تذکرہ مجاہدین ختم نبوت

 

حدیثِ دِل

فرنگی نے سرزمینِ ہندوستان پر اپنے طاغوتی قدم جماتے ہی یہاں مختلف فتنوں کی کاشت کی، جن میں سے مہلک ترین فتنہ ’’فتنۂ قادیانیت‘‘ ہے۔ یہ فتنہ جو اپنے دامن میں ملتِ اسلامیہ کی تباہی کا سامان لئے ہوئے تھا، حکومت کی دولت کے پروں کی پرواز کے ذریعے ہندوستان اور بیرونِ ہندوستان پہنچایا اور پھیلایا گیا، لیکن ایک صدی کی تاریخ گواہ ہے کہ اِدھر اس فتنے نے سر اُٹھایا اور اُدھر اِسلام کے سپوت اس کی سرکوبی کے لئے سربکف ہوکر میدانِ کارزار میں کود پڑے۔ نبیٔ اَفرنگ کو تحریر، تقریر، مناظرہ اور مباہلہ کے میدان میں چت کیا، دلائل و براہین کے ہتھیاروں سے قادیانی شریعت کی دھجیاں بکھیر دیں اور گلی گلی، کوچہ کوچہ، قریہ قریہ، گاؤں گاؤں، شہر شہر گھوم کر مسلمانوں کو فرنگی نبوّت کی زہرناکیوں سے خبردار کیا۔ مجاہدینِ ختمِ نبوّت کو اس عظیم مشن سے ہٹانے کے لئے ڈرایا، دھمکایا، للچایا، دبایا، ستایا اور تڑپایا گیا، لیکن راہِ عشق کے یہ مسافر عشق کی ایک ہی جست میں یہ ساری رُکاوٹیں عبور کرگئے۔ اگر اس راہِ حق میں انہیں جان کا نذرانہ بھی پیش کرنا پڑا تو وہ ہنستے مسکراتے جامِ شہادت نوش کرگئے۔ شہیدانِ ختمِ نبوّت کا پوری اُمت پر اِحسان ہے کہ انہوں نے اپنی لاشوں سے بند باندھ کر آنے والی نسلوں کو دریائے اِرتداد میں غرق ہونے سے بچالیا۔ غازیانِ تحریکِ ختمِ نبوّت محسن ہیں پوری ملتِ اسلامیہ کے، جنھوں نے اپنا سب کچھ لٹادیا لیکن ہمارے ایمانوں کو لٹنے سے بچالیا ہے:

’’خدا رحمت کند ایں عاشقانِ پاک طینت را!‘‘

3

ایک عرصے سے اس بات کی اشد ضرورت محسوس کی جارہی تھی کہ کوئی مردِ میدان آگے بڑھے اور خصوصیت سے ایک صدی کے دورانیہ میں پھیلے ہوئے مجاہدینِ ختمِ نبوّت کے ایمان پروَر واقعات کو مرتب کردے تاکہ عشقِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک درخشاں تاریخ محفوظ ہوجائے اور نئی نسل اپنے اسلاف کی تابندہ روایات سے آشنا ہوسکے۔

عزیزی مولانا اللہ وسایا صدہا مبارک باد کے مستحق ہیں، جنھوں نے کمربستہ ہوکر اس کارِ خیر کا بیڑا اُٹھایا اور تاریخ کی وادیوں سے ماضی کے گمشدہ اوراق کو نہایت محنت و لیاقت سے اِکٹھا کیا ہے اور انہیں ایک خوبصورت ترتیب میں سجاکر اُمتِ مسلمہ کے سامنے مطالعہ اور فکر و عمل کے لئے رکھا ہے، تاکہ کاروانِ مجاہدینِ ختمِ نبوّت فتنۂ قادیانیت کا سر کچلنے کے لئے ایک نئے جذبے، نئے ولولے اور نئے عزم کے ساتھ آگے بڑھیں، (آمین)

رَبّ العزّت، مصنف اور ان کے گرامی قدر رفقاء کو اس محنت کا اجرِ عظیم عطا کرے اور انہیں اس میدان میں مزید اور مزید کام کرنے کی توفیق مرحمت فرمائے، آمین!

فقیر خان محمد

خانقاہ سراجیہ کندیاں شریف

ضلع میانوالی

4

 

 

انتساب!

 

مخدوم العلماء والصلحاء حضرت مولانا محمد یوسف متالا

دامت برکاتہم خلیفہ مجاز برکۃ العصر شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا

مہاجر مدنی و مہتمم دارالعلوم ہولکمب بری انگلینڈ، کے نام یہ کتاب

منسوب کرتے ہوئے قلبی سکون محسوس کرتا ہوں۔

اگر آپ نے اسے قبول فرماکر میرے لئے دستِ دُعا

اُٹھادئیے تو یہ میرے لئے توشۂ آخرت ہوگا۔

گر قبول افتد زہے عزّ و شرف!

طالبِ دُعا

فقیر اللہ وسایا

ملتان

 

 

 

 

5

پیش لفظ

نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ!

اما بعد: سالہا سال قبل فقیر نے اپنے مربی و محسن مجاہدِ ختمِ نبوّت حضرت مولانا تاج محمود رحمۃ اللہ علیہ کے حکم سے ایک رسالہ ’’مبشراتِ صالحہ‘‘ ترتیب دیا تھا، جس کا نقشِ ثانی ’’ایمان پروَر یادیں‘‘ نامی کتابچہ ہے۔

ہر دو رسائل کو قدرت نے محض اپنے فضل و کرم سے شرفِ قبولیت سے نوازا، ان کے کئی ایڈیشن شائع ہوکر اندرون و بیرون ملک تقسیم ہوئے، جن احباب نے اُنہیں پڑھ کر اپنی محبتوں اور شفقتوں سے سرفراز فرمایا، اُنہوں نے اس ضرورت کا بھی احساس دِلایا کہ ’’ایمان پروَر یادیں‘‘ نامی کتابچے میں جو واقعات اور تحریکِ ختمِ نبوّت کی منتشر داستانیں قلم بند ہونے سے رہ گئی ہیں، اُن کو بھی جمع کردیا جائے تاکہ آنے والی نسل مجاہدینِ ختمِ نبوّت کے ایمان پروَر، جہاد آفرین، حقائق افروز تذکروں سے واقف ہوسکے۔

اس ضرورت کا سب سے زیادہ احساس جناب محترم محمد متین خالد و برادر گرامی جناب طاہر رَزّاق مجاہدِ ختمِ نبوّت نے دِلایا۔ اور پھر کرم یہ کہ فقیر کی طرف سے آمادگی پاکر جناب محمد متین خالد، اُن کے اور میرے چھوٹے بھائی جناب قدیر شہزاد نے کتابوں و رسائل سے مواد اِکٹھا کرنا شروع کیا، ہزارہا صفحات کی ورق گردانی کے بعد جمع شدہ مواد کا فوٹواِسٹیٹ علیحدہ علیحدہ کاغذوں پر پیسٹ کرکے فقیر کو ملتان دفتر مرکزیہ کے پتے پر بھجوادیا اور اس کی ترتیب و تکمیل کے لئے اپنے مطالبے میں جنون کی حد تک شدّت پیدا کردی۔ فقیر نے انتہائی عجلت میں اس مواد کو دیکھا، کانٹ چھانٹ،

6

ترمیم و اضافے کے وقت جن حضرات کا تذکرہ مطبوعہ مواد میں نہ مل سکا، فقیر نے اپنی یادداشتوں سے اُسے مرتب کیا اور یوں یہ کتاب کاتب کے حوالے کردی گئی۔

مجھے اس امر کا بڑی شدّت سے احساس ہے کہ اس کتاب میں پھر بھی تمام مواد جمع نہیں ہوسکا، جو میسر آیا حاضر ہے، جو میسر نہیں آیا اُس کے لئے تلاش جاری رہنی چاہئے۔

کتاب پڑھنے سے قبل اس اَمر کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ یہ کتاب فقیر کی تصنیف نہیں ہے، سوائے چند صفحات کے باقی جمع شدہ مواد ہے، جس کی ترتیب قائم کردی گئی ہے۔ اس لئے کتاب میں اگر کہیں خوبی نظر آئے یا جھول تو مذکورہ گزارش پیشِ نظر رہے۔

میری طبیعت کا لااُبالی پن کہیں یا ناتجربہ کاری کہ تمام تر مطبوعہ مواد کو من و عن نقل کردیا گیا ہے، لیکن اصل مراجع کا حوالہ نہیں دیا گیا، اگر اصل حوالہ جات شامل کردئیے جاتے تو کتاب کی ثقاہت میں قابلِ قدر اضافہ ہوجاتا۔ پہلے احساس نہ ہوا، جب احساس ہوا تو وقت گزرچکا تھا، (کتاب کی کتابت مکمل ہوکر پریس جانے کے لئے تیار ہے)۔

کتابت کے بعد پروف ریڈنگ کا مرحلہ اہم ہوتا ہے، اس میں مرتب و مصنف کو بہت کچھ اصلاح کا موقع مل جاتا ہے، لیکن فقیر کی محرومی کہ اپنی ایک ذاتی دُنیاوی پریشانی کے باعث کتابت کے بعد اس کا ایک صفحہ بھی نہیں دیکھ سکا، جن حضرات نے اس مرحلے میں میری ذمہ داری کے لئے اپنے کندھے پیش کئے وہ بلاشبہ مبارک باد اور شکریہ کے مستحق بھی ہیں اور اَجر و ثواب کے بھی۔ فقیر دُعاگو ہے کہ جناب محمد صابر شاکر، قدیر شہزاد، سیّد منظورالحسن شاہ صاحب، جناب ریاض مجاہد صاحب، چوہدری محمد اختر صاحب، جناب محمد رفیق صاحب، جناب عثمان شاہد صاحب، جناب اختر حمید صاحب، جناب عبداللطیف اظہر، جناب محمد عامر خان ملتان،

7

کو اللہ رَبّ العزّت دُنیا و آخرت میں اس کی بہتر جزا نصیب فرمائے۔ دُنیا میں رحمتِ پروردگار اور آخرت میں شفاعتِ نبوی ان کی دست گیری فرمائے۔ (آمین!)

’’ایمان پروَر یادیں‘‘ نامی کتابچے کو اس کتاب کے آخر میں اس کا جزو بنایا جارہا ہے، تاکہ قارئین اس موضوع پر کسی بھی قسم کی تشنگی محسوس نہ کریں، تاہم یاد رہے کہ یہ منتشر داستانیں ہیں، نہ کہ مربوط تاریخ و تحریر۔

سب سے اوّل میں تبرک کے لئے خیرالقرون کے زمانے کے چند واقعات دئیے ہیں تاکہ تحریکِ ختمِ نبوّت کے مجاہدین کی ان سے نسبت قائم ہوجائے، علاوہ ازیں مجاہدینِ ختمِ نبوّت کے واقعات اُن کے ناموں کے لحاظ سے حروفِ تہجی کے اعتبار سے ترتیب دئیے گئے ہیں۔

اللہ رَبّ العزّت اس کتاب کو بھی رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزّت و ناموس کا تحفظ کرنے والے حضرات کے لئے نفع کا باعث بنائیں تاکہ اسے پڑھ کر وہ بھی اپنے پیشرو حضرات کے نقشِ قدم پر چلیں اور اُن کے مشن کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کی سعادت حاصل کریں۔ اس لئے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی عزّت و ناموس کا تحفظ کرنا اتنا بڑا اِعزاز ہے کہ اس پر جتنا بھی توفیقِ ایزدی کا شکر کریں کم ہے۔ اس اَمر کا اعتراف کرنا اپنا اخلاقی فرض سمجھتا ہوں کہ اس کتاب کی ترتیب و تکمیل برادرِ عزیز جناب محمد متین خالد کی شبانہ روز محنت اور اِخلاص بھری کاوش کا نتیجہ ہے، اگر وہ ’’مہربانی‘‘ نہ فرماتے تو یہ کتاب آپ کے ہاتھوں میں نہ ہوتی۔ اللہ رَبّ العزّت ان کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں شرفِ قبولیت سے نوازیں اور مزید خدمتِ دِین کی توفیق ارزانی فرمائیں، آمین بحرمۃ النبی الامی الکریم!

طالبِ دُعا

فقیر اللہ وسایا

خادم دفتر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختمِ نبوّت ملتان

8

فہرست

  1. page ۲۸ page ۲۹ page ۳۱ page ۳۱ page ۳۱ page ۳۲ page ۳۳ page ۳۴ page ۳۴ page ۳۴ page ۳۵ page ۳۵ page ۳۶ page ۳۶ page ۳۷ page ۳۹ page ۴۰ page ۴۰ page ۴۱
9
  1. page ۴۳ page ۴۳ page ۴۴ page ۴۵ page ۴۵ page ۴۵ page ۴۸ page ۵۱ page ۵۱ page ۵۲ page ۵۲ page ۵۳ page ۵۳ page ۵۳ page ۵۴ page ۵۵ page ۵۶ page ۵۷ page ۵۸ page ۵۹ page ۶۰ page ۶۰
10
  1. page ۶۰ page ۶۲ page ۶۲ page ۶۳ page ۶۴ page ۶۷ page ۶۸ page ۶۸ page ۷۲ page ۷۷ page ۷۹ page ۸۵ page ۸۸ page ۸۹ page ۸۹ page ۹۰ page ۹۱ page ۹۲ page ۹۲ page ۹۳ page ۹۴
11
  1. page ۹۴ page ۹۴ page ۹۶ page ۱۰۲ page ۱۰۲ page ۱۰۵ page ۱۰۷ page ۱۰۹ page ۱۱۲ page ۱۱۴ page ۱۱۶ page ۱۱۷ page ۱۲۰ page ۱۲۳ page ۱۲۴ page ۱۲۵ page ۱۲۵ page ۱۲۵ page ۱۲۷ page ۱۲۷ page ۱۲۸ page ۱۲۹
12
  1. page ۱۲۹ page ۱۳۰ page ۱۳۲ page ۱۳۲ page ۱۳۳ page ۱۳۴ page ۱۳۴ page ۱۳۵ page ۱۳۵ page ۱۳۶ page ۱۳۶ page ۱۳۷ page ۱۳۸ page ۱۳۸ page ۱۳۹ page ۱۴۰ page ۱۴۲ page ۱۴۲ page ۱۴۳ page ۱۴۳ page ۱۴۳ page ۱۴۴
13
  1. page ۱۴۴ page ۱۴۵ page ۱۴۵ page ۱۴۶ page ۱۴۶ page ۱۴۷ page ۱۴۸ page ۱۴۹ page ۱۵۰ page ۱۵۰ page ۱۵۰ page ۱۵۱ page ۱۵۲ page ۱۵۳ page ۱۵۳ page ۱۵۴ page ۱۵۵ page ۱۵۹ page ۱۵۹ page ۱۶۰ page ۱۶۰ page ۱۶۱
14
  1. page ۱۶۳ page ۱۶۳ page ۱۶۳ page ۱۶۴ page ۱۶۴ page ۱۶۴ page ۱۶۵ page ۱۶۵ page ۱۶۶ page ۱۶۷ page ۱۶۷ page ۱۶۹ page ۱۷۰ page ۱۷۱ page ۱۷۳ page ۱۷۴ page ۱۷۵ page ۱۷۶ page ۱۷۷ page ۱۷۸ page ۱۷۸ page ۱۷۹
15
  1. page ۱۷۹ page ۱۸۰ page ۱۸۰ page ۱۸۱ page ۱۸۱ page ۱۸۲ page ۱۸۴ page ۱۸۴ page ۱۸۶ page ۱۸۶ page ۱۸۷ page ۱۸۸ page ۱۸۹ page ۱۹۰ page ۱۹۲ page ۱۹۳ page ۱۹۴ page ۱۹۴ page ۱۹۴ page ۱۹۵ page ۱۹۵
16
  1. page ۱۹۶ page ۱۹۶ page ۱۹۷ page ۱۹۸ page ۱۹۹ page ۱۹۹ page ۲۰۰ page ۲۰۱ page ۲۰۱ page ۲۰۱ page ۲۰۲ page ۲۰۳ page ۲۰۴ page ۲۰۶ page ۲۰۷ page ۲۰۸ page ۲۰۸ page ۲۰۹ page ۲۱۰ page ۲۱۱ page ۲۱۲ page ۲۱۴
17
  1. page ۲۱۴ page ۲۱۵ page ۲۱۶ page ۲۱۸ page ۲۱۹ page ۲۲۰ page ۲۲۰ page ۲۲۱ page ۲۲۲ page ۲۲۲ page ۲۲۴ page ۲۲۴ page ۲۲۸ page ۲۲۸ page ۲۲۸ page ۲۲۹ page ۲۳۰ page ۲۳۰ page ۲۳۰ page ۲۳۱ page ۲۳۳ page ۲۳۳
18
  1. page ۲۳۴ page ۲۳۵ page ۲۳۶ page ۲۳۶ page ۲۳۸ page ۲۳۹ page ۲۳۹ page ۲۴۱ page ۲۴۴ page ۲۴۶ page ۲۴۷ page ۲۴۷ page ۲۴۸ page ۲۵۰ page ۲۵۱ page ۲۵۱ page ۲۵۳ page ۲۵۳ page ۲۵۴ page ۲۵۴ page ۲۵۵ page ۲۵۶
19
  1. page ۲۵۶ page ۲۵۸ page ۲۵۸ page ۲۵۹ page ۲۵۹ page ۲۶۰ page ۲۶۰ page ۲۶۱ page ۲۶۱ page ۲۶۲ page ۲۶۵ page ۲۶۸ page ۲۶۹ page ۲۷۱ page ۲۷۲ page ۲۷۲ page ۲۷۳ page ۲۷۴ page ۲۷۵ page ۲۷۷ page ۲۷۷
20
  1. page ۲۸۳ page ۲۸۴ page ۲۸۵ page ۲۸۶ page ۲۸۶ page ۲۸۷ page ۲۸۷ page ۲۸۸ page ۲۸۹ page ۲۸۹ page ۲۹۲ page ۲۹۳ page ۲۹۳ page ۲۹۴ page ۲۹۵ page ۲۹۵ page ۲۹۵ page ۲۹۷ page ۲۹۷ page ۲۹۷ page ۲۹۸ page ۲۹۸
21
  1. page ۲۹۹ page ۲۹۹ page ۳۰۰ page ۳۰۱ page ۳۰۲ page ۳۰۲ page ۳۰۴ page ۳۰۵ page ۳۰۵ page ۳۰۶ page ۳۰۷ page ۳۰۸ page ۳۰۹ page ۳۰۹ page ۳۱۰ page ۳۱۱ page ۳۱۲ page ۳۱۲ page ۳۱۲ page ۳۱۳ page ۳۱۶ page ۳۱۷
22
  1. page ۳۱۷ page ۳۱۸ page ۳۱۸ page ۳۱۹ page ۳۲۰ page ۳۲۱ page ۳۲۲ page ۳۲۳ page ۳۲۴ page ۳۲۵ page ۳۲۶ page ۳۲۶ page ۳۲۶ page ۳۲۷ page ۳۲۸ page ۳۲۹ page ۳۳۰

    ’’ایمان پروَر یادیں‘‘

    page ۳۳۳ page ۳۳۳ page ۳۳۵ page ۳۳۵ page ۳۳۶
23
  1. page ۳۳۶ page ۳۳۶ page ۳۳۷ page ۳۳۷ page ۳۳۸ page ۳۳۸ page ۳۳۹ page ۳۴۰ page ۳۴۰ page ۳۴۱ page ۳۴۲ page ۳۴۲ page ۳۴۳ page ۳۴۳ page ۳۴۳ page ۳۴۴ page ۳۴۴ page ۳۴۵ page ۳۴۸ page ۳۵۰ page ۳۵۰ page ۳۵۱
24
  1. page ۳۵۲ page ۳۵۲ page ۳۵۳ page ۳۵۴ page ۳۵۴ page ۳۵۵ page ۳۵۶ page ۳۵۶ page ۳۵۶ page ۳۵۷ page ۳۵۸ page ۳۵۹ page ۳۶۰ page ۳۶۱ page ۳۶۲ page ۳۶۲ page ۳۶۲ page ۳۶۳ page ۳۶۴ page ۳۶۵ page ۳۶۶ page ۳۶۷
25
  1. page ۳۶۷ page ۳۶۷ page ۳۶۸ page ۳۶۹ page ۳۷۱ page ۳۷۱ page ۳۷۲ page ۳۷۳ page ۳۷۵ page ۳۷۶ page ۳۷۶ page ۳۷۸ page ۳۷۸ page ۳۸۳ page ۳۸۶ page ۳۸۷
26

نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ، اَمَّا بَعْدُ!

کفر و اِسلام، حق و باطل، ہدایت و ضلالت کا باہمی ٹکراؤ ابتدا سے جاری ہے، حق و ہدایت کا منبع و مرکز نبوّت کی ذاتِ گرامی ہوتی ہے۔ اللہ رَبّ العزّت نے ہدایت کی خیر و برکت نبوّت کے قدموں سے وابستہ فرمائی ہے، ہر وہ شخص جو ذاتِ نبوّت سے وابستہ ہوا، فلاح پاگیا۔ جو نہ جڑ سکا، وہ مردُود ہوگیا۔ عالمِ کون و مکان کے مقصود، خلاصۂ کائنات، وجۂ تخلیقِ عالم اور رُشد و ہدایت کا منبع و سرچشمہ اللہ رَبّ العزّت نے حضور سروَرِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ بابرکات کو بنایا۔

اللہ رَبّ العزّت کے خزانے میں نبوّت و رحمت کی جو نعمت تھی وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نچھاور کردی گئی، یہی وجہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء والمرسلین و رحمۃ للعالمین کے اِعزاز سے نوازے گئے۔

اللہ رَبّ العزّت نے رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس اِعزازِ خاتم النبیّین کو ثابت کرنے کے لئے قرآن مجید میں ایک سو سے زائد آیاتِ کریمہ نازل فرمائیں اور مسئلۂ ختمِ نبوّت کی اہمیت اُجاگر کرنے کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذخیرۂ احادیث میں دو سو سے زائد روایات موجود ہیں۔ اُمت کا سب سے پہلا اِجماع عہدِ صدیقی میں ختمِ نبوّت کے مسئلے پر ہوا، چونکہ یہ مسئلہ دِین کا اہم بنیادی اور اَساسی مسئلہ ہے، اس پر پورے دِین کی عمارت قائم ہے، اس میں اُمتِ مسلمہ کی وحدت کا راز مضمر ہے، اس لئے اس مسئلے میں چودہ سو سال سے کبھی بھی اُمت دو رائے کا شکار نہیں ہوئی، بلکہ جس وقت کسی شخص نے اس مسئلے کے خلاف رائے دی، اُمت نے اسے

27

سرطان کی طرح اپنے جسم سے علیحدہ کردیا۔ ختمِ نبوّت کا تحفظ یا باَلفاظِ دیگر منکرینِ ختمِ نبوّت کا اِستیصال دِین کا ہی ایک حصہ ہے، دِین کی نعمت کا اِتمام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ اقدس پر ہوا، اس لئے دِین کے اس شعبے کو بھی اللہ رَبّ العزّت نے خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے وابستہ فرمادیا اور سب سے پہلے خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے زمانے میں پیدا ہونے والے جھوٹے مدعیانِ نبوّت کا اِستیصال کرکے اُمتِ مسلمہ کو اپنے عمل مبارک سے کام کرنے کا عملی نمونہ پیش فرمادیا۔ چنانچہ اَسوَد عنسی کے اِستیصال کے لئے رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فیروز دیلمی رضی اللہ عنہ کو اور طلیحہ اسدی کے مقابلے میں جہاد کی غرض سے حضرت ضرار بن ازور رضی اللہ عنہ کو روانہ فرمایا۔ یہ اُمت کے لئے خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا عملی سبق ہے، اُمت کے لئے خیر و برکت اور فلاحِ دارین اس سے وابستہ ہے کہ ختمِ نبوّت کے عقیدے کا جان جوکھوں میں ڈال کر تحفظ کرے اور منکرینِ ختمِ نبوّت کو ان کے انجام تک پہنچائے۔ اُمت نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس مبارک عمل کو اپنے لئے ایسے طور پر مشعلِ راہ بنایا کہ خیرالقرون کے زمانے سے لے کر اس وقت تک ایک لمحہ بھی اُمت اس سے غافل نہیں ہوئی، اس وقت صرف آپ حضرات کے سامنے اُمتِ محمدیہ علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام میں سے ختمِ نبوّت کے تحفظ کا اِعزازِ اَوّلیت حاصل کرنے والوں کا ایک سرسری اور اِجمالی خاکہ پیش کیا جاتا ہے۔

سب سے پہلے محافظِ ختمِ نبوّت:

حضرت سیّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو یہ شرف حاصل ہے کہ آپ جہاں پہلے صحابیٔ رسول اور پہلے خلیفۂ اِسلام تھے، وہاں آپ پہلے محافظِ ختمِ نبوّت ہیں، جنھوں نے سب سے پہلے سرکاری اور حکومتی سطح پر عقیدۂ ختمِ نبوّت کی پاسبانی کرکے منکرینِ ختمِ نبوّت کا اِستیصال کیا۔

28

ختمِ نبوّت کے پہلے مجاہد:

حضرت ابو مسلم خولانی رضی اللہ عنہ جن کا نام عبداللہ بن ثوب ہے اور یہ اُمتِ محمدیہ (علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام) کے وہ جلیل القدر بزرگ ہیں جن کے لئے اللہ تعالیٰ نے آگ کو اسی طرح بے اثر فرمادیا جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لئے آتشِ نمرود کو گلزار بنادیا تھا۔ یہ یمن میں پیدا ہوئے تھے اور سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدِ مبارک ہی میں اسلام لاچکے تھے، لیکن سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضری کا موقع نہیں ملا تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ کے آخری دور میں یمن میں نبوّت کا جھوٹا دعوے دار اَسوَد عنسی پیدا ہوا، جو لوگوں کو اپنی جھوٹی نبوّت پر اِیمان لانے کے لئے مجبور کیا کرتا تھا۔

اسی دوران اس نے حضرت ابو مسلم خولانی رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیج کر اپنے پاس بلایا اور اپنی نبوّت پر اِیمان لانے کی دعوت دی، حضرت ابو مسلمؓ نے انکار کیا، پھر اس نے پوچھا کہ: ’’کیا تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر اِیمان رکھتے ہو؟‘‘ حضرت ابومسلمؓ نے فرمایا: ’’ہاں!‘‘۔

اس پر اَسوَد عنسی نے ایک خوفناک آگ دہکائی اور حضرت ابو مسلمؓ کو اس آگ میں ڈال دیا، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے آگ کو بے اثر فرمادیا اور وہ اس سے صحیح سلامت نکل آئے۔ یہ واقعہ اتنا عجیب تھا کہ اَسوَد عنسی اور اس کے رُفقاء پر ہیبت طاری ہوگئی اور اَسوَد کے ساتھیوں نے اسے مشورہ دیا کہ ان کو جلاوطن کردو، ورنہ خطرہ ہے کہ ان کی وجہ سے تمہارے پیروؤں کے ایمان میں تزلزل نہ آجائے، چنانچہ انہیں یمن سے جلاوطن کردیا گیا۔

یمن سے نکل کر ایک ہی جائے پناہ تھی، یعنی مدینہ منوّرہ، چنانچہ یہ سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کے لئے چلے، لیکن جب مدینہ

29

منوّرہ پہنچے تو معلوم ہوا کہ آفتابِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم رُوپوش ہوچکا ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم وصال فرماچکے ہیں اور حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ خلیفہ بن چکے تھے، انہوں نے اپنی اُونٹنی مسجدِ نبوی (علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام) کے دروازے کے پاس بٹھائی اور اندر آکر ایک ستون کے پیچھے نماز پڑھنی شروع کردی، وہاں حضرت عمر رضی اللہ عنہ موجود تھے، انہوں نے ایک اجنبی مسافر کو نماز پڑھتے دیکھا تو ان کے پاس آئے اور جب وہ نماز سے فارغ ہوگئے تو ان سے پوچھا:

’’آپ کہاں سے آئے ہیں؟‘‘

’’یمن سے!‘‘ حضرت ابو مسلمؓ نے جواب دیا۔

حضرت عمرؓ نے فوراً پوچھا: ’’اللہ کے دُشمن (اَسوَد عنسی) نے ہمارے ایک دوست کو آگ میں ڈال دیا تھا اور آگ نے ان پر کوئی اثر نہیں کیا تھا، بعد میں ان صاحب کے ساتھ اَسوَد نے کیا معاملہ کیا؟‘‘

حضرت ابو مسلمؓ نے فرمایا: ’’ان کا نام عبداللہ بن ثوب ہے‘‘۔

اتنی دیر میں حضرت عمرؓ کی فراست اپنا کام کرچکی تھی، انہوں نے فوراً فرمایا: ’’میں آپ کو قسم دے کر پوچھتا ہوں، کیا آپ ہی وہ صاحب ہیں؟‘‘

حضرت ابو مسلم خولانی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ’’جی ہاں!‘‘

حضرت عمرؓ نے یہ سن کر فرطِ مسرّت و محبت سے ان کی پیشانی کو بوسہ دیا اور انہیں لے کر حضرت صدیقِ اکبرؓ کی خدمت میں پہنچے، انہیں صدیقِ اکبرؓ کے اور اپنے درمیان بٹھایا اور فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے مجھے موت سے پہلے اُمتِ محمدیہ (علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام) کے اس شخص کی زیارت کرادی جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام جیسا معاملہ فرمایا تھا۔‘‘

(حلیۃ الاولیاء لابی نعیم رحمہ اللہ ج:۲ ص:۱۲۹، تہذیب تاریخ ابن عساکر ج:۷ ص:۳۱۵)

30

پہلے غازیٔ ختمِ نبوّت:

حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری زمانۂ حیات میں یمن وغیرہ کے نگران حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ تھے، اَسوَد عنسی نے دعویٔ نبوّت کیا اور اپنا جتھہ بنالیا، حضرت فیروز دیلمی رضی اللہ عنہ کو یہ شرف حاصل ہے کہ آپ نے اَسوَد عنسی کو قتل کیا، اس لحاظ سے حضرت فیروز دیلمی رضی اللہ عنہ پہلے غازیٔ ختمِ نبوّت ہیں۔

پہلے شہیدِ ختمِ نبوّت:

حضرت حبیب بن زید رضی اللہ عنہ کو مسیلمہ کذّاب کے لوگ پکڑ کر لے گئے، مسیلمہ کذّاب نے حضرت حبیبؓ سے پوچھا کہ: ’’کیا آپ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رَبّ العزّت کا رسول مانتے ہیں؟‘‘ جواب دیا: ’’ہاں مانتا ہوں!‘‘ مسیلمہ نے دُوسرا سوال کیا کہ: ’’کیا تم مجھے رسول مانتے ہو؟‘‘ جواب میں اس صحابیٔ رسول نے ارشاد فرمایا: ’’ان فی اذنی صمًّا عن سماع ما تقول‘‘ میرے کان تیری اس بات (دعویٔ نبوّت) کو سننے سے انکار کرتے ہیں۔

مسیلمہ نے اس صحابیٔ رسول کا ایک بازُو کاٹنے کا حکم دیا، جو کاٹ دیا گیا، مسیلمہ نے اپنا سوال دُہرایا مگر جواب وہی ملا، پھر دُوسرا ہاتھ کاٹا گیا، مگر سوال دُہرانے پر جواب حسبِ سابق تھا، حتیٰ کہ حضرت حبیب بن زید رضی اللہ عنہ کے جسم مبارک کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے انہیں شہید کردیا گیا مگر ختمِ نبوّت کے اس سب سے پہلے شہید نے جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کے بعد کسی اور کے لئے رسالت و نبوّت کا جملہ سننے کے لئے اپنے کانوں کو آمادہ نہیں پایا۔

(الاستیعاب)

سب سے پہلے اَسیرِ ختمِ نبوّت:

حضرت عبداللہ بن وہب الاسلمی رضی اللہ عنہ صحابیٔ رسول ہیں، آنحضرت صلی

31

اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت عمان میں تھے، خبر سن کر روانہ ہوئے، راستے میں مسیلمہ کذّاب نے ان کو گرفتار کرلیا، اس نے اپنی نبوّت آپ پر پیش کی تو آپ نے تسلیم کرنے سے انکار کردیا، مسیلمہ کذّاب نے اس جرم (ختمِ نبوّت پر ثابت قدمی) میں ان کو جیل میں ڈال دیا۔ جب حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے مسیلمہ کذّاب پر حملہ کیا تو حضرت عبداللہ بن وہب الاسلمیؓ جیل سے نکل کر حضرت خالدؓ کے لشکر کے اس حصے میں جاکر شاملِ جہاد ہوئے جو حضرت اُسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کی کمان میں جنگ کر رہا تھا۔ اس لحاظ سے حضرت عبداللہ بن وہب رضی اللہ عنہ کو ختمِ نبوّت کی خاطر سب سے پہلے گرفتار ہونے کی سعادت حاصل ہے۔

(طبقات ابنِ سعد حصہ چہارم ص:۴۴۶ اُردو)

عہدِ نبوّت میں ختمِ نبوّت کی پہلی جنگ

اور پہلے لشکر کے سپہ سالار:

طلیحہ اسدی نے رحمتِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری زمانۂ حیات میں نبوّت کا دعویٰ کیا، ہزارہا لوگ اس کے گرد جمع ہوگئے، اس نے اپنے ایک قاصد حیال کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیج کر اپنی نبوّت منوانے کی دعوت دی، طلیحہ اسدی کے قاصد کی بات سن کر رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت فکر دامن گیر ہوئی، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تحفظِ ختمِ نبوّت کی پہلی جنگ کے لئے پہلے سپہ سالار کے طور پر اپنے صحابی حضرت ضرار بن ازور رضی اللہ عنہ کا انتخاب فرمایا اور ان قبائل و عمال کے پاس جہاد کی تحریک کے لئے روانہ فرمایا جو طلیحہ کے قریب میں واقع تھے، حضرت ضرارؓ نے علی بن اسد سنان بن ابو سنان اور قبیلہ قصنا اور قبیلہ بنو ورتا وغیرہ کے پاس پہنچ کر ان کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام سنایا اور طلیحہ اسدی کے خلاف فوج کشی اور جہاد کی ترغیب دی۔ انہوں نے لبیک کہا اور حضرت ضرارؓ کی قیادت میں ایک لشکر تیار

32

ہوکر واردات کے مقام پر پہنچا، دُشمن کو پتا چلا، انہوں نے حملہ کیا جنگ شروع ہوئی، لشکرِ اسلام اور فوجِ محمدی نے ان کو ناکوں چنے چبوادئیے، مظفر و منصور واپس ہوئے، ابھی حضرت ضرارؓ مدینہ منوّرہ کے راستے میں تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال مبارک ہوگیا۔

(اَئمۂ تلبیس ج:۱ ص:۱۷)

عہدِ صدیقی میں تحفظِ ختمِ نبوّت کی پہلی جنگ:

حضرت سیّدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کے عہدِ خلافت میں ختمِ نبوّت کے تحفظ کی پہلی جنگ یمامہ کے میدان میں مسیلمہ کذّاب کے خلاف لڑی گئی۔ اس جنگ میں سب سے پہلے حضرت عکرمہ، پھر حضرت شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہما اور آخر میں حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں کے لشکر کی کمان فرمائی۔ اس پہلے معرکۂ ختمِ نبوّت میں بارہ سو صحابہ کرام و تابعین شہید ہوئے، جن میں سات سو قرآن مجید کے حافظ و قاری اور ستر بدری صحابہ تھے۔ مسیلمہ کذّاب کا لشکر چالیس ہزار پر مشتمل تھا، جس میں سے بائیس ہزار مسیلمی میدانِ جنگ میں ڈھیر ہوئے، حضرت صدیقِ اکبرؓ نے حضرت خالد بن ولیدؓ کو لکھا کہ مسیلمہ کذّاب کی پارٹی کے تمام بالغ افراد کو بجرمِ اِرتداد قتل کردیا جائے، عورتیں اور کم سن لڑکے قیدی بنائے جائیں اور ایک روایت (البدایہ والنہایہ ج:۶ ص:۳۱۰ اور طبری تاریخ الامم والملوک کی ج:۲ ص:۴۸۲) کے مطابق مرتدین کے اِحراق کا بھی حضرت صدیقِ اکبرؓ نے حکم فرمایا، لیکن آپ کا فرمان پہنچنے سے قبل حضرت خالد بن ولیدؓ معاہدہ کرچکے تھے۔ مسیلمہ کذّاب کو حضرت وحشی رضی اللہ عنہ نے قتل کیا تھا۔ اور ’’بدایہ‘‘ کی روایت کے مطابق طلیحہ کے بعض ماننے والوں کو بزاخہ میں قیام کے دوران ایک ماہ تک تلاش کرتے رہے تاکہ آپ ان سے مسلمانوں کے قتل کا بدلہ لیں، جن کو انہوں نے اپنے اِرتداد کے زمانے میں اپنے درمیان رہتے ہوئے قتل کردیا تھا۔ ان میں سے بعض (طلیحی مرتدین) کو آپ نے

33

آگ سے جلادیا اور بعض کو پتھروں سے کچل دیا اور بعض کو پہاڑوں کی چوٹیوں سے نیچے گرادیا۔ یہ سب کچھ آپ نے اس لئے کیا تاکہ مرتدینِ عرب کے حالات سننے والا ان سے عبرت حاصل کرے۔

(البدایہ ج:۶ ص:۱۱۶۶ اُردو ترجمہ مطبوعہ نفیس اکیڈمی، کراچی)

سب سے آخری خبر:

جب حضرت فیروز دیلمی رضی اللہ عنہ نے اَسوَد عنسی کو قتل کیا، تو رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی کے ذریعے حضرت فیروز دیلمیؓ کی کامیابی اور اَسوَد عنسی کے قتل کی خبر دی گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خبر سن کر خوشی و انبساط کا اظہار فرمایا، اس دُنیا سے تشریف لے جاتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی کے ذریعے سب سے آخری غیرملکی خبر جو سماعت فرمائی وہ ایک جھوٹے مدعیٔ نبوّت اَسوَد عنسی کے قتل کی خبر تھی۔

سب سے پہلی بشارت:

حضرت سیّدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ جب مسند آرائے خلافت ہوئے تو آپ حضرت اُسامہ رضی اللہ عنہ کے لشکر کو روانہ فرما رہے تھے کہ آپ کو یمن سے اَسوَد عنسی کے قتل کی تفصیلات پر مشتمل بشارت پہنچی۔ اس لحاظ سے حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کو خلافت سنبھالتے ہی سب سے پہلی جو غیرملکی بشارت سنائی گئی وہ جھوٹے مدعیٔ نبوّت اَسوَد عنسی کے قتل کی تھی۔

پہلا حسنِ اِتفاق:

اَسوَد عنسی کے قتل کی بذریعہ وحی رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری خبر سنی اور صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ نے یہی خبر بذریعہ قاصد خلافت سنبھالتے ہی سب سے پہلے سنی، گویا یہ پہلا حسنِ اتفاق تھا کہ جس معاملے پر رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے

34

اپنے کام کا اِختتام فرمایا، حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ نے وہاں سے اپنے کام کی ابتدا فرمائی، فالحمد ﷲ!

سب سے پہلی غیبی تصدیق:

نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ زید بن خارجہ رضی اللہ عنہ انصار کے سرداروں میں سے تھے، ایک روز مدینہ طیبہ کے کسی راستے میں چل رہے تھے کہ یکایک زمین پر گرے اور فوراً وفات ہوگئی، انصار کو اس کی خبر ہوئی تو ان کو وہاں سے جاکر اُٹھایا اور گھر لائے اور چاروں طرف سے ڈھانپ دیا۔ گھر میں کچھ انصاری عورتیں تھیں جو ان کی وفات پر گریہ زاری میں مبتلا تھیں اور کچھ مرد جمع تھے۔ اسی طرح جب مغرب و عشاء کا درمیانی وقت آیا تو اچانک ایک آواز سنی کہ: ’’چپ رہو! چپ رہو‘‘ لوگ متحیر ہوکر اِدھر اُدھر دیکھنے لگے، تحقیق سے معلوم ہوا کہ یہ آواز اسی چادر کے نیچے سے آرہی ہے جس میں میّت ہے، یہ دیکھ کر لوگوں نے ان کا منہ کھول دیا، اس وقت یہ دیکھا گیا کہ زید بن خارجہ رضی اللہ عنہ کی زبان سے یہ آواز نکل رہی ہے کہ: ’’محمد رسول اﷲ النبی الأُمّی خاتم النبیّین لا نبی بعدہ ۔۔۔۔ الخ‘‘ یعنی: ’’محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں اور نبیٔ اُمی ہیں، جو انبیاء کے ختم کرنے والے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں ہوسکتا۔‘‘

(از کتاب ’’ختمِ نبوّت کامل‘‘ مفتی محمد شفیع صاحبؒ ص:۲۷۷)

مولانا سیّد محمد انور شاہ کشمیریؒ:

مولانا محمد صاحب نے مزید فرمایا کہ: مقدمۂ بہاولپور میں شمس مرزائی نے علماء پر یہ اِعتراض کیا تھا کہ دیوبندی بریلویوں کو اور بریلوی دیوبندیوں کو کافر کہتے ہیں۔ حضرت مولانا محمد انور شاہؒ نے جواب دیا کہ: جج صاحب! لکھو: میں تمام علمائے دیوبند کی طرف سے اور جو حضرات یہاں موجود ہیں ان سب کی طرف سے وکیل ہوکر

35

کہتا ہوں کہ ہم بریلویوں کی تکفیر نہیں کرتے۔ اور فرمایا کہ: بریلوی حضرات جو علمِ غیب کے بارے میں تأویلات کرتے ہیں، کچھ نصوص ایسی ہیں جو ان معانی کی موہم ہیں، نیز ان معانی کی طرف سلف صالحین میں سے بھی بعض حضرات گئے ہیں، لیکن مرزائی جو تأویل کرتے ہیں، اس معنی کی مؤید کوئی نص نہیں ملتی اور نہ سلف میں سے اس معنی کی طرف کوئی گیا ہے۔

مرزائی کا غلط اِستدلال:

شمس مرزائی نے اعتراض کیا کہ فقہاء نے لکھا ہے کہ اگر کسی کے کلام میں نناوے اِحتمال کفر کے ہوں اور ایک اِحتمال ایمان کا ہو تو اس کے کفر پر فتویٰ نہ دیا جائے گا۔ حضرت شاہ صاحبؒ نے فرمایا: جج صاحب! نوٹ کریں، یہ دھوکا دے رہے ہیں، فقہاء نے لکھا ہے کہ اگر کسی شخص کا تقویٰ، طہارت اور اس کی صالحیت معلوم ہو اور مُسلَّم ہو تو وہ مرجائے اور اُس کے کلام میں کوئی ایسا کلام ہو جس میں ننانوے اِحتمال کفر کے اور ایک اِحتمال ایمان کا ہو تو اس پر کفر کا فتویٰ دینے میں احتیاط کی جائے۔ لیکن اگر کسی شخص کا فاجر و فاسق ہونا معلوم ہو، اس کے عقائد کفریہ سینکڑوں جگہ تصریح کے ساتھ موجود ہوں، تو وہاں اُس کا وہی معنی لیا جائے گا جو اس کا دُوسرا کلام تشریح کر رہا ہے۔

حضرت شاہ صاحبؒ کی دینی حمیت:

فتنۂ قادیانیت کے ہی سلسلے میں ایک واقعہ حضرت سیّد انور شاہ صاحبؒ کے جلال کا بھی سن لیجئے، دورۂ حدیث کے ہمارے ہم سبق طلبہ میں ضلع اعظم گڑھ کے بھی چند حضرات تھے، اسی زمانے میں ضلع اعظم گڑھ کے ایک صاحب جو قادیانی تھے سہارنپور میں حکومت کے کسی بڑے عہدے پر آگئے، وہ ایک دن اپنے ہم ضلع اعظم گڑھی طلبہ سے ملنے کے لئے (لیکن فی الحقیقت ان کو جال میں پھانسنے کے لئے)

36

دارالعلوم آئے، ان طلباء نے اُن کی اچھی خاطر مدارات کی، وہ شکار کے بہانے ان میں سے بعض کو اپنے ساتھ بھی لے گئے، جو رات کو دارالعلوم واپس آئے، حضرت شاہ صاحبؒ کو کسی طرح اس واقعے کی اطلاع ہوگئی، حضرت کو ان طلبہ کی اس دِینی بے حمیّتی سے سخت قلبی اذیت ہوئی، ان طلبہ کو اس کا علم ہوا تو ان میں سے ایک سعادت مند طالب علم غالباً معافی مانگنے کے لئے حضرت کی خدمت میں پہنچ گیا، حضرت پر جلال کی کیفیت طاری تھی، قریب میں چھڑی رکھی تھی، اس سے ان کی خوب پٹائی کی (یہ فاروقی شدّت فی امر اللہ کا ظہور تھا)۔ ہمارے وہ ہم سبق طالب علم بڑے خوش اور مسرور تھے اور اس پر فخر کرتے تھے کہ ایک غلطی پر حضرت شاہ صاحبؒ کے ہاتھ سے پٹنے کی سعادت ان کو نصیب ہوئی۔ جو حضرتؒ کے ہزاروں شاگردوں میں سے غالباً کسی کو نصیب نہ ہوئی ہوگی، کیونکہ حضرت فطری طور پر بہت ہی نرم مزاج تھے، ہم نے کبھی ان کو غصّے کی حالت میں نہیں دیکھا۔

حضرت شاہ صاحبؒ کی کرامت:

آخر میں اپنا ایک ذاتی واقعہ ذکر کرنا بھی مناسب سمجھتا ہوں، میرے اصل آبائی وطن سنبھل سے قریباً پندرہ میل کے فاصلے پر ایک موضع ہے، اس موضع میں چند دولت مند گھرانے تھے، والد ماجد رحمۃ اللہ علیہ سے ان لوگوں کے تجارتی اور کاروباری تعلقات تھے، جس کی وجہ سے ان کی آمد و رفت رہتی تھی، میں جب شعبان ۱۳۴۵ھ کے اَواخر میں دارالعلوم کی تعلیم سے فارغ ہوکر مکان پہنچا تو میرے بڑے بھائی صاحب نے بتلایا کہ اس موضع والوں کے کوئی رشتہ دار امروہہ میں ہیں جو قادیانی ہیں، معلوم ہوا ہے کہ وہ برابر وہاں آتے ہیں اور قادیانیت کی تبلیغ کرتے ہیں اور دعوت دیتے ہیں اور لوگ متأثر ہو رہے ہیں اور سنا ہے کہ اس کا خطرہ ہے کہ بعض لوگ قادیانی ہوجائیں۔ میں نے عرض کیا کہ: وہاں چلنا چاہئے، آپ پروگرام بنائیے!

37

(میرے یہ بھائی صاحب مرحوم عالم تو نہیں تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے دِین کی بڑی فکر عطا فرمائی تھی)۔ چند روز کے بعد انہوں نے بتلایا کہ معلوم ہوا ہے کہ امروہہ کا وہ قادیانی (جس کا نام عبدالسمیع تھا) فلاں دن آنے والا ہے۔ بھائی صاحب نے اس سے ایک دن پہلے پہنچنے کا پروگرام بنایا۔ رمضان المبارک کا مہینہ تھا، ہم اپنے پروگرام کے مطابق پہنچ گئے، لوگوں سے ہم نے باتیں کیں تو اندازہ ہوا کہ بعض لوگ بہت متأثر ہوچکے ہیں، بس اتنی ہی کسر ہے کہ ابھی باقاعدہ قادیانی نہیں ہوئے ہیں۔ جب ہم نے قادیانیت کے بارے میں ان لوگوں سے گفتگو کی تو انہوں نے بتلایا کہ امروہہ سے عبدالسمیع صاحب آنے والے ہیں، آپ ان کے سامنے یہ باتیں کریں۔ ہم نے کہا: یہ تو بہت ہی اچھا ہے، ہم ان سے بھی بات کریں گے اور ان کو بھی بتلائیں گے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کیسا آدمی تھا اور اس کو نبی ماننا گمراہی کے علاوہ کتنی بڑی حماقت ہے۔ اس گفتگو ہی کے درمیان وہاں کے ایک صاحب نے (جو کچھ پڑھے لکھے) اور عبدالسمیع کی باتوں سے زیادہ متأثر تھے بتلایا کہ: وہ تو مولانا عبدالشکور صاحب لکھنوی سے مناظرہ کرچکا ہے اور امروہہ کے سب بڑے بڑے عالموں سے بحث کرچکا ہے اور سب کو لاجواب کرچکا ہے۔

واقعہ یہ ہے کہ یہ بات سن کر میں بڑی فکر میں پڑگیا اور دِل میں خطرہ پیدا ہوا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اپنی تجربہ کاری اور چرب زبانی سے لوگوں کو متأثر کرلے، میں نے دُعا کی کہ اللہ تعالیٰ میری مدد اور انجام بخیر فرمائے۔ میں اسی حال میں سوگیا، خواب میں حضرتِ اُستاذ قدس سرہٗ کو دیکھا، آپ نے کچھ فرمایا جس سے دِل میں اعتماد اور یقین پیدا ہوگیا کہ بڑے سے بڑا کوئی قادیانی مناظر آجائے تب بھی میرے ذریعے اللہ تعالیٰ حق کو غالب اور اس کو مغلوب فرمائے گا۔ اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی تو الحمدللہ میرے دِل میں وہی یقین و اعتماد تھا، لیکن امروہہ سے وہ قادیانی عبدالسمیع نہیں آیا، ہم نے کہا کہ اب جب کبھی وہ آئے تو ہم کو اِطلاع دیجو، ہم

38

اِن شاء اللہ آئیں گے۔ اس کے بعد ہم نے لوگوں کو بتلایا اور سمجھایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوّت کا دعویٰ کرنا یا کسی دعویٰ کرنے والے کو نبی ماننا صریح کفر و اِرتداد ہے اور مرزا قادیانی کے بارے میں بتلایا کہ وہ کیسا آدمی تھا۔ ہم بفضلہ تعالیٰ وہاں سے اطمینان کے ساتھ واپس ہوئے کہ اِن شاء اللہ اب یہاں کے لوگ اس قادیانی کے جال میں نہیں آئیں گے، خواب میں اللہ تعالیٰ نے جو کچھ مجھے دِکھایا اس کو میں نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بشارت اور حضرت شاہ صاحبؒ کی کرامت سمجھا۔

خواجہ غلام فریدؒ کے نزدیک مرزا کی حیثیت:

مقدمۂ بہاولپور میں شمس مرزائی نے یہ بات اُٹھائی کہ خواجہ غلام فرید صاحب چاچڑوی نے مرزا صاحب کی تعریف کی ہے اور ان کی وہ عبارت پیش کی جہاں خواجہ صاحب نے لکھا ہے کہ وہ صالح اور متقی اور دِین کا خدمت گزار ہے۔ میں چونکہ مختار تھا، میں نے کہا: جج صاحب! عدالت کا وقت ختم ہوگیا ہے۔ چنانچہ عدالت برخاست ہوئی۔ دُوسرے دن ہم کتابوں سے خود مرزا صاحب کی عبارت تلاش کرکے لائے، اس نے لکھا تھا کہ مجھے فلاں فلاں آدمی کافر اور مرتد کہتے تھے اور ان میں چوتھے نمبر پر خواجہ غلام فریدؒ کا نام تھا۔ ہم نے جب یہ عبارت پیش کی، جج صاحب خوشی سے اُچھل پڑے۔ پہلے روز شمس کے حوالے سے سارے شہر میں کہرام مچ گیا کیونکہ وہ لوگ خواجہ صاحب کے بہت معتقد تھے اور نواب صاحب بہاولپور بھی ان کے مرید تھے، اس پر حضرتِ اقدسؒ نے فرمایا کہ: خواجہ صاحب نے تعریفی کلمات پہلے کبھی فرمائے ہوں گے (یعنی مرزا کے دعویٔ نبوّت سے پہلے)۔ مولانا محمد علی صاحب جالندھری نے عرض کیا کہ: اُوچ شریف میں مرزا صاحب کا ایک مرید غلام احمد نام کا تھا، وہ خواجہ صاحب کے سامنے مرزا کی ہمیشہ تعریف کیا کرتا تھا اور کہتا تھا کہ: وہ شخص آریہ، ہندو، سکھوں، عیسائیوں سے مناظرہ کرتا ہے اور اِسلام کا بڑا خدمت گزار ہے۔

39

اس پر خواجہ صاحب چونکہ خالی الذہن تھے، بعض تعریفی کلمات کہہ دئیے تھے۔

مرزائی کا فرار:

شمس مرزائی نے سروَر شاہ کشمیری کو خط لکھا تھا کہ: شاہ صاحب (مولانا محمد انور شاہؒ) سے مقابلہ ہے، تم یہاں آجاؤ۔ حضرت شاہ صاحب کو جب معلوم ہوا تو فرمایا: وہ لعین نہیں آئے گا۔ شاہ صاحب اُس پر بہت ناراض تھے اور فرماتے تھے کہ اُس نے اپنے والد کو بھی مرتد کیا۔ اُس کے والد نے مرتے وقت اُس کو کہا کہ: سرور! تو نے مجھے بھی مرتد کیا، دِین تو وہی حق ہے جو دِینِ محمدی ہے۔ بعد میں معلوم نہیں توبہ کی یا نہیں کی۔ چنانچہ جیسا شاہ صاحب نے فرمایا تھا ایسا ہی ہوا، سرور شاہ نے آنے سے انکار کردیا۔

حضرت شاہ صاحبؒ کی قوتِ حافظہ:

جب حضرت شاہ صاحبؒ جج کے سامنے پیش ہوئے تو فرمایا کہ: جج صاحب! لکھو کہ تواتر کی کئی اقسام ہیں اور ہر ایک قسم کے تواتر کا منکر کافر ہے۔ مرزا غلام احمد نے ہر ایک قسم کے تواتر کا انکار کیا ہے، لہٰذا وہ کافر ہے۔ دُوسرے روز مرزائیوں کے وکیل شمس مرزائی نے ’’مسلم الثبوت‘‘ کی شرح بحر العلوم کا حوالہ دے کر بیان کیا کہ شاہ صاحب نے کہا ہے کہ تواتر کے اقسام میں سے ایک ’’تواترِ معنوی‘‘ بھی ہے اور فرمایا ہے کہ ہر قسم کے تواتر کا منکر کافر ہے، حالانکہ اِمام فخرالدین رازی نے تواترِ معنوی کا انکار کیا ہے۔ اور کتاب کا حوالہ پیش کیا۔ مولانا محمد انوری صاحب نے فرمایا کہ: ہم لوگ بڑے گھبرائے کیونکہ ہمارے پاس اتفاق سے وہ کتاب بھی نہ تھی، حضرت شاہ صاحبؒ نے فرمایا: ’’جج صاحب! لکھئے: میں نے بتیس سال ہوئے یہ کتاب دیکھی تھی، اب ہمارے پاس یہ کتاب موجود نہیں، اِمام رازیؒ نے یہ لکھا ہے کہ یہ جو حدیث ہے: ’’لَا تَجْتَمِعُ أُمَّتِیْ عَلَی الضَّـلَّالَۃ‘‘ یہ تواترِ معنوی کے رُتبے کو

40

نہیں پہنچتی، انہوں نے صرف اس حدیث کے تواترِ معنوی کا انکار کیا ہے، نہ یہ کہ وہ سرے سے تواترِ معنوی کے حجت ہونے کے منکر ہیں۔ مولانا عبداللطیف صاحب ناظم مظاہرالعلوم سہارنپور اور مولانا مرتضیٰ حسن صاحب جو اس مجلس میں موجود تھے اور حیران تھے کہ کیا جواب دیں گے، سن کر حیران رہ گئے۔ پھر شاہ صاحب نے فرمایا کہ: ان صاحب نے حوالہ پیش کرنے میں دھوکے سے کام لیا ہے، اسے کہئے کہ عبارت پڑھے ورنہ میں اس سے کتاب لے کر عبارت پڑھتا ہوں۔ چنانچہ قادیانی شاہد نے کتاب پڑھی، بعینہٖ وہی عبارت نکلی جو حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے پہلے حفظ پڑھی تھی، جج خوشی سے اُچھل پڑا۔ اعلیٰ حضرت مولانا غلام محمد دین پوریؒ جو وہاں موجود تھے ان کا چہرہ مبارک خوشی سے ِکھل گیا۔

عقیدۂ ختمِ نبوّت کے تحفظ کی ضرورت:

فیروزپور میں مرزائیوں کے ساتھ ایک مناظر طے پایا اور عام مسلمانوں نے جو فنِ مناظرہ سے ناواقف تھے، مرزائیوں کے ساتھ بعض ایسی شرائط پر مناظرہ طے کرلیا جو مسلمان مناظرین کے لئے خاصی پریشان کن ہوسکتی تھیں۔ دارالعلوم دیوبند کے اس وقت کے صدر مہتمم حضرت مولانا حبیب الرحمن رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت شاہ صاحبؒ کے مشورے سے مناظرے کے لئے مولانا سیّد مرتضیٰ حسن چاندپوری، حضرت مولانا سیّد محمد بدرِ عالم میرٹھی، حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب، حضرت مولانا محمد اِدریس کاندھلوی تجویز ہوئے۔ یہ حضرات جب فیروزپور پہنچے تو مرزائیوں کی شرائط کا علم ہوا کہ انہوں نے کس طرح دجل سے من مانی شرائط سے مسلمانوں کو جکڑ لیا ہے، اب دو ہی صورتیں تھیں کہ یا تو ان شرائط پر مناظرہ کیا جائے یا پھر اِنکار کردیا جائے، پہلی صورت مضر تھی اور دُوسری صورت مسلمانانِ فیروزپور کے لئے سبکی کا باعث ہوسکتی تھی کہ دیکھو تمہارے مناظر بھاگ گئے، انجامِ کار انہی شرائط پر مناظرہ کرنا منظور کرلیا

41

گیا اور حضرت شاہ صاحبؒ کو تار دے دیا گیا۔ اگلے روز وقتِ مقرّرہ پر مناظرہ شروع ہوگیا اور عین اُسی وقت دیکھا گیا کہ حضرت شاہ صاحبؒ بہ نفسِ نفیس حضرت علامہ شبیر احمد عثمانی رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ تشریف لا رہے ہیں۔ انہوں نے آتے ہی اعلان فرمایا کہ جائیے ان لوگوں سے کہہ دیجئے کہ تم نے جتنی شرائط مسلمانوں سے منوالی ہیں، اتنی شرائط اور من مانی لکھوالو، ہماری طرف سے کوئی شرط نہیں، مناظرہ کرو اور خدا کی قدرت کا تماشا دیکھو! چنانچہ اسی بات کا اعلان کردیا گیا اور مفتی صاحب، مولانا محمد اِدریس کاندھلوی اور مولانا سیّد بدرِ عالم صاحب نے مناظرہ کیا، اس میں مرزائیوں کی جو دُرگت بنی اس کی گواہی آج بھی فیروزپور کے دَر و دیوار دے سکتے ہیں۔ مناظرے کے بعد شہر میں جلسۂ عام ہوا، جس میں حضرت شاہ صاحب اور شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانی نے تقریریں کیں۔ یہ تقریریں فیروزپور کی تاریخ میں یادگارِ خاص کی حیثیت رکھتی ہیں، بہت سے لوگ جو قادیانی دجل کا شکار ہوچکے تھے، اس مناظرے اور جلسے کے بعد اِسلام پر واپس لوٹ آئے۔

حضرت مولانا سیّد انور شاہ صاحب رحمہ اللہ کی زندگی کا اہم ترین مقصد تحفظِ ختمِ نبوّت تھا، آپ کے شاگردِ رشید حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب فرماتے ہیں کہ: ایک دفعہ آپ قادیان تشریف لے گئے، مسجد میں مغموم بیٹھے تھے، دردِ دِل کے ساتھ آہ بھری اور فرمایا: شفیع! ہماری تو زندگی ضائع ہوگئی، قیامت کے دن خاتم النبیّین صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا منہ دِکھلائیں گے۔ مفتی صاحب فرماتے ہیں: میں نے عرض کیا: حضرت! دُنیا کا کوئی کونا نہیں جہاں آپ کے شاگرد نہ ہوں، دُنیا آپ کے علم سے سیر ہو رہی ہے، صبح و شام بخاری و مسلم کا سبق پڑھاتے ہیں، بے شمار آپ نے کتابیں تصنیف فرمائی ہیں، اب بھی آپ فرمائیں کہ ہماری زندگی ضائع ہوگئی تو پھر ہمارے جیسوں کا کیا حال ہوگا؟ حضرتؒ نے فرمایا کہ: ساری زندگی ہم وجوہِ ترجیح مذہبِ اَحناف بیان کرتے رہے، حالانکہ اِمام شافعی رحمہ اللہ بھی حق پر ہیں، مسئلہ فاتحہ خلف الامام کو چھیڑے رکھا،

42

حالانکہ ان سے کہیں زیادہ عقیدۂ ختمِ نبوّت کے تحفظ کی ضرورت ہے۔

حضور علیہ السلام کے باغی و دُشمن:

مولانا سیّد محمد انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کی عادت تھی کہ جب کبھی گفتگو یا درس کے دوران مرزا قادیانی کا نام آتا، تو طبیعت میں جلال آجاتا، کذّاب، لعین، مردُود، شقی، بدبختِ اَزَلی، محروم القسمت، دجال، کذّاب، شیطان کہہ کر مرزا کا نام لیتے اور اس پر بددُعائیہ جملے ارشاد فرماکر اس کے قول کو نقل کرتے۔ کسی خادم نے پوچھا: شیخ! آپ جیسا نفیس الطبع آدمی اور جب مرزا قادیانی کا نام آتا ہے تو اس طرح سیخ پا ہوجاتے ہیں؟ اس پر آپ نے فرمایا: میاں! میرا اِیمان ہے کہ جس طرح حضور علیہ السلام سے محبت رکھنی ایمان ہے، اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دُشمنوں سے بغض رکھنا بھی ایمان ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے بڑا دُشمن مرزا بدبخت تھا، اس لئے اس مردُود کو گالی دے کر اس سے جتنا بغض ہوگا، اتنا زیادہ حضور علیہ السلام کا قرب نصیب ہوگا، میں یہ اس لئے کرتا ہوں۔ بھلا تم اپنے باپ کے دُشمن کو اور حکومت اپنے باغیوں کو برداشت نہیں کرتی، تو میں حضور علیہ السلام کے دُشمن کو کس طرح برداشت کرلوں۔۔۔؟

حضرت مولانا خواجہ ابو سعد احمد خانؒ:

حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب فرماتے ہیں کہ: حضرت مولانا حبیب الرحمن لدھیانویؒ، صدر مجلسِ اَحرار نے ایک موقع پر اِرشاد فرمایا کہ: تحریک مسجد شہید گنج کے سلسلے میں پورے ملک سے دو اکابر اولیاء اللہ، ایک حضرتِ اقدس مولانا ابو سعد احمد خانؒ اور دُوسرے حضرتِ اقدس شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ نے ہماری راہ نمائی کی اور تحریک سے کنارہ کش رہنے کا حکم فرمایا۔ حضرتِ اقدس ابوسعد احمد خانؒ بانی خانقاہ

43

سراجیہ نے یہ پیغام بھجوایا تھا کہ مجلسِ اَحرار تحریک مسجد شہید گنج سے علیحدہ رہے اور مرزائیت کی تردید کا کام رُکنے نہ پائے اسے جاری رکھا جائے، اس لئے کہ اگر اِسلام باقی رہے گا تو مسجدیں باقی رہیں گی، اگر اِسلام باقی نہ رہا تو مسجدوں کو کون باقی رہنے دے گا؟

مسجد شہید گنج کے ملبے کے نیچے مجلسِ اَحرار کو دفن کرنے والے انگریز اور قادیانی اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوسکے، اس لئے کہ انگریز کو ملک چھوڑنا پڑا، جبکہ مرزائیت کی تردید کے لئے مستقل ایک جماعت ’’عالمی مجلسِ تحفظِ ختمِ نبوّت پاکستان‘‘ کے نام سے تشکیل پاکر قادیانیت کو ناکوں چنے چبوا رہی ہے۔

شیخ التفسیر حضرت لاہوریؒ:

حضرت مولانا قاضی احسان احمد صاحب شجاع آبادیؒ فرماتے ہیں: بائیس سال ہوئے میرا بایاں بازُو ٹوٹ گیا تھا، جوڑنے کے بعد وہ تقریباً سیدھا رہتا تھا، اس میں لچک نہ تھی، تحریک ختمِ نبوّت ۱۹۵۳ء میں حضرت لاہوری رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ میں بھی ملتان جیل میں تھا، ایک روز حضرت نے فرمایا: ’’قاضی صاحب! نماز آپ پڑھایا کریں‘‘ میں نے معذرت کی کہ: ’’حضرت! میرا یہ بازُو خم نہیں کھاتا، وضو میں بھی مشکل پڑتی ہے اور ہاتھ باندھنے میں بھی۔‘‘ حضرتؒ نے میرا بازُو تھام کر ٹوٹی ہوئی جگہ پر دستِ مبارک پھیر کر دو تین مرتبہ یہ جملہ فرمایا: ’’اچھا! یہ ٹھیک نہیں ہوتا؟‘‘ پھر فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ بہتر کریں گے، ٹھیک ہوجائے گا۔‘‘ اس کے بعد نماز کا وقت آیا، میں وضو کرنے بیٹھا تو بالکل بے دھیانی میں ناک صاف کرنے کے لئے میرا بایاں ہاتھ بے تکلف ناک تک پہنچ گیا، یک دم میرے ذہن میں آیا کہ آج میرا بازُو صحیح کام کرنے لگ گیا ہے، میں نے ہلاجلاکر دیکھا تو وہ صحیح کام کر رہا تھا، یقین ہوگیا کہ یہ حضرت کی توجہ کی برکت اور کرامت کا نتیجہ ہے۔

44

ختمِ نبوّت کے ساتھیوں سے محبت:

مولانا تاج محمود اور مناظرِ اِسلام حضرت مولانا لال حسین صاحب اختر رحمۃ اللہ علیہما، قطبِ دوراں شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی صاحب لاہوری رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر تھے، کچھ ختمِ نبوّت کے ساتھیوں کا تذکرہ آگیا، حضرت لاہوری رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ: ’’میں ختمِ نبوّت کے ساتھیوں سے محبت کرتا ہوں‘‘ اور پھر فرمایا کہ: ’’میں کیا، ان سے تو خود سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم محبت فرماتے ہیں۔‘‘

نوجوانوں کی حوصلہ افزائی:

نوجوانوں کے ساتھ بہت محبت سے ملتے اور قدم قدم پر ان کی حوصلہ افزائی فرماتے تھے، مولانا عبدالستار نیازی کو تحریک ختمِ نبوّت کے دوران پھانسی کی سزا ملی جو بعد میں عمرقید میں تبدیل ہوئی اور پھر آخر رہا ہوگئے۔ مولانا نیازی کہتے ہیں: میری رہائی کے بعد حضرت مولانا لاہوریؒ میرے غریب خانے پر تشریف لائے، آپ کی نشست کا نیچے انتظام کیا ہوا تھا، واپس جانے لگے تو فرمایا: ’’مولانا! اُوپر کے کمرے میں مجھ کو اپنی چارپائی تک بھی لے چلو تاکہ مجھے قدم قدم کا ثواب ملے، میں ایک مجاہد سے ملنے آیا ہوں۔‘‘ مولانا نیازی سے یہ کہہ کر حاضرین کو مخاطب ہوکر فرمانے لگے: حضرات! آپ بھی اپنے آپ کو تلوار کی دھار پر لائیے اور دِل سے کہئے: ’’اِنَّ صَـلَاتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ ِﷲِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ‘‘ ۔

تحفظ ناموسِ رسالت کے لئے صعوبتیں باعثِ راحتِ جاں:

مولانا مجاہدالحسینی بیان کرتے ہیں کہ: ۱۹۵۳ء میں مجھے چند دنوں کے بعد لاہور کے سیاست خانے سے نکال کر ’’بم کیس وارڈ‘‘ میں منتقل کردیا گیا تھا۔ ایک روز اخبارات میں خبر پڑھی کہ ملتان سینٹرل جیل میں شیخ التفسیر حضرت مولاناا حمد علی لاہوریؒ، مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ اور ان کے دیگر ساتھیوں کی حالت

45

یکایک سخت خراب ہوگئی ہے۔

تحریک تحفظِ ختمِ نبوّت میں حصہ لینے والے ان ممتاز راہ نماؤں کو مسلسل قے اور اِسہال کی تکلیف تھی، ڈاکٹر ان حضرات کی جان بچانے کی کوشش کر رہے تھے، چند روز بعد اِطلاع ملی کہ حضرت لاہوری رحمۃ اللہ علیہ کو لاہور جیل میں منتقل کیا جارہا ہے، چنانچہ ایک روز اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ جیل نے (جو حضرت لاہوری کے مرید تھے) مجھے یہ خوش خبری دی کہ حضرت شیخ التفسیر کو بغرضِ علاج لاہور سینٹرل جیل منتقل کیا جارہا ہے، میں نے اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ، ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ اور سپرنٹنڈنٹ جیل مہر محمد حیات سے درخواست کی کہ حضرت لاہوری کو ہمارے وارڈ ’’بم کیس احاطہ‘‘ میں رونق افروز کیا جائے۔

چنانچہ حسبِ پروگرام جب حضرت لاہوریؒ سینٹرل جیل میں منتقل ہوئے تو ’’بم کیس وارڈ‘‘ کو آپ کی ذات سے شرف بخشا گیا، یہ وارڈ تاریخی نوعیت کا حامل تھا، بھگت سنگھ اور دَت وغیرہ تحریکِ آزادی کے جن نوجوانوں نے اسمبلی میں بم پھینک کر انگریزوں کو نقصان پہنچایا تھا، یہ وارڈ ان کے لئے تعمیر کیا گیا تھا اور ’’بم کیس‘‘ کے عنوان سے انہی کے نام موسوم ہوا۔ حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ جب سینٹرل جیل میں تشریف لائے تو کڑکڑاتی گرمی کا سخت موسم تھا، گرمی کی شدّت کے باعث پورا ماحول آتش فشاں تھا! بم کیس وارڈ حضرت کے معتقدین اور مریدوں کی نگاہِ شوق و عقیدت کا مرکز بن گیا۔

نمازِ عصر کے بعد میں نے جیل کے ذمہ دار اَفسروں سے رابطہ قائم کرکے حضرت لاہوریؒ کے لئے چارپائی کا انتظام کرنے کو کہا، کیونکہ تحریک میں حصہ لینے کی پاداش میں گرفتار ہونے والے تمام نظربندوں کے بسترے تپتی زمین کے فرش پر ہی دراز کئے جاتے تھے، ان بستروں کے درمیان جب میں نے حضرت شیخ کی چارپائی بچھائی، تو آپ نے اسے دیکھتے ہی دریافت کیا: ’’یہاں صرف ایک چارپائی کیوں

46

بچھائی گئی ہے؟‘‘ میں نے عرض کیا: ’’یہ حضرت کے لئے ہے!‘‘ آپ نے فرمایا: ’’یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ جاںنثارانِ محمدِ عربی صلی اللہ علیہ وسلم تپتے فرش پر ہوں اور احمد علی ان کے درمیان چارپائی پر آرام کرے۔۔۔؟‘‘

آپ نے یہ چند جملے کچھ اس انداز میں فرمائے کہ حاضرین کی آنکھیں آنسوؤں سے ڈبڈبا گئیں، تعمیلِ ارشاد میں آپ کا بستر خصوصی اہتمام کے ساتھ زمین پر ہی بچھادیا گیا اور پائینتی کی جانب اپنا بستر رکھا تو حضرتؒ نے اسے اپنے ہاتھ سے اُٹھاکر سرہانے کی جانب کردیا۔

نمازِ مغرب کے بعد راقم الحروف نے علیحدگی میں ملتان جیل میں یکایک صحت خراب ہونے کے اسباب معلوم کئے تو حضرت لاہوریؒ نے فرمایا:

’’ایک روز شام کے کھانے کے بعد سب کی حالت غیر ہوگئی، قاضی احسان احمد شجاع آبادی اور ان کے دیگر ساتھیوں نے جیل کے حکام سے جب پُرزور مطالبہ کیا کہ ہمارا طبّی معائنہ ہونا چاہئے اور جیل کی خوراک بند کردینے کا فیصلہ کیا تو ان سب کو مختلف بارکوں میں تبدیل کردیا گیا اور مجھے یہاں سینٹرل جیل لاہور پہنچادیا گیا ہے۔ جیل کے اربابِ اختیار کے بقول اگر ہماری صحت کا بگاڑ غذائی سِمیّت (فوڈ پوائزن) کے باعث تھا تو طبّی معائنہ کرانے میں کیا قباحت تھی؟ اور پھر چند روز کے بعد مختلف جیلوں کے دوسرے نظربندوں نے بھی قے اور اِسہال کی تکلیف کا شکوہ کیا۔‘‘

وسیع پیمانے پر ایک ہی شکایت کا اظہار درحقیقت تحریکِ تحفظِ ختمِ نبوّت کے نظربندوں خصوصاً ممتاز رہنماؤں کے خلاف کسی سازش کا غماز تھا!

حضرت شیخ التفسیر لاہوری رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: ملتان کی تکلیف کے بعد میرے اَعصاب میں کچھ کھچاؤ پیدا ہوگیا ہے اور گھٹنے میں مسلسل درد نے اگرچہ سخت پریشان کر رکھا ہے، لیکن حضرت خاتم النبیّین صلی اللہ علیہ وسلم کی عزّت و ناموس کے تحفظ کے لئے خطرناک صعوبتیں وجۂ سکونِ قلب اور باعثِ راحتِ جاں ہیں۔ مولانا

47

ظفر علی خان نے ہمارے انہی جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے فرمایا تھا:

نہ جب تک کٹ مروں میں خواجۂ یثربﷺ کی عزّت پر

خدا شاہد ہے کامل میرا اِیماں ہو نہیں سکتا!

شیخ التفسیر حضرت لاہوریؒ قریباً ایک ماہ بم کیس وارڈ میں رونق افروز رہے، بعد ازاں وزیر اعلیٰ پنجاب ملک فیروزخاں نے خرابیٔ صحت کی بنا پر حضرتؒ کی رہائی کے اَحکام جاری کردئیے۔ اور پھر زندگی بھر آپ کو صحت و تندرستی کی وہ پہلی حالت نصیب نہ ہوسکی، اسی طرح قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ بھی مسلسل بیمار رہ کر اللہ کو پیارے ہوگئے۔

خدا رحمت کند ایں عاشقانِ پاک طینت را

حضرت خواجہ اللہ بخش تونسویؒ:

پون صدی کی احیائے اسلام کی کامیاب جدوجہد کے بعد ۱۲۶۷ھ میں جب آپؒ نے وصال فرمایا تو آپ کے ناموَر پوتے حجۃ الاسلام حضرت خواجہ اللہ بخش کریم تونسویؒ نے مسندِ اِرشاد سنبھالی اور اپنے جدِ اَمجد کی چلائی ہوئی اسلامی تحریک کو آگے بڑھانے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔

تونسہ شریف میں قائم شدہ قدیم دارالعلوم نے اسلام سے والہانہ محبت رکھنے والے نوجوان پیدا کئے، پھر خود شیرِ قالین بن کر بیٹھ نہیں گئے، بلکہ سلطنتِ مغلیہ کے زوال کے باعث مسلمانانِ برِصغیر پر جو یاس و قنوطیت کا غلبہ ہوگیا تھا اس کے خاتمے کے لئے ہندوستان بھر کے دورے کئے۔

فرنگی سے آپ کو بڑی نفرت تھی، آپ عموماً فرمایا کرتے تھے کہ: ’’سیاہ قلب (انگریز) کے کرتوت سے اگر ہم بچ گئے تو پھر کسی بلا کو ہم منہ نہیں لگائیں گے۔‘‘ فرنگی کا خودکاشتہ پودا آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی علیہ ما علیہ آپ کا ہم عصر تھا، آپ نے

48

اس کے عقائدِ باطلہ کی منظم طریقے سے تردید کی، پورے ملک میں معتقدین کی طرف خصوصی مراسلے جاری کرکے اس کے کفر و اِرتداد سے لوگوں کو آگاہ کیا، خصوصاً متحدہ پنجاب میں تبلیغ و اِرشاد کے ذریعے اس کا ایسا گھیراؤ کیا کہ قادیانی چیلوں کو سکون سے کام کرنا نصیب نہ ہوا، ورنہ نہیں کہا جاسکتا اس طوفانِ بدتمیزی کے اُمتِ مسلمہ پر کیا اثرات مرتب ہوتے۔

حضرت خواجہ حسن نظامی نے اپنی معرکۃ الارا کتاب ’’نظامی بنسری‘‘ میں آپ کی تبلیغی جدوجہد کو شان دار اَلفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کیا ہے، ’’تاریخ مشائخِ چشت‘‘ میں مرقوم ہے:

’’مرزا غلام احمد قادیانی نے اس وقت اپنے عقائد کی ترویج شروع کی اور اکثر علماء کو مباحثے کی دعوت دی، خواجہ اللہ بخش صاحب نے اپنی جگہ بیٹھ کر نہایت سختی کے ساتھ ان فتنوں کی تردید کی اور کوشش کی کہ مسلمانوں کا مذہبی احساس اور وجدان ان گمراہ تحریکوں سے متأثر نہ ہو۔‘‘

(تاریخ مشائخِ چشت ص:۷۲۲)

نصف صدی اپنی بہترین صلاحیتیں اسلام کے نام پر قربان کرکے حضرت خواجہ اللہ بخش تونسوی رحمۃ اللہ علیہ نے ۱۳۱۹ھ میں انتقال فرمایا۔

یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ مرزا نے جب دعویٔ نبوّت کیا تو آپؒ بسترِ علالت پر تھے، لیکن مرزا کا دعویٰ سنتے ہی بسترِ مرگ سے یوں اُٹھ کھڑے ہوئے جیسے کوئی شیر نیند سے بیدار ہوجاتا ہے، زندگی کی آخری سانس تک آپؒ مرزا قادیانی کے خلاف نبرد آزما رہے۔

آپؒ کے وصال کے بعد آپؒ کے صاحبزادے حضرت خواجہ محمود رحیم سلیمانی چشتی نے دردمند دِل کے ساتھ بندگانِ خدا کی خدمت شروع کردی، انتہائی رحم دِل

49

ہوتے ہوئے بھی انگریز دُشمنی آپ کی طبیعت میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی، آپؒ نے پوری قوّت سے قادیانی فتنے کا مقابلہ کیا، آخری وقت اپنے شہرۂ آفاق فرزند خواجہ نظام الدین تونسویؒ کو مخاطب کرکے فرمایا: ’’نظام! میں نہیں ہوں گا، جس روز یہ منحوس فرنگی ہندوستان سے اپنی نحوست لے کر روانہ ہو تو میری قبر پر آکر مبارک باد دینا!‘‘

آپؒ نے اپنے بزرگوں کی طرح قادیانیت کا قلع قمع کرنے میں مقدور بھر کوشش کی۔ اگر مشرقی جانب حضرت غوث الثقلینؒ کا فرزند دلبند حضرت علامہ پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ مرزائیت سے نبرد آزما تھا، تو مغربی طرف پیر پٹھانؒ کا نڈر پوتا قصرِ قادیانیت پر دلائل و برہان سے بمباری کر رہا تھا، آپؒ کے حالات میں ہے کہ آپؒ مثنوی شریف کے ابتدائی درس میں بھی آنجہانی قادیانی کی نہایت سختی سے تردید فرمایا کرتے تھے۔

۱۳۴۸ھ میں آپ کے انتقال کے بعد آپ کے شیر دِل بیٹے حضرت مولانا خواجہ غلام نظام الدین نعیم تونسویؒ مسندِ سلیمانی پر رونق افروز ہوئے، آپؒ نے جس سج دھج اور بے خوفی و جگر داری سے اسلامی نظام کے قیام کی جنگ لڑی اس پر جتنا فخر کیا جائے کم ہے۔ آپ کو خدا نے بے شمار خوبیوں سے مالامال فرمایا تھا، علامہ اقبال نے راجہ حسن اختر اور دیگر مقتدر احباب کو متعدّد مرتبہ فرمایا تھا کہ: ’’یہ تونسہ شریف کے صاحبزادے بہت بلند مقام کے مالک ہیں۔‘‘ آپ کو بھی اپنے بزرگوں کی طرح فرنگی اور اس کے چیلے چانٹوں سے حد درجہ نفرت تھی، مولانا سیّد عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی زبانی روایت ہے کہ جب فرنگی یہاں سے بوریا بستر باندھ کر چلنے لگا تو اپنی پالتو اولاد کو آزادی کے متوالوں کی فہرست دے گیا، جنھوں نے اس کی زندگی اجیرن کر رکھی تھی، ان میں حضرت مولانا غلام نظام الدین تونسویؒ کا نام صفِ اوّل کے رہنماؤں میں تھا۔ جب ۱۹۵۳ء میں تحریکِ ختمِ نبوّت کا آغاز ہوا تو آپ کو ایک لمحے کے لئے بھی چین نہ تھا، مجھے اور دیگر مخلص ساتھیوں کو ساتھ لے کر ملتان میں مقامی مشائخ سے متفقہ لائحہ

50

عمل طے کرنے کے لئے رابطہ قائم کیا، پیر صاحب گولڑہ شریف سے طویل مذاکرات کئے، پھر ملک بھر کا طوفانی دورہ کیا اور لوگوں کو تحریک میں شامل کیا۔

حضرت قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ:

حضرت قاضی جی رحمۃ اللہ علیہ کا ایک واقعہ جسے شیخ عبدالمجید صاحب سابق میونسپل کمشنر شجاع آباد، جو قاضی صاحب کے ساتھ کافی عرصہ ایک بھائی اور دوست کی حیثیت سے رہے ہیں، بیان کرتے ہیں کہ: بیماری کے اَیام میں قاضی صاحب نشتر ہسپتال ملتان میں ڈاکٹر عبدالرؤف کے زیرِ علاج تھے، دوپہر کا وقت تھا، میں جاگ رہا تھا، قاضی صاحب کو نیند آگئی، تھوڑی دیر بعد کیا سنتا ہوں کہ قاضی صاحب بڑی لجاجت سے کہہ رہے ہیں کہ: ’’حضور! میں آپ کی ختمِ نبوّت کی خاطر اتنی بار جیلوں میں گیا ہوں، میں نے ملک کے ذمہ دار حکمرانوں کو قادیانی فتنے سے آگاہ کیا ہے، حضور! یہ سب کچھ میں نے آپ کی خاطر کیا ہے۔‘‘ اس کے تھوڑی دیر کے بعد دُرود شریف پڑھنے لگے، میں یہ سمجھا شاید قاضی صاحب کا آخری وقت ہے، مگر تھوڑی دیر بعد وہ خودبخود بیدار ہوگئے، ہشاش بشاش تھے اور دُرود شریف پڑھ رہے تھے، مجھ سے انہوں نے کوئی بات نہیں کی اور نہ ہی خواب کا واقعہ بتایا۔ اللہ تعالیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کو کروَٹ کروَٹ جنت الفردوس کی نعمتوں سے مالامال فرمائے، آمین۔

قاضی صاحبؒ کے لئے آزمائش:

قاضی صاحبؒ کو گرفتار کرنے رات کے دو بجے پولیس ان کے گھر پہنچی تو قاضی صاحبؒ نے پولیس افسر کو مخاطب کرکے کہا کہ: ’’میں تو کئی روز سے تمہارا اِنتظار کر رہا تھا۔‘‘ ۱۹۶۱ء میں جب اَمیرِ شریعت سیّد عطاء اللہ شاہ بخاریؒ نے رحلت فرمائی تو ان کی جانشینی کے طور پر قاضی صاحبؒ کو مجلس تحفظِ ختمِ نبوّت کا باضابطہ صدر منتخب کرلیا گیا۔ تحریکِ ختمِ نبوّت کی اَسیری کے دنوں میں جیل میں آپؒ کو اپنے والد قاضی محمد امینؒ

51

کی طبیعت کی ناسازی کی اطلاع ملی، روز بروز حالت بگڑتی رہی، بے ہوشی کے دوروں میں بھی شدّت پیدا ہوتی گئی، جب ہوش میں آتے تو دروازے کی طرف دیکھ کر پوچھتے کہ: ’’میرا چاند اِحسان ابھی تک نہیں آیا؟‘‘ پھر بالآخر اسی حالت میں اپنے لختِ جگر کو آخری بار ایک نظر دیکھ لینے کی حسرت پوری کئے بغیر خالقِ کائنات سے جاملے۔

عشقِ رسولؐ اور جیل:

ان کے غیرمتزلزل عزم و ہمت کا ایک اور واقعہ ۱۹۵۴ء میں پیش آیا، مولانا تحریکِ ختمِ نبوّت کے سلسلے میں ملتان جیل میں نظربند تھے، اسی دوران ان کے والد ماجد اِنتقال کرگئے، جیل کے حکام نے مولانا سے کہا کہ: ’’اگر آپ اعلیٰ حکام سے معافی مانگ لیں تو آپ کو رہا کیا جاسکتا ہے اور آپ اپنے والد ماجد بزرگوار کی نمازِ جنازہ میں شرکت کرسکتے ہیں۔‘‘ مولاناؒ نے خشمگیں انداز میں کہا کہ: ’’میں نے یہ جیل رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کے تحفظ کی خاطر قبول کی ہے، آپ یہ چاہتے ہیں کہ میں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھول جاؤں اور والد کی محبت سے متأثر ہوکر آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کو دھوکا دے جاؤں؟ میں عاشقِ رسول ہوں، مجھ پر اس جیسی ہزار مصیبتیں بھی اگر نازل ہوجائیں تو بھی میں اُف نہ کروں گا۔‘‘ جیل کے حکام مولانا کے اس دلیرانہ جواب کو سن کر اپنا سا منہ لے کر رہ گئے۔

رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا جمال بن:

مولاناؒ جب کبھی کسی جلسے یا تقریب میں جاتے تو طلباء کا ایک ہجوم انہیں گھیرلیتا اور ان سے آٹوگراف کا تقاضا کرتا، مولانا نوجوانوں سے بڑی شفقت اور محبت سے پیش آتے تھے، وہ اکثر اپنے آٹوگراف میں یہ شعر لکھتے:

قوی اگر ہو سامنے تو قہر ذُوالجلال بن

غریب گر نظر پڑے رسولﷺ کا جمال بن

52

باپ اور بیٹے کی قربانی:

قاضی صاحبؒ کو یہ سعادت نصیب ہوئی کہ انہوں نے تحریکِ آزادیٔ وطن اور تحریکِ ختمِ نبوّت کے لئے باپ اور بیٹے دونوں کی قربانی دی، جب ان کا اکلوتا بیٹا فوت ہوا تو وہ کلکتہ میں تھے، بیٹے کا منہ بھی نہ دیکھ سکے، جب ان کے والد قاضی محمد امینؒ کا انتقال ہوا تو وہ ختمِ نبوّت کی تحریک میں نظربند تھے اور ان کے جنازے کو کندھا تک نہ دے سکے۔ ایک انسان اس سے زیادہ اور کیا کرسکتا ہے، اس کی عزیز ترین متاع اس کی اولاد ہوتی ہے اور اہم ترین پونجی بزرگوں اور والدین کی شفقت، قاضی صاحبؒ نے یہ دونوں اسلام اور قوم کے نام پر قربان کردیں۔

زندگی کی اہم رات:

عشقِ رسول کی تأثیر تھی کہ کئی منکرینِ ختمِ نبوّت ان کی تبلیغ سے قادیانیت سے نکل کر دوبارہ حلقہ بگوشِ اسلام ہوگئے۔ ایک سی ایس پی افسر جو کوئٹہ ڈویژن کے کمشنر تھے، قاضی صاحبؒ کے دوست تھے، مگر قادیانیت سے متأثر تھے، نہ صرف ان کے دماغ کی تطہیر کی بلکہ ان کو اس کام پر لگادیا کہ ان کا شمار بھی مرزائیت کے بدترین مخالفوں میں ہونے لگا۔ اسی کمشنر نے بہت سے قادیانی دوستوں کو اور ان کو جو قادیانیت سے متأثر تھے، جمع کیا اور پھر قاضی صاحبؒ کو شجاع آباد سے بلایا، قاضی صاحب مرزا غلام احمد کی تصنیفات لے کر کوئٹہ پہنچے، اس مسئلے پر ان سے گفتگو ہوتی رہی، یہاں تک کہ ساری رات کتابوں کے ورق اُلٹتے رہے، حوالوں پر حوالہ دیا جاتا رہا، اِدھر صبح ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے ان کو بھی نورِ ہدایت سے منوّر کردیا اور قاضی صاحب مرحوم اپنی زندگی کی اس قیمتی رات کا اکثر تذکرہ کرتے اور خداوند کریم کا شکر بجالاتے۔

حضرت علامہ اقبالؒ:

مظاہر العلوم سہارنپور کے اُستاذ مولانا محمد اسعد شاہ فرماتے ہیں کہ: سہارنپور

53

محلہ میرکوٹ میں مشہور شیعہ خاندان اور سادات امروہہ کے ایک ممتاز و نمایاں فرد جناب سیّد جعفر عباس مرحوم تھے، انہوں نے یہ واقعہ میرے والد ماجد حضرت مولانا الشاہ محمد اسعداللہ رحمۃ اللہ علیہ ناظمِ اعلیٰ مظاہرالعلوم کو حضرتِ موصوف کے حجرے میں سنایا کہ: ہمارا چچا سیّد آغا حیدر چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے لاہور کے عمائد اور مشاہیر کو کھانے پر مدعو کیا، حضرت علامہ محمد اقبالؒ بھی مدعو تھے، اتفاق سے بلادعوت حکیم نورالدین قادیانی آگئے، کچھ دیر کے بعد حضرت علامہؒ پہنچے تو حکیم نورالدین قادیانی کو دیکھ کر حضرت علامہ مرحوم اتنے سخت برہم ہوئے کہ یہ بھول گئے یہ دُوسرے کا مکان ہے اور داعی کو حق ہے کہ جس کو چاہے مدعو کرے، چنانچہ حضرت علامہؒ نے فرمایا: ’’آغا صاحب! یہ کیا غضب ہے کہ آپ نے ختمِ نبوّت کا انکار کرنے والے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد دُوسرے کو نبی ماننے والے کافر کو بھی مدعو کیا ہے؟‘‘ اور فرمایا کہ: ’’میں جاتا ہوں، میں ایسی مجلس میں ایک لمحہ بھی نہیں بیٹھ سکتا ہوں۔‘‘ اس وقت حکیم نورالدین فوراً ہی سخت نادم ہوکر چلے گئے اور آغا صاحب نے معذرت کے ساتھ فرمایا کہ: میں نے مدعو نہیں کیا تھا، حکیم صاحب اتفاقاً آگئے تھے، اس کے بعد ہی حضرت علامہ مرحوم وہاں بیٹھے۔

’’انجمن حمایت اسلام‘‘ سے لاہوری مرزائی کا اخراج:

علامہ اقبال نوّر اللہ مرقدہٗ نے مرزائیوں کی دونوں شاخوں کو خارج اَز اِسلام قرار دے کر ’’انجمن حمایتِ اسلام‘‘ کے دروازے ان پر بند کردئیے تھے، مرزائی لاہوری ہو یا قادیانی، انجمن کا ممبر نہیں ہوسکتا تھا۔ اس واقعے کی پوری تفصیلات انجمن کے تحریری ریکارڈ میں موجود ہیں، اس کے ایک عینی گواہ لاہور کے سب سے بڑے شہری میاں امیرالدین بفضلِ تعالیٰ بقیدِ حیات ہیں، یونیورسٹی کی بیت انتظامیہ کے بھی رکن ہیں، ان سے یہ معلوم کیا جاسکتا ہے کہ علامہ اقبالؒ انجمن کی جنرل کونسل کے

54

اجلاسِ عام کی صدارت فرمانے لگے تو آپ نے سب سے پہلے کھڑے ہوکر اعلان فرمایا کہ: ’’مسلمانوں کی اس انجمن کا کوئی مرزائی (لاہوری یا قادیانی) ممبر نہیں ہوسکتا ہے، مرزا غلام احمد کے متبعین کی یہ دونوں جماعتیں خارج اَز اِسلام ہیں۔‘‘ اس وقت ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ کرسیٔ صدارت کے عین سامنے بیٹھے تھے، ان کے ساتھ ہی میاں امیرالدین فروکش تھے، حضرت علامہؒ نے ڈاکٹر صاحب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ: ’’مجھے صدر رکھنا ہے تو اس شخص کو نکال دو۔‘‘ مرزا صاحب لاہوری جماعت کے پیرو تھے، حضرت علامہؒ کے اس اعلان سے تھراگئے، کانپ اُٹھے، جزبز ہوئے، کچھ کہنا چاہا، حتیٰ کہ ان کا رنگ فق ہوگیا، حضرت علامہؒ مصر رہے کہ اس شخص کو یہاں سے جانا ہوگا۔ چنانچہ ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ بیک بینی و دوگوش نکال دئیے گئے، ان کی طبیعت پر اس اِخراج کا یہ اثر ہوا کہ بے حواس ہوگئے، دو چار دن ہی میں مرض الموت نے آلیا اور اس صدمے کی تاب نہ لاکر اِنتقال کرگئے۔

حضرت کشمیریؒ کی علامہ اقبالؒ سے مسئلہ قادیانیت پر گفتگو:

جناب خورشید احمد منیجنگ ایڈیٹر میڈیکل نیوز کراچی اور اسلام آباد، نے ایک مرتبہ اپنے والد صاحب کا واقعہ مولانا کو سنایا کہ: میرے والد گرامی جناب ڈاکٹر جلال الدین صاحب ڈینٹل سرجن لاہور حضرت تھانویؒ سے متعلق اور ان کے مرید تھے، اکابر علماء مولانا تھانویؒ، حضرت مدنی،ؒ حضرت انور شاہ کشمیریؒ اور دیگر دوست اکابر علماء ان کے ہاں ٹھہرا کرتے تھے، انہوں نے واقعہ سنایا کہ ایک دفعہ حضرت مولانا انور شاہ صاحب کشمیریؒ دیوبند سے لاہور تشریف لائے، میں (ڈاکٹر جلال الدین) ان کو اِسٹیشن پر لینے کے لئے گیا، میں نے کہا: ’’حضرت! گھر تشریف لائیں‘‘ مولانا نے کہا کہ: ’’آج میں نے صرف ڈاکٹر محمد اقبال سے ملنا ہے اور ابھی سیدھا وہیں جانا ہے، لہٰذا مجھے وہاں چھوڑ دیجئے۔‘‘

55

والد صاحب نے مولاناؒ کو ڈاکٹر محمد اقبال کے گھر پہنچادیا اور والد صاحب باہر موجود رہے، حضرت انور شاہ کشمیریؒ اور علامہ محمد اقبالؒ بند کمرے میں کافی دیر تک گفتگو کرتے رہے، جب دروازہ کھلا تو میں نے دیکھا کہ ڈاکٹر محمد اقبالؒ بچوں کی طرح آنسو بہا رہے تھے اور زار و قطار رو رہے تھے۔ حضرتؒ نے اُسی وقت مجھے فرمایا کہ: ’’مجھے اِسٹیشن چھوڑ دیجئے!‘‘ میں آپ کو اِسٹیشن پر لے چلا، راستے میں اپنے گھر لے جانے پر اِصرار کیا تو فرمایا: ’’آج میں مسئلۂ قادیانیت علامہ اقبال کو سمجھانے کے لئے آیا تھا، اس لئے اس کام میں اور کسی کام کو شریک نہیں کرتا، اب سیدھے واپس جانا ہے۔‘‘ اِسٹیشن سے اسی وقت دیوبند روانہ ہوگئے۔

جناب محمد اکبر، جسٹس ریاست بہالپور:

عرصہ ہوا کہ میں نے ایک شب عالمِ رُؤیا میں خود کو مسجد شریف تعمیر کردہ جج صاحبؒ (جسٹس محمد اکبر بہاولپور) میں پایا، مسجد کا کمرہ انوار و تجلیات کی ضوفشانیوں سے بقعۂ نور بنا ہوا تھا اور میری رُوح انتہائی پُرسکون تھی، ان سرور آگیں لمحات کا تصوّر اور رُوح پروَر کیفیت کا بیاں حیطۂ تحریر سے باہر ہے، بس دِل ہی محسوس کرتا ہے، زبان اظہارِ سرِّ دِلبراں سے قاصر ہے۔ میری خوش بختی ہے کہ اسی حالت میں خود چچا حضور نے بھی تشریف لاکر زیارت سے مشرف فرمایا۔ چچا حضور کے چہرے مبارک سے میں نے ان کے کچھ قلبی تأثرات محسوس کئے، میں نہایت ادب سے قدم بوس ہوا، آپ نے بڑی متانت سے فرمایا کہ: ’’میاں! میں نے تو مکان میں دروازہ اس واسطے رکھوایا تھا کہ تم میرے پاس آتے جاتے رہوگے اور میری دیکھ بھال کرتے رہوگے، مگر تم نے تو آنا جانا ہی چھوڑ دیا ہے۔‘‘ ان کے پُروقار لہجے اور مشفقانہ انداز نے مجھے میری کوتاہی کا احساس دِلایا اور بارِ ندامت سے میری گردن جھک گئی، اظہارِ معذرت کرتے ہوئے قدموں میں گر پڑا، آنکھوں سے آنسو جاری ہوئے، کہ میری آنکھ کھل گئی۔

56

عالمِ رُؤیا کا رُوح پروَر اور دِل گداز منظر حقیقت بن کر سامنے آگیا، صبح ہوچکی تھی، نماز کے بعد میں نے قرآن پاک پڑھ کر برائے ایصالِ ثواب نذرانۂ عقیدت پیش کیا اور معبودِ حقیقی سے دُعا کی کہ رَبّ العالمین! کالی کملی والے کا صدقہ اس مجاہدِ اعظم کی رُوح کو سکون و قرار عطا فرما اور مرحوم کو اپنے جوارِ رحمت میں جگہ عنایت فرمادے۔

اسی روز میں نے بہاولپور جاکر ان کے مزار مبارک پر فاتحہ پڑھی اور دِل میں آئندہ حاضر ہوتے رہنے کا عہد کیا۔ (جج مرحوم کے ایک عزیز کی روایت)۔

سیّد غلام محی الدین شاہ صاحب ہمدانی مرحوم و مغفور ٹامیوالی کے مشائخ میں سے ایک خدا رسیدہ بزرگ تھے اور جج مرحوم کے ساتھ بڑی عقیدت رکھتے تھے، وفات کی شب کو ہی انہیں خواب میں بشارت ہوئی کہ محمد اکبر فوت ہوگیا ہے، بہاولپور جاکر اس کی نمازِ جنازہ پڑھاؤ۔ چنانچہ از خود آپ بہاولپور تشریف لے آئے اور مرحوم کی نمازِ جنازہ پڑھائی، وصیت کے مطابق آپ کو اِحاطۂ درس تعلیم القرآن واقع محلہ مبارک پورہ اپنی خرید کردہ اراضی میں سپردِ خاک کیا گیا:

آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے!

مولانا خواجہ محمد ابراہیم مجدّدیؒ:

آپؒ موضع سیتھل ضلع گجرات کے رہنے والے تھے اور خواجہ غلام نبیؒ، ضلع جہلم سے اجازت و خلافت حاصل تھی، آپؒ نے قادیانیت کے رَدّ میں ایک کتاب ’’رَدِّ مرزا قادیانی‘‘ لکھی تھی، مگر افسوس کہ وہ زیورِ طبع سے آراستہ و پیراستہ ہوکر منصہ شہود پر جلوہ افروز نہ ہوسکی۔

57

ملک امیر محمد خاں، گورنر مغربی پاکستان

ملک امیر محمد خاں بحیثیت انسان ایک مردم شناس، بہادر اور خوددار شخص تھے، بحیثیت منتظم سخت گیر اِنسان تھے، ایوب خانی دور میں انہیں مغربی پاکستان کا گورنر مقرّر کیا گیا، انہوں نے اپنے عہد میں ملک کا نظم و نسق پورے نظم و ضبط سے چلایا، کسی کو جرأت نہیں ہوتی تھی کہ کسی کام کو اپنی مرضی سے چلائے، امیر محمد خاں کا دبدبہ، اعلیٰ افسر سے لے کر عام شہری کی زندگی تک میں نظر آتا تھا۔ وہ پکے مسلمان تھے، صوم و صلوٰۃ کے پابند تھے، ان کے زمانے میں گورنر ہاؤس شراب و کباب کی بزم آرائیوں سے الگ تھلگ رہا، وہ اکیلے رہتے تھے، اُن کے اپنے بیٹوں تک کو کھلم کھلا گورنر ہاؤس میں آنے کی اجازت نہیں ہوتی تھی، موسیقی و طرب کی محفلیں دُور دُور تک نظر نہیں آتی تھیں، اُن کے سامنے ہر وقت مصلیٰ بچھا رہتا تھا، اُن کے زمانے میں مغربی پاکستان میں عصمت فروشی کا کاروبار بند ہوگیا اور جسم فروشی ممنوع قرار دے دی گئی۔

ان کی مردم شناسی اور تحریکِ آزادی میں کام کرنے والوں کے متعلق عزّت افزائی کو عزّت و توقیر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔

مرزائیوں کے وہ سخت مخالف تھے، ان کی ملک دُشمنی اور اِسلام دُشمنی سے پوری طرح آشنا تھے، قاضی احسان احمد صاحب نے ایک ملاقات میں مرزا قادیانی کی کتاب ’’ایک غلطی کا اِزالہ‘‘ دِکھائی اور اس کے مندرجات پڑھ کر سنائے، تو امیر محمد خاں آبدیدہ ہوگئے، انہوں نے فوراً اس کتاب کو خلافِ قانون قرار دے دیا، قاضی صاحب نے انہیں مبارک باد کا تار بھیجا، مرزائیوں نے اس پابندی کے خلاف زور و شور سے آواز بلند کی اور اَیوب خاں تک رسائی کی، جس نے بالآخر کتاب پر سے پابندی ہٹادی۔ امیر محمد خاں کو سخت صدمہ ہوا، مولانا غلام غوث ہزاروی اور مولانا مفتی محمود صاحب ان سے ملے اور پابندی اُٹھانے پر افسوس کا اظہار کیا، امیر محمد خاں نے

58

کہا کہ: ’’مفتی صاحب! مجھے معلوم ہی نہیں تھا کہ مرزائیت کتنی بڑی طاقت اختیار کرگئی ہے، اس کتاب پر پابندی کے بعد جب اندرون و بیرون ممالک سے مجھ پر اور صدرِ مملکت پر دباؤ پڑنا شروع ہوا، تو مجھے احساس ہوا کہ مرزائیت کتنی بڑی طاقت ہے۔‘‘ آج مرحوم زندہ نہیں، کوئی ان کی قبر پر جاکر مرزائیت کی رُسوائی و پسپائی کا حال ان سے بیان کردے تاکہ ان کی قبر کو ٹھنڈک پہنچے اور ثابت ہو کہ: العظمۃ ﷲ ولرسولہٖ!

علامہ احسان الٰہی ظہیرؒ:

مولانا مرحوم لکھتے ہیں کہ جب ۱۹۶۷ء کے رمضان المبارک کی ستائیسویں شب مسجدِ نبوی کے پڑوس میں اپنی کتاب ’’القادیانیۃ‘‘ کو مکمل کرکے سویا تو کیا دیکھتا ہوں کہ سحرگاہ دُعائے نیم شبی لبوں پر لئے بابِ جبرائیل کے راستے (کہ جب دیارِ حبیب علیہ السلام میں میرا مکان اسی جانب تھا) مسجدِ نبوی کے اندر داخل ہوتا ہوں، لیکن روضۂ اطہر کے سامنے پہنچ کر ٹھٹک جاتا ہوں کہ آج خلافِ معمول روضۂ معلی کے دروازے وا ہیں اور پہرے دار خندہ رُو اِستقبالیہ انداز میں منتظر ہیں، میں اندر بڑھا جاتا ہوں کہ سامنے سروَرِ کونین رحمتِ عالم محمدِ اَکرم صلی اللہ علیہ وسلم رعنائیوں اور زیبائیوں کے جھرمٹ میں صدیقِ اکبرؓ، فاروقِ اعظمؓ کی معیت میں نماز اَدا کر رہے ہیں، دِل خوشیوں سے معمور اور دِماغ مسرتوں سے لبریز ہوجاتا ہے اور جب میں دیر گئے باہر نکلتا ہوں تو دربان سے سوال کرتا ہوں: ’’یہ دروازے تم روزانہ کیوں نہیں کھولتے؟‘‘ جواب ملا: ’’یہ دروازے روزانہ نہیں کھلا کرتے!‘‘ اور آنکھ کھلی تو مسجدِ نبوی کے میناروں سے یہ دِلکش ترانے گونج رہے تھے: ’’اَشہد اَنّ محمداً رّسول اﷲ، اَشہد اَنّ محمداً رّسول اﷲ‘‘۔ اور صبح جب میں نے مدینہ یونیورسٹی کے چانسلر کو ماجرا سنایا تو انہوں نے فرمایا: تمہیں مبارک ہو، ختمِ نبوّت کی چوکھٹ کی چوکیداری میں خاتم النبیّین صلی اللہ علیہ وسلم کے رَبّ نے تمہاری کاوِش کو پسند فرمایا ہے۔

(مرزائیت اور اسلام ص:۲۴، ۲۵، مصنف علامہ احسان الٰہی ظہیر مرحوم)

59

خان احمد یار خان، رئیسِ اعظم قلات:

ان سے ایک دفعہ ظفراللہ قادیانی ملنے گیا، مرزائیت کی تبلیغ شروع کردی، جب اس کی بات ختم ہوئی تو خان صاحب نے فرمایا: ’’ظفراللہ خاں! اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ اس دُنیا میں تشریف لائیں اور مجھے حکم فرمائیں کہ مرزا قادیانی سچا ہے، اسے مان لو، تو بھی سمجھوں گا کہ میرے ایمان کا امتحان لیا جارہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی درخواست کروں گا کہ آقا! آپ کی ختمِ نبوّت پر میرا اِیمان اتنا پختہ ہے کہ اس امتحان میں بھی میں کامیاب ہوں کہ مرزا قادیانی جھوٹا اور کذّاب ہے۔‘‘ اس پر ظفراللہ خان نے مارے ندامت کے سر جھکادیا۔

اس مجلس میں ظفراللہ خاں نے والیٔ قلات سے کہا کہ: ’’آپ کی ریاست میں ہمارا ایک قادیانی رہتا ہے، اس سے ملادیں۔‘‘ خان قلات نے کہا کہ: ’’میری ریاست میں کوئی قادیانی نہیں!‘‘ ظفراللہ خان کے بتانے پر معلوم ہوا کہ کسی دُور دراز کے شہر میں ایک موچی قادیانی منشی گیری کرتا تھا، اس سے پتا چلتا ہے کہ مرزائی افسران اپنے مرزائیوں کی کس طرح امداد کرتے ہیں۔

تحریکِ ختمِ نبوّت کے اسیر

۱۹۷۴ء کی تحریکِ ختمِ نبوّت میں خان صاحب بلوچستان کے گورنر تھے، ان کا صاحبزادہ موسیٰ جان اور نواسہ اعظم جان تحریک میں گرفتار ہوگئے، باقی پچّیس افراد بھی ساتھ تھے، والد گورنر ہے، بیٹا اور نواسہ تحریک میں گرفتار ہیں، ان کو رہا نہیں کرایا تاآنکہ اُنیس دنوں کے بعد باقی قیدیوں کے ساتھ عام روٹین میں رہا ہوئے۔

گرمیوں کی دوپہر کو میں اپنی بیٹھک میں سو رہا تھا کہ کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا، دروازہ کھولا تو ایک پورے قد کاٹھ کا آدمی کھڑا تھا، سر پر کلے کے اُوپر پگڑی،

60

لٹھے کا تہبند، پاؤں میں بوٹ اور اچکن پہنے ہوئے تھا۔

السلام علیکم، وعلیکم السلام، اندر تشریف لے آئیں، کرسی پیش کی، خود چارپائی پر بیٹھ گیا، پوچھا: ’’کہاں سے تشریف لائے؟ کیسے تشریف لائے؟‘‘ اُس نے جیب سے ایک کاغذ نکال کر میرے ہاتھ میں تھمادیا، میں نے خیال کیا کسی جلسے کی دعوت ہوگی، مگر جب رُقعہ پڑھا تو اس میں لکھا تھا: ’’میں اِمام مہدی ہوں! مجھ پر اِیمان لاؤ، میرا حکم مانو، ورنہ تباہ و برباد ہوجاؤگے۔‘‘

رُقعہ پڑھ کر میں نے بمشکل ہنسی ضبط کی، پھر بغیر کسی وقفے کے ایک دم چہرے پر مصنوعی رُعب و جلال کی کیفیت پیدا کرلی اور کڑک کر کہا: ’’او اَحمق! او خبیث! تجھے یہ کیسے جرأت ہوئی کہ نقلی اِمام مہدی بن کر اصلی اِمام مہدی کے سامنے آئے؟‘‘ میں نے اس کا ہاتھ پکڑ کر کہا: ’’چل میرے ساتھ باہر! تو بھی کہہ میں اِمام مہدی ہوں اور میں بھی کہتا ہوں کہ میں اِمام مہدی ہوں، پھر دیکھ کسے جوتے پڑتے ہیں؟ کس کی عزّت ہوتی ہے؟‘‘ اب بے چارے ’’اِمام مہدی‘‘ کے پسینے چھوٹ گئے اور کانپنے لگے، میں نے پھر گرج کر کہا: ’’اُٹھ جھوٹے نکل میدان میں! ابھی تیرا کباڑا نہ کردُوں تو کہنا‘‘ اب اس کے سارے دَم خم نکل گئے، ہاتھ جوڑ کر کہنے لگا: ’’جناب! بیٹھئے، مجھے معاف کردیجئے‘‘ میں نے کہا: ’’بکو! تمہیں چار پیسے چاہئیں یا بھوک لگی ہے؟‘‘ کہنے لگا: ’’بس مجھے معاف کردیں اور جانے کی اِجازت دے دیں!‘‘ میں نے کہا: ’’معاف کردیا، مگر یہ ہماری عادت کے خلاف ہے کہ کچھ کھائے پیئے بغیر چلے جاؤ‘‘ میں نے کھانا منگاکر کھلایا اور ساتھ نصیحت کی، یہ حرکت چھوڑ دو، اس سے بہتر ہے سیدھے سادے بھیک مانگ لیا کرو، اس نے اقرار کرکے مجھ سے جان چھڑائی اور تیز تیز قدموں سے نکل گیا۔

61

اولیاء اللہ کے سامنے دِل کی حفاظت:

مولانا امین الحق، حضرت لاہوری رحمۃ اللہ علیہ سے مصروفِ گفتگو تھے اور میں حضرت کے سامنے دو زانو بیٹھا ہوا تھا، بار بار میرے جی میں خیال آئے کہ میں سیّد ہوتے ہوئے بھی اپنے اعمالِ بد کے ہاتھوں جہنمی ہوں اور حضرت نومسلم کی اولاد ہونے پر بھی اپنے اعمالِ خیر کے باعث جنتی ہیں، گویا ایک جہنمی، ایک جنتی کی زیارت کر رہا ہے۔ معاً حضرتؒ مجھ سے مخاطب ہوئے: ’’نہ بیٹا نا! نہ بیٹا نا! اللہ کسی کو جہنم میں نہیں پھینکنا چاہتے، لوگ تو زبردستی جہنم میں کودتے ہیں‘‘ میں فوراً سنبھلا اور سوچا کسی نے سچ کہا ہے:

’’پادشاہوں کے سامنے آنکھ کی حفاظت کرو اور اولیاء اللہ کے سامنے دِل کی۔‘‘

اسیرانِ ختمِ نبوّت کے نعرے:

جنرل اعظم کے حکم سے لاہور میں کشتوں کے پشتے لگ رہے تھے، تحریک ختمِ نبوّت ۱۹۵۳ء اپنے جوبن پر تھی، پولیس مجھے اور میرے بہت سے ساتھیوں کو ہتھکڑیاں پہناکر قیدیوں کی بس میں بٹھاکر شیخوپورہ سے لاہور کی طرف روانہ ہوگئی، اسیرانِ ختمِ نبوّت بس میں نعرے لگاتے ہوئے جب لاہور کی حدود میں داخل ہوئے تو ملٹری نے بس روک لی اور سب انسپکٹر کو نیچے اُترنے کا حکم دیا، ایک ملٹری آفیسر نے اُس سے چابی لے کر بس کا دروازہ کھول دیا اور بڑے رُعب و جلال سے گرجا: ’’تمہیں پتا نہیں نعرے لگانے والے کو گولی مارنے کا حکم ہے، کون نعرے لگاتا تھا؟‘‘ اس اچانک صورتِ حال سے سب پر ایک سکوت سا طاری ہوگیا، معاً میرا ہاشمی خون کھول اُٹھا، میں نے تن کر کہا: ’’میں لگاتا تھا!‘‘ اُس نے بندوق میرے سینے پر تان کر کہا: ’’اچھا! اب لگاؤ نعرہ‘‘ میں نے پُرجوش انداز سے نعرہ لگایا: ’’میرا کالی کملی والا‘‘ سب نے بآوازِ بلند

62

جواب دیا: ’’زندہ باد!‘‘ اس کی بندوق کی نالی نیچے ڈھلک گئی، منہ پھیر کر کہا: ’’ہاں وہ تو زندہ باد ہی ہے‘‘ اور بس سے نیچے اُتر گیا۔ ایسا معلوم ہوا جنت جھلک دِکھاکر اوجھل ہوگئی، پھر اس نے سب انسپکٹر سے کچھ کہا، اس نے بس کا دروازہ مقفل کردیا، چند منٹوں کے بعد ہم بورسٹل جیل لاہور میں تھے۔

میانوالی جیل سے صبح میں رہا ہونے والا تھا، مگر مجھے خطرہ تھا کہ میری سرگرمیوں کے پیشِ نظر میری سزا جیل کے اندر ہی بڑھانے کا حکم نہ آجائے۔ داروغۂ جیل بھلا آدمی تھا اور حافظِ قرآن بھی تھا، وہ شام کو ہماری بیرک میں آیا، میں نے کہا: ’’حافظ صاحب! صبح میری رہائی ہے یا کوئی اور نیا حکم آگیا ہے؟‘‘ کہنے لگا: ’’دو دفعہ لاہور سے ٹیلیفون آیا ہے، مگر گڑبڑ بہت ہے کچھ سنا، سمجھا نہ گیا۔‘‘ خیر صبح ہوئی مجھے دفتر بلایا گیا اور دفتری کارروائی کرکے رہا کردیا گیا۔ میں جب دُوسرے دن شیخوپورہ پہنچا تو سب حیران ہوگئے، پتا چلا کہ یہاں کے سی آئی ڈی انسپکٹر نے مجھے خطرناک ثابت کرکے سینٹر سے سزا بڑھانے کا حکم نامہ میانوالی بھجوادیا ہے اور فون پر داروغۂ جیل میانوالی کو اِطلاع دی تھی کہ امین گیلانی کو رہا نہ کیا جائے، تحریری حکم نامہ بذریعہ ڈاک آرہا ہے، لیکن میں رہا ہوچکا تھا اور اب نئے وارنٹ تیار کرکے ہی دوبارہ گرفتار کیا جاسکتا تھا، لیکن نیا خطرہ مول لینے کے ڈر سے ایسا نہ کیا گیا، یوں مرزائی آفیسر فخرالدین کے کئے دھرے پر پانی پھرگیا۔

مرزائیت کے خلاف جدوجہد کا عزم:

ایک مسجد میں حوض کے کنارے وضو کر رہا ہوں، دیکھتا ہوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے دروازے سے داخل ہوکر حوض کی طرف تشریف لائے اور میرے دائیں طرف تشریف فرما ہوکر وضو فرمانے لگے، پھر اچانک دائیں ہاتھ سے سامنے مسجد کے صحن کی طرف اشارہ کیا، میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد سمجھ گیا،

63

وہاں کچھ لوگ قبلے کی طرف پیٹھ کرکے نماز کے لئے کھڑے ہیں، میں وہیں حضور کے پہلو میں کھڑا ہوکر انہیں جوش و غضب سے سمجھانے لگا، مجھ پر رقت کی کیفیت طاری تھی، اپنی تقریر کے یہ الفاظ مجھے یاد ہیں، اے لوگو! حضورِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں تمہارا یہ حال ہوگیا کہ مسجد میں قبلے کی طرف پیٹھ کرکے نماز پڑھتے ہو، مزید نہ جانے کیا کچھ کہہ رہا تھا، میری تقریر سن کر اُن میں سے بعض نے اپنا رُخ قبلے کی طرف کرلیا اور بعض اُسی طرح کھڑے رہے کہ میں جاگ گیا۔

اس خواب کے بعد حضرت اَمیرِ شریعتؒ کی صحبت میں رہنے سے مرزائیت کے خلاف جدوجہد کا عہد کرلیا اور اس مشن پر زندگی بھر عمل کرنے کا ارادہ مستقل ہوگیا، گویا حضورِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ اشارہ تھا اور رَبِّ کریم نے توفیق عطا فرمائی۔

تھانیدار کا اعترافِ شکست:

کئی روز پہلے تمام شہر میں اِشتہار چسپاں کردئیے تھے، پھر آخری روز منادی کی گئی کہ آج رات بعد نمازِ عشاء مین بازار شیخوپورہ میں جلسہ عام ہوگا، مولانا منظور احمد چنیوٹی تقریر فرمائیں گے۔ پنڈال میں ہزاروں سامعین جمع ہوگئے، جلسے کی کارروائی کا آغاز ہوگیا، مولانا اسٹیج پر پہنچ گئے، قاری محمد امین صاحب نے تلاوتِ قرآن کی، اب میری نظم کے بعد مولانا کی تقریر تھی، میں ابھی نظم پڑھنے کے لئے کھڑا ہی ہوا تھا کہ علاقے کا مجسٹریٹ بمعہ تھانیدار اور پوری گارڈ کے آدھمکے اور مجھے بلوا بھیجا، میں گیا تو تھانیدار نے دفعہ ۱۴۴ کا نوٹس تھمادیا، کہا: ’’پڑھ لیجئے! ڈی سی صاحب نے دفعہ ۱۴۴ لگادی ہے، آپ جلسہ نہیں کرسکتے اور یہ ہیں مولانا کے وارنٹ گرفتاری، انہیں ہم نے گرفتار کرنا ہے۔‘‘ میں نے تھانیدار سے کہا کہ: ’’آپ نے ۱۴۴ لگانی تھی تو پہلے لگادیتے، کیونکہ کئی دن سے جلسے کے اشتہار شہر کے دَر و دیوار پر چسپاں تھے، پھر آج سارا دن شہر میں منادی ہوتی رہی، آپ کا یہ دفعہ۱۴۴ کا نوٹس برموقع دینا صریحاً

64

غلط ہے، کیونکہ دفعہ ۱۴۴ کے لئے پہلے سرکاری منادی ضروری ہوتی ہے اور رہی مولانا کی گرفتاری تو مجسٹریٹ صاحب آپ کے ساتھ ہیں، پولیس آپ کے پاس ہے، ہمت کریں، آگے بڑھ کر گرفتار کرلیں، اس میں تو میں آپ کی کوئی مدد نہیں کرسکتا۔‘‘ وہ لال پیلا ہوگیا اور مجھے دھمکانے لگا کہ: ’’ہم تمہیں بھی گرفتار کرلیں گے ورنہ فوراً جلسہ منتشر کردو۔‘‘ میں نے بھی اسی انداز سے کہا: ’’میں سرکاری کارندہ نہیں، آپ ہیں، آپ خود اسٹیج پر جائیں اور لوگوں کو سرکاری حکم سنادیں۔‘‘ یہ کہہ کر میں پھرتی سے اسٹیج پر جاپہنچا اور اعلان کردیا اب آپ کے سامنے مولانا منظور احمد صاحب چنیوٹی تقریر کریں گے۔ جب مولانا نے تقریر شروع کردی تو میں چند ساتھیوں کو لے کر جلسہ گاہ سے دُور ایک دُکان میں چلاگیا، وہاں میں نے ساتھیوں کو سارا منصوبہ سمجھادیا، پولیس نے بھی چاروں طرف سے جلسہ گاہ کو گھیر لیا، تھانیدار چوٹ کھائے ہوئے سانپ کی طرح بل کھارہا تھا، مجسٹریٹ بھی سٹ پٹا رہا تھا، مولانا جوش و خروش سے تقریر کر رہے تھے اور سامعین پے بہ پے نعرۂ تکبیر اللہ اکبر، ختمِ نبوّت زندہ باد کے نعرے لگا رہے تھے، میں نے جاتے ہوئے مولانا کے کان میں صورتِ حال کہہ دی تھی اور یہ بھی کہا کہ جب مضمونِ تقریر ختم ہوجائے تو دُعا سے قبل آپ جیب سے رُومال نکال کر پیشانی پونچھیں، اُدھر مولانا نے پیشانی پونچھی اِدھر میں نے مین سوئچ آف کردیا، یک دم اندھیرا چھاگیا، میرے متعینہ موٹرسائیکل سوار نے فوراً مولانا کو پیچھے بٹھایا اور یہ جا وہ جا۔

مولانا منظور احمد چنیوٹی کے ہم شکل اور اسی قد کاٹھ کے ہمارے دوست مولوی محمد احمد صاحب (میاں علی ڈوگراں والے) انہیں پہلے سے تیار کر رکھا تھا، وہ اندھیرے میں فوراً اُٹھے اور مائیک پر عربی میں دُعا مانگنے لگے، سامعین آمین، آمین کہتے رہے، دُعا کے بعد فوراً بیس پچّیس نوجوانوں نے مولانا احمد کو نرغے میں لے لیا اور مولانا منظور احمد چنیوٹی زندہ باد کے نعرے لگاتے ہوئے مسجد عیدگاہ کی طرف چل دئیے۔ تھانیدار نے بڑی چستی سے ساری پولیس کے ساتھ اس جلوس کو گھیرے میں

65

لے لیا، جب مسجد کی برقی روشنی میں پہنچے تو تھانیدار آگے بڑھا اور نوجوانوں کو ہٹاکر مولانا کو گرفتار کرنا چاہا تو اچنبھے میں آگیا، وہ مولانا منظور احمد نہیں بلکہ مولوی احمد تھے، جھلاکر مجھ سے پوچھا: ’’مولوی منظور کہاں ہے؟‘‘ میں نے کہا: ’’حضور! آپ پوری گارڈ کے ساتھ نگرانی کر رہے تھے، مجھے کیا پتا؟‘‘ پاؤں پٹخ کر بولا: ’’میں صبح ہوتے ہی تم سب کا علاج کرلوں گا!‘‘ میں خاموش رہا وہ بکتا جھکتا بمعہ گارڈ چلاگیا۔ میں جہاں بھی تھا مجھے صبح ہوتے ہی اطلاع ملی کہ پولیس جامعہ فاروقیہ (رجسٹرڈ) کے مہتمم مولانا محمد عالم صاحب کو گرفتار کرکے لے گئی ہے اور آپ کی تلاش ہے۔ میں نے آرام سے ناشتہ کیا، جب کچہری کھلنے کا وقت ہوا تو قاری محمد امین صاحب کو بلاکر ساتھ لیا اور بچ بچاکر کچہری پہنچ گئے۔ چوہدری نذیر احمد ایڈووکیٹ سے کہا کہ: ’’سیشن جج سے قبل از گرفتاری ضمانت کرانی ہے، کاغذات تیار کریں!‘‘ وہ کاغذات تیار کرنے لگ گئے، قاری صاحب نے مجھ سے کہا کہ: ’’آؤ شاہ جی! اتنے میں ہم سامنے پان والے سے پان کھالیں۔‘‘ ہم پان منہ میں ڈال کر سڑک پار کرکے احاطۂ کچہری میں داخل ہونے ہی والے تھے کہ رات والا تھانیدار موٹرسائیکل پر سامنے آگیا، میں نے آہستہ سے کہا: ’’قاری صاحب! آپ کے پان نے مروادیا‘‘ انہوں نے کہا: ’’خدا کارساز ہے‘‘ اتنے میں تھانیدار نے ہمارے برابر آکر بریک لگادی اور موٹرسائیکل پر بیٹھے بیٹھے مجھ سے مخاطب ہوا: ’’امین گیلانی کہاں ہے؟‘‘ میں نے کہا: ’’آپ کو اس سے کیا کام ہے؟‘‘ کہنے لگا: ’’کام یہی ہے کہ اس کے وارنٹ ہیں، ہم اُسے تلاش کر رہے ہیں‘‘ میں نے کہا: ’’فکر نہ کریں، ہم اسے اطلاع دے دیں گے اور وہ خود حاضر ہوجائیں گے۔‘‘ اُس نے موٹرسائیکل اسٹارٹ کیا اور پھٹ پھٹ پھٹاکرتا ہوا چلاگیا، میں نے قاری صاحب سے کہا کہ: ’’واقعی اللہ تعالیٰ نے اس کی مت مار دی۔‘‘

جب ہم سیشن جج کی عدالت میں پہنچے اور کارروائی شروع ہوگئی تو وہی تھانیدار عدالت میں آگیا اور مجھے حیرت سے دیکھنے لگا، جب میری ضمانت ہوگئی تو ہم

66

اِکٹھے باہر نکلے، اب اس کا لب و لہجہ بدل گیا، کھسیانی ہنسی ہنس کر کہنے لگا: ’’گیلانی صاحب! پولیس والے بڑے چالاک ہوتے ہیں، مگر آپ ان کے بھی باپ نکلے، رات سے اب تک دو دفعہ آپ نے مجھے شکست دی‘‘ میں نے بھی ہنس کر کہا: ’’میں نے نہیں، اُس کارساز نے!‘‘

مرزائی مبلغ کے پھندے سے رہائی کی صورت:

یہ اُس زمانے کی بات ہے جب خواجہ ناظم الدین کا دورِ حکومت تھا اور قادیانی فتنے کے خلاف مشرقی اور مغربی پاکستان کے تمام صلحاء، علماء اور زعماء کراچی میں جمع ہوکر اس فتنے کے اِستیصال کا طریقۂ کار سوچ رہے تھے، ایک روز ہم دفتر مجلس تحفظ ختمِ نبوّت بندر روڈ کراچی میں بیٹھے ہوئے تھے، مرزا غلام احمد دجال کی ذات موضوعِ سخن تھی، ایک مولانا جن کی عمر اس وقت پچاس- پچپن سال کی تھی، وہ بھی تشریف رکھتے تھے، مجھے معلوم ہوا کہ یہ صاحب دارالعلوم دیوبند کے فارغ ہیں اور ان کے بڑے بھائی دارالعلوم میں مدرّس بھی رہ چکے ہیں، ان مولانا کا نام مجھے یاد نہیں آرہا، انہوں نے گفتگو میں حصہ لیتے ہوئے فرمایا کہ: طالب علمی کے زمانے میں ہم غالباً آٹھ طالب علم ایک دفعہ ایک مرزائی مبلغ و مناظر کے پھندے میں پھنس گئے، ہم اپنی کم علمی اور کم عمری کے باعث اُس کے دلائل کو وقیع سمجھ کر مرزا غلام احمد کے نبی ہونے کا نعوذ باللہ گمان کرنے لگے اور باہم یہ مشورہ کیا کہ فی الحال اس بات کو پوشیدہ رکھیں گے تاکہ دارالعلوم سے ہمیں خارج نہ کردیا جائے اور ہم اپنے والدین کو بھی کیا منہ دِکھائیں گے۔ یہ طے کرکے ہم سب طالب علم واپس دارالعلوم میں آگئے، رات جب سوگئے تو سب نے ایک ہی خواب دیکھا، صبح جب آپس میں ملے تو سب نے اپنا اپنا خواب بیان کیا، وہ ایک ہی خواب تھا، جو بیک وقت ہم سب نے دیکھا۔

67

خواب:

کوئی شہر ہے، بازار میں منادی ہو رہی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فلاں مسجد میں تشریف لائے ہوئے ہیں، جس نے زیارت کرنی ہو وہاں پہنچ جائے۔ چنانچہ ہر طالب علم نے کہا کہ: میں بھی وہاں پہنچا تو دیکھا واقعی آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے صحن میں تشریف فرما ہیں، میں حاضرِ خدمت ہوکر سلام عرض کرتا ہوں، پھر یہ عرض کرتا ہوں کہ: یا رسول اللہ! غلام احمد قادیانی واقعی نبی ہے؟ تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ’’أَنَا خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ‘‘ پھر ایک طرف اُنگلی سے اشارہ فرماکر کہا کہ: ’’اُدھر دیکھو!‘‘ دیکھا تو ایک گول دائرہ ہے جس میں آگ بھڑک رہی ہے اور ایک شخص اُس آگ میں جل رہا ہے اور تڑپ تڑپ کر چیخ رہا ہے، پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’یہ غلام احمد ہے!‘‘ اس خواب کے بعد ہم سب نے توبہ کی اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری نبی ہونے پر یقین محکم ہوگیا۔

تحریکِ ختمِ نبوّت ۱۹۵۳ء کی کہانی

مولانا تاج محمودؒ کی زبانی:

پاکستان میں خواجہ ناظم الدین کا دورِ اقتدار تھا، دستورِ پاکستان کی تدوین زیرِ بحث تھی، حکمران اپنی شخصی حکومتوں کی عمریں لمبی کرنے کے لئے ملک کو دستور دینے میں ٹال مٹول سے کام لے رہے تھے، بالآخر خواجہ ناظم الدین کے زمانے میں دستور کے بنیادی اُصولوں کی کمیٹی کی رپورٹ (بی۔پی۔سی رپورٹ) شائع ہوئی، اس رپورٹ میں ملک کے لئے جداگانہ طریقۂ اِنتخاب تجویز کیا گیا تھا، اقلیتوں کی نشستیں الگ مخصوص کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا، اقلیتوں کی تعداد اور ان کے ناموں کا نقشہ بھی اس رپورٹ میں شائع کیا گیا، دُکھ کی بات یہ تھی کہ قادیانیوں کو مسلمانوں میں شمار کیا گیا تھا، حالانکہ پہلے سے ہی مسلمانوں کا مطالبہ تھا کہ مرزائیوں کو مسلمانوں میں شامل نہ کیا

68

جائے بلکہ ان کو علیحدہ غیرمسلم اقلیتوں میں شمار کیا جائے۔

اس رپورٹ کے آنے کے کچھ دنوں بعد دسمبر ۱۹۵۲ء میں چنیوٹ میں سالانہ ختمِ نبوّت کانفرنس تھی، انہی دنوں مرزائی جماعت کا بھی ربوہ میں سالانہ جلسہ جسے وہ ظلّی حج سمجھتے ہیں، انعقاد پذیر تھا، ان دنوں مرزائی جماعت کا سربراہ مرزا بشیرالدین محمود تھا، جس نے پہلے سے اعلان کر رکھا تھا کہ: ’’۱۹۵۲ء کے ختم ہونے سے پہلے پہلے ایسے حالات پیدا کردئیے جائیں کہ احمدیت کے تمام دُشمن ہمارے قدموں میں آگریں۔‘‘

۲۶، ۲۷، ۲۸؍دسمبر کو چنیوٹ کی ختمِ نبوّت کانفرنس ہے، ۱۹۵۲ء کے گزرنے میں تین دن باقی ہیں، مرزا بشیرالدین کا ’’اعلان‘‘ ناکام ہوگیا ہے، مرزائیت کے احتساب کا شکنجہ مزید کس دیا گیا ہے، مرزا بشیرالدین کے اعلان کا جواب دیتے ہوئے حضرت اَمیرِ شریعت سیّد عطاء اللہ شاہ بخاریؒ نے پُرجوش اِلہامی تقریر کرتے ہوئے فرمایا کہ: ’’اے مرزا محمود! ۱۹۵۲ء تیرا تھا اور اب ۱۹۵۳ء میرا ہوگا۔‘‘ اس سے قبل مرزائیوں کی جارحانہ ارتدادی سرگرمیوں کے باعث پورے ملک کے مسلمانوں میں شدید اِشتعال تھا، پوری پاکستانی مسلمان قوم مرزائیت کی جارحیت پر فکرمند تھی، اسی ختمِ نبوّت کانفرنس چنیوٹ کے موقع پر ایک بند کمرے میں جماعت کے رہنماؤں کا ایک خصوصی غیررسمی اجلاس منعقد ہوا، جس میں مجھے بھی شامل ہونے کی سعادت حاصل ہوئی۔ اجلاس میں طے پایا کہ مرزائیوں کی جارحیت دِماغ کی خرابی کی حد تک پہنچ گئی ہے، جس کا سدِ باب کرنا ضروری ہے۔ بی۔پی۔سی رپورٹ کی رُو سے خدا اور رسول کے نام پر حاصل کردہ ملک کے دستور میں مرزائیوں کو مسلمان شمار کیا جارہا ہے، اس لئے حکومت کے ساتھ مذاکرات کئے جائیں، اسے راہِ راست پر لانے کی کوشش کی جائے، لیکن حکومت کے رویے سے اندازہ یہی ہوتا ہے کہ وہ راہِ راست پر نہیں آئے گی، لہٰذا تمام مکاتبِ فکر کے علماء کو اس مہم میں شریک کیا جائے، موسمِ سرما ختم ہوتے ہی ان کا اجلاس

69

بلایا جائے اور آئندہ کے لائحہ عمل پر سوچ و بچار کرکے فیصلے کئے جائیں۔

میں ان دنوں میں ایم سی ہائی اسکول لائل پور میں صدر مدرّس تھا، چنیوٹ کی اس میٹنگ میں مجھے شیخ حسام الدین اور مولانا محمد علی جالندھری نے حکم دیا کہ تم یا تو اسکول کی ملازمت سے استعفیٰ دے دو یا پھر یہ کہ لمبے عرصے کی چھٹی لے لو تاکہ قادیانیت کے اس فتنے سے اُمت کو بچانے کے لئے نئے مرحلے میں آزادی کے ساتھ کام کرسکو، چنانچہ میں نے چھٹی لے لی۔

پورے ملک میں تمام رُفقاء نے تمام مکاتبِ فکر کے علماء و مشائخ سے رابطہ قائم کرکے ان کو قادیانیت کے مسئلے کی سنگینی کی طرف توجہ اور ذمہ داری کا احساس دِلایا۔ جنوری ۱۹۵۳ء کے آخر میں آل پارٹیز مرکزی مجلسِ عمل تحفظِ ختمِ نبوّت کا ایک اجلاس کراچی میں منعقد ہوا، جس میں فیصلہ ہوا کہ خواجہ ناظم الدین پر اِتمامِ حجت کے لئے ایک ماہ کا نوٹس دیا جائے، اگلے روز ایک وفد سر سینہ شریف (مشرقی پاکستان) کی قیادت میں خواجہ ناظم الدین سے ملا۔

۱:۔۔۔ مرزائیوں کو غیرمسلم اقلیت قرار دیا جائے۔

۲:۔۔۔ سر ظفراللہ خان مرتدِ اعظم کو وزارتِ خارجہ سے ہٹایا جائے۔

۳:۔۔۔ ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا جائے۔

۴:۔۔۔ مرزائیوں کو کلیدی عہدوں سے برطرف کیا جائے۔

یہ مطالبات پیش کئے، خواجہ صاحب نے وفد سے یہ کہہ کر معذرت کرلی کہ ظفراللہ خان کو ہٹانے اور مرزائیوں کو غیرمسلم اقلیت قرار دینے سے امریکا، پاکستان سے ناراض ہوجائے گا اور ہر قسم کی اِمداد بند کردی جائے گی۔

وفد نے ایک تحریری نوٹس ان کو پیش کیا، جس میں درج تھا کہ اگر حکومت نے ایک ماہ کے اندر ہمارے یہ خالصتاً دِینی مطالبات تسلیم نہ کئے تو اِسلامیانِ پاکستان مرزائی جارحیت کے خلاف راست اقدام کرنے پر مجبور ہوں گے اور مجلسِ عمل کی

70

قیادت میں تحریک چلائی جائے گی۔

اَواخرِ فروری ۱۹۵۳ء میں دوبارہ آل پارٹیز مرکزی مجلسِ عمل تحفظِ ختمِ نبوّت کا کراچی میں اجلاس منعقد ہوا، چونکہ حکومت نے مطالبات تسلیم نہیں کئے تھے، اس لئے تحریکِ راست اقدام چلانے کے فیصلے پر عمل درآمد کا اعلان کیا گیا۔

تفصیل یہ طے کی گئی کہ پانچ پانچ رضاکاروں کے دو دستے یومیہ مظاہرہ کرنے کے لئے سڑکوں پر نکلیں، پانچ رضاکاروں کا ایک دستہ خواجہ ناظم الدین کی کوٹھی پر جاکر مظاہرہ کرے اور دُوسرے پانچ رضاکاروں کا دستہ ملک غلام محمد گورنر جنرل کی کوٹھی پر جاکر مظاہرہ کرے۔ دو دستوں کے جانے کا فیصلہ اس لئے کیا گیا کہ صرف خواجہ ناظم الدین کی کوٹھی پر جاکر مظاہرہ کرنے سے تحریک کے دُشمن یہ تأثر نہ دے سکیں کہ یہ تحریک مغربی پاکستان کے لوگ بنگالی وزیرِ اعظم کے خلاف چلا رہے ہیں۔ یہ بھی طے کیا گیا کہ جلوس پُررونق اور پُرہجوم راستوں اور سڑکوں سے نہ جائیں تاکہ ٹریفک میں رُکاوٹ کا مسئلہ پیدا نہ ہو اور حکومت کو شرانگیزی کرنے کا موقع میسر نہ آئے۔

۲۷؍فروری کی رات کو مجلسِ عمل کے تمام رہنما جن میں مولانا سیّد عطاء اللہ شاہ بخاریؒ، مولانا ابوالحسنات محمد احمد قادری، عبدالحامد بدایونی، مولانا لال حسین اختر،ؒ سیّد مظفر علی شمسیؒ اور دُوسرے بیسیوں رہنما شامل تھے، کراچی میں گرفتار کرلئے گئے۔

۲۸؍فروری کو پنجاب اور ملک کے دُوسرے حصوں میں سینکڑوں رہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتاری عمل میں آئی۔

۲۸؍فروری کو لائل پور میں دُوسرے شہروں کی طرح مجلسِ عمل کی اپیل پر ان رہنماؤں کی گرفتاری کے خلاف تاریخ ساز ہڑتال کی گئی، دھوبی گھاٹ میں لاکھوں انسانوں کا اِجتماع منعقد ہوا۔ حضرت مولانا مفتی محمد یونس مرادآبادی، مولانا حکیم حافظ عبدالمجید، صاحبزادہ ظہورالحق، سیّد صاحبزادہ افتخارالحسن، مولانا عبیداللہ اور بندہ تاج محمود و دیگر حضرات کے بیانات ہوئے، لوگوں نے ہر قسم کی قربانیاں دینے کا عہد کیا۔

71

اگلے روز تحریک شروع ہوگئی، لائل پور مجلسِ عمل کا صدر بندہ تاج محمود کو بنایا گیا، قادیانیت کے خلاف مسلمانوں کا جوش و جذبہ قابلِ دید تھا، چہار طرف سے تحریک کے الاؤ کو روشن کرنے کے لئے مسلمان اپنی جانوں کا نذرانہ تک دینے کو تیار تھے، حکومت نے دھوبی گھاٹ پر قبضہ کرلیا، ہم نے تحریک کا مرکز لائل پور کی مرکزی جامع مسجد کچہری بازار کو بنالیا، شہر اور ضلع بھر کے دیہات سے ہزاروں رضاکار جمع ہونا شروع ہوگئے، مسجد اور اس کی بالائی منزل رضاکاروں سے بھرنے لگی، صبح نو بجے اور تین بجے مسجد میں جلسے ہوتے، سو رضاکاروں کا دستہ صبح اور سو رضاکاروں کا دستہ سہ پہر اپنے آپ کو گرفتاری کے لئے پیش کرتا، جلوس اس شان سے نکلتا کہ اس پر فرشتے بھی رشک کرتے ہوں گے، محمدِ عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ اقدس کے حوالے سے چلنے والی تحریک میں رضاکاروں، کارکنوں، رہنماؤں غرضیکہ ہر عام و خاص کا جذبۂ عشقِ ختمِ نبوّت قابلِ دید تھا، ہر آدمی بازی لے جانے اور شفاعتِ محمدی کا پروانہ حاصل کرنے کے لئے بے تاب تھا۔

کچھ دنوں تک تو حکومت رضاکاروں کو گرفتار کرتی رہی لیکن بعد میں چند رضاکاروں کو گرفتار کرلیا جاتا اور اکثر رضاکاروں کو بسوں میں بٹھاکر تیس چالیس میل دُور لے جاکر جنگلوں میں چھوڑ دیا جاتا۔

اہم واقعہ

میرا دفتر جامع مسجد کی اُوپر کی منزل پر قائم تھا، ہر روز رات کو دس گیارہ بجے کے قریب کرفیو کے اوقات میں نکلتا، ساتھ میرے عزیز دوست فیروز اقبال کا گھر ہے، وہاں جاتا، بچیاں کھانا لاکر دیتیں، دو چار لقمے زہر مار کرتا یہاں تک تو میرے معتمدِ خاص کو علم ہوتا تھا کہ مولانا اس وقت کہاں ہیں؟ یہاں سے رات کے اندھیرے اور کرفیو کی حالت میں اکیلے چھپتے چھپاتے اپنی بہن کے گھر واقع کچی آبادی مال گودام

72

کے دُوسری طرف پہنچتا، یہ سفر میرے لئے انتہائی کٹھن ہوتا، ذرا سی آہٹ کا جواب گولی ہوسکتا تھا۔ ایک اور دوست کے ہاں جانا ہوتا، یا پھر اپنی مسجد ریلوے کالونی میں آکر تھوڑی دیر آرام کرتا، صبح فجر کی اَذان سے پہلے کچہری بازار کی مسجد میں واپس آجاتا، رضاکاروں کے ساتھ نماز پڑھتا، ہر روز میرا یہی معمول تھا۔

میرے دو شاگرد ایک ڈپٹی کمشنر کا اسٹینوگرافر تھا اور دُوسرا پولیس کے دفتر میں ملازم تھا، ان دونوں کا ذہن، قلب و جگر تحریکِ مقدس ختمِ نبوّت کے ساتھ تھا، وہ ہر روز عشاء کی نماز کے بعد آتے اور خفیہ حکومتی ارادوں، پروگراموں کی رپورٹ سے مجھے مطلع کرتے، ان میں سے ایک آج کل فیصل آباد کے معروف ایڈووکیٹ ہیں، دُوسرے اللہ رَبّ العزّت کو پیارے ہوگئے ہیں، اللہ تعالیٰ انہیں غریقِ رحمت کرے کہ وہ تحریک کے لئے بہت مخلص تھے، انہوں نے مجھے بتایا کہ آج آپ کے جلوس کے ساتھ ایک کی بجائے دو مجسٹریٹوں کی ڈیوٹی لگائی گئی ہے۔ میں حیران ہوا کہ ہمارا تو روز کا معمول ہے اور حکومت کا بھی کہ ایک مجسٹریٹ ہوتا ہے، آخر یہ دو مجسٹریٹوں کی کیوں ڈیوٹی لگائی گئی ہے؟ دُوسرا یہ کہ ہمارا جلوس تو دن کو ہوتا ہے، اس وقت تمام رضاکار سوئے ہوتے ہیں، رات کو جلوس اور مجسٹریٹوں کی ڈیوٹی یہ کیا ماجرا ہے؟ میں سوچ میں پڑگیا کہ یہ جلوس کون نکالے گا؟ کہاں سے آئے گا؟ میں نے اپنے معتمدِ خاص سے کہا کہ: ’’آج رات مسجد کے تمام دروازے اچھی طرح بند کرکے تالے لگادیں اور نصیحت کردیں کہ رات کو کوئی رضاکار ہرگز باہر نہ جائے۔‘‘ میں یہ ہدایت دے کر باہر آگیا، حسبِ معمول اقبال فیروز کے گھر گیا، کھانا سامنے رکھا گیا کہ جلوس کے نعروں کی آواز سنائی دی، میں متوجہ ہوا، ہجوم ’’مرزائیت مردہ باد‘‘ اور ختمِ نبوّت زندہ باد‘‘ کے نعرے لگاتا ہوا مسجد کی طرف بڑھ رہا تھا۔ مسجد کے قریب آکر جلوس نے مسجد کے دروازوں کو بند پایا، اِردگرد کا چکر لگایا، جب چکر لگاکر چترال ہاؤس کے قریب آیا تو یک دم فائر کی آواز سنائی دی، میں حیران تھا کہ یہ لوگ کون ہیں؟ کہاں سے آئے

73

ہیں؟ گولی کس نے چلائی؟ گولی کس کو لگی ہے؟ کون زخمی ہوا؟ کون مرا؟ کہیں اس میں میرے رضاکار تو شریک نہیں؟ میں واپس مسجد آیا رضاکاروں کے بارے میں دریافت کیا، معلوم ہوا کہ ہمارا کوئی رضاکار اس میں شریک نہ تھا، مگر باہر گولی لگنے سے چار، پانچ آدمی جاںبحق اور بہت سارے زخمی ہوئے، ہم لوگ جو پوچھتے کچھ پتا نہ چلتا، کافی عرصہ گزرگیا، میں گرفتار ہوا، قید ہوئی، قید کاٹ کر رہا ہوکر بھی آگیا، مگر یہ راز نہ کھلا۔

یہ انکشاف اس وقت ہوا کہ وہ کون تھے؟ جنھوں نے اس رات جلوس نکالا تھا اور پولیس نے ان کو گولیوں سے بھون کر رکھ دیا تھا۔

ہوا یوں کہ شہر کے ایک شخص کو قتل کے مقدمے میں سیشن کورٹ سے سزائے موت ہوئی، ہائی کورٹ و سپریم کورٹ سے بھی مقدمہ خارج ہوا، صدر نے رحم کی اپیل مسترد کردی، سزائے موت پر عمل درآمد کا وقت قریب آیا تو سپرنٹنڈنٹ جیل نے آخری خواہش پوچھی، تو اس نے جواب دیا کہ: میں ایک راز سے پردہ اُٹھانا چاہتا ہوں، کہ میں اس مقدمۂ قتل میں بے قصور ہوں، مگر یہ سزائے موت جو مجھے دی جارہی ہے، یہ فلاں رات تحریکِ ختمِ نبوّت کے سلسلے میں جلوس نکال کر چار، پانچ نوجوانوں کو موت کی آغوش میں دھکیلنے کی پاداش میں پارہا ہوں۔ اس نے انکشاف کیا کہ پولیس کی سازش سے یہ جلوس نکالا گیا، پولیس کی پلاننگ یہ تھی کہ میں (سزائے موت پانے والا) محلے کے چند بچوں اور نوجوانوں کو اِکٹھا کرکے جلوس نکالوں، نعرے لگاتے ہوئے مسجد میں آئیں، وہاں طے شدہ پروگرام کے مطابق جلوس کے گرد چکر لگائے، نعرے بازی کرے، اسی اثنا میں مجلس کے رضاکار جلوس میں شامل ہوجائیں گے، پولیس ان میں سے چند کو گولیوں کی بوچھاڑ سے ٹھنڈا کردے گی، باقی رضاکار خوف زدہ ہوکر دَب جائیں گے اور یوں تحریک کو ٹھنڈا کردیا جائے گا۔ میں ان بچوں کو ڈگلس پورہ اور اس کے اِردگرد سے مٹھائی کا لالچ دے کر لایا تھا اور جلوس کی شکل میں وہاں لاکر پولیس کے لئے تر نوالہ مہیا کیا، ان کا یہ قتل میرے ذمے ہے، میں اس قتل کی سزا پارہا ہوں۔

74

یہ تھی دُوسری بار گولی چلنے کی داستان، اس سے قبل بھی لائل پور میں گولی چلی تھی، میرے ایک سو کے قریب رضاکار لائل پور سے کراچی جارہے تھے، جیسے ہی ٹرین روانہ ہوئی فوراً ہی اسٹیشن کی حدود سے نکلنے سے پہلے ہی روک لی گئی اور رضاکاروں کو منتشر ہونے کا حکم دیا گیا، رضاکار ڈَٹ گئے، ان کے پاس ڈنڈے تھے اور پولیس کے پاس گولی تھی، پولیس نے اندھادھند فائرنگ کی، بیسیوں رضاکار شہید ہوگئے، کئی لاشیں پولیس نے موقع سے اُٹھاکر غائب کردیں، ہمارے ہاتھ پانچ لاشیں آئیں، جب اس اندوہ ناک واقعے کی اطلاع ملی، میری کمر ٹوٹ گئی، میرے سامنے کربال کی فلم چلنے لگی، غم سے نڈھال ہوگیا، وحشت عود آئی، دِل آنسو بہا رہا تھا، دِماغ پھٹنے کو ہوگیا، ضمیر بے رحم حکمرانوں کو کوس رہا تھا، آنکھیں پتھرا گئیں، اقبال کا یہ مصرعہ ڈھارس بندھا رہا تھا:

اگر عثمانیوں پر کوہِ غم ٹوٹا تو کیا غم ہے

کہ خونِ صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا

لاشیں اسٹیشن سے مسجد میں لائی گئیں، چار کی شناخت ہوگئی، ان کے لواحقین کو اِطلاع کردی گئی، وہ آگئے، ایک نوجوان لڑکے کی لاش ہم سے شناخت نہ ہوسکی اور نہ ہی اس کے لواحقین کا پتا چلا۔ شام چھ بجے کے قریب میرے پاس ایک آدمی آیا، اس نے بتایا کہ یہ لاش سمندری روڈ کی ہے، آپ ہمیں لاش لے جانے کی اجازت دے دیں، میں نے اس سے پوچھا کہ: ’’بھائی تمہارا کیا رشتہ ہے؟ اس کے والدین کیوں نہیں آئے؟‘‘ اس نے کہا کہ: ’’جی انہوں نے مجھے بھیجا ہے!‘‘ میں نے کہا کہ: ’’یہ ہمارے پاس قوم کی امانتیں ہیں، میں ان کو کسی اور کے حوالے نہیں کرسکتا!‘‘ اس نے کوئی جواب نہ دیا اور چلاگیا۔

اس سے پہلے مجھے کسی شخص نے بتایا کہ یہ لاش پُراسرار ہے، اب میرے خدشات بڑھنے لگے کہ آخر ان کے والدین خود کیوں نہیں آئے؟ ضرور کوئی بات ہے۔

75

ہم نے سب لاشوں کو غسل دیا، کفن کا انتظام کرکے شہر میں اعلان کرادیا کہ صبح ساڑھے نو بجے دھوبی گھاٹ اقبال پارک میں نمازِ جنازہ پڑھائی جائے گی، جنازے کی چارپائیوں کے ساتھ بڑے بڑے بانس باندھ کر زیادہ سے زیادہ لوگوں کو آخری کندھا دینے کی سعادت حاصل کرنے کا انتظام کیا گیا، جنازے اُٹھاکر جلوس کی شکل میں دھوبی گھاٹ لائے گئے، جنازے بالکل تیار تھے، صفیں دُرست کی جارہی تھیں کہ وہی آدمی پھر آیا اور کہنے لگا کہ: ’’اس کے والدین آئے ہیں، ذرا منہ دِکھادو‘‘ دو عورتیں اور ایک مرد تھا، آخری زیارت کے لئے میں نے اس کے منہ سے کفن ہٹادیا، مرد اس کا باپ تھا، وہ لاش کے قدموں کی طرف کھڑا تھا، ایک عورت جو ماں تھی اس نے لڑکے کا منہ چوما اور روتی روتی بے ہوش ہوگئی، دُوسری عورت اس کی بیوی تھی، چند ماہ پہلے شادی ہوئی تھی، وہ اس کے قدموں کی طرف گئی، جھک کر اس کے پاؤں چومے اور پھر بے ہوش ہوگئی، ہوش آنے پر دو تین منٹ کے بعد ان کو ہٹادیا گیا، وہ چلے گئے، جنازہ پڑھا گیا، جنازہ پڑھنے کے لئے سارا شہر اُمڈ آیا تھا، اِردگرد کے دیہاتوں کے لوگ بھی بہت بڑی تعداد میں جنازے میں شریک ہوئے، اتنا بڑا ہجوم لائل پور کی تاریخ میں کبھی دیکھنے میں نہیں آیا، یہاں بڑے بڑے لیڈر آئے، ان کے جلوس میں نے بچشمِ خود دیکھے، مگر اتنا رَش اس سے پہلے اور اس کے بعد آج تک نہیں دیکھا۔ گراؤنڈ پوری بھر چکی تھی، باہر کی تمام سڑکیں بھرچکی تھیں، گورنمنٹ کالج کی طرف جھنگ روڈ تک صفیں تھیں، ادھر بھوانہ بازار سامنے نالے کی چھت پر اور اس کے پیچھے گلیوں تک اجتماع تھا، بھلا اندازہ کیجئے کہ جن شہیدوں کو رُخصت کرنے والے اتنے لوگ ہوں گے، ان کی آگے خدا تعالیٰ کے ہاں کیسی پذیرائی ہوئی ہوگی۔۔۔!

جب میں جیل کاٹ کر سوا سال بعد رہا ہوکر آیا تو اکثر شام کو بٹ گڈز والے قاضی جلال الدین کے ہاں بیٹھتا تھا، ان کے ہاں ایک دن شام کو ایک شخص نے مجھ سے پوچھا کہ: ’’آپ کی تحریک میں جاںبحق ہونے والا ایک لڑکا قادیانی تھا‘‘ میں

76

نے کہا کہ: ’’میں یقین سے نہیں کہہ سکتا۔‘‘ اس نے بتایا کہ: ایک دفعہ میں ملتان کسی فیکٹری میں مالکوں کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ آپ کی تحریک کی باتیں شروع ہوگئیں، شہیدوں کا ذکر آیا تو ایک بوڑھا جو پاس کھڑا تھا وہ دھڑام سے گرا اور بے ہوش ہوگیا، تھوڑی دیر بعد ہوش آیا تو مالکوں کے اصرار پر اس نے بتایا کہ اس تحریک میں اس کا بیٹا بھی مارا گیا تھا، بس وہ لڑکوں کے ساتھ چلا گیا تھا، بعد میں اس کے والدین کے بارے میں معلوم ہوا کہ وہ قادیانی ہیں، اندر کے حالات اللہ تعالیٰ ہی جانتے ہیں کہ وہ لڑکا قادیانی تھا یا نہیں؟ بہرحال میں نے آج تک اس کو قادیانی نہ لکھا، نہ کہا، (ممکن ہے کہ قادیانی ہو اور تحریک کو تشدد کے راستے پر ڈال کر سبوتاژ کرنا اس کا مشن ہو اور یہ کہ قادیانی خاندان کے باوجود وہ خود مسلمان ہو اور جذبۂ عشقِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے پیشِ نظر جلوس میں شریک ہوا ہو، تاہم اس کی حقیقت اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہیں)۔ عینی شاہدوں کا کہنا ہے کہ یہ لڑکا گاڑی کے انجن پر کھڑا تھا، اس نے گریبان کھول کر اور سینہ تان کر پولیس والے گرج دار آواز میں مخاطب ہوکر کہا تھا کہ: ’’یہاں گولی مارو!‘‘ پولیس والے ظالم نے وہیں کو داغ دی، بس وہ ایک ہی جست میں نیچے گرا اور رُوح پرواز کرگئی۔ میں کچھ نہیں کہہ سکتا، ممکن ہے کہ قادیانی نہ ہو، اس نے جذبۂ اِیمانی سے سرشار ہوکر اِسلام کی سربلندی کے لئے گولی کھائی ہو، یہ سربستہ راز جاننے والی قوّت اللہ تعالیٰ رکھتے ہیں، اس کا عقدہ روزِ محشر کھلے گا۔

میری گرفتاری:

میں مجلسِ عمل تحفظِ ختمِ نبوّت لائل پور کا صدر تھا، حضرت مولانا مفتی محمد یونس، مولانا حکیم حافظ عبدالمجید نابینا، صاحبزادہ ظہورالحق، مولانا محمد صدیق، صاحبزادہ سیّد افتخارالحسن، مولانا محمد یعقوب نورانی، مولانا عبدالرحیم اشرف اور دیگر حضرات مجلسِ عمل کی عاملہ کے رکن تھے، مجلسِ عاملہ کے پہلے ہی اجلاس میں فیصلہ کرلیا گیا تھا کہ باقی سب

77

حضرات رضاکاروں کے دستوں کی قیادت کرتے ہوئے خود کو گرفتاری کے لئے پیش کریں گے، لیکن میں (مولانا تاج محمود) تحریک کو جاری اور منظم رکھنے کے لئے گرفتاری نہ دُوں، مجلسِ عمل کا دفتر جامع مسجد کی بالائی منزل پر تھا، کم و بیش پانچ ہزار رضاکار گرفتاری دینے کے لئے اپنی باری کے اِنتظار میں مسجد میں جمع رہتے تھے، صبح و شام دو سو رضاکار یومیہ گرفتاری دے رہے تھے، جامع مسجد میں جلسہ ہوتا تھا، ہر طرف ختمِ نبوّت کی بہاریں ہی بہاریں تھیں، یہ سلسلہ پندرہ بیس دن جاری رہا، پندرھویں یا سولھویں دن یہاں کے ڈپٹی کمشنر سبط حسن کے حکم سے مسجد کی بجلی و پانی منقطع کردیا گیا۔

دُوسرے روز جامع مسجد میں جلسہ ہوا، میں نے پانی و بجلی کے منقطع کرنے پر اِحتجاج کرتے ہوئے کہا کہ: ’’سبط حسن تم سیّد ہو اور اس فرقے سے تعلق رکھتے ہو جو ۱۳۵۰ سال سے کربلا میں پانی کی بندش اور حضرت حسینؓ کی شہادت کا ’’ہائے حسینؓ! ہائے حسینؓ‘‘ کہتے ہوئے ماتم کرتا ہے، کم ازکم تیرے لئے یہ مناسب نہ تھا، اگر تیری ماں کو مسجد کے پانی و بجلی کے منقطع کرنے کے تیرے اس کارنامے کا علم ہوتا تو وہ تیرا نام ’’سبط حسن‘‘ کی بجائے ’’ابنِ یزید‘‘ رکھتی۔‘‘

اس تقریر کی رپورٹ پہنچنے پر میجر سبط حسن ڈی سی لائل پور میرا ذاتی و جانی دُشمن ہوگیا اور اس نے حکم دے دیا کہ مجھے بہرطور گرفتار کرلیا جائے، پہلے نرمی اور حکمتِ عملی سے پھانسنا چاہا، رانا صاحب ایس پی جو تحریک سے پہلے کے میرے جاننے والے تھے، انہوں نے مجھے اپنے دفتر بلوایا کہ آپ سے ایک ضروری امر پر مشورہ کرنا ہے، میں صورتِ حال کو بھانپ گیا اور میں نے تعلقات کے باوجود ان کے دفتر میں جانے کو پسند نہ کیا، پھر میاں مظفر اے ڈی ایم جو میرے اور مولانا عبیداللہ احرار کے مشترکہ دوست تھے، وہ تشریف لائے اور مجھے کچہری بازار کے ایک ہوٹل میں بلوایا کہ مجھے آپ سے ضروری باتیں کرنی ہیں، میں ان کے دھوکے میں بھی نہ آیا اور ملنے سے انکار کردیا، اسی وقت اطلاع ملی کہ اے ایس پی نے ہمارے گرفتار شدہ رضاکاروں کو

78

جیل کے دروازے پر ڈنڈوں اور بیدوں سے پٹوایا ہے، ہم نے اگلے روز پھر جلسہ کیا اور ڈی سی، ایس پی سے مطالبہ کیا کہ اے ایس پی کو یہاں سے چلتا کیا جائے، ڈیوٹی سے ہٹایا جائے اور اگر ایسا نہ کیا گیا اور یہ قتل ہوگیا تو ہماری ذمہ داری نہ ہوگی۔ اسی رات کو ہی پولیس نے چنیوٹ بازار میں گولی چلاکر کئی مسلمانوں کو خاک و خون میں تڑپادیا تھا۔

جب میں ان کے چکر میں نہ آیا تو انہوں نے مجھے گرفتار کرنے کے لئے مسجد میں بوٹوں سمیت پولیس کو داخل ہونے کا حکم دینے کا فیصلہ کیا۔ ۱۷، ۱۸، ۱۹؍مارچ پورے تین روز بغیر کسی وقفے کے شہر میں کرفیو نافذ رہا، پورے شہر کی ناکہ بندی کردی گئی، کرفیو کے دوران مجھے ہر قیمت پر گرفتار کرنے کا فیصلہ ہوا، چنانچہ میں ۲۰؍مارچ کو رات ایک بجے چک نمبر۶۷ نزد گلبرگ سے گرفتار ہوا، راجہ نادر خان میری گرفتاری کے وقت پولیس کے ہمراہ شامل تھے۔

مقدمے کی رُوئیداد:

۲۰؍مارچ ۱۹۵۳ء کو گرفتاری عمل میں آئی، جون ۱۹۵۴ء میں تقریباً سوا سال بعد رہا ہوا، گرفتار کرنے کے بعد پہلی رات مجھے لائل پور کی حوالات میں رکھا گیا، دُوسری رات تین بجے صبح لائل پور سے لاہور شاہی قلعے میں منتقل کیا گیا، یہاں پر تفتیش شروع کی گئی۔ تفتیش کا مقصد یہ تھا کہ حکومت جاننا چاہتی تھی کہ اس تحریک کے مقاصد کیا ہیں؟ اس تحریک میں کسی بیرونی ملک یا طاقت کا ہاتھ ہے؟ یہ تحریک ملک کے خلاف قومی سازش ہے؟ یا وہ یہ دیکھنا چاہتے تھے کہ قادیانیوں کی وہ کونسی چیزیں ہیں جن کا اتنا شدید رَدِّ عمل ہوا۔ ایک لاکھ سے زائد لوگوں نے اپنے آپ کو گرفتاری کے لئے پیش کیا، تمام جیل خانے بھرگئے، بڑی بڑی جیلوں میں کیمپ لگانے پڑے، مختلف لوگوں کو مختلف المیعاد سزائیں دی گئیں، سیفٹی ایکٹ کے تحت نظربند رکھا گیا، ہزاروں

79

مسلمان شہید ہوئے، آخر ایسا کیوں ہوا؟

مجھے پہلی دفعہ قلعہ جانے کا اتفاق ہوا، میں ان کی تفتیش کی تکنیک سے ناواقف تھا، میرا خیال تھا کہ وہ ہمیں تاریک تہہ خانوں میں رکھیں گے، ظلم و تشدّد کے پہاڑ توڑیں گے، جب بھی قلعے کا ذکر آتا ہے اس وقت ظلم و تشدّد کی داستانیں ذہن میں اُبھرتی ہیں، اس کے برعکس صاف ستھری بارکوں میں رکھا گیا، سلاخ دار دروازے تھے، پانی بجلی موسم کے مطابق، کمبل وغیرہ ہر چیز مہیا تھی، ایک ماہ میں میری معلومات کے مطابق تحریک کے کارکنوں پر تشدّد تو درکنار، اُنگلی تک نہ اُٹھائی گئی، بلکہ ذہنی کرب اور فکری کوفت و پریشانی میں ان کو اس طرح مبتلا کیا گیا کہ اس ذہنی تکلیف کے سامنے بیسیوں قسم کے تشدّد کوئی حقیقت نہیں رکھتے۔

مثلاً مجھے پہلے دن بارک نمبر۱۰ میں فردوس شاہ ڈی ایس پی کے قاتل اشرف کاکا کے ساتھ رکھا گیا، اشرف کاکا کے متعلق مشہور تھا کہ اس نے فردوس شاہ ڈی ایس پی کو قتل کیا ہے، پولیس نے اس کو گرفتار کیا، اس پر فردوش شاہ کے ریوالور کی برآمدگی ڈالی گئی، چونکہ یہ نوجوان کئی دنوں سے قلعے کی اس کوٹھڑی میں تنہا بند تھا، دِماغی لحاظ سے ماؤف سا دِکھائی دیتا تھا، مجھے یہ بتایا گیا کہ یہ قتل کا مجرم ہے اور لائل پور میں جو لوگ پولیس کی گولی سے جاں بحق ہوئے ان کے قتل کے جرم کی پاداش میں آپ پر بھی ۳۰۲ کا مقدمہ چلایا جائے گا۔ ظاہر ہے کہ جو شخص نوگرفتارِ قفس ہو، اسے ذہنی طور پر اذیت پہنچانے کے لئے یہ بات کافی تھی۔

۱:۔۔۔ اب میری تفتیش شروع ہوئی، مجھ پر اِلزام لگایا کہ کسی بیرونی ملک کا روپیہ تحریک کے لئے آتا رہا ہے اور وہ آپ کو بھی ملتا رہا ہے۔

۲:۔۔۔ آپ کی تحریک کے لیڈر دولتانہ صاحب سے ملے ہوئے ہیں، دولتانہ صاحب کا کوئی آدمی آپ کو لائل پور ہدایت دیتا رہا۔

۳:۔۔۔ افغانستان کے کوئی مشکوک لوگ آکر آپ سے ملے تھے، ان سے آپ

80

کی کیا گفتگو ہوئی؟ انہوں نے آپ کو کیا دیا تھا؟

۴:۔۔۔ آپ مسجد کی بالائی منزل پر جن کمروں میں رہتے ہیں، وہاں کافی اسلحہ بھی پہنچا ہوا تھا، یہ اسلحہ آپ کو کس نے پہنچایا تھا؟

۵:۔۔۔ گوجرانوالہ کے پہلوان رضاکاروں کا ایک جتھہ آپ سے اس مسجد میں ملا تھا، یہ جتھہ ربوہ میں مرزائیوں کے سربراہ کو قتل کرنا چاہتا تھا، آپ نے ان کو کیا ہدایات دیں؟

۶:۔۔۔ جو لوگ پولیس کی گولیوں سے مارے گئے، وہ آپ کی ہدایت پر پولیس کے مقابلے میں نکلے تھے۔

۷:۔۔۔ آپ نے ٹرینیں رُکوائی تھیں، لائن اُکھڑوائی تھی اور بعض جان داروں کو نذرِ آتش کرایا تھا۔

۸:۔۔۔ اس کی کیا وجہ تھی کہ مرکزی مجلسِ عمل نے رضاکاروں کے دستے لاہور بھیجنے کی آپ کو ہدایت کی تھی، لیکن آپ نے لائل پور کے سربراہ کی حیثیت سے ان کا رُخ کراچی کی طرف کیوں موڑ دیا تھا؟

غرضیکہ اس طرح کے بے سروپا، جھوٹ و افترا پر مبنی اِلزامات کی ایک طویل فہرست مجھے پڑھ کر سنادی گئی، جن کو سن کر میرا اِبتدائی تأثر یہ تھا کہ ہم جنابِ رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کی عزّت و ناموس کے تحفظ کے لئے جانوں پر کھیل رہے ہیں اور یہ ہم پر کس طرح کے جھوٹے اِلزامات عائد کر رہے ہیں؟ صبح کے وقت یہ کارروائی ہوئی، انسپکٹر پولیس جو میری تفتیش پر مأمور تھا، جس کا نام دِماغ سے نکل گیا ہے، اس نے یہ اِلزامات عائد کرکے مجھے کہا کہ آپ ان سوالات کے جواب تیار رکھیں، شام پانچ بجے ملاقات ہوگی۔

یہ کہہ کر وہ چلا گیا، پورے آٹھ روز تک نہ آیا، میں مسلسل ان الزامات کو جھوٹا اور بے بنیاد ثابت کرنے اور اصل صورتِ حال بتانے کی تیاری کرتا، لیکن رات کو نیند

81

تک نہ آتی، غنودگی کبھی طاری ہوجاتی، یادِ اِلٰہی کی جو کیفیت اور تجلیات و برکات قلعے کے اَیامِ اسیری میں محسوس کی، پھر وہ عمر بھر نصیب نہ ہوسکی۔ جب آٹھویں دن صبح کو اُٹھا تو میرا دِل و دِماغ نئی سلیٹ کی طرح صاف تھا، میں نے فیصلہ کیا کہ میں کچھ نہ سوچوں گا، موقع پر جو سوالات کریں گے صحیح صحیح جوابات دے دُوں گا۔

ابھی یہ فیصلہ ہی کیا تھا کہ انسپکٹر صاحب آدھمکے اور معذرت کرنے لگے کہ میں کسی ضروری کام سے باہر چلا گیا تھا، میں نے دِل میں سوچا کہ میں تمہارے ہتھکنڈوں سے ناواقف تھا، اس لئے ذہنی کوفت میں رہا، تشریف لائیے، پوچھئے میں بتائے دیتا ہوں۔ مجھے حوالات سے نکال کر بارک میں لے گئے، ہتھکڑی بھی نہیں لگائی، پھل کے خالی کریٹ کو اوندھا کرکے مجھے اس پر بٹھادیا گیا، ’’ان سوالوں کا جواب صحیح صحیح دینا ہے، کوئی غلط جواب نہ دیں اور یہ یاد رکھیں کہ یہ شاہی قلعہ ہے، یہاں سے آپ کی چیخ و پکار بھی باہر نہیں جاسکتی اور نہ ہی آپ کی مدد کو کوئی بلند و بالا دیواریں پھلانگ کر اندر آسکتا ہے۔‘‘ یہ اس کے تمہیدی کلمات تھے۔

اب سوالات شروع ہوئے، میں مختصر جواب دیتا رہا، جب مالیات کے متعلق سوال کیا کہ کس کس شخص نے کیا کیا مدد کی؟ کل کتنا روپیہ تھا؟ کتنا کہاں صَرف ہوا؟ باقی کہاں ہے؟ مجھے لائل پور میں معلوم ہوگیا تھا کہ جن مخیر حضرات کی تحریک میں مالی معاونت کا حکومت کو علم ہوجاتا ہے، اس کی شامت آجاتی ہے، اس لئے میں نے جان خطرے میں ڈال کر کہا کہ: ’’یہ شعبہ میرے پاس نہیں ہے، میری رہائش شہر سے میل ڈیڑھ میل باہر ہے، میں شہر کے لوگوں کو زیادہ جانتا بھی نہیں۔‘‘ اس نقطے پر مجھے بڑی کوفت ہوئی، بڑی اذیت کا سامنا کرنا پڑا، مگر میں نے ثابت قدمی کا دامن مضبوطی سے تھامے رکھا، غرضیکہ پوری ہسٹری شیٹ تیار کی، صبح کے چھ بجے سے رات کے گیارہ بجے تک مختلف وقفوں سے یہ عمل جاری رہا، گیارہ بجے رات تھکن سے چور ہوکر حوالات میں آکر نماز پڑھی، نیند نے آدبوچا، صبح فجر کی نماز سے فارغ ہوا ہی تھا کہ

82

انسپکٹر صاحب آدھمکے اور بڑی معصومیت اور مصنوعی طور پر مایوسی کا اظہار کرتے اور چہرہ بناتے ہوئے کہا کہ: ’’میری اور آپ کی کل کی ساری محنت ضائع ہوگئی، وہ دستاویزات میرے سائیکل کے کیریئر پر سے گھر جاتے ہوئے راستے میں گرگئیں، آئیے اور کل والا بیان پھر لکھوائیے تاکہ میں اُوپر افسران کو بھیج سکوں۔ میں پھر کل والی بارک میں پہنچایا گیا، وہیں دوبارہ پھر سارا بیان لکھوایا، بعض مقامات ایسے تھے جہاں میں نے معلومات بہم پہنچاتے ہوئے احتیاط سے کام لیا تھا، آج بعض اور مقامات پر احتیاط کی گئی، کل والی احتیاط کا خیال دِماغ میں نہ رہا، رات گیارہ بجے پھر فراغت ہوئی اور مجھے میری حوالات میں پہنچادیا گیا، ضروریات و فرائض سے فارغ ہوا، گہری نیند کل کی طرح سوگیا۔ تیسرے روز ابھی نمازِ صبح سے فارغ ہوا ہی تھا کہ پھر انسپکٹر صاحب آدھمکے اور کہا کہ: ’’ستم ہوگیا! وہ آپ کا پرسوں کا بیان میری میز کی دراز میں رہ گیا تھا، وہ بھی مل گیا، لیکن اب جو میں نے آپ کے دونوں بیانات کو پڑھا ہے تو ان میں تضاد و اختلافات ہیں، چنانچہ ان تضادات کو رفع کریں، مثلاً میں نے پہلے بیان میں کہا ہے کہ میں نے شاہ جی سے متأثر ہوکر ۱۹۳۲ء میں احرار میں شمولیت اختیار کی، دُوسرے بیان میں، میں نے ۴۷، ۱۹۴۸ء بتایا، اب اس نے کہا کہ ان میں سے کونسی بات صحیح ہے؟ میں نے کہا کہ رسمی طور پر ۱۹۳۲ء سے شامل تھا، باضابطہ طور پر ۴۷، ۱۹۴۸ء میں شامل ہوا، غرضیکہ مسلسل اس قسم کی پورا دن کھینچا تانی جاری رہی۔

چوتھے روز اصغر خان ڈی آئی جی قلعہ نے وہ زبان استعمال کی، دِلخراش خرافات کا ریکارڈ توڑ دیا، مسلسل ہتھکڑی لگاکر صبح چھ بجے سے رات گیارہ بجے تک کھڑا کیا گیا، کمر کا درد ہمیشہ کا ساتھی بن گیا۔

قلعے کے دن بڑے سخت تھے، اشرف کاکا کو وعدہ معاف گواہ بناکر مولانا عبدالستار خان نیازی کو فردوس شاہ کے قتل میں ملوّث کرنے کی کوشش کی گئی، مگر وہ انکاری رہا، اشرف کاکا بڑا بہادر انسان تھا، تین سال جیل کاٹ کر ملتان سے رہا ہوکر

83

میرے پاس آیا، بعد میں پھر ملاقات نہ ہوسکی، نہ معلوم کہ اب وہ زندہ ہے یا انتقال کرگیا؟ جس حالت میں ہے اللہ تعالیٰ اسے سلامت رکھے!

شاہی قلعے کے بعد دس دن سبی کی حوالات میں گزارے، یہ دن میرے لئے پہلے سے زیادہ اذیت ناک اور تکلیف دہ تھے، کیونکہ حوالات سماج دُشمن عناصر سے بھری پڑی تھی، پھر چند دن کے لئے لاہور سینٹرل جیل میں بھیج دیا گیا، یہاں سے بالآخر کیمل پور (اٹک) جیل بھیج دیا گیا، بقیہ اَیام اسیری یہاں گزارے۔ قلعہ اور اٹک جیل میں مزید سیاسی رہنماؤں مولانا سیّد ابوالاعلیٰ مودودی، مولانا عبدالستار خان نیازی، مولانا عبدالواحد گوجرانوالہ، چوہدری ثناء اللہ بھٹہ، حکیم حافظ عبدالمجید نابینا، آغا شورش کاشمیری کا ساتھ رہا۔

میرے پیچھے میرے گھرانے پر جو صعوبتیں آئیں وہ بڑی دِلخراش کہانی ہے، بقول غالب:

ہے سبزہ زار پر در و دیوار غم کدہ

جس کی بہار یہ ہو اس کی خزاں نہ پوچھ!

گھر کا سامان حکومت ضبط کرکے لے گئی، چند چیزیں مال خانے میں جمع کراکر باقی سامان پولیس نے مالِ غنیمت سمجھ کر آپس میں تقسیم کرلیا، ریلوے والوں نے تنخواہ بند کردی، شہر والے سمجھتے رہے کہ مولانا ریلوے کے بادشاہ ہیں اور ریلوے والے سمجھتے رہے کہ مولانا شہر کے بادشاہ ہیں، بچوں کو خاصی پریشانی رہی، بہرحال جیسے کیسے وقت گزرگیا:

بلبل کے کاروبار پر ہے خندہ ہائے گل

کہتے ہیں جس کو عشق خلل ہے دِماغ کا!

رہائی کے بعد ریلوے والے گزشتہ اَیام کی پوری تنخواہ لائے، میں نے یہ کہہ کر واپس کردی کہ میری عدم موجودگی میں میرے بچوں کو رقم کی زیادہ ضرورت تھی،

84

اس وقت تو آپ نے دی نہ، اب تو میں آگیا ہوں، میری عدم موجودگی میں جس ذاتِ باری تعالیٰ نے انتظام کیا، وہ اب میری موجودگی میں بھی اس کا اہتمام کرے گی۔ وہ دن جائے آج کا دن آئے، پھر کبھی ریلوے والوں سے مسجد کی خطابت کی تنخواہ نہ لی۔

تحریکِ ختمِ نبوّت کے بارے میں حکومت کا رویہ:

حکومت انفرادی ملاقاتوں میں تسلیم کرتی تھی کہ ہمارا موقف دُرست ہے، لیکن پبلک کے سامنے انکار کرتی تھی، اصل میں بدقسمتی یہ تھی کہ مرکز میں خواجہ ناظم الدین برسرِ اقتدار تھے، قادیانیت کا مرکز پنجاب میں تھا، جہاں دولتانہ برسرِ اقتدار تھا، ملک کا دستور زیرِ ترتیب تھا، دستور میں یہ مسئلہ زیرِ بحث تھا کہ صوبہ سرحد، پنجاب، سندھ، بلوچستان اور مشرقی بنگال اس لحاظ سے بنگال کا حصہ پانچویں بھائی کا بنتا تھا اور مغربی پاکستان سے مشرقی پاکستان کی آبادی کچھ زیادہ تھی، اس لئے دُوسرا موقف یہ تھا کہ ملک کے سیاسی و معاشی آدھے حقوق مغربی پاکستان کے ہیں اور آدھے مشرقی پاکستان کے، یہ تمام بحثیں بنگالی و پنجابی رہنماؤں کے درمیان تلخیاں پیدا کر رہی تھیں، خواجہ ناظم الدین کو بنگال کا نمائندہ سمجھا جارہا تھا اور دولتانہ کو پنجابیوں کا لیڈر گردانا جارہا تھا، یہ بحثیں ابھی جاری تھیں کہ تحریکِ ختمِ نبوّت ملک میں زور پکڑگئی، مرزا بشیرالدین ان دنوں سخت اِشتعال انگیز بیان دے رہا تھا، اس کا یہ اعلان بھی شامل تھا کہ ۱۹۵۲ء گزرنے سے پہلے ایسے حالات پیدا کردئیے جائیں کہ دُشمن ہمارے پاؤں پر گرنے پر مجبور ہوجائے اور پھر یہ بیان کہ وہ وقت آنے والا ہے جب اقتدار ہمارے پاس ہوگا اور ہم دُشمنوں کے ساتھ چوڑھے چماروں کا سا سلوک کریں گے۔

مرزا محمود کے ان بیانات نے جلتی پر تیل کا کام کیا اور ملک میں تحریک بھڑک اُٹھی، جب گرفتاریاں شروع ہوئیں تو مرکزی حکومت کے رہنماؤں خصوصاً بنگالی قائدین نے اس تحریک کو دولتانہ کی تحریک کا نام دیا کہ وہ خواجہ ناظم الدین اور مرکزی

85

حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لئے علماء کو اُکساکر کراچی بھیج رہے ہیں اور پورے ملک کے امن کو تہہ و بالا کیا ہوا ہے، حالانکہ خود دولتانہ تحریکِ ختمِ نبوّت کے رہنماؤں کے مقابلے میں تحریک کی مخالفت کے لئے جگہ جگہ دورے کر رہے تھے، کئی جگہ ان کے جلسے بدامنی کا شکار ہوگئے، کئی جلسوں میں ان پر سوالات کی ایسی بوچھاڑ ہوئی کہ ان کے لئے جان چھڑانا مشکل ہوگیا، وہ خود مشکل میں پھنسے ہوئے تھے، پنجاب مسلم لیگ تحریک کی دُشمن تھی، اس لئے کہ وہ دیکھ رہے تھے کہ تحریک کے معمولی رہنماؤں کے جلسے میں لاکھوں افراد پہنچ جاتے تھے اور اس کے برعکس لیگ یا دولتانہ کا جلسہ ہوتا تو چند گنے چنے مسلم لیگی، ڈیوٹی والے پولیس کے ٹاؤٹ اور سادہ کپڑوں میں پولیس کے لوگ ہوتے، اس کیفیت سے مسلم لیگ خائف تھی کہ اگر تحریک کو کچلا نہ گیا تو آنے والے الیکشن میں مسلم لیگ مجلسِ احرار کے ہاتھوں بری طرح شکست کھاجائے گی، لیکن دوسری طرف ناظم الدین اور اس کے ساتھی پنجاب کی ساری صورتِ حال کی ذمہ داری مسلم لیگ پر ڈالتے رہے اور جو کچھ وہ تحریک کے خلاف کر رہے تھے اس کو دولتانہ کی مکاری و عیاری سمجھتے رہے، یہ بات کہ ختمِ نبوّت کی تحریک کے لیڈروں نے دولتانہ صاحب کے اشارے پر ناظم الدین کو گرانے کے لئے یہ تحریک شروع کی تھی، تاریخ کا سب سے بڑا جھوٹ ہے اور اس پر مزید یہ کہ ناظم الدین اور اس کی مرکزی حکومت کے علاوہ منیر انکوائری رپورٹ نے بھی مرکزی حکومت کے موقف کو تسلیم کیا، تحریک اور تحریک کے رہنماؤں کو بدنام کرنے اور ان کی کردارکشی کرنے اور انہیں ذلیل کرانے کی پوری کوشش کی گئی، جس کا فائدہ مرزائیوں یعنی فریقین کے دُشمنوں کو پہنچا، منیر نے اپنی رپورٹ میں علماء کی کردارکشی کرتے ہوئے یہاں تک لکھ دیا کہ: ’’دُنیا کی سب سے بڑی اسلامی ریاست پاکستان کے علماء اسلام کی متفقہ تعریف نہیں کرسکے‘‘ یہ لکھ کر دُنیائے عیسائیت کے ہاتھ میں اسلام کے خلاف ایک بڑا دستاویزی ثبوت مہیا کردیا، حالانکہ یہ تحریک علماء اور مسلمانوں کے اپنے نیک جذبات اور اِخلاص

86

پر مبنی تھی اور اس کا باعث مرزا بشیرالدین کے اشتعال انگیز بیانات اور مرزائیوں کی جارحانہ اِرتدادی سرگرمیاں تھیں۔

مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان کی سیاست کا اس میں دخل نہ تھا، نہ بنگالی پنجابی کی حمایت یا مخالفت میں کچھ کیا جارہا تھا، دولتانہ کو جو وفود ملتے رہے، اس میں ان کے ان الفاظ کو اس جھوٹ کے پلندے کی بنیاد بنایا گیا، دولتانہ کا یہ کہنا تھا کہ آپ کے چار مطالبات ہیں:

۱:۔۔۔ مرزائیوں کو غیرمسلم اقلیت قرار دیا جائے۔

۲:۔۔۔ ظفراللہ خان مرتد قادیانی کو وزارتِ خارجہ سے ہٹایا جائے۔

۳:۔۔۔ مرزائیوں کو کلیدی عہدوں سے برطرف کیا جائے۔

۴:۔۔۔ ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا جائے۔

جہاں تک پہلے تینوں مطالبات کا تعلق ہے، وہ مرکزی اسمبلی سے متعلق ہیں، جس کے ہم بھی ممبر ہیں، ان مطالبات کو آپ وہاں پیش کرائیں، ہم وعدہ کرتے ہیں کہ ہم آپ کے مطالبات کی تائید میں ووٹ دیں گے۔

البتہ آپ کا یہ مطالبہ کہ ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا جائے، یہ پنجاب حکومت سے متعلق ہے، اس پر میری حکومت غور کرنے اور تسلیم کرنے کے لئے تیار ہے۔ مجلسِ عمل کے وفود اور دولتانہ کی گفتگو کو سازش کا نام دیا گیا اور اس جھوٹ کی بنیاد پر تمام جھوٹ کی عمارت کھڑی کی گئی۔

چنانچہ اس کے بعد مجلسِ عمل کا اجلاس کراچی میں ہوا، خواجہ ناظم الدین سے وفود کی ملاقات ہوئی اور ان سے صاف کہا گیا کہ ہمارے تین مطالبات کا تعلق آپ کی وزارتِ کابینہ اور قومی اسمبلی سے ہے، آپ ہمارے مطالبات تسلیم کریں اور قومی اسمبلی میں مرزائیوں کو غیرمسلم اقلیت قرار دینے کی قرارداد پیش کریں۔

لطف کی بات یہ ہے کہ مجلسِ عمل کے وفود کئی بار خواجہ ناظم الدین سے ملتے

87

رہے اور ملاقاتوں میں خواجہ ناظم الدین نے مطالبات تسلیم نہ کرنے کے دُوسرے دلائل دئیے، حالانکہ اس کے دِل میں شبہ یہ تھا کہ یہ وفود دولتانہ منظم کرکے بھیج رہا ہے، آخری مرتبہ جب مجلسِ عمل کا وفد مشرقی پاکستان کے پیر سرسینہ شریف کی قیادت میں خواجہ ناظم الدین سے ملا، بحث مباحثے کے بعد وفد نے ایک ماہ کا تحریری الٹی میٹم دیا، اس پر ناظم الدین نے پیر سرسینہ شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ: ’’پیر صاحب! یہ مطالبات ماننا میرے بس میں نہیں ہے، اگر میں ظفراللہ خاں مرتد قادیانی کو وزارت سے نکال دُوں تو امریکا پاکستان کو ایک دانہ گندم کا بھی نہیں دے گا۔‘‘ پھر اسی گفتگو کو ناظم الدین نے منیر انکوائری کمیشن میں بھی دُہرایا۔ یہ جملہ منیر انکوائری رپورٹ میں موجود ہے۔

دُکھ کی بات یہ ہے کہ خواجہ ناظم الدین، دولتانہ اور مسلم لیگی لیڈروں کے انجام کو دیکھنے کے بعد بھی کچھ پڑھے لکھے لوگوں کا خیال یہ ہے کہ یہ تحریک خواجہ ناظم الدین کو پریشان کرنے کے لئے دولتانہ کے ایما پر چلائی گئی تھی، ہم اس کی تردید میں اس کے سوا اور کیا کہہ سکتے ہیں کہ:’’لعنۃ اﷲ علی الکاذبین!‘‘ ۔

نیک سیرت:

تحریک کے زمانے میں کوہِ مری میں حکومت کا اجلاس تھا، بعض بدبخت مسلم لیگی رہنما وزراء تحریک کے رہنماؤں کو قتل کرنے کے فیصلے کر رہے تھے اور رَبّ العزّت کی شانِ بے نیازی کہ وہاں ایک نیک سیرت کمشنر صاحب ای یو خان بھی تھے، جنھوں نے اس تجویز کی نہ صرف مخالفت کی، بلکہ اس کے نقصانات گنواکر مسلم لیگی وزیروں کو قائل کیا کہ اس اقدام کے بعد آپ بھی نہ بچ سکیں گے۔ اس روایت کے راوی مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ تھے، اللہ تعالیٰ ان تمام حضرات کو جنھوں نے تحریک کی کسی بھی درجے میں حمایت کی، جزائے خیر دیں، جو مخالف تھے ان کا کیا

88

انجام ہوا؟ یہ بڑی عجیب و غریب داستان ہے۔۔۔!

تحریک کے مخالفوں کا انجام:

اگرچہ تحریک قہراً کچل دی گئی اور حکمران بظاہر ظفریاب ہوئے، لیکن لاکھوں مسلمانوں کا جیلوں میں جانا، ہزاروں مسلمانوں کا خاک و خون میں تڑپ کر شہید ہونا، چھوٹے چھوٹے بچوں کا سینوں پر گولیاں کھانا، اللہ تعالیٰ کے ہاں ہرگز ضائع نہیں ہوسکتا تھا اور نہ ہی قدرت نے ان لوگوں کو معاف کیا جنھوں نے معصوم و مظلوم مسلمانوں پر ستم ڈھائے تھے، سردار عبدالربّ نشتر مرحوم نے ایک تقریب میں آغا شورش کاشمیری مرحوم سے فرمایا: ’’شورش! جو لوگ خوش ہیں کہ تحریکِ ختمِ نبوّت کچل دی گئی، وہ اَحمق ہیں، ہم میں سے جس شخص نے اس مقدس تحریک کی جتنی مخالفت کی تھی اتنی سزا اسے قدرت نے اس دُنیا میں دے دی ہے اور ابھی عاقبت باقی ہے، تحریک کے سب مخالفین رُوح کے سرطان میں مبتلا ہیں۔‘‘

یہ ایک حقیقت ہے کہ تحریکِ ختمِ نبوّت کی مخالفت کرنے والے اس کو کچلنے والے، ظلم کرنے اور بے گناہوں کا خون بہانے والوں کو قدرت نے دُنیا ہی میں اس کی عبرت ناک سزا دی۔

ملک غلام محمد:

مُلک کے اس وقت گورنر جنرل تھے، اس وقت اربابِ اقتدار کے اس گروہ کے سرغنہ تھے، جو تحریک کا دُشمن اور مخالف تھا، پھر انہوں نے تحریک کے بعد اپنے رشتہ دار جسٹس منیر کو انکوائری کمیشن کا چیئرمین بناکر وہاں علماء اور اہلِ حق کی تذلیل کا سامان کیا۔ اس غلام محمد کو فالج ہوا، مفلوج حالت میں نہایت ذِلت کی زندگی کا آخری حصہ گزارا، اس کی آخری زندگی ایک ذلیل جانور سے بھی بدتر ہوگئی، مرنے کے بعد

89

لوگوں نے اسے چوڑھوں کے قبرستان میں دفن کردیا، آج کوئی مسلمان اس کی قبر پر نہ سلام کہتا ہے اور نہ دُعائے مغفرت۔

سکندر مرزا:

دُوسرے نمبر پر تحریک کا دُشمن سکندر مرزا تھا، یہ تحریک کے دنوں میں ڈیفنس سیکریٹری تھا، مرزائی سیکرٹریوں سے مل کر تحریک کو تباہ کرنے کے درپے ہوا، حتیٰ کہ جب پنجاب حکومت لوگوں کے احتجاج اور قربانیوں سے زچ ہوگئی تو حکومتِ پنجاب نے ریڈیو پر اِعلان کردیا کہ لوگوں کو صبر و تحمل سے کام لینا چاہئے، حکومتِ پنجاب کے دو نمائندے مرکزی حکومت کے پاس مطالبات منوانے کے لئے جارہے ہیں، سکندر مرزا نے اس وقت خواجہ ناظم الدین کو مجبور کرکے اور اونی پونی اجازت لے کر لاہور فوج کے حوالے کردیا اور کرفیو لگادیا، جنرل اعظم نے ظلم کی انتہا کردی اور اس سے بھی بڑھ کر میجر ضیاء الدین قادیانی نے تو یہاں تک کیا کہ مرزائی نوجوانوں کو فوجی جیپوں میں سوار اور مسلح کرکے فوجی وردی کے ساتھ شہر میں گشت کے لئے بھیج دیا اور حکم دیا کہ جہاں کہیں مسلمانوں کا اجتماع دیکھیں اس پر گولیوں کی بوچھاڑ کردیں۔ جیسا کہ منیر انکوائری رپورٹ میں پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر کی شہادت سے معلوم ہوتا ہے کہ سکندر مرزا پر بھی خدا کی گرفت آئی، اس کا جوان بیٹا جو ایئرفورس کا آفیسر تھا، جہاز تباہ ہونے سے بھسم ہوگیا، کچھ عرصہ بعد ایوب خان کمانڈر اِنچیف نے سکندر مرزا سے اقتدار چھین لیا اور اسے مال بردار جہاز میں سوار کرکے اِنتہائی ذِلت کے ساتھ کوئٹہ اور وہاں سے لندن بھیج کر جلاوطن کردیا۔ سکندر مرزا کی یا تو یہ ٹھاٹ کہ ڈیفنس سیکریٹری کے بعد گورنر جنرل بنے، یا پھر یہ ذِلت و بے بسی کہ لندن میں ایک معمولی ہوٹل کے معمولی ملازم کے طور پر بقیہ زندگی برتن دھوکر گزار دی، اسی بے کسی میں لندن میں مرگیا۔ اس کی بیوی نے امانتاً لندن میں دفن کیا، پھر شہنشاہِ ایران سے رابطہ کرکے اسے

90

ایران لاکر دفن کیا، کیونکہ سکندر مرزا کی بیوی ناہید ایرانی تھی، اس لئے ایران میں دفن کی اجازت مل گئی، لیکن شہدائے ختمِ نبوّت کے خون کا رنگ دیکھئے اور قدرت کا انتقام ملاحظہ کیجئے! تھوڑے دنوں بعد شہنشاہِ ایران کو اپنا ملک چھوڑنا پڑا، وہاں پر خمینی کی حکومت آگئی، اس کے رضاکاروں نے سکندر مرزا کی قبر اُکھاڑ کر میّت کا تابوت باہر پھینک دیا، جسے کتے اور جنگلی جانور کھاگئے، ہڈیاں وغیرہ سمندر میں ڈال دی گئیں، فاعتبروا یا اولی الأبصار۔۔۔!

مسٹر دولتانہ:

پنجاب کا وزیر اعلیٰ تھا اس نے بھی تحریک کو کچلنے اور بدنام کرنے میں بہت زیادہ حصہ لیا، قدرت کا انتقام دیکھئے! پہلے وزارت گئی، پھر مسلم لیگ سے چھٹی، گوشۂ گمنامی میں چلا گیا، حالانکہ پاکستان کی بانی ٹیم کا رکن تھا، اس کی ذِلت کی انتہا یہ ہے کہ وہ ایک دفعہ ٹرین سے کراچی جارہا تھا، اس ٹرین میں ذوالفقار علی بھٹو بھی سفر کر رہا تھا، جب بھٹو صاحب کو علم ہوا کہ اس ٹرین کے کسی ڈبے میں ممتاز احمد خان دولتانہ بھی سوار ہیں، تو کسی اسٹیشن پر بھٹو صاحب نے اخباری نمائندوں سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ: ’’اس ٹرین کے کسی اگلے ڈبے میں ایک ’’چوہا‘‘ بھی سفر کر رہا ہے۔‘‘ اور پھر اس سے بڑھ کر دولتانہ کی ذِلت دیکھئے کہ دولتانہ نے اپنے اسی حریف ذوالفقار علی بھٹو کا ملازم بن کر انگلستان کی سفارت قبول کرلی اور بھٹو صاحب کا کورنش بجا لانے لگا۔ پھر وزارت کی طرح سفارت بھی گئی، اس وقت وہ زمانے کے ہاتھوں اپنے کئے کی سزا بھگت رہا ہے۔

خان عبدالقیوم خان:

یہ سرحد کا مردِ آہن تھا، اس نے بھی تحریکِ ختمِ نبوّت کے مجاہدین پر ظلم و ستم کیئے، اس کی وزارت بھی قدرت نے چھین لی، مسلم لیگی ہوکر مسٹر بھٹو کے ساتھ شریکِ

91

اقتدار ہوا، ایک میٹنگ میں بھٹو صاحب نے ایسا ذلیل کیا کہ دم بخود ہوگیا، دربدر کے چکر صبح و شام موقف میں تبدیلی نے اس کی عزت بھی خاک میں ملادی۔

خواجہ ناظم الدین:

طبعاً نیک اور شریف انسان تھے، ایک اعلیٰ خاندان سے تعلق رکھتے تھے، لیکن مرزائیت سے اتنے خائف تھے کہ ظفراللہ خان مرتد قادیانی کو پورے ملک کے احتجاج کے باوجود وزارت سے نکالنے پر آمادہ نہ ہوئے، حالانکہ جہانگیر پارک کراچی کے مرزائیوں کے جلسے میں جب ظفراللہ خان مرتد قادیانی شرکت کے لئے جانے لگا تو خواجہ صاحب نے ان کو منع کیا، ظفراللہ خان مرتد قادیانی نے کہا کہ: ’’میں وزارت چھوڑ سکتا ہوں، اپنی جماعت (قادیانیوں) کا جلسہ نہیں چھوڑ سکتا۔‘‘ اس جلسے میں بہت بڑا فساد ہوا، مرزائیوں کے کئی ہوٹل اور دُوسرے تجارتی ادارے مشتعل جلوس نے پھونک دئیے، ظفراللہ خان کی اس شرکت اور حکم نہ ماننا، وزارت سے علیحدگی کا باعث قرار دیا جاسکتا تھا، مگر خواجہ صاحب کی شرافت یا بزدلی مانع ہوئی، چنانچہ خواجہ صاحب بھی ہمیشہ کے لئے اقتدار سے محروم ہوگئے اور ابھی تک قیامت کی جواب دہی اور ذمہ داری ان کے سر ہے۔

میاں انور علی:

ڈی آئی جی- سی آئی ڈی پنجاب تھے، تحریک کے دنوں میں مرکزی حکومت نے ان کو کراچی طلب کیا اور تھپکی دی کہ تمہیں آئی جی بنادیا جاتا ہے، تم اس تحریک کو کچلنے میں کیا کردار اَدا کرسکتے ہو؟ میاں انور علی نے سکندر مرزا ایسے سازشیوں کے ذریعے خواجہ ناظم الدین کو جواب دیا کہ: ’’میں صرف ایک ہفتے میں تحریک کو کچل سکتا ہوں۔‘‘ یہ آئی جی بنادئیے گئے، اس نے اسلامیانِ لاہور اور پنجاب کے دُوسرے اضلاع کے مسلمانوں پر ظلم و ستم کی ایک نئی داستان رقم کی۔ وقت گزر گیا، خدا کی لاٹھی

92

بے آواز ہے، اس کے ساتھ اپنی گھریلو زندگی میں ایک ایسا بدترین سانحہ پیش آیا جس سے اس کی ساری زندگی کی عزّت خاک میں مل گئی۔ (اس کی ایک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جناب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کے صاحبزادے کے ساتھ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔) اس سانحے سے اس کی غیرت رُسوائی کے گہرے گڑھے میں دفن ہوگئی، وہ سانحہ چونکہ ایوب خان کے صاحبزادوں سے متعلق تھا، اس لئے اس نے اس سانحے کی اطلاع ایوب خان کو دی اور کسی خاص غرض سے دی (کہ اب ان دونوں کو شرعی طریقے پر منسلک کردیا جائے)، ایوب خان برہم ہوگئے اور اپنے سامنے سے ’’گیٹ آؤٹ‘‘ کہہ کر نکال دیا اور ایسے ہتک آمیز الفاظ استعمال کئے جو زیبِ قلم نہیں۔ (اِن گدھیوں کو باندھ کر رکھو کہ گدھوں کے پاس نہ جایا کریں) اور ساتھ ہی اس کی موقوفی کے آرڈر بھی بھیج دئیے، ایک ہفتے میں تحریک کچلنے والا ایک لحظہ میں دُنیا و آخرت کی رُسوائیاں لے کر واپس آگیا، اس طرح خونخوار بھیڑیے کا حشر ہوا۔

جنرل اعظم:

لاہور میں مارشل لاء کا انچارج بنایا گیا، اس نے میجر ضیاء الدین قادیانی کو مارشل لاء کا نظم و نسق سپرد کردیا، پیچھے سے سکندر مرزا تار ہلارہے تھے اور یہ پوچھتے تھے کہ: ’’آج کتنی لاشیں اُٹھائی گئی ہیں؟‘‘ قادیانی میجر نے قادیانی فرقان فورس کے قادیانیوں کو مسلح کرکے لاہور میں مجاہدینِ ختمِ نبوّت کا قتلِ عام کرایا، آج یہ جنرل اعظم ’’پھرتے ہیں میر خوار کوئی پوچھتا نہیں!‘‘ کی تصویر بنا بیٹھا ہے، جس مرزائیت کے تحفظ کے لئے اس نے مسلمانوں کا قتلِ عام کرایا، وہ مرزائیت اس کے سامنے اور یہ اس کے سامنے اپنی موت کے دن گن رہے ہیں۔ ایک دو مرتبہ سیاست کو منہ مارنے کی کوشش کی ہے، لیکن لاہور کے مارشل لاء کی ابدی لعنت سے اس کا سیاہ چہرہ لوگوں کو کبھی پسند نہیں آیا۔

93

ڈپٹی کمشنر غلام سرور:

یہ سیالکوٹ میں تعینات تھا، اس نے تحریک کے رضاکاروں پر بے تحاشا ظلم و ستم کیا، قدرت کا انتقام دیکھئے کہ یہ پاگل ہوگیا، ڈپٹی کمشنر ہاؤس سے لاکر پاگل خانے میں بند کردیا گیا۔

راجہ نادر خان:

میری گرفتاری کے وقت پولیس کے ساتھ یہ صاحب بھی تھے، فقیر نے ان کے لئے کبھی بددُعا نہیں کی، لیکن قدرت کا انتقام دیکھئے! کہ کار کے ایک حادثے میں ٹانگ ٹوٹ گئی، پاکستان سے لندن تک ڈاکٹروں نے جواب دے دیا، قابلِ رحم حالت میں انتقال ہوا۔ ہوسکتا ہے کہ ان کی یہ تکلیف کسی اور آزمائش اور سلسلے کی کڑی ہو، مگر اس مظلوم (مولانا تاج محمود) کا دِل گرفتاری کے وقت ان کی طرف سے آزردہ ضرور ہوا تھا۔

قدرت کی قہاریت کا عجیب واقعہ:

مجھے جب لائل پور سے لاہور لے جاکر قلعے میں بند کیا گیا تو میرے پاس چوہدری بہاول بخش ڈی ایس پی تشریف لائے اور مجھے بتایا کہ: ’’میرا لڑکا ایم سی ہائی اسکول میں آپ کا شاگرد رہا ہے، میں آپ کی کیا خدمت کرسکتا ہوں؟‘‘ میں نے شکریہ ادا کیا اور کہا کہ: ’’اس سے بڑھ کر اور کیا خدمت ہوسکتی ہے کہ وحشت نگری میں آپ نے میری خیریت دریافت کی ہے۔‘‘ اگلے روز پھر وہ تشریف لائے اور کہا: ’’مولانا! انہوں نے کچھ فارم چھپوائے ہیں، آپ ان پر دستخط کردیں اور گھر جائیں۔‘‘ میں سمجھ گیا کہ چوہدری صاحب کا اشارہ معافی نامے کے فارموں کی طرف ہے، میں نے کہا: ’’چوہدری صاحب! کہ جو لوگ میرے ہمراہ سینوں پر گولیاں کھاکر حضور علیہ السلام کے نام و ناموس پر شہید ہوگئے، لائل پور کی سڑکوں پر ابھی تک ان کا خون خشک

94

نہیں ہوا، یہ کیسے ممکن ہے کہ میں ماؤں کے بچے مرواکر خود معافی نامے پر دستخط کرکے گھر چلا جاؤں۔۔۔؟‘‘ چوہدری صاحب شرمندہ ہوئے، معذرت کی اور کہا کہ: ’’اگر آپ یہ حوصلہ رکھتے ہیں تو پھر آپ کا ڈَٹ جانا ہی اُصولی طور پر دُرست ہے۔‘‘ شیخ محمد شفیع انارکلی لائل پور والے چوہدری صاحب کے بہت گہرے دوست تھے، وہ ان سے ملنے کے لئے شاہی قلعے میں آئے، ان دونوں کے درمیان میرا بھی ذکر آیا اور خدا جانے آپس میں کیا باتیں ہوئیں، شیخ محمد شفیع نے لائل پور واپس جاکر یہ مشہور کردیا کہ مولانا تاج محمود کو شاہی قلعے میں پولیس نے اتنا مارا ہے کہ ان کی دونوں ٹانگیں اور دونوں بازو توڑ دئیے ہیں۔ یہ بات اُڑتے اُڑتے چک نمبر ۱۳۸ جھنگ برانچ نزد چنیوٹ جہاں میرے والد صاحب مرحوم مقیم تھے، ان تک پہنچ گئی، ان کو یہ سن کر اِنتہائی صدمہ ہوا، میری والدہ بتاتی تھیں کہ تمہارے اباجی نے یہ دردناک خبر سن کر تین ماہ تک رات کو تکیہ پر سجدے کی حالت میں راتیں گزاریں، انہیں یہ صدمہ سیدھے سونے نہیں دیتا تھا، برداشت نہ تھا، تین ماہ بعد میرے بڑے بھائی موضع ہری پور ہزارہ سے مجھے ملنے کے لئے حکومت کی اجازت پر آئے، کیمل پور جیل میں ملاقات ہوئی، اس ملاقات میں سی آئی ڈی کا انسپکٹر رپورٹنگ کے لئے حکومت کی طرف سے موجود تھا، میرے بڑے بھائی گفتگو کرتے ہوئے میرے دونوں بازوؤں، ٹانگوں کو بڑے غور سے دیکھتے تھے، بار بار ان کے ایسا کرنے پر مجھے کچھ شبہ ہوا، تو میں نے پوچھا کہ: ’’بھائی جان! آپ بار بار غور سے میری بازوؤں اور ٹانگوں کو کیوں دیکھتے ہیں؟‘‘ انہوں نے کہا کہ: ’’میں یہ معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ شاہی قلعے میں آپ کی ٹانگ کہاں سے توڑی گئی اور بازو کہاں سے؟‘‘ میں نے کہا: ’’اللہ کا شکر ہے، میری دونوں ٹانگیں و بازو صحیح سالم ہیں‘‘ انہوں نے ایک لمبی آہ بھری اور کہا کہ: ’’یہ جھوٹی خبر تھی کہ آپ کو قلعے میں ظلم و تشدّد کا نشانہ بنایا گیا ہے؟‘‘ میں نے کہا کہ: ’’بالکل جھوٹ ہے، مگر آپ تک یہ خبر کیسے پہنچی؟‘‘ انہوں نے ساری حقیقتِ حال کہہ سنائی، جس کا مجھے بہت دُکھ ہوا کہ میرے

95

ضعیف باپ کو کس قدر شدید اَذیت اور ذہنی کوفت پہنچائی گئی، خدا کی قدرت دیکھئے کہ میں نظربندی کے دن پورے کرکے گھر رہا ہوکر آگیا اور اس واقعے کا شیخ صاحب مرحوم سے تذکرہ تک نہ کیا، کچھ عرصہ بعد وہ شیخ صاحب جیپ کے ایک حادثے کا سرگودھا روڈ پر شکار ہوئے اور ان کے دونوں بازو اور ٹانگیں ٹوٹ گئیں، جس کی میرے دِل میں ہرگز خواہش و تمنا نہ تھی، لیکن اللہ تعالیٰ کی قدرت کے عجیب و غریب نظارے سامنے آتے ہیں۔

تحریکِ ختمِ نبوّت ۱۹۷۴ء کی کہانی

مولانا تاج محمودؒ کی زبانی

۲۹؍مئی ۱۹۷۴ء کو ربوہ (چناب نگر) ریلوے اسٹیشن پر نشتر میڈیکل کالج ملتان کے طلباء پر آہنی سلاخوں، لوہے کی تاروں کے بنائے ہوئے کوڑوں، آہنی پنجوں سے حملہ کیا گیا، ان کو خوب مارا پیٹا، زخمی کیا گیا، ایک ہفتہ پہلے یہ لڑکے تفریحی سفر پر پشاور کے لئے جاتے ہوئے چناب ایکسپریس سے ربوہ اسٹیشن پر اُتر کر اپنے کلاس فیلو قادیانی طلباء سے ہنسی مذاق کر رہے تھے، قادیانیوں کا اس زمانے میں معمول تھا کہ وہ ربوہ سے تمام گزرنے والی ٹرینوں پر مسافروں میں اپنا تبلیغی لٹریچر تقسیم کیا کرتے تھے، اس روز ان طلباء میں بھی انہوں نے لٹریچر تقسیم کیا، اس سے قبل طلباء کا نشتر میڈیکل کالج میں انتخاب ہوا تھا، ایک قادیانی اس میں اُمیدوار تھا، مسلمان طلباء نے قادیانیت کی بنیاد پر اس کی مخالفت کی تھی، قادیانیت کے خلاف مسلمان طلباء کی ذہن سازی تھی، اس لئے اس قادیانی لٹریچر کے تقسیم ہوتے ہی مسلمان طلباء بپھر گئے، قادیانیوں نے بھی ان کی جرأتِ رِندانہ کا شدید نوٹس لیا، قریب کی گراؤنڈ میں قادیانی نوجوان کھیل رہے تھے، ان کو اِطلاع ملی وہ ہاکیوں سمیت اسٹیشن پر آدھمکے، مسلمان طلباء بھی برہم، توتکرار تک معاملہ پہنچا، خدا کا شکر ہے ٹرین روانہ ہوگئی اور کوئی حادثہ نہ ہوا، تصادم ہوتے

96

ہوتے رہ گیا، قادیانیوں نے لڑکوں پر سی آئی ڈی لگادی، ان کے پروگرام کا معلوم کیا اور ان کی واپسی کا انتظار کرنے لگے، ہفتے کے بعد جب وہ اسی ٹرین سے واپس ہوئے تو سرگودھا سے ہی ان کے ڈبے میں قادیانی نوجوان خدام الاحمدیہ نیم فوجی تنظیم کے رضاکار سوار ہوگئے، جب یہ گاڑی نشترآباد پہنچی وہاں کے قادیانی اسٹیشن ماسٹر نے بذریعہ ریلوے فون ربوہ کے قادیانی اسٹیشن ماسٹر کو مطلع کیا کہ طلباء کا ڈبہ آخری سے تیسرا ہے۔ اس سے قبل ربوہ کا اسٹیشن ماسٹر سرگودھا تک کے اسٹیشن سے ٹرین کی آمد کے بارے میں پوچھتا رہا، گویا قادیانی قیادت بڑی تیاری سے دیوانگی کے ساتھ ٹرین کا انتظار کر رہی تھی، نشترآباد لالیاں سے بھی قادیانی نوجوان اس ڈبے میں سوار ہوئے، حالانکہ یہ ڈبہ ریزرو تھا، جب گاڑی ربوہ اسٹیشن پر پہنچی تو پہلے سے موجود قادیانی غنڈوں نے طلبہ کے ڈبے کا دونوں اطراف سے گھیراؤ کرلیا۔ قادیانی غنڈوں نے موجودہ قادیانی سربراہ مرزا طاہر کی قیادت میں بڑی بے دردی سے مسلمان طلباء کو مارا پیٹا، زخمی کیا، طلباء لہولہان ہوگئے، ان کے کپڑے پھٹ گئے، جسم زخموں سے چور چور ہوگئے، غنڈوں نے ان کا سامان لوٹ لیا، جب تک قادیانی غنڈوں کا ایکشن مکمل نہیں ہوا، اس وقت تک قادیانی اسٹیشن ماسٹر نے ٹرین کو ربوہ اسٹیشن پر روکے رکھا، فیصل آباد ریلوے کنٹرول نے پوچھا کہ ٹرین اتنی دیر ہوگئی چلی کیوں نہیں؟ تو ریلوے کے عملے نے بتایا کہ فساد ہوگیا ہے، ریلوے کنٹرول کے ذریعے یہ خبر مقامی انتظامیہ و صوبائی انتظامیہ تک پہنچی، ہم لوگ بے خبر تھے، ٹرین چنیوٹ برج سے ہوتی ہوئی چک جھمرہ پہنچ گئی، وہاں سے فیصل آباد کا سفر پندرہ بیس منٹ سے بھی کم کا ہے، اتنے میں دوپہر کے وقت ہانپتا کانپتا ایک آدمی میرے مکان کے عقبی دروازے پر آیا، دستک دی، بچوں نے مجھے اطلاع کی، میں نے کہا کہ: ’’اسے کہو کہ مسجد کے اُوپر سے ہوکر مین گیٹ کی طرف سے آئے۔‘‘ مگر اس نے کہا کہ: ’’ضروری کام ہے، مولانا! ایک منٹ کے لئے جلدی سے تشریف لائیں‘‘ میں گیا تو وہ ریلوے کنٹرول کا ایک ذمہ دار

97

آفیسر تھا، اس کی زبان و ہونٹ خشک، چہرے پر ہوائیاں اُڑ رہی تھیں، میں نے پوچھا کہ: ’’خیریت تو ہے!‘‘ اس نے ڈبڈبائی آنکھوں سے نفی میں سر ہلایا، میری حیرت کی انتہا نہ رہی کہ خدایا خیر ہو، اتنا ذمہ دار آدمی اور یہ کیفیت، اس نے اپنی طبیعت کو سنبھالا تو مجھے ربوہ حادثے کی اطلاع دی، اب ٹرین کو پہنچنے میں صرف دس پندرہ منٹ باقی تھے، میں نے شہر میں عالمی مجلسِ تحفظِ ختمِ نبوّت کے رُفقاء، علماء، شہریان، فیصل آباد کے ڈی سی، ایس پی کو فوراً اسٹیشن پر پہنچنے کا کہا، پریس رپورٹران، پنجاب میڈیکل کالج، گورنمنٹ کالج کے اسٹوڈنٹس اور چیدہ چیدہ حضرات کو جہاں جہاں اطلاع ممکن تھی کردی، ریلوے لوکوشیڈ میں کام کرنے والے تمام لوگ میرے جمعہ کے مقتدی ہیں، ان کو پیغام بھجوایا کہ کام چھوڑ کر فوراً اسٹیشن پر پہنچ جائیں، میں ان اُمور سے فارغ ہوکر جب اسٹیشن پر پہنچا تو ہزاروں کی تعداد میں لوگ جمع تھے، نعرہ بازی، احتجاج ہو رہا ہے، پولیس کی گارڈ، مجسٹریٹ، ڈاکٹر صاحبان موجود ہیں، جو مسلمان اس ٹرین پر سفر کر رہے تھے، جنھوں نے قادیانی غنڈی گردی کا ربوہ میں نظارہ دیکھا تھا، وہ بھی ہمارے اس احتجاج میں شریک ہوگئے، اسٹیشن پر اِشتعال انگیز نعروں کا یہ عالم کہ کان پڑی آواز نہ سنائی دیتی تھی، مجھے دیکھتے ہی احتجاجی نعروں کا فلک شگاف شور اُٹھا، اس عالم میں مسلمان زخمی طلباء کو ٹرین سے اُتارا، ڈاکٹر صاحبان کے مشورے پر ان طلبہ کو گرم دُودھ سے گولیاں دی گئیں، زخموں پر مرہم پٹی کی گئی، ڈاکٹروں کی اس ٹیم میں ایک قادیانی ڈاکٹر تھا، میں نے دیکھا تو سخت پریشان ہوا کہ اگر کسی کو اس کے قادیانی ہونے کا علم ہوگیا تو اس کا یہیں پر کام تمام ہوجائے گا، میں نے اپنے معتمد کے ذریعے اس کو وہاں سے چلتا کردیا کہ اگر بدبخت تو رُکا رہا تو اپنی جان کا خود ذمہ دار ہوگا، ابھی اس قضیہ سے میں فارغ ہوا تھا کہ اطلاع ملی کہ فلاں اگلے ڈبے میں ایک قادیانی کو چھرا مار دیا گیا ہے، میں وہاں گیا تو مشتعل ہجوم نے ادھیڑ عمر کے فربہ بدن قادیانی کو زخمی کیا ہوا ہے، اس کی پٹائی جاری ہے، لوگوں نے اسے نکال کر اسٹیشن ماسٹر کے کمرے میں لاکر

98

بند کردیا، اس قادیانی نے مجھے کہا کہ: ’’مولانا! مجھے بتایا جائے کہ مجھے کس جرم میں مارا گیا ہے؟‘‘ میں نے کہا: ’’جس جرم میں ربوہ کے قادیانیوں نے ہمارے معصوم مسلمان بچوں کو مارا ہے!‘‘ ان دنوں فیصل آباد کے ڈپٹی کمشنر فریدالدین احمد تھے، ان کو فون کرکے بلایا گیا، ان کے ہمراہ ایس پی بھی تھے، ان کو کہا کہ وہ آکر دیکھیں کہ ہمارے بے گناہ بچوں کو قادیانیوں نے کس بے دردی سے زدوکوب کیا ہے، ان افسران نے طلباء سے ملاقات کی، اس ڈبے کو دیکھا جس کے اُوپر کے لوہے کے کنڈے مڑے ہوئے تھے۔ جب مرہم پٹی کے عمل سے فارغ ہوئے تو اَفسران نے کہا کہ: ’’اب گاڑی کو آگے جانے دیں، ان زخمی طلباء کو یہاں اُتار لیا جائے اور ان کا علاج معالجہ کیا جائے۔‘‘ ان زخمی طلباء سے بات کی تو انہوں نے کہا کہ: ’’ہم اسی حالت میں ملتان جائیں گے، ہم وہاں نشتر ہسپتال میں علاج کرائیں گے۔‘‘ ڈپٹی کمشنر نے دوبارہ کہا کہ: ’’اب آپ گاڑی آگے جانے دیں!‘‘ میں نے ان سے کہا کہ: ’’جب تک صوبائی حکومت ہمارے یہ مطالبات نہیں مان لیتی، اس وقت تک گاڑی آگے نہیں جاسکتی:

۱:۔۔۔ اس سانحے کی ہائی کورٹ کے جج سے تحقیقات کرائی جائے۔

۲:۔۔۔ اس سانحے میں شریک تمام ملزمان بشمول اسٹیشن ماسٹر قادیانی ربوہ و نشترآباد کو گرفتار کیا جائے۔

۳:۔۔۔ اس سانحے کے ملزمان کو کڑی سزا دی جائے۔‘‘

ڈپٹی کمشنر نے اسٹیشن ماسٹر کے کمرے سے چیف سیکریٹری کو فون کیا اور تمام مطالبات ان کو پیش کئے، چیف سیکریٹری منٹ منٹ کی کارروائی سے باخبر تھے، انہوں نے تمام مطالبات تسلیم کرلئے، ڈپٹی کمشنر نے مجھے یقین دِلایا کہ آپ کے تینوں مطالبات تسلیم کرلئے گئے ہیں۔ میں نے ریلوے اسٹیشن کی دیوار پر کھڑے ہوکر تقریر کی، طلباء کو مخاطب ہوکر کہا: ’’بچو! تم ہماری اولاد ہو، جگر کے ٹکڑے ہو، میں آپ کو یقین دِلاتا ہوں کہ جب تک قادیانیوں سے آپ کے خون کے ایک ایک قطرے کا

99

حساب نہیں لے لیا جاتا، اس وقت تک ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے۔‘‘ پریس رپورٹران نے فوٹو لئے، زخمی طلباء کو ایئرکنڈیشن کوچ میں شفٹ کیا گیا اور ٹرین روانہ ہوگئی۔ پلیٹ فارم پر ہی شام کے پانچ بجے، الخیام ہوٹل میں پریس کانفرنس اور آئندہ کے پروگرام کا اعلان کرنے کے لئے میں نے پریس والوں کو ٹائم دے دیا، گھر آکر گوجرہ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، شورکوٹ، عبدالحکیم، مخدوم پور، خانیوال اور ملتان جہاں جہاں ٹرین رُکتی تھی، عالمی مجلسِ تحفظِ ختمِ نبوّت کے رہنماؤں کو مظاہرہ کرنے کا سگنل دے دیا، چنانچہ جہاں جہاں سے ٹرین گزرتی گئی، احتجاجی مظاہرہ ہوتا گیا۔

ملتان دفتر میں فون کرکے مولانا محمد شریف جالندھری، لاہور آغا شورش کاشمیری اور راولپنڈی مولانا غلام اللہ خان مرحوم کو سانحے کی اطلاع دی، مولانا محمد شریف جالندھری نے کراچی حضرت مولانا سیّد محمد یوسف بنوری کو جو اس وقت عالمی مجلسِ تحفظِ ختمِ نبوّت کے امیر مرکزیہ تھے اور خانقاہ سراجیہ مولانا خواجہ خان محمد صاحب کو جو اس وقت نائب امیر تھے، اطلاع دی۔ سارا دن فون کے ذریعے مولانا محمد شریف جالندھری ملک بھر میں اطلاع کرتے رہے اور تحریک کے لئے احباب کو اپنے مشورے سے نوازتے رہے، حالات قادیانیت کے متعلق پہلے سے ہی تحریک کے متقاضی تھے، یہ خبر بجلی کا کام دے گئی۔

شام کو الخیام میں پریس کانفرنس ہوئی، جس میں مولانا مفتی زین العابدین، مولانا فقیر محمد، مولانا عبدالرحیم اشعر، صاحبزادہ سیّد افتخارالحسن، مولانا فضل رسول حیدر، مولانا محمد صدیق، مولانا اللہ وسایا اور دُوسرے رہنما موجود تھے۔ اخباری نمائندوں کے سامنے پوری تفصیلات بیان کیں اور دُوسرے روز فیصل آباد شہر میں ہڑتال کا اعلان کردیا۔ پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ لاہور، کراچی، بہاولپور، کوئٹہ، حیدرآباد، سکھر، پشاور، راولپنڈی کے علماء سے مشوروں کا سلسلہ جاری ہے، ان سے رابطہ کرکے تحریک کا آغاز کیا جائے گا، شہر کی تمام مساجد کے اسپیکروں اور رکشے پر اسپیکر باندھ کر شہر میں

100

اگلے روز کی ہڑتال اور جلسہ عام کا اعلان کرایا گیا، رات عشاء کے قریب ان اُمور سے فارغ ہوکر گھر آیا تو آغا شورش کاشمیری مرحوم نے ٹیلیفون کیا کہ آپ لوگ کل کیا کر رہے ہیں؟ میں نے ساری تفصیلات بتائیں۔

آغا مرحوم نے فرمایا کہ: ’’کل کے جلسۂ عام میں ’’قادیانیوں کے سوشل بائیکاٹ کا اعلان کریں‘‘ تاکہ عوام کا غصہ حکومت کی بجائے قادیانیت کی طرف ہو، اس لئے کہ پچھلی تحریک میں قادیانیوں نے ہمارا تصادم حکومت سے کرادیا تھا، اب تصادم بجائے حکومت کے قادیانیوں سے رہے تاکہ پُرامن تحریک جاری رکھ سکیں۔‘‘ دُوسرے روز شہر میں مثالی ہڑتال اور تاریخ ساز جلسۂ عام ہوا، کچہری بازار کی جامع مسجد میں علمائے کرام کی تقریریں ہوئیں، ان کے علاوہ اس جلسۂ عام میں ملک احمد سعید اعوان نے بھی شرکت کی جو پیپلز پارٹی فیصل آباد کے صدر تھے، (ان سطور کی تحریر کے وقت وہ وفاقی منسٹر ہیں ۲۵؍۹؍۱۹۸۹ء) انہوں نے بھی دُھواںدار تقریر کی، پیپلز پارٹی کی حکومت، ذوالفقار علی بھٹو مرحوم وزیرِ اعظم اور ان کی جماعت کے صدر کی یہ تقریر، ہمیں اس سے خوشی ہوئی، یہ ملک صاحب کا ذاتی مبارک اقدام تھا، پیپلز پارٹی کی پالیسی نہ تھی، ان کے ضمیر کی آواز تھی۔

لوگوں نے مطالبہ کیا کہ جلوس نکالا جائے، جلسہ ختم کیا جائے، احمد سعید اعوان نے عوام کا مطالبہ سنا تو ڈپٹی کمشنر کے پاس گئے اور پُرامن جلوس کی اجازت لے کر آگئے، انہوں نے آکر جلوس کا اعلان کردیا، مگر ستم یہ ہوا کہ ڈپٹی کمشنر نے جلوس کی اجازت تو دے دی مگر بازار میں متعین ڈیوٹی افسران کو اِجازت کی اطلاع نہ دی، وہ پہلی اطلاع کے مطابق جلوس کو روکنے کے پابند تھے، جلوس کا اعلان ہوا، انہوں نے پوزیشن سنبھال لی، جلوس نعرے لگاتا ہوا کچہری بازار میں جونہی داخل ہوا، انہوں نے شیلنگ اور لاٹھی چارج کیا، ایک شیل میرے بازو پر لگا، میں زخمی ہوگیا، دُوسرے رہنماؤں کا بھی یہی حال ہوا، افراتفری کا عالم چار سو دُھواں ہی دُھواں، اس دھکم پیل

101

میں جلوس نے دھرنا مارلیا، اس افسوس ناک سانحے کی ڈپٹی کمشنر کو اطلاع ملی تو انہوں نے تازہ اَحکامات بھجوائے اور جلوس کو آگے بڑھنے کی اجازت دے دی۔

جلوس مختلف بازاروں کا چکر لگاتا ہوا جامع مسجد میں میرے خطاب پر اِختتام پذیر ہوا، مولانا مفتی زین العابدین نے دُعا کرائی اور جلوس کو پُرامن منتشر ہونے کی ہدایت کی۔

قادیانی سازش:

پہلے دن ہی قادیانیوں کے چوراسی مکانات اور دُکانیں شہر میں جلادی گئیں، اس حساب سے کہ اگر پراپرٹی بھی مرزائی کی ہوتی تو اس کے سامان کو پراپرٹی سمیت جلادیا گیا اور اگر پراپرٹی مسلمان کی ہوتی تو صرف سامان کو بازار میں نکال کر آگ لگائی جاتی، آج تک میں اور میرے رُفقاء اس سے بے خبر ہیں کہ یہ کون لوگ تھے؟ ایسی ترتیب و حکمت اور منظم کوشش کیونکر اپنائی گئی؟ بعد میں خبر ہوئی کہ قادیانیوں نے ۲۹؍مئی سے دو چار دن قبل اپنے کارخانوں اور بڑی بڑی دُکانوں کی انشورنس (فسادات کی نذر ہونے کی صورت میں) کرالیں۔

کیا اسیری ہے، کیا رہائی ہے!

جس روز ہم فیصل آباد میں جلسہ جلوس میں مصروف تھے، اسی دن آغا شورش کاشمیری، مولانا عبیداللہ انور، نوابزاہ نصراللہ خان نے لاہور میں تمام مکاتبِ فکر کی میٹنگ کی اور اسی طرح کے فیصلے کئے جو ہم فیصل آباد میں کرچکے تھے، ملتان اور راولپنڈی میں تیسرے روز مولانا محمد شریف جالندھری اور مولانا غلام اللہ خان کو فون کے ذریعے اطلاع دی گئی کہ فوری طور پر آل پارٹیز مرکزی مجلسِ عمل تحفظِ ختمِ نبوّت کا اجلاس بلایا جائے، چنانچہ مولانا سیّد محمد یوسف بنوری کی طرف سے مولانا محمد شریف جالندھری نے لاہور، ملتان، ساہیوال، فیصل آباد، کوئٹہ، پشاور، کراچی، سرگودھا،

102

گوجرانوالہ اور دیگر شہروں کے علمائے کرام کو ۳؍جون ۱۹۷۴ء کو میٹنگ کے لئے راولپنڈی پہنچنے کی دعوت دی۔

فیصل آباد سے میں، مولانا مفتی زین العابدین، حکیم عبدالرحیم اشرف، مولانا محمد اسحاق چیمہ، مولانا محمد صدیق صاحب راولپنڈی کے لئے تیار ہوئے، مولانا محمد صدیق صاحب کار کے ذریعے اور ہم لوگ ۲؍جون کی شام کو چناب ایکسپریس کے ذریعے روانہ ہوئے، ٹیلیفون کے ذریعے تمام تر پروگرام کی اطلاع تھی، ہمارے فون ٹیپ ہو رہے تھے، گورنمنٹ منٹ منٹ کی کارروائی سے باخبر تھی، رات بارہ بجے کے قریب ٹرین لالہ موسیٰ پہنچی تو پولیس کا ایک دستہ اور مجسٹریٹ آدھمکے، ہمارے ڈبے کے دروازے اور کھڑکیوں کو کھٹکھٹایا، ہم لوگ بیدار ہوئے، دروازہ کھولا، تعارف ہوا، ہمیں اپنا سامان باندھ کر نیچے اُترنے کا حکم ملا، اسٹیشن سے پیادہ پا تھانہ لالہ موسیٰ لائے، سامان پولیس والوں نے اُٹھایا، مولانا محمد اسحاق صاحب زمین دار ٹائپ انسان ہیں، ہرچند کوشش کی کہ یہ بچ جائیں، مگر ان کا مولوی ہونا رُکاوٹ بن گیا، وہ بھی ہمارے ساتھ دھرلئے گئے، تھانے سے ہمیں ایک بس میں بٹھاکر رات کوئی ایک بجے کے قریب جہلم کی طرف روانہ ہوگئے، آگے بڑی سڑک چھوڑ کر ایک چھوٹی سڑک پر رواں دواں صبح سحری کے وقت ہم ایک دیہاتی تھانے میں پہنچادئیے گئے، بھٹو مرحوم کا دور تھا، گرفتار ہونے والوں کے ساتھ عجیب و غریب سانحات پیش آرہے تھے، ہزاروں وساوس کا شکار بے خبری کے عالم میں وہاں پہنچے، حیران تھے کہ شہر کے تھانے سے دیہات کے بے آباد تھانے میں ہمیں کیوں لایا گیا؟ چارپائیاں دی گئیں، تھوڑی دیر لیٹے، نماز کا وقت ہوگیا، ہم نماز کے عمل میں مشغول ہوئے، پولیس والوں کی ایک بارک میں انہوں نے ہماری چارپائیاں ڈال دیں، ایس ایچ او نے اپنی جیب سے دس روپے دئیے، ہمیں چائے پلائی گئی، ہم نے اپنے طور پر پیسے دینے کی کوشش کی، مگر ایس ایچ او صاحب راضی نہ ہوئے، اِدھر اُدھر کی گفتگو ہوئی، ہمارا تعارف ہوا، تو وہ کچھ

103

مانوس ہوا، ہم نے پوچھا کہ: ’’ہم اس وقت کہاں ہیں؟‘‘ تو انہوں نے بتایا کہ تھانہ ڈنگہ ہے، گجرات کا ضلع ہے۔ ہم نے پوچھا کہ: ’’ہمیں یہاں کیوں لایا گیا؟‘‘ انہوں نے خود لاعلمی ظاہر کی، ہم لوگ لیٹ گئے، دوپہر کا وقت ہوا تو ایس ایچ او نے بڑے اہتمام سے کھانا کھلایا، کھانا کھاکر پھر لیٹ گئے، نماز کے لئے اُٹھے، ابھی نماز پڑھ کر فارغ نہ ہوئے تھے تو اِطلاع ملی کہ جناب ذوالقرنین ڈپٹی کمشنر، محمد شریف چیمہ ایس پی صاحب آپ کی ملاقات کے لئے تشریف لائے ہیں۔ نماز پڑھ کر ہم نے عمداً تھوڑی تأخیر کی کہ آخر یہ کیا ہو رہا ہے؟ تھانے میں لوٹے، آپس میں گپ شپ ہوئی، اتنے میں دیکھا کہ صحن میں میز کرسیاں لگائی جارہی ہیں، تازہ پھل، مٹھائیاں، چائے کا اہتمام ہو رہا ہے، ہم سمجھے کہ پولیس والے ایس پی و ڈی سی صاحب کی خاطر تواضع کے لئے اپنے عمل میں مصروف ہیں، ان کی آؤ بھگت کا اہتمام ہو رہا ہے۔ تھوڑی دیر کے بعد ہمیں بلایا گیا کہ ڈپٹی کمشنر صاحب اور ایس پی صاحب آپ حضرات کو بلاتے ہیں، اب معلوم ہوا کہ یہ تو ہمارے استقبالیہ کا اہتمام کیا گیا ہے، دونوں بڑے تپاک سے ملے، ذوالقرنین مجھے ذاتی طور سے جانتے تھے، وہ فیصل آباد میں اے ڈی سی جی رہ چکے تھے، گفتگو شروع ہوئی، دونوں کا رُوئے سخن میری طرف تھا، قبلہ مفتی صاحب و حکیم صاحب بڑی محتاط گفتگو کے دِلدادہ ہیں، میں ایک دبنگ انسان ہوں، اب لگے وہ معافی مانگنے کہ: ’’خدا کے لئے آپ ہمیں معاف کردیں غلطی ہوگئی۔‘‘ ہم نے کہا کہ: ’’آپ ہم سے کیوں مذاق کرتے ہیں؟ آپ لوگوں نے ہمیں گرفتار کیا ہے!‘‘ انہوں نے کہا کہ: ’’نہیں جناب بس تھوڑی سی غلطی ہوگئی، چیف سیکریٹری صاحب نے ہمیں حکم دیا ہے کہ آپ جاکر ان سے معافی مانگیں اور سرکاری گاڑی پر راولپنڈی پہنچائیں۔‘‘ ہم نے ان سے کہا کہ: ’’نہیں! جہلم میں ہمارے دوست ہیں، آپ ہمیں وہاں پہنچادیں، ہم کوئی مزید آپ سے مراعات نہیں چاہتے۔‘‘ ہم نے جہلم پہنچ کر فیصلہ کیا کہ اب راولپنڈی جانا فضول ہے، میٹنگ کا وقت گزرگیا ہے، جو فیصلے ہوں

104

گے اطلاع ہوجائے گی۔ اب ہمیں فیصل آباد جانا چاہئے، حضرت مفتی صاحب کے ایک تعلق والے کے ہاں ہم جہلم میں ٹھہرے تھے کہ جہلم کی ضلعی انتظامیہ کا اعلیٰ آفیسر آیا اور کہا کہ: ’’چیف سیکریٹری صاحب آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں‘‘ انہوں نے فون کیا تو چیف سیکریٹری صاحب لگے معذرت کرنے اور کہا کہ: ہم نے آپ چاروں حضرات کے گھروں میں پیغام دے دیا ہے کہ آپ خیریت سے ہیں۔

ریلوے وزیر کی ’’کرم فرمائی‘‘:

اس سارے ڈرامے کا بعد میں پس منظر معلوم ہوا کہ ریلوے کے وفاقی منسٹر خورشید حسن پر تنقید کرتے ہوئے میں نے اسے مرزائی نوازی تک کا طعنہ دے دیا، یا مرزائی لکھ دیا، اس پر وہ بہت جزبز ہوئے، اس نے مجھے ایک خط لکھا کہ: ’’میرے حلقوں میں بعض لوگ مجھے مرزائی کہہ رہے ہیں، اب آپ بھی اِن کے ساتھ ہوگئے، یہ میرے خلاف ایک سازش ہے، جس کا آپ شکار ہوگئے، آپ اس کی تردید شائع کریں۔‘‘ میں نے جواب میں تحریر کیا کہ: ’’آپ مرزا غلام احمد قادیانی کو حضور علیہ السلام کے بعد دعویٔ نبوّت کرنے کے باعث کافر و دجال و کذّاب لکھ دیں، میں آپ کی یہ تردید شائع کردُوں گا اور جو کچھ پہلے ’’لولاک‘‘ میں لکھا ہے، اس کی بھی معذرت چھاپ دُوں گا۔‘‘ لیکن ان کا جواب آج تک نہ آیا، نہ میں نے تردید کی، انہوں نے دِل میں ناراضگی رکھ لی، کچھ عرصہ بعد ریلوے نے راولپنڈی اور فیصل آباد کے درمیان نئی ٹرین ’’فیصل آباد ایکسپریس‘‘ چلائی، ریلوے کے مقامی حکام نے مشہور سماجی رہنما مولانا فقیر محمد کی معرفت اس کے افتتاح کرنے کی اِستدعا کی، میں نے افتتاح کیا، فیتہ کاٹا، اخبارات میں خبر اور فوٹو شائع ہوئے، خورشید حسن میر خبریں اور فوٹو دیکھ کر آگ بگولا ہوگیا، تو مقامی حکام کی شامت آگئی کہ میں ریلوے منسٹر ہوں، میری پیشگی اجازت کے بغیر مولانا تاج محمود صاحب سے افتتاح آپ نے کیوں کرایا؟

105

جب ہم راولپنڈی جانے کے لئے تیار ہوئے تو ایک دن پہلے میری سرکٹ ہاؤس فیصل آباد میں کمشنر سرگودھا ڈویژن کاظمی صاحب اور ڈی آئی جی میاں عبدالقیوم سے مرزائیت کے عنوان پر ملاقات ہوئی، مرزائیت کے کفر و اِرتداد، ملک دُشمنی کے حوالے ان کو سنائے، تو وہ بہت حیران اور متأثر ہوئے، انہوں نے کہا کہ:’’ اے کاش! آپ وزیرِاعظم بھٹو صاحب سے ایک ملاقات کریں اور یہ تمام چیزیں ان کے علم میں لائیں، اس لئے کہ اعلیٰ طبقہ مرزائیوں کے ان عقائد و عزائم سے بے خبر ہے۔‘‘ میں نے ان سے کہا کہ: ’’کل میں راولپنڈی جارہا ہوں، میری پوری کوشش ہوگی کہ میں وزیرِ اعظم سے ملوں۔‘‘ ایک تو اس طرح، دُوسرا یہ کہ ہمارے فون ٹیپ ہو رہے تھے، تیسرے یہ کہ ہماری روانگی کی اطلاع مقامی سی آئی ڈی نے اعلیٰ حکام تک پہنچادی، کسی طرح خورشید حسن میر کو بھی ہماری راولپنڈی آمد کی اطلاع ہوگئی، ان دنوں پنڈی کے کمشنر مسعود مفتی تھے، جو پہلے فیصل آباد میں ڈپٹی کمشنر رہ چکے تھے، میرے ان سے دوستانہ مراسم تھے، لیکن خورشید حسن میر کے دباؤ میں آکر انہوں نے ہدایت کی کہ جونہی ہم راولپنڈی ڈویژن کی حدود میں داخل ہوں، لالہ موسیٰ سے ہمیں گرفتار کرلیا جائے۔ چنانچہ ہمیں گرفتار کرلیا گیا، ٹرین راولپنڈی پہنچی تو مولانا غلام اللہ خان کے آدمی ہمیں لینے کے لئے آئے ہوئے تھے، وہ خالی واپس لوٹے تو مولانا نے میرے گھر فون کیا، اطلاع ملی کہ وہ تو راولپنڈی کے لئے چناب ایکسپریس سے روانہ ہوگئے، انہوں نے کہا کہ وہ پہنچے نہیں، اب فیصل آباد اور راولپنڈی دونوں جگہ تشویش ہوئی کہ ہوا کیا؟ مولانا غلام اللہ خان معاملہ سمجھ گئے، انہوں نے کہا کہ وہ گرفتار ہوگئے۔ یہ خبر فیصل آباد کے شہر میں آگ کی طرح پھیل گئی، فیصل آباد کی مقامی مجلسِ عمل کے رُفقاء نے شہر میں ہڑتال اور جلسۂ عام اگلے دن کرنے کا پروگرام بنالیا۔ ڈی سی صاحب سے میرے رُفقاء نے پوچھا، انہوں نے لاعلمی ظاہر کی، ڈی سی صاحب نے کمشنر و ڈی آئی جی سے پوچھا جو ابھی فیصل آباد سرکٹ ہاؤس میں مقیم تھے، سرگودھا نہ گئے تھے، انہوں نے لاعلمی ظاہر

106

کی، انہوں نے چیف سیکریٹری سے پوچھا، انہوں نے لاعلمی ظاہر کی، کمشنر صاحب اور ڈی آئی جی نے کہا کہ مولانا تاج محمود صاحب تو وزیرِ اعظم سے ملنے جارہے تھے، چیف سیکریٹری پریشان ہوا کہ اتنے بڑے آدمیوں کو پنجاب گورنمنٹ کی اطلاع و منظوری کے بغیر کیسے گرفتار کیا گیا، راولپنڈی ڈویژن کے کمشنر صاحب سے چیف سیکریٹری نے پوچھا تو معلوم ہوا کہ ڈی سی اور ایس پی گجرات نے انہیں گرفتار کیا ہے، چیف سیکریٹری نے ہماری رہائی کے آرڈر کئے۔

اٹھارہ سیاسی و دینی جماعتوں کے اجلاس میں اہم فیصلے:

ہم لوگوں نے فون کرکے گھر اطلاع دی کہ ہم چناب ایکسپریس کے ذریعے کل واپس آرہے ہیں، ہماری آمد کی اطلاع سن کر دُوسرے روز پورا شہر اسٹیشن پر اُمڈ آیا، پورے ملک میں تحریک کا زور تھا، ہر جگہ ہڑتالیں، جلسے جلوسوں کا سلسلہ شروع تھا۔ راولپنڈی ہم نہ جاسکے، چونکہ وقت تھوڑا باقی تھا، باقی حضرات بھی بہت کم تعداد میں پہنچے، اس لئے راولپنڈی کی میٹنگ میں مولانا سیّد محمد یوسف بنوری نے فیصلہ کیا کہ ۹؍جون ۱۹۷۴ء کو لاہور میں اجلاس رکھا جائے، اب اس کی تیاری میں صرف چھ دن باقی تھے، اطلاعات کا سلسلہ شروع ہوا، ۹؍جون ۱۹۷۴ء کو لاہور میں میٹنگ ہوئی۔

عالمی مجلس تحفظِ ختمِ نبوّت کی دعوت پر اَٹھارہ سیاسی و دِینی جماعتوں کا اجلاس منعقد ہوا، جامع مسجد شیرانوالہ باغ میں عوام و خواص میٹنگ کے فیصلوں کو سننے کے لئے جمع تھے، ملک بھر کے اکابر علماء نے اس میں شرکت کی۔

مولانا مفتی محمود، مولانا محمد یوسف بنوری، مولانا خواجہ خان محمد، مولانا عبدالستار خان نیازی، مولانا غلام اللہ خان، نوابزادہ نصراللہ خان، مولانا غلام علی اوکاڑوی، مولانا شاہ احمد نورانی، مولانا محمد شریف جالندھری، چودہری غلام جیلانی، مولانا عبیداللہ انور، سیّد مظفر علی شمسی اور دیگر حضرات اس میں شریک تھے، اللہ رَبّ

107

العزّت نے فضل فرمایا، پورے ملک کی اپوزیشن متحد تھی، تحریک چلی تو تمام اسمبلی کے ممبران اور اپوزیشن بھی مجلسِ عمل میں شریک ہوگئے، یوں سوائے پیپلز پارٹی کے باقی تمام دِینی و سیاسی جماعتوں نے مل کر رحمتِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی وصفِ خاص عقیدۂ ختمِ نبوّت کے تحفظ کے لئے تحریک چلانے کا اعلان کیا۔ ساری صورتِ حال کا جائزہ لیا گیا، آخر طویل بحث کے بعد شورش کاشمیری کی تحریک و تجویز پر:

۱:۔۔۔ مولانا محمد یوسف بنوری کو آل پارٹیز مرکزی مجلسِ عمل تحفظِ ختمِ نبوّت پاکستان کا کنوینر بنایا گیا۔

۲:۔۔۔ قادیانیوں کے اقتصادی و عمرانی بائیکاٹ کا اعلان کیا گیا۔

۳:۔۔۔ ۱۴؍جون کو ملک بھر میں ہڑتال کی اسلامیانِ پاکستان سے اپیل کی گئی۔

۴:۔۔۔ اور ۱۶؍جون کو فیصل آباد میں مجلسِ عمل کا مستقل انتخاب طے ہوا۔

۱۱؍جون کو آغا شورش کاشمیریؒ، مولانا سیّد محمد یوسف بنوریؒ اور دیگر حضرات نے وزیرِاعظم بھٹو سے قادیانیت کے مسئلے پر ملاقات کرکے تبادلۂ خیال کیا، مولانا سیّد محمد یوسف بنوریؒ نے بھٹو صاحب سے کہا کہ: ’’وزیرِ اعظم لیاقت علی خان قادیانیت کا مسئلہ حل کرنا چاہتے تھے، مگر وہ شہید ہوگئے۔‘‘ اس پر بھٹو نے کہا کہ: ’’اب آپ مجھے بھی شہید کرانا چاہتے ہیں!‘‘ شیخ بنوریؒ نے زور سے وزیرِاعظم کی میز پر مکا مارکر فرمایا کہ: ’’آپ کے مقدر اتنے کہاں!‘‘ اس پر بھٹو صاحب ششدر رہ گئے۔

۱۴؍جون کو تمام ملک میں قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کی حمایت میں ہڑتال ہوئی، اتنی بڑی ہڑتال اس سے پہلے کبھی نہیں ہوئی، اس ہڑتال کو ریفرنڈم سے تشبیہ دی گئی۔ مسجد وزیرخان لاہور میں جلسہ ہوا، مولانا عبدالستار خان نیازی، نوابزادہ نصراللہ خان، آغا شورش کاشمیری، مولانا عبیداللہ انور، سیّد مظفر علی شمسی، احسان الٰہی ظہیر اور سیّد محمود احمد رضوی نے تقریریں کیں۔ سانحہ ربوہ کی تحقیقات کے لئے مسٹر جسٹس صمدانی کو مقرّر کیا گیا، انہوں نے ۳؍مئی سے تحقیقات کا آغاز کیا، وزیرِاعظم بھٹو نے

108

۱۴؍جون کو تقریر کرکے قوم کو عوامی اُمنگوں کے متعلق مسئلہ حل کرنے کا مژدہ سنایا، انہوں نے قومی اسمبلی میں مسئلہ لے جانے کا وعدہ کیا، پورے ملک میں قادیانیوں کے بائیکاٹ کی مؤثر تحریک شروع ہوگئی۔

تحریکِ ختمِ نبوّت ۱۹۷۴ء کا آغاز:

۱۶؍جون فیصل آباد کی تاریخ میں ایک عظیم تاریخی دن تھا، پورے ملک کی دِینی و سیاسی قیادت یہاں پر جمع ہوئی، ماڈل ٹاؤن سی میں مجلسِ عمل کی میٹنگ مولانا سیّد محمد یوسف بنوریؒ کی صدارت میں منعقد ہوئی، جس میں مولانا محمد یوسف بنوری، مولانا خواجہ خان محمد، سردار میر عالم خان لغاری، بندہ تاج محمود، مولانا محمد شریف جالندھری، مولانا مفتی محمود، مولانا عبدالحق، مولانا عبیداللہ انور، مولانا شاہ احمد نورانی، مولانا عبدالستار خان نیازی، مولانا صاحبزادہ فضل رسول، مولانا سیّد محمود احمد رضوی، میاں فضل حق، مولانا عبدالقادر روپڑی، مولانا محمد اسحاق رحیم، شیخ محمد اشرف، مولانا محمد شریف اشرف، مولانا محمد صدیق، علامہ احسان الٰہی ظہیر، مولانا مفتی زین العابدین، مولانا غضنفر کراروی، مولانا محمد اسماعیل، سیّد مظفر علی شمسی، میجر اعجاز، رانا ظفراللہ خان، نوابزہ نصراللہ خان، مولانا عبیداللہ احرار اور مولانا سیّد عطاء المنعم بخاری، چوہدری ثناء اللہ بھٹہ، چوہدری صفدر علی رضوی، ملک عبدالغفور انوری، مولانا غلام اللہ خان، سیّد عنایت اللہ شاہ بخاری، مولانا غلام علی اوکاڑوی، سیّد محمود شاہ گجراتی، مفتی سیاح الدین، مولانا محمد چراغ، سیّد نورالحسن بخاری، مولانا عبدالستار تونسوی، مولانا خلیل احمد قادری، آغا شورش کاشمیری، ارباب سکندر خان، امیرزادہ، پروفیسر غفور احمد، چوہدری غلام جیلانی، مولانا ظفر احمد انصاری، مولانا حکیم عبدالرحیم اشرف اور دُوسرے حضرات شریک ہوئے۔ مولانا سیّد محمد یوسف بنوری صدر قرار پائے، ناظمِ اعلیٰ سیّد محمود احمد رضوی، ناظم مولانا محمد شریف جالندھری، نائب صدر مولانا عبدالستار خان نیازی، سیّد

109

مظفر علی شمسی، مولانا عبدالحق، مولانا عبدالواحد، نوابزادہ نصراللہ خان، خازن میاں فضل کو بنایا گیا۔

۱۶؍جون کی شام کو فیصل آباد کی تاریخ کا عظیم الشان اجتماع منعقد ہوا، ملک بھر سے آئے ہوئے مقرّرین رہنماؤں نے دُھواں دار تقریریں کیں، بھٹو صاحب کی ریڈیو، ٹی وی کی تقریر کو ناقابلِ قبول قرار دیا گیا، مجلسِ عمل کے اجلاس کی تمام قراردادوں کو مولانا محمد شریف جالندھری اور پرفیسر غفور احمد نے مرتب کیا، پورے ملک میں قادیانیوں کے بائیکاٹ کی تحریک زوروں پر تھی، کراچی سے خیبر تک مسلمان عوام قادیانیوں کو غیرمسلم اقلیت قرار دِلوانے کے لئے اپنی تمام صلاحیتوں کو وقف کئے ہوئے تھے۔

۲۰؍جون کو سرحد اسمبلی نے مرزائیوں کو غیرمسلم اقلیت قرار دینے کی متفقہ سفارشی قرارداد پاس کی، ۲۲؍جون کو قادیانی مسئلے کے متعلق حکومت نے مری میں اجلاس منعقد کیا، اس میں کئی اہم فیصلے کئے گئے، جس میں ربوہ کو کھلا شہر قرار دینے کا فیصلہ بھی شامل تھا۔ ۲۳؍جون کو صالح نوا نے صمدانی کمیشن کے سامنے بیان دے کر مرزائیوں پر بوکھلاہٹ طاری کردی۔

یکم جولائی سے قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا، حزبِ اقتدار و حزبِ اختلاف نے متفقہ طور پر قومی اسمبلی کو ایک کمیٹی قرار دے کر اِجلاس شروع کردیا، ربوہ کے مرزائیوں کے پوپ مرزا ناصر اور لاہوریوں کے مولوی صدرالدین کو قومی اسمبلی میں بلایا گیا، انہوں نے اپنا موقف بیان کیا، تمام ممبران سوال لکھ کر یحییٰ بختیار اٹارنی جنرل کی معرفت ان پر سوالات کرتے تھے، مولانا مفتی محمودؒ نے یحییٰ بختیار کی دِینی و شرعی اُمور میں معاونت کی۔

۱۹؍جولائی کو مرزا ناصر صمدانی کمیشن کے سامنے پیش ہوا، ہائی کورٹ میں مرزا ناصر کی پیشی سے قبل اجلاس کو کھلے عام کی بجائے بند قرار دے دیا گیا، تمام جماعتوں

110

نے اپنے وکلاء کے ذریعے اس تحقیقاتی کمیشن میں اپنا فرض ادا کیا۔

۲۰؍جولائی کو مرزائی نواز عناصر اور بعض حکومتی ارکان و علماء سوء نے اپنی ایک لے پالک ایجنسی کو ہزاروں روپے دے کر مولانا سیّد محمد یوسف بنوری کے خلاف اخبارات میں اشتہارات لگوائے، شیخ بنوری کو مشکوک قرار دینے کی بجائے عوام نے حکومت اور مرزائیوں کو مجرم قرار دیا، غرضیکہ مرزائی و مرزائی نواز، تحریک کو سبوتاژ کرنے کے لئے جتنے حربے اختیار کرتے گئے اتنا ہی ان کے خلاف عوام میں اشتعال پھیلتا گیا۔

مرزائیوں نے اپنے عقائد کو توڑ مروڑ کر ایک اخبار میں اِشتہار دیا، اتنا شدید رَدِّ عمل ہوا کہ دُوسرے روز اس اخبار نے اپنی طرف سے مرزائیوں کے کفریہ عقائد و ملک دُشمن سرگرمیوں پر مشتمل اشتہار شائع کیا، مجلسِ عمل فیصل آباد کی طرف سے بھی مرزائیوں کے عقائد پر مشتمل ایک اشتہار مرزائیوں کے اشتہار کے جواب میں اخبارات میں شائع کردیا گیا، غرضیکہ ہر طرح دُشمن کے تمام ہتھکنڈوں کو غیرمؤثر کرکے رکھ دیا گیا، اب اس پر جرح ہونا تھی۔

۲۴؍جولائی کو مرزا ناصر کا اسمبلی میں بیان مکمل ہوا۔

اس پر باقی ارکان تو درکنار پیپلز پارٹی کے غیر جانب دار اَرکان اس درجہ برافروختہ تھے کہ انہوں نے مرزا ناصر پر دُرشت لہجے میں جرح کی، اس کے بعض گستاخانہ کلمات پر حاضر اَرکان نے سخت الفاظ میں اس کو ٹوکا، تمام ارکانِ اسمبلی قادیانیت کے خارج از اسلام ہونے پر متفق ہوگئے، مرزائیوں کے قومی اسمبلی میں بیانات کے جواب کے لئے مولانا سیّد محمد یوسف بنوریؒ کی سربراہی میں مولانا محمد تقی عثمانی، مولانا سمیع الحق نے ’’ملتِ اسلامیہ کا موقف‘‘ نامی کتاب مرتب کی، مذہبی حصے کے لئے مولانا تقی عثمانی کی معاونت مولانا محمد حیات فاتح قادیان، مولانا عبدالرحیم اشعر نے کی، سیاسی حصے کے لئے مولانا سمیع الحق کی معاونت مولانا محمد شریف

111

جالندھری اور بندہ تاج محمود نے کی۔ کتاب کا جتنا حصہ مکمل ہوتا رات کو مولانا مفتی محمود، مولانا شاہ احمد نورانی، پروفیسر غفور احمد، چوہدری ظہور الٰہی سن لیتے، اس میں ترمیم و اضافہ کرکے مسوّدہ کتابت کے لئے ملکِ عزیز کے ناموَر کاتب جناب سیّد انور حسین نفیس رقم کے سپرد کردیا جاتا، کاتبوں کی ایک ٹیم کے ہمراہ وہ اس کی کتابت کرتے جاتے، مختصر وقت میں جامع کتاب تیار کرکے چھپنے کے لئے دی گئی، اس کے اور تحریک کے تمام تر مصارف مجلس نے برداشت کئے۔

تحریک کے اِخراجات کے لئے فنڈ کا مسئلہ:

اس سلسلے میں ایک روز عجیب مسئلہ درپیش آیا، مجلسِ عمل کا ایک خصوصی اجلاس جاری تھا، تحریک کے اخراجات کے لئے فنڈ کا مسئلہ زیرِ بحث آیا، چوہدری ظہور الٰہی نے تجویز پیش کی کہ تمام ارکان اور مجلسِ عمل میں شامل جماعتیں پانچ پانچ ہزار روپیہ میاں فضل حق خازن کے پاس اخراجات کے لئے جمع کرادیں، مزید اِخراجات کے لئے بعد میں غور کرلیا جائے گا، مولانا محمد یوسف بنوریؒ نے مجھے اور مولانا محمد شریف جالندھری کو علیحدہ لے جاکر فرمایا کہ: ’’تمام جماعتوں نے اپنی ضروریات و اِخراجات کے لئے فنڈ کیا ہے، ان میں سے کسی نے ختمِ نبوّت کے لئے فنڈ نہیں کیا، تو ان کی رُقوم کو ختمِ نبوّت پر کیسے خرچ کریں؟ البتہ مجلسِ تحفظِ ختمِ نبوّت نے اسی مد کے لئے فنڈ کیا ہے، اس لئے مجلس ہی تمام اِخراجات اپنے محفوظ فنڈ سے ادا کرے۔‘‘ میں نے اور مولانا محمد شریف نے درخواست کی کہ: ’’حضرت! ہمارے پاس تو مبلغین و ملازمین، لٹریچر و مجلس کے اتنے اِخراجات ہیں کہ اگر یہ فنڈ اس پر لگادیا گیا تو ہمارا پورا کام ٹھپ ہوجائے گا‘‘ اس وقت شیخ بنوری پر عجیب کیفیت طاری تھی، مخاطب ہوکر ہمیں فرمایا کہ: ’’مولانا صاحبان! جو مجلس کے پاس ہے وہ بلادریغ خرچ کریں، آئندہ کے اِخراجات کے لئے فکر نہ کریں۔ یوسف بنوری کا ہاتھ خدا تعالیٰ کے خزانوں میں ہے، جتنی

112

ضرورت ہوگی، خدا تعالیٰ کے خزانے سے نکال لوں گا۔‘‘ اس پر ہم آمادہ ہوگئے، چنانچہ تحریک کے تمام اِخراجات مجلس نے برداشت کئے۔

مجلسِ عمل کی قادیانیوں کے خلاف بائیکاٹ کی تحریک نے مرزائیت کی کمر توڑ دی، ان پر بوکھلاہٹ طاری ہوگئی، کئی مرزائی مسلمان ہوئے، اخبارات میں مرزائیت سے لاتعلقی کا اعلان کیا، بعض جگہ کچھ مسلمان، مرزائیوں کی فائرنگ سے شہید ہوئے، مرزائیوں کی اشتعال انگیز حرکتوں کا رَدِّ عمل مرزائیوں کے احتساب کے لئے مزید سخت ہوتا گیا، تحریک جاری رہی، ملک بھر کے تمام مکاتبِ فکر نے اپنی ہمت و توفیق کے مطابق تحریک کو کامیاب بنانے کے لئے گراںقدر خدمات سرانجام دیں، سعودی عرب کی بعض اہم شخصیات نے حکومت کو مرزائیوں کے غیرمسلم اقلیت قرار دینے کا مشورہ دیا، جامعہ ازہر مصر کے شیوخ نے مرزائیوں کے بائیکاٹ کو واجب قرار دے دیا، اس سے رائے عامہ مزید پختہ ہوگئی، تحریک کو بے حد فائدہ پہنچا۔ بھٹو حکومت کا بھی تحریک کے بارے میں مناسب رویہ تھا، اِکا دُکا واقعات کے علاوہ کہیں تحریک نے خطرناک شکل اختیار نہ کی، پُرامن جدوجہد کو مرزائی تشدّد کی راہ پر ڈالنے میں ناکام رہے، البتہ حکومت نے فوری مطالبہ ماننے کی بجائے طویل المیعاد اسکیم تیار کی، اس سے وہ عوام کے حوصلے کا امتحان اور اپنی گلوخلاصی کی شکل نکالنا چاہتے تھے۔ بعض جگہ گرفتاریاں، بعض جگہ لاٹھی چارج اور اَشک آور گیس استعمال ہوئی، لیکن مجموعی طور پر حالات کنٹرول میں رہے، حکومت نے اندازہ لگالیا کہ مسلمان، حضور علیہ السلام کی عزّت و ناموس کے تحفظ کے لئے بڑی سے بڑی قربانی دینے کے لئے تیار ہیں، اب مسئلے کو حل کئے بغیر کوئی چارہ کار نہیں ہے۔ قومی اسمبلی میں مسئلہ لے جاکر بھٹو صاحب ایک آئینی راہ اختیار کرکے ثابت کرنا چاہتے تھے کہ وہ آئین کی بالادستی کے قائل ہیں، وہ تنہا اس کی پوری ذمہ داری اپنے سر لینے کے لئے آمادہ نہ تھے، مولانا مفتی محمود مرحوم نے قومی اسمبلی میں ’’ملتِ اسلامیہ کا موقف‘‘ نامی کتاب پڑھی، تمام ارکانِ اسمبلی میں اسے تقسیم

113

کیا گیا، مولانا غلام غوث ہزاروی نے اپنی طرف سے قادیانیوں اور لاہوریوں کے جواب میں مواد جمع کرکے شائع کردیا اور اسمبلی میں اسے پڑھا، اللہ رَبّ العزّت کا فضل ہے کہ ان ساری کوششوں کے بڑے خوشگوار اثرات مرتب ہوئے۔

ممبرانِ اسمبلی پر پہلے رواداری کا بھوت سوار تھا، مرزا ناصر نے جب جرح کے دوران تسلیم کیا کہ: ’’وہ لوگ جو مرزا کو نہیں مانتے، ہم ان کو کافر سمجھتے ہیں‘‘ تو اس سے ممبرانِ اسمبلی کی آنکھیں کھلیں کہ یہ تو ہم کو بھی کافر سمجھتے ہیں، اُمت کا موقف جب پیش کیا گیا تو ان ممبران کے سامنے مرزائیت کا کفر الم نشرح ہوگیا۔

تحریک کو کچلنے کی تیاریاں:

حکومت اور مجلسِ عمل نے کسی نتیجے پر پہنچنے کے لئے ایک سب کمیٹی تشکیل دی، مجلسِ عمل کی طرف سے مولانا مفتی محمود، مولانا شاہ احمد نورانی، پروفیسر غفور احمد اور چوہدری ظہور الٰہی، حکومت کی طرف سے عبدالحفیظ پیرزادہ، مولانا کوثر نیازی اور لاء سیکریٹری افضل چیمہ اس کے ممبران مقرّر ہوئے، اس کمیٹی کے کئی اجلاس ہوئے، مگر کوئی فیصلہ نہ ہوسکا۔

کمیٹی کے سرکاری ارکان ’’لمبا کرو اور لٹکاؤ‘‘ کی پالیسی پر گامزن تھے، ان کی ٹال مٹول کی کیفیت نے بحرانی شکل اختیار کرلی، قومی اسمبلی کے فیصلے کئے لئے ۷؍ستمبر کی تاریخ کا بھی اعلان کردیا گیا تھا۔

۲۵؍اگست کو مرزا ناصر پر گیارہ روزہ جرح مکمل ہوئی، سات گھنٹے لاہوری مرزائیوں کے سربراہ صدرالدین پر جرح ہوئی، قومی اسمبلی کی کارروائی سے ہمارے ارکان مطمئن تھے، مگر حکومت گومگو کی کیفیت سے دوچار تھی۔

۲؍ستمبر کو شاہی مسجد لاہور میں عظیم الشان تاریخی جلسۂ عام منعقد ہوا، ملک بھر کے دِینی و سماجی اور سیاسی رہنماؤں نے اس جلسے سے خطاب کیا، پورے ملک بالخصوص

114

پنجاب سے عوام کے پُرجوش قافلے شریک ہوئے، شاہی جامع مسجد لاہور اپنی تمام تر وسعتوں کے باوجود ناکافی ثابت ہوئی، چاروں طرف سر ہی سر نظر آتے تھے، تاحدِ نگاہ انسانوں کا سمندر ٹھاٹھیں مار رہا تھا، اس سے قبل بھٹو صاحب بلوچستان گئے، تو فورٹ سنڈیمن اور کوئٹہ کے اجتماعات میں عوام نے مرزائیت کے خلاف اتنا اِظہارِ نفرت کیا کہ بھٹو جیسے مضبوط اَعصاب کے انسان کا بھی دَم گھٹنے لگا، گجرات کے ایس پی شریف احمد چیمہ کی بعض حماقتوں کے باعث کھاریاں کے گاؤں ڈنگہ میں دو مسلمان نوجوان غلام نبی اور محمد یوسف پولیس فائرنگ سے شہید ہوگئے، مولانا محمد یوسف بنوریؒ کی قیادت میں ملک بھر میں کہیں بھی تحریک کو مدہم نہ ہونے دیا گیا، جوں جوں وقت بڑھتا گیا، حکومت اور مرزائیوں کے لئے مشکلات میں اضافہ ہوتا گیا، ظفراللہ قادیانی نے بیرونی دباؤ ڈالنے اور بین الاقوامی پریس کے ذریعے بیان بازی سے حکومت کو جھکانا چاہا، لیکن عوام کے بے پناہ جذبے نے حکومت کو ایسا نہ کرنے دیا، غرضیکہ کفر و اِسلام دونوں نے اپنے تمام تر وسائل کو میدانِ کارزار میں جھونک دیا تھا۔

مجلسِ عمل نے ۶؍ستمبر کو راولپنڈی تعلیم القرآن، راجہ بازار میں اپنا اجلاس طلب کیا ہوا تھا، ۷-۶؍ستمبر کی درمیانی رات کو اسی دارالعلوم کی وسیع و عریض جامع مسجد میں آخری جلسۂ عام منعقد ہونے والا تھا، اس کے بعد تحریک نے ۷؍ستمبر سے نیا رُخ اختیار کرنا تھا۔ ۵؍ستمبر رات کے آخری حصے میں راولپنڈی کے لئے میں روانہ ہوا، پلیٹ فارم کے قریب سے گزرا کوئی تین بجے کا عمل ہوگا، اس وقت فوجی مال گاڑیوں کے ڈبوں سے ٹینک، توپ بردار گاڑیاں اور اسلحہ اُتار رہے تھے، فوج کی مسلح آمد اور اس تیاری کے تیور دیکھ کر میں بھانپ گیا کہ یہ سب کچھ ۷؍ستمبر کے بعد تحریک کو کچلنے کے لئے ہے۔

دُوسری بات جو میرے نوٹس میں آئی وہ یہ تھی کہ ۵-۴؍ستمبر کو مرزائیوں نے ملک بھر کی ٹیلی فون ڈائریکٹریوں سے پتہ جات لے کر مرزا قادیانی کی صداقت کے

115

دلائل اور اسے قبول کرنے کی دعوت پر مشتمل خطوط اِرسال کئے، ۶؍ستمبر کو چھٹی تھی، مرزائیوں کا خیال تھا کہ ۷؍ستمبر کو جب یہ ڈاک مسلمانوں کو ملے گی، اس وقت تحریک کے رہنماؤں کی لاشیں سڑکوں پر ہوں گی، تحریک کچلی جاچکی ہوگی، قوم کے حوصلے پست ہوں گے، مرزا کی صداقت کا یہ خط ایک عظیم پیش گوئی کا کام دے جائے گا۔

’’ٹاپ سیکریٹ‘‘ لفافے کا معما:

تیسرا یہ کہ ۴-۳؍ستمبر کو ڈی سی فیصل آباد آفس میں ایک خاص واقعہ پیش آیا، جس کی اطلاع اسی دن شام کو مجھے مل گئی تھی، وہ یہ کہ مرکزی حکومت کی طرف سے ایک سربمہر لفافہ جس پر ’’ٹاپ سیکریٹ‘‘ لکھا تھا، موصول ہوا، اتفاق سے جس کلرک نے اس دن ڈاک کھولی وہ مرزائی تھا، اس نے یہ لفافہ دیکھتے ہی بھانپ لیا کہ یہ چٹھی ڈی سی صاحب کے نام مرکزی حکومت کی طرف سے تحریکِ ختمِ نبوّت کے متعلق تازہ ہدایات پر مشتمل ہوگی، چوری چوری اس لفافے کو اس نے کھول لیا اور اس کی باہر سے فوٹواسٹیٹ کاپی کرائی اور اَمیر جماعتِ مرزائیہ فیصل آباد کو مہیا کردی۔ واقعی وہ چٹھی تحریکِ ختمِ نبوّت کے متعلق تھی، جس میں صوبائی، ڈویژنل اور ضلعی انتظامیہ کو ہدایات بھیجی گئی تھیں کہ ۷؍ستمبر کے بعد جو تحریکِ ختمِ نبوّت میں مزید شدّت آنے والی ہے، اسے سختی سے کچل دیا جائے۔ ایک اے ایس آئی کو بھی گولی چلانے اور بغیر نوٹس دئیے کسی مکان میں داخل ہونے ، تلاشی لینے، جس کو مناسب سمجھے گرفتار کرنے کے اختیار ہوں گے، اس چٹھی کا فوٹواسٹیٹ مرزائی جماعت کے امیر کو اور اصل چٹھی کو ڈی سی آفس کے اسٹاف رُوم میں میز کے نیچے ڈال دیا، اسی روز اس مرزائی کے علاوہ ایک مسلمان کلرک نے بھی کچھ ڈاک کھولی تھی، کچھ دیر بعد تیسرے کلرک کی میز کے نیچے سے اس چٹھی پر کسی کی نظر پڑگئی، اسے اُٹھایا گیا تو اس کی سیل ٹوٹی ہوئی تھی، اس صورتِ حال سے تمام کلرک پریشان ہوگئے کہ یہ چٹھی کیوں کھولی گئی؟ کس نے کھولی؟

116

اس لئے کہ اسے تو ضابطے کے مطابق ڈی سی صاحب کے سامنے کھولنا تھا، معاملہ سنگین تھا، ڈی سی صاحب کے نوٹس میں لایا گیا، انہوں نے مسلمان کلرک اللہ رکھا کو معطل کردیا، سپرنٹنڈنٹ ڈی سی آفس مسلمان اور سمجھ دار شخص تھا، اس نے کہا کہ یہ دیکھا جائے کہ کھولنے سے قبل لفافے کے کونے پر کس کے دستخط ہیں، اس لئے کہ ڈی سی آفس کی ڈاک کھولنے سے پہلے ہر لفافے پر کھولنے والا اپنے دستخط کرتا ہے، جب وہ دستخط دیکھے گئے تو وہ مرزائی کلرک کے تھے، اللہ رکھا مسلمان کلرک بحال ہوگیا اور مرزائی کلرک کو معافی مانگنے پر معاف کردیا گیا۔ اس چٹھی اور پورے ملک میں حکومت پولیس و فوج کے عمل سے مرزائیوں نے اندازہ لگالیا کہ تحریک کچلی جائے گی، اس لئے انہوں نے خطوط لکھے۔

چوہدری ظہورالٰہی اور بھٹو کے مابین جرح

۶؍ستمبر کی صبح گورنمنٹ ایم این اے ہاسٹل میں مولانا مفتی محمود کے کمرے میں مجلسِ عمل کا خصوصی اجلاس منعقد ہوا، جس میں مولانا سیّد محمد یوسف بنوری، مولانا مفتی محمود، مولانا شاہ احمد نورانی، پروفیسر غفور احمد، چوہدری ظہور الٰہی، امیرزادہ، خان عبدالولی خان، نوابزادہ نصراللہ خان، مفتی زین العابدین، مولانا محمد شریف جالندھری، مولانا عبدالرحیم اشرف، میاں فضل حق اور بندہ تاج محمود شریک ہوئے۔ میں نے یہ تینوں واقعات گوش گزار کئے، نوابزادہ نصراللہ خان نے میری معلومات کی تصدیق کرتے ہوئے لاہور میں فوج کی پوزیشن سنبھالنے کے چشم دید واقعات بیان کئے، مجلس پر سناٹا طاری رہا، چوہدری ظہور الٰہی نے خاموشی توڑتے ہوئے کہا کہ: ’’مجھے اُمید ہے کہ حکومت ہمارے مطالبات مان لے گی اور آج ان کا فیصلہ ہوجائے گا۔‘‘ ہماری معلومات کے خلاف ان کی یہ بات ہمارے لئے اچنبھا معلوم ہوئی۔ دوستوں نے پوچھا کہ: ’’آپ کے پاس کیا شواہد ہیں؟‘‘ اس پر چوہدری صاحب نے کہا کہ:

117

کل مسز بندرا نائکے وزیراعظم سری لنکا پاکستان کے دورے پر آئی تھیں، ان کے اعزاز میں بھٹو صاحب نے ضیافت دی، تمام اپوزیشن رہنماؤں کو بلایا گیا، کھانے کی میز پر تمام کے ناموں کی چٹیں لگی ہوئی تھیں، کوئی اپوزیشن رہنما اس میں شریک نہ ہوا، اتفاق سے میں چلاگیا، کھانا کھانے سے فارغ ہوئے تو مسز بندرانائکے اور وزیراعظم بھٹو صاحب دونوں بیرونی گیٹ کے پاس آکر کھڑے ہوگئے، ہر جانے والے کو الوداع کہہ رہے تھے، میں اس روش پر چلتا ہوا بھٹو صاحب کے قریب پہنچا تو میرا دِل ان سے ملاقات کے لئے آمادہ نہ ہوا، راستہ چھوڑ کر پلاٹ سے گزر کر گیٹ کے ایک سائیڈ سے گزرنا چاہا، بھٹو صاحب نے مجھے فوراً آواز دی: ’’ظہور الٰہی! مل کر جاؤ، چھپ کر کیوں جارہے ہو؟‘‘ میں واپس لوٹ کر بھٹو صاحب سے ملا تو انہوں نے مجھے کہا کہ: ’’چوہدری ظہور الٰہی! تمہیں کیا ہوگیا ہے؟ تو میرا جانی دوست تھا، میں نے تیرا کیا بگاڑا ہے کہ تو میرا سخت مخالف ہوگیا ہے؟‘‘ اتنے میں لاء سیکریٹری افضل چیمہ آگئے، بھٹو صاحب نے ان کو کہا کہ: ’’چیمہ صاحب! آپ ظہور الٰہی کو سمجھائیں اس کو کیا ہوگیا ہے؟ یہ آپ کا میرا دونوں کا دوست تھا، خدا جانے میں نے اس کا کیا قصور کیا ہے کہ اب یہ مجھے جلوسوں اور جلسوں میں گالیاں دیتا ہے، میری سی آئی ڈی کی رپورٹ یہ ہے کہ یہ اگر گھر پر ہو اور کوئی مخاطب نہ ہو تو بھی مجھے گالیاں دیتا رہتا ہے۔‘‘ چوہدری ظہور صاحب نے کہا کہ: ’’جناب! ایسے نہیں ہے، آپ کے ہمارے اُصولی اختلافات ہیں، ہم اِخلاص اور نیک نیتی سے آپ پر تنقید کرتے ہیں، اب ختمِ نبوّت کا مسئلہ آپ کے سامنے ہے، اسے حل کیجئے اور قوم کے ہیرو بن جائیے۔‘‘ بھٹو صاحب نے کہا کہ: ’’اگر میں ۱۴؍جون کو (ملک گیر ہڑتال کے دن) لاہور کی تقریر کے دن اس مسئلے کو مان لیتا تو ہیرو بن سکتا تھا، لیکن بعد از خرابیٔ بسیار مسئلہ ماننے سے ہیرو کیسے بن سکتا ہوں؟‘‘ افضل چیمہ نے کہا کہ: ’’بھٹو صاحب! باقی علماء کو تو مرزائیوں کو غیرمسلم قرار دینے پر اِتنا اصرار نہیں ہے، البتہ چوہدری ظہور الٰہی صاحب بڑا اِصرار کر رہے ہیں، اِترا رہا ہے

118

اور ضد کر رہا ہے۔‘‘ میں نے کہا کہ: ’’بھٹو صاحب! یہ چیمہ صاحب آپ کے سامنے اپنے نمبر بنا رہے ہیں، میں ضد نہیں کر رہا، علمائے کرام کا اپنا موقف ہے، وہ میرے تابع نہیں ہیں، ایک دِینی موقف اور شرعی اَمر پر علمائے کرام کو یوں مطعون کرنا چیمہ صاحب کے لئے مناسب نہیں ہے اور صرف علمائے کرام نہیں بلکہ اس وقت تمام اسلامیانِ پاکستان اس مسئلے کو حل کرانے کے لئے سراپا تحریک بنے ہوئے ہیں، دُنیائے اسلام کی نگاہیں اس مسئلے کے لئے آپ کی طرف لگی ہوئی ہیں، دُنیائے عالم کے مسلمان اس مسئلے کا مثبت حل چاہتے ہیں، اسے صرف مولویوں کا مسئلہ کہہ کر چیمہ صاحب آپ کو گمراہ کر رہے ہیں، علمائے کرام قطعاً اس مسئلے میں کسی بھی قسم کی معمولی سی لچک پیدا کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں، آپ اس بارے میں علمائے کرام سے خود دریافت کرلیں، بلکہ میں ایسے عالمِ دِین کا نام بتاتا ہوں جو آپ کے لئے دِل میں نرم گوشہ رکھتے ہیں، آپ ان سے پوچھ لیں کہ مسئلۂ ختمِ نبوّت فروعی اَمر ہے یا دِین کا بنیادی مسئلہ ہے؟ اس کا تحفظ کرنا مسلمان حکومت کے لئے ضروری ہے یا نہیں؟‘‘ بھٹو صاحب نے کہا کہ: ’’کون سے عالمِ دِین؟‘‘ میں نے کہا کہ: ’’مولانا ظفر احمد انصاری، آپ ان سے پوچھ لیں، اگر وہ ختمِ نبوّت کے مسئلے کو فروعی مسئلہ سمجھتے ہوں تو میں وعدہ کرتا ہوں کہ ہم تحریک سے لاتعلق ہوجائیں گے۔‘‘ بھٹو صاحب نے چیمہ صاحب کی ڈیوٹی لگائی کہ وہ مجھے (ظہور الٰہی) ساتھ لے کر مولانا ظفر احمد انصاری سے ملیں اور ان کا موقف معلوم کریں۔ چنانچہ اب وقت ہوگیا ہے چیمہ صاحب میرا انتظار کر رہے ہوں گے، ہم دونوں نے مولانا ظفر احمد انصاری سے ملنا ہے۔‘‘ مولانا مفتی زین العابدین اور مولانا حکیم عبدالرحیم اشرف کے چیمہ صاحب اور مولانا ظفر احمد انصاری سے اچھے تعلقات تھے، چیمہ صاحب تو ویسے بھی فیصل آباد کے علاقے سے تعلق رکھتے تھے، چنانچہ طے یہ ہوا کہ یہ دونوں حضرات بھی آپ کے ساتھ جائیں، چوہدری ظہور الٰہی، افضل چیمہ، حکیم عبدالرحیم اشرف، مولانا مفتی زین العابدین اور

119

مولانا ظفر احمد انصاری کی طویل گفتگو ہوئی، مولانا ظفر احمد انصاری نے صراحۃً فرمایا کہ: ’’ختمِ نبوّت کا مسئلہ دِین کا بنیادی مسئلہ ہے، اس کو فروعی مسئلہ قرار دینا غلط ہے۔‘‘ حقیقت میں خود افضل چیمہ اس مسئلے میں ضد کر رہے تھے، تمام حضرات کی گرفت سے چیمہ صاحب زچ ہوگئے تو ہاتھ جھٹک کر کہا کہ: ’’اگر آپ لوگ ملک کی جڑیں اس طرح کھوکھلی کرنا چاہتے ہیں تو بڑے شوق سے جو چاہے کرجائیے!‘‘ بہرحال مولانا ظفر احمد انصاری کی ملاقات کی رپورٹ بھٹو صاحب کو دی گئی۔

۔۔۔۔بالآخر ختمِ نبوّت کا بول بالا:

اس کے بعد قومی اسمبلی کے دفاتر میں سب کمیٹی کا اجلاس تھا، ظہور الٰہی، مولانا مفتی محمود، پروفیسر غفور احمد، مولانا شاہ احمد نورانی، حفیظ پیرزادہ، مولانا کوثر نیازی، افضل چیمہ شریک ہوئے، اجلاس میں جاتے وقت مولانا مفتی محمود نے ہمیں حکم فرمایا کہ: ’’آپ لوگ چل کر راجہ بازار میں مجلسِ عمل کی میٹنگ کریں۔‘‘ میں نے مفتی محمود صاحب سے استدعا کی کہ سب کمیٹی کی مثبت یا منفی جو بھی کارروائی ہو ہمیں حکومت کے رویے سے ضرور باخبر رکھیں تاکہ اس کی روشنی میں ہم مجلسِ عمل میں اپنی پالیسی طے کرسکیں۔ دار العلوم میں میٹنگ شروع ہوئی، آغا شورش کاشمیری کی صحت ناساز تھی، وہ میٹنگ میں لیٹ کر شریک ہوئے، حضرت مولانا سیّد محمد یوسف بنوری نے اجلاس کی صدارت فرمائی، سیّد مظفر علی شمسی، سیّد محمود احمد رضوی، مولانا خواجہ خان محمد صاحب، مولانا محمد شریف جالندھری، سردار میر عالم خان لغاری، بندہ تاج محمود، مفتی زین العابدین، حکیم عبدالرحیم اشرف، علی غضنفر کراروی، مولانا غلام اللہ خان، مولانا غلام علی اوکاڑوی، مولانا احسان الٰہی ظہیر، مولانا عبیداللہ انور، نوابزادہ نصراللہ خان، خان محمد زمان خان اچکزئی، مولانا محمد علی رضوی، مولانا عبدالرحمن جامعہ اشرفیہ، مولانا صاحبزادہ فضل رسول حیدر اور دُوسرے کئی حضرات شریکِ اجلاس ہوئے، پوری مجلسِ عمل اس پر

120

غور کر رہی تھی کہ اگر حکومت مطالبات تسلیم نہ کرے تو پھر ہمیں تحریک کو کن خطوط پر چلانا ہوگا؟ اور اب مرزائیوں سے زیادہ حکومت سے مقابلہ ہوگا، سبھی حضرات تحفظِ ناموسِ ختمِ نبوّت کے لئے جان کی بازی لگانے پر تیار تھے، اتنے میں مولانا مفتی محمود صاحب کا فون آیا کہ حالات پُراُمید ہیں، توقع ہے کہ سب کمیٹی کسی متفقہ مسوّدے پر کامیاب ہوجائے گی۔ حفیظ پیرزادہ نے بھٹو صاحب کو فون کرکے سب کمیٹی کی کارروائی سے باخبر کیا، بھٹو صاحب نے تمام اراکینِ کمیٹی کو اپنے ہاں طلب کیا، تھوڑی دیر گفتگو ہوئی، بھٹو صاحب نے تمام کا موقف سنا اور کہا کہ: ’’اب مزید وقت ضائع نہ کریں، رات بارہ بجے دوبارہ اجلاس ہوگا، آپ تمام حضرات تشریف لائیں، اس وقت دو ٹوک فیصلہ کریں گے۔‘‘ ہم لوگ اپنی میٹنگ سے فارغ ہوئے اُمید و یاس کی کیفیت طاری تھی، میں سخت پریشان تھا، بھٹو صاحب جیسے چالاک آدمی سے پالا پڑا تھا، کسی وقت بھی وہ جھٹکا دے کر تحریک کو کچلنے کا فیصلہ کرسکتے تھے، تمام حالات ہمارے سامنے تھے، میں انتہائی پریشانی کے عالم میں مولانا محمد رمضان علوی کے گھر گیا، مجھے اندیشہ تھا کہ اگر فیصلہ صحیح نہ ہوا تو میری جان نکل جائے گی، ان کے ہاں کروٹیں بدلتے وقت گزارا، رات کو راجہ بازار کی جامع مسجد میں جلسۂ عام منعقد ہوا، مقرّرین نے بڑی گرم تقریریں کیں، ہجوم آتش فشاں پہاڑ کی شکل اختیار کئے ہوئے تھا، اعلان کیا گیا کہ کل اگر ہمارے مطالبات نہ مانے گئے تو راجہ بازار میں شہیدانِ ختمِ نبوّت کی لاشوں کا انبار ہوگا، جوں جوں وقت گزرتا جارہا تھا جلسے کی تقریروں میں شدّت پیدا ہوتی جارہی تھی، بھٹو صاحب جلسے کی ایک ایک منٹ کی کارروائی سے باخبر تھے، تمام حالات ان کے سامنے تھے، رات بارہ بجے حسبِ پروگرام بھٹو صاحب کی صدارت میں کمیٹی کا اجلاس ہوا، پنڈی میں جلسہ ہو رہا تھا، اسلام آباد میں میٹنگ ہو رہی تھی، ڈیڑھ بجے کے قریب مولانا مفتی محمود، مولانا شاہ احمد نورانی، پروفیسر غفور احمد اور چوہدری ظہورالٰہی ڈیڑھ گھنٹے کے مذاکرات کے بعد جلسے میں تشریف لائے، مولانا مفتی محمود صاحب نے

121

اِسٹیج پر چڑھنے سے قبل مجھے اشارے سے بلوایا اور فرمایا: ’’مبارک ہو! کل آپ کی اِن شاء اللہ العزیز جیت ہوجائے گی، لیکن اس کا ابھی افشا نہ کریں کہ حکومت کا اعتبار نہیں ہے۔‘‘ میں اِسٹیج پر آیا، شیخ بنوری کے کان میں کہا کہ: ’’افشا نہ کریں، لیکن آپ کو مبارک ہو‘‘ شیخ بنوری کے منہ سے بے ساختہ زور سے نکلا: ’’الحمدللہ!‘‘ جس سے اکثر لوگ میری سرگوشی اور مولانا کے الحمدللہ کا مطلب سمجھ گئے۔ بھٹو صاحب بڑے ذہین آدمی تھے، وہ پہلے سے فیصلہ دِل میں کئے ہوئے تھے کہ مسئلے کو عوام کی خواہشات کے مطابق حل کرکے مرزائیوں کو غیرمسلم اقلیت قرار دیں گے، لیکن وہ اس مسئلے کی مشکلات اور رُکاوٹوں سے باخبر تھے، وہ یہ جانتے تھے کہ اس طرح جلدی فیصلہ کرنے سے امریکا، برطانیہ، فرانس، مغربی جرمنی کی حکومتیں مجھ پر زبردست دباؤ ڈالیں گی، اس نے پیرزادہ کو کہا کہ: ’’آپ لوگ گھر جاکر آرام کریں، کل ایک دن میں قومی اسمبلی ایوانِ بالا دونوں سے متفقہ قرارداد منظور کرالوں گا کہ مرزائی غیرمسلم ہیں اور ان کا نام غیرمسلم اقلیتوں میں شامل کردیا جائے گا۔‘‘ صوبائی، ڈویژنل اور ضلعی انتظامیہ کو تحریک کے کچلنے کی ہدایات، فوج کا اسلحہ سمیت شہروں میں متعین ہونا، یہ محض مرزائی و مرزائی نواز طاقتوں کی توجہ کو دُوسری طرف پھیرنے کے لئے تھا۔

اللہ رَبّ العزّت نے فضل فرمایا اور ۷؍ستمبر شام کو قومی اسمبلی و سینٹ نے متفقہ طور پر مرزائیوں کو غیرمسلم اقلیت قرار دے دیا، یوں یہ جدوجہد کامیابی سے ہمکنار ہوئی، کفر ہار گیا، اسلام جیت گیا، ختمِ نبوّت کا بول بالا ہوا، اس کے منکرین کا منہ کالا ہوا،’’اَلْحَقُّ یَعْلُوْا وَلَا یُعْلٰی‘‘ حق سربلند ہوتا ہے نہ کہ پست، شام کو ریڈیو، ٹی وی، دُوسرے دن اخبارات کے ذریعے قوم کو جب اس خبر کی اطلاع ہوئی تو وہ خوشی سے پاگل ہوگئے، کسی کا اگر فوت شدہ باپ زندہ ہوجائے تو اسے اتنی خوشی نہ ہوگی جتنی اس مسئلۂ ختمِ نبوّت کے حل پر ہوئی۔

سچ ہے اس لئے کہ حضور علیہ السلام کا فرمان ہے کہ: ’’تم میں سے کوئی شخص

122

اس وقت تک کامل ایمان دار نہیں ہوسکتا جب کہ وہ اپنے ماں باپ، اپنی اولاد اور اپنی جان سے زیادہ مجھے عزیز نہ سمجھے‘‘ اس حدیث پر عمل کرکے تحریکِ ختمِ نبوّت میں مسلمان قوم نے ثابت کردیا کہ فخرِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ اقدس سے محبت ہی کامل ایمان کی نشانی ہے، تاج و تختِ ختمِ نبوّت زندہ باد! مرزائیت مردہ باد!

۱۸؍جنوری ۱۹۸۴ء کی شام کو یہاں تک مولانا نے حالات بیان کئے کہ ۱۹؍جنوری کی صبح آپ کا انتقال ہوگیا، میرے اللہ! مولانا تاج محمود کی تربت پر کروڑوں رحمتیں فرما کہ وہ ختمِ نبوّت کی داستان بیان کرتے کرتے دُنیا سے آپ کے پاس حاضر ہوئے، شفاعتِ محمدی ان کو نصیب ہو اور ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی سعادت میسر آئے۔

فقیر اللہ وسایا

۲۶؍۷؍۱۹۸۴ء

مولانا تاج محمودؒ:

۱۹۵۳ء کی تحریکِ ختمِ نبوّت جو مارشل لاء کی بھینٹ ہوکر شہید ہوگئی، فیصل آباد میں مولانا تاج محمود رحمۃ اللہ علیہ کے دم قدم سے چلی، حکومت نے بڑی تگ و دو کے بعد آپ کو گرفتار کیا، لاہور کے شاہی قلعے میں لایا گیا، اس بوچڑخانے میں پولیس کے بعض افسروں نے آپ پر ستم توڑنے کی انتہا کردی، لیکن اس مردِ خدا نے ہر صعوبت، ہر تشدّد اور ہر اَذیت کو خندہ پیشانی سے جھیلا، اُف تک نہ کی، اپنی اِستقامت سے قرونِ اُوْلیٰ کی یاد تازہ کردی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عشاق، کفارِ مکہ کے ظلم سہتے اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے عشق میں قربان ہوتے تھے، سیّد اعجاز حسین شاہ اس زمانے میں سی آئی ڈی کے ڈی ایس پی اور قلعے کے انچارج تھے، انہوں نے خود راقم الحروف سے ذکر کیا کہ: ’’تاج محمود قرونِ اُوْلیٰ کے فدایانِ رسولِ عربی (صلی اللہ علیہ وسلم) کی بے نظیر تصویر تھے، وہ پولیس کے ہر وار پر دُرود پڑھتا اور عشقِ

123

رسالت میں ڈُوب جاتا ہے۔‘‘

( ہفت روزہ ’’چٹان‘‘ شورش کاشمیری)

ناموسِ رسالت پر سب کچھ قربان کرنے کا عزم:

کہا جاتا ہے کہ دِل سے جو بات نکلتی ہے، اثر رکھتی ہے۔ مولانا کی زندگی ایسے واقعات سے پُر نظر آتی ہے، اسی طرح کا ایک واقعہ ۱۹۵۳ء کی تحریک کا بھی ہے، جب مولانا جامع مسجد کچہری بازار (فیصل آباد) لائل پور میں شمعِ رسالت کے پروانوں کے ایک عظیم مجمع سے خطاب کر رہے تھے، وہ قادیانی گروہ اور اس سے تحفظ کے لئے حکومتِ وقت کے کئے گئے اقدامات کے خلاف بپھرے ہوئے اس مجمع سے خطاب کرتے ہوئے لوگوں کو سوِل نافرمانی کی ترغیب دے رہے تھے۔ مولانا تاج محمودؒ کے دِل کی گہرائیوں سے نکلنے والی یہ آواز مسجد کی گیلری میں کھڑی ایک خاتون بھی ہمہ تن گوش ہوکر سن رہی تھی کہ مولانا کے شدّتِ جذبات سے مغلوب ہوکر اپنی گود کے بچے کو منبر کی طرف اُوپر سے (جہاں مولانا کھڑے ہوکر تقریر کر رہے تھے) مولانا کی طرف اُچھال دیا اور پنجابی میں کہا کہ: ’’مولوی صاحب! میرے پاس ایک یہی سرمایہ ہے، اسے سب سے پہلے حضورؐ کی آبرو پر قربان کردو!‘‘ یہ کہہ کر وہ عورت اُلٹے پاؤں باہر کی طرف چل پڑی۔

اس وقت سارا مجمع دہاڑیں مارکر رو رہا تھا، خود مولانا کی آواز گلوگیر اور رندھی ہوئی تھی، انہوں نے لوگوں سے کہا کہ: ’’لوگو! اس بی بی کو جانے نہ دینا، اسے بلاؤ، بلاؤ!‘‘ چنانچہ اس خاتون کو بلایا گیا اور مولانا نے اپنے قدموں میں بیٹھے اپنے معصوم اکلوتے بیٹے طارق محمود کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ: ’’بی بی! سب سے پہلی گولی تاج محمود کے سینے سے گزرے گی، پھر میرے اس بچے کے سینے سے، پھر اس مجمع کے تمام افراد گولیاں کھائیں گے اور جب یہ سب قربان ہوجائیں تو اپنے بچے کو لے کر آنا اور اللہ کے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عزّت پر قربان کردینا۔‘‘ یہ کہا اور

124

وہ بچہ اس عورت کے حوالے کردیا۔

ختمِ نبوّت کی خدمت کا قیمتی سرمایہ:

مولانا تاج محمودؒ مسئلۂ ختمِ نبوّت کے اس قدر شیدائی اور فدائی تھے کہ آپ کے لب و لہجے، خلوَت و جلوَت، تقریر و تحریر سے اسی مسئلۂ ختمِ نبوّت کی خوشبو مہکتی تھی، اگر کسی وقت موج میں ہوتے تو فرمایا کرتے تھے کہ: ’’میں تو اللہ تعالیٰ سے عرض کروں گا کہ میرا دامن تو خالی ہے، بس میرے دامن میں تو تیرے محبوب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ختمِ نبوّت کی خدمت کا قیمتی سرمایہ ہے، اللہ تعالیٰ اس سرمایہ کی برکت سے رحمتوں کے دروازے کھول دیں گے۔

مرتے دم تک ۔۔۔۔۔

ایک دفعہ آپ سے عرض کیا گیا کہ: آپ دِل کے مریض ہیں، آپ تقریر میں اس قدر جذباتی نہ ہوا کریں، اس طرح آپ کے دِل کی بیماری کو خطرہ لاحق ہوجائے گا۔ آپ مسکراکر فرمادیتے: ’’چھوڑو جی۔۔۔! ایک دِل ہی تو ہے ہم فقیروں کے پاس، یہ بھی اگر اپنے آقا مولانا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ختمِ نبوّت پر نثار نہ کیا تو کیا کمایا؟ ہونے دو جو ہوتا ہے، ہم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دُشمنوں کے ساتھ مرتے دَم تک جہاد جاری رکھیں گے۔‘‘ اور یہ صرف زبان تک محدود نہیں، بلکہ کرکے دِکھادیا۔

سچا عشقِ رسول:

مولانا محمد رمضان علوی (راولپنڈی) بیان کرتے ہیں کہ: ۱۹۷۴ء کی تحریکِ ختمِ نبوّت میں سب اکابر کے ساتھ مولانا تاج محمودؒ بھی راولپنڈی تشریف لائے ہوئے تھے، میرے دردِ گردہ کی شدید تکلیف شروع ہوگئی، ظہر کے وقت تشریف لائے، تھوڑی دیر ٹھہرے، فرمایا: ’’عصر کے وقت پھر آؤں گا‘‘ حسبِ وعدہ تشریف لائے، میرے لڑکے سے کہا کہ: ’’بالاخانے کا کمرہ کھولو اور اَباجی سے کہو جیسے ممکن ہو اُوپر آجاؤ‘‘ بندہ

125

لڑکھڑاتا ہوا حاضر ہوا، چائے پیش کی، فرمایا: ’’کسی چیز کو طبیعت نہیں چاہ رہی‘‘ چہرے پر نظر ڈالی، زبردست پریشانی کے آثار ہیں، میں نے وجہ پوچھی، بغیر کسی دُوسری بات کے فرمایا: ’’میرے پیارے! بڑے شاطر لوگوں سے واسطہ پڑچکا ہے، مجھے معلوم ہے کہ تجھے شدید تکلیف ہے، سن میں ایک وصیت کرنے آیا ہوں۔‘‘ یہ لفظ سن کر میں نے کہا: ’’مولانا! خیرت تو ہے؟ آپ کیوں اس قدر پریشان ہو رہے ہیں؟ اللہ تعالیٰ کرم فرمائے گا، آپ کی قربانیاں رنگ لائیں گی۔‘‘ فرمایا: ’’چھوڑو ان باتوں کو! میری وصیت سن لو، آج اگر فیصلہ ہمارے خلاف ہوا تو میری رُوح یقینا قفسِ عنصری سے پرواز کرجائے گی، اکابر مدرسہ تعلیم القرآن میں جمع ہیں، وہ بھی سوچیں گے، ان کو اِطلاع بالکل نہ ہونے پائے، میرے جنازے کو فیصل آباد (لائل پور) پہنچانے کی راتوں رات کوشش کرنا، عزیزم طارق محمود کو پہلے فون کردینا کہ تمہارے والد کو لارہا ہوں اور اس کو ہر قسم کی تسلی دینا۔‘‘ بولے جارہے ہیں، گھر بچیوں کے متعلق کہے جارہے ہیں، بصد مشکل چپ کرایا، حوصلہ کریں، اللہ تعالیٰ مدد فرمائیں گے، ابھی آپ کی بہت ضرورت ہے۔ پھر فرمایا: ’’جہاں میرے آقا کی ناموس کا تحفظ نہ ہو، وہاں زندہ رہ کر کیا کرنا ہے؟‘‘ کبھی جوش میں آکر بعض الفاظ استعمال کرجاتے ہیں کہ ایسا ہی ہے، نمازِ مغرب بمشکل نیچے اُتر کر مرحوم نے اَدا کی، میں نے فکر کی وجہ سے کچھ مقوی اشیاء منگوائیں، نماز کے بعد پیشِ خدمت کیں، فرمایا: ’’اب یہ سب چیزیں بیکار ہیں!‘‘ ۶؍ستمبر رات کو راولپنڈی کے جلسے میں شریک ہوئے، اچھی خبریں سن کر آئے، پورا دن مصروف رہے، ۷؍ستمبر کی شام کو میرے گھر آئے، ریڈیو منگوایا، خبروں کا وقت قریب تھا، سوئچ آن کردیا، سکوت طاری تھا، جیسے ہی مرتدوں مرزائیوں کے غیرمسلم اقلیت قرار دینے کے الفاظ کان میں پڑے، شیر کی طرح اُٹھ کر بیٹھ گئے، ورنہ ڈیڑھ گھنٹہ لیٹے ہی پریشانی میں گزرگیا، اب فرمایا: ’’گھر میں کچھ تیار ہو منگواؤ کہ مجھے جلد اکابر کے پاس جانا ہے۔‘‘ چند نوالے جلدی جلدی سے تناول فرمائے، پھر تعلیم القرآن

126

جاکر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرتے ہوئے شیروں کی طرح گرجے، رات واپس آئے، ساری رُوئیداد سنائی، فرمایا: ’’اب اِن شاء اللہ! نبوّتِ کاذبہ کے پرخچے اُڑکے رہیں گے۔‘‘ یہ کیفیات سوائے سچے عشقِ رسول کے حاصل نہیں ہوتی۔

اخلاص کی دلیل:

تحریکِ ختمِ نبوّت ۱۹۷۴ء میں جامع مسجد فیصل آباد میں جلسۂ عام تھا، تمام مکاتبِ فکر کے علمائے کرام جمع تھے، بریلوی مکتبِ فکر کے ممتاز رہنما مولانا صاحبزادہ فضل رسول حیدر کو صدارت کے لئے مسجد کے منبر پر بٹھایا گیا، اسٹیج پر رَش تھا، مولانا تاج محمود مرحوم سمٹ سمٹاکر ان کے قدموں میں بیٹھ گئے، علم و عمل بزرگی کے اعتبار سے مولانا تاج محمود صاحب کا عظیم مقام اور مسئلۂ ختمِ نبوّت کی خاطر کسی کے قدموں میں بیٹھنا، آپ کے اِخلاص کی دلیل تھی، اس منظر کو دیکھ کر ایک صاحب نے کہا کہ: اللہ رَبّ العزّت مولانا تاج محمود کے اِس اِیثار و قربانی کو یونہی ضائع نہ کریں گے، تحریک کامیاب ہوگی!‘‘ چنانچہ ایسے ہی ہوا۔

حضرت ماسٹر تاج الدین انصاری مرحوم:

ماسٹر تاج الدین انصاریؒ جن دنوں میرے ہمراہ قادیان میں مقیم تھے، اُنہوں نے ایک بڑا اِقدام کرڈالا اور وہ اِقدام اتنا سخت تھا کہ اگر مرزائیوں کے حالات پہلے کی طرح سازگار ہوتے تو اس اِقدام کے بدلے اگر ہم سب کو قتل کردیا جاتا تو بھی ان کی تسکین نہ ہوتی، لیکن ہماری طرف کسی نے آنکھ اُٹھاکر بھی نہ دیکھا اور قادیانیوں کے غصّے کا نشانہ وہی ایک شخص بنا رہا جس نے ارتکابِ جرم کیا تھا۔ یہ اس لئے تھا کہ اگر وہ اِدھر اُدھر تجاوز کرتے تو ہزاروں قادیانیوں کو اس کا نشانہ بننا پڑتا اور یہ سودا ان کے لئے مہنگا تھا۔ اب اس اقدام کی تفصیل سنییٔ:

127

مرزائیت کی تاریخ کا انوکھا واقعہ:

ماسٹر تاج الدین صاحبؒ نے یہ کیا کہ اندر ہی اندر ایک نوجوان کو خفیہ طور پر تیار کرلیا کہ: ’’جب مرزا شریف احمد ہمارے محلے سے گزر رہا ہو تو اُسے دو ڈنڈے مارکر سائیکل سے گرادے‘‘ مرزا شریف احمد جو مرزا غلام احمد کا چھوٹا بیٹا اور مرزا محمود کا چھوٹا بھائی تھا، اُس کے دفتر جانے کا راستہ ہمارے محلے شیخانوالے میں سے تھا اور وہ ہر روز بلاناغہ سائیکل پر سوار ہوکر دفتر کو جاتا تھا، چنانچہ اس نوجوان نے مرزا شریف احمد پر ڈنڈے رسید کئے اور اُسے سائیکل سے گرادیا، قادیان میں مرزائیوں کے لئے یہ حادثۂ عظیم تھا اور ایسا حادثہ مرزائیت کی تاریخ نے اپنے جنم دن سے آج تک کبھی نہ دیکھا تھا، اس حادثے نے مرزائیت میں ایک سرے سے دُوسرے سرے تک تزلزل برپا کردیا، چوہدری ظفراللہ خان اس وقت وائسرائے کی ایگزیکٹو کونسل کا ممبر تھا، قادیانی جماعت ہر طرف سے واویلا کر رہی تھی اور چشمِ عبرت مسکراتے ہوئے دِل ہی دِل میں کہہ رہی تھی کہ: ’’تم نے انسانی جانوں کو بے دردی سے ذبح کیا ہے، مخالفوں کے مکانات نذرِ آتش کئے، وہ تمہارے لوحِ قلب سے ذہول ہوکر رہ گئے، اگر عدالتوں نے مجرموں کو سزائیں دیں تو اُن کی مردار لاشوں کو تمہارے پیشوا نے کندھا دیا اور پھول چڑھائے اور انہیں اپنے ’’بہشتی مقبرے‘‘ میں دفن کیا، ان ڈنڈوں سے آج اگر تمہارے صاحبزادے کو چند خراشیں آگئی ہیں تو آسمان سر پر اُٹھا رہے ہو؟‘‘ چوہدری ظفراللہ خان نے خود تو جو واویلا کیا سو کیا، مزید براں اپنی بوڑھی والدہ کو لیڈی وائسرائے کے پاس بھیج دیا تھا اور اُس نے گلے میں کپڑا ڈال کر لیڈی وائسرائے کے قدموں پر سر رکھ کر زار و قطار روکر فریاد کی تھی کہ: ’’ہمارے نبی زادے کی سرِ بازار بے عزتی ہوگئی اور ہم کہیں منہ دِکھانے کے قابل نہیں رہے۔‘‘ انگریز مرزائیت کا بڑا حامی تھا اور اپنے خودکاشتہ پودے کی ہر طرح آبیاری کر رہا تھا، لیکن وہ حکومت کے اُصول

128

جانتا تھا کہ اِدھر یہ خراشیں اور اُدھر ذبحِ عظیم! ایک نہیں، دو نہیں، کوئی نصف درجن، انگریز یہ بھی اچھی طرح جانتا تھا کہ سیّد عطاء اللہ شاہ بخاریؒ اور اُن کے رُفقاء بے نیام ہوکر نکل آئیں گے اور جرائم کا موازنہ کرنے کے لئے جہاں وہ حکومت کو مجبور کریں گے وہاں عوام میں آتشِ انتقام بھڑکاکر مرزائیوں کا چلنا پھرنا دُوبھر بنادیں گے۔ یہی وجہ تھی کہ مرزائیوں نے اصل مجرم کے علاوہ کسی دُوسرے اَحراری یا غیرمرزائی کی جانب آنکھ اُٹھاکر بھی نہ دیکھا اور قلمی یا لسانی احتجاج سے آگے ایک قدم بھی نہ بڑھایا۔ حالانکہ اس سے پہلے ایسے بیسیوں واقعات رُونما ہوئے جنھیں سرزمینِ قادیان نے ہضم کردیا تھا اور عوام کے کانوں تک ان کی بھنک بھی نہ پہنچی تھی اور ہمیشہ ہمیشہ کے لئے لقمۂ سرزمینِ قادیان ہوگئے تھے۔

مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ:

مولانا مرحوم، دارالعلوم دیوبند کے فاضل اور حضرت شیخ الہندؒ کے تلامذہ میں سے تھے، اکابرِ دارالعلوم دیوبند سے محبت اور خلوص رکھتے تھے۔ آپؒ نے مرزا غلام احمد قادیانی آنجہانی سے مناظرے مباحثے اور مقابلے کئے، اس لئے آپ کو ’’شیرِ پنجاب‘‘ کہا جاتا ہے۔ اور مرزا غلام احمد قادیانی نے آخری عمر میں اعلان کیا تھا کہ: ’’میں اگر سچا ہوں تو میری زندگی میں مولوی ثناء اللہ کسی وبائی مرض میں مبتلا ہوکر مرجائیں گے اور اگر وہ سچے ہیں تو میں ان کی زندگی میں مرجاؤں گا۔‘‘ الحمدللہ! حضرت مولانا ثناء اللہؒ کی زندگی میں مرزا قادیانی ہیضہ، جو ایک وبائی مرض ہے، اس کا شکار ہوکر آنجہانی ہوگیا، اِس لئے آپ کو ’’فاتحِ قادیان‘‘ کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔ آپ کا رُجحانِ طبعی اہلِ حدیث مسلک کی طرف تھا۔

مرزا سے پہلی ملاقات:

مولانا امرتسریؒ لکھتے ہیں:

129

جس طرح مرزا کی زندگی کے دو حصے ہیں (براہین احمدیہ تک اور اس سے بعد)، اسی طرح مرزا سے میرے تعلق کے بھی دو حصے ہیں: براہین احمدیہ تک اور براہین سے بعد۔ چنانچہ ایک دفعہ جب میری عمر کوئی ۱۷، ۱۸ سال کی تھی، میں بشوقِ زیارت بٹالہ سے پاپیادہ تنہا قادیان گیا، ان دنوں مرزا ایک معمولی مصنف کی حیثیت میں تھے، مگر باوجود شوق اور محبت کے میں نے جو وہاں دیکھا، مجھے خوب یاد ہے کہ میرے دِل میں جو ان کی بابت خیالات تھے، وہ پہلی ملاقات میں مبدل ہوگئے۔ جس کی صورت یہ ہوئی کہ میں اُن کے مکان پر دُھوپ میں بیٹھا تھا، وہ آتے ہی بغیر اس کے کہ ’’السلام علیکم‘‘ کہیں، یہ کہا کہ: ’’تم کہاں سے آئے ہو؟ کیا کام کرتے ہو؟‘‘ میں ایک طالبِ علم، علماء کا صحبت یافتہ تھا، فوراً میرے دِل میں آیا کہ انہوں نے مسنون طریقے کی پروا نہیں کی، کیا وجہ ہے؟ مگر چونکہ حسنِ ظن غالب تھا اِس لئے یہ وسوسہ دب کر رہ گیا۔

مرزا کا سکڑا سا چہرہ اور خشخشی داڑھی:

مرزا غلام احمد قادیانی نے جب سے دعویٔ مسیحیت کیا ہے، فقیر (مولانا امرتسریؒ) ان کے دعاوی کی نسبت بڑے غور و فکر سے تأمل کرتا رہا اور ان کے ہوا خواہوں کی تحریریں جہاں تک دستیاب ہوئیں، عموماً دیکھیں، اِستخارات سے کام لیا، مباحثات و مناظرات کئے۔

ایک دفعہ کا واقعہ خاص طور پر قابلِ ذکر ہے کہ حکیم نورالدین صاحب سے بمقام امرتسر رات کے وقت تخلیہ میں کئی گھنٹے گفتگو ہوئی، آخر حکیم صاحب نے فرمایا کہ: ’’ہمارا تجربہ ہے کہ بحث و مباحثے سے کچھ فائدہ نہیں ہوتا، آپ حسبِ تحریر مرزا صاحب مندرجہ رسالہ نشانِ آسمانی اِستخارہ کیجئے، خدا کو جو منظور ہوگا، آپ پر کھل جائے گا۔‘‘

130

ہرچند میں ایسے اِستخاروں اور خوابوں پر بمقابلہ نصوصِ شرعیہ کے اعتماد اور اعتبار کرنا ضمناً دعویٔ عصمت یا مساواتِ معصوم بلکہ برتری کے برابر جانتا تھا، تاہم ایک محقق کے لئے کسی جائز طریقِ فیصلہ پر عمل نہ کرنا جیسا کچھ شاق ہوتا ہے، مجھے بھی ناگوار تھا کہ میں حسبِ تحریر مرزاجی، ان کی نسبت اِستخارہ نہ کروں۔ چنانچہ میں نے پندرہ روز حسبِ تحریر نشانِ آسمانی، مصنفہ مرزاجی اِستخارہ کیا اور میرا خدا جانتا ہے کہ میں نے اپنی طرف سے صفائی میں کوئی کسر نہ رکھی، بالکل رنج اور کدورت کو الگ کرکے نہایت تضرع کے ساتھ جنابِ باری میں دُعائیں کیں۔ بلکہ جتنے دنوں تک اِستخارہ کرتا رہا، اتنے دنوں تک مرزاجی کے بارے میں مجھے یاد نہیں کہ میں نے کسی سے مباحثہ یا مناظرہ بھی کیا ہو، آخر چودھویں رات میں نے مرزاجی کو خواب میں دیکھا کہ آپ تنگ مکان میں سفید فرش پر بیٹھے ہیں، میں اُن کے قریب بیٹھ گیا اور سوال کیا کہ: ’’آپ کی مسیحیت کے دلائل کیا ہیں؟‘‘ آپ نے فرمایا کہ: ’’تم دو زینے چھوڑ جاتے ہو، پہلے حضرت مسیح کی وفات کا مسئلہ، دوم عدمِ رُجوع کا مسئلہ طے ہونا چاہئے۔‘‘ میں نے عرض کیا کہ: ’’آپ ان دونوں کو طے شدہ ہی سمجھئے، میری غرض یہ ہے کہ اِس پیش گوئی کے الفاظ میں جتنے لفظوں کی حقیقت محال ہے، ان کو چھوڑ کر حسبِ قاعدہ علمیہ باقی الفاظ میں ’’مھما امکن‘‘ مجاز کیوں مراد ہے؟ یعنی اگر بجائے مسیح کے، مثیل مسیح بھی آئے تو ان مقامات پر جہاں کا ذکر احادیثِ صحیحہ میں آیا ہے، کیونکر آئے؟ کیونکہ ان مقامات پر مسیح یا مثیل مسیح کا آنا محال نہیں۔‘‘ اس کا جواب مرزا صاحب نے ابھی دیا ہی نہ تھا کہ دو آدمی اور آگئے، ان کی آؤ بھگت میں ہم دونوں ایک دُوسرے کی مواجہت سے ذرا الگ ہوئے تو مرزاجی کو دیکھتا ہوں کہ لکھنؤ کے شہریوں کی طرح سکڑا سا چہرہ اور داڑھی بالکل رگڑ کر کتری ہوئی ہے، سخت حیرانی ہوئی۔ اِسی حیرانی میں بیدار ہوگیا، جس کی تعبیر میرے ذہن میں آئی کہ مرزا کا انجام اچھا نہیں۔

حضرت مولانا سیّد محمد علی مونگیری نے جب حیدرآباد میں خاکسار (یعنی مولانا

131

امرتسریؒ) کی ناچیز خدمات سنیں تو اپنے سر کی خاص پگڑی (شملہ) اور کُرتے کا کپڑا بذریعہ ڈاک پارسل اس خادم کو بھیجا، جو بلحاظ مذہبی تقدس کے حیدرآبادی منصب سے زیادہ قابلِ فخر ہے۔ دونوں (مادّی اور رُوحانی) طرح سے معلوم ہوتا ہے کہ حیدرآباد میں میری خدمات خدا کے ہاں قبول ہوئی ہیں، للہ الحمد!

مرزائی لڑکے کا انجام:

مولانا امرتسریؒ فرماتے ہیں:

میرے قادیان جانے سے کچھ پہلے ایک واقعہ عجیبہ رقت انگیز ہوا۔ ایک احمدی لڑکا عبدالرحمن لوہار، عمر شاید چودہ پندرہ سال ہوگی، ایک ڈنڈا ہاتھ میں لئے ہوئے گھر سے کہتا ہوا بازار میں نکلا کہ: ’’یہ ڈنڈا میں ثناء اللہ کے سر پر ماروں گا!‘‘ قادیان کی آبادی سے باہر آٹا پیسنے کی ایک مشین ہے، عبدالرحمن مذکور اسی مشین میں (شاید کسی کام کو) گیا، جاتے ہی مشین میں پھنس کر ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا۔

مرحوم ایک بیوہ عورت کا لڑکا تھا، ہمیشہ اس بیوہ کے حال پر رحم آتا ہے، خدا اس کو تسلی دے اور اس کا کفیل ہو۔ قادیانیو! اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَعِبْرَۃً لِّمَنْ یَّخْشٰی!

مولانا امرتسریؒ کی ظرافت:

مولانا امرتسریؒ بلا کے ظریف الطبع تھے، اُن کی ظرافت کا اندازہ ذیل کے واقعات سے ہوسکتا ہے۔

ایک دفعہ کسی تقریب میں آپؒ لاہور تشریف فرما تھے، انہی دنوں قادیانیوں کی لاہوری پارٹی کا جلسہ تھا، مولاناؒ چونکہ نہایت وسیع الظرف تھے اور تمام فرقوں کے اکابر سے ۔۔۔مناظرانہ نوک جھونک کے باوجود ۔۔۔ نہایت اچھے، دوستانہ اور فیاضانہ مراسم رکھتے تھے۔ اس لئے منتظمینِ جلسہ نے آپؒ کو بھی تقریر کے لئے مدعو کیا، آپؒ اپنے احباب کی ایک مجلس میں تشریف فرما تھے کہ آپؒ کو اچانک دعوت نامہ ملا۔ آپؒ فوراً

132

احمدیہ بلڈنگ روانہ ہوگئے، لاہوریوں نے آپ کو دیکھ کر ’’مسیحِ موعود زندہ باد‘‘ اور ’’احمدیت پائندہ باد‘‘ کے پُرجوش نعرے لگائے۔ درحقیقت وہ یہ محسوس کر رہے تھے کہ آج مولانا کو دامِ فریب کے اندر پھانسنے میں وہ کامیاب ہوچکے ہیں۔ چنانچہ صدرِ جلسہ نے کہا کہ: ’’ہم نے آپ کو اِس لئے زحمت دی ہے کہ آپ حضرت مرزا صاحب کے اخلاق و عادات پر کچھ اِرشاد فرمائیں۔‘‘ وہ سمجھتے تھے کہ آپ موقع کی مناسبت سے مرزا صاحب کی کچھ نہ کچھ مدح و توصیف کرہی دیں گے، لیکن مولاناؒ بھی غضب کے موقع شناس، معاملہ فہم اور برجستہ گو تھے، اُٹھے اور حمد و صلوٰۃ کے بعد فرمایا:

’’احمدی دوستو! میں اپنے پڑوسی کے خصائل و فضائل کیا بیان کروں؟ جہاں تک مجھے یاد ہے، ان کے محاسن و محامد کی نسبت یہی کہہ سکتا ہوں کہ:

میرے معشوق کے دو ہی نشاں ہیں

مولاناؒ نے اس مصرع کو چند بار دو اُنگلیاں اُٹھاکر دُہرایا، جب مرزائی سامعین دُوسرے مصرع کے لئے سراپا انتظار بن گئے تو پورا شعر یوں ادا فرمایا:

میرے معشوق کے دو ہی نشاں ہیں

زباں پر گالیاں، مجنوں سی باتیں

یہ سنتے ہی مرزائیوں کی آنکھیں نیچی ہوگئیں اور مولاناؒ اپنی قیام گاہ پر واپس آگئے۔

مربی کا ازاربند:

ایک بار آپؒ بٹالہ میں ایک جلسے کی صدارت فرما رہے تھے، ایک قادیانی مربی کو پیشاب کی حاجت ہوئی، وہ باہر گئے اور فارغ ہوکر اِزاربند پکڑے ہوئے جلسہ گاہ میں آگئے۔ حاضرینِ جلسہ کو ان کی اِس حرکت سے گدگدی سی ہونے لگی،

133

مولاناؒ نے حاضرین کی کیفیت تاڑ لی، اُٹھے اور فرمایا کہ: ’’آپ لوگ مربی صاحب کی اس حرکت پر حیران کیوں ہیں؟ موصوف تو اپنے پیغمبر کی پیش گوئی پر مہرِ تصدیق ثبت کر رہے ہیں، یہ شاعرِ قادیان ہی کا ارشاد ہے کہ:

اِک برہنہ سے نہ یہ ہوگا کہ تا باندھے ازار‘‘

اِس پر سامعین لوٹ پوٹ ہوگئے اور مربی اس طرح رُوپوش ہوئے کہ پھر ان کا سراغ نہ لگ سکا۔

حاضر جوابی:

ایک مناظرے میں مبحث کی تعیین پر گفتگو چل رہی تھی، مرزائی ’’حیات و وفاتِ مسیح‘‘ کو موضوعِ بحث بنانے پر مصر تھے اور مولاناؒ آسمانی نکاح بابت محمدی بیگم کو زیرِ بحث لانا چاہتے تھے۔ قادیانی مناظر نے طنزاً کہا: ’’میں نہیں سمجھتا مولوی ثناء اللہ کا محمدی بیگم سے کیا رشتہ ہے کہ انہیں اس کی اتنی حمایت مقصود ہے۔‘‘ مولاناؒ نے فوراً فرمایا کہ: ’’محمدی بیگم زیادہ سے زیادہ ہماری اسلامی بہن ہوسکتی ہے، مگر وہ تو تمہاری (قادیانی اُمت کی) ماں ہے، اگر غیور ہو تو اپنی ماں کو اپنے گھر بٹھاؤ، دُوسرے گھروں میں کیوں پھر رہی ہے۔۔۔؟‘‘

اس ظریفانہ نکتہ سنجی اور حاضر جوابی پر پوری مجلس قہقہہ زار بن گئی اور فریقِ مقابل بہت خفیف ہوا۔

آریوں کا بادشاہ:

ایک دفعہ ایک آریہ سماجی اور ایک قادیانی آپس میں جھگڑ پڑے، مولاناؒ نے سماجی سے فرمایا: ’’بھئی! توبہ کرو اور مرزائیوں سے نہ جھگڑو، کیونکہ یہ تمہارے فرماںروا ہیں۔‘‘ آپ کی اس بات پر دونوں کو حیرت ہوئی، آپؒ نے فرمایا: ’’بھئی! تعجب کیوں کرتے ہو؟ مرزا صاحب نے ’’البشریٰ‘‘ (ج:۱ ص:۶۵) میں اپنے آپ کو ’’آریوں

134

کا بادشاہ‘‘ لکھا ہے۔‘‘ یہ سن کر سماجی تو ہنس پڑا اور مرزائی کو بڑی خفت ہوئی۔

مہاراجۂ قادیان:

پنجاب میں سکھ مسلم فساد کے ایام میں سکھوں کی گوردوارہ پر بندھک کمیٹی نے گورداسپور میں ملکی اتحاد و اتفاق کی تلقین کے لئے ایک جلسہ منعقد کیا اور تقریر کے لئے مولاناؒ کو بھی مدعو کیا۔ آپؒ نے اُس وقت کے حالات کی نوعیت کا لحاظ کرتے ہوئے نہایت پُراثر تقریر فرمائی، دورانِ تقریر آپؒ کی رگِ ظرافت پھڑکی اور آپ نے سکھوں سے کہا کہ: ’’وہ ہز ہائینس مہاراجہ صاحب قادیان کا احترام کریں اور اُن کی اُمت کے ساتھ ادب سے پیش آئیں، کیونکہ پیغمبرِ قادیان بھی سکھوں سے کچھ نہ کچھ تعلق رکھتے ہیں۔‘‘

اس پر قادیانی سامعین بھڑک اُٹھے اور شور مچایا کہ: ’’آپ اپنے الفاظ واپس لیجئے اور تحریری معافی مانگئے، ورنہ آپ کے خلاف دعویٰ دائر کیا جائے گا۔‘‘

مولاناؒ مسکرائے اور فرمایا: ’’میں نے مرزا صاحب کو ’’مہاراجہ‘‘ اور ’’سکھوں سے قریبی تعلق رکھنے والا‘‘ کہا ہے، تو کچھ بے جا نہیں کہا ہے، بلکہ ان کے ایک الہامی نام کی مناسبت سے کہا ہے۔ آپ نے ’’البشریٰ‘‘ (جلد دوم ص:۱۱۸) میں لکھا ہے کہ خدا نے آپ کا نام ’’امین الملک جے سنگھ بہادر‘‘ رکھا ہے، اگر میرا حوالہ غلط ہو تو الفاظ واپس لینے اور تحریری معافی مانگنے کو تیار ہوں۔‘‘

مستری ثناء اللہ قادیانی کا قبولِ اسلام:

قادیانی آپؒ کا نام سن کر لرزہ براندام ہوجایا کرتے تھے۔ بارہا ایسا ہوا کہ کسی مناظرے کی تحریک ہوئی لیکن صرف یہ سن کر کہ اس مناظرے میں مولانا امرتسریؒ پیش ہوں گے، قادیانیوں نے دست کشی اِختیار کرلی۔ گوجرانوالہ کے ایک قادیانی کا نام بھی ’’ثناء اللہ‘‘ تھا، قادیانی اساطین ان کے اس نام سے اس قدر بدکتے تھے کہ

135

اُنہوں نے اسے بدلنے کی بارہا کوشش کی۔ دسمبر ۱۹۳۴ء کے قادیانی اجلاس میں جب وہ حاضر ہوئے تو مولوی غلام رسول راجیکی نے اس موضوع پر گفتگو کے دوران اَزراہِ تمسخر کہا: ’’کیا ہوا؟ لوہا ہی لوہے کو کاٹتا ہے!‘‘ مگر حسنِ اتفاق دیکھئے کہ اس کے بعد ہی مستری ثناء اللہ موصوف امرتسر آئے، وہاں مولانا امرتسریؒ سے اُن کی ملاقات ہوئی، انہوں نے قادیانیت کے موضوع پر مولاناؒ سے طویل گفتگو کی اور بالآخر تائب ہوگئے۔

مولانا احمد حسن امروہیؒ کا مرزا غلام احمد کو

مناظرہ و مباہلہ کا چیلنج:

حضرت مولانا احمد حسن امروہیؒ کا خط:

بندہ نحیف احقر الزمن احمد حسن غفر لہٗ

بخدمت برادرِ مکرّم جامع کمالات عزیزم حافظ مولوی محمد عبدالغنی سلّمہ اللہ تعالیٰ

بعد سلام مدعا نگار ہے کہ امروہہ میں اور خاص محلہ دربار (کلاں) میں ایک مرض وبائی مہلک یہ پھیل رہا ہے کہ محمد احسن، جو مرزا قادیانی کا خاص حواری ہے، اس نے حکیم آلِ محمد کو، جو مولانا نانوتوی علیہ الرحمہ سے بیعت تھے، مرزا کا مرید بنا چھوڑا اور سیّد بدرالحسن کو، جس نے مدرسے میں مجھ ناکارہ سے بھی کچھ پڑھا ہے، مرزا کی طرف مائل کردیا۔ ان دونوں کے بگڑنے سے محمد احسن کی بن پڑی، لن ترانیاں کرنی شروع کیں، طلبہ کے مقابلے سے یوں عقب گزاری (کی) احمد حسن میرے مقابلے پر آوے، جب مناظرے پر آمادہ ہوا اور یہ پیغام دیا کہ: ’’حضرت! مرزا کو بلائیے، صَرفِ راہ میرے ذمہ (یا) مجھ کو لے چلئے، میں خود اپنے صَرف کا متکفل ہوں گا۔ بسم اللہ آپ اور مرزا دونوں مل کر مجھ سے مناظرہ کرلیجئے یا میرے طلبہ سے مناظرہ کرلیجئے، ان کی مغلوبی میری مغلوبی۔‘‘ تب مناظرے کا دعویٰ چھوڑ، مباہلے کا ارادہ کیا۔ بنامِ خدا میں اس پر آمادہ ہوا اور بے تکلف کہلا بھیجا، بسم اللہ مرزا آوے، مباہلہ،

136

مناظرہ جو شق وہ اختیار کرے میں موجود ہوں۔ (میں نے) اس کے بعد جامع مسجد (امروہہ میں) ایک وعظ کہا اور اس پیغام کا بھی اعلان کردیا اور مرزا کے خیالاتِ فاسدہ کا پورا رَدّ کیا۔

کل بروز جمعہ دُوسرا وعظ ہوا، جو بفضلِ تعالیٰ بہت پُرزور تھا اور بہت زور کے ساتھ یہ پکار دیا کہ: ’’دیکھو! مولوی فضل حق کا یہ اشتہار مطبوعہ (اور) میرا یہ اعلان مرزا صاحب کو کوئی صاحب لوجہ اللہ غیرت دِلائیں، کب تک خلوَت خانے میں چوڑیاں پہنے بیٹھے رہوگے؟ میدان میں آؤ اور اللہ برتر کی قدرتِ کاملہ کا تماشا دیکھو کہ ابھی تک خدا کے کیسے کیسے بندے تم سے دجالِ اُمت کی سرکوبی کے واسطے موجود ہیں، اگر تم کو اور تمہارے حواریین کو غیرت ہے تو آؤ، ورنہ اپنے ہفوات سے باز آؤ۔‘‘ بفضلہ تعالیٰ ان دونوں وعظوں کا اثر شہر میں اُمید سے زیادہ پڑا اور دُشمن مرعوب ہوا۔

پیش گوئی تو یہ ہے کہ نہ مباہلہ ہو، نہ مناظرہ مگر دُعا سے ہر وقت یاد رکھنا، مولانا گنگوہی مدظلہٗ (اور) مولوی محمود حسن صاحب دیوبندی نے بہت کلماتِ اطمینان تحریر فرمائے ہیں، ارادہ ہے دو چار وعظ اور کہوں۔

(۲۰؍ذیقعدہ ۱۳۱۹ھ مطابق یکم مارچ ۱۹۰۲ء از امروہہ)

مولانا سیّد بدرالحسن امروہی کی فاسد عقیدے سے توبہ:

مولانا سیّد بدرالحسن امروہی حضرت امروہیؒ کے تلامذہ میں سے تھے، ان کی آمد و رفت محمد احسن کے پاس رہنے لگی اور ان کی باتیں سن کر حیاتِ مسیح علیہ السلام میں ان کو شک و تردّد ہوگیا، بہت سے علماء نے ہرچند ان کو سمجھایا لیکن ان پر باطل کا اثر ہوگیا تھا، اِس لئے کسی کی نہ سنتے تھے اور اُلٹا مناظرہ کرتے تھے۔ حضرت محدث امروہیؒ کو اِس کی اطلاع ہوچکی تھی، ایک دن ان کو حضرتؒ کے پاس لایا گیا یا وہ خودبخود آئے، حضرتؒ نے ان کو دیکھ کر فرمایا: ’’مولوی بدرالحسن! حقیقت میں تم ہمارے

137

طبیبِ رُوحانی ہو، ہمیں غرور ہوچلا تھا کہ ہمارا شاگرد اور ہمارے پاس بیٹھنے والا باطل میں گرفتار نہیں ہوسکتا، اب معلوم ہوا کہ یہ بات غلط ہے، تم نے ہمارا غرور توڑ دیا۔‘‘ نہ معلوم کس جذبے سے یہ الفاظ فرمائے تھے کہ مولوی بدرالحسن زار و قطار رونے لگے اور قدموں پر لوٹے لوٹے پھرے اور اپنے فاسد عقیدے سے توبہ کی۔ یہی بدرالحسن، حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ مجلسِ مناظرہ رامپور میں موجود تھے۔

شیخ حسام الدینؒ:

شیخ صاحب کا سکندر مرزا کو دندان شکن جواب:

۱۹۵۳ء کی تحریکِ ختمِ نبوّت کے باعث حکومت نے مجلس احرار اِسلام کو خلافِ قانون قرار دے دیا تو شیخ صاحبؒ مع ماسٹر تاج الدین صاحب انصاریؒ، سہروردی کی دعوت پر کام کرنے کے لئے تیار ہوگئے، مگر تھے اوّل و آخر اَحراری۔

بروایت محترم آغاشورش کاشمیریؒ، مدیر و بانی ہفت روزہ ’’چٹان‘‘ لاہور، حسین شہید سہروردی جبکہ وہ پاکستان کے وزیراعظم تھے، محترم شیخ صاحبؒ کی دعوت کرکے سکندر مرزا سابق صدرِ پاکستان سے تبادلۂ خیالات کرنے کی غرض سے اپنے ہمراہ لے گئے تاکہ سکندر مرزا کو مجلسِ احرار اِسلام سے جو غلط فہمیاں ہیں وہ دُور ہوسکیں۔ المختصر شیخ صاحبؒ اور ماسٹر صاحبؒ، سکندر مرزا سے ملنے کے لئے گورنمنٹ ہاؤس لاہور پہنچے، سکندر مرزا اپنے صدارتی جاہ و جلال کے ساتھ برآمد ہوا اور شاہانہ بے نیازی کے ساتھ فروکش ہوگیا۔ ڈاکٹر خان صاحب صوبے کے وزیراعلیٰ (غفار خان کے بھائی) ساتھ تھے۔ سہروردی صاحب نے مرزا صاحب سے کہا کہ: ’’یہ دونوں اَحرار رہنما شیخ صاحب اور ماسٹر تاج الدین انصاری صاحب ملنے کی غرض سے آئے ہیں۔‘‘ مگر مرزا نے حقارت سے کہا: ’’احرار، پاکستان کے غدار ہیں!‘‘ ماسٹرجی، جو بہت ٹھنڈی طبیعت کے مالک تھے، نے فرمایا کہ: ’’اگر غدار ہیں تو پھانسی پر کھنچوادیجئے، لیکن اس جرم کا

138

ثبوت ہونا چاہئے!‘‘ سکندر مرزا نے پھر اسی رعونت سے جواب دیا: ’’بس میں نے کہہ دیا ہے کہ اَحرار غدار ہیں!‘‘ ماسٹرجی نے تحمل کا رشتہ نہ چھوڑا، لیکن سکندر مرزا نے گھوڑے کی طرح پٹھے پر ہاتھ نہ دھرنے دیا، وہی پھر ژاژخائی۔

اتنے میں شیخ صاحبؒ نے غصّے میں کروَٹ لی اور مرزا سے پوچھا: ’’کیا کہا تم نے؟‘‘، ’’میں نے؟‘‘، ’’جی ہاں!‘‘ ’’تو میں نے یہی کہا ہے کہ احرار پاکستان کے غدار ہیں‘‘ یہ الفاظ مرزا صاحب نے مٹھی بھینچتے ہوئے کہے۔

شیخ صاحب مرحوم نے فوراً گرج کر جواب دیا: ’’احرار غدار ہیں کہ نہیں، اس کا فیصلہ ابھی تاریخ کرے گی، مگر تیرا فیصلہ تاریخ کرچکی ہے، تو غدار اِبنِ غدار ہے، تیرے جدِ اَمجد میر جعفر ملعون نے سراج الدولہ سے غداری کی تھی، واللہ العظیم! تو اِسلام اور پاکستان کا غدار ہے۔‘‘ اللہ اکبر! تب ڈاکٹر خان صاحبؒ نے شیخ صاحبؒ کو بڑی قوّت سے اپنی آغوش میں لے لیا اور سکندر مرزا سے پشتو زبان میں کہا: ’’میں نے تم سے پہلے نہیں کہا تھا کہ ان لوگوں کے ساتھ شریفانہ لہجے میں گفتگو کرنا، یہ بڑے بے ڈھب لوگ ہیں۔‘‘ تب یکایک اس کا لہجہ بدل گیا اور شیخ صاحبؒ سے عاجزانہ معذرت کرنے لگا:

شہ سواروں میں ہیں ہم کو حقارت سے نہ دیکھو

گو بظاہر نظر آتے ہیں قلندر کی طرح

علامہ محمد حسن صاحب فیضیؒ:

مولانا علامہ ابوالفیض محمد حسن صاحب فیضی (متوفیٰ ۱۹۰۱ء) مولانا ابوالفضل محمد کرم الدین صاحب دبیر کے چچازاد بھائی تھے، ادبِ عربی کے ماہر، نظم میں ممتاز، بے نقط عربی قصائد لکھنے میں اُنہوں نے شہرتِ دوام حاصل کی، مدرسہ انجمن نعمانیہ لاہور میں کئی سال تک مسندِ درس و تدریس پر جلوہ گر رہے۔ حضرت پیر سیّد مہرعلی شاہ

139

صاحبؒ سے بیعت کا شرف حاصل تھا، مولانا غلام احمد صاحب پرنسپل مدرسہ نعمانیہ کے ارشد تلامذہ میں شمار ہوئے، مرزا غلام احمد قادیانی کے فتنے کے اِستیصال میں آپ نے اپنی خداداد صلاحیتوں کے جوہر دِکھائے۔

مرزا قادیانی کی عربی دانی:

۱۳؍فروری ۱۸۹۹ء کا واقعہ ہے کہ علامہ فیضی صاحب ایک غیرمنقوط عربی قصیدہ لکھ کر مرزا قادیانی کے پاس سیالکوٹ پہنچے، مسجد حکیم حسام الدین صاحب میں مرزا اپنے ممتاز حواریوں کے جلو میں بیٹھا ڈینگیں مار رہا تھا کہ یہ شیر دھاڑتا ہوا جاپہنچا اور للکار کر فرمایا: ’’تمہیں اِلہام کا دعویٰ ہے تو مجھے تصدیقِ اِلہام کے لئے یہی کافی ہے کہ اس قصیدے کا مطلب حاضرینِ مجلس کو واضح سنادیں۔ مرزا صاحب اس قصیدے کو چپکے چپکے دیکھتے رہے لیکن اس کی عبارت بھی سمجھ نہ سکے، حالانکہ نہایت خوشخط عربی رسم الخط میں لکھا تھا، پھر اپنے ایک حواری کو دیا، اُس نے یہ کہہ کر واپس کردیا کہ ہم کو تو اس کا پتا ہی نہیں چلتا، آپ ترجمہ کرکے دیں۔ علامہ صاحب نے اپنا قصیدہ واپس لے لیا اور زبانی گفتگو شروع فرمادی، مرزا پر ایسا رُعب طاری ہوا کہ:

’’نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن‘‘

آخر پکار اُٹھا: ’’میں نبی نہیں، نہ رسول ہوں، نہ میں نے دعویٰ کیا، فرشتوں کو، لیلۃ القدر کو، معراج کو، احادیث اور قرآنِ کریم کو مانتا ہوں، مزید ازاں عقائدِ اسلامیہ کا اقرار کرتا ہوں۔‘‘

دُوسرے روز یعنی ۱۴؍فروری ۱۸۹۹ء کو علامہ فیضی صاحب نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کی نسبت دلیل مانگی تو متنبیٔ قادیان کی ساری عربی دانی کی ہوا نکل گئی، اس گفتگو کے بعد آپ نے مولانا فقیر محمد صاحب جہلمی کے ہفتہ وار پرچہ ’’سراج الاخبار‘‘ میں ۹؍مئی ۱۸۹۹ء کو بے نقط قصیدہ کے بارے میں، جو مرزا غلام احمد قادیانی

140

سے بات چیت ہوئی تھی، مشتہر کرائی اور ساتھ ہی مرزا صاحب کو مناظرے کا چیلنج دیتے ہوئے اعلان فرمایا:

’’میں مرزا صاحب کو اِشتہار دیتا ہوں کہ اگر وہ اپنے عقیدے میں سچے ہوں تو آئیں صدر جہلم میں کسی مقام پر مجھ سے مباحثہ کریں، میں حاضر ہوں، تحریری کریں یا تقریری، اگر تحریر میں ہو تو نثر میں کریں یا نظم میں، عربی ہو یا فارسی یا اُردو، آئیے، سنئے اور سنائیے!‘‘

’’سراج الاخبار‘‘ میں مذکورہ اشتہار سے پہلے آپ نے وہ بے نقط قصیدہ عربی، فروری ۱۸۹۹ء میں ہی انجمن نعمانیہ لاہور میں بھی مشتہر کرایا اور آخر میں نوٹ لکھا:

’’اب بھی ہم دیکھنا چاہتے ہیں کہ مرزا صاحب اس قصیدے کا جواب اس صنعت کے عربی قصیدے کے ذریعے ایک ماہ تک لکھنے کی طاقت رکھتے ہیں یا نہیں؟ ہر دو قصائد کا موازنہ پبلک خود کرلے گی، لیکن تہذیب و متانت سے جواب دیا جائے۔‘‘

141

فاتحِ قادیان مولانا محمد حیات صاحبؒ:

مولانا نے تعلیم سے فراغت پاتے ہی رَدِّ قادیانیت کا کام شروع کردیا تھا، جو زندگی کے آخری لمحے تک جاری رہا، قادیان میں دفتر ختمِ نبوّت کے انچارج رہے، تاآنکہ ملک تقسیم ہوا۔ مرزا بشیرالدین کے قادیان سے فرار کے بعد قادیان کو چھوڑ کر پاکستان تشریف لائے، پاکستان میں عالمی مجلس تحفظِ ختمِ نبوّت کے بانی رکن اور سب سے پہلے مبلغ تھے، قادیان میں قیام کے دوران مرزائیوں کو ناکوں چنے چبوائے، اِس طرح اُمت کی طرف سے ’’فاتح قادیان‘‘ کا لقب حاصل کیا۔

مرزائیت کا تعاقب:

ربوہ (چناب نگر) میں عالمی مجلس ختمِ نبوّت کے لئے مسلم کالونی میں پلاٹ حاصل ہوا تو آپؒ خبر سنتے ہی ملتان سے ربوہ (چناب نگر) منتقل ہونے کے لئے آمادہ ہوگئے، کھانا چھوڑ دیا، چنے چبانے شروع کردئیے، مولانا محمد شریف جالندھری کے پوچھنے پر جواب دیا کہ: ’’میں ریہرسل کر رہا تھا کہ اگر ربوہ (چناب نگر) میں روٹی نہ ملے تو آیا چنے چبانے کے لائق دانت ہیں یا نہیں؟‘‘ اس جذبہ و ایثار سے آپؒ مسلم کالونی ربوہ (چناب نگر) تشریف لائے، گرم سرد، دُکھ سکھ، عسر و یسر میں ربوہ (چناب نگر) کے اس محاذ کو آخری وقت تک سنبھالے رکھا، اُمتِ محمدیہ کی طرف سے واحد شخص ہیں جنھوں نے قادیان سے لے کر ربوہ (چناب نگر) تک مرزائیت کا تعاقب ان کے گھر پہنچ کر کیا۔

آپؒ انتہائی سادہ، منکسر المزاج تھے، ربوہ (چناب نگر) میں قیام کے

142

دوران آپؒ سے گفتگو کے لئے جو بھی قادیانی آتا، منہ کی کھاتا۔ کچھ عرصہ بعد خلافتِ ربوہ (چناب نگر) کو اِعلان کرنا پڑا کہ اس ’’بابا‘‘ کے پاس نہ جایا کرو۔

گفتگو میں دُشمن کو گھیرے میں لے کر بند کرنا آپؒ کا وہ امتیاز تھا جس کی اس زمانے میں مثال ملنا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔

مرزائی مناظر کو تُرت جواب:

ایک دفعہ ایک مرزائی مناظر نے کہا کہ: ’’مولانا! آپ نے قادیان چھوڑ دیا؟‘‘ آپؒ نے فرمایا کہ: ’’مرزا بشیرالدین کے فرار کے بعد۔۔۔!‘‘ مرزائی نے کہا کہ: ’’نہیں! اس وقت بھی قادیان میں ہمارے ۳۱۳ اَفراد موجود ہیں۔‘‘ مولاناؒ نے فرمایا کہ: ’’میں نے تو سنا ہے کہ ان کی تعداد ۴۲۰ ہے!‘‘ یہ سنتے ہی مرزائی نے غصّے سے لال پیلا ہوکر کہا: ’ہم آپ کے ’’دیوبند‘‘ پر پیشاب بھی نہیں کرتے!‘‘ مولاناؒ نے بڑے دھیمے انداز میں جواب دیا کہ: ’’میں تو جتنا عرصہ قادیان میں رہا، کبھی پیشاب کو نہیں روکا۔‘‘ اس پر مرزائی اول فول بکتا ہوا یہ جا، وہ جا۔

پٹوارگیری کے امتحان میں فیل:

ایک دفعہ مرزائیوں نے مناظرے میں شرط رکھ دی کہ مناظر مولوی فاضل ہوگا، مولاناؒ مناظرے کے لئے تشریف لے گئے تو مرزائی مناظر نے مولوی فاضل کی سند مانگی۔ مولاناؒ نے فرمایا: ’’افسوس! کہ آج ہم سے وہ لوگ سند مانگتے ہیں جن کا نبی پٹوارگیری کے امتحان میں فیل ہوگیا تھا۔‘‘ مولاناؒ نے کچھ اس انداز سے اسے بیان کیا کہ مرزائی مناظر مناظرہ کئے بغیر ہی بھاگ گیا۔

تحریکِ ختمِ نبوّت ۱۹۵۳ء میں گراںقدر خدمات:

۱۹۵۳ء کی تحریکِ ختمِ نبوّت میں آپؒ نے جو کارہائے نمایاں و گراںقدر خدمات سراَنجام دیں اس کا اندازہ منیر انکوائری رپورٹ سے ملتا ہے کہ جہاں کہیں

143

مسٹر جسٹس منیر آپؒ کی کسی تقریر کا حوالہ دیتا ہے، جل بھن کر دیتا ہے، گویا مولاناؒ کے طرزِ عمل نے مرزائیت و مرزائی نواز طبقے کے خواب و خور حرام کردئیے تھے۔

اس وقت پاکستان میں جتنے مناظر و مبلغ رَدِّ قادیانیت پر کام کر رہے ہیں، سوائے ایک آدھ کے، باقی تمام تر ٹیم مولانا محمد حیاتؒ کی شاگرد ہے۔

سینٹرل جیل میں بھی بذلہ سنجی:

۱۹۵۳ء کی تحریک ختمِ نبوّت میں ملتان دفتر سے مولانا محمد شریف جالندھری، مولانا عبدالرحیم اشعر اور سائیں محمد حیات صاحبؒ کے ساتھ گرفتار ہوکر سنٹرل جیل گئے، وہاں پر اکابر و اصاغر کے ساتھ بڑی بہادری سے جیل کاٹی، جیل میں بی کلاس کی سہولت حاصل ہوگئی تو مزاحاً مولانا محمد علی جالندھریؒ سے فرماتے تھے کہ: ’’حضرت! دیکھ لیں جو یہاں مل رہا ہے، دفتر جاکر وہی دینا ہوگا۔‘‘ مولانا محمد علی صاحبؒ فرماتے کہ: ’’مولانا محمد حیات! جو کھانا ہے، یہیں کھالو، دفتر میں تو وہی دال روٹی ملے گی۔‘‘

جیل کی سزا کاٹنے کے اتنے بہادر تھے کہ وہاں جاکر گویا باہر کی دُنیا کو بالکل بھول جایا کرتے تھے، اتنا بہادر انسان کہ اس پر جتنا فخر کیا جائے کم ہے۔

اپنی دُھن کے پکے:

ملتان جیل میں ایک دفعہ حضرت مدنی رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ مجاز حضرت مولانا خدابخشؒ نے چنے منگوائے اور عصر کے بعد نمازیوں کے سامنے چادر پر بچھاکر پڑھوانے شروع کردئیے۔ مولانا محمد حیاتؒ نے پوچھا تو جواب ملا: ’’اس لئے تاکہ مصیبت کم ہو!‘‘ آپؒ نے فرمایا: ’’آپ پڑھیں، میں تو نہیں پڑھتا، جو لکھا ہے وہی ہوگا، جتنے دن جیل میں رہنا ہے بہرحال رہیں گے۔‘‘ رہے اور بڑی بہادری سے رہے، ملتان سے لاہور بوسٹر و سنٹرل جیل میں منتقل ہوئے، دس ماہ بعد رہا ہوئے، رہا ہوتے ہی پھر مرزائیت کی تردید میں جت گئے۔ غرضیکہ اپنی دُھن کے پکے تھے۔

144

کتابوں کے رسیا:

مطالعۂ کتب کا اتنا شوق تھا کہ فرائض و سنن کے علاوہ باقی تمام تر وقت مطالعے میں گزرتا، وظائف و نوافل کے زیادہ عامل نہ تھے، وہ تسبیح و دانہ کے آدمی نہ تھے، کتابوں کے رسیا تھے، آخری عمر میں کمزوری و ناتوانی و ضعفِ بصر کے باوصف بھی یومیہ کئی سو صفحات تک مطالعہ کرجاتے تھے، ان کے سرہانے کتاب ضرور ہوتی تھی، خواب سے بیدار ہوئے، مطالعے میں لگ گئے، یہی وجہ ہے کہ آپؒ کو حوالہ جات ازبر تھے، آپؒ کو قدرت نے بلا کا حافظہ دیا تھا، حافظہ و مطالعہ، تقویٰ و اِخلاص، جذبۂ اِیثار و قربانی، جادوبیانی جیسی صفات و خوبیاں مولانا میں ایسی تھیں جن کا دُشمن بھی اعتراف کرتے تھے۔

اخلاص کے پیکر:

مولانا محمد علی جالندھری رحمۃ اللہ علیہ دیگر اکابر کی طرح آپ کے بڑے قدردان تھے، مولانا محمد حیاتؒ کی طبیعت میں سخت گیری تھی، اپنے مزاج و دُھن اور رائے کے پکے تھے، بنیادی طور پر مناظر تھے اور مناظر اپنی رائے جلدی سے تبدیل نہیں کرتا، اس لئے مولانا محمد حیات صاحبؒ کبھی کبھار گفتگو و اِختلافِ رائے میں مولانا محمد علی جالندھری رحمۃ اللہ علیہ سے شدّت بھی اختیار کرجاتے تھے۔ ۱۹۷۰ء کے الیکشن میں ’’مجلس کو کیا کرنا چاہئے؟‘‘ مولانا محمد علی صاحبؒ کی رائے تھی کہ ہم لوگ غیرسیاسی ہیں، اپنی پالیسی پر کاربند رہیں۔ مولانا محمد حیاتؒ کی رائے تھی کہ اگر ہماری معاونت سے کچھ علماء اسمبلی میں چلے گئے تو ہمارے مسئلے کو حل کرانے میں معاون ثابت ہوں گے۔ پالیسی کے لحاظ سے حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ کی رائے وزنی تھی، جبکہ مسئلے کو حل کرانے کے نقطئہ نظر سے مولانا محمد حیاتؒ کو اپنی رائے پر اِصرار تھا۔ دونوں حضرات نے ایک میٹنگ میں اس پر گھنٹوں دلائل دئیے، ظہر کے وقت اجلاس کا وقفہ

145

ہوا تو وہی محبت و اِخلاص، مولانا محمد علی صاحبؒ نے چائے پیالی میں ڈال کر پیش کی، مولانا محمد حیاتؒ مسکرا اُٹھے، اللہ رَبّ العزّت ان تمام حضرات پر اپنا کرم فرمائیں کہ اِخلاص کے پیکر تھے۔

گرفتاری کے لئے نام لکھوانا:

مولانا محمد علی جالندھری رحمۃ اللہ علیہ نے اسی میٹنگ میں فرمایا کہ: ’’مارشل لاء حکومت نے ایک دفعہ کے تحت الیکشن میں مذہبی بنیادوں پر کسی کی مخالفت کو جرم قرار دیا ہے، اگر مرزائی کھڑے ہوئے، ہم تو ان کا نام لے کر ان کے مرزائی ہونے کے باعث ان کی مخالفت کریں گے، تو اس دفعہ کی خلاف ورزی لازم آئے گی، گرفتاریاں ہوں گی، تو جو حضرات گرفتاریوں کے لئے اپنے آپ کو پیش کرنا چاہیں، اپنے نام لکھوادیں۔‘‘ اب تمام مبلغین احترام میں خاموش کہ پہلے بزرگ نام لکھوائیں تو پھر ہم سب حاضر ہیں، چھوٹے پہلے بولیں تو کہیں سوئِ ادبی نہ ہو، ورنہ ظاہر ہے کہ مشن کے لئے سب ہی گرفتار ہونے کو تیار تھے۔ اتنے میں مولانا محمد حیاتؒ بولے: ’’مولانا محمد علی صاحب! بھائی جان! دیکھیں جب شاہ جیؒ ہمیں گرفتاری کے لئے فرماتے تھے تو پہلے اپنا نام لکھواتے تھے، آپ پہلے اپنا نام لکھوائیں پھر ہم سب کا لکھ لیں، ہم سب تیار ہیں۔‘‘ مولانا محمد علی صاحبؒ ’’بہت اچھا!‘‘ فرماکر مسکرائے اور مولانا محمد شریف صاحب کو حکم دیا کہ میرے نام سمیت سب حاضرین کے درجہ بدرجہ نام لکھ لو، چنانچہ ایسے ہی ہوا۔

قادیان سے مرزا بشیرالدین کا فرار:

مولانا عبدالرحیم اشعر راوی ہیں کہ تقسیم کے وقت مرزا بشیرالدین نے ایک دن قادیان میں اعلان کرایا کہ آج میں بلدیو سنگھ وزیرِ دفاع انڈیا سے مل آیا ہوں، وہ ہیلی کاپٹر پر قادیان کا معائنہ کریں گے۔ قادیان کے لوگ دروازے بند کرکے گھروں

146

میں بیٹھے رہیں تاکہ وہ اُوپر سے دیکھ سکیں کہ واقعی لوگ تنگ ہیں، دُشمن کے حملوں کا سخت خطرہ ہے، اس لئے گھروں میں نظربند ہیں۔ تمام قادیانی گھروں میں نظربند ہوگئے، مرزا بشیرالدین برقع پہن کر خفیہ طور پر قادیان سے لاہور آگیا، جب مرزائیوں کو پتا چلا تو سخت سٹپٹائے اپنی قیادت پر کہ وہ بڑی بزدل و کمینی نکلی، مگر کیا کرتے مجبور تھے۔ دُوسرے قادیانی افسروں نے کچھ دنوں بعد قادیان میں فوجی ٹرک بھجوائے کہ لوگوں کو وہاں سے نکالا جائے، ٹرک لوڈ ہو رہے تھے، مولانا محمد حیاتؒ وہاں موجود تھے، مرزائیوں نے کہا کہ: ’’ٹرک میں جگہ ہے، آپ آجائیں!‘‘ آپؒ نے فرمایا: ’’آپ چلیں، میرا اِنتظام ہے!‘‘ جب تمام قادیان کے مرزائی قادیان چھوڑ کر لاہور آگئے تو تب کہیں جاکر قریب کے کسی گاؤں کے کارکن غلام فرید کو آپ نے پیغام بھجوایا، وہ ایک بیل گاڑی لایا، اس پر کتابیں لادیں اور سفر کرکے کئی دنوں بعد لاہور دفتر میں آگئے۔ آپ کے عزیز و اقارب خیرپور میرس سندھ میں تھے، ان کی اطلاع پاکر آپ وہاں چلے گئے اور وہاں جاکر زراعت کا کام شروع کردیا۔

رَدِّ قادیانیت پر علماء کی پہلی تربیتی کلاس:

ایک دن حضرت اَمیرِ شریعتؒ و حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ کو کسی کا خط ملا کہ آپ لوگ تقسیم سے قبل رَدِّ قادیانیت کا کام کرتے تھے، قادیانیت آپ کے احتساب سے سہمی ہوئی تھی، آپ لوگوں نے توجہ کم کردی، مرزائی دن رات اپنی تبلیغ میں لگے ہوئے ہیں، سرکاری عہدوں سے ناجائز فائدہ اُٹھا رہے ہیں، یہی حال رہا تو پاکستان پر یہ لوگ چھاجائیں گے۔ شاہ جیؒ نے یہ خط پڑھا تو تڑپ گئے، مولانا محمد علی صاحبؒ کو بلاکر فرمایا کہ: ’’سندھ سے مولانا محمد حیات کو ملتان بلوائیں!‘‘ مولانا محمد حیاتؒ کے بھائی آمادہ نہ ہوتے تھے، مولانا محمد علیؒ نے ان کو ایک ملازم رکھ دیا جو ان کے ساتھ کھیتی باڑی کے کام میں مولانا محمد حیاتؒ کی نیابت کرتا تھا اور یوں مولانا محمد

147

حیات صاحبؒ ملتان آگئے، حضرت اَمیرِ شریعتؒ سے ملے، دُوسرے دن ہی کچہری روڈ ملتان میں ایک دُکان پر چوبارہ کرایہ پر لیا اور کام شروع کردیا، پہلی علماء کی تربیتی کلاس لگی، مولانا محمد حیاتؒ اُستاذ مقرّر ہوئے، تقسیم کے بعد پہلی کلاس میں یہ علماء شامل تھے:

مولانا عبدالرحیم اشعر، مولانا قائم الدین علی پوری، مولانا محمد لقمان علی پوری، مولانا غلام محمد خان پوری، قاضی عبداللطیف اختر شجاع آبادی، مولانا محمد عبداللہ سندھی، مولانا محمد یار چیچہ وطنی، ان حضرات نے رَدِّ مرزائیت کا کورس مکمل کیا۔

کورس کے مکمل کرتے ہی ان حضرات کو اس ترتیب سے جماعت کا مبلغ مقرّر کیا گیا:

مولانا عبدالرحیم اشعر: فیصل آباد، مولانا محمد لقمان صاحب: ننکانہ صاحب، مولانا یار محمد: چنیوٹ، قاضی عبداللطیف: چیچہ وطنی، مولانا غلام محمد: ملتان، مولانا محمد عبداللہ: سندھ۔ ان حضرات نے کام شروع کیا اور تقسیم کے بعد جماعت کے یہ حضرات پہلے مبلغین قرار پائے، یوں عشقِ رسالت مآب (صلی اللہ علیہ وسلم) میں غرقاب یہ کاروانِ ختمِ نبوّت اپنی منزل کی طرف پھر رواں دواں ہوگیا۔

مولانا محمد علی جالندھریؒ کے انتقال پر اشکوں کا خراجِ تحسین:

پہلے کہیں ذکر ہوچکا ہے کہ مولانا محمد حیات صاحبؒ ارادے کے پکے اور اَعصاب کے مضبوط انسان تھے، بڑے سے بڑے سانحے کو وہ بڑی بہادری و جرأت سے برداشت کرجاتے تھے، لیکن جب مولانا محمد علی جالندھریؒ کا انتقال ہوا تو اس وقت ملتان میں نہ تھے، تبلیغ کے لئے حضرتؒ سرگودھا کے سفر پر تھے، فون پر اِطلاع دی گئی، پوری رات سفر کرکے علی الصبح دفتر پہنچے، دفتر کے صحن میں مولانا محمد علی جالندھریؒ کا جنازہ پڑا تھا، دیکھتے ہی دھاڑیں مار مارکر رونے لگے، اتنا روئے کہ انتہا کردی، صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا، اپنے دِل کے ہاتھوں مجبور تھے، ایسے محسوس ہوتا تھا کہ

148

وہ مولانا محمد علی جالندھریؒ کی وفات پر اپنی جان گنوا بیٹھیں گے، زار و قطار رو رہے تھے اور بار بار کہتے تھے کہ: ’’میں بہت نکما ہوں (یہ ان کی کسرِ نفسی تھی، ورنہ وہ تو بہت ہی کام کے آدمی تھے) ہم لوگ دفتر میں بیٹھے رہتے، یہ شخص (مولانا جالندھریؒ) جفاکش و بہادر اِنسان تھا، دن رات ایک کرکے، جان جوکھوں میں ڈال کر دفتر بنایا، فنڈ قائم کیا، اپنے کلیجے کو دھیمی آگ پر اپنے ہاتھوں بھون بھون کر ہمیں کھلایا، اب ان جیسا بہادر و محنتی، دوست و رہنما ہمیں کہاں سے میسر آئے گا، ہماری تیز و ترش باتیں سن کر خوش دِلی سے نہ صرف ہماری بلکہ پوری جماعت کی خدمت کی، ہائے اب مجھے محمد علی کہاں سے ملے گا جو میری سن کر برداشت کرے گا۔‘‘ زار و قطار دُکھے ہوئے دِل سے ایسا خراجِ تحسین پیش کیا کہ اس وقت دفتر میں موجود تمام ساتھیوں کے دِل ہاتھ سے چھوٹ گئے، دفتر میں کہرام مچ گیا۔ اس وقت دونوں بزرگ دُنیا میں موجود نہیں، مگر ان کی باہمی وفاؤں کی یادوں سے ہمارے دِل معمور ہیں، اللہ رَبّ العزّت ان سب کی قبروں پر اپنی رحمت فرمائے۔

خدا رحمت کند ایں عاشقانِ پاک۔۔۔۔۔

مولاناؒ، شعبان کے آخری دنوں میں معمولی بیمار ہوئے، چناب نگر سے لاہور گئے، وہاں سے اپنے گاؤں کوٹلہ مغلاں تحصیل شکرگڑھ تشریف لے گئے، کچھ عرصہ معمولی بیمار رہ کر رمضان شریف میں اللہ رَبّ العزّت کو پیارے ہوگئے۔ ’’عَاشَ غَرِیْبًا وَمَاتَ غَرِیْبًا‘‘ کا صحیح مصداق تھے، اس دُنیا میں فقرِ اَبوذَر غفاریؓ کے وارث و عَلم بردار تھے، ان کی وفات کے بعد ان کے گاؤں تعزیت کے لئے جانا ہوا، قبرستان میں گئے، ان کی قبر کو خود رو بوٹیوں و جھاڑیوں نے ڈھانپ رکھا تھا، ایسا محسوس ہوا جیسے منوں مٹی کے نیچے ان کی میّت کو رحمتِ پروردگار نے ڈھانپ رکھا ہو۔ اللہ رَبّ العزّت ان کی قبر پر اپنی رحمتوں کی بارش نازل فرمائے۔

149

مولانا عبدالحامد بدایونی:

حضرت مولانا بدایونی کی زندگی کا سب سے بڑا مشن عقیدۂ ختمِ نبوّت کی حفاظت تھا، چنانچہ اس تحریک میں آپ نے بڑا نمایاں حصہ لیا، تحریکِ تحفظِ ختمِ نبوّت کی حمایت اور مرزائیت کی تردید کی پاداش میں حکومت نے انہیں گرفتار کرلیا، ایک سال تک سکھر اور کراچی کی جیلوں میں مولانا ابوالحسنات قادری کے ساتھ نظربند رہے، قید و بند کی سخت صعوبتوں کو بڑی جوانمردی سے برداشت کیا، ان کی مدبرانہ فراست نے پورے ملک میں اِس تحریک کو مقبول بنایا۔

حضرت خواجہ حسن نظامیؒ اور مرزائی:

تحریکِ ختمِ نبوّت (۱۹۷۴ء) میں مرزائیوں نے اشتہارات اور ہینڈبل وغیرہ شائع کرکے یہ پروپیگنڈا کیا کہ حضرت خواجہ حسن نظامیؒ قادیانیوں کے بارے میں اچھی رائے رکھتے تھے۔ ۱۷؍جون ۱۹۳۵ء کے روزنامچے ’’منادی‘‘ کی مندرجہ ذیل تحریر غالباً آئینہ دِکھانے کے لئے کافی ہے، خواجہ صاحبؒ لکھتے ہیں:

’’میرے پیر و مرشد حضرت مولانا مہرعلی شاہ چشتی نظامیؒ سجادہ نشین گولڑہ شریف کا ایک بیان میری نظر سے گزرا، جس میں حضرتِ اقدس نے ایک فیصلہ ُکن حکم صادر فرمایا ہے اور وہ یہ ہے کہ: قادیانی اپنے عقائدِ مخصوصہ کے سبب مسلمان نہیں کہلاسکتے، اس واسطے کسی مسلمان کو ان سے کسی قسم کا تعاون جائز نہیں۔‘‘

(بحوالہ مہر منیر ص:۲۹۳)

حضرت مولانا خواجہ خان محمد مدظلہٗ:

مولانا اسلام الدین صاحب ایڈیٹر ’’ظہورِ اسلام‘‘ سرینگر کشمیر، نے خواب

150

میں حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی زیارت کی، حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا کہ: ’’برِصغیر کے مسلمانوں کے حالات قابلِ رحم ہیں، آپ مولانا خواجہ خان محمد صاحب پاکستانی کو کہیں کہ وہ برِصغیر کے مسلمانوں کے لئے اللہ رَبّ العزّت سے دُعا کیا کریں۔‘‘ مولانا اسلام الدین نے سرینگر سے خط کے ذریعے کراچی دفتر ختمِ نبوّت لکھا کہ شیخ المشائخ اعلیٰ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب تک حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کا پیغام پہنچادیں۔ (حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ معروف جلیل القدر صحابیٔ رسول ہیں، عشرہ مبشرہ میں سے ہیں)۔

میرپور خاص، سندھ کے ڈاکٹر امداداللہ احمدانی مدینہ طیبہ گئے، روضۂ طیبہ پر دُرود و سلام پڑھا اور دُعا کی کہ: ’’اے آقائے نامدار! صلی اللہ علیہ وسلم آپ کا جو بہت پیارا اُمتی ہے، اس بزرگ کی مجھے آج زیارت ہوجائے۔‘‘ یہ دُعا کرکے مواجہہ شریف سے پیچھے ہٹے تو ایک دوست نے کہا کہ: ’’ڈاکٹر صاحب! پاکستان سے مولانا خواجہ خان محمد صاحب تشریف لائے ہوئے ہیں، آپ زیارت کے لئے چلیں گے؟‘‘ ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں کہ: ’’میرے دِل میں آیا کہ آج تو میری دُعا نقد قبول ہوگئی۔ میں گیا اور جاکر مولانا خواجہ خان محمد صاحب کی ملاقات و زیارت کی۔‘‘

حضرت مولانا خلیل احمد قادری مدظلہٗ:

حضرت مولانا خلیل احمد قادری صاحب فرماتے ہیں کہ: ’’تحریکِ ختمِ نبوّت ۱۹۵۳ء میں مجھے گرفتار کرکے جیل بھجوادیا گیا اور مجھ پر مصائب کے پہاڑ توڑے گئے۔ میرے کمرے میں زہریلے سانپ چھوڑے گئے، کئی کئی دن کھانا نہ دیا جاتا، نماز پڑھنے کی اجازت نہ تھی، پیٹ اور سینے میں شدید درد ہونے کی وجہ سے کراہتا، مگر جیل والوں پر کوئی اثر نہ ہوتا۔ ایک دفعہ میں نے دُرود شریف پڑھنا شروع کیا، جس کی وجہ سے کافی افاقہ ہوا۔ اس عالم میں آنکھ لگ گئی، خواب میں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک بہت

151

بڑا کمرہ ہے جس میں سبز رنگ کی روشنی ہے، اس کمرے کی سیڑھیوں پر والد محترم حضرت علامہ ابوالحسنات، جو اس وقت سکھر جیل میں تھے، کھڑے ہیں، مجھے دیکھ کر اُنہوں نے سینے سے لگالیا اور میں نے ان سے پوچھا: آپ کا کیا حال ہے؟ اُنہوں نے جواباً فرمایا کہ: مجھے بھی انہوں نے رات بھر کھڑا رکھا ہے۔ اس گفتگو کے بعد میں ان سیڑھیوں سے نیچے کمرے میں اُترا تو میں نے دیکھا کہ شمالی جانب ایک دروازہ ہے جو کہ کھلا ہوا ہے، میں اس کمرے میں دو زانو ہوکر بیٹھ گیا، اتنے میں ایک بزرگ سپید نورانی چہرہ، کشادہ پیشانی، درمیانہ قد، سفید داڑھی، کھلی آستینوں کا سبز کُرتا زیبِ تن کئے میری طرف تشریف لائے اور پیچھے سے آواز آئی: ’’سرکار شیخ عبدالقادر جیلانیؒ تشریف لارہے ہیں‘‘ میں نے دست بستہ حضرت سے عرض کی: ’’حضور! اِن کتوں نے بہت تنگ کر رکھا ہے‘‘ آپ نے میری داہنی طرف پشت پر تھپکی دی اور فرمایا: ’’شاباش بیٹا! گھبراؤ نہیں، سب ٹھیک ہوجائے گا‘‘ میں نے دوبارہ عرض کی: ’’حضور! انہوں نے بہت پریشان کر رکھا ہے‘‘ رُخِ انور پر مسلسل شگفتگی تھی، فرمایا: ’’کچھ نہیں! سب ٹھیک ہے‘‘ اور یہ کہہ کر آپ واپس تشریف لے گئے اور اس واقعے کے بعد میرا حوصلہ بہت زیادہ بلند ہوگیا۔‘‘

غیبی دعوت:

مولانا خلیل احمد قادری صاحب فرماتے ہیں کہ: ’’۱۹۵۳ء میں تحریکِ ختمِ نبوّت میں جیل میں مجھ پر بے شمار سختیاں کی گئیں، ایک دفعہ مغرب کے بعد میں اپنی بیرک میں بیٹھا ہوا تھا کہ معاً دِل میں یہ خیال آیا کہ یہاں خشک روٹی اور چنے کی دال کے سوا کچھ نہیں مل رہا، اگر اپنے گھر میں ہوتے تو حسبِ منشا کھانا کھاتے، لیکن دُوسرے ہی لمحے ضمیر نے ملامت کی اور صحابہ کرامؓ کی قربانیوں کا نقشہ آنکھوں کے سامنے آگیا، میں نے سربسجود ہوکر توبہ کی اور اس وسوسے کا ازالہ چاہا، لیکن خدا کی

152

قدرت دیکھئے کہ چند لمحے بعد اندھیرے میں ایک ہاتھ آگے بڑھا اور آواز آئی: ’’شاہ جی! یہ لے لو‘‘ اور پھر ایک لفافہ مجھے دے دیا گیا، جس میں کچھ پھل اور مٹھائی تھی، میں حیران رہ گیا کہ اتنے سخت پہروں کے باوجود یہ سب کچھ مجھ تک کیسے پہنچ گیا، لیکن میرے دِل کو یہ یقین ہوگیا کہ یہ غیبی دعوت ہے، وہ پھل اور مٹھائی تین روز تک میں استعمال کرتا رہا۔

ناموسِ رسالت پر ہزاروں فرزند قربان:

جناب مولانا خلیل احمد قادری صاحب مدظلہٗ بیان کرتے ہیں کہ: ’’۱۹۵۳ء کی تحریکِ ختمِ نبوّت میں جب میں جیل میں تھا، تو مجھے پھانسی کی سزا سنائی گئی اور بعد میں مجھے غیرمشروط طور پر رہا کردیا گیا، لیکن میرے بارے میں مشہور ہوگیا کہ مجھے پھانسی دے دی گئی ہے اور کراچی جیل میں میرے والد محترم حضرت علامہ ابوالحسنات شاہ قادری صاحب، جو اس وقت تحریک کی کمان فرما رہے تھے، کو یہ خبر دی اور سیّد عطاء اللہ شاہ بخاریؒ اور سیّد مظفر علی شمسی کا بیان ہے کہ چند روز تک ہم نے یہ خبر علامہ ابوالحسنات سے چھپائے رکھی اور پھر آخرکار ایک روز ہم نے انہیں بتادی کہ آپ کے صاحب زادے کو موت کی نیند سلا دیا گیا ہے، علامہ ابوالحسنات یہ سنتے ہی سجدے میں گرگئے اور اُنہوں نے فرمایا: میرے آقا! گنبدِ خضریٰ کے مکین صلی اللہ علیہ وسلم کو میرے اکلوتے بیٹے خلیل کی قربانی قبول ہے، تو میں بارگاہِ ربی میں سجدۂ شکر اَدا کرتا ہوں، ناموسِ رسالت پر ایک خلیل تو کیا میرے ہزاروں فرزند بھی ہوں تو اُسوۂ شبیری پر عمل کرتے ہوئے سب کو قربان کردوں۔‘‘

ناموسِ مصطفی کے لئے بیٹے کی قربانی کی آرزو:

مولانا خلیل احمد قادری صاحب مدظلہٗ بیان کرتے ہیں کہ: ’’ایک روز میں نے سکھر جیل کے پتے پر والد محترم حضرت ابوالحسنات شاہ قادریؒ کو اپنی خیریت کا خط لکھا

153

جس کا جواب مجھے پندرہ روز کے بعد موصول ہوگیا، والد صاحب نے اپنے خط میں لکھا تھا: مجھے یہ جان کر بے حد افسوس ہوا کہ تم رُتبۂ شہادت حاصل نہیں کرسکے، لیکن بہرحال یہ جان کر دِل کو اِطمینان ہوا کہ تم ناموسِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر لڑ رہے ہو۔ خط کے آخر میں لکھا تھا: کاش! اللہ تعالیٰ میرے بیٹے کی قربانی قبول کرلیتا۔‘‘

ہتھکڑی کو چوم لیا:

مولانا خلیل احمد قادری صاحب فرماتے ہیں کہ: ’’تحریکِ ختمِ نبوّت ۱۹۵۳ء میں میرے ہاتھوں کو ہتھکڑی لگی ہوئی تھی، جب مجھے حوالات میں بند کرنے کے لئے پولیس کی بارک کے سامنے سے گزارا گیا تو میں نے دیکھا کہ وہ سب مجھے حیرت سے دیکھ رہے تھے، میں نے اپنے دونوں ہاتھ اُوپر اُٹھائے اور پھر ہتھکڑی کو چوم کر آنکھوں سے لگالیا، میرے ساتھ چلنے والے سپاہیوں نے اس کی وجہ پوچھی تو میں نے انہیں کہا: خدا کا شکر ہے کہ میں نے یہ ہتھکڑیاں کسی اخلاقی جرم کی پاداش میں نہیں پہنیں اور مجھے فخر ہے کہ میں نے اللہ کے پیارے حبیب، شافعِ محشر صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس اور عظمت کے تحفظ کی خاطر یہ زیور پہنا ہے۔ یہ سن کر وہ سپاہی خاصے متأثر ہوئے اور اُنہوں نے کہا: ’’دِل تو ہمارے آپ کے ساتھ ہیں، لیکن ہم کر کچھ نہیں سکتے، ملازمت کا معاملہ ہے۔‘‘ میں نے اُن سے کہا: یزیدی فوج بھی یہی کہتی تھی، اگر تم مجھے حق پر سمجھتے ہو تو اُسوۂ حُرؓ پر عمل کرو۔ یہ سن کر وہ شرمندہ ہوگئے۔‘‘

مولانا خلیل احمد قادری صاحب روایت کرتے ہیں کہ: ’’میں تحریکِ ختمِ نبوّت ۱۹۵۳ء کے سلسلے میں حضرت مولانا مفتی محمد حسنؒ (نیلا گنبد) کے پاس گیا اور اُن سے تحریک میں باقاعدہ شمولیت کے لئے درخواست کی، تو اُنہوں نے میرے ہاتھوں کو پکڑ کر چوما اور پھر کہنے لگے کہ: میں ٹانگوں سے معذور ہوں، مگر آپ مجھے جب چاہیں گرفتار کروادیں، اگر آپ ابھی چاہیں تو میں اسی وقت آپ کے ساتھ چلنے کو تیار ہوں۔‘‘

154

حضرت مولانا شاہ صوفی سلیمانؒ:

گجرات، ہندوستان کے معروف صوفی مولانا شاہ صوفی سلیمانؒ نے ایک مرتبہ مرزا قادیانی سے ملاقات کی ہے، آپؒ فرماتے تھے کہ: ’’جب میں قادیان گیا تو بارش کا زمانہ تھا اور مرزا قادیانی مکان کی تیسری منزل پر رہا کرتے تھے اور لوگ نماز کے لئے اُوپر جایا کرتے تھے، وہاں ان کے حواری حکیم نورالدین بھی موجود تھے، ان کا دستور تھا کہ نماز کے بعد اپنے اِلہامات بیان کرتے تھے، حکیم نورالدین نے مرزا سے میری نسبت کہا کہ: ’’یہ ایک نقشبندی درویش ہیں۔‘‘ چونکہ میرے پاس صرف ایک کملی تھی اور ظاہری شان و شوکت کچھ نہیں تھی، اس لئے اوّلاً تو میری طرف مرزا متوجہ نہ ہوا اور لوگوں کی طرف مخاطب ہوکر کہنے لگا کہ: ’’انبالہ والے میری نسبت کیا اعتقاد رکھتے ہیں؟‘‘ تو سب نے دست بستہ کہا کہ: ’’حضور! آپ کو برحق سمجھتے ہیں۔‘‘ میں نے دِل میں کہا کہ بھاری کام ہے۔

ان میں سے ایک شخص نے کہا کہ: ’’حضور! میں نے آپ کی اور توکل شاہ صاحب کی نسبت اِستخارہ دیکھا تو آپ کو مقبول پایا اور ان کو مردود‘‘ بس یہ سننے سے میرے بدن میں آگ لگ گئی، اس لئے کہ توکل شاہ صاحب پنجاب میں ایک نہایت قابلِ قدر بزرگ ہیں، میں ان سے ملا ہوں اور وہ مجھ سے بہت محبت رکھتے تھے۔

پس فوراً میں نے کہا کہ: تم نے کس طرح اِستخارہ کیا؟ اُس نے کہا کہ: ’’ایک کتاب کو کھول کر دیکھا‘‘ میں نے کہا: کیا اسے اِستخارہ کہتے ہیں؟ تو مرزا صاحب فرمانے لگے کہ: ’’سائیں! یہ جاہل لوگ ہیں، فال کو اِستخارہ کہتے ہیں۔‘‘ اسی وقت ایک شخص نے کھڑے ہوکر کہا کہ: ’’مجلس برخاست!‘‘ سب اُٹھ کر نیچے چلے گئے۔

میں نے حکیم نورالدین سے کہا کہ: مجھ کو مرزا صاحب سے تنہائی میں ملنا ہے۔ تو وہ کہنے لگے کہ: ’’آپ تنہائی میں کسی سے نہیں مل سکتے!‘‘ خیر دُوسرے وقت

155

بعد نماز کے کہنے لگے کہ: ’’بخاری لاؤ، معالم التنزیل لاؤ! لوگوں نے خدائے تعالیٰ کو بخیل بنا ڈالا، خدائے تعالیٰ سخی ہے، جوّاد ہے، انسانی اِستعداد میں کوئی رُتبہ ایسا نہیں جو اِنسان پیدا نہیں کرسکتا۔‘‘ میرے دِل میں آیا کہ یہ شاید ختمِ نبوّت کے قائل نہیں ہیں۔

میں نے کہا کہ: اگر اِجازت ہو تو عرض کروں؟ اُنہوں نے کہا: ’’کہو!‘‘ میں نے کہا کہ: آپ جانتے ہیں کہ زمانے کے فقیر جاہل ہوتے ہیں، میں بھی نہ عالم ہوں اور نہ مباحث، صرف اپنی تسلی و تشفی کے لئے عرض کرتا ہوں کہ میں نے سنا ہے کہ مراتبِ انسانی میں پہلا رُتبہ مثلاً: مؤمن ہے، پھر ذاکر ہے، پھر عابد، پھر زاہد، پھر اَبدال، پھر اَقطاب، پھر غوث، پھر فرد الافراد، پھر نبی، پھر رسول، پھر اُولو العزم، تو کیا انسان اپنی استعداد و کوشش سے نبوّت بھی حاصل کرسکتا ہے؟ تو انہوں نے سربہ زانو ہوکر بہت دیر تک مراقبہ کیا، پھر سر اُٹھاکر کہنے لگے کہ: ’’میرا کلام ولایت کے مقام میں ہے، نبوّت تو ختم ہوچکی ہے!‘‘ میں نے کہا: الحمدللہ! میرا سوئِ ظن جاتا رہا اور معلوم ہوگیا کہ آپ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبییّن مانتے ہیں۔ بس ایک شخص نے کہا کہ: ’’مجلس برخاست!‘‘ وہ اُٹھ کر اندر حجرے میں چلے گئے اور سب لوگ نیچے اُتر آئے۔ پھر دُوسرے وقت بھی اسی طرح ایک شخص نے کہا کہ: ’’مجلس برخاست کہ حضور کی طبیعت مکدّر ہوتی ہے!‘‘ سب اُٹھ کر چلتے ہوئے، مگر میں بیٹھا رہا، مجھ کو لوگوں نے کہا کہ ’’اُٹھو!‘‘ میں نے کہا کہ: نہیں اُٹھتا! تب اُنہوں نے یعنی مرزا صاحب نے کہا کہ: ’’بیٹھنے دو!‘‘ تھوڑی دیر کے بعد وہ میری جانب متوجہ ہوئے، تب میں نے کہا:

سوال:۔۔۔ میں لوگوں کو آپ کی کیا خبر دُوں؟

جواب:۔۔۔ کہ عیسیٰ بیٹے مریم کے مرگئے۔

سوال:۔۔۔ تو کیا آپ ان کے اوتار ہیں؟ کیا تناسخ باطل نہیں ہے؟

جواب:۔۔۔ یہ مطلب نہیں، بلکہ خدائے تعالیٰ ان کا کام میرے ہاتھ سے لے گا۔

سوال:۔۔۔ وہ دجال کو قتل کریں گے، آپ نے کون سے دجال کو مارا؟

156

جواب:۔۔۔ یہ نصاریٰ جن کی ایک آنکھ حق کی پھوٹی ہوئی ہے، یہ گویا دجال ہیں، ان کو رَدّ کرنا گویا قتل کرنا ہے۔

سوال:۔۔۔ آپ کو کیسے معلوم ہوا کہ عیسیٰ علیہ السلام وفات فرماگئے؟

جواب:۔۔۔ قرآن مجید میں ہے: ’’فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ‘‘۔

سوال:۔۔۔ پھر ’’وَمَا قَتَلُوْہُ وَمَا صَلَبُوْہُ‘‘ کے کیا معنی ہوں گے؟

بس ساکت ہوکر بہت دیر تک سر بجیب مراقبہ کرکے فرمایا:

جواب:۔۔۔ یا أحمد انی مبشرُّک!

سوال:۔۔۔ وحی اور اِلہام میں کیا فرق ہے؟

جواب:۔۔۔ کچھ فرق نہیں۔

سوال:۔۔۔ میں نے سنا ہے کہ وحی میں فرشتہ رُوبرو ہوتا ہے اور اِلہام میں صرف پسِ پردہ ایک آواز ہوتی ہے، اِس لئے وحی میں خطا نہیں ہوتی اور اِلہام میں خطا ممکن ہے۔

جواب:۔۔۔ سنی ہوئی بات کا اعتبار کیا ہے؟

سوال:۔۔۔ کیا اِلہام رحمانی اور شیطانی بھی ہوتا ہے؟

جواب:۔۔۔ ہاں ہوتا ہے!

سوال:۔۔۔ پھر تو اِلہام میں غلطی ہوسکتی ہے؟

جواب:۔۔۔ مگر اہل اللہ کے پاس ایک مقیاس ہوتا ہے، جس سے وہ خطا اور صواب پہچان لیتے ہیں۔

سوال:۔۔۔ مقیاس کے کیا معنی؟

جواب:۔۔۔ ترازو اور کانٹا!

سوال:۔۔۔ ترازو اور کانٹا خراب ہوگیا ہو تو پھر خطا اور صواب کو کیسے تمیز کریں گے؟

بس ساکت ہوکر سر بجیب مراقب ہوگئے، پھر سر اُٹھاکر کہا:

157

جواب:۔۔۔ اہل اللہ اسے پہچان لیتے ہیں۔

سوال:۔۔۔ شیخ محی الدین ابن عربیؒ کا کشف کیسا ہے؟

جواب:۔۔۔ صحیح ہے۔

سوال:۔۔۔ وہ اپنے اِلہام میں فرماتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور خضر علیہ السلام زندہ ہیں۔

پھر بجیب مراقب ہوکر بہت دیر کے بعد سر اُٹھاکر کہا:

جواب:۔۔۔ قرآن کے سامنے سب کا اِلہام باطل ہے،’’فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ‘‘۔

سوال:۔۔۔ اس کے معنی موت کے کیسے ثابت ہوئے جبکہ معارض آیت میں موجود ہے۔

جواب:۔۔۔ بخاریؒ نے تو حضرت ابنِ عباسؓ تفسیر کرتے ہیں کہ’’ای تَمَیْتَنِی‘‘ ۔

سوال:۔۔۔ بخاریؒ نے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان سے شام میں نزول ہونے کا ایک باب باندھا ہے، وہاں پر آپ کے قادیان کا تو ذکر نہیں ہے۔

بس ساکت ہوگئے اور غصّے سے پسینہ پسینہ ہوگئے، نہایت غصّے سے کہنے لگے کہ: ’’عیسیٰ بیٹے مریم کے مرچکے!‘‘

پس مجھ کو بھی جوش آگیا اور میں نے کہا:

اچھا! اس پر فیصلہ ہے کہ تم اور ہم دونوں یہاں بیٹھ جائیں اور یا تو تم ہم کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس لے چلو یا میں آپ کو ان کے پاس لے چلتا ہوں، آپ بذاتِ خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے دریافت کرلیں کہ آپ حیات ہیں یا وفات پاچکے ہیں؟

بس وہ ٹھنڈے ہوگئے، پھر میں نے کہا کہ: آپ کو خاتمے کا ڈر ہے یا نہیں؟

اُنہوں نے کہا کہ: ’’خاتمے کا تو سب کو ڈر ہے!‘‘

158

میں نے کہا کہ: ’’بس دُعا کیجئے کہ خدائے تعالیٰ ہمارا خاتمہ ایمان پر کرے، آمین ثم آمین!‘‘

(باغِ عارف)

قبلۂ عالم حضرت میاں شیر محمد شرق پوریؒ:

پیر کرم شاہ صاحب سکنہ بھوپن کلاں نزد حافظ آباد، اعلیٰ حضرت میاں صاحب شرق پوریؒ کے مریدینِ باصفا میں سے تھے۔ اُنہوں نے مؤلف سے بیان کیا کہ: ’’ایک زمین دار مردان علی نامی صاحبِ ثروَت تھا، مگر تھا بڑا آزاد خیال، نیچری قسم کے اعتقادات رکھتا تھا، مرزائیت کی طرف مائل تھا اور وقتاً فوقتاً قادیان بھی جایا کرتا تھا، ایک بار کسی شخص کے ساتھ اعلیٰ حضرت میاں شیر محمد صاحبؒ کی خدمت میں ایک مسئلہ لے کر حاضر ہوا، اس کی نیت یہ تھی کہ اگر اعلیٰ حضرت شرق پوریؒ سے بھی یہ عقدہ حل نہ ہوا تو قادیان جاکر مرزا غلام احمد کی بیعت کرلوں گا۔ پیر کرم شاہ کا بیان ہے کہ وہ میاں صاحبؒ کی صرف ایک ہی نگاہ سے اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھا اور اپنی زبان سے کہنے لگا: ’’مرزا جھوٹا! مرزا جھوٹا! مرزا جھوٹا!‘‘ اس اقرار کے بعد جب وہ ہوش میں آیا تو فوراً اپنے خیالاتِ فاسدہ سے تائب ہوا، اللہ اکبر!‘‘

(خزینۂ کرم ص:۵۲۱، تألیف: نور احمد مقبول بی اے)

قبر میں مرزا قادیانی باؤلا کتا:

حضرت مولانا میاں شیر محمد صاحب شرق پوریؒ نے ایک دفعہ مراقبہ کیا اور دیکھا کہ مرزا قادیانی کی شکل قبر میں باؤلے کتے کی ہے اور باؤلے پن کا اس پر دورہ پڑا ہوا ہے، اس کا منہ دُم کی طرف ہے، بھونک رہا ہے اور گول چکر کاٹ رہا ہے، منہ سے پانی نکل رہا ہے اور بار بار اپنی دُم اور ٹانگوں کو کاٹتا ہے۔ اس کشف کا فقیر نے ایک بزرگ کے سامنے ذکر کیا، فوراً تڑپ اُٹھے، فرمایا: ’’خدا گواہ ہے واقعتا یہ بات صحیح معلوم ہوتی ہے، واقعتا مرزا کی حقیقت ایسی ہی ہونی چاہئے!‘‘

159

مولانا سیّد شمس الدین شہیدؒ:

مرزائیوں نے فورٹ سنڈیمن میں محرَّف قرآن مجید تقسیم کیا، جس کے خلاف احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مولاناؒ نے فرمایا:

’’آج آپ دیکھتے ہیں کہ آپ کے قرآن کے ساتھ کھیلا جارہا ہے اور ختمِ نبوّت کو پارہ پارہ کرچکے ہیں اور اس کا مذاق اُڑایا جارہا ہے۔ تو میرے ساتھیو! اگر ہمارا یہی حشر رہا تو لامحالہ ہم یہی کہیں گے کہ اگر ہم قیامت کے روز محمدِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جائیں گے تو لامحالہ وہ یہی کہیں گے کہ: ’’میری ناموس لٹ رہی تھی اور قرآن پر ظلم ہو رہا تھا، ذرا یہ تو بتاؤ آپ حضرات کہاں تھے۔۔۔؟‘‘

بہرحال حضرات! میں نے تو یہ مصمم ارادہ کیا ہے کہ جب تک میرے جسم میں جان ہے اور میری رگوں میں ایک بھی خون کا قطرہ ہے اور جبکہ میں نے اپنے ہاتھ سے اور بیوقوفی کرکے اپنے نام کے ساتھ سیّد لکھا ہوا ہے تو میں اپنے نانا (صلی اللہ علیہ وسلم) کی ناموس پر اس بھٹو حکومت میں ایسا مرمٹوں گا کہ وہ بھی حیران ہوگا اور ان کے کان میں یہ آواز پہنچنی چاہئے کہ بھٹو صاحب! یہاں مرزائیت کا راج نہیں چل سکتا اور یہ میں پھر واضح الفاظ میں کہہ دینا چاہتا ہوں کہ وہاں بلوچستان میں ہم نے ختمِ نبوّت کی جو تحریک چلائی تھی اور ہم نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ناموس کی حفاظت کی جو تحریک چلائی، آج میں پھر حکومت سے کہتا ہوں کہ اس ماہ کی ۲۵؍تاریخ کو میں نے پھر ایکشن کمیٹی کی میٹنگ بلائی ہے اور آج پھر جب میں یہاں سے جاؤں گا تو وہ تحریک اسی طرح چلے گی جس طرح ہم نے چلائی تھی اور جب تک بلوچستان میں مرزائیت کا نام و نشان ہم نہیں مٹائیں گے تو وہاں ہمارا آرام سے بیٹھنا حرام ہے۔‘‘

خواب میں مولانا شہیدؒ کی زیارت:

مولانا سیّد شمس الدینؒ کے عم زاد بھائی مولانا سیّد احمد شاہ خطیب ملٹری مسجد

160

فورٹ سنڈیمن فرماتے ہیں: ’’۲۷؍اپریل ۱۹۷۴ء کو دوپہر ایک بجے خواب میں مجھے مولانا سیّد شمس الدین شہیدؒ کی زیارت نصیب ہوئی، میں نے ان سے عرض کیا کہ: آپ کی شہادت کے بعد لوگوں نے بہت اَشعار آپ کی یاد میں کہے ہیں۔ مولانا شہیدؒ نے کہا: ’’میں نے بھی اَشعار کہے ہیں!‘‘ میں نے عرض کیا کہ: مجھے سنادیں تاکہ میں لکھ لوں۔ مولانا شہیدؒ نے اپنا قلم مجھے دیا اور اَشعار سنانے شروع کئے اور ابھی تین شعر پڑھے تھے کہ میں رونے لگا اور میری آنکھ کھل گئی۔

ان اَشعار کا اُردو میں مفہوم یہ ہے کہ:

’’دُنیا میں، میں نے ایمان کو تبدیل نہیں کیا اور ارمانوں کے ساتھ چل بسا، میرے والدین اور اَعزّہ و اقرباء افسوس نہ کریں، میں ختمِ نبوّت پر قربان ہوا ہوں اور حضرت درخواستی مدظلہٗ اور حضرت مولانا مفتی محمود صاحب اور دیگر قائدینِ جمعیۃ افسوس نہ کریں، کیونکہ ظالم، مجھے جمعیۃ علمائے اسلام کے منشور سے ہٹا نہیں سکا۔‘‘

بھٹو حکومت میں گرفتاری کی رُوئیداد:

بھٹو حکومت نے مولانا کو گرفتار کیا، رہائی کے بعد مولانا شمس الدینؒ نے اپنی گرفتاری کی کیفیت ان الفاظ میں بیان کی:

’’وہ مجھے ۴۵ میل دُور افغانستان کی سرحد کی طرف والے روڈ میں لے گئے، کیونکہ باقی تمام راستے ہمارے جوانوں نے بند رکھے تھے، وہاں ایک فوجی کیمپ میں مجھے ان کے حوالے کیا اور وہاں سے وہ لوگ آگے ۲۵ میل لے کر پہنچے، اس سڑک

161

پر ہمارے جوان نہیں تھے، کیونکہ یہ راستہ افغانستان کو جاتا ہے، لیکن ۲۵ میل دُور ایک گاؤں میں پہنچے اور لوگوں کو معلوم ہوا تو اُنہوں نے گھیرا ڈال لیا، ان کے دو نمائندے آئے اور کہا کہ: ’’تم مولوی شمس الدین کو یہاں سے نہیں لے جاسکتے، اس لئے کہ اگر تم یہاں سے لے گئے تو یہ ہماری بے غیرتی ہوگی، یا تو تم مولوی صاحب کو واپس لے جاؤ یا پھر ہم مریں گے یا تم مروگے۔‘‘ بہرحال مجھے وہاں سے پھر فوجی چوکی میں واپس لائے اور وہاں سے مجھے بذریعہ ہیلی کاپٹر میوند لے جایا گیا، میوند میں ایک فوجی کیمپ تھا، وہاں مجھے ان سے دُور ایک خیمہ لگاکر رکھا گیا اور چھ سے دس تک فوجی مجھ پر پہرہ دار مقرّر کئے گئے۔ میوند ایک پہاڑی اور خراب علاقہ ہے اور ایسا پانی ہے جس کے پیتے ہی پیچش شروع ہوجاتے ہیں، بہرحال مجھے یہ کہا جاتا رہا کہ تمہیں اس وقت تک رہا نہیں کیا جائے گا جب تک تم حکومتِ وقت کی اِمداد نہ کرو اور اتنے روپے مجھے دینے پر تیار ہوئے کہ میرے پورے قبیلے کی زندگی کے لئے کافی تھے اور مجھے گورنر نے فوجیوں کے ذریعے یہاں تک کہا کہ: ’’آپ کو ہم وزارتِ اعلیٰ دینے کے لئے تیار ہیں۔‘‘ میں نے کہا: میں پاکستان کی تاریخ میں اس داغ کا اضافہ نہیں کرنا چاہتا کہ ایک مجرم کو رہا کرکے وزیرِ اعلیٰ بنادیا جائے۔ پھر ہائی کورٹ کے نوٹس کی بنا پر مجھے ۱۸؍اگست کو رہا کرکے کوئٹہ لاکر چھوڑ دیا۔‘‘

(بحوالہ ’’ترجمان اسلام‘‘ ۳۱؍اگست ۱۹۷۳ء)

162

رہائی کے لئے گورنر بگٹی کا پیغام:

مولانا سیّد شمس الدینؒ کی گرفتاری کے دوران گورنر بگٹی نے اپنے ایلچی مولوی صالح محمد کے ذریعے مولانا شہیدؒ کے والدِ محترم مولانا محمد زاہد صاحب مدظلہٗ کو پیغام بھیجا کہ: ’’آپ مجھے کوئٹہ آکر ملیں تاکہ آپ کے بیٹے کی رہائی کے بارے میں کچھ شرائط طے کی جاسکیں۔‘‘ مگر مولانا محمد زاہد صاحب مدظلہٗ نے جواب دیا کہ: ’’میں کسی قیمت پر گورنر سے ملاقات نہیں کروں گا۔‘‘

دراصل گورنر بگٹی کی خواہش یہ تھی کہ مولانا شمس الدینؒ کو اس بات کا پابند کردیا جائے کہ وہ رہائی کے بعد تحریکِ ختمِ نبوّت کی قیادت نہ کریں، لیکن مولانا محمد زاہد مدظلہٗ نے اس دام میں آنے سے انکار کردیا اور فرمایا کہ: ’’یہ عقیدے کا مسئلہ ہے اور ایسے دس شمس الدین عقیدۂ ختمِ نبوّت پر قربان کئے جاسکتے ہیں۔‘‘

خونِ مقدس سے خوشبو:

آپ کو ایک سازش سے شہید کیا گیا، مولانا سیّد اِمام شاہ اور خان محمد زمان خان نے بتایا کہ مولانا شہیدؒ کے خونِ مقدس سے ایسی خوشبو آرہی تھی کہ اس جیسی خوشبو کسی چیز میں نہیں دیکھی کہ بعض افراد نے جن کے ہاتھوں کو خون لگ گیا تھا، سارا دن خون نہیں دھویا، یہ خوشبو لوگوں نے عام طور پر محسوس کی۔

قبر پر سفید رنگ کے پھولوں کی بارش:

متعدّد حضرات نے راقم الحروف کو بتایا کہ جب قائدینِ جمعیۃ مولانا شہیدؒ کی قبر پر دُعا میں مصروف تھے، اس وقت جلوس پر اُوپر سے سفید رنگ کے پھول برس رہے تھے، جو کئی لوگوں نے اُٹھائے، بعض لوگوں کو خیال ہوا کہ شاید ہوا کے ساتھ قریبی باغ سے بادام کے درختوں کے پھول اُڑکر آرہے ہیں، لیکن جب ان پھولوں سے موازنہ کیا تو یہ پھول باداموں کے پھولوں سے قطعی مختلف تھے، لوگوں نے بجا طور

163

پر اسے شہیدؒ کی کرامت سمجھا، قبر پر دُعا سے فارغ ہوکر قائدینِ جمعیۃ فورٹ سنڈیمن کوئٹہ واپس آگئے۔

مولانا محمد شریف صاحب جالندھریؒ:

مولانا محمد شریف صاحب جالندھریؒ ایک متبحر عالم، زیرک اور فہیم انسان تھے، قدرت نے ان کے وجود کو خوبیوں کا مجموعہ بنایا تھا، آپؒ نے دارالعلوم دیوبند سے شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی رحمہ اللہ سے سندِ حدیث حاصل کی تھی۔

تعلیم سے فراغت کے بعد مجلس احرارِ اسلام کے پلیٹ فارم سے تحریکِ آزادی کے لئے گراںقدر خدمات انجام دیں، تقسیم کے وقت کے نازک حالات میں اپنے علاقے کے مسلمانوں کی ایسی شاندار خدمات کا ریکارڈ قائم کیا، جس سے عام و خاص متأثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے، مشکل حالات میں مجبور و مظلوم مسلمانوں کے لئے آپ فرشتۂ غیب ثابت ہوئے۔ تقسیم کے بعد کبیروالا کے علاقہ ۶کسّی میں آباد ہوگئے۔

خوش نصیبی:

اس لحاظ سے آپؒ بڑے خوش نصیب تھے کہ عالمی مجلس تحفظِ ختمِ نبوّت کی جس وقت بنیاد رکھی گئی، اس کی کارروائی بھی آپؒ نے لکھی اور سالہا سال کی جانفشانی کے بعد جب مرزائیوں کو غیرمسلم اقلیت قرار دیا گیا، اس وقت خیرمقدمی قرارداد بھی مرکزی مجلسِ عمل کی طرف سے آپؒ نے تحریر فرمائی، غرضیکہ جس کام کو اپنے ہاتھوں سے شروع کیا تھا، قدرت کے فضل و احسان سے اپنے ہاتھوں اسے مکمل کرنے کی سعادت حاصل کی۔

عالمی مجلس تحفظ ختمِ نبوّت کے لئے مثالی خدمات:

عمر بھر آپؒ نے عالمی مجلس تحفظِ ختمِ نبوّت کی تنظیم کو منظم کرنے کے لئے گراںقدر خدمات انجام دیں، حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ، حضرت مولانا عطاء اللہ

164

شاہ بخاریؒ، مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی، چوہدری افضل حق، نواب زادہ نصراللہ خان، مولانا مفتی محمودؒ، مولانا غلام غوث ہزارویؒ، آغاشورش کاشمیریؒ، مولانا ابوالحسنات، سیّد مظفر علی شمسی، مولانا تاج محمودؒ، مولانا مظہر علی اظہرؒ، خان عبدالغفار خان سرحدی سے آپؒ کے مثالی تعلقات تھے، مذہبی و سیاسی راہ نما آپؒ کا دِل کی گہرائیوں سے احترام کرتے تھے، آپؒ کی شبانہ روز محنت و اِخلاص کے قدردان تھے۔ مولانا محمد علی جالندھریؒ کا وجود عالمی مجلس کے لئے قدرتِ خداوندی کا عطیہ تھا، مولانا محمد شریف جالندھریؒ آپؒ کے دست و بازو تھے، بڑا مشکل سے مشکل کام جو مولانا محمد شریف جالندھری کے ذمے لگایا جاتا، بڑی خوش اُسلوبی سے اسے پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے لئے اپنی جان کو کھپا دینے کی حد تک محنت کرتے اور کامیاب لوٹتے۔

ثبوت حاضر ہے!

ایک دفعہ کسی کیس کے سلسلے میں ایڈیشنل آئی جی پنجاب نے مولانا سے کہا کہ: ’’آپ نے ساہیوال کے جس مکان کے تہہ خانے کا ذکر کیا ہے، اُس کا تو سرے سے تہہ خانہ ہی نہیں ہے۔‘‘ کوئی اور ہوتا تو معذرت کرلیتا، مولانا خاموش ہوگئے، اجازت چاہی، سیدھے ساہیوال گئے، متعلقہ مکان کے تہہ خانے کا کسی ذریعے سے فوٹو لیا، کمیٹی کے دفتر گئے، متعلقہ مکان کا منظور شدہ نقشہ نکلوایا، دُوسرے دن صبح جاکر ایڈیشنل آئی جی کی میز پر نقشہ اور فوٹو رکھ دیا۔ ایڈیشنل آئی جی سٹ پٹایا، اس کے بعد زندگی بھر وہ نہ صرف مولانا کا احترام کرتا تھا بلکہ ہر خاص و عام مجلس میں کہا کرتا تھا کہ: ’’اللہ کا فضل ہے کہ جدید تقاضوں کے مطابق کام کرنے کا علماء میں ہم سے بہتر سلیقہ موجود ہے۔‘‘

تحریک کے الاؤ کو خونِ جگر سے روشن رکھا:

۱۹۵۳ء کی تحریکِ ختمِ نبوّت میں تمام راہ نماؤں کے گرفتار ہونے کے بعد

165

آپؒ نے تحریک کے الاؤ کو جان و دِل و خونِ جگر سے روشن رکھا، پولیس نے آپؒ کو دفتر سے گرفتار کیا، سنٹرل جیل ملتان میں بڑی بہادری و جرأت کے ساتھ وقت گزارا۔ مولانا عبدالرحیم اشعر کی روایت کے مطابق مولانا محمد شریف جالندھریؒ کے پہلو میں قدرت نے بڑے بہادر انسان کا دِل رکھا تھا، واقعہ یہ ہے کہ آپؒ بہت بڑے عظیم انسان تھے۔

چھوٹے سے لے کر بڑے تک ہر ایک کی بات کو سنتے، دِل کی گہرائیوں میں جگہ دیتے، اس پر جو مولاناؒ ارشاد فرمادیتے تھے، وہ حرفِ آخر ہوتا تھا۔ قدرت نے آپؒ کے وجود کو ایک ایسی مٹی سے ترتیب دیا تھا جس کے ثمرات سے ساری زندگی اپنوں اور پرایوں نے فائدہ حاصل کیا۔

اُجلی سیرت، مثالی کردار:

مولاناؒ کی محنت و مشقت مثالی تھی، ۱۹۷۴ء کی تحریکِ ختمِ نبوّت میں آپؒ آغاشورش کاشمیریؒ کی تجویز پر آل پارٹیز مرکزی مجلسِ عمل تحفظِ ختمِ نبوّت کے سیکریٹری مقرّر ہوئے، آپؒ اس وقت عالمی مجلس تحفظِ ختمِ نبوّت کے سیکریٹری جنرل تھے، اس تحریک کے تمام تر اِخراجات عالمی مجلس نے اپنے بیت المال سے ادا کئے، تحریک کے تمام تر پروگرام کو ترتیب دینے میں آپؒ کے ذہن رسا کو بنیادی پتھر کی حیثیت حاصل تھی۔ آپؒ نے لاہور میں تمام تحریک کے راہ نماؤں کو مغرب کے وقت ان کے گھروں پر مل کر ہوائی جہاز کے ٹکٹ دئیے اور علی الصبح راولپنڈی کی میٹنگ میں شریک ہونے کی تاکید کی۔ مظفر علی شمسی، مولانا محمود احمد رضوی، مولانا احسان الٰہی ظہیرؒ اور دُوسرے راہ نما جب صبح پنڈی ایئرپورٹ پر اُترے تو ان کی حیرت کی انتہا نہ رہی کہ مولانا محمد شریف ان حضرات کے لئے ٹیکسی لئے ایئرپورٹ پر کھڑے ہیں، پوچھنے پر معلوم ہوا کہ خود رات کو بس سے سفر کرکے پنڈی آگئے تھے۔ خدا گواہ ہے کہ ایسے اُجلی سیرت لوگوں کی

166

محنتوں کے باعث تحریکِ ختمِ نبوّت کامیابی سے ہمکنار ہوئی۔

تحریر و تقریر کے بادشاہ:

آپؒ بیک وقت اسٹیج، گفتگو، تحریر و تقریر کے بادشاہ تھے، گفتگو میں بڑے سے بڑے آدمی کو آپ کے موقف کا اقرار کرنا پڑتا، بھٹو دور میں جب خان عبدالقیوم خان وزیرِ داخلہ تھے، آپؒ ان سے ملے، وہ بڑا گھاگھ قسم کا پینترا بدلنے والا انسان تھا، آپؒ نے مرزائیت کے عنوان پر بات کی، اُس نے کوئی سخت موقف اختیار کیا، آپؒ نے فرمایا: ’’بہت اچھا! مجھے اجازت ہے کہ آپ کے اس موقف کو اَخبارات میں چھپنے کے لئے بھجوادوں؟‘‘ اس کا پِتّا پانی ہوگیا، فوراً گرمی، نرمی میں بدل گئی اور آپؒ کے موقف کی حمایت کا وعدہ کیا۔ ایسے سینکڑوں واقعات ہوں گے کہ آپؒ جس بات پر اَڑ جاتے تھے اُسے منواکر دَم لیتے تھے۔

گھنٹوں کی بات منٹوں میں:

۱۹۸۴ء کی تحریکِ ختمِ نبوّت میں وفاقی وزیرِ اطلاعات جناب راجہ ظفرالحق صاحب تھے، وہ بھی تحریک کے بہادر راہ نما ہیں، مولانا محمد شریفؒ سے آپ کے مثالی تعلقات تھے۔ ۲۴؍اپریل کو آپ کو راجہ صاحب نے جنرل ضیاء الحق صدرِ مملکت و چیف مارشل لاء سے ملنے کی دعوت دی، آپؒ کے لئے بڑا مشکل مسئلہ تھا، انکار کرتے تو راجہ صاحب ایسا شخص جنرل صاحبؒ سے وعدہ کرچکا تھا کہ آپ کو تحریک کے بنیادی راہ نما سے ملواؤں گا اور اگر ملتے تو تحریک کے دُوسرے راہ نما بددِل ہوتے کہ ہمارے مشورے کے بغیر ایسے کیوں ہوا؟ اسی مشکل وقت میں آپ نے اپنے اور ہمارے مخدوم آل پارٹیز مرکزی مجلسِ عمل تحفظِ ختمِ نبوّت کے امیر مرکزیہ مولانا خواجہ خان محمد صاحب مدظلہ العالی سے فون کے ذریعے اجازت لی۔ جنرل صاحب سے ملاقات ہوئی، جنرل صاحب نے فرمایا: ’’مولانا! آپ مجھے مروادیں گے، مرزائی منظم گروہ

167

ہے، میرے مخالف ہوگیا تو کیا ہوگا؟‘‘ مولاناؒ نے فرمایا: ’’جنرل صاحب! ایک آپ ہیں جن سے ہم محمدِ عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے دُشمنوں کے بارے میں صرف اور صرف قانون سازی کا مطالبہ کرتے ہیں، ایک آپ کے ہمسایہ ملک کے ایک مولوی خمینی صاحب ہیں، آپ جرنیل ہیں، وہ مولوی ہے، اُس نے دِین کی خاطر اپنے دُشمنوں کو ہزاروں کی تعداد میں مروادیا ہے، اس کا اگر کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکا تو آپ کو محض قانون پر دستخط کرنے سے کچھ نہیں ہوگا!‘‘ جنرل صاحب نے مولاناؒ کی طرف دیکھا، سر جھکایا، لمبی سانس لی، آنکھیں ڈبڈبائیں، مولاناؒ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ’’مولانا! شاید دُوسرے لوگوں کے گھنٹوں کے وعظ و دلائل مجھے اتنی تسلی نہ دیتے، جتنی آپ کے ایک جملے نے تسلی دی ہے، تشریف لے جائیں، اللہ خیر کرے گا!‘‘ گھنٹوں کی بات منٹوں میں آپ طے کرکے تشریف لائے، راتوں رات سفر کرکے خانقاہ سراجیہ گئے، حضرت الامیر سے پوری صورتِ حال عرض کی کہ جنرل صاحب مطالبات ماننے پر تیار ہوگئے ہیں۔ دُوسرے روز اسلام آباد میں ۲۶؍اپریل کو میٹنگ تھی، ۲۶؍اپریل کی شام کو آپ تمام علماء کو لے کر جنرل محمد ضیاء الحق صاحبؒ سے ملے اور ’’اِمتناعِ قادیانیت آرڈی نینس‘‘ منظور کرواکر تشریف لائے۔

اس کے خلاف قادیانیوں نے وفاقی شرعی عدالت میں کیس دائر کردیا، آپؒ نے مرکزی دفتر کے تمام علماء و مناظرین کی کھیپ اور کتابوں کے اسٹاک کو لاہور میں جمع کرنے کا انتظام کیا، شب و روز کارروائی کی نگرانی کی اور یوں اس مرحلے میں بھی قدرت نے آپؒ کو کامیاب کیا۔

مولانا محمد شریف مرحوم بلاشبہ ایسے خاموش طبع مگر عقابی نظر رکھنے والے انسان تھے ، ناواقف شخص سمجھ بھی نہیں سکتا تھا کہ ایسا درویش منش شخص اتنا بڑا عبقریٔ عصر ہے، ہمیشہ چھوٹوں کو آگے بڑھانے کی کوشش کرتے۔

آپؒ بہت ہی محتاط انسان تھے، کسی کی غیبت کرنا یا سننا ان کے مزاج کے

168

منافی تھا، جس کے متعلق کوئی بات سنی فوراً اصلاح کے لئے کوشش کرتے۔

ختمِ نبوّت کانفرنس کے لئے اجازت:

اتنے ہنس مکھ تھے کہ بڑے سے بڑے مشکل وقت میں اپنی ظرافتِ طبع سے مجلس کو کشتِ زعفران بنادیتے تھے، ان کی بذلہ سنجی کی سینکڑوں مثالیں ہیں، مرزائیوں کے سالانہ جلسے پر پابندی لگی اور ساتھ ہی وزن پورا کرنے کے لئے حکومت نے ختمِ نبوّت کانفرنس پر پابندی لگادی، تمام کارکن مشتعل اور راہ نما پریشان تھے کہ کیا کیا جائے؟ میٹنگ ہوئی، گرم سرد دلائل دئیے گئے، مولاناؒ نے سب کے آخر پر فرمایا کہ: ’’ایک دفعہ ڈیرہ غازی خان کے دو زمین دار اتفاق سے ایک کشتی میں سوار ہوگئے، دونوں ایک دُوسرے کے مخالف تھے، ایک زمین دار نے کشتی کے چلتے ہی اس میں سوراخ کرنا شروع کردیا، اُس کے نوکر نے کہا: سائیں! ڈُوب جائیں گے۔ تو اس نے بڑی سی گالی لڑھکاکر کہا کہ: میرے سامنے میرا دُشمن ڈُوب جائے اور ساتھ میری بھی موت آجائے تو میرے لئے بہت سستا سودا ہے۔‘‘ اس خوبصورت مثال میں لطافت، ظرافت کے تمام پہلو تھے۔ یکایک رُخ بدلا اور فرمایا کہ: ’’اگر ہمارے سامنے مرزائیوں کے جلسے پر پابندی لگتی ہے اور ساتھ ہمارے جلسے پر بھی تو کوئی حرج نہیں، ہم ہزار بار ذبح ہوجائیں اور دُشمن بھی ہمارے سامنے ذِلت کی موت سے دوچار ہو تو اس سے بڑھ کر اور کیا خوشی ہوگی؟‘‘ تمام حضرات مطمئن ہوگئے، مگر فرمایا کہ: ’’اس کے باوجود میں کوشش کروں گا کہ ایسا نہ ہو، اس لئے کہ مرزائیوں اور ختمِ نبوّت کے رضاکاروں کو ایک ترازو سے تولنا حکومت کے لئے مناسب نہیں ہے۔‘‘ یہ کہہ کر لاہور تشریف لے گئے، حکومت کے بہت بڑے افسر کو ملے اور فرمایا کہ: ’’ہم تو آپ کو اپنے سے بہتر مسلمان سمجھتے تھے، مگر آپ کی پالیسی تو ’’چوڑھے کی ُچھری‘‘ ہے، جو حرام پر بھی چلتی ہے اور حلال پر بھی۔‘‘ کھڑے کھڑے دوچار باتیں ایسی دردِ دِل سے کہیں کہ

169

دُوسرے دن منظوری لے کر آگئے۔ مرزائیوں کا جلسہ نہ ہوا، ہماری کانفرنس دو روزہ بڑی آب و تاب سے ہوئی۔ اس کے بعد مجلس نے فیصلہ کرلیا کہ بجائے دسمبر اور چنیوٹ کے اب اکتوبر اور ربوہ (چناب نگر) میں کانفرنس کریں گے۔ مولانا محمد شریف جالندھریؒ کے ذہن رسا نے ایسا فیصلہ کیا کہ آج تک مرزائیوں کے جلسے پر پابندی ہے اور ختمِ نبوّت کی کانفرنس ربوہ (چناب نگر) میں بڑی آب و تاب سے منعقد ہوتی ہے۔

چناب نگر کا عظیم الشان منصوبہ، آپؒ کا صدقۂ جاریہ:

۱۹۷۴ء میں جب مرزائیوں کو غیرمسلم اقلیت قرار دیا گیا تو اس سے بہت سے دوستوں کو خوشی ہوئی، مگر مولاناؒ کی طبیعت پر اس وقت عجیب و غریب کیفیت طاری تھی، ہر وقت فرماتے تھے کہ: ’’صاحب! اب ہی کام کا وقت آیا ہے‘‘ ربوہ (چناب نگر) کے قرب و جوار کا سفر کیا، وہاں پر زمین حاصل کرکے دفتر قائم کرنے کی کوشش کی، بالآخر ربوہ (چناب نگر) کے پہلے آر۔ایم، منیر لغاری صاحب سے ملے، بلدیہ کے تھڑے پر خاموشی سے اپنا مبلغ بھیج کر نمازِ جمعہ شروع کرادی، کچھ عرصہ بعد ریلوے اسٹیشن پر جامع مسجد بنوادی مگر پھر بھی چین سے نہ بیٹھے، مسلم کالونی ربوہ (چناب نگر) میں نو کنال زمین پر مشتمل عظیم الشان پلاٹ حاصل کرلیا۔ مولانا تاج محمودؒ، مولانا محمد شریفؒ دونوں ہم عمر، ہم مسلک اور ہم مزاج تھے، دونوں عالمی مجلس تحفظِ ختمِ نبوّت کے پالیسی ساز تھے، ان دونوں کا وجود مجلس کے لئے دِل و دِماغ کا درجہ رکھتا تھا، مولانا محمد شریف محنت و ایثار کے بادشاہ تھے، دن رات ایک کرکے گلی گلی کا چکر لگایا، بالآخر کامیاب و کامران ہوئے، پلاٹ حاصل کرلیا، انتقال بھی ہوگیا، رسید مل گئی، قبضہ حاصل کرلیا، دُوسرے دن اس کے افتتاح کا اعلان کردیا۔ مولانا خواجہ خان محمد صاحب مدظلہ العالی نماز پڑھانے کے لئے تشریف لائے، جہاں اب مسجد ہے اس کا قرب و جوار جھاڑیوں اور گندی بوٹیوں کا جنگل تھا، پلاٹ کے ایک کونے کو صاف کرایا، اس پر

170

شامیانے لگوائے اور اس پر سینکڑوں رُفقاء جمع کرکے مولانا خواجہ خان محمد صاحب مدظلہ العالی سے نماز پڑھواکر اِفتتاح کرادیا، اس وقت سنگِ بنیاد رکھا، دو چار روز بعد وہاں پر عارضی مسجد و حجرہ مکمل تھا، مدرّس کا انتظام کرکے اسپیکر پر اَذانیں شروع ہوگئیں، دیکھتے ہی دیکھتے آپؒ نے یہ سارا کام اتنی عجلت میں کیا کہ مرزائی دیکھتے رہ گئے اور ربوہ (چناب نگر) میں عظیم الشان منصوبے کی مولاناؒ نے بنیاد قائم کردی جو رہتی دُنیا تک مولانا محمد شریفؒ کے لئے صدقۂ جاریہ ہے، قدرتِ حق ان کی مغفرت کرے، بڑے عظیم انسان تھے۔

دفتر ختمِ نبوّت سے سفرِ آخرت پر روانگی:

چنیوٹ کی سالانہ ختمِ نبوّت کانفرنس میں شرکت کے لئے تشریف لائے، سخت تکلیف میں تھے، سانس لینا مشکل ہوگیا، مگر صبر و جبر کے پہاڑ تھے، مجال ہے کہ کسی کو محسوس ہونے دیا ہو کہ وہ اتنی بڑی بیماری سے دوچار ہیں، کانفرنس ختم ہوگئی، مولاناؒ دُوسرے دن چناب ایکسپریس کے ذریعے ملتان جانے کے لئے کمربستہ ہوگئے، ہم لوگ مولاناؒ سے اجازت لے کر کار کے ذریعے فیصل آباد روانہ ہوگئے، ڈاکٹر صولت نواز، صاحب زادہ طارق محمود، جناب محمد اقبال صاحب نے مولاناؒ کی بیماری کی تفصیلات مجھ سے پوچھنا شروع کیں کہ مولانا کو ٹی بی تو نہیں؟ میں نے کہا کہ: نہیں! ڈاکٹر محمد صولت نواز صاحب نے پوچھا کہ: پھیپھڑوں کی کبھی تکلیف تو نہیں ہوئی؟ میں نے انکار کیا، انہوں نے کہا کہ: کبھی مولانا کو دِل کی تکلیف ہوئی ہے؟ میں نے کہا: ہاں! فوراً صولت صاحب نے گاڑی کی بریک لگادی اور سر پکڑ کر بیٹھ گئے اور کہا کہ: مولانا کا دِل بڑھ گیا ہے، اس لئے پھیپھڑوں میں پانی جمع ہے، یہی وجہ ہے کہ سانس آسانی سے نہیں لے سکتے، یہ نزلہ و زکام نہیں، بڑا حساس نوعیت اور فوری توجہ کا کیس ہے۔ دسمبر کی راتیں ایک دو کے درمیان کا عمل ہے، طے ہوا کہ صبح چھ بجے مولاناؒ کو

171

ملتان کی بجائے فیصل آباد لاکر ہسپتال میں داخل کرائیں، صبح ڈاکٹر صولت نواز صاحب تشریف لے گئے، مولاناؒ کو ہسپتال لایا گیا، میڈکل کالج کے تمام ڈاکٹروں کی کھیپ اور ہسپتال کے عملے نے مولاناؒ کا دِل و جان سے علاج کیا۔

مولانا تاج محمود صاحب کی اولاد نے مولانا کی خدمت کرکے اپنے باپ کی دوستی کا حق ادا کیا، مولانا فقیر محمد صاحب آپ کی صحت کی تازہ ترین صورتِ حال اخبارات کے ذریعے ملک بھر کے اَحباب کو پہنچاتے رہے، کمشنر و ڈی آئی جی، علماء و خطباء عیادت کے لئے آئے، جماعت کے مبلغین اور مولاناؒ کے صاحب زادوں نے ایک دُوسرے سے بڑھ کر خدمت کی۔ دو ہفتوں میں طبیعت سنبھل گئی، صاحب زادہ طارق محمود صاحب نے چناب ایکسپریس میں ایئرکنڈیشنڈ سیٹوں کا اہتمام کیا، مولاناؒ کو سوار کرنے کے لئے اے سی بوگی کی طرف رُفقاء لے گئے، تو بھانپ گئے کہ زیادہ خرچہ کیا ہے، آہ بھری اور فرمایا کہ: ’’زندگی میں پہلا سفر ہے جو آپ مجھے اے سی میں بھجوارہے ہیں، ورنہ تو زندگی بھر تھرڈ کلاس میں سفر کرکے مجلس کے فنڈ کی بچت کی ہے۔‘‘

ملتان دفتر میں مہینہ بھر رہے، طبیعت سنبھلتی بگڑتی رہی، آخری دنوں ٹھیک ہوگئے، دفتر میں بیٹھ کر سارا دن کام کیا، رُفقاء کو ہدایات دیں، ۱۴؍فروری۱۹۸۶ء کی رات آٹھ بجے دِل کا دورہ پڑا، جو جان لیوا ثابت ہوا، مولانا محمد علی جالندھریؒ، مولانا لال حسین اختر،ؒ مولانا محمد شریف بہاولپوریؒ کے بعد آپ جماعت کے ایسے چوتھے راہ نما ہیں جن کا جنازہ دفترِ ختمِ نبوّت سے اُٹھا۔

۱۵؍فروری ۱۹۸۶ء بروز جمعہ ملتان میں مولانا خواجہ خان محمد صاحب نے آپؒ کی نمازِ جنازہ پڑھائی، اسلام آباد سے کراچی تک کے علماء جنازے میں شریک ہوئے۔ آپؒ کو سکونتی گاؤں ۶کسّی لے جایا گیا، جہاں آپؒ کی دُوسری نمازِ جنازہ آپؒ کے ورثاء اور گاؤں کے لوگوں نے پڑھی، اس کی اِمامت حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوری رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ مجاز حضرت مولانا سیّد محمد انور حسین نفیس شاہ صاحب

172

دامت برکاتہم نے پڑھائی اور جمعہ کو ظہر کے قریب آپؒ کے جسدِ خاکی کو رحمتِ خداوندی کے سپرد کردیا گیا۔

مولانا محمد شریف صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے پوری زندگی ایسے طور پر گزاری جیسے بنیاد کی اِینٹ ہوتی ہے، جو ساری عمارت کا بوجھ اُٹھاتی ہے، مگر خود نظر نہیں آتی۔ مولاناؒ نے پوری جماعت کے کام کو سنبھالا مگر نام و نمود، شہرت وغیرہ سے کوسوں دُور رہے، آج بھی اسی طرح ملتان کے ضلع کے دُور دراز کے ایک دیہات کے قبرستان میں محوِ خواب ہیں، قدرتِ حق آپؒ پر رحمتوں کی بارش نازل کرے۔

آغاشورش کاشمیریؒ:

آغاشورش کاشمیریؒ کو اللہ کریم نے بے پناہ جرأت اور قوّتِ گویائی عنایت فرمائی ہوئی تھی، جس سے قادیانیوں کے بخیے اُدھیڑ کر رکھ دئیے گئے۔ ’’چٹان‘‘ کی فائل آج بھی کھول کر دیکھ لیں تو آغاشورشؒ کے خدشات دُرست نظر آئیں گے۔ قادیانی نبوّت اور اس کے گماشتوں کی آغاصاحبؒ سے کئی دفعہ ٹھنی، انہیں اپنی طاقت پر ناز تھا اور آغا صاحبؒ کو اپنی تربیت اور جرأت پر، انہیں ظفراللہ خان نظر آتا تھا تو آغا صاحبؒ، ظفر علی خان کا قہر بن جاتے، انہیں امریکا کی پشت پناہی تھی تو آغا صاحبؒ اپنی جان پر کھیلنے کا تہیہ کرلیتے۔ ان کی کتاب ’’تحریکِ ختمِ نبوّت‘‘ کا مطالعہ کرنے سے پتا چلتا ہے کہ ان کے اِکتسابِ فیض نے ان میں ختمِ نبوّت کا کتنا احترام پیدا کردیا تھا اور قادیانیوں سے کس قدر نفرت تھی، قادیانیت کو وہ ایک مذہبی تحریک نہیں بلکہ سیاسی گماشتہ سمجھتے تھے، بلکہ انہوں نے اپنی کتاب ’’عجمی اسرائیل‘‘ میں اسے سامراجی مہرہ ثابت کیا اور ان کے عزائم سے قوم اور حکمرانوں کو خبردار کیا تھا، ان کی خطابت اتنی پُرکشش ہوتی تھی کہ یقین مانیئے جس شہر میں ان کی تقریر ہوتی، اُس رات نوجوان سینماؤں میں فلم چھوڑ کر پنڈال میں ہوتے۔ حضور سروَرِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم سے

173

انہیں بے پناہ محبت تھی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق اس قدر تھا کہ وہ اپنی تقریر میں اس قدر جذباتی ہوجاتے کہ مجمع کربناک ہوجاتا۔ ایک دفعہ ’’چٹان‘‘ پریس کی ضبطی پر موچی دروازے میں آغا صاحبؒ نے ایوب خان سے کہا کہ: ’’محمدِ عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر ایک پریس تم نے ضبط کیا ہے، جاؤ دُوسرا پریس بھی ضبط کرو، تم نے کمینگی کا مظاہرہ کیا ہے، میں تو اپنی جان کی بازی لگانے کا تہیہ کئے ہوئے ہوں!‘‘

سچے عاشقِ رسول:

جناب زیڈ۔اے سلہری بیان کرتے ہیں کہ بیماری کے دنوں ہم آغا صاحبؒ سے ہسپتال ملنے گئے، کافی دیر ہوگئی تو ڈاکٹر صاحب نے کہا: آپ اُٹھ جائیں! لیکن آغا صاحبؒ کو ہماری موجودگی میں اتنا انہماک تھا کہ اجازت لینے کی جسارت نہ تھی۔ پھر ڈاکٹر اِفتخار نے ہمیں مخاطب کرکے کہا کہ وہ آغا صاحب کو اِنجکشن دینا چاہتے ہیں تاکہ وہ سوکر کچھ آرام کرلیں۔ اس پر ہم فوراً اُٹھ کھڑے ہوئے لیکن میں ابھی سلام کرکے دروازے کی طرف بڑھا ہی تھا کہ آغا صاحب نے مجھے اپنے قریب بلایا اور کہا کہ میں اپنے ہاتھ کو ان کے سر پر رکھ دوں، جب میں نے ان کے حکم کی تعمیل میں اپنا ہاتھ ان کے سر پر رکھ دیا تو انہوں نے انتہائی رِقت بھری آواز میں کہا:

’’سلہری صاحب! آپ گواہی دینا کہ میں مسلمان ہوں، لا اِلٰہ اِلَّا اﷲ محمد رسول اﷲ اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عاشق ہوں۔‘‘

یہ سن کر میں کانپ گیا، گو میں نے انہیں تسلی دیتے ہوئے کہا کہ: آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں، ابھی تو آپ نے علامہ اقبالؒ کے متعلق عشقِ رسول پر کتاب لکھنی ہے، (اقبالؒ کی صد سالہ سالگرہ کی جشن کمیٹی نے آغا صاحب کو اس کام پر مأمور کیا تھا) لیکن مجھے یکلخت محسوس ہوا کہ آغا صاحب کی آنکھیں آئندہ کا وہ نقشہ دیکھ رہی ہیں

174

جو ہماری نظروں سے ماورا ہے، میرا دِل بھاری ہوگیا، میں گھر چلا آیا، نماز پڑھی اور آغا صاحب کی صحت کے لئے دُعا کی، مجھ گنہگار کی دُعا کیا، لیکن ایک دوست کی تعمیلِ فرمائش ضروری تھی اور پھر میں قریب ساری رات ان کے خیال میں مستغرق رہا اور زیرِ لب ان کی صحت یابی کے لئے دُعا کرتا رہا، لیکن سخت متفکر رہا، صبح پانچ بجے ایک دوست کا ٹیلی فون آیا کہ آغا صاحبؒ اپنے خالقِ حقیقی سے جاملے، ہم انہیں سوا سات بجے چھوڑ کر آئے تھے اور وہ سوا گیارہ بجے فوت ہوگئے۔

حضرت مولانا محمد صدیق:

حضرت مولانا محمد صدیق صاحبؒ خلیفہ خاص حضرت اِمام گنگوہی نوّر اللہ مرقدہٗ فرماتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے شروع شروع میں مجدّدیت کا دعویٰ کیا تھا اور مرزا قادیانی اکثر لدھیانہ اس زمانے میں آیا کرتا تھا، میرا بھی کبھی کبھار بھائی مشتاق احمد صاحب کے ہاں قیام ہوجاتا تھا، ایک مرتبہ بھائی مشتاق احمد صاحب کہنے لگے کہ: ’’دریافت تو کریں کہ آیا واقعی یہ قادیانی مجدّد ہے بھی سہی یا ویسے ہی یہ ڈھونگ رچا رکھا ہے۔‘‘ حضرت مولانا مرحوم فرمانے لگے کہ: ’’اب کے جب مرزا قادیانی لدھیانہ آئے اور میں بھی موجود ہوں، تب یاد دِلانا، اس سے گفتگو کریں گے۔‘‘ اتفاق سے جلد ہی حضرت مولاناؒ اور مرزا قادیانی کا اجتماع ہوگیا، حضرت مولانا رحمۃ اللہ علیہ نے مندرجہ ذیل سوال فرمائے:

حضرت مولاناؒ:۔۔۔ مرزا صاحب! کیا واقعی آپ مجدّد ہیں؟

مرزا قادیانی:۔۔۔ ہاں! واقعی مجدّد ہوں۔

حضرت مولاناؒ:۔۔۔ مقاماتِ سلوک تو آپ کو ضرور طے کرائے ہوں گے؟

مرزا قادیانی:۔۔۔ جی ہاں! مقاماتِ سلوک طے کرائے ہیں۔

حضرت مولاناؒ:۔۔۔ مرزا صاحب! یہ بتائیں سیر اِجمالی ہوئی یا تفصیلی؟

175

مرزا قادیانی:۔۔۔ جی! مجھے سیر اِجمالی ہوئی۔

حضرت مولاناؒ:۔۔۔ اِجمالی والا مجدّد نہیں ہوتا!

مرزا قادیانی:۔۔۔ مجھے اِجمالی اور تفصیلی دونوں ہوئی ہیں۔

حضرت مولاناؒ:۔۔۔ سیر تفصیلی بیان کرو!

مرزا قادیانی:۔۔۔ ایسی تفصیلی تھی جیسے ریل گاڑی تیز چل رہی ہو، بظاہر تفصیلی تھی لیکن معلوم کچھ نہیں ہوتا تھا۔

حضرت مولاناؒ:۔۔۔ ایسی تفصیلی میں اسٹیشن تو تمام ہی ٹھہرتے ہوں گے، انہیں کے نام شمار کرادیجئے!

مرزا قادیانی کو کچھ جواب نہ بن پڑا اور سانپ سونگھ گیا۔

نواب آف بہاولپورؒ:

مشہور مقدمہ تنسیخ نکاح عائشہ بنام عبدالرزّاق میں فاضل جج فریقین کے دلائل اور علماء کے بیانات سن کر ایک نتیجے پر پہنچ گئے تھے اور قادیانیوں کے بارے میں ان کا شرحِ صدر ہوچکا تھا، لیکن عام تأثر یہ تھا کہ کہیں اس فیصلے سے انگریز حکومت، اسلامی ریاست بہاولپور کو نقصان نہ پہنچائے۔

یہ خبر نواب صاحبؒ تک پہنچی تو انہوں نے جج صاحب سے ببانگِ دہل فرمایا:

’’آپ قادیانیوں کو علی الاعلان غیرمسلم قرار دیں، اگر نواب بہاولپور محمد صادق پنجم کی ایک کیا ہزاروں ریاستیں بھی سرکار محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوّت کے تحفظ میں قربان ہوجائیں تو پروا نہیں۔‘‘

پھر کیا تھا! وہ شہرۂ آفاق فیصلہ سامنے آیا جس کے نتیجے میں قادیان کی جھوٹی نبوّت کو ہر جگہ خائب و خاسر ہونا پڑا اور آخرکار ۷؍ستمبر ۱۹۷۴ء کو اِسلامی جمہوریہ

176

پاکستان کی پارلیمنٹ کے تاریخ ساز فیصلے کی رُو سے قادیانی غیرمسلم قرار پائے۔

مرزا قادیانی کے قصیدے کا انجام:

مرزائیت کا علمی تعاقب جس انداز سے ریاست بہاولپور کے علماء نے کیا، وہ اپنی مثال آپ ہے، مرزا غلام احمد نے اپنی ایک کتاب میں قصیدۂ رائعہ یعنی حیرت انگیز قصیدہ لکھتے ہوئے قارئین کو چیلنج کیا کہ جو اس کا جواب لکھے، ایک ہزار روپے نقد اِنعام پائے گا، قصیدے کا پہلا شعر یہ تھا:

تَعَالَوْا جَمِیْعًا وَّنَحِّتُوْا أَقْـلَامَکُمْ

وَامْلُوْ کَمِثْلِیْ أَوْ ذَرُوْنِیْ وَخَیِّرُوْا

ترجمہ:۔۔۔ ’’تم سب اپنے قلم تیار کرتے ہوئے میرے مانند لکھو، یا مجھے چھوڑ دو اور مجھے امتیازی حیثیت دو۔‘‘

اس کا جواب جامعہ اسلامیہ عباسیہ کے فارغ التحصیل مولانا امیر محمد نے ایک کتاب کی صورت میں دیا، جس میں قصیدۂ لامعہ بھی شامل تھا:

أَتَیْنَاکُمْ بِأَقْـلَامٍ نَّحَتْنَا

فَنُمْلِیْ مِثْلَکُمْ أَوْ بِالْفِضَالٖ

ترجمہ:۔۔۔ ’’ہم اپنے قلم تیار کرکے تمہارے مقابلے میں اُتر آئے ہیں، پس اب ہم تمہاری طرح بلکہ تم سے بھی اعلیٰ درجے کی تحریریں ڈھالیں گے۔‘‘

قادیانیوں سے مولانا میر محمد صاحب کی خط و کتابت اس چیلنج کے سلسلے میں ہوتی رہی حتیٰ کہ معاملہ عدالت تک پہنچ گیا۔

رحیم یارخان کی ضلعی عدالت میں جج نے وکیلِ مرزائیت کے جواب میں مولانا صاحب کی بلند پایہ علمی تقریر سن کر بے ساختہ کہا: ’’یہ تو بڑے فاضل شخص ہیں!‘‘ اور معاملہ یہیں ختم ہوگیا۔

177

نواب صاحب کا عشقِ رسول:

حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب مدظلہ العالی تحریر فرماتے ہیں: ’’اس سلسلے میں مجاہدِ ملت مولانا محمد علی جالندھری مرحوم نے راقم الحروف سے بیان کیا کہ خضر حیات ٹوانہ کے والد نواب سر عمر حیات ٹوانہ مرحوم لندن گئے ہوئے تھے، نواب آف بہاولپور مرحوم بھی گرمیاں اکثر لندن گزارا کرتے تھے۔ نواب مرحوم، سر عمر حیات ٹوانہ سے لندن میں ملے اور مشورہ طلب کیا کہ انگریز حکومت کا مجھ پر دباؤ ہے کہ ریاست بہاولپور سے اس مقدمے کو ختم کرادیں، تو اَب مجھے کیا کرنا چاہئے؟ سر عمر حیات ٹوانہ نے کہا کہ: ’’ہم انگریز کے وفادار ضرور ہیں، مگر اپنا دِین، ایمان اور عشقِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کا تو ان سے سودا نہیں کیا، آپ ڈَٹ جائیں اور ان سے کہیں کہ عدالت جو چاہے فیصلہ کرے، میں حق و انصاف کے سلسلے میں اس پر دباؤ نہیں ڈالنا چاہتا۔‘‘ چنانچہ مولانا محمد علی جالندھریؒ نے یہ واقعہ بیان کرکے ارشاد فرمایا کہ: ’’ان دونوں کی نجات کے لئے اتنی ہی بات کافی ہے!‘‘

حضرت خواجہ محمد ضیاء الدین سیالویؒ:

حضرت خواجہ محمد ضیاء الدین سیالوی رحمۃ اللہ علیہ، شمس العارفین، سراج السالکین، حضرت خواجہ محمد شمس الدین سیالوی قدس سرہٗ کے پوتے اور حضرت شیخ الاسلام والمسلمین خواجہ محمد قمرالدین سیالوی مدظلہٗ کے والد گرامی تھے۔ آپؒ بیک وقت ایک شیخِ طریقت، عالمِ دِین، مصنف اور سیاسی لیڈر تھے۔ آپؒ نے تحریکِ خلافت میں بڑی سرگرمی سے حصہ لیا تھا، رَدِّ مرزائیت میں آپؒ نے شاندار خدمات سرانجام دیں، ایک معرکۃ الآرا کتاب ’’معیار المسیح‘‘ مطبوعہ ۱۳۲۹ھ کے نام سے لکھی جو اپنی مثال آپ ہے۔

178

پیر ظہور شاہؒ سجادہ نشیں جلال پور جٹاں:

پیر ظہور شاہ رحمۃ اللہ علیہ جلال پور جٹاں، ضلع گجرات کے سجادہ نشین تھے، آپؒ شیخِ طریقت ہونے کے ساتھ ساتھ بہترین مصنف بھی تھے، فتنۂ مرزائیت کی تردید میں آپؒ نے ایک کتاب ’’قہرِ یزدانی برسرِ دجالِ قادیانی‘‘ لکھی تھی۔

چوہدری ظہور اِلٰہی:ؒ

مولانا تاج محمودؒ نے فرمایا کہ: ۶؍ستمبر ۱۹۷۴ء کی شام چوہدری ظہور اِلٰہیؒ نے مسکراتے ہوئے فرمایا کہ: ’’آج اِن شاء اللہ! مذاکرات کامیاب ہوں گے‘‘ اور گزشتہ رات کا ایک واقعہ بڑے دِلچسپ انداز میں حاضرین کو سنایا، فرمایا کہ: رات مسز بندرانائیکے وزیرِاعظم سری لنکا کا عشائیہ تھا، جب وہ ختم ہوا تو مسز بندرانائیکے اور جناب بھٹو صاحب گیٹ کے پاس آکر کھڑے ہوگئے، تمام مدعوئین جارہے تھے، میں جب گیٹ کے قریب پہنچا تو جناب بھٹو صاحب سے آنکھ بچاکر ایک طرف سے ہوکر نکلنے کی کوشش کی، لیکن بھٹو صاحب نے دیکھ لیا، مجھے بلایا اور کہا کہ: ’’چوہدری ظہور اِلٰہی صاحب! آپ کسی زمانے میں میرے دوست تھے اور آج کل دُشمن ہو رہے ہیں، آپ کو کیا ہوگیا؟‘‘ چوہدری صاحبؒ نے کہا کہ: ’’بھٹو صاحب! یہ مسئلۂ ختمِ نبوّت جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ناموس کا مسئلہ ہے، تیرے سامنے ہے، اسے حل کردے تو ہیرو ہوجائے گا!‘‘ بھٹو صاحب نے کہا کہ: ’’نہیں! اب میں کیا ہیرو ہوں گا، ہیرو تو میں جب ہوتا اگر ۱۴؍جون کو اس مسئلے کو حل کردیتا۔‘‘ چوہدری صاحبؒ نے کہا کہ: ’’نہیں اب بھی اگر آپ یہ مسئلہ حل کردیں تو نہ صرف دُنیا میں تجھے بہت بڑی عزّت نصیب ہوجائے گی بلکہ آپ کی آخرت بھی سنوَر جائے گی۔‘‘ بھٹو صاحب نے کہا کہ: ’’اگر میں مسئلہ حل کردوں تو تم میری مخالفت چھوڑ کر میرے دوست بن جاؤگے؟‘‘ چوہدری صاحبؒ نے کہا کہ: ’’دوستی اور مخالفت اُصولوں کی بنیاد پر ہے، اگر آپ مسئلہ

179

حل کردیتے ہیں اور ہماری طرف محبت اور دوستی کا ہاتھ بڑھائیں گے تو ہم بھی جواب میں آپ سے دوستی اور محبت کا ہاتھ ضرور بڑھائیں گے۔‘‘

چوہدری صاحبؒ کا خیال صحیح نکلا، دُوسرے دن مذاکرات میں بھٹو صاحب مان گئے۔

( ہفت روزہ ’’لولاک‘‘ فیصل آباد)

حضرت شاہ عبدالرحیم رائے پوریؒ:

حکیم نورالدین بھیروی ثم قادیانی ایک دفعہ حضرت میاں صاحب کے پاس مہاراجہ جموں کے لئے دُعا کرانے کے لئے گیا۔ آپ نے دیکھتے ہی فرمایا: ’’نام نورالدین ہے؟‘‘ حکیم نے کہا: ’’ہاں!‘‘ فرمایا: ’’قادیان میں ایک شخص غلام احمد نام کا پیدا ہوا ہے، جو کچھ عرصے بعد ایسے دعوے کرے گا جو نہ اُٹھائے جائیں نہ رکھے جائیں اور تم لوحِ محفوظ میں اس کے مصاحب لکھے ہوئے ہو، اس سے تعلق نہ رکھنا، دُور دُور رہنا، ورنہ اس کے ساتھ ہی تم بھی دوزخ میں پڑوگے!‘‘ حکیم صاحب سوچ میں پڑگئے، فرمایا: ’’تم میں اُلجھنے کی عادت ہے، یہی عادت تم کو وہاں لے جائے گی!‘‘ چنانچہ کچھ عرصے بعد مرزا غلام احمد، قادیان میں ظاہر ہوا اور دعویٔ نبوّت کیا اور کبھی مسیحِ موعود بنا اور حکیم نورالدین اس کا خلیفہ اوّل بنا اور اس کے دِین کو پھیلایا۔ یہ شخص بڑا عالم تھا، مرزا صاحب کو بہت کچھ سکھاتا تھا، اس کے ساتھ گمراہ ہوا۔

مرزا قادیانی کے متعلق اِستخارہ:

بعد ازاں شاہ عبدالرحیم صاحب سہارنپوریؒ سے علمائے لدھیانہ کی ملاقات ہوئی، آپ نے فرمایا کہ: ’’میں نے قادیانی کے متعلق اِستخارہ کیا تھا، میں نے دیکھا کہ یہ شخص بھینسے پر اس طرح سوار ہے کہ منہ دُم کی طرف ہے، جب غور سے دیکھا تو اس کے گلے میں زنار ہے، جس سے اُس کا بے دِین ہونا نظر آتا ہے اور یہ بھی یقینا کہتا

180

ہوں کہ جو اہلِ علم اس کی تکفیر میں اب تک متردّد ہیں، کچھ عرصے تک سب کافر کہیں گے۔‘‘

(فتاویٰ قادریہ، از مولانا محمد لدھیانویؒ ص:۱۷)

مولانا سیّد محمد علی مونگیریؒ:

مولاناؒ کے ایک مسترشد اور مجاز مولانا عبدالرحیم صاحب کے ذریعے مونگیر اور بھاگلپور کے دیہاتوں میں سینکڑوں ہزاروں اشخاص کی اصلاح ہوئی اور وہ ان کے ہاتھ پر تائب ہوئے، دیہاتوں میں مولود کے جلسے اس اصلاح کا بڑا ذریعہ بنے اور اُن سے بہت فائدہ ہوا، مولاناؒ ایک طویل اور مفصل مکتوب میں اُن کو لکھتے ہیں:

’’مولود شریف کے جلسے کراؤ اور اس میں اُن کے (مرزا صاحب اور اُن کے ساتھی) حالات بیان کرو، جس مقام کے لوگ نہایت غریب ہیں اُن سے کہو کہ تم سنو، شیرینی وغیرہ کی کچھ ضرورت نہیں، میں تمام محبین سے کہتا ہوں کہ وہ تمہاری مدد کریں، تم کو ہر جگہ بھیجیں، یہاں سے رسائل قادیانی کے متعلق منگواکر اُن لوگوں کو دو اور اس خط کی متعدد نقلیں کرکے جو ہمارے احباب ہیں، ان کو بھجواؤ۔‘‘

اتنا لکھو اور اس قدر طبع کراؤ کہ ۔۔۔۔۔:

مولاناؒ کو اس سنگین خطرے کا جو مسلمانوں کے سروں پر منڈلا رہا تھا، پورا احساس تھا اور اس کے مقابلے کا اُن کو اس قدر زائد اہتمام تھا کہ یہ کہا کرتے تھے کہ:

’’اتنا لکھو اور اس قدر طبع کراؤ اور اس طرح تقسیم کرو کہ ہر مسلم جب صبح سوکر اُٹھے تو اپنے سرہانے رَدِّ قادیانی کی کتاب پائے۔‘‘

181

اس بات سے مولانا کے اس اہتمام و توجہ اور خلش و بے چینی کے ساتھ اس کا بھی اندازہ ہوتا ہے کہ اس وقت اس تحریک نے کتنی خطرناک اور تشویش انگیز صورت اختیار کرلی تھی اور اس بات کی ضرورت صاف محسوس ہو رہی تھی کہ اس کے سدِّ باب کے لئے اسی دِل سوزی اور قربانی سے کام لیا جائے جس سے مولاناؒ نے کام لیا اور اپنے آرام اور صحت کی پروا کئے بغیر اس کے لئے ہر قسم کی جدوجہد اور قربانی میں سب سے پیش پیش رہے۔

ایک صاحب (مولوی نظیر احسن صاحب بہاری) جن کا خط پاکیزہ تھا، صرف اس کام پر مأمور تھے کہ وہ مسوّدات صاف کرنے میں تأخیر ہوجاتی تو مولانا اُن سے فرماتے کہ: ’’محنت سے کام کرو، تمہیں جہاد کا ثواب ملے گا۔‘‘

ایک مرتبہ مولوی صاحب نے پوچھا کہ: ’’کیا مجھ کو جہاد بالسیف کا ثواب ہوگا؟‘‘ فرمایا: ’’بے شک! اس فتنۂ قادیانیت کا استیصال جہاد بالسیف سے کم نہیں۔‘‘

مولاناؒ کا معمول تھا کہ تین بجے تہجد کے لئے اُٹھ جاتے تھے، اب یہ تہجد کا وقت بھی رَدِّ قادیانیت کے لئے وقف کردیا، اکثر یہ وقت تصنیف میں گزرتا، بعض دیکھنے والوں کا بیان ہے کہ مولانا تہجد چھوڑ کر رَدِّ قادیانیت پر کتابیں لکھا کرتے تھے۔

قادیانیوں سے تاریخی مناظرہ:

اس جدوجہد کا آغاز ایک اہم تاریخی مناظرہ سے ہوا جس میں قادیانیوں کو ایسی شکستِ فاش ہوئی کہ انہوں نے دوبارہ اس میدان میں آنے کی جرأت نہ کی، یہ قادیانیت پر پہلی ضرب کاری تھی جس سے نہ صرف بہار کے قادیانیوں کو بلکہ پورے ہندوستان کی قادیانی تحریک کو سخت نقصان پہنچا اور اس کے بہت خوشگوار نتائج برآمد ہوئے، اس مناظرے میں (جو ۱۹۱۱ء میں ہوا) تقریباً چالیس علماء شریک تھے، دُوسری طرف سے حکیم نورالدین وغیرہ آئے تھے، مناظرے کی اہمیت کا اندازہ کرنے کے

182

لئے اتنا ہی کافی ہے کہ اِدھر مناظرہ شروع ہوا اُدھر مولانا سجدے میں گرپڑے اور جب تک فتح کی خبر نہ آئی سر نہ اُٹھایا۔

اس مناظرے کی مختصر رُوئیداد مولاناؒ کے صاحب زادہ مولانا منّت اللہ رحمانی نے قلم بند کی ہے، وہ لکھتے ہیں:

’’مرزا صاحب کے نمائندے حکیم نورالدین صاحب، سروَر شاہ صاحب اور روشن علی صاحب، مرزا صاحب کی تحریر لے کر آئے کہ اُن کی شکست میری شکست ہے اور ان کی فتح میری فتح۔ اِس طرف سے مولانا مرتضیٰ حسن صاحبؒ، علامہ انور شاہ کشمیری صاحبؒ، مولانا شبیر احمد عثمانی صاحبؒ، مولانا عبدالوہاب بہاری صاحبؒ، مولانا ابراہیم صاحب سیالکوٹی،ؒ (تقریباً چالیس علمائے کرام) بلائے گئے تھے، لوگوں کا بیان ہے کہ عجیب منظر تھا، صوبہ بہار کے اضلاع کے لوگ تماشائی بن کر آئے تھے، معلوم ہوتا تھا کہ خانقاہ میں علماء کی ایک بڑی بارات ٹھہری ہوئی ہے، کتابیں اُلٹی جارہی ہیں، حوالے تلاش کئے جارہے ہیں اور بحثیں چل رہی ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوا کہ مولانا محمد علی کی طرف سے مناظرے کا وکیل اور نمائندہ کون ہو؟ قرعۂ فال مولانا مرتضیٰ حسن صاحب کے نام پڑا، آپ نے مولانا مرتضیٰ حسن صاحب کو تحریراً اپنا نمائندہ بنایا، علماء کی یہ جماعت میدانِ مناظرہ میں گئی، وقت مقرّر تھا، اس طرف مولانا مرتضیٰ حسن صاحب اسٹیج پر تقریر کے لئے آئے اور اس طرف آپ سجدے میں گئے اور اُس وقت تک سر نہ اُٹھایا جب تک فتح کی خبر نہ آگئی۔ بوڑھوں کا کہنا ہے کہ میدانِ مناظرہ کا منظر عجیب تھا، مولانا مرتضیٰ حسن صاحب کی

183

ایک ہی تقریر کے بعد جب قادیانیوں سے جواب کا مطالبہ کیا گیا تو مرزا صاحب کے نمائندے جواب دینے کے بجائے انتہائی بدحواسی اور گھبراہٹ میں کرسیاں اپنے سروں پر لئے ہوئے یہ کہتے بھاگے کہ: ہم جواب نہیں دے سکتے۔‘‘

(سیرت مولانا محمد علی مونگیریؒ)

حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ:

مولانا عبدالرحمن صاحب میانوی مشہور مبلغ مجلسِ تحفظِ ختمِ نبوّت نے فرمایا کہ: ایک بار موسمِ گرما میں ماہِ رمضان المبارک گزارنے کے لئے حضرت، مری تشریف رکھتے تھے، میں بھی ایک شدید مرض سے اِفاقے کے بعد مری چلا گیا اور حضرت کی صحبت میں رہنے لگا۔ ایک روز تبلیغی جماعت کے ایک صاحب سے میری کچھ بحث چل پڑی، اس میں کچھ تلخی کی باتیں بھی ہوگئیں، دُوسرے روز حضرت وضو فرمانے لگے تھے کہ ان صاحب نے میری شکایت کی، حضرت وضو سے رُک گئے اور رنجیدہ لہجے میں فرمایا: ’’مجھ سے ان حضرات کی شکایت نہ کیا کرو، آج کے زمانے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عزّت و ناموس پر ان کی طرح جان نثار کرنے والا کون ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں ان کو میں صحابہؓ کے نقشِ قدم پر دیکھ رہا ہوں، آئندہ کوئی اس جماعت کی مجھ سے شکایت نہ کرے۔‘‘

حکیم نورالدین سے گفتگو:

وطن میں کچھ عرصہ قیام کے بعد دوبارہ رائے پور تشریف کا عزم کیا، روانہ ہونے لگے تو آپ کے چچازاد بھائی مولوی سعداللہ کے بیٹے مولوی اِمام الدین نے جو کہ بیمار تھے، فرمائش کی کہ مجھے راستے میں حکیم نورالدین کو دِکھاتے چلو۔ حکیم

184

نورالدین بھیرہ کا رہنے والا تھا اور حضرت کے خاندان کے بزرگوں کا شاگرد بھی تھا، اس تعلق کی وجہ سے آپ اپنے چچازاد بھائی کو لے کر قادیان پہنچے، آپ کے والد کے شاگرد حافظ روشن دِین بھی آپ کے ساتھ تھے، سات آٹھ روز حکیم مذکور کے مہمان رہے۔ حضرت فرماتے تھے کہ عصر کے بعد سے ان کی مجلسِ عام ہوا کرتی تھی، قسم قسم کے لوگ آتے اور مسئلے مسائل پوچھتے رہتے تھے۔

ایک روز تنہائی میں، میں نے ان سے پوچھا کہ: ’’آپ جو کہتے ہیں کہ حق صرف ہمارے پاس ہی ہے اور باقی سب باطل پر ہیں اور قرآن ان کے دِلوں میں نہیں اُترا ہے، تو اس کی دلیل کیا ہے کہ آپ ہی حق پر ہیں اور دُوسرے باطل پر؟‘‘ اُنہوں نے کہا: ’’ہمیں انوار نظر آتے ہیں‘‘ اور کہا کہ: ’’مجھے تو مرزا صاحب نے فرمایا تھا کہ آریوں اور عیسائیوں کے رَدّ میں ایک کتاب لکھو، میں نے لکھ دی، میرا سلوک تو اسی میں طے ہوگیا۔‘‘ میں نے کہا کہ: ’’انوار تو دُوسروں کو بھی نظر آتے ہیں، حتیٰ کہ ہندوؤں کو بھی؟‘‘ وہ خاموش ہوگئے، تھوڑی دیر کے بعد کہنے لگے: ’’ہم سے مکالمہ باری ہوتا ہے‘‘ اس پر میں خاموش ہوگیا، کیونکہ مجھے نہیں معلوم تھا کہ دُوسروں کو مکالمہ باری ہوتا ہے یا نہیں، چونکہ میں رائے پور شریف سے ہوکر گیا تھا، میں نے اتنا کہا: ’’تم حق پر ہو یا نہ ہو، جس شخص کو میں دیکھ کر آیا ہوں، وہ ضرور باطل پر نہیں ہے، یقینا حق پر ہے۔‘‘ میں نے حضرت شاہ عبدالرحیم رائے پوری کو قرآن مجید پڑھتے بھی دیکھا تھا، تہجد میں طویل تلاوت فرماتے تھے، کبھی رو رہے ہیں، جب عذاب کا ذکر آتا تو رو رو کر اِستغفار پڑھ رہے ہیں، ہاتھ جوڑ رہے ہیں، اِسی طرح جب آیاتِ رحمت کی تلاوت کرتے تو خوش ہو رہے ہیں اور سکوت ہے، میں نے سمجھا کہ یہ بھی غلط ہے کہ دُوسروں کے دِلوں میں قرآن نہیں اُترا، اگر میں نے حضرت کو نہ دیکھا ہوتا تو میں تو قادیانی بن گیا ہوتا۔

185

غیرمسلموں کی ’’کیفیات‘‘ اور ’’انوارات‘‘ کی حقیقت:

قادیان سے آپ کے ساتھی تو وطن کو واپس ہوگئے اور ہم سہارنپور سے ہوتے ہوئے رائے پور شریف پہنچ گئے، اعلیٰ حضرتؒ نے ذکر کی کیفیت پوچھی، آپ نے کسرِ نفسی سے فرمایا کہ: ’’حضرت! میں تو غبی ہوں، اپنے اندر کچھ نہیں پاتا۔‘‘ پھر جو کیفیت تھی وہ عرض کی، حضرتؒ نے فرمایا: ’’الحمدللہ!‘‘ اسی حاضری میں بیعت سے مشرف ہوئے اور رائے پور شریف میں مستقل قیام کا ارادہ فرمالیا، ایک روز اعلیٰ حضرت نے دریافت فرمایا: ’’مولوی صاحب! آپ کے پیچھے کتنے لوگ ہیں؟‘‘ فرمایا: ’’والدہ، بیوی اور دو بھائی!‘‘ فرمایا: ’’یہ تو بڑا کنبہ ہے، ہمارا تو جی چاہتا تھا کہ ہم آپ اِکٹھے رہتے‘‘ عرض کیا: ’’حضرت! سب کے ہوتے ہوئے بھی میرا کوئی نہیں ہے، میں تو یہ نیت لے کر آیا تھا کہ ساتھ ہی رہوں گا۔‘‘ چنانچہ کچھ ہی عرصے بعد جب وہاں رائے پور ہی میں آپ کو اہلیہ کے انتقال کی خبر ملی اور آپ نے حضرت کی خدمت میں اطلاعی خط پیش کیا تو حضرتؒ نے کچھ ایسے کلمات فرمائے جن سے مترشح ہوتا تھا کہ حکمتِ اِلٰہی کسی دُوسرے کام کے لئے یکسو بنانا چاہتی ہے۔

حضرتؒ فرماتے تھے کہ: میں نے ایک مرتبہ موقع دیکھ کر اپنے حضرتؒ کی خدمت میں عرض کیا کہ: ’’قادیانی، انوار کا دعویٰ کرتے ہیں، ان کو نماز وغیرہ میں بہت حالات اور کیفیات پیش آتی ہیں اور گریۂ وحشت کا غلبہ ہوتا ہے، اس کی کیا وجہ ہے؟‘‘ حضرتؒ سنبھل کر بیٹھ گئے اور جوش سے فرمایا: مولوی صاحب سنو!’’وَمَنْ یُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْم بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُ الْھُدٰی وَیَتَّبِعْ غَیْرَ سَبِیْلِ الْمُؤْمِنِیْنَ نُوَلِّہٖ مَا تَوَلّٰی‘‘ ۔

مرزا کا علاج:

مولانا محمد حیات صاحب اپنے ساتھ ایک رسالہ بہائیوں کے متعلق جو مرزائیوں نے شائع کیا ہے، لائے اور حضرت رائے پوری کی خدمت میں عرض کیا کہ:

186

مرزا صاحب قادیانی اور بہاء اللہ ایرانی میں یہ فرق ہے کہ مرزا صاحب بزدل تھے، اُنہوں نے آہستہ آہستہ زمین ہموار کرنے کے بعد دعویٔ نبوّت کیا، لیکن بہاء اللہ نے کھلے طور پر اور حکومت کی مخالفت کے باوجود دعویٔ نبوّت کیا اور یہاں تک کہہ دیا کہ قرآن اور شریعتِ اسلام اب منسوخ ہوگئی۔ اس کے بعد مولانا موصوف نے قادیانیت کے رَدّ میں ایک مختصر تقریر فرمائی، آخر میں فرمایا کہ: ’’اگر بالفرض مرزا صاحب بڑے نماز گزار، تہجد خوان اور پرہیزگار بھی ہوتے اور ان کی ساری پیشین گوئیاں مولانا ثناء اللہ والی، عبداللہ آتھم والی، محمدی بیگم والی اور ڈاکٹر عبدالحلیم والی بھی صحیح ثابت ہوجاتیں تو بھی ان کا دعویٔ نبوّت غلط ہوتا اور وہ شریعتِ اسلامیہ کی رُو سے کافر اور مرتد ہوتے، کیونکہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف صاف فرمادیا ہے کہ: ’’لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ‘‘ اور قرآن مجید نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ’’خاتم النبییّن‘‘ کہہ دیا ہے، مرزا کا علاج تو بس ایک ہی تھا جو کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے مسیلمہ کذّاب کا کیا تھا کہ نہ اُس کی کوئی بات سنی، نہ اس کو کسی دلیل سے جواب دیا، بلکہ اُس کے ساتھ وہی کیا جو مرتد کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ اب ہم مسلمانوں کی کمزوری ہے کہ ہم سے صحابہؓ والا کام نہ ہوسکا، تاہم کمزور ایمان کے ساتھ جتنا کچھ ہوسکے خالی از اجر و ثواب نہیں ہے اور لسانی جہاد میں شامل ہے۔

مرزا، شریعت کا نہیں رواج کا پابند تھا:

اس کے بعد قاضی احسان احمد صاحب شجاع آبادیؒ تشریف لائے، حضرتِ اقدسؒ نے اُن سے مخاطب ہوکر فرمایا: ’’یوں معلوم ہوتا ہے کہ مرزا صاحب ایک خبطی آدمی تھے‘‘ اس پر قاضی صاحبؒ نے کہا کہ: ’’نہیں حضور! خبطی نہیں تھا، بلکہ دجال تھا، جیسا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ میرے بعد کئی چھوٹے چھوٹے دجال پیدا ہوں گے، اگر محض خبطی ہوتے تو یہ اعلان نہ کرتے کہ: ’’ہمارے مریدین میں سے

187

جو شخص مرتے وقت ہمارے واسطے اپنی جائیداد کے دسویں حصے کے متعلق وصیت کرجائے گا، اُسے قادیان کے بہشتی مقبرے میں جگہ ملے گی اور اگر وہ کسی دُوسری جگہ مرگیا تو وہ بھی بہشتی ہوگا۔‘‘ حالانکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو اپنے پاس سے دیا، لیا کچھ نہیں، ایک جنگ میں بہت سی باندیاں گرفتار ہوکر آئیں اور مدینہ کے لوگوں میں تقسیم کی گئیں، لیکن سیّدۃ النساء حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو ایک باندی بھی نہیں دی گئی، یہ ہے نبی کا کریکٹر، مرزا صاحب نے تو ہائی کورٹ میں لکھ کر دے دیا تھا کہ میں شریعتِ اسلامیہ کا پابند نہیں ہوں، بلکہ رواج کا پابند ہوں۔‘‘

قادیانی فوجی افسر کا قبولِ اسلام:

قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ نے حضرت رائے پوری کی خدمت میں اپنا ایک واقعہ سنایا کہ ایک دفعہ مجھے ایک مرزائی فوجی افسر نے مرزائیوں کے دو بڑے مولویوں سے بات کرنے کے لئے بلایا، ان میں سے ایک تو ربوہ (چناب نگر) کالج کا پرنسپل تھا اور دُوسرا مولوی عبدالمالک ایم اے تھا، جب ہم اِکٹھے ہوئے تو اَفسرِ مذکورنے مجھے مخاطب ہوکر کہا کہ: ’’تم ان کے بارے میں کیا کہتے ہو؟‘‘ میں نے کہا کہ: ’’یہ لوگ تناسخ کے قائل ہیں!‘‘ اس پر ایک مرزائی مولوی نے کہا: ’’لعنت اﷲ علی الکاذبین‘‘ میں نے جواباً کہا: ’’دیکھئے صاحب! یوں تو بات نہیں بنے گی۔‘‘ اس پر اَفسرِ مذکور نے ان کو ڈانٹا اور پوچھا کہ تناسخ کے یہ لوگ کیسے قائل ہیں؟ میں نے مرزا صاحب کی کتاب ’’تریاق القلوب‘‘ نکال کر بتلایا کہ مرزا صاحب لکھتے ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دوبارہ حضرت عبداللہ کے گھر میں جنم لیا اور مقصد اس کہنے سے یہ ہے کہ یہ کہہ سکیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی دوبارہ قادیان میں غلام احمد کی صورت میں جنم لیا، جیسا کہ خود مرزا صاحب نے لکھا ہے۔ پھر میں نے مرزا صاحب کے وہ اَشعار اَفسرِ مذکور کو سنائے جن میں اُس نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی فضیلت

188

بتائی ہے، اَشعار سن کر وہ کہنے لگا کہ: ’’ان میں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سخت توہین ہے!‘‘ اور میری طرف بڑھ کر کہنے لگا کہ: ’’مولوی صاحب! مجھے کلمہ پڑھادو، میں مسلمان ہوتا ہوں اور مرزائیت سے توبہ کرتا ہوں‘‘ اور توبہ نامہ مجھے لکھ کر دیا کہ اسے شائع کرادو۔ یہ سن کر حضرتِ اقدسؒ نے خوشی کا اظہار کیا، اس کے بعد مولانا محمد صاحب نے حضرتؒ کی خدمت میں عرض کیا کہ: ’’حضرت مولانا محمد انور شاہ صاحبؒ فرمایا کرتے تھے کہ: ’’اس زمانے میں دِینِ اسلام کی سب سے بڑی خدمت مرزائیت کی تردید کرنا ہے‘‘ اُسی وقت سے میں اس کام میں لگا ہوا ہوں۔‘‘

سیّد عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کا انگریزی عدالت میں بیان:

اس کے بعد حضرتِ اقدسؒ نے قاضی صاحبؒ سے پوچھا کہ: تحقیقاتی عدالت میں حضرت شاہ صاحب (سیّد عطاء اللہ شاہ صاحب بخاریؒ) نے مرزائیوں کے بارے میں کیا بیان دیا تھا؟ قاضی صاحب نے جواب عرض کیا کہ: جب چیف جسٹس مسٹر محمد منیر نے شاہ صاحبؒ سے پوچھا کہ: ’’کیا آپ مرزا غلام احمد کو کافر کہتے ہیں؟‘‘ تو شاہ صاحبؒ نے فرمایا کہ: جب مجھ پر لدھا رام والا مقدمہ چلایا گیا تھا اور لدھا رام کے بیان پر مجھے بَری کردیا گیا تھا، تو آخری پیشی پر سرکاری وکیل نے یہ سوال بھی اُٹھایا تھا کہ یہ مرزا کو کافر کہہ کر منافرت پھیلاتے ہیں، اس پر انگریز چیف جسٹس مسٹر نیگ نے مجھ سے پوچھا تھا کہ: ’’کیا آپ مرزا غلام احمد کو کافر کہتے ہیں؟‘‘ تو میں نے کہا تھا کہ: ہاں! میں نے ایک دفعہ نہیں، کروڑوں دفعہ اسے کافر کہا ہے، اب بھی کہتا ہوں اور مرتے دَم تک کہتا رہوں گا، یہ تو میرا دِین و ایمان ہے۔‘‘ اس پر مسٹر نیگ نے سرکاری وکیل سے کہا تھا کہ: ’’لو ان سے اور سوال کرو‘‘ یہ کہہ کر اُس نے مجھے کہا تھا کہ: ’’آپ تشریف لے جائیں، یہ آپ کا مرزا کو کافر کہنا کوئی جرم نہیں ہے۔‘‘ یہ قصہ مسٹر محمد منیر کو سناکر شاہ صاحبؒ نے کہا کہ: ’’عیسائی جج نے تو اس طرح کہا تھا،

189

اب معلوم نہیں مسلمان عدالت کیا کہتی ہے؟‘‘ یہ سن کر مسٹر محمد منیر نے بھی آپ کو یہی کہا کہ: ’’آپ تشریف لے جائیے!‘‘

مرزائیوں کا اسلامی اِصطلاحات کا استعمال کرنا اور مسلمانوں کا مشتعل ہونا:

اس کے بعد قاضی صاحبؒ نے بتایا کہ میرے متعلق تحقیقاتی رپورٹ میں ججوں نے یہ لکھ دیا ہے کہ: ’’اس شخص کی زندگی کا واحد مقصد مرزائیت کی تردید اور ان کی بیخ کنی کرنا ہے۔‘‘ چنانچہ میں نے اپنے متعلقین کو کہہ دیا ہے کہ جب میں مروں تو یہ الفاظ کاٹ کر میرے کفن میں رکھ دینا، کیا عجب کہ یہی بات میری بخشش کا سبب بن جائے۔ اور میرے متعلق خواجہ ناظم الدین نے بھی یہ بیان دیا تھا کہ: ’’اُنہوں نے مجھے مرزائیوں کے اندرونی حالات سناکر چونکا دیا تھا۔‘‘ نیز قاضی صاحبؒ نے حضرتؒ کو بتایا کہ: تحقیقاتی عدالت میں یہ بات بھی سامنے آئی تھی کہ مسلمان لوگ مرزائیوں کی تقریروں اور تحریروں سے اس لئے بھی مشتعل ہوتے ہیں کہ یہ لوگ مسلمانوں کی مخصوص اصطلاحات کو اِستعمال کرتے ہیں، مثلاً یہ لوگ مرزا صاحب کی بیوی کو ’’سیّدۃ النساء‘‘ کہتے ہیں۔ اس پر مسٹر منیر نے مرزائی وکیل سے سوال کیا، تو اُس نے جواب دیا کہ ’’سیّدۃ النساء‘‘ کا معنی ہے: ’’عورتوں کی سردار‘‘ اس لئے ہم کہتے ہیں کہ ہمارے مرزا صاحب کی بیوی صاحبہ اپنے فرقے کی عورتوں کی سردار تھیں۔ اس پر مسٹر منیر نے میری طرف دیکھا تو میں نے کھڑے ہوکر کہا: جناب! اگر چماروں کی کوئی پنچایت ہو اور ان کا سرپنچ کسی معاملے کا فیصلہ کرے اور پھر ان چماروں میں سے کوئی آدمی سرپنچ کی جگہ چیف جسٹس کا لفظ بولے اور یوں کہے کہ: ’’ہمارے چیف جسٹس نے یوں فیصلہ دیا ہے‘‘ تو اس طرح کہنا جائز ہوگا؟ مسٹر منیر نے کہا: "Never!" یعنی ہرگز نہیں، قانوناً اس طرح کہنا جائز نہ ہوگا، کیونکہ یہ لفظ عدالتِ عالیہ کے ججوں کے لئے مخصوص

190

ہے۔ اس پر میں نے کہا کہ: یہ لوگ ہم مسلمانوں کی اصطلاحیں استعمال کرتے ہیں اور مرزا صاحب کی بیوی کو ’’سیّدۃ النساء‘‘ کہتے ہیں، حالانکہ یہ لفظ کسی نبی کی بیوی کے لئے نہیں بولا گیا، خود حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے لئے نہیں بولا گیا، بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تین بیٹیوں کے لئے بھی نہیں بولا گیا، یہ لفظ صرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی چوتھی بیٹی حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کے لئے مخصوص ہے، جس کو اَب یہ لوگ بلاتکلف استعمال کرتے ہیں اور مسلمانوں کا دِل دُکھاتے ہیں۔ چنانچہ میں نے اخبار ’’الفضل‘‘ نکال کر دِکھایا جس میں مرزا صاحب کی بیوی کے انتقال کے موقع پر پہلے صفحے پر جلی حروف میں یہ سرخی دی گئی تھی: ’’سیّدۃ النساء کا انتقال‘‘ اس پر ججوں نے کہا تھا کہ: ’’اس پر مسلمانوں کا مشتعل ہونا حق بجانب ہے!‘‘

قاضی صاحب نے مزید بتایا کہ ججوں نے مجھ سے یہ سوال بھی کیا تھا کہ: ’’تم نے کس یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی ہے؟‘‘ میں نے کہا تھا: میں جیل یونیورسٹی کا پڑھا ہوا ہوں۔ اس کے بعد جیل کے زمانے کا واقعہ سنایا کہ مجھے اور مولانا محمد علیؒ اور مولانا سیّد نورالحسن شاہ صاحب کو الگ الگ کوٹھڑیوں میں قید کیا گیا تھا، کچھ دنوں کے بعد میرے پاس سپرنٹنڈنٹ جیل کا لڑکا آیا کہ مجھے ادیب فاضل کے امتحان کی تیاری کرادو، چونکہ میں قیدِ تنہائی سے تنگ آچکا تھا، میں نے کہا: ٹھیک ہے! چنانچہ پندرہ روز اُسے پڑھایا، دو ہفتے کے بعد سپرنٹنڈنٹ جیل کہنے لگا کہ: ’’لڑکا کہتا ہے کہ قاضی صاحب نے دو ہفتے میں اتنا کچھ پڑھادیا ہے جتنا پچھلے تین چار ماہ میں نہیں پڑھ سکا تھا!‘‘ اس پر میں نے سپرنٹنڈنٹ جیل کی توجہ اپنے کارڈ کی طرف منعطف کرائی جس میں میری تعلیم کے خانے میں "Nil" لکھا ہوا تھا، پھر میں سپرنٹنڈنٹ مذکور سے، جو کہ بی اے، ایل ایل بی تھا، پوچھا کہ: ذرا مجھے یہ تو بتائیے کہ ’’دیباچہ‘‘ کا کیا معنی ہوتا ہے؟ اُس نے کہا: ’’یہی جو کتابوں کے پہلے لکھا ہوتا ہے!‘‘ میں نے کہا: جی نہیں! تعریف نہیں پوچھتا، معنی پوچھتا ہوں۔ سر کھجلاکر کہنے لگا: ’’معنی تو میں نہیں جانتا!‘‘ میں

191

نے کہا: دیباچہ کا معنی ہے چہرہ، کیونکہ انسان کا چہرہ انسان کے سب ظاہری و باطنی حالات کو ظاہر کرنے والا ہوتا ہے۔ اِسی طرح کتاب کا دیباچہ یہ بتاتا ہے کہ اس کتاب میں کتنے ابواب ہیں؟ کتنی فصول ہیں؟ کتاب کا موضوع اور لکھنے کی غرض و غایت کیا ہے؟

الحاج محمد ارشد صاحب نے عرض کیا کہ: ’’چاند کے بارے میں تحقیقات کرنے والوں کا ایک اجلاس ہوا، جس میں، میں بھی شریک تھا۔ ایک صاحب نے اپنی تحقیق بیان کی کہ فلاں مقام پر جب ہم سیر کرتے ہوئے فضا میں پہنچیں گے تو وہاں ایک گھنٹہ ہوگا جبکہ زمین پر مہینہ۔‘‘ حضرتِ اقدسؒ نے فرمایا: ’’پھر تو حیاتِ مسیح کا مسئلہ بھی حل ہوگیا، کیونکہ ممکن ہے کہ ان سے اُوپر کے مقامات میں وہاں ایک گھنٹہ ہو اور یہاں سال بھر اور اُوپر اور زیادہ، حتیٰ کہ وہاں ایک دن اور یہاں ہزار سال، جیسا کہ قرآن مجید میں آیا ہے: ’’وَاِنَّ یَوْمًا عِنْدَ رَبِّکَ کَأَلْفِ سَنَۃٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ‘‘ اور ’’فِیْ یَوْمٍ کَانَ مِقْدَارُہٗ خَمْسِیْنَ أَلْفَ سَنَۃ‘‘ تو حضرت مسیح علیہ السلام کو یہاں دو ہزار سال ہوں تو وہاں دو دن۔‘‘

مولانا عبدالعزیز صاحب دہلویؒ نے کہا کہ: میں نے مرزائیوں سے ایک مناظرے میں کہا تھا کہ ہمارا رزق بھی تو آسمان سے آتا ہے، ’’وَفِی السَّمَآئِ رِزْقُکُمْ وَمَا تُوْعَدُوْنَ‘‘ تو اللہ تعالیٰ اگر عیسیٰ علیہ السلام کو وہیں بلالیں تو کیا ان کو وہاں رزق نہیں دیا جاسکتا۔۔۔؟

قسم قسم کی مخلوق:

پروفیسر عبدالغنی صاحب نے عرض کیا کہ: کراچی کے ایک اخبار میں آیا تھا کہ امریکا میں ایک عورت ہے جس نے بہت عرصہ کچھ کھایا نہیں اور بدستور کام کرتی رہتی ہے۔ مولانا سیّد ابوالحسن علی ندویؒ نے کہا کہ: ایسا ہی ایک اخبار میں آیا تھا کہ امریکا میں ایک عورت بہت عرصے سے سوئی ہوئی ہے (غالباً پچّیس سال بتائے تھے)

192

فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ کی قسم قسم کی مخلوق ہے۔‘‘

مولانا محمد ابراہیم صاحب نے کہا: میں نے مرزا غلام احمد قادیانی کی کتاب ’’براہین احمدیہ‘‘ کے چند صفحات دیکھے تھے، سیاہی ہی سیاہی قلب پر آگئی، پھر میں نے کتاب بند کردی۔ حضرتؒ نے فرمایا: ’’اس کی کتابیں دیکھنی ہی نہ چاہئیں!‘‘ پھر حضرت رائے پوریؒ نے فرمایا: ’’مولوی احمد رضا خان صاحب نے ایک دفعہ مرزائیوں کی کتابیں اس غرض سے منگوائی تھیں کہ ان کی تردید کریں گے، میں نے بھی دیکھیں، قلب پر اتنا اثر ہوا کہ اس طرف میلان ہوگیا اور ایسا معلوم ہونے لگا کہ سچے ہیں۔ چنانچہ میں قادیان گیا، حکیم نورالدین بھیروی سے ملاقات ہوئی، پھر اس کا سارا قصہ بیان فرمایا جو پہلے گزرا، حکیم مذکور نے حضرتؒ سے فرمایا: ’’ہمیں انوار نظر آتے ہیں، تکلم باری ہوتا ہے۔‘‘ فرمایا: ’’میں نے استخارہ کیا اور اللہ تعالیٰ سے گڑگڑاکر دُعا کی کہ اے اللہ! ہمیں حق دِکھادے، اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا کہ اس طرف سے طبیعت بالکل ہٹ گئی۔‘‘

۔۔۔۔ ’’بچوُّ! وہ تو کافر ہے‘‘۔۔۔۔۔:

حضرت رائے پوریؒ نے فرمایا: ’’ڈاکٹر محمد امیر خان صاحب بھی پہلے قادیانی رہ چکے ہیں، پھر ڈیرہ دون کے ایک بزرگ سے ملے، اُن کی دُعا سے توبہ کی توفیق ہوگئی۔ ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں کہ: میں جب اُن کے پاس گیا اور پڑھنے کے لئے کچھ وِرد و وظیفہ پوچھا تو اُنہوں نے فرمایا: ’’اپنے پیر سے پوچھ لو!‘‘ اور فرمایا: ’’کیا تمہارا کوئی پیر ہے؟‘‘ میں نے کہا: میرا پیر غلام احمد قادیانی ہے! انہوں نے فرمایا: ’’بچُّو! وہ تو کافر ہے‘‘ میں حیران ہوا کہ مجھے ’’بچُّو‘‘ کہتے ہیں اور میرے پیر کو کافر کہتے ہیں، لیکن ان کا ایسا تصرف ہوا کہ میرا دِل اُدھر سے پھر گیا اور میں نے مرزائیت سے توبہ کی اور انہی بزرگ سے بیعت ہوگیا۔‘‘ اس کے بعد حضرتِ اقدسؒ نے حکیم نورالدین بھیروی

193

سے ملنے کا اپنا واقعہ بیان فرمایا جو پہلے مذکور ہوچکا ہے۔

قادیان کا ناپاک گندا پانی:

نیز حضرت رائے پوریؒ نے اپنا ایک خواب بیان فرمایا کہ: ’’میں نے خواب دیکھا کہ قادیان میں ناپاک گندے پانی میں کھڑا ہوں اور مجھے کسی آدمی نے پکڑ کر وہاں سے باہر نکال دیا۔‘‘

حکیم عبدالمجید سیفی

۱۹۵۳ء کی تحریکِ ختمِ نبوّت کے سلسلے میں مولانا خواجہ خان محمد تحریر کرتے ہیں کہ: تحریک کے ضمن میں انکوائری کمیشن نے رپورٹ مرتب کرنا شروع کی، عدالتی کارروائی میں حصہ لینے کی غرض سے علماء، وکلاء کی تیاری، مرزائیت کی کتب کے اصل حوالہ جات کو مرتب کرنا اتنا بڑا کٹھن مرحلہ تھا اور اُدھر حکومت نے اتنا خوف و ہراس پھیلا رکھا تھا کہ تحریک کے راہ نماؤں کو لاہور میں کوئی آدمی رہائش تک دینے کے لئے تیار نہ تھا۔ جناب حکیم عبدالمجید احمد سیفی نقشبندی مجدّدیؒ، خلیفہ مجاز خانقاہ سراجیہ نے اپنی عمارت ۷-بیڈن روڈ، لاہور کو تحریک کے راہ نماؤں کے لئے وقف کردیا، تمام تر مصلحتوں سے بالائے طاق ہوکر ختمِ نبوّت کے عظیم مقصد کے لئے ان کے ایثار کا نتیجہ تھا کہ مولانا محمد حیاتؒ، مولانا عبدالرحیم اشعرؒ اور رہائی کے بعد مولانا محمد علی جالندھریؒ، مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ اور دُوسرے راہ نماؤں نے آپ کے مکان پر انکوائری کے دوران قیام کیا اور مکمل تیاری کی۔

مولانا عمادالدین غوریؒ:

مولانا عمادالدین غوریؒ ابتدائے عمر میں بڑے طاقت ور اور نامی پہلوان تھے، لیکن جوہرِ قابل تھے، درس و تدریس کا سلسلہ شروع کیا اور ایک جید عالم بن گئے، دِین کی خدمت شروع کردی۔

194

ایک دن یہ سلطان محمد تغلق کے دربار میں بیٹھے تھے، محمد تغلق نے کہا: فیضِ خدا منقطع نیست چرا باید کہ فیضِ نبوّت منقطع شود اگر حالا کسے دعویٔ پیغمبری بکند و معجز نماید تصدیق می کند یا نے؟ (جب فیضِ خدا منقطع نہیں تو فیضِ نبوّت کیوں منقطع ہو؟ اگر اب کوئی پیغمبری کا دعویٰ کرے اور معجزہ دِکھائے تو تصدیق کروگے یا نہیں؟) یہ سننا تھا کہ غیرتِ ایمانی جوش میں آئی اور ناموسِ ختمِ نبوّت پر حرف آنے سے آنکھوں میں خون اُتر آیا اور زبان سے نکلا: ’’بادشاہ گوہ مخور!‘‘ (بادشاہ گندگی مت کھاؤ!) بادشاہ نے حکم دیا: ’’عماد کو ذبح کردو اور زبان باہر نکال ڈالو!‘‘ آپؒ نے نہایت بے پروائی سے اس حکم کو سنا اور کلمۂ حق کہنے پر شہید ہوگئے۔

حضرت اَمیرِ شریعت سیّد عطاء اللہ شاہ بخاریؒ:

۱۹۳۶ء میں چیف جسٹس کے سامنے مسٹر سلیم ایڈووکیٹ جنرل کے ایک سوال پر شاہ صاحبؒ نے فرمایا: ’’ہاں! میں نے مرزا غلام احمد کو ہزاروں مرتبہ کافر کہا ہے، کہتا ہوں اور کہتا رہوں گا، یہ میرا مذہب ہے!‘‘

(سوانح حیات بخاری، از خان کابلی)

اسی عدالت میں فرمایا کہ: ’’میرے مرنے کے بعد میری قبر پر بھی آکر کسی نے سوال کیا کہ مرزا قادیانی کون تھا؟ تو میری قبر کے ذرّے ذرّے سے آواز آئے گی کہ مرزا کافر تھا، اس کے ماننے والے سب کافر ہیں۔۔۔!‘‘

باطل ہارگیا، حق جیت گیا:

مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ نے فرمایا کہ:

مسٹر جسٹس منیر نے ۱۹۵۳ء کی تحریکِ ختمِ نبوّت میں ایک دن حضرت اَمیرِ شریعتؒ سے عدالت کے کٹہرے میں پوچھا کہ: ’’سنا ہے آپ کہتے ہیں کہ اگر مرزا قادیانی میرے زمانے میں نبوّت کا دعویٰ کرتا تو میں اسے قتل کردیتا؟‘‘ شاہ جیؒ نے برجستہ فرمایا کہ: ’’اب کوئی کرکے دیکھ لے!‘‘ اس پر عدالت میں سامعین نے نعرۂ تکبیر

195

لگایا، ’’اللہ اکبر!‘‘ کی صدا سے ہائی کورٹ کے دَر و دیوار گونج اُٹھے۔ جسٹس منیر سرپٹاتے ہوئے بولا کہ: ’’توہینِ عدالت!‘‘ شاہ جیؒ نے زناٹے دار آواز میں فرمایا کہ: ’’توہینِ رسالت!‘‘ اس پر پھر عدالت میں ’’تاج و تخت ختمِ نبوّت زندہ باد‘‘ کی صدا بلند ہوئی، جج نے سر جھکالیا، باطل ہار گیا، حق جیت گیا۔

ختمِ نبوّت کے شیدائی:

۱۹۵۰ء میں ختمِ نبوّت کانفرنس میں تقریر کرتے ہوئے فرمایا: ’’ختمِ نبوّت کی حفاظت میرا اِیمان ہے، جو شخص بھی اس رِدا کو چوری کرے گا، جی نہیں! چوری کا حوصلہ کرے گا، میں اُس کے گریبان کی دھجیاں اُڑا دوں گا۔ میں میاں (صلی اللہ علیہ وسلم) کے سوا کسی کا نہیں، نہ اپنا، نہ پرایا، میں اُنہی کا ہوں، وہی میرے ہیں۔ جس کے حسن و جمال کو خود رَبِّ کعبہ نے قسمیں کھاکھاکر آراستہ کیا ہو، میں اُن کے حسن و جمال پر نہ مرمٹوں تو لعنت ہے مجھ پر اور لعنت ہے اُن پر جو اُن کا نام تو لیتے ہیں لیکن سارقوں کی خیرہ چشمی کا تماشا دیکھتے ہیں۔

(چٹان)

شاہ جیؒ نے مرزائیوں کا جلسہ درہم برہم کردیا:

حضرت سیّد عطاء اللہ شاہ بخاریؒ امرتسر میں حضرت مولانا نور احمد صاحبؒ کے پاس درسِ نظامی کے طالبِ علم تھے، انہی دنوں اعلان ہوا کہ مرزا بشیرالدین محمود قادیانی ہال بازار کے باہر ایک سینما ہال میں تقریر کریں گے۔ حضرت مولانا نور احمد صاحبؒ نے امرتسر کے تمام علماء کو جمع کیا اور کہا کہ: ’’اس سے پہلے مرزائیوں کو امرتسر میں جلسہ کرنے کی جرأت نہیں ہوئی اور اَب اگر ایک دفعہ یہ جلسہ کرگئے تو ہمیں تنگ کریں گے۔‘‘ علماء حضرات نے مختلف تجاویز پیش کیں، حضرت سیّد عطاء اللہ شاہ بخاریؒ نے فرمایا کہ: ’’آپ کو فکر کرنے کی ضرورت نہیں، وہ جلسہ نہیں ہوگا۔‘‘

شاہ جیؒ کے ساتھ بخارا، سمرقند اور تاشقند سے بھی درسِ نظامیہ کے طالبِ علم

196

امرتسر پڑھا کرتے تھے، آپؒ نے ان طلباء کو ساتھ لیا اور جلسہ گاہ میں پہنچ گئے، سینما ہال بھرا ہوا تھا، آپ سینما ہال کے درمیان میں بیٹھے ہوئے تھے، دُوسرے طلباء آپ کی حفاظت کے لئے تھے۔ مرزا بشیرالدین قادیانی نے پہلے خطبہ پڑھا، پھر قرآن مجید کی چند آیات تلاوت کیں، شاہ جیؒ کھڑے ہوگئے اور فرمایا: ’’بشیرالدین! قرآن مجید صحیح پڑھو!‘‘ مرزا بشیرالدین پہلے خاموش ہوگیا، پھر پڑھنا شروع کیا۔

آپؒ نے پھر فرمایا کہ: ’’بشیر الدین! میں کہتا ہوں قرآن مجید صحیح پڑھو، ورنہ چپ ہوجاؤ‘‘ مرزا نے اشارہ کیا، بیٹھ جاؤ، قبلہ شاہ جیؒ اپنی بات دُہرا رہے تھے، چاروں سے طرف شور اُٹھا: ’’بیٹھ جاؤ!‘‘ مگر آپ کھڑے للکارتے رہے۔

قبلہ شاہ جیؒ کی اس مختصر پارٹی کے سوا باقی سارا ہال مرزائیوں سے بھرا ہوا تھا، وہ لوگ شاہ جیؒ کی طرف بڑھے مگر آپ کی حفاظت کے لئے آئے ہوئے ساتھی ان کے لئے کافی تھے، جو بھی آگے بڑھتا یہ لوگ انہیں اُٹھاکر دُوسروں پر پھینک دیتے، اس طرح پورے ہال میں ہنگامہ برپا ہوگیا۔

شاہ جیؒ نے اسی حصار کے اندر آہستہ آہستہ اسٹیج کی طرف بڑھنا شروع کیا، جب شاہ جیؒ اسٹیج کے قریب پہنچ گئے تو مرزا بشیرالدین محمود نے ملحقہ کمرے میں جاکر پناہ لی، شاہ جیؒ اور اُن کے ساتھیوں نے کرسیاں اُٹھا اُٹھاکر ان لوگوں پر مارنا شروع کردیں، بھگدڑ مچ گئی، جلسہ ختم ہوگیا، تھوڑی دیر کے بعد آپ قریبی دروازے سے باہر نکل آئے۔ باہر ایک عظیم مجمع جمع تھا، آپؒ ایک تانگے پر کھڑے ہوگئے اور تقریر شروع کردی، پولیس آئی اور مرزائیوں اور مرزا بشیرالدین کو اپنی حفاظت میں ریلوے اسٹیشن پر پہنچادیا۔

شہدائے ختمِ نبوّت کے ذمہ دار:

تحریکِ ختمِ نبوّت کے بعد جب قید سے رہا ہوچکے تھے، غالباً ۱۹۵۵ء میں

197

فیصل آباد دھوبی گھاٹ کے میدان میں ضعیفی اور علالت کے سبب بیٹھ کر تقریر فرما رہے تھے، دورانِ تقریر کسی نے ایک چٹ بھیج دی، لکھا ہوا تھا کہ: ’’جو لوگ ختمِ نبوّت کی تحریک میں شہید ہوگئے، اُن کا ذمہ دار کون ہے؟‘‘ شاہ جیؒ نے پڑھا تو جوش میں آکر کھڑے ہوگئے اور گرج کر فرمایا: ’’سنو! اُن شہداء کا میں ذمہ دار ہوں، نہیں، نہیں! آئندہ بھی جو حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزّت و ناموس کی خاطر شہید ہوں گے، اُن کا بھی میں ذمہ دار ہوں، تم بھی گواہ رہو، (اور آسمان کی طرف منہ کرکے فرمایا:) اے اللہ! تو بھی گواہ رہ، ان شہداء کا میں خود ذمہ دار ہوں اور جب تک یہ مسئلہ حل نہیں ہوتا، اگر میں زندہ رہا اور موقع ملا تو پھر بھی ایسا ہی ہوگا، اگر ُکل مسلمان حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی جوتی کے تسمے پر قربان ہوجائیں تو پھر بھی حق ادا نہ ہوگا۔‘‘ ان جملوں سے سامعین تڑپ اُٹھے، لوگ دھاڑیں مار مارکر رونے لگے اور ختمِ نبوّت زندہ باد کے فلک شگاف نعروں سے فضا گونج اُٹھی۔

۔۔۔۔ مرزا کا مزاج دُرست ہوجاتا!

۱۷؍فروری ۱۹۵۳ء کو موچی دروازہ لاہور میں حضرت اَمیرِ شریعت مولانا سیّد عطاء اللہ شاہ بخاریؒ نے فتنۂ مرزائیت کی تاریخ بیان کرتے ہوئے فرمایا:

اس فتنے کی پروَرِش برطانیہ نے کی، اگر ہوتا افغانستان تو اس فتنے کا کبھی کا فیصلہ ہوگیا ہوتا، امیر حبیب اللہ خان پر ہزار ہزار رحمت ہو، جس نے افغانستان کی حدود میں فتنۂ مرزائیت کو داخل نہ ہونے دیا، مرزا غلام احمد قادیانی نے امیر حبیب اللہ کو خط لکھا کہ: ’’میں نبی بن گیا ہوں، تم مجھ پر اِیمان لاؤ!‘‘ امیر حبیب اللہ نے مرزا غلام احمد قادیانی کو جواب دیا: ’’ایں جابیا!‘‘ (یہاں آؤ) غلام احمد وہاں کیسے جاتا؟ اور اگر چلا جاتا تو کچھ نہ کچھ ہوجاتا اور مرزا صاحب کا مزاج دُرست ہوجاتا۔۔۔!

198

’’اَمیرِ شریعت‘‘ کا خطاب اور اکابر علماء کی بیعت:

حضرت اِمام العصر مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ نے تحریکِ ختمِ نبوّت کو باقاعدہ منظم کرنے کے لئے خطیب الاُمت حضرت مولانا سیّد عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کو اَمیرِ شریعت مقرّر کیا اور ’’انجمن خدام الدین‘‘ کے ایک عظیم الشان اجلاس منعقدہ مارچ ۱۹۳۰ء میں ان کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر ہندوستان کے ممتاز ترین پانچ سو علماء کی بیعت ان کے ہاتھ میں کرائی۔ ظاہربین نظریں یہ دیکھ رہی تھیں کہ دارالعلوم دیوبند کا صدر المدرّسین حجۃ الاسلام علامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ ’’اَمیرِ شریعت‘‘ کے ہاتھ پر بیعت کر رہا تھا، لیکن خود ’’اَمیرِ شریعت‘‘ کا تأثر یہ تھا کہ:

’’آپ یہ نہ سمجھیں کہ حضرت (مولانا سیّد محمد انور شاہؒ) نے میرے ہاتھ پر بیعت کی ہے، بلکہ حضرتؒ نے مجھے اپنی غلامی میں قبول فرمایا ہے۔ یہ کہہ کر شاہ جیؒ زار و قطار رونے لگے اور ان کا سارا جسم کانپنے لگا۔‘‘

(حیاتِ اَمیرِ شریعتؒ، مؤلفہ: محترم مرزا جانباز ص:۱۵۵)

بہرحال یہ بحث تو اپنی جگہ ہے کہ حضرت اِمام العصر کشمیریؒ، حضرت اَمیرِ شریعتؒ کے ہاتھ پر بیعت کر رہے تھے؟ ان سے فتنۂ قادیانیت کے استیصال کا عہد لے رہے تھے؟ مگر اس میں کیا شک ہے کہ حضرت اَمیرِ شریعتؒ اور اُن کی جماعت عالمی مجلس تحفظِ ختمِ نبوّت نے قادیانیت کے محاذ پر جو کام کیا وہ حضرت اِمام العصرؒ کی باطنی توجہ اور دُعاہائے سحری کا ثمر تھا۔

جھوٹا مدعیٔ نبوّت کبھی پھلا پھولا نہیں!

ایک دفعہ ختمِ نبوّت پر تقریر کرتے ہوئے فرمایا: ’’میں مرزا محمود اور قادیانیت کی جو مخالفت کر رہا ہوں، رَبّ العزّت کی قسم! اس میں کوئی ذاتی غرض نہیں ہے، نہ

199

کوئی ذاتی کد یا رنجش ہے، مرزائیوں سے میری دُشمنی صرف حضور ختم المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کی وجہ سے ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کو نبی ماننا یہ گوارا نہیں ہوسکتا، نہ ہی میرے اللہ کو یہ گوارا ہے۔ دُنیا میں کروڑوں لوگ ایسے ہیں جو خدا کا شریک بتاتے اور بناتے ہیں، مگر اللہ اُن کی اُسی طرح پروَرِش کرتا ہے جس طرح وہ اپنے وحدہٗ لا شریک ماننے والوں کی پروَرِش کرتا ہے، اُس کا غضب پوری طرح کبھی اُن پر نازل نہیں ہوا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوّت میں شریک بنانے والے کو خدا نے کبھی معاف نہیں کیا، جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوّت کا دعویٰ کیا وہ کبھی نہیں پھولا پھلا، یہی انجام مرزائیوں کا ہوگا:

باخدا دیوانہ باش و با محمد ہوشیار۔‘‘

(صلی اللہ علیہ وسلم)

(ہمارے دَور کے چند علمائے حق)

سیّد عطاء اللہ شاہ سب پر بھاری ہیں:

مولانا عبیداللہ انور صاحبؒ نے یہ بھی تحریر فرمایا: حضرت لاہوریؒ نے ایک دفعہ جمعہ کے خطبے میں فرمایا: ’’حکومت کہتی ہے عطاء اللہ شاہ فساد پھیلاتا ہے، ان اللہ کے بندوں کو معلوم نہیں کہ اگر عطاء اللہ شاہ فساد پر آمادہ ہوجائے تو مرزائیت کا قلعہ قائم نہیں رہ سکتا۔ میں کہتا ہوں اگر بخاری شام کو حکم دے دیں تو صبح ہونے سے پہلے ربوہ (چناب نگر) کی اِینٹ سے اِینٹ بج جائے۔‘‘ پھر فرمایا: ’’حکومت کی گولیوں اور بندوقوں میں وہ طاقت نہیں جو علماء کی زبان میں ہے۔ ہمارے ایک عطاء اللہ شاہ بخاری بحمداللہ سب پر بھاری ہیں اور جب تک وہ زندہ ہیں، اسلام کو کوئی خطرہ نہیں۔‘‘ ایک مرتبہ تو حضرتؒ نے شاہ جیؒ کے متعلق یہاں تک ارشاد فرمایا: ’’محشر کا دن ہوگا، رحمتِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم جلوہ افروز ہوں گے، صحابہؓ بھی ساتھ ہوں گے، بخاری

200

آئے گا، حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم معانقہ فرمائیں گے اور کہیں گے: بخاری! تیری ساری زندگی عقیدۂ ختمِ نبوّت کی حفاظت میں گزری اور کتاب و سنت کی اشاعت میں صَرف ہوئی، آج میدانِ حشر میں تیرا شفیع میں ہوں! تیرے لئے کوئی بازپُرس نہیں، جا اور اپنے ساتھیوں سمیت جنت میں داخل ہوجا، تیرے اور تیری جماعت کے لئے جنت کے آٹھوں دروازے کھلے ہیں، جس طرف سے چاہو کھلے بندوں جنت میں داخل ہوسکتے ہو۔‘‘

(ہمارے دَور کے چند علمائے حق)

ٹائم بم فٹ کردیا:

تحریکِ ختمِ نبوّت ۱۹۵۳ء کے بعد ایک افسر نے طنزاً کہا: ’’شاہ جی! آپ کی تحریک کا کیا بنا؟‘‘ شاہ جیؒ نے برجستہ فرمایا کہ: ’’میں نے اس تحریک کے ذریعے مسلمانوں کے دِلوں میں ایک ٹائم بم فٹ کردیا ہے جو وقت آنے پر چل جائے گا، اس وقت مرزائیت کو اِقتدار کی کوئی طاقت نہ بچاسکے گی۔‘‘ چنانچہ یہ ٹائم بم خود قادیانیوں کے ہاتھوں ۲۹؍مئی ۱۹۷۴ء کو ربوہ (چناب نگر) ریلوے اسٹیشن پر پھٹا اور نتیجتاً قادیانیوں کو غیرمسلم قرار دے دیا گیا۔

نبی کے لئے شرط:

مسٹر جسٹس منیر کی عادت تھی کہ وہ عدالت میں علمائے کرام سے مختلف سوالات کرکے پھر ان میں اختلاف ثابت کرنے کی کوشش کرتے۔ اُس نے اَمیرِ شریعتؒ سے پوچھا کہ نبی کے لئے کیا شرائط ہیں؟ شاہ جیؒ نے فی البدیہہ فرمایا: ’’یہ کہ کم از کم شریف انسان ہو!‘‘ اس پر مرزائیوں کے منہ لٹک گئے اور مسلمان سرخرو ہوگئے۔

قانونِ تحفظ ناموسِ رسالت کی اہمیت:

لاہور میں جلسہ تھا، شاہ جیؒ پورے جوبن میں تھے، بے انداز مجمع، گوش

201

برآواز، عشقِ رسول کی بھٹی گرم، اکابر اور سلاطینِ ملت جلوہ افروز، شہر میں مکمل ہڑتال اور سناٹا، تحریکِ ختمِ نبوّت کے لئے مسلمان جانیں دینے کے لئے آمادہ، کسی نے کہا کہ: ’’خواجہ ناظم الدین لاہور پہنچ گئے!‘‘ شاہ جیؒ نے فرمایا: ’’ساری باتوں کو چھوڑئیے، لاہور والو! کوئی ہے؟‘‘ اور یہ کہتے ہوئے اپنے سر سے ٹوپی اُتارلی اور ٹوپی کو ہوا میں لہراتے ہوئے نہایت ہی جذبات انگیز الفاظ میں فرمایا: ’’جاؤ! میری اس ٹوپی کو خواجہ ناظم الدین کے پاس لے جاؤ، میری یہ ٹوپی کبھی کسی کے سامنے نہیں جھکی، اسے خواجہ صاحب کے قدموں میں ڈال دو، اس لئے کہ ہم تیرے سیاسی حریف اور رقیب نہیں ہیں، ہم الیکشن نہیں لڑیں گے، تجھ سے اقتدار نہیں چھینیں گے، ہاں ہاں! جاؤ! اور میری ٹوپی اس کے قدموں میں ڈال کر یہ بھی کہو کہ پاکستان کے بیت المال میں سؤر ہیں تو عطاء اللہ شاہ بخاری تیرے سؤروں کا وہ ریوڑ چرانے کے لئے بھی تیار ہے، مگر شرط صرف یہ ہے کہ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم، فداہ اَبی واُمی، کی ختمِ رسالت کی حفاظت کا قانون بنادے، کوئی آقا کی توہین نہ کرے، آپ کی دستارِ ختمِ نبوّت پر کوئی ہاتھ نہ ڈال سکے۔‘‘

(۱۶؍فروری ۱۹۵۲ء خطاب بیرون دہلی دروازہ، لاہور)

بجرمِ عشقِ مصطفی ہر سزا قبول ہے:

شاہ جیؒ نے ایک دفعہ تقریر میں فرمایا: ’’قادیان کانفرنس کے خطبے پر دفعہ ۱۵۳ کے تحت مجھ پر مقدمہ چلایا جارہا ہے، اس کی سزا زیادہ سے زیادہ صرف دو سال قید ہے، میرا جرم یہ ہے کہ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خادم ہوں، اس جرم میں یہ سزا بہت کم ہے، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس پر ہزار جان سے قربان ہونے کو تیار ہوں، مجھے شیروں اور چیتوں سے ٹکڑے ٹکڑے کرادیا جائے اور پھر کہا جائے کہ تجھے بجرم عشقِ مصطفی یہ تکلیفیں دی جارہی ہیں تو میں خندہ پیشانی سے اس سزا کو قبول کروں گا، میرا آٹھ سالہ بچہ عطاء المنعم اور اس جیسے خدا کی قسم! ہزار بچے رسول

202

اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کفش پر سے نچھاور کردوں۔‘‘

(مختصر سوانح، از خان کابلی)

جیل میں مارشل لاء قیدیوں کا استقبال:

لاہور سنٹرل جیل میں شاہ جیؒ کی آمد کی اطلاع جب مارشل لاء کے قیدیوں کو ملی تو اُنہوں نے حکامِ جیل کی اجازت سے شاہ جیؒ سے ملاقات کا پروگرام بنایا، ایک دن صبح سویرے ہم اسیرانِ قفس ناشتے کی تیاریوں میں مصروف تھے کہ دیوانی احاطے کے انچارج نے آکر شاہ جیؒ سے درخواست کی کہ مارشل لاء کے چند قیدی باہر کھڑے ہیں اور وہ آپ کی زیارت کے مشتاق ہیں، اگر اِجازت ہو تو انہیں اندر بلالوں! ابھی اس کی بات مکمل نہ ہو پائی تھی کہ شاہ جیؒ ننگے پاؤں ان قیدیوں کے استقبال کے لئے دیوانہ وار کمرے سے باہر نکل گئے، دیوانی احاطے کے دروازے پر قیدی خراماں خراماں آرہے تھے، ہتھکڑیوں اور بیڑیوں کی جھنکار اور شاہ جیؒ کا استقبال، ایک عجیب پُرکیف منظر آنکھوں کے سامنے تھا، شاہ جیؒ نے سب کو گلے لگایا، ایک ایک کی بیڑی اور ہتھکڑی کو بوسہ دیا، پھر آپؒ نے اشک بار آنکھوں اور غم ناک لہجے میں فرمایا:

’’تم لوگ میرا سرمایۂ نجات ہو، میں نے دُنیا میں لوگوں کو روٹی اور پیٹ یا کسی مادّی مفاد کے لئے نہیں پکارا، لوگ اس کے لئے بڑی بڑی قربانیاں کرتے ہیں، میں نے تو اپنے نانا حضرت خاتم النبییّن صلی اللہ علیہ وسلم کی عزّت و ناموس کے تحفظ کی دعوت دی ہے اور تم لوگ صرف اور صرف اسی مقدس فریضے کے لئے قید و بند اور طوق و سلاسل کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہو، تم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے کہ سیاسی شہرت یا ذاتی وجاہت جس کا مقصود ہو۔ تم یہاں جیل میں بھی غیرمعروف ہو اور جب تم اس دیوارِ زنداں سے پرے جاؤگے تو باہر تمہارا اِستقبال کرنے والے اور گلے میں پھولوں کے ہار ڈال کر نعرے لگانے والا بھی کوئی نہ ہوگا۔ نیت اور اِرادے کے اعتبار سے جس کی آمد اس مقصد کے لئے ہوئی ہے، وہ یہی مقصد لے کر واپس چلا جائے گا، میرے

203

لئے اس سے بڑا سرمایۂ افتخار اور کیا ہوسکتا ہے؟‘‘

شاہ جیؒ یہ چند جملے فرماچکے تو کسی نے ایک قیدی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ تحریک میں اس کا بھائی گولی کا نشانہ بن چکا ہے، اس کے لئے دُعا فرمائیں، شاہ جیؒ نے تحریک کے دوران متشدّدانہ کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا:

’’بھائی! ہم ہرگز یہ نہیں چاہتے تھے کہ حکومت یا عوام تشدّد پر اُتر آئیں اور کوئی ناخوش گوار صورت نمودار ہوجائے، میں نے کراچی جیل میں جب لاہور اور دُوسرے مقامات پر گولی چلنے کے واقعات سنے اور معلوم ہوا کہ کئی بوڑھے باپوں کی لاٹھیاں ٹوٹ گئی ہیں، ماؤں کے چراغ گل ہوگئے ہیں اور کئی سہاگ اُجڑ گئے ہیں، تو مجھے اس کا بڑا صدمہ پہنچا، میں نے وہاں کہا تھا کہ: کاش! مجھے کوئی باہر لے جائے، یا اربابِ اِقتدار تک میری یہ آواز پہنچادی جائے کہ تحفظِ ناموسِ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کے سلسلے میں اگر کسی کو گولی مارنا ضروری ہو تو گولی میرے سینے میں مارکر ٹھنڈی کردی جائے اور کاش! اس سلسلے میں اب تک جتنی گولیاں چلائی گئی ہیں وہ مجھے ٹکٹکی پر باندھ کر میرے سینے میں پیوست کردی جائیں۔‘‘

(مجاہد الحسینی)

خواب میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے تلوے چاٹنا:

غازی سلطان محمود صاحب (شیخوپورہ) اپنے علاقے کے مشہور کارکن تھے، اُنہوں نے قریباً ہر ملکی اور مذہبی تحریک میں حصہ لیا اور عمر کا بیشتر حصہ جیلوں میں گزار دیا، اُس وقت اُن کی عمر اَسّی سے تجاوز کرچکی تھی کہ اُنہوں نے خواب سنایا۔

فرماتے ہیں: ایک زمانہ ہوا، میں نے ایک رات طویل خواب دیکھا، جس میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی، اِجمالاً وہ خواب یوں تھا جیسے ایک وسیع جگہ پر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم دائیں کروَٹ پر لیٹے ہوئے ہیں، چہرۂ اقدس قبلے کی طرف ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اُس زمانے کے کئی سو علماء کھڑے ہیں،

204

پہلی صف کے درمیان سے حضرت مدنی علیہ الرحمۃ نکل کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب جاکر دو زانو بیٹھ جاتے ہیں، باقی سب علماء اپنی اپنی جگہ باادب کھڑے ہیں اور حضرت مولانا حسین احمد مدنی،ؒ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ باتیں کر رہے ہیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پائے مبارک کی طرف ایک صاحب فوجی وردی پہنے لیٹ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے تلوے زبان سے چاٹ رہے ہیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دُوسرا پاؤں اس شخص کے سر پر رکھا ہوا ہے، وہ ایک کیف و مستی کے عالم میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم مبارک چاٹ رہا ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم مسکرادیتے ہیں، میں غور سے دیکھتا ہوں تاکہ پہچانوں کہ یہ خوش قسمت کون ہے؟ تو چہرہ دیکھنے پر معلوم ہوا کہ وہ حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ ہیں۔

مختصر یہ کہ غازی صاحب کہتے ہیں: صبح میں نے یہ خواب من و عن لکھ کر شاہ جیؒ کو امرتسر بھیج دیا اور میں خواب کے اس کیف و سرور میں کچھ ایسا کھویا ہوا تھا کہ شاہ جیؒ کا خواب میں جو منظر دیکھا تھا اُس کو یوں لکھا گیا کہ: ’’آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک پاؤں آپ کے سر پر تھا اور دُوسرا پاؤں آپ کتے کی طرح چاٹ رہے تھے۔‘‘ کافی دن گزر گئے تو ایک جلسے میں تقریر کے بعد شاہ جیؒ سے ملاقات ہوئی، کچھ اور لوگ بھی شاہ جیؒ کے پاس بیٹھے تھے، جب مجھے دیکھا تو حسبِ دستور بڑی محبت سے ملے، پھر فرمایا: ’’وہی خواب اب زبانی سناؤ!‘‘ میں نے سنایا، تو جب آپ کے ذکر تک آیا تو میں نے کہا کہ: ’’آپ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا پاؤں مبارک چاٹ رہے تھے‘‘ میری طرف دیکھ کر پوچھا: ’’کس طرح؟‘‘ میں نے کہا: ’’زبان سے!‘‘ فرمایا: ’’نہیں، جیسا خط میں لکھا تھا، ویسے بتاؤ!‘‘ تو معاً مجھے یاد آگیا کہ خط میں تو میں نے تشبیہاً کسی اور طرح لکھا لیکن اب منہ پر مجھے شرم آتی تھی، لیکن شاہ جیؒ نے باصرار مجھ سے کہلوایا کہ: ’’آپ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں مبارک کتے کی طرح چاٹ رہے تھے‘‘ یہ سن کر آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور خود ہی فقرہ بار بار دُہراتے رہے۔

(خواب، از امین گیلانی)

205

شاہ جیؒ کا مقام:

شنکیاری، ضلع ہزارہ میں تین روزہ جلسہ تھا، جلسے کے دُوسرے دن کچھ علماء، کچھ طلباء میرے پاس جمع ہوکر آگئے اور کہا کہ: ’’آپ ایک عمر حضرت اَمیرِ شریعت سیّد عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے ساتھ رہے ہیں، ہمیں اُن کی خاص باتیں سنائیں۔‘‘ ایک صاحب بولے: ’’ان کی عظمت کا ایک واقعہ آپ ہم سے سن لیں تاکہ آپ کو یہ پتا چلے کہ ہم اُن کے متعلق آپ سے باتیں کیوں سننا چاہتے ہیں؟‘‘

تھوڑے دنوں سے یہاں گاؤں میں ایک اجنبی بزرگ خاموش چلتے پھرتے دِکھائی دیتے ہیں، مسجد یا کوئی میدان ان کا ٹھکانا ہوتا ہے، کچھ پوچھیں تو جواب دو لفظی دیتے ہیں۔ ہمارے یہاں کے ایک بزرگ عالم نے انہیں دیکھا تو بتایا کہ صاحبِ کشف و کرامت ہیں اور آزاد کشمیر سے پیدل یہاں پہنچے ہیں۔

ایک دن اسی بزرگ کو ہم نے ایک جگہ تنہا بیٹھے ہوئے دیکھا، تو ہم نے آزمانے کے لئے ایک طریقہ اختیار کیا، وہ یہ کہ چند پتھروں کے ٹکڑے لئے اور ہر پتھر پر کسی ایک بزرگ کا بغیر سیاہی کے اُنگلی کے ساتھ نام لکھ دیا اور ایک پتھر پر مرزا غلام احمد قادیانی بھی لکھ دیا، پھر ہم وہ سب پتھر اُس بزرگ کے پاس لے کر گئے اور خاموشی سے اُن کے سامنے رکھ دئیے، وہ ہمیں دیکھ کر مسکرائے، پھر ایک پتھر اُٹھاکر نام پڑھا اور اس بزرگ کا مقام بیان کیا، حالانکہ ہمیں نہیں معلوم تھا کہ ہم نے اس پتھر پر اسی بزرگ کا نام لکھا ہے، پھر دُوسرا، پھر تیسرا نام پڑھتے گئے، مقام بتاتے گئے، پھر ایک پتھر اُٹھاکر دُور پھینک کر کہا: ’’اِس مردود کو ان میں کیوں رکھا ہے؟‘‘ پھر ایک پتھر اُٹھایا اور کہا: ’’سبحان اللہ! عطاء اللہ شاہ بخاریؒ ان کی بوعلی قلندرؒ سے دوڑ ہوئی، آگے نکل گئے۔۔۔!‘‘

میں نے مولانا اجمل خان لاہور والوں سے ذکر کیا، وہ بھی جلسے میں

206

دُوسرے روز تشریف لے آئے تھے، ہم نے مختلف ساتھیوں کی ڈیوٹی لگادی کہ جہاں بھی وہ اُس بزرگ کو دیکھیں ہمیں فوراً اطلاع دیں، عین جب ویگن تیار تھی ہم واپسی کے لئے تیار ہونے والے تھے تو ایک طالبِ علم ہانپتا کانپتا آیا اور کہا: ’’گیلانی صاحب! وہ بزرگ اس وقت اسکول کے گراؤنڈ میں بیٹھے ہوئے ہیں۔‘‘

مولانا محمد اجمل اور میں دونوں فوراً وہاں پہنچے، ہمیں دیکھ کر وہ اُٹھ کھڑے ہوئے، میں نے عرض کیا: حضرت! صرف دُعا کے لئے حاضر ہوئے ہیں، بس!‘‘ اُنہوں نے ہاتھ دُعا کے لئے بلند کردئیے، دُعا کے بعد میں نے عرض کیا: ’’حضرت! اجازت دیں، کہیں ویگن والا ہمیں چھوڑ کر نہ چلا جائے‘‘ فرمایا: ’’نہیں جائے گا!‘‘ پھر وہ بھی ہمارے ساتھ چل دئیے، پہنچے تو ویگن والا ہمارا منتظر تھا، ہمیں خود سوار کرایا، پھر دُعا کے لئے ہاتھ اُٹھادئیے، ویگن چل پڑی اور میں انہیں تاحدِ اِمکان دیکھتا رہا، کیونکہ وہ ہماری طرف دیکھ رہے تھے۔

(سیّد محمد امین گیلانی)

شاہ جیؒ کا ڈنڈا اور انگریز فوجی:

حضرت اَمیرِ شریعتؒ ایک دفعہ کہیں جارہے تھے، امرتسر ریلوے اسٹیشن پر پہنچے، دیکھا کہ ڈبے کے باہر ایک ہجوم کھڑا ہے، شاہ جیؒ نے حقیقتِ حال معلوم کی تو مسافروں نے بتایا کہ ڈبہ اندر سے بند ہے، اس میں چار انگریز فوجی بیٹھے ہوئے ہیں اور پورے ڈبے پر قبضہ جمائے ہوئے ہیں، کسی مسافر کو ڈبے میں داخل نہیں ہونے دیتے۔ حضرت اَمیرِ شریعتؒ کے ہاتھ میں ان دنوں موٹا ڈنڈا ہوتا تھا، ڈنڈے کے زور سے دروازہ کھولا اور اندر داخل ہوئے، ڈنڈا زور زور سے گھمایا، یوں ظاہر کیا جیسے وہ ان گوروں پر چلانا چاہتے ہیں، وہ چاروں ایک طرف سہم کر بیٹھ گئے، اَمیرِ شریعتؒ نے مسافروں کو اندر بلاکر بٹھادیا، خود دُوسرے ڈبے میں جاکر بیٹھ گئے، راستے میں جس اسٹیشن پر گاڑی رُکتی، اَمیرِ شریعتؒ ڈبے کے سامنے آتے اور فضا میں ڈنڈا لہراتے اور

207

وہ انگریز سہم جاتے۔ اَمیرِ شریعتؒ نے انبالہ تک جانا تھا، فرماتے تھے کہ: ’’انگلش میں نہ جانتا اور پنجابی اور اُردو وہ نہ جانتے تھے، لیکن قربان جاؤں ڈنڈے پر کہ اس نے بگڑا کام سنوار دیا۔۔۔!‘‘

شاہ جیؒ کو پان میں زہر دیا گیا:

مئی ۱۹۲۳ء کو اَمیرِ شریعتؒ شجاع آباد میں جلسے میں شرکت کے لئے تشریف لے گئے، نمازِ ظہر کے بعد جلسے سے خطاب کے لئے اُٹھے تو مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ سے فرمایا: ’’قاضی جی! پان نہیں کھلاؤگے؟‘‘ حضرت قاضی صاحبؒ نے حاجی نور محمد سے کہا: آپ جاکر پان لے آئیں۔ حاجی صاحب پان لینے کے لئے چلے ہی تھے کہ ایک آدمی نے کہا: ’’میں شاہ صاحب کے لئے پان لے کر آیا ہوں!‘‘ اور پان حاجی صاحب کو دے دیا، جب اَمیرِ شریعتؒ نے پان منہ میں رکھا تو ایک منٹ کے بعد ہی تھوک دیا اور کہا: ’’قاضی جی! آپ نے تو مجھے مروادیا‘‘ قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ نے شاہ صاحبؒ کے منہ کے سامنے ہاتھ رکھا جو پان اَمیرِ شریعتؒ نے قاضی صاحبؒ کے ہاتھ پر اُگلا تھا، اُس نے قاضی صاحبؒ کے ہاتھ کو سیاہ کردیا اور اتنا تیز زہر تھا کہ قاضی صاحبؒ کا ہاتھ پھول گیا، جلسہ ختم کردیا گیا۔

ڈاکٹر سے شاہ صاحبؒ کا علاج شروع کروایا، زہر پیشاب و پاخانے میں خارج ہونا شروع ہوا اور تین بجے رات حضرت شاہ صاحبؒ نے آنکھیں کھولیں، ڈاکٹر صاحب نے قاضی صاحب کو مبارک باد دی اور بتایا کہ اب شاہ جی کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

حضرت علامہ انور شاہ کشمیریؒ کا شاہ جیؒ کو ’’اَمیرِ شریعت‘‘ کا اعزاز دینا:

مارچ ۱۹۳۰ء کے آخری دنوں میں ’’خدام الدین‘‘ کا سالانہ اجلاس لاہور

208

میں ہو رہا تھا، جس کی صدارت محدثِ عصر حضرت مولانا سیّد انور شاہ صاحبؒ فرما رہے تھے، اس وقت مسلمانوں اور اسلام کے خلاف مختلف تحریکیں ہندو اور انگریزوں کے توسط سے چل رہی تھیں، مثلاً: شدھی و شنگھٹن کی تحریک، شاردا ایکٹ، تحریک شاتم رسول کے بڑھتے ہوئے سیلاب نے کمزور کردیا، اس جلسے میں حضرت انور شاہ صاحبؒ کی صدارتی تقریر ہورہی تھی کہ اسی دوران حضرت مولانا سیّد عطاء اللہ شاہ بخاریؒ جلسہ گاہ میں داخل ہوئے، حضرت انور شاہ صاحبؒ نے تقریر میں فرمایا: ’’دِین کی قدریں بگڑ رہی ہیں، کفر چاروں طرف سے یلغار کرچکا ہے، اس وقت مسلمانوں کو اپنے لئے ایک اَمیر کا انتخاب کرنا چاہئے، اس کے لئے میں سیّد عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کو منتخب کرتا ہوں، وہ نیک بھی ہیں اور بہادر بھی، اس وقت تک انہوں نے فتنۂ شاتمِ رسول اور شاردا ایکٹ کے سلسلے میں جس جرأت اور دلیری سے دِین کی خدمات انجام دی ہیں، آئندہ بھی ان سے ایسی ہی توقع ہے۔‘‘ یہ کہتے ہی حضرت مولانا انور شاہ صاحب کشمیریؒ نے دونوں ہاتھ حضرت بخاریؒ کی طرف بڑھائے، حضرت بخاریؒ نے اپنے دونوں ہاتھ حضرت انور شاہ صاحبؒ کے ہاتھوں میں دے کر فرمایا: ’’معزَّز حضرات! آپ یہ نہ سمجھیں کہ حضرت انور شاہ صاحب نے میرے ہاتھ پر بیعت کی، بلکہ حضرت نے مجھے غلامی میں قبول فرمالیا ہے۔‘‘ یہ جملے ادا کرکے حضرت بخاریؒ زار و قطار رونے لگے، پانچ سو علمائے کرام جو وہاں موجود تھے، اُنہوں نے بھی حضرت بخاریؒ کے ہاتھ پر بیعت فرمائی، ان میں بڑے بڑے علمائے کرام شامل تھے۔

یوں حضرت بخاریؒ کو حضرت انور شاہ صاحب کشمیریؒ نے ’’اَمیرِ شریعت‘‘ کا اعزاز عطا فرمایا۔

خواب میں انبیائے کرامؑ کے ساتھ بیت اللہ کا طواف:

مولانا قاری محمد حنیف صاحب ملتانی اپنی ایک تقریر میں فرماتے ہیں کہ: میں

209

حج کے لئے مکہ مکرّمہ گیا، میری ملاقات ایک ولی اللہ مولانا خیر محمد صاحب سے ہوئی، جو بہاولپور میں رہتے تھے، سارا دن اپنے ہاتھوں سے کام کرتے اور شام کو طالب علموں کو حدیث پڑھایا کرتے تھے۔ مولانا خیر محمد صاحب نے فرمایا کہ: میں نے خواب میں دیکھا کہ بیت اللہ کا طواف کر رہا ہوں، خلیل اللہ طواف کر رہے ہیں، کلیم اللہ طواف کر رہے ہیں، آدم، ذبیح اللہ، یعقوب، یوسف اور حضرت ایوب (علیہم الصلوٰۃ والسلام) موجود ہیں، انبیائے کرام کی جماعت طواف کر رہی ہے اور پیچھے پیچھے سیّد عطاء اللہ شاہ بخاریؒ چل رہے ہیں۔ مولانا خیر محمد صاحب فرماتے ہیں: میں نے پوچھا: ’’شاہ جی! یہ مرتبہ کیسے ملا کہ انبیائے کرام کے ساتھ بیت اللہ کا طواف؟‘‘ تو شاہ جیؒ فرمانے لگے: ’’بس اللہ تعالیٰ نے یوں کریمی فرمادی کہ: عطاء اللہ شاہ! تم نے میرے محبوب (صلی اللہ علیہ وسلم) کی ختمِ نبوّت کے لئے زندگی جیل میں کاٹ دی، مصیبتوں اور دُکھوں میں گزار دی، آجا! نبیوں کے ساتھ طواف کرتا رہ۔‘‘

مولانا عبدالشکور لکھنویؒ:

موقع کی مناسبت سے ایک علمی لطیفہ ذہن میں آیا، رنگون میں خواجہ کمال الدین قادیانی پہنچا، بڑا چالاک اور چال باز تھا، اس نے اہلِ رنگون کے سامنے اپنے اسلام کا دعویٰ کیا اور کہا کہ: ہم غلام احمد قادیانی کو نبی نہیں مانتے۔ اور یہ بات قسمیہ کہتا، جیسا کہ بہت سے قادیانی خصوصاً ’’لاہوری‘‘ کہتے ہیں، خواہ مخواہ ہم کو بدنام کیا جاتا ہے، حالانکہ ہم پکے مسلمان ہیں، قرآن کو مانتے ہیں، حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کا سچا رسول سمجھتے ہیں۔ عوام اس کی باتوں میں آگئے، اس کی تقریریں ہونے لگیں، بہت سے مقامات پر نماز بھی پڑھائی، جمعہ تک پڑھایا۔ رنگون کے ذمہ داران بہت فکرمند تھے کہ عوام کو کس طرح اس فتنے سے محفوظ رکھیں؟ عوام میں دن بدن اس کو مقبولیت حاصل ہو رہی ہے۔ مقامی علماء سے اس کی گفتگو بھی ہوئی مگر اپنی چال بازی

210

کی وجہ سے اپنی اصلیت ظاہر نہ ہونے دیتا۔ مشورہ کرکے یہ طے پایا کہ اِمامِ اہلِ سنت حضرت مولانا عبدالشکور لکھنوی صاحبؒ کو مدعو کیا جائے، چنانچہ تار دے دیا گیا اور وہاں اس کی شہرت بھی ہوگئی کہ بہت جلد مولانا عبدالشکور صاحبؒ تشریف لارہے ہیں، وہ اس سے گفتگو کریں گے۔ خواجہ کمال الدین قادیانی نے جب مولانا کا نام سنا تو راہِ فرار اختیار کرنے میں ہی اپنی عافیت دیکھی، چنانچہ وہ مولانا کے وہاں پہنچنے سے پہلے پہلے چلا گیا۔ مولانا تشریف لے گئے، مولانا کی تقریریں ہوئیں، عوام الناس کو حقیقت سے خبردار کیا اور ذمہ داروں کی ایک مجلس میں فرمایا کہ: ’’آپ حضرات نے غور فرمایا کہ وہ کیوں یہاں سے چلا گیا؟ دراصل وجہ یہ تھی کہ وہ سمجھ گیا ہوگا کہ میں اس سے یہ سوال کروں گا کہ تو مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوّت کا قائل نہیں، مگر تو اسے مسلمان سمجھتا ہے یا کافر؟ اس کا جواب اس کے پاس نہیں تھا، جو بھی جواب دیتا پکڑا جاتا۔ وہ مرزا صاحب کو کسی حال میں کافر تو کہہ نہیں سکتا تھا، اگر مسلمان کہتا تو اس پر بھی اس کی گرفت ہوتی کہ جو شخص مدعیٔ نبوّت ہو، وہ کسی حال میں مسلمان نہیں رہ سکتا، ایسے آدمی کو مسلمان سمجھنا خود کفر ہے، میں اس سے یہی سوال کرتا اور اِن شاء اللہ اسی ایک سوال پر وہ لاجواب ہوجاتا اور اس کا راز فاش ہوجاتا، یہ سوال آپ لوگوں کے ذہن میں نہیں آیا، اِس لئے آپ لوگ پریشان رہے۔‘‘

حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ:

مولانا جمال اللہ الحسینی (پنوعاقل) مبلغ سندھ راوی ہیں کہ: دفتر ختمِ نبوّت ملتان جن دنوں بیرون لوہاری دروازے میں واقع تھا، حضرت مولانا محمد علی جالندھری رحمۃ اللہ علیہ دفتر میں تشریف رکھتے تھے، پولیس انسپکٹر آیا، اُس نے ایک کاغذ نکالا اور مولانا کے آگے رکھ کر کہا کہ: ’’آپ کا فلاں ضلع میں داخلہ بند ہے، اِس پر آپ دستخط کردیں!‘‘ مولاناؒ نے فرمایا کہ: ’’صرف دستخط یا کچھ لکھ بھی سکتا ہوں؟‘‘ اُس نے کہا

211

کہ: ’’نہیں! صرف دستخط‘‘ فرمایا: ’’میں نہیں کرتا!‘‘ اس نے کہا کہ: ’’جناب! ڈپٹی کمشنر کا حکم ہے‘‘ فرمایا: ’’کسی کا ہو، میں دستخط نہیں کرتا!‘‘ اُس نے کہا: ’’کیوں؟‘‘ فرمایا: ’’میری مرضی!‘‘ اُس نے سخت لہجے میں کہا کہ: ’’کرنے ہوں گے!‘‘ یہ کہنے کی دیر تھی کہ آپؒ نے فوراً پھرتی میں ہاتھ اس کے گلا کی طرف بڑھاکر اس کا پستول نکال کر اپنے قدموں کے نیچے رکھ کر اس پر بیٹھ گئے، مولاناؒ کے جلدی میں یہ اقدام کرنے سے وہ اتنا مبہوت ہوگیا کہ اس کی پیشانی پسینے سے شرابور ہوگئی، اس کی حالت دیکھ کر حضرت مولاناؒ نے فرمایا کہ: ’’یہ تھانہ نہیں، ختمِ نبوّت کا دفتر ہے، آپ کو پستول کا نشہ تھا، میں نے کافور کردیا۔ اب سنییٔ! میں صرف دستخط نہیں کروں گا بلکہ ضلع بندی کے آرڈر پر لکھوں گا کہ اگر اس ضلع میں مرزائی تبلیغ نہیں کرتے تو میں نہیں جاؤں گا، ضلع بندی کے اَحکام کی پابندی کروں گا، اگر مرزائی اس ضلع میں تبلیغ کرتے ہیں یا کریں گے تو پھر میں اَحکام ضلع بندی توڑ کر جاؤں گا اور اپنا فریضۂ تبلیغ ادا کروں گا۔‘‘ اُس نے کہا: ’’جناب! آپ یہی لکھ دیں‘‘ چنانچہ آپؒ نے یہ لکھ کر دستخط کرکے پستول اور کاغذ اس کو پکڑادیا، اُس نے جھک کر سلام کیا، آپؒ نے اُس کی پشت پر ہاتھ پھیر کر جواب دیا اور معاملہ ختم ہوگیا۔

قادیانیوں کے گڑھ میں دھواں دار تقریر:

مولانا جمال اللہ راوی ہیں کہ: حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ کُنری، ضلع تھرپارکر میں تبلیغ کے لئے تشریف لے گئے، یہ اُس زمانے کی بات ہے جب سندھ میں مرزائیت کا طوطی بولتا تھا، ہندو مرزائی گٹھ جوڑ، بے پناہ زمین و سرمایہ، سات اسٹیشن تک گاڑی کا مرزائیوں کی زمین سے گزرنا، اقتدار کے باعث ان کے خلاف کسی کو کچھ کہنے کی جرأت نہ تھی، ادھر بیچارے غریب مسلمان، وہ بھی ان سے مرعوب، رات کو جلسہ شروع ہوا، قادیانیوں نے بندوقیں لے کر جلسے کا محاصرہ کرلیا، انسپکٹر آیا، اس

212

نے کہا کہ: ’’مولانا! آپ تقریر نہ کریں۔‘‘ فرمایا: ’’کیوں؟ پابندی ہے؟‘‘ اُس نے کہا کہ: ’’پابندی تو نہیں!‘‘ فرمایا: ’’پابندی نہیں تو جلسہ ہوگا!‘‘ اُس نے کہا کہ: ’’اچھا! آپ تقریر کریں مگر مرزا قادیانی کا نام نہ لیں‘‘ فرمایا: ’’کیوں؟‘‘ پولیس آفیسر نے کہا کہ: ’’خطرہ ہے!‘‘ فرمایا کہ: ’’تم پولیس والے کس مرض کی دوا ہو؟ انتظام کرو!‘‘ اُس نے کہا کہ: ’’میرے پاس نفری نہیں!‘‘ فرمایا: ’’بہت اچھا!‘‘ اِسٹیج سے اُترے (جو مسجد کے صحن میں تھا)، مسجد کے ہال میں آئے، کاغذ نکالا، وصیت لکھی کہ آج شاید میری زندگی کی آخری تقریر ہے، جماعت کا نظام اس طرح چلایا جائے، میری زمین اس طرح تقسیم ہو، حساب کتاب کے متعلق پندرہ بیس منٹ میں لکھ کر فارغ ہوگئے، تن تنہا اِسٹیج پر بیٹھ گئے، اِسٹیج لگایا، تقریر شروع کردی، فرمایا:

’’مرزائیو! اگر تم مجھے مارنے کے لئے تیار ہو تو میں مرنے کے لئے تیار ہوں، ہے ہمت تو آؤ!‘‘ لوگ حیران کہ اب کیا ہوگا؟ مولاناؒ نے فرمایا کہ: ’’مجھے کہا جاتا ہے: تبلیغ نہ کرو، کیوں نہ کروں؟ قادیانی، جھوٹے نبی کی جھوٹی تبلیغ کریں اور میں سچے نبی کی سچی نبوّت پر وعظ نہ کروں! قیامت کو آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا منہ دِکھاؤں گا؟‘‘ لوگوں کی چیخیں نکل گئیں۔ فرمایا: ’’کہتے ہیں: مرزا کا نام نہ لو! کیوں جناب! اگر اتنا بُرا ہے کہ اُس کا نام لینا ٹھیک نہیں تو پھر نبی کیوں بنایا؟‘‘ فرمایا: ’’لوگو! شاید میری زندگی کی یہ آخری تقریر ہو، سن کر جاؤ!‘‘ اس جذبے سے چند منٹوں میں یہ بنیادی باتیں کہیں جو مسلمان اِدھر اُدھر تھے، مقابلے کے لئے جمع ہوگئے اور قادیانی بھاگ گئے اور حضرتؒ نے تین گھنٹے ایسی دُھواں دھار تقریر کی کہ سبحان اللہ!

دُوسری دفعہ آپؒ پھر کُنری تشریف لے گئے، بلدیہ کُنری کی حدود میں دفعہ ۱۴۴ کے تحت جلسوں پر پابندی عائد کردی گئی، آپؒ نے فرمایا کہ: ’’کُنری بلدیہ حدود سے باہر جلسہ رکھ دیا جائے‘‘ چنانچہ شہر سے ایک میل باہر جلسہ رکھا گیا، لوگ بسوں، ویگنوں، ٹرالیوں، سائیکلوں پر وہاں پہنچ گئے اور آپؒ نے وہاں معرکۃ الآرا خطاب فرمایا۔

213

قانونی موشگافیاں:

راقم الحروف کو یاد ہے کہ ایک دفعہ حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ کے زمانے میں جب ختمِ نبوّت کانفرنس کے جملہ انتظامات مکمل کرلئے گئے، مگر ضلع سرگودھا میں دفعہ ۱۴۴ کے تحت جلسوں پر پابندی عائد کردی گئی، چنانچہ حضرت مرحوم کے حکم پر جلسہ گاہ سے ایک میل دُور جہاں سے ضلع اٹک کی حدود شروع ہوتی ہے، وہاں پر پابندی نہ تھی، وہاں پر جلسہ رکھ کر احباب کی پریشانی دُور کردی۔ پابندی کے موقع پر قانون سے بچ کر اپنا کام کرنے میں حضرت مرحوم ایسی موشگافیاں نکالا کرتے تھے کہ بڑے بڑے ماہرِ قانون دنگ رہ جاتے تھے۔

حضرت جالندھریؒ کا قانونی نکتوں سے پولیس آفیسر کو زچ کرنا:

کندھ کوٹ، ضلع جیکب آباد، سندھ میں حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ مدرسے کے سالانہ جلسے پر تشریف لے گئے، پولیس آپ کے تعاقب میں تھی، مقامی احباب کو پریشانی لاحق ہوئی، اُنہوں نے تیسری منزل پر آپ کو ٹھہرایا، پولیس کو اِطلاع ہوئی، پولیس آفیسر بھاری بھرکم ہانپتا کانپتا تیسری منزل پر مخبری پاکر آدھمکا۔ حضرت مرحوم کو ضلع جیکب آباد کی حدود میں داخلہ بندی کا آرڈر دے کر کہا کہ: ’’آپ اس پر دستخط کردیں!‘‘ آپ نے آرڈر دیکھتے ہی فرمایا کہ: ’’یہ انگلش میں ہے اور میں انگلش نہیں جانتا، نہ معلوم اس میں کیا لکھا ہے؟ ایس ایم سے اُردو ترجمہ کراکر لاؤ، پھر دستخط کروں گا۔‘‘ وہ چلا گیا، آپؒ نے منتظمینِ جلسہ کو بلاکر کہا کہ: ’’مشورہ کرلو! اگر تقریر کرانی ہے تو میں حاضر ہوں۔‘‘ وہ مشورے میں لگ گئے، اتنے میں آفیسر ترجمہ کراکر آگیا، آپ نے دیکھ کر فرمایا کہ: ’’اس پر مہر نہیں ہے! مجھے کیا معلوم کہ کس نے ترجمہ کیا ہے؟ مہر لگواکر لاؤ!‘‘ وہ بے چارہ پھر مہر لگوانے چلا گیا، آپؒ نے پھر منتظمین کو کہا کہ: ’’اب بھی وقت ہے، میری تقریر کرانی ہے تو جلدی کرو!‘‘ میر صبح صادق کھوسو، جو

214

بعد میں قومی اتحاد کی عبوری مارشل لاء حکومت میں وفاقی وزیر بھی بنے، وہ اور دُوسرے احباب جمعیۃ علمائے اسلام نے مشورہ کرکے کہا کہ: ’’آپ کی تقریر کے بعد مقامی احباب کو پولیس تنگ کرے گی!‘‘ فرمایا: ’’اس کا تو میرے پاس حل ہے، میں اِسٹیج پر چلا جاتا ہوں، آپ اعلان کردیں کہ ہمارا جلسہ ختم ہے۔ میں اعلان کردوں گا کہ مدرسے کا جلسہ ختم ہے اور میرا جلسہ شروع ہے، جو میری تقریر سننا چاہے بیٹھ جائے، ظاہر ہے کہ لوگ بیٹھے رہیں گے، میں تقریر کرلوں گا اور آپ یہ کہہ سکیں گے کہ: جناب! ہم نے تو جلسہ بند کردیا تھا مولوی صاحب ہمارے بزرگ تھے وہ تقریر کرنے بیٹھ گئے، اب اس میں ہمارا کیا قصور ہے؟‘‘ مگر مقامی احباب منتظمینِ جلسہ اس تجویز پر بھی آمادہ نہ ہوئے۔ اتنے میں پولیس آفیسر پھر مہر لگواکر آگیا، آپؒ نے فرمایا کہ: ’’اس میں لکھا ہے کہ تمہارا داخلہ بند ہے، میں تو داخل ہوچکا ہوں، لہٰذا میں لکھوں گا کہ: ’’دستخطوں کے بعد جو پہلی گاڑی ملے گی اُس پر چلا جاؤں گا!‘‘ انسپکٹر نے کہا: ’’ٹھیک ہے!‘‘ آپؒ نے دستخط کردئیے، جلسے والوں کو بلاکر فرمایا کہ: ’’جب تک ٹرین نہ آئے، میں قانوناً یہاں رہ سکتا ہوں، زبان بندی ہے نہیں، اس لئے اب بھی تقریر کے لئے گنجائش موجود ہے!‘‘ اس پر بھی وہ آمادہ نہ ہوسکے۔

مجاہد ملتؒ کی تین طبقوں کو قیمتی نصائح:

ایک دفعہ ایک جلسے میں دورانِ تقریر فرمایا:

دیکھو! میں اپنی عمر کے آخری پیٹے میں ہوں، بوڑھا ہوگیا ہوں، شاید جدائی کا وقت قریب ہو، میں تین طبقوں سے ایک ہی درخواست کرنا چاہتا ہوں، شاید آپ اس پر عمل کرکے میری قبر ٹھنڈی کریں:

۱:۔۔۔ سرکاری حکام اور اَربابِ حل و عقد کو میری وصیت ہے کہ وہ عقیدۂ ختمِ نبوّت کے وفادار بن کر رہیں اور کسی عہدے کے لالچ یا دُنیا کی عارضی عزّت کے

215

بدلے جنابِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بے وفائی کرتے ہوئے منکرینِ ختمِ نبوّت کی مدد یا حوصلہ افزائی نہ کریں، ورنہ ان کا حشر وہی ہوگا جو ان سے پہلے ان حکام کا ہوچکا ہے، جنھوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ختمِ نبوّت کا عہد و فا توڑ دیا اور دُشمنانِ عقیدۂ ختمِ نبوّت کے ہاتھ مضبوط کئے، پھر چند ایسے بدنامِ زمانہ حکام اور افسران کے واقعات بھی سنائے۔

۲:۔۔۔ علمائے کرام کو خبردار کرتا ہوں کہ ان کی یہ درس گاہیں جو ان کے لئے آرام گاہیں بن چکی ہیں، انہیں میسر نہیں رہیں گی، جب ایسی حالت آجائے تو ثابت قدمی سے دِین پر خود بھی قائم رہیں اور اِشاعتِ دِین بھی کرتے رہیں، ایسے حالات میں رستوں پر بیٹھ کر اور درختوں کے سائے میں ڈیرہ ڈال کر اللہ کریم کا دِین پڑھاتے اور سکھاتے رہیں، آپ کے اسلافؒ نے ایسا کرکے دِکھایا ہے، اس کے برعکس ایسے حالات بھی آئیں گے کہ ملازمت یا عہدے کا لالچ دے کر علماء کو خدمتِ دِین سے باز رکھا جائے گا، خدارا! بھوکوں مرجانا، مگر اللہ کریم کے دِین سے بے وفائی کرکے اس دُنیا کی فنا ہونے والی عزّت پر نقدِ دِین نہ لٹوانا، دِین سکھاتے رہنا بے شک کچھ ہوجائے۔

۳:۔۔۔ عام لوگوں سے میری درخواست ہے کہ ایک وقت ایسا آسکتا ہے جب عقیدۂ ختمِ نبوّت کا نام لینا جرم بن جائے گا، اللہ کرے ایسا نہ ہو لیکن اگر حالات تمہیں ایسے موڑ پر لاکھڑا کردیں تو جان دے دینا مگر باوفا نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دُنیا کی عارضی تکلیف پر بے وفائی نہ کرنا اور اپنے عقیدے پر جمے رہنا، یہاں تک کہ موت تمہیں ان عارضی چیزوں سے بچاکر اللہ کریم کی دائمی نعمتوں والی جنت میں داخل کردے۔

قومی امانت کی حفاظت کے چند واقعات:

مولانا عبدالرؤف ازہری راوی ہیں کہ ۱۹۷۰ء کے انتخابات میں مجاہدِ ملتؒ کو

216

اپنے رفیقِ راہِ وفا مولانا مفتی محمودؒ کے انتخابی حلقے ڈیرہ اسماعیل خان جانے کا اتفاق ہوا، میں ساتھ تھا، زادِ راہ ان کی جذبہ فروشی اور ان کی گرمیٔ نفس کے سوا صرف ایک بستر ایک لوٹا، ایک بکس جس میں چند کتب اور ادویات اور پیرانہ سالی کا سہارا عصا تھا مجھے بستر اور لوٹا دیتے اور خود بکس اور عصا اُٹھاتے، رات کو خود اپنی عبا (اوور کوٹ) میں سوجاتے اور مجھے سونے کے لئے بستر عنایت کردیتے۔ واپسی پر ڈیرہ اسماعیل خان سے ہمیں چکوال آنا تھا، راستے میں میانوالی رُکنا پڑا، جب بس سے اُترے تو تانگے والے نے روپیہ مانگا، آپؒ نے آٹھ آنے دینا چاہے، وہ راضی نہ ہوا، تو آپ پیدل چل پڑے اور مجھے کہتے جاتے تھے: ’’دیکھو! ہمارے پاس مجلس تحفظِ ختمِ نبوّت کا پیسہ امانت ہے، اگر آج اپنے آرام و راحت پر اُڑا دُوں تو کل اللہ تعالیٰ کو کیا جواب دُوں گا؟‘‘ اب میں نے کوشش کی کہ بستر اور بکس دونوں بھاری ہیں دونوں خود اُٹھالوں، اس پر ناراض ہوکر فرمانے لگے: ’’یہ انصاف نہیں کہ تم سارا بوجھ اُٹھاکر چلو اور میں خالی ہاتھ چلوں!‘‘

مولانا محمد عبداللہ ساہیوال نے فرمایا کہ: ایک دفعہ میں اور مولانا خیر محمدؒ (جو مولانا محمد علی جالندھریؒ کے اُستاذ اور مربی تھے) ایک تبلیغی سفر پر تھے، ہمیں لاہور میں ایک جلسے سے خطاب کرنا تھا، دورانِ سفر ہمیں دیوآشتا (بھوک) نے ستایا، مولانا خیر محمدؒ نے مجھے فرمایا: ’’کوئی سستی چیز پکوڑے وغیرہ لے کر آنا، زیادہ خرچ نہ کرنا، محمد علی کو چل کر حساب دینا ہے!‘‘ یہ وہ زمانہ تھا جن دنوں وہ برِصغیر (متحدہ پاک و ہند) کے مدرسہ خیرالمدارس میں خازن اور مدرّس تھے۔

مولانا حامد علی رحمانی ؒ کہتے ہیں: ایک بار میں نے مجاہدِ ملتؒ کے ساتھ اپنے شہر حسن اَبدال سے بالاکوٹ تک سفر کیا، راستے میں بھوک لگی تو آپؒ نے مکئی کے دو بھٹے لئے، ایک مجھے عنایت کردیا، دُوسرا خود کھانے لگ گئے، مجھے کچھ عجیب سا لگا، وہ میرے انداز سے بھانپ گئے، فرمایا: ’’تیری ناگواری کا مجھے احساس ہے، مگر میری بھی

217

مجبوری ہے، میرے پاس پیسہ قوم کا ہے، جو اُنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ختمِ نبوّت کی حفاظت کے لئے مجھے دیا ہے، آج کھاپی کر اُڑالوں تو کل قیامت کو جواب دینا پڑے گا۔‘‘

وعدے کا پاس:

مولانا محمد صدیق صاحب ناظم مدرسہ خیرالمدارس (ملتان) کہتے ہیں کہ مولاناؒ ایک بار ہمارے گھر تشریف لائے تو لنگڑاتے ہوئے چلے آرہے تھے، اپنی بیٹی سے کہا: ’’مجھے ہلدی، گھی اور رُوئی کا مرہم بنادو!‘‘ پھر ہمیں پورا واقعہ سنایا کہ تقریر کے لئے کہیں وعدہ کر رکھا تھا، ریل گاڑی اس طرف ۲۴ گھنٹوں میں صرف ایک بار جاتی تھی، آپؒ تأخیر سے اسٹیشن پر پہنچے، گاڑی چل چکی تھی، بھاگے اور گر گئے، گھٹنے پر سخت چوٹ لگی مگر اس چوٹ کا زخم اس چوٹ کے زخم پر حاوی نہ ہوسکا جو مرزا قادیانی کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تاج و تخت ختمِ نبوّت پر شب خون مارنے سے ان کے دِل پر لگ چکی تھی، سنبھلے اور بھاگنا شروع کیا، بستر وغیرہ وہیں پھینک دیا مگر گاڑی پکڑنے میں کامیاب ہوگئے۔ کہتے تھے: ’’اللہ کا شکر ہے، وعدہ پورا ہوگیا۔۔۔!‘‘

مولانا حامد علی رحمانی صاحبؒ کہتے ہیں کہ: آپؒ نے ہمارے ٹیکسلا کے مدرسے کے جلسے سے خطاب کرنے کے لئے وقت دے رکھا تھا، آپؒ نے مری میں تقریر کرکے یہاں پہنچنا تھا، ہم نے بار بار اعلان کرایا کہ آپ تشریف لائیں گے، آپؒ جس موٹر میں سوار تھے وہ راستے میں خراب ہوگئی، آپؒ کی تأخیر ہمارے لئے باعثِ تشویش بن گئی، مگر مجھے یقین تھا کہ وہ وعدہ ضرور پورا کریں گے، رات ٹھیک گیارہ بجے آپؒ بذریعہ ٹیکسی اور کچھ پیدل سفر کرکے ٹیکسلا پہنچ گئے، ہمارے چہرے خوشی سے کھل گئے، معذرت خواہی کے انداز میں فرمایا: ’’تمہیں میرے انتظار سے تکلیف ہوئی ہوگی، مگر گاڑی خراب ہوگئی، بس اللہ پاک نے اپنے کرم سے پہنچادیا۔‘‘ میں نے عرض کیا:

218

’’کھانا کھالیں!‘‘ فرمایا: ’’بس پانی کا گلاس پلادو!‘‘ پھر تقریر شروع کی اور متواتر دو گھنٹے تک بولتے رہے، ایسے لگتا تھا گویا اِلہامی تقریر ہے، سامعین پر گریہ طاری کردیا:

’’آتے ہیں غیب سے یہ مضامین خیال میں!‘‘

مؤمنانہ فراست:

دِین پور شریف عرف جٹووالا (ضلع بہاولنگر) کے مدرسہ والوں نے اپنے سالانہ جلسے میں آپؒ کو مدعو کیا، جلسے کے اشتہار میں آپؒ کے ساتھ دیگر علمائے کرام کے اسمائے گرامی بھی تھے۔ تاریخِ جلسہ سے تقریباً دو تین دن قبل کسی بداندیش نے منتظمینِ جلسہ کی جانب سے جعلی خطوط تمام مدعوین کو اِرسال کئے جن کا مضمون تھا: ’’جلسے کا پروگرام بعض ناگزیر وجوہ کی بنا پر ملتوی کردیا گیا ہے۔‘‘ آپؒ اپنی مؤمنانہ فراست سے بھانپ گئے کہ معاملہ کچھ اور ہی ہے۔ لہٰذا جلسے کے پہلے روز ہی دِین پور تشریف لے گئے، پتا چلا کہ کسی دُشمنِ دِین نے تمام مدعوین کو ایسے خطوط لکھ دئیے تھے، لہٰذا کوئی صاحب بھی تشریف نہ لائے، آپؒ اکیلے تین دن مختلف اوقات میں تقاریر کرتے رہے، منتظمینِ جلسہ خوش تھے کہ ان کا جلسہ کامیاب ہوگیا، سامعین کا اجتماع اپنے آپ کو سعادت مند سمجھ رہا تھا کہ اس نے ایسے خطیب کی باتیں سن لیں جن کا بدل ان کی آنکھیں اب نہیں دیکھ سکیں گی۔ مولانا محمد علیؒ اس لئے خوش تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دِین کی اشاعت کے لئے ایک پروگرام طے پایا تھا، اللہ نے اُسے کامیاب کردیا، منتظمینِ جلسہ کو ندامت ہوئی، نہ سامعین کو حسرت رہی۔

مسٹر جسٹس منیر نے اپنی انکوائری رپورٹ میں مولانا محمد علیؒ کے متعلق لکھا:

’’اور محمد علی جالندھریؒ نے، جو مجلس اَحرار کے ممتاز ممبر تھے، اپنے آپ کو اس تحریک (ختمِ نبوّت) کا دائمی مبلغ بنادیا، گویا احمدیوں (مرزائیوں) کی مخالفت ہی اُن کی زندگی کا واحد مقصد تھا۔‘‘

219

واضح اور صاف ستھرا حساب کتاب:

مولانا حبیب اللہ فاضل رشیدی کہتے ہیں کہ: ایک بار رات کو آپؒ جماعت کا حساب چیک کر رہے تھے، آمدن اور خرچ میں ایک پیسے کا فرق تھا، حساب کو برابر کرنے کے لئے رات بھر جاگتے رہے، جب صبح رُفقاء نے اس شب بیداری کا سبب پوچھا تو راز کھلا کہ جماعت کا ایک پیسہ کہیں ضائع ہو رہا تھا، انہیں اس کی تلاش تھی، لہٰذا جب تک وہ مل نہ گیا، اُن کی آنکھ سو نہ سکی۔

مولانا عبدالرحیم اشعر کہتے ہیں کہ: ایک بار سفر پر جاتے وقت مجھے بلاکر فرمایا: ’’یہ خزانے کی چابی ہے، تم فرض کرلو، محمد علی مرگیا، اب تم جماعت کا حساب کتاب چیک کرو اور دیکھو کہیں میری کوئی ایسی کوتاہی تو نہیں رہ گئی جو کل آپ حضرات کے لئے پریشانی کا باعث بنے!‘‘ میں نے سیف کھولا تو اندر ایک کاغذ تھا جس پر نو۹ مدات آمد اور خرچ کی درج تھیں، میں نے دیکھا تو تمام حساب برابر تھا اور اتنا واضح کہ مجھے سمجھنے میں کوئی دُشواری پیش نہ آئی۔

جماعت کے فنڈات کی حفاظت اُنہیں نہایت عزیز تھی، فرمایا کرتے تھے: ’’مجھے لوگ جماعت کے فنڈات کے استعمال میں بخیل ہونے کا طعنہ تو دے سکتے ہیں، مگر فضول خرچی کا الحمدللہ! طعنہ نہیں دے سکیں گے۔‘‘

جماعت کے فنڈ کو مستحکم کرنے کا نسخۂ کیمیا:

آپؒ نے ایک دفعہ کسی کارکن کو فرمایا: ’’آپ کو بتاؤں جماعت کے فنڈات کیونکر بچائے اور بڑھائے جاتے ہیں؟ کارکنانِ جماعت اپنی ذات پر کم از کم یا بالکل ہی خرچ نہ کریں تو دِینی جماعتیں امیر بن جائیں۔‘‘ پھر وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: ’’دیکھو! جب آپ دِینی پروگرام سے واپسی پر ریلوے اسٹیشن یا بس اسٹاپ پر اُتریں تو وہاں سے اپنی جائے منزل تک سستی سے سستی سواری لیا کریں، اگر ٹیکسی اور رکشہ

220

ہوں تو رکشہ کریں، رکشہ اور تانگہ ہوں تو تانگے پر سوار ہوں اور اگر وہاں تانگے کے لئے عام سواریاں ہوں تو اکیلے تانگہ کرایہ پر نہ لیں، عام سواریوں کے ساتھ سوار ہوکر سفر کریں، اس سے نفس بھی پامال ہوگا اور عام لوگوں کے ساتھ سفر کرنے میں ان سے تعلق بھی پیدا ہوگا، جو بذاتِ خود نیکی کا کام ہے اور اگر مسافت زیادہ نہ ہو تو پیدل چل کر آئیں، میرے اس فارمولے پر عمل کریں، آپ کی جماعت کے فنڈات بڑھتے جائیں گے، الحمدللہ! میں تو ایسا ہی کرتا ہوں۔‘‘

مشنِ ختمِ نبوّت سے لگاؤ:

ایک دفعہ آغاشورش کاشمیریؒ نے اپنی اُفتادِ طبع کے باعث مولانا محمد علی جالندھریؒ کے خلاف اپنے ’’چٹان‘‘ میں ایک نوٹ لکھ مارا، کچھ عرصہ بعد مرزائیوں کے خلاف ’’چٹان‘‘ میں لکھنے کے باعث آغاشورشؒ کے خلاف مقدمہ دائر ہوگیا، گرفتار ہوگئے، مولانا محمد علی جالندھریؒ نے ان کے مقدمے کی پیروی شروع کردی، مولانا احتشام الحق تھانویؒ کے پاس کراچی گئے اور اَیوب خان کو شورش کاشمیریؒ کی رہائی کے لئے کلمۂ خیر کہنے کو فرمایا۔ مولانا احتشام الحق تھانویؒ نے مولانا محمد علی صاحبؒ کو آغاشورش کاشمیریؒ کا تیز و تند نوٹ یاد دِلایا جو وہ آپ کے خلاف لکھ چکے تھے۔ اس پر مولانا محمد علیؒ نے مولانا احتشام الحق تھانویؒ سے فرمایا کہ: ’’شورش نے جو کچھ لکھا ہے، وہ میں نے پڑھا ہے، آئندہ بھی وہ لکھے گا، اس سے انکار نہیں، مگر اس وقت شورش کاشمیری چونکہ مسئلۂ ختمِ نبوّت بیان کرنے کی پاداش میں گرفتار ہوئے اور ختمِ نبوّت کے مجاہد سپاہی ہیں، اس لئے ان کے مقدمے کی پیروی کرنا میرا اَخلاقی و جماعتی فریضہ ہے، اس وقت میں شورش کی مدد کرنا عبادت سمجھتا ہوں۔‘‘ مولانا احتشام الحق تھانویؒ نے یہ سنا تو جھک گئے، ہر آنے والے سے فرماتے کہ: ’’مولانا محمد علی جالندھری کو اپنے مشن ختمِ نبوّت سے جو لگاؤ ہے، اس کی کوئی نظیر پیش نہیں کرسکتا!‘‘

221

قادیانیت کا تعاقب:

مولانا مرحوم فرمایا کرتے تھے کہ: ’’اگر قادیانی چاند پر گئے تو وہاں پر بھی ان کا تعاقب کیا جائے گا۔‘‘ آج مولاناؒ کے اِخلاص کی برکت ہے کہ اس وقت دُنیا کے تمام برِاعظموں میں ختمِ نبوّت کا کام ایک مربوط نظام کے تحت ہو رہا ہے۔

ختمِ نبوّت کے کاز سے گہری وابستگی:

مجاہدِ ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھری صاحبؒ خود یہ واقعہ سنایا کرتے تھے کہ: کسی سفر میں وہ اسٹیشن پر ایسے وقت پر پہنچے کہ ریل کے آنے میں کچھ وقت تھا، غور کیا کہ اس مختصر سے فارغ وقت کو کیسے کام میں لایا جائے؟ چائے کے اسٹال پر گئے، چائے نوش کی، پیسے ادا کئے اور چائے والے سے کہا: ’’میرا نام محمد علی جالندھری ہے، میں مجلس تحفظِ ختمِ نبوّت کا نمائندہ ہوں، میرا پتا یہ ہے، اگر خدا نہ کرے کہ کسی وقت کوئی مرزائی تمہارے علاقے میں شرارت کرے تو مجھے خط لکھ دینا۔‘‘ مولانا مرحوم فرماتے تھے کہ: سات برس بعد اُس شخص کا خط آیا کہ ہمارے قصبے میں مرزائی مبلغین قادیانیت کی تبلیغ کر رہے ہیں اور اُنہوں نے ایک خاندان کو مرتد کرلیا ہے۔ یہ خط ملتے ہی مولانا محمد حیاتؒ فاتح قادیان وہاں پہنچے، قادیانیوں کو چیلنج کیا تو قادیانی بھاگ گئے اور نومرتد گھرانے کو قادیانیت کی حقیقت سمجھائی تو وہ دوبارہ مشرف باسلام ہوا۔ اس کے بعد قادیانیوں کو اس قصبے کا رُخ کرنے کی جرأت نہ ہوئی۔

مولانا تاج محمودؒ نے ۱۹۷۴ء کی تحریک ختمِ نبوّت میں کامیابی کے بعد فیصل آباد کے بڑے قبرستان شہدائے ختمِ نبوّت ۱۹۵۳ء کی قبروں کو تلاش کرکے ان پر پھول ڈالتے ہوئے لوگوں کو دیکھا تو آنکھوں میں آنسو بھر آئے، قبرستان کی دیوار پر چڑھ گئے، لوگ جمع تھے، فرمایا: ’’لوگو! آج کے تمہارے اس عمل کو دیکھ کر مجھے مولانا محمد علی جالندھریؒ کی بات یاد آگئی، جب ۱۹۵۳ء کی تحریک میں ہمارے ساتھیوں و کارکنوں کو

222

گولیوں سے بھون دیا گیا تو اس کے بعد مولانا محمد علی جالندھریؒ تقریروں میں فرمایا کرتے تھے کہ: آج جن پر حکومت نے مظالم ڈھائے ہیں، ایک وقت آئے گا کہ لوگ ان کی قبروں کو تلاش کرکے ان پر پھولوں کی چادریں چڑھائیں گے۔‘‘

۱۹۵۳ء کی تحریکِ ختمِ نبوّت سے رہائی کے بعد حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ اپنے گاؤں باڑہ، واقع صادق آباد تشریف لائے۔ باڑہ، صادق آباد سے چودہ میل کے فاصلے پر ہے۔ ایک دن لاہور سے مولانا عبدالرحیم اشعر کا گاؤں میں شام کے قریب تار آیا، نہر کے بنگلے پر آدمی بھیجا مگر اُسے پڑھنے والا کوئی نہ ملا، پورے گاؤں میں انگریزی جاننے والا کوئی نہ تھا، بالآخر ہندوستان کے بارڈر پر واقع پاکستان کی ہیڈچوکی کے انچارج سے جاکر ساتھی پڑھوا لائے، تو اس میں تھا کہ: ۹؍تاریخ (مہینہ یاد نہیں رہا) کو سر ظفراللہ خان منیر انکوائری میں پیش ہوگا، اس کی گواہی کے وقت مولاناؒ کا ہونا ضروری تھا، کیونکہ تنقیحات و جرح وکلاء کے لئے آپ کی نگرانی میں تیار ہونی تھی، چنانچہ اس وقت گھوڑی پر صادق آباد کے لئے اکیلے روانہ ہوئے، لیکن وقت اتنا ہوچکا تھا کہ ہزار تیز رفتاری کے باوجود گھوڑی پر پہنچنا مشکل تھا، گاڑی بھی وقت پر آئی، مولاناؒ بھی سوار ہوگئے، یہ کیسے ہوا؟ آج تک سمجھ میں نہیں آیا۔

صادق آباد اسٹیشن کے قریب ایک دوست کے ڈیرے پر گھوڑی باندھ دی، خود ٹرین پر سوار ہوگئے، ہم لوگ صبح جاکر لے آئے۔

باڑہ سے ماچھی گوٹھ اسٹیشن ۹میل ہے، حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ نے سفر کرنا تھا، مولانا عزیزالرحمن راوی ہیں کہ: میں آپ کو سائیکل پر لے کر روانہ ہوا، دو میل بعد میرے لئے سائیکل سنبھالنا مشکل ہوگیا، مولاناؒ نے وجہ پوچھی تو میں نے عرض کیا کہ: میرے ایک پھنسی نکل آئی تھی، اب وہ پھٹ گئی ہے، اس لئے سائیکل پر بیٹھنا اور چلانا میرے لئے مشکل ہے۔ یہ سن کر مولاناؒ سائیکل سے اُترے، میرے سر پر ہاتھ پھیرا، فرمایا کہ: ’’جاؤ! اللہ خیر کرے گا‘‘ حضرتؒ پیدل روانہ ہوگئے، میں نہر کے

223

پُل پر کھڑا دیکھتا رہا کہ دُوسرے چک کی سڑک سے ہمارے چک کی سڑک جب ملی تو وہاں پر ایک ٹریکٹر والا آکر رُکا اور مولاناؒ چپ کرکے بیٹھ گئے۔ کچھ عرصہ بعد مولاناؒ سے ملاقات ہوئی تو عرض کیا: حضرت! اس دن کیسے پہنچے؟ فرمایا کہ: ’’ٹریکٹر والے نے ٹریکٹر کھڑا کیا، میں بیٹھ گیا، ماچھی گوٹھ اسٹیشن پر جاکر اُس نے کھڑا کیا، میں اُتر گیا۔ نہ اُس نے مجھ سے کچھ پوچھا، نہ میں نے کچھ بتایا۔‘‘

مردِ غازی مولانا عبدالستار خان نیازیؒ:

۱۹۵۳ء کی تحریکِ ختمِ نبوّت میں مولانا عبدالستار خان نیازیؒ نے سزائے موت کا فیصلہ سن کر کہا: ’’بس۔۔۔! اس سے بھی بڑی سزا ہے تو دے لیجئے، میں ناموسِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر سب کچھ قربان کرنے کو تیار ہوں۔‘‘

۱۹۵۳ء کی تحریکِ ختمِ نبوّت میں اپنی اسیری کے بارے میں فرماتے ہیں کہ: مجھے اپنی زندگی پر فخر ہے کہ جب تحریک ختمِ نبوّت کے مقدمے کے بعد میری رہائی ہوئی تو پریس والوں نے میری عمر پوچھی، اس پر میں نے کہا تھا: ’’میری عمر وہ سات دن اور آٹھ راتیں ہیں جو میں نے ناموسِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے تحفظ کی خاطر پھانسی کی کوٹھڑی میں گزاری ہیں، کیونکہ یہی میری زندگی ہے اور باقی شرمندگی! مجھے اپنی زندگی پر ناز ہے۔‘‘

گرفتاری اور پھانسی کی سزا:

آپ کا پروگرام تھا کہ قصور سے بس کے ذریعے اسمبلی گیٹ تک پہنچ جائیں اور اسمبلی میں تقریر کرکے ممبرانِ اسمبلی کو تحریک کے بارے میں مکمل تفصیلات سے آگاہ کردیں، لیکن قصور میں آپ جن لوگوں کے پاس ٹھہرے ہوئے تھے، اُنہوں نے غداری کرتے ہوئے ملٹری کو بتادیا، آپ صبح کی نماز کی تیاری کر رہے تھے کہ اپنے ایک کارکن مولوی محمد بشیر مجاہدؔ کے ہمراہ گرفتار کرلئے گئے۔

224

قصور سے گرفتار کرکے آپ کو لاہور شاہی قلعہ لایا گیا، جہاں سے بیانات لینے کے بعد ۱۶؍اپریل کو آپ جیل منتقل کردئیے گئے اور آپ کو چارج شیٹ دے دی گئی، ملٹری کورٹ میں کیس چلا، جو ۱۷؍اپریل کو شروع ہوا اور مئی تک چلتا رہا۔

۷؍مئی کی صبح کو اسپیشل ملٹری کورٹ کا ایک آفیسر اور ایک کیپٹن آپ کو بلاکر ایک کمرے میں لے گئے جہاں قتل کے نو۹ اور ملزم بھی تھے، مگر ڈی ایس پی فردوس شاہ کے قتل کا کیس ثابت نہ ہوسکا اور آپ کو بَری کردیا گیا۔

دُوسرا کیس بغاوت کا تھا، جس میں آپ کو سزائے موت کا حکم سنایا گیا جو اس طرح تھا:

"You will be hanged by neck till you are dead."

ترجمہ:۔۔۔ ’’تمہاری گردن پھانسی کے پھندے میں اس وقت تک لٹکائی جائے گی جب تک تمہاری موت نہ واقع ہوجائے۔‘‘

آرڈر سناتے ہوئے افسر نے کہا:

افسر:۔۔۔ "Pleas sign it." (اس پر دستخط کیجئے)۔

علامہ نیازی:۔۔۔ "I will sign it when I kiss the rob." (میں جب پھانسی کے پھندے کو بوسہ دُوں گا، اُس وقت اس پر دستخط کروں گا)۔

افسر:۔۔۔ "You will have sign it" (تمہیں اس پر دستخط کرنے ہوں گے)۔

علامہ نیازی:۔۔۔ "I am already told you that I will sign it when I kiss the rob." (میں تمہیں پہلے ہی بتاچکا ہوں کہ جس وقت پھانسی کے پھندے کو بوسہ دُوں گا، اُس وقت دستخط کروں گا، میں جیل میں ہوں اور آپ کے

225

پنجوں میں ہوں، مجھے لے جاؤ اور پھانسی دے دو)۔

افسر:۔۔۔ "Mr. Niazi! our officer will enquire from us whether you were serve with the notice in death warrant." (مسٹر نیازی! ہمارے آفیسر ہم سے پوچھیں گے کہ تم نے نوٹس دے دیا ہے یا نہیں؟ تو میں کیا جواب دُوں گا؟)

مولانا نیازی:۔۔۔ "If you so fear from your officers, well I sign it for you." (اگر آپ کو اپنے افسران ہی کا خوف ہے تو آپ کی خاطر اس پر دستخط کئے دیتا ہوں)۔

چنانچہ آپ نے بڑے اطمینان سے اس پر دستخط کردئیے، افسر نے آپ کی ہمت کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: تم میری ہمت (Moral) کے بارے میں پوچھتے ہو، تو وہ آسمانوں سے بھی بلند ہے، تم اس کا اندازہ نہیں کرسکتے۔

افسر کے جانے کے بعد جب آپ کمرے میں اکیلے رہ گئے تو تائیدِ ایزدی سے آپ کو سورۂ ملک کی یہ آیت یاد آگئی: ’’اَلَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیٰوۃَ لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحسَنُ عَمَـلًا‘‘ آپ نے اس آیت سے یہ تأثر لیا کہ موت و حیات کا خالق صرف اللہ تعالیٰ ہے، یہ لوگ میری زندگی کا سلسلہ منقطع نہیں کرسکتے، اگر اس مقصد کے لئے جان بھی جائے تو اس سے بڑی زندگی کیا ہوسکتی ہے۔۔۔؟

ایک لمحے کے لئے آپ پر خوف کا حملہ ہوا، لیکن فوراً زبان پر یہ شعر آگیا:

کشتگانِ خنجر تسلیم را

ہر زماں از غیب جانِ دیگر است

آپ وجد کی حالت میں یہ شعر بار بار پڑھتے اور جھومتے، اسی عالم میں آپ کمرے سے باہر آگئے تو ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل مہر محمد حیات نے یہ خیال کیا کہ ملٹری کورٹ نے آپ کو بَری کردیا ہے، چنانچہ اُس نے کہا: ’’نیازی صاحب! مبارک ہو،

226

آپ بَری ہوگئے!‘‘ آپ نے فرمایا: ’’میں اس سے بھی آگے نکل گیا ہوں!‘‘ اُس نے کہا: ’’کیا مطلب؟‘‘ آپ نے فرمایا: ’’اب اِن شاء اللہ! حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے غلاموں اور عاشقوں کی فہرست میں میرا نام بھی شامل ہوگا۔‘‘ وہ پھر بھی نہ سمجھا تو آپ نے فرمایا: ’’میں کامیاب ہوگیا!‘‘

آپ کی سزائے موت کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پورے ملک میں پھیل گئی، ادھر جیل میں قیدی تک آپ کو دیکھ کر روتے تھے، جب آپ کو پھانسی کی کوٹھڑی میں لے جایا گیا تو آپ نے لوگوں کو اِطمینان دِلایا اور فرمایا کہ: ’’کتنے عاشقانِ رسول جامِ شہادت نوش کر رہے ہیں، اگر میں بھی اس نیک مقصد کے لئے جان دے دُوں تو میری یہ خوش قسمتی ہوگی۔‘‘

حضرت مولانا نیازی سات دن اور آٹھ راتیں پھانسی کی کوٹھڑی میں رہے اور ۱۴؍مئی کو آپ کی سزائے موت عمرقید میں تبدیل کردی گئی اور پھر مئی ۱۹۵۵ء کو آپ کو باعزّت طور پر بَری کردیا گیا۔

۱۹۷۴ء میں جب دوبارہ مسلمانانِ پاکستان نے تحفظِ ختمِ نبوّت کے لئے تحریک چلائی تو آپ ایک بار پھر سر بکف ہوکر میدانِ عمل میں اُترے، اپوزیشن کی تمام دِینی و سیاسی جماعتوں پر مشتمل آل پاکستان مجلسِ عمل تحفظ ختمِ نبوّت کی تشکیل ہوئی اور آپ کو مرکزی نائب صدر منتخب کیا گیا، آپ نے ملک گیر دورے فرماکر قادیانی مکر و فریب کے جال کو تار تار کیا اور مسلمانوں کے دِلوں میں عشقِ رسول کی شمع روشن کی۔ اس سلسلے میں آپ کو جن پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا، اخبارات کی فائلیں ان کی شاہد ہیں۔ آپ نے اپنی بیماری، بڑھاپے اور حکومت کی ستم رانیوں کی پروا نہ کی، یکم ستمبر ۱۹۷۴ء کو بادشاہی مسجد لاہور میں مجلسِ عمل کے زیرِ اہتمام تاریخی جلسے سے خطاب کیا اور بالآخر ۷؍ستمبر ۱۹۷۴ء کو قومی اسمبلی نے مرزائیوں کو غیرمسلم اقلیت قرار دے دیا۔

(دو ناموَر مجاہد، صدیق ہزاروی)

227

خان عبدالرحمن خان، والیٔ افغانستان:

والیٔ افغانستان کو مرزا قادیانی نے اپنی نبوّت و مسیحیت کا خط لکھا، جس کے جواب میں آپ نے صرف اتنا تحریر کیا: ’’اینجابیا!‘‘ جس کا پنجابی میں ترجمہ یہ ہے کہ: ’’ایتھے آ!‘‘ سیّد عطاء اللہ شاہ بخاریؒ فرمایا کرتے تھے کہ: مرزا چلا جاتا تو اس کی گردن اُتار کر فرماتے: ’’آں جابرو!‘‘ جہنم میں دفع ہوجاؤ۔

اُستاد العلماء مولانا حکیم محمد عالم آسی امرتسری:

حضرت مولانا محمد عالم آسی امرتسری، حضرت مولانا مفتی غلام قادر بھیروی سے شرفِ تلمذ رکھتے تھے، تبلیغِ سنت اور رَدِّ مرزائیت میں کارہائے نمایاں سرانجام دئیے، تردیدِ مرزائیت میں آپ نے دو ضخیم جلدوں میں (۱۳۵۲ھ ربیع الاوّل، مطابق ۱۹۳۳ء جولائی) وہ عظیم الشان تاریخی تصنیف ’’الکاویہ علی الغاویہ‘‘ (چودھویں صدی کے مدعیانِ نبوّت) عربی اور اُردو میں علیحدہ علیحدہ شائع فرمائی، یہ نادرِ روزگار کتاب ایک ہزار چھیاسٹھ صفحات پر پھیلی ہوئی ہے، پہلی جلد ۱۸×۱۲ ۸ سائز کے ۴۱۶ صفحات پر مشتمل ہے، دُوسری جلد اسی سائز کے چھ سو پچاس صفحات کو اپنے دامن میں سموئے ہوئے ہے۔ اس تصنیف میں یہ خوبی ہے کہ بڑی آزادی کے ساتھ مرزائی مذہب کا جتنا لٹریچر ہے (مع پوسٹر، اِشتہار وغیرہ) سب کا خلاصہ مع تنقیداتِ اہلِ اسلام درج کیا گیا ہے۔ علمائے اُمت اور اہلِ قلم حضرات نے اسے کمال نظرِ تحسین سے دیکھا۔

حضرت مولانا عبدالکریم بیرشریف:

بیرشریف، سندھ کے رُوحانی راہ نما، مخدوم العلماء حضرت مولانا عبدالکریم صاحب قریشی نے فرمایا کہ: میں نے خواب میں دیکھا کہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں مبارک دبانے کی سعادت حاصل کر رہا ہوں، میری پشت کی جانب

228

میری بیوی باپردہ بیٹھی ہے، اُس نے مجھے کہا کہ: میرے لئے اجازت طلب کریں کہ میں بھی آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے قدموں کو دبانے کی سعادت حاصل کروں۔ میں نے عرض کی کہ: آقا! آپ کی خادمہ بھی اجازت چاہتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار فرمادیا۔ میری بیوی نے تجویز پیش کی کہ پاؤں مبارک پر کپڑا رکھ دیتی ہوں، کپڑے کے اُوپر سے دبانے کی سعادت حاصل ہوجائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بھی اجازت نہ دی۔

میں نے پاؤں دباتے دباتے درخواست کی کہ: آقا (صلی اللہ علیہ وسلم) مرزائیت بہت پریشان کر رہی ہے، وہ بڑھ رہی ہے، آپ کی اُمت پریشان ہے۔ میری یہ درخواست سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اُٹھ بیٹھے اور فرمایا کہ: ’’دُعا کرتے ہیں!‘‘ یہ ارشاد فرماکر دُعا کے لئے دونوں ہاتھ مبارک اُٹھادئیے، میاں بیوی ہم بھی دُعا میں شامل ہوگئے، میں اس وقت دِل میں سوچ رہا تھا کہ مرزائیت کی ناکامی و استیصال کے لئے دُعا ہو رہی ہے، اسی حالت میں بیداری ہوگئی، (صلی اللہ علیہ وسلم)۔

مولانا عتیق الرحمن چنیوٹی:

مولانا عتیق الرحمن چنیوٹی مرحوم سے بھی یہی بات دریافت کی کہ: آپ کیسے مرزائیت کے دام سے نکلے؟ تو اُنہوں نے خواب سنایا:

’’میں نے دیکھا کہ میں قادیان میں مرزائی مرکز سے نکل کر بازار میں چوک کی طرف جارہا ہوں، چوک میں لوگ کھڑے ہیں جیسے مداری کا تماشا دیکھ رہے ہوں، میں جب اُس حلقے میں پہنچا تو دیکھا، لوگوں کے درمیان چند شخص کھڑے ہیں جن کے جسم انسانوں کے اور منہ کتوں جیسے ہیں اور وہ آسمان کی طرف منہ اُٹھاکر رونے کے انداز میں چیخ رہے ہیں۔ میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ کسی نے کہا: یہ مرزا غلام احمد کے مرید ہیں۔ فوراً ڈر کر جاگ گیا، پھر توبہ کی اور اعلاناً مسلمان ہوگیا۔‘‘

(سیّد امین گیلانی)

229

خواجہ غلام دستگیر قصوریؒ:

مشہور صوفی، بے مثال عالمِ دِین، کتبِ کثیرہ کے مصنف، سنیوں کے مناظرِ بے بدل، خواجہ غلام دستگیر قصوری رحمۃ اللہ علیہ سے کون واقف نہیں؟ آپؒ کی کتاب ’’تقدیس الوکیل‘‘ رہتی دُنیا تک یادگار رہے گی۔ آپؒ نے فتنۂ مرزائیت کی تردید میں بھی عربی زبان میں ایک مایۂ ناز کتاب لکھی تھی، جس کا جواب مرزائی حلقے آج تک نہیں دے سکے۔

حضرت مولانا غلام قادر بھیرویؒ:

رَدِّ مرزائیت میں پنجاب میں سب سے پہلے آپؒ نے ہی یہ فتویٰ جاری فرمایا کہ قادیانیوں کے ساتھ مسلمان مرد یا عورت کا نکاح حرام و ناجائز ہے۔ بعد میں علمائے دِین و مفتیانِ شرعِ متین نے اسی فتویٰ مبارکہ سے استفادہ کرتے ہوئے مرزائیوں سے مناکحت، تزویج کو ناجائز اور ان سے میل جول اور ذبیحہ تک کو حرام قرار دیا۔ مرزا نے جب نبوّت کا دعویٰ کیا اور حکیم نورالدین نے اس کی تائید کی تو آپؒ نے حکیم نورالدین کا ایسا ناطقہ بند کیا کہ آپؒ کی موجودگی میں اسے کبھی بھیرہ میں داخل ہونے کی جرأت نہ ہوئی۔

مولانا غلام غوث ہزارویؒ:

۱۹۵۳ء کی تحریکِ ختمِ نبوّت میں مولاناؒ نے نہایت ہمت، تندہی، جانفشانی سے اس کی قیادت کی، جبکہ دیگر راہ نما پہلے ہی گرفتار ہوچکے تھے۔ اس وقت کی حکومت نے مولاناؒ کی گرفتاری کے لئے دس ہزار روپیہ اِنعام مقرّر کیا۔ ۱۹۵۳ء میں تحریکِ ختمِ نبوّت کے دوران ہی مولاناؒ کے بارے میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ مولاناؒ جہاں ملیں گولی مار دی جائے۔ اس مجلس میں مشہور مسلم لیگی راہ نما جناب سردار بہادر خان صاحب (صدرِ

230

پاکستان محمد ایوب خان کے بھائی) بھی شریک تھے، سردار بہادر خان صاحبؒ نے مولانا قاضی شمس الدین کو بلاکر کہا: ’’مولانا کی حفاظت کریں! انہیں کہیں رُوپوش کردیں یا ملک سے باہر بھیج دیں، ان کی جان کو خطرہ ہے۔‘‘ چنانچہ مولاناؒ خفیہ طور پر تحریک کی قیادت کرتے رہے اور خداوند قدوس نے مولاناؒ کی حفاظت کی، لیکن گولی مروانے والوں کو خدا نے قاہرہ کے قریب ہوائی حادثے میں جلاکر بھسم کردیا اور وہ اپنے انجام کو پہنچ گئے۔

حفاظتِ الٰہی اور بشارتِ نبوی کا نتیجہ:

مولانا غلام غوث ہزارویؒ اپنے ایک خادم کے ساتھ بھیس بدل کر خانقاہ سراجیہ آئے، اُس وقت خانقاہ سراجیہ کے سجادہ نشین مولانا محمد عبداللہ ثانی رحمۃ اللہ علیہ تھے، اُنہوں نے اپنے ایک مرید، جو بھلوال، ضلع سرگودھا سے تعلق رکھتے تھے، اُن کے ایک دُور دراز کھیتوں کے ڈیرے پر مولاناؒ کی رہائش کا انتظام کردیا۔ پولیس اور فوج آپ کی گرفتاری کے لئے جگہ جگہ چھاپے مار رہی تھی، مولاناؒ فرماتے ہیں: مجھے سخت پریشانی لاحق تھی اور اپنی حالت پر سوچتا تھا، اگر اس حالت میں گولی سے مارا جاتا ہوں تو یہ بزدلی کی موت ہے اور اگر گرفتاری کے لئے ظاہر ہوتا ہوں تو مرکز کے حکم کی خلاف ورزی ہے۔ یہ پریشانی تین دن تک رہی اور تیسرے دن مجھے کچھ نیند اور کچھ بیداری کی حالت میں حضورِ انوَر صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت مبارک نصیب ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری پیشانی پر ہاتھ رکھ کر فرمایا:

’’مولوی غلام غوث! تم نے اللہ کے رسول کی عزّت کے لئے قربانی دی ہے، پریشان مت ہو، کوئی تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔‘‘

جب میری آنکھ کھلی تو طبیعت میں مسرّت کی لہر دوڑ گئی اور کامل اطمینان پیدا

231

ہوگیا، بعد میں بہت سی تکالیف بھی آئیں لیکن مجھے قطعاً پریشانی نہیں ہوئی اور اس کے بعد ہی میں فوج اور پولیس کو جل دے کر نکل گیا اور ایسے اوقات بھی آئے کہ میرے پیچھے فوج اور پولیس والے نماز پڑھتے رہے، لیکن پہچان نہ سکے، یہ سب حفاظتِ اِلٰہی اور بشارتِ نبوی کا نتیجہ تھا۔

کچھ عرصہ بھلوال رہے، کچھ وقت اِدھر اُدھر خفیہ طور پر تحریکِ ختمِ نبوّت کے لئے کام کرتے رہے، تحریکِ ختمِ نبوّت ختم ہوئی تو اَب مولاناؒ کے ظاہر ہونے کا مرحلہ تھا، ادھر ان کو گرفتار کرکے گولی ماردینے پر اِنعام مقرّر تھا، چنانچہ خانقاہ سراجیہ آئے، حضرت ثانی رحمۃ اللہ علیہ سے مشورے میں طے پایا کہ جمعہ کے دن علی الاعلان اجتماعِ عام میں جاکر تقریر کریں تاکہ عام و خاص کو پتا چل جائے کہ مولانا ابھی زندہ سلامت ہیں، اس حالت میں گرفتاری ہوئی تو پولیس کو گولی مارنے کی جرأت نہ ہوگی۔ ادھر پولیس والوں نے مشہور کر رکھا تھا کہ مولانا کا انتقال ہوگیا ہے، اس پر ایبٹ آباد و ہزارہ کے لوگ آپ کے لئے غائبانہ دُعائیں، ایصالِ ثواب کے لئے قرآن خوانی و خیراتیں کرچکے تھے، چنانچہ آپؒ کو رُفقاء کی معیت میں ایبٹ آباد بھیجا گیا، جمعہ کے وقت الیاس مسجد ایبٹ آباد میں مولانا محمد اسحاق ایبٹ آبادی خطبہ دے رہے تھے تو یک دم ان کی مولاناؒ پر نظر پڑی، برجستہ کہا: ’’لوگو! تم نے یہ تو سن رکھا ہوگا کہ جنات ایک مخلوق ہے، مگر آج تک کسی جن کو دیکھا نہیں ہوگا، لو آج تمہیں سامنے ایک جن دِکھاتا ہوں جو مولانا غلام غوث ہزارویؒ کا رُوپ دھارے ہوئے ہے، اس لئے کہ ہماری اطلاع کے مطابق تو مولانا کا انتقال ہوگیا ہے۔‘‘ اس پر لوگوں نے پیچھے پلٹ کر مولانا کو دیکھا، ہزاروں کے اجتماع نے پُرجوش استقبال کیا، آپ نے خطاب فرمایا، جمعہ کا خطبہ دیا، پولیس و حکومت کی سازش ناکام ہوگئی، مولاناؒ کی جان لینے کے درپے دُشمن نامراد ہوگئے اور مولانا غلام غوث ہزارویؒ نے قادیانیت، قادیانیت نواز لوگوں کا احتساب پھر سے نئے ولولے کے ساتھ شروع کردیا۔

232

اعلائے کلمۃ الحق:

زیدہ، ضلع مردان میں ایک مشہور متعصب عجب خان قادیانی، جو ایک جاگیردار تھا، زیدہ کے لوگوں پر یہ قانون لاگو کیا ہوا تھا کہ مرزا قادیانی کے نام کے ساتھ حضرت جی ضرور کہا کریں، نام گستاخی سے کوئی نہ لے۔ مولانا ہزارویؒ کو پتا چلا، جہانگیرہ کے علماء کا ایک وفد لے کر زیدہ پہنچے، وہاں ایک مسجد میں جلسے کا اعلان کیا، لوگ جب ڈرتے ڈرتے مسجد میں پہنچے تو عجب خان، جو آنریری مجسٹریٹ بھی تھا، پستول بھرکر مسجد میں آیا اور عین منبر کے سامنے بیٹھ گیا۔ مولاناؒ کا بیان جب شروع ہوا اور مرزا قادیانی کے عقائد بیان کرنے شروع کئے، مرزا قادیانی کی تحریرات مولاناؒ نے پیش کیں اور جوش میں آکر مولانا ہزارویؒ نے تین دفعہ فرمایا کہ: ’’مرزا قادیانی مرتد، کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج تھا، جو اس کو کافر نہ سمجھے وہ بھی کافر ہے!‘‘ مولاناؒ نے اپنا سینہ ننگا کرکے فرمایا: ’’جو اس بات پر گولی مارنا چاہتا ہے مجھے گولی ماردے!‘‘ عجب خان نے کچھ بولنا چاہا لیکن عوام کے تیور دیکھ کر کھسکنے میں ہی عافیت سمجھی، اس کے بعد اہلِ زیدہ نے فیصلہ کیا کہ آئندہ کسی قادیانی کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہیں کرنے دیا جائے گا۔

مولانا ہزارویؒ ایک دفعہ جنرل محمد ایوب خان سے ملنے گئے، مشہور اَحرار راہ نما شیخ حسام الدین مرحوم بھی مولاناؒ کے ساتھ تھے، بات چیت کے دوران ایوب خان نے کہا: ’’مولانا! جہاں تک میں اسلام کو سمجھا ہوں، وہ تو اس طرح ہے۔‘‘ مولانا ہزارویؒ نے فرمایا: ’’ہاں خان صاحب! کرسٹائن کیلر کے ساتھ ننگا غسل کرنے والے جو اِسلام کو سمجھے، بھلا ہم کب اس طرح سمجھ سکتے ہیں۔۔۔؟‘‘ ایوب خان نہایت شرمندہ ہوئے۔

استقامت و ایثار کے بے تاج بادشاہ:

مولانا غلام غوث ہزارویؒ کا اکلوتا بیٹا زین العابدین تھا، جو بیمار ہوا، مولاناؒ

233

گھر پر تھے، اس کی بیماری شدّت اختیار کرتی گئی، حتیٰ کہ اس کی زندگی سے مایوسی کے آثار ظاہر ہوگئے۔ اس دن مولاناؒ نے مشہور قادیانی مبلغ اللہ دتہ جالندھری سے ہزارہ کے علاقے میں مناظرے کے لئے جانا تھا، مولاناؒ اپنے اکلوتے جواںسال صاحب زادے کو اس حالت میں چھوڑ کر روانہ ہوگئے، ابھی اَڈّے پر پہنچے تھے کہ پیچھے سے آدمی دوڑتا ہوا آیا اور پیغام دیا کہ بچے کا انتقال ہوگیا۔ آپؒ نے ٹھنڈا سانس لیا، ’’اِنَّا ِﷲِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ‘‘ پڑھا اور اس آدمی کو کہا کہ: ’’گھر جاکر غسل دیں، کفن پہنائیں، جنازہ پڑھیں اور دفن کردیں، میرا اس مناظرے کے لئے جانا ضروری ہے، جنازہ پڑھنا فرضِ کفایہ ہے اور مقرّر شدہ مناظرہ کرنا میرے لئے فرضِ عین ہے، ورنہ کئی آدمیوں کے گمراہ ہونے کا خطرہ ہے، میں جارہا ہوں!‘‘ یہ کہہ کر اِستقامت و اِیثار کا بے تاج بادشاہ غلام غوث ہزاروی بس پر سوار ہوکر مناظرے کے لئے مقرّرہ مقام کی طرف روانہ ہوگئے۔ راقم الحروف اپنے تمام مبلغین بھائیوں سے درخواست گزار ہے کہ وہ ٹھنڈے دِل سے غور کریں کہ آیا ہم میں سے کوئی آدمی ایسی مثال قائم کرسکتا ہے؟ اللہ رَبّ العزّت ان پر کروڑ رحمتیں فرمائے۔

گھر سے آخری سفر:

آپؒ کو اِنتقال سے چند دن قبل ربوہ (چناب نگر) ختمِ نبوّت کانفرنس میں شرکت کے لئے درخواست کی، تشریف لائے، جامع مسجد محمدیہ ریلوے اسٹیشن پر ہزاروں کے اجتماع سے خطاب کیا، رات کو چنیوٹ ختمِ نبوّت کانفرنس میں تقریر کرنا تھی، سردی کا موسم تھا، دسمبر کے آخری دنوں یہ کانفرنس ہونی تھی، کمزوری کے باعث اپنی قیام گاہ پر رہے، تشریف نہ لاسکے، مولانا محمد شریف جالندھریؒ، مولانا تاج محمود مرحوم دونوں حضرات کانفرنس کے منتظمین تھے، ملنے کے لئے قیام گاہ پر گئے، ان حضرات کو دیکھ کر اُٹھ بیٹھے، فرمایا: آپ کے حکم پر ربوہ (چناب نگر) جمعہ پر تقریر کے

234

لئے اس لئے حاضر ہوا کہ:

۱:۔۔۔ آخری عوامی تقریر ختمِ نبوّت پر ہو۔

۲:۔۔۔ آپ کے کام کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لوں، آگے چل کر (عالمِ برزخ کی طرف اشارہ) بزرگوں کو آنکھوں دیکھی رپورٹ دُوں گا۔

۳:۔۔۔ دوستوں سے ملاقات ہوجائے گی، کہا سنا معاف کرالوں گا۔

میرے اللہ کی شانِ بے نیازی کہ مولاناؒ کا گھر سے یہ آخری سفر تھا، واپس پہنچے تو آپؒ کا انتقال ہوگیا، اللہ تعالیٰ آپؒ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔

مقبولیت عنداللہ کی دلیل:

انتقال کے وقت چالیس روپے کے مقروض تھے، جس مکان میں انتقال ہوا، بارش کے وقت اس کی چھت ٹپک رہی تھی، بجلی بارش کے باعث چلی گئی، گھپ اندھیرے میں آپ کا چہرہ مرکری بلب کی طرح روشن تھا، یہ ان کی مقبولیت عنداللہ کی دلیل ہے۔ جن لوگوں نے آپؒ کی زندگی میں اس فقیرِ بے نوا پر زبانِ طعن بلند کی، ان کو خداوند کریم سے اپنے خاتمہ بالخیر کی دُعا کرنی چاہئے۔

۱۹۷۴ء کی تحریکِ ختمِ نبوّت میں قومی اسمبلی میں وکیلِ ختمِ نبوّت کے فرائض سرانجام دئیے، لاہوری و قادیانی مرزائیوں کے محضرنامے کا جواب لکھ کر قومی اسمبلی میں پڑھا۔

۱۹۵۳ء کی تحریکِ ختمِ نبوّت میں جو راہ نما و کارکن گرفتار ہوئے، مولانا محمد علی جالندھریؒ نے تحفظِ ختمِ نبوّت کے فنڈ سے اُن کی اپنے وسائل کے مطابق امداد کی، مولانا غلام غوثؒ اتنا عرصہ تحریک میں گھر سے غیرحاضر رہے، آپ کو گھر کا پتا نہ تھا، تحریک کے خاتمے پر مولانا محمد علی جالندھریؒ نے آپ کو کچھ رقم دینا چاہی کہ مولانا آپ کے گھر کے باقی حالات ٹھیک نہیں، یہ قبول فرمائیں، مگر مسکراکر فرمایا: ’’مولانا!

235

اللہ کا فضل ہے، جیسے کیسے گزرگئی، اب تو آزاد ہیں۔‘‘ یہ کہہ کر رقم واپس کردی۔

مرزائیوں کو شاہ فہد کا جواب:

’’بون، ۲۸؍اگست (نمائندہ خصوصی) سوئٹزرلینڈ کی قادیانی ایسوسی ایشن نے سعودی عرب کے شاہ فہد سے تحریری طور پر یہ مضحکہ خیز درخواست کی کہ وہ اُن کے مذہب کے سربراہ کو حج کے لئے سعودی عرب آنے کی دعوت دیں۔ ایک خط میں، جو شاہ فہد سمیت سعودی عرب کے چند اعلیٰ حکام کو بھیجا گیا ہے، سوئٹرزلینڈ میں قائم قادیانیوں کی تحریک نے درخواست کی ہے کہ ان کے مذہب کے راہ نما کو، جو اس وقت ربوہ میں رہتے ہیں، سعودی فرمانروا کے سرکاری مہمان کی حیثیت سے دعوت دی جائے۔ سوئٹزرلینڈ کے مسلم سفارت کاروں نے اس کے متن پر غصّے و ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔‘‘

(روزنامہ ’’جنگ‘‘ کراچی ۲۹؍اگست ۱۹۸۲ء)

جب یہ درخواست شاہ فہد کے پاس گئی تو آپ نے جواب دیا کہ: ’’مرزا قادیانی ملعون کا طوقِ غلامی اُتار کر مسلمان بن کر آئیں تو دِل و جان سے مہمان داری کریں گے، اگر مرزا قادیانی کا طوقِ غلامی پہن کر آنا چاہتے ہو، تو یاد رکھو کہ یہ سرزمینِ حجاز ہے، جو کچھ ہمارے پیش رو حضرت صدیقِ اکبرؓ نے مسیلمہ کذّاب اور اُس کی پارٹی کا حشر کیا تھا، وہی حشر ہم تمہارا کریں گے۔‘‘ اس جواب پر مرزائیوں کے اوسان خطا ہوگئے۔

قاضی فضل احمد صاحب لدھیانوی:

حضرت مولانا قاضی فضل احمد صاحب لدھیانوی (کورٹ انسپکٹر پولیس پنشنر

236

، لدھیانہ) اہلِ سنت کی وہ عظیم المرتبت اور مقتدر ہستی ہیں جنھوں نے زبان و قلم سے فرقۂ باطلہ کے خلاف ڈَٹ کر جہاد کیا اور وہ کارہائے نمایاں انجام دئیے جو ہمیشہ یادگار رہیں گے، جب قاضی صاحب کی شہرۂ آفاق تصنیف ’’انوارِ آفتابِ صداقت‘‘ کا ظہور ہوا تو ملتِ اسلامیہ کے اکابر علماء و مشائخ نے زبردست خراجِ تحسین سے نوازا۔

ناموسِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم پر جب حملہ ہوا تو قاضی صاحب کا رہوار قلم رَدِّ مرزائیت میں خوب چلا، ۱۸۹۸ء مطابق ۱۳۱۶ھ میں آپ نے مرزا قادیانی کی کتاب ’’ازالۃ الاوہام‘‘ کے رَدّ میں ’’کلمۂ فضل رحمانی بجواب اوہام مرزا غلام احمد قادیانی‘‘ تصنیف فرمائی، جو علمائے کرام کی تصدیق و تقاریظ کے ساتھ ۱۸۹۸ء میں لاہور سے شائع ہوئی، اب عالمی مجلس تحفظِ ختمِ نبوّت نے ملتان سے دوبارہ شائع کی ہے، اس کے بعد بھی قادیانی کذّاب کے رَدّ میں آپ برابر لکھتے رہے۔

مصنف ’’کلمۂ فضل رحمانی‘‘ جناب مکرّم قاضی فضل احمد تحریر فرماتے ہیں کہ: جمادی الثانیہ ۱۳۱۵ھ میں جب میں اپنی کتاب کی تکمیل سے فارغ ہوا تو رات کو خواب دیکھا کہ ایک مجلس میں علماء تشریف فرما ہیں اور عوام بھی، ان کے ایک طرف مرزا قادیانی پاؤں دراز کئے پڑا ہوا ہے، مرزا کا سر ننگا ہے اور درمیان سے لے کر پیشانی تک سر اُسترے سے منڈا ہوا ہے، دونوں طرف سر کے بال باقی ہیں، داڑھی قینچی سے کٹی ہوئی ہے، اس کی اس ہیئت کو دیکھ کر حیران ہوا کہ سر کے بال ہندوؤں کی طرح اور داڑھی فیشنی طرز کی، دونوں کام خلافِ شرع، تو دِل کو اِطمینان ہوا کہ میری کتاب کی تکمیل سے اس خواب کے ذریعے مجھے بشارت دی گئی ہے کہ مرزا قادیانی کی شریعت سے روگردانی کو واضح کرنے میں یہ کتاب مرکزی کردار ادا کرے گی۔ صبح کے ساڑھے چار بجے یہ خواب دیکھا۔

’’کلمۂ فضل رحمانی‘‘ مصنف نے تحریر کی تو اس زمانے کے اخبار ’’وفادار‘‘ کے ایڈیٹر نے ایک رات دو بجے نمازِ تہجد کے وقت اللہ رَبّ العزّت کے حضور دُعا کی کہ

237

’’کلمۂ فضل رحمانی‘‘ کے مصنف کا موقف صحیح ہے یا مرزا قادیانی کا؟ اس پر بہت گڑگڑاتے ہوئے بڑی لمبی چوڑی دُعا کی، رو رو کر طبیعت نڈھال ہوگئی، اتنے میں سوگئے، خواب میں دیوانِ حافظؔ کا ایک شعر ان کو دِکھایا گیا، خواب میں اُنہوں نے وضاحت چاہی تو ان کو کتاب تھمادی گئی، دیکھا تو وہ ’’کلمۂ فضل رحمانی‘‘ تھی۔ فرماتے ہیں کہ: دِل کو تسلی ہوگئی کہ مرزا قادیانی کذّاب و دجال کے بارے میں ’’کلمۂ فضل رحمانی‘‘ کے مؤلف کا موقف صحیح ہے اور مرزا واقعتا مردُود و ملعون ہے۔

جناب میاں فضل احمد میانوالی:

۱۹۵۳ء کی تحریکِ ختمِ نبوّت میں میانوالی سے قافلے گرفتاری کے لئے لاہور جاتے تھے، ایک قافلے میں میاں فضل احمد موچی بھی جاکر گرفتار ہوگیا، ان کی گرفتاری مارشل لاء کے تحت عمل میں آئی، مارشل لاء عدالت نے ان کے بڑھاپے کو دیکھ کر دیگر ساتھیوں کی نسبت کم سزا دی، اس پر وہ بگڑ گئے، عدالت سے احتجاج کیا کہ میرے ساتھ انصاف کیا جائے۔ اس سے عدالت نے سمجھا کہ شاید یہ سزا کم کرانا چاہتا ہے، عدالت نے جب پوچھا تو کہا کہ: ’’مجھ سے کم عمر کے لوگوں کو دس سال کی سزا دی ہے تو اس نسبت سے مجھے بیس سال سزا ملنی چاہئے، آپ نے مجھے کم سزا دی، میرے ساتھ انصاف کیا جائے اور میری سزا میں اضافہ کیا جائے۔ یہ سن کر مارشل لاء عدالت کانپ اُٹھی، اس بوڑھے جرنیل کی ایمانی غیرت پر جج انگشت بدنداں اُٹھ کر عدالت سے ملحق کمرے میں چلا گیا۔ انہوں نے عدالت میں کپڑا بچھاکر اپنی گرفتاری و سزا اور آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کی عزّت و ناموس کے تحفظ کے لئے اپنی قربانی کی بارگاہِ خداوندی میں قبولیت کے لئے نوافل پڑھنے شروع کردئیے۔

انوکھی وضع ہے زمانے میں، زمانے سے نرالے ہیں

یہ عاشق یا رَبّ! کس بستی کے رہنے والے ہیں

238

مجاہدِ اسلام مولانا فقیر محمد جہلمی:

حضرت مولانا فقیر محمد جہلمی نے ۳؍ذی الحجہ ۱۳۰۳ھ میں جہلم سے ایک ہفتہ وار پرچہ ’’سراج الاخبار‘‘ کے نام سے جاری کیا، اس اخبار نے اپنے دور کے اعتقادی فتنوں، خاص طور پر فتنۂ مرزائیت کی تردید میں بڑا کام کیا۔ مرزا قادیانی اور اُس کے حواری ’’سراج الاخبار‘‘ کے کارناموں سے سٹپٹا اُٹھے، چنانچہ اُنہوں نے ہر اِمکانی کوشش سے ’’سراج الاخبار‘‘ کو بند کرانے کے حربے استعمال کئے، آپ اور آپ کے رفیقِ کار حضرت مولانا محمد کرم دِین صاحب دبیر پر مقدمات کا دور شروع ہوا، مگر یہ عالی قدر ہستیاں ان مصائب و آلام سے کب گھبرانے والی تھیں، ابتلاء و آزمائش کی آندھیاں اُن کے پائے استقلال میں کوئی لغزش پیدا نہ کرسکیں۔ گورداسپور کی عدالت میں مقدمہ چلا جو قادیانی اور اس کے حواریوں کی شکست پر منتج ہوا، مرزا قادیانی کی خوب گت بنی اور اللہ تعالیٰ نے مجاہدِ اسلام مولانا فقیر محمد جہلمی اور مولانا کرم دِین صاحب کو باعزّت بَری فرمایا۔ آپ نے بڑی اہم کتابیں یادگار چھوڑی ہیں، جن میں ’’حدائق حنفیہ‘‘ کو خاص شہرت حاصل ہوئی۔

مفتی کفایت اللہ دہلوی مفتیٔ اعظم ہندؒ:

جناب واصف صاحب روایت کرتے ہیں کہ ایک دفعہ میں ریل کے سفر میں حضرت والد ماجد کے ہم رکاب تھا، جس ڈبے میں ہم دونوں تھے، اسی میں دہلی کے سوداگروں میں سے دو معزَّز دولت مند حضرات بھی ہم سفر تھے اور اُن کے قریب بھاری بھرکم قادیانی مبلغ بھی بیٹھے تھے اور مرزا غلام احمد کی صداقت اور نبوّت پر گفتگو ہو رہی تھی، ان میں سے ایک بڑا مبلغ بڑے زور و شور سے بول رہا تھا، بڑا لسان اور طرار معلوم ہوتا تھا، حضرت والد ماجد کچھ فاصلے پر تھے اور ان لوگوں کی گفتگو سن رہے تھے، قادیانیوں کے مخاطب کبھی کبھی جواب دیتے تھے، مگر پھر لاجواب ہوجاتے تھے۔

239

آخر حضرت نے فرمایا کہ: ’’میں آپ لوگوں کی گفتگو میں شامل نہیں ہونا چاہتا تھا، مگر یہاں معاملہ دِین کا ہے، اس لئے خاموش نہیں رہ سکتا۔ میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ آپ نے ابھی یہ جو فرمایا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبییّن ہیں اور مرزا صاحب کی نبوّت سے ختمِ نبوّت میں کوئی نقصان واقع نہیں ہوتا، کیونکہ مرزا صاحب کی نبوّت حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی نبوّت کا ایک جزو اور ضمیمہ ہے، تو یہ فرمائیے کہ نبی علیہ السلام کے اس قول: ’’لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ‘‘ میں تو کسی قسم کی نبوّت کی تخصیص نہیں ہے، مطلق نبوّت کی نفی ہے، ضمنی، غیرضمنی، ظلّی، بروزی کی تخصیص کا ثبوت کہیں نہیں ملتا، لائے نفیٔ جنس نے نبوّت کے تمام اقسام، اصناف کی نفی کردی ہے، پھر بیچ میں نبوّت ضمنی کیسی؟‘‘ قادیانی مولوی نے جواب دیا کہ: ’’جس طرح سچا خواب نبوّت کا چالیسواں حصہ ہے، اسی طرح ضمنی نبوّت بھی ہوتی ہے اور چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوّت کا دائرۂ عمل قیامت تک ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں، اس لئے آپ ہی کے دِین کی تجدید کے لئے نبی آسکتا ہے اور اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ختمِ نبوّت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔‘‘

حضرت مفتیٔ اعظمؒ نے فرمایا کہ: ’’نبوّت کا چالیسواں حصہ اگر کسی کو عطا فرمایا جائے تو وہ شخص نبی نہیں بن جائے گا، انسان کی ایک اُنگلی کو ’’اِنسان‘‘ کا لقب نہیں دیا جاسکتا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تو آپ کے دعوے کے مطابق قیامت تک کے لئے نبی ہیں اور پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ: ’’میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا‘‘ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ قیامت کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا؟ بولئے جواب دیجئے۔۔۔!‘‘

حضرتؒ نے کئی مرتبہ فرمایا: ’’بولئے جواب دیجئے!‘‘ مگر اِدھر ایسا سناٹا تھا کہ صدائے برنخاست، قادیانی ایک دَم مبہوت ہوگئے، بالکل جواب نہ دے سکے۔

پھر فرمایا کہ: ’’آپ لوگوں کا یہ کہنا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم قیامت تک

240

کے لئے نبی ہیں، خود اس اَمر کا اِقرار ہے کہ حضور علیہ السلام کی بعثت کے بعد نبوّت کا عہدہ کبھی کسی کو عطا نہیں کیا جائے گا، دورانِ نبوّت کسی اور نبی کی بعثت کے کیا معنی اور اس کی ضرورت کیوں؟ بولئے جواب دیجئے۔۔۔!‘‘ مگر صدائے برنخاست، قادیانیوں پر اوس پڑگئی اور شکست خوردگی کی وجہ سے چہرے زرد اور ہونٹ خشک ہوگئے اور بالکل ساکت و صامت ہوگئے۔ تو حضرت والد ماجد نے تقریباً ایک گھنٹے تک قادیانیت کے رَدّ میں مسلسل تقریر فرمائی، اس کے بعد دہلی کے ہم سفر حضرات نے دریافت کیا کہ: ’’حضرت! آپ تعارف تو فرمائیے‘‘ فرمایا کہ: ’’مجھے کفایت اللہ کہتے ہیں، مدرسہ امینیہ کا مدرّس ہوں۔‘‘

اس وقت کا منظر بڑا عجیب تھا، ڈبے کے تمام ہم سفر مسلمانوں نے یہ تقریر سنی تھی، بہت شکریہ ادا کیا اور ان دولت مند حضرات نے کہا کہ: ’’حضرت! ہم تو تذبذب میں تھے، آپ نے بروقت ہماری دست گیری کی اور اپنی اس کوتاہی پر بڑے نادم ہوئے کہ دہلی میں رہتے ہوئے ہم شرفِ ملاقات سے محروم تھے۔‘‘ ادھر قادیانیوں کا حال یہ تھا کہ اِدھر اُدھر کی باتوں کا خیال بھی بھول گئے۔

(بیس بڑے مسلمان)

مولانا ابوالفضل محمد کرم الدین دبیرؒ:

مولانا ابوالفضل محمد کرم الدین صاحب دبیرؒ (متوفیٰ ۱۳۶۵ھ) پنجاب کے ان نامور علماء میں سے ہیں جنھوں نے رَدِّ مرزائیت میں نمایاں کردار انجام دیا، ضلع جہلم کی ایک غیرمعروف بستی موضع بھیں آپ کے مولد و مسکن کے باعث دُور دُور تک مشہور ہوئی۔ جنگِ آزادی ۱۸۵۷ء کے وقت آپ کی عمر چار پانچ سال کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے، ابتدائی تعلیم گھر پر حاصل کی، پھر لاہور اور امرتسر کے مختلف مدارس سے علوم و فنون کی تکمیل کرکے اپنے گاؤں میں درس و تدریس کا سلسلہ قائم کیا، سیال شریف میں حضرت خواجہ محمدالدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ سے بیعت کا شرف حاصل تھا،

241

نہایت ذکی، سلیم الطبع، وجیہ، بلند قامت، مضبوط جسامت، وسیع القلب اور حاضر جواب تھے۔

مرزا قادیانی نے جب اپنے باطل دعاوی کا سلسلہ شروع کیا تو مولانا اس فتنے کی سرکوبی کے لئے میدانِ عمل میں کود پڑے، آپ کے دستِ راست مولانا فقیر محمد جہلمی رحمۃ اللہ علیہ نے ان دنوں جہلم سے ہفتہ وار پرچہ ’’سراج الاخبار‘‘ جاری کر رکھا تھا، اُنہوں نے ’’سراج الاخبار‘‘ کو رَدِّ قادیانیت کے لئے وقف فرماتے ہوئے مولانا محمد کرم الدین صاحب کو اس کا ایڈیٹر مقرّر کردیا اور قادیانی کذّاب کا نہایت مدلل اور ٹھوس مضامین سے تعاقب شروع فرمایا، جس کی تاب نہ لاتے ہوئے مرزا اور اس کے حواری اوچھے ہتھکنڈوں پر اُتر آئے اور خفت مٹانے کے لئے اپنی پشت پناہ گورنمنٹ برطانیہ کا دروازہ کھٹکھٹایا، آپ کی ناقابلِ جواب تحریرات کو بہانہ بناکر مقدمات کی ابتدا کردی۔ پہلا مقدمہ مرزا کے حواری حکیم فضل دین بھیروی کی طرف سے ۱۴؍نومبر ۱۹۰۲ء کو زیر دفعہ ۴۱۷ تعزیراتِ ہند، گورداسپور میں دائر ہوا، اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے مولانا ابوالفضلؒ کو اس مقدمے میں باعزّت طور پر بَری فرمایا، حالانکہ اس مقدمے کی نسبت مرزا قادیانی نے اپنی فتح کے اِلہامات متواتر شائع کئے تھے۔

دُوسرا مقدمہ بھی حکیم فضل دِین بھیروی ہی نے ۲۹؍جون ۱۹۰۳ء کو مولاناؒ کے خلاف گورداسپور میں دائر کیا، اس میں بھی آپؒ کامیابی سے ہمکنار ہوئے اور مرزائیوں کی خوب گت بنی اور مقدمہ خارج ہوگیا۔ پھر تیسرا مقدمہ شیخ یعقوب علی تراب ایڈیٹر اخبار ’’الحکم‘‘ قادیان کی طرف سے مولانا ابوالفضلؒ اور مولانا فقیر محمد جہلمی صاحبؒ کے خلاف دائر ہوا، جس میں ہر دو مستغاثہ علیہما پر ۵۴ روپے جرمانہ ہوا جو اَدا کردیا گیا، اس لئے کہ حقیر سی رقم کی خاطر اپیل کرنا غیرمناسب تھا۔ ۱۷؍جنوری ۱۹۰۳ء کو جہلم میں مرزا کی مطبوعہ کتاب ’’مواہب الرحمن‘‘ تقسیم کی گئی جس میں مولانا ابوالفضلؒ کے خلاف سخت توہین آمیز کلمات استعمال کئے گئے، چونکہ مقدمات کی ابتدا

242

مرزائیوں کی طرف سے ہوچکی تھی اس لئے مولانا ابوالفضلؒ نے بھی مرزا غلام احمد قادیانی اور حکیم فضل دین بھیروی کے خلاف استغاثہ دائر کردیا اور یہ مقدمہ حق و باطل کے درمیان عظیم الشان معرکے کی صورت اختیار کرگیا۔ اہلِ حق کی طرف سے شہادت میں بڑے بڑے فضلائے کرام پیش ہو رہے تھے اور فریقِ مخالف کی طرف سے حکیم نورالدین بھیروی، خواجہ کمال الدین لاہوری اور اس کے حواری ایڑی چوٹی کا زور لگاتے رہے، روپیہ پانی کی طرح بہایا، اِلہامات کے ذریعے اپنے حواریوں کی حوصلہ افزائی کی گئی، مگر یہ سب حربے مٹی کے گھروندے ثابت ہوئے اور مقدمہ مرزا کے لئے سوہانِ رُوح بن گیا۔ مولانا ابوالفضلؒ نہایت اِستقلال اور ثابت قدمی سے مقابلہ کرتے رہے، عدالت میں جرح کے دوران کئی کئی گھنٹے اتنی زبردست تقریریں کیں کہ مخالفین تلملا اُٹھے، خواجہ کمال الدین وکیل مرزائی بے ساختہ پکار اُٹھا کہ: ’’مولانا محمد کرم الدین کے دلائل کا جواب نہیں!‘‘ مقابلے میں مرزا صاحب کو عدالت میں دو لفظ بولنے کی بھی جرأت نہ ہوسکی، بلکہ چھ چھ گھنٹے مرزا غلام احمد کو مجرموں کے کٹہرے میں دست بستہ کھڑا ہونا پڑا، اس مقدمے کا پُرلطف پہلو یہ بھی ہے کہ مرزا اپنی ناکامی کو دیکھتے ہوئے اتنا مرعوب ہوا کہ عدالت میں جب پیشی کی تاریخ ہوتی تو بیماری کا سرٹیفکیٹ بھیج دیا کرتا، تقریباً دو سال تک یہ تاریخی مقدمہ چلتا رہا، آخر ۱۸؍اکتوبر ۱۹۰۴ء کو گورداسپور کی عدالت سے مرزا کو پانچ صد روپے جرمانہ اور عدم ادائیگی کی صورت میں چھ ماہ قیدِ محض کی سزا ہوئی، جبکہ اس کے حواری حکیم فضل دین کو دو صد روپے جرمانہ یا پانچ ماہ قید کی سزا سنائی گئی۔ اس مقدمے میں مرزا قادیانی اور اُس کے حواریوں کو عبرت ناک شکست اور سخت ذِلت کا سامنا کرنا پڑا۔ نیز اس مقدمے کے بارے میں بھی اِلہامِ مرزا کی خوب مٹی پلید ہوئی اور مولانا ابوالفضلؒ کو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے خوب خوب نوازا۔

ان مقدمات کے علاوہ آپؒ نے مرزائیت کے خلاف مناظرے فرمائے، فنِ

243

مناظرہ میں آپؒ نے خاصی شہرت پائی، مرزا قادیانی کے بعد مولوی اللہ دتہ وغیرہ مرزائی مناظرین سے مناظرے ہوئے اور ہر مرتبہ شکستِ فاش دی اور ایسا کیوں نہ ہوتا جبکہ خود مرزا غلام احمد، جو اس مشن کا بانی تھا، اسے آپؒ نے پے درپے شکستوں سے دوچار کردیا تھا، اس کے متبعین کی کیا مجال تھی کہ آپؒ سے بازی لے جاتے۔ الغرض! مرزائیوں کو ہر میدان میں آپؒ سے ذِلت کا سامنا نصیب ہوا، رَدِّ مرزائیت کے سلسلے میں آپؒ کی تصانیف میں سے ’’مرزائیت کا جال‘‘ اور ’’تازیانۂ عبرت‘‘ قابلِ دید ہیں۔

لیاقت علی خان، سابق وزیراعظم پاکستان:

سیالکوٹ شہر میں مسلم لیگ کا ایک تاریخی اجتماع تھا، جونہی اہلِ شہر کو معلوم ہوا کہ احرار کی طرف سے قاضی احسان احمد بھی تقریر کرنے والے ہیں تو لوگوں کے ٹھٹھ کے ٹھٹھ لگ گئے، سیالکوٹ حلقے کا انتخاب اس لئے بھی زیادہ اہمیت اختیار کرگیا کہ اس حلقے سے خواجہ محمد صفدر کے مقابلے میں افتخار حسین ممدوٹ بنفسِ نفیس الیکشن لڑ رہے تھے۔ قاضی صاحب اور لیاقت علی خان کی زبردست تقاریر ہوئیں، نعرہ ہائے تکبیر، ختمِ نبوّت، مجلس احرارِ اسلام، مسلم لیگ، لیاقت علی خان، قاضی احسان احمد زندہ باد کے نعروں سے سرزمینِ سیالکوٹ گونج اُٹھی۔ جلسے کے اختتام پر قاضی صاحب نے بڑھ کر لیاقت علی خان سے مصافحہ کیا اور عرض کی کہ: میں آپ سے بعض اہم اُمور پر تبادلہ خیال کرنا چاہتا ہوں۔ جس پر لیاقت علی خان نے کہا کہ: آپ ابھی میرے سیلون میں تشریف لائیں۔ قاضی صاحب نے کہا: آدھ گھنٹے میں حاضر ہوتا ہوں۔ قاضی صاحب فوراً حفیظ رضا کے گھر پہنچے، مرزائیوں کی کتابوں کا ایک صندوق جس میں مرزا غلام احمد قادیانی کی تصانیف شامل تھیں، اُٹھانے کو کہا، حفیظ صاحب صندوق اُٹھائے قاضی صاحب کے ساتھ چل دئیے، اسٹیشن پہنچے، پلیٹ فارم پر وزیراعظم کو رُخصت کرنے

244

کے لئے صوبہ بھر کے ممتاز لیگی لیڈر موجود تھے اور اِنتظار میں تھے کہ لیاقت علی خان کب ملاقات کے لئے انہیں اپنے سیلون میں بلاتے ہیں؟ جب قاضی صاحب اسٹیشن پر ہجوم کو چیرتے ہوئے لیاقت علی خان کے سیلون کی طرف بڑھے تو نواب صدیق علی خان نے کہا کہ: ’’وزیر اعظم آپ کا انتظار کر رہے ہیں، آپ نے دیر کردی!‘‘ قاضی صاحب اندر جانے لگے تو صدیق علی خان نے کہا کہ: ’’ملاقات کے لئے دس منٹ مقرّر ہیں!‘‘ حفاظتی گارڈ نے آپ کی تلاشی لی، پھر اندر جانے دیا، لیاقت علی نے اپنی کرسی کے ساتھ قاضی صاحب کو بٹھالیا، حفیظ صاحب فرش پر بیٹھ گئے، مرزائیت کا پسِ منظر بیان کیا، سب سے پہلے مرزائیوں کی مشہور کتاب ’’تذکرہ‘‘ دِکھائی اور صفحہ:۱۴ پڑھا، جس پر لکھا تھا کہ: ’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پہلی رات کا چاند تھے اور میں (مرزا غلام احمد) چودھویں رات کا چاند ہوں۔‘‘ لیاقت نے اس جملے پر خود اپنی پنسل سے نشان لگایا اور کتاب میز پر رکھ دی۔ اس کے بعد قاضی صاحب نے مرزا غلام احمد کی وہ تمام تصانیف دِکھائیں جن میں حضور نبی کریم علیہ السلام، حضرت فاطمہؓ، حضرت حسینؓ اور دیگر اہل اللہ کے خلاف توہین آمیز کلمات موجود تھے۔ لیاقت علی خان ان تمام عبارات کو خود اَنڈر لائن کرتے گئے اور وہ کتابیں اپنی میز پر رکھ دیں۔

حفیظ رضا پسروری حلفاً بیان کرتے ہیں کہ جب قاضی صاحب نے لیاقت علی خان کو اَکمل قادیانی کا یہ شعر:

محمد پھر اُتر آئے ہیں ہم میں

اور آگے سے بڑھ کر ہیں اپنی شان میں

محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل

غلام احمد کو دیکھے قادیان میں

پڑھ کر سنایا، تو خود تو زار و قطار رو ہی رہے تھے، لیاقت علی خان کی آنکھیں بھی ڈبڈبا گئیں اور پُرنم آنکھوں سے فرمایا کہ: قاضی صاحب! آپ اسی سیلون میں میرے ساتھ

245

کراچی چلیں، میں چند مزید باتیں دریافت کرنا چاہتا ہوں۔ قاضی صاحب نے اپنے جماعتی پروگراموں کو منسوخ نہ کرنے کی بنا پر ساتھ چلنے سے معذوری ظاہر کی، البتہ وعدہ کیا کہ چند روز تک کراچی حاضر ہوکر مزید ملاقات کروں گا۔ لیاقت و قاضی کی یہ ملاقات بجائے دس منٹ کے پورے پینتالیس منٹ جاری رہی، رُخصت ہوتے وقت لیاقت علی خان نے قاضی صاحب کو یہ الفاظ کہے کہ:

’’مولانا! آپ نے اپنا فرض ادا کردیا، اب دُعا کریں کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنا فرض ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین!‘‘

ایک ملاقات میں چوہدری محمد علی سابق وزیراعظم نے قاضی صاحب سے کہا کہ: ’’جب سے لیاقت علی خان نے آپ سے ملاقات کی ہے، اب کیبنٹ میٹنگ میں ظفراللہ خان کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے، بلکہ سنا ہے کہ ایک میٹنگ میں ظفراللہ خان کو ان الفاظ میں لیاقت علی خان نے مخاطب کیا:

’’میں جانتا ہوں کہ آپ ایک خاص جماعت کی نمائندگی کرتے ہیں۔‘‘

حفیظ رضا کا کہنا ہے کہ: قاضی صاحب نے لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد ایک ملاقات میں بتایا کہ لیاقت علی خان کا پروگرام یہ تھا کہ مرزائیوں کو ایک سیاسی جماعت کی حیثیت دے کر خلافِ قانون قرار دے دیا جائے، لیکن زندگی نے مہلت نہ دی اور اس ملاقات کے تھوڑے عرصے بعد لیاقت علی خان کو ایک گہری سازش کے تحت شہید کردیا گیا۔

پیر محمد شاہ ساہن پالویؒ:

پیر محمد شاہ (متوفیٰ ۱۳۳۷ھ) سجادہ نشین درگاہ حضرت نوشہ گنج قادری نوشاہی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی رَدِّ مرزائیت میں کافی کام کیا تھا۔ ایک مرتبہ عیدالفطر کے

246

دن نمازِ عید کے بعد مشہور مرزائی مبلغ احمد بخش مولوی فاضل، ساکن رَن مل، ضلع گجرات سے حلقہ دربار حضرت نوشہ گنج میں برگد کے درخت کے نیچے مناظرہ ہوا، بہت سے مواضعات مثلاً: ساہن پال شریف، رَن مل، کوٹ ککے شاہ، سارنگ، اگردیہ اور بھاگٹ کے لوگ اس مناظرے کو دیکھنے کے لئے موجود تھے، آپؒ نے مرزائی مبلغ کو بالکل لاجواب کردیا اور وہ راہِ فرار اِختیار کرگیا۔

(نقل از کتاب فیض محمد شاہی خطی از مولانا سیّد غلام مصطفی نوشاہی ساہن پالوی، مملوکہ سیّد شریف احمد شرافت نوشاہی مدظلہٗ)

حضرت صاحب زادہؒ گولڑہ شریف:

حضرت صاحب زادہ محی الدینؒ گولڑہ شریف اور راولپنڈی کے مشہور عالمِ دِین مولانا غلام اللہ خان کا اختلاف کوئی ڈھکی چھپی چیز نہیں، لیکن حضرت پیر گولڑہ شریف نے اعلان کیا:

’’حضور سروَرِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی ختمِ نبوّت کے تحفظ کے لئے میں مولانا غلام اللہ خان کے جوتے اُٹھانے کے لئے تیار ہوں!‘‘

مولانا محمد لدھیانوی

جنہوں نے سب سے پہلے مرزا کے کفر کو آشکارا کیا:

مولانا محمد لدھیانویؒ ۱۳۴۵ھ بمطابق ۱۸۳۰ء میں پیدا ہوئے، دِینی تعلیم یعنی درسِ نظامی اپنے بزرگوں سے حاصل کی۔ ۱۳۰۱ھ میں مرزا غلام احمد قادیانی اپنے خسر کے ہاں لدھیانہ گیا اور اپنی مجدّدیت کا راگ الاپنا شروع کردیا، چنانچہ مولانا محمد لدھیانویؒ ’’فتاویٰ قادریہ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ:

مرزا قادیانی نے لدھیانہ شہر میں آکر ۱۳۰۱ھ میں اپنے مجدّد ہونے کا دعویٰ

247

کیا۔ عباس علی صوفی، منشی احمد جان مریدان اور مولوی محمد حسن بمعہ اپنے گروہ کے مولوی شاہدین اور عبدالقادر نے ایک مجمع میں کہا کہ علی الصبح مرزا غلام احمد قادیانی اس لدھیانہ شہر میں تشریف لائیں گے اور اس کی تعریف میں نہایت مبالغہ کرکے کہا: ’’جو اس پر اِیمان لائے گا، گویا کہ وہ اوّل مسلمان ہوگا۔‘‘ مولانا عبداللہ مرحوم نے کمالِ بُردباری اور تحمل سے فرمایا کہ: اگرچہ اہلِ مجلس کو میرا بیان ناگوار گزرے گا، لیکن جو بات اللہ تعالیٰ نے میرے دِل میں ڈالی ہے، بیان کئے بغیر میری طبیعت کا اِضطراب دُور نہیں ہوگا۔ وہ بات یہ ہے کہ جس کی تم تعریف کر رہے ہو، وہ بے دِین ہے۔‘‘

(فتاویٰ قادریہ ص:۲۷)

مجلس برخاست ہونے کے بعد مولوی عبداللہ اور مولوی محمد کے درمیان مباحثہ ہوا، مولوی عبداللہ نے فرمایا کہ: میں نے طبیعت کو بہت روکا، لیکن یہ کلام جو میرے دِل میں اِلقا کیا گیا ہے اِلہام سے کم نہیں۔ مولوی عبداللہ اس روز سخت پریشان رہے، بلکہ شام کو کھانا بھی تناول نہ کیا، اِستخارہ کیا گیا جس سے مرزا کا بے دِین ہونا واضح ہوگیا۔ آگے چل کر لکھتے ہیں کہ: جس روز مرزا قادیانی لدھیانہ شہر میں وارِد ہوا، راقم الحروف (مولوی محمد) اور مولوی عبداللہ، مولوی اسماعیل نے ’’براہین احمدیہ‘‘ کو دیکھا تو اس میں کلماتِ کفریہ کے انبار پائے اور لوگوں کو قبل از دوپہر اِطلاع کردی کہ یہ شخص مجدّد نہیں بلکہ زِندیق ہے اور ملحد ہے اور گرد و نواح کے شہروں میں فتوے لکھ کر روانہ کئے کہ یہ شخص مرتد ہے، اس موقع پر اکثر نے تکفیر کی رائے کو تسلیم نہ کیا۔

(فتاویٰ قادریہ ص:۴)

سیّد مظفر علی شمسیؒ:

سیّد مظفر علی شمسیؒ بیان کرتے ہیں کہ تحریکِ ختمِ نبوّت ۱۹۵۳ء کے سلسلے میں مجھے دیگر راہ نماؤں کے ساتھ گرفتار کرکے سکھر جیل بھجوایا گیا اور ہم پر ظلم و ستم کے پہاڑ

248

توڑے گئے، جیل کے اندر پانچ دروازے پارکرواکر ایک تنگ و تاریک کوٹھڑی میں بھیجا گیا، اس کوٹھڑی میں دَم لینا دُشوار تھا اور جب کبھی دَم گھٹنے لگتا تو ہم سب باری باری دروازے کے ساتھ منہ لگالیتے تاکہ کچھ سانس بحال ہوسکے۔ ہم سب اس حالت میں صبر و شکر کے ساتھ موت کا انتظار کرنے لگے۔ سکھر میں ان دنوں گرمی انتہا درجے کی تھی، مرغی کے انڈے کو اگر پانی میں ڈال کر رکھ دیا جائے تو پانچ منٹ میں اُبل جاتا تھا، رات کو سرخ آندھی چلتی جو کئی کئی دن مسلسل چلا کرتی، آنکھیں سرخ ہی سرخ ہوجاتی تھیں، سحری اور اِفطاری میں خوراک ایسی کہ دیکھ کر طبیعت خراب ہوجاتی، رمضان المبارک کے روزے رکھنا بہت دُشوار ہوگیا تھا۔ عیدالفطر کے دن تمام قیدیوں نے مل کر نمازِ عید اَدا کی، نماز سے فارغ ہوئے تو اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ جیل خطوط لے کر آئے، اُنہوں نے میری ڈاک میرے سپرد کی، اس میں میری ہمشیرہ کا خط تھا، جسے میں نے ہاتھوں ہاتھ لیا، پڑھا اور رودیا، اس میں لکھا تھا:

’’میرے بھیا!

اس امتحان میں آپ کو پریشان کرنا نہیں چاہتی، اب قریب المرگ ہوں، بخار دامن نہیں چھوڑتا، درجہ حرارت ۱۰۴ سے گرتا نہیں، کھانسی زوروں پر ہے، محبوب بھائی ڈاکٹر صاحب کو لائے تھے، ایکسرے میں ٹی بی کی ابتدائی منزل ہے، ماں باپ نے مجھے آپ کے سپرد کیا تھا اور اَب موت مجھے لئے جارہی ہے۔ کاش! کہ میرے آخری وقت آپ میرے پاس ہوتے۔

آپ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے نام پر جو مصائب برداشت کر رہے ہیں، اللہ آپ کو اِستقلال بخشے اور قیامت کے دن آپ کی قربانی ہمیں دربارِ رسالت میں سرخرو کرے۔

آپ بہادری سے قید کاٹیں، اگر زندگی رہی تو مل لوں

249

گی، ورنہ میری قبر پر تو آپ ضرور آئیں گے۔ سب بچے سلام کہتے ہیں، اب ہاتھ میں طاقت نہیں، لہٰذا خط ختم کرتی ہوں۔ بھیا سلام۔

آپ کی بہن۔‘‘

اس خط سے میرے دِل میں ایک ہوک اُٹھی، شاہ صاحب آبدیدہ ہوگئے، سب نے عزیزہ کی صحت کے لئے دُعا کی، اس خط کا مطلب وہی سمجھ سکتا ہے جو وطن سے دُور ہو اور پھر قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہا ہو۔

رُوح پروَر اور اِیمان افروز نظارہ:

ایک رات کو مولانا غلام اللہ خان کی جامع مسجد میں جلسۂ عام تھا، اللہ اللہ! چشمِ فلک نے ایسے رُوح پروَر اور اِیمان افروز نظارے کم دیکھے ہوں گے، مولانا بنوریؒ کا نورانی چہرہ چاند کی طرح دمک رہا تھا، علمائے کرام، مشائخِ عظام اور دُوسرے تمام اکابر اِسٹیج پر جلوہ افروز تھے۔ جناب سیّد مظفر علی شمسی کے ان الفاظ پر کہ: ’’پہلے ۱۹۵۳ء میں بھی ایک سیّد کی قیادت میں تحریکِ ختمِ نبوّت میں شامل ہوا تھا اور آج بھی ایک سیّد ہی کی قیادت میں گھر سے نکل آیا ہوں اور آتے ہوئے اپنی بیٹیوں کو وصیت کر آیا ہوں کہ جب تمہیں خبر ملے کہ تمہارا اَبا، نانا مصطفی (صلی اللہ علیہ وسلم) پر قربان ہوگیا ہے اور اس کے ساتھی بھی شہید کردئیے گئے ہیں اور ان کی لاشیں راولپنڈی کی سڑکوں پر گھسیٹی جارہی ہیں تو تم بھی زینبؓ کی طرح سروں سے چادریں اُتار کر ننگے سر ہوکر سڑکوں پر نکل آنا اور ختمِ نبوّت کی تحریک میں شامل ہوجانا۔‘‘

مجمع میں ایک قیامت بپا ہوگئی، لوگ دھاڑیں مار مار کر رونے لگے، کوئی شخص ایک لاکھ کے مجمع میں ایسا نہیں ہوگا جس نے اپنے دِل میں یہ عہد نہ کرلیا ہو کہ کل صبح اگر فیصلہ مسلمانوں کے خلاف ہوا تو وہ اپنے آپ کو شہادت کے لئے پیش نہیں کرے گا۔

( ہفت روزہ ’’لولاک‘‘ فیصل آباد)

250

مجیب الرحمن شامی صاحب:

پاکستان کے ممتاز اہلِ قلم، ناموَر صحافی جناب مجیب الرحمن شامی نے ’’قومی ڈائجسٹ‘‘ کا قادیانیت نمبر شائع کیا، اس کی مانگ و مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ ان کو چند ہفتوں میں کئی ایڈیشن شائع کرنے پڑے، کسی بھی قومی پرچے کی اتنی اشاعت نہیں جتنی اس نمبر کی ہوئی، یہ ایک ریکارڈ ہے۔ اس کے لائبریری ایڈیشن کے دیباچے میں وہ تحریر کرتے ہیں کہ: ’’اس ایڈیشن کے شائع ہوتے ہی مجھے حج کا بلاوا آگیا‘‘ جسے وہ اس نمبر کی مقبولیت کی دلیل قرار دیتے ہیں۔

مولانا نواب الدین ستکوہی:

(از مظہرالدین)

میرے والد ماجد مولانا نواب الدین صاحب قصبہ رمداس، ضلع امرتسر کے تھے۔ والد صاحب چونکہ حضرت خواجہ سراج الحق کے خلیفۂ اعظم تھے اور غیرمعمولی اوصاف و کمالات کے حامل، اس لئے انہیں قادیان کے خطرناک محاذ ستکوہا پر متعین کیا گیا، جو قادیان سے تین کوس کے فاصلے پر تھا اور بٹالہ سے اگلے اسٹیشن ’’چھینا‘‘ سے اُتر کر قادیان جانے والوں کی راہ گزر میں ایک اہم مقام کی حیثیت رکھتا تھا۔

تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد جب والد صاحب قادیان پر حملہ آور ہوتے تو تیزی سے دیہات میں یہ خبر پھیل جاتی کہ مولوی صاحب مرزا سے مناظرہ کرنے جارہے ہیں اور دیہاتی عوام اپنے ہل چھوڑ کر ساتھ ہوجاتے۔ یہ واقعہ میری پیدائش سے چند سال پہلے کا ہے۔ مرزا غلام احمد اور حکیم نورالدین سے گفتگو کا سلسلہ صرف علمی مباحث تک ہی محدود نہ رہتا بلکہ والد صاحب اسے شدید مطعون بھی کرتے۔ یہ خبریں تو مجھ تک عینی شاہدوں کے ذریعے بکثرت پہنچی ہیں کہ مرزا غلام احمد دق ہوکر عجز و اِنکسار کی راہ اختیار کرلیتا اور اپنے دعوؤں کی تأویلیں کرنے لگتا۔ مرزا کی موت کے

251

بعد مناظروں کا دَور شروع ہوا تو والد صاحب پنجاب کے عظیم مناظر ہونے کی حیثیت سے ان کا مقابلہ کرنے لگے، اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ ان کے مناظروں کی تعداد کتنی ہے؟ سینکڑوں یا ہزاروں؟ بہرحال مناظروں میں زبانی کلامی ہی باتیں نہ ہوتی تھیں، بلکہ جہاد فی سبیل اللہ کا آغاز بھی ہوجاتا تھا۔

غالباً ۱۹۲۹ء کا واقعہ ہے کہ پاک پتن شریف کی درگاہ میں والد صاحب کے پیر و مرشد کی درگاہ تھی، اس وقت پاک پتن شریف کی جامع مسجد کے خطیب ایک متبحر عالمِ دِین مولانا عبدالحق صاحب تھے، جو یہیں کے ایک زمین دار بھی تھے۔ مرزائیوں سے شرائطِ مناظرہ طے کرنے کے لئے مولانا تشریف لے جانے لگے تو میں بھی ان کے ساتھ ہوگیا۔ مرزائی بڑے کرّ و فرّ کے ساتھ آئے تھے، میں ان کی کتابوں کے انبار اور اُن کا کرّ و فرّ دیکھ کر مرعوب ہوگیا، دِل میں یہ خیال گزرنے لگا کہ میرے والد صاحب کے پاس تو کوئی کتاب نہیں، وہ کیسے مناظرہ کریں گے؟ چنانچہ جب میں نے اپنے اس تأثر کا والد صاحب سے اظہار کیا تو وہ ہنس پڑے اور مولانا عبدالحق صاحب سے فرمانے لگے کہ: ’’دیکھو! مظہر کیا کہہ رہا ہے؟‘‘ پھر مولانا نے فرمایا: ’’اس لڑکے کو سمجھاؤ کہ مناظرہ کتابوں سے نہیں تائیدِ ربانی سے ہوتا ہے اور الحمدللہ! یہ ہمیشہ میرے شاملِ حال رہی ہے، میں نے زندگی میں اربابِ باطل سے تمام مناظرے کتاب کے بغیر کئے ہیں!‘‘

یہاں یہ ذکر بھی خالی از دِلچسپی نہ ہوگا کہ مرزائیوں نے عام دستور کے خلاف پاک پتن شریف کے مناظرے میں والد ماجد کے مقابلے کے لئے کہن سال اور کرگانِ باران دیدہ کی بجائے نوجوان مناظروں کو بھیجا جو والدِ ماجد کے تبحرِ علمی، زورِ خطابت شخصیت، ذہانت و فطانت اور شجاعت و بہادری سے قطعی طور پر ناآشنا تھے۔ ان نوجوانوں کے سرخیل تین مناظروں کا نام تو مجھے اب تک یاد ہے: جلال الدین شمسی، عبدالرحمن اور سلیم۔ اور الحمدللہ! اسی مناظرے میں ۱۳۰ آدمیوں نے مرزائیت

252

سے توبہ کی اور والد صاحب کے حلقۂ ارادت میں شامل ہوگئے۔

تم نے جادوگر اسے کیوں کہہ دیا؟

محمدی بیگم کے قصبہ ’’پٹی‘‘ میں جب والد صاحب کا مناظرہ ہوا تو فریقِ مخالف آنکھ ملاکر بات کرنے سے گریز کر رہا تھا، والد ماجد نے متعدّد بار کڑک کر کہا کہ: ’’اِدھر دیکھو!‘‘ لیکن وہ آنکھ چُرا رہے تھے، اسٹیج پر بیٹھے ہوئے بعض لوگوں نے کہا کہ: ’’حضرت! ان لوگوں کا خیال ہے کہ آپ جادوگر ہیں اور آپ کی آنکھوں میں سحر ہے۔‘‘ یہ سن کر والد صاحب ہنس پڑے اور اپنے مخصوص انداز میں فرمایا:

تم نے جادوگر اسے کیوں کہہ دیا؟

دہلوی ہے داغؔ، بنگالی نہیں!

حیاتِ مسیحؑ اور مولانا رُوم

ضمناً یہ بات بھی سن لیجئے جو میں نے والدِ ماجد کی زبان سے سنی ہے، فرمایا کہ: ایک روز قادیان سے گزر ہوا تو میں نے احباب سے کہا کہ: ’’مرزا غلام احمد سے ملے بغیر یہ سفر ناتمام رہے گا، آؤ! مرزا سے ملتے چلیں۔‘‘ جب میں گیا تو مرزا اور حکیم نورالدین چند لوگوں کے سامنے مثنوی مولانا رُوم کے اَشعار پڑھ رہے تھے، مرزا کی زبان سے مولانا رُوم کی تعریف و توصیف سن کر میں نے کہا کہ: مولانا رُوم تو حیاتِ مسیح کے قائل ہیں، فرماتے ہیں:

عیسیٰ و اِدریس چوں ایں راز یافت

بر فرازِ گنبدِ چارم شتافت

ـــــــــــــــــــــــــ

عیسیٰ و اِدریس برگر دو شدند

زاں کہ از جنسِ ملائک آمدند

253

مرزا نے جواب دیا کہ: ’’یہ ان کی انفرادی رائے ہے!‘‘ میں نے کہا کہ: ’’ان کی رائے اِنفرادی نہیں، یہ اِجماعی ہے!‘‘ مرزا نے جھٹ حکیم نورالدین سے کہا کہ: ’’بھئی! مولانا کے لئے چائے لاؤ‘‘ ایک صاحب نے جھٹ پوچھا کہ: ’’حضرت! آپ نے چائے پی؟‘‘ فرمایا: ’’اَستغفر اللہ! یہ کیسے ممکن تھا؟‘‘۔

یہاں مجھے بے اختیار ایک واقعہ یاد آگیا اور وہ یہ کہ والد صاحب نے اپنی موت سے ہفتہ عشرہ پہلے مجھ سے مخاطب ہوکر فرمایا کہ: ’’مظہر! اللہ کریم مجھے بخش دے گا۔‘‘ تھوڑے سے وقفے کے بعد فرمانے لگے کہ: ’’اعمال پر نہیں، اعمال کا محاسبہ ہوا تو مجھے جہنم کا کوئی مناسب گوشہ بھی نہیں ملے گا، میں نے زندگی میں مرزائیوں کو بہت مارا ہے، اسی لئے اُمید ہے کہ اللہ کریم مجھے بخش دے گا!‘‘

۔۔۔۔ ’’مجھ جیسا وجیہ انسان یا تجھ جیسا بجّو؟‘‘:

جب مرزا ایک مقدمے میں مأخوذ ہوکر گورداسپور کی کچہری میں آیا تو والد صاحب بھاگم بھاگ کچہری پہنچ گئے اور مرزا کے گرد لوگوں کا حلقہ توڑ کر مرزا کا بازو پکڑلیا، بازو کو ایک شدید جھٹکا دے کر فرمانے لگے کہ: ’’مردود! نبوّت اگر جاری ہوتی اور اللہ تعالیٰ اس علاقے میں کوئی نبی بھیجتا تو بتا! کہ مجھ جیسے وجیہ انسان کو بھیجتا یا تجھ سے جیسے بجّو کو؟‘‘ یہ سن کر حاضرین کے انبوہ سے ایک قہقہہ بلند ہوا اور مرزا پر سکتے کا عالم طاری ہوگیا۔ والد صاحب کی روانگی کے وقت ہی خواجہ سراج الحق صاحب کو یہ معلوم ہوگیا تھا کہ مولوی صاحب، مرزا سے باتیں کرنے کے لئے گئے ہیں، چنانچہ بہت جلد حضرت بھی پہنچ گئے اور والد صاحب کو اپنے ساتھ لے آئے۔

پٹوار کے امتحان میں فیل ہونے والا فرستادۂ خدا کیسے؟

میری عمر بہت چھوٹی تھی کہ ہمارے خاندان میں سے ایک خاتون کا رشتہ ایک مرزائی سے ہوگیا، بعد میں معلوم ہوا کہ یہ شخص مرزائی ہے تو والد صاحب کو بہت

254

صدمہ ہوا۔ وہ کہہ رہے تھے کہ: ’’کافر سے مسلمان خاتون کا رشتہ جائز نہیں!‘‘ لیکن میرے ماموں چوہدری ابراہیم تحصیل دار، جو مشہور ناول نگار نسیم حجازی کے والد تھے، اگرچہ مرزا کے بہت خلاف تھے اور مرزا کے رَدّ میں بالعموم یہی دلیل دیا کرتے تھے کہ: ’’میں نے اور مرزا غلام احمد نے سیالکوٹ میں پٹوار کا امتحان دیا، وہ فیل ہوگیا اور میں پاس ہوگیا، جو شخص پٹواری نہ بن سکے وہ فرستادۂ خدا کیسے ہوسکتا ہے؟‘‘ مگر وہ کہہ رہے تھے کہ کوئی ایسی صورت ہونی چاہئے کہ ہمارے خاندان کی لڑکی عدالت میں نہ جائے۔ چنانچہ والد صاحب نے یہ کہہ کر موصوفہ سے نکاح کرلیا کہ: ’’عدالت کا معاملہ میں خود نمٹ لوں گا!‘‘ مرزائیوں کو جب اس نکاح کی اطلاع ملی تو اُنہوں نے گورداسپور کی عدالت میں مقدمہ دائر کردیا، یہ مقدمہ سات سال تک جاری رہا، انجامِ کار والد صاحب کو فتح ہوئی اور میری دُوسری والدہ، مرزا بشیرالدین اور چوہدری ظفراللہ خان کی انتہائی سعی و کوشش کے باوجود ایک بار بھی عدالت میں پیش نہ ہوسکیں۔

تنسیخِ نکاح کا پہلا مقدمہ:

جب مرزا بشیرالدین بطورِ گواہ عدالت میں آیا تو ظفراللہ خان نے یہ مسئلہ کھڑا کردیا کہ بشیرالدین کو عدالت میں کرسی ملنی چاہئے، ادھر سے یہ تقاضا تھا کہ کرسی ملے تو دونوں کو، ورنہ دونوں کھڑے رہیں۔ والد صاحب بیٹھنے پر کھڑا رہنے کو ترجیح دے رہے تھے، کافی بحث کے بعد یہی فیصلہ ہوا کہ دونوں کھڑے رہیں۔ بشیرالدین اور ظفراللہ خان پر والد صاحب کی جرح دیدنی تھی جس کا تھوڑا سا تصوّر اَب بھی میرے ذہن میں محفوظ ہے۔ والد صاحب کہہ رہے تھے کہ: ’’برخوردار! تیرے والد کو حیض آتا تھا؟‘‘ اور ظفراللہ خان سٹپٹا رہا تھا۔ مختصر یہ کہ تنسیخِ نکاح کا یہ پہلا مقدمہ تھا جو والد صاحب نے جیتا، مقدمہ بہاولپور بہت بعد کی بات ہے۔

تحریکِ ختمِ نبوّت کے دوران تنسیخِ نکاح کے سلسلے میں جتنی تحریریں میرے

255

سامنے آئی ہیں، ان میں کہیں بھی یہ مذکور نہیں کہ تنسیخ کا پہلا مقدمہ مولانا نواب الدین ستکوہی نے جیتا تھا، حالانکہ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے۔

مرزا کا ’’آسمانی نکاح‘‘ جو زمین پر نہ ہوسکا:

یہاں میں ایک ضروری بات کہنا چاہتا ہوں اور وہ یہ کہ جب مرزا غلام احمد قادیانی نے محمدی بیگم سے اپنے آسمان پر نکاح ہونے کا دعویٰ کیا تو والد صاحب، محمدی بیگم کے قصبہ ’’پٹی‘‘ پہنچ گئے، یہاں پہنچ کر اُنہوں نے اپنی سحربیانی اور رُوحانی قوّت سے ’’پٹی‘‘ کے مغلوں کو اپنے حلقۂ ارادت میں شامل کرلیا۔ محمدی بیگم کا خاندان والد صاحب کا مرید ہوگیا، یوں مرزا غلام احمد کا ’’آسمانی نکاح‘‘ زمین پر نہ ہوسکا، یہ والد صاحب کا مرزا پر سیاسی حملہ تھا۔ پٹی میں والد صاحب کے ورودِ مسعود کی داستان ان کے ایک مرید، مشہور صحافی اور شاعر حاجی لق لق مرحوم کے قلم سے چند سال پیشتر ہفت روزہ ’’چٹان‘‘ میں چھپ چکی ہے۔

آج سے تقریباً نصف صدی پیشتر کے اسلامی اجتماعات کے اشتہارات کو اگر دیکھا جائے تو ان میں والدِ ماجد کے نام کے ساتھ ’’فاتحِ قادیان‘‘ کے الفاظ ملیں گے، یہ خطاب علمائے اسلام نے والد صاحب کو اسی لئے دیا تھا کہ انہوں نے تنسیخِ نکاح کا پہلا مقدمہ جیتا تھا، ورنہ مناظر تو اس عہد میں اور بھی تھے۔

مرزائیوں کو پٹخنیاں:

غالباً ۱۹۲۵ء کا واقعہ ہے کہ مرزائیوں نے ریاست جموں و کشمیر کو اپنی تخریبی سرگرمیوں کی آماج گاہ بنالیا، چنانچہ حضرت پیر جماعت علی شاہ صاحبؒ نے اس فتنے کے سدِّ باب کے لئے جموں میں ایک تبلیغی کانفرنس منعقد کی اور مشاہیر علمائے اسلام کو دعوت نامے بھیجے، ان میں والد صاحب کا نام بھی تھا، یہ وہ عہد تھا کہ والد صاحب اپنے آبائی وطن رمداس، ضلع امرتسر میں تشریف لاچکے تھے۔ اس وقت ہمارا عظیم الشان

256

مکان زیرِ تعمیر تھا اور والد صاحب کی ساری توجہ مکان کی تعمیر پر مرکوز تھی۔ اسی دوران میں حضرت اَمیرِ ملت کا دعوت نامہ آگیا اور والد صاحب تمام کام چھوڑ کر جموں روانہ ہوگئے۔ روانگی کے وقت مجھے مخاطب کرکے فرمایا کہ: ’’تم بھی چلو گے؟‘‘ لیکن اس عہدِ طفولیت میں میری تمام تر توجہ اپنے کبوتروں پر مرکوز تھی، میں نے جواب دینے میں ذرا تأمل کیا، تو مسکراکر فرمانے لگے کہ: ’’تیرے کبوتروں کی حفاظت کے لئے میں خاص آدمی مقرّر کردیتا ہوں، جموں میں، میں مرزائیوں کو جو پٹخنیاں دُوں گا وہ تیرے کبوتروں کی قلابازیوں سے بہتر ہوں گی، مزا نہ آیا تو کسی کے ساتھ واپس بھیج دُوں گا!‘‘ یہ سن کر میں ہنس پڑا اور ساتھ جانے کے لئے تیار ہوگیا۔

اس منظر کو دیکھنے والے لوگ ابھی تک بقیدِ حیات ہیں، کانفرنس میں زیادہ تر والد ماجد ہی کی تقریریں ہوتی تھیں، اس معرکے سے خوش ہوکر حضرت پیر جماعت علی شاہ صاحبؒ والد صاحب کو اپنے ساتھ علی پور لے گئے، علی پور میں والد صاحب کا قیام طویل سے طویل تر ہوتا گیا، ہر روز رات کو والد صاحب کی تقریر ہوتی تھی اور دن علمی و عرفانی باتوں میں گزرتا تھا۔ ایک بچے کے لئے ایسے ماحول میں زیادہ دیر ٹھہرنا مشکل ہوتا ہے، چنانچہ میں گاؤں میں گھومنے پھرنے لگا، بلکہ حضرت اَمیرِ ملت خود فرمادیتے کہ: ’’مظہر! جاؤ مسجد، مدرسہ اور تہہ خانہ دیکھ آؤ!‘‘ ایک روز میں واپس آیا تو حضرتؒ نے فرمایا کہ: ’’مسجد اور مدرسہ پسند آیا؟‘‘ میں نے اثبات میں جواب دیا، تو فرمانے لگے کہ: ’’بس تعلیم کے لئے یہیں آجاؤ!‘‘ مختصر یہ کہ یہیں سے صاحب زادگان سے تعلقات کی ابتدا ہوئی۔

کچھ زیادہ مدّت نہ گزری تھی کہ مرزائیوں نے حضرت پیر جماعت علی شاہ صاحبؒ، مولانا دیدار علی شاہ صاحب اور والدِ ماجد کا جموں و کشمیر میں داخلہ قانوناً رُکوادیا، اس سے عوام نے اور بھی خوشگوار اثر لیا، وہ سمجھنے لگے کہ مرزائی، مسلمان علماء کی تاب نہیں لاسکتے۔

257

پہلی تصنیف:

میرے عنفوانِ شباب میں والد صاحب کے مرزائیوں سے جو مناظرے ہوئے، انہی کا یہ نتیجہ تھا کہ مجھے تمام سوالات و جوابات یاد ہوگئے، جنھیں میں نے قلم بند کرکے ’’خاتم المرسلین‘‘ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے نام سے شائع کردیا، یہ میری پہلی تصنیف تھی جس پر اُستادِ محترم ابوالبرکات سیّد احمد صاحب، والد ماجد اور مولانا مرتضیٰ احمد خان میکش نے تقریظیں لکھیں۔

خواجہ ناظم الدین:

تحریکِ ختمِ نبوّت کے دوران قاضی صاحبؒ، مولانا لال حسین اخترؒ اور مولانا احتشام الحق تھانویؒ نے متعدّد بار خواجہ ناظم الدین صاحب سے ملاقاتیں کیں، ان کے سامنے مرزائیوں کی تمام سرگرمیوں کا پس منظر و پیش منظر واضح کیا۔ پاکستان کے وجود کو تسلیم نہ کرنے، بلکہ اکھنڈ بھارت قائم کرنے کے رُؤیا دِکھائے گئے، نیز انہیں یہ بھی بتایا گیا کہ وہ بشمول آپ، لیاقت علی خان، قائدِاعظم محمد علی جناح، تمام مسلمانوں کو مسلمان نہیں سمجھتے اور مسلمانوں کے بزرگوں کو بُرے الفاظ سے یاد کرتے ہیں، مرزائیوں کی تمام چیدہ چیدہ کتابوں کے خوفناک حوالے دِکھائے گئے۔ خواجہ صاحب کو جب ان تمام باتوں سے واقفیت ہوگئی تو وہ حیران رہ گئے اور ابتدائً انہوں نے ہمدردانہ غور کا وعدہ فرمایا، بلکہ ایک سرکلر جاری بھی کردیا جس کی رُو سے آئندہ مرزائی فرقے کو اپنے مذہب کی تبلیغ وغیرہ کی اجازت نہیں تھی، لیکن وہ ظفراللہ خان قادیانی کو اپنے مذہب کی تبلیغ اور جلسوں سے خطاب کرنے سے منع نہ کرسکے۔ بعد میں خواجہ صاحب نے تحریک کو بزورِ قوّت ختم کرنے اور مسلمانوں پر گولیاں چلانے کا مظاہرہ کرکے عقیدۂ ختمِ نبوّت کے ساتھ اپنی روایتی ’’محبت و عقیدت‘‘ کا ثبوت فراہم کردیا۔

258

حضرت مولانا سیّد محمد یوسف بنوریؒ:

تحریکِ ختمِ نبوّت ۱۹۷۴ء کے دوران مردان کے ایک عظیم اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ’’میں نے آخری فیصلہ کیا ہوا ہے، اپنے سامان میں اپنے ساتھ کفن رکھا ہوا ہے، یا تو قادیانیوں کو آئینی طور پر غیرمسلم اقلیت تسلیم کیا جائے گا، یا ہم اپنی جان کا نذرانہ پیش کردیں گے، اس کے علاوہ اور کوئی تیسرا راستہ نہیں ہے۔‘‘

اسی تحریک میں جب اپنے قائم کردہ مدرسہ جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی سے روانہ ہونے لگے تو مولانا مفتی ولی حسن کو بلاکر فرمایا کہ: ’’میں اپنے ساتھ کفن لئے جارہا ہوں!‘‘ پھر سامان سے کفن نکال کر دِکھایا اور فرمایا: ’’زندہ رہا تو واپس آجاؤں گا، اگر شہید ہوگیا تو یہ مدرسہ تمہارے ہاتھ میں اللہ تعالیٰ کی امانت ہے، اس کی حفاظت کرنا۔۔۔!‘‘

شاہ جیؒ اور حضرت بنوریؒ آمنے سامنے:

حضرت اَمیرِ شریعتؒ کی علالت کے دنوں میں جب حضرت بنوریؒ بغرضِ عیادت ان کے دَرِ دولت پر گئے اور دروازے پر دستک دی اور اَمیرِ شریعتؒ بنفسِ نفیس باہر تشریف لائے اور آپ کو سامنے کھڑا دیکھ لینے کے باوجود دریافت کیا: ’’کون؟‘‘ مولانا بنوریؒ نے یہ سمجھا کہ شاید علالت کی وجہ سے پہچان نہ پائے ہوں، جواباً کہا: ’’محمد یوسف بنوری!‘‘ اَمیرِ شریعتؒ نے فرمایا: ’’کون؟‘‘ اس بار حضرت بنوریؒ کو یہ اندیشہ ہوا کہ شاید مرض کی شدّت کے سبب قوّتِ سماعت میں بھی فرق آگیا ہے، تو بآوازِ بلند دُہرایا: ’’محمد یوسف بنوری!‘‘ مگر اَمیرِ شریعتؒ نے جواباً کہا: ’’نہیں، نہیں! انور شاہؒ‘‘ یہ کہہ کر شاہ جیؒ نے حضرت بنوریؒ کے چہرے کو اپنے دونوں ہاتھوں میں لیا، دونوں پر گریہ کی کیفیت طاری ہوگئی، بغلگیر ہوئے اور دیر تک ایک دُوسرے سے لپٹے رہے۔

259

’’عالمی مجلس تحفظ ختمِ نبوّت‘‘ کی امارت اور ’’مجلس عمل ختمِ نبوّت‘‘ کی صدارت:

۱۹۷۴ء میں ’’مجلس تحفظِ ختمِ نبوّت‘‘ کی امارت کے لئے آپؒ کو منتخب کیا گیا، جاننے والے جانتے ہیں کہ کتنی منتوں سماجتوں، کتنے اِستخاروں، دُعاؤں اور مشوروں کے بعد آپؒ نے یہ منصب قبول فرمایا۔ ابھی ’’مجلس تحفظِ ختمِ نبوّت‘‘ کی امارت قبول کئے آپ کو چند مہینے نہیں گزرے تھے کہ ربوہ اسٹیشن کا سانحہ پیش آیا، جس کے نتیجے میں ملک گیر تحریک چلی اور اس نے غیرمعمولی شکل اختیار کرلی۔ اس کی قیادت کے لئے تمام جماعتوں پر مشتمل ’’مجلسِ عمل ختمِ نبوّت‘‘ تشکیل پائی تو باصرار اس کی صدارت کے لئے آپؒ کو منتخب کیا گیا۔ حضرت قدس سرہٗ نے اس تحریک کے دوران جس تدبر و فراست، جس اِخلاص و للہیت، جس صبر و اِستقامت اور جس اِیثار و قربانی سے ملّی قیادت کے فرائض انجام دئیے، وہ ہماری تاریخ کا ایک مستقل باب ہے۔ ان دنوں حضرتؒ پر سوز و گداز کی جو کیفیت طاری رہتی تھی وہ الفاظ کے جامۂ تنگ میں نہیں سماسکتی۔ حق تعالیٰ نے آپؒ کے اسی سوزِ دروں کی لاج رکھی اور قادیانی ناسور کو جسدِ ملت سے کاٹ کر جدا کردیا۔

تحریک کے بعد خواب میں حضرت علامہ کشمیریؒ کی زیارت:

مولاناؒ نے فرمایا کہ: تحریک کے بعد جب تبلیغی سلسلے میں لندن گیا تو وہاں میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک بڑا اسٹیج ہے جس کی خوب سج دھج ہے، ہر طرف روشنی ہی روشنی ہے، حضرت شیخ انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ اس پر تشریف فرما ہیں، احباب ان سے مل رہے ہیں، سب لوگ فارغ ہوگئے تو میں (حضرت بنوریؒ) حاضر ہوا، آپؒ دیکھتے ہی اُٹھ کھڑے ہوئے، بغلگیر ہوئے، مجھے سینے سے لگایا، وہ بے پناہ خوشی و شادمانی کے عالم میں میری داڑھی کے بوسے لینے لگے اور میں نے خوشی و

260

شادمانی کے عالم میں ان کی داڑھی مبارک کے بوسے لئے۔

۔۔۔۔ ’’واہ میرے پھول!‘‘۔۔۔۔

دُوسرا خواب میں نے دیکھا کہ: حضرت اَمیرِ شریعت سیّد عطاء اللہ شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ کسی جگہ سے تشریف لائے ہوئے ہیں، مجھے دیکھتے ہی بے پناہ مسرّت میں: ’’واہ میرے پھول! واہ میرے پھول!‘‘ کہتے ہوئے سینے سے لگالیا۔ حضرت اَمیرِ شریعت رحمۃ اللہ علیہ آبدیدہ تھے، چہرے پر مسرّت نمایاں تھی۔

۱۹۷۴ء کی تحریکِ ختمِ نبوّت میں جب طلباء، جلسہ و جلوس میں حصہ لینے لگے تو حضرت بنوریؒ نے خطاب کرتے ہوئے کہا: ’’ضرورت پڑی تو سب سے پہلے بنوری اپنی گردن کٹوائے گا، پھر آپ کی باری آئے گی۔‘‘

مبارک خواب:

انہی مبشرّات کے ضمن میں جی چاہتا ہے کہ اس خط کا اقتباس بھی درج کردیا جائے جو حضرتؒ کے ایک گہرے دوست الشیخ محمود الحافظ مکی نے آپؒ کو ملکِ شام سے لکھا تھا، اصل خط عربی میں ہے، یہاں اس کا متعلقہ حصہ اُردو میں نقل کرتا ہوں:

’’میں آپ کو مبارک باد دیتا ہوں کہ میں نے ۳؍شعبان ۱۳۹۴ھ رات کو آپ کے بارے میں بہت عمدہ اور مبارک خواب دیکھا ہے، جس کی آپ کو مبارک باد دینا چاہتا ہوں اور اس کو یہاں اِختصار کے ساتھ نقل کرتا ہوں۔

میں نے آپ کو ایسے شیوخ کی جماعت کے ساتھ دیکھا ہے جو سن رسیدہ تھے اور جن پر صلاح و تقویٰ کی علامات نمایاں تھیں، یہ سب حضرات اس قرآنِ کریم کے صفحات جمع کرنے میں مصروف تھے جو آنجناب نے اپنے قلم سے زعفرانی

261

رنگ کی روشنائی سے بدستِ خود تحریر فرمایا ہے اور آنجناب کا قصد ہے کہ اسے لوگوں کے فائدۂ عام کے لئے شائع کیا جائے۔ آپ نے اپنے اس ارادے کا اظہار نہایت مسرّت و شادمانی کے ساتھ میری جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا۔

صبح جب نمازِ فجر کے لئے اُٹھا تو قلب فرحت سے لبریز تھا اور میں یقین رکھتا ہوں کہ آپ کے اعمال کو اللہ تعالیٰ نے کامیابی و کامرانی کا تاج پہنایا ہے، وَالْحَمْدُ ِﷲِ الَّذِیْ بِنِعْمَتِہٖ تَتِمُّ الصَّالِحَات!‘‘

یہ مبارک خواب تحریکِ ختمِ نبوّت کے زمانے کا ہے، سنہرے حروف سے قرآنِ کریم لکھنے کے متعلق راقم کی رائے یہ ہے کہ اس فیصلے کے ذریعے آیت ’’خاتم النبییّن‘‘ کو صفحاتِ عالم پر سنہرے حروف سے رقم کرنے کی طرف اشارہ ہے۔

شاہ فیصل مرحوم کو خط:

مسٹر بھٹو کے زمانے میں جب قادیانیوں کا طوطی بولتا تھا، حضرت شیخ بنوریؒ نے متعدّد سربراہانِ ممالکِ اسلامیہ کو خطوط لکھے، افسوس کہ وہ سب محفوظ نہیں، ماہنامہ ’’بینات‘‘ سے دو خطوط درج ذیل ہیں، شاہ فیصل مرحوم کو تحریر کیا:

’’بسم اﷲ الرحمن الرحیم

سیّدی و مولائی! ہر شخص اپنی طاقت و قدرت کے بقدر اللہ تعالیٰ کے ہاں جواب دہ ہے، آنجناب کو اللہ تعالیٰ نے وہ تمام وسائل عطا کر رکھے ہیں جن کے ذریعے آپ ساری رُوئے زمین اسلام اور مسلمانوں کی خدمت کرسکتے ہیں۔

سیّدی و مولائی! ہمیں علم ہے کہ جب ہمارے وطنِ

262

عزیز پاکستان اور ظالم ہندوستان کے درمیان جنگ برپا ہوئی تو آنجناب نے پاکستان کی ہر ممکن مادّی و اخلاقی مدد فرمائی، جو سربراہانِ اسلام اور مسلمانوں کے لئے ایک قابل نمونہ ہے۔ مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ آپ کے اس کارنامے پر دِل کی گہرائیوں سے شکریہ بجا لائیں۔

سیّدی و مولائی! آج پاکستان، قادیانیت کی جانب سے عظیم خطرے میں ہے، بحریہ کا سربراہ حفیظ قادیانی ہے، فضائیہ کا سربراہ چوہدری ظفر قادیانی ہے اور بری افواج میں ٹکاخان کے بعد سترہ جرنیل لگاتار قادیانی ہیں۔ حکومت یا تو اس مہیب خطرے سے غافل اور جاہل ہے، یا پھر اِستعماری قوّتوں، برطانیہ و امریکا کے ہاتھوں کھلونا بنی ہوئی ہے۔ وہ مسلمانوں کو فوجی مناصب سے برطرف کر رہی ہے اور قادیانیوں کو بھرتی کررہی ہے، لاریب کہ قادیان اور ان کا اِمام متنبّیٔ کذّاب ۔۔۔ قبّحہُ اﷲ ۔۔۔ برطانیہ کا خودکاشتہ پودا اور برطانوی اِستعمار کا ساختہ و پرداختہ تھا۔ قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ حکومتِ برطانیہ ’’ظلّ اﷲ فی الأرض‘‘ ہے، جہاد منسوخ ہے اور یہ کہ تمام مسلمانوں پر برطانیہ کی نصرت و حمایت فرض ہے، وغیر ذٰلک من الکفر والھذیان!

ان لوگوں کی کوشش ہے کہ کسی طرح برطانیہ کا عہدِ رفتہ واپس لوٹ آئے اور پاکستان ان قادیانیوں کے ہاتھ آکر اس کا آلۂ کار بنے اور برطانیہ کو اَزسرِنو بحرِ اَحمر پر تسلط حاصل ہوجائے۔

263

اس بدترین سازش کے ہولناک نتائج آنجناب سے مخفی نہیں ہیں۔ آنجناب سے توقع رکھتا ہوں کہ پاکستان کو قادیانیوں کے چنگل سے چھڑانے میں اس کی مدد کریں، وزیراعظم بھٹو کو ان ہولناک نتائج سے متنبہ فرمائیں اور اسے راہِ راست پر لانے کی کوشش کریں کہ وہ ان لوگوں کو کلیدی مناصب سے الگ کردیں، تاکہ یہ لوگ اسلام کے لئے اور اسلام سے پہلے خود بھٹو کے لئے خطرہ نہ بن جائیں۔ الغرض! آپ اس نہایت خطرناک مصیبتِ کبریٰ سے پاکستان کو بچانے اور بھٹو کی کج رَوی کی اصلاح کے ہر ممکن جہدِ بلیغ فرمائیں اور محض اللہ کی رضا کے لئے اللہ تعالیٰ کی عطا فرمودہ طاقت و قوّت اور وسائل کے ذریعے آپ وہ کردار اَدا کریں جو واقعی ایک خلیفہ اور اِمام المسلمین کو فہم و بصیرت اور قوّت کے ساتھ ادا کرنا چاہئے۔

ہم جنابِ والا کے حق میں ہر خیر و سعادت کے متمنی ہیں اور آرزو رکھتے ہیں کہ آپ کے مبارک ہاتھوں کے ذریعے اسلامی ممالک کو ان ریشہ دوانیوں اور ملعون سازشوں سے نجات ملے۔ اللہ تعالیٰ آنجناب کی ذات کو اِسلام کے لئے ذخیرہ اور مسلمانوں کی پناہ گاہ کی حیثیت سے باقی رکھے اور ربانی سائے تلے، جس کے جھنڈے آپ کے ملک پر لہراتے ہیں، آپ کی سلطنت کو بقائے دوام بخشے۔ آخر میں میری طرف سے آنجناب کی ذات اور مملکت کے حق میں بہترین دُعائیں اور گہری تمنائیں قبول فرمائیں۔ والسلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ!‘‘

264

کرنی قذافی کو خط:

اور لیبیا کے صدر کرنل قذافی کے نام تحریر فرمایا:

’’بعد از سلامِ مسنون گزارش ہے کہ مجھے آنجناب کی زیارت کا شرف اس وقت حاصل ہوا جبکہ طرابلس کی پہلی ’’دعوتِ اسلامی کانفرنس‘‘ میں مندوب کی حیثیت سے شریک ہوا تھا۔ آنجناب کی شخصیت میں اِخلاص، قوّتِ ایمانی اور سلامتیٔ فطرت کے آثار دیکھ کر اوّلِ وہلہ آپ کی محبت میرے دِل میں جاگزین ہوئی۔ بعد اَزاں آپ کی خیر و سعادت کی خبریں ہم تک پہنچیں، جن کی وجہ سے آپ بلاشبہ داد و تحسین کے مستحق اور اِسلام اور مسلمانوں کے لئے مایۂ فخر ہیں۔ حق تعالیٰ آپ کو اِسلام کے لئے ذخیرہ اور مسلمانوں کی پناہ گاہ کی حیثیت سے سلامت رکھے اور آپ کے وجودِ گرامی سے اسلام اور عرب کی عزّت و مجد کے عَلم بلند ہوں، آمین!

برادرِ گرامی قدر! آپ نے پاکستان کے موقف کی تائید کرکے اور ہر ممکن مادّی مدد مہیا فرماکر جو اِحسان فرمایا، اس کا ہمیں اجمالی علم ہوا، حق تعالیٰ آپ کو اس حسنِ سلوک کا بدلہ عطا فرمائیں اور دُنیا و آخرت میں آپ پر اِنعامات فرمائیں، آمین!

اور اَب میں آنجناب کے علم میں یہ بات لانا چاہتا ہوں کہ پاکستان ایک عظیم خطرے میں گھرا ہوا ہے اور وہ فتنۂ قادیان، یا قادیانی تحریک۔ بحریہ کا قائد ایک بڑا قادیانی ہے، فضائیہ کا سربراہ قادیانی ہے اور برّی فوج میں ٹکاخان کے بعد

265

سترہ جرنیل ہیں جو سب قادیانی ہیں۔ کچھ عرصہ بعد ٹکاخان بھی ریٹائر ہوجائیں گے، حکومت مسلمان افسروں کو فوجی مناصب سے معزول کر رہی ہے، صدر کا اقتصادی مشیر ایم ایم احمد قادیانی ہے اور سر ظفراللہ کے، جو بڑا خبیث سازشی قادیانی ہے، صدر سے خصوصی روابط ہیں اور صدر اس کے مشوروں کی تعمیل کرتا ہے۔

غالباً آنجناب کو علم ہوگا کہ اس گروہ کا ضال و مضل مقتدا مرزا غلام احمد قادیانی مدعیٔ نبوّت تھا، اس نے پہلے مجدّد، مسیحِ موعود اور مہدی ہونے کا دعویٰ کیا تھا، بعد اَزاں نبوّت کا دعویٰ کردیا، اس کا عقیدہ تھا کہ برطانوی حکومت رُوئے زمین پر خدا کا سایہ ہے، جہاد منسوخ ہے اور یہ کہ برطانوی نصرت و حمایت اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے، وغیر ذٰلک من کفر وھذیان!

قادیان کے بعد (جو ہندوستان میں رہ گیا) اُنہوں نے مغربی پاکستان میں ’’ربوہ‘‘ آباد کیا، جس کی حیثیت ان کے دارالخلافہ کی ہے، وہاں اسلام اور مسلمان کے خلاف بڑی سرگرمی سے سازشیں تیار ہوتی ہیں۔ اور یہ عجلت میں تحریر کردہ عریضہ ان تفصیلات کا متحمل نہیں، میں آنجناب سے اس وقت دو گزارشیں کرنا چاہتا ہوں۔

ایک یہ کہ وزیراعظم بھٹو کو اس خطرۂ عظیمہ سے آگاہ کیجئے، یعنی قادیانی بغاوت، ملک کا قادیانی حکومت کے تحت آجانا، بحرِ اَحمر میں برطانیہ کی عزّتِ رفتہ کا دوبارہ لوٹ آنا اور بیک وقت تمام عرب اسلامی ممالک کا ناک میں دَم آجانا، پس آنجناب سے درخواست ہے کہ آج حکومتِ پاکستان کو قادیانیوں

266

کے یا بلفظِ صحیح برطانیہ کے چنگل سے چھڑاکر اس پر اِحسان کیجئے، جیسا کہ قبل ازیں آپ اس کی اخلاقی و مادّی مدد کرکے اس پر اِحسان کرچکے ہیں اور محض اللہ تعالیٰ کی، اس کے رسولؐ کی، اسلام اور مسلمانوں کی خیرخواہی کے لئے ہر قسم کی تدبیر و حکمت اور عزّت و حزم کے ساتھ وزیراعظم بھٹو کی کج رَوی کی اصلاح کیجئے۔ بلاشبہ اسلام کی یہ عظیم الشان خدمت اور اللہ و رسولؐ کی رضامندی کا موجب ہوگی۔ اسی کے ذریعے اس رخنے کو بند کیا جاسکتا ہے اور اس شگاف کو پُر کیا جاسکتا ہے، کیونکہ فتنے کا سیلاب خطرے کے نشان سے اُوپر گزر رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کی نصرت و مدد فرمائے: ’’اگر تم اللہ کی مدد کروگے تو اللہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہیں ثابت قدم رکھے گا!‘‘۔

دُوسری گزارش یہ ہے کہ جمہوریہ لیبیا میں جو قادیانی ڈاکٹر یا انجینئر کی حیثیت سے آئے ہیں، انہیں نکالئے، سنا ہے کہ آپ کے ملک میں قادیانیوں کی ایک بڑی تعداد آئی ہے، ان میں ڈاکٹر خلیل الرحمن طرابلس میں ہے، جو شعاعوں کے ذریعے سرطان کے علاج کا خصوصی ماہر ہے۔ میں کوشش کرتا ہوں کہ ایسے لوگوں کا سراغ لگایا جائے اور محض اللہ کی، اس کے رسولؐ کی، اس کی کتاب کی اور مسلمانوں کے قائدین کی خیرخواہی کی غرض سے آپ کو ان کی اطلاع دی جائے۔ میری دُعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو خدمتِ اسلام اور مسلمانوں کی مدد میں ثابت قدم رکھے، آپ کو اپنی رضا اور اپنے دِین کی خدمت کی مزید توفیق عطا فرمائے اور آپ کے ہاتھ سے خیر و سعادت کے وہ کام لے

267

جن کے ذریعے مشرق و مغرب میں اسلام اور مسلمانوں کی عزّت و مجد میں اضافہ ہو۔ والسلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ!

آپ کا مخلص

محمد یوسف بنوری

خادم الحدیث النبوی الکریم فی کراتشی

مندوب مؤتمر الدعوۃ الاسلامیہ الاوّل، من پاکستان۔‘‘

پشاور میں قادیانیوں کی ارتدادی سرگرمیاں:

مولاناؒ کے ساتھی مولانا لطف اللہ نے تحریر کیا کہ: جمعیت علمائے سرحد سے تعلق کے زمانے میں محسوس ہوا کہ پشاور میں قادیانی اپنے پاؤں پھیلا رہے ہیں اور دِین سے ناواقف طبقے کو گمراہ کر رہے ہیں، پشاور کا ایک قادیانی مسمّیٰ غلام حسین، جو قرآنِ کریم کی قادیانی تفسیر (یا بلفظِ صحیح تحریف) بھی لکھ چکا تھا، وہ پشاور میں صبح کو درسِ قرآن دیتا تھا، نوجوان وکلاء اور کالجوں کے ناپختہ ذہن طالبِ علم اس میں شریک ہوا کرتے تھے، پشاور کا مشہور لیڈر، جو بعد میں مسلم لیگ اور پاکستان کا بڑا راہ نما بنا (سردار عبدالربّ نشتر) وہ بھی ان کے درس میں شریک ہوتا تھا۔ پشاور کے اسلامیہ کالج کا وائس پرنسپل تیمور، مرزا بشیرالدین قادیانی کا رشتہ دار تھا، صاحب زادہ عبدالقیوم بانیٔ اسلامیہ کالج کا چچازاد بھائی عبداللطیف قادیانی صوبہ سرحد کی جماعت کا اَمیر تھا۔ قادیانی سال میں ایک دفعہ ’’یوم النبی‘‘ کے نام سے ایک بڑا جلسہ کرتے تھے، جس میں شرکت کے لئے تمام سرکاری افسروں کو دعوت نامے بھیجے جاتے، اس طرح کھلے بندوں قادیانیت کی تبلیغ کے لئے راستہ ہموار کرنے کی کوشش کی جاتی تھی۔

جب ہم جمعیۃ العلماء کے کام میں منہمک تھے تو میں نے دیکھا کہ قصہ خوانی بازار میں قادیانیوں کے اس جلسے کے اشتہارات لگ رہے ہیں، جس میں اسلامیہ کلب میں ’’یوم النبی‘‘ کا اعلان تھا۔ میں نے مولانا بنوریؒ سے مشورہ کیا کہ قادیانیوں

268

کی اس کھلی جارحیت کا سدِّ باب ہونا چاہئے۔ میں ان دنوں اسلامیہ اسکول میں عربی کا معلّم اور اُستاد تھا، میں نے اسکول کی نویں اور دسویں جماعت کے طلبہ کو قادیانیت کی حقیقت بتائی اور قادیانیوں کے ’’یوم النبی‘‘ کے نام پر لوگوں کو بہکانے کی مکاری عیاں کی اور انہیں بھی اس معرکے میں حصہ لینے کے لئے تیار کیا، جس کا نقشہ میں اور مولانا بنوریؒ بناچکے تھے۔

مقرّرہ تاریخ پر قادیانیوں نے اسلامیہ کلب میں قالین بچھائے، اسٹیج لگایا اور جلسے کا انتظام کرنے لگے، ہم دونوں بھی وہاں پہنچ گئے اور جاکر اِعلان کیا کہ یہاں اہلِ اسلام کا جلسہ ہوگا۔ ہماری اور قادیانیوں کی کش مکش ہوئی، جس میں قاضی یوسف نامی قادیانی نے مجھ پر لاٹھی سے حملہ کردیا۔

ہمارے رُفقاء نے اس کو پکڑ کر نیچے گرادیا، جو قادیانی کرسیوں پر براجمان تھے، انہیں بھی فرش پر گرادیا، قادیانی ذِلت و نامرادی کے ساتھ بھاگ کھڑے ہوئے۔ اب اسٹیج پر مسلمانوں کا قبضہ تھا، مولانا بنوریؒ نے بڑی فصیح و بلیغ اور طویل تقریر فرمائی، مسلمانوں اور قادیانیوں کی کش مکش سن کر پورا شہر اُمڈ آیا اور خوب جلسہ ہوا۔ قادیانیوں کو ایسی ذِلت و رُسوائی کا سامنا کرنا پڑا کہ جب سے اب تک اُنہیں پشاور میں ایسا ڈھونگ رچانے کی دوبارہ جرأت نہیں ہوئی۔

عالمی مجلس کی امارت:

عالمی مجلس کی اِمارت شیخ بنوریؒ نے کس طرح قبول فرمائی؟ مولانا محمد یوسف لدھیانوی کی زبانی سنیں!

مجلس تحفظِ ختمِ نبوّت کے اَمیر حضرت مجاہدِ ملت مولانا محمد علی جالندھریؒ تھے، جن کو ہمارے حضرتؒ ’’وکیل العلماء‘‘ کا خطاب دیتے تھے، ان کے انتقال کے بعد جماعت کی قیادت میں خلاء سا محسوس ہونے لگا اور کچھ ایسے مسائل سر اُٹھانے لگے تھے

269

جن سے مضبوط قیادت ہی نمٹ سکتی تھی۔ جماعت کے اَمیر کے اِنتخاب کے لئے شوریٰ کا اجلاس طلب کیا گیا، ہمارے حضرت بنوریؒ بھی جماعت کی شوریٰ کے رُکنِ رکین تھے۔ حضرتؒ اجلاس میں شرکت کے لئے ملتان تشریف لے جارہے تھے، یہ ناکارہ حاضرِ خدمت ہوا، عرض کیا: ’’حضرت! اجلاس میں شرکت کے لئے جارہے ہیں، میری درخواست ہے کہ یا تو جماعت کا نظم و نسق اپنے ہاتھ میں لے لیجئے یا فاتحہ فراغ پڑھ کر جماعت کو ختم کرنے کا اعلان کرادیجئے۔‘‘ حضرتؒ اس ناکارہ کی اس درخواست سے بہت متأثر ہوئے اور برجستہ فرمایا: ’’اگر میں جماعت کی اِمارت قبول کرلوں تو ساہیوال سے ملتان مجلس تحفظِ ختمِ نبوّت کے دفتر میں منتقل ہوجاؤگے؟‘‘

عرض کیا: ’’حضرت! مجھے کراچی آنے سے عذر ہے، کراچی کے علاوہ آپ جہاں حکم فرمائیں وہاں جابیٹھنے کے لئے تیار ہوں!‘‘ بہت خوش ہوئے۔ ملتان تشریف لے گئے تو حسنِ اتفاق سے وہاں کے اَحباب (بالخصوص مولانا محمد شریف بہاولپوری) نے بھی حضرتؒ سے وہی درخواست کی، دفتر کی کنجیاں حضرتؒ کے سامنے رکھ دیں اور عرض کیا کہ: ’’آپ کے اُستادِ محترم اِمام العصر مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ نے یہ کام اَمیرِ شریعت مولانا عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے ذمے لگایا تھا، شاہ جیؒ اور ان کے رفیق مولانا محمد علیؒ اس کام کو کر رہے تھے، ہم لوگ ان کے کارکن تھے، اب یہ آپ کے اُستادِ محترم کی میراث ہے اور اس کی کنجیاں آپ کے سپرد ہیں، اگر اس کام کو جاری رکھنا ہو تو بسم اللہ، ہماری قیادت کیجئے، ورنہ یہ کنجیاں پڑی ہیں، دفتر کو تالا لگادیجئے، ہم سب بھی اپنے اپنے گھروں کو جاتے ہیں۔‘‘ اس طرح حضرتؒ کو جماعت کی اِمارت قبول کرنا پڑی اور پھر چند مہینے بعد ہی حضرتؒ کی قیادت میں ختمِ نبوّت کی وہ تحریک چلی جس کے نتیجے میں ۱۹۷۴ء کا تاریخی فیصلہ ہوا اور قادیانیوں کو غیرمسلم اقلیت قرار دیا گیا، گویا جماعت کی اِمارت کے لئے حضرت بنوریؒ کا انتخاب حق تعالیٰ شانہ‘ کی جانب سے اس تحریک کی کامیابی کا تکوینی انتظام تھا۔ الغرض! حضرت بنوریؒ جماعت ختمِ نبوّت کے

270

اَمیر منتخب ہوکر کراچی تشریف لائے تو یہ ناکارہ مبارک باد کے لئے حاضر ہوا، مبارک باد پیش کی تو فرمایا: ’’تمہیں اپنا وعدہ بھی یاد ہے؟ اب تمہیں ختمِ نبوّت کے دفتر میں ٹھہرنا ہوگا!‘‘ عرض کیا: ’’حضرت! بالکل حاضر ہوں، مگر میری تین درخواستیں ہیں، ایک یہ کہ مجھے رہائش کے لئے مکان کی ضرورت ہوگی۔ دُوسری یہ کہ ختمِ نبوّت کے مرکزی دفتر ملتان میں مسجد کے بغیر جماعت ہوتی ہے، دفتر کے ساتھ مسجد ہونی چاہئے۔ اور تیسری یہ ہے کہ بچوں کی پڑھائی کے لئے قرآنِ کریم کے مکتب کا انتظام کردیا جائے۔‘‘ فرمایا: ’’تینوں شرطیں منظور ہیں!‘‘ حضرتؒ نے جامعہ رشیدیہ کے حضرات سے فرمایا کہ: اس کو مدرسے سے فارغ کردیا جائے۔ اس طرح یہ ناکارہ شوال ۱۳۹۴ھ سے ساہیوال سے دفتر ختمِ نبوّت ملتان منتقل ہوگیا اور دس دن کے لئے کراچی حاضری کا سلسلہ بدستور رہا۔

ایسی موت جس پر ہزار زندگیاں قربان:

شاہ فیصلؒ سے مولاناؒ کی جو آخری ملاقات ہوئی، اس میں شاہ فیصلؒ نے مولاناؒ سے فرمایا تھا کہ: ’’میں نے بھٹو کو ملاقات کے وقت صاف صاف بتادیا تھا کہ پاکستان کے تین دُشمن ہیں: قادیانی، کمیونسٹ اور مغربی ممالک۔‘‘ مولاناؒ نے تحریک ختمِ نبوّت ۱۹۷۴ء میں ملاقات کی، اس میں آپؒ نے بھٹو سے فرمایا کہ: ’’کیا تم کو شاہ فیصل نے نہیں بتایا کہ قادیانی، کمیونسٹ اور مغربی ممالک پاکستان کے تین دُشمن ہیں؟ اور انہی لوگوں نے سازش کرکے لیاقت علی خان کو مروادیا تھا؟‘‘ مسٹر بھٹو نے مولاناؒ سے کہا کہ: ’’کیا تم مجھ کو بھی مروانا چاہتے ہو؟‘‘ مولاناؒ نے برجستہ فرمایا کہ: ’’ایسی موت کسی کو نصیب ہو تو اس پر ہزاروں زندگیاں قربان! جو شخص شہادت کی موت مرتا ہے وہ مرتا نہیں بلکہ زندۂ جاوید ہوجاتا ہے۔‘‘

(نقوشِ زندگی، از مولانا لطف اللہ)

271

حرمین شریفین میں قادیانیوں کے داخلے پر پابندی:

شیخ الاسلام مولانا سیّد محمد یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ، شاہ فیصل مرحوم سے ملنے کے لئے حجازِ مقدس گئے اور ان سے حجازِ مقدس میں مرزائیوں کے داخلے پر پابندی کا ذکر کیا کہ پابندی کے باوجود بعض مرزائی پھر بھی سعودیہ آجاتے ہیں۔ حرمین شریفین میں غیرمسلموں کا داخلہ شرعاً ممنوع ہے، تو اس پر صحیح عمل درآمد نہیں ہورہا۔ اس پر شاہ فیصل مرحوم نے کہا کہ: ’’مولانا! کسی کے ماتھے پر تو نہیں لکھا ہوتا کہ یہ شخص قادیانی ہے، آپ اپنی حکومت سے کہیں کہ وہ پاسپورٹ میں مذہب کے خانے کا اضافہ کرے، پھر کوئی مرزائی حدودِ حرم میں داخل ہو تو ہم مجرم ہوں گے!‘‘ اس پر شیخ بنوریؒ اُٹھ کھڑے ہوئے، گلوگیر لہجے میں فرمایا کہ: ’’شاہ فیصل! میں آپ کو حضور علیہ السلام کی عزّت و ناموس کا نگہبان سمجھ کر آیا تھا کہ مرزائی، حضور علیہ السلام کے دُشمن ہیں، آپ مجھے پاکستان کی حکومت کے دروازے پر جانے کا راستہ دِکھاتے ہیں، اگر وہ میری بات مانتے تو میں آپ کے پاس کیوں آتا؟‘‘ آپؒ کا یہ کہنا تھا کہ شاہ فیصل مرحوم کی آنکھوں سے آنسو کی جھڑی لگ گئی، فرمایا: ’’شیخ بنوری! میں آپ کی مشکلات سے آگاہ نہیں تھا، اگر یہ بات ہے تو آئندہ آپ اپنے لیٹر پیڈ فارم پر جس شخص کے متعلق لکھ دیں کہ وہ قادیانی ہے، تو وہ شخص ہمارے ہاں نہیں آسکے گا، اگر وزیراعظم پاکستان لکھے کہ فلاں شخص مسلم ہے اور آپ لکھیں کہ یہ قادیانی ہے تو میں آپ کی بات کو ترجیح دُوں گا۔‘‘

حج پر جانے والا قادیانی گرفتار:

اس پر عمل کیسے ہوا؟ صرف ایک واقعہ عرض ہے کہ شبقدر ڈھیڑی پشاور کے ایک قادیانی نے حج کے لئے بحری جہاز سے درخواست دی، مسلمانوں کو پتا چل گیا، اس کا فارم مسترد ہوگیا، اس نے اپنا نام، ولدیت، پتا سب کچھ تبدیل کرکے انٹرنیشنل

272

پاسپورٹ بنوایا، این او سی لگوائی اور روانہ ہوگیا۔ چنیوٹ میں ختمِ نبوّت کی کانفرنس تھی، شیخ بنوریؒ کو اِطلاع ملی، آپ نے سعودیہ کے کراچی کونسل خانے کو فون کیا، صورتِ حال بتائی، کونصلیٹ نے فون کیا تو پتا چلا کہ جہاز روانہ ہوگیا ہے، اس نے جدہ فون کیا، جب جہاز نے جدہ لینڈ کیا تو جہاز کو پولیس نے گھیرے میں لے لیا، اس مرزائی کو گرفتار کرکے دُوسرے جہاز پر پاکستان بھیج دیا۔

اس طرح آپ کی جماعت عالمی مجلس تحفظِ ختمِ نبوّت کی کاوشوں سے اب تو پاکستانی پاسپورٹ پر مذہب کے خانے کا اضافہ ہوگیا ہے۔

حضرت مولانا مفتی محمد یونس مرحوم

مفتی صاحبؒ، مولانا انور شاہ کشمیریؒ کے شاگرد تھے، ۱۹۵۳ء کی تحریکِ ختمِ نبوّت میں حضرت مفتی صاحبؒ نے نمایاں خدمات سرانجام دیں، فیصل آباد میں تحریک کی ایکشن کمیٹی کے صدر تھے، حضرت اَمیرِ شریعتؒ سے انہیں قلبی لگاؤ تھا اور ان کی خدمات کو بہت سراہتے تھے، حضرت اَمیرِ شریعتؒ بھی ان سے بہت محبت رکھتے تھے، فیصل آباد میں آمد کے دوران حضرت مفتی صاحبؒ کے یہاں اکثر تشریف لے جاتے۔ تحریکِ ختمِ نبوّت ۱۹۵۳ء میں ڈائریکٹ ایکشن کے لئے پہلا قافلہ حضرت مفتی صاحبؒ کی قیادت میں ہی روانہ ہوا تھا، ایک دفعہ کسی مرزائی نے حضرت مفتی صاحبؒ کو ایک خط لکھا کہ: ’’آپ مرزائیت کے بارے میں اپنی تقاریر بند کردیں ورنہ آپ کو گولی سے اُڑادیا جائے گا۔‘‘ آنے والے جمعہ کے خطبے میں آپ ریوالور پہن کر جامع مسجد کچہری بازار میں جمعہ پڑھانے کے لئے تشریف لے گئے اور مرزائیت پر ایک ضربِ کاری لگائی اور زبردست تقریر کی اور خط کی دھمکی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ: ’’اللہ کے آخری نبی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوّت پر ڈاکا ڈالنے والے ہمیں کبھی دھمکیوں سے مرعوب نہیں کرسکتے۔‘‘ اور فرمایا کہ: ’’خدا کی قسم! اگر مجھے سو

273

گولیاں ماری جائیں اور میرے گوشت کا قیمہ کردیا جائے تو بھی ہر ٹکڑے سے ختمِ نبوّت کی صدائیں بلند ہوں گی۔‘‘

غازی مرید حسین شہیدؒ:

آپ کا اسمِ گرامی مرید حسین تھا، ’’اسیر‘‘ تخلص کرتے تھے۔ ۱۹۱۵ء میں بھلّہ شریف، تحصیل چکوال کے ایک معزَّز گھرانے میں پیدا ہوئے، والد کا نامِ نامی عبداللہ خان اور والدہ ماجدہ کا اسمِ گرامی غلام عائشہ تھا۔ چوہدری عبداللہ بھلّے کے نمبردار اور باوقار بزرگ تھے، بڑھاپے میں اللہ تعالیٰ نے اکلوتے بیٹے سے نوازا، اس لئے اپنی آنکھوں کے نور اور دِل کے سرور کی بڑی شفقت اور محبت سے پروَرِش کی۔

مرید حسین ابھی پانچ برس کے تھے کہ والدِ بزرگ کے سایۂ عاطفت سے محروم ہوگئے، والدہ بڑی سمجھ دار اور نیک سیرت خاتون تھیں، اس لئے مرحوم سرتاج کی یادگار لاڈلے بیٹے کی تعلیم و تربیت پر پوری توجہ دی۔ قرآنِ حکیم اور بعض دِینی کتب کی تدریس کے لئے سیّد محمد شاہ صاحب خطیب و اِمام جامع مسجد بھلّہ کی خدمت میں بھیج دیا۔ عام تعلیم کے لئے آپ کو قریبی قصبے کڑیالہ کے مڈل اسکول میں داخل کردیا۔ آپ شروع سے ہی ذہین اور محنتی تھے، درجہ مڈل اچھے نمبروں میں پاس کیا اور بعد ازاں گورنمنٹ ہائی اسکول چکوال میں زیرِ تعلیم رہے اور میٹرک کا امتحان اعزاز کے ساتھ پاس کیا۔ لیکن زمین داری اور نمبرداری کی مشغولیت کی وجہ سے تعلیم کو خیرباد کہنا پڑا۔ چکوال آتے جاتے آپ خاکسار تحریک کی عسکریت سے متأثر ہوئے اور خاکسار بن گئے۔ ازاں بعد آپؒ نے حضرت خواجہ عبدالعزیز صاحب چشتی چاچڑوی سے بیعت کی، مقامی ہندوؤں کی چیرہ دستیوں اور شاتمانِ رسول راجپال اور نتھورام کی دریدہ دہنی کے واقعات پڑھ کر آپؒ کی غیرت مند طبیعت بہت کڑھتی تھی۔

بیس سال کی عمر میں آپ کی شادی ہوئی، شادی کے چند روز بعد آپ کو

274

خواجۂ کونین صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی، اس دیدارِ اقدس نے مرید حسین کی زندگی میں ایک انقلابِ عظیم پیدا کردیا اور یہ وارفتۂ عشقِ رسول بے قرار و بے تاب رہنے لگے۔

(شمع رسالت کے پروانے، اشفاق حسین)

خدا رحمت کند ایں عاشقانِ پاک طینت را!

۱۹۳۵ء میں ایک روز چکوال میں آپؒ نے روزنامہ ’’زمین دار‘‘ میں ’’پلول کا گدھا‘‘ کے عنوان سے ایک المناک خبر پڑھی، اس خبر سے سچے عاشقِ رسول کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔

واقعہ یہ ہوا کہ پلول، ضلع گوڑگانواں کے ڈاکٹر انچارج شفاخانہ حیوانات نے اپنے خبثِ باطن کی وجہ سے انتہا درجے کی ذلیل حرکت کی اور حضور سروَرِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان مبارک میں گستاخی کی۔ وہ یہ کہ شفاخانے کے ایک گدھے کا نام حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر رکھنے کی نفرت انگیز جسارت کی۔ ہندوستان میں ہر مسلمان کا خون اس نامعقول اور پاجیانہ حرکت سے کھول اُٹھا اور مسلمانوں کے پُرانے زخم جو ملعون شاتمانِ رسولِ اکرم، شردھانند راجپال اور نتھورام نے لگائے، ازسرِنو ہرے کردئیے۔ مسلم اخبارات میں احتجاجی بیانات سے سہم کر برٹش گورنمنٹ نے اس بدبخت گستاخ ڈاکٹر کو ضلع گوڑگانواں سے ضلع حصار کے موضع نارنوند تبدیل کردیا۔ مسلمانوں کے صدمۂ غم و اندوہ کی برائے نام تلافی کے لئے یہ حرکت ستم ظریفی تھی۔ اس خبر سے مرید حسین کو بے حد غم و غصّے کے جذبات نے گھیرلیا اور یہ عاشقِ رسول لمبے سفر کی تکلیفیں اور صعوبتیں برداشت کرتا ہوا ’’نارنوند‘‘ پہنچ گیا، ڈاکٹر رام گوپال ایک تنومند اور قدآور شخص تھا، مگر نحیف و نزار، لیکن عشقِ رسول سے سرشار مرید حسین نے انتہائی جرأت سے کام لے کر ایک ہی وار میں اسے واصلِ جہنم کردیا اور خود کو گرفتاری کے لئے پیش کردیا، لیکن یہ شرط لگادی کہ کوئی کافر اُن کے قریب نہ آئے،

275

چنانچہ نارنوند کے ایس ایس او چوہدری محمد شاہ نے ان کو گرفتار کیا اور ڈسٹرکٹ جیل حصار بھیج دیا۔ آپؒ پر ضلع حصار میں مقدمہ چلایا گیا، جلال الدین قریشی بیرسٹر اور دیگر مسلمان وکلاء نے غازی مرید حسین کی طرف سے بلافیس وکالت کی۔

قانونی موشگافیوں سے فائدہ اُٹھاکر آپؒ آسانی سے بچ سکتے تھے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ شیدائی جھوٹ بول کر اپنی جان بچانا عشقِ رسول کے منافی سمجھتا تھا، اس لئے واشگاف الفاظ میں اعتراف کیا، سزائے موت کا حکم ہوا، ان کے جذباتِ صادق سے ایک غیرمسلم قیدی اس قدر متأثر ہوا کہ وہ جیل میں ہی مسلمان ہوگیا، غازی مرید حسین نے اس کا نام ’’غلام رسول‘‘ رکھا۔

غازی مرید حسین کو سزائے موت کا حکم ہوچکا تھا، ۲۴؍ستمبر ۱۹۳۷ء جمعۃ المبارک دن صبح کے نو بجے غازی مرید حسین مسکراتا ہوا تختۂ دار پر سوار ہوا اور ناموسِ رسالت پر قربان ہوگیا۔

تختۂ دار پر چڑھانے والوں نے آپؒ کے لواحقین کو بتلایا: غازی مرید حسینؒ شہادت کے وقت بڑے مطمئن اور مسرور نظر آرہے تھے۔ کلمہ شریف اور دُرود پاک کا وِرد کر رہے تھے، آپؒ کو خاموش ہونے کے لئے کہا گیا تو آپؒ نے فرمایا: ’’میں اپنا کام کر رہا ہوں، آپ اپنا کام کریں!‘‘ چنانچہ غازی دُرود و سلام پڑھتے ہوئے جامِ شہادت نوش کرکے اپنے خالقِ حقیقی سے جاملے۔ جہلم شہر میں مسلمانوں کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر تھا، شہر کے دُور دراز دیہات و قصبات سے مسلمان جوق درجوق آپؒ کے جنازے میں شرکت کرنے کے لئے آئے، جہلم سے بھلّہ کریانہ تقریباً پچھتّر میل ہے، اس طویل راستے میں سڑک کے کنارے متعدّد مقامات پر فرزندانِ توحید اور جاںنثارانِ رسالت نے عشقِ خیرالوریٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر عقیدت کے پھول نچھاور کئے۔ متعدّد مقامات و مواضع میں نمازِ جنازہ ادا کی گئی، بھلّہ میں نمازِ جنازہ ادا کرنے والوں کی تعدد شمار سے باہر تھی۔ آخرکار بعد نمازِ جمعہ آپؒ کو ’’تھے‘‘ کے قریب غازی محل

276

میں سپردِ خاک کردیا گیا۔ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے شیدائی نے پیارے رسول پر قربان ہوکر عشق کا حق ادا کردیا اور زندہ جاوید ہوگیا:

بنا کردند خوش رسمے بخاک و خون غلطیدن

خدا رحمت کند ایں، عاشقانِ پاک طینت را

غازی عبدالقیومؒ:

نام:۔۔۔ عبدالقیوم خان والد کا نام:۔۔۔ عبداللہ خان
قوم:۔۔۔ پٹھان ساکن:۔۔۔ غازی، ضلع ہزارہ
تاریخ پیدائش:۔۔۔ ۱۲-۱۹۱۱ء

ابتدائی زندگی و تعلیم:

غازی عبدالقیوم خانؒ کو بچپن ہی سے مذہبی تعلیم کا شوق تھا، چھٹی جماعت پاس کرکے گاؤں کے علمائے کرام سے پڑھنا شروع کردیا، اکثر قرآن مجید کی تلاوت کرتے رہتے، اسکول چھوڑ کر قرآن مجید کی تعلیم کی طرف ہمہ تن متوجہ ہوگئے، صوم و صلوٰۃ کی آخری وقت تک پوری پابندی کرتے رہے۔

۱۹۳۲ء میں ان کے والد عبداللہ خان صاحب انتقال کرگئے، ان کی چھ بہنیں تھیں جو کہ اچھے گھرانوں میں بیاہی گئیں، ایک بھائی جو ان سے بڑے ہیں، ان کا نام ہمایوں خان ہے، جو محکمہ امدادِ باہمی میں بحیثیت ہیڈکلرک سپرنٹنڈنٹ ملازمت کرکے ریٹائر ہوچکے ہیں اور بقیدِ حیات ہیں۔

جب ان کی عمر ۲۱-۲۲ سال کی ہوئی تو ۱۹۳۴ء میں ان کی شادی کرادی گئی، شادی کے چند ماہ بعد ان کو کراچی جانے کا شوق پیدا ہوا، وجہ یہ تھی کہ ان کے حقیقی چچا رحمت اللہ خان وہاں پہلے سے مقیم تھے اور وکٹوریہ گاڑیوں کا کاروبار کرتے تھے، چنانچہ یہ کراچی چلے گئے اور اپنے چچا کے ہاں ٹھہرے، وہاں بھی ان کا زیادہ تر وقت صدر کی

277

مسجد میں تلاوتِ قرآن، ذکراللہ اور نوافل وغیرہ عبادات میں گزرتا تھا۔ اسی دوران انہوں نے مسجد میں چسپاں ایک اِشتہار پڑھا، واقعات پڑھ سن کر ان کو جوش آگیا، دُوسرے ہی دن بازار سے ایک چاقو خریدا اور نتھورام ہندو کی آئندہ پیشی کا انتظار کرنے لگے۔

’’روزگارِ فقیر‘‘ کے مؤلف فقیر سیّد وحیدالدین صاحب اس واقعے کی پوری تفصیل ان الفاظ میں لکھتے ہیں:

یہ ۱۹۳۳ء کے اَوائل کا ذکر ہے، جب سندھ بمبئی میں شامل تھا، ان دنوں آریہ سماج حیدرآباد (سندھ) کے سیکریٹری نتھورام نے ’’ہسٹری آف اسلام‘‘ کے نام سے ایک کتاب شائع کی، جس میں آقائے دوجہان، سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی شانِ اقدس میں سخت دریدہ دہنی کا مظاہرہ کیا گیا۔ مسلمانوں میں اس کتاب کی اشاعت کے سبب بڑا اِضطراب پیدا ہوا، جس سے متأثر ہوکر انگریزی حکومت نے کتاب کو ضبط کیا اور نتھورام پر عدالت میں مقدمہ چلایا گیا، جہاں اس پر معمولی سا جرمانہ ہوا اور ایک سال قید کی سزا سنائی گئی۔ عدل و انصاف کی اس نرمی نے نتھورام کا حوصلہ بڑھادیا اور اس نے دی ایم فیرس جوڈیشنل کمشنر کے یہاں ماتحت عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کردی، کمشنر کی عدالت نے اس گندہ دہن، شاتمِ رسول کی ضمانت منظور کرلی۔ اس سے مسلمانوں کو بہت صدمہ ہوا، وہ بہت مضطرب اور فکرمند تھے کہ توہینِ رسول کے اس فتنے کا سدِّ باب آخر کس طرح کیا جائے؟ ہزارہ کا رہنے والا عبدالقیوم نام کا ایک نوجوان تھا جو کراچی میں وکٹوریہ گاڑی چلاتا تھا، جونا مارکیٹ کی کسی مسجد میں اس نے اس واقعے کی تفصیل سنی اور یہ معلوم کرکے کہ ایک ہندو نے حضور سروَرِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کی ہے، اس کے غم و اِضطراب اور اندوہ و ملال کی کوئی حد نہ رہی۔ ستمبر ۱۹۳۴ء کا واقعہ ہے کہ مقدمہ اہانتِ رسول کے ملزم نتھورام کی اپیل کراچی کی عدالت میں سنی جارہی تھی، عدالت دو انگریز ججوں کے بنچ پر مشتمل

278

تھی، عدالت کا کمرہ وکیلوں اور شہریوں سے بھرا ہوا تھا، غازی عبدالقیوم نہایت اطمینان کے ساتھ دُوسرے تماشائیوں کے ساتھ وکلاء کی قطار کے پیچھے نتھورام کی برابر والی کرسی پر بیٹھا ہوا تھا کہ عین مقدمے کی سماعت کے دوران وہ اپنا تیزدھار چاقو لے کر نتھورام پر ٹوٹ پڑا اور اس کی گردن پر دو بھرپور وار کئے، نتھورام چاقو کے زخم کھاکر زور سے چیخا اور زمین پر لڑکھڑاکر گر پڑا۔ غازی عبدالقیوم نے پولیس کی گرفت سے بچنے اور فرار ہونے کی ذرّہ برابر کوشش نہیں کی، اس نے نہایت ہنسی خوشی کے ساتھ اپنے آپ کو پولیس کے حوالے کردیا، انگریز جج نے ڈائس سے اُترکر اُس سے پوچھا:

’’تم نے اس شخص کو کیوں قتل کیا؟‘‘

غازی عبدالقیوم نے عدالت میں جارج پنجم کی تصویر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ:

’’یہ تصویر تمہارے بادشاہ کی ہے، کیا تم اپنے بادشاہ کی توہین کرنے والے کو موت کے گھاٹ نہیں اُتار دوگے؟ اِس ہندو نے میرے آقا اور شہنشاہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی ہے، جسے میری غیرت برداشت نہ کرسکی!‘‘

غازی عبدالقیوم پر مقدمہ چلا، اُس نے اقبالِ جرم کیا، آخرکار سیشن جج نے سزائے موت کا حکم سنایا، غازی عبدالقیوم نے فیصلہ سن کر فرمایا:

’’جج صاحب! میں آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ مجھے موت کی سزا دی، یہ ایک جان کس گنتی میں ہے؟ اگر میرے پاس لاکھ جانیں بھی ہوتیں تو ناموسِ رسالت پر نچھاور کردیتا!‘‘

اس فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل دائر کردی گئی، دِین دار مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ غازی عبدالقیوم کا قانونی دِفاع کرنے کے لئے سامنے آگیا، سیّد محمد اسلم بار ایٹ لاء کو عبدالقیوم کی پیروی کی سعادت حاصل ہوئی، لیکن اس مردِ مجاہد

279

(عبدالقیوم) نے پہلی ہی ملاقات میں اپنے قانونی مشیر پر واضح کردیا کہ: ’’میں نے ماتحت عدالت میں جو اقبالی بیان دیا ہے، اس کے خلاف کچھ کہہ کر اپنی عاقبت خراب نہیں کروں گا!‘‘ سیّد محمد اسلم نے مقدمے کی تیاری جاری رکھی اور شہادتوں کے سلسلے میں علامہ اقبالؒ، مولانا ابوالکلام آزادؒ، مولانا ظفر علی خانؒ اور سیّد عطاء اللہ شاہ بخاریؒ جیسے ملک کے ممتاز علماء کو بطورِ گواہ طلب کرانے کی درخواست کی تاکہ وہ اسلامی نقطئہ نظر واضح کرسکیں، لیکن عدالت نے یہ درخواست مسترد کردی۔ مقدمۂ صفائی کی ساری بنیاد اس نکتے پر رکھی گئی تھی کہ:

’’یہ ایک مسلمان کا ایمان و عقیدہ ہے کہ اگر کوئی شخص ناموسِ رسالت پر حملہ کرے تو وہ اسے موت کے گھاٹ اُتار دے۔‘‘

اپیل کی سماعت جسٹس "Dadibamehta" اور نو اَرکان جیوری کے سامنے شروع ہوئی، جیوری چھ انگریزوں، دو پارسیوں اور ایک گوانی عیسائی ممبر پر مشتمل تھی۔ عدالت کے باہر کم و بیش پچّیس ہزار مسلمانوں کا ایک بڑا ہجوم فیصلے کا منتظر تھا۔ ایڈووکیٹ جنرل کے دلائل کے بعد غازی عبدالقیوم کے پیروکار محمد اسلم نے صفائی کا موقف پیش کیا، اُنہوں نے مقدمے کے بنیادی نکات اور اقدامِ قتل کے محرکات پر تین گھنٹے تک مدلل بحث کی، ان کی تقریر کے بعض حصے اس قدر اہم تھے کہ انہیں قانون و انصاف کی تاریخ میں ہمیشہ زرّیں حروف میں لکھا جائے گا۔

انہوں نے ’’اشتعال‘‘ کے قانونی مفہوم کو بیان کرتے ہوئے یہ نکتہ پیش کیا: ’’سوال یہ نہیں ہے کہ عبدالقیوم کا اقدام ملک کے قانون کے خلاف ہے، سوال یہ ہے کہ عبدالقیوم نے یہ اقدام انتہائی اشتعال کے عالم میں کیا ہے تو کیوں نہ اسے وہ کم سے کم سزا دی جائے جس کی اجازت دفعہ ۳۰۲ کے تحت قانون نے دے رکھی ہے۔ اگر موجودہ قانون زمین کے چھوٹے ٹکڑے یا کسی عورت کے معاملے میں قاتل کو ’’اشتعال‘‘ کی رعایت دیتا ہے تو رعایت کا یہ اُصول عبدالقیوم کے مقدمے میں کیوں

280

قابلِ قبول نہیں ہے؟ جبکہ ایک مسلمان کے لئے ناموسِ رسالت پر حملے سے زیادہ اور کوئی اشتعال انگیزی نہیں ہوسکتی۔‘‘

وکیلِ صفائی کی تقریر کے دوران میں جج نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ: ’’کیا آپ کے اس اظہارِ خیال سے فرقہ وارانہ کشیدگی میں اضافہ نہیں ہوگا؟‘‘ سیّد محمد اسلم نے اس موقع پر جواب دیا:

’’جنابِ والا! مسلمان، حکومت اور ہندو اکثریت کو یہ سمجھاتے سمجھاتے تھک گئے ہیں کہ ان کے لئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی محبت کیا حیثیت رکھتی ہے اور اس بارے میں مسلمانوں کے جذبات کیا ہیں، مگر ان دونوں نے ذرا توجہ نہیں دی۔ اب مجھے عدالت میں یہ واضح کرنے کا موقع مل رہا ہے کہ جب تک ایک مسلمان بھی زندہ ہے وہ ناموسِ رسالت کے خلاف اُٹھنے والی ہر آواز اور قوّت کو ختم کرکے رہے گا، اس معاملے میں مسلمان کو تعزیراتِ ہند کی پروا ہے، نہ پھانسی کے پھندے کی۔‘‘

غازی عبدالقیوم کے پیروکار سیّد محمد اسلم نے اقدامِ قتل کے لئے ’’اشتعال‘‘ کے مفہوم کی اہمیت پر جو قانونی نکتہ پیش کیا تھا، اگر وہ تسلیم کرلیا جاتا تو ناموسِ رسالت پر حملہ کرنے کی مذموم تحریک ہمیشہ کے لئے ختم ہوجاتی اور آئندہ کوئی اس جسارت کا تصوّر بھی نہ کرسکتا، لیکن عدالتِ عالیہ نے یہ اپیل خارج کردی۔ غازی عبدالقیوم کے لئے سزائے موت بحال رہی، پُرجوش اور مضطرب مسلمانوں کے لئے یہ وقت بڑی آزمائش کا تھا، بالآخر فروری ۱۹۳۶ء میں کراچی کے مسلمانوں کا ایک وفد حکیم الاُمت علامہ اقبالؒ کی خدمت میں لاہور بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا، یہ وفد جس میں مولوی ثناء اللہؒ، عبدالخالق اور حاجی عبدالعزیزؒ شامل تھے، لاہور پہنچا اور میکلوڈ روڈ والی کوٹھی میں علامہ اقبالؒ کی خدمت میں حاضر ہوکر اس مقدمے کی رُوئیداد تفصیل کے ساتھ سنائی، اس کے بعد عرض کیا کہ: ’’آپ وائسرائے سے ملاقات کریں، اپنے اثر و رُسوخ کو کام میں لائیں اور انہیں اس پر آمادہ کریں کہ غازی عبدالقیوم کی سزائے موت عمرقید

281

سے بدل دی جائے۔‘‘ وفد نے اصرار کے ساتھ کہا کہ: ’’آپ نے سعی و توجہ فرمائی تو پوری توقع ہے کہ غازی عبدالقیوم کی جانب سے رحم کی اپیل حکومتِ ہند ضرور منظور کرلے گی۔‘‘

علامہ صاحبؒ وفد کی گفتگو سن کر دس بارہ منٹ تک بالکل خاموش رہے اور گہری سوچ میں ڈُوب گئے، وفد کے ارکان منتظر اور مضطرب تھے کہ دیکھئے علامہؒ کیا فرماتے ہیں؟ توقع یہی تھی کہ جواب اِثبات میں ملے گا کہ عاشقِ رسول کا معاملہ دُوسرے عاشقِ رسول کے سامنے پیش ہے، اس سکوت کو پھر علامہ اقبالؒ ہی کی آواز نے توڑا، اُنہوں نے فرمایا: ’’کیا عبدالقیوم کمزور پڑگیا ہے؟‘‘ ارکانِ وفد نے کہا: ’’نہیں، اس نے تو ہر عدالت میں اپنے اقدام کا اقبال اور اِعتراف کیا ہے، اُس نے نہ تو بیان تبدیل کیا اور نہ لاگ لپیٹ اور ایچ پیچ کی کوئی بات کہی، وہ تو کھلے خزانے کہتا ہے کہ میں نے شہادت خریدی ہے، مجھے پھانسی کے پھندے سے بچانے کی کوشش مت کرو!‘‘

وفد کی اس گفتگو کو سن کر علامہ کا چہرہ تمتما گیا، انہوں نے برہمی کے لہجے میں فرمایا: ’’جب وہ کہہ رہا ہے کہ میں نے شہادت خریدی ہے، تو میں اس کے اَجر و ثواب کی راہ میں کیسے حائل ہوسکتا ہوں؟ کیا تم چاہتے ہو کہ میں ایسے مسلمان کے لئے وائسرائے کی خوشامد کروں جو زندہ رہا تو غازی ہے اور مرگیا تو شہید ہے؟‘‘

علامہؒ کے لہجے میں اس قدر تیزی اور سختی تھی کہ وفد کے ارکان اس سلسلے میں پھر کچھ اور کہنے کی جرأت نہ کرسکے، وفد کراچی واپس ہوگیا۔

غازی عبدالقیوم کو جس دن پھانسی دی گئی، کراچی کی تاریخ میں وہ دن مسلمانوں کے جوش و اِضطراب کا یادگار دن تھا، دِلوں میں یہ جذبہ موجزن تھا کہ کاش! یہ شہادت ہمیں میسر آتی۔

لاہور میں غازی علم الدین اور کراچی میں غازی عبدالقیوم کے ان واقعات

282

کا علامہ اقبالؒ نے بہت زیادہ اثر قبول کیا تھا اور اپنے اس قلبی تأثر کو تین شعروں میں بیان فرمادیا، یہ اَشعار ’’لاہور اور کراچی‘‘ کے عنوان سے ’’ضربِ کلیم‘‘ میں شائع ہوچکے ہیں، مگر غازی عبدالقیوم کے لئے رحم کی درخواست کے اس واقعے کی روشنی میں ان اَشعار کا مفہوم کچھ اور زیادہ اُبھرتا ہے:

لاہور اور کراچی

نظر اللہ پہ رکھتا ہے مسلمانِ غیور!

موت کیا شے ہے؟ فقط عالمِ معنی کا سفر

ان شہیدوں کی دِیت اہلِ کلیسا سے نہ مانگ

قدر و قیمت میں ہے خون جن کا حرم سے بڑھ کر

آہ! اے مردِ مسلماں، تجھے کیا یاد نہیں؟

حرف ’’لَا تَدَعُ مَعَ اﷲِ اِلٰھًا اٰخَرَ‘‘

قادیانی وکیل کی جھوٹی قسم کا انجام:

کوئٹہ ایڈیشنل سیشن جج جناب جمیل شیروانی کی عدالت میں مرزائیوں کی طرف سے کلمۂ طیبہ کی توہین کے سلسلے میں کیس زیرِ سماعت تھا۔ اہلِ اسلام کے وکیل نے جب دلائل دئیے کہ قادیانیوں کی کتب کی رُو سے قادیانیوں کے نزدیک ’’محمد‘‘ سے مراد ’’مرزا قادیانی‘‘ ہوتا ہے، تو اس پر مرزائیوں کے وکیل کے چہرے پر اُداسی چھاگئی، سخت بدحواس ہوا۔ یاد رہے کہ یہی مرزائی وکیل احسان، مرزائیوں کی طرف سے کیس کی ہمیشہ پیروی میں پیش پیش تھا، مسلمان وکیل کے دلائل اور حوالہ جات کا اپنے پاس جواب نہ پاکر سخت بدحواسی کے عالم میں اس نے پینترا بدلا اور ایسا ڈرامہ اختیار کیا کہ مسلمان وکیل کا اثر ختم ہوسکے، ڈرامائی انداز میں اپنے اٹھارہ بیس سال کے لڑکے کے سر پر ہاتھ رکھا اور کہا کہ: ’’خدا مجھے اس لڑکے سے محروم کرے، اگر میں

283

جھوٹ بولوں کہ ہماری مراد کلمۂ طیبہ میں ’’محمد‘‘ سے مراد مرزا قادیانی نہیں ہوتا۔‘‘ اس کا عدالت نے جواب یہ دیا کہ: ’’تمہاری بات کی تمہاری اپنی کتابیں تردید کرتی ہیں۔‘‘ مرزائیوں کی اپیل خارج ہوگئی، فیصلہ اہلِ اسلام کے حق میں ہوگیا۔ لیکن خدا کا کرنا یہ ہوا کہ چند ہفتوں بعد اُس کا یہی لڑکا ایک اور قادیانی لڑکے کے ساتھ جھیل میں ڈُوب کر مرگیا اور یوں قدرت نے مرزائی وکیل کی غلط قسم کا نقد صلہ ان کو دے دیا۔

کوئٹہ جماعت کے ناظمِ اعلیٰ حاجی تاج محمد فیروز نے مرزائی وکیل کو خط لکھا کہ تم نے غلط قسم اُٹھائی تھی، ختمِ نبوّت کا معجزہ دیکھئے، یہ واقعہ دیدۂ عبرت ہے، اب تو مسلمان ہوجاؤ!‘‘ اس کا اُس نے تاحال جواب نہیں دیا۔

(مولانا نذیر احمد تونسوی)

ایک قادیانی پر غلاظت کی بارش:

راقم الحروف سے ایک بار ایک قادیانی، اسلام اور نبوّتِ محمدی علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام سے بغاوت اور غداری پر مبنی قادیانی مذہب کی حمایت میں بحث و مباحثہ کرنے لگا، ہماری گفتگو سن کر اور دیگر حضرات بھی آگئے، شام کا وقت تھا، ہم لوگ اس وقت ایک درخت کے نیچے کھڑے مصروفِ گفتگو تھے، درخت پر پرندے بیٹھے چہچہارہے تھے۔ جب مذکورہ قادیانی، قادیانی مذہب کا وکیلِ صفائی بنا اس کے حق میں دلائل دے رہا تھا تو اچانک ہی درخت پر بیٹھے ہوئے کسی پرندے کا پاخانہ اُس کے منہ پر آگرا جس سے وہ قادیانی حواس باختہ ہوگیا، پھر وہ سنبھلا اور اُس نے اپنے ہاتھ سے اپنا منہ اس غلاظت سے صاف کیا اور پھر دوبارہ اپنے اس فعلِ خبیث یعنی قادیانیت کی حمایت میں بکواس کرنے لگا، ابھی اس کی گفتگو شروع ہی ہوئی تھی کہ دوبارہ اس کے سر پر درخت پر بیٹھے کسی پرندے نے اپنی غلاظت بکھیر دی، مذکورہ قادیانی نے اس بار بھی اپنے ہاتھ سے اپنا غلاظت لتھڑا سر صاف کیا اور پھر سہ بارہ قادیانیت کی حمایت میں دلائل دینے لگا، ابھی اسے شروع ہوئے دیر بھی نہ ہوئی تھی کہ تیسری بار پھر کسی پرندے

284

نے اس پر پاخانہ کردیا، گویا قدرتِ خداوندی قادیانیت سے اپنی بیزاری و نفرت ظاہر کر رہی تھی۔ جملہ حاضرینِ مجلس نے اس بات کو خصوصی طور پر نوٹ کیا، ہنسے اور پھر دہشت زدہ ہوگئے، سب پر اس بات کا بہت اثر ہوا۔ میں نے اس قادیانی کو بھی اس طرف توجہ دِلائی اور اسے کہا کہ: ’’دیکھو! جھوٹ بولنے کے جرم میں اللہ تعالیٰ آسمان سے تم پر غلاظت کی بارش برسا رہا ہے، اب بھی سنبھلو اور اس واقعے سے عبرت پکڑو!‘‘ یہ سن کر وہ قادیانی سخت لاجواب اور شرمندہ ہوا اور وہاں سے دُم دباکر بھاگا۔

(عبدالناصر خان، شاہراہِ فیصل، کراچی)

آزمائش شرط ہے!

یہ ضلع مظفرگڑھ کا واقعہ ہے، آج سے ۲۱، ۲۲ سال پہلے میں کچھ علماء حضرات کو لے کر ایک بستی میں جارہا تھا، پُرانی گاڑی، گرمی کا موسم، کڑکتی دُھوپ کہ ہماری گاڑی دَلدل میں پھنس گئی، ان علماء حضرات نے بتایا کہ: ’’رَدِّ قادیانیت پر ایک جلسہ ہے، اس سے خطاب کرنا ہے۔‘‘ میں نے پوچھا کہ: یہ قادیانی کون ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ: ’’قادیانی، مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی مانتے ہیں۔‘‘ پھر تفصیل سے اُنہوں نے قادیانیوں کے عقائد بتائے، مجھے مرزا قادیانی کے نظریات سن کر بڑا غصہ آیا اور میں نے کہا کہ: یہ تو بڑا ملعون شخص تھا، جس نے نبوّت پر ڈاکا ڈالا۔ قصہ مختصر یہ کہ ہم چار پانچ اَفراد نے اپنی پوری کوشش کر ڈالی کہ کسی طرح گاڑی نکلے، لیکن گاڑی نکلنے کا نام نہ لیتی تھی اور نہ اسٹارٹ ہوتی تھی، معاً مجھے خیال آیا کہ ہم ایک نیک کام کے لئے جارہے ہیں، کیوں نہ اس ملعون شخص پر لعنت بھیجیں جس نے سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوّت کا دعویٰ کیا۔ میں نے فوراً یہ ترکیب آزمائی اور اس مدعیٔ نبوّت پر سو مرتبہ لعنت بھیجی، خدا کی قدرت کہ گاڑی اسٹارٹ بھی ہوگئی اور دَلدل سے بھی نکل آئی اور ہم اپنی منزلِ مقصود پر پہنچ گئے۔

(خادمِ ختمِ نبوّت: عبدالرشید ڈرائیور، مظفرگڑھی، کراچی)

285

سویڈن میں ایک قادیانی کو گولی مارکر مرزا قادیانی بنادیا:

سویڈن کے شہر مالو میں ایک قادیانی کو جو مقامی پوسٹ آفس میں ملازمت کرتا ہے، وہاں کے لوگوں نے (مسلمانوں نے نہیں) گولی مارکر مرزا قادیانی بنادیا۔ تفصیلات کے مطابق گولی اس کی آنکھ میں لگی جس سے وہ شدید زخمی ہوگیا، اس کی ایک آنکھ بالکل ضائع ہوچکی ہے، اگرچہ وہ شدید زخمی حالت میں زیرِ علاج ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ مرزا قادیانی کے پاس سوئے جہنم روانہ ہوتا ہے یا بچ جانے کی صورت میں مرزا قادیانی کی طرح نبی، مسیح یا مہدی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے؟ کیونکہ وہ قادیانی کا آنکھ شریک بھائی ہوچکا ہے اور یہی قادیانی کی جھوٹی نبوّت کی بڑی پہچان ہے۔

(اللہ وسایا، از سویڈن، ۱۹۸۶ء)

ختمِ نبوّت کے لئے کام کرنے کی برکت:

میرے علاقے میں ایک اَن ٹرینڈ ڈسپنسر قادیانی نے اپنا لٹریچر تقسیم کیا، جس کی اطلاع عالمی مجلس کے دفتر دھنوٹ پہنچی تو ناظمِ اعلیٰ قاضی محمد عبدالمالک فاروقی ایک وفد کے ساتھ قادیانی کی اس شرارت کے انسداد کے لئے ڈی ایس پی صاحب لودھراں سے ملے اور انہیں اس مسئلے سے آگاہ کیا۔ تحریری طور پر ایک درخواست پیش کی، کافی رات بیت گئی اور قاضی صاحب تھانے نہ جاسکے، دُوسرے دن کورٹ میں قاضی صاحب کی تاریخ تھی، جس میں ان کا جانا ازحد ضروری تھا، دوستوں نے مشورہ بھی دیا آپ کورٹ چلے جائیں، واپسی پر تھانے چلیں گے۔ قاضی صاحب نے کہا: ’’جائیداد جاتی ہے تو جانے دو، میں تو اس قادیانی غنڈے کی شرارت کے انسداد کی ہی کوشش کروں گا!‘‘ مختصر یہ کہ کورٹ نہ گئے، سارا دن ختمِ نبوّت کے سلسلے میں ہی کام کرتے رہے، جب شام کو واپس گھر آئے تو انہیں اطلاع ملی کہ کیس کا فیصلہ آپ کے حق میں ہوگیا ہے۔ قاضی صاحب نے کہا کہ: ’’میں نے سارا دن ختمِ نبوّت کے تحفظ

286

کے لئے کام کیا اور اللہ تعالیٰ نے ختمِ نبوّت کی برکت سے مجھے سرخرو فرمایا۔‘‘ جبکہ مخالف فریق ایک بہت بااثر شخص تھا، اس نے اپنے لئے مکمل طور پر فضا سازگار کر رکھی تھی، یہ ہے ختمِ نبوّت کے لئے کام کرنے کی برکت۔

(حکیم حبیب الرحمن، دھنوٹ، نزد لودھراں)

قادیانی کی قبر کو آگ لگ گئی:

ڈیرہ غازی خان کے قصبے الہ آباد میں ایک قادیانی ماسٹر تھا، جو اِنتہائی متعصب اور گستاخ تھا، جب فرشتۂ اَجل نے اسے آدبوچا تو مسئلہ پیدا ہوا کہ اسے کہاں دبایا جائے؟ مسلم قبرستان میں اگر دباتے تو مسلمانوں میں اِشتعال کا پھیل جانا ضروری اَمر تھا، آخر اس کے عزیز و اقارب نے اسے اس کی اپنی زمین میں دبادیا، دبانے کے ٹھیک تین دن بعد اس کے گڑھے کو آگ لگ گئی اور یہ کیفیت تین دن تک جاری رہی اور بالآخر وہ جگہ پھٹ گئی، اس کے بعد قادیانیوں نے اس گڑھے کو پختہ کردیا۔ اس واقعے کی تصدیق وہاں کے علمائے کرام حتیٰ کہ اس قادیانی ماسٹر کے بھتیجے نے بھی کی ہے۔

نقلی نبی:

مولانا قاری محمد طیب نے فرمایا کہ: ’’مولانا سمیع اللہ مرحوم کی دُکان پر ہر قسم کے لوگ آتے تھے، ہندو بھی اور مسلم بھی اور لوگوں سے بے تکلفی تھی کہ کوئی اگر مٹھائی طلب کرتا تو کوئی جیب میں ہاتھ ڈال کر پیسے نکال لیتا، وہ سب کی خاطرداری کرتے تھے۔ ایک مرتبہ ان کی دُکان پر ایک ہندو آیا، اس کی بول چال مسلمانوں جیسی تھی، ایک قادیانی ان کی تاک میں لگ گیا، ان کو مسلمان سمجھ کر دُکان پر مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوّت پر آدھ گھنٹہ تقریر جھاڑی اور یہ ثابت کرنا چاہا کہ وہ نبی ہے، اس کی نبوّت کو مانو، اس نے اپنی یادداشت میں خوب دلائل سے تقریر کی، وہ ہندو خاموشی سے سنتا رہا،

287

قادیانی نے سمجھا کہ میری تقریر کا اثر ان پر ہوگیا ہے اور یہ مرزا صاحب کی طرف مائل ہوگئے ہیں۔ تقریر ختم کرنے کے بعد قادیانی کہتا ہے کہ: ’’آپ نے میری تقریر کا اثر لیا ہے؟‘‘ تو وہ ہندو ہنسا اور کہا کہ: ’’ابھی تک تو ہم نے اصلی نبی ہی کو نہیں مانا، نقلی نبی کو کیا مانیں گے؟‘‘ اس پر مجلس کے سارے حضرات ہنس پڑے، قاری صاحبؒ فرماتے ہیں کہ: ’’جب قادیانی کو یہ معلوم ہوا کہ یہ غیرمسلم ہے تو بہت شرمندہ ہوکر وہاں سے بھاگا اور پھر وہاں نہیں آیا۔‘‘

(مأخوذ: مجالس حکیم الاسلام ص:۲۳۶)

بیت اللہ سے منہ پھر گیا:

آدھی کوٹ، ضلع خوشاب کے نزدیک امام الدین نامی ایک قادیانی رہتا تھا، ۱۹۷۴ء کی تحریکِ ختمِ نبوّت میں وہ دباؤ کے تحت مسلمان ہوگیا، بعد میں مرتد ہوگیا، لیکن مسلمانوں سے ملتا تو اپنے کو مسلمان ظاہر کرتا تھا، اس کے قادیانیوں سے روابط بھی بدستور تھے۔ گزشتہ دنوں وہ مرگیا، اس کے خاندان والوں نے، جو مسلمان تھے اور اُس کے لڑکوں نے، جو مسلمان ہیں، اپنے تعلقات کی بنا پر تدفین کے لئے ایک صوفی صاحب کو بلایا، صوفی صاحب کا کہنا ہے کہ جب اسے قبر میں اُتارا گیا تو میں اس کے سر کی جانب تھا، میں نے اس کا چہرہ بیت اللہ شریف کی طرف کردیا، اچانک ایک جھٹکا لگا اور اس کا چہرہ مشرق کی طرف مڑگیا، دوبارہ پھر میں نے اس کا چہرہ بیت اللہ شریف کی طرف کیا، گردن کو اسی طرح جھٹکا لگا اور چہرہ پھر مشرق کی طرف مڑگیا، تیسری مرتبہ پھر میں نے وہی عمل کیا اور جھٹکے کے ساتھ تیسری مرتبہ پھر اس کا چہرہ مشرق کی طرف ہوگیا، اس کے بعد میں نے اس کو اسی حالت میں چھوڑ دیا۔ صوفی صاحب نے بتایا کہ اس چشم دید واقعے کے بعد میں سمجھا کہ یہ شخص ظاہری طور پر اسلام کا نام لیتا تھا اور اس نے قادیانیت ترک نہیں کی تھی، قادیانیوں کو اس واقعے سے عبرت پکڑنی چاہئے۔

(رانا خلیل احمد)

288

مرزائیوں کی زن اور زمین کی پیش کش:

۱۹۸۰ء کی بات ہے، میرے پاس ایک مرزائی غلام حسین نامی آیا کرتا تھا، وہ ہمیشہ مرزائیت کی تبلیغ کرتا، میں اپنی ہمت کے مطابق اسے جواب دیتا، ایک دن اس نے مجھے مرزائی کتب پڑھنے کے لئے دیں، میں نے انکار کیا کہ اگر ان کتابوں کا پتا میری بیوی یا دیگر رشتہ داروں کو ہوگیا تو وہ مجھ سے تعلقات ختم کردیں گے۔ اس مرزائی نے فوراً کہا کہ: ’’میری جواں سال بھتیجی ہے، اس سے میں تیرا نکاح کردوں گا اور اتنی زمین بھی تیرے نام لگوادُوں گا، آپ کتابیں پڑھیں!‘‘ میں نے اس دن اس واقعے کا ذکر مولانا محمد نواز صاحب سے کیا، اُنہوں نے مرزائیت کے کفریہ عقائد مجھے سمجھائے اور ان سے بچنے کی تلقین کی۔ اس رات میں نے خواب دیکھا کہ ایک کالاناگ میرے پیچھے لگا ہوا ہے، میں جہاں جاتا ہوں وہ میرے پیچھے ہے، میں دوڑ کر جاتا ہوں اور مولانا محمد نواز صاحب سے لپٹ کر کالے سانپ سے بچانے کی درخواست کرتا ہوں۔ اسی افراتفری میں میری آنکھ کھل گئی، میں نے اس مرزائی کو خط لکھا کہ آئندہ میرے گھر نہ آیا کرے، خدا کا شکر ہے کہ اس دن کے بعد سے آج تک اس مرزائی کی میں نے شکل نہیں دیکھی اور یہ کہ اس خواب کے نہ صرف کالے ناگ سے بچ گیا، بلکہ ہمارے گاؤں سے بھی مرزائیت کا خاتمہ ہوگیا۔

(عمرالدین سانی، دلیوالہ، ضلع بھکر)

مسجد کے صحن میں بااثر قادیانی کی تدفین کا حشر:

کوٹ قیصرانی، تحصیل تونسہ، ضلع ڈیرہ غازی خان میں امیر مند نامی ایک قادیانی کو اس کی اولاد نے مسلمانوں کی مسجد کے صحن میں دفن کردیا، یہ لوگ علاقے کے چوہدری تھے، مسلمان قوم غریب تھی، عالمی مجلس تحفظِ ختمِ نبوّت کو پتا چلا، اِشتہارات شائع کئے، لٹریچر تقسیم کیا، کانفرنسیں منعقد کیں، ملک بھر کے علماء گئے، پورے تونسہ کی

289

تحصیل کو سراپا احتجاج بنادیا، مولانا صوفی اللہ وسایا مبلغ عالمی مجلس اور خانقاہ تونسہ کے چشم و چراغ خواجہ مناف صاحب اس تحریک کے رُوحِ رواں تھے، عالمی مجلس کے امیر مرکزیہ مولانا خواجہ خان محمد کی شفقت و محبت، سرپرستی و تعاون ان کو حاصل تھا۔ تحریک پھیلتی گئی، مرزائی قیادت اور اس کی اولاد کی چودھراہٹ نے اسے برادری کی عزّت کا مسئلہ بنادیا، مرنے مارنے پر تُل گئے، حکومتی ارکان نے کہا کہ: جناب! اگر اس کی قبر کشائی کی گئی تو بلوچستان کے پہاڑوں سے آزاد قبائل کی قیصرانی برادری لڑنے کے لئے نیچے آجائے گی، علاقہ میدانِ جنگ بن جائے گا۔ گویا ایک مردُود کے مردے کو نکالنا گویا کشمیر کو فتح کرنے کا میدان قرار دے دیا۔ عالمی مجلس تحفظِ ختمِ نبوّت نے محمد خان جونیجو وزیراعظم کو کہا، اُنہوں نے پنجاب کے مذہبی اُمور کے وزیر جناب خدابخش ٹوانہ کی ڈیوٹی لگائی، وعدے کے باوجود وہ موقع پر نہ آئے، حکومتی ارکان محض حیلہ بہانہ سے اس تحریک کو لمبا کرکے ٹھنڈا کرنا چاہتے تھے، ایک ماہ کا عرصہ گزرگیا، جوں جوں وقت گزرتا جارہا تھا توں توں مرزائی نواز کہتے جارہے تھے کہ جی اب اتنا وقت ہوگیا ہے، دفع کرو، اب کیا فائدہ؟

تحریک کے رہنما، تحریک کا الاؤ روشن رکھنے میں مصروف تھے، اُمید و یاس کی کیفیت طاری تھی، علاقہ بھر میں اشتعال تھا، کوٹ قیصرانی میں مرزائیوں نے مسلح آدمی بلوائے، ان کو ایک مکان پر رکھا، صبح و شام بکرے ذبح ہو رہے ہیں، دیگیں پک رہی ہیں، گپ شپ جاری ہے، شام کو مسلح جلوس نکال کر اپنی طاقت کا مظاہرہ کرکے مسلمانوں کو ہراساں کیا جارہا ہے، یہ بات عالمی مجلس کے راہ نماؤں کے لئے پریشان کن تھی، راہ نماؤں نے فیصلہ کیا کہ اب تونسہ میں نہیں بلکہ ضلعی ہیڈکوارٹر پر اِحتجاج کیا جائے، پورے ضلع کے مسلمان جمع ہوئے، قافلے آئے، پولیس نے ناکہ بندی کی، جو توڑ دی گئی، سارا ضلع جمع ہوا، احتجاجی جلسے کے بعد جلوس نکالا، پولیس نے لاٹھی چارج کیا، بیسیوں زخمی ہوئے، سینکڑوں گرفتار کرلئے گئے، تین دن تک ہر داڑھی والے کو

290

پولیس پکڑ کر تھانے میں لے جاتی تھی، اس ظلم و ستم کے خلاف قومی اسمبلی میں آواز اُٹھائی گئی، دُشمن رُسوا، مرزائی ہار گئے، مرزائی نوازوں کے منہ کالے ہوگئے، حق کا بول بالا ہوا، تحریک کامیابی سے ہمکنار ہوئی، حکومت مجبور ہوگئی، بالآخر جاکر کوٹ قیصرانی کا پولیس نے گھیراؤ کیا، مرزائیوں کو گرفتار کیا، چوہڑوں کو بلواکر قبر کشائی کرائی، مردُود مرزائی کی لاش نکال کر مرزائیوں کے گھر کے صحن میں دبادی گئی۔ اس تحریک میں جو عالمی مجلس تحفظِ ختمِ نبوّت کو اپنے مشن میں کامیابیاں ہوئیں اور جس طرح مرزائیت کو بیک گیئر لگا اس کی صورتِ حال یہ ہے:

O:۔۔۔ مرزائیوں نے اپنے مردے کو عام علیحدہ اپنے مرگھٹ میں دفن کرنے کے بجائے اپنے گھر میں دفن کیا، مرزائیوں کے ہاتھوں قدرت نے یہ ایسا کام کرایا کہ اگر علیحدہ مقام پر دفن ہوتا تو مرزائی چند دن کے بعد اس سانحہ کو بھول جاتے، اب صبح و شام اپنے گھر آتے جاتے اس کی قبر کو دیکھ کر اُوپر والے بھی جل رہے ہیں اور نیچے والا بھی جل رہا ہے، یہ حسد کی آگ میں اور وہ جہنم کی آگ میں۔

O:۔۔۔ اس تحریک سے علاقہ بھر میں مرزائیت کے خلاف نفرت کا ایک نیا دور شروع ہوا، مرزائیوں کی چودھراہٹ و سرداری کا بھوت ہَوا ہُوا۔

O:۔۔۔ مرزائیت پر اتنی اوس پڑی کہ اس مردے کے خاندان پوتے وغیرہ میں بعض حضرات کو اللہ رَبّ العزّت نے مرزائیت سے توبہ کی توفیق بخشی، فالحمدﷲ!

O:۔۔۔ شادن لنڈ، ڈیرہ غازی خان میں تقریباً چالیس قادیانی افراد مسلمان ہوئے، ان میں ایک ماسٹر غلام حیدر بھی تھا جو اَسّی سال سے زیادہ عمر کا تھا، اُس نے ختمِ نبوّت کانفرنس شادن لنڈ میں مولانا خواجہ خان محمد صاحب کی صدارت میں اپنے ایمان لانے کا سبب بیان کرتے ہوئے کہا کہ: ’’میں نے اپنی قادیانیت کے زمانے میں مولانا لال حسین اخترؒ سے مناظرے کئے، میں مرزائیت کا سرگرم مبلغ تھا، مگر میرمند مرزائی کے مردے کا حشر دیکھ کر میرے دِل نے گواہی دی کہ مرزائیت کو قبول کرکے

291

ہم لوگ دُنیا میں رُسوا ہوئے، اگر مرکر بھی مرزائیت کی وجہ سے ہماری لاش خراب ہو تو اس مذہب کا کیا فائدہ جو دُنیا و آخرت میں ذِلت و رُسوائی کا سامان کرے؟‘‘

O:۔۔۔ اس تحریک کے بعد تقریباً بیس مرزائی مردے صرف ڈیرہ غازی خان کے علاقے میں مسلمانوں کے قبرستانوں سے علیحدہ کئے گئے، یوں کفر و اِسلام کے درمیان حد قائم ہوئی کہ مرزائی مردے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہ ہوسکے۔

O:۔۔۔ اس واقعے کے بعد پورے ملک میں تحریک شروع ہوئی، کئی مرزائی مردے عالمی مجلس تحفظِ ختمِ نبوّت نے مسلمانوں کے قبرستانوں سے نکلوائے، بالآخر حکومت نے گزٹ نوٹیفکیشن کے ذریعے اعلان کیا کہ کوئی مرزائی مردہ مسلمانوں کے قبرستان میں آئندہ قانوناً دفن نہ ہوگا۔

O:۔۔۔ ۱۹۸۸ء کے الیکشن میں مرزائی مردہ میرمند کا داماد الیکشن میں پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر کھڑا ہوا، عالمی مجلس تحفظِ ختمِ نبوّت نے مدافعت کی، چنانچہ یہ الیکشن ہارگیا۔

O:۔۔۔ اس تحریک میں جب ڈیرہ غازی خان میں جلوس پر لاٹھی چارج ہوا، تو زخمی ہونے والوں میں مولانا عبدالستار تونسوی بھی تھے، دن کو زخمی ہوئے، رات کو خواب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت سے مشرف ہوئے۔

مجاہدینِ ختمِ نبوّت اور نصرتِ الٰہی

حضرت مولانا عزیزالرحمن جالندھری راوی ہیں کہ: ۱۹۵۳ء کی تحریکِ ختمِ نبوّت میں گرفتاری کے لئے پیش ہونے والے مجاہدینِ ختمِ نبوّت کو پولیس پکڑ کر کراچی سے بلوچستان کی طرف تقریباً سو میل دُور ایک مقام پر چھوڑ کر آئی، لیکن پولیس والوں کی حیرت کی انتہا نہ رہتی جب ٹھیک تین چار گھنٹوں بعد انہیں کارکنوں کو وہ کراچی میں پھر جلوس نکالتے ہوئے پاتے۔ پولیس انکوائری کرکے تھک گئی کہ کونسی طاقت ان کو اس

292

دُور کے جنگل سے اتنی جلدی کراچی میں پہنچادیتی ہے؟ زمین سمیٹ دی جاتی ہے؟ غائبانہ سواری کا انتظام ہوتا ہے؟ یا اس گروہ کو لانے والی مستقل تنظیم ہے؟ بہرحال پولیس کے لئے معما رہا اور واقعہ یہ ہے کہ تمام کارکنوں کو جونہی دُور دراز کے جنگل میں چھوڑا جاتا، اللہ رَبّ العزّت ان کے لئے فی الفور کراچی پہنچانے کا انتظام فرمادیتے، وہ کارکن کراچی آتے ہی پھر تحریک کے الاؤ کو روشن کرنے میں لگ جاتے، بالآخر پولیس نے تھک کر یہ پروگرام ترک کردیا۔

انعامات کی بارش:

مولانا عزیزالرحمن جالندھری راوی ہیں کہ: ایک دفعہ پولیس والے مجاہدینِ ختمِ نبوّت کے ایک جتھے کو رات کے وقت گرفتار کرکے دُور کے ایک جنگل میں چھوڑ کر آئے، پولیس کے جانے کے بعد یہ مجاہد چند قدم چلے تو روشنی نظر آئی، وہاں گئے تو جنگل میں چند گھرانے آباد دیکھے، ان گھرانوں میں سے ایک آدمی باہر آیا، ان مجاہدین کو بلایا، دُعا دی، راستہ اور وظیفہ بتلایا، یہ حضرات چند گھنٹوں میں کراچی پہنچ گئے، پولیس والے سوکر نہ اُٹھے ہوں گے کہ یہ حضرات کراچی میں پھر ختمِ نبوّت کے جلوس نکالنے میں مصروف ہوگئے۔ جنگل میں کونسی قوم آباد تھی؟ وہ آدمی ازخود بغیر آواز دینے کے کیسے رات کے وقت باہر آیا؟ کراچی کا راستہ و وظیفہ کیوں بتلایا؟ دُعا کیوں دی؟ وہ کون تھا؟ ان مجاہدین کے ساتھ ان کا یہ برتاؤ کیوں؟ آج تک اہلِ دُنیا کے لئے یہ معما ہے، مگر اہلِ نظر خوب جانتے ہیں کہ ان حضرات پر ختمِ نبوّت کے صدقے اللہ رَبّ العزّت کے اِنعامات کی بارش ہو رہی تھی۔

مرزا کو چوہڑوں کی شکل میں دیکھا:

میں آٹھویں جماعت میں پڑھتا تھا، مجوکہ، ضلع خوشاب کے قریب ڈیرہ اللہ یار پر واقع ہمارا مکان ہے، وہاں ایک قادیانی مبلغ غلام رسول رہتا تھا، اس سے ملنا ہوا،

293

اس سے لے کر مرزائیت کی کتابیں پڑھیں تو دِل میں وسوسہ پیدا ہوا کہ کہیں قادیانی جماعت سچی نہ ہو؟ دِل و دِماغ و عمر کے اعتبار سے نابالغ تھا، سخت پریشان ہوا۔ ایک رات نماز پڑھ کر سوگیا تو خواب میں مرزا قادیانی کو اِنتہائی مکروہ شکل میں دیکھا جو چوہڑوں سے بدتر تھا، میں سمجھ گیا کہ مرزائیت کی حقیقت کیا ہے؟ توبہ اِستغفار کی، مرزائیوں کی کتابیں واپس کیں، اب اللہ رَبّ العزّت کا فضل ہے کہ اس کائنات میں سب سے زیادہ نفرت کی چیز میرے نزدیک مرزائیت ہے۔

(ظفر اقبال، مجوکہ)

ظفراللہ خان قادیانی کی عبرت ناک موت:

مشہور سامراجی دلال اور ملتِ اسلامیہ کا غدار چوہدری ظفراللہ خان مسلسل بے ہوش ہے، غذائی ضرورت پوری کرنے کے لئے گلوکوز چڑھائی جارہی ہے، جو جھاگ کی صورت میں منہ کے ذریعے نکل رہی ہے اور پیشاب بھی بستر پر نکل رہا ہے، قادیانی ڈاکٹروں کی ایک ٹیم وہاں پہنچی ہوئی ہے، جس نے اپنی تمام تر توانائیاں اس بات پر صَرف کردی ہیں کہ کسی طرح منہ سے غلاظت نکلنا بند ہوجائے، لیکن انہیں مایوسی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ لاہور کے قادیانیوں نے اس ذِلت و رُسوائی سے نکالنے کے لئے خیرات کے نام پر دیگیں بھی چڑھائی ہیں، ڈاکٹروں کی ٹیم نے چوہدری صاحب کے قریبی عزیزوں اور رشتہ داروں کی ملاقات پر یہ کہہ کر پابندی لگادی کہ خطرناک مرض کی وجہ سے چھوت چھات کا اندیشہ ہے، چنانچہ ظفراللہ خان قادیانی ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرگیا۔

قادیانیت کی تبلیغ پر پابندی کے باعث قادیانی جماعت کا سربراہ ملک سے باہر تھا، اس لئے وہ اس کے لاشے کو دبانے کے لئے نہ آسکا، قدرت کی شانِ بے نیازی کہ جس فتنۂ قادیانیت کے جنازے کو ظفراللہ خان لے کر ملکوں ملکوں پھرا، اس کے اپنے جنازے میں قادیانیت کا سربراہ شریک نہ ہوسکا، اس سے بڑھ کر ظفراللہ خان کی

294

اور کیا عبرت ناک موت ہوسکتی ہے۔۔۔؟

قلندر ہرچہ گوید دیدہ گوید!

جس زمانے میں ظفراللہ خان پاکستان کا وزیرِ خارجہ تھا، اُس زمانے میں کراچی سے آتے ہوئے جس ٹرین میں سوار تھا، اسے حادثہ پیش آگیا، مگر ظفراللہ خان بچ گیا، کسی نے شاہ جی رحمۃ اللہ علیہ سے ذکر کیا کہ ظفراللہ خان بچ گیا، حضرت اَمیرِ شریعت رحمۃ اللہ علیہ نے بے ساختہ ارشاد فرمایا کہ: ’’یہ مرزائیت کا انجام دیکھ کر مرے گا!‘‘ مردِ قلندر کی بات پوری ہوئی، ظفراللہ خان کی زندگی میں مرزائیت رُسوا ہوئی، اس رُسوائی کے داغ سے یہ بھی رُسوا ہوکر اپنے انجام بد کو پہنچا، قلندر ہرچہ گوید دیدہ گوید!

’’شیزان‘‘ کا بائیکاٹ

پہلے شیزان کی تشہیر بڑے زور شور سے ہوا کرتی تھی، میرا پہلے ارادہ تھا کہ شیزان کو اپنے دواخانے کی زینت بناؤں، لیکن ’’ختمِ نبوّت‘‘ کے مطالعے کے بعد شیزان کو بالکل ترک کردیا، میری اہلیہ کو شیزان تحفے میں دی گئی تھی، میں نے اسے بہت بُرا بھلا کہا اور شیزان کو چکھا تک نہیں، اس کے عوض اللہ تعالیٰ نے خواب میں دو بار روضۂ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کرادی۔

(ڈاکٹر محمد شاہد صدیقی، کراچی)

مرزائی نے مرزا قادیانی کو کتے کی شکل میں دیکھا

اور مسلمان ہوگیا:

سرحد کے ناموَر عالمِ دِین دارالعلوم امدادالعلوم پشاور صدر کے شیخ الحدیث حضرت مولانا حسن جان صاحب فرماتے ہیں:

ایک مرتبہ تبلیغی جماعت کا ایک وفد غلطی سے قادیانیوں کے مرزاڑے میں چلا گیا، قادیانیوں نے جب تبلیغی جماعت کو دیکھا تو انہیں وہاں سے نکال دیا، جس پر

295

جماعت کے امیر نے قادیانیوں سے کہا کہ: ہم آپ کو بالکل دعوت نہیں دیتے، مگر آپ لوگ ہمیں صرف تین دن یہاں قیام کرنے کی اجازت دے دیں، ہم اپنی نمازیں پڑھیں گے اور تمہارے کسی کام میں مخل نہ ہوں گے۔ جس پر قادیانیوں نے اجازت دے دی۔ جب تین دن ہوگئے تو جماعت کے امیر نے اللہ کے حضور گڑگڑانا شروع کردیا کہ: ’’اے اللہ! ہم سے وہ کونسا گناہ ہوگیا کہ ہمیں یہاں تین دن ہوچکے ہیں، ایک آدمی بھی ہمارے ساتھ تبلیغ میں جانے کے لئے تیار نہ ہوا‘‘ ابھی وہ مصروفِ دُعا تھے کہ ایک شخص آیا جو قادیانی جماعت کا امیر تھا، اُس نے جب امیر صاحب کو روتے دیکھا تو پوچھا کہ: ’’آپ رو کیوں رہے ہیں؟‘‘

جناب امیر صاحب نے فرمایا کہ: ’’ہم اللہ کے راستے میں اس کے سچے دِین کی تبلیغ کے لئے نکلے ہیں اور تین دن سے یہاں قیام پذیر ہیں، لیکن کوئی ایک شخص بھی ہمارے ساتھ جانے کے لئے تیار نہ ہوا۔‘‘ جس پر اس قادیانی نے کہا: ’’یہ تو معمولی بات ہے، میں تین دن کے لئے آپ کے ساتھ جاتا ہوں، لیکن میری شرط ہے کہ آپ مجھے کسی قسم کی دعوت نہ دیں گے۔‘‘ چنانچہ معاہدہ ہوگیا اور وہ قادیانی ان کے ساتھ روانہ ہوگیا۔ تیسری رات اُس نے ایک خواب دیکھا، جب صبح ہوئی تو اس قادیانی نے جماعت کے امیر صاحب سے کہا کہ: ’’آپ مجھے کلمہ پڑھائیں اور مسلمان بنائیں!‘‘ جس پر اَمیرِ جماعت نے کہا کہ: ’’ہم معاہدے کے پابند ہیں، ہم آپ کو کلمہ پڑھنے پر مجبور نہیں کرسکتے، مگر آپ یہ بتائیں کہ یہ تبدیلی کیوں آئی؟‘‘ اس نے کہا: ’’میں نے خواب میں سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کتے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ: تم میرے عاشقوں کے ساتھ پھرتے ہو اور اس کتے کو بھی مانتے ہو؟‘‘ ۔۔۔وہ کتا مرزا قادیانی تھا۔۔۔ جس پر اَمیرِ جماعت نے اسے کلمہ پڑھایا اور سینے سے لگایا، جب اس شخص نے واپس اپنے گاؤں جاکر یہ واقعہ کچھ اور قادیانیوں کو سنایا تو وہ بھی مسلمان ہوگئے۔ یہ واقعہ مولانا حسن جان

296

نے حضرت مولانا قاری محمد طیب سے سنا۔

خواب میں سور کے ریوڑ چرانا:

بھارت کے شہر مونگیر میں ایک خدارسیدہ ذاکر و شاغل شخص ماسٹر خدابخش تھے، مونگیر کے حکیم فضل احمد سے ان کے تعلقات تھے، جو مرزائی ہوگئے، ان کے پاس مرزائیوں کا آنا جانا شروع ہوگیا، ماسٹر خدابخش نے خواب میں دیکھا کہ حکیم فضل احمد مرزائی سوَر کے ریوڑ چرا رہے ہیں۔

مرزائی مربی اور سور کے گوشت کا لوتھڑا:

ماسٹر خدابخش، مونگیر سے ایک نکاح کے سلسلے میں اِلٰہ آباد گئے، واپسی پر بانکی پور میں قیام کیا، رات کو خواب دیکھا، ایک عورت گوشت کا لوتھرا لئے کھڑی ہے، پوچھنے پر عورت نے کہا کہ: ’’یہ سوَر کے گوشت کا لوتھڑا ہے جو عبدالماجد مرزائی کے منہ پر مارنے کے لئے میں نے پکڑ رکھا ہے۔‘‘ ان دنوں اس علاقے میں عبدالماجد مرزائی، مرزائیت کی ترویج میں مصروفِ کار تھا۔

مرزا کے نام کی جگہ سور کی تصویر:

بھارت کے حاجی سیّد عبدالرحمن شاہ، جنھوں نے چار حج کئے تھے، عرصہ تک مدینہ طیبہ میں جاروب رہے، ان کا بیان ہے کہ مولوی نظیر احسن نے مرزا قادیانی کے رَدّ میں رسالہ ’’مسیحِ کاذب‘‘ تحریر کیا۔ شاہ صاحب ان کے مسوّدے کو صاف کرتے تھے، ایک رات انہوں نے اپنے والد ماجد کو خواب میں دیکھا، وہ بہت غصّے سے اپنے بیٹے سیّد عبدالرحمن سے کہتے ہیں کہ: ’’تم نے تصویر بنانا کس سے سیکھ لیا؟‘‘ سیّد عبدالرحمن نے عرض کی کہ: ’’ہم نے تو کبھی کسی جاندار کی تصویر نہیں بنائی، کیونکہ یہ گناہ ہے۔‘‘ اُنہوں نے کتاب کھول کر دکھائی، سیّد عبدالرحمن کہتے ہیں کہ: میری حیرت کی

297

انتہا نہ رہی کہ جب میں نے دیکھا کہ کتاب میں جہاں کہیں مرزا قادیانی لکھا تھا وہاں پر سوَر کی شکل کی تصویر تھی، اُنہوں نے ورق اُلٹنے شروع کئے، جہاں جہاں مرزا کا نام تھا وہاں پر سوَر کی تصویر اُبھر آئی تھی، گھبراکر اُٹھ بیٹھے اور اِستغفار میں مصروف ہوگئے۔ مرزا قادیانی پر لعنت بھیجی تب کہیں جاکر طبیعت سنبھلی۔

قادیانی کے جسم کا قبر میں غیرمحفوظ ہونے کا چیلنج:

بھارت کے صوبہ بہار کے حکیم محمد حسین نے مرزا محمود کو چیلنج دیا کہ احادیث و نصوص کے اعتبار سے انبیاء علیہم السلام کے اجسامِ مبارکہ اپنی قبور میں محفوظ ہیں، تم مرزا قادیانی کی قبر کھولو، اگر اس کا جسم محفوظ ہو تو مان لوں گا۔ اس پر مرزائیوں پر اوس پڑگئی، ندامت کے مارے دِلوں کی طرح ان کے چہرے بھی سیاہ ہوگئے۔

حکیم صاحب نے خواب دیکھا کہ مرزا قادیانی قبر میں ہے، فرشتے سوال کرتے ہیں، انتہائی مکروہ قسم کی آئیں بائیں شائیں کرتا ہے، دُوسری طرف اس کی قبر میں شیطان کھڑا کہہ رہا ہے کہ: ’’مرزا صاحب! آپ نے میرے مشن کا خوب کام کیا، خلقِ خدا کو گمراہ کرنے میں خوب ہاتھ بٹایا، مگر میں آپ کی قبر میں کوئی مدد نہیں کرسکتا، مگر قیامت کے دن تمام ذُرّیت (شیطان) میں تمہیں بلند مقام حاصل ہوگا، اس لئے کہ میں صرف شیطان تھا، تو سیّدالشیطان ہے۔‘‘

مرزا کو ریچھ کی شکل میں دیکھ کر مسلمان ہوگیا

بھارت کے سیّد عبدالغفار کا بیان ہے کہ: مرزائیوں کے پاس کام کرتا تھا، میں بھی مرزائی ہوگیا، ایک بزرگ خواب میں دِکھائی دئیے، اُنہوں نے کہا کہ: ’’مرزا قادیانی جھوٹا تھا، قادیانی بن کر کیوں اپنی عاقبت خراب کر رہے ہو؟‘‘ بیدار ہوا تو مرزائیوں کو یہ خواب سنایا، اُنہوں نے یہ تأویل کی کہ: ’’جب تک تم مرزا قادیانی کو نہیں مانتے تھے تمہیں خواب میں بزرگ نظر نہ آتے تھے، مرزا قادیانی کی برکت سے

298

اب خواب میں تمہیں بزرگ نظر آتے ہیں۔‘‘ قسمت کی مار! کہ یہ تأویل پر مطمئن ہوگئے، حالانکہ بزرگ نے خواب میں مرزا قادیانی کے جھوٹے ہونے کا فیصلہ دیا تھا، مگر یہ اسے بھی پی گئے۔

کچھ عرصہ بعد وہی بزرگ پھر خواب میں نظر آئے، اُنہوں نے سیّد عبدالغفار سے کہا کہ: ’’وہ دیکھو!‘‘ دیکھا کہ ایک شخص ریچھ کی شکل میں، مکروہ صورت جسے دیکھ کر طبیعت اُلجھنے لگی، پابہ زنجیر جکڑا ہوا ہے، دو شخص اس پر کوڑوں کی بارش برسا رہے ہیں، گلے میں آگ کا سرخ طوق ہے۔ یہ دیکھ کر سیّد عبدالغفار دوڑ کر اس بزرگ کے پاس گیا، ماجرا پوچھا، تو اُنہوں نے بتایا کہ: ’’یہ شخص ریچھ کی شکل والا مرزا قادیانی ہے، اس پر عذاب کے فرشتے مسلط ہیں، جہنم کا طوق گلے میں ہے، پابہ زنجیر ہے، تم نے اس کو نہ چھوڑا تو تمہارا بھی یہی حال ہوگا!‘‘ سیّد عبدالغفار کی گھبراہٹ میں آنکھ کھل گئی، مرزا پر لعنت بھیجی، مرزائیت سے توبہ کی اور جاکر مولانا سیّد محمد علی مونگیروی کے ہاں گیا، اُن کو پہلی نظر دیکھا تو حیران رہ گیا کہ یہی بزرگ مجھے خواب میں نظر آئے تھے، چنانچہ آپ کے ہاتھ پر اِسلام قبول کیا، بیعت کی اور مسلمان ہوگیا۔

مرزا کی قبر پر فی نار جہنم ۔۔۔۔۔۔ کی تختی:

سراج الدین نے خواب میں دیکھا کہ: میں قادیان میں مرزا کی قبر پر فاتحہ کے لئے بہشتی مقبرہ گیا، تو اس قبر پر تختی نظر آئی جس پر: ’’فِیْ نَارِ جَھَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْھَا اَبَدًا‘‘ لکھا دیکھا اور ساتھ ہی مرزا کی قبر پر چغد اور گدھ کی شکل میں جانور نظر آئے، لرزاں ترساں خواب سے بیدار ہوئے، قدرتِ حق نے مدد کی اور مسلمان ہوگئے۔

حرمِ کعبہ میں قادیانی کی پٹائی:

اخبار ’’اہل حدیث‘‘ امرتسر نے اپنے ایک عزیز جیون خان تلونڈی موسیٰ خان، ضلع سیالکوٹ کا ایک واقعہ بیان کیا کہ: وہ قادیانی ہوگئے، ایک رات خواب دیکھا

299

کہ لوگ مکہ مکرّمہ جارہے ہیں، یہ بھی ان کے ساتھ ہے، حرمِ کعبہ میں نماز شروع ہوئی، جیون خان مرزائی نے بھی بیت اللہ کی طرف رُخ کیا تو ایک قوی ہیکل انسان نے ان کی گردن آدبوچی، خوب بے تحاشا مارا، دائیں بائیں کی پسلیاں توڑ دیں، جیون خان نے پوچھا کہ: یہ کیوں؟ اس آدمی نے کہا کہ: ’’تو مرزائی ہے، تمہارا کعبہ سے کیا تعلق؟ تم مرزا کو مانتے ہو، اُس کے گھر کا رُخ کرو، خدا کے گھر سے تمہارا کیا تعلق ہے۔۔۔؟‘‘ جیون خان نے خواب میں ہی زور زور سے واویلا شروع کردیا، گھر کے، محلے کے لوگ جمع ہوگئے کہ اس کو کیا ہوگیا ہے؟ اس نے آنکھ کھولی تو گھبراہٹ کا عالم طاری ہے، لوگوں نے پوچھا کہ کیا ہوا؟ اُس نے کہا کہ: ’’پہلے میرے جسم کو دباؤ، میرا جوڑ جوڑ دُکھ رہا ہے، تسلی ہوگی تو بتاؤں گا‘‘، لوگوں نے دبانا شروع کیا، طبیعت بحال ہوئی تو خواب بیان کیا، مرزا قادیانی پر لعنت بھیجی اور مسلمان ہوگیا۔

مرزا قادیانی کتے کی شکل میں:

میں محکمہ پی ڈبلیو پی میں ملازم ہوں، میرے ساتھ ایک مرزائی بھی کام کرتا تھا، اس مرزائی سے ایک دن کوئی دیہاتی ملنے آیا، مرزائی نے اسے تبلیغ شروع کردی، میں نے مرزائی کو ڈانٹ ڈپٹ کی، سرکاری ملازمت کے دوران تمہیں اپنی تبلیغ کا کیا حق ہے؟ وہ یہ سن کر خاموش ہوگیا، دن گزر گیا، میں رات کو عشاء کی نماز پڑھ کر سوگیا۔ خواب میں دیکھتا ہوں کہ: ایک آدمی لمبی یعنی حد سے زیادہ لمبی اور پتلی داڑھی والا مجھے کہتا ہے کہ: ’’اللہ تعالیٰ نے ایک لاکھ چوبیس ہزار کم و بیش نبی، پیغمبر بھیجے اور میں نے ایک ہی بھیجا ہے اور تم اس کے آدمی کو بھی تنگ کرتے ہو!‘‘ میں نے پوچھا: کون؟ کیا مرزا قادیانی؟ اُس نے کہا: ’’ہاں!‘‘ میں نے کہا کہ: مرزا قادیانی کو تو دِکھاؤ! اُس نے کہا: ’’دیکھنا چاہتے ہو تو آؤ میرے ساتھ!‘‘ آگے آگے لمبی داڑھی والا آدمی، پیچھے پیچھے میں، مجھے ایک چھوٹے سے کمرے میں لے جاتا ہے، کمرے کی دیوار میں ایک

300

بڑا سا سوراخ ہے، جیسے درمیانے سائز کا روشن دان ہوتا ہے، وہاں پر ایک چھوٹے سائز کا کتا بالوں والا کھڑا ہے اور آنکھوں سے پانی نکل رہا ہے، یعنی جیسے روتے ہوئے آنسو گرتے ہیں، میں نے اس شخص سے پوچھا: کہاں ہے مرزا قادیانی؟ اس نے کہا: ’’سوراخ میں دیکھو!‘‘ میں نے کہا: یہ تو کتا ہے! اس نے جواب دیا: ’’یہی تو مرزا قادیانی ہے!‘‘ میں اسی وقت توبہ اِستغفار کرتے ہوئے اُٹھ بیٹھا۔

(محمد صدیق)

مرزے کی قبر پر کتے کو پیشاب کرتے دیکھا:

جناب عبدالسلام دہلوی، کلکتہ کے بیان کرتے ہیں کہ: مجھے مرزائی بنانے کے لئے قادیانیوں نے بڑا زور لگایا، ایک دن میرے دِل میں خیال آیا کہ مجھے قادیان جانا چاہئے۔ کمرِ ہمت باندھی اور قادیان کے لئے روانہ ہوگیا، قادیان پہنچتے ہی مجھے مہمان خانے میں ٹھہرایا گیا، خوب خاطر مدارات کی گئی اور مرزا محمود سے میری ملاقات بھی کرائی گئی، لیکن دِل مطمئن نہیں تھا، آخر دُوسرے یا تیسرے روز میں بعد نمازِ عصر سیر کرنے نکلا، خیال آیا کیوں نہ ان کے ’’بہشتی مقبرے‘‘ کی، جہاں ان کا نام نہاد نبی مرزا غلام احمد دفن ہے، سیر کروں۔ میں مقبرے کی طرف چل دیا اور جب بہشتی مقبرے میں داخل ہوا تو میری حیرت کی انتہا نہ رہی کہ وہاں تین چار کتے آپس میں کھیل کود کر رہے تھے اور ایک کتا ایک قبر پر ٹانگ اُٹھائے پیشاب کر رہا تھا، میں نے جب اس قبر کا کتبہ پڑھا تو وہ مرزا غلام احمد قادیانی کی قبر تھی، اس واقعے کو دیکھ کر میری آنکھیں کھل گئیں اور مجھے یقین ہوگیا کہ یہ کسی نبی یا مسیح یا مہدی کی قبر نہیں ہوسکتی، بلکہ یہ کسی کذّاب ہی کی قبر ہوسکتی ہے، میں نے فوراً اِستغفار پڑھا اور دبے پاؤں واپس آگیا، وہ رات میں نے قادیان میں آنکھوں میں بسر کی اور صبح اپنی جان اور اِیمان بچاکر واپس آگیا۔

301

مال کے لئے ایمان کا سودا:

ضلع خوشاب میں قصبہ روڈہ ایک مشہور قصبہ ہے، وہاں قلیل سی تعداد مرزائیوں کی بھی ہے، یہاں ایک شخص ’’اَمیر‘‘ کے بینک میں لاکھوں روپے جمع تھے، بینکوں میں زکوٰۃ کی کٹوتی شروع ہوئی تو اسے احساس ہوا کہ میرے لاکھوں روپے کی زکوٰۃ بھی ہزاروں تک پہنچتی ہے، وہ زکوٰۃ ادا کرنا نہیں چاہتا تھا، کسی قادیانی نے اسے مشورہ دیا کہ: ’’تم یہ لکھ کر دے دو کہ میں ’’احمدی‘‘ ہوں، یعنی قادیانی ہوں اور قادیانیوں پر زکوٰۃ کی کٹوتی کا قانون لاگو نہیں ہوتا، اس طرح کرنے سے تمہاری رقم بچ جائے گی۔‘‘ چنانچہ اس شخص نے تحریر لکھ کر بینک کے حوالے کردی اور اس میں لکھ دیا کہ: ’’میں احمدی ہوں‘‘ یعنی قادیانی ہوں۔ ایسا لکھ کر دینے سے بینک والوں نے زکوٰۃ کی رقم نہ کاٹی، ابھی اس واقعے کو چند ہی دن گزرے تھے کہ فرشتۂ اَجل نے آدبوچا اور وہ اس جہان سے رُخصت ہوگیا، مسلمانوں نے نہ اس کے جنازے میں شرکت کی اور نہ ہی اپنے قبرستان میں دفن ہونے دیا، اس طرح اس شخص نے اپنی دولت بچانے کے لئے ایمان کا سودا کیا، ایمان بھی گیا اور جان بھی گئی۔۔۔!

تحریک ختمِ نبوّت ۱۹۵۳ء میں شہید ہونے والوں کا

آنکھوں دیکھا حال

جنوری، فروری ۱۹۵۳ء کی بات ہے کہ مال روڈ کمرشل بلڈنگ کے باغات میں خندقیں بننا شروع ہوئیں، تو لاہور میں مرزائیوں نے یہ بات عام کردی کہ انڈیا حملہ کرنے والا ہے، اس لئے یہ خندقیں بنائی جارہی ہیں۔ میری عمر اس وقت تقریباً تیرہ سال تھی، ہم سب بچوں نے ان خندقوں میں کھیلنا شروع کردیا، ہمیں انجام کی بالکل خبر نہ تھی کہ یہ مورچے شہیدانِ ختمِ نبوّت کا لہو بہانے کے لئے بنائے گئے ہیں۔ یہ منصوبہ

302

دراصل اس وقت کی حکومت اور ظفراللہ قادیانی کا بنایا ہوا تھا، اس کے پس پردہ جو ہاتھ کام کر رہے تھے، وہ سب کے سب مرزا قادیانی ملعون کی ذُرّیت کے تھے، کبھی کبھار ہمارے کسی بزرگ کی زبانی حضرت اَمیرِ شریعت مولانا عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کا نام سننے میں آتا تھا، اللہ ان کی مغفرت فرمائے (آمین)۔ غالباً مارچ، اپریل کا مہینہ ہوگا کہ خندقوں کی حقیقت کھل کر سامنے آگئی، پاکستان کے جیالے جوانوں نے ختمِ نبوّت کے پروانوں کو اَب جو گولیوں کے برسٹ مارے تو آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں، اس گنہگار نے شہیدانِ ختمِ نبوّت لاہور کے خون کے فوّارے اپنی آنکھوں سے بہتے دیکھے، یہاں تین صفوں کے نوجوان، جو کسی طرح بھی ہٹنے کو تیار نہ تھے، انہیں اپنے سینے پر گولیاں کھانے اور خون میں لت پت تڑپتے ہوئے اس ناچیز نے دیکھا اب جو ایک قطار گرتی تھی تو کلمۂ شہادت پڑھتے ہوئے، دُوسری قطار شہید ہونے کے لئے آگے بڑھتی تھی، جب یکے بعد دیگرے تین قطاریں گریں تو میرے حواس گم ہوگئے، میں بچہ ہونے کی وجہ سے گھبراگیا اور بھاگتا ہوا کمرشل بلڈنگ کے پیچھے والی گلی میں بھاگا اور اس کے بعد ایک مکان پر چڑھ کر وہ منظر میں نے دوبارہ دیکھا جو کہ دیکھا نہیں جاتا تھا، کیونکہ میں جس مکان پر چڑھا تھا، اس مکان کی عورتیں زار و قطار رو رہی تھیں اور مرزا قادیانی مردُود کو کوسنے اور گالیاں دے رہی تھیں، لوگ تھے کہ اللہ کی راہ میں جان بڑھ چڑھ کر دے رہے تھے، شہیدانِ ختمِ نبوّت کے لہو سے مال روڈ کا وہ حصہ جو میرے سامنے تھا، لال ہوگیا اور شہیدوں کی قطاروں کی قطاریں گرم جلتی ہوئی سڑکوں پر جنت میں جانے کے لئے بے قرار تھیں اور ان کے جنتی جسم سڑک پر تڑپ رہے تھے، پھر کچھ دیر کے بعد ان کے جسم بالکل پُرسکون ہوکر سوگئے، اللہ جل شانہ‘ ایسی کھلی شہادت ہر مؤمن کو نصیب فرمائے۔

303

جھوٹ کے پاؤں کہاں؟

چک نمبر ۵۶۵ کا اسلم نامی مرزائی ایک دن جناب منیر احمد صاحب ننکانہ صاحب کی دُکان واقع غلہ منڈی پر آیا، منیر احمد صاحب اسے پہچانتے تھے کہ قادیانی ہے، کیونکہ اس سے پیشتر یہی قادیانی کلمۂ طیبہ کا بیج لگاکر اسی دُکان پر آیا تھا، تو منیر احمد صاحب اور ان کے ساتھیوں نے اسلم نامی قادیانی کی جوتوں سے مرمت کی تھی اور وہ معافی مانگ کر رہا ہوا تھا۔ اس مرتبہ منیر صاحب نے اسے دعوتِ اسلام دی تو کہنے لگا کہ: ’’مرزا غلام احمد قادیانی کا نام قرآن مجید کی سورۃ الجمعہ میں آیا ہے!‘‘ منیر احمد صاحب نے کہا کہ: ’’آؤ مسجد میں چلتے ہیں اور قرآن مجید میں مرزا غلام احمد قادیانی لعنتی کا نام دِکھاؤ!‘‘ قادیانی چل پڑا، راستے میں اُس نے جان چھڑانے کی کوشش کی تو منیر احمد صاحب قرآن مجید خود لے آئے، اسی اثناء میں جناب شیخ محمد علی بھی آگئے، انہوں نے کہا کہ: ’’دِکھاؤ! کہاں مرزا قادیانی کا نام ہے؟‘‘ منیر احمد صاحب فرماتے ہیں کہ: جونہی اس قادیانی نے قرآن مجید کی طرف دیکھا، وہ اندھا ہوگیا، اُسے کوئی لفظ دِکھائی نہ دیتا تھا، حتیٰ کہ اُسے نظر کی عینک دی گئی، اس کے باوجود اسے نظر نہ آیا۔ اسی اثنا میں وہ بھاگ کھڑا ہوا۔

سورینام سے مولانا رفیق احمد صاحب لکھتے ہیں: میں اس وقت قادیانی ٹولے سے زبردست مقابلہ کر رہا ہوں، اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے نو سال کے عرصے میں لوگ کافی تعداد میں راہِ راست پر آگئے ہیں، حال ہی میں ایک ڈاکٹر، ایک سو ایک آدمی کے ساتھ میرے ہاتھ پر توبہ کرکے اسلام میں داخل ہوگیا ہے اور قادیانی ٹولے سے مکمل براء ت ظاہر کرچکا ہے۔ آپ کی دُعاؤں کی خاص ضرورت ہے، میں ہندوستان کا گجراتی ہوں، اِن شاء اللہ حق یہاں پر بھی غالب ہو رہا ہے، دونوں قادیانی گروپ اس وقت بہت مذبذب ہیں، آپ حضرات سے دُعاؤں کی درخواست ہے،

304

خاص کر مولانا خان محمد شیخ المشائخ سے خاص دُعاؤں کی درخواست کرتا ہوں۔

خواب میں مرزائی کو آگ میں جلتے دیکھنا:

ہمارے گاؤں بھوتہ ضلع گجرات کے حافظ صاحب جو اَب حافظِ قرآن ہوچکے ہیں اور ان کے سب عزیز و اقارب اور ان کا والد اب بھی قادیانی ہے، اُس نے خواب دیکھا کہ اس کا مرزائی دادا آگ میں جل رہا ہے اور خوب چِلَّا رہا ہے اور اپنے پوتے (حافظ صاحب) کو یہ نصیحت کرتا ہے کہ: ’’خدا کے واسطے اپنے باپ یعنی میرے بیٹے کو کہو کہ وہ قادیانیت سے توبہ کرے اور دائرۂ اسلام میں داخل ہوجائے، ورنہ اس کا بھی میری طرح حال ہوگا۔‘‘

یہ خواب اُسے تین دن تک آتا رہا، پھر اُس نے ایک دُوسرے دوست کو بتایا کہ مجھے مسلسل یہ خواب آرہا ہے، وہ میری مدد کرے۔ لیکن یہ خواب اُس نے جب اپنے والد کو بتایا تو اُس نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیا اور کہا کہ: ’’میں اس کی تعبیر پوچھوں گا!‘‘ بالآخر وہ نابینا شخص مسلمان ہوگیا اور اس کے بعد ہی اُس نے قرآنِ پاک بھی حفظ کرلیا، اللہ تعالیٰ اِستقامت عطا فرمائے، آمین!

(جاوید اختر رضوی)

گستاخ قادیانی کی قبر سانپوں اور آگ کی لپیٹ میں:

رمضان، گجرات کا رہنے والا ہے، اس نے اب سیالکوٹ میں قیام کیا ہوا ہے، اُس نے اپنی زبانی ہمیں بتایا ہے کہ سیالکوٹ میں ایک بہت بڑا گستاخ قادیانی رہتا تھا اور اس کا کاروبار بھی بہت زیادہ تھا۔ میں اکثر قبروں کی کھدائی کیا کرتا تھا، ایک دن کچھ قادیانی میرے پاس آئے اور مجھے ایک قبر کھودنے کو کہا، مجھے پتا نہیں تھا کہ قادیانی کیا ہوتے ہیں؟ میں نے اس گستاخ کی قبر کھودی، لیکن وہ جب اس قادیانی کو دفنانے لگے تو میں نے اور سب جنازے والوں نے دیکھا کہ قبر میں سانپ ہی سانپ ہوتے جارہے ہیں اور یکایک آندھی بھی آگئی اور قبر میں آگ کے شعلے بلند

305

ہونے لگے، میں یہ سب کچھ دیکھ کر حیران ہونے لگا اور وہ مرزائی اِستغفار پڑھنے لگے، پھر جب دُوسری جگہ قبر کھودی تو وہ بھی قبر گونجنے لگی اور اس قبر میں بھی ڈراؤنی آوازیں آنے لگیں، میں یہ سب ماجرا دیکھ کر قبرستان سے بھاگ آیا اور وہ قادیانی بھی آہستہ آہستہ کھسکنے لگے اور اس قادیانی کے بیٹوں کا حال دیکھو، وہ بھی بھاگ آئے۔

اس گستاخ کی میّت کے پاس اب کوئی نہیں تھا اور نہ ہی کسی کی جرأت پڑتی تھی کہ وہ میّت کے قریب جائے، تین دن تک اُس کی میّت قبرستان میں ہی پڑی رہی اور چوتھے دن اس کی میّت کو مٹی ڈال کر دبادیا گیا۔

(محمد فاروق شہزاد، ننکانہ صاحب)

ختمِ نبوّت کے کام کی برکت:

جناب نسیم جان صاحب ایبٹ آباد میں ختمِ نبوّت کے مجاہد کارکن ہیں، وہ بیان کرتے ہیں کہ: ابتدائً ختمِ نبوّت کا کام شروع کیا تو ایک رات خواب میں دیکھا کہ میں اپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ راستے کے بائیں جانب جارہا ہوں۔ ایک انتہائی خوبصورت رُوحانی بزرگ تشریف لائے اور نہایت شفقت سے فرمانے لگے کہ: ’’بائیں راستے سے فوراً ہٹ کر دائیں طرف چلو!‘‘ بزرگ خود بھی دائیں طرف چل رہے تھے، میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ دائیں طرف اُن کے پیچھے پیچھے چلنے لگا۔ میں نے کسی سے دریافت کیا کہ: ’’یہ حضرت کون ہیں؟‘‘ میرے پوچھنے پر انہوں نے فرمایا کہ: ’’یہ ہمارے آقا و مولا سیّد المرسلین رحمۃ للعالمین، خاتم النبیّین محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں!‘‘ صبح میں اُٹھا تو میری خوشی کی کوئی انتہا نہ تھی، اُس دن سے میں نے مجلس تحفظِ ختمِ نبوّت میں شمولیت کرلی ہے اور دن رات اس کام کے لئے مصروف ہوں اور اللہ تعالیٰ کی نوازشات ہمہ وقت مجھ پر نچھاور ہوتی رہتی ہیں اور یہ صرف ختمِ نبوّت کے کام کی برکت کا ہی نتیجہ ہے۔

306

قادیانیوں کی اشتعال انگیزی اور مسلمانوں کا رَدِّعمل:

مردان کے قادیانیوں نے اِمتناعِ قادیانیت آرڈی نینس کے نفاذ کے بعد محض مسلمانوں کو مشتعل کرنے کے لئے اعلان کردیا کہ ہم عیدالاضحی اجتماعی طور پر اَدا کرکے میدان میں اجتماعی طور پر اپنے جانور ذبح کریں گے۔ ان کا ایسا کرنا محض مسلمانوں کو یہ باور کرانا تھا کہ قانون ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا، ہم مسلمان ہیں اور مسلمانوں کے طور طریق پر اپنا اجتماعی عمل کریں گے۔ مسلمانوں نے حکومتی اداروں کو اِطلاع دی، شہر میں اِشتعال پھیلاکر مرزائی مسلح ہوکر اپنی عبادت گاہ میں جمع ہوگئے، پولیس پہرہ دار بن گئی۔ ادھر مسلمانوں کا اجتماع نعرے لگا رہا تھا، قادیانیوں میں ایک فوجی افسر تھا، اس نے نہایت ہی فرعونیت سے اسپیکر پر مسلمانوں کو کوسنا شروع کیا، نتیجتاً پولیس تمام مرزائیوں کو گاڑیوں میں بٹھاکر محفوظ مقام پر لے گئی۔ مسلمانوں میں قادیانیوں کی خباثت کا شدید رَدِّ عمل تھا، مرزائیوں کی اِشتعال انگیزی سے مسلمانوں کے ایمانی جذبے اور پٹھانوں کی روایتی غیرت کا پیمانہ لبریز ہوچکا تھا، پولیس کی موجودگی کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے بھی ایک دَم مسلمان، جو بالکل نہتے تھے، کسی کے پاس اسلحہ تو درکنار لاٹھی تک بھی نہ تھی، خالی ہاتھوں قادیانی معبد پر اچانک ہلّہ بول بیٹھے، پولیس کی زبردست مزاحمت اور لاٹھی چارج بھی مسلمانوں کے راستے میں بے کار ثابت ہوا، دیکھتے ہی دیکھتے خالی ہاتھوں سے مسلمانوں نے قادیانی عبادت گاہ کی اِینٹ سے اِینٹ بجادی اور اس پختہ عمارت کو زمین بوس کردیا، اب مجمع کی تعداد ہزاروں سے تجاوز کرگئی تھی، اس میں بچے، بوڑھے، جوان سب ہی شامل تھے، سب کا جذبہ ایک ہی تھا کہ پاکستان کی پاک سرزمین سے کفر و اِرتداد کے ان اَڈّوں کو ختم کیا جائے۔ یہ ختمِ نبوّت کا معجزہ تھا کہ اتنی بڑی عمارت کے گرنے کے باوجود کسی مسلمان پر نہ تو کوئی ملبہ گرا اور نہ کوئی لوہے کی سلاخ وغیرہ مسلمانوں کو کوئی نقصان پہنچاسکی، بعض

307

افراد اور بچوں کی زبانی معلوم ہوا کہ پولیس کی لاٹھی ہمیں یوں معلوم ہوتی تھی جیسے گلاب کے پھول کی مار۔ یہ بھی خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا پندرہ سو سال بعد معجزہ تھا کہ اس واقعے کے دوران بھڑوں، زنبوروں کا ایک بہت بڑا غول مرزائی معبد کے انہدام کے موقع پر مسلمانوں کے سروں پر ہزاروں کی تعداد میں منڈلاتا رہا، لیکن کسی ایک مسلمان کو بھی اُنہوں نے کاٹا تک نہیں۔ ابرہہ کے ہاتھیوں کی تباہی کا قصہ قرآنِ حکیم اور ارشاداتِ نبوی کے مطابق تو معلوم تھا کہ ابابیلوں نے ہاتھیوں اور اُن کے سواروں کی فوج کو تباہ کیا تھا، لیکن آج بھڑوں کی اس فوج سے اللہ تعالیٰ جل شانہ‘ نے ختمِ نبوّت کے پروانوں کی حفاظت کا کام لیا، بھڑوں کے اس عظیم لشکر کو دیکھ کر پولیس والے بھی مسلمانوں پر لاٹھی چارج کرنے سے گھبرانے لگے، ایک پولیس والے سے جب ہمارے نمائندے نے اس واقعے کے متعلق دریافت کیا تو اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور اُس نے قسمیہ کہا کہ: ’’جب میں نے لاٹھی ہوا میں لہرائی اور قریب تھا کہ وہ کسی مسلمان کی پیٹھ یا سر پر پڑتی، میرے کانوں میں ان ہزاروں بھڑوں کی بھنبھناہٹ نے میرے اوسان خطا کردئیے اور خودبخود لاٹھی میرے ہاتھ سے گرگئی۔

مُلَّا محمد بخش کی مزیدار ترکیب

جس سے مرزا قادیانی کا عشق خواب ہوگیا:

محمدی بیگم مشہورِ عالم مسلمان خاتون تھیں، مرزا قادیانی نے اس سے نکاح کے لئے اس کے باپ احمد بیگ کو راضی کرنا چاہا، خواب، اِلہام، دھونس، دھاندلی، دُنیاوی لالچ، عذاب کے ڈراؤنے دعاوی کئے، مگر احمد بیگ نے اپنی دختر نیک اختر کا اپنے عزیز مرزا سلطان بیگ سے نکاح کردیا۔ مرزا قادیانی زمانے کا ایسا ڈھیٹ انسان تھا کہ اس نے پیشین گوئی کردی کہ محمدی بیگم سے آسمانوں پر میرا نکاح ہوا ہے، لہٰذا وہ عنقریب مجھ سے بیاہی جائے گی۔ اُس زمانے میں لاہور سے ہفتہ وار

308

اخبار ’’ٹلی‘‘ مُلَّا محمد بخش کی ادارت میں شائع ہوتا تھا، مُلَّا محمد بخش نے اس اخبار میں اپنا ایک لمبا چوڑا خواب بیان کرکے اعلان کردیا کہ: ’’آسمانوں پر میرا نکاح مرزا قادیانی کی بیوی نصرت جہاں سے ہوگیا ہے، اس لئے وہ بھی عنقریب مجھ سے بیاہی جائے گی!‘‘ اس پر مرزا قادیانی کو بڑا غصہ آیا، ’’تحفہ گولڑویہ‘‘ صفحہ:۱۰۶، ۱۰۷ پر مولانا محمد حسین بٹالوی اور مُلَّا محمد بخش کے خلاف خوب اپنے دِل کا غبار نکالا، مگر مُلَّا محمد بخش کی اس مزیدار ترکیب سے مرزا قادیانی کے عشق کا بھوت ہوا ہوگیا اور مرزا قادیانی کو لینے کے دینے پڑگئے۔

مرزائیوں میں بددیانتی کی انتہا:

راقم الحروف ایک زمانے میں شامتِ اعمال سے قادیانیت کے جال میں پھنس گیا تھا اور اپنی اچھی خاصی نوکری چھوڑ کر ربوہ (چناب نگر) میں احمدیہ بُک ڈپو کا انچارج لگ گیا۔ میرے دِماغ میں ربوہ (چناب نگر) کا بڑا مقدس تصوّر تھا، میں نے وہاں کے دفتروں میں ایسی ہیرا پھیری اور بدکرداری دیکھی کہ خدا کی پناہ! بُک ڈپو کا ڈائریکٹر نورالحق منیر نہایت بددیانت تھا، کتابوں کی اشاعت و فروخت میں بہت مال غبن کر جاتا تھا، حساب کتاب میں بڑی گڑبڑ تھی، میں نے جب آنجہانی خلیفہ ثالث کو رپورٹ کی تو اُلٹے لینے کے دینے پڑگئے، نورالحق منیر خلیفہ کا بڑا منہ چڑھا ہوا تھا، اُس نے مجھے ہی ربوہ (چناب نگر) سے نکلوادیا، خیر اس میں اللہ کی مصلحت تھی کہ اس منحوس جال سے پیچھا چھوٹا۔

(محمد اسماعیل بھاگلپوری، کراچی)

ایک خواب جو حقیقت بن گیا:

میں پانچوں وقت باجماعت نماز اَدا کرتا تھا، دِینی مزاج تھا، ایک رات خواب دیکھا کہ آسمانی بجلی مجھ پر گری ہے اور اُس نے مجھے حلال کردیا ہے، اس خواب سے بہت گھبرایا، طبیعت اچاٹ رہتی تھی، ملتان قلعہ قاسم باغ پر حضرت بہاء الدین

309

زکریا ملتانی رحمۃ اللہ علیہ کے مزار پر گیا، ایک بزرگ سے ملاقات ہوئی، خواب سنایا۔ اُنہوں نے اس خواب کی تعبیر یہ کی کہ: ’’عنقریب تمہارا کسی بے دِین گروہ سے تعلق قائم ہوگا، نماز و نیکی اور یہ خواب سب بھول جاؤگے۔‘‘ اللہ کی شانِ قدرت پر قربان جائیں کہ ایسے ہوا، کچھ عرصہ بعد میرے مرزائیوں سے تعلقات قائم ہوگئے، نماز چھوٹ گئی، نیکی کا خیال نہ رہا اور اس دَلدل میں پھنستا چلا گیا، ان بے دِینوں کی مجلس کی مجھ پر یہ نحوست پڑی کہ اپنا خواب بھی بھول گیا۔ مرزائیوں سے میرے تقریباً دو سال یہ تعلقات رہے، میری بے دِینی انتہا کو پہنچ گئی، خداوند کریم کا لاکھوں لاکھ فضل ہے کہ ایک موڑ ایسا آیا کہ مجھے واپس لوٹنے کی توفیق ہوئی، خواب اور اس کی تعبیر یاد آئی تو چکراگیا، توبہ اِستغفار کیا، اب اللہ کا فضل ہے کہ صبح و شام ختمِ نبوّت کے مقدس مشن کے لئے کام کر رہا ہوں۔ مرزائیوں سے علاقے میں بائیکاٹ کیا ہوا ہے، نماز، روزے کی پابندی کی توفیق ملی ہے، اللہ تعالیٰ مجھے اِستقامت نصیب فرمائے، ختمِ نبوّت کا کام کرکے اتنا سکون ملا ہے جتنا بچے کو ماں کی گود میں ملتا ہے۔

(شاہد تبسم سیالکوٹی)

مرزائی کو ساتھ رکھنے پر خواب میں تنبیہ:

روزنامہ ’’جنگ‘‘ کے جناب جاوید جمال ڈسکوی صاحب نے اپنے ایک دوست، جو میڈیکل کالج میں پڑھتے ہیں، کا ایک واقعہ بیان کیا کہ: ان کے دوست ایک رات خواب میں دیکھتے ہیں کہ ایک بزرگ شخص آتے ہیں اور ان کو بہت غصّے کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے کہتے ہیں: ’’تم گستاخِ رسول ہو!‘‘ وہ پریشان ہوکر اُٹھ بیٹھے اور بہت توبہ کی اور نماز وغیرہ ادا کی، (اب تک وہ نماز کی پابندی نہیں کرتے تھے، اب پابندی سے نماز شروع کی)۔

دُوسری رات پھر وہی خواب دیکھا کہ وہی بزرگ تشریف لائے اور بہت ہی غصّے سے کہا: ’’تم گستاخِ رسول ہو!‘‘

310

وہ پھر بہت پریشان ہوئے اور اپنے اعمال کی طرف نگاہ شروع کی، لیکن کوئی بات محسوس نہ ہوئی، بہرحال اب نماز مسجد میں جماعت سے شروع کی اور تمام فضول حرکتیں ختم کیں۔

تیسری رات پھر خواب دیکھا اور وہی بزرگ تشریف لائے اور کہا کہ: ’’تم گستاخِ رسول ہو!‘‘

اب تو بہت پریشان ہوئے، بہت سوچ و بچار شروع کی میرا کون سا عمل ایسا ہے جس پر تنبیہ ہورہی ہے، اچانک خیال آیا کہ میرے ہوسٹل کے کمرے میں کچھ دنوں سے ایک دوست میرے ساتھ رہ رہا ہے اور وہ قادیانی ہے، غالباً اس کو ساتھ رکھنے کی وجہ سے یہ تنبیہ ہورہی ہے۔ فوراً اس کو اپنے کمرے سے چلتا کیا، کیونکہ وہ بغیر اِجازت میری مروّت کی وجہ سے رہ رہا تھا۔

رات کو پھر خواب دیکھا کہ وہ بزرگ تشریف لائے اور بہت ہی خوش دِکھائی دے رہے ہیں اور فرما رہے ہیں کہ: ’’تم نے بہت اچھا کیا!‘‘

مرزا طاہر صاحب! اس خواب کے بعد ۔۔۔الحمدللہ۔۔۔ ہمیں تو کسی دلیل کی ضرورت نہیں، اللہ تعالیٰ آپ کو ہدایت فرمائے۔ اگر آپ کو اور آپ کی ذُرّیت کو ہدایت مقصود ہو تو اللہ تعالیٰ آپ کے حق میں ایسا فیصلہ فرمائیں جو اُمتِ مسلمہ کے لئے فلاح و کامیابی کا باعث ہو اور اِن شاء اللہ آپ کے طریقِ کار کے مطابق بھی حق واضح ہوگا اور آپ کو بھی اپنے دادا کی طرح ذِلت کی موت نصیب ہوگی۔

قادیانی جوڑے کا قبولِ اسلام:

فجی آئرلینڈ میں، میں نے ایک قادیانی جوڑے کو مسلمان کرکے ان کا نکاح دوبارہ پڑھایا، پانچ سال قبل قادیانیوں نے ان کا نکاح پڑھایا تھا، پانچ سال سے ان کے ہاں کوئی اولاد نہ تھی، جب وہ مرزاقادیانی پر لعنت بھیج کر اور توبہ کرکے اِسلام میں

311

داخل ہوئے تو اللہ نے ایک سال ہی میں اس جوڑے کو چاند سا بیٹا عطا فرمادیا۔

(محمد عبدالرحمن، خطیب و ٹیچر، فجی، آئرلینڈ)

آگ کی برسات

روڈہ ضلع خوشاب کا قادیانی:

ایک قادیانی مسمّیٰ حاجی ولد موندا، یہ شخص بڑا بدزبان تھا، گالیاں بکتا تھا، گلی کوچوں میں بیٹھ کر اِسلام اور مسلمانوں کا مذاق اُڑایا کرتا تھا، شعائر اللہ کی توہین اس کا عام شیوہ تھا۔ کچھ سال پہلے جبکہ مرزائیوں کے حج کے ایام میں سعودی عرب جانے کی پابندی نہ تھی، وہ وہاں گیا، اس کے ساتھ جو لوگ گئے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ یہ شخص وہاں بھی اسلام اور مسلمانوں کا مذاق اُڑاتا تھا اور یہ کہتا تھا کہ: ’’میں تو صرف سیر کے لئے آیا ہوں، اصلی حج تو ربوہ میں ہوتا ہے!‘‘

یہی شخص کچھ عرصہ پہلے مرا تو اس کی موت پر جو منظر دیکھنے میں آیا وہ بڑا خوفناک تھا، مجھے وہاں کے دوستوں نے، جو اس منظر کے چشم دید گواہ ہیں، بتایا کہ: مرزائی اسے اپنے رسم و رواج کے مطابق اپنے الگ قبرستان میں دباکر آگئے، مغرب کے بعد رات کا اندھیرا قدرے گہرا ہونا شروع ہوا تو کیا دیکھتے ہیں کہ آگ کا سرخ گولہ اس جگہ آکر گرا جہاں اس کو دبایا گیا تھا اور پھر تو پے درپے آگ کے گولے برسنے شروع ہوگئے، راہ گیروں نے اس جگہ کے ساتھ گزرنے والا راستہ چھوڑ دیا اور شہر کے ساتھ واقع بس اسٹاپ جہاں رات گئے تک چہل پہل اور گہماگہمی رہتی تھی، وہاں سب کام ٹھپ ہوگیا اور لوگوں نے ریت کے ٹیلے پر کھڑے ہوکر یہ منظر دیکھا، یہ سلسلہ رات گئے تک جاری رہا اور پھر خودبخود بند ہوگیا۔

قادیانی اپنے جھوٹے نبی کی تصویر دیکھ کر مسلمان ہوگیا:

نیروبی میں قادیانیوں کا ایک معبد ہے، وہی ان کا مرکز ہے، کینیا کے بعض

312

دُوسرے شہروں میں بھی ان کے مراکز ہیں، جہاں سے یہ لوگ افریقی عوام میں کام کرتے ہیں اور مقامی زبانوں میں اپنا لٹریچر تقسیم کرتے ہیں۔ بعض دوستوں نے سنایا کہ قادیانیوں کی طرف سے ایک کتابچہ شائع ہوا، اس کے سرِورق پر اُنہوں نے مرزا صاحب کی تصویر بھی چھاپ دی، ایک قادیانی نے جب مرزا صاحب کی تصویر دیکھی تو متنفر ہوکر کہنے لگا کہ: ’’یہ پیغمبر کی شکل نہیں ہوسکتی!‘‘ اور قادیانیت سے توبہ کرکے مسلمان ہوگیا۔

پھگلہ میں مباہلہ اور مرزائیوں کا انجام:

آپ مانسہرہ سے اگر بالاکوٹ کی طرف جائیں تو ’’عطر شیشہ‘‘ کے قریب ایک گاؤں پھگلہ نامی ہے، جس میں اکثر آبادی سادات کی ہے، اس قصبے میں سب سے پہلے عبدالرحیم شاہ نامی ایک شخص نے مرزائیت قبول کی اور مرزائیت کا مبلغ بن کر مرزائیت کی تشہیر شروع کردی، لیکن علمائے کرام نے ہر دور میں باطل کے خلاف زبان و سنان سے جہاد کیا، خدا کی شان ہے اس علاقے میں علمائے حق، علمائے دیوبند کثیر تعداد میں تھے، خاص کر پھگلہ میں بھی مولانا قاضی عبداللطیف فاضل دیوبند سے اکثر و بیشتر مرزائیوں کا مباحثہ چلتا رہتا تھا، شدہ شدہ معاملہ مباہلے تک پہنچا، طے یہ پایا کہ تین تین آدمی دونوں طرف سے لے لئے جائیں، مسلمانوں کی جانب سے تین علمائے کرام تھے، جو مندرجہ ذیل ہیں:

۱:۔۔۔ حضرت مولانا کریم عبداللہ صاحب، فاضل دیوبند، اِمام مسجد سندھیار۔

۲:۔۔۔ حضرت مولانا عبدالجلیل صاحب، فاضل دیوبند، اِمام مسجد عطرشیشہ۔

۳:۔۔۔ حضرت مولانا قاضی عبداللطیف صاحب، فاضل دیوبند، اِمام مسجد پھگلہ۔

مرزائیوں کی جانب سے: ۱:۔۔۔عبدالرحیم شاہ، ۲:۔۔۔ غلام حیدر، ۳:۔۔۔عبدالرحیم عرف کھیم، چنے گئے۔

313

یہ تاریخی مباہلہ ۲۶؍فروری ۱۹۴۳ء جمعہ کے دن طے پایا گیا اور اِردگرد کے مضافات میں بھی اطلاعات بھیج دی گئیں، عوام کا عظیم اجتماع حق و باطل کے اس معرکے کو دیکھنے کے لئے اُمنڈ آیا اور جگہ بھی ایسی منتخب کی گئی جو کہ علاقے کا مشہور ترین مزار تھا، جو ’’غازی بابا‘‘ کے نام سے مشہور ہے، مباہلہ شروع ہونے سے قبل حضرت مولانا کریم عبداللہ صاحب نے مباہلے کی حقیقت بیان کی اور غرض و غایت سے عوام کو روشناس کرایا، نیز قادیانیت کے بارے میں تفصیل سے روشنی ڈالی کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیّین مانتے ہیں جبکہ مرزائی، مرزا قادیانی کو نبی مانتے ہیں۔ ہمارا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ ہیں جبکہ مرزائیوں کا عقیدہ ہے کہ وہ انتقال کرچکے ہیں اور مرزا قادیانی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جگہ ’’مسیح‘‘ بن کر آیا ہے۔ ہم اس لئے یہاں جمع ہوئے ہیں کہ سب مل کر عاجزی، زاری اور خلوص سے دُعا کریں کہ جس کا عقیدہ غلط ہے اور جو باطل پر ہے، خداوند قدوس اس پر ہلاکت کی صورت میں (ایک سال کے اندر اندر) عذاب نازل کرے اور سخت سزا دے۔

چنانچہ تمام حاضرین نے اپنے سروں کو ننگا کرکے دُعا شروع کردی اور بیس منٹ لگاتار دُعا ہوتی رہی اور مجمع سے آمین آمین کی آواز آتی رہی، دُعا کے درمیان غلام حیدر نامی قادیانی پر غشی کا دورہ پڑا اور بیہوش ہوکر گر پڑا، عبدالرحیم شاہ قادیانی نے اس کو ہوش میں لانے کے بعد کھڑا کیا اور حوصلہ دیا۔ ایک دُوسرا قادیانی عبدالرحیم جو دُکان دار تھا اور مباہلے میں شریک تھا، اسی دُعا کے دوران کہنے لگا کہ: ’’میں تو دُعا کرتا ہوں کہ خداوند قدوس! جو ہم میں جھوٹا ہے اس کو پاگل کردے تاکہ دیکھے سچا کون ہے اور جھوٹا کون ہے؟ اور دُوسروں کو بھی عبرت ہو۔‘‘

راقم الحروف سے حضرت مولانا کریم عبداللہ صاحب مدظلہٗ نے بیان فرمایا کہ: مباہلے سے قبل میں نے عبدالرحیم شاہ قادیانی سے، جو وہاں مرزائیوں کا سرغنہ تھا،

314

کہا کہ: ’’آؤ! تم اور میں ایک آسان طریقہ اختیار کرتے ہیں، یہ جو چیڑ کے بلند و بالا درخت ہیں، ان درختوں پر چڑھ کر ایک دُوسرے کا ہاتھ پکڑ کر اُوپر بلندی سے چھلانگ لگاتے ہیں، جو سچا ہوگا وہ بچ جائے گا اور جو جھوٹا ہوگا وہ نیچے گرتے ہی مرجائے گا۔‘‘ لیکن عبدالرحیم شاہ قادیانی نے اس بات سے بالکل انکار کردیا اور کہا کہ: ’’نہیں! ہم مباہلہ ہی کریں گے۔‘‘

اب سنییٔ! مباہلہ کرنے والے قادیانی لوگوں کے ساتھ کیا بیتی؟ اور ان کا انجام کیا ہوا؟ عبدالرحیم قادیانی نے دورانِ مباہلہ خود کہا تھا کہ: ’’خدا جھوٹے کو پاگل کردے‘‘ ایک ماہ کے بعد وہ پاگل ہوگیا اور اول فول بکنے لگا، قریب ’’جابہ‘‘ نامی بستی میں فوج کا کیمپ تھا، وہ وہاں بغیر اِجازت داخل ہوا اور شور شرابا شروع کردیا، انگریز کمانڈر تھا، اُس نے عبدالرحیم قادیانی کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کردیا اور کافی دنوں تک جیل میں قید رہا۔ جب جیل سے رہا ہوا تو خود کہنے لگا کہ: ’’میں نے مرزا قادیانی کو سوَر کی شکل میں دیکھا ہے اور قادیانی عقیدے کو ترک کرکے اسلام قبول کیا۔‘‘ غلام حیدر نامی قادیانی کو اس کے بھتیجوں نے ٹھیک ایک مہینے کے بعد جمعہ کے دن ۲۶؍مارچ ۱۹۴۳ء کو بالکل معمولی بات پر جہنم واصل کردیا، غلام حیدر کی کوئی اولاد نہ تھی اور ان ہی بھتیجوں نے پروَرِش کی تھی۔ بھتیجوں کو سیشن کورٹ کے سپرد کردیا گیا، چنانچہ چند مہینے ہی گزرے تھے کہ پولیس نے بغیر کسی سزا اور جرمانہ کے بَری کردیا اور اس کے وہ بھتیجے تاحال زندہ ہیں۔ راقم الحروف نے بالمشافہ ان سے بات بھی کی ہے، انہوں نے یہی کچھ بتایا ہے۔ راقم سے حضرت مولانا کریم عبداللہ صاحب مدظلہٗ نے فرمایا کہ: اس سال سے ہم تینوں علماء کے سر میں بھی کبھی درد نہیں ہوا، بلکہ پہلے اگر کوئی تکلیف تھی تو وہ بھی اللہ تعالیٰ نے دُور فرمادی۔

تیسرا قادیانی عبدالرحیم شاہ کو ۱۹۷۴ء میں اللہ تعالیٰ نے ایسی مہلک بیماری میں مبتلا کیا کہ اس کے جسم میں کیڑے پڑگئے اور عام لوگ اس کے کمرے میں نہ

315

جاسکتے تھے، کمرے میں داخل ہونے سے ہی بدبو آتی تھی، بالآخر کافی مدّت ایسی کیفیت میں رہنے کے بعد عبدالرحیم شاہ اپنے انجام کو پہنچ گیا۔

مباہلین علماء میں سے صرف مولانا کریم عبداللہ صاحب مدظلہٗ بقیدِ حیات ہیں، بقیہ دو حضرات کچھ عرصہ قبل اس دُنیا سے تشریف لے جاچکے ہیں، میں نے یہ رُوئیداد مولانا کریم عبداللہ صاحب سے سن کر قلم بند کی ہے۔

(مولانا منظور احمد شاہ آسی)

ایک خاتون کا خواب:

میری ایک رشتہ دار، عمررسیدہ، نیک سیرت خاتون ہیں، نماز و روزے کی پابند ہیں اور حج کی سعادت حاصل کرچکی ہیں، وہ اس لحاظ سے بڑی خوش قسمت ہیں کہ انہیں خواب میں سیّد المرسلین، خاتم النبیّین محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت بابرکت کا شرف حاصل ہوا۔ جس رات اُنہوں نے یہ بابرکت خواب دیکھا، اس سے اگلی صبح مجھے کہنے لگیں: ’’گزشتہ شب میں اپنے آپ کو مسجدِ نبوی میں پاتی ہوں، وہاں ابھی تھوڑی دیر ہی قیام کیا تھا کہ دیکھتی ہوں کہ بعض نمازی آپس میں اُلجھ رہے ہیں، وجہ معلوم کی تو پتا چلا کہ مسجد کے صحن میں جو قالین بچھے ہیں، ان کے پاس کوئی شخص میلی کچیلی دری بچھاگیا ہے، بعض حضرات چاہتے ہیں کہ اس دری کو ہٹادیا جائے، جبکہ بعض اس بات پر مصر ہیں کہ یہ ایک طرف پڑی رہے، ابھی آپس میں تکرار جاری تھی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لاتے ہیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرۂ اقدس سے نور کی کرنیں پھوٹ رہی تھیں، پاسِ ادب سے میری نظریں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک قدموں پر جمی رہیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ: ’’آپ کس بات پر جھگڑ رہے ہیں؟‘‘ ایک صاحب نے واقعہ بیان کیا اور وہ غلیظ دری بھی دِکھائی جو پچھلی جانب پڑی تھی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ’’دری کو اُٹھاکر مسجد سے باہر پھینک دیا جائے!‘‘ اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔

316

محترمہ موصوفہ جب خواب بیان کرچکی تو مجھ سے اس کی تعبیر پوچھی، میں علمِ تعبیر کی اَبجد سے بھی واقف نہ تھا، لیکن ان دنوں کے واقعات کے تناظر میں جب میں نے اس خواب پر غور کیا تو اس کی تعبیر بہت سہل نظر آئی۔

تعبیر بتائی کہ مرزائی حضرات اِن شاء اللہ بہت جلد غیرمسلم قرار دئیے جائیں گے، میں نے ان ایام میں اپنے کئی عزیزوں اور دوستوں کو یہ خواب سنایا اور اس کی تعبیر بھی بتائی، لیکن اس خواب کو صفحۂ قرطاس پر منتقل کرنے کا فریضہ میں اب سرانجام دے رہا ہوں۔ بعد میں حکومت نے جو تاریخ ساز فیصلہ صادر کیا، اس کی رُو سے مرزائی غیرمسلم قرار پائے، اس فیصلے نے خواب کی سچائی اور تعبیر کی دُرستگی پر مہرِ تصدیق ثبت کردی۔

(محمد شفیع، سیٹلائٹ ٹاؤن، راولپنڈی)

نو۹ سال کے بچے کی اِستقامت:

آغاشورش کاشمیریؒ اور قاضی مظہر حسین راوی ہیں کہ: ۱۹۵۳ء کی تحریکِ ختمِ نبوّت میں ایک نو سال کا بچہ بھی گرفتار ہوکر لاہور کوٹ لکھپت جیل آگیا، دُوسروں کی طرح اس کو بھی کوڑے مارے گئے، لیکن اس چھوٹے سے بچے کے جذبۂ دِین اور اِستقامت پر سب حیران تھے کہ جونہی اسے کوڑا لگتا وہ سوائے ’’ختمِ نبوّت زندہ باد‘‘ کے اور کچھ نہیں کہتا تھا، بالآخر وہ اسی طرح کوڑے سہتا ہوا اس دُنیا فانی سے منہ موڑ گیا۔

نقد اِنعام:

کچھ عرصہ پہلے حسبِ معمول میں ننکانہ صاحب سے موڑ کھنڈ آرہا تھا کہ رسالہ ’’ختمِ نبوّت‘‘ میرے پاس تھا، جو میرے ایک دوست نے دیکھنے کے لئے مجھ سے پکڑلیا اور وہ مرکزی دفتر کا پتا پوچھنے لگا، اسی دوران بس کا وقت ہوگیا، میں نے بس چھوڑ دی اور اس دوست کو رسالہ ہفت روزہ ’’ختمِ نبوّت‘‘ کے بارے میں معلومات دینے لگا، چنانچہ جب فارغ ہوئے تو اتنی دیر میں ایک دوست موٹرسائیکل لے کر

317

آگئے، جنھوں نے بضد مجھے بھی اپنے ساتھ بٹھالیا، جب ہم اَڈّے سے تقریباً چھ میل کے فاصلے پر پہنچے تو دیکھا کہ وہی بس حادثے کا شکار ہوگئی ہے، لیکن سواریوں کو بالکل معمولی چوٹیں آئیں، لیکن بس کو بہت زیادہ نقصان پہنچا، ہم یہ منظر دیکھ کر بے حد حیران ہوئے، اللہ رَبّ العزّت نے اس چھوٹی سی نیکی کا کتنا بڑا صلہ دیا ہے۔

(محمد متین خالد)

ہاتھ کس نے چوما؟ قلم کسے ملا؟

صدرِ پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم نے قادیانیت کی تبلیغ پر پابندی کے سلسلے میں جب تاریخی آرڈی نینس پر دستخط کئے تو علماء کا ایک وفد بھی ایوانِ صدر میں موجود تھا، یہ علماء صدرِ مملکت سے قادیانیت کی تبلیغ پر پابندی کا مطالبہ لے کر ہی صدرِ مملکت سے ملنے گئے تھے۔ مرکزی جامع مسجد اسلام آباد کے خطیب مولانا محمد عبداللہ نے فرطِ عقیدت رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم سے مغلوب ہوکر صدرِ مملکت سے اِستدعا کی کہ اُنہوں نے جس قلم سے آرڈی نینس پر دستخط کئے ہیں، اس کی حیثیت بھی تاریخی ہوگئی ہے، یہ قلم انہیں عنایت کردیا جائے۔ صدر ضیاء الحق نے مسکراتے ہوئے قلم انہیں دے دیا۔ وفد میں شامل ممتاز عالمِ دِین اور جمعیت اہلِ حدیث کے قائد مولانا عبدالقادر روپڑی نے اس موقع پر صدرِ مملکت کے ہاتھ کو بوسہ دینا چاہا، صدرِ مملکت نے کہا کہ: وہ ایک گنہگار مسلمان ہیں اور خود کو اس اظہارِ عقیدت کے اہل تصوّر نہیں کرتے ہیں۔ اس پر مولانا محمد شریف جالندھری نے فرمایا: ’’صدر صاحب! ہاتھ چومنے دیں، یہ تو کسی کے ہاتھ چومنا جائز نہیں سمجھتے‘‘ آخر مولانا روپڑی نے ہاتھ چوم لئے۔

عزّت بچ گئی، آگ سے محفوظ رہی:

لاہور میں ایک قادیانی وکیل کے لڑکے سے ایک مسلمان لڑکی کی شادی ہوئی، رات کو جب وکیل کا لڑکا آیا تو اُس سے لڑکی نے دریافت کیا کہ: ’’یہ سامنے

318

کس کا فوٹو ہے؟‘‘ لڑکے نے بات کو ٹالنا چاہا، لیکن لڑکی نے بہت اصرار کیا، بالآخر اس نے بتایا کہ: ’’یہ فوٹو ہمارے ایک نبی مرزا غلام احمد قادیانی کا ہے، جس کے اُوپر ہم ایمان لائے ہیں۔‘‘ لڑکی فوراً چارپائی سے اُٹھی اور گالی دینا شروع کردیا اور زار و قطار رونے لگی اور کہا کہ: ’’خدا کا شکر ہے کہ اُس نے میری عزّت اس کافر سے بچالی!‘‘ اور سیدھی دروازے پر چلی گئی، گھر میں شور کی وجہ سے سب اہلِ گھر جمع ہوگئے، لڑکی نے کہا کہ: ’’اگر میرے قریب کوئی آئے گا تو میں جوتی سے اُس کی پٹائی کردوں گی!‘‘ اور کہا کہ: ’’میں ابھی جیپ کرایہ پر لاتی ہوں اور اپنا سامان لے جاتی ہوں، تم میرے خاوند نہیں ہو، کیونکہ تم کافر ہو اور میں مسلمان ہوں!‘‘ بالآخر جیپ لاکر اپنا جہیز اس میں رکھ دیا اور اپنے گھر چلی گئی۔ صبح قریب تھی، دروازہ کھٹکھٹایا، والد صاحب آئے، حیران ہوکر کہا کہ: ’’بیٹی! کیا ہوا؟ ابھی تو ایک دن بھی نہیں گزرا‘‘ لڑکی نے روتے ہوئے جواب دیا کہ: ’’آپ نے تو میری عزّت تباہ و برباد کردی تھی، لیکن خدا نے مجھے بچالیا، آپ نے جس لڑکے کے ساتھ میری شادی کی تھی وہ تو مرزائی مرتد تھا!‘‘ والد نے جواب دیا کہ: ’’تو نے نہ صرف میری عزّت کی لاج رکھ لی بلکہ مجھے آگ سے بچالیا، مجھے تو معلوم نہیں تھا کہ وہ قادیانی ہے!‘‘ اس واقعے کا جب اَمیرِ شریعت سیّد عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کو پتا چلا تو کہا کہ: ’’مجھے جلدی اس لڑکی کے گھر لے چلو، اُس نے تو اپنی مغفرت کروالی ہے!‘‘ جب شاہ جیؒ اس کے گھر آئے تو کہا: ’’بیٹی! تو نے اپنے لئے بخشش کا سبب بنالیا، اب میرے لئے دُعا کرو کہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی بخش دے!‘‘

سچے نبی کی اُمتی عورت کے ہاتھوں

جھوٹے نبی کے پیروکار کا انجامِ بد:

یہ واقعہ مجھے میرے دوست نے سنایا، لیجئے ان کی زبانی سنییٔ: میرے چچا

319

کہتے ہیں کہ: میں ملازمت کے سلسلے میں پنجاب کے ایک دیہی علاقے میں تعینات تھا، اس وقت ۱۹۵۳ء کی تحریکِ ختمِ نبوّت پورے عروج پر تھی، میں جس گاؤں میں رہتا تھا وہاں قادیانیوں کی اکثریت تھی، ایک دن عصر کی نماز پڑھ کر تمام نمازی مسجد سے باہر نکلے تو وہاں ایک قادیانی بدمعاش تھوڑی دُور چوک میں نعرے لگا رہا تھا کہ: ’’او پُرانے نبی کو ماننے والو! میرے مقابلے میں آؤ‘‘ کسی کی ہمت نہیں ہو رہی تھی کہ اس کے مقابلے میں آئے، کیونکہ وہ گاؤں کا چوہدری بھی تھا، اچانک ایک چالیس سالہ عورت ہاتھ میں ٹوکا سنبھالے ایک گلی سے نمودار ہوئی اور اس قادیانی مردود کے پاس پہنچ کر اُس سے مخاطب ہوئی کہ: ’’او غنڈے! آج میں دیکھوں گی کہ تو جھوٹے مرزا کی محبت میں کتنا پکا ہے اور آج تو بھی اپنی آنکھوں سے دیکھ لے کہ مجھے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے کتنا پیار ہے!‘‘ یہ کہتے ہوئے اُس نے قادیانی مردود کے سر پر وار کیا اور اسی جگہ پر جہنم رسید کردیا اور خوشی سے اس کی لاش پر قہقہے لگانے لگی اور بار بار کہہ رہی تھی کہ: ’’لوگو! میں کامیاب ہوگئی، میں کامیاب ہوگئی!‘‘پولیس آئی اور اس عورت کو پکڑ کر لے گئی اور کئی دن بعد میرا وہاں سے تبادلہ ہوگیا۔

حضرت مولانا بہاء الحق قاسمیؒ:

ناموَر شاعر اور کالم نویس عطاء الحق قاسمی اپنے والد بزرگوار حضرت مولانا بہاء الحق قاسمیؒ کی تصنیف ’’تذکرۂ اسلاف‘‘ میں اپنے تأثرات کا اظہار کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’۱۹۵۳ء میں جب تحریکِ ختمِ نبوّت کا آغاز ہوا تو والد ماجدؒ کو مسجد وزیرخان میں تقریر کرتے ہوئے گرفتار کرلیا گیا، مولانا عبدالستار خان نیازی اور دُوسرے زُعماء بھی مسجد وزیرخان میں ان کے ہمراہ تھے۔

والد ماجدؒ کو گرفتار کرنے کے بعد شاہی قلعے لے جایا گیا، ان پر بغاوت، آتش زنی اور اس نوع کے خدا جانے کیا کیا اِلزامات تھے۔ ہمیں تین ماہ تک والد

320

ماجدؒ کے بارے میں کچھ پتا نہ چلا کہ وہ کہاں ہیں؟ زندہ ہیں یا انہیں مار دیا گیا ہے؟ تین ماہ بعد جب انہیں عدالت میں پیش کیا گیا اور انہیں سزا سنائی گئی تو ہمیں ان کی زندگی کی اطلاع ہوئی۔

شاہی قلعے میں والد ماجدؒ کو ایک کرسی پر بٹھاکر ان کے سر پر ایک تیز بلب روشن کردیا گیا تاکہ وہ ساری رات سو نہ سکیں، جب والد ماجدؒ کو اُونگھ آتی تو اُن کے پیچھے کھڑا سنگین بردار سپاہی سنگین کی نوک انہیں چبھوتا اور کہتا: ’’مولانا جاگتے رہیں!‘‘ یہ لوگ والد ماجدؒ سے اَمیرِ شریعت مولانا سیّد عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے خلاف بیان لینا چاہتے تھے، چنانچہ والد ماجدؒ سے یہ بیان دینے کے لئے کہا گیا کہ اُنہوں نے تحریک میں حصہ عطاء اللہ شاہؒ کے اُکسانے پر لیا تھا۔

والد ماجدؒ نے اس کے جواب میں کہا: ’’مجھے شاہ صاحب نے کیا اُکسانا تھا، انہوں نے تو ختمِ نبوّت کا درس میرے خاندان سے لیا ہے!‘‘ والد ماجدؒ نے یہ بات یوں کہی کہ اَمیرِ شریعت سیّد عطاء اللہ شاہ بخاریؒ، مولانا مفتی محمد حسنؒ کی طرح میرے دادا مفتیٔ اعظم امرتسر مفتی غلام مصطفی قاسمیؒ کے شاگردِ خاص تھے۔ اس پر ڈیوٹی پر متعین فوجی افسر نے جھنجھلاکر والد ماجد کو اپنے کمرے میں طلب کیا اور کہا: ’’مولانا! آپ اپنے گھر کا ایڈرس لکھوادیجئے تاکہ آپ کی میّت آپ کے ورثاء کے سپرد کی جاسکے!‘‘ اس پر والد ماجد کے چہرے پر ایک مسکراہٹ اُبھری جو طلوعِ صبح سے کم خوبصورت نہ تھی اور انہوں نے کہا: ’’آپ مجھے موت سے ڈراتے ہیں؟ حالانکہ آپ میری زندگی کا ایک لمحہ بھی کم یا زیادہ نہیں کرسکتے!‘‘

مولوی عبداللہؒ کا خواب:

مولوی عبداللہ مرحوم نے خواب میں دیکھا کہ وہ ایک بلند مقام پر اپنے بھائی مولوی محمد اور خواجہ احسن شاہ کے ساتھ بیٹھے ہیں، دُور سے تین آدمی دھوتیاں باندھے

321

آتے دِکھائی دئیے، جب نزدیک پہنچے تو تینوں میں سے جو آگے تھا اُس نے دھوتی کھول کر اس کو تہبند کی طرح باندھ لیا، خواب ہی میں غیب سے آواز آئی کہ مرزا غلام احمد قادیانی یہی ہے۔ اسی وقت خواب سے بیدار ہوئے، دِل کی پراگندگی یکلخت دُور ہوئی اور یقین ہوگیا کہ یہ شخص اسلامی پیرایہ میں مسلمانوں کو گمراہ کر رہا ہے۔ دُوسرے دن خواب کے مطابق قادیانی صاحب دو ہندوؤں کی رفاقت میں لدھیانہ وارِد ہوئے۔ دُوسرے دو پرہیزگار آدمیوں نے جو اِستخارہ کیا تھا ان میں سے ایک نے دیکھا کہ مرزا غلام احمد ایک بے علم آدمی ہے۔ دُوسرے نے خواب میں دیکھا کہ وہ ایک برہنہ عورت کو گود میں لے کر اس کے بدن پر ہاتھ پھیر رہا ہے، جس کی تعبیر یہ ہے کہ وہ دُنیا جمع کرنے کے درپے ہے، اسے دِین کی طرف اصلاً اِلتفات نہیں۔

(فتاویٰ قادریہ، مرتبہ: مولوی محمد صاحب لدھیانوی، مطبوعہ: مطبع قیصر ہند، لدھیانہ، ص:۳۰۱)

’’براہین احمدیہ‘‘ کی تجارت:

مولوی محمد صاحب مرحوم لکھتے ہیں کہ اس بات کا ثبوت کہ مرزا غلام احمد مالِ حرام اپنے کھانے پینے میں صَرف کرتا ہے اور اس کی زندگی کا ماحصل زراندوزی ہے، کتاب ’’براہین احمدیہ‘‘ کی تجارت ہے، اس کتاب کے تین چار حصے چند اجزاء میں طبع کرکے دس دس اور پچّیس پچّیس روپے میں فروخت کئے، حالانکہ ان تین چار حصوں کی قیمت دو تین روپے سے کسی طرح زائد نہیں ہوسکتی اور وعدہ یہ کیا کہ یہ بہت بڑی ضخیم کتاب ہوگی، باقی جلدیں وقتاً فوقتاً طبع ہوکر خریداروں کو پہنچتی رہیں گی۔ جب جُل دے کر روپیہ وصول کرلیا تو باقی ماندہ کتاب کا طبع کرانا یکلخت موقوف کردیا، کیونکہ جن لوگوں سے پیشگی رقمیں وصول کرلی تھیں ان کو اب نئی قیمت وصول کئے بغیر کتابیں بھیجنا گویا ایک تاوان تھا، اس لئے باقی ماندہ کتاب کی جگہ نئی نئی تألیفات شائع کرکے روپیہ بٹورنا شروع کردیا۔

(فتاویٰ قادریہ ص:۳، رئیس قادیان، مصنفہ ابوالقاسم دلاوری، ج:۲ ص:۲)

322

قادیانی مسیحیت کے متعلق

شاہ سیف الرحمن مجذوبؒ کا کشف:

میر احمد شاہ سیکریٹری میونسپل کمیٹی لدھیانہ کا ایک بیان رسالہ ’’اشاعۃ السنۃ‘‘ میں شائع ہوا تھا، اس کو ذیل میں ہدیۂ ناظرین کیا جاتا ہے۔

صاحبِ موصوف نے لکھا ہے کہ: مجھے جون ۱۸۹۱ء میں حصار جانے کا اتفاق ہوا، وہاں ایک دوست سے دریافت کیا کہ یہاں کوئی باخدا بزرگ بھی ہیں؟ اس نے کہا: ’’ہاں! شاہ سیف الرحمن نامی ایک مجذوب رہتے ہیں جو جذب کی حالت میں بہت سی باتیں کہا کرتے ہیں، ان کے سامنے اظہارِ مدعا کی ضرورت نہیں ہوتی، بلکہ جو بات دریافت کرنی ہو اس کا تصوّر کرلینا چاہئے، وہ خودبخود اپنی گفتگو میں، جو مخلوط ہوتی ہے، اس کا جواب دے جاتے ہیں اور صرف سائل ہی اس اَمر کو سمجھ سکتا ہے۔‘‘ میں اور وہ دونوں شاہ صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے، میں نے بیٹھتے ہی اپنے دِل میں خیال کیا کہ قادیان کے مرزا صاحب کے متعلق ملک میں ہنگامہ بپا ہے، بعض لوگ ان کو مہدی اور مسیح سمجھتے ہیں اور اکثر کو ان کے دعاوی کی صحت و صداقت سے انکار ہے، کیا وہ حق پر ہیں یا باطل پر؟ اس وقت شاہ صاحب کچھ اور باتیں کر رہے تھے، تھوڑی دیر میں فرمانے لگے کہ: ’’ایک تو انگریزوں کا عیسیٰ بن گیا اور دُوسرا بھنگیوں کا پیر بن گیا۔‘‘ اس کے بعد بہت سخت کلامی کی اور حالتِ غضب میں اُٹھ کھڑے ہوئے اور ایک حجرے کی طرف چل دئیے اور آیت: ’’لِمَنِ الْمُلْکُ الْیَوْمَ ِﷲِ الْوَاحِدِ الْقَھَّار‘‘ بار بار پڑھ کر سخت کلامی کرتے جاتے تھے۔ میں اپنے دوست کے ساتھ واپس آیا، راستے میں اس نے پوچھا: تم نے کس بات کا تصوّر کیا تھا کہ شاہ صاحب اتنے غضب ناک ہوگئے؟ میں نے اُسے بتایا کہ مرزائے قادیانی کی نسبت خیال کیا تھا، کہنے لگے: ہاں! شاہ صاحب نے مرزا سے ان الفاظ میں اظہارِ نفرت کیا ہے۔ میں

323

نے حصار والوں سے اس قسم کے بے شمار واقعات سنے ہیں، اگر کسی شخص کو میرے بیان میں شک ہو تو وہ خود حصار جاکر مشرف بزیارت ہوں اور شاہ صاحب کا تجربہ کرلیں۔

(اشاعۃ السنۃ ج:۱۸ ص:۲۱۱، ۲۱۲، رئیس قادیان ج:۲ ص:۱۳۶، ۱۳۷)

مولوی اشرف علی ساکن سلطان پور ریاست کپورتھلہ:

احقر الناس کو قادیانی کی نسبت اس کے ابتدائے اَمر میں بہت کچھ حسنِ ظن تھا، لیکن جب اس کی کتابوں: ’’فتح اسلام‘‘، ’’توضیح المرام‘‘ اور ’’اِزالہ اوہام‘‘ کے اکثر مضامین کتاب اللہ، سنتِ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) اور طریقِ سلفِ صالح کے خلاف نظر آئے تو معلوم ہوا کہ اس شخص کو فرقہ حقہ اہلِ سنت والجماعت سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ میں نے قادیانی کے کشفِ حال کے لئے حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ سے درخواست کی کہ باطنی طور پر ملاحظہ فرماکر اِرشاد فرمائیں۔ انہوں نے اپنا مکاشفہ تحریر فرمایا کہ: اس کا حال مختار ثقفی کا سا بتلایا گیا ہے، جو مرزا کی طرح ایک خانہ ساز نبی گزرا ہے۔ عاجز نے خود مرزا قادیانی کے متعلق اِستخارہ کیا، پہلی دفعہ اس کی مسجد کو ایسی صورت میں دیکھا کہ اس کا دروازہ شمال کی طرف اور پشت جنوب کی طرف ہے، جس میں نماز پڑھنے سے جنوب کی طرف سجدہ ہوتا ہے۔ دُوسری مرتبہ قادیانی صاحب بذاتِ خود ایسی صورت میں دِکھائی دئیے کہ مونچھیں قدرِ مسنون سے بہت بڑھی ہوئی ہیں، گویا کسی سکھ کی مونچھیں ہیں۔ میرے ایک دوست میاں گلاب خان افغان، ساکن کپور تھلہ، حال وارِد سلطان پور نے بھی اس کی نسبت اِستخارہ کیا تو جواب میں ایک ناپاک اور موذی جانور دِکھائی دیا۔ علمائے ظاہر کے علاوہ اہلِ کشف و شمور بھی اس کے مفتریانہ خیالات سے سخت متنفر ہیں اور فرماتے ہیں کہ: بہ مصداق: ’’مَنْ لَّا شَیْخَ لَہٗ فَشَیْخُہٗ شَیْطَانٌ‘‘ بغیر کسی شیخِ کامل کے وادیٔ طریقت میں قدم رکھنے سے شیطان کے پنجے میں گرفتار ہوگیا ہے اور اس کے وساوس کو اِلہاماتِ ربانی سمجھ رہا

324

ہے ۔۔۔ العیاذ باللہ۔۔۔ اس کی کتابوں سے اس کا مدعیٔ نبوّت و رِسالت ہونا صاف ظاہر ہے، اس لئے رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کے بموجب کہ: ’’قیامت اُس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک قریباً تیس دجال کذّاب ظاہر ہوکر دعوائے نبوّت نہ کرلیں۔‘‘ (بخاری و مسلم) یہ شخص بھی ان تیس میں سے ایک ہے۔ اس نے ’’توضیح المرام‘‘ کے صفحہ:۱۸، ۱۹ پر محدّث ہونے کے پیرایہ میں اپنا نبی ہونا صاف بتایا ہے، ایک جگہ یہ بھی لکھ دیا ہے: ’’ان النبی محدَّث والمحدَّثُ نبیٌّ‘‘ مجھے اس شخص کی حالت پر بہت افسوس ہے، حق تعالیٰ اس کو راہِ راست پر لائے، ورنہ اہلِ اسلام کو اس کے فتنے سے بچائے۔

(رئیس قادیان ج:۲ ص:۶۳، ۶۴)

توکل شاہؒ سے درخواستِ دُعا:

مولوی محبوب عالم ’’صحیفۂ محبوب‘‘ میں لکھتے ہیں کہ: ایک مرتبہ میں نے خواجہ توکل شاہ انبالویؒ سے عرض کیا کہ: میں تو مرزا قادیانی کو بُرا جانتا ہوں، آپ کے نزدیک وہ شخص کیسا ہے؟ ان دنوں مرزا صاحب کا دعویٰ مجدّدیت و مہدویت سے متجاوز نہ ہوا تھا۔ خواجہ صاحب نے فرمایا کہ: ایک دفعہ میں نے دیکھا کہ گویا کوتوال کی حیثیت سے شہر لاہور کا گشت کر رہا ہوں، ایک مقام پر مرزا غلام احمد کو دیکھا کہ کانٹوں اور گندگی میں پڑا ہے، میں نے اس کے ہاتھ کو جنبش دی اور ڈانٹ کر کہا: ’’تیرے پاس مجدّدیت اور مہدویت کا کیا ثبوت ہے؟‘‘ وہ سخت اُداس اور غم زدہ دِکھائی دیتا تھا، میرے سوال کا کچھ جواب نہ دے سکا، معلوم ہوتا ہے کہ اُس نے کوئی عمل کیا تھا، مگر پھر کسی بدپرہیزی کے باعث اس عمل سے گرگیا۔‘‘

مولوی محبوب عالم لکھتے ہیں کہ: یہ تو میرا اپنا مشاہدہ ہے کہ اس کے اکثر خط خواجہ توکل شاہؒ کی خدمت میں آیا کرتے تھے، جن کا یہ مضمون ہوتا تھا کہ: ’’حضور! میرے حق میں دُعا فرمائیں‘‘ خط کے سنتے ہی خواجہ صاحب کے چہرے پر غصّے کے

325

مارے شکن پڑجاتی تھی، مگر ضبط کرکے خاموش ہوجاتے تھے۔

(رئیس قادیان ج:۲ ص:۱۹)

شاہ عبدالرحیم صاحب سہارنپوریؒ:

شاہ عبدالرحیم صاحب سہارنپوریؒ سے علمائے لدھیانہ کی ملاقات ہوئی، شاہ صاحبؒ نے فرمایا کہ: ’’میں نے قادیانی کے متعلق اِستخارہ کیا تھا، میں نے دیکھا کہ یہ شخص بھینسے پر اس طرح سوار ہے کہ منہ دُم کی طرف ہے، جب غور سے دیکھا تو اس کے گلے میں زنار نظر آیا، جس سے اس شخص کا بے دِین ہونا ظاہر ہے۔‘‘ اس کے بعد شاہ صاحبؒ نے فرمایا کہ: ’’جو علماء اس کی تردید میں اب متردّد ہیں، کچھ عرصے کے بعد وہ بھی اُسے خارج از اِسلام قرار دیں گے۔‘‘

(فتاویٰ قادریہ)

چنانچہ مولانا شاہ عبدالرحیم صاحبؒ کی پیشین گوئی حرف بہ حرف پوری ہوئی، حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ اور دُوسرے تمام اکابرِ اُمت جو قادیانی کی تکفیر سے پہلوتہی کرتے اور لوگوں کو اس سے منع کرتے تھے، آئندہ چل کر اس کو مرتد اور خارج از اِسلام قرار دینے لگے۔

(رئیس قادیان ج:۲ ص:۱۰)

ڈاکٹر صاحب کی برہمی:

عبدالرشید طارق ایم اے بیان کرتے ہیں کہ: ایک روز شام کے وقت میں اور صوفی تبسم، ڈاکٹر علامہ اقبال صاحبؒ کے مکان منزل پر پہنچے تو ڈاکٹر صاحبؒ پلنگ پر لیٹے ہوئے تھے اور ایک صاحب اُن کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ ڈاکٹر صاحبؒ بہت برہم نظر آتے تھے، میں نے اس سے قبل برہمی کی حالت میں صرف ایک مرتبہ دیکھا اور وہ جب ایک نوجوان مرزائی کو دھکے دے کر اپنی کوٹھی واقع میکلوڈ روڈ سے نکال رہے تھے۔

بچے کی ایمانی جرأت:

عالمی مجلس تحفظِ ختمِ نبوّت واہ کینٹ کے حضرت مولانا عبدالقیوم مدظلہٗ نے

326

اپنے علاقے کا ایک ایمان پروَر واقعہ سنایا کہ: تحریکِ ختمِ نبوّت ۱۹۷۴ء میں واہ کینٹ میں ایک جلوس نکلا، پولیس نے جلوس کے کئی شرکاء کو گرفتار کرلیا، ان میں ایک سات سالہ بچہ بھی تھا، مقامی ڈی ایس پی نے اس بچے کو مرغا بناکر پوچھا کہ: ’’بتاؤ! تمہاری پیٹھ پر کتنے جوتے ماروں؟‘‘ بچے نے بڑی ایمانی جرأت اور معصومیت سے جواب دیا کہ: ’’اتنے جوتے مارنا جتنے جوتے تم قیامت کے دن کھاسکتے ہو!‘‘ اتنا سننا تھا کہ ڈی ایس پی مارے خوف کے پسینہ پسینہ ہوگیا اور اس بچے کو سینے سے لگایا، پیار کیا، گھر لے گیا، کھانا کھلایا، رقم دی، پاؤں پکڑ کر معافی مانگی اور فوراً گھر چھوڑنے گیا۔

بخشش کے لئے صرف ایک نیکی!

چوہدری نذیر احمد صاحب ننکانہ صاحب میں کراکری کا کاروبار کرتے تھے، ۱۹۵۳ء کی تحریکِ ختمِ نبوّت کا واقعہ انہی کی زبانی سنییٔ اور اپنے ایمان کو تر و تازہ کیجئے!

میری شادی کے چند ماہ بعد تحریکِ ختمِ نبوّت ۱۹۵۳ء شروع ہوئی، میں تحریک میں بھرپور حصہ لینے کے لئے ننکانہ صاحب سے لاہور، مسجد وزیرخان چلا گیا، یہاں روزانہ جلسہ ہوتا اور جلوس نکلتے۔ ایک دن جنرل سرفراز، جو غالباً اس وقت لاہور کا کورکمانڈر تھا، کے کہنے پر مسجد کی بجلی اور پانی کا کنکشن کاٹ دیا گیا۔ اس پر مسجد میں ایک احتجاجی جلسہ ہوا، پھر جلوس نکلا، میں اس جلوس میں شامل تھا، فوج نے ہمیں گرفتار کرلیا، چند اَحباب کے ہمراہ سرسری سماعت کی عدالت میں پیش کیا گیا، میرا نمبر آخر میں تھا، میری باری پر میجر صاحب نے کہا کہ: ’’معافی مانگ لو کہ آئندہ تحریک میں حصہ نہیں لوگے تو ابھی بَری کردوں گا!‘‘ میں نے مسکراتے ہوئے میجر صاحب کو کہا کہ: ’’آپ کی بات سمجھ میں نہیں آرہی کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزّت و ناموس کا مسئلہ ہو اور ایک اُمتی کی شفاعت کا ذریعہ ہو اور پھر وہ معافی مانگ لے!‘‘ میجر صاحب نے کہا کہ: ’’سامنے لان میں چلے جاؤ! آدھا گھنٹہ اچھی طرح سوچ لو!‘‘ میں

327

لان میں بیٹھ گیا، پھر پیش کیا گیا تو میجر صاحب نے کہا کہ: ’’معافی مانگ لو!‘‘ میں نے مسکراتے ہوئے میجر صاحب کو جواب دیا کہ: ’’شاید آپ کو اس مسئلے کی اہمیت کا علم نہیں، آپ کی بات میری سمجھ میں نہیں آرہی کہ اس مسئلے میں معافی کیا ہوتی ہے؟‘‘ اس پر میجر صاحب نے غصّے کی حالت میں میرے منہ پر ایک زناٹے دار تھپڑ رسید کیا اور آٹھ ماہ قیدِ بامشقت، ۵۰۰ روپے جرمانے کا حکم دیا، جسے میں نے بخوشی قبول کرلیا، میرے نامۂ اَعمال میں میری بخشش کے لئے یہی ایک نیکی کافی ہے۔

مجاہد کی اَذان:

ملک محمد صدیق صاحب، ننکانہ صاحب کی معروف سیاسی، سماجی اور کاروباری شخصیت ہیں۔ ۱۹۵۳ء کی تحریکِ ختمِ نبوّت میں حصہ لینے کی پاداش میں گرفتار ہوکر جیل گئے، جیل میں نماز پڑھنے اور اَذان دینے پر مکمل پابندی تھی، اتفاق سے ملک صاحب جس بیرک میں بند تھے، وہاں ایک آدمی نے بلند آواز سے اَذان دے دی، سپرنٹنڈنٹ پوری گارڈ کے ہمراہ آگیا، بیرک سے تمام مجاہدینِ ختمِ نبوّت کو نکال کر لائن میں کھڑا کیا اور نہایت غصّے کی حالت میں پوچھا کہ: ’’اَذان کس نے دی تھی؟‘‘ خوف اور دہشت کی فضا میں کسی سے نہ بول پڑا، اَذان دینے والا شاید کمزور ایمان کا مالک تھا کہ بول نہ سکا، ملک صاحب نے سوچا کہ اگر آج چپ رہا تو نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اَذان کی حرمت پر حرف آئے گا، یہ بات تاریخ کا حصہ بن جائے گی، قادیانی اس واقعے سے مجاہدینِ ختمِ نبوّت کا مذاق اُڑائیں گے۔ ملک صاحب لائن سے باہر آئے اور بڑی جرأت سے کہا کہ: ’’اَذان میں نے دی تھی اور آئندہ بھی کہوں گا!‘‘ اس جرأت مندانہ جواب کے عوض ملک صاحب کو پندرہ کوڑوں کی سزا سنائی گئی، جس کے نتیجے میں حصولِ اولاد والی نعمت سے محروم ہوگئے، شفاعتِ محمدی والی نعمت سے سرفراز ہوگئے۔

328

بسترِ مرگ پر مجاہد ختمِ نبوّت کی للکار:

عالمی مجلس تحفظِ ختمِ نبوّت سیدوالہ، تحصیل ننکانہ صاحب کے سرپرست رانا غلام محمد صاحب گزشتہ دنوں دِل کا دورہ پڑنے سے مختصر علالت کے بعد اپنے خالقِ حقیقی سے جاملے، اِنَّا ِﷲِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ!

رانا غلام محمد صاحب حقیقی معنوں میں مجاہدِ ختمِ نبوّت تھے، وہ اپنی جماعت کے رُوحِ رواں اور قادیانیوں کے لئے چلتی پھرتی تلوار تھے۔ انہوں نے قادیانیوں کے خلاف بیسیوں مقدمات درج کروائے، اپنے ہاں بے شمار ختمِ نبوّت کا نفرنسیں کروائیں، انہوں نے اس مسئلے کے لئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا۔ جب رانا صاحب کو دِل کا دورہ پڑا، انہیں فوری طور پر میو ہسپتال لاہور میں داخل کروایا گیا، خطرناک حال کے پیشِ نظر انہیں شیخ زید ہسپتال لاہور میں منتقل کردیا، رانا صاحب کو آکسیجن اور خون وغیرہ لگا ہوا تھا، ڈاکٹروں کے مطابق اُن کی حالت شدید خطرے میں تھی، اُن کا آخری وقت دیکھ کر اَحباب پریشان ہوگئے، لاہور کے مجاہدِ ختمِ نبوّت جناب طاہر رَزّاق صاحب نے رانا صاحب کے کان میں کہا کہ: ’’رانا صاحب! کچھ پڑھیں۔‘‘ رانا صاحب بھی سمجھ گئے کہ میرا آخری وقت آگیا ہے، اس لئے مجھے پڑھنے کو کہہ رہے ہیں، اُن کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور پھر بھرائی ہوئی آواز میں بلند آواز سے کہنے لگے: ’’ختمِ نبوّت زندہ باد! مرزا قادیانی پر لعنت بے شمار، مرزائیوں پر لعنت صد ہزار، بار بار!‘‘ پھر طاہر رَزّاق صاحب سے مخاطب ہوکر کہنے لگے: ’’طاہر صاحب! سیدوالہ کے قادیانیوں سے کہہ دینا کہ میں آرہا ہوں اور شعائرِ اِسلام کی بے حرمتی کا وہ سبق سکھاؤں گا کہ قیامت تک یاد رکھو گے!‘‘ ہم سب لوگ رانا صاحب کی اس ایمانی کیفیت سے متأثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔

329

مرزا ناصر اور نبوّتِ کاذبہ:

پروفیسر غازی احمد (سابق کرشن لعل) جنھیں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عالمِ خواب میں خود اپنے دستِ مبارک پر مسلمان کیا اور نہایت شفقت فرماتے ہوئے اپنے سینۂ مبارک سے لگایا، اُن کی زبانی ایمان پروَر واقعہ سنییٔ:

’’آج سے دس بارہ سال قبل پنجاب یونیورسٹی لاہور نے بی اے کے امتحانات کے سلسلے میں مجھے تعلیم الاسلام کالج ربوہ میں ناظمِ امتحان مقرّر کیا، بیس پچّیس دن ربوہ کالج میں میرا قیام رہا، ایک اِتوار کو چھٹی کے دن میں نے مرزا ناصر احمد سے ملاقات کا پروگرام بنایا، دفتر میں گیا اور ملاقاتیوں کی فہرست میں اپنا نام درج کرایا۔ میرا تیسواں نمبر تھا، میں نے ناظمِ ملاقات سے کہا: ’’اگر ممکن ہو تو جلد ملاقات کرادیں، مجھے تو اِمتحان کے سلسلے میں کام کرنا ہے!‘‘ انہوں نے میرے متعلق مرزا صاحب کو فون پر بتایا، ناصر صاحب نے کہا کہ: ’’ان کا نام دُوسرے نمبر پر درج کردیں!‘‘ پہلے نمبر پر ڈاکٹر عبدالسلام تھے۔ ملاقات شروع ہوئی تو ڈاکٹر عبدالسلام تقریباً نصف گھنٹہ تک محوِ گفتگو رہے، ڈاکٹر صاحب کے بعد میری باری آئی، ناصر صاحب دُوسری منزل پر تھے، میں سیڑھیاں چڑھ کر اُوپر پہنچا، ناصر صاحب نے دروازے میں آکر میرا اِستقبال کیا، علیک سلیک کے بعد گفتگو کا آغاز ہوا، ناصر صاحب نے فرمایا: ’’پتا چلا ہے کہ آپ نے ہندو دھرم چھوڑ کر اِسلام قبول کیا ہے!‘‘

میں نے کہا: ’’جی ہاں! آپ دُرست فرماتے ہیں، میں واقعی ایک ہندو گھرانے میں پیدا ہوا تھا اور رَبّ العزّت نے مجھے اسلام کی نعمت سے نوازا۔‘‘

ناصر صاحب نے کہا: ’’مجھے یہ بھی پتا چلا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عالمِ رُؤیا میں آپ کو اِسلام سے مشرف فرمایا!‘‘

’’جی ہاں! آپ کی معلومات بالکل دُرست ہیں، میں نے خواب میں نبی

330

اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ مبارک پر اِسلام قبول کیا ہے۔‘‘

ناصر صاحب نے مسرّت کا اظہار فرمایا اور کہا: ’’واقعی آپ بڑے خوش قسمت انسان ہیں، بلکہ میں کہوں گا کہ آپ تو اِسلام کی صداقت کی دلیل ہیں۔‘‘

ناصر صاحب میرے قبولِ اسلام کی تفصیلات دریافت کرتے رہے اور میں جواب دیتا رہا۔ تقریباً نصف گھنٹہ اسی گفتگو میں گزر گیا، تو میں نے کہا: ’’جناب! کافی وقت گزرچکا ہے، نیچے بہت سے ملاقاتی آپ کے انتظار میں بیٹھے ہیں، میں رُخصت چاہتا ہوں، البتہ اگر مناسب خیال کریں اور گستاخی نہ سمجھیں تو ایک طالبِ علم کی حیثیت سے ایک سوال دریافت کرنا چاہتا ہوں۔‘‘ ناصر صاحب نے خوش دِلی سے اجازت دے دی۔

جیسا کہ جناب کو بھی معلوم ہے کہ نبی مکرّم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے مشرف باسلام فرمایا اور بہ مصداقِ حدیث: ’’مَنْ رَّاٰنِیْ فِی الْمَنَامِ فَقَدْ رَاٰنِیْ‘‘ (یعنی جس نے مجھ کو خواب میں دیکھا، اس نے میری ذات ہی کو دیکھا) میرا اِیمان ہے کہ میں نے رسولِ مکرّم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی ہی سے دِین اخذ کیا ہے اور میرا یہ بھی اِیمان ہے کہ جو عقیدہ اور مسلک میں نے اپنایا ہے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رضائے عالیہ کے مطابق ہے۔

آپ حضرات کا سلسلہ نبوّت کا سلسلہ ہے، اگر آپ کا سلسلہ اللہ تعالیٰ کے ہاں دُرست ہوتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اسلام سے مشرف فرمانے کے بعد ہدایت فرمادیتے کہ: ’’اب تم مسلمان تو ہوچکے ہو، تکمیلِ دِین کے لئے قادیان چلے جاؤ!‘‘ بحیثیت نبی آپ کے لئے ضروری تھا کہ مرزا صاحب کی نبوّت کو نظرانداز نہ فرماتے، مگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مرزا صاحب کی نبوّت کو قطعاً نظرانداز فرمادیا،

331

جس کا نتیجہ ظاہر ہے کہ مرزا غلام احمد صاحب کا سلسلۂ نبوّت عنداللہ وعندالرسول دُرست نہیں، بلکہ یہ نبوّت، نبوّتِ کاذبہ کے زُمرے میں آتی ہے۔

جناب ناصر صاحب نے سوال سن کر فرمایا: ’’یہ سوال میری زندگی میں پہلی بار پیش کیا گیا ہے، آپ کے سوال کی معقولیت میں شک نہیں، مگر ملاقاتی کافی بیٹھے ہیں، پھر کسی ملاقات میں اس کا جواب دُوں گا۔‘‘

میں نے عرض کیا: ’’مجھے ایک بات اور دریافت کرنا ہے، میں نے مرزا صاحب کی تحریر پڑھی ہے کہ میں اور میری جماعت کے افراد فقہی مسلک میں اِمام ابوحنیفہؒ کے پیروکار ہیں، ناصر صاحب میں بھی حنفی مسلک سے تعلق رکھتا ہوں۔‘‘

ناصر صاحب نے اظہارِ مسرّت فرمایا، میں نے عرض کیا کہ: ’’مرزا صاحب تو آپ کے خیال کے مطابق منصبِ نبوّت پر سرفراز تھے، کیا یہ اَمر منصبِ نبوّت کے شایانِ شان ہے کہ ایک نبی ایک اُمتی کے فقہی مسلک کا پیروکار اور مقلد ہو؟ کیا یہ مقامِ نبوّت کی توہین نہیں؟‘‘

ناصر صاحب نے فرمایا: ’’اس سوال کا جواب بھی کسی دُوسری مجلس میں تفصیل کے ساتھ دُوں گا!‘‘

میں نے ناصر صاحب سے اجازت طلب کی، انہوں نے خندہ پیشانی سے رُخصت کیا، جب میں سیڑھیاں اُتر رہا تھا تو ختمِ نبوّت پر میرے ایمان و اِیقان میں اضافہ ہوتا جارہا تھا کہ واقعی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم، اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں، آپ کا لایا ہوا دِین کامل، مکمل اور اَکمل ہے، کسی نئے تکمیل کنندہ کی قطعاً نہ کوئی ضرورت ہے اور نہ گنجائش، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جو شخص بھی نبوّت کا دعویٰ کرے گا اس کی نبوّت کاذبہ ہوگی۔

(من الظلمات الی النور، مصنفہ: پروفیسر غازی احمد)

332

’’ایمان پروَر یادیں‘‘

صدائے دِل

آج سے تین سال قبل ۲۷؍جون ۱۹۸۳ء مطابق ۱۵؍رمضان ۱۴۰۳ھ کو اپنے مربی و محسن حضرت مولانا تاج محمود رحمۃ اللہ علیہ کے حکم پر ’’مبشراتِ صالحہ‘‘ نامی ایک رسالہ ترتیب دیا تھا، جس میں حضور علیہ السلام کی عزّت و ناموس کے تحفظ کا مقدس فریضہ سرانجام دینے والے خوش بخت انسانوں کو قدرت کی طرف سے جن ’’مبشرات‘‘ سے نوازا گیا ہے ان کا اس میں تذکرہ تھا۔

اللہ رَبّ العزّت نے اس رسالے کو ایسی قبولیت سے نوازا کہ کئی احباب نے میری اِطلاع کے بغیر اپنے طور پر متعدّد ایڈیشن شائع کرکے فری تقسیم کئے اور نہ معلوم کہ اس سے کتنا مخلوقِ خدا نے فائدہ حاصل کیا، فالحمد ﷲ!

عرصہ ہوا لاہور کے جناب طاہر رَزّاق صاحب (ختمِ نبوّت کے محاذ پر قدرت کا عطیہ) اور ننکانہ صاحب کے برادرِ عزیز جناب خالد متین صاحب (قادیانیت کے خلاف اسلام کی چلتی پھرتی تلوار) نے حکم فرمایا کہ اس رسالے کو نئے سرے سے مرتب کروں تاکہ جو چیزیں رہ گئی ہیں وہ اس میں شامل ہوجائیں۔ لاہور دفتر میں ایک رات قیام کے دوران مولانا عزیزالرحمن جالندھری مدظلہٗ، جنرل سیکریٹری عالمی مجلس تحفظِ ختمِ نبوّت، فقیر راقم الحروف اور جناب متین خالد صاحب نے باہمی مشورہ کرکے واقعات کا انتخاب بھی کرلیا، اس گفتگو کے اہم نکات نوٹ کرکے مکرّم متین صاحب نے ملتان دفتر بھجوادئیے، رمضان المبارک میں نسبتاً مصروفیت کم ہوتی ہے،

333

فقیر نے اسے نئے سرے سے مرتب کرنا شروع کیا، الحمدللہ! واقعات پہلے سے دو چند ہوگئے، متین صاحب کے ارسال کردہ نکات کو جب شامل کرنے کا وقت آیا تو وہ فقیر کے کاغذات میں گم پائے گئے۔

کاش! وہ شامل ہوجاتے تو قابلِ قدر اضافہ ہوجاتا، مگر اس وقت جو کچھ ہوسکا، حاضرِ خدمت ہے، اس دفعہ صرف مبشرات پر اِکتفا نہیں کیا گیا، بلکہ تحریک سے متعلق مجاہدانہ واقعات اور تحریک کے ساتھ غداری کرنے والوں کے انجام سے متعلق بھی واقعات کا ذکر کیا گیا ہے، اس لئے اس کا نام ’’ایمان پروَر یادیں‘‘ تجویز کیا ہے۔ اہلِ حدیث و شیعہ حضرات علمائے لدھیانہ کے ’’مبشرات‘‘ اور واقعات کا علم نہ ہونے کے باعث اس کا تذکرہ رہ گیا ہے، ورنہ ان کی اس محاذ پر خدمات سے کون انکار کرسکتا ہے؟ قدرت کو منظور ہوا تو آئندہ کے ایڈیشن میں اس کی تلافی کی جائے گی۔

اے کاش! کہ شائع ہونے کے بعد سب سے پہلے ڈاکٹر قاری محمد صولت نواز، ڈاکٹر خان عبدالقیوم، ڈاکٹر حافظ محمد اسلم فیصل آبادی، مکرّم عبدالرحمن یعقوب باوا کراچی، ایڈیٹر ’’ہفت روزہ ختمِ نبوّۃ‘‘، چوہدری غلام نبی گوجرانوالہ، چوہدری عبداللطیف ساہیوال، جناب سیّد انور شاہ، جناب فیاض حسن سجاد کوئٹہ، جناب عبدالخالق علوی واہ کینٹ، جناب قاضی ندیم ایبٹ آباد، مکرّم طہ قریشی ملتان، جناب صابری عرب امارات، جناب زاہد منیر، مولانا محمد اکرم طوفانی سرگودھا، مکرّم مولانا احمد میاں حمادی ٹنڈوآدم، قاری شبیر احمد، مولانا خدابخش، قاری محمد اسحاق، چوہدری محمد شفیع ربوہ (چناب نگر)، سیّد علمدار حسین شاہ و قاری نذیر احمد صاحب لاہور، مخدوم زادہ طارق محمود صاحب اور اقبال میاں اس کو پڑھیں اور اس کے تقاضوں کو پورا کریں کہ یہ کام ان کے کرنے کا ہے۔

طالبِ دُعا

اللہ وسایا

۲۱؍۹؍۱۴۰۶ھ

۳۱؍۵؍۱۹۸۶ء

334

پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ:

حجاز کے مبارک سفر مکہ معظمہ میں حاجی اِمداداللہ صاحبؒ سے ملاقات ہوئی، جو ایک صحیح صاحبِ کشف انسان تھے، جب ان کو میری آزاد اور بے باک طبیعت کا علم ہوا تو شدید اِصرار اور تاکید سے حکم دیا کہ چونکہ عنقریب ہندوستان میں ایک فتنہ ظاہر ہونا ہے، لہٰذا تم وطن واپس جاؤ، اگر بالفرض تم خاموش بھی رہوگے تو بھی یہ فتنہ ترقی نہ کرسکے گا اور اس طرح ملک میں آرام رہے گا۔ چنانچہ میں پورے وثوق کے ساتھ حاجی صاحبؒ کے اس کشف کو مرزا قادیانی کے فتنے سے تعبیر کرتا ہوں۔

اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی خواب میں مجھے حکم دیا کہ: ’’یہ مرزا قادیانی غلط تأویل کی قینچی سے میری احادیث کے ٹکڑے ٹکڑے کر رہا ہے اور تو خاموش ہے؟‘‘

اس کے بعد جو کچھ لکھا گیا ہے وہ عام لوگوں کی خیرخواہی کے لئے لکھا گیا ہے، اس لئے کہ اس کے فاسد عقائد لوگوں کے لئے زہرِ قاتل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ کتاب و سنت، اَئمہ کرام اور اُمتِ مرحومہ کے علماء کے صحیح عقائد کی بنیاد پر اس کی حقیقت کو آشکارا کردیا ہے۔

(ملفوظات طیبہ ص:۱۲۶، ۱۲۷)

سیّدنا مہر علی شاہؒ نے اپنے حجرے میں آنکھیں بند کئے، بحالتِ بیداری دیکھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم قعدہ کی حالت میں جلوس فرما ہیں، حضور علیہ السلام سے چار بالشت کے فاصلے پر پیر صاحب باادب بیٹھے ہیں، لیکن مرزا غلام احمد اس جگہ سے دُور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف پیٹھ کئے بیٹھا ہے۔

(تحریکِ ختمِ نبوّت ص:۵۰)

مرزا کی دجال سے مشابہت:

حضرت پیر صاحبؒ قبلہ نے سیف چشتیائی میں دجال کی صورت سے متعلق اپنے بچپن کا ایک خواب لکھا ہے کہ وہ مرزا صاحب سے ہوبہو مشابہت رکھتا تھا۔

(تحریکِ ختمِ نبوّت ص:۵۰)

335

مرزا قادیانی کو مناظرے کا چیلنج:

پیر صاحبؒ نے مرزا قادیانی کو مناظرے کا چیلنج دیا، ۲۵؍اگست ۱۹۰۰ء لاہور بادشاہی مسجد مقامِ مناظرہ طے پایا، مگر مرزا قادیانی کو پیر صاحبؒ کے سامنے آنے کی جرأت نہ ہوئی، پیر صاحب کو قدرت نے ایسا رُعب اور جلال نصیب کیا تھا کہ مرزا قادیانی ان کا نام سن کر تھرتھر کانپنے لگ جاتا تھا۔

مرزائیوں کا مباہلے سے فرار:

قادیانی جماعت کے ایک وفد نے حضرت قبلۂ عالم کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا کہ: ’’آپ مرزا صاحب سے مباہلہ کریں، ایک اندھے اور ایک لنگڑے کے حق میں مرزا صاحب دُعا کرتے ہیں، دُوسرے اندھے اور اپاہج کے حق میں آپ دُعا کریں، جس کی دُعا سے اندھا اور لنگڑا ٹھیک ہوجائیں، وہ سچا ہے، اس طرح حق و باطل کا فیصلہ ہوجائے گا۔‘‘ حضرت قبلۂ عالم نے جواب دیا کہ: ’’اگر مردے بھی زندہ کرنے ہوں تو آجاؤ!‘‘ یہ جواب پاکر وفد چلا گیا، پھر کچھ پتا نہ چلا کہ مرزا صاحب اور ان کے حواری کہاں ہیں۔۔۔؟

(تحریکِ ختمِ نبوّت ص:۵۲)

دو رُوحانی چیلنج:

جب مرزا صاحب کی تعلّیاں بہت بڑھ گئیں، تو حضرت قبلۂ عالم نے اُن کی ’’ملہمانہ‘‘ شوخیوں کا تجزیہ کرتے ہوئے دو رُوحانی چیلنج کئے: ایک یہ کہ کاغذ پر قلم چھوڑ دو، سچا قلم خودبخود چلے گا اور تفسیرِ قرآن لکھ دے گا۔ دُوسرا یہ کہ حسبِ وعدہ شاہی مسجد میں آؤ، ہم دونوں اُس کے مینار پر چڑھ کر چھلانگ لگاتے ہیں، جو سچا ہوگا وہ بچ جائے گا، جو کاذب ہوگا، مرجائے گا، مرزا صاحب نے جواب میں اس طرح چپ سادھی، گویا دُنیا سے رُخصت ہوگئے ہیں۔

(تحریکِ ختمِ نبوّت ص:۵۲)

336

صاحب زادہ محی الدین گولڑویؒ اور سیّد عطاء اللہ شاہ بخاریؒ:

بابوجی سیاسی انسان بالکل ہی نہ تھے، ان کا وجود ایک دِینی تحریک تھا، وہ نگاہ کرتے اور اِنسان اپنے اندر ایک انقلاب محسوس کرتا، وہ بات چیت کے انسان نہ تھے، ان کا ختمِ نبوّت کے مسئلے سے موروثی تعلق تھا، اس غرض سے شخصاً کسی تحریک، تنظیم یا مؤتمر میں شامل نہ ہوتے، لیکن سفر و حضر میں دُعاگو رہتے۔ ۱۹۵۳ء کی تحریک میں علماء و صلحاء کی یکجہتی کے لئے لاہور میں مجلسِ مشاورت کا اجلاس ہوا تو آپ پہلی دفعہ مدعوین کی زبردست خواہش پر تشریف لائے، آپ کا فقید المثال استقبال کیا گیا، سیّد عطاء اللہ شاہ بخاریؒ آپ سے کچھ دیر بعد تشریف لائے اور اگلی صف کی ایک کرسی پر بیٹھ گئے، کسی نے کہا: ’’شاہ جی! وہ اُدھر پیچھے حضرت صاحب زادہ محی الدین شاہ گولڑہ شریف فروکش ہیں۔‘‘ شاہ صاحبؒ نے پلٹ کر دیکھا، فوراً آگے بڑھے، آپ کے گھٹنوں کو ہاتھ لگایا، جھک گئے، کہنے لگے: ’’حضرت! آپ آگئے، بحمداللہ! ہماری نصرت قریب ہوگئی ہے، میرے سامنے اعلیٰ حضرت ہیں، ہم تو انہی کا مشن لے کر چل رہے ہیں۔‘‘ شاہ جیؒ نے دُعا کرائی، بابوجی نے دُعا کی، بابوجی ہی کا فیضان تھا کہ مسلمانوں کے مختلف مکاتبِ فکر جو بعض فروعی جھمیلوں کے باعث کبھی اِکٹھا نہ ہوتے تھے، اس تحریک میں اِکٹھے ہوکر قادیانیت سے ٹکرا گئے، یہ پہلا موقع تھا کہ اس تحریک میں دیوبندی، بریلوی، حنفی، اہلِ حدیث اور شیعہ ایک ہوکر قادیانیت کے خلاف متحدالعمل ہوئے۔

(تحریکِ ختمِ نبوّت ص:۵۸)

حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ:

قطب العالم زبدۃ العارفین حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ نے تحریر و تقریر اور فتاویٰ کے ذریعے اس فتنۂ عظیم کی مقدور بھر تردید فرمائی اور اپنے شاگردانِ رشید و متوسلین حضرات کو اس اِستیصال کی وصیت فرمائی۔

(رُوئیداد مجلس ۱۹۸۲ء ص:۷)

337

حضرت مولانا محمد علی مونگیریؒ:

حضرت مولانا محمد علی مونگیریؒ صاحبِ کشف و کرامت بزرگ، صوبہ بہار سے تعلق رکھتے تھے، آپؒ کا زیادہ وقت وظائف، عبادت و مجاہدات میں گزرتا تھا، انہوں نے متعدّد بار ذکر کیا کہ: میں عالمِ رُؤیا میں حضور سروَرِ کائنات، فخرِ موجودات، خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے دربارِ عالی میں پیش ہوا، نہایت ادب و احترام سے صلوٰۃ و سلام عرض کیا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

’’محمد علی! تم وظیفے پڑھنے میں مشغول ہو اور قادیانی میری ختمِ نبوّت کی تخریب کر رہے ہیں، تم ختمِ نبوّت کی حفاظت اور قادیانیت کی تردید کرو۔‘‘

حضرت مولانا رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ: ’’اس مبارک خواب کے بعد نمازِ فرض، تہجد اور دُرود شریف کے علاوہ تمام وظائف ترک کردئیے، دن رات ختمِ نبوّت کے کام میں منہمک ہوگیا۔‘‘

(رُوئیداد مجلس ۱۹۸۲ء ص:۱۴)

اسی درمیان یہ واقعہ بھی پیش آیا کہ مراقبے میں مولاناؒ کو یہ اِلقا ہوا کہ: ’’یہ گمراہی (قادیانیت) تیرے سامنے پھیل رہی ہے اور تو ساکت ہے، اگر قیامت کے دن باز پُرس ہوئی تو کیا جواب ہوگا۔۔۔؟‘‘

(سیرت مولانا سیّد محمد علی مونگیریؒ ص:۲۹۷)

حضرت مولانا سیّد انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ:

مولانا محمد انوری لائل پوری اپنی تألیف کمالاتِ انوری میں رقم طراز ہیں کہ ایک بار صبح کا اُجالا پھیلنے سے پہلے وزیرآباد کے اسٹیشن پر گاڑی کے انتظار میں آپ تشریف رکھتے تھے، تلامذہ اور معتقدین کا ہجوم اِردگرد جمع تھا، وزیرآباد اسٹیشن کا ہندو اسٹیشن ماسٹر ہاتھ میں بڑا لیمپ لئے ہوئے ادھر سے گزرا، حضرتؒ پر نظر پڑی تو رُک گیا اور غور سے دیکھتا رہا، پھر بولا کہ: ’’جس مذہب کے یہ عالم ہیں، وہ مذہب جھوٹا نہیں ہوسکتا!‘‘ اور اسی وقت آپؒ کے ہاتھ پر اِسلام قبول کرلیا۔

338

اسی طرح کا ایک واقعہ پنجاب میں بھی پیش آیا، جب آپؒ کی نورانی صورت دیکھ کر ایک غیرمسلم کو اِیمان کی دولت نصیب ہوئی۔

غیرمسلم، آپؒ کا چہرہ دیکھتے ہی پکار اُٹھتے کہ: ’’اگر چودھویں صدی کے ایک عالمِ دِین کا چہرہ اتنا منوّر ہے، تو پھر ان کا نبی کتنا خوبصورت اور منوّر چہرے والا ہوگا!‘‘

مظفرنگر، بھارت کے ایک مناظرے میں آریہ مبلغ نے مولانا السید انور شاہؒ کے چہرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ:

’’ان کے چہرے ہی پر اِسلام برستا ہوا دِکھائی دیتا ہے۔‘‘

(نقشِ دوام ص:۱۱)

ختمِ نبوّت کے محاذ کے نگران:

آپؒ کی وفات کے حالات بیان کرتے ہوئے مصنفِ ’’نقشِ دوام‘‘ نے صفحہ:۵۰، ۵۱ پر لکھا: ’’میری خالہ کا بیان ہے، جن کی زندگی کے ساتھ اَسّی سال کی طویل صداقتِ بیانی ایک شاہدِ عدل کی حیثیت رکھتی ہے، کہ میں نے گھر میں جلتے ہوئے چراغ کو پست کیا، تو گھر کا پورا صحن سفید پوش انسانوں سے جن کے سروں پر عربی عمامے تھے، لبریز ہوگیا، مجھے کبھی اپنی آنکھوں پر شبہ ہوتا اور کبھی اس منظر پر حیرت ہوتی۔ خدا کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں تمام انسانوں کی جان ہے! نہ میری آنکھیں دیکھنے میں غلطی کر رہی تھیں اور نہ صورتِ واقعہ کے بیان میں کسی مبالغے سے کام لیا، (حضرت شاہ صاحبؒ) ابتدا میں ’’حَسْبُنَا اﷲ‘‘ اور توحید کا پاکیزہ وِرد کرتے ہوئے چارپائی پر قبلہ رُخ ہوگئے، وہ مقدس ہجوم جس نے گھر کے ماحول کو لبریز کر رکھا تھا، کوئی چیز ہاتھوں میں تھام کر بلند آواز سے کلمہ طیبہ کا وِرد کرتا ہوا گھر سے باہر جارہا ہے، میں نے جھک کر دیکھا تو پیشانی پسینہ آلود تھی اور شاہ صاحبؒ مرحوم ساکت و صامت لیٹے ہوئے تھے، ۲؍صفر ۱۳۵۲ھ تقریباً نصف شب کے قریب کائناتِ علم کا یہ

339

سانحہ عظیم پیش آیا۔‘‘

آپؒ نے تو ختمِ نبوّت کے محاذ پر اس تندہی سے کام کیا کہ بجاطور پر صلحائے اُمت کہتے ہیں کہ: ’’حضرت شاہ صاحبؒ ختمِ نبوّت کے محاذ کی نگرانی کے لئے تکوینی طور پر متعین تھے۔‘‘ ’’عقیدۃ الاسلام فی حیات عیسیٰ علیہ السلام‘‘، ’’التصریح بما تواتر فی نزول المسیح علیہ السلام‘‘، ’’تحیۃ الاسلام فی حیات عیسیٰ علیہ السلام‘‘، ’’اِکفار الملحدین‘‘، ’’خاتم النبیّین‘‘ رَدِّ قادیانیت پر آپؒ کی شاہکار یادگار ہیں۔

’’انجمن خدام الدین‘‘ لاہور کے جلسے پر حضرت سیّد عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کو ’’اَمیرِ شریعت‘‘ کا خطاب دے کر اس فتنے کے اِستیصال کے لئے مقرّر کیا۔

قادیانیت کی تردید:

مفکرِ پاکستان علامہ اقبال کو توجہ دِلائی، تیار کیا، جنھوں نے پھر کشمیر کمیٹی سے مرزا بشیرالدین محمود کو نکلوایا۔ آپ نے اپنے آخری قیام لاہور کے ایام میں موچی دروازہ لاہور کے قریباً تیس ہزار کے اِجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ’’جو مسلمان قیامت کے دن حضور علیہ السلام کی شفاعت چاہتا ہے، وہ قادیانیت کی تردید کا کام کرے، کیونکہ اس تحریک کا مقصد حضور علیہ السلام کی نبوّت کو مٹاکر قادیانی نبوّت کو فروغ دینا ہے!‘‘

اگر ہم ناموسِ پیغمبر کا تحفظ نہ کرپائے تو گلی کا کتا بھی ہم سے اچھا ہے:

مولانا محمد انوری نے لکھا: ۱۹۳۳ء بہاولپور جامع مسجد میں حضرت مولانا انور شاہؒ نے تقریر فرمائی: ’’حضرات! میں نے ڈابھیل جانے کے لئے سامانِ سفر باندھ لیا تھا کہ یکایک مولانا غلام حمد شیخ الجامعہ کا خط دیوبند موصول ہوا کہ شہادت دینے کے لئے بہاولپور آئیے، چنانچہ اس عاجز نے ڈابھیل کا سفر ملتوی کردیا اور بہاولپور کا سفر کیا، یہ خیال کیا کہ ہمارا نامۂ اَعمال تو سیاہ ہے ہی، شاید یہی بات میری نجات کا باعث

340

بن جائے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جانب دار ہوکر بہاولپور میں آیا تھا۔‘‘ بس اس فرمانے پر تمام مسجد میں چیخ و پکار پڑگئی، لوگ دھاڑیں مار مار کر، پھوٹ پھوٹ کر رو رہے تھے، خود حضرتؒ پر بھی ایک عجیب کیفیتِ وجد طاری تھی۔ ایک مولوی (عبدالحنان ہزاروی) نے اختتامِ وعظ پر فرمایا کہ: حضرت شاہ صاحب کی شان ایسی ہے اور آپ ایسے بزرگ ہیں ۔۔۔۔ وغیرہ۔ حضرتؒ فوراً کھڑے ہوگئے اور فرمایا: ’’حضرات! ان صاحب نے غلط کہا ہے، ہم ایسے نہیں، بلکہ ہم سے تو گلی کا کتا بھی اچھا ہے، ہم اس سے گئے گزرے ہیں، وہ اپنی گلی و محلے کا حقِ نمک خوب اَدا کرتا ہے، ہمارے ہوتے ہوئے لوگ ناموسِ رسالت پر حملہ کرتے ہیں اور ہم حق غلامی و اُمتی کا اَدا نہیں کرتے، اگر ہم ناموسِ پیغمبر کا تحفظ کریں گے تو قیامت کے دن شفاعت کے مستحق ٹھہریں گے، تحفظ نہ کیا، یا نہ کرسکے تو ہم مجرم ہوں گے اور کتے سے بھی بدتر۔۔۔!‘‘

(کمالاتِ انوری ص:)

مرزا قادیانی جہنم میں جل رہا ہے!

جلال الدین شمس مرزائی مبلغ کو ۱۹۳۳ء بہاولپور عدالت میں فرمایا کہ: ’’اگر اس طرح نہیں مانتے تو عدالت میں کھڑے کھڑے دِکھاسکتا ہوں کہ مرزا قادیانی جہنم میں جل رہا ہے۔۔۔!‘‘

(نقشِ دوام ص:۱۲۹)

مقدمۂ بہاولپور میں آپؒ کے تاریخی بیان کے بعد فیصلے کا مرحلہ تھا، جو ظاہر ہے کہ کچھ عرصہ بعد ہونا تھا، شاہ صاحبؒ نے واپس ڈابھیل کا سفر کرنا تھا، تو اپنے تلامذہ کو وصیت کی کہ: ’’اگر فیصلہ میری زندگی میں ہوا تو خود سن لوں گا اور اگر میری وفات کے بعد ہو تو اس فیصلے کی اِطلاع میری قبر پر آکر دی جائے تاکہ میری رُوح کو تسکین ہو کہ مرزا اور اس کے متبعین کو کافر تسلیم کرلیا گیا ہے۔‘‘ (چنانچہ مولانا محمد صادق بہاولپوری نے اس وصیت پر عمل کیا)۔

(ملخصاً نقشِ دوام ص:۱۹۰)

341

فتنۂ قادیانیت کے اجراء پر اِضطراب و بے چینی:

’’جب یہ تاریک فتنہ پھیلا تو مصیبتِ عظمیٰ اور اِضطراب کی ایک ایسی کیفیت طاری ہوئی کہ کسی کروَٹ چین نہ آتا تھا، رات کی نیند حرام ہوگئی، مجھے قلق تھا کہ قادیانی نبوّت سے دِین میں ایسا رخنہ واقع ہوجائے گا جس کو بند کرنا دُشوار ہوگا، اس قلق و اِضطراب و بے چینی میں چھ مہینے گزر گئے، تاآنکہ اللہ تعالیٰ نے میرے دِل میں ڈالا کہ عنقریب اس فتنے کا شور و شغب اِن شاء اللہ جاتا رہے گا اور اس کی قوّت و شوکت ختم ہوجائے گی، چنانچہ ایک طویل مدّت کے بعد میرا اِضطراب رفع ہوا، سکونِ قلب نصیب ہوا۔‘‘

حضرت بنوریؒ نے ’’نفخۃ العنبر‘ ‘ ص:۲۰۴ پر لکھا ہے کہ:

’’حضرت شیخنا الانور فرمایا کرتے تھے کہ: جب میں نے ’’عقیدۃ الاسلام فی حیات عیسیٰ علیہ السلام‘‘ کتاب لکھی تو مجھے توقع پیدا ہوگئی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت کے دن اس تعلق کے باعث شفاعت فرمائیں گے۔

ختمِ نبوّت کا کام شفاعت کا ذریعہ:

حضرت مولانا شمس الحق افغانی فرماتے ہیں کہ: حضرت مولانا سیّد محمد انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ اپنی وفات سے تین دن پہلے اپنی چارپائی دیوبند کی جامع مسجد کے صحن میں لائے، تمام طالب علموں و اساتذہ، عملے کو مخاطب کرکے فرمایا: ’’آپ سب حضرات اور جنھوں نے مجھ سے حدیث شریف پڑھی، ان کی تعداد دو ہزار کے قریب ہوگی، سب سے کہتا ہوں کہ اگر نجاتِ اُخروی و شفاعتِ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے ہو تو ختمِ نبوّت کا کام کرو، آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کا ذریعہ ہے۔ مرزا قادیانی سے تمہیں جتنی نفرت ہوگی اتنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تمہیں قرب نصیب ہوگا، اس لئے کہ دوست کا دُشمن، دُشمن ہوتا ہے، جس طرح

342

دوست کا دوست، دوست ہوتا ہے۔‘‘ آپؒ کے پیغام وصیت نامہ جو بعد میں ’’دعوتِ حفظ الایمان‘‘ کے نام سے شائع ہوا، مولانا احمد رضا بجنوری نے پڑھ کر سنایا، سامعین عوام و علماء پر خاص کیفیت طاری تھی، آپؒ کمزوری کے باعث دیوار سے پشت لگاکر لیٹے رہے۔

مرزا قادیانی مردُودِ اَزلی ہے:

علامہ انور شاہؒ نے دارالعلوم دیوبند کے ایک جلسۂ عام کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ’’غلام احمد قادیانی بلاشبہ مردُودِ اَزَلی ہے، اس کو شیطان سے زیادہ لعین سمجھنا جزوِ ایمان ہے، شیطان نے ایک ہی نبی کا مقابلہ کیا تھا، اس خبیث اور بدباطن نے جمیع انبیاء علیہم السلام پر اِفتراپردازی کی ہے۔‘‘

(تحریکِ ختمِ نبوّت ص:۷۰)

حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ:

حکیم الاُمت شاہ محمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں مولانا لال حسین اختر،ؒ مرزائیت ترک کرنے کے بعد حاضر ہوئے، مرزائی مبلغین کی مولانا لال حسینؒ کے ہاتھوں شکست و ریخت کا سن کر خوشی کا اظہار فرمایا، دُعا کے بعد فرمایا: ’’مولانا! آپ تحفظِ ختمِ نبوّت و مرزائیت کی تردید کرکے عظیم دِینی فریضہ سرانجام دے رہے ہیں، یہ دونوں اُمور عبادت ہیں، ان میں شرک کا شائبہ نہ ہونا چاہئے، کیونکہ جس عبادت میں شرک ہو اللہ تعالیٰ اُسے قبول نہیں فرماتے۔‘‘

(رُوئیداد مجلس ۱۹۸۲ء ص:۷)

نفس کو رِیا سے بچانے کا طریقہ:

مولانا لال حسین اخترؒ نے حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ سے عرض کیا کہ: ’’حضرت! میں ختمِ نبوّت پر وعظ کرتا ہوں، مگر ہزار اِحتیاط کے باوجود جب کبھی تقریر میں نعرہ لگتا ہے تو دِل میں یہ خیال آجاتا ہے کہ تقریر سے لوگ خوش ہیں اور نفس رِیا کا شکار ہوجاتا ہے، اس کا علاج تجویز فرمائیں۔‘‘ اس پر آپؒ نے فرمایا: ’’مولانا اختر!

343

آپ تقریر سے قبل نیت کرلیا کریں: ’’یا اللہ! مجھ سے ایسا وعظ ہوجائے جس سے کہ یہ تیرے نیک بندے خوش ہوجائیں، پھر ان کی خوشی سے آپ بھی مولائے کریم خوش ہوجائیں۔‘‘ کیونکہ مسلمان نیک لوگوں کو خوش کرنا عبادت ہے، اس عبادت سے رَبِّ کریم کو راضی کرنا بھی عبادت ہوگا، اس طرح آپ کی تقریر رِیا سے بچ جائے گی۔‘‘

حضرت تھانویؒ کی کرامت:

مجلس کے اختتام پر علیحدہ لے جاکر حضرت تھانویؒ نے مولانا اخترؒ سے فرمایا کہ: ’’مولوی صاحب! ایک بات کہتا ہوں، مگر آپ وعدہ کریں کہ انکار نہ کریں گے۔‘‘ مولانا اخترؒ نے عرض کی کہ: ’’حضرت! ارشاد فرمائیں، تعمیل ہوگی۔‘‘ حضرت تھانویؒ نے فرمایا کہ: ’’میں ماہانہ کچھ نہ کچھ آپ کو ڈاک کے ذریعے رقم ہدیۃً بھجواؤں گا، آپ انکار نہ کریں گے!‘‘ مولانا اخترؒ فرماتے کہ: ’’اس کے بعد ہر ماہ حضرتؒ کی طرف سے منی آرڈر ملنا شروع ہوگئے، کسی ماہ ناغہ ہوا تو اگلے ماہ دونوں ماہ کا اِکٹھا مل جاتا، غرضیکہ اس طرح آپؒ کی زندگی میں یہ معاملہ چلتا رہا۔ جس ماہ آپؒ کا انتقال ہوا، اُس سے اگلے ماہ سردار احمد خان پتافی رئیس جام پور نے ماہ بماہ مجھے ہدیہ بھجوانا شروع کردیا، حالانکہ اس سے قبل انہوں نے کبھی ایسا نہ کیا تھا، جس ماہ سردار صاحب کا انتقال ہوا، اُس سے اگلے ماہ میاں خان محمد صاحب چوکیر، ضلع سرگودھا نے ماہ بماہ میری اعانت شروع کردی، حالانکہ اس سے قبل انہوں نے ایسا نہ کیا تھا، جب میاں صاحب کا انتقال ہوا تو مولانا محمد علی جالندھریؒ نے اتنا میری تنخواہ میں اضافہ کردیا۔‘‘ آپؒ فرماتے تھے کہ: ’’جو حضرت تھانویؒ نے میرا وظیفہ مقرّر کیا تھا، ان کی کرامت ہے کہ ان کی وفات کے بعد بھی بند نہیں ہوا، بلکہ مختلف ذرائع سے ملتا رہا۔‘‘

ختمِ نبوّت میں شمولیت کی رُکنیت فیس:

حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں مولانا خیر محمد جالندھریؒ کے ہمراہ

344

سیّد عطاء اللہ شاہ بخاریؒ حاضر ہوئے، حضرت شاہ صاحبؒ نے فرمایا کہ: ’’حضرت! شعبۂ تبلیغ احرار اسلام، قادیان میں تبلیغی و تدریسی خدمات سرانجام دے رہا ہے، مبلغینِ ختمِ نبوّت کی ایک جماعت، قادیان اور اس کے مضافات میں تحفظِ ختمِ نبوّت اور تردیدِ قادیانیت کا فریضہ سرانجام دے رہی ہے، اس کا ملکی سیاست سے قطعاً کوئی تعلق نہیں۔‘‘ حضرت تھانویؒ نے فرمایا کہ: ’’ختمِ نبوّت کے شعبے میں شمولیت کے لئے فیس رُکنیت کا کیا ہے؟‘‘ حضرت شاہ صاحبؒ نے فرمایا کہ: ’’سالانہ ایک روپیہ!‘‘ اس پر حضرت تھانویؒ نے پچّیس روپے عنایت فرمائے کہ: ’’میری طرف سے شعبۂ ختمِ نبوّت میں شمولیت کے لئے پچّیس سال کی فیس رُکنیت ہے، اگر اس عرصے میں فوت ہوگیا تو ختمِ نبوّت کے رضاکاروں میں میرا بھی شمار ہوگا۔‘‘ چنانچہ اللہ تعالیٰ کی شان! کہ آپؒ اسی عرصے میں فوت ہوئے۔

(روایت: حضرت مولانا محمد عبداللہؒ، شیخ الحدیث جامعہ رشیدیہ)

غازی علم الدین شہیدؒ:

۱۹۲۷ء میں مہاشے راجپال نے رسولِ اکرم خاتم النبیّین صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی، جس سے پورے ہندوستان کے مسلمانوں پر قیامت ٹوٹ پڑی، پورا ہندوستان ایک شعلۂ جوالہ کی طرح بھڑک اُٹھا، عدالتِ عالیہ کے جسٹس دلیپ سنگھ نے مہاشے راجپال کو قانون کے اصطلاحی سقم پر رہا کردیا، حالات نے خطرناک صورت اختیار کرلی، لاہور میں حضرت اَمیرِ شریعتؒ کے احتجاجی جلسے کا اعلان کردیا گیا، حکومت نے شہر میں دفعہ ۱۴۴ کا نفاذ کرکے جلسے کو بند کرنا چاہا، مگر حضرت اَمیرِ شریعتؒ نے پورے وقتِ مقرّرہ پر جلسہ کیا، اسی جلسے میں حضرت مفتی کفایت اللہ صاحبؒ، مولانا احمد سعید دہلویؒ بھی شریک تھے، جلسہ ایک اِحاطے میں کیا گیا، اِحاطے کے دروازے پر مسلح پولیس کا پہرہ تھا، حضرت اَمیرِ شریعتؒ نے تقریر شروع کی، آپؒ نے فرمایا: ’’آج آپ لوگ جناب فخرِ رُسل خاتم النبیّین صلی اللہ علیہ وسلم کی عزّت و ناموس

345

کو برقرار رکھنے کے لئے جمع ہوئے ہیں، آج جنسِ انسان کو عزّت بخشنے والے کی عزّت خطرے میں ہے، جس کی دی ہوئی عزّت پر تمام موجودات کو ناز ہے، آج مفتی کفایت اللہ اور مولانا احمد سعید کے دروازے پر اُمّ المؤمنین بی بی عائشۃ الصدیقہؓ اور اُمّ المؤمنین خدیجۃ الکبریٰؓ آئیں اور فرمایا کہ: ہم تمہاری مائیں ہیں، کیا تمہیں معلوم نہیں کفار نے ہمیں گالیاں دی ہیں؟‘‘ پھر اس زبردست کروَٹ کے ساتھ لوگوں کو مخاطب کرکے فرمایا: ’’ارے دیکھو تو! اَماں عائشہ دروازے پر تو نہیں کھڑیں؟‘‘ جلسہ ہل گیا، کہرام مچ گیا اور لوگ دھاڑیں مار مار کر رونے لگے اور لوگوں کی نگاہیں بے ساختہ دروازے کی جانب اُٹھ گئیں، فرمایا: ’’دیکھو دیکھو! سبز گنبد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تڑپ اُٹھے ہیں، خدیجہؓ و عائشہؓ پریشان ہیں، اُمہات المؤمنینؓ آج تم سے اپنے حق کا مطالبہ کرتی ہیں، عائشہؓ پکارتی ہیں، وہی عائشہؓ جنھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیار سے ’’حمیرا‘‘ کہہ کر پکارتے تھے، جنھوں نے حبیبِ پاک کو وصال کے وقت مسواک چباکر دی تھی، اُن کے ناموس پر قربان ہوجاؤ، سچے بیٹے ماں کے ناموس کے لئے کٹ مرا کرتے ہیں، وہ دیکھو! سیّدہ فاطمہؓ فرماتی ہیں کہ: ہے کوئی باغیرت مسلمان جو میرے اَبا کا انتقام لے؟‘‘

فرمایا: ’’مسلمانو! یا توہین سننے والے کان نہ رہیں، یا لکھنے والا ہاتھ نہ رہے اور بکنے والی زبان نہ رہے۔‘‘

صبح ترکھان کا بیٹا غازی علم الدین اُٹھا، جاکر راجپال کا کام تمام کردیا۔

غازی عبدالرحمن منتظم، مولانا حبیب الرحمن صدر، سیّد عطاء اللہ شاہ بخاریؒ مقرّرین پر کیس چلا، ایک ایک سال کے لئے ہر سہ حضرات حوالہ زندان کردئیے گئے۔

غازی علم الدین پر قتل کا مقدمہ چلا، پھانسی کا حکم ہوا اور وہ تختۂ دار پر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی عزّت و ناموس کے تحفظ میں لٹکادئیے گئے۔ بعد میں حضرت قاضی احسان احمد صاحب اسی جیل میں گرفتار ہوکر گئے، اتفاق سے آپ کو اسی کوٹھڑی

346

میں بند کیا گیا، جس میں پہلے غازی علم الدین شہیدؒ رہ چکا تھا، جیل وارڈن نے کہا: ’’قاضی صاحب! تم بہت خوش نصیب ہو، یہ بہت ہی برکت والی کوٹھڑی ہے‘‘ قاضی صاحب کے اِستفسار پر اس نے بتایا کہ: ’’صاحب! غازی علم الدینؒ اس کوٹھڑی میں تھا، تو ایک رات کوٹھڑی روشن ہوگئی، بقعۂ نور بن گئی، میں پہرے پر تھا، میں حیران و پریشان دوڑا ہوا آیا کہ کہیں ملزم اپنے آپ کو آگ تو نہیں لگارہا، مگر وہ تو بڑے اطمینان سے اس دُنیا سے گم صم تشریف رکھتے تھے، میں حیران کھڑا رہا، کافی دیر بعد جگایا، پوچھا تو میرے اصرار، منّت و سماجت پر غازی مرحوم نے کہا کہ: خواب میں رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تھے، فرمایا: علم دین! ڈَٹ جاؤ، میں حوضِ کوثر پر آپ کا انتظار کر رہا ہوں!‘‘

( ہفت روزہ ’’لولاک‘‘ فیصل آباد ۳؍جنوری ۱۹۸۳ء)

غازی علم الدین کی خوش بختی آپ نے ملاحظہ کی، اب مرزا بشیرالدین کی وہ بدزبانی جو اس واقعے پر سیخ پا ہوکر اُس نے کہی، ملاحظہ ہو:

’’وہ نبی بھی کیا نبی ہے، جس کی عزّت بچانے کے لئے خون سے ہاتھ رنگنے پڑیں، وہ لوگ جو قانون کو اپنے ہاتھ میں لیتے ہیں، وہ مجرم ہیں اور اپنی قوم کے دُشمن ہیں۔‘‘

(’’الفضل‘‘ ۱۹؍اپریل ۱۹۲۹ء)

اور طرفہ تماشا یہ کہ جب انگریز کی حمایت کا مرحلہ آئے تو وہی حرام، حلال اور ناجائز، جائز بن جاتا ہے:

’’ہمارے خاندان نے سرکارِ انگریزی کی راہ میں جو اپنے خون اور جان دینے سے فرق نہیں کیا اور نہ اب فرق ہے۔‘‘

(تبلیغ رسالت ج:۷ ص:۸۸)

ظلم کی انتہا دیکھئے! کہ رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزّت و ناموس کے تحفظ کے لئے غازی علم الدینؒ کا اِقدام ناجائز اور مرزا قادیانی کی عزّت کے لئے

347

جائز، مرزا محمود نے کہا، ملاحظہ ہو:

’’اپنے دِینی اور رُوحانی پیشوا کی معمولی ہتک بھی کوئی برداشت نہیں کرسکتا، اس قسم کی شرارتوں کا نتیجہ لڑائی جھگڑا، قتل و خونریزی بھی معمولی بات ہے، اگر اس سلسلے میں کسی کو پھانسی دی جائے اور وہ بزدلی دِکھائے تو ہم اسے ہرگز منہ نہیں لگائیں گے، بلکہ میں تو اس کا جنازہ بھی نہیں پڑھوں گا۔‘‘

(’’الفضل‘‘ ۱۱؍ ۱۹۳۰ء)

حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوری رحمۃ اللہ علیہ:

حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوری رحمۃ اللہ علیہ کے متعلق صلحائے اُمت کہتے ہیں کہ: ’’آپؒ، مولانا انور شاہ کشمیریؒ کے بعد ختمِ نبوّت کے محاذ کے تکوینی طور پر اِنچارج تھے۔‘‘ ہر وقت اس فتنۂ عمیاء قادیانیت کے خلاف پروگرام بناتے رہتے تھے، حضرت بخاری صاحبؒ، مولانا قاضی صاحبؒ، حضرت جالندھریؒ، مولانا لال حسینؒ، مولانا محمد حیاتؒ سب آپؒ کے مرید تھے اور آپؒ ہی نے ان حضرات کو اس کام پر لگایا۔ مولانا ابوالحسن علی ندویؒ سے کتاب لکھوائی، ساری عرب دُنیا میں تقسیم کرنے کا مجلس تحفظِ ختمِ نبوّت کو حکم فرمایا، ’’شہادۃ القرآن‘‘ کی طبعِ ثانی بھی آپؒ کی توجۂ خاص کا نتیجہ ہے۔ اس سلسلے میں ایک واقعہ سنییٔ! آپؒ نے وصال سے پندرہ دن پہلے مولانا لال حسین اخترؒ سے فرمایا کہ: ’’مجھے آپ سے، مولانا محمد علی، مولانا محمد حیات سے بہت زیادہ پیار ہے، اس لئے کہ آپ ختمِ نبوّت کا کام کرتے ہیں۔‘‘ مولانا لال حسین اخترؒ نے عرض کیا: ’’پڑھنے کے لئے کوئی وظیفہ ارشاد فرمائیں!‘‘ حضرتِ والاؒ نے فرمایا: ’’مولوی صاحب! آپ روزانہ کچھ دُرود شریف پڑھ لیا کریں، باقی آپ کا وظیفہ یہ ہے کہ ختمِ نبوّت پر وعظ کیا کریں، یہ چھوٹا وظیفہ نہیں، بہت بڑا وظیفہ ہے، پورے دِین

348

کا دار و مدار حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ختمِ نبوّت پر ہے۔‘‘

(رُوئیداد مجلس ۸۲ھ ص:۱۴)

فقیر راقم الحروف کو تردّد تھا کہ ۱۹۷۴ء کی تحریکِ ختمِ نبوّت میں خانوادۂ رائے پوری کا بظاہر حصہ نظر نہیں آتا، چنانچہ ۱۰؍محرّم ۱۴۰۳ھ کو جھاوریاں ایک تبلیغی جلسے میں حاضر ہوا، حضرت رائے پوری رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ مولانا قاضی عبدالقادرؒ سے ملاقات ہوئی، جو تبلیغی جماعت کے بزرگ رہنما تھے، انہوں نے ایک واقعہ سنایا کہ: جب مولانا لال حسین اخترؒ کی وفات کے بعد عارضی اِمارت مجلس تحفظِ ختمِ نبوّت کی مولانا محمد حیات کے سپرد کی گئی تو میں دِین پور شریف حضرت میاں عبدالہادی خواجۂ خواجگان کے پاس حاضر ہوا، آپ نے مجھے فرمایا کہ: ’’میں معذور ہوں، سفر کے لائق نہیں، آپ کراچی شیخ الاسلام حضرت بنوری کے پاس تشریف لے جائیں اور میری طرف سے عرض کریں کہ وہ ختمِ نبوّت جماعت کی صدارت قبول کرلیں۔‘‘ یہ ۱۹۷۳ء کی بات ہے، میں نے کراچی جاکر حضرت بنوری سے عرض کیا، آپ نے فرمایا کہ: ’’انشراح نہیں!‘‘ دُوسرے دن عرض کیا، آپ نے وہی جواب دیا، تیسرے دن حاضر ہوا تو میں نے کہا کہ: ’’میاں عبدالہادی صاحب نے یہ فرمایا نہیں، مگر میں سمجھتا ہوں کہ اُن کا وجدان کہتا ہے کہ ختمِ نبوّت کے محاذ پر کوئی اہم کام ہونے والا ہے، اس کے لئے آپ ایسی جامع شخصیت کی کنٹرولر کی حیثیت سے ضرورت ہے۔‘‘ حضرت بنوری مسکرائے، فرمایا کہ: ’’آج حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا صاحب کاندھلوی مہاجر مدنی کا بھی مدینۃ الرسول سے خط آیا ہے، انہوں نے بھی فرمایا ہے کہ: ختمِ نبوّت کی صدارت بغیر وجہ پوچھے قبول کرلو، ہر بات بتانے والی نہیں ہوتی! اس میں نہ صرف خیر ہے، بلکہ آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی تعمیل بھی ہے۔‘‘ چنانچہ حضرت بنوری کو ختمِ نبوّت جماعت کی صدارت کے لئے میں نے آمادہ کرلیا۔

۱۹۷۳ء میں شیخ الاسلام حضرت مولانا محمد یوسف بنوریؒ مجلس تحفظِ ختمِ نبوّت کے اَمیر بنے، ۱۹۷۴ء میں تحریک چل نکلی، آپؒ کو ۱۶؍جون ۱۹۷۴ء کے اجلاس فیصل آباد

349

میں آغاشورشؒ کی تحریک پر مجلسِ عمل کا بھی صدر بنادیا گیا، آپؒ نے جس بیدار مغزی سے تحریک کو کنٹرول کیا، وہ آپؒ کا حصہ ہے، آپؒ کی صدارت و سرپرستی میں چلنے والی تحریک بالآخر کامیاب ہوئی اور قادیانیوں کو غیرمسلم اقلیت قرار دے دیا گیا۔

ختمِ نبوّت کے مجاہدوں کا مقام:

آپؒ کی مجلس میں ایک دفعہ کسی نے مولانا عبدالرحمن میانوی مبلغ ختمِ نبوّت کے متعلق نازیبا بات کہہ دی، آپؒ نے کھانا ترک کردیا، بڑی منّت معذرت کی، تو فرمایا کہ: ’’تمہاری زندگی کی نیکیاں مل کر ان کی ایک رات کی جیل، جو اُنہوں نے آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کی عزّت و ناموس کے لئے کاٹی ہے، اس کا مقابلہ نہ کرسکتیں، ختمِ نبوّت کے مجاہدوں کی تکلیف سے مجھے تکلیف ہوتی ہے۔۔۔!‘‘

حضرت مولانا علامہ ابوالحسنات محمد احمد قادری:

۱۹۵۳ء کی تحریکِ ختمِ نبوّت میں مولانا محمد علی جالندھریؒ، مولانا غلام غوث ہزارویؒ، ہر دو حضرات، حضرت اَمیرِ شریعتؒ کا پیغام لے کر مولانا ابوالحسنات کی خدمت میں حاضر ہوئے کہ آپ تحریکِ ختمِ نبوّت میں ہمارا ساتھ دیں۔ آپ نے معذرت کردی، اس پر مولانا محمد علی جالندھریؒ اُٹھ کھڑے ہوئے اور فرمایا: ’’مولانا! ہم آپ کو سوادِ اعظم کا نمائندہ سمجھ کر آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کی عزّت و ناموس کا مسئلہ آپ کے پاس لائے تھے، آپ ہمیں اس طرح خالی واپس کر رہے ہیں، تحریک شروع ہے، ہم جاتے ہی نامعلوم کن کن مصائب کا شکار ہوں گے، مگر آپ اپنے طور پر سوچ رکھیں کہ کل قیامت کے دن آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا منہ دِکھائیں گے۔۔۔؟‘‘

یہ سن کر عشقِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ دیوانہ مولانا ابوالحسنات رو پڑا اور مولانا محمد علی کو فرمایا کہ: ’’مولانا! میں آپ کے ساتھ ہوں، آپ قیامت کے

350

دن آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے میری شکایت نہ کریں!‘‘

آپ کو حضرت اَمیرِ شریعتؒ نے ۱۹۵۳ء کی تحریک میں مجلسِ عمل کا سربراہ بنایا، آپ نے بڑی بہادری و جرأت سے تحریک کی قیادت کی، قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں، جیل میں آپ جب طہارت کے لئے جاتے تو اَمیرِ شریعتؒ ان کے لئے لوٹا پانی کا بھرکر لاتے، مولانا ابوالحسنات آبدیدہ ہوجاتے، ایسی محبت و اِخلاص بھری تصویر تھے کہ اس پر آسمانی فرشتے بھی رشک کرتے ہوں گے۔

جیل میں اطلاع ملی کہ آپ کے صاحب زادے مولانا خلیل احمد قادری کو پھانسی کا حکم ہوا ہے، آپ اپنے اکلوتے فرزند کے متعلق یہ خبر سن کر سجدے میں گرگئے اور عرض کیا: ’’اِلٰہی! میرے بچے کی قربانی کو منظور فرما‘‘ آپ کے صبر و اِستقلال کا نتیجہ تھا کہ نہ صرف آپ کا صاحب زادہ بلکہ مولانا مودودی، مولانا عبدالستار خان نیازی تینوں حضرات کی پھانسی کی سزا ختم کردی گئی، آپ کے بھائی مولانا عبدالحامد بدایونی بھی تحریکِ ختمِ نبوّت میں گرفتار ہوئے، سکھر و کراچی میں قید و بند کی صعوبتوں کو برداشت کیا۔

پیرانِ تونسہ شریف:

حضرت خواجہ شاہ سلیمان تونسویؒ کے جانشین خواجہ اللہ بخش تونسویؒ کے زمانے میں مرزا قادیانی نے سر اُٹھایا، آپؒ نے پورے ملک کے مریدوں کو مراسلے جاری کئے، خصوصاً متحدہ پنجاب میں مرزا کی ایسی تردید کی کہ مرزا قادیانی کا گھیرا تنگ کردیا، مرزا قادیانی کی طوفانِ بدتمیزی کے سامنے آپؒ نے اپنی جرأت سے ایسا بند تعمیر کیا کہ جس سے پوری ملتِ اسلامیہ محفوظ ہوگئی۔ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ جب مرزا قادیانی نے دعویٔ نبوّت کیا، آپؒ بیماری کے باعث صاحبِ فراش تھے، مگر یہ منحوس خبر سن کر بسترِ مرگ سے یوں اُٹھے جیسے سویا ہوا شیر انگڑائی لیتا ہے، پھر عمر بھر اس فتنے کی تردید میں نبرد آزما رہے۔

351

خونی وراثت کا صدقہ:

خواجہ نظام الدین تونسویؒ نے ۱۹۵۳ء کی تحریکِ مقدس میں بھرپور حصہ لیا، حضرت اَمیرِ شریعت سیّد عطاء اللہ شاہ بخاریؒ سے آپؒ کے قابلِ رشک مراسم تھے۔

ایک بار کوٹ قیصرانی، تحصیل تونسہ میں مجلس تحفظِ ختمِ نبوّت کے شیریں بیان مقرّر مولانا محمد شریف بہاولپوری نے رَدِّ قادیانیت پر تقریر کی، تو مرزائیوں نے آپؒ کی سخت مخالفت و توہین کی، خواجہ نظام الدینؒ کو پتا چلا، آپؒ بہت رنجیدہ ہوئے، جیسے آپؒ کی اپنی بے حرمتی ہوئی ہو، ساتھیوں سے فرمایا: ’’یہ معمولی بات نہیں! ہم قادیانیوں کو ایسی سزا دیں گے کہ زندگی بھر یاد رکھیں گے۔‘‘ چنانچہ چند روز بعد وہی قادیانی خان جب تونسہ آیا تو آپؒ نے مریدوں کو حکم دیا: ’’جہاں ملے بچھادو!‘‘ ایسی عبرت ناک سزا دی کہ قادیانی آج بھی اسے نہ بھولے ہوں گے۔

حالیہ تحریک شیرگڑھ میں آپؒ کے وارث خواجہ عبدمناف نے جس جرأتِ رندانہ کا مظاہرہ کیا، یہ سب اسی خونی وراثت کا صدقہ ہے۔

اس تحریک ۱۹۸۶ء میں مجلس تحفظِ ختمِ نبوّت کے تمام مجاہدین علماء و مشائخ کی خدمات قابلِ فخر ہیں، اسی تحریک میں جب لاٹھی چارج ہوا تو مولانا عبدالستار تونسوی سخت زخمی ہوئے، اگلی رات خواب میں آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت سے بہرہ ور ہوئے۔

پیر خواجہ سیالوی:

حضرت خواجہ محمد ضیاء الدین سیالوی نے اپنے عہد میں مرزا قادیانی کی تردید میں کوئی دقیقہ نہ اُٹھا رکھا، رَدِّ مرزائیت پر آپ کی کتاب ’’معیار المسیح‘‘ ایک شاہکار ہے۔ آپ کے صاحب زادہ خواجہ قمرالدین سیالوی مرحوم نے مجلس تحفظِ ختمِ نبوّت کے زیرِ اہتمام چنیوٹ کی سالانہ ختمِ نبوّت کانفرنس میں شرکت سے اتحاد بین المسلمین کے لئے زحمت فرمائی۔

352

۱۹۷۴ء میں آپ سرگودھا مجلسِ عمل تحفظِ ختمِ نبوّت کے نہ صرف سرپرست رہے، بلکہ متعدّد اِجلاسوں میں شرکت فرمائی، آپ نے تحریک کے موقع پر راولپنڈی میں ایک سو علماء و مشائخ کا کنونشن بلاکر مشائخ کی پوری طاقت مجلسِ عمل تحفظِ ختمِ نبوّت کے پلڑے میں جھونک دی، شیخ الاسلام مولانا محمد یوسف بنوریؒ (جو مجلسِ عمل کے سربراہ تھے) کو اپنا پیغام بھجوایا کہ اس مسئلے کے لئے میری جان حاضر ہے۔ حضرت بنوریؒ نے فرمایا کہ: ’’آپ اپنی دُعاؤں سے ہماری امداد جاری رکھیں، جب ضرورت ہوئی تو بنوری خود آپ کے ہاں حاضر ہوگا۔‘‘ یکم ستمبر ۱۹۷۴ء کے جلسہ بادشاہی مسجد لاہور میں خواجہ قمرالدین اور شیخ بنوریؒ جب ایک ساتھ اسٹیج پر تشریف رکھتے تھے، تو اس طرح معلوم ہوتا تھا کہ اگر ایک قمر ہے تو دُوسرا سراج، چاند و سورج کے اس حسین امتزاج کو دیکھ کر دُنیا نے کامیابی کی نیک فال لی۔

سیّد عطاء اللہ شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ:

اُستاذی المکرم حضرت مولانا محمد عبداللہ صاحب درخواستی دامت برکاتہم حج کے لئے حجازِ مقدس تشریف لے گئے، آپ کا ارادہ تھا کہ اب واپس پاکستان نہیں جاؤں گا، مدینہ طیبہ قیام کے دوران آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کی خواب میں زیارت ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ’’یہاں دِین کا کام خوب ہو رہا ہے، پاکستان میں آپ کی ضرورت ہے، پاکستان میں جاکر میرے بیٹے عطاء اللہ شاہ بخاری کو میرا سلام کہنا اور کہنا کہ ختمِ نبوّت کے محاذ پر تمہارے کام سے میں گنبدِ خضراء میں خوش ہوں، ڈَٹے رہو، اس کام کو خوب کرو، میں تمہارے لئے دُعا کرتا ہوں!‘‘

حضرت درخواستیؒ حج سے واپسی پر سیدھے ملتان آئے، شاہ جیؒ چارپائی پر تھے، خواب سنایا، شاہ جیؒ تڑپ کے نیچے گرگئے، کافی دیر بعد ہوش آیا، بار بار پوچھتے: ’’درخواستی صاحب! میرے آقا و مولیٰ نے میرا نام بھی لیا تھا؟‘‘ حضرت درخواستی کے اِثبات میں جواب دینے پر وجد کی کیفیت طاری ہوجاتی۔

353

ختمِ نبوّت کے کام کی برکت سے معافی:

حضرت مولانا محمد علی صاحب جالندھری رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ: وفات کے بعد خواب میں مجھے حضرت بخاری صاحبؒ کی زیارت ہوئی، میں نے پوچھا: ’’شاہ صاحب! فرمائیے قبر کا معاملہ کیسا رہا؟‘‘ شاہ صاحبؒ نے فرمایا کہ: ’’بھائی! یہ منزل بہت ہی مشکل ہے، آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کی ختمِ نبوّت کی برکت سے معافی مل گئی۔‘‘

ختمِ نبوّت کے محافظ کی دستاربندی:

حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ نے فرمایا کہ: حضرت مولانا رسول خان جو پاکستان کے بہت بڑے محدث اور اُستاذ الکل ہیں، نے فرمایا کہ: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جماعتِ صحابہ کرامؓ میں تشریف فرما ہیں، حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں (ایک طشت میں آسمانوں سے) ایک دستار مبارک لائی گئی، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جناب صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ: ’’اُٹھو! اور میرے بیٹے عطاء اللہ شاہ کے سر پر باندھ دو، میں اس سے خوش ہوں کہ اس نے میری ختمِ نبوّت کے لئے بہت سارا کام کیا ہے۔‘‘

(تقاریر مجاہدِ ملتؒ ص:۷)

مولاناؒ فرمایا کرتے تھے کہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود یا اور کسی صحابی کو کیوں حکم نہ دیا کہ بخاری صاحب کے سر پر دستار باندھ دو، بلکہ ابوبکر صدیقؓ کو حکم دیا، اس طرف اشارہ کرنا مقصود تھا کہ سب سے پہلے ختمِ نبوّت کا تحفظ مسیلمہ کذّاب کے زمانے میں صدیقِ اکبرؓ نے کیا تھا، اب پاکستان میں مسیلمہ پنجاب کا مقابلہ و ختمِ نبوّت کا تحفظ بخاری صاحب نے کیا، گویا ختمِ نبوّت کا ایک محافظ دُوسرے ختمِ نبوّت کے محافظ کو دستاربندی کرادے۔

ایک بار آپؒ نے وجد میں فرمایا کہ: اگر میری قبر پر کان لگاکر سننے کی

354

قدرت تمہیں طاقت بخشے تو سن لینا کہ میری قبر کا ذرّہ ذرّہ پکار رہا ہوگا کہ ’’مرزا قادیانی اور اس کے ماننے والے کافر ہیں!‘‘

’’مسٹر پریذیڈنٹ! لیڈیز اینڈ جنٹلمین!‘‘

اُدھر تحریک کی اندوہناک پسپائی سے لوگوں میں مایوسی کا پیدا ہونا ایک قدرتی اَمر تھا، کئی لوگ ان شہداء کے متعلق جو اس تحریکِ ناموسِ ختمِ نبوّت پر قربان ہوچکے تھے، یہ سوال کرتے کہ: ’’اُن کے خون کا ذمہ دار کون ہے؟‘‘ شاہ جیؒ نے لاہور کے ایک جلسۂ عام سے خطاب کرتے ہوئے جواب دیا کہ:

’’جو لوگ تحریکِ ختمِ نبوّت میں جہاں تہاں شہید ہوئے، اُن کے خون کا جواب دہ میں ہوں، وہ عشقِ رسالت میں مارے گئے، اللہ تعالیٰ کو گواہ بناکر کہتا ہوں کہ اُن میں جذبۂ شہادت میں نے پھونکا تھا، جو لوگ اُن کے خون سے دامن بچانا چاہتے اور ہمارے ساتھ رہ کر اب کنی کترا رہے ہیں، ان سے کہتا ہوں کہ میں حشر کے دن بھی ان کے خون کا ذمہ دار ہوں گا، وہ عشقِ نبوّت میں اسلامی سلطنت کے ہلاکو خان کی بھینٹ ہوگئے، لیکن ختمِ نبوّت سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں، حضرت ابوبکر صدیقؓ نے بھی سات ہزار حافظِ قرآن اسی مسئلے کی خاطر شہید کرادئیے۔‘‘

شاہ جیؒ تحریک کی پسپائی سے غایت درجہ ملول تھے، ان کا دِل بجھ چکا تھا، فرماتے: ’’غلام احمد کی جھوٹی نبوّت کے لئے تحفظ ہے، لیکن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ختمِ نبوّت کے لئے تحفظ نہیں۔‘‘ عموماً اَشک بار ہوجاتے، اسی زمانے میں ایک دن تقریر کرنے کے لئے اُٹھے تو عمر بھر کی روایت کے برعکس نہ خطبہ مسنونہ پڑھا، نہ زیرِ لب ورد کیا، فرمایا:

’’مسٹر پریذیڈنٹ! لیڈیز اینڈ جنٹلمین!‘‘

لوگوں نے قہقہہ لگایا اور ششدر رہ گئے، ’’شاہ جی! یہ کیا؟‘‘ فرمایا: ’’ایک سیکولر اسٹیٹ کے شہریوں سے مخاطب ہوں۔۔۔!‘‘

(تحریکِ ختمِ نبوّت ص:۱۴۴)

355

شاہ جیؒ کا استقبال:

ترکی میں ایک عالمِ دِین نے خواب دیکھا کہ: آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم بمع صحابہ کرامؓ کے گھوڑوں پر سوار سفر پر تشریف لے جارہے ہیں، میں نے عرض کی کہ: ’’آقا! کہاں کا ارادہ ہے؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ’’میرا بیٹا عطاء اللہ شاہ بخاری پاکستان سے آرہا ہے، اسے لینے جارہے ہیں۔‘‘ ترکی کے یہ عالمِ دِین، سیّد عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کو نہ جانتے تھے، پاکستان میں وہ صرف مولانا محمد اکرم سلطان فونڈری لاہور کو جانتے تھے، ان کو خط لکھا کہ: ’’فلاں رات خواب میں اس طرح دیکھا، آپ فرمائیں تو یہ عطاء اللہ بخاری کون ہیں؟ اور اس رات کیا واقعہ پیش آیا؟‘‘ خط پڑھا تو معلوم ہوا کہ خواب کی وہی رات تھی جس رات سیّد عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کا وصال ہوا۔

مولانا محمد شریف بہاولپوری رحمۃ اللہ علیہ:

آپؒ، حضرت بخاریؒ کے ساتھی اور مجلس ختمِ نبوّت کے مبلغ تھے، سرائیکی زبان کے بہترین خطیب تھے، ساری زندگی ختمِ نبوّت کے محاذ پر کام کرتے رہے، جنازہ ختمِ نبوّت دفتر ملتان سے اُٹھا، تدفین کے بعد آپؒ کی قبر مبارک سے تین دن خوشبو آتی رہی۔

حضرت مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی رحمۃ اللہ علیہ:

حضرت شاہ صاحبؒ کے شاگردِ خاص اور قادیانی مسئلے میں شمشیر برہنہ تھے۔ آپؒ نے زندگی بھر قادیانیت کا مقابلہ کیا اور اس طرح شکستیں دیں کہ مرزا غلام احمد کے جانشین ان کے نام سے کانپتے تھے۔ قاضی صاحبؒ قادیانیت کے سلسلے میں انسائیکلوپیڈیا تھے، اپنے ساتھ قادیانی لٹریچر کا بستہ رکھتے، وزیراعظم، وزیروں، گورنر جنرل اور گورنروں کے ہاں پہنچ جاتے، انہیں مرزا غلام احمد کی تصنیفات میں سے پوچ

356

تحریریں اور بے نقط گالیاں دِکھاتے اور کانوں پر ہاتھ رکھتے اور کہتے کہ: ’’اس فاتر العقل نے اپنے نبی ہونے کا اعلان کیا تھا!‘‘ قاضی صاحبؒ سحر طراز خطیب تھے، آپؒ کا ۱۹۶۶ء میں انتقال ہوگیا۔

مرضِ وفات میں اچانک آنکھ کھولی، دونوں ہاتھ پھیلادئیے، قریب بیٹھے اَحباب سے فرمایا: ’’ہٹ جاؤ! وہ دیکھو مجھے لینے کے لئے آگئے ہیں، وہ مجھے خوشبو آرہی ہے۔‘‘ یہ کہہ کر کلمہ پڑھا، کروَٹ بدلی، آنکھ بند کی اور ہمیشہ کے لئے سوگئے، اللہ رَبّ العزّت ان کی قبر کو بقعۂ نور بنائے۔

حضرت مولانا محمد علی جالندھری رحمۃ اللہ علیہ:

مولانا محمد علیؒ ایک متدین عالمِ دِین اور ایک معتدل خطیب تھے، ہر بات تول ناپ کر کرتے، آپ نے دارالمبلّغین قائم کرکے قادیانیت کے لئے ایک ایسا شکنجہ تیار کیا کہ تمام اضلاع میں مجلسِ تحفظِ ختمِ نبوّت کے دفتر قائم ہوگئے، کوئی پچاس سے زائد کل وقتی مبلغ مقرّر کئے، جو مرکزی دفتر سے معمولی مشاہرہ لے کر اپنے فرائض انجام دیتے، اس نظام نے قادیانیت کی سرکوبی نہایت احسن طریق پر کی، دارالمبلّغین نے سینکڑوں مبلغ و مناظر تیار کئے۔ انہوں نے پاکستان ہی میں قادیانیت کا گھیراؤ نہیں کیا، بلکہ ملک سے باہر افریقی ممالک اور عرب ریاستوں میں جاتے رہے، دارالمبلّغین میں ہندوستان، برما، ماریشس، فجی، آئی لینڈ اور افریقی ممالک کے علماء نے آکر رَدِّ مرزائیت کی تعلیم حاصل کی، پھر اپنے ممالک میں واپس جاکر قادیانیت کا تعاقب کیا۔ یہ سب مولانا محمد علی جالندھریؒ کی شبانہ روز مساعی کا اعجاز تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ تائیدِ ایزدی کے بل پر آپ نے مجلسِ تحفظِ ختمِ نبوّت کو ایک طاقت وَر تنظیم بنادیا، اس کا مرکزی دفتر ملتان میں خرید کیا، جوابی لٹریچر تیار کرتے رہے اور ان تمام مقدمات کے اِخراجات مجلس کے ذمے ہوتے جو مبلغین کے خلاف قائم کئے جاتے یا جن علاقوں

357

میں مرزائی، مسلمانوں سے انفرادی و اجتماعی سطح پر قانون کے مختلف معرکے رچاتے، مثلاً: جائیداد کا تنازعہ، شادی بیاہ کے معاملے اور طلاق وغیرہ کا مسئلہ۔ مولاناؒ کا وجود مرزائیوں کے لئے دُرّۂ عمرؓ تھا، آپؒ نے مجلسِ تحفظِ ختمِ نبوّت کے لئے لاکھوں روپے جمع کئے، خود بھی مشاہرہ لیتے تھے، لیکن جب ۱۹۷۱ء میں آپؒ کا انتقال ہوا، تو آپؒ کی یادداشتوں میں سے ایک تحریر برآمد ہوئی کہ: ’’میں نے آج تک مجلسِ تحفظِ ختمِ نبوّت سے بطورِ مشاہرہ جو رقم حاصل کی ہے، وہ فلاں جگہ فلاں صندوق میں بندھی پڑی ہے، وہاں سے لے لی جائے۔‘‘ اِس اُجلی سیرت کے انسانوں ہی نے مجلسِ تحفظِ ختمِ نبوّت کا چراغ روشن رکھا۔

(تحریکِ ختمِ نبوّت ص:۱۶۶، ۱۶۷)

’’۔۔۔۔۔۔ جلسے میں دیر نہ کیا کرے‘‘

ضلع سرگودھا کے پہاڑی علاقے میں غیرمسلموں کا ایک آشرم تھا، جو قادیانیوں نے الاٹ کرالیا تھا اور وہاں اپنی تبلیغی سرگرمیاں جاری کردیں۔ حضرت اَمیرِ شریعت رحمۃ اللہ علیہ کو جب علم ہوا تو اس علاقے میں موضع جابہ کے قریب سالانہ کانفرنس منعقد کرنے کا حکم دیا۔ یہ کانفرنس دو یوم کے لئے تقریباً پندرہ، سولہ سال سے مرکزی جماعت تحفظِ ختمِ نبوّت کے خرچ پر ہر سال ماہِ ستمبر میں ہوتی ہے۔ ۱۹۸۲ء میں بعض مجبوریوں کی بنا پر ایک میل دُور ضلع اٹک کی حدود میں نئی جگہ کانفرنس منعقد کی گئی، کانفرنس سے چند روز قبل تلہ گنگ کے حاجی محمد ابراہیم (ملک وال) نے خواب دیکھا کہ خود حاجی صاحب اور مولانا فضل احمد صاحب مع دیگر اَحباب کانفرنس میں شرکت کے لئے اس نئی جگہ میں آئے، جب نیچے پہنچے تو دیکھا کہ اس میدان میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف رکھتے ہیں اور فرما رہے ہیں: ’’دیر ہو رہی ہے، جلسہ جلدی شروع کرو، محمد علی جالندھری کو کہو کہ جلسے میں دیر نہ کیا کرے!‘‘

(رُوئیداد مجلس ۸۲ھ ص:۸۳)

358

حیاتِ عیسیٰ علیہ السلام بیان کرنے کا فیصلہ:

مولانا مرحوم خود سنایا کرتے تھے کہ: تقسیم سے قبل میں ایک گاؤں میں وعظ کے ارادے سے گیا، وہاں مرزائیوں کا رُسوخ تھا، انہوں نے مسلمانوں کو منع کردیا کہ مولوی صاحب وعظ نہ کریں، مسلمانوں نے مجھے روک دیا۔ میں عشاء کی نماز پڑھ کر سوگیا، میرے دِل و دِماغ پر صدمے کے اثرات تھے کہ مسلمانوں کی بے حسی کا یہ عالم ہے کہ یہ قادیانیوں سے اتنے مرعوب ہیں۔ رات کو خواب میں مجھے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زیارت ہوئی، میں نے انہیں خواب میں دیکھتے ہی حدیثوں کے مطابق ان کی علامتوں و نشانیوں کو پوری کرنے لگ گیا، چہرہ مہرہ، شکل و شباہت، وضع قطع، سر کے بالوں سے پانی کا ٹپکنا کہ جس طرح حمام سے نہاکر تشریف لائے ہوں، جب میں نے احادیث میں پڑھی ہوئی علامتوں کو پورا کرکے یقین کرلیا کہ واقعتا حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں تو میں نے عرض کیا کہ: ’’حضرت! آپ کیسے اس دُنیا میں آگئے؟ ابھی تو حضرت مہدی علیہ الرضوان کا ظہور نہیں ہوا، دجال کا خروج نہیں ہوا، آپ نے تو احادیثِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رُو سے ان اہم دو اُمور (ظہورِ مہدی و خروجِ دجال) کے بعد تشریف لانا تھا!‘‘ تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: ’’محمد علی جالندھری! جب تم میری حیات (لوگوں کے روکنے کے باعث) بیان نہیں کرتے، تو میں خود اپنی حیات کی دلیل بن کر نہ آؤں تو کیا کروں؟‘‘ اس پر مولاناؒ فرماتے ہیں کہ: میری جاگ ہوگئی، رات بھر ذکر و فکر میں گزار دی، دِل میں فیصلہ کرلیا کہ جان جاتی ہے تو جائے، مگر میں صبح حیاتِ عیسیٰ علیہ السلام پر تقریر ضرور کروں گا۔ چنانچہ صبح نماز کے بعد مسجد میں اعلان کیا کہ: ’’مسلمانو! تم نے میری تقریر مسجد میں نہیں ہونے دی، اَب میں اپنی ذمہ داری پر خود اس گاؤں کے چوک میں تقریر کرنے لگا ہوں، جو سننا چاہیں آجائیں۔‘‘ میں نے جاکر تقریر شروع کردی، آہستہ آہستہ گاؤں کے لوگ آنے

359

شروع ہوگئے، ابتدائے تقریر میں ایک شخص نے اجتماع میں آکر عصا زمین پر گاڑ کر کہا کہ: ’’مولانا! آپ تقریر کریں، آپ کو کوئی نہیں روک سکتا، میں دیکھتا ہوں کہ کون آتا ہے؟‘‘ تقریر کے بعد وہ آدمی چلا گیا، نہ معلوم کون تھا، کہاں سے آیا تھا؟ آج تک یہ راز ہے۔ میں نے حیاتِ عیسیٰ علیہ السلام پر گھنٹوں جی بھرکر تقریر کی، کسی کو جرأت نہ ہوئی کہ میری تقریر کو روک سکے، تقریر کے بعد سائیکل لے کر اس گاؤں سے بخیر و خوبی روانہ ہوگیا۔

تقریبا ۷۰ ہجری میں مولانا سیّد تجمل حسین شاہ صاحب کشمیریؒ فاضلِ دیوبند جو درکھانہ اسٹیشن عبدالحکیم، ضلع ملتان سے حج کے لئے گئے (ان کے بھائی سیّد عارف حسین شاہ صاحب چک ۳۳۲ دھنی دیو، ضلع فیصل آباد میں مقیم ہیں)۔ مولانا سیّد تجمل حسین کو منیٰ میں فراغتِ حج کے بعد ایک بزرگ صورت ہستی کی خواب میں زیارت نصیب ہوئی، آپؒ نے انہیں فرمایا: ’’محمد علی جالندھری کو میرا پیغام پہنچادینا کہ وہ تحفظِ ختمِ نبوّت کا کام کرتا رہے، اس کو نہ چھوڑے!‘‘

(رُوئیداد مجلس ۸۲ھ ص:۱۰)

حضرت مولانا لال حسین اختر رحمۃ اللہ علیہ:

مولانا لال حسین اختر رحمۃ اللہ علیہ قادیانیت کے سلسلے میں گھر کے بھیدی تھے، ایک اعلیٰ پایہ کے مقرّر، ایک خوش گفتار مبلغ اور ایک معجز بیان مناظر! آپؒ کا نام قادیانیوں کے لئے سوہانِ رُوح تھا۔ آپؒ نے رَدِّ مرزائیت کے سلسلے میں انگلینڈ، جرمنی، امریکا، فجی آئرلینڈ اور سعودی عرب کا دورہ کیا، آپ کی ثمرآور کوششوں سے ہڈرسفیلڈ (انگلستان) اور فجی آئرلینڈ میں مجلسِ تحفظِ ختمِ نبوّت کے مقامی دفتر قائم کئے گئے۔ ہڈرسفیلڈ کا دفتر مجلس کی ملکیت ہے، ان ملکوں میں آپؒ مرکزی دفتر سے مختلف زبانوں میں لٹریچر بھجواتے رہے، بالآخر ایک حادثے کا شکار ہوکر ۱۹۷۳ء میں رہ گیر عالمِ بقا ہوگئے۔

360

مولانا لال حسین اخترؒ کالج میں پڑھتے تھے کہ تحریکِ خلافت چلی، کالج کو خیرباد کہہ کر تحریکِ خلافت میں شامل ہوگئے۔ خلافت کمیٹی بٹالہ کے زیرِ ہدایت گورداسپور ضلع بھر میں خوب تحریک کا کام کیا، بالآخر گورداسپور کی عدالت میں تقریریں کرنے پر مقدمہ چلا، ایک سال کی سزا ملی جو گورداسپور کی جیل میں کاٹی، رہا ہوئے تو آریہ سماج اور شدھی کی تحریک کے مقابلے پر کام کرنے کا عزم کیا۔ مرزائیوں کے ہتھے چڑھ گئے، مرزائیوں کی نام نہاد تبلیغِ اسلام کے دامِ تزویر میں پھنس گئے، ان کی بیعت کی۔ انجمن کے کالج میں داخل ہوگئے، سنسکرت، وید وغیرہ بھی اسی دوران پڑھے، سیکریٹری احمدیہ ایسوسی ایشن، ایڈیٹر ’’پیغامِ صلح‘‘ لاہور وغیرہ کے اہم عہدوں پر فائز ہوئے اور آٹھ سال تک لاہور میں مرزائیوں کے مبلغ کی حیثیت سے مرزائی عقائد کی تبلیغ کرتے رہے۔ بالآخر ترکِ مرزائیت کرنے پر خود لکھتے ہیں: ’’اللہ رَبّ العزّت نے فضل فرمایا، ۱۹۳۱ء کے وسط میں چند خواب دیکھے، جن میں مرزا صاحب قادیانی کی نہایت گھناؤنی شکل دِکھائی دی اور انہیں بُری حالت میں دیکھا۔ آخرکار ان خوابوں سے متأثر ہوکر فیصلہ کیا کہ خداوند کریم کو حاضر و ناظر سمجھ کر محبت و عداوت کو چھوڑ کر مرزا قادیانی کی مشہور تصنیفات کا مطالعہ کیا، خالی الذہن ہوکر جوں جوں مطالعہ کرتا، مرزا کی صداقت مشتبہ ہوتی گئی، یہاں تک کہ مجھے یقینِ کامل ہوگیا کہ مرزا قادیانی جھوٹا تھا!‘‘

مولانا لال حسین اخترؒ کا قبولِ اسلام:

ان خوابوں کی تفصیل مولانا عبدالرحیم اشعر کی زبانی سنییٔ جو حضرتِ موصوف کے ناموَر شاگرد اور رفیقِ سفر اور مجلس کے مناظرِ اسلام ہیں۔ حضرت مولانا لال حسین اختر اُستاذی مرحوم فرمایا کرتے تھے کہ: ایک دفعہ خواب میں، میں نے دیکھا کہ ایک رَسّی ہے، جس کا ایک سرا میرے ہاتھ میں اور دُوسرا مرزا قادیانی کے ہاتھ میں ہے، وہ مجھے اپنی طرف کھینچ رہا ہے، خواب میں دیکھا کہ ایک بزرگ آئے اور انہوں نے کوئی

361

چیز مارکر درمیان سے رَسّی کاٹ ڈالی، یک دم دھڑام ہوا، میں گھبرایا تو بزرگ نے کہا کہ: ’’وہ دیکھو! مرزا قادیانی جہنم میں جل رہا ہے‘‘ میں نے دیکھا تو آگ کے جلاؤ میں مرزا قادیانی جل رہا تھا اور اس کی شکل خنزیر کی سی تھی۔

دُوسری دفعہ خواب میں دیکھا کہ: جہنم میں مرزا قادیانی خنزیر کی شکل میں رسیوں سے جکڑا ہوا جل رہا ہے، میں ڈَر گیا، غیب سے آواز آئی کہ: ’’یہ شخص مرزا قادیانی اور اس کے ماننے والے سب اسی طرح جلیں گے، تم بچ جاؤ!‘‘ چنانچہ یکم جنوری ۱۹۳۲ء کو مرزائیت سے تائب ہوکر اِسلام قبول کرنے کا اعلان کردیا۔

حضرت مولانا سیّد محمد یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ:

مولانا ابوالحسن علی ندوی نے حضرت بنوریؒ کے نام اپنے ایک مکتوب میں مرزائیوں کو اَقلیت قرار دینے پر مبارک بادی کے سلسلے میں لکھا:

’’اس کی بھی اُمید ہے کہ رُوحِ مبارک نبوی علیہا الف الف سلام کو بھی مسرّت حاصل ہوئی ہوگی۔‘‘

منامات و مبشرات:

حضرت بنوریؒ نے لکھا ہے کہ: ’’اس (قادیانی فتنے) سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رُوحِ مبارک بھی بے تاب تھی، (قادیانی مسئلے کے حل پر) منامات و مبشرات کے ذریعے عالمِ ارواح میں اکابرِ اُمتؒ اور خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مسرّت بھی محسوس ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبشرات کا ذکر کرنے کی ہمت نہیں۔۔۔!‘‘

تحریکِ ختمِ نبوّت کی کامیابی پر اِنعام:

حضرتؒ فرماتے تھے کہ: تحریک کے بعد رمضان مبارک میں، میں نے

362

خواب دیکھا کہ چاندی کی ایک تختی مجھے عطا کی گئی اور اس پر سنہری حروف سے یہ آیت لکھی ہے:’’اِنَّہٗ مِنْ سُلَیْمَانَ وَاِنَّہٗ بِسْمِ اﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ‘‘ میں نے محسوس کیا کہ یہ تحریکِ ختمِ نبوّت کی کامیابی پر مجھے اِنعام دیا جارہا ہے۔

’’نفحۃ العنبر‘‘ ص:۲۰۴ پر حضرت بنوری مرحوم خود لکھتے ہیں:

’’میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک مصلیٰ پر ایک طرف عیسیٰ رُوح اللہ علیہ السلام اور دُوسری طرف حضرت سیّد انور شاہ کشمیریؒ تشریف فرما ہیں، میں کبھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رُوح پروَر چہرۂ اقدس کی طرف دیکھتا اور کبھی چہرۂ انورؒ کی طرف دیکھتا، یہ کیفیت مجھ پر طاری تھی کہ ہر دو حضرات کے مبارک چہروں سے استفادہ و شرفِ زیارت سے مستفید ہو رہا تھا کہ بیدار ہوگیا۔ بیداری کے وقت خوشی و غم کی ملی جلی کیفیت تھی، خوشی ان حضرات کی زیارت کی اور غم کہ جلدی کیوں بیداری ہوگئی؟ اے کاش! زیادہ وقت نظارے کی سعادت نصیب ہوجاتی۔ اے مولیٰ کریم! قیامت کے دن ان حضرات کی معیت نصیب فرما، آمین!‘‘

پیر سیّد جماعت علی شاہ صاحب محدث علی پوریؒ:

آپؒ کی رَدِّ قادیانیت پر گراںقدر خدمات ہیں، مرزا قادیانی کے دعویٔ نبوّت پر آپؒ نے پانچ نکاتی بیان جاری کیا:

۱:۔۔۔ سچا نبی کسی اُستاد کا شاگرد نہیں ہوتا، اس کا علم لدنی ہوتا ہے، وہ رُوح قدس سے تعلیم پاتا ہے، بلاواسطہ اس کی تعلیم و تعلّم خداوند قدوس سے ہوتا ہے، (جھوٹا نبی اس کے برخلاف ہوتا ہے)۔

363

۲:۔۔۔ ہر سچا نبی اپنی عمر کے چالیس سال گزرنے کے بعد یکدم بحکم رَبّ العالمین مخلوق کے رُوبرو دعویٔ نبوّت کردیتا ہے، بتدریج آہستہ آہستہ اس کو درجۂ نبوّت نہیں ملتا، کہ پہلے وہ محدّث، پھر مجدّد اور بعد میں نبوّت کا دعویٰ کرے۔

۳:۔۔۔ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضور سروَرِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم تک تمام کے تمام انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کے نام مفرد تھے، کسی سچے نبی کا نام مرکب نہیں تھا، (اس کے برعکس جھوٹے نبی کا نام مرکب ہوا)۔

۴:۔۔۔ سچا نبی کوئی ترکہ نہیں چھوڑتا، (جبکہ جھوٹا ترکہ چھوڑ کر مرا اور کچھ اولاد کو محروم الارث کیا)۔

۵:۔۔۔ علاوہ ازیں مرزائی، حضور علیہ السلام کے مدارج کو مرزا قادیانی کے لئے مان کر شرک فی النبوۃ کے مرتکب ہوئے، جس طرح خداوند کریم کا شریک کوئی نہیں، اسی طرح محمدِ عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی مثال بھی کوئی نہیں۔

آپؒ کا یہ پانچ نکاتی اعلان و چیلنج آج تک مرزائی اُمت کے لئے سوہانِ رُوح ہے، اس کا کوئی مرزائی جواب نہ دے پایا۔

چیلے اور ُگرو کا راہِ فرار:

شاہی مسجد لاہور میں جہاں دیوبندی، اہلِ حدیث علماء پیر مہر علی شاہ صاحب کی تائید کے لئے ۲۵؍اگست ۱۹۰۰ء کے معرکے میں تشریف لائے تھے اور تقریریں کی تھیں، وہاں پیر جماعت علی شاہ بھی تشریف لائے، آپ نے ایمان افروز، باطل سوز تقریر کی، اس طرح جب مرزا قادیانی کا خلیفہ نورالدین نے نارووال، ضلع سیالکوٹ میں اپنا اِرتدادی کیمپ لگایا، آپ اس وقت صاحبِ فراش تھے، چارپائی سے اُٹھا نہیں جاتا تھا، لیکن آپ نے حکم دیا کہ: ’’میری چارپائی اُٹھاکر ہی نارووال لے چلو!‘‘ چنانچہ متواتر چار جمعے آپ کی چارپائی اُٹھاکر لے جاتے رہے اور آپ خطبۂ جمعہ میں مرزائی

364

عقائد کا پردہ چاک کرتے رہے، بالآخر نورالدین کو وہاں سے راہِ فرار اختیار کرنا پڑی۔

۲۷؍اکتوبر ۱۹۰۴ء کو مرزا قادیانی اپنے حواریوں کے ساتھ سیالکوٹ اِرتدادی مہم پر آیا، ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ کا سپرنٹنڈنٹ قادیانی تھا، اس لئے مرزا قادیانی کا خیال تھا کہ سرکاری اثر و رُسوخ کے باعث میرے مقابلے میں کوئی نہ آئے گا، پیر جماعت علی شاہ نے سیالکوٹ میں تشریف لاکر تین ہفتے قیام کیا، ہر روز شہر کے مختلف مقامات پر آپ کے رَدِّ قادیانیت پر بیان ہوئے، بالآخر مرزا قادیانی کو راہِ فرار اختیار کرنے پر مجبور کردیا۔

مرزا ذلیل و خوار ہوکر دُنیا سے رُخصت!

۶؍مئی ۱۹۰۸ء کو مرزا قادیانی لاہور آیا، اِرتدادی مہم کے مقابلے کے لئے لاہور کے مسلمانوں نے پیر جماعت علی شاہ کو بلوایا، آپ نے موچی دروازہ اور دیگر مقامات پر مرزا کو للکارا، مرزا قادیانی کو پانچ ہزار اِنعام دینے کا اعلان کیا کہ وہ آکر مناظرہ کرے اور اِنعام پائے، جواب میں مرزا قادیانی نے کہا کہ: ’’پیر صاحب! مجھے بھگانے کے لئے آئے ہیں، یہ ایڑی چوٹی کا زور لگائیں، مگر میں ایسا نہیں جو بھاگ جاؤں، اگر وہ بارہ برس بھی رہے تو میرا قدم نہ ہلے گا!‘‘ اس کے جواب میں پیر جماعت علی شاہ نے ۲۲؍مئی ۱۹۰۸ء کے جلسۂ عام میں اعلان کیا کہ: ’’بارہ برس تو اپنی جگہ رہے، مرزا قادیانی جلد ہی لاہور نہیں، بلکہ دُنیا سے ذلیل و خوار ہوکر جائے گا!‘‘ ۲۵،۲۶؍مئی کی درمیانی رات کے جلسے میں کہا: ’’مرزا قادیانی کو چوبیس گھنٹے کی مہلت ہے، آئے اور مناظرہ کرے، لیکن مسلمانو! یاد رکھو وہ میرے مقابلے میں نہ آئے گا‘‘ چنانچہ ایسا ہوا کہ ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء مرزا قادیانی کو ہیضے نے آن گھیرا، ڈاکٹر نے ایسی دوائی دے دی کہ نجاست کا رُخ جو نیچے کی طرف تھا اُوپر کو ہوگیا اور بیت الخلا میں جان نکل گئی۔

(ضیائے حرم دسمبر ۱۹۷۴ء)

365

مولانا ظفر علی خان رحمۃ اللہ علیہ:

مولاناؒ نے ۱۹۳۳ء میں قادیانیت کے عوامی احتساب کے لئے ایک جماعت بنائی، اُس جماعت نے تقریباً ہر روز پبلک جلسے منعقد کرنا شروع کردئیے، حکومت نے قادیانی اُمت کی پشت پناہی کے لئے اندیشۂ نقصِ امن کی آڑ لے کر ۴؍مارچ ۱۹۳۳ء کو مولانا ظفر علی خانؒ اور اُن کے رُفقاء مولانا احمد علیؒ، مولانا حبیب الرحمنؒ، مولانا عبدالحنانؒ، مولانا لال حسین اختر،ؒ مولانا محمد بخش مسلمؒ اور خان احمد یار رزمیؒ کو گرفتار کرلیا، یہ پہلا مقدمہ تھا جو سیاسی پس منظر کے تحت مرزائیت کی حمایت میں حکومت نے پہلی دفعہ مسلمان زُعماء کے خلاف تیار کیا، ٹھاکر کیسر سنگھ مجسٹریٹ درجہ اوّل نے حفظِ امن کے لئے ضمانت طلب کی، مولانا احمد علیؒ، مولانا حبیب الرحمنؒ اور مولانا محمد بخش مسلمؒ کے عقیدت مندوں نے ضمانتیں داخل کردیں، لیکن مولانا ظفر علی خانؒ، مولانا عبدالحنانؒ، مولانا لال حسین اخترؒ اور احمد یار خان نے انکار کردیا، عدالت نے وہ نوٹس پڑھ کر سنایا جو اس مقدمے کی بنیاد تھا کہ:

’’تمہارے اور احمدی جماعت کے درمیان اختلاف ہے، تم نے اس کے عقائد اور اس کے مذہبی پیشوا پر حملے کئے ہیں، جس سے نقصِ امن کا اندیشہ پیدا ہوگیا ہے، وجہ بیان کرو کہ تم سے کیوں نہ نیک چلنی کی ضمانت طلب کی جائے۔‘‘

مولاناؒ نے عدالت کو جواب دیتے ہوئے کہا:

’’میں آپ کو یقین دِلاتا ہوں کہ مسلمانوں کے ہاتھوں مرزائیوں کو کسی قسم کا گزند نہ پہنچے گا، لیکن جہاں تک مرزا غلام احمد کا تعلق ہے، ہم اُس کو ایک بار نہیں، ہزار بار دجال کہیں گے، اُس نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم المرسلینی میں اپنی نبوّت کا ناپاک پیوند جوڑ کر ناموسِ رسالت پر کھلم کھلا حملہ کیا ہے، اپنے اس عقیدے سے میں

366

ایک منٹ کے کروڑویں حصے کے لئے بھی دست کش ہونے کو تیار نہیں اور مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ مرزا غلام احمد دجال تھا، دجال تھا، دجال تھا، میں اس سلسلے میں قانونِ انگریزی کا پابند نہیں، میں قانونِ محمدی کا پابند ہوں!‘‘

(تحریکِ ختمِ نبوّت ص:۶۸)

مفکرِ اِسلام علامہ اقبالؒ:

علامہ اقبال نے مرزائیوں کے متعلق اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ: ’’میں نے حضور سروَرِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بے ادب پایا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ان کی زبان سے گستاخانہ کلمات سنے ہیں۔‘‘

(تحریکِ ختمِ نبوّت ص:۱۷۶)

سرسید احمد خان:

سیّد راس مسعود نے اپنے والد کے جو خطوط جمع کئے، ان میں صفحہ:۲۵۶ پر ایک خط ہے جس میں سرسیّد لکھتے ہیں کہ: ’’مرزا صاحب کی تصانیف اس قسم کی ہیں جیسا ان کا اِلہام، یعنی نہ دِین کے کام کی، نہ دُنیا کے کام کی۔‘‘

(تحریکِ ختمِ نبوّت ص:۴۹)

حضرت مولانا احمد علی لاہوری رحمۃ اللہ علیہ:

مولانا تاج محمودؒ نے فرمایا کہ:

میں اور مولانا لال حسین اختر رحمۃ اللہ علیہ، قطبِ دوراں شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ کی خدمت میں حاضر تھے، کچھ ختمِ نبوّت کے ساتھیوں کا تذکرہ آگیا، حضرت لاہوریؒ نے فرمایا کہ: ’’میں ختمِ نبوّت کے ساتھیوں سے محبت کرتا ہوں!‘‘ اور پھر فرمایا: ’’ان سے تو خود سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم بھی محبت فرماتے ہیں۔‘‘

( ہفت روزہ ’’لولاک‘‘ ص:۹، ۳؍جنوری ۱۹۸۳ء)

367

بارہا احباب سے سنا، حضرت لاہوریؒ فرمایا کرتے تھے کہ:

’’حضرت اَمیرِ شریعت رحمۃ اللہ علیہ اور آپ کے ساتھی ختمِ نبوّت کے محاذ پر کام کرنے والے، قیامت کے دن بغیر حساب کتاب کے جنت میں جائیں گے۔‘‘

ایک دفعہ مجلس تحفظِ ختمِ نبوّت کے زیرِ اہتمام سرگودھا میں ختمِ نبوّت کانفرنس میں تقریر تھی، آپؒ علیل تھے، وعدے پر تشریف لائے، چارپائی پر آپ کو اسٹیج پر لایا گیا، تقریر کی، فرمایا کہ: ’’اسی عمل کے صدقے شاید نجات ہوجائے!‘‘

آپؒ نے مجلس تحفظِ ختمِ نبوّت کے راہ نماؤں کو ہمیشہ اپنی محبت اور شفقت سے سرفراز فرمایا، آپؒ کے جانشین حضرت مولانا عبیداللہ انور انہی کی روایات کے امین ہوگئے، وفات سے چند ماہ پہلے ربوہ (چناب نگر) کی ختمِ نبوّت کانفرنس میں شرکت و مجلسِ ذکر اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

حضرت مولانا محمد اِدریس کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ:

اپنے رسالے ’’حیاتِ عیسیٰ علیہ السلام‘‘ کے صفحہ:۵ پر تحدیث بالنعمۃ کے عنوان کے تحت لکھتے ہیں:

’’وَأَمَّا بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّثْ‘‘ ناچیز کا یہ رسالہ پہلی مرتبہ حضرت مولانا حبیب الرحمنؒ مہتمم دارالعلوم دیوبند نے مطبع قاسمی میں طبع کرایا، جس شب میں اس رسالے کی لوح کا ورق طبع ہو رہا تھا، اس شب میں اس ناچیز نے یہ خواب دیکھا کہ: یہ ناچیز دارالعلوم دیوبند کی مسجد میں داخل ہوا، دیکھتا کیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ وعلیٰ نبینا الصلوٰۃ والسلام منبر کے قریب اور محرابِ اِمام کے سامنے تشریف فرما ہیں، چہرۂ مبارک پر عجیب و غریب انوار ہیں، یوں معلوم ہوتا ہے کہ ایک فرشتہ بیٹھا ہوا ہے، حضرتؑ کے ساتھ کوئی خادم بھی ہے، یہ ناچیز نہایت ادب کے ساتھ دو زانو بیٹھ گیا، تھوڑی دیر میں ایک قادیانی پکڑ کر لایا گیا اور سامنے کھڑا کردیا گیا، بعد ازاں دو عبا لائے گئے، ایک

368

نہایت سفید اور خوبصورت ہے اور دُوسرا نہایت سادہ اور بدبودار ہے، حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے خادم کو حکم دیا کہ سفید عبا اس ناچیز کو پہنائیں اور سیاہ عبا اُس قادیانی کو پہنایا جائے، چنانچہ سفید عبا اس ناچیز کو پہنایا گیا، فَلِلّٰہِ الْحَمْدُ وَالْمِنَّۃ! اور سیاہ عبا اُس قادیانی کو اور یہ ناچیز خاموش کھڑا رہا۔

پیر سیّد نذر دِینؒ والد ماجد پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ:

حضرت قبلہ عالم (پیر مہر علی شاہؒ) فرماتے ہیں کہ: اَوائلِ عمر میں حضرت اَجی صاحبؒ (پیر سیّد نذر دِین والد ماجد پیر مہر علی شاہ، پوٹھواری زبان میں والد کو ’’اَجی‘‘ کہتے ہیں) شب و روز عبادتِ اِلٰہی اور مطالعۂ کتب کے سلسلے میں اپنی آبائی مسجد میں مصروف رہا کرتے تھے، اس مسجد کے قریب ہی سکھوں کا محلہ تھا، جہاں سکھ قلعہ دار کی ایک رشتہ دار لڑکی بدچلنی کے اِلزام میں حاملہ پائی گئی، اس موقع سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے ایک مقامی مخالف نے والد صاحب کو متہم کیا، جس پر قلعہ دار نے کسی اور ثبوت کے بغیر آپ کو گرفتار کراکر زندہ جلادینے کا حکم دے دیا۔ اس اِلزام و سزا کے حکم کے خلاف قرب و جوار کے مسلمانوں کے وفد سکھ سردار کے پیش ہوئے، تو اُس نے کہا: ’’سجادہ نشین صاحب فوراً آکر یقین دِلائیں کہ لڑکا بے گناہ ہے‘‘ سجادگی پر اُس وقت والد صاحب کے ماموں سیّد فضل دِینؒ رونق افروز تھے، آپؒ نے جانے سے انکار کردیا اور فرمایا کہ: ’’اسے کہہ دو کہ اسے جلا ڈالے! اگر یہ گنہگار ہے تو ہمارے لئے اس کا جل جانا ہی بہتر ہے۔‘‘

تاریخِ سزا سے ایک دن پہلے مواضعاتِ مَیرا بادیہ و میرا اَکُّو وغیرہ کے مسلمانوں نے اجتماع کرکے مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا، مگر بڑے پیر صاحبؒ نے اطراف و جوانب میں پیغامبر بھجواکر اِطلاع کرادی کہ جو کوئی ایسا قدم اُٹھائے گا، اُس کا ہمارے ساتھ کوئی تعلق نہ ہوگا، چنانچہ لوگ رُک گئے۔

369

سزا والے دِن علی الصبح ہی ہزاروں کی تعداد میں مرد و زَن قلعے کے باہر جمع ہوگئے، اس قلعے کے کھنڈرات شہر سے مغرب کی جانب کچھ دُور ندی کے کنارے اب تک موجود ہیں۔ عورتوں نے آہ و بکا کرتے ہوئے اپنے زیورات کے ڈھیر لگادئیے کہ ہمارے پیرزادے کو ان کے ساتھ تول کر جرمانہ وصول کرلو اور انہیں رہا کردو۔ مگر کوئی شنوائی نہ ہوئی۔ اُس زمانے کے دستور کے مطابق عبرتِ عامہ کے لئے سزائے موت شارعِ عام پر دی جاتی تھی، اس لئے ایک کھلی جگہ لکڑیاں چن کر چتا تیار کی گئی اور فوج نے اُسے گھیرے میں لے لیا۔

یہ بدھ کا دن تھا، اُس رات والد صاحب کو حضرت غوث الاعظمؒ کی زیارت نصیب ہوئی، جنھوں نے فرمایا کہ: ’’چتا پر جانے سے پہلے غسل کرکے، گھر میں جو نیا لباس موجود ہے پہن کر، دو نفل نماز اَدا کریں۔‘‘ چنانچہ سکھ سپاہیوں نے آخری خواہش کی تکمیل میں غسل کے لئے پانی بھی دیا اور گھر سے لباس بھی منگوادیا، جو آپؒ نے پہن کر نمازِ دوگانہ اَدا فرمائی اور چتا پر جاکر بیٹھ گئے۔ لکڑیوں پر تیل لگاکر آگ لگانے کی کوشش کی گئی، مگر لاکھ جتن کے باوجود آگ نہ لگی، یہ دیکھ کر اِلزام لگانے والے شخص نے کہا کہ: ’’سپاہی پیروں سے مل گئے ہیں اس لئے دانستہ ہیری پھیری کر رہے ہیں، میں دیکھتا ہوں آگ کیسے نہیں لگتی؟‘‘ یہ کہہ کر اس نے حضرتؒ کے کپڑوں اور لمبے لمبے گھونگھریالے بالوں پر کافی تیل ڈالا اور ایک برتن میں خشک بنولے ڈال کر جلائے اور جب شعلے بلند ہونے لگے تو اُس برتن کو آپؒ کے تیل میں تربتر بالوں کے نیچے رکھ دیا، مگر شعلے لپکتے رہے اور ان کی حرکت سے حضرتؒ کے بال لہراتے رہے، لیکن انہوں نے آگ کا کوئی اثر قبول نہ کیا۔ آخر اُس جلتے ہوئے بنولوں کو آپؒ کے تیل میں شرابور کپڑوں پر اُلٹ دیا، لیکن وہ بغیر کسی قسم کا اثر قبول کئے ہوئے لکڑیوں پر جاگرے اور بجھ گئے۔

یہ دیکھ کر لوگوں میں آپؒ کی بے گناہی کا غوغا اُٹھا اور قلعہ دار نے حکم دیا کہ

370

مخبر کو گرفتار کرکے اسی چتا پر جلادیا جائے اور خود گلے میں کپڑا ڈال کر دست بستہ حضرت سے معافی کا خواست گار ہوا کہ: ’’آپ واقعی بے گناہ ہیں، میں نے اس بُرے آدمی کے کہنے پر آپ پر ناحق ظلم کیا۔‘‘

(مأخوذ از ’’مہرِ منیر‘‘ مصنفہ مولانا فیض احمد فیضی ص:۵۵، ۵۶)

مولانا پیر حسن شاہ قادری بٹالویؒ:

مولانا پیر حسن شاہ قادری بٹالویؒ کی خدمت میں ایک دفعہ مرزا قادیانی آیا، آپؒ نے اسے ہدایت فرمائی کہ عقیدۂ اہلِ سنت پر ثابت قدم رہنا اور خواہشاتِ نفسانیہ و ہوائے شیطانیہ کا غلام نہ بن جانا۔

آپؒ کے شاگرد حافظ عبدالوہاب نے مرزا کے بعد پوچھا کہ: ’’حضرت! آپ نے عجیب ہدایت فرمائی، اس کی کیا وجہ ہے؟‘‘ فرمایا کہ: ’’کچھ عرصہ بعد میں اس آدمی کا دماغ خراب ہوگا اور یہ دعویٔ نبوّت کرے گا، شیطان اِس وقت بھی اس کی مہار تھامے ہوئے ہے۔‘‘ چنانچہ اس پیش گوئی کے ۳۶ سال بعد مرزا نے نبوّت کا دعویٰ کردیا۔

(ارشاد المسترشدین ص:۱۶۱)

اسی طرح شاہ عبدالرحیم رائے پوری قدس سرہٗ نے حکیم نورالدین کے متعلق قبل از وقت فرمایا تھا کہ یہ مرتد ہوجائے گا، چنانچہ بعد میں ایسا ہوا، سچ ہے: ’’اِتقوا فراسۃ المؤمن فانّہ ینظر بنور اﷲ!‘‘

حضرت مولانا مفتی محمود رحمۃ اللہ علیہ:

موصوف کا وجود ملتِ اسلامیہ کے لئے قدرت کا عطیہ تھا، آپؒ کو قدرت نے بے شمار خوبیوں سے سرفراز فرمایا تھا اور آپؒ کی تمام تر خوبیاں و صلاحیتیں خدمتِ اسلام کے لئے وقف تھیں۔ ۱۹۵۳ء کی تحریکِ ختمِ نبوّت میں آپؒ ملتان سے گرفتار ہوئے، ۱۹۷۴ء کی تحریکِ ختمِ نبوّت میں آپؒ نے قائدانہ کردار اَدا کیا۔ اسمبلی سے باہر

371

ملتِ اسلامیہ کی راہ نمائی شیخ الاسلام مولانا محمد یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ کی قیادت میں جلیل القدر علماء و راہ نماؤں نے کی اور قومی اسمبلی میں ختمِ نبوّت کی وکالت آپؒ نے کی۔ اسمبلی کے معزَّز ممبران و علمائے کرام کی حمایت و تعاون آپؒ کو حاصل تھا۔ مجلس تحفظِ ختمِ نبوّت کی طرف سے مرزا ناصر قادیانی اور صدرالدین لاہوری مرزائیوں کے جواب میں جو محضرنامہ تیار کیا گیا، جس کا نام ’’ملتِ اسلامیہ کا موقف‘‘ ہے، جس کے عربی، اُردو، انگلش میں مجلس نے کئی ایڈیشن شائع کئے ہیں، اس محضرنامے کو اسمبلی میں پڑھنے کا شرف اللہ رَبّ العزّت نے حضرت مولانا مفتی محمود رحمۃ اللہ علیہ کو بخشا، آپؒ اسمبلی میں ملتِ اسلامیہ کی متفقہ آواز تھے، آپؒ کی وفات کے بعد آپؒ کے ایک عقیدت مند نے آپؒ کو خواب میں دیکھا اور پوچھا کہ: ’’فرمائیے حضرت! کیسے گزری؟‘‘ اس پر آپؒ نے فرمایا کہ: ’’ساری زندگی قرآن و حدیث کی تعلیم میں گزری، اسلامی نظام کے نفاذ کے لئے کوشش و کاوش کی، وہ سب اللہ رَبّ العزّت کے ہاں بحمدہٖ تعالیٰ قبول ہوئیں، مگر نجات اس محنت کی وجہ سے ہوئی جو قومی اسمبلی میں مسئلۂ ختمِ نبوّت کے لئے کی تھی، ختمِ نبوّت کی خدمت کے صدقے اللہ تعالیٰ نے بخشش فرمادی۔۔۔!‘‘

مجاہدِ ختمِ نبوّت آغاشورش کاشمیریؒ:

خود فرمایا: ’’میں نے حکومت کی دھاندلی سے تنگ آکر کراچی کے ایامِ نظربندی میں ۴۵ روز بھوک ہڑتال کی، اس دوران میں حالت خستہ سے خستہ ہوتی گئی، نوبت بہ اینجا رسید کہ صبح و شام کا معاملہ ہوگیا، کسی وقت بھی سناونی آجانے کا احتمال تھا۔ ایوب خان اور موسیٰ خان راقم کو موت کی نیند سلادینا چاہتے تھے، پینتالیسویں روز حالت تشویش ناک ہوگئی، مولانا تاج محمود مدیر ’’لولاک‘‘ نے اکابر کو اِطلاع دی، ملک کے طول و عرض سے راقم کے نام تاروں کا تانتا بندھ گیا: ’’بھوک

372

ہڑتال چھوڑ دو!‘‘ اس روز دس بجے شب کے لگ بھگ حافظ عزیزالرحمن تشریف لائے اور فرمایا کہ: انہیں لاہور سے مختلف راہ نماؤں کا پیغام آیا اور دِین پور شریف سے حضرت مولانا عبدالہادی نے تار دیا ہے، ایک اور تار حضرت عبداللہ درخواستی کا ہے کہ ’’بھوک ہڑتال چھوڑ دو، تمہاری زندگی ضروری ہے!‘‘ راقم نے حافظ جی کو ٹال دیا کہ صبح سوچیں گے۔ وہ چلے گئے، راقم تین بجے سوگیا، اَذان کے وقت خواب دیکھا کہ جنت الفردوس کی ایک رَوِش پر، سیّدنا مہر علی شاہ قدس سرہ العزیز، علامہ انور شاہ نوّر اللہ مرقدہٗ اور سیّد عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کھڑے ہیں، راقم کے شانے کو ان کے مقدس ہاتھ نے تھپکی دیتے ہوئے کہا: ’’شورش! گھبرانا نہیں، آخری فتح تمہاری ہے۔‘‘

جب دن چڑھے راقم کو جگایا گیا تو پائینتی کی طرف پروفیسر ڈاکٹر اِفتخار احمد، کمشنر کراچی اور سپرنٹنڈنٹ جیل کھڑے تھے، تینوں آپس میں کانا پھوسی کرکے چلے گئے، راقم ایک جاں بلب مریض کی طرح تھا، یکایکی دوبارہ آنکھ لگ گئی، پروفیسر ڈاکٹر اِفتخار احمد، گورنر موسیٰ سے مل کر لوٹے، جھنجھوڑ کے جگایا، کہنے لگے: ’’مبارک ہو! آپ کو حکومت نے رہا کردیا، پولیس چلی گئی، اب آپ آزاد ہیں۔‘‘

(تحریکِ ختمِ نبوّت ص:۵۹، ۶۰)

مولانا تاج محمود رحمۃ اللہ علیہ:

آغاشورش کاشمیریؒ نے اپنی تصنیف ’’تحریکِ ختمِ نبوّت‘‘ کے صفحہ: ۱۶۹، ۱۷۰ پر آپؒ کے متعلق لکھا: جس شخص نے علم و عمل کے میدانوں میں والہانہ جرأتوں کے ساتھ قادیانی عزائم کو بے نقاب کیا، وہ مولانا تاج محمود، مدیر ’’لولاک‘‘ لائل پور ہیں۔ مولانا تاج محمود تحریکِ ختمِ نبوّت کے سرگرم راہ نما ہیں، تمام زندگی ان کا یہی نصب العین رہا اور کبھی اس سے غافل نہ ہوئے۔ انہیں شاہ جیؒ سے غایت درجہ ارادت رہی، وہ ذہنی طور پر انہی کے شاگرد ہیں۔ شاہ جیؒ ان سے بے حد محبت کرتے اور تحریک کے

373

سلسلے میں ان پر ہمیشہ اعتماد فرماتے تھے، حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے علامہ انور شاہؒ، مولانا ظفر علی خانؒ، سیّد عطاء اللہ شاہ بخاریؒ اور دُوسرے اکابرِ اُمت کی مساعیٔ مشکور کے اس پرچم کو جھکنے نہ دیا، جو قادیانیت کے خلاف ملک کے ہر ہر گوشے میں گڑچکا تھا۔ مولانا نے ’’لولاک‘‘ کو مجلس تحفظِ ختمِ نبوّت کا ترجمان بنادیا، وہ جماعتِ علماء میں پہلی شخصیت ہیں جنھوں نے قادیانیت کا سیاسی تجزیہ شروع کیا اور ’’لولاک‘‘ کے ہر شمارے کو حقائقِ سربستہ کی چہرہ کشائی کے لئے وقف کردیا۔

مولانا ایک صاحبِ فکر صحافی ہی نہیں، ایک خوش بیاں خطیب بھی ہیں، ہر جمعہ کو ریلوے اسٹیشن لائل پور کی جامع مسجد میں خطبہ دیتے اور آپ کے ہر خطبے کا مقطع قادیانیت کا احتساب ہوتا ہے۔ آپ نے ۱۹۵۳ء کی تحریک راست اقدام میں نہایت جگرداری کا ثبوت دیا اور جاںنثاری و جاںسپاری کے اعتبار سے لائل پور کو تحریک کا دُوسرا مرکز بنادیا۔ سیّد عطاء اللہ شاہ بخاریؒ اور مولانا محمد علی جالندھریؒ کے بعد ان کی روایتوں اور حکایتوں کے وارث ہوگئے۔ وہ قادیانیت کے سلسلے میں کسی عنوان سے کوئی سا مفاہمانہ تصوّر نہیں رکھتے۔ اس کا اعتراف نہ کرنا ظلم ہوگا کہ آپ نے ختمِ نبوّت کی تحریک کو پروان چڑھانے میں اپنی تمام زندگی صَرف کی ہے، اس سلسلے میں آپ کا وجود نقطئہ اتحاد ہے۔

حضرت مرحوم کی زندگی میں آپؒ کے ایک مخلص مولانا عبدالمختار صدیقی ہریانہ، ضلع گجرات نے ایک خواب میں دیکھا کہ: آپؒ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں جملہ بزرگوں کی موجودگی میں، مولانا اسلم قریشی کیس کی تفصیلات اور حکومت کی بے حسی و بے حمیتی کی رپورٹ پیش کر رہے ہیں۔

مولانا مرحوم کی وفات کے بعد میرے اُستاذِ محترم مولانا قاری محمد یٰسین رحیمی جامع مسجد باغ والی، ماڈل ٹاؤن فیصل آباد، نے خواب میں آپؒ کو دیکھا اور پوچھا کہ: ’’حضرت! انتقال کے بعد اُس دُنیا میں کیسی گزری؟‘‘ مولانا تاج محمود صاحبؒ نے

374

خواب میں جواب دیا کہ: ’’قاری صاحب! ایک قادیانی نے میرے وعظ سے قادیانیت کو ترک کیا، مرزا قادیانی کے کفریہ عقائد سے توبہ کرکے اسلام قبول کیا، میرے اس عمل کے صدقے اللہ تعالیٰ نے بخشش فرمادی۔۔۔!‘‘

مولانا شاہ احمد نورانی:

بڑے بلند پایہ عالمِ دِین ہیں، نیروبی، دارالسلام، ماریشس، لاطینی امریکا میں سرینام، برٹش، گیانا اور دیگر ممالک میں قادیانیوں کا کامیاب تعاقب کیا، ۱۹۷۴ء کی تحریکِ ختمِ نبوّت میں آپ نے مجاہدانہ کردار اَدا کیا، جس پر پوری ملتِ اسلامیہ کو فخر ہے، آپ کے والدِ گرامی حضرت مولانا عبدالعلیم صاحب صدیقی کی قادیانیت کے خلاف گراںقدر خدمات کا ایک زمانہ معترف ہے، مولانا شاہ احمد نورانی نے ایک واقعہ بیان کیا کہ:

جب ۱۹۷۴ء کی تحریکِ ختمِ نبوّت میں مرزا ناصر مرزائی، جماعتِ مرزائی کی طرف سے محضرنامہ پڑھنے کے لئے قومی اسمبلی میں آیا، تو خدا کی قدرت اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ختمِ نبوّت کا اعجاز دیکھنے میں آیا کہ جس وقت مرزا ناصر نے محضرنامہ پڑھنا شروع کیا اسمبلی کے اس بند ایئرکنڈیشنڈ کمرے میں اُوپر کے چھوٹے پنکھے سے ایک پرندے کا پَر جو غلاظت سے بھرا ہوا تھا، سیدھا اس محضرنامے پر آکر گرا، جس سے وہ ایک دَم چونکا اور گھبراکر کہا: ’’آئی ایم ڈسٹربڈ‘‘ (I am Disturbed!) مرزا ناصر کی گھبراہٹ اور ذِلت آمیز پریشانی اور اس عجیب و غریب واقعے پر اراکینِ اسمبلی ششدر رہ گئے، کیونکہ اس سے پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کوئی چیز اُوپر چھت سے اس طریقے سے گری ہو۔ مسلسل گیارہ روز تک اس پر جرح ہوتی رہی، مرزا ناصر جرح سے تنگ آکر کہہ دیتا کہ: ’’میں تھک گیا ہوں!‘‘ وہ ایئرکنڈیشنڈ کمرے میں پچاس سے زائد گلاس پانی کے روزانہ پی جاتا تھا۔

(ضیائے حرم لاہور دسمبر ۱۹۷۴ء)

375

حضرت مولانا عبدالستار خان نیازی:

آپ نے تحریکِ ختمِ نبوّت ۱۹۵۳ء میں مجاہدانہ کردار اَدا کیا، جس پر پوری ملتِ اسلامیہ کو فخر ہے۔ پھانسی کی سزا کے مستحق گردانے گئے، مگر آپ کے پائے استقلال میں لغزش نہ آئی۔ عدالت کے ایک رُکن نے پوچھا کہ: ’’آپ کو موت کا کوئی خوف نہیں؟‘‘ تو آپ نے جواب دیا: ’’سروَرِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم پر ہزاروں زندگیاں قربان کی جاسکتی ہیں!‘‘

تحریکِ ختمِ نبوّت ۱۹۷۴ء میں آپؒ کو قائدِ تحریکِ ختمِ نبوّت، نواب زادہ نصراللہ خانؒ کو مجلسِ عمل کا نائب صدر بنایا گیا۔

۱۹۸۴ء کی تحریکِ ختمِ نبوّت میں بھی آپؒ نے مولانا خواجہ خان محمد صاحب مدظلہٗ کے شانہ بشانہ گراںقدر خدمات سرانجام دیں، بڑی عظمتوں کے مالک تھے، خدا تعالیٰ آپ کو اعلیٰ علّییّن میں جگہ نصیب فرمائے۔

حاجی غلام مصطفی مانک صاحب:

ضلع سکھر سندھ میں حاجی غلام مصطفی مانک صاحب ہیں، جو بحمداللہ اب بھی بقیدِ حیات ہیں، اللہ تعالیٰ ان کو تادیر سلامت رکھے، وہ چنیوٹ کانفرنس کے ایک اجلاس کی صدارت بھی کرچکے ہیں۔ (انتقال کرگئے ہیں)

حاجی صاحبؒ کے ہاں ایک قادیانی عبدالحق نامی آیا، اُس نے آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی کا ارتکاب کیا، آپ کو طیش آگیا، چھری لی، وار کیا، اس کا کام تمام کردیا۔ اس کی زبان نکالی ٹکڑے بھی کرتے جاتے تھے اور کہتے بھی جاتے تھے کہ: ’’بدبخت! اس زبان سے تو نے میرے آقا و مولیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کا ارتکاب کیا تھا۔‘‘ جس دِن اُن کو گرفتار کرکے گھر سے تھانہ کرونڈی لے جارہے تھے، اُس سے پہلی رات آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک سیّدزادی کو خواب میں

376

زیارت ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’بیٹی! کل تمہارے شہر کی جیل میں میرا مہمان آرہا ہے، جس کا خیال رکھنا!‘‘ چنانچہ معلوم کرکے اُس بی بی نے کھانا و دیگر ضروریات کا اہتمام کیا۔

جب کیس چلا، کیس کی پیروی چونکہ مجلس تحفظِ ختمِ نبوّت پاکستان کر رہی تھی، صفائی کے لئے حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ نے حضرت سیّد محمد یوسف بنوریؒ، حضرت افغانی ؒ اور حضرت درخواستی کو بلا رکھا تھا۔ سیّد غوث علی شاہ جو بعد میں صوبہ سندھ کے وزیراعلیٰ بنے، یہ اس کیس میں مجلس تحفظ ختمِ نبوّت کے وکیل تھے، انہوں نے حضرت مولانا کو علیحدہ لے جاکر کہا کہ: ’’جان بچانا فرض ہے! اگر حاجی مانکؒ انکار کردے، موقع کا گواہ کوئی نہیں، تو اس کی جان بچ جائے گی۔‘‘

حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ نے فرمایا: ’’آپ کا موقف ہے جان بچائی جائے، مگر میرا موقف ہے کہ حاجی صاحب عدالت میں اِقرار کریں کہ واقعتا میں نے اس قادیانی کو قتل کیا ہے، تاکہ عدالت کے ریکارڈ میں یہ بات آئے کہ مسلمان سب کچھ برداشت کرسکتا ہے مگر اپنے نبی علیہ السلام کی توہین برداشت نہیں کرسکتا، تاہم آپ کا پیغام میں اسے دیتا ہوں۔‘‘

مولاناؒ نے حاجی صاحبؒ کو بلاکر وکیل کی بات کہی، تو حاجی صاحبؒ کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے، اس نے کہا: ’’مولانا! میں چھوٹا سا تھا، مجھے خواب میں حضور علیہ السلام کی زیارت کرنے کا شوق پیدا ہوگیا، کسی نے کہا کہ: فلاں آیتِ کریمہ کا وظیفہ کرو، میں نے اس پر عمل شروع کردیا، پھر بھی زیارت نصیب نہ ہوئی، میری دُرود شریف پڑھتے، وظیفے کرتے عمر بیت گئی، خیرات، سات حج، نوافل، ذکر و فکر کی سعادتوں سے بہرہ ور ہونے کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کا شرف حاصل نہ کرسکا، جس دن سے اِس گستاخِ رسول کو قتل کیا ہے، شاید و بائد کوئی رات خالی جاتی ہو، ورنہ ہر رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت سے مستفید ہوتا ہوں۔

377

ختمِ نبوّت کانفرنس ربوہ (چناب نگر):

خانیوال کے طارق محمود صاحب جو آج کل کراچی میں ہیں، عابد، زاہد، متقی نوجوان ہیں، اپنے اِخلاص و نیکی کے باعث بہت ہی زیادہ قابلِ احترام ہیں، انہوں نے ایک دفعہ ختمِ نبوّت کانفرنس مسلم کالونی ربوہ (چناب نگر) کے موقع پر فقیر سے بیان کیا کہ:

میں نے خواب میں دیکھا کہ مسجد ختمِ نبوّت مسلم کالونی میں محبت و اِضطراب کی کیفیت ہے، عظیم اجتماع استقبال کے لئے اُمڈ آیا ہے، لوگ اِدھر اُدھر دیوانوں کی طرح سرگرداں پھر رہے ہیں، میں نے لوگوں سے پوچھا کہ: ’’کیا معاملہ ہے؟‘‘ تو مجھے بتایا گیا کہ آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم دریائے چناب کی جانب سے کانفرنس کے پنڈال کی طرف تشریف لارہے ہیں۔ میں بھاگم بھاگ دریائے چناب کی جانب گیا، جس طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لارہے تھے، میں نے آگے بڑھ کر سلام کی سعادت حاصل کی اور عرض کیا کہ: ’’کہاں تشریف لے جانے کا ارادہ ہے؟‘‘ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: ’’جامع مسجد ختمِ نبوّت میں ہماری کانفرنس ہو رہی ہے، ادھر جانے کا پروگرام ہے! ‘ فَسُبْحَانَ اﷲ!

ذوقِ جنوں کے دس واقعات:

تحریکِ مقدس ختمِ نبوّت ۱۹۵۳ء میں جناب سیّد مظفر علی شمسی کی روایت کے مطابق سکھر جیل میں جب حضرت اَمیرِ شریعتؒ، مولانا ابوالحسنات، مولانا لال حسین اخترؒ اور دُوسرے راہ نماؤں کو لایا گیا تو ایسی گرمی پڑتی تھی کہ برتن میں پانی اتنا گرم ہوجاتا تھا کہ اس میں اَنڈا ڈال دیتے تھے تو وہ نیم برشت ہوجاتا تھا اور اگر اسی پانی کو باہر رکھ کر اَنڈا اس میں رکھ دیتے تھے تو اَنڈا پک جاتا تھا۔

شمسی صاحب کی روایت ہے کہ: اس تحریک میں ایک عورت اپنے بیٹے کی

378

بارات لے کر دہلی دروازے کی جانب آرہی تھی، سامنے سے تڑتڑ کی آواز آئی معلوم کرنے پر پتا چلا کہ آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کی عزّت و ناموس کے لئے لوگ سینہ تانے، بٹن کھول کر گولیاں کھارہے ہیں، تو بارات کو معذرت کرکے رُخصت کردیا، بیٹے کو بلاکر کہا کہ: ’’بیٹا! آج کے دن کے لئے میں نے تمہیں جنا تھا، جاؤ! آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی عزّت پر قربان ہوکر دُودھ بخشوا جاؤ، میں تمہاری شادی اس دُنیا میں نہیں، بلکہ آخرت میں کروں گی اور تمہاری بارات میں آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کو مدعو کروں گی، جاؤ! پروانہ وار شہید ہوجاؤ تاکہ میں فخر کرسکوں کہ میں بھی شہید کی ماں ہوں۔‘‘ بیٹا ایسا سعادت مند تھا کہ تحریک میں ماں کے حکم پر آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کی عزّت کے لئے شہید ہوگیا، جب لاش لائی گئی تو گولی کا کوئی نشان پشت پر نہ تھا، سب سینے پر گولیاں کھائیں،فَرَحِمَہُ اﷲُ رَحْمَۃً وَّاسِعَۃً!

تحریکِ ختمِ نبوّت میں ایک طالب کتابیں ہاتھ میں لئے کالج جارہا تھا، سامنے تحریک کے لوگوں پر گولیاں چل رہی تھیں، کتابیں رکھ کر جلوس کی طرف بڑھا، کسی نے پوچھا: ’’یہ کیا؟‘‘ جواب میں کہا کہ: ’’آج تک پڑھتا رہا ہوں، آج عمل کرنے جارہا ہوں!‘‘ جاتے ہی ران پر گولی لگی، گرگیا، پولیس والے نے آکر اُٹھایا تو شیر کی طرح گرج دار آواز میں کہا کہ: ’’ظالم! گولی ران پر کیوں ماری ہے، عشقِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم تو دِل میں ہے، یہاں دِل پر گولی مارو تاکہ قلب و جگر کو سکون ملے۔‘‘

مولانا عبدالستار نیازی راوی ہیں کہ: اس تحریک میں جو آدمی بھی شریک ہوتا تھا، یہ طے کرکے آتا تھا کہ وہ ناموسِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جان دے دے گا۔ پولیس نے لاٹھی چارج کیا، لوگ لاٹھیاں کھاتے رہے، ایک نوجوان کے پاس حمائل شریف تھی، فردوس شاہ ڈی ایس پی نے ٹھوکر ماری، نوجوان گرگیا، حمائل شریف دُور جاگری اور پھٹ گئی، فردوس شاہ کو لوگوں نے موقع پر قتل کردیا، قرآن مجید کی بے حرمتی کرنے والا اپنے منطقی انجام کو پہنچ گیا۔

379

نیازی صاحب فرماتے ہیں کہ: دہلی دروازے کے باہر چار نوجوانوں کی ڈیوٹی تھی، پولیس نے چاروں کو باری باری گولی کا نشانہ بنایا۔

نیازی صاحب کے بقول: ہمارا ایک جلوس مال روڈ سے آرہا تھا، ’’لا اِلٰہ اِلَّا اﷲ‘‘ کا ورد، نعرۂ تکبیر، ختمِ نبوّت زندہ باد، کے نعرے وردِ زبان تھے، وہاں پر زبردست فائرنگ ہوئی، لیکن نوجوان سینہ کھول کھول کر سامنے آتے رہے اور جامِ شہادت نوش کرتے رہے۔

معلوم ہوا کہ اسی تحریک میں کرفیو لگ گیا، اَذان کے وقت ایک مسلمان کرفیو کی خلاف ورزی کرکے آگے بڑھا، مسجد میں پہنچ کر اَذان دی، ابھی ’’اللہ کبر‘‘ کہہ پایا تھا کہ گولی لگی ڈھیر ہوگیا، دُوسرا مسلمان آگے بڑھا، اس نے ’’اشہد ان لا اِلٰہ اِلَّا اﷲ‘‘ کہا تھا کہ گولی لگی ڈھیر ہوگیا، تیسرا مسلمان آگے بڑھا، ان کی لاشوں پر کھڑا ہوکر ’’اشہد ان محمدا رسول اﷲ‘‘ کہا کہ گولی لگی ڈھیر ہوگیا، چوتھا آدمی بڑھا، تین کی لاشوں پر کھڑے ہوکر کہا: ’’حی علی الصلوٰۃ‘‘ کہ گولی لگی ڈھیر ہوگیا، پانچواں مسلمان بڑھا، غرضیکہ باری باری نو مسلمان شہید ہوگئے، مگر اَذان پوری کرکے چھوڑی، خدا رحمت کنند ایں عاشقانِ پاک طینت را!

مولانا تاج محمود رحمۃ اللہ علیہ تحریک میں گرفتار ہوکر شاہی قلعہ لاہور لائے گئے، وہاں سے مہینوں بعد آپؒ کو اَٹک جیل منتقل کردیا گیا، ایک بدبخت نے آپؒ کے والد صاحبؒ کو جاکر جھوٹی اِطلاع دی کہ مولانا تاج محمودؒ کے پولیس نے ہاتھ پاؤں توڑ دئیے ہیں، اس سے آپؒ کے والد صاحبؒ کو بہت فکر ہوئی، پوری پوری رات وہ چارپائی پر سجدے کی حالت میں دُعاگو رہے، اللہ کی شان! یہی آدمی جھوٹی خبر دینے والا خود سرگودھا روڈ پر ایک حادثے کا شکار ہوکر دونوں ہاتھوں اور ٹانگوں سے محروم ہوگیا، فَاعْتَبِرُوْا یَا اُولِی الْأَبْصَارُ!

تحریکِ ختمِ نبوّت میں ایک مسلمان دیوانہ وار ’’ختمِ نبوّت زندہ باد!‘‘ کے

380

لاہور کی سڑکوں پر نعرے لگا رہا تھا، پولیس نے پکڑ کر تھپڑ مارا، اِس پر اُس نے پھر ’’ختمِ نبوّت زندہ باد!‘‘ کا نعرہ لگایا، پولیس والے نے بندوق کا بٹ مارا، اِس نے پھر نعرہ لگایا، وہ مارتے رہے، یہ نعرے لگاتا رہا، اسے اُٹھاکر گاڑی میں ڈالا، یہ زخموں سے چور چور پھر بھی ’’ختمِ نبوّت زندہ باد!‘‘ کے نعرے لگاتا رہا، اسے گاڑی سے اُتارا گیا تو بھی وہ نعرہ لگاتا رہا، اسے فوجی عدالت میں لایا گیا، اُس نے عدالت میں آتے ہی ’’ختمِ نبوّت‘‘ کا نعرہ لگایا، فوجی نے کہا: ’’ایک سال سزا!‘‘ اُس نے سال کی سزا سن کر پھر ’’ختمِ نبوّت‘‘ کا نعرہ لگایا، اس نے سزا دو سال کردی، اس نے پھر نعرہ لگایا، غرضیکہ فوجی سزا بڑھاتا رہا اور یہ مسلمان نعرۂ ختمِ نبوّت بلند کرتا رہا۔ فوجی عدالت جب بیس سال پر پہنچی، دیکھا کہ بیس سال کی سزا سن کر یہ پھر بھی نعرے سے باز نہیں آرہا، تو فوجی عدالت نے کہا کہ: ’’باہر لے جاکر گولی ماردو!‘‘ اس نے گولی کا سن کر دیوانہ وار رقص شروع کردیا اور ساتھ ’’ختمِ نبوّت زندہ باد! ختمِ نبوّت زندہ باد!‘‘ کے فلک شگاف ترانے سے ایمان پروَر، وجد آفریں کیفیت طاری کردی، یہ حالت دیکھ کر عدالت نے کہا کہ: ’’رہا کردو کہ یہ دیوانہ ہے!‘‘ اُس نے رہائی کا سن کر پھر نعرہ لگایا: ’’ختمِ نبوّت زندہ باد!‘‘

(قارئینِ کرام! میں لکھتے ہوئے نعرہ لگاتا ہوں اور آپ پڑھتے ہوئے نعرہ لگائیں: ’’ختمِ نبوّت زندہ باد!‘‘)

تحریکِ ختمِ نبوّت ۱۹۵۳ء میں دہلی دروازہ لاہور کے باہر صبح سے عصر تک جلوس نکلتے رہے اور دیوانہ وار سینوں پر گولیاں کھاکر آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کی عزّت و ناموس پر جان قربان کرتے رہے، عصر کے بعد جب جلوس نکلنے بند ہوگئے تو ایک اَسّی سالہ بوڑھا، اپنے معصوم پانچ سالہ بچے کو اپنے کندھے پر اُٹھاکر لایا، باپ نے ’’ختمِ نبوّت‘‘ کا نعرہ لگایا، معصوم بچے نے جو باپ سے سبق پڑھا تھا، اس کے مطابق ’’زندہ باد!‘‘ کہا، دو گولیاں آئیں، اَسّی سالہ بوڑھے باپ اور پانچ سالہ معصوم

381

بچے کے سینے سے شائیں کرکے گزرگئیں، دونوں شہید ہوگئے، مگر تاریخ میں اس نئے باب کا اضافہ کرگئے کہ اگر آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کی عزّت و ناموس پر مشکل وقت آئے تو مسلمان قوم کے اَسّی سالہ بوڑھے خمیدہ کمر سے لے کر پانچ سالہ معصوم بچے تک سب جان دے کر اپنے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی عزّت و ناموس کا تحفظ کرتے ہیں۔

آغاشورش کاشمیریؒ نے فرمایا: ایک سپرنٹنڈنٹ پولیس نے خود راقم سے بیان کیا تھا کہ ہر روز کے مظاہروں کو سمیٹنے کے لئے تشدّد کی نیو اُٹھاکر تحریک کو ختم کیا گیا۔ چنانچہ حکام نے اپنے سفید پوش اہلکاروں کی معرفت پولیس پر پتھراؤ کرایا، اس طرح پر فائرنگ کی بنیاد رکھی، بعض منچلے قادیانی اپنی جیپوں میں سوار ہوکر مسلمانوں پر گولیاں داغتے اور انہیں شہید کرتے رہے۔ راقم نے لاہور میں چینز لنچ ہوم مال روڈ پر اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ ۱۵ سے ۲۲ سال کی عمر کی نوجوانوں کا ایک مختصر سا جلوس کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے جارہا تھا، وہ ایک بے ضمیر سپرنٹنڈنٹ پولیس ڈی سی آئی ملک حبیب اللہ کے حکم پر کسی وارننگ کے بغیر فائرنگ کا ہدف بنا، آٹھ دس نوجوان شہید ہوگئے، ان کی لاشوں کو ملک صاحب نے اپنے ماتحتوں سے ٹرکوں میں اس طرح پھنکوایا جس طرح جانور شکار کئے جاتے ہیں، یہ نظارہ انتہائی دردناک تھا، لاہور چھاؤنی میں ایک قادیانی افسر نے گولیوں کی بوچھاڑ کی، لیکن گولی کھانے والوں نے انتہائی اِستقامت اور کردار کی پختگی کا ثبوت دیا۔ ایک نوجوان ملٹری ہسپتال میں زخموں سے چور چور بے ہوش پڑا تھا، جب اُسے قدرے ہوش آیا تو اس نے پہلا سوال سرجن سے یہ کیا کہ: ’’میرے چہرے پر کسی خوف یا اِضمحلال کے نشان تو نہیں ہیں؟‘‘ جب اسے کہا گیا کہ: ’’نہیں!‘‘ تو اس کا چہرہ وفورِ مسرّت سے تمتما اُٹھا۔ جن لوگوں کو علماء سمیت گرفتار کرکے لاہور کے شاہی قلعے میں تفتیش کے لئے رکھا گیا ان کے ساتھ پولیس نے اخلاق باختگی کا سلوک کیا، ایک انتہائی ذلیل ڈی ایس پی کو ان پر مأمور کیا، وہ علماء

382

کو اس قدر فحش گالیاں دیتا اور عریاں فقرے کستا کہ: ’’خود خوفِ خدا تھرّا رہا تھا!‘‘۔

(تحریکِ ختمِ نبوّت ص:۱۳۷)

غدّارانِ ختمِ نبوّت کا انجام!

تحریکِ ختمِ نبوّت میں سکندر مرزا نے ظلم کیا، ملک بدر ہوا، انگلستان کے ہوٹل کی بیراگیری کرتا رہا، وہیں بے کسی کی موت مرا۔ اس کی ایرانی بیوی اس کی لاش کو ایران لائی اور خمینی کے انقلاب میں اس کی قبر سے ہڈیاں نکال کر سمندر میں ڈال دی گئیں۔ سچ ہے کہ ختمِ نبوّت کے دُشمن کو میرے رَبّ کی دھرتی نے بھی جگہ نہیں دی۔

گورنر غلام محمد نے تحریک کی مخالفت کی، آج گوروں کے قبرستان عائشہ باوانی روڈ پر کراچی میں دفن ہے، اسے مسلمانوں کا قبرستان دفن کے لئے نصیب نہ ہوا۔ اس کی قبر پر سایہ کے لئے پلر کھڑے کرکے چھت ڈال دی گئی ہے، جس کے باعث کراچی کے آوارہ کتے دن کو گرمی سے بچاؤ کے لئے گورنر غلام محمد کی قبر پر آکر نیازکشی کرتے ہیں، فَاعْتَبِرُوْا یَا اُولِی الْأَبْصَار!

انور علی ڈی آئی جی نے تحریکِ ختمِ نبوّت میں جو ظلم و ستم کے منصوبے بنائے، الامان! اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایوب خان کے زمانے میں اس کے ساتھ ایسی واردات ہوئی کہ ایک بیٹیوں والے شریف انسان کے لئے اس کا تذکرہ ممکن نہیں۔

اسلم قریشی کیس میں پسرور کے جس ڈی ایس پی نے مرزائیت نوازی کی، اب بقول چوہدری محمد امین ڈی آئی جی گوجرانوالہ کے وہ اندھا ہوگیا ہے، (اس پر مولانا نعیم آسی نے بڑی خوبصورت بات کہی کہ: اس کیس میں نہ معلوم ابھی کون کون اندھے ہوں گے؟)۔

جس چیمہ پولیس آفیسر نے مولانا عبیداللہ انور پر لاٹھی چارج کیا اور پھر

383

۱۹۷۴ء کی تحریکِ ختمِ نبوّت میں ڈنگہ، ضلع گجرات میں مسلمانوں پر ظلم کا باعث بنا، اس کا انجام دُنیا کے سامنے ہے، کل کی بات ہے، ایسے حادثے کا شکار ہوا کہ اللہ تعالیٰ اُس کے تصوّر سے معاف فرمائیں۔۔۔!

آغاشورش کاشمیریؒ فرماتے ہیں: اتفاق سے پاکستان کی سیاسی زندگی میں بیوروکریسی کا اقتدار قائم ہوچکا تھا اور بعض نمایاں عہدوں پر اس قماش کے اشخاص فائز تھے جن کا ضمیر برطانوی اِستعمار کی مٹی میں گندھا ہوا تھا، مثلاً: ملک کے ڈیفنس سیکریٹری میجر جنرل سکندر مرزا بنگال کے روایتی غدار میرجعفرؔ کی اولاد تھے۔ جب تک انگریز رہے، ان کی سیاسی خدمات بجا لانے میں اپنا جوڑ نہیں رکھتے تھے۔ خواجہ صاحب کے زمانۂ وزارت تک مرکزی افسروں میں تھے، لیکن ملک کے عوام بالکل نہ جانتے تھے کہ حکومت کے دوائر میں کوئی سیاسی طاقت رکھتے ہیں۔ ملک غلام محمد نے خواجہ ناظم الدین کی وزارت کو برخاست کیا تو اس کے ساتھ ہی اسکندر مرزا مطلعِ سیاست پر نمودار ہوگئے، انہیں پہلے مشرقی پاکستان میں گورنر بنایا گیا، پھر مرکزی حکومت میں وزیر داخلہ ہوگئے، اس کے بعد ملک غلام محمد کی مجنونانہ علالت سے فائدہ اُٹھاکر گورنر جنرل کا عہدہ سنبھالا۔ جب چوہدری محمد علی نے پاکستان کا آئین تیار کیا تو ملک کے صدر بن گئے، پھر کئی ایک وزارتوں سے کھیلتے رہے، آخر مارشل لا نافذ کیا، لیکن اسی کے ہاتھوں مارے گئے اور ملک سے جلاوطن ہوکر اِنگلستان چلے گئے، وہاں لندن کے ایک ہوٹل میں کچھ عرصہ ملازمت کی، آخرکار موت کا بلاوا آگیا اور مرکے ایران میں دفن ہوئے۔ اسکندر مرزا مسلّمہ طور پر لادِین تھے، انہیں علمائے دِین سے سخت نفرت تھی اور ایسے ادارے کو فنا کردینے کے حق میں تھے جس کی اساس یا مزاج میں مذہب ہو۔ انہیں اس اَمر کا سخت افسوس تھا کہ تحریکِ ختمِ نبوّت میں مارشل لا کو وسیع نہیں کیا گیا اور نہ مُلَّاؤں کو تختۂ دار پر کھینچا گیا۔ یہ بات راقم نے ان کے ہونٹوں سے خود سنی، وہ میاں مشتاق احمد گورمانی وزیر داخلہ کے بنگلے پر تشریف لائے، تعارف ہوا تو جہاں انہوں

384

نے کئی اور غلیظ باتیں کیں، وہاں یہ گلہ بھی کیا کہ وزارت نے اُن کی بات نہیں مانی، اگر پاکستان کے مُلَّاؤں کو اس تحریک کی فضا میں پھانسی پر لٹکادیا جاتا تو ملک ہمیشہ کے لئے ان سے پاک ہوجاتا۔ اسکندر مرزا کے علاوہ ملک غلام محمد بھی علماء سے معاندت میں پیش پیش تھے، کچھ اور چہرے بھی تھے، جن کا معاملہ اب اللہ کے سپرد ہے۔ ان تمام چہروں کا ذکر کرتے ہوئے سردار عبدالربّ نشتر نے راقم سے کہا تھا کہ: ’’جن لوگوں نے تحریکِ ختمِ نبوّت میں مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی اور ختمِ نبوّت کے مسئلے کو اپنے اقتدار کی مسند پر قربان کیا، میں جانتا ہوں کہ ان کے شب و روز کی ویرانی کا حال کیا ہے؟ اور ان کے دِماغ و دِل پر کیا بیت رہی ہے؟ خدا کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں!‘‘

(تحریکِ ختمِ نبوّت ص:۱۴۷)

میاں مشتاق احمد گورمانی وزیر داخلہ تھے، مولانا ظفر علی خان کی شدید علالت کے پیشِ نظر راقم انہیں مولانا اختر علی خان کی رہائی پر آمادہ کر رہا تھا کہ ان کے دولت کدے پر اسکندر مرزا آگئے، مرزا اِن دنوں ڈیفنس سیکریٹری تھے، انہیں معلوم ہوا کہ مولانا اختر علی خان کی رہائی کا مسئلہ ہے، تو بھڑک اُٹھے، فرمایا کہ: ’’وہ رہا نہیں ہوسکتے!‘‘ راقم نے عرض کیا کہ: ’’ان کے والد بیمار ہیں!‘‘ کہنے لگے کہ: ’’وہ خود تو بیمار نہیں؟‘‘ راقم نے کہا: ’’ان کے والد کی عظیم خدمات ہیں، اسی کے پیشِ نظر اختر علی خان کو رہا کردیا جائے!‘‘ اسکندر مرزا نے باپ اور بیٹے دونوں کو گالی لڑھکادی اور کہا: ’’دونوں کو مرنے دو!‘‘ راقم نے مرزا صاحب کو ٹوکا کہ: ’’ہفتہ پہلے آپ کا بیٹا ہوائی حادثے میں موت کی نذر ہوگیا ہے، اس قسم کے الفاظ آپ کو نہ بولنا چاہئیں!‘‘ گورمانی صاحب نے راقم کے تیور دیکھ کر صحبت ختم کردی، لیکن مرزا صاحب نے فرمایا کہ: ’’یہ کابینہ کی غلطی ہے کہ اُس نے ان مُلَّاؤں کو پھانسی نہیں دی، ہمارے مشورے کے مطابق پندرہ بیس علماء کو دار پر کھنچوادیا جاتا یا گولی سے اُڑادیا جاتا تو اس قسم کے جھمیلوں سے ہمیشہ کے لئے نجات ہوجاتی!‘‘ جس صبح دولتانہ وزارت برخاست کی گئی

385

اس رات گورنمنٹ ہاؤس لاہور میں اسکندر مرزا کا ایک ہی بول تھا: ’’مجھے یہ نہ بتاؤ کہ فلاں جگہ ہنگامہ فرو ہوگیا، یا فلاں جگہ مظاہرہ ختم کردیا گیا، مجھے یہ بتاؤ کہ وہاں کتنی لاشیں بچھائی ہیں؟ کوئی گولی بے کار تو نہیں گئی؟‘‘ عبدالربّ نشتر، راقم کے بہترین دوست تھے، ان سے اس مسئلے پر گفتگو ہوئی تو فرمایا: ’’جن لوگوں نے شیدائیانِ ختمِ نبوّت کو شہید کیا اور ان کے خون سے ہولی کھیلی ہے، میں اندرخانہ کے رازدار کی حیثیت سے جانتا ہوں کہ اُن پر کیا بیت رہی ہے؟ اور وہ کن حادثات و سانحات کا شکار ہیں، اللہ تعالیٰ نے اُن کے قلوب کا اطمینان سلب کرلیا اور ان کی رُوحوں کو سرطان میں مبتلا کردیا ہے!‘‘

(تحریکِ ختمِ نبوّت ص:۱۴۲)

اِنعام پانے والے!

گزشتہ صفحات میں جن مقدس لوگوں نے ختمِ نبوّت کی خدمت کی اور اللہ رَبّ العزّت نے انہیں دُنیا و آخرت کی نعمتوں سے سرفراز فرمایا اور جس طرح آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی رضا کا سرٹیفکیٹ دیا، اس کا تذکرہ پڑھا، ذیل کے واقعات دُنیوی عزّت و رفعت سے متعلق پیشِ خدمت ہیں۔

مولانا اسلم قریشی نے ایم ایم احمد قادیانی پر قاتلانہ حملہ کیا، ان دِنوں مجلس تحفظِ ختمِ نبوّت کی طرف سے وکالت جناب راجہ ظفرالحق نے کی، اللہ تعالیٰ نے ختمِ نبوّت کے صدقے پہلے وفاقی وزیر اطلاعات اور پھر مصر کا سفیر بنایا۔

جب حاجی محمد مانک نے قادیانی کو قتل کیا تو ہمارے وکیل سیّد غوث علی شاہ تھے، جو بعد میں صوبہ سندھ کے وزیراعلیٰ بنے۔

آزاد کشمیر اسمبلی میں قادیانیت کی اقلیت کی قرارداد جناب میجر ایوب صاحب نے پیش کی، وہ آزاد کشمیر اسمبلی کے اسپیکر بنے اور اس تحریر کے وقت وہ آزاد کشمیر کے قائم مقام صدر ہیں۔

386

سو سنار کی ایک لوہار کی!

کنری ضلع تھرپارکر موجودہ عمرکوٹ، سندھ میں مجلس کے بزرگ راہ نما مستری برکت علی مغل، جو لوہار کا کام کرتے ہیں، کے پاس ایک دفعہ ایک مرزائی آیا اور بنچ پر بیٹھ کر اپنی اِرتدادی تبلیغ شروع کردی۔ مستری صاحب دستے والی کلہاڑی کی دھار تیز کر رہے تھے، مرزائی گفتگو کرتا رہا، یہ دھار تیز کرتے رہے، جب خوب دھار تیز ہوگئی تو کلہاڑی مرزائی کی گردن پر رکھ کر کہا کہ: ’’کہو کہ مرزا بے ایمان تھا، ایسا تھا، ویسا تھا‘‘ خوب بے نقط سنائیں، مرزائی مستری صاحب کے ساتھ ہی ساتھ مرزا کو ملاحیاں سناتا گیا، جب تھک گیا، تو مستری صاحب نے وہی کلہاڑی مرزائی کے ہاتھوں میں دے دی اور خود نیچے بیٹھ گئے اور کہا کہ: اب تم کلہاڑی میری گردن پر رکھ کر کہو کہ میں آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کروں، میں ٹکڑے ہوجاؤں گا، مگر توہین کا تصوّر بھی نہیں کرسکتا۔ یہ آپ کے اور ہمارے جھوٹے اور سچے ہونے کی دلیل ہے۔۔۔!

اسی سے ملتا جلتا واقعہ مکرّم ڈاکٹر قاری محمد صولت نواز نے سنایا کہ: میں نے نواز میڈیکلز فیصل آباد کی تعمیر کے لئے ایک انجینئر کی خدمات حاصل کیں، ہمارے علم میں نہ تھا کہ یہ مرزائی ہے، اُس انجینئر کو معلوم تھا کہ یہ لوگ مرزائیت کے خلاف ہیں اور ہر روز ہماری مجلس میں کسی نہ کسی بہانے مرزا قادیانی کو ’’ٹھوک‘‘ بھی دی جاتی تھیں، وہ دُنیا کے چند ٹکوں کی خاطر مرزا قادیانی کے خلاف سنتا رہا، مگر ایک دن بھی اس کے چہرے پر شکن نہیں اُبھری۔ کام کا پہلا مرحلہ جب مکمل ہوا، تو بعد میں ایک دوست کی زبانی معلوم ہوا کہ وہ قادیانی ہے، یہ سنتے ہی میرے پاؤں سے زمین نکل گئی، میں نے فون پر اس کو اور مرزا قادیانی کو خوب سنائیں، مگر وہ ٹس سے مس نہیں ہوا۔

387

وفاقی شرعی عدالت لاہور میں ایک ماہ تک یومیہ سینکڑوں مرزائیوں کی موجودگی میں مرزا قادیانی پر جرح قدح ہوتی رہی، مگر کسی مرزائی کے چہرے پر شکن نہیں پڑی، اگر خدا نہ کرے کوئی ایسا سانحہ رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ہوتا تو چاہے ایک مسلمان ہی کیوں نہ ہوتا کٹ جاتا، مگر جرح قدح کرنے کی کسی کو اِجازت نہ دیتا۔۔۔!

جن ممالک میں مرزائیوں کا داخلہ بند ہے، وہاں ملازمت کے لئے مرزائی حلف نامے میں مرزا قادیانی کے کفر پر دستخط کرکے چلے جاتے ہیں۔

ان تمام واقعات کے عرض کرنے کا مقصد یہ بات سمجھانا ہے کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ مرزائی کتنے اخلاق والے ہیں، ان کے نبی کو جو کہو، گالیاں سن کر بھی وہ ناراض نہیں ہوتے، تو اس ضمن میں عرض ہے کہ یہ اخلاق نہیں، بے غیرتی ہے، سچا نبی اپنی اُمت میں ملّی غیرت کو اُجاگر کرتا ہے اور سچے نبی کی محبت اس کے ماننے والوں کے دِلوں میں قدرت اس طرح راسخ کرتی ہے کہ وہ جان پر کھیل جائیں گے، مگر اپنے نبی کی توہین کا تصوّر بھی نہیں کرسکتے، بخلاف جھوٹے نبی کے کہ نہ اس میں خود غیرت ہوگی، نہ اس کی اُمت میں غیرت کا نشان ہوگا، اس کے اُمتی کے سامنے جو مرضی آئے کہتے رہو، وہ دانت نکال کر ہنستا رہے گا، معلوم ہوا اسے اخلاق نہیں بے غیرتی کہتے ہیں۔۔۔!

قاری محمد عارف صاحب مظفرگڑھ کے ایک دِینی مدرسے میں معلّم ہیں اور وہ حضرت قبلہ کے مخلص ارادت مند ہیں، ایک مرتبہ خانقاہ شریف میں حاضر ہوئے اور حضرت قبلہ سے عرض کیا کہ: ’’میں آپ جیسی عظیم الشان ہستی کا مرید ہوں، مگر مجھے واردات و کیفیات وغیرہ کا کبھی ادراک نہیں ہوا، آپ یہ کرم فرمائیں کہ مجھے حضور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوجائے۔‘‘ آپ یہ سن کر مسکرادئیے اور خاموش رہے۔

388

اسی رات قاری صاحب، حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت سے مشرف ہوئے، حضرت قبلہ مولانا خان محمد صاحب دامت برکاتہم بھی آپ کے ساتھ تشریف فرما تھے، حضرت قبلہ مدظلہٗ نے فرمایا کہ: ’’قاری صاحب! اب خوب جی بھر کر حضور علیہ السلام کی زیارت کرلو!‘‘ اس کے بعد خواب ختم ہوگیا۔

صبح کو جب حضرت قبلہ مولانا خان محمد صاحب مدظلہٗ مجلس مبارک میں تشریف لائے تو قاری صاحب موصوف نے حاضر ہوکر پھر اِلتماس کی کہ: ’’میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کا ہنوز مشتاق ہوں، اس سعادت کے حصول کے لئے آپ ضرور توجہ فرمائیں۔‘‘ حضرت قبلہ نے جواب دیا کہ: ’’قاری صاحب! روز روز پروگرام نہیں بنا کرتے۔۔۔!‘‘

(تحفۂ سعدیہ ص:۳۳۵)

389