بھی یاد رہے کہ آپ (عیسیٰ علیہ السلام) کو کسی قدر جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ص۵، خزائن ج۱۱ ص۲۸۹)

*… ’’عیسائیوں نے بہت سے آپ کے معجزات لکھے ہیں۔ مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ص۶ حاشیہ، خزائن ج۱۱ ص۲۹۰)

*… ’’مسیح کے معجزات اور پیش گوئیوں پر جس قدر اعتراض اور شکوک پیدا ہوتے ہیں۔ میں نہیں سمجھ سکتا کہ کسی اور نبی کے خوارق یا پیش خبریوں میں کبھی ایسے شبہات پیدا ہوئے ہوں۔ کیا تالاب کا قصہ مسیحی معجزات کی رونق دور نہیں کرتا؟‘‘

(ازالہ اوہام ص۶،۷، خزائن ج۳ ص۱۰۶)

*… ’’ممکن ہے کہ آپ (یسوع مسیح) نے معمولی تدبیر کے ساتھ کسی شب کور وغیرہ کو اچھا کیا ہو یا کسی اور بیماری کا علاج کیا ہو۔ مگر آپ کی بدقسمتی سے اسی زمانہ میں ایک تالاب بھی موجود تھا۔ جس سے بڑے بڑے نشان ظاہر ہوتے تھے۔ خیال ہوسکتا ہے کہ اس تالاب کی مٹی آپ بھی استعمال کرتے ہوں گے۔ اسی تالاب سے آپ کے معجزات کی پوری پوری حقیقت کھلتی ہے اور اسی تالاب نے فیصلہ کر دیا ہے کہ اگر آپ سے کوئی معجزہ ظاہر ہوا ہو تو وہ آپ کا نہیں بلکہ اس تالاب کا

501

معجزہ ہے اور آپ کے ہاتھ میں سوا مکر اور فریب کے اور کچھ نہ تھا۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ص۷ حاشیہ، خزائن ج۱۱ ص۲۹۱)

*… ’’خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے اور اس دوسرے مسیح کا نام غلام احمد رکھا۔‘‘ (دافع البلاء ص۱۳، خزائن ج۱۸ ص۲۳۳)

*… ’’خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے۔ مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر مسیح ابن مریم میرے زمانہ میں ہوتا تو وہ کام جو میں کر سکتا ہوں وہ ہرگز نہ کر سکتا اور وہ نشان جو مجھ سے ظاہر ہورہے ہیں وہ ہرگز نہ دکھلا سکتا۔‘‘ (حقیقت الوحی ص۱۴۸، خزائن ج۲۲ ص۱۵۲)

*… ’’پھر جب کہ خدا نے اور اس کے رسول نے اور تمام نبیوں نے آخری زمانے کے مسیح کو اس کے کارناموں کی وجہ سے افضل قرار دیا ہے تو پھر یہ شیطانی وسوسہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ کیوں تم مسیح ابن مریم سے اپنے تئیں افضل قرار دیتے ہو۔‘‘ (حقیقت الوحی ص۱۵۵، خزائن ج۲۲ ص۱۵۹)

*… ’’اور اسلام نہ عیسائی مذہب کی طرح یہ سکھاتا ہے کہ خدا نے انسان کی طرح ایک عورت کے پیٹ سے جنم لیا اور نہ صرف نو مہینہ تک خونِ حیض کھا کر ایک گنہگار جسم سے جو ’’بنت سبع‘‘ اور ’’تمر‘‘ اور ’’راحاب‘‘ جیسی حرام کار عورتوں کے خمیر سے اپنی فطرت میں ابنیت کا حصہ رکھتا تھا۔ خون اور ہڈی اور گوشت کو حاصل کیا۔ بلکہ (مسیح)بچپن کے زمانہ میں جو جو بیماریوں کی صعوبتیں ہیں۔ جیسے خسرہ، چیچک، دانتوں کی تکالیف وغیرہ تکلیفیں وہ سب اٹھائیں اور بہت سا حصہ عمر کا معمولی انسانوں کی طرح کھو کر آخر موت کے قریب پہنچ کر خدائی یاد آگئی… وجہ یہ ہے کہ وہ (خداتعالیٰ) پہلے ہی اپنے فعل اور قول میں ظاہر کر چکا ہے کہ وہ ازلی ابدی اور غیرفانی ہے اور موت اس پر جائز نہیں۔ ایسا ہی یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ وہ کسی عورت کے رحم میں داخل ہوتا اور خون حیض کھاتا اور قریباً نو ماہ پورے کر کے سیر ڈیڑھ سیر کے وزن پر عورتوں کے پیشاب گاہ سے روتا چلّاتا پیدا ہو جاتا ہے اور پھر روٹی کھاتا اور پاخانہ جاتا اور پیشاب کرتا اور تمام دکھ اس فانی زندگی کے اٹھاتا ہے اور آخر چند ساعت جان کندنی کا عذاب اٹھا کر اس جہان فانی سے رخصت ہو جاتا ہے۔‘‘

(ست بچن ص۱۷۳، ۱۷۴، خزائن ج۱۰ ص۲۹۷،۲۹۸)

*… ’’مردمی اور رجولیت انسان کی صفات محمودہ میں سے ہیں۔ ہیجڑا ہونا کوئی اچھی صفت نہیں۔ جیسے بہرہ اور گونگا ہونا کسی خوبی میں داخل نہیں۔ ہاں یہ اعتراض بہت بڑا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام مردانہ صفات کی اعلیٰ ترین صفت سے بے نصیب محض ہونے کے باعث ازواج سے سچی اور کامل حسن معاشرت کا کوئی عملی نمونہ نہ دے سکے۔‘‘

(نور القرآن حصہ دوم ص۱۷، خزائن ج۹ ص۳۹۲)

اسلام اور مرزا قادیانی

’’اسلام ﷲ تعالیٰ کا آخری، سچا اور سدا بہار دین ہے جس کی تکمیل واتمام کا اعلان خود ﷲ رب العزت نے اپنی آخری وحی میں ’’حجتہ الوداع‘‘ کے موقع پر فرمایا۔ ساتھ ہی قرآن عزیز میں خالق کائنات نے واضح کیا کہ اس اسلام سے روگردانی کے دوسرے طریقے اور دھرم کے رسیا لوگوں کے لئے ذلت ونقصان کے سوا کچھ نہیں۔‘‘

لیکن قادیان کی گنجی کلچڑی کو دیکھیں اور اس کے لگے بندھنوں کو دیکھیں کہ وہ کس دیدہ دلیری اور ڈھٹائی وبے حیائی سے اسلام کی نفی کرتا ہے۔ محض اس لئے کہ اصل اسلام میں ان کا حصہ نہیں اور دوسری طرف وہ اپنے لایعنی، لغو اور بے

502

ہودہ طریق اور خرافات کو اسلام قرار دیتا ہے۔ اسلام کی سچی، صحیح اور سدا بہار تصویر کے علی الرغم مرزا قادیانی کی خرافات سے بھرپور تحریرات کا ایک عکس ملاحظہ ہو۔

اسلام وہی جو مرزا کہے، مسلمان وہی جو مرزا کو مانے

’’جس اسلام میں آپ (مرزا قادیانی) پر ایمان لانے کی شرط نہ ہو اور آپ (مرزا) کے مسئلہ کا ذکر نہیں۔ اسے آپ (مرزا) اسلام ہی نہیں سمجھتے تھے۔‘‘

(اخبار الفضل قادیان ج۲، نمبر۸۵ مورخہ ۳۱دسمبر۱۹۱۴ء)

*… ’’پس اسلام کی تبلیغ کرو جو مسیح موعود (مرزا ملعون) لایا۔‘‘

(منصب خلافت ص۲۰ مرزا محمود)

*… ’’تجویز آئی کہ ایسا رسالہ شائع کریں جس میں مرزا قادیانی کا نام نہ ہو۔ مگر حضرت اقدس (مرزا قادیانی) نے اس تجویز کو اس بناء پر رد کردیا کہ مجھ کو چھوڑ کر کیا مردہ اسلام کو پیش کروگے۔‘‘

(اخبار الفضل قادیان ج۱۶، شمارہ ۳۲ مورخہ ۱۹؍اکتوبر۱۹۲۸ء)

*… ’’پس جس طرح حضرت موسیٰ کے وقت میں موسیٰ( علیہ السلام) کی آواز اسلام کی آواز تھی اور حضرت عیسیٰ( علیہ السلام) کے وقت میں عیسیٰ کی اور سیدنا ومولانا حضرت محمد ﷺ کی آواز اسلام کا صور تھا۔ اسی طرح آج قادیان سے بلند ہونے والی آواز اسلام کی آواز ہے۔‘‘

(اخبار الفضل قادیان ج۷، شمارہ ۹ مورخہ ۲۷؍مئی ۱۹۲۰ء)

*… ’’(مسلمان) خدا کے نزدیک مسلمان نہیں ہیں۔ بلکہ ضرورت ہے کہ ان کو نئے سرے سے مسلمان کیا جائے۔‘‘

(کلمتہ الفصل ص۱۴۳، ازبشیرایم اے)

*… ’’حضرت صاحب (مرزا) نے علماء مشائخ ہند کو جو خط لکھا اس میں سلام مسنون، بسم ﷲ وغیرہ نہیں لکھی۔ کیونکہ وہ مسلمان نہ تھے اور آپ (مرزاقادیانی) ان کو مسلمان نہ سمجھتے تھے۔ بلکہ کافر قرار دیتے تھے۔‘‘ (غرضیکہ کافروں کو سلام مسنون کہنا جائز نہیںناقل!)

(اخبار الفضل قادیان ج۸، شمارہ ۴،۲۲؍جولائی ۱۹۲۰ء)

*… ’’مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے منکروں کو مسلمان کہنا خبیث عقیدہ ہے۔ جو ایسا عقیدہ رکھتے اس کے لئے رحمت الٰہی کا دروازہ بند ہے۔‘‘ (کلمتہ الفصل ص۱۲۵)

حضرات صحابہ کرام علیہم الرضوان

حضرات انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام جیسے پاک باز وپاک طینت گروہ کے بعد اس دھرتی پر انسانی آبادی میں جو طبقہ سب سے بڑھ کر ﷲتعالیٰ کی رحمتوں کا مورد بنا وہ حضرات صحابہ کرام علیہم الرضوان کا ہے۔ قرآن عزیز اس گروہ پاک باز کو ’’ ﷲ کی جماعت‘‘ قرار دیتا ہے۔ ایسی جماعت کہ کامیابیاں اس کا مقدر ہے اور وہ ہرحال میں کامیاب ہوکر رہے گی۔ ﷲتعالیٰ نے اس جماعت راشدہ صادقہ کو اپنی رضا کے سرٹیفکیٹ سے نوازا اور حضور نبی مکرم، رسول رحمت، خاتم النّبیین ﷺ نے اس جماعت راشدہ کو آسمان ہدایت کے ستارے قرار دیا اور فرمایا: ’’خبردار ان کو اذیت پہنچانا مجھے اذیت پہنچانا ہے اور مجھے اذیت پہنچانا ﷲ رب العزت کے غضب کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔‘‘

حضور نبی مکرم ﷺ نے اس گروہ صفا پر طعن وتشنیع کرنے والوں کو ﷲتعالیٰ، اس کے فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت کا مستحق قرار دیا۔ لیکن اس دنیا میں ایسے بدبختوں اور نامرادوں کی کمی نہیں جو درسگاہ نبوت کے ان تربیت یافتہ رجال کار کے خلاف اپنی گز بھر لمبی زبانیں کھولتے ہیں۔ ایسے ہی نامرادوں میں ایک غلام احمد قادیانی ہے۔ جس کی سوقیانہ زبان

503

اور بدبختی کے چند نمونے پیش نظر ہیں۔

*… ’’جیسا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ جو غبی تھا اور درایت اچھی نہیں رکھتا تھا۔‘‘

(اعجاز احمدی ص۱۸، خزائن ج۱۹ ص۱۵)

*… ’’بعض کم تدبر کرنے والے صحابی( رضی اللہ عنہ) جن کی درایت اچھی نہ تھی۔ جیسے ابوہریرہ( رضی اللہ عنہ)‘‘

(حقیقت الوحی ص۳۴، خزائن ج۲۲ ص۳۶)

*… ’’اکثر باتوں میں ابوہریرہ( رضی اللہ عنہ) بوجہ اپنی سادگی اور کمی درایت کے ایسے دھوکہ میں پڑ جایا کرتا تھا… ایسے الٹے معنی کرتا تھا جس سے سننے والے کو ہنسی آتی تھی۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۳۴، خزائن ج۲۲ ص۳۶)

*… ’’اس کو چاہئے کہ ابوہریرہ( رضی اللہ عنہ) کے قول کو ایک ردی متاع کی طرح پھینک دے۔‘‘

(ضمیمہ براہین حصہ پنجم ص۲۳۵، خزائن ج۲۱ ص۴۱۰)

*… ’’بعض نادان صحابی (رضوان ﷲ علیہم اجمعین) جن کو درایت سے کچھ حصہ نہ تھا۔‘‘

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۱۲۰، خزائن ج۲۱ ص۲۸۵)

*… ’’پرانی خلافت کا جھگڑا چھوڑ دو۔ اب نئی خلافت لو۔ ایک زندہ علی( رضی اللہ عنہ) تم میں موجود ہے۔ تم اس کو چھوڑتے ہو اور مردہ علی ( رضی اللہ عنہ) کی تلاش کرتے ہو۔‘‘

(ملفوظات احمدیہ ج۱ ص۱۳۱)

*… ’’میں وہی مہدی ہوں جس کی نسبت ابن سیرین سے سوال کیاگیا کہ کیا وہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے درجہ پر ہے۔ تو انہوں نے جواب دیا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کیا وہ تو بعض انبیاء سے بہتر ہے۔‘‘

(اشتہار معیار الاخیار مندرجہ تبلیغ رسالت ج۹ ص۳۰، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۲۷۸)

*… ’’ابوبکر رضی اللہ عنہ وعمر رضی اللہ عنہ کیا تھے۔ وہ تو حضرت غلام احمد (ملعون) کی جوتیوں کے تسمے کھولنے کے بھی لائق نہ تھے۔‘‘ (ماہنامہ المہدی بابت جنوری، فروری ۱۹۱۵ء، ص۵۷)

*… ’’جو میری جماعت میں داخل ہوا وہ دراصل صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کی جماعت میں داخل ہوگیا۔‘‘

(خطبہ الہامیہ طبع اوّل ص۱۷۱، خزائن ج۱۶ ص۲۵۸،۲۵۹)

*… ’’اور انہوں نے کہا کہ اس شخص (مرزاقادیانی) نے امام حسن( رضی اللہ عنہ) وامام حسین( رضی اللہ عنہ) سے اپنے تئیں اچھا سمجھا۔ میں کہتا ہوں ہاں، سمجھا۔‘‘

(اعجاز احمدی ص۵۲، خزائن ج۱۹ ص۱۶۴)

*… ’’میں (مرزاقادیانی) خدا کا کشتہ ہوں اور تمہارا حسین( رضی اللہ عنہ) دشمنوں کا کشتہ ہے۔‘‘

(اعجاز احمدی ص۸۱، خزائن ج۱۹ ص۱۹۳)

*… ’’اے قوم شیعہ! تو اس پر مت اصرار کر کہ حسین( رضی اللہ عنہ) تمہارا منجی ہے۔ کیونکہ میں سچ کہتا ہوں کہ آج تم میں ایک (مرزاقادیانی) ہے جو اس حسین( رضی اللہ عنہ) سے بڑھا ہوا ہے۔‘‘

(دافع البلاء ص۱۳، خزائن ج۱۸ ص۲۳۳)

*…

کربلائیست سیر ہر آنم

صد حسین است درگریبانم

(نزول المسیح ص۹۹، خزائن ج۱۸ ص۴۷۷)

*… ’’تم نے خدا کے جلال ومجد کو بھلا دیا اور تمہارا ورد صرف حسین( رضی اللہ عنہ) ہے۔ پس یہ اسلام پر ایک مصیبت ہے۔ کستوری کے پاس گوہ (ذکر حسین رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین) کا ڈھیر ہے۔‘‘

(اعجاز احمدی ص۸۲، خزائن ج۱۹ ص۱۹۴)

504

*… ’’حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کشفی حالت میں اپنی ران پر میرا سر رکھا اور مجھے دکھایا کہ میں اس میں سے ہوں۔‘‘

(ایک غلطی کا ازالہ ص۹ حاشیہ، خزائن ج۱۸ ص۲۱۳)

*…

میری اولاد سب تیری عطا ہے

ہر ایک تیری بشارت سے ہوا ہے

یہ پانچوں جو کہ نسل سیدہ ہیں

یہی ہیں پنج تن جن پر بنا ہے

(درثمین اردو ص۴۵)

*… ’’حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) نے فرمایا ؎

کربلائیست سیر ہر آنم

صد حسین است در گریبانم

کہ میرے گریبان میں سو حسین( رضی اللہ عنہ) ہیں۔ لوگ اس کے معنی یہ سمجھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) نے فرمایا ہے کہ میں سو حسین( رضی اللہ عنہ) کے برابر ہوں۔ لیکن میں (مرزابشیرالدین) کہتا ہوں۔ اس سے بڑھ کر اس کا مفہوم یہ ہے کہ سو حسین( رضی اللہ عنہ) کی قربانی کے برابر میری ہر گھڑی کی قربانی ہے۔‘‘

(مندرجہ الفضل قادیان ج۱۳ ش۸۰، مورخہ ۲۶؍جنوری ۱۹۲۶ء)

*… ’’ہاں وہ محمد ﷺ کا اکلوتا بیٹا (مرزاقادیانی) جس کے زمانہ پر رسولوں نے ناز کیا۔‘‘

(کلمتہ الفصل ص۱۰۱)

*… ’’میری (مرزاقادیانی کی) اولاد شعائر ﷲ میں داخل ہے۔‘‘

(مندرجہ الفضل قادیان ج۱۱ نمبر۵۳، مورخہ ۸؍جنوری ۱۹۲۶ء)

*… ’’عزیز ’’امۃ الحفیظ‘‘ (مرزاقادیانی کی لڑکی) سارے انبیاء کی بیٹی ہے۔‘‘

(الفضل قادیان ج۲ نمبر۱۵۶، مورخہ ۱۷؍جون ۱۹۱۵ء)

*… ’’مرزاقادیانی ملعون کی گھروالی ’’ام المؤمنین‘‘ ہے۔‘‘

(سیرۃ المہدی حصہ سوم ص۱۳۱، روایت نمبر۶۹۶)

قرآن وسنت

ﷲتعالیٰ نے انسانیت کی ہدایت کے لئے جہاں سلسلۂ نبوت قائم فرمایا اور اس کا اختتام حضرت محمد کریم ﷺ پر کر دیا۔ وہاں مختلف اوقات میں کتابیں بھی نازل فرمائیں۔ اس سلسلۂ کتب کی آخری کڑی قرآن مجید اور فرقان حمید ہے جو ﷲتعالیٰ کی طرف سے اس کے بندوں کے لئے رحمت، ہدایت اور شفاء ہے۔

جس کی حفاظت وصیانت کا وعدہ خود حضرت حق جل وعلیٰ مجدہ نے کیا۔ جس کی آیات کے سامنے بڑے بڑے زبان آور دم بخود رہ گئے اور اس کی ایک آیت کا مقابلہ کرنے کی تاب نہ لاسکے۔

یہ عظیم کتاب صدیوں سے اپنی عظمت کا لوہا منوارہی ہے۔ مرزاقادیانی کی سرپرست برطانوی سرکار نے اسے مٹانے کی عجیب احمقانہ تدابیر کیں۔ لیکن منہ کی کھائی۔ ’’عربی مبین‘‘ میں نازل ہونے والی اس کتاب کے بالمقابل قادیانی گنوار نے اپنی وحی والہام کا جس طرح ڈھونگ رچایا اور اسے قرآن سے برتر وبالا قرار دیا اور جابجا فخریہ اس کا اظہار کیا وہ

505

ایسی ناروا جسارت ہے جس پر آسمان ٹوٹ پڑے اور زمین پھٹ جائے تو عجب نہیں۔

قرآن کے بالمقابل خرافاتی الہام کے لئے مرزاقادیانی کی تحریرات دیکھیں اور سوچیں کہ آیا یہ شخص صحیح الدماغ تھا یا اس کا ذہنی توازن خراب تھا؟

*…

آنچہ من بشنوم زوحی خدا

بخدا پاک دامنش زخطا

ہمچو قرآن منزہ اش دانم

از خطاہا ہمینست ایمانم

بخدا ہست ایں کلام مجید

از دہاں خدائے پاک و وحید

ترجمہ: ’’جو کچھ میں ﷲ کی وحی سے سنتا ہوں۔ خدا کی قسم اسے ہر قسم کی خطا سے پاک سمجھتا ہوں… قرآن کی طرح میری وحی خطاؤں سے پاک ہے۔ یہ میرا ایمان ہے… خدا کی قسم یہ کلام مجید ہے خدائے پاک وحدہ کے منہ سے۔‘‘

(نزول المسیح ص۹۹، خزائن ج۱۸ ص۴۷۷)

*… مرزاقادیانی نے اپنا الہام لکھا کہ: ’’ما انا الا کا لقراٰن‘‘ (تذکرہ ص۶۷۴، طبع سوم)

’’قرآن خدا کی کتاب اور میرے (مرزاقادیانی کے) منہ کی باتیں ہیں۔‘‘ (تذکرہ ص۶۴۱، طبع سوم)

*… ’’میرے اس دعویٰ کی بنیاد حدیث نہیں بلکہ قرآن اور وہ وحی ہے جو میرے پر نازل ہوئی۔ ہاں تائیدی طور پر ہم وہ حدیثیں پیش کرتے ہیں جو قرآن شریف کے مطابق اور میری وحی کے معارض نہیں اور دوسری حدیثوں کو ہم ردی کی طرح پھینک دیتے ہیں۔‘‘ (اعجاز احمدی ص۳۵، خزائن ج۱۹ ص۱۴۰)

*… ’’پھر اقرار کرنا پڑے گا کہ قرآن شریف میں گندی گالیاں بھری ہیں اور قرآن عظیم سخت زبانی کے طریق کو استعمال کر رہا ہے۔‘‘ (ازالہ اوہام ص۲۸ حاشیہ، خزائن ج۳ ص۱۱۶)

*… ’’میں قرآن کی غلطیاں نکالنے آیا ہوں جو تفسیروں کی وجہ سے واقع ہو گئی ہیں۔‘‘ ایک مجذوب کا کشف۔

(ازالۃ الاوہام ص۷۰۸، خزائن ج۳ ص۴۸۲)

*… ’’قرآن زمین پر سے اٹھ گیا تھا میں قرآن کو آسمان پر سے لایا ہوں۔‘‘ بموجب حدیثوں کے۔

(ازالہ اوہام ص۷۳۱، خزائن ج۳ ص۴۹۳)

*… ’’میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں ان الہامات پر اسی طرح ایمان لاتا ہوں جیسا کہ قرآن شریف پر اور خدا کی دوسری کتابوں پر اور جس طرح میں قرآن شریف کو یقینی اور قطعی طور پر خدا کا کلام جانتا ہوں اسی طرح اس کلام کو بھی جو میرے پر نازل ہوتا ہے خدا کا کلام یقین کرتا ہوں۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۲۱۱، خزائن ج۲۲ ص۲۲۰)

*… ’’یہی وجہ ہے کہ مرزاقادیانی پر خودساختہ نازل ہونے والی وحی کے مجموعہ کلام کا نام ’’تذکرہ‘‘ رکھا۔ حالانکہ قرآن مجید کا ایک نام (تذکرہ) بھی ہے۔ ’’کَلَّا اِنَّہَا تَذْکِرَۃ‘‘

*… ’’یہ بھی مدت سے الہام ہوچکا ہے کہ: ’’اِنَّا اَنْزَلْنَاہٗ قَرِیْبًا مِّنَ الْقَادِیَانِ‘‘ میں نے دل میں کہا کہ واقعی طور پر قادیان کا نام قرآن شریف میں درج ہے۔‘‘ (ازالہ اوہام ص۷۷، خزائن ج۳ ص۱۴۰)

506

حرمین شریفین زادہما ﷲ شرفاً وتعظیماً

امت مسلمہ اس حقیقت کو بدل وجان تسلیم کرتی ہے کہ حرمین شریفین (مکہ مکرمہ اور مدینہ طیبہ) زادہما ﷲ شرفاً وتعظیماً کائنات ارضی کے سب سے محترم، مبارک اور مقدس قطعات ہیں۔ رب العزت کی تجلیات کا مرکز ارض حرم ہے تو اس کی رحمتوں کے نزول کی جگہ ارض مدینہ، جہاں کائنات کا سب سے عظیم انسان محو استراحت ہے۔

حج بیت ﷲ… اسلام کے ارکان خمسہ میں سے ایک ہے۔ جو عشق وجنون کا سفر ہے اور جس میں حضرت حق کے بندے اپنی نیاز مندی کا بھرپور مظاہرہ کرتے ہیں۔ محمد عربی علیہ السلام کے سچے امتیوں کے لئے ارض مدینہ کی زیارت بھی گویا اس مبارک سفر کا ایک حصہ ہے۔

لیکن دیکھیں کہ مرزاقادیانی جیسے شاطر، فریبی اور دولت انگلشیہ کے ایجنٹ نے کس طرح ان پاک شہروں کی توہین کی۔ اپنی جنم بھومی قادیان کا ان سے کس طرح جوڑ جوڑا بلکہ اسے قرآن میں مندرج قراردے کر اسے مکہ ومدینہ سے بھی بہتر وافضل قرار دیا اور قادیان ہی کی زیارت کو حج سے تعبیر کر کے بیت ﷲ اور مناسک حج کی توہین کی۔

آسماں راحق بود گر خوں بادد بر زمیں

*… ’’حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) نے اس کے متعلق بڑا زور دیا ہے کہ جو باربار یہاں نہ آئے مجھے ان کے ایمان کا خطرہ ہے۔ پس جو قادیان سے تعلق نہیں رکھے گا وہ کاٹا جائے گا۔ تم ڈرو کہ تم سے نہ کوئی کاٹا جائے پھر یہ تازہ دودھ کب تک رہے گا۔ آخر ماؤں کا دودھ بھی سوکھ جایا کرتا ہے۔ کیا مکہ اور مدینہ کی چھاتیوں سے یہ دودھ سوکھ گیا کہ نہیں؟‘‘

(مندرجہ حقیقت رؤیا ص۴۶)

*…

زمین قادیاں اب محترم ہے

ہجوم خلق سے ارض حرم ہے

(درثمین اردو کلام مرزا ص۵۲)

*… ’’مقام قادیان وہ مقام ہے جس کو خداتعالیٰ نے تمام دنیا کے لئے ناف کے طور پر فرمایا۔ (حالانکہ یہ مکہ مکرمہ بیت ﷲ شریف کے لئے ہے۔ ناقل) اور اس کو تمام جہانوں کے لئے ام قرار دیا ہے۔‘‘

(خطبہ بشیر محمود، الفضل قادیانی مورخہ ۳؍جنوری ۱۹۲۵ء)

*… ’’تین شہروں کا نام قرآن شریف میں اعزاز کے ساتھ لکھا ہوا ہے۔ مکہ، مدینہ اور قادیان۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۷۷ حاشیہ، خزائن ج۳ ص۱۴۰)

*… ’’ہم مدینہ کی عزت کر کے خانہ کعبہ کی ہتک کرنے والے نہیں ہو جاتے۔ اسی طرح قادیان کی عزت کر کے ’’مکہ معظمہ‘‘ یا ’’مدینہ منورہ‘‘ کی توہین کرنے والے نہیں ہوسکتے۔ خداتعالیٰ نے ان تینوں مقامات (مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ، قادیان) کو مقدس کیا اور ان تینوں مقامات کو اپنی تجلیات کے لئے چن لیا۔‘‘ (الفضل قادیان مورخہ ۳؍ستمبر ۱۹۳۵ء)

*… ’’قادیان کیا ہے؟ خدا کے جلال اور اس کی قدرت کا چمکتا ہو انشان ہے… قادیان خدا کے مسیح (مرزاقادیانی کا مولد ومسکن اور مدفن ہے)‘‘ (الفضل قادیان مورخہ ۱۳؍دسمبر ۱۹۲۹ء)

507

*… ’’میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ ﷲتعالیٰ نے مجھے بتادیا ہے کہ قادیان کی زمین بابرکت ہے۔ یہاں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ والی برکات نازل ہوتی ہیں۔‘‘ (الفضل قادیان مورخہ ۱۱؍دسمبر ۱۹۳۲ء)

*… ’’حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) نے فرمایا کہ جو لوگ قادیان نہیں آتے۔ مجھے ان کے ایمان کا خطرہ رہتا ہے۔‘‘ (انوار خلافت ص۱۱۷)

*…

عرب نازاں گر ارض حرم پر ہے

تو ارض قادیان فخر عجم ہے

(الفضل قادیان مورخہ ۲۵؍دسمبر ۱۹۳۲ء)

*… ’’والمسجد الاقصیٰ المسجد الذی بناہ المسیح الموعود فی القادیان‘‘ مسجد اقصیٰ وہ مسجد ہے جو مسیح موعود (مرزاقادیانی) نے قادیان میں بنائی۔

(ضمیمہ خطبہ الہامیہ ص۲۵، خزائن ج۱۶ ص ایضاً)

*… ’’ومن دخلہ کان اٰمنا‘‘ قادیان کی مسجد جائے امن ہے۔

(تبلیغ رسالت ص۱۵۳ ج۶، مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۴۵۲)

*… ’’سُبْحٰنَ الَّذِیْ اَسْرٰی بِعَبْدِہٖ لَیْلاً مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلٰی الْمَسْجِدِ الْاَقْصٰی‘‘ مسجد اقصیٰ سے مراد مسیح موعود (مرزاقادیانی) کی مسجد ہے جو قادیان میں واقع ہے۔

(خطبہ الہامیہ ص ۲۱، خزائن ج۱۶ ص۲۱)

*… ’’ہمار اجلسہ بھی حج کی طرح ہے، جیسا کہ حج میں رفث، فسوق اور جدال منع ہے۔‘‘

(خطبہ محمود مندرجہ برکات خلافت ص ۵)

*… ’’جیسے احمدیت کے بغیر یعنی مرزاقادیانی کو چھوڑ کر جو اسلام باقی رہ جاتا ہے۔ وہ خشک اسلام ہے۔ اسی طرح اس ظلی حج (جلسہ قادیان) کو چھوڑ کر مکہ والا حج بھی خشک رہ جاتا ہے۔‘‘

(پیغام صلح مورخہ ۱۹؍اپریل ۱۹۳۳ء)

*… ’’لوگ معمولی اور نفلی طور پر حج کرنے کو بھی جاتے ہیں۔ مگر اس جگہ (قادیان میں) ثواب زیادہ ہے اور غافل رہنے میں نقصان اور خطر۔ کیونکہ سلسلہ آسمانی ہے اور حکم ربانی ہے۔‘‘

(آئینہ کمالات اسلام ص۳۵۲، خزائن ج۵ ص ایضاً)

علماء واولیاء امت

حضرات علماء کرام اور اولیاء عظام ﷲتعالیٰ کی انسانی مخلوق کا نہایت بیش قیمت حصہ ہے۔ ایسا حصہ جسے ﷲ رب العزت نے خود اپنا دوست قرار دیا۔ انہیں ایمان وتقویٰ کا علمبردار بتلایا اور واضح فرمایا کہ دنیا وآخرت میں ہر قسم کی بشارتیں ان کے لئے ہیں۔ اہل علم کے لئے قرآن وسنت میں جابجا تعریف آمیز کلمات ہیں اور کیوں نہ ہو کہ علم نور ہے۔ ﷲتعالیٰ کی صفت ہے۔ اس سے کسی کو حصہ ملنا بڑی ہی سعادت ہے۔علماء کی توہین وتذلیل کو حضور نبی کریم ﷺ نے بدترین جرم قرار دیا اور ایسے لوگوں کے متعلق واضح کیا کہ ان لوگوں کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں۔

لیکن صدہزار حیف اس قادیانی مردود پر کہ اس نے قریب العہد اور قریب العصر نامور علماء اور صلحاء کا نام لے لے کر انہیں مغلظات سنائیں اور برا بھلا کہا۔ بھلا ایسا آدمی اس قابل ہے کہ اسے کوئی منہ لگائے۔

حیرت ہے ان لوگوں پر جو اس ذات شریف کو نبی بنا کر بیٹھے ہیں۔

کار شیطان می کند نامش نبی

گر نبی ایں است لعنت بر نبی

508

*… سیدنا پیر مہر علی شاہ گولڑوی کے متعلق لکھا: ’’مجھے (مرزاقادیانی) ایک کتاب کذاب کی طرف سے پہنچی ہے۔ وہ خبیث کتاب بچھو کی طرح نیش زن ہے۔ پس میں نے کہا کہ اے گولڑہ کی زمین تجھ پر لعنت ہو تو ملعون (پیر صاحب) کے سبب سے ملعون ہوگی۔ پس تو قیامت کو ہلاکت میں پڑے گی۔‘‘

(اعجاز احمدی ص۷۵، خزائن ج۱۹ ص۱۸۸)

*… ’’لومڑی کی طرح بھاگتا پھرتا ہے… جاہل بے حیا۔‘‘ (نزول المسیح ص۶۳، خزائن ج۱۸ ص۴۴۱)

*… اہل حدیث رہنما مولانا محمد حسین بٹالوی کے متعلق لکھا کہ: ’’کذاب، متکبر، سربراہ گمراہان، جاہل، شیخ احمقان، عقل کا دشمن، بدبخت، طالع، منحوس، لاف زن، شیطان، گمراہ شیخ مفتری۔‘‘

(انجام آتھم ص۲۴۱، ۲۴۳، خزائن ج۱۱ ص ایضاً)

*… مولانا نذیر حسین دہلوی کے متعلق لکھا کہ: ’’وہ گمراہ اور کذاب ہے۔‘‘

(انجام آتھم ص۲۵۱، خزائن ج۱۱ ص ایضاً)

*… ’’مولانا عبدالحق دہلوی کے متعلق لکھا کہ وہ لاف زنوں کا رئیس ہے۔ اسی طرح مولانا عبد ﷲ ٹونکی، مولانا احمد علی محدث سہارنپوری کو بھی۔‘‘ (انجام آتھم ص۲۵۱، خزائن ج۱۱ ص ایضاً)

*… مولانا علی حائری شیعہ رہنما کے متعلق کہا کہ: ’’سب سے جاہل ہے۔‘‘

(اعجاز احمدی ص۷۴، خزائن ج۱۹ ص۱۸۶)

*… مولانا ثناء ﷲ امرتسری کو عورتوں کی عار کہا۔ (اعجاز احمدی ص۸۳، خزائن ج۱۹ ص۱۹۶)

*… مولانا رشید احمد گنگوہی کے متعلق لکھا کہ: ’’اندھا شیطان، گمراہ، دیو، شقی، ملعون۔‘‘

(انجام آتھم ص۲۵۲، خزائن ج۱۱ ص ایضاً)

*… ’’ہمارے مخالف سخت شرمندہ اور لاجواب ہوکر آخر کو یہ عذر پیش کرتے ہیں کہ ہمارے بزرگ ایسا ہی کہتے چلے آئے ہیں۔ نہیں سوچتے کہ وہ بزرگ معصوم نہ تھے۔ بلکہ جیسا کہ یہودیوں کے بزرگوں نے پیش گوئیوں کے سمجھنے میں ٹھوکر کھائی۔ ان بزرگوں نے بھی ٹھوکر کھائی۔‘‘

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۱۲۴، خزائن ج۲۱ ص۲۹۰)

*… ’’میں خاتم الاولیاء ہوں۔ میرے بعد کوئی ولی نہیں۔ مگر وہ جو مجھ سے ہوگا۔‘‘

*… ’’جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء، ابدال اور اقطاب اس امت میں سے گزر چکے ہیں۔ میں ان سب سے افضل ہوں۔‘‘ (حقیقت الوحی ص۳۹۱، خزائن ج۲۲ ص۴۰۶)

*… ’’حضرت مرزاصاحب جمیع اہل بیت طیبین، طاہرین کہ اس میں دیگر اولیاء ﷲ ومجددین امت بھی شامل ہیں۔ ان سب سے بڑھ گئے۔ جو کچھ ان میں متفرق تھا۔ وہ آپ میں مجموعی طور پر آگیا۔‘‘

(الفضل قادیان ج۳ ص۱۰۷، مورخہ ۱۸؍اپریل ۱۹۷۶ء)

*… ’’سو یہ عاجز (مرزاقادیانی) بیان کرتا ہے۔ نہ فخرکے طریق پر بلکہ واقعی طور پر ’’شکراً نعمۃ ﷲ‘‘ کہ اس عاجز کو خداتعالیٰ نے ان ہستیوں پہ فضیلت بخشی کہ جو حضرت مجدد صاحب (الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ) سے بھی بہتر ہیں۔‘‘

(حیات احمد ج۲ نمبر۲ ص۷۹)

جملہ مخالفین کے خلاف

انبیاء علیہم السلام دنیا میں ﷲتعالیٰ کے نمائندے ہوتے ہیں۔ وہ اپنے حلقۂ نبوت کی دنیا کو حق کی طرف بلاتے اور دعوت دیتے ہیں۔ کچھ ان کی مان کر حلقۂ اسلام میں آجاتے ہیں تو کچھ نامرادی کا طوق گلے میں باندھ لیتے ہیں۔

509

انبیاء کے اخلاق اتنے عظیم اور بلند ہوتے ہیں کہ اپنے بدترین مخالفین کے خلاف بھی کبھی بدزبانی نہیں کرتے۔ یہ بات نبوت کے مقام سے بہت فروتر ہے۔ لیکن غلام ہندوستان میں غیروں کی ضروریات کی تکمیل کے لئے نبوت کا ڈھونگ رچانے والے مرزاغلام احمد قادیانی نے اپنے مخالفین کے خلاف جو زبان استعمال کی وہ اس کا سب سے بڑا ثبوت ہے کہ مرزاقادیانی کا مقام انسانیت سے بھی کوئی تعلق نہیں۔

*… یہ الہام شائع کیا کہ: ’’جو شخص تیری پیروی نہیں کرے گا اور تیری بیعت میں داخل نہیں ہوگا۔ وہ خدا ورسول کی نافرمانی کرنے والا جہنمی ہے۔‘‘

(اشتہارمندرجہ تبلیغ رسالت ج۹ ص۲۷،مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۲۷۵)

*… اسی طرح مرزاغلام احمد قادیانی نے یہ اعلان بھی کیا کہ: ’’اب دیکھو خد انے میری وحی اور میری تعلیم اور میری بیعت کو نوح کی کشتی قرار دیا اور تمام انسانوں کے لئے اس کو مدار نجات ٹھہرایا۔‘‘

(اربعین نمبر۴ ص۶ حاشیہ، خزائن ج۱۷ ص۴۳۵)

تمام مسلمانوں کے لئے فتویٰ کفر

’’کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے۔ خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کا نام بھی نہیں سنا۔ وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔‘‘

(آئینہ صداقت ص۳۵)

*… ’’ایسا شخص جو موسیٰ( علیہ السلام) کو مانتا ہے مگر عیسیٰ( علیہ السلام) کو نہیں مانتا یا عیسیٰ( علیہ السلام) کو مانتا ہے مگر محمد( ﷺ) کو نہیں مانتا یا محمد( ﷺ) کو مانتا ہے مگر مسیح موعود (مرزاقادیانی) کو نہیں مانتا وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔‘‘

(کلمتہ الفصل ص۱۱۰، مندرجہ ریویو ج۱۴، ماہ مارچ،اپریل ۱۹۱۵ء)

*… ’’جو میرے مخالف تھے۔ ان کا نام عیسائی، یہودی اور مشرک رکھاگیا۔‘‘

(نزول المسیح ص۴ حاشیہ، خزائن ج۱۸ ص۳۸۲)

*… ’’جو ہماری فتح کا قائل نہ ہوگا تو صاف سمجھا جائے گا کہ اس کو ولد الحرام بننے کا شوق ہے اور حلال زادہ نہیں۔‘‘

(انوارالاسلام ص۳۰، خزائن ج۹ ص۳۱)

*… ’’میرے مخالف جنگلوں کے سؤر ہوگئے اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ گئیں۔‘‘

(نجم الہدیٰ ص۵۳، خزائن ج۱۴ ص ایضاً)

*… ’’تحریک احمدیت اسلام کے ساتھ وہی رشتہ رکھتی ہے جو عیسائیت کا یہودیت کے ساتھ تھا۔‘‘

(محمد علی قادیانی منقول از مباحثہ راولپنڈی ص۲۴۰)

*… ’’کفر دو قسم پر ہے۔ ایک کفر یہ ہے کہ ایک شخص اسلام سے انکار کرتا ہے اور آنحضرت ﷺ کو خدا کا رسول نہیں مانتا۔ دوسرے یہ کفر کہ مثلاً وہ مسیح موعود (مرزاقادیانی) کو نہیں مانتا اور اس کو باوجود اتمام حجت کے جھوٹا جانتا ہے۔ جس کے ماننے اور سچا جاننے کے بارے میں خدا اور رسول نے تاکید کی ہے… اور پہلے نبیوں کی کتاب میں بھی تاکید پائی جاتی ہے۔ پس اس لئے کہ وہ خدا اور رسول کے فرمان کا منکر ہے۔ کافر ہے اور اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ دونوں قسم کے کفر ایک ہی قسم میں داخل ہیں۔‘‘ (حقیقت الوحی ص۱۷۹، خزائن ج۲۲ ص۱۸۵)

*… ’’میری ان کتابوں کو ہر مسلمان محبت کی نظر سے دیکھتا ہے اور اس کے معارف سے فائدہ اٹھاتا ہے اور میری دعوت کی تصدیق کرتا ہے اور اسے قبول کرتا ہے۔ مگر رنڈیوں (بدکارعورتوں) کی اولاد نے میری تصدیق نہیں کی۔‘‘

(آئینہ کمالات اسلام ص۵۴۷، خزائن ج۵ ص ایضاً)

510

اصل عبارت عربی میں ہے۔ اس کا ترجمہ ہم نے لکھا ہے۔ مرزاقادیانی کے الفاظ یہ ہیں۔ ’’الا ذریۃ البغایا‘‘ عربی کا لفظ ’’البغایا‘‘ جمع کا صیغہ ہے۔ واحد اس کا ’’بغیہ ‘‘ ہے۔ جس کا معنی بدکار، فاحشہ، زانیہ ہے۔ خود مرزاقادیانی نے (خطبہ الہامیہ ص۱۷، خزائن ج۱۶ ص۴۹) میں لفظ ’’بغایا‘‘ کا ترجمہ بازاری عورتیں کیا ہے اور ایسے ہی (انجام آتھم ص۲۸۲، خزائن ج۱۱ ص ایضاً، نور الحق حصہ اوّل ص۱۲۳، خزائن ج۸ ص۱۶۳) میں لفظ ’’بغایا‘‘ کا ترجمہ نسل بدکاران، زناکار، زن بدکار وغیرہ کیا ہے۔

*… ’’خداتعالیٰ نے میرے پر ظاہر کیا ہے کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں ہے۔‘‘ (تذکرہ ص۶۰۷، طبع سوم)

مسلمانوں سے معاشرتی بائیکاٹ

مرزائیوں کا عجیب معاملہ ہے کہ وہ ایک طرف تو مسلمانوں سے یہ تقاضا کرتے ہیں کہ انہیں اپنا حصہ سمجھا جائے۔ انہیں برابر کے حقوق ملیں اور مسلمان معاشرتی زندگی میں ان سے مل جل کر رہیں۔ اس کو آپ حقیقت کا نام دیں گے یا منافقت کا کہ ان کی یہ جملہ خواہشیں اور جملہ تقاضے ان کے گرو اور ان کے پسماندگان کی تعلیمات کے خلاف ہیں۔

مرزائی دنیا کی تحریرات میں شادی بیاہ سے لے کر جنازہ اور تدفین تک جملہ معاملات میں بائیکاٹ اور انقطاع کی تعلیم ہے اور اس پر بھرپور زور دیا گیا ہے کہ مسلمانوں سے کسی قسم کا معاملہ نہ رکھیں۔ حتیٰ کہ ان کے معصوم بچوں کا جنازہ تک نہ پڑھیں۔

سوال یہ ہے کہ جب مرزاغلام احمد قادیانی اور اس کے خلفاء کی تعلیمات یہ ہیں تو پھر وہ مسلمانوں سے باہمی روابط کا کیوں مطالبہ اور تقاضا کرتے ہیں۔ ان دوغلے اور منافقانہ رول کا اندازہ کرنے کے لئے درج ذیل تحریرات سب سے بڑا ثبوت ہیں۔

*… ’’حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) نے اس احمدی پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ جو اپنی لڑکی غیراحمدی کو دے۔ آپ سے ایک شخص نے باربار پوچھا اور کئی قسم کی مجبوریوں کو پیش کیا۔ لیکن آپ نے یہی فرمایا کہ لڑکی کو بٹھائے رکھو۔ لیکن غیراحمدیوں میں نہ دو۔ آپ کی وفات کے بعد اس نے غیراحمدیوں کو لڑکی دے دی تو حضرت خلیفہ اوّل حکیم نورالدین نے اس کو احمدیوں کی امامت سے ہٹا دیا اور جماعت سے خارج کر دیا اور اپنی خلافت کے چھ سالوں میں اس کی توبہ قبول نہ کی۔ باوجود کہ وہ باربار توبہ کرتا رہا۔‘‘ (انوار خلافت ص۹۳،۹۴)

*… ’’حضرت مسیح موعود کا حکم اور زبردست حکم ہے کہ کوئی احمدی غیراحمدی کو اپنی لڑکی نہ دے۔ اس کی تعمیل کرنا بھی ہر احمدی کا فرض ہے۔‘‘ (برکات خلافت، مجموعہ تقاریر محمود ص۷۵)

*… ’’پانچویں بات جو کہ اس زمانہ میں ہماری جماعت کے لئے نہایت ضروری ہے۔ وہ غیراحمدی کو رشتہ دینا ہے۔ جو شخص غیراحمدی کو رشتہ دیتا ہے۔ وہ یقینا حضرت مسیح موعود کو نہیں سمجھتا اور نہ یہ جانتا ہے کہ احمدیت کیا چیز ہے؟ کیا کوئی غیراحمدیوں میں ایسا بے دین ہے جو کسی ہندو یا عیسائی کو اپنی لڑکی دے دے۔ ان لوگوں کو تم کافر سمجھتے ہو۔ مگر اس معاملہ میں وہ تم سے اچھے رہے کہ کافر ہوکر بھی کسی کافر کو لڑکی نہیں دیتے۔ مگر احمدی کہلا کر کافر کو دے دیتے ہو۔‘‘ن

(ملائکۃ ﷲ ص۴۶)

511

*… ’’ہم تو دیکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) نے غیراحمدیوں کے ساتھ صرف وہی سلوک جائز رکھا ہے جو نبی کریم ﷺ نے عیسائیوں کے ساتھ کیا۔ غیراحمدیوں سے ہماری نمازیں الگ کی گئیں۔ ان کو لڑکیاں دینا حرام قرار دیا گیا۔ ان کے جنازے پڑھنے سے روکا گیا… دینی تعلقات کا سب سے بڑا ذریعہ عبادت کا اکٹھا ہونا ہے اور دنیوی تعلقات کا بھاری ذریعہ رشتہ ناطہ ہے۔ سو یہ دونوں ہمارے لئے حرام قرار دئیے گئے۔ اگر کہو کہ ہم کو ان کی لڑکیاں لینے کی اجازت ہے تو میں کہتا ہوں کہ نصاریٰ کی لڑکیاں لینے کی اجازت ہے۔‘‘ (کلمتہ الفصل ج۱۴ نمبر۴ ص۱۶۹)

*… ’’صبر کرو اور اپنی جماعت کے غیر کے پیچھے نماز مت پڑھو۔‘‘

(قول مرزاغلام احمد قادیانی مندرجہ اخبار الحکم قادیان مورخہ ۱۰؍اگست ۱۹۰۱ء)

*… ’’پس یاد رکھو جیسا کہ خدا نے مجھے اطلاع دی ہے۔ تمہارے پر حرام اور قطعی حرام ہے کہ کسی مکفّر اور مکذب یا متردد کے پیچھے نماز پڑھو۔ بلکہ چاہئے کہ تمہارا امام وہی ہو جو تم میں ہو۔‘‘

(اربعین نمبر۳ ص۲۸ حاشیہ، خزائن ج۱۷ ص۴۱۷)

*… ’’ہمارا یہ فرض ہے کہ غیراحمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں اور نہ ان کے پیچھے نماز پڑھیں۔ کیونکہ ہمارے نزدیک وہ خداتعالیٰ کے ایک نبی کے منکر ہیں۔‘‘ (انوار خلافت ص۹۰)

*… ’’غیراحمدی مسلمانوں کا جنازہ پڑھنا جائز نہیں۔ حتیٰ کہ غیراحمدی معصوم بچے کا بھی جائز نہیں۔‘‘

(انوار خلافت ص۹۳، الفضل قادیان مورخہ ۲۱؍اگست ۱۹۱۷ء، مورخہ ۳۰؍جولائی ۱۹۳۱ء)

*… نیز معلوم عام بات ہے کہ چوہدری ظفر ﷲ خان وزیر خارجہ پاکستان، قائداعظم محمد علی جناح کی نماز جنازہ میں شریک نہیں ہوا اور الگ بیٹھا رہا۔ جب اسلامی اخبارات اور مسلمان اس چیز کو منظر عام پر لائے تو جماعت احمدیہ کی طرف سے جواب دیا گیا کہ: ’’جناب چوہدری محمد ظفر ﷲ خان صاحب پر ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ آپ نے قائداعظم کا جنازہ نہیں پڑھا۔ تمام دنیا جانتی ہے کہ قائداعظم احمدی نہ تھے۔ لہٰذا جماعت احمدیہ کے کسی فرد کا ان کا جنازہ نہ پڑھنا کوئی قابل اعتراض بات نہیں۔‘‘

(ٹریکٹ نمبر۲۲ عنوان احراری علماء کی راست گوئی کا نمونہ، الناشر مہتمم نشرواشاعت نظارت دعوت وتبلیغ، صدر انجمن احمدیہ ربوہ ضلع جھنگ)

*… جب قادیانی امت پر مسلمانوں کی جانب سے اعتراض کیاگیا کہ قائداعظم مسلمانوں کے محسن تھے اور تمام ملت اسلامیہ نے ان کا جنازہ پڑھا ہے تو جماعت احمدیہ نے جواب دیا کہ: ’’کیا یہ حقیقت نہیں کہ ابوطالب بھی قائداعظم کی طرح مسلمانوں کے بہت بڑے محسن تھے۔ مگر نہ مسلمانوں نے آپ کا جنازہ پڑھا اور نہ رسول خدا نے۔‘‘

(الفضل قادیان موررخہ ۲۸؍اکتوبر ۱۹۵۲ء)

اوپر کے حوالہ جات سے ثابت ہوگیا کہ مرزائی دنیا بھر کے مسلمانوں کو کلمہ پڑھنے، قبلہ کی طرف منہ کر کے نمازیں ادا کرنے، زکوٰۃ اور حج کے فریضہ سے عہدہ برآہونے اور دیگر ضروریات دین پر عمل کرنے، قرآن مجید کو ﷲ کی کتاب یقین کرنے کے باوجود کافر سمجھتے ہیں۔ قائداعظم بھی سرظفر ﷲ خان کے نزدیک معاذ ﷲ کافر تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ظفر ﷲ خان غیرمسلم سفیروں کے ساتھ جنازہ کے وقت گراؤنڈ کے ایک طرف بیٹھا رہا۔ لیکن جنازہ میں شریک نہ ہوا۔

بعد میں مولانا محمد اسحق مانسہروی رحمۃ اللہ علیہ نے دریافت کیا کہ چوہدری صاحب آپ نے جنازہ کے موقع پر موجود ہوتے ہوئے قائداعظم کے جنازہ میں کیوں شرکت نہیں کی تو ظفر ﷲ خان نے جواب دیا۔ ’’مولانا آپ مجھے مسلمان

512

حکومت کا ایک کافر ملازم یا ایک کافر حکومت کا مسلمان ملازم خیال کر لیں۔‘‘

ابھی حال ہی میں لاہوری گروپ کے ایک پرچہ ’’آتش فشاں‘‘ اشاعت مئی ۱۹۸۱ء میں ظفر ﷲ خان کا ایک مفصل انٹرویو شائع ہوا ہے۔ اس میں ان سے سوال کیاگیا کہ آپ پر ایک اعتراض اکثر ہوتا ہے کہ آپ نے قائداعظم کا جنازہ موجود ہوتے ہوئے نہیں پڑھا؟ چوہدری صاحب نے جواب میں کہا کہ: ’’ہاں یہ ٹھیک بات ہے میں نے نہیں پڑھا یعنی قائداعظم کا جنازہ پڑھتا تو اعتراض کی بات تھی کہ یہ شخص منافق ہے۔ یہ غیراحمدی کا جنازہ نہیں پڑھتے اور اس نے تو پڑھ لیا۔ تب تو میرے کریکٹر کے متعلق کہا جاسکتا تھا کہ منافق ہے اس کا عقیدہ کچھ ہے۔ عمل کچھ کرتا ہے۔ اس نے ہر دلعزیزی حاصل کرنے کی خاطر قائداعظم کا تو پڑھ لیا تھا۔ میرے عقیدے کو وہ جانتے ہیں۔ میرے عقیدے کو انہوں نے ناٹ مسلم قرار دیا ہے۔ تو اگر میں آئینی اور قانونی اعتبار سے ناٹ مسلم ہوں تو ایک ناٹ مسلم پر کیسے واجب ہے کہ مسلمان کا جنازہ پڑھے؟ ان کی اپنی کرتوت تو سامنے ہونی چاہئے۔ نہ پڑھنے پر کیا اعتراض ہے؟ سارے جہاں کو معلوم ہے کہ ہم نہیں پڑھتے۔ غیراحمدی کا جنازہ۔‘‘ (رسالہ آتش فشاں مئی ۱۹۸۱ء ص۲۴)

الگ دین، الگ امت

مرزاغلام احمد قادیانی کے سلسلہ کے تمام لوازم اور مناسبات کو دیکھتے ہوئے اس امر کا فیصلہ کرنے میں کوئی دقت نہیں ہوگی کہ وہ اپنے پیروؤں کو تمام مسلمانوں سے ایک الگ امت بنانے میں کس درجہ ساعی وکوشاں ہیں۔ حسب ذیل تصریحات ملاحظہ فرمائیں۔

*… ’’حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ میرے کانوں میں گونج رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا ہے کہ یہ غلط ہے کہ دوسرے لوگوں سے ہمارا اختلاف صرف وفات مسیح اور چند مسائل میں ہے۔ آپ نے فرمایا۔ ﷲتعالیٰ کی ذات، رسول کریم ﷺ، قرآن، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ غرض یہ کہ آپ نے تفصیل سے بتایا کہ ایک ایک چیز میں ان سے اختلاف ہے۔‘‘

(خطبہ مرزا محمود، الفضل قادیان ج۱۹ نمبر۱۳)

*… ’’کیا مسیح ناصری نے اپنے پیروؤں کو یہودیوں سے الگ نہیں کیا؟ کیا وہ انبیاء جن کے سوانح کا علم ہم تک پہنچا ہے اور ہمیں ان کے ساتھ جماعتیں بھی نظر آتی ہیں۔ انہوں نے اپنی جماعتوں کو غیروں سے الگ نہیں کیا؟ ہر شخص کو ماننا پڑے گا کہ بے شک کیا ہے۔ پس اگر حضرت مرزاصاحب نے ہی جو کہ نبی اور رسول ہیں۔ اپنی جماعت کو منہاج نبوت کے مطابق غیروں سے علیحدہ کر دیا تو نئی اور انوکھی بات کون سی بات ہے۔‘‘ (الفضل ج۵ ش۶۹، نمبر۷۰)

*… ’’مگر جس دن سے کہ تم احمدی ہوئے۔ تمہاری قوم تو احمدیت ہوگئی۔ شناخت اور امتیاز کے لئے اگر کوئی پوچھے تو اپنی ذات یا قوم بتا سکتے ہو۔ ورنہ اب تو تمہاری گوت، تمہاری ذات احمدی ہی ہے۔ پھر احمدیوں کو چھوڑ کر غیراحمدیوں میں کیوں قوم تلاش کرتے ہو؟‘‘ (ملائکۃ ﷲ ص۴۶،۴۷)

*… ’’میں نے اپنے نمائندہ کی معرفت ایک بڑے ذمہ دار انگریز افسر کو کہلوا بھیجا کہ پارسیوں اور عیسائیوں کی طرح ہمارے حقوق بھی تسلیم کئے جائیں۔ جس پر اس افسر نے کہا کہ وہ تو اقلیت ہیں اور تم ایک مذہبی فرقہ ہو۔ اس پر میں نے کہا کہ پارسی اور عیسائی بھی تو مذہبی فرقہ ہیں۔ جس طرح ان کے حقوق علیحدہ تسلیم کئے گئے ہیں۔ اس طرح ہمارے بھی کئے جائیں۔ تم ایک پارسی پیش کردو۔ اس کے مقابلہ میں دو دو احمدی پیش کرتا جاؤں گا۔‘‘ (مندرجہ الفضل قادیان مورخہ ۱۳؍نومبر ۱۹۴۶ء)

513

مرزائیوں کے قبرستان میں مسلمانوں کا بچہ بھی دفن نہیں ہوسکتا

’’کیونکہ غیر احمدی جب بلااستثناء کافر ہیں تو ان کے چھ ماہ کے بچے بھی کافر ہوئے اور جب وہ کافر ہوئے تو احمدی قبرستان میں ان کو کیسے دفن کیا جاسکتا ہے۔‘‘

(اخبار پیغام صلح ج۲۴،۴۹، مورخہ ۳؍اگست ۱۹۳۶ء)

*… ’’کیا کوئی شیعہ راضی ہوسکتا ہے کہ اس کی پاک دامن ماں ایک زانیہ کنجری کے ساتھ دفن کر دی جائے اور کافر تو زنا کار سے بھی بدتر ہے۔ (مسلمان چونکہ مرزائیوں کے نزدیک کافر ہیں۔ اس لئے وہ مرزائیوں کے قبرستان میں دفن نہیں ہوسکتے۔ ناقل)‘‘ (نزول المسیح ص۴۷، خزائن ج۱۸ ص۴۲۵)

مرزا قادیانی کے انٹ شنٹ الہامات

مرزا قادیانی کا دعویٰ تھا کہ میری وحی والہامات یقینی اور قرآن پاک کی طرح ہیں۔ لیکن جب ہم مرزا قادیانی کے الہامات کو سرسری نظر سے دیکھتے ہیں تو ہمیں کثرت سے ایسے الہامات نظر آتے ہیں جنہیں خود مرزا قادیانی بھی نہ سمجھ سکے تھے۔ چنانچہ مرزا قادیانی تحریر فرماتے ہیں: ’’زیادہ تعجب کی بات یہ ہے کہ بعض الہامات مجھے ان زبانوں میں بھی ہوتے ہیں جن سے مجھے کچھ بھی واقفیت نہیں۔ جیسے انگریزی یا سنسکرت یا عبرانی وغیرہ!‘‘

(نزول المسیح ص۵۷، خزائن ص۴۳۵ج۱۸)

قرآن حکیم میں ﷲ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ’’وماارسلنا من رسول الا بلسان قومہ لیبین لہم‘‘ اور ہم نے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اپنی قوم کی زبان میں ہی۔ تاکہ انہیں کھول کر بتادے۔ لیکن قرآن پاک کے اس صریح اصول کے خلاف مرزا قادیانی کو ان زبانوں میں بھی الہامات ہوئے ہیں جن کو وہ خود نہیں سمجھ سکے۔ دوسروں کو خاک سمجھانا تھا۔ ہم بطور نمونہ مرزا قادیانی کے چند الہامات درج ذیل کرتے ہیں:

۱… ’’ایلی ایلی لما سبقتنی۔ ایلی اوس‘‘ اے میرے خدا! اے میرے خدا! تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا۔ آخری فقرہ اس الہام کا یعنی ایلی اوس بباعث سرعت ورود مشتبہ رہا اور نہ اس کے کچھ معنے کھلے ہیں۔ و ﷲاعلم بالصواب!‘‘

(البشریٰ ج اول ص۳۶، تذکرہ ص۹۱ طبع ۳)

۲… ’’ پھر بعد اس کے (خدا نے) فرمایا ’’ھوشعنا نعسا‘‘ یہ دونوں فقرے شاید عبرانی ہیں اور ان کے معنے ابھی تک اس عاجز پر نہیں کھلے۔‘‘ (براہین احمدیہ ص۵۵۶، خزائن ص۶۶۴ ج۱)

۳… ’’پریشن، عمر براطوس، یا پلاطوس۔ (نوٹ) آخری لفظ ’’پڑطوس‘‘ ہے یا ’’پلاطوس‘‘ ہے۔ بباعث سرعت الہام دریافت نہیں ہوا اور ’’عمر‘‘ عربی لفظ ہے۔ اس جگہ ’’براطوس‘‘ اور ’’پریشن‘‘ کے معنے دریافت کرنے ہیں کہ کیا ہیں اور کس زبان کے یہ لفظ ہیں۔‘‘

(ازمکتوبات احمدیہ ج۱ص۶۸، البشریٰ ج اول ص۵۱،تذکرہ ص۱۱۵طبع۳)

احمدی دوستو! مرزا قادیانی کو جس زبان میں الہام ہوتا ہے مرزا قادیانی اس زبان کو نہیں جانتے۔ بتائو کہ مرزا قادیانی پر یہ مثال صادق آتی ہے یانہیں؟

زبان یار من ترکی ومن ترکی نمے دانم

معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کے مندرجہ بالا اور ہمچو قسم کے الہامات اس خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں تھے جس نے حضرت محمد ﷺ پر قرآن مجید نازل فرمایا۔ کیونکہ ﷲ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے ’’وَمَااَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا

514

بِلِسَانِ قَوْمِہٖ (ابراہیم:۴)‘‘ {کہ ہم نے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اپنی قوم کی زبان میں ہی۔} لیکن مرزا قادیانی کو ان زبانوں میں ’’الہامات‘‘ ہوئے جو مرزا قادیانی کی قومی زبان نہیں تھی۔ خود مرزا قادیانی تحریر فرماتے ہیں: ’’یہ بالکل غیر معقول اور بیہودہ امر ہے کہ انسان کی اصل زبان تو کوئی ہو اور الہام اس کو کسی اور زبان میں ہو جس کو وہ سمجھ بھی نہیں سکتا۔ کیونکہ اس میں تکلیف مالایطاق ہے اور ایسے الہام سے فائدہ کیا ہوا جو انسانی سمجھ سے بالاتر ہے۔‘‘

(چشمہ معرفت ص۲۰۹، خزائن ص۲۱۸ج۲۳)

یہاں تک ہی نہیں کہ مرزا قادیانی غیر زبانوں کے الہامات نہ سمجھ سکے ہوں۔ بلکہ بہت سے اردو اور عربی الہامات بھی مرزا قادیانی کی سمجھ سے بالاتر رہے اور ان کے متعلق انہیں معلوم نہ ہوا کہ وہ کس کے متعلق ہیں۔ مرزائی دوستوں کی خاطر نمونہ درج کئے دیتا ہوں:

۱… ’’پیٹ پھٹ گیا۔‘‘ دن کے وقت کا الہام ہے۔ معلوم نہیں کہ یہ کس کے متعلق ہے۔‘‘

(البشریٰ ج دوم ص۱۱۹، تذکرہ ص۶۷۲طبع۳)

۲… ’’خدا اس کو پنج بار ہلاکت سے بچائے گا۔‘‘ نامعلوم کس کے حق میں یہ الہام ہے۔

(البشریٰ ج دوم ص۱۱۹،تذکرہ ص۶۷۴طبع۳)

۳… ’’۲۴؍ستمبر۱۹۰۶ء مطابق ۵؍شعبان ۱۳۲۴ھ بروز پیر… ’’موت تیرہ ماہ حال کو۔‘‘ (نوٹ)قطعی طور پر معلوم نہیں کہ کس کے متعلق ہے۔ (البشریٰ ج دوم ص۱۱۹،۱۲۰،تذکرہ ص۶۷۵طبع۳)

۴… ’’بہتر ہوگا کہ اور شادی کرلیں۔‘‘ معلوم نہیں کہ کس کی نسبت یہ الہام ہے۔

(البشریٰ ج دوم ص۱۲۴،تذکرہ ص۶۹۷طبع۳)

۵… ’’بعد ۱۱؍ انشاء ﷲ اس کی تفہیم نہیں ہوئی کہ ۱۱سے کیا مراد ہے۔ گیارہ دن یا گیارہ ہفتے یا کیا یہی ہندسہ ۱۱کا دکھایا گیا ہے۔‘‘ (البشریٰ ج دوم ص۲۵،۲۶،تذکرہ ص۴۰۱طبع۳)

۶… ’’غثم، غثم، غثم۔‘‘ (البشریٰ ج دوم ص۵۰،تذکرہ ص۳۱۹طبع۳)

۷… ’’ایک دم میں دم رخصت ہوا۔‘‘ (نوٹ از حضرت مسیح موعود) فرمایا کہ آج رات مجھے ایک مندرجہ بالا الہام ہوا۔ اس کے پورے الفاظ یاد نہیں رہے اور جس قدر یاد رہا وہ یقینی ہے۔ مگر معلوم نہیں کہ کس کے حق میں ہے۔ لیکن خطرناک ہے۔ یہ الہام ایک موزوں عبارت میں ہے۔ مگر ایک لفظ درمیان میں سے بھول گیا۔‘‘

(البشریٰ ج دوم ص۱۱۷،تذکرہ ص۶۶۶طبع۳)

۸… ’’ایک عربی الہام تھا۔ الفاظ مجھے یاد نہیں رہے۔ حاصل مطلب یہ ہے کہ مکذبون کو نشان دکھایا جائے گا۔‘‘

(البشریٰ ج دوم ص۹۴)

۹… ’’ ایک دانہ کس کس نے کھانا۔‘‘ (البشریٰ ج دوم ص۱۰۷،تذکرہ ص۵۹۵طبع۳)

۱۰… ’’لاہور میں ایک بے شرم ہے۔‘‘ (البشریٰ ج دوم ص۱۲۶،تذکرہ ص۷۰۴طبع۳)

۱۱… ’’ربنا عاج‘‘ ہمارا رب عاجی ہے۔ عاجی کے معنٰے ابھی تک معلوم نہیں ہوئے۔‘‘

(البشریٰ ج اول ص۴۳،تذکرہ ص۱۰۲طبع۳)

۱۲… ’’آسمان ایک مٹھی بھر رہ گیا۔‘‘ (البشریٰ ج دوم ص۱۳۹،تذکرہ ص۷۵۱طبع۳)

515

باب ہفتم … مرزاقادیانی کی پیش گوئیاں

دلیل اوّل

’’فَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰہَ مُخْلِفَ وَعْدِہٖ رُسُلَہٗ اِنَّ اللّٰہَ عَزِیْزٌ ذُوانْتِقَام (ابراہیم:۴۷)‘‘ {ہرگز ہرگز گمان نہ کر کہ خدا اپنے رسولوں سے کئے ہوئے وعدہ کا خلاف کرے گا۔ لاریب خدا غالب ومنتقم ہے۔}

کسی انسان کو ذاتی طور پر علم غیب حاصل نہیں۔ ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ خداتعالیٰ کسی بشر کو کسی پوشیدہ بات پر مطلع کر دے۔ پس جو شخص کسی آئندہ بات کی قبل از وقوع خبر دے۔ اس کے متعلق دو ہی خیال ہوسکتے ہیں۔

۱… یہ کہ اس نے رفتار حالات کو ملحوظ رکھ کر نیچر کے استمراری واقعات کی بناء پر قیاس آرائی کی ہے۔

۲… یہ کہ اسے براہ راست یا بالواسطہ کسی مخبر صادق نے اطلاع دی ہے۔

یہ ہوسکتا ہے کہ کسی انسان کی قیاس وغیرہ سے دی ہوئی خبر ٹھیک نکل آئے۔ جیسا کہ بعض منجموں، رمّالوں کی پیش گوئیاں صحیح ثابت ہوجاتی ہیں۔ مگر یہ نہیں ہوسکتا کہ خدائے عالم الغیب کی بتلائی ہوئی بات غلط ہو جائے۔ ہمارے مخاطبین یعنی مرزائیوں کے پیغمبر اعظم مرزاقادیانی بھی مانتے ہیں کہ: ’’ممکن نہیں کہ خدا کی پیش گوئی میں کچھ تخلف ہو۔‘‘

(چشمہ معرفت ص۸۳، خزائن ج۲۳ ص۹۱)

لہٰذا ہم بلکہ ہر دانا انسان یہ کہنے میں حق بجانب ہے کہ جس شخص مدعی الہام کی کوئی بھی پیش گوئی غلط ثابت ہو جائے۔ وہ خدا کا ملہم اور مخاطب نہیں۔ بلکہ مفتری علی ﷲ ہے۔ کیونکہ: ’’ممکن نہیں کہ نبیوں کی پیش گوئیاں ٹل جائیں۔‘‘

(رسالہ کشتی نوح ص۵، خزائن ج۱۹ ص ایضاً)

پس ہم سب سے پہلے مرزاقادیانی کی پیش گوئیاں دیکھتے ہیں۔ اگر ان میں بعض سچی ہیں تو یہ ہوسکتا ہے کہ وہ قیاس وغیرہ سے کی گئی ہوں۔ لیکن اگر ان میں ایک بھی جھوٹی ہے تو یقینا وہ مرزاقادیانی کے مفتری علی ﷲ ہونے کی قطعی ویقینی دلیل ہے۔ چنانچہ مرزاقادیانی راقم ہیں: ’’کسی انسان خاص کر (مدعی الہام) کا اپنی پیش گوئی میں جھوٹا نکلنا خود تمام رسوائیوں سے بڑھ کر رسوائی ہے۔‘‘ (تریاق القلوب ص۱۰۷، خزائن ج۱۵ ص۳۸۲)

قطع نظر منقولہ بالا معقول طریق کے الزامی طور پر بھی ہم اس دلیل کے قائم کرنے میں حق بجانب ہیں۔ کیونکہ مرزاقادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے اور یہ بھی انہی کا فرمان ہے کہ: ’’تورات اور قرآن نے بڑا ثبوت نبوت کا صرف پیش گوئیوں کو قرار دیا ہے۔‘‘ (استفتاء ص۳، خزائن ج۱۲ ص۱۱۱)

نبوت کے دعویٰ کو الگ کر کے دیکھا جائے تو یہ دلیل پھر بھی مکمل ہے۔ کیونکہ مرزاقادیانی کا عام اعلان ہے کہ: ’’ہمارا صدق یا کذب جانچنے کو ہماری پیش گوئی سے بڑھ کر اور کوئی محک امتحان نہیں۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۱۵۹، اشتہار مورخہ۱۰؍جولائی ۱۸۸۸ء، مندرجہ آئینہ کمالات اسلام ص۲۸۸، خزائن ج۵ ص ایضاً)

حاصل یہ کہ مرزاقادیانی کا کذب وصدق معلوم کرنے کے لئے پہلا اور سب سے بڑا معیار ان کی پیش گوئیاں ہیں۔ مرزاقادیانی کی زبانی پیش گوئیوں کی نسبت معیار صداقت ہونا ملاحظہ ہو: ’’اگر ثابت ہوجائے کہ میری سو پیش گوئیوں میں سے ایک بھی جھوٹی نکلی تو میں اقرار کروں گا کہ میں کاذب ہوں۔‘‘

(اربعین نمبر۴ ص۲۵ حاشیہ، خزائن ج۱۷ ص۴۶۱)

’’ممکن نہیں کہ نبیوں کی پیش گوئیاں ٹل جائیں۔‘‘ (کشتی نوح ص۵، خزائن ج۱۹ ص ایضاً)

516

پہلی پیش گوئی … مرزاقادیانی کی اپنی موت سے متعلق

مرزاقادیانی نے اپنی موت سے متعلق یہ پیش گوئی کی کہ: ’’ہم مکہ میں مریں گے یا مدینہ میں۔‘‘

(تذکرہ ص۵۹۱ طبع سوم)

ہمارا دعویٰ ہے کہ مکہ، مدینہ میں مرنا تو درکنار مرزاقادیانی کو مکہ اور مدینہ دیکھنے کی سعادت بھی نصیب نہ ہوئی اور خود اپنی پیش گوئی کے بموجب ذلیل ورسوا ہوا اور جھوٹا قرار پایا۔ مرزاقادیانی کی پیش گوئی ملاحظہ فرمائیں: ’’ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعودm نے حج نہیں کیا اور اعتکاف نہیں کیا اور زکوٰۃ نہیں دی۔ تسبیح نہیں رکھی۔ میرے سامنے ضَبّ یعنی گوہ کھانے سے انکار کیا۔‘‘ (سیرۃ المہدی حصہ سوم ص۱۱۹، روایت نمبر۶۷۲)

اسی طرح (سیرۃ المہدی حصہ اوّل ص۱۱) میں لکھا ہے کہ مرزاقادیانی کی موت لاہور میں قے اور اسہال کی حالت میں دستوں والی جگہ ہوئی… لہٰذا مکہ یا مدینہ میں مرنے کی بابت مرزاقادیانی کی پیش گوئی سراسر جھوٹی ثابت ہوئی۔ اس میں کسی شک وشبہ کی گنجائش نہیں ہے۔

دوسری پیش گوئی … زلزلہ اور پیر منظور محمد کے لڑکے کی پیش گوئی

پیر منظور محمد، مرزاقادیانی کا بڑا خاص مرید تھا۔ مرزاقادیانی کو معلوم ہوا کہ اس کی بیوی حاملہ ہے تو مرزاقادیانی نے ایک پیش گوئی کر دی کہ اس کے ہاں لڑکا پیدا ہوگا۔ اس کی پیش گوئی کے الفاظ یہ ہیں: ’’پہلے یہ وحی الٰہی ہوئی تھی کہ وہ زلزلہ جو نمونہ قیامت ہوگا۔ بہت جلد آنے والا ہے اور اس کے لئے نشان دیاگیا تھا کہ پیر منظور محمد لدھیانوی کی بیوی محمدی بیگم کو لڑ کا پیداہوگا اور وہ لڑکا اس زلزلہ کے لئے ایک نشان ہوگا۔ اس لئے اس کا نام بشیرالدولہ ہوگا۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۱۰۰ حاشیہ، خزائن ج۲۲ ص۱۰۳)

مگر خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ بجائے لڑکے کے لڑکی پیدا ہوئی تو مرزاقادیانی نے یہ کہا کہ اس سے یہ تھوڑی مراد ہے۔ کہ اسی حمل سے لڑکا پیدا ہوگا۔ آئندہ کبھی لڑکا پیدا ہوسکتا ہے۔ لیکن اتفاق سے وہ عورت ہی مرگئی اور دوسری پیش گوئیوں کی طرح یہ پیش گوئی بھی صاف جھوٹی نکلی۔ نہ اس عورت کے لڑکا پیدا ہوا اور نہ وہ زلزلہ آیا اور مرزاذلیل ورسوا ہوا۔

تیسری پیش گوئی … ریل گاڑی کا تین سال میں چلنا

امام مہدی اور مسیح موعود کی علامات اور نشانیاں بیان کرتے ہوئے مرزاقادیانی نے ایک نشانی یہ بیان کی ہے کہ: ’’مکہ مکرمہ‘‘ اور ’’مدینہ منورہ‘‘ میں تین سال کے اندر ریل گاڑی(Train) چل جائے گی۔ عبارت ملاحظہ فرمائیں: ’’یہ پیش گوئی اب خاص طور پر مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کی ریل تیار ہونے سے پوری ہو جائے گی۔ کیونکہ وہ ریل جو دمشق سے شروع ہوکر مدینہ آئے گی۔ وہی مکہ معظمہ میں آئے گی اور امید ہے کہ بہت جلد اور صرف چند سالوں تک یہ کام تمام ہو جائے گا۔ تب وہ اونٹ جو تیرہ سو برس سے حاجیوں کو لے کر مکہ سے مدینہ کی طرف جاتے ہیں۔ یک دفعہ بے کار ہو جائیں گے اور ایک عظیم انقلاب عرب اور بلاد شام کے سفروں میں آجائے گا۔ چنانچہ یہ کام بڑی سرعت سے ہورہا ہے اور تعجب نہیں کہ تین سال کے اندر اندر یہ ٹکڑا مکہ مکرمہ اور مدینہ کی راہ کا تیار ہو جائے اور حاجی لوگ بجائے بدوؤں کے پتھر کھانے کے طرح طرح کے میوے کھاتے ہوئے مدینہ منورہ میں پہنچا کریں۔‘‘

(تحفہ گولڑویہ ص۴۶، خزائن ج۱۷ ص۱۹۵)

517

اب قادیانی بتائیں کہ کیا ریل گاڑی (Train) مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان چل گئی ہے؟ اگر نہیں اور یقینا نہیں تو کیا یہ پیش گوئی جھوٹی ہوکر مرزاغلام احمد قادیانی کی ذلت ورسوائی کا باعث ہوئی یا نہیں؟ یاد رہے کہ یہ کتاب ۱۹۰۲ء کی تصنیف ہے۔ مرزاقادیانی کی پیش گوئی کے مطابق ۱۹۰۵ء میں یہ ریل گاڑی چل جانی چاہئے تھی۔ اس تحریر کا سن ۲۰۱۱ء ہے۔ گویا ایک سو چھ سال اوپر گذر گئے ہیں۔ مگر وہ ریل گاڑی ابھی تک نہ چل سکی۔ بلکہ جو گاڑی شام سے مدینہ منورہ تک چلتی تھی وہ بھی اس جھوٹے مسیح کی نحوست کی وجہ سے بند ہوگئی۔

چوتھی پیش گوئی … غلام حلیم کی بشارت

مرزاقادیانی نے اپنے چوتھے لڑکے مبارک احمد کی بشارت کومصلح موعود، عمر پانے والا، ’’کَأَنَّ اللّٰہَ نَزَلَ مِنَ السَّمَآ ء‘‘ (گویا خدا آسمان سے اتر آیا) وغیرہ الہامات کا مصداق بتایا تھا اور وہ نابالغی کی حالت میں ہی مرگیا۔ اس کی وفات کے بعد ہر چہار طرف سے مرزاقادیانی پر ملامتوں کی بوچھاڑ اور اعتراضات کی بارش ہوئی تو انہوں نے پھر سے الہامات گھڑنے شروع کئے تاکہ مریدوں کے جلے بھنے کلیجوں کو ٹھنڈک پہنچے۔ مورخہ ۱۶؍ستمبر ۱۹۰۷ء کو الہام سنایا۔ ’’اِنَّا نُبَشِّرُکَ بِغُلَامٍ حَلِیْمٍ‘‘ (البشریٰ ج۲ ص۱۳۴)

اس کے ایک ماہ بعد پھر الہام سنایا: ’’آپ کے لڑکا پیدا ہوا ہے۔ یعنی آئندہ کے وقت پیدا ہوگا۔ ’’اِنَّا نُبَشِّرُکَ بِغُلَامٍ حَلِیْمٍ‘‘ ہم تجھے ایک حلیم لڑکے کی خوشخبری دیتے ہیں۔ ’’ینزل منزل المبارک‘‘ وہ مبارک احمد کی شبیہ ہوگا۔‘‘

(البشریٰ ج۲ ص۱۳۶)

چند دن کے بعد پھر الہام سنایا: ’’ساھب لک غلاماً زکیا۰ رب ہب لی ذریۃ طیبۃ انا نبشرک بغلام اسمہ یحییٰ‘‘ میں ایک پاک اور پاکیزہ لڑکے کی خوشخبری دیتا ہوں۔ میرے خدا پاک اولاد مجھے بخش۔ تجھے ایک لڑکے کی خوشخبری دیتا ہوں۔ جس کا نام یحییٰ ہے۔‘‘ (البشریٰ ج۲ ص۱۳۶)

ان الہامات میں ایک پاکیزہ لڑکے مسمّٰی یحییٰ جو مبارک احمد کا شبیہ اور قائم مقام ہونا تھا کی پیش گوئی مرقوم ہے۔ اس کے بعد مرزاقادیانی کے گھر کوئی لڑکا پیدا ہی نہ ہوا۔ اس لئے یہ سب کے سب الہامات افتراء علی ﷲ ثابت ہوگئے۔ جب کہ انبیاء علیہم السلام کو ﷲتعالیٰ معجزات کا شرف نصیب فرماتے ہیں۔ جن سے وہ مخالفین کو چیلنج کرتے ہیں۔ معجزہ خرق عادت ہوتا ہے۔ مگر جھوٹے مدعی نبوت کے ہاتھ پر کوئی خرق عادت کام نہیں ہوتا۔ تاکہ حق وباطل میں تلبیس نہ ہو۔ اس لئے بطور خرق عادت مرزاقادیانی کی کوئی بات یا پیش گوئی پوری نہیں ہوئی۔

پانچویں پیش گوئی … ’’محمدی بیگم‘‘ سے متعلق

’’محمدی بیگم‘‘ مرزا قادیانی کے ماموں زاد بھائی مرزا احمد بیگ کی نوعمر لڑکی تھی۔ مرزا قادیانی نے اس کو زبردستی اپنے نکاح میں لانے کا ارادہ کیا۔ اتفاق ایسا ہوا کہ ایک زمین کے ہبہ نامہ کے سلسلہ میں مرزا احمد بیگ کو مرزا قادیانی کے دستخط کی ضرورت پڑی۔ چنانچہ وہ مرزا قادیانی کے پاس گیا اور اس سے کاغذات پر دستخط کرنے کی درخواست کی۔ مرزا قادیانی نے اپنی مطلب برآری کے لئے اس موقع کو غنیمت سمجھا اور احمد بیگ سے کہا کہ استخارہ کرنے کے بعد دستخط کروں گا۔ جب کچھ دن بعد دوبارہ احمد بیگ نے دستخط کرنے کی بات کی تو مرزا قادیانی نے جواب دیا کہ دستخط اسی شرط پر ہوں گے کہ اپنی لڑکی ’’محمدی بیگم‘‘ کا نکاح میرے ساتھ کردو۔ خیریت اسی میں ہے۔ اس کی دھمکی کے الفاظ یہ ہیں: ’’ ﷲ تعالیٰ

518

نے مجھ پر وحی نازل کی کہ اس شخص یعنی احمد بیگ کی بڑی لڑکی کے نکاح کے لئے پیغام دے اور اس سے کہہ دے کہ پہلے وہ تمہیں دامادی میں قبول کرلے اور تمہارے نور سے روشنی حاصل کرے اور کہہ دے کہ مجھے اس زمین کے ہبہ کرنے کا حکم مل گیا ہے جس کے تم خواہش مند ہو۔ بلکہ اس کے ساتھ اور زمین بھی دی جائے گی اور دیگر مزید احسانات تم پر کئے جائیں گے۔ بشرطیکہ تم اپنی لڑکی کا مجھ سے نکاح کردو۔ میرے اور تمہارے درمیان یہی عہد ہے تم مان لوگے تو میں بھی تسلیم کرلوں گا۔ اگر تم قبول نہ کروگے تو خبردار ہو مجھے خدا نے یہ بتلایا ہے کہ اگر کسی اور شخص سے اس لڑکی کا نکاح ہوگا تو نہ اس لڑکی کے لئے یہ نکاح مبارک ہوگا اور نہ تمہارے لئے۔‘‘ (آئینہ کمالات اسلام درخزائن ج۵ص۵۷۲،۵۷۳)

ان دھمکیوں وغیرہ کا منفی اثر یہ ہوا کہ مرزا احمد بیگ اور اس کے خاندان والوں نے ’’محمدی بیگم‘‘ کا نکاح مرزا قادیانی کے ساتھ کرنے سے صاف انکار کردیا۔ مرزا قادیانی نے خطوط لکھ کر اشتہار شائع کرواکر اور پیش گوئیاں کرکے حتیٰ کہ منت سماجت کے ذریعہ ایڑی چوٹی کا زور لگادیا کہ کسی طرح اس کی آرزو پوری ہوجائے۔ لیکن ’’محمدی بیگم‘‘ کا نکاح ایک دوسرے شخص مرزا سلطان محمد سے ہوگیا اور مرزا قادیانی کے مرتے دم تک بھی محمدی بیگم اس کے نکاح میں نہ آئی۔

اس سلسلہ میں مرزا قادیانی نے جو جھوٹی پیش گوئی کی تھی۔ اس کے الفاظ حسب ذیل ہیں: ’’خدا تعالیٰ نے اس عاجز کے مخالف اور منکر رشتہ داروں کے حق میں نشان کے طور پر یہ پیشین گوئی ظاہر کی ہے کہ ان میں سے جو ایک شخص احمد بیگ نام کا ہے اگر وہ اپنی بڑی لڑکی (محمدی بیگم) اس عاجز کو نہیں دے گا تو تین برس کے عرصہ تک بلکہ اس سے قریب فوت ہوجائے گا اور وہ جو نکاح کرے گا وہ روز نکاح سے اڑھائی برس کے عرصہ میں فوت ہوگا اور آخر وہ عورت اس عاجز کی بیویوں میں داخل ہوگی۔‘‘

(اشتہار ۲۰؍فروری ۱۸۸۶ء تبلیغ رسالت ج۱ص۶۱ حاشیہ مندرجہ مجموعہ اشتہارات ج۱ص۱۰۲حاشیہ)

اس پیشین گوئی کی مزید تشریح کرتے ہوئے مرزا قادیانی نے کہا: ’’میری اس پیشین گوئی میں نہ ایک بلکہ چھ دعوے ہیں۔ اول نکاح کے وقت تک میرا زندہ رہنا۔ دوم نکاح کے وقت تک اس لڑکی کے باپ کا یقینا زندہ رہنا۔ سوم پھر نکاح کے بعد اس لڑکی کے باپ کا جلدی سے مرنا جو تین برس تک نہیں پہنچے گا۔ چہارم اس کے خاوند کا اڑھائی سال کے عرصہ تک مرجانا۔ پنجم اس وقت تک کہ میں اس سے نکاح کروں اس لڑکی کا زندہ رہنا۔ ششم پھر آخر یہ بیوہ ہونے کی تمام رسموں کو توڑ کر باوجود سخت مخالفت اس کے اقارب کے میرے نکاح میں آجانا۔‘‘ (آئینہ کمالات اسلام در خزائن ج۵ص۳۲۵)

اس بارے میں عربی الہام اس طرح ہے: ’’کذبوا بایتنا وکانوا بہا یستہزؤن فسیکفیکھم ﷲ ویردھا الیک لاتبدیل لکلمت ﷲ ان ربک فعال لمایرید۰ انت معی وانا معک عسیٰ ان یبعثک ربک مقاماً محمودا‘‘

(آئینہ کمالات اسلام در خزائن ج۵ص۲۸۶،۲۸۷)

علاوہ ازیں (انجام آتھم ص۳۱) پر اور ’’تذکرہ‘‘ میں متعدد جگہ یہ پیش گوئی مختلف الفاظ میں مذکور ہے اور ﷲ کی قدرت کہ ہر اعتبار سے مرزا قادیانی کی یہ پیش گوئی جھوٹی نکلی۔ کوئی ایک بھی دعویٰ سچا نہیں ہوا۔ محمدی بیگم کا خاوند اڑھائی سال میں تو کیا مرتا مرزا قادیانی کے مرنے کے چالیس سال بعد تک زندہ رہا اور ۱۹۴۸ء میں وفات پائی اور خود محمدی بیگم بھی ۱۹۶۶ء تک زندہ رہ کر مرزا قادیانی کے کذاب اور دجال ہونے کا اعلان کرتی رہی اور ۱۹؍نومبر۱۹۶۶ء کو لاہور میں بحالت اسلام اس کی موت واقع ہوئی۔

خلاصہ یہ ہے کہ اس پیشین گوئی کے ذریعہ ﷲ تعالیٰ نے مرزا قادیانی کے ذلیل ورسوا اور خائب وخاسر ہونے کا بہترین انتظام فرمادیا۔ آج کوئی بھی صاحب عقل محمدی بیگم کے واقعہ کو دیکھ کر مرزا قادیانی کے جھوٹے اور اوباش ہونے کا بآسانی یقین کرسکتا ہے۔ فالحمدﷲ!

519

مرزا قادیانی کے مریدوں کا موقف

جب مرزا قادیانی ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء کو لاہور میں بمرض ہیضہ آنجہانی ہوگیا (حیات ناصرص۱۴) اور ’’محمدی بیگم‘‘ سے نکاح نہ ہونا تھا نہ ہوا تو قادیانیوں نے جواب گھڑا کہ نکاح جنت میں ہوگا۔ اس پر کہا گیا کہ محمدی بیگم مرزا قادیانی پر ایمان نہ لائی تھی تو مرزا قادیانی کا کہنا تھا کہ میرے منکر جہنم میں جائیں گے تو کیا مرزا قادیانی جہنم میں برأت لے کر جائے گا۔ تو اس پرمرزائیوں نے جواب تیار کیا کہ یہ پیش گوئی متشابہات میں سے ہے۔ غالباً قادیانیوں کو یہی معلوم نہیں کہ پیش گوئی رب کا وہ وعدہ ہوتا ہے۔ جس کا نبی تحدی سے اعلان کرتا ہے۔ جو ضرور پورا ہوتا ہے۔ مگر (معاذ ﷲ) مرزا قادیانی کا خدا بھی مرزا قادیانی سے جھوٹے وعدے کرتا تھا۔

اور محمدی بیگم اپنے خاوند ’’مرزا سلطان محمد‘‘ کے گھر تقریباً چالیس سال بخیر وخوبی آباد رہی اور اب لاہور میں اپنے جواں سال ہونہار مسلمان بیٹوں کے ہاں ۱۹؍نومبر۱۹۶۶ء کو انتقال فرماگئیں۔

(ہفتہ وار الاعتصام لاہور اشاعت ۲۵؍نومبر۱۹۶۶ء)

چھٹی پیش گوئی … عبد ﷲ آتھم عیسائی

مرزا قادیانی نے عبد ﷲ آتھم پادری سے امرتسر میں پندرہ دن تحریری مناظرہ کیا۔ جب مباحثہ بے نتیجہ رہا تو مرزا قادیانی نے اپنی شیخی جمانے کے لئے ۵؍جون ۱۸۹۳ء کو ایک عدد پیش گوئی دھر گھسیٹی جس کا خلاصہ حسب ذیل ہے: ’’مباحثہ کے ہر دن کے لحاظ سے ایک ماہ مراد ہوگا۔ یعنی پندرہ ماہ میں فریق مخالف ہاویہ میں بسزائے موت نہ پڑے تو میں ہر ایک سزا کے اٹھانے کے لئے تیار ہوں۔ مجھ کو ذلیل کیا جائے، روسیاہ کیا جاوے، میرے گلے میں رسہ ڈال دیا جاوے۔ مجھ کو پھانسی دیا جاوے۔ ہر ایک بات کے لئے تیار ہوں۔‘‘ (جنگ مقدس ص۲۱۱، خزائن ج۶ ص۲۹۳)

غرض مرزاقادیانی کی پیش گوئی کے مطابق عبد ﷲ آتھم کی موت کا آخری دن مورخہ ۵؍ستمبر ۱۸۹۴ء بنتا تھا۔ اس دن کی کیفیت مرزاقادیانی کے فرزند مرزامحمود احمد خلیفہ قادیان کی زبانی ملاحظہ ہو۔ لکھتے ہیں کہ

قادیان میں محرم کا ماتم

’’آتھم کے متعلق پیش گوئی کے وقت جماعت کی جو حالت تھی وہ ہم سے مخفی نہیں۔ میں اس وقت چھوٹا بچہ تھا اور میری عمر کوئی پانچ ساڑھے پانچ سال کی تھی۔ مگر وہ نظارہ مجھے خوب یاد ہے کہ جب آتھم کی پیش گوئی کا آخری دن آیا تو کتنے کرب واضطراب سے دعائیں کی گئیں۔ میں نے تو محرم کا ماتم بھی اتنا سخت کبھی نہیں دیکھا۔ حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) ایک طرف دعا میں مشغول تھے اور دوسری طرف بعض نوجوان (جن کی اس حرکت پر بعد میں برا منایا گیا) جہاں حضرت خلیفہ اوّل مطب کیا کرتے تھے اور آج کل مولوی قطب الدین صاحب بیٹھتے ہیں۔ وہاں اکٹھے ہوگئے اور جس طرح عورتیں بین ڈالتی ہیں اس طرح انہوں نے بین ڈالنے شروع کر دئیے۔ ان کی چیخیں سوسوگز تک سنی جاتی تھیں اور ان میں سے ہر ایک کی زبان پر یہ دعا جاری تھی کہ یا ﷲ آتھم مر جائے۔ یا ﷲ آتھم مر جائے۔ یا ﷲ آتھم مر جائے۔ مگر اس کہرام اور آہ وزاری کے نتیجے میں آتھم تو نہ مرا۔‘‘

(خطبہ مرزامحمود احمد مندرجہ الفضل قادیان مورخہ ۲۰؍جولائی ۱۹۴۰ء)

اور اس قادیانی اضطراب پر مزید روشنی مرزاقادیانی کے منجھلے بیٹے بشیر ایم۔اے کی روایت سے پڑتی ہے کہ ابا جان نے آتھم کی موت کے لئے کیا کیا تدابیر اختیار کیں اور کون کون سے ٹوٹکے استعمال کئے۔ چنانچہ تحریر کرتے ہیں کہ: ’’بسم ﷲ الرحمن الرحیم! بیان کیا مجھ سے میاں عبد ﷲ سنوری نے کہ جب آتھم کی میعاد میں صرف ایک دن باقی رہ گیا تو

520

حضرت مسیح موعود نے مجھ سے اور میاں حامد علی سے فرمایا کہ اتنے چنے (مجھے تعداد یاد نہیں رہی کہ کتنے چنے آپ نے بتائے تھے) لے لو اور ان پر فلاں سورۃ کا وظیفہ اتنی تعداد میں پڑھو۔ (مجھے وظیفہ کی تعداد یاد نہیں رہی) میاں عبد ﷲ صاحب بیان کرتے ہیں کہ مجھے وہ سورۃ یا د نہیں رہی مگر اتنا یاد ہے کہ وہ کوئی چھوٹی سی سورۃ تھی۔ جیسے ’’اَلَمْ تَرَ کَیْفَ فَعَلَ رَبُّکَ بِاَصْحَابِ الْفِیْلِ‘‘ اور ہم نے یہ وظیفہ قریب ساری رات صرف کر کے ختم کیا تھا۔ وظیفہ ختم کرنے پر ہم وہ دانے حضرت صاحب (مرزاقادیانی) کے پاس لے گئے۔ کیونکہ آپ نے ارشاد فرمایا تھا کہ وظیفہ ختم ہونے پر یہ دانے میرے پاس لے آنا۔ اس کے بعد حضرت صاحب ہم دونوں کو قادیان سے باہر غالباً شمال کی طرف لے گئے اور فرمایا دانے کسی غیرآباد کنویں میں ڈالے جائیں گے اور فرمایا کہ جب میں دانے کنویں میں پھینک دوں تو ہم سب کو سرعت کے ساتھ منہ پھیر کر واپس لوٹ آنا چاہئے اور مڑ کر نہیں دیکھنا چاہئے۔ چنانچہ حضرت صاحب نے ایک غیرآباد کنویں میں ان دانوں کو پھینک دیا اور پھر جلدی سے منہ پھیر کر پیچھے کی طرف نہیں دیکھا۔‘‘

(سیرت المہدی ج۱ ص۱۷۸، روایت نمبر۱۶۰)

ناظرین کرام! آپ نے ملاحظہ فرمالیا کہ مرزاقادیانی نے خدا کی طرف سے موت کی دھمکی دی اور جب دیکھا کہ پیش گوئی جھوٹی نکلی ہے تو شعبدہ بازوں کا ٹوٹکا استعمال کیا۔ مگر دشمن ایسا سخت جان نکلا کہ بجائے ۵؍ستمبر کے ۶؍ستمبر کا سورج بھی غروب ہوگیا۔ مگر وہ نہ مرا اور یہ پیش گوئی بھی جھوٹی نکلی۔ باوجود یہ کہ مرزاقادیانی نے حیلے بازی اور شعبدہ بازی سے کام لیا اور کتوں سے بھی بدتر مرشد ومرید کا پارٹ ادا کیا۔ مگر جھوٹا تھا خدا تعالیٰ نے ناکام کیا۔

ساتویں پیش گوئی … ڈاکٹر عبدالحکیم خان صاحب کے متعلق

ڈاکٹر عبدالحکیم خان صاحب اسسٹنٹ سرجن پٹیالہ بیس سال تک مرزاقادیانی کے ارادت مند مرید رہے۔ بعدہ، مرزاقادیانی کی بطالت ان پر واضح ہوگئی تو انہوں نے مرزائیت سے توبہ کر کے مرزاقادیانی کی تردید میں چند رسالے لکھے۔ مرزاقادیانی بھی ان کے سخت خلاف ہوگئے۔ بالآخر دونوں نے ایک دوسرے کے خلاف موت کی الہامی پیش گوئیاں شائع کیں۔ اس کے متعلق مرزاقادیانی کے اشتہار کا اقتباس نقل کیاجاتا ہے۔ لکھتے ہیں:

’’خدا سچے کا حامی ہو میاں عبدالحکیم خان صاحب اسسٹنٹ سرجن پٹیالہ نے میری نسبت یہ پیش گوئی کی ہے… اس کے الفاظ یہ ہیں۔ مرزاقادیانی کے خلاف ۱۲؍جولائی ۱۹۰۶ء کو یہ الہامات ہوئے ہیں۔مرزامسرف، کذاب، اور عیار ہے۔ صادق کے سامنے شریر فنا ہو جائے گا اور اس کی میعاد تین سال بتائی گئی ہے۔‘‘

فرشتوں کی کھینچی ہوئی تلوار تیرے آگے ہے پر تو نے وقت کو نہ پہچانا۔ نہ دیکھا، نہ جانا۔ (۲۵) ’’رب (۲۶) فرق بین صادق وکاذب انت تریٰ کل مصلح وصادق‘‘ (مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۵۵۹،۵۶۰)

اس کے بعد ڈاکٹر عبدالحکیم خان صاحب نے ایک اور الہام شائع کیا کہ جولائی ۱۹۰۷ء سے ۱۴؍ماہ تک مرزاقادیانی مر جائے گا۔ اس کے جواب میں مرزاقادیانی نے ایک اشتہار بعنوان تبصرہ مورخہ ۵؍نومبر ۱۹۰۷ء کو شائع کیا۔ اس کی پیشانی پر یہ عبارت درج کی۔

521

’’ہماری جماعت کو لازم ہے کہ اس پیش گوئی کو خوب شائع کریں اور اپنی طرف سے چھاپ کر مشتہر کریں اور یادداشت کے لئے اشتہار کے طور پر اپنے گھر کی نظر گاہ میں چسپاں کریں۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۵۸۵)

یہ اشتہار جو سراسر لاف وگزاف سے پر تھا۔ اس کو اپنے تمام اخباروں میں شائع کرایا۔ مختلف شہروں میں مرزائیوں نے علیحدہ چھپوا کر بھی بکثرت شائع کیا۔ اس کے چند فقرات حسب ذیل ہیں: ’’اپنے دشمن کو کہہ دے کہ خدا تجھ سے مواخذہ لے گا… میں تیری عمر کو بڑھا دوں گا۔ یعنی دشمن جو کہتا ہے کہ جولائی ۱۹۰۷ء سے چودہ مہینے تک تیری عمر کے دن رہ گئے ہیں یا ایسا ہی جو دوسرے دشمن پیش گوئی کرتے ہیں۔ ان سب کو میں جھوٹا کر دوں گا اور تیری عمر کو میں بڑھا دوں گا۔ تاکہ معلوم ہو کہ میں خدا ہوں اور ہر ایک امر میرے اختیار میں ہے۔

یہ عظیم الشان پیش گوئی ہے جس میں میری فتح اور دشمن کی شکست اور میری عزت اور دشمن کی ذلت اور میرا اقبال اور دشمن کا ادبار بیان فرمایا ہے اور دشمن پر غضب اور عقوبت کا وعدہ کیاہے۔ مگر میری نسبت لکھا ہے کہ دنیا میں تیرا نام بلند کیا جائے گا اور نصرت اور فتح تیرے شامل حال ہوگی اور دشمن جو میری موت چاہتا ہے وہ خود میری آنکھوں کے روبرو اصحاب الفیل کی طرح نابود اور تباہ ہوگا۔‘‘ (مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۵۹۱)

اس کے بعد ڈاکٹر عبدالحکیم خان صاحب نے اپنا ایک اور الہام شائع کیا کہ مرزاقادیانی مورخہ ۴؍اگست ۱۹۰۸ء تک مر جائے گا۔ (چشمہ معرفت ص۳۲۱،۳۲۲، خزائن ج۲۳ ص۳۳۷) نتیجہ یہ ہوا کہ ڈاکٹر صاحب کی پیش گوئیوں کے مطابق مرزاقادیانی نے ۲۶؍مئی۱۹۰۸ء کو اگلے جہاں کی طرف کوچ کر دیا اور ان کے الہام کنندہ کے سب وعدے فتح ونصرت کے غلط نکلے۔

آٹھویں پیش گوئی … مولانا ثناء ﷲ صاحب کے متعلق

مرزاقادیانی آنجہانی نے مولانا ثناء ﷲ صاحب امرتسری کے متعلق مورخہ ۱۵؍اپریل ۱۹۰۷ء کو ایک اشتہار ان الفاظ میں شائع کیا۔

مولوی ثناء ﷲ صاحب امرتسری کے ساتھ آخری فیصلہ

’’بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۰ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّی عَلٰی رَسُوْلِہٖ الْکَرِیْمِ۰ یَسْتَنْبِؤْنَکَ اَحَقٌ ھُوَ قُلْ اِیْ وَرَبِّی اِنَّہٗ لَحَقٌ‘‘

بخدمت مولوی ثناء ﷲ صاحب ’’السلام علیٰ من اتبع الہدیٰ‘‘ مدت سے آپ کے پرچہ اہل حدیث میں میری تکذیب وتفسیق کا سلسلہ جاری ہے۔ ہمیشہ مجھے آپ اپنے پرچہ میں مردود، کذاب، دجال، مفسد کے نام سے منسوب کرتے ہیں اور دنیا میں میری نسبت شہرت دیتے ہیں کہ یہ شخص مفتری وکذاب اور دجال ہے اور اس شخص کا دعویٰ مسیح موعود ہونے کا سراسر افتراء ہے۔ میں نے آپ سے بہت دکھ اٹھایا اور صبر کرتا رہا۔ مگر چونکہ میں دیکھتا ہوں کہ میں حق کے پھیلانے کے لئے مامور ہوں اور آپ بہت سے افتراء میرے پر کر کے دنیا کو میری طرف آنے سے روکتے ہیں اور مجھے ان گالیوں اور ان تہمتوں اور ان الفاظ سے یاد کرتے ہیں کہ جن سے بڑھ کر کوئی لفظ سخت نہیں ہوسکتا۔ اگر میں ایسا ہی کذاب اور مفتری ہوں۔ جیسا کہ اکثر اوقات آپ اپنے ہر ایک پرچہ میں مجھے یاد کرتے ہیں تو میں آپ کی زندگی میں ہی ہلاک ہو جاؤں گا۔ کیونکہ میں جانتا ہوں کہ مفسد اور کذاب کی بہت عمر نہیں ہوتی اور آخر وہ ذلت اور حسرت کے ساتھ اپنے اشد دشمنوں کی زندگی میں ہی ناکام ہلاک ہو جاتا ہے اور اس کاہلاک ہونا ہی بہتر ہوتا ہے۔ تاکہ خدا کے بندوں کو تباہ نہ کرے اور

522

اگر میں کذاب اور مفتری نہیں ہوں اور خدا کے مکالمہ اور مخاطبہ سے مشرف ہوں اور مسیح موعود ہوں تو میں خدا کے فضل سے امید رکھتا ہوں کہ آپ سنت ﷲ کے موافق آپ مکذبین کی سزا سے نہیں بچیں گے۔ پس اگر وہ سزا جو انسان کے ہاتھوں سے نہیں بلکہ محض خدا کے ہاتھوں سے ہے۔ جیسے طاعون، ہیضہ وغیرہ مہلک بیماریاں آپ پر میری زندگی میں ہی وارد نہ ہوئیں تو میں خداتعالیٰ کی طرف سے نہیں۔ یہ کسی الہام یا وحی کی بناء پر پیش گوئی نہیں۔ بلکہ محض دعا کے طور پر میں نے خدا سے فیصلہ چاہا ہے اور میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ اے میرے مالک بصیر وقدیر جو علیم وخبیر ہے جو میرے دل کے حالات سے واقف ہے۔ اگر یہ دعویٰ مسیح موعود ہونے کا محض میرے نفس کا افتراء ہے اور میں تیری نظر میں مفسد اور کذاب ہوں اور دن رات افتراء کرنا میرا کام ہے تو اے میرے پیارے مالک میں عاجزی سے تیری جناب میں دعا کرتا ہوں کہ مولوی ثناء ﷲ صاحب کی زندگی میں مجھے ہلاک کر اور میری موت سے ان کو اور ان کی جماعت کو خوش کر دے۔ آمین! مگر اے میرے کامل اور صادق خدا اگر مولوی ثناء ﷲ ان تہمتوں میں جو مجھ پر لگاتا ہے۔ حق پر نہیں تو میں عاجزی سے تیری جناب میں دعا کرتا ہوں کہ میری زندگی میں ہی ان کو نابود کر۔ مگر نہ انسانی ہاتھوں سے بلکہ طاعون وہیضہ وغیرہ امراض مہلکہ سے۔ بجز اس صورت کے کہ وہ کھلے کھلے طور پر میرے روبرو اور میری جماعت کے سامنے ان تمام گالیوں اور بدزبانیوں سے توبہ کرے۔ جن کو وہ فرض منصبی سمجھ کر ہمیشہ مجھے دکھ دیتا ہے۔ آمین یا رب العالمین!

میں ان کے ہاتھ سے بہت ستایا گیا اور صبر کرتا رہا۔ مگر اب میں دیکھتا ہوں کہ ان کی بدزبانی حد سے گزر گئی۔ مجھے ان چوروں اور ڈاکوؤں سے بھی بدتر جانتے ہیں۔ جن کا وجود دنیا کے لئے سخت نقصان رساں ہوتا ہے اور انہوں نے ان تہمتوں اور بدزبانیوں میں آیت ’’ولَا تَقْفُ مَا لَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ‘‘ پر بھی عمل نہیں کیا اور تمام دنیا سے مجھے بدتر سمجھ لیا اور دور دور ملکوں تک میری نسبت یہ پھیلا دیا کہ یہ شخص درحقیقت مفسد اور ٹھگ اور دکاندار اور کذاب اور مفتری اور نہایت درجہ کا بدآدمی ہے۔ سو ایسے کلمات حق کے طالبوں پر بداثر نہ ڈالتے تو میں ان تہمتوں پر صبر کرتا۔ مگر میں دیکھتا ہوں کہ مولوی ثناء ﷲ انہی تہمتوں کے ذریعہ سے میرے سلسلہ کو نابود کرنا چاہتا ہے اور اس عمارت کو منہدم کرنا چاہتا ہے۔ جو تو نے اے میرے آقا اور میرے بھیجنے والے اپنے ہاتھ سے بنائی ہے۔ اس لئے اب میں تیرے ہی تقدس اور رحمت کا دامن پکڑ کر تیری جناب میں ملتجی ہوں کہ مجھ میں اور ثناء ﷲ میں سچا فیصلہ فرما اور وہ جو تیری نگاہ میں درحقیقت مفسد اور کذاب ہے۔ اس کو صادق کی زندگی میں ہی دنیا سے اٹھا لے یا کسی اور نہایت سخت آفت میں جو موت کے برابر ہو مبتلا کر۔ اے میرے پیارے مالک تو ایسا ہی کر۔ مین ثم آمین۰ رَبَّنَا اِفْتَحْ بَیْنَنَا وَبَیْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَاَنْتَ خَیْرُ الْفَاتِحِیْن۰ آمین! بالآخر مولوی صاحب سے التماس ہے کہ میرے اس مضمون کو اپنے پرچہ میں چھاپ دیں اور جو چاہیں اس کے نیچے لکھ دیں۔ اب فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔‘‘ (مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۵۷۸،۵۷۹)

اس اشتہار کو پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزاقادیانی نے یہ پیش گوئی بطریق دعا شائع کی۔ بلکہ اس کے ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا کہ اس دعا کو ﷲتعالیٰ نے قبول فرمالیا ہے۔ مرزاقادیانی کے الفاظ ہیں: ’’دنیا کے عجائبات ہیں رات کو ہم سوتے ہیں تو کوئی خیال نہیں ہوتا کہ اچانک ایک الہام ہوتا ہے اور پھر وہ اپنے وقت پر پورا ہوتا ہے۔ کوئی ہفتہ، عشرہ، نشان سے خالی نہیں جاتا۔ ثناء ﷲ کے متعلق جو کچھ لکھا گیا ہے۔ یہ دراصل ہماری طرف سے نہیں بلکہ خدا ہی کی طرف سے اس کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ ایک دفعہ ہماری توجہ اس کی طرف ہوئی اور رات کو توجہ اس کی طرف تھی اور رات کو الہام ہوا۔ ’’اجیب دعوۃ الداع‘‘ صوفیاء کے نزدیک بڑی کرامت استجابت دعا ہے۔ باقی سب اس کی شاخیں۔‘‘

(اخبار بدر قادیان مورخہ ۲۵؍اپریل ۱۹۰۷ء، ملفوظات ج۹ ص۲۶۸)

523

مرزاقادیانی نے اپنے اشتہار میں محض دعا کے ذریعہ سے فیصلہ چاہا ہے۔ چنانچہ آپ کے الفاظ ہیں: ’’محض دعا کے طور پر خدا سے فیصلہ چاہا ہے۔‘‘

اخیر اشتہار میں آپ تحریر فرماتے ہیں: ’’اب فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔‘‘

پس مرزاقادیانی نے اپنی اس دعا اور پیش گوئی کے مطابق مورخہ ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء کو بمرض ہیضہ ہلاک ہوکر حسب اقرار خود اپنا مفسد، کذاب اور مفتری ہونا دنیا پر ثابت کر دیا۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے ؎

لکھا تھا کاذب مرے گا پیشتر کذب میں پکا تھا پہلے مر گیا

نویں پیش گوئی … عالم کباب کے متعلق

مرزاقادیانی نے اپنا الہام بیان کیا ہے:

۱… بشیرالدولہ۔

۲… عالم کباب۔

۳… شادی خان۔

۴… کلمۃ ﷲ خاں۔

(نوٹ از مرزاقادیانی) بذریعہ الہام الٰہی معلوم ہوا کہ میاں منظور محمد صاحب کے گھر میں یعنی محمدی بیگم کا ایک لڑکا پیدا ہوگا۔ جس کے یہ نام ہوں گے۔ یہ نام بذریعہ الہام الٰہی معلوم ہوئے۔‘

(البشریٰ ج۲ ص۱۱۶)

نیز مرزاقادیانی نے کہا کہ: ’’میاں منظور محمد صاحب کے اس بیٹے کا نام جو بطور نشان ہوگا۔ بذریعہ الہام الٰہی مفصلہ ذیل معلوم ہوئے۔

۱… کلمۃ العزیز۔

۲… کلمۃ ﷲ خاں۔

۳… وارڈ۔

۴… بشیرالدین۔

۵… شادی خان۔

۶… عالم کباب۔

۷… ناصر الدین۔

۸… فاتح الدین۔

۹… ہذا یوم مبارک۔‘‘ (تذکرہ ص۶۲۶،۶۲۷، طبع سوم)

مرزاقادیانی کی اس پیش گوئی کے شائع ہو جانے کے بعد میاں منظور محمد کی بیوی محمدی بیگم فوت ہوگئی۔ حالانکہ مرزاقادیانی نے کہا تھا۔ ’’ضرور ہے کہ خدا اس لڑکے کی والدہ کو زندہ رکھے۔ جب تک یہ پیش گوئی پوری نہ ہو۔‘‘

(تذکرہ ص۶۲۲، طبع سوم)

عالم کباب صاحب دنیا میں تشریف فرمانہ ہوئے۔ لہٰذا مرزاقادیانی کی یہ الہامی پیش گوئی سرے سے غلط اور

524

جھوٹ ثابت ہوئی۔

مرزائیو! کہہ دو کہ محمدی بیگم کے ظلی، بروزی اور روحانی بیٹا پیدا ہوگیا تھا۔ اصلی بیٹا قیامت کے دن تشریف لائے گا۔ اس لئے ہمارے مجدد اور ظلی، بروزی نبی کی بیان کردہ پیش گوئی سچی نکلی۔

دسویں پیش گوئی … مرزاغلام احمد کی طاعون کی پیش گوئی

جس سے اس کا اپنا گھر بھی محفوظ نہ رہا

انیسویں صدی کے شروع میں ہندوستان کے مختلف علاقوں میں طاعون کی وبا پھیل گئی۔ جس سے لوگوں میں خوف وہراس کا پایا جانا ایک فطری امر تھا۔ اس وباء میں بہت سے لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ جب مرزاغلام احمد قادیانی کو ان حالات کا علم ہوا کہ ملک کے مختلف حصے طاعون کی گرفت میں آئے ہوئے ہیں تو اس نے دعویٰ کیا کہ میں نے طاعون کے آنے کی پہلے سے خبر دے رکھی تھی۔ سو یہ طاعون خود بخود نہیں آیا۔ بلکہ میں نے اس کے آنے کی دعا کی تھی۔ جو آسمانوں میں سنی گئی اور مبارک خدا نے پورے ملک میں طاعون پھیلا دیا۔ اب اس طاعون سے سارے لوگ تباہ ہو جائیں گے۔ سوائے ان کے جو میری نبوت کو مانیں گے۔ یہ خدا کا فیصلہ ہے کہ قادیان کے سوا کوئی جگہ محفوظ نہ ہوگی اور جب تک میری رسالت کو تسلیم نہ کر لیں ان سے طاعون کا عذاب ختم نہیں کیا جائے گا۔ مرزاغلام احمد قادیانی نے لکھا کہ: ’’براہین احمدیہ کے آخری اوراق کو دیکھا تو ان میں یہ الہام درج تھا۔ دنیا میں ایک نذیر آیا اور دنیا نے اس کو قبول نہ کیا۔ پر خدا اس کو قبول کرے گا اور زور دار حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کرے گا۔ اس پر مجھے خیال آیا کہ اس الہام میں ایک پیش گوئی تھی جو اس وقت طاعون پر صادق آرہی ہے اور زوردار حملوں سے طاعون مراد ہے۔‘‘ (ملفوظات احمدیہ ج۷ ص۵۲۲)

یعنی مرزاغلام احمد قادیانی نے جب نبوت کا دعویٰ کیا تو اس وقت اسے کسی نے نہ مانا اس پر خدا کی غیرت کو جوش آیا اور اس نے کئی سالوں پہلے والے الہام کو حقیقت بنادیا۔ مرزابشیراحمد کا کہنا ہے کہ: ’’خدا کا قاعدہ ہے کہ بعض اوقات اس قسم کی بیماریوں کو بھی اپنے مرسلین کی صداقت کا نشان قرار دیتا ہے اور (بیماریوں) کے ذریعہ سے اپنی قائم کردہ سلسلوں کو ترقی دیتا ہے۔‘‘

(سلسلہ احمدیہ ص۱۲۰)

مرزاغلام احمد قادیانی کا کہنا ہے کہ یہ طاعون خودبخود نہیں آیا۔ بلکہ درحقیقت اس نے خود طاعون پھیلنے کی دعا کی تھی۔ مرزاقادیانی نے لکھا ۔ سو وہ دعا قبول ہوکر ملک میں طاعون پھیل گئی۔

(حقیقت الوحی ص۲۲۴، خزائن ج۲۲ ص۲۳۵)

مرزاغلام احمد قادیانی نے یہ دعا کیوں کی تھی۔ اس کا جواب درج ذیل تحریر میں موجود ہے۔ ’’طاعون ہماری جماعت کو بڑھاتی جاتی ہے اور ہمارے مخالفوں کو نابود کرتی جاتی ہے۔ ہر مہینہ میں کم ازکم پانچ آدمی اور کبھی ہزار دو ہزار آدمی بذریعہ طاعون ہماری جماعت میں داخل ہوتا ہے۔ اگر دس پندرہ سال تک ملک میں ایسی ہی طاعون رہی تو میں یقین رکھتا ہوں کہ تمام ملک جماعت سے بھر جائے گا۔ پس مبارک خدا ہے جس نے دنیا میں طاعون کو بھیجا۔ تاکہ اس کے ذریعہ سے ہم بڑھیں اور پھولیں اور ہمارے دشمن نیست ونابود ہوں۔‘‘

(تتمہ حقیقت الوحی ص۱۳۳ حاشیہ، خزائن ج۲۲ ص۵۷۰)

پھر مرزاقادیانی کا یہ اعلان بھی تھا کہ جب تک مرزاقادیانی کو خدا کا رسول نہیں مانا جائے گا۔ یہ طاعون دور نہیں ہوگا۔ مرزاقادیانی نے لکھا: ’’جب تک وہ خدا کے مامور اور رسول کو مان نہ لیں تب تک طاعون دور نہیں ہوگی۔‘‘

(دافع البلاء ص۵، خزائن ج۱۸ ص۲۲۵)

525

’’یہ طاعون اس حالت میں فرو ہوگی۔ جب لوگ خدا کے فرستادہ کو قبول کر لیں گے۔‘‘

(دافع البلاء ص۸، خزائن ج۱۸ ص۲۲۸)

یعنی طاعون کے آنے پر مسلمان خوف کے مارے قادیانی ہو جائیں گے اور اپنا گھر بار چھوڑ کر سیدھے قادیان چلے آئیں گے۔ کیونکہ قادیان کے طاعون سے محفوظ رہنے کی پیش گوئی تھی اور خدا نے کہا تھا کہ وہ قادیان کو طاعون سے محفوظ رکھے گا۔ مرزاقادیانی نے لکھا کہ: ’’وہ قادر خدا قادیان کو طاعون کی تباہی سے محفوظ رکھے گا۔ تاکہ تم سمجھو قادیان اسی لئے محفوظ رکھی گئی کہ وہ خدا کا رسول اور فرستادہ قادیان میں تھا۔‘‘ (دافع البلاء ص۵، خزائن ج۱۸ ص۲۲۶)

مرزاقادیانی کا دعویٰ تھا کہ قادیان کبھی بھی طاعون کی لپیٹ میں نہیں آئے گا؟ اس نے لکھا: ’’بہرحال جب تک کہ طاعون دنیا میں رہے گو ستر برس تک رہے۔ قادیان کو اس کی خوفناک تباہی سے محفوظ رکھے گا۔ کیونکہ یہ اس کے رسول کا تخت گاہ ہے۔‘‘ (دافع البلاء ص۱۰، خزائن ج۱۸ ص۲۳۰)

مرزاغلام احمد قادیانی نے اعلان کیا کہ یہ بات اسے خدا نے بتائی ہے اور اس پر خداتعالیٰ کی وحی اتری ہے اور یہ خدا کا وعدہ ہے اور خدا اپنے وعدہ کی خلاف ورزی نہیں کرتا اور یہ گاؤں اب خدا کی حفاظت کے پہرے میں ہے۔ اس نے لکھا: ’’خدا نے اس گاؤں کو اپنی پناہ میں لے لیا ہے۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۴۰۳)

مرزاقادیانی کا کہنا ہے کہ اسے خدا نے یہ وحی بھیجی ہے۔ ’’مَاکَانَ اللّٰہُ لِیُعَذِّبَہُمْ وَاَنْتَ فِیْہِمْ انہ اوی القریۃ لو لا الاکرام لہلک المقام‘‘ خدا ایسا نہیں ہے کہ قادیان کے لوگوں کو عذاب دے۔ حالانکہ تو ان میں رہتا ہے اور وہ اس گاؤں کو طاعون کی دستبرداور اس کی تباہی سے بچا لے گا۔ اگر تیرا پاس مجھے نہ ہوتا اور تیرا اکرام مدنظر نہ ہوتا تو میں اس گاؤں (قادیان) کو ہلاک کر دیتا۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۴۰۳)

مرزاغلام احمد قادیانی نے یہ بھی اعلان کر دیا کہ جو مرزائی مرزاقادیانی کی چاردیواری میں آئیں گے وہ طاعون سے بچ جائیں گے۔ مرزاقادیانی نے اس کے لئے خدا کی یہ وحی سنائی۔

’’وہ خدا زمین وآسمان کا خدا ہے۔ جس کے علم اور تصرف سے کوئی چیز باہر نہیں۔ اس نے مجھ پر وحی نازل کی کہ میں ہر ایک ایسے شخص کو طاعون کی موت سے بچاؤں گا جو اس گھر کی چاردیواری میں داخل ہوگا۔‘‘

(کشتی نوح ص۲، خزائن ج۱۹ ص۲)

پھر مرزاغلام احمد قادیانی نے اس طاعون کو مخالفین کے لئے عذاب اور خود اپنے لئے رحمت قرار دیا۔ اس نے لکھا کہ: ’’ہمارے لئے طاعون رحمت ہے اور ہمارے مخالفین کے لئے زحمت اور عذاب ہے۔‘‘

(تتمہ حقیقت الوحی ص۱۳۱، خزائن ج۲۲ ص۵۶۹ حاشیہ)

مرزاغلام احمد قادیانی کے مذکورہ بیانات سے پتہ چلتا ہے کہ طاعون مرزاقادیانی کے کہنے پر آیا تھا اور اس نے اس لئے طاعون منگوایا کہ دنیا نے ایک نذیر (یعنی مرزاقادیانی) کو قبول نہ کیا تھا۔ سو اب یہ طاعون جہاں جہاں جائے گا۔ مرزاقادیانی کے لئے رحمت ہوگا اور ان کے مخالفین کے لئے زحمت بنے گا۔ اب سب کی خیراسی میں ہے کہ وہ قادیان چلے آئیں اور مرزاقادیانی کے اپنے گھر میں پناہ لے لیں۔ ورنہ عمریں گذر جائیں گی۔ طاعون جانے کا نام نہیں لے گا اور سب کی جان لے کر چھوڑے گا۔

مرزاغلام احمد قادیانی کی پیش گوئی تھی کہ قادیان اور اس کا گھر طاعون سے بچا رہے گا۔ آئیے دیکھیں کہ اس کی

526

اس پیش گوئی کا کیا حشر ہوا اور وہ کس طرح جھوٹی نکلی۔ مرزاغلام احمد قادیانی نے گویہ پیش گوئی کر دی۔ لیکن اسے پھر خوف ہوا کہ کہیں یہ رحمت ہمارے گھر پر زور دار حملہ نہ کر دے۔ چنانچہ اس نے دوائیاں لے کر روزانہ گھر کی صفائی شروع کر دی۔ قادیانی ڈاکٹر محمد اسماعیل کہتے ہیں۔

’’حضرت مسیح موعود کو… خصوصاً طاعون کے ایام میں صفائی کا اتنا خیال رہتا تھا کہ فینائل لوٹے میں حل کر کے خود اپنے ہاتھ سے گھر کے پاخانوں اور نالیوں میں جاکر ڈالتے تھے۔‘‘

(سیرۃ المہدی حصہ دوم ص۵۹، روایت نمبر۳۷۹)

مرزاقادیانی کا بیٹا بشیر احمد کہتا ہے: ’’بعض اوقات حضرت گھر میں ایندھن کا بڑا ڈھیر لگوا کر آگ بھی جلوایا کرتے تھے تاکہ ضرر رساں جراثیم مر جائیں اور آپ نے ایک بڑی آہنی انگیٹھی منگوائی ہوئی تھی۔ جسے کوئلہ ڈال کر اور گندھک وغیرہ رکھ کر کمروں کے اندر جلایا جاتا تھا اور اس وقت دروازے بند کر دئیے جاتے تھے۔‘‘

(سیرۃ المہدی ج۲ ص۵۹، بروایت نمبر۳۷۹)

سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ طاعون مرزاقادیانی کے حق میں رحمت تھا اور خود انہوں نے خدا سے مانگ رکھا تھا۔ تو پھر اس رحمت کو فینائل لے کر ختم کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ پھر جب کہ خدا نے بتا بھی دیا تھا کہ اس طاعون سے قادیان اور مرزاقادیانی کا گھر پوری طرح بچا رہے گا۔ پھر دوائیں ڈالنا اور ایندھن جلوانا اور گندھک رکھنا یہ سب کن باتوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ ممکن ہے کہ مرزاقادیانی کو اپنے خدا پر ہی یقین نہ ہو کہ کہیں وہ ہمیشہ کی طرح اس مرتبہ بھی اس کی پیش گوئی پوری نہ کرے اور خدا کی یہ رحمت سیدھی اس کے گھر چلی آئے۔ یا پھر مرزاقادیانی کو اپنی باتوں پر خود بھی اعتبار نہ تھا اور وہ جانتے تھے کہ یہ سب باتیں بناوٹی ہیں۔ مرزاغلام احمد قادیانی کو اس رحمت بی بی (طاعون) کا اتنا خوف پیدا ہوا کہ انہوں نے گھر میں گوشت کھانا تک چھوڑ دیا۔

صاحبزادہ بشیر احمد کہتے ہیں۔ ’’جب طاعون کا سلسلہ شروع ہوا تو آپ نے اس (بٹیر) کا گوشت کھانا چھوڑ دیا۔ کیونکہ آپ فرماتے تھے کہ اس میں طاعونی مادہ زیادہ ہے۔‘‘

(سیرۃ المہدی ج۱ ص۵۰، بروایت نمبر۵۶)

آپ ہی سوچیں کہ جب خدا نے مرزاقادیانی کو بشارت سنادی تھی اور مرزاقادیانی خود اسے اپنے حق میں رحمت قرار دے چکے تھے تو اب موصوف پر اس رحمت کا اتنا خوف کیوں مسلط ہورہا تھا؟ کیا یہ اس بات کی دلیل نہیں کہ اس کے اپنے دل میں چور تھا اور انہیں ہر وقت فکر رہتی تھی کہ کہیں یہ رحمت بی بی انہیں اپنی بانہوں میں نہ لے لے۔ مرزاقادیانی کے خوف کا یہ عالم تھا کہ: ’’اگر کسی کارڈ کو بھی جو وباء والے شہر سے آتا چھوتے تو ہاتھ ضرور دھو لیتے۔‘‘

(الفضل قادیان مورخہ ۲۸؍مئی ۱۹۳۷ء)

مرزاقادیانی نے خدا سے طاعون منگوالیا تو لیکن اب وہ خود ان کے قابو میں نہیں آرہا تھا اور آہستہ آہستہ یہ طاعون قادیان کے قریب ہو گیا۔ مرزاغلام احمد قادیانی نے اپنے حکیم دوستوں کی مدد سے طاعون سے بچاؤ کی دوا تیار کرنی شروع کر دی۔ قادیان کے مفتی محمد صادق نے اپنی ایک تقریر میں اس کا ذکر کیا۔ جو الفضل قادیان میں شائع ہوئی۔ اس کا یہ حصہ دیکھئے۔

’’جب ہندوستان میں پیش گوئی کے مطابق طاعون کا مرض پھیلا اور اس کے کیس ہونے لگے تو حضرت مسیح موعود نے اس کے لئے ایک دوا تیار کی۔ جس میں کونین، جدوار، کافور، کستوری، مروارید اور بہت سی قیمتی ادویہ ڈالی گئیں اور کھرل کر کے چھوٹی چھوٹی گولیاں بنالی گئیں۔ میں نے دیکھا کہ بعض مخالف ہندو بھی آکر مانگتے تو آپ مٹھی بھر ان کو خندہ پیشانی کے ساتھ عطا کر دیتے۔‘‘

(الفضل قادیان مورخہ ۱۴؍اپریل ۱۹۴۶ء)

527

مرزاقادیانی نے طاعون مخالفین کی ہلاکت کے لئے منگوایا تھا۔ ان کو تو خوش ہونا چاہئے تھا کہ ان کی پیش گوئی پوری ہورہی ہے۔ مگر یہاں معاملہ اس کے برعکس ہورہا تھا۔ خود مرزاقادیانی کو اپنی فکر پڑی تھی اور مخالفین کو بھی بچانے کی فکر میں مبتلا ہوگئے تھے۔ سوال یہ ہے کہ وہ تعلّی اور دعوے کہاں گئے؟ کیا یہ خدا پر افتراء نہیں تھا؟ یہ بات خدا کی نہیں تھی۔ اس لئے قادیان میں رحمت بی بی (یعنی طاعون) نے قدم رکھ لیا۔ مرزابشیر احمد اعتراف کرتا ہے کہ قادیان میں سخت طاعون آیا تھا اور مرزاغلام احمد قادیانی کے پڑوسیوں کی موتیں بھی ہوئیں تھیں۔ اس نے لکھا: ’’قادیان میں طاعون آئی اور بعض اوقات کافی سخت حملے بھی ہوئے۔ مگر اپنے وعدہ کے مطابق خدا نے اسے اس تباہ کن ویرانی سے بچایا جو اس زمانہ میں دوسرے دیہات میں نظر آرہی تھی۔ پھر خدا نے حضرت مسیح موعود کے مکان کے اردگرد بھی طاعون کی تباہی دکھائی اور آپ کے پڑوسیوں میں کئی موتیں ہوئیں۔‘‘

(سلسلہ احمدیہ ص۱۲۲، مطبوعہ قادیان ۱۹۳۹ء)

قادیانی اخبار الحکم نے مورخہ ۱۰؍اپریل ۱۹۰۴ء کی اشاعت میں لکھا: ’’’ ﷲتعالیٰ کے امر ومنشاء کے ماتحت قادیان میں طاعون مارچ کی اخیر تاریخوں میں پھوٹ پڑا۔ ۴اور۶ کے درمیان روزانہ موتوں کی اوسط ہے۔

ان دنوں اخبار اہل حدیث امرتسر نے ۲۲؍اپریل ۱۹۰۴ء کی اشاعت میں بھی یہ خبر دی تھی کہ: ’’قادیان میں آج کل سخت طاعون ہے۔ مرزاقادیانی اور مولوی نوردین کے تمام مرید قادیان سے بھاگ گئے ہیں۔ مولوی نوردین کا خیمہ قادیان سے باہر ہے۔‘‘

یہ نہ سمجھئے کہ یہ اخبار مخالفین کے ہیں۔ خود مرزاقادیانی کے اپنے اخبار بدر قادیان کے ایڈیٹر نے لکھا: ’’قادیان میں جو طاعون کی چند وارداتیں ہوئی ہیں۔ ہم افسوس سے بیان کرتے ہیں کہ بجائے اس کے کہ اس نشان سے ہمارے منکر اور مکذب کوئی فائدہ اٹھاتے اور خدا کے کلام کی قدر اور عظمت اور جلال ان پر کھلتی۔ انہوں نے پھر سخت ٹھوکر کھائی۔‘‘

(اخبار بدر قادیان مورخہ ۲۴؍اپریل ۱۹۰۳ء)

اس سے پتہ چلتا ہے کہ قادیان میں طاعون داخل ہوچکا تھا اور مرزاقادیانی کی رحمت بی بی بہت سے قادیانیوں کا شکار کر چکی تھی۔ بجائے اس کے کہ قادیانی اس سے عبرت حاصل کرتے اور مرزاقادیانی پر دو بول پڑھتے الٹا مخالفوں پر برسنے لگے کہ انہیں عبرت حاصل کرنی چاہئے تھی۔ ان بھلے مانسوں سے کوئی پوچھے کہ قادیان میں طاعون کے نہ آنے کی پیش گوئی مرزاقادیانی کی تھی یا ان کے مخالفین کی؟ کچھ دنوں بعد جب طاعون کی شدت میں کمی آئی تو مرزاقادیانی نے لکھا: ’’آج کل ہر جگہ مرض طاعون زوروں پر ہے۔ اس لئے اگرچہ قادیان میں نسبتاً آرام ہے۔‘‘

(اخبار بدر قادیان مورخہ ۱۹؍دسمبر ۱۹۰۲ء)

مرزاقادیانی کے اس اعتراف سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزاقادیانی کے خدا کی یہ بات غلط ہوئی کہ قادیان طاعون سے محفوظ رہے گا۔ اگریہ بات ﷲتعالیٰ کی طرف سے ہوتی تو قادیان کبھی طاعون کا شکار نہ ہوتا۔ ﷲ کی بات سچی ہوتی ہے اور وہ اپنے مقبولوں کو کبھی بے عزت نہیں کیا کرتا۔

مرزاقادیانی نے باربار لکھا کہ انہیں خدا نے بذریعہ وحی بتایا ہے کہ قادیان چونکہ اس کے نبی کی تخت گاہ ہے۔ اس لئے وہ محفوظ رہے گا۔ مگر مرزاقادیانی کا یہ نادان مرید کس طرح دجل وفریب دیتا ہے۔ اسے ملاحظہ کیجئے اس نے لکھا: ’’قادیان میں طاعون حضرت مسیح کے الہام کے ماتحت برابر کام کر رہی ہے۔‘‘ (اخبار بدر قادیان مورخہ ۱۶؍مئی ۱۹۰۳ء)

حالانکہ لکھنا یہ چاہئے تھا کہ مرزاقادیانی کی پیش گوئی کے مطابق قادیان میں طاعون کا نام ونشان نہیں ہے۔ مگر

528

لکھا یہ جارہا ہے کہ قادیان میں طاعون اس لئے اپنا کام کر رہا ہے کہ مرزاقادیانی نے قادیان میں طاعون کے آنے کی پیش گوئی کی تھی۔ کیا یہ کھلا جھوٹ نہیں؟ افسوس کہ مرزاقادیانی اس پر کچھ نہ بولے اور اپنے مرید کی اس غلط بیانی اور دجل کی داد دیتے رہے۔ کیونکہ اس میں ان کا اپنا ہی بھلا تھا۔

پھر مرزاغلام احمد قادیانی نے کہا تھا کہ جو قادیان میں آئے گا وہ طاعون سے بچا رہے گا اور اب نوبت یہاں تک آگئی کہ خود مرزاقادیانی قادیان چھوڑ کر بھاگ آئے اور اس نے ایک کھلے باغ میں پناہ لے لی۔ یہاں سے اس نے ایک سیٹھ کے نام خط لکھا کہ: ’’میں اس وقت تک مع اپنی جماعت کے باغ میں ہوں۔ اگرچہ اب قادیان میں طاعون نہیں ہے۔ لیکن اس خیال سے کہ جو زلزلہ کی نسبت مجھے اطلاع دی گئی ہے۔ اس کی نسبت میں توجہ کر رہا ہوں۔ اگر معلوم ہوا کہ وہ واقعہ جلد اترنے والا ہے تو اس واقعہ کے ظہور کے بعد قادیان واپس چلے جائیں گے۔ بہرحال دس یا پندرہ جون تک میں اسی باغ میں ہوں۔‘‘

(مکتوبات احمدیہ ج۵ ص۳۹)

اس سے پتہ چلتا ہے کہ قادیان سے طاعون کے ختم ہونے کے باوجود مرزاقادیانی قادیان واپس جانے سے ڈرتے تھے کہ کہیں کسی کونے میں ’’رحمت بی بی‘‘ بیٹھی نہ ہو اور وہ ہلکا پھلکا حملہ ہی نہ کر دے۔ مرزاغلام احمد قادیانی کے کئی مریدوں نے محسوس کیا کہ مرزاقادیانی طاعون کے خوف سے قادیان سے بھاگ گئے ہیں۔ جب مرزابشیرالدین محمود کو پتہ چلا تو اس نے کہا کہ اس قسم کی باتیں کرنے والے بے وقوف ہیں۔ مرزابشیرالدین کہتا ہے کہ: ’’کئی بے وقوف کہہ دیا کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود طاعون سے ڈر کر باغ میں چلے گئے اور تعجب ہے کہ بعض احمدیوں کے منہ سے بھی یہ بات سنی ہے۔ حالانکہ طاعون کے ڈر سے حضرت نے کبھی اپنا گھر نہیں چھوڑا۔ اس وقت چونکہ زلازل سے متعلق آپ کو کثرت سے الہامات ہورہے تھے۔ اس لئے… الخ!‘‘ (الفضل قادیان مورخہ ۱۱؍مئی ۱۹۳۳ء)

مرزاقادیانی نے خدا سے طاعون کا یہ عذاب اس لئے مانگا تھا کہ مرزاقادیانی کی جماعت ترقی کرے اور ان کے مخالفین نیست ونابود ہو جائیں۔ مگر حالت یہ ہوگئی کہ مرزاقادیانی کے معتقدین یکے بعد دیگرے نیست ونابود ہورہے تھے۔ لاہور کے پیر بخش پنشنر پوسٹ ماسٹر نے مرزاقادیانی کے ان خصوصی مریدوں کے نام لکھے ہیں جو طاعون سے مرے تھے۔ لکھتے ہیں:

’’بڑے بڑے مرزائی طاعون سے ہلاک ہوئے۔ مثلاً مولوی برہان الدین جہلمی، محمد افضل ایڈیٹر البدر، اور اس کا لڑکا، مولوی عبدالکریم سیالکوٹی، مولوی محمد یوسف سنوری، عبد ﷲ سنوری کا بیٹا، ڈاکٹر بوڑے خان، قاضی ضیاء الدین، ملاں جمال الدین سیدوالہ، حکیم فضل الٰہی، مرزافضل بیگ وکیل، مولوی محمد علی ساکن زیرہ، مولوی نوراحمد ساکن لودھی ننگل، ڈنگہ کا حافظ…

(تردید نبوت قادیانی ص۹۶، مطبوعہ جنوری ۱۹۲۵ء)

مرزاقادیانی اپنے مریدوں کی موت سے بہت پریشان تھا۔ چنانچہ اس خوف سے کہ کہیں اس کی جماعت کی ترقی معکوس میں نہ ہو۔ یہ فتویٰ جاری کر دیا کہ قادیانی میت کو نہ غسل دیا جائے، نہ کفن پہنایا جائے۔ چار آدمی اس کا جنازہ لے کر چلیں اور سوگز کے فاصلے سے اس کی نماز جنازہ ادا کر کے اسے دفن کر دیا جائے۔ فتویٰ ملاحظہ کیجئے۔

’’جو خدانخواستہ اس بیماری میں مر جائے… ضرورت غسل کی نہیں اور نہ نیا کپڑا پہنانے کی ضرورت ہے… چونکہ مرنے کے بعد میت کے جسم میں زہر کا اثر زیادہ ترقی پکڑتا ہے۔ اس واسطے سب اس کے گرد جمع نہ ہوں۔ حسب ضرورت دو تین آدمی اس کی چارپائی کو اٹھائیں اور باقی سب دور کھڑے ہو کر مثلاً ایک سوگز کے فاصلہ پر جنازہ پڑھیں۔‘‘

(مندرجہ الفضل قادیان مورخہ ۲۱؍مارچ ۱۹۱۵ء)

529

سوقادیان میں مرزاقادیانی کے مریدوں کے جنازہ اٹھ رہے تھے اور قادیانی عوام سوالیہ نظروں سے مرزاقادیانی کی طرف دیکھ رہے تھے۔ دوسری طرف مخالفین یہ اعتراض کر رہے تھے کہ خدا کا وہ وعدہ کہاں گیا۔ جس میں قادیان کو اور قادیانیوں کو طاعون سے بچانے کی بشارت سنائی گئی تھی؟ مرزاقادیانی کے پاس اس کا کوئی جواب نہ تھا۔ کیونکہ میت ان کے سامنے تھی۔ جنازے اٹھ رہے تھے۔ گھروں میںکہرام مچا ہوا تھا۔ مرزاقادیانی نے مخالفین کے اعتراض کے جواب میں جو مؤقف پیش کیا پہلے اسے ملاحظہ کیجئے۔

’’اگر خدانخواستہ کوئی شخص ہماری جماعت سے اس مرض سے وفات پاجائے تو گو وہ ذلت کی موت ہوئی۔ لیکن ہم پر کوئی اعتراض نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ ﷲ کا ہماری جماعت سے وعدہ ہے کہ وہ متقی کو اس سے بچائے گا۔‘‘

(ملفوظات احمدیہ ج۷ ص۴۹۲)

مرزاقادیانی نے تسلیم کیا کہ طاعون کی موت ذلت کی موت ہے۔ مگر چونکہ قادیانی اس کا شکار ہور ہے تھے۔ اس لئے اس کی یہ تاویل کرلی کہ خدا نے سب قادیانیوں کو بچانے کا وعدہ نہیں کیا۔ صرف متقیوں کو بچانے کا وعدہ کیا ہے۔ لیکن جب اس سے بھی کام نہ بنا تو اب صاف کہہ دیا کہ جو قادیانی اس ذلت کی موت مرتا ہے وہ تو مرزاقادیانی کی جماعت میں سے ہی نہیں۔ اس لئے ان پر اعتراض کہاں رہا۔ نہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔

مرزاقادیانی کہتے ہیں: ’’اگر ہماری جماعت کا کوئی شخص طاعون سے مرجائے اور اس وجہ سے ہماری جماعت کو ملزم گردانا جائے تو ہم کہیں گے کہ یہ محض دھوکہ اور مغالطہ ہے۔ کیونکہ طاعون ثابت کرتی ہے کہ وہ فی الحقیقت جماعت سے الگ تھا۔‘‘ (ملفوظات احمدیہ حصہ ۶ ص۳۵۸)

لیجئے! قصہ تمام شد!! مرزاقادیانی کا یہ بیان قادیانی عوام پر بجلی بن کر گرا۔ ایک طرف تو ان کے گھر ماتم کدہ بنے ہوئے تھے۔ اس حالت میں مرزاقادیانی پر لازم تھا کہ مرنے والے قادیانی کے گھر جاتے اور ان سے تعزیت کرتے۔ انہیں تسلی دیتے۔ مرزاقادیانی نے سرے سے ہی ان مرنے والے قادیانیوں کو جماعت سے الگ قرار دے دیا۔ آپ ہی سوچیں کہ جن لوگوں نے اپنی زندگی بھر کی کمائی مرزاقادیانی کو دے دی تھی اور وہ اپنے خون پسینے کی کمائی سے مرزاقادیانی کا گھر پال رہے تھے۔ اگر وہ اس حادثہ کا شکار ہوگئے تو محض اپنے جھوٹ کو بچانے کے لئے ان غریب قادیانیوں کو جماعت سے خارج بتانا کیا ظلم وزیادتی نہیں ہے؟ اور کیا یہ ان کے زخموں پر مزید نمک پاشی کرنا نہیں؟ کیا یہ ان دکھی گھر والوں پر حملہ نہیں؟

مرزاغلام احمد قادیانی کے اس اعلان سے کہ وہ قادیانی جماعت سے نہ تھے۔ کئی قادیانی اکھڑنے لگے اور مرزاقادیانی کے چندوں کا سلسلہ کم ہونے لگا۔ جب مرزاقادیانی کو معلوم ہوا کہ ان کے اس بیان سے کئی قادیانی جماعت سے نکل کر مخالفین کی صف میں جارہے ہیں تو اس نے ایک نیا اعلان جاری کیا کہ جو قادیانی طاعون کی موت کا شکار ہوں وہ تو شہید کہلائیں گے اور ان کی شہادت کو حضور ﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کی شہادت کے مثل بتانے تک سے دریغ نہ کیا۔ مرزاقادیانی نے لکھا: ’’بعض نادان کہتے ہیں کہ جماعت احمدیہ کے بعض لوگ بھی طاعون سے ہلاک ہوئے ہیں… ہم ایسے متعصبوں کو یہ جواب دیتے ہیں کہ ہماری جماعت میں سے بعض لوگوں کا طاعون سے فوت ہونا بھی ایسا ہے جیسا کہ آنحضرت ﷺ کے بعض صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین لڑائیوں میں شہید ہوتے تھے۔‘‘ (تتمہ حقیقت الوحی ص۱۳۱، خزائن ج۲۲ ص۵۶۸)

قادیانی عوام مرزاقادیانی کی یہ دورنگی چال دیکھیں کہ پہلے تو یہ کہہ کر قادیانیوں کو تسلی دی گئی کہ طاعون قادیانیوں کے حق میں خدا کی رحمت ہے اور اس سے سلسلہ کی ترقی ہوگی۔ جب کہ مخالفین تباہ ہوںگے۔ مگر جب طاعون سے خود

530

قادیانی فوت ہونے لگے تو مرزاقادیانی نے اپنی بات کی لاج رکھنے کے لئے یہ کہا کہ وہ متقی نہ تھے۔ جب اس سے بھی کام نہ بنا تو صاف کہہ دیا کہ وہ جماعت سے خارج تھے۔ اس لئے وہ طاعون کا شکار ہوئے۔ مگر جب چندوں میں کمی ہونے لگی اور قادیانی مرزاقادیانی سے علیحدہ ہونے لگے تو جھٹ بات بدل دی اور کہا کہ یہ نہ صرف شہید ہیں بلکہ صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کی مثل ہیں۔ انا ﷲ وانا الیہ راجعون!

کیا اس دو چہرے والے آدمی سے جس کو حدیث میں منافق کہا گیا ہے۔ کچھ بھی خیر کی توقع ہوسکتی ہے؟ بڑا ہی بدنصیب ہے وہ شخص جو ان حقائق کے دیکھنے کے بعد بھی مرزاقادیانی کو خدا کا نبی اور اس کا رسول مانے۔ العیاذ بِاللہ تعالیٰ!

ہماری مذکورہ گذارشات کا حاصل یہ ہے کہ مرزاقادیانی نے ’’قادیان‘‘ کے بارے میں جو پیش گوئی کی تھی کہ خدا تعالیٰ اسے محفوظ رکھے گا وہ پیش گوئی غلط نکلی اور قادیان میں طاعون پھیلا۔ پھر کئی قادیانی اس کا شکار ہوئے اور مرزاقادیانی نے خود قادیان سے بھاگنے میں عافیت سمجھی اور ایک باغ میں جاکر چھپ گئے۔

رہا یہ سوال کہ کیا مرزاقادیانی کا اپنا گھر جسے انہوں نے ’’کشتی نوح‘‘ قرار دیا تھا اور اس کی تعمیر کے لئے چندہ بھی کیا تھا۔ اس طاعون سے محفوظ رہا؟ مرزاقادیانی کے خطوط بتاتے ہیں کہ نہیں۔ اگر ان کا گھر محفوظ ہوتا تو وہ گھر چھوڑ کر کبھی باہر نہ جاتے اور نہ اپنے گھر میں دوائیں ڈال ڈال کر اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو بچانے کی فکر کرتے۔ مرزاقادیانی کا یہ بیان قادیانیوں کے لئے مقام عبرت ہے کہ: ’’طاعون کے دنوں میں جب کہ قادیان میں طاعون کا زور تھا۔ میرا لڑکا شریف احمد بیمار ہوگیا اور ایک سخت تپ محرقہ کے رنگ میں چڑھا۔ جس سے لڑکا بالکل بے ہوش ہوگیا۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۸۴، خزائن ج۲۲ ص۸۷)

اس سے پتہ چلتا ہے کہ مرزاقادیانی کے گھر میں یہ طاعون داخل ہوا تھا۔ مرزاقادیانی کا اعتراف ملاحظہ کیجئے۔ مورخہ ۱۰؍اپریل ۱۹۰۴ء کو نواب محمد علی خان کے نام لکھے گئے خط کا یہ حصہ دیکھئے۔ ’’بڑی غوثاں (نوکرانی کا نام) کو تپ ہوگیا تھا۔ اس کو گھر سے نکال دیا ہے۔ لیکن میری دانست میں اس کو طاعون نہیں ہے۔ احتیاطاً نکال دیا ہے۔ ماسٹر محمد دین کو تپ ہوگیا اور گلٹی نکل آئی۔ اس کو بھی باہر نکال دیاہے۔ میں تو دن رات دعا کر رہا ہوں اور اس قدر زور اور توجہ سے دعا کی گئی کہ بعض اوقات ایسا بیمار ہوگیا کہ یہ وہم گذرا کہ شاید دو تین منٹ جان باقی ہے اور خطرناک آثار ظاہر ہوگئے۔‘‘

(مکتوبات احمدیہ ج۵ ص۱۱۵)

لاہور کے پیربخش پنشنر پوسٹ ماسٹر لکھتے ہیں: ’’خاص مرزاقادیانی کے گھر میں عبدالکریم اور پیراں دتہ طاعون سے ہلاک ہوئے۔‘‘ (تردید قادیانی ص۹۶)

مرزاقادیانی کے خدا نے بذریعہ وحی بتایا تھا کہ اس کی چاردیواری طاعون سے محفوظ رہے گی۔ لیکن مرزاقادیانی کی چاردیواری بھی محفوظ نہ رہی۔ اگر انہیں واقعی اس وحی پر یقین ہوتا تو وہ اپنے نوکر اور نوکرانی کو کبھی گھر سے باہر نہ نکالتا۔ ان دونوں کا طاعون کی لپٹ میں آنا اور مرزاقادیانی کا گھبرا کر دونوں کو نکال دینا واضح کرتا ہے کہ مرزاقادیانی کی یہ رحمت بی بی (طاعون) اس کے گھر قدم رنجہ فرما چکی تھی۔ معلوم نہیں مرزاقادیانی نے گھر بلائے مہمان کو باربار نکالنے کی کوشش کیوں کی اور وہ کیوں فینائل ڈال کر اسے ختم کرنے کی سازشیں کرتے رہے؟

مرزاقادیانی کا یہ خوف اور ان کی یہ احتیاط اور بچاؤ کی متعدد ترکیبیں ثابت کرتی ہیں کہ مرزاقادیانی اپنی پیش گوئی میں جھوٹے تھے اور انہوں نے جھوٹ بول کر اپنے لئے لعنت کا داغ خریدا۔ یہ الفاظ ان کے ہیں اور ہم انہی کے الفاظ انہی کی نذر کرتے ہیں۔

531

’’خدا پر جھوٹ باندھنا لعنت کا داغ خریدنا ہے۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۴۱۸، تریاق القلوب ص۱۱۹، خزائن ج۱۵ ص۴۰۹)

آپ ہی فیصلہ کریں کہ جو خدا پر جھوٹ باندھ کر لعنت کا داغ خریدتا ہے تو کیا یہ داغ اسے نہیں ملے گا۔ جو اس جھوٹ کو نہ صرف یہ کہ مانتا ہے۔ بلکہ اس جھوٹے کو خدا کا مامور قرار دینے سے بھی باز نہیں آتا۔ قادیانی عوام سوچیں کہ لعنت کا داغ خریدنا عقلمندی ہے؟

زلزلہ

’’زندگی میں اس کا ظہور نہ ہوا تو میں خدا کی طرف سے نہیں۔‘‘

(ضمیمہ براہین احمدیہ ص۹۳، خزائن ج۲۱ ص۲۵۳)

مرزاقادیانی کے اس بیان پر قادیانیوں نے سکھ کا سانس لیا کہ اب بات کسی کنارے لگی ہے۔ اگر یہ زلزلہ مرزاقادیانی کی زندگی میں نہ آیا اور مخالفین کو دھکا نہیں لگا تو پھر قادیانیوں کی خیر نہیں۔ زلزلہ کا نہ آنا نہ صرف یہ کہ قادیانیوں کے لئے قیامت کا نمونہ ہوگا۔ بلکہ مرزاغلام احمد قادیانی کا پرلے درجے کا جھوٹا ہونا اور ﷲ پر جھوٹ باندھنا بھی سب پر کھل جائے گا۔ مرزاقادیانی اور ان کے اصحاب زلزلہ آنے کے لئے دعائیں کرتے رہے۔ لیکن زلزلہ کو نہ آنا تھا نہ وہ آیا۔

مرزاغلام احمد قادیانی نے (براہین احمدیہ حصہ پنجم ۱۹۰۵ء) میں لکھنی شروع کی اور اس کا ضمیمہ اس کے بھی بعد لکھا۔ یہ کتاب مورخہ ۱۵؍اکتوبر ۱۹۰۸ء کو (یعنی مرزاقادیانی کے فوت ہونے کے تقریباً پانچ مہینے کے بعد) شائع ہوئی۔ آپ کسی بھی قادیانی سے دریافت کریں کہ کیا مرزاقادیانی کی یہ پیش گوئی پوری ہوئی تھی؟ کیا (براہین احمدیہ حصہ پنجم) کی مذکورہ عبارت لکھنے کے بعد مرزاقادیانی کی زندگی میں یہ زلزلہ آیا تھا؟ اگر نہیں آیا اور یقینا نہیں آیا تو آپ ہی بتائیں کہ مرزاقادیانی پر آنے والی زلزلہ کی باربار وحی اختراعی یا شیطانی نہیں تو اور کیا تھی؟ اگر یہ بات رحمانی ہوتی تو خداتعالیٰ کی یہ بات ضرور پوری ہوتی ﷲتعالیٰ اپنی بات ہمیشہ پوری کرتے ہیں۔ مرزاقادیانی کی یہ بات اس لئے پوری نہیں ہوئی کہ وہ مفتری اور کذاب تھا۔ سو خداتعالیٰ نے اسی دنیا میں اسے ذلیل ورسوا کردیا۔

ہم قادیانی عوام سے گذارش کریں گے کہ وہ مرزاغلام احمد قادیانی کی اس عبارت کو پھر سے پڑھیں اور خود فیصلہ کریں کہ مرزاغلام احمد قادیانی اپنی بات میں سچا تھا یا یہ جھوٹ کا کاروبار تھا۔ جو اس نے چلا رکھا تھا۔ مرزاقادیانی نے لکھا: ’’آئندہ زلزلہ کی نسبت جو پیش گوئی کی گئی ہے وہ کوئی معمولی پیش گوئی نہیں۔ اگر وہ آخر کو معمولی بات نکلی یا میری زندگی میں اس کا ظہور نہ ہوا تو میں خدا کی طرف سے نہیں۔‘‘ (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۹۲، خزائن ج۲۱ ص۲۵۳)

مرزاقادیانی کے دعویٰ کے مطابق ان کی زندگی میں زلزلہ نہیں آیا اور مرزاقادیانی بقلم خود کذاب ٹھہرے اور انہوں نے یہ فیصلہ دے دیا کہ وہ خدا کی طرف سے نہیں۔ اب بھی اگر قادیانی عوام مرزاقادیانی کو خدا کی طرف سے آیا ہوا مانیں تو یہ ان کی بدبختی اور بدنصیبی نہیں تو اور کیا ہے؟ فاعتبروا یا اولی الابصار!

گیارھویں پیش گوئی … مرزاغلام احمد قادیانی کی عمر کی پیش گوئی

جس کو سچ ثابت کرنے میں قادیانی ناکام رہے ہیں

انسان کے اس دنیا میں آنے سے پہلے ہی ﷲتعالیٰ اس کی عمر کا فیصلہ فرمادیتے ہیں اور جب وقت مقرر آجاتا ہے تو اسے اس دنیا سے واپس جانا پڑتا ہے۔ اس پہلو سے اگر کسی کی عمر بڑی ہو یا چھوٹی کوئی قابل تعجب بات نہیں ہوتی اور نہ

532

اس پر کبھی اس نے مناظرہ ومباحثہ کے چیلنج دئیے ہیں اور نہ کسی نے اسے حق وباطل کا معیار بنایا ہے۔ کیونکہ یہ وہ مسئلہ ہے جس کا علم سوائے خدا کے کسی کو نہیں ہوتا۔ اب اگر کوئی شخص یہ دعویٰ کرے کہ اسے خدا نے بتادیا ہے کہ اسے عمر کے اتنے سال ملیں گے اور وہ لوگوں کو اس کی اطلاع کرے اور اسے اپنے سچ اور جھوٹ کا معیار بنائے تو لازماً ہر شخص کو جستجو ہوگی کہ اس کی عمر دیکھی جائے اور اسے اس کے اپنے دعویٰ پر پرکھا جائے کہ آیا وہ اپنی بات میں سچ کہہ رہا ہے یا یہ کذب محض ہے۔

مرزاغلام احمد قادیانی اس اعتبار سے واقعی اپنی مثال آپ تھا کہ وہ اپنے دعویٰ کو منوانے کے لئے بے تکی سی پیش گوئیاں کر دیتا تھا۔ جب لوگ اس پیش گوئی کی تحقیق میں اترتے اور اسے جھوٹا قرار دیتے تو مرزاغلام احمد قادیانی فوراً اپنی بات کی تاویل کر دیتا اور بحث پھر ایک دوسرا موضوع اختیار کر لیتی۔ سب دیکھتے کہ مرزاغلام احمد قادیانی جھوٹ پر جھوٹ بول رہا ہے اور اس کی پیش گوئی غلط ہوئی ہے۔ مگر نہ اسے توبہ کی توفیق ہوتی اور نہ اسے سچ کا سامنا کرنے کی ہمت ہوتی۔

مرزاغلام احمد قادیانی جب اپنی پیش گوئیوں میں ناکام ہوتا گیا تو اب اسے ایک نئی پیش گوئی کی سوجھی۔ یہ پیش گوئی اس کی اپنی عمر کی پیش گوئی تھی۔ ﷲتعالیٰ کے کسی نبی تو کجا خدا کے کسی مقربین نے بھی کبھی اس قسم کی کوئی پیش گوئی نہیں کی کہ میں اگر اتنی عمر پاکر مروں گا تو میں سچا ہوں گا ورنہ تم مجھے جھوٹا سمجھنا۔ لیکن قادیان کے مرزاغلام احمد قادیانی نے واقعی یہ پیش گوئی کر دی۔ مرزاقادیانی نے اعلان کیا کہ ﷲتعالیٰ نے اسے یہ خبر دی ہے: ’’وتری نسلاً بعیدا ولنحیینک حیٰوۃ طیبۃ ثمانین حولا اوقریباً من ذالک‘‘ (ازالہ اوہام ص۶۳۵، خزائن ج۳ ص۴۴۳)

اس سے پتہ چلتا ہے کہ ﷲتعالیٰ نے مرزاغلام احمد قادیانی کو اسی سال یا اس کے قریب قریب عمر پانے کی خبر دی۔ یہ محض خبر نہیں تھی۔ خدا کی طرف سے بشارت بھی تھی۔ مرزاغلام احمد قادیانی کہتا ہے۔ ’’فبشرنا ربنا بثمانین سنۃ من العمر وھو اکثر عددا‘‘ میرے رب نے مجھے بشارت دی ہے کہ تیری عمر اسی برس یا اس سے زیادہ ہوگی۔‘‘

(مواہب الرحمن ص۲۱، خزائن ج۱۹ ص۲۳۹)

مرزاغلام احمد قادیانی نے یہی بات اپنی دوسری کتاب (نشان آسمانی ص۱۳) پر بھی لکھی ہے۔ مرزاغلام احمد قادیانی کے بعض معتقدین کو جب اس بشارت کی خبر ملی تو انہوں نے خیال کیا کہ شاید مرزاغلام احمد قادیانی کو اس کا وہم ہوا ہو۔ مرزاقادیانی کو ان کی بات کی اطلاع ہوئی تو اس نے کہا کہ یہ وہم نہیں ہے۔ خدا نے اسے یہ بات کھلے لفظوں میں بتائی ہے۔

’’خدا نے مجھے صریح لفظوں میں اطلاع دی تھی کہ تیری عمر اسی برس کی ہوگی یا یہ کہ پانچ چھ سال زیادہ یا پانچ سال کم۔‘‘ (براہین احمدیہ حصہ۵ ص۹۷، خزائن ج۲۱ ص۲۵۸)

مرزاغلام احمد قادیانی کے مخالفین کو جب اس بات کا علم ہوا تو انہوں نے مرزاغلام احمد قادیانی کی کھلی تردید کی اور کہا کہ ﷲتعالیٰ اس قسم کی باتوں سے منزہ اور پاک ہیں۔ یہ سب مرزا کی اپنی دماغی اختراع ہے۔ مرزاغلام احمد قادیانی کو جب ان کی بات کی خبر پہنچی تو اس نے جواب میں لکھا کہ: ’’اس طرح ان لوگوں کے منصوبوں کے برخلاف خدا نے مجھے وعدہ دیا کہ میں ۸۰برس یا دوتین برس کم یا زیادہ تیری عمر کروں گا۔ تاکہ لوگ کمی عمر سے کاذب ہونے کا نتیجہ نہ نکال سکیں۔‘‘

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص۸، خزائن ج۱۷ ص۴۴، اربعین نمبر۳ ص۵۲، خزائن ج۱۷ ص۳۹۴)

قبل اس کے ہم مرزاقادیانی کی عمر پر کچھ بحث کریں۔ قارئین اس پر غور کریں کہ کیا یہ بات خدا کی ہوسکتی ہے؟ ایک ایسی وحی جس کے بھیجنے والے کو بھی پتہ نہیں کہ وحی پانے والے شخص کی عمر آخر کتنی ہوگی؟ اسی برس، دوچار کم یا دوچار

533

زیادہ۔ کیا خدا کو معلوم نہیں تھا کہ مرزاغلام احمد قادیانی کس تاریخ کو کس دن کتنے بجے کتنے منٹ اور کتنے سیکنڈ پر مرے گا؟ اگر اسے معلوم تھا کہ مرزا غلام احمد قادیانی ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء کو صبح ساڑھے دس بجے آنجہانی ہوگا تو اس نے تاریخ وفات کیوں نہ بتائی۔ یہ دو چار کم یا دوچارزیادہ کا باربار مذاق کس لئے کیا؟ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مرزاغلام احمد قادیانی کو یہ وحی اس نے بھیجی ہے جسے خود بھی معلوم نہیں کہ مرزاقادیانی کے پاس موت کا فرشتہ کب آنے والا ہے۔ مگر افسوس کہ مرزاقادیانی اپنی عمر کی بحث کو خواہ مخواہ سچ اور جھوٹ کا معیار بنانے لگ گئے اور یوں اپنے ہاتھوں اپنی رسوائی کا سامان تیار کر لیا۔ مرزاغلام احمد قادیانی نے اسی برس یا اس سے کم زیادہ عمر پانے کی پیش گوئی کی تھی۔ اب اس کی تشریح بھی اسی سے سنئے۔ اس نے لکھا کہ: ’’جو ظاہر الفاظ وحی کے وعدہ کے متعلق ہیں وہ تو چوہتر اور چھیاسی کے اندر اندر عمر کی تعین کرتے ہیں۔‘‘

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۹۶، خزائن ج۲۱ ص۲۵۹)

یعنی اگر مرزاقادیانی ۷۴اور ۸۶ سال کے اندر مر گئے تو بات قابل فہم ہوگی اور اس کی پیش گوئی پوری سمجھی جائے گی اور اگر اس سے پہلے وہ آنجہانی ہوجائیں تو یہ اس کے جھوٹا ہونے پر ایک اور مہر ثابت ہوگی۔ صاف اور سیدھی بات یہ ہے کہ کسی شخص کی عمر معلوم کرنے کے لئے اس کی تاریخ ولادت اور سال وفات دیکھ لینا چاہئے۔ اس کے لئے کسی لمبے چوڑے علم کی ضرورت نہیں ہے۔

مسلمانوں اور قادیانیوں میں اس بات پر کوئی اختلاف نہیں ہے کہ مرزاغلام احمد قادیانی مورخہ ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء کو آنجہانی ہوئے ہیں۔ اب صرف یہ معلوم کرنا باقی ہے کہ مرزاقادیانی کس سال پیدا ہوئے تھے؟ بجائے اس کے کہ ہم کچھ کہیں مرزاغلام احمد قادیانی کی اپنی تحریرات سے اس کا فیصلہ کر لیں۔ مرزاغلام احمد قادیانی اپنے حالات میں لکھتا ہے: ’’میری پیدائش ۱۸۳۹ء یا ۱۸۴۰ء میں سکھوں کے آخری وقت میں ہوئی اور میں ۱۸۵۷ء میں سولہ برس یا سترھویں برس میں تھا اور ابھی رشی وبروت کا آغاز نہیں تھا۔‘‘ (کتاب البریہ ص۱۵۹ حاشیہ، خزائن ج۱۳ ص۱۷۷)

یہ مرزاغلام احمد قادیانی کی اپنی تحریر ہے۔ اس میں کہیں بھی کوئی پیچیدگی نہیں اور نہ تقریباً وغیرہ کے الفاظ ہیں نہ یہ لکھا ہے کہ یہ بات تخمینی ہے۔ صاف اور صریح لفظوں میں سال ولادت ۱۸۳۹ء یا ۱۸۴۰ء لکھا ہوا ہے۔

مرزاغلام احمد قادیانی نے اس بات کی تائید اس سے بھی کی ہے کہ جب اس کے والد مرزاغلام مرتضیٰ فوت ہوئے تو اس کی عمر ۳۴،۳۵برس کی تھی۔ اس نے کہا: ’’میری عمر ۳۴،۳۵برس کی ہوگی جب والد صاحب کا انتقال ہوا۔‘‘

(کتاب البریہ ص۱۷۴، خزائن ج۱۳ ص۱۹۲)

مرزاغلام مرتضیٰ کا انتقال ۱۸۷۴ء میں ہوا۔ اس کا اقرار مرزاغلام احمد قادیانی نے اپنی کتاب (نزول المسیح ص۱۱۶، خزائن ج۱۸ ص۴۹۴) پر کیا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ مرزاقادیانی کی ولادت ۱۸۳۹ء یا ۱۸۴۰ء میں ہی ہوئی تھی۔ پھر مرزاغلام احمد قادیانی نے ایک اور عنوان سے بھی اپنے سال ولادت کی خبر دی ہے۔ مرزاغلام احمد قادیانی کا بیٹا مرزابشیر احمد لکھتا ہے۔ حضرت مسیح موعود فرماتے تھے۔ ’’جب سلطان احمد پیدا ہوا اس وقت ہماری عمر صرف سولہ سال کی تھی۔‘‘

(سیرۃ المہدی حصہ اوّل ص۲۷۳، بروایت۲۸۳)

یہ بات صرف مرزابشیر احمد ہی نہیں کہتے بلکہ قادیانیوں کے سب سے محتاط شخص اور مرزاقادیانی کے قریبی دوست مولوی شیر علی بھی کہتے ہیں۔ مرزابشیر احمد کا بیان ہے کہ اس کا بھائی یعنی سلطان احمد ۱۸۵۶ء میں پیدا ہوا۔ دیکھئے

534

(سیرۃ المہدی حصہ دوم ص۱۵۰، روایت نمبر۴۶۷) اس حساب سے مرزاغلام احمد قادیانی ۱۸۴۰ء میں پیدا ہوا تھا۔

مرزاغلام احمد قادیانی کا سال ولادت ۱۸۳۹ء یا ۱۸۴۰ء تھا اور سال وفات ۱۹۰۸ء۔ اب آپ حساب کر لیں کہ مرزاغلام احمد قادیانی نے کل کتنی عمر پائی تھی؟ اگر سال ولادت ۱۸۳۹ء تسلیم کیا جائے تو کل عمر ۶۹سال بنتی ہے اور ۱۸۴۰ء مان لی جائے تو کل عمر ۶۸سال کی ہوئی ہے۔

اب مرزاغلام احمد قادیانی پر ہوئی وحی اور بشارت نیز خدائی وعدہ کو پھر ایک مرتبہ پڑھ لیجئے۔ ’’تیری عمر اسی برس کی ہوگی یا یہ کہ پانچ چھ سال زیادہ یا پانچ چھ سال کم۔‘‘

اگرچوہتر سال مانیں تو پانچ سال کم اور اسی سال مانیں تو پورے گیارہ سال کم اور چھیاسی سال مانیں تو پورے سترہ سال کم ہیں۔ اب آپ ہی فیصلہ کریں کہ مرزاغلام احمد قادیانی کی یہ الہامی پیش گوئی درست ہوئی یا یہ بھی دیگر پیش گوئیوں کی طرح جھوٹی ثابت ہوئی۔ ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء کو مرزاغلام احمد قادیانی کی وفات پر قادیانیوں کو توبہ کر کے مسلمانوں کی صف میں شامل ہوجانا چاہئے تھا کہ مرزاغلام احمد قادیانی کا کذاب ہونا سب پر کھل چکا تھا۔ مگر افسوس کہ انہوں نے دجل وفریب کا راستہ اختیار کیا اور مرزاغلام احمد قادیانی کے سال ولادت میں تبدیلیاں کرنی شروع کردیں۔ جہاں جہاں مرزاغلام احمد قادیانی نے اپنا سال ولادت لکھا اس کی تاویل کی۔ جہاں سے صحیح بات معلوم ہوتی تھی اس میں دجل کی راہ چلائی۔ جو لوگ خود اپنے ہاتھوں مرزا غلام احمد قادیانی کی زندگی میں اس کا سال ولادت ۱۸۳۹ء بتاتے رہے بعد میں وہی لوگ اپنی تحریر بدلتے رہے۔ انہیں یہ تبدیلی کی ضرورت محض اس لئے پیش آئی کہ کسی نہ کسی طرح مرزاغلام احمد قادیانی کا سال ولادت وہ بتایا جائے جس سے مرزاقادیانی کی پیش گوئی پوری ہو جائے۔ کیا یہ کھلا دجل نہیں؟ اور کیا یہ قادیانی عوام سے سچی بات کو چھپانے کی ایک ناکام کوشش نہیں؟ بعض قادیانی کہتے ہیں کہ مرزاغلام احمد قادیانی نے اپنا سال ولادت اس وقت بتایا جب وہ مراحل نبوت طے کر رہا تھا۔ ہوسکتا ہے کہ ان کی یہ بات پہلی زندگی کی ہو۔ جو ہمارے لئے حجت نہیں۔ ہاں ۱۹۰۱ء اور اس کے بعد کی کوئی تحریر ہو تو قابل غور ہوسکتی ہے؟

جواباً گذارش ہے کہ مرزاغلام احمد قادیانی کی کتاب ’’نزول المسیح‘‘ ۱۹۰۲ء کی تصنیف ہے۔ مرزاغلام احمد قادیانی نے اپنی عمر کے بارے میں جو پیش گوئیاں کی تھیں۔ اس میں الہام وحی بشارت اور وعدہ کے الفاظ موجود ہیں۔ اگر قادیانیوں کو اس سے بھی تسلی نہ ہو تو ہم مرزاغلام احمد قادیانی کا وہ بیان بھی پیش کئے دیتے ہیں جو اس نے ۱۶؍مئی ۱۹۰۱ء کو گورداسپور کی عدالت میں مرزانظام الدین کے مقدمہ میں بطور گواہ کے دیا تھا۔ اس نے بھری عدالت میں کہا: ’’ ﷲتعالیٰ حاضر ہے۔ میں سچ کہوں گا۔ میری عمر ساٹھ سال کے قریب ہے۔‘‘

(قادیانی اخبار الحکم ج۵ نمبر۲۹، منظور الٰہی ص۲۴۱، مرتبہ منظور الٰہی قادیانی)

مرزاغلام احمد قادیانی کی وفات ۱۹۰۸ء ہے۔ اگر ۱۹۰۱ء میں مرزاقادیانی ساٹھ سال کے تھے تو ۱۹۰۸ء میں کتنے سال کے ہوئے۔ اتنی بات سے تو مرزاطاہر اور مرزا مسرور وغیرہ بے خبر نہ ہوںگے۔

قادیانی علماء اور خلفاء نے مرزاغلام احمد قادیانی کی اس پیش گوئی میں تحریف وتاویل کے بڑے عجیب کرتب دکھائے ہیں۔ جس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ سب کے سب اس پیش گوئی سے بہت پریشان ہیں اور یہ لوگ اسے جس قدر ۸۰سال والی پیش گوئی کے قریب لانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ مسئلہ ان کے لئے اتنا ہی زیادہ پیچیدہ ہو جاتا ہے اور ان سے بات بنائے نہیں بنتی… اور مرزاغلام احمد قادیانی کا کذاب ہونا اور روشن ہوجاتا ہے۔

535

۱۹۰۷ء میں ڈاکٹر عبدالحکیم خان نے ایک بحث میں کہا تھا کہ مرزاغلام احمد قادیانی مورخہ ۴؍اگست ۱۹۰۸ء کو مر جائے گا۔ اس کا اعتراف مرزاغلام احمد قادیانی نے اپنی کتاب ’’چشمہ معرفت‘‘ میں کیا ہے۔ دیکھئے (چشمہ معرفت ص۳۲۲، خزائن ج۲۳ ص۳۳۷) مرزا قادیانی نے اس کے جواب میں کہا کہ ایسا ہرگز نہ ہوگا بلکہ اس کی عمر بڑھے گی اور یہ بات اسے خدا نے کہی ہے۔ مرزاقادیانی نے ۵؍نومبر ۱۹۰۷ء کو ایک اشتہار شائع کیا کہ اسے خدا نے بذریعہ وحی بتایا ہے کہ: ’’اپنے دشمن سے کہہ دے کہ خدا تجھ سے مواخذہ لے گا… اور آخر میں اردو میں فرمایا کہ میں تیری عمر کو بڑھادوں گا۔ یعنی دشمن جو کہتا ہے کہ صرف جولائی ۱۹۰۷ء میں چودہ مہینے تک تیری عمر کے دن رہ گئے ہیں یا ایسا ہی جو دوسرے دشمن پیش گوئی کرتے ہیں۔ ان سب کو میں جھوٹا کروں گا اور تیری عمر کو بڑھادوں گا۔ تامعلوم ہوکہ میں خدا ہوں اور ہر ایک امر میرے اختیار میں ہے۔‘‘ (مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۵۹۱)

مرزاغلام احمد قادیانی کا تو یہاں تک کہنا تھا کہ اس کی عمر ۹۵سال تک ہو جائے گی اور خدا کے ایک مقرب نے اس پر آمین تک کہہ دی ہے۔ اس نے بتایا کہ وہ ایک قبر پر ہے اور صاحب قبر اس کے سامنے بیٹھا ہے۔ مرزاقادیانی کو خیال آیا کہ اس مقرب سے ضروری ضروری دعائیں کراکر اس پر آمین کہلوا دی جائے تاکہ بات پکی ہو جائے۔ پھر اس نے دعائیں شروع کر دیں اور وہ آمین کہتا جاتا تھا۔ اب آگے پڑھئے:

’’اتنے میں خیال آیا کہ یہ دعا بھی مانگ لوں کہ میری عمر ۹۵سال ہو جائے میں نے دعا کی اس نے آمین نہ کہی میں نے وجہ پوچھی وہ خاموش رہا۔ پھر میں نے سخت تکرار اور اصرار شروع کیا۔ یہاں تک کہ اس سے ہاتھا پائی کرتا تھا۔ بہت عرصہ کے بعد اس نے کہا اچھا دعا کرو میں آمین کہوں گا۔ چنانچہ میں نے دعا کی کہ الٰہی میری عمر ۹۵برس کی ہو جاوے۔ اس نے آمین کہی۔‘‘

(البدر مورخہ ۱۸؍ستمبر ۱۹۰۳ء ص۳۷۴، تذکرہ ص۴۹۷، طبع سوم)

افسوس کہ مرزاقادیانی کی عمر ۹۵سال نہ ہوئی۔ ورنہ اس مقرب کے ساتھ ساتھ اس کے بھی وارے نیارے ہو جاتے۔ سو مرزامسرور وغیرہ بتائیں کہ مرزاغلام احمد قادیانی جولائی ۱۹۰۷ء سے چودہ مہینہ کے اندر مر گئے یا نہیں؟ اور اشتہار شائع کرنے کے سات ماہ بعد آنجہانی ہوئے یا نہیں؟ خدا نے اس کے دشمنوں کی بات پوری کی۔ اس کی عمر نہیں بڑھائی۔ اسے جھوٹا کیا۔ قادیانی عوام اگر ضد اور ہٹ دھرمی چھوڑ کر مرزاغلام احمد قادیانی کا مذکورہ بیان دیکھیں تو انہیں مرزاغلام احمد قادیانی کے جھوٹا ہونے میں ذرا بھی شک نہیں رہے گا۔ مرزاقادیانی نے اپنی (اسی سال اور اس کے قریب والی) پیش گوئی کو نقل کرنے کے بعد یہ فیصلہ کن بات بھی لکھی ہے: ’’اب جس قدر میں نے بطور نمونہ کے پیش گوئیاں بیان کی ہیں۔ درحقیقت میرے صدق یا کذب آزمانے کے لئے کافی ہیں۔‘‘ (ازالہ اوہام ص۶۳۵، خزائن ج۳ ص۴۴۲)

مرزاغلام احمد قادیانی کی اس تصریح کی رو سے دیکھیں تو کسی شخص کو یہ فیصلہ کرنے میں دشواری نہ ہوگی کہ مرزاغلام احمد قادیانی کی یہ پیش گوئی جھوٹی ثابت ہوئی اور وہ اپنی ہی تحریر کی رو سے جھوٹا ثابت ہوا۔ اب بھی اگر کوئی اسے جھوٹا نہ مانے تو ہم کیا کرسکتے ہیں۔

خلاصہ بحث یہ کہ الہامی دعویٰ اور خدائی وحی اور بشارتوں کی روشنی میں مرزاقادیانی کی عمر کم ازکم ۷۴سال اور زیادہ سے زیادہ ۸۶سال ہونی چاہئے تھی۔ مگر مرزاقادیانی ۱۹۰۸ء کو بعمر ۶۸یا۶۹سال آنجہانی ہوگئے۔ اس لئے وہ سب پیش گوئیاں جو مرزاقادیانی نے اپنی عمر کے بارے خدا کے نام سے کی تھیں سب جھوٹی نکلیں اور مرزاقادیانی کا کذاب ہونا کسی دلیل کا محتاج نہ رہا۔ فاعتبروا یا اولی الابصار!

536

بارھویں پیش گوئی … پنڈت لیکھرام کی موت کی پیش گوئی

مرزاغلام احمد قادیانی نے کہا پنڈت خرق عادت طور پر مرے گا۔ مگر وہ چھری سے مارا گیا

مرزاغلام احمد قادیانی اور آریہ پنڈت لیکھرام کے درمیان معرکہ آرائی اور بدزبانی کے قصوں نے پورے ملک میں بہت شہرت پائی تھی۔ یہ دونوں ایک دوسرے کو جی بھر کر برا بھلا کہتے تھے اور بدزبانیاں تو ان کے دن رات کا معمول بن چکا تھا۔ پنڈت لیکھرام سے تو توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ اپنی زبان پر قابو رکھے گا اور شریفانہ گفتگو اختیار کرے گا۔ مگر مرزاغلام احمد قادیانی جواب ترکی بہ ترکی دینے میں پنڈت سے کچھ کم نہ تھا۔ لوگ کہہ رہے تھے کہ ایک شخص جو اپنے آپ کو خدا کا ترجمان اور اس کا نبی کہتا ہے۔ اسے اس قسم کی زبان استعمال کرتے ہوئے ذرا بھی حیاء نہیں آرہی ہے؟ مرزاقادیانی نے آریہ قوم کے خلاف جو زبان استعمال کی ہے۔ ہم اسے کسی دوسرے وقت بیان کریں گے۔ سردست ان کی ایک تحریر دیکھیں اور فیصلہ کریں کہ مرزاقادیانی بدکلامی میں کس نیچی سطح تک گر چکے تھے۔

مرزاقادیانی لکھتے ہیں: ’’آریوں کا پرمیشر ناف سے دس انگل نیچے ہے ۔ سمجھنے والے سمجھ لیں۔‘‘

(چشمہ معرفت ص۱۰۶، خزائن ج۲۳ ص۱۱۴)

کیا یہ انداز کلام کسی مامور من ﷲ کے مدعی کا ہوسکتا ہے؟ اس سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ مرزاقادیانی تہذیب وشرافت سے کس قدر دور تھے؟

مرزاغلام احمد قادیانی اور پنڈت لیکھرام کے مابین زبانی اور تحریری مباحثے ہوتے۔ جب اس سے کوئی بات نتیجہ خیز نہ ہوئی تو مرزاغلام احمد قادیانی نے ایک دن پنڈت لیکھرام سے کہا کہ اگر تم کہو تو میں تمہیں قضاء وقدر کا معاملہ بتاتا ہوں۔ جو تمہارے ساتھ ہونے والا ہے۔ پنڈت نے کہا بتادو۔ چنانچہ مرزاغلام احمد قادیانی نے پنڈت لیکھرام کے بارے میں ایک پیش گوئی کر دی اور کہا کہ: ’’خداوند کریم نے مجھ پر ظاہر کیا کہ آج کی تاریخ سے جو ۲۰؍فروری ۱۸۹۳ء ہے۔ چھ برس کے عرصہ تک یہ شخص اپنی بدزبانیوں کی سزا میں مبتلا ہو جائے گا سو اب میں اس پیش گوئی کو شائع کر کے تمام مسلمانوں اور آریوں اور عیسائیوں اور دیگر فرقوں پر ظاہر کرتا ہوں کہ اگر اس شخص پر چھ برس کے عرصہ میں آج کی تاریخ سے کوئی ایسا عذاب نازل نہ ہوا جو معمولی تکلیفوں سے نرالا اور خارق عادت اور اپنے اندر الٰہی ہیبت رکھتا ہو تو سمجھو کہ میں خداتعالیٰ کی طرف سے نہیں اور نہ اس کی روح سے میرا یہ نطق ہے اور اگر میں اس پیش گوئی میں کاذب نکلا تو ہر ایک سزا کے بھگتنے کے لئے تیار ہوں اور اس بات پر راضی ہوں کہ مجھے گلہ میں رسہ ڈال کر کسی سولی پر کھینچا جائے۔‘‘

(آئینہ کمالات اسلام ص۶۵۰،۶۵۱، خزائن ج۵)

مرزاغلام احمد قادیانی کی اس تحریر کو پھر سے ایک مرتبہ بغور ملاحظہ کیجئے۔ مرزاقادیانی نے پنڈت لیکھرام کی موت کی پیش گوئی کن الفاظ میں کی ہے؟ کہ پنڈت پر ایسا عذاب نازل ہوگا جو نرالا اور خارق عادت ہوگا۔ یعنی ایسا عذاب جس میں کسی انسانی ہاتھ کا دخل نہیں ہوگا۔ اس عذاب کو دیکھتے ہی لوگ پکار اٹھیں گے کہ یہ خدائی پکڑ ہے اور یہ انسان کے بس سے باہر ہے۔ مرزاغلام احمد قادیانی کے نزدیک خرق عادت کسے کہتے ہیں اسے بھی ملاحظہ کیجئے۔ ’’جس امر کی کوئی نظیر نہ پائی جائے اسی کو دوسرے لفظوں میں خارق عادت کہتے ہیں۔‘‘ (سرمہ چشم آریہ ص۱۹ حاشیہ، خزائن ج۲ ص۶۷)

537

مرزاقادیانی نے ایک اور جگہ لکھا: ’’خارق عادت اسی کو تو کہتے ہیں کہ جس کی نظیر دنیا میں نہ پائی جائے۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۱۹۶، خزائن ج۲۲ ص۲۰۴)

اس بات کو کچھ عرصہ گذرا تھا کہ پنڈت لیکھرام کو کسی نے چھری سے وار کر کے قتل کر دیا۔ مرزاغلام احمد قادیانی کو جب یہ خبر پہنچی کہ پنڈت لیکھرام خرق عادت کے طور پر عذاب میں مبتلا نہیں ہوا بلکہ اسے کسی نے چھری سے قتل کر دیا ہے تو اس کی ساری امیدوں پر پانی پھر گیا۔ بجائے اس کے کہ وہ اپنی غلطی کا اعتراف کرلیتا اور پیش گوئی کے غلط ہونے کا اقرار کرتا۔ جھٹ سے اپنی پیش گوئی میں یہ سوچ کر تحریف کر ڈالی کہ پرانے جھگڑے کسے یاد رہتے ہیں۔

(آئینہ کمالات اسلام ص۹۳، سنہ۱۸۹۲ء) میں مرزاقادیانی نے اپنی پیش گوئی درج کی ہے۔ مگر جب مرزاقادیانی نے (نزول المسیح ۱۹۰۲ء میں) لکھی تو اس میں پنڈت لیکھرام کی میت کی تصویر شائع کی اور اس کے حاشیہ میں اب یہ پیش گوئی اس طرح پیش کی: ’’میں نے اس کی نسبت پیش گوئی کی تھی کہ چھ برس تک چھری سے مارا جائے گا۔‘‘

(نزول المسیح ص۱۷۵، خزائن ج۱۸ ص۵۵۳)

مرزاقادیانی نے (تریاق القلوب مؤلفہ۱۸۹۹ء) میں لکھا: ’’یہ پیش گوئی نہ ایک خارق عادت امر پر بلکہ کئی خارق عادت امور پر مشتمل تھی۔ کیونکہ پیش گوئی میں یہ بیان کیاگیا تھا کہ لیکھرام جوانی کی حالت میں ہی مرے گا اور بذریعہ قتل کے مرے گا۔‘‘ (تریاق القلوب ص۱۱۶، خزائن ج۱۵ ص۴۰۳)

مرزاغلام احمد قادیانی کا یہ جھوٹ بھی دیکھیں جو اس نے فروری ۱۹۰۳ء کو لکھا: ’’خدا نے دنیا میں اشتہار دے دیا کہ لیکھرام بوجہ اپنی بدزبانیوں کے چھ برس تک کسی کے ہاتھ سے مارا جائے گا۔‘‘

(نسیم دعوت ص۱۰۴، خزائن ج۱۹ ص۴۶۴، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۴۹۵)

مرزاقادیانی کی کتاب (حقیقت الوحی مطبوعہ ۱۹۰۷ء) میں لکھا یہ جھوٹ بھی ملاحظہ کریں۔ ’’آئینہ کمالات اسلام‘‘ میں جن میں قبل از وقوع خبر دی گئی تھی کہ لیکھرام قتل کے ذریعہ سے چھ سال کے اندر اس دنیا سے کوچ کر جائے گا۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۲۹۴، خزائن ج۲۲ ص۲۹۴)

آپ ہی فیصلہ کریں کہ مرزاقادیانی نے ’’آئینہ کمالات اسلام‘‘ میں جو پیش گوئی نقل کی ہے۔ کیا اس پیش گوئی کے الفاظ یہی ہیں جو انہوں نے ’’نزول المسیح‘‘ اور ’’تریاق القلوب‘‘، ’’نسیم دعوت‘‘ اور ’’حقیقت الوحی‘‘ نامی کتابوں اور اشتہار میں لکھے ہیں۔ اگر الفاظ وہی ہوتے تو کسی کو اعتراض کی گنجائش نہیں۔ لیکن کیا کیا جائے۔ نہ الفاظ وہ ہیں اور نہ ہی پنڈت لیکھرام کی موت خرق عادت طور پر ہوئی ہے۔ مگر افسوس کہ مرزاقادیانی اتنی بڑی تحریف پر بھی ذرا نہیں شرمائے اور انہیں دن دھاڑے جھوٹ بولتے اور لکھتے ہوئے ذرا حیا نہیں آئی۔ سچ ہے ؎

بے حیا باش وہرچہ خواہی کن

چھری سے قتل ہونا تاریخ کا کوئی نرالا اور انوکھا واقعہ نہیں ہے۔ عام طور سے اس قسم کے واقعات ہر جگہ ظہور میں آتے ہیں۔ اس کو کسی نے بھی نرالا اور خرق عادت عذاب نہیں کہا۔ اس میں انسانی ہاتھ کام کرتے ہیں اور جو ہاتھ اس میں ملوث ہوتے ہیں۔ ان کی گردنیں بھی پھر ناپی جاتی ہیں اور اس پر پھر پھانسیاں لگتی ہیں۔ مرزاقادیانی کی پیش گوئی کے الفاظ اس بات کے پوری طرح گواہ ہیں کہ اس نے پنڈت کو ایسے عذاب میں مبتلا ہونے کی پیش گوئی کی تھی جو خرق عادت کے طور پر تھی۔ لیکن یہ پیش گوئی ہر گز پوری نہ ہوئی اور مرزاقادیانی اپنی اس پیش گوئی میں بھی غلط نکلے تو انہوں نے اپنی اس پیش

538

گوئی کو صحیح ثابت کرنے کے لئے اپنے ہی الفاظ میں طرح طرح کی تحریف کی۔ تاکہ ان کی بات پوری ہو جائے۔ مرزاقادیانی نے ۵؍مارچ ۱۸۹۷ء کو ایک اشتہار شائع کیا۔ تو اس میں یہ الفاظ لکھ دئیے۔ ’’لیکھرام کی موت کسی بیماری سے نہیں ہوگی۔ بلکہ خدا کسی ایسے کو اس پر مسلط کرے گا۔ جس کی آنکھوں سے خون ٹپکتا ہوگا۔‘‘ (مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۳۴۸)

مرزاقادیانی نے جب جولائی، اگست ۱۸۹۹ء میں ’’تریاق القلوب‘‘ لکھی تو اس میں یہ الفاظ شامل کر دئیے۔ ’’یہ موت کسی معمولی بیماری سے نہیں ہوگی۔ بلکہ ایک ضرور ہیبت ناک نشان کے ساتھ یعنی زخم کے ساتھ اس کا وقوعہ ہوگا۔‘‘

(تریاق القلوب ص۲۶۰، خزائن ج۱۵ ص۳۸۸)

مرزاقادیانی یہ بھی لکھتے ہیں: ’’آسمان پر یہ قرار پاچکا ہے کہ لیکھرام ایک دردناک عذاب کے ساتھ قتل کیا جائے گا۔‘‘ (تریاق القلوب ص۲۶۷، خزائن ج۱۵ ص۳۹۵)

مرزاقادیانی کو اپنے الفاظ میں باربار تبدیلی کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اسی لئے کہ ان کی پیش گوئی غلط ہوگئی تھی اور اب وہ تحریف کر کے اپنی بات کو صحیح بنانا چاہتے تھے اور پیش گوئی کو حالات کے مطابق ڈھالنا چاہتے تھے۔ مگر افسوس کہ اس میں بھی وہ ناکام رہے اور ان کا جھوٹ کھل کر سامنے آگیا۔ مرزاقادیانی کی اس پیش گوئی کے جھوٹا ہونے پر مرزاقادیانی کے یہ الفاظ ہم انہی کی نذر کئے دیتے ہیں۔ ’’کسی انسان کا اپنی پیش گوئیوں میں جھوٹا نکلنا خود تمام رسوائیوں سے بڑھ کر رسوائی ہے۔‘‘

(آئینہ کمالات اسلام ص۶۵۱، خزائن ج۵ ص ایضاً)

(نوٹ) پنڈت لیکھرام کو کس نے قتل کیا۔ یہ معلوم نہ ہوسکا انگریزوں کا دور تھا وہی اس راز سے پردہ اٹھاسکتے ہیں۔ تاہم مرزاقادیانی کی تحریرات اس بارے میں کچھ کم دلچسپی سے خالی نہیں ہیں۔ مرزاغلام احمد قادیانی کا کہنا ہے کہ لیکھرام کو ایک فرشتے نے قتل کردیا تھا اور قتل سے پہلے فرشتے نے مرزاقادیانی سے آکر پوچھا تھا کہ وہ اس وقت کہاں ہوگا۔ مرزاقادیانی کے الفاظ یہ ہیں: ’’خونی فرشتہ جو میرے اوپر ظاہر ہوا اور اس نے پوچھا کہ لیکھرام کہاں ہے۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۲۸۴، خزائن ج۲۲ ص۲۹۷)

مرزاقادیانی یہ بھی لکھ آئے ہیں: ’’ایک شخص قوی ہیکل، مہیب شکل میرے سامنے آکر کھڑا ہوگیا اور اس کی ہیبت دلوں پر طاری تھی اور میں اس کو دیکھتا تھا کہ ایک خونی شخص کے رنگ میں ہے۔ اس نے مجھ سے پوچھا کہ لیکھرام کہاں ہے؟‘‘ (حقیقت الوحی ص۲۸۴، خزائن ج۲۲ ص۲۹۷)

’’ایک شخص قوی ہیکل، مہیب شکل گویا اس کے چہرہ پر سے خون ٹپکتا ہے۔ میرے سامنے آکر کھڑا ہوگیا۔ میں نے نظر اٹھا کر دیکھا تو مجھے معلوم ہوا کہ وہ ایک نئی خلقت کا شخص ہے… اس نے مجھ سے پوچھا کہ لیکھرام کہاں ہے؟‘‘

(تریاق القلوب ص۲۶۶، خزائن ج۱۵ ص۳۹۴)

سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس خونی فرشتہ کو معلوم نہ تھا کہ اس وقت لیکھرام کہاں پر ہے؟ کیا خدا نے اسے نہیں بتایا تھا کہ لیکھرام فلاں جگہ پر ملے گا؟ آخر اس خونی کو مرزاقادیانی سے پوچھنے کی ضرورت کیوں ہوئی؟ اس قسم کی باتیں وہی پوچھتے ہیں جنہیں اس خاص مقصد کے لئے تیار کیا جاتا ہے اور جب وہ وقت آتا ہے تو پھر وہ اسی کو آکر پوچھتے ہیں جس نے انہیں اس کام کے لئے تیار کیا ہوتا ہے۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس خدا کے فرشتے آئے اور پھر آپ سے رخصت ہوکر قوم لوط علیہ السلام کی بستی الٹنے چلے گئے۔ ان میں سے کسی نے بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام سے نہیں پوچھا کہ قوم لوط کی بستی کس جانب ہے؟ کیوں؟ اس لئے

539

کہ یہ انسان نہیں، فرشتے تھے اور فرشتے اس قسم کے سوالات نہیں کیا کرتے۔ ہاں انسان پوچھا کرتے ہیں۔

بدر کے میدان میں خدا کے ہزاروں فرشتے اترے اور بعض صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے انہیں دیکھا بھی کہ وہ خدا کے دشمنوں کا کام تمام کر رہے ہیں۔ مگر آپ ہی بتائیں کیا انہوں نے حضور ﷺ یا کسی صحابی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ فلاں فلاں خدا کا دشمن اس وقت کہاں ہے کہ میں اس کا کام تمام کروں؟

مگر مرزاقادیانی کے پاس آنے والا فرشتہ اتنا جاہل تھا کہ نہ اسے خدا نے بتایا کہ لیکھرام کہاں ہے؟ نہ خود اسے پتہ تھا۔ اسے مرزاقادیانی کے پاس آکر پوچھنا پڑا کہ اس وقت لیکھرام کہاں ہوگا؟ تاکہ میں جاکر اس کو قتل کردوں۔ بعض لوگ اس خونی فرشتے کا نام مٹھن لال بتاتے ہیں۔ مرزاقادیانی کے اس فرشتے کا ذکر ان کی مقدس کتاب (تذکرہ کے ص۵۵۶) پرملتا ہے۔

پنڈت لیکھرام کے حامیوں کا کہنا تھا کہ یہ قتل مرزاغلام احمد قادیانی کے اشارے پر کیاگیا ہے۔ انہوں نے اس کی رپورٹ بھی لکھوائی۔ تاکہ اس پر کاروائی کی جائے۔ انگریزوں کا دور تھا اور یہ ان کا خودکاشتہ پودا۔ حالات کی نزاکت کے پیش نظر مرزاقادیانی کے گھر کی ۱۸؍اپریل ۱۸۹۷ء کو تلاشی بھی لی گئی تھی۔ (دیکھئے مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۳۸۱) لیکن انگریزوں سے اس بات کی امید باندھنی کہ وہ اپنے خودکاشتہ پودا پر ہاتھ ڈالے، سوائے نادانی کے اور کیا ہے؟

ہم اس وقت صرف یہ بتانا چاہتے ہیں کہ مرزاغلام احمد قادیانی کواپنی جس پیش گوئی کے پورا ہونے پر بڑا ناز تھا اور جسے وہ ہمیشہ اپنی سچائی کے ثبوت کے طور پر پیش کرسکتے کبھی پوری نہیں ہوئی۔ نہ پنڈت ایسے عذاب کا شکار ہوا۔ جسے خرق عادت سمجھا جائے اور نہ ایسی موت پائی جو سب سے نرالی اور انوکھی سمجھی جائے۔ اس لئے مرزاقادیانی کا اور خصوصاً مرزامسرور کا پنڈت لیکھرام کی پیش گوئی کو باربار ذکر کرنا کھلی ڈھٹائی ہے اور ایک جھوٹ کو سچ بتانا قادیانیوں کا ہمیشہ کا طریق رہا ہے۔ فاعتبروا یا اولی الابصار!

باب ہشتم … کذب بیانی اور مرزاقادیانی کا فتویٰ

۱… ’’جھوٹ بولنا مرتد ہونے سے کم نہیں۔‘‘

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص۱۳ حاشیہ، خزائن ج۱۷ ص۵۶)

۲… ’’جھوٹ بولنے سے بدتردنیا میں اور کوئی براکام نہیں۔‘‘

(تتمہ حقیقت الوحی ص۲۶، خزائن ج۲۲ ص۴۵۹)

۳… ’’جھوٹ بولنا اور گوہ کھانا ایک برابر ہے۔‘‘ (حقیقت الوحی ص۲۰۶، خزائن ج۲۲ ص۲۱۵)

۴… ’’ظاہر ہے کہ جب ایک بات میں کوئی جھوٹا ثابت ہو جائے تو پھر دوسری باتوں میں بھی اس پر اعتبار نہیں رہتا۔‘‘ (چشمہ معرفت ص۲۲۲، خزائن ج۲۳ ص۲۳۱)

۵… ’’سچ بات تو یہ ہے کہ جب انسان جھوٹ بولنا روارکھ لیتا ہے تو حیا اور خدا کا خوف بھی کم ہو جاتا ہے۔‘‘ (تتمہ حقیقت الوحی ص۱۳۵، خزائن ج۲۲ ص۵۷۳)

۶… ’’جھوٹ کے مردار کو کسی طرح نہ چھوڑنا یہ کتوں کا طریق ہے نہ انسانوں کا۔‘‘

(انجام آتھم ص۴۳، خزائن ج۱۱ ص ایضاً)

۷… ’’جھوٹے پر بغیر تعین کسی فریق کے لعنت کرنا کسی مذہب میں ناجائز نہیں نہ ہم میں نہ عیسائیوں میں نہ یہودیوں میں۔‘‘ (انجام آتھم ص۳۱، خزائن ج۱۱ ص ایضاً)

540

۸… ’’دروغ گو کو خداتعالیٰ اسی جہاں میں ملزم اور شرمسار کر دیتا ہے۔‘‘

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص۴، خزائن ج۱۷ ص۴۱)

۹… ’’جھوٹے پر خدا کی لعنت ہے۔‘‘ (تتمہ حقیقت الوحی ص۱۴۳، خزائن ج۲۲ ص۵۸۱)

۱۰… ’’دروغ گو کا انجام ذلت ورسوائی پر ہے۔‘‘ (حقیقت الوحی ص۲۴۱، خزائن ج۲۲ ص۳۵۳)

۱۱… ’’جھوٹا آدمی ایک گیند کی طرح گردش میں ہوتا ہے۔‘‘ (نورالحق ص۱۰۴، خزائن ج۸ ص۱۳۷)

۱۲… ’’ہم جھوٹے کو دندان شکن جواب سے ملزم تو کر سکتے ہیں۔ مگر اس کا منہ کیوں کر بند کریں۔ اس کی پلید زبان پر کون سی تھیلی چڑھاویں۔‘‘ (انجام آتھم ص۳۸، خزائن ج۱۱ ص ایضاً)

۱۳… ’’وایٹ نے کہا کہ: ’’لعنۃ ﷲ علی الکاذبین‘‘ یعنی جھوٹوں پر لعنت ہو میں نے (مرزاقادیانی نے) کہا کہ بے شک جھوٹوں پر لعنت وارد ہوگی۔‘‘ (انجام آتھم ص۳۱، خزائن ج۱۱ ص ایضاً)

۱۴… ’’خدا کے جھوٹوں پر نہ ایک دم کے لئے لعنت ہے۔ بلکہ قیامت تک لعنت ہے۔‘‘

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص۸، خزائن ج۱۷ ص۴۸)

۱۵… ’’ہمارا ایمان ہے کہ خدا پر افتراء کرنا پلید طبع لوگوں کا کام ہے۔‘‘

(اربعین نمبر۳ ص۲۰ حاشیہ، خزائن ج۱۷ ص۴۰۶)

۱۶… ’’خنزیر کی طرح جھوٹ کی نجاست کھائیں گے۔‘‘ (ایام الصلح ص۹۱، خزائن ج۱۴ ص۳۲۸)

۱۷… ’’جھوٹے پر اگر ہزارلعنت نہیں تو پانچ سو سہی۔‘‘ (ازالہ اوہام ص۸۶۶، خزائن ج۳ ص۵۷۲)

۱۸… ’’جھوٹ اور تلبیس کی راہ کو چھوڑ دو۔‘‘ (نورالحق ج۲ ص۱۳، خزائن ج۸ ص۲۰۱)

۱۹… ’’افسوس کہ یہ لوگ خدا سے نہیں ڈرتے۔ انبار درانبار ان کے دامن میں جھوٹ کی نجاست ہے۔‘‘

(اعجاز احمدی ص۱۱، خزائن ج۱۹ ص۱۱۸)

۲۰… ’’اے مفتری نابکار کیا اب بھی ہم نہ کہیں کہ جھوٹے پر خدا کی لعنت۔‘‘

(ضمیمہ براہین احمدیہ ص۱۱۱، خزائن ج۲۱ ص۲۷۵)

ان حوالہ جات مذکورہ کے ساتھ اب مرزاقادیانی کے ان کذبات واتہامات کو ملاحظہ فرمائیں۔ جو آپ کی زبان وقلم سے نکلے ہیں۔ تاکہ دعاوی مرزا کی حقیقت گورابطال میں مدفون ہو جائے اور مرزائیت کے طلسمی جال کا کوئی تار باقی نہ رہ جائے۔

پڑا فلک کو کبھی دل جلوں سے کام نہیں جلا کے خاک نہ کردوں تو داغ نام نہیں

کذبات مرزاقادیانی

۱… ’’حدیثوں میں صاف طور پر یہ بھی بتلایا گیا ہے کہ مسیح موعود کی بھی تکفیر ہوگی اور علمائے وقت اس کو کافر ٹھہرائیں گے اور کہیں گے کہ یہ کیا مسیح ہے۔ اس نے تو ہمارے دین کی بیخ کنی کر دی۔‘‘

(تحفہ گولڑویہ ص۷۴ حاشیہ، خزائن ج۱۷ ص۲۱۳ حاشیہ)

۲… ’’لیکن ضرور تھا کہ قرآن، حدیث کی وہ پیش گوئیاں پوری ہوتیں۔ جن میں لکھا تھا کہ مسیح موعود جب ظاہر ہوگا تو اسلامی علماء کے ہاتھ سے دکھ اٹھائے گا۔ وہ اس کو کافر قرار دیں گے اور اس کے قتل کے لئے فتویٰ دئیے جائیں گے اور اس کی سخت توہین کی جائے گی اور اس کو دائرہ اسلام سے خارج اور دین کا تباہ کرنے والا خیال کیا جائے گا۔‘‘

(اربعین نمبر۳ ص۱۷، خزائن ج۱۷ ص۴۰۴)

541

۳… ’’اور میرا یہ بیان کہ میرے تمام دعاوی قرآن کریم اور احادیث نبویہ اور اولیاء گزشتہ کی پیش گوئیوں سے ثابت ہیں۔‘‘ (آئینہ کمالات اسلام ص۳۵۶، خزائن ج۲۱ ص ۲۶۰ حاشیہ)

۴… ’’حدیثوں میں آیا ہے کہ مسیح موعود کے ظہور کے وقت ملک میں طاعون بھی پھوٹے گی۔‘‘

(ایام الصلح ص۱۱۰، خزائن ج۱۴ ص۳۴۷ حاشیہ)

۵… ’’ایسا ہی احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ آدم سے لے کر اخیر تک دنیا کی عمر سات ہزارسال ہوگی۔‘‘

(تحفہ گولڑویہ ص۹۱، خزائن ج۱۷ ص۲۴۷،۲۴۸)

۶… ’’اس پیش گوئی (آتھم والی) کی نسبت تو رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی خبردی تھی اور مکذبین پر نفرین کی تھی۔‘‘

(ایام الصلح ص۱۶۹،۱۷۰، خزائن ج۱۴ ص۴۱۸)

۷… ’’ایک حدیث میں آنحضرت ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ اگر موسیٰ علیہ السلام، عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہوتے تو میری پیروی کرتے۔‘‘ (ایام الصلح ص۴۲، خزائن ج۱۴ ص۲۷۳)

۸… ’’اے عزیزو! تم نے وہ وقت پایا ہے جس کی بشارت تمام نبیوں نے دی ہے اور اس شخص (مرزاقادیانی) کو تم نے دیکھ لیا۔ جس کے دیکھنے کے لئے بہت سے پیغمبروں نے بھی خواہش کی تھی۔‘‘

(اربعین نمبر۴ ص۱۳، خزائن ج۱۷ ص۴۴۳)

۹… ’’ہاں میں (مرزاقادیانی) وہی ہوں جس کا سارے نبیوں کی زبان پر وعدہ ہوا اور پھر خدا نے ان کی معرفت بڑھانے کے لئے منہاج نبوت پر اس قدر نشانات ظاہر کئے کہ لاکھوں انسان ان کے گواہ ہیں۔‘‘

(فتاویٰ احمدیہ ج۱ ص۵۱)

مرزاقادیانی کی تاریخ دانی … نبی کریم ﷺ کی بارہ لڑکیاں

۱۰… ’’دیکھو ہمارے پیغمبر ﷺ کے ہاں بارہ لڑکیاں ہوئیں۔ آپ نے کبھی نہیں کہا کہ لڑکا کیوں نہ ہوا۔‘‘

(ملفوظات ج۳ ص۳۷۲، طبع جدید)

نبی کریم ﷺ کے گیارہ لڑکے

۱۱… ’’تاریخ دان لوگ جانتے ہیں کہ آپ ﷺ کے گھر میں گیارہ لڑکے پیدا ہوئے اور سب کے سب فوت ہوگئے۔‘‘ (چشمہ معرفت ص۲۸۶، خزائن ج۲۳ ص۲۹۹)

صفر، چوتھا مہینہ، چار شنبہ چوتھادن

۱۲… مرزاقادیانی نے اپنے بیٹے کی پیدائش کے بارے میں لکھا ہے: ’’اور جیسا کہ وہ چوتھا لڑکا تھا۔ اسی مناسبت کے لحاظ سے اس نے اسلامی مہینوں میں سے چوتھا مہینہ لیا۔ یعنی ماہ صفر اور ہفتہ کے دنوں میں سے چوتھا دن لیا یعنی چارشنبہ اور دن کے گھنٹوں میں سے دوپہر کے بعد چوتھا گھنٹہ لیا۔‘‘

(تریاق القلوب ص۴۱، خزائن ج۱۵ ص۲۱۸)

۱۳… ’’قرآن کریم اور توریت سے ثابت ہے کہ آدم علیہ السلام بطور توأم (جوڑواں) پیدا ہوا تھا۔‘‘

(ضمیمہ تریاق القلوب ص۱۶۰، خزائن ج۱۵ ص۴۸۵)

۱۴… ’’مگر خدا ان کو (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) کو پیدائش میں بھی اکیلا نہیں رکھا۔ بلکہ کئی حقیقی بھائی، حقیقی بہنیں ان کی ایک ہی ماں سے تھیں۔‘‘

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۱۰۰ حاشیہ، خزائن ج۲۱ ص۲۶۲)

542

۱۵… ’’اب میرے ہاتھ پر ایک لاکھ کے قریب انسان بدی سے توبہ کر چکے ہیں۔‘‘

(ریویو ج۱ نمبر۹ ص۳۳۹، بابت ماہ ستمبر ۱۹۰۲ء، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۶۰۵)

۱۶… ’’مولوی غلام دستگیر قصوری نے اپنی کتاب میں اور مولوی اسماعیل علی گڑھ والے نے میری نسبت قطعی حکم لگایا کہ وہ اگر کاذب ہے تو ہم سے پہلے مرے گا اور ضرور ہم سے پہلے مرے گا۔ کیونکہ کاذب ہے۔‘‘

(اربعین نمبر۳ ص۹، خزائن ج۱۷ ص۳۹۴، ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص۶، خزائن ج۱۷ ص۴۵)

۱۷… ’’اس روز کشفی طور پر میں نے دیکھا کہ میرے بھائی مرزاغلام قادر میرے قریب بیٹھ کر باآواز بلند قرآن کریم پڑھ رہے ہیں اور پڑھتے پڑھتے انہوں نے ان فقرات کو پڑھا کہ: ’’انا انزلناہ قریباً من القادیان‘‘ تو میں نے سن کر بہت تعجب کیا کہ قادیان کا نام بھی قرآن شریف میں لکھا ہوا ہے۔ تب انہوں نے کہا کہ یہ دیکھو لکھا ہوا ہے۔ میں نے نظر ڈال کر جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ فی الحقیقت قرآن کریم کے دائیں صفحہ میں شاید قریب نصف کے موقع پر یہی الہامی عبارت لکھی ہوئی موجود ہے۔ تب میں نے اپنے دل میں کہا کہ ہاں واقعی طور پر قادیان کا نام قرآن شریف میں درج ہے اور میں نے کہا کہ تین شہروں کا نام قرآن کریم میں اعزاز کے ساتھ درج کیا گیا ہے۔ مکہ، مدینہ اور قادیان۔ یہ کشف تھا جو مجھے کئی سال پہلے دکھلایا گیا تھا۔‘‘ (ازالہ اوہام ص۷۷ حاشیہ، خزائن ج۳ ص۱۴۰)

۱۸… ’’ہم مکہ میں مریں گے یا مدینہ میں۔‘‘ (البشریٰ ج۲ ص۱۰۵، تذکرہ ص۵۹۱)

۱۹… ’’قرآن کریم خد اکی کتاب اور میرے منہ کی باتیں ہیں۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۸۴، خزائن ج۲۲ ص۸۷)

۲۰… ’’ہمارے نبی ﷺ کو بعض پیش گوئیوں میں خدا کر کے پکارا گیا ہے۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۶۳، خزائن ج۲۲ ص۶۶)

۲۱… ’’میں وہ شخص ہوں جس کے ہاتھ پر صدہا نشان ظاہر ہوئے ہیں۔‘‘

(ملخصاً تذکرۃ الشہادتین ص۳۴، خزائن ج۲۰ ص۳۲، اکتوبر۱۹۰۳ء)

۲۲… ’’جتنے لوگ ہمارے سامنے مباہلہ کرنے والے آئے سب ہلاک ہوگئے۔‘‘

(چشمہ معرفت ص۳۱۸، خزائن ج۲۳ ص۳۳۳)

۲۳… ’’آپ سے پوچھا گیا کہ کیا زبان فارسی میں بھی کبھی خدا نے کلام کیا ہے۔ تو فرمایا ہاں خدا کا کلام زبان فارسی میں بھی اترا ہے۔ جیسا کہ وہ اس زبان میں فرماتا ہے۔‘‘

ایں مشت خاک راگرنہ بخشم چہ کنم

(ضمیمہ چشمہ معرفت ص۱۱، خزائن ج۲۳ ص۳۶۶)

باب نہم … تضادات مرزا

برادران اسلام! آئندہ درج شدہ حوالہ جات سے یہ صاف ظاہر ہو جائے گا کہ قادیانی نبی اپنے ہی فیصلہ کے مطابق کافر ہے، خارج از اسلام ہے، ملعون ہے، پاگل ہے، منافق ہے، مخبوط الحواس ہے اور جھوٹا ہے۔ اب مرزاقادیانی کی متضاد باتیں پڑھنے سے پہلے خود اس کے متضاد اقوال والے شخص کے متعلق دیے ہوئے فتوے ملاحظہ فرمائیں:

۱… ’’کسی سچیار، عقلمند اور صاف دل انسان کے کلام میں ہرگز تناقض نہیں ہوتا۔ ہاں اگر کوئی پاگل یا مجنوں یا ایسا منافق ہو کہ خوشامد کے طور پر ہاں میں ہاں ملا دیتا ہو اس کا کلام بے شک متناقض ہوتا ہے۔‘‘ (ست بچن ص۳۰، خزائن ج۱۰ ص۱۴۳)

543

۲… ’’اس شخص کی حالت ایک ’’مُخْبِطُ الْحَوَاسِ‘‘ انسان کی حالت ہے کہ ایک کھلا تناقض اپنے کلام میں رکھتا ہے۔‘‘ (حقیقت الوحی ص۱۸۴، خزائن ج۲۲ ص۱۹۱)

۳… ’’جھوٹے کے کلام میں تناقض ضرور ہوتا ہے۔‘‘

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۱۱۲، خزائن ج۲۱ ص۲۷۵)

مرزاقادیانی کے نزدیک پاگل، مجنوں، منافق، مخبط الحواس، جھوٹے کے کلام میں تناقض ہوتا ہے۔ مرزاقادیانی کی جوتی مرزا کا سر ؎

اگر ہم عرض کریں گے تو شکایت ہوگی

قادیانی نبی کی متضاد باتیں

۱… ’’قادیان طاعون سے اس لئے محفوظ رکھی گئی ہے کہ وہ خدا کا رسول اور فرستادہ قادیان میں تھا۔‘‘

(دافع البلاء ص۵، خزائن ج۱۸ ص۲۲۶)

’’اگرچہ طاعون تمام بلاد پر اپنا پر ہیبت اثر ڈالے گی مگر قادیان یقینا اس کی دستبرد سے محفوظ رہے گا۔‘‘

(اخبار الحکم مورخہ۱۰؍اپریل ۱۹۰۲ء)

’’طاعون کے دنوں میں جب قادیان میں طاعون زور پر تھا۔ میرا لڑکا شریف احمد بیمار ہوا۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۸۴ حاشیہ، خزائن ج۲۲ ص۸۷)

۲… ’’چونکہ یہ امر ممنوع ہے کہ طاعون زدہ لوگ اپنے دیہات کو چھوڑ کر دوسری جگہ جائیں۔ اس لئے اپنی جماعت کے ان تمام لوگوں کو جو طاعون زدہ علاقہ میں ہیں۔ منع کرتا ہوں کہ وہ اپنے علاقہ سے نکل کر قادیان یا دوسری جگہ جانے کا ہرگز قصد نہ کریں اور دوسروں کو بھی روکیں اور اپنے مقامات سے ہرگز نہ ہلیں۔‘‘

(اشتہار لنگر خانہ کا انتظام مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۴۶۷ حاشیہ)

’’مجھے معلوم ہوا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ جب کسی شہر میں وبا نازل ہو تو اس شہر کے لوگوں کو چاہئے کہ بلاتوقف اس شہر کو چھوڑ دیں۔ ورنہ خداتعالیٰ سے لڑنے والے ٹھہرائے جائیں گے۔‘‘

(ریویو ج۹ ص۳۶۵، ستمبر ۱۹۰۷ء)

۳… برادران اسلام! میں اس رسالہ میں مرزاقادیانی کی کتابوں کے حوالے سے ثابت کر چکا ہوں کہ مرزاقادیانی کو نبی نہ ماننے والے مسلمان حرامزادے ہیں۔ مرزاقادیانی کے مخالف سور اور ان کی عورتیں کتیوں سے بدتر ہیں۔ مرزاقادیانی کو نہ ماننے والے شیطان ہیں۔

’’کسی انسان کو حیوان کہنا بھی ایک قسم کی گالی ہے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۲۶ حاشیہ، خزائن ج۳ ص۱۱۵)

’’جہاں تک مجھے معلوم ہے۔ میں نے ایک لفظ بھی ایسا استعمال نہیں کیا۔ جس کو دشنام دہی کہا جائے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۱۳، خزائن ج۳ ص۱۰۹)

’’گالیاں دینا اور بدزبانی کرنا طریق شرافت نہیں۔‘‘

(ضمیمہ اربعین نمبر۴ ص۵، خزائن ج۱۷ ص۴۷۱)

۴… ’’ہم ایسے ناپاک خیال اور متکبر اور راست بازوں کے دشمن کو ایک بھلامانس آدمی قرار نہیں دے سکتے۔ چہ جائیکہ نبی قرار دیں۔‘‘ (ضمیمہ انجام آتھم ص۹ حاشیہ، خزائن ج۱۱ ص۳۹۳)

’’مسیح ایک کامل اور عظیم الشان نبی تھا۔ ‘‘ (البشریٰ ج۱ ص۲۴)

544

’’حضرت مسیح خدا کے متواضع اور حکیم اور عاجز اور بے نفس بندے تھے۔‘‘

(مقدمہ براہین احمدیہ ص۱۰۴ حاشیہ، خزائن ج۱ ص۹۴)

۵… مرزاقادیانی مسیح کے معجزے کے متعلق کہتے ہیں: ’’ان پرندوں کا پرواز کرنا قرآن مجید سے ہرگز ثابت نہیں ہوتا۔‘‘ (ازالہ اوہام ص۳۰۷ حاشیہ، خزائن ج۳ ص۲۵۶)

’’حضرت مسیح کی چڑیاں باوجود یہ کہ معجزہ کے طور پر ان کا پرواز قرآن کریم سے ثابت ہے۔‘‘

(آئینہ کمالات اسلام ص۶۸، خزائن ج۵ ص ایضاً)

۶… ’’عیسائیوں نے بہت سے آپ کے (یسوع) معجزات لکھے ہیں۔ مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا۔‘‘ (ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ، خزائن ج۱۱ ص۲۹۰)

’’اور سچ صرف اس قدر ہے کہ یسوع مسیح نے بھی بعض معجزات دکھلائے۔ جیسا کہ نبی دکھلاتے تھے۔‘‘

(ریویو آف ریلیجنز ج۱ نمبر۹ ص۳۴۲، ماہ ستمبر ۱۹۰۲ء)

۷… ’’حضرت مسیح کی حقیقت نبوت کی یہ ہے کہ وہ براہ راست بغیر اتباع آنحضرت ﷺ کے ان کو حاصل ہے۔‘‘

(اخبار بدر ج۱ نمبر۸ ص۶۸، ۸؍رمضان ۱۳۲۰ھ)

’’حضرت مسیح کی جو بزرگی ملی۔ وہ بوجہ تابعداری حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے ملی۔‘‘

(مکتوبات احمدیہ ج۱۳ ص۱۲)

۸… ’’خدا نے مسیح کو بن باپ پیدا کیا تھا۔‘‘ (البشریٰ ج۲ ص۶۸)

’’حضرت مسیح بن مریم اپنے باپ یوسف کے ساتھ ۲۲برس کی مدت تک نجاری کا کام بھی کرتے رہے ہیں۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۳۰۳ حاشیہ، خزائن ج۳ ص۲۵۵)

۹… ’’یہ قرآن شریف کا مسیح اور اس کی والدہ پر احسان ہے کہ کروڑہا انسانوں کو یسوع کی ولادت کے بارے میں زبان بند کردی اور ان کو تعلیم دی کہ تم یہی کہو کہ وہ بے باپ پیدا ہوا۔‘‘

(ریویو آف ریلیجنز ج۱ نمبر۴ ص۱۵۹، اپریل ۱۹۰۲ء)

’’خدا تعالیٰ نے یسوع کی قرآن شریف میں کچھ خبر نہیں دی کہ وہ کون تھا۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ص۹ حاشیہ، خزائن ج۱۱ ص۲۹۳)

نوٹ: مرزاقادیانی کے نزدیک یسوع مسیح حضرت عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم کے نام ہیں۔ چنانچہ مرزاقادیانی کی عبارت ملاحظہ ہو: ’’مسیح ابن مریم جس کو عیسیٰ اور یسوع بھی کہتے ہیں۔‘‘

(توضیح المرام ص۳، خزائن ج۳ ص۵۲)

حضرت مسیح علیہ السلام کے متعلق متضاد باتیں

۱۰… ’’میرا یہ دعویٰ ہے کہ میں وہ مسیح موعود ہوں جس کے بارے میں خداتعالیٰ کی تمام پاک کتابوں میں پیش گوئیاں ہیں کہ وہ آخری زمانہ میں ظاہر ہوگا۔‘‘

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص۱۱۸، خزائن ج۱۷ ص۲۹۵)

’’خداتعالیٰ نے میرے پر منکشف کیا ہے وہ یہ ہے کہ وہ مسیح موعود میں ہی ہوں۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۳۹، خزائن ج۳ ص۱۲۲)

’’اس عاجز نے جو مثل مسیح کا دعویٰ کیا ہے۔ جس کو کم فہم لوگ مسیح موعود کا خیال کر بیٹھے ہیں۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۱۹۵، خزائن ج۱۳ ص۱۹۲)

545

۱۱… ’’ھو الذی ارسل رسولہ بالہدیٰ‘‘ یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح کے حق میں پیش گوئی ہے اور جس غلبۂ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیاگیا ہے۔ وہ غلبہ مسیح کے ذریعہ سے ظہور میں آئے گا اور جب مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق واقطار میں پھیل جائے گا۔‘‘

(براہین احمدیہ ص۴۹۹، خزائن ج۱ ص۵۹۳)

’’قرآن شریف میں مسیح ابن مریم کے دوبارہ آنے کا تو کہیں ذکر نہیں۔‘‘

(ایام الصلح ص۱۴۶، خزائن ج۱۴ ص۳۹۲)

۱۲… ’’وہ ابن مریم جو آنے والا ہے۔ کوئی نبی نہیں ہوگا۔‘‘ (ازالہ اوہام ص۲۹۱، خزائن ج۳ ص۲۴۹)

’’جس آنے والے مسیح موعود کا حدیثوں سے پتا لگتا ہے۔ اس کا انہیں حدیثوں میں یہ نشان دیاگیا ہے کہ وہ نبی ہو گا۔‘‘ (حقیقت الوحی ص۲۶، خزائن ج۲۲ ص۳۱)

۱۳… ’’یہ ظاہر ہے کہ حضرت مسیح ابن مریم اس امت کے شمار میں آگئے ہیں۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۲۶۳، خزائن ج۳ ص۴۳۶)

’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو امتی قرار دینا کفر ہے۔‘‘

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ۵ ص۱۹۲، خزائن ج۲۱ ص۳۶۵)

۱۴… ’’ہاں بعض احادیث میں عیسیٰ ابن مریم کے نزول کا لفظ پایا جاتا ہے۔ لیکن کسی حدیث میں یہ نہیں پاؤ گے کہ اس کا نزول آسمان سے ہوگا۔‘‘ (حمامتہ البشریٰ ص۲۱، خزائن ج۷ ص۲۰۲)

’’مسیح آسمان پر سے جب اترے گا تو دو زردچادریں اس نے پہنی ہوئی ہوں گی۔‘‘

(تشحیذ الاذہان ج۱ نمبر۲ ص۵، ماہ جون ۱۹۰۶ء، ملفوظات ج۸ ص۴۴۵)

۱۵… ’’بائبل اور ہماری حدیثوں اور اخبار کی کتابوں کی رو سے جن نبیوں کا اسی وجود عنصری کے ساتھ آسمان پر جانا تصور کیاگیا ہے۔ وہ دو نبی ہیں۔ ایک یوحنا جس کا نام ایلیا اور ادریس بھی ہے۔ دوسرے مسیح ابن مریم جن کو عیسیٰ اور یسوع بھی کہتے ہیں۔‘‘ (توضیح المرام ص۳، خزائن ج۳ ص۵۲)

’’حضرت عیسیٰ فوت ہو چکے ہیں اور ان کا زندہ آسمان پر مع جسم عنصری جانا اور اب تک زندہ ہونا اور پھر کسی وقت مع جسم عنصری زمین پر آنا۔ یہ سب ان پر تہمتیں ہیں۔‘‘

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ ۵ ص۲۳۰، خزائن ج۲۱ ص۴۰۶)

۱۶… ’’آپ کے ہاتھ میں سوائے مکرو فریب کے کچھ نہ تھا۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ص۷، خزائن ج۱۱ ص۳۹۱)

’’ہم تو قرآن شریف کے فرمودہ کے مطابق حضرت عیسیٰ کو سچا نبی مانتے ہیں۔‘‘

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ ۵ ص۱۰۱، خزائن ج۲۱ ص۲۶۳)

۱۷… ’’حضرت عیسیٰ تو انجیل کو ناقص کی ناقص ہی چھوڑ کر آسمان پر جا بیٹھے۔‘‘

(براہین احمدیہ ص۳۶۱، خزائن ج۱ ص۴۳۱)

’’حضرت عیسیٰ پر یہ ایک تہمت ہے کہ گویا وہ مع جسم عنصری آسمان پر چلے گئے۔‘‘

(نصرۃ الحق براہین احمدیہ ص۴۵، خزائن ج۲۱ ص۵۸)

۱۸… ’’میں نے صرف مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور میرا یہ دعویٰ بھی نہیں کہ صرف مثیل ہونا میرے پرہی ختم ہوگیا ہے۔ بلکہ میرے نزدیک ممکن ہے کہ آئندہ زمانوں میں میرے جیسے اور دس ہزار بھی مثیل مسیح آجائیں۔ ہاں اس زمانہ کے لئے میں مثیل مسیح ہوں۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۱۹۹، خزائن ج۳ ص۱۹۷)

’’فلیس المسیح من دونی موضع قدم بعد زمانی‘‘ پس میرے سوا دوسرے مسیح کے لئے میرے زمانہ کے بعد قدم رکھنے کی جگہ نہیں۔ (خطبہ الہامیہ ص۱۵۸، خزائن ج۱۶ ص۲۴۳)

546

۱۹… ’’یہ تو مسیح ہے کہ اپنے وطن گلیل جاکر فوت ہوگیا۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۴۷۳، خزائن ج۳ ص۳۵۳)

’’لطف تو یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ کی بھی بلاد شام میں قبر موجود ہے۔‘‘

(اتمام الحجۃ ص۲۴، خزائن ج۸ ص۲۹۶)

’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام بیت اللحم میں پیدا ہوئے اور بیت اللحم اور بلدہ قدس میں تین کوس کا فاصلہ ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر بلدۂ قدس میں ہے اور اب تک موجود ہے اور اس پر ایک گر جابنا ہوا ہے اور وہ گرجا تمام گرجاؤں سے بڑا ہے اور اس کے اندر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر ہے اور اس گرجا میں حضرت مریم صدیقہ کی قبر ہے اور دونوں قبریں علیحدہ علیحدہ ہیں اور بنی اسرائیل کے عہد میں بلدۂ قدس کا نام یروشلم تھا۔‘‘ (اتمام الحجۃ ص۲۷، خزائن ج۸ ص۲۹۹)

’’اور تم یقینا سمجھو کہ عیسیٰ ابن مریم فوت ہوگیا ہے اور کشمیر سری نگر محلہ خانیار میں اس کی قبر ہے۔‘‘

(کشتی نوح ص۱۵، خزائن ج۱۹ ص۱۶)

۲۰… ’’دجال سے مراد باقبال قومیں ہیں۔‘‘ (ازالہ اوہام ص۱۴۶، خزائن ج۳ ص۱۷۴)

’’دجال معہود یہی پادریوں اور عیسائی متکلموں کا گروہ ہے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۷۲۲، خزائن ج۳ ص۴۸۸)

۲۱… ’’میرے دعوے کے انکار کی وجہ سے کوئی شخص کافریا دجال نہیں ہوسکتا۔‘‘

(تریاق القلوب ص۱۳۰، خزائن ج۱۵ ص۴۳۲)

’’دوسرے یہ کفر کہ مثلاً مسیح موعود کو نہیں مانتا۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۱۷۹، خزائن ج۲۲ ص۱۸۵)

’’ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا۔ وہ مسلمان نہیں۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۱۶۳، خزائن ج۲۲ ص۱۶۷)

۲۲… مسیح کے چال چلن کے متعلق مرزاقادیانی لکھتا ہے: ’’ایک کھاؤ پیو، شرابی، نہ زاہد نہ عابد نہ حق کا پرستار، خودبین خدائی کا دعویٰ کرنے والا۔‘‘ (مکتوبات احمدیہ ج۳ ص۲۳،۲۴)

’’انہوں نے (مسیح نے) اپنی نسبت کوئی ایسا دعویٰ نہیں کیا۔ جس سے وہ خدائی کے مدعی ثابت ہوں۔‘‘

(لیکچر سیالکوٹ ص۴۳، خزائن ج۲۹ ص۲۳۶)

۲۳… ’’ہم باوا (نانک) صاحب کی کرامت کو اس جگہ مانتے ہیں اور قبول کرتے ہیں کہ وہ چولہ ان کو غیب سے ملا اور قدرت کے ہاتھ نے اس پر قرآن شریف لکھ دیا۔‘‘

(ست بچن ص۶۸، خزائن ج۱۰ ص۱۹۲)

’’اسلام میں چولے رکھنا اس زمانہ (باوا نانک) میں فقیروں کی ایک رسم تھا۔ پس یہ بات صحیح ہے کہ باوا نانک کے مرشد نے جو مسلمان تھا یہ چولہ ان کو دیا۔‘‘

(نزول المسیح ص۲۰۵، خزائن ج۱۸ ص۵۸۳)

مرزاقادیانی کا اپنے متعلق فیصلہ کہ خارج ازاسلام اور کافر ہے

۲۴… ’’وما کان لی ان ادعی النبوۃ واخرج من الاسلام والحق بقوم کافرین‘‘ اور مجھے کہاں یہ حق پہنچتا ہے کہ نبوت کا دعویٰ کروں اور اسلام سے خارج ہو جاؤں اور قوم کافرین سے جا کر مل جاؤں۔ یہ کیوں کر ممکن ہے کہ مسلمان ہوکر نبوت کا ادعاء کروں۔ (حمامتہ البشریٰ ص۷۹، خزائن ج۷ ص۲۹۷)

’’ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول اور نبی ہیں۔‘‘

(اخبار بدر مورخہ ۵؍مارچ ۱۹۰۸ء، ملفوظات ج۱۰، ص۱۲۷)

’’نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیاگیا ہوں۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۳۹۱، خزائن ج۲۲ ص۴۰۶)

547

۲۵… ’’اور خدا کی پناہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ جب ﷲتعالیٰ نے ہمارے نبی اور سردار دوجہاں محمد مصطفیٰ ﷺ کو خاتم النّبیین بنادیا ۔ میں نبوت کا مدعی بنتا۔‘‘

(حمامتہ البشریٰ ص۸۳، خزائن ج۷ ص۳۰۲)

’’سچا خداوہی خدا ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔‘‘

(دافع البلاء ص۱۱، خزائن ج۸ ص۲۳۱)

مرزاقادیانی کا اپنے ملعون ہونے کا فیصلہ

۲۶… ’’ان پر واضح ہوکہ ہم بھی نبوت کے مدعی پر لعنت بھیجتے ہیں اور کلمہ لا الہ الا ﷲ محمد رسول ﷲ کے قائل ہیں اور آنحضرت ﷺ کی ختم نبوت پر ایمان رکھتے ہیں۔‘‘

(تبلیغ رسالت ج۶ ص۲،۳، مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۲۹۷)

’’ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول اور نبی ہیں۔‘‘

(اخبار بدر مورخہ ۵؍مارچ ۱۹۰۸ء، ملفوظات ج۱۰ ص۱۲۷)

’’نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیاگیا ہوں۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۳۹۱، خزائن ج۲۲ ص۴۰۶)

۲۷… ’’جب میں چھ سات سال کا تھا تو ایک فارسی خواں معلم میرے لئے نوکر رکھا گیا۔ جنہوں نے قرآن شریف اور چند فارسی کتابیں مجھے پڑھائیں اور اس بزرگ کا نام فضل الٰہی تھا۔‘‘

(کتاب البریہ ص۱۶۲، خزائن ج۱۳ ص۱۸۰)

’’سو میں حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ میرا یہی حال ہے۔ کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ میں نے کسی انسان سے قرآن یا حدیث یا تفسیر کا ایک سبق بھی پڑھا ہے۔‘‘ (ایام الصلح ص۱۴۷، خزائن ج۱۴ ص۳۹۴)

آپ نے مذکورہ بالا عبارات میں دیکھا کہ مرزاقادیانی نے کس طرح متضاد باتیں کہی ہیں اور اس کے فتوے بھی ملاحظہ فرمائے کہ پاگل، مجنوں، منافق، مخبط الحواس اور جھوٹے کے کلام میں تناقض ہوتا ہے۔ لو! مرزاقادیانی کی جوتی اور مرزاکا سر ؎

اگر ہم عرض کریں گے تو شکایت ہوگی

باب دہم … مرزاقادیانی کی بیماریاں

الہام مرزا! ’’ہم نے تیری صحت کا ٹھیکہ لیا ہے۔‘‘ (تذکرہ مجموعہ الہامات ص۸۰۳ طبع دوم)

(۱)مرض ہسٹیریا کا دورہ

’’بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کو پہلی دفعہ دوران سر اور ہسٹیریا کا دورہ بشیر اوّل ہمارا ایک بڑا بھائی ہوتا تھا۔ (جو ۱۸۸۸ء میں فوت ہوگیا تھا) کی وفات کے چند دن بعد ہوا تھا۔ رات کو سوتے ہوئے آپ کو اتھو آیا اور پھر اس کے بعد طبیعت خراب ہوگئی۔ مگر یہ دورہ خفیف تھا۔ پھر اس کے کچھ عرصہ بعد آپ ایک دفعہ نماز کے لئے باہر گئے اور جاتے ہوئے فرماگئے کہ آج کچھ طبیعت خراب ہے۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ تھوڑی دیر کے بعد شیخ حامد علی (حضرت مسیح موعود کا پرانا مخلص خادم تھا۔ اب فوت ہوچکا ہے) نے دروازہ کھٹکھٹایا کہ جلدی پانی کی ایک گاگر گرم کر دو۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ میں سمجھ گئی کہ حضرت صاحب کی طبیعت خراب ہوگئی ہوگی۔ چنانچہ میں نے کسی ملازم عورت کو کہا کہ اس سے پوچھو میاں کی طبیعت کا کیا حال ہے۔ شیخ حامد علی نے کہا کچھ خراب ہوگئی ہے۔ میں پردہ کراکر مسجد میں چلی گئی تو آپ لیٹے ہوئے تھے میں جب پاس گئی تو فرمایا میری طبیعت بہت خراب ہوگئی تھی۔ لیکن اب افاقہ ہے

548

میں نماز پڑھا رہا تھا کہ میں نے دیکھا کہ کوئی کالی کالی چیز میرے سامنے سے اٹھی ہے اور آسمان تک چلی گئی ہے۔ پھر میں چیخ مار کر زمین پر گر گیا اور غشی کی سی حالت ہو گئی۔ والدہ صاحبہ فرماتی ہیں اس کے بعد سے آپ کو باقاعدہ دورے پڑنے شروع ہوگئے۔‘‘

(سیرت المہدی حصہ اوّل ص۱۶،۱۷، روایت نمبر۱۹)

(۲)دورے پر دورہ

’’والدہ صاحبہ فرماتی ہیں۔ اس کے بعد آپ کو باقاعدہ دورے پڑنے شروع ہوگئے۔ خاکسار نے پوچھا دوروں میں کیا ہوتا تھا۔ والدہ صاحبہ نے کہا ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہوجاتے تھے اور بدن کے پٹھے کھنچ جاتے تھے۔ خصوصاً گردن کے پٹھے اور سر میں چکر ہوتا تھا۔‘‘ (سیرت المہدی حصہ اوّل ص۱۷، روایت نمبر۱۹)

(۳)خونی قے

’’پھر یک لخت بولتے بولتے آپ کو ابکائی آئی اور ساتھ ہی قے ہوئی۔ جو خالص خون کی تھی۔ جس میں کچھ خون جما ہوا تھا اور کچھ بہنے والا تھا۔ حضرت نے تکیے سے سر اٹھاکر رومال سے اپنا منہ پونچھا اور آنکھیں بھی پونچھیں۔ جو قے کی وجہ سے پانی لے آئی تھیں۔‘‘

(سیرت المہدی حصہ اوّل ص۹۷، روایت نمبر۱۰۷)

(۴)مراق

’’مراق کا مرض حضرت مرزاصاحب کو موروثی نہ تھا۔ بلکہ یہ خارجی اسباب کے ماتحت پیدا ہوا تھا اور اس کا باعث سخت دماغی محنت، تفکرات، غم اور سوئے ہضم تھا۔ جس کا نتیجہ دماغی ضعف تھا اور جس کا اظہار مراق اور دیگر ضعف کی علامات مثلاً دوران سر کے ذریعہ ہوتا تھا۔‘‘

(رسالہ ریویو قادیان ص۱۰، بابت اگست ۱۹۲۶ء)

(۵)ہسٹیریا

’’ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے کئی دفعہ حضرت مسیح موعود سے سنا ہے کہ مجھے ہسٹیریا ہے۔ بعض اوقات آپ مراق بھی فرمایا کرتے تھے۔ لیکن دراصل بات یہ ہے کہ آپ کو دماغی محنت اور شبانہ روز تصنیف کی مشقت کی وجہ سے بعض ایسی عصبی علامات پیدا ہو جایا کرتی تھیں جو ہسٹیریا کے مریضوں میں بھی عموماً دیکھی جاتی ہیں۔ مثلاً کام کرتے کرتے یک دم ضعف ہو جانا، چکروں کا آنا، ہاتھ پاؤں کا سرد ہوجانا، گھبراہٹ کا دورہ ہو جانا۔ ایسا معلوم ہوتا کہ ابھی دم نکلتا ہے۔ یا کسی تنگ جگہ یا بعض اوقات زیادہ آدمیوں میں گھر کر بیٹھنے سے دل کا سخت پریشان ہونے لگنا وغیرہ ذالک۔‘‘ (سیرت المہدی حصہ دوم ص۵۵، روایت نمبر۳۶۹)

(۶)دق

’’حضرت اقدس نے اپنی بیماری دق کا بھی ذکر کیا ہے۔ یہ بیماری آپ کو حضرت مرزاغلام مرتضیٰ صاحب مرحوم کی زندگی میں ہوگئی تھی اور آپ قریباً چھ ماہ تک بیمار رہے۔ حضرت مرزاغلام مرتضیٰ صاحب آپ کا علاج خود کرتے تھے اور آپ کو بکرے کے پائے کا شوربا کھلایا کرتے تھے۔ اس بیماری میں آپ کی حالت بہت نازک ہوگئی تھی۔‘‘

(سیرت المہدی حصہ اوّل ص۵۶، روایت نمبر۶۶)

549

(۷)نامردی

’’جب میں نے شادی کی تھی تو اس وقت تک مجھے یقین رہا کہ میں نامرد ہوں۔‘‘

(خاکسار غلام احمد قادیان مورخہ ۲۲؍فروری ۱۸۸۷ء، مکتوبات احمدیہ حصہ پنجم ص۲۱، خط نمبر۱۴)

اتنا پکا یقین تھا تو پھر شادی کیوں کی تھی؟ کس پر بھروسہ تھا؟ (ناقل)

(۸)کالی بلا

’’بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) نے فرمایا میری طبیعت بہت خراب ہوگئی تھی۔ لیکن اب افاقہ ہے میں نماز پڑھ رہا تھا کہ میں نے دیکھا کہ کوئی کالی کالی چیز میرے سامنے سے اٹھی اور آسمان تک چلی گئی۔ پھر میں چیخ مار کر زمین پر گر گیا اور غشی کی سی حالت ہو گئی۔‘‘ (سیرت المہدی حصہ اوّل ص۱۶، روایت نمبر۱۹)

(۹)سخت دورہ اور ٹانگیں باندھنا

’’بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ اوائل میں ایک دفعہ حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کو سخت دورہ پڑا۔ کسی نے مرزاسلطان احمد اور مرزافضل احمد کو بھی اطلاع دے دی اور وہ دونوں آگئے۔ پھر ان کے سامنے بھی حضرت (مرزاقادیانی) صاحب کو دورہ پڑا۔ والدہ صاحبہ فرماتی ہیں۔ اس وقت میں نے دیکھا کہ مرزاسلطان احمد تو آپ کی چارپائی کے پاس خاموشی کے ساتھ بیٹھے رہے۔ مگر مرزافضل احمد کے چہرہ پر ایک رنگ آتا تھا اور ایک جاتا تھا اور کبھی ادھر بھاگتا تھا اور کبھی ادھر۔ کبھی اپنی پگڑی اتار کر حضرت صاحب کی ٹانگوں کو باندھتا تھا اور کبھی پاؤں دبانے لگ جاتا تھا اور گھبراہٹ میں اس کے ہاتھ کانپتے تھے۔‘‘ (سیرت المہدی حصہ اوّل ص۲۸، روایت نمبر۳۶)

(۱۰)اوپر اور نیچے والے امراض

’’دو مرض میرے لاحق حال ہیں۔ ایک بدن کے اوپر کے حصہ میں اور دوسرا بدن کے نیچے کے حصہ میں۔ اوپر کے حصہ میں دوران سر ہے اور نیچے کے حصہ میں کثرت پیشاب ہے اور دونوں مرضیں اس زمانہ سے ہیں جس زمانہ میں میں نے اپنا دعویٰ مامور من ﷲ ہونے کا شائع کیا ہے۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۳۰۷، خزائن ج۲۲ ص۳۲۰)

(۱۱)پرانی اور دائمی بیماریاں

’’مجھے دو مرض دامن گیر ہیں۔ ایک جسم کے اوپر کے حصہ میں۔ یعنی سردرد اور دوران خون کم ہوکر ہاتھ پاؤں سرد ہوجانا۔ نبض کم ہوجانا اور دوسرے جسم کے نیچے کے حصہ میں کہ کثرت پیشاب اور اکثر دست آتے رہنا۔ دونوں بیماریاں قریب تیس برس کے ہیں۔‘‘

(نسیم دعوت ص۸۰، خزائن ج۱۹ ص۴۳۵)

(۱۲)اعصابی کمزوری

’’حضرت مرزاصاحب کی تمام تکالیف مثلاً دوران سر، درد سر، کمی خواب، تشنج دل اور بدہضمی، اسہال، کثرت پیشاب اور مراق وغیرہ کا صرف ایک ہی باعث تھا اور وہ عصبی کمزوری تھی۔‘‘

(رسالہ ریویو قادیان ج۲۶ نمبر۵ ص۲۶، مئی ۱۹۳۷ء)

550

(۱۳)حافظہ کا ستیاناس

’’مکرمی اخویم سلمہ، میرا حافظہ بہت خراب ہے۔ اگر کئی دفعہ کسی کی ملاقات ہو توتب بھی بھول جاتا ہوں یاد دہانی عمدہ طریقہ ہے۔ حافظہ کی یہ ابتری ہے کہ بیان نہیں کر سکتا۔‘‘

(مکتوبات احمدیہ ج۵ نمبر۳ ص۳۱)

نبی بننا تو خوب یاد رہا۔ ناقل!

(۱۴)پاخانوں کی یلغار

’’باوجود یہ کہ مجھے اسہال کی بیماری ہے اور ہر روز کئی کئی دست آتے ہیں۔ مگر جس وقت پاخانے کی بھی حاجت ہوتی ہے تو مجھے افسوس ہی ہوتا ہے کہ ابھی کیوں حاجت ہوئی۔ اسی طرح جب روٹی کھانے کے لئے کئی مرتبہ کہتے ہیں تو بڑا جبر کر کے جلد جلد چند لقمے کھا لیتا ہوں۔ بظاہر تو میں روٹی کھاتا ہوا دکھائی دیتا ہوں۔ مگر میں سچ کہتا ہوں کہ مجھے پتہ نہیں ہوتا کہ وہ کہاں جاتی ہے اور کیا کھا رہا ہوں۔ میری توجہ اور خیال اسی طرف لگا ہوا ہوتا ہے۔‘‘

(ارشاد مرزاقادیانی مندرجہ اخبار الحکم قادیان ج۵ نمبر۴۰، مورخہ ۳۰؍اکتوبر۱۹۰۱ء، منقول از کتاب منظور الٰہی ص۳۴۹، مؤلفہ محمد منظور الٰہی)

(۱۵)بے ہوشی

’’پہلے بھی کئی دفعہ ایسا ہوا کہ جب حضور سخت جسمانی محنت کیا کرتے تو اچانک آپ کے دماغ پر ایک کمزوری کا حملہ ہوتا اور بے ہوش ہو جاتے۔‘‘

(منظر وصال از مفتی محمد صادق قادیانی مندرجہ اخبار الحکم قادیان خاص نمبر، مورخہ ۲۱؍مئی ۱۹۳۴ء)

(۱۶)مقعد سے خون

’’ایک مرتبہ میں قولنج زحیری سے سخت بیمار ہوا اور سولہ دن تک پاخانہ کی راہ سے خون آتا رہا اور سخت درد تھا۔ جو بیان سے باہر ہے۔‘‘ (حقیقت الوحی ص۲۳۴، خزائن ج۲۲ ص۲۴۶)

(۱۷)انتہائی کمزوری ولاچاری

’’مخدومی مکرمی حضرت مولوی صاحب السلام علیکم ورحمتہ ﷲ وبرکاتہ، اور اس عاجز کی طبیعت آج بہت علیل ہورہی ہے۔ ہاتھ پاؤں بھاری اور زبان بھی بھاری ہورہی ہے۔ مرض کے غلبے سے نہایت لاچاری ہے۔‘‘

(مکتوبات احمدیہ ج۵ نمبر۲ ص۱۲۱)

(۱۸)سستی نبض اور گھبراہٹ

’’کل سے میری طبیعت علیل ہوگئی ہے۔ کل شام کے وقت مسجد میں اپنے تمام دوستوں کے روبرو جو حاضر تھے۔ سخت درجہ کا عارضہ لاحق ہوا اور ایک دفعہ تمام بدن سرد اور نبض کمزور اور طبیعت میں سخت گھبراہٹ شروع ہوئی اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا زندگی میں ایک دو دم باقی ہیں۔ بہت نازک حالت ہوکر پھر صحت کی طرف عود ہوا۔ مگر اب تک کلی اطمینان نہیں۔ کچھ کچھ اثرات عود مرض کے ہیں۔‘‘ (مکتوبات احمدیہ ج۵ حصہ اوّل ص۲۸، مکتوب نمبر۷۱)

(۱۹)دم الٹ دینے والی کھانسی

’’میری طبیعت بیمار ہے۔ کھانسی سے دم الٹ جاتا ہے۔‘‘

(مرزاقادیانی کا خط مفتی محمد صادق کے نام، ذکر حبیب ص۳۶۴)

551

(۲۰)پاؤں کی سردی

’’جوڑہ جراب خواہ سیاہ رنگ ہو یا کوئی اور رنگ ہو۔ مضائقہ نہیں۔ اس قدر پاؤں کو سردی ہے کہ اٹھنا مشکل ہے۔‘‘ (مرزاقادیانی کا خط حکیم محمد حسین قریشی کے نام خطوط امام بنام غلام ص۷)

(۲۱)کھانسی اور جوشاندہ

’’ایک دفعہ حضرت صاحب کو کھانسی تھی۔ حضور نے خرفہ ۲ماشہ السی ایک ماشہ کا جوشاندہ بنا کر پیا۔‘‘

(ذکر حبیب ص۲۱۷)

(۲۲)کھانسی اور گرم گرم گنا

’’سفر گورداسپور میں ۱۹۰۳ء میں ایک دفعہ حضرت صاحب کو کھانسی کی شکایت تھی۔ میں نے عرض کی کہ میرے والد مرحوم اس کا علاج، گرم کیا ہوا گنا بتلایا کرتے تھے۔ تب حضور کے فرمانے سے ایک گنا چند پوریاں لے کر آگ پر گرم کیاگیا اور اس کی گنڈیریاں بنا کر حضور کو دی گئیں اور حضور نے چوسیں۔‘‘ (ذکر حبیب ص۱۱۱)

(۲۳)سر کے بالوں کی بیماری

’’آخری عمر میں حضور کے سر کے بال بہت پتلے اور ہلکے ہوگئے تھے۔ چونکہ یہ عاجز ولایت سے ادویہ وغیرہ کے نمونے منگوایا کرتا تھا۔ غالباً اس واسطے مجھے ایک دفعہ فرمایا: ’’مفتی صاحب سر کے بالوں کے اگانے اور بڑھانے کے واسطے کوئی دوائی منگوائیں۔‘‘ (ذکر حبیب ص۱۷۳)

(۲۴)گنجا پن

’’دوا پہنچ گئی۔ ایک اشتہار بالوں کی کثرت کا شاید لندن میں کسی نے دیا ہے اور مفت دوا بھیجتا ہے۔ آپ وہ دوا بھی منگوالیں تاکہ آزمائی جائے۔ لکھتا ہے کہ اس سے گنجے بھی شفا پاتے ہیں۔‘‘

(ذکر حبیب ص۳۶۰)

(۲۵)مراق

’’سیٹھ غلام نبی نے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دن کا ذکر ہے کہ حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل نے حضرت مسیح موعود سے فرمایا کہ حضور غلام نبی کو مراق ہے تو حضور نے فرمایا۔ ایک رنگ میں سب نبیوں کو مراق ہوتا ہے اور مجھ کو بھی ہے۔‘‘

(سیرت المہدی حصہ سوئم ص۳۰۴، روایت نمبر۹۶۹)

(۲۶)دانت درد

’’ایک دفعہ مجھے دانت میں سخت درد ہوئی۔ ایک دم قرار نہ تھا کسی شخص سے میں نے دریافت کیا کہ اس کا کوئی علاج بھی ہے۔ اس نے کہا کہ علاج دنداں اخراج دنداں اور دانت نکالنے سے میرا دل ڈرا۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۲۳۵، نشان نمبر۸۶، خزائن ج۲۲ ص۲۴۶)

552

(۲۷)پیر جھسوانا اور بدن دبوانا

’’ڈاکٹر میر محمد اسماعیل نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود سر کے دورہ میں پیر بہت جھسواتے تھے اور بدن زور سے دبواتے تھے۔ اس سے آپ کو آرام محسوس ہوتا تھا۔‘‘

(سیرت المہدی حصہ سوئم ص۲۸۷، روایت نمبر۹۳۸)

(۲۸)دورہ دوران سر

’’میں چند روز سے سخت بیمار ہوں۔ بعض اوقات جب دورہ دوران سر شدت سے ہوتا ہے تو خاتمہ زندگی محسوس ہوتا ہے۔ ساتھ ہی سردرد بھی ہے۔ ایسی حالت میں روغن بادام سر اور پیروں کی ہتھیلیوں پر ملنا اور پینا فائدہ مند محسوس ہوتا ہے۔‘‘ (خطوط امام بنام غلام ص۵)

(۲۹)مرزاقادیانی کو پاخانے کی ضرورت

’’ایک انگریزی وضع کا پاخانہ جو ایک چوکی ہوتی ہے اور اس میں ایک برتن ہوتا ہے۔ اس کی قیمت معلوم نہیں۔ آپ ساتھ لاویں۔ قیمت یہاں سے دی جاوے گی۔ مجھے دوران سر کی بہت شدت سے مرض ہوگئی ہے۔ پیروں پر بوجھ دے کر پاخانہ پھرنے سے مجھے سر کو چکر آتا ہے۔ اس لئے ایسے پاخانہ کی ضرورت پڑی۔ اگر شیخ صاحب کی دوکان پر ایسا پاخانہ ہو تو وہ دے دیں گے۔ مگر ضرور لانا چاہئے۔‘‘

(خطوط امام بنام غلام ص۶)

(۳۰)پھٹی ہوئی ایڑیاں

’’پیر کی ایڑیاں آپ کی بعض دفعہ گرمیوں کے موسم میں پھٹ جایا کرتی تھیں۔‘‘

(سیرت المہدی حصہ دوم ص۱۲۵، روایت نمبر۲۲۲)

(۳۱)سردی گرمی

’’گرم کپڑے سردی گرمی میں برابر پہنتے تھے۔‘‘ (سیرت المہدی حصہ دوم ص۱۲۵، روایت نمبر۴۴۴)

(۳۲)انگوٹھے کا درد

’’حضرت صاحب کو کبھی کبھی پاؤں کے انگوٹھے کے نقرس کا درد ہوجایا کرتا تھا۔ ایک دفعہ شروع میں گھٹنے کے جوڑ میں بھی درد ہوا۔ نامعلوم وہ کیا تھا۔ مگر دو تین دن زیادہ تکلیف رہی۔ پھر جونکیں لگانے سے آرام آیا۔‘‘

(سیرت المہدی حصہ سوم ص۲۸، روایت نمبر۵۱۲)

(۳۳)انگوٹھے کی سوجن

’’خاکسار عرض کرتا ہے کہ نقرس کے درد میں آپ کا انگوٹھا سوج جایا کرتا تھا اور سرخ بھی ہوجاتا تھا اور بہت درد ہوتی تھی۔‘‘ (سیرت المہدی حصہ سوم ص۲۸، روایت نمبر۵۱۲)

(۳۴)ٹخنے کا پھوڑا

’’ایک دفعہ حضرت صاحب کے ٹخنے کے پاس پھوڑا ہوگیا تھا۔ جس پر حضرت صاحب نے اس پر سکہ یعنی

553

سیسہ کی ٹکیا بندھوائی تھی۔ جس سے آرام آگیا۔‘‘ (سیرت المہدی حصہ سوم ص۲۸، روایت نمبر۵۱۲)

(۳۵)لتاڑا

’’ایک دفعہ بمقام گورداسپور ۱۹۰۴ء میں حضرت مسیح موعود کو بخار تھا۔ آپ نے خاکسار سے فرمایا کہ کسی جسیم آدمی کو بلاؤ جو ہمارے جسم پر پھرے۔ خاکسار جناب خواجہ کمال الدین وکیل لاہور کو لایا وہ چند دقیقہ پھرے۔ مگر حضرت اقدس نے فرمایا کہ ان کا وجود چنداں بوجھل نہیں کسی دوسرے شخص کو لائیں۔ شاید حضور نے ڈاکٹر محمد اسماعیل خان دہلوی کا نام لیا۔ خاکسار ان کو بلالایا۔ جسم پر پھرنے سے حضرت اقدس کو آرام محسوس ہوا۔‘‘

(سیرت المہدی حصہ سوئم ص۴۹، روایت نمبر۵۶۵)

(۳۶)خارش

’’ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کو غالباً ۱۸۹۲ء میں ایک دفعہ خارش کی تکلیف بھی ہوئی تھی۔

(سیرت المہدی حصہ سوئم ص۵۳، روایت نمبر۵۷۴)

(۳۷)کیچڑ

’’بیان کیا مجھ سے مرزاسلطان احمد نے بواسطہ مولوی رحیم بخش ایم۔اے کہ ایک مرتبہ والد صاحب سخت بیمار ہوگئے اور حالت نازک ہوگئی اور حکیموں نے ناامیدی کا اظہار کر دیا اور نبض بھی بند ہوگئی۔ مگر زبان جاری رہی۔ والد صاحب نے کہا کہ کیچڑ لا کر میرے اوپر اور نیچے رکھو۔ چنانچہ ایسا کیاگیا اور اس سے حالت روبا اصلاح ہوگئی۔‘‘

(سیرت المہدی حصہ اوّل ص۲۲۱، روایت نمبر۲۰۰)

(۳۸)سفید بال

’’خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود(مرزاقادیانی) بیان فرمایا کرتے تھے کہ ابھی ہماری عمر تیس سال کی ہی تھی کہ بال سفید ہونے شروع ہو گئے تھے اور میرا خیال ہے کہ ۵۵سال کی عمر تک آپ کے سارے بال سفید ہوچکے ہوںگے۔‘‘ (سیرت المہدی ص۱۱ حصہ دوم، روایت نمبر۳۱۶)

(۳۹)لکنت

’’حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کی زبان میں کسی قدر لکنت تھی اور آپ پرنالے کو پنالہ فرمایا کرتے تھے۔‘‘

(سیرت المہدی حصہ دوم ص۲۵، روایت نمبر۳۳۵)

(۴۰)چشم نیم باز

’’آپ کی آنکھیں ہمیشہ نیم بند رہتی تھیں اور ادھر ادھر آنکھیں اٹھا کر دیکھنے کی آپ کو عادت نہ تھی۔ بسا اوقات ایسا ہوتا تھا کہ سیر میں جاتے ہوئے آپ کسی خادم کا ذکر غائب کے صیغہ میں فرماتے تھے۔ حالانکہ وہ آپ کے ساتھ ساتھ جارہا ہوتا تھا اور پھر کسی کے بتلانے پر آپ کو پتہ چلتا تھا کہ وہ شخص آپ کے ساتھ ہے۔‘‘

(سیرت المہدی حصہ دوم ص۷۷، روایت نمبر۴۰۳)

554

(۴۱)داڑھوں کا کیڑا

’’دندان مبارک آپ کے آخری عمر میں کچھ خراب ہوگئے تھے۔ یعنی کیڑا بعض داڑھوں کو لگ گیا تھا۔ جس سے کبھی کبھی تکلیف ہو جاتی تھی۔ چنانچہ ایک دفعہ ایک داڑھ کا سرا ایسا نوکدار ہوگیا تھا کہ اس سے زبان میں زخم پڑ گیا تو ریتی کے ساتھ اس کو گھسوا کر برابر بھی کرایا تھا۔‘‘

(سیرت المہدی حصہ دوم ص۱۲۵، روایت نمبر۴۴۴)

(۴۲)دل گھٹنے کا دورہ

’’ڈاکٹر میر محمداسماعیل نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ لدھیانہ میں حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) نے رمضان کا روزہ رکھا ہوا تھا کہ دل گھٹنے کا دورہ ہوا اور ہاتھ پائوں ٹھنڈے ہوگئے۔ اس وقت غروب آفتاب کا وقت بہت قریب تھا۔ مگر آپ نے روزہ توڑ دیا۔‘‘

(سیرت المہدی حصہ سوئم ص۱۳۱،روایت نمبر۶۹۷)

(۴۳)پیچش

’’ایک دن حضورکو پیچش کی شکایت ہوگئی۔ بار بار قضائے حاجت کے لئے تشریف لے جاتے تھے۔ حضور نے ہمیں سوئے رہنے کے لئے فرمایا۔ جب حضور رفع حاجت کے لئے اٹھتے تو خاکسار اسی وقت اٹھ کر پانی کا لوٹا لے کر حضور کے ساتھ جاتا۔ تمام رات ایسا ہی ہوتا رہا۔‘‘

(سیرت المہدی حصہ سوئم ص۱۳۳،روایت نمبر۷۰۱)

(۴۴)گرمی دانے

’’ڈاکٹر میر محمداسماعیل نے مجھ سے بیان کیا کہ بعض اوقات گرمی میں حضرت مسیح (مرزاقادیانی) کی پشت پر گرمی دانے نکل آتے تھے تو سہلانے سے ان کو آرام آتا تھا۔ بعض اوقات فرمایا کرتے کہ میاں جلون کرو جس سے مراد یہ ہوتی تھی کہ انگلیوں کے پوٹے بالکل آہستہ آہستہ اور نرمی سے پشت پر پھیرو۔‘‘ (سیرت المہدی حصہ سوئم ص۱۹۵،روایت نمبر۷۶۵)

(۴۵)دردگردہ

’’ایک دفعہ حضرت صاحب کو بہت سخت درد گردہ ہوا جو کئی دن تک رہا۔ اس کی وجہ سے آپ کو بہت تکلیف رہتی اور رات دن خدام باہر کے کمرہ میں جمع رہتے۔‘‘

(ذکرحبیب ص۲۹، از مفتی محمدصادق قادیانی)

(۴۶)دوران سر

’’خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود کو کبھی کبھی دوران سر کی تکلیف ہوجاتی تھی۔ جو بعض اوقات اچانک پیدا ہوجاتی ہے۔ مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ حضرت صاحب گھر میں ایک چار پائی کو کھینچ کر ایک طرف کرنے لگے تو اس وقت اچانک چکر آگیا اور لڑکھڑاکر گرنے کے قریب ہوگئے۔ مگر پھر سنبھل گئے۔‘‘ (سیرت المہدی حصہ سوئم ص۲۱۳،روایت نمبر۷۸۸)

(۴۷)پشت پر پھنسی

’’ایک دن آپ کی پشت پر ایک پھنسی نمودار ہوئی جس سے آپ کو بہت تکلیف ہوئی۔ خاکسار کو بلایا اور دکھایا اور بار بار پوچھا کہ یہ کاربنکل تو نہیں۔ کیونکہ مجھے ذیابیطس کی بیماری ہے۔ میں نے دیکھ کر عرض کیا کہ یہ بال توڑ یا معمولی

555

پھنسی ہے۔ کاربنکل نہیں ہے۔‘‘

(سیرت المہدی حصہ سوئم ص۲۲۷،روایت نمبر۸۱۲،مرزابشیراحمدقادیانی)

(۴۸)سردی اور متلی

’’ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت صاحب معتدل موسم میں بھی کئی مرتبہ پچھلی رات کو اٹھ کر اندر کمرہ میں جا کر سوجایا کرتے تھے اور کبھی کبھی فرماتے تھے کہ ہمیں سردی سے متلی ہونے لگتی ہے۔ بعض دفعہ تو اٹھ کر پہلے کوئی دوا مثلاً مشک وغیرہ کھا لیتے تھے اور پھر لحاف یا رضائی اوڑھ کر اندر جا لیٹتے تھے۔ غرض یہ کہ سردی سے آپ کو تکلیف ہوتی تھی اور اس کے اثر سے خاص طور پر اپنی حفاظت کرتے تھے۔ چنانچہ پچھلی عمر میں بارہ مہینے گرم کپڑے پہنا کرتے تھے۔‘‘

(سیرت المہدی حصہ سوئم ص۶۶، روایت نمبر۵۹۷)

(۴۹)گرمیوں میں جرابیں

’’خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب بالعموم گرمی میں بھی جراب پہنا کرتے تھے۔‘‘

(سیرت المہدی حصہ سوئم ص۶۶، روایت نمبر۵۹۷)

(۵۰)کھانسی

’’ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت صاحب کو سخت کھانسی ہوئی۔ ایسی کہ دم نہ آتا تھا۔ البتہ منہ میں پان رکھ کر قدرے آرام معلوم ہوتا تھا۔ اس وقت آپ نے اس حالت میں پان منہ میں رکھے رکھے نماز پڑھی۔‘‘ (سیرت المہدی حصہ سوئم ص۱۰۳، روایت نمبر۶۳۸)

(۵۱)مائی اوپیا

’’ڈاکٹر میر محمد اسماعیل نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت صاحب کی آنکھوں میں مائی اوپیا تھا۔ اسی وجہ سے پہلی رات کا چاند نہ دیکھ سکتے تھے۔‘‘ (سیرت المہدی حصہ سوئم ص۱۱۹، روایت نمبر۶۷۳)

(۵۲)چکر

’’میں نے حضرت ام المؤمنین (مرزاکی بیوی) سے پوچھا تو انہوں نے بھی اس بات کی تصدیق کی۔ مگر ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ حضرت صاحب نے مجھ سے یہ بھی فرمایا تھا کہ مجھے بعض اوقات کھڑے ہوکر چکر آجایا کرتا ہے۔ اس لئے تم میرے پاس کھڑے ہوکر نماز پڑھ لیا کرو۔‘‘

(سیرت المہدی حصہ سوئم ص۱۳۱، روایت نمبر۶۹۶)

(۵۳)سل

’’بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے ایک دفعہ تمہارے دادا کی زندگی میں حضرت مرزا صاحب کو سل ہوگئی۔ حتیٰ کہ زندگی سے ناامیدی ہوگئی۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ تمہارے دادا خود حضرت صاحب کا علاج کرتے تھے اور برابر چھ ماہ تک انہوں نے آپ کو بکرے کے پائے کا شوربا کھلایا۔‘‘

(سیرت المہدی حصہ اول ص۵۶ روایت نمبر۶۶،مرزا بشیراحمدقادیانی)

556

(۵۴)ذیابیطس اور پیشاب کی زیادتی

’’اور دوسری بیماری بدن کے نیچے کے حصہ میں ہے جو مجھے کثرت پیشاب کی مرض ہے جس کو ذیابیطس بھی کہتے ہیں اور معمولی طور پر مجھ کو ہر روز پیشاب بکثرت آتا ہے اور پندرہ یا بیس دفعہ تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔‘‘

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۲۰۱،خزائن ج۲۱ ص۳۷۳)

(۵۵)دائمی مریض سو دفعہ پیشاب

’’میں ایک دائم المرض آدمی ہوں… ہمیشہ درد سر اور دوران سر، کمی خواب اورتشنج دل کی بیماری دورہ کے ساتھ آتی ہے۔ بیماری ذیابیطس ہے کہ ایک مدت سے دامن گیر ہے اور بسا اوقات سو سو دفعہ رات کو یادن کو پیشاب آتا ہے اور اس قدر کثرت پیشاب سے جس قدر عوارض ضعف وغیرہ ہوتے ہیں وہ سب میرے شامل حال رہتے ہیں۔‘‘

(ضمیمہ اربعین نمبر۴، مورخہ ۱۹؍دسمبر۱۹۰۰ء، ص۴، خزائن ج۱۷ ص۴۷۰)

(۵۶)ادھ کھلی آنکھیں

’’مولوی شیر علی صاحب نے بیان کیا کہ باہر مردوں میں بھی حضرت (مرزاقادیانی) صاحب کی یہ عادت تھی کہ آپ کی آنکھیں ہمیشہ نیم بند رہتی تھیں۔ ایک دفعہ حضرت مرزاصاحب مع چند خدام کے فوٹو کھنچوانے لگے تو فوٹو گرافر آپ سے عرض کرتا تھا کہ حضور آنکھیں کھول کر رکھیں۔ ورنہ تصویر اچھی نہیں آئے گی اور آپ نے اس کے کہنے پر ایک دفعہ تکلیف کے ساتھ آنکھوں کو کچھ زیادہ کھولا بھی مگر وہ پھر اسی طرح نیم بند ہوگئیں۔‘‘

(سیرت المہدی حصہ دوم ص۷۷، روایت نمبر۴۰۴)

(۵۷)سرعت پیشاب، ریشمی آزاربند

’’اور والدہ صاحبہ بیان فرماتی ہیں کہ حضرت مسیح موعود عموماً ریشمی ازاربند استعمال فرماتے تھے۔ کیونکہ آپ کو پیشاب جلدی جلدی آتا تھا۔ اس لئے ریشمی ازاربند رکھتے تھے۔ تاکہ کھولنے میں آسانی ہو اور گرہ بھی پڑ جاوے تو کھولنے میں دقت نہ ہو۔ سوتی ازاربند میں آپ سے بعض اوقات گرہ پڑ جاتی تھی تو آپ کو بڑی تکلیف ہوتی تھی۔‘‘

(سیرت المہدی حصہ اوّل ص۵۵، روایت نمبر۶۵)

(۵۸)ضعف دماغ

’’میری طبیعت آپ کے بعد پھر بیمار ہوگئی۔ ابھی ریزش کا نہایت زور ہے۔ دماغ میں بہت ضعف ہوگیا ہے۔ آپ کے دوست ٹھاکر رام کے لئے ایک دن بھی توجہ کرنے کے لئے مجھے نہیں ملا۔ صحت کا منتظر ہوں۔والسلام!‘‘

(خاکسار غلام احمد مورخہ یکم جنوری ۱۸۹۰ء،مکتوبات احمدیہ ج پنجم نمبر۲ ص۷۴،مکتوب نمبر۵۵)

(۵۹)مرض الموت ’’ہیضہ‘‘

’’والدہ صاحب نے فرمایا کہ حضرت مسیح موعود کو پہلا دست کھانا کھانے کے وقت آیا تھا۔ مگر اس کے بعد تھوڑی دیر تک ہم لوگ آپ کے پاؤں دباتے رہے اور آپ آرام سے لیٹ کر سو گئے اور میں بھی سو گئی۔ لیکن کچھ دیر کے بعد آپ

557

کو پھر حاجت محسوس ہوئی اور غالباً ایک یا دو دفعہ رفع حاجت کے لئے آپ پاخانہ تشریف لے گئے۔ اس کے بعد آپ نے زیادہ ضعف محسوس کیا تو اپنے ہاتھ سے مجھے جگایا۔ میں اٹھی تو آپ کو اتنا ضعف تھا کہ آپ میری چارپائی پر ہی لیٹ گئے اور میں آپ کے پاؤں دبانے کے لئے بیٹھ گئی۔ تھوڑی دیر کے بعد حضرت صاحب نے فرمایا تم اب سو جاؤ۔ میں نے کہا نہیں میں دباتی ہوں۔ اتنے میں آپ کو ایک اور دست آیا۔ مگر اب اس قدر ضعف تھا کہ آپ پاخانہ نہ جاسکتے تھے۔ اس لئے میں نے چارپائی کے پاس ہی انتظام کر دیا اور آپ وہیں بیٹھ کر فارغ ہوئے اور پھر اٹھ کر لیٹ گئے اور میں پاؤں دباتی رہی۔ مگر ضعف بہت ہوگیا تھا۔ اس کے بعد ایک اور دست آیا اور پھر آپ کو ایک قے آئی۔ جب آپ قے سے فارغ ہوکر لیٹنے لگے تو اتنا ضعف تھا کہ آپ لیٹتے لیٹتے پشت کے بل چارپائی پر گر گئے اور آپ کا سر چارپائی کی لکڑی سے ٹکرایا اور حالت دگرگوں ہوگئی۔ اس پر میں نے گھبرا کر کہا ’’ ﷲ یہ کیا ہونے لگا ہے‘‘ تو آپ نے فرمایا کہ یہ وہی ہے جو میں کہا کرتا تھا۔ خاکسار نے والدہ صاحبہ سے پوچھا کہ کیا آپ سمجھ گئیں تھیں کہ حضرت صاحب کا کیا منشاء ہے۔‘‘ والدہ صاحب نے فرمایا ’’ہاں‘‘

(سیرۃ المہدی ج اوّل ص۱۱،۱۲، روایت نمبر۱۲، از بشیر احمد قادیانی)

آپ نے ملاحظہ کیا کہ مہلک بیماریاں کس طرح عذاب الٰہی بن کر نبی افرنگ کے بدن پر برس رہی ہیں۔ کہیں کھانسی کا حملہ ہے۔ کہیں پیشاب کی یلغار ہے۔ کہیں ذیابیطس کا شب خون ہے۔ کہیں خارش کی اٹھکیلیاں ہیں۔ کہیں درد گردہ کی پٹخیاں ہیں۔ کہیں جونکیں ہم آغوش ہیں۔ کہیں سل ودق گلے کا ہار بنی بیٹھی ہیں۔ کہیں خونی قے کی طوفانی آمد ہے۔ کہیں مراق وہسٹریا کے تیروں کی بوچھاڑ ہے۔ کہیں دانت درد کی دھماچوکڑی ہے۔ کہیں عارضۂ دل کی جھپٹ ہے۔ کہیں ہیضہ کے کلہاڑے سرپر برس رہے ہیں۔ کہیں دورہ ختم کرنے کے لئے انگریزی نبوت کی ٹانگیں باندھی جارہی ہیں۔ کہیں بناسپتی نبی کے جسم پر کیچڑ ملاجارہا ہے۔ اور کہیں کالی بلا دیکھ کر بے ہوشی کے دورے پڑ رہے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تمام بیماریاں جھوٹے نبی کو مل کر یوں گھسیٹ رہی ہیں جیسے مری ہوئی چھپکلی کو بہت سے چونٹیاں گھسیٹ کر لے جارہی ہوں یا مرے ہوئے کتے کو بہت سی گدھیں کھارہی ہوں۔

مندرجہ بالا سطور میں ہم نے صرف وہ بیماریاں رقم کی ہیں جو قادیانی کتابوں میں موجود ہیں۔ لیکن ہمارا دعویٰ ہے کہ مرزا قادیانی کو اس کے علاوہ سینکڑوں بیماریاں لاحق تھیں۔ جن کی اس وقت تشخیص نہ ہوسکی۔ اگر مرزا قادیانی آج کے تشخیصی دور میں ہوتا اور اس کا مکمل میڈیکل چیک اپ ہوتا تو اس کے جسم سے سینکڑوں بیماریاں دریافت ہوتیں۔ جن میں سے ’’ایڈز‘‘ سرفہرست ہوتی۔ یہ شخص پوری دنیا کے ڈاکٹروں کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیتا۔ دنیا جہان کے ڈاکٹر اسے دیکھنے کے لئے آتے۔ ڈاکٹروں میں لڑائی چھڑ جاتی۔ ماہرین دل کہتے کہ یہ ہمارا مریض ہے۔ ماہرین جلد کہتے کہ یہ ہمارا مریض ہے۔ ماہرین ناک گلا کہتے کہ یہ ہمارا مریض ہے۔ ماہرین معدہ وجگر کہتے کہ یہ ہمارا مریض ہے۔ ماہرین ذیابیطس کہتے کہ یہ ہمارا مریض ہے۔ ماہرین نفسیات کہتے کہ یہ ہمارا مریض ہے۔ مرزا قادیانی کا ٹوٹا ہوا بازو دیکھ کر آرتھوپیڈک سرجن کہتے کہ یہ ہمارا مریض ہے۔ اور مرزا قادیانی کے حمل کا قصہ پڑھ کر ماہرین زچہ وبچہ کہتے یہ ہماری مریضہ ہے۔

غرضیکہ ڈاکٹروں میں ایک بحث وتکرار چھڑ جاتی اور چھینا جھپٹی شروع ہوجاتی۔ میڈیکل کے طلباء کہتے کہ اسے ہمارے حوالے کرو۔ ہم نے اس پر ریسرچ کرنی ہے۔ کوئی محقق کہتا کہ اسے میرے حوالے کرو میں نے اس پر پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھنا ہے۔ عجائب گھر والے کہتے کہ اسے ہمیں دے دو۔ ہم اس پر ٹکٹ لگائیں گے اور کروڑوں روپے کماکر قومی آمدنی میں اضافہ کریں گے۔ جس سے کمرتوڑ مہنگائی کا توڑ ہوگا۔ دنیا بھر کے صحافی اسے دیکھنے کے لئے آتے اور ساری دنیا کی

558

اخباروں میں اس کے انٹرویو چھپتے اور فوٹو شائع ہوتے۔ ’’گنزبک آف ورلڈ ریکارڈ‘‘ میں اس کا نام آتا۔ معاملہ عدالتوں تک جاپہنچتا۔ حکومت برطانیہ عدالت میں دعویٰ کرتی کہ مرزا قادیانی ہماری تخلیق ہے۔ اسے نبی ہم نے بنایا تھا اور نبی بننے کے جرم کی پاداش میں ﷲ تعالیٰ کی طرف سے اس پر لعنتوں اور بیماریوں کی بوچھاڑ ہوئی۔ کیونکہ اسے نبی ہم نے بنایا تھا اور ہماری ہی وجہ سے اس کو اتنی بیماریاں لگیں۔ لہٰذا ہمارا حق بنتا ہے کہ ہم اس کا علاج معالجہ کرائیں۔ عدالت انگریز کے موقف کو درست تسلیم کرتے ہوئے مرزا قادیانی کو انگریز کے حوالے کردیتی اور بیماریوں کا عالمی چیمپئن مرزا قادیانی اپنی تمام لعنتوں، نحوستوں اور بیماریوں کے ساتھ برطانیہ روانہ ہوجاتا اور ہم کہتے: ’’جتھے دی کھوتی اتھے جا کھلوتی‘‘

باب یازدہم … مرزا قادیانی کے مالی معاملات

’’وَمَا اَسْءلُکُمْ عَلَیْہِ مِنْ اَجْرٍ۰ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰی رَبِّ الْعَالَمِیْن (الشعراء:۱۸۰)‘‘ کسی نبی نے بذریعہ تبلیغ دین واشاعت مذہب اپنی ذات کے لئے لوگوں سے روپیہ جمع نہیں کیا۔ ’’وَمَا مِنْ نَبِیِّ دَعَاقَوْمَہٗ اِلَی اللّٰہِ تَعَالٰی اِلَّاقَالَ لَا اَسْءلُکُمْ عَلَیْہِ اَجْرًا فَاُثْبِتَ الْاَجْرُ عَلَی الدُّعَا وَلَکِنْ اَخْتَارَ اَنْ یَأْخُذَہٗ مِنَ اللّٰہِ تَعَالٰی (الیواقیت ج۲ ص۲۸)‘‘ مگر مرزاقادیانی نے تبلیغی سلسلہ کو جاری کرتے ہوئے۔ شروع سے چندہ اور کتابوں کی قیمت ایک ایک کے دس دس کر کے وصول کئے۔

جیسا کہ مرزاقادیانی کی اس تحریر سے ظاہر ہے کہ: ’’چونکہ یہ مخالفین پر فتح عظیم اور مومنین کے دل وجان کی مراد تھی۔ اس لئے کہ امراء اسلام کی عالی ہمتی پر بڑا بھروسہ تھا۔ جو وہ ایسی کتاب لاجواب کی بڑی قدر کریںگے اور جو مشکلات اس کی طبع میں پیش آرہی ہیں ان کے دور کرنے میں بدل وجان متوجہ ہو جائیںگے۔‘‘ (براہین احمدیہ ص ب، خزائن ج۱ ص۶۲)

نیز بلاطلب کے اشتہاری اور بازاری لوگوں کی طرح کتابیں رؤساء کے نام روانہ کردیں اور جب ان کی طرف سے تسلی بخش جواب نہ ملا تو کتابوں کی قیمت یا ان کی واپسی کی بڑی لجاجت سے درخواست کی ہے۔ چنانچہ لکھتے ہیں کہ: ’’ہم نے پہلا حصہ جو چھپ چکا تھا اس میں قریب ایک سو پچاس جلد کے بڑے بڑے امیروں اور دولت مندوں اور رئیسوں کی خدمت میں بھیجی تھیں اور یہ امید کی گئی تھی کہ جو امراء عالی قدر خریداری کتاب کی منظوری فرماکر قیمت کتاب جو ایک ادنیٰ رقم ہے۔ بطور پیشگی بھیج دیں گے… اور بہ انکسار تمام حقیقت حال سے مطلع کیا۔ مگر باستثناء دوتین عالی ہمتوں کے سب کی طرف سے خاموشی رہی… اگر خدانخواستہ کتابیں بھی واپس نہ ملیں تو سخت دقت پیش آئے گی اور بڑا نقصان اٹھانا پڑے گا۔… ہم بکمال غربت عرض کرتے ہیں کہ اگر قیمت پیشگی کتابوں کا بھیجنا منظور نہیں تو کتابوں کو بذریعہ ڈاک واپس بھیج دیں۔ ہم اسی کو عطیۂ عظمیٰ سمجھیں گے اور احسان عظیم خیال کریںگے۔‘‘ (براہین احمدیہ ص ب، ج، خزائن ج۱ ص۶۲،۶۳)

’’کبھی عیسائیوں کی کوششوں کا ذکر کر کے چندہ کے لئے اکسایا۔‘‘

(براہین احمدیہ ص الف، خزائن ج۱ ص۶۰)

’’اور کبھی اپنی غربت اورافلاس کو سامنے رکھا اور کہیں امداد باہمی اور اسلامی ہمدردی کا گیت گایا۔‘‘

(دیکھو اشتہار عرض ضروری بحالت مجبوری، براہین احمدیہ ص الف، خزائن ج۱ ص۵۹)

آخر کار اس جدوجہد کا نتیجہ ایک دن حسب دلخواہ بامراد نکل آیا۔ جیسا کہ مرزاقادیانی فرماتے ہیں کہ: ’’یہ مالی امداد اب تک پچاس ہزار روپیہ سے زیادہ آچکی ہے۔ بلکہ میں یقین کرتا ہوں کہ ایک لاکھ کے قریب پہنچ گئی ہے۔ اس کے ثبوت کے لئے ڈاکخانہ جات کے رجسٹر کافی ہیں۔‘‘

(براہین احمدیہ حصہ۵ ص۵۷، خزائن ج۲۱ ص۷۴)

559

’’جو کچھ میری مراد تھی سب کچھ دکھادیا ۔ میں ایک غریب تھا۔ مجھے بے انتہا دیا دنیا کی نعمتوں سے کوئی بھی نہیں رہی۔ جو اس نے مجھ کو اپنی عنایات سے نہ دی۔ ‘‘

(براہین حصہ۵، ص۱۰، خزائن ج۲۱ ص۱۹)

’’اس قدر بھی امید نہ تھی کہ دس روپیہ ماہواربھی آئیںگے… اب تک تین لاکھ کے قریب روپیہ آچکا ہے۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۲۱۱، خزائن ج۲۲ ص۲۲۱)

مرزاقادیانی نے ایک معمولی کتاب کو جو پانچ روپیہ سے زیادہ حیثیت کی نہ تھی۔ بڑی ضخامت میں پیش کر کے جس گندم نمائی اور جو فروشی کا ثبوت دیا ہے۔ اس کی نظیر ایک معمولی درجہ کے دیندار آدمی میں بھی نظر نہ آئے گی، اور جو رقم اشاعت اسلام کے نام سے بطور چندہ وصول کی گئی۔ اس کو بتمامہ دین کے کاموں میں صرف نہ کیا۔ بلکہ بہت سا روپیہ اپنی ضرورتوں میں لگایا۔ جائدادیں خریدیں اور غریب سے رئیس اور دولت مند بن گئے۔ ورنہ وہی مرزاقادیانی اس وقت بھی تھے جب کہ سیالکوٹ کی کچہری میں پندرہ روپیہ کے کلرک تھے اور گذارہ مشکل سے ہوتا تھا۔

مطالبہ:

کیا انبیاء سابقین رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین میں سے ایسی کوئی مثال پیش کی جا سکتی ہے؟ جنہوں نے مذہب کی آڑ میں دنیا کمائی ہو؟ یا مسلمانوں کے بیت المال کے روپیہ کو اپنی ضرورتوں میں خرچ کیاہو؟

مرزا قادیانی اور دیانت

’’اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الْخَائِنِیْن (انفال :۵۸)‘‘

نبوت او ر رسالت خداتعالیٰ کی رضامندی کی نشانی ہے اور خیانت خواہ کسی قسم کی ہو نفاق کی علامت ہے۔ اس لئے نبوت اور خیانت کسی جگہ جمع نہیں ہو سکتی۔ قرآن مجید میں ہے کہ: : ’’وَمَا کَانَ لِنَبِیَّ اَنْ یَّغُلَّ (آل عمران:۱۶۱)‘‘

’’والمعنی وماصح لہ ذالک۰ یعنی ان النبوۃ تنافی الغلول (مدارک:۱۴۹)‘‘ جامع البیان میں ہے کہ: ’’ای ینسب الیٰ خیانۃ‘‘ مگر مرزاقادیانی میں خیانت جیسا قبیح فعل نہ صرف چندہ وغیرہ کے معاملہ میں پایا جاتا ہے۔بلکہ نقل مذہب میں بھی خیانت سے کام لیاگیا ہے۔چنانچہ ’’تحفہ گولڑویہ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ: ’’یعنی وہ لوگ جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دوبارہ دنیا میں واپس لاتے ہیں۔ ان کا یہ عقیدہ ہے کہ وہ بدستور اپنی نبوت کے ساتھ دنیا میں آئیںگے اور برابر ۴۵ برس تک ان پر جبرائیل علیہ السلام وحی ٔ نبوت لے کر نازل ہوتا رہے گا۔‘‘ (تحفہ گولڑویہ ص۵۱، خزائن ج۱۷ ص۱۷۴)

مرزاقادیانی نے مسلمانوں کے اس عقیدہ کو نقل کرنے میں خیانت کی ہے۔ مسلمانوں کا عقیدہ اس بارے میں صرف اس قدر ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام اگرچہ نزول کے بعد بھی نبی رہیں گے۔ لیکن وحی ٔ نبوت ان پر نازل نہ ہوگی اور وہ شریعت محمدیہ ( ﷺ) پر عمل کریں گے۔ جس کا علم ان کو بالہام الٰہی ہوتا رہے گا۔ جیسا کہ شیخ عبدالوہاب فرماتے ہیں کہ: ’’ان عیسیٰ علیہ السلام وان کان بعدہ واولی العزم وخواص الرسل فقد زال حکمہ فی ہذا المقام بحکم الزمان علیہ الذی ہو بغیرہ فیرسل ولیا ذانبوۃ مطلقۃ وملہم بشرع محمد ﷺ ویفہمہ علی وجہہ کالاولیاء المحمدیین (یواقیت ج۲ ص۸۹)‘‘

شیخ عبدالحق مدارج میں لکھتے ہیں کہ: ’’ولہذا عیسیٰ علیہ السلام در آخرزمان برشریعت وی بیاید وحال آنکہ وی نبی کریم ست وبا قیست برنبوت خود نقصان نشدہ است ازوی چیزے‘‘

(مدارج ج۱ ص۹۳)

560

اور یہی مطلب ’’حجج الکرامہ‘‘ والے کا ہے۔ یعنی ان کا مرتبہ نبیوں جیسا ہوگا۔ مگر معاملہ نبیوں کی طرح نہیں ہوگا۔ اسی لئے نہ ان پر وحی ٔ نبوت نازل ہوگی اور نہ ان کو عمل کرنے کے لئے کوئی خاص شریعت دی جائے گی، اور ابن عباس رضی اللہ عنہ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ اور دیگر مفسرین اور محدثین کی طرف جو غلط عقیدے منسوب کئے ہیں۔ جن کی تفصیل جلد ثانی میں پہلے گذر چکی ہے۔ منجملہ خیانات کے چند خیانتیں ہیں۔ ’’براہین احمدیہ‘‘ کے اشاعت کے زمانہ میں جس گندم نمائی اور جَو فروشی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس کی کسی قدر تفصیل پہلے معلوم ہو چکی۔ پھر ان خریداروں کا روپیہ جو پانچویں حصہ کے لکھنے سے پہلے ہی مر چکے تھے۔ وہ بمدامانت مرزاقادیانی کی تحویل میں تھا۔ لیکن مرزاقادیانی نے اس رقم کو ان کے وارثوں کی طرف واپس نہیں کیا اور امانت کو صاف ہضم کر گئے۔ نیز مسلمانوں کو مذہبی تبلیغ کا دھوکا دیاگیا، اور اشاعت مذہب کا نام لے کر ان سے روپیہ وصول کیاگیا۔ مگر کام اس پردہ میں گورنمنٹ برطانیہ کا ہوتا رہا۔ چنانچہ ’’قابل توجہ گورنمنٹ ہند‘‘ کے عنوان سے ایک چٹھی ’’انجام آتھم‘‘ میں درج کی ہے۔ جس میں وہ لکھتے ہیں کہ: ’’واشعنا الکتب فی حمایۃ اغراض الدولۃ الیٰ بلاد الشام والروم وغیرہا من الدیار البعیدۃ وہذا امر لن تجد الدولۃ نظیرہا فی غیرہا من المخلصین‘‘ (انجام آتھم ص۲۸۳، خزائن ج۱۱ ص۲۸۳)

’’دولت برطانیہ کے اغراض ومقاصد کی حمایت میں ہم نے بہت سی کتابیں لکھ کر شام اور روم اور دیگر بلادبعیدہ میں شائع کی ہیں۔ یہ ایک ایسا امر ہے۔ جس کی نظیر حکومت برطانیہ کو ہماری مخلص جماعت کے سوا غیر میں نظر نہیں آسکتی۔‘‘

’’میری عمر کا اکثر حصہ اس سلطنت انگریزی کی تائید اور حمایت میں گذرا اور میں نے ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہار شائع کئے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔ میں نے ایسی کتابوں کو تمام ممالک عرب میں مصر، شام، کابل اور روم تک پہنچادیا ہے۔ میری ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ مسلمان اس سلطنت کے سچے خیرخواہ ہو جائیں، اور مہدی خونی اور مسیح خونی کی بے اصل روایتیں اور جہاد کے جوش دلانے والے مسائل جو احمقوں کے دلوں کو خراب کرتے ہیں۔ ان کے دلوںسے معدوم ہو جائیں۔‘‘

(تریاق القلوب ص۱۵، خزائن ج۱۵ ص۱۵۵،۱۵۶)

مطالبہ:

اشاعت مذہب کا روپیہ کس شرعی حکم سے اس گناہ عظیم میں لگایا گیا کیا اس نام سے چندہ کی کوئی مد قائم کی جاسکتی ہے؟

مرزاغلام احمد قادیانی کی خیانت ملاحظہ فرمائیں

۱… حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ نے مولانا خواجہ محمد صدیق رحمۃ اللہ علیہ کو ایک خط تحریر فرمایا۔ جس میں آپ نے تحریر فرمایا: ’’وقد یکون ذالک لبعض الکمل من متابعیہم بالتبعیۃ والوراثۃ ایضا واذ اکثر ہذا القسم من الکلام مع واحد منہم سمی محدثاً‘‘

ترجمہ فارسی: ’’وگاہے ایں نعمت عظمیٰ بعضے را از کمل متابعان ایشاں نیز بہ تبعیت ووراثت میسر میگردد وایں قسم از کلام بایکے ازیشان ہر گاہ بکثرت واقع گردد آنکس محدث (بفتح دال وتشدید آں) نا میدہ میشود۔‘‘ (مکتوبات مجدد الف ثانی ص۱۴۲، دفتر دوم)

۲… (الف) مرزاغلام احمد قادیانی نے اپنی ابتدائی تصنیف (براہین احمدیہ ص۵۴۶، خزائن ج۱ ص۶۵۲) پر اس کا حوالہ

561

یوں نقل کیا ہے۔ ’’بلکہ امام ربانی صاحب رحمۃ اللہ علیہ اپنے مکتوبات کی جلد ثانی میں جومکتوب پنجاہ ویکم ہے۔ اس میں صاف لکھتے ہیں کہ غیر نبی بھی مکالمات ومخاطبات حضرت احدیت سے مشرف ہو جاتا ہے اور ایسا شخص محدث کے نام سے موسوم ہے۔‘‘

(ب) اسی طرح مرزاغلام احمد قادیانی (تحفہ بغداد ص۲۱، خزائن ج۷ ص۲۸) پر بھی بعینہ حضرت مجدد کا خط نقل کرتے ہوئے کثرت مکالمہ والے کو محدّث لکھا ہے۔

۳… لیکن برا ہو۔ خود غرضی، نفس پرستی اور بددیانتی کا، کہ جب مرزاغلام احمد قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا تو مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کے مکتوبات میں تحریف کرتے ہوئے لکھا کہ: ’’مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ سرہندی نے اپنے مکتوبات میں لکھا ہے کہ اگرچہ اس امت کے بعض افراد مکالمہ ومخاطبہ الٰہیہ سے مخصوص ہیں اور قیامت تک مخصوص رہیں گے۔ لیکن جس شخص کو بکثرت اس مکالمہ ومخاطبہ سے مشرف کیا جائے اور بکثرت امور غیبیہ اس پر ظاہر کئے جائیں وہ نبی کہلاتا ہے۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۳۹، خزائن ج۲۲ ص۴۰۶)

نتیجہ:

دیکھئے! مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں کہ جسے کثرت مکالمہ ہو وہ محدّث ہوتا ہے۔ مرزاغلام احمد قادیانی نے ’’براہین احمدیہ‘‘ اور ’’تحفہ بغداد‘‘ میں مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے حوالہ سے بھی یہی تحریر کیا کہ کثرت مکالمہ والا محدّث کہلاتا ہے۔ لیکن جب خود دعویٰ نبوت کیا تو ’’حقیقت الوحی‘‘ میں مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے حوالہ سے کثرت مکالمہ والا نبی کہلاتا ہے لکھ دیا۔

اب آپ خود فیصلہ فرمائیں کہ ایک ہی حوالہ کو مرزا غلام احمد قادیانی تین جگہ لکھتا ہے۔ براہین احمدیہ، تحفہ بغداد، اس میں محدث لکھتا ہے اور اسی حوالہ کو مرزاغلام احمد قادیانی ’’حقیقت الوحی‘‘ میں نبی لکھتا ہے۔ محدّث کو نبی کرنا محض غلطی نہیں بلکہ صریح اور کھلی بددیانتی ہے۔

۴… چنانچہ حضرت مولانا نور محمد خان صاحب رحمۃ اللہ علیہ مدرس مدرسہ مظاہر العلوم سہارنپور نے اپنی کتاب (کفریات مرزا ص۲۱، مطبوعہ خواجہ برقی پریس دہلی مئی ۱۹۳۳ء) میں یہ حوالہ نقل کر کے یہ چیلنج نقل کیا تھا: ’’حضرت مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی عبارت مذکورہ میں مرزاغلام احمد قادیانی نے جس خیانت مجرمانہ جرأت شیطنہ سے کام لیا ہے۔ اس پر قیامت تک علمی دنیا لعنت ونفرت کا وظیفہ پڑھ کر مرزاغلام احمد قادیانی کی روح کو ایصال ثواب کرے گی۔ کیا کوئی غلمدی جرأت کر سکتا ہے کہ نبی کا لفظ عبارت مکتوبات امام ربانی رحمۃ اللہ علیہ میں دکھلا کر اپنے پیشوا کو کذابوں کی قطار سے علیحدہ کر دے۔‘‘

آج سے اٹھہتر(۷۸) سال قبل قادیانیوں کو جو چیلنج دیاگیا تھا۔ وہ جوں کا توں برقرار ہے۔ قادیانی امت مرزاغلام احمد قادیانی سے اس خیانت وبددیانتی کے الزام کو دور نہیں کر سکی اور نہ قیامت تک کر سکتی ہے۔ جھوٹا بددیانت نبی ہوسکتا ہے؟ یہ قادیانی امت کے لئے سوچنے کا مقام ہے۔

باب دوازدہم … مرزا قادیانی اور اغیار کی غلامی

’’وَلَا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَہٗ عَنْ ذِکْرِنَا وَاتَّبَعَ ھَوَاہٗ وَکَانَ اَمْرُہٗ فُرُطًا (کھف:۲۸)‘‘ {کبھی کسی نبی نے کفاروں کی غلامی اختیار نہیں کی۔ بلکہ جب تک عزت کی زندگی حاصل نہ ہوئی وہ ہمیشہ ان کی مخالفت کرتے اور ان سے لڑتے رہے ہیں۔}

لیکن مرزاقادیانی جس حکومت برطانیہ کو دجال کہتے ہیں۔ اس کی غلامی پر فخر کرتے جاتے ہیں اور اس کو نعماء الٰہی

562

میں سے ایک نعمت سمجھتے ہیں۔

۱… ’’بنظر ان احسانات کے کہ جو سلطنت انگلشیہ سے اس کی حکومت اور آرام بخش حکمت کے ذریعہ سے عامۂ خلائق پروارد ہیں۔ سلطنت ممدوحہ کو خداوند تعالیٰ کی ایک نعمت سمجھیں اور مثل اور نعماء الٰہی کے اس کا شکر بھی ادا کریں۔ لیکن پنجاب کے مسلمان بڑے ناشکر گذار ہوں گے۔ اگر وہ اس سلطنت کو جو ان کے حق میں خدا کی ایک عظیم الشان رحمت ہے۔ نعمت عظمیٰ یقین نہ کریں۔‘‘

(براہین احمدیہ ص ب ، خزائن ج۱ ص۱۴۰)

۲… ’’اَلَمْ یُفَکَّرْ اِنَّنَا ذریۃ آباء انفذوا اعمارہم فی خدمات ہذہ الدولۃ! کیا گورنمنٹ اتنا غور نہیں کرتی کہ ہم انہی بزرگوں کی اولاد ہیں۔ جنہوں نے اپنی عمریں حکومت برطانیہ کی خدمت میں صرف کردیں۔‘‘

(انجام آتھم ص۲۸۳، خزائن ج۱۱ ص ایضاً)

۳… ’’خداتعالیٰ نے مجھے اس اصول پر قائم کیا ہے کہ محسن گورنمنٹ کی جیسا کہ گورنمنٹ برطانیہ ہے۔ سچی اطاعت کی جائے اور سچی شکر گذاری کی جائے۔ سو میں اور میری جماعت اس اصول کے پابند ہیں۔ چنانچہ میں نے اسی مسئلہ پر عمل درآمد کرانے کے لئے بہت سی کتابیں عربی، فارسی اور اردو میں تالیف کیں اور ان میں تفصیل سے لکھا کہ کیونکر مسلمانان ’’برٹش انڈیا‘‘ اس گورنمنٹ برطانیہ کے نیچے آرام سے زندگی بسر کرتے ہیں، اور کیوںکر آزادگی سے اپنے مذہب کی تبلیغ کرنے پر قادر ہیں، اور تمام فرائض منصبی بے روک ٹوک بجالاتے ہیں۔ پھر اس مبارک اور امن بخش گورنمنٹ کی نسبت کوئی خیال بھی جہاد کا دل میں لانا کس قدر ظلم اور بغاوت ہے۔ یہ کتابیں ہزارہا روپیہ کے خرچ سے طبع کرائی گئیں اور پھر اسلامی ممالک میں شائع کی گئیں اور میں جانتا ہوں کہ یقینا ہزارہا مسلمانوں پر ان کتابوں کا اثر پڑا ہے۔ بالخصوص وہ جماعت جو میرے ساتھ تعلق بیعت ومریدی رکھتی ہے۔ وہ ایک ایسی سچی مخلص اور خیرخواہ اس گورنمنٹ کی بن گئی ہے کہ میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ ان کی نظیر دوسرے مسلمانوں میں نہیں پائی جاتی۔ وہ گورنمنٹ کے لئے ایک وفادار فوج ہے۔ جن کا ظاہر وباطن گورنمنٹ برطانیہ کی خیرخواہی سے بھرا ہوا ہے۔‘‘ (تحفہ قیصریہ ص۱۲،۱۱، خزائن ج۱۲ ص۲۶۳،۲۶۴)

۴… ’’ہم پر اور ہماری ذریت پر یہ فرض ہوگیا کہ اس مبارک گورنمنٹ برطانیہ کے ہمیشہ شکر گذار رہیں۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۱۳۲، خزائن ج۳ ص۱۶۶)

مطالبہ:

حدیث میں آنے والے مسیح کو قاتل دجال فرمایا گیا ہے۔مگر مرزاقادیانی اس کی حمایت میں جس کو دجال اور یأجوج مأجوج کہتے ہیں۔ اپنی عمر کا بیشتر حصہ صرف کرتے نظرآرہے ہیں۔ تو کیا ایسے حامیٔ دجال مسیح کی حمایت میں کوئی حدیث یا آیت قرآنیہ پیش کی جاسکے گی؟

س… حضرت یوسف ویعقوب علیہ السلام ایک کافر کی حکومت میں مصر جاکر آباد ہوئے اور یوسف علیہ السلام نے بحیثیت ملازم حکومت کا کام کیا۔

ج… یوسف علیہ السلام کی زندگی مصر میں غلامانہ زندگی نہیں تھی۔ وہ مصر کے حل وعقد کے مالک اور باختیار حکمران تھے۔ ﷲتعالیٰ فرماتا ہے کہ: ’’وَکَذٰلِکَ مَکَّنَّا لِیُوْسُفَ فِی الْاَرْضِ یَتَبَوَّأُ مِنْھَا حَیْثُ یَشَآئُ (یوسف: ۵۶)‘‘ {ہم نے یوسف علیہ السلام کو مصر میںایسی قوت اور طاقت عطاء فرمائی کہ وہ جہاں چاہتا رہتا اور ٹھہرتا تھا۔}

۲… مصر کا بادشاہ یوسف علیہ السلام کے دست حق پرست پراسلام لے آیا تھا۔

’’واقام العدل بمصر وأجلۃ الرجال والنساء واسلم علے یدہ الملک وکثیر من الناس

563

(تفسیر کبیر ص۱۶۲ ج۹ زیر آیت وکذلک مکنا لیوسف)‘‘

’’وعن مجاہدان الملک اسلم علے یدہ (بیضاوی ص۴۱۴)‘‘

باب سیزدہم … مرزا قادیانی اور اعمال صالحہ

’’وَکُلًّا جَعَلْنَا صَالِحِیْنَ وَجَعَلْنَاہُمْ اَئِمَّۃً یَّھْدُوْنَ بِاَمْرِنَا وَاَوْحَیْنَا اِلَیْہِمْ فِعْلَ الْخَیْرَاتِ وَاِقَاَمَ الصَّلٰوۃِ وَاِیْتَا ء الزَّکٰوۃِ (الانبیاء :۷۳)‘‘ {ہم نے ہر ایک نبی کو صالح اور نیک عمل بنایا اور ان کو پیشوا کیا کہ جو ہمارے حکم سے لوگوں کو ہدایت کرتے تھے اور ان کی طرف نیکیوں کے کرنے، نماز پڑھنے، زکوٰۃ دینے کی وحی کی۔} یعنی نبی کے لئے متقی، پرہیزگار ہونا شرط اوّل ہے۔ وہ ہمیشہ لوگوں کو نیک کام کے کرنے، زکوٰۃ اور نماز کے ادا کرنے کی طرف بلاتے رہے ہیں۔

مگر مرزاقادیانی کی تالیفات میں بقول مرزاقادیانی پچاس الماریاں بھری جاسکتی ہیں۔ زکوٰۃ کی ادائیگی نماز روزہ کی تلقین اعمال حسنہ کی طرف ترغیب وتحریض مطلقاً نہیں پائی جاتی اور ذاتی تقویٰ اور پرہیز گاری کا یہ حال ہے کہ جب آپ مسلمانوں کا حسن ظن حاصل کر رہے تھے اور دعویٰ مہدیت، مسیحیت وغیرہ کچھ نہیں کیا تھا اور براہین کے اشتہار بازی سے بہت سا روپیہ بھی جمع کر چکے تھے۔ اس وقت باوجود امن طریق کے اور دس ہزار روپیہ کی مالیت رکھنے کے حج کے لئے نہ گئے۔ چنانچہ اس اشتہار میں جو جمیع ارباب مذہب کے مقابلہ میں دس ہزار روپیہ انعام دینے کے وعدہ کا اعلان کرنے کے لیئے شائع کیا تھا۔ لکھتے ہیں کہ: ’’میں مشتہر ایسے مجیب کو بلاعذرے وحیلے اپنی جائداد قیمتی دس ہزار روپیہ پر قبض ودخل دیدوں گا۔‘‘ (براہین احمدیہ ص۲۵، ۲۶، خزائن ج۱ ص۲۸)

منہ میں پان اور نماز

مرزاغلام احمدقادیانی اور اعمال صالحہ کی ادائیگی ملاحظہ فرمائیں: ’’ ایک دفعہ حضرت صاحب کو سخت کھانسی ہوئی۔ ایسی کہ دم نہ آتا تھا۔ البتہ منہ میں پان رکھ کر قدرے آرام معلوم ہوتا تھا۔ اس وقت آپ نے اس حالت میں پان منہ میں رکھے رکھے نماز پڑھی۔ تاکہ آرام سے پڑھ سکیں۔‘‘

(سیرت المہدی ج۳ ص۱۰۳، روایت نمبر۶۳۸)

’’بیان کیا مجھ سے والدہ صاحبہ نے کہ میں نے کبھی حضرت مسیح (مرزاقادیانی) کو اعتکاف میں بیٹھے نہیں دیکھا۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ میاں عبد ﷲ سنوری نے بھی مجھ سے یہی بیان کیا ہے۔‘‘

(سیرت المہدی ج۱ ص۶۸، روایت نمبر۸۶)

روزے تڑوادئیے

’’لاہور سے کچھ احباب رمضان میں قادیان آئے۔ حضرت صاحب (مرزاقادیانی) کو اطلاع ہوئی تو آپ مع کچھ ناشتہ کے ان سے ملنے کے لئے مسجد میں تشریف لائے۔ ان دوستوں نے عرض کیا کہ ہم سب روزے سے ہیں۔ آپ نے فرمایا سفر میں روزہ ٹھیک نہیں۔… چنانچہ ان کو ناشتہ کروا کے ان کے روزے تڑوادئیے۔‘‘ (سیرۃ المہدی ج۲ ص۵۹)

حج، اعتکاف، زکوٰۃ

’’ڈاکٹر میر محمد اسماعیل نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) نے حج نہیں کیا۔ اعتکاف نہیں

564

کیا۔ زکوٰۃ نہیں دی۔ تسبیح نہیں رکھی… زکوٰۃ اس لئے نہیں دی کہ آپ کبھی صاحب نصاب نہیں ہوئے… اور تسبیح اور رسمی وظائف وغیرہ کے آپ قائل ہی نہیں تھے۔‘‘ (سیرت المہدی ج۳ ص۱۱۹، روایت نمبر۶۷۲)

کذب بیانی، وعدہ خلافی، تلبیس اور دھوکا دہی

خیانت چندہ کا ناجائز مصرف، حرص، وطمع دنیوی، نصاریٰ کی جاسوسیت وغیرہ نقائص شرعی اس کے علاوہ ہے۔ اگرچہ ان کی مثالیں پہلے گذر چکی ہیں۔ مگر مزید بصیرت کے لئے ایک دو حوالے اور نقل کئے جاتے ہیں۔

’’پہلے یہ کتاب (براہین) صرف تیس پینتیس جز تک تالیف ہوئی تھی اور پھر سو جزوتک بڑھادی گئی اور دس روپیہ عام مسلمانوں کے لئے اور پچیس روپیہ دوسری قوموں اور خواص کے لئے مقرر ہوئی۔ مگر اب یہ کتاب بوجہ جمیع ضروریات تحقیق وتدقیق اور اتمام حجت کے تین سو جزء تک پہنچ گئی۔‘‘

(اشتہار مندرجہ تبلیغ رسالت جلد اوّل ص۲۴، مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۳۲،۳۳)

اس مثال میں سوائے خدمت نصاریٰ کے مذکورہ بالا تمام برائیاں موجود ہیں۔ اس کے بعد نصاریٰ کی خدمت گذاری کے شوق میں شریعت کی قطع وبرید ملاحظہ ہو۔

’’شریعت اسلام کا یہ واضح مسئلہ ہے۔ جس پر تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے کہ ایسی سلطنت سے لڑائی اور جہاد کرنا جس کے زیر سایہ مسلمان لوگ امن اور عافیت اور آزادی سے زندگی بسر کرتے ہوں اور جس کے عطیات سے ممنون منت اور مرہون احسان ہوں اور جس کی مبارک سلطنت حقیقت میں نیکی ہدایت پھیلانے کے لئے کامل مدد گار ہو۔ قطعی حرام ہے۔‘‘

(براہین احمدیہ ص ب حصہ۳، خزائن ج۱ ص۱۳۹)

مطالبہ:

سوائے معاہدہ کے شریعت اسلامیہ کا اس بارے میں وہ واضح اور متفق علیہ مسئلہ ہم بھی دیکھنا چاہتے ہیں، اور اگر یہ بات ثابت نہ کی جا سکے تو پھر اس کواتفاقی اور کھلا ہوا مسئلہ بتانا دھوکا دہی نہیں ہے تو کیا ہے؟ اور اگر یہ ایسا متفقہ اور کھلا ہوا شرعی مسئلہ تھا تو جہاد سے روکنے کی تحریک کو اپنی کوشش کا نتیجہ کیوں کہا جاتا ہے۔ پھر اگر برطانیہ سے معاہدہ تھا تو وہ ہندوستان کے مسلمانوں کا تھا۔ اس کی پابندی عرب، روم وشام کابل وغیرہ کے رہنے والے مسلمانوں پر نہیں تھی۔ مرزاقادیانی نے جو عمر کا بہت سا حصہ بلاد اسلامیہ میں امتناع جہاد کی بحث اور اغراض برطانیہ کی حمایت میں کتابیں بھیجنے پر صرف کردیا۔ وہ کس شرعی حکم کے ماتحت تھا۔ پھر لڑکے کو عاق کرنا چاہا۔ باوجود یہ کہ عاق کرنے والے پر رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت بھیجی ہے۔ (ابن ماجہ ص۲۹۴ باب لاوصیۃ للوارث)

ایسے ہی مرزاغلام احمد قادیانی نے اپنے اصل ہدف دعویٰ نبوت تک پہنچنے کے لئے عیسائیت کے رد اور اشاعت اسلام کا سہارا لیا، اور کہا کہ کتاب مرتب کرنی ہے۔ تین سو دلائل ہوں گے۔ ۵۰جلدوں پر مشتمل ہوگی۔ لوگوں سے چندہ وصول کیا۔ وعدہ ۵۰ کا کیا۔ روپیہ پیسہ ۵۰جلدوں کا لیا۔ مگر ۵جلدوں پر اکتفا کیا۔ لوگوں کا مسلسل اصرار بڑھا۔ مرزاقادیانی نے کہا: ’’پہلے پچاس حصے لکھنے کا ارادہ تھا۔ مگر پچاس سے پانچ پر اکتفا کیاگیا اور کیونکر پچاس اور پانچ کے عدد میں صرف ایک نکتہ کا فرق ہے۔ اسی لئے پانچ حصوں سے وہ وعدہ پورا ہوگیا۔‘‘ (براہین احمدیہ حصہ پنجم دیباچہ ص۷، خزائن ج۲۱ ص۹)

قادیانی نبی کی عیاری پر غور فرمائیں۔ وعدہ پچاس کا، رقم پچاس کی۔ مگر وعدہ خلافی کی، حرام کا ارتکاب کیا، لوگوں کا مال حرام کیا، حرام کھایا۔ وعدہ خلاف، جھوٹ بولنے والا، حرام کھانے والا، ﷲ کا سچا نبی نہیں بلکہ قادیان کا دھقان

565

مرزاغلام احمد قادیانی ہوسکتا ہے۔

مرزا قادیانی اور انبیاء سابقینo

’’وَقَضَیْنَا عَلٰی اٰثَارِہِمْ بِعِیْسٰی اِبْنِ مَرْیَمَ مُصَدِّقًالِّمَا بَیْنَ یَدَیْہِ (مائدہ:۴۶)‘‘ ہر ایک نبی پہلے انبیاء علیہم السلام کی تعلیم کی تصدیق اور توثیق کرتا چلاآیا ہے۔ خصوصاً عقائد کے بارے میں تمام نبیوں کی ایک ہی تعلیم رہی ہے۔ قرآن کریم کی نسبت بھی یہی فرمایا گیا:

’’وَاِنَّہٗ لَفِیْ زُبُرِ الْاَوَّلِیْنِ (شعراء :۱۹۶)‘‘

’’مَعْنَاہٗ لَفِی الکتب المقدمۃ (بیضاوی :۱۳۳)‘‘

حدیث میں ہے کہ:’’نَحْنُ مَعْشَرُا لْاَنْبِیَآئْ اِخْوَۃً لِّعَلَّاتٍ اُمَّہَاتُہُمْ شَتّٰی وَدِیْنُہُمْ وَاحِدٌ (بخاری ج۱ ص۴۹۰ باب واذکر فی الکتاب مریم)‘‘

یعنی اصول دین تمام انبیاء علیہم السلام کے درمیان مشترک ہیں۔ صرف عبادت کے طریقے بدلے ہوئے ہیں۔ حتیٰ کہ عیسیٰ علیہ السلام بھی جب دوبارہ دنیا میں نازل ہوںگے۔ تو وہ ہر ایک بات میں نبی عربی ﷺ کی تصدیق کریں گے اور ان کی تحقیق سے ایک انچ باہر نہ ہوں گے۔ چنانچہ (کنز العمال ج۱۴ ص۳۲۱ حدیث نمبر۳۸۸۰۸) میں ہے کہ: ’’یَجِیْیُٔ عِیْسٰی بْنُ مَرْیَمَ مِنْ قِبَلِ الْمَغْرِبِ مُصَدِّقًا بِمُحَمَّدٍ عَلٰی مِلَّتِہٖ‘‘

مگر مرزاقادیانی کو انبیاء علیہم السلام کے عقائد سے سخت اختلاف ہے۔ بلکہ وہ اس بارے میں نبی عربی ﷺ کی تحقیق کی بھی پرواہ نہیں کرتا اور اس کی تکذیب کرتا جاتا ہے۔

چنانچہ دجال کے ایک شخص واحد ہونے اور یک چشم اور اعور ہونے پر تمام انبیاء کرام علیہم السلام نے شہادت دی ہے اور حضور ﷺ نے اس پر یہ تحقیق مزید اضافہ فرمادی کہ اس کی پیشانی پر ک، ف، ر، لکھی ہوئی ہوگی۔ جیسا کہ ’’بخاری‘‘ اور ’’مسلم‘‘ کی اس روایت سے ظاہر ہے۔

’’عَنْ اَنس رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُوْل اللّٰہ ﷺ مَا مِنْ نَبِیْ اِلَّاوَقَدْ اَنْذَرَاُمَّتَہٗ الْاَعْوَارَ الْکَذَّابَ اِلَّااِنَّہٗ اَعْوَرَ وَاِنَّ رَبَّکُمْ لَیْسَ بِاَعْوَرٍ وَاِنَّ بَیْنَ عَیْنَیْہِ مَکْتُوْبًا کَافِرٌ (بخاری ج۲ ص۱۰۵۶ باب ذکر الدجال، مسلم ج۲ ص۴۰۰، باب ذکر الدجال)‘‘

مرزاقادیانی نے بھی ’’ازالہ اوہام‘‘ میں اس حدیث کی تصدیق اس طرح کی ہے۔ حضرت نوح علیہ السلام سے لے کر ہمارے سیدو مولیٰ خاتم الانبیاء علیہم السلام کے عہد تک اس مسیح دجال کی خبر موجود ہے۔ مرزاقادیانی نے اس کی تعیین شخصی سے جو انبیاء علیہم السلام کے درمیان متفق علیہ چیز تھی۔ انکار کردیا۔ خواہ وہ کسی تاویل کے ماتحت ہو۔ لیکن تمام نبیوں کا اس کا ظاہر پر اتارنا اور اس میں کسی قسم کی تاویل نہ کرنا نہ صرف مرزاقادیانی کی تاویل کی تردید کرتا ہے۔ بلکہ کھلم کھلا مرزاقادیانی کی بطالت پر مہر تصدیق ثبت کرنا ہے۔ لہٰذا مرزاقادیانی کا دجال کی شخصیت سے انکار کرتے ہوئے یہ لکھنا سراسر لغو ہے کہ: ’’میرا یہ مذہب ہے کہ اس زمانہ کے پادریوں کی مانند کوئی اب تک دجال پیدا نہیں ہوا اور نہ قیامت تک پیدا ہوگا۔‘‘

(ازالہ ص۴۸۸، خزائن ج۳ ص۳۶۲)

’’اور بپایہ ثبوت پہنچ گیا کہ مسیح دجال جس کے آنے کی انتظار تھی یہی پادریوں کا گروہ ہے جو ٹڈی کی طرح تمام

566

دنیا میں پھیل گیا ہے۔‘‘ (ازالہ ص۴۹۵،۴۹۶، خزائن ج۳ ص۳۶۶)

پھر یہ کہنا کہ رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو دجال کی حقیقت کا صحیح علم نہ تھا۔ آنحضرت ﷺ اور تمام انبیاء علیہم السلام کی شان میں گستاخی کرنے کے علاوہ اس امر کی کھلی ہوئی شہادت ہے کہ مرزاقادیانی کے خیال میں ان کی اپنی تحقیق انبیاء علیہم السلام کی تحقیق سے جدا اور اس کے مخالف ہے اور مخالفت ہی مرزاقادیانی کے باطل ہونے کی زبردست دلیل ہے۔ مرزاقادیانی لکھتا ہے کہ: ’’آنحضرت ﷺ پر ابن مریم علیہم السلام اور دجال کی حقیقت کاملہ بوجہ نہ موجود ہونے کسی نمونہ کے موبمومنکشف نہ ہوئی ہو اور نہ دجال کے ستر باع کے گدھے کی اصل کیفیت کھلی ہو اور نہ یاجوج ماجوج کی عمیق تہ تک وحی الٰہی نے اطلاع دی ہو اور نہ دابۃّ الارض کی ماہیت ’’کماہی‘‘ ہی ظاہر فرمائی گئی اور صرف امثلہ قریبہ اور صور متشابہہ اور امور متشاکلہ کے طرز بیان میں جہاںتک غیب محض کی تفہیم بذریعہ انسانی قویٰ کے ممکن ہے۔ اجمالی طور پر سمجھایا گیا ہو تو کچھ تعجب کی بات نہیں۔‘‘

(ازالہ کلاں ص۶۹۱، خزائن ج۳ ص۴۷۳)

س… اگر دجال کی شخصیت کا مسئلہ متفق علیہ ہوتا تو آنحضرت ﷺ ابن صیاد کے دجال ہونے میں کبھی تردد کا اظہار نہ فرماتے؟

ج… حضور ﷺ کو دجال کے شخص واحد او ر ’’رجل من الرجال‘‘ ہونے میں تردد نہیں تھا۔ تردد اس بارے میں تھا کہ دجال ہونے والا شخص ابن صیاد ہے یا کوئی اور شخص ہے؟۔ انبیاء علیہم السلام کا اتفاق یقین شخصی میں ہے۔ تعین ذاتی میں نہیں ’’این ہذا من ذاک‘‘ اسی طرح یاجوج ماجوج، خروج دجال، دابۃ الارض وغیرہ مسائل میں رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیان کی تصدیق نہ کرنا اور اس کے خلاف اپنی رائے پیش کرنا۔ آیت مذکورہ بالا کی رو سے بطالت کی نشانی ہے۔ مرزاقادیانی نے ملائکہ علیہم السلام کی حقیقت اور ان کے نزول جسمانی نزول وحی سے مراد اور معجزہ کی حقیقت وغیرہ میں بھی نبی کریم ﷺ کی تحقیق کی مخالفت کی ہے اور بجائے تصدیق کے ان کی تکذیب کر کے اپنا جھوٹا ہونا ثابت کردیا ہے۔ کیونکہ سچے کی مخالفت کرنے والا جھوٹا ہی ہوا کرتا ہے۔ سچا کبھی نہیں ہوتا۔ ’’انشاء ﷲ‘‘ ان تمام چیزوں کی تحقیق ’’ایمان مرزا‘‘کی بحث میں مفصل طور پر مذکور ہوگی۔ و ﷲ أعلم!

مرزا قادیانی اور بہادری

’’اَلَّذِیْنَ یُبَلِّغُوْنَ رِسَالٰتِ اللّٰہِ وَیَخْشَوْنَہٗ وَلَا یَخْشَوْنَ اَحَدًا اِلَّا اللّٰہَ (احزاب:۳۹)‘‘ {کبھی کوئی رسول یا نبی اظہار حق کے لئے کسی انسانی طاقت سے نہیں ڈرے۔} مرزاقادیانی تمام عمر حکومت کے خوف سے اس کی رضا جوئی کے متلاشی رہے، اور مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی رحمۃ اللہ علیہ کے مقدمہ میں قید وبند کے ڈر سے بعض الہامات کے ظاہر نہ کرنے کا عدالت کے روبرو عہد کیا۔ چنانچہ مولوی ثناء ﷲ صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے اس اقرار نامہ کے چند دفعات (الہامات مرزا ص۸۴) پر نقل کئے ہیں۔جن میں سے یہ بھی ہیں۔

۱… میں (مرزاقادیانی) ایسی پیشین گوئی شائع کرنے سے پرہیز کروںگا۔ جس کے یہ معنے ہوں یا ایسے معنے خیال کئے جا سکیں کہ کسی شخص کو ذلت پہنچے گی یا وہ مورد عتاب الٰہی ہوگا۔

۲… میں خدا کے پاس ایسی اپیل کرنے سے بھی اجتناب کروںگا کہ وہ کسی شخص کو ذلیل کرنے سے یا ایسے نشان ظاہر کرنے سے کہ وہ مورد عتاب الٰہی ہے۔ یہ ظاہر کرے کہ مذہبی مباحثہ میں کون سچا اور کون جھوٹا ہے۔

567

۳… میں کسی چیز کو الہام جتا کر شائع کرنے سے مجتنب رہوں گا۔ جس کا یہ منشاء ہو یا جو ایسا منشاء رکھنے کی معقول وجہ رکھتا ہو کہ فلاں شخص ذلت اٹھائے گا یا موردعتاب الٰہی ہوگا۔

(الہامات مرزاص۸۴)

گورنمنٹ کے خوف سے لکھتے ہیں کہ: ’’ہر ایک ایسی پیش گوئی سے اجتناب ہوگا۔ جو امن عامہ اور اغراض گورنمنٹ کے مخالف ہو۔‘‘ (حاشیہ اربعین نمبر۱ ص۱، خزائن ج۱۷ ص۳۴۳)

آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ جس کا مفہوم یہ ہے کہ: ’’مجھے باقی انبیاء علیہم السلام پر چھ چیزوں میں فضیلت دی گئی ہے۔ ان میں ایک چیز دشمن پر رعب ڈال دیا گیا ہے۔ میرا دشمن کئی میل کی مسافت سے مجھ سے ڈرتا ہے۔‘‘ یہ ﷲ کا سچا نبی ہے اور اس سچے نبی کی یہی خاصیت ہونی چاہئے۔ مگر جو جھوٹا نبی مرزے قادیانی کی طرح ہوگا۔ اس کا اور اس کی بہادری کا کیا حال ہوگا۔ ملاحظہ فرمائیں: ’’چند آدمی سامنے ہیں۔ ایک چادر میں کوئی شی ٔ ہے۔ ایک شخص نے کہا کہ یہ آپ لے لیں۔ دیکھا تو اس میں چند مرغ ہیں اور ایک بکرا ہے۔ میں ان مرغوں کو اٹھا کر اور سر سے اونچا کر کے لے چلا تاکہ کوئی بلی وغیرہ نہ پڑے۔ راستہ میں ایک بلی ملی۔ جس کے منہ میں کوئی شئی مثل چوہا ہے۔ مگر اس بلی نے اس طرف توجہ نہیں کی اور میں ان مرغوں کو محفوظ لے کر گھر پہنچ گیا۔‘‘ (تذکرہ ص۵۵۸، طبع اوّل)

جو شخص چند مرغے چھپا چھپا کر لے چلا اس ڈر سے کہ کہیں بلی حملہ نہ کردے وہ ﷲ کا نبی نہیں بلکہ خود چوہا ہوسکتا ہے۔ دوسری بات بقول مرزاقادیانی کے جو ان کی بہادری کو واضح کرتی ہے کہ بلی نے اس طرف توجہ نہیں کی اور میں محفوظ نکل گیا۔ اگر بلی توجہ کر لیتی۔ اس کی تو عید ہو جاتی۔ اس لئے کہ مرغے بھی مل جاتے اور مرزے جیسا پلا چوہا بھی۔

مال ودولت اور نبوت

’’اَلَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَہُمْ لَعِبًا وَّلَہْوًا وَغَرَّتْہُمُ الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا (انعام:۷۰)‘‘ اس آیت میں کافروں کی دو نشانیاں بیان کی گئیں ہیں۔

۱… ’’لہو ولعب‘‘ کھیل اور تماشہ کو انہوں نے دین کا جز بنالیا ہے۔

۲… انہماک دنیوی نے ان کو غافل کر رکھا ہے کہ دن رات دنیا ہی کو حاصل کرنے کا فکر ہے اسی کے عیش وآرام پر فخر کرتے اور خوشیاں مناتے ہیں۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ مرزاقادیانی بھی دنیا داروں کی طرح دنیوی شہرت کو پسند کرتے، اور مال ودولت کے جمع ہونے پر فخر کرتے ہوئے اس کو اپنی بڑی کامیابی سمجھتے ہیں۔ چنانچہ لکھتے ہیں کہ: ’’جو میری مراد تھی سب کچھ دکھادیا۔ میں ایک غریب تھا مجھے بے انتہا دیا۔‘‘ (براہین احمدیہ حصہ۵ ص۱۰، خزائن ج۲۱ ص۱۹)

واقعی خداتعالیٰ کسی کی محنت رائیگاں نہیں کرتا۔ مرزاقادیانی کو دنیا کی دولت ہی جمع کرنی مقصود تھی سو ہوگئی۔ ایک جگہ اپنی شہرت پر فخر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ: ’’اس زمانہ میں ذرا سوچو کہ میں کیا چیز تھا۔ جس زمانہ میںبراہین کا دیا تھا اشتہار۔ پھر ذرا سوچو کہ اب چرچا میرا کیسا ہوا۔ کس طرح سرعت سے شہرت ہوگئی۔ درہردیار!

(براہین احمدیہ ص۱۱۲ حصہ۵، خزائن ج۲۱ ص۱۴۲)

یہ تو مرزاقادیانی کا حال ہے۔ مگر رسول خدا ﷺ اس کے مقابلہ میں ارشاد فرماتے ہیں کہ: ’’اَشَدُّا لنَّاسِ بَلَاء الْاَنْبِیَاء ثُمَّ الْاَمْثَلُ فَالْاَمْثَلُ (کنز العمال ج۳ ص۳۲۷ حدیث ۶۷۸۳)‘‘ انبیاء علیہم السلام پر دنیا کی مصیبتیں عام ہوتی ہیں اور امت میں سے جو شخص عمل میں ان کے قریب ہوتا ہے۔ اسی قدر مصیبتوں کا اس پر ہجوم ہوتا ہے۔ سچ

568

ہے کہ رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی فقیرانہ زندگی ہی اس امر کا قطعی فیصلہ ہے اور قارون وفرعون کی وراثت پر فخر کرنا فرعون صفت لوگوں ہی کا کام ہے۔

س… حضرت دَاوُد اور سلیمان علیہما السلام بڑی سلطنت کے مالک تھے؟۔

ج… اوّل تو ان بزرگوں نے کبھی مال ودولت پر فخریہ کلمات نہیں فرمائے، دوسرے وہ بیت المال سے ایک کوڑی بھی اپنے اوپر خرچ نہیں کرتے تھے۔ وہ انبیاء کرام علیہم السلام زرہ بناکر بیچتے اور اس سے گزارہ کرتے تھے۔ جیسا کہ ’’وَعَلَّمْنَاہٗ صَنْعَۃَ لَبُوْسٍ‘‘ سے ظاہر ہے اور یہی حال سلیمان علیہ السلام کا تھا۔ ٹوکریاں اپنے ہاتھ سے بنتے اور ان کو بازار میں بیچ کر اپنی ضروریات پوری کرتے تھے۔ مرزا کی طرح جھوٹ سچ کا مال جمع نہیں کرتے تھے۔ان کے نزدیک دنیا کے مال کی پرکاہ کے برابر بھی قدر نہ تھی۔ یہی وجہ تھی کہ گھوڑوں کی مشغولیت کے سبب نماز عصر کے قضا ہوجانے کی وجہ سے ان کو ذبح کردیا اور ملکۂ سباء کے ہدایا کو حقارت سے رد کرتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا تھا کہ: ’’قَالَ اَتُمِدُّوْنَنَ بِمَالٍ۰ فَمَآ آتٰنِیَ اللّٰہُ خَیْرٌ مِّمَّآ آتٰکُمْ۰ بَلْ اَنْتُمْ بِہَدِیَّتِکُمْ تفْرَحُوْن (نمل :۳۶)‘‘

چنانچہ ’’صاحب جمل‘‘ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ: ’’ای انکم اہل مفاخرۃ ومکاثرۃ بالدنیا تفرحون باہداء بعضکم الیٰ بعض واما انا فلا افرح بالدنیا ولیست الدنیا من حاجتی‘‘

(جمل حاشیہ نمبر۱۲ جلالین ص۳۲۰)

مگر مرزاقادیانی ہیں کہ تین سو دلائل والی کتاب لکھنے کا اعلان کر کے حسب وعدہ خریداروں کے پاس نہیں پہنچاتے اور جب خریدار تنگ آکر اپنی قیمت واپس کراتے ہیں تو بدل ناخواستہ واپس کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ مگر تمنا اور آرزو یہی رہتی ہے کہ یہ آئی ہوئی رقم واپس نہ ہوتی تو بہت اچھا ہوتا۔ چنانچہ اس حسرت بھری تمنا کو ان لفظوں میں ظاہر فرمایا ہے کہ: ’’پس جن لوگوں نے قیمتیں دی تھیں۔ اکثر نے گالیاں بھی دیں اور اپنی قیمت بھی واپس لی۔ اگر وہ اپنی جلد بازی سے ایسا نہ کرتے تو ان کے لئے اچھا ہوتا۔‘‘ (دیباچہ براہین ۵ ص۸، خزائن ج۲۱ ص۹)

کوئی ان سے پوچھے کہ اگر وہ قیمت واپس نہ کرتے تو کیا کرتے؟ کیا ان کو وہ کتاب مل جاتی جس کا معاملہ طرفین میں ہوا تھا؟ جب اس کتاب کا وجود ہی نہ تھا تو مرزاقادیانی کس وجہ شرعی سے یہ روپیہ دبانا چاہتے تھے؟

س… ’’جو لوگ کسی مکر سے دنیا کمانا چاہتے ہیں کیا ان کا یہی اصول ہوا کرتا ہے کہ بیکبارگی ساری دنیا کی عداوت کرنے کا جوش دلاویں اور اپنی جان کو ہر وقت فکر میں ڈالیں۔‘‘

(مقدمہ براہین ص۱۱۸، خزائن ج۱ ص۱۱۰)

ج… یہ فقرہ مرزاقادیانی نے اس وقت لکھا تھا۔ جب کہ آپ دنیا کو مقابلہ کی دعوت اور مسلمانوں کو اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے تھے۔ چنانچہ آپ نے مسلمانوں کی توجہ کو اپنی طرف منعطف کرنے کے لئے مجددیت، مہدیت وغیرہ دعاوی کا سلسلہ اس خیال کے ماتحت جاری کیا کہ: ’’اگر کوئی نیا مصلح ایسی تعریفوں سے عزّت یاب نہ ہو کہ جو تعریفیں ان کو پیروں کی نسبت ذہن نشین ہیں۔ تب تک وعظ اور پند اس مصلح جدید کا بہت ہی کم مؤثر ہوگا۔ کیونکہ وہ لوگ ضرور دل میں کہیں گے کہ یہ حقیر آدمی ہمارے پیروں کی شان بزرگ کو کب پہنچ سکتا ہے… کیا حیثیت اور کیا بضاعت اور کیا رتبت اور کیا منزلت تا کہ ان کو چھوڑ کر اس کی سنیں۔‘‘

(براہین ص۲۴۶ حاشیہ درحاشیہ نمبر۱،خزائن ج۱ص۲۷۱)

جب مسلمانوں کی ایک جماعت کو مائل کر لیا تو پھر مسیحیت، مجددیت، نبوت وخدائی کے دعوے شروع کردئیے۔

ایک طرف مرزاغلام احمد قادیانی کا دعویٰ نبوت اور دوسری طرف مال کی محبت اور ہوس کا یہ عالم تھا کہ مرزاغلام

569

احمد قادیانی نے اپنے ایک مرید کے خط کے جواب میں لکھا کہ اپنی بہن کی عصمت فروشی کا مال خدمت اسلام کے لئے مجھے قادیان بھیج دو۔ ملاحظہ فرمائیے: ’’ایک شخص نے حضرت سے فتویٰ دریافت کیا کہ میری بہن ایک کنچنی (کنجری) تھی۔ اس نے اس حالت میں بہت سا روپیہ کمایا۔ پھر وہ مرگئی اور مجھے اس کا ترکہ ملا۔ مگر بعد میں مجھے ﷲتعالیٰ نے توبہ اور اصلاح کی توفیق دی۔ اب میں اس مال کو کیا کروں۔ حضرت صاحب نے جواب دیا کہ ہمارے خیال میں اس زمانہ میں ایسا مال اسلام کی خدمت میں خرچ ہوسکتا ہے۔‘‘ (سیرت المہدی حصہ اوّل ص۲۶۱، روایت نمبر۲۷۲)

شاعری اور نبوت

’’وَالشُّعَرَآئُ یَتَّبِعُہُمْ الْغَاوٗن (الشعراء :۲۲۴)‘‘

انبیاء علیہم السلام میں سے کبھی کوئی نبی شاعر نہیں ہوا۔ مگر مرزاقادیانی شعر گوئی کا بھی شوق رکھتے ہیں اور مرزائی پارٹی میںان کی شاعری اونچے درجہ کی ہے۔ تمام نبیوں سے نرالا شاعر نبی کیونکر ہوسکتا ہے اور اگر ہے تو ایسے متنبی شاعر کے پیرو یقینا بحکم قرآن گم کردہ راہ ہدایت ہوںگے۔

عشقیہ

ﷲ کے سچے نبی شاعری سے کسی قسم کا تعلق نہیں رکھتے۔ مگر مرزاغلام احمد قادیانی شاعری بھی کرتا اور پھر عشقیہ شاعری کرتا۔ ایک تو شاعری ویسے بھی نبوت کے منصب کے لائق نہیں اور مرزاقادیانی نے جو شاعری کی وہ بھی ایسی کہ کیا کہنے۔ ملاحظہ فرمائیں:

عشقیہ شعر وشاعری

عشق کا روگ ہے کیا پوچھتے ہو اس کی دوا ایسے بیمار کا مرنا ہی دوا ہوتا ہے
کچھ مزا پایا مرے دل ابھی کچھ پاؤ گے تم بھی کہتے تھے کہ الفت میں مزا ہوتا ہے
ہائے کیوں ہجر کے الم میں پڑے مفت بیٹھے بٹھائے غم میں پڑے
اس کے جانے سے صبر دل سے گیا ہوش بھی ورطۂ عدم میں پڑے
سبب کوئی خداوند بنادے کسی صورت سے وہ صورت دکھادے
کرم فرما کے آ او میرے جانی بہت روئے ہیں اب ہم کو ہنسا دے
کبھی نکلے گا آخر تنگ ہوکر دلا اک بار شور و غل مچادے
نہ سر کی ہوش ہے تم کو نہ پاکی سمجھ ایسی ہوئی قدرت خدا کی
مرے بہت اب سے پردہ میں رہو تم کہ کافر ہوگئی خلقت خدا کی
نہیں منظور تھی گر تم کو الفت تو یہ مجھ کو بھی جتلایا تو ہوتا
مری دل سوزیوں سے بے خبر ہو مرا کچھ بھید بھی پایا تو ہوتا
دل اپنا اس کو دوں یا ہوش یا جاں کوئی اک حکم فرمایا تو ہوتا

(سیرت المہدی حصہ اوّل ص۲۳۲، روایت نمبر۲۲۸)

570

قومی زبان اور نبوت

’’وَمَا اَرْسَلْنٰا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِہٖ لِیُبَیِّنَ لَہُمْ (ابراہیم: ۴)‘‘ {نہیں بھیجا ہم نے کسی رسول کو مگر اس کی قومی زبان میں تاکہ وہ لوگوں پر وحی کو ظاہر کرے۔}

اس آیت میں رسول کے لئے دو قیدیں مذکور ہوئی ہیں۔

۱… رسول پر ہمیشہ وحی ربانی اس کی قومی زبان میں نازل ہوئی ہے۔ چنانچہ رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم پر اگرچہ وہ تمام جہان کی طرف مبعوث کئے گئے۔ وحی قومی زبان عربی ہی میں نازل ہوتی رہی۔

۲… نازل شدہ وحی کا سمجھنا رسول کے لئے لازمی ہے تاکہ وہ دوسروں کو اس کی حقیقت سے آگاہ کر سکے۔ خواہ وہ امت کو اس سے مطلع کرے یا نہ کرے۔ مگراس کا واقف اور باخبر ہونا ضروری ہے۔ چنانچہ اس اصول کو مرزاقادیانی بھی تسلیم کرتے ہیں کہ: ’’یہ بالکل غیر معقول اور بیہودہ امر ہے کہ انسان کی اصلی زبان تو کوئی اور ہو اور الہام اس کو کسی اور زبان میں ہو جس کو وہ سمجھ بھی نہیں سکتا۔ کیونکہ اس میں تکلیف مالایطاق ہے اورایسے الہام سے کیا فائدہ ہوا۔ جو انسانی سمجھ سے بالاتر ہے۔ ‘‘ (چشمہ معرفت حصہ۲ ص۲۰۹، خزائن ج۲۳ ص۲۱۸)

چنانچہ مرزاقادیانی خود تحریر کرتے ہیں کہ: ’’وہ زیادہ تر تعجب کی یہ بات ہے کہ بعض الہامات مجھے ان زبانوں میں بھی ہوتے ہیں۔ جن سے مجھے کچھ بھی واقفیت نہیں۔ جیسے انگریزی، سنسکرت یا عبرانی وغیرہ۔‘‘

(نزول المسیح ص۵۷، خزائن ج۱۸ ص۴۳۵)

ایسے الہامات سے چند الہام بطور نمونہ درج کئے جاتے ہیں ملاحظہ ہو۔

’’ہوشعنا نعساً یہ دونوں فقرے شائد عبرانی ہیں اور ان کے معنے ابھی تک اس عاجز پر نہیں کھلے۔‘‘

(براہین احمدیہ ص۵۵۶، خزائن ج۱ ص۶۶۴)

۲… ’’آئی، لو، یو۔ آی شیل، گو، یو۔ لارج پارٹی آف اسلام۔ چونکہ اس وقت یعنی آج کے دن اس جگہ کوئی انگریزی خواں نہیں اور نہ اس کے پورے پورے معنے کھلے ہیں۔‘‘

(حاشیہ براہین احمدیہ ص۵۵۶، خزائن ج۱ ص۶۶۴)

۳… ’’پریشن عمر براطوس یا پلاطوس نوٹ آخری لفظ براطوس ہے۔ یا پلاطوس ہے۔ بباعث سرعت الہام دریافت نہیں ہوا اور نمبر۲ میں عمر عربی لفظ ہے۔ اس جگہ براطوس اور پریشن کے معنے دریافت کرنے ہیں کہ کیا ہیں اور کس زبان کے لفظ ہیں۔‘‘

(مکتوبات احمدیہ حصہ۱ ص۶۸،ا لبشریٰ ص۵۱، تذکرہ ص۱۱۵ طبع سوم)

۴… ’’غثم،غثم، غثم‘‘ (البشریٰ حصہ۲ ص۵۰، تذکرہ ص۳۱۹ طبع سوم)

۵… ’’ربنا عاج ہمارا رب عاجی ہے۔ عاجی کے معنی ابھی تک معلوم نہیں ہوئے۔ ‘‘

(البشریٰ ج۱ ص۴۳، براہین احمدیہ ص۵۵۵، ۵۵۶، خزائن ج۱ ص۶۶۲،۶۶۳)

اس قسم کے لغو اور لایعنی اور غیر زبان کے الہامات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا ملہم وہ نہیں ہے جو رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلمکے زمانہ تک انبیاء کرام علیہم السلام پر وحی نازل کرتا رہا ہے۔

نبوت اور معجزہ

’’وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ رُسُلاً اِلٰی قَوْمِہِمْ فَجَاؤٗہُمْ بِالْبَیِّنَاتِ (الروم:۴۷)‘‘ {یعنی ہم نے

571

آپ سے پہلے رسول اپنی اپنی قوم کی طرف بھیجے۔ جو ان کے پاس اپنی صداقت کے روشن دلائل لے کر آئے۔}

’’فان مدعی النبوۃ لا بدلہ من حجۃ (بیضاوی ج۲ ص۱۰۵)‘‘

’’تمامی انیباء ورسل وصلوٰت ﷲ علیہم معجزات است وہیچ پیغمبرے بے معجزہ نیست (مدارج ج۱ ص۱۹۹)‘‘

اس لئے دنیا میں کبھی کوئی نبی بغیر معجزہ کے نہیں آیا اور ہمیشہ ان کا معجزہ کوئی خارق عادت ایسی شئے ہوتی رہی۔ جس کے کرنے میں انسانی طاقت کو مطلقاً دخل نہیں ہوا۔ بلکہ خدا کی طرف سے بطور نشان صداقت لوگوں کے مقابلہ میں ان کے ہاتھوں سے ظاہر کرادیاگیا۔ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ دنیا کے پیش آنے والے واقعات اور حوادث کو کسی نبی نے اپنی سچائی کے لئے پیش کیا ہو۔ یہ ایک جداگانہ بات ہے کہ قوموں کو ان کی نافرمانی کی سزا میں طاعون وغیرہ کی خبر دی گئی ہو جو انہی کے لئے اپنے وقت میں نکلی ہو۔ کیونکہ ایسی خبریں پیش گوئیاں کہلاتی ہیں۔ جن کا پورا ہونا ضروری تھا۔ لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا کہ دنیا کے کسی حصہ میں زلزلہ آیا ہو۔ وباء پھیلی ہوئی ہو۔ قحط پڑا ہو اور کسی نبی نے اس کو اپنی قوم کے مقابلہ میں اپنی صداقت کا نشان بتایا ہو۔ مگر نرالے نبی کے معجزے بھی نرالے ہی ہیں۔ کہیں زلزلہ آئے۔ کسی جگہ طاعون وغیرہ وبائی امراض کا زور ہو۔ وباء دنیا کے کسی خطہ میں باہمی تنگی ہو۔ پس وہ مرزاقادیانی کی صداقت کا نشان بن گیا۔ زلزلہ کا نگڑے پہاڑوں میں آئے جہاں ہندوئوں کی اکثریت ہے جن بے چاروں کو مرزاقادیانی کے دعاوی کی بھی خبر نہیں ہے اور مسلمان جو مرزاکی تکذیب کرنے والے تھے۔ ان کا بال بھی بیکا نہ ہو۔ کرے ڈاڑھی والا اور پکڑا جائے مونچھوں والا۔ مگر اس سے سچائی مرزاقادیانی کی ظاہر ہو جائے۔ کیونکہ آپ نے زلزلہ کے آنے کی خبر دی تھی۔ باوجود یہ کہ اس قسم کی پیش گوئیوں کے نشان صداقت ہونے سے خود ہی انکاری بھی ہے ملاحظہ ہو: ’’یہ سب خبریں ایسی ہیں کہ جن کے ساتھ اقتدار اور قدرت الوہیت شامل ہے۔ یہ نہیں کہ نجومیوں کی طرح صرف ایسی چیزیں ہوں کہ زلزلہ آویں گے۔ قحط پڑیں گے۔ قوم قوم پر چڑھائی کرے گی۔ وباء پھیلے گی۔ مری پڑے گی۔‘‘

(براہین احمدیہ ص۲۴۵، خزائن ج۱ ص۲۷۱)

کوہاٹ میں ۱۹۳۲ء میں ایک زبردست زلزلہ آیا تھا۔ جس میں صدہا انسانوں کی ہلاکت اور مکانات کی تباہی واقع ہوئی۔ اگر مرزاقادیانی اس وقت زندہ ہوتے تو بڑے بڑے پوسٹروں اور اشتہاروں کے ذریعہ اپنی صداقت کے نشان ظاہر ہونے کا اعلان کرتے۔ دوسری پیشگوئیاں وہ تھیں۔ جو حالات حاضرہ کے مطالعہ سے قیاس اور تخمینہ اور انسانی اٹکلوں کے طور پر ذہن نے ان کی طرف رسائی کی تھی۔ مثلاً اخبارات میں حجاز ریلوے کا چرچا اور تیاری کی خبریں دیکھ کر جھٹ سے یہ پیش گوئی کردی کہ مسیح کے زمانہ میں جیسا کہ حدیث میں آیا ہے کہ ’’لیترکن القلاص‘‘ اونٹوں کی سواری جاتی رہے گی۔ میرے زمانہ میں بھی مکہ ومدینہ کے درمیان ریلوے لائن تیار ہوگئی ہے اور اب اونٹوں پر آمدورفت بند ہو جائے گی۔ چنانچہ ’’تحفہ گولڑویہ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ: ’’اونٹوں کے چھوڑے جانے اور نئی سواری کا استعمال اگرچہ بلاد اسلامیہ میں قریباً سو برس سے عمل میں آرہا ہے۔ لیکن یہ پیشگوئی اب خاص طور پرمکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کی ریل تیار ہونے سے پوری ہو جائے گی… اور تعجب نہیں کہ تین سال کے اندر اندر یہ ٹکڑا مکہ اور مدینہ کی راہ کا تیار ہوجائے… اور یہ پیش گوئی ایک چمک لئے بجلی کی طرح دنیا کو اپنا نظارہ دکھائے گی اور تمام دنیا اس کو بچشم خود دیکھے گی اور سچ تو یہ ہے کہ مکہ اور مدینہ کی ریل تیار ہوجانا گویا تمام اسلامی دنیا میں ریل کا پھرجانا ہے۔ ‘‘ (تحفہ گولڑویہ ص۶۵، خزائن ج۱۷ ص۱۹۵،۱۹۶)

شاید اگر مرزاقادیانی اپنی پیش گوئی کی ٹانگ نہ اڑاتے تو حجاز ریلوے مکمل ہوجاتی اور سفر حجاز کی تکلیفیں جاتی

572

رہتیں۔ مگر ان کا درمیان میں دخل دینا تھا کہ ریل ایسی جاتی رہی کہ مدینہ اور دمشق کی لائن بھی اکھڑ گئی اور ریلوے سلسلہ بالکل بند ہوگیا۔ جنگ عظیم میں نتیجہ کے متعلق مختلف خیالات تھے۔ لیکن برطانیہ کے حق میں لوگوں کا قیاس صحیح نکلا۔ کیا وہ قیاس لگانے والے سب کے سب ملہم تھے؟

تیسری قسم پیش گوئیوں کی وہ تمام الہامات اور خوابیں ہیں۔ جن کی نسبت مرزاقادیانی کا یہ خیال ہے کہ سچی خوابیں، اور صحیح الہام، کنجریوں، بدکاروں اور کافروں تک کو ہو جایا کرتے ہیں۔ سچے اور جھوٹے لوگوں میں اگر کوئی فرق ہے تو وہ قلت اور کثرت کا ہے۔ یعنی جھوٹوں کی خوابیں شاذونادر سچی ہوتی ہیںاور سچوں کی اکثر سچی اور بعض جھوٹی ہوجایا کرتی ہیں۔ چنانچہ ’تحفہ گولڑویہ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ: ’’میں اس سے انکار نہیں کرسکتا کہ سچی خوابیں اکثر لوگوں کو آجاتی ہیں اور کشف بھی ہو جاتے ہیں۔ مگر بعض اوقات بعض فاسق اور فاجر اور تارک صلوٰۃ بلکہ بدکار اور حرام کار بلکہ کافر اور ﷲ اور اس کے رسول سے سخت بغض رکھنے والے اور سخت توہین کرنے والے اور سچ مچ اخوان الشیاطین شاذونادر طور پر سچی خوابیں دیکھ لیتے ہیں۔‘‘

(تحفہ گولڑویہ ص۴۷،۴۸، خزائن ج۱۷ ص۱۶۷،۱۶۸)

’’اس راقم کو اس بات کا تجربہ ہے کہ اکثر پلید طبع اور سخت گندے اور ناپاک اور بے شرم اورخدا سے نہ ڈرنے والے اور حرام کھانے والے فاسق بھی سچی خوابیں دیکھ لیتے ہیں۔ ‘‘

(حاشیہ تحفہ گولڑویہ ص۴۸، خزائن ج۱۷ ص۱۶۸)

’’متوجہ ہوکر سننا چاہئے کہ خواص کے علوم اور کشوف اور عوام کے خوابوں اور کشفی نظاروں میں فرق یہ ہے کہ خواص کا دل تو مظہر تجلیات الٰہیہ ہو جاتا ہے اور جیسا کہ آفتاب روشنی سے بھرا ہوا ہے۔ وہ علوم اور اسرار غیبیہ سے بھر جاتے ہیں۔‘‘ (تحفہ گولڑویہ ص۴۸، خزائن ج۱۷ ص۱۶۸)

’’تمام مدار کثرت علوم غیب اور استجابت دعا اور باہمی محبت ووفاء اور قبولیت اور محبوبیت پر ہے۔ ورنہ کثرت وقلت کا فرق درمیان سے اٹھا کر ایک کرم شب تاب کو کہہ سکتے ہیں کہ وہ بھی سورج کی برابر ہے۔ کیونکہ روشنی اس میں بھی ہے۔‘‘ (تحفہ گولڑویہ ص۴۸، خزائن ج۱۷ ص۱۶۸)

مرزاقادیانی نے قلت اور کثرت کا فرق اس لئے رکھا ہے تاکہ ان کی جھوٹی پیش گوئیوں پر پردہ پڑ جائے۔ ورنہ نبی کی ہر ایک پیش گوئی سچی اور ہرخواب وحی الٰہی کا حکم رکھتا ہے۔

۴… ایک قسم پیش گوئی کی ایسی ہے کہ جو مخالفین کے مقابلہ میں بطور نشان صداقت بیان کی گئی اور اس کا تعلق کسی خاص دشمن یا مخالف کے ساتھ ہے۔ اس قسم کی پیش گوئیاں انبیاء علیہم السلام میں پائی جاتی تھیں۔جو اپنے اپنے وقت پر پوری ہوتی رہیں۔ لیکن مرزاقادیانی کے ایسے تمام الہامات اور پیش گوئیاں غلط اور جھوٹ نکلی ہیں۔

دعویٰ خدائی

’’وَمَنْ یَّقُلْ مِنْہُمْ اِنِّی اِلٰہٌ مِّنْ دُوْنِہٖ فَذَالِکَ نَجْزِیْہٖ جَہَنَّمَ۰ کَذٰلِکَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ (الانبیاء:۲۹)‘‘ {جو شخص ان میں سے یہ کہے کہ میں خدا ہوں تو ہم ایسے آدمی کو جہنم کی سزادیں گے اور ظالمین کو ہم ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں۔} اس آیت سے معلوم ہوا کہ ’’اِنِّی اِلٰہٗ‘‘ اپنے آپ کو عین خدا کہنے والا ظالم اور جہنمی ہے۔ اسی لئے کسی نبی نے آج تک بعینہ خدایا اس کی مثل ہونے کا دعویٰ نہیں کیا۔ چنانچہ عیسیٰ علیہ السلام بھی قیامت کے روز ’’أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوْنِیْ وَاُمِّی اِلٰہیْنِ (المائدہ:۱۱۶)‘‘ کے جواب میں یہی فرمائیں گے۔ ’’قَالَ سُبْحَانَکَ مَا یَکُوْنُ

573

لِیْ اَنْ اَقُوْلَ مَالَیْسَ لِیْ بِحَقٍّ (المائدہ:۱۱۶)‘‘ {اے ﷲ تو شرک کی آمیزش سے پاک ہے۔ میں ایسی بات کب کہہ سکتا ہوں ۔ جو مجھے کہنی زیبا نہیں ہے۔} جبکہ مرزا قادیانی نے کہا کہ: ’’میں نے ایک کشف میں دیکھا کہ میںخود خدا ہوں اور یقین کیا کہ وہی ہوں۔‘‘ (کتاب البریہ ص۸۵، خزائن ج۱۳ ص۱۰۳)

’’ظہورک ظہوری‘‘ تیرا ظہور میرا ظہور ہے۔‘‘ (البشریٰ ج۲ ص۱۲۶، تذکرہ ص۷۰۴، طبع سوم)

’’رأیتنی فی المنام عین ﷲ وتیقنت اننی ہو!’’ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں بعینہ ﷲ ہوں۔ میں نے یقین کر لیا کہ میں وہی ہوں۔‘‘ (آئینہ کمالات ص۵۶۴، خزائن ج۵ ص۵۶۴)

س… یہ ایک خواب کی حالت ہے۔ جو شرعاً حجت نہیں ہے۔

ج… مرزاقادیانی نبوت کے دعویدار ہیں اور نبی کی خواب بھی وحی ہے۔ (دیکھو ترمذی) اور یہی وجہ ہے کہ ابراہیم علیہ السلام خواب ہی کی وجہ سے اپنے بیٹے اسماعیل علیہ السلام کے ذبح کرنے پر تیار ہوگئے تھے۔ جس پر ﷲتعالیٰ نے ’’یَا اِبْرَاہِیْم قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْیَاء (الصفت: ۱۰۳،۱۰۴)‘‘ ارشاد فرمایا کہ اسی طرح رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی خواب متعلقہ داخلۂ مکہ کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ: ’’لَقَدْ صَدَقَ اللّٰہُ رَسُوْلَہٗ الرُّؤْیَاء بِالْحَقِّ (فتح:۲۷)‘‘ پھر مرزاقادیانی تو’’عین ﷲ‘‘ ہونے پر اپنا یقین ظاہر کر رہے ہیں۔ جس کے بعد شک ظاہر کرنے والا مرزاکا کافر سمجھا جائے گا۔ نیز یہ عینیت کا دعویٰ خواب ہی تک محدود نہیں رہا۔ بلکہ کشف سے بھی ثابت ہے۔ چونکہ مرزاقادیانی اپنے ’’عین ﷲ‘‘ ہونے پر یقین لے آئے تھے۔ اس لئے ان کو خدائی صفات کے ساتھ متصف ہونے کے بھی الہامات ہوئے۔ چنانچہ آپ لکھتے ہیں کہ:’’واعطیت صفۃ الافناء والاحیاء‘‘ مجھ کو فانی کرنے اور زندہ کرنے کی صفت دی گئی۔

(خطبہ الہامیہ ص۵۵، ۵۶، خزائن ج۱۶ ص۵۵،۵۶)

۲… ’’اِنَّمَا اَمْرُکَ اِذَا اَرَدْتَّ شَیْئًا اَنْ تَقُوْلَ لَہٗ کُنْ فَیَکُوْنَ‘‘ (البشریٰ ج۲ ص۹۴، حقیقت الوحی ص۱۰۵، خزائن ج۲۲ ص۱۰۸، براہین احمدیہ حصہ۵ ص۹۵، خزائن ج۲۱ ص۱۲۴)میں اس کا مصداق مرزا نے اپنے آپ کو بتایا ہے کہ: ’’اے مرزاحقیقت میں تیرا ہی حکم ہے۔ جب تو کسی شئے کا ارادہ کرتا ہے تو ’’کن‘‘ ہو جا کہہ دیتا ہے۔ پس وہ ہو جاتی ہے۔‘‘ اس قسم کے کشف والہامات کا اولیاء ﷲ پر قیاس کرتے ہوئے سکر اور بے ہوشی کی حالت میں محمول کرنا صحیح نہیں۔ کبھی کسی نبی نے بے خودی اور سکر میں منصور کی طرح اناالحق نہیں کہا۔ صاحب یواقیت لکھتے ہیں کہ:’’لانہ لایکون صاحب التقدم والا مامۃ الاصاحباً غیر سکر ان (یواقیت ج۲ ص۷۳)‘‘ مذہب کے پیشوا اور رہبر امت پر کبھی بے ہوشی اور سکر کی حالت طاری نہیں ہوتی۔

مرزاقادیانی ولایت سے بڑھ کر مہدیت، امامت اور نبوت کے دعوے دار ہیں۔ اس لئے ان پر بے ہوشی کبھی وارد نہیں ہوسکتی۔

مطالبہ:

کیا کسی نے ہوشیاری یا بے ہوشی میں ایسے کلمات زبان سے نکالے ہیں؟۔ اگر ہے تو پیش کر کے انعام حاصل کرو۔

مردمیت اور نبوت

’’وَمَا اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ اِلَّا رِجَالاً نُوْحِیْ اِلَیْہِمْ مِنْ اَہْلِ الْقُرٰی (یوسف:۱۰۹)‘‘ {ہم نے

574

آپ سے پہلے تمام رسول مردوں میں سے بھیجے کہ جن پر وحی کی جاتی تھی۔ یعنی گائوں کارہنے والا کبھی رسول یا نبی بناکر نہیں بھیجا گیا۔} ’’جلالین‘‘ میں اہل القریٰ کی تفسیر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ:’’الامصار لا نہم اعلم واعلم بخلاف اہل البوادی لجفائہم وجہلہم (تفسیر جلالین ص۱۹۹)‘‘ اسی طرح قرآن کریم میں دوسری جگہ ارشاد ہے کہ ’’حَتّٰی یَبْعَثَ فِیْ اُمِّہَا رَسُوْلاً یَّتْلُوْا عَلَیْہِمْ آیٰاتِنَا (القصص:۵۹)‘‘ علامہ ابو السعود اس کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ:’’ای فی أصلہا وقصبتہا التی ہی اعمالہا وتوا بعہا لکون اہلہا افطن وانبل (ابوالسعود ج۷ ص۲۰)‘‘ مرزاقادیانی ضلع گورداسپور کے ایک گائوں قادیان کے رہنے والے ہیں۔ جو تحصیل نہ ہونے کی وجہ سے قصبہ کہلانے کے لائق بھی نہیں ہے۔ اس زمانہ میں بمشکل دو ہزار کی آبادی ہوگی۔ اس کے علاوہ مرزاقادیانی کو بھی اس کے گائوں ہونے کا اقرار ہے: ’’اوّل لڑکی اور بعد میں اسی حمل سے میرا پیدا ہونا تمام گائوں کے بزرگ سال لوگوں کو معلوم ہے۔ ‘‘

(تریاق القلوب ص۱۶۰، خزائن ج۱۵ ص۴۸۵)

س… ’’وَجاء بِکُمْ مِّنَ الْبَدْوِ (یوسف :۱۰۰)‘‘ { ﷲ تم کو جنگل سے لایا۔}

معلوم ہوا کہ یعقوب علیہ السلام بادیہ اور جنگل میں رہتے تھے۔

ج… حضرت یعقوب علیہ السلام کنعان کے رہنے والے تھے۔ اسی لئے ان کو پیر کنعان بھی کہتے ہیں۔ کنعان مصر جتنا بڑا شہر تو نہیں تھا۔ لیکن ایک اچھے قصبہ کی حیثیت میں ضرور تھا اور وہ اتنا بڑا ضرور تھا کہ وہاں کے باشندے بصورت قافلہ دوسرے شہروں میں تجارت کی غرض سے جاتے تھے۔ قرآن میں ہے کہ ’’وَاسْءلِ الْقَرْیَۃَ الَّتِیْ کُنَّا فِیْہَا وَالْعِیْرَ الَّتِیْ اَقْبَلْنَا فِیْہَا (یوسف:۸۲)‘‘ قافلہ کے لوگ یعقوب علیہ السلام کے پڑوسی تھے۔ ’’وکانوا قوما من کنعان من جیران یعقوب علیہ السلام (ابوالسعود ج۴ ص۳۰۱)‘‘ آیت میں ’’بدو‘‘ کو اس لئے ذکر کیا ہے کہ یعقوب علیہ السلام مال مویشی کی وجہ سے کنعانی شہر کو چھوڑ کر جنگل یا گائوں میں سکونت پذیر ہوگئے تھے۔ ’’قال ابن عباس رضی اللہ عنہ کان یعقوب قد تحول الی بدوو سکنہا ومنہا قدم علی یوسف ولد بہا مسجد تحت جبلہا (تفسیر کبیر ج۹ ص۲۱۵)‘‘

اس کے علاوہ خود مرزاقادیانی نے کنعان کا شہر ہونا تسلیم کیا ہے اور ’’اسی طرح حضرت موسیٰ کلیم ﷲ علیہ السلام کو جو کنعان کی بشارتیں دی گئی تھیں۔ بلکہ صاف صاف حضرت موصوف کو وعدہ دیاگیا تھا کہ تو اپنی قوم کو کنعان میں لے جائے گا اور کنعان کی سرسبز زمین کا انہیں مالک کردوں گا۔‘‘ (ازالہ ص۴۱۶،۴۱۷، خزائن ج۳ ص۳۱۷)

تدریجی دعویٰ نبوت

’’قُلْ یَا اَیُّہَا النَّاسُ اِنِّیْ رُسُوْلُ اللّٰہ اِلَیْکُمْ جَمِیْعًا (اعراف:۱۵۸)‘‘ تمام انبیاء علیہم السلام نے نبوت یا رسالت کا ایک ہی دعویٰ کیا ہے۔ مجددیت وغیرہ سے ترقی کر کے اوپر نہیں چڑھے۔ مگر مرزاقادیانی کے دعاوی کی بڑی لمبی فہرست ہے اور مجددیت سے زینہ بزینہ اوپر چڑھے ہیں۔ (دعاوی کی تفصیل پہلے گذر چکی ہے)

علامات نفاق اور مرزا قادیانی

’’عن عبد ﷲ بن عمرو رضی اللہ عنہ قال قال رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم اَرْبَعُ مَنْ کُنَّ فِیْہٖ کَانَ مُنَافِقًا خَالِصًا وَمَنْ کَانَتْ فِیْہٖ خَصْلَۃٌ مِّنْہُنَّ کَانَتْ فِیْہٖ خَصْلَۃٌ مِّنَ الْنِّفَاقِ حَتَّی یَدَعَہَا اِذَا أَوْتُمِنَ خَانَ وَاِذَا حَدَثَ کَذَبَ وَاِذَا عَاہَدَ غَدَرَ وَاِذَ اخَاصَمَ فَجَرَ (متفق علیہ، مشکوٰۃ باب الکبائر وعلامات النفاق ص۱۷)‘‘

575

مرزاقادیانی میںیہ چاروں باتیں موجود ہیں۔ خیانت جھوٹ وعدہ خلافی کا ذکر پہلے ہو چکا ہے۔ خصومت اور جھگڑے کے وقت گالی گلوچ پر اترآنا اب ملاحظہ فرمالیں:

۱… ’’یہ جو ہم نے کہا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے زمانہ کے بہت سے لوگوں کی نسبت اچھے تھے۔ یہ ہمارا کہنا محض نیک ظنی کے طور پر ہے… (ورنہ) مسیح کی راست بازی اپنے زمانہ میں دوسرے راست بازوں سے بڑھ کر ثابت نہیں ہوتی۔ بلکہ یحییٰ نبی کو اس پر ایک فضیلت ہے۔ کیونکہ وہ شراب نہیں پیتا تھا اور کبھی نہیں سناگیا کہ کسی فاحشہ عورت نے آکر اپنی کمائی کے مال سے اس کے سر پر عطر ملا تھا یا ہاتھوں اور اپنے سر کے بالوں سے اس کے بدن کو چھوأ تھا یا کوئی بے تعلق جوان عورت اس کی خدمت کرتی تھی۔ اسی وجہ سے خدا نے قرآن میں یحییٰ کا نام ’’حصور‘‘ رکھا۔ مگر مسیح کا نام یہ نہ رکھا۔ کیونکہ ایسے قصے اس نام کے رکھنے سے مانع تھے۔‘‘(دافع البلاء ص۳،۴، خزائن ج۱۸ ص۲۱۹،۲۲۰)

۲… ’’یورپ کے لوگوں کو جس قدر شراب نے نقصان پہنچایا ہے۔ اس کا سبب تو یہ تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام شراب پیا کرتے تھے۔‘‘ (کشتی نوح ص۶۶ حاشیہ خزائن ج۱۹ص۷۱)

۳… ’’آپ کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے۔ تین دادیا ں اور نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں۔ جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔ مگر شاید یہ بھی خدائی کے لئے ایک شرط ہوگی۔ آپ کا کنجریوں سے میلان اور صحبت بھی شاید اسی وجہ سے ہو کہ جدی مناسبت درمیان ہے۔‘‘ (ضمیمہ انجام آتھم ص۷، خزائن ج۱۱ ص۲۹۱ حاشیہ)

ہم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق مرزاقادیانی کی بدزبانی کے وہ حوالے نقل کئے ہیں۔ جن میں عیسیٰ علیہ السلام، مسیح اور قرآن میں ان کو ’’حصور‘‘ نہ کہنا مصرحاً موجود ہے۔ تاکہ مرزائی جماعت یہ نہ کہہ سکے کہ مرزاقادیانی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شان میں گستاخی نہیں کی۔ بلکہ اس یسوع کی توہین کی ہے۔ جس کو عیسائی خدا یا خدا کا بیٹا کہتے ہیں۔ اگرچہ ایسا کہنا بھی قرآنی تعلیم کے خلاف ہے۔ چنانچہ ﷲتعالیٰ فرماتا ہے کہ: ’’وَلَاتَسُبُّوْا الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ فَیَسُبُّوْاللّٰہَ عَدْوًا بِغَیْرِ عِلْمٍ (انعام:۱۰۸)‘‘

’’جن کو غیر مسلم اپنا بڑا کہتے اور ان کوپکارتے ہیں۔ تم ان کو برا نہ کہو ورنہ وہ ضد اور جہالت سے خداکو برا کہیں گے۔‘‘ اور ایسا ہی حدیث میں ہے۔

حرام زادہ ہونے کا ایک نیا طریقہ ملاحظہ ہو۔

۴… ’’ویقبلنی ویصدق دعوتی الاذریۃ البغایا! ان میری کتابوں کو ہر مسلمان محبت کی آنکھ سے دیکھتا ہے اور ان کے معارف سے فائدہ اٹھاتا ہے اور مجھے قبول کرتا ہے اور میری دعوت کی تصدیق کرتا ہے۔ مگر بدکار رنڈیوں (زناکاروں) کی اولاد۔ ‘‘ (آئینہ کمالات ص۵۴۷،۵۴۸، خزائن ج۵ ص۵۴۷،۵۴۸)

مولوی سعد ﷲ لدھیانوی جو مرزا قادیانی کے مخالف تھے ان کو لکھتے ہیں کہ:

۵… ’’اذیتنی خبثا فلست بصادق۰ ان لم تمت بالخزی یابن بغاء‘‘ تو نے مجھے تکلیف دی ہے۔ اے زانیہ کے بیٹے اگر ذلت سے نہ مرا تو میں جھوٹا ہوں۔‘‘ (تتمہ حقیقت الوحی ص۱۵، خزائن ج۲۲ ص۴۴۶)

۶… ’’ان العدی صا رواخنازیر الفلا۰ ونساء ہم من دونہن الاکلب‘‘ ’’میرے مخالف جنگل کے سور ہیں اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ کر ہیں۔ یا ان کی عورتوں کے پیچھے کتے لگے ہوئے ہیں۔‘‘

(نجم الہدیٰ ص۱۰، خزائن ج۱۴ ص۵۳)

576

۷… ’’اے بدذات فرقہ مولویان۔‘‘ (انجام آتھم ص۲۱، خزائن ج۱۱ ص۲۱)

۸… ’’اے بدذات، خبیث، دشمن ﷲ رسول کے۔‘‘ (ضمیمہ انجام آتھم ص۵۰، خزائن ج۱۱ ص۳۳۴)

۹… ’’ہمارے دعوے پر آسمان نے گواہی دی۔ مگر اس زمانہ کے ظالم مولوی اس سے بھی منکر ہیں۔خاص کر رئیس الدجالین عبدالحق غزنوی اور اس کا تمام گروہ علیہم نعال لعن ﷲ الف الف مرہ‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ص۴۶، خزائن ج۱۱ ص۳۳۰)

۱۰… ’’مخالف مولویوں کا منہ کالا۔‘‘ (ضمیمہ انجام آتھم ص۵۸، خزائن ج۱۱ ص۳۴۲)

اس قسم کی سینکڑوں گالیاں ہیں۔ یہاں نمونتاً بیان کی گئیں ہیں۔ اس قسم کی بدزبانی اور دریدہ دہنی، خلاف تہذیب الفاظ استعمال کرنے کے متعلق ہمارا کچھ کہنا مناسب معلوم نہیں ہوتا۔ اس کے لئے مرزاقادیانی کا فیصلہ ناظرین کی آگاہی کے لئے سامنے رکھا جاتا ہے کہ: ’’لعنت بازی صدیقوںکا کام نہیں۔ مومن لعّان نہیں ہوتا۔‘‘ (ازالہ ص۶۶۰، خزائن ج۳ ص۴۵۶)

’’تحریری شہادت دینا ہے کہ ایسے بدزبان لوگوں کا انجام اچھا نہیں ہوتا۔ خدا کی عزت اس کے پیاروں کے لئے آخر کوئی کام دیکھاتی ہے۔ بس اپنی زبان کی چھری سے کوئی اور بدتر چھری نہیں۔‘‘

(خاتمہ چشمہ معرفت ص۱۵، خزائن ج۲۳ ص۳۸۶،۳۸۷)

اور بقول خلیفہ قادیان مرزا محمود قادیانی: ’’بالکل صحیح بات ہے کہ جب انسان دلائل سے شکست کھاتا اور ہار جاتا ہے تو گالیاں دینی شروع کردیتا ہے اور جس قدر کوئی زیادہ گالیاں دیتا ہے۔ اسی قدر اپنی شکست کو ثابت کرتا ہے۔‘‘

(انوار خلافت ص۱۵)

نیز مرزاقادیانی معلم اخلاقیات کا خصائل حمیدہ کے ساتھ متصف ہونا ضروری کہتے ہیں۔ مگر خود عمل نہیں کرتے۔

’’اخلاقی معلم کا فرض ہے کہ پہلے آپ اخلاق کریمہ دکھلاوے۔‘‘

(چشمہ مسیحی ص۱۵، خزائن ج۲۰ ص۳۴۶)

قال یہ ہے اور حال وہ مصرع:

بہ بیں تفاوت رہ از کجاست تابہ کجا

مشکلے دارم زدانشمند مجلس باز پرس

توبہ فرمایاں چراخود توبہ کمترے میکنند

وراثت اور نبوت

’’عن ابی بکر رضی اللہ عنہ قال قال رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم لَانُوْرِثُ مَاتَرَکْنَا صَدَقَۃً (بخاری ج۲ ص۵۷۶ باب حدیث بنی النضیر)‘‘ انبیاء علیہم السلام نہ کسی کے مال ومتاع کے وارث ہوتے اور نہ کوئی آپ کے مال کا وارث ہوتا ہے۔ بلکہ ان کا ترکہ ﷲ کی راہ میں خرچ کردیا جاتا ہے۔ مگر مرزاقادیانی وارث بھی ہوتے ہیں اور اپنے مال میں وراثت کے حقوق بھی قائم کرتے ہیں۔ ملاحظہ ہو: ’’میںمشتہر ایسے مجیب کو بلاعذرے وحیلتے اپنی جائداد قیمتی دس ہزار روپیہ پر قبض ودخل دے دوں گا۔‘‘

(براہین احمدیہ ص۲۵،۲۶، خزائن ج۱ ص۲۸)

براہین کے اشتہار دینے کے وقت یہ جائیداد وہی تھی۔ جو ان کو اپنے والد غلام مرتضیٰ رئیس قادیان کے ترکہ میں پہنچی تھی۔ کیونکہ اس وقت تک فتوحات کا دروازہ نہیں کھلا تھا۔ وہ خطوط جو ’’محمدی بیگم‘‘ کے نکاح کے سلسلہ میں مرزاقادیانی

577

نے مسماۃ کے والدین کو تحریض اور تخویف کے لکھے ہیں۔ اس میں اجرائے وراثت کاذکر اس طرح کیاگیا ہے۔

’’والدہ عزت بی بی کو معلوم ہو کہ مجھ کو خبر پہنچی ہے کہ چند روز تک مرزااحمد بیگ کی لڑکی کا نکاح ہونے والا ہے اور میں خدا کی قسم کھا چکا ہوں کہ اس نکاح سے سارے رشتے ناطے توڑدوں گا۔ کوئی تعلق نہ رہے گا۔ (صلہ رحمی کے خلاف ہے) اس لئے نصیحت کی راہ سے لکھتا ہوں کہ اپنے بھائی مرزااحمد بیگ کو سمجھا کر یہ ارادہ موقوف کراؤ اور جس طرح تم سمجھا سکتی ہو سمجھاؤ اور اگر ایسا نہیں ہوگا تو آج میں نے مولوی نورالدین اورفضل احمد کو خط لکھ دیا ہے کہ اگر تم اس ارادہ سے باز نہ آؤ تو فضل احمد عزت بی بی کے لئے طلاق نامہ ہم کو بھیج دے اور اگر فضل طلاق نامہ لکھنے میں عذر کرے تو اس کو عاق کیا جائے اور اپنی جائداد کا اس کو وارث نہ سمجھا جائے اور ایک پیسہ وراثت کا اس کو نہ ملے اور اگر فضل احمد نے نہ مانا تو میں فی الفور اس کو عاق کردوں گا اور پھر وہ میری وراثت سے ایک ذرہ نہیں پاسکتا …مجھے قسم ہے ﷲتعالیٰ کی کہ میں ایسا ہی کردوں گا اورخداتعالیٰ میرے ساتھ ہے۔ جس دن نکاح ہوگا اس دن عزت بی بی کا نکاح باقی نہ رہے گا۔ ‘‘

(راقم مرزاغلام احمد از لدھیانہ اقبال گنج ۴؍مئی ۱۸۹۱ء، کلمہ فضل رحمانی ص۱۲۸)

سوال:۱… کرمانی لکھتے ہیں کہ ’’نحن معشر الانبیاء‘‘ کی حدیث غیر معتبر ہے؟

سوال:۲… عدم توریث رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کا خاصہ ہے۔ چنانچہ بخاری میں اس حدیث کو ذکر کرتے ہوئے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قول ’’یُرِیْدُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ نَفْسَہٗ ‘‘ نقل کیاگیا ہے۔ جس سے آپ ﷺ کی خصوصیت کا پتہ چلتا ہے اس لئے قسطلانی نے اس قول کی شرح کرتے ہوئے یہ لکھا ہے۔ ’’عن الحسن رفعہ مرسلارحم ﷲ اخی زکریا وماکان علیہ من یرث مالہ فیکون ذالک مماخصہ ﷲ بہ ویؤید مقول عمر یرید نفسہ ای یرید اختصاصہ بذالک‘‘

سوال:۳… ’’وَرِثَ سُلَیْمَانُ دَاوٗدَ‘‘ میں وراثت مال کی مراد ہے۔ کیونکہ نبوت میں وراثت جاری نہیں ہواکرتی۔ ایسا ہی ’’تفسیر ابن جریر اور تفسیر نیشاپوری‘‘ میں درج ہے۔

جواب:۱… کرمانی کے نزدیک تمام حدیثیں غیر معتبر نہیں ہے۔ محض لفظ نحن غیر معتبر ہے۔ جیسا کہ علامہ ابن حجر تحریر فرماتے ہیں کہ:’’وأما اشتہر فی کتب اہل الاصول وغیرہم بلفظ نحن معاشر الانبیاء لانورث فقد أنکرہ جماعۃ من الأئمۃ وہو کذلک بالنسبۃ لخصوص لفظ نحن لکن اخرجہ النسائی من طریق ابن عیینہ عن ابے الزناد بلفظ انا معاشر الانبیاء لا نورث‘‘ (فتح الباری ج۱۲ ص۶)

اور دار قطنی نے علل میں بروایت ام ہانی رضی اللہ عنہا عن فاطمہ رضی اللہ عنہا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے اس طرح روایت کی ہے کہ: ’’اَلْاَنْبِیَآئُ لَا یُوْرَثُوْنَ (قسطلانی ج۹ ص۳۴۱)‘‘

اور نسائی میں ’’اَنَا مَعْشَرُ الْاَنْبِیَآء لَا نُوْرِثُ‘‘ آیا ہے۔ ’’وفی حدیث الزبیر عند النسائے انا معشر الانبیاء لا نورث (قسطلانی ج۵ ص۱۵۴)‘‘ ان دونوں صیغوں کے ساتھ اس حدیث کو تسلیم کرنے سے کسی نے انکار نہیں کیا۔ پھر اسی مضمون کی یہ صحیح حدیث بھی موجود ہے۔

’’اِنَّ الْعُلَمَآء وَرَثَۃُ الْاَنْبِیَآء، اِنَّ الْاَنْبِیَآء لَمْ یُوَرِّثُوْادِیْنَارًا وَلَادِرْ ہَمًا اِنَّمَا وَرَّثُوْا الْعِلْمَ فَمَنْ اَخَذَہٗ اَخَذَبِحَظٍّ وَافِرٍ (ابن ماجہ ص۲۰ باب فضل العلماء)‘‘

جواب:۲… ’’یرید رسول نفسہ‘‘ کا یہ مطلب ہے کہ اس حکایت کرنے سے محض انبیاء سابقینo کے حالات

578

بیان کرنا مقصود نہیں تھا۔ بلکہ اس واقعہ کو ذکر کر کے یہ ظاہر کرنا تھا کہ جملہ انبیاء علیہم السلام کی طرح میرے ترکہ میں بھی وراثت جاری نہ کی جائے۔ چنانچہ قسطلانی اس خصوصیت کی نفی کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ: ’’یرید رسول ﷲ نفسہ وکذاغیرہ من الانبیاء بدلیل قولہ فی الروایۃ الاخری انا معاشر الانبیاء فلیس خاصابہ علیہم السلام‘‘

(مطبوعہ نو الکشور ج۵ ص۱۵۷)

’’کذانفیا بقولہ فی الحدیث الآخر انا معاشر الانبیاء لانورث فلیس ذالک من الخصائص‘‘

(نو الکشور ج۹ ص۳۴۲)

جس طرح بخاری کی حدیث ’’لَعَنَ اللّٰہُ الْیَہُوْدَ وَالنَّصَارٰی اِتَّخَذُوْا قُبُوْرَ اَنْبِیَآئِ ہِمْ مَسَاجِدًا یحذر مَاصَنَعُوْا ‘‘ (بخاری ج۱ ص۲ ۶، مشکوٰۃ ص۶۹، باب المساجد)

اور دوسری روایت ’’عَنْ عَائِشَۃ رضی اللہ عنہا قالت قال رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم لَعَنَ اللّٰہُ الْیَہُوْدَ اِتَّخَذُوْا قُبُوْرَ اَنْبِیَآئِہِمْ مَسَاجِدَ قَالَتْt فَلَوْلَاذَالِکَ لَابَرَزَ قَبْرَہٗ اِنَّہٗ خَشِیَ اَنْ یَّتَّخِذُوْامَسْجِدًا (مسلم ج۱ص۲۰۱ باب النھی عن بناء المسجد علی القبور)‘‘ میں ’’یحذر ماصنعوا اور انہ خشی ان یتخذ مسجدا‘‘ سے آنحضرت ﷺ کی خصوصیت ظاہرنہیں ہوتی۔ اسی طرح ’’یرید رسول ﷲ‘‘ سے حضور ﷺ کی خصوصیت سمجھنا درست نہیں ہے۔

ب… عدم توریث بلحاظ امت کے آپ ﷺ کا خاصہ ہے اور باعتبار نبیوں کے خاصہ نہیں ہے۔ یعنی آپ ﷺ آیت میراث کے عموم میں داخل نہیں ہیں۔ یہ حکم امت ہی کے واسطے ہے۔ آپ ﷺ کے واسطے نہیں ہے نہ یہ کہ دیگر انبیاء علیہم السلام کے مال میں وراثت جاری ہوتی تھی۔ مگر رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم میں نہیں ہوتی: ’’فلا معارض من القرآن لقول نبینا ﷺ لانورث صدقۃ فیکون ذالک من خصائصہ التی اکرم بہا بل قول عمر رضی اللہ عنہ یرید نفسہ یوئید اختصاصہ بذالک (فتح الباری ج۱۲ص۶)‘‘ یہی مطلب علامہ قسطلانی رحمۃ اللہ علیہ کا بھی ہے۔

ج… حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے قول کو آنحضرت ﷺ کے متعلق خصوصیت پر اتارنا ضعیف اور مرجوح قول ہے۔ جیسا کہ قسطلانی کے صیغہ تمریض (قیل) سے ظاہر ہورہا ہے ملاحظہ ہو۔

’’وقیل ان عمر رضی اللہ عنہ یرید نفسہ اشاربہ الیٰ ان النون فی قولہ لانورث المتکلم خاصۃ لا للجمیع وحکی ابن عبدالبر للعلماء فی ذالک قولین اوان الاکثر علی ان الانبیاء لا یورثون (قسطلانی ج۹ ص۳۴۳)‘‘

پھر بھی راجح اور قوی رائے یہی رہی کہ انبیاء علیہم السلام میں وراثت جاری نہیں ہوتی۔

جواب:۳… (الف)وراثت سے علم نبوت کی وراثت مراد ہے۔ مالی وراثت مراد نہیں ہے۔’’والحکمۃ ۱؎ فی ان لا یورثو لئلا یظن انہم جمعوا المال لوارثہم واما قولہ تعالیٰ وورث سلیمان داؤد فحملوہ علی العلم والحکمۃ وکذاقول زکریا فہب لی من لدنک ولیا یرثنی (قسطلانی ج۹ ص۳۴۳، ومثلہ فی فتح الباری ج۱۲ ص۹)‘‘

۱؎ انبیاء میں وراثت اس لئے جاری نہیں کی گئی تاکہ کوئی شخص یہ بدگمانی نہ کرے کہ انہوں نے اپنے وارثوں کے لئے مال جمع کیا ہے۔

579

’’واما قول زکریا یرثنی ویرث من اٰل یعقوب وقولہ وورث سلیمان داؤد فالمراد میراث العلم والنبوۃ والحکمۃ (قسطلانی ج۵ص۱۵۷)‘‘ مفسر نیشا پوری کی وراثۃ فی النبوۃ کی نفی کرنے سے یہ غرض ہے کہ نبوۃ موہبۃ عظمیٰ ہے۔ جو نبی کی اولاد ہونے کی وجہ سے نہیں ملا کرتی۔ خداتعالیٰ جس کو چاہتا ہے۔ اس خدمت کے لئے منتخب کرلیتا ہے۔ سلیمان علیہ السلام کو بھی اگر نبوت ملی ہے تو انتخابی حیثیت سے ملی ہے۔ توریثی لحاظ سے نہیں ملی اور جن مفسرین نے سلیمان علیہ السلام کو حضرت دَاوُد کا ’’وارث فی النبوۃ‘‘ کہا ہے۔

ان کی یہ مراد ہے کہ ﷲتعالیٰ نے محض اپنے کرم اور فضل سے داؤد علیہ السلام کے بعد ان کے بیٹے سلیمان علیہ السلام کو نبی منتخب کر لیا۔ یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ سلیمان علیہ السلام نے ایک نبی کی اولاد ہونے کی وجہ سے نبوت حاصل کر لی۔ ’’فلا معارضۃ بینہما‘‘ دیکھو زکریا علیہ السلام نے لڑکے کے پیدا ہونے کی دعا کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ: ’’فَہَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْکَ وَلِیًّا۰ یَرِثُنِیْ وِیَرِثُ مِنْ آلِ یَعْقُوْبَ (مریم:۵،۶)‘‘ آل یعقوب کے وارث ہونے کے معنے اس کے سوا کچھ نہیں ہوسکتے کہ ان کو بنی اسرائیل کے نبیوں میں سے ایک نبی بنادے۔ اس لئے اس سے علم نبوت ہی کی وراثت مراد ہوگی۔

(ب)کبھی وراثت کا لفظ کسی کے بعد آنے والے پربھی بولا جاتاہے۔ قرآن مجید میں ہے کہ: ’’وَاَوْرَثَکُمْ اَرْضَہُمْ وَدِیَارَہُمْ وَاَمْوَالَہُمْ وَاَرْضًا لَمْ تَطَئُوْھَا (احزاب:۲۷)‘‘

’’(اے مسلمانو) تم کو یہودیوں کی املاک وجائیداد اور ان کے گھروں کا ہم نے وارث بنادیا اس میں وراثت سے عرفی اور اصطلاحی وراثت مراد نہیں ہے۔ بلکہ ان کی املاک کو مسلمانوں کے قبضہ میں دے دینے کا نام وراثت رکھا ہے۔‘‘

۲… ’’وَیَجْعَلَہُمُ الْوَارِثِیْنَ (القصص:۵)‘‘ میں بنی اسرائیل کو قوم فرعون کے وارث بنا نے کا ذکر ہے۔ جو اصطلاحی حیثیت سے قطعاً ناممکن ہے۔

۳… حدیث ’’اِنَّ الْعُلُمَآء وَرَثَۃُ الْاَنْبِیَآء (ترمذی ج۲ ص۹۸، باب فضل الفقھ علی العبادۃ)‘‘ میں علماء کو انبیاء علیہم السلام کا وارث بنانا معنے عرفی کے لحاظ سے نہیں ہے۔ اسی طرح سلیمان علیہ السلام داؤد علیہ السلام کے وارث کہنے کا یہی مطلب ہے کہ ان کو علم وحکمت داؤد علیہ السلام کے بعد عطافرمائی گئی۔ جس سے نبوت کی دولت گھر کی گھر میںرہی اور باہر نہ گئی اور وہ صحیح معنوں میں اپنے والد بزرگوار کے جانشین ہوئے۔

۳… وراثت ذاتی املاک میں ہوا کرتی ہے۔ حکومت میں وراثت جاری نہیں ہوتی وہ ایک قومی امانت ہے۔ جس میں امیر کو قوم اور مالک کی مرضی کے بغیر کسی قسم کے تصرف کرنے کا حق نہیں ہوتا۔ ’’عن ابی ذر رضی اللہ عنہ قال: قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ( ﷺ) اَلَایَسْتَعْمَلَنِی قَالَ وَضَرَبَ بِیَدِہٖ عَلٰی مَنْکَبَیَّ ثُمَّ قَالَ یَا اَبَاذَرٍّاِنَّکَ ضَعِیْفٌ وَاِنَّہَا اَمَانَۃٌ (مشکوٰۃ کتاب الامارۃ ص۳۲۰)‘‘ (’’اے ابوذر رضی اللہ عنہ! حکومت ایک امانت ہے اور تو اس امانت کو نہیں اٹھا سکتا۔‘‘) لہٰذا سلیمان علیہ السلام کے وارث ہونے کے یہ معنے ہیں کہ وہ اپنے والد ماجد کے بعد حکومت کے تخت پر متمکن اور جلوہ افروز ہوئے۔ یہ کہ وہ شرعی طور پر وارث ہوئے تھے۔

نبی کی تدفین

’’قال ابوبکر رضی اللہ عنہ سَمِعْتُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ شَیْئًا مَّانَسِیْتُہٗ قَالَ مَاقَبَضَ اللّٰہُ نَبِیَّا اِلَّافِی الْمُوْضَعِ الَّْذِیْ یُحِبُّ اَنْ یُّدْفَنَ فِیْہٖ فَدَفَنُوْہٗ فِیْ مُوْضِعِ فِرَاشِہٖ (ترمذی ج۱ ص۱۹۸، ابواب الجنائز)‘‘

580

{حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے خود رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بات سنی تھی۔ جسے میں بھولا نہیں ہوں! آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا کہ ﷲتعالیٰ ہر نبی کی روح اس جگہ قبض کرتا ہے۔ جہاں وہ دفن ہونا پسند کرتا ہے لہٰذا آنحضرت ﷺ کو اس جگہ دفن کرنا چاہئے۔ جہاں آپ کا بستر مبارک ہے۔} مگر مرزاقادیانی کا مرض ایلاؤس یا ہیضہ میں بمقام لاہور انتقال ہوااور قادیان میں تالاب کے قریب اس کو دفن کیاگیا۔

تھوڑی دیر کے لئے اس امر پر بھی توجہ فرمائیں۔ تدفین سے پہلے مرحلہ مرنے کا آتا ہے اور مرزاغلام احمد قادیانی بھی اس مرحلہ سے گزرا۔ چنانچہ مرزاغلام احمد قادیانی مرنے سے پہلے کس حالت سے دوچار ہوئے وہ حالت قادیانیوں کے لئے قابل تقلید ہے۔ ہماری قادیانیوں سے ایک درخواست ہے کہ ہر محب اپنے محبوب کی اداؤں کو پسند کرتا اور اپناتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ محبوب کے نقش قدم پر چلے تو قادیانیوں کو چاہئے کہ وہ اپنے لئے دعا کریں۔ جس حالت میں مرزاغلام احمد قادیانی کو موت آئی وہ بھی اپنے لئے باری تعالیٰ سے ایسی ہی موت مانگیں تاکہ مرتے وقت کی مرزاغلام احمد قادیانی کی حالت پر عمل کر سکیں اور اپنی محبت کا کامل ثبوت دے سکیں۔ حالت کیا تھی اس کے لئے ملاحظہ فرمائیں۔

(سیرت المہدی حصہ اوّل ص۹تا۱۳، روایت نمبر۱۲)

انبیاء علیہم السلام کا بکریاں چرانا

’’عن ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ عن النبی ﷺ مَابَعَثَ اللّٰہُ نَبِیًا اِلَّا رَعٰی الْغَنَمَ فَقَالَ اَصْحَابُہٗ وَأَنْتَ؟ فَقَالَ نَعَمْ! کُنْتُ اَرْعٰی عَلٰی قَرَارِیْطَ لِاَہْلِ مَکَۃَ (بخاری ج۱ ص۳۰۱ باب الاجارہ، مشکوٰۃ باب الاجارہ ص۲۵۸)‘‘

’’ہر نبی نے اجرت پر چرواہا بن کر بکریاں چرائیں رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم بھی چند پیسوں پر اہل مکہ کی بکریاں چرایا کرتے تھے۔‘‘ مرزاقادیانی اس ضابطہ سے خارج ہیں۔ مرزا قادیانی نے چرواہے کی طرح مزدوری پر بکریاں کبھی نہیں چرائیں۔

خاندان نبوت

’’سَأَلْتُکَ ہَلْ کَانَ مِنْ آبَائِہٖ مِنْ مَلَکٍ؟ فَذَکَّرْتُ اَنْ لَّا فَقُلْتُ لَوْکَانَ مِنْ اٰبَائِہٖ مِنْ مَلَکٍ قُلْتُ رَجُلٌ یَّطُلُبُ مِلْکَ اَبِیْہٖ (بخاری ج۱ ص۴، باب کیف کان بدؤ الوحی الی رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم)‘‘

’’ہر قل نے رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے نامہ مبارک پہنچنے پر حضور ﷺ کے حالات کی تحقیق اور تفتیش کرتے ہوئے ابوسفیان رضی اللہ عنہ سے چند باتیں دریافت کی تھیں۔ جن میں سے ایک یہ تھی کہ کیا کوئی آپ کے بزرگوں میں بادشاہ بھی تھا؟ ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے کہا نہیں۔ ہرقل نے اس سوال کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی بادشاہ ہوتا تو میں کہتا کہ یہ شخص اپنی کھوئی ہوئی ریاست کو حاصل کرنا چاہتا ہے۔‘‘

مرزاقادیانی کے والد کی حیثیت سکھوں کے عہد سے پہلے بہت اچھی تھی۔ سکھوں کی لوٹ مار کی وجہ سے کمزور ہوگئی تھی۔ پھر بھی پنجاب فتح ہونے کے موقع پر سرکار انگلشیہ کی کافی امداد فرمائی۔ جیسا کہ مرزاقادیانی لکھتے ہیں کہ: ’’ہمارے والد صاحب مرحوم نے بھی باوصف کم استطاعت کے اپنے اخلاص اور جوش خیرخواہی سے پچاس گھوڑے اپنی گرہ سے خرید کر کے اور پچاس مضبوط اور لائق سپاہی بہم پہنچا کر سرکار میں بطور امداد کے نذر کئے۔‘‘

(براہین احمدیہ حصہ۳ ص الف، خزائن ج۱ ص۱۳۸،۱۳۹)

581

اسی برباد شدہ ریاست کو حاصل کرنے کے لئے مرزاقادیانی نے یہ جال پھیلا یا ہے۔

اوصاف نبوت

ایک مدعی نبوت کے لئے ان خصوصیات کے ساتھ متصف ہونا ضروری ہے۔ جس کا پایا جانا ہر ایک نبی میں بروایات صحیحہ ثابت ہے۔ مثلاً

۱… ’’از عائشۃ آمدہ است وگفت مرا آنحضرت ﷺ را کہ تومی آئی متوضاً ونمی بیراز تو چیزے از پلیدی فرمود کہ آیا ندانستہ توای عائشہ مین فرومی بروآنچہ بیروں می آیداز انبیاء پس دیدہ نمی شودازاں رمزے‘‘ (مدارج ج۱ ص۵۲)

۲… ’’مروی ست از ابن عباس رضی اللہ عنہ کہ گفت محتلم نشد ہیچ پیغمبر ہر گز واحتلام از شیطانت رواہ الطبرانے‘‘ (مدارج ج۱ ص۵۲)

۳… ’’انفاست بران کہ انبیاء صلوٰۃ ﷲ وسلامہ علیہم براخلاق حمیدہ صفات حسنہ مجبول ومفطور اند‘‘ (مدارج ج۱ ص۲۹)

مرزاقادیانی کی اخلاقیات کا نمونہ پہلے مذکور ہوچکا ہے۔

۴… ’’روایتے آمد ماتناوب بنی قط ہیچ پیغمبرے خمیازہ نہ کرد‘‘ (مدارج ج۱ ص۱۳۶)

۵… ’’مگس برہان مبارک وی نمی نشست وسپش درجاوے نمی افتاد واحتلام کرد آنحضرت ﷺ ہر گز ہمچنیں اندے دیگر رواہ الطبرانی‘‘ (مدارج ج۱ ص۳۶)

۶… ’’زمین نمیوخور وجسد شریف اور ا ﷺ وہمچنیں نمرد اجساد انبیاء علیہم السلام را‘‘

(مدارج ج۱ ص۱۵۸)

’’نیز آمدہ است کہ خداتعالیٰ حرام گردانیدہ است اجساد انبیاء را برارض‘‘

(مدارج ج۱ ص۱۵۹)

۷… ’’ارث یافتہ نشدازوی ﷺ لابہمت بقاء ترکہ وی وملک وے بعضی میگویند صدقہ میگر ددوچنانچہ درحدیث آمدہ است ماترکناہ صدقہ… وہمچنیں حکم تمامہ ایں است کہ ایشانرا ارث نباشدو مراد درقول حق تعالیٰ وورث سلیمان داؤد وقولہ سبحانہ رب ہب لی من لدنک ولیایرثنی ارث علم نبوتست‘‘ (مدارج ج۱ ص۱۵۸)

۸… ’’پیغمبر خدا ﷺ زندہ است درقبر خود وہمچنیں انبیاء علیہم السلام‘‘ (مدارج ج۱ ص۱۵۸)

کیا ان نشانات میں سے کوئی نشانی مرزاقادیانی میں پائی جاتی ہے۔ ہر گز نہیںہے تو بارثبوت بذمہ مدعی۔

۱… ’’سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حضور ﷺ استنجاء کر کے بیت الخلاء سے تشریف لاتے تو میں جاکر دیکھتی تو اس جگہ ازقسم براز کچھ نہ دیکھتی۔ حضور ﷺ نے فرمایا عائشہ تم نہیں جانتیں انبیاء کرام علیہم السلام سے جو کچھ ان کے بطن سے نکلتا ہے زمین نگل جاتی ہے۔ چنانچہ اسے دیکھا نہیں جاتا۔‘‘ (اسے طبرانی نے نقل کیا) (مدارج نبوت ص۲۹)

۲… ’’حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ کوئی نبی کبھی محتلم نہ ہوا۔ کیونکہ احتلام شیطان کے

582

اثر سے ہوتا ہے۔‘‘ (اس کو طبرانی نے نقل کیا) (مدارج نبوت ص۲۱)

۳… ’’شفائے قاضی عیاض مالکی رحمۃ اللہ علیہ میں مذکور ہے کہ تمام انبیاء کرام علیہم السلام کے اخلاق کریمہ اور عمدہ اوصاف سب کے سب فطری، جبلی اور پیدائشی ہیں۔‘‘ (مدارج ج۱ ص۲۹)

۴… ’’ایک روایت میں آیا ہے کہ جس قوم وقبیلہ نے بھی کسی پیغمبر سے جنگ کی تو اس قوم وقبیلہ پر سب سے پہلے پیغمبر ہی حملہ کرتا ہے۔‘‘

۵… ’’آپ ﷺ کے چہرۂ انور پر اور آپ ﷺ کی مبارکہ جگہ پر کبھی مکھی نہیں بیٹھی اور نہ ہی آپ ﷺ اور دیگر انبیاء علیہم السلام کو کبھی احتلام ہوا۔ (اس کو طبرانی نے نقل کیا ہے)‘‘

۶… ’’زمین آپ ﷺ کے جسد مبارک کو نہیں کھاتی اور اسی طرح دوسرے انبیاء کرام علیہم السلام کے اجسام کو بھی۔ نیز حدیث میں آیا ہے کہ ﷲتعالیٰ نے زمین پر حرام کر دیا ہے کہ وہ انبیاء کرام علیہم السلام کے اجسام کو کھائے۔‘‘

۷… آپ ﷺ سے کسی نے وراثت حاصل نہیں کی اور نہ آپ ﷺ کا ترکہ تقسیم ہوا اور نہ آپ کی ملک تھی۔ البتہ بعض علماء فرماتے ہیں کہ جو کچھ آپ ﷺ نے چھوڑا وہ صدقہ ہوگیا۔ جیسا کہ حدیث میں آیا ہے: ’’ماترکناہ صدقۃ‘‘ (جو کچھ ہم انبیاء علیہم السلام ترکہ چھوڑتے ہیں۔ وہ صدقہ ہے) اور یہی حکم تمام انبیاء علیہم السلام کا ہے کہ ان کا کوئی وارث نہیں ہوا۔ باقی رہا ﷲتعالیٰ کا فرمان ’’وورث سلیمان داوٗد‘‘ اور ’’رب ہب لی من لدنک ولیا‘‘ تو اس میں وراثت سے مراد وراثت علم نبوت ہے۔

۸… ’’پیغمبر خدا ﷺ اپنی قبر میں زندہ ہیں اور اسی طرح دوسرے انبیاء علیہم السلام بھی اپنی قبروں میں زندہ ہیں۔‘‘

عمر کی بابت

’’عن عائشۃ رضی اللہ عنہا قالت قال رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم اِنَّ جِبْرَآئِیْلَ کَانَ یُعَارِضُنِیَ الْقُرْآنَ فِیْ کُلِّ عَامِ مَرَّۃً وَاِنَّہٗ عَارَضَنِیُ بِالْقُرْآنِ الْعَامِّ مَرَّتَیْنِ وَاِنَّہٗ اَخْبَرَ اَنَّہٗ لَمْ یَکُنْ نَبِیَّ اِلَّا عَاشَ نِصْفَ عُمَرَ الَّذِیْ قَبْلَہٗ وَاِنَّہٗ خَیَّرَنِیْ اِنَّ عِیْسٰی ابْنَ مَرْیَمَ علیہم السلام عَاشَ عِشْرِیْنَ وَمِاءۃَ سَنَۃَ وَلَااَرَانِیْ اِلَّا ذَاہِبًا عَلٰی رَاْسِ السِّتِّیْنَ (طبرانی ج۲۲ ص۴۱۸ حدیث ۱۰۳۱)‘‘ اس حدیث کو مرزائی حیات مسیح کے ثبوت میں پیش کیا کرتے ہیں۔ اس لئے مرزاقادیانی کی عمر بصورت نبی ہونے کے ۳۱ برس چھ ماہ ہونی چاہئے تھی۔ مگر چونکہ ایسا نہیں ہوا۔ بلکہ ان کی عمر ۶۵ برس ہوئی ہے۔ اس واسطے وہ اپنے دعوے نبوت میں جھوٹے تھے۔

خلاصہ معیار نبوت

بنمائے بصاحب نظرے گوہر خودرا

عیسیٰ نتواں گشت تصدیق خرے چند

۱… ’’اَمْ یَقُوْلُوْنَ بِہٖ جِنَّۃٌ بَلْ وجاء ہُمْ بِالْحَقِّ وَاَکْثَرُہُمْ لِلْحَقِّ کَارِہُوْنَ (مؤمنون:۷۰)‘‘ لہٰذا حق یعنی نبوت اور جنون میں تضاد ہے جو کبھی جمع نہیں ہوسکتے۔ اسی لئے آنحضرت ﷺ سے اس کی نفی کی گئی۔ ’’مَااَنْتَ بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ بِمَجْنُوْنَ (القلم:۲)‘‘

۲… ’’مَابِصَاحِبِکُمْ مِنْ جِنَّۃٍ (سباء:۴۶)‘‘

583

جنون غضب الٰہی ہے۔ (حاشیہ ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص۳۱، خزائن ج۱۷ ص۶۷)

۳… ’’ملہم کے دماغی قوی کا نہایت مضبوط اور اعلیٰ ہونا ضروری ہے۔‘‘ (ریویو ستمبر۱۹۲۹ء)

۴… ’’ملہم کا دماغ نہایت اعلیٰ ہوتا ہے۔‘‘ (ریویو جنوری؍۱۹۳۰ء)

بحث پہلے گذر چکی ہے کہ مرزاقادیانی باقرار خود مراقی تھا۔ مرزاقادیانی نے کہا کہ: ’’مجھے مراق کی بیماری ہے۔‘‘

(ریویوج۲۴ نمبر۴ص۱۸۱، اپریل ۱۹۲۵ء)

۲… ’’مجھ کو دو بیماریاں ہیں۔ ایک اوپر کے دھڑ کی اور ایک نیچے کے دھڑ کی۔ یعنی مراق اور کثرت بول۔‘‘

(بدر ج۲ نمبر۲۳ ص۴ مورخہ۷جون۱۹۰۶ء، ملفوظات ج۸ص۴۴۵، تشحیذ الاذہان ج۱ نمبر۲ص۵)

’’مرزا غلام احمد قادیانی کو ہسٹیریا کا دورہ بھی پڑتا تھا۔‘‘

(سیرۃ المہدی ج۲ ص۵۵ روایت نمبر۳۶۹)

’’مالیخولیا جنون کا ایک شعبہ ہے اور مراق مالیخولیا کی ایک شاخ ہے۔ ‘‘

(بیاض نور الدین ص۲۱۱)

نتیجہ ظاہر ہے کہ: ’’ایک مدعی الہام کے متعلق اگر یہ ثابت ہو جائے کہ اس کو ہسڑیا مالیخولیا یا مرگی کا مرض تھا تو اس کے دعوے کی تردید کے لئے پھر کسی اور ضرب کی ضرورت نہیں رہتی۔ ‘‘

(ریویو ج۲۵نمبر۸ ص۲۸۶،۲۸۷ اگست ۱۹۲۶ء)

۲… ’’لَوْکَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اللّٰہِ لَوَجَدُوْا فِیْہِ اخْتِلَافًا کَثِیْرًا! ’’اس شخص کی حالت ایک مخبوط الحواس انسان کی حالت ہے۔ جو ایک کھلا کھلا تناقض اپنے کلام میں رکھتا ہے۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۱۸۴، خزائن ج۲۲ ص۱۹۱)

’’ایک دل سے دو متناقض باتیں نہیں نکل سکتیں۔ کیونکہ ایسے طریق سے یا انسان پاگل کہلاتا ہے یا منافق۔‘‘

(ست بچن ص۳۱، خزائن ج۱۰ ص۱۴۳)

۱… ’’میں مسیح موعود ہوں۔‘‘ (تحفہ گولڑویہ ص۹۶، خزائن ج۱۷ ص۲۵۳)

’’میں مسیح موعود نہیں۔‘‘ (ازالہ ص۱۹۲، خزائن ج۳ ص۱۴۳)

۲… ’’ابن مریم نبی نہ ہوگا۔‘‘ (ازالہ ص۲۹۲، خزائن ج۳ ص۲۴۹)

’’کیا مریم کا بیٹا امتی ہوسکتا ہے۔‘‘ (حقیقت الوحی ص۲۹، خزائن ج۲۲ ص۳۱)

۳… ’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ۱۲۰برس کی عمر ہوئی تھی۔‘‘

(راز حقیقت ص۲، خزائن ج۱۴ ص۱۵۴ حاشیہ)

’’آخر سری نگر میںجاکر ۱۲۵ برس کی عمرمیں وفات پائی۔‘‘

(تبلیغ رسالت ج۷ ص۶۰، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۱۴۹)

۴… ’’قرآن شریف میںفرمایاگیا ہے کہ وہ کتابیں محرّف، مبدّل ہیں۔‘‘

(چشمہ معرفت ص۲۵۵، خزائن ج۲۳ ص۲۶۶)

’’یہ کہنا کہ وہ کتابیں محرف، مبدل ہیں۔ ان کابیان قابل اعتبار نہیں۔ ایسی بات وہی کہے گا جو خود قرآن سے بے خبر ہے۔‘‘ (چشمہ معرفت ص۷۵، خزائن ۲۳ ص۸۳)

’’باوجود یکہ رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی توریت وانجیل کے محرف ہونے کی خبر دی ہے۔‘‘(مشکوٰۃ ص۲۵)

۳… ’’اِنَّمَا یَفْتَرِی الْکَذِبَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیَاتِ اللّٰہِ (النحل :۱۰۵)‘‘

’’لَعْنَۃُ اللّٰہِ عَلَی الْکَاذِبِیْنَ (آل عمران :۶۱)‘‘

۱… ’’نبی کے کلام سے جھوٹ جائز نہیں۔‘‘ (مسیح ہندوستان میں ص۶۱، خزائن ج۱۵ ص۲۱)

۲… ’’جھوٹ بولنا مرتد ہونے سے کم نہیں۔‘‘

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص۲۰، خزائن ج۱۷ ص۵۶ حاشیہ)

584

۳… ’’جھوٹ بولنے سے بدتر دنیا میں اور کوئی برا کام نہیں۔‘‘

(تتمہ حقیقت الوحی ص۲۶، خزائن ج۲۲ ص۴۵۹)

۱… ’’حدیث میں ہے کہ جب کسی شہر میں وبانازل ہوتو اس شہر کو بلاتوقف چھوڑ دیں۔‘‘

(ریویو قادیان ج۶ ش۹ ماہ ستمبر ۱۹۰۷ء ص۳۶۵)

۲… ’’حضور ﷺ نے فرمایاقیامت سو برس تک آجائے گی۔‘‘ (ازالہ ص۲۵۳، خزائن ج۳ ص۲۲۷)

۳… ’’حدیث میں ہے کہ: :یخرج فی آخر الزمان دجال (بالدال) یختلون الدنیا بالدین! یعنی آخری زمانہ میں ایک گروہ دجال کا نکلے گا۔ ‘‘ (تحفہ گولڑویہ ص۸۷، خزائن ج۱۷ ص۲۳۵)

باوجود یہ کہ حدیث میں رجال (بالراء ہے) مگر دھوکا دہی کی غرض سے بالدال نقل کیا ہے۔

۴… ’’ہذا خلیفۃ ﷲ المہدی بخاری کی حدیث ہے۔‘‘ (شہادت القرآن ص۴۱، خزائن ج۶ ص۳۳۷)

۵… ’’مجدد صاحب سرہندی لکھتے ہیں کہ امت کے بعض افراد مکالمہ ومخاطبہ الٰہیہ سے مخصوص ہیں اور قیامت تک مخصوص رہیں گے اور اس کو نبی کہتے ہیں۔ ‘‘

(حقیقت الوحی ص۳۹۱، خزائن ج۲۲ ص۴۰۶)

باوجود یہ کہ (مکتوبات ج۲ ص۹۹) میں یوں ہے کہ: ’’اذا کثر ہذا القسم من الکلام من واحد منہم سمی محدثاً‘‘ (ازالہ ص۹۱۵، خزائن ج۳ ص۶۰۰)

’’براہین احمدیہ‘‘ کے معاملہ میں جس گندم نمائی اور جو فروشی کا مظاہرہ کیا وہ کسی سے مخفی نہیں۔ چونکہ جھوٹ کی فہرست لمبی ہے۔ اس لئے دوسرے مقام پر دیکھیں:

۴… ’’وَمَا اَسْءلُکُمْ عَلَیْہِ مِنْ اَجْرٍ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰی رَبِّ الْعَالَمِیْنَ وَمَا مِنَ نَبِیٍّ دَعَا قَوْمَہٗ اِلٰی اللّٰہِ تَعَالٰی اِلَّا قَالَ لَا اَسْءلُکُمْ عَلَیْہِ اَجْرًا (یواقیت ج۲ ص۲۵)‘‘ مگر مرزاقادیانی نے تبلیغی چاٹ لگا کر بہت سا روپیہ جمع کیا۔ جیسا کہ لکھتا ہیں کہ: ’’یہ مالی امداد اب تک پچاس ہزار روپیہ سے زیادہ آچکی ہے۔ بلکہ میں یقین کرتا ہوں کہ ایک لاکھ کے قریب پہنچ گئی ہے۔‘‘ (براہین ج۵ ص۵۷، خزائن ج۲۱ ص۷۴)

’’اس قدر بھی امید نہ تھی کہ دس روپیہ ماہوار آئیںگے… اب تک ۳لاکھ کے قریب روپیہ آچکا ہے۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۲۱۲، خزائن ج۲۲ ص۲۲۱)

جو کچھ میری مراد تھی سب کچھ دکھا دیا

میں اک غریب تھا مجھے بے انتہاء دیا

دنیا کی نعمتوں سے کوئی بھی نہیں رہی

جو اس نے مجھ کو اپنی عنایت سے نہ دیا

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۱۰، خزائن ج۲۱ص۱۹)

مطالبہ:

کسی نبی سے مذہب کی آڑ میں دنیا کمانا اور تبلیغی چندہ کو اپنی ضرورتوں میں خرچ کرنا ثابت کرو؟۔

۵… ’’اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الْخَائِنِیْنَ (انفال:۵۸)‘‘

’’وہ لوگ جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دوبارہ دنیا میں لاتے ہیں۔ ان کا عقیدہ ہے کہ وہ بدستور اپنی نبوت کے ساتھ دنیا میں آئیں گے اور برابر ۴۵سال تک جبرائیل علیہ السلام وحی نبوت لے کر آتا رہے گا۔‘‘ (تحفہ گولڑویہ ص۵۲، خزائن ج۱۷ ص۱۷۴)

585

نقل حدیث میں خیانت کی۔ اصل مذہب یہ ہے کہ: ’’ان عیسیٰ علیہ السلام وان کان بعدہ واولی العزم وخواص الرسل فقدزال حکمہ من ہذا المقام بحکم الزمان علیہ الذی ہو لغیرہ فیرسل ولیاذا نبوۃ مطلقۃ ویلہم بشرع محمد ﷺ ویفہمہ علی وجہہ کالاولیاء المحمدیین (یواقیت ج۲ ص۸۹)‘‘

اور ایسا ہی مدارج النبوۃ میں ہے۔ یعنی عیسیٰ علیہ السلام اگرچہ نبی ہوں گے۔ مگر ان پر وحی نبوت نازل نہ ہوگی۔ اسی لئے ان کے ساتھ نبیوں جیسا معاملہ نہ ہوگا۔ بلکہ وہ اس امت کے اولیاء ﷲ کی طرح ہوںگے۔

۲… ابن عباس رضی اللہ عنہ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ اور ابن حزم رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ کی طرف وفات مسیح کے عقیدہ کی نسبت کرنا باوجود یہ کہ وہ آخری زمانہ میں مرنے یا مر کر دوبارہ زندہ آسمان پر مرفوع ہونے کے قائل ہیں۔

۳… نبی تشریعی کے یہ معنے کرنے کہ اس کو رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرنے سے نبوت مل جائے اور اس کو ابن العربی رحمۃ اللہ علیہ اور ملا علی القاری رحمۃ اللہ علیہ وغیرہم کی طرف منسوب کرنا باوجود یہ کہ ان کے نزدیک نبی غیر تشریعی وہ ہے کہ اس پر وحی نبوت نازل نہ ہو اور وہ ہر حکم میں شریعت محمدیہ ﷺ کے فیصلہ کا پابند ہو کیونکہ ولایت کے ایک مقام کانام نبوت غیر تشریعی رکھا ہے۔ مرزانے اس کے معنے بدل کر حقیقی نبوت کے اجزاء کا اعلان کرتے ہوئے دعویٰ کردیا۔ نیز مذہبی تبلیغ کا دھوکا دے کر بہت سا روپیہ جمع کیا اور اس کو اپنی ضروریات اور ’’گورنمنٹ برطانیہ کی حمایت میں خرچ کیا۔‘‘

(انجام آتھم ص۲۸۳، خزائن ج۱۱ ص۲۸۳)

مطالبہ:

تبلیغی روپیہ کو گورنمنٹ کی اغراض کی اشاعت میں کس شرعی حکم کی وجہ سے خرچ کیا ہے۔ کیا کوئی ایسے چندہ کی مدد کی جا سکتی ہے؟۔

۶… ’’وَلَا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَہٗ عَنْ ذکرنا وَاتَّبَعَ ھَوَاہٗ وَکَانَ اَمْرُہٗ فرطًا وَلَا تُطِعِ الْکَافِرِیْنَ (کھف:۲۸)‘‘ مرزاقادیانی جس حکومت برطانیہ کو دجال کا گروہ کہتے ہیں۔ اس کی غلامی پر فخر کرتے اور: ’’سلطنت ممدوح کو خداتعالیٰ کی ایک نعمت سمجھیں اور مثل اور نعماء الٰہی کے اس کا شکر بھی ادا کریں۔‘‘

(براہین ص ب، خزائن ج۱ ص۱۴۰)

۷… ’’وَکُلاً جَعَلْنَا صَالِحِیْنَ وَجَعَلْنَاہُمْ اَئِمَّۃً یَّہْدُوْنَ بِاَمْرِنَا وَاَوْحَیْنَا اِلَیْہِمْ فِعْلَ الْخَیْرَاتِ وَاَقَامَ الصَّلٰوۃَ وَاِیْتَأ الزَّکٰوۃِ (الانبیاء:۷۳)‘‘ مرزاقادیانی کی سوانح حیات میں کذب بیانی وعدہ خلافی تلبیس اور دھوکا دہی چندہ کا ناجائز تصرف، حرص وطمع دنیوی، نصاریٰ کی حمایت وغیرہ۔ عیوب کھلے طور پر نظر آرہے ہیں۔

۸… ’’وَقَفَّیْنَا عَلٰی آثَارِہِمْ بِعِیْسٰی اِبْنِ مَرْیَمَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْہِ‘‘ (مائدہ:۴۶) ’’اَلْاَنْبِیَآء اِخْوَۃٌ مِّنْ عَلَّاٍت وَاُمَّہَاتُھُمْ شَتّٰی وَدِیْنُھُمْ وَاحِدٌ (مسند احمد ج۲ص۳۱۹)‘‘ یعنی اصول دین تمام نبیوں کے درمیان مشترک ہیں۔ مگر عبادت کے طریقے بدلے ہوئے ہیں۔‘‘

چنانچہ تمام انبیاء علیہم السلام دجال کے شخص واحد ہونے کی شہادت دیتے آئے۔ مگر مرزا کو اس کی شخصیت سے انکار ہے اور دجال ایک گروہ کا نام رکھا ہے۔ نیز مرزاقادیانی نے ملائکہ علیہم السلام اور معجزہ کی حقیقت شرعیہ سے انکار کیا ہے اور فرشتوں کا نزول جسمانی بھی نہیں مانا۔ ان کی تفسیر کرنے میں اپنی رائے کو دخل دیا اور نزول وحی وغیرہ کی حقیقت میں رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی تحقیق کی مخالفت کی ہے۔

۹… ’’اَلَّذِیْنَ یُبَلِّغُوْنَ رِسَالَاتِ اللّٰہِ وَیَخْشَوْنَہٗ وَلَا یَخْشَوْنَ اَحَدًا اِلَّا اللّٰہَ (احزاب:۳۹)‘‘ مگر مرزاقادیانی حکومت سے ڈر کر بعض الہامات کے ظاہر نہ کرنے کا عدالت میں عہد کر آتے ہیں۔

586

۱۰… ’’اَلَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَہُمْ لَعِبًا وَلَہْوًا وَغَرَّتْہُمُ الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا (انعام:۷۰)‘‘ مرزاقادیانی دنیا داروں کی طرح دنیوی شہرت اور مال دولت کے جمع ہونے پر فخر کرتے ہوئے اس کو اپنی بڑی کامیابی سمجھتے ہیں۔ ملاحظہ ہو۔

جو کچھ میری مراد تھی سب کچھ دکھادیا

میں ایک غریب تھا مجھے بے انتہا دیا

(براہین ص۱۰ حصہ۵، خزائن ج۲۱ ص۱۹)

اس زمانہ میں ذرا سوچو کیا چیز تھا

جس زمانہ میں براہین کا دیا تھا اشتہار

(براہین حصہ۵ ص۱۱۲، خزائن ج۲۱ ص۱۴۲)

پھر ذرا سوچو کہ اب چرچا میرا کیسا ہوا

کس طرح سرعت سے شہرت ہوگئی ہر سو یار

(براہین حصہ۵ ص۱۱۲، خزائن ج۲۱ ص۱۴۲)

ادھر آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد ہے کہ: ’’اَلْاَنْبِیَآئُ اَشَدُّ بَلَآئً اَلْاَمْثَلُ فَالْاَمْثَلُ (کنز العمال ج۳ ص۳۲۷ حدیث ۶۷۸۳)‘‘

۱۱… ’’وَاَلشُّعَرَآئُ یَتَّبِعُہُمْ اَلْغَاوٗنَ (الشعراء :۲۲۴)‘‘

’’وَمَا عَلَّمْنَاہُ الشِّعْرَوَمَا یَنْبَغِی لَہٗ (یٰس:۶۹)‘‘ مگر مرزاقادیانی کی شعر سازی کا مرزائیوں میں بڑا چرچا ہے۔

مطالبہ:

کوئی نبی شاعر پیش کرو؟

۱۲… ’’یہ بالکل غیر معقول اور بیہودہ امر ہے کہ انسان کی اصل زبان تو کوئی ہو اور الہام اس کو کسی اور زبان میں ہو۔ جس کو وہ سمجھ بھی نہ سکتاہو۔‘‘

(چشمہ معرفت ج۲ ص۲۰۹، خزائن ج۲۳ ص۲۱۸)

مگر مرزاقادیانی خود اس کے قائل ہیں۔ ’’بعض الہامات مجھے ان زبانوں میں بھی ہوتے ہیں۔ جس سے مجھے کچھ واقفیت نہیں۔ جیسے انگریزی، سنسکرت یاعبرانی وغیرہ۔‘‘

(نزول مسیح ص۵۷، خزائن ج۱۸ ص۴۳۵)

۱۳… ’’وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ رُسُلاً اِلٰی قَوْمِہِمْ فَجَآؤُہُمْ بِالْبَیِّنَاتِ (الروم :۴۷)‘‘

’’فان مدعی النبوۃ لا بدلہ من نبوۃ (بیضاوی ج۲ ص۱۰۵)‘‘

’’تمامی انبیاء ورسل راصلوات ﷲ علیہم معجزات است وہیچ پیغمبرے بے معجزہ نیست‘‘

(مدارج ج۱ ص۱۹۹)

معجزہ کی حقیقت

’’وہی امر یظہر بخلاف العادۃ علیٰ ید مدعی النبوۃ عند تحدی المنکرین علیٰ وجہ یعجز المنکرین عن الاتیان بمثلہ‘‘ جو عادت کے خلاف مدعی ٔ نبوت کے ہاتھ پر منکرین کے مقابلہ میں ظاہر ہو اور منکرین اس کی مثال دینے سے عاجز ہوں۔‘‘ (شرح العقائد)

587

’’نجومیوں کی سی خبریں زلزلے آئیں گے۔ مری پڑے گی، قحط ہوگا، جنگ ہوگی۔ معجزہ نہیں۔‘‘

(براہین ص۲۴۵، خزائن ج۱ ص۲۷۱ حاشیہ)

مرزاقادیانی کی پیشین گوئیاں نجومیوںجیسی ہیں۔ یا حالات حاضرہ کو دیکھ کر تجربہ کاروں کی طرح پیش گوئیاں کی تھیں۔ جن میں سے اکثر غلط اور بے بنیاد نکلیں اورجہاں کہیں بطور تحدیٔ منکرین کے مقابلہ میں اپنی صداقت کی نشانی پیش کرنی چاہی وہیں منہ کی کھائی۔

۱۴… ’’وَمَنْ یَّقُلْ مِنْہُمْ اِنِّی اِلٰہٌ مِّنْ دُوْنِہٖ فَذَالِکَ نَجْزِیْہِ جَہَنَّمَ کَذَالِکَ نَجْزِیْ الظَّالِمِیْنَ (الانبیاء:۲۹)‘‘ کبھی کسی نبی نے ہوشیاری یا سکر کی حالت میں الوہیت کا دعویٰ نہیں کیا۔ مگر مرزاکہتا ہے کہ: ’’کشف میں دیکھا کہ میں خود خدا ہوں اور یقین کیا وہی ہوں۔‘‘

(کتاب البریہ ص۷۵، خزائن ج۱۳ ص۱۰۳)

’’رائیتنی فی المنام عین ﷲ وَتَیَقَّنْتُ اننی ہو‘‘ (آئینہ کمالات ص۵۶۴، خزائن ج۵ ص۵۶۴)

۱۵… ’’مَا اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ اِلَّا رِجَالاً نُّوْحِیْ اِلَیْہِمْ مِّنْ اَہْلِ الْقُرٰی (یوسف :۱۰۹)‘‘

’’الامصار لانہم اعلم واحلم بخالف اہل البوادی لجفائہم وجہلہم (جلالین:۱۹۹ ومثلہ فی ابی سعود ج۴ص۳۱۰)‘‘

قادیان گائوں ہے: ’’اوّل لڑکی اور بعد میں اس حمل سے میرا پیدا ہونا تمام گائوں کے بزرگ سال لوگوں کومعلوم ہے۔‘‘ (تریاق القلوب ص۱۶۰، خزائن ج۱۵ ص۴۸۵)

۱۶… ’’عن عبد ﷲ ابن عمرو رضی اللہ عنہ قال قال رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم اَرْبَعُ مَنْ کُنَّ فِیْہِ کَانَ مُنَا فِقًا خَالِصًا وَمَنْ کَانَتْ فِیْہٖ خَصْلَۃٌ مِّنْہُنَّ کَانَتْ فِیْہٖ خَصْلَۃٌ مِّنَ النِّفَاقِ حَتّٰی یَدَعَہَا اِذَا اُؤْتُمِنَ خَانَ وَاِذَا حَدَثَ کَذَبَ وَاِذَا عَاہَدَ غَدَرَ وَاِذَا خَاصَمَ فَجَرَ (بخاری ج۱ ص۱۰باب علامۃ المنافق)‘‘ مرزاقادیانی میں یہ سب خصلتیں موجود تھیں۔

۱۷… ’’اَنَا مَعْشَرُ الْاَنْبِیَآء لَا نُوْرِثْ (مسند احمد ج۲ ص۴۶۳)‘‘

۲… ’’اَلْاَنْبِیَآئُ لَا یُوْرِثُوْنَ (دارقطنی)‘‘

۳… ’’اِنَّ الْعُلَمَآء وَرَثَۃُ الْاَنْبِیَآئِ اِنَّ الْاَنْبِیَآء لَمْ یُوَرِّثُوْا دِیْنَارًا وَلْادِرْہَمًا اِنَّمَا وَرَّثُوا الْعِلْمَ فَمَنْ اَخَذَہٗ اَخَذَبِحَظٍّ وَافِرٍ (ابن ماجہ ص۲۰ باب فضل العلماء والحث علی طلب العلم)‘‘

۴… ’’نَحْنُ مَعْشَرُ الْاَنْبِیَآء لَا نَرِثُ وَلَا نُوْرَثُ (قسطلانی)‘‘

۱۸… ’’مَابَعَثَ اللّٰہُ نَبِیًّا اِلَّارَعٰی الْغَنَمَ فَقَالَ اَصْحَابُہٗ وَأَنْتَ؟ فَقَالَ نَعَمْ! کُنْتُ اَرْعَاھَا عَلَی قَرَارِیْطَ لِاَہْلِ مَکَّۃَ (بخاری ج۱ ص۳۰۱، باب رعی لغنم علیٰ قراریط)‘‘

مرزاقادیانی نے کبھی مزدوری پر بکریاں نہیں چرائیں۔

۱۹… ’’فی الحدیث مَا قَبَضَ اللّٰہُ نَبِیَّا اِلَّافِی الْمُوْضَعِ الَّذِیْ یُحِبُّ اَنْ یُّدْفَنَ فِیْہٖ (مشکوٰۃ ص۵۴۷، ترمذی ج۱ ص۱۹۸، ابواب الجنائز)‘‘

مرزاقادیانی لاہور میں مرا اور قادیان میں دفن ہوا۔

588

۲۰… ’’سَأَلْتُکَ ہَلْ کَانَ مِنْ آبَائِہٖ مِن مَّلِکٍ؟ فَذَکَّرْتُ اَنْ لَا فَقُلْتُ فَلَوْکَانَ مِنْ آبَائِہٖ مِنْ مَّلِکِ قُلْتُ رَجُلٌ یَّطْلُبُ مِلْکَ اَبِیْہٖ (بخاری باب کیف کان بدؤ الوحی الیٰ رسول ﷺ ص۴ ج۱)‘‘

۲۱… ’’لَمْ یَکُنْ نَبِیٌ اِلَّاعَاشَ نِصْفَ الَّذِیْ قَبْلَہٗ (طبرانی ج۲۲ ص۴۱۸ حدیث ۳۰۳۰)‘‘

اس حدیث کو مرزائی وفات مسیح کے ثبوت میں پیش کیا کرتے ہیں۔ اس لئے مرزاقادیانی کی عمر آنحضرت ﷺ سے آدھی ہونی چاہئے تھی۔ مگر آپ اور دو سال بعد یعنی ۶۵برس کے ہو کر مرے ہیں۔

صداقت کی نشانی … مرزاقادیانی کی زبانی

خیال زاغ کو بلبل سے برتری کا ہے

غلام زادے کو دعویٰ پیمبری کا ہے

۱… مسیح موعود کے وقت میں اسلام ساری دنیا میں پھیل جائے گا۔

’’ھُوَ الَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْہُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہٗ عَلٰی الدِّیْنِ کُلِّہٖ! یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح کے حق میں پیش گوئی ہے اور جس غلبۂ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیاگیا ہے۔ وہ غلبہ مسیح کے ذریعہ سے ظہور میں آئے گا اور جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیںگے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق واقطار میں پھیل جائے گا۔‘‘

(حاشیۃ الحاشیہ براہین ص۴۹۹، خزائن ج۱ ص۵۵۳)

’’ہوالذی ارسل رسولہ …… یعنی خدا وہ خدا ہے۔ جس نے اپنے رسول کو ایک کامل ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا، تاکہ اس کو ہر ایک قسم کے دین پر غالب کر دے۔ یعنی ایک عالمگیر غلبہ اس کو عطاء کرے، اور چونکہ وہ عالمگیر غلبہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں ظہور میں نہیں آیا اور ممکن نہیں کہ خدا کی پیش گوئی میں کچھ تخلف ہو۔ اس لئے اس آیت کی نسبت ان سب متقدمین کا اتفاق ہے کہ جو ہم سے پہلے گذر چکے ہیں کہ یہ عالمگیر غلبہ مسیح موعود کے وقت میں ظہور میں آئے گا۔‘‘

(چشمہ معرفت ص۸۳، خزائن ج۲۳ ص۹۱)

مگر مرزاقادیانی کے زمانہ میں ایسا نہیں ہوا۔ اس لئے مسیحیت کا دعویٰ محض افتراء ہے۔

۲… مسیح موعود کے زمانہ میں مکہ اور مدینہ کے درمیان ریل جاری ہوگی۔

’’اور پیش گوئی آیت کریمہ’’واذا العشا رعطلت‘‘ پوری ہوئی اور پیش گوئی حدیث ’’لیترکن القلاص ولا یسعی علیہما‘‘ نے اپنی پوری چمک دکھلائی۔ یہاں تک کہ عرب وعجم کے ایڈیٹران اخبار، اور جرائد والے اپنے پرچوں میں بول اٹھے، کہ مدینہ اور مکہ کے درمیان جو ریل تیار ہو رہی ہے۔ یہی اس پیشگوئی کا ظہور ہے۔ جو قرآن اور حدیث میں ان لفظوں سے کی گئی تھی۔ جو مسیح موعود کے وقت کا یہ نشان ہے۔‘‘

(اعجاز احمدی ص۲، خزائن ج۱۹ ص۱۰۸)

۳… مسیح موعود حج کرے گا۔ ’’آنحضرت ﷺ نے آنے والے مسیح کو ایک امتی ٹھہرایا اور خانہ کعبہ کا طواف کرتے اس کو دیکھا۔‘‘ (ازالہ ص۴۰۹، خزائن ج۳ ص۳۱۲)

589

۴… ’’دجال حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ پر اسلام قبول کر کے ان کے ساتھ بیت ﷲ کا طواف کرے گا۔‘‘

’’فی الحقیقت مارا وقتے حج راست وزیبا آید کہ دجال از کفر ودجل دست باز داشتہ ایماناً واخلاصاً وگرد کعبہ بگردد چنانچہ از قرار حدیث مسلم عیاں می شود کہ جناب نبوت انتساب(صلوٰۃ ﷲ علیہ وسلامہ) روید نددجال ومسیح موعود فی آن واحد طواف کعبہ میکند‘‘

(ایام الصلح(اردو) ص۱۶۹، خزائن ج۱۴ ص۴۱۶،۴۱۷)

۵… ’’مسیح موعود بعد ظہور نکاح کریںگے اور اس سے اولاد پیدا ہوگی۔ اس پیش گوئی کی تصدیق کے لئے جناب رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی پہلے ایک پیش گوئی فرمائی ہے کہ ’’یتزوج ویولدلہ‘‘ یعنی وہ مسیح موعود بیوی کرے گا اور نیز وہ صاحب اولاد ہوگا۔ اب ظاہر ہے کہ تزوّج اور اولاد کا ذکر کرنا عام طور پر مقصود نہیں۔ کیونکہ عام طور پر ہر ایک شادی کرتا ہے اور اولاد بھی ہوتی ہے۔ اس میں کچھ خوبی نہیں۔ بلکہ تزوّج سے مراد وہ خاص تزوّج ہے۔ جو بطور نشان ہوگا۔ ‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ص۵۳، خزائن ج۱۱ ص۳۳۷)

مرزاقادیانی کا نکاح بطور نشان ’’محمدی بیگم‘‘ سے ہونے والا تھا۔ مگر افسوس قسمت نے یاوری اور عمر نے وفانہ کی اور دل کی حسرت دل ہی میں رہ گئی ؎

اگر وہ جیتا رہتا یہی انتظار ہوتا

۶… ’’مسیح موعود دعوے کے بعد چالیس سال زندہ رہے گا۔ حدیث سے صرف اس قدر معلوم ہوتا ہے کہ مسیح موعود اپنے دعوے کے بعد چالیس برس دنیا میں رہے گا۔ ‘‘

(تحفہ گولڑویہ ص۱۲۷، خزائن ج۱۷ ص۳۱۱)

مگر مرزاقادیانی ۱۸۳۹ء یا ۱۸۴۰ء میں پیدا ہوا: ’’میری پیدائش سکھوں کے آخری وقت میںہوئی ہے۔ ‘‘

(کتاب البریہ ص۱۵۹، خزائن ج۱۳ ص۱۷۷)

مرزاغلام احمد قادیانی کی پیدائش ۱۸۳۹ء یا ۱۸۴۰ء میں ہوئی ہے۔ (نور الدین ص۱۷۰)

’’۱۸۳۹ء مطابق ۱۲۵۵ھ دنیا کی تواریخ میں بہت بڑا مبارک سال تھا۔ جس میں خداتعالیٰ نے مرزاغلام مرتضی کے گھر قادیان میں موعود مہدی پیدا فرمایا۔ جس کے لئے اتنی تیاریاں زمین وآسمان پر ہورہی تھیں۔ ‘‘

(مسیح موعود کے مختصر حالات از عمر دین قادیانی ملحقہ براہین حصہ اوّل ص۶۰ طبع اوّل)

مرزاقادیانی نے دعویٰ مجددیت یا مسیحیت (براہین احمدیہ حصہ۴ ص۲۷۱) پر کیا۔ جس کی طباعت کی تاریخ یا غفور سے ۱۲۹۷ھ نکلتی ہے۔ گویا عمر کے بیالیسویں سال اور صدی سے تین سال پہلے دعویٰ کیاگیا یاپوری صدی پر دعویٰ کیا۔ جیسا کہ ازالہ اوہام کی اس عبارت اور مجدد کی حدیث ’’علے راس کل مائۃٍ‘‘ سے ظاہر ہے۔

’’یہی وہ مسیح ہے کہ جو تیرہویں صدی کے پورے ہونے پر ظاہر ہونے والا تھا۔ پہلے سے یہی تاریخ ہم نے نام میںمقرر کررکھی تھی اور وہ یہ نام ہے غلام احمد قادیانی۔‘‘

(ازالہ ص۱۸۶، خزائن ج۳ ص۱۸۹، ۱۹۰)

مگر اس صورت میں بعثت کی مدت مقرر چالیس سال سے پانچ سال زیادہ ہو جائیں گے۔

یا دعوی ۱۲۹۰ھ میں ہوا جیسا کہ تحفہ گولڑویہ میں مرزاقادیانی لکھتے ہیں کہ: ’’دانی ایل نبی‘‘ بتلاتا ہے کہ اس نبی آخر الزمان کے ظہور سے (جو محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہے) جب بارہ سو نوے برس گذریں گے تو وہ مسیح موعود ظاہر ہوگا۔

(حاشیہ تحفہ گولڑویہ ص۲۰۶، خزائن ج۱۷ ص۲۹۲)

590

اس صورت میں مرزا قادیانی کی عمر دعوے کے وقت ۳۵برس کی ہوگی۔ جو زمانۂ بعثت سے پانچ سال کم ہے۔ حدیث مجددیت کے بھی مخالف ہے۔

بالاتفاق ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء بمطابق ربیع الثانی۱۳۲۶ھ میں آپ کا انتقال ہوا۔ اس حساب سے دعوے کے بعد ۲۹ یا ۲۶ یا ۳۶ برس آپ زندہ رہے اور ۴۰برس جو مسیح موعود کے رہنے کی مدت تھی۔ اس سے پہلے ہی چل بسے اور مسیح کی نشانی آپ پر صادق نہ آئی۔

۷… ’’اگر قرآن نے میرا نام ابن مریم نہیں رکھا تو میں جھوٹا ہوں۔‘‘

(تحفۃ الندوہ ص۵،خزائن ج۱۹ ص۹۸)

ابھی ’’ازالہ اوہام‘‘ کے حوالے سے گذرا ہے کہ آپ نے اپنا نام ’’غلام احمد قادیانی‘‘ بتایا ہے۔ جس میںبحساب جمل ۱۳۰۰ عدد ہونے کی وجہ سے ۱۳۰۰ھ پر مبعوث ہونے کی طرف اشارہ کیا ہے۔ کیا قرآن میں غلام احمد قادیانی بن مریم لکھا ہوا ہے؟۔ اگر نہیں ہے تو مرزاقادیانی اپنے بیان کے موافق یقینا جھوٹا ہے۔

تردید صداقت مرزاقادیانی

لو تقول

تحریف نمبر: ۱… ’’لَوْتَقَوَّلَ عَلَیْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِیْلِ لَاَخَذْنَا مِنْہٗ بِالْیَمِیْنِ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْہُ الْوَتِیْن (الحاقہ:۴۴،۴۶)‘‘ {اور اگر وہ (محمد ﷺ) ہم پر بعض افتراء باندھتے تو ہم ان کو داہنے ہاتھ سے پکڑ لیتے اور اس کی شہ رگ کاٹ ڈالتے۔}

مرزاقادیانی لکھتا ہے کہ: ’’اگر اس مدت تک اس مسیح کا ہلاکت سے امن میں رہنا اس کے صادق ہونے پر دلیل نہیں تو اس سے لازم آتا ہے کہ نعوذ بِاللہ آنحضرت ﷺ کا ۲۳برس تک موت سے بچنا آپ کے سچا ہونے پر بھی دلیل نہیں… یہ قرآنی استدلال بدیہی الظہور جب ہی ٹھہر سکتا ہے۔ جبکہ یہ قاعدہ کلی مانا جائے کہ خدا مفتری کو… کبھی مہلت نہیں دیتا… آج تک علماء امت سے کسی نے یہ اعتقاد ظاہر نہیں کیا کہ کوئی مفتری علیٰ ﷲ تیئس برس تک زندہ رہ سکتا ہے… میرے دعوے کی مدت تیئس برس ہو چکی ہے۔‘‘ (ضمیمہ تحفہ گولڑویہ موسومہ اشتہار پانچ سو روپیہ ص۴، خزائن ج۱۷ ص۴۲،۴۳)

اسی کتاب کے (ص۲) پر لکھا ہے کہ: ’’شرح عقائد نسفی میں بھی عقیدے کے رنگ میں اس دلیل کو لکھا ہے۔‘‘

(تحفہ گولڑویہ ص۲، خزائن ج۱۷ ص۳۹)

اور توریت میں بھی یہی درج ہے کہ جھوٹا نبی قتل کیا جاتا ہے۔

جواب نمبر:۱…

یہ آیت رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں اس بات کو ظاہر کرنے کے لئے نازل ہوئی، کہ اگر وہ ﷲ سبحانہ کی طرف بعض باتوں کی جھوٹی نسبت کر دیتے تو ان کو فوراً ہلاک کر دیا جاتا، اور ایک زمانہ دراز تک کبھی مہلت نہ دی جاتی، اور سورۂ بنی اسرائیل میں اسی فیصلہ کو وضاحت کے ساتھ اس طرح بیان کیا ہے۔ کہ: ’’وَاِنْ کَادُوْاَلْیَفْتِنُوْنَکَ عَنِ الَّذِیْ اَوْحَیْنَا اِلَیْکَ لِتَفْتَرِیَ عَلَیْنَا غَیْرَہٗ وَاِذً الَّا تَّخَذُوْکَ خَلِیْلًا۰ وَلَوْلَا اَنْ ثَبَتْنَاکَ لَقَدْ کِدْتَّ تَرْکَنُ اِلَیْہِمْ شَیْئًا قَلِیْلاً۰ اِذًا لَّاذَقْنٰکَ ضِعْفَ الْحَیٰوۃِ وَضِعْفَ الْمَمَاۃِ ثُمَّ لَا تَجِدُ عَلَیْنَا نَصِیْرًا (بنی اسرائیل:۷۳،۷۴،۷۵)‘‘ یعنی قریب تھا کہ کفار تجھے وحی الٰہی سے ہٹا کر افتراء پردازی پر مائل کر دیں۔ اس صورت میں وہ تجھے اپنا دوست بنا لیتے۔ اگر ہم آپ کو ثابت قدم نہ رکھتے تو آپ کچھ نہ کچھ ان کی طرف مائل ہو جاتے ۔ مگر اس وقت ہم

591

آپ کو دنیا اور آخرت میں دوگنا عذاب دیتے۔ جس پر تجھے کوئی مدد گار نہ ملتا۔‘‘

معلوم ہوا یہ ایک خاص واقعہ ہے۔ اس میں کوئی لفظ کلیت یا عموم پر دلالت کرنے والا موجود نہیں ہے۔ جس کی وجہ سے اس کو عام ضابطہ یا قاعدہ کلیہ قرار دیا جائے۔ شرح عقائد نسفی میں علامہ تفتازانی رحمۃ اللہ علیہ کا بھی یہی مطلب ہے۔ کیونکہ وہ جامع کمالات فاضلہ اور اخلاق عظیمہ سے رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت پر استدلال کر رہے ہیں۔ ہر مدعی ٔ نبوت کی نبوت کو اس سے ثابت نہیں کرتے۔ جیساکہ اس عبارت سے ظاہر ہے۔ ’’قد یستدل ارباب البصائر علیٰ نبوۃ بوجہین احد ہما بالتواتر من احوالہ قبل النبوۃ وحال الدعوۃ وبعد تما مہا واخلاقہ العظَمۃ واحکامہ الحکمیۃ واقدامہ حیث تحجم الابطال ووثوقہ بعصمۃ ﷲ تعالیٰ فی جمیع الاحوال وثباتہ علیٰ حالہ لدی الاہو بحیث لم تجد اعداؤہ مع شدۃ عداوتہم وحرصہم علے الطعن فیہ مطعنا ولا الی القدح فیہ سبیلا فان العقل یجزم بامتناع اجتماع ہذا الامور فی غیر الانبیاء وان یجمع ﷲتعالیٰ ہذہ الکمالات فی حق من یعلم انہ یفتری علیہ ثم یمہلہ ثلثا وعشرین سنۃ (شرح عقائد نسفی مجتبائی ص۱۳۶،۱۳۷، مبحث النبوات)‘‘

اس میں جملہ ضمیریں رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف راجع کی گئیں ہیں اور انبیاء علیہم السلام میںسے وہی جامع کمالات اور اخلاق عظیمہ کے ساتھ متصف ہیں۔ جیسا کہ: ’’بعثت لاتمم حسن الاخلاق (الحدیث مؤطا ص۷۰۵ باب فی حسن الخلق)‘‘ وآیت ’’انک لعلیٰ خلق عظیم (القلم:۴)‘‘ سے ظاہر ہے۔ اس لئے شرح عقائد کی عبارت کو معیار نبوت میں کلیتاً پیش کرنا ہر گز صحیح نہیں اور اگر آیت کی دلالت بالفرض کلیت پر تسلیم کر لی جائے تو رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات کو سامنے رکھ کر کلیت اخذ کرنی پڑے گی۔ جیسا کہ خود مرزاقادیانی نے ۲۳سالہ مہلت اور نبی کاذب کی قید آنحضرت ﷺ کے حالات ہی سے اربعین وغیرہ میں لگائی ہے۔ ورنہ آیت میںوحی نبوت اور۲۳سال مدت کی کوئی قید مذکور نہیں ہے۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں کہ: ’’خداتعالیٰ کی تمام پاک کتابیں اس بات پر متفق ہیں کہ جھوٹا نبی ہلاک کیا جاتا ہے۔ اب اس کے مقابل میں یہ پیش کرنا کہ ’’اکبر بادشاہ‘‘ نے نبوت کا دعویٰ کیا یا ’’روشن دین جالندھری‘‘ نے دعویٰ کیا۔ اور وہ ہلاک نہیں ہوئے۔ یہ ایک دوسری حماقت ہے۔ جو ظاہر کی جاتی ہے … پہلے ان لوگوں کی خاص تحریر سے ان کا دعویٰ ثابت کرنا چاہئے… کہ میں خدا کا رسول ہوں… کیونکہ ہماری تمام بحث وحی نبوت میں ہے۔‘‘

(ضمیمہ اربعین نمبر۴ ص۱۱، خزائن ج۱۷ ص۴۷۷)

۲… ’’ہر گز ممکن نہیں کہ کوئی شخص جھوٹا ہو کر اور خدا پر افتراء کر کے…تیئس برس تک مہلت پا سکے۔ ضرور ہلاک ہوگا۔‘‘ (اربعین نمبر۴ ص۵، خزائن ج۱۷ ص۴۳۴)

۳… ’’یہی قانون خدا تعالیٰ کی قدیم سنت میں داخل ہے کہ وہ نبوت کا جھوٹا دعوی کرنے والے کو مہلت نہیں دیتا۔‘‘

(تحفہ قیصریہ ص۶، خزائن ج۱۲ ص۲۵۸)

جس طرح نبوت اور تیئس سالہ مدت کی قید رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات سے لگائی گئی ہے۔ اسی طرح سچے اور صادق ہونے کی قید کا اضافہ کرنا بھی ضروری ہوگا، اور اس وقت آیت کا مفادیہ ہوگا کہ جو سچا نبی کسی غیر نازل شدہ حکم کی جھوٹی نسبت ﷲ سبحانہ کی طرف کرے گا وہ ہلاک کیا جائے گا، اور آیت میں بعض الاقاویل کی قید کا فائدہ بھی اسی صورت میں ظاہر ہوسکتا ہے۔ جب کہ نبی سے سچا نبی مراد لیا جائے ورنہ جھوٹے مدعی نبوت کی ہر وہ بات جس کو وحی الٰہی کہتا ہے۔

592

جھوٹی ہے اور یہی مطلب توریت کی آیت کا ہے۔

معاملات دنیوی میں بھی اس بہروپیہ سے جو حاکم کے بہروپ میں کوئی حکم نافذ کرے مواخذہ نہیں ہوتا۔ مگر ایک سرکاری عہدہ دار حکومت سے حکم واحکام حاصل کرنے کے بغیر اگر کوئی حکم نافذ کرے گا تو حکومت اس سے باز پرس کرے گی۔شرح عقائد میں ۲۳سال مہلت اگر معیاربن سکتی ہے تو فی الجملہ اسی طرح بن سکتی ہے کہ اس کے ساتھ دیانت اور اتقاء راست گفتاری، استقامۃ توکل علیٰ ﷲ وغیرہ کو مدعی نبوت میں ثابت کیا جائے۔ جیسا کہ شرح عقائد میں کہا گیا ہے اور یہ شرط مرزاقادیانی میں کلیتاً مفقود ہے۔ شرح عقائد کی ایک بات کو ماننا اور جو اپنے خلاف ہو۔ اس کا نام نہ لینا کہاں کا انصاف ہے اور جو مدعیان کاذب ہیں۔ ان کی سزا دنیا میں کوئی نہیں بیان کی گئی۔ چنانچہ قرآن مجید میں ہے کہ: ’’وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ اِفْتَرٰی عَلٰی اللّٰہِ کَذِبًا اَوْقَالَ اُوْحِیَ اِلَیَّ وَلَمْ یُوْحَ اِلَیْہٖ شَیْیٌٔ وَمَنْ قَالَ سَأُنْزِلُ مِثْلَ مَااَنْزَلَ اللّٰہُ وَلَوْتَرٰی اذ الظالمون فی غمرات الموت والملائکۃ باسطوا ایدیہم اخرجوا انفسکم الیوم تجزون عذاب الہون بماکنتم تقولون علی ﷲ غیر الحق (انعام :۹۳)‘‘

اس میں مقررہ وقت پر موت آنے کے علاوہ نبوت کے جھوٹے دعویدار کی کوئی سزا دنیوی بیان نہیں کی۔ بلکہ سورۂ اعراف میں ہے کہ ایسے مفتری کی عمر مقررہ مدت تک پوری کر دی جائے گی۔ ’’فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا اَوْکَذَّبَ بِاٰیٰتِہٖ اُوْلٰئِکَ یَنَا لَہُمْ نَصِیْبَہُمْ مِنَ الْکِتَابِ (اعراف:۳۷)‘‘ جلالین میں ’’من الکتاب‘‘ کی یہ تفسیر کی ہے کہ:’’مما کتب لہم فی اللوح المحفوظ من الرزق والاجل وغیر ذالک (جلالین ص۱۳۲)‘‘

جواب نمبر:۲…

لہٰذا یہ کہنا کہ نبوت کے جھوٹے مدعی کو ہلاک کرنا خدا کی سنت ہے۔ بالکل غلط اور سرتاپا جھوٹ ہے اور اگر مان لیں کہ جھوٹے مدعی نبوت کو ۲۳برس تک مہلت نہیں ملتی تو پھر بھی مرزاقادیانی کاذب کے کاذب ہی رہتے ہیں۔ کیونکہ مرزاقادیانی نے نبوت کا دعویٰ ۱۹۰۲ء میں کیا تھا۔ جیسا کہ مرزامحمود جانشین مرزا نے (القول الفصل ص۲۴) پر لکھا ہے کہ: ’’تریاق القلوب کی اشاعت تک جو اگست۱۸۹۹ء سے شروع ہوئی اور۲۵؍اکتوبر۱۹۰۲ء میں ختم ہوئی۔ آپ (مرزاقادیانی) کا یہی عقیدہ تھا کہ… آپ کو جو نبی کہا جاتا ہے یہ ایک قسم کی جزوی نبوت ہے۔ ۱۹۰۲ء کے بعد میں آپ کو خدا کی طرف سے معلوم ہوا کہ آپ نبی ہیں اور ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء بروز منگل قریبا ساڑھے دس بجے مرزاقادیانی مرض ہیضہ سے لاہور میں ہلاک ہوئے۔ اس دعویٰ نبوت کی کل مدت چھ برس ہوئی۔ مگر اربعین نمبر۴ ص۶ کی رو سے سچے نبی کی مدت تئیس برس ہونی چاہئے! جو مرزاقادیانی میں نہیں پائی جاتی۔ اس لئے آپ جھوٹے کے جھوٹے ہی رہے۔ جب کہ یہ آیت مرزاقادیانی کے خیال میں نبوت کا معیار ہے تو لاہوری پارٹی کا اس آیت سے مرزاقادیانی کی صداقت پر استدلال کرنا ان کے دعویٔ نبوت کو تسلیم کرنا ہے۔ جس کو وہ اپنے خیال میں افتراء سمجھے ہوئے ہیں۔ چنانچہ ’’محمد علی‘‘ امیر جماعت لاہور لکھتا ہے کہ:’’جو شخص اس امت میں سے دعویٔ نبوت کرے۔ کذاب ہے۔‘‘ (النبوۃ الاسلام ص۸۹،باب سوم ختم نبوت)

بلکہ جس کا دعویٔ نبوت نہ ہو اس کی صداقت پر اس آیت کو پیش کرنے والا بقول مرزاقادیانی بے ایمان ہے۔ ’’بے ایمانوں کی طرح قرآن شریف پر حملہ کرنا ہے اور آیت ’’لوتقول‘‘ کو ہنسی ٹھٹھے میں اڑانا۔‘‘

(ضمیمہ اربعین ص۱۲، خزائن ج۱۷ ص۴۷۷)

س… اور یہ کہنا کہ مفتری کے لئے قتل ہونا ضروری ہے اور مرزاقادیانی قتل نہیں ہوا۔ اس لئے وہی سچا تھا۔ کئی وجہ سے غلط ہے۔

593

۱… قرآن شریف میں قتل کی کوئی قید نہیں۔

۲… خود مرزاقادیانی نے مفتری کی سزا موت بتائی ہے۔ قتل نہیں کہا۔‘‘

’’اگر وہ ہم پر افتراء کرتا تو اس کی سزا موت تھی۔‘‘

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص۳، خزائن ج۱۷ ص۳۸)

’’اس سے لازم آتا ہے کہ نعوذ بِاللہ آنحضرت ﷺ کا تیئس برس تک موت سے بچنا آپ کے سچا ہونے پر بھی دلیل نہیں۔‘‘ (ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص۴، خزائن ج۱۷ ص۴۲)

۳… مرزاقادیانی نے (ضمیمہ اربعین میں استثناء باب۱۸ آیت ۸تا۲۰) سے استدلال کیا ہے کہ جھوٹا نبی میت (یعنی مر جائے گا) اور اس بات کے ثبوت میں کہ میت کے معنے عبرانی زبان میں مرنے کے ہیں۔ مرزاقادیانی نے یہ عبارت لکھی ہے کہ: ’’جب میں صبح کو اٹھی کہ بچے کو دودھ دوں تو وہیں میت دیکھو وہ مرا پڑا تھا۔‘‘ (ضمیمہ اربعین ص۹، خزائن ج۱۷ ص۴۷۵)

آگے لکھتے ہیں کہ: ’’میت جس کا ترجمہ پادریوں نے قتل کیا ہے بالکل غلط ہے۔ عبرانی لفظ میت کے معنے ہیں۔ مر گیا یا مرا ہوا ہے۔‘‘

معلوم ہوا کہ مدعی کاذب کا قتل ہونا ضروری نہیں بلکہ مرزاقادیانی کے خیال میں تیئس برس سے پہلے مر جانا بھی اس کے کذب کی دلیل ہے۔ اس لئے مرزاقادیانی بموجب اپنے فیصلہ کے کاذب ٹھہرا۔‘‘ ’’قَتْلِہِمُ الْاَنْبِیَآء بِغَیْرِ حَقٍّ (النساء:۱۵۵)‘‘ اگر جھوٹے مدعی کو قتل کیا جاتاتو ان کی کبھی مذمت نہ کی جاتی اور نہ ایسے قتل کو قتل ناحق کہنا صحیح ہوتا۔ چنانچہ خود مرزاقادیانی نے لکھا ہے کہ: ’’اے بنی اسرائیل کیا تمہاری یہ عادت ہوگئی کہ ہر ایک رسول جو تمہارے پاس آیا تو تم نے بعض کی ان میںسے تکذیب کی اور بعض کو قتل کر ڈالا۔‘‘

(آئینہ کمالات اسلام ص۳۴، خزائن ج۵ ص۳۴)

جواب نمبر:۳…

ایسی نشانی جس کا ظہور آغاز نبوت سے ۲۳برس بعد ہو صدق وکذب کا معیار نہیں بن سکتی۔ ورنہ تیئس سال تک نبوت کا ثبوت ہی موقوف رہے گا اور ایک نبی اس سے پہلے کبھی نبی نہیں بن سکے گا اور نہ اس عرصہ میں مرنے والے کافر یا مسلمان کہلانے کے مستحق ہوں گے۔ اس سے مرزاقادیانی کی یہ شرط بالکل غلط ہے کہ: ’’وہاں اس بات کا واقعی طور پر ثبوت ضروری ہے کہ اس شخص نے …تیئس برس کی مدت حاصل کرلی۔‘‘

(اربعین نمبر۳ ص۲۲، خزائن ج۱۷ ص۴۰۹)

جواب نمبر:۴…

اور اگر یہ سزا مطلق الہام کے جھوٹے مدعی کے لئے ہے اور دعوے نبوت اس میں کوئی شرط نہیں تو چاہئے تھا کہ دنیا میں جھوٹے مدعیان الہام کو ۲۳سال کی مہلت کبھی نہ ملتی۔ باوجود یہ کہ دنیا کی تاریخ اس امر کی شاہد ہے کہ پہلے مدعیان الہام کو مرزاقادیانی سے زیادہ کامیابی نصیب ہوئی اور ان کو مہلت کا زمانہ مرزاقادیانی کے زمانۂ مہلت سے زیادہ ملا۔ چنانچہ :

۱… حسن بن صباح نے ۴۸۳ھ میں الہام کا دعویٰ کیا ۵۱۸ھ میں دعوے کے ۲۵سال بعد مرا اور ایک کثیر جماعت متبعین کی چھوڑی۔

۲… مسیلمۂ کذاب نے رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں نبوت کا دعویٰ کیا اور تھوڑے عرصہ میں بہت سے لوگ اس کے گرد جمع ہوگئے۔

594

جب حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت کے زمانہ میں اس کو قتل کرنے کے لئے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی سرکردگی میں مسلمانوں کا لشکر بھیجا۔ تو مسیلمۂ کذاب ان کا مقابلہ کرنے کے لئے ایک لاکھ کی جمعیت لے کر میدان میں نکلا اور شکست کھا کر مارا گیا۔

۳… عبدالمومن افریقی نے ۲۷۷ھ میں مہدیت کا دعویٰ کیا اور ۲۳برس بعد ۳۰۰ھ میں مرا۔

۴… عبد ﷲ بن تومرت مہدی بن کر ۲۵برس تک تبلیغ کرتا رہا اور جب کافی جمعیت اکٹھی کر لی تو سلطنت حاصل کر کے ۲۰سال حکومت کی اور مرگیا۔

۵… سید محمد جونپوری نے سکندر لودھی کے زمانہ ۹۰۱ھ میں مکہ معظمہ پہنچ کر بیت ﷲ میں مہدی ہونے کا دعویٰ کیا اور ۹۰۱ھ تک اپنے وطن میں واپس آکر مذہب کی تبلیغ کرنی شروع کی۔ جس سے راجپوتانہ گجرات کا ٹھیا واڑ سندھ میں بہت سے لوگوں نے اس کی بیعت اختیار کرلی۔ اس قسم کی اور بہت سی مثالیں تاریخی کتابوں میں موجود ہیں اور مطلق مفتری علی ﷲ کی بھی یہ سزا نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ یہود ونصارٰی جو آئے دن توریت وانجیل میں تحریفیں کر کے محرف حصہ کو ﷲ کی آیتیں کہتے رہے ہیں۔ آج تک ہلاک نہیں ہوئے اور نہ قرآن عزیز میں ان کی کوئی دنیاوی سزا بیان فرمائی گئی ہے۔ ﷲتعالیٰ فرماتا ہے کہ: ’’وَیَقُوْلُوْنَ ہُوَمِنْ عِنْدِ اللّٰہِ وَمَا ہُوَ مِنْ عِنْدَاللّٰہِ وَیَقُوْلُوْنَ عَلَی اللّٰہِ الْکَذِبَ وَہُمْ یَعْلَمُوْنَ (آل عمران:۷۸)‘‘ عام کافروں کی نسبت ارشاد ہے۔ ’’یَفْتَرُوْنَ عَلَی اللّٰہِ الْکَذِبَ (مائدہ:۱۰۳)‘‘ مگر پھر بھی ان کو کوئی دنیاوی سزا نہیں ملتی بلکہ ایسے لوگوں کو مہلت دی جاتی ہے۔ سچ ہے کذابوں، دجالوں کی رسی دراز ہے مولانا فرماتے ہیں کہ:

تو مشو مغرور برحلم خدا

دیرگیرد سخت گیرد مرترا

جواب نمبر:۵…

پھر مرزاقادیانی نے ۲۳برس کی مدت ابتداء ’’تجویز نہیں کی بلکہ جتنا زمانہ ان کے دعوے کو گذرتا گیا اتنی ہی مدت بڑھاتے رہے۔ پہلے یہ خیال تھا کہ مفتری علیٰ ﷲ کو فوراً اور دست بدست سزا دی جاتی ہے۔ چنانچہ لکھتے ہیں کہ: ’’قرآن شریف کی نصوص قطعیہ سے ثابت ہوتا ہے کہ ایسا مفتری اس دنیا میں دست بدست سزا پا لیتا ہے۔‘‘

(انجام آتھم ص۴۹، خزائن ج۱۱ ص۴۹)

’’وہ پاک ذات جس کے غضب کی آگ وہ صاعقہ ہے کہ ہمیشہ جھوٹے ملہموں کو بہت جلد کھاتی رہی ہے… بے شک مفتری خدا کی لعنت کے نیچے ہے… اور جلد مارا جاتا ہے۔‘‘

(انجام آتھم ص۵۰، خزائن ج۱۱ ص۵۰)

’’تورات اور قرآن شریف دونوں گواہی دے رہے ہیں کہ خدا پر افتراء کرنے والا جلد تباہ ہوتا ہے۔‘‘

(انجام آتھم ص۶۳، خزائن ج۱۱ ص۶۳)

پھر (نشان آسمانی مطبوعہ جون ۱۸۹۲ء) میں لکھتے ہیں کہ: ’’دیکھو خداتعالیٰ قرآن کریم میں صاف فرماتا ہے کہ جو میرے پر افتراء کرے اس سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں اور میں جلد مفتری کو پکڑتاہوں اور اس کو مہلت نہیں دیتا۔ (قرآن میں ایسا کہیں نہیں آیا) لیکن اس عاجز کے دعوے مجدد اور مثیل مسیح ہونے پر اب بفضلہ تعالیٰ گیارہواں برس جاتا ہے کیا یہ نشان نہیں۔‘‘

(نشان آسمانی ص۳۷، خزائن ج۴ ص۳۹۷)

595

پھر اس کے آٹھ ماہ بعد (آئینہ کمالات مطبوعہ فروری ۱۸۹۳ء) میں لکھا ہے کہ: ’’یقینا سمجھو کہ اگر یہ کام انسان کا ہوتا تو… اپنی اس عمر تک ہر گز نہ پہنچتا جو بارہ برس کی مدت اور بلوغ کی عمر ہے۔‘‘ (آئینہ کمالات ص۵۴، خزائن ج۵ ص۵۴)

پھر انوار الاسلام مطبوعہ ۵؍دسمبر۱۸۹۴ء میں ایک سال نو ماہ بعد تحریر فرماتے ہیں کہ: ’’یا کبھی خدا نے کسی جھوٹے کو ایسی لمبی مہلت دی ہے؟ کہ وہ بارہ برس سے برابر الہام اور مکالمہ الٰہیہ کا دعویٰ کر کے دن رات خداتعالیٰ پر افتراء کرتا ہو اور خداتعالیٰ اس کو نہ پکڑے۔ بھلا اگر کوئی نظیر ہے تو بیان کریں۔‘‘ (اس کی نظیریں گذر چکیں ہیں)

(انوار الاسلام ص۵۰، خزائن ج۹ ص۵۱)

اس کے ۵ ماہ بعد ضیاء الحق مطبوعہ بارہ مئی ۱۸۹۵ء کے حاشیہ پر لکھا ہے کہ: ’’خداتعالیٰ نے آج سے سولہ برس پہلے الہام مندرجہ براہین احمدیہ میں اس عاجز کا نام عیسیٰ رکھا… اور خدا نے بھی اس قدر لمبی مہلت دے دی۔ جس کی دنیا میں نظیر نہیں۔‘‘ (ضیاء الحق ص۶۰، خزائن ج۹ ص۳۰۸)

نوٹ! براہین احمدیہ ۱۸۸۰ء، ۱۸۸۲ء کی تالیف ہے۔

(دیکھو نزول المسیح ص۱۱۹، خزائن ج۱۸ ص۴۹۷ حاشیہ)

اور ۱۳۰۸ھ مطابق ۱۸۹۱ء میں مرزاقادیانی نے (فتح الاسلام ص۱۷، خزائن ج۳ ص۱۱) اور (ازالہ اوہام ص۲۶۱، خزائن ج۳ ص۲۳۱) میں مسیحیت کا دعویٰ کیا۔

پھر قریباً ڈیڑھ سال بعد ’’انجام آتھم‘‘ مطبوعہ ۱۸۹۷ء میں رقم طراز ہیں کہ: ’’میرے دعویٰ الہام پر قریباً بیس برس گذر گئے۔‘‘ (انجام آتھم ص۴۹، خزائن ج۱۱ ص۴۹)

’’کیا یہی خداتعالیٰ کی عادت ہے کہ ایسے کذاب اور بے باک اور مفتری کو جلد نہ پکڑے۔ یہاں تک کہ بیس برس سے زیادہ عرصہ گذر جائے۔‘‘ (انجام آتھم ص۵۰، خزائن ج۱۱ ص۵۰)

اور (سراج منیر ص۲، خزائن ج۱۲ ص۴ مطبوعہ ۱۸۹۷ء) میں پچیس سال لکھے ہیں: ’’کیا کسی کو یاد ہے کہ کاذب اور مفتری کو افترائوں کے دن سے پچیس برس تک کی مہلت دی گئی ہو، جیسا کہ اس بندہ کو۔‘‘ ایک ہی سال میں بیس اور اسی میں پچیس کے جھوٹ کو مرزائی صاحبان سچ کر کے دکھادیںگے؟۔

پھر عجیب بات یہ ہے کہ ۱۹۰۰ء میں الہام کی مدت ۲۴ سال بتا رہے ہیں۔ ’’کیا کسی ایسے مفتری کا نام بطور نظیر پیش کر سکتے ہو۔ جس کو افتراء اور دعویٰ وحی ﷲ کے بعد میری طرح ایک زمانۂ دراز تک مہلت دی گئی ہو… یعنی قریباً ۲۴برس گذر گئے۔‘‘

(اشتہار مطبوعہ۱۹۰۰ء معیار الاخیار مندرجہ تبلیغ رسالت حصہ۹ ص۲۰، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۲۶۸)

پھر اربعین مطبوعہ ۱۹۰۰ء میں قریبا تیس برس لکھتے ہیں کہ: ’’قریب تیس برس سے یہ دعویٰ مکالمات الٰہیہ شائع کیاگیا ہے۔‘‘ (اربعین نمبر۳ ص۷، خزائن ج۱۷ ص۳۹۲)

اور ۱۹۰۲ء میں تیئس ہی برس رہ جاتے ہیں۔ ’’مفتری کو خدا جلد پکڑتا ہے اور نہایت ذلت سے ہلاک کرتا ہے۔ مگر تم دیکھتے ہو کہ میرا دعویٰ منجانب ﷲ ہونے کے تیئس برس سے بھی زیادہ ہے۔‘‘

(تذکرۃ الشہادتین ص۶۳، خزائن ج۲۰ ص۲۴، ونحوہ ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص۳، خزائن ج۱۷ ص۴۰ مطبوعہ ۱۹۰۲ء)

مہلت کی مدت میںاختلاف بیانی اختیار کرنے کی یہ وجہ ہے کہ اگر پہلے ہی تیئس سال مہلت کی شرط لگادیتے تو لوگوں کی طرف سے قتل ہو جانے کا خطرہ زیادہ لاحق ہوجاتا۔ اس لئے اس کا نام تک نہ لیا اورجو وقت گورنمنٹ برطانیہ کی مہربانی سے ان کے زیر سایہ گذرتا رہا۔ اسی کو معیار صداقت بناتے رہے۔ اب تو بقول اکبر الہ آبادی یہ حال ہے۔

596
گورنمنٹ کی خیر یارو مناؤ گلے میں جو اتریں وہ تانیں اڑاؤ
کہاں ایسی آزادیاں تھیں میسر ’’انا الحق‘‘ کہو اور پھانسی نہ پائو

س… امام رازی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ:’’ہذا ذکرہ علی سبیل التمثیل بما یفعلہ الملوک بمن یتکذب علیہم فانہم لا یمہلونہ بل یضربون رقبۃ فی الحال (تفسیر کبیر ج۳۰ص۱۱۸)‘‘

پھر لکھتے ہیں کہ: ’’ہذا ہو الواجب فی حکمۃ ﷲ تعالیٰ لئلا یشتبہ الصادق بالکاذب (تفسیر کبیر ج۳۰ص۱۱۹)‘‘

تفسیر روح البیان میں ہے کہ: ’’وفی الایۃ تنبیہ علیٰ ان النبی ﷺ لوقال من عند لنفسہ شیئا اوزادو نقص حرفا واحد علی ما اوحی الیہ لعاقبہ ﷲ وہواکرم الناس علیہ فماظنک بغیرہ (تفسیر کبیر ج۴ص۴۶۳)‘‘

معلوم ہوا کہ مفسرین کے خیال میں اس آیت کے یہی معنی ہیں کہ مفتری علیٰ ﷲ کو زیادہ مہلت نہیں ملتی۔ لہٰذا مرزاقادیانی کا دعویٰ کے بعد تئیس سال زندہ رہنا ان کی صداقت کی دلیل ہے؟

ج… امام رازی رحمۃ اللہ علیہ کی پہلی عبارت کا یہ مطلب ہے کہ جس طرح بادشاہ ان لوگوں کو جو جعلی فرامین کو اصل کی طرح بنا کر لوگوں کو دھوکا دینا چاہتے ہیں پکڑ لیتا ہے۔ اسی طرح خداتعالیٰ اس شخص کو جو کذب کو سچ کی طرح بنا کر خدا کی طرف منسوب کرتا ہے۔ پکڑ لیتا ہے اور اس کے جھوٹ اور فریب کو عام لوگوں پر ظاہر کرادیتا ہے۔ اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ جس کا کذب واضح نہ ہو اس کو بھی پکڑ لیا جائے اور کسی مفتری علی ﷲ کو جھوٹ نہیں بولنے دیتے۔ جس طرح حکومت اس شخص کو جو نوٹ کی شکل کی رسید تیار کرے سزا نہیںدیتی۔ لیکن جعلی نوٹ بنانے والوں کو فوراً گرفتار کر لیتی ہے۔ اسی طرح جس مفتری علیٰ ﷲ کا جھوٹ سچ کے مشابہ ہوا اس کو پکڑ لیا جاتا ہے۔ چنانچہ امام رازی رحمۃ اللہ علیہ کی وہ دوسری تحریر جس کو مرزائی صاحبان پورا نقل نہیں کرتے۔ ہمارے بیان کی زبردست مؤید ہے ملاحظہ ہو۔ ’’واعلم ان حاصل ہذا الوجوہ انہ لونسب الینا قولا لم نقلہ لمعناہ عن ذلک امابواسطۃ اقامۃ الحجۃ فاماکنا نقیض لہ من یعارضہ فیہ وحینئذٍ یظہر للناس کذبہ فیہ فیکون ذالک بطالالدعواہ وہد مالکلامہ وامابان نسلب عندہ القدرۃ علیٰ التکلم بذالک القول وہذا ہو الواجب فی حکمۃ ﷲ لئلا یشتبہ الصادق بالکاذب (تفسیر کبیر ج۳۰ ص۱۱۹)‘‘

ان تمام وجوہ مذکورہ کا یہ حاصل ہے کہ اگر ہماری طرف سے کسی جھوٹے قول کی نفی کی جائے تو ہم اس کو اور دلائل سے جھوٹا ثابت کر دیتے ہیں، اور ایسا آدمی اس کے مقابلہ میں کھڑا کردیتے ہیں جو اس سے معارضہ کرتا ہے۔ جس سے اس کا جھوٹ لوگوں پر ظاہر ہو جاتا ہے، اور اس کے دعوے کے باطل ہونے میںاہل فہم کو شبہ نہیں رہتا، اور یاکبھی اس کی زبان کو خدا کی طرف جھوٹی نسبت کرنے سے روک لیتا ہے، اور ایسا کرنا خداتعالیٰ پر ضروری ہے تاکہ جھوٹ سچ کے ساتھ مشتبہ نہ ہوجائے۔ معلوم ہوا کہ امام رازی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک مفتری علی ﷲ کو پکڑنے کے یہ معنی ہیں کہ اس کا کذب لوگوں پر ظاہر کرنے کے لئے کوئی نہ کوئی آدمی اس کے مقابلہ میں کھڑا کردیاجائے گا، اور اس کے ہاتھ سے کوئی ایسی نشانی ظاہر نہیں کی جائے گی۔جس کو اس نے اپنی سچائی کے لئے بطور پیش گوئی ذکر کیا ہوگا۔ یا اس سے اس معاملہ میں کذب بیانی کی قدرت ہی لے لی جائے گی۔ دنیا جانتی ہے کہ جس روز سے مرزاقادیانی نے مجددیت اور مسیحیت کے جال پھیلانے کی کوشش کی تھی

597

اسی دن سے علمائے کرام نے اس کے کذب کو ظاہر کرنا شروع کر دیا تھا اور بحمد ﷲ آج اس کے جھوٹ اور فریب کا پردہ ایسا چاک ہوا ہے کہ دنیائے اسلام کا بچہ بچہ اس کے جھوٹے اور مکار ہونے کا قائل ہے۔ مرزائیوں کے تسلیم کرلینے سے اس کا سچا ہونا لازم نہیں آتا۔ اگرایک چور اور ڈاکو کو چند لٹیرے نیک طینت انسان بتائیں تو ان کی گواہی سے وہ نیک نہیں بن جاتا۔ بلکہ حکومت اور سمجھدار لوگوں کی نظر میں وہ بدکار ہی رہتا ہے۔ اسی طرح کافروں کے کہنے سے بتوں کی الوہیت ثابت نہیں ہوتی۔ پھر ﷲتعالیٰ نے ان پیش گوئیوں کو جن کو مرزاقادیانی نے بطور تحدی اپنے صدق وکذب کا معیار بنا کر پیش کیا تھا۔ مرزاقادیانی کا جھوٹا ہونا ظاہر کردیا۔ اگر چہ بڑی تضرع سے ان کے پورے ہونے کی التجائیں کیں۔ مگر ایک نہ سنی، اور مرزاقادیانی کو سربازار رسوا کر کے چھوڑا۔ سبحانہ ما اعظم شانہ! ﷲ سبحانہ تعالیٰ نے وحی نبوت کے دعویٰ کرنے سے اس کی زبان کو روک کر رکھا۔ مرزاقادیانی نے کبھی وحی نبوت کا دعویٰ نہیں کیا۔ جو خداتعالیٰ کا کلام ہے۔ بلکہ مدتوں الہام ولایت ہی کا دعویٰ کرتے ہوئے اس کو غلط نظر سے وحی الٰہی کی مثل سمجھتا رہا۔ لیکن جب ۱۹۰۲ء میں مسند نبوت پر اپنے ناپاک قدم رکھنے کی کوشش کی تو غیرت الٰہی نے عذابی مرض سے ہلاک کردیا۔ جیسا کہ مرزاقادیانی لکھتا ہے کہ: ’’پس اگر وہ سزا جو انسان کے ہاتھوں سے نہیں بلکہ محض خدا کے ہاتھوں سے ہے۔ جیسے طاعون وہیضہ وغیرہ۔‘‘

(اشتہار متعلقہ مولوی ثناء ﷲ، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۵۷۸)

اور ’’روح البیان‘‘ کی عبارت سے توصاف ظاہر ہے کہ ایک سچا نبی اگر وحی ربانی میں کمی زیادتی کرے تو اس کو سزا دی جاتی ہے۔ ہر مفتری کی یہ سزا نہیں ہے ۔ کیا مرزائی جماعت عبد ﷲ تیماپوری کو نبی ماننے کے لئے تیار ہے؟۔ جس کے دعویٔ نبوت کو آج ۱۹۳۳ء میں ۲۷سال گذر چکے ہیں۔

جواب نمبر:۶…

اس آیت کا سیاق، سباق دیکھیں تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ﷲتعالیٰ کا ارشاد کسی قاعدہ کلیہ کے طور پر نہیں ہے۔ بلکہ یہ قضیہ شخصیہ ہے اور صرف حضور اکرم ﷺ کے متعلق یہ بات کہی جارہی ہے اور یہ بھی اس بناء پر کہ ’’بائبل‘‘ میں موجود تھا کہ اگر آنے والا پیغمبر اپنی طرف سے کوئی جھوٹا الہام یا نبوت کا دعویٰ کرے تو وہ جلد مارا جائے گا۔

چنانچہ عبارت درج ذیل ملاحظہ ہو۔

میں ان کے لئے ان ہی کے بھائیوں میں سے تجھ سا… ایک نبی برپا کروں گا اور اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا، اور جو کچھ میں اس کو حکم دوں گا۔ (مراد محمد عربی ﷺ ہیں) وہ سب ان سے (یعنی اپنی امتوں سے) کہے گا اور ایسا ہوگا کہ جو کوئی میری باتوں کو جنہیں وہ میرا نام لے کر کہے گا، نہ سنے گا تو میں اس کا حساب اس سے لوں گا۔ لیکن جو نبی گستاخ بن کر کوئی ایسی بات میرے نام سے کہے گا جس کے کہنے کا میں نے اس کو حکم نہیں دیا یا اور معبودوں کے نام سے کچھ کہے گا تو وہ نبی قتل کیا جائے گا۔

(انجیل مقدس عہدنامہ قدیم ص۱۸۴، کتاب استثناء باب۱۸، آیت۱۸تا۲۱)

جواب نمبر:۷…

مرزاقادیانی کبھی کہتا کہ میں نبی ہوں۔ پھر انکار کر دیتا۔ مرزاقادیانی نے اپنی زندگی کا آخری خط مورخہ۲۳؍مئی ۱۹۰۸ء کو لکھا جو ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء کو ’’اخبار عام‘‘ میں چھپا۔ جس میں لکھا: ’’اس نے میرا نام نبی رکھا ہے۔ سو میں خدا کے حکم کے موافق نبی ہوں اور اگر میں اس سے انکار کروں تو میرا گناہ ہوگا اور جس حالت میں خدا میرا نام نبی رکھتا ہے تو میں کیونکر انکار کر سکتا ہوں۔ میں اس پر قائم ہوں۔ اس وقت تک جو اس دنیا سے گزر جاؤں۔‘‘ یہ خط مورخہ ۲۳؍مئی ۱۹۰۸ء کو لکھاگیا اور ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء کو چھپا اور اسی روز ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء بروز منگل کو مرزاقادیانی وبائی ہیضہ سے عبرتناک موت کا شکار ہوا، اور اپنے قول کے مطابق کہ خدا جھوٹے کو مہلت نہیں دیتا۔ جھوٹا ثابت ہوا۔ اسی دن ہی ’’لقطعنا منہ

598

الوتین‘‘ پر عمل ہوگیا۔ ﷲتعالیٰ نے ہیضہ سے مرزاقادیانی کی زندگی کی شہ رگ کاٹ دی۔

مرزاقادیانی کی تمنائے موت کا جواب

تحریف نمبر: ۲… ’’یٰاَیُّہَا الَّذِیْنَ ھَادُوْا اِنْ زَعَمْتُمْ اَنَّکُمْ اَوْلِیَآئُ اللّٰہِ مِنْ دُوْنِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ (الجمعہ:۶)‘‘ اس آیت سے معلوم ہوا کہ جس شخص کے اعمال خراب ہوں وہ موت کی تمنا کبھی نہیں کرتا۔ مگر مرزاقادیانی لکھتا ہے کہ:

گر تومی بینی مراپرفسق وشر

گر تو دید استی کہ ہستم بدگہر

پارہ پارہ کن من بدکار را

شادکن ایں زمرۂ اغیار را

(حقیقت المہدی ص۸، خزائن ج۱۴ص۴۳۴)

تحقیق…

اس آیت میں یہودیوں کے متعلق یہ کہاگیا ہے کہ وہ کبھی موت کی تمنا یا آرزو نہ کریں گے۔ جیسا کہ: ’’وَلَتَجِدَنَّہُمْ أَحْرَصَ النَّاسِ عَلٰی حَیٰوۃٍ (بقرۃ:۹۶)‘‘ سے ظاہر ہے کہ ہر کافر سے موت کی تمنا کرنے کی نفی بیان نہیں کی گئی۔

اور اگر موت کی تمنا کرنی سچائی کی نشانی ہے تو مکہ کے کافر پہلے سچے ہونے چاہئیں۔ جنہوں نے رسول خدا ﷺ کے مقابلہ میں یہ کہاتھا کہ:’’وَاِذْقَالُوْا اللَّہُمَّ اِنْ کَاَن ہَذَا ہُوَ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِکَ فَاَمْطِرْعَلَیْنَا حِجَارَۃً مِّنَ السَّمَاء (انفال:۳۰)‘‘

۲… ’’فَمَا کَانَ جَوَابَ قَوْمِہٖ اِلَّا أَنْ قَالُوْا ائْتِنَا بِعَذِابِ اللّٰہِ اِنْ کُنْتَ مِنَ الصَّادِقِیْنَ (عنکبوت:۲۹)‘‘

اور پھر مرزاقادیانی نے مولوی ثناء ﷲ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے مقابلہ میں مفتری اور کذاب سے پہلے مرجانے کی دعا کی تھی جو پوری ہوگئی۔ مرزائی مانیں نہ مانیں مگر ہم تو مرزاقادیانی کو اس میں مستجاب الدعاء سمجھتے ہیں۔

فَقَدْ لَبِثْتُ فِیْکُمْ

تحریف نمبر: ۳… ’’فَقَدْ لَبِثْتُ فِیْکُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِہٖ أَفَلَا تَعْقِلُوْنَ (یونس :۱۶)‘‘

جواب نمبر:۱…

مرزاقادیانی کے دعویٔ مسیحیت ومجددیت وغیرہ کے بعد بجائے دیانت داری، تقویٰ وطہارت کے، کذب بیانی، وعدہ خلافی، خیانت، تحریف قرآنی، انکار معجزات، انکار از نزول ملائکہ، ترک حج، دنیا پرستی، سب وشتم وغیرہ عیوب اس میں نظر آتے ہیں۔ عیاں راچہ بیان!

دعویٰ سے قبل

۱… مرزاقادیانی کے بچپن کے حالات میں گذر چکا ہے کہ وہ گھر سے چوری کرتا تھا۔

۲… جوانی میں دادا کی پنشن وصول کر کے کھا گیا۔

599

۳… لوگوں سے ’’براہین احمدیہ‘‘ کی پچاس جلدوں کے پیسے لے کر پانچ جلدیں لکھیں۔ پینتالیس جلدوں کے پیسے کھا گیا۔ حرام کھایا۔

۴… حکیم نورالدین کے ساتھ مل کر فراڈ کرتا تھا۔ نورالدین کی مرزاقادیانی کے دعویٰ سے قبل کی شناسائی تھی۔

مرزاقادیانی کے (مکتوبات ج۵ حصہ دوم ص۳۵، مکتوب نمبر۲۵) پر نظر ڈالیں تو ایک نئی بات کا انکشاف ہوگا۔ فریب، دھوکہ، حب مال کا شاخسانہ ہے۔ میرے خیال میں آج تک شاید کسی بڑے سے بڑے فریبی وفراڈی دنیا دار نے یہ چال نہ چلی ہوگی جو ’’مرزا غلام احمد قادیانی‘‘ اور حکیم نورالدین نے چلی۔ عقل حیران رہ گئی۔ ششد ررہ گیا کہ یا ﷲ! اس طرح کا مکروفریب تو کسی کمینے دنیا دار کو بھی شیطان نے نہ سکھلایا ہوگا۔ بلکہ میرے خیال میں شیطان کو خود یہ تدبیر نہ سوجھی ہوگی جو مرزا غلام احمد قادیانی اور حکیم نورالدین قادیانی کو سوجھی۔ ایسی چال چلی کہ فراڈ کا نیا ریکارڈ قائم کردیا۔

قارئین کرام! انگریز کے زمانہ میں اور اس وقت بھی محفوظ ذرائع سے رقم ایک جگہ سے دوسری جگہ بھجوانے کے دو طریقے ہیں۔ بینک سے رقم بھجوانا یا ڈاک خانہ سے منی آرڈر وغیرہ کے ذریعہ سے۔ بینک سے رقم بھجوائیں تو ڈرافٹ وغیرہ! اس پر سرچارج اور سروس چارجز ادا کرنے کے علاوہ ڈرافٹ رجسٹرڈ ڈاک سے بھجوانا ہوگا۔ رقم زیادہ ہوتو اس پر خاصہ خرچ آتا ہے۔ منی آرڈر یا تارمنی پر بھی خرچ آتا ہے۔ اب مرزا قادیانی کے پاس حکیم نورالدین اس زمانہ میں کشمیر سے پنجاب قادیان رقم بھجوانا چاہتا ہے۔ رقم بھی خاصی ہے۔ یعنی اس زمانہ میں پانچ سو روپیہ بھارتی جموں وکشمیر سے بھارتی پنجاب قادیان بھجوانی ہے جس زمانہ میں مرزا قادیانی کا بیٹا مرزا بشیر ایم اے کی (سیرت المہدی ج اوّل ص۱۸۲) کے مطابق :’’ایک آنہ کا سیر گوشت ملتا تھا۔‘‘ حساب لگائیں کہ:

۱… ایک روپیہ کے سولہ آنے۔ ایک آنہ کا ایک کلو گوشت۔ تو پانچ سو روپے کا گوشت آٹھ ہزار کلو۔ اس زمانہ میں ملتا تھا۔ آج کل گوشت کی قیمت عموماً چار سو روپے کلو ہے۔ آٹھ ہزار کلو گوشت آج خریدنا چاہیں تو آٹھ ہزار کو چار سو سے ضرب دیں۔ یہ بتیس لاکھ روپیہ بنتا ہے۔

۲… یا یوں حساب لگائیں کہ اس زمانہ کا ایک کلو گوشت ایک آنہ میں جو آج کل چار سو روپے کے برابر ہے۔ سولہ آنہ کو چار سو سے ضرب دیں تو چونسٹھ سو روپیہ بنتا ہے۔ گویا اس زمانہ کا ایک روپیہ آج کل کے چونسٹھ سو روپیہ کے برابر ہے۔ اس زمانہ کے پانچ صد روپیہ کی رقم آج کل کے حساب سے لگانی ہو تو چونسٹھ صد کو پانچ صد سے ضرب دیں۔ تو نتیجہ وہی بتیس لاکھ روپیہ ہوتا ہے۔

چلیں حساب ہوگیا۔ بتیس لاکھ آج بینک سے یا ڈاکخانہ سے بھجوانے ہوں تو جتنا خرچہ آئے گا اتنا خرچہ ’’نورالدین قادیانی‘‘ کو پانچ صد روپیہ پر اس زمانہ میں خرچ کرنا پڑتا۔ آج کل مہنگائی کے چکر کو قادیانی نہ روئیں۔ حکیم نورالدین کے چکر کو دیکھیں کہ اس زمانہ میں پانچ صد روپیہ بھجوانے پر دس بارہ روپے بھی اس دور میں خرچ ہوتے تو روپے کے حساب کو سامنے رکھیں تو اس زمانہ کے دس بارہ روپے بھی آج کل کے حساب سے خاصی رقم تھی۔ ’’مرزا قادیانی اور حکیم نورالدین قادیانی‘‘ اس خاصی رقم سے بچنے کے لئے کیا چال چلتے ہیں؟۔

سوچا کہ اگر پانچ صد روپیہ کا نوٹ لفافہ میں ڈال کر بھیج دیں۔ ظاہر ہے کہ اس دور میں بھی آج کل کی طرح لفافہ میں نوٹ ڈال کر بھیجنا خلاف قانون تھا۔ اور یہ اندیشہ بھی تھا کہ کہیں لفافہ سنسر ہوگیا یا کسی نے کھول کر پانچ صد روپیہ کا نوٹ نکال لیا تو ’’مرزا قادیانی اور حکیم نورالدین‘‘ دنیا داربنئے کی طرح جو دس بارہ روپے خرچ نہیں کرتے وہ پانچ صد

600

روپے ضائع ہونے یا نکال لینے پر ویسے ہی آنجہانی ہوجاتے۔

حکیم نورالدین نے ’’باہمی مشورہ‘‘ سے (اس باہمی مشورہ کے لفظ کو یاد رکھیں۔اس کی خبر بعد میں لیں گے۔ پہلے مرزا قادیانی اور حکیم نورالدین کی خبر قادیانی لے لیں!) نورالدین نے پانچ صد روپے کے نوٹ کے دو ٹکڑے کئے۔ ایک ٹکڑا بیکار ہے۔ اسے بھیجنا قانون کی خلاف ورزی نہیں۔ اس لئے کہ ردی کاغذ کا ٹکڑا ہے۔ کوئی کھولے بھی تو ردی کاغذ کا ٹکڑا اس کے کس کام کا؟۔ پہنچ گیا آدھا ٹکڑا نوٹ کا، قادیان۔ اب مرزا قادیانی نے اسے محفوظ کرکے ’’حکیم نورالدین‘‘ کو خط سے اطلاع دی کہ پانچ صد روپیہ کے نوٹ کا ایک قطعہ مل گیا ہے۔ اب دوسرا بھیج دیں۔ لیکن احتیاط کریں۔ بارشیں ہیں۔ بارش میں بھیگ کر ضائع نہ ہوجائے۔ اس لئے کہ آج کل کی طرح ڈاکئے اس زمانہ میں بھی عام ڈاک کی زیادہ احتیاط نہ کرتے تھے۔ اب کے دوسرا ٹکڑا بھیج دیں۔ لیکن رجسٹرڈ ڈاک سے۔ قادیان پہنچ گیا دوسرا ٹکڑا۔ اب پانچ صد روپیہ کا نوٹ جوڑ کر مرزا قادیانی قادیان میں اور حکیم نورالدین کشمیر میں اس کامیاب ’’انوکھے فراڈ‘‘ پر جشن منائیں اور صدارت کرے اس جشن کی ابلیس، اور مبارک باد دے۔ باپ، بیٹے، مرزا قادیانی اور حکیم نورالدین کو کہ آپ نے وہ کر دکھایا جو آج تک میرے کسی چیلے کو کیا خود مجھے بھی نہ سوجھی تھی۔قارئین کرام! انتظار کی زحمت کو معاف فرمائیں اور پڑھیں مرزا قادیانی کے مکتوب کو:

مخدومی ومکرمی اخویم مولوی حکیم نورالدین سلمہ تعالیٰ

السلام علیکم ورحمتہ ﷲ وبرکاتہ

’’آج نصف قطعہ نوٹ پانچ سوروپیہ پہنچ گیا۔ چونکہ موسم برسات کا ہے۔ اگر براہ مہربانی دوسرا ٹکڑہ رجسٹری شدہ خط میں ارسال فرمائیں تو انشاء ﷲ روپیہ کسی قدر احتیاط سے پہنچ جاوے۔‘‘

خاکسار غلام احمد از قادیان۱۱جولائی۱۸۸۷ء

(مکتوبات احمدیہ جلد پنجم حصہ دوم ص۳۵مطبوعہ راست گفتار پریس امرتسر)

اب قادیانیوں سے خدا تعالیٰ اور اس کے رسول مقبول ﷺ کے نام پر۔ نہیں تو شرف انسانیت کے نام پر (ان سے) اپیل ہے کہ وہ ہماری تمہیدات اور مرزا قادیانی کے خط کے مندرجات کو بار بار ٹھنڈے دل سے پڑھیں کہ ایسے فراڈ ئے مذہبی رہنما تھے؟۔ یا فراڈ کے چمپئن اور شیطان کے کان کترنے والے ٹھگ اور مکار؟۔

ہماری تلخ نوائی کو قادیانی معاف کریں۔ ہم جب مرزا قادیانی کے ان بیہودہ افعال اور کفریہ اقوال کو دیکھتے ہیں اور پھر آپ لوگوں کی سادگی، تو یہ امر ہمیں تلخ نوائی پر مجبور کردیتے ہیں۔ ’’باہمی مشورہ‘‘ کا لفظ اس لئے لکھا کہ مرزا قادیانی نے لفافہ کھولتے ہی پانچ صد روپیہ کے ایک ٹکڑا کو دیکھتے ہی کوئی تعجب نہیں کیا۔ بلکہ جھٹ سے اس کے ملنے کی اطلاع یابی کے لئے خط لکھ دیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کام دونوں نے ’’باہمی مشورہ‘‘ سے کیا۔ فرمائیے آپ کی کیا رائے ہے؟۔

ایک اور امر رہ جاتا ہے کہ کیا وہ دوسرا ٹکڑا پانچ صد روپیہ کا نورالدین نے ’’کشمیر‘‘ سے ’’قادیان‘‘ مرزا قادیانی کوبھیجا اس کا جواب اسی کتاب کے اسی صفحہ پر موجود ہے کہ مرزا قادیانی نے دوسرے مکتوب (نمبر۲۶)میں لکھا ہے کہ: ’’آج نصف قطعہ (دوسرا) نوٹ پانچ سو روپیہ بذریعہ رجسٹری شدہ پہنچ گیا۔‘‘ اس دوسرے ٹکڑا نوٹ پانچ صد ملنے کی اطلاع یابی کے خط پر ۲۶؍جولائی۱۸۸۷ء ہے۔ گویا پندرہ دنوں میں دونوں کامیاب فراڈ کرکے فارغ ہوگئے۔ اس فراڈ کو اب ’’مرزا قادیانی اور نورالدین‘‘ نے کاروبار بنالیا۔ چنانچہ نورالدین نے دوصد چالیس روپے اس کے بعد مرزا قادیانی کو

601

بھجوائے۔ لیکن نوٹوں کے آدھے آدھے حصے تھے۔ جب وہ مل گئے تو پھر اسی دو صد چالیس کے نوٹوں کے دوسرے باقیماندہ ٹکڑے بھجوادئیے۔ چنانچہ ۳۱؍اکتوبر ۱۸۸۷ء کے ’’مکتوب بنام نورالدین‘‘ میں مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ: ’’بقیہ نصف نوٹ دوصد چالیس روپیہ بھی پہنچ گئے۔‘‘

(مکتوبات ج۵ نمبر۲ص۴۵)

قارئین کرام! اس سے کہیں زیادہ درد ناک پہلو یہ ہے کہ اس کارستانی ’’کارشیطانی‘‘ پر مرزا قادیانی، حکیم نورالدین کو لکھتا ہے کہ:’’ اور میں نہایت ممنون ہوں کہ آںمکرم بروش صحابہ کرام رضی ﷲ تعالیٰ عنہم کے دل سے اور پورے جوش سے نصرت اسلام میں مشغول ہیں۔‘‘ (مکتوبات ج۵ نمبر۲ص۴۵)

لیجئے! اب حکیم نورالدین صحابی بن گیا اور مرزا غلام احمد قادیانی نبی بن گیا۔ (معاذ ﷲ) کیا قادیانیوں میں کوئی ﷲ کا بندہ ایسا ہے جو اس انوکھے فراڈ کے کیس پر توجہ کرکے فراڈ نرا فراڈ یعنی قادیانیت سے تائب ہوجائے؟

مرزاقادیانی کے بیس برس مرید خاص رہے۔ ڈاکٹر عبدالحکیم خان، انہوں نے کہا کہ مرزامسرف وکذاب ہے۔ الٰہی بخش، میر عباس سب کا یہی حال تھا۔ اس زمانہ کے وہ لوگ جو مرزاقادیانی کے حالات جانتے تھے۔ جیسا کہ گذرچکا انہوں نے مرزاقادیانی کو رشوت وحرام مال کھانے والا کہا۔ مرزاقادیانی شراب منگواتا تھا۔ جیسا کہ ’’خطوط امام بنام غلام‘‘ سے ظاہر ہے۔ مرزاقادیانی غیرمحرم عورتوں سے اختلاط رکھتا تھا۔

صدق نبوت کی ایک دلیل

ایسی زاہدانہ زندگی جس میں اوّل سے آخر تک کوئی تفاوت نہ ہو۔ غربت اور امارت کے زمانہ میں یکساں طرز عمل، اور دولت دنیا سے بے تعلقی بے اثری خود مرزاقادیانی کے نزدیک نبوت محمدی کی صداقت کی ایک دلیل ہے۔ وہ لکھتا ہے اور پھر جب مدت مدید کے بعد غلبۂ اسلام کا ہوا تو ان دولت واقبال کے دنوں میں کوئی خزانہ اکٹھا نہ کیا۔ کوئی عمارت نہ بنائی، کوئی یادگار تیار نہ ہوئی۔ کوئی سامان شاہانہ عیش وعشرت تجویز نہ کیاگیا۔ کوئی اور ذاتی نفع نہ اٹھایا۔ بلکہ جو کچھ آیا وہ سب یتیموں اور مسکینوں اور بیوہ عورتوں اور مقروضوں کی خبرگیری میں خرچ ہوتا رہا اور کبھی ایک وقت بھی سیر ہوکر کھانا نہ کھایا۔

دین کا داعی یا سیاسی قائد؟

اب ہم اس معیار کو سامنے رکھ کر جو خود مرزاقادیانی نے ہم کو دیا ہے اور جو مزاج نبوت کے عین مطابق ہے۔ ہم خود مرزاقادیانی کی زندگی کا مطالعہ کرتے ہیں۔ ہم کو اس مطالعہ میں نظر آتا ہے کہ جب ان کی تحریک پھیل گئی، اور وہ ایک بڑے فرقہ کے روحانی پیشوا اور اس کی عقیدتوں اور فیاضانہ اولوالعزمیوں کا مرکز بن گئے، تو ان کی ابتدائی اور اس آخری زندگی میں بڑا فرق نمایاں ہوا۔ ہمیں اس موقع پر ان کے حالات دین کے داعیوں اور مبلغوں اور درس گاہ نبوت کے فیض یافتہ نفوس قدسیہ سے الگ سیاسی قائدین اور غیردینی تحریکوں کے بانیوں سے ملتے جلتے نظر آتے ہیں۔ یہاں تک کہ یہ چیز ان کے مخلص ومقرب ساتھیوں کے لئے بھی اضطراب کا باعث ہوئی اور دل کی بات زبانوں پر آنے لگی۔

مرزاقادیانی کی خانگی زندگی

مرزاقادیانی کی خانگی زندگی جس ترفہ اور جیسے تجمل اور تنعم کی تھی۔ وہ راسخ الاعتقاد متبعین کے لئے بھی ایک شبہ اور اعتراض کا موجب بن گئی تھی۔ ’’خواجہ کمال الدین صاحب‘‘ نے ایک روز اپنے مخصوص دوستوں کے سامنے اس بات کا تذکرہ

602

کیا کہ ان کے گھر کی جوبیبیاں مرزاقادیانی کے گھر کی رہائش اور معیار زندگی دیکھ چکی ہیں۔ وہ کس طرح سے ایثار وقناعت اور سلسلہ کی اشاعت وترقی کے لئے اپنی ضرورتوں سے پس انداز کر کے روپیہ بھیجنے کے لئے تیار نہیں۔ انہوں نے ایک مرتبہ مولوی محمد علی (امیر جماعت احمدیہ لاہور) اور قادیانی جماعت کے مشہور عالم مولوی سرور شاہ قادیانی سے کہا: ’’میرا ایک سوال ہے جس کا جواب مجھے نہیں آتا۔ میں اسے پیش کرتا ہوں۔ آپ اس کا جواب دیں۔ پہلے ہم اپنی عورتوں کو یہ کہہ کر کہ انبیاء علیہم السلام وصحابہ رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین والی زندگی اختیار کرنی چاہئے کہ وہ کم وخشک کھاتے اور خشن پہنتے تھے اور باقی بچا کر ﷲ کی راہ میں دیا کرتے تھے۔ اسی طرح ہم کو بھی کرنا چاہئے۔ غرض ایسے وعظ کر کے کچھ روپیہ بچاتے تھے اور پھر وہ قادیان بھیجتے تھے۔ لیکن جب ہماری بیبیاں خود قادیان گئیں وہاں پر رہ کر اچھی طرح وہاں کا حال معلوم کیا، تو واپس آکر ہمارے سر پر چڑھ گئیں، کہ تم تو بڑے جھوٹے ہو۔ ہم نے تو قادیان میں جاکر خود انبیاء وصحابہ کی زندگی کو دیکھ لیا ہے۔ جس قدر آرام کی زندگی اور تعیش وہاں پر عورتوں کو حاصل ہے، اس کا عشر عشیر بھی باہر نہیں۔ حالانکہ ہمارا روپیہ کمایا ہوا ہوتا ہے، اور ان کے پاس جو روپیہ جاتا ہے، وہ قومی اغراض کے لئے قومی روپیہ ہوتا ہے۔ لہٰذا تم جھوٹے ہو جو جھوٹ بول کر اس عرصۂ دراز تک ہم کو دھوکا دیتے رہے، اور آئندہ ہرگز ہم تمہارے دھوکے میں نہ آویں گی۔ پس وہ اب ہم کو روپیہ نہیں دیتیں کہ ہم قادیان بھیجیں۔‘‘

خواجہ صاحب نے یہ بھی فرمایا: ’’ایک جواب تم لوگوں کو یاد کرتے ہو۔ پھر تمہارا وہ جواب میرے آگے نہیں چل سکتا۔ کیونکہ میں خود واقف ہوں۔‘‘ (کشف الاختلاف ص۱۳)

اور پھر بعض زیورات اور بعض کپڑوں کی خرید کا مفصل ذکر کیا۔

مالی اعتراضات

معلوم ہوتا ہے کہ مرزاقادیانی کے زمانہ میں ان کی نگرانی میں لنگر کا جو انتظام تھا۔ اس سے بہت سے مخلصین مطمئن نہیں تھے۔ ان کے نزدیک اس میں بہت سی بے عنوانیاں ہوتی تھیں۔ اس بحث نے بہت طول کھینچا۔ معترضین میں خواجہ کمال الدین پیش پیش تھے اور مولوی محمد علی بھی ان کے مؤید تھے۔ خواجہ کمال الدین نے ایک موقع پر مولوی محمد علی سے کہا: ’’یہ کیسے غضب کی بات ہے کہ آپ جانتے ہیں کہ قوم کا روپیہ کس محنت سے جمع ہوتا ہے اور جن اغراض قومی کے لئے روپیہ دیتے ہیں۔ وہ روپیہ ان اغراض میں صرف نہیں ہوتا۔ بلکہ بجائے اس کے شخصی خواہشات میں صرف ہوتا ہے اور پھر وہ روپیہ بھی اس قدر کثیر ہے کہ اس وقت جس قدر قومی کام آپ نے شروع کئے ہوئے ہیں اور روپیہ کی کمی کی وجہ سے پورے نہیں ہوسکے اور ناقص حالت میں پڑے ہوئے ہیں۔ اگر یہ لنگر کا روپیہ اچھی طرح سے سنبھالا جائے تو اکیلے اسی سے وہ سارے کام پورے ہوسکتے ہیں۔‘‘ (کشف الاختلاف ص۱۵)

یہ اعتراضات مرزاقادیانی کے کان تک بھی پہنچے اور انہوں نے اس پر بڑی ناگواری وناراضگی کا اظہار کیا۔ مولوی سرور شاہ لکھتا ہے: ’’مجھے پختہ ذریعہ سے معلوم ہوا ہے کہ حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) نے بہت اظہار رنج فرمایا ہے کہ باوجود میرے بتانے کے کہ خدا کا منشاء یہی ہے کہ میرے وقت میں لنگر کا انتظام میرے ہی ہاتھ میں رہے اور اگر اس کے خلاف ہوا تو لنگر بند ہو جائے گا۔ مگر یہ خواجہ وغیرہ ایسے ہیں کہ باربار مجھے کہتے ہیں کہ لنگر کا انتظام ہمارے سپرد کر دو اور مجھ پر بدظنی کرتے ہیں۔‘‘ (کشف الاختلاف ص۱۵)

خود مرزاقادیانی نے اپنے انتقال سے کچھ پہلے اس مالی الزام کا تذکرہ اور اس پر اپنے رنج وملال کا اظہار کیا۔

603

مرزابشیرالدین، مولوی حکیم نورالدین کے نام ایک خط میں لکھتا ہے: ’’حضرت صاحب نے اپنی وفات سے پہلے جس دن وفات ہوئی اس دن بیماری سے کچھ ہی پہلے کہا کہ خواجہ (کمال الدین) اور مولوی محمد علی وغیرہ مجھ پر بدظنی کرتے ہیں کہ میں قوم کا روپیہ کھا جاتا ہوں۔ ان کو ایسا نہ کرنا چاہئے تھا۔ ورنہ انجام اچھا نہ ہوگا۔ چنانچہ آپ نے فرمایا کہ آج خواجہ صاحب، مولوی محمد علی کا ایک خط لے کر آئے اور کہا کہ مولوی محمد علی نے لکھا ہے کہ لنگر کا خرچ تو تھوڑا سا ہوتا ہے۔ باقی ہزاروں روپیہ جو آتا ہے وہ کہاں جاتا ہے اور گھر میں آکر آپ نے بہت غصہ ظاہر کیا۔ کہا: کہ لوگ ہم کو حرام خور سمجھتے ہیں۔ ان کو اس روپیہ سے کیا تعلق۔ اگر آج میں الگ ہو جاؤں تو سب آمدن بند ہو جائے۔‘‘

پھر خواجہ صاحب نے ایک ڈیپوٹیشن کے موقع پر جو عمارت مدرسہ کا چندہ لینے گیا تھا۔ مولوی محمد علی سے کہا کہ حضرت (مرزاقادیانی) صاحب آپ تو خوب عیش وآرام سے زندگی بسر کرتے ہیں اور ہمیں یہ تعلیم دیتے ہیں کہ اپنے خرچ گھٹا کر بھی چندہ دو، جس کا جواب مولوی محمد علی نے یہ دیا کہ ہاں اس کا انکار تو نہیں ہوسکتا۔ لیکن بشریت ہے۔ کیا ضرور کہ ہم نبی کی بشریت کی پیروی کریں۔ (حقیقت الاختلاف ص۵۰)

آمدنی کے نئے نئے ذرائع

مرزاقادیانی ہی کی زندگی میں قادیان کے ’’بہشتی مقبرہ‘‘ میں جگہ پانے کے لئے جو شرائط وضع کی گئیں اور ایک قبر کی جگہ کے لئے جو گراں قدر قیمت اور نذرانہ رکھاگیا اور اس کا جس ترغیب وتشویق کے ساتھ اعلان کیاگیا۔ اس نے قرون وسطیٰ کے ’’ارباب کلیسا‘‘ کے ’’پروانہ غفران‘‘ کے بیع وشراء اور جنت کی قبالہ فروشی کی یاد تازہ کر دی، اور مرکز قادیان کے لئے آمدنی کا ایک وسیع ومستقل سلسلہ شروع ہوگیا، اور وہ رفتہ رفتہ سلسلۂ قادیانیت کا ایک عظیم محکمہ بن گیا۔ قادیان کے ترجمان ’’الفضل‘‘ نے اپنی ایک اشاعت میں صحیح لکھا ہے کہ: ’’مقبرۂ بہشتی اس سلسلہ کا ایک ایسا مرکزی نقطہ ہے اور ایسا عظیم الشان انسٹیٹیوشن یعنی محکمہ ہے جس کی اہمیت ہر دوسرے محکمہ سے بڑھ کر ہے۔‘‘

(الفضل قادیان ج۲۴ نمبر۲۵، مورخہ ۱۵؍ستمبر ۱۹۳۶ء)

قادیان اور ربوہ کی دینی ریاست

اس سارے آغاز کا انجام یہ ہوا کہ ’’تحریک قادیانیت‘‘ کا مرکز قادیان اور تقسیم ہند کے بعد سے اس کا جانشین ’’ربوہ‘‘ ایک اہم دینی ریاست بن گیا۔ جس میں قادیان کے خاندان نبوت اور اس کے صدر نشین ’’مرزابشیرالدین محمود‘‘ کو امارت وریاست کے وہ سب لوازم ایک مذہبی آمر اور مطلق العنان فرمانروا کے سب اختیارات اور خوش باشی وعیش کوشی کے وہ سب مواقع مہیا ہیں۔ جو اس زمانہ میں کسی بڑے سے بڑے انسان کو مہیا ہو سکتے ہیں۔ اس دینی وروحانی مرکز کی اندرونی زندگی اور اس کے امیر کی اخلاقی حالت ’’حسن بن صباح‘‘ باطنی کے ’’قلعۂ الموت‘‘ کی یاد تازہ کرتی ہے۔ جو پانچویں صدی ہجری میں مذہبی استبداد اور عیش وعشرت کا ایک پراسرار مرکز تھا۔

دور حاضر کا مذہبی آمر اور انگریز

پھر اگر قادیانیوں کو مرزاقادیانی کی زندگی پیش کرنے کا شوق ہے تو مرزاقادیانی نے جو خود اپنا مقصد زندگی بیان کیا ہے۔ وہ ذیل میں ملاحظہ کیا جائے۔ مرزاقادیانی نے باربار اپنی وفاداری، اور اخلاص، اور اپنی خاندانی خدمات، اور انگریزی حکومت کی تائید وحمایت میں اپنی سرگرمی اور انہماک کا ذکر کیا ہے، اور ایک ایسے زمانے میں جب مسلمانوں میں

604

دینی حمیت کو بیدار کرنے کی سخت ضرورت تھی۔ باربار جہاد کے حرام وممنوع ہونے کا اعلان کیا۔ یہاں پر نہایت اختصار کے ساتھ صرف چند عبارتیں اور اقتباسات پیش کئے جاتے ہیں۔ ایک جگہ مرزاقادیانی لکھتا ہے: ’’میری عمر کا اکثر حصہ اس سلطنت انگریزی کی تائید وحمایت میں گزرا ہے اور میں نے ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں کہ اگر وہ اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔ میں نے ایسی کتابوں کو تمام ممالک عرب مصر اور شام اور کابل اور روم تک پہنچا دیا ہے۔ میری ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ مسلمان اس سلطنت کے سچے خیرخواہ ہو جائیں اور ’’مہدی خونی‘‘ اور ’’مسیح خونی‘‘ کی بے اصل روایتیں اور جہاد کے جوش دلانے والے مسائل جو احمقوں کے دلوں کو خراب کرتے ہیں ان کے دلوں سے معدوم ہو جائیں۔‘‘

(تریاق القلوب ص۱۵، خزائن ج۱۵ ص۱۵۵)

اپنی کتاب (شہادت القرآن ص۸۴، خزائن ج۶ ص۳۸۰) کے آخر میں لکھتا ہے: ’’میرا مذہب جس کو میں باربار ظاہر کرتا ہوں۔ یہی ہے کہ اسلام کے دو حصے ہیں۔ ایک یہ کہ خداتعالیٰ کی اطاعت کرے۔ دوسرے اس سلطنت کی کہ جس نے امن قائم کیا ہو۔ جس نے ظالموں کے ہاتھ سے اپنے سایہ میں پناہ دی ہو۔ سو وہ سلطنت حکومت برطانیہ ہے۔‘‘

(اشتہار گورنمنٹ کی توجہ کے لائق ص۳، کتاب شہادۃ القرآن کے آخر میں)

ایک درخواست میں جو لیفٹیننٹ گورنر پنجاب کو ۲۴؍فروری ۱۸۹۸ء کو پیش کی گئی تھی، لکھتا ہے: ’’دوسرا امر قابل گذارش یہ ہے کہ میں ابتدائی عمر سے اس وقت تک جو قریباً ساٹھ برس کی عمر کو پہنچا ہوں، اپنی زبان اور قلم سے اس اہم کام میں مشغول ہوں کہ تا مسلمانوں کے دلوں کو گورنمنٹ انگلشیہ کی سچی محبت اور خیرخواہی اور ہمدردی کی طرف پھیروں اور ان کے بعض کم فہموں کے دلوں سے غلط خیال جہاد وغیرہ کے دور کروں۔ جو دلی صفائی اور مخلصانہ تعلقات سے روکتے ہیں… اور میں دیکھتا ہوں کہ مسلمانوں کے دلوں پر میری تحریروں کا بہت ہی اثر ہوا اور لاکھوں انسانوں میں تبدیلی پیدا ہوگئی۔‘‘

(تبلیغ رسالت ج۷ ص۱۰، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۱۱)

ایک دوسری جگہ لکھتا ہے: ’’میں نے بیسیوں کتابیں عربی، فارسی اور اردو میں اس غرض سے تالیف کی ہیں کہ اس گورنمنٹ محسنہ سے ہرگز جہاد درست نہیں۔ بلکہ سچے دل سے اطاعت کرنا ہر ایک مسلمان کا فرض ہے۔ چنانچہ میں نے یہ کتابیں بصرف زر کثیر چھاپ کر بلاد اسلام میں پہنچائیں اور میں جانتا ہوں کہ ان کتابوں کا بہت سا اثر اس ملک پر بھی پڑا ہے اور جو لوگ میرے ساتھ مریدی کا تعلق رکھتے ہیں وہ ایک ایسی جماعت تیار ہوتی جاتی ہے کہ جن کے دل اس گورنمنٹ کی سچی خیرخواہی سے لبالب ہیں۔ ان کی اخلاقی حالت اعلیٰ درجہ پر ہے اور میں خیال کرتا ہوں کہ وہ تمام اس ملک کے لئے بڑی برکت ہیں اور گورنمنٹ کے لئے دلی جان نثار۔‘‘

(تبلیغ رسالت ج۶ ص۶۵، مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۳۶۶،۳۶۷)

ایک دوسری جگہ لکھتا ہے: ’’مجھ سے سرکار انگریزی کے حق میں جو خدمت ہوئی۔ وہ یہ تھی کہ میں نے پچاس ہزار کے قریب کتابیں، اور رسائل، اور اشتہارات چھپوا کر اس ملک اور نیز دوسرے بلاد اسلام میں اس مضمون کے شائع کئے کہ گورنمنٹ انگریزی ہم مسلمانوں کی محسن ہے۔ لہٰذا ہر ایک مسلمان کا یہ فرض ہونا چاہئے کہ اس گورنمنٹ کی سچے دل سے اطاعت کرے اور دل سے اس دولت کا شکرگزار اور دعاگو رہے اور یہ کتابیں میں نے مختلف زبانوں یعنی اردو، فارسی، عربی میں تالیف کر کے اسلام کے تمام ملکوں میں پھیلا دیں۔ یہاں تک کہ اسلام کے دو مقدس شہروں مکے اور مدینے میں بھی بخوبی شائع کردیں اور روم کے پایۂ تخت قسطنطنیہ اور بلاد شام اور مصر اور کابل اور افغانستان کے متفرق شہروں میں جہاں تک ممکن تھا اشاعت کر دی گئی۔ جس کا یہ نتیجہ ہوا کہ لاکھوں انسانوں نے جہاد کے وہ غلیظ خیالات چھوڑ دئیے جو نافہم ملاؤں کی

605

تعلیم سے ان کے دلوں میں تھے۔ یہ ایک ایسی خدمت مجھ سے ظہور میں آئی ہے کہ مجھے اس بات پر فخر ہے کہ ’’برٹش انڈیا‘‘ کے تمام مسلمانوں میں اس کی نظیر کوئی مسلمان دکھلا نہیں سکا۔‘‘

(ستارہ قیصریہ ص۳،۴، خزائن ج۱۵ ص۱۱۴)

جواب نمبر:۲…

’’ہرقل شاہ روم‘‘ نے عرب وفد سے حضور ﷺ کے بارے میں جو سوال کئے۔ ان میں سے بعض آپ ﷺ کی بعثت سے بعد کی زندگی سے تعلق رکھتے ہیں۔ مثلاً کیا آپ ﷺ کے متبعین میں سے کوئی آپ کے دین سے ناراض ہوکر آپ سے علیحدہ ہوا ہے؟ اور کیا آپ کے متبعین بڑھتے جارہے ہیں یا کم بھی ہوتے جاتے ہیں؟

صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے اس حدیث کو روایت کرنے کے بعد ہرقل کی اس سوچ پر کسی قسم کی نکیر نہیں کی۔

جواب نمبر:۳…

اس دلیل میں قادیانی مبلغ نے مرزاقادیانی کو حضور ﷺ پر قیاس کرنے کی گستاخی کی ہے۔ اس کے جواب میں ہم مرزاقادیانی کی یہ عبارت پیش کرنا کافی سمجھتے ہیں: ’’ماسواء اس کے جو شخص ایک نبی متبوع کا متبع ہے اور اس کے فرمودہ پر اور کتاب ﷲ پر ایمان لاتا ہے۔ اس کی آزمائش انبیاء کی آزمائش کی طرح کرنا ایک قسم کی ناسمجھی ہے۔‘‘

(آئینہ کمالات اسلام ص۳۳۹، خزائن ج۵ ص۳۳۹)

لہٰذا مرزاقادیانی کو ہم حضور علیہ السلام پر قیاس نہیں کر سکتے۔

جواب نمبر:۴…

مرزاقادیانی لکھتا ہے:’’فَلَا تَقِیْسُوْنِیْ عَلٰی أَحْدٍ وَلَا أَحْدًا بِیْ پس مجھے کسی دوسرے کے ساتھ مت قیاس کرو اور نہ کسی دوسرے کو میرے ساتھ۔‘‘ (خطبہ الہامیہ ص۲۰، خزائن ج۱۶ ص۵۲)

اس لئے مرزائیوں کو آنحضرت ﷺ پر مرزاقادیانی کو قیاس کرنے کی جسارت نہیں کرنی چاہئے۔ اگر وہ ایسا کریں گے تو مرزاقادیانی کی نافرمانی کے مرتکب ہوں گے۔

جواب نمبر:۵…

بعثت سے قبل اور بعثت کے بعد نبی کی دونوں قسم کی زندگی پاک اور بے داغ ہوتی ہے۔ پہلی زندگی کو بے داغ ثابت کرنا اس لئے ہوتا ہے کہ اس سے اگلی زندگی کو بے داغ بتایا جائے اور دعویٰ نبوت کو صحیح مانا جائے۔

بعثت کے بعد کی زندگی کو موضوع بحث بنانے سے فرار اختیار کرنا نہایت ہی کمزور بات ہے، اور یہ اس پر دال ہے کہ اس کی زندگی میں واقعی کچھ کالا ضرور ہے۔

جواب نمبر:۶…

مرزاقادیانی نے اپنی پہلی زندگی میں انگریز کی عدالت میں مقدمہ لڑ کر کچھ مالی وراثت حاصل کی۔ حالانکہ نبی کسی کا وارث نہیں ہوتا۔ ’’نَحْنُ مَعْشَرُ الْاَنْبِیَآئِ لَا نَرِثُ وَلَا نُوْرَثُ‘‘ ہم جماعت انبیاء علیہم السلام نہ کسی کے وارث ہوتے ہیں نہ ہمارا کوئی وارث ہوتا ہے۔

جواب نمبر:۷…

یہ حقیقت ہے کہ نبی کی نبوت سے پہلے کی زندگی بھی پاک ہوتی ہے اور دعویٰ نبوت کے بعد کی زندگی بھی بے داغ اور صاف ہوتی ہے۔ لیکن یہ ضروری نہیں کہ جس کی پہلی زندگی پاک وصاف اور بے داغ اور بے عیب ہو وہ نبی بھی ہو جائے۔ جس طرح نبی کے لئے ضروری ہے کہ وہ شاعر نہ ہو وہ کسی سے لکھنا پڑھنا نہ سیکھے۔ جھوٹ نہ بولتا ہو، لیکن یہ ضروری نہیں کہ جو کوئی شاعر نہ ہو، کسی سے لکھنا پڑھنا نہ سیکھا ہو وہ نبی بھی ہو جائے۔ کیونکہ اگر یہ بات تسلیم کر لی جائے تو آج ہزاروں ایسے ملیں گے جو اپنی پہلی زندگی کے پاک وصاف ہونے کے مدعی ہیں۔ کیا ان سب کو نبی مانا جائے گا؟

606

جواب نمبر:۸…

مرزاقادیانی خود تسلیم کرتا ہے کہ انبیاء علیہم السلام کے علاوہ کوئی معصوم نہیں اور نہ ہی میں معصوم ہوں اور یہ مسلم قاعدہ ہے۔ ’’أَلْمَرْئُ یُؤَخِذُ بِاِقْرَارِہٖ‘‘ کہ آدمی اپنے اقرار سے پکڑا جاتا ہے۔‘‘

’’لیکن افسوس کہ بٹالوی صاحب نے یہ نہ سمجھا کہ نہ مجھے نہ کسی انسان کو بعد انبیاء علیہم السلام کے معصوم ہونے کا دعویٰ ہے۔‘‘ (کرامات الصادقین ص۵، خزائن ج۷ ص۴۷)

’’سیرت المہدی‘‘ میں سات صد روپیہ پنشن کی رقم کے اڑائے۔ حوالہ گذر چکا ہے۔

کیا یہ اپنے معصوم نہ ہونے کا کھلا اقرار نہیں؟ بچے تھے کہ کوئی دھوکہ دے سکتا ہے یا پھسلا سکتا ہے؟ اور پھر ادھر ادھر پھرانے کا کیا مطلب ہے؟ یہ بات تو قطعی ہے کہ کسی دینی کام یا مسجد ومدرسہ میں نہیں گئے ہوںگے اور نہ یہ رقم کسی اچھی جگہ خرچ کی ہوگی۔ ’’ادھر ادھر‘‘ سے اگر بازار حسن مراد نہیں تو اور کون سی جگہ ہوگی جو مرزاقادیانی کو پسند آئی ہوگی۔ اگر یہ کوئی شرمناک وارداتیں نہ تھیں تو مرزاقادیانی کو شرم کیوں آئی جو وہ سیالکوٹ بھاگ گئے؟

اب مرزائیوں سے ہمارا سوال یہ ہے کہ وہ اتنی خطیر رقم کا حساب دیں کہ کہاں کہاں خرچ ہوئی؟ بصورت دیگر مرزاقادیانی کی عصمت باقی نہیں رہتی اور یہ دعویٰ کہ مرزاقادیانی کے دعویٰ نبوت سے قبل کی زندگی بالکل بے داغ تھی۔ بالکل باطل ہو جاتا ہے۔

جواب نمبر:۹…

محمد عربی ﷺ نے سب سے پہلے اپنے قریب کے آدمیوں کوبلا کر ان کے سامنے اپنی صفائی کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے یک زبان ہوکر اعلان کیا:’’جَرَّبْنَاکَ مِرَارًا فَمَا وَجَدْنَا فِیْکَ اِلَّاصِدْقًا‘‘ کہ ہم نے باربار آپ کو آزمایا اور ہر بار ہم نے آپ ﷺ میں سچائی ہی پائی۔

اس کے برعکس مرزاقادیانی نے اپنی صفائی مولوی محمد حسین بٹالوی (آئینہ کمالات اسلام ص۳۱۱، خزائن ج۵ ص۳۱۱) سے پیش کروائی ہے جو کہ کچھ عرصہ ہی اس کے ساتھ رہے تھے۔ پھر وہ مرزاقادیانی کے شہر اور گاؤں کے رہنے والے بھی نہ تھے اور اس میں بھی شک نہیں ہوسکتا کہ مرزاقادیانی کی حقیقت واضح ہونے پر انہوں نے اپنی سابقہ تحریر سے رجوع کر لیا۔ (دیکھئے آئینہ کمالات اسلام حوالہ مذکورہ) اسی طرح حضور ﷺ کی صفائی آپ کے قبیلہ کے سردار حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے ہر قل بادشاہ کے سامنے اسلام لانے سے قبل پیش کی تھی اور اسی طرح حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا جو آپ ﷺ کی رفیقۂ حیات ہیں۔ انہوں نے آپ کی پہلی زندگی کی صفائی پیش کی۔ جب حضرت جبرائیل امین علیہ السلام آپ ﷺ کی طرف پہلی دفعہ تشریف لائے تھے اور اسی طرح آپ ﷺ کی آخری اور پوری زندگی کی صفائی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پیش کر رہی ہیں۔ ’’کَانَ خُلُقُہُ الْقُرْاٰنُ‘‘ آپ ﷺ کا اخلاق قرآن ہے۔‘‘

اظہار غیب

تحریف نمبر:۴… ’’فَلَا یُظْہِرُ عَلٰی غَیْبِہٖ أَحَدًا اِلَّا مَنِ ارْتَضٰی مِنْ رَّسُوْلٍ (الجن:۲۶،۲۷)‘‘

اس آیت مبارکہ کی مکمل اور شافی تفصیل (قادیانی شبہات کے جوابات جلد اوّل ص۱۴۴ تا ۱۴۷)پر ملاحظہ فرمائیں۔

سلسلہ کی حفاظت وغلبہ

تحریف نمبر:۵… ’’اِنَّہٗ لَا یُفْلِحُ الظَّالِمُوْنَ (انعام:۲۱)‘‘

۲… ’’کَتَبَ اللّٰہُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِیْ (مجادلہ:۲۱)‘‘

607

۳… ’’اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّا لَہٗ لَحَافِظُوْنَ (الحجر:۹)‘‘

اور وہ اپنے سلسلہ کی خود حفاظت کرتا ہے۔ کیونکہ ﷲ تعالیٰ بدکار اور گنہگار کو کبھی کامیاب نہیں کرتا۔ مگر مرزا قادیانی کی جماعت روز بروز بڑھ رہی ہے اور اس کو اپنی سکیم میں بڑی کامیابی نصیب ہوئی اور دشمن پر ان کا غلبہ ہورہا ہے۔

تحقیق…

معنے آیت کے یہ ہیں کہ بدوں کو اگرچہ ابتداء میں کچھ کامیابی نظر آتی ہے۔ لیکن انجام کار وہ ذلیل اور رسوا ہوتے ہیں، اور ان کا جھوٹ سب پر ظاہر ہوجاتا ہے، اور آخرت میں ان کو عذاب دیا جاتا ہے۔

موسیٰ علیہ السلام کے مقابلہ میں آنے والے ساحروں کے ساتھ حکومت کی امداد تھی۔ لیکن حق غالب ہوکر رہا اور ابتداء میں سوائے اظہار حق کے فرعونیوں کے مرنے یا ہلاک ہونے کے ساتھ غلبہ کا اظہار نہیں تھا۔ بلکہ ظاہر نظر میں موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لانے والے ساحروں کو پھانسی کی سزا دے کر فرعون نے اپنا غلبہ بحال رکھا۔ لیکن جب حق وباطل کے فیصلہ کا وقت آیا تو فرعون مع اپنے لشکر کے ہلاک ہوگیا اور موسیٰ علیہ السلام مع اپنے ساتھیوں کے صحیح سلامت زندہ رہے۔ مرزا قادیانی کے دعویٔ باطلہ کا انکشاف اچھی طرح ہوچکا ہے اور بارہا حق کے مقابلہ میں مرزا قادیانی کو شکست ہوچکی ہے۔ اگر عیش کی زندگی اور کثرت تعداد صداقت کی نشانی ہے تو دنیا کے تمام فرق باطلہ سچے ہونے چاہئیں؟ کیونکہ ان کی تعداد ہر زمانہ میں مسلمانوں سے کئی گنا زیادہ اور دولت مند ہوتی چلی آئی ہے اور ﷲ تعالیٰ کافروں کی بھی حفاظت کرتا ہے اور ان کی ترقی بھی ہوتی ہے تو وہ بھی خدائی سلسلہ ہونا چاہئے؟ لاحول ولاقوۃ الابِاللہ!

مرزاقادیانی اور مخالفین

تحریف نمبر:۶… ’’وَاِنْ یَّکُ صَادِقًا یُّصِبْکُمْ بَعْضُ الَّذِیْ یَعِدُکُمْ (مؤمن:۲۸)‘‘ مرزا قادیانی جو کچھ دشمنوں کے لئے کہتا رہا وہ بات پوری ہوتی رہی۔

تحقیق…

اس آیت کی رو سے تو مرزا قادیانی کا جھوٹا ہونا ثابت ہوتا ہے۔ کیونکہ جتنی وعیدیں مرزا قادیانی نے اپنے مخالفوں کے حق میں کی تھیں وہ اس پر وارد ہوتی رہیں۔

مثلاً:

مرزا غلام احمد قادیانی نے مولانا ثناء ﷲ امرتسری رحمۃ اللہ علیہ سے متعلق کہا: کہ اس عاجز نے آخری فیصلہ کے طور پر ایک اشتہار شائع کیا جس کا متن (مجموعہ اشتہارات ج۳ص۵۷۹) پر ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔

جس میں مرزا قادیانی نے کہا: ’’کہ اگر میں ایسا ہی کذاب اور مفتری ہوں جیسا کہ اکثر اوقات آپ اپنے پرچہ میں مجھے یاد کرتے ہیں تو میں آپ کی زندگی میں ہی ہلاک ہوجائوں گا۔‘‘ چنانچہ مرزا غلام احمد قادیانی ۱۹۰۸ء میں آنجہانی ہوگیا اور مولانا امرتسری رحمۃ اللہ علیہ اس کے بعد ۹سال تک زندہ سلامت باکرامت رہے۔

اسی طرح عبد ﷲ آتھم عیسائی پادری سے متعلق مرزا غلام احمد قادیانی نے الہام جڑا تھا۔ جس کی تفصیل (جنگ مقدس ص۲۰۹تا۲۱۱، خزائن ج۶ص۲۹۱تا۲۹۳) پر دیکھی جاسکتی ہے۔ اس میں لکھا ہے۔

’’وہ فریق جو خدا تعالیٰ کے نزدیک جھوٹا ہے وہ پندرہ ماہ کے عرصہ میں آج کی تاریخ سے بہ سزائے موت ہاویہ میں گرایا جائے گا۔‘‘ لہٰذا مرزا غلام احمد قادیانی اس عیسائی پادری کے مقابلہ میں بھی جھوٹا ہوا اور دشمن اسی مدت کے اندر ہاویہ میں نہ گرا۔ بلکہ مرزاناکامی کے ہاویہ میں گرادیاگیا۔

مرزا غلام احمد قادیانی کے مخالفوں میں ایک نام ڈاکٹر عبدالحکیم پٹیالوی صاحب کا بھی ہے جو پہلے مرزا غلام احمد

608

قادیانی کے مخلص مرید تھے۔ مگر احقاق حق ہونے کے بعد ابطال باطل میں ایسے لگے کہ مرزا قادیانی کے کفریہ عقائد ونظریات کو طشت از بام کرنے میں لگ گئے اور مرزائیت کے تار پود بکھیردئیے اور کہا کہ مرزا غلام احمد قادیانی اگست ۱۹۰۸ء سے پہلے مرجائے گا۔ (مجموعہ اشتہارات ج۳ص۵۹۱)

چنانچہ مرزا غلام احمد قادیانی مئی ۱۹۰۸ء میں مرگیا ؎

خس کم جہاں پاک شد

اسی طرح مرزا قادیانی اور مشہور عالم دین مولانا عبدالحق غزنوی رحمۃ اللہ علیہ کے درمیان ۱۰؍ذیقعدہ ۱۳۱۰ھ بمطابق ۱۴؍مئی ۱۸۹۳ء کو امرتسر کی عیدگاہ میں مباہلہ ہوا۔ مباہلہ اس امر پر ہوا کہ مولانا نے کہا: کہ مرزا قادیانی اور اس کے سب متبعین دجال، کافر، ملحد اور بے دین ہیں۔ واضح رہے کہ مرزا قادیانی نے اپنے مرنے سے سات ماہ ۲۴دن قبل ۲؍اکتوبر۱۹۰۷ء کو یہ اصول بیان کیا تھا کہ: ’’مباہلہ کرنے والوں میں سے جو جھوٹا ہو وہ سچے کی زندگی میں ہلاک ہوجاتا ہے۔‘‘

(ملفوظات ج۹ص۴۴۰)

خدا کی مشیت کہ اسی اصول کے مطابق مرزا قادیانی مولانا غزنوی رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی میں ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء بروز منگل بمرض ’’وبائی ہیضہ‘‘ ہلاک ہوگیا اور مولانا غزنوی رحمۃ اللہ علیہ اس کے بعد پورے نوسال بقید حیات رہے۔ ۱۶؍مئی ۱۹۱۷ء کو راہی ملک بقاء ہوئے (رحمہ ﷲ تعالیٰ رحمۃ واسعۃ) اس اعتبار سے مرزا قادیانی خود اپنے مباہلہ اور بیان کردہ اصول کے مطابق جھوٹااور مفتری قرار پایا۔ اس کے بعد مزید کسی شہادت کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔

اسمہ کا مصداق مرزا

تحریف نمبر: ۷… ’’وَمُبَشِّرًا بِرَسُوْلٍ یَّأْتِیْ مِنْ بَعْدِی اِسْمُہٗ اَحْمَدْ (الصف:۶)‘‘ اگر بعینہ عیسیٰ علیہ السلام قیامت سے پہلے تشریف لائیںگے تو رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے اور عیسیٰ بعد میں ہو جائیںگے۔ باوجود یہ کہ آیت میں رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے اور عیسیٰ علیہ السلام کے بعد مذکور ہے۔

تحقیق…

آیت میں بعد سے بعدیت زمانی یا مغائرت مراد نہیں۔ کیونکہ غزوۂ تبوک پر جاتے ہوئے جب حضرت علی رضی اللہ عنہ کو آپ ﷺ نے مدینہ کا امیر مقرر کیا اور غزوہ میں اپنے ساتھ نہ لینے سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو رنجیدہ دیکھا تو ان کو تسلی دیتے ہوئے یہ ارشاد فرمایاتھا کہ: ’’اَنْتَ مِنِّیْ بِمَنْزِلَۃِ ہَارُوْنَ مِنْ مُّوْسٰی وَلٰکِنَ لَّا نَبِیَّ بَعْدِیْ (بخاری ج۱ ص۴۲۰ مناقب حضرت علی رضی اللہ عنہ)‘‘ اگر بعد سے مراد بعدیت زمانی ہے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نبوت کی نفی نہیں ہوتی۔ کیونکہ وہ حضور ﷺ ہی کے زمانہ میں اور آپ ہی کے سامنے موجود تھے۔ باوجود یہ کہ آیت میں دونوں باتوں کی نفی کرنی مقصود ہے، اور لفظ لکن کا بھی یہی تقاضہ ہے۔ اگرچہ موسیٰ علیہ السلام کی موجودگی میں ہارون علیہ السلام نبی تھے۔ مگر اے علی رضی اللہ عنہ تو نبی نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ میرے علاوہ کوئی دوسرا نبی نہیں آئے گا، اور ایسے ہی مغائرت کے معنے بھی نہیں ہوسکتے۔ کیونکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ رسول خدا ﷺ کے تابع اور موافق تھے۔ مستقل مخالف نہیں تھے اور بحیثیت تابع ہونے ہی کے ان سے نبوت کی نفی کی گئی ہے۔ اس لئے بعد سے مراد یا دوسرا نبی ہے۔ یعنی سلسلۂ نبوت میں کوئی اور نبی آنے والا باقی نہیں رہا۔ اس لئے اے علی رضی اللہ عنہ تو بھی نبی نہیں ہوسکتا۔ اس میں پہلے نبی کے زندہ موجود ہونے رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں آنے کی نفی نہیں ہوتی۔ حدیث شریف میں ہے کہ: ’’لَوْکَانَ مُوْسٰی حَیًّا لَّمَا وَسِعَہٗ اِلَّا اِتِّبَاعِیْ

(مشکوٰۃ ص۳۰ باب

609

الاعتصام بالکتاب والسنۃ)‘‘

’’اگر آج موسیٰ علیہ السلام بھی زندہ ہوتے تو ان کو میری ہی اتباع کرنی پڑتی۔‘‘ معلوم ہوا کہ پہلا نبی حضور ﷺ کے زمانہ یا بعد میں موجود ہوسکتا ہے اور اس سے ختم نبوت پر کوئی حرف نہیں آتا۔ ولاغیر!

یہاں بعد کے معنے غیر کے ایسے ہی ہیں جیسا کہ اس حدیث میں ہیں: ’’قَالَتْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ أَقُتِلَ مِنْ بَعْدِنَا مِنَ الطُّلَقَاء‘‘ نووی نے مسلم کی شرح میں ’’من بعدنا‘‘ کے معنے میں ’’سوانا‘‘ کئے ہیں۔ اسی طرح ’’ أَوَّلْتُہُمَا کَذَّابَیْنِ یَخْرُجَانِ بَعْدِیْ أَحَدُہُمَا عَنْسِیُّ وَالْاٰخِرُ مُسَیْلَمَۃُ‘‘ میں بعدی سوائی کے معنوں میں ہے۔ ورنہ اسود عنسی اور مسیلمہ دونوں نے نبی عربی ﷺ کی زندگی ہی میں نبوت کا دعویٰ کیاتھا۔ جیسا کہ بخاری کی دوسری روایت کے الفاظ ’’اَلْکَذَّابَیْنِ الَّذَیْنِ اَتَابَیْنَہُمَا‘‘ سے ظاہر ہے۔ د وسری آیت ’’کَذَلِکَ اَرْسَلْنَکَ فِیْ اُمَّۃٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہَا اُمَمٌ (رعد:۳۰)‘‘ میں یہودونصاریٰ کو امم قبل، اور اس امت کو مابعد کہا ہے۔ لیکن باوجود اس بات کے امم ماضیہ اسی طرح موجود اور زندہ ہیں۔ اگر امم ماقبل، امت مابعد کے ساتھ جمع اور اس کے زمانہ میں زندہ موجود ہوسکتی ہیں تو کیا وجہ ہے کہ نبی ماقبل، نبی مابعد کے سامنے یا اس کے پیچھے نہیں آسکتا؟ ’’مَاہُوَ جَوَابُکُمْ فَہُوَ جَوَابُنَا‘‘

۲… قرآن وحدیث اور تمام شرائع سابقہ میں نبی اس کو کہتے ہیں۔ جو اپنے ہر عمل میں پہلی شریعت کا تابع نہ ہو۔ بلکہ اس کی ذات خاص کے لئے بعض احکام میں وحی نبوت اس پر نازل ہو۔ البتہ تبلیغ اور پیغام رسانی میں شریعت سابقہ کی اتباع کرے، اور اپنے مخصوص احکام کو غیر تک نہ پہنچائے اور رسول وہ ہے۔ جس کو ایسی شریعت عامہ عطاء فرمائی جائے۔ جس کی پابندی امت اور نبی دونوں پر لازمی ہو۔ اس مختصر تمہید کے بعد یاد رکھئے کہ عیسیٰ علیہ السلام آمد ثانی کے وقت ہر حکم میں شریعت محمدیہ (علیٰ صاحبہا الف الف تحیۃ) کی اتباع کریںگے، اور کوئی حکم ان کی ذات خاص کے لئے نازل نہ ہوگا، اور نہ وحی نبوت ان پر اتریگی اور نہ وہ نبی تشریعی ہوںگے۔ اگرچہ ان کا مرتبہ نبیوں جیسا ہوگا۔ مگر وحی نبوت اور شریعت خاصہ نازل ہونے کی وجہ سے وہ شرعی اصطلاح میں نئے نبی نہیں کہلائیںگے۔

جس طرح قیامت کے دن تمام انبیاء اور رسل علیہم السلام اسی نام کے ساتھ پکارے جائیں گے۔ لیکن منصب نبوت تبلیغ وتشریح اور نزول وحی وغیرہ کچھ نہیں ہوگا۔

اسی لئے عیسیٰ علیہ السلام کی آمد ثانی ختم نبوت کے ہرگز مخالف نہیں ہے۔

۳… مرزاغلام احمد قادیانی کا اصل نام جو اس کے ماں باپ نے رکھا وہ غلام حمد ہے، اور مرزاقادیانی ساری زندگی یہی لکھتا رہا ہے۔ اس کا نام آیت کے مطابق صرف احمد نہیں تھا۔ بلکہ یہ تو غلام احمد تھا۔ تو پھر غلام احمد ’’اسمہ احمد‘‘ کا مصداق کیسے ہوگیا؟

۴… اگر احمد سے مراد مرزاغلام احمد قادیانی ہے تو پھر یہ مسیح موعود یا مہدی کیسے ہوگیا؟ اس لئے کہ مسیح موعود اور مہدی میں سے کسی کا نام احمد نہیں ہے۔

لطیفہ:

ایک مرتبہ ایک قادیانی نے حضرت امیر شریعت سید عطاء ﷲ شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے سامنے یہ بات کہہ دی کہ اس آیت میں احمد سے مراد غلام احمد ہے تو آپ شاہ جی رحمۃ اللہ علیہ نے فی البدیہہ فرمایا: کہ اگر غلام احمد سے مراد احمد ہے تو پھر عطاء ﷲ سے مراد صرف ’’ ﷲ‘‘ ہوسکتا ہے۔ غلام احمد سے مراد احمد کہتے ہو تو پھر عطاء ﷲ سے مراد بھی ﷲ لے لو۔ اگر ﷲ مانو

610

گے تو میرا پہلا حکم یہ ہے کہ غلام احمد قادیانی جھوٹا ہے۔ اسے میں نے نبی نہیں بنایا۔ پس شاہ جی کی حاضر جوابی سے قادیانی بھاگ گیا۔

عذاب

تحریف نمبر: ۸… ’’مَاکُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰی نَبْعَثَ رَسُوْلاً (بنی اسرائیل: ۱۵)‘‘ ’’یعنی خداتعالیٰ جب کسی قوم پر عذاب بھیجنا چاہتا ہے تو پہلے اپنا ایک رسول بھیجتا ہے۔‘‘ جس کی وہ تکذیب کرتے ہیں، اور اس کی وجہ سے ان پر عذاب نازل ہوجاتا ہے۔ چونکہ اس زمانہ میں مصیبتیں عام ہورہی ہیں۔ اس لئے خدائی قانون کے موافق کوئی رسول بھی آنا چاہئے اور وہ مرزا غلام احمدقادیانی ہیں۔

اس آیت مبارکہ کا تفصیلی جواب (قادیانی شبہات کے جوابات جلد اوّل ص۱۲۳سے ص۱۲۵) تک ملاحظہ فرمائیں۔ جزاک ﷲ!

مرزا سے استہزاء

تحریف نمبر:۹… ’’یَاحَسْرَۃً عَلَی الْعِبَادِ مَایَأْتِیْہِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا کَانُوْابِہٖ یَسْتَہْزِئُ وْنَ (الحجر:۱۱)‘‘ چونکہ رسولوں سے استہزاء اور مذاق کیا جاتا تھا اور مرزا سے بھی استہزاء کیاگیا۔ اس لئے وہ سچا ہے۔

تحقیق…

اس آیت کا مفاد صرف اس قدر ہے کہ رسولوں سے استہزاء اور تمسخر کیاگیا۔ اس کے یہ معنے ہرگز نہیں ہیں کہ جس کا تمسخر اور مذاق اڑایا جائے وہ رسول بھی بن گیا۔ ورنہ تو کافروں کو رسول ہونا چاہئے۔ کیونکہ ان سے ﷲ اور اس کے رسولوں نے استہزاء اور تمسخر کیا ہے۔ جیسا کہ قرآن عزیز کی ان آیتوں سے ظاہر ہے کہ: ’’اَللّٰہُ یَسْتَہْزِیُٔ بِہِمْ (البقرہ:۱۵)‘‘ ﷲ کافروں سے استہزاء کرتا ہے۔ ’’وَکُلَّمَا مَرَّعَلَیْہِ مَلَأٌمِّنْ قَوْمِہٖ سَخِرُوْامِنْہُ قَالَ اِنْ تَسْخَرُوْا مِنَّا فَأِنَّا نَسْخَرُ مِنْکُمْ کَمَا تَسْخَرُوْنَ (ہود:۳۸)‘‘ جب ان (نوح علیہ السلام) کے پاس سے کافروں کی جماعت گذرتی تو ان (نوح علیہ السلام) کا مذاق اڑاتے ۔ انہوں نے کہا اگر تم ہمارا مذاق اڑاتے ہوتو ہم تمہارا مذاق اڑاتے ہیں۔

پھر دعویٰ ہے۔ نبوت ظلیہ کا اور ثبوت میں روایت پیش کی جا رہی ہے۔ جس میں صاحب شریعت رسولوں کے متعلق خبر دی گئی ہے۔ لہٰذا دلیل اور دعوے میں تطابق نہ ہونے کی وجہ سے استدلال ہی غلط ہے۔ اس کے بعد احادیث کے متعلق مغالطے دیئے گئے جن میں سے اکثر کا جواب گذشتہ صفحات میں گذر چکا ہے۔ چند یہاں بھی ذکر کئے جاتے ہیں اور بعض کی حیثیت خرافات سے زیادہ نہیں تھی۔ اس لئے ان کے جواب دینے کی ضرورت نہیں سمجھی گئی۔

احادیث نبویہ سے مغالطہ دہی کے جوابات

اونٹوں کا بیکار ہونا

مغالطہ نمبر: ۱… ’’وَلَیُتْرَکُنَّ الْقَلَاصُ فَلَا یَسْعٰی عَلَیْہَا وَاِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْ… الخ‘‘ مسیح موعود کے زمانہ میں اونٹوں کی سواری ترک کر دی جائے گی اور اسی طرف آیت میں پیش گوئی کی گئی ہے۔ جو مرزاقادیانی کے زمانہ میں پوری ہوگئی۔

611

تصحیح…

حدیث میں اونٹوں کی سواری متروک ہونے سے مکہ اور مدینہ کے درمیان متروک ہونا مراد ہے۔ تمام دنیا میں مراد نہیں۔ چنانچہ خود مرزاقادیانی نے مکہ اور مدینہ کے درمیان ریل جاری ہونے کو مسیح موعود کی نشانی قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ: ’’مدینہ اور مکہ کے درمیان جو ریل تیار ہو رہی ہے یہی اس پیش گوئی کا ظہور ہے۔ جو قرآن اور حدیث میں ان لفظوں سے کی گئی تھی۔ مسیح موعود کے وقت کا یہ نشان ہے۔‘‘ (اعجاز احمدی ص۲، خزائن ج۱۹ ص۱۰۸)

مگر مکہ اور مدینہ کے درمیان اب تک اونٹ کی سواری متروک نہیں ہوئی۔ جب اونٹوں کی سواری کے ترک کو مشروط کیا ریل چلنے سے۔ جب ریل جاری نہ ہوئی تو بنائے دلیل باطل ہوگئی۔ آج کل وہاں موٹروے ہے۔ ریل کی تیاری کا سن رہے ہیں۔ اتنا عرصہ مرزاقادیانی کے اعلان کی نحوست سے تاخیر واقع ہوئی۔ موٹر موجود ہے۔ ریل کی تیاری ہو جائے تب ہی وہاں سے سفر کریں تو اونٹوں کے ڈار کے ڈار پہاڑوں میں سفر کرتے بوجھ اٹھاتے پھرتے نظر آتے ہیں۔ ایک ایک اونٹ کا وجود مرزاقادیانی کے کذب کی دلیل ہے۔ اس لئے مرزاقادیانی اپنے دعوے میں جھوٹے تھے۔ نیز اگر تمام دنیاسے اونٹ کی سواری متروک ہونی مراد ہوتو وہ بھی اب تک نہیں پائی گئی۔ عرب، بلوچستان، سندھ وغیرہ ریگستانی علاقوں میں اونٹ کی سواری عام ہے اور وہاں ریل جاری نہیں ہوئی۔آیت میں قیامت کا ذکرہے۔ مسیح موعود کی نشانی مذکور نہیں۔ جیسا کہ : ’اِذَا السَّمَآئُ کُشِطَتْ (التکویر :۴)‘‘

’’وَاِذَا الْجَحِیْمُ سُعِّرَتْ وَاِذَا الْجَنَّۃُ اُزْلِفَتْ (التکویر:۱۲،۱۳)‘‘ سے ظاہر ہے ۔ کیونکہ ہر نفس کا اپنے صحیفۂ عمل کو پڑھنا قیامت ہی کے دن ہوگا۔ اس لئے اذظرفیہ سے بھی قیامت ہی کا دن مراد ہے۔

مغالطہ نمبر: ۲…

مسیح کے دو حلیے آئے ہیں۔ اس لئے مسیح بھی دو ہونے چاہئیں۔

تصحیح…

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حلیے حدیث میں تین طرح مذکور ہیں اور موسیٰ کے دوطرح۔ لہٰذا مرزائی تحقیق کے موافق مسیح علیہ السلام تین اور موسیٰ علیہ السلام دو ہونے چاہئیں اور نیز رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے حلیہ میں بھی الفاظ مختلف آئے ہیں۔ اس لئے وہ بھی متعدد ہوںگے؟۔ دراصل اختلاف الفاظ کی جو وجہ مرزاقادیانی نے سمجھ لی ہے وہ غلط ہے۔ بلکہ اس کی یہ وجہ ہے کہ حلیہ بیان کرنے والے نے صاحب حلیہ کے مختلف اوصاف میں سے کبھی کسی وصف کا اعتبار کر لیا اور کبھی کسی کا۔ جس طرح کہ عیسیٰ علیہ السلام کے حلیہ کے بیان میں کہاگیا ہے اور اس کی مزید تحقیق حیات مسیح کے تحت میں گذر چکی ہے۔

مغالطہ نمبر: ۳…

’’لَا مَہْدِیَّ اِلَّا عِیْسٰی‘‘ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مہدی علیہ السلام ہی عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔ ان کے علاوہ کوئی اور عیسیٰ آنے والا نہیں ہے۔

تفصیل کے لئے ملاحظہ فرمائیں۔

(قادیانی شبہات کے جوابات جلد دوم ص۳۷۷، زیر بحث قادیانی سوال نمبر۳۳)

مغالطہ نمبر: ۴…

مہدی جب مبعوث ہوگا تو اس کی عمر چالیس سال ہوگی۔

(کنز العمال ج۱۴ ص۲۶۷ حدیث نمبر۳۸۶۸۰)

تصحیح…

مرزاقادیانی کی عمر دعوے کے وقت ۳۵سال یا ۴۲یا ۴۵سال تھی۔ پورے چالیسویں سال دعویٰ ہی نہیں ہوا۔ اس لئے وہ مہدی نہ تھے۔

پہلے نام، پھر عمر، مرزاقادیانی کا نام ہی مہدی سے نہیں ملتا تو عمر کی بحث سے سوائے رسوائی کے مرزائیوں کو اور کیا ملے گا۔

612

مغالطہ نمبر: ۵…

نزول عیسیٰ علیہ السلام کے وقت سب لوگ ایمان نہیں لائیںگے۔ (تفسیر روح المعانی ج۲ ص۶۰۰)

تصحیح…

بے شک نزول کے وقت سب ایمان نہیں لائیںگے۔ لیکن بعد میں جتنے زندہ بچیںگے وہ سارے مسلمان ہوجائیںگے۔ خود مرزاقادیانی کو بھی اس بات کا اقرار ہے۔ چنانچہ لکھتا ہے: ’’جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیںگے۔ تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق اور اقطار میں پھیل جائے گا۔‘‘

(براہین احمدیہ حصہ۴، ص۴۹۹، خزائن ج۱ ص۵۹۳)

مرزاقادیانی کا بعد میں دعویٰ کرنا کہ میں مسیح ہوں۔ اس حوالہ کی رو سے چاہئے کہ اگر مرزاقادیانی مسیح ہیں تو روئے زمین کے کافر مرزاقادیانی کے ہاتھ پر اسلام قبول کر لیتے۔ روئے زمین کے کافروں کا اسلام قبول کرنا تو رہا اپنی جگہ۔ الٹا مرزاقادیانی نے کہہ دیا کہ: ’’ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے اسلام قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں ہے۔‘‘

(تذکرہ ص۶۰۷، روایت نمبر۱۱۷۵)

گویا مرزاقادیانی کے آنے سے روئے زمین کے کافر مسلمان ہونے کی بجائے روئے زمین کے مسلمان کافر ہوگئے۔ پھر مرزاقادیانی نے کہا کہ مسلمان وہ جو مجھے مانے، گویا مسلمان صرف مرزاقادیانی کے ماننے کا نام ہے، اب مرزاقادیانی کے ماننے والوں کا لاہوری، قادیانی گروپ کی شکل میں اختلاف ہوا۔ لاہوریوں نے کہا مرزاقادیانی نبی نہیں تھا۔ جو غیرنبی کو نبی کہے وہ کافر۔ گویا لاہوریوں کے نزدیک قادیانی کافر۔

قادیانیوں نے کہا کہ مرزاقادیانی نبی تھا۔ جو نبی کو نبی نہ مانے وہ کافر گویا قادیانیوں کے نزدیک لاہوری کافر۔ مرزاقادیانی نے کہا کل روئے زمین کے مسلمان کافر۔

لاہوریوں نے کہا کہ قادیانی کافر۔

قادیانیوں نے کہا کہ لاہوری کافر۔

نتیجہ یہ کہ مرزاقادیانی کے آنے سے روئے زمین پر کوئی مسلمان نہ رہا۔ اب قادیانی بتائیں کہ مسیح کی یہ علامت مرزاقادیانی میں پائی گئی؟ یا نہیں؟

خسوف وکسوف

مغالطہ نمبر: ۶…

’’اِنَّ لَمَہْدَیْنَا آیَتَیْنِ لَمْ تَکُوْنَا مُنْذُخَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْأَرْضَ تَنْکَسِفُ الْقَمَرُ لِاَوَّلِ لَیْلَۃٍ مِّنْ رَمَضَانَ وَتَنْکَسِفُ الشَّمْسُ فِی النِّصْفِ مِنْہُ (دار قطنی ج۲ ص۶۵ بَابُ صِفَۃِ صَلَاۃِ الْخُسُوْفِ وَالْکُسُوْفِ)‘‘چاند گرہن۱۳،۱۴،۱۵ سورج گرہن ۲۷،۲۸،۲۹۔

(کتاب التعارض بین العقل والنقل ص۲۴۶ احمدیہ پاکٹ بک ص۳۸۹)

تصحیح…

یہ قول رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کا نہیں ہے اور نہ متصلًایا مرسلاًآنحضرت ﷺ سے نقل کیاگیا ہے۔ بلکہ محمد بن علی کاکشف ہے اور کشف اس جگہ دو وجہ سے حجۃ نہیں ہوسکتا۔

۱… محمد بن علی غیر معلوم آدمی ہے، اور اگر مرزاقادیانی کی اس بات کو مان لیں کہ محمد بن علی سے مراد امام محمد باقر رحمۃ اللہ علیہ ہیں، تو پھر بھی یہ روایت ازروئے سند کے غیر معتبر ہے۔ کیونکہ اس میں عمروبن شمر راوی ہے اور ’’میزان الاعتدال‘‘ میں اس کے متعلق یہ لکھا ہوا ہے: ’’لَیَسَ بِشَیْیئٍ یَشْتِمُ الصَّحَابَۃَ، وَیَرْوِی الْمَوْضُوْعَاتِ عَنِ الثِّقَاتِ‘‘ ممکن ہے کہ یہ

613

حدیث بھی اس نے گھڑ کر محمد باقر رحمۃ اللہ علیہ کی طرف منسوب کردی ہو اور مرزاقادیانی کا (ایام الصلح اردو کے ص۸۰، خزائن ج۱۴ ص۳۱۵) پر تسلیم کرتے ہوئے کہ کسوف وخسوف… امام باقر رحمۃ اللہ علیہ سے مہدی کا نشان قراردیاگیا ہے۔ پھر اس کو رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث اس لئے بتایا کہ سوائے نبی کے کوئی غیب کی خبر نہیں دیتا۔ جیسا کہ ’’حاشیہ تحفہ گولڑویہ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ: ’’دوسری گواہی اس حدیث کے صحیح اور مرفوع متصل ہونے پر آیت ’’فَلَا یُظْہِرُ عَلٰی غَیْبِہٖ أَحَدًا اِلَّا مَنِ ارْتَضٰی مِنْ رَّسُوْلٍ‘‘ میں ہے۔ کیونکہ یہ آیت علم غیب صحیح اور صاف کا رسولوں پر حصر کرتی ہے۔ جس سے بالضرورت متعین ہوتا ہے کہ ’’اِنَّ لَمَہْدَیْنَا‘‘ کی حدیث بلاشبہ رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے۔‘‘ (تحفہ گولڑویہ ص۲۹، خزائن ج۱۷ ص۱۳۵ حاشیہ)

صحیح نہیں کیونکہ حدیث کی حجت اور اتصال کا انوکھا طریقہ ہونے کے علاوہ لازم آتا ہے کہ باعتبار اس ضابطہ کے جو خبریں بھی غیب سے تعلق رکھیں گی۔ وہ یا احادیث ہوںگی یا اس کی خبر دینے والا خود رسول ہوگا۔ دونوں باتوں میں سے ایک بات ضرور ماننی پڑے گی۔ اس لئے ہندو، بددین، کنجر، خاکروبہ وغیرہ کی ایسی خبریں بھی نعوذ بِاللہ حدیث ہوںگی۔ یا وہ خود رسول ہوںگے۔ لا حول ولا قوۃ!

کیونکہ مرزاقادیانی نے ان سب کو صاحب کشف وشہود بتایا ہے۔ ملاحظہ ہو۔

’’خواب تو چوڑھوں چماروں اور کنجروں کو بھی آجاتے ہیں اور وہ سچے بھی ہوجاتے ہیں۔ ایسی چیز پر فخر کرنا لعنت ہے۔ فرض کرو ایک شخص کو چند خوابیں آگئیں اور وہ سچی بھی ہوگئیں۔ اس سے کیا بنتا ہے۔‘‘ (ملفوظات ج۱۰ ص۹۳)

’’ہر ایک فرقہ کے لوگ خوابیں دیکھتے ہیں اور بعض خوابیں سچی بھی نکلتی ہیں۔ بلکہ بعض فاسقوں فاجروں اور مشرکوں کی بھی خوابیں سچی ہوتی ہیں اور الہام بھی ہوتے ہیں۔‘‘

(چشمہ معرفت ص۳۰۱، خزائن ج۲۳ ص۳۱۶)

پھر حدیث میں بھی تصریح ہے کہ جب سے زمین وآسمان بنا ہے۔ ایسا اجتماع مہدی علیہ السلام کے زمانہ تک کبھی ظہور میں نہیں آیا ہوگا۔ وہ یہ ہے کہ رمضان کی پہلی تاریخ کو چاند گرہن اور اسی رمضان کی پندرھویں تاریخ کو سورج گرہن ہوگا۔

نظام شمسی وقمری میں آج تک کبھی ایسا نہیں ہوا کہ پہلے دن چاند گرہن اور پندرھویں تاریخ سورج گرہن ہو۔ چنانچہ خود مرزاقادیانی بھی اس امر کو تسلیم کرتا ہے کہ ہمیشہ سے چاند گرہن ۱۳،۱۴،۱۵ کو اور سورج گرہن ۲۷،۲۸،۲۹ ماہ کو ہوتا رہا ہے۔ جیسا کہ ’’کتاب التعارض‘‘ سے نقل کیا ہے۔ یعنی چاند اور سورج کو ان کی مقررہ تین تاریخوں میں سے ایک نہ ایک دن ضرور گرہن لگتا ہے۔

دنیا جانتی ہے کہ مرزاقادیانی کے زمانہ میں رمضان کی پہلی اور پندرھویں تاریخ کو خلاف عادت چاند سورج کا گرہن نہیں ہوا۔ بلکہ مقررہ اوقات میں سے کسی ایک وقت میں گرہن ہواتھا۔ اس لئے ۱۳تاریخ کا ’’خسوف‘‘ اور ۲۸ کا ’’کسوف‘‘ کسی صورت میں نشانی نہیں بن سکتا: ورنہ ’’لَمْ یَکُوْنَا مُنْذَ خَلَقَ اللّٰہُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ‘‘ کی قید لغو اور بے سود ہوجائے گی اور دوسرے اس حدیث میں ’’یَنْکَسِفُ الْقَمَرُ مِنْ اَوَّلِ لَیْلَۃٍ مِّنْ رَمَضَانَ تَنْکَسِفُ الشَّمْسُ فِیْ النِّصْفِ‘‘ آیا ہے۔ یہ نہیں آیا کہ ’’یَنْکَسِفُ الْقَمَرُ لِاَوَّلِ لَیْلَۃٍ مِّنْ لَیَالِیْ خُسُوْفِہَا وَتَنْکَسِفُ الشَّمْسُ فِیْ نِصْفِ مِنْ أَیَّامِ کُسُوْفِہَا‘‘ پھر دنیا میں چاند وسورج گرہن کا اجتماع رمضان المبارک میں مرزاقادیانی کے جیتے جی تین مرتبہ ہوا ہے۔ ملاحظہ ہو۔ ہندوستان میں ایسا پہلا اجتماع رمضان کے اندر ۱۲۶۷ھ میں ہوا۔ یعنی ۱۳؍جولائی ۱۸۵۱ء مطابق ۱۳؍رمضان ۱۲۶۷ھ کو چاند گرہن اور ۲۸؍جولائی مطابق ۲۸؍رمضان کو سورج گرہن ہوا۔ اس گرہن کے وقت مرزاقادیانی کی عمر تقریباً ۱۱،۱۲ برس کی تھی۔ پھر دوسرا اجتماع انہی تاریخوں میں ۱۳۱۱ھ مطابق ۱۸۹۴ء کو امریکہ میں ہوا، جس

614

کا مرزاقادیانی نے ’’حقیقت الوحی‘‘ میں اقرار کیا ہے۔ تیسرا اجتماع ۱۳؍رمضان ۱۳۱۲ھ مطابق ۱۱؍مارچ ۱۸۹۵ء کو چاند گرہن اور ۲۶؍مارچ مطابق ۲۸؍رمضان کو سورج گرہن ہوا۔ جب اس تینتالیس سال کی مدت میں تین دفعہ اجتماع ہوگیا تو جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے نہ معلوم کتنی مرتبہ رمضان میں دونوں گرہنوں کا اجتماع ہوا ہوگا۔ پھر لطف یہ ہے کہ مہدی پہلے بن جاتے ہیں اور نشانی بعد میں ۱۲برس پیچھے ظاہر ہوتی ہے، اورمرزاقادیانی کا یہ کہنا کہ قمر کا لفظ اوّل رات کے چاند پر اطلاق نہیں کیا جاتا، بالکل غلط ہے، اور قمر عام ہے۔ ہلال اور بدر دونوں چاندوں پر بولا جاتا ہے۔

قرآن مجید میں ہے کہ: ’’وَالْقَمَرَ قَدَّرْنَاہُ مَنَازِلَ حَتّٰی عَادَ کَالْعُرْجُوْنِ الْقَدِیْمِ (یٰس :۳۹)‘‘

۲… ’’ھُوَالَّذِیْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِیَائً وَالْقَمَرَ نُوْرًا وَّقَدََّرَہٗ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِیْنَ وَالْحِسَابَ (یونس :۵)‘‘

’’اَلْہِلَالُ غُرَّۃُ الْقَمَرِ وَہِیْ اَوَّلُ لَیْلَۃٍ (تاج العروس)‘‘ یعنی ہلال قمر کی پہلی رات ہے۔ اس کے علاوہ مرزامحمود پسر مرزا نے بھی تسلیم کیا ہے کہ قمر کا لفظ ہلال پر بولا جاتا ہے۔ ملاحظہ ہو: ’’قمر بدر نہیں ہوتا۔ لیکن بدر ضرور قمر ہوتا ہے۔ اسی طرح قمر ہلال نہیں ہوتا۔ مگر ہلال ضرور قمر ہوتا ہے۔‘‘

(درس قرآن تفسیر سورۂ مدثر مندرجہ اخبار الفضل ۷؍جولائی ۱۹۲۸ء)

افتراء علی ﷲ

’’اسلام نے سورج اور چاند کے گرہن کا ذکر فرمایا ہے۔قرآن پاک نے اسے مختلف پیرایوں میں انقلاب عظیم اور قیامت کی نشانی بھی ٹھہرایا ہے۔‘‘ (الفضل ربوہ ۹؍دسمبر۱۹۷۴ء)

سورج یا چاند گرہن کا قیامت کی نشانی ہونا مرزائیوں کی ’’مسیحی انجیل‘‘ (انجیل البشریٰ مسیح قادیان صاحب کی وحی والہام کا مجموعہ ہے) میں کہیں لکھا ہوتو ہو مگر قرآن پاک میں کہیں اس کا نام ونشان نہیں۔ اسے قرآن کی جانب منسوب کرنا محض کذب اور افتراء علی ﷲ ہے۔

افتراء علی الرسول

قادیانی کہتے ہیں کہ: ’’رسول اکرم ﷺ نے پیش گوئی فرمائی تھی کہ میری امت کی رہبری ورہنمائی کے لئے ﷲ تعالیٰ مسیح موعود اور مہدی معہود کو مبعوث فرمائے گا۔ اس کی شناخت کے سلسلہ میں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’اِنَّ لَمَہْدَیْنَا آیَتَیْنِ لَمْ تَکُوْنَا مُنْذُ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ… …الخ‘‘ (دارقطنی ص۱۸۸) کہ ہمارے مہدی کے لئے یہ دونشان مقرر ہیں اور یہ نشان ہمارے ہی امام مہدی کے ظہور کے ساتھ مختص ہیں۔ اسی کے لئے بطور دلیل صداقت ظاہر ہوں گے اور یہ صورت ابتدائے دنیا سے امام مہدی کے وقت میں ہی پیدا ہوگی۔ یعنی یہ کہ:

۱… امام مہدی ہونے کا دعویدار موجود ہو۔

۲… رمضان کا مہینہ ہو۔

۳… چاند کی تاریخ ہائے خسوف میں سے اسے پہلی تاریخ کو گرہن لگے۔

۴… سورج کی تاریخ ہائے کسوف میں سے اسے درمیانی تاریخ کو گرہن لگے۔ (حوالہ بالا)

اس عبارت میں قادیانیوں نے دووجہ سے افتراء علی الرسول کیا ہے:

اوّل… یہ کہ قادیانیوں نے ’’دارقطنی‘‘ کا حوالہ دیا ہے اور اس میں یہ قول امام باقر رحمۃ اللہ علیہ کی جانب منسوب کیا گیا ہے اور

615

محدثین کی تصریح کے مطابق یہ نسبت بھی محض غلط اور بازاری گپ ہے جو ’’عمروبن شمر‘‘ اور جابر جعفی ایسے کذابوں نے حضرت امام باقر رحمۃ اللہ علیہ کے سردھری تھی۔ مگر ان بزرگوں کو بھی یہ جرأت نہ ہوئی کہ اس وضعی اور من گھڑت افسانے کو آنحضرت ﷺ کی ذات مقدس سے منسوب کرڈالیں۔ مگر شاباش اور صد آفرین کہ قادیانیوں نے اس افترائی روایت کو ارشاد نبوی ﷺ قرار دے کر کذب، افتراء کا نیا ریکارڈ قائم کردیا۔

ایں کار از تو آید ومرداں چنیں کند

دوم… یہ کہ قادیانیوں نے اس موضوع روایت کے اصل الفاظ ذکر نہیں کئے۔ نہ ان کا ترجمہ کیا۔ بلکہ اس جھوٹی روایت کی خودساختہ تشریح اور من مانا مفہوم گھڑ کر اس کو فرمودۂ رسول ﷺ بتایا۔ یہ کذب در کذب (ڈبل جھوٹ) بھی مسیح قادیان کی مسیحی امت کا ہی کارنامہ ہوسکتا ہے۔ قادیانیوں کو خوب علم ہے کہ یہ روایت سراپا کذب ہے۔ مگر ان کی مشکل یہ ہے کہ مہدی علیہ السلام کے حق میں یہ جس قدر صحیح حدیثیں کتب صحاح میں موجود ہیں، ان میں سے ایک بھی تو ان کے خانہ ساز مہدی پر چسپاں نہیں ہوتی۔ اس لئے انہوں نے اپنے مہدی کی تقلید میں من گھڑت روایتوں کو رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب کرنے کا راستہ اختیار کرلیا۔ حالانکہ عقل کا تقاضا یہ تھا کہ وہ اس گرداب سے نکلنے کی ہمت کرتے۔ لیکن ’’وَمَنْ لَّمْ یَجْعَلِ اللّٰہُ لَہٗ نُوْرًا فَمَالَہٗ مِنْ نُّوْرٍ‘‘

پینتالیس برس کی قلیل مدت میں گرہنوں کا نقشہ ملاحظہ ہو!

(گرہنوں کا نقشہ صفحہ نمبر:۴ پر ملاحظہ فرمائیں)

۱… ۱۱۷ھ مطابق ۷۳۶ء رمضان کی تیرہ اور اٹھائیس تاریخ کو گرہن لگا اور اس وقت ’ظریف‘‘ نامی بادشاہ موجود تھا۔ یہ صاحب شریعت نبی ہونے کا مدعی تھا۔ یہ جب ۱۲۶ھ کو مرا تو اس کا بیٹا ’’صالح‘‘ نامی بادشاہ ہوا۔

نیز ۳۴۶ھ مطابق ۹۵۹ء رمضان کی ان ہی تاریخوں میں گرہن لگا اور اس وقت ’’ابومنصور عیسیٰ‘‘ مدعی ٔ نبوت موجود تھا۔

۲… دوسرے نقشے کے مطابق ۱۳۱۱ھ مطابق ۱۸۹۴ء کے گرہنوں کے حساب سے پہلا گرہن ۱۶۱ھ مطابق ۷۷۹ء رمضان کی ان ہی تاریخوں میں لگا۔ اس وقت صالح نامی مدعی ٔ نبوت موجود تھا اور اس صالح کے زمانہ میں مرزا قادیانی کی طرح دومرتبہ رمضان کی ان ہی تاریخوں میں گرہن لگا۔ یعنی ۱۲۷ھ پھر ۱۶۲ھ میں بھی لگا۔ پھر ۱۳۱۱ھ مطابق ۱۸۹۴ء کو لگا۔ لیکن اس کا ظہور ہندوستان میں نہ ہوا۔ بلکہ امریکہ میں ہوا اور اس وقت ’’مسٹر ڈوئی‘‘ وہاں مسیح موعود ہونے کا جھوٹا مدعی موجود تھا۔

۳… تیسرے نقشے کے مطابق ایک گرہن ۱۶۲ھ مطابق ۷۸۰ء میں لگا جس میں صالح مدعی تھا اور دوسرا گرہن ۱۳۱۲ھ مطابق ۱۸۹۵ء میں لگا جس میں مرزا قادیانی جھوٹا مدعی ٔ نبوت تھا۔

ابن عربی کی پیش گوئی

مغالطہ نمبر:۷…

ابن العربی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ مسیح ’’خاتم الاولاد‘‘ ہوگااور اس کے ساتھ اس کی بہن پیدا ہوگی۔

(شرح فصوص الحکم ص۸۳)

یہ بات مرزا قادیانی میں پائی جاتی ہے۔

616

تصحیح…

اصل پیش گوئی ابن العربی رحمۃ اللہ علیہ کی اس طرح ہے کہ آخر زمانہ میں ایک لڑکا پیدا ہوگا۔ جو بنی نوع انسان میں خاتم الاولاد ہوگا اور اس کے بعد کوئی لڑکا یا لڑکی جہاں میں پیدا نہ ہوگی۔ مرزا قادیانی اس پیش گوئی کو ان الفاظ میں بیان کرتا ہے: ’’ہم مناسب دیکھتے ہیں کہ اس جگہ شیخ کی اصل عبارت نقل کر دیں اور وہ یہ ہے: ’’وَعَلٰی قَدَمَ شِیْثٍ یَکُوْنُ آخِرُ مَوْلُوْدٍ یُوْلَدُ مِنْ ہَذَا النَّوْعِ الْاِنْسَانِیِّ وَھُوْ حَامِلُ اَسْرَارِہٖ۰ وَلَیْسَ بَعْدَہٗ وَلَدُ فِیْ ہَذَا النَّوْعِ فَہُوَ خَاتَمُ الْاَوْلَادِ۰ وَتُوْلَدُ مَعَہٗ اُخْتُ لَّہٗ فَتَخْرُجُ قَبْلَہٗ وَیَخْرُجُ بَعْدَہَا یَکُوْنُ رَأْسُہٗ عِنْدِ رِجْلَیْہَا۰ وَیَکُوْنُ مَوْلِدُہٗ بِالصِّیْنِ وَلُغَتُہٗ لُغَۃُ بَلَدِہٖ۰ وَیَسْرِی الْعَقَمُ فِی الرِّجَالِ وَالنِّسَائِ فَیَکْثُرُ النِّکَاحُ مِنْ غَیْرِ وِلَادَۃٍ۰ وَیَدْعُوْہُمْ اِلٰی اللّٰہِ فَلَا یُجَابُ‘‘ یعنی کامل انسانوں میں سے آخری کامل ایک لڑکا ہوگا۔ جو اصل مولد اس کا چین ہوگا۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ ’’قوم مغل‘‘ اور ’’ترک‘‘ میں سے ہوگا اور ضروری ہے کہ عجم میں سے ہوگا، نہ عرب میں سے، اور اس کو وہ علوم اور اسرار دئیے جائیں گے۔ جو شیث کو دئیے گئے تھے، اور اس کے بعد کوئی اور ولد نہ ہوگا، اور وہ خاتم الاولاد ہوگا۔ یعنی اس کی وفات کے بعد کوئی کامل بچہ پیدا نہیں ہوگا، اور اس فقرہ کے یہ بھی معنی ہیں کہ وہ اپنے باپ کا آخری فرزند ہوگا اور اس کے ساتھ ایک لڑکی پیدا ہوگی جو اس سے پہلے نکلے گی اور وہ اس کے بعد نکلے گا۔ اس کا سر اس دختر کے پیروں سے ملا ہوا ہوگا۔ یعنی دختر معمولی طریق سے پیدا ہوگی کہ پہلے سر نکلے گا اور پھر پیر اور اس کے پیروں کے بعد بلاتوقف اس پسر کا سر نکلے گا۔ (جیسا کہ میری ولادت اور میری توأم ہمشیرہ کی اسی طرح ظہور میں آئی) اور پھر بقیہ ترجمہ شیخ کی عبارت کا یہ ہے کہ اس زمانہ میں مردوں اور عورتوں میں بانجھ کا عارضہ سرایت کرے گا۔ نکاح بہت ہوگا۔ یعنی لوگ مباشرت سے نہیں رکیں گے۔ مگر کوئی صالح بندہ نہیں ہوگا… اور پیش گوئی میں یہ بھی الفاظ ہیں کہ اس کے بعد یعنی اس کے مرنے کے بعد نوع انسان میں علت عقم سرایت کرے گا۔ یعنی پیدا ہونے والے حیوانوں اور وحشیوں سے مشابہت رکھیں گے اور انسانیت حقیقی صفحۂ عالم سے مفقود ہو جائیں گے۔ وہ حلال کو حلال نہیں سمجھیں گے اور نہ حرام کو حرام۔ پس ان پر قیامت قائم ہو گی۔‘‘

(تریاق القلوب ص۱۵۸،۱۵۹، خزائن ج۱۵ ص۴۸۲،۴۸۳)

سچ ہے کہ ایک جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کے لئے کئی جھوٹ بولنے پڑتے ہیں۔

۱… مرزا قادیانی نے رجل فارس بننے کے لئے اپنا ’’فارسی النسل‘‘ ہونا بیان کیا۔

۲… پھر اس پیش گوئی کو دیکھا تو ’’چینی الاصل‘‘ ہونے کی کہانی وضع کی۔

۳… پھر ہمشیرہ کے ساتھ پیدا ہونے کی کہانی بیان کی۔

۴… لیکن ﷲ تعالیٰ کی شان بے نیازی پر قربان جائیں کہ مرزا قادیانی کا لکھنا! کہ شیخ ابن عربی رحمۃ اللہ علیہ کی پیش گوئی میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ: ’’اس کے بعد یعنی اس کے مرنے کے بعد نوع انسان میں علت عقم سرایت کرے گی۔‘‘

اب ہمارے نزدیک تو ایک بزرگ کا یہ قول ہے جس کی شریعت میں کوئی اہمیت نہیں۔ جس کی عقیدہ کے باب میں ذرہ برابر وقعت نہیں۔ لیکن ’’شیخ الحدیث مولانا عبدالغفور صاحب آف سجاول‘‘ کے بقول مرزا قادیانی اس عادی مجرم کی طرح کہ جس کی جگہ… خالی دیکھی اس پر بیٹھ گیا۔ مرزا قادیانی نے اس پیش گوئی پر خود کو فٹ کرنے کے لئے کہانی تیار کی مگر اس پیش گوئی کے یہ الفاظ قابل غور ہیں۔ ’’اس کے بعد یعنی اس کے مرنے کے بعد نوع انسان میں علت عقم سرایت کرجائے گی۔ یعنی پیدا ہونے والے حیوانوں اور وحشیوں سے مشابہت رکھیں گے اور انسانیت حقیقی صفحۂ عالم سے مفقود ہوجائیں گے۔ وہ حلال کو حلال نہیں سمجھیں گے اور نہ حرام کو حرام۔‘‘

617

اب اگر مرزا قادیانی جیسا کہ وہ خود کہتا ہے کہ میں اس پیش گوئی کا مصداق ہوں تو موجودہ قادیانی خلیفہ ’’طاہر ومسرور‘‘ سمیت سب مرزا کے مرنے کے بعد پیدا ہوئے۔ اس طرح موجودہ تمام قادیانی بھی سب مرزا قادیانی کے مرنے کے بعد پیدا ہوئے تو مرزا قادیانی کے مرنے کے بعد علّت عقم پیدا ہوتی۔ لہٰذا:

۱… مرزائی خلیفہ سمیت تمام قادیانی حیوان ہیں۔

۲… مرزائی خلیفہ سمیت تمام قادیانی وحشی ہیں۔

۳… مرزائی خلیفہ سمیت تمام قادیانی انسان حقیقی نہیں۔

۴… مرزائی خلیفہ سمیت تمام قادیانی حلال کو حلال نہیں سمجھتے۔

۵… مرزائی خلیفہ سمیت تمام قادیانی حرام کو حرام نہیں سمجھتے۔

مرزا قادیانی کے حق میں اگر یہ پیش گوئی سچی ہے تو پھر فتویٰ بالا بھی قادیانی قبول فرمائیں۔

لیکن فتویٰ قبول کرنے کے بعد بھی مشکل پیش آئے گی کہ ان موجودہ مرزائیوں پر قیامت قائم نہ ہوئی۔ مرزا قادیانی پھر بھی جھوٹے کا جھوٹا۔ استاذ! لا ہاتھ کیسی کہی!

حدیث مجدد

مغالطہ نمبر: ۸…

’’اِنَّ اللّٰہَ یَبْعَثُ لِہٰذِہِ الْاُمَّۃِ عَلٰی رَأْسِ کُلِّ مِاءۃِ سَنَۃٍ مَنْ یُّجَدِّدْ لَہَا دِیْنَہَا (ابوداؤد ج۲ ص۱۳۲ کتاب الملاحم)‘‘ مرزاقادیانی کا علمی کارنامہ اور خدمت دین اس امر کی شہادت ہے کہ وہ اس کے مجدد تھے۔ ورنہ کیا وجہ ہے کہ اس پیش گوئی کے باوجود اب تک کوئی مجدد پیدا نہیں ہوا۔ یہ وعدۂ الٰہی نہ صرف احادیث میں آیا ہے۔ بلکہ قرآن مجید میں بھی پایا جاتا ہے۔ ’’وَعَدَاللّٰہُ الَّذِیْنَ آمَنُوْا مِنْکُمْ وَعَمِلُوْا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّہُمْ فِی الْاَرْضِ کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ وَلَیُمَکِّنَنَّ لَہُمْ دِیْنَہُمُ الَّذِی ارْتَضٰی لَہُمْ (النور:۵۵)‘‘ یعنی جس طرح وہ پہلے امت موسوی میں خلفاء بھیجتا تھا۔ اسی طرح امت محمدیہ (علیٰ صاحبہا الف الف تحیہ) میں مومنوں کو جو نیک عمل کریںگے۔ خلفاء بنائے گا تاکہ وہ اس دین کو مضبوط کریں۔ جس کو ﷲ نے پسند کیا ہے۔ لہٰذا چونکہ موسوی شریعت کی تمکین کے لئے ۱۳سو سال بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام تشریف لائے تھے۔ اس لئے سلسلۂ محمدی میں ایک مثل عیسیٰ اتنی ہی مدت کے بعد آنا چاہئے تاکہ مماثلت پوری ہوجائے۔

تصحیح…

تجدید دین کے یہ معنے ہیں کہ جس طرح کسی پتھر کی مٹی ہوئی تحریر پر قلم لگا کر اس کو روشن کردیا جائے۔ اسی طرح دین کے مٹے ہوئے آثار کو از سرنو تازہ کردے اور بدعت کو دور کر کے سنت مستقیم پر لوگوں کو قائم کرے۔ چنانچہ تیسیر شرح جامع صغیر میں ہے کہ: ’’یُجَدِّدُلَہَا بَیَّنَہَا اَیْ یُبَیِّنُ السُّنَّۃَ مِنَ الْبِدْعَۃِ وَیُذِلُّ اَہْلَہَا‘‘ سنت کو بدعات سے پاک کردے، اور اہل بدعۃ کی تردید کرے، اور یہی معنے ملاعلی قاری رحمۃ اللہ علیہ نے لکھے ہیں: ’’مَنْ یُّجَدِّدُلَہَا دِیْنَہَا اَیْ یُبَیِّنُ السُّنَّۃَ مِنَ الْبِدْعَۃِ وَیَکْثُرُ الْعِلْمُ وَیَعُزُّ أَہْلُہَ وَیُقْمِعُ الْبِدْعَۃَ وَیُکْسِرُ اَہْلَہَا‘‘ یعنی مجدد وہ ہے جو دین کو بدعات سے پاک کرے، سنت کی ترویج اور اشاعت کرے۔ بدعات کو اکھاڑے، دینداروں کی عزت کرے، اور اہل بدعت کو نفرت کی نگاہ سے دیکھے۔

(مرقاۃ شرح مشکوٰۃ ج۱ ص۳۰۲)

پھر جائز ہے کہ جماعت کثیرہ اس کام پرلگی ہوئی ہو، اوران میں ہر فرد اپنے عہد کا مجدد ہو۔ چنانچہ ’’تیسیر شرح

618

جامع صغیر‘‘ میں ہے کہ ’’عَلٰی رَأْسِ التَّنْزِیْلِ سَنَۃُ مِّنَ الْہِجْرَۃِ اَوْغَیْرِہَا عَلٰی مَامَرَّ مِنْ رَّجُلٍ اَوْاَکْثَرَ یُجَدِّدُ… الخ‘‘

’’قَالَ ابْنُ کَثِیْرٍ قَدْیَدَّعِیْ کُلُّ قَوْمٍ فِیْ اِمَامِہِمْ اَنَّہُ الْمُرَادُ وَالظَّاہِرُ حَمْلُہٗ عَلَی الْعُلَمَائِ مِنْ کُلِّ طَائِفَۃٍ (تَیْسِیْر) کُلُّ فِرْقَۃٍ حَمَلُوْہُ عَلٰی اِمَامِہِمْ وَالْاَوْلٰی اَلْحَمْلُ عَلَی الْعُمُوْمِ وَلَایُخَصُّ بِالْفُقَہَائِ فَاِنَّ انْتِفَاعَہُمْ بِاُوْلِی الْاَمْرِ وَالْمُحَدِّثِیْنَ وَالْقُرَّائِ وَالْوُعَاظِ وَالزُّہَادِ اَیْضًا کَثِیْرٌ (مجمع البحار ج۱ ص۳۲۸)‘‘

یعنی عام علماء حق جو دین کی صحیح خدمت کرنے والے اور ردبدعت اور ترویج سنت جن کا مشغلہ ہے۔ وہ سب مجدد ہیں۔ خود مرزاقادیانی نے بھی یہی کہا ہے۔

گفت پیغمبرے ستودہ صفات

از خدائے علیم مخفیات

برسر ہر صدی بروں آید

آنکہ ایںکار راہمے شاید

تاشود پاک ملت از بدعات

تابیابند خلق زو برکات

الغرض ذات اولیاء کرام

ہست مخصوص ملت اسلام

(براہین احمدیہ حصہ ۴ ص۳۱۱، خزائن ج۱ ص۳۶۲)

کیا مرزاقادیانی نے ۱۳سو برس سے جو دین چلا آتا تھا اس کی اشاعت کی؟ اور کیا سنت کی ترویج کرتے ہوئے خلاف شرع کاموں اور بدعات کے دور کرنے میں جان لڑادی؟ اور جس طرح دین کی تجدید ہر صدی کے مجدد کرتے چلے آئے ہیں۔ کیا مرزاقادیانی نے اس طرح دین کی تجدید کی؟ اور جو اسلامی تعلیم مرزاقادیانی نے پیش کی ہے۔ کیا کسی پہلے مجدد نے ایسے گندے خیالات کو اسلام میں جگہ دی تھی؟۔ ہر گز نہیں! بلکہ مرزاقادیانی نے:

۱… اسلام میں وفات مسیح کا عقیدہ جاری کیا۔

۲… نبوت کا دروازہ کھولا۔

۳… ملائکہ علیہم السلام کی شرعی حقیقت سے انکار کرتے ہوئے فلسفیوں کے خیال کی تائید کی۔

۴… جبرائیل علیہ السلام اور دوسرے فرشتوں کے معینہ انسانی شکل میں حقیقی طور پر نازل ہونے سے باوجود اسلامی عقیدہ ہونے کے انکار کیا اورفلسفی رنگ نزول مانا۔

۵… معجزوں میں اسلامی تحقیق کو ٹھکرا کر ملحدانہ شبہے کئے اور ملحدین کے خیالات کی تائید کی۔

۶… احیاء موتی، اور خلق طیر، اور اس قسم کے خارق عادت معجزوں کو تسلیم نہ کیا۔ اس کو جادو اور مسمریزم بتایا۔

۷… قرآن میں اپنی رائے کو دخل دیا، اور آنحضرت ﷺ کے ارشادات عالیہ کی پرواہ نہ کی، اور فرقۂ باطنیہ کی طرح قرآن کی آیتوں کو ظاہری معنوں سے پھیر کر استعارات کا رنگ دیا، اوراس پرد ہ میں ناواقف اور دین سے بے خبر مسلمانوں کو

619

اسلام کی سیدھی سادھی تعلیم سے ہٹا کر گمراہی کے گڑھے میںدھکیلا، اور اسی طرح قرآن میں تفسیر بالرائے کا دروازہ کھولا۔

۸… نصاریٰ کو خوش کرنے کے لئے جہاد کے حکم کو اسلامی تعلیم سے خارج کیا۔

۹… معراج کو ایک کشفی چیز بتایا اور اس خیال کی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی طرف جھوٹی نسبت کی۔

۱۰… ابن ﷲ، اور عین خدا ہونے کا دعویٰ کیا۔

۱۱… باوجود استطاعت کے کبھی حج نہ کیا، نہ دعویٰ مسیحیت سے پہلے، اور نہ بعد میں، اورا س گناہ کو سرپر لے کر چلتے بنے۔ اگر مجدد دنیا میں ایسے ہی کاموں کے واسطے آتا ہے۔ تو ایسے مجدد کو دور ہی سے سلام ہے۔

محمد علی نے ۲۵؍دسمبر۱۹۳۰ء کو بعنوان ’’برادران قادیان سے اپیل‘‘ ایک مصالحتی ٹریکٹ شائع کیا تھا۔ جس میں وہ اپنی اسلامی خدمات کا ذکر اس طرح کرتا ہے: ’’آج خدا کے فضل سے اس ترقی کے علاوہ جو ہندوستان میں ہماری جماعت کو ملی ہے۔ دس بیرونی ممالک میں ہمارے ہاتھوں سے سلسلہ احمدیہ کی بنیاد قائم ہوچکی ہے اور وہاں جماعتیں بن چکی ہیں۔ چار ہزار سے زیادہ صفحات حضرت غلام احمد کی کتابوں کے ہم دوبارہ چھپوا کر اس کا بڑا حصہ تقسیم کر چکے ہیں۔ صرف انگریزی میں ہی نہیں بلکہ دنیا کی اور کئی زبانوں میں بھی تقسیم کیا۔ جب ہم آپ سے جدا ہوئے تھے تو اس وقت ہم کتنے آدمی تھے، اور پھر کس قدر نصرت عطاء فرمائی کہ وہ علوم جو ہم کو حضرت موعود سے ورثہ میں ملے تھے۔ انہیں ہم نے دنیا کے دوردور کے کناروں تک پہنچایا ہے۔‘‘

معلوم ہوا کہ مرزاقادیانی کے عقائدوخیالات ہی اس جماعت کی نظر میںاصل اسلام ہے اور اسی کی ہندوستان سے باہر دیگر ممالک میں اور یہاں اشاعت کی جاتی ہے۔ علاوہ ازیں اگر (ازالۂ اوہام ص۵۷ اور آئینہ کمالات ص۲۱۹،۲۲۰) سے قطع نظر کرلیا جائے۔ جن سے مرزاقادیانی کا دعویٔ مجددیت ۱۲؍اپریل۱۸۷۵ء میں معلوم ہوتا ہے۔

اور (حاشیہ تحفہ گولڑویہ ص۱۹۱) کو بھی چھوڑ دیں کہ جس میں دعوے کی ابتداء ۱۲۹۰ھ میں بتائی ہے تو پھر مرزاقادیانی نے مجدد کا دعویٰ صاف لفظوں میں (براہین احمدیہ ص۳۱۲، خزائن ج۱ ص۳۶۳) پر مجدد کا ذکر کرتے ہوئے یوں کہا ہے:

وعدہ کج بطالباں ند ہم

کاذبم گراز ونشاں ندہم

من خود از بھرایں نشاں زادم

دیگر از ہر غمے دل آزادم

ایں سعادت چوبود قسمت ما

رفتہ رفتہ رسید نوبت ما

کتاب ۱۲۹۷ھ یعنی صدی سے تین سال پہلے طبع ہوئی۔ جیسا کہ مادۂ تاریخ ’’یا غفور‘‘ سے ظاہر ہے اور حصہ سوم کے شروع میں ۸۷ دعویداروں سے بوجہ تاخیر عذر خواہی کرتے ہوئے لکھا ہے کہ حصہ سوم کے نکلنے میں تقریباً دوبرس کی تاخیر ہوگی۔ مگر اس میں ہمارا کوئی قصور نہیں۔ بلکہ مالک مطبع کی طرف بعض مجبوریاں ایسی پیش آگئیں۔ جن سے طباعت میں دیر ہوگئی۔ اس لئے معلوم ہوا کہ صدی سے تقریباً ۵سال پہلے کا ہے اور اگر ۱۲۹۷ھ کو مان لیں تب بھی تین سال پیشتر ہونے میں تو کوئی شک ہی نہیں۔ اس کا مطلب صرف اس قدر ہے کہ ﷲ کا ایماندار اور نیک عمل مسلمانوں سے وعدہ ہے کہ وہ ان کو زمین میں حکومت عطاء فرمائیں، اور ان کے دین کو جس کو اس نے پسند کیا ہے۔ مضبوط کرے۔ جس طرح کہ انبیاء علیہم السلام

620

سابقین کے سچے پیروں کے ساتھ کرتا رہا ہے۔ لہٰذا جو معنے مرزائی جماعت نے اس آیت کے کئے ہیں۔ وہ سرتاپا غلط اور الفاظ قرآن کے مخالف ہیں۔ پھر ولایت کے لئے شرط اوّل یہ ہے کہ وہ کوئی مسئلہ قرآن عزیز کی صریح نص کے خلاف نہ کہے اور (یواقیت ج۲ ص۹۲) میں ہے کہ: ’’مَنْ زَعَمَ اَنَّ عِلْمًا بَاطِنًا للِّشَّرِیْعَۃِ غَیْرُ مَابَایْدِ یْنَا فَہُوَ بَاطِنِیٌّ یُقَارِبُ الذِّنْدِیْقَ… فان من شان اہل الطریق ان یکون جمیع حرکاتہم وسکناتہم محررۃ علی الکتاب والسنۃ ولا یعرف ذلک الا بالتبحر فی علم الحدیث والفقہ والتفسیر‘‘ مگر مرزاقادیانی کو ’’لاتاخذہ سنۃ ولا نوم (بقرہ:۲۵۵)‘‘ کے خلاف ۳؍فروری۱۹۰۳ء کو یہ الہام ہوا کہ:’’اصلی، واصوم، اسہر، وانام، واجعل لک انوار القدوم، واعطیک ماید وم ان ﷲ مع الذین اتقوا‘‘ یعنی میں نماز پڑہوںگا، اور روزہ رکھوںگا، جاگتا ہوں اور سوتا ہوں… الخ!

( البشریٰ ج۲ ص۷۹، تذکرہ ص۴۶۰، طبع سوم، اخبار الحکم ج۷ نمبر۵ ص۱۶، ۷؍فروری۱۹۰۳ء)

باب چہاردہم … قادیانیوں سے سوالات؟

کیا حضور ﷺ کی اتباع سے نجات مل سکتی ہے؟

سوال نمبر:۱…

مرزاغلام احمد قادیانی کے بقول اسے حضور اکرم ﷺ کی اتباع سے نبوت ملی ہے۔ تو گزارش یہ ہے کہ جب حضور ﷺ کی اتباع سے نبوت مل سکتی ہے، تو کیا حضور ﷺ کی اتباع اور پیروی سے دوزخ سے نجات بھی مل سکتی ہے یا نہیں؟ اگر حضور ﷺ کی اتباع سے نجات مل سکتی ہے، تو پھر مرزاغلام احمد قادیانی کو نبی ماننے کی کیا ضرورت ہے؟ اور اگر حضور اکرم ﷺ کی اتباع سے نجات نہیں مل سکتی، تو پھر حضور ﷺ کی اتباع سے نبوت کیسے مل سکتی ہے؟ نیز خیرالقرون سے لے کر آج تک کوئی شخص حضور ﷺ کا متبع گزرا ہے یا نہیں؟ اگر گزرا ہے تو وہ نبی کیوں نہ بنا؟ آخر مرزاقادیانی میں کون سی صلاحیت واستعداد تھی جو دوسروں میں نہیں تھی؟

’’خاتم النّبیین‘‘ کے کون سے معنی صحیح ہیں؟

سوال نمبر:۲…

مرزاغلام احمد قادیانی کی کئی عبارات سے یہ بات روزروشن کی طرح واضح ہے کہ دعویٔ نبوت سے پہلے مرزاغلام احمد قادیانی بھی ’’خاتم النّبیین‘‘ کے معنی وہی سمجھتا تھا۔ جو چودہ صدیوں سے تمام دنیا کے مسلمان سمجھتے چلے آئے ہیں۔ جسے مرزاغلام احمد قادیانی اپنی کتاب (ازالۂ اوہام) میں لکھتا ہے کہ: ’’قرآن کریم بعد خاتم النببیین( ﷺ) کے کسی رسول کا آنا جائز نہیں رکھتا۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۴۱۱، خزائن ج۳ ص۵۱۱)

’’اور دعویٔ نبوت کے بعد مرزاقادیانی خاتم النّبیین کے دوسرے معنی بیان کرتا ہے۔ جس کی بناء پر نبوت کا جاری ہونا ضروری ہوگیا اور بقول مرزاجس مذہب میں وحی نبوت نہ ہو وہ شیطانی اور لعنتی مذہب کہلانے کا مستحق ہے۔‘‘

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۱۳۸، خزائن ج۲۱ ص۳۰۶)

’’جو شخص یہ کہے کہ رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔ وہ دین، دین نہیں اور نہ وہ نبی، نبی ہے۔‘‘

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ایضاً ج۲۱ ص۳۰۶)

621

اب سوال یہ ہے کہ ’’خاتم النّبیین‘‘ کے کون سے معنی صحیح ہیں؟ پس اگر خاتم النّبیین کے جدید معنی صحیح ہیں تو یہ لازم آئے گا کہ چودہ صدیوں میں جس قدر بھی مسلمان گذر چکے وہ سب کافر اور بے ایمان مرے۔ گویا کہ عہد صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین سے لے کر اس وقت تک تمام امت کفر پر گزری اور دعویٔ نبوت سے پہلے خود مرزاقادیانی بھی جب تک اسی سابقہ عقیدہ پر رہا تو وہ خود کافر رہا اور پچاس برس تک جملہ آیات واحادیث کا مطلب بھی غلط سمجھتا رہا اور تمام امت کا اس بات پر اجماع ہے، کہ جو شخص تمام امت کی تکفیر وتذلیل کرتا اور احمق وجاہل قرار دیتا ہو، وہ بالاجماع کافر اور گمراہ ہے۔ لہٰذا مرزاقادیانی بالاجماع کافر اور گمراہ ٹھہرا! اور اگر خاتم النّبیین کے پہلے معنی صحیح ہیں جو تمام امت نے سمجھے اور مرزاقادیانی بھی دعویٰ نبوت سے پہلے وہی سمجھتا تھا تو لازم آئے گا کہ پہلے لوگ تو سب مسلمان ہوئے اور مرزاقادیانی دعویٰ نبوت کے بعد سابق عقیدہ کے بدل جانے کی وجہ سے خود اپنے اقرار سے کافر اور مرتد ہوگیا۔ اب مرزائی خود بتائیں کہ وہ کون سا معنی کرنا پسند کریں گے؟

نوٹ:

یہ مسئلہ فریقین میں مسلّم ہے کہ تشریعی نبوت کا دعویٰ کفر ہے۔ خود مرزاقادیانی کی تصریحات اس پر موجود ہیں کہ جو شخص تشریعی نبوت کا دعویٰ کرے… وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ ملاحظہ فرمائیں۔

(مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۲۳۰،۲۳۱)

اختلاف صرف نبوت مستقلہ کے بارے میں ہے، کہ آیا وہ جاری ہے یا وہ بھی ختم ہوگئی؟ اس لئے اب اس کے متعلق فریق مخالف سے چند سوالات ہیں۔

۱… مرزاقادیانی نے اوّل اپنی کتابوں میں تشریعی نبوت کے دعویٰ کو کفر قرار دیا اور پھر خود صراحتاً تشریعی نبوت کا دعویٰ کیا۔ چنانچہ لکھا: ’’اور مجھے بتلایا گیا تھا کہ تیری خبر قرآن اور حدیث میں موجود ہے اور تو ہی اسی آیت کا مصداق ہے۔‘‘ ’’ھو الذی ارسل رسولہ بالہدیٰ ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ‘‘ (اعجاز احمدی ص۷، خزائن ج۱۹ ص۱۱۳) کیا یہ صریح تعارض اور تناقض نہیں؟ کیا مرزاقادیانی اپنے اقرار کی بناء پر کافر نہ ہوا؟

۲… جب مرزاقادیانی تشریعی نبوت اور مستقل رسالت کا مدعی ہے تو پھر اس کا خاتم النّبیین میں یہ تاویل کرنے اور غیرتشریعی نبی مراد لینے سے کیا فائدہ؟

۳… نصوص قرآنیہ اور صدہا احادیث نبویہ ( ﷺ) سے مطلقاً نبوت کا انقطاع اور اختتام ثابت ہے۔ اس کے برعکس کوئی ایک روایت بھی ایسی نہیں کہ جس میں یہ بتلایا گیا ہو کہ حضور اکرم ﷺ کے بعد نبوت غیرمستقلہ کا سلسلہ جاری رہے گا۔ اگر ہے تو اسے پیش کیا جائے؟

۴… نبوت غیرمستقلہ کے ملنے کا معیار اور ضابطہ کیا ہے؟

۵… کیا وہ معیار حضرات صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین میں نہ تھا؟ اور اگر تھا جیسا کہ مرزاقادیانی کا اقرار ہے تو وہ نبی کیوں نہ بنے؟

۶… اس چودہ سوسال کی طویل وعریض مدت میں ائمہ حدیث وائمہ مجتہدین، اولیاء، عارفین، اقطاب وابدال، مجددین میں سے کوئی ایک شخص ایسا نہ گزرا جو علم وفہم، ولایت ومعرفت میں مرزاقادیانی کے ہم پلہ ہوتا؟ اور نبوت غیرمستقلہ کا منصب پاتا۔ کیا رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری امت میں سوائے قادیان کے دہقان کے کوئی بھی نبوت کے قابل نہ تھا؟

۷… آنحضرت ﷺ کے بعد بہت سے لوگوں نے نبوت کے جھوٹے دعوے کئے۔ بعض ان میں سے تشریعی نبوت

622

کے مدعی تھے۔ جیسے ’’صالح بن ظریف اور بہاء ﷲ ایرانی‘‘ اور بعض غیرتشریعی نبوت کے مدعی تھے۔ جیسے ابوعیسیٰ وغیرہ تو ان سب کے جھوٹا ہونے کی کیا دلیل ہے؟

کیا نزول مسیح ختم نبوت کے منافی ہے؟

سوال نمبر:۳…

قادیانی کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے بعد مسیح علیہ السلام نزول فرمائیں تو یہ ختم نبوت کے منافی ہے۔ کیونکہ حضور ﷺ کے بعد ایک نبی مسیح علیہ السلام آگئے اور پھر یہ بھی کہتے ہیں کہ مرزاقادیانی نبی تھا۔ بلکہ اپنی شان میں مرزاقادیانی، حضرت مسیح علیہ السلام سے شان میں بڑھ کر ہے۔ آنحضرت ﷺ کے بعد کسی کو نبوت نہ ملے صرف پہلے کے نبی آئیں تو ختم نبوت کے منافی۔ آنحضرت ﷺ کے بعد ایک شخص (مرزاقادیانی) کو نبوت ملے اور وہ پہلے نبیوں سے شان میں بڑھ کر ہو وہ ختم نبوت کے منافی نہیں! ہے کوئی قادیانی جو اس معمہ کو حل کر دے؟

اسود عنسی اور مسیلمہ کیوں قتل ہوئے؟

سوال نمبر:۴…

اسود عنسی کو حضرت فیروز دیلمی رضی اللہ عنہ نے واصل جہنم کیا۔ اسود کے قتل کی وجہ اور اس کا جرم کیا تھا؟ مسیلمۂ کذاب کے خلاف اعلان جہاد اور عملاً جہاد ہوا۔ آخر کیوں؟ ان دونوں کا جرم اور قصور کیا تھا۔ جس کی بناء پر ان کے خلاف ایسی کاروائی ہوئی؟ اگر مرزاقادیانی کا بھی وہی جرم اور قصور ہے جو اسود عنسی اور مسیلمہ کا تھا۔ مسیلمہ کذاب کے ماننے سے جہاد اور مسیلمہ پنجاب کے ماننے والے مسلمان کیوں؟

کیا مرزاقادیانی جھوٹا اور مرتد تھا؟

سوال نمبر:۵…

مرزاغلام احمد قادیانی نے اپنی کتاب (ازالہ اوہام ص۴۱۱، خزائن ج۳ ص۵۱۱) پر لکھا ہے: ’’کہ قرآن کریم بعد خاتم النّبیین ( ﷺ) کے کسی رسول کا آنا جائز نہیں رکھتا۔ خواہ وہ نیا رسول ہو یا پرانا۔‘‘ جبکہ اپنی دوسری کتاب (حقیقت الوحی ص۳۹۱، خزائن ج۲۲ ص۴۰۷) پر لکھا ہے کہ: ’’پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیاگیا اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں۔‘‘کیا قادیانی بتانا پسند فرمائیں گے؟ کہ مرزاغلام احمد قادیانی کی دونوں باتوں میں سے کون سی سچی ہے؟ اگر پہلی سچی اور دوسری جھوٹی ہے تو کیا جھوٹا آدمی منصب نبوت پر فائز ہوسکتا ہے؟ اور اگر دوسری سچی ہے تو کیا مرزاغلام احمد قادیانی اپنے قول کے مطابق ’’جھوٹ بولنا مرتد ہونے سے کم نہیں‘‘ کے مطابق خود مرتد ہوا یا نہیں؟

کیا قادیانی بتانا پسند فرمائیں گے؟ کہ مرزاغلام احمد قادیانی کی دونوں باتوں میں سے کون سی سچی ہے؟ اگر پہلی سچی اور دوسری جھوٹی ہے تو کیا جھوٹا آدمی منصب نبوت پر فائز ہوسکتا ہے؟ اور اگر دوسری سچی ہے تو کیا مرزاغلام احمد قادیانی اپنے قول کے مطابق ’’جھوٹ بولنا مرتد ہونے سے کم نہیں‘‘ کے مطابق خود مرتد ہوا یا نہیں؟

سابقہ مدعیان نبوت کے جھوٹا ہونے کی کیا دلیل ہے؟

سوال نمبر:۶…

حضور ﷺ کے بعد بہت سے لوگوں نے تشریعی اور غیرتشریعی نبوت کے دعوے کئے۔ جن میں مرزاغلام احمد قادیانی بھی شامل ہے۔ کیا قادیانی بتاسکتے ہیں؟ کہ جھوٹے مدعیان نبوت کے جھوٹے ہونے کی کیا دلیل ہے؟ اگر وہی دلائل یا ان سے بھی بڑھ کر مرزاغلام احمد قادیانی میں پائے جاتے ہوں تو پھر مرزاقادیانی جھوٹا ہوا یا نہیں؟ اگر مرزاقادیانی جھوٹا ہے (اور یقینا جھوٹا ہے) تو کیا جھوٹے کی پیروی کرنا شرعاً لازم اور جائز ہے یا نہیں؟

623

کیا حضور ﷺ سابقہ انبیاء علیہم السلام کے لئے خاتم نہیں؟

سوال نمبر:۷…

اگر خاتم النّبیین ( ﷺ) سے مراد ’’حضور ﷺ کی مہر سے نبوت ملنے اور نبیوں کی مہر‘‘ والا ترجمہ کیا جائے تو اس سے ثابت یہ ہوگا کہ حضور ﷺ سیدنا آدم علیہ السلام سے لے کر سیدنا عیسیٰ علیہ السلام تک کے انبیاء علیہم السلام کے خاتم نہ ہوئے۔ بلکہ حضور ﷺ بعد میں آنے والے نبیوں کے لئے خاتم ہوںگے۔ کیا یہ ترجمہ اور مفہوم منشاء قرآن وسنت کے مطابق ہے یا نہیں؟ اگر ہے تو دلائل اور قرائن سے سمجھایا جائے کہ کیسے ہے؟ اور اگر یہ ترجمہ ومفہوم قرآن وحدیث کے منشاء کے خلاف ہے! تو پھر صحیح مفہوم کیا ہے؟

کیا حضور ﷺ خاتم النبی تھے؟

سوال نمبر:۸…

مرزائیو! اگر خاتم النّبیین کا معنی ’’نبیوں پر مہر‘‘ ہے اور چودہ سو برس میں مہر لگی تو صرف (بقول مرزا) ایک نبی پر جیسا کہ خود مرزاقادیانی نے اپنی کتاب ’’حقیقت الوحی‘‘ میں لکھا ہے: ’’پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیاگیا اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۱۹۳، خزائن ج۲۲ ص۴۰۶،۴۰۷)

اب سوال یہ ہے کہ ’’خاتم النّبیین‘‘ کا معنی نبیوں پر مہر اور وہ مہر لگی صرف مرزاقادیانی پر، جیسا کہ مذکورہ بالا مرزا کی عبارت بتلارہی ہے تو پھر اس کا مطلب یہ ہوا کہ حضور ﷺ ’’خاتم النّبیین‘‘ نہ ہوئے۔ بلکہ ’’خاتم النبی‘‘ ہوئے۔ یعنی ایک نبی کے لئے مہر؟ یہ عقدہ حل کر کے مرزاقادیانی کو ایصال ثواب کرو۔

’’خاتم النّبیین‘‘ کے معنی ’’نبیوں کی مہر‘‘ کا ثبوت؟

سوال نمبر:۹…

’’خاتم النّبیین‘‘ کا معنی اگر ’’نبیوں کی مہر‘‘ یا ’’نبیوں پر مہر‘‘ ہے۔ جیسا کہ اے مرزائیو! تم بتلاتے ہو اور یہی معنی مرزاقادیانی کرتا ہے تو کیا مرزاقادیانی سے پہلے امت مسلمہ کے مفسرین، ائمہ لغت نے یہ ترجمہ کیا ہے؟ اور یہ تفسیر جو مرزاقادیانی نے کی یا تم کرتے ہو۔ سابقہ کتب تفاسیر، اور کتب لغت سے تم اس کا ثبوت پیش کر سکتے ہو؟ اگر نہیں اور یقینا نہیں تو پھر یہ بتلاسکتے ہو؟ کہ مرزاقادیانی کا کیا ہوا۔ ترجمہ اور تفسیر غلط ہے؟ اور کیا کہہ سکتے ہو کہ مرزاقادیانی نے جھوٹ بولا ہے؟

اجراء نبوت پر کوئی آیت یا حدیث؟

سوال نمبر:۱۰…

قرآن کریم کی آیات اور احادیث کثیرہ سے مطلقاً نبوت مستقلہ ہو یا غیرمستقلہ، تشریعی نبوت ہو یا غیرتشریعی وغیرہ کا انقطاع اور اختتام ثابت ہوتا ہے۔ کیا قادیانی ایسی کوئی آیت یا حدیث پیش کر سکتے ہیں؟ جس میں مرزاغلام احمد قادیانی کے لئے نبوت غیر مستقلہ یا غیرتشریعی ملنے کی صراحت ہو۔ اگر ہو تو پیش کی جائے؟ اگر نہیں اور یقینا نہیں تو پھر ہمت سے کام لے کر کہہ سکتے ہو؟ کہ مرزاقادیانی نے نبوت کا دعویٰ کر کے جھوٹ بولا ہے؟

نبوت غیرمستقلہ ملنے کے لئے معیار؟

سوال نمبر:۱۱…

قادیانی کہتے ہیں کہ مرزا کو نبوت غیرمستقلہ ملی تھی، اور یہی دعویٰ مرزاقادیانی اور مرزاقادیانی کے خلفاء نے کیا ہے تو سوال یہ ہے کہ نبوت غیرمستقلہ ملنے کا معیار اور ضابطہ کیا ہے؟ نیز وہ معیار چودہ صدیوں کے اکابرین، بزرگان ملت، صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین وتابعین رحمہم اللہ علیہ، خلفاء راشدین رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین میں پایا جاتا تھا یا نہیں؟ اگر پایا جاتا تھا تو وہ نبی کیوں نہ بنے؟ اور انہوں نے دعویٰ نبوت کیوں نہ کیا؟

624

بزرگان ملت، صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین وتابعین رحمہم اللہ علیہ، خلفاء راشدین رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین میں پایا جاتا تھا یا نہیں؟ اگر پایا جاتا تھا تو وہ نبی کیوں نہ بنے؟ اور انہوں نے دعویٰ نبوت کیوں نہ کیا؟

کیا جھوٹا مدعی ٔ نبوت زندہ نہیں رہ سکتا؟

سوال نمبر:۱۲…

مرزاقادیانی نے لکھا ہے کہ: ’’ہر گز ممکن نہیں کہ کوئی شخص جھوٹا ہو اور خدا پر افتراء کر کے آنحضرت ﷺ کے زمانۂ نبوت کے موافق یعنی تیئس برس تک مہلت پاسکے۔ ضرور ہلاک ہو گا۔‘‘

(اربعین نمبر۴ ص۵، خزائن ج۱۷ ص۴۳۴)

مرزاقادیانی نے ۱۹۰۱ء میں دعویٰ نبوت کیا اور ۱۹۰۸ء میں آنجہانی جہنم مکانی ہوگیا۔ اب سوال یہ ہے کہ مرزاقادیانی دعویٔ نبوت کے بعد تیئس برس تک مہلت نہ پاسکا۔ اس سے پہلے آنجہانی ہوگیا تو کیا باقرار خود جھوٹا ثابت ہوا یا نہیں؟ اگر ہوا تو تمہارے ذمہ ہے اس کے جھوٹے ہونے کا اعلان؟ ورنہ اس کے سچا ہونے کی کیا دلیل ہے؟

کیا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ وحضرت عمر رضی اللہ عنہ منصب نبوت کے لائق نہ تھے؟

سوال نمبر:۱۳…

مرزاقادیانی نے اپنی کتاب (حقیقت الوحی) میں لکھا ہے: ’’اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیاگیا۔‘‘ (حقیقت الوحی ص۳۹۱، خزائن ج۲۲ ص۴۰۶،۴۰۷)

مذکورہ عبارت سے ایک تو یہ معلوم ہوا کہ نبوت (العیاذ بِاللہ) حضور ﷺ پر ختم نہیں ہوئی۔ بلکہ مرزاقادیانی ملعون پر ختم ہوئی۔ مرزائیو! تم بتلاؤ! جو شخص صرف نبوت کا مدعی نہ ہو بلکہ ختم نبوت کا مدعی ہو تو وہ دجال وکذاب، کافر ومرتد، ملحد وزندیق نہیں؟ نیز اس مدعی ختم نبوت کے پیروکاروں کا کیا حکم ہے؟ مرتد ہیں یا مسلمان؟ اور جو حضور ﷺ کی ختم نبوت پر ایمان رکھتے ہیں۔ ان کا کیا حکم ہے؟

علاوہ ازیں یہ بتائیں! جس منصب نبوت کے لئے مرزاقادیانی ملعون مخصوص کیاگیا ہے۔ اس منصب کے لئے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ وحضرت عمر رضی اللہ عنہ یا دیگر صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین میں سے کوئی لائق نہ تھا؟ آخر اس منصب کے لئے کیا معیار ہے؟ جو مرزا ملعون کے علاوہ میں نہیں پایا جاتا؟

کیا ﷲ کے نبی دنیا کے معلمین کے پاس تعلیم حاصل کرتے ہیں؟

سوال نمبر:۱۴…

قرآن وحدیث تو یہ بتلاتے ہیں کہ ﷲ کا نبی ﷲتعالیٰ سے تعلیم پاتا ہے، اور دنیا کو علوم کی خیرات کرتا ہے اور احکامات الٰہیہ امت تک پہنچاتا ہے۔ نبی کے معلم خود ﷲتعالیٰ ہوتے ہیں۔ جیسا کہ قرآن پاک کی بیسیوں آیات اور ذخیرۂ احادیث اس پر شاہد ہے۔ مگر قادیان کا دہقان ایک طرف اپنی کتاب (کتاب البریہ ص۱۸۰، خزائن ج۱۳ ص) میں لکھتا ہے کہ میرے معلم فضل الٰہی، فضل احمد، گل علی، حکیم غلام مرتضیٰ ہیں اور دوسری طرف نبوت کا مدعی بھی ہے۔

تو سوال یہ ہے کہ کوئی ایک نبی ایسا مل سکتا ہے جس نے دنیا کے معلمین کے پاس تعلیم حاصل کی ہو؟ اور ان معلمین کے آگے دوزانو بیٹھا ہو؟ یا سرکاری ملازمت یا منشی گیری کی ہو؟ اگر نہیں اور یقینا نہیں تو مرزاقادیانی نبی کیسے؟

کیا مراقی نبی بن سکتا ہے؟

سوال نمبر:۱۵…

ﷲتعالیٰ کا نبی ہر ایسے عیب اور بیماری سے پاک ہوتا ہے جس سے لوگ متنفر ہوں۔ مگر مرزاقادیانی

625

تو عیبوں اور بیماریوں کا معجون مرکب تھا۔ جس کی تفصیل اس کی کتب میں موجود ہے۔ اگر بالفرض قیامت کے دن ﷲتعالیٰ مرزاقادیانی سے استفسار فرمالیں اور یقینا فرمائیں گے کہ تو نے کس مجبوری سے دعویٰ نبوت کر لیا؟ جبکہ میں نے باب نبوت حضور رحمتہ للعالمینa پر مسدود کر دیا تھا۔ آگے مرزاقادیانی جواب دے کہ میری دو مجبوریاں تھیں۔

۱… ایک سرکار انگریزی کی غلامی۔

۲… مراق وغیرہ بیماریوں کا تسلط۔

مرزائیو! تم سے ایک سوال تو یہ ہے کہ کیا ان مجبوریوں کے عذر سے مرزاقادیانی سبکدوش ہو جائے گا؟ اگر نہیں اور پکی بات ہے کہ نہیں! تو آپ سے بھی سوال ہوگا کہ تم نے اس دجال کی پیروی کیوں کی؟ جب کہ اس کی یہ مجبوری تھی؟ تو تم کیا جواب دو گے؟ ذرا عقدہ کشائی کر کے ہماری معلومات میں اضافہ کریں؟

کیا مرزاقادیانی کی شہ رگ نہیں کٹی؟

سوال نمبر:۱۶…

اکثر مرزائی کہتے ہیں کہ جھوٹے کی ﷲتعالیٰ شہ رگ کاٹ دیتے ہیں۔ اب مرزائیوں سے سوال یہ ہے کہ قرآن وحدیث سے اس کا ثبوت دیں؟ اگر بالفرض مان لیا جائے کہ جھوٹے کی شہ رگ کاٹ دی جاتی ہے تو مرزاقادیانی کا آخری دعویٰ جو (ملفوظات ج۱۰ ص۱۲۷) میں موجود ہے کہ: ’’ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول اور نبی ہیں۔‘‘ جس دن چھپ کر آیا پروردگار نے اسی دن ’’ہیضہ کی موت‘‘ میں مرزاقادیانی کو آنجہانی کر دیا۔ اب مرزائیو! تم بتلاؤ کیا مرزاقادیانی کی شہ رگ نہیں کٹی؟ اگر کٹ گئی تو پھر بتلاؤ! کیا مرزاقادیانی جھوٹا نہیں تھا؟ اگر جھوٹا نہیں تھا تو شہ رگ کیوں کٹی؟

کلمہ گو، اہل قبلہ کا کیا مطلب؟

سوال نمبر:۱۷…

قادیانیوں کا دعویٰ ہے کہ ہم کلمہ گو ہیں۔ اہل قبلہ ہیں۔ قبلہ کی طرف ہم اپنا رخ کرتے ہیں۔ لہٰذا مسلمان ہیں۔ تو سوال یہ ہے کہ اہل قبلہ کی شرعاً کیا تعریف ہے؟ نیز یہ بتائیں کہ آدمی ضروریات دین کا انکار کرے، یا متواترات میں تاویل کرے، یا عقیدۂ ختم نبوت کا انکار کرے۔ حیات ونزول مسیح علیہ السلام کو نہ مانے۔ تب بھی وہ اہل قبلہ میں سے ہے؟ چاہے وہ کلمہ بھی پڑھتا ہو؟ تو کیا اس کے کلمہ کا اعتبار ہوگا؟ جب کہ وہ ضروریات دین کا انکار یا ان میں تاویلات سے کام لیتا ہے؟ نیز یہ بھی بتائیں کہ لاہوری مرزائی تمہارے نزدیک کیوں کافر ہیں؟ کیا وہ اہل قبلہ نہیں؟

مرزاقادیانی ’’مسیح موعود‘‘ کیسے؟

سوال نمبر:۱۸…

مرزاقادیانی (تریاق القلوب ضمیمہ نمبر۲ ص۱۵۹، خزائن ج۱۵ ص۴۸۳) پر لکھتا ہے: ’’اس کے (یعنی مسیح موعود کے) مرنے کے بعد نوع انسان میں علت عقم سرایت کرے گی۔ یعنی پیدا ہونے والے حیوانوں اور وحشیوں سے مشابہت رکھیں گے اور انسانیت حقیقی صفحۂ عالم سے مفقود ہو جائے گی۔ وہ حلال کو حلال نہیں سمجھیں گے اور نہ حرام کو حرام، پس ان پر قیامت قائم ہوگی۔‘‘

فرمائیے! مرزاقادیانی کے وجود میں ’’مسیح موعود‘‘ کی یہ خاص علامت پائی گئی ہے؟ کیا ان کے مرنے کے بعد جتنے انسان پیدا ہوئے وہ سب وحشی ہیں؟ اور انسانیت صفحہ ہستی سے مٹ گئی ہے؟ کیا کوئی بھی حلال کو حلال اور حرام کو حرام سمجھنے والا دنیا میں موجود نہیں؟

626

اگر مرزاقادیانی میں یہ علامت نہیں پائی گئی تو وہ مسیح موعود کیسے ہوئے؟ اور اگر پائی گئی ہے تو دور کے لوگوں کا تو قصہ جانے دیجئے۔ خود قادیانی جماعت کے بارے میں تمہارا کیا فتویٰ ہے؟ کیا یہ بھی وحشیوں کی جماعت ہے؟ کیا ان میں حقیقی انسانیت قطعاً نہیں پائی جاتی؟ اور ان کو حلال وحرام کی کچھ تمیز نہیں؟

کیا دجال قتل ہوگیا؟ اور اسلام کو ترقی مل گئی؟

سوال نمبر:۱۹…

مرزاقادیانی مسیح بنے تو انہوں نے اپنے گھر میں ’’دجال‘‘ بھی گھڑ لیا۔ یعنی پادری، یہاں کئی سوال پیدا ہوتے ہیں۔ ایک یہ کہ پادری تو دنیا میں پہلے سے موجود تھے۔ خود رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے بھی پہلے اور ان کے مشرکانہ عقائد ونظریات بھی پہلے سے چلے آرہے تھے۔ جس پر قرآن کریم گواہ ہے۔ مگر دجال کو تو قتل کرنا تھا، جب کہ مرزاقادیانی کو مرے ہوئے مکمل ایک صدی ہورہی ہے اور ان کا دجال ابھی تک دنیا میں دندناتا پھر رہا ہے۔ مسیح موعود کی یہ علامت مرزاقادیانی پر کیوں صادق نہیں آتی؟

دوسرے دجال کو دنیا میں صرف چالیس دن رہنا تھا۔ جیسا کہ احادیث صحیحہ میں آتا ہے۔ مگر مرزاقادیانی کے خود ساختہ دجال کا چلّہ ابھی تک پورا ہی ہونے میں نہیں آیا۔

تیسرے مرزاقادیانی لکھتے ہیں: ’’میرا کام جس کے لئے میں اس میدان میں کھڑا ہوں، یہی ہے کہ میں عیسیٰ پرستی کے ستون کو توڑ دوں اور بجائے تثلیث کے توحید پھیلاؤں اور آنحضرت ﷺ کی جلالت اور عظمت اور شان دنیا پر ظاہر کر دوں۔ پس مجھ سے کروڑ نشان بھی ظاہر ہوں اور یہ علت غائی ظہور میں نہ آئے تو میں جھوٹا ہوں۔ پس دنیا کیوں مجھ سے دشمنی کرتی ہے۔ وہ میرے انجام کو کیوں نہیں دیکھتی۔ ( ﷲتعالیٰ اس ذلت اور عبرتناک انجام سے بچائے۔ مرتب) اگر میں نے اسلام کی حمایت میں وہ کام کر دکھایا جو مسیح موعود اور مہدی موعود کو کرنا چاہئے تو پھر میں سچا ہوں اور اگر کچھ نہ ہوا اور میں مرگیا تو پھر سب گواہ رہیں کہ میں جھوٹا ہوں۔‘‘ (اخبار البدر مورخہ ۱۹؍جولائی ۱۹۰۶ء)

دنیا گواہ ہے کہ مرزاقادیانی کے آنے کے بعد دین اسلام کو ترقی نہیں ہوئی۔ بلکہ ان کی کفریات کی وجہ سے تنزّل ہی ہوا ہے۔ حقیقت تو ہے کہ آج تک خود ان کی اپنی جماعت خارج از اسلام ہے۔ کیا قادیانی صاحبان سب دنیا کے ساتھ مرزاقادیانی کے جھوٹا ہونے کی گواہی نہیں دیں گے؟

مرزاقادیانی کے مسیح بننے کا امر مخفی کیوں؟

سوال نمبر:۲۰…

مرزاقادیانی نے لکھا ہے: ’’مگر وہ باتیں جو مدار ایمان ہیں اور جن کے قبول کرنے اور جاننے سے ایک شخص مسلمان کہلا سکتا ہے۔ وہ ہر زمانہ میں برابر شائع ہوتی رہی۔‘‘

(کرامات الصادقین ص۲۰، خزائن ج۷ ص۶۲)

اب مرزاقادیانی کی یہ تحریر کہ:’’ان ﷲ قادر علی ان یجعل عیسیٰ واحدا من امۃ نبیہ وکان ہذا وعدا مفعولا۰ یا اخوان ہذا ھوالامر الذی اخفاہ ﷲ من اعین القرون الاولیٰ‘‘ ﷲتعالیٰ اس پر قادر ہیں کہ اس امت محمدیہ سے ایک عیسیٰ بنائیں۔ یہ ﷲتعالیٰ کا پکا وعدہ تھا اور اس امر کو اسلام کے قرون اولیٰ سے مخفی کر دیا تھا۔‘‘ (آئینہ کمالات ص۴۲۶، خزائن ج۵ ص۴۲۶)

اگر اس امت کے فرد کو مسیح بنانا تھا اور یہ قادیانیت کے ایمان کا بنیادی پتھر ہے تو اسے مخفی کیوں رکھا گیا؟

627

کیا عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوگئے؟

سوال نمبر:۲۱…

قادیانی اگر کہیں کہ مسیح علیہ السلام فوت ہوگئے تو ان سے سوال کریں کہ کب؟ وہ کہیں گے کہ دو ہزار سال قبل تو آپ انہیں کہیں کہ ۱۸۸۴ء میں تو وہ زندہ تھے۔ حوالہ یہ ہے۔ مرزاقادیانی نے (براہین احمدیہ حصہ چہارم ص۴۹۹، خزائن ج۱ ص۵۹۳) پر لکھا ہے کہ: ’’جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق اور اقطار میں پھیل جائے گا۔‘‘ معلوم ہوا کہ عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں۔ دونوں باتوں میں سے کون سی سچی اور کون سی جھوٹی ہے؟

مرزاقادیانی کہتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں۔

قادیانیو! تم کہتے ہو فوت ہوگئے۔ بتاؤ! مرزاقادیانی کی بات سچی ہے یا تمہاری؟ اگر مرزاقادیانی کی بات سچی ہے تو تم جھوٹے؟ اگر تمہاری بات سچی ہے تو مرزاقادیانی جھوٹا؟ تصفیہ مطلوب ہے؟

’’حدیث صحیح‘‘ اور مسیح موعود؟

سوال نمبر:۲۲…

مرزاقادیانی تحریر کرتا ہے کہ: ’’احادیث صحیحہ میں آیا تھا کہ وہ مسیح موعود صدی کے سر پر آئے گا اور وہ چودھویں صدی کا مجدد ہوگا۔‘‘ (براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۸۸، خزائن ج۲۱ ص۳۵۹)

احادیث کا لفظ جمع ہے۔ جمع قلت ایک سے دس تک اور جمع کثرت دس سے اوپر کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ احادیث صحیحہ نہیں بلکہ صرف ایک صحیح حدیث میں چودھویں صدی کا لفظ قادیانی دکھا دیں؟ کیا کوئی قادیانی صرف ایک حدیث دکھا سکتا ہے؟ اگر نہیں دکھا سکتا تو سوال یہ ہے کہ کیا کہہ سکتے ہیں کہ لفظ احادیث جمع قلت ہے اور جمع قلت کا اطلاق تین سے دس تک، تو مرزاقادیانی نے اپنی اس عبارت میں دس جھوٹ بولے؟ اگر نہیں تو احادیث صحیحہ امت مسلمہ کے سامنے لاؤ؟

حدیث صحیح اور تیرھویں صدی کا لفظ؟

سوال نمبر:۲۳…

مرزاقادیانی تحریر کرتا ہے کہ: ’’احادیث صحیحہ پکار پکار کر کہتی ہیں کہ تیرھویں صدی کے بعد ظہور مسیح ہے۔‘‘ (آئینہ کمالات ص۳۴۰، خزائن ج۵ ص۳۴۰)

احادیث جمع ہے حدیث کی۔ قادیانی حضرات کسی ایک حدیث صحیح میں ظہور مسیح کے لئے تیرھویں صدی کا لفظ دکھادیں۔ قیامت تک نہیں دکھا سکتے۔ مرزاقادیانی نے صریح کذب بیانی سے کام لیا ہے۔ یہ مرزاقادیانی کا واضح جھوٹ ہے۔ تو کیا مرزاقادیانی کے افتراء علی الرسول میں کوئی شک باقی رہ جاتا ہے؟

قادیانیو! اگر مرزاقادیانی کو ’’افتراء علی الرسول ( ﷺ)‘‘ سے بچانا ہے تو حدیث صحیح پیش کرو؟ ورنہ مانو کہ مرزاقادیانی جھوٹا تھا۔

کیا سلف کے کلام میں ’’لفظ نزول من السماء‘‘ نہیں؟

سوال نمبر:۲۴…

مرزاقادیانی نے تحریر کیا کہ: ’’سلف کے کلام میں مسیح کے لئے ’’نزول من السماء‘‘ کا لفظ نہیں آیا۔‘‘

(انجام آتھم ص۱۴۸، خزائن ج۱۱ ص۱۴۸)

628

حالانکہ حدیث میں عبد ﷲ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ ’’اَخِیْ عِیْسٰی بْنُ مَرْیَمَ یَنْزِلُ مِنَ السَّمَآ ء (کنزالعمال ج۱۴ ص۶۱۹، نمبر۳۹۷۲۶)‘‘

(فقہ اکبر ص۸) میں حضرت امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کا کلام موجود ہے۔ کیا یہ دو حوالے مرزاقادیانی کے دجل کے لئے شاہد عادل نہیں ہیں؟ تو پھر بتائیں! کہ کیا مرزاقادیانی نے حضور ﷺ اور جمیع سلف پر جھوٹ نہیں بولا؟

کیا مرزاقادیانی مفتری اور کذاب ہے؟

سوال نمبر:۲۵…

مرزاقادیانی ’’آئینہ کمالات اسلام‘‘ میں قسم کھا کر کہتا ہے کہ: ’’ ﷲتعالیٰ نے مجھے مسیح موعود اور مسیح ابن مریم بنادیا تھا۔‘‘ (آئینہ کمالات اسلام ص۵۵۱، خزائن ج۵ ص۵۵۱)

لیکن اس کے برعکس ’’ازالہ اوہام‘‘ میں کہتا ہے کہ میں مسیح موعود نہیں بلکہ مثیل مسیح ہوں اور یہ کہ جو شخص میری طرف مسیح ابن مریم کا دعویٰ منسوب کرے وہ مفتری اور کذاب ہے۔ چنانچہ ’’علمائے ہند کی خدمت میں نیازنامہ‘‘ کے عنوان سے لکھتا ہے: ’’اے برادران دین وعلمائے شرع متین! آپ صاحبان میری ان معروضات کو متوجہ ہوکر سنیں، کہ اس عاجز نے جو مثیل موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ جس کو کم فہم لوگ ’’مسیح موعود‘‘ خیال کر بیٹھے ہیں۔ یہ کوئی نیا دعویٰ نہیں جو آج ہی میرے منہ سے سنا گیا ہو۔ بلکہ یہ وہی پرانا الہام ہے جو میں نے خدائے تعالیٰ سے پاکر ’’براہین احمدیہ‘‘ کے کئی مقامات پر بتصریح درج کردیا تھا۔ جس کے شائع کرنے پر سات سال سے بھی کچھ زیادہ عرصہ گزر گیا ہوگا۔ میں نے یہ دعویٰ ہرگز نہیں کیا کہ میں مسیح ابن مریم ہوں۔ جو شخص یہ الزام میرے پر لگاوے وہ سراسر مفتری اور کذاب ہے۔ بلکہ میری طرف سے عرصہ سات یا آٹھ سال سے برابر یہی شائع ہورہا ہے کہ میں مثیل مسیح ہوں۔‘‘ (ازالہ اوہام ص۱۹۰، خزائن ج۳ ص۱۹۲)

سوال یہ ہے کہ جب مرزاقادیانی ’’آئینہ کمالات اسلام‘‘ میں درج عبارت کی رو سے خود کہتا ہے کہ خدا نے مجھے مسیح ابن مریم بنادیا ہے تو ’’ازالہ اوہام‘‘ کی عبارت کی رو سے خود مفتری اور کذاب ثابت ہوا یا نہیں؟ اور یہ کہ جو لوگ مرزاقادیانی کو مسیح موعود کہتے ہیں۔ مرزاقادیانی کے بقول ’’کم فہم لوگ‘‘ ہیں یا نہیں؟

مرزاقادیانی نے دس برس تک مسیحیت کیوں چھپائے رکھی؟

سوال نمبر:۲۶…

مرزاقادیانی (اعجاز احمدی) میں لکھتا ہے: ’’پھر میں قریباً بارہ برس تک جو ایک زمانۂ دراز ہے۔ بالکل اس سے بے خبر اور غافل رہا کہ خدا نے مجھے بڑی شدومد سے براہین میں مسیح موعود قرار دیا ہے اور میں حضرت عیسیٰ کی آمد ثانی کے رسمی عقیدہ پر جما رہا۔ جب بارہ برس گزر گئے تب وہ وقت آگیا کہ میرے پر اصل حقیقت کھول دی جائے۔ تب تواتر سے اس بارہ میں الہامات شروع ہوئے کہ تو ہی (مرزاقادیانی) مسیح موعود ہے۔‘‘ (اعجاز احمدی ص۷، خزائن ج۱۹ ص۱۱۳)

اس کے برعکس (آئینہ کمالات اسلام) میں لکھتا ہے: ’’وو ﷲ قد کنت اعلم من ایام مدیدۃ اننی جعلت المسیح ابن مریم۰ وانی نازل فی منزلہ ولکن اخفیتہ نظراً الی تاویلہ بل مابدلت عقیدتی وکنت علیہا من المستمسکین وتوقفت فی الاظہار عشرسنین‘‘

(آئینہ کمالات اسلام ص۵۵۱، خزائن ج۵ ص۵۵۱)

ترجمہ: ’’اور ﷲ کی قسم! میں ایک مدت سے جانتا تھا کہ مجھے مسیح ابن مریم بنادیا گیا ہے، اور میں اس کی جگہ نازل

629

ہوا ہوں۔ لیکن میں نے اس کو چھپائے رکھا۔ اس کی تاویل پر نظر کرتے ہوئے بلکہ میں نے اپنا عقیدہ بھی نہیں بدلا۔ بلکہ اسی پر قائم رہا اور میں نے دس برس اس کے اظہار میں توقف کیا۔‘‘

ان دونوں بیانوں میں تناقض ہے۔ ’’اعجاز احمدی‘‘ میں کہتا ہے کہ بارہ برس تک مجھے خبر نہیں تھی کہ خدا نے بڑی شدومد سے مجھے مسیح موعود قرار دیا ہے اور ’’آئینہ کمالات اسلام‘‘ میں کہتا ہے کہ ﷲکی قسم! میں جانتا تھا کہ مجھے مسیح موعود بنادیا گیا ہے۔ لیکن میں نے اس کو دس برس تک چھپائے رکھا۔ حالانکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے تو ماں کی گود میں دودھ پینے کی حالت میں مخالفین کے سامنے اعلان فرمادیا تھا۔ ’’اِنِّیْ عَبْدُاللّٰہِ اٰتانِیَ الْکِتٰبَ وَجَعَلَنِیْ نَبِیًّا (مریم:۳۰)‘‘ {کہ میں ﷲ کا بندہ ہوں، اس نے مجھے کتاب دی اور مجھے نبی بنایا۔}

بتائیے! مرزاقادیانی کی ان دونوں باتوں میں سے کون سی بات صحیح ہے اور کون سی غلط؟ کون سی سچی ہے اور کون سی جھوٹ؟

کیا نبی وحی الٰہی سے جاہل ہوتا ہے؟

سوال نمبر:۲۷…

مرزاقادیانی (اعجاز احمدی) میں لکھتا ہے: ’’خدا نے میری نظر کو پھیر دیا۔ میں براہین کی اس وحی کو نہ سمجھ سکا کہ وہ مجھے مسیح موعود بناتی ہے۔ یہ میری سادگی تھی جو میری سچائی پر ایک عظیم الشان دلیل تھی۔ ورنہ میرے مخالف مجھے بتلادیں کہ میں نے باوجودیکہ براہین احمدیہ میں مسیح موعود بنایا گیا تھا۔ بارہ برس تک یہ دعویٰ کیوں نہ کیا؟ اور کیوں براہین میں خدا کی وحی کے مخالف لکھ دیا؟‘‘ (اعجاز احمدی ص۷، خزائن ج۱۹ ص۱۱۴)

اس عبارت میں مرزاقادیانی اقرار کرتا ہے کہ اس نے خدا کی وحی کو بارہ برس تک نہیں سمجھا اور خدا کی وحی کے خلاف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ آنے کا عقیدہ لکھ دیا۔ اب سوال یہ ہے کہ جو شخص بارہ برس تک وحی الٰہی کا مطلب نہ سمجھے اور وحی الٰہی کے خلاف بارہ برس تک جھوٹ بکتا رہے۔ کیا وہ مسیح موعود ہوسکتا ہے؟

دوسرا سوال یہ ہے کہ کسی شخص کا وحی الٰہی کے خلاف جھوٹ بکنا اس کے جھوٹا ہونے کی عظیم الشان دلیل ہے، یا مرزاقادیانی کے بقول اس کی سچائی کی؟

تیسرا سوال یہ ہے کہ ’’آئینہ کمالات اسلام‘‘ میں دس برس لکھا۔ یہاں بارہ برس کا ذکر ہے تو دس اور بارہ میں سے کون سا عدد صحیح ہے؟

چوتھا سوال یہ ہے کہ جو وحی الٰہی کو نہ سمجھ سکے وہ نبی یا مسیح موعود بننے کے لائق ہے؟

اگر نہیں تو پانچواں سوال یہ ہے کہ کیا یہ کہہ سکتے ہیں کہ مرزاقادیانی نبی نہیں۔ مسیح نہیں بلکہ جاہل مرکب تھا؟ اس معمہ کو حل کریں اور اجر عظیم پائیں۔

پھر مرزاقادیانی پر مسیحیت کا الزام کیوں؟

سوال نمبر:۲۸…

مرزاقادیانی (ازالہ اوہام) میں لکھتا ہے: ’’یہ بات پوشیدہ نہیں کہ مسیح ابن مریم کے آنے کی پیش گوئی ایک اوّل درجہ کی پیش گوئی ہے۔ جس کو سب نے بالاتفاق قبول کر لیا ہے اور جس قدر صحاح میں پیش گوئیاں لکھی گئی ہیں۔ کوئی پیش گوئی اس کے ہم پہلو اور ہم وزن ثابت نہیں ہوتی۔ تواتر کا اوّل درجہ اس کو حاصل ہے۔ انجیل بھی اس کی مصدق ہے۔‘‘ (ازالہ اوہام ص۵۵۷، خزائن ج۳ ص۴۰۰)

630

مرزاقادیانی کی اس عبارت سے معلوم ہوا کہ حضرت مسیح ابن مریم کے آنے کی پیش گوئی متواتر ہے۔ ادھر مرزاقادیانی کا کہنا یہ ہے کہ: ’’میں نے یہ دعویٰ ہر گز نہیں کیا کہ میں مسیح ابن مریم ہوں، جو شخص یہ الزام میرے پر لگاوے وہ سراسر مفتری اور کذاب ہے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۱۹۰، خزائن ج۳ ص۱۹۲)

پس جو لوگ مرزاقادیانی کو آنحضرت ﷺ کی متواتر پیش گوئی کا مصداق قرار دیتے ہیں کہ مرزاقادیانی مسیح ہے تو کیا وہ مفتری اور کذاب ہیں یا نہیں؟ نیز خود مرزاقادیانی تواتر، اجماعی عقیدہ، صحاح کی پیش گوئیوں کی خلاف ورزی کر کے مفتری اور کذاب ہوا یا نہیں؟

’’مسیح موعود ‘‘کی شش علامات کس آیت اور کس حدیث میں؟

سوال نمبر:۲۹…

مرزاقادیانی (اربعین نمبر۳ ص۱۷، خزائن ج۱۷ ص۴۰۴) پر لکھتا ہے: ’’لیکن ضرور تھا کہ قرآن شریف اور احادیث کی وہ پیش گوئیاں پوری ہوتیں۔ جن میں لکھا تھا کہ مسیح موعود جب ظاہر ہوگا تو:

۱… اسلامی علماء کے ہاتھ سے دکھ اٹھائے گا۔

۲… وہ اس کو کافر قرار دیں گے۔

۳… اور اس کے قتل کے فتوے دئیے جائیں گے۔

۴… اور اس کی سخت توہین کی جائے گی۔

۵… اور اس کو دائرۂ اسلام سے خارج اور

۶… دین کا تباہ کرنے والا خیال کیا جائے گا۔‘‘

مسیح موعود کی یہ چھ علامتیں جو مرزاقادیانی نے قرآن مجید اور حدیث سے منسوب کی ہیں۔ قرآن کریم کی کس آیت اور کس حدیث میں لکھی ہیں؟ اس کا حوالہ دیجئے؟

ورنہ سوال یہ ہے کہ کیا مرزاقادیانی قرآن کی طرف نسبت کر کے ﷲتعالیٰ پر افتراء اور احادیث کی طرف نسبت کر کے حضور ﷺ پر افتراء کر کے بہت سے جھوٹوں کا مرتکب نہیں ہوا؟

مرزاقادیانی کی مسیحیت کی علامات اور احادیث؟

سوال نمبر:۳۰…

مرزاقادیانی کا مسیح موعود ہونا آنحضرت ﷺ کے ارشادات کے مطابق ہے یا خلاف؟ اگر مطابق ہے تو برائے مہربانی وہ احادیث جن میں مرزاقادیانی کی علامات بیان فرمائی گئیں ہیں۔ مع حوالہ کتب تحریر فرمائیں؟

اگر کوئی ایک حدیث بھی ایسی نہیں جس میں مرزاقادیانی کی مسیحیت کی علامات بیان نہیں ہوئیں اور یقینا نہیں ہوئیں۔ تو کیا کہہ سکتے ہیں کہ مرزاقادیانی نے حضور ﷺ کی معصوم ہستی پر جھوٹ بولا؟ اور مستحق جہنم ہوا؟

کیا قادیانیوں کے نزدیک مرزا قادیانی بڑا جھوٹا ہے؟

یا … پچاس برس تک جھوٹ بولنے والامسیح بن سکتا ہے؟

سوال نمبر:۳۱…

مرزا غلام احمد قادیانی نے (براہین احمدیہ حصہ چہارم) میں (سورۂ صف:۱۰) کے حوالہ سے لکھا کہ حضرت

631

عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے۔ چنانچہ لکھتا ہے: ’’ھوالذی ارسل رسولہ بالہدی ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ‘‘ یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح کے حق میں پیش گوئی ہے اور جس غلبۂ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے۔ وہ غلبہ مسیح کے ذریعہ سے ظہور میں آئے گا اور جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق اور اقطار میں پھیل جائے گا۔

(براہین احمدیہ حصہ چہارم حاشیہ درحاشیہ ص۴۹۸،۴۹۹، خزائن ج۱ص۵۹۳)

مرزا قادیانی کی عبارت غور سے پڑھ کر صرف اتنا بتائیے! کہ مرزا قادیانی نے قرآن کریم کے حوالہ سے جو لکھا، کہ عیسیٰ علیہ السلام اس دنیا میں دوبارہ تشریف لائیں گے۔ یہ سچ تھا یا جھوٹ؟ صحیح تھا یا غلط؟

ایک اہم نکتہ

مرزا قادیانی ۱۸۹۱ء تک کہتا رہا، کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ آئیں گے۔ اس کے بعد یہ کہنا شروع کیا کہ وہ مرگئے ہیں۔ دوبارہ نہیں آئیں گے۔ مسلمان اور قادیانی دونوں فریق اس بات پر متفق ہیں کہ ان دونوں متضاد خبروں میں ایک سچی تھی اور دوسری جھوٹی۔ قادیانی کہتے ہیں کہ پہلی جھوٹی تھی اور دوسری سچی۔ مسلمان کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی کی پہلی خبر کہ عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ آئیں گے سچی تھی، اور بعد والی خبر وفات کی جھوٹی تھی۔ خلاصہ یہ ہوا کہ ایک خبر سچی اور ایک جھوٹی اور یہ طے شدہ امر ہے کہ: ’’جھوٹی خبر دینے والا شخص جھوٹا کہلاتا ہے۔ لہٰذا دونوں فریق اس پر متفق ہوئے کہ مرزا قادیانی جھوٹا تھا۔‘‘

ایک اور قابل غور نکتہ

یہ تو آپ نے ابھی دیکھا کہ دونوں فریق مرزا قادیانی کے جھوٹا ہونے پر متفق ہیں۔ آئیے! اب یہ دیکھیں کہ دونوں میں کون سا فریق مرزا قادیانی کو ’’بڑا جھوٹا‘‘ مانتا ہے۔

مسلمان کہتے ہیں کہ ابتداء سے ۱۸۹۱ء تک مرزا قادیانی اپنی زندگی کے پچاس برس تک سچ بولتا رہا۔آخری سترہ سالوں میں وفات مسیح کا عقیدہ ایجاد کرکے اس نے جھوٹ بولنا شروع کیا۔ اس کے برعکس قادیانیوں کا کہنا یہ ہے کہ مرزا قادیانی اپنی زندگی کے پچاس برس تک جھوٹ بکتا رہا۔ اس لئے کہ قادیانیوں کے نزدیک پہلے والی خبر جھوٹ تھی اور آخری سترہ سال میں اس نے سچ بولا۔

خلاصہ یہ کہ مسلمانوں کے نزدیک مرزا قادیانی کے سچ کا زمانہ پچاس سال، اور جھوٹ کا زمانہ صرف آخری سترہ سال، اور قادیانیوں کے نزدیک مرزا قادیانی کے جھوٹ کا زمانہ پچاس سال، اور اس کے سچ کا زمانہ صرف سترہ سال ہے۔ بتائیے! دونوں میں سے کس فریق کے نزدیک مرزا قادیانی بڑا جھوٹا نکلا؟ قادیانی اس نکتہ پر ضرور غور کریں۔

ایک اور لائق توجہ نکتہ

مسلمان کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی پچاس سال تک سچ کہتا رہا، کہ عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ آئیں گے۔ لیکن پھر شیطان نے اس کو بہکادیا اور شیطان کے بہکانے سے یہ کہنے لگا کہ عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ نہیں آئیں گے۔ بلکہ میں خود مسیح موعود بن گیا ہوںاور قادیانی کہتے ہیں گو وہ پچاس سال تک جھوٹ بکتا رہا کہ عیسیٰ علیہ السلام آئیں گے۔ لیکن پھر اس پچاس سال کے

632

جھوٹے کو ﷲ تعالیٰ نے (نعوذبِاللہ) مسیح موعود بنادیا۔ کیا کسی کی عقل میں یہ بات آسکتی ہے کہ پچاس سال تک جھوٹ بولنے والا ’’مسیح موعود‘‘ بن جائے؟

ایک اور دلچسپ نکتہ

اوپر معلوم ہوچکا ہے کہ مسلمان اور قادیانی دونوں فریق اس پر متفق ہیں کہ مرزا قادیانی جھوٹا تھا۔ ادھر مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے کہ وہ مسیح موعود ہے۔ ظاہر ہے کہ جھوٹا آدمی جب مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کرے گا تو وہ ’’مسیح کذاب‘‘ کہلائے گا۔ لہٰذا دونوں فریق اس پر بھی متفق ہوئے کہ مرزا قادیانی مسیح کذاب تھا۔

کیا وفات مسیح کا بھید صرف مرزا قادیانی پر کھلا؟

سوال نمبر:۳۲…

مرزا قادیانی لکھتا ہے کہ: ’’وفات مسیح کا بھید صرف مجھ پر کھولا گیا ہے۔‘‘

(اتمام الحجۃ ص۳،خزائن ج۸ص۲۷۵)

مرزا قادیانی نے:

۱… اپنی پہلی تصنیف ’’براہین احمدیہ‘‘ میں قرآن مجید سے استدلال کیا کہ عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ آسمان سے تشریف لائیں گے۔

۲… ’’ازالہ اوہام‘‘ میں کہا کہ عیسیٰ علیہ السلام کی وفات پر قرآن کی تیس آیات دلیل ہیں۔ اور یہ کہ وفات مسیح پر اجماع صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین ہے۔

۳… اب اس کتاب ’’اتمام الحجتہ‘‘ میں کہا کہ وفات مسیح کا بھید صرف مجھ پر کھولا گیا۔

اس بات پر دو سوال وارد ہوتے ہیں۔ اگر عیسیٰ علیہ السلام قرآن مجید کی رو سے زندہ تھے تو پھر تیس آیات وفات مسیح پر دلیل کیسے؟ ان دو باتوں میں سے ایک صحیح ایک غلط؟ اگر وفات مسیح پر اجماع تھا تو پھر بھید کیا؟ دونوں باتوں میں سے ایک صحیح ایک غلط۔ اور اگر تینوں اقوال کو سامنے رکھا جائے تو اس کی تثلیث کو کون حل کرے؟

کیا مسیح، حضرت عیسیٰ علیہ السلام نہیں مرزا قادیانی ہے؟

سوال نمبر:۳۳…

مرزا غلام احمد قادیانی نے ’’براہین احمدیہ‘‘ میں لکھا تھا کہ (سورۂ صف:۱۰) حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حق میں پیش گوئی ہے اور یہ کہ ﷲ تعالیٰ نے اس پیش گوئی میں ابتداء ہی سے مجھے بھی شریک کررکھا ہے۔

اس کے برعکس اعجاز احمدی میں لکھتا ہے کہ براہین احمدیہ میں: ’’مجھے بتلایا گیا تھا کہ تیری خبر قرآن وحدیث میں موجود ہے۔ اور تو ہی اس آیت کا مصداق ہے کہ: ’’ھوالذی ارسل رسولہ بالہدی ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ (صف:۱۰)‘‘ (اعجاز احمدی ص۱۷، خزائن ج۱۹ص۱۱۳)

مرزا قادیانی کے یہ دونوں بیان آپس میں ٹکراتے ہیں۔ کیونکہ ’’براہین‘‘ میں کہتا ہے کہ اس پیش گوئی کا مصداق عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔ لیکن ﷲتعالیٰ نے مجھے بھی اس میں شریک کررکھا ہے اور ’’اعجاز احمدی‘‘ میں کہتا کہ عیسیٰ علیہ السلام کا اس پیش گوئی میں کوئی حصہ نہیں۔ بلکہ میں (مرزا قادیانی) ہی اس کا مصداق ہوں، اور لطف یہ کہ دونوں جگہ اپنے الہام کا حوالہ دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ان دونوں میں سے کون سی بات سچی اور کون سی جھوٹی؟ اور کون سا الہام صحیح ہے اور کون سا غلط؟ اگر پہلا

633

الہام صحیح ہے تو مرزا قادیانی مسیح نہیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔ اگر دوسرا الہام صحیح ہے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام مسیح نہیں بلکہ مرزا قادیانی ہے۔

سوال یہ ہے کہ دونوں آیتوں میں سے کونسی صحیح اور کونسی غلط ہے؟۔ نیز دونوں میں سے کونسی شخصیت صحیح اور کونسی غلط؟۔ پھر غلط ہونے کی وجوہ کیا ہیں؟۔

قادیانیو! مرزا قادیانی کا پیش کردہ معمہ حل کرکے اپنے اوپر اور امت مسلمہ کے وجود پر رحم کرو۔

کیا مسیح موعود اور علماء کا تصادم آیت یا حدیث میں ہے؟

سوال نمبر:۳۴…

مرزا قادیانی لکھتا ہے کہ: ’’ ضرور تھا کہ قرآن شریف اور احادیث کی وہ پیش گوئیاں پوری ہوتیں جن میں لکھا تھا کہ مسیح موعود جب ظاہر ہوگا تو اسلامی علماء کے ہاتھ سے دکھ اٹھائے گا۔ وہ اس کو کافر قرار دیں گے اور اس کے قتل کے ایسے فتویٰ دئیے جائیں گے۔‘‘

(اربعین نمبر۳ص۱۷، خزائن ج۱۷ص۴۰۴)

قرآن مجید میں ایسی پیش گوئی کہاں ہے؟۔ قرآن واحادیث پر مرزا کا صریح الزام اور جھوٹ ہے۔ احادیث پر مطلع ہونا ہر کسی کے بس میں نہیں۔ قرآن مجید تو عامتہ المسلمین کے ہر فرد کی دسترس میں ہے۔ سینکڑوں بار اس کی تلاوت کا شرف حاصل ہوا۔ ایک لفظ مسیح وعلماء کے تصادم کے متعلق قرآن مجید میں موجود نہیں۔ کیا قادیانی ایسی قرآنی آیت کی نشاندہی کرکے مرزا قادیانی کے دامن کو کذب کی آلودگی سے بچاسکتے ہیں؟۔اگر نہیں تو پھر صحیح مسیح کو مان کر داخل اسلام ہوجائو۔

مرزا قادیانی حقیقی مسیح کیسے؟

سوال نمبر:۳۵…

قادیانیوں کے نزدیک مرزا غلام احمد قادیانی کی وہی حیثیت ہے جو مسلمانوں کے نزدیک حقیقی مسیح ابن مریم علیہ السلام کی۔ گویا کہ مسلمانوں کے نزدیک جس مسیح ابن مریم علیہ السلام نے دوبارہ تشریف لانا ہے۔ وہ قادیانیوں کے نزدیک مرزا قادیانی کی شکل میں آگیا ہے۔ بقول قادیانی جماعت کے کہ مرزا قادیانی حقیقی مسیح کی جگہ پر آگیا ہے تو پھر سوال یہ ہے کہ سرکار دوعالم ﷺ نے حقیقی مسیح کے متعلق ارشاد فرمایا ہے کہ وہ بعد نزول کے ۴۵سال دنیا میں گزاریں گے۔ جبکہ مرزا قادیانی نے ۱۸۹۱ء میں مسیح ہونے کا دعویٰ کیا اور ۱۹۰۸ء میں جہنم واصل ہوگیا تو یوں مرزا قادیانی کے دعویٰ مسیحیت کی مدت کل تقریباً سترہ یا ساڑھے سترہ سال بنتی ہے تو پھر مرزا غلام احمد قادیانی مسیح کیسے ہوا؟

اگر مرزا قادیانی حقیقی مسیح نہیں اور یقینا نہیں تو حقیقی مسیح کیوں نہیں مانتے؟

آخر تمہاری کیا مجبوری ہے؟

کیا دوزرد چادروں سے دو بیماریاں مراد ہیں؟

سوال نمبر:۳۶…

مسیح علیہ السلام کے متعلق ہے کہ نزول کے وقت دو زردرنگ کی چادریں پہنی ہوںگی۔ مرزاقادیانی نے کہا کہ اس سے مراد یہ ہے کہ خواب میں جو زردرنگ کی چادریں دیکھے۔ اس سے مراد دو بیماریاں ہوتی ہیں۔ لیکن کیا حدیث شریف جس میں مسیح کی آمد کے وقت دو چادروں کا ذکر ہے۔ اس حدیث میں کسی خواب کا ذکر ہے۔ اگر نہیں اور یقینا نہیں تو پھر قادیانی کی یہ تحریف دجل کا شاہکار ہے یا نہ؟

634

کیا علامات مسیح علیہ السلام ومہدی علیہ السلام مرزا میں ہیں؟

سوال نمبر:۳۷…

قادیانی جماعت کے لئے نزول مسیح علیہ السلام وآمد سیدنا مہدی علیہ الرضوان کی احادیث کو ماننا اور رد کرنا دونوں دشوار ہیں۔ اگر یہ روایات غلط ہیں اور مسیح ومہدی نے نہیں آنا تو مرزاقادیانی کی چھٹی ہوگی۔ اگر ان دونوں نے آنا ہے تو ان کی علامات کو مسیح کا نام عیسیٰ، بغیر باپ، ماں کا نام مریم، جائے نزول دمشق، کوئی ایک علامت مسیح جو حدیث میں بیان ہوئی۔ مرزا میں نہ پائی گئی۔ اس طرح مہدی کہ ان کا نام محمد والد کا نام عبد ﷲ، مدینہ میں پیدائش، مکہ میں آمد، دمشق میں ورود۔ مرزاقادیانی میں ایک علامت بھی مہدی کی جو احادیث میں بیان ہوئی نہ پائی گئی۔ مرزاقادیانی نے قادیانی جماعت کو عجیب مخمصہ میں مبتلا کر دیا کہ وہ نہ تو احادیث کا انکار کر سکتے ہیں۔ نہ مان سکتے ہیں۔ اس مخمصہ کا نام قادیانیت کا گورکھ دھندہ ہے۔ خدارا خود کو بھی اور امت مسلمہ کو بھی اس مخمصہ سے نکالو۔ ورنہ اعلان کرو کہ مرزاقادیانی نے جھوٹ بولا ہے۔

مرزاقادیانی کی پہچان اپنی علامات میں

سوال نمبر:۳۸…

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۱۸۸، خزائن ج۲۱ ص۳۵۹) پر مرزاقادیانی لکھتا ہے کہ: ’’ایسا ہی احادیث صحیحہ میں آیا تھا کہ وہ مسیح موعود صدی کے سر پر آئے گا اور وہ چودھویں صدی کا مجدد ہوگا۔‘‘

احادیث صحیحہ کا لفظ کم ازکم تین احادیث پر بولا جاتا ہے۔ لہٰذا مسیح موعود کی ان دو علامتوں کہ:

۱… صدی کے سر پر آئے گا اور

۲… چودھویں صدی کا مجدد ہوگا۔

کو جو مرزاقادیانی نے احادیث صحیحہ کے حوالے سے لکھا ہے، کے بارے میں کم ازکم تین تین احادیث کا حوالہ دیجئے؟

کیا مرزاقادیانی ۱۳۳۵ھ تک زندہ رہا؟

سوال نمبر:۳۹…

مرزاقادیانی لکھتا ہے: ’’دانیال نبی بتاتا ہے کہ اس نبی آخرالزمان کے ظہور سے جب بارہ سو نوے برس گذر جائیں گے تو وہ مسیح موعود ظاہر ہوگا اور ۱۳۳۵ھ تک اپنا کام چلائے گا۔‘‘

(تحفہ گولڑویہ ص۱۱۷ حاشیہ، خزائن ج۱۷ ص۲۹۲)

مرزاقادیانی اگر مسیح موعود تھے تو ۱۳۳۵ھ تک زندہ رہتے۔ لیکن وہ تو ۱۳۲۶ھ مطابق ۱۹۰۸ء میں انتقال کر گئے۔ تو اس حوالہ کے لحاظ سے وہ اپنے دعویٰ مسیح موعود میں سچے نہ ہوئے۔ ہے کوئی قادیانی ماں کا لال، جو اس مشکل سے مرزاقادیانی کو نکالے؟

دمشق کا کون سا معنی صحیح ہے؟

سوال نمبر:۴۰…

مرزاقادیانی (آئینہ کمالات اسلام ص۴۵۶) پر کہتا ہے کہ: ’’دمشق سے مراد دمشق شہر کیونکر مراد ہوسکتا ہے۔ کیا حضور ﷺ علماء کے ساتھ دمشق گئے؟ اور وہاں جاکر ان کو مینارہ اور موضع نزول مسیح دکھایا ہے؟ یا اس مقام کا نقشہ بنا کر دکھایا؟ دمشق کے کئی معنی ہیں۔ یہ کنعان کی نسل کے سردار کے لئے بولا جاتا ہے۔ ناقہ اور جمل کے لئے بھی بولا جاتا ہے۔ مرد چابک دست کے لئے بھی بولا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اور بھی کئی معنی ہیں۔ اس خاص معنی (یعنی شہر) میں کیا خاص بات ہے کہ علماء اس پر اصرار کرتے ہیں اور دیگر معانی سے اعراض کرتے ہیں۔‘‘

635

یہاں پر قادیانیوں سے سوال ہے کہ مرزاقادیانی نے دمشق کے کئی معنی بیان کئے۔ شام کا شہر، کسی قوم کا سردار، ناقہ، جمل، ہوشیار آدمی، کون سا معنی۔ لیکن مرزاقادیانی نے ان معنوں سے یہ متعین نہیں کیا کہ حدیث میں لفظ دمشق سے کیا مراد ہے۔ قادیانی وہ معنی متعین کر دیں کہ حضور ﷺ نے جب حدیث میں مسیح علیہ السلام کے اترنے کی جگہ کے لئے دمشق کا لفظ، منارۃ البیضاء کا لفظ بولا، تو اس سے حضور ﷺ کی مراد کیا تھی؟۔ شہر دمشق یا کچھ اور؟

مرزاقادیانی اپنے دام میں… نزول کا معنی اترنا ہے پیدائش نہیں

سوال نمبر:۴۱…

مرزاقادیانی لکھتا ہے: ’’مجھ پر ظاہر کیاگیا ہے کہ دمشق کے لفظ سے دراصل وہ مقام مراد ہے۔ جس میں دمشق والی مشہور خاصیت پائی جاتی ہو اور خداتعالیٰ نے مسیح کے اترنے کی جگہ (پیدائش کی نہیں) جو دمشق کو بیان کیا تو یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مسیح سے مراد وہ اصل مسیح نہیں (بلکہ نقلی) جس پر انجیل نازل ہوئی تھی۔‘‘ (ازالہ اوہام ص۶۶، خزائن ج۳ ص۱۳۵)

اس میں کئی چیزیں توجہ طلب ہیں۔ خداتعالیٰ نے مسیح علیہ السلام کے اترنے کی جگہ جو دمشق کو بیان کیا، اترنے کی جگہ نہ کہ پیدائش کی، مرزاقادیانی نے خود تسلیم کر لیا۔ مسیح سے مراد وہ اصلی مسیح نہیں تو کیا نقلی مسیح مراد ہے؟ وہ مسیح جس پر انجیل نازل ہوئی تھی۔ مرزامسیح علیہ السلام کے نزول سے اپنی پیدائش مراد لیتا ہے۔ نزول کا معنی پیدائش تو کیا انجیل بھی پیدا ہوئی تھی؟

کیا مرزاقادیانی قرآن کا معجزہ ہے؟

سوال نمبر:۴۲…

مرزاقادیانی نے لکھا ہے: ’’قرآن شریف اگرچہ ایک عظیم الشان معجزہ ہے۔ مگر ایک کامل کے وجود کو چاہتا ہے کہ جو قرآن کے اعجازی جواہر پر مطلع ہو، اور وہ اس تلوار کی طرح ہے جو درحقیقت بے نظیر ہے۔ لیکن اپنا جوہر دکھلانے میں ایک خاص دست وبازو کی محتاج ہے۔ اس پر دلیل شاید یہ آیت ہے کہ ’’لایمسہ الا المطہرون‘‘ پس وہ ناپاکوں کے دلوں پر معجزہ کے طور پر اثر نہیں کر سکتا۔ بجز اس کے کہ اس کا اثر دکھلانے والا بھی قوم میں ایک موجود ہو اور وہ وہی ہوگا جس کو یقینی طور پر نبیوں کی طرح خداتعالیٰ کا مکالمہ اور مخاطبہ نصیب ہوگا… ہاں قرآن شریف معجزہ ہے۔ مگر وہ اس بات کو چاہتا ہے کہ اس کے ساتھ ایک ایسا شخص ہو جو اس معجزہ کے جوہر ظاہر کرے اور وہ وہی ہوگا جو بذریعہ الٰہی کلام کے پاک کیا جائے گا۔‘‘

(نزول المسیح ص۱۰۸تا۱۱۲، خزائن ج۱۸ ص۴۸۶تا۴۹۰)

قادیانیوں سے سوال یہ ہے کہ: ’’وہ وہی ہوگا جس کو یقینی طور پر نبیوں کی طرح خداتعالیٰ کا مکالمہ ومخاطبہ نصیب ہوگا۔‘‘ اس کے پیش نظر فرمائیں۔ قرآنی تلوار کے جوہر کے لئے نبیوں کی طرح کا آدمی مکالمہ ومخاطبہ سے سرفراز چودہ سو سال میں کون کون سے ہیں اور پھر مرزاقادیانی کے بعد کون کون؟ اور آئندہ کون کون ہوںگے؟۔ اگر نہیں تو پھر مان لیا جائے کہ سب چرب لسانی اور الفاظ کا گورکھ دھندہ صرف آپ کے ایمان کو ضائع کرنے کا خطرناک جال ہے اور کچھ نہیں؟

کیا مرزاقادیانی نے یہود کی بے گناہی بیان نہیں کی؟ اور قرآن مجید کو غلط نہیں کہا؟

سوال نمبر:۴۳…

مرزاقادیانی نے لکھا کہ: ’’یہود خود یقینا اعتقاد نہیں رکھتے کہ انہوں نے عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کیا ہے۔‘‘

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۲۰۵، خزائن ج۲۱ ص۲۷۸)

636

ہمارا قادیانیوں سے سوال ہے کہ سورۃ نساء آیت نمبر۱۵۸ میں قرآن مجید نے یہود کا قول یوں نقل کیا ہے۔ ’’اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِیْحَ‘‘ تحقیق ہم نے ہی عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کیا۔ کیا مرزاقادیانی نے ایک ایسا جھوٹ نہیں بولا؟ جس سے قرآن مجید کے دعویٰ کی تکذیب لازم آتی ہے؟ اگر قرآن مجید کی تکذیب نہیں کی تو پھر کیا کہہ سکتے ہیں کہ یہود کی صفائی پیش کر کے یہود کی طرح مغضوب، مطرود، ملعون، ذلت زدہ ہوا؟

کیا مرزاقادیانی لعنتی اور بدذات تھا؟

سوال نمبر:۴۴…

مرزاقادیانی قسم اٹھا کر دھڑلے سے جھوٹ بولتا ہے۔ چنانچہ لکھتا ہے کہ: ’’و ﷲ قد کنت اعلم من ایام مدیدۃ اننی جعلت المسیح بن مریم وانی نازل فی منزلہ ولکنی اخفیت… وتوقفت فی الاظہار الیٰ عشر سنین‘‘ (دیکھئے اس کی کتاب آئینہ کمالات اسلام ص۵۵۱، خزائن ج۵ ص ۵۵۱)

ملاحظہ فرمائیں کہ قسم کھا کر کہہ رہا ہے کہ خدا کی قسم میں جانتا تھا کہ مجھے مسیح ابن مریم بنادیا گیا ہے۔ مگر میں اسے چھپاتا رہا۔

جب اس کے برعکس (اعجاز احمدی ص۷، خزائن ج۱۹ ص۱۱۳) میں لکھتا ہے: ’’مجھے بارہ سال تک کوئی پتہ نہ چلا کہ خدا کی وحی مجھے مسیح ابن مریم بنارہی ہے۔‘‘ بتلائیے! مرزاقادیانی کا یہ حلفیہ بیان درست ہے یا بلاحلف۔ ایک میں ہے کہ مجھے پتہ تھا۔ مگر میں نے ظاہر کرنے میں ۱۰سال تاخیر کر دی۔ دوسری جگہ ہے کہ مجھے پتہ ہی نہ تھا۔ اسی طرح بارہ سال گذر گئے۔ فرمائیے کون سی بات درست ہے؟

یہ تو ثابت ہوگیا کہ مرزاقادیانی نے قسم اٹھا کر غلط بیانی کی ہے۔ اب خود مرزاقادیانی کے بقول ایسی بات کے متعلق نتیجہ بھی سماعت فرمائیے۔ مرزاقادیانی لکھتا ہے کہ:

۱… ’’جھوٹی قسم کھانا لعنتی کا کام ہے۔‘‘

(نزول المسیح ص۲۳۷، خزائن ج۱۸ ص۶۱۵، نسیم دعوت ص۸۷، خزائن ج۱۹ ص۴۵۳)

۲… ’’خدا کا نام لے کر جھوٹ بولنا سخت بدذاتی ہے۔‘‘

(تریاق القلوب ص۶، خزائن ج۱۵ ص۱۴۰، نزول مسیح ص۱۰،۱۱، خزائن ج۱۹ ص۳۸۸،۳۸۹)

اب اس فتویٰ کی روشنی میں جناب قادیانی لعنتی اور بدذات ثابت ہوئے۔ فرمائیے بدذات اور لعنتی فرد کسی بھی اچھے منصب کا مستحق ہوسکتا ہے؟ کیا اسے مہدی یا مجدد، ملہم یا مسیح وغیرہ تسلیم کیا جاسکتا ہے؟

کیا نبی برائی کو مستحکم کرنے آتا ہے یا مٹانے؟

سوال نمبر:۴۵…

مرزاقادیانی جب بڑھاپے میں پہنچ گیا تو اس کا نکاح ’’نصرت جہاں بیگم‘‘ سے ہوا۔ نصرت جہاں نے بڑھاپے میں مرزاقادیانی سے نکاح کیا وہ قادیانیوں کی ام المؤمنین کہلاتی ہے اور وہ غریب عورت جس کا مرزاقادیانی کے ابتدائی دن سے زندگی کا رشتہ جڑا، وہ صرف ’’پھجے دی ماں‘‘ رہ گئی۔ یہ معاشرہ میں بڑے جاگیرداروں کی بیماری ہے کہ وہ پہلی عورت کو اہمیت نہیں دیتے۔ دوسری پسند کی شادی کرتے اور اسے بیگم صاحبہ قرار دیتے ہیں۔ معاشرہ کی اس بیماری وعیب کو مرزاقادیانی نے ختم کرنے کی بجائے خود عمل پیرا ہوئے۔ گویا نئے نبی صاحب نے معاشرہ کی بیماری پر اپنی تقلید کی مہر لگادی اور اس عیب وبرائی کو اپنے عمل سے مزید مستحکم کر دیا۔ کیا نبی عیب وبرائی کو مٹانے کے لئے آتے ہیں یا مستحکم کرنے کے لئے؟

637

کیا مرزاقادیانی کی وحی، وحی ربانی ہے یا شیطانی؟

سوال نمبر:۴۶…

وحی کے متعلق ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ ’’وَمَا اَرْسَلْنَا مِنْ رَسُوْلٍ اِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِہٖ لِیُبَیِّنَ لَہُمْ (ابراہیم:۴)‘‘ اور کوئی رسول نہیں بھیجا ہم نے مگر بولی بولنے والا اپنی قوم کی تاکہ ان کو سمجھائے۔ اس فرمان الٰہی کے مطابق مرزاقادیانی کو تمام تر وحی پنجابی زبان میں ہونی چاہئے تھی۔ مگر مرزاقادیانی کی وحی:

۱…انگلش۔ ۲…اردو۔ ۳…عربی۔ ۴…فارسی۔ ۵…سنسکرت۔ ۶…عبرانی۔ ۷…پنجابی کے فقرات۔

پر مشتمل ہے۔ اب اگر یہ سچ ہے تو مرزاقادیانی کی وحی ربانی نہیں بلکہ شیطانی ہے۔نیز بتائیں! کیا مرزاقادیانی کی یہ ساتوں زبانیں تھیں؟ یا اس کی قوم کی تھیں؟ اگر نہیں تو پھر کہہ دو کہ مرزاقادیانی نے قانون الٰہی کی تکذیب کر کے ایک نہیں کئی جھوٹ اپنے اوپر چسپاں کئے؟

کیا قرآن میں مرزاقادیانی کا نام ابن مریم ہے؟

سوال نمبر:۴۷…

مرزاقادیانی تحریر کرتا ہے کہ: ’’اگر قرآن نے میرا نام ابن مریم نہیں رکھا تو میں جھوٹا ہوں۔‘‘

(تحفۃ الندوہ ص۵، خزائن ج۱۹ ص۹۸)

قادیانی حضرات پورے قرآن مجید میں کہیں دکھا سکتے ہیں کہ: ’’ایہا المرزا سمیتک ابن مریم‘‘ کہیں لکھا ہوا ہو۔ نہیں اور یقینا نہیں تو مرزاقادیانی کے کذاب اور مفتری علیٰ ﷲ ہونے میں کیا کوئی شک باقی رہ جاتا ہے؟

کیا قرآن میں ہے کہ جسم عنصری آسمان پر نہیں جاسکتا؟

سوال نمبر:۴۸…

مرزاقادیانی نے لکھا ہے: ’’قل سبحان ربی ہل کنت الا بشراً رسولاً‘‘ یعنی جب کافروں نے آنحضرت ﷺ سے آسمان پر چڑھنے کی درخواست کی کہ یہ معجزہ دکھلائیں کہ مع جسم عنصری آسمان پر چڑھ جائیں تو ان کو یہ جواب ملا کہ ’’قل سبحان ربی‘‘ یعنی ان کو کہہ دے کہ میرا خدا اس بات سے پاک ہے کہ اپنے عہد اور وعدہ کے برخلاف کرے۔ وہ پہلے کہہ چکا ہے کہ کوئی جسم عنصری آسمان پر نہیں جائے گا۔ ‘‘

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۲۲۴، خزائن ج۲۱ ص۴۰۰)

اس پر ہمارا قادیانیوں سے سوال یہ ہے کہ قرآن کریم میں یہ بات کس جگہ کس آیت میں ہے کہ کوئی جسم عنصری آسمان پر نہیں جائے گا؟

کیا یہ مرزاقادیانی کی حماقت نہیں؟

سوال نمبر:۴۹…

مرزاقادیانی نے تحریر کیا کہ: ’’میرا دعویٰ مسیح موعود کا نہیں۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۱۹۰، خزائن ج۳ ص۱۹۲)

حالانکہ اسی کتاب میں لکھا کہ: ’’اگر یہ عاجز مسیح موعود نہیں تو پھر آپ لوگ مسیح موعود کو آسمان سے اتار کر دیکھائیں۔‘‘ (ازالہ اوہام ص۱۵۴،۱۸۵، خزائن ج۳ ص۱۷۹،۱۸۹)

اب ایک کتاب میں دو باتیں ایک دوسرے کے مخالف ومتضاد ہیں۔ کیا قادیانی، مرزا کی حماقت پر اب بھی توجہ نہیں فرمائیں گے؟

638

کیایہ مرزاقادیانی کی نامعقول حرکت نہیں؟

سوال نمبر:۵۰…

مرزاقادیانی نے تحریر کیا کہ: ’’سچا خدا وہی خدا ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔‘‘

(دافع البلاء ص۱۱، خزائن ج۱۸ ص۲۳۱)

مرزاقادیانی نے اپنی رسالت سے خداتعالیٰ کی سچائی کو باندھ دیا۔ گویا مرزاقادیانی رسول قادیان نہیں تو خدا بھی سچا نہیں۔ قادیانی بتائیں کہ مرزاقادیانی کا ایسا کرنا ان کے نزدیک معقول امر ہے یا غیرمعقول حرکت۔ اگر غیرمعقول ہے اور یقینا غیرمعقول تو پھر قادیانی اس غیرمعقول اور عقل کے کورے انسان کو نبی مان رہے ہیں؟ کیا نبی کی یہی شان ہے؟

کیا مرزاقادیانی اب بھی ملعون نہیں؟

سوال نمبر:۵۱…

مرزاقادیانی نے لکھا ہے: ’’سمعت ان بعض الجھّال یقولون ان المہدی من بنی فاطمۃ‘‘ میں نے سنا بعض جاہلوں سے کہ وہ کہتے ہیں بیشک مہدی علیہ السلام بنی فاطمہ سے ہوںگے۔‘‘

(خطبہ الہامیہ حاشیہ، خزائن ج۱۶ ص۲۴۱)

’’ان المہدی من ولد فاطمۃ‘‘ یہ حدیث شریف میں واقع ہے۔ اس فرمان رسالت ﷺ کو مرزاقادیانی جاہلوں کا قول بتاتا ہے۔ اب اس ملعون قادیان کا یہ فتویٰ براہ راست آنحضرت ﷺ پر ہے۔ جو سرتاپا اہانت پیغمبر ﷺ کو شامل ہے۔ کیا قادیانی مرزاقادیانی کے اس ملعون قول کو دیکھ کر قادیانیت کو ترک کرنے کی جرأت اپنے اندر رکھتے ہیں۔ کیا ﷲ کا سچا نبی اپنے سے پہلے نبی کی شان میں ایسی گستاخی کا ارتکاب کر سکتا ہے؟

کیا غیرنبی، نبی سے افضل ہوسکتا ہے؟

سوال نمبر:۵۲…

لاہوری مرزائیوں سے سوال کریں کہ کیا غیرنبی کسی نبی سے افضل ہوسکتا ہے؟۔ ان کا جواب یقینا نفی میں ہوگا تو پھر ان کے سامنے مرزاقادیانی کا یہ حوالہ پڑھیں: ’’خدا نے اس امت میں مسیح موعود بھیجا۔ جو اس سے پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے۔‘‘

(دافع البلاء ص۱۳، خزائن ج۱۸ ص۲۳۳)

اس حوالہ سے ثابت ہوا کہ مرزاقادیانی کی شان حضرت مسیح ابن مریم علیہ السلام سے زیادہ ہے۔ اگر مرزاقادیانی نبی نہیں تھا تو غیر نبی کا نبی سے افضل ہونا لازم آتا ہے۔ جب کہ لاہوری بھی مانتے ہیں کہ غیرنبی، نبی سے افضل نہیں ہوسکتا۔ تو ثابت ہوا کہ مرزاقادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا۔ اس کا لاہوریوں کے پاس کوئی جواب نہیں۔ اس حوالہ میں جزوی فضیلت کی بھی نفی ہے۔ تمام شان میں یعنی من کل الوجوہ بہت بڑھ کر۔

کیا مرزاقادیانی کو مثیل محمد ﷺ کہہ سکتے ہو؟ العیاذ بِاللہ!

سوال نمبر:۵۳…

مرزاقادیانی نے اپنے کو مثیل محمد ﷺ بھی قرار دیا۔ جیسا کہ اس کی تمام کتب میں ہے۔ قادیانی ویب سائٹ پر ’’کلمتہ الفصل‘‘ مرزابشیراحمد پسر مرزاقادیانی کا تو شاید کوئی صفحہ اس سے خالی نہیں۔ اب توجہ فرمائیے کہ رحمت عالم ﷺ تو دشمنوں کے مقابلہ میں پہاڑ پر کھڑے ہو کر فرماتے ہیں۔ ’’ہل وجدتمونی صادقا اوکاذبا۰ قالوا جربناک مرارا ماوجدنا فیک الا صدقا وعدلا‘‘ معاذ ﷲ اگر مرزاقادیانی مثیل تھا تو ایسے ہوتا۔ مگر وہ تو دادا کی اس زمانہ کی سات سو روپیہ کی رقم ادھر ادھر کے کاموں میں اڑا کر خیانت کا مرتکب ہوا۔ کیا اس کو مثیل کہہ سکتے ہیں؟

639

مرزاقادیانی بارہ برس تک کفر میں کیوں؟

سوال نمبر:۵۴…

مرزاقادیانی تحریر کرتا ہے: ’’ان ﷲ لا یترکنی علیٰ خطاء طرفۃ عین ویعصمنی من کل حین ویحفظنی من سبل الشیطان‘‘ بے شک ﷲ مجھے غلطی پر لمحہ بھر بھی باقی نہیں رہنے دیتا اور مجھے ہر غلط اور جھوٹ سے محفوظ فرمالیتا ہے۔ نیز شیطانی راستوں سے میری حفاظت فرماتا ہے۔‘‘

(نور الحق ص۸۶، خزائن ج۸ ص۲۷۲)

اور پھر دوسری جگہ تحریر کرتے ہیں: ’’پھر میں قریباً بارہ برس تک جو ایک زمانۂ دراز ہے۔ بالکل اس سے بے خبر اور غافل رہا کہ خدا نے مجھے شدومد سے براہین میں مسیح موعود قرار دیا ہے اور اس میں حضرت مسیح علیہ السلام کی آمد ثانی کے اس رسمی عقیدہ پر جما رہا۔ جب بارہ برس گذر گئے تب وہ وقت آگیا کہ میرے پر اصل حقیقت کھول دی گئی۔ ورنہ میرے مخالف بتلا دیں کہ باوجودیکہ براہین احمدیہ میں مسیح موعود بنایا گیا۔ بارہ برس تک یہ دعویٰ کیوں نہ کیا اور کیوں براہین احمدیہ میں خدا کی وحی کے مخالف لکھ دیا۔‘‘ (اعجاز احمدی ص۷، خزائن ج۱۹ ص۱۱۳،۱۱۴)

اب قادیانی حضرات فرمائیں کہ:

۱… مرزاقادیانی کا یہ دعویٰ کہ لمحہ بھر خداتعالیٰ مجھے غلطی پر قائم نہیں رکھتا۔

۲… مرزاقادیانی کا یہ اعتراف کہ بارہ برس تک عرصہ دراز رسمی عقیدہ پر جما رہا۔

۳… براہین میں خدا کی وحی کے خلاف لکھ دیا۔

کیا قادیانیوں کے ہاں بارہ برس ایک لمحہ سے کم ہے؟ خدا کی وحی کے خلاف بارہ برس چلنے والا شخص اس قابل ہے کہ اسے مذہبی مقتداء مانا جائے اور پھر مرزاقادیانی تحریر کرتا ہے کہ: ’’مجھے اپنی وحی پر مثل قرآن پختہ یقین ہے۔ اگر اس میں ایک دم (لمحہ) بھی شک کروں تو کافر ہو جاؤں۔‘‘

(تجلیات الٰہیہ ص۲۰، خزائن ج۲۰ ص۴۱۲)

تو کیا یہ بارہ سال تک کافر بنارہا؟ خدا لمحہ بھر غلطی پر نہیں رہنے دیتا تو پھر بارہ سال کفر کی دلدل میں مرزاقادیانی کیوں پھنسا رہا؟

کیا ﷲتعالیٰ مرزاقادیانی کے مرید؟ (العیاذ بِاللہ)

سوال نمبر:۵۵…

مرزاقادیانی کا الہام ہے کہ: ’’بایعنی ربی‘‘ (البشریٰ ج۲ ص۷۱، تذکرہ ص۴۲۰، طبع سوم)

مرزاقادیانی نے اس کا ترجمہ کیا: ’’اے رب میری بیعت قبول فرما۔‘‘ مرزاقادیانی کا یہ ترجمہ کسی طور پر صحیح نہیں۔ اس کا سیدھا صحیح ترجمہ یہ ہے کہ میرے رب نے میری بیعت کی۔ قادیانی بتائیں کہ کیا وہ ﷲ تعالیٰ کو مرزاقادیانی کا مرید سمجھتے ہیں؟ کیا مرزاغلام احمد قادیانی نے اس میں ﷲ تعالیٰ گستاخی کا ارتکاب نہیں کیا؟

کیا مرزاقادیانی مریم تھا؟ تو اس کا شوہر کون؟

سوال نمبر:۵۶…

مرزاقادیانی نے (اربعین نمبر۲ ص۷، خزائن ج۱۷ ص۳۵۳) پر اپنا الہام نقل کیا۔ ’’یا مریم اسکن انت وزوجک الجنۃ‘‘ اس کا ترجمہ (اربعین نمبر۲ ص۱۷، خزائن ج۱۷ ص۳۶۴) میں یوں کیا۔ ’’اے مریم تو اور تیرے دوست اور تیری بیوی بہشت میں داخل ہو۔‘‘ تیرے دوست کس لفظ کا ترجمہ ہے؟ پھر مریم کی بیوی کا کیا معنی؟ کیا عورت

640

کی بیوی ہوتی ہے؟ اگر ’’زوج‘‘ کا معنی شوہر ہو تو مرزاقادیانی کا شوہر کون؟ نیز مرزامریم ہے تو سر پر پگڑی اور چہرے پر داڑھی کا کیا بنے گا؟ کیا خواتین کے لئے پگڑی اور داڑھی شرعاً وفطرتاً ہے؟

کیا سچے پیغمبر کے کئی نام ہوئے؟

سوال نمبر:۵۷…

مرزاقادیانی کا الہام ہے:

۱… ’’یا آدم اسکن انت وزوجک الجنۃ‘‘

۲… ’’یا احمد اسکن انت وزوجک الجنۃ‘‘ (اربعین نمبر۲ ص۷، خزائن ج۱۷ ص۳۵۳)

اس کا ترجمہ خود کرتا ہے کہ: ’’اے آدم تو اور تیرے دوست اور تیری بیوی بہشت میں داخل ہو۔ اے احمد تو تیرے دوست اور تیری بیوی بہشت میں داخل ہو۔‘‘ (اربعین نمبر۲ ص۱۷، خزائن ج۱۷ ص۳۶۴)

ان دونوں الہاموں کے ترجمہ میں مرزاقادیانی نے ’’تیرے دوست‘‘ کا لفظ ترجمہ میں شامل کیا۔ یہ الہام کے کس لفظ کا حصہ ہے؟ نیز کیا مرزاقادیانی کا نام احمد اور آدم تھا؟ کیسے اور کیونکر؟ پھر غلام احمد نام کا کیا بنے گا؟ اور جو بندہ اپنا نام ونسب تبدیل کر دے کیا وہ حلالی رہ سکتا ہے؟ ان سوالات کو مدنظر رکھ کر بتائیں کہ کیا ایسا شخص پر جنت کا الہام اور جنت میں داخل ہوسکتا ہے؟ اگر نہیں تو قادیانی ذریت اس دھوکا سے کیوں نہیں نکلتی؟

مرزاقادیانی کی تحقیق عجیب اور اس کا مبلغ علم

سوال نمبر:۵۸…

حکماء کا اس پر اتفاق ہے کہ رحم کے سامنے ایک انڈا جسے ادوم کہتے ہیں موجود ہوتا ہے۔ مخالطت کے وقت ماء الحیات کا کوئی ذرہ جسے سپرم کہتے ہیں۔ اس انڈے سے مل جائے تو وہ ایک دوسرے کو مضبوطی سے گرفت میں لے لیتے ہیں اور سرک کر رحم میں چلے جاتے ہیں۔ پھر رحم کا منہ بند ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد ولادت تک کوئی سپرم اس میں داخل نہیں ہوسکتا۔ لیکن مرزاقادیانی لکھتا ہے: ’’ ﷲتعالیٰ فرماتا ہے ’’اُوْلَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلَہُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَہُنَّ‘‘ یعنی حمل والی عورتوں کی طلاق کی عدت یہ ہے کہ وہ وضع (حمل) تک بعد طلاق کے دوسرا نکاح کرنے سے دستکش رہیں۔ اس میں حکمت یہی ہے کہ اگر حمل میں ہی نکاح ہو جائے تو ممکن ہے کہ دوسرے کا نطفہ ٹھہر جائے۔ اس صورت میں نسب ضائع ہو گی اور یہ پتہ نہیں لگے گا کہ وہ دونوں لڑکے کس کس باپ کے ہیں۔‘‘ (آریہ دھرم ص۲۱، خزائن ج۱۰ ص۲۱)

اس پر سوال یہ ہے کہ مرزاقادیانی نے ایک ایسی بات کہی جو سراسر خلاف عقل اور کذب محض ہے۔ کیا بالفرض حمل کی حالت میں ’’دوسرے کا نطفہ ٹھہر جائے‘‘ پہلے حمل کے چار ماہ بعد دوسرا حمل ہو جائے۔ دو ماہ کے بعد تیسرا حمل ہو جائے اور پھر ایک ماہ کے بعد چوتھا اور ہر بچہ نو ماہ کے بعد پیدا ہو تو غریب بیوی سارا سال بچے جنتی رہی۔ یہ ہے مرزاقادیانی کے علوم وفنون کا شاہکار۔ چنانچہ لکھتا ہے۔ ’’میں زمین کی باتیں نہیں کہتا… بلکہ وہی کہتا ہوں جو خدا نے میرے منہ میں ڈالا ہے۔‘‘ (پیغام صلح ص۴۷، خزائن ج۲۳ ص۴۸۵)

کیا حالت حمل میں حمل ٹھہر جاتا ہے؟ اگر ٹھہر جاتا ہے تو مذکورہ عبارت کی تحقیق کا کیا بنے گا؟ نیز بالفرض حمل ٹھہر جائے تو کیا ضروری ہے؟ ایک حمل ہو تو سابقہ کی وضع ہو جائے؟ ساتھ حمل، ساتھ وضع؟ شاید قادیانی ذریت کو۔ ہو تو ہو کسی اور کو تو اس کا دعویٰ نہیں؟

641

کیا یہ مرزاقادیانی کا قرآن پر بہتان نہیں؟

سوال نمبر:۵۹…

مرزاقادیانی نے لکھا: ’’خسف القمر والشمس فی رمضان۰ فبأی الاء ربکما تکذبان‘‘ الاء سے مراد میں ہوں اور پھر میں نے ایک دالان کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا کہ اس میں چراغ روشن ہے۔ گویا رات کا وقت ہے اور اسی الہام مندرجہ بالا کو چند آدمی چراغ کے سامنے قرآن شریف کھول کر اس سے یہ دونوں فقرے نقل کر رہے ہیں۔ گویا اسی ترتیب سے قرآن شریف میں وہ موجود ہے اور ان میں سے ایک شخص کو میں نے شناخت کیا کہ میاں نبی بخش رفوگر امرتسری ہے۔

(ریویو برمباحثہ چکڑالوی ص۴، خزائن ج۱۹ ص۲۰۹ حاشیہ)

فرمائیے! مرزاقادیانی کا یہ الہام وکشف صحیح ہے یا غلط؟ اور پھر دیکھئے یہ ملعون قرآن شریف پر افتراء کرتا ہے اور پھر اس پیوند کاری کی روایت کے لئے رفوگر کا انتخاب بھی قابل توجہ ہے؟

کیا مرزاقادیانی مہدی ہے؟

سوال نمبر:۶۰…

مرزاقادیانی نے لکھا کہ: ’’خاص کر وہ خلیفہ جس کی نسبت بخاری میں لکھا ہے کہ آسمان سے اس کی نسبت آواز آئے گی کہ ’’ہذا خلیفۃ ﷲ المہدی‘‘ اب سوچو کہ یہ حدیث کس پایہ اور مرتبہ کی ہے جو ایسی کتاب میں درج ہے جو اصح الکتب بعد کتاب ﷲ ہے۔‘‘ (شہادت القرآن ص۴۱، خزائن ج۶ ص۳۳۷)

دوسری جگہ مرزاقادیانی نے لکھا ہے کہ: ’’اگر مہدی کا آنا مسیح ابن مریم کے زمانہ کے لئے ایک لازم غیرمنفک ہوتا اور مسیح کے سلسلہ ظہور میں داخل ہوتا تو دو بزرگ شیخ اور امام حدیث یعنی حضرت محمد اسماعیل صحیح بخاری اور حضرت امام مسلم صاحب صحیح مسلم اپنے صحیحوں سے اس واقع کو خارج نہ رکھتے۔ لیکن جس حالت میں انہوں نے اس زمانہ کا تمام نقشہ کھینچ کر آگے رکھ دیا اور حصر کے طور پر دعویٰ کر کے بتلادیا کہ فلاں فلاں امر کا اس وقت ظہور ہوگا۔ لیکن امام محمد اسماعیل بخاری نے مہدی کا نام تک بھی تو نہیں لیا۔‘‘ (ازالہ اوہام ص۵۱۸، خزائن ج۳ ص۳۷۸)

کیا مرزاقادیانی خودغرض تھا؟

سوال نمبر:۶۱…

مرزاقادیانی نے لکھا: ’’میری رائے یہ ہے کہ استخارہ تقویٰ کے بہت قریب ہے۔ کیونکہ وارث مفقود الخبر ہے اور ہمیں یقین نہیں کہ وہ مر چکا ہے یا زندہ ہے۔ پس اس کی جائیداد کو میت کے ترکہ کی طرح تقسیم کرنے میں عجلت روا نہیں۔ پس بہتر یہ ہے کہ اس معاملہ پر بحث ختم کی جائے۔ تاکہ عالم الغیب اور ذوالجلال آپ سے مشورہ کر لوں اور یقینی راہ پالوں۔‘‘

(آئینہ کمالات اسلام ص۵۷۲، خزائن ج۵ ص ایضاً)

مرزاقادیانی کی یہ عبارت پکارپکار کر نہیں چیخ وچلّا کر اعلان کر رہی ہے کہ مرزااحمد بیگ نے جب ہبہ نامہ پر دستخطوں کے لئے مرزاقادیانی سے درخواست کی۔ چونکہ ہبہ نامہ غلام حسین مفقود الخبر کی زمین کی بابت تھا۔ اس لئے استخارہ کیا گیا کہ وہ غلام حسین زندہ ہے یا مردہ۔ اگر زندہ ہے تو ہبہ نامہ پر دستخط کر کے اس کی زمین کسی اور کو منتقل کرنا روا نہیں

642

ہے۔ اگر مردہ ہے تو ہبہ نامہ پر دستخط نہ کر کے جائز وارث کو محروم کرنا روا نہیں۔ جب ’’عالم الغیب رب ذوالجلال سے مشورہ‘‘ کیا تو رب نے جواب دیا کہ محمدی بیگم کے رشتہ کی بابت بات کر۔ اگر رشتہ کر دیں تو ہبہ نامہ پر دستخط کر دو۔ گویا غلام حسین مفقود الخبر مرگیا ہے۔ اگر رشتہ نہ کریں تو ہبہ نامہ پر دستخط نہ کریں۔ گویا غلام حسین مفقود الخبر زندہ ہے۔ ہمارا قادیانیوں سے درد بھرے دکھے دل سے سوال ہے کہ کیا واقعی آپ اس جواب کو خدائی جواب سمجھتے ہیں یا کافر، ناہنجار، مرزاقادیانی کی زناری اور خود غرضی فراڈ ودھوکہ کی انوکھی مثال؟ اب آپ کی مرضی کہ خداتعالیٰ پر غلط جواب کا الزام لگا کر جہنم کا راستہ اختیار کریں یا مرزاقادیانی کے فراڈ پر محمول کر کے مرزاقادیانی کو جہنم روانہ کریں؟

کیا مرزا قادیانی کے نزدیک ’’اعور‘‘ کا معنی کانا نہیں؟

سوال نمبر:۶۲…

مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ ’’دجال کے اعور یعنی ایک آنکھ سے کانا ہونے سے مراد یہ ہے کہ دینی اور دنیوی علوم کی دونوں آنکھوں میں سے اس قوم (انگریز) کی ایک آنکھ روشن ہوگی اور دوسری ناکارہ اور یہ ظاہر ہے کہ افرنگ کو زمینی علوم میں نہایت درجہ کی مہارت حاصل ہے۔ لیکن روحانیت سے بے بہرہ ہے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۵۰۱، خزائن ج۳ص۳۶۹ملخص)

لیکن حدیث میں جہاں دجال کے اعور ہونے کا ذکر ہے وہاں ﷲ تعالیٰ کے اعور ہونے کی نفی ہے، تو ﷲ تعالیٰ کے اعور نہ ہونے سے کیا مراد ہے؟۔ کیا خدا تعالیٰ کی نسبت دینی ودنیوی علوم میں مہارت ہونے یا نہ ہونے کے سوال کا بھی تصور ہوسکتا ہے؟۔

پھر اسی حدیث شریف میں حضور علیہ السلام نے دجال کے اعور ہونے کے بارہ میں صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کو کسی شبہ میں نہیں چھوڑا۔ بلکہ فرمایا کہ ایک آنکھ انگور کے ابھرے ہوئے دانہ کی مانند ہوگی اور ساتھ نمونہ بھی بتادیا کہ ابن قطن کو دیکھو۔ پس دجال کی آنکھ اس کی آنکھ کی مانند ہوگی۔ مرزا قادیانی روایت کے اس حصہ کو شیر مادر کی طرح ہضم کرگئے۔ کیوں؟

کیا قرآن مجید میں ’’قادیان‘‘ کا نام ہے؟

سوال نمبر:۶۳…

مرزا قادیانی اپنے کشف کا حال بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ ’’قادیان کا نام قرآن مجید میں درج ہے۔‘‘ (ازالہ اوہام ص۷۷،خزائن ج۳ص۱۴۰)

الحمد سے لے کر والناس تک پورے قرآن مجید میں کہیں قادیان کا نام ہے؟ اگر نہیں اور یقینا نہیں تو قادیانی حضرات ارشاد فرمائیں کہ مرزا قادیانی نے صریح کذب بیانی کی یا نہیں؟

کیا مرزا قادیانی آدم زاد نہیں؟

سوال نمبر:۶۴…

مرزا قادیانی نے اپنا تعارف کراتے ہوئے لکھا ہے کہ ؎

کرم خاکی ہوں میرے پیارے نہ آدم زاد

ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار

(درثمین اردوص۱۱۶، از مرزا غلام احمدقادیانی، براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۹۷، خزائن ج۲۱ص۱۲۷)

643

محققین حضرات کہتے ہیں کہ ’’نہ آدم زاد‘‘ میں ’’نہ‘‘ کا لفظ عطف کی صورت میں استعمال ہوتا ہے۔ گویا ’’کرم خاکی‘‘ کے ساتھ بھی اس کا تعلق ہے اور ’’آدم زاد‘‘ کے ساتھ بھی۔ اب مطلب یہ ہوگا کہ نہ تو میں مٹی کا کیڑا ہوں اور نہ ہی آدم زاد (یعنی بندے دا پتر) یہ جملہ منفیہ اگر نہ بنایا جائے تو اگلے مصرع ’’ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار‘‘ میں اثبات اور حصر سمجھ میں نہیں آسکتی۔

اب سوال یہ ہے کہ مرزا قادیانی بقول خود نہ مٹی کا کیڑا ہے ’’نہ بندے دا پتر‘‘ تو پھر نبی کیسے؟۔ نیز ’’جائے نفرت‘‘ اور ’’عار‘‘ کی تعیین بھی آپ کے ذمہ ہے؟۔ پھر انسان کے تحت مرد وعورت دونوں داخل ہوتے ہیں۔ متعین کرو کہ مرد کی ہے تو کونسی اور عورت کی ہے تو کونسی؟۔ پھر حکم لگایا جائے؟۔

کیا مرزا قادیانی شراب پیتا تھا؟

سوال نمبر:۶۵…

مرزا قادیانی نے اپنے ایک مرید کے ہاتھوں لاہور سے عمدہ قسم کی شراب ’’ٹانک وائین‘‘ منگوائی۔ کیا مرزائی اس بات کا انکار کرسکتے ہیں؟ (خطوط امام بنام غلام ص۵ ، از حکیم محمدحسین بٹالوی)

کیا شراب پینے والا نبی، مسیح، مہدی، مجدد، ملہم من ﷲ بن سکتا ہے؟۔

جبکہ قرآن بتلاتا ہے کہ شراب پینا شیطانی عمل ہے اور احادیث بتلاتی ہیں کہ شرابی جنت میںنہیں جائے گا۔ اس کی دنیا میں نماز قبول نہیں ہوتی وغیرہ وغیرہ!

کیا مرزا قادیانی کے آنے سے جہاد منسوخ ہوگیا؟

سوال:۶۶…

آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جہاد قیامت تک جاری رہے گا۔ اور مرزا غلام احمد قادیانی نے اس کے برعکس کہا کہ جہاد منسوخ ہوگیا۔ چنانچہ مرزا قادیانی ’’ضمیمہ تحفہ گولڑویہ‘‘ میں لکھتا ہے کہ ؎

اب چھوڑ دو جہاد کا اے دوستو خیال

دین کے لئے حرام ہے اب جنگ اور قتال

(تحفہ گولڑویہ ضمیمہ ص۴۱، خزائن ج۱۷ص۷۷،۷۸)

سوال یہ ہے کہ کیا قادیانی قرآن وسنت کی روشنی میں جہاد بالسیف کی منسوخی پر کوئی عقلی اور نقلی دلیل پیش کرسکتے ہیں؟۔ جو اہل عقل کی دانست میں بھی آسکے؟

نیز مرزا قادیانی کے اس شعر سے پتہ چل رہا ہے کہ مرزا قادیانی کا نبوت تشریعہ کا دعویٰ تھا۔ مرزائیو! تم کہتے ہو غیر تشریعی کا؟ تو سوال یہ ہے کہ مرزا قادیانی سچا ہے یا تم؟ اور مرزا قادیانی کے مذکورہ دعویٰ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ وہ اپنے آپ کو حضور ﷺ سے افضل سمجھتا تھا۔ کیونکہ حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ جہاد قیامت تک! اور مرزا لعین کہتا ہے کہ منسوخ۔

تو اب بتائو! مرزا قادیانی کے کفر اور دجل میں کوئی شک باقی رہ جاتا ہے؟

644

کیا نبی گھر کی طعن وتشنیع سے خوف کھا کر سرکاری ملازمت کرتا ہے؟

سوال نمبر:۶۷…

۱… ’’حضرت صاحب (مرزاقادیانی) اپنے گھر والوں کے طعنوں کی وجہ سے کچھ دنوں کے لئے قادیان سے باہر چلے گئے اور سیالکوٹ جا کر رہائش اختیار کر لی اور گزارہ کے لئے ضلع کچہری میں ملازمت بھی کر لی۔‘‘ (تحفہ شہزادہ ویلز ص۵۳)

۲… ’’جب آپ تعلیم سے فارغ ہوئے تو اس وقت حکومت برطانیہ پنجاب میں مستحکم ہوچکی تھی اور لوگ سمجھ رہے تھے کہ اب اس گورنمنٹ کی ملازمت میں ہی عزت ہے۔ اس لئے شریف خاندانوں کے نوجوان اس کی ملازمت میں داخل ہو رہے تھے۔ حضرت صاحب بھی اپنے والد صاحب کے مشورہ سے سیالکوٹ بحصول ملازمت تشریف لے گئے۔‘‘

(سیرۃ مسیح موعود ص۱۳، روایت نمبر۴۹)

یہ دونوں عبارتیں مرزامحمود خلیفہ قادیان کی تحریر کردہ ہیں۔ پہلی عبارت میں ہے۔ گھر والوں کے طعن سے قادیان کو چھوڑ کر باہر چلے گئے اور سیالکوٹ میں ملازمت کر لی۔ دوسری عبارت میں ہے کہ والد صاحب کے مشورہ سے گئے۔ ان دونوں میں سچ کون سا ہے اور جھوٹ کون سا؟ پھر اس کے ساتھ یہ عبارت ملا لی جائے۔

۳… ’’بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ ایک دفعہ اپنی جوانی کے زمانہ میں حضرت صاحب (مرزاقادیانی) تمہارے دادا کی پنشن (مبلغ سات صد روپے) وصول کرنے گئے۔ تو پیچھے پیچھے مرزاامام دین بھی چلا گیا۔ جب آپ نے پنشن وصول کر لی تو آپ کو پھسلا کر اور دھوکہ دے کر بجائے قادیان کے باہر لے گیا اور ادھر ادھر پھراتا رہا۔ پھر جب سارا روپیہ اڑا کر ختم کر دیا تو وہ آپ کو چھوڑ کر کہیں اور چلا گیا۔ حضرت صاحب اس شرم کے مارے گھر نہیں آئے۔ بلکہ سیالکوٹ پہنچ کر ڈپٹی کمشنر کی کچہری میں قلیل تنخواہ (پندرہ روپیہ ماہوار) پر ملازم ہوگئے۔‘‘ (سیرۃ المہدی ج۱ ص۴۳، روایت نمبر۴۹)

پہلی عبارت مرزامحمود، میں ہے گھر والوں کے طعنوں سے ملازمت دی۔

دوسری عبارت مرزامحمود، میں ہے والد صاحب کے مشورہ سے ملازمت کی۔

تیسری عبارت مرزابشیر بحوالہ زوجہ مرزاقادیانی میں ہے کہ سات صدروپیہ پنشن کے اڑا کر کھا گئے۔ مارے شرم کے قادیان آنے کی بجائے سیالکوٹ جاکر قلیل تنخواہ پر ملازم ہوگئے۔

ان تینوں باتوں میں سے کون سی بات سچی ہے؟ ہے کوئی قادیانی جو مرزاقادیانی کے باپ، مرزا کے دو بیٹوں، مرزا کی گھر والی کی ان باتوں کو ایک دوسرے سے جدا کر کے بتا سکے؟ کہ ان تینوں باتوں میں سے کس بات میں کذب محض ہے اور کس کی بات سچی ہے؟ نیز نبی کی متوکلانہ زندگی ہوتی ہے اور امت کو توکل کی تعلیم دیتا ہے۔ تو پھر مرزاقادیانی تو نبی معلوم نہیں ہوتا؟ اگر نبی ہے تو سرکار انگریزی کا ملازم کیوں؟ جب کہ انگریز دشمن خدا اور دشمن رسول ﷺ ہے اور یہ بھی نقاب کشائی کریں کہ کیا نبی پنشن وصول کر کے آوارہ گردی کرتا ہے؟ وہ نفس پرست، گناہوں کا عادی، نفسیاتی مریض تو ہوسکتا ہے مگر نبی؟

کیا ریل گاڑی دجال کا گدھا ہے؟

سوال نمبر:۶۸…

مرزاقادیانی نے کہا کہ: ’’ازاں جملہ ایک بڑی بھاری علامت دجال کی اس کا گدھا ہے۔ جس کے

645

بین الاذنین (دو کانوں کے درمیانی فاصلہ) کا اندازہ ستر باع اور ریل گاڑیوں کا اکثر اسی کے موافق سلسلہ لازمی ہوتا ہے۔‘‘ (ازالہ اوہام ص۷۳۰، خزائن ج۳ ص۴۹۳)

کانوں کے درمیان کا فاصلہ ستر باع (قریباً ۱۴۰گز) ہوگا۔ مرزاقادیانی کانوں کے درمیان کا فاصلہ سے مراد سر اور دم کی لمبائی لیتے ہیں۔ ہے کوئی اس کا جواز؟

پھر گدھے کا رنگ سفید بیان کیاگیا۔ گاڑیوں کی رنگت ہر جگہ سفید ہو تو یہ بھی فٹ نہیں آتا۔ چلو۔ ایک کان سے مراد سر دوسرے کان سے مراد دم۔ ریل دجال کا گدھا، رنگ سفید، چلو اس کو چھوڑ دیں۔ دجال کی سواری ریل۔ اس پر جو سوار ہوئے وہ کون؟ پھر مرزاقادیانی مر کر بھی دجال کے گدھے پر سوار ہوکر قادیان گیا۔ سواری دجال کی، سوار ہوئے مرزاقادیانی۔ رہ گئی مرزاقادیانی کے دجال بننے میں کوئی کسر؟ اس کو کہتے ہیں جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے۔

جو بخاری شریف پر جھوٹ باندھے وہ مسیح کیسے؟

سوال نمبر:۶۹…

(شہادت القرآن ص۴۱، خزائن ج۶ ص۳۳۷) پر لکھتا ہے: ’’اگر حدیث کے بیان پر اعتبار ہے تو پہلے ان احادیث پر عمل کرنا چاہئے۔ جو صحت اور وثوق میں اس حدیث پر کئی درجہ بڑھی ہوئی ہیں۔ مثلاً ’’صحیح بخاری‘‘ کی وہ احادیث جن میں آخری زمانہ میں بعض خلیفوں کی نسبت خبر دی گئی ہے۔ خاص کر وہ خلیفہ جس کی نسبت بخاری شریف میں لکھا ہے کہ آسمان سے اس کی نسبت آواز آئے گی کہ: ’’ہذا خلیفۃ ﷲ المہدی‘‘ اب سوچو کہ یہ حدیث کس پایہ اور مرتبہ کی ہے۔ جو ایسی کتاب میں درج ہے۔ جو اصح الکتب بعد کتاب ﷲ ہے۔‘‘

ہمارے سامنے صحیح بخاری کا جو نسخہ ہے۔ اس میں تو حدیث: ’’ہذا خلیفۃ ﷲ المہدی‘‘ ہمیں کہیں نہیں ملی۔ لیکن جس طرح مرزاقادیانی کے گھر میں قرآن کریم کا ایسا نسخہ تھا۔ جس میں: ’’انا انزلناہ قریباً من القادیان‘‘ لکھا تھا۔ (ازالہ اوہام ص۷۶،۷۷، خزائن ج۳ ص۱۴۰ حاشیہ) اسی طرح شاید ان کے مسیح خانہ میں کوئی نسخہ صحیح بخاری کا ایسا بھی ہو۔ جس میں سے دیکھ کر مرزاقادیانی نے یہ حدیث لکھی ہو۔ بہرحال اگر مرزاقادیانی نے ’’صحیح بخاری شریف‘‘ کا حوالہ صحیح دیا ہے تو ذرا اس صفحہ کا عکس شائع کر دیں، اور اگر جھوٹ دیا ہے تو یہ فرمائیے کہ جو شخص صحیح بخاری جیسی معروف ومشہور کتاب پر جھوٹ باندھ سکتا ہے وہ اپنے دعویٰ مسیحیت میں سچا کیسے ہو گا؟ کیونکہ مرزاقادیانی ہی کا ارشاد ہے کہ: ’’ایک بات میں جھوٹا ثابت ہو جائے تو پھر دوسری بات میں بھی اعتبار نہیں رہتا۔‘‘ (چشمہ معرفت ص۲۲۲، خزائن ج۲۳ ص۲۳۱)

لہٰذا مرزاقادیانی تمام تر دعاوی میں جھوٹا تھا! اگر سچا ہے تو قادیانی اس کا سچ ثابت کریں؟ اور بخاری شریف میں حوالہ دکھائیں؟

مرزاقادیانی کی ’’سلطان القلمی‘‘ یا جہالت؟

سوال نمبر:۷۰…

مرزاقادیانی نے (اعجاز المسیح ٹائٹل، خزائن ج۱۸ ص۱) پر لکھا: ’’وقد طبع فی مطبع ضیاء الاسلام فی سبعین یوماً من شہر رمضان‘‘ کہ یہ کتاب مطبع ضیاء الاسلام میں ماہ رمضان کے ستردنوں میں چھپی ہے۔‘‘ حالانکہ رمضان کے دن انتیس یا تیس ہوتے ہیں۔ ستردن کبھی نہیں ہوسکتے۔ سلطان القلم کی فصاحت وبلاغت پر قادیانی کیا کہتے ہیں؟ جس شخص کی علمی سطح یہ ہو کیا اسے جاہل کہہ سکتے ہیں؟ اگر کہنے کی اجازت ہے تو تمہیں عار کیوں؟

646

مرزاقادیانی ’’رجل فارس‘‘ کیسے؟

سوال نمبر:۷۱…

مرزاقادیانی مغل تھا۔ اس نے رجل فارس ہونے کا بھی دعویٰ کیا۔ اب مشکل یہ تھی کہ مغل کبھی ’’فارس النسل‘‘ نہیں رہے تو مرزاقادیانی نے کہا: ’’میرے پاس فارسی ہونے کے لئے بجز الہام الٰہی کے اور کچھ ثبوت نہیں۔‘‘ (تحفہ گولڑویہ ص۱۸، خزائن ج۱۷ ص۱۱۶)

اب سوال یہ ہے کہ مرزاقادیانی کے دعاوی صحیح تھے یا غلط۔ اس کو جانچنے کے لئے ضروری تھا، دیکھا کہ وہ ان شرائط پر پورا اترتا ہے یا نہیں۔ شرائط میں سے یہ کہ رجل فارسی تب ثابت ہوتا کہ فارسی النسل ہوتا۔ وہ ہے نہیں۔ اس کے لئے ثبوت میں پیش کرتا ہے اپنی وحی کو جو سرے سے ہمارے نزدیک ناقابل تسلیم ہے۔ اس لئے مسٹر فارسی النسل ہی نہیں تو ’’رجل فارس‘‘ کیسے؟۔

کیا مرزا یزیدی؟ اور قادیان پلید جگہ ہے؟

سوال نمبر:۷۲…

مرزاقادیانی تحریر کرتا ہے: ’’واضح ہو کہ دمشق کے لفظ کی تعبیر میں میرے پر منجانب ﷲ یہ ظاہرکیاگیا ہے کہ اس جگہ ایسے قصبے کا نام دمشق رکھاگیا ہے۔ جس میں ایسے لوگ رہتے ہوں جو یزیدی الطبع ہیں اور یزید پلید کی عادات اور خیالات کے پیرو ہیں۔ جن کے دلوں میں ﷲ اور رسول کی کچھ محبت نہیں اور احکام الٰہی کی کچھ عظمت نہیں۔ جنہوں نے اپنی نفسانی خواہشوں کو معبود بنارکھا ہے اور اپنے نفس امارہ کے حکموں کے ایسے مطیع ہیں کہ مقدسوں اور پاکوں کا خون بھی ان کی نظر میں سہل اور آسان امر ہے اور آخرت پر ایمان نہیں رکھتے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۶۶،۶۷ حاشیہ، خزائن ج۳ ص۱۳۵،۱۳۶)

مرزاقادیانی نے اپنا الہام بیان کیا کہ: ’’اخرج منہ الیزیدیون یعنی اس میں یزیدی لوگ پیدا کئے گئے ہیں۔‘‘ (ازالہ اوہام ص۷۲ حاشیہ، خزائن ج۳ ص۱۳۸)

’’اخرج‘‘ کا معنی پیدا کئے گئے؟ چلو جانے دیں۔ پیدا ہوئے قادیان میں مرزاقادیانی بھی کیا وہ بھی یزیدی؟ چلو اسے بھی جانے دیں۔ حیرت تویہ ہے کہ مرزاقادیانی اس کتاب میں لکھتا ہے کہ: ’’کشف میں دیکھا میرا بھائی مرزاغلام قادر قرآن مجید میں پڑھ رہا ہے۔ ’’انا انزلناہ قریباً من القادیان‘‘ تب میں نے اپنے دل میں کہا کہ ہاں واقعی طور پر قادیان کا نام قرآن شریف میں درج ہے اور میں نے کہا کہ تین شہروں کا نام قرآن شریف میں درج کیاگیا ہے۔ مکہ، مدینہ اور قادیان۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۷۷، خزائن ج۳ ص۱۴۰ حاشیہ)

پہلی عبارت میں قادیان کو دمشق سے تشبیہ دے کر ان کی مذمت کی۔ دوسری عبارت میں مکہ، مدینہ کے ساتھ تشبیہ دے کر اس کو مقدس بنایا تو ان دونوں باتوں سے کون سی بات صحیح ہے؟

پھر اگر یہ پلید جگہ ہے تو پلید لوگوں! خود بدولت کا آنا، ایسے لوگ تھے اس کے آباؤ اجداد چلو مرزاقادیانی کو مبارک ہو اور اگر یہ مقدس شہر ہے تو پھر وہ جو دمشق والی تاویل کر کے خود مسیح بنے تھے وہ ختم ہوگئی۔ چلو یہ بھی مرزاقادیانی کو مبارک ہو؟

کیا خدا کا ’’حیّ‘‘ ہونا مرزے کی وحی ماننے پر موقوف ہے؟

سوال نمبر:۷۳…

مرزاقادیانی نے کہا کہ ﷲتعالیٰ اگر الہام نہ کرے تو اس کا یہ معنی کہ اس کی زبان کو مرض لاحق ہوگئی

647

ہے۔ ’’کیا زبان پر کوئی مرض لاحق ہوگئی ہے۔‘‘

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۱۴۴، خزائن ج۲۱ ص۳۱۲)

اس عبارت میں دعویٰ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ زندہ ہے۔ زندہ خدا کو کلام کرنا چاہئے اور خلاصہ یہ کہ اس خدا نے چودہ سو سال میں کسی سے کلام نہیں کی۔ (اس لئے کہ خود مرزاقادیانی کے نزدیک اس عرصہ میں کوئی نبی نہیں ہوا) صرف اور صرف مرزاقادیانی سے کلام کی۔ پھر مرزاقادیانی کے بعد بھی کسی پر وحی نبوت نہیں ہوتی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ مرزاقادیانی پر وحی نبوت کو مانا جائے تو خدازندہ ہے۔ ورنہ خدا کو مردہ کہنا پڑے گا۔ زندہ خدا کی تمام قدرت گویا مرزاقادیانی کے ماننے نہ ماننے پر موقوف ہو گئی۔ آخر اس کی کوئی وجہ

نیز بالفرض مان لیا جائے کہ خداتعالیٰ کی تمام ترقدرت مرزاقادیانی کے ماننے پر ہے تو مرزاقادیانی کے بعد کیا وحی جاری ہے یا نہیں؟ اگر جاری ہے تو کس پر؟ اگر جاری نہیں تو العیاذ بِاللہ! پھر خدا زندہ نہیں؟ قادیانی نمک حلالی کریں اور مرزاقادیانی کا پیچھا چھڑائیں۔

مفسر بننے، صاحب تقویٰ ہونے کا معیار مرزاقادیانی کو ماننا؟

سوال نمبر:۷۴…

ڈاکٹر عبدالحکیم پٹیالوی مرزاقادیانی کے مرید تھے۔ انہوں نے تفسیر لکھی تو مرزاقادیانی نے اس کی تعریف میں کہا۔ ’’ڈاکٹر صاحب (عبدالحکیم پٹیالوی) کی تفسیر القرآن بالقرآن ایک بے نظیر تفسیر ہے۔ جس کو ڈاکٹر عبدالحکیم خان بی۔اے نے کمال محنت کے ساتھ تصنیف فرمایا ہے۔ نہایت عمدہ شیریں بیان اس میں قرآنی نکات خوب بیان کئے گئے ہیں۔ یہ تفسیر دلوں پر اثر کرنے والی ہے۔‘‘

(اخبار بدر مورخہ ۹؍اکتوبر ۱۹۰۳ء)

یہی ڈاکٹر صاحب مرزاقادیانی کے کرتوت دیکھ کر مرزاقادیانی سے باغی ہوگئے۔ مرزاقادیانی اور قادیانیت پر چار حرف بھیج کر مسلمان ہوگئے تو اب اس تفسیر کے متعلق کہا۔ ’’ڈاکٹر عبدالحکیم خان صاحب کا اگر تقویٰ صحیح ہوتا تو وہ کبھی تفسیر لکھنے کا نام نہ لیتا۔ کیونکہ وہ اس کا اہل ہی نہیں تھا۔ اس کی تفسیر میں ذرہ برابر روحانیت نہیں اور نہ ہی ظاہری علم کا حصہ۔‘‘

(اخبار بدر مورخہ ۷؍جون ۱۹۰۶ء)

قادیانی حضرات! اس دورخے شخص کا رخ صحیح کردیں۔ کیا اب بھی مرزاقادیانی کے دجل وفریب میں کوئی شبہ ہے؟ نیز یہ بتائیں کہ جو شخص مرزاقادیانی کو مانتا ہو وہ صاحب علم بھی ہے اور تفسیر لکھنے کا اہل بھی؟ اور جو نہ مانے تو وہ بے علم ہے۔ تفسیر لکھنے کا اہل بھی نہیں اور اس میں تقویٰ بھی نہیں؟ کیا تقویٰ اور تفسیر لکھنے، اہل علم میں سے ہونے کے لئے معیار مرزاقادیانی ہے؟ اگر معیار مرزا قادیانی کو ماننا ہے تو کیا سابقہ تیرہ صدیوں کے مفسرین جنہوں نے مرزا قادیانی کا نام بھی نہیں سنا تھا وہ قابل اعتماد رہے یا نہیں؟

کیا مرزاقادیانی کی بڑھتی ہوئی ترقی معکوس ہوگئی؟

سوال نمبر:۷۵…

مرزاقادیانی نے تحریر کیا کہ: ’’تین ہزار یا اس سے بھی زیادہ اس عاجز کے الہامات کی مبارک پیش گوئیاں جو امن عامہ کے مخالف نہیں پوری ہوچکی ہیں۔‘‘ (حقیقت المہدی ص۱۵، خزائن ج۱۴ ص۴۴۱)

یہ تحریر اس کی مورخہ ۲۱؍فروری ۱۸۹۹ء کی ہے۔ دیکھئے (خزائن ج۱۴ ص۴۷۲) لیکن اس تحریر کے پونے تین سال بعد مورخہ ۵؍نومبر ۱۹۰۱ء میں (ایک غلطی کا ازالہ ص۶، خزائن ج۱۸ ص۲۱۰) تحریر کیا: ’’پس میں جب کہ اس مدت تک ڈیڑھ سو پیش گوئی کے قریب خدا کی طرف سے پاکر بچشم خود دیکھ چکا ہوں کہ صاف طور پر پوری ہوگئیں۔‘‘

648

اب ہمارا قادیانیوں سے سوال ہے کہ مورخہ ۲۱؍فروری ۱۸۹۹ء میں مرزاقادیانی کی تین ہزار پیش گوئیاں پوری ہوچکی تھیں۔ اس کے پونے تین سال بعد پوری شدہ پیش گوئیوں کی تعداد ڈیڑھ سو ہوگئی۔ یہ ترقی معکوس کے علاوہ مرزاقادیانی کے کذب پر کھلا نشان نہیں؟ کیا قادیانی مرید ان عبارتوں کے واضح تضاد وکذب بیانی سے مرزاقادیانی کے دامن کو بچا سکتے ہیں؟

کیا فلاسفہ کی پیروی نادانی ہے؟

سوال نمبر:۷۶…

مرزاقادیانی نے لکھا ہے کہ: ’’نیا اور پرانا فلسفہ بالاتفاق اس بات کو محال ثابت کرتا ہے کہ کوئی انسان اپنے خاکی جسم کے ساتھ کرۂ زمہریر تک بھی پہنچ سکے… بلندی پر… زندہ رہنا ممکن نہیں۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۴۷، خزائن ج۳ ص۱۲۶)

اس حوالہ میں فلسفیوں کے فلسفہ کو بنیاد بنا کر سیدنا مسیح علیہ السلام کی وفات پر استدلال کر رہا ہے۔ لیکن (کشتی نوح ص۲۲، خزائن ج۱۹ ص۲۴) پر لکھا: ’’تمہیں اس دنیا کے فلسفیوں کی پیروی مت کرو اور ان کو عزت کی نگاہ سے مت دیکھو کہ یہ سب نادانیاں ہیں۔ سچا فلسفہ وہ ہے جو خدا نے تمہیں اپنے کلام میں سکھلایا ہے۔‘‘

اب قادیانی فرمائیں کہ مرزا قادیانی پہلے حوالہ میں فلسفیوں کے قول سے استدلال کر رہا ہے۔ دوسرے میں فلسفیوں کی پیروی سے انکار کر رہا ہے۔ کیا مرزاقادیانی کی مثال اس عیار کی طرح نہیں؟ کہ مطلب کی بات جھوٹی گھڑے اور مطلب کے خلاف کی حقیقت کو بھی جھٹلادے؟ مرزاقادیانی کی اس دورخی کا قادیانیوں کے پاس کوئی علاج ہے؟ اس موقعہ پر مرزاقادیانی کا یہ حوالہ بھی مدنظر رہنا مفید ہوگا جو (ازالہ اوہام ص۸۶۲، خزائن ج۳ ص۵۷۲) میں ہے۔ ’’جھوٹے پر ہزار لعنت نہ سہی پانچ سو سہی۔‘‘ کیسے رہا؟

کیا تمام انبیاء علیہم السلام نے مرزاقادیانی کے بارے میں خبر دی؟

سوال نمبر:۷۷…

مرزاقادیانی تحریر کرتا ہے کہ: ’’تمام نبیوں نے ابتداء سے آج تک میرے لئے خبریں دی ہیں۔‘‘

(تذکرۃ الشہادتین ص۶۲، خزائن ج۲۰ ص۶۴)

سیدنا آدم علیہ السلام سے لے کر سیدنا مسیح ابن مریم علیہم السلام تک تمام انبیاء علیہم السلام سے رحمت عالم ﷺ کی بشارت دینے اور مدد کا وعدہ تو ﷲتعالیٰ نے لیا۔ مرزاقادیانی نے اس اعزاز کو آنحضرت ﷺ سے سلب کر کے اپنے لئے ثابت کر رہا ہے۔ کیا ساری دنیا کے قادیانی مل کر مرزاقادیانی کے اس دعویٰ کو سچا ثابت کر سکتے ہیں؟۔ نہیں اور ہرگز نہیں تو پھر مرزاقادیانی کے کذاب اعظم ہونے میں کوئی شبہ باقی رہ جاتا ہے؟

پیش گوئی پوری نہ ہونے کی کوئی شکل؟

سوال نمبر:۷۸…

مرزاقادیانی نے کہا کہ محمدی بیگم سے میرا نکاح ہوگا، وہ نکاح نہ ہوا۔ مگر قادیانی کہتے ہیں کہ پیش گوئی پوری ہوگئی۔ قادیانیوں سے سوال یہ ہے کہ ’’محمدی بیگم‘‘ سے مرزاقادیانی کا نکاح ہو جاتا تو بھی پیش گوئی پوری اور اگر نکاح نہیں ہوا تو بھی پیش گوئی پوری، تو پیش گوئی کے پورا نہ ہونے کی کون سی شکل تمہارے نزدیک ہوسکتی ہے؟

649

گھر کا معنی اور کشتی کی توسیع

سوال نمبر:۷۹…

مرزاقادیانی کو طاعون کے زمانہ میں الہام ہوا: ’’انی احافظک کل من فی الدار‘‘ یعنی میں ہر اس شخص کی حفاظت کروں گا جو اس گھر میں رہتا ہے۔ مرزاقادیانی اس گھر کی تشریح کرتا ہے۔

گھر کا معنی

’’ہر ایک جو تیرے گھر کی چاردیواری میں ہے۔ میں اس کو بچاؤں گا۔ اس جگہ یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ وہی لوگ میرے گھر کے اندر ہیں جو میرے اس خاک وخشت کے گھر میں بودوباش رکھتے ہیں۔ بلکہ وہ لوگ بھی جو میری پوری پیروی کرتے ہیں۔ میرے روحانی گھر میں داخل ہیں۔‘‘

(کشتی نوح ص۱۰، خزائن ج۱۹ ص۱۰)

مرزاقادیانی کو الہام ہوا تھا کہ میں تیرے گھر والوں کی حفاظت کروں گا اور مرزاقادیانی نے اس کا معنی بیان کرتے ہوئے کہا تھا کہ گھر سے مراد خاک وخشت کا گھر نہیں بلکہ روحانی گھر ہے اور میری تعلیم پر صدق دل سے عمل کرنے والے جہاں کہیں بھی ہوں۔ اس گھر میں شامل ہیں۔ اس عبارت کو ملحوظ رکھتے ہوئے مندرجہ ذیل حوالہ غور سے پڑھئے۔

’’چونکہ آئندہ اس بات کا سخت اندیشہ ہے کہ طاعون ملک میں پھیل جائے اور ہمارے گھر کے بعض حصوں میں مرد رہتے ہیں اور بعض حصہ میں عورتیں۔ اس لئے مکان میں سخت تنگی واقع ہے اور آپ لوگ سن ہی چکے ہیں کہ ﷲ جل شانہ نے لوگوں کے لئے جو اس گھر کی چاردیواری میں رہتے ہیں۔ حفاظت خاص کا وعدہ فرمایا ہے۔ ہمارے ساتھ والامکان اس وقت قیمتاً مل رہا ہے۔ میرے خیال میں یہ مکان دو ہزار تک مل سکتا ہے۔ چونکہ خطرہ ہے کہ طاعون کا زمانہ قریب ہے اور یہ گھر وحی الٰہی کی خوشخبری کی رو سے اس طوفان میں بطور کشتی کے ہوگا۔ مگر میں دیکھتا ہوں کہ آئندہ کشتی میں نہ کسی مرد کی گنجائش ہے اور نہ عورت کی۔ اس لئے اس کشتی کی توسیع کی ضرورت پڑی۔ لہٰذا اس کی وسعت میں کوشش کرنی چاہئے۔‘‘ (یعنی چندہ دینا چاہئے) (کشتی نوح ص۷۶، خزائن ج۱۹ ص۸۶)

ناظرین! کیا اب بھی مرزاقادیانی کے دنیادار اور دنیاپرست ہونے میں کوئی شبہ باقی ہے؟۔ ایک طرف تو گھر سے مراد روحانی گھر بتاتے ہیں اور دوسری طرف خاک وخشت والے مکان کی وسعت کے لئے چندہ مانگ رہے ہیں۔ کیا قادیانی یہ معمہ حل کریں گے؟

ٹیکہ کے مقابلہ میں الہام اور ایام طاعون میں احتیاط

سوال نمبر:۸۰…

مرزاقادیانی نے اپنے الہام اور ٹیکہ کا بیان کرتے ہوئے کہا کہ: ’’ہمیں تو اپنے الہام پر کامل یقین ہے کہ جب افسران گورنمنٹ ہمیں ٹیکہ لگانے آئیں گے تو ہم اپنا الہام ہی پیش کر دیں گے۔ میرے نزدیک تو اس الہام کی موجودگی میں ٹیکہ لگانا گناہ ہے۔ کیونکہ اس طرح تو ثابت ہوگا کہ ہمارا ایمان اور بھروسہ ٹیکہ پر ہے۔ ﷲتعالیٰ کے کرم اور وعدہ پر نہیں۔‘‘ (ملفوظات مرزا حصہ چہارم، پنجم ص۲۵۶)

مرزاقادیانی کی اس عبارت سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر وہ الہام حفاظت از طاعون کی موجودگی میں ٹیکہ وغیرہ دنیاوی اور مادی احتیاط سے کام لیں گے تو الہام الٰہی سے بے یقین ثابت ہوں گے۔ ناظرین مندرجہ عبارت کو ذہن نشین رکھئے اور صاحبزادہ مرزابشیر احمد ایم۔اے کا مندرجہ ذیل بیان پڑھئے کہ: ’’طاعون کے ایام میں حضرت مسیح موعود فینائل

650

لوٹے میں حل کر کے خود اپنے ہاتھ سے گھر کے پاخانوں اور نالیوں میں جاکر ڈالتے تھے۔ نیز گھر میں ایندھن کا بڑا ڈھیر لگوا کر آگ بھی جلوایا کرتے تھے۔ تاکہ ضرر رساں جراثیم مر جاویں اور آپ نے بہت بڑی آہنی انگیٹھی بھی منگوائی ہوئی تھی۔ جس میں کوئلے اور گندھک وغیرہ رکھ کر کمروں کے اندر جلایا جاتا تھا اور تمام دروازے بند کر دئیے جاتے تھے۔ اس کی اتنی گرمی ہوتی تھی کہ جب انگیٹھی کے ٹھنڈا ہو جانے کے ایک عرصہ بعد کمرہ کھولا جاتا تھا تو کمرہ اندر بھٹی کی طرح تپتا ہوتا تھا۔‘‘

(سیرۃ المہدی ج۲ ص۵۹، بروایت نمبر۳۷۹)

اور سنئے! ’’حضور کو بٹیر کا گوشت بہت پسند تھا۔ مگر جب سے پنجاب میں طاعون کا زور ہوا بٹیر کھانا چھوڑ دیا۔ بلکہ منع کیا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ اس کے گوشت میں طاعونی مادہ ہوتا ہے۔‘‘

(سیرت المہدی ج۲ ص۱۳۲، بروایت نمبر۴۴۴)

اور سنئے! ’’وبائی ایام میں حضرت صاحب اتنی احتیاط فرماتے کہ اگر کسی خط کو جووبا والے شہر سے، آتا چھوتے تو ہاتھ ضرور دھو لیتے۔‘‘ (الفضل قادیان مورخہ ۲۸؍مئی ۱۹۳۷ء)

مرزائیو! اگر ٹیکہ لگانے سے الہام الٰہی پر ایمان نہیں رہتا تو یہ احتیاطیں کرنے والا کون ہوا؟ فرق صرف یہ ہے کہ ٹیکہ لگوانے سے خطرہ تھا کہ لوگ اعتراض کریں گے اور یہ احتیاطیں اندرون خانہ ہوتی تھیں۔ جہاں سب کے سب جی حضورئے ہوتے تھے۔ کیا سچا انسان اسی شان کا مالک ہوتا ہے؟

’’سلطنت برطانیہ تاہشت سال‘‘ کے الہام سے مرزا انکاری، بیٹا اقراری

سوال نمبر:۸۱…

انبیاء علیہم السلام کو سب سے پہلے اپنے الہام پر ایمان ہوتا ہے اور وہ ’’بلغ ما انزل‘‘ کے تحت مامور ہوتے ہیں کہ خدا کا الہام بلاکم وکاست لوگوں تک پہنچا دیں۔ خواہ انہیں اس جرم کی پاداش میں بھڑکتی ہوئی آگ یا تختہ دار سے ہمکنار ہونا پڑے۔ مگر افسوس کہ مرزاقادیانی اس مقام پر بھی بالکل فیل نظر آتے ہیں۔ ۱۸۶۰ء کے زمانہ میں ایک دفعہ انہیں الہام ہوا تھا کہ سلطنت برطانیہ ۷،۸سال تک کمزور ہو جائے گی۔ الہام کے اصل الفاظ یہ تھے کہ: ’’سلطنت برطانیہ تاہشت سال بعدازاں ایام ضعف واختلال‘‘ ان کے کسی مرید نے یہ الہام مولانا محمدحسین بٹالوی کو بتادیا اور انہوں نے اپنے اخبار ’’اشاعۃ السنہ‘‘ میں شائع کر دیا۔ پس پھر کیا تھا۔ مرزاقادیانی کو فکر پڑ گئی کہ انگریز بہادر ناراض ہوکر خودکاشتہ پودا کی جڑ ہی نہ اکھڑوا دے۔ فوراً ایک رسالہ ’’کشف الغطاء‘‘ لکھ مارا۔ جس کے ٹائٹل پر بحروف جلی لکھا کہ: ’’یہ مؤلف تاج عزت جناب ملکہ معظمہ قیصرہ ہند دام اقبالہا کا واسطہ ڈال کر بخدمت گورنمنٹ عالیہ انگلشیہ کے اعلیٰ افسروں اور معزز حکام سے باادب گذارش کرتا ہے کہ براہ غریب پروری وکرم گستری اس رسالہ کو اوّل سے آخر تک پڑھا جائے یا سنا جائے۔‘‘

پھر ’’صفحہ ب‘‘ پر الہام مذکورہ سے انکار کرتے ہوئے لکھا کہ: ’’میرے پاس وہ الفاظ نہیں جن سے اپنی عاجزانہ عرض کو گورنمنٹ پر ظاہر کروں کہ مجھے اس شخص کے ان خلاف واقعہ کلمات سے کس قدر صدمہ پہنچا ہے اور کیسے درد رساں زخم لگے ہیں۔ افسوس کہ اس شخص نے عمداً اور دانستہ گورنمنٹ کی خدمت میں میری نسبت نہایت ظلم سے بھرا ہوا جھوٹ بولا ہے اور میری تمام خدمات کو برباد کرنا چاہا ہے۔ خدا جھوٹے کو تباہ کرے۔‘‘

گویا مرزاقادیانی نے خوب زوروشور سے الہام مذکورہ کا انکار کر دیا۔ چونکہ مولانا بٹالوی کے پاس مرزاقادیانی کی کوئی تحریر متعلقہ الہام نہیں تھی۔ اس لئے انہیں خاموش ہونا پڑا اور عرصہ ۲۵سال تک اس الہام پر انکار کا پردہ پڑا رہا۔ مگر

651

’’نہاں ماند کجا رازے کزد سازند محفلہا‘‘ کہی ہوئی بات کو چھپانا ذرا مشکل ہوتا ہے۔ وہ کسی نہ کسی رنگ میں ظاہر ہو ہی جایا کرتی ہے۔ مذکورہ الہام کے سلسلہ میں بھی ایسا ہی ہوا کہ مرزاقادیانی نے انکار کیا اور دعا کی کہ: ’’جھوٹے کو خدا تباہ کرے۔‘‘ مگر ان کی وفات کے بعد ان کے صاحبزادہ مرزابشیر احمد ایم۔اے نے (سیرۃ المہدی ج۱ ص۷۵، روایت نمبر۹۶) پر تسلیم کر لیا کہ حضرت صاحب کو واقعی یہ الہام ہوا تھا۔

اب ناظرین یہ بتائیں کہ مرزاقادیانی کو کیا کہیں؟۔ مرزائیو! یہ کیا بات ہے؟ کہ باپ اپنے الہام سے منکر ہے اور صاحبزادہ صاحب فرماتے ہیں کہ الہام واقعی ہوا تھا۔ ذرا سوچ سمجھ کر جواب دینا۔

کیا جاہل محض مقتداء بن سکتا ہے؟

سوال نمبر:۸۲…

مرزاقادیانی نے لکھا ہے: ’’میرا اپنا عقیدہ جو میں نے براہین احمدیہ میں لکھا ہے۔ ان الہامات کی منشاء سے جو براہین احمدیہ میں درج ہے۔ صریح نقیض میں پڑا ہو اہے۔‘‘

(ایام الصلح ص۴۲، خزائن ج۱۹ ص۲۷۲)

دوسری جگہ مرزاقادیانی لکھتا ہے: ’’پرلے درجہ کا جاہل جو اپنے کلام میں متناقض بیانوں کو جمع کرے اور اس پر اطلاع نہ رکھے۔‘‘ (ست بچن ص۲۹، خزائن ج۱۰ ص۱۴۱)

نیز لکھا کہ: ’’جھوٹے کے کلام میں تناقض ضرور ہوتا ہے۔‘‘

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۱۱۱، خزائن ج۲۱ ص۲۷۵)

قادیانی حضرات خود توجہ فرمائیں! کہ مرزاقادیانی اپنے الہامات میں صریح نقیض کا معترف ہے اور متناقض الکلام کو پرلے درجہ کا جاہل اور جھوٹا قرار دیتا ہے تو جاہل اور جھوٹے شخص کو اپنا مقتداء ماننا کیا عقلمندی کے خلاف نہیں ہے؟

کیا نبی کا فرشتہ جھوٹ بول سکتا ہے؟

سوال نمبر۸۳…

مرزاقادیانی نے اپنی کتاب (حقیقت الوحی ص۳۳۲، خزائن ج۲۲ ص۳۴۶) پر لکھا: ’’مورخہ ۵؍مارچ ۱۹۰۵ء کو میں نے دیکھا کہ ایک شخص جو فرشتہ معلوم ہوتا تھا۔ میرے سامنے آیا اور اس نے بہت سا روپیہ میرے دامن میں ڈال دیا۔ میں نے اس کا نام پوچھا؟ اس نے کہا نام کچھ نہیں۔ میں نے کہا آخر کچھ تو نام ہوگا۔ اس نے کہا میرا نام ہے ٹیچی ٹیچی۔‘‘

سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر نام کچھ نہیں تھا تو یہ کیوں کہا کہ میرا نام ٹیچی ہے؟۔ اگر نام ٹیچی تھا تو یہ کیوں کہا کہ میرا نام کچھ نہیں؟۔ دو باتوں سے ایک بات ہی سچی ہوسکتی ہے دوسری جھوٹ۔ تو قادیانی فرمائیں! کہ مرزاقادیانی کتنا مقدس نبی تھا؟۔ جس کا فرشتہ بھی جھوٹ بولتا تھا۔

’’آئینہ کمالات اسلام‘‘ یا نفسانی تحقیقات

سوال نمبر:۸۴…

مرزاقادیانی نے لکھا ہے: ’’مرد کی بیوی تغیر عمر یا کسی بیماری کی وجہ سے بدشکل ہو جائے تو مرد کی قوت فاعلی جس پر سارا مدار عورت کی کاروائی(؟) کا ہے۔ بے کار اور معطل ہو جاتی ہے۔ لیکن اگر مرد بدشکل ہو تو عورت کا کچھ حرج نہیں۔ کیونکہ کاروائی کی کل(؟) مرد کو دی گئی ہے۔ اور عورت کی تسکین کرنا مرد کے ہاتھ میں ہے۔ ‘‘

(آئینہ کمالات اسلام ص۲۸۲، خزائن ج۵ ص ایضاً)

اس عبارت میں دو جگہ سوالیہ نشان(؟) لگائے گئے ہیں۔ قادیانیوں سے سوال ہے کہ وہ مرزاقادیانی کی ذہنیت

652

کا اندازہ فرمائیں؟ اور پھر سوچیں کہ یہ خیالات جس کتاب میں لکھے گئے۔ اس کا نام آئینہ کمالات اسلام رکھا ہے؟ کیا اسلام اور دینی شخص کے ذہنی کمالات ایسے ہی ہوتے ہیں؟ یا نفسیاتی مریض کے؟

کیا ماہ صفر چوتھا اسلامی مہینہ ہے؟

سوال نمبر:۸۵…

مرزاقادیانی نے تحریر کیا کہ: ’’صفر کا مہینہ اسلامی مہینوں میں چوتھا مہینہ ہے۔‘‘

(تریاق القلوب ص۴۱، خزائن ج۱۵ ص۲۱۸)

کیا اس سے بڑھ کر جہالت کی اور بات ہوسکتی ہے۔ جس کا مرتکب مرزاقادیانی ہورہا ہے؟۔ مرزائی بتائیں کہ اسلامی مہینوں میں صفر چوتھا مہینہ ہے؟۔ اگر نہیں اور یقینا نہیں تو قادیانی فیصلہ کر کے بتائیں کہ مرزاقادیانی عالم تھا یا جاہل؟ اگر جاہل تھا اور پکی بات ہے جاہل تھا تو نبی کیسے؟

کیا سورۂ لہب میں ابی لہب سے مراد مرزاقادیانی کی تکفیر کرنے والے ہیں؟

سوال نمبر:۸۶…

مرزاقادیانی نے لکھا: ’’غرض براہین احمدیہ کے اس الہام میں سورہ ’’لہب کی پہلی آیت کا مصداق اس شخص کو ٹھہرایا ہے۔ جس نے سب سے پہلے خدا کے مسیح موعود پر تکفیر اور توہین کے ساتھ حملہ کیا۔ یہ تفسیر سراسر حقانی ہے اور تکلف اور تصنع سے پاک ہے۔‘‘

(تحفہ گولڑویہ ص۷۵، خزائن ج۱۷ ص۲۱۶)

’’تبت یدا‘‘ کی یہ تفسیر جو مرزاقادیانی نے کی ہے۔ پوری امت میں سے کسی بھی مفسر، مجدد نے بھی یہ تفسیر کی ہے؟۔ نہیں اور یقینا نہیں تو اس کا معنی یہ ہے کہ ملعون قادیان پورے قرآن مجید کو اپنے اوپر فٹ کرنے پر تلا ہوا ہے۔ نیز یہ کہ یہ سورۃ حضور ﷺ کے دشمن کے متعلق تھی۔ مرزاقادیانی نے اپنے مخالف پر فٹ کر دی۔ یہ تحریف وتلبیس، دجل وافتراء کا وہ نمونہ ہے کہ پوری قادیانیت اس کی نظیر لانے سے قاصر ہے۔ کیا ہے ہمت؟

کیا انگلش ناخواندہ ملازم؟ اور انگریزی الہامات ’’آئی لو یو‘‘وغیرہ کیسے؟

سوال نمبر:۸۷…

مرزا قادیانی لکھتا ہے کہ:’’میں انگریزی خواں نہیں ہوں اور بکلی اس زبان سے ناواقف ہوں۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۳۰۴، خزائن ج۲۲ ص۳۱۷)

اس کے برعکس مرزاقادیانی کا اپنا بیٹا بشیراحمد ایم۔اے لکھتا ہے: ’’سیالکوٹ ملازمت کے زمانہ میں مولانا الٰہی بخش چیف محرر مدارس کی کوشش سے کچہری کے ملازم منشیوں کے لئے ایک مدرسہ قائم ہوا کہ رات کو کچہری کے منشی انگریزی پڑھا کریں۔ ڈاکٹر امیر شاہ صاحب جو اس وقت اسسٹنٹ کمشنر سرجن پنشنر ہیں۔ استاذ مقرر ہوئے۔ مرزاقادیانی نے بھی انگریزی شروع کی اور ایک دو کتابیں انگریزی کی پڑھیں۔‘‘ (سیرۃ المہدی ج۱ ص۱۵۵،روایت نمبر۱۵۰، حیات النبی ج۱ ص۶۰)

’’میں انگریزی خواں نہیں۔ بلکہ اس زبان سے ناواقف ہوں۔‘‘ یہ قول مرزاقادیانی کا ہے۔ اس کے گھر کے بھیدی کہتے ہیں کہ انگریزی کی ایک دو کتابیں پڑھیں۔ اب مرزاقادیانی کی راست بازی پر قادیانی سردھنیں۔ الٹ پلٹ بیہودہ احمقانہ انگلش الہام انہیں ایک دو کتابوں کی کرشمہ سازی ہے اور بس؟

اگر انگلش نہیں پڑھی تو الہام کیسے سمجھ لیتا تھا؟ پھر جن استاذوں کے نام مرزے کی کتابوں میں ہیں۔ یا قادیانی کتب میں ہیں۔ نکال دئیے جائیں؟ تاکہ اسے نبی ماننے والوں کو دھوکا نہ ہو؟

653

کیا غیرزبانی الہام برحق ہونے کی دلیل؟

سوال نمبر:۸۸…

مرزا قادیانی لکھتا ہے کہ:’’اور یہ بات بالکل غیرمعقول اور بیہودہ امر ہے کہ انسان کی اصل زبان تو کوئی ہو اور الہام اس کو اور زبان میں ہو۔ جس کو وہ سمجھ نہیں سکتا۔ کیونکہ اس میں تکلیف مالایطاق ہے۔‘‘

(چشمہ معرفت ص۲۰۹، خزائن ج۲۳ ص۲۱۸)

اس کے برعکس خود لکھا کہ: ’’زیادہ تر تعجب کی بات یہ ہے کہ بعض الہامات مجھے ان زبانوں میں بھی ہوتے ہیں۔ جن سے مجھے کچھ بھی واقفیت نہیں۔ جیسے انگریزی یا سنسکرت یا عبرانی وغیرہ۔‘‘

(نزول المسیح ص۵۷، خزائن ج۱۸ ص۴۳۵)

انگریزی، عبرانی، سنسکرت کے الہامات کی توضیح وترجمہ کے لئے مرزاقادیانی اپنے مرید ’’میرعباس علی شاہ‘‘ سے مدد طلب کرتا تھا۔ (مکتوبات احمدیہ ج۱ ص۶۸)

اب مرزاقادیانی کی اس غیرمعقولیت وبیہودگی کے متعلق مریدان مرزا کیا ارشاد فرماتے ہیں؟۔ پھر خود مرزاقادیانی نے غیرزبانوں میں اپنے الہامات کو اپنے منجانب ﷲ ہونے کی دلیل قرار دیا۔

(نزول المسیح ص۵۷، خزائن ج۱۸ ص۴۳۵)

جو بیہودہ امر ہو وہ منجانب ﷲ ہونے کی دلیل؟ کیا فرمایا مرزاقادیانی نے؟

بوقت دعویٰ پیٹ میں اب اولاد جوان؟

سوال نمبر:۸۹…

مرزاقادیانی نے لکھا ہے: ’’جو لوگ میرے دعویٰ کے وقت ابھی پیٹ میں تھے۔ اب ان کی اولاد بھی جوان ہوگئی ہے۔‘‘ (ضمیمہ براہین احمدیہ ص۱۴۵، خزائن ج۲۱ ص۳۱۳)

یہ لغو مبالغہ کی بہترین مثال ہے۔ کیونکہ ہر صورت میں تو پیٹ والے افراد کم ازکم چالیس سال کی عمر کے ہونے چاہئیں۔ حالانکہ مرزاقادیانی کا دعویٰ ۱۸۸۰ء سے بھی تسلیم کیا جائے تو ۱۹۰۸ء تک صرف اٹھائیس سال بنتے تھے۔ کیا ابھی پیٹ والے جوان ہوئے نہ کہ ان کی اولاد؟۔ قادیانی بتائیں کہ مرزاقادیانی کے اونٹ کی کون سی کل سیدھی ہے؟۔

کیا ’’بکر وثیب‘‘ والی پیش گوئی پوری ہوئی؟

سوال نمبر:۹۰…

مرزاقادیانی لکھتا ہے: ’’خداتعالیٰ کی طرف سے یہی مقدر اور قرار یافتہ ہے کہ وہ لڑکی اس عاجز کے نکاح میں آئے گی۔ خواہ پہلے ہی باکرہ ہونے کی حالت میں آجائے اور یا خداتعالیٰ بیوہ کر کے اس کو میری طرف لے آئے۔‘‘ (مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۲۱۹)

کیا وہ لڑکی مرزاقادیانی کے نکاح میں آئی؟۔ اگر نہیں اور یقینا نہیں تو پھر یہ کتنی بیہودہ بات ہے کہ کہا جائے کہ وہ پیش گوئی پوری ہوگئی؟

کیا راست باز کا کام لعنت کرنا؟

سوال نمبر:۹۱…

مرزاغلام احمد قادیانی نے اپنی کتاب (ازالہ اوہام حصہ دوم ص۳۵۶، خزائن ج۳ ص۴۵۶) پر لکھا ہے کہ: ’’لعنت بازی صدیقوں کا کام نہیں، مؤمن لعان نہیں ہوتا۔‘‘

654

دوسری جگہ مرزاغلام احمد قادیانی نے اپنی کتاب (نور الحق ص۱۱۸تا۱۲۲، خزائن ج۸ ص۱۵۸تا۱۶۲) میں نمبرشمار کر کے ایک ہزار مرتبہ صرف ’’لفظ لعنت‘‘ لکھا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ پہلے حوالہ کے مطابق ’’لعنت بازی صدیقوں کا کام نہیں۔ مؤمن لعان نہیں ہوتا‘‘ اور دوسرے حوالہ کے مطابق مرزاقادیانی نے ایک ہزار مرتبہ لعنت کی ہے تو کیا مرزائی بتائیں گے کہ مرزاقادیانی جھوٹا اور کذاب تھا؟ صدیق اور راست باز نہ تھا؟ دوسرا یہ کہ مرزاقادیانی لعنت کرنے کی وجہ سے خود مؤمن نہ رہا کیا خیال ہے؟

کیا نبی گالیاں دیتا ہے؟

سوال نمبر:۹۲…

مرزاغلام احمد قادیانی نے اپنے مخالفین کو حروف تہجی کے اعتبار سے سینکڑوں گالیاں دی ہیں۔ کیا قادیانی بتائیں گے کہ مرزاغلام احمد قادیانی جیسی فصاحت اپنے لئے مانگنے پر تیار ہیں؟ اور گالیاں دینا شریف آدمی کا کام ہے یا بازاری آدمی کا؟

حالانکہ حضور ﷺ نے فرمایا: ’’میں لعنت کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا گیا۔‘‘ میں گالیاں دینے والا بنا کر نہیں بھیجا گیا۔ گالیاں دینا نبی کا کام اور اس کی صفت نہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ مرزاقادیانی گالیاں دے تو بھی نبی؟ کیا قادیانی شرافت گالیوں کی اجازت دیتی ہے؟

کیا مرزاقادیانی کی جماعت بے تہذیب، درندہ صفت؟

سوال نمبر:۹۳…

مرزاغلام احمد قادیانی اپنی کتاب (شہادۃ القرآن ص۲، خزائن ج۶ ص۳۹۶) پر لکھتا ہے: ’’مگر میں دیکھتا ہوں کہ یہ باتیں ہماری جماعت کے بعض لوگوں میں نہیں بلکہ بعض میں ایسی بے تہذیبی ہے۔ اگر میں درندوں میں رہوں تو ان بنی آدم سے اچھا ہے۔‘‘ اب قادیانی بتائیں کہ وہ درندہ رہنا پسند کریں گے؟ یا مرزاغلام احمد قادیانی کو چھوڑ کر اشرف المخلوقات بننا پسند فرمائیں گے؟

نیز مرزاقادیانی نے اپنی جماعت کو بے تہذیب وغیرہ کہا ہے۔ کیا اب مرزائیوں میں تہذیب آچکی ہے؟ جب کہ مرزاقادیانی کی موجودگی میں نہیں تھی؟ اگر تمہیں کچھ تہذیب اور سمجھ ہے؟ تو مرزاقادیانی کی جماعت کو کیوں نہیں چھوڑتے؟ وہ تمہیں بے تہذیب وغیرہ لکھے اور تم اسے نبی مانو؟۔ واقعی تمہاری حس اور شعور ختم ہوچکا ہے۔

کیا نبی امتی کی تقلید کر سکتا ہے؟

سوال نمبر:۹۴…

مرزاغلام احمد قادیانی نے اپنی کتاب (ملفوظات ج۹ ص۱۷۰) پر لکھا ہے کہ: ’’سوہمارے نزدیک سب سے اوّل قرآن مجید ہے۔ پھر احادیث صحیحہ جن کی نسبت تائید کرتی ہے۔ اگر کوئی مسئلہ ان دونوں میں نہ ملے تو پھر میرا مذہب یہی ہے کہ حنفی مذہب پر عمل کیا جاوے۔ کیونکہ ان کی کثرت اس بات کی دلیل ہے کہ خداتعالیٰ کی مرضی یہی ہے۔‘‘

سوال یہ ہے کہ مرزاغلام احمد قادیانی اپنی کتاب (ایک غلطی کا ازالہ ص۳، خزائن ج۱۸ص۲۰۷) پر لکھتا ہے کہ: ’’اس وحی الٰہی میں ﷲ نے میرا نام محمد رکھا اور رسول بھی۔‘‘

معلوم ہوا مرزاقادیانی مدعیٔ نبوت ہے اور پھر ایک نبی کا یہ کہنا کہ قرآن وسنت کے بعد حنفی مذہب پر عمل کیا

655

جائے۔ کیا اس سے غیرنبی کا نبی پر فائق ہونا لازم نہیں آتا؟ کیا مرزاقادیانی کا یہ کہنا نبوت کے منصب کی توہین نہیں؟ کیا نبی کا امتی کی تقلید کرنا یہ نبی کی توہین نہیں؟

کیا نبی بدعت پر عمل کرتا ہے؟

سوال نمبر:۹۵…

مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی کتاب (ملفوظات ج۲ص۲۰۸) پر لکھا ہے کہ: ’’لوگوں نے جو اپنے نام حنفی شافعی وغیرہ رکھے ہیں یہ سب بدعت ہیں۔‘‘

نیز اس نے اپنی کتاب (ملفوظات ج۹ص۱۷۰) پر لکھا ہے کہ: ’’میرا مذہب تو یہی ہے کہ حنفی مذہب پر عمل کیا جائے۔‘‘

سوال یہ ہے کہ ایک جگہ مرزا قادیانی حنفی نام کو بدعت کہہ رہا ہے اور دوسری جگہ خود حنفی مذہب کی تائید کررہا ہے۔ کیا نبی بدعت کو ختم کرنے کے لئے آتے ہیں یا اپنے قول وعمل سے اس کی تائید کرتے ہیں؟

مرزا قادیانی نماز کس وقت پڑھتا تھا؟

سوال نمبر:۹۶…

مرزا قادیانی نے اپنی کتاب (اربعین ضمیمہ نمبر۳،۴ ص۴، خزائن ج۱۷ص۴۷۱) پر لکھا ہے کہ: ’’بسا اوقات سو سو دفعہ رات کو یا دن کو پیشاب آتا ہے اور اس قدر کثرت پیشاب سے جس قدر عوارض ضعف وغیرہ ہوتے ہیں میرے شامل حال ہیں۔‘‘

اب سوال یہ ہے کہ مرزا قادیانی دن یا رات میں سو سو دفعہ پیشاب کرتا تھا۔ کوئی قادیانی بتاسکتا ہے کہ مرزا قادیانی کس وقت نماز پڑھتا تھا؟۔ کھانا کھاتا تھا۔ بیوی کے پاس جاتا تھا۔ کتابیں لکھتا تھا۔ مریدوں کو ملتا تھا۔ سوتا تھا؟۔ جبکہ کثرت پیشاب کی وجہ سے ضعف بھی ہوجاتا تھا؟

کیا اب بھی مرزا قادیانی کا انکار کفر ہے؟

سوال نمبر:۹۷…

مرزا قادیانی کہتا ہے کہ: ’’ابتداء سے میرا یہی مذہب ہے کہ میرے دعویٰ کے انکار کی وجہ سے کوئی شخص کافر یا دجال نہیں ہوسکتا۔‘‘ (تریاق القلوب ص۱۳۰، خزائن ج۱۵ ص۴۳۲)

سوال یہ ہے کہ مرزاغلام احمد قادیانی مدعی نبوت ہے۔ کیا قرآن وسنت کی روشنی میں نبی کا انکار کفر نہیں؟ اگر کفر نہیں ہے تو پھر مرزاقادیانی کے انکار کرنے سے مسلمان کافر کیوں؟

جو معجزہ کو مسمریزم کہے وہ کون؟

سوال نمبر:۹۸…

مرزاقادیانی نے لکھا ہے کہ: ’’یہ اعتقاد بالکل مشرکانہ اور فاسد خیال ہے کہ مسیح مٹی کے پرندے بنا کر ان میں پھونک مار کر ان کو سچ مچ کے جانور بنادیتا تھا۔ بلکہ یہ صرف عمل التراب (مسمریزم) تھا۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۳۲۲، خزائن ج۳ ص۲۶۳)

حالانکہ قرآن مجید میں ہے: ’’اِنِّیْ اَخْلُقُ لَکُمْ مِنَ الطِّیْنِ کَھَیْءۃِ الطَّیْرِ فَاَنْفُخُ فِیْہٖ فَیَکُوْنُ طَیْرًا بِاِذْنِ اللّٰہِ (آل عمران:۴۹)‘‘ {کہ میں بنا دیتا ہوں تم کو گارے سے پرندہ کی شکل پھر اس میں پھونک مارتا ہوں تو ہو

656

جاتا ہے وہ اڑتا جانور ﷲ کے حکم سے۔}

اب سوال یہ ہے کہ بقول مرزاقادیانی اگر یہ عمل التراب ہے جسے وہ مسمریزم کہتا تھا تو کیا قرآن مجید میں ﷲتعالیٰ مسمریزم کو اپنے نبی کا معجزہ قرار دے رہے ہیں؟ پھر اگر قرآن مجید سچا ہے تو مسیح کا مٹی کے پرندے بنا کر پھونک مارنا اور ان کا اڑنے لگ جانا معجزہ ہے تو معجزہ کو مسمریزم کہنے والا کون ہے؟ مسلمان یا کافر؟ قادیانی جواب دیں۔

ﷲ کا فرمان سچا یا مرزاقادیانی کی بکواس؟

سوال نمبر:۹۹…

مرزاقادیانی نے لکھا ہے کہ: ’’حضرت مسیح کے عمل مسمریزم سے وہ مردے زندہ ہوتے تھے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۳۱۱، خزائن ج۳ ص۲۵۸)

حالانکہ قرآن مجید میں ہے: ’’وَاُحْیِ الْمَوْتٰی بِاِذْنِ اللّٰہِ (آل عمران:۴۹)‘‘ {اور جلاتا ہوں مردے ﷲ کے حکم سے۔}

اس آیت میں مردوں کو باذن الٰہی زندہ کرنا مسیح علیہ السلام کا معجزہ قرار دیا گیا ہے۔ جب کہ مرزاقادیانی ملعون اسے مسمریزم قرار دیتا ہے۔ قادیانی حضرات فرمائیں؟ کہ کیا ﷲتعالیٰ صحیح فرماتے ہیں کہ مردے زندہ کرنا واقعی مسیح علیہ السلام کا معجزہ تھا یا مرزاقادیانی صحیح کہتا ہے کہ وہ مسمریزم تھا؟ مرزائی حضرات فیصلہ فرمائیں کہ کون صحیح ہے۔ ﷲ تعالیٰ یا مرزاقادیانی؟

کیا قابل نفرت عمل ﷲ کو پسند؟

سوال نمبر:۱۰۰…

مرزاقادیانی نے لکھا: ’’اگر یہ عاجز (مرزاقادیانی) اس عمل (مسمریزم/عمل التراب) کو مکروہ اور قابل نفرت نہ سمجھتا تو خداتعالیٰ کے فضل وتوفیق سے امید قوی رکھتا تھا کہ ان عجوبہ نمائیوں میں حضرت مسیح ابن مریم( علیہم السلام) سے کم نہ رہتا۔‘‘ (ازالہ اوہام ص۳۰۹، خزائن ج۳ ص۲۵۸)

مرزاقادیانی نے پہلے حوالوں میں مسیح کے معجزات کو مسمریزم وعمل التراب کہا۔ اس حوالہ میں اس مسمریزم وعمل التراب کو مکروہ وقابل نفرت کہا۔ قادیانی حضرات فرمائیں؟ کہ کیا قابل نفرت ومکروہ عمل ﷲتعالیٰ اپنے نبیوں کے ہاتھوں پر ظاہر کرتا تھا؟۔ پھر قرآن میں اسے اپنا انعام قرار دے کر اپنے نبی کو فرماتا ہے کہ میں نے یہ انعام کیا۔ یہ انعام کیا۔ واہ! اگر وہ انعام الٰہی تھے تو قابل نفرت اور مکروہ نہیں۔ اگر مکروہ ہیں تو انعام الٰہی نہیں؟۔ مرزائی بتائیں کہ ﷲتعالیٰ کا کلام قرآن سچا ہے یا مرزاقادیانی؟

کیا ﷲتعالیٰ نبیوں کو قابل نفرت عمل کا حکم دیتے تھے؟

سوال نمبر:۱۰۱…

مرزاقادیانی لکھتے ہیں: ’’مسیح ابن مریم باذن وحکم الٰہی الیسع نبی کی طرح اس عمل التراب (مسمریزم) میں کمال رکھتے تھے۔‘‘ (ازالہ اوہام ص۳۰۸، خزائن ج۳ ص۲۵۷)

مرزاقادیانی نے عمل التراب یعنی مسمریزم کو مکروہ وقابل نفرت کہا۔ پھر اس حوالہ میں کہا کہ مسیح ابن مریم ﷲتعالیٰ کے حکم سے اس عمل ومسمریزم میں کمال رکھتے تھے۔ تو کیا ﷲتعالیٰ قابل نفرت ومکروہ اعمال کرنے کا اپنے نبیوں کو حکم دیتے تھے؟ اور وہ نبی ان قابل نفرت ومکروہ اعمال میں کمال حاصل کر لیتے تھے؟

657

اگر نبی سچا تو پیش گوئیاں کیوں ٹلیں؟

سوال نمبر:۱۰۲…

مرزاقادیانی نے لکھا: ’’ممکن نہیں کہ نبیوں کی پیش گوئیاں ٹل جائیں۔‘‘

(کشتی نوح ص۵، خزائن ج۱۹ ص۵)

نیزمرزاقادیانی نے لکھا: ’’عیسیٰ علیہ السلام کی تین پیش گوئیاں جھوٹی نکلیں۔‘‘

(اعجاز احمدی ص۱۴، خزائن ج۱۹ ص۱۲۱)

قادیانی بتائیں؟ کہ خود مرزاقادیانی کو اعتراف ہے کہ نبیوں کی پیش گوئیاں ناممکن ہے کہ ٹل جائیں۔ پھر کہتا ہے کہ مسیح علیہ السلام کی تین پیش گوئیاں غلط نکلیں؟۔ کیا اس کا یہ معنی نہیں کہ مرزاقادیانی کے نزدیک سیدنا مسیح علیہ السلام ﷲتعالیٰ کے سچے نبی نہ تھے۔ ورنہ ان کی پیش گوئیاں کیوں جھوٹی نکلتیں؟ (معاذ ﷲ)

باب پانزدہم … متفرق قادیانی سوالات کے جوابات

قادیانیوں کا کلمہ پڑھنا کیسے؟

سوال نمبر:۱…

مرزائی کہتے ہیں کہ جب ہم کلمہ پڑھتے ہیں، نماز تمہارے جیسی پڑھتے ہیں، روزہ رکھتے ہیں، قبلہ کی طرف رخ بھی کرتے ہیں، زکوٰۃ بھی دیتے ہیں اور مسلمانوں کی طرح جانور ذبح کرتے ہیں، تو پھر ہمیں کافر کیوں کہا جاتا ہے؟

جواب نمبر:۱…

مسلمان ہونے کے لئے پورے اسلام کو ماننا ضروری ہے۔ جب کہ کافر ہونے کے لئے پورے اسلام کا انکار کرنا ضروری نہیں۔ دین کے کسی بھی ایک مسئلہ اور ایک جزء کے انکار کرنے سے بھی انسان کافر ہو جاتا ہے۔ اگر کسی نے دین کے ایک ضروری مسئلہ کا انکار کر دیا تو وہ کافر ہو جائے گا۔ چاہے کروڑ دفعہ وہ کلمہ کیوں نہ پڑھتا ہو۔ یا نمازی، حاجی اور زکوٰۃ دینے والا کیوں نہ ہو۔ اس کی مثال یوں ہے: جیسے ایک دیگ میں چار من دودھ ہو، اس کے پاک ہونے کے لئے ضروری ہے کہ وہ پورے کا پورا پاک ہو۔ ناپاک ہونے کے لئے ضروری نہیں کہ چارمن شراب اس میں ڈالی جائے تب وہ ناپاک اور پلید ہو۔ بلکہ ایک تولہ شراب سے بھی چارمن دودھ ناپاک ہو جائے گا۔ لہٰذا معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص دین کے کسی ایک امر اور کسی ایک مسئلہ کا انکار کر دے تو وہ کافر ہو جائے گا۔

مرزائی صرف کسی ایک مسئلہ کا نہیں۔ کئی ضروریات دین کا انکار کرتے ہیں۔ اس لئے وہ کافر ہیں۔ مسلمانوں کو دھوکہ اور فریب دینے کے لئے چاہے وہ کروڑ دفعہ ہی کلمہ کیوں نہ پڑھیں تب بھی کافر ہیں۔

جواب نمبر:۲…

مسیلمہ کذاب اور اس کی پارٹی کے لوگ نماز پڑھتے تھے، اور اذان دیتے تھے۔ کلمہ بھی پڑھتے تھے، اور مسلمانوں کے قبلہ کی طرف رخ بھی کرتے تھے۔ مسلمانوں کا ذبیحہ بھی کھاتے تھے۔ غرض یہ کہ تمام مسلمانوں کا اور مسیلمہ کذاب کا دین کے دیگر مسائل میں اختلاف نہ تھا۔ صرف ایک مسئلہ میں اختلاف تھا، وہ یہ کہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کہتے تھے کہ حضور ﷺ ہی نبی ہیں اور آخری نبی ہیں۔ جب کہ مسیلمہ کہتا تھا حضور ﷺ بھی نبی ہیں اور حضور ﷺ کے بعد میں بھی نبی ہوں، تو صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے ارشاد فرمایا: مسیلمہ! تو نے حضور ﷺ کے بعد جھوٹی نبوت کا دعویٰ کر کے ایسے جرم کا ارتکاب کیا ہے کہ اب تیری کوئی نیکی نیکی نہیں رہی۔ جھوٹی نبوت کے دعویٰ کے بعد تو کافر ہے۔ اب نہ تیرے کلمہ کا اعتبار نہ نماز وغیرہ کا!

658

اس لئے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے اس کے ساتھ جنگ کی اسے اور اس کی پارٹی کو جہنم رسید کیا۔

بعینہ اسی طرح مرزاقادیانی ملعون کا دعویٰ نبوت کاذبہ، اور مرزائیوں کا اسے نبی مان لینا یہ وہ جرم عظیم ہے۔ جس کے ہوتے ہوئے مرزاقادیانی ملعون کی اور مرزائیوں کی کوئی نیکی نیکی نہیں رہی۔ جس طرح مسیلمہ کذاب اور اس کے ماننے والے باوجود کلمہ پڑھنے کے کافر ہوئے۔ اسی طرح مرزائی بھی کلمہ پڑھنے کے باوجود کافر ہیں۔

جواب نمبر:۳…

مرزائیوں کا یہ دعویٰ کرنا کہ ہم مسلمانوں والا کلمہ پڑھتے ہیں، غلط ہے! اس لئے کہ کلمہ کا مفہوم مسلمانوں کے نزدیک اور ہے، اور قادیانیوں کے نزدیک اور۔ وہ اس طرح کہ کلمہ طیبہ کے دوسرے جز ’’محمد رسول ﷲ‘‘ ( ﷺ) سے مسلمانوں کے نزدیک صرف اور صرف حضور سرورکائنات، خاتم النّبیین ﷺ کی ذات اقدس ہی ہے۔ اس مفہوم میں کسی اور کی شراکت کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ جب کہ قادیانیوں کے نزدیک کلمہ طیبہ کے اس دوسرے جز ’’محمد رسول ﷲ‘‘ سے مراد مرزاقادیانی ملعون ہوتا ہے۔ چنانچہ مرزاقادیانی کا بیٹا ’’مرزابشیر احمد‘‘ اپنی کتاب ’’کلمتہ الفصل‘‘ میں لکھتا ہے: ’’مسیح موعود (مرزاغلام احمد قادیانی۔ ناقل) کی بعثت کے بعد ’’محمد رسول ﷲ‘‘ کے مفہوم میں ایک اور رسول کی زیادتی ہوگئی۔ لہٰذا مسیح موعود کے آنے سے نعوذ بِاللہ ’’لا الہ الا ﷲ محمد رسول ﷲ‘‘ کا کلمہ باطل نہیں ہوتا بلکہ اور بھی زیادہ شان سے چمکنے لگ جاتا ہے۔‘‘ (کلمتہ الفصل ص۱۵۸)

اس عبارت سے معلوم ہوا کہ کلمہ طیبہ کا مفہوم قادیانیوں کے نزدیک اور ہے اور مسلمانوں کے نزدیک اس عبارت والا مفہوم نہیں ہے۔

نیز اسی کتاب کے مذکورہ بالا صفحہ پر آگے لکھتا ہے: ’’پس مسیح موعود (مرزاقادیانی) خود ’’محمد رسول ﷲ‘‘ ہے جو اشاعت اسلام کے لئے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے۔ اس لئے ہم کو کسی نئے کلمہ کی ضرورت نہیں۔ ہاں اگر محمد رسول ﷲ کی جگہ کوئی اور آتا تو ضرورت پیش آتی۔‘‘

(کلمتہ الفصل ص۱۵۸)

یہ عبارت بھی پکارپکار کر ببانگ دہل اعلان کر رہی ہے کہ مرزائیوں کے نزدیک ’’محمد رسول ﷲ‘‘ سے مراد مرزاقادیانی ہے۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ کلمہ طیبہ میں مسلمان ’’محمد رسول ﷲ‘‘ سے مراد رحمت عالم حضور خاتم النّبیین ﷺ ہی کی ذات اقدس کو لیتے ہیں اور مرزائی مرزاقادیانی کو۔

معلوم ہوا مسلمانوں کا کلمہ اور اس کا مفہوم اور ہے اور مرزائیوں کا کلمہ اور اس کا مفہوم اور ہے۔ اس بات کو ایک مثال سے یوں سمجھیں کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا نام محمد تھا۔ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے ایک شاگرد کا نام بھی محمد تھا۔ سید محمد یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ کے صاحبزادے کا نام بھی محمد ہے۔ اب فرض کیجئے۔ یہ تینوں ایک مجلس میں موجود ہوں اور امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے والد آکر کہیں: محمد! تو اس سے مراد ان کا اپنا بیٹا ’’امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ ‘‘ ہوگا اور اگر بالفرض! اسی مجلس میں امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ آکر کہیں: محمد! تو اس سے ان کا اپنا شاگرد ’’امام محمد رحمۃ اللہ علیہ‘‘ مراد ہوگا، اور اگر اسی مجلس میں حضرت سید محمد یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ آکر کہیں: محمد! تو اس سے مراد ان کا اپنا بیٹا ’’محمد بنوری‘‘ ہوگا۔

دیکھیں! تینوں شخصیتوں نے لفظ ایک ہی بولا: محمد! لیکن ہر ایک کی مراد اس لفظ سے علیحدہ علیحدہ اشخاص تھے۔ اسی طرح سمجھیں! مسلمان جب ’’محمد رسول ﷲ‘‘ بولتے ہیں تو اس سے مراد رحمتہ للعالمین، حضور خاتم النّبیین ﷺ کو لیتے ہیں اور جب مرزائی ’’محمد رسول ﷲ‘‘ بولتے ہیں تو اس سے مراد مرزاقادیانی ملعون کو لیتے ہیں۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ کلمہ طیبہ اور اس کا مفہوم مسلمانوں کے نزدیک اور ہے اور مرزائیوں کے نزدیک جدا۔

659

جواب نمبر:۴…

مرزائیوں کا یہ کہنا کہ ہم کلمہ پڑھتے ہیں۔ پھر ہمیں کافر کیوں کہا جاتا ہے۔ بعینہ یہی سوال مرزائیوں سے بھی کیا جاسکتا ہے کہ جب مسلمان کلمہ طیبہ پڑھتے ہیں تو مرزائی مسلمانوں کو کافر کیوں کہتے ہیں؟ جیسا کہ مرزاقادیانی کا ایک مکتوب (جو ڈاکٹر عبدالحکیم خان کے نام مارچ ۱۹۰۶ء میں لکھا تھا) ’’تذکرہ‘‘ میں درج ہے اس میں لکھا ہے: ’’خداتعالیٰ نے میرے پر ظاہر کیا ہے کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں ہے۔‘‘

(تذکرہ ص۶۰۷، مطبوعہ الشرکۃ الاسلامیہ ربوہ)

اسی طرح مرزاقادیانی کا بیٹا اور قادیانی جماعت کا دوسرا سربراہ ’’مرزابشیرالدین محمود‘‘ اپنی کتاب ’’آئینہ صداقت‘‘ میں لکھتا ہے: ’’کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کا نام بھی نہیں سنا وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔‘‘ (آئینہ صداقت ص۳۵)

اور ایسے ہی مرزاقادیانی کا بیٹا مرزابشیراحمد ایم۔اے اپنی کتاب ’’کلمتہ الفصل‘‘ میں لکھتا ہے: ’’ہر ایک ایسا شخص جو موسیٰ علیہ السلام کو تو مانتا ہے مگر عیسیٰ علیہ السلام کو نہیں مانتا، یا عیسیٰ علیہ السلام کو مانتا ہے مگر محمد ﷺ کو نہیں مانتا اور یا محمد ﷺ کو مانتا ہے مگر مسیح موعود (مرزامردود۔ ناقل) کو نہیں مانتا وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ ‘‘

(کلمتہ الفصل ص۱۱۰)

قادیانیوں کی مذکورہ بالا تینوں عبارتوں سے ثابت ہوا کہ ان کے نزدیک مسلمان ہزاردفعہ ہی کیوں نہ کلمہ پڑھتے ہوں۔ لیکن مرزاقادیانی کو نہیں مانتے۔ (اگرچہ اس کا نام بھی نہیں سنا) تو وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں، تو اس سے یہ ثابت ہوا کہ ایک شخص یا کئی افراد باوجود اس کے کہ کلمہ پڑھتے ہیں کافر ہوسکتے ہیں اور یہ امر قادیانیوں کے ہاں بھی مسلم ہے تو اسی مسلمہ ضابطہ کے تحت مرزائی ہزاربار کلمہ پڑھتے ہوں۔ مرزاقادیانی کی جھوٹی نبوت کو ماننے کی وجہ سے کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ ان کا کلمہ پڑھنا، کلمہ کا بورڈ لگانا انہیں کفر سے نہیں بچا سکتا۔

حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کے قتل کا واقعہ

سوال نمبر:۲…

ایک موقع پر حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے ایک کافر کو قتل کرنا چاہا۔ اس نے فوراً کلمہ پڑھا۔ لیکن حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے اسے قتل کر دیا۔ پھر حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر یہ واقعہ عرض کیا۔ جس کے جواب میں نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اس کے کلمہ پڑھنے کے باوجود تم نے اسے قتل کر دیا؟ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ اس نے ڈر کے مارے کلمہ پڑھا تھا۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ہل شققت قلبہ‘‘ (کیا تو نے اس کا دل چیر کے دیکھا تھا؟) کہ وہ ڈر کے مارے پڑھ رہا ہے؟ پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اگر کل قیامت کے دن اس کے بارے میں پوچھ ہوئی تو میں اسامہ رضی اللہ عنہ کے اس فعل سے بری ہوں گا۔

مرزائی استدلال

مرزائی اس سے استدلال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جب ہم کلمہ پڑھتے ہیں تو ہمارے کلمہ پڑھنے کا بھی اعتبار ہونا چاہئے۔ کیا مسلمانوں نے ہمارے دل چیر کر دیکھ لئے ہیں؟ کہ ہم اوپر سے کلمہ پڑھتے ہیں؟ اور ہمارے دل میں کچھ اور ہوتا ہے؟

660

جواب نمبر:۱…

ایک شخص جب کلمہ پڑھتا ہے تو اسے موقع ملنا چاہئے کہ وہ اپنے فعل اور طرز عمل سے ثابت کر دکھائے کہ اس نے یہ کلمہ دل سے پڑھا ہے یا صرف زبان سے۔ نیز یہ ثابت کر دے کہ میں خلاف اسلام کاموں سے بری ہوں۔ چونکہ زبان دل کی ترجمان ہے۔ اب اس کا طرز عمل بتلائے گا کہ اس کا دل اور زبان ایک ہے یا نہیں؟ رہا واقعہ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کے قتل کا؟ تو چونکہ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے اس آدمی کو موقع ہی نہیں دیا تھا کہ وہ اپنے فعل اور طرز عمل سے ثابت کر دے کہ میں نے یہ کلمہ دل سے پڑھا ہے یا زبان سے؟ اس لئے حضور ﷺ نے اس پر نکیر (ناپسندیدگی) فرمائی۔

مرزائی فریب

قادیانی حدیث پاک کے مذکورہ واقعہ سے ہرگز یہ استدلال نہیں کر سکتے کہ ہم تو کلمہ پڑھتے ہیں یہ محض ان کا دھوکہ اور فریب ہے کہ غلط استدلال کی آڑ میں ہم اپنے آپ کو اور مرزاقادیانی کی جھوٹی نبوت کو بچالیں گے۔

ایں خیال است ومحال است وجنوں

عرصہ ٔ دراز سے مسلمانوں نے مرزائیوں کو موقع فراہم کیا اور آج بھی مرزائیوں کو موقع دیا ہوا ہے کہ وہ اپنے فعل اور طرز عمل سے یہ ثبوت پیش کرتے اور کریں کہ ہمارا دل اور زبان ایک ہے۔ مگر قیامت یہ ہے کہ مرزائیوں کا ’’لٹریچر‘‘ اور ان کا طرز معاشرت، اور بودوباش یہ بتارہی ہے کہ زبانی حد تک کلمہ پڑھنے کے باوجود ان کے دل میں عقیدۂ ختم نبوت نہیں۔ بلکہ انکار ختم نبوت اور اجراء نبوت ہے۔ انبیاء علیہم السلام کی تنقیص وتوہین ان کے دلوں میں موجود ہے۔ جس کی واضح دلیل یہ ہے کہ وہ ایک جھوٹے مدعی نبوت مرزاغلام احمد قادیانی کو نبی ، مسیح موعود، اور مہدی معہود اور پتہ نہیں کیا کیا مانتے ہیں۔ تو مرزائی اپنے طرز عمل سے تو یہ بتلا رہے ہیں کہ ہمارا دل اور زبان ایک نہیں۔ لہٰذا کروڑوں بار بھی کلمہ پڑھیں، نمازیں پڑھیں، تب بھی کافر ہیں۔ ان کے اس کلمہ پڑھنے کا کوئی اعتبار نہیں۔ لہٰذا مرزائیوں کا حدیث حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے استدلال کرنا باطل اور اپنے آپ کو حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کے مقتول پر قیاس کرنا ’’قیاس مع الفارق‘‘ ہے۔

ببیں تفاوت راہ از کجاست تابکجا

جواب نمبر:۲…

مشہور واقعہ زبان زد خاص وعام ہے کہ رحمت عالم ﷺ کی خدمت اقدس میں ایک یہودی اور دوسرا منافق (بشرنامی جو بظاہر کلمہ گو ہونے کا دعویٰ رکھتا تھا) ایک مقدمہ لے کر حاضر ہوئے۔ آپ ﷺ نے یہودی کے حق میں فیصلہ کر دیا۔ بشرنامی منافق (جو بظاہر اسلام اور کلمہ گو ہونے کا دعویٰ رکھتا تھا) نے یہودی سے کہا کہ حضور ﷺ کا فیصلہ تو آپ کے حق میں ہوا۔ لیکن بہتر یہ ہے کہ ہم یہ فیصلہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کرائیں۔ بشر منافق کی اندرونی سازش تھی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ یہودی کو قتل کر دیں گے، یا میرے حق میں فیصلہ کر دیں گے۔ کیونکہ میں کلمہ گو جو ہوں۔ یہودی نے کہا ٹھیک!

چنانچہ دونوں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ کیس عرض کیا، یہودی نے حضور ﷺ کا فیصلہ بھی سنایا کہ آپ ﷺ نے میرے حق میں فیصلہ کر دیا ہے۔ لیکن یہ منافق نہیں مانتا۔ اس کے کہنے پر فیصلہ آپ کے پاس لے آئے ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اچھا حضور ﷺ نے فیصلہ اس طرح فرمادیا ہے؟ کہا: جی ہاں! یہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ گھر تشریف لے گئے، تلوار ہاتھ میں لی اور یہ فرماتے ہوئے کہ جو حضور ﷺ کے مبارک فیصلہ کو نہ مانے اس کا فیصلہ عمر رضی اللہ عنہ کی تلوار کرے گی۔ تشریف لائے اور بشر منافق کا سر گردن سے الگ کر دیا۔ اس پر نہ تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ: عمر رضی اللہ عنہ! تم

661

نے کیوں قتل کیا؟ اور نہ ہی ﷲ رب العزت نے فرمایا کہ عمر رضی اللہ عنہ نے غلط کیا ہے۔ بلکہ وحی الٰہی نازل ہوئی: ’’فَلَا وَرَبِّکَ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوْکَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَہُمْ ثُمَّ لَا یَجِدُوْا فِیْ اَنْفُسِہِمْ حَرَجَا مِمَّا قَضَیْتَ وَیُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا (نساء:۶۵)‘‘ {سو قسم ہے تیرے رب کی وہ مؤمن نہ ہوں گے یہاں تک کہ تجھ کو ہی منصف جانیں۔ اس جھگڑے میں جو ان میں اٹھے پھر نہ پاویں اپنے جی میں تنگی تیرے فیصلہ سے اور قبول کریں خوشی سے۔}

اسی واقعہ کے تحت ’’روح المعانی‘‘ اور (معارف القرآن ج۲ ص۴۶۱) میں ہے کہ بشر نامی منافق کے ورثاء نے حضور ﷺ کی عدالت میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے خلاف قتل کا مقدمہ بھی دائر کیا، تو وحی الٰہی نے نہ صرف یہ کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بری کر دیا۔ بلکہ تاقیامت مسلمانوں کے لئے یہ دستور العمل قرار پایا کہ جو شخص حضور ﷺ کے فیصلہ کو نہ مانتا ہو چاہے وہ کلمہ بھی کیوں نہ پڑھتا ہو وہ مؤمن نہیں۔ لہٰذا اس کی گردن ماری جائے۔ اس کے کلمہ کا کوئی اعتبار نہیں۔ اس واقعہ کے تناظر میں حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کے واقعہ کو بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے بھی اس شخص کو باوجود کلمہ پڑھنے کے موقع نہیں دیا کہ وہ اپنے طرز عمل سے ثابت کرتا کہ میرے دل میں کیا ہے؟۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کلمہ پڑھنے والے بشر منافق کو اسی وجہ سے قتل کر دیا کہ اس کے طرز عمل نے بتادیا تھا کہ کلمہ صرف اس کی زبان کی حد تک ہے۔ مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے لئے ظاہری طور پر کلمہ پڑھتا ہے۔ اس کے دل میں کفر ہی کفر ہے۔

یہی حال مرزائیوں کا ہے کہ مسلمانوں کو اپنے دام فریب میں لینے کے لئے لسانی اور زبانی طور پر کلمہ کی رٹ لگاتے ہیں۔ اندر مرزاقادیانی کو ماننے کی وجہ سے کفر ہی کفر رکھتے ہیں ؎

ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ

دیتے ہیں دھوکا یہ بازی گر کھلا

حضرت ابومحذورہ رضی اللہ عنہ کی اذان، اور قبول اسلام!

سوال نمبر:۳…

ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ اذان دے رہے تھے۔ حضرت ابومحذورہ رضی اللہ عنہ جو ابھی چھوٹے بچے تھے۔ اسلام بھی ابھی تک قبول نہیں کیا تھا۔ انہوں نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے ساتھ (نقل اتارتے ہوئے) اذان دینی شروع کی۔ جب حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اذان مکمل کر لی، تو حضور ﷺ نے حضرت ابومحذورہ رضی اللہ عنہ کو بلاکر اذان کے کلمات کہلوائے۔ آپ ﷺ کی محبت اور کمال دیکھئے۔ جونہی کلمات اذان ختم ہوئے تو حضرت ابومحذورہ رضی اللہ عنہ نہ صرف یہ کہ مسلمان ہوئے بلکہ شرف صحابیت بھی حاصل کر لیا۔

مرزائی استدلال

اس واقعہ سے مرزائی یہ استدلال کرتے ہیں کہ ابومحذورہ رضی اللہ عنہ نے ابتدائً بحالت کفر اذان کہی تھی۔ چلو! ہم آئین کے اعتبار سے کافر ہی سہی! تو ہمیں بھی کفر کی حالت میں اذان کہنے کی اجازت ہونی چاہئے؟

جواب…

قرآن وسنت کی روشنی میں پوری کائنات کے قادیانی زندہ اور مردہ سبھی مل کر ایک واقعہ بھی ایسا ثابت نہیں کر سکتے کہ مسلمانوں نے کبھی کسی کافر کو نماز کے لئے اذان کہنے کی اجازت دی ہو؟ یا کسی کافر نے نماز کے لئے اذان دی ہو؟ جس دن حضرت ابومحذورہ رضی اللہ عنہ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی اذان کی نقل اتاری تھی۔ اس دن بھی نماز کے لئے اذان حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے ہی دی تھی۔ حضرت ابومحذورہ رضی اللہ عنہ نے تو صرف نقل اتاری تھی۔

662

ہاں! اس حدیث شریف کی رو سے اگر مرزائی استدلال کرنا چاہتے ہیں تو آئیں! ایک دفعہ تعلیم کی غرض سے اذان کے کلمات کہہ لیں اور مرزاقادیانی کی جھوٹی نبوت پر لعنت بھیج کر مسلمان ہو جائیں۔ لیکن وہ اذان فقط تعلیم کے لئے ہوگی! نماز کے لئے نہیں! ہاں! مسلمان ہو جانے کے بعد زندگی بھر اذان دینے کی سعادت حاصل کر سکتے ہیں ؎

صلائے عام ہے یاران نکتہ داں کے لئے

مگر! کسی بھی کافر کو نماز کے لئے اذان کہنے کی قطعاً اجازت نہیں ہے۔

بزرگوں کے ’’خلاف شرع‘‘ اقوال حجت نہیں

سوال نمبر:۴…

’’تذکرۃ الاولیاء‘‘ وغیرہ کتب میں لکھا ہے کہ بعض بزرگوں سے یہ اقوال صادر ہوئے کہ میں نبی ہوں، میں محمد ہوں۔ میں خدا ہوں وغیرہ وغیرہ! اگر مرزاقادیانی نے بھی کہہ دیا ہے تو اس پر فتویٔ کفر کیوں؟

جواب…

بزرگان دین اور حضرات صوفیاء کرام کے ہاں ایک خاص اصطلاح ہے۔ جسے ’’شَطْحِیَّات‘‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ بزرگان دین وصوفیاء کرام پر کچھ باطنی حالات گذرتے ہیں۔ جو ایک بے خودی اور مدہوشی کی حالت ہوتی ہے۔ اس حالت میں ان سے بعض ایسے کلمات نکل جاتے ہیں جو کتاب وسنت اور قواعد شریعت کے خلاف ہوتے ہیں۔ جب ہوش میں آتے ہیں تو ایسے کلمات سے توبہ واستغفار کر لیتے ہیں۔ نیز ان بزرگان وصوفیاء کرام نے اپنی اپنی کتب میں واضح طور پر لکھا ہے کہ ہماری ان بے اختیارانہ باتوں پر کوئی شخص ہرگز عمل پیرا نہ ہو۔ بلکہ یہاں تک لکھا ہے کہ جو ہمارے طریق سے واقف نہیں اس کے لئے ہماری ان کتب کا مطالعہ کرنا بھی جائز نہیں۔ اسی طرح ہمارا کشف والہام بھی کسی پر حجت نہیں۔

خلاصہ یہ کہ بزرگان دین کی اس طرح کی باتیں خلاف شرع ہوتی ہیں۔ جو کسی کے لئے بھی حجت نہیں ہوتیں۔ جب کہ نبی کی ہر بات شریعت ہوتی ہے اور قابل حجت! جس کے مانے بغیر چارہ نہیں ہوتا۔ جو نہیں مانے گا وہ کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہوگا، اور خود نبی بھی اپنی اطاعت واتباع کی تعلیم وتلقین کرتا ہے۔ دیکھئے! قرآن پاک نے بھی رسولوں اور نبیوں سے متعلق اصول سمجھایا: ’’وَمَا اَرْسَلْنَا مِنْ رَسُوْلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰہِ (نساء:۶۴)‘‘ {اور ہم نے کوئی رسول نہیں بھیجا۔ مگر اسی واسطے کہ بحکم خداوندی ان کی اطاعت کی جائے۔}

رہے مرزاقادیانی کے اقوال؟ تو وہ مرزائیوں کے لئے تو حجت ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ وہ اسے نبی مانتے ہیں۔ مسلمانوں کے لئے مرزاقادیانی کے اقوال حجت شرعیہ نہیں! اس لئے کہ مسلمانوں کے نزدیک مرزاقادیانی جھوٹی نبوت کا دعویٰ کرنے کی وجہ سے کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے اور کافر کا قول مسلمانوں کے لئے کسی طرح بھی حجت شرعیہ نہیں بن سکتا۔ خلاصۂ جواب یہ ہے کہ اگر کسی بزرگ نے معذوری یا مدہوشی کی حالت میں کہہ دیا ہے کہ میں نبی ہوں۔ میں محمد ہوں وغیرہ تو اس کا یہ قول حجت شرعیہ نہیں ہے تو جن کتابوں میں اس طرح کے اقوال ہیں۔ ان کتابوں میں ان بزرگوں کی تعلیمات وتلقینات اپنے مریدین کے لئے یہ موجود ہیں کہ تم نے مجھے قتل کیوں نہ کیا؟ کیا نبی اس طرح کہتا ہے؟

ہم مرزائیوں سے یہ سوال کرتے ہیں کہ کیا مرزاقادیانی نے اپنی پوری زندگی میں یا اپنی کتابوں میں کہیں اشارۃً یا کنایتہ یا صریحاً کوئی ایک جملہ لکھا ہے؟ کہ مجھے ان دعاوی (میں نبی ہوں، میں محمد ہوں، میں آدم ہوں، میں عیسیٰ ہوں۔ وغیرہ) کی وجہ سے قتل کر دیا جائے؟ بلکہ اپنی بات نہ ماننے والوں کو کافر، دائرۂ اسلام سے خارج، کتیوں، خنزیروں کی اولاد،

663

کنجریوں کی اولاد کہتا رہا۔ کیا ولی اس طرح کہا کرتا ہے؟ یا مرزاقادیانی نے یہ باتیں معذوری اور مدہوشی میں کہی ہیں؟ بلکہ اس سے بڑھ کر یہ کہ کسی بزرگ نے یا کسی ولی نے اپنی زندگی میں اس طرح کہا ہو تو مرزائیوں پر لازم ہے دکھائیں؟ لہٰذا تذکرۃ الاولیاء وغیرہ کتب میں موجود ان بزرگوں کے اقوال ہمارے لئے حجت شرعیہ نہیں ہیں۔ اس قسم کے لوگوں کو معذور، اور مرزاقادیانی اور اس کے پیروکاروں کو کافر سمجھا جائے گا۔

قادیانی جماعت برابر بڑھ رہی ہے

کیا یہ مرزاقادیانی کے سچا ہونے کی علامت ہے؟

سوال نمبر:۵…

ﷲتعالیٰ جھوٹے مدعیٔ نبوت کو مہلت نہیں دیتا۔ جب کہ مرزاقادیانی کی جماعت مرزائیہ برابر بڑھ رہی ہے۔ معلوم ہوا کہ مرزاقادیانی سچا تھا۔

جواب…

یہ اصول سراسر غلط ہے کہ ﷲتعالیٰ جھوٹے کو مہلت نہیں دیتا۔ دیکھئے! شیطان سے بڑھ کر اور کون جھوٹا ہوگا؟ وہ کب سے مہلت پر ہے اور تاقیامت مہلت پر رہے گا۔ کیا یہ شیطان کے سچا ہونے کی دلیل ہے؟ رہا جھوٹا مدعی نبوت؟ تو دنیا میں مرزاقادیانی سے قبل ایک نہیں بے شمار جھوٹے مدعیٔ نبوت گذرے ہیں۔ جنہوں نے طویل زندگی پائی ہے۔ مثلاً ایران میں ایک شخص صالح بن طریف ہوا۔ وہ دعویٔ نبوت کے بعد سنتالیس (۴۷) سال تک زندہ رہا۔ اور اس کی اولاد نے تین سو سال تک حکومت کی۔ کیا یہ اس کے سچا ہونے کی دلیل ہے؟ ان جھوٹے مدعیان نبوت کے مہلت پانے کی تفصیل دیکھنی ہو تو مولانا ابوالقاسم محمد رفیق دلاوری رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب ’’ائمہ تلبیس‘‘ دیکھ لیں۔ جس میں یہ لکھا ہوا ہے کہ ان مدعیان نبوت نے دعویٰ نبوت کے بعد عرصہ تک مہلت پائی ہے۔ کیا یہ ان کے سچا ہونے کی دلیل ہے؟ یہ یاد رکھیں کہ صادق کے صدق اور کاذب کے کذب میں کسی مدت دعویٰ کو قطعاً دخل نہیں۔ جس سے یہ سمجھا جاسکے کہ وہ سچا تھا یا جھوٹا؟۔

یہ ضرور ہے کہ جھوٹ ایک دن ختم ہو جاتا ہے اور جھوٹے مدعیان نبوت اور ان کے ماننے والے ہزار ترقیوں کے باوجود آخر ختم ہوگئے۔ آج ان کا کوئی نام لیوا موجود نہیں۔ قادیانیت بھی ’’انشاء ﷲ‘‘ اسی طرح اپنے انجام کو پہنچے گی۔ ایک وقت آئے گا کہ پوری دنیا میں ان کا نام ونشان تک نہ ہوگا۔ انشاء ﷲ!

ذرا توجہ تو کریں! ایک وہ وقت بھی تھا کہ پاکستان میں مرزاقادیانی کو کافر کہنے پر مقدمے بنتے تھے۔ آج ’’الحمدﷲ‘‘ وہ وقت ہے کہ کوئی مرزاقادیانی ملعون کو مسلمان کہے تو جیل جانا پڑتا ہے۔ اتنا بڑا انقلاب آیا کہ مرزائیوں کا نام چوڑھوں کے ساتھ لکھا گیا۔ جو پاکستان میں اپنے اقتدار کے خواب دیکھتے تھے۔ مرزائی سازشیں کرتے اور دن گنا کرتے تھے۔ آج ان کے چیف گرو مرزا مسرورکو پاکستان میں قدم رکھنے کی سکت نہیں۔ وہ آج بھی صلیب پرست عیسائیوں کے زیرسایہ ’’لندن‘‘ میں زندگی گذار رہے ہیں۔ جس طرح ان کا جھوٹا مدعیٔ مسیحیت (مرزاقادیانی) عیسائیوں کا آلہ کار بنا تھا۔ اسی جھوٹے مدعی مسیحیت کے جھوٹے پیروکار آج انہی صلیب پرستوں کے آلۂ کار بنے ہوئے ہیں اور وہ ان کے سرپرست، فیصلہ قادیانی عدالت کرے کہ یہ مرزاقادیانی کے سچا ہونے کی علامت ہے یا جھوٹا ہونے کی؟

دیوبندی، بریلوی وغیرہ کے ایک دوسرے پر فتوے اور قادیانی

سوال نمبر:۶…

دیوبندی، بریلوی، شیعہ، اہل حدیث ایک دوسرے پر فتوے لگاتے ہیں۔ اگر ہم پر فتویٰ لگا دیا تو ہم

664

کیسے کافر ہوگئے؟ یہ تو ان کی عادت ہے۔

جواب نمبر:۱…

دیوبندی، بریلوی وغیرہ پر قادیانیت کو قیاس کرنا ’’قیاس مع الفارق‘‘ ہے۔ اس لئے کہ یہ اسلام کے فرقے ہیں اور قادیانی کفر کے داعی ہیں۔ دیوبندی، بریلوی کے بعض لوگوں نے اگر ایک دوسرے پر فتویٰ لگایا تو غلط فہمی یا بدنیتی کی بناء پر۔ جب کہ دوسرا فریق اس کو تسلیم نہیں کرتا۔ جیسے بریلوی حضرات نے کہا کہ دیوبندی گستاخ رسول ہیں۔ دیوبندیوں نے کہا کہ ہم گستاخ رسول نہیں۔ بلکہ ہم تو گستاخ رسول کو کافر سمجھتے ہیں۔ گستاخ رسول واجب القتل ہے۔ تو دیوبندیوں نے ان کے اس فتویٰ کو قبول نہیں کیا۔ سرے سے تسلیم ہی نہیں کیا۔ بلکہ اسے اپنے اوپر بہت بڑا الزام قرار دیا۔ دیوبندی اگر الزام کو قبول کرتے کہ واقعی ہم گستاخ رسول ہیں تو واقع میں کافر ہو جاتے۔ غرضیکہ ایک دوسرے کے فتویٰ کو الزام قرار دے کر مسترد کرتے ہیں۔ بخلاف مرزائیوں کے کہ مرزاغلام احمد قادیانی نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا جو کفر ہے قادیانیوں نے اس کافرانہ دعویٰ کو قبول کر کے کفر کے فتویٰ کو اپنے اوپر تسلیم اور لاگو کیا۔

مرزاقادیانی نے حضرات انبیاء علیہم السلام کی توہین کی جو کفر ہے۔ مرزائیوں نے اس کفر کو شریعت سمجھ کر اپنے اوپر چسپاں کر لیا۔ مرزاقادیانی نے نصوص قطعیہ کا انکار کیا جو کہ کفر ہے۔ مرزائیوں نے اسے اپنے ایمان کا حصہ بنا کر اپنے کفر کو اور پختہ کر لیا۔

غرضیکہ دیگر فرقوں کا اختلاف ایسا ہے۔ جیسے ایک مقدمہ میں مختلف وکلاء اپنے اپنے دلائل دیتے ہیں۔ جو قانون کو مانتے ہیں تو ان کا یہ اختلاف وکیلوں جیسا اختلاف ہے۔ جیسے ایک وکیل کہے کہ میں قانون کو یوں سمجھا ہوں۔ دوسرا کہے کہ میری نظر میں قانون یہ کہتا ہے تو ان کا یہ اختلاف سمجھ اور فہم کا اختلاف ہے۔ قانون کو سب مانتے ہیں۔ جیسے امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ، امام مالک رحمۃ اللہ علیہ، امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ، امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ اسلام کے وکیل ہیں۔ اسی طرح دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث، قادری، نقشبندی، چشتی، سہروردی، بھی اسلام کے وکیل ہیں۔ ان سب کا راستہ ختم نبوت کے تاجدار، گنبد خضراء کے مکین حضرت محمد عربی ﷺ کی طرف جاتا ہے۔ یہ سب حضور ﷺ کے قدمین شریفین کی وابستگی کو اپنی سعادت سمجھتے ہیں۔

اب ایک دوسرا گروہ یا فریق (یعنی جماعت مرزائیہ) جو سرے سے قانون کو ہی نہیں مانتا۔ بلکہ قانون سے بغاوت کرتا ہے۔ ان کا اختلاف اصول اور قانون سے بغاوت کا اختلاف ہے۔ جیسے بینا اور نابینا برابر نہیں ہوسکتے۔ اسی طرح قانون کو ماننے والا اور قانون سے بغاوت کرنے والا بھی برابر نہیں ہوسکتے۔ بلکہ قانون کا باغی اور قانون کا منکر لائق تعزیر وواجب القتل ہے۔

جواب نمبر:۲…

نبی کے بدلنے سے امت بدل جاتی ہے۔ مثلاً چار آدمی ہوں۔ انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا زمانہ پایا۔ ان پر ایمان لائے۔ تو یہودی کہلائے۔ اب ان چار میں سے تین نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زمانہ پایا۔ ان پر ایمان لائے تو یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی امت سے نکل کر عیسائیت میں داخل ہوگئے۔ پھر ان تین میں سے دو آدمیوں نے حضور اقدس ﷺ کا زمانہ پایا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد رحمت عالم ﷺ کو اپنا نبی تسلیم کر لیا تو یہ دونوں عیسائیت سے نکل کر اسلام میں داخل ہو گئے اور مسلمان کہلائے۔ ان میں سے کسی نے پہلے نبی کا انکار نہیں کیا۔ مگر ایک سچے نبی کے بعد دوسرے سچے نبی کو مانتے ہی پہلے سچے نبی کی امت سے نکل کر نئے سچے نبی کی امت میں داخل ہوگئے۔ خدانہ کرے اب ایک شخص حضور ﷺ کے بعد کسی اور نبی کو مان لیتا ہے تو حضور ﷺ کے بعد نئے شخص کو نبی مانتے ہی حضور ﷺ کی امت

665

میں نہیں رہے گا۔ یہی حال مرزائیوں کا ہے کہ انہوں نے حضور ﷺ کو چھوڑ کر مرزاقادیانی کو اپنا (جھوٹا) نبی تسلیم کیا۔ جیسا کہ مرزاقادیانی نے اپنی کتاب ’’دافع البلاء‘‘ میں دعویٰ کیا ہے اور لکھا ہے: ’’سچا خدا وہی خدا ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔‘‘

(دافع البلاء ص۱۱، خزائن ج۱۸ ص۲۳۱)

اس دعویٔ مذکور کی وجہ سے مرزاقادیانی کافر ہے۔ جب قادیانیوں نے اسے اپنا نبی تسلیم کر لیا تو اب یہ بھی مسلمان نہ رہے۔ حضور ﷺ کی امت سے نکل گئے۔ قادیانی اور مرزائی یا غلام احمدی، غلامی،اور غلمدی ہوگئے۔ بالفاظ دیگر یوں سمجھیں۔ دیوبندی، بریلوی، حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی، قادری، چشتی، نقشبندی، سہروردی وغیرہ ایسے ہیں جیسے ایک باپ کی اولاد۔ ہزاراختلاف سہی لیکن باپ تو ایک ہے۔ رشتہ تو ایک ہے۔ آپس میں رشتے کے اعتبار سے بھائی بھائی ہیں۔ لیکن ایک اور شخص جس نے اپنا باپ ہی علیحدہ بنالیا ہو تو یہ ان کا کچھ نہیں لگتا۔ کیونکہ اس کا باپ ہی الگ ہے۔ دیوبندی، بریلوی، وغیرہ اختلاف چاہے کتنا ہی شدید کیوں نہ ہو جائے یا بعض اغراض پرست قوتیں انہیں آپس میں کیوں نہ لڑادیں اور یا دین دشمن حکومتیں ان میں اختلاف کو ہوادیں اور ان میں سے ایک کو دوسرے کے مقابل لاکھڑا کر دیں تو اعلیٰ فہم رکھنے والے حضرات اسے عارضی یاوقتی حالات کا سانحہ سمجھ کر صرف نظر کر لیتے ہیں۔ تو تکار اور غلط فہمی کا شکار نہیں ہو جاتے۔ کیونکہ ہیں جو ایک دوسرے کے بھائی اور ایک باپ کی اولاد۔

بخلاف اس شخص کے جس کا باپ الگ ہو۔ ان کا آپس میں کوئی رشتہ نہ ہو۔ بلکہ وہ شخص جوان بھائیوں کے باپ کا بھی دشمن ہو۔ اب یہ دشمن شخص جب ان کے باپ کی عزت پر حملہ کرے گا تو تمام بھائی اپنے اپنے اختلافات کو بھول کر جمیع قسم کے تنازعات چھوڑ کر باپ کے دشمن کے مقابلہ میں ایک ہو جائیں گے۔ تو یہ روزمرہ کے واقعات میں دیوبندی، بریلوی اختلافات لاکھ سہی۔ جب مرزاغلام احمد قادیانی دجال وکذاب جیسے دشمن شخص نے ان کے روحانی والد حضرت محمد عربی ﷺ کے منصب ختم نبوت پر ڈاکہ ڈالا، اور آپ ﷺ کی عزت وناموس پر حملہ کر کے مذاق اڑایا تو دیوبندی، بریلوی وغیرہم حلالی بھائیوں کی طرح ایک ہوکر اپنے عظیم روحانی والد کے دشمن اور منکرین ومخالفین کے خلاف صف آراء ہوگئے، اور مار مار کر ان کا منہ بگاڑ دیا اور انہیں اپنی صفوں سے نکال کر دنیا کو بتا دیا، کہ دیوبندی، بریلوی اختلافات سے قادیانیت ومرزائیت، غلام احمدیت وغلمدیت کو ہرگز ہرگز فائدہ نہیں اٹھانے دیا جائے گا۔

جواب نمبر:۳…

قادیانیوں کو اگر دیوبندی، بریلوی اختلاف نظر آتا ہے، تو یہ اپنے اختلافات اور فتویٰ جات کو کیوں نظر انداز کر جاتے ہیں۔ اپنے اختلافات سے استدلال کیوں نہیں کرتے۔ لاہوری مرزائیوں نے کہا، کہ مرزاقادیانی نبی نہیں تھا۔ قادیانی مرزائیوں نے ان کے خلاف غیرنبی کو نبی مان کر کفر کا ارتکاب کیا۔ قادیانی مرزائیوں نے کہا، کہ مرزاقادیانی نبی تھا تو ان (قادیانیوں) کے بقول لاہوری مرزائیوں نے ایک نبی کو نہ مان کر کفر کیا۔ تو اس لحاظ سے لاہوری مرزائیوں کے نزدیک قادیانی مرزائی کافر، اور قادیانی مرزائیوں کے نزدیک لاہوری مرزائی کافر۔

خس کم جہاں پاک شد

خلاصہ یہ کہ قادیانی ذرّیت امت مسلمہ کے اختلاف کو نظیر بناتے وقت، اور ان سے استدلال کرتے وقت اپنے کفریہ عقائد اور فتویٰ جات کو کیوں نظر انداز کر دیتے ہیں؟

الزام ہم ان کو دیتے تھے قصور اپنا نکل آیا

سچ ہے کہ لینے کا پیمانہ اور، دینے کا پیمانہ اور!بددیانتی کی سب سے بڑی علامت یہی ہے۔ فافہم!

666

جھوٹے نبی کا جھوٹا فرشتہ

سوال نمبر:۷…

مرزاقادیانی کے فرشتے کا نام کیا تھا؟

جواب…

مرزاقادیانی کے فرشتے کا نام ٹیچی تھا۔ مرزاقادیانی نے خود اپنی کتاب ’’حقیقت الوحی‘‘ میں لکھا ہے: ’’میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک شخص جو فرشتہ معلوم ہوتا تھا۔ میرے سامنے آیا اور اس نے بہت سا روپیہ میرے دامن میں ڈال دیا۔ میں نے اس کا نام پوچھا اس نے کہا نام کچھ نہیں۔ میں نے کہا آخر کچھ تو نام ہوگا۔ اس نے کہا۔ میرا نام ہے ٹیچی! ٹیچی پنجابی زبان میں وقت مقررہ کو کہتے ہیں۔ یعنی عین ضرورت کے وقت پر آنے والا۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۳۳۲، خزائن ج۲۲ ص۳۴۶)

اس سے ہمارا استدلال یہ ہے کہ مرزاقادیانی مرزائیوں کے نزدیک نبی تھا، تو نبی کا خواب بھی شریعت میں حجت ہوتا ہے۔ جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کا خواب اور بیدار ہونے کے بعد اس پر عمل کرنا قرآن مجید میں مذکور ہے۔ امتی کا خواب غلط ہوسکتا ہے۔ نبی کا خواب غلط نہیں ہوسکتا۔ اس لئے کہ نبی اور امتی کی نیند میں فرق ہے۔ امتی کی نیند ناقض وضو ہوتی ہے۔ نبی کی نیند ناقض وضو نہیں ہوتی۔ امتی جب سوتا ہے تو اس کی آنکھیں بھی سو جاتی ہیں اور دل بھی سو جاتا ہے۔ بخلاف نبی کے کہ نبی جب سوتا ہے تو اس کی آنکھیں تو سو جاتی ہیں مگر اس کا دل یاد الٰہی میں مشغول ہو جاتا ہے۔

چنانچہ بخاری شریف میں ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا: ’’اِنَّ عَیْنَیَّ تَنَا مَانِ وَلَا یَنَامُ قَلْبِیْ (بخاری ج۱ ص۱۵۴)‘‘ {کہ میری آنکھیں سو جاتی ہیں اور میرا دل نہیں سوتا۔}

مرزائیوں کے نزدیک جب مرزاقادیانی نبی تھا، تو مرزاقادیانی کا مذکورہ بالا خواب بھی مرزائیوں کے لئے حجت ہے۔ مرزاقادیانی نے فرشتہ سے پوچھا: تمہارا نام کیا ہے؟ اس نے کہا میرا نام کچھ نہیں ہے۔ جب دوبارہ مرزاقادیانی نے کہا آخر کچھ تو نام ہوگا۔ تب اس پر فرشتہ نے کہا کہ میرا نام ٹیچی ہے۔ سوچنے کی بات ہے کہ پہلی بار سوال کرنے پر کہا کہ کچھ نام نہیں۔ دوبارہ پوچھنے پر کہا کہ میرا نام ٹیچی ہے۔ اگر اس کا کچھ نام نہیں تھا تو یہ کیوں کہا؟ کہ میرا نام ٹیچی ہے۔ اگر نام ٹیچی تھا تو یہ کیوں کہا؟ کہ میرا نام کچھ نہیں۔ دونوں باتوں میں سے ایک سچی ہے دوسری جھوٹی۔ دونوں باتیں سچی نہیں ہوسکتیں۔ اب مرزائی بتائیں کہ وہ نبی کتنا مقدس ہوگا؟ جس کا فرشتہ بھی جھوٹ بولتا تھا۔ کیا حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر رحمت عالم ﷺ تک کبھی کسی نبی پر آنے والے فرشتے نے جھوٹ بولا؟ اور پھر وہ بھی نبی کے سامنے؟ نیز یہاں پر ’’توریہ‘‘ کی تاویل بھی نہیں چل سکتی۔ کیونکہ ’’تُوَرِیَہ‘‘ کے لئے فتنہ وفساد یا جان کا خطرہ لاحق ہونا ضروری ہے، اور یہاں فرشتہ کے لئے وہ ’’توریہ‘‘ کا مقام نہیں تھا۔

کیا مرزاقادیانی مجدد تھا؟

سوال نمبر:۸…

بعض مرزائی کہتے ہیں کہ ہم مرزاقادیانی کو نبی نہیں مانتے بلکہ وہ مجدد تھا۔

جواب…

مرزاقادیانی نے اپنی کتاب ’’دافع البلاء‘‘ میں لکھا ہے: ’’سچا خدا وہی خدا ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔‘‘ (دافع البلاء ص۱۱، خزائن ج۱۸ ص۲۳۱)

اسی طرح مرزاقادیانی نے اپنی دوسری کتاب ’’حقیقت الوحی‘‘ میں لکھا ہے: ’’اور یہ بات ایک ثابت شدہ امر ہے کہ جس طرح خداتعالیٰ نے مجھ سے مکالمہ ومخاطبہ کیا ہے اور جس قدر امور غیبیہ مجھ پر ظاہر فرمائے ہیں۔ تیرہ سو برس ہجری

667

میں کسی شخص کو آج تک بجز میرے یہ نعمت عطاء نہیں کی گئی اگر کوئی منکر ہو تو بار ثبوت اس کی گردن پر ہے۔ غرض اس حصہ کثیر وحی الٰہی اور امور غیبیہ میں اس امت میں سے میں ہی ایک فرد مخصوص ہوں اور جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء اور ابدال اور اقطاب اس امت میں سے گذر چکے ہیں۔ ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا۔ پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیاگیا اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۳۹۱، خزائن ج۲۲ ص۴۰۶،۴۰۷)

مرزاقادیانی کی بے شمار عبارتوں میں سے دو عبارتیں آپ کے سامنے ہیں۔ جن میں مرزاقادیانی نے کہا، کہ میں نبی اور رسول ہوں۔ مرزائی کہتے ہیں کہ وہ نبی نہیں تھا۔ اب مرزائی بتائیں؟ کہ تم سچے ہو یا مرزاقادیانی؟ نیز مرزاقادیانی کے دعویٰ نبوت کے بعد اس کو کافر نہ کہنے والا شخص بھی کافر ہوگا۔ چہ جائیکہ کوئی اسے مجدد مانتا ہو۔

کیا حضور ﷺ کے دشمنوں سے نرمی کرنا سنت نبوی ہے؟

سوال نمبر:۹…

مرزائی، اور مرزائی نواز طبقہ عموماً یہ اعتراض کرتے ہیں کہ مرزائیوں کے ساتھ شدت والا معاملہ نہیں کرنا چاہئے۔ حضور ﷺ نے ہمیشہ اپنے دشمنوں سے درگذر والا معاملہ کیا۔ تو اب حضور ﷺ کی سنت کا تقاضا یہ ہے، کہ آپ ﷺ کے دشمنوں سے درگذر والا معاملہ کیا جائے، نہ کہ ان کے ساتھ شدت برتی جائے۔

جواب…

ایک ہے ذات، اور ایک ہے دین۔ جہاں تک اپنی ذات کا تعلق ہے تو اپنی ذات کے لئے شدت کے بجائے درگذر والا معاملہ کرنا چاہئے۔ مگر دین کے لئے بعض اوقات شدت لازمی ہو جاتی ہے۔ حضور ﷺ اگر اپنے دشمنوں کو معاف فرمادیتے تھے، تو یہ آپ ﷺ کی ذات کا مسئلہ تھا۔ چونکہ حضور ﷺ کی ذات پاک ہمارے لئے صرف دین کا حصہ ہی نہیں، بلکہ سراپا دین ہے، اور دین کے معاملہ میں درگذر کرنا مداہنت ہے۔ اس لئے ہمارے نزدیک حضور ﷺ کے دشمنوں کے ساتھ نرمی یا رعایت کرنا قطعاً جائز نہیں، بلکہ حضور ﷺ کے دشمنوں کے مقابلہ میں ’’اشداء علی الکفار‘‘ کا نمونہ بننا چاہئے۔ مولانا محمد انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ: جس طرح حضور ﷺ کے ساتھ محبت رکھنا ایمان کی علامت اور نشانی ہے۔ اسی طرح حضور ﷺ کے دشمن کے ساتھ بغض رکھنا یہ بھی ایمان کی علامت اور نشانی ہے۔ حضور ﷺ کا صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کے متعلق ارشاد ہے: ’’مَنْ اَحَبَّہُمْ فَبِحُبِّیْ أَحَبَّہُمْ وَمَنْ اَبْغَضَہُمْ فَبِبُغْضِیْ اَبْغَضَہُمْ (مشکوٰۃ ص۵۵۴)‘‘ {جو شخص صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین سے محبت رکھتا ہے وہ میری محبت کی وجہ سے ان سے محبت رکھتا ہے اور جو ان سے بغض رکھتا ہے وہ میرے ساتھ بغض کی وجہ سے ان سے بغض رکھتا ہے۔}

نیز ’’اَلْحُبُّ فِی اللّٰہِ وَالْبُغْضُ فِی اللّٰہِ‘‘ کا تقاضا بھی یہی ہے۔

اب آئیے! اس طرف کہ آیا کبھی صحابی رضی اللہ عنہ کے سامنے کسی بدبخت نے حضور ﷺ کی توہین کی ہو؟ (نعوذ بِاللہ) اور اس صحابی رضی اللہ عنہ نے اسے برداشت کر لیا ہو؟۔ پوری اسلامی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ اس کے برخلاف یہ تو ہے کہ کسی صحابی رضی اللہ عنہ کے سامنے حضور ﷺ کی کسی شخص نے توہین کی تو صحابی رضی اللہ عنہ نے اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر حضور ﷺ کی عزت کا تحفظ کیا۔

واقعہ نمبر:۱

۱… اسلامی تاریخ میں یہ واقعہ بھی بڑا سنہری ہے، کہ ایک دفعہ ایک صحابی رضی اللہ عنہ کو پھانسی پر لٹکایا جارہا تھا، تو کفار نے اس سے کہا کہ کیا تو اس بات کو پسند کرتا ہے؟ کہ تجھے چھوڑ دیا جائے؟ اور تیری جگہ تیرے نبی( ﷺ) کو پھانسی پر لٹکا دیا

668

جائے؟ (نعوذ بِاللہ) تو جواب میں صحابی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ پھانسی پر لٹکایا جانا درکنار، اگر مجھے یہ کہہ دیا جائے کہ ہم تجھے چھوڑ دیتے ہیں، اور تیری جگہ تیرے نبی( ﷺ) کو کانٹا چبھودیتے ہیں تو میں پھانسی پر لٹکنا گوارا کر لوں گا۔ لیکن اپنے نبی( ﷺ) کو کانٹا چبھانا گوارا نہیں کر سکتا۔

نیز اس کے علاوہ (تبلیغی نصاب ص۱۷۰) پر ہے: ’’کہ جب عروہ بن مسعود ثقفی نے حضور ﷺ سے کہا کہ میں آپ کے ساتھ اشراف کی جماعت نہیں دیکھتا۔ یہ اطراف کے کم ظرف لوگ تمہارے ساتھ ہیں۔ مصیبت پڑنے پر سب بھاگ جائیں گے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ پاس کھڑے ہوئے تھے۔ یہ جملہ سن کر غصے میں بھر گئے اور ارشاد فرمایا۔ تو اپنے معبود ’’لات‘‘ کی پیشاب گاہ کو چاٹ۔ کیا ہم حضور ﷺ سے بھاگ جائیں گے؟ اور آپ ﷺ کو چھوڑ دیں گے؟‘‘

واقعہ نمبر:۲

نیز اس کے علاوہ حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے ’’معارف القرآن‘‘ میں سورۂ ممتحنہ کی پہلی آیت کا شان نزول بیان کرتے ہوئے ’’بخاری شریف‘‘ کے حوالے سے لکھا ہے کہ: ’’مکہ مکرمہ کی ایک مغنیہ عورت ’’سارہ نامی‘‘ مدینہ منورہ میں آئی ہوئی تھی۔ جب وہ مدینہ سے جانے لگی تو ’’حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ‘‘ نے اسے کفار کے نام ایک خط دیا۔ جو حضور ﷺ کے مکہ مکرمہ پر خفیہ حملہ کرنے کے ارادہ پر مشتمل تھا۔ حضور ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ، ابومرثد رضی اللہ عنہ اور حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ تینوں حضرات کو حکم دیا کہ سارہ کے پاس ایک خفیہ خط ہے جو وہ مکہ مکرمہ لے جارہی ہے۔ وہ تمہیں ’’روضۂ خاخ‘‘ پر ملے گی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے گھوڑوں پر بیٹھ کر اس کا تعاقب کیا۔ ٹھیک وہ ہمیں اسی مقام پر ملی جس مقام کا حضور ﷺ نے فرمایا تھا۔ ہم نے اس عورت سے کہا کہ خط دے دو۔ اس نے انکار کیا کہ میرے پاس کوئی خط نہیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: ’’ہم نے دل میں سوچا کہ حضور ﷺ کا فرمان غلط نہیں ہوسکتا۔ خط ضرور اس کے پاس ہے۔ یہ جھوٹ بول رہی ہے۔ ہم نے اس کے اونٹ کو بٹھا کر اس کی تلاشی لی۔ مگر خط نہ ملا۔ ہم نے اسے کہا کہ خط دے دو۔ ورنہ تیرے کپڑے پھاڑ کر خط لے لیں گے۔ اس پر گھبرا کر اس نے خط دے دیا۔‘‘

(معارف القرآن ج۸ ص۳۹۹، ۴۰۰، بخاری ج۲ ص۶۱۲)

غرضیکہ نبی ﷺ کی ہر بات کو سچا ماننا، آپ کی عزت وناموس کا تحفظ کرنا، حتیٰ کہ ماں باپ، آل اولاد، عزیزواقارب، جان ومال سب سے زیادہ آپ ﷺ کی ذات سے محبت کرنا مؤمن ہونے کے لئے ضروری ہے۔ حدیث پاک: ’’لا یؤمن احدکم حتیٰ اکون احب الیہ من والدہ وولدہ والناس اجمعین (بخاری ج۱ ص۷)‘‘ کا تقاضا بھی یہی ہے کہ انسان مرمٹے۔ مگر آپ ﷺ کی توہین کو برداشت نہ کرے۔ غرضیکہ آپ ﷺ کا دشمنوں کو معاف فرمانا یہ آپ ﷺ کا ذاتی معاملہ تھا۔ حضور ﷺ کے دشمنوں کو کیفر کردار تک پہنچانا یہ ہمارے لئے اہم دینی امر ہے۔ ذاتی دشمن کو معاف کرنے کا ہمیں حق ہے۔ نبی ﷺ کے دشمنوں کو معاف کرنا شریعت اس کی امت کو اجازت نہیں دیتی۔ اس لئے فقہاء نے تصریح کی ہے کہ جو شخص معاذ ﷲ! توہین رسالت کا ارتکاب کرے اس کی توبہ قبول نہیں۔ اس پر قاضی سزا نافذ کرے گا۔

مرزاقادیانی کی موت ہیضہ سے

سوال نمبر:۱۰…

کیا مرزاقادیانی ہیضہ سے مرا تھا؟

669

جواب…

مرزاقادیانی نے اپنے خسر ’’میر ناصر‘‘ کو آخری بات یہ کہی تھی کہ مجھے وبائی ہیضہ ہوگیا ہے۔ اس کے بعد مرزاقادیانی نے کوئی بات نہیں کہی۔ اگر افتراء ہے تو مرزاقادیانی کا۔ سرور ولطف یہ ہے کہ جب پیدا ہوا تو بہن کی ٹانگوں سے سر ملایا ہوا تھا۔ جب مرا تو آخری جھوٹ بول کر مرا۔ اب اگر جھوٹ ہے تو حوالہ طلب کریں۔ میں دکھانے کو تیار ہوں۔

(حیات ناصر ص۱۴) پر مرزاقادیانی کے خسر، نام نہاد صحابی اپنے خودنوشت حالات میں تحریر کرتے ہیں: ’’آپ (مرزاقادیانی) کا حال دیکھا، تو آپ نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ میرصاحب مجھے وبائی ہیضہ ہوگیا ہے۔ اس کے بعد آپ نے کوئی ایسی صاف بات میرے خیال میں نہیں فرمائی۔ یہاں تک کہ دوسرے روز دس بجے آپ کا انتقال ہوگیا۔‘‘ اور (سیرت المہدی ج۱ ص۱۱) پر مرزاقادیانی کی بیوی کی روایت ہے کہ: ’’حضرت مسیح موعود کو پہلا دست کھانا کھانے کے وقت آیا تھا۔ (اوپر سے ڈال رہے تھے نیچے سے نکل رہا تھا) مگر اس کے بعد تھوڑی دیر تک ہم لوگ آپ کے پاؤں دباتے رہے، اور آپ آرام سے لیٹ کر سوگئے اور میں بھی سوگئی۔ لیکن کچھ دیر کے بعد آپ کو پھر حاجت محسوس ہوئی اور غالباً ایک یا دو دفعہ رفع حاجت کے لئے آپ پاخانہ تشریف لے گئے۔ اس کے بعد آپ نے زیادہ ضعف محسوس کیا تو اپنے ہاتھ سے مجھے جگایا میں اٹھی تو آپ کو اتنا ضعف تھا کہ آپ میری چارپائی پر ہی لیٹ گئے اور میں آپ کے پاؤں دبانے کے لئے بیٹھ گئی۔ تھوڑی دیر کے بعد حضرت صاحب نے فرمایا کہ تم اب سو جاؤ۔ میں نے کہا کہ نہیں میں دباتی ہوں۔ اتنے میں آپ کو ایک اور دست آیا۔ مگر اب اس قدر ضعف تھا کہ آپ پاخانہ نہ جاسکتے تھے۔ اس لئے میں نے چارپائی کے پاس ہی انتظام (پاخانہ کا) کر دیا اور آپ وہیں بیٹھ کر فارغ ہوئے اور پھر اٹھ کر لیٹ گئے اور میں پاؤں دباتی رہی۔ مگر ضعف بہت ہوگیا تھا۔ اس کے بعد ایک اور دست آیا، اور پھر ایک اور قے آئی جب آپ قے سے فارغ ہوکر لیٹنے لگے تو اتنا ضعف تھا کہ آپ لیٹتے لیٹتے پشت کے بل چارپائی پر گر گئے اور آپ کا سر چارپائی کی لکڑی سے ٹکرایا۔ (پاؤں کہاں تھے اور نیچے کیا تھا) اور حالت دگرگوں ہوگئی۔‘‘

اب دست اور قے، قے اور دست کا باربار حملہ یہ ہیضہ نہیں تو کیا تھا؟۔

پیر جماعت علی شاہ محدث علی پوری کی روایت ہے کہ: ’’مورخہ ۲۶؍مئی کو مرزاقادیانی کو ہیضہ نے آن گھیرا۔ ڈاکٹر نے ایسی دوائی دے دی کہ نجاست کا رخ جو نیچے کی طرف تھا اوپر کو ہوگیا اور بیت الخلاء (جو چارپائی کے پاس بنایا تھا) میں جان نکل گئی۔‘‘

(ضیائے حرم دسمبر ۱۹۷۴ء، ایمان پرور یادیں ص۳۸)

مرزائی اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ اگر مرض ہیضہ ہوتا تو ڈاکٹر آپ کے لئے سرٹیفکیٹ نہ دیتے۔ حالانکہ انہوں نے سرٹیفکیٹ دیا کہ ہیضہ نہیں اور پھر ریل پر بک کراکر ان کو لاہور سے قادیان لے جایا گیا۔ ڈاکٹروں کے سرٹیفکیٹ کو تو مرزائی مانتے ہیں۔ مگر مرزاقادیانی کا اپنا حکم، قول مبارک، مقدس فرمان جو آخری تھا جو اپنے صحابی کو ارشاد فرمایا کہ مجھے وبائی ہیضہ ہوگیا ہے۔ اس کو نہیں مانتے۔ پھر یہ نہیں سوچتے کہ جس طرح مرزاقادیانی کی پنجابی نبوت کا کاروبار چل گیا اسی طرح ڈاکٹر سے سرٹیفکیٹ بھی لے لیا ہوگا۔ باقی رہا کہ ریل میں بک ہوگئے۔ بک تو ہوئے پیسے دے کر۔ پیسے دے کر کیوں ہوئے اس میں حکمت ہے۔

وہ یہ کہ مرزاقادیانی نے کہا کہ میں مسیح ہوں، دجال انگریز ہیں۔ یاجوج ماجوج امریکہ اور روس ہیں اور دجال کا گدھا ریل گاڑی ہے۔ مرزاقادیانی ریل گاڑی کو دجال کا گدھا کہتا تھا۔ مگر مسیح صاحب دجال کے گدھے پر عمر بھر سواری

670

کرتے رہے، اور آخری سفر بھی دجال کے گدھے پر کیا۔ اچھا مسیح ہے۔ جو دجال کے گدھے پر عمر بھر سواری کی، اور آخری سفر بھی لاش کا اس سے کرایا گیا۔ کیا مرزاقادیانی کی کذب کے لئے یہ بات کافی نہیں؟

کیا قادیانیوں کو گالیاں دی جاتی ہیں؟

سوال نمبر:۱۱…

قادیانیوں کو گالیاں دی جاتی ہیں؟

جواب…

ہم کبھی کبھار گفتگو میں مرزاقادیانی کی کتابوں سے اس کی ’’مقدس زبان‘‘ کے نمونے پیش کرتے ہیں تو مرزائی پروپیگنڈہ کرتے ہیں کہ مولوی صاحبان گالیاں دیتے ہیں۔ مگر میرا دعویٰ ہے کہ ساری کائنات کے بدزبان لوگوں کا عالمی کنونشن بلایا جائے تو بدزبانوں کے ’’عالمی چمپئن شپ‘‘ کا اعزاز مرزاقادیانی کو ملے گا۔ اس لئے کہ الف سے لے کر یا تک کوئی ایسی گالی نہیں جو مرزاقادیانی نے اپنے مخالفین کو نہ دی ہو۔ اس سلسلہ میں ہمارے بزرگ رہنما مولانا نور محمدخان سہارن پوریؒ کا رسالہ جو ’’عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت‘‘ کے مرکزی دفتر ملتان پاکستان نے بھی شائع کیا ہے۔ جس کا نام ہے ’’مغلظات مرزا‘‘ اور دوسرا رسالہ جس کا نام ہے ’’مرزاقادیانی کا حسن کلام‘‘ ہمارے ساتھی جناب اشتیاق احمد جو لاہور پاکستان کے معروف ناول نگار ہیں۔ انہوں نے لکھا ہے۔ وہ دیکھے جاسکتے ہیں۔ ان سے معلوم ہوگا کہ مرزاقادیانی کے اخلاق واطوار کیا تھے؟۔ مرزاقادیانی کی کتاب (آئینہ کمالات اسلام ص۵۴۷، خزائن ج۵ ص ایضاً) پر ہے: ’’تلک کتب ینظر الیہا کل مسلم بعین المحبۃ والمودۃ وینتفع من معارفہا ویقبلنی ویصدق دعوتی الا ذریۃ البغایا۰ الذین ختم ﷲ علی قلوبہم فہم لا یقبلون‘‘ میری ان کتابوں کو تمام مسلمان محبت وشفقت کی نظر سے دیکھتے ہیں، اور اس کے معارف سے فائدہ اٹھاتے ہیں، اور مجھے قبول کرتے ہیں اور میرے دعوؤں کی تصدیق کرتے ہیں۔ مگر کنجریوں کی اولاد جن کے دلوں پر ﷲتعالیٰ نے مہر کر دی ہے وہ مجھے نہیں مانتے۔‘‘

تو اس کتاب میں مرزاقادیانی نے اپنے نہ ماننے والے مسلمانوں کو کنجریوں کی اولاد کہا ہے، اور پھر لطف یہ کہ اس کا اپنا بیٹا مرزافضل احمد مرزاقادیانی کو نہیں مانتا تھا۔ تو مرزاقادیانی کے فتویٰ کے مطابق وہ بھی کنجری کا بیٹا ہوا۔ جب اس کی ماں کنجری ہوئی تو ثابت ہوا کہ مرزاقادیانی کی بیوی کنجری تھی۔ جس کی بیوی کنجری ہو وہ خود کون ہوگا؟ اور جو کنجر کو نبی مانیں وہ کون ہوںگے؟ مسلمانوں پر فتویٰ لگایا اور خود اس کی زد میں آگئے۔ مرزائی کہتے ہیں کہ: ’’ذریۃ البغایا‘‘ کا معنی کنجریوں کی اولاد نہیں۔ بغیہ کا معنی کنجری، بدکار ہوتا ہے۔ قرآن مجید میں ہے کہ: ’’وما کانت امک بغیا‘‘ جب مریم علیہا السلام بیٹا لائیں تو یہودیوں نے کہا کہ آپ کی ماں تو ایسی نہ تھی۔

مرزاقادیانی نے اپنی کتاب (انجام آتھم ص۲۸۲، خزائن ج۱۱ ص ایضاً) پر ’’ابن مغایا‘‘ کا نیچے خود ترجمہ کیا ہے: ’’نسل بدکاراں۔‘‘

اور (نور الحق ج۱ ص۱۲۳، خزائن ج۸ ص۱۶۳) پر ’’ذریۃ البغایا‘‘ کا معنی خود کیا ہے: ’’خراب عورتوں کی نسل۔‘‘

اسی طرح مرزاقادیانی نے (خطبہ الہامیہ ص۴۹، خزائن ج۱۶ ص۴۹) پر ’’رقص البغایا‘‘ کا معنی کیا ہے۔ ’’رقص زنان بازاری۔‘‘

(لجتہ النور ص۹۲، خزائن ج۱۶ ص۴۲۸) پر ’’البغی‘‘ کا معنی ’’زن فاحشہ‘‘ (لجتہ النور ص۹۲، خزائن ج۱۶ ص۴۲۸) پر ’’البغایا‘‘ کا معنی ’’زنان بازاری، ہمچوزنان بازاری‘‘ (لجتہ النور ص۹۳، خزائن ج۱۶ ص۴۲۹) پر ’’ان البغایا ‘‘ کا معنی

671

’’زنان فاحشہ‘‘ (لجتہ النور ص۹۴، خزائن ج۱۶ ص۴۳۰) پر ’’البغایا‘‘ کا معنی ’’زنان فاسقہ‘‘ (لجتہ النور ص۹۴، خزائن ج۱۶ ص۴۳۰) پر ’’نطفۃ البغایا‘‘ کا معنی ’’نطفہ زنان بازاری‘‘ (لجتہ النور ص۹۵، خزائن ج۱۶ ص۴۳۱) پر ’’ان البغایا‘‘ ’’زنان فاحشہ‘‘ کیا ہے۔ دیکھئے

(لجتہ النور ص۹۲تا۹۵، خزائن ج۱۶ ص۴۹،۴۲۸تا۴۳۱)

اب ان تصریحات کے بعدکوئی شخص کہے کہ مرزاقادیانی نے مسلمانوں کو کنجریوں کی اولاد نہیں کہا یا یہ کہ: ’’ذریۃ البغایا‘‘ کا معنی کنجریوں کی اولاد نہیں تو ہم قادیانیوں کو ذریۃ البغایا کہتے ہیں۔ وہ آ مین کہہ دیں۔ اب سوائے اس کے کہ ہم اس کی ہدایت کے لئے دعا کریں اور کیا کہہ سکتے ہیں؟

کیا علماء سخت بیان ہیں؟

سوال نمبر:۱۲…

آپ لوگ سخت بیانی سے کیوں کام لیتے ہیں؟

جواب…

چور ہمیشہ زبان نرم اور آہستہ قدم سے کام لیتا ہے، اور جس کے گھر پر ڈاکہ پڑے وہ چیختا چلاتا ہے۔ مرزائیوں کی مثال چوروں کی ہے۔ جو ایمانوں پر ڈاکہ زنی کرتے ہیں اور ہماری مثال اس شخص کی ہے کہ جس کے گھر پر ڈاکہ پڑے۔ آپ مسلمانوں پر ڈاکہ زنی کرتے ہیں۔ قرآن وحدیث پر ظلم کرتے ہیں۔ اس لئے ہم سے بعض اوقات سخت بیانی ہو جاتی ہے۔

کیا قادیانی بااخلاق ہیں؟

سوال نمبر:۱۳…

قادیانی لوگ نرم زبان والے ہیں۔ قادیانی اخلاق کے آپ بھی قائل ہو گئے؟

جواب…

صرف ہم نہیں بلکہ مرزاقادیانی بھی آپ کی جماعت کے اخلاق کا قائل تھا۔ لیجئے! یہ کتاب ہے، نام ہے ’’شہادت القرآن‘‘ مرزاقادیانی کی لکھی ہوئی ہے۔ اس کے ملحقہ اشتہار میں، آپ کی جماعت کے اوّلین جو آپ کے عقیدہ کے مطابق مرزاقادیانی کے صحابہ تھے۔ ان کے متعلق مرزاقادیانی تحریر کرتا ہے: ’’اشتہار التوائے جلسہ ۲۷؍دسمبر ۱۸۹۳ء اخی مکرم حضرت مولوی نورالدین سلمہ ﷲ تعالیٰ بارہا مجھ سے یہ تذکرہ کر چکے ہیں، کہ ہماری جماعت کے اکثر لوگوں نے اب تک کوئی خاص اہلیت اور تہذیب اور پاک دلی اور پرہیزگاری اور دلی محبت باہم پیدا نہیں کی۔ سو میں دیکھتا ہوں کہ مولوی صاحب موصوف کا یہ مقولہ بالکل صحیح ہے۔ مجھے معلوم ہوا ہے کہ بعض حضرات جماعت میں داخل ہوکر، اور اس عاجز سے بیعت کر کے، اور عہد توبہ نصوح کر کے، پھر بھی ویسے کج دل ہیں، کہ اپنی جماعت کے غریبوں کو بھیڑیوں کی طرح دیکھتے ہیں۔ وہ مارے تکبر کے سیدھے منہ سے ’’السلام علیک‘‘ نہیں کر سکتے۔ چہ جائیکہ خوش خلقی اور ہمدردی سے پیش آویں اور انہیں سفلہ اور خود غرض اس قدر دیکھتا ہوں کہ وہ ادنیٰ ادنیٰ خود غرضی کی بنا پر لڑتے ہیں، اور ایک دوسرے سے دست بدامن ہوتے ہیں، اور ناکارہ باتوں کی وجہ سے ایک دوسرے پر حملہ ہوتا ہے۔ بلکہ بسا اوقات گالیوں تک نوبت پہنچتی ہے اور دلوں میں کینے پیدا کر لیتے ہیں، اور کھانے پینے کی قسموں پر نفسانی بحثیں ہوتی ہیں۔ مگر میں دیکھتا ہوں کہ یہ باتیں ہماری جماعت کے بعض لوگوں میں ہیں بلکہ بعض میں ایسی بے تہذیبی ہے، کہ اگر ایک بھائی ضد سے اس کی چارپائی پر بیٹھا ہے تو وہ سختی سے اس کو اٹھانا چاہتا ہے اور اگر نہیں اٹھتا تو چارپائی کو الٹا دیتا ہے اور اس کو نیچے گرادیتا ہے۔ پھر دوسرا بھی فرق نہیں کرتا اور وہ اس کو گندی گالیاں دیتا ہے اور تمام بخارات نکالتا ہے۔ یہ حالات ہیں جو میں اس مجمع میں مشاہدہ کرتا ہوں۔ تب دل کباب ہوتا اور جلتا ہے اور بے اختیار دل میں یہ خواہش پیدا ہوتی ہے کہ میں درندوں میں رہوں تو ان بنی آدم سے اچھا

672

ہے۔ ‘‘ (شہادۃ القرآن ص۹۹،۱۰۰، خزائن ج۶ ص۳۹۵،۳۹۶)

اسی طرح مرزاآنجہانی نے (براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۸۷، خزائن ج۲۱ ص۱۱۴) پر اپنے مریدوں کے بارے میں لکھا ہے: ’’ابھی تک ظاہری بیعت کرنے والے بہت ایسے ہیں کہ نیک ظنی کا مادہ بھی ہنوز ان میں کامل نہیں اور ایک کمزور بچہ کی طرح ہر ایک ابتلاء کے وقت ٹھوکر کھاتے ہیں، اور بعض بدقسمت ایسے ہیں کہ شریر لوگوں کی باتوں سے جلد متأثر ہو جاتے ہیں، اور بدگمانی کی طرف ایسے دوڑتے ہیں۔ جیسے کتا مردار کی طرف۔‘‘

تو جناب! مرزاقادیانی کے زمانہ کے قادیانی لوگوں کی یہ حالت تھی اور جو قادیانی لوگ مرزاقادیانی کے بعد پیدا ہوئے ہیں۔ ان کے متعلق مرزاقادیانی کا یہ فرمان ہے جو (تریاق القلوب ضمیمہ نمبر۲ ص۱۵۹، خزائن ج۱۵ ص۴۸۳) پر شیخ ابن عربیؒ کی پیش گوئی پر بحث کرتے ہوئے مسیح موعود کی یہ خاص علامت ذکر فرماتے ہیں کہ: ’’اس کے بعد یعنی اس (مسیح موعود) کے مرنے کے بعد نوع انسانی میں علت عقم (بانچھ پن) سرایت کرے گی۔ یعنی پیدا ہونے والے حیوانوں اور وحشیوں سے مشابہت رکھیں گے اور انسانیت حقیقی صفحۂ عالم سے مفقود ہو جائے گی۔ وہ حلال کو حلال نہیں سمجھیں گے اور نہ حرام کو حرام، پس ان پر قیامت قائم ہوگی۔‘‘

ظاہر ہے کہ ہمارے نزدیک تو مرزاقادیانی مسیح موعود نہیں۔ لہٰذا ہمارے نزدیک تو اس پیش گوئی کا ابھی وقت نہیں آیا۔ لیکن آپ لوگ مرزاقادیانی کو مسیح موعود تسلیم کرتے ہیں تو آپ کو یہ مسیح موعود کی خاصیت بھی تسلیم کرنا ہوگی۔ گویا آپ کے نزدیک مرزاقادیانی کی وفات مورخہ ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء کے بعد جتنے مرزائی پیدا ہوئے وہ سب حیوانوں اور وحشیوں سے مشابہ ہیں۔ اگر مرزاقادیانی آپ کے نزدیک راست باز تھا تو پھر اس کا فتویٰ بھی تسلیم کریں۔

فرمائیے! مزاج کیسے ہیں؟ وہ تو مرزاقادیانی کا قادیانیوں کے بارہ میں فتویٰ تھا۔ اب وہ جو اپنے متعلق ارشاد فرماتے ہیں وہ بھی ملاحظہ ہو۔ مرزاقادیانی نے اپنی کتاب (براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۹۷، خزائن ج۲۱ ص۱۲۷) پر لکھا کہ ؎

کرم خاکی ہوں میرے پیارے نہ آدم زاد ہوں

ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار

اس میں مرزاقادیانی نے اپنے آپ کو کہا ہے کہ میں آدم زاد نہیں ہوں۔ یعنی ’’بندے دا پتر‘‘ ہی نہیں۔

نتیجہ

مرزاقادیانی کے زمانہ کے قادیانی درندوں سے بدتر، تہذیب، مرزاقادیانی کے بعد کے قادیانی وحشی، حیوان اور مرزاقادیانی خود انسان کا بیٹا نہیں یہ ہیں مرزائی اخلاق؟

حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور مرزاقادیانی اور تضادات مرزا

سوال نمبر:۱۴…

مرزاقادیانی نے عیسیٰ علیہ السلام کی تعریف کی ہے تو جس شخص کی وہ تعریف کرے۔ اس کی تنقیص کیسے کر سکتا ہے؟

جواب نمبر:۱…

مرزاقادیانی تسلیم کرتا ہے کہ: ’’شریر انسانوں کا طریق ہے کہ ہجو کرنے کے وقت پہلے ایک تعریف کا لفظ لے آتے ہیں۔ گویا وہ منصف مزاج ہیں۔‘‘ (ست بچن ص۱۳، خزائن ج۱۰ ص۱۲۵) چنانچہ مرزاقادیانی کا بھی یہی حال تھا۔

673

اس نے (سیرۃ المہدی ج۳ ص۲۲۰) پر روایت نمبر۸۰۱ میں بیان کیا ہے: ’’مولوی محمد ابراہیم بقاپوری نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا۔ ایک دفعہ میں نے مسیح موعود (مرزاقادیانی) کی خدمت میں عرض کیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ کی ﷲتعالیٰ نے صدیقہ کے لفظ سے تعریف فرمائی ہے۔ اس پر حضور (مرزاقادیانی) نے فرمایا کہ خداتعالیٰ نے اس جگہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی الوہیت توڑنے کے لئے ماں کا ذکر کیا ہے اور صدیقہ کا لفظ اس جگہ اس طرح آیا ہے۔ جس طرح ہماری زبان میں کہتے ہیں۔ ’’بھر جائی کا نئے سلام آکھنا واں‘‘ جس سے مقصود ’’کانا‘‘ ثابت کرنا ہوتا ہے۔ ناکہ سلام کہنا۔ اس طرح اس آیت میں اصل مقصود حضرت مسیح کی والدہ ثابت کرنا ہے جو منافی الوہیت ہے نہ کہ مریم کی صدیقیت کا اظہار۔‘‘

اسی شرارت اور بدباطنی کے تحت مرزاقادیانی آنجہانی، حضرت مسیح کی تعریف کیا کرتا تھا۔

جواب نمبر:۲…

ہمارا یہی مؤقف ہے کہ مرزاقادیانی جھوٹا تھا۔ جھوٹے آدمی کے کلام میں تناقض ہوتا ہے۔ مرزاقادیانی کا روزبروز، صبح وشام، قدم بقدم مؤقف بدلنا پینترا تبدیل کرنا اس کی عادت تھی۔ جن لوگوں کی مرزاقادیانی کی کتابوں پر نظر ہے وہ جانتے ہیں کہ کس طرح مرزاقادیانی کے کلام میں تناقض ہے۔ اس عنوان پر مرزاقادیانی کی رد میں اس کی تحریرات کی روشنی میں امت نے کافی کتابیں لکھی ہیں۔ کذبات مرزا، تضادات مرزا، مرزاقادیانی کی تردید کا ایک مستقل عنوان ہے۔

کیا مرزاقادیانی پر زنا کا الزام ہے؟

سوال نمبر:۱۵…

مرزائی کہتے ہیں کہ اخبار ’’الفضل‘‘ کی عبارت (کہ مرزاقادیانی کبھی کبھی زنا کر لیا کرتے تھے) مرزاقادیانی پر الزام ہے زنا کا۔

جواب…

الزام ہم نے مرزاقادیانی پر لگایا نہیں، پڑھ کر سنایا ہے۔ اس پر زنا کا الزام تو اس کے مرید نے جو اس کو مسیح موعود اور ولی ﷲ لکھتا ہے اس نے لگایا، اور اس کے مقدس بیٹے نے پڑھ کر خط سنایا۔ ہم جس وقت یہ حوالہ دیتے ہیں تو مرزائی اس سے بہت چیں بہ جبیں ہوتے ہیں۔ لیکن انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ ہمارا قصور صرف اتنا ہے کہ ہم صرف حوالہ دیتے ہیں۔ اگر یہ حوالہ پڑھنا قصور ہے تو سب سے بڑا قصوروار مرزامحمود تھا جس نے خط پڑھ کر سنایا، خط لکھنے والا مرزائیوں کا اپنا آدمی تھا۔ جس نے خط میں مرزا کو ولی ﷲ اور مسیح موعود لکھا ہے۔ اس کا مرزا کو مسیح موعود اور ولی ﷲ لکھنا دلیل اس بات کی ہے کہ وہ آدمی ہمارا نہیں مرزائیوں کا تھا اور وہ یہ لکھتا ہے کہ مرزاقادیانی کبھی کبھی (ذائقہ بدلنے کے لئے) زنا کر لیا کرتے تھے۔

ہم قادیانیوں سے درخواست کریں گے کہ کیا تاریخ الانبیاء میں ایک مثال پیش کی جاسکتی ہے کہ اس نبی پر ایمان لانے والوں نے، یا پیروکاروں نے، اپنے نبی پر زنا کا الزام لگایا ہو؟ اگر نہیں اور ہرگز نہیں تو مرزاقادیانی کے پیروکاروں، اس کے ماننے والوں کا، بالفاظ دیگر بزعم خود مرزاقادیانی کے صحابیوں کا مرزاپر الزام لگانا کیا یہ اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ جھوٹا تھا۔ اگر سچا ہوتا تو کبھی امت کی طرف سے اس پر زنا کا الزام نہ لگتا۔

کیا قادیانی یا قادیانیوں کو خنزیر کہنا جائز ہے؟

سوال نمبر:۱۶…

اگر کوئی شخص مرزاقادیانی کی گستاخیوں کو دیکھ کر اس کو خنزیر کہہ دے تو کیا اس کو ایسا کہنا درست ہوگا؟

674

جواب نمبر:۱…

قرآن مجید کی نص قطعی ہے کہ نافرمان لوگوں کے لئے قرآن مجید میں ’’اولئک کالانعام بل ہم اضل‘‘ (یہ لوگ جانوروں کی طرح بلکہ ان سے بھی بدتر ہیں) ہے۔ پس جانوروں میں خنزیر بھی شامل ہے تو قرآن کی نص قطعی سے ثابت ہوا کہ مرزاقادیانی اور اس جیسے اور لوگوں کو خنزیر جیسے جانور سے تشبیہ دے دی جائے تو کوئی حرج نہیں۔

جواب نمبر:۲…

خنزیر تو کیا مرزائی خنزیروں سے بھی زیادہ بدتر ہیں۔ اس لئے کہ اگر کہیں اسلامی حکومت قائم ہو تو اس میں خنزیر پالنا جرم ہوگا۔ لیکن دور دراز کے جنگلوں میں خنزیر کو تلاش کر کے قتل کرنا اسلامی مملکت کے ذمہ نہیں، مل جائے تو قتل کر دو۔ تلاش کر کے قتل کرنا ضروری نہیں۔ جبکہ مرتد اور زندیق کو تلاش کر کے قتل کرنا اسلامی حکومت کے ذمہ ہے۔ اس لئے کہ خنزیر، سانپ، بچھو وغیرہ جان کے دشمن ہیں اور زندیق ومرتد ایمان کے دشمن ہیں۔ جس طرح جان سے زیادہ ایمان قیمتی ہے۔ اسی طرح ان متذکرہ جانوروں سے زندیق ومرتد اور زیادہ خطرناک ہیں اور یہی حکم مرزاقادیانی وقادیانیوں کا ہے۔

جواب نمبر:۳…

قادیانی ہم پر الزام لگانے سے قبل یہ کیوں نہیں سوچتے کہ مرزاغلام احمد قادیانی نے بھی اپنی کتاب (نجم الہدیٰ ص۱۰، خزائن ج۱۴ ص۵۳) پر اپنے دشمنوں کو جنگل کا خنزیر کہا ہے۔ اگر مرزاقادیانی اپنے مخالفین کو خنزیر کہے تو قادیانیوں کے لئے شریعت، اور اگر مسلمان جواب آں غزل کے طور پر یہ اعزاز مرزاقادیانی کو واپس کر دیں تو قابل اعتراض آخر یہ دوہرا معیار کیوں؟

نہ تم صدمے ہمیں دیتے نہ ہم فریاد یوں کرتے

نہ کھلتے راز سر بستہ نہ یہ رسوائیاں ہوتیں

مرزاقادیانی کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر زنا کا الزام

سوال نمبر:۱۷…

یہ بھی ذہن میں رہے کہ مرزاقادیانی کے زنا کے اس حوالہ سے مرزائی بہت چیں بہ جبیں ہوتے ہیں۔ لیکن اگر یہی الزام مرزاقادیانی حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر لگائے تو اس سے مرزائیوں کی رگ حمیّت نہیں پھڑکتی۔ مرزائی یہ کہتے ہیں کہ مرزاقادیانی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین نہیں کی۔

جواب…

مرزاقادیانی نے اپنی کتاب (دافع البلاء آخری ٹائٹل ص۴، خزائن ج۱۸ ص۲۲۰) پر لکھا ہے کہ: ’’لیکن مسیح علیہ السلام کی راست بازی اپنے زمانے میں دوسرے راست بازوں سے بڑھ کر ثابت نہیں ہوتی۔ بلکہ یحییٰ نبی کو اس پر ایک فضیلت ہے۔ کیونکہ وہ شراب نہیں پیتا تھا اور کبھی نہیں سنا گیا کہ کسی فاحشہ عورت نے آکر اپنی کمائی کے مال سے اس کے سر پر عطر ملا تھا یا ہاتھوں اور سر کے بالوں سے اس کے بدن کو چھوأ تھا یا کوئی بے تعلق جوان عورت اس کی خدمت کرتی تھی۔ اسی وجہ سے خدا نے قرآن میں یحییٰ کا نام حصور رکھا۔ مگر مسیح کا یہ نام نہ رکھا۔ کیونکہ ایسے قصے اس کا یہ نام رکھنے، سے مانع تھے۔‘‘

مرزاقادیانی کی اس عبارت سے چار باتیں ثابت ہوئیں۔

۱… مسیح شراب پیتا تھا۔

۲… فاحشہ عورت اپنی بدکاری کے مال سے خریدا ہوا عطر ان کے سر پر لگاتی تھی۔

۳… فاحشہ عورتیں اپنے ہاتھوں اور سر کے بالوں سے مسیح کے جسم کو چھوتی تھیں۔

675

۴… غیرمحرم جوان عورت مسیح علیہ السلام کی خدمت کیا کرتی تھی۔

ان گناہوں میں ملوث ہونے کے باعث مسیح علیہ السلام کا نام قرآن میں حصور نہیں رکھا گیا۔ اس عبارت میں دو چیزیں قابل توجہ ہیں۔

۱… مرزاقادیانی نے عیسائیوں کی کتابوں سے مسیح علیہ السلام پر الزام نہیں لگایا۔ بلکہ مسیح علیہ السلام کے دامن کو داغ دارکرنے کے لئے قرآن سے استدلال کیا ہے۔ (معاذ ﷲ)

۲… پھر استدلال بھی کیسا بودا اور بیہودہ ہے۔ اگر قرآن مجید نے مسیح علیہ السلام کے ان گناہوں کے باعث ان کو حصور نہیں کہا تو قرآن مجید میں باقی انبیاء علیہم السلام، حضرت آدم علیہ السلام، حضرت نوح علیہ السلام خود حضرت محمد ﷺ کو بھی حصور نہیں کہاگیا۔ کیا ان کو بھی حصور نہ کہنے کی یہی وجہ تھی۔ نعوذ بِاللہ! کہ ان سے بھی یہی گناہ ہوا ہے۔

اصل واقعہ یہ ہے کہ مرزاقادیانی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ازلی، بدبخت، بدترین دشمن تھا۔ آپ کی والدہ کے متعلق مرزاقادیانی نے لکھا ہے کہ: ’’مریم کی وہ شان ہے جس نے ایک مدت تک اپنے تئیں نکاح سے روکے رکھا اور پھر بزرگان قوم کے نہایت اسرار سے بوجہ حمل کے نکاح کر لیا۔‘‘

(کشتی نوح ص۱۶، خزائن ج۱۹ ص۱۸)

لکھا ہے کہ: ’’حضرت مسیح علیہ السلام ابن مریم اپنے باپ یوسف کے ساتھ ۲۲برس کی مدت تک نجاری کا کام کرتے رہے۔‘‘ (ازالہ اوہام ص۳۰۳ حاشیہ، خزائن ج۳ ص۲۵۴)

لکھا ہے کہ: ’’آپ کے چار بھائی اور دو بہنیں تھیں۔ یہ سب یسوع کے حقیقی بھائی اور بہنیں یعنی سب یوسف اور مریم کی اولاد تھیں۔‘‘ (کشتی نوح ص۱۷، خزائن ج۱۹ ص۱۸ حاشیہ)

مرزاقادیانی نے حضرت مسیح کے خاندان کے متعلق لکھا کہ: ’’آپ کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے۔ آپ کی تین نانیاں اور دادیاں زناکار اور کسبی عورتیں تھیں۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ص۷ حاشیہ، خزائن ج۱۱ ص۲۹۱)

یہاں اس حوالہ میں دادیاں کا لفظ توجہ طلب ہے۔ دادی اس کی ہوتی ہے جس کا دادا ہو اور دادا اس کا ہوتا ہے جس کا باپ ہو۔ مرزاقادیانی حضرت مسیح کی دادیاں کے لفظ لکھ کر یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ آپ بغیر باپ کے پیدا نہیں ہوئے۔ مرزاقادیانی نے حضرت مسیح علیہ السلام کی ذات کے متعلق لکھا ہے: ’’مسیح کا چال چلن کیا تھا ایک کھاؤ پیو شرابی نہ زاہد نہ عابد نہ حق کا پرستار، متکبر خود بین اور خدائی کا دعویٰ کرنے والا۔‘‘ (مکتوبات احمدیہ ج۳ ص۲۱)

مسیح علیہ السلام کے معجزات کا انکار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ: ’’عیسائیوں نے بہت سے آپ کے معجزات لکھے ہیں۔ مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ص۶ حاشیہ، خزائن ج۱۱ ص۲۹۰)

مرزاقادیانی نے اسی پر لکھا ہے کہ : ’’آپ کے ہاتھ میں سوائے فریب اور مکر کے کچھ نہ تھا۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ص۷، خزائن ج۱۱ ص۲۹۱)

لکھا ہے: ’’ہائے کس کے آگے ماتم لے جائیں کہ حضرت عیسیٰ کی تین پیشین گوئیاں صاف طور پر جھوٹی نکلیں۔‘‘ (اعجاز احمدی ص۱۴، خزائن ج۱۹ ص۱۲۱)

مرزاقادیانی نے سیدنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جو دل آزار وافسوسناک، اندوہناک، شرمناک قابل نفرت توہین کی ہے۔ اس پر استاذ محترم مناظر اسلام مولانا لال حسین اختر رحمۃ اللہ علیہ مرحوم کا مستقل رسالہ ہے۔ (احتساب قادیانیت کی جلد اوّل میں شائع شدہ ہے) جس کا نام ہے۔ ’’حضرت مسیح علیہ السلام مرزاقادیانی کی نظر میں‘‘ اس کا مطالعہ کیا جائے۔

676

خود مدعی مسیحیت، تو مسیح کی توہین کیسے؟

سوال نمبر:۱۸…

مرزاقادیانی خود مسیح موعود ہونے کے مدعی تھے تو وہ مسیح علیہ السلام کی کس طرح توہین کے مرتکب ہوسکتے ہیں؟

جواب…

پہلے تو مرزائی یہ بتلائیں کہ مرزاقادیانی نے (ازالہ اوہام ص۱۹۹، خزائن ج۳ ص۱۹۷) پر لکھا: ’’ممکن ہے دس ہزار مسیح آجائیں اور ان میں سے ایک دمشق میں نازل ہو جائے۔ ہاں اس زمانہ کا میں مثیل مسیح ہوں اور دوسرے کی انتظار بے سود ہے۔‘‘

اور پھر اس طرح (ازالہ اوہام ص۱۹۰، خزائن ج۳ ص۱۹۲) پر لکھا ہے کہ: ’’اس عاجز نے جس نے مثیل مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ جس کو کم فہم لوگ مسیح موعود خیال کر بیٹھے ہیں۔ میں نے یہ ہرگز دعویٰ نہیں کیا کہ میں مسیح ابن مریم ہوں جو شخص یہ الزام میرے پر لگائے وہ سراسر مفتری اور کذاب ہے۔‘‘

مرزاقادیانی کے اس فرمان کو قادیانی باربار پڑھیں وہ کہتا ہے کہ میں مثیل مسیح ہوں نہ کہ مسیح موعود۔ جو مجھے مسیح کہے وہ کم فہم مفتری اور کذاب ہے۔ اسی کتاب کے ٹائٹل پر دیکھیں کہ مرزاقادیانی کو مسیح موعود کہاگیا ہے۔ اب مرزائی ارشاد فرمائیں کہ اندر کی بات صحیح ہے یا ٹائٹل کی یا یہ کہ ہاتھی کے دانت دکھانے کے اور کھانے کے اور اس کا جواب مرزائیوں کے ذمہ ہے۔

۲… اس (ازالہ اوہام ص۶۷۴، خزائن ج۳ ص۴۶۴) میں ایک اور الہام مرزاقادیانی نے اپنا لکھا ہے کہ ﷲتعالیٰ نے مجھے کہا۔ ’’انا جعلناک المسیح ابن مریم‘‘ اب دیکھیں۔ اس کتاب (ازالہ اوہام ص۱۹۰، خزائن ج۳ ص۱۹۲) پر جو مسیح کہے وہ کم فہم مفتری وکذاب اور اسی کتاب (ازالہ اوہام ص۴۶۴، خزائن ج۳ ص) پر کہا کہ ﷲتعالیٰ نے مجھے مسیح ابن مریم بنایا۔ اگر یہ الہام صحیح ہے تو ﷲ نے مسیح بنایا اور یہ کہتا کہ جو مجھے مسیح کہے وہ کم فہم۔ مفتری وکذاب تو یہ فتویٰ خدا پر مرزاقادیانی کا ہوا۔ اگر الہام غلط ہے تو مرزائیت کی ساری عمارت دھڑام سے گر گئی۔ اب مرزائی فیصلہ کریں کہ ایک ہی کتاب کی دو باتوں سے کون سی جھوٹی ہے؟

مرزاقادیانی نے لکھا ہے۔ میں مثیل مسیح ہوں۔ مگر کشتی نوح میں لکھا ہے کہ میں عیسیٰ ابن مریم ہوں۔ اب قادیانی بتائیں کہ ازالہ والی بات صحیح ہے یا کشتی نوح والی اور پھر لطف یہ کہ مسیح ابن مریم بننے کے لئے مرزاقادیانی نے جو کہانی تراشی ہے۔ وہ عجیب ہی عبرت آموز اور حیاء سوز ہے۔

مرزاقادیانی نے (کشتی نوح ص۴۶،۴۷، خزائن ج۱۹ ص۵۰) پر لکھا ہے کہ: ’’مریم کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ پر نفخ کی گئی اور باستعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا۔ آخر کئی مہینے کے بعد جو دس مہینے سے زیادہ نہیں مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا۔‘‘

اور اس سے اگلے صفحہ۵۱ پر دردزہ اور کھجور کا بھی ذکر ہے۔ اب مرزائی فیصلہ کریں کہ اس نے ازالہ میں کہا کہ میں مثیل مسیح ہوں اور اس حوالہ میں کہا کہ میں مسیح ہوں۔ کیا اس سے مرزاقادیانی کے اس طرز عمل سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ اس کے دل میں چور تھا۔ جیسے چور ہر قدم گھر والوں کو سویا ہوا پاکر چوری کے لئے اٹھاتا ہے۔ یہی کیفیت مرزا کی دماغی بناوٹ کی تھی۔ اب ظاہر ہے کہ ان دو میں سے ایک صحیح اور ایک غلط مرزائی فیصلہ کریں کہ مرزا نے کون سی بات صحیح کہی ہے اور کون سی غلط اور یہ بھی یاد رہے کہ جھوٹا نبی نہیں ہوسکتا۔ یہاں ایک سوال یہ بھی رہ جاتا ہے کہ مرزاقادیانی کو حمل کیسے ٹھہرا؟

677

(اسلامی قربانی ص۱۴) پر مرزاقادیانی کے مرید باصفا نے حضرت صاحب کا ایک کشف لکھ کر اس معمہ کو حل کر دیا۔ حضرت صاحب نے ’’ایک دفعہ اپنے کشف کی یہ حالت بیان کی کہ گویا آپ عورت ہیں اور خداتعالیٰ نے آپ سے قوت رجولیت کا اظہار کیا۔ سمجھنے والے کے لئے اشارہ کافی ہے۔‘‘

ﷲ رب العزت کے متعلق یہ دریدہ دہنی یاوہ گوئی پھر خود حاملہ خود ہی خود سے پیدا ہوگئے بقلم خود ہوگئے۔ یہ میں ولد میں کے معمہ کو حل کرنا مرزائیوں کے ذمہ ہے۔ باقی رہا مرزائیوں کا یہ کہنا کہ وہ کس طرح مسیح کی توہین کے مرتکب ہوئے یہ تو ممکن ہی نہیں، بات امکان کی نہیں۔ یہاں تو مسئلہ وقوع کا ہے کہ وہ توہین کے مرتکب ہوئے۔ اس کا باعث مندرجہ ذیل ہے۔

۱… مرزاقادیانی کے مسیح بننے کے لئے ضروری تھا کہ وہ مسیح علیہ السلام کی صفات کا حامل ہوتا۔ مرزاقادیانی اس درجہ پر پہنچ نہیں سکتا تھا تو ان کا درجہ کم کر کے اپنے درجہ اور سطح پر ان کو لے آیا کہ جیسے میں ہوں ویسے ہی مسیح تھے۔ (نعوذ بِاللہ)

۲… آئینہ میں انسان کو اپنی شکل نظر آتی ہے۔ مرزاقادیانی اپنے کردار کے آئینہ میں حضرت مسیح علیہ السلام کو دیکھتا تھا۔ اس لئے ان کی توہین کا مرتکب ہوتا تھا۔

۳… مسیح بننے کے باعث رقابت کے مرض کا شکار ہو کر واہی تباہی بکنی شروع کر دی کہ چلو میں ان جیسا نہیں تو وہ میرے جیسے تھے۔ مرزاقادیانی کو مرض لاحق تھا۔ جب تک حضرت مسیح علیہ السلام کی کسی بھی پہلو سے توہین نہ کر لیتا اسے چین نہ آتا۔

(ازالہ اوہام ص۳۱۲، خزائن ج۳ ص۲۵۸ حاشیہ) پر مرزاقادیانی نے لکھا ہے۔ ’’یہ عاجز اس عمل کو اگر مکروہ اور قابل نفرت نہ سمجھتا تو خداتعالیٰ کے فضل اور توفیق سے امید قوی رکھتا تھا۔ ان عجوبہ نمائیوں میں حضرت مسیح ابن مریم سے کم نہ رہتا۔‘‘ اور پھر آگے لکھا کہ: ’’ابن مریم استقامتوں کے کامل طور پر دلوں میں قائم رہنے کے بارے میں ان کی کاروائیوں کا نمبر ایسا کم درجہ کا رہا کہ قریب قریب ناکام رہے۔‘‘ (استغفر ﷲ)

اور اسی کتاب (ازالہ اوہام ص، خزائن ج۳ ص۲۹۹) پر ہے کہ: ’’مسیح کو دعوت حق میں قریباً ناکامی رہی۔‘‘

یہ ہے مرزاقادیانی کی خود نمائی اور مسیح علیہ السلام کے بارے میں اس کی تنقیص کا انداز۔ یا شاطرانہ چال، چلو ان کو کمتر ثابت کرنے کی کوشش کرو۔ پھر ایک اور امر کی طرف توجہ کرنا انتہائی ضروری ہے کہ مرزاقادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا تو ظاہر امر ہے کہ اس میں نبوت تو درکنار شرافت تک قریب نہ بھٹکنے پائی تھی تو مرزاقادیانی نے نبوت کا ایسا تصور دیا کہ الامان۔

یہ مرزاقادیانی نے اپنی (تریاق القلوب ص۶۷، خزائن ج۱۵ ص۲۷۹) پر لکھا ہے کہ: ’’ایک شخص جو قوم کا چوہڑا یعنی بھنگی ہے اور ایک گاؤں کے شریف مسلمان کی ۳۰،۴۰سال سے خدمت کرتا ہے کہ دو وقت ان کے گھروں کی گندی نالیوں کو صاف کرنے آتا ہے اور ان کے پاخانوں کی نجاست اٹھاتا ہے اور ایک دو دفعہ چوری میں بھی پکڑا گیا ہے اور چند دفعہ زنا میں بھی گرفتار ہوکر اس کی رسوائی ہوچکی ہے اور چند سال جیل خانہ میں قید بھی رہ چکا ہے۔ چند دفعہ ایسے برے کاموں پر گاؤں کے نمبرداروں نے اس کو جوتے بھی مارے ہیں اور اس کی ماں اور دادیاں اور نانیاں ہمیشہ سے ایسے نجس کام میں مشغول رہی ہیں اور سب مردار کھاتے اور گوہ اٹھاتے ہیں۔ اب خداتعالیٰ کی قدرت پر خیال کر کے ممکن ہے کہ وہ ایسے کاموں سے تائب ہوکر مسلمان ہو جائے اور پھر یہ بھی ممکن ہے کہ خداتعالیٰ کا ایسا فضل اس پر ہو کہ رسول اور نبی بھی بن جائے۔‘‘

اس عبارت سے مرزاقادیانی کی تکنیک (ڈھنگ) کو سمجھا جاسکتا ہے کہ وہ جس منصب کا دعویٰ کرتا ہے۔ اگر

678

اس کے تقاضوں کو پورا نہیں کر سکتا تو اس منصب کو کم کر کے اپنے اوپر فٹ کرنے لگتا ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام کے منصب پر فائز ہونے کے لئے اسے مسیحی شان اور بزرگی کی ضرورت تھی۔ اس کو پورا نہ کر سکا تو مسیح علیہ السلام کی تنقیص کر کے اسے اپنے برابر لاکھڑا کیا اور یا ان کو اتنا گرایا کہ خود ان سے افضل ہونے کا مدعی ہوگیا۔ یہ اس کے حسد اور رقابت کی دلیل ہے۔

چنانچہ (دافع البلاء ص۲۰، خزائن ج۱۸ ص۲۴۰) پر لکھتا ہے: ’’کہ ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو اس سے بہتر غلام احمد ہے۔‘‘ (نعوذ بِاللہ)

حضرت مریم کو صدیقہ کہا تو توہین کیسے؟

سوال نمبر:۱۹…

مرزاقادیانی نے اپنی کتابوں میں حضرت مریم کو صدیقہ لکھا ہے تو جس کو وہ صدیقہ لکھے اس کی توہین کا کس طرح مرتکب ہوسکتا ہے؟

جواب…

(سیرۃ المہدی ج۳ ص۲۲۰) پر ہے: ’’مولوی ابراہیم بقا پوری نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ میں حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کی خدمت میں پیش ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ کی ﷲتعالیٰ نے صدیقہ کے لفظ سے تعریف فرمائی ہے۔ اس پر حضور (مرزاقادیانی) نے فرمایا کہ خداتعالیٰ نے اس جگہ حضرت عیسیٰ کی الوہیت توڑنے کے لئے ماں کا لفظ استعمال کیا ہے اور صدیقہ کا لفظ اس جگہ اس طرح آیا ہے کہ جس طرح ہماری زبان میں کہتے ہیں۔ بھرجاکانیئے میں سلام آکھناںواں، جس سے مقصود کانا ثابت کرنا ہوتا ہے۔ نہ سلام کہنا۔‘‘

اس طرح اس آیت میں اصل مقصود حضرت مسیح کی والدہ ثابت کرنا ہے جو منافی الوہیت ہے۔ نہ کہ مریم کی صدیقیت کا اظہار۔

مرزاقادیانی کی یہ کمینگی کسی تبصرہ کی محتاج نہیں۔ اب آپ فرمائیں کہ کیا مرزاقادیانی وقعتہً حضرت مریم کے صدیقہ ہونے کا قائل تھا؟

مرزاقادیانی نے مسیح کے متعلق جو کچھ کہا الزامی طور پر کہا

سوال نمبر:۲۰…

مرزاقادیانی نے حضرت مسیح علیہ السلام کے بارے میں جو کچھ کہا وہ الزامی رنگ میں ہے۔ یہودیوں کے اس نے الفاظ ذکر کئے۔ جیسے (چشمہ مسیحی ص۴، خزائن ج۲۰ ص۳۳۶) پر اس کی صراحت ہے کہ: ’’ہمارے قلم سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت جو کچھ خلاف شان ان کے نکلا ہے وہ الزامی جواب کے رنگ میں ہے اور وہ دراصل یہودیوں کے الفاظ ہم نے نقل کئے ہیں۔‘‘

جواب…

ہم تسلیم کرتے ہیں کہ مرزاقادیانی اور یہودی بغض عیسیٰ علیہ السلام میں ایک دوسرے سے بڑھ کر ہیں۔ یہودی استاد ہیں تو مرزا ان کے شاگرد۔ مگر مرزاقادیانی اب بھی بغض عیسیٰ علیہ السلام میں یہودیوں کی سنت پر عمل پیرا ہے۔ دو کردار ہیں ایک دشمنان مسیح یہود کا، دوسرا کردار ہے وکالت مسیح کا، جو قرآن ادا کر رہا ہے۔ مرزاقادیانی کس کردار کو ادا کر رہا ہے؟ وہ آپ کے سامنے ہے۔

یسوع، مسیح، ابن مریم ایک ہیں

سوال نمبر:۲۱…

مرزاقادیانی نے انجیلی یسوع کے متعلق یہ الفاظ کہے ہیں نہ کہ حضرت مسیح کے متعلق۔

679

جواب…

ہم نے جو حوالہ جات عرض کئے ہیں۔ ان میں صراحت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نام لے کر ان کو گالیاں دی ہیں۔ اس کے باوجود اگر تسلیم بھی کر لیا جائے کہ اس نے یسوع کے متعلق یہ کہا ہے تو بھی وہاں مراد عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔ کیونکہ مرزاقادیانی نے اپنی کتاب(توضیح المرام ص۳، خزائن ج۳ ص۵۲) پر لکھا ہے کہ: ’’یسوع، مسیح ابن مریم ایک شخص کے نام ہیں۔‘‘ پس ثابت ہوا کہ جہاں اس نے یسوع کی توہین کی ہے۔ وہاں بھی مراد عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔

مسیح کے متعلق جو کہا جواباً وتردیداً کہا

سوال نمبر:۲۲…

مرزاقادیانی نے عیسائیوں کے رد میں ایسے لکھا۔ اس لئے کہ وہ ہمارے نبی علیہ السلام کی توہین کرتے ہیں تو مرزاقادیانی نے الزامی رنگ میں مسیح علیہ السلام کے بارے میں ایسا لکھ دیا ہے۔

جواب…

تمام انبیاء علیہم السلام کی عزت وتوقیر اور ان پر ایمان لانا بموجب ’’لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ أَحَدٍ مِّنْ رُسُلِہٖ‘‘ ان میں تفریق نہ کرنا مسلمانوں پر فرض ہے کسی ایک نبی کی توہین کا مرتکب بھی کافر ہے۔ کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنے نبی علیہ السلام کی عزت بچانے کے لئے کسی دوسرے نبی پر الزام تراشی کرے یہ بھی کفر ہے۔ باقی یہ مستقل بحث ہے کہ مرزاقادیانی حضور علیہ السلام کی عزت کا محافظ تھا۔ یا سب سے بڑا دشمن، ہمارا دعویٰ یہ ہے کہ مرزاقادیانی سے بڑھ کر اور کوئی بدبخت بھی آپ ﷺ کی عزت وناموس کا اتنا دشمن نہیں ہے۔ جتنا مرزاقادیانی دجال تھا۔

مرزاقادیانی نے فرضی مسیح کو کہا

سوال نمبر:۲۳…

مرزاقادیانی نے فرضی مسیح کی توہین کی ہے نہ کہ حقیقی کی؟

جواب…

اگر فرضی نبی کو گالیاں دینا جائز ہے تو کیا ہم مرزاقادیانی کو الّو کا پٹھہ کہہ سکتے ہیں۔ اگر اس پر قادیانی سیخ پا ہوئے تو ہم کہہ دیں گے کہ ہم نے فرضی غلام احمد قادیانی کو گالی دی ہے۔ اس طرح تو فساد کا ایک ایسا دروازہ کھل جائے گا کہ جو مرزائیوں سے بھی بند نہ ہوسکے گا۔ دوسرا یہ کہ اگر فرضی اور خیالی مسیح کو گالیاں دی ہیں تو وہ عیسائیوں کے لئے حجت اور قابل تسلیم کیسے ہوں گے؟

تاہم! عام آدمی کے لئے بھی چاہے کسی کو فرضی تصور کیا جائے۔ گالیاں دینا شرعاً اور اخلاقاً جائز نہیں۔

انجیل کے حوالہ سے کہا

سوال نمبر:۲۴…

مرزاقادیانی نے انجیل کے حوالہ سے بات کی ہے۔

جواب…

مرزاقادیانی نے (چشمہ معرفت ص۲۵۵، خزائن ج۲۳ ص۲۶۶) پر لکھا ہے کہ: ’’تورات اور انجیل محرّف، مبدّل کتابیں ہیں۔‘‘ محرّف ومبدّل کتابوں سے تحریف شدہ حوالہ جات لے کر کسی نبی کو تختہ مشق بنانا کہاں کی شرافت ہے۔

مسیح کے بہن بھائی کا ذکر ’’انما المؤمنون اخوۃ‘‘ کے درجہ میں

سوال نمبر:۲۵…

مرزاقادیانی نے جہاں مسیح علیہ السلامکی بہنوں یا بھائیوں کا ذکر کیا ہے۔ وہ ’’اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَۃٗ‘‘ کے تحت کہا ہے نہ کہ حقیقی طور پر۔

جواب…

مرزاقادیانی نے (کشتی نوح ص۱۷، خزائن ج۱۹ ص۱۸ حاشیہ) پر لکھا ہے کہ ’’آپ کے چار بھائی اور دو

680

بہنیں تھیں۔ یہ سب یسوع کے حقیقی بھائی اور بہنیں تھیں۔‘‘ تو اب مرزاقادیانی نے ’’اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَۃٗ‘‘ کے تحت نہیں کہا۔ بلکہ حقیقی طور پر ان کی بہنیں اور بھائی مراد لیتے ہیں۔ جو شرعاً نہ صرف غلط بلکہ دجل وتلبیس کا مرقع ہیں۔

دشمنوں کے اعتراض نقل کئے

سوال نمبر:۲۶…

کیا دشمنوں کے اعتراض نقل کرنے جرم ہیں؟

جواب…

مرزائیوں کے نزدیک اگر دوسروں کے اعتراض نقل کرنا جرم نہیں تو ہمیں بھی یہ حق ہے کہ مرزاقادیانی کے دشمنوں نے مرزاقادیانی کے متعلق جو اعتراض کئے ہم بھی ان کو نقل کر سکیں۔ مرزاقادیانی کے زمانہ میں جن لوگوں نے مرزاقادیانی کے متعلق جو کہا اور مرزاقادیانی نے خود اپنی کتاب میں اسے نقل کیا ہے وہ ہم عرض کر دیں۔ مرزاقادیانی نے اپنی کتاب (حقیقت الوحی ص۱۸۱، خزائن ج۲۲ ص۱۸۸) پر لکھا ہے: ’’ازاں جملہ یہ امر قابل تذکرہ ہے کہ عبدالحکیم خان نے اپنے ہم جنسوں کی پیروی کر کے میرے پر یہ الزام لگائے ہیں کہ میں جھوٹ بولتا رہا ہوں اور میں دجال ہوں اور حرام خور ہوں اور خائن ہوں اور اپنے رسالہ المسیح الدجال میں طرح طرح کی میری عیب شماری کی ہے۔ چنانچہ میرا نام شکم پرست، نفس پرست، متکبر، دجال، شیطان، جاہل، مجنوں، کذاب، سخت، حرام خور، عہد شکن، خائن رکھا ہے اور دوسرے کئی عیب لگائے ہیں۔‘‘

مرزاقادیانی نے اپنی کتاب (تتمہ حقیقت الوحی ص۲۱، خزائن ج۲۲ ص۴۵۳) پر لکھا ہے کہ: ’’مولوی محمد حسین بٹالوی نے جب جرأت کے ساتھ زبان کھول کر میرا نام دجال رکھا اور میرے پر فتویٰ کفر لکھوا کر صدہا پنجاب وہندوستان کے مولویوں سے مجھے گالیاں دلوائیں اور مجھے یہود ونصاریٰ سے بدتر قرار دیا اور میرا نام کذاب، مفسد، دجال، مفتری، مکار، ٹھگ، فاسق، فاجر، خائن رکھا۔‘‘

اب مرزائی بتائیں کہ اگر عیسیٰ علیہ السلام کے دشمنوں کے اعتراض سے مرزاقادیانی استدلال کر سکتے ہیں تو پھر مرزاقادیانی پر جن مخالفین نے اعتراض کئے وہ آپ کے ہاں کیوں قابل قبول نہیں؟ نیز اگر مرزاقادیانی کے نزدیک دشمنوں کے اعتراض نقل کرنا باعث اجر اور ثواب ہے۔ تو مرزاقادیانی کے مخالفین کے اعتراض اور القابات نقل کرنا ہمارے نزدیک بہت بڑا اجر رکھتا ہے کہ اسے دجال کہا جائے۔ کذاب، مفسد، حرام خور وغیرہ القابات نقل کئے جائیں۔

وہ مسیح جو ابنیت کا مدعی تھا

سوال نمبر:۲۷…

مرزاقادیانی نے اس مسیح کے متعلق سخت الفاظ کہے تھے۔ جس نے ابنیت کا دعویٰ کیا تھا۔

جواب…

مرزاقادیانی نے اپنی کتاب (تحفہ قیصریہ ص۱۶، خزائن ج۱۲ ص۲۷۳) پر لکھا ہے کہ: ’’حضرت یسوع مسیح ان چند عقائد سے جو کفارہ تثلیث وابنیت ہے۔ ایسے متنفر پائے جاتے ہیں تو گویا ایک بھاری افتراء ہے جو ان پر کیا گیا ہے۔‘‘ لیجئے! مرزاقادیانی نے خود تسلیم کر لیا کہ نصاریٰ کے غلط عقائد سے عیسیٰ علیہ السلام کا کوئی تعلق نہیں۔ تو نصاریٰ کے ان غلط عقائد کی وجہ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کے ارتکاب کا جواز کیسے ثابت ہوسکتا ہے؟

رحمت ﷲ کیرانوی وغیرہ

سوال نمبر:۲۸…

پہلے جیسے علماء، مولانا رحمت ﷲ کیرانوی نے بھی توجوابات دئیے ہیں عیسائیوں کو۔

681

جواب…

کسی کو الزامی جواب دیتے وقت اگر کسی نبی کی تحقیر کا پہلو آگیا تو یہ کفر ہے۔ چاہے جواب دینے والا کوئی کیوں نہ ہو۔ جواب حقیقی ہو یا الزامی۔ انبیاء علیہم السلام میں سے کسی ایک کی توہین وتحقیر کرنا کفر ہے۔ چنانچہ پہلے علماء نے ایسے قطعاً نہیں کیا۔ نیز یہ کہ مرزاقادیانی نے لکھا ہے کہ: ’’حق بات یہ ہے کہ آپ (مسیح) سے کوئی معجزہ سرزد نہیں ہوا۔‘‘ (ضمیمہ انجام آتھم ص۶ حاشیہ، خزائن ج۱۱ ص۲۹۰) تو ’’حق بات‘‘ کے الفاظ یہ بتاتے ہیں کہ مرزاقادیانی اپنی طرف سے یہ بات کہہ رہا ہے نہ کہ الزامی طور پر۔

قادیانی اعتراضات کے مسکت جوابات

عیسیٰ علیہ السلام کب فوت ہوئے؟

سوال نمبر:۲۹…

ایک بار قادیانی نے کہا کہ دیکھئے جی! حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو فوت ہوگئے۔ راقم نے عرض کیا کب فوت ہوئے۔ رحمت عالم ﷺ کی تشریف آوری سے قبل یا بعد میں؟ قادیانی نے کہا کہ حضور علیہ السلام سے قبل مسیح علیہ السلام فوت ہوگئے۔ راقم نے عرض کیا کہ مرزاقادیانی نے (براہین احمدیہ حصہ چہارم ص۴۹۹، خزائن ج۱ ص۵۹۳) پر لکھا ہے کہ: ’’جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے۔‘‘ یہ کتاب ۱۸۸۴ء میں مرزاقادیانی نے لکھی۔ معلوم ہوا کہ مسیح علیہ السلام ۱۸۸۴ء تک مرزاقادیانی کے بقول زندہ تھے۔ اس کے بعد کب فوت ہوئے۔ آپ بتادیں؟ یا لکھ دیں کہ مرزاقادیانی نے جھوٹ بولا ہے؟

ابن مریم کی جگہ ابن چراغ بی بی کیسے؟

سوال نمبر:۳۰…

ایک بار ایک قادیانی نے کہا کہ جی! عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوگئے۔ راقم نے عرض کیا کب؟ کہا حضور علیہ السلام سے پہلے۔

راقم… تو مرزاقادیانی کیسے مسیح ہوگیا؟

قادیانی… حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ مسیح آئے گا تو مراد اس سے مرزا۔

راقم… بندۂ خدا! آپ کے بقول عیسیٰ علیہ السلام، حضور علیہ السلام کی تشریف آوری سے پہلے فوت ہوگئے تو جو فوت ہوگئے ان کے متعلق حضور علیہ السلام کیسے فرماتے ہیں کہ وہ آئیں گے؟ اگر فرمایا کہ وہ آئیں گے تو اس کا معنی یہ کہ وہ فوت نہیں ہوئے۔ اچھا اگر آپ کے بقول مسیح کی جگہ مرزاقادیانی نے آنا تھا وہ آگئے۔

بہت اچھا تو دیانت وعقل کا تقاضہ ہے کہ جس نے آنا تھا اس کے آنے کا اعلان کیا جاتا۔ آنا مرزا بن چراغ بی بی نے تھا۔ لیکن اعلان کیا مسیح ابن مریم آئے گا۔ بھائی! تو جس کا اعلان ہوا وہی تشریف لائیں گے۔ اگر مرزاقادیانی نے آنا تھا تو اس کا اعلان ہوتا۔ قرآن وحدیث کے ذخیرہ میں ایک آیت، ایک حدیث دکھا دو۔ جس میں ہو کہ مرزاقادیانی بن چراغ بی بی آئے گا تو ہم مان لیں گے۔ وہ قادیانی مبہوت ہوگیا۔

مرزاقادیانی کا الہام قرآن کا ناسخ؟

سوال نمبر:۳۱…

ایک بار ایک قادیانی نے کہا کہ آپ کو مرزاغلام احمد قادیانی سے کیا ضد ہے کہ آپ اسے کافر کہتے

682

ہیں۔ راقم نے عرض کیا۔ میاں ضد نہیں بلکہ ہم مرزاقادیانی کو اس لئے کافر کہتے ہیں کہ مرزاقادیانی نے اپنے الہام سے قرآن مجید کو منسوخ کیا۔ اس لئے مرزاقادیانی نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر ومرتد ہے۔ قادیانی نے حیرت سے کہا وہ کیسے؟

راقم نے عرض کیا۔ مرزاقادیانی نے (براہین احمدیہ حصہ چہارم ص۴۹۹، خزائن ج۱ ص۵۹۳) پر تحریر کیا ہے: ’’ھُوَ الَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِاالْہُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ‘‘ یہ آیت حضرت مسیح کے حق میں پیش گوئی ہے۔ جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے۔

براہین کی تصنیف کے وقت مرزاقادیانی کا مجدد، مامور اور ملہم من ﷲ ہونے کا دعویٰ تھا۔ اس وقت قرآن مجید سے استدلال کر کے کہا کہ گویا قرآن مجید کی رو سے مسیح علیہ السلام دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے۔ مرزاقادیانی کا بیٹا مرزامحمود کہتا ہے: ’’لیکن ۱۸۹۱ء میں ایک اور تغیر عظیم ہوا۔ یعنی حضرت مرزاصاحب کو الہام کے ذریعہ بتایا گیا کہ حضرت مسیح ناصری ( علیہ السلام) جن کے دوبارہ آنے کے مسلمان اور مسیحی دونوں قائل ہیں وہ فوت ہو چکے… اور ان کی جگہ آپ (مرزاقادیانی) ہیں۔‘‘ (سیرۃ مسیح موعود ص۳۰، مصنفہ مرزامحمود)

مرزاقادیانی نے پہلے ۱۸۸۴ء میں قرآن مجید کی رو سے کہا کہ مسیح علیہ السلام دوبارہ دنیا میں آئیں گے۔ پھر ۱۸۹۱ء میں اپنے الہام کی رو سے کہا کہ مسیح علیہ السلام فوت ہوگئے تو گویا مرزاقادیانی کے الہام نے قرآن مجید کو منسوخ کر دیا؟ اتنی بات مرزاقادیانی کے کافر ہونے کے لئے کافی ہے۔

میں رانجھا ہوگئی؟

سوال نمبر:۳۲…

مرزاقادیانی نے اپنی کتاب (ایک غلطی کا ازالہ ص۳، خزائن ج۱۸ ص۲۰۷) پر لکھا ہے: ’’پھر اسی کتاب (براہین احمدیہ) میں اس مکالمہ کے قریب یہ وحی ﷲ ہے۔ ’’مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ وَالَّذِیْنَ مَعَہٗ اَشِدَّآئُ عَلٰی الْکُفَّارِ رُحَـمَآءُ بَیْنَہُمْ‘‘ اس وحی الٰہی میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی۔‘‘

راقم نے ایک گفتگو میں یہ حوالہ پیش کیا۔ قادیانی مجیب نے کہا: ’’میں رانجھا، رانجھا کر دیں رانجھا ہوگئی‘‘ کہ مرزاقادیانی محمد ﷺ، محمد ﷺ کرتے کرتے محمد ﷺ ہوگیا۔ میرے لئے یہ جواب بہت ہی سوہان روح، ایک تو مرزاقادیانی کو معاذ ﷲ محمد رسول ﷲ ثابت کیا جارہا ہے اور استدلال میں کسی پنجابی شاعر کے شعر کا ایک ٹکڑا پیش کیا جارہا ہے۔ عوام سامعین دیہاتی، پنجابی ذوق کے، اب ان کو کس طرح اس دجل سے بچایا جائے؟ راقم نے کہا۔

راقم… (قادیانی سے) آپ کے والد نام

قادیانی… کیوں؟

راقم… میاں ہے تو بتا دو؟

قادیانی… کیا ضرورت پیش آگئی؟

راقم… میاں آپ سے والد کا نام پوچھا ہے کسی خاتون کا تو نہیں۔ اگر ہے کوئی تو بتادو؟

قادیانی… میرے والد کا نام گل خان۔

راقم… جیب سے نکالی تسبیح اور پھیرنی شروع کی۔ گل، گل، گل۔ ضرب پے ضرب، چل سو چل۔ گل ہی گل۔ قادیانی اور

683

پبلک حیرت زدہ کہ مولوی صاحب نے یہ کیا شروع کر دیا۔ خیر جب تسبیح مکمل ہوگئی اور ان کی حیرت کا گراف بھی آخری ڈگری پر چلا گیا تو قادیانی نے کہا۔

قادیانی… یہ کیا؟

راقم… میں گل، گل کر دیں گل ہوگئی۔ میں آپ کا باپ آپ میرے بیٹے۔ تو حلالی بیٹے۔ باپ کے سامنے نہیں بولا کرتے۔ آپ مناظرہ کر رہے ہیں؟

قادیانی… اخلاق بھی کوئی چیز ہے؟

راقم… اخلاق کے باعث ہی کہا کہ میں آپ کا باپ، ورنہ تو کہتا کہ میں گل ، اور والدہ کو کہنا شام کو میرا انتظار کرے۔

قادیانی… مولوی صاحب! آپ بدتمیزی کر رہے ہیں۔

راقم… شریف آدمی! تم کہو کہ مرزاقادیانی محمد ﷺ تھا تو کوئی حرج نہیں۔ میں کہوں کہ میں تمہارا باپ، تو بداخلاقی۔ حالانکہ جو دلیل تم نے دی، وہی دلیل میری۔ اب یا مجھے اپنا باپ مانو یا تسلیم کرو کہ مرزاقادیانی کا یہ کہنا کہ میں محمد ﷺ ہوں۔ یہ اہانت رسول ﷲ ہے اور مرزاقادیانی کے کفر کی دلیل صریح۔ قادیانی کی گردن جھک گئی اور زبان رک گئی۔

قادیانی مسیلمہ کذاب؟

سوال نمبر:۳۳…

ایک مناظرہ میں قادیانی سے پوچھا گیا کہ آپ کے نزدیک مسلمانوں کی کیا پوزیشن ہے۔ لگا کہنے کہ ہم ان کو اہل کتاب سمجھتے ہیں اور ساتھ ہی اس نے سوال کیا کہ مولوی صاحب آپ بھی بتا دیں کہ آپ احمدیوں (قادیانیوں) کو کیا سمجھتے ہیں۔ مولوی صاحب نے کہا کہ ہم آپ کے گرو مرزاقادیانی کو مسیلمہ کذاب کا بھائی اور قادیانیوں کو مسیلمہ کذاب کی پارٹی کی طرح کافر ومرتد سمجھتے ہیں۔

پٹواری نہیں بلکہ مفسرین؟

سوال نمبر:۳۴…

ایک قادیانی نے کہا مولوی صاحب! لفظ تُوَفّٰی کا معنی تو پٹواری، نمبردار کو بھی معلوم ہے کہ وہ مرنے والے کو متوفی لکھتے اور کہتے ہیں۔ پٹوار کے کاغذات اس پر شاہد ہیں۔ مولانا محمد امین اوکاڑوی نے فرمایا کہ آپ کے جھوٹے ہونے کے لئے اتنی بات کافی ہے کہ آپ قرآنی الفاظ کے معانی پٹواریوں والے کرتے ہیں۔ جب کہ ہم کہتے ہیں قرآن کے معانی وہ کرو جو آج تک امت مسلمہ اپنے مسلّمات کی رو سے کرتی چلی آئی ہے۔

مرزاجاہل تھا؟

سوال نمبر:۳۵…

ایک دفعہ ایک مناظرہ میں ایک قادیانی نے کہا کہ مرزاقادیانی کو کم ازکم عالم ہی مان لیں۔ راقم نے کہا کہ مرزاقادیانی (خطبہ الہامیہ ص۴۹، خزائن ج۱۶ ص۴۹) پر لکھتا ہے کہ: ’’عید اس کا نام نہیں کہ بازاری عورتوں کے رقص کا شوق کیا جائے۔ ’’وبؤسہن وعناقہن‘‘ اور ان کا بوسہ گلے لپٹانا۔‘‘

بوسہ کی عربی مرزاقادیانی نے بؤسہن لکھی ہے۔ کیا دنیا میں کسی عرب نے لفظ بوسہ کو عربی شمار کیا ہے۔ بوسہ

684

اردو کا لفظ ہے۔ اسے عربی میں گھسیڑنا مرزاقادیانی کی فصاحت وبلاغت کا ہی کرشمہ قرار دیا جاسکتا ہے اور اس سے یہ بھی سمجھا جاسکتا ہے کہ مرزاقادیانی کتنا بڑا جاہل تھا۔ جسے اردو الفاظ کی عربی تک نہ آتی ہے۔ اس سے اس کی جہالت مآبی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔

مرزاقادیانی دنیا کا سب سے بڑا جاہل؟

سوال نمبر:۳۶…

ایک دفعہ ایک مناظرہ میں ایک قادیانی نے کہا کہ اور کچھ نہیں مرزاقادیانی کو عالم ہی مان لیں۔ راقم نے کہا کہ میر ادعویٰ ہے کہ مرزاقادیانی دنیا کا سب سے بڑا جاہل تھا۔ اس پر وہ قادیانی بھنّا گیا۔ راقم نے دوسرا وار کیا کہ مرزاقادیانی تو رہے اپنی جگہ، میرے نزدیک تو آپ بھی جاہل ہیں۔ یہ سنتے ہی اس کے تن بدن کو آگ لگ گئی۔ اس کے کچھ کہنے سے قبل، راقم نے کہا کہ اگر آپ کچھ جانتے ہیں تو اسلامی مہینوں کے نام بتائیں۔ اس نے کہا۔ محرم، صفر، ربیع الاوّل، راقم نے کہا آپ غلط کہتے ہیں۔ صفر دوسرا مہینہ نہیں چوتھا ہے۔ اب وہ کہے دوسرا، راقم عرض کرے کہ چوتھا۔ اس پر اسے آیا غصہ۔ مارے غصہ کے کانپتے ہوئے کہا کہ کون الّو کا پٹھہ کہتا ہے کہ صفر چوتھا مہینہ ہے۔ راقم نے کہا کہ مرزاقادیانی نے (تریاق القلوب ص۴۱، خزائن ج۱۵ ص۲۱۸) پر لکھا ہے۔ اب اس بیچارے کی کیفیت دیدنی تھی۔ نہ پائے رفتن نہ جائے ماندن۔ مرزاقادیانی کو عالم ثابت کرنا چاہتا تھا۔ خود الّو کا پٹھہ مان لیا۔

شیطان کے ماننے والے بہت؟

سوال نمبر:۳۷…

ایک بار مناظرہ میں قادیانی لاجواب ہوگیا تو اس نے چال چلی کہ مولوی صاحب چلو آپ کے نزدیک مرزاقادیانی جھوٹا ہی سہی۔ لیکن اتنا تو مانیں کہ مرزاقادیانی کے ماننے والے بہت ہیں۔ راقم نے کہا کہ یہ کوئی دلیل نہیں۔ ماننے والے تو شیطان کے بھی بہت ہیں۔

دنیا میں مرزاقادیانی کا ایک بھی ماننے والا نہیں؟

سوال نمبر:۳۸…

ایک بار دوسرے مناظرہ میں قادیانی مناظر نے کہا کہ مرزاقادیانی کے ماننے والوں میں روزبروز اضافہ ہورہا ہے اور یہ کہ ہماری تعداد اتنی ہے۔ راقم نے کہا کہ میاں صاحب میرا دعویٰ یہ ہے کہ: ’’پوری دنیا میں ایک شخص بھی ایسا نہیں جو مرزاقادیانی کو اس کے تمام دعاوی میں سچا مان کر ان پر عمل بھی کرتا ہو۔‘‘ اس پر وہ قادیانی ایسا آگ بگولا ہوا کہ لگا اچھلنے۔ ہاتھ ہلائے، گردن گھمائے، ایسی تیزی دکھائی کہ پٹھے پر ہاتھ رکھنا مشکل ہوگیا۔ مولوی صاحب! آپ کا ایسا بدیہہ البطلان دعویٰ کہ تعجب ہے کہ لوگوں نے آپ ایسے شخص کو میرے سامنے لا کر بٹھا دیا۔ لوگو! دیکھو میں قادیانی، میرا باپ قادیانی، میری ماں، میرا خاندان، میرے چک کے لوگ اور جو میرے ساتھ آئے۔ یہ سب مرزاصاحب کو اس کے تمام دعاوی میں سچا مان کر اس کے ہر قول وفعل پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔ راقم نے عرض کیا میاں صاحب میرے دعویٰ کے الفاظ پھر سنیں۔ پوری دنیا میں ایک شخص بھی ایسا نہیں جو مرزاقادیانی کو اس کے تمام دعاوی میں سچا مان کر ان پر عمل بھی کرتا ہو۔ اگر یہ غلط ہے تو سنئے: مرزاقادیانی کا دعویٰ ہے کہ: ’’میں حجر اسود ہوں۔‘‘ (اربعین نمبر۴ ص۱۵، خزائن ج۱۷ ص۴۴۵)

اسی طرح مرزاقادیانی نے دوسری جگہ لکھا ہے: ’’انی و ﷲ فی ہذا الامر کعبۃ المحتاج کما ان فی

685

مکۃ کعبۃ الحجاج وانی انا الحجر الاسود الذی وضع لہ القبول فی الارض والناس یمسّہٖ یتبرکون‘‘ خدا کی قسم جیسے مکہ حجاج کا کعبہ ہے۔ میں محتاجوں کا کعبہ ہوں اور میں وہ حجر اسود ہوں جس کی زمین پر مقبولیت رکھ دی گئی اور لوگ اس کو تبرک کے طور پر چھوتے ہیں۔

(الاستفتاء ص۴۱، ملحقہ حقیقت الوحی، خزائن ج۲۲ ص۶۶۳)

قادیانی… ہاں میں مانتا ہوں کہ میرے ماں باپ ہم موجود سب قادیانی مانتے ہیں کہ مرزاقادیانی کو ﷲ تعالیٰ نے حجر اسود بنایا۔ وہ حجر اسود تھے۔ راقم نے عرض کیا کہ حجر اسود کو سامنے سے سنٹر میں چوما جاتا ہے۔ تم نے سامنے سے مرزاقادیانی کی سنٹر کی کون سی جگہ کو چوما ہے؟ تمہارے باپ نے، ان تمام سے ایک آدمی کہہ دے کہ میں نے اسے سنٹر میں چوما ہے تو میرا دعویٰ غلط۔ اس پر اس قادیانی نے صرف بغلیں جھانکتے نہیں بلکہ دوڑنے میں عافیت تلاش کی۔

قرآن میں ربوہ؟

سوال نمبر:۳۹…

ایک بار قادیانی مناظر نے کہا کہ مولانا آپ ہمارا کس طرح مقابلہ کر سکتے ہیں۔ ہمارے شہر کا نام قرآن میں لکھا ہے۔ ربوہ۔

راقم نے کہا میاں صاحب! آپ تو فرماتے ہیں کہ قادیانیوں کے شہر کا نام قرآن مجید میں لکھا ہے۔ میرے نزدیک تو قادیانیوں کا نام بھی قرآن مجید میں لکھا ہے۔ وہ مناظر لگا کہنے مولانا آپ بہت وسیع ظرف ہیں۔ پڑھیں قرآن مجید کی آیت میں کہاں ہمارا نام لکھا ہے۔ راقم نے کہا میاں صاحب صرف قادیانیوں کا نہیں، لاہوری مرزائیوں کا بھی قرآن مجید میں نام ہے۔

قادیانی … مولانا آپ کے منہ میں گھی شکر۔ آیت تلاوت فرمائیں۔ آپ کی وسیع ظرفی پر تو فدا ہونے کو دل کرتا ہے۔ آیت تلاوت کریں۔

راقم… میاں! میری زبان پر اعتماد کر لو۔ قادیانیوں اور لاہوریوں، دونوں کا نام لکھا ہے۔

قادیانی… مولانا کرم فرمائیے۔ وہ آیت تلاوت کریں۔

راقم… ’’بسم ﷲ الرحمن الرحیم! حرم علیکم المیتۃ والدم ولحم الخنزیر‘‘

میتہ مردار سے مراد لاہوری اور خنزیر سے مراد قادیانیوں کا بیان ہے،۔ دونوں کا تذکرہ ہوا۔

قادیانی… مولوی صاحب کچھ خدا کا خوف کرو۔ جب قرآن مجید اترا تھا، قادیانی تھے؟

راقم… جب قرآن مجید اترا تھا یہ ربوہ تھا؟

قادیانی… واقعی مجھ سے غلطی ہوئی۔

راقم… چلو مجھ سے بھی ہوگئی۔

قادیانی… سوری۔

راقم… سوری دے آ۔ اب بس کر۔ تمہارے لئے بہت ہوگئی ہے۔ اس سے زیادہ کیا تمہاری خدمت کروں۔

مرزا کو ماننا

سوال نمبر:۴۰…

ایک بار مناظرہ میں قادیانی مناظر غصہ میں آکر لگا دعویٰ کرنے کہ مولوی صاحب اگر آج مرزاکو

686

نہیں مانتے تو کل وقت آئے گا کہ آپ کو ماننا پڑے گا۔ راقم نے کہا میاں صاحب! دھمکی کیوں لگاتے ہو۔ کل کیا ہوتا ہے میں تو ابھی مرزاقادیانی کو مانتا ہوں۔

قادیانی… مرزاصاحب کو آپ کیا مانتے ہیں؟

راقم… الّو کا چرخہ! پاگلوں کا چیئرمین مانتا ہوں۔ وہ اس طرح کہ جس کو دائیں بائیں پاؤں کے جوتے کی تمیز نہ تھی۔ (سیرۃ المہدی ج۱ ص۵۳)، جس کو صدری اور کوٹ کے بٹنوں کی تمیز نہ تھی۔ (سیرۃ المہدی ج۲ ص۱۲۶) جس کو اوپر کے کاج اور نیچے کے کاجوں کی تمیز نہ تھی۔ (سیرۃ المہدی ج۲ ص۱۲۶) جو ایک ہی جیب میں گڑ اور مٹی کے ڈھیلے رکھتا تھا۔ (مسیح موعود کے مختصر حالات ملحقہ براہین احمدیہ ص۶۷) جس کی واسکٹ کی جیب میں اڑھائی سیر کی اینٹ رکھی رہتی تھی اور اسے معلوم نہ ہوتا تھا۔ (مسیح موعود کے مختصر حالات ملحقہ براہین احمدیہ طبع چہارم ص ق) فرمائیے یہ عقلمند انسان تھا یا الّو کا چرخہ اور پاگلوں کا چیئرمین تھا؟ فبھت الذی کفر!

مرزا کی دو سچی باتیں

سوال نمبر:۴۱…

ایک بار مناظرہ میں قادیانی مناظر جب باالکل لاجواب ہوگیا تو اپنی خفت مٹانے کے لئے کہنے لگا۔ مولوی صاحب، کیا مرزاقادیانی نے کوئی صحیح بات بھی کہی ہے یا سب ہی غلط تھیں؟ تو راقم نے کہا کہ ہاں مرزاقادیانی نے سچی بات بھی کہی اور خوب کہی۔ وہ یہ کہ مرزا نے کہا:

کرم خاکی ہوں مرے پیارے نہ آدم زاد

ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۹۷، خزائن ج۲۱ ص۱۲۷)

اس شعر میں مرزاقادیانی نے کہا کہ میں مٹی کا کیڑا ہوں اور آدم کی اولاد نہیں۔ یعنی انسان زادہ نہیں ہوں۔ یہ باالکل صحیح کہا کہ واقعی مرزاقادیانی کا کوئی کام بندے دے پتراں والا نہ تھا۔ اس پر وہ قادیانی ایسا کھسیانا ہوا کہ لگا کہنے، اچھا اور کوئی صحیح بات نہیں کہی؟ راقم نے کہا کہ اور بھی صحیح بات کہی۔ وہ یہ کہ مرزاقادیانی نے کہا حضور علیہ السلام کے بعد جو شخص نبوت کا دعویٰ کرے وہ کافر ہے۔ (مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۲۳۱)

پھر کہا کہ ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم نبی ورسول ہیں۔ (ملفوظات احمدیہ ج۱۰ ص۱۲۷)

دعویٰ رسالت کر کے خود اپنے فتویٰ کی رو سے خود کافر ہوگیا۔ قادیانی مناظر بے چارہ نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن لگا کہنے اچھا بس؟

راقم نے کہا کہ نہیں، مرزاقادیانی نے ایک اور صحیح بات کہی کہ میرے مخالف کنجریوں کی اولاد۔

(آئینہ کمالات اسلام ص۵۴۷،۵۴۸)

تو مرزاقادیانی کا بیٹا فضل احمد اس کو نہیں مانتا تھا تو مرزاقادیانی کے فتویٰ کے مطابق وہ کنجری کا بیٹا، اس کی ماں مرزا کی بیوی تھی… تو جو کنجری کا خاوند ہو وہ بھی … اور جو … کو نبی مانیں یا مصلح یا مجدد یا مسیح وہ بھی … اس پر وہ قادیانی دم بخود ہو کر ناخنوں سے زمین کھودنے لگ گیا۔

687

مرزاقادیانی کو صاحب کیوں نہیں کہتے؟

سوال نمبر:۴۲…

ایک بار ایک قادیانی نے کہا کہ مرزاقادیانی کو آپ لوگ صاحب کیوں نہیں کہتے؟ اندرا گاندھی صاحبہ، اوباما صاحب، جناب پرویز مشرف سب کو صاحب کہتے ہو تو مرزاقادیانی کو صاحب کیوں نہیں کہتے۔ راقم نے عرض کیا کہ کیا آج تک کسی قادیانی نے شیطان کو صاحب کہا، ابوجہل یا فرعون کو صاحب کہا ہے۔ کیا آپ کہتے ہیں کہ رات شیطان صاحب خواب میں میرے پاس تشریف لائے تھے۔ کہنے لگا نہیں، شیطان کو تو کوئی صاحب نہیں کہتا۔ راقم نے عرض کیا کہ شیطان صرف شیطان تھا۔ مرزاقادیانی سپر شیطان تھا۔ شیطان نے صرف سیدنا آدم علیہ السلام کی اہانت کی تھی۔ مرزاقادیانی نے تمام انبیاء علیہم السلام کی اہانت کی ہے۔ جب آپ شیطان کو صاحب نہیں کہتے، تو میں سپر شیطان کو کیسے صاحب کہوں؟۔

کیا کبھی ایسے ہوا؟

ذیل میں مرزا قادیانی کی سات عبارتیں پیش خدمت ہیں۔ قادیانی براہ کرم بتائیں کہ کیا کسی نبی نے کسی فیصلہ کے لئے اپنے لئے ایسے الفاظ استعمال کئے؟۔

۱… ’’اگر میعاد گزر جائے اور سچائی ظاہر نہ ہو تو میرے گلے میں رسی اور پائوں میں زنجیر ڈالنا اور مجھے ایسی سزا دینا کہ تمام دنیا میں کسی کو نہ دی گئی ہو۔‘‘

(آئینہ کمالات اسلام ص۵۷۳، خزائن ج۵ص۵۷۴)

۲… ’’اور اگر یہ تیری طرف سے نہیں ہیں تو مجھے نامرادی اور ذلت کے ساتھ ہلاک کر۔ اگر تیری نظروں میں، میں مردود اور ملعون اور دجال ہی ہوں۔ جیسا مخالفوں نے سمجھا ہے۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات ج۲ص۱۱۶)

۳… ’’اگر یہ پیش گوئی جھوٹی نکلی تو میں ہر سزا اٹھانے کے لئے تیار ہوں۔ مجھ کو ذلیل کیا جائے۔ روسیاہ کیا جائے۔ میرے گلے میں رسہ ڈال دیا جائے۔ ہر ایک بات کے لئے تیار ہوں۔‘‘

(جنگ مقدس ص۱۸۸،خزائن ج۶ص۲۹۳)

۴… ’’میرے مالک میں تجھ سے دعا کرتا ہوں کہ مجھے ثناء ﷲ کی زندگی میں ہلاک کر اور میری موت سے ان کو اور ان کی جماعت کو خوش کر۔ موت قتل کی رو سے واقع نہ ہو۔ بلکہ محض بیماری کے ذریعہ سے ہو۔ مثلاً طاعون سے یا ہیضہ سے۔‘‘ (ضمیمہ نزول المسیح ص۱۸،خزائن ج۱۹ص۱۲۲)

۵… ’’مجھے جھوٹا قرار دے کر ہلاک کیا تو میں جھوٹے ہونے کی حالت میں کسی پیشگوئی اور امامت کو نہیں چاہتا۔ بلکہ اس حالت میں ایک یہودی سے بھی بدتر ہوں گا اور ہر ایک کے لئے جائے عار ننگ۔‘‘

(ضمیمہ نزول المسیح ص۲۰، خزائن ج۱۹ص۱۲۴)

۶… ’’ ﷲ تعالیٰ کے کسی نبی نے تو کجا خدا کے کسی مقربین نے بھی اس قسم کی کوئی پیش گوئی نہیں کی کہ اگر میں اتنی عمر پاکر مروں تو میں سچا ہوں گا۔ ورنہ تم مجھے جھوٹا سمجھنا۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۲، خزائن ج۳ص۳۴۲)

۷… ’’اگر میں اس پیش گوئی میں کاذب نکلا تو ہر ایک سزا کے بھگتنے کے لئے تیار ہوں۔ اس بات پر راضی ہوں۔ مجھے گلہ میں رسہ ڈال کر پھانسی (سولی) پر کھینچا جائے۔‘‘

(آئینہ کمالات اسلام ص۶۵۱،خزائن ج۵ص۶۵۱)

تمت بالخیر!

688